FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

ابو حنیفہؒ

ماخوذ سیرۃ النعمان علامہ شبلی نعمانیؒ

               تذکرۃ النعمان علامہ محمد بن یوسف دمشقیؒ

جمع و ترتیب :عبد الباسط قاسمی

 

ابو حنیفہؒ

اشراف : محمد ذکی اللہ

 

ابو حنیفہؒ

اس کتاب کے بارے میں

امام اعظم ابو حنیفہؒ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ انہیں کے مسلک کے پیروکار اور ماننے والے موجود ہیں،جو اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں، امام صاحب کے حالات زندگی پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور ہر پہلو و گوشے پر لکھی گئیں، جن میں کچھ بہت ہی ضخیم ہیں اور کچھ مختصر، ان میں سے اکثر کتابیں علمی مباحث پر مشتمل ہیں جن سے علماء اور پڑھا لکھا طبقہ ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے، عام آدمی اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئے اس کو پڑھنا اور سمجھنا ممکن نہیں ہے، اس لئے ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جو عام لوگوں کو مد نظر رکھ کر لکھی گئی ہو، جس میں امام صاحبؒ کی مکمل سوانح آسان اور سلیس زبان میں ہو، اس کے علاوہ فقہ حنفی کی خصوصیات، ترجیحات اور دلائل موجود ہوں تاکہ اس کتاب کے پڑھنے والے کو اگر ایک طرف امام صاحبؒ کے حالات زندگی سے واقفیت اور آگاہی ہو تو دوسری طرف فقہ حنفی کی خصوصیات اور ترجیحات کا بھی علم ہو، زیر نظر کتاب انہی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر تیار کی گئی ہے جس میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، یہ کتاب اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہے اس کا اندازہ اس کو پڑھنے کے بعد ہی ہو گا۔

 

تعارف

تقریباً تیرہ سو برس سے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں پھیلے ہوئے مسلمان امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے اجتہادی مسائل سے استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ دنیا کا غالب حصہ آپ کے مسائل کا پیرو ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عربی، فارسی، ترکی بلکہ یورپ کی زبانوں میں بھی آپؒ کی نہایت کثرت سے سوانح عمریاں لکھی گئیں۔ افسوس کہ ان میں سے اکثر کتابیں ہمارے ملک میں ناپید ہیں اور آپ کی سیرت پر اردو زبان میں معیاری کتب کی بے حد کمی ہے۔

بعض معتقدین نے جوشِ اعتقاد میں امام صاحبؒ کی ایسی تصویر کھینچی ہے جس سے ان کی اصلی صورت پہچانی نہیں جاتی مثلاً تیس برس تک متصل روزے رکھنا، تورات میں آپ کی بشارت کا موجود ہونا، چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنا وغیرہ وغیرہ‘‘ بالکل اسی طرح کچھ حاسدین نے تقلید کی مخالفت اور بغض و عداوت میں آپ کی بلند بالا شخصیت کو مجروح اور داغدار بنانے کی کوشش بھی کی ہے، کچھ لوگوں نے تو (معاذ اللہ) آپؒ پر ملحد، گمراہ اور مخالفِ سنتِ نبویﷺ کا الزام تک لگایا ہے۔

اس مدح سرائی اور الزام بازی کا سلسلہ آپؒ کے دور سے لے کر آج تک جاری ہے۔

لہذا اقراء و یلفیئر ٹرسٹ نے یہ ضرورت محسوس کی کہ ایک ایسی کتاب زیرِ طبع لائی جائے جو آپؒ کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہو نیز افراط و تفریط سے بالا تر ہو۔

"تذکرۃ النعمان” جو در اصل علامہ شیخ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن یوسفؒ صالحی دمشقی شافعی متوفی ۹۴۲ھ کی تصنیف "عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمانؒ” کا اردو ترجمہ ہے جسے حضرت مولانا عبد اللہ بن عبدالوہاب بستوی مہاجر مدنیؒ نے کیا ہے، اپنے موضوع پر نہایت ہی معرکۃ الآرا اور استنادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

اسی طرح علامہ شبلی نعمانیؒ کی تالیف’’ سیرۃ النعمان‘‘ امام اعظمؒ کے سوانح حیات، ان کے فقہ کی خصوصیات اور شاگردوں کے حالات پر ایک جامع اور بصیرت افروز کتاب ہے۔

زیرِ نظر کتاب کا ماخذ انہی دونوں کتابوں کو بنایا گیا ہے جس میں امام اعظمؒ کی قوتِ ایجاد، جدتِ طبع، دقتِ نظر، وسعتِ معلومات، حیات و خدمات، شانِ اجتہاد اور ان کے ذریعہ سے مسلمانوں میں جو تفقہ فی الدین کا شعور بیدار ہوا اس کا مختصر خاکہ، حتی الوسع غیر مستند واقعات اور اختلافی روایات و مسائل سے گریز کر تے ہوئے مثبت انداز میں آپ کے شیوخِ حدیث، تلامذہ، تدوینِ فقہ کا پسِ منظر، فقہ حنفی کی ترجیحات، تلامذہ، تصنیفات، آپ کی امتیازی خصوصیات، حیرت انگیز واقعات، دلپذیر باتیں اور آپ کی زندگی کے آخری احوال مثلاً عہدۂ قضا کی پیش کش، ایک سازش اور قید خانہ میں درد ناک موت وغیرہ وغیرہ کو ایک خاص اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ غرض یہ کتاب امام اعظم ابو حنیفہؒ کے تمام احوال و کمالات کا ایک مختصر علمی آئینہ ہے جو امام صاحبؒ کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔

دعاء ہے کہ اللہ رب العزت اس کتاب کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ ( آمین)

عبد الباسط قاسمی

 ریسرچ اسکالر

اقراء ویلفیئر ٹرسٹ، بنگلور


شخصی احوال

نام و نسب

نعمان نام، ابو حنیفہ کنیت اور امام اعظم آپ کا لقب ہے۔ خطیب بغدادیؒ نے شجرۂ نسب کے سلسلہ میں امام صاحبؒ کے پوتے اسماعیل کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ ’’میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں۔ ہم لوگ نسلِ فارس سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں آئے۔ ہمارے دادا ابو حنیفہ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے۔ ہمارے پر دادا ثابت بچپن میں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضرت علیؓ نے ان کے لئے بر کت کی دعا کی، اللہ نے یہ دعا ہمارے حق میں قبول فرمائی۔

امام صاحبؒ عجمی النسل تھے۔ آپؒ کے پوتے اسماعیل کی روایت سے اس قدر اور ثابت ہے کہ ان کا خاندان فارس کا ایک معزز اور مشہور خاندان تھا۔ فارس میں رئیسِ شہر کو مر زبان کہتے ہیں جو امام صاحبؒ کے پر دادا کا لقب تھا۔

اکثر مورخین فرماتے ہیں کہ آپ ۸۰ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت وہاں صحابہ میں سے عبداللہ بن ابی اوفیؓ موجود تھے، عبد الملک بن مروان کی حکومت تھی اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔

یہ وہ عہد تھا کہ رسول اللہﷺ کے جمالِ مبارک سے جن لوگوں کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں (یعنی صحابہؓ ) ان میں سے چند بزرگ بھی موجود تھے جن میں سے بعض امام حنیفہؒ کے آغازِ شباب تک زندہ رہے۔ مثلاً انس بن مالکؓ جو رسول ﷺ کے خادمِ خاص تھے ۹۳ھ میں انتقال کیا اور ابو طفیل عامر بن واثلہؓ ۱۱۰ھ تک زندہ رہے۔ ابن سعد نے روایت کی ہے۔ جس کی سند میں کچھ نقصان نہیں۔ کہ امام ابو حنیفہؒ نے انس بن مالکؓ کو دیکھا تھا حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ امام صاحبؒ نے بعض صحابہؓ کو دیکھا تھا۔

جائے ولادت

کوفہ جو امام ابو حنیفہؒ کا مولد و مسکن ہے، اسلام کی وسعت و تمدن کا گویا دیباچہ تھا۔ اصل عرب کی روز افزوں ترقی کے لئے عرب کی مختصر آبادی کافی نہ تھی۔ اس ضرورت سے حضرت عمرؓ نے سعد بن وقاصؓ کو جو اس وقت حکومتِ کسریٰ کا خاتمہ کر کے مدائن میں اقامت گزیں تھے، خط لکھا : ’’مسلمانوں کے لئے ایک شہر بساؤ جو ان کا دار الہجرت اور قرار گاہ ہو‘‘ سعدؓ نے کوفہ کی زمین پسند کی۔

۱۷ ھ میں اس کی بنیاد کا پتھر رکھا گیا۔ اور معمولی سادہ وضع کی عمارتیں تیار ہوئیں۔ اسی وقت عرب کے قبائل ہر طرف سے آ کر آباد ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں وہ عرب کا ایک خطہ بن گیا۔

حضرت عمرؓ نے یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمیوں کے لئے جو وہاں جا کر آباد ہوئے روزینے مقرر کر دیئے۔ چند روز میں جمعیت کے اعتبار سے کوفہ نے وہ حالت پیدا کی کہ جنابِ فاروقؓ کوفہ کو ’’رمح اﷲ، کنز الایمان، جمجمۃ العرب‘‘ یعنی خدا کا علم، ایمان کا خزانہ، عرب کا سر، کہنے لگے۔ اور خط لکھتے تو اس عنوان سے لکھتے تھے ’’الیٰ رأس الا سلام، الی رأس العرب۔ ‘‘ بعد میں حضرت علیؓ نے اس شہر کو دارالخلافہ قرار دیا۔

صحابہؓ میں سے ایک ہزار پچاس اشخاص جن میں چوبیس وہ بزرگ تھے جو غزوۂ بدر میں رسول اﷲﷺ کے ہمرکاب رہے تھے، وہاں گئے اور بہتوں نے سکونت اختیار کر لی۔ ان بزرگوں کی بدولت ہر جگہ حدیث و روایت کے چرچے پھیل گئے تھے اور کوفہ کا ایک ایک گھر حدیث و روایت کی درسگاہ بنا ہوا تھا۔

بشارتِ نبویﷺ

ایک حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔

اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پا سکتے ہوں تو بھی اس کو ایک فارسی آدمی پالے گا۔

جلیل القدر عالم و حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث سے قطعی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو مراد لیتے ہیں اس لئے کہ کوئی بھی فارس کا رہنے والا امام صاحبؒ کے برابر علم والا نہیں ہو سکا۔

شکل و صورت

خطیب بغدادیؒ نے امام ابو یوسفؒ سے روایت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ متوسط قد، حسین و جمیل، فصیح و بلیغ اور خوش آواز تھے، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ امام صاحبؒ خوبصورت داڑھی، عمدہ کپڑے، اچھے جوتے، خوشبودار اور بھلی مجلس والے رعب دار آدمی تھے۔ آپ کی گفتگو نہایت شیریں، آواز بلند اور صاف ہوا کرتی تھی۔ کیسا ہی پیچیدہ مضمون ہو نہایت صفائی اور فصاحت سے ادا کر سکتے تھے۔ مزاج میں ذرا تکلف تھا۔ اکثر خوش لباس رہتے تھے، ابو مطیعانؒ کے شاگرد کا بیان ہے کہ ’’میں نے ایک دن ان کو نہایت قیمتی چادر اور قمیص پہنے دیکھا جن کی قیمت کم از کم چار سو درہم رہی ہو گی۔

بچپن کا زمانہ

امام صاحبؒ کے بچپن کا زمانہ نہایت پر آشوب زمانہ تھا۔ حجاج بن یوسف، خلیفہ عبد الملک کی طرف سے عراق کا گورنر تھا۔ ہر طرف ایک قیامت برپا تھی۔ حجاج کی سفاکیاں زیادہ تر انہیں لوگوں پر مبذول تھیں جو ائمہ مذاہب اور علم و فضل کی حیثیت سے مقتدائے عام تھے۔

خلیفہ عبد الملک نے ۸۶ھ میں وفات پائی اور اس کا بیٹا ولید تخت نشین ہوا۔

اس زمانہ کی نسبت حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کر تے تھے۔ ’’ولید شام میں، حجاج عراق میں، عثمان حجاز میں، قرہ مصر میں، واللہ تمام دنیا ظلم سے بھری تھی‘‘۔

ملک کی خوش قسمتی تھی کہ حجاج ۹۵ھ میں مر گیا۔ ولید نے بھی ۹۶ھ میں وفات پائی۔ ولید کے بعد سلیمان بن عبد الملک نے مسندِ خلافت کو زینت دی جس کی نسبت مورخین کا بیان ہے کہ خلفاء بنو امیّہ میں سب سے افضل تھا۔ سلیمانؒ نے اسلامی دنیا پر سب سے بڑا یہ احسان کیا کہ مرتے دم تحریری وصیت کی کہ میرے بعد عمر بن عبد العزیزؒ تخت نشیں ہوں۔ سلیمان نے ۹۹ھ میں وفات پائی اور وصیت کے موافق عمر بن عبد العزیزؒ مسندِ خلافت پر بیٹھے جن کا عدل و انصاف اور علم و عمل معروف و مشہور ہے۔

غرض حجاج و ولید کے عہد تک تو امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی طرف متوجہ ہونے کی نہ رغبت ہو سکتی تھی نہ کافی موقع مل سکتا تھا۔ تجارت باپ دادا کی میراث تھی ا س لئے خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کا کارخانہ قائم کیا اور حسنِ تدبیر سے اسکو بہت کچھ ترقی دی۔

 

تعلیم و تربیت، شیوخ و اساتذہ

تعلیم و تربیت

سلیمان کے عہدِ خلافت میں جب درس و تدریس کے چرچے زیادہ عام ہوئے تو آپ کے دل میں بھی ایک تحریک پیدا ہوئی، حسنِ اتفاق کہ ان ہی دنوں میں ایک واقعہ پیش آیا جس سے آپ کے ارادہ کو اور بھی استحکام ہوا۔

امام صاحبؒ ایک دن بازار جا رہے تھے۔ امام شعبیؒ جو کوفہ کے مشہور امام تھے، ان کا مکان راہ میں تھا، سامنے سے نکلے تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کوئی نوجوان طالب علم ہے بلا لیا اور پوچھا ’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ انہوں نے ایک سودا گر کا نام لیا۔ امام شعبیؒ نے کہا ’’میرا مطلب یہ نہ تھا۔ بتاؤ تم پڑھتے کس سے ہو؟ ‘‘ انہوں نے افسوس کے ساتھ جواب دیا ’’ کسی سے نہیں۔ ‘‘ شعبیؒ نے کہا ’’مجھ کو تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ‘‘ یہ نصیحت ان کے دل کو لگی اور نہایت اہتمام سے تحصیلِ علم پر متوجہ ہوئے۔

علمِ کلام کی طرف توجہ

علمِ کلام زمانۂ ما بعد میں اگر چہ مدون و مرتب ہو کر اکتسابی علوم میں داخل ہو گیا۔ لیکن اس وقت تک اس کی تحصیل کے لئے صرف قدرتی ذہانت اور مذہبی معلومات درکار تھیں۔ قدرت نے امام ابو حنیفہؒ میں یہ تمام باتیں جمع کر دی تھیں۔ رگوں میں عراقی خون اور طبیعت میں زور اور جدت تھی۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس فن میں ایسا کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے اساتذۂ فن بحث کر نے میں ان سے جی چراتے تھے۔

تجارت کی غرض سے اکثر بصرہ جانا ہوتا تھا جو تمام فرقوں کا دنگل اور خاص کر خارجیوں کا مر کز تھا۔ اباضیہ، صغزیہ، حشویہ وغیرہ سے اکثر بحثیں کیں اور ہمیشہ غالب رہے۔ بعد میں انہوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے میں جو شہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھا۔

علم فقہ کی تحصیل کا پسِ منظر

شروع شروع میں تو امام صاحبؒ علمِ کلام کے بہت دلدادہ رہے لیکن جس قدر عمر اور تجربہ بڑھتا جاتا تھا ان کی طبیعت رکتی جاتی تھی خود ان کا بیان ہے کہ ’’ آغازِ عمر میں اس علم کو سب سے افضل جانتا تھا، کیونکہ مجھ کو یقین تھا کہ عقیدہ و مذہب کی بنیاد انہی باتوں پر ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ صحابہ کبارؓ ان بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت ان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ ان کی توجہ جس قدر تھی، فقہی مسائل پر تھی اور یہی مسائل وہ دوسروں کو تعلیم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیال گزرا کہ جو لوگ علمِ کلام میں مصروف ہیں ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ اس خیال سے اور بھی بے دلی پیدا ہوتی کیونکہ ان لوگوں میں وہ اخلاقی پاکیزگی اور روحانی اوصاف نہ تھے جو اگلے بزرگوں کا تمغہ امتیاز تھا۔

اسی زمانہ میں ایک دن ایک عورت نے آ کر طلاق کے سلسلے میں مسئلہ پوچھا۔ امام صاحب خود تو بتا نہ سکے۔ عورت کو ہدایت کی کہ امام حمادؒ جن کا حلقۂ درس یہاں سے قریب ہے جا کر پوچھے، یہ بھی کہہ دیا کہ حماد جو کچھ بتائیں مجھ سے کہتی جانا۔ تھوڑی دیر کے بعد آئی اور کہا کہ حماد نے یہ جواب دیا۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں۔ مجھ کو سخت حیرت ہوئی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور حماد کے حلقۂ درس میں جا بیٹھا۔

حمادؒ کی شاگردی

حمادؒ کوفہ کے مشہور امام اور استادِ وقت تھے۔ حضرت انسؓ سے جو رسول اللہ ﷺ کے خادمِ خاص تھے،حدیث سنی تھی اور بڑے بڑے تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے تھے۔ اس وقت کوفہ میں انہی کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا۔ اس مدرسۂ فکر کی ابتداء حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کے شاگرد شریحؒ، علقمہؒ اور مسروقؒ اس مدرسہ کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعیؒ اور ان کے بعد حمادؒ تک اس کی امامت پہنچی۔

حضرت علیؓ و عبد اللہ بن مسعودؓ سے فقہ کا جو سلسلہ چلا آتا تھا اس کا مدار انہی پر رہ گیا تھا۔ ان وجوہ سے امام ابو حنیفہؒ نے علمِ فقہ پڑھنا چاہا تو استادی کے لئے انہی کو منتخب کیا۔ ایک نئے طالب علم ہونے کی وجہ سے درس میں پیچھے بیٹھتے۔ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہو گیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اور ذہانت میں اس کا ہمسر نہیں ہے تو حکم دے دیا کہ ’’ ابو حنیفہؒ سب سے آگے بیٹھا کریں۔

حضرت حمادؒ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ حاضر ہو تے رہے۔ خود امام صاحبؒ کا بیان ہے کہ ’’میں دس برس تک حمادؒ کے حلقہ میں ہمیشہ حاضر ہوتا رہا اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑا۔ انہی دنوں حمادؒ کا ایک رشتہ دار جو بصرہ میں رہتا تھا انتقال کر گیا تو وہ مجھے اپنا جانشین بنا کر بغرض تعزیت سفر پر روانہ ہو گئے۔

چونکہ مجھ کو اپنا جانشین مقرر کر گئے تھے، تلامذہ اور اربابِ حاجت نے میری طرف رجوع کیا۔ بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن میں استاد سے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی اس لئے اپنے اجتہاد سے جواب دیئے اور احتیاط کیلئے ایک یادداشت لکھتا گیا۔ دو مہینہ کے بعد حماد بصرہ سے واپس آئے تو میں نے وہ یادداشت پیش کی۔ کل ساٹھ مسئلے تھے، ان میں سے انہوں نے بیس غلطیاں نکالیں، باقی کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ حمادؒ جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہ چھوڑوں گا۔

متعدد طریق سے یہ بھی مروی ہے کہ آپؒ نے قرأت امام عاصمؒ سے سیکھی جن کا شمار قراءِ سبعہ میں ہو تا ہے اور انہیں کی قرأت کے مطابق قرآن حفظ کیا۔

حدیث کی تحصیل

حمادؒ کے زمانہ میں ہی امام صاحبؒ نے حدیث کی طرف توجہ کی کیونکہ مسائلِ فقہ کی مجتہدانہ تحقیق جو امام صاحبؒ کو مطلوب تھی حدیث کی تکمیل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ لہذا کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ بچا جس کے سامنے امام صاحبؒ نے زانوئے شاگردی تہ نہ کیا ہو اور حدیثیں نہ سیکھیں ہوں۔ ابو المحاسن شافعیؒ نے جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں، ان میں ترا نوے (۹۳) شخصوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ لوگ کوفہ کے رہنے والے یا اس اطراف کے تھے۔ اور ان میں اکثر تابعی تھے۔

مکہ کا سفر

امام ابو حنیفہؒ کو اگرچہ ان درسگاہوں سے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آیا۔ تاہم تکمیل کی سند حاصل کر نے کے لئے حرمین جانا ضروری تھا جو علومِ مذہبی کے اصل مراکز تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہؒ مکہ پہنچے۔ درس و تدریس کا نہایت زور تھا۔ متعدد اساتذہ جو فنِ حدیث میں کمال رکھتے تھے اور اکثر صحابہؓ کی خدمت سے مستفید ہوئے، ان کی الگ الگ درسگاہ قائم تھی۔ ان میں عطا ئؒ مشہور تابعی تھے جو اکثر صحابہؓ کی خدمت میں رہے اور ان کی فیضِ صحبت سے اجتہاد کا رتبہ حاصل کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابن زبیرؓ، اسامہ بن زیدؓ، جابر بن عبداللہؓ، زید بن ارقمؓ، ابو دردائؓ، ابوہریرہؓ اور بہت سے صحابہ سے حدیثیں سنی تھیں۔ مجتہدین صحابہؓ ان کے علم و فضل کے معترف تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ ’’عطاء بن رباح کے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاس کیوں آتے ہیں؟‘‘ بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً اوزاعی، زُہریؒ، عمرو بن دینارؒ انہی کے حلقۂ درس سے نکل کر استاد کہلائے۔

امام ابو حنیفہؒ استفادہ کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ روز بروز امام صاحبؒ کی ذہانت و طباعی کے جوہر ظاہر ہوتے گئے اور اس کے ساتھ استاد کی نظر میں آپ کا وقار بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حلقۂ درس میں جاتے تو عطاء اوروں کو ہٹا کر امام صاحبؒ کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ عطاءؒ ۱۱۵ھ تک زندہ رہے اس مدت میں امام ابو حنیفہؒ ان کی خدمت میں اکثر حاضر رہے اور مستفید ہوئے۔

عطاؒ ء کے سوا مکہ معظمہ کے اور محدثین جن سے امام صاحبؒ نے حدیث کی سند لی۔ ان میں عکرمہؒ کا ذکر خصوصیت سے کیا جا سکتا ہے۔ عکرمہؒ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے غلام اور شاگرد تھے۔ انہوں نے نہایت توجہ اور کوشش سے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی یہاں تک کہ اپنی زندگی ہی میں اجتہاد و فتویٰ کا مجاز کر دیا تھا۔ امام شعبیؒ کہا کرتے تھے کہ قرآن کا جاننے والا عکرمہؒ سے بڑھ کر نہیں رہا۔ سعید بن جبیرؒ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے فرمایا: ہاں! عکرمہؒ۔

مدینہ کا سفر

اسی زمانہ میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ کا قصد کیا کہ حدیث کا مخزن اور نبوت کا اخیر قرار گاہ تھی۔ صحابہ کے بعد تابعین کے گروہ میں سے سات اشخاص علم فقہ و حدیث کے مرجع بن گئے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جب مدینہ پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو اشخاص زندہ تھے سلیمانؒ اور سالم بن عبد اللہؒ۔ سلیمان حضرت میمونہؓ کے جو رسولﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے تھیں، غلام تھے۔ اور فقہاء سبعہ میں فضل و کمال کے لحاظ سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ سالمؒ حضرت فاروق اعظمؓ کے پوتے تھے اور اپنے والد بزرگوار سے تعلیم پائی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کیں۔

امام ابو حنیفہؒ کی تعلیم کا سلسلہ اخیر زندگی تک قائم رہا اکثر حرمین جاتے اور مہینوں قیام کر تے تھے۔ آپ نے وہاں کے فقہاء و محدثین سے تعارف حاصل کیا اور حدیث کی سند لی۔

امام صاحبؒ کے اساتذہ

امام ابو حفص کبیرؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ کے شمار کرنے کا حکم دیا۔ حکم کے مطابق شمار کئے گئے تو ان کی تعداد چار ہزار تک پہنچی۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں اخیر میں لکھ دیا ہے ’’وخلق ٌکثیرٌ‘‘۔ حافظ ابو المحاسن شافعیؒ نے تین سوانیس(۳۱۹) شخصیتوں کے نام بقیدِ نسب لکھے ہیں۔

امام صاحبؒ نے ایک گروہِ کثیر سے استفادہ کیا جو بڑے بڑے محدث اور سند و روایت کے مرجعِ عام تھے۔ مثلاً اما م شعبیؒ، سلمہ بن کہیلؒ، ابو اسحاق سبعیؒ، سماک بن حربؒ، محارب بن ورثاءؒ، عون بن عبد اللہؒ، ہشام بن عروہؒ، اعمشؒ، قتادہؒ، شعبہؒ اور عکرمہؒ۔ ہم مختصراً آپؒ کے خاص خاص شیوخ کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپؒ نے مدتوں استفادہ کیا ہے۔

امام شعبیؒ۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اول اول امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی رغبت دلائی تھی۔ بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کی تھیں۔ مشہور ہے کہ پانسو صحابہؓ کو دیکھا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو ایک بار مغازی کا درس دیتے دیکھا تو فرمایا کہ ’’ واللہ! یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتا ہے‘‘۔ ۱۰۶ھ میں وفات پائی۔

سلمہ بن کہیلؒ مشہور محدث اور تابعی تھے۔ ابن سعدؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ ابن مہدیؒ کا قول تھا کہ کوفہ میں چار اشخاص سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے: منصورؒ، سلمہ بن کہیلؒ، عمرو بن مرہؒ، ابو حصینؒ۔

ابو اسحاق سبیعیؒ کبارِ تابعین میں سے تھے۔ عبد اللہؓ بن عباسؒ، عبد اللہ بن عمرؓ، ابن زبیرؓ، نعمان بن بشیرؓ، زید بن ارقمؓ سے حدیثیں سنی تھیں۔ عجلیؒ نے کہا ہے کہ اڑتیس صحابہؓ سے ان کو بالمشافہ روایت حاصل ہے۔

محاربؒ بن ورثاء نے عبد اللہ بن عمرؓ اور جابرؓ وغیرہ سے روایت کی۔ امام سفیان ثوریؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ میں نے کسی زاہد کو نہیں دیکھا جس کو محاربؒ پر ترجیح دوں‘‘۔

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ’’محاربؒ عموماً حجت ہیں۔ ‘‘ کوفہ میں منصبِ قضا پر معمور تھے۔ ۱۱۶ھ میں وفات پائی۔

عونؒ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ نہایت ثقہ اور پرہیزگار تھے۔

ہشام بن عروہؒ معزز و مشہور تابعی تھے بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ بڑے بڑے ائمۂ حدیث مثلاً سفیان ثوریؒ، امام مالکؒ، سفیان بن عیینہؒ ان کے شاگرد تھے۔

خلیفہ منصور ان کا احترام کیا کر تا تھا۔ ان کے جنازہ کی نماز بھی منصور نے ہی پڑھائی تھی ابن سعدؒ نے لکھا ہے وہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔

اعمشؒ کوفہ کے مشہور امام تھے۔ صحابہؓ میں سے انس بن مالکؓ سے ملے تھے اور عبد اللہ بن اونیؒ سے حدیث سنی تھی۔ سفیان ثوریؒ اور شعبہؒ ان کے شاگرد ہیں۔

قتادہؒ بہت بڑے محدث اور مشہور تابعی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ و عبد اللہ بن سرخسؓ و ابو الطفیلؓ اور دیگر صحابہ سے حدیثیں روایت کیں۔ حضرت انسؓ کے دو شاگرد جو نہایت نامور ہیں ان میں ایک ہیں۔ اس خصوصیت میں ان کو نہایت شہرت تھی کہ حدیث کو بعینہ ادا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کی فقہ و واقفیتِ اختلاف و تفسیر دانی کی نہایت مدح کی ہے اور کہا ہے کہ ’’کو ئی شخص ان باتوں میں ان کے برا بر ہو تو ہو مگر ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔

شعبہؒ بھی بڑے رتبہ کے محدث تھے۔ سفیان ثوریؒ نے فن حدیث میں ان کو امیر المومنین کہا ہے۔ عراق میں یہ پہلے شخص ہیں جس نے جرح و تعدیل کے مراتب مقرر کئے۔ امام شافعیؒ فرمایا کر تے تھے کہ شعبہؒ نہ ہو تے تو عراق میں حدیث کا رواج نہ ہوتا۔ شعبہؒ کا امام ابو حنیفہ کے ساتھ ایک خاص ربط تھا۔ غائبانہ ان کی ذہانت و خوبئ فہم کی تعریف کر تے تھے۔ ایک بار امام صاحبؒ کا ذکر آیا تو کہا جس یقین کے ساتھ میں یہ جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہؒ روشن ہیں۔

یحیٰ بن معین (جو امام بخاریؒ کے استاذ ہیں) سے کسی نے پوچھا کہ آپ ابو حنیفہؒ کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ فرمایا اس قدر کافی ہے کہ شعبہؒ نے ان کو حدیث و روایت کی اجازت دی اور شعبہ آخر شعبہؒ ہی ہیں۔ بصرہ کے اور شیوخ جن سے ابو حنیفہؒ نے حدیثیں روایت کیں۔ ان میں عبد الکریم بن امیہؒ اور عاصم بن سلیمان الاحولؒ زیادہ ممتاز ہیں۔

استاد کی عزت

امام صاحبؒ کو طلبِ علم میں کسی سے عار نہ تھی۔ امام مالکؒ عمر میں ان سے تیرہ برس کم تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بھی اکثر حاضر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنے ابو حنیفہؒ اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے جس طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس کو بعض کوتاہ بینوں نے امام صاحبؒ کی کسرِ شان پر محمول کیا ہے لیکن ہم اس کو علم کی قدر شناسی اور شرافت کا تمغہ سمجھتے ہیں۔

امام صاحبؒ کی قدر

امام صاحبؒ کے اساتذہ ان کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا۔ محمد بن فضلؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہؒ ایک حدیث کی تحقیق کے لئے خطیبؒ کے پاس گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ خطیبؒ نے ان کو آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت تعظیم کے ساتھ لا کر اپنے برابر بٹھایا۔

عمرو بن دینارؒ جو مکہ کے مشہور محدث تھے۔ ابو حنیفہؒ کے ہوتے ہوئے حلقۂ درس میں اور کسی کی طرف خطاب نہیں کرتے تھے۔

امام مالکؒ بھی ان کا نہایت احترام کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن مبارکؒ کی زبانی منقول ہے کہ میں امام مالکؒ کے درسِ حدیث میں حاضر تھا۔ ایک بزرگ آئے جن کی انہوں نے نہایت تعظیم کی اور اپنے برابر بٹھایا۔ ان کے جانے کے بعد فرمایا ’’ جانتے ہو یہ کون شخص تھا؟ یہ ابو حنیفہؒ عراقی تھے جو اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ ‘‘ ذرا دیر کے بعد ایک اور بزرگ آئے امام مالکؒ نے ان کی بھی تعظیم کی لیکن نہ اس قدر جتنی ابو حنیفہؒ کی کی تھی، وہ اٹھ گئے تو لوگوں سے کہا ’’یہ سفیان ثوریؒ تھے۔ ‘‘

