FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

آبِ زمزم

 

 

 

 

 

 

 

                   علیم احمد

 

 

 

پیش لفظ

 

بعض تحریریں ناقابلِ فراموش، دلچسپ اور تاریخی ہوتی ہیں ۔ دل بے اختیار چاہتا ہے کہ سب اس سے مستنفیدہوں۔ وہ بھی مزے لے لے کر اپنی روح کو سیر کرے،ایک ایسی تحریر جو ذہن کے بند کواڑوں کو کھول کر رکھ دے اور اسلام کے دینِ الٰہی ہونے کا سب کو ببانگِ دُہل خبر دے ، ایسے دلائل ان کے سامنے رکھ دیے جائے جو عقل جیسی محدود شے کو ان وسعتوں سے روشناس کرائے جن سے اب تک وہ ناآشنا رہے ہوں۔مذکورہ تحقیقی مضمون بھی مندرجہ بالا قسم سے تعلق رکھتی ہے، دورانِ مطالعہ بار بار ربِ کائنات کی وحدانیت اور حقانیت ایمان کو مزید جلا بخشتی ہیں،جو نُور و نار کے حق مگر پُر اسرار دنیا کے عجائبات سمجھنےمیںشر کے پھیلائے ہوئے مادہ پرستی کے جھوٹ کی حقیقت وا کرنے کے لیے بہت ہی مدد گار رہے گی۔ ایک ایسی تحریر جو آپ نے بہت کم ہی پڑھی  ہو گی۔ایک ایسا تحفہ جو آپ کے ہاتھوں کے بجائے آپ کے در ِ دِل پہ دستک ثابت  ہو گی۔ ان شاء اللہ۔

 

 

 

 

    ایک ارضیاتی معجزہ​

 

حج کے دن ہوں ، عمرے کے مہینے یا طوافِ کعبہ کا قصد–زائرینِ مکہ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اِس شہرِ امن گیا ہو اور آبِ زم زم کا تبرک لیے بغیر واپس آیا ہو۔ آج ہر سال تقریبا30 لاکھ حجاجِ کرام فریضہ حج ادا کرنے مکہ مکرمہ آتے ہیں، سیر ہو کر آبِ زم زم پیتے ہیں ا ور بوتلیں بھر بھر کر اپنے ساتھ بطورِ مقدس نشانی لے جاتے ہیں۔ اسے پینے والے بھی اسے پُر تاثیر پاتے ہیں۔ ان کی تھکن دور ہوتی ہے اور انہیں حیرت انگیز تازگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کے بہترین معدنی پانی (مننرل واٹر ) میں بھی آبِ زم زم جیسا ذائقہ اور اثر نہیں پایا ہے۔ بہت ممکن ہے ہر شے اور مظہر کی “عقلی توجیح ” تلاش کرنے والا “معقول ذہن” اسے لوگوں کی مخصوص نفسیاتی کیفیت یا عقیدت مندی سے پیدا ہو جانے والے رجحان کا فطری نتیجہ قرار دے۔ لیکن آب زم زم کا معجزہ صرف اس کی کیمیائی ترکیب، ذائقے اور تاثیر تک ہی محدود نہیں بلکہ کچھ اور اہم خصوصیات بھی اس آبِ مقدس سے وابستہ ہیں جو کسی غیر جانبدار اور متجسس، سائنسی ذہن رکھے والے شخص کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

جب ہم نے اس موضوع پر قلم اُٹھانے کا ارادہ کیا اور مختلف ذرائع سے آبِ زم زم کے بارے میں مطالعہ شروع کیا تو رفتہ رفتہ ہماری آنکھوں کے سامنے گویا وہ مناظر آتے چلے گیے۔ آئیے کہ پہلے تخیل کو وسعت دیں تاکہ عقل کی سنگلاخ زمین پر قدم رکھنا آسان  ہو جائے۔

 

 

 

پہلا منظر

 

 

