FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

الغز و  الفکری: تعارف و تجزیہ

یعنی   ’’ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باطل کی فکری یلغار کا تاریخی جائزہ‘‘

’’ فکری سازشوں سے پردہ اٹھانے والی ایک البیلی تحریر‘‘

               (مولانا) حذیفہ وستانوی

استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم،   اکل کو

 

الغز و الفکری

            اللہ رب العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے ہر زمانہ اور ہر علاقہ میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کو مبعوث فرمایا،  حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا اصل مقصد،  انسان کو اس کے بھولے ہوئے سبق یعنی توحید کی یاد دہانی تھی،  کیوں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا،  اور اپنی ہی پھونک سے اس میں روح بخشی،  اور اسے علم سے مالا مال کیا،  اسے مسجود ملائکہ بنا کر اشرف المخلوقات کے مرتبہ اور خلیفۃ اللہ کے منصب  پر فائز کیا،  اور تخلیق کے بعد جنت میں اپنے جوار میں ٹھہرایا،  البتہ شیطان جو انسان کے اشرف الخلائق کا انکار کر بیٹھا تھا،  اسے راندۂ دربار کیا گیا،  تو اس نے انتقام کی غرض سے بہلا پھسلا کر،  آدم کو جنت سے نکلوا دیا،  البتہ آدم علیہ السلام کے اعتراف ذنب اور طلب مغفرت اور تواضع کی وجہ سے،  ہمیشہ کی لعنت سے وہ بچ گئے،  ان کے لیے اور ان کی ذریت کے لیے جنت کے دروازوں کو کھلا رکھا گیا،  البتہ اس دنیا میں اسے ابتلاء و آزمائش میں ڈال کر کامیابی کی صورت میں ہی دخول جنت کا وعدہ کیا گیا،  اور ناکامی کی صورت میں دوزخ کی وعید سنائی گئی۔

            جب سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے تکبر اور عناد کی بنیاد پر شیطان نے روگردانی کی تب ہی سے حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی کا آغاز ہو گیا،  اس معرکہ کا آغاز ’’فکر انسانی‘‘ میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش ہی سے ہوا،  کیوں کہ شیطان کوئی تلوار،  تیر،  کمان لے کر آمادۂ معرکہ نہیں ہوا تھا،  بل کہ ’’فکرانسانی‘‘ کو دھوکہ دے کر برباد کرنے کی کوشش کی،  اسی کو ’’الغز و الفکری‘‘ کہا جاتا ہے،  معاصر عرب علما کی تحقیق کے مطابق ’’الغز و الفکری‘‘ کی اصطلاح،  تو جدید ہے،  ۱۳ ویں صدی ہجری اور بیسوی صدی عیسوی میں وضع کی گئی،  مگر اس کی تاریخ بہت قدیم ہے،  جیساکہ مذکورہ تحریر سے معلوم ہوتا ہے،  البتہ ’’سقوط خلافت اسلامیہ‘‘ کے بعد جب اعداء اسلام کو تخریب کاری کے لیے کھلا میدان ہاتھ لگ گیا،  تو انہوں نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں،  بل کہ ان شیطانی چیلوں ،  چپاٹوں نے پوری دنیا کے انسانوں کو،  ’’الحاد،  بے دینی‘‘ کے دلدل میں پھنسانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیا،  اور وہ دنیا کو جہنم کدہ بنا چکے ہیں،  مگر ان کا خاص ہدف ’’مسلمان‘‘ ہی ہیں،  کیوں کہ وہی ان کا مضبوط اور طاقتور مدِ مقابل ہے۔ تو آیئے ہم ’’الغز و الفکری‘‘ کی تعریف،  تاریخ،  اسباب،  اہداف،  اسالیب اوروسائل یلغار،  اثرات،  اور اس سے بچنے کے لیے نجات کے طریقوں کو معلوم کریں،  تاکہ اپنے ایمان کو بچا کر شیطان اور اس کے ہم نواؤں کو ناکام بنا کر اللہ کے سامنے جواب دہی کی تیاری کریں،  اور اس کی رضا و خواہشمندی حاصل کر کے،  دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے بہرہ ور ہو جائیں۔

الغز و الفکری کی تعریف

            ’’الغز و الفکری‘‘ اس غیرعسکری طریقۂ کار کو کہا جاتا ہے،  جس کے ذریعہ دشمن اپنے دشمن پر حملہ آور ہو،  اور مختلف خداعی طریقوں سے اس کے افکار اور معتقدات کو یا تو مشکوک کر دے،  یا اسے کی یا جزوی طور پر اپنے عقائد سے منحرف کر دے،  اور اپنے مذہب اور دین کے بارے متنفر کر دے،  غیر ضروری،  یا کم ضروری امور میں مشغول کر کے،  دین سے بیزار کر دے،  جس کے نتیجہ میں نہ تو وہ اپنی دین کی بنیادی معلومات حاصل کرسکے،  اور نہ دین کے تقاضوں پر عمل درآمد کرسکے،  اور اگر معلومات حاصل بھی کرے تو ایسے مصنفین کی کتابوں سے جو تعصب اور عناد کی بنیاد پر اس کی بالکل تحریف شدہ تفسیر و توضیح کرتے ہوں۔

            یہ تو ’’الغز و الفکری‘‘ کی تعریف عام تھی،  اب ’’الغز و الفکری‘‘کی تعریف خاص کرتے ہیں،  یعنی اسلام کے خلاف ’’الغز و الفکری‘‘کس کو کہتے ہیں،  کیوں کہ ’’الغز و الفکری‘‘ کو سب سے زیادہ اسلام ہی کے خلاف استعمال کیا گیا،  لہٰذا اس نقطۂ نظر سے بھی اس کی وضاحت ضروری ہے۔

اسلام کے خلاف ’’الغز و الفکری‘‘ کی تعریف

            وہ غیرعسکری طریقۂ کار جس کو اعداء اسلام خاص طور پر یہود و نصاریٰ اسلام کے خلاف استعمال کرتے چلے آئے ہیں،  جس میں تعلیم،  تحقیق آزادی کے نام پر اسلامی مصادر و مراجع،  کلیات و جزئیات علوم و معارف،  عقائد و افکار کو یا تو تعصب اور عناد کی بنیاد پر زبردستی شک کے دائرے میں ڈال دیا جائے،  اور مسلمانوں کو ان کے اپنے عقائد اور اسلامی تعلیمات سے یا تو دور رکھا جائے یا یا اسلام کی شکل بگاڑ کر متنفر کر دیا جائے،  اور روحانیت کا جنازہ نکال کر،  مادیت کو ان پر مسلط کر دیا جائے۔

            اس تعریف سے آپ بھانپ گئے ہوں گے کہ ’’الغز و الفکری‘‘ اسلام کے خلاف کتنا منظم،  مربوط اور زبردست محاذ ہے،  اس نے اسلام کے کسی ایک گوشہ کو ہی ہدف نہیں بنایا،  بل کہ تمام شعبہائے اسلام کو اپنے سازشوں کے شکنجہ میں لے لیا ہے،  چاہے وہ گوشۂ عقائد ہو،  معیشت ہو،  سیاست ہو،  تعلیم ہو،  تاریخ ہو،  عقلیات و فلسفہ ہو،  معاشرت ہو،  نفسات ہو،  ذرائع ابلاغ ہو،  خواہ نظام تربیت ہو۔

            امید ہے کہ دیگر جامعات و مدارس اسلامیہ بھی اس جانب توجہ دیں گے۔

الغز و الفکری کے محرکات

            ویسے تو الغز و الفکری کو ہوا دینے والے بے شمار محرکات ہیں جو ہر زمانہ میں اسلام کی بیخ کنی کی کوششیں کرتے رہتے ہیں،  مگر تین محرکات اہم ہیں،  بقیہ اس کے تابع ہیں،  وہ :

 (۱)یہودیت (۲)نصرانیت (۳)لادینیت

            بظاہر تو یہ الگ الگ ہیں،  مگر اسلام کے خلاف ہمیشہ متحد ہو جاتے ہیں،  کیوں کہ الحمد للہ! اسلام ہی حق ہے بقیہ سب باطل ہیں،  لہٰذا ان کو سب سے زیادہ خطرہ اسلام ہی سے ہے کہ کہیں اسلام اور اہل اسلام روحانی اور جسمانی،  ظاہری و باطنی اعتبار سے مضبوط ہو کر ہمارے لیے درد سر نہ بن جائے،  لہٰذا حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی سے انہیں قابو میں رکھا جائے۔ قرآن نے اسی باطل اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ’’والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض‘‘کفار آپس میں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں۔ (سورۃ الانفال:۷۳)

یہودیت

            یہود،  یہ ایک قدیم سامی مذہب ہے،  ان کو یہود کہنے کی مختلف وجوہات ہیں،  یا تو یہودہ بن یعقوب کی طرف نسبت کرتے ہوئے،  یا ہدنا الیک یعنی ان کی توبہ کرنے کی وجہ سے،  یا ہادٍ کے معنی حرکت کرنا۔ اور یہ لوگ تورات کی تلاوت کے وقت بہت زیادہ حرکت کرتے ہیں ؛ اسی لیے یہود کہا جاتا ہے۔ (الموسوعۃ المیسرۃ:ص۵۶۵)

            یہود کی مذہبی زبان عبرانی ہے،  یہ دراصل حضرت یعقوبؑ کی ذریت میں سے ہے،  جو بنواسرائیل سے مشہور ہوئی،  گویا اسی کی شاخ ہے،  مگر ان کی تعلیمات محرف ہو چکی ہے،  ان کا اصل مسکن کنعان،  پھر وہاں سے مصر اور پھر فلسطین،  پھر مدینہ،  اور اس کے اطراف میں آباد ہوئے،  مگر ان کی اپنی شرارتوں کی وجہ سے وہاں قرن اول ہجری کے آغاز ہی میں جلاوطن کر دیے گئے،  پھر یہ لوگ یورپ کے مختلف خطوں میں آباد ہوئے اور وہاں سے ایک مکمل سازش کے تحت بیسویں صدی میں دوبارہ غاصبانہ طور پر فلسطین میں ایک عبرانی سامی یہودی صہیونی مملکت بنانے میں کامیاب ہو گئے،  اور اس قیام مملکت اسرائیل کے لیے انہوں نے ملعون کمال اتاترک جیسے کے سہارے خلافت اسلامیہ کو سقوط سے دوچار کیا،  جس کا خمیازہ آج تک امت محمدیہ بھگت رہی ہے۔

            بعثت کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کو ایمان کی دعوت دی،  ان کے تمام اعتراضات وسوالات کے صحیح اور مدلل جوابات دیے،  مگر ان کی اکثریت اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئی،  بل کہ اسلام کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہر میدان میں انتھک کوشش پر کمربستہ ہو گئی،  یہاں تک کہ بت پرست اہل مکہ کے ساتھ اتحاد و تعاون کے لیے یہ کہنے سے بھی گریزاں نہیں ہوئی کہ ’’ہؤلاء اَہدی من الذین اٰمنوا سبیلا‘‘کہ اہل مکہ بت پرست،  ایمان والے کے مقابلہ میں،  زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔ ’’مکائد یہودیۃ عبر التاریخ‘‘ میں عبدالرحمن حبنکہ میدانی نے اور ’’الیہود و الیہودیۃ فی عصر الرسول‘‘ کے مصنف نے اپنی کتاب میں اس کی مکمل تفصیلات بیان کی ہے۔

            صرف عصررسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ہی وہ مقابلہ آرائی پر اکتفا نہیں کرتے،  بل کہ ہر زمانہ میں اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے رہے،  قرآن کریم نے ’’لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا‘‘ (یعنی تم یہود کو مومن کے لیے سب سے زیادہ عداوت والا پاؤ گے)والی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا،  قرآن کا یہ انتباہ بالکل حرف بہ حرف صادق،  ثابت ہوا،  کیوں کہ ہر زمانہ میں وہ اسلام کے خلاف فکری و عسکری محاذ پر خفیہ طریقے سے کار فرما رہے ہیں،  اس کی پوری تفصیلات عبدالوہاب المیسری مرحوم کی کتاب ’’موسوعۃ الیہود و الیہودیۃ‘‘ اور ’’الاعلام الیہودی المعاصر و اثرہ فی الامۃ الاسلامیۃ‘‘ (یوسف محی الدین ابوہلالہ) میں آپ تفصیل کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔

نصرانیت

            یہ بھی ایک سامی مذہب ہے،  جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماء کے بعد یہودی کی کوششوں سے انحراف کا شکار ہوا،  جس کی تفصیلات آپ شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی مایۂ ناز تصنیف ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ان کو نصرانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کی مدد کی تھی،  اور دوسرا قول یہ ہے کہ ناصریہ بستی کی طرف نسبت کرتے ہوئے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وطن تھا،  ان کو نصاریٰ کہا جاتا ہے۔

            نصاریٰ بھی دراصل بنواسرائیل ہی کی ایک شاخ ہے،  کیوں کہ حضرت عیسیٰؑ ان میں مبعوث ہوئے تو بنواسرائیل میں سے جو ان پر ایمان لائے ان کو نصاریٰ کہا گیا،  ان کا اصل وطن بھی کنعان ہے،  پھر فلسطین اور پھر نجران اور اسلام کے ابتدائی دور میں جب ان کے بادشاہ ہرقل نے اسلام قبول نہ کیا،  یہاں تک کہ جنگ کی نوبت آئی تو یہ بھی شکست کھا کر یورپ کی طرف آ نکلے،  ایک عرصہ تک مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار رہے،  مگر شکست پر شکست سے دوچار ہوتے رہے،  یہاں تک کہ غرناطہ اور اندلس میں مسلمان حکمرانوں کی بزدلی اور نفس پرستی کی وجہ سے کامیاب ہو گئے،  اس کے بعد یورپ میں ان کے قدم مستحکم ہو گئے،  یہ بھی اول یوم ہی سے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مبتلا چلے آ رہے ہیں،  انہوں نے بھی ہر میدان میں مسلمانوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی،  مگر جب نا کام ہوئے مکار اور فریبی یہودیوں کے ساتھ اتحاد کر کے اسلام کے خلاف کمربستہ ہو گئے،  اور اولاً علم تحقیق کے نام پر دونوں نے مل کر استشراق پھر عولمہ یعنی گلوبلائزیشن اور اخیر میں استعمار یعنی بلا شرکت غیر حاکمیت کا پلان بنایا،  اور اب تو سویت یونین کی شکست کے بعدموساد ملٹی نیشنل ورلڈ بینک (F۔I۔C۔ W۔H۔O۔) جیسی تنظیموں کے سہارے ہندتو،  بودھ ازم،  بل کہ غیراسلامی اور منافقین کے سہارے پوری دنیا پر نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کا اعلان ہو چکا ہے،  اور امریکن و یورپین صہیونیت زدہ نصرانیت کو آلۂ کار بنا کر یہود و نصاریٰ اور تمام باطل طاقتیں اسلام کی بیخ کنی کے لیے برسرپیکارہے۔ جذور البلاء،  واقعنا المعاصر،  مخططات التبشیر الاستشراق میں آپ اس کی تفصیلات کو جان سکتے ہیں۔

لادینیت

            لادینیت دو طرح کی ہے،  ایک وہ لادینی گروہ جو اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا ہے۔اور دوسرا کلی طور پر اللہ کا انکار کرنے والا۔ دونوں ہی ملحد کہے جاتے ہیں،  کیوں کہ شرکیہ مذاہب دراصل نام ہے،  ورنہ تو حقیقت میں حق کا انکار ہے،  گویا یہودیت اور نصرانیت کے علاوہ جتنی باطل اسلام مخالف طاقتیں ہیں وہ سب اس میں شامل ہیں۔ ہمیشہ یہ باطل طاقتیں یا تو یہودیت و نصرانیت کی معاون رہی یا نہیں تو اسلام مخالف تو ہے ہی۔ کیوں کہ ان کو اسلام ہی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے،  اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ دنیا کی تمام غیراسلامی ریاستیں ان کے زیر اثر ہیں،  چاہے ہندوستان ہو،  چاہے چین ہو،  چاہے روس ہو،  چاہے کوریا ہو،  بل کہ اسلامی ممالک پر خلافت کے سقوط کے بعد اپنے آلۂ کار منافق،  فاسق،  فاجر،  مغربیت زدہ حاکموں کو مسلط کر دیا ہے،  جو ان کے اشارے پر ہی سب کچھ کرتے ہیں،  ان کے مفاد کے لیے نہ مسلمانی نہ اسلام،  ان کے لیے رکاوٹ ہوتا ہے۔ اس لیے باوجودیکہ تقریباً ۶۰اسلامی ریاستیں ہیں،  لیکن کہیں بھی قانون الٰہی اور قوانین اسلامی کا نفاذ نہیں۔ اگر کہیں ہے تو وہ بھی برائے نام اور سیاست کے پیشِ نظر۔

            اللہ ان کی ایمان سوز سازشوں سے ہماری حفاظت فرمائے،  اور ایمان کے ڈاکوؤں اور ان کے معاونین کو یا ہدایت دے یا غارت کر دے،  اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔

الغز و الفکری کے اہداف

            سنۃ اللہ یہ رہی ہے کہ حق اور باطل کی کش مکش،  تخلیق آدم کے کچھ ہی بعد سے شروع ہو گئی،  ’’ اہبطا منہا جمیعا بعضکم لبعض عدو‘‘تم دونوں یعنی آدم اور شیطان اتر جاؤ،  آپس میں ایک دوسرے کی عداوت کو لے کر بس

 زمین پر اترنے کے بعد ایسا ہی ہوا،  ایک طرف ’’و لاغوین‘‘ کا چیلنج کرنے والا شیطان اس انسانی و جناتی ہم نوا  اور دوسری طرف ’’و ان لم تغفرلی و ترحمنی اکن من الخاسرین‘‘ کہہ کر اپنی تقصیر کا اعتراف کرنے والے آدم اور اس کی صحیح وارث ذریت شیطان اور اس کے ہم نوا آدم کی حقیقی ذریت صالح سے ایمان و یقین باللہ کو سلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں،  یہی ہدف اصلی ہے ’’الغز و الفکری‘‘ کا۔

            اور کچھ نہیں تو کم از کم ایمان میں ضعف اور مقصد تخلیق سے بُعد تو حاصل ہو ہی جائے اس لیے قادیانیت،  بہائیت،  بابیت،  شیوعیت،   سرماداریت،   عقلیت،   مغربیت،   مادیت،   ماسونیت،   دارونیت،   فرائڈیت،   وجودیت،   تجربیت،   وغیرہ کو مسلمانوں میں عام کرنے کے کوشش کی جا رہی ہیں،   جس کی تفصیلات آپ آئندہ صفحات میں پڑھیں گے۔

الغز و الفکری کے وسائل

            ان وسائط اور طریقوں کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ فکرانسانی و اسلامی کو متاثر کیا جائے،   ان میں سے بعض مباشر یعنی ڈائریکٹ ہوتے ہیں،   بعض غیر مباشر یعنی اِنڈائریکٹ ہوتے ہیں،   بعض عمومی ہوتے ہیں اور بعض خصوصی،   بعض مسلسل ہوتے ہیں اور بعض وقتی ہوتے ہیں،   یہ سب ملا کر کل تین ہیں :

(۱) تعلیم و تعلم (۲)ذرائع ابلاغ (۳)رفاہی ادارے

تعلیم و تعلم

            مسلمانوں کا مزاج علمی ہے،   کیوں کہ ایک تو انسان کی فطرت ہی علمی ہے اور دوسرا اسلام کی بنیاد علم پررکھی ہے۔ ’’اقرا باسم ربک‘‘ پڑھ اپنے رب کے نام پر۔ اب ’’علم آدم الاسماء ‘‘اور ’’اقرا ‘‘کا اثر سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہوا،   کیوں کہ فطرت کو صحیح معنی میں اختیار کرنے کا ڈھنگ مسلمان نے انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات سے سیکھا،  جس کے نتیجے میں اس کے رگ و ریشے میں علم سرایت کر گیا،  یہود و نصاریٰ کیوں کہ آغاز اسلام ہی سے مسلمانوں کے بہت قریب رہے ہیں،  لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کی علم پروری اور علم دوستی کو بھانپ لیا،  لہٰذا صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد نشاۃ ثانیہ کا اعلان کر کے،  نئی صلیبی جنگ کی تیاری شروع کر دی،  جس کا نام ’’استشراق‘‘ دیا،  محض دھوکہ دینے کے لیے،  کیوں کہ استشراق کے اصل معنی تو مشرقی تہذیب و تمدن،  ثقافت و کلچر،  ادیان و تاریخ کا مطالعہ کرنا،  مگر اس کے پس پردہ اسلام کے خلاف ایک نئی فکری جنگ اور یلغار کے آغاز کی تیاری تھی۔

            مغربی افراد نے استعمار کے تعاون سے اسلام کو مسلمانوں میں ضعیف کرنے کے لیے،  قرآن و حدیث،  تاریخ،  فقہ،  اصول فقہ،  لغت،  نحو و صرف،  عقائد،  افکار،  تمام چیزوں کا مطالعہ شروع کر دیا،  اور غرض ہدایت یا حق شناسی نہ تھا بل کہ مادیت اور استعمار کی خدمت تھی،  لہٰذا غیر اہم مراجع سے باتوں کو لے کر اسلام پر نقطہ چینی کی،  مہم چھیڑ دی،  جاحظ کی کتاب ’’الحیوان‘‘ اصفہانی کی ’’الاغانی‘‘ دمیری کی ’’الحیوان‘‘ وغیرہ سے غیر معتبر باتوں کو لے کر،  اس پر تصنیف و تالیف کا آغاز کر دیا،  استشراق کی مکمل تفصیل آگے آ رہی ہے۔

            مسلمانوں سے ہنر مندی سیکھ کر،  اس میں مہارت حاصل کی،  اور کلیسا سے تنگ آ کر الحاد کو ہوا دی،  اور پھر سرکاری سطح پر مسلمانوں سے اخذ کئے ہوئے علوم پر تجربہ کرنا شروع کر دیا،  اور مسلمانوں کی ایجادات کو فروغ دے کر اپنی طرف سے کچھ اضافے کیے اور اسے اپنی ہی طرف منسوب کر دیا،  اس طرح ’’صنعتی انقلاب‘‘ برپا ہوا،  اب اپنی بنی ہوئی چیزوں کو فروخت کرنے کے لیے منڈیاں تلاش کرنا شروع کر دیا،  تجارت و معیشت کے نام پر عالم اسلام میں قدم رنجہ ہوئے،  آہستہ آہستہ منڈیوں پر چھا گئے،  جب کچھ قوت محسوس ہوئی تو فوجی چھاؤنیاں بنائی،  بادشاہوں کے دربار میں داخل ہو کر دخل اندازی شروع کی،  اور مادیت کے دلدادوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا،  یہاں تک کہ پورے پورے ملک پر قابض ہو گئے،  ہندوستان،  انڈونیشیا،  مصر،  افریقہ،  سب جگہ ایسا ہی ہوا،  یہاں تک کہ ملک کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر ’’اسلامی عدالتوں ‘‘ کو کالعدم قرار دے کر ’’انگریزی یافرانسی قوانین‘‘ نافذ کر دیئے،  مذہبی تعلیم پر پابندی لگا دی اور حکومتی سطح پر نصاب تیار کر کے مغربی افکار کو جو سراسر الحاد پر مبنی تھے،  کتابوں میں شامل کر دیا۔ اسی طرح مشرقی دماغ میں مغربی فکر کو جگہ دے دی،  پھر کچھ مادہ پرستوں کو اپنے ممالک کی طرف بھیج کر اپنا دلدادہ بنا لیا،  جنہوں نے مغربی کلچر اور افکار کو کامیابی کی شاہِ کلی تصور کر لیا اور مغربی طرز پر مغربی تعلیم کے ادارے قائم کر دیئے،  اس طرح لوگوں میں مادیت غالب آ گئی،  اور روحانیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی،  ایک مدت تک حکومت کرنے کے بعد اگر چہ مغربی طاقتیں مشرق سے بے دخل ہونے پر مجبور ہوئی،  مگر لوگوں کو تعلیم کے راستے ذہنی غلام کا شکار بنا کر گئی۔

             اپنی بے دخلی کے بعد عالمی جنگ اول اور ثانی کے بعد اقوام متحدہ کی بنیاد ڈال دی گئی،  جس میں پوری دنیا کو جکڑ کر رکھ دیا گیا،  اور تعلیمی،  سیاسی تمام شعبوں کو اسی سے سیراب کیا جانے لگا،  اسی طرح ہر ملک کا نصاب مغربیت زدہ تیار کیا گیا،  جس میں مذہب کو صرف پرائیوٹ معاملہ بتایا گیا،  معیشت اور دین میں تفریق کی گئی،  سیاست کو دین کی ضد تصور کرائی گئی،  کھیل کود کو تعلیم کا اہم جز بنا دیا گیا،  آزاد اور مساوات کا راگ الاپا گیا،  اور اب تو سیکس ایجو کیشن بھی نصاب میں داخل کر دیا گیا۔ اس طرح بچہ کے ذہن کو بچپن سے جوانی تک اور جوانی سے آگے تک،  ایسا درس دیا گیا کہ اللہ،  رسول،  دین،  جنت،  جہنم،  عذاب،  جزاء و سزا،  حساب اور قیامت کوئی چیز نہیں،  محض افسانے اور خیالی پلاؤ ہے،  اصل یہی ہے کہ اپنے مفاد کے لیے کماؤ،  اپنی مرضی کے مطابق کھاؤ پیو اور خوب عیش اڑاؤ،  اس کے علاوہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔

            مغرب نے سب کچھ کرنے کے بعد اپنے یہاں پر بڑی بڑی کالجز قائم کی اور غیر مغربیوں کو تعلیم کے لیے وہاں بلایا اور ان کی برین واشنگ کی مغربیت کو ان کے دماغوں پر مسلط کر دیا اور انہیں اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ قومیت اور جمہوریت کے نام پر اپنے ملکوں میں حکومت حاصل کرے اور مغربی طور و طریق کو اپنائے،  اس کے لیے ان کا ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

            خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک منظم پلاننگ کے ذریعہ لا دینی اور سیکولر تعلیم کو عالم اسلام پر خاص طور پر اور پورے عالم پر عام طور پر،  پوری مکاری کے ساتھ مسلط کر دیا گیا،  ابنائے قوم کو اس تعلیم میں اتنا مشغول کر دیا گیا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ دینی و مذہبی تعلیم کے لیے وقت ہی نہ بچا اور بچے بیچارے چار و نا چار دینی تعلیم سے نا واقف ہوتے رہے۔ اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ملک کے کچھ دین دار،  سمجھ دار لوگ یہ بیڑا لے کر کھڑے ہوں اور وہ نصاب میں داخل اسلام متصادم نظریات اور غیر ضروری امور کو خارج کر دیں۔ اگر یہ طاقت نہیں تو کم از کم یہ کریں کہ ان امور اور اشیاء سے مسلمان طلبہ کو متنبہ کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں کہ جس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں علما سے مکمل تعاون حاصل کر کے ایسے کتابچہ تیار کریں جس میں مسلمان طلبہ کو ان چیزوں سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہو اور ساتھ ساتھ دین کی بنیادی اور ضروری باتوں کو آسان اور سہل انداز میں بیان کر دیا گیا ہو،  تاکہ ہمارے معصوم بچے برین واشنگ سے محفوظ ہو جائے۔ امید کہ توجہ دی جائے گی۔ ہم اپنے بچوں کو پہلے مسلمان بنائیں پھر ڈاکٹر،  پہلے مسلمان بنائیں پھر انجینئر،  پہلے مسلمان بنائیں پھر تاجر،  پہلے مسلمان بنائیں پھر سائنس داں۔ قرآن کا اعلان ہے: ’’قو انفسکم و اھلیکم نارا‘‘  اپنے آپ کو،  اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچاؤ۔

نوٹ: تعلیم و تربیت اور ماحول سے اعداء اسلام نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا،  ویسے بھی نفس برائی کو جلدی ہی قبول کرتا ہے،  مثلاً،  مصر میں رفاعہ رافع طہطاوی جس نے رقص اور مخلوط ناچ گانے کو صحیح قرار دیا،  اور فرعونیت کے احیاء کی کوشش کی،  اسی طرح طہٰ حسین،  قاسم امین،  وغیرہ نے عورت کی آزادی اور اسلام مخالف نظریات کی تائید کے لیے کتابیں لکھ ماری۔ الجزائر میں محمد اَرْکون نے قرآن پر اعتراضات کیے۔ سرسید نے قرآن و حدیث کو مغربی افکار اور آزادانہ تشریح و توضیح کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کی،  یہ سب انہوں نے برطانیہ کے سفر کے بعد ہی کیا،  اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے،  مصر کے حسنی مبارک،  اُردن کے شاہ عبداللہ،  امارات کویت،  سعودی،  ترکی،  پاکستان،  وغیرہ تمام حکمراں اور ان کی اولاد مغرب ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں،  و یا للاسف۔ آزادی،  تجدید،  مساوات،  سیکولرزم،  موڈرنزم،  قومیت،  جمہوریت،  اشتراکیت،  وغیرہ کے فروغ میں بھی یہی لوگ کوشاں ہیں۔

ذر ائع ابلاغ

            ذرائع ابلاغ کو عربی میں اعلام  کہا جاتا ہے،  ’’الاعلام نشاتہ وسائلہ مایؤثر فیہ‘‘ کے مصنف دکتور یوسف محی الدین اس کی تعریف کی ہے: ’’ہو نشر الحقائق و الاخبار و الافکار و الآراء فی وسائل الاعلام المختلفۃ‘‘یعنی میڈیا کہا جاتا ہے،  حقائق،  اخبار،  افکار،  آراء کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا۔ (ص۶)

            ذرائع ابلاغ کی تاریخ بہت قدیم ہے،  ہر زمانہ میں لوگ مختلف طریقوں سے معلومات اور اخبار کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہے،  کبھی پرندوں کو استعمال کر کے،  کبھی پمفلیٹوں کو دیواروں پر چسپاں کر،  کبھی بآواز بلند لوگوں کو خبر دے کر،  یہاں تک کہ صنعتی انقلاب کے بعد ذرائع ابلاغ میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں،  یہاں تک کہ پچھلی صدی کو ’’ذرائع ابلاغ کے انقلاب‘‘ کی صدی کہا گیا،  محی الدین عبدالحلیم نے عجیب بات کہی کہ ذرائع ابلاغ کے انقلاب کے بعد اب کوئی لمحہ چاہے رات کا ہو،  چاہے دن کا،  اس سے خالی نہیں ہوتا اور انسان بیدار ہونے کے فوراً بعد سے لے کر سونے تک ذرائع ابلاغ سے برابر ربط میں رہتا ہے،  چاہے وہ سمعی ہو،  چاہے مرئی ہو،  چاہے مقروئی ہو،  جس کی وجہ سے اس کی فکر اور نظریہ پر بڑا اثر مرتب ہوتا ہے۔ (الدعوۃ الاسلامیۃ و الاعلام الدولی:ص۱۴)

ذرائع ابلاغ کے انواع و اقسام

            اتصال شخصی جیسے موبائل،  ای میل،  جی میل،  فیکس،  ٹیل فون،  وغیرہ۔ پرنٹ میڈیا جیسے اخبارات،  رسائل،  جرائد،  کتابیں۔ الیکٹرانک میڈیا پھر اس کی دو قسمیں ہیں : ذرائع ابلاغ سمعی جیسے ریڈیو،  ٹیپ وغیرہ،  ذرائع ابلاغ مرئی  جیسے ٹیلی ویژن،  ڈش،  وغیرہ۔

ذرائع ابلاغ کی تاریخ

            ریڈیو کی ایجاد امریکہ میں ۱۹۲۰ء میں ہوئی۔

            ٹیلی ویژن پر تجربات کا آغاز ۱۸۲۸ء سے شروع ہوا،  پہلے صرف تصاویر،  پھر آواز،  پھر نقل و حرکت،  اس طرح ہوتے ہواتے ۱۹۸۹ء میں ڈائریکٹ ٹیلی کاست تک پہنچا۔

             پرنٹ میڈیا کی تاریخ تو بہت قدیم ہے،  البتہ ۱۶۶۵ء میں باقاعدہ مشینی پرنٹ میڈیا کا آغاز ہوا۔

            انٹرنیٹ ۱۹۶۹ ء میں ایجاد کا آغاز ہوا،  ۱۹۸۳ء تک کمال کو پہنچا۔

            ٹیلی فون:                       فیکس:

            وِلسن کاسن ایک موقع پر کہتا ہے کہ صحافت اور ذرائع ابلاغ صرف اخبار اور آراء کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے نہیں ہے،  بلکہ اس کے ذریعہ لوگوں کی قوتِ فکر کو بدلا جا سکتا ہے،  اور لوگوں کے ذہنوں پر تسلط حاصل کیا جا سکتا ہے۔

(اباطیل واسمار:ص۲۵۵)

            اسی لیے ایک مشہورِ زمانہ مستشرق ارجب کہتا ہے کہ لوگوں کے افکار کو بدلنے کے لیے صرف مغربی انداز کی تعلیم اور مغربی نظریات کا پڑھا دینا کافی نہیں ہے،  بلکہ تعلیم تو صرف پہلا زینہ ہے۔ اصل تو ذرائع ابلاغ ہی ہے،  کیوں کہ اس سے ہر کس وناکس،  عالم و جاہل،  پڑھا لکھا و اَن پڑھ،  سب مستفید ہوتے ہیں،  لہٰذا سب سے زیادہ محنت ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہی کی جانی چاہئے،  تا کہ لوگ مغرب کے دلدادہ ہو جائیں۔ (وجہۃ الاسلام للمستشرق جیب)

            ’’الاعلام والتیارات الفکریۃ المعاصرۃ‘‘ کے مصنف سعید عبد اللہ حارب نے ذرائع ابلاغ پر کو نسی کتنی مقدار میں نشر ہوتی ہے،  کا ایک جائزہ لیا اور بڑی ہی ہلاکت خیز رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ یومیہ ۳۵فیصد وقت صرف ناچ گانا نشر کیا جاتا ہے،  اس کے تئیں ڈرامے،  موسیقی اور کھیل کود ۲۵  فیصد کا وقت اس کے لیے مختص ہے۔ ۲۱فیصد وقت نیوز اور اخبار کے مختص ہے۔ اور یہ رپورٹ تقریباً ۱۹۸۷ء کا ہے۔ اس کے بعد تو مزید اس میں اضافہ ہوا ہے،  گویا ریڈیو،  ٹیلی وژن وغیرہ پر تقریباً ستر فیصد وقت محض حرام،  لغو اور فضول امور کے لیے مختص ہے۔ عورتوں میں بے راہ روی کو عام کرنے کے لیے مقابلۂ حسن،  بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کے لیے کارٹونی کتابیں،  فلمیں اور گیمس۔برائیوں کو مزید فروغ دینے کے لیے فلمی ستاروں کو آشکار اور بہترین ادا کاری کے ایوارڈ۔ اسی طرح کھیل عام کرنے کے لیے بڑی بڑی انعامی رقمیں وغیرہ وغیرہ۔

             غرضیکہ ذرائع ابلاغ فکرِ اسلامی ہی نہیں بل کہ انسان کو ہلاک و برباد کرنے لیے،  اس وقت بہترین آلہ ہے اور ہر طرح کے ذرائع ابلاغ پر مکمل رسوخ یہود و نصاریٰ کو حاصل ہے۔ دنیا میں جتنی بڑی بڑی اخباری اجنسیاں ہیں،  مثلاً: C۔N۔N, B۔B۔C وغیرہ،  سب یہود و نصاریٰ ہی کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اخبار کو توڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بے جا الزام تراشی ان کا وطیرہ بن چکی ہے،  کبھی اسلام کے خلاف،  کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف،  کبھی قرآن کے خلاف،  کبھی جہاد اسلامی کے خلاف،  کبھی اسلامی طریقۂ حدود و تعزیرات کے خلاف،  کبھی خلافتِ اسلامیہ کے خلاف،  کسی نہ کسی طرح زہر افشانی ہوتی رہتی ہے۔ ’’مغربی میڈیا اوراس کے اثرات۔ نذر الحفیظ ندوی‘‘ میں مزید تفصیلات جانی جا سکتی ہے۔

            اسی پر بس نہیں بل کہ دنیا میں فحاشی اور عریانی کو عام کرنے کے لیے ہالی ووڈ،  بالی ووڈ،  ٹالی ووڈ کے نام سے بڑی بڑی فلم انڈسٹریاں قائم کر دی گئی ہیں،  یہ جس میں عریانی قتل و غارت گیری،  چوری،  ڈکیتی،  اغوا،  ظلم وستم کے نئے نئے طریقے دکھائے جاتے ہیں،  عقائد کو بگاڑنے کے لیے آواگون،  باطل معبودوں کو فرضی طاقت،  جادو گری وغیرہ کے مناظر دکھائے جاتے ہیں،  انٹرنیٹ پر لاکھوں ایسی ویب سائٹس لانچ کی گئی جو جنسی انار کی کو پھیلانے میں لگی ہوئی ہے اور اب تو رہی سہی کسر موبائل نے پور ی کر دی،  سیڈیCD،  اور ڈی وی ڈیDVD کے ذریعہ بھی خرابیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

             غرض کہ ذرائع ابلاغ،  گویا ذرائع ابلاغ جہنم بن چکے ہیں،  خدارا،  اے میرے مسلمان بھائیو! کچھ تو عبرت حاصل کرو اور بے جا لذت میں مبتلا ہو کر اپنی عاقبت اور آخرت برباد ہو نے سے بچاؤ۔

            اللہ ہم سب کو توفیق خیر عطا فرمائے،  اور ہر طرح کے فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین !

رفاہی اداروں کے آڑ میں

            خلافت اسلامیہ کو یہود و نصاریٰ کے اتحاد نے جب ساقط کر دیا،  تو عالم اسلام کو باوجودیکہ اس کے پاس تمام قیمتی معدنی وسائل ہیں،  مثلاً پیٹرول،  ڈیژل،  سونا،  جواہرات وغیرہ،  اسے غربت کا شکار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا،  اولاً اشتراکیت اور کمیونزم کے ذریعہ اور اس کے بعد سرمایہ داریت اور کپیٹل ازم کے ذریعہ،  کہ عالم اسلام کو یا تو مقروض کر دیا جائے یا غربت سے دوچار کر دیا جائے۔اولاً افریقی اور ایشیائی ممالک پر قابض ہو کر،  اس کی تمام دولت لوٹ کر،  یورپ کے جانب لے گئے،  اسے افلاس سے دوچار کر دیا،  یہاں تک کہ فاقہ کشی اور غربت عام ہو گئی،  پھر وہاں اسکولوں،  کالجز،  ہاسپتالوں،  ڈسپنسریوں،  مالی تعاون کے بہانے لوگوں کی غربت سے فائدہ اٹھایا گیا،  مال کی لالچ دے کر،  عیسائیت اور لادینیت کو فروغ دیا گیا،  پھر جب دیکھا کہ عالم اسلام کے عرب ممالک ان کا تعاون کر رہے ہیں،  تو صدام حسین،  انور سادات،  جمال عبد الناصر،  محمود عباس حسنی مبارک وغیرہ مفاد پرستوں کو آلۂ کار بنا کر استعمال کیا،  صدام کو کویت پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور پھر نصرت و تعاون کے بہانے کویت سعودی دبئی وغیرہ میں اپنی فوجوں کو لا بیٹھا یا،  فلسطین پر قبضہ کر کے اسرائیلی ریاست قائم کر دی اور انور سادات جیسوں نے ان سے صلح و معاہدہ کر لیا اور فلسطینیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا،  بل کہ ان کا تعاون کرنے والوں کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ اسی طرح عالم اسلام کو مالی بحران کی زد میں لا کھڑا کر دیا اور اس کا فائدہ اٹھا کر رفاہی،  طبی،  غذا ئی،  تعلیمی کاموں کی آڑ میں آ کر نصرانیت کی دعوت دی جا رہی ہے،  سا ل گذشتہ المجتمع میں مصر،  الجزائر وغیرہ اسلامی ممالک میں پیسے دے کر نصرانیت قبول کرنے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی؛ اسی طرح انڈونیشیا،  بنگلادیش،  افریقی ممالک میں بھی عمدہ عمدہ لیبل لگا کر نصرانیت کو عام کیا جا رہا ہے۔

            غرضیکہ کسی نہ کسی طرح سے مسلمانوں کو ایمان سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قرآن نے اسی کو کہا: ’’وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا‘‘(البقرہ:۱۰۹)ایک جگہ ارشاد :

’’لا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی  یَرُدُّوْکُمْ عَنِ دِیْنِکُمْ اِنِ اسَتَطَاعُوْا‘‘(البقرہ:۲۱۷)  ایک اور جگہ ارشاد خداوندی:’’وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدَ وَ لا النَّصَاریٰ حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ‘‘(البقرہ:۱۲۰)۔ پہلی آیت میں ہے،  اہل کتاب کی اکثریت اس بات کی خواہشمند ہیں کہ تم ایمان کے بعد کفر کو اختیار کر لو۔ دوسری آیت میں ارشاد ہے،  وہ برابر تم سے قتال کرتے رہیں گے یہاں تک تم کو تمہارے دین سے پھیر دے اگر ان کا بس چل جائے۔ اور اخیر ی آیت میں ارشاد ہے،  یہود و نصاریٰ تم سے ہر گز اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان (باطل) کی ملت کی پیروی کرنے نہ لگ جاؤ۔

            اللہ ہم سب کو فتنوں سے بچنے کے اسباب اختیار کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسلام و ایمان کے ساتھ اس دار فانی سے رخصت کرے۔ آمین یا رب العالمین!

 تاریخ الغز و الفکری

            اوپر یہ معلوم ہو چکا کہ ’’الغز و الفکری‘‘ کی اصطلاح تو جدید ہے،  مگر ’’تصادم فکری‘‘ تخلیق آدم ہی سے شروع ہو چکی تھی،  پھر زمین پر نزول آدم کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا،  کیوں کہ شیطان نے کہا تھا ’’و لاغوین ہم من بین ایدیہم و عن ایمانہم و عن شمائلہم ولا تجدو اکثرہم شاکرین‘‘کہ میں نے انسان کو ضلالت اور گمراہی میں مبتلا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا،  لہٰذا اس نے اس پر عمل درآمد زمین پر آتے ہی شروع کر دیا تھا،  البتہ اسے کامیابی شروع شروع میں زیادہ نہ مل سکی،  مگر آدم علیہ السلام کے انتقال کے بعد جب ایک عرصۂ دراز گذر گیا تو لوگوں کو ورغلا کر اس نے بڑے بزرگوں کی تصویریں بنوائی،  پھر اس کی تعظیم کروائی،  یہاں تک اس کی پرستش میں مبتلا کر دیا،  جب صنم پرستی عروج پر پہنچی تو ایک روایت کے مطابق حضرت ادریس اور دوسری روایت کے مطابق سب سے پہلے حضرت نوح علیہماالصلوٰۃ و السلام کو رسول بنا کر اللہ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا،  اس کے بعد وقفہ وقفہ سے جہاں ضرورت محسوس ہوئی،  اللہ نے فکرِ انسانی کو صحیح رَوِش پر لانے کے لیے بے شمار انبیاء مبعوث کیے،  یہاں تک کہ اخیر میں خاتم الانبیاء و المرسلین کو مبعوث کیا،  اور آپ کو مکمل شریعت دے کر بھیجا،  آپ پر آخری کتاب اور ’’خاتم الکتب السماویۃ‘‘ بھی نازل کی گئی،  اور ساتھ ہی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کی اور اس کے علاوہ دیگر ضروری امور کی مکمل وضاحت کر دی گئی،  تمام اصول اور ضروری فروع کو بھی بیان کر دیا گیا،  لہٰذا اب قیامت تک نہ کوئی نبی آ سکتا ہے،  نہ کوئی نئی شریعت آسکتی ہے،  نہ کوئی دستورِ حیات آسکتا ہے،  قرآن اور حدیث ہی کے مضامین کی اصول میں رہ کر تشریح و توضیح تو ہوسکتی ہے،  مگر وہ تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا جو پہلی شریعتوں میں رونما ہوا۔

الغز و الفکری کا منظم آغاز

            ’’الغز و الفکری‘‘ ہر زمانہ میں حق و باطل کی ’’غیرعسکری‘‘ معرکہ آرائی کی صورت میں ہوتی رہی،  خاص طور پر حضرت نوح علیہ السلام،  حضرت ہود علیہ السلام،  حضرت صالح علیہ ا لسلام،  جتنے انبیاء کا تذکرہ قرآن میں ہے سب کے زمانہ میں پائی جاتی رہی،  البتہ حضرت نوح موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے زمانہ میں باطل نے اس کا زیادہ ہی استعمال کیا،  مگر ہر محاذ پر اسے شکست سے دوچار ہونا ہی پڑا،  کیوں کہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے درمیان کوئی مسلح باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی،  بل کہ یہی کہ قوم نوح حضرت نوح علیہ السلام کے طرزِ عمل پر شدت سے نقطہ چینی کرتی رہی،  سورۂ نوح میں قرآن کریم نے ’’مکالمہ‘‘ کے انداز میں اسے بیان بھی کیا،  صرف سورہ نوح ہی نہیں،  بل کہ اس کے علاوہ بھی بہت سی سورتوں میں اس کی تفصیلات ملتی ہے،  اسی طرح موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا،  کہ فرعون سے کوئی منظم جنگ نہیں ہوئی،  حالاں کہ بنواسرائیل بہت بڑی تعداد میں تھے،  مگر یہی ’’فکری جنگ‘‘ ہوتی رہی،  اور فرعون،  قوم فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کے بھی بہت سے مکالمات اور محادثات کو قرآن نے بیان کیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی ہوا۔ غالباً قرآن کریم میں ان کے واقعات کو بیان کرنے کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جیسے ان مذکورہ انبیاء کے زمانہ میں ’’فکری جنگیں ‘‘ ہوتی رہی،  امت محمدیہ بھی اس سے دوچار ہو گی،  مگر یہ امت قرآن کی وجہ سے وہ ہمیشہ ان کا مقابلہ کرتی رہے گی،  اور بھی الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔

خلاصہ

            ان واقعات نے ’’الغز و الفکری‘‘ کے لیے کافی و وافی مواد فراہم کر دیا،  جس کی روشنی میں ہمیں جوابات تیار کرنا ہے اور ضعیف الایمان مسلمانوں اور دشمنوں کو یا تو خاموش کرنا ہے،  یا حق پر لے آنا ہے،  پھر جو تھوڑی بہت کمی رہ گئی تھی،  اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ ہونے والے مکالمات کی صورت میں بیان کر دیا گیا،  مگر امت محمدیہ کا زمانہ دیگر امت کے مقابلہ میں طویل المدت ہے،  اس لیے اس کو صرف ’’الغز و الفکری‘‘ ہی سے سابقہ نہیں پڑنے والا تھا،  بل کہ ’’الغزوالعسکری‘‘ سے بھی سابقہ لازمی تھا،  لہٰذا اس کے بھی احکام بیان کیے گئے،  تاکہ قیامت تک فکری و عسکری دونوں یلغاروں پر معرکۂ آرائی میں اسے سہولت رہے،  اور ’’علم وحی‘‘ کی روشنی میں وہ اپنے دونوں میدانوں میں کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔

            قرون اولیٰ میں جب اہل باطل کو ’’عسکری‘‘ میدان میں ہر موقعہ پر ’’ہزیمت‘‘ سے دوچار ہونا پڑا،  تو انہوں نے ’’نفاق کے لبادے‘‘ میں اسلام کے خلاف ایک ’’فکری محاذ‘‘ برپا کر دیا،  جس نے اولاً تو دور نبوی ہی میں اختلاف و انتشار کی کوشش کی،  اور پھر جب کچھ نہ بن پڑا تو خاص طور پر اہلِ کتاب نے،  عام طور پر اہلِ باطل نے اعتراضات اور اشکالات کی گرم بازاری کا آغاز کیا،  کبھی تحویل قبلہ پر اعتراض،  کبھی ناسخ و منسوخ پر  اور کبھی آمدِ جبریل پر اعتراض،  کبھی نبوت سلمانی پر اعتراض اس کے علاوہ اسلام کے دیگر امور پر بھی اعتراض کی بوچھار ہوتی رہی۔

            دورِ نبوی کے بعد دورِ صدیقی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے فوراً بعد اہل کتاب اور چند رؤساء عرب نے ارتداد کو شہ دی،  مختلف پروپیگنڈے کئے،  کسی نے زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کیا،  تو کسی نے دعوی نبوت کر کے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی،  جس میں مسلیمہ کذاب،  اسود عنسی،  طلیحہ ابن خویلد،  سجاح بنت الحارث،  ذوالتاج لقیط ابن ثمرہ کا خاص شمار ہوتا ہے،  مگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ہمت و استقلال،  اور جرأت و شجاعت نیز حکمت عملی نے صرف ایک سال کے عرصہ میں اس پر قابو پا لیا،  اور دین کو ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھا،  اسی لیے حضرت مولانا علی میاں ندویؒ فرماتے تھے ’’ردۃ و لا ابا بکر لہا‘‘۔

            حضرت عمر ابن الخطابؓ کے دور میں جب ان کی شرارتوں کو بھانپ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق انہیں جزیرۃ العرب سے باہر کر دیا گیا،  تو ایک عرصہ تک ظاہری طور پر فتنہ ’’الغز و الفکری‘‘ تھم گیا،  کیوں کہ حضرت عمرؓ بڑے ہی دور بیں اور جرأت مند تھے،  پوری جرأت اور حکمت عملی اور دور بینی کے ساتھ جاندار اور شاندار فیصلہ کرتے تھے،  جس کی وجہ سے تمام فتنہ پرورمایوس ہو چکے تھے،  اسی لیے باقاعدہ مجوسی فیروز اور ہرمزان اور دیگر یہودی و نصرانی طاقتوں نے حضرت عمر ابن الخطاب کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا،  جس کی پوری مکمل محققانہ مصر کے نامور مؤرخ الاستاذ جمال نے اپنی کتاب ’’اثر  اہل الکتاب فی الحروب و الفتن الداخلیۃ فی القرن الاول‘‘ میں کی ہے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فتنوں کے آغاز کی نشاندہی مقتل عمر ہی سے کی تھی،  جیسا کہ حضرت حذیفہؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے،  آپ نے فرمایا کہ ایک دروازہ جو توڑ دیا جائے گا اور فتنوں کا آغاز ہو جائے گا اگرچہ فتنوں سے دونوں فتنہ قتال بین المسلمین بھی اور فتنہ الغز و الفکری مراد ہے،  مگر اس سے بھی اسی عظیم فتنہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے،  جو عبداللہ ابن سباء نے شروع کیا تھا،  جس کے نتیجہ میں خوارج،  رافضہ،  قدریہ،  معتزلہ،  مرجئہ،  جسدیہ جیسے مختلف فرقے قرنِ اول ہی میں وجود میں آ گئے۔

            حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور خلیفہ ثالث ہیں،  جن کے بے شمار مناقب احادیث میں وارد ہوئے ہیں،  بے شک آپ ہی حضرت عمر کے بعد خلافت کے حقدار تھے،  اور آپ نے دورِ خلافت میں کوئی بھی خلافِ شرع اور نفسانیت پر مبنی کام نہیں کیا،  مگر ’’فتنہ پروروں ‘‘ نے آپ کی نرم دلی اور عفو و درگذر سے غلط فائدہ اٹھایا،  اور آپ پر بے بنیاد اَقرباء پروری کا الزام عائد کیا،  جس کے محقق و مدلل جوابات ہمارے مؤرخین اور علما نے شواہد کی روشنی میں دیے ہیں،  آپ کو علامہ ظفر احمد عثمانیؒ کے رسالہ ’’برات عثمان‘‘ کا ایک بار مطالعہ کر لینے سے اندازہ ہو جائے گا،  کہ حقائق کیا ہیں،  اور الزامات کی حقیقت کیا ہے؟

            مردود عبداللہ ابن سباء (جو ابن سودہ کے نام سے جانا جاتا تھا) نے پہلے بصرہ میں،  پھر مصر میں چند لوگوں کو حضرت عثمان اور آپ کے عمال کے خلاف بھڑکایا،  اور انہیں مدینہ کی طرف روانہ کیا،  حضرت عثمان اگر صحابہ کو جنگ کی اجازت دے دیتے تو ان تمام بلوائیوں کی تکہ بوٹی ہوسکتی تھی،  مگر آپ کے نزدیک حرمتِ خونِ مسلم یہ انتہائی مقدس تھا،  آپ نے کسی کو بھی قتال کی اجازت نہ دی،  البتہ آپ حق پر تھے،  لہٰذا کسی بھی صورت میں خلافت سے دست برداری کے لیے آمادہ نہ ہوئے جس کے نتیجہ میں ان محروم القسمت بلوائیوں نے ایک دن موقعہ پا کر،  آپ کو شہید کر دیا،  رضی اللہ عنہ وارضاہ،  انا للہ وانا الیہ راجعون۔

            مگر حضرت عثمان ذو النورین نے یہ تو ثابت کر دیا کہ ’’اہل حق ‘‘ کو ثبات قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے،  حتی المقدور مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرنی چاہیے،  اس کے لیے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے،  آپ کے بعد حضرت عبد اللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہ نے ’’واقعہ حرہ‘‘ کے موقع پر حضرت حسین نے ’’واقعہ کربلا‘‘ میں اور حضرت عبداللہ ابن زبیر اوراس کے بعد النفس الزکیہ نے اسی کو اسوہ بنایا،  اور ثبات علی الحق کی بے مثال تاریخیں رقم کروائی،  رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین!

            حضرت علیؓ کا دور تو داخلی خلفشار کا شکار ہو گیا،  جس میں بھی عبداللہ ابن سباء کے پروردہ لوگوں نے اہم رول ادا کیا،  اور خلفشار سے نکلنے کی ہزاروں کوششوں کے باوجود کامیابی حاصل نہیں ہونے دی،  اور پھر مسلمانوں کے باہمی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ایک طرف ایک جماعت کو صحابہ کی تکفیر پر آمادہ کیا،  جو ’’خوارج‘‘ سے یاد کیے گئے،  اور دوسری جانب ایک جماعت کو ان کے علم کی کمی وجہ سے حضرت علی کی ’’خلافت بالوصل’’ اور ’’وصی‘‘ اور آگے چل کر ’’الہ‘‘ پر آمادہ کیا،  جو روافض شیعہ کہے گئے،  اور اس طرح انتشار کا سلسلہ شروع ہو گیا،  جو آج بھی جاری و ساری ہے۔

            خلفائے راشدین کے دور کے بعد تو وہ کھلے بندھوں آزاد ہو گئے،  یہاں تک کہ قرنِ ثانی کے اوائل اور قرن اول کے اختتام پر چند لوگوں نے نبوت کے دعوے بھی کر دیئے،  اور فتنہ دعوی نبوت آج تک رواں دواں ہے۔

            خلافت عباسیہ میں ’’الغز و الفکری‘‘ نے شدت اختیار کی،  کیوں کہ دورِ بنوامیہ سے علوم یونان اور فلسفہ ہند وغیرہ کے جو عربی تراجم شروع ہوئے تھے،  اس میں تیزی آئی اور لوگ ’’شریعیات‘‘ یعنی علوم نقلیہ شرعیہ کے مقابلہ ’’علوم عقلیہ‘‘ کی طرف زیادہ متوجہ ہونے لگے،  ’’مامون الرشید‘‘ نے تو اس میں ضرورت سے زیادہ ہی دلچسپی کا مظاہرہ کیا،  اور باقاعدہ ’’یونان‘‘ کے بادشاہ سے کتابیں منگوا کر اس کے عربی میں تراجم کروائے،  ترجمہ کرنے والوں کو معاوضات دیے،  یہاں تک کہ مامون خود ہی ’’عقلیات‘‘ سے متاثر ہو کر ’’اعتزال‘‘ کی طرف مائل ہو گیا،  اور معتزلہ کو گویا سرکاری سپوٹ اور تعاون حاصل ہو گیا،  طاقت کے زور پر بعض خلفائے عباسیہ نے اعتزال کو فروغ دینا چاہا،  مگر حضرت امام احمد ابن حنبل جیسے علما ء نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا،  جس کی وجہ سے عوام الناس اس جیسے نظریہ زیادہ متاثر نہ ہوسکی۔

’’الغز و الفکری‘‘ میں شدت

            جب اندلس میں موسیٰ ابن نصیر اور طارق بن زیاد کے ہاتھوں اسلام پہنچا،  اور اہل یورپ نے دیکھا کہ مسلمانوں کو علوم کے ساتھ والہانہ تعلق ہے،  جس کے نتیجہ میں وہ ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں،  ان کی آنکھیں چندھیا گئیں،  کیوں کہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ کلیساؤں،  پادریوں،  اور کاہنوں اور اپنے بادشاہوں کی جانب سے ہونے والے جبر و تشدد کے زیر نگیں زندگیاں گذار رہے تھے،  اسی وجہ سے مؤرخین یورپ نے خود اسے ’’تاریخ یورپ کا سیاہ باب‘‘ (Dark ages) سے تعبیر کیا،  مسلمانوں کے دیکھا دیکھی انہیں بھی ترقی کی سوجھی،  لہٰذا مسلمانوں کی درسگاہوں میں فن و ہنر سیکھنے کی اجازت طلب کی،  تو مسلمانوں نے وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا،  اور انہیں اجازت دے دی،  انہوں نے علم حاصل کیا،  مگر بغرض ہدایت نہیں بل کہ ’’بغرض مادیت‘‘،  لہٰذا ایمان جیسی عظیم دولت سے تو وہ محروم رہے،  البتہ مادی ترقی کی راہیں کھل گئیں۔

            اہلِ مغرب نے اب جب کچھ سیکھ لیا تو دنیا پر قیادت و سیادت کے خواب دیکھنے لگے،  اور اس نے اسلام کے خلاف ایک زبردست ’’صلیبی‘‘ محاذ کھڑا کیا،  گیارھویں صدی کے نصف سے لے کر تیرھویں صدی تک تقریباً دوسو سال میں ’’ مشرقِ اسلامی‘‘ پر ہلاکت خیز آٹھ حملے کیے،  پہلا حملہ ۱۰۹۵ء میں ’’پوپ اور پان‘‘ نے ’’قدس‘‘ کو حاصل کرنے کے لیے ’’مقدس صلیبی جنگ‘‘ کا نام دے کر اس کو مذہبی رنگ دے کر لوگوں کو جنگ پر آمادہ کیا،  اور پندرہ ہزار کا لشکر لے کر برطس نکلا،  مگر سلاجقہ نے ان کا مقابلہ کیا اور وہ لوگ ’’قدس‘‘ پہنچنے سے پہلے ہی شکست کھا کر بھاگے۔

            ۱۰۹۶ء سے ۱۰۹۹ء تک تیاری کر کے’’ غورفری‘‘ اور ’’پلودین‘‘ کی قیادت میں ۱۰۹۹ء میں فلسطین پر ایک زبردست حملہ کیا،  اور وہ لوگ بیت المقدس پر قابض ہو گئے،  جہاں انہوں ہزاروں اور لاکھوں مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا،  خود ان کے مؤرخ ’’لویوی ریمونڈوا جیل‘‘ نے اس کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہماری قوم یعنی صلیبیوں نے عرب کے ساتھ بڑا ظلم کیا اور ان کا قتل عام کیا صرف ’’مسجد عمر‘‘ میں دس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا،  اور اس حملہ میں تقریباً ستر ہزار بے گناہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا،  یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ مسلمان انتشار کا شکار تھے اور چھوٹی چھوٹی مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گئے تھے،  کہیں فاطمیوں کی حکمرانی تھی تو کہیں عباسیوں کی وغیرہ وغیرہ،  البتہ عماد الدین زنگی نے صلیبیوں کا خوب جم کر مقابلہ کیا،  اور ان کو شام کی جانب آگے بڑھنے سے روک دیا۔ ۱۱۲۸ء میں زنگی نے حلب کو صلیبیوں سے بچایا،  اور ۱۱۴۴ء میں شہر ’’ھا‘‘ پر قبضہ کر لیا،  مگر ۱۱۴۶ء میں عماد الدین زنگی کی وفات ہو گئی اور صاحبزادہ نورالدین زنگی اس کا جانشین ہوا۔

            نورالدین زنگی میں شجاعت اس کے والد سے بھی زیادہ تھی،  اس نے صلیبیوں کے ناک میں دم کر دیا،  اور ’’انطاکیہ‘‘،  ’’طرابلس‘‘ اور کمانڈر ’’شیر کوہ‘‘ کی قیادت میں دمشق کو بھی فتح کر لیا،  جس پر چند سال قبل صلیبیوں نے قبضہ کر لیا تھا،  اس کے بعد ’’اسدالدین شیرکوہ‘‘ کی قیادت میں ایک لشکر مصر کی جانب فاطمیوں کے خلاف ارسال کیا،  جس میں فاتح فلسطین صلاح الدین ایوبی بھی تھے،  جو پہلی مرتبہ کسی جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ ۱۱۶۹ء میں مصر پر زنگی کا قبضہ ہو گیا اور ’’اسدالدین شیرکوہ‘‘ کو وزیر بنا دیا گیا،  مگر دو ماہ کے بعد ہی اسدالدین کا انتقال ہو گیا،  انا للہ و انا الیہ راجعون۔

            اسدالدین نے صلاح الدین کو اپنا جانشین ٹھہرایا،  اور صلاح الدین ایوبی نے ’’بیت المقدس‘‘ کی آزادی کی تیاریاں شروع کر دی،  یہاں تک کہ ۱۱۸۷ء میں صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان ’’معرکۂ حطین‘‘ پیش آیا۔

            صلاح الدین ایوبی اور اسلامی لشکر نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور صلیبیوں کو شکست سے دو چار کر دیا،  اور اس طرح ’’بیت المقدس‘‘ کے قریب پہنچ گئے،  اور آہستہ آہستہ ’’فلسطین‘‘ کے اردگرد کی بستیوں پر قبضہ شروع کر دیا،  اور ’’ شہر عکا‘‘ اور ’’ناصرہ،  قیساریہ،  حیف صیدا،  بیروت‘‘ پر قبضہ ہو گیا،  یہاں تک کہ مجبور ہوکر جب وہ گھیرے میں آ گئے اور ناامید ہو گئے،  تو مسلمانوں کے ساتھ صلح پر آمادہ ہو گئے،  اور الحمدللہ! عرصۂ دراز کے بعد پھر دوبارہ تکبیر کی صداؤں اور اذان کی نداؤں سے فضاء گونجنے لگی،  مگر مسلمانوں نے ان ظالموں کی طرح ظلم نہیں کیا،  ماضی میں مسلمان امن پسند رہا ہے،  اور یہی لوگ ’’دہشت گرد‘‘ رہے ہیں،  اور حال میں بھی یہی صورتِ حال ہے،  یہ واقعہ اس پر شاہدِ عدل ہے۔

            ۱۱۸۹ء میں صلیبیوں نے جمع ہو کر پھر بیت المقدس کو قبضہ میں لینے کی کوشش کی،  مگر چار سال کی محنت کے بعد ۱۱۹۲ء میں صلح پر مجبور ہو گئے،  اور ۱۱۹۳ء میں صلاح الدین وفات پا گئے۔ اناللہ و انا الیہ راجعون!