علمی ترقی کا ایک سبب

امام صاحبؒ کی علمی ترقی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان کو ایسے بڑے بڑے اہل کمال کی صحبتیں میسر آئیں جن کا ابھی تذکرہ گزرا۔ اور جن شہروں میں ان کو رہنے کا اتفاق ہوا یعنی کوفہ، بصرہ، مکہ اور مدینہ، یہ وہ مقامات تھے کہ مذہبی روایتیں وہاں کی ہوا میں سرایت کر گئی تھیں۔ علماء سے ملنے اور علمی جلسوں میں شریک ہو نے کا شوق امامؒ کی خمیر میں داخل تھا۔ ساتھ ہی ان کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں جاتے تھے استفادہ، ملاقات، مناظرہ کی غرض سے خود ان کے پاس ہزاروں آدمیوں کا مجمع رہتا تھا۔

تاریخِ بغداد کے حوالہ سے شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں۔ ’’ ایک روز امام ابو حنیفہؓ منصور کے دربار میں آئے وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا اس نے منصور سے کہا یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں۔

منصور نے امام صاحب کو مخاطب ہو کر کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’نعمان ! آپ نے علم کہاں سے سیکھا؟‘‘ فرمایا ’’حضرت عمرؓ کے تلامذہ سے، نیز شاگردانِ علیؓ سے اور تلامذۂ عبداللہ بن مسعودؓ سے۔ ‘‘ منصور بولا ’’ آپ نے بڑا قابلِ اعتماد علم حاصل کیا۔ ‘‘ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

 سلسلۂ تدریس و افتاء

درس کا آغاز

امام صاحبؒ کے خاص استاد حضرت حمادؒ نے ۱۲۰ھ میں وفات پائی۔ چونکہ ابراہیم نخعیؒ کے بعد فقہ کا دارو مدار انہی پر رہ گیا تھا ان کی موت نے کوفہ کو بے چراغ کر دیا لہٰذا تمام بزرگوں نے متفقاً امام ابو حنیفہؒ سے درخواست کی کہ مسندِ درس کو مشرف فرمائیں۔ اس وقت امام صاحبؒ کی عمر چالیس سال تھی بنا بریں جسم و عقل میں کامل ہو نے کے بعد آپ نے مسندِ درس کو سنبھالا۔

ابوالولیدؒ کا بیان ہے کہ لوگوں نے ان کے پاس وہ سب کچھ پایا جو ان کے بڑوں کے پاس نہیں ملا اور نہ ہی ان کے ہم عمروں میں چنانچہ لوگ آپؒ کی صحبت میں آ گئے اور غیروں کو چھوڑ دیا۔

 انہی دنوں میں امام صاحبؓ نے خواب دیکھا کہ پیغمبرﷺ کی قبرِ مبارک کھود رہے ہیں۔ ڈر کر چونک پڑے اور سمجھے کہ ناقابلیت کی طرف اشارہ ہے۔ امام ابن سیرینؒ علمِ تعبیر کے استاد مانے جاتے تھے انہوں نے تعبیر بتائی کہ اس سے ایک مردہ علم کو زندہ کر نا مقصود ہے۔ امام صاحبؒ کو تسکین ہو گئی اور اطمینان کے ساتھ درس و افتاء میں مشغول ہو گئے۔

درس کے اوقات

معمول تھا صبح کی نماز کے بعد مسجد میں درس دیتے، دور دور سے استفتا آئے ہوتے۔ ان کے جواب لکھتے۔ پھر تدوینِ فقہ کی مجلس منعقد ہو تی، بڑے بڑے نامور شاگردوں کا مجمع ہوتا۔ پھر ظہر کی نماز پڑھ کر گھر آتے گرمیوں میں ہمیشہ ظہر کے بعد سو رہتے۔ نمازِ عصر کے بعد کچھ دیر تک درس و تعلیم کا مشغلہ رہتا۔ باقی دوستوں سے ملنے ملانے، بیماروں کی عیادت، تعزیت اور غریبوں کی خبر گیری میں صرف ہوتا۔ مغرب کے بعد پھر درس کا سلسلہ شروع ہوتا اور عشاء تک رہتا۔ نمازِ عشاء پڑھ کر عبادت میں مشغول ہوتے اور اکثر رات رات بھر نہ سوتے۔

درس کی وسعت

اول اول حمادؒ کے پرانے شاگرد درس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن چند روز میں وہ شہرت ہوئی کہ کوفہ کی درسگاہیں ٹوٹ کر ان کے حلقہ میں آ ملیں، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ان کے اساتذہ مثلاً مسعر بن کدامؒ، امام اعمشؒ وغیرہ ان سے استفادہ کر تے تھے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے تھے۔

ابن ابی لیلی، شریک، ابن شبرمہ آپ کی مخالفت کرنے لگے اور آپ کی عیب جوئی میں لگ گئے معاملہ اس طرح چلتا رہا مگر امام صاحبؒ کی بات مضبوط ہوتی گئی۔ امراء کو آپ کی ضرورت پڑنے لگی اور خلفاء نے آپ کو یاد کرنا اور شرفاء نے اکرام کرنا شروع کر دیا۔ آپ کا مرتبہ بڑھتا چلا گیا شاگردوں کی زیادتی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مسجد میں سب سے بڑا حلقہ آپ کا ہوتا اور سوالوں کے جواب میں بڑی وسعت ہوتی۔ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہوتی گئی۔ امام صاحبؒ لوگوں کے مصائب میں ہاتھ بٹانے لگے، لوگوں کا بوجھ اٹھانے لگے اور ایسے ایسے کام کرنے لگے جن کو کرنے سے دوسرے لوگ عاجز تھے۔ اس سے آپ کو بڑی قوت ملی الغرض تقدیرِ خداوندی نے آپ کو سعید و کامیاب کیا۔

اسلامی دنیا کا کوئی حصہ نہ تھا جو ان کی شاگردی کے تعلق سے آزاد رہا ہو۔ جن جن مقامات کے رہنے والے ان کی خدمت میں پہنچے ان سب کا شمار ممکن نہیں لیکن جن اضلاع و ممالک کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے وہ یہ ہیں: مکہ، مدینہ، دمشق، بصرہ، مصر، یمن، یمامہ، بغداد، اصفہان، استرآباد، ہمدان، طبرستان، مرجان، نیشاپور، سرخس، بخارا، سمرقند، کس، صعانیاں، ترمذ، ہرات، خوازم، سبستان، مدائن، حمص وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ان کی استادی کے حدود خلیفۂ وقت کی حدودِ حکومت سے کہیں زیادہ تھے۔

پھر تو آپؒ کے شاگردوں میں بڑے بڑے امام ہوئے، بڑے بڑے علماء آپ کی صحبت میں حاضر ہوئے۔ یحیٰ بن سعیدؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، یحیٰ بن زکریاؒ، وکیع بن جراحؒ، یزید بن ہارونؒ، حفص بن غیاصؒ، ابو عاصمؒ عبد الرزاق بن ہمامؒ، داوٗد الطائیؒ جیسے محدثین اور قاضی ابو یوسفؒ، محمد بن حسن الشیبانیؒ، زفرؒ، حسن بن زیادؒ جیسے فقہاء پیدا ہوئے۔

امام ابو حنیفہؒ ان لوگوں کو علمِ حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ فرماتے تھے۔ آپ کے نامور شاگردوں کا ذکر آئندہ باب میں ’’تلامذہ و تصنیفات‘‘ کے عنوان سے آ رہا ہے۔

 

وفات اور کفن دفن

عہدۂ قضا سے انکار

خطیب بغدادی نے روایت کی ہے کہ یزید بن عمر بن ہیبر، والی عراق نے امام ابو حنیفہؒ کو حکم دیا کہ کوفہ کے قاضی بن جائیں لیکن امام صاحب نے قبول نہیں کیا تو اس نے ایک سو دس کوڑے لگوائے۔ روزانہ دس کوڑے لگواتا جب بہت کوڑے لگ چکے اور امام صاحب اپنی بات یعنی قاضی نہ بننے پر اڑے رہے تو اس نے مجبور ہو کر چھوڑ دیا۔

ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب قاضی ابن لیلیٰ کا انتقال ہو گیا اور خلیفہ منصور کو اطلاع ملی تو اس نے امام صاحب کیلئے قضا کا عہدہ تجویز کیا امام صاحب نے صاف انکار کیا اور کہا کہ ’’میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا ‘‘ منصور نے غصہ میں آ کر کہا ’’ تم جھوٹے ہو‘‘ امام صاحب نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص کبھی قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔

ایک سازش

خلیفہ ابو جعفر منصور نے دارالخلافہ کے لئے بغداد کا انتخاب کیا اور امام اعظمؒ کو قتل کرنے کے لئے کوفہ سے بغداد بلوایا تھا کیونکہ حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ابراہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے خلیفہ منصور کے خلاف بصرہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا امام صاحب ابراہیم کے علانیہ طرفدار تھے ادھر منصور کو خبر دی گئی کہ امام ابو حنیفہ ان کے حامی ہیں اور انہوں نے زرِ کثیر دے کر ابراہیم کی مد د بھی کی ہے۔

خلیفہ منصور کو امام صاحب سے خوف ہوا۔ لہٰذا ان کو کوفہ سے بغداد بلا کر قتل کر نا چاہا مگر بلا سبب قتل کر نے کی ہمت نہ ہوئی اس لئے ایک سازش کر کے قضا کی پیشکش کی۔ امام صاحب نے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر نے سے انکار کر دیا اور معذرت کر دی کہ مجھ کو اپنی طبیعت پر اطمینان نہیں، میں عربی النسل نہیں ہوں، اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار ہو گی، درباریوں کی تعظیم کرنی پڑے گی اور یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا‘‘۔

وفات

منصور نے قاضی القضاۃ کے عہدہ قبول نہ کر نے کی وجہ سے امام صاحب کو اس وقت یعنی ۱۴۶ھ میں قید کر ڈالا۔ لیکن ان حالات میں بھی اس کو ان کی طرف سے اطمینان نہ تھا۔ امام صاحب کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ قید کی حالت نے ان کے اثر اور قبولِ عام کو کم کر نے کے بجائے اور زیادہ کر دیا تھا۔ قید خانہ میں ان کا سلسلۂ تعلیم بھی برابر قائم رہا۔

امام محمد نے جو فقہ کے دستِ بازو ہیں قید خانہ ہی میں ان سے تعلیم پائی۔ ان وجوہ سے منصور کو امام صاحب کی طرف سے جو اندیشہ تھا وہ قید کی حالت میں بھی رہا جس کی آخری تدبیر یہ کی کہ بے خبری میں ان کو زہر دلوا دیا۔ جب ان کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں قضا کی اور اپنے رب سے جا ملے۔  (انا للہ وانا الیہ راجعون)

آپ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۵۰ھ میں وصال فرمایا تب آپ کی عمر مبارک ۷۰ سال تھی، وفات کے وقت حماد کے سوا ان کے کوئی اولاد موجود نہ تھی۔

کفن دفن

ان کے مر نے کی خبر جلد تمام شہر میں پھیل گئی اور سارا بغداد امڈ آیا۔ حسن بن عمارہ نے جو قاضی شہر تھے غسل دیا، نہلا تے تھے اور کہتے جاتے تھے ’’ واللہ !تم سب سے بڑے فقیہ، بڑے عابد، بڑے زاہد تھے، تم میں تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں۔

غسل سے فارغ ہو تے ہوئے لوگوں کی یہ کثرت ہو ئی کہ پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا اس پر بھی آنے والوں کا سلسلہ قائم تھا۔ یہاں تک کہ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور عصر کے قریب جاکر لاش دفن ہو سکی۔ لوگوں کا یہ حال تھا کہ تقریباً بیس دن تک ان کی نماز جنازہ پڑھتے رہے۔

امام صاحبؒ نے وصیت کی تھی کہ خیزران میں دفن کئے جائیں۔ کیونکہ یہ جگہ ان کے خیال میں مغضوب نہ تھی اس وصیت کے موافق خیزران کے مشرقی جانب ان کا مقبرہ تیار ہوا۔ سلطان الپ ارسلان سلجوقی جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فیاض بھی تھا اس نے ۴۵۹ھ میں ان کی قبر کے قریب ایک مدرسہ تیار کرایا جو مشہدِ ابو حنیفہؒ کے نام سے مشہور ہے۔

امام صاحبؒ کی اولاد

امام صاحبؒ کی اولاد کا مفصل حال معلوم نہیں مگر اس قدر یقینی ہے کہ وفات کے وقت حماد کے سوا کوئی اولاد نہ تھی۔ حماد بڑے رتبہ کے فاضل تھے بچپن میں ان کی تعلیم نہایت اہتمام سے ہوئی تھی۔ چنانچہ جب الحمد ختم کی تو ان کے پدرِ بزرگوار نے اس تقریب میں معلم کو پانچ سو درہم نذر کیئے۔ بڑے ہوئے تو خود امام صاحبؒ سے مراتبِ علمی کی تکمیل کی۔ علم و فضل کے ساتھ بے نیازی اور پرہیز گاری میں بھی باپ کے خلف الرشید تھے۔ تمام عمر کسی کی ملازمت نہیں کی نہ شاہی دربار سے کچھ تعلق پیدا کیا۔ ذیقعدہ ۱۷۶ھ میں قضا کی۔ چار بیٹے چھوڑے عمر، اسمعیل، ابو حیان اور عثمان۔

امام صاحبؒ کے پوتے اسمعیلؒ نے علم و فضل میں نہایت شہرت حاصل کی۔ چنانچہ مامون الرشید نے اُن کو عہدۂ قضا پر مامور کیا جس کو انہوں نے اس دیانت داری اور انصاف سے انجام دیا کہ جب بصرہ سے چلے تو سارا شہر ان کو رخصت کرنے کو نکلا اور سب لوگ اُن کے جان و مال کو دعائیں دیتے تھے۔

امام صاحبؒ کی معنوی اولاد تو آج تمام دنیا میں پھیلی ہو ئی ہے اور شاید چھ سات کروڑ سے کم نہ ہو گی اور خدا کے فضل سے علم فضل کا جوہر بھی نسلا بعد نسل اُ ن کی میراث میں چلا آتا ہے۔

اظہارِ افسوس!

اس وقت ان ممالک میں بڑے بڑے ائمہ مذہب موجود تھے۔ جن میں بعض خود امام صاحبؒ کے استاد تھے۔ سب نے ان کے مر نے کا رنج کیا اور نہایت تاسف آمیز کلمات کہے۔ ابن جریح مکہ میں تھے، سن کر کہا’’ انا للہ بہت بڑا علم جاتا رہا۔ ‘‘ شعبہ بن الحجاج نے جو امام ابو حنیفہؒ کے شیخ اور بصرہ کے امام تھے، نہایت افسوس کیا اور کہا ’’ کوفہ میں اندھیرا ہو گیا‘‘۔ اس واقعہ کے چند روز کے بعد عبد اللہ بن المبارکؒ کو بغداد جانے کا اتفاق ہوا۔ امام صاحبؒ کی قبر پر گئے اور روکر کہا: ابو حنیفہؒ ! خدا تم پر رحم کرے۔ ابراہیمؒ مرے تو اپنا جانشین چھوڑ گئے۔ حمادؒ مرے تو اپنا جانشین چھوڑ گئے افسوس تم نے اپنے برابر تمام دنیا میں کسی کو اپنا جانشین نہ چھو ڑا۔

ایک دن امام شافعی نے صبح کی نماز امام ا بو حنیفہ کی قبر کے پاس ادا کی تو اس میں دعاے قنوت نہیں پڑھی جب ان سے عرض کیا گیا تو فر مایا اس قبر والے کے ادب کی وجہ سے دعاء قنوت نہیں پڑھی۔

حافظ الحدیث و بانی فقہ

امام ابو حنیفہؒ کا شمار بڑے حفاظِ حدیث میں ہو تا ہے۔ امام صاحبؒ نے چار ہزار محدثین سے حدیث پڑھی ہے ان میں سے بعض شیوخِ حدیث تابعی تھے اور بعض تبع تابعی۔ اسی لئے علامہ ذہبی ؒنے امام صاحبؒ کا شمار محدثین کے طبقۂ حفاظ میں کیا ہے۔

امام صاحبؒ کے شاگردوں نے خود ان سے سیکڑوں حدیثیں روایت کی ہیں۔ مؤطاء امام محمدؒ، کتاب الآثار، کتاب الحج جو عام طور پر متداول ہیں ان میں بھی امام صاحب سے بیسیوں حدیثیں مروی ہیں۔

غور کر لیجئے کہ جس شخص نے بیس برس کی عمر سے علمِ حدیث پر توجہ کی ہو اور ایک مدت تک اس شغل میں مصروف رہا ہو، جس نے کوفہ کے مشہور شیوخِ حدیث سے حدیثیں سیکھیں ہوں، جو حرمِ محترم کی درسگاہوں میں بر سوں تحصیلِ حدیث کر تا رہا ہو، جس کو مکہ و مدینہ کے شیوخ نے سندِ فضیلت دی ہو، جس کے اساتذۂ حدیث عطاء بن ابی رباحؒ،نافع بن عمرؒ، عمر بن دینارؒ، محارب بن و رثاؒ، اعمش کوفیؒ، امام باقرؒ، علقمہ بن مرثدؒ، مکحول شامیؒ، امام اوزاعیؒ، محمد بن مسلمؒ، ابو اسحٰق السبیعیؒ، سلیمان بن یسارؒ، منصور المعتمرؒ، ہشام بن عروہ رحمہم اللہ وغیرہ ہوں جو فنِ روایت کے ارکان ہیں اور جن کی روایتوں سے بخاری و مسلم مالا مال ہیں، وہ حدیث میں کس رتبہ کا شخص ہو گا؟

اس کے ساتھ امام صاحبؒ کے شاگردوں پر غور کرو یحیٰ بن سعید القطانؒ جو فن جرح و تعدیل کے امام ہیں، عبد الرزاق بن ہمامؒ جن کی جامع کبیر سے امام بخاریؒ نے فائدہ اٹھایا ہے، یزید بن ہا رون جو امام احمد بن حنبلؒ کے استاد تھے، وکیع بن الجراح جن کی نسبت امام احمد بن حنبلؒ کہا کر تے تھے حفظِ اسناد و روایت میں میں نے کسی کو ان کا ہم عصر نہیں دیکھا، عبد اللہ بن مبارکؒ جو فن حدیث میں امیر المومنین تسلیم کئے گئے ہیں، یحیٰ بن زکریاؒ جن کو علی بن المدنیؒ (استاد بخاری) منتہائے علم کہتے ہیں۔

یہ لوگ برائے نام امام صاحب کے شاگرد نہ تھے بلکہ برسوں ان کے دامنِ فیض میں تعلیم پائی تھی اور اس انتساب سے ان کو فخر و ناز تھا، عبد اللہ بن مبارکؒ کہا کر تے تھے کہ ’’ اگر خدا نے ابو حنیفہؒ سے میری مدد نہ کی ہوتی تو میں ایک معمولی آدمی ہو تا‘‘۔ (تہذیب التہذیب) وکیعؒ اور یحیؒ ابن ابی زائدہ امام صاحبؒ کی صحبت میں اتنی مدت تک رہے تھے کہ ’’صاحب ابی حنیفہؒ‘‘ کہلاتے تھے۔ کیا اس رتبہ کے لو گ جو خود حدیث و روایت کے پیشوا اور مقتدا تھے کسی معمولی شخص کے سامنے سر جھکا سکتے تھے؟ انہیں تمام خصوصیات اور وجوہات کی بنا پر علامہ ذہبیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو حفاظِ حدیث میں شمار کیا ہے۔

مسانید امام اعظمؒ

ایسی سترہ مسانید ہیں جن میں محدثین نے امام صاحبؒ کی روایات کو جمع کیا اور وہ درجہ ذیل ہیں  :

  1. تخریج حافظ محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث الحارثی بخاریؒ۔
  2. خریج حافظ ابوالقاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہدؒ۔
  3. تخریج ابوالحسن محمد بن مظفر بن مو سی بن عیسیؒ۔
  4. تخریج حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد اصفہانی شافعیؒ۔
  5. تخریج حافظ قاضی ابو بکر محمد بن عبدالباقی انصاریؒ۔
  6. تخریج حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی جرجانی شافعیؒ۔
  7. تخریج ابو الحسن محمد بن ابراہیم بن جیش من سماعات حسن بن زیاد اللؤلؤی صاحبِ ابی حنیفہؒ
  8. تخریج قاضی ابو الحسن عمر بن حسن اشنانیؒ۔
  9. تخریج ابو بکر احمد بن محمد بن خالد بن حلی کلاعیؒ۔
  10. تخریج حافظ ابو عبدللہ حسین بن محمد بن خسروبلخیؒ۔

11. تخریج بعض محدثین از امام ابو یوسفؒ۔

  1. تخریج بعض محدثین از امام محمد بن حسن شیبانیؒ۔
  2. تخریج بعض محدثین از حماد بن ابو حنیفہؒ۔
  3. تخریج امام محمدبن حسن شیبانیؒ (الآثار)۔
  4. تخریج ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن ابی العوامؒ (مناقب)۔
  5. تخریج حافظ ابو بکر بن المقریؒ۔
  6. تخریج حافظ ابو علی البکریؒ۔

علامہ محمد بن یو سفؒ دمشقی نے ان سب مسندوں کی سندیں بھی ذکر فرمائی ہیں جس کے لئے اصل کتاب ’’عقود الجمان ‘‘ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

امام صاحبؒ کی مرویات کم کیوں ہیں؟

امام صاحب نے روایت کے متعلق جو شرطیں اختیار کیں کچھ تو وہی ہیں جو اور محدثین کے نزدیک مسلم ہیں کچھ ایسی ہیں جن میں وہ منفرد ہیں یا صرف امام مالکؒ اور بعض اور مجتہدین ان کے ہم زبان ہیں۔ ان میں سے ایک یہ مسئلہ ہے کہ ’’صرف وہ حدیثیں حجت ہیں جس کو راوی نے اپنے کانوں سے سنا ہو، اور روایت کے وقت تک اس کو یاد رکھا ہو۔‘‘

یہ قاعدہ بظاہر نہایت صاف جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن اس کی تفریعیں نہایت وسیع اثر رکھتی ہیں اور عام محدثین کو اُن سے اتفاق نہیں ہے۔ محدثین کے نزدیک ان پابندیوں سے روایت کا دائرہ تنگ ہو جا تا ہے لیکن اما م صاحبؒ نے روایت کی وسعت کی نسبت احتیاط کو مقدم رکھا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ امام صاحبؒ کا اشتغال مسائل کو دلائل سے استنباط کر نے میں زیادہ رہا جیسے کہ کبارِ صحابہؓ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ عمل میں مشغول رہے اسی وجہ سے ان کی مرویات کم ہیں اس کے برخلاف جو صحابہؓ ان سے کم مر تبہ ہیں ان کی روایات ان اکابر صحابہؓ کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔

یہ تمام باتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہؒ کا کیا پایہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں نے امام ابو حنیفہؒ کو امام ابو حنیفہؒ نہیں بنایا۔ اگر وہ حافظ الحدیث تھے تو اور لو گ بھی تھے۔ اگر ان کے شیوخِ حدیث کئی سو تھے تو بعض ائمہ سلف کے شیوخ کئی کئی ہزار تھے۔ اگر انہوں نے کوفہ و حرمین کی درسگاہ میں تعلیم پائی تھی تو اوروں نے بھی یہ شرف حاصل کیا تھا۔ ابو حنیفہ کو جس بات نے تمام ہم عصروں میں امتیاز دیا وہ اور چیز ہے جو ان سب باتوں سے با لا تر ہے یعنی احادیث کی تنقید اور بلحاظِ ثبوت احکام، ان کے مرا تب کی تفریق۔

امام ابو حنیفہؒ کے بعد علمِ حدیث کو بہت ترقی ہوئی غیر مرتب اور منتشر حدیثیں یکجا کی گئیں۔ صحت کا التزام کیا گیا۔ اصولِ حدیث کا مستقل فن قائم ہو گیا جس کے متعلق سینکڑوں بیش بہا کتابیں تصنیف ہوئیں۔ زمانہ اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ باریک بینی اور دقتِ آفرینی کی کو ئی حد نہیں رہی۔ تجربہ اور دقتِ نظر نے سیکڑوں نئے نقطے ایجاد کئے لیکن تنقیدِ احادیث، اصولِ درایت، امتیازِ مراتب میں امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق کی جو حد ہے آج بھی ترقی کا قدم اس سے آگے نہیں بڑھتا۔

بانی فقہ

اسلامی علوم مثلاً تفسیر، فقہ، مغازی ان کی ابتدا گرچہ اسلام کے ساتھ ساتھ ہوئی لیکن فن کی حیثیت سے دوسری صدی کے اوائل میں تدوین و ترتیب شروع ہوئی۔ اور جن لوگوں نے تدوین و ترتیب کی وہ ان علوم کے بانی کہلائے۔ چنانچہ بانی فقہ کا لقب امام ابو حنیفہؒ کو ملا جو در حقیقت اس لقب کے سزاوار تھے۔ اگر ارسطو علم منطق کا موجد ہے تو بلاشبہ امام ابو حنیفہؒ بھی علمِ فقہ کے موجد ہیں۔

امام صاحبؒ کی عملی زندگی کا بڑا کارنامہ فقہ ہی ہے اس لئے ہم اس پر تفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں لیکن اصل مقصد سے پہلے ضروری ہے کہ مختصر طور پر علمِ فقہ کی تاریخ سمجھ لیں جس سے ظاہر ہو کہ یہ علم کب شروع ہوا اور کیونکر شروع ہو ا؟ اور خاص کر یہ کہ امام ابو حنیفہؒ نے جب اس کو پایا تو اس کی کیا حالت تھی؟

شاہ ولی اللہ صاحبؒ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسائل کی جو صورتِ حال تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ صحابہؓ کے سامنے وضو فرماتے تھے اور کچھ نہ بتا تے کہ یہ رکن ہے، یہ واجب ہے، یہ مستحب ہے، صحابہؓ آپﷺ کو دیکھ کر اسی طرح وضو کر تے تھے۔ نماز کا بھی یہی حال تھا یعنی صحابہؓ فرض واجب وغیرہ کی تفصیل و تدقیق نہیں کیا کرتے تھے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا خود بھی پڑھ لی۔

مجتہدین صحابہؓ

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد فتوحات کو نہایت وسعت ہوئی اور تمدن کا دائرہ وسیع ہو تا گیا۔ واقعات اس کثرت سے پیش آئے کہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت پڑی اور اجمالی احکام کی تفصیل پر متوجہ ہو نا پڑا۔ مثلاً کسی شخص نے غلطی سے نماز میں کوئی عمل ترک کر دیا اب بحث یہ پیش آئی کہ ’’ نماز ہوئی یا نہیں؟ ‘‘ صحابہؓ کو ان صورتوں میں استنباط، تفریع، حمل النظیر علی النظیر اور قیاس سے کام لینا پڑا۔ اس اصول کے طریقے یکساں نہ تھے اس لئے ضروری اختلاف پیدا ہوئے۔ غرض صحابہؓ ہی کے زمانہ میں احکام اور مسائل کا ایک دفتر بن گیا۔ اور جدا جدا طریقے قائم ہو گئے۔

صحابہؓ میں سے جن لوگوں نے استنباط و اجتہاد سے کام لیا اور مجتہد یا فقیہ کہلائے ان میں سے چار بزرگ نہایت ممتاز تھے حضرت علیؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ۔

حضرت علیؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ زیادہ تر کوفہ میں رہے۔ اور وہیں ان کے مسائل و احکام کی زیادہ ترویج ہوئی اس تعلق سے کوفہ فقہ کا دارالعلوم بن گیا، جس طرح کہ حضرت عمرؓ و عبد اللہ بن عباسؓ کے تعلق سے حرمین کو دارالعلوم کا لقب حاصل ہوا تھا۔

حضرت علیؓ

حضرت علیؓ بچپن سے رسول اﷲﷺ کی آغوشِ تربیت میں پلے تھے اور جس قدر ان کو آنحضرت ﷺ کے اقوال سے مطلع ہونے کا موقع ملا تھا اور کسی کو نہیں ملا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ اور صحابہؓ کی نسبت کثیر الروایت کیوں ہیں؟ فرمایا کہ میں آنحضرتﷺ سے کچھ دریافت کرتا تھا تو بتاتے تھے۔ اور چپ رہتا تھا تو خود ابتدا کرتے تھے۔

اس کے ساتھ ذہانت، قوتِ استنباط، ملکۂ استخراج ایسا بڑھا ہوا تھا کہ عموماً صحابہؓ اعتراف کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا عام قول تھا کہ خدا نہ کرے کہ کوئی مشکل مسئلہ آن پڑے اور علیؓ ہم میں موجود نہ ہوں۔ عبداﷲ بن عباسؓ خود مجتہد تھے مگر کہا کرتے تھے کہ جب ہم کو علیؓ کا فتویٰ مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

عبد اﷲ بن مسعودؓ

عبد اﷲ بن مسعودؓ بھی حدیث و فقہ دونوں میں کامل تھے۔ رسول اﷲﷺ کے ساتھ جس قدر جلوت و خلوت میں وہ ہمدم و ہمراز رہے تھے بہت کم لوگ رہے ہوں گے۔ صحیح مسلم میں ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ ہم یمن سے آئے اور کچھ دنوں تک مدینہ میں رہے، ہم نے عبد اﷲ بن مسعودؓ کو رسول اﷲ ﷺ کے پاس اس کثرت سے آتے جاتے دیکھا کہ ہم ان کو رسول اﷲﷺ کے اہل بیت ہو نے کا گمان کرتے رہے۔

عبداﷲ بن مسعودؓ کا دعویٰ تھا کہ ’’ قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی نسبت میں یہ نہ جانتا ہوں کہ کس باب میں اتری ہے۔ ‘‘ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کا مجھ سے زیادہ عالم ہوتا تو میں اس کے پاس سفر کر کے جاتا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ انہوں نے ایک مجمع میں دعویٰ کیا تھا کہ تمام صحابہؓ جانتے ہیں کہ میں قرآن کا سب سے زیادہ عالم ہوں۔ شقیقؒ اس جلسہ میں موجود تھے وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اکثر صحابہؓ کے حلقوں میں شریک ہوا مگر کسی کو عبد اﷲ بن مسعودؓ کے دعوے کا منکر نہیں پایا۔

مجتہدین تابعین

عبد اللہ بن مسعودؓ باقاعدہ طور پر حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے اور ان کی درسگاہ میں بہت سے تلامذہ کا مجمع رہتا تھا جن میں سے چند اشخاص یعنی اسودؒ، اور علقمہؒ نہایت نامور ہوئے۔ علقمہؒ و اسودؒ کے انتقال کے بعد ابراہیم نخعیؒ مسند نشیں ہوئے اور فقہ کو بہت کچھ وسعت دی یہاں تک کہ ان کو فقیہ العراق کا لقب ملا۔ امام شعبیؒ نے جو علامۃ التابعین کے لقب سے ممتاز ہیں ان کی وفات کے وقت کہا کہ ’’کوئی شخص ان سے زیادہ علم والا نہیں رہا۔

ابراہیم نخعیؒ کے عہد میں مسائلِ فقہ کا ایک مختصر مجموعہ تیار ہو گیا تھا جس کا ماخذ حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے فتاویٰ تھے۔ پھر یہ مجموعہ حمادؒ کے پاس جمع ہو گیا جو ابراہیم نخعیؒ کے نہایت ممتاز شاگرد تھے چنانچہ ان کے مرنے کے بعد فقہ کی مسندِ خلافت بھی انہی کو ملی اور ابراہیمؒ کے مجموعۂ فقہ کے بہت بڑے حافظ تھے حمادؒ کا تذکرہ ’’حماد کی شاگردی‘‘ کے عنوان سے گزر چکا ہے۔

حمادؒ نے ۱۲۰ھ میں وفات پائی اور لوگوں نے ان کی جگہ امام ابو حنیفہؒ کو فقہ کی مسند پر بٹھایا۔

 

