FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

الرحیق المختوم

 

 

                   صفی الرحمٰن مبارکپوری

 

 

 

 

نوٹ: پہلے حصے میں فٹ نوٹس بطور عام متن ’حواشی‘ کے تحت دیے گئے ہیں۔ بعد میں با قاعدہ ہر باب کے آخر میں حواشی شامل کئے گئے ہیں۔

 

 

 

 

عرض مؤلف

 

یہ کتاب

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَعَلیٰ آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَمِن وَالَاہ، أمَّا بَعْد!

یہ ربیع الاوّل ۱۳۹۶ ھ (مارچ ۱۹۷۶ ء ) کی بات ہے کہ کراچی میں عالم اسلام کی پہلی سیرت کانفرنس ہوئی۔ جس میں رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کانفرنس کے اختتام پر ساری دنیا کے اہل قلم کو دعوت دی کہ وہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے موضوع پر دنیا کی کسی بھی زندہ زبان میں مقالے لکھیں۔ پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو علی الترتیب پچاس، چالیس، تیس، بیس اور دس ہزار ریال کے انعامات دیے جائیں گے۔ یہ اعلان رابطہ کے سرکاری ترجمان اخبار العالم الاسلامی کی کئی اشاعتوں میں شائع ہوا لیکن مجھے اس تجویز اور اعلان کا بروقت علم نہ ہو سکا۔

کچھ دنوں کے بعد جب میں بنارس سے اپنے وطن مبارکپور گیا تو مجھ سے اس کا ذکر کیا گیا اور زور دیا گیا کہ میں بھی اس مقابلے میں حصہ لوں۔ میں نے اپنی علمی کم مائیگی اور نا تجربہ کاری کا عذر کیا مگر اصرار قائم رہا اور بار بار کی معذرت پر فرمایا گیا کہ ہمارا مقصود یہ نہیں ہے کہ انعام حاصل ہو، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اسی "بہانے ” ایک "کام ” ہو جائے۔ میں نے اس اصرارِ مسلسل پر خاموشی تو اختیار کر لی لیکن نیت یہی تھی کہ اس مقابلے میں حصّہ نہیں لوں گا۔

چند دن بعد جمعیت اہل حدیث ہند کے آرگن اور پندرہ روزہ ترجمان دہلی میں رابطہ کی اس تجویز اور اعلان کا اُردو ترجمہ شائع ہوا تو میرے لیے ایک عجیب صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ جامعہ سلفیہ کے متوسط اور منتہی طلبہ میں سے عموماً جس کسی سے سامنا ہوتا وہ اس مقابلے میں شرکت کا مشورہ دیتا۔ خیال ہوا کہ شاید ” خلق کی یہ زبان ” "خدا کا نقارہ ” ہے۔ تاہم مقابلے میں حصہ نہ لینے کے اپنے قلبی فیصلے پر میں قریب قریب اٹل رہا۔ کچھ دنوں بعد طلبہ کے "مشورے ” اور "تقاضے ” بھی تقریباً ختم ہی ہو گئے۔ مگر چند ایک طالب علم اپنے تقاضے پر قائم رہے۔ بعض نے مقالے کے تصنیفی خاکے کو موضوعِ گفتگو بنا رکھا تھا اور بعض کی ترغیب اصرار کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ بالآخر میں خاصی ہچکچاہٹ کے ساتھ آمادہ ہو گیا۔

کام شروع کیا۔ لیکن تھوڑا تھوڑا۔ کبھی کبھی اور آہستہ خرامی کے ساتھ۔ چنانچہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے ہی میں تھا کہ تعطیل کلاں کا وقت آ گیا۔ ادھر رابطہ نے آنے والے محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو مقالات کی وصولی کی آخری تاریخ قرار دیا تھا۔ اس طرح مہلتِ کار کے کوئی ساڑھے پانچ ماہ گزر چکے تھے اور اب زیادہ سے زیادہ ساڑھے تین ماہ میں مقالہ مکمل کر کے حوالۂ ڈاک کر دینا ضروری تھا تاکہ وقت پر پہنچ جائے اور ادھر ابھی سارا کام باقی تھا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ اس مختصر عرصے میں ترتیب وتسوید، نظر ثانی اور نقل و صفائی کا کام ہو سکے گا۔ مگر اصرار کرنے والوں نے چلتے چلتے تاکید کی کہ کسی طرح کی غفلت یا تذبذب کے بغیر کام میں جت جاؤں۔ رمضان بعد "سہارا” دیا جائے گا۔ میں نے بھی فرصت کے ایام غنیمت سمجھے۔ اشہبِ قلم کو مہمیز لگائی اور کد و کاوش کے بحر بیکراں میں کود پڑا۔ پوری تعطیل سہانے خواب کے چند لمحوں کی طرح گزر گئی اور جب یہ حضرات واپس پلٹے تو مقالے کا دو تہائی حصہ مرتب ہو چکا تھا۔ چونکہ نظر ثانی اور تبییض کا موقع نہ تھا اس لیے اصل مسودہ ہی ان حضرات کے حوالے کر دیا کہ نقل و صفائی اور تقابل کا کام کر ڈالیں۔ باقی ماندہ حصے کے کچھ دیگر لوازمات کی فراہمی و تیاری میں بھی ان سے کسی قدر تعاون لیا۔ جامعہ کی ڈیوٹی اور ہماہمی شروع ہو چکی تھی۔ اس لیے زمانۂ تعطیل کی رفتار برقرار رکھنی ممکن نہ تھی۔ تاہم ڈیڑھ ماہ بعد جب عید اضحی کی تعطیل کا وقت آیا تو "شب بیداری” کی "برکت” سے مقالہ تیاری کے آخری مرحلے میں تھا، جسے سرگرمی کی ایک جست نے تمام و کمال کو پہنچا دیا اور میں نے آغاز محرم سے بارہ، تیرہ دن پہلے یہ مقالہ حوالۂ ڈاک کر دیا۔

مہینوں بعد مجھے رابطہ کے دو رجسٹرڈ مکتوب ہفتہ عشرہ آگے پیچھے موصول ہوئے۔ خلاصہ یہ تھا کہ میرا مقالہ، رابطہ کے مقر رہ شرائط کے مطابق ہے، اس لیے شریکِ مقابلہ کر لیا گیا ہے۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔

اس کے بعد دن پر دن گزرتے گئے حتیٰ کہ ڈیڑھ سال کا عرصہ بِیت گیا، مگر رابطہ مہر بلب۔ میں نے دوبارہ خط لکھ کر معلوم کرنا بھی چاہا کہ اس سلسلے میں کیا ہو رہا ہے تو مہرِ سکوت نہ ٹوٹی۔ پھر میں خود بھی اپنے مشاغل اور مسائل میں اُلجھ کر یہ بات تقریباً فراموش کر گیا کہ میں نے کسی "مقابلہ” میں حصہ لیا ہے۔

اوائل شعبان میں ۱۳۹۸ھ ( ۶/۷/۸ جولائی۱۹۷۸ء کو) کراچی (پاکستان) میں پہلی ایشیائی اسلامی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ مجھے اس کی کار روائیوں سے دلچسپی تھی۔ اس لیے اس سے متعلق اخبار کے گوشوں میں دبی ہو ئی خبریں بھی ڈھونڈھ کر پڑھتا تھا۔ ایک روز بھدوہی اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں … جو لیٹ تھی … اخبار دیکھنے بیٹھ گیا۔ اچانک ایک چھوٹی سی خبر پر نظر پڑی کہ اس کانفرنس کے کسی اجلاس کے اندر رابطہ نے سیرت نگاری کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے پانچ ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اور ان میں ایک مقالہ نگار ہندوستانی بھی ہے، یہ خبر پڑھ کر اندر ہی اندر طلب وجستجو کا ایک ہنگامۂ محشر بپا ہو گیا۔ بنارس واپس آ کر تفصیل معلوم کرنے کی کوشش کی مگر لاحاصل۔

۱۰/ جولائی کو چاشت کے وقت… پوری رات مناظرہ بجرڈیہہ کے شرائط طے کرنے کے بعد بے خبر سورہا تھا کہ اچانک حجرے سے متصل سیڑھیوں پر طلبہ کا شور و ہنگامہ سنائی پڑا اور آنکھ کھل گئی۔ اتنے میں طلبہ کا ریلا حجرے کے اندر تھا۔ ان کے چہروں پر بے پناہ مسرت کے آثار اور زبانوں پر مبارکبادی کے کلمات تھے۔

"کیا ہوا؟ کیا مخالف مناظر نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا ؟” میں نے لیٹے ہی لیٹے سوال کیا۔

"نہیں۔ بلکہ آپ سیرت نگاری کے مقابلہ میں اوّل آ گئے۔ ”

"اللہ! تیرا شکر ہے۔ ” "آپ حضرات کو کیسے علم ہوا۔ ” میں اُٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔

"مولوی عزیر شمس یہ خبر لائے ہیں۔ ”

"مولوی عزیر یہاں آ چکے ہیں ؟”

"جی ہاں۔ ”

اور چند لمحوں بعد مولوی عزیر مجھے تفصیلات سنا رہے تھے۔

پھر۲۲/شعبان ۱۳۹۸ ھ (۲۹/جولائی۱۹۷۸ ء ) کو رابطہ کا رجسٹرڈ مکتوب وارد ہوا۔ جس میں کامیابی کی اطلاع کے ساتھ یہ مژدہ بھی رقم تھا کہ ماہ محرم ۱۳۹۹ھ میں مکہ مکرمہ کے اندر رابطہ کے مستقر پر، تقسیم انعامات کے لیے ایک تقریب منعقد کی جائے گی اور اس میں مجھے شرکت کرنی ہے۔ یہ تقریب محرم کے بجائے ۱۲/ ربیع الآخر ۱۳۹۹ھ کو منعقد ہوئی۔

اس تقریب کی بدولت مجھے پہلی بار حرمیَن شریفین کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۱۰/ ربیع الآخر یوم جمعرات کو عصر سے کچھ پہلے مکہ مکرمہ کی پُر نور فضاؤں میں داخل ہوا۔ تیسرے دن ساڑھے آٹھ بجے رابطہ کے مستقر پر حاضری کا حکم تھا۔ یہاں ضروری کار روائیوں کے بعد تقریباً دس بجے تلاوت قرآن پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ سعودی عدلیہ کے چیف جسٹس شیخ عبد اللہ بن حمید رحمہ اللہ صدر مجلس تھے۔ مکہ کے نائب گورنر امیر سعود بن عبد المحسن – جو مرحوم ملک عبد العزیز کے پوتے ہیں …… تقسیم انعامات کے لیے تشریف فرما تھے۔ انہوں نے مختصر سیتقریر کی، ان کے بعد رابطہ کے نائب سکریٹری جنرل شیخ علی المختار نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے قدرے تفصیل سے بتایا کہ یہ انعامی مقابلہ کیوں منعقد کرایا گیا اور فیصلے کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا گیا۔ انہوں نے وضاحت فرمائی کہ رابطہ کو اعلان مقابلہ کے بعد ایک ہزار سے زائد (یعنی۱۱۸۲) مقالات موصول ہوئے، جن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ابتدائی کمیٹی نے ایک سو تراسی (۱۸۳) مقالات کو مقابلے کے لیے منتخب کیا اور آخری فیصلے کے لیے انہیں وزیر تعلیم شیخ حسن بن عبداللہ آل الشیخ کی سر کردگی میں قائم ماہرین کی ایک آٹھ رکنی کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ کمیٹی کے یہ آٹھوں ارکان ملک عبدالعزیزیونیورسٹی جدہ کی شاخ کلیۃ الشریعہ (اور اب جامعہ اُم القری ) مکہ مکرمہ کے استاد اور سیرت نبویﷺ اور تاریخ اسلام کے ماہر اور متخصص ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں :

٭ ڈاکٹر ابراہیم علی شعوط          ٭ ڈاکٹر أحمد سید دراج

٭ ڈاکٹر عبد الرحمن فہمی محمد                ٭ ڈاکٹر فائق بکر صواف

٭ ڈاکٹر محمد سعید صدیقی          ٭ ڈاکٹر شاکر محمود عبد المنعم

٭ ڈاکٹر فکری أحمد عکاز                   ٭ ڈاکٹر عبد الفتاح منصور

ان اساتذہ نے مسلسل چھان بین کے بعد متفقہ طور پر پانچ مقالات کو ذیل کی ترتیب کے ساتھ انعام کا مستحق قرار دیا :

۱       الرحیق المختوم (عربی) تالیف صفی الرحمن مبارکپوری جامعہ سلفیہ، بنارس، ہند (اوّل )

۲      خاتم النبی ینﷺ (انگریزی) ڈاکٹر ماجد علی خان جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، ہند (دوم )

۳       پیغمبر اعظم و آخر (اُردو) تالیف ڈاکٹر نصیر أحمد ناصر وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ، بہاولپور، پاکستان (سوم)

۴      منتقی النقول فی سیرۃ اعظم رسول (عربی) تالیف شیخ حامد محمود بن محمد منصور لیمود، جیزہ، مصر (چہا رم )

۵      سیرۃ نبی الہدیٰ والرحمۃ (عربی) استاد عبد السلام ہاشم حافظ مدینہ منورہ، مملکت سعودیہ عربیہ (پنجم)

نائب سکریٹری جنرل محترم شیخ علی المختار نے ان توضیحات کے بعد حوصلہ افزائی، مبارکباد اور دعائیہ کلمات پر اپنی تقریر ختم کر دی۔

اس کے بعد مجھے اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ میں نے اپنی مختصر سی تقریر میں رابطہ کو ہندوستان کے اندر دعوت و تبلیغ کے بعض ضروری اور متروک گوشوں کی طرف توجہ دلائی اور اس کے متوقع اثرات و نتائج پر روشنی ڈالی۔ رابطہ کی طرف سے اس کا حوصلہ افزا جواب دیا گیا۔

اس کے بعد امیر محترم سعود بن عبد المحسن نے ترتیب وار پانچوں انعامات تقسیم فرمائے اور تلاوتِ قرآن مجید پر تقریب کا اختتام ہو گیا۔

۱۷/ ربیع الآخر یوم جمعرات کو ہمارے قافلے کا رخ مدینہ منورہ کی طرف تھا۔ راستے میں بدر کی تاریخی رزمگاہ کا مختصراً مشاہدہ کر کے آگے بڑھے تو عصر سے کچھ پہلے حرم نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے در و بام کا جلال و جمال نگاہوں کے سامنے تھا۔ چند دن بعد ایک صبح خیبر بھی گئے اور وہاں کا تاریخی قلعہ اندر  و باہر سے دیکھا، پھر کچھ تفریح کر کے سرِ شام مدنیہ منورہ کو واپس ہوئے اور پیغمبر آخر الزماںﷺ کی اس جلوہ گاہ، جبریل امین کے اس مَہبَط، قدوسیوں کی اس فرددگاہ اور اسلام کے اس مرکز انقلاب میں دو ہفتے گزار کر طائر شوق نے پھر حرم کعبہ کی راہ لی۔ یہاں طواف وسعی کے "ہنگامے ” میں مزید ایک ہفتہ گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔ عزیزوں، دوستوں، بزرگوں اور علماء و مشائخ نے کیا مکہ، کیا مدینہ، ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یوں میرے خوابوں اور آرزوؤں کی سرزمین حجاز مقدس کے اندر ایک ماہ کا عرصہ چشم زدن میں گزر گیا اور پھر صنم کدۂ ہند میں واپس آ گیا۔

حیف در چشم زدن صحبتِ یار آخر شُد

روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شُد

حجاز سے واپس ہوا تو ہندوستان و پاکستان کے اُردو خواں طبقے کی طرف سے کتاب کو اُردو جامہ پہنانے کا تقاضا شروع ہو گیا۔ جو کئی برس گزر جانے کے باوجود برابر قائم رہا۔ ادھر نئی نئی مصروفیات اس قدر دامن گیر ہوتی گئیں کہ ترجمہ کے لیے فرصت کے لمحات میسر ہوتے نظر نہ آئے۔ بالآخر مشاغل کے اسی ہجوم میں ترجمہ شروع کر دیا گیا اور اللہ کا بے پایاں شکر ہے کہ چند ماہ کی جزوی کوشش سے پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ وللّٰہ الأمر من قبل ومن بعد۔

اخیر میں میں ان تمام بزرگوں، دوستوں اور عزیزوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جنھوں نے اس کام میں کسی بھی طرح مجھ سے تعاون کیا۔ خصوصاً ً استاذمحترم مولانا عبد الرحمن صاحب رحمانی، اور عزیزانِ گرامی شیخ عزیر صاحب اور حافظ محمد الیاس صاحب فاضلان مدینہ یونیورسٹی کا کہ ان کے مشورے اور ہمت افزائی نے مجھے وقتِ مقر رہ پر اس مقالے کی تیاری میں بڑی مدد پہنچائی۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر دے۔ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ کتاب کو شرفِ قبول بخشے اور مؤلف و معاونین اور مستفیدین کے لیے فلاح و نجاح کا ذریعہ بنائے۔ آمین!!

 

۱۸/ رمضان المبارک ۱۴۰۴ ھ                           صفی الرحمن المبارکفوری

٭٭٭

 

 

 

دیباچہ طبع سوم (عربی)

 

 (از عزت مآب ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف سکریٹری جنرل رابطہ عالم اِسلامی، مکہ المکرمہ )

 

الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات، وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، وأشھد أن محمداً عبدہ ورسولہ وصفیہ وخلیلہ، أدی الرسالۃ وبلغ الأمانۃ، ونصح الأمۃ، وترکہا علی المحجۃ البیضاء لیلہا کنہارہا، صلی اللّٰہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، ورضی عن کل من تبع سنتہ وعمل بہا إلی یوم الدین، وعنا معہم بعفوک ورضاک یا أرحم الراحمین۰ أما بعد :

سنت نبویہ مطہرہ، جو ایک تجدید پذیر عطیہ اور تا قیامت باقی رہنے والا توشہ ہے اور جس کو بیان کرنے اور جس کے مختلف عنوانات پر کتابیں اور صحیفے لکھنے کے لیے لوگوں میں نبیﷺ کی بعثت کے وقت سے مقابلہ اور تنافس جاری ہے، اور قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سنت مطہّرہ مسلمانوں کے سامنے وہ عملی نمونہ اور واقعاتی پروگرام رکھتی ہے جس کے سانچے میں ڈھل کر مسلمانوں کی رفتار و گفتار اور کردار و اطوار کو نکلنا چاہیے اور اپنے پروردگار سے ان کا تعلق اور کنبۂ و قبیلہ، برادران و اخوان اور افرادِ امت سے ان کا ربط اس کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ اللہ عز و جل کا ارشاد ہے : ” یقیناً تمہارے ہر اس شخص کے لیے رسولﷺ میں بہترین اسوہ ہے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو۔ ”  (الاحزاب : ۲۱)

اور جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق کیسے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ((کان خلقہ القرآن۔ ) ) "بس قرآن ہی آپ کا اخلاق تھا۔ ”

لہٰذا جو شخص اپنی دنیا اور آخرت کے جملہ معاملات میں ربانی شاہراہ پر چل کر اس دنیا سے نجات چاہتا ہواس کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ رسول اعظمﷺ کے اسوہ کی پیروی کرے اور خوب اچھی طرح سمجھ بوجھ کر اس یقین کے ساتھ نبیﷺ کی سیرت کو اپنائے کہ یہی پروردگار کا سیدھا راستہ ہے جس پر ہمارے آقا اور پیشوا رسول اللہﷺ عملاً اور واقعتاً تمام شعبہائے زندگی میں گامزن تھے۔ لہٰذا اسی میں قائدین و متبعین، حکّام و محکومین، رہبران و مرشدین اور مجاہدین کی رشد و  ہدایت ہے اور اسی میں سیاست و حکومت، دولت و اقتصاد، معاشرتی معاملات، انسانی تعلقات، اخلاق فاضلہ اور بین الاقوامی روابط کے جملہ میدانوں کے لیے اسوہ و نمونہ ہے۔

آج جبکہ مسلمان اس ربّانی منہج سے دور ہٹ کر جہل وپسماندگی کے کھڈ میں جا گرے ہیں، ان کے لیے کیا ہی بہتر ہو گا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے تعلیمی نصابوں اور مختلف اجتماعات ومجالس میں اس بنا پر سیرت نبوی کو سر فہرست رکھیں کہ یہ محض ایک فکری متاع ہی نہیں بلکہ یہی اللہ کی طرف واپسی کی راہ ہے اور اسی میں لوگوں کی اصلاح وفلاح ہے، کیونکہ یہی اخلاق و عمل کے میدان میں اللہ عز و جل کی کتاب قرآن مجید کی ترجمانی کا علمی اسلوب ہے، جس کے نتیجہ میں مومن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کا تابع فرمان بن جاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کے جملہ معاملات میں حکم بنا لیتا ہے۔

یہ کتاب اپنے فاضل مؤلف شیخ مبارک پوری کی ایک خوشگوار کوشش اور قابلِ قدر کارنامہ ہے جسے موصوف نے رابطۂ عالمِ اسلامی کے منعقد کردہ مقابلہ سیرت نویسی۱۳۹۶ ھ کی دعوت عام پر لبیک کہتے ہوئے انجام دیا اور پہلے انعام سے سرفراز ہوئے۔ جس کی تفصیل رابطۂ عالمِ اسلامی کے سابق سکریٹری جنرل مرحوم فضیلۃ الشیخ محمد علی الحرکان تغمدہ اللہ برحمۃ و جزاہ اللہ عنا خیر الجزاء کے مقدمۂ طبع اوّل میں مذکور ہے۔

اس کتاب کو لوگوں میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور یہ ان کی مدح وستائش کا مرکز بن گئی۔ چنانچہ پہلے ایڈیشن کے کل کے کل (دس ہزار) نسخے ہاتھوں ہاتھ نکل گئے اور اس کے بعد مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ میں اس کے تیسرے ایڈیشن کا دیباچہ لکھ دوں۔ چنانچہ اس خواہش کے احترام میں میں نے یہ مختصر سا دیباچہ قلم بند کر دیا۔ مولیٰ عز و جل سے دعا ہے کہ وہ اس عمل کو اپنے رُخ کریم کے لیے خالص بنائے اور اس سے مسلمانوں کو ایسا نفع پہنچائے کہ ان کی موجودہ خستہ حالی بہتری میں تبدیل ہو جائے۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا گم گشتہ مجدو شرف اور اقوامِ عالم کی قیادت کا مقامِ بلند واپس مل جائے۔ اور وہ اللہ عزّ و جل کے اس ارشاد کی عملی تصویر بن جائیں کہ :

"تم خیرِ امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا گیا ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ”  (آل عمران : ۱۱۰)

وصلی اللہ علی المبعوث رحمۃ للعالمین، رسول الھدی ومرشد الإنسانیۃ إلی طریق النجاۃ والفلاح، وعلی آلہ وصحبہ و سلم، والحمد اللہ رب العالمین

ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف

سکریٹری جنرل رابطۂ عالمِ اسلامی، مکہ مکرمہ

٭٭٭

 

 

 

معالی الشیخ محمد علی الحرکان

(سکریٹری جنرل رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ)

 

الحمد للہ رب العالمین، خالق السموات والأرض وجاعل الظلمات والنور، وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم الأنبیاء والرسل أجمعین، بشر وأنذر، ووَعَدَ وأَوْعَدَ، وأنقذ اللہ بہ البشر من الضلالۃ، وھدی الناس إلی الصراط المستقیم، صراط اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الأرض، ألا إلی اللہ تصیر الأمور، وبعد :

چونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو مقام شفاعت اور درجۂ بلند عطا فرمایا ہے۔ اور آپ سے ہم مسلمانوں کو محبت کرنے کی ہدایت دی ہے اور آپ کی پیروی کو اپنی محبت کی نشانی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے :

"یعنی اے پیغمبر کہہ دو! اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں محبوب رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو تمہارے لیے بخش دے گا۔ ” (آل عمران : ۳۱)

اس لیے یہ بھی ایک سبب ہے جو دلوں کو آپ کا گرویدہ و وارفتہ بنا کر ان اسباب و ذرائع کی جستجو میں ڈال دیتا ہے جو آپ کے ساتھ تعلقِ خاطر کو پختہ تر کر دیں۔ چنانچہ طلوع اسلام ہی سے مسلمان آپﷺ کے محاسن کے اظہار اور آپﷺ کی سیرتطیبہ کی نشر و اشاعت میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ آپﷺ کی سیرتِ طیّبہ نام ہے آپﷺ کے اقوال و افعال اور اخلاق کریمانہ کا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ( ( کان خلقہ القرآن) ) یعنی "قرآن کریم ہی آپ (ﷺ ) کا اخلاق تھا ” اور معلوم ہے کہ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے کلماتِ تامّہ کا نام ہے۔ لہٰذا جس ذاتِ گرامی کا یہ وصف ہے وہ یقیناً سارے انسانوں سے بہتر اور کامل ہے اور اللہ کی ساری مخلوق کی محبت کی سب سے زیادہ حقدار ہے۔

یہ گراں مایہ محبت ہمیشہ مسلمانوں کا سرمایۂ دل و جان رہی اور اسی کے افق سے سیرت نبویہ شریفہ کی پہلی کانفرنس کا نور پھوٹا۔ یہ کانفرنس ۱۳۹۶ ھ میں پاکستان کی سرزمین پر منعقد ہوئی اور رابطہ نے اس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ذیل کی شرائط پر پورے اترنے والے سیرت کے پانچ سب سے عمدہ مقالات پر ڈیڑھ لاکھ سعودی ریال کے مالی انعامات دیے جائیں گے۔ شرائط یہ ہیں :

مقالہ مکمل ہو اور اس میں تاریخی واقعات زمانۂ وقوع کے لحاظ سے ترتیب وار بیان کیے گئے ہوں۔

٭      مقالہ عمدہ ہو اور اس سے پہلے شائع نہ کیا گیا ہو۔

٭     مقالے کی تیاری میں جن مخطوطات اور علمی مآخذ پر اعتماد کیا گیا ہو ان سب کے حوالے مکمل دیے گئے ہوں۔

٭     مقالہ نگار اپنی زندگی کے مکمل اور مفصل حالات قلم بند کرے اور اپنی علمی اسناد اور اپنی تالیفات کا،اگر ہوں تو،  ذکر کرے۔

٭     مقالے کا خط صاف اور واضح ہو بلکہ بہتر ہو گا کہ ٹائپ کیا ہوا ہو۔

٭     مقالے عربی اور دوسری زندہ زبانوں میں قبول کیے جائیں گے۔

٭     یکم ربیع الثانی۱۳۹۶ ھ سے مقالات کی وصولی شروع کی جائے گی اور یکم محرم ۱۳۹۷ھ کو ختم کر دی جائے گی۔

٭     مقالات رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سیکرٹریٹ کو مہر بند لفافے کے اندر پیش کیے جائیں۔ رابطہ ان پر اپنا ایک خاص نمبر شمار ڈالے گا۔

٭     اکابر علماء کی ایک اعلیٰ کمیٹی تمام مقالات کی چھان بین اور جانچ پڑتال کرے گی۔

رابطہ کا یہ اعلان محبت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے سرشار اہل علم کے لیے مہمیز ثابت ہوا اور انہوں نے اس مقابلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادھر رابطۂ عالمِ اسلامی بھی عربی، انگریزی، اُردو اور دیگر زبانوں میں مقالات کی وصولی اور استقبال کے لیے تیار تھا۔

پھر ہمارے محترم بھائیوں نے مختلف زبانوں میں مقالات بھیجنے شروع کیے، جن کی تعداد ۱۷۱تک جا پہنچی۔ ان میں ۸۴ مقالے عربی زبان میں تھے۔ ۶۴ اُردو میں، ۲۱ انگریزی میں، ایک فرانسیسی میں اور ایک ہوسا زبان میں۔

رابطہ نے ان مقالات کو جانچنے اور استحقاقِ انعام کے لحاظ سے ان کی ترتیب قائم کرنے کے لیے کبار علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور انعام پانے والوں کی ترتیب یہ رہی :

پہلا انعام : شیخ صفی الرحمن مبارکپوری، جامعہ سلفیہ، ہند۔ پچاس ہزار سعودی ریال۔

!        دوسرا انعام : ڈاکٹر ماجد علی خاں، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، ہند۔ چالیس ہزارسعودی ریال۔

"”     تیسرا انعام : ڈاکٹر نصیر أحمد ناصر، صدر جامعہ اسلامیہ، بہاوّلپور، پاکستان۔ تیس ہزار سعودی ریال۔

3      چوتھا انعام : استاد حامد محمود محمد منصور لیمود، مصر، بیس ہزار سعودی ریال۔

4      پانچواں انعام : استاد عبد السلام ہاشم حافظ، مدینہ منورہ، مملکت سعودیہ عربیہ۔ دس ہزار سعودی ریال۔

رابطہ نے ان کامیاب افراد کے ناموں کا اعلان، ماہ شعبان ۱۳۹۸ھ میں کراچی (پاکستان) کے اندر منعقد پہلی ایشیائی اسلامی کانفرنس میں کیا اور اشاعت کے لیے تمام اخبارات کو اس کی اطلاع بھیج دی۔

پھر تقسیم انعامات کے لیے رابطہ نے مکہ مکرمہ میں اپنے مستقر پر امیر سعود بن عبد المحسن بن عبد العزیز کی سرپرستی میں سنیچر۱۲/ ربیع الآخر ۱۳۹۹ھ کی صبح ایک بڑی تقریب منعقد کی۔ امیر سعود مکہ مکرمہ کے گورنر امیر فواز بن عبدالعزیز کے سکریٹری ہیں اور اس تقریب میں ان کے نائب کی حیثیت سے موصوف نے انعامات تقسیم کیے۔

اس موقع پر رابطہ کے سیکرٹریٹ کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ان کامیاب مقالات کو مختلف زبانوں میں طبع کرا کر تقسیم کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کو رو بہ عمل لاتے ہوئے شیخ صفی الرحمن مبارکپوری جامعہ سلفیہ ہند کا (عربی) مقالہ سب سے پہلے طبع کرا کر قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا، کیونکہ موصوف ہی نے پہلا انعام حاصل کیا ہے۔ اس کے بعد بقیہ مقالے بھی ترتیب وار طبع کیے جائیں گے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال اپنے لیے خالص بنائے اور انہیں شرفِ قبولیت سے نوازے۔ یقیناً وہ بہترین مولیٰ اور بہترین مدد گار ہے۔ وصلی اللّٰہ علی سیدنا محمد و علی آلہ و اصحبہ و سلم۔

محمد بن علی الحرکان

سیکرٹری جنرل رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ

٭٭٭

 

 

 

 

اپنی سر گزشت

 

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الأولین والآخرین محمد خاتم النبی ین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین أما بعد :

چونکہ رابطۂ عالم اسلامی نے سیرت نویسی کے مقابلے میں حصہ لینے والوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے حالات زندگی بھی قلم بند کریں، اس لیے ذیل کی سطور میں اپنی سادہ زندگی کے چند خاکے پیش کر رہا ہوں :

سلسلۂ نسب :

صفی الرحمن بن عبداللہ بن محمد اکبر بن محمد علی بن عبد المومن بن فقیر اللہ مبارک پوری، اعظمی۔

پیدائش :

میں ۱۹۴۲ء کے وسط میں مبارک پور کے شمال میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی بستی موضع حسین آباد میں پیدا ہوا۔ مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ کا ایک معروف علمی اور صنعتی قصبہ ہے۔

تعلیم و تعلّم :

میں نے بچپن میں قرآن مجید کا کچھ حصہ اپنے دادا اور چچا سے پڑھا اور گاؤں ہی کے مدرسے میں تھوڑی سی تعلیم حاصل کی۔ پھر ۱۹۴۸ء میں مدرسہ عربیہ دارالتعلیم مبارک پور میں داخل ہوا۔ وہاں چند برسوں میں پرائمری درجات کے علاوہ قدرے فارسی وغیرہ کی تعلیم حاصل کر کے عربی زبان و قواعد اور نحو و صرف وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جون ۱۹۵۴ء میں مدرسہ احیاء العلوم مبارکپور میں داخل ہو گیا۔ دو سال بعد مدرسہ فیض عام مؤ جا پہنچا۔ اس مدرسہ کو اس علاقہ میں ایک اہم دینی درسگاہ کی حیثیت حاصل ہے اور مؤ ناتھ بھنجن، قصبہ مبارکپور سے ۳۵کیلو میٹر کے فاصلے پر بجانب مشرق واقع ہے۔

مدرسہ فیض عام میں مَیں مئی۱۹۵۶ء میں داخل ہوا اور وہاں پانچ سال رہ کر عربی زبان و قواعد اور شرعی علوم و فنون، یعنی تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ جنوری۱۹۶۱ء میں میری تعلیم مکمل ہو گئی اور مجھے باقاعدہ سند تکمیل، یعنی شہادۃ التخرج دے دی گئی۔ یہ سند فضیلت فی الشریعہ اور فضیلت فی العلوم کی سند ہے اور تدریس و افتاء کی اجازت پر مشتمل ہے۔

مجھ پر اللہ کا یہ کرم رہا کہ میں تمام امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا رہا۔

دوران تعلیم ہی میں نے الٰہ آباد بورڈ کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے عربی وفارسی کے سرکاری امتحانات مولوی و عالم میں بھی شرکت کی اور فروری۱۹۵۹ء میں مولوی، اور فروری۱۹۶۰ء میں عالم کے امتحانات پاس کیے۔ پھر بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر فروری۱۹۷۶ء میں فاضل ادب اور فروری۱۹۷۸ء میں فاضل دینیات کے امتحانات دیئے اور ان سب امتحانات فرسٹ ڈویژن سے کامیاب ہوا۔

کار گاہ علم و حیات میں :

۱۹۶۱ء میں مدرسہ فیض عام سے فراغت کے بعد پہلے ضلع الٰہ آباد پھر شہر ناگپور میں پھر مختلف شہر اور مقامات میں درس وتدریس اور تقریر و خطابت کے شغل میں مشغول رہ کر اکتوبر ۱۹۷۴ء شوال ۱۳۹۴ھ میں جامعہ سلفیہ بنارس آ گیا اور یہاں چودہ سال درس وتدریس کے فرائض انجام دے کر مدینہیونیورسٹی کی دعوت پر اگست ۱۹۸۸ء، محرم ۱۴۰۹ھ میں مدینہ منورہ آ گیا اور یہاں کے مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ میں علوم سیرت کی علمی تیاری میں مشغول گیا۔ دسمبر ۱۹۹۷ء کے خاتمے کے ساتھ مدینہیونیورسٹی سے میرا اگریمنٹ ختم ہو گیا۔ اور اس کے کوئی دو ڈھائی مہینے کے بعد میں مکتبہ دارالسلام ریاض آ گیا۔ جب سے یہیں تصنیف و تالیف اور علمی کاموں میں مشغول ہوں۔

تالیفات :

تعلیم کی تکمیل کے بعد میں نے درس وتدریس کے پہلو بہ پہلو تالیف و تصنیف کا بھی کچھ نہ کچھ شغل جاری رکھا۔ چنانچہ مختلف مضامین و مقالات کے علاوہ ذیل کی کتابوں اور رسائل کی تالیف یا ترجمے کا کام بھی کر چکا ہوں۔

بزبان عربی :

الرحیق المختوم، سیرت کی پیش نظر کتاب جسے رابطۂ عالم اسلامی سے پہلا انعام ملا اور جسے اللہ نے بڑی مقبولیت دی، دنیا کی پندرہ سے زیادہ زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے اور ہر جگہ ہاتھوں ہاتھ لی گئی۔

٭      روضۃ الأنوارفی سیرۃ النبی المختار

٭      البشارات بالنبی۔ فی کتب الہندوس

3      البشارات بالنبی۔ عند البوذی ین والفرس

٭     اتحاف الکرام بشرح بلوغ المرام للحافظ ابن حجر العسقلانی

٭     منۃ المنعم بشرح صحیح مسلم أحد الصحیحین

٭     بہجۃ النظر فی مصطلح أہل الأثر

٭     ابرازالحق والصواب فی مسألۃ السفور والحجاب

٭     تطور الشعوب والدیانات فی الہند ومجال الدعوۃ الإسلامیۃ فیہا

٭      الفرقۃ الناجیۃ والفرق الإسلامیۃ الأخری

٭     الحکم الاسلامی وتعدد الأحزاب السیاسیۃ

٭     تعلیق لطیف علیٰ ریاض الصالحین

٭     المصباح المنیر فی تہذیب تفسیر ابن کثیر (عمل اشراف )

بزبان اُردو :

٭     ترجمہ الرحیق المختوم                       ۔ تجلیات نبوت (ترجمہ روضۃ الانوار)

٭     تذکرۃ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب                0 تاریخ آل سعود

1      قادیانیت اپنے آئینہ میں                   2 فتنۂ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری

3      انکار حدیث حق یا باطل                    4 رزم حق یا باطل (روداد مناظرۂ بجرڈیہہ)

5      اسلام اور اہنسا                            6 اہل تصوف کی کارستانیاں

7      مختصر اظہار الحق (ترجمہ)                  8 ائمہ اربعہ کا عقیدہ (ترجمہ )

9      مختصر سیرۃ الرسول (ترجمہ ) از شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدیk

علاوہ ازیں جامعہ سلفیہ بنارس سے بزبان اُردو شائع ہونے والے ماہنامہ محدث کی ایڈیٹر شپ بھی اس کے آغاز اشاعت (فروری۱۹۸۲ء ) سے میرے جامعہ سلفیہ چھوڑنے (ستمبر ۱۹۸۸ء ) تک میرے ذمہ رہی اور اس دوران میں نے سیاسی، سماجی، ملکی اور دینی موضوعات پر دوسو سے زیادہ مضامین قلم بند کیے اور اس سے قبل اور اس کے بعد مختلف رسائل و جرائد میں بھی میرے مضامین شائع ہوتے رہے۔ وللہ الحمد!!

ناخوشگوار فریضہ :

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے میرے سبکدوش ہونے کے بعد پیہم اصرار کر کے ۱۹/ جولائی۱۹۹۸ء کو مجھے مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند کا امیریا صدر منتخب کر دیا گیا۔ مگر مجھے جلد ہی محسوس ہو گیا کہ یہ ایک نامعقول ذمہ داری ہے۔ چنانچہ بعض اہم افراد سے تبادلۂ خیال کرنے کے بعد میں نے ۳ /اگست ۲۰۰۰ء کو اس ذمہ داری سے سبکدوشی اختیار کر لی، فللّٰہ الحمد و المنۃ علی فضلہ وإحسانہ۔

وہو الموفق وأزمۃ الأمور کلہا بیدہ، ربنا تقبل منا

بقبول حسن وأنبتہ نباتاً حسناً۔

٭٭٭

 

مزید پڑھنے کے لیے ڈاکیومینٹ ڈاؤن لوڈ کیجیے