            ۱۲۰۲ء میں صلیبیوں نے چوتھا حملہ کیا،  مگر یہ حملہ مصر پر قبضہ کرنے کے لیے تھا،  لیکن ایطالین تاجروں نے جس حاکمِ مصر ’’ملک عادل‘‘ کے ساتھ معاہدہ تھا،  انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

            ۱۲۱۷ء میں مصر پر قبضہ کرنے کے لیے پانچواں حملہ کیا،  مگر ملک عادل کے انتقال کے بعد اس کے جانشین ملک کامل نے انہیں نامراد واپس یورپ کی طرف جانے پر مجبور کیا۔

            ۱۲۲۸ء میں پھر چھٹا حملہ کیا،  ملک کامل نے اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر صلح کر لی،  ۱۲۳۰ء میں صلیبیوں کو تسلط دے دیا،  البتہ ۱۲۴۴ء میں پندرہ سال بعد دوبارہ تیاری کر کے حملہ کیا اور حاصل کر لیا۔

            ۱۲۴۸ء میں پھر ساتواں حملہ صلیبیوں کی جانب سے ہوا،  ۱۲۴۹ء میں صلیبی لشکر ’’مصر‘‘ تک پہنچ گیا،  اور ’’دمیاط‘‘ پر قبضہ کر لیا،  البتہ ’’قاہرہ‘‘ میں نجم الدین ایوب نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا،  مگر اسی دوران نجم الدین اچانک انتقال کر گئے،  مگر ان کی ذہین بیوی ’’شجرۃ الدُرَر‘‘ نے ان کے وفات کی خبر کو راز میں رکھا،  تاکہ لشکر ہمت نہ ہارے،  اور ’’توران شاہ‘‘ کو ان کا جانشین بنا دیا،  اور الحمدللہ اس کے ہاتھوں مسلمانوں کی فتح بھی ہوئی،  لویس (Luves) التاسع گرفتار کر لیا گیا۔

            اس کے بعد عالم اسلام دوہری مصیبت میں گرفتار ہو گیا،  کیوں کہ ایک طرف تاتاریوں نے ۶۵۶ھ/۱۲۸۵ء میں بغداد کا محاصرہ کر لیا اور دولتِ عباسیہ کا سقوط ہو گیا،  مگر جب وہ آگے بڑھے تو ’’ممالیک‘‘ نے ان کو ملک شام پر ہی رکنے پر مجبور کر دیا،  اور اسلام کے مشہور بہادر ’’ظاہر بیبرس‘‘ کی قیادت میں ۱۲۶۰ء میں تاتاریوں کی ’’معرکۂ عین جالوت‘‘ میں شکست سے دوچار کیا،  دوسری جانب صلیبیوں نے بھی انطاکیہ کی جانب سے حملہ کیا،  مگر ’’ظاہربیبرسھھ نے انہیں ہزیمت پر مجبور کیا،  ظاہر بیبرس کے اِنتقال کے بعد سلطان قلاووْن نے بھی صلیبیوں سے بہت سے علاقہ چھین لیے۔ ۱۲۹۱ء میں سلطان کے انتقال کے بعد ان کے ہونہار صاحبزادے جانشین ہوئے اور انہوں نے بیروت وغیرہ جو کچھ علاقہ صلیبیوں کے پاس رہ گیا تھا،  اسے بھی واپس لے لیا۔

            ان جنگوں کے بعد اب صلیبی ہمت ہار گئے،  اور انہوں نے دوبارہ یورپ کی جانب رخ کرنے ہی میں عافیت سمجھی،  لہٰذا وہ یورپ لوٹ گئے،  البتہ قلیل مقدار میں مسلمانوں کے درمیان سکونت اختیار کرنے پر راضی ہو گئے ا ور اسلام کے سایۂ عدل و مصالحت ہی میں انہوں نے اپنے آپ کو محفوظ پایا،  تمام صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کی کامیابی کا اصل راز مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد،  ان کا جہاد،  ان کا جذبہ ایمانی،  اور ان کے نیک و صالح سلاطین اور ان کی اسلام کے ساتھ بے پناہ محبت اور اس پر عمل در آمد،  انہیں جنگوں کے طفیل صلاح الدین ایوبی،  ظاہربیبرس،  نورالدین زنگی،  عمادالدین زنگی،  اسدالدین شیرکوَہ،  ملک عادل،  ملک کامل،  نجم الدین ایوب،  توران شاہ،  سلطان قلاوون،  خلیل ابن قلاوون،  محمد بن قلاوون،  سلطان برسابی جیسے مشہور کامیاب جنرل ظاہرہوئے،  جنہوں نے اسلام کی عظمت کے لیے سب کچھ قربان کر دیا،  اور فتح و کامرانی کی عظیم مثالیں قائم کر دیں،  آج ہمارے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ان بے مثال مجاہدین کے نام تک نہیں جانتے۔

            دوسو سال تک ان پے در پے شکستوں کے بعد ’’لویس‘‘ جو فرانس کا بادشاہ تھا،  اور آخری صلیبی جنگ میں صلیبیوں کی قیادت کر رہا تھا،  ’’المنصورہ‘‘ میں صلیبیوں کی شکست کے بعد گرفتار ہو گیا،  مگر مسلمانوں نے فدیہ لے کر اسے چھوڑ دیا تھا،  جب وہ فرانس پہنچا تو اس نے برملا یہ کہا کہ ’’یہ تلوار اور ہتھیار کی طاقت سے مسلمانوں کو کبھی زیر نہیں کیا جا سکتا،  کیوں کہ ان کا عقیدہ ایمانی انتہائی مضبوط ہے،  جو انہیں ہمیشہ جہاد پر آمادہ کرتا ہے،  اور دین کے خاطر ہر طرح کی قربانی کے لیے وہ تیار ہو جاتے ہیں،  چاہے کتنی قیمتی چیز کیوں نہ قربان کرنی پڑے،  یہاں تک کہ جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔

            لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اب ہم اپنے اس طریقہ کو بدلیں،  اور کوئی ایسا طریقہ اپنانے کی کوشش کریں جس سے ان کے عقیدہ راسخہ پر زد آئے،  ان کا ایمان کمزور اور متذبذب ہو جائے،  پھر اس نے چند تجاویز پیش کیں،  جو یہ ہیں :

            (۱) سب سے پہلے ہمیں صحیح اسلامی فکر اور عقیدہ کو ضرب کاری لگانے کی ضرورت ہے،  جس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اسلام کا مطالعہ کرنا ہو گا۔

            (۲) اسلام کے مطالعہ کی غرض صرف یہ ہو کہ اس میں تحقیق اور ریسرچ کے نام پر اعتراضات کیے جائیں اور مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے سلسلے میں شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا جائے۔

            اس طرح صلیبی جنگ نے پانسا پلٹا،  اور نئی کروٹ لی اور ’’عسکری میدان‘‘ سے ’’فکری میدان‘‘ کی طرف جنگ کا رخ کر دیا گیا،  اس کے لیے انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر قرآن،  احادیث مبارکہ اور دیگر اسلامی علوم کو اپنی زبانوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا،  اور پھر ’’استشراق‘‘ کے نام پر مستقل ایک تحریک وجود میں آئی،  جس نے شرقی لسانیات،  مذاہب و علوم پر تحقیق کے لبادے میں اسلام پر زوردار حملے کا آغاز کر دیا۔

استشراق ایک تعارف

            استشراق(Orientalism) اس فکری تحریک کو کہا جاتا ہے،  جس کا ظاہری مقصد مشرق اوسط کے مختلف ادیان،  آداب،  زبانوں،  اور ثقافتوں کا مطالعہ کر کے حقیقی مقصد،  ’’ اسلام‘‘ کو مزعومہ علمی انداز میں مجروح کرنا ہے۔

            استشراق کے سلسلے میں ڈاکٹر برہان احمد فاروقی بہت عمدہ تجزیہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

            مغرب میں کلچر،  خصوصاً اسلامی کلچر کا جو مطالعہ کیا گیا وہ اس تصوّر کے پیش نظر ہوا کہ ابتدا میں علوم طبعی مدون ہو گئے اور ان کے نظام ہائے علم بن گئے۔ اس کے بعد کے دو چیزیں سامنے آئیں : ایک انفرادی نفس اور دوسرے اجتماعی نفس۔ انفرادی نفس کا مطالعہ نفسیات کے سپرد ہوا اور وہ ایک نظام علم بنا،  اور اجتماعی نفس کا مطالعہ عمرانیات یا Sociologyکے سپرد ہوا۔ قدیم تہذیبوں کا مطالعہ اس نظر سے کیا گیا کہ جو آثار قدیم تہذیبوں کے موجو د ہیں ان کے حوالے سے اجتماعی نفس کو سمجھنے کی سعی کی جائے۔ چناں چہ تمام تہذیبوں کی ابتداء مشرق ہی میں ہو ئی تھی،  اس لیے ان کا مطالعہ کرنے والے افراد مستشرقین کے نام سے یاد کئے گئے۔ مستشرقین میں چند گروہ ہیں۔ایک گروہ تو ان لوگوں کا ہے جن کا نقطۂ نظر خالص علمی تھا او وہ تہذیب و ثقافت کو یا کلچر کو بحیثیت مظہر نفس اجتماعی سمجھنا چاہتے تھے لیکن ان کا ذہن یہ تھا کہ اسلام بھی نینوا،  بابل،  مصر اور ہند کی قدیم تہذیبوں کی طرح ایک مٹی ہوئی تہذیب ہے جس کے متعلق سوال یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے اسباب عروج  و زوال کیا ہیں ؟ ان کے نزدیک اس کا جو جواب مسلم تھا اور جو مفروضہ انہوں نے اسلامی تہذیب کے عروج کی توجیہ کے لیے اختیار کیا وہ میکانی اصول علمیت یعنی Causation Hypothesis of Mechanicalکا مفروضہ تھا۔ اسلام کی توجیہ کو انہوں نے یہ صورت دی کہ اسلام سے پہلے کی جو تہذیبیں ہیں،  ان کا اثر اسلامی تہذیب پر پڑا اور اسلامی تہذیب نتیجہ میں آئی،  لہٰذا قبل اسلام قدیم تہذیبوں Pre-Islamic Cultures کا۔اس نقطۂ نگاہ کے پش نظر انہوں نے معاشرت کو اور ادب کو جاہلیت کا نسلی ورثہ قرار دیا۔فلسفہ اور حکمت کو یونانی افکار سے ماخوذ قرار دیا،  فقہ یعنی قانون شریعت کو رومن لا(Roman Law)یا یہودیت سے ماخوذ قرار دیا اور اخلاق و تصوف اور مذہب کو مسیحیت سے ماخوذ جانا۔ اس طرح نقطۂ نظریہ قرار پایا کہ اسلام کے تہذیبی و ثقافتی پہلوؤں میں کوئی پہلواسلام کا اپنا نہیں ہے ہر چیز دوسرے نظامہائے کلچر افکار اور دوسری تہذیبوں سے مستعار لی ہوئی ہے۔جن مستشرقین نے اسلامی کلچر پر غور کیا،  ان میں دوسرا گروہ ان مسیحی مبلغین کا تھا جنہوں نے تہذیب کے میدان میں اسلام کے خلاف محاذ کھول دیا۔خود ولیم میور کے بقول جب مسیحیوں کو صلیبی محاربات میں شکست ہو گئی تو انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام،  مسیحیت کی مقبول ہونے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے اور اسلام کو ناقابل قبول ثابت کرنے کی جب تک کامیاب کوشش نہیں کی جائے گی،  مسیحیت مقبول نہیں ہو گی۔ چناں چہ مسیحی مبلغین نے اسلام کا مطالعہ اس نظر سے شروع کیا کہ اس کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور اس کے تمام ثقافتی اور تہذیبی فضائل کا سر چشمہ ماقبل اسلام تہذیبوں کو قرار دے کر یہ بتایا جائے کہ اسلام کا اپنا کچھ نہیں ہے،  یہ سب انہوں نے ہم سے لیا ہے۔

            اس کے بعدمستشرقین کا ایک اور گروہ آیا جو یہودیوں پر مشتمل تھا۔ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ وہ یہودیت کی تجدید کے لیے عبرانی کا مطالعہ کریں اور عبرانی زبان کا مطالعہ کرنے کے بعد ان پر یہ بات کھلی کہ مسلمانوں نے عبرانی ادب میں بھی بے اندازہ کام کیا ہے۔ اس کا یہ اثر ہوا ا ہمت و استقلال، اور جرأ ہو جائےکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے کے لیے عربی علم و ادب کے مطالعے کی طرف توجہ کی۔ انہوں نے یہ تہیہ کیا کہ اسلام کا مطالعہ اس کے اصلی ماخذ سے کیا جائے۔ چناں چہ انہوں نے عربی پڑھی اور عربی پڑھنے کے بعد انہوں نے اس عناد کے ساتھ،  جو یہودیت ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے،  اسلامی عقائد،  اسلامی تصورات،  اسلامی شخصیات،  اسلامی قانون،  اسلامی ادارات،  اسلامی روایات،  اسلامی تحریکات،  اسلامی مقامات اور اسلامی تاریخ میں جو واقعات تھے ان سب کا مطالعہ اس انداز میں پیش کیا کہ اس میں اسلام کی تنقیص پائی جائے اور جہاں کہیں ان میں سے کسی مستشرق میں فراخدلی نظر آتی ہے،  اس کا بھی سبب یہ ہے کہ جب اسے منظور ہو آنحضرت کی تنقیص کرے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تعریف کرتا ہے یا وہ جب بھی آنحضرت کی تنقیص کرنا چاہتا ہے تو امام غزالی کی عظمت بیان کر کے اپنے لیے یہ موقع پیدا کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ مستشرق کا ایک اور گروہ ہے جس نے اسلامی تہذیب کا اور اسلامی کلچر کا مطالعہ کیا۔یہ گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو استعمار پرستی کے نمائندے ہیں اور ان کا مفاد یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف حصے اور مسلم اقوام جو ان کے مستعمراتی عزائم کی راہ میں رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں،  انہیں دور کیا جائے،  مسلمانوں کی قوت اور ان کے ضعف و قوت کے اسباب کو سمجھنے کے لیے انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اس کے بعد اپنی تصانیف کے ذریعہ یہ اثر پیدا کرنے کی کو شش کی کہ مسلمانوں کا ماضی چاہے جتنا تابناک ہو مگر ان کا مستقبل بغیر مغربی اقوام کا سہارا لیے تاریک رہے گا۔

            مستشرقین کا ایک اور گروہ تھا جس کے پیش نظر یہ تھا کہ اسلامی تہذیب کے جو فضائل اور جو آثار باقی رہ گئے ہیں،  انہیں اس انداز میں پیش کیا جائے کہ یہودیوں اور مسیحیوں کا عناد مسلمانوں کے خلاف پھر ایک بار مشتعل ہو اور وہ انہیں مٹانے کے لیے پوری شدت سے کام لیں۔

            مستشرقین کا ایک اور گروہ وہ ہے جو اس وقت مینک گل،  پرنسٹن،  کیمبرج،  آکسفورڈ اور واشنگٹن وغیرہ میں کام کر رہا ہے،   یعنی اسلامی کلچر پر ریسرچ میں مصروف ہے۔ ان لوگوں کا مدعا یہ ہے کہ قیادت تو مسیحیت کے ہا تھ سے نہ نکلے مگر اشتراکیت کے محاذ پر مسلمانوں کو اپنی موافقت میں کٹوانے کی تدبیر دریافت ہو سکے۔ وہ تمام مختلف محرکات،  جن کی بنا پر اسلامی کلچر کا مطالعہ مستشرقین نے پیش کیا ہے،  اس مطالعے کو ایک بہت ہی متعصبانہ رنگ دے دیتے ہیں۔ یہ مطالعہ اسلام کا غیر جانبدارانہ مطالعہ نہیں اور ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ہر جدید تعلیم یافتہ کی رسائی صرف انہی مآخذ تک ہے جو مستشرقین نے پیش کیے ہیں۔ (قرآن اور مسلمان اور کے زندہ مسائل: ص۱۰۷تا ۱۰۹)

            بعض حضرات مستشرقین کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں : ’’منصف مستشرقین اور متعصب مستشرقین‘‘۔ مگر فاروقی صاحب کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم غلط ہے،  اور میری ناقص رائے بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ بس اتنا فرق ہے کچھ مستشرقین زیادہ زہر افشانی کرتے ہیں،  اور کچھ کم،  ورنہ ان میں کوئی سراپا منصف ہمیں دکھائی نہیں دیتا،  اور دکھائی بھی کیسے دے؟ کیوں کہ اس تحریک کا مقصد ہی ’’اسلام دشمنی‘‘ ہے،  اگر کبھی کوئی اچھی بات کرتا بھی ہے تو وہ ’’و لا تلبسوا الحق بالباطل‘‘ یعنی حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو،  مگر اسی لیے ایسا کرتے ہیں،  تاکہ حق ملتبس ہو جائے،  یہی طریقہ یہود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں اپناتے تھے کہ کچھ چیزوں کی تصدیق کرتے اور بعد میں کچھ کی تکذیب۔ اور مستشرقین انہیں کی اولاد ہیں۔

مستشرقین کی فریب کاری

            یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید،  سیرت،  تاریخ،  تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں،  جن کو جمع کر کے قرآن،  شریعت اسلامی،  سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم،  قانون اسلامی،  تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں،  جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں،  مستشرقین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسانی  جماعت،  کوئی انسانی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بل کہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔ (حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)

استشراق کے مقاصد

استشراق کے دینی مقاصد

            ٭استشراق کے پروان چڑھنے میں درپردہ دینی مقصد ہی کار فرما تھا۔ استشراق کے اس طویل سفر میں مندرجہ ذیل امور اس کے ساتھ تھے:

            ٭نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے صحیح ہونے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا،  نیز یہ باور کرانا کہ احادیث نبویہ کو مسلمانوں نے قرون ثلاثہ میں ایجاد کیا ہے۔

            ٭قرآن کریم کے صحیح ہونے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا،  نیز قرآن کریم میں طعن و تشنیع کرنا۔

            ٭اسلامی فقہ کی وقعت کو کم کرنا اور اسے رومن فقہ باور کرانا۔

            ٭عربی زبان کو ختم کرنا،  نیز یہ باور کرانا کہ عربی زبان زمانے کی ترقی کا ساتھ نہیں دے سکتی ہے۔

            ٭اسلام کی اصل یہودیت اور نصرانیت کو قرار دینا۔

            ٭تبلیغ کرنا اور مسلمانوں کو عیسائی بنانا۔

            ٭اپنے افکار و نظریات کی تقویت کے لیے موضوع احادیث کا سہارا لینا۔

تجارتی مقاصد

            ٭اسلامی ممالک کے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں اور ان معلومات پر نوٹ لکھنے والوں کو بادشاہِ وقت بے پناہ مال و دولت سے نوازا کرتا تھا۔

            ٭عالم اسلام پر مغربی قبضے سے قبل انیسویں،  اور بیسویں صدی میں تجارتی مقصد زیادہ نمایاں تھا۔

سیاسی مقاصد

            ٭مسلمانوں میں بھائی بندی کی فضا کو ختم کر کے ان میں تفرقہ ڈال کر ان پر غلبہ حاصل کرنا۔

            ٭عامی لہجے کو اہمیت دینا اور مروّجہ عادات کا مطالعہ کرنا۔

            ٭استعماری قوتیں اپنے وظیفہ خوروں کو نوآبادیاتی ممالک میں ان کی زبان،  آداب اور ادیان کی تحقیق پر مامور کرتے تھے کہ یہ معلوم کرسکیں کہ ان ممالک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر وہاں کس طرح حکومت کی جا سکتی ہے۔

            ڈیڑھ سو سالوں کے دوران یعنی انیسویں صدی کے آغاز سے بیسویں صدی کے وسط تک مستشرقین کی تالیف کردہ کتابوں کی تعداد ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

کانفرنسیں و جمعیات

            ٭مستشرقین کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس ۱۸۷۳ء میں پیرس میں منعقد ہوئی۔

            ٭اس کانفرنس کے بعد مسلسل عالمی سطح کی کانفرنس منعقد ہوتی رہیں چناں چہ اب تک صرف بین الاقوامی کانفرنسوں کی تعداد تیس ہو گئی ہے؛ یہ ان بین الاقوامی مجالس و اجتماعات کے علاوہ ہیں،  جو ہر ملک کے ساتھ خاص ہیں،  مثلاً۱۸۴۹ء میں جرمن مستشرقین کی کانفرنس،  درسدن،  جرمنی میں منعقد ہوئی؛ اس طرح کی کانفرنسیں آج تک مسلسل منعقد ہو رہی ہیں۔

            ٭مذکورہ کانفرنسوں میں ہر دفعہ سینکڑوں مستشرق علما حاضر ہوئے تھے،  مثال کے طور پر آکسفورڈ کانفرنس کولے لیں جس میں ۲۵ ممالک کی یونیورسٹیوں اور ۶۹ علمی اداروں سے ۹۰۰ سو علما شریک ہوئے تھے۔

            ٭متعدد استشراقی جمعیتیں بھی ہیں۔ مثلاً ’’ایشیائی جمعیت‘‘جس کی بنیاد۱۸۲۲ء میں پیرس میں رکھی گئی تھی،  اور ’’ایشیائی شاہی جمعیت‘‘جس کی بنیاد ۱۸۲۳ء میں برطانیہ و آئرلینڈ میں رکھی گئی تھی،  اسی طرح ’’مشرقی جمعیت امریکہ‘‘ کی بنیاد۱۸۴۲ء میں اور ’’مشرقی جمعیت جرمنی‘‘ کی بنیاد ۱۸۴۵ء میں رکھی گئی تھی۔

استشراق استعمار کی خدمت میں

            ٭کارل ھینرس بیکر(KARL HEINRICH BEEKER)(وفات ۱۹۳۳ء)’’جریدہ اسلام جرمنی‘‘ کے بانی اس شخص نے ایسی تحقیقات کیں جو افریقہ میں استعماری مقاصد کی خدمت کرتی ہیں۔

            ٭بار ٹھولڈ(BARTHOLD)(وفات ۱۹۳۰ء)رسالہ’’روس اسلامی دنیا‘‘ کے بانی۔ انہوں نے بھی ایسی تحقیقات سرانجام دیں جو وسط ایشیا میں روسی قیادت کے مفادات کی خدمت کرتی ہیں۔

            ٭ہالینڈ کا باشندہ سنوک ہر گرونج (SNOUCK HURGRONJE) (۱۸۵۷ء۔۱۹۳۶ء)۔  یہ شخص ۱۸۸۴ء میں عبد الغفار کے جعلی نام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوا۔ نصف سال تک مکہ میں قیام کرنے کے بعد واپس چلا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ شرق اسلامی میں استعماری مقاصد کی خدمت میں تحقیقاتی رپورٹ لکھے۔

            ٭پیرس میں ۱۸۸۵ء ’’مشرقی زبانوں کا  ش خور زہ توڈ، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبہدادارہ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ مشرقی ممالک اور مشرق بعید کے ملکوں میں استعمار کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان ممالک کے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔

استشراق کے خطرناک افکار

            ٭جارج سیل G۔SALEنے اپنی کتاب معانی قرآن کا ترجمہ (اشاعت۱۷۳۶ء)کے مقدمے میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا ہے: ’’قرآن،  محمد(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کی اپنی ایجاد و تالیف ہے،  اورایسامعاملہ ہے کہ اس میں جدل کی کوئی گنجائش نہیں ‘‘۔(گویااس شخص کے خیال میں یہ بات بالکل یقینی ہے)۔

            ٭ریچرڈبل(RICHARD BELL)کے اپنے زعم کے مطابق نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو یہود کی کتابوں،  خاص طور پر ’’عہد نامہ  قدیم،   اور نصاریٰ کی کتابوں سے اخذ کیا ہے۔

            ٭دوزی(وفات ۱۸۸۳ء)کے زعم میں قرآن انتہائی بد ذوق کتاب ہے۔ اس میں بعض خاص چیزوں کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں،  نیز اس کا زعم ہے کہ قرآن بہت طویل اور ایک حد تک اکتا دینے والی کتاب ہے۔

            ٭برطانوی نوآبادیات کے وزیر ’’اومی غو‘‘ نے اپنی حکومت کے رئیس کے نام۹  جنوری ۱۹۳۸ء میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’جنگ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اسلامی اتحاد ہی سب سے بڑا خطرہ ہے لہٰذا سلطنت برطانیہ کو اس سے ڈرنا چاہیے اور اس کے خلاف جنگ کرنا چائے۔ یہ خطرہ صرف سلطنت برطانیہ کے لیے نہیں فرانس کے لیے بھی ہے۔ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ خلافت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ وہ دوبارہ واپس نہ آئے‘‘۔

            ٭شیلدون آموس لکھتا ہے کہ: شریعت محمد در اصل عرب ممالک کے سیاسی احوال کے موافق،  مشرقی شہنشائیت کے رومن قوانین کا نام ہے‘‘۔ یہ شخص مزید لکھتا ہے کہ ’’قانون محمدی تو صرف عربی رنگ میں رنگے ہوئے قوانین ہیں ‘‘۔

            ٭رینان فرانسیسی لکھتا ہے کہ ’’عربی فلسفہ دراصل عربی حروف میں مکتوب یونانی فلسفہ ہے۔‘‘

            ٭رھا۔ لویس ما سینیون تو یہ شخص عربی زبان کو بازاری لہجے میں بولنے اور لاطینی حروف میں لکھنے کی تحریک کا قائد وشہسوار تھا۔

بنیادی عقائد و افکار

            ٭استشراق در اصل صلیبیوں کے عہد میں شرق اسلامی اور غَرب نصرانی کے درمیان موجود تناؤ کی پیدا وار ہے نیز سفارتوں اور سفیروں کے ذریعے بھی اس نے پرورش پائی۔

            ٭استشراق کی بنیادی وجہ فلسفیانہ نصرانیت ہے،  جس کا مقصد اسلام میں دخل اندازی کر کے،  مسلمانوں کو فریب دے کر اور اسلام میں شکوک و شبہات داخل کر کے اسے اپنے اندر سے تباہ کرنا ہے،  لیکن آخر میں استشراق نے ان قیود سے آزاد ہونا شروع کر دیا ہے تا کہ خود کو صرف علمی روح کے قریب ترین کرسکے۔

مشہور اسلام دشمن مستشرقین

            گولڈ زیہر (Goldizher) ۱۸۵۰ء-۱۹۲۰ء) ہنگری کا یہودی تھا۔ اس کی کتابوں میں سے ایک کتاب (تاریخ مذاہب التفسیر الاسلامی) ہے۔ گولڈ زیہر بلا اختلاف یورپ میں اسلامیات کا سربراہ مانا گیا (حالاں کہ تدوین حدیث،  امام زہری پر سب سے پہلے اعتراض کرنے والا،  یہی ہے)۔

            ٭جان مارینارڈ (J. Marynard) امریکی،  بڑا متعصب تھا۔ رسالہ ’’اسلامی علوم‘‘ کے لکھاڑیوں میں سے ہیں۔

            ٭ایس۔ ایم زویمر (S.M. Zweimer) یہ مستشرق عیسائی،  امریکی رسالے ’’اسلامی دنیا‘‘ کا مؤسس تھا،  ان کی کتاب ’’اسلام،  عقیدے کو چیلنج کرتا ہے ‘‘۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔ اس کی ایک اور کتاب کا نام ’’اسلام‘‘ہے۔ یہ کتاب متعدد مقالوں کا مجموعہ ہے،  جسے عیسائی تبلیغی کانفرس دوئم۱۹۱۱ء لکھنؤ ہندوستان میں پڑھا گیا تھا۔

            ٭ جی وون غرونبادم (G. VON GRUN BAUN) جر من یہودی،  امریکی یونیورسٹیوں کا استاذرہا ہے۔ اس کی کتابوں میں ’’محمدی عیدیں ۱۹۵۱‘‘اور ’’اسلامی ثقافتی تاریخ کا مطالعہ‘‘۱۹۵۴ء قابل ذکر ہیں۔

            ٭ آئی۔جے۔ وینسک (I.J.WENSINK) یہ اسلام کا بڑا دشمن تھا،  اس کی ایک کتاب کا نام ’’اسلامی عقیدہ۔۱۹۳۲ء‘‘ہے۔

            ٭کینیت کراج(K. GRAGG) متعصب امریکی اس کی ایک کتاب کا نام ’’دعوت اذان گاہ‘‘ ۱۹۵۶ء ہے۔

            ٭لوی ماسیشون(L. MASSIGON)فرانسیسی مبلغ۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے شعبۂ امور نو آبادیات شمالی افریقہ کے مشیر تھے،  ان کی ایک کتاب کا نام ’’صوفی حلاج شہید اسلام میں ‘‘ہے جو ۱۹۲۲ء میں شائع ہوئی۔

            ٭ڈی۔بی۔ب میکڈونالڈ(D.B. MACDONALD)امریکی متعصب مبلغ۔ اس کی ایک کتاب ’’علم کلام فقہ اور دستوری نظریے کی ترقی‘‘ ۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی۔ نیز اس کی ایک کتاب’’اسلام دینی موقف اور حیات‘‘۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔

            ٭مایلزگرین(M. GREEN)سیکریڑی تحریر۔رسالہ ’’الشرق الاوسط‘‘۔

            ٭ڈی۔ایس۔ مارگولیوث(D.S.MARGOLIOTH)۱۸۰۵۔۱۹۴۰ء متعصب انگریز۔طہ حسین اور احمد امین کا ہم خیال تھا۔ اس کی ایک کتاب’’اسلام میں نئی ترقی‘‘ ۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی۔ اس کی ایک اور کتاب ’’محمد اور طلوع اسلام‘‘۱۹۰۵ء میں شائع ہوئی،  نیز اس کی ایک کتاب ’’الجامعۃ الاسلامیۃ‘‘ ۱۹۲۱ء میں شائع ہوئی۔

            ٭اے۔جے۔ آربری(A. J. ARBERRY) متعصب انگریز۔ اس کی کتابوں میں سے ایک کتاب’’اسلام آج‘‘۱۹۴۳ء میں اور ایک کتاب ’’تصوف‘‘ ۱۹۵۰ء میں شائع ہوئی۔

            ٭ بارون کارادی فو(BARON CARRADE VOUX)فرانسیسی متعصب۔ دائرہ معارف اسلامیہ کے بڑے محررین میں سے تھے۔

            ٭ایچ۔ اے۔آر۔جب(H۔A۔R)۔ ۱۹۶۵ء انگریز۔اس کی کتابوں میں ایک کتاب ’’محمدی مذہب‘‘۱۹۴۷ء میں اور’’اسلام میں نئی جہتیں ‘‘ ۱۹۳۷ء میں شائع ہوئی۔

            ٭آر۔اے۔ نیکولسن(R. A. NICKILSON)انگریز۔ یہ شخص اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اسلام ایک روحانی مذہب ہے بل کہ وہ اسلام کو مادیت اور انسانی ترقی کے مخالف مذہب سے تعبیر کرتا ہے اس کی کتاب ’’صوفیائے اسلام‘‘۱۹۱۰ء میں اور ایک کتاب ’’عربوں کی ادبی تاریخ‘‘۱۹۳۰ء میں شائع ہوئی۔

            ٭ہزی لا منس مسیحی ۱۸۷۲۔۱۹۳۷ء(H.LAMMANS)متعصب فرانسیسی۔ اس کی ایک کتاب کا نام ’’اسلام‘‘ اور ایک دوسری کتاب کا نام ’’الطائف‘‘ ہے۔ نیز یہ دائرہ معارف اسلامیہ کے محررین میں سے تھا۔

            ٭جوزیف شاخت(J. SCHACHT)متعصب جرمن۔ اس کی ایک کتاب ’’اسلامی فقہ،  کے اصول‘‘ ہے۔

            ٭بلاشیر:ان کو فرانسیسی وزارت خارجہ میں عربوں اور مسلمانوں کے امور کا ماہر سمجھا جاتا تھا،  وہ اسی شعبہ میں اپنے فرائض منصبی انجام دیتا تھا۔

            ٭الفرڈجیوم(A. JEOM)متعصب انگریز۔ اس کی ایک کتاب کا نام ’’اسلام ‘‘ہے۔

پھیلاؤ اور اثر ورسوخ کے مقامات

            ٭مغرب ہی وہ مناسب سر زمین ہے جس پر مستشرقین سر گرم رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مستشرقین زیادہ تر جرمنی،  برطانیہ،  فرانس،  ہالینڈ اور ہنگری کے باشندے ہیں۔ بعض مستشرقین اٹلی اور اسپین میں بھی نمودار ہوئے۔

            ٭حقیقت یہ ہے کہ استشراق کا سورج امریکہ میں زیادہ چمکا،  چنانچہ امریکہ میں استشراق کے بہت سے مراکز ہیں۔

            ٭مغربی حکومتوں،  کمپنیوں،  کمیٹیوں،  اداروں اور کلیساؤں نے استشراقی تحریک کی امداد و تائید کرنے اور یونیورسٹیوں میں انہیں کھلا چھوڑنے میں بالکل بُخل سے کام نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مستشرقین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔

            ٭درا صل استشراقی تحریک،  استعمار و نصرانیت کی خدمت کے لیے مسخر تھی اور آخر میں یہودیت اور صیہونیت کی بھی خادمہ بن گئی۔ ان تمام قوتوں کا ہدف مشرقِ اسلامی کو کمزور کر کے براہ راست یا بالواسطہ اس پر تسلط جمانا ہے۔(مذاہب عالم کا انسائکلو پیڈیا)

گلوبلائزیشن استشراق کا نیا ایڈیشن

            عالم اسلام کے نامور محققین ’’ ڈاکٹر اڈورڈ سعید ‘‘ اور ’’ ڈاکٹر انور عبد الملک ‘‘ کے مطابق ۱۹۷۳ء فرانس کے شہر ’’ پیرس ‘‘ میں،  مستشرقین کی انیسویں عالمی کا نفرنس منعقدہ ہو ئی،  جس میں امریکہ کے یہودی مستشرق ’’ برنا رڈلوئیس ‘‘ نے کہا کہ :

            ’’ اب ہمیں مستشرق کی اصطلاح کو تاریخ کے حوالے کر دینا چاہیے،  چناں چہ اتفاق رائے سے اس اصطلاح کا استعمال ترک کر دیا گیا اور ایک نئی اصطلاح استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا اور استشراق کے نئے نقشِ راہ کی قیادت امریکہ کو سونپ دی گئی،  یہ اصطلاح’’ گلوبلائزیشن ‘‘ کے نام سے عالمی حلقوں میں مشہور ہوئی(ایضاً)،  بس فرق اتنا تھا کہ پہلے استشراق کا نشانہ صرف اور صرف اسلام تھا،  اس کو دیگر مذاہب سے کوئی سروکارنہ تھا،  اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا نشانہ دنیا کے تمام مذاہب ہیں،  البتہ اسلام عالم گیریت کے لیے اس حیثیت سے سب سے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ اس میں گلوبلائزیشن کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے،  جب کہ دوسرے مذاہب اس طاقت سے محروم ہیں پہلے استشراق کا میدانِ کا ر،  صرف مذہب اور اس کے متعلقات تھے،  اس مرتبہ گلوبلائزیشن کا میدانِ کار مذہب او اس کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اقتصاد وسیاست بھی ہیں،  گویا گلوبلا ئزیشن کی اصطلاح نے استشراق اور استعمار (سامراجیت) کو باہم متحد کر دیا،  ماضی میں دونوں کی منزل اگر چہ ایک تھی،  مگر راہیں الگ الگ تھیں،  لیکن آج منزل بھی ایک ہے اور اس منزل تک پہنچنے کی راہ بھی ایک ہے۔

گلو بلا ئزیشن کی تعریف

(۱) ڈاکٹر ’’ ترکی الحمد ‘‘ کہتے ہیں کہ:

            ’’ گلو بلائز یشن سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کا طریقۂ کار ہی نہیں،  بل کہ اس طریقۂ کار کو اپنانے کی ہمہ گیر دعوت کا نام ہے،  یہ پوری دنیا پر تسلط کے ارادے کو بلا واسطہ طور پر وجود بخشنے کا ایک ذریعہ ہے،  مختصراً عالم گیریت،  اقتدار و بالا دستی کی طرف پیش قدمی کرنے اور ہر نافع چیز کو معدوم کرنے کا نام ہے۔  (روز نامہ الخلیج: ۵/۲/ ۲۰۰۰)

(۲)ڈاکٹر ترکی نے ثقافتی عالم گیریت کو الگ سے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

             جہاں تک ثقافتی عالم گیریت کا تعلق ہے،  تو اس کی تعریف میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کو غصب کر کے ان پر مغربی تہذیب مسلّط کرنا ہے ‘‘۔ (۲ ایضاً )

(۳) ڈاکٹر مصطفی النّشار ‘‘ کہتے ہیں کہ:

     ’’عالم گیرت کا مطلب ہر گز مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب کرنا نہیں ہے،  بل کہ اس کا مطلب تمام مقامی اور قومی تہذیبوں کو مٹا کر پوری دنیا کو مغربی رنگ میں رنگ دینا ہے‘‘۔  ( رسالہ المنتدی،  عدد ۱۹۳،  اگست ۱۹۹۹ء)

(۴) ڈاکٹر ’’ عبد الوہاب المسیری ‘‘ کہتے ہیں کہ:

      ’’ عالم گیریت مغربی روشن خیالی کی دعوت و تحریک کا نام ہے،  جس کا مقصد تہذیبی اور انسانی خصوصیات کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘ ( ماہنامہ المستقبل عدد ۱۳۰،  صفر ۱۴۲۳ھ مئی ۲۰۰۲ء)

(۵) ڈاکٹر ’’ مصطفی محمود ‘‘ کہتے ہیں کہ :

     ’’ گلو بلا ئز یشن وطن کی وطنیت اور قوم کی قومیت کا خاتمہ کرنے کے لیے معرضِ وجود میں آیا ہے،  یہ کسی بھی قوم کے دینی،  معاشرتی اور سیاسی انتساب کو ختم کرنے کا داعی ہے،  تاکہ اس قوم کی حیثیت بڑی طاقتوں کے سامنے ادنی خادم کی سی رہ جائے۔(رسالہ الاسلام وطن عدد ۱۳۸ص ۱۲ ۱۹۹۸ء)

             گلوبلائزیشن سیاسی و اقتصادی اصولوں،  معاشرتی و ثقافتی اقتدار اور زندگی کے طرز اور طریق کے ڈھانچے کا نام ہے،  جو پوری دنیا  پر زبر دستی مسلّط کیا جائے گا اور لوگوں کو اسی کے کھینچے ہوئے دائرے میں زندگی گزار نے پر مجبور کیا جائے گا۔(العر ب والعو لمۃ از محمد  عابد الجابری: ص ۱۳۷)

(۷)    گلوبلا ئزیشن امریکی تہذیب اور وہاں کے طرز ز ندگی کو پو ری دنیا پر تھوپنے کی کوشس کا نام ہے،  یہ ایک ایسا نظریہ ہے،  جو سارے عالم پر بلاواسطہ اقتدار و بالا دستی کا عکاس ہے۔ ( ایضاً)

(۸) عالم گیریت سیکولر اور مادّیت پر فلسفے اور اس سے متعلق اقدار و قوانین اور اصول تصورات کو باشند گانِ  عالم پر مسلّط کرنے کی کوشس کا نام ہے  (۱)الاسلام والعولمۃ،  از محمد ابراہیم المبروک ص : ۱۰۱،  طبع قاہر ۃ  ۱۹۹۹ء )

 (۹) گلوبلائزیشن ایک ایسی تحریک ہے،  جس کا مقصد مختلف اقتصادی،  ثقافتی اور معاشرتی نظاموں،  رسوم و رواج اور دینی،  قومی اور وطنی امتیازات کو ختم کر کے،  پور ی دنیا کو امریکی نظریے کے مطابق،  جدید سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں لانا ہے۔( العولمۃ،  از صالح الرقب :۶)

(۱۰)ڈاکٹر ’’صادق جلال العظم ‘‘گلوبلائزیشن کی تعریف کرتے ہیں کہ :’’یہ تمام ممالک کو ایک مرکزی ملک (امریکہ ) کے رنگ میں رنگنے کا نام ہے ‘‘۔ (ماالعولمۃ ؟ا زحسن حنفی و صادق جلال ص :۱۳۶،  طبع دار الفکر بیروت )

(۱۱)بہت سے مفکر ین نے نہایت مختصر انداز میں عالم گیریت کی یہ تعریف کی ہے کہ :’’گلوبلائیزیشن کے معنی ’’حدود کا اختتام ‘‘یہ جامع تعریف بڑی طاقتوں کے منصوبے کی ترجمانی کرتی ہے کہ مستقبل میں ہر قسم کی حد بندی،  خواہ اس کا تعلق اقتصادسے سیاست سے،  تہذیب یا ثقافت سے،  علم و دانش سے ہویا  طرزِ زندگی سے،  ختم کر دی جائے گی اور دنیا مختلف رنگوں کے بجائے ایک ہی رنگ کی ہو گی‘‘۔

 گلو بلائز یشن کی راہ کس نے ہموار کی ؟

            عالم گیریت کے پالیسی ساز اداروں نے جدید عالمی نظام،  کو قابل عمل بنا نے کے لیے،  جن وسائل کے ذریعے راہ ہموار کی،  ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

 (۱) آزاد عالمی تجارت  

             اس طرز تجا رت کا مقصد یہ ہے کہ ایک عالمی منڈی میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک تجارت کے میدان میں طبع آزمائی کریں،  اس منڈی کے دروازے تمام عالمی اقتصاد ی طاقتوں کے لیے کھلے ہوے ہوں،  اور وہ آزاد مقابلہ آرائی کے اصول کے تابع ہو ں۔(العولمۃ،  از صالح الرقب:ص۸) ایسی صورت میں ترقی یافتہ ممالک کی کمپنیوں کا غالب آ جانا یقینی ہے،  جن کے پاس اپنی مصنوعات کی تشہیر اوراس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اتنا سرمایہ ہے،  جو بعض ملکوں کے سالانہ بجٹ سے بھی متجاوز ہے،  ایسی مغربی کمپنیوں کے سامنے ترقی پذیر ممالک کی کمپنیاں باقی نہیں رہ پائے گی،  جن کے پا س نہ تشہیر کے بھر پور وسائل ہیں اور نہ اپنی مصنوعات کو اعلی معیار کا حامل بنا نے کے لیے مطلوب سر ما یہ،  اس لیے یہ کھلا بازار اقتصادی میدان میں ایک نظر یے کی حامل کمپنیوں کی اجا رہ داری اور عالم گیریت کے نفاذ کی راہ میں زینے کی حیثیت رکھتا ہے۔

(۲) براہ راست غیر ملکی سرما یہ داری

            کسی ملک میں باہر کی کمپنیوں کا تجارت کر نا،  اپنی کمپنیاں کھول لینا اور سرمایہ لگانا،  ’’براہ راست غیرملکی سرمایہ داری‘‘ کہلاتا ہے،  اس کو اقتصادیات کی اصطلاح میں Foreign Direct Investment (فارن ڈائرکٹ انوسٹمنٹ )کہا جاتا ہے۔(ایضاً)

            عالمی طاقتوں نے ترقی پذیر ممالک سے معاہدے کر کے اور کانفرنسوں میں منشور جاری کر کے،  دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کو قانونی حیثیت دے دی ہے،  اب کوئی بھی کمپنی کسی بھی ملک میں تجارت کر سکتی ہے،  اسی سنہر ے موقع کے ہاتھ آ جانے کے بعد،  مغربی کمپنیاں ترقی پذیر ممالک میں لنگر انداز ہو گئیں اور وہاں کی اقتصادیات کو نگلنا شروع کر دیا،  یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کے ساتھ سا تھ مغربی اقدار،  ثقافت اور تہذیب لاتی ہیں،  مزید بر آں ان کمپنیوں کی ترقی ممالک میں آمد اتنی کثیر المقاصد ہے کہ جہاں ان کو سرمایہ کاری کے نتیجے میں خود فائدہ پہنچتا ہے،  وہیں چند عالمی بنکوں کو بھی درست نفع ہوتا ہے،  جو یہودی لابی کے زیر اثر ہیں،  کیوں کہ عالمی کمپنیاں جو بھی سرمایہ لگاتی ہیں،  وہ انہی عالمی بنکوں کے واسطوں سے لگایا جاتا ہے،  اس لیے یہ عالمی بنک اس سرمایے سے بھاری نفع حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی لین دین پر بھی نظر رکھتے ہیں اور اپنے ملک کی معیشت کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔

(۳) ٹکنا لوجی کے میدان میں انقلاب

            ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی اس دور کا اہم ترین امتیاز ہے،  جو ملک بھی اس میدان میں آگے ہے وہ اقتصادیات کے دروبست پر بھی حاوی ہے،  اس ترقی کے نتیجے میں پوری دنیا ایک دوسرے کے قریب ہو گئی،  مشرق و مغرب کی دریاں سمٹ گئیں اور لفظ ’’مسافت‘‘ کی اب کوئی حقیقت نہیں رہی،  اس ترقی کی وجہ سے مال،  سامان اور سروسز (خدمات) کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نا کچھ مشکل نہیں رہ گیا ہے،  انٹرنیٹ کے ذریعے ایک بٹن دبا کر مطلوبہ چیز حاصل کر نا ایک حقیقت بن چکا ہے، لیکن ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی بھی صنعتی ممالک کے حصے میں آئی ہے،  جو اس ٹکنالوجی کی مدد سے اپنی صنعت کو مضبوط کر رہے ہیں اور مصنوعات کو دنیا کے کو نے کونے میں پہنچا رہے ہیں،  ٹکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹکنالوجی نے عالم گیریت کی راہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔(ایضاً:ص۹)

(۴)کثیر الملکی کمپنیوں کا پھیلاؤ

            موجودہ دور کو جہاں عالم گیریت کا دور کہا جاتا ہے،  وہیں اس کو کثیر الملکی (ملٹی نیشنل) کمپنیوں کے دور سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں،  اس لیے کہ یہ کمپنیاں گلوبلائزیشن کی اہم ترین کا آلۂ کار ہیں،  اور عالمی اُفق پر ان کی بڑی حیثیت ہے،  کیوں کہ جغرافیائی حدود کی پابندی نہ ہونے کی بنا پریہ کمپنیاں کئی ممالک میں سرمایہ کاری کرتی ہیں،  اور ان کی اقتصادیات پرسانپ بن کر بیٹھ جاتی ہیں،  اور پھروہی ہوتا ہے جوان کمپنیوں کو منظور ہوتا ہے،  ترقی پذیر ممالک ان کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں،  اور ان کے مالکان کے سامنے دست بستہ نظر آتے ہیں،  کم از کم اقتصادی میدان میں ان کی خواہشات کے مطابق قوانین بنتے اور ٹوٹتے ہیں۔

 (العولمۃ ص:۹ بہ حوالہ: العولمۃ والعالم الإسلامی:ارقام و حقائق،  از عبد اسما عیل،  الاندلس الخضراء  ۲۰۰۱ء)

عالم گیریت کی تمہید ات

            اس گفتگو سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ گلوبلائزیشن کا مقصد مختصر الفاظ میں امریکنائزیشن (Americanization)  یا دوسرے الفاظ میں،  پوری دنیا پر امریکی بالا دستی کو تھوپنا ہے۔ یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عالم گیریت اچانک رونما نہیں ہوئی،  بل کہ سرمایہ دار طاقتوں کی طرف سے اس کے لیے منصوبہ بند اور مؤثر کوششیں ہوئیں،  میدان صاف کیا گیا،  اور راہیں ہموار کی گئیں،  اگر ہم گذشتہ نصف صدی کی تاریخ پر نظر ڈالیں،  تو اندازہ ہو گا کہ بہت سے ایسے واقعات رو نما ہوئے ہیں،  جن کو عالم گیریت کی تمہید یا مقدمے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

            چناں چہ لیگ آف نیشنز اور پھر اقوام متحد ہ کا قیام عمل میں آیا،  جس کے ذیلی اداروں میں ’’عالمی بنک‘‘ اور ’’انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ‘‘ قابل ذکر ہیں،  جن کی سرپرستی میں عالم گیریت نے اقتصادی میدان میں فتح حاصل کی ہے،  پھر ۱۹۴۷ء کو’’ جنیوا‘‘ میں ۲۳صنعتی ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا،  جو ’’گاٹ‘‘ معاہدے (تجارت اور کسٹم ڈیوٹی پر ہونے والا معاہدہ)کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ آزاد تجارت کو فروغ دیا جائے اور معاہدے پردستخط کرنے والے ممالک،  اپنی منڈیوں کے دروازے ایک دوسرے کے لیے کھول دیں،  اس معاہدے نے۱۹۴۷ء میں صرف۲۳ممالک کی سرپرستی میں اپنا سفر شروع کیا،  ۱۹۹۳ء تک اس میں ۱۱۷  ممالک شریک ہو چکے تھے،  اسی طرح کا ایک اور معاہدہ’’ماسٹریکٹ‘‘کے نام سے مشہور ہوا،  جو ۱۵  صنعتی ممالک کے درمیان عمل میں آیا۔

            بہت سے سیاسی واقعات بھی عالم گیریت کے لیے ’’مقدمۃ الجی‘‘ ثابت ہوئے،  چناں چہ سرد جنگ کا اختتام ہوا،  اس سے پہلے پوری دنیا دو طاقتوں کے درمیان منقسم تھی،  روس کی شکست کے بعداس کے زیر اثر ممالک پر بھی امریکی اجارہ داری کا آغاز ہو گیا،  سابق روسی صدر ’’میخائیل گوربا چیوف‘‘ نے امریکی اشارے پر ۱۹۸۵ء میں کمیونزم کے اقتصادی نظام کی اصلاح کا اعلان کیا،  جس کو اس وقت’’بیروسٹویکا‘‘ کا نام دیا گیا،  یہ اعلان درحقیقت کمیونزم‘‘ کی ناکامی اور ’’سوویت یونین‘‘ کے سقوط کا اعلان تھا،  افغانستان کے بلند و بالا پہاڑوں سے ٹکرانے کے بعد،  کمیونزم اسی سرزمین میں دفن ہو گیا،  اور اس طرح دنیا کی دوسری بڑی طاقت،  جو’’سوویت یونین ‘‘کے نام سے جانی پہچانی جا تی تھی،  تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ ۱۹۸۹ء میں ’’دیوار برلن‘‘ کے انہدام اور مشرقی و مغربی جر منی کے اتحاد کے بعد،  ’’کمیونزم‘‘ کا مشرقی یورپ سے بھی جنازہ نکل گیا،  پھر  ۱۹۹۱ء میں خلیجی جنگ کا آغاز ہوا،  جس کے بہانے امر یکہ کو خلیج کے علاقے میں اپنے فو جی اڈے قائم کر نے کا موقع مل گیا،  ان تمام واقعات نے امر یکہ کو عالمی اقتدار کے عرش پر بیٹھنے اور جدید عالمی نظام کی قیادت کر نے کا موقع فراہم کر دیا۔

            اپر یل  ۱۹۹۵ء میں مرا کش کی راجدھانی ’’رباط‘‘ میں عالمی تجارت تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) کا قیام عمل میں آیا،  جو در اصل ’’گاٹ‘‘ معاہدے کی تجدید کی ایک کامیاب کوشش تھی،  یہ تنظیم گلوبلائزیشن کو نافذ کرنے کے سلسلے میں ’’عالمی بینک‘‘ اور انٹرنیشنل مانٹری فنڈ‘‘ کی مددگار کی حیثیت رکھتی ہے،  عالم گیریت کی عمارت میں اس وقت آخری اینٹ رکھ دی گئی،  جب سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’جنیوا ‘‘میں فروری ۱۹۹۷ء کو عالمی تجارتی تنظیم کے بینر تلے،  انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا،  جس سے اس ٹکنالوجی کیا آزادانہ استعمال سے متعلق عالمی معاہدہ ہوا،  جس سے اس ٹکنالوجی پر کنٹرول رکھنے والے ترقی یافتہ ممالک،  خصوصاً امریکہ کو ترقی پذیر ممالک میں اپنے اقدار و نظریات اور اپنی تہذیب و ثقافت کو رواج دینے کا موقع مل گیا۔ مشرقی یورپ کی ’’ناٹو‘‘ میں شمولیت اور بہت سے عرب ممالک کے عالمی تجارت تنظیم ‘‘ کا ممبر بن جانے کی وجہ سے بھی گلوبلائز یشن کو نہایت سرعت کے ساتھ پھیلنے میں مدد ملی ہے،  پھر اسرائیل کے اقتصادی ایجنڈا بھی عالم گیریت کے لیے مدد گار ثابت ہوئے،  جن کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل کا خواب دیکھنے والے صہیونیوں کے مفادات کے مطابق،  مشرق وسطی کی عالم کاری کرنا ہے،   اپنے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے انھوں نے عرب ممالک کے ساتھ امن معاہدوں اور اس ضمن میں اقتصادی معاہدوں کا سہارا لیا،  جن کی سرپرستی کے لئے امریکہ ہمیشہ حاضر باش رہا،  ان معاہدوں سے امریکہ کاسب سے بڑا حلیف اور عالم گیروں کا اصل وطن ’’اسرائیل ‘‘ جہاں سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوا،  وہیں اقتصادی اعتبار سے بھی طاقت ور بن گیا۔

         پھر مختلف ممالک میں قائم عالمی ’’اسٹاک ایکس چینجز‘‘ نے بھی عا لم گیریت کوا بھر نے میں بڑا تعاون دیا ہے،  کیوں کہ ان اسٹا ک مارکیٹوں کی وجہ سے جو شخص جہاں بھی اور جتنا بھی سر ما یہ تجا رت میں لگا رہا ہے،  اس کا سر ما یہ عالمی سطح پر لگ رہا ہے اور عا لم گیریت کا مقصد بھی یہی ہے کہ سر ما یہ کاری کسی ملک میں محدود نہ رہے بل کہ عالمی سطح پر ہو،  تا کہ آزادانہ عالمی تجا رت کو فروغ مل سکے۔

            یہ چند سیا سی اور اقتصاد ی حالات ہیں جنھوں نے ’’عالم گیریت کو روا ج دینے میں بنیا دی کردار ادا کیا ہے اوراس کو اس نظر یے سے حقیقت اور فکر و خیال سے واقعے کا روپ دے د یا ہے،  ان واقعات کے جائزے سے اندازہ ہو جا تا ہے کہ ’’عالم گیریت‘‘  اچانک پیدا نہیں ہو ئی،  جد ید عالمی نظام بیٹھے بیٹھے نہیں بن گیا،  بل کہ یہودی دماغوں نے سالہا سا ل کی کوششوں اور سازشوں سے گلو بلائزیشن کے لیے راہ ہموار کی اور ایسے حالات پیدا کیے کہ مذکورہ واقعات’’ نئے عالمی نظام ‘‘ کی تمہید بن گئے۔

 جدید عالمی نظام کے مرکزی عناصر

            عالم گیریت چند مرکزی عناصر سے مل کر وجود پذیر ہو ئی،  جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