تدوین فقہ، طریقۂ تدوین اور اس مجموعہ کا رواج

تدوین فقہ کا سبب

یہ امر تاریخوں سے ثابت ہے کہ امام صاحبؒ کو تدوینِ فقہ کا خیال تقریباً ۱۲۰ھ میں پیدا ہوا یعنی جب ان کے استاد حمادؒ نے وفات کی۔ امام ابو حنیفہؒ کی طبیعت مجتہدانہ اور غیر معمولی طور پر مقننانہ واقع ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ تجارت کی وسعت اور ملکی تعلقات نے ان کو معاملات کی ضرورتوں سے خبر دار کر دیا تھا۔ اطراف و بلاد سے ہر روز جو سینکڑوں ضروری استفتاء آئے ہوتے تھے ان سے ان کو اندازہ ہوتا تھا کہ ملک کو اس فن کی کس قدر حاجت ہے۔ قضاۃ احکامِ فصل و قضایا میں جو غلطیاں کر تے تھے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے غرض یہ اسباب اور وجوہ تھے جنہوں نے ان کو اس فن کی تدوین و ترتیب پر آمادہ کیا۔

تدوین فقہ میں شریک علماء

امام صاحبؒ نے جس طریقہ سے فقہ کی تدوین کا ارادہ کیا وہ نہایت وسیع اور پرخطر کام تھا اس لئے انہوں نے اپنے زمانہ کے علماء میں سے چند نامور اشخاص انتخاب کئے۔ جن میں سے اکثر خاص خاص فنون میں جو تکمیلِ فقہ کے لئے ضروری تھے استاذِ زمانہ تسلیم کئے جاتے تھے، مثلاً یحییٰ بن ابی زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، قاضی ابو یوسفؒ، داؤد السطانیؒ، حبانؒ، مندلؒ وغیرہ حدیث و آثار میں نہایت کمال رکھتے تھے۔ امام زفرؒ کو قوتِ استنباط میں کمال تھا۔ امام صاحبؒ نے ان لوگوں کی شرکت سے ایک مجلس مرتب کی اور باقاعدہ طور سے فقہ کی تدوین شروع کی۔

امام طحاویؒ نے بسندِ متصل اسد بن فرات سے روایت کی ہے کہ ’’ابو حنیفہؒ کے زمانہ کے علماء جنہوں نے فقہ کی تدوین کی چالیس تھے۔ لکھنے کی خدمت یحییٰ سے متعلق تھی اور وہ تیس برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے۔ فقہ کی تدوین میں کم و بیش تیس برس کا زمانہ صرف ہوا یعنی ۱۲۱ھ سے ۱۵۰ھ تک جو امام ابو حنیفہؒ کی وفات کا سال ہے۔

طریقۂ تدوین

تدوین کا طریقہ یہ تھا کہ کسی خاص باب کا کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تھا، اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق الرائے ہوتے تھے تو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا ورنہ نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی بہت دیر تک بحث قائم رہتی۔ امام صاحب غور اور تحمل کے ساتھ سب تقریریں سنتے اور بالآخر ایسا جچا تلا فیصلہ کر تے کہ سب کو تسلیم کر نا پڑتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام صاحب کے فیصلہ کے بعد لوگ اپنی اپنی رایوں پر قائم رہتے اس وقت وہ سب اقوال قلمبند کر لئے جاتے۔ اس کا التزام تھا کہ جب تک تمام شرکاء جلسہ جمع نہ ہو لیں کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جائے۔

اس مجموعہ کی ترتیب یہ تھی: اول باب الطہارت، باب الصلوٰۃ، باب الصوم پھر عبادات کے اور ابواب، اس کے بعد معاملات، سب سے اخیر میں باب المیراث۔ قلائدِ عقود العقیان کے مصنف نے کتاب الصیانۃ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے جس قدر مسائل مدون کئے ان کی تعداد ایک لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ امام محمدؒ کی جو کتابیں آج موجو د ہیں ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔

اس مجموعہ کا رواج

امام صاحبؒ کی زندگی ہی میں اس مجموعہ نے وہ حسنِ قبول حاصل کیا کہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے مشکل سے قیاس میں آ سکتا ہے۔ جس قدر اس کے اجزاء تیار ہو جاتے تھے ساتھ ہی ساتھ تمام ملک میں اس کی اشاعت ہوتی جاتی تھی۔ امام صاحبؒ کی درسگاہ ایک قانونی مدرسہ تھا جس کے طلباء نہایت کثرت سے ملکی عہدوں پر مامور ہوتے اور ان کی آئینِ حکومت کا یہی مجموعہ تھا۔

تعجب یہ ہے کہ جن لوگوں کا امام صاحبؒ سے ہم عصری کا دعوی تھا وہ بھی اس کتاب سے بے نیاز نہ تھے۔ زائدہؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سفیان ثوریؒ کے سرہانے ایک کتاب دیکھی جس کا وہ مطالعہ کر رہے تھے۔ ان سے اجازت مانگ کر میں اس کو دیکھنے لگا تو ابو حنیفہؒ کی کتاب ’’ کتاب الرہن‘‘ نکلی۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ ’’ آپ ابو حنیفہؒ کی کتابیں دیکھتے ہیں؟‘‘ بولے’’ کاش ان کی سب کتابیں میرے پاس ہوتیں۔‘‘

سلا طین اکثر حنفی تھے

ایک خاص بات یہ ہے کہ عنانِ حکومت جن لوگوں کے ہاتھ میں رہی وہ اکثر حنفی فقہ کے ہی پابند تھے خلفاءِ عباسیہ میں عبد اللہ بن معتز جو فنِ بدیع کا موجد تھا اور خلفاء عباسیہ میں سب سے بڑ ا شاعر اور ادیب تھا وہ حنفی المذہب تھا۔ ( تاریخ ابن خلکان)۔

خلافتِ عباسیہ کے تنزل کے ساتھ جن خاندانوں کو عروج ہوا اکثر حنفی تھے۔ خاندانِ سلجوق جس نے ایک وسیع مدت تک حکومت کی اور جن کے دائرہ حکومت کی وسعت طول میں کاشغر سے لے کر بیت المقدس تک اور عرض میں قسطنطنیہ سے بلادِ خرز تک پہنچی، حنفی تھا۔

محمود غزنوی جس کے نام سے ہندوستان کا بچہ بچہ واقف ہے فقہ حنفی کا بہت بڑ ا عالم تھا۔ فن فقہ میں اس کی ایک نہایت عمدہ تصنیف موجود ہے جس کا نام’’ التفرید‘‘ ہے اور جس میں کم و بیش ساٹھ ہزار مسئلے ہیں۔

نورالدین زنگی کا نام چھپا ہوا نہیں ہے وہ ہمارے ہیروز میں داخل ہے۔ بیت المقدس کی لڑائیوں میں اول اسی نے نام حاصل کیا۔ صلاح الدین فاتحِ بیت المقدس اسی کے دربار کا ملازم تھا۔ دنیا میں پہلا دار الحدیث اس نے قائم کیا۔ وہ خود اور اس کا تمام خاندان مذہباً حنفی تھا۔ (الجوہر المضئیہ)۔

الملک المعظم عیسی بن الملک العادل جو ایک وسیع ملک کا بادشاہ تھا۔ علامہ ابن خلقانؒ لکھتے ہیں کہ وہ نہایت عالی ہمت، فاضل، ہوشمند، دلیر، پر رعب تھا اور حنفی مذہب میں غلو رکھتا تھا۔ چراکسۂ مصر جو نویں صدی کے آغاز میں مصر کی حکومت پر پہنچے اور ایک سو اڑتالیس برس تک فرماں روا رہے اور بہت سی فتوحات حاصل کیں خود حنفی تھے اور ان کے دربار میں اسی مذہب کا فروغ تھا۔

سلاطینِ ترک جو کم و بیش چھ سو برس سے روم کے فرماں رواں ہیں۔ آج انہی کی سلطنت اسلام کی عز ت و وقار کی امید گاہ ہے عموماً حنفی تھے۔ خود ہمارے ہندوستان کے فرماں رواں خوانین اور آل تیمور اسی مذہب کے پابند رہے اور ان کی وسیع سلطنت میں اس طریقہ کے سوا اور کسی طریقہ کو رواج نہ ہو سکا۔

 

فقہ حنفی اور قرآن و حدیث میں توافق

فقہ حنفی کے اصول

امام حنیفہؒ کے نزدیک مصادر و استنباط کی ترتیب اس طرح تھی: پہلے قرآن پھر حدیث پھر صحابہ کرامؓ کے متفقہ فتاویٰ، اگر صحابہ کرامؓ کے مابین کسی مسٔلہ میں اختلاف ہو تا تو کسی بھی ایک صحابی کی رائے کو ضرور اختیار فرماتے، سب سے ہٹ کر اپنی کوئی رائے نہیں رکھتے، البتہ تابعین کے اقوال کو اس بناء پر ترک فرما دیتے کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ لوگ تھے۔ آپ کے خاص شاگرد امام محمدؒ فرماتے ہیں امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ قیاس کے باب میں کھل کر بحث و مباحثہ کر تے لیکن جب آپ دلیل استحسانی پیش کرتے تو سب لوگ خاموش ہو جاتے۔ ابنِ حزمؒ کا بیان ہے کہ’’ تمام اصحابِ ابو حنیفہؒ اس بات پر متفق ہیں کہ امام صاحبؒ کا مذہب یہ تھا کہ ضعیف حدیث بھی اگر مل جائے تو اس کے مقابلہ میں قیاس اور رائے کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ‘‘

نصوصِ شرعی کے مطابق

حنفی فقہ کی ایک سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ جو احکام نصوص سے ماخوذ ہیں اور جن میں ائمہ کا اختلاف ہے ان میں امام ابو حنیفہؒ جو پہلو اختیار کرتے ہیں وہ عموماً نہایت قوی اور مدلل ہوتا ہے۔

لہذا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حنفی فقہ کے مسائل نصوصِ قرآن سے زیادہ مطابق ہیں تو مہمات مسائل میں فقہ حنفی کی ترجیح بہ آسانی ثابت ہو جائے گی اور اس کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ امام ابو حنیفہؒ کو حیثیتِ اجتہاد میں تمام ائمہ پر ترجیح ہے کیونکہ اجتہاد کا دار و مدار زیادہ تر استنباط اور استخراج پر مبنی ہے۔

نصوصِ قرآنی سے استنباط

مثلاً امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ وضو میں چار فرض ہیں۔ امام شافعیؒ دو فرض کا اور اضافہ کرتے ہیں یعنی نیت اور ترتیب۔ امام مالکؒ ان کے بجائے موالات ( یعنی پہ در پہ) کو فرض کہتے ہیں۔ امام احمدؒ بسم اللہ کہنے کو بھی فرض قرار دیتے ہیں۔ امام صاحب کا استدلال قرآن کی آیت ہے۔ ( فاغسلوا۔ ۔ ۔ الخ) جس میں بالاتفاق صرف چار حکم مذکور ہیں۔ اس لئے جو چیز ان احکام کے علاوہ ہیں فرض نہیں ہو سکتی، نیت، موالات اور تسمیہ کا تو آیت میں کہیں وجود بھی نہیں ہے۔

دوسرا مسئلہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ اثنائے نماز میں پانی مل جائے تو تیمم جاتا رہے گا۔ امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس کے مخالف ہیں امام صاحبؒ کا استدلال قرآن کی آیت لم تجدوا ماءً فتیمموا یعنی جب پانی نہ ملے تو تیمم کرو۔ صورتِ مذکورہ میں جب شرط باقی نہیں رہی۔ یعنی تیمم کی بقا کے لئے شرط ہے کہ پانی نہ ہو۔ جب پانی مل گیا تو مشروط یعنی تیمم بھی باقی نہیں رہا۔

اسی طرح مقتدی کے لئے قرأتِ فاتحہ کے مسئلہ میں،امام ابو حنیفہؒ کا استدلال اس آیت پر ہے : واذا قرء القرآن ماستمعوا لہ و انصتوا۔

فقہ حنفی کے اس طرح کے سینکڑوں ترجیحی مسائل ہیں جن کو اختصار کی بنا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

احادیثِ صحیحہ میں ترجیح

فقہ حنفی کے مسائل نصوصِ شرعیہ کے زیادہ قریب ہیں۔ جب ایک مسئلہ میں بہت سی احادیث جمع ہو جاتی ہیں تو امام صاحبؒ ان میں جو روایتاً  و  درایتاً قوی ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً  ایک مشہور مسئلہ، مسئلہ رفع یدین کو لے لیجئے۔ مثلاً امام اوزاعیؒ جو ملکِ شام کے امام اور فقہ میں مذہبِ مستقل کے بانی تھے، مکہ معظمہ میں امام ابو حنیفہؒ سے ملے اور کہا کہ ’’عراق والوں سے نہایت تعجب ہے کہ رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین نہیں کرتے حالانکہ میں نے زہریؒ سے انہوں نے سالم بن عبد اللہؒ سے، انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان موقعوں پر رفع یدین فرماتے تھے۔

امام ابو حنیفہؒ نے اسکے مقابلہ میں حمادؒ، ابراہیم نخعیؒ، علقمہؒ اور عبد اللہ بن مسعودؓ کے سلسلہ سے حدیث روایت کی کہ آنحضرتﷺ ان موقعوں پر رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ امام اوزاعیؒ نے یہ سن کر کہا ’’سبحان اللہ! میں تو زہریؒ، سالمؒ، عبد اللہ بن عمرؓ کے ذریعہ حدیث بیان کرتا ہوں آپ اس کے مقابلہ حمادؒ، نخعیؒ، علقمہؒ کا نام لیتے ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ نے کہا میرے رواۃ آپ کے راویوں سے زیادہ فقیہ ہیں اور عبد اللہ بن مسعودؓ کا رتبہ خود معلوم ہی ہے، اس لئے ان کی روایت کو ترجیح ہو گی۔

امام محمدؒ کتاب الحج میں لکھتے ہیں عبد اللہ بن مسعودؓ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں پوری عمر کو پہنچ چکے تھے۔ سفر و حضر میں ساتھ رہتے تھے اور جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ جماعت کی صفِ اول میں جگہ پاتے تھے بخلاف اس کے عبد اللہ بن عمرؓ کا محض آغاز تھا۔ پیچھے صف میں کھڑا ہونا پڑتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے حرکات و سکنات سے واقف ہو نے کے جو مواقع عبد اللہ بن مسعودؓ کو مل سکے عبد اللہ بن عمرؓ کو کیونکر حاصل ہو سکتے تھے؟ امام محمدؒ کا یہ طرزِ استدلال حقیقت میں اصولِ درایت پر مبنی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے امام اوزاعیؒ کے سامنے اپنی تقریر میں عبد اللہ بن مسعودؓ کی عظمت و شان کا جو ذکر کیا اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

قیاس کا الزام اور اس کی تردید

عبد اللہ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے حج کیا تو ابو جعفر محمد بن علی بن حسینؓ بن علی ابی طالبؓ کی زیارت کی۔ ابو جعفر نے امام صاحبؒ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ’’ تم وہی ہو جو عقل و قیاس کے ذریعے حدیثوں کی مخالفت کر تے ہو؟‘‘ ابو حنیفہ نے فرمایا ’’اللہ کی پناہ تشریف رکھئیے۔ آپ کی تعظیم ہم پر واجب ہے کیونکہ آپ سادات میں سے ہیں۔ ‘‘ ابو جعفر محمد بیٹھ گئے، امام صاحبؒ نے با ادب عرض کیا ’’حضرت! آپ سے صرف تین مسئلے دریافت کر رہا ہوں جواب عنایت فرمائیں۔ اول یہ کہ مرد زیادہ کمزور ہے یا عورت؟‘‘ فرمایا ’’عورت۔ ‘‘ امام صاحبؒ نے عرض کیا’’ مرد اور عورت کے کیا کیا حصے وراثت میں ہوتے ہیں؟‘‘ ابو جعفر نے فرمایا’’ عورت کا حصہ مرد کے حصہ کا آدھا ہوتا ہے۔ ‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس سے کہتا اور عقل کا استعمال کرتا تو اسکے برعکس کہتا کیونکہ عورت مرد سے کمزور ہے لہٰذا اس کا دو حصہ ہو نا چاہیے تھا۔

دوسرا مسئلہ عرض یہ ہے کہ نماز افضل ہے یا روزہ؟ فرمایا ’’نماز‘‘ تب امام صاحبؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس سے کہتا تو دوسرا حکم دیتا اور کہتا کہ حائضہ عورت نماز کی قضا کرے، روزہ کی نہیں، کیونکہ نماز روزہ سے افضل ہے۔

تیسرا مسئلہ امام صاحب نے دریافت کیا کہ پیشاب زیادہ نجس ہے یا منی؟ فرمایا’’ پیشاب زیادہ نجس ہے۔ ‘‘ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر میں قیاس سے کہتا تو یہ حکم دیتا کہ پیشاب سے غسل واجب ہے، منی سے نہیں کیونکہ پیشاب زیادہ نجس ہے۔ اللہ کی پناہ کہ میں حدیث کے خلاف کوئی بات کہوں میں تو حدیث کے چاروں طرف پھرتا ہوں۔ یہ سن کر ابو جعفر محمد کھڑے ہو گئے اور ابو حنیفہ کا منہ چوم لیا۔

 

اصطلاحاتِ فقہ حنفیہ

فرض :حنفیہ کے نزدیک فرض وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائے جو نزول اور دلالت دونوں میں قطعی ہو مثلاً آیتِ قرآنیہ اور وہ حدیثیں جو نص ہونے کے ساتھ تواتر یا شہرت کے ذریعہ قطعی طور پر ثابت ہوں۔

واجب : وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائے جو نزول یا دلالت یا دونوں طریقہ سے ظنی ہو۔ مثلاً دو رکعتوں میں قرآن مجید کی ممکن آیتوں کا پڑھنا فرض اور ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور فرض کے چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نماز باطل ہو جائے گی، اور سہواً واجب کے چھوڑنے سے سجدۂ سہو لازم آئے گا۔

فرضِ کفایہ: شارع کے اس مطالبہ کا نام ہے جس میں اس کا کرنے والا مقصود نہ ہو اس لئے اگر کسی مکلف نے اس کو کر دیا تو باقی لوگ گناہ سے سبکدوش ہو گئے، لیکن اگر سب نے اس کو چھوڑ دیا تو سب کے سب گناہ گار ہوں گے۔

شرط : جس مامور بہ پر اس کا غیر موقوف ہو، وہ اس کی حقیقت سے خارج ہو تو فقہا اس کو شرط کہتے ہیں مثلاً نماز کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا اور اس کا جزو ہو تو اس کا نام رکن رکھتے ہیں مثلاً نماز میں رکوع۔

سنت: حنفیہ کی اصطلاح میں سنت اس کو کہتے ہیں جس کو رسولﷺ نے ہمیشہ کیا ہو، البتہ کبھی کبھی اس کو بلا ناغہ چھوڑ بھی دیا ہو اور مندوب اور مستحب وہ ہے جس کو آپﷺ نے ہمیشہ نہ کیا ہو، چنانچہ حنیفہ کے نزدیک حرام فرض کا مقابل، مکروہ تحریمی واجب کا مقابل اور مکروہ تنزیہی سنت کا مقابل ہے اور شارع نے جس چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اس کو مباح کہتے ہیں۔ (تاریخِ فقہ اسلامی)

 

فقہ حنفی کا اصولِ عقلی کے موافق اسرار اور مصالح

سب سے مقدم اور قابلِ قدر خصوصیت جو فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ مسائل کا اسرار اور مصالح پر مبنی ہونا ہے۔ تمام مہماتِ مسائل کی مصلحت اور غایت خود کلامِ الہی میں مذکور ہے۔ کفار کے مقابلہ میں قرآن کا طرزِ استدلال عموماً اسی اصول کے مطابق ہے نماز کی مصلحت خدا نے خود بتائی کہ۔ ’’تنہی عن الفحشاء والمنکر‘‘ روزہ کی فرضیت کے ساتھ ارشاد ہوا ’’لعلکم تتقون‘‘جہاد کی نسبت فرمایا ’’حتی لاتکون فتنۃ ‘‘اسی طرح اور احکام کے متعلق قرآن اور حدیث میں جا بجا تصریحیں اور اشارے موجود ہیں کہ ان کی غرض و غایت کیا ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کا یہی مذہب تھا اور یہ اصول ان کے مسائلِ فقہ میں عموماً مرعی ہے۔ اسی کا اثر ہے کہ حنفی فقہ جس قدر اصولِ عقلی کے مطابق ہے اور کوئی فقہ نہیں۔ امام طحاویؒ نے جو محدث اور مجتہد دونوں تھے اس بحث میں ایک کتاب لکھی ہے جو ’’ شرح معانی الآثار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اور جس کا موضوع یہ ہے کہ مسائلِ فقہ کو نصوص و طریقِ نظر سے مشابہ کیا جائے۔

مثلاً ایک مسئلہ جس میں امام ابو حنیفہؒ اور دوسرے ائمہ مختلف ہیں یہ ہے کہ چار پاؤں والے جانور کی زکوٰۃ ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زکوٰۃ میں جانور یا اس کی قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔

امام شافعیؒ کے نزدیک قیمت ادا کرنے سے زکوٰۃ ہو ہی نہیں سکتی، حالانکہ زکوٰۃ کی غرض حاصل ہونے میں جانور اور اس کی قیمت دونوں برابر ہیں اس لئے شارع نے بھی کوئی تخصیص نہیں فرمائی۔ اور سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حنفی مسائل میں ہر جگہ مصالح اور اسرار کی خصوصیت ملحوظ ہے لیکن ہم طوالت کے لحاظ سے ان سب کی تفصیل نہیں کر سکتے معاملات کے مسائل میں یہ عقدہ زیادہ حل ہو جاتا ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدر مصالح اور اسرار کے موافق ہے۔

آسان اور سہل ہونا

دوسری خصوصیت فقہ حنفی کا آسان اور سہل ہونا ہے حنفی فقہ تمام اور فقہوں بالمقابل عمل کیلئے زیادہ آسان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا ہے کہ خدا تم لوگوں کے ساتھ آسانی چاہتا ہے ‘‘ سختی نہیں چاہتا ‘‘ رسول اﷲﷺ کا قول ہے کہ۔ ۔ ’’میں نرم اور آسان شریعت لے کر آیا ہوں۔ ‘‘ بلا شبہ اسلام کو تمام اور مذہبوں کے مقابلے میں یہ فخر حاصل ہے کہ وہ رہبانیت سے نہایت بعید ہے اس میں عباداتِ شاقہ نہیں ہیں اس کے مسائل آسان اور یسیر التعمیل ہیں۔ حنفی فقہ کو بھی اور فقہوں پر یہی ترجیح حاصل ہے۔

مثلاً سرقہ یعنی چوری کا مسئلہ جس میں اس قدر تو سب کے نزدیک مسلم ہے کہ سرقہ کی سزا قطعِ ید یعنی ہاتھ کاٹنا ہے۔ لیکن مجتہدین نے سرقہ کی تعریف میں چند شرطیں اور قیدیں لگائی ہیں جن کے بغیر قطعِ ید کی سزا نہیں ہو سکتی ان شروط کے لحاظ سے احکام پر جو اثر پڑتا ہے وہ ذیل کے جزئیات سے معلوم ہو گا جس سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدر آسان اور تمدن و شائستگی کے کس قدر موافق ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے مسائل اور دیگر ائمہ کے مسائل

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نصابِ سرقہ کم از کم ایک اشرفی ہے۔

اور ائمہ کے نزدیک ایک اشرفی کا ربع۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اگر ایک نصاب میں متعدد چوروں کا ساجھا ہے تو کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

امام احمدؒ کے نزدیک ہر ایک کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نادان بچہ پر قطعِ ید نہیں۔

امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک کفن چور پر قطع ید نہیں۔

اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زوجین میں سے اگر ایک دوسرے کا مال چرائے تو قطعِ ید نہیں۔

امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بیٹا باپ کا مال چرائے تو قطع ید نہیں۔

امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرابتِ قریبہ والے مثلاً چچا بھائی وغیرہ پر قطعِ ید نہیں۔

اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص کسی سے کوئی چیز مستعار لے کر انکار کر گیا تو قطعِ ید نہیں۔

اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص نے ایک چیز چرائی پھر بذریعہ ہبہ یا بیع اس کا مالک ہو گیا تو قطعِ ید نہیں۔

اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک غیر مذہب والے جو مستامن ہو کر اسلام کی عملداری میں رہتے ہیں ان پر قطعِ ید نہیں۔

اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن مجید کے سرقہ پر قطعِ ید نہیں۔

امام شافعیؒ و مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک لکڑی یا جو چیزیں جلد خراب ہو جاتی ہیں سرقہ سے قطعِ ید لازم نہیں آتا۔

اور ائمہ کے نزدیک لازم آتا ہے۔

ان تمام مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کا مذہب دوسرے ائمہ سے مخالف ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حنفی فقہ دوسرے فقہوں کی طرح تنگ اور سخت گیر نہیں ہے۔

تمدن کے موافق

تیسری خصوصیت فقہ حنفی میں معاملات کے متعلق جو قاعدے ہیں نہایت وسیع تمدن کے موافق ہیں۔

فقہ کا بہت بڑا حصہ جس سے دنیوی ضرورتیں متعلق ہیں معاملات کا حصہ ہے۔ اور یہی وہ موقع ہے جہاں ہر مجتہد کی دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کا پورا اندازہ ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے زمانے تک معاملات کے احکام ایسے ابتدائی حالت میں تھے کہ متمدن اور تہذیب یافتہ ممالک کے لئے بالکل ناکافی تھے۔ نہ معاہدات کے استحکام کے قاعدے منضبط تھے نہ دستاویزات وغیرہ کی تحریر کا اصول قائم ہوا تھا۔ نہ فصل و قضا، یا ادائے شہادت کا کوئی باقاعدہ طریقہ تھا۔

امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جو ان چیزوں کو قانون کی صورت میں لائے۔ لیکن افسوس ہے کہ مجتہدین جو ان کے بعد ہوئے انہوں نے بجائے اس کے کہ اس کو اور وسعت دیتے اسی غیر تمدنی حالت کو قائم رکھنا چاہا جس کا منشاء وہ زاہدانہ خیالات تھے جو علمائے مذہب کے دماغوں میں جاگزیں تھے۔

امام ابو حنیفہؒ نے جس دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کے ساتھ احکام منضبط کئے اس کا صحیح اندازہ تو اس وقت ہو سکتا ہے کہ معاملات کے چند ابواب کا ایک مفصل تبصرہ لکھا جائے۔ لیکن ایسی مفصل کتاب کے لئے نہ وقت مساعد ہے اور نہ ہی اس مختصر کتاب میں اس کی گنجائش ہے۔ تاہم مالایدرک کلہ لا یترک کلہ۔ اس لئے نمونہ کے طور پر ہم صرف نکاح کا ذکر کرتے ہیں جو عبادات اور معاملات دونوں کا جامع ہے۔

قرآن مجید میں محرّمات کے نام تصریحاً مذکور ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو گیا انہیں مسائل میں حرمت یا زنا کا مسئلہ ہے جو امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے اختلاف کا ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔ امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ زنا سے حرمت کے احکام نہیں پیدا ہوتے۔ مثلاً باپ نے کسی عورت سے زنا کیا تو بیٹے کا نکاح اس عورت سے نا جائز نہیں۔

امام شافعیؒ نے اس کو یہاں تک وسعت دی کہ ایک شخص نے اگر کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اور اس سے لڑکی پیدا ہوئی تو خود وہ شخص اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ زنا ایک حرام فعل ہے اس لئے وہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ امام ابو حنیفہؒ اس کے بالکل مخالف ہیں ان کے نزدیک مقاربت کے ذریعہ سے مرد اور عورت کے تعلقات پر جو فطری اثر پڑتا ہے وہ نکاح پر محدود نہیں ہے۔ اور یہ بالکل صحیح ہے محرمات کی حرمت جس اصول پر مبنی ہے۔ اس کو نکاح کے ساتھ خصوصیت نہیں۔ اپنے نطفہ سے جو اولاد ہو، گو زنا ہی سے ہو، اس کے ساتھ نکاح و مقاربت کو جائز رکھنا بالکل اصولِ فطرت کے خلاف ہے۔ باپ کی موطوعہ  کا بھی یہی حال ہے وعلی ہذا القیاس۔

دوسری بحث یہ ہے کہ معاملۂ نکاح کا مختار کون ہے؟ یہ ایک نہایت مہتم بالشان سوال ہے اور نکاح کے اثر کی خوبی اور برائی بہت کچھ اسی پر منحصر ہے۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک عورت گو عاقلہ بالغہ ہو نکاح کے بارے میں خود مختار نہیں ہے۔ یعنی کسی حال میں وہ اپنا نکاح آپ سے نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی محتاج ہے۔ ان بزرگوں نے ایک طرف تو عورت کو اس قدر مجبور کیا دوسری طرف ولی کو ایسے اختیارات دیئے ہیں کہ وہ زبردستی جس شخص کے ساتھ چاہے باندھ دے۔ عورت کسی حال میں انکار نہیں کر سکتی۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بالغہ عورت اپنے نکاح کی آپ مختار ہے بلکہ اگر نابالغی کی حالت میں ولی نے نکاح کر دیا ہو تو بالغ ہو کر وہ نکاح فسخ کر سکتی ہے اس بحث میں امام شافعیؒ کا مدار محض نقلی دلیلوں پر ہے۔ لیکن اس میدان میں بھی امام ابو حنیفہؒ ان سے پیچھے نہیں۔ اگر امام شافعیؒ کو لانکاح الا بولی پر استدلال ہے تو امام صاحب کی طرف الثیب احق بنفسہا من ولیہا والبکر تستاذن فی نفسہا موجود ہے لیکن اس بحث کا یہ موقع نہیں۔

ذمیوں کے حقوق

چوتھی خصوصیت جو حنفی فقہ کو حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ذمیوں یعنی ان لوگوں کو جو مسلمان نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کی حکومت میں مطیعانہ رہتے ہیں نہایت فیاضی اور آزادی سے حقوق بخشے۔ امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کو جو حقوق دیئے ہیں دنیا میں کسی حکومت نے کبھی کسی غیر قوم کو نہیں دیئے۔ یورپ جس کو اپنے قانونِ انصاف پر بڑا ناز ہے بے شک زبانی دعویٰ کر سکتا ہے لیکن عملی مثالیں نہیں پیش کر سکتا۔ حالانکہ امام ابو حنیفہؒ کے یہ احکام اسلامی گورنمنٹوں میں عموماً نافذ تھے۔ اور خاص کر ہارون الرشید کی وسیع حکومت انہی احکام پر قائم تھی۔

سب سے بڑا مسئلہ قتل و قصاص کا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کے برابر ہے۔ یعنی اگر مسلمان ذمی کو عمداً قتل کر ڈالے تو مسلمان بھی اس کے بدلے قتل کیا جائے گا اور اگر غلطی سے قتل کر دے تو جو خون بہا مسلمان کے قتل بالخطا سے لازم آتا ہے وہی ذمی کے قتل سے بھی لازم آئے گا۔

امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کے لئے اور جو قواعد مقرر کئے وہ نہایت فیاضانہ قواعد ہیں۔ وہ تجارت میں مسلمانوں کی طرح آزاد ہیں ہر قسم کی تجارت کر سکتے ہیں اور ان سے اسی شرح سے ٹیکس لیا جائے گا جس طرح مسلمانوں سے لیا جاتا ہے۔ جزیہ جو ان کی محافظت کا ٹیکس ہے اس کی شرح، حسبِ حیثیت قائم کی جائے گی۔ مفلس شخص جزیہ سے بالکل معاف ہے اگر کوئی شخص جزیہ کا باقی دار ہو کر مر جائے تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ ذمیوں کے معاملات انہی کی شریعت کے موافق فیصل کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ مثلاً اگر کسی مجوسی نے اپنی بیٹی سے نکاح کیا تو اسلامی گورنمنٹ اس نکاح کو اس کی شریعت کے موافق صحیح تسلیم کرے گی۔ ذمیوں کی شہادت ان کے باہمی مقدمات میں قبول ہو گی۔

اب اس کے مقابلے اور ائمہ کے مسائل دیکھو۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کسی مسلمان کو، گو بے جرم اور عمداً کسی ذمی کو قتل کیا ہوتا ہم وہ قصاص سے بری رہے گا۔ صرف دیت دینی ہو گی۔ یعنی مالی معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔ وہ بھی مسلمان کی دیت کی ایک ثلث اور امام مالکؒ کے نزدیک نصف۔ تجارت میں یہ سختی ہے کہ ذمی اگر تجارت کا مال ایک شہر سے دوسرے شہر کو لے جائے تو سال میں جتنی بار لے جائے ہر بار اس سے نیا ٹیکس لیا جائے گا۔ جزیہ کے متعلق امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ کسی حال میں ایک اشرفی سے کم نہیں ہو سکتا اور بوڑھے، اندھے، اپاہج، مفلس، تارک الدنیا تک اس سے معاف نہیں ہو سکتا۔ بلکہ امام شافعیؒ سے ایک روایت ہے کہ جو شخص مفلس ہونے کی وجہ سے جزیہ نہیں ادا کر سکتا وہ اسلام کی عملداری میں نہ رہنے پائے۔

خراج جو ان پر حضرت عمرؓ کے زمانے میں مقرر کیا گیا تھا اس پر اضافہ ہو سکتا ہے مگر کمی نہیں ہو سکتی۔ ذمیوں کی شہادت گو فریقین مقدمہ ذمی ہوں کسی حال میں مقبول نہیں اس مسئلہ میں امام مالکؒ و امام شافعیؒ دونوں متفق الرائے ہیں۔ ذمی اگر کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تواسی وقت اس کے تمام حقوق باطل ہو جائیں گے اور وہ کافر حربی سمجھا جائے گا۔

یہ تمام احکام ایسے سخت ہیں کہ جن کا تحمل ایک ضعیف سے ضعیف محکوم قوم بھی نہیں کر سکتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام شافعیؒ وغیرہ کا مذہب سلطنت کے ساتھ نہ نبھ سکا۔ مصر میں بے شبہ ایک مدت تک گورنمنٹ کا مذہب شافعیؒ تھا لیکن اس کا یہ نتیجہ تھا کہ عیسائی اور یہودی قومیں اکثر بغاوت کرتی رہیں۔

فقہی مسلک

خطیبؒ نے حمزہ سکری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ جب کسی مسئلے میں رسولِ پاک ﷺ کی حدیث ہو تو میں اسے چھوڑ کر کسی طرف نہیں جاتا بلکہ اسی کو اختیار کرتا ہوں۔ اگر صحابہؓ کے آثار ہوں اور مختلف ہوں تو انتخاب کرتا ہوں اور اگر تابعین کی بات ہو تو ان کی مزاحمت کرتا ہوں۔ یعنی ان کی طرح میں بھی اجتہاد کرتا ہوں۔

خطیبؒ نے ابوغسان سے روایت کی انہوں نے اسرائیل سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ نعمان بہترین آدمی ہیں۔ جس حدیث میں کوئی فقہی حکم ہوتا ہے اس کے وہ حافظ تھے اور اس کے اندر ان کا غور و فکر اچھوتا تھا۔ اسی وجہ سے خلفاء، وزراء اور امراء نے آپ کا اکرام کیا۔ جب کوئی آدمی ان سے کسی فقہی مسئلہ پر مباحثہ کرتا تو اسے اپنی ہی جان چھڑانی مشکل ہو جاتی تھی۔

ابوعبداﷲ محمد بن سفیان غنجار اپنی تاریخ میں نعیم بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ لوگ بڑے عجیب ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں حالانکہ میں آثار کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں۔

ابوالمظفر سمعانی نے اپنی کتاب ’’ الانتصا ر‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اور ابواسماعیل ہروس نے ’’ ذم العظام ‘‘ میں نوح الجامع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے عرض کیا کہ لوگوں نے اعراض اور اجسام جیسی نئی باتوں میں کلام شروع کر رکھا ہے آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا یہ فلسفیوں کی باتیں ہیں۔ تم آثار اور طریقِ سلف کو اپنے لئے لازم کر لو اور ہر نئی چیز سے بچو کہ وہ بدعت ہے۔

ہروی نے امام محمد بن حسن شیبانیؒ سے نقل کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بد دعا دی کہ اﷲ کی لعنت ہو عمرو بن عبید پر (یہ اپنے زمانہ میں معتزلہ کا رئیس تھا) اس نے لوگوں کے لئے ایسے کلام کا راستہ کھول دیا جس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔

ابو عبداﷲ صیمریؒ سے اسماعیل بن حماد نے روایت کی کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جس پر ہم ہیں وہ ایک رائے ہے کسی کو اس پر مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا قبول کرنا کسی پر واجب ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے بہتر رائے ہو تو اسے بیان کرنا چاہیے۔ ہم قبول کریں گے۔

خوارزمی نے حسن بن زیادؒ سے روایت کی ہے کہ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ کتاب اﷲ اور سنتِ رسول اﷲﷺ اور اجماع صحابہؓ کے ہوتے ہوئے اپنی رائے سے کچھ کہے۔

جس باب میں صحابہؓ کا اختلاف ہو اس میں امام صاحبؒ ان کا قول لیتے ہیں جن کا قول قرآن اور سنت سے زیادہ قریب ہو اور کوشش کرتے ہیں کہ اقرب کو حاصل کر لیں اور جب بات ان تینوں سے آگے چلی جاتی ہے تب اپنی رائے سے اجتہاد کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو پوری اجازت دیتے ہیں جو اختلاف اور قیاس کو جانتے ہیں کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں۔

شعبیؒ نے مسروقؒ سے نقل کیا کہ جس نے کسی گناہ کی نذر مانی اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے شعبیؓ سے عرض کیا اﷲ تعالی نے ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا اور معصیت قرار دیا چنانچہ ارشاد ہے ’’انہم یقولون منکراً من القول وزورا۔ ‘‘(المجادلۃ) شعبیؒ نے فرمایا ’’ أقیاس أنت؟‘‘

خوارزمی نے عبداﷲ بن مبارکؓ سے روایت کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے کتاب و سنت سے دلیل کے بغیر کسی مسئلے میں لب کشائی نہیں کی۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ قیاس میں سارے لوگ امام ابو حنیفہؒ کے محتاج ہیں۔

صیمری نے حسن بن صالح سے روایت کی کہ امام ابو حنیفہؒ ناسخ اور منسوخ احادیث کی تلاش بہت زیادہ کرتے تھے تاکہ جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ثبوت ہو جائے تو اس پر عمل کریں۔ اہل کوفہ احادیث کے حافظ اور ان کے پکے متبع تھے۔ نیز کوفہ میں جو حدیثیں پہنچی تھیں ان میں رسول اللہﷺ کے آخری عمل کے بھی متبع تھے۔

حافظ معمر بن راشد سے روایت کی کہ ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی شخص کو میں نہیں جانتا جو فقہ میں گفتگو کر سکے۔ اور اسے قیاس کرنے کا حق ہو۔ اور سمجھداری سے مسائل کا اخراج کر سکتا ہو اسی طرح ان سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا بھی نہیں دیکھا۔ وہ خدا کے دین میں کوئی شک کی بات داخل کرنے سے اپنے لئے بڑا خوف محسوس کرتے تھے۔

زبیر بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہؒ کے پاس تھا اور ابیض بن الاغر کسی مسئلے میں ان کے ساتھ بحث کر رہے تھے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف دلیلیں پیش کر رہے تھے۔ اچانک ایک آدمی مسجد کے کنارے سے چیخا، غالباً وہ مدنی تھے۔ امام صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا ’’یہ قیّاس ہے اسے چھوڑ دو، کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا۔ ‘‘ اس پر امام صاحبؒ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’میاں! تم نے اپنی بات بے موقع کہی، ابلیس نے تو اﷲ کے حکم سے سرتابی کی تھی جب کہ ہم اپنے قیاس سے امرِ خداوندی کی اتباع تلاش کر رہے ہیں اور ہم اﷲ کی اتباع کے ارد گرد گھوم رہے ہیں تا کہ اﷲ کے حکم کی اتباع کریں۔ اور ابلیس نے جب قیاس کیا تو اﷲ کے امر کی مخالفت کی لہذا ہم دونوں برابر کس طرح ہو گئے ؟‘‘ مرد حق شناس نے عرض کیا ابو حنیفہؒ ! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اب میں نے توبہ کر لی اﷲ آپ کے قلب کو منور فرمائے۔ جیسا کہ آپ نے میرے قلب کو منور کیا۔

ابن حزمؒ نے فرمایا کہ ابو حنیفہؒ کے تمام شاگردوں کا اتفاق ہے کہ امام صاحب کے نزدیک ضعیف حدیث قیاس اور رائے سے بہتر ہے۔

ضعیف حدیث سے استدلال کا رد

ابو حنیفہؒ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آ پ جن احادیث سے استدلال کر تے ہیں وہ اکثر ضعیف ہیں۔

اس اعتراض کا جواب حضرت مولانا تقی عثمانی نے اپنی کتاب ’’تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں مفصل تحریر فرمایا ہے جس کو مختصراً نقل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو حقیقت کا اندازہ ہو سکے۔

حنفیہ کی کتابوں کا مطالعہ

(۱) ضعیف حدیث سے استدلال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ احکام کے سلسلہ کی آیتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور پھر حنفیہ کی کتابوں کا انصاف اور حقیقت پسندی سے پڑھا جائے تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی خاص طور سے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ اس مکالمہ میں نہایت مفید ہو گا:

(۱) شرح معانی الآثار للطحاویؒ(۲) فتح القدیر، لا بن الہمامؒ ( ۳) نصب الرایہ، للزیلعیؒ (۴) الجوہر النقی، للمداینیؒ ( ۵) عمدۃ القاری، للعینیؒ(۶) فتح الملہم، لمولاناالعثمانیؒ(۷) بذل المجہود، لمولانا السہارنپوریؒ(۸)اعلاء السنن، لمولانا احمد العثمانیؒ (۹) معارف السنن، لمولانا البنوریؒ (۱۰) فیض الباری شرح صحیح البخاریؒ لمولانا انور شاہ کشمیریؒ۔

ان کتابوں میں قرآن و سنت سے حنفی مسلک کے دلائل شرح و بسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔

صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم میں منحصر نہیں۔

(0)    دوسری بات یہ ہے کہ صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم ہی میں منحصر نہیں ہیں۔ امام بخاری اور مسلم کے علاوہ سینکڑوں ائمۂ حدیث نے احایث کے مجموعے مرتب فرمائے ہیں دوسری کتابوں کی احادیث بھی بسا اوقات صحیحین کے معیار کی ہو سکتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی حدیث سنداً صحیحین سے بھی اعلیٰ معیار کی ہو سکتی ہو۔ مثلاً ابن ماجہ صحاح ستہ میں چھٹے نمبر کی کتاب ہے لیکن اس میں بعض احادیث جس اعلیٰ سند کے ساتھ آئی ہیں صحیحین میں اتنی اعلیٰ سند کے ساتھ نہیں ( ملاحظہ ہو ماتمس الیہ الحاجۃ) لہٰذا محض یہ دیکھ کر کسی حدیث کو ضعیف کہہ دینا کسی طرح درست نہیں کہ وہ صحیحین یا صحاحِ ستہ میں موجود نہیں بلکہ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اصولِ حدیث کے لحاظ سے اس کا کیا مقام ہے ؟ اگر یہ بات ذہن میں رہے تو حنیفہ کے مسلک پر بہت سے وہ اعتراضات خود بخود دور ہو جاتے جو بعض سطح بیں حضرات وارد کیا کر تے ہیں۔

(1)

مجتہدین کا طرزِ استدلال جداگانہ

(۳) تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین کے درمیان سینکڑوں فقہی مسائل میں جو اختلافات واقع ہوئے ہیں، اس کا بنیادی سبب ہی یہ ہے کہ مجتہد کا طرزِ استدلال اور طریق استنباط جدا جدا ہو تا ہے۔ مثلاً بعض مجتہد ین کا طرز یہ ہے کہ اگر ایک مسئلے میں احادیث بظاہر متعارض ہوں تو وہ اس روایت کو لے لیتے ہیں جنکی سند سب سے زیادہ صحیح ہو خواہ دوسری احادیث بھی سنداً درست ہوں۔ اس کے بر خلاف بعض حضرات ان روایات کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسری سے ہم آہنگ ہو جائیں اور تعارض باقی نہ رہے، خواہ کم درجہ کی صحیح یا حسن حدیث کو اصل قرار دے کر اصل حدیث کی خلافِ ظاہر توجیہ کرنی پڑے اور بعض مجتہدین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس حدیث کو اختیار کر لیتے ہیں جس پر صحابہؓ یا تابعینؒ کا عمل رہا ہو اور دوسری احادیث میں تاویل کرتے ہیں۔

غرض ہر مجتہد کا اندازِ نظر جداگانہ ہے اور ان میں سے کسی کو یہ الزام نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے صحیح احادیث کو ترک کر دیا۔ امام ابو حنیفہ عموماً احادیث میں تطبیق کی کوشش فرماتے ہیں اور حتی الامکان ہر حدیث پر عمل کی کو شش کرتے ہیں خواہ سنداً مرجوح ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اگر ضعیف حدیث کا کوئی معارض موجود نہ ہو تو اس پر بھی عمل کر تے ہیں، خواہ وہ قیاس کے خلاف ہو، مثلاً نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جانے، شہد پر زکوٰۃ واجب ہے وغیرہ کے متعدد مسائل میں انہوں نے ضعیف احادیث کی بناء پر قیاس کو ترک کر دیا ہے۔

احادیث کی تصحیح و تضعیف ایک اجتہادی مسئلہ

(۴) احادیث کی تصحیح و تضعیف بھی ایک اجتہاد ی معاملہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علماۓ جرح و تعدیل کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو تا رہتا ہے۔ ایک حدیث امام کے نزدیک صحیح یا حسن ہوتی ہے اور دوسرا اسے ضعیف قرار دیتا ہے، چنانچہ حدیث کی کتابوں کو دیکھنے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا بعض اوقات امام ابو حنیفہؒ اپنے اجتہاد سے کسی حدیث کو قابلِ عمل قرار دیتے ہیں اور دوسرے مجتہدین اسے ضعیف سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں اور امام ابو حنیفہ چونکہ خود مجتہد ہیں، اس لئے دوسرے مجتہدین کے اقوال ان پر حجت نہیں ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ کے بعد کا راوی ضعیف

(۵) بسا اوقات ایسا بھی ہو تا ہے کہ ایک حدیث امام ابو حنیفہؒ کو صحیح سند کے ساتھ پہنچی جس پر انہوں نے عمل کیا، لیکن ان کے بعد کے راویوں میں سے کوئی راوی ضعیف آ گیا، اس لئے بعد کے ائمہ نے اسے چھوڑ دیا لہٰذا امام ابو حنیفہؒ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک حدیث دو سندوں کے ساتھ

(۶) اگر کوئی محدث کسی حدیث کو ضعیف قرار دیتا ہے تو بعض اوقات اس کے پیشِ نظر اس حدیث کا کوئی خاص طریق ہوتا ہے، لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ کسی دوسرے طریق میں وہی حدیث صحیح سند کے ساتھ آئی ہو، مثلاً من کان لہ امام فقراۃ الامام لہ قرأۃ کی حدیث بعض محدث نے کسی خاص طریق کی بناء پر ضعیف کہا ہے لیکن مسند احمد اور کتاب الآثار وغیرہ میں یہی حدیث بالکل صحیح سند کے ساتھ آئی ہے۔ اور بسا اوقات ایک حدیث سنداً ضعیف ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ متعدد طرق اور اسانید سے مروی ہو تی ہے اور اسے مختلف اطراف سے متعدد راوی روایت کرتے ہیں اس لئے اسے قبول کر لیا جاتا ہے اور محدثین اسے حسن لغیرہٖ کہتے ہیں۔ ایسی حدیث پر عمل کرنے والے کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا ہے۔

صحیح حدیث ضعیف راوی

(۷) بعض اوقات ایک حدیث ضعیف ہوتی ہے اور حدیث کے ضعیف ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند میں کوئی راوی ضعیف آ گیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ضعیف راوی ہمیشہ غلط ہی روایت کرے لہٰذا اگر دوسرے قوی قرائن اس کی صحت پر دلالت کر تے ہوں تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے، مثلاً اگر حدیث ضعیف ہو لیکن تمام صحابہؓ اور تابعینؒ اس پر عمل کر تے چلے آ رہے ہوں، تو یہ اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ یہاں ضعیف راوی نے صحیح روایت نقل کی ہے، چنانچہ حدیث ’’ لاوصیۃ لوارث‘‘ کو اسی بناء پر تمام ائمہ مجتہدین نے معمول بہ قرار دیا ہے۔

بلکہ بعض اوقات اس بناء پر ضعیف روایت کو صحیح سند والی روایت پر ترجیح بھی دے دی جاتی ہے، مثلاً آنحضرتؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا واقعہ ہے کہ وہ حضرت ابوالعاصؓ کے نکاح میں تھیں، وہ شروع میں کافر تھے، بعد میں مسلمان ہوئے، اب اس میں روایات کا اختلاف ہے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرتؐ نے سابق نکاح برقرار رکھا تھا یا نیا نکاح کرایا تھا۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان کا نکاح کرایا تھا اور مہر بھی نیا مقرر ہوا تھا اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے سابق نکاح باقی رکھا تھا، نیا نکاح نہیں کرایا تھا، ان دونوں روایتوں میں سے پہلی روایت ضعیف ہے اور دوسری صحیح ہے لیکن امام ترمذی جیسے محدث نے تعاملِ صحابہؓ کی وجہ سے پہلی روایت کو اسکے ضعف کے باوجود ترجیح دی ہے گرچہ حنفیہ کا موقف قدرے مختلف ہے۔ (دیکھئے جامع ترمذی کتاب النکاح باب الزوجین المشرکین یسلم احدہما)اسی طرح بعض مر تبہ امام ابو حنیفہؒ بھی اس قسم کے قوی قرائن کی بناء پر کسی ضعیف حدیث پر عمل فرما لیتے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف بطورِ الزام پیش نہیں کیا جا سکتا۔

حنفی مسلک کی غلط ترجمانی

(۸) بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے  مذہب کو صحیح سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی، اس بناء پر اسے حدیث کے خلاف سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ وہ حدیث کے عین مطابق ہو تا ہے۔ اس قسم کی غلطیوں میں بعض مشہور اہلِ علم بھی مبتلاء ہو گئے ہیں مثلاً مشہور اہلِ حدیث عالم حضرت مولانا محمد اسمٰعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ نے تعدیلِ ارکان کے مسئلہ میں حنفیہ کے موقف پر اعتراض لکھا ہے !’’حدیث شریف میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت ؐ کے سا منے نماز پڑھی، اس نے رکوع و سجود اطمینان سے نہیں کیا، آنحضرتﷺ نے اسے تین دفعہ فرمایا صلِ فانک لم تصل(تم نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی) یعنی شرعاً تمہاری نماز کا کوئی وجود نہیں، اسی حدیث کی بناء پر اہلِ حدیث اور شوافع وغیرہم کا بھی یہی خیال ہے کہ اگر رکوع و سجود میں اطمینان نہ ہو تو نماز نہیں ہو گی، احناف فرماتے ہیں رکوع و سجود کے معانی معلوم ہو جانے کے بعد ہم حدیث کی تشریح اور نماز کی نفی قبول نہیں کر تے ‘‘ ( تحریکِ آزادیِ فکر ص۳۲)۔

حالانکہ یہ حنفیہ کے مسلک کی غلط ترجمانی ہے، واقعہ یہ ہے کہ حنفیہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ رکوع اور سجدہ تعدیل کے ساتھ نہ کیا جائے تو نماز واجب الاعادہ ہو گی لہٰذا وہ ’’ صل فانک لم تصل‘‘ پر پوری طرح عمل پیراہیں، البتہ حقیقت صرف اتنی ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ’’فرض‘‘ اور’’ واجب‘‘ میں فرق ہے جبکہ دوسرے ائمۂ مجتہدین ان دونوں اصطلاحوں میں فرق نہیں کر تے، امام ابو حنیفہؒ یہ فرماتے ہیں کہ نماز کے فرائض وہ ہیں جو قرآنِ کریم یا متواتر احادیث سے قطعی طریقہ پر ثابت ہوں، جیسے رکوع و سجدہ وغیرہ۔ اور واجبات وہ ہیں جو اخبارِ احادیث سے ثابت ہوں، عملی طور پر اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں کہ جس طرح فرض کو چھوڑنے سے نماز دوہرائی جائے گی اسی طرح واجب کو چھوڑ نے سے بھی دوہرائی جائے گی، لیکن دونوں میں یہ نظری فرق ہے کہ فرض کو چھوڑ نے سے آدمی تارکِ نماز کہلائے گا اور اس پر تارک نماز کے احکام جاری ہوں گے اور واجب کو چھوڑ نے سے تارکِ نماز نہیں کہلائے گا۔ بلکہ نماز کے ایک واجب کا تارک کہلائے گا، بالفاظِ دیگر فرض نماز تو ادا ہو جائے گی، لیکن اس پر واجب ہو گا کہ وہ نماز کو لوٹائے اور یہ بات حدیث کے مفہوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کی تصریح خود اسی حدیث کے آخر میں موجود ہے، جامع ترمذی میں ہے کہ جب آنحضرتؐ نے ان صاحب سے یہ فرمایا کہ ’’ صل فانک لم تصل‘‘ ( نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی)تو یہ بات صحابہؓ کو بھی معلوم ہوئی کہ نماز میں تخفیف کرنے والوں کو تارکِ نماز قرار دیا جائے، لیکن تھوڑی دیر بعد جب آپﷺ نے ان صاحب کو نماز کا صحیح طریقہ بتاتے ہوئے تعدیلِ ارکان کی تاکید فرمائی، تو ارشاد فرمایا:۔

فاذا فعلت ذالک فقد تمت صلٰوتک وان انتقصت منہ شےئاً انتقصت من صلاتک(جب تم یہ کام کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہو گی اور اگر اس میں تم نے کمی کی تو تمہاری نماز میں کمی واقع ہو جائے گی۔

حضرت رفاعہؓ جو اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں! وکان ہذا اہون علیہم من الاولیٰ انہ من انتقص من ذالک شےئاً انتقص من صلاتہ ولم تذہب کلہا(جامع ترمذی) اور یہ بات صحابہؓ کو پہلی بات سے زیادہ آسان معلوم ہوئی کہ ان چیزوں میں کمی کرنے سے نماز میں کمی تو واقع ہو گی لیکن پوری نماز کالعدم نہیں ہو گی۔

حدیث کا یہ جملہ صراحتاً وہی تفصیل بتا رہا ہے جس پر حنفیہ کا عمل ہے، حنیفہ حدیث کے ابتدائی حصہ پر عمل کرتے ہوئے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ تعدیلِ ارکان چھوڑ نے سے نماز کو دہرانا پڑے گا اور آخری حصہ پر عمل کرتے ہوئے اس کے بھی قائل ہیں کہ اسکو چھوڑنے سے آدمی کو تارکِ نماز نہیں کہیں گے بلکہ نماز میں کمی اور کوتاہی کر نے والا کہیں گے۔

اس تشریح کے بعد غور فرمائیے کہ حنفیہ کے موقف کی یہ ترجمانی کہ وہ ’’ حدیث کی تشریح قبول نہیں کر تے ‘‘ ان کے مسلک کی کتنی غلط اور الٹی تعبیر ہے۔ بہر حال مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات حنفی کے کسی مسلک پر اعتراض کا منشاء یہ ہو تا ہے کہ مسلک کی قرار واقعی تحقیق نہیں کی جاتی۔

یہ چند اصولی باتیں ذہن میں رکھ کر حنفیہ کے دلائل پر غور کیا جائے گا تو انشاء اللہ یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی، کہ حنفیہ کے استدلال ضعیف ہیں یا وہ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ایک مجتہد کو یہ تو حق ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے کسی استدلال سے اختلاف کرے، یا ان کے کسی قول سے متفق نہ ہو، لیکن ان کے مذہب پر علی الاطلاق ضعف کا حکم لگا دینا یا کہنا کہ وہ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں ظلمِ عظیم سے کم نہیں۔

امام عبد الوہاب شعرانی شافعیؒ کے چند اقوال

یوں تو بے شمار محقق علماء نے امام ابو حنیفہؒ کے مدارکِ اجتہاد کی تعریف کی ہے لیکن یہاں ہم ایک شافعی عالم کے چند اقوال نقل کرنے پر اکتفا کر تے ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کے امام سمجھے جاتے ہیں، یعنی شیخ عبد الوہاب شعرانی شافعیؒ یہ بذاتِ خود حنفی نہیں ہیں، لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی سخت تردید کی ہے جو امام ابو حنیفہ یا ان کے فقہی مذہب پر مذکورہ اعتراضات کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی کتاب ’’المیزان الکبری‘‘ میں کئی فصلیں امام ابو حنیفہ کے دفاع ہی کے لئے قائم فرمائی ہیں وہ فرماتے ہیں:

’’ یاد رکھئے ان فصلوں میں (جو میں نے امام ابو حنیفہؒ کے دفاع کے لئے قائم کی ہیں) میں نے امام ابو حنیفہؒ کی طرف سے کوئی جواب محض قلبی عقیدت یا حسنِ ظن کی بناء پر نہیں دیا، جیسا کہ بعض لوگوں کا دستور ہے، بلکہ میں نے یہ جوابات دلائل کی کتابوں کی پوری چھان بین کے بعد دیے ہیں۔ ۔ ۔ اور امام ابو حنیفہ کا مذہب تمام مجتہدین کے مذاہب میں سب سے پہلے مدون ہونے والا مذہب ہے اور اہل اللہ کے قول کے مطابق سب سے آخر میں ختم ہو گا۔

اور جب میں نے فقہی مذہب کے دلائل پر کتاب لکھی تو اس وقت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے اقوال کا تتبع کیا، مجھے ان کے یا ان کے متبعین کا کوئی قول ایسا نہیں ملا جو مندرجہ ذیل شرعی حجتوں میں سے کسی پر مبنی نہ ہو یا تو اس کی بنیاد کوئی قرآن کی آیت ہو تی ہے یا کوئی حدیث، یا صحابی کا اثر  یا ان سے مستنبط ہونے والا کوئی مفہوم یا کوئی ایسی ضعیف حدیث جو بہت سی اسا نید اور طرق سے مر وی ہو، یا کوئی ایسا صحیح قیاس جو کسی صحیح اصل پر متفرع ہو، جو شخص اسکی تفصیلات جاننا چاہتا ہے وہ میری اس کتاب کا مطالعہ کر لے۔

آگے انہوں نے لوگوں کی تردید میں ایک پوری فصل قائم کی ہے، جو یہ ہے کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا اس الزام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :

یاد رکھئے کہ ایسی باتیں وہ لوگ کر تے ہیں جو امام ابو حنیفہؒ سے تعصب رکھتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ میں جری اور اپنی باتوں میں غیر محتاط ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے غافل ہیں کہ ’’ بلاشبہ کان، آنکھ اور دل میں سے ہر ایک کے بارے میں (محشر میں) سوال ہو گا۔

آگے انہوں نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مر تبہ حضرت سفیان ثوریؒ، مقاتل بن حیانؒ، حماد بن سلمہؒ اور حضرت جعفر صادقؒ امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے اور ان سے اس پروپیگنڈے کی حقیقت معلوم کی کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں، اس کے جواب میں امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ میں تو قیاس کو قرآن و حدیث ہی نہیں، آثارِ صحابہ کے بھی بعد استعمال کرتا ہوں اور صبح سے زوال تک امام ابو حنیفہؒ ان حضرات کو اپنا موقف سمجھاتے رہے آخر میں یہ چاروں حضرات یہ کہہ کر تشریف لے گئے کہ :

آپ تو علماء کے سردار ہیں، لہٰذا ہم نے ماضی میں آپ کے بارے میں صحیح علم کے بغیر جو بدگمانیاں کی ہیں ان پر آپ ہمیں معاف فرمائیے۔ ‘‘

اس کے بعد امام شعرانیؒ نے ایک اور فصل ان لوگوں کی تردید میں قائم کی ہے جو امام ابو حنیفہؒ کے اکثر دلائل پر ضعیف ہونے کا الزام لگا تے ہیں اور مبسوط بحث کے ذریعہ اس بے بنیاد الزام کی حقیقت واضح کی ہے، پھر ایک اور فصل انہوں نے یہ ثابت کر نے کے لئے قائم کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک دینی اعتبار سے محتاط ترین مذہب ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں۔ بحمد للہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کا تتبع کیا ہے اور اس کو احتیاط و تقوی کے انتہائی مقام پر پایا ہے۔

امام شعرانیؒ کے یہ چند اقوال محض نمونے کیلئے پیش کر دیئے گئے ہیں ورنہ ان کی یہ پوری بحث قابلِ مطالعہ ہے۔(ملاحظہ ہو المیزان الکبری)

 

عقائد و کلام اور سیاسی افکار

عقائد

امام اعظمؒ کی تصنیف کردہ کتابیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں وہ عقائد و کلام کے موضوع پر ہیں مثلاً فقہ اکبر، رسالۃ العالم و المتعلم، مکتوب بنام عثمانؒ البتی، کتاب الرد علی القدریہ، العلم شرقا ً و غربا ً و بعدا ً و  قرباً۔

امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ کتابیں تحریر کر کے شیعہ، خوارج اور معتزلہ و مرجیہ کے مقابلہ میں عقیدۂ اہل السنت  و الجماعت کو ثابت کیا، امام ابو حنیفہؒ نے اہل سنت کا جو مسلک بتا یا ہے وہ حسبِ ذیل ہیں:

  1. رسول اللہ ﷺ کے بعد افضل الناس ابو بکرؓ ہیں، پھر عمر بن الخطابؓ پھر عثمانؓ، پھر علیؓ بن ابی طالب۔ یہ سب حق پر تھے اور حق کے ساتھ رہے۔
  2. ہم صحابہؓ کا ذ کر بھلائی کے سوا اور کسی طرح نہیں کر تے۔
  3. ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ کی بناء پر، خواہ وہ کیسا ہی بڑا گناہ ہو کافر نہیں قرار دیتے جب تک کہ وہ اس کے حلال ہو نے کا قائل نہ ہو۔
  4. ہم مرجیہ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہماری نیکیاں ضرور مقبول اور ہماری برائیاں ضرور معاف ہو جائیں گی۔
  5. فرائض و اعمال جزء ایمان نہیں ہیں یعنی عقائد و اعمال دونوں الگ الگ شئی ہیں۔ امام صاحب فرائض و اعمال کو جزء یمان نہیں سمجھتے تھے۔ (اس مسئلہ کو ایک معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایمان اعتقاد کا نام ہے جو دل سے متعلق ہے فرائض و اعمال جوارح کے کام ہیں اس لئے نہ ان دونوں سے کوئی حقیقت مرکب ہو سکتی ہے نہ ان میں سے ایک دوسرے کا جز ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اگر چہ چنداں مہتم بالشان نہ تھا لیکن اس کے نتائج بہت بڑا اثر رکھتے تھے اسی لحاظ سے امام صاحبؒ نے نہایت آزادی سے اس کا اظہار کیا۔ عمل کو جزء ایمان قرار دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ جو شخص اعمال کا پابند نہ ہو وہ مومن بھی نہ ہو جیسا کہ خارجیوں کا مذہب ہے جو مرتکبِ کبائر کو کافر سمجھتے ہیں۔
  6. الایمان لا یزید ولا ینقص یعنی ایمان کم و بیش نہیں ہوتا ان کے نزدیک جب اعمال جزئِ ایمان نہیں تو اعمال کی کمی بیشی سے ایمان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی، اور یہ بالکل صحیح ہے حدیث میں آیا ہے کہ ابو بکرؓ کو تم لوگوں پر جو ترجیح ہے و کثرتِ صوم و صلوٰۃ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں پہلے ایمان کی تعلیم دی گئی اس کے بعد پھر اعمال کی۔

غرض امام صاحب کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ایمان بلحاظ کیفیت یعنی شدت و ضعف کے زیادہ و کم نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ایمان مقدار کے اعتبار سے کم و بیش نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ اس بات کی فرع ہے کہ اعمال جزء ایمان نہیں اور اس کو ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں۔ یہ عقیدہ اگر چہ امام ابو حنیفہؒ کا اپنا ایجاد کر دہ نہ تھا بلکہ امت کا سوادِ اعظم اس وقت یہی عقیدہ رکھتا تھا، مگر امام نے اسے تحریری شکل میں مر تب کر کے ایک بڑی خدمت انجام دی کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ متفرق گروہوں کے مقابلہ میں ان کا امتیازی مسلک کیا ہے۔

خلقِ قرآن

امام ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے خلقِ قرآن کا عقیدہ پھیلانا شروع کیا۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن اگر چہ نبی ﷺ کا معجزہ ہے مگر ہے خدا کی مخلوق۔

امام ابو حنیفہؒ کے مخالفین کا دعوی تھا کہ آپ بھی اسی نظریے کے حامل تھے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ خلقِ قرآن کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ابو یوسفؒ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مسئلہ میں نہ خود کسی رائے کا اظہار کریں اور نہ کسی سے دریافت کریں۔ صرف اتنا کہو کہ یہ کلامِ الہی ہے اور اس میں ایک حرف بھی نہ بڑھاؤ۔

عقیدۂ ختمِ نبوت

ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا جب لوگوں نے علامت طلب کی تو اس نے کہا مجھے علامت لانے تک مہلت دو۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ جو اس سے علامت طلب کریگا، کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے ’’ لانبی بعدی‘‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہذا علامت طلب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

وجودِ باری تعالیٰ

ابوالمؤید خوارزمی کے مناقب میں ہے کہ روم کے بادشاہ نے خلیفہؒ کی خدمت میں بہت سا مال بھیجا اور حکم دیا کہ علماء سے تین سوال کئے جائیں۔ اگر جواب دیں تو وہ ان کو دے اور اگر جواب نہ دے سکیں تو خراج ادا کریں۔ خلیفہ نے علماء سے سوال کیا، لیکن کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ امام ابو حنیفہؒ کم سن تھے۔ اپنے والدؒ کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ آپ نے والد صاحب سے جواب کی اجازت مانگی۔ والد صاحب نے منع کر دیا۔ امام صاحبؒ کھڑے ہو گئے اور خلیفہ سے اجازت طلب کی۔ اس نے اجازت دے دی۔ رومی سفیر سوال کرنے کے لئے ممبر پر تھا۔ امام صاحب نے کہا آپ سائل ہیں؟ اس نے کہا ’’ہاں ‘‘اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا ’’تو پھر آپ کی جگہ زمین ہے اور میری جگہ ممبر ہے۔ ‘‘ وہ اتر آیا۔ امام ابو حنیفہؒ ممبر پر چڑھے اور فرمایا : سوال کرو۔ اس نے کہا اﷲ سے پہلے کیا چیز تھی؟ امام صاحبؒ نے فرمایا عدد جانتے ہو ؟ اس نے کہا ’’ہاں ‘‘ امام صاحبؒ نے فرمایا’’ ایک سے پہلے کیا ہے؟ رومی نے کہا ایک اول ہے، اس سے پہلے کچھ نہیں تو امام صاحبؒ نے فرمایا جب واحد مجازی لفظی سے پہلے کچھ نہیں تو پھر واحدِ حقیقی سے قبل کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟

رومی نے دوسرا سوال کیا کہ اﷲ کا منہ کس طرف ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا جب تم چراغ جلاتے ہو تو چراغ کا نور کس طرف ہوتا ہے؟ رومی نے کہا ’’یہ نور ہے، اس کے لئے ساری جہات برابر ہیں ‘‘ تب امام صاحبؒ نے فرمایا ’’جب نورِ  مجازی کا رخ کسی ایک طرف نہیں، تو پھر جو نورالسموات والارض، ہمیشہ رہنے والا، سب کو نور اور نورانیت دینے والا ہے اس کے لئے کوئی خاص جہت کیسے متعین ہو گی؟

رومی نے تیسرا سوال کیا کہ اﷲ کیا کرتا ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’جب ممبر پر تم جیسا اﷲ کے لئے مماثل ثابت کرنے والا ہو تو اس کو اتارتا ہے اور جو مجھ جیسا موحد ہو اس کو ممبر کے اوپر بیٹھاتا ہے، ہر دن اس کی ایک نرالی شان ہوتی ہے۔ ‘‘یہ جواب سن کر رومی چپ ہو گیا اور مال چھوڑ کر چلا گیا۔

ایک مرتبہ کچھ دہریہ لوگ (جو خدا کو نہیں مانتے تھے) امام ابو حنیفہؒ کے پاس پہنچ گئے ان کا ارادہ امام صاحب کو قتل کرنے کا تھا امام صاحبؒ نے فرمایا ذرا سی مہلت دو، ایک مسئلہ پر بحث کر لیں پھر جو چاہو کرنا۔ فرمایا ’’ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ ایک کشتی سامان سے بھری ہوئی موج در موج سمندر میں بلا ملاح کے چل رہی ہے کیا ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ ان لوگوں نے کہا ’’یہ محال ہے ‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’تو کیا یہ جائز ہے کہ یہ دنیا جس کا ایک کنارہ دوسرے کنارے سے مختلف ہے، جس کی ایک جگہ دوسری جگہ کی ضد ہے، جس کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں، جس کے اعمال و افعال متغیر ہوتے رہتے ہیں، بلا کسی حکیم و علیم اور صانع کے ہوں؟‘‘ یہ سن کر سب نے توبہ کی اور تلواروں کو میان میں کر لیا۔

مناقب زرنجری میں ہے کہ امام ابوالفضلؒ کرمانی نے فرمایا کہ جب خوارج کوفہ میں داخل ہوئے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ جس سے گناہ ہو جائے وہ کافر اور جو ان کے عقیدہ کا قائل نہ ہو، ان کی موافقت نہ کرے وہ بھی کافر، تو ان خوارج کو بتایا گیا کہ ان کوفیوں کے شیخ یہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کو پکڑ لیا اور کہنے لگے کفر سے توبہ کرو۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میں تمہارے کفر سے توبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تم ظن سے کہتے ہو یا یقین سے؟ انہوں نے کہا ظن سے۔ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ ان بعض الظن اثم، والاثم ذنب، فتوبوا من الکفر ‘‘ ان لوگوں نے کہا ’’تو بھی کفر سے توبہ کر‘‘ تو امام ابو حنیفہؒ نے کہا میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں۔

آپ کے سیاسی افکار

امام ابو حنیفہؒ کی رائے میں حضرت علیؓ نے جو لڑائیاں لڑیں ان سب میں حق و صواب حضرت علیؓ کی جانب تھا۔

ایک مرتبہ امام ابو حنیفہؒ سے دریافت کیا گیا کہ آپ یومِ جمل کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ ’’حضرت علیؓ کا رویہ اس میں انصاف پر تھا وہ سب مسلمانوں سے زیادہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اہل بغی و فساد سے حرب و پیکار کے بارے میں اسلامی لائحہ عمل کیا ہے؟‘‘

امام صاحبؒ نے اپنی زندگی کے باون (۵۲) سال اموی خلافت اور اٹھارہ برس عباسی دور میں بسر کئے گویا آپؒ نے اسلام کی ان دو عظیم سلطنتوں کو بذات خود دیکھا۔ امام صاحبؒ اس ساری صورتِ حال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

منقول ہے کہ جب حضرت زین العابدین (علیؒ بن حسینؒ) کے بیٹے زیدؒ نے ۱۲۱ھ میں ہشام بن عبد الملکؒ اموی کے خلاف بغاوت کی تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ زیدؒ کا جہاد کے لئے نکلنا آنحضرت ﷺ کے بدر کے دن نکلنے کے مشابہ ہے۔

اس سے واضح ہو تا ہے کہ آپؒ امویوں کے خلاف بغاوت کو شرعی نقطہ نظر سے جائز سمجھتے تھے۔

۱۲۲ھ میں زید کے قتل ہو جانے سے ان کی بغاوت ختم ہو گئی۔ ۱۲۵ھ میں ان کے فرزند یحیی خراسان میں آپ کے جانشین ہوئے اور والد کی طرح قتل ہوئے۔ پھر عبداللہ بن یحیی اپنا خاندانی حق لے کر اٹھے اور یمن میں بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کی فوج سے لڑے۔ ۱۳۰ھ میں آپ نے اپنے آبا ؤ و اسلاف کی طرح شہادت پائی۔

ہشام بن عبد الملکؒ اموی نے ۱۲۵ھ میں وفات کی۔ اس کے بعد ولید بن یزید، ابراہیم بن ولید، مروان بن محمد یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوئے۔

خلیفہ مروان بن محمد کے عراقی عامل یزید بن عمر بن ہبیرہ نے امام اعظمؒ کو بلا کر محکمہ قضا کے خزانہ کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کو تفویض کرنا چاہی در اصل وہ آزمانا چاہتا تھا کہ بنو امیہ سے آپ کی کتنی محبت ہے ابو حنیفہؒ نے انکار کر دیا۔ ابنِ ہبیرہ نے یہ پیشکش نہ قبول کرنے کی صورت میں زد و کوب کا حلف اٹھایا پھر امام صاحبؒ کو قید کر دیا اور جلاد کو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ جلاد متواتر کئی روز تک کوڑے مارتا رہا۔ مجبوراً ابنِ ہبیرہ نے رہائی کا حکم دیا۔ امام صاحبؒ رہا ہوئے اور سوار ہو کر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ۱۳۰ھ کا واقعہ ہے۔ عباسی خلافت قائم ہونے تک آپ مکہ میں اقامت پذیر رہے اور خلیفہ ابو جعفر منصور کے عہد خلافت میں کوفہ آئے۔

۱۳۲ھ میں سلطنتِ اسلام نے دوسرا پہلو بدلا۔ یعنی بنوامیہ کا خاتمہ ہو گیا۔ عباسیوں نے خلفائے بنو امیہ کی قبریں اکھڑوا کر ان کی ہڈیاں تک جلا دیں پھر کیا تھا آلِ عباس تاج و تخت کے مالک ہوئے۔ اس خاندان کا پہلا فرماں روا ابو العباس سفاح تھا۔ اس نے چار برس کی حکومت کے بعد ۱۳۶ھ میں وفات پائی۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی منصور تخت نشین ہوا۔

پھر جب تک علویوں اور عباسیوں میں خصومت کا آغاز نہ ہوا، امام صاحبؒ خاموش رہے۔ مگر جب علویوں اور عباسیوں میں ٹھن گئی تو آپؒ نے علویوں کی تائید کی چنانچہ جب ابراہیمؒ نے منصور کے خلاف خروج کیا تو آپ کا میلان ابراہیم کی جانب تھا۔ حماد بن اعین کا بیان ہے ابو حنیفہؒ لوگوں کو ابراہیمؒ کی مدد پر ابھار تے تھے۔

ادھر منصور کے بد باطن خواص و امراء امام صاحبؒ کے خلاف اشتعال انگیزی اور تنفر کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے تھے۔

خطیب بغدادی ابو یوسفؒ سے روایت کرتے ہیں۔ ربیع جو خلیفہ منصور کا عرض بیگی تھا، امام ابو حنیفہؒ سے عداوت رکھتا تھا ایک دن خلیفۂ منصور نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا۔ ربیع بھی حاضر تھا، منصور سے کہا یا امیر ا لمؤمنین ! یہ شخص آپ کے دادا یعنی عبد اللہ بن عباسؓ کی مخالفت کر تا ہے اس طرح کہ عبد اللہ بن عباسؓ فرما تے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھا لے اور دو ایک روز کے بعد انشاء اللہ کہہ لے تو یہ استثنا قسم میں داخل سمجھا جائے گا اور قسم کا پورا کرنا کچھ ضروری نہ ہو گا۔ یہ ابو حنیفہؒ اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انشاء اللہ کا لفظ قسم کے ساتھ ہو تو البتہ جزءِ قسم سمجھا جائے گا ورنہ لغو اور بے اثر ہے۔

امام صاحبؒ نے کہا امیر المؤمنین ! ربیع کا خیال ہے کہ لوگوں پر آپ کی بیعت کا کچھ اثر نہیں ہے۔ منصور نے کہا یہ کیونکر؟ امام صاحبؒ نے کہا ان کا گمان ہے کہ جو لو گ دربار میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرتے ہیں اور قسم کھا تے ہیں، گھر پر جا کر انشاء اللہ کہہ لیا کرتے ہیں جس سے قسم بے اثر ہو جاتی ہے اور ان پر شرعاً کچھ مواخذہ نہیں رہتا۔ خلیفہ منصور ہنس پڑا اور ربیع سے کہا کہ تم ابو حنیفہ کو نہ چھیڑا کرو۔ ان پر تمہارا داؤ نہیں چل سکتا۔

امام صاحبؒ دربار سے نکلے تو ربیع نے اُن سے کہا ’’ تم میرا خون کر نا چاہتے تھے؟‘‘ امام صاحبؒ نے فرمایا نہیں تم ہی میرا خون بہانا چاہتے تھے۔ میں نے تمہیں بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گیا۔ پھر امام صاحبؒ نے اپنے قریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔

ابو العباس جو منصور کے دربار میں معزز درجہ رکھتا تھا۔ امام صاحبؒ کا دشمن تھا اور ہمیشہ ان کو ضرر پہنچانے کی فکر میں رہتا تھا۔ ایک دن امام صاحبؒ کسی ضرورت سے دربار میں گئے۔ اتفاق سے ابوالعباس بھی حاضر تھا۔ لوگوں سے کہا آج ابو حنیفہؒ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ امام صاحبؒ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ ’’ ابو حنیفہؒ ! امیر المؤمنین یعنی خلیفہ منصور کبھی کبھی ہم لوگوں کو بلا کر حکم دیتے ہیں کہ اس شخص کی گردن مار دو۔ ہم کو مطلق معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شخص واقعی مجرم ہے یا نہیں۔ ایسی حالت میں ہم کو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یا انکار کر دینا چاہے؟

امام صاحبؒ نے کہا’’ تمہارے نزدیک خلیفہ کے احکام حق ہو تے ہیں یا باطل؟ ‘‘ منصور کے سامنے کس کی تاب تھی کہ احکام خلافت کی نسبت ناجائز ہونے کا احتمال ظاہر کر سکتا۔ ابو العباس کو مجبوراً کہنا پڑا کہ حق ہوتے ہیں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تو پھر حق کی تعمیل میں پوچھنا کیا؟ پھر امام صاحبؒ نے اپنے قریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔

جب خلیفہ منصور نے قضا کے عہدہ کی پیشکش کی تو امام صاحبؒ نے صاف انکار کر دیا تھا اور کہا کہ ’’میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا ‘‘۔ منصور نے غصہ میں آ کر کہا ’’تم جھوٹے ہو۔ ‘‘ امام صاحب نے کہا ’’ اگر میں جھو ٹا ہوں تو یہ دعوی ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضا کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔

بہرحال اہل بیت کی طرف آپ کا صرف سیاسی میلان ہی نہ تھا بلکہ ان سے علمی تعلق بھی رکھتے تھے۔ مثلاً حضرت زید بن علی، زین العابدینؒ المتوفی ۱۲۲ھ سے آپ کا علمی رابطہ تھا اور وہ آپ کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔

آپؒ محمد باقرؒ اور جعفر صادقؒ سے روایت کر چکے ہیں جیسا کہ مسند ابی حنیفہؒ کے مطالعہ سے واضح ہو تا ہے۔

آخر کار آپ کا خاتمہ بھی حب اہل بیت، زہد و تقوی اور حق و صداقت سے وابستگی پر ہوا۔

اہل بیت سے میلان و محبت کے با وجود صحابہؓ سے بڑا حسنِ ظن تھا چنانچہ حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کو صفِ اول میں جگہ دیتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے حق میں بر سرِ عام شہرِ کوفہ میں دعاء رحمت کیا کرتے تھے۔ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

ایک بار کسی نے سوال کیا کہ حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کی لڑائیوں کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا ’’ قیامت میں جن باتوں کی پرسش ہو گی مجھ کو ان کا ڈر لگا رہتا ہے ان واقعات کو خدا مجھ سے نہ پوچھے گا اس لئے ان پر توجہ کر نے کی چنداں ضرورت نہیں‘‘۔

خیر القرون میں مسلمانوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے ان کو اسلام کا ایک ضروری مسئلہ قرار دینا اور ا س پر بحثوں کا دفتر تیار کرنا ایک فضول کام ہے۔ اسی کی طرف امام صاحبؒ نے اشارہ کیا ہے۔

حضرت عثمان کو یہودی کہنے والے کی اصلاح

کوفہ میں ایک غالی شیعہ تھا جو حضرت عثمان کی نسبت کہا کر تا تھا کہ وہ یہودی تھے۔ امام صاحبؒ ایک دن اس کے پا س گئے اور کہا کہ تم اپنی بیٹی کی نسبت ڈھونڈتے تھے ایک شخص موجود ہے جو شریف بھی ہے، دولتمند بھی ہے اس کے ساتھ پرہیزگار، قائم اللیل اور حافظِ قرآن ہے‘‘۔ اس شیعہ نے کہا ’’اس سے بڑھ کر کون ملے گا۔ آپ ضرور شادی ٹھہرا دیجئے۔ ‘‘ امام صاحب نے کہا’’ صرف اتنی بات ہے کہ مذہباً یہودی ہے‘‘ وہ شیعہ نہایت برہم ہوا اور کہا ’’ سبحان اللہ! آپ یہودی سے رشتہ داری کر نے کی رائے دیتے ہیں۔ ‘‘ امام صاحب نے فرمایا ’’ کیا ہوا خود پیغمبر صاحب نے جب یہودی کو (تمہارے اعتقاد کے موافق) داماد بنایا تو تم کو کیا عذر ہے؟ ‘‘خدا کی قدرت اتنی بات سے اس کو تنبیہ ہو گئی اور اپنے عقیدہ سے توبہ کر لیا۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ بہت بیباک، دلیر، اور نڈر تھے۔ سیاسی افکار و نظریات کا اظہار بر سرعام کیا کرتے تھے۔ مثالوں کے ذریعہ بڑی حکمت کے ساتھ لوگوں کے غلط و فاسد عقائد کی اصلاح کیا کرتے تھے۔

علمی مباحث و مناظرات

اس میں شبہ نہیں کہ امام صاحبؒ کو اور ائمہ کی نسبت مناظرہ اور مباحثہ کے مواقع زیادہ پیش آئے۔ انہوں نے علومِ شرعیہ کے متعلق بہت سے نکتے ایجاد کئے تھے جو عام طبیعتوں کی دسترس سے باہر تھے۔

مناظرہ اس وقت درس کا ایک خاص طریقہ تھا اور امام صاحبؒ نے اکثر اساتذہ سے اسی طریقہ پر تعلیم پائی تھی۔ عیون والحدائق کے مصنف نے اُن کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ’’ انہوں نے شعبیؒ، طاؤسؒ، عطاء وغیرہ سے بھی مناظرات کئے۔ یہ لوگ امام صاحبؒ کے اساتذۂ خاص ہیں امام صاحبؒ ان لو گوں کا نہایت ادب کرتے تھے۔

اس موقع پر ہم صرف وہ واقعات لکھتے ہیں جو امام صاحبؒ کی علمی تاریخ کے عام واقعات ہیں۔

قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں

قاضی ابن ابی لیلیٰ بڑے مشہور فقیہ اور صاحب الرائے تھے۔ تیس برس کوفہ میں منصبِ قضا پر مامور رہے۔ ایک دن قاضی صاحب اپنے کام سے فارغ ہو کر مجلسِ قضا سے اٹھے۔ ایک پاگل عورت کو دیکھا کہ کسی سے جھگڑ رہی ہے دورانِ گفتگو عورت نے اس شخص کو ’’ یا ابن الزانیتین یعنی ’’ زانی اور زانیہ کے بیٹے‘‘ کہہ کر گالی دی۔ قاضی صاحبؒ نے حکم دیا کہ عورت گرفتار کر لی جائے۔ پھر قاضی صاحب مجلسِ قضا میں واپس آئے اور حکم دیا کہ عورت کو کھڑا کر کے درّے لگائیں اور دو حدیں ماریں ایک ماں کو زنا کی تہمت لگانے کے وجہ سے اور ایک باپ کو۔ امام ابو حنیفہ نے سنا تو فرمایا اس حد لگانے میں قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں۔

اول یہ کہ وہ مجنونہ یعنی پاگل تھی اور مجنونہ پر حد نہیں۔ دوسری مسجد میں حد لگوائی حالانکہ رسولﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ تیسری اسے کھڑا کر کے حد لگوائی جبکہ عورتوں پر حد بیٹھا کر لگائی جاتی ہے۔ چوتھی اس پر دو حدیں لگوائیں جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک لفظ سے اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو بھی ایک ہی حد واجب ہوتی ہے۔ پانچویں حد لگانے کے وقت اس آدمی کے ماں باپ موجود نہیں تھے حالانکہ ان کا حاضر ہونا ضروری تھا کیونکہ انہیں کی طلب پر حد لگ سکتی تھی، قاضی صاحب کو مقدمہ کر نے کا کیا اختیار تھا؟ چھٹی دونوں حدوں کو جمع کر دیا حالانکہ جس پر دو حد واجب ہوں، جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے دوسری نہیں لگا سکتے۔

قاضی ابن ابی لیلیٰ نہایت برہم ہوئے اور گورنر کوفہ سے جا کر شکایت کی کہ ابو حنیفہ نے مجھ کو تنگ کر رکھا ہے۔ گورنر نے امام ابو حنیفہؒ کو فتویٰ دینے سے روک دیا۔ چند روز کے بعد گورنر کوفہ کو اتفاق سے فقہی مسائل میں مشکلات پیش آئیں اور امام ابو حنیفہؒ کی طرف رجوع کرنا پڑا جس کی وجہ سے امام صاحبؒ کو پھر فتویٰ دینے کی عام اجازت ہو گئی۔

قاضی ابن ابی لیلیٰؒ اور امام صاحبؒ

حسن بن ابی مالک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ابو یوسفؒ کو ساتھ لے کر ابن ابی لیلیٰ کے پاس اپنی کسی ضرورت سے تشریف لے گئے جب وہاں جا کر بیٹھ گئے تو ابن ابی لیلیٰ نے اپنے دربان کو حکم دیا کہ جو لوگ مقدمہ لے کر آئے ہیں، ان کو پیش کریں۔ معلوم ہوا کہ وہ امام ابو حنیفہؒ کو اپنے فیصلے اور احکامات دکھلانا چاہتے تھے۔ بہت سے لوگ آئے، ان کا فیصلہ کیا۔ بعد میں دو آدمی داخل ہوئے ان میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ اس آدمی نے مجھے گالی دی ہے میری ماں کو زنا کی تہمت لگائی ہے اور یوں کہا ہے کہ زانیہ کے بیٹے۔ اﷲ آپ کو عزت دے میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس سے میرا حق وصول فرمائیں (یعنی حد قذف لگائیں)۔ ابن ابی لیلیٰ نے مدعی علیہ سے کہا تم کیا کہتے ہو؟

امام حنیفہؒ بولے آپ اس آدمی کے بارے میں کیوں پوچھتے ہیں دعویٰ کرنے والا خود خصم نہیں ہے کیونکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی ماں کو زنا کی تہمت لگائی ہے کیا یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ اپنی ماں کا وکیل ہے؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا نہیں، امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اس سے معلوم کریں اس کی ماں زندہ ہے، یا مر گئی؟ اگر زندہ ہے تو وکالت ضروری ہے اور اگر زندہ نہیں تو دوسری بات ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے معلوم کیا کہ تیری ماں زندہ ہے، یا مر گئی؟ اس نے کہا مر گئی۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا اس کے مرنے پر گواہ لاؤ چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیا۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے پھر سوال کرنے لگے کہ تم اس کے دعویٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ مدعی سے معلوم کریں کہ اس کے علاوہ کوئی اور وارث بھی ہے؟ اگر اور وارث ہوں گے تو حدِ قذف کے مطالبہ کا حق اس کے ساتھ دوسروں کو بھی ہو گا اور اگر صرف یہی وارث ہے تو بات دوسری ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے اس سے سوال کیا، تو اس نے کہا صرف میں وارث ہوں اور کوئی نہیں۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا گواہ پیش کرو کہ اپنی ماں کے صرف تم وارث ہو چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے ایک بار پھر سوال کرنے لگے امام ابو حنیفہؒ نے پھر فرمایا کہ مدعی سے معلوم کریں اس کی ماں آزاد تھی یا باندی؟ اس نے کہا کہ آزاد تھی۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا گواہ لاؤ کہ تمہاری ماں آزاد تھی چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے دوبارہ پھر سوال کرنے لگے۔ امام ابو حنیفہؒ نے پھر فرمایا اس سے معلوم کریں کہ اس کی ماں مسلم تھی، یا کافر؟ ابن لیلی نے معلوم کیا اس نے بتایا آزاد مسلمان تھی، فلاں قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا گواہ پیش کرو، اس نے گواہ پیش کئے۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اب آپ مدعی علیہ سے سوالات کریں ابن ابی لیلیٰ نے مدعی علیہ سے سوال کیا تم نے اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگائی؟ اس نے انکار کر دیا پھر مدعی سے فرمایا تیرے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں کوفہ کے شریف لوگوں کی ایک جماعت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا ان کو لاؤ کہ ان کی گواہی سنوں۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ اٹھ کھڑے ہوئے ابن ابی لیلیٰ نے بیٹھنے کو کہا مگر وہ چلے گئے۔

قتادہ بصریؒ سے مناظرہ

قتادہ بصریؒ جن کا مختصر حال امام صاحب کے اساتذہ کے ذکر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ ایک مرتبہ وہ کوفہ آئے اور اعلان کرا دیا کہ ’’مسائلِ فقہ میں جو پوچھنا ہو پوچھو میں ہر مسئلہ کا جواب دونگا۔ ‘‘ چونکہ وہ مشہور محدث اور امام تھے بڑا مجمع ہوا۔ ابو حنیفہؒ بھی موجود تھے فرمایا’’ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو کئی برس اپنی بیوی اور بال بچوں سے دور رہا اس کی بیوی کو اس کے موت کی خبر دی گئی تو بیوی نے سمجھا کہ وہ مر گیا۔ عدت گزارنے کے بعد اس کی بیوی نے دوسرا نکاح کر لیا اور اس سے اولاد ہوئی چند روز کے بعد وہ شخص واپس آیا۔ پہلے شوہر نے کہا میرا لڑکا نہیں ہے اور دوسرے نے کہا میرا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آیا دونوں اس عورت پر زنا کا الزام لگاتے ہیں، یا صرف وہ شخص جو ولدیت سے انکار کر تا ہے، حضرت قتادہ جواب نہ دے سکے تو فرمایا ’’یہ صورت ابھی پیش آئی ہے؟‘‘ امام صاحب نے کہا ’’ نہیں لیکن علماء کو پہلے سے تیار رہنا چاہئے کہ وقت پر تردد نہ ہو ‘‘۔

قتادہ کو فقہ سے زیادہ عقائد میں دعویٰ تھا بولے کہ ان مسائل کو رہنے دو عقیدہ کے متعلق جو پوچھنا ہو پوچھو۔ ‘‘ امام صاحب نے کہا’’ آپ مومن ہیں؟‘‘ قتادہ نے فرمایا’’ امید رکھتا ہوں‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے قتادہ سے پوچھا ’’آپ نے یہ امید کی قید کیوں لگائی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’حضرت ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ مجھ کو امید ہے کہ خدا قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ ‘‘ امام ابو حنیفہ نے کہا’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے سوال کیا کہ اولم تومن تو انہوں نے جواب میں ’’ بلیٰ‘‘ کہا تھا یعنی ہاں میں مؤمن ہوں۔ آ پ نے حضرت ابراہیمؑ کے اس قول کی کیوں تقلید نہ کی؟ قتادہؒ ناراض ہو کر اُٹھے اور گھر چلے گئے۔ (تاریخِ بغداد)

امام ابو حنیفہؒ کا کہنا یہ ہے کہ ایمان اعتقاد کا نام ہے جو شخص خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ قطعاً مؤمن ہے اور اس کو سمجھنا چاہیے کہ میں مؤمن ہوں البتہ اگر اس میں شک ہے تو قطعی کافر ہے۔

جم غفیر سے مناظرہ

ایک دن بہت سے لوگ جمع ہو کر آئے کہ قرأۃ خلف الامام کے مسئلہ میں امام صاحبؒ سے گفتگو کریں۔ امام صاحبؒ نے کہا ’’اتنے آدمیوں میں سے کسی کو انتخاب کر لیں جو سب کی جانب سے اس خدمت کا کفیل ہو اور اس کی تقریر پورے مجمع کی تقریر سمجھی جائے۔ ‘‘ لوگوں نے منظور کیا۔ امام صاحبؒ نے کہا: آپ لوگوں نے جب یہ تسلیم کر لیا تو بحث کا خاتمہ ہو گیا کیوں کہ جس طرح آپ لوگوں نے ایک  شخص کو سب کی طرف سے بحث کا مختار کر دیا اسی طرح امام بھی تمام مقتدیوں کی طرف سے قرأۃ کا کفیل ہے اور حدیثِ صحیح میں بھی آیا ہے’’ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأۃ بھی اس کی قرأۃ ہے۔ ‘‘ لو گ خاموش ہو گئے۔

یہ امام صاحب کی شان تھی کہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو ایسے عام فہم طریقہ سے سمجھا دیتے تھے کہ مخاطب کے ذہن نشیں ہو جاتا تھا اور بحث نہایت جلد اور آسانی سے طے ہو جاتی تھی۔

ایک رافضی اور امام صاحب

مناقب زرنجری میں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک طارق رافضی آ گیا اور کہنے لگا ابو حنیفہؒ ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت کون ہے؟ امام صاحبؒ بولے ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت علیؓا بن ابی طالب ہیں لیکن تمہارے عقیدے اور قول کے مطابق حضرت ابوبکرؓ۔ طارق نے کہا آپ کا بیان الٹا ہے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا ہمارے نزدیک اشد الناس حضرت علیؓ ہیں اس لئے کہ ان کو یقین تھا کہ حق حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہے لہذا ان کے سپرد کر دیا اور تم کہتے ہو کہ حق حضرت علیؓ کا تھا، لیکن حضرت ابو بکرؓ نے حضرت علیؓ سے چھین لیا اور حضرت علیؓ کے پاس اپنے حق کو واپس لینے کی طاقت نہیں تھی اور ابوبکرؓ ان پر غالب ہو  گئے لہذا تمہارے عقیدے اور قول کے مطابق وہ اشد الناس ہو گئے۔ طارق حیران ہو کر بھاگ گیا۔

ربیعۃ الرائے کا امتحان

یوسف بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے فرماتے ہوئے سنا کہ کوفہ میں ربیعۃ الرائے تشریف لائے اس زمانے میں یحیٰ بن سعیدؒ کوفہ کے قاضی تھے۔ یحیٰ بن سعیدؒ نے ربیعۃ الرائے سے کہا آپ کو تعجب ہو گا کہ اس شہر کے لوگ ایک شخص کی رائے پر اجماع کر چکے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جب مجھے یہ خبر پہنچی تو میں نے اپنے شاگرد یعقوبؒ، زفرؒ اور چند دوسرے اصحاب کو بھیجا کہ جا کر ان سے مناظرہ کریں وہ لوگ گئے۔

امام ابو یوسفؒ نے مسئلہ دریافت کیا کہ آپ اس غلام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو دو آدمیوں کا مشترک تھا اور ان میں سے ایک نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے فرمایا عتق جائز نہیں۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا کیوں؟ ربیعۃ الرائے نے کہا کہ یہ آزادی دوسرے کے حق میں ضرر ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ لاضرر ولاضرار‘‘ اس پر ابویوسفؒ نے کہا اگر دوسرا بھی آزاد کر دے تو؟ ربیعۃ الرائے نے کہا اس کا آزاد کرنا جائز ہے۔ تو ابویوسفؒ نے کہا آپ نے اپنی پہلی بات چھوڑ دی اس لئے کہ اگر پہلے آزاد کرنے والے کی بات نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس سے آزادی نہیں ہوئی تو اس دوسرے آزاد کرنے والے نے بھی پہلے کا غلام ہونے کی حالت میں آزاد کیا اور یہ ضرر ہے ربیعۃ الرائے یہ سن کر چپ ہو گئے۔

 

ذہانت و فطانت

ایک مشکل مسئلہ

ایک شخص نے قسم کھائی کہ ’’ آج اگر میں غسل جنابت کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے‘‘ تھوڑی دیر کے بعد کہا ’’آج کی کوئی نماز قضا ہو تو میری زوجہ مطلقہ ہے‘‘ پھر کہا کہ ’’آج میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں تو اس کو طلاق ہے‘‘ لوگوں نے امام صاحبؒ کے پاس آ کر مسئلہ پوچھا۔ فرمایا کہ نماز عصر پڑھ کر بیوی سے ہم صحبت ہو اور غروب کے بعد غسل کر کے فوراً مغرب کی نماز پڑھ لے اس صورت میں سب صورتیں پوری ہو گئیں۔ بیوی سے ہم صحبت بھی ہوا نماز بھی قضا نہیں کی غسل جنابت بھی کیا تو اس وقت کیا کہ دن گزر چکا تھا۔

لقد عجزت النساء

شریک سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ سفیان ثوری، ابن شبرمہ، ابن ابی لیلیٰ، ابو حنیفہؒ، ابو الاحوص، مندل اور حبان بھی تھے۔ جنازہ ایک بوڑھے سید زادے کا تھا۔ جنازہ میں کوفہ کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ سب ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک جنازہ رک گیا۔ لوگوں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس لڑکے کی ماں بیتاب ہو کر نکل پڑی۔ جنازہ پر اپنا کپڑا ڈال دیا اور اپنا سر کھول دیا۔ عورت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس میت کے باپ نے چلا کر کہا واپس جاؤ مگر اس نے واپس ہونے سے انکار کر دیا۔ باپ نے قسم کھا لی کہ’’ لوٹ جاؤ ورنہ تجھے طلاق۔ ‘‘جب کہ ماں نے بھی قسم کھا لی کہ’’ اگر میں نماز جنازہ سے پہلے لوٹوں تو میرے سارے غلام آزاد۔

الغرض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مشغولِ کلام ہو گئے اب کیا ہو گا؟ کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ میت کے باپ نے امام ابو حنیفہؒ کو آواز دی کہ میری مدد کرو۔ امام صاحبؒ آئے اور عورت سے معلوم کیا کہ قسم کس طرح کھائی؟ اس نے بتلا دیا۔ باپ سے پوچھا تم نے کس طرح قسم کھائی؟ اس نے بھی بتلا دیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میت کا سریر رکھو۔ چنانچہ رکھ دیا گیا۔ امام صاحبؒ نے باپ کو حکم دیا کہ نماز جنازہ پڑھاؤ جو لوگ آگے نکل گئے تھے، واپس ہوئے باپ کے پیچھے صف لگی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا قبر کی طرف لے جاؤ اور اس کی ماں سے کہا اب تم گھر چلی جاؤ۔ قسم پوری ہو گئی اور باپ سے کہا تمہاری بھی قسم پوری ہو گئی تم بھی گھر جاؤ۔ اس پر ابن شبرمہؒ کہنے لگے عورتیں آپ جیسا پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔ علمی نکات بیان کرنے میں آپ کو نہ کوئی مشقت ہوتی ہے اور نہ پریشانی۔

ایک عجیب و غریب تدبیر

لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہؒ کا ذکر سنتا تھا، پھر مجھے آپ کو دیکھنے کی تمنا ہوئی۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کے پاس بھیڑ لگائے ہوئے ہیں۔ ادھر متوجہ ہوا تو ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ اے ابو حنیفہؒ ! میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ابو حنیفہؒ ہیں۔ اس شخص نے کہا میں مالدار آدمی ہوں، میرا ایک لڑکا ہے، میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سا مال خرچ کرتا ہوں مگر وہ لڑکا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور میرا مال برباد ہو جاتا ہے اس کی کوئی تدبیر ہے؟

امام صاحب نے فوراً فرمایا اس کو غلاموں کے بازار میں لے جاؤ، جب وہ کسی باندی کو دیکھنے لگے تو تم اس باندی کو اپنے لئے خرید کر اس کے ساتھ نکاح کر دو اگر طلاق دے گا تو وہ تمہارے ملک میں رہے گی۔ اور اگر وہ آزاد کرے گا تو اس کا عتق جائز نہیں ہو گا۔ لیث بن سعد کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ان کا صحیح اور برجستہ جواب دینا مجھے بہت پسند آیا۔

طلاق میں شک

اسماعیل بن محمد فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی بیوی کی طلاق میں شک ہوا۔ میں نے قاضی شریکؒ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو پھر رجوع کرو اور رجوع کرنے پر گواہ بنا لو۔ پھر میں سفیان ثوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے بھی یہی پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم نے طلاق دے بھی دی ہے تو اب رجعت ہو گئی۔ پھر میں نے زفر بن ہذیلؒ سے معلوم کیا، انہوں نے فرمایا جب تک تم کو طلاق کا یقین نہ ہو جائے وہ تمہاری بیوی ہے۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سب فتاویٰ نقل کئے۔ امام صاحب نے فرمایا سفیان ثوری نے ورع اور پرہیز گاری کا فتویٰ دیا، زفر بن ہذیل کا فتویٰ فقہی فتویٰ ہے اور شریک کا فتویٰ ایسا ہے، جیسے تم کسی سے کہو کہ مجھے معلوم نہیں میرے کپڑے پر پیشاب گرا کہ نہیں تو وہ کہہ دے اب تم اس پر پیشاب کر دو پھر دھو لینا۔

مشروط طلاق

ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور قسم کھا کر کہا کہ ’’جب تک تو مجھ سے نہ بولے گی میں تجھ سے کبھی نہ بولوں گا۔ ‘‘عورت تند مزاج تھی اس نے بھی قسم کھا لی اور وہی الفاظ دہرائے جو شوہر نے کہے تھے۔ اس وقت غصہ میں کچھ نہ سوجھا مگر پھر خیال آیا تو دونوں کو نہایت افسوس ہوا۔ شوہر مایوس ہو کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ للہ آپ کوئی تدبیر بتائیے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ جاؤ شوق سے باتیں کرو کسی پر کفارہ نہیں ہے۔

سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے اور امام ابو حنیفہؒ سے جا کر کہا آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتا دیا کر تے ہیں۔ امام صاحبؒ سفیان ثوریؒ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’جب عورت نے شوہر کو مخاطب کر کے قسم کے الفاظ کہے تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتدا ہو چکی، پھر قسم کہاں باقی رہی؟ ‘‘ سفیان ثوریؒ نے کہا ’’ حقیقت میں آپ کو جو بات وقت پر سوجھ جاتی ہے ہم لوگوں کا وہاں تک خیال بھی نہیں پہنچتا۔ ( اس واقعہ کو امام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں نقل کیا ہے)

وکیع بن جراح فرماتے ہیں کہ حفاظ حدیث میں سے ایک آدمی میرا ہمسایہ تھا۔ وہ ابو حنیفہؒ کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔ ایک دن میاں بیوی میں تکرار ہو گئی۔ میاں نے کہا آج کی رات اگر مجھ سے طلاق مانگے اور میں طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق۔ اور بیوی نے کہا اگر میں تجھ سے طلاق کا سوال نہ کروں تو میرے غلام آزاد۔ بات ختم ہو گئی انجام سامنے آیا تو بہت پریشان ہوئے۔ سفیان ثوریؒ کے پاس پہونچے، ابن ابی لیلیٰ کے پاس گئے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

مجبوراً امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام صاحبؒ نے بیوی سے فرمایا طلاق کا سوال کرو چنانچہ اس نے سوال کر لیا اب میاں سے کہا کہو’’ انت طالق ان شئت ‘‘( تم کو طلاق ہے اگر تم چاہو) پھر بیوی سے کہا کہو’’ میں نہیں چاہتی ‘‘ اس نے کہہ دیا تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ لو تم دونوں کی قسم پوری ہو گئی، کوئی بھی حانث نہیں ہوا، کسی کی قسم نہیں ٹوٹی۔ پھر محدث بزرگوار سے فرمایا کہ جس نے تمہیں علم سکھایا اس کی برائی کرنے سے توبہ کر لو انہوں نے توبہ کی اس کے بعد تو امام ابو حنیفہؒ کے لئے ہر نماز کے بعد دعا کرتے رہے۔

فقیہ ابوجعفر ہندووانی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام اعمشؒ نہ امام ابو حنیفہؒ کی طرف جھکتے تھے نہ ان سے اچھا معاملہ کرتے تھے شاید ان کے اخلاق میں کچھ کمی تھی۔ اتفاق سے اپنی بیوی کو مشروط طلاق دے دی۔ وہ اس طرح کہ اگر بیوی آٹا ختم ہونے کی خبر اعمش کو دے، یا لکھ کر دے، یا کسی سے کہلوائے، یا اشارہ کرے تو اس کو طلاق۔ بیوی حیران ہو گئی لوگوں نے مشورہ دیا ابو حنیفہؒ کے پاس جاؤ چنانچہ وہ گئی اور واقعہ بیان کیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا مسئلہ آسان ہے۔ آٹے کی تھیلی رات کو ان کے ازار میں یا جس کپڑے میں ممکن ہو باندھ دو جب صبح یا رات کو اٹھیں گے تو ان کو آٹے کی تھیلی کا خالی ہونا خود معلوم ہو جائے گا اور سمجھ جائیں گے کہ آٹا ختم ہو گیا ہے بیوی نے ایسا ہی کیا۔ جب اعمش اٹھے تو رات کی تاریکی تھی یا کچھ کچھ روشنی ہو رہی تھی جب اپنا ازار لیا تو آٹے کی تھیلی کی آواز محسوس ہوئی اسے ہاتھ سے چھوکر دیکھا جب ازار کھینچا تو وہ بھی کھینچی آ گئی اس طرح ان کو آٹے کا ختم ہونا معلوم ہو گیا۔ کہنے لگے واﷲ یہ ابو حنیفہؒ کی تدبیر ہے۔ ہم ان سے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں وہ تو ہماری عورتوں میں بھی ہم کو رسوا کرتے ہیں اور عورتوں کو ہماری عاجزی اور کم فہمی بتلا دیتے ہیں۔

امام ابویوسفؒ اور ان کی بیوی میں تو  تو، میں میں ہو گئی۔ وہ ان سے روٹھ گئیں۔ امام ابویوسفؒ نے کہا اگر آج رات تم مجھ سے نہیں بولے گی تو تم کو طلاق۔ مگر وہ اسی طرح اینٹھی رہیں انہوں نے ہزار کوشش کی کہ مگر وہ نہ بولیں۔ امام ابو یو سفؒ اٹھے اور رات ہی کو امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب حالات سنائے امام صاحبؒ نے نیا جوڑا پہنایا، خوشبو لگائی اور عمدہ چادر اوڑھائی اور فرمایا اب اپنے گھر جاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ تمہیں اس سے گفتگو کی ضرورت نہیں۔ وہ گئے اور اپنے آپ کو بے نیاز ظاہر کیا۔ جب عورت نے ان کی یہ حالت دیکھی تو غصہ سے بھر گئی۔ کہنے لگی لگتا ہے تم کسی فاجرہ کے گھر میں تھے۔ یہ سنتے ہی امام ابو یوسفؒ خوش ہو گئے۔

نہ حانث ہو گا اور نہ طلاق پڑے گی

ایک مر تبہ امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک آدمی کی بیوی سیڑھی پر چڑھی اس کے شوہر نے کہا اگر تو چڑھے تو تجھ کو تین طلاق اور اترے تب بھی تین طلاق۔ اب کیا تدبیر کی جائے کہ قسم نہ ٹوٹے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ بیوی نہ چڑھے اور نہ اترے بلکہ کچھ لوگ اس کو مع سیڑھی کے زمین پر رکھ دیں، قسم نہیں ٹوٹے گی۔

لوگوں نے معلوم کیا کہ اتارنے کے علاوہ بھی کوئی تدبیر ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا ہاں عورتیں اس کو سیڑھی سے اٹھا کر زمین پر رکھ دیں اور وہ اترنے کا ارادہ نہ کرے، اس طرح مرد حانث نہیں ہو گا اور طلاق بھی نہیں پڑے گی۔

ایک شخص نے قسم کھائی کہ اگر میں انڈا کھاؤں تو میری بیوی کو طلاق۔ اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں چھپا کر ایک انڈا لائی۔ اس نے کہا جو کچھ تیری آستین میں ہے اسے اگر میں نہ کھاؤں تو تجھے طلاق۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ آستین میں انڈا ہی ہے۔

امام ابو حنیفہؒ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کس طرح یہ آدمی اپنی قسم سے بری ہو اور حانث بھی نہ ہو؟ امام صاحب نے فرمایا کہ انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں جب بچے نکل آئیں تو ان کو ذبح کر کے بھون کر کھائے، یا پکا کر شوربا پی لے تو حانث نہ ہو گا۔ اس طرح جو کچھ آستین میں تھا اسے کھا لیا۔

یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ اگر میری بیوی نے میرے لئے ایسی ہنڈیا نہ پکائی، جس میں ایک پیالہ نمک ڈالے اور نمک کا مزہ پکے ہوئے سالن میں بالکل ظاہر نہ ہو تو اس کو طلاق۔

امام صاحب کے پاس مسئلہ گیا تو فرمایا کہ انڈا پکا دے اور جتنا چاہے نمک ڈال دے اثر ظاہر نہیں ہو گا۔ (یہ سب واقعات مناقب ابو بکر بن محمد زرنجری اور مناقب ابو لمؤید خوارزمی سے نقل کئے گئے ہیں)۔

 

بر جستہ علمی جوابات

امام صاحبؒ کے برجستہ جواب، ذہانت اور طباعی عموماً ضرب المثل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلوں میں ان کا ذہن اس تیزی سے لڑتا تھا کہ لوگ حیران ر ہ جاتے تھے۔

اکثر موقعوں پر ان کے ہمعصر اور معلومات کے لحاظ سے ان کے ہمسر موجود ہو تے تھے ان کو اصل مسئلہ بھی معلوم ہو تا تھا لیکن جو واقعہ درپیش ہوتا تھا اس سے مطابقت کر کے فوراً جواب بتا دینا امام صاحبؒ ہی کا کام تھا۔ مثلاً:

ترکہ کی تقسیم

وقیع بن جراحؒ سے روایت ہے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں تھے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا بھائی مرگیا اس نے چھ سو (۶۰۰) اشرفیاں ترکہ میں چھوڑیں مگر مجھے صرف ایک اشرفی ملی ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ یہی تیرا حق ہے‘‘ پھر اس عورت سے سوال کیا اچھا بتاؤ تیرے بھائی نے دو لڑکیاں چھوڑیں؟ عورت نے عرض کیا ’’ہاں‘‘ ماں چھوڑی؟ عورت نے کہا’’ ہاں ‘‘ بیوی چھوڑی؟ عورت نے کہا ’’ہاں‘‘ بارہ بھائی اور ایک بہن چھوڑی؟ عورت نے جواب دیا ’’جی ہاں‘‘۔ تب امام صاحب نے فرمایا کہ تیرے بھائی کی دونوں لڑکیوں کا دو ثلث یعنی چار سو (۴۰۰) اشرفی ہے۔ ماں کا ایک سدس سو اشرفی (۱۰۰) ہے اور بیوی کا ثمن پچہتر(۷۵) اشرفی ہے۔ باقی پچیس (۲۵) اشرفیاں جس میں چوبیس (۲۴) بھائیوں کی ہیں ہر بھائی کو دو اشرفی۔ اور تیری صرف ایک اشرفی۔

وہ  شخص اولیاء اللہ میں سے ہے

ایک شخص امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ ’’آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جنت کی آرزو نہیں کر تا، جہنم سے نہیں ڈرتا، اللہ تعالیٰ سے خوف نہیں کر تا، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع سجدہ کی نماز پڑھتا ہے، اس چیز کی شہادت دیتا ہے جسے دیکھتا نہیں، فتنہ کو پسند کر تا ہے، رحمتِ خداوندی سے بھاگتا ہے اور یہود و نصاریٰ کی تصدیق کرتا ہے؟

امام ابو حنیفہؒ جانتے تھے کہ جس نے اس سے سوال کیا ہے وہ ان سے بہت بغض رکھتا ہے۔ فرمانے لگے جو تم نے سوال کیا ہے اس کو تم خود جانتے ہو اس نے جواب دیا ’’نہیں لیکن یہ باتیں بہت بری ہیں اس لئے آپ سے سوال کیا۔ ‘‘ امام صاحبؒ مسکرائے اور فرمایا اگر میں ثابت کر دوں کہ وہ آدمی اولیاء اللہ میں سے ہے تو تم مجھ کو برا بھلا کہنا بند کر دو گے اور کراماً  کاتبین کو وہ چیز لکھنے پر مجبور نہیں کرو گے جو تمہیں نقصان دیں؟ اس آدمی نے کہا جی ہاں۔ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا ’’تمہارا یہ کہنا کہ ’’ جنت کی آرزو نہیں کرتا اور جہنم سے نہیں ڈرتا‘‘، تو یہ آدمی جنت کے مالک کی آرزو رکھتا ہے اور جہنم کے مالک سے ڈرتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرتا ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے اس بات میں نہیں ڈرتا کہ اللہ اپنے عدل اور فیصلہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کریں گے خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ وما ربک بظلام للعبید ‘ ‘ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ وہ مردار کھا تا ہے ‘‘ تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی مچھلی کھا تا ہے۔ تمہارے یہ کہنا کہ ’’ بلا رکوع او ر سجدے کی نماز پڑھتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ ’’بے دیکھی چیز کی شہادت دیتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی گواہی دیتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ ’’فتنہ کو پسند کرتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد کو پسند کر تا ہے اللہ تعالیٰ نے مال و اولاد کو فتنہ کہا ہے’’انما اموالکم واولادکم فتنہ‘‘ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ رحمت سے بھاگتا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ بارش سے بھاگتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ ’’ یہو و نصاریٰ کی تصدیق کر تا ہے‘‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی یہود و نصاریٰ کے قول’’ قالت الیہود لیست النصاریٰ علی شئ وقالت النصاریٰ لیست الیہود علی شی‘‘ میں ان کی تصدیق کر تا ہے۔

 امام صاحب کے بر جستہ جوابات سن کر وہ آدمی کھڑا ہو گیا اور امام صاحب کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا آپ نے حق فرمایا میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔

امام صاحبؒ کی شان ہی عجیب تھی

عبد اﷲ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ دو آدمی ہیں ایک کے پاس ایک درہم ہے اور دوسرے کے پاس دو درہم۔ یہ سب دراہم آپس میں مل گئے اور دو درہم کھو گئے۔ کچھ پتہ نہیں کون سے درہم کھو گئے ہیں؟ امام صاحبؒ نے فرمایا بقیہ درہم دونوں کا ہے۔ دو درہم والے کے دو حصہ، ایک درہم والے کا ایک حصہ۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ابن شبرمہ سے ملاقات کی اور یہی مسئلہ معلوم کیا۔ انہوں نے فرمایا کسی اور سے بھی معلوم کیا؟ عرض کیا ہاں ابو حنیفہؒ سے، تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ جو درہم بچ رہا ہے اس کا دو ثلث دو درہم والے کا، ایک ثلث ایک درہم والے کا ہے۔ اس پر ابن شبرمہ نے فرمایا ان سے غلطی ہو گئی۔ دیکھو جو دو درہم ضائع ہوئے ان میں سے ایک تو ضرور دو درہموں میں سے ہے یعنی جس کا دو درہم تھا اس کا تو ایک ضرور ضائع ہوا ہے۔ باقی دوسرا ضائع ہونے والا درہم ان دونوں کا ہو سکتا ہے۔ لہذا جو ایک درہم باقی رہا، وہ دونوں کا نصف نصف ہے۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں مجھے یہ جواب بہت ہی اچھا معلوم ہوا۔

اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عجیب ہی شان تھی۔ اگر ان کی عقل کو نصف دنیا کی عقل سے تولا جائے تو بڑھ جائے۔ وہ مجھ سے فرمانے لگے تم ابن شبرمہ سے ملے اور انہوں نے جواب دیا ہو گا کہ ضائع ہونے والا دو درہموں میں سے ایک ضرور ہے اور بچا ہوا درہم ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا دیکھو جب تینوں درہم مل گئے تو آپس میں شرکت واجب ہو گئی پھر ایک درہم والے کا حصہ ہر درہم کا ثلث ہو گیا اور دو درہم والے کا حصہ ہر درہم میں دو ثلث ہوا تو جو درہم بھی کھو گیا دونوں کا کھویا گیا اور دونوں کا حصہ گیا۔

خلیفہ منصور کی بیعت اور امام صاحبؒ کی تقریر

داؤد طائیؒ سے روایت ہے کہ جب خلیفہ منصور عباسی کوفہ آئے تو سبھی علماء کے پاس خبر بھیجی اور سب کو جمع کیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو تقریر کی کہ خلافت آپ لوگوں کے نبی کے گھر والوں تک پہنچ گئی۔ اﷲ نے اپنا فضل کیا، حق کو قائم فرما دیا اور اے جماعت علماء ! آپ لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس کی اعانت کریں اور اپنے لئے ہدیہ، ضیافت اور اﷲ کے مال میں سے جو کچھ بھی آپ لوگ پسند کریں قبول کریں۔ اب آپ لوگ ایسی بیعت کریں جو نفع نقصان کے لئے آپ لوگوں کے امام کے پاس حجت ہو اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے لئے امان اور حفاظت ہو۔ آپ لوگ اﷲ کے دربار میں بلا امام کے نہ جائیں۔ اور یہ مت کہئے کہ ’’ہم امیر المؤمنین سے ڈرتے ہیں اس لئے حق نہیں کہہ سکتے۔ ‘‘

علماء نے جواب کے لئے امام ابو حنیفہؒ کی طرف دیکھنا شروع کیا امام صاحبؒ نے فرمایا اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اپنی اور آپ سب کی طرف سے بات کروں تو آپ لوگ چپ رہیں۔ علماء نے کہا ہم یہی چاہتے ہیں امام صاحبؒ نے تقریر کی اور فرمایا اﷲ کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ اس نے حق نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی قرابت میں پہنچا دیا۔ ظالموں کے ظلم کو دور کر دیا اور ہماری زبانوں کو حق بات کے لئے گویائی بخش دی۔ بلاشبہ ہم سب نے اﷲ کے امر پر بیعت کی اور آپ کے لئے اﷲ کے عہد پر وفاداری کی بیعت کی ’’ الی قیام الساعۃ ‘‘ اﷲ تعالیٰ امر خلافت کو رسول اﷲ ﷺ کی قرابت سے نہ نکالے۔ خلیفہ منصور نے جوابی تقریر کی اور کہا آپ ہی جیسا آدمی مناسب ہے کہ علماء کی طرف سے خطبہ دے۔ ان لوگوں نے آپ کو انتخاب کر کے اچھا کیا اور آپ نے بہترین ترجمانی کی۔

جب سب لوگ باہر آئے تو لوگوں نے امام صاحبؒ سے معلوم کیا کہ ’’الی قیام الساعۃ ‘‘سے آپ کی کیا مراد تھی؟ آپ نے تو اس وقت بیعت توڑ دی؟ امام صاحبؒ نے فرمایا آپ لوگوں نے حیلہ کیا اور معاملہ میرے سپرد کیا، تو میں نے اپنے لئے حیلہ کر لیا اور آپ لوگوں کو امتحان کے لئے پیش کر دیا لوگ خاموش ہو گئے اور تسلیم کر لیا کہ حق امام صاحبؒ کا ہی فعل ہے۔

یک نہ شد، دو شد

عبد اﷲ بن مبارک سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امام ابو حنیفہؒ سے دریافت کیا کہ میں اپنی دیوار میں جنگلہ کھولنا چاہتا ہوں۔ امام صاحب نے فرمایا جو چاہو کھول لو لیکن پڑوسی کے گھر میں تاک جھانک مت کرنا۔ جب وہ کھڑکی کھولنے لگا تو اس کا پڑوسی ابن ابی لیلیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی۔ انہوں نے اس کو کھڑکی کھولنے سے منع کر دیا۔ اب وہ بھاگا ہوا امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں پہنچا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اچھا جاؤ اب دروازہ کھول لو۔ وہ دروازہ کھولنے لگا، تو اس کا پڑوسی اس کو لے کر ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا۔ انہوں نے دروازہ کھولنے سے منع کر دیا۔

وہ شخص پھر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں آیا اور صورت حال بتائی۔ امام صاحبؒ نے پوچھا تمہاری کل دیوار کی کیا قیمت ہے؟ اس نے عرض کیا تین اشرفیاں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا یہ تین اشرفیاں میرے ذمہ ہیں جاؤ اور ساری دیوار گرا دو۔ وہ آیا اور دیوار گرانے لگا۔ پڑوسی نے دیوار گرانے سے بھی منع کر دیا اور اس کو لے کر ابن ابی لیلی کی خدمت میں حاضر ہوا، ان سے شکایت کی۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا وہ اپنی دیوار گراتا ہے تو گرانے دو۔ چنانچہ اس آدمی سے ابن ابی لیلی نے فرمایا جا گرا دے اور جو کچھ تیرا جی چاہے کر۔ پڑوسی نے کہا آپ نے مجھے کیوں پریشان کیا اور ایک جنگلا کھولنے سے منع کر دیا؟ کھڑکی کا کھولنا میرے لئے آسان تھا۔ اب یہ ساری دیوار گرائے گا ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا یہ آدمی ایسے شخص کے پاس جاتا ہے جو میری غلطی بتلاتا ہے اب جب میری غلطی واضح ہو گئی تو میں کیا کروں۔

یہ بات بہت بیش قیمت ہے

علی بن مسہر سے روایت ہے کہ ہم لوگ امام ابو حنیفہؒ کے پاس بیٹھے تھے کہ عبد اﷲ بن مبارک تشریف لائے اور امام ابو حنیفہؒ سے معلوم کیا کہ ایک آدمی ہنڈیا پکا رہا تھا ایک پرندہ اس میں گر کر مرگیا۔ آپ کا اس میں کیا فتویٰ ہے؟ امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ بتاؤ اس کا کیا جواب ہے؟ شاگردوں نے حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ کا فتویٰ نقل کر دیا کہ شوربا پھینک دے اور گوشت دھوکر کھا لے۔

امام صاحب نے فرمایا یہی ہم بھی کہتے ہیں البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہانڈی میں جوش آنے کے وقت گرا ہو تو گوشت اور شوربا سب پھینک دیا جائے اگر جوش ٹھنڈا ہونے کے بعد آ پڑا ہو تو گوشت دھو کر کھا لیا جائے اور شوربا پھینک دیا جائے۔

عبد اﷲ بن مبارک نے فرمایا یہ تفصیل کہاں سے فرما رہے ہیں؟ تو امام صاحب نے فرمایا جب پرندہ ہانڈی میں جوش مارنے کے وقت گرے گا تو سرکے اور مسالہ کی طرح نجس پانی گوشت میں سرایت کر جائے گا اور جب جوش ٹھنڈا ہو گیا تو گوشت کے اوپر لگے گا اندر سرایت نہیں کرے گا۔ عبد اﷲ بن مبارک نے فرمایا ’’ہذا زرین ‘‘ یہ بات سونا ہے۔

ایک مرتبہ ابن ہبیرہ نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا اور ایک قیمتی انگوٹھی کا نگینہ دکھایا، جس پر لکھا ہوا تھا ’’ عطاء بن عبد اﷲ ‘‘ اور کہا میں اس کو پہننا اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ اس پر غیر کا نام لکھا ہوا ہے اور اس کا مٹانا بھی ممکن نہیں۔ اب کیا کیا جائے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فوراً جواب دیا کہ باء کے سر کو گول کر دو ’’ عطاء من عند اﷲ ‘‘ ہو جائے گا۔ ہبیرہ کو امام صاحب کی اس برجستگی پر بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگا کتنا اچھا ہوتا اگر آپ ہمارے پاس بکثرت آتے جاتے۔

قاضی ابن شبرمہ چپ ہو گئے

ابو مطیع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کی وفات ہوئی، اس نے امام ابو حنیفہؒ کے لئے وصیت کی۔ اس وقت امام صاحب موجود نہیں تھے۔ جب آئے تو مقدمہ ابن شبرمہ قاضی کے پاس لے گئے، حالات بتائے اور گواہ پیش کئے۔ ابن شبرمہ نے کہا ابو حنیفہ ! کیا آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ آپ کے گواہوں نے صحیح گواہی دی ہے؟ امام صاحب نے فرمایا میں موجود نہ تھا اس لئے میرے اوپر قسم ضروری نہیں ہے۔ ابن شبرمہ نے کہا اس میں تمہارا سارا قیاس ختم ہو گیا۔ اس پر امام صاحب فوراً بولے بتائیے ایک اندھا شخص ہے کسی نے اس کو زخمی کر دیا دو شاہدوں نے گواہی دی کیا اب اس اندھے پر یہ قسم واجب ہے کہ وہ کہے میرے شاہد سچی گواہی دے رہے ہیں حالانکہ شاہدوں نے شہادت حق دی ہے؟ یہ سن کر قاضی صاحب چپ ہو گئے اور امام صاحب کے حق میں وصیت کا فیصلہ دے کر نافذ کر دیا۔

 

امتیازی خصوصیات اور ائمۂ دین کے اقوال

امام صاحب کی امتیازی خصوصیات

اما م ابو حنیفہؒ کی گیارہ انفرادی خصوصیات ایسی ہیں جن میں امام صاحب دوسرے ائمہ و مجتہدین سے ممتاز و منفرد ہیں اور کوئی بھی ان کا شریک و سہیم نہیں۔ سلف کے دوسری صف کے سرخیل ہیں۔

  1. امام صاحب کی ولادت با سعادت جب ہوئی تھی تو بہت سے صحابہؓ زندہ تھے، خیر القرون کا زمانہ تھا، جس زمانہ والوں کو رسول اللہ ﷺ نے عادل فرمایا۔
  2. بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امام صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ حضرات صحابہ کرامؓ کی زیارتِ مبارکہ سے مشرف ہوئے۔
  3. امام صاحبؒ نے اکابر تابعین کے زمانہ میں اجتہاد کیا اور فتوے دئے۔
  4. بڑے بڑے ائمہ کا امام صاحب سے روایت کرنا، جیسے عمر بن دینار جو امام صاحب کے شیوخ میں سے بھی ہیں۔
  5. امام صاحب نے چار ہزار تابعین سے علم حاصل کیا۔
  6. جیسے لائق و فائق اور ذہین شاگرد امام صاحب کو ملے بعد میں آنے والے ائمہ کو نہیں مل سکے جیسے قاضی ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ، امام طحاوی وغیرہ۔
  7. امام صاحب نے سب سے پہلے فقہ کی تدوین کی اور کتابوں کو فقہی ابواب پر ترتیب دیا۔
  8. امام صاحب کے مذہب کی ان ملکوں میں اشاعت ہوئی جہاں اور کوئی مذہب ہے ہی نہیں جیسے ہندوستان، سندھ، روم، ماوراء النہر اور عجم و عرب کے اکثر ممالک۔
  9. امام صاحب اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے اور اہلِ علم پر خرچ کرتے تھے۔
  10. امام صاحب نے دین کی خاطر مظلوم، محبوس اور مسموم سجدہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔

11. امام صاحب کی کثرتِ عبادت، زہد فی الدنیا، کثرتِ تلاوتِ قرآن کریم اور کثرتِ حج و عمرہ وغیرہ وغیرہ۔

ائمہ دین کے اقوال

خطیب بغدادی نے امام شافعیؒ سے روایت کی ہے کہ امام مالک بن انس سے معلوم کیا گیا کہ آپ نے ابو حنیفہ کو دیکھا ہے؟ فرمایا جی ہاں میں نے ان کو ایسا پایا کہ اگر وہ اس ستون کے متعلق تم سے دعویٰ کرتے کہ یہ سونے کا ہے تو اس کو حجت سے ثابت کر دیتے۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ’’جو آدمی فقہ میں ماہر ہونا چاہے وہ امام ابو حنیفہؒ کا محتاج ہو گا۔ ‘‘ سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں’’ میری آنکھوں نے ابو حنیفہؒ جیسا عالم نہیں دیکھا۔ ‘‘ عبد اللہ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہؒ سب لوگوں سے بڑھ کر فقیہ تھے ان سے بڑا فقیہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ ‘‘ یزید بن ہارون سے سوال کیا گیا کہ ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ میں سے کون بڑا فقیہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ’’ ابو حنیفہؒ فقہ میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں۔

خطیب نے حافظ ابو نعیم سے روایت کی ہے کہ’’ ابو حنیفہؒ مسائل میں غوطہ لگا نے والے تھے۔ ‘‘ نصر بن علی کا قول ہے ’’جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ اندھے پن اور جہالت سے نکل جائے تو اسے چاہئے کہ امام ابو حنیفہؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ ‘‘ عیسیٰ بن یونس نے کہا کہ ’’ہرگز ہرگز ابو حنیفہؒ کے بارے میں کوئی بری بات نہ کہے اور جو کوئی ان کے بارے میں غلط یا بری بات کہہ رہا ہو تو ہرگز ان کی تصدیق نہ کرے اس لئے کہ خدا کی قسم میں نے ان سے افضل اور ان سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔ ‘‘ صمیری نے یحیٰ بن اکثمؒ سے یہ روایت کی ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہؒ پہلے بزرگوں کے صحیح جانشین تھے۔ ‘‘ ائمہ دین کے جو آثار و اقوال امام حنیفہؒ کے مناقب و محامد میں منقول ہیں وہ مذکورہ بالا اقوال سے بہت زیادہ ہیں۔ حق شناس و منصف مزاج کے لئے مذکورہ آثار ہی پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔

حق پسند علماء نے آپ کی متعدد سوانح عمریاں تحریر فرمائی ہیں مثلاً جلال الدین سیوطیؒ کو دیکھئے شافعی ہو نے کے با وجود آپ کے حالات میں’’ تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہؒ‘‘ نامی کتاب تحریر کی۔ ابن حجر ہتیمی مکی شافعیؒ نے ’’الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ النعمانؒ لکھی‘‘۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’المیزان‘‘ میں امام ابو حنیفہؒ کا خصوصی تذکرہ کیا اور آپ پر وارد کردہ اعتراض کے جواب دیئے۔ آپ کے طریقہ تخریج مسائل کی تصویب کی اور اپنی کتاب طبقات میں انہیں اولیاء میں شمار کیا۔ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

خطیب بغدادی نے محمد بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ ’’امام ابو حنیفہؒ کی عقلمندی ان کے قول و فعل، چال ڈھال اور رفتار و گفتار سے بخوبی ظاہر ہوتی تھی۔ ‘‘

قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ’’ امام ابو حنیفہؒ عقلمند لوگوں میں سے تھے۔ ‘‘ خارجہ بن مصعب سے روایت ہے کہ’’ میں نے ایک ہزار علماء کی زیارت کی ہے ان میں سے عقلمند صرف تین یا چار کو پایا جن میں ایک امام ابو حنیفہؒ ہیں۔ ‘‘ یزید بن ہارونؒ سے روایت ہے کہ’’ میں نے بہت لوگوں کی زیارتیں کی ہیں مگر امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر عقل مند، ان سے افضل اور ان سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کو نہیں پایا۔ ‘‘

امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ ’’ میں کسی ایسے آدمی سے نہیں ملا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر عقلمند یا زیادہ صاحبِ مروت کسی کو دیکھا ہے۔ ‘‘

احمد بن عطیہؒ کوفی یحیٰ بن معینؒ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ’’ امام ابو حنیفہؒ بڑے عقلمند تھے۔ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ ان کی جیسی تعریف اور ذکرِ خیر عبد اللہ بن مبارؒک کرتے تھے، ویسی تعریف کر تے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔

خلیفہ ہارون رشید کے سامنے امام ابو حنیفہؒ کا ذکر ہوا تو خلیفہ نے رحمت کی دعا کی اور فرمایا ’’امام ابو حنیفہؒ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں جسے دوسرے لوگ سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ‘‘ امام صاحبؒ کے پوتے اسمٰعیل بن حماد ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا ایک پڑوسی رافضی (شیعہ) تھا، آٹا پیسا کر تا تھا، اس کے دو خچر تھے۔ اس نے ایک کا نام ابو بکر اور ایک کا عمر رکھا تھا، ایک رات ان میں سے ایک خچر نے رافضی کو لات ماری اور ہلاک کر دیا۔ امام صاحبؒ کو خبر ہوئی تو فرمایا دیکھو جس خچر نے اس کو لات ماری ہے اسکا نام اس نے عمر رکھا ہو گا۔ ‘‘ لوگوں نے تحقیق کی تو ایسا ہی نکلا۔

مذ کورہ حضرات جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ کے علم اور عقلمندی کا زبان و قلم سے اعتراف کیا ہے، اپنے زمانہ میں علم و فضل، دیانت و پرہیز گاری کے نمونے خیال کئے جا تے تھے۔

 

نصائح اور دلپذیر باتیں

ہمارے تذکروں اور رجال کی کتابوں میں علماء کے وہ اوصاف جن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے، تیزی ذہن، قوتِ حافظہ، بے نیازی، تواضع، قناعت، زہد غرض اسی قسم کے اوصاف ہوتے ہیں لیکن عقل و رائے، فراست و تدبیر کا ذکر تک نہیں آتا۔ یہ باتیں دنیا داروں کے ساتھ ہیں۔

بلا شبہ اس خصوصیت کے اعتبار سے امام ابو حنیفہؒ تمام فرقۂ علماء میں ممتاز ہیں کہ وہ مذہبی امور کے ساتھ دنیوی ضرورتوں کے انداز داں تھے۔ یہ ضرور ہے کہ ملکی تعلقات کے ساتھ مذہب اور اخلاق کے فرائض کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن امام صاحب اس سے بھی بے خبر نہ تھے وہ ہمیشہ شاگردوں کو ایسی ہدایتیں کرتے رہتے تھے۔

درباریوں کے متعلق نصیحتیں

قاضی ابویوسفؒ کے لئے جو ہدایت نامہ لکھا تھا اُس تحریر میں پہلے سلطانِ وقت کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔

چنانچہ لکھتے ہیں’’ بادشاہوں کے پاس بہت کم آمدورفت رکھنا جب تک کوئی خاص ضرورت نہ ہو دربار میں نہ جانا کہ اپنا اعزاز و وقار قائم رہے۔ بادشاہ اگر تم کو عہدہ قضا پر مقرر کرنا چاہے تو پہلے دریافت کر لینا وہ تمہارے اجتہاد سے موافق ہے یا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ سلطنت کے دباؤ سے تم کو اپنی رائے کے خلاف عمل کرنا پڑے جس عہدہ اور خدمت کی تم میں قابلیت نہ ہو ہرگز قبول نہ کرنا۔

اگر کوئی شخص شریعت میں کسی بدعت کا موجد ہو تو علانیہ اس کی غلطی کا اظہار کرنا کہ اور لوگوں کو اس کی تقلید کی جرأت نہ ہو اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرنا کہ وہ شخص جاہ و حکومت رکھتا ہے کیونکہ اظہارِ حق میں خدا تمہارا مددگار ہو گا اور وہ اپنے دین کا آپ محافظ و حامی ہے۔ خود بادشاہ سے اگر نامناسب حرکت صادر ہو تو صاف یہ کہہ دینا کہ آپ کو آپ کی غلطی پر مطلع کر دینا میرا فرض ہے پھر بھی نہ مانے تو تنہائی میں سمجھانا کہ آپ کا یہ فعل قرآن مجید اور احادیث نبوی کے خلاف ہے اگر سمجھ گیا تو خیر، ورنہ خدا سے دعا کر نا کہ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے۔

معمولاتِ زندگی کے متعلق ہدایتیں

زندگی کے معمولی کاروبار کے متعلق بھی نہایت عمدہ ہدایتیں کی ہیں چنانچہ تحریر فرماتے ہیں کہ’’ تحصیل علم کو سب پر مقدم رکھنا۔ اس سے فراغت ہو چکے تو شادی کرنا، ایسی عورت سے شادی نہ کرنا جو دوسرے شوہر سے اولاد رکھتی ہو۔ عام آدمیوں سے اور خصوصاً دولت مندوں سے کم میل جول رکھنا ورنہ ان کو گمان ہو گا کہ تم ان سے کچھ توقع رکھتے ہو۔ بازار میں جانا، دکانوں پر بیٹھنا، راستہ یا مسجد میں کوئی چیز کھا لینا، ان باتوں سے نہایت احتراز رہے۔

مزید فرماتے ہیں ’’ہنسنا کم چاہئے، زیادہ ہنسی سے دل افسردہ ہو جاتا ہے، جو کام کرو اطمینان اور وقار کے ساتھ کرو، کوئی شخص جب تک سامنے سے نہ پکارے کبھی جواب نہ دو کیونکہ پیچھے سے پکارنا جانوروں کے لئے مخصوص ہے، راستہ چلو تو دائیں بائیں نہ دیکھو، کوئی چیز خریدنی ہو تو خود بازار نہ جاؤ بلکہ نوکر بھیج کر منگوا لو خانگی کاروبار دیانتدار نوکروں کے ہاتھ میں چھوڑ دینا چاہئے کہ تم کو اپنے مشاغل کے لئے کافی وقت اور فرصت ہاتھ آئے، ہر بات سے بے پروائی اور بے نیازی ظاہر ہو اور فقر کی حالت میں بھی وہی استغناء قائم رہے۔

دین سے متعلق راہنمائی

ہر بات میں تقویٰ اور امانت کو پیشِ نظر رکھو۔ خدا کے ساتھ دل سے وہی معاملہ رکھو جو لوگوں کے سامنے ظاہر کر تے ہو۔ جس وقت اذان کی آواز آئے فوراً نماز کے لئے تیار ہو جاؤ، ہر مہینہ میں دو چار دن روزہ کے لئے مقرر کر لو، نماز کے بعد ہر روز کسی قدر وظیفہ پڑھا کرو، قرآن کی تلاوت قضا نہ ہو نے پائے، دنیا پر بہت نہ مائل ہو، اکثر قبر ستان میں نکل جایا کرو، لہو لعب سے پرہیز رکھو، ہمسایہ کی کوئی برائی دیکھو تو پردہ پوشی کرو۔ اہلِ بدعت سے بچتے رہو، نماز میں جب تک تم کو لوگ خود امام نہ بنائیں امام نہ بنو۔ جو لوگ تم سے ملنے آئیں ان کے سامنے علمی تذکرہ کرو اگر وہ لوگ اہلِ علم ہوں گے تو فائدہ اٹھائیں گے ورنہ کم از کم تم سے محبت ہو گی۔

اقوالِ زریں

اس موقع پر امام صاحبؒ کے حکیمانہ مقولے بھی سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہیں فرمایا کرتے تھے کہ ’’ جس شخص کو علم نے معاصی اور فواحش سے نہ باز رکھا تو اس سے زیادہ زیاں کار کون ہو گا؟ جو شخص علم دین میں گفتگو کرے اور اسکو یہ خیال نہ ہو کہ ان باتوں کی باز پرس ہو گی، وہ مذہب اور خود اپنے نفس کی قدر نہیں جانتا، اگر علماء خدا کے دوست نہیں ہیں تو عالم میں خدا کا کوئی دوست نہیں۔

جو شخص قبل از وقت ریاست کی تمنا کرتا ہے ذلیل ہوتا ہے اور جو شخص علمِ دین کو دنیا کے لئے سیکھتا ہے علم اسکے دل میں جگہ نہیں پکڑتا۔

سب سے بڑی عبادت ایمان اور سب سے بڑا گناہ کفر ہے۔

ایک شخص نے پوچھا فقہ کے حاصل کرنے میں کیا چیز معین ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا ’’ دلجمعی‘‘ اس نے عرض کیا کہ دلجمعی کیونکر حاصل ہو؟ ارشاد ہوا کہ تعلقات کم کئے جائیں۔ پوچھا تعلقات کیونکر کم ہوں۔ جواب دیا کہ ’’ انسان ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے۔

امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا ’’ جو شخص مجلس میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ اس کی طبیعت بوجھل ہو تو اس نے فقہ اور اہلِ فقہ کے مراتب کو نہیں پہچانا۔

عبد اللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہ نے فرمایا ’’جب عورت اپنی جگہ سے اٹھے تو تم س کی جگہ پر اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ جگہ ٹھنڈی نہ ہو جائے۔

امام ابو حنیفہؒ نے ابراہیم بن ادہم سے فرمایا کہ ’’ ابراہیم ! تم کو اچھی عبادت کی توفیق دے دی گئی ہے مناسب ہے کہ علم کی طرف توجہ رہے اس لئے کہ علم عبادت کی جڑ ہے اور اسی سے کام بنتا ہے۔

ابو رجاء  ہرویؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’جو شخص حدیث سیکھتا ہے اور اس سے استنباطِ مسائل نہیں کر تا وہ ایک عطار ہے جس کے پاس دوائیں ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ کون کس مرض کیلئے ہیں۔

ایک مر تبہ فرمایا ’’جو شخص علم کا ذوق نہیں رکھتا اس کے آگے علمی گفتگو کرنی اس کو اذیت دینی ہے۔ ‘‘

 

زہد فی الدنیا

قاضی ابو القاسم نے مکی بن ابراہیم سے روایت کی کہ ’’میں اہلِ کوفہ کے پاس اٹھا بیٹھا ہوں، مگر میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کو نہیں دیکھا۔

قاضی ابو عبد اللہ صمیری نے حسن بن صالح سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ’’ امام ابو حنیفہ بڑے پرہیز گار اور حرام سے بیحد محتاط رہتے تھے، بہت سے حلال مال کو بھی شبہ کی بناء پر چھو ڑ دیتے تھے۔ ‘‘

نضر بن محمد فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

یزید بن ہارون سے روایت ہے کہ ’’ میں نے ایک ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا۔ خدا کی قسم ان میں ابو حنیفہ سے بڑا پرہیز گار اور اپنی زبان کی حفاظت کر نے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ‘‘

ابو القاسم قشیریؒ سے منقول ہے کہ’’ امام ابو حنیفہ اپنے قرضدار کے درخت کے سایہ میں بھی نہیں بیٹھتے تھے کہ جس قرض سے کوئی بھی نفع ہو، وہ سود ہے۔ ‘‘

ابو المؤید خوارزمی نے یزید بن ہارون سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر پرہیز گار نہیں دیکھا۔ ایک دن میں نے ان کو دھوپ میں ایک آدمی کے دروازہ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ سایہ میں ہو جاتے؟ فرمایا اس گھر والے پر میرے کچھ دراہم قرض ہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے گھر کی دیوار کے سایہ میں بیٹھوں۔ یزید بن ہارون فرماتے ہیں کہ کون سی پرہیز گاری اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ‘‘

عبد اللہ بن مبارک سے مر وی ہے کہ میں کوفہ میں داخل ہوا اور لوگوں سے معلوم کیا کہ سب سے بڑا زاہد کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا ’’ امام ابو حنیفہؒ۔ ‘‘

ایک مر تبہ عبد اللہ بن مبارکؒ سے ابو حنیفہؒ کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا ’’ ان جیسا کون ہو سکتا ہے؟ ان کا امتحان کوڑوں سے ہوا تو انہوں نے صبر کیا۔ ‘‘

حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ خدا کی قسم امام ابو حنیفہ نے امراء و سلاطین میں سے کسی قسم کا انعام یا ہدیہ قبول نہیں فرمایا۔ ‘‘

زید بن زرقاؒء سے روایت ہے کہ ’’ ایک آدمی نے امام ابو حنیفہؒ سے کہا کہ تمہارے اوپر دنیا پیش ہو رہی ہے اور تمہارے بال بچے ہیں پھر تم قبول کیوں نہیں کرتے؟ امام صاحب نے فرمایا بال بچوں کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہ اللہ کے فرماں بردار ہوں تو بھی، نا فرماں ہوں تو بھی۔ اللہ کا رزق فرماں بردار اور نافرمان سب کے لئے صبح شام آتا رہتا ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ’’وفی السماء رزقکم وما توعدون‘‘ اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔

دیانت و امانت

ابو نعیم فضل سے روایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہ بڑے دین دار اور امانت دار تھے۔ ‘‘ عبد اللہ بن صالح بن مسلم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ’’ ایک شخص نے ملکِ شام میں حکم بن ہشام ثقفی سے کہا کہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کچھ بتلائیں۔ انہوں نے فرمایا وہ لوگوں میں سب سے بڑے امانت دار تھے۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ خزانہ کی کنجیوں کو سنبھالیں اور اگر خزانچی نہیں بنیں گے تو سزا دی جائے گی۔ پھر بھی وہ نہیں بنے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے بادشاہ کی سزا کو اختیار کر لیا۔ اس شخص نے عرض کیا جیسی تعریف امام ابو حنیفہ کی آپ کر رہے ہیں میں نے ایسی تعریف کرتے کسی کو نہیں سنا۔ اس پر حکم بن ہشام نے فرمایا خدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے جیسا میں نے کہا۔

ابو المؤید خوارزمیؒ نے آپؒ کی تعریف میں اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے ’’امام ابو حنیفہؒ کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ وہ علوم کے شیر اور قلموں کے جنگل ہیں۔ پرہیز گاری اور امانتداری کی شان میں اس درجہ کو پہنچ گئے جہاں تک پہنچنے سے تصور بھی گھٹنا ٹیک دیتا ہے، پرہیز گاری کی وجہ سے حلال و طیب کو قطعی قبول نہیں کیا تو بھلا حرام ان کے قریب کیسے پہنچ سکتا ہے۔ آپ لوگوں نے کبھی ان جیسا پرہیزگار دیکھا؟ ان کی یہ پرہیز گاری آبائی تھی جب فقہ ان کے پاس مشتاق ہو کر آئی تو انہوں نے اس پر فخر نہیں کیا بلکہ اسلام نے اس پر فخر کیا۔ راتوں نے ان جیسا بیدار مغز عابد نہیں دیکھا اور ایام نے ان جیسا مدرس نہیں دیکھا۔ ‘‘

 

عبادات و اخلاق

امام صاحبؒ نہایت عبادت گزار زاہد تھے۔ ذکر و عبادت میں ان کو مزہ آتا تھا۔ اور بڑے ذوق و خلوص سے ادا کر تے تھے۔ اس باب میں بھی ان کی شہرت ضرب المثل ہو گئی تھی۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ ’’ان کی پرہیز گاری اور عبادت کے واقعات تواتر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ اکثر نماز میں یا قرآن پڑھنے کے وقت رقت طاری ہو تی اور گھنٹوں رویا کر تے۔ ‘‘ زائدہؒ کہتے ہیں کہ ’’ مجھ کو ایک ضروری مسئلہ دریافت کرنا تھا امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا اور منتظر رہا کہ نوافل سے فارغ ہوں تو دریافت کروں۔ و ہ قرآن پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچے وقنا عذاب السموم تو بار بار اس آیت کو پڑھتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور آیت پڑھتے رہے۔ ‘‘

مشہور امام حدیث عبداللہ بن المبارک کا قول ہے’’ میں نے ابو حنیفہؒ سے زیادہ پرہیز گار آدمی نہیں دیکھا اس شخص کے متعلق کیا کہوں جس کے سامنے دنیا اور اس کی دولت پیش کی گئی اور اس نے ٹھکرا دیا اور کوڑوں سے اس کو پیٹا گیا اور وہ ثابت قدم رہا اور وہ مناصب جن کے پیچھے لوگ دوڑتے پھرتے ہیں کبھی قبول نہ کیا۔

امام صاحب کی کرم گستری

امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ ’’ امام حنیفہؒ جس کو پہچانتے تھے، اس پر بہت زیادہ احسان کرتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کسی کو پچاس اشرفی سے کم عنایت نہ کرتے۔ اگر وہ لوگوں کے سامنے شکریہ ادا کرتا تو ان کو رنج ہوتا تھا اور فرماتے تھے کہ اﷲ کا شکر ادا کرو اس لئے کہ یہ اﷲ ہی کا رزق ہے اسی نے تیری طرف بھیجا ہے۔

شقیق بن ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ ’’ میں ایک مرتبہ امام صاحب کے ساتھ تھا، وہ ایک مریض کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، ادھر سے ایک آدمی آ رہا تھا اس نے امام صاحبؒ کو دور سے دیکھا تو چھپ گیا اور دوسرے راستہ پر چل پڑا امام صاحبؒ نے اس کا نام لے کر زور سے پکارا اے فلاں ! وہ راستہ چل، جس پر چل رہا تھا، دوسرا راستہ مت اختیار کر۔ اس آدمی کو معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ نے اس کو دیکھ لیا ہے تو شرمندہ ہو کر کھڑا ہو گیا،جب امام صاحبؒ اس کے پاس پہنچے تو پوچھا ’’تم نے وہ راستہ کیوں چھوڑا جس پر تم چل رہے تھے؟‘‘ اس آدمی نے عرض کیا کہ آپ کے دس ہزار درہم میرے اوپر قرض ہیں اور مدت لمبی ہو گئی میں ادا نہیں کر سکا۔ وعدہ خلافی ہوئی، آپ کو دیکھ کر میں شرما گیا۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا سبحان اﷲ! یہاں تک نوبت آ گئی کہ آپ مجھے دیکھیں تو چھپ جائیں، میں نے یہ ساری رقم آپ کو بخش دی اور میں خود اپنے اوپر شاہد ہوں اب خبردار مجھ سے مت چھپنا اور میری طرف سے جو کچھ تمہارے قلب میں آ گیا اس کو معاف کر دو۔ شقیق فرماتے ہیں اس وقت مجھے مکمل یقین ہو گیا کہ یہ حقیقی زاہد ہیں۔ ‘‘

زائدہ بن حسنؒ سے روایت ہے کہ ’’ میرے والد محترم نے امام ابو حنیفہؒ کو ایک رومال ہدیہ کیا جس کو تین اشرفیوں میں خریدا تھا۔ امام صاحب نے قبول فرما لیا اور ان کو ایک ریشمی کپڑا ہدیہ کیا جس کی قیمت ۵۰ درہم تھی۔ ‘‘

زکریا بن عدی سے روایت ہے کہ ’’ عبید اﷲ بن عمرو الرقی نے امام ابو حنیفہؒ کو کچھ میوے ہدیہ کئے امام صاحب نے ان کے پاس ہدیہ میں بہت سا قیمتی سامان روانہ فرمایا۔ ‘‘

عبد اﷲ بن بکر اسہمی سے روایت ہے کہ اونٹ والے نے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے راستہ میں مجھ سے کچھ مخاصمت کی اور کھینچ کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں لے گیا۔ انہوں نے ہم دونوں سے سوال کیا ہم دونوں کے جواب مختلف تھے۔ امام صاحب نے فرمایا اختلاف کتنے میں ہے اونٹ والے نے کہا چالیس درہم میں امام صاحب نے فرمایا لوگوں کی مروت ختم ہو گئ، پھر امام ابو حنیفہؒ نے اونٹ والے کو چالیس درہم عنایت کر دیئے۔

یحیٰ بن خالد سے روایت ہے کہ ’’ ابراہیم بن عینیہ کو اس وجہ سے قید کر دیا گیا تھا کہ ان پر لوگوں کا قرض ہو گیا تھا، ابراہیم اسی حالت میں امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے، امام صاحب نے ان سے معلوم کیا ’’قرض کتنا ہے؟‘‘ بتلایا کہ چار ہزار درہم سے زیادہ، امام صاحب نے پوچھا کسی سے کچھ لیا تو نہیں؟ عرض کیا ’’لیا ہے‘‘ امام صاحب نے فرمایا ’’اس کو واپس کر دو، میں تمہارا سارا قرض ادا کرتا ہوں۔

 ‘‘ ابو محمد حارثیؒ نے غورک السعدی کوفی سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو حنیفہؒ کو ہدایا پیش کئے، انہوں نے کئی گنا بدلے میں عنایت فرمایا۔ میں نے عرض کیا اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ایسا کریں گے تو میں یہ کام نہیں کرتا اس پر امام صاحب نے فرمایا ’’الفضل للمتقدم‘‘ اور کیا تم نے آپ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا ’’ من صنع الیکم معروفاً فکافؤہ ‘‘ (جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کو بدلہ دیدیا کرو) میں نے عرض کیا یہ حدیث میرے نزدیک پوری دولت سے بہتر اور محبوب ہے۔ ‘‘

وکیع بن جراحؒ سے روایت ہے کہ ’’ امام ابو حنیفہؒ کے پاس ایک آدمی آیا، اور کہنے لگا ’’مجھے دو کپڑوں کی ضرورت ہے آپ میرے ساتھ احسان کریں میں ان کپڑوں کو پہن کر اپنی شکل اچھی بناؤں گا کیوں کہ ایک آدمی مجھ کو اپنی دامادی میں لینا چاہتا ہے،،۔ امام صاحبؒ نے فرمایا دس دن ٹھہرو، وہ دس دن کے بعد آیا، امام صاحب نے فرمایا کل آنا، وہ اگلے دن آیا۔ امام صاحب نے اس کے لئے وہ کپڑے نکالے جن کی قیمت بیس اشرفیوں سے زائد تھی، ان کے ساتھ ایک اشرفی بھی تھی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ تیرے نام کا سامان بغداد بھیجا تھا، وہ سامان بیچا گیا، یہ دونوں کپڑے اور ایک دینار اس سے نفع ہوا، اصل مال بھی آ گیا، اگر تم اس کو قبول کرتے ہو تو بہتر ہے ورنہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت اور اشرفی تمہارے نام پر صدقہ کر دوں گا۔ ‘‘

امام ابویوسفؒ سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ ابو حنیفہؒ کو اﷲ تعالیٰ نے علم و عمل، سخاوت، کرم گستری اور قرآنی اخلاق سے زینت دی ہے۔

اجمالی صورت

امام صاحب کے محاسن اخلاق کی صحیح مگر اجمالی صورت دیکھنی ہو تو قاضی ابو یوسفؒ کی تقریر سنئے جو انہوں نے ہارون رشید کے سامنے بیان کی تھی ایک موقعہ پر ہارون رشید نے قاضی صاحبؒ موصوف سے کہا کہ ابو حنیفہ کے اوصاف بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا ’’ منہیات سے بہت بچتے تھے، اکثر چپ رہتے اور سوچا کرتے تھے، نہایت سخی اور فیاض تھے، کسی کے آگے حاجت نہ لے جاتے، اہل دنیا سے احتراز تھا، دنیوی جاہ و عزت کو حقیر سمجھتے تھے، غیبت سے بہت بچتے تھے، جب کسی کا ذکر کرتے تو بھلائی کے ساتھ کرتے، بہت بڑے عالم تھے اور مال کی طرح علم کے صرف کرنے میں بھی فیاض تھے۔ ‘‘ ہارون رشید نے یہ سن کر کہا صالحین کے یہی اخلاق ہوتے ہیں۔

وہ اپنی شخصی زندگی میں بھی انتہائی پرہیز گار اور دیانتدار آدمی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے شریک کو مال بیچنے کے لئے باہر بھیجا، اس مال میں ایک حصہ عیب دار تھا امام صاحب نے شریک کو ہدایت کی کہ جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے عیب سے آگاہ کر دے۔ مگر وہ اس بات کو بھول گیا، اور سارا مال عیب ظاہر کئے بغیر فروخت کر آیا۔ امام صاحب نے اس پورے مال کی وصول شدہ قیمت جو ۳۵ ہزار درہم تھی خیرات کر دی۔

آزادی اور بے نیازی

امام صاحب تمام عمر کسی کے احسان مند نہ رہے اور اس وجہ سے ان کی آزادی کو کوئی چیز دبا نہ سکتی تھی۔ اکثر موقعوں پر وہ اس خیال کا اظہار بھی کر دیا کر تے تھے۔ ابن ہبیرہ نے جو کوفہ کا گورنر اور نہایت نامور شخص تھا۔ امام صاحب سے بہ لجاجت کہا کہ آپ کبھی کبھی قدم رنجہ فرماتے تو مجھ پر احسان ہوتا ‘‘ فرمایا ’’ میں تم سے مل کر کیا کروں گا مہربانی سے پیش آؤ گے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میں آ جاؤں، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے۔ تمہارے پاس جو زر و مال ہے مجھ کو اس کی حاجت نہیں میرے پاس جو دولت ہے (یعنی علم) اس کو کوئی چھین نہیں سکتا۔

عینیٰ بن موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ گزرا۔ ظالموں اور ائمہ جور کے خلاف قتل کے معاملہ میں ان کا مذہب مشہور ہے۔ بکر الجصاص ان کا مذہب نقل کر تے ہیں ’’ ابو حنیفہؒ کہتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ابتداء ً زبان سے فرض ہے ورنہ تو پھر تلوار سے واجب ہے۔ ( احکام القرآن)۔

آپ کی ظرافت

امام صاحبؒ اگر چہ نہایت ثقہ متین با وقار تھے۔ تا ہم ذہانت کی شوخیاں کبھی کبھی ظرافت کا رنگ دکھاتی تھیں ایک دن اصلاح (بال) بنوا رہے تھے حجام سے کہا کہ ’’ سفید بالوں کو چن لینا‘‘ اس نے عرض کیا کہ جو بال چنے جاتے ہیں اور زیادہ نکلتے ہیں۔ امام صاحب نے کہا : یہ قاعدہ ہے تو سیاہ بال کو چن لو کہ اور زیادہ نکلیں۔ ‘‘ قاضی شریک نے یہ حکایت سنی تو کہا کہ ’’ابو حنیفہؒ نے حجام کے ساتھ بھی قیاس کو نہ چھوڑا۔ ‘‘

غیبت سے پرہیز

آپ غیبت سے پرہیز رکھتے، اس نعمت کا شکر ادا کر تے کہ خدا نے میری زبان کو اس آلودگی سے پاک رکھا۔ ایک شخص نے کہا ’’ حضرت! لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ سے میں نے کسی کی برائی نہیں سنی‘‘ فرمایا! ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء‘‘ سفیان ثوریؒ سے کسی نے کہا کہ’’ امام ابو حنیفہ کو میں نے کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ ابو حنیفہ ایسے بیوقوف نہیں کہ اپنے اعمالِ صالحہ کو آپ بر باد کریں۔ ‘‘

 

تلامذہ و علماء کے ساتھ فیاضی

شاگردوں کے ساتھ سخاوت

امام صاحبؒ شاگردوں میں جس کو تنگ حال دیکھتے اس کی ضروریاتِ خانگی کی کفالت کرتے کہ اطمینان سے علم کی تکمیل کر سکے۔ بہت سے لوگ جن کو مفلسی کی وجہ سے تحصیلِ علم کا موقع نہیں مل سکتا تھا امام صاحبؒ ہی کی دستگیری کی بدولت بڑے بڑے  رتبوں پر پہنچے، انہی میں قاضی ابو یوسفؒؒ بھی ہیں۔

قاضی ابو یوسفؒ فرما تے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے دس سال تک میرا اور میرے اہل و عیال کا نفقہ برداشت کیا میں نے ان سے بڑھ کر اخلاقِ حسنہ کا جامع کسی کو نہیں دیکھا۔

امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ جب میں امام صاحبؒ سے کہتا کہ میں نے آپ سے بڑھ کر سخی نہیں دیکھا تو فرماتے کہ اگر تم میرے استاد حمادؒ کو دیکھتے تو ایسا نہ کہتے۔

اسحاقؒ بن اسرائیلؒ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والدِ محترم سے سنا کہ امام ابو حنیفہؒ بہت سخی تھے۔ اپنے دوستوں اور شاگردوں کی بڑی غم خواری کرتے تھے۔ خاص کر عید کے موقع پر خوب تحائف بھیجتے۔ جس کو شادی کی ضرورت ہوتی اس کی شادی کرواتے۔ سارا خرچ خود برداشت کرتے، اس کی ضروریات کی بھر پور کفالت کرتے۔

حسن بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑا سخی نہیں دیکھا۔ اپنے شاگردوں میں سے ایک جماعت کا ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ سالانہ الگ سے مقرر تھا۔

حسن بن زیادؒ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ایک شاگرد کے بدن پر خراب کپڑے دیکھے۔ جب وہ جانے لگا تو اس سے کہا ’’بیٹھے رہو۔ ‘‘ جب لوگ چلے گئے اور وہ تنہا رہ گیا تو فرمایا ’’مصلی اٹھاؤ جو کچھ اس کے نیچے ہے لے لو اور اپنی حالت درست کرو۔ ‘‘ اس نے مصلیٰ اٹھایا تو اس کے نیچے ایک ہزار درہم تھے۔

فضل بن عیاضؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنے شاگردوں کی بہت مدد کرتے تھے۔ اگر کوئی محتاج ہوتا تو غنی کر دیتے۔ اس کے عیال پر بھی طالب علمی کے زمانہ میں خرچ کرتے۔ جب وہ پڑھ چکتا تو فرماتے کہ اب تم بہت بڑی مالداری تک پہنچ چکے کیونکہ حلال اور حرام کو سمجھ گئے ہو۔

علی بن جعدؒ سے روایت ہے کہ الحاجؒ نے امام صاحبؒ کو ایک ہزار جوتے ہدیہ میں بھیجے انہوں نے طلبہ کو تقسیم کر دیئے۔ اس کے بعد ان کو جوتے خریدنے کی ضرورت پڑی کسی نے عرض کیا حضرت وہ جوتے کیا ہوئے؟ فرمایا اس میں سے کوئی بھی میرے گھر نہیں پہنچا، وہ سب میں نے ساتھیوں کو بخش دیئے تھے۔

قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ہر اس شخص کے ساتھ بہت زیادہ احسان و مروت کرتے تھے جو ان سے رجوع کرتا تھا اور اپنے اخوان پر بے حد فضل فرماتے تھے۔

علماء کی خدمت میں ہدایا

امام صاحبؒ نے شیوخ و محدثین کے لئے تجارت کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا تھا سال کے سال ان لوگوں کو پہنچا دیا جاتا تھا۔

امام ابو حنیفہؒ بغداد میں نقود بھیجتے تھے۔ اس سے سامان خرید کر کوفہ لایا جاتا اور بیچا جاتا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا اس کو جمع کرتے پھر محدثین کرام کی ضروریات، کپڑے، کھانے کی چیزیں خرید کر انہیں ہدیہ کرتے۔ بعد میں بچی ہوئی رقم نقد کی صورت میں پیش کرتے اور فرماتے کہ صرف اﷲ کی تعریف کریں میری نہیں اس لئے کہ میں نے اپنے مال میں سے کچھ نہیں دیا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دیا ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔ بخدا یہ آپ لوگوں کی امانت ہے جس کو اﷲ رب العزت میرے ہاتھوں آپ لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔

وکیع بن جراح سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ چالیس سال سے میرا دستور یہ ہے کہ جب چار ہزار درہم سے زیادہ کا مالک ہو جاتا ہوں تو زیادتی کو خرچ کر دیتا ہوں۔ اس کو اس لئے روکتا ہوں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’چار ہزار درہم اور اس سے کم نفقہ ہے۔ ‘‘ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں لوگوں کا محتاج ہو جاؤں گا تو ایک درہم بھی اپنے پاس نہ روکتا۔

امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے جب کسی حاجت کا سوال کیا جاتا وہ پوری فرماتے۔ اسماعیل بن حماد بن ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ جب حمادؒ (امام صاحب کے بیٹے) نے الحمد شریف مکمل کی تو معلم کو پانسو (۵۰۰) درہم انعام بھیجے۔ معلم کو جب رقم پہنچی تو اس نے کہا میں نے کیا کیا ہے جو اتنی بڑی رقم انعام میں دی؟ امام صاحبؒ کو خبر ہوئی تو خود حاضرِ خدمت ہوئے اور فرمایا بزرگوار ! جو کچھ آپ نے میرے بچے کو پڑھا دیا اس کو حقیر مت سمجھئے۔ میرے پاس اگر اس سے زیادہ ہوتا تو قرآن کریم کی تعظیم میں اور زیادہ پیش کرتا۔

سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کثیر الصیام  و الصدقات تھے جو مال بھی ان کو نفع ہوتا تھا، اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ میرے پاس ایک مرتبہ بہت زیادہ ہدیہ بھیجا۔ اتنا زیادہ کہ مجھ کو اس کی زیادتی سے وحشت ہوئی۔ میں نے ان کے بعض ساتھیوں سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے اگر آپ ان تحائف کو دیکھتے جو انہوں نے سعید بن عروبہؒ کو بھیجے تھے تو ہرگز تعجب نہ کرتے۔ پھر فرمایا کہ کوئی محدث ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ آپؒ بے پناہ احسان نہ کرتے ہوں۔

مسعر بن کدامؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا دستور تھا کہ جب اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ خریدتے تو اتنا ہی کبارِ علماء پر خرچ کرتے اور جب اہل و عیال کے لئے کپڑا خریدتے تو علمائے مشائخ کے لئے بھی اتنی ہی مقدار خریدتے اور جب پھلوں اور کھجوروں کا موسم آتا تو جو چیز اپنے اور اہل و عیال کے لئے خریدنے کا ارادہ کرتے پہلے علماء و مشائخ کے لئے اتنا ہی خرید لیتے جتنا بعد میں اپنے لئے خریدتے۔

 

تلامذہ اور ان کی تصنیفات

شاگرد کا رتبۂ اعزاز استاد کے لئے باعثِ فخر خیال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فخر صحیح ہے تو اسلام کی تمام تاریخ میں کوئی شخص امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر اس فخر کا مستحق نہیں ہے۔ امام صاحبؒ اگر یہ دعویٰ کرتے تو بالکل بجا تھا کہ جو لوگ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے وہ بڑے بڑے ائمہ مجتہدین کے شیخ اور استاد تھے۔ امام شافعیؒ ہمیشہ کہا کر تے تھے کہ میں نے امام محمدؒ سے ایک بار شتر علم حاصل کیا ہے۔ ‘‘ یہ وہی امام محمدؒ ہیں جو امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں اور ان کی تمام عمر امام صاحبؒ کی حمایت میں صرف ہوئی۔

حافظ ابوالمحاسن شافعیؒ نو سو اٹھارہ شخصیتوں کے نام بقیدِ نام و نسب لکھے ہیں جو امام صاحبؒ کے حلقۂ درس سے مستفید ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے حالات صرف امام ابو حنیفہؒ کی تاریخ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اس سے عام طور پر حنفی فقہ کے متعلق ایک اجمالی خیال قائم ہوتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کی عظمت و شان سے فقہ حنفی کی خوبی اور عمدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی امام صاحب کا بلند رتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟

خطیب بغدادی نے وکیع بن الجراح کے حال میں جو ایک مشہور محدث تھے لکھا ہے کہ ایک موقع پر وکیع کے پاس چند اہلِ علم جمع تھے کسی نے کہا اس مسئلہ میں ابو حنیفہؒ نے غلطی کی۔ وکیع بولے ’’ابو حنیفہؒ کیونکر غلطی کر سکتے ہیں ! ابویوسفؒ وزفرؒ قیاس میں، یحیٰٰ بن زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، حبان اور مندلؒ حدیث میں، قاسم بن معنؒ لغت وعربیت میں، داؤد الطائیؒ وفضیل بن عیاضؒ زہد و تقویٰ میں، اس رتبہ کے لوگ جس شخص کے ساتھ ہوں وہ کہیں غلطی کر سکتا ہے۔ اور کرتا بھی تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنے دیتے،،۔

 

آ پ کے تلامذۂ محدثین

یحیٰ بن سعید القطانؒ

فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطانؒ ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے ’’ میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔ ‘‘

اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور ان کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ یحیٰ بن سعید القطانؒ اکثر امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی فتوی دیا کرتے تھے۔ ۱۲۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔

عبداللہ بن مبارکؒ

محدثین ان کو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت سے سیکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور امام صاحبؒ کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ ’’اگر اللہ نے ابو حنیفہؒ و سفیان ثوریؒ کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔ ‘‘ مرو کے رہنے والے تھے۔ ۱۱۸ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۸۱ھ میں بمقام ہیت وفات پائی۔

یحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہؒ

مشہور محدث تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں انہیں حافظ الحدیث میں شمار کیا ہے۔ صحاحِ سۃ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں۔ وہ محدث اور فقیہ دونوں تھے۔ اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ اور مدت تک ان کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں ان کو صاحب ابی حنیفہؒ کا لقب دیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریکِ اعظم تھے۔ خاص کر تصنیف و تحریر کی خدمت انہی سے متعلق تھی۔ مدائن میں منصب قضا پر ممتاز تھے اور وہیں ۱۸۲ھ میں تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔

وکیع بن جراحؒ

فنِ حدیث کے ارکان میں شمار کئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کو ان کی شاگردی پر فخر تھا۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں اور رائیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص تھے اور ان سے بہت سی حدیثیں سنی تھیں۔ خطیب بغدادیؒ نے لکھا ہے کہ اکثر امام صاحبؒ کے قول کے موافق فتوی دیتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ۱۹۷ھ میں وفات پائی۔

حفص بن غیاثؒ

بہت بڑے محدث تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ اور علامہ ذہبیؒ نے ان کو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ، علی بن المدینیؒ وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ یہ اس خصوصیت میں ممتاز تھے کہ جو کچھ روایت کر تے تھے زبانی کرتے تھے۔ کاغذ یا کتاب پاس نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ اس طرح جو حدیثیں روایت کی ان کی تعداد تین یا چار ہزار ہے۔

یہ امام صاحبؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ امام صاحبؒ کے شاگردوں میں چند بزرگ نہایت مقرب اور با اخلاص جنکی نسبت تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’تم میرے دل کی تسکیں  اور میرے غم کے مٹانے والے ہو۔ ‘‘ حفصؒ کی نسبت بھی امام صاحبؒ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ ۱۱۷ھ میں پیدا ہوئے اور تیرہ برس کوفہ میں اور دو برس بغداد میں قاضی رہے ۱۹۶ھ میں وفات پائی۔

ابو عاصم النبیلؒ

ان کا نام ضحاک بن مخلد اور لقب نبیل ہے۔ مشہور محدث ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ان کی توثیق پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ نہایت پارسا اور متورع انسان تھے۔ امام بخاریؒ نے روایت کی ہے کہ ابو عاصمؒ نے خود کہا کہ ’’جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے آج تک کسی کی غیبت نہیں کی۔

یہ بھی امام صاحبؒ کے مختص شاگردوں میں تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا کہ سفیان ثوریؒ زیادہ فقیہ ہیں یا ابو حنیفہؒ؟ بولے کہ ’’موازنہ تو ان چیزوں میں ہو تا ہے جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فقہ کی بنیاد ڈالی ہے اور سفیان ثوریؒ صرف فقیہ ہیں۔ ‘‘ ۲۱۲ھ میں نوے برس کی عمر وفات پائی۔

عبد الرزاق بن ہمامؒ

بہت بڑے نامور محدث تھے۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ ان کی روایتوں سے مالا مال ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے پوچھا کہ حدیث کی روایت میں آپ نے عبد الرزاق سے بڑ ھ کر کسی کو دیکھا؟ جواب دیا کہ ’’نہیں‘‘ بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً امام سفیان بن عیینہؒ، یحیٰ بن معینؒ، علی بن المدینیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ فن حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔

حدیث میں ان کی ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ جو ’’جامع عبد الرزاق ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ امام بخاریؒ نے اعتراف کیا ہے کہ ’’میں اس کتاب سے مستفید ہوا ہوں۔ ‘‘ علامہ ذہبیؒ نے اس کتاب کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ’’علم کا خزانہ ہے۔ ‘‘

ان کو امام ابو حنیفہؒ سے فن حدیث میں تلمذ تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کی صحبت میں بہت زیادہ رہے چنانچہ ان کے اخلاق و عادات کے متعلق ان کے اکثر اقوال کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا قول تھا کہ’’ میں نے ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو حلیم نہیں دیکھا۔

داؤد الطائیؒ

خدا نے عجیب حسنِ قبول دیا تھا۔ فقہاء کرام ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل ہیں۔ محدثین کا قول ہے کہ ’’ ثقۃ بلانزاع‘‘۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام القاب کے مستحق تھے۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں۔ خطیب بغدادیؒ، ابن خلکانؒ، علامہ ذہبیؒ، اور دیگر مؤرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں، امام صاحبؒ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریک تھے اور مجلس کے معزز ممبر تھے۔ ۱۶۰ھ میں وفات پائی۔

ان بزرگوں کے سوا اور بھی بہت سے نامور محدثین مثلاً فضل بن دکینؒ، حمزہ بن الزیاتؒ، ابرہیم بن طہمانؒ۔ سعید بن اوسؒ، عمر بن میمونؒ، فضل بن موسیٰؒ، وغیرہ  وغیرہ امام صاحبؒ کے تلامذہ میں داخل ہیں لیکن ہم نے صرف ان لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ جو تلامذۂ خاص کہے جا سکتے ہیں اور جو مدتوں امام صاحبؒ کی صحبتوں سے مستفید ہوئے ہیں۔

تلامذۂ فقہاء

بعد میں آنے والے امام صاحبؒ کے تلامذہ کا آپ کے مذہب کو نقل کر کے محفوظ کر دینا بلا شبہ ایک عظیم خدمت ہے اور اس سے امامؒ کی جلالتِ شان میں قابلِ قدر اضافہ ہوا کیونکہ یہ اصحاب بذات خود ائمہ فقہ تھے۔

               امام یوسفؒ

قاضی ابو یوسفؒ (یعقوب بن ابراہیم ) بن حبیب انصاری، کوفہ میں پیدا ہوئے۔ وہیں تعلیم پائی اور کوفہ میں سکونت پذیر رہے۔ آپ عربی النسل تھے۔ موالی میں سے نہ تھے۔ ۱۳۳ھ میں ولادت ہوئی اور ۱۸۲ھ میں وفات پائی۔

آپ بچپن میں بہت غریب تھے۔ ابو حنیفہؒ کی مالی امداد سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔

امام ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں ’’قاضی ابو یوسفؒ بڑے فقیہ عالم اور حافظ تھے حفظِ حدیث میں بڑی شہرت رکھتے تھے محدث کے یہاں حاضر ہو تے اور پچاس یا ساٹھ احادیث تک یاد کر لیتے پھر کھڑے ہو کر املا کرا دیتے۔ بڑے کثیر الحدیث تھے۔ آپ تین خلفاء خلیفہ مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے قاضی رہے۔

جب امام ابو یوسف نے الگ حلقۂ درس قائم کر لیا

ایک مرتبہ امام صاحبؒ نے امام ابو یوسفؒ کے بارے میں لوگوں سے معلومات کیں تو لوگوں نے بتلایا کہ انہوں نے اپنا حلقۂ درس الگ قائم کر لیا ہے۔

امام صاحبؒ نے ایک معتبر آدمی کو بلایا کہ ابو یوسفؒ کی مجلس میں جاؤ اور یہ مسئلہ معلوم کرو کہ ایک آدمی نے ایک دھوبی کو کپڑا دیا کہ دو درہم میں اس کو دھو کر دے۔ کچھ دنوں کے بعد جب دھوبی کے پاس کپڑا لینے گیا تو دھوبی نے کپڑے ہی کا انکار کر دیا اور کہا تمہاری کوئی چیز میرے پاس نہیں۔ وہ آدمی واپس آ گیا پھر دوبارہ اس کے پاس گیا اور کپڑا طلب کیا تو دھوبی نے دھلا ہوا کپڑا اسے دے دیا۔ اب دھوبی کو دھلائی کی اجرت ملنی چاہئے یا نہیں۔ اگر وہ کہیں ہاں تو کہنا آپ سے غلطی ہو ئی اور اگر کہیں اس کو مزدوری نہیں ملے گی تو بھی کہنا غلط ہے۔

وہ آدمی امام ابو یوسفؒ کی مجلس میں گیا اور مسئلہ معلوم کیا۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا اس کی اجرت واجب ہے اس آدمی نے کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ نے غور کیا پھر فرمایا نہیں اس کو اجرت نہیں ملے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ فوراً اٹھے امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے۔

امام صاحبؒ نے فرمایا معلوم ہو تا ہے کہ آپ کو دھوبی کا مسئلہ لایا ہے۔ ابو یوسف نے عرض کیا جی ہاں۔ امام صاحب نے فرمایا سبحان اللہ جو شخص اس لئے بیٹھا ہو کہ لوگوں کو فتویٰ دے۔ اس کام کے لئے حلقۂ درس جما لیا، اللہ تعالیٰ کے دین میں گفتگو کرنے لگا اور اس کا مرتبہ یہ ہے کہ اجارہ کے ایک مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ ابو یوسفؒ نے عرض کیا استاذِ محترم! مجھے بتلا دیجئے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اگر اس نے دینے سے انکار کے بعد دھویا ہے تو اجرت نہیں کیونکہ اس نے اپنے لئے دھویا ہے اور اگر غصب سے پہلے دھویا تھا، تو اس کو اجرت ملے گی اس لئے کہ اس نے مالک کے لئے دھو یا تھا۔

قاضی ابو یوسفؒ امام ابو حنیفہؒ کے پہلے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے فقہ حنفی میں تصنیفات کیں جن میں انہوں نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات کو مدون کیا ہے۔ مختلف علوم میں ان کی تصنیفات بہت ہیں، ابن الندیم لکھتے ہیں کہ ابو یوسفؒ کی تصانیف یہ ہیں : ( ۱ ) کتاب الصلاۃ ( ۲ ) کتاب الزکوۃ ( ۳ ) کتاب الصیام ( ۴ ) کتاب الفرائض ( ۵ ) کتاب البیوع ( ۶ ) کتاب الحدود ( ۷ ) کتاب الوکالۃ ( 8 ) کتاب الوصایا ( ۹ )کتاب الصید و الذبائح  ( ۱۰ ) کتاب الغضب و الاستبراء ( 11 ) کتاب اختلاف الامصار ( ۱۲ ) کتاب الرد علی مالک بن انس ( ۱۳ ) مسائلِ خراج پر مشتمل ایک مکتوب بنام ہارون الرشید، کتاب الجوامع جو آپ نے یحی بن حامدؒ کے لئے تصنیف کی یہ چالیس کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے لوگوں کے اختلاف اور قابل عمل رائے کا ذکر کیا ہے۔

یہ ابن ندیمؒ کا بیان ہے لیکن انہوں نے بعض کتابوں کا ذکر نہیں کیا۔ ان کتابوں میں امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات اور ان کی طرف سے دفاع پر مشتمل ہیں اور وہ کتابیں یہ ہیں :کتاب الآثار، اختلاف ابن ابی لیلی، الرد علی سیر الاوزاعی، کتاب الخراج۔

کتاب الخراج

امام ابو یوسفؒ کی مشہور تصنیف کتاب الخراج ہے جس کو ہارون رشید کی درخواست پر تحریر کی تھی۔ اس میں مختلف مضامین ہیں لیکن زیادہ خراج کے مسائل ہیں۔ اور اس لئے اس کو ہر زمانہ کا قانونِ مال گزاری کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں زمین کے اقسام، لگان کی مختلف شرحیں  کاشتکاروں کی حیثیتوں کا اختلاف، پیداوار کی قسمیں اور اس قسم کے دوسرے مسائل کو بہت ہی خوبی اور دقتِ نظر سے منضبط کیا اور ان کے قواعد اور ہدایتوں کے ساتھ جا بجا ان ابتریوں کا ذکر ہے جو انتظامات سلطنت میں موجود تھیں۔ اور ان پر نہایت بے باکی کے ساتھ خلیفۂ وقت کو متوجہ کیا ہے۔

               امام محمدؒ

آپ کا نام محمد بن حسن شیبانیؒ ہے اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ چونکہ قبیلۂ شیبان کے مولی سے تھے، اس لئے شیبانی کہلائے۔ آپ نسباً قبیلۂ شیبان سے متعلق تھے۔ آپ کی ولادت ۱۳۲ھ اور وفات ۱۸۹ھ میں ہوئی۔

امام محمدؒ فقہ الرائے اور فقہ الحدیث کے جامع تھے۔ وہ ایک طرف عراقی فقہ کے راوی تھے تو دوسری جانب مؤطاء امام مالکؒ کے راوی۔

تدوین فقہ کی طرف آپ کی خاص توجہ تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ عراقی فقہ کو متاخرین تک نقل کرنے کا سہرا امام محمدؒ کے سر ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ آپ صرف عراقی فقہ کے ناقل نہ تھے بلکہ آپ نے امام مالکؒ سے مؤطا روایت کی اور اسے مدون کیا۔ مؤطا امام مالک کے راویوں میں امام محمدؒ کی روایت۔ عمدہ روایات۔ میں سے تسلیم کی گئی ہے۔

عراقی فقہ کے حلقہ بگوش ہونے کے باعث آپ امام مالکؒ اور اہل حجاز کی تردید بھی کرتے تھے۔ امام محمدؒ کو عراقی فقہاء میں جو مقام بلند حاصل ہوا اس کے وجوہ و اسباب یہ تھے ( ۱ ) آپ ایک صاحبِ اجتہاد امام تھے اور آپ کے فقہی نظریات بڑے بیش قیمت تھے جن میں بعض آراء کو حق سے بہت قریب کر دیا ہے۔ ( ۲ ) آپ اہلِ عراق اور اہلِ حجاز دونوں کی فقہ کے جامع تھے۔ (۳ ) عراقی فقہ کے جامع راوی اور اسے اخلاف تک پہنچانے والے تھے۔

امام محمدؒ کی تصانیف حنفی فقہ کی اولین مرجع سمجھی جاتی ہیں۔

امام محمدؒ کی تصنیفات تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ اور آج فقہ حنفی کا مدار ان ہی کتابوں پر ہے۔ ہم ذیل میں ان کتابوں کی فہرست لکھتے ہیں جن میں ابو حنیفہؒ کے مسائل روایتاً مذکور ہیں اس لئے وہ فقہ حنفی کے اصلِ اصول خیال کئے جاتے ہیں۔

مبسوط

یہ کتاب قاضی ابو یوسفؒ کی تصنیف ہے جن کے مسائل کو امام محمد نے زیادہ توضیح اور خوبی سے لکھا ہے۔

جامع صغیر

مبسوط کے بعد تصنیف ہوئی۔ اس کتاب میں امام محمدؒ نے قاضی ابو یوسف کی روایت سے امام ابو حنیفہؒ کے تمام اقوال لکھے ہیں۔ اس کتاب کی تیس چالیس شرحیں لکھی گئیں جن کے نام اور مختصر حالات کشف الظنون میں ملتے ہیں۔

جامع کبیر

جامع صغیر کے بعد لکھی گئی ضخیم کتاب ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہؒ کے اقوال کے ساتھ قاضی ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے اقوال بھی لکھے ہیں۔ ہر مسئلہ کے ساتھ دلیل لکھی ہے۔ متأخرین حنفیہ نے اصول فقہ کے جو مسائل قائم کئے ہیں زیادہ تر اسی کتاب کے طرزِ استدلال اور طریق استنباط سے کئے ہیں۔ بڑے بڑ ے فقہاء نے اس کی شرحیں لکھیں جن میں سے بیالیس شرحوں کا ذکر کشف الظنون میں ہے۔

زیادات

جامع کبیر کی تصنیف کے بعد جو فروع یاد آئے وہ اس میں درج کئے اور اسی لئے زیادات نام رکھا۔

مؤطا امام محمدؒ

حدیث میں ان کی کتاب مؤطا مشہور ہے (یہ امام مالکؒ کی مؤطا سے الگ ہے) جو اس زمانہ سے آج تک تمام مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اس کے علاوہ کتاب الحج جو امام مالک کی رد میں لکھی ہے اس میں اول امام محمدؒ ابو حنیفہؒ کا قول نقل کر تے ہیں پھر مدینہ والوں کا اختلاف بیان کر کے حدیث، اثر، قیاس سے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب صحیح ہے اور دوسروں کا غلط۔ امام رازیؒ نے مناقب الشافعی میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اور ہر جگہ ملتی ہے۔

سیر صغیر و کبیر

یہ سب سے اخیر تصنیف ہے اور جب ’’سیر صغیر‘‘ لکھی تو اس کا ایک نسخہ امام اوزاعیؒ کی نظر سے گزرا۔ انہوں نے طعن سے کہا کہ اہلِ عراق کو فن سیر سے کیا نسبت!

امام محمدؒ نے سنا تو ’’سیر کبیر‘‘ لکھنی شروع کی، تیار ہو گئی تو ساٹھ جزوں میں آئی امام محمدؒ اس ضخیم کتاب کو گھوڑے پر رکھوا کر ہارون رشید کے پاس لے گئے۔ ہارون رشید کو پہلے سے خبر ہو چکی تھی۔ اس نے قدردانی کے لحاظ سے شہزادوں کو بھیجا کہ خود جا کر امام محمدؒ کا استقبال کریں اور ان سے اس کی سند لیں۔

امام محمدؒ کی دیگر تصنیفات

امام محمدؒ کی دو کتابیں اور ہیں جنہیں عام طور پر علماء ذکر نہیں کرتے ( ۱ ) ’’الرد علی اہل المدینہ ‘‘یہ کتاب دو لحاظ سے بڑی قیمتی ہے اول یہ کہ سندا ً یہ ثابت اور روایۃً صادق ہے۔ اس کے مستند ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ امام شافعیؒ نے ’’کتاب الامّ ‘‘ میں اسے روایت کیا اور اس کی تدوین فرمائی۔ دوسرے یہ کہ کتاب مدلل ہے اور اس میں قیاس سنت اور آثار پر مشتمل دلائل ذکر کئے گئے ہیں۔ اس حیثیت سے یہ فقہ کے تقابلی مطالعہ کی کتاب ہے۔

ایسے ہی ایک دوسری کتاب’’ کتاب الآثار‘‘ ہے۔ اس میں انہوں نے وہ احادیث اور آثار جمع کر دئے ہیں جو عراقی فقہاء میں عام طور پر متداول تھے اور امام ابو حنیفہؒ نے انہیں روایت کیا تھا، اس کی اکثر روایات امام ابو یو سفؒ کی کتاب الآثار سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں امام ابو حنیفہؒ کی مسند سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ہر دو کتب اس نقطۂ نظر سے بڑی قدرو قیمت رکھتی ہیں کہ ان سے امام ابو حنیفہؒ کے حدیث، آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ سے متعلق مقدارِ علم کا پتہ چلتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ استدلال و احتجاج کرتے وقت آپ احادیث و آثار پر کہاں تک اعتماد کرتے تھے۔ قبولِ روایت میں امام صاحبؒ کے نزدیک کون سے شروط تھے حنفی مذہب کا مدارِ استدلال کیا ہے کیونکہ ان میں مندرجہ تمام فتاوی اور فیصلے نصوص سے مدلل کئے ہیں پھر ان سے علل کا استنباط کیا گیا۔ اور ان پر قیاس کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، تفریعات نکالی گئیں اور قواعد و اصول وضع کئے گئے۔

مذکورہ بالا تصنیفات امام ابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد امام محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ کی ہیں یہ دونوں فقہ حنفی کے دو بازو ہیں۔ جن کی تمام عمر امام صاحب کی حمایت میں صرف ہوئی۔

               زفرؒ

زفر بن ہذیلؒ امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے۔

آپ ۱۱۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۵۸ھ میں وفات پائی۔

آپ کے والد عربی النسل اور والدہ فارس کی رہنے والی تھیں اس لئے آپ میں دونوں عناصر کے خصوصیات جمع ہو گئے۔ آپ زورِ کلام اور قوتِ بیان سے متصف تھے۔

امام ابو حنیفہؒ سے فقہ الرائے حاصل کی اور اسی کے ہو کر رہ گئے۔ آپ قیاس و اجتہاد میں بڑے تیز تھے۔ تاریخِ بغداد میں چاروں فقیہ بزرگوں کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ ایک شخص امام مزنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہلِ عراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنیؒ سے کہا ابو حنیفہؒ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام مزنیؒ نے کہا۔ ’’اہلِ عراق کے سردار ہیں۔ ‘‘ اس نے پھر پوچھا اور ابو یوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ امام مزنیؒ بولے ’’ وہ سب سے زیادہ حدیث کی اتباع کرنے والے ہیں۔ ‘‘ اس شخص نے پھر کہا اور امام محمدؒ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ مزنیؒ فرمانے لگے ’’وہ تفریعات میں سب پر فائق ہیں۔ ‘‘ وہ بولا اچھا تو زفرؒ کے متعلق فرمائیے؟ امام مزنی  بولے ’’وہ قیاس میں سب سے زیادہ ہیں۔‘‘

امام ابو حنیفہؒ ان کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ۔ ’’ اقیس اصحابی ‘‘۔

               حسن بن زیادؒ

حسن بن زیاد لولوی کوفی المتوفی ۲۰۴ھ کا بھی ان فقہائے حنفیہ میں شمار ہو تا ہے جو آراء امام ابو حنیفہؒ کے راوی ہیں۔

لوگ کثرت سے آپ کی فقہ کے ثنا خواں تھے۔ یحیٰ بن آدم کا قول ہے ’’میں نے حسن بن زیادؒ سے بڑھ کر فقیہ نہیں دیکھا۔ ‘‘

ابن الندیمؒ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں ’’طحاویؒ فرماتے ہیں کہ حسن بن زیادؒ امام ابو حنیفہؒ کی کتاب المجرد کے راوی ہیں نیز انہوں نے یہ کتب تصنیف کیں : کتاب ادب القاضی، کتاب الخصال، کتاب معانی الایمان، کتاب النفقات، کتاب الخراج، کتاب الفرائض، کتاب الوصایا،۔ (حیات حضرت امام ابو حنیفہ)

انصاف یہ ہے کہ امام صاحبؒ کے بعض شاگرد اس رتبہ کے عالم تھے کہ اگر امام ابو حنیفہؒ کی تبعیت سے الگ ہو کر مستقل اجتہاد کا دعویٰ کرتے تو ان کا جدا طریقہ قائم ہو جاتا اور امام مالکؒ و شافعیؒ کی طرح ان کے بھی ہزاروں لاکھوں مقلد ہو جاتے۔ اس سے ابو حنیفہؒ کا بلند مرتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے۔ وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟

٭٭٭

ناشرین کی اجازت سے اور ان کے تشکر کے ساتھ

اردو تحریر میں تبدیلی، ای بک کی تشکیل : اعجاز عبید

تدوین : محمد شمشاد خان، اعجاز عبید