چار ہزار سال قبل کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، اپنی زوجہ بی بی ہاجرہ کو اللہ کے حکم سے اس بے آب و گیاہ اور بے نام وادی کے عین درمیان، تپتی ہوئی ریت پر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ شِیر خوار حضرت اسماعیل علیہ السلام ، گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر رو رہے ہیں۔ بی بی ہاجرہ کا چہرہ پریشان ہے لیکن دور دور تک بھی کہیں پانی کا نام و نشان نہیں۔ بے زبان اسماعیل کو وہیں وادی میں چھوڑ کر، بی بی ہاجرہ صفا اور مروا کی پہاڑیوں کا ایک کے بعد دوسرا چکر لگا رہی ہیں۔ ہر پھیرے پر پیاس سے بلکتے ہوئے اسماعیل کی آواز، ان کے تھکتے ہوئے پیروں کو رکنے نہیں دیتی اور وہ ایک بار پھر پہاڑی کی طرف بڑھ جاتی ہیں کہ شاید اس مرتبہ بلندی پر پہنچ کر قریب سے گزرتا ہوا کوئی کارواں نظر سے گزر جائے۔ ساتواں پھیرا مکمل کر کے بی بی ہاجرہ واپس وادی کی طرف اُتر رہی ہیں۔ پیاس کی شدت سے نڈھال اسماعیل علیہ السلام روتے روتے اپنی ایڑیاں بھی زمین پر رگڑنے لگے ہیں۔ اور بی بی ہاجرہ کے دیکھتے ہی دیکھتے زمین سے پانی اُبل پڑا ہے۔ اپنے رب کے اس معجزے پر شکر گزار، یہ خاتون پہلے اسماعیل (علیہ السلام) کو پانی پلاتی ہیں اور پھر اپنے سوکھے حلق کو تر کرتی ہیں۔ دریں اثناء پانی خاصا پھیل چکا ہے۔ اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے وہ مٹی اور پتھروں کا ایک حصار بنا دیتی ہیں۔

ربِ کائنات کو اِس نیک بی بی کی یہ ادا اس قدر پسند آئی ہے کہ آنے والے دنوں میں صفا  و مروا کے درمیان سات چکروں (سعی ) کو ارکانِ حج میں شامل کر لیا جائے گا کہ اس واقعے کی یاد ہمیشہ تازہ رہے۔ یہ معجزاتی چشمہ جو “زم زم” سے معنون ہو کر مشہور  ہو گا، اسی کے فیض کی بدولت یہاں ایک شہر آباد  ہو گا جسے قرآن ِ پاک میں “بلد الامین” (امن کا شہر ) کہا جائے گا۔ چند سال بعد اسی چشمے کے پاس حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل، اللہ کے حکم سے خانۂ کعبہ کی تعمیر کریں گے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کا قبلہ اور رُوئے زمین پر مقدس ترین مقام قرار پائے گا۔

 

 

 

    دوسرا منظر

 

ڈھائی ہزار سال بعد۔۔۔ ۔ لگ بھگ 540 عیسوی کا زمانہ۔

سنت ابراہیمی کے تحت ہر سال ذی الحجہ کے مہینے میں حج کی غرض سے آنے والے زائرین کی شہر مکہ میں آمد ایک معمول بن چکی ہے۔ شیبہ (جو عبدالمطلب کے نام سے مشہور ہیں ) قریش کے سردار مقرر ہوئے ہیں اور دیگر امور کے علاوہ حاجیوں کی ضیافت یعنی ان کے کھانے پینے کا اہتمام بھی انہی کے ذمے ہے ۔ مکے میں پانی کا انتظام انتہائی دشوار کاموں میں شامل ہے۔

شیبہ نے سینہ بہ سینہ روایات میں یہ سن رکھا تھا کہ چاہِ زم زم کا پانی میٹھا اور خوش ذائقہ ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ برسوں پہلے، جب بنو خزاعہ نے قبیلہ جرہم سے جنگ کرنے کے بعد انہیں یہاں سے بے دخل کیا تو قبیلہ جرہم کے آخری سردار مضاض جرہمی نے جاتے جاتے کعبہ کے کچھ نذرانوں کو (جو اُس کے پاس تھے ) زم زم میں ڈال کر اوپر سے پاٹ دیا۔ اب اس واقعے کو اتنے برس گزر چکے ہیں کہ چاِہِ زم زم صرف ایک داستان بن کر رہ گیا ہے۔ مکہ کے لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ چاہِ زم زم ، بیت اللہ کے آس پاس کہیں پر تھا۔ لیکن کہاں؟ یہ کسی کو نہیں معلوم۔ اہلِ قریش اسے تقریباً بھول چکے ہیں۔

شیبہ چاہتے ہیں کہ چاہِ زم زم کو تلاش کیا جائے اور اسے کھود کر صاف کیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اِ س کا سراغ ناپید ہے۔ معلوم نہیں کیوں چاہِ زم زم کی فکر انہیں پوری طرح گھیر چکی ہے۔ کچھ لو گوں نے دبے لفظوں میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ چاہِ زم زم کی تلاش نا ممکن ہے اور عبدالمطلب ایک لاحاصل کوشش کے پیچھے اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ ہر روز سونے سے پہلے وہ زم زم کے بارے میں دیر تک سوچتے رہتے کہ کاش! مجھے اس کنویں کا سراغ مل جائے تاکہ میں حاجیوں کو اس کا پانی پلا سکوں۔

آج عبدالمطلب خانۂ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہیں اور یہی سوچ رہے ہیں۔ سوچتے سوچتے غنودگی کی کیفیت ان پر طاری  ہو گئی ہے۔

اٹھو اور زم زم کو کھود ! تم اسے کھود کر کبھی پشیمان نہیں  ہو گے۔ یہ تمہارے معزز محترم باپ اسماعیل (علیہ السلام) کی نشانی ہے۔ اس کا پانی خشک ہوتا ہے نہ کم۔ تم اس سے بے شمار حاجیوں کو پانی پلا سکو گے۔ ” عبدالمطلب چونک کر بیدار ہوتے ہیں۔ غیبی آواز کا ایک ایک لفظ ان کے ذہن میں واضح ہے۔

دوسرے روز بھی وہ اُسی جگہ آرام کر رہے تھے کہ خواب میں وہی آواز پھر سنائی دی۔ تیسے دن اس آواز سے عبدالمطلب کو پھر وہیں ، اور اُسی کیفیت میں مخاطب کیا مگر اب کی بار زم زم کا پتا بھی بتایا:” زم زم کا کنواں اس جگہ ہے جہاں کل تم ایک کوے کو اپنی چونچ سے زمین کھودتا دیکھو گے۔”

اگلے دن عبدالمطلب کنواں کھودنے کی تیاری کر کے، کعبے کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں وہ کسی نشانی کے منتظر ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی سیاہ رنگ کا ایک کوا غوطے لگا تا ہوا آتا ہے اور زمین پر ایک جگہ اتر کر اپنی چونچ سے مٹی کھودنے لگتا ہے۔اس جگہ کی فوری طور کھدائی کی جاتی ہے اور خواب سچ ثابت ہوتا ہے۔ کھدائی پر مضاض جرہمی کے دفن کر دہ نذرانے،د و تلواریں اور ہرنوں کے دو طلائی مجسمے(سونے کے مجسمے) بھی یہاں سے برآمد ہوتے ہیں۔ عبدالمطلب، چاہِ زم زم کی ازسر نو کھدائی اور صفائی کراتے ہیں۔۔۔ ۔ اور یوں اس کا فیض ایک بار پھر جاری  ہو جاتا ہے۔

 

 

 

 

تیسرا منظر

 

                   ایک خود نوشت، از طارق حسین

 

 

ہم عمرے کے لیے ایک بار پھر یہاں آئے ہیں اور مجھے بے اختیار زم زم کے عجائبات یاد آ گیے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے شروع ہوا، یہ بتانے کے لیے میں ماضی میں واپس جانا چاہوں گا۔ 1971ء میں ایک مصری ڈاکٹر کا ایک خط مصری اخبارات میں شائع ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ آبِ زم زم پینے کے لیے موزوں نہیں رہا۔ مجھے فورا ً خیال آیا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی ایک شکل ہے کیوں کہ اس بیان کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ چوں کہ خانۂ کعبہ ایک نشیبی مقام پر (سطح سمند سے بھی نیچے) واقع ہے لہٰذا شہر مکہ کا استعمال شدہ پانی بھی اپنے فضلے سمیت، نالیوں سے گزر کر زم زم کے کنویں میں گر رہا  ہو گا۔ خوش قسمتی سے یہ خبر شاہ فیصل کے کانوں تک بھی پہنچ گئی جسے سن کر انہیں شدید غصہ آگیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مصری ڈاکٹر کے اس اشتعال انگیز دعوے کو غلط ثابت کیا جائے۔”

انہوں نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ اس معاملے کی چھان بین کی جائے اور آبِ زم زم کے نمونے یورپی تجربہ گاہوں کو بھیجے جائیں تاکہ پینے کے حوالے سے اس کی جانچ ہوسکے۔ اس حکم کی روشنی میں وزارت نے جدہ میں بجلی اور نمک ربائی ( ڈی سیلی نیشن) کے مرکز کو ہدایت کی کہ وہ اس ذمہ داری کو سنبھالے۔ میں اسی پلانٹ پر نمک رُبائی کا انجنیئر ( یعنی سمندر کے کھارے پانی سے پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے مامور کیمیائی انجینئر) تھا۔ اس کام کے لیے میرا انتخاب کیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ پانی کا کنواں کیسا دکھائی دیتا ہے۔”

میں وہاں سے مکہ پہنچا اور کعبے میں تعینات سرکاری عہدیداروں سے مل کر انہیں اپنی آمد کے مقصد سے آگاہ کہا۔ انہوں نے ہر ممکنہ مدد کے لیے ایک شخص کو میرے ساتھ کر دیا۔ جب ہم کنویں پر پہنچے تو میرے لیے یہ تعین کرنا بہت مشکل تھا کہ 18 فٹ لمبے اور 14 فٹ چوڑے تالاب کی طرف دکھائی دینے والا، پانی کا بظاہر مختصر سایہ ذخیرہ وہی کنواں ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں جاری ہوا تھا اور اب تک ہر سال حاجیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے یہیں سے لاکھوں کروڑوں گیلن پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ میں نے اپنے ساتھ آئے ہوئے شخص سے کہا کہ وہ مجھے کنویں کی گہرائی دکھائے۔ پہلے اس نے غسل کیا اور پھر پانی میں اتر گیا۔ پھر وہ پانی میں سیدھا کھڑا  ہو گیا۔ میں نے دیکھا کہ پانی کی سطح اس کے کندھے سے ذرا سی اوپر تک تھی جب کہ اس کا اپنا قد تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔ پھر اس نے خود کو سیدھا رکتے ہوئے، کنویں کی دیواریں ٹٹولتے ہوئے ایک سے دوسرے کنارے کی طرف چلنا شروع کیا، تاکہ دیوار میں موجود کسی پائپ یا نالی کا سراغ لگال ے اور یہ پتا چلا لے کہ کنویں میں کہاں سے پانی آرہا ہے۔( اسے اجازت نہیں تھی کہ وہ پانی میں سر ڈالے۔ ) تاہم ، اس آدمی کو کنویں میں آنے والی کسی نالی یا پائپ کا سراغ نہیں مل سکا۔”

مجھے ایک اور خیال سوجھا۔ چاہِ زم زم سے بڑی بڑی ذخیرہ جاتی ٹنکیاں بھرنے کے لیے طاقتور پمپ وہاں نصب تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر کنویں کا پانی تیزی کے ساتھ اس پمپ کے ذریعے کھینچا جائے تو یقیناً وقتی طور پر پانی کی سطح گرے گی اور یوں ہم نالی یا پائپ کو براہِ راست دیکھ سکیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پمپنگ کے دوران بھی ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔ مگر میں جانتا تھا کہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی کنویں میں پانی داخل ہونے کے راستے کا پتا چلا سکتے ہیں۔ لہٰذا میں نے یہ عمل ایک بار پھر دہرانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس مرتبہ میں نے اس آدمی کو ہدایت کر