(۱) سرما یہ دارانہ نظام کا فروغ  

            اشترا کی نظام کے شکست خور دہ ہو جانے کی وجہ سے،  سرمایہ دارانہ نظام کو تمام معاشروں پر ایسی اقدار مسلط کرنے کا موقع مل گیا،  جنہیں امریکہ پروان چڑھا رہا ہے اقوام متحدہ کی تابع عالمی تنظیمیں جیسے،  ،  عالمی بنک انٹرنیشنل ما نیٹری فنڈ،  ،  اس کی مدد کر رہے ہیں جبکہ ان تنظیموں کی سرپر ستی میں ہونے والے عالمی معاہدے،  امریکہ کے لیے راستہ صاف کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

(۲)ایک مرکز

            سوویت یونین کے سقوط اور اس کے عالمی ڈھانچے ’’وارسو‘‘ کے خاتمے کے بعد،  امریکہ تنہا عالمی قائد کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ طاقت میں توازن ختم ہو چکا ہے اور امریکہ عسکری اور اقتصادی میدانوں میں اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ کوئی ملک کبھی بھی اتنا مضبوط نہیں رہا۔طاقت میں عدم توازن کی وجہ سے آج امریکہ نے ایک مرکز ثقل کی حیثیت اختیار کر لی ہے،  جب کہ دیگر تمام ممالک اس کا طواف کرتے نظر آتے ہیں،  مرکزیت کے اس مقام پر پہنچنے کے بعد ہی امریکہ کو یہ ہمت ہوئی کہ وہ جدید عالمی نظام دنیا کے ملکوں پر مسلط کر سکے،  خواہ وہ اس کے لیے راضی ہوں یا نہ ہوں۔

(۳)مواصلات کے میدان میں انقلاب

            یوں تو انسانی تاریخ میں بہت سے انقلابات آئے ہیں،  ان میں سے کچھ بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں اور کچھ وقتی طور پر مؤثر رہے اور بعد میں تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے،  ٹکنالوجی کے میدان میں آنے والا انقلاب نہایت اہم اور ناقابل فراموش انقلابات میں شمار کیے جانے کا مستحق ہے۔اس انقلاب نے دنیا کو حیرت واستعجاب کے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کمپیوٹر اسی انقلاب کی دین ہے،  جو موجودہ دور میں ایک سکینڈ کے اندر دنیا کے دو ارب مختلف کاموں کو پورا کر رہا ہے،  اگر کمپیوٹر کے بغیر وہ کام کیے جائیں،  تو ان کی تکمیل میں ایک ہزارسال کا عرصہ لگ سکتا ہے،  اس انقلاب کی دوسری دین مواصلاتی ترقی ہے،  جس کی وجہ سے مختلف افراد،  معاشرے اور ممالک ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں اور مواصلاتی وسائل جیسے ٹیلیفون،  فیکس،  ٹیلی ویژن ریڈیو،  ای میل اور انٹرنیٹ وغیرہ کی مددسے چوبیس گھنٹے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں یا یوں کہیے کہ مغرب سے مشرق میں تہذیب و ثقافت کی منتقلی ہو رہی ہے،  جس کی وجہ سے عالم گیریت برق رفتاری سے عالم کے افق پر پھیلتی نظر آ رہی ہے۔

(مقالہ: العولمۃ الحقیقۃ والابعاد   http//:www.ummah.com)  )

پس پردہ ادارے اور تنظیمیں

            اتنا تو ’’جد ید عالمی نظام ‘‘کے بانیوں کو بھی معلوم تھا  کہ دنیا کو اس نظام کے تابع کرنا کوئی آسان کھیل نہیں ہے،  بلکہ اس کے لیے جہاں اقتصادی راہ داریوں کا استعمال کرنا ضروری ہے،  وہیں سیاست،  ثقافت اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں میں اہم منصوبے بنا کر ان کو نافذ کرنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے،  اس لیے صہیونی سازشی دماغوں نے گلو بلائزیشن کی طرف جانے وا لے راستوں کو ہموار کر نے کے لیے،  مختلف تنظیمیں اور ادارے قائم کیے،  جنھوں نے اپنی اپنی ذمے داریوں کو کبھی پس پردہ اور کبھی کھو لے بندھوں انجام دیا،  ذیل میں ایسے اداروں اور تنظیموں کا مختصر تعارف دیا جا رہا ہے،  جنہوں نے پردے کے پیچھے سے عالم گیریت کے نشو و نما کے لیے اہم کردار کیا ہے۔

بلڈر برجBILDERBERG

            یہ دنیا کی انتہائی طاقت ور اور خفیہ عالمی تنظیم ہے،  جس کو ۱۹۵۴ء میں سونڈن ‘‘سے تعلق رکھنے والے ایک سرما یہ دار ’’جوزف رٹنگر‘‘  (JOSEPH H۔ RETINGE نے قائم کیا تھا،  اس تنظیم کا سب سے پہلا اجلاس مئی ۱۹۵۴ء کو ہا لینڈ کے شہر اوسڑبیک (OOSTERBEEK) میں بلڈر برج نامی ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوا تھا،  جس کی صدارت ہا لینڈ کے شہزادے ’’برنہارڈ‘‘ نے کی تھی،  اسی اجلا س میں اس خفیہ عالمی تنظیم کا نام ہو ٹل کے نام پر ’’بلڈر برج‘‘ تجویز کیا گیا،  عام طور پر ۱۱۵ افراداس کے ممبر رہتے ہیں،  جن میں کچھ بین الاقوامی سیاسی شخصیات ہوتی ہے،  جن کی تعداد کل ممبروں کی ایک تہائی ہوتی ہے،  جب کہ باقی دو تہائی لوگ بین الاقوامی سطح پر اقتصادی،  تعلیمی اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں،  اس کے ارکان بھی دو قسم کے ہوتے ہیں،  مستقل رکنیت رکھنے والے،  جیسے بدنام زمانہ امریکن یہودی وزیر خارجہ،  ہنری کیسنجر،  جب کہ غیر مستقل رکنیت رکھنے والوں کو اس کے اجلاس میں دعوت نامے جاری کر کے مدعو کیا جاتا ہے،  ۲۰۰۰ء میں اس تنظیم کے سربراہ،  ناٹو،  کے سابق سکریٹری جنرل،  لارڈ گیرنگٹن،  تھے اس تنظیم کے جلسوں کے لیے عام لوگوں کی نظروں سے دور عالی شان ہوٹل بک کر لیا جاتا ہے،  جس میں یہ جلسے تین روز تک جاری رہتے ہیں،  اس دوران کوئی رکن ہوٹل سے باہر نہیں آسکتا،  سکیورٹی کے انتظامات امریکی خفیہ،  سی آئی اے،  کے علاوہ یورپی ممالک کی خفیہ تنظیمیں بھی کر تی ہیں۔

            حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران امریکہ اور برطانیہ میں،  سیاسی طور پر کامیابی کے لیے اس خفیہ تنظیم سے وابستگی لازم ہو چکی ہے،  امریکہ کے بہت سے صدر اس تنظیم کی رکنیت کے بعد ہی کرسی صدارت تک پہونچ سکے ہیں،  جن میں رونالڈ ریگن،  جمی کارٹر،  جارج بش اور بل کلنٹن   قابل ذکر ہیں،  برطانیہ کی سابقہ وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے ۱۹۷۵ء میں اس تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تھی،  ٹھیک چند سالوں بعد وہ برطانیہ کی وزارت عظمی کے عہد ے پر فائز ہو گئیں،  اسی طرح اشتراکی خیالات کا حامل ایک برطانوی نوجوان سیاست داں ’’ٹونی بلیر ‘‘ گم نامی کے انتہائی نچلے درجے میں پڑا ہوا تھا،  برطانیہ جیسے سرمایہ دار ملک میں اشتراکی نظریات کا اخذ کرنا اپنے آپ کو سیاسی موت سے ہم کنار کرنے کے مترادف ہے،  مگر جلدی ہی یہ نوجوان اپنی فکر سے تائب ہو کر ’’بلڈر برج‘‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرتا ہے اور یکایک شہرت کی بلندی پر پہنچ کر،  چار سال کے بعد برطانیہ کا وزیر اعظم بن جاتا ہے۔

             ۱۹۹۸ء میں اس کا اجلاس اسکاٹ لینڈ کے ’’ٹو رنبری ہوٹل ‘‘ میں منعقد ہوا،  جس میں چند مغربی صحافیوں نے داخل ہونے کی کوشش کی،  مگر انھیں اس سلسلے میں مکمل طور پر کامیابی حاصل نہ ہوسکی،  مگر پھر بھی جس حد تک انھیں اس اجلاس کا ’’ایجنڈا ‘‘سمجھ میں آسکا،  اسے انھوں نے New World Order Intelligence Update (نیو ورلڈ آرڈر انٹیلی جنس اَپ ڈیٹ)کے نام سے شائع کیا ’’میٹرکس ‘‘ (Matrix)کے مینیجنگ ایڈیٹر ’’چارلس اوربیک‘‘ نے لکھا ہے کہ:

            ’’اس اجلاس میں دنیا کے اہم اور حسّا س علاقوں کے بارے میں فیصلے لیے گئے ہیں،  اس سلسلے میں ’’سی آئی اے ‘‘ کے سابق ڈائریکٹر ’’جان ڈوٹیج‘‘ اور امریکی ریاست ’’نیوجرسی ‘‘ کے گورنر ’’کریسٹن ٹیڈوائٹ ‘‘ کو یہ ذمے داری سونپی گئی ہے کہ وہ اندازہ لگائیں کہ ’’جدید عالمی نظام ‘‘ کے زیر سا یہ کس طرح دنیا میں مغرب کی سیادت قائم ہو سکتی ہے۔‘‘

’’اور بیک ‘‘ آگے لکھتے ہیں کہ:

            ’’اس میں شرکت کرنے والے بہت سے ارکان کی قومیت تک کا پتا نہیں چلتا مگر اس کے اجلاس میں منظور کردہ قرار دادوں کا اطلاق دنیا کی بہت سی حکومتوں،  سیاسی نظاموں،  عالمی تجارت اور دنیا میں پھیلے ہوے دولت کے ذخائر پر ہوتا ہے ‘‘۔(مدینے سے وائٹ ہاؤس تک: از محمد انیس الرحمن ص:۱۶۸تا۱۷۶مطبوعہ لاہور)

راکفلر فاؤنڈیشن

            عالمی نظام کے قیام میں روز اول ہی سے جن اداروں نے مالی مدد کا بیڑا اٹھا یا ہے،  ان میں راکفلر فاؤنڈیشن کا نام سب سے پہلے آتا ہے،  یہ ادارہ خیراتی ادارے کا لیبل لگا کر ٹیکس سے چھٹکارا پاچکا ہے،  امریکی سینٹ نے ۱۹۵۲ء میں قرارداد ۱۶۵ کے ذریعے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی،  جس کا مقصد یہ جائزہ  لینا تھا کہ اس ادارے کی رقمیں کہیں امریکہ کے خلاف تو استعمال نہیں ہو رہی ہیں (جائزے سے پتہ چلا کہ یہ ادارہ یورپ و امریکہ میں یہودی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہے) اس ادارے کی بے شمار ذیلی تنظیمیں بھی ہیں جو بہ ظاہر ایک دوسرے سے بے تعلق نظر آتی ہیں لیکن ہر ایک کے مقاصد اور میدان عمل متعین ہیں۔ ’’ بلڈر برج‘‘ تنظیم کے سالانہ جلسوں کے بے پناہ اخراجات بھی یہی ادارہ (جو دراصل امریکہ کی سب سے بڑی تجارت کمپنی ہے)برداشت کرتا ہے۔ (مدینے سے وائٹ ہاؤس تک،  ص : ۱۷۳)۔

امر یکی کلیسا کی تنظیم

            ۱۹۰۸ء میں ’’ہنر ی فواڈ ‘‘اور’’روسنگس ‘‘ نے اس ادارے کو قائم کیا،  راکفلر فاؤنڈیشن نے ما لی امداد فراہم کی،  ۱۹۴۲ء میں اس ارادے نے ایسی تجاویز پیش کی تھیں،  جن میں ایک ایسی عالمی حکومت کے قیام کا خاکہ تھا،  جس کی فوجیں تمام ملکوں پر حکمرانی کریں اور یہ عالمی حکو مت ایسا مالیا تی نظام وضع کرے،  جو عالمی بنک کے ما تحت ہو،  ۲۳ اگست ۱۹۴۸ء کو اس تنظیم کا نام عالمی کلیسا کر دیا گیا۔ (مغربی میڈیا ص:۹۷)

تعلقات خارجہ کمیٹی C.F.R.

            ۱۹۰۹ء اور۱۹۱۳ء کے درمیانی عرصے میں ’’ رہو ڈس سیشل ‘‘(یہودی ) کے دوستوں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی،  اس وقت اس کے مقاصد بہت خفیہ رکھے گئے تھے،  ۱۹۲۱ء میں ’’روٹشیلڈبنک‘‘ کے نمائندے برائے امریکہ مسٹر’’جی آرمورگن ‘‘نے ’’جان راکفلر‘‘،  ’’برنارڈ باروخ ‘‘(متعدد امریکی صدور کے یہودی مشیر خصوصی )’’پال واربرگ ‘‘،  ’’جیکب شیف ‘‘اور آٹوکہن‘‘ نے اس ادارے کی مالی ۔C۔F۔R کے بانی ارکان میں کرنل ’’ایڈورڈ مانڈیل ہاؤس ‘‘(امریکی صدر ولسن کے معاون ) ’’وائر لیمپ مین‘‘(امریکی صحافی )’’جان فاسٹرڈلس ‘‘ (امریکی صدر آئزن کے وزیر خارجہ ) ’’ایلن ڈلس ‘‘(سی آئی اے کے ڈائریکٹر)اور’’ کر سچن ہر ٹر ‘‘(امر یکی وزیر خارجہ )شامل تھے۔c۔f۔rکی نگرانی میں ’’ فارن افیرز ‘‘نامی رسالہ شائع ہوتا ہے،  اس رسالے کے ایک شمارے میں ’’ تحقیقات ‘‘کے تحت ایک مقالہ لکھا گیا ہے،  جس میں کہا گیا ہے کہ:

      ’’جدید عالمی نظام کی طرف ہماری نگاہیں لگی ہو ئی ہیں۔‘‘

      اس تنظیم کی طاقت کا اندازا اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر دفاع کے معاون ’’جان میکلولے‘‘ کا کہنا ہے کہ:

      ’’امریکی حکومت کے دفاتر میں جب بھی ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے،  تو ہم سب سے پہلے C.F.R. کے کارکنوں کی فہرست دیکھتے ہیں اور فوراً نیویارک میں واقع اس کے مرکزی دفتر سے رابطہ قائم کرتے ہیں ‘‘۔

      امریکی نظام حکومت کو چلانے والی تمام اہم شخصیتوں کا تعلق اسی ادارے سے ہوتا ہے،  جو یہودی مقاصد کو بہ روئے کار لانے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں،  اس کا اندازہ چند مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے:

(۱)       اقوام متحدہ کی تشکیل میں مدد دینے کے لیے،  امریکی حکومت نے۴۷  افراد  پر مشتمل ایک کمیٹی ترتیب دی تھی،  اس کمیٹی میں ’’جان فاسٹرڈلّس‘‘ ’’نیلسن راکفلر‘‘ اور ایڈلائی اسٹیونسن‘‘بھی تھے،  یہ تمام  ۴۷  ارکان C.F.R. کے ممبران تھے۔

(۲)      امریکی صدر ’’رونا لڈریگن‘‘ کے دفاتر میں کام کرنے والے تین سو تیرہ ذمے دار اسی ادارے کے رکن تھے،  یہی صورت جارج بش کے دفتر میں بھی تھی،  جہاں تین سو ستاسی افسران اسی ادارے سے منتخب ہو کر آئے تھے،  ۱۹۳۱ ء سے اب تک ۱۸  وزرائے مالیات میں سے ۱۲ کا تعلق  R۔ F۔ C۔سے تھا،  سولہ وزرائے خارجہ میں سے بارہ،  جب کہ ۱۹۴۷ء سے سے اب تک پندرہ وزرائے دفاع میں سے نو،  اسی ادارے سے لیے گئے۔

(۳)     ۱۹۵۲ء  سے ا ب تک(بجز ۱۹۶۴ء ) دونوں سیا سی پارٹیوں سے جتنے امیدواروں کو صدارتی میدان میں اتارا گیا ہے،  ان کا تعلق اسی ادارے سے تھا۔ (۱)مغریبی میڈیا،  ص:۵۷تا۹۹اضافہ شدہ ایڈیشن۔

 عالم گیریت کیا چاہتی ہے؟

            گلو بلا ئز یشن کے مغربی داعی اور ان کے مشرقی کارندے،  اس فکر کے حوالے سے بڑے بلند و بانگ دعوے کرتے پھرتے ہیں،  مثلاً:عالم گیریت اقتصادی ترقی اور معاشی فروغ کی ضامن ہے،  ہر قوم اس کے سایے میں اپنا مستقبل سنوارسکتی ہے،  ہر انسان اس کے ذریعے شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ جد ید ٹکنالوجی کے پھیلا ؤ کا ذریعہ ہے،  جس کے نتیجے میں انٹر نیٹ وغیرہ کے ذریعے معلومات کا حصول نہایت آسان ہو جاتا ہے،  عالم گیریت بیرونی با زاروں میں قسمت آز ما ئی کا موقع فراہم کرتی ہے،  اس سے غیر ملکی سر مایہ کاری میں اضافہ ہو تا ہے اور قومی اقتصادیات ترقی کے زینے طے کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

            لیکن حقیقت یہ کہ عالم گیریوں کے یہ دعوے کھوکھلے ہیں،  ان دعووں کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے،  ڈاکٹر محمد حسن رسمی (قاہرہ یونورسٹی میں شعبہ کمپیوٹر کے ڈائریکٹر )کے بہ قول :

            گلو بلا ئزیشن ایک اندھا طوفان ہے،  جو اپنی را ہ میں آنے والی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کرتا،  اس کا نظام طاقت وروں کے لیے مددگار ہے اور کمزوروں کے لیے مہلک،  یہ نظام اپنے بانیوں کو اجارہ داری اور بالا دستی عطا کرتا ہے اور آسمانی معجزات کا انتظار کرنے والوں کے مستقبل کی باگ ڈور اپنے پالیسی سازوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے‘‘۔ (مع العولمۃ اخبارالہرام ۲۰۰۱/۹/۱۶)

            چند ایسے ممالک بھی ہیں جو گلو بلائزیشن کے خطرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری سے واقف ہیں،  وہ جانتے ہیں کہ اس نظام سے غریب ممالک کی غربت ہیں،  اضافہ ہو گا اور وہ سب مغربی سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے تابع ہو جائیں گے،  اس جیسے ملکوں میں ’’ملیشیا‘‘ کا نام سرفہرست ہے وہاں کے وزیر اعظم مآثر محمد ہر میدان میں اسلامی بیداری کے قائل ہیں اور مغربی بالا دستی کو مسترد کرتے ہیں آج ان کے خیالات اور کوششوں کی وجہ سے مغربی سرمایہ داروں کی نیندیں حرام ہیں،  ’’مآثر محمد ‘‘ملیشیا کی دارالحکومت ’’کوالالمپور‘‘ میں منعقدہ’’اسلامک کانفرنس‘‘کے اجلاس میں عالم اسلام کے وزرائے خارجہ کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

            ’’عالمی تجارتی تنظیم عالم گیریت کی آلہ کار ہے جو ترقی یافتہ ممالک کو اجازت دیتی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو پوری طرح نگل لیں ‘‘۔(مع العولمۃ ازصالح الرقب: ص۱۴)

            فرانسیسی صدر ’’جاک شیراک‘‘ نے فرانس کے قومی دن(۱۴جولائی ۲۰۰۰ء)کے موقع پر تقریر کرتے ہوے کہا کہ :

            ’’گلوبلائزیشن پر روک لگانے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ معاشرتی انتشار کا باعث ہے عالم گیریت سے اگر چہ ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہیں لیکن اس کے خطرات زیادہ ہیں جن میں پہلا خطرہ یہ نظام معاشرت پر براہ راست حملہ کرتا ہے دوسراخطرہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے عالمی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے اور تیسراخطرہ یہ ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے سوا ہر اقتصادی نظام کے مخالف ہے۔‘‘

(رسالہ: الحوادث،  مستقبل الصحافۃ ا لعربیۃ فی ظل العولمۃ،  از محمد سماک،  عدد ۲۳۱۰،  ص: ۶۳)

             مشہور امریکی مصنف ’’ولیم گریڈر ‘‘ ۱۹۷۷ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب one world Ready Or No?  میں عالم گیریت کے بارے میں لکھتا ہے کہ :

            یہ ایک عجیب و غریب طریقۂ کار ہے،  جو عالمی صنعتی و تجارتی انقلاب کے نتیجہ میں وجود پذیر ہوا ہے،  یہ جہاں ترقی کا ذریعہ ہے،  وہیں تبا ہی کا بھی سبب ہے،  یہ نظام عالمی حدود سے لا پرواہ آگے بڑھتا ہے‘‘۔

(العولمۃ،  ازصالح القیب: ص ۵)

            در حقیقت عالم گیریت ایک ذہین و طاقت ور انسان اور ایک غبی و کمزور شخص کے درمیان ہونے والا معاملہ ہے،  جن میں ایک فریق تو ہر چیز کا مالک ہے۔ اوردوسراحق ملکیت سے بھی محروم ہے۔جہاں ایک فریق کو آقا کی حیثیت حاصل ہے اوردوسرے کو غلام کی ایک اپنی تہذیب پر فخر کر نے والا اور اس کو اپنے لیے سرما یہ سمجھنے والا ہے۔ تودوسرا اپنی تہذیب سے ناطہ توڑنے پر مجبور ہے۔ایک اپنے عقیدے پر مضبوطی سے جما ہوا ہے۔ تو دوسرے سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو پس پشت ڈال دے۔غرض یہ کہ اس نظام میں ایک فریق سب کچھ ہے اور دوسرا فریق کچھ نہیں۔

 عالم گیریت کے مختلف میدان ہائے عمل

            گلوبلائز یشن کے پالیسی سازاداروں نے،  چوں کہ اس تحریک کو ایک مکمل نظام حیات بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے،  تا کہ انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی ایسا باقی نہ بچے،  جو اس صہیونی تحریک سے متاثر نہ ہو،  اس لیے جدید عالمی نظام کے پسِ پردہ کار فرما دماغوں نے،  اس نظام کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا اور ہر میدان کے لیے کھلاڑیوں کی الگ الگ ٹیمیں بھی تیار کر دیں،  تاکہ تمام میدانوں میں عالم گیریت قابل عمل بن جائے،  بنیادی طور پر جدید عالمی نظام کو مندرجہ ذیل میدانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

(۱)سیاست(۲)اقتصاد(۳)تہذیب و ثقافت(۴)معاشرہ و اخلاق (۵)زبان و ادب

            ان سبھی میدانوں کا ایک دوسرے سے بڑا گہرا ربط ہے،  کیوں کہ عالم گیریت کا حقیقی مقصد پوری دنیا کو امریکی،  بلکہ صہیونی رنگ میں رنگ دینا اور سارے عالم پر امریکہ کے ذریعے یہودی اقتدار قائم کر نا ہے،  لہٰذا جہاں سیاسی میدان میں دنیا کے نقشے پر تبدیلیاں لا نا ضروری ہے،  اورسیاسی طور پر ترقی پذیر ممالک کو بے دست و پا بنانا نا گزیر ہے،  وہیں اس مقصد کے حصول کے لیے اقتصادی میدان میں بھی ترقی پذیر دنیا کو ی مغلوب کرنا اوراس راہ سے غریب ممالک پر اجارہ داری قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح اپنی اجارہ داری کو دوام بخشنے کے لیے ترقی پذیر دنیا پر مغربی بالخصوص امریکہ تہذیب و ثقافت اور اقدار کا تسلّط بھی ضروری ہے۔تاکہ اس دنیا کے عوام جب مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیں تو مغرب سے آنے والی ہواؤں کے جھونکوں میں ہی راحت محسوس کریں وہاں کی طرز زندگی کو ہی معیار سمجھیں اور وہاں کی سکونت و رہائش کوہی اپنی تمناؤں کا محور قرار دیں،  مغرب سے آنے والی ہر چیز کو سینے سے لگائیں اور استعمال کوہی فیشن اور اعلیٰ طرز زندگی کی علامت سمجھیں،  تہذیب و ثقافت کی راہ داری ہی سے،  اقتصادیات کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک اور خاص طور پر امریکہ کا تسلط نہایت آسان ہوسکتا ہے۔

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا ایک تنقیدی جائزہ

            ’’ ورلڈ ٹریڈ آرگنائز یشن ‘‘ کی بنیاد جن اصولوں پر قائم ہے،  ان کا مطالعہ کرنے کے بعد کو ئی بھی با شعور انسان یہ کہنے میں ذ را بھی تامل نہیں کرے گا،  کہ یہ تنظیم ایک جانب دار ادارہ ہے،  جس سے مغربی مفادات وابستہ ہیں،  یہ تنظیم غیر ترقی یافتہ ممالک کو اقتصادی اعتبار سے مستحکم ہونے میں کوئی مدد نہیں دے سکتی اور نہ یہ اس کے مقاصد میں شامل ہے۔

            W.T.O.کا دعوی ہے کہ اس کا مقصد آزاد تجارت کو فروغ دینا ہے اور ہر تاجر کے لیے،  تمام ممالک کے تجارتی دروازوں کو کھو ل دینا ہے،  حالاں کہ یہ تجارتی تنظیم در حقیقت غیر ترقی یافتہ ممالک سے تو اپنے دروازے کھولنے کا مطالبہ کرتی ہے،  لیکن لیڈروں نے مغربی ممالک کے تجارتی دروازوں پر تیسری دنیا کی کمپنیوں کے لیے پہرا بیٹھا رکھا ہے،  اور ایسے قوانین وضع کر رکھے ہیں کہ تیسری دنیا کی کمپنیوں کے لیے مغربی ممالک اور امریکہ میں داخلہ نہایت مشکل ہو جائے۔ آزادانہ تجارت میں ہر شخص کو کہیں بھی ملازمت اختیار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے،  لیکن ممالک مشرق کے ذہین و فطین نوجوانوں کو تو لالچ دے کر اپنے ملکوں میں کھینچ لیتے ہیں،  حال آں کہ وہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کام دے سکتے ہیں،  جب کہ بقیہ افراد کو ان ممالک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی،  ہندوستان کے سابق وزیر خزانہ اور موجود وزیر خارجہ ’’یشونت سنہا ‘‘ نے ۲۵  جنوری ۲۰۰۱ء میں ورلڈ اکنامک فورم،  کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ: گلو بلائزیشن ہمارے لیے ایک شکست اور غیر منصفانہ عمل ہے۔جس کا مقصد ترقی یافتہ ممالک کا اپنے بازاروں کی حفاظت کرنا ہے،  جس انداز سے ان کے بازاروں کی حفاظت ہو رہی ہے،  اس سے لگتا ہے کہ وہ گلو بلائزیشن کو اپنا ہتھیار بنا کر استعمال کر رہے ہیں،  وہ اپنی ایمیگریشن(ترک وطن) پالیسی کو بھی اس انداز سے تیار کر رہے ہیں،  جس ترقی پذیر ممالک کے ترقی کے منصوبوں پر کاری ضرب لگ رہی ہے،  وہ ترقی پذیر ممالک کے ذہین وفطین اشخاص کو لالچ دے کر اپنے ملکوں میں بھر رہے ہیں،  آنے والے چند سالوں میں شمالی دنیا نوجوانوں اور فعّال عملے کی سخت کمی محسوس کرے گی ‘‘۔

(۱)       اخبار Times of India ۲۶  جنوری ۲۰۰۱ء،  ص۱،  بہ حوالہ: مقالہ Globalization From The Perspective of Islam and modernity از عاطف سہیل دیوبندی۔ (یہ مقالہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا میں پی ایچ ڈی کے لیے ترتیب دیا جا رہا ہے)۔

            ’’باب سٹکلف‘‘( Bob Sutkliff)اس الزام کو مبنی بر حقیقت دیتے ہوئے اپنی کتاب (Freedom  to Man in the Age of Globalization ( میں لکھتا ہے کہ :

            غریب اور ترقی پذیر ممالک اپنے معیار کو بلند کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی ایمگریشن پالیشن پر منحصر ہو گے،  ان کے یہاں کا فعال اور متحرک طبقہ دولت مند ممالک کا رخ کرتا ہے اور وہاں معاش کے آسان ذرائع تلاش کرتا ہے‘‘۔(ایضاً)

            عالمی تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد تاجروں کے درمیان مبنی بر انصاف مقابلہ آرائی کو بڑھاوا دینا ہے،  لیکن در حقیقت دس بازار میں یہ مقابلہ آرائی ہوتی ہے،  وہاں ایک فریق نہایت مضبوط اور دوسرا فریق نہایت کمزور ہے،  کیا ایسی مقابلہ آرائی کو  مبنی بر انصاف کہا جا سکتا ہے ؟؟؟

            اس تنظیم کا دعوی ہے کہ اس کا مقصد تجارتی میدان میں یکساں عالمی اصول،  قوانین اور اقدار کو رائج کرنا ہے،  مگر سوال یہ ہے کہ ان قوانین کو وضع کرنے والا کون ہے ؟ ان اصول و اقدار کو حیثیت دینے والا کون ہے؟ مغربی ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ اور کوئی نہیں،  ترقی پذیر ممالک کے ذمّے تو بس اتنا ہے کہ وہ ان قوانین اور اصولوں کے سامنے سرجھکادیں اور خاموشی سے ان کو تسلیم کر لیں۔

            تنظیم کے لیڈران کا کہنا ہے کہ یہ’’ اور گنائزیشن ‘‘ در اصل تمام ممالک کے درمیان گفتگو اور مذاکرات

کے لیے ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہے،  لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر کمپنیوں کے درمیان مذاکرات کیسے ممکن ہیں ؟ جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان مادّی اعتبار سے اتنی ہی دوری ہے،  جتنی کہ زمین وآسمان کے درمیان،  ان کمپنیوں کے درمیان اتنی گہری مادی خلیج ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے گفتگو اور مذاکرات کا تصور بھی محال ہے کیوں کہ بعض امریکی کمپنیوں کا بجٹ بہت سے ترقی پذیر ممالک کے قومی بجٹ سے بھی زائد ہے۔

            اس ادارے کے بارے میں یہ خیال ہے کہ یہ تجارتی تنازعوں کو سلجھا نے کے لیے ایک عدالت کے مانند ہے،  لیکن اس تنظیم اور اس کے ججوں کی غیر جانب داری کی ذمے داری کون لے سکتا ہے ؟ کو اس بات کا ضامن ہے کہ آرگنائزیشن کے قائدین،  جو سب کے سب مغربی ہیں جانب دار نہیں ہیں ؟  (رسالہ: البیان: عدد ۱۷۰/ص۵۶)

            ان سب سوالات کی موجودگی میں یہ ادارہ،  جو کہ اقتصادی عالم گیریت کا سب سے بڑا نقیب اور داعی ہے اور اس ادارہ میں مغربی طاقتوں کا سب سے زیادہ ممد و معاون ہے،  کسی بھی طرح انصاف پر ور اور اپنے دعووں میں کھرا نہیں اتر سکتا،  بلکہ اس کے بنیادی چارٹر میں اتنی ترمیم نا گزیر ہے کہ اس کا مقصد ایک ہی منڈی میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان مقابلہ آرائی کرنا ہے،  تاکہ یہ مقابلہ برابری کا نہ ہو،  نتیجۃً مالدار ممالک کی مال داری میں اضافہ ہو اور غریب ممالک کی غربت میں،  ترقی پذیر ممالک ہمیشہ ترقی کا خواب دیکھتے رہیں اور ترقی یافتہ ممالک برق رفتاری سے ترقی کے منازل طے کرتے رہیں،  تیسری دنیا کا سفر پیچھے کی طرف ہو،  اور مغربی دنیا آگے کی طر ف بڑھتی رہے اور اس سفر میں غریب ممالک کے باشندوں کی روزی روٹی کے ساتھ ساتھ ان کے خون پسینے کا بھی استحصال کیا جاتا رہے۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں عالمی دولت کی اصل مالک

            مذکورہ بالا سطور سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے اقتصاد ی گلوبلا ئزیشن کو رواج دینے کی خاطر،  مغرب اور امریکہ نے آزادانہ تجارت اور اقتصاد ی کھلے پن کا نعرہ بلند کیا ہے،  اس مقصد کے لیے جہاں مختلف ممالک کے درمیان معاہدے کرائے گئے،  وہیں آزادانہ تجارت کو پوری دنیا میں فروغ دینے کے لیے مختلف تنظیموں کا قیام عمل میں آیا(جن پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاچکی ہے) اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا ادارے اور معاہدے اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب رہے؟ آزادانہ عالمی تجارت کو کہاں تک فروغ حاصل ہوا؟ آزادانہ تجارت کے نتیجہ میں کس کو فائدہ ہوا اور کس کو نقصان؟

            مغرب نے نصف صدی قبل آزادانہ تجارت کا نعرہ بلند کیا تھا،  اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک ملک کی کمپنیاں دوسرے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کریں،  کارخانے قائم کریں،  مصنوعات تیار کریں اور وہاں فروخت کریں،  اس غیر ملکی اور براہِ راست سرمایہ کاری کو (Foreign Direct Investment) (فارن ڈائریکٹ انوسمنٹ) کہا جاتا ہے،  آسانی کے لیے (FDI)بھی بولا جاتا ہے۔

گلوبلائزیشن اسلام مخالف

            عالم گیریت محض سیاسی یا اقتصادی تحریک ہی کا نام نہیں ہے،  بل کہ یہ براہ راست اسلام پر بھی حملہ ہے،  اس لیے کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے،  جو اپنی صفت عالمیت کی وجہ سے گلوبلائزیشن کے فتنے کا مقابلہ کرسکتا ہے،  ورنہ آج کے دور میں کوئی مذہب اور کوئی تحریک ایسی نظر نہیں آتی،  جو اس کے سامنے سدّسکندری ثابت ہوسکے،  لہٰذا عالم گیریت کے پالیسی ساز اداروں کے منصوبوں میں،  جہاں سیاسی،  اقتصادی،  ثقافتی اور معاشرتی میدانوں میں اپنے مقاصد اور مفادات کا حصول شامل ہے،  وہیں اسلام کو کمزور کرنا اور اس پر یورش کرنا بھی ان کی اوّلین ترجیحات میں داخل ہے،  گلوبلائزیشن اسلام کے خلاف علی الاعلان،  جو سازش کر رہا ہے،  آیئے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں :

            (۱) عالم گیریت کی وہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کے دینی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کر دیئے جائیں،  تاکہ مسلمان اپنے مذہب کا سہارا نہ لے سکیں،  جو دراصل ان کا سب سے بڑا سہارا ہے۔

            (۲) مغربی مادّیت پرست اور ملحدانہ افکار و خیالات کو زیادہ سے زیادہ رواج دینے کے مقصد سے،  مسلمانوں کے مقامات مقدّسہ کو مغربی طاقتوں کے زیر اثر کر دیا جائے،  تاکہ مسلمانوں کے پاس کوئی مرکز نہ رہے۔

            (۳) ہر ملک میں اسلامی عقیدے کی جگہ مادّی فلسفے کو مسلط کر دیا جائے،  تاکہ مسلمان اسلامی عقیدے سے کوئی روشنی نہ پا سکیں۔

            (۴)اسلام کو حکومت اور سیاست سے بے دخل کر دیا جائے اور مغربی اقدار پر مبنی ’’ سیکولر ‘‘ فلسفے کی بنیاد پر،  حکومتوں کی تشکیل کی جائے۔

(العولمۃ امام عامیۃ الشرعۃ الإسلامیۃ : از ڈاکٹر عمر الحاجی طبع اول،  دار المکتی دمشق: ص ۵۱)

            آج ہر مسلم ملک میں ایسی تنظیمیں اور ادارے قائم ہیں،  جو آزادی،  جمہوریت اور حقوق انسانی کے نام پر،  اسلامی شریعت کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں،  ان اداروں کو فکری اور مادی طور پر مغرب کی حمایت حاصل ہے،  ان کا مقصد اسلامی تہذیب و ثقافت کی مخالفت کرنا،  اسلامی قوانین کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا،  مرد و عورت کے درمیان تعلق اور مسلم عورت کے مسائل کے حوالے سے،  اسلام پر نکتہ چینی کرنا ہے،  بعض مسلم ممالک میں تواس قسم کے اداروں نے حکومتوں سے علی الاعلان یہ اپیل بھی کی ہے کہ انسانی حقوق کے سلسلے میں،  اقوام متحدہ کی پاس کردہ قرار دادوں کی روشنی میں قوانین بنائے جائیں اور اسلامی شریعت کو اس طرح کے قوانین سے دور رکھا جائے۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے قائدین براہ راست اسلامی اصولوں پر حملہ کر رہے ہیں،  ان کی تمام تر کوششیں اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ کسی طرح اسلام کے مسلمہ عقائد کا وجود ہی ختم کر دیا جائے،  حتی کہ روئے زمین ان کے ماننے والوں اور ان پر عمل پیرا ہونے والوں سے خالی ہو جائے،  اسی لیے ایسے حساس موضوع پر جو بھی منفی انداز میں قلم اٹھاتا ہے،  اس کو مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے۔حال ہی میں عالم عرب سے تعلق رکھنے والے تین ملحد قلم کا را بھر ے ہیں،  ان میں سے ایک ’’محمد شحرور‘‘ سوریا (شام) سے،  ’’ محمد سعید العشماوی ‘‘ مصرسے،  اور ’’ محمد ارکون ‘‘ الجزائر سے تعلق رکھتے ہیں ان تینوں نے اسلامی اصولوں اور قوانین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے،  انہوں نے اسلامی عقائد،  حدود،  میراث اور خاندانی قوانین کو،  زمانۂ جاہلیت کا رد علم ثابت کرنے کی مذموم سعی کی ہے،  ان کا مقصد لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھانا ہے،  کہ یہ قوانین جدید دور سے ہم آہنگ نہیں ہیں،  ان تینوں مصنفین کی کتابوں کے منظر عام پر آ جانے کے بعد،  انہیں مغرب کی پناہ حاصل ہو گئی،  حتی کہ سابق امریکی انتظامیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان ’’بیللٹرو‘‘ نے تینوں کی خوب مدح سرائی کی اور انہیں روشن خیالی کا تمغہ عطا کیا۔ (ایضاً)۔ در اصل عالم گیریت کے قائدین کو یہ معلوم ہے اسلام میں،  چوں کہ اس کا نعم البدل بننے اور ہر سطح پر اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے،  اس لیے اسلام کو محض ایسا مذہب بنا دیا جائے،  جو چند ارکان کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہو،  عملی زندگی میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔

اسلام ابتدائے آفرینش سے عالمی مذہب

            اسلام کی تعلیمات پر اگر غور کیا جائے،  تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق صرف ان ہی لوگوں سے نہیں ہے،  جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے،  بل کہ جب سے دنیا قائم ہے اس وقت سے ان تعلیمات کا وجود ہے،  ہر نبی اور ہر رسول،  اللہ کی جانب سے وہی پیغام لے کر آیا ہے،  جس کی تجدید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی،  اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام سے لے کر خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم تک،  ہر نبی نے اسلام کی دعوت دی ہے،  تو غلط نہ ہو گا،  بل کہ قرآن و سنت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

            اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

                                    کانَ الناسُ امَّۃً واحدۃً فبعثَ اللہُ النبیینَ مُبشرینَ و مُنذرینَ،  و انزَلَ معہُمُ الکتابَ بالحقِّ لِیَحکُمَ بینَ الناسِ فیما اخْتلَفُوا۔  (البقرۃ:۲۱۳)

            ترجمہ: سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا،  جو کہ خوش خبری سناتے تھے اور ڈراتے تھے،  اور ان کے ساتھ آسمانی کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں،  اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے امور اختلافیہ میں فیصلہ فرما دیں۔

            اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ارشاد ملتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ:

            ’’حضرت نوح اور آدم علیہما السلام کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے،  اس عرصے میں سبھی لوگ ایک ہی مذہب پر عمل پیرا تھے‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر:ج۱/ص۲۵۱)

            حضرت نوح علیہ اسلام کے بعد،  انبیائے بنواسرائیل نے بھی اسی اسلام کی دعوت دی،  جس کی دعوت ان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت نوح سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام دے چکے تھے۔

            ارشاد ربانی ہے: و قَضی ربُّکَ الاَّ تعبُدُوا إلاَّ إیاہ۔ (الاسرا:۲۳)

            ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم کر دیا ہے کہ بجز اس کے،  کسی اور کی عبادت مت کرو۔

            آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی،  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی دعوت کی تجدید فرمائی اور اسی اسلام کی طرف لوگوں کو بلایا،  جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیا پوری انسانیت کو بلا چکے تھے۔

            قرآن کریم میں ارشاد ہے:

                                    و ما ارسلنا من قبلک من رسولِ إلاَّ نوحی إلیہ انہ لا إلہ إلاَّ انا فاعْبدون۔ (الانبیاء:۲۵)

ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا،  جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو،  کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں،  پس میری (ہی) عبادت کیا کرو۔

            ان آیات قرآنیہ کی روشنی میں یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کی دعوت کوئی نئی دعوت نہیں،  بل کہ روئے زمین پر آنے والے ہر نبی نے،  اسی اسلام کی دعوت دی ہے،  جس کی تجدید کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور یہ اسلام چوں کہ ایک آفاقی اور عالمی مذہب ہے،  اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ اسلام اسی روز سے عالمی ہے،  جب سے یہ عالم قائم ہے اور یہ اسی وقت سے ہمہ گیر ہے،  جب سے یہ کون و مکان سجایا گیا ہے۔ (گلوبلائزیشن اوراسلام)

            یہ تفصیلات مولانا یاسر ندیم صاحب کی اس موضوع پر لکھی گئی عمدہ ترین کتاب ’’گلوبلائزیشن اور اسلام‘‘ سے ماخوذ ہے۔مزید تفصیلات کے لیے پوری کتاب کا مطالعہ اور پڑھے لکھے کے لیے خاص طور پر علماء،  طلبہ کے لیے از حد ضروری اور مفید ترین ہے۔

            اب اسی سے ملتی جلتی چند مزید معلومات محمد افضل احمد صاحب کی کتاب ’’نظام عالم اور امتِ مسلمہ‘‘ سے نقل کی جا رہی ہیں۔

مجلس اقوام متحدہ (UNO)

            ۱۸۹۷ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل (basel)میں یہودی دانش وروں کی کا نفرس ہوئی تھی جس میں انیس ابواب پر مشتمل دستاویزات تیار کی گئی تھیں۔اس کے گیارہویں اور انیسویں دستاویزوں میں عالمی حکومت کا خاکہ پیش کیا گیا تھا،  بارہویں باب میں پریس اور دیگر ذرائع ابلاغ کو قابو میں لانے کی بات کہی گئی تھی اورسولہویں باب میں تعلیم کے ذریعے ذہنی تطہیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔

            اس کے بعد ہی ان دستاویز ات کے مطابق عملی کوششیں شروع ہو گئیں۔ان ہی کوششوں کا نتیجہ دو عالمی جنگیں ہیں۔یہ جنگیں برپا ہی اس لیے کی گئی تھیں کہ اس کے نتیجے میں ایک نئے عالمی نظامی کا ایک مرکز قائم کیا جا سکے۔چنانچہ پہلی ہی عالمی جنگ(۱۹۱۴ ء تا  ۱۹۱۸ء)کے دوران امریکی صدرولسن کے سیاسی مشیر کرنل مانڈ یل ہاؤس نے اپنے رفقاء کی مدد سے لیگ آف نیشنز (league of nations)کے خد خال متعین کئے اس خد خال کے مطابق ۱۹۱۷ء میں امریکی صدرولسن نے امریکی قوم کے سامنے لیگ آف نیشنز کی تجویز پیش کی اور باضابطہ طور پر جنوری  ۲۰ ۱۹ء میں معاہد طاقتوں نے اسے قائم کر دیا۔

            اس طرح لیگ آف نیشنز کے منصوبہ سازوں نے امریکہ کو مزید ہموار کرنے کے لیے امریکی حکومت کے دروبست جا ری ہونے کا منصوبہ بھی بنا ڈالا۔چنانچہ حکومت کے تمام اجزاء عملیہ،  مقنّنہ اور عدلیہ  (Executive, Legislative & Judiciary)کے ساتھ ساتھ ان  تمام مراکز پر بھی اپنے اثرو رسوخ قائم کرنے اور باضابطہ ان میں نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کر لی جن کا کسی نہ کسی طور پر ان کے منصوبے سے تعلق تھا۔اس مقصد کے حصول کے لیے کرنل ایڈورڈ مانڈیل ہاوس نے خفیہ طور پر اپنے گروپ کے ساتھ امریکہ کے بجائے اپنے پرانے مر کز لندن  میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور فیصلہ کیا کہ امریکہ میں ’’امریکی ادارہ برائے عالمی امور‘‘ (American Association for World Affairs) نام کا ادارہ قائم کیا جائے۔پھر ۱۹۲۱ء میں اسے ترمیم کر کے ’’کونسل برائے روابط خارجہ ‘‘(Council of Foreign Relations)کر دیا گیا۔

            اس کے بعد اس کے ماتحت مختلف ذیلی ادارے بنائے گئے۔ان میں سے ہر ایک ادارے کے مقاصد متعین کر کے انہیں اپنے ہی ماتحت رکھا گیا،  مثلاً تجارتی کونسل (Business Council) ایشین انسٹی ٹیوٹ (Asian Institute)اٹلانٹک کمیٹی (Atlantic Committee)متحدہ عالمی وفاقی (United World Federalist)وطنی کمیشن (Territorial Commission) وغیرہ۔

C.F.R.

            کونسل برائے رابط خارجہ ((C.F.R.نے وجود میں آتے ہی خارجہ امور (Foreign Affairs) کے نام سے اپنا ترجمان نکالنا شروع کر دیا  اس ادارے کے ارکان نے جو سب کے سب یہودی تھے امریکی حکومت کے ٹیکس مستثنیٰ(Tax Exempted) بڑے بڑے ادارے  میڈیا اور بینکوں کے علاوہ  ڈیمو کر یٹک اور ریپبلکن پا رٹیوں اور اثر و نفوذ کے دوسرے مراکز پر قبضہ کر لیا۔اور پھر ڈیلی کار نیگی،  فورڈ فاؤنڈیشن،  راک فیلر فاؤنڈیشن اور نیویارک ٹائمز یہاں تک کہ تمام امریکی ٹی وی اسٹیشنوں پر قبضہ جما لیا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جو قوم مہاجر بن کر بے سر و سامانی کے عالم میں ۱۷۴۸ء میں امریکہ آئی تھی،  برٹش استعماروں کے ہاتھوں ۱۷۷۶  میں تیرہ ریاستوں کے اشتراک سے اپنی حکومت کا باضابطہ اعلان کیا تھا اور پھر جلد وہ تیرہ ریاستیں پچاس ریاستوں میں منقسم ہو گئیں اور   ان کا وفاق بتا تھا۔ اس طرح یہود امریکہ پر پو ری حاوی ہو چکے ہیں اور امریکہ کے تمام در و بست پر طرح کنٹرول ہے۔

            امریکی صدر روز ویلٹ،  سے لے کر،  صدر رونا لڈ ریگن،  تک نو امریکی صد ور کے خارجہ امور کے مشیر مسٹر جان میکالے کا کہنا ہے کہ ہمیں جب بھی امریکی حکو مت کے لیے کل پرزوں کی ضرورت ہو تی ہے،  تو ہم سب سے پہلے C.F.R. کے مرکزی دفتر نیویارک سے رابطہ قائم کر تے ہیں،   C.F.R.کے غیر معمولی اثر و نفوذ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ۱۹۵۲ء سے لے کر اب تک امریکی دونوں سیاسی پارٹیوں ڈیموکریٹک (Democratic) اور رِی پبلکن ((Republicanنے امریکی صد ارت کے لیے جتنے لوگوں کو نام زد کیا ہے ان میں سے رونالڈ ریگن کے سوا سبھوں کا تعلق C.F.R.سے تھا۔

            اور رونا لڈ ریگن کے۔C۔F۔R سے تعلق نہ ہونے کا تدارک بھی اس طرح کر لیا گیا کہ اسے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا نائب جارج بش کو بنائے جو.C.F.R کا ممتاز رکن تھا.ریگن کی حکومت جو تین سو تیرہ ارکان پر مشتمل تھی وہ سب کے سب.C.F.R کے ارکان تھے.اسی طرح بل کلنٹن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی.C.F.R کے صدر وان کر سٹوفر کو اپنی حکومت چلانے کے لیے مطلوبہ اشخاص کی پوری آزادی دے دی.چنانچہ اس کی حکومت کے پیش تر ارکان F.C.R کے ممبر تھے.

            ۱۴ اگست ۱۹۱۴ء کو امریکی صدر روزویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم چرچل نے ایک عالمی نظام اور دائمی قیام امن کے معاہدے پر دستخط کئے اور  جنوری ۱۹۴۲ء میں چھتیس حلیف ملکوں نے ’’مجلس اقوام متحدہ‘‘ ( United Nations Organisation U.N.O.)کے چارٹر پر دستخط کئے اور اس معاہدے کی تصدیق کی.پھر جنوری ۱۹۴۳ء میں وزیر خارجہ کا رڈویل ہیل نے اپنی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے تمام ممبر۔C۔F۔R سے تعلق رکھتے تھے۔اس کمیٹی نے اقوام متحدہ کے قیام کی تجویز کا مکمل خاکہ بنا کر امریکی صدر کو پیش کر دیا جس نے ۱۵ جون ۱۹۴۴ء کو امریکی عوام کی سامنے اس ادارے کے قیام کا اعلان کر دیا۔پھر ۲۶ جون ۱۹۴۵ء کو سان فرانسسکو میں اقوام متحدہ کے چارٹر کا عمومی اعلان کیا گیا،  جس پر دنیا کے پچاس ممالک نے دستخط کئے۔ اس اعلامیے میں فوجی کونسل کے قیام اور استعمال کو بھی ان ممالک نے منظور کر لیا۔ اسی طرح دستور ساز کمیٹی میں چوں کے C.F.R.کے ارکان کی غالب اکثریت تھی اس لیے تمام دفعات بلا کسی پس وپیش کے اکثریت سے منظور کر لیے گئے؛ اس طرح یہودی عالمی حکومت کی بنیاد مستحکم ہو گئی،  یہاں تک کہ جون ۱۹۹۲ء میں ملکوں کے اندrونی معاملات میں باقاعدہ مداخلت کو قانونی حیثیت بھی دے دی گئی۔

            پوری دنیا پر اقتدار قائم کرنے کے لیے تھوڑے ہی دنوں میں کئی ذیلی ادارے قائم کر دئے گئے اور ان اداروں کو ساری دنیا میں متحرک کر دیا گیا جو ظاہر ہے کہ تمام نظامت زندگی پر اپنا تسلط قائم کرنے کے مؤثر حر بے ہیں۔ ان میں سے چند اہم اداروں کا ذکر کیا جاتا ہے :

I.C.A.O. (International Civil Aviation Organisation) 1944

I.B.R.D (International Bank for Reconstruction and Development) 1944

F.A.O. (Food and Agriculture Organisation) 1945

U.N.I.C.E.F. (United Nation Children’s Education Fund) 1946

U.N.E.S.C.O (United Nations Education, Scientific and Cultural Organisation) 1946

W.B. (World Bandk) 1946

W.M.O. (World Meteorological Organisation) 1947

G.A.T.T. (General Agreement on Tariffs and Trades) 1947

I.M.O. (The International Maritime Organisation) 1948

I.F.C. (International Finance Corporation) 1956

I.D.O. (International Development Organisation) 1960

U.N.C.T.A.D. (United Nations Conference on Trade and Development) 1964

U.N.D.P. (United Nations Development Programme) 1965

I.L.O. (International Labour Organisation) 1969

U.N.I.D.O. (United Nations Industrial Development Organisation) 1985

W.T.O. (World Trade Organisation) 1995کی جگہ (GATT)

U.N.G.A. (United Nations General Assembly)

U.N.S.C. (United Nations Security Council)

I.C.J. (International court of Justice)

I.M.F. (International Monetary Fund)

W.H.O. (World Health Organisation

I.R.C. (International Red Cross)

N.P.T. (Nuclear Non-Proliferation Treaty)

I.A.E.A (International Atomic Energy Agency)

U.N.C.S.T.D. (United Nations Conference on Science and Technology fro Development)

U.N.E.P (United Nations Environment Programme)

N.I.D.O (United Nations Industrial Development Organisations)

I.C.P.D (International Conference on Population and Development) etc.

            مذکورہ بالا ادارے براہ راست اقوام متحدہ کے ماتحت یہودی عالمی حکمرانی کے لیے کام کرتے ہیں. ان کے علاوہ ساری دنیا پر اقتدار کے قیام اور استحکام کے لیے مختلف قسم کے این جی اوز (Non Governmental Organisations)  (N.G.O.s) کا پوری دنیا میں ایک زبردست،  ہمہ جہت اور ہمہ گیر جال پھیلایا ہوا ہے.

مثلاً:

ہیومن رائٹس کمیشن

H.R.C (Human Rights Commission(

ہیومن رائٹس واچ

H.R.W. (Human Rights Watch(

ایمنسٹی انٹرنیشنل

Amnesty International

ریڈ کراس

Red Cross

ریڈ کریسنٹ

Red Crescent

ایکشن ایڈ

Action Aid

پاپولیشن کونسل

Population Council

پریزنرز آف وار

P.O.W. (Prisoners of War(

ارلی چائلڈ ہوڈکیئر اینڈ ڈیولپمنٹ

E.C.C.D. (Early Child Hood Care and Development(

ورlڈ فوڈ پروگرام

W.F.P. (World Food Programme(

چائلڈ ریلف اینڈ یو

C.R.Y. (Child Relief and you(

سیو دی چلڈرن

Save the Children

یونائٹیڈ اسٹیٹس ایجنسی برائے صنعتی ترقی

U.S.A.I.D. (United States, Agency for Industrial Development(

ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ

D.F.I.D. (Deptt for International Development(

وغیرہ این جی اوز کی شاخیں دنیا کے ہر ایک خطے اور علاقے میں پھیلا دی گئی ہیں،  حتی کہ انسانی معاشروں کی تمام اکائیوں تک پہنچا دی گئی ہیں۔

            اس قسم کے تمام ادارے دراصل دو قسم کے کارنامے انجام دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ساری دنیا سے ہر قسم کی خبریں یہود اور ان کے مختلف مراکز کو پہنچانے کے بہت بڑے ذرائع ہیں،  گو کہ ان اداروں کے قیام و عمل کے مقاصد کچھ اور ہی بتائے جاتے ہیں،  اور اس تعلق سے ان کی کچھ کارکردگیاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی وضع کردہ پالیسیوں کی تبلیغ و اشاعت اور ترویج و تشہیر کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ پھر یہ کہ کسی بھی کسی بھی سماج،  معاشی،  رفاہی،  اصلاحی،  تعلیمی اور مذہبی مقاصد کے تحت وجود میں آنے والے اداروں،  جماعتوں،  تنظیموں اور فورموں میں ان کے افراد باضابطہ شامل ہوتے ہیں،  جو ان اداروں ،  جماعتوں ،  تنظیموں اور فورموں کی پالیسیوں،  منصوبوں اور کارکردگیوں سے انہیں آگاہ کرتے رہتے ہیں،  اور ساتھ ہی ساتھ بالواسطہ اقوام متحدہ کے منشورات کی ترویج و تشہیر اور ان پر عمل آوری کی مثالیں بھی قائم کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً حقوق نسواں ،  حقوق انسانی ،  اشتراک و مذاہب مابین تفاہم،  انسدادِ دہشت گردی وغیرہ۔

            یہ تمام تر کوششیں در اصل ساری دنیا کو عقائد و اعمال دونوں طرح سے ایک طرف اقوام متحدہ کے زیر اثر لانے کی زبردست کوششیں ہیں اور دوسری طرف ہر قوم بالخصوص مسلمانوں کو ان کے اپنے دین و مذہب اور تمدن و ثقافت سے بے گانہ اور منقطع کر ڈالنے کی مذموم چالوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سیاسی،  معاشی ،  تعلیمی اور اخلاقی ہر لحاظ سے نہایت ہی پسماندہ بنا کر رکھ دینے اور بیش از بیش جانی اور مالی تباہی و بربادی کی نذر کر دینے کی منصوبہ بند کوششیں ہیں۔

            صدیوں کی محنت و کاوش کے نتیجے میں ترتیب دیئے ہوئے یہودی عالمی نظام کی پالیسی اور منصوبے کے مطابق حب امریکہ نے لیگ آف نیشنز(League of Nations)اور مجلس اقوام متحدہ (United Nations Organization)کے راستے پوری دنیا پر اپنا اقتدار قائم کر لیا،  تمام ممالک پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور دنیا کی تمام حکومتیں اپنے اختیارات مکمل طور پر کھو دئے اور اقوام متحدہ کے آگے سر نگوں ہو گئے تو جنگ خلیج  ۱۹۹۱ کے بعد امریکہ نے اس عالمی نظام کا کھل کر ’’نیو ور لڈ آرڈر‘‘ (نیا عالمی New World Order)کے نام سے اعلان کر دیا،  جس کے لیے بعد میں پھر گلو بلائزیشن (Globalisation)کی اصطلاح بھی استعمال کی جانے لگی۔یہ اعلان اس بات کی علامت تھی کہ اب اس بحیثیت قوم یہودی حکومت اور بحیثیت ملک امریکہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والا یا اس کے مد مقابل کوئی بھی ملک باقی نہ رہا اور نہ ہی کوئی طاقت سد راہ رہ گئی،  بلکہ ساری دنیا ہر لحاظ سے مکمل طور پر اس کے قبضہ میں آ گئی اور دنیا کی ساری قوموں کو اپنا غلام و محکوم بنا لینے کا وہ پورا پورا مجاز ہو گیا۔

            چوں کہ یہودی عالمی حکومت کا اصل ہدف اسلام کو مٹا ڈالنا،  مسلمانوں کو زیر تسلط لانا،  انہیں محکوم بنا لینا اور مسلمانوں کی نام نہاد حکومتوں کو براہ راست اپنی تحویل میں لے لینا ہے،  اس لیے یہودی عالمی حکومت امریکہ کی علم برداری میں ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا بڑے پیما نے پر سلسلہ جنگ خلیج سے شروع کرتی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپر یل ۱۹۹۱ء میں قرار داد پاس کر کے عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اس فیصلے کے مطابق عراق کو تباہ و برباد کر نے کے ساتھ ساتھ غذائی اشیاء کی در آمد اور بر آمد پر پابندی عائد کر دی گئی یہاں تک کہ پیٹرول کی قیمت پر بھی پہرے بٹھا دیئے۔اور پھر تمام ملکوں میں اس طرح کی مداخلت کا دروازہ چوپٹ کھول دیا گیا۔ لہٰذا،  بوسنییا،  ہیتی اور صومالیہ میں یہی کھیل پوری طرح کھیلا گیا اور جزوی طور پر لیبیا،  کمبوڈیا،  لائبیریا،  نائیجیر یا،  سوڈان اور انگولا میں یہی کھیل ہوتا رہا،  اور کوسووا میں تو مسلمانوں کی نسل کشی کا نیا مذموم ظالمانہ طریقہ ناٹو (North Atlantic Treaty Organization-N۔A۔T۔O۔)افواج کی سرپرستی میں اختیار کیا گیا۔افغانستان میں اس قدر بم بر سائے گئے کہ آبادی تو آبادی پہاڑوں تک کی خیریت نہ رہی۔ اور ایک بار پھر عراق کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا۔یہاں کہ عراقیوں کی جان و مال کی تباہی و بربادی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔یہ سلسلہ عراق تک محدود نہیں ہے بل کہ اس کے بعد ایران نشان زد ہو چکا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو چار سالوں کے وقفے وقفے سے ایک ایک کر کے تمام مسلم ممالک کو تباہ و برباد کر دینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

            موجودہ عالمی نظام جو قوم یہود کی ساختہ پرداختہ ہے،  جس کے تمام تانے بانے یہودیوں کی اسلام اور مسلم دشمنی کے ناپاک عزائم اور منصوبہ کا نتیجہ ہیں اور عالمی نظام کی وضع کردہ تہذیب و ثقافت جسے مغربی تہذیب و ثقافت کہا جاتا ہے کی سربراہی بحیثیت قوم مکمل طور پر قوم یہود کے ہاتھوں میں ہے،  اور بحیثیت ملک امریکہ کے ہاتھوں میں یہودی بنیادی طور پر شیطان کے جارحہ کی حیثیت سے کام کر رہے۔ظاہر ہے کہ ان کا مشن نظام خداوندی،  دین حق اور فطرت انسانی کو منہدم کر کے ان کی جگہ شیطانی نظام فکر و عقیدہ اور اعمال و اشغال کو جاری اور نافذ کرنا ہے۔چناں چہ نظام حق کی ہر طرح سے اور ہر حال میں مخالفت کرنا اور دین فطرت و انسانیت کے بالکل بر عکس نظام زندگی اور تہذیب و ثقافت کو جاری اور نافذ کرنے کی کوشش کرنا ان کا نصب العین ہے۔ چناں چہ دین اللہ کی بخشی ہوئی بیشتر حلال اور جائز امور و معا ملات کو اس تہذیب و ثقافت نے حرام نا جائز اور نا حق قرار دے دیا ہے اور دین اللہ کے تمام  ممنوعہ،  حرام،  نا جائز اور نا حق چیزوں کو حلال،  جائز اور لا زم تسلیم کر لیا ہے اور ساری دنیا پر اسے غالب کرنے کے  وہ تمام ذرائع و وسائل استعمال کر رہیں جو کچھ بھی ان کے بس میں ہے۔

MNCs

      مخصوص تہذیب و ثقاقت کو سارے عالم میں برپا کرنے کے لیے کثیر الاقوامی ادارہ جات( multi ‘National corporations ) کے نام سے ایک زبر دست مالی فوج کو میدان میں اتار لایا گیا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں نے ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ان کے ہاتھوں میں ساری دنیا کی دولت سمٹ کر آ گئی ہے اور اقوام کی قسمت ان کے ہاتھوں میں بند ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً تمام ہی ادارے یہود ہی کی ملکیت ہیں۔

             یہ کثیر الاقوامی ادارہ جات اقوام متحدہ کے ذریعہ ذیل طریقوں سے شیطانی نظام کے قیام واستحکام اور ان کی بالا دستی کی کوششیں کر رہے ہیں :

٭      تہذیب و ثقافت کے نام پر بے ہنگمی،  بد نمائی،  بے غیرتی،  بے حیا ئی،  بے وفائی،  بد اخلاقی،  بدکرداری،  بد چلنی،  بدزبانی،  بدنظمی اور تمام مخرب اخلاق کردار و اعمال کا ہر چہار اطراف دور دورہ ہے۔

             فیشن کے نام پربیو ٹی پا رلر،  مساج سنٹر،  کا سمیٹک کلچر،  ٹو روم وغیرہ جیسی چیزوں کو مشتہر کر کے اور انہیں ضروریاتِ زندگی قرار دے کر ان کے ذریعہ فحاشی اور عریانیت کی زبردست وبا پھیلا دی گئی ہے۔ پھر ان کی تقویت اور کشش کے لیے فیشن کے نام پر آئے دن عجیب عجیب قسم کے بے ہنگم لباس اور ان کی تراش خراش کا مظاہرہ کیا جاتا ہے،  اور کا سمیٹک آئیٹمز کی نئی نئی قسمیں اختراع کی جاتی ہیں۔

            آزادیِ نسواں اور حقوق نسواں کا زوردار راگ الاپ کر عورتوں کو بازاروں،  کلبوں اور ہر طرح کی مجلسوں میں لا کر،  انہیں بے حیائی،  بد کرداری اور بے وفائی کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔

            اس تہذیب و ثقافت کا پرچار کرنے اور اس کو رواج دینے کے لیے جنسی تعلیم،  پور نو گرافی،  منعِ حمل ادویات ،  فیشن شو،  کلچرل پروگرام ،  مقابلۂ حسن،  پب کلچر وغیرہ جیسی گندی ،  مخرب اخلاق اور فحش چیزیں عام کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر عریانیت اور عفت و عصمت ،  تہذیب و شائستگی،  جنسی بے راہ روی اور آوارگی پروان چڑھ رہی ہیں اور عفت و عصمت ،  تہذیب و شائستگی،  اخلاق و انسانیت اور شرافت و مدنیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

٭     میک ڈونلڈ،  کے ایف سی ،  پزّ ا ہٹ ،  پزّا اِن قسم کے امریکی فاسٹ فوڈ کے علاوہ چینی،  جاپانی،  میکسیکی،  اطالوی وغیرہ کے مختلف قسم کے کھانوں کا مسلم ممالک میں خصوصیت کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے جن کھانوں میں حرام و حلال کی کوئی تمیز نہیں ہوتی۔اس طرح کے کھا نے مخربِ ایمان و اخلاق کے ساتھ مضر صحت بھی ہیں۔

٭      ان کے علاوہ اس تہذیب و ثقافت میں اسپورٹس کے نام سے لہو و لعب کو ایک کامیاب حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کے ذریعہ ہر آنے والی نئی نسلوں کے دل و دماغ پر فٹ بال ،  والی بال ،  ٹینس ،  ٹیبل ٹینس،  کرکٹ وغیرہ کو اس قدر مسلط کر دیا جاتا ہے کہ ان کے سامنے نہ تو دوسرے مسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کھیلوں کے علاوہ انہیں کچھ اور سو چنے سمجھنے اور ان پر وقت لگانے کی فرصت ہوتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب کبھی کوئی کھیل شروع ہوتا ہے تو اسکولوں ،  کالجوں ،  دفتروں ،  دکانوں ،  بسوں ،  ٹرینوں ،  بازاروں اور گھروں میں غرض کہ ہر جگہ سبھوں کی زبانوں پر بس کھیل ہی کے چرچے ہوتے ہیں ،  چلتے پھر تے ،  سوتے بیٹھتے ،  کھاتے پیتے ہر حال میں بس اسی پر تبصرے،  اسی کے تذکرے،  اسی کی گتھیوں میں وہ الجھے اور انہیں سلجھاتے ہوئے ہوتے ہیں۔

            اس ’’تہذیب و ثقافت ‘‘ کی ترویج و اشاعت کے لیے اور اسے رواج دینے کے لیے  سیٹیلائٹ اور جدیدمواصلاتی ٹکنیک کے تحت ٹیلی ویزن ’انٹرنیٹ،  موبائل فون وغیرہ جیسے ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے جو عام لوگوں تک جلد پہنچانے کے آسان ذرائع ہیں۔پھر ادب و ثقافت کے نام پر اخبارات رسائل اور جرائد میں مخرب اخلاق،  عریاں اور فحش تصاویر کی بھر مار اس تہذیب و ثقافت کو تمام گھروں سے لے کر دفتروں،  دکانوں اور کارخانوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں،  اس طرح کہ کوئی بھی نظر ان سے بچ کر نہیں رہ سکتی۔دنیا کی دوسری قوموں کے شانہ بشانہ مسلمان بھی ان میں رچے بسے اور گھلے ملے ہوتے ہیں،  دوسری قوموں اور مسلمانوں میں کوئی فرق و امتیاز باقی نہیں ہے،  بلکہ مسلم ملکوں میں یہ وبائیں بہت سارے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ  تیز رفتاری سے پھیلتی جا رہی ہے۔

            شروع میں جب عام مسلمانوں کا نصب العین خو ف خدا،  آخرت طلبی،  شرافت و دیانت اور حق و انصاف کی علَم برداری تھی،  وہ نظام حق کے متبع اور اسلام کے چلتے پھرتے نمونے تھے،  اور شریعت کو اور اس کی بندی کو عزیز رکھتے تھے،  تو جہاں کہیں بھی گئے اور جس جگہ بھی رہے،  وہاں نہ صرف انہوں نے اپنی اخلاقی اور شرعی اثرات لوگوں پر مرتسم کئے بل کہ بیش از بیش لوگ ان کے ہاتھوں اسلام قبول کرتے چلے گئے،  اس حقیقت کے باوجود کہ دونوں ہی جانب کے لوگ بالعموم ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف ہوتے تھے۔ اور کہاں اب حال یہ کہ یہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوتے ہیں،  زندگی کے جملہ امور  و معاملات میں خواہ وہ تہذیبی ہو کہ ثقافتی،  سیاسی ہو کہ معاشی،  خانگی ہو کہ معاشرتی،  دوسرے کے شیطانی اثرات قبول کرتے چلے جاتے ہیں اور شریعت اور دین حق کی قطعی پرواہ نہیں کرتے ہیں اور انہیں بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔

            جب مسلمان دین حق سے منحرف ہو گئے،  اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشن ہدایات و تعلیمات سے چشم پوشی اختیار کر لی،  احکام خداوندی کو یکسر بدل ڈالا،  دنیا پرستی،  عیش پسندی،  جھوٹی شان و شوکت اور ظلم و زیادتی کے دل دادہ ہو گئے،  مختلف قسم کے آپسی اختلافات میں مبتلا ہو گئے،  ایک دوسرے کی خون کو حلال کر لیا،  یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں نقابی شروع کر دی،  انہیں دوست بنانے اور ان کی حمایت کے حصول کے لیے ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے شروع کر دیئے اور یہود و نصاریٰ اور دوسری قوموں کی ان تمام خرابیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے،  جن سے انتہائی سخت تاکید کے ساتھ باز رہنے کو کہا گیا تھا۔ایسی صورت میں وہی دشمن عناصر اور وہ قو میں جنہیں مغضوب اور ضالین کے خطابات سے نوازا گیا تھا،  نظام عالم پر بڑی ہی آسانی اور سرعت کے ساتھ قابض اور متصرف ہو نے لگیں۔ یہ تمام اسلام دشمن عناصر تو موقع ہی کی تلاش میں تھے۔ اور پھر وہ قابض و متصرف ہی نہیں ہو گئے بل کہ مغلوب اور محکوم مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم و تشدد رواں رکھا،  ان کا عرصہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا،  ان کو صحیح دین  سے اکھاڑ پھینکنے کی انتہائی کوشش کر ڈالیں،  ان کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیا،  انہیں محکومی و غلامی کی ذلت آمیز زنجیروں میں جکڑ دیا اور ذلیل و خوار بنا کر رکھ چھوڑنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزمانے لگے،  حتی کہ وہ سب کچھ کرنے لگے جو شیطان،  اس کی ذریت اور اس کے شاگرد کر سکتے تھے۔

            یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا اور ایمان کا جھوٹا دعوی کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھلا دیا اور ان پر ظالموں اور سفاکوں کو مسلط کر دیا۔جب مسلمانوں نے دوسروں کی بندگی و اطاعت شروع کر دی تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا اور ان ہی کے حوالے کر دیا جن کی بندگی و اطاعت کا وہ دم بھر نے لگے کہ جیسا وہ چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں :

وما اصابکم من سیئۃ فمن نفسک  (النساء:۷۹)

’’اور جو بھی مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرا اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے ‘‘۔

ان اللہ لا یظلم الناس شیئا و لکن الناس انفسھم یظلمون (یونس :۴۴)

’’حقیقت یہ کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا لو گ خو د اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ‘‘۔

            اور ان کی یہ حالت اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک کہ اس کے بدلنے کے لیے خود کو نہ بدلا جائے : ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد :۱۱)’’بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حال کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی ‘‘۔(نظام عالم اور امتِ مسلمہ)

عالمِ اسلام کے خلاف مغرب کی حکمت عملیاں

            ۱۱ ستمبر۲۰۰۱ء کے بعد سے مغرب اسلام کو بہت سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور مغربی مفکرین اسلام کے خلاف زبردست محاذ تیار کر کے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی کوشش کر رہے ہیں،  اسی منصوبے کی ایک کڑی ’’شیریل بنارڈ ( Cheryal Benard)‘‘ کا ایک مقالہ سوِل دیموکریٹک اسلام (Civil Democratic Islam) ہے جس میں اس نے اسلام کو دنیا میں پڑھا اور بڑے غور سے پڑھ کر مسلمانوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا اور پھر حکومت امریکہ کو مشورہ دیا کہ اب ان میں کون کون سی قسم کے مسلمان امریکہ اور مغرب کے لیے نقصان دہ اور کون اس کے لیے فائدہ مند ہے۔وہ اپنے مقالہ (مضمون) کا آغاز اس سوال سے کرتی ہے کہ مسلمان آخر امریکہ کے خلاف کیوں بر سر پیکار ہیں،  اس کی کیا وجوہ ہیں ؟ اور اس کے جواب پر پورے مقالہ اور مضمون کا دارومدار ہے۔ وہ تحریر کرتی ہے کہ مسلمان کو چوں کہ بہت عرصے سے سیاست سے دور رکھا گیا،  اس لیے اب اس میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے،  لہٰذا مسلمان اپنے غلبے کے لیے مختلف طریقۂ کار اپنا رہا ہے اور وہ مختلف گروہوں میں بٹا ہوا ہے اور وہ گروہ چار طرح کے ہیں :

(۱)       بنیاد پرست Fundamentalist)   (

(۲)      قدامت پسند (Traditionalism)

(۳)     سیکولرسٹ (Secularist)

(۴)     موڈرسٹ (Mederist)

اب ان چاروں گروہ کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کے افکار نظریات کا مطالعہ کرے گی اور اس مطالعہ کی روشنی میں دیکھیں گی کہ کون گروہ اسلامی نظریات کا مکمل علم بردار ہے اور کون گروہ مغربی افکار کو پسند کرتا ہے۔

بنیاد پرست (Fundamentalist)

            یہ وہ گروہ ہے جو جہاد کو اور قتال کو اسلام کے غلبہ کی حکمت عملی کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں یہ گروہ جمہوریت اور تمام مغربی افکار کا منکر ہے اور جہاد اور انقلاب کی تمام نظاموں پر ترجیح دیتا ہے اس کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک اسپریچوَل بنیاد پرست (Scriptural Fundamentalist) یہ گروہ اسی طریقہ کو اختیار کرتا ہے جو اسلامی مآخذ کے مطابق ہے اور جو خودکش حملہ کو صحیح نہیں قرار دیتا۔ اور دوسرا گروہ ریڈیکل بنیاد پرست (Radical Fundamentalist) یہ گروہ سب سے خطرناک گروہ ہے جو خودکش حملوں کو جائز سمجھتا ہے اس گروہ میں اس نے طالبان،  القاعدۃ،  حماس کو شامل کیا۔

قدامت پسند (Traditionalist)

            یہ گروہ اسلامی ثقافت رسم و رواج کی بڑی شدومد سے پاسداری کرتا ہے یہ گروہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد اور بڑا گروہ ہے۔ یہ علماء،  مدارس اور دیندار لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ جہادیوں کی مدد کرتا ہے بقول اس کے۔

سیکولرسٹ (Secularist)

            یہ نجی طور پر اسلام پر عمل پیرا ہوتا ہے،  مگر معاملہ میں قوم پرستی کو ترجیح دیتا ہے۔

موڈرسٹ

            یہ گروہ اسلام کی جدید تعمیر پیش کرتا ہے اور اسلام کو ایک لبرل مذہب تصور کرتا ہے مگر یہ کہتا ہے کہ اسلام چو دہ سو سال پہلے کی تہذیب ہے،  لہٰذا اب زمانہ سے ہم آہنگ ہو،  ایسا جدید اسلام پیش کرنا ہو گا۔

            پھر اخیر میں تحریر کرتی ہے کہ ہمیں یہ محنت کرنی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کا بڑا طبقہ ماڈریست ہو جائے یا وہ نہیں تو کم سے کم سیکولرسٹ ہو ہی جائے تو ہی ہماری حکومت کے بغیر کسی مدمقابل اور خطرے کے لمبی مدت تک باقی رہ سکتی ہے،  ورنہ پہلے دو گروہ تو ایسے ہیں کہ یہ کبھی بھی ہمارے ہم خیال نہیں ہو سکتے۔

امریکی حکومت کے لیے مسلمانوں کے خلاف تجویز کردہ لائحہ عمل

            امریکی حکومت کو اپنے وسائل کے ذریعہ مثلاً ٹی وی چینلیں،  انٹرنیٹ،  سیڈیس،  ویڈیو،  ویسی آر وغیرہ کو موڈریسٹ گروہ کے ابھارنے میں لگانے چاہیے،  ان ہی کے اسلام کو صحیح تصور کرنا چاہیے اور موڈریسٹ کو قدامت پسندوں کی جگہ بٹھانا ہو گا اس کے لیے علما کی علمی حیثیت کو ختم کرنا ہو گا تب ہی مغربیت کا فروغ ممکن ہے،  اور اس کام میں تھوڑا بہت سہارا سیکولرسٹ حضرات سے بھی لینا چاہیے۔

انقلاب کے لیے ایلومینائیز کے منصوبے

            ٹمپلروں کی میسنز میں تبدیلی کے عمل نے کئی چھوٹی تنظیموں کو جنم دیا۔ روز کروسینز بھی انہی میں سے ایک تھے۔ دوسری ایسوسی ایشن ایلومیناٹی تھی۔ ان تنظیموں کا جادوئی اور طلسماتی دنیا کی تاریخ میں بہت زیادہ تذکرہ آیا تھا۔ ایلومیناٹی کا قیام جنوبی جرمنی میں بویریا کے مقام پر عمل میں لایا گیا۔ اسے بویریا ایلومیناٹی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس تنظیم کا بانی قانون کا پروفیسر ایڈم وائیشوٹ تھا۔ چرچ اور حکومتوں کی شدید مخالفت کرتے ہوئے،  اس نے معاشرے کے لیے مندرجہ ذیل مقاصد تشکیل دیئے:

            (۱) تمام سلطنتوں اور منظم حکومتوں کا خاتمہ۔

            (۲) ذاتی جائیداد اور وراثت کا خاتمہ۔

            (۳)حب الوطنی اور قوم پرستی کا خاتمہ۔

            (۴) خاندانی زندگی،  شادی کے طریقہ کار کا خاتمہ اور بچوں کے لیے طبقاتی تعلیم کا قیام۔

            (۵) تمام مذاہب کا خاتمہ۔

            دورِ جاہلیت اور دورِ علم و روشن خیالی جس طرح مغرب نے متصور کروائی،  اسلام چھٹی صدی عیسوی میں اپنے نظریۂ علم کو متصور کروا چکا تھا،  اسلام کے نزدیک جاہلیت اور علم کی تقسیم کا معیار یہ ہے کہ ’’وحی‘‘ اور شریعت یہ روشن خیالی اور علم حقیقی ہے،  اور وحی کا انکار یا اس کی ثانویت جہل اور تاریکی ہے،  جب کہ مغرب نے اس کے برعکس وحی کے انکار عقلیت پسندی جو حقیقت میں شہوت پرستی اور مادیت ہے،  کو روشن خیالی اور نور تصور کر لیا،  یہ سب اٹھارویں صدی عیسوی کے فرانسیسی انقلاب کے بعد ہوا،  کیوں کہ فرانسیسی مادہ پرست قاموسیوں (Encyclopaedians) نے وحی کے بغیر ہیمومینزم کی بنیاد ڈالی،  ’’لامتری‘‘ نے انسان کے قلبی و ذہنی تمام اعمال کو میکانکی قرار دیا،  اور اسے دیگر حیوانوں کی صف میں کھڑا کر دیا،  بس پھر تو کیا دیکھنا،  مادی کی بارش شروع ہو گئی،  اور مغرب میں بے حساب ’’گمراہ نظریات‘‘ ظاہر ہوتے رہے،  ان میں سے مشہور یہ ہیں :

۱)         انسان پرستی (Humanism) اور وجودیت (Existentialism)۔

۲)        سیکولرزم یا  دنیویت (Secularism)۔

۳)       مادہ پرستی (Materialism)۔

۴)       اشتراکیت (Socialism)۔

۵)       نظریہ ارتقاء (Darwinism)۔

۶)        جمہوریت (Democracy)۔

۷)       سرمایہ داریت (Capitalism) و نظریۂ جنسیت (Fraindism)

۸)       تجربیت (Empiricism)۔ جس کی شاخیں ایجابیت (Positivism) اور نتائجیت (Pragmatism) اور افادیت پسندی (Utilitarianism) ہے،  وغیرہ۔

            مذکورہ نظریات کو نصاب تعلیم اور طاقت کے زور پر عام کیا گیا،  اور سائنسی نقطۂ نظر سے ان تمام نظریات کی تغلیط کے بعد بھی اسے عوام اور تعلیم یافتہ لوگوں کو پڑھایا جا رہا ہے،  اسلامی نقطۂ نظر سے تو تمام نظریات سراسر بے بنیاد اور غلط ہیں،  تجربہ اور مشاہدہ نے بھی اس کی ناکامی کو ثابت کر دیا ہے،  یہ بھی ’’الغز و الفکری‘‘ ہی کا ایک طریقہ ہے،  تاکہ دانستہ طور پر لوگوں کو وحی،  قرآن،  حدیث،  اللہ،  رسول،  اسلام،  مذہب،  فقہ وغیرہ  سے دور رکھا جائے،  جو ہمارے لیے بڑے خطرے کی بات ہے،  صرف اتنا ہی نہیں بل کہ مجلہ ’’الرابطۃ‘‘ کی تحقیق کے مطابق راند (Rand)،  ایک بہت بڑا ادارہ ہے اس میں کروڑوں ڈالر کی لاگت،  صرف اس لیے خرچ کی جاتی ہے کہ پوری دنیا میں الحاد اور بے دینی کو کیسے فروغ دیا جائے،  اور لوگوں پر ذہنی اعتبار سے سروے کر کے کس طرح محنت کی جائے،  تاکہ لوگوں کی فکریں مغرب کے تابع ہو،  اور دین سے بیزار رہے۔ خاص طور پر عالم اسلام کو ٹارگیٹ بنایا جاتا ہے۔ اور ایسا ’’نصاب تعلیم‘‘ تجویز کیا جاتا ہے کہ جس سے بچہ بچپن ہی سے مغربی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہو جاتا ہے،  اور زندگی کے ہر موڑ پر وہ مغرب کو اپنا آئیڈیل بناتا ہے،  حالاں کہ ہماری تہذیب و ثقافت کے بعد ہمیں کسی بھی تہذیب و ثقافت کی ضرورت نہیں۔ مفتی ابولبابہ شاہ منصور عصر حاضر کے ان مشہور و معروف علما میں سے ہیں جو علمی قابلیت اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ اور اسلام کے خلاف ہونے والی فکری سازشوں سے باخبر رہتے ہیں۔ان کا ایک حیرت انگیز مضمون شامل کیا جا رہا ہے جس میں فکرِ اسلامی و فکر انسانی کو برائیوں کا دلدادہ بنانے کے لیے جو سازشیں رچی گئی ہیں اس کی وضاحت موجود ہے۔

شیطان کے پھندے

بیک ٹریکنگ کی چند مثالیں

             (۱) مائیکل جیکسن پاپ میوزک کی دنیا کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔اس کے آئٹمز نے دنیا میں ریکارڈ بزنس کیا۔ یہ فری میسنز سے منسلک تھا۔ اس کے کئی شواہد ہیں۔اس کے ایک البم ’’Dangerous‘‘ یعنی ’’ خطرناک ‘‘ کے کور پر بد نام زمانہ فری میسونک علامت ایک آنکھ بنی ہوئی ہے۔اس کے ساتھ ایک جھیل کی تصویر ہے جس میں جلتے ہوئے شعلے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جو بھی اس پانی میں داخل ہو گا دراصل آگ میں کودے گا۔شیطان آگ سے بنا ہے اور یہ جھیل شیطانی مرکز برمودا کی طرف اشارہ ہے۔کور پر ایک آدمی ائیرسٹل گردے کی تصویر ہے جو ایک فری  میسن تھا۔یہ وہ بد بخت شخص ہے جس نے شیطان کا پجاری بن کر ایک کتاب لکھی ’’The New Law of Man‘‘یعنی ’’ انسان کا نیا قانون ‘‘۔اس کے مطابق نعوذ باللہ قرآن کو ایک دن انسان کے قانون سے بدل دیا جائے گا۔شیطان اور اس کے چیلوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ قرآنی آوازیں اور قرآن کا دستور ہے۔اس کے مقابلے میں وہ ہر قیمت پر شیطانی آوازیں اور شیطانی نظام کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔انہیں مدارس اور مکاتب میں چٹائی پر بیٹھے معصوم بچوں کی روح پرور آوازیں تو بری لگتی ہیں لیکن جہنم کی وادیوں کی طرف ہنکانے والی شیطانی صداؤں کو وہ روح کی غذا ٹھہرایا کرتے ہیں۔

            (۲) بیک ٹریکنگ کے ذریعے شیطان کی عبادت دنیا میں پھیلانے کی ایک اور مثال گلوکارہ میڈونا کی ہے اس کے ایک البم کا مشہور گانا ’’Like a prayer ‘‘جس کو سنا جائے تو اس کے بول ہیں۔

When you call my name

 It’s like a little prayer

ٰٰٰٰٰٰI’m down on my knees

I wanna take you there in the midnight hour

            ’’ جب تم میرا نام پکارتے ہو تو یہ مجھے ایک دعا کی طرح لگتا ہے۔میں اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتی ہوں اور تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہوں ‘‘۔ یہ الفاظ در اصل خدا سے مخاطب ہو کر نہیں،  شیطان سے مخاطب کر کے کہے جا رہے ہیں۔جب ان الفاظ کو Back wardچلایا جائے تو بآسانی یہ الفاظ سنے جا سکتے ہیں ’’ O۔ hear us satan‘‘ (اے شیطان !ہمیں سنو!)

            (۳) بیک ٹریکنگ کی ایک اور مثال ایگل گروپ The Eaglesسے سامنے آتی ہے۔ان کے ایک گانے کا نام ہے ہوٹل کیلی فورنیا The Meal is on the ceiling۔اس گانے میں Yeah SatanبآسانیBack ward کر کے سنا جا سکتا ہے۔اس گانے کے پیچھے بھی ایک انتہائی پراسرار شیطانی کہانی چھپی ہوئی ہے۔گانا آگے کی طرف چلایا جائے تو یہ مصرعے یوں ہیں :

            I fell on the Felling she put Shamane on ice she said we are all just prisoners here of our own device in the masters champer gathered for big feast gathered with the feeling but they just can’t feel.

            گانے کو الٹا چلایا جائے ہو یہ الفاظ واضح سنائی دیتے ہیں YEH SATAN:یے شیطان۔

            اس پیغام کے ساتھ گانا بذات خود ایک داستان ہے۔گانے کا نام کیلی فورنیا کوئی ہوٹل نہیں،  دراصل امریکا میں موجود ایک سڑک ہے۔ اس سڑک پر ایک چرچ کا ہیڈ کوارٹر ہے لیکن یہ وہ چرچ نہیں جس میں عیسائی حضرات جمع ہو کر خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ تو شیطانی کا چرچ ہے۔ اس میں شیطان کی پوجا ہوتی ہے۔ اس کے بانی کا نام اینیئیٹی سیزڈیلینی ہے جو ’’شیطانی بائبل‘‘ کا لکھنے والا ہے۔ امریکا کے چوٹی کے مشہور اداکار ٹی وی اور فلم کے ذریعے اسی چرچ کے تعلیمات کو فروغ دے رہے ہیں۔یہ لوگ فلم اور موسیقی کے ذریعے شیطان کے مبلغ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ’’رولنگ اسٹون‘‘ نامی گروپ کے لیڈ منگرمیکجا نے ایک گانا لکھا:’’for the devil Sympathy‘‘(شیطان سے ہمدردی ) جب ’’برادری‘‘ کے زیر انتظام یہ چرچ شروع ہوا تو دکھاوے کے لیے عیسائیت کی تعلیمات کو فروغ دے رہا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس نے اصل روپ دکھایا اور مذہب سے مکمل بغاوت کی جانب رواں دواں ہو گیا۔آج اس میں شیطانی عناصر جمع ہیں۔ یہ امریکا میں شیطان کی پوجا کا مرکز اور اس کا سب سے بڑا داعی ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کو مغربی موسیقی سننے کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں،  وہ سوچ لیں کہ اپنے معصوم جگر گوشوں کو کن لوگوں کا معمول بنا رہے ہیں۔

(۴) اس حوالے سے ایک میوزک گروپ “Cheap Trick”کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ اس میوزک گروپ کے ایک البم کے تعارف میں اس کا “Lead Singer”اناؤنسمنٹ کرتا ہے:This song is the first from our album’’یہ گانا ہمارے البم کا پہلا گانا ہے۔ اس اناؤنسمنٹ کو Anti Clockwise چلایا جائے اور مختلف تکنیک سے Backtrackکیا جائے تو یہ الفاظ سنے جا سکتے ہیں :”MY servant is a Musician”(میوزیشن میرا غلام ہے ) سچ ہے موسیقی کا کام کرنے والے شیطان کا غلام ہے۔

(۵) ایک اور مثال ایک دوسرے گروپ ’’Styx‘‘ کی ہے۔ گریک میتھ (Greek Myth) کے مطابق یہ نام ’’جہنم کے ایک دریا‘‘ کا ہے۔ ان کا ایک البم کا نام “Paradise Theater”ہے۔اس البم کا ایک گانا ہے جس کے بولSnowblind ہیں۔اس گانے کو سنیں۔ اس کے بول کچھ یوں ہیں :I try so hard to make it so(یعنی میں اس کام کے لیے کس قدر محنت کرتا ہوں )انہی بولوں کو اسی ترتیب اور اسی پوزیشن میں Backwardچلایا گیا تو یہ بول کچھ یوں تھےO Shatan move in our Voices (او شیطان ! ہماری آوازوں میں گردش کرو)

            اسی گروپ “Slyx”کی ایک دوسرے البم کے ایک گانے کے بول ہیں “I am Ok”(میں ٹھیک ہوں ) جب گانا آگے سنیں تو اگلے بول ہیں :I  I had finally found person, i have been searching forمیں نے بالآخر اس شخص کو پا لیا جس کی مجھے تلاش تھی ‘‘ آپ ان معنی خیز بولوں کو ملاحظہ کیجئے گلوکار کس کی تلاش میں ہے کہ جس کو اس نے پا لیا اور اب وہ اس کی خوشی منانا چاہتا ہے ؟ جب ان الفاظ کی Back Tracking کی گئی تو اس سوال کا جواب بھی مل گیا: I am your servant who shall stick by the serpent of alpha ’’میں تمہارا غلام ہوں۔ ہم شیطان کی غلامی پر جمے رہیں گے۔ لفظ “Serpent” (سانپ)دراصل عیسائیت کے اس تصور کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب شیطان نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا تو اس موقع پر وہ سانپ بہروپ میں تھا۔ اس نے سانپ کا بھیس بدلا ہوا تھا۔ آج وہ آدم کی اولاد کو ورغلا نے کے لیے پھر سانپ کی شکل میں آ رہا ہے۔ آپ اپنے ارد گر د غور کریں بہت سی چیزوں پر بلاوجہ سانپ کی شبیہ رسیاں یا لہریں بنی ہوئی دکھا ئی دیں گی۔ یہ شعوری یا لا شعوری طور پر شیطان کی موجود گی اور اس سے مدد مانگنے،  اس کی توجہ کھینچنے کے لیے بنائی گئی ہوتی ہیں۔

            (6)اوپر گانوں میں جن “Hidden Messages” (پوشیدہ پیغامات)کا ذکر کیا گیا ہے ان شیطانی پیغامات کی ترسیل کا یہ کام دنیا کی ہر زبان کی موسیقی میں ہو رہا ہے۔ کیا پاکستان میں بھی کسی نے ویسی اسٹائل میں ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی ؟ تحقیق کی جائے تو جواب اثبات میں ملتا ہے اور کیوں نہ ملے کہ پاکستان تو ’’برادری‘‘ کا خصوصی ہدف ہے۔ 21مارچ 99 19ء کو ایک انگریزی اخبار کے آرٹیکل سے معلوم ہو تا ہے کہ  1995 کے آغاز میں لاہور کے ایک صحافی نے گانوں کی کچھ کیسٹوں کی 500کا پیاں خود تیار کروا کے لوگوں میں مفت تقسیم کیں۔ لوگوں نے ان کیسٹس کی آوازیں سن کر محسوس کیا کہ ان Tapes میں کچھ پراسرار آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ ان لوگوں کی تصدیق کچھ اخباروں کے آرٹیکلز سے ہوئی۔ ان گانوں کو غور سے سننے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی پکار رہا ہو ’’ابلیس ابلیس‘‘ کسی کیسٹ میں “Jewcola” کے الفاظ سنائی دیتے ان گانوں کے کیسٹ کے فرضی نام ’’آتشی راج‘‘ کے نام سے تیار کیے گئے اور بینڈ کا نام ’’عذاب ‘‘تھا۔ (ابلیس کا مادہ آگ سے بنا ہے اور آگ جہنم کا اصل عذاب ہے )جب کیسٹ تیار کرنے والے کی ملاقات ایک صحافی سے ہوئی اور اس نے ان کیسٹوں کی پر اسرار آوازوں کی حقیقت پوچھی تو اس نے یہ کہہ کر مذاق میں ٹال دیا کہ دراصل اس نے یہ پیغامات معاشرے کے اوپر ایک طنز اور ایک انتقامی رد عمل کے طور پر ریکارڈ کروائے۔ یہ شخص جلد مزید Tapes مارکیٹ میں لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

            خبر کے آخری جملے کا مطلب ہے جلد ہی ایسی اور بھی کیسٹیں مارکیٹ میں آئیں اور انہوں نے ’’ابلیس ابلیس‘‘ پکار کر جہنم کی آگ اور عذاب کو دنیا میں ہی ہمارے ارد گرد بھڑکا دیا۔ حال ہی میں ہمارے ہاں کے مشہور ترین ٹی وی چینل نے اپنا میوزک چینل ’’آگ‘‘ کے نام سے شروع کیا ہے۔ اس کی بھڑ کائی ہوئی آگ کی لپٹیں نئی نسل کی ایمان،  حب الوطنی اور مثبت صلاحیتوں کو چاٹ رہی ہیں۔ ان میں مٹکنے اور ٹھمکنے کے منفی جذبات پید ا کر رہی ہیں۔ سوچا جا نا چاہئے کہ موسیقی جیسی لطیف چیز کا آگ جیسی بھڑکتی بھڑ کاتی چیز سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ یقینی بات ہے کچھ لوگ ہم سے کھیل رہے ہیں اور اس وقت کھیلتے رہیں گے جب تک ہم دین کی طرف لوٹ نہیں آتے۔ جب تک ہم اللہ کی پناہ میں نہیں آ جاتے۔ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا۔جب تک ہم شیطان کے چنگل سے نکلنے کا عزم کر کے شیطانی کام چھوڑنے کا تہیہ نہیں کر لیتے۔

             موسیقی پرکیا موقوف ہے؟ ساری انٹر نیٹ کی دنیا فری میسن کی نشانیوں اور کارستانیوں سے بھری پڑی ہے امریکی فلم انڈسٹری میں یہ بات مکمل طور پر نمایاں ہے مگر ٹی وی بھی اس سے پیچھے نہیں۔عام پروگراموں کو تو رہنے دیجئے فری میسنز نے بچوں کے کارٹون تک کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ بچوں کی کہانیاں اور ناول تک اس سے محفوظ نہیں۔ بطور نمونہ سب کی ایک ایک مثال دی جا رہی ہے۔

 ٹی و ی ا ور فلم

            ٹی وی کے ذریعے ایک بہت بڑی تعداد میں ناظرین کو ایک نئی خیال سے متعارف کرایا جا رہا ہے،  اور وہ وقت شاید بہت زیادہ د ور نہیں جب وہ خیال حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آ جائے گا،  بس دنیا کے ذہنوں میں اس خیال کے جاگزیں ہونے کا انتظار ہے وہ خیال ہے ’’ایک گلوبل لیڈر کا خیال جو دنیا کو مسائل سے نجات دلا سکے آپ آج کل گلوبل کا لفظ بہت سنتے ہو گے،  گلوبل ویلج گلوبل یونین گلوبل یہ سب کیا ہے؟ عالمی دجالی ریاست کے’’ عالمی لیڈر‘‘ دجال کے لیے ذہن سازی ہے،  ’’رڈ یارڈکپلنگ‘‘ ایک فری میسن مصنف ہے اس کی کتاب (The jungle Book)پر بالی ووڈ کی فلم بنائی گئی،  جس میں شان کوڑے،  ماویکل کین اور سعید جعفر جیسے میسونک اداکاروں نے نمایاں کردار ادا کیا کتاب دو سپاہیوں کی کہانی ہے،  جو انڈیا کے قریب ایک ملک میں جاتے ہیں ملک کا نام ’’کافرستان‘‘ ہے،  پہونچتے  ہی وہاں کے لوگ جنہیں کافر کہا جاتا ہے،  انہیں گرفتار کر لیتے ہیں،  جب انہیں قتل کیا جانے لگتا ہے تو ان میں سے ایک سپاہی کی گردن کے گرد ہار ڈالتا ہے جس پر میسونک آنکھ کا سمبل کھدا ہوتا ہے۔کافر اس کو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور بعد میں سپاہی بھی اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے،  قید ی سپاہی کو خدا کے درجہ تک پہونچانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ دجال کے خروج کی رہیرسل ہے،  گلوبل لیڈر کون ہے؟مسلمانوں کے نظریے کے مطابق دجال ہے۔حدیث میں آتا ہے ’’کافروں میں سے ایک شخص اٹھے گا جو اپنی ایک آنکھ سے پہچانا جائے گا،  وہ دنیا کا لیڈر ہونے کا اعلان کرے گا،  اور بعد میں خدائی کا دعویٰ۔

کارٹون

            میٹ گراؤنگ ایک مصدقہ فری میسن ہے،  یہ ’’مسٹر سمپسنMr۔Simpsons‘‘ نامی کارٹون سیریز کا خالق ہے،  وہ کھلے عام اقرار کرتا ہے،  وہ ایسے طریقے سے اپنے خیالات کو لوگوں تک پہنچا رہے ہیں کہ وہ بآسانی انہیں ہضم کر سکے یہ کارٹون ہمارے بچوں کو دراصل کیا سکھا رہے ہیں ؟ ان تک باآسانی ہضم ہونے والے کون سے پیغامات پہنچا رہے ہیں ؟کارٹونوں کے ذریعے بہت سے شیطانی سبق ہمارے بچوں کے معصوم ذہنوں میں انڈیلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ ماں باپ سے بغاوت،  حکومت کی جانب سے لگائی گئی جائز پابندیوں کو توڑنا،  برے اخلاق اور نافرمانی وغیرہ،  اخلاقیات کی یہ پامالی معمولی چیز ہے۔’’برادری ’،  تو انسانیت کو اس سے کہیں آگے لے جانا چاہتی ہے۔ اس مقام پر جہاں شیطان حکم الہٰی کا انکار کر کے پہنچ گیا تھا۔ فرعون اور شداد نے تو بادشاہی کے بعد خدائی کا دعوی کیا تھا،  فری میسنی بیماری سے شفا یاب ہونے والے مریض کو خدائی کا دعوے دار بنا رہی ہے،  آئیے ! دیکھتے ہیں کیسے ؟ امریکا جیسے ملک میں کھلے عام یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے ؟

            اس کارٹون سیریز کی ایک قسط میں انتہائی پریشان کن صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے،  اس قسط میں سمپسن فیملی کا سربراہ ’’ہو مر سمپسن ‘‘ ایک گروہ کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے یہ گروہ درحقیقت دجال کی راہ ہموار کرنے والی عالمی یہودی تنظیم ’’فری میسزی ‘‘ ہے،  گروہ کے ممبران ہو مر  سمپسن کے جسم پر پیدائشی نشان دیکھتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ تم اللہ کے چنے ہوئے ہو جس پر نبوت اترتی ہے،  یہ نیا رتبہ ہومر سمپسن کو اپنے آپ کو خدا سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے جس کا اقرار وہ ان الفاظ میں کرتا ہے۔’’ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ کیا کوئی خدا ہے ؟ اب مجھے پتا چلا کہ وہ کون ہے؟ وہ تو میں خود ہوں۔‘‘ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ صرف ایک مذاق ہے مگر اللہ کی قسم ! یہ مذاق نہیں یہ بیہودہ مہم ہے۔ یہ ایک بہت بڑا پروپیگنڈا ہے جس کے ذریعے غیر محسوس طریقوں سے لوگوں کی سوچ بدلی جا رہی ہے۔

کہانی

            ہیملین کی ’’ PipePiper‘‘ انگریزی ادب کی مشہور زمانہ لوک کہانی ہے ریڈ رز ڈ ائجسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ لوگ کہانی فرضی نہیں بلکہ حقیقی کہانی تھی جو کالے جادو اور شیطانیت کے پوشیدہ اسرار پر مبنی تھی۔ شیطان کی بیماری ’’برادری‘‘ نے جادو کی تاثیر اور شیطان کی طاقت لوگوں کے دلوں میں بیٹھانے کے لیے یہ کہانی تحریر کروائی اور اسے انگریزی خواں طبقے کے گھر گھر تک،  بچے بچے تک پہنچا دیا۔ یہ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک بستی میں چوہوں نے فصلیں تباہ کر دیں،  لوگوں کے گھروں میں چوہوں نے چیزیں کتر ڈالیں،  بستی کے لوگ اس آفت سے بہت تنگ آ گئے اور ان کی کوئی تدبیر چوہوں کو مارنے کی ثابت نہ ہوئی۔ ایسے وقت میں ایک اجنبی اس بستی میں داخل ہوا۔ اس کو اس مسئلے کا علم ہوا تو اس نے بستی والوں کو اپنی خدمات پیش کیں کہ وہ اس فتنے سے ان کو نجات دلا سکتا ہے۔ اگر بستی والے اس کو مقررہ مقدار میں سونا (سکے) پیش کریں۔ بستی والے اس کی اس شرط پر راضی ہو گئے۔ اس شخص نے شرط طے کرنے کے بعد پائپ (بانسری ) منہ کو لگایا اور ایک دھن نکالی۔ اس دھن کا سننا تھا کہ بستی کے ہر کونے سے چوہوں نے نکلنا شروع کر دیا۔ وہ شخص دھن بجاتا ہوا بستی کے باہر نکلا اور تمام چوہے بھی اس دھن کے پیچھے چلتے گئے۔ حتی کہ وہ اجنبی تمام چوہوں کو دریا کے کنارے لے گیا اور تمام چو ہے دریا میں گر کر ہلاک ہو گئے۔ یوں بستی والوں کو چوہوں سے نجات ملی لیکن اس شخص کو وعدے کے مطابق سونا(رقم)کی ادائیگی نہیں کی۔بستی والوں کی اس وعدہ خلافی کا اس شخص نے اس طرح بدلہ لیا کہ اس نے پھر اپنا پائپ منہ کو لگایا اور ایک دوسری دھن نکالی۔اس کا سننا تھا کہ تمام بستی کے بچے اس دھن کے پیچھے چل پڑے اور وہ شخص دھن بجاتا ہوا بچوں کو اپنے ساتھ لے کر ایسا غائب ہوا کہ پھر نہ وہ شخص ملا اور نہ بچے۔موسیقی،  کالا جادو،  اور شیطانی کرتوت تینوں چیزوں کو اس کہانی میں ایسی چابک دستی سے سمو کر پیش کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا غیر شعوری طور پر ان کالی شیطانی چیزوں کے رعب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ یوں انگریزی ادب کے مطالعے کا فیشن اسے جو روگ لگاتا ہے،  مرتے دم تک اس کی تلافی نہیں ہو پاتی۔

ناول

            ہیری پوٹر کے ناولوں نے مثالی شہرت حاصل کی اور ریکارڈ بزنس کیا۔ ہمارے ہاں کچھ والدین ایسے تھے جو یورپ کے والدین کی تقلید کرتے ہوئے اپنے بچوں کو یہ ناول پڑھتے دیکھ کر خوش ہوتے تھے کہ ان کے بچے دنیا کے ساتھ چلنا سیکھ رہے ہیں۔ ایسے حضرات مدرسے کے بچوں پر ترس کھاتے تھے۔۔۔۔ جن کا ذہن ان شیطانی اثرات سے آلودہ نہ ہوا تھا۔۔۔۔۔ کہ وہ کیا جانیں دنیا کا اسٹائل،  آرٹ اور ادب لطیف کیا ہوتا ہے؟ان ناولوں میں کیا تھا؟جادو،  شیطانی طاقتیں،  بد روحوں اور ماورائی جادوئی طاقتوں کی محیرالعقول کارستانیاں۔۔۔۔۔ ان ناولوں کو پڑھ کر ہمارے بچوں نے کیا حاصل کیا؟ جادو کی ہیبت،  اس کے کمالات،  اس کے ذریعے مشکل کشائی۔۔۔۔ یہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے ان کے معصوم ذہنوں میں فیڈ کر کے انہیں ان ناپاک چیزوں سے مانوس کر دیا گیا تاکہ کل وہ آسانی سے ’’عالمی دجالی ریاست‘‘ کے وفادار شہری بن سکیں۔ گویا ہم نے اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کو شیطان کے پجاریوں کا وہ فرسودہ مواد خرید کر دیا جو انہیں رحمان سے بغاوت سکھا سکے۔ جو انہیں شیطان کی عبادت کے قریب لے جائے۔

            الغرض شیطان کی محنت جاری ہے۔ وہ اور اس کے چیلے ہر رُخ سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔وہ انسانیت کو گناہ میں مبتلا کر کے جہنم کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں جو بے سرو سامان ہیں۔بے وسائل اور بے آسرا ہیں لیکن خدا کی محبت کی آس میں اس کی نصرت کے آسرے پر انسانیت کو جہنم سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔وہ دین کی طرف رجوع کی دعوت ہر حالت میں دے رہے ہیں۔وہ شریعت کے نفاذ کی جدوجہد میں ہر لمحے لگے ہوئے ہیں۔ سعادت مند ہے وہ شخص جو ان مبارک کوششوں میں اپنا حصہ ڈالے اور خود کو اپنے بچوں کو اور تمام مسلمانوں کو شیطان کے چنگل سے چھڑا کر رحمن کی آغوش میں لانے کی جد و جہد میں شامل ہو جائے۔ان تمام گناہوں کو چھوڑ نے اور چھڑانے کی جدوجہد کرے جو مغربی تہذیب کے جلو میں ہمارے معاشرے میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔موسیقی،  فلم،  ناول،  کارٹون جیسے شیطانی پھندوں سے انسانیت کو چھڑا کر دین خالص کر ابدی نعمتوں کا شوق دلانے والا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سچا امتی اور اس فتنہ زدہ دور کا نجات یافتہ خوش قسمت ہے۔

(http://zarbpk,blogspot.com)

             ہمیں امید ہے کہ اسلام اور مذہب کے خلاف ان بے بنیاد سازشوں سے پردہ اٹھنے کے بعد مسلمان اپنی اولاد کو دین کی بنیادی تعلیم دینے کی فکر کریں گے،  ان کو اسلامی کلچر اور تہذیب سے واقف کرا کے اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کریں گے۔

عربی مصادر و مراجع

۱) اجنحۃ المکر الثلاث                                            (عبدالرحمن حنکہ المیدانی)

۲) کواشف و زیوف                                             (عبدالرحمن حنکہ المیدانی)

۳) مکائد یہودیۃ عبر التاریخ                                   (عبدالرحمن حنکہ المیدانی)

۴) غزو فی الصمیم                                                (عبدالرحمن حنکہ المیدانی)

۵)الغز و الفکری و التیارات المعادیۃ للإسلام من البحوث المتقدمۃ لمؤتمر الفقہ الإسلامی

۶) الثغرات التی یتسلل منہا الغز و الفکری و سبل تلافیہا          (الدکتور عبدالقادر بن عطا صوفی)

۷) مقدمات فی العلوم و المناہج                                (انور الجندی)

۸) الحضارۃ الإسلامیۃ مقارنۃ بالحضارۃ الغربیۃ             (یوسف الواعی)

۹) الصراع بین الفکرۃ الغربیۃ و الفکرۃ الاسلامیۃ         (ابوالحسن الندویؒ)

۱۰) العالم الإسلامی الیوم

۱۱) الإستشراق و المستشرقون                                  (ابوالحسن الندوی)

۱۲) إلی نظام عالمی جدید                                        (واضح الندوی)

۱۳) ازمۃ الإستشراق الحدیث المعاصر                      (محمد خلیفہ حسن)

۱۴) موقف المستشرقین من الصحوۃ الاسلامیۃ           (مجدی محمد)

۱۵) الإستشراق المعاصر                                        (دکتور مازن بن صلاح المطبقائی)

۱۶) افترآت المستشرقین                                     (دکتور یحی مراد)

۱۷)الإسلام و الحضارۃ العربیۃ                                 (کرد علی)

۱۸)حاضر العالم الإسلامی                                       (جمیل مصری)

۱۹) التبشیر و الاستعمار فی البلاد العربیۃ                       (مصطفی خالدی/عمر فروخ)

۲۰) الفکر الإسلامی الحدیث وصلتہ بالاستعمار الغربی      (محمد البہی)

۲۱) کفاح المسلمین فی تحریر ا لہند                            (عبدالمنعم النمیر)

۲۲) العالم الإسلامی و محاولۃ السیطرۃ علیہ                   (محمود شاکر علی)

۲۳) مذاہب فکریۃ معاصرۃ                                   (سید محمد قطب)

۲۴)الإستشراق   (ایڈورڈ سعید۔ ترجمہ کمال ابودیب۔ مؤسسۃ الابحاث العربیہ۔بیروت ۱۹۸۱ء)

۲۵) المستشرقون                       (نجیب العقیقی۔ دارالمعارف۔ قاہرہ۔ ۱۹۸۱ء)

۲۶) الإستشراق والمستشرقون  (ڈاکٹر مصطفی سباعی۔ طبع دوم۔ المکتب الاسلامی۔۱۹۷۹ء)

۲۷) السنۃ ومکانتہا فی التشریع الاسلامی         (ڈاکٹر مصطفی سباعی۔ بیروت ۱۹۷۸ء)

۲۸) انتاج المستشرقین                ( مالک بن بنی)

۲۹) اوروبا و الإسلام    (ہشام جعید۔ ترجمہ: طلال عتریسیؔ،  دارا لحقیۃ۔ بیروت ۱۹۸۰ء)

۳۰) الثقافۃ العربیۃ فی رعایۃ الشرق الاوسط   (مکتبۃ المعارف،  بیروت ۱۹۵۲ء)

۳۱) الاستشراق و الخلفیۃ الفکریۃ       (ڈاکٹر محمود حمدی زقزوق۔ طبع اول۔ کتاب الامۃ۔ للصراع ۱۴۰۴ھ)

۳۲) الفکر الإسلامی الحدیث وَ صِلَتہ بالإستشراق (محمد البری۔ دارالفکر،  بیروت ۱۹۷۳ئ۔ بالاستعمار الغربی)

۳۳) المدخل لدراسۃ الشریعۃ الإسلامیۃ       ( ڈاکٹر عبدالکریم زیدان۔ مؤسسۃ الرسالۃ۔ بیروت ۱۹۹۱ء)

۳۴) الإسلام فی الفکر الغربی          (محمودحمدی زقزوق۔ دارالقلم۔ کویت ۱۹۸۱ء)

۳۵) الدراسات الإسلامیۃ بالعربیۃ (روڈی بارت،  ترجمہ: ڈاکٹر مصطفی ماہر،  قاہرہ،  ۱۹۶۷ء)

۳۶) اضواء علی الإستشراق (ڈاکٹر محمد عبدالفتاح علیان۔ طبع اول،  دارالبحوث العلمیۃ۔ کویت ۱۹۸۰ء)

(۳۷) احذر والاسالیب الحدیثۃ فی مواجہۃ الاسلام (سعد الدین سید صالح)

(۳۸) اخطار الغز و الفکری علی العالم الاسلامی (صابر طعیمہ)

(۳۹) اسالیب الغز و الفکری للعالم الاسلامی (علی محمد جریشہ)

(۴۰)اضواء علی اقلام الفیدیو (محمودیو مصطفی عبدہ)

(۴۱)البث المباشر حقائق و ارقام (ناصر سلیمان العمر)

(۴۲) بث وافد علی شاشات التلفیزیون

(۴۳) الغزوالثقافی للامۃ الاسلامیۃ (منصور عبد العزیز)

(۴۴) الغز و الفکری و التیارات المعادیۃ للاسلامیۃ (عبد الستار فتح اللہ حید)

(۴۵) الغز و الفکری و التیارات المعادیۃ للاسلامیۃ (علی عبد الحلیم محمود)

(۴۶) جذور البلاء (عبد اللہ التل)

(۴۷)الاسلام و التحدیات الجدیدۃ (محمد عمارہ)

دیگر زبانوں میں دیکھئے:

1 .Rudi para: Der Koran uebersetzug stuttgart 1980.

2 .C.E. bosworth: Orientalism and Orientlists (In Arab Islamic Biblography) 1977 Great Britain.

3. H.A. Flacher .Bernicol: Die Islamische Revolution Stuttgart 1981.

4. Johan Fueck: Die Arabschon Studien In Europa Leipzing 1995.

5 .Custar pfonn Mueller: Handbuch Der Islamic Leteratur Berlin 1933.

6 .M. Rodinson: Mohammed: Frankfurt 1975.

اردو میں :

۱) سازشیں بے نقاب   (یاسر محمد خان)                    ۲) اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش   (ندوی)

۳) اقصیٰ کے آنسو  (مفتی ابولبابہ شاہ منصور) ۴) عالم اسلام پر امریکی یلغار کیوں ؟

۵) پردہ اٹھتا ہے  (یاسر محمد خان)                ۶) نظام عالم اور امتِ مسلمہ  (محمد افضل احمد)

۷) صلیبی جنگجو  (ہارون یحیٰ)                                 ۸) نظریۂ ارتقاء ایک فریب  (ہارون یحیٰ)

۹) مذہب اور سائنس  (عبدالباری ندوی)   ۱۰) اسلام اور مغرب کا تصادم  (اسرار الحق)

۱۱) اسلام اور تہذیب مغرب کی کشمکش  (محمد امین)     ۱۲) ہوئے تم دوست جس کے  (حقی حق)

۱۳) اسلام اور گلوبلائزیشن  (یاسر ندیم )                ۱۴) اسلام اور عقلیات  (عبدالباری ندویؒ)

۱۵)انسانی زندگی میں جمود و ارتقاء  (محمد قطب)          ۱۶) اسلام اور مستشرقین  (دارالمصنفین،  اعظم گڈھ)

۱۷) عربی اسلامی علوم اور مستشرقین (ثناء اللہ ندوی)           ۱۸)  اسلام اور جدت پسندی  (مولانا تقی عثمانی صاحب)

۱۹) اقصیٰ کی پکار  (فلسطین کا عاشق معروف بہ :مفتی ابولبابہ)

۲۰) استشراق اور مستشرقین اور اس کی نقاب کشائی  (مصطفی السباعی)

۲۱) اسلام پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا اندازِ فکر  (ڈاکٹر عبدالقادرجیلانی)

۲۲) الانتباہات المفیدۃ فی الاشتباہات الجدیدۃ             (حضرت تھانویؒ)

۲۳)اسلامی مجلات،  مثلاً تعمیر حیات،  دارالعلوم مظاہر علوم،  ندائے شاہی،  الرشاد،  نقوش،  اسلام۔۔۔۔۔۔ وغیرہ۔

نوٹ: بعض ان اصحاب قلم کے نام دیئے جاتے ہیں جن کی تحریریں الغز و الفکری کے عنوان کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں

اردو میں لکھنے والے اصحاب قلم کے نام

            مولانا علی میاں ندوی،  مولانا واضح رشید ندوی،  مولانا عبدالباری ندوی،  مولانا سعید الرحمن اعظمی،  مولانا تقی عثمانی،  مولانا ظفر عثمانی،  علامہ شبیر احمد عثمانی،  علامہ یوسف بنوری،  حضرت حکیم الامت،  حضرت حکیم الاسلام،  پیرذوالفقار  نقشبندی،  اکبر الہ آبادی،  عبدالماجد دریا آبادی،  علامہ اقبال،  ہارون یحی،  مولانا اسرار الحق،  ارسلان بن اختر،  انور بن اختر،  یاسر محمد خان،  اَورْیَا مقبول جان،  انور غازی،  مفتی ابولبابہ شاہ منصور،  علامہ یوسف لدھیانوی،  یاسرندیم۔

عربی زبان میں لکھنے والے

            الاستاذ انور الجندی،  الشیخ عبدالرحمن حبنکہ المیدانی،  الشیخ یوسف القرضاوی،  الشیخ محمد قطب،  الشیخ سید قطب شہید،  الشیخ عبدالقادر عَودَہ شہید،  الشیخ توفیق الواعی،  الشیخ قُرّۃ الداغی،  الشیخ یوسف الواعی۔

            الغز و الفکری پر عربی،  اردو اور انگریزی میں معلومات ذیل میں دی جا رہی ویب سائٹوں سے حاصل ہوسکتی ہیں :

www.deeneislam.com                      www.dailyislam.pk

www.alqalamonline.com                  www.ibin-e-umar.edu.pk

www.harunyahya.com                     www.khelafat-e-rashida.com

www.alhafeez.org                             www.hadaaya.com

www.binoria.org                                www.ashrafia.edu.pk

www.kr_chy.com                              www.defendersofislam.com

www.albalagh.net                             www.alsharia.org

www.darsequran.com                      www.onlinefatwa.com

www.ludhianvi-shaheed.com          www.thedefendersottruth.com

www.alabrar.org                               www.farooqia.com

www.jamiyaakklkuwa.com  http://zarbpk.blogspot.com

Arabic Websites:

www.almeshkat.net                        www.islamonline.net

www.islamweb.net                           www.isalmselect.com

www.islamway.com                          www.aslein.net

www.emanway.com             www.islamtoday.net

www.almoslim.net                            www.anwaralgendi.com

www.islamstory.org

٭٭٭

تشکر: عبد الرازق خلیل الرحمٰن جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا

ان پیج سے تبدیلی،  تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید