FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

اردو رباعیات

 

 

 

               مرتبہ: محمد وارث

 

 

 

 

 

 

مختصر تعارف

 

اصنافِ سخن میں رباعی ایک خاصے کی چیز ہے، چار مصرعوں میں جامع سے جامع مضمون کو خوبصورتی سے مکمل کر دینا دریا کو کوزے میں بند کر دینے کے مترادف ہے۔

رباعی عربی لفظ رُبَع سے ہے جسکا مطلب چار ہے یعنی اس میں چار مصرعے ہوتے ہیں، رباعی کو دو بیتی اور ترانہ وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ اردو شاعری فارسی سے اور فارسی شاعری عربی شاعری سے نکلی ہے لیکن رباعی خالصتاً فارسی شعراء کی ایجاد ہے۔ رباعی کی ابتدا کے متعلق بہت سی ابحاث، واقعات اور حکایات ملتی ہیں، جنہیں طوالت کے خوف سے چھوڑتا ہوں۔

رباعی کے اوزان مخصوص ہیں، بحر ہزج کے چوبیس وزن رباعی کے لیئے مخصوص ہیں، جن میں غزل، نظم وغیرہ کہنا بھی جائز ہے، لیکن ان اوزان کے علاوہ اگر دو یا زیادہ شعر کسی اور وزن میں ہوں تو وہ رباعی نہیں بلکہ قطعہ کہلاتے ہیں، رباعی کے اوزان پر تفصیلی اور جامع بحث اگلے مضمون میں آ رہی ہے۔ رباعی کا پہلا، دوسرا، اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہوتے ہیں، تیسرے مصرعے میں بھی قافیہ لایا جا سکتا ہے۔ رباعی کی خوبصورتی کا دار و مدار چوتھے مصرعے پر ہوتا ہے جس کے حسن اور برجستگی سے پہلے تین مصرعوں کو بھی چار چاند لگ جاتے ہیں۔

رباعی کا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہوتا، لیکن شعراء کرام کی روایت رہی ہے کہ رباعی میں زیادہ تر پند و نصائح، تصوف، حمد، نعت، منقبت، فلسفہ، اخلاقیات اور دنیا کی بے ثباتی وغیرہ کے موضوع بیان کرتے ہیں۔ عشقیہ رباعیاں خال خال ہی ملتی ہیں۔

فارسی شاعری کا باوا آدم، رودکی، رباعی کا اولین شاعر مانا جاتا ہے، رودکی کے علاوہ بابا طاہر عریاں، سرمد شہید، ابوسعید ابوالخیر، فرید الدین عطار، حافظ شیرازی اور شیخ سعدی وغیرہ معروف و مشہور رباعی گو ہیں لیکن فارسی شاعری میں جس شاعر کا نام رباعی گو کی حیثیت سے امر ہو گیا ہے وہ عمر خیام ہے۔

فارسی شعرا کے تتبع میں اردو شعرا نے بھی رباعی گوئی میں اپنی اپنی طبع کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ مشہور اردو رباعی گو شعرا میں میر تقی میر، سودا، میر درد، میر انیس، غالب، ذوق، مومن، حالی، اکبر الہ آبادی وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن جس شاعر نے صحیح معنوں میں اردو رباعی سے کام لیا ہے وہ علامہ اقبال ہیں۔ غالب کی طرح علامہ نے بھی اردو اور فارسی میں رباعیاں کہی ہیں اور کیا کمال کہی ہیں۔

اقبال کی رباعیات، رباعی کے مروجہ اوزان کی قید میں نہیں ہیں، لیکن اقبال نے اپنی کتب میں انہیں رباعی ہی کہا ہے، اس طرف ایک اشارہ سید قدرت اللہ نقوی نے کیا ہے لیکن اس موضوع پر باوجود تلاش کے مجھے مواد نہیں مل سکا۔ میری ناقص سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اقبال نے اس سلسلے میں بابا طاہر عریاں کا تتبع کیا ہے۔ بابا طاہر کی دوبیتیاں عموماً رباعیات ہی سمجھی جاتی ہیں لیکن ان کے اوزان بھی رباعی کے مروجہ اوزان سے مختلف ہیں۔ اس موضوع پر کچھ اور بحث آگے ایک استفسار میں آ رہی ہے، فی الوقت یہ کہ اس کتاب میں میں نے وہی رباعیات شامل کی ہیں جو رباعی کے چوبیس اوزان میں ہیں سو اس میں علامہ اقبال کی رباعیات یا قطعات شامل نہیں ہیں۔

اقبال کے بعد، افسوس، اردو رباعی کا چلن بہت کم رہ گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ ترقی پسند تحریک اور “جدیدیت” کی لہر میں جب نئے اردو شعرا نے شاعری میں تجربات کیے اور آزاد نظم کا چلن عام ہوا تو اس سے کلاسیکی اصنافِ سخن پیچھے چلی گئیں، نہ صرف ان کا رواج کم ہو گیا بلکہ ایک طرح سے ان سے نفرت بھی کی گئی۔ مشہور ناقد سلیم احمد نے اس کلاسیکیت کی مخالفت میں غزل کو بھی “وحشی صنفِ سخن” کہہ دیا۔ اور یہی کچھ حال رباعی کے ساتھ ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رباعی کے اوزان پر عبور حاصل کرنا عموماً مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ معمولی سی غلطی سے رباعی کا وزن خراب ہو جاتا ہے اس لیے عام طور پر رباعی کی صنف میں وہی شعرا طبع آزمائی کرتے ہیں جن کو اس کے اوزان پر عبور حاصل ہوتا ہے۔

اقبال کے بعد کے معروف رباعی گو شعرا میں جوش، فانی، فراق، شمس الرحمن فاروقی اور صبا اکبر آبادی وغیرہ کے نام ہیں۔ احمد فراز اور ناصر کاظمی نے بھی چند ایک رباعیاں کہی ہیں لیکن جن شعرا نے اس دور میں بالالتزام رباعیاں کہی ہیں ان میں عبدالعزیز خالد، صادقین اور امجد حیدرآبادی کے نام اہم ہیں۔

 

محمد وارث

 

 

 

رباعی کے اوزان پر ایک بحث

 

رباعی بھی خاصے کی چیز ہے، قدما اس کے چوبیس وزن بنا گئے سو عام شعرا کو اس سے متنفر کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ رباعی کے چوبیس وزن ہیں، حالانکہ اگر تھوڑا سا تدبر و تفکر کیا جائے اور ان اوزان کو ایک خاص منطقی ترتیب اور انداز سے سمجھا جائے تو ان اوزان کو یاد رکھنا اور ان پر عبور حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں ہے، اور یہ مضمون بنیادی طور پر اسی موضوع پر ہے جس میں رباعی کے اوزان کو ایک خاص ترتیب سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک عرض یہ کرتا چلوں کہ ضروری نہیں کہ ایک رباعی میں مختلف اوزان ہی اکھٹے کیے جائیں، اگر ایک ہی وزن میں چاروں مصرعے ہوں تو پھر بھی رباعی ہے اور اگر ایک ہی وزن میں بیسیوں رباعیاں ہوں تو پھر بھی رباعیاں ہی ہیں لیکن اس میں مختلف اوزان کو اکھٹا کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ شاعر اپنے ما فی الضمیر کو بہتر سے بہتر انداز میں اور مختلف الفاظ کے چناؤ کے ساتھ بیان کر سکتا ہے اور پھر بنیادی طور ان اوزان میں فرق بھی بہت تھوڑا ہے، جس سے آہنگ پر فرق نہیں پڑتا، مثال کے طور پر، چوبیس میں سے بارہ اوزان تو صرف فع کو فاع اور فعِل کو فعول سے بدلنے سے حاصل ہو جاتے ہیں، تفصیل انشاءاللہ نیچے آئے گی۔

 

رباعی کی بحر، افاعیل اور ان کی ترتیب

 

رباعی کی بحر، بحرِ ہزج ہے جسکا بنیادی رکن ‘مفاعیلن’ ہے اور اسی مفاعیلن کے مختلف وزن ہی، جو مختلف زحافات کے استعمال سے حاصل ہوتے ہیں، اس میں استعمال ہوتے ہیں۔

رباعی میں دس افاعیل آتے ہیں، جو کہ مفاعیلن ہی سے حاصل ہوتے ہیں، زحافات کے نام اور ان کے استعمال کا طریقہ لکھ کر اس مضمون کو بالکل ہی ناقابلِ برداشت نہیں بنانا چاہتا، صرف افاعیل لکھ رہا ہوں۔

 

1- مفاعیلن

2- مفاعیل

3- مفعولن

4- مفاعلن

5- مفعول

6- فاعلن

7- فعول

8- فَعِل

9- فاع

10- فع

اس میں نوٹ کرنے کی خاص بات یہ ہے کہ ‘فعولن’ اس فہرست میں نہیں ہے، یعنی فعولن جو کہ مفاعیلن سے حاصل ہونے والا ایک انتہائی مستعمل رکن ہے وہ رباعی میں نہیں آتا، اگر آئے گا تو رباعی کا وزن خراب ہو جائے گا۔

 

کسی بھی مثمن بحر کی طرح، رباعی کی بحر کے بھی چار رکن ہیں یعنی

صدر (یا ابتدا)، حشو، حشو، عرض (یا ضرب)

اور نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اوپر والے دس افاعیل میں سے جو بھی چار بحر میں استعمال ہوں گے ان کی اس بحر کی ترتیب میں اپنی اپنی جگہ مخصوص ہے، جیسے

– صدر یعنی پہلے رکن میں ہمیشہ مفعول آئے گا یا مفعولن، کوئی اور رکن نہیں آ سکتا۔

– ضرب یعنی چوتھے رکن میں ہمیشہ فع، فاع، فعِل اور فعول میں سے کوئی ایک آئے گا، اور کوئی رکن نہیں آ سکتا۔

– مفاعلن اور فاعلن ہمیشہ پہلے حشو یعنی دوسرے رکن میں ہی آئیں گے، اور کسی بھی جگہ نہیں آ سکتے۔

– مفاعیلن اور مفاعیل دونوں حشو میں یعنی دوسرے اور تیسرے رکن میں آ سکتے ہیں، کسی اور جگہ نہیں آتے۔

– مفاعیلن اور مفاعیل کے علاوہ، مفعولن، مفعول بھی دونوں حشو میں آ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، رباعی کے مختلف افاعیل کی ترتیب یاد رکھنے میں قدما کا جو کلیہ سب سے اہم ہے وہ کچھ یوں ہے جو کہ مرزا یاس یگانہ نے اپنی کتاب “چراغِ سخن” میں لکھا ہے۔

سبب پئے سبب و وتد پئے وتد

یوں سمجھیے کہ یہی رباعی کے اوزان کی کلید ہے یعنی ایک سبب کے بعد ہمیشہ سبب آئے گا اور ایک وتد کے بعد ہمیشہ وتد آئے گا، مثال کے طور پر، ایک شاعر ایک رباعی شروع کرتا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ رباعی یا تو مفعول سے شروع ہوگی یا مفععولن سے۔

فرض کریں، رباعی مفعول سے شروع ہوتی ہے، یعنی پہلا رکن مفعول ہو گیا، اب دوسرے رکن میں جو تمام افاعیل آ سکتے ہیں وہ یہ ہیں

 

مفاعیلن

مفاعیل

مفاعلن

مفعولن

مفعول

فاعلن

 

اب اس بنیادی کلیے کو ذہن میں رکھیے کہ سبب کے بعد سبب اور وتد کے بعد وتد، پہلا رکن مفعول ہے جو کہ وتد پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن لازمی وتد سے شروع ہوگا، اوپر والی فہرست میں جو افاعیل وتد سے شروع ہو رہے ہیں وہ یہ ہیں

 

مفاعیلن

مفاعیل

مفاعلن

 

یعنی مفعول کے بعد اب صرف ان تین میں سے کوئی رکن آئے گا، فرض کریں مفاعیل آیا اور ہمارے پاس دو رکن ہو گئے یعنی

مفعول مفاعیل

اب مفاعیل بھی وتد پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن بھی لازمی وتد سے شروع ہوگا، یہ پھر تین ہیں، مفاعیلن، مفاعیل، مفاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفاعلن تیسرے رکن میں نہیں آ سکتا سو مفاعیلن اور مفاعیل میں سے کوئی آئے گا، فرض کریں مفاعیلن لیا تو اب تین رکن ہو گئے

مفعول مفاعیل مفاعیلن

اب رہ گیا چوتھا رکن، جس میں فع، فاع، فعِل اور فعول ہی آ سکتے ہیں، کلیہ ذہن میں رکھیے، مفاعیلن سبب پر ختم ہو رہا ہے سو اگلا رکن سبب سے شروع ہوگا، وہ فع ہے سو رباعی کا وزن مل گیا

مفعول مفاعیل مفاعیلن فع

اب کسی بھی بحر کی طرح، آخری رکن میں عملِ تسبیغ کی یہاں بھی اجازت ہے سو فع کو فاع کریں اور دوسرا وزن بھی مل گیا

مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع

اوپر والے کلیات کو استعمال کرتے ہوئے ہم نے رباعی کے دو وزن حاصل کر لیے، اب انہی کی مدد سے ہم رباعی کے سارے وزن یعنی چوبیس حاصل کریں گے۔

 

اساتذہ نے رباعی کو دو شجروں میں تقسیم کیا ہے، جو رباعی مفعول سے شروع ہوتی ہے، اس کے بارہ اوزان کو شجرۂ اخرب کہتے ہیں اور جو رباعی مفعولن سے شروع ہوتی ہے اس کے بارہ اوزان کو شجرۂ اخرم کہتے ہیں، اور یہ دونوں نام بھی زحافات کے نام پر ہیں۔ یہاں ایک وضاحت یہ کہ بعض قدیم اساتذہ نے اخرب اور اخرم اوزان کو ایک ہی رباعی میں باندھنے سے منع کیا ہے، لیکن اس بات کو کوئی بھی رباعی گو شاعر نہیں مانتا اور بلاتکلف اخرب اور اخرم کے اوزان ایک ہی رباعی میں جمع کرتے ہیں۔

 

شجرۂ اخرب اور اس کے بارہ اوزان

 

ان اوزان کو شجرہ کہا جاتا ہے لیکن اس خاکسار کے محدود مطالعے میں عروض کی کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس میں اس کو ایک شجرہ کی طرح واضح کیا گیا ہو، خاکسار یہ کوشش کر رہا ہے، ممکن ہے کسی کتاب میں اسے اس صورت میں لکھا گیا ہو، شجرے کی تصویر دیکھیے،

 

 

اب اس شجرہ کو اوپر والے اصولوں کی روشنی میں کھول کر بیان کرتا ہوں۔

 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس شجرہ میں پہلے رکن میں ہمیشہ مفعول آتا ہے جو وتد پہ ختم ہوتا ہے سو اگلا رکن مفاعیلن، مفاعیل اور مفاعلن ہوں گے جو کہ وتد سے شروع ہوتے ہیں، سب سے پہلے مفاعیلن کو لیتے ہیں سو

مفعول مفاعیلن

یہ سبب پر ختم ہوا سو اگلا رکن لازمی سبب سے شروع ہوگا جو کہ تین ہیں یعنی مفعولن، مفعول اور فاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ تیسرے رکن میں فاعلن نہیں آ سکتا سو صرف دو رہ گئے، مفعولن اور مفعول اور ان دو افاعیل سے یہ اوزان حاصل ہوئے

 

مفعول مفاعیلن مفعولن

مفعول مفاعیلن مفعول

 

اب مفعولن سبب پر ختم ہوا سو اگلا رکن فع ہوگا جو کہ سبب ہے سو پہلا مکمل وزن مل گیا

مفعول مفاعیلن مفعولن فع (وزن نمبر 1)

فع کو فاع سے بدلیں دوسرا وزن حاصل ہو گیا

مفعول مفاعیلن مفعولن فاع (وزن نمبر 2)

اب تیسرے رکن میں مفعول کو لیں تو یہ وتد پر ختم ہوا سو چوتھا رکن وتد سے شروع ہوگا جو فعِل ہے سو

مفعول مفاعیلن مفعول فعِل (وزن نمبر 3)

فعِل کو فعول سے بدل لیں، ایک اور وزن مل گیا

مفعول مفاعیلن مفعول فعول (وزن نمبر 4)

اب پھر دوسرے رکن پر چلتے ہیں اور اگلے چار وزن حاصل کرتے ہیں، مفعول کے بعد مفاعیل لائے یعنی

مفعول مفاعیل

مفاعیل وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن وتد سے شروع ہوگا، مفاعلن یہاں نہیں آ سکتا سو مفاعیلن یا مفاعیل ہوں گے یعنی

مفعول مفاعیل مفاعیلن

مفعول مفاعیل مفاعیل

مفاعیلن سبب پر ختم ہوا سو فع آئے گا یعنی

مفعول مفاعیل مفاعیلن فع (وزن نمبر 5)

مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع (وزن نمبر 6)

تیسرے رکن میں مفاعیل لائیے جو وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن فعِل ہوا

مفعول مفاعیل مفاعیل فعِل (وزن نمبر 7)

مفعول مفاعیل مفاعیل فعول (وزن نمبر 8 )

آٹھ وزن مل گئے، اگلے چار دوسرے رکن میں مفاعلن لانے سے ملیں گے یعنی

مفعول مفاعلن

یہ بھی وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن وتد سے شروع ہوگا جو کہ دو ہیں، مفاعیلن اور مفاعیل کیونکہ مفاعلن تیسرے رکن میں نہیں آ سکتا

مفعول مفاعلن مفاعیلن

مفعول مفاعلن مفاعیل

مفاعیلن کے ساتھ فع آئے گا سو

مفعول مفاعلن مفاعیلن فع (وزن نمبر 9)

مفعول مفاعلن مفاعیلن فاع (وزن نمبر 10)

مفاعیل کے ساتھ فعِل آئے گا سو

مفعول مفاعلن مفاعیل فعِل (وزن نمبر 11)

مفعول مفاعلن مفاعیل فعول (وزن نمبر 12)

گویا ایک خاص ترتیب سے چلتے ہوئے ہمیں رباعی کے بارہ وزن مل گئے، اگلے بارہ وزن شجرہ اخرم کے ہیں اور اسی طرح حاصل ہوں گے۔

 

شجرۂ اخرم اور اس کے بارہ اوزان

 

پہلے اس شجرہ کی تصویر دیکھ لیں،

 

جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ یہ شجرہ ہمیشہ مفعولن سے شروع ہوتا ہے جو کہ سبب پر ختم ہوتا ہے سو دوسرا رکن سبب ہی سے شروع ہوگا، جو کہ تین ہیں، مفعولن، مفعول اور فاعلن۔ مفعولن سے شروع کرتے ہیں

مفعولن مفعولن

یہ بھی سبب پر ختم ہوا سو تیسرا رکن بھی سبب سے شروع ہوگا، وہ دو ہیں، مفعولن اور مفعول کیونکہ فاعلن یہاں نہیں آ سکتا سو

مفعولن مفعولن مفعولن

مفعولن مفعولن مفعول

مفعولن سبب پر ختم ہوا سو لازمی طور پر اگلا رکن سبب سے شروع ہوگا جو فع ہے سو

مفعولن مفعولن مفعولن فع (وزن نمبر 1)

اور فع کو فاع سے بدلیں تو

مفعولن مفعولن مفعولن فاع (وزن نمبر 2)

تیسرے رکن میں مفعول لائیں جو وتد پر ختم ہوا سو چوتھا رکن لازمی فعِل ہوگا سو

مفعولن مفعولن مفعول فعِل (وزن نمبر 3)

اور فعِل کو فعول سے بدلیں تو

مفعولن مفعولن مفعول فعول (وزن نمبر 4)

اب واپس دوسرے رکن پر چلتے ہیں اور مفعولن کے بعد مفعول لاتے ہیں یعنی

مفعولن مفعول

اب مفعول وتد پر ختم ہوا، تیسرا رکن لازمی وتد سے شروع ہوگا، یہ تین ہیں، مفاعیلن مفاعیل اور مفاعلن لیکن ہم جانتے ہیں کہ مفاعلن کبھی بھی تیسرے رکن میں نہیں آئے گا سو دو رہ گئے، مفاعیلن اور مفاعیل یعنی

مفعولن مفعول مفاعیلن

مفعولن مفعول مفاعیل

مفاعیلن کے بعد فع آیا تو

مفعولن مفعول مفاعیلن فع (وزن نمبر 5)

اور

مفعولن مفعول مفاعیلن فاع (وزن نمبر 6)

اب تیسرے رکن میں مفاعیل لائیں تو یہ وتد پر ختم ہوا سو اس کے بعد فعِل آیا یعنی

مفعولن مفعول مفاعیل فعِل (وزن نمبر 7)

اور مفعولن مفعول مفاعیل فعول (وزن نمبر 8 )

اب واپس دوسرے رکن کی طرف چلتے ہیں وہاں ہم فاعلن کو چھوڑ آئے تھے، اس کو لائیں گے تو مزید چار وزن مل جائیں گے۔

مفعولن فاعلن

فاعلن وتد پر ختم ہوا سو اگلا رکن مفاعیلن، مفاعیل یا مفاعلن ہوگا، مفاعلن باہر ہوگیا تو مفاعیلن اور مفاعیل رہ گئے

مفعولن فاعلن مفاعیلن

مفعولن فاعلن مفاعیل

مفاعیلن کے بعد فع آیا تو

مفعولن فاعلن مفاعیلن فع (وزن نمبر 9)

اور

مفعولن فاعلن مفاعیلن فاع (وزن نمبر 10)

تیسرے رکن میں مفاعیل لائے تو اس کے بعد فعِل آیا سو

مفعولن فاعلن مفاعیل فعِل (وزن نمبر 11)

اور مفعولن فاعلن مفاعیل فعول (وزن نمبر 12)

اور یوں ہمیں ‘سبب پئے سبب و وتد پئے وتد” کے اصول اور افاعیل و ارکان کی خاص ترتیب پر چلتے ہوئے دونوں شجروں کے بارہ بارہ اوزان یعنی کل چوبیس وزن مل گئے۔

یہ وہ طریقہ جس کو سمجھتے ہوئے اس خاکسار نے رباعی کے اوزان کو سمجھا، اس کے علاوہ بھی کئی ایک طریقے ہیں لیکن میں نے اس میں کوشش کی ہے کہ اوزان کو ایک خاص منطقی ترتیب سے لاؤں، امید ہے قارئین کے لیے یہ طریقہ رباعی کے اوزان سمجھنے کے لیے کارآمد اور فائدہ مند ہوگا۔

محمد وارث

 

 

 

 

رباعی کے حوالے سے کچھ استفسارات اور ان کے جوابات

 

میرے مضمون رباعی کے اوزان پر ایک بحث کے حوالے سے مجھ سے کچھ کچھ استفسارات کیے گئے، میں نے ان کے جواب لکھ دیے تھے، جو کہ درج ذیل ہیں۔

 

استفسار: یہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ “لا حول ولا قوة الا باللہ ” رباعی کا وزن ہے ۔۔ تو کیا یہ چوبیس اوزان میں سے ایک ہے ؟ اور وہ وزن کیا ہے ؟

 

جواب: دراصل قرآن مجید کی چند ایک آیات ایسی ہیں جو اتفاقاً کسی نہ کسی وزن پر موزوں ہو جاتی ہیں۔ انہی میں سے یہ آٰیۃ کریمہ بھی ہے کہ رباعی کے ایک وزن پر آ جاتی ہے۔

اس کی تقطیع کچھ یوں ہے

لا حول و لا قوّۃ الا باللہ

لا حولَ – مفعول

و لا قو وَ – مفاعیل

تَ اِل لا بل – مفاعیلن

لا ہ – فاع

یعنی اس کا وزن ‘مفعول مفاعیل مفاعیلن فاع’ ہے۔

بعض لوگ ضرورت شعری کے تحت اللہ کی ہ گرا دیتے ہیں اس صورت میں آخری رکن فاع کی جگہ فع آ جائے گا اور یوں بھی رباعی کا وزن ہی رہے گا لیکن یہاں ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے سو بہتر ہے کہ اللہ کا مکمل وزن لیا جائے۔

یہ رباعی کا ایک انتہائی مستعمل وزن ہے، اور اساتذہ عموماً رباعی کے سلسلے میں سب سے پہلے یہی وزن یاد کروایا کرتے تھے۔

مولانا الطاف حسین حالی کی ایک رباعی جس میں انہوں نے یہ وزن باندھا ہے

کیا پاس تھا قولِ حق کا، اللہ اللہ

تنہا تھے، پہ اعدا سے یہ فرماتے تھے شاہ

میں اور اطاعتِ یزیدِ گمراہ

لا حَولَ و لا قُوّۃَ الّا باللہ

 

استفسار: غالب کی مشہور رباعی جس پر ماہرین عروض نے اعتراض کیا ہے

دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب

اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ایک ” رک ” کا لفظ زیادہ ہے ۔۔ اس بارے میں وارث صاحب کی رائے کیا ہے

 

جواب: غالب کی مذکورہ رباعی کی بھی دلچسپ صورتحال ہے۔

دُکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب

دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب

واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں

سونا سوگند ہو گیا ہے غالب

کہا جاتا ہے کہ رباعی کے اوزان پر گرفت بہت مشکل ہے اور بڑے بڑے شاعر بھی اس کے اوزان کے بارے میں خطا کر جاتے ہیں جیسے کہ غالب سا شاعر بھی کہ اوپر والی رباعی میں دوسرا مصرع رباعی کے وزن سے خارج ہے۔

غالب کے مذکورہ مصرعے پر سب سے پہلے یہ اعتراض علامہ نظم طباطبائی نے اپنی شرح دیوانِ غالب میں کیا تھا اور اس کے بعد سے ‘سخن فہموں’ اور ‘غالب کے طرف داروں’ میں اس پر خوب خوب بحث ہوئی ہے۔

میرے لیے حیرت اور مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا غلام رسول مہر نے اپنے مرتب کردہ دیوانِ غالب اور اپنی شہرہ آفاق شرح ‘نوائے سروش’ دونوں میں یہ رباعی لکھتے ہوئے ایک ‘رُک’ دوسرے مصرعے سے نکال دیا ہے گویا اپنی طرف سے تصحیح کر دی ہے اور اس کی متنازعہ حیثیت پر بالکل بھی بحث نہیں کی ہے حالانکہ مستند یہی ہے کہ غالب نے ‘ رک رک کر’ ہی کہا ہے۔

یہ بات بھی بالکل ٹھیک ہے کہ اگر مذکورہ مصرعے میں سے ایک ‘رک’ نکال دیا جائے تو مصرعہ وزن میں آ جاتا ہے۔ لیکن اس پر دو اعتراض ہیں ایک تو یہ کہ اگر مصرعہ اس طرح کر دیا جائے

دل رُک کر بند ہو گیا ہے غالب

تو وزن میں ضرور آئے گا لیکن اس مصرعے کی ساری دلکشی ختم ہو جائے گی بلکہ ‘فضول سا’ مصرعہ ہو جائے گا۔ دوسرا یہ کہ غالب سے قادر الکلام شاعر کو کیا علم نہیں تھا کہ مصرع بے وزن ہو رہا ہے اور رباعی کے اوزان میں نہیں آ رہا؟

مولانا نجم الدین غنی رامپوری نے علمِ عروض پر اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘بحر الفصاحت’ میں بھی یہ اعتراض غالب کے مصرعے پر کیا ہے اور اس کا جواب اس کتاب کے مرتب سید قدرت نقوی نے دیا ہے۔ انہوں نے اس پر ایک علیحدہ سے مضمون بھی لکھا ہے جو کہ افسوس میری نظر سے نہیں گزرا۔

قدرت نقوی صاحب کے بقول لفظ ‘بند’ گو فارسی کا لفظ ہے اور وتد ہے یعنی اس کا وزن ‘فاع’ ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ غالب نے اس لفظ کا ہندی استعمال کیا ہے اور ‘بند’ کی نون کو نون فارسی کی بجائے مخلوط نون سمجھا ہے، اور جیسا کہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ نون مخلوط کا کوئی وزن نہیں ہوتا جیسا کہ لفظ ‘آنکھ’ میں اس نون کا کوئی وزن نہیں ہے سو نقوی صاحب کے بقول غالب نے اس کو سبب باندھا ہے یعنی ‘بند’ کا وزن ‘بد’ یا ‘فع’ لیا ہے۔

اگر نقوی صاحب کے مفروضے کو مان لیا جائے تو پھر غالب کا مصرع وزن میں آ جاتا ہے یعنی

دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب

دل رک رک – مفعولن

کر بد ہُ – مفعول

گیا ہے غا – مفاعیلن

لب – فع

یعنی اس طرح یہ مصرع ‘مفعولن مفعول مفاعیلن فع’ کے وزن پر آ کر موزوں ہو جاتا ہے۔

اس خاکسار کی بھی رائے میں یہ غالب کی عروضی غلطی نہیں ہے، یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ غالب کو رباعی کے اوزان کا علم نہ ہو، بلکہ یہ غالب کی اجتہادی غلطی ہے کہ انہوں نے مصرعے کی دلکشی برقرار رکھنے کے لیے ‘بند’ کا غلط وزن لے لیا ہے، کیونکہ بہرحال بند میں نون مخلوط نہیں ہے بلکہ یہ لفظ فارسی کا ہے اور اس میں نون فارسی ہے جیسے ‘رنگ’ جنگ وغیرہ میں۔

 

استفسار: اقبال کی دو بیتیاں جنہیں عرف عام میں رباعی بھی کہا جاتا ہے اور غالباً اقبال نے انہیں خود بھی رباعی کہا ہے ۔ اور وہ رباعی کے اوزان میں نہیں آتے ۔کیا ان سے قطعات کو رباعی کہنے کا جواز نکلتا ہے؟ مثلاً “تراشیدم،  پرستیدم، شکستم” والا قطعہ۔

 

جواب: یہ بات تو طے ہے کہ رباعی اور قطعے میں بنیادی فرق وزن کا ہی ہے، باقی فرق ضمنی سے ہیں۔ جو دو شعر رباعی کے مذکورہ چوبیس اوزان میں ہیں وہ رباعی ہے وگرنہ قطعہ۔

اگر اس فرق کو روا نہ رکھیں تو پھر رباعی بہ حیثیت صنف کے ختم ہی جائے گی لہذا اس خاکسار کی ذاتی رائے میں اقبال نے اپنی دو بیتوں یا قطعات کو جو اپنی کتابوں میں رباعی لکھا ہے تو اس سے قطعے کو رباعی کہنے کا جواز نہیں نکلتا۔

لیکن اس بات سے ایک بڑا اہم سوال یہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ پھر اقبال نے ان دو بیتوں یا قطعات کو رباعی کیوں کہا اور ان کی زندگی میں ہی جو اردو اور فارسی کتب طبع ہوئیں ان کو رباعی ہی لکھا ہے گویا یہ ان کی اجازت سے لکھا گیا ہے حالانکہ وہ رباعی کے اوزان میں نہیں ہے۔ تو پھر کیا وجہ تھی؟ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ رباعی کے اوزان کو نہ جانتے ہوں۔

خاکسار کے محدود علم میں ایسی کوئی کتاب یا مضمون نہیں گزرا جس میں اقبال سے اس بابت میں استفسار کیا گیا ہو کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اگر علامہ کا جواب مل جاتا تو بات صاف ہو جاتی ہے لیکن اس کی غیر موجودگی ظاہر ہے ہم صرف قیاس ہی کر سکتے ہیں کہ علامہ نے ایسا کیوں کیا۔

میرے نزدیک، رباعی کا چونکہ لغوی مطلب چار مصرعے والی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اقبال نے اس وجہ سے ان قطعات کو رباعی لکھ دیا ہو۔

ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فارسی کے ایک قدیم اور مشہور شاعر ہیں بابا طاہر عریاں، انہوں نے صرف رباعیات ہی کہی ہیں اور ان کے کلام کو ‘دو بیتی’ بھی کہا جاتا ہے اور رباعی بھی حالانکہ وہ رباعی کے مروجہ اوزان میں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اقبال نے ان کے تتبع میں ایسا کیا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ فارسی کے قدیم شعرا سے لیکر ہمارے عہد کے شعرا تک، جتنے بھی مشہور رباعی گو شعرا ہیں انہوں نے جب بھی رباعی کہی رباعی کے اوزان میں ہی کہی سو رباعی اور قطعہ میں فرق ضروری ہے۔

 

محمد وارث

 

 

 

 

رباعیات

 

ابراہیم ذوق

 

سبطینِ نبی یعنی حَسن اور حُسین

زہرا و علی کے دونوں نور العین

عینک ہے تماشائے دو عالم کے لئے

اے ذوق لگا آنکھوں سے ان کی نعلین

٭٭

 

کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا

ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا

جو کچھ بھی ہوا، ہوا کرم سے تیرے

جو کچھ ہوگا، ترے کرم سے ہوگا

٭٭

 

 

 

اے ذوق کبھی تُو نہ خوش اوقات ہوا

اک دم نہ ترا صرفِ مناجات ہوا

تھا جب کہ جوان، تھا جوانِ بدمست

جب پیر ہوا، پیرِ خرابات ہوا

٭٭

 

اعلیٰ جو علی کی ہے امامت کا مقام

رکھتے ہیں خبر اُس سے یہاں خاص و عام

جو لوگ صفِ اوّلِ میثاق میں تھے

پوچھے کوئی اُن سے کہ وہ کیسا تھا امام

٭٭
دُنیا کے الم ذوق اُٹھا جائیں گے

ہم کیا کہیں کیا آئے تھے کیا جائیں گے

جب آئے تھے روتے ہوئے آپ آئے تھے

اب جائیں گے اوروں کو رُلا جائیں گے

٭٭٭

 

 

 

احمد فراز

 

 

لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ

لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ

تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی

جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ

٭٭

 

اک راہِ طویل اک کڑی ہے یارو

افتاد عجیب آ پڑی ہے یارو

کس سمت چلیں کدھر نہ جائیں آخر

دوراہے پہ زندگی کھڑی ہے یارو

٭٭

 

 

 

 

اُڑتے پنچھی شکار کرنے والو

گلزار میں گیر و دار کرنے والو

کتنی کلیاں مَسل کے رکھ دیں تم نے

تزئینِ گُل و بہار کرنے والو

٭٭

 

ظلمات کو موجِ نور کیسے سمجھیں

پھر برق کو برقِ طور کیسے سمجھیں

مانا کہ یہی مصلحت اندیشی ہے

ہم لوگ مگر حضور کیسے سمجھیں

٭٭

 

جب روح کسی بوجھ سے تھک جاتی ہے

احساس کی لَو اور بھڑک جاتی ہے

میں بڑھتا ہوں زندگی کی جانب لیکن

زنجیر سی پاؤں میں چھنک جاتی ہے

٭٭٭

 

 

 

اسد اللہ خان غالب

 

دُکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب

دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب

واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں

سونا سوگند ہو گیا ہے غالب

٭٭

سید حیدر نظم طباطبائی نے سب سے پہلے اپنی کتاب “شرح دیوانِ غالب” میں اس پر اعتراض کیا تھا کہ اس کا دوسرا مصرع رباعی کے وزن سے خارج ہے، اس کے بعد اس رباعی پر خوب خوب بحثیں ہوئیں اور اب بھی ہوتی ہیں۔ ناقدینِ غالب اور “قتیلانِ غالب” اسے پر بہت سر پھٹول کر چکے، قتیلِ غالب ہوں سو سید قدرت اللہ نقوی کی بات سے اتفاق کرتا ہوں جنہوں نے اس مصرعے کو با وزن ثابت کیا ہے۔ اور اس پر کچھ بحث اس کتاب کے ابتدائی حصے میں آ چکی ہے۔

 

جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہری

کہتے ہیں مجھے وہ رافضی و دھری

دھری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی

شیعی کیوں کر ہو ماوراء النّہری

٭٭

 

 

مشکل ہے ز بس کلام میرا، اے دِل

سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامِل

آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش

گویم مشکل، و گر نہ گویم مشکِل

٭٭

 

آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفال

ہے سوزِ جگر کا بھی اُسی طَور کا حال

تھا موجدِ عشق بھی قیامت کوئی

لڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال

٭٭

 

دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا

اُس سے گلہ مند ہو گیا ہے گویا

پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں

غالب، منہ بند ہو گیا ہے گویا

٭٭

 

کہتے ہیں “کہ اب وہ مَردم آزار نہیں

عشّاق کی پرسش سے اسے عار نہیں”

جو ہاتھ کے ظلم سے اٹھایا ہوگا

کیوں کر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں

 

یہ رباعی صنعتِ ایہام (ایہام گوئی) کی بہترین مثال ہے، اس صنعت میں شاعر کوئی ذو معنی لفظ استعمال کر کے دو معنی بیان کرتا ہے اور دونوں صحیح ہوتے ہیں، ایک سامنے ہوتا اور فوری سمجھ میں آ جاتا ہے، دوسرا بعید اور کچھ تامل سے سمجھ میں آتا ہے۔ اور شاعر کی مراد عموماً بعید معنی ہوتے ہیں۔ اس رباعی میں ہاتھ اٹھانا ذو معنی ہے، ظلم کرنے کے لیئے ہاتھ اٹھانا سامنے ہے اور کسی کام سے ہاتھ اٹھا لینا بعید۔

٭٭٭

 

 

 

اکبر الٰہ آبادی

 

 

بے سود ہے گنج و مال و دولت کی تلاش

ذلّت ہے دراصل جاہ و شوکت کی تلاش

اکبر تو سرورِ طبع کو علم میں ڈھونڈ

محنت میں کر سکون و راحت کی تلاش

٭٭

 

غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھّا

افعالِ مضر سے کچھ نہ کرنا اچھّا

اکبر نے سنا ہے اہلِ غیرت سے یہی

جینا ذلّت سے ہو تو مرنا اچھّا

٭٭

 

 
اونچا نیت کا اپنی زینہ رکھنا

احباب سے صاف اپنا سینہ رکھنا

غصّہ آنا تو نیچرل ہے اکبر

لیکن ہے شدید عیب کینہ رکھنا

٭٭٭

 

 

 

الطاف حسین حالی

 

 

کیا پاس تھا قولِ حق کا، اللہ اللہ

تنہا تھے، پہ اعدا سے یہ فرماتے تھے شاہ

میں اور اطاعتِ یزیدِ گمراہ

لا حَولَ و لا قُوّۃَ الّا باللہ

٭٭

 

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے

مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

٭٭

 

 

 

ہندو سے لڑیں نہ گبر سے بیر کریں

شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں

جو کہتے ہیں یہ کہ، ہے جہنّم دنیا

وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں

٭٭

 

ہے عشق طبیب دل کے بیماروں کا

یا گھر ہے وہ خود ہزار آزاروں کا

ہم کچھ نہیں جانتے پہ اتنی ہے خبر

اک مشغلہ دلچسپ ہے بیکاروں کا

٭٭
بُلبُل کی چمَن میں ہم زبانی چھوڑی

بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی

جب سے دلِ زندہ تُو نے ہم کو چھوڑا

ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

٭٭

 

 

حالی رہِ راست جو کہ چلتے ہیں سدا

خطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیروں کا

لیکن اُن بھیڑیوں سے واجب ہے حذر

بھیڑوں کے لباس میں ہیں جو جلوہ نما

٭٭

 

جو لوگ ہیں نیکیوں میں مشہور بہت

ہوں نیکیوں پر اپنے نہ مغرور بہت

نیکی ہی خود اک بدی ہے گر ہو نہ خلوص

نیکی سے بدی نہیں ہے کچھ دُور بہت

٭٭

 

یاروں میں نہ پایا جب کوئی عیب و گناہ

کافر کہا واعظ نے انہیں اور گمراہ

جھوٹے کو نہیں ملتی شہادت جس وقت

لاتا ہے خدا کو اپنے دعوے پہ گواہ

٭٭

 

 

ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا

آتش پہ مغاں نے راگ گایا تیرا

دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے

انکار کسی سے بن نہ آیا تیرا

٭٭

 

تا زیست وہ محوِ نقشِ موہوم رہے

جو طالبِ دوستانِ معصوم رہے

اصحاب سے بات بات پر جو بگڑے

صحبت کی وہ برکتوں سے محروم رہے

٭٭

 

نیکوں کو نہ ٹھہرائیو بد اے فرزند

اک آدھ ادا ان کی اگر ہو نہ پسند

کچھ نقص انار کی لطافت میں نہیں

ہوں اس میں اگر گلے سڑے دانے چند

٭٭

 

 

ہو عیب کی خُو کہ ہو ہنر کی عادت

مشکل سے بدلتی ہے بشر کی عادت

چھٹتے ہی چھٹے گا اس گلی میں جانا

عادت اور وہ بھی عمر بھر کی عادت

٭٭

 

مرنے پہ مرے وہ روز و شب روئیں گے

جب یاد کریں گے مجھے تب روئیں گے

الفت پہ، وفا پہ، جاں نثاری پہ مری

آگے نہیں روئے تھے تو اب روئیں گے

٭٭٭

 

 

 

 

امجد حیدرآبادی

 

رخ مہر ہے، قد خطِ شعاعی کی طرح

وہ گلّہٴ امّت میں ہے راعی کی طرح

اس خاتمِ انبیاء کا آخر میں ظہور

ہے مصرعہ آخرِ رباعی کی طرح

٭٭

 

کچھ اپنا پتا اس نے بتایا تو نہیں

اب تک اس کا سراغ پایا تو نہیں

ملتی ہوئی ہے دل کی کھٹک آہٹ سے

دیکھو، دیکھو، کہیں وہ آیا تو نہیں

٭٭

 

 

غم سے ترے اپنا دل نہ کیوں شاد کروں

جب تو سنتا ہے، کیوں فریاد کروں

میں یاد کروں تو توٗ مجھے یاد کرے

توٗ یاد کرے تو میں نہ کیوں یاد کروں

٭٭

 

گردش کیوں کو بکو ہے، معلوم نہیں

دل کی کیا آرزو ہے، معلوم نہیں

جب دیکھئے جستجو میں سر گرداں ہوں

کس چیز کی جستجو ہے معلوم نہیں

٭٭

 

کس متن کی تفسیر ہوں، معلوم نہیں

کس ہاتھ کی تحریر ہوں معلوم نہیں

میں ہوں کہ مرے پردے میں ہے اور کوئی

صورت ہوں کہ تصویر ہوں، معلوم نہیں

٭٭

 

 

ہر چیز مسبّبِ سبب سے مانگو

منت سے، خوشامد سے، ادب سے مانگو

کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو

بندے ہو اگر رب کے تو رب سے مانگو

٭٭

 

پہنچا ہے سرِ عرش مقدر میرا

مرکز پہ ہوا ہے ختم چکر میرا

ہے سارے جہاں کا سر مرے قدموں پر

تیرے قدموں پہ جب سے ہے سر میرا

٭٭

 

ہر ذرّہ پہ فضلِ کبریا ہوتا ہے

اک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے

اصنام دبی زباں سے یہ کہتے ہیں

وہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے

٭٭

 

 

ضائع فرما نہ سرفروشی کو مری

مٹی میں ملا نہ گرم جوشی کو مری

آیا ہوں کفن پہن کے اے ربِّ غفور

دھبّا نہ لگے سفید پوشی کو مری

٭٭

 

مفلس ہوں نہ مال ہے نہ سرمایہ ہے

کیا پوچھتا ہے مجھ سے تو، کیا لایا ہے

امجد تری رحمت کے بھروسے یارب

بند آنکھ کیے یوں ہی چلا آیا ہے

٭٭

 

بجتا ہو ستار اور مضراب نہ ہو

پھیلی ہوئی چاندنی ہو، مہتاب نہ ہو

میں، میں نہیں ہو سکتا نہ ہو تو جب تک

ممکن ہی نہیں، حباب ہو، آب نہ ہو

٭٭

 

اک اک کی تاک میں لگا رہتا ہے

خوں ایک کا اک کے ہاتھ سے بہتا ہے

انسان کے خبثِ باطنی کے آگے

شیطان بھی لاحول ولا پڑھتا ہے

٭٭

 

ہر دم اس کی عنایتِ تازہ ہے

اس کی رحمت بغیر اندازہ ہے

جتنا ممکن ہے کھٹکھٹاتے جاؤ

یہ دستِ دعا خدا کا دروازہ ہے

٭٭

 

بچپن ہی کے پہلو میں جوانی بھی تو ہے

باقی ہی کی آغوش میں فانی بھی تو ہے

سمجھے ہو غلط روح جدا، جسم جدا

جو برف کی شکل ہے، وہ پانی بھی تو ہے

٭٭٭

 

 

 

امیر مینائی

 

 

بالفرض حیاتِ جاودانی تم ہو

بالفرض کہ آبِ زندگانی تم ہو

ہم سے نہ ملو تو خاک سمجھیں تم کو

لیں نام نہ پیاس کا جو پانی تم ہو

٭٭

 

غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو

مانند نظر ہم سے نہاں رہتے ہو

ہر چند کہ آنکھوں میں ہو تم، دل میں ہو تم

معلوم نہیں پر کہ کہاں رہتے ہو

٭٭

 

 

کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں

دیکھے نہ وہ دشمن بھی جو ہم دیکھتے ہیں

اس ظلم پہ اس جور پہ خاموش رہے

ایسا تو جہاں میں کوئی کم دیکھتے ہیں

٭٭٭

 

 

جوش ملیح آبادی

 

 

کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین

چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

٭٭

 

اوہام کو ہر قَدَم پہ ٹھکراتے ہیں

اَدیان سے ہر گام پہ ٹکراتے ہیں

لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حُسین

ہم اہلِ خَرابات بھی جھُک جاتے ہیں

٭٭

 

 

سینے پہ مرے نقشِ قَدَم کس کا ہے

رندی میں یہ اَجلال و حَشَم کس کا ہے

زاہد، مرے اس ہات کے ساغر کو نہ دیکھ

یہ دیکھ کہ اس سر پہ عَلَم کس کا ہے

٭٭

 

اِس وقت سَبُک بات نہیں ہو سکتی

توہینِ خرابات نہیں ہو سکتی

جبریلِ امیں آئے ہیں مُجرے کے لیے

کہہ دو کہ ملاقات نہیں ہو سکتی

٭٭

 

لفظِ “اقوام” میں کوئی جان نہیں

اک نوع میں ہو دوئی، یہ امکان نہیں

جو مشرکِ یزداں ہے وہ ناداں ہے فقط

جو مشرکِ انساں ہے وہ انسان نہیں

٭٭

 

 

کاش اہلِ چمن یہ باغباں کو سمجھائیں

جھونکوں کو یہ حکم دے کہ دھومیں نہ مچائیں

تا صبح کو غنچوں کے چٹکنے کی صدا

مرجھائے ہوئے پھول نہ سننے پائیں

٭٭

 

انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے

ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے

کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے

تا دیر اس آواز کو دیکھا میں نے

٭٭

 

زر دار کا خنّاس نہیں جاتا ہے

ہر آن کا وسواس نہیں جاتا ہے

ہوتا ہے جو شدّتِ ہوس پر مبنی

تا مرگ وہ افلاس نہیں جاتا ہے

٭٭

 

دل کی جانب، رجوع ہوتا ہوں میں

سر تا بقدم، خضوع ہوتا ہوں میں

جب مہرِ مُبیں غروب ہو جاتا ہے

پیمانہ بکف، طلوع ہوتا ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

خوشی محمد ناظر

 

 

مستوں میں نہیں وہ عشق و مستی باقی

وہ پیرِ مغاں ہے اور نہ ساقی باقی

مے خانہ میں مے حافظ و رومی کی نہیں

باقی ہے برانڈی اور وسکی باقی

٭٭

 

اِس گل میں ہے رنگِ گُلسِتانی کیا کیا

ہے خاک میں آبِ زندگانی کیا کیا

انساں کی نظر ہی سطح بیں ہے ورنہ

ہر شے میں ہیں اسرارِ نہانی کیا کیا

٭٭٭

 

 

شاہ نصیر

 

 

بدلی ہے زمانے کی ہوا و تاثیر

صد چاک کروں کیوں نہ گریباں کو نصیر

آنسو کو سمجھتا تھا میں نور دیدہ

آخر کو ہوا یہ بھی مرا دامن گیر

٭٭

 

جو اشک کہ آنکھوں سے جدا ہوتا ہے

مژگاں تلک آیا کہ فنا ہوتا ہے

آنکھوں سے کسی کی کوئی یا رب نہ گرے

آنکھوں کا گرا بہت برا ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

صادقین

 

ہم، حُسن پرستی کے قرینوں کے لیے

ہو جاتے ہیں معتکف مہینوں کے لیے

تصویر بناتے ہیں خود اپنی خاطر

اور شاعری کرتے ہیں حسینوں کے لیے

٭٭

 

کرتا ہے یہ شور و شین، آیا کیوں ہے؟

کیا اس کو نہیں ہے چین، آیا کیوں ہے؟

خیّام نے سرمد سے یہ پوچھا، آخر

اِس کُوچے میں صادقین آیا کیوں ہے؟

٭٭

 

 

ہو شغلِ مے و جام میں، آوارہ ہو

لگ جاؤ کسی کام میں، آوارہ ہو

اے سیّدِ صادقین احمد نقوی

کیوں کوچۂ خیّام میں آوارہ ہو

٭٭

 

جاناں کے جمال کا جو کچھ ہو ادراک

ہو جاتی ہے اظہار کی صورت بیباک

لیلائے خیالات کا تن ڈھانپنے کو

ہیں طغرہ و تصویر و رباعی پوشاک

٭٭

 

میں خانۂ زر دار سجاؤں کیسے؟

افسانہ، حقیقت کو بتاؤں کیسے؟

موجود ہیں زندہ خار، آخر تصویر

اِن کاغذی پھولوں کی بناؤں کیسے؟

٭٭

 

ہم اپنے ہی دل کا خوں بہانے والے

اک نقشِ محبّت ہیں بنانے والے

عشرت گہِ زر دار میں کھینچیں تصویر؟

ہم کوچۂ جاناں کو سجانے والے

٭٭

 

خون اپنا بہانے کو ہے حاضر فنکار

اِس بات پہ لیکن وہ نہیں ہے تیّار

جاسوس جہاں کھیل رہے ہوں پتّے

ہو ایسی کمیں گاہ میں اُس کا شہکار

٭٭

 

کر کے کوئی تدبیر نہیں کھینچنے کا

نقش ایسا یہ دلگیر نہیں کھینچنے کا

رانی کی بناؤں گا کہ مہ وش وہ ہے

راجہ کی میں تصویر نہیں کھینچنے کا

٭٭

 

ہر نقش میں تھا جلوۂ ایماں ساقی

آ کر ہوئے مایوس و پریشاں ساقی

کل میری نمائش میں بڑے مولوی آئے

یہ سُن کے کہ تصویریں ہیں عریاں ساقی

٭٭

 

حرفِ غیرت مٹا گیا ہے پانی

نقشِ وحشت بنا گیا ہے پانی

سُن کر مری تصویروں کے دو اک عنوان

ملّاؤں کے منہ میں آ گیا ہے پانی

٭٭

 

میں نے، تھی جگہ خالی، تو لکھّیں آیات

دیکھیں لٹیں جب کالی تو لکھّیں آیات

آیات کو دیکھا تو بنائے مکھڑے

مکھڑوں پہ نظر ڈالی تو لکھّیں آیات

٭٭

 

 

دیکھا قد و گیسو میں کمالِ محبوب

اُف کتنے حسیں ہیں خد و خالِ محبوب

یہ طغرہ و تصویر نہیں لوحوں پر

ہے سایۂ سایۂ جمالِ محبوب

٭٭

 

یہ دیکھ کے، رکھتا ہے خیالاتِ جدید

اس کو زر و دینار سے نفرت ہے شدید

پھر رُوح القدس کے ہاتھ بھیجی تھی مجھے

ابجد کے خزانے کی مشّیت نے کلید

٭٭

 

منہ میں لیے اک چاندی کا چمچہ ساقی

دشمن ہوا اک قصر میں پیدا ساقی

اور چٹکی میں ابجد کے خزانے کی کلید

میں لے کے ہوں آفاق میں آیا ساقی

٭٭

 

 

مہ پاروں کے گھیرے میں بھی لکھ سکتا ہوں

شام اور سویرے میں بھی لکھ سکتا ہوں

مکھڑوں کے تصوّر کے جلا کے میں چراغ

زلفوں کے اندھیرے میں بھی لکھ سکتا ہوں

٭٭

 

لو وادیِ الہام میں آ پہنچا ہے

لو، مملکتِ جام میں آ پہنچا ہے

مانی بھی اُسی شوخ کا جلوہ کرنے

اب کوچۂ خیّام میں آ پہنچا ہے

٭٭

 

ہیں گیسو و ابرو کے یہی خم اے یار

خامے میں ہے موقلم کا عالَم اے یار

عرفی کم و بیش تھا مصوّر جتنا

اتنا ہی میں شاعر ہوں کم از کم اے یار

٭٭

 

 

دو دن کو ہوں اس شہر میں اشعار کے میں

جو کچھ ہے چلا جاؤں گا سب ہار کے میں

کرتا ہوں نگارِ شعر، تیری خاطر

معشوقۂ تصویر کا حق مار کے میں

٭٭

 

عاشق کے لیے رنج و الم رکھے ہیں

شاہوں کے لیے تاج و علم رکھے ہیں

میرے لیے کیا چیز ہے؟ میں نے پوچھا

آئی یہ صدا لوح و قلم رکھے ہیں

٭٭

 

اس صنف پہ عاشق تھا گواہی دو نجوم

تختی پہ لکھا کرتا تھا جب تھا معصوم

طفلی میں رباعیاں کئی تھیں مجھے یاد

کیا لفظ غزل ہے یہ نہیں تھا معلوم

٭٭

 

 

روٹھا جو جمال ہے منایا میں نے

اک جشنِ وصال ہے منایا میں نے

اس عمرِ عزیز کا رباعی کہہ کر

چالیسواں سال ہے منایا میں نے

٭٭

 

تخلیق میں معتکف یہ ہونا میرا

اب تک شبِ ہستی میں نہ سونا میرا

خطّاطی ادھر ہے تو ادھر نقّاشی

وہ اوڑھنا میرا یہ بچھونا میرا

٭٭

 

مکھڑے کی تو تنویر سے باتیں کی تھیں

اور زلف کی زنجیر سے باتیں کی تھیں

کل اک تری تصویر بنا کر میں نے

پھر کچھ تری تصویر سے باتیں کی تھیں

٭٭

 

 

ایک بار میں ساحری بھی کر کے دیکھوں

کیا فرق ہے شاعری بھی کر کے دیکھوں

تصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نے

شعروں میں مصوّری بھی کر کے دیکھوں

٭٭

 

کیں لغزشیں شاعری میں واپس آیا

پھر کوچۂ بت گری میں واپس آیا

تصویروں نے سینے سے لگایا مجھ کو

جب شہرِ مصوّری میں واپس آیا

٭٭

 

وعدہ جو کیا نورِ سحر سے میں نے

مقتل میں وفا کیا وہ سر سے میں نے

جلّاد کا کرنے کے لیے استقبال

چھڑکاؤ کیا خونِ جگر سے میں نے

٭٭

 

 

یہ تو نہیں قدرت کا اشارہ نہ ہوا

میں پھر چلا سوئے کفر، یارا نہ ہوا

اسلام سے بندے کا مشرّف ہونا

اسلام کے مفتی کو گوارا نہ ہوا

٭٭

 

سختی سے چٹانوں کی نہ ہمّت ہارا

پھر موم سے بھی نرم تھا سنگِ خارا

پھوٹا وہیں فوّارۂ آبِ شیریں

کل سنگ پہ پھاؤڑہ جو میں نے مارا

٭٭

 

دنیا کو اٹھا تھا میں دکھانے کیا کیا

دنیا ہی سے بیٹھا ہوں چھپانے کیا کیا

قالین کے اوپر ہیں صحیفے لیکن

قالین کے نیچے ہے نہ جانے کیا کیا

٭٭

 

 

دل کی مرے دنیا کہ بڑی ہے کالی

باتوں میں مری چھائی ہوئی ہریالی

جس شخص کو دیتا ہوں میں دل میں گالی

کہتا ہوں زبان سے، جنابِ عالی

٭٭٭

 

 

عبدالعزیز خالد

 

 

جس جانِ جہاں کی تھی زمانے کو تلاش

مقتولِ پس و پیش ہے، مصلوبِ معاش

ہیں عزم کی لاشوں کے دو رویہ انبار

از چوکِ “اگر” تا بہ عزا خانۂ “کاش”

٭٭

 

کرتے ہیں طلب جوع و خیانت سے پناہ

قوموں کو کیا کثرتِ عصیاں نے تباہ

ہوتی نہیں فاسق کی مناجات قبول

رستے میں دعا کو روک لیتے ہیں گناہ

٭٭

 

آوازِ قَلَم کو بانگِ نَے کہتے ہیں

خوننابۂ دل کو موجِ مَے کہتے ہیں

لا شَی کو مجسّم و مصوّر کر کے

ہم صورت گر “نہیں” کو “ہے” کہتے ہیں

٭٭

 

ادیان و مذاہب و ملل کی جنگیں

شائد ہی قیامِ حشر سے پہلے رکیں

بندے ترے اے ربِ توانا! کس سے

اس تاخت و تاراج کی فریاد کریں

٭٭

 

اے داورِ بے نیاز اے ایزدِ پاک

کرتا ہوں گلہ تجھ سے (مرے منہ میں خاک)

کیوں اس قدر اندھیر تری دنیا میں

کیوں انساں اتنا شقی، اتنا سفاک؟

٭٭

 

 

لبیک سے معمور ہے کعبے کی فضا

دن رات رہے اس میں بپا آہ و بکا

آئے کوئی اندر سے نہ اوپر سے ندا

دے منتظروں کو جو قبولی کا پتا

٭٭٭

 

 

غلام ہمدانی مصحفی

 

 

ٹُوٹا ہے پڑا ایک طرف پیمانہ

لَوٹے ہے کوئی ایک طرف مستانہ

نے ذکر ہے یاں نماز نے روزے کا

مسجد نہ ہوئی، ہوا یہ قہوہ خانہ

٭٭

 

مارے تپِ غم کے میں گلا جاتا ہوں

اس داغِ جگر سے سب جلا جاتا ہوں

موقوف بہ خس نہیں ہے جلنا میرا

جوں شمع کھڑا ہوں اور جلا جاتا ہوں

٭٭

 

نے شکوہٴ دورِ آسمانی کیجے

نے ذکرِ شہاں نہ پاسبانی کیجے

اے مصحفی اب تو اس زمانے کے بیچ

جس طرح سے ہووے زندگانی کیجے

٭٭

 

افسوس کہ دل کی بے قراری نہ گئی

فریاد و فغان و آہ و زاری نہ گئی

وہ کونسا روز ہے کہ تجھ بن جوں شمع

روتے ہوئے مجھ کو رات ساری نہ گئی

٭٭

 

جو اشک ان آنکھوں سے جدا ہوتا ہے

مژگاں تلک آیا کہ فنا ہوتا ہے

نظروں سے گرے نہ کوئی(1) کسی کی یارب

نظروں سے گرا بہت برا ہوتا ہے

1- کوئی بروزن “فع” باندھا ہے (کلیاتِ مصحفی، دیوانِ اول، مجلس ترقی ادب، لاہور 1968ء)

٭٭٭

 

 

فراق گورکھپوری

 

 

ہر جلوہ سے اِک درسِ نَمُو لیتا ہوں

چھلکے ہوئے صد جام و سبو لیتا ہوں

اے جانِ بہار تجھ پہ پڑتی ہے جب آنکھ

سنگیت کی سرحدوں کو چھُو لیتا ہوں

٭٭

 

تُو ہاتھ کو جب ہاتھ میں لے لیتی ہے

دکھ درد زمانے کے مٹا دیتی ہے

سنسار کے تپتے ہوئے ویرانے میں

سکھ شانت کی گویا تو ہری کھیتی ہے

٭٭٭

 

 

قاضی حبیب الرحمان

 

بے قیدِ زمانی و مکانی کوئی

دل میں ہے دمکتی راجدھانی کوئی

اِمکان و مُحال کے مباحث سے وَرا

اے مُطربِ جاں، رام کہانی کوئی

٭٭

 

شب، خواب میں کیا عقدِ ثُریّا ڈولے

صبح آئے تو تعبیر کی نیّا ڈولے

رفتار کی تیزی نے سنبھالا ہُوا ہے

ممکن نہیں تقدیر کا پیّا ڈولے

٭٭

 

 

ہر شاخ پہ یہ شورِ عنادل کیا ہے؟

ہر موجِ صبا، موجِ سلاسل، کیا ہے؟

ہر منظرِ خوش دیکھ کے غمگیں رہنا

کھُلتا نہیں کچھ کہ یہ مرا دل، کیا ہے

٭٭٭

 

 

قتیل شفائی

 

 

آئندہ نہ آنکھوں سے اُتاروں گا غلاف

کر دے یہ خطا اے مرے اللہ معاف

یہ دیکھ مرے ماتھے پہ تازہ اک زخم

بولا ہوں میں فرسودہ رواجوں کے خلاف

٭٭

 

دریافت کرے وزن ہوا کا مجھ سے

پوچھے وہ کبھی رنگ صدا کا مجھ سے

ڈرتا ہوں وہ معلوم نہ کر بیٹھے کہیں

کیا ناطہ ہے ساون کی گھٹا کا مجھ سے

٭٭

 

 

سانپوں کی طرَح شُوک رہا ہے واعظ

ہے گھاگ مگر چُوک رہا ہے واعظ

خاموش رہو اور تماشہ دیکھو

سورج پہ اگر تھُوک رہا ہے واعظ

٭٭٭

 

 

 

محمد وارث

 

 

شکوہ بھی لبوں پر نہیں آتا ہمدَم

آنکھیں بھی رہتی ہیں اکثر بے نَم

مردم کُش یوں ہوا زمانے کا چلن

اب دل بھی دھڑکتا ہے شاید کم کم

٭٭

 

ہے تیر سے اُلفت نہ نشانے سے ہمیں

کھونے سے غرَض کوئی، نہ پانے سے ہمیں

سو بار کہے ہمیں سگِ لیلیٰ، خلق

کچھ بھی نہیں چاہیے زمانے سے ہمیں

٭٭

 

 

بکھرے ہوئے پھولوں کی کہانی سُن لے

ہے چار دنوں کی زِندگانی سُن لے

پیری میں تو ہوتے ہیں سبھی وقفِ عشق

کرتا ہے خراب کیوں جوانی، سُن لے

٭٭

 

سوچا ہے سیاست پہ لکھوں گا میں بھی

یعنی کہ غلاظت پہ لکھوں گا میں بھی

اپنی تو نظر آتی نہیں کوئی برائی

اوروں کی نجاست پہ لکھوں گا میں بھی

٭٭

 

اک رسم تھی، سو ہے اب تلک وہ جاری

محنت جو لگی خوب تو چوٹیں کاری

جانے کیا سوچ کے بنایا تھا بلاگ

خود ہی میں لکھاری ہوں خود ہی قاری

٭٭

 

محبوب کے انکار میں اقرار کو دیکھ

اپنوں پہ نظر رکھ، نہ تُو اغیار کو دیکھ

کیوں ہوتا ہے گرفتہ دل میرے اسد

چھوڑ اس کی برائیاں فقط “یار” کو دیکھ

٭٭

 

کیا محفلِ اردو کی کروں میں توصیف

ثانی ہے کوئی جس کا نہ کوئی ہے حریف

دیکھے ہیں کثافت سے بھرے فورم، پر

اک نور کی محفل ہے، ہے اتنی یہ لطیف

٭٭٭

 

 

مرزا رفیع سودا

 

 

گر یار کے سامنے میں رویا تو کیا

مژگاں میں جو سخت دل پرویا تو کیا

یہ دانۂ اشک سبز ہو نامعلوم

اس شور زمیں میں تخم بویا تو کیا

٭٭

 

گر مہ سے بلندی میں ہوا تو دہ چند

پستوں کی طرف دیکھ کے مت ہو خورسند

جتنے کہ بلندوں کی ہیں نظروں میں پست

پستوں کی بھی نظروں میں ہیں اتنے ہی بلند

٭٭

 

ایوانِ عدالت میں تمھارے اے شاہ

کیا ظلم کو ہے دخل عیاذًا باللہ

شیشے کا جو واں طاق سے رپٹے بھی پاؤں

پتھّر سے نکلتی ہے صدا، بسم اللہ

٭٭٭

 

 

مومن خان مومن

 

 

اب ہم پہ جو ہر گھڑی وہ جھنجھلاتے ہیں

الطافِ قدیم آہ یاد آتے ہیں

تھا یا تو وہ لطف یا یہ نفرت، اللہ

لوگ ایسے بھی دنیا میں بدل جاتے ہیں

٭٭

 

آتش دلِ زار میں لگائی اس نے

برسوں جانِ حزیں جلائی اس نے

پھینکا مجھ پر کل اختلاطاً پانی

بھڑکی ہوئی کیا آگ بجھائی اس نے

٭٭

 

 

مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے

جو رنگ ہو آدمی خوش اسلوب بنے

کیا خرقہ و عمامہ ہے اللہ اللہ

جب شکل بگڑ گئی تو تم خوب بنے

٭٭
جب سے وہ گئے ادھر نہیں ‌یاد کیا

بھیجی نہیں کچھ خبر، نہیں یاد کیا

ہم یاد میں جس کی آہ سب کچھ بھولے

اُس نے ہمیں بھول کر نہیں‌ یاد کیا

٭٭٭

 

 

میر انیس

 

 

عزّت رہے یارو آشنا کے آگے

محجوب نہ ہوں شاہ و گدا کے آگے

یہ پاؤں چلیں تو راہِ مولا میں چلیں

یہ ہاتھ جب اٹھیں تو خدا کے آگے

٭٭

 

پیری سے بدن زار ہوا زاری کر

دنیا سے انیس اب تو بیزاری کر

کہتے ہیں زبانِ حال سے موئے سپید

ہے صبحِ اجل کوچ کی تیاری کر

٭٭

 

 

آغوشِ لحد میں جبکہ سونا ہوگا

جُز خاک نہ تکیہ نہ بچھونا ہوگا

تنہائی میں آہ کون ہووے گا انیس

ہم ہوویں گے اور قبر کا کونا ہوگا

٭٭

 

خاموشی میں یاں لذتِ گویائی ہے

آنکھیں ہیں بند عین ِ بینائی ہے

نے دوست کا جھگڑا ہے نہ دشمن کا فساد

مرقد بھی عجب گوشۂ تنہائی ہے

٭٭

 

کس مُنہ سے کہوں لائق تحسیں میں ہوں

کیا لطف جو گُل کہے کہ رنگیں میں ہوں

ہوتی ہے حلاوتِ سخن خود ظاہر

کہتی ہے کہیں شکر کہ شیریں میں ہوں؟

٭٭

 

سینے میں یہ دم شمعِ سحر گاہی ہے

جو ہے اس کارواں میں وہ راہی ہے

پیچھے کبھی قافلہ سے رہتا نہ انیس

اے عمرِ دراز تیری کوتاہی ہے

٭٭

 

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے

وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے

کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی

جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے

٭٭

 

گوہر کو صَدَف میں آبرو دیتا ہے

بندے کو بغیر جستجو دیتا ہے

انسان کو رزق، گُل کو بُو، سنگ کو لعل

جو کچھ دیتا ہے جس کو، تُو دیتا ہے

٭٭

 

 

پہنچا جو کمال کو وطن سے نکلا

قطرہ جو گہر بنا عدن سے نکلا

تکمیلِ کمال کی غریبی ہے دلیل

پختہ جو ثمر ہوا چمن سے نکلا

٭٭

 

پیری آئی اعضا سب چور ہوئے

یارانِ شباب پاس سے دور ہوئے

رہتی ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس

جو مشک سے بال تھے وہ کافور ہوئے

٭٭

 

کیا کیا دنیا سے صاحبِ مال گئے

دولت نہ گئی ساتھ، نہ اطفال گئے

پہنچا کے لحد تلک پھر آئے سب لوگ

ہمراہ اگر گئے تو اعمال گئے

٭٭

 

 

گُلشن میں پھروں کہ سیرِ صحرا دیکھوں

یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں

ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے

حیراں ہُوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

٭٭

 

آدم کو عجَب خدا نے رتبا بخشا

ادنیٰ کے لیے مقامِ اعلیٰ بخشا

عقل و ہنر و تمیز و جان و ایمان

اِس ایک کفِ خاک کو کیا کیا بخشا

٭٭

 

کیوں زر کی ہوَس میں دربدر پھرتا ہے

جانا ہے تجھے کہاں؟ کدھر پھرتا ہے؟

اللہ رے پیری میں ہوَس دنیا کی

تھک جاتے ہیں جب پاؤں تو سر پھرتا ہے

٭٭

 

 

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا

جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

٭٭

 

افسوس زمانے کا عجَب طَور ہوا

کیوں چرخِ کہن آج نیا دَور ہوا

بس یاں سے کہیں اور چلو جلد انیس

اب یاں کی زمیں اور، فلَک اَور ہوا

٭٭٭

 

 

میر درد

 

 

آرام نہ دن کو بے قراری کے سبب

نے رات کو چین آہ و زاری کے سبب

واقف نہ تھے ہم تو ان بلاؤں سے کبھو

یہ کچھ دیکھا، سو تیری یاری کے سبب

٭٭

 

ہم نے بھی کبھو جام و سبو دیکھا تھا

جو کچھ کہ نہیں ہے رو بہ رو، دیکھا تھا

اُن باتوں کو اب جو غور کریے اے درد

کچھ خواب سا تھا کہ وہ کبھو دیکھا تھا

٭٭

 

دیکھا ہے مَیں زندگی کا جب سے سپنا

جلنا ہی سدا ہے مجھ کو، نِت ہے کھپنا

تقصیر معاف تب ہی ہوگی اے درد

جوں شمع کروں گا جب قدم بوس اپنا

٭٭

 

اے درد، اگرچہ مے میں ہے جوش و خروش

رہتے ہیں ولے اہلِ تامّل خاموش

موجوں کو شراب کی وہ پی جاتے ہیں

گرداب کی مانند جو ہیں دریا نوش

٭٭٭

 

 

میر مہدی مجروح

 

 

یارب تو گناہوں کو چھپانا میرے

اس حالِ زبوں پہ رحم کھانا میرے

محشر میں نہ ہوگی منہ دکھانے کی جگہ

جو میں نے کیا، نہ منہ پہ لانا میرے

٭٭

 

اسباب ہیں ایسے کہ پراگندہ ہوں

اور شرم معاصی سے سرافگندہ ہوں

یا ارحم الراحمیں کرم کی ہو نگاہ

گو غرقِ گنہ ہوں پر ترا بندہ ہوں

٭٭٭

 

 

میر تقی میر

 

 

ہر لحظہ جلاتا ہے، کُڑھاتا ہے مجھے

ہر آن ستاتا ہے کھپاتا ہے مجھے

کل میں نے کہا، “رنج سے حاصل میرے؟”

بولا، ترا آزار خوش آتا ہے مجھے

٭٭

 

مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا

میخانہ میں جوشِ بادہ نوشاں دیکھا

یک گوشۂ عافیت جہاں میں ہم نے

دیکھا سو محلّۂ خموشاں دیکھا

٭٭٭

 

 

یاس یگانہ چنگیزی

 

 

دن رات اسے ہے دال روٹی کا دھیان

رہنے کو مکاں نہ خواب و خور کا سامان

مفلس کا شباب ایسا بے قدر ہوا

جیسے ہو ذلیل بے بلایا مہمان

٭٭

 

نظّارۂ بیدار بھی مہمل ٹھہرا

ہے ایک سے بڑھ کے ایک پردہ گہرا

افسانۂ شاہدِ حقیقت باطل

کہتا گونگا ہے اور سُنتا بہرا

٭٭

 

راتیں یونہی کٹ جاتی ہیں روتے روتے

دن جاتے ہیں منہ اشکوں سے دھوتے دھوتے

دامن کو چھڑا کر وہ گیا ہے جب سے

ہاتھوں کے اسی دن سے اڑے ہیں توتے

٭٭

 

پچھتائے ہیں خضر بھی کچھ ایسے پی کر

آئے نہ پلٹ کے پھر کبھی اپنے گھر

روپوش ہوئے ہیں دامنِ صحرا میں

اے آبِ حیات، خاک تیرے سر پر

٭٭٭

 

 

متفرق رباعیات

 

 

تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی

اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی

میخانے نے رنگ روپ بدلا ایسا

میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی

(ابوالکلام آزاد)

٭٭

 

تحقیق کو بے سود سمجھنے والو

انسان کو بے سود سمجھنے والو

تقدیر و توکل سے عمل بہتر ہے

اے وہم کو معبود سمجھنے والو

(احسان دانش)

٭٭

 

 

میخانہ بدوش ہیں گھٹائیں ساقی

پیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقی

اک جام پلا کے مست کر دے مجھ کو

غارت گرِ ہوش ہیں ہوائیں ساقی

(اختر شیرانی)

٭٭

 

 

تیزی نہیں منجملۂ اوصافِ کمال

کچھ عیب نہیں اگر چلو دھیمی چال

خرگوش سے لے گیا ہے کچھوا بازی

ہاں راہِ طلب میں شرط ہے استقلال

(اسمٰعیل میرٹھی)

٭٭

 

قائل ہم بھی ہیں دوزخ و جنت کے

معنی کے ہیں معتقد نہیں صورت کے

دوزخ، تاریکیاں تری دوری کی

جنت، انوار ہیں تری قربت کے

(تلوک چند محروم)

٭٭

 

 

دنیا میں رسول اور بھی لاکھ سہی

زیبا ہے مگر حضور کو تاجِ شہی

ہے خاتمۂ حسنِ عناصر ان پر

ہیں مصرعۂ آخر اس رباعی کے وہی

(حامد حسین قادری)

٭٭

 

 

دل میں ہوسِ درہم و دینار نہ رکھ

خم پشت ہے عصیاں کا بہت بار نہ رکھ

پیری میں سر اِس غرض سے ہلتا ہے صفی

یعنی دنیا سے اب سروکار نہ رکھ

(صفی لکھنوی)

٭٭

 

 

کیا افسرِ جمشید ہے کیا دولت کَے

بیکار ہے زر فشانیِ حاتم طَے

میں بادہ گسار ہوں مجھے کافی ہے

یا ساغر ماہتاب یا ساغر مَے

(عابد لاہوری)

٭٭

 

 

ہر چند کہ موت کا طلب گار ہوں میں

رنج و الم و غم سے گرانبار ہوں میں

پر زندگی اپنی کہہ چکا ہوں تجھ کو

کس منہ سے کہوں زیست سے بیزار ہوں میں

(عبدالعلیم آسی غازی پوری)

٭٭

 

نیرنگیِ قدرت کے تماشے دیکھے

کیا کیا تری صنعت کے تماشے دیکھے

اک شکل کی لاکھوں میں نہیں دو شکلیں

کثرت میں بھی وحدت کے تماشے دیکھے

(عرش ملیح آبادی)

٭٭

 

 

سرمایۂ غفلت ہے تماشائے جہاں

بینا ہے وہ جو نہ وا کرے آنکھ یہاں

ہر پردۂ دید ہے حجابِ غفلت

عارف ہی کو کھلتا ہے یہ رازِ پنہاں

(عزیز بریلوی)

٭٭

 

 

کچھ عشق میں تو مزہ نہ پایا ہم نے

اس دل ہی کو مفت میں گنوایا ہم نے

اور جس کے لیے گنوایا دل کو جرأت

اس کو اپنا کبھی نہ پایا ہم نے

(قلندر بخش جرأت)

٭٭

 

ہے جسم مرا اور نہ جاں ہے باقی

تربت میں نہ کوئی استخواں ہے باقی

کرتا ہے خدا تو امتحاں تا دمِ زیست

پر بت کا ہنوز امتحاں ہے باقی

(ناسخ)

٭٭

 

 

ساقی مجھے پھر فکرِ جہاں نے گھیرا

میخانہ سلامت رہے دائم تیرا

تجھ سا کوئی ساقی ہے نہ مجھ سا میخوار

بھر دے بھر دے پیالہ بھر دے میرا

(ناصر کاظمی)

٭٭

 

 

غافل جو شباب میں نہیں دانا ہے

اپنا جو اُسے کہے وہ دیوانہ ہے

رہتی ہی نہیں سبزۂ عارض کی بہار

یہ رنگ ہے عارضی وہ بیگانہ ہے

(ناظر حسین خاں)

٭٭

 

 

بندوں کو ضرور اپنے صلہ دیتا ہے

دیتا ہے، طلَب سے بھی سوا دیتا ہے

تُو مانگنے والوں کی طرح مانگ کے دیکھ

ہر مانگنے والے کو خدا دیتا ہے

(نثار اکبر آبادی)

٭٭

 

 

مفہومِ عزا جاننے والے کم ہیں

احسان کو گرداننے والے کم ہیں

شبّیر ترے ماننے والے ہیں بہت

لیکن ترے پہچاننے والے کم ہیں

(نجم آفندی)

٭٭

 

 

ملتا ہوں تو سر پہلے جھکا لیتا ہوں

پھر فرشِ دل و چشم بچھا لیتا ہوں

کچھ ایسی ہے افتادِ طبیعت اپنی

دشمن کو بھی میں دوست بنا لیتا ہوں

(نجم ندوی)

٭٭

 

 

 

تجھ مُکھ کا ہے یہ پھول چَمَن کی زینت

تجھ شمع کا شعلہ ہے اَگَن کی زینت

فردوس میں نرگس نے اشارے سوں کہا

“یہ نور ہے عالم کے نَیَن کی زینت”

(ولی دکنی)

٭٭٭

 

اردو محفل کی پیشکش، ٹائپنگ اور ترتیب : محمد وارث، باسم، نوید صادق، مبارز کاشفی، اعجاز عبید اور فرخ منظور کے تعاون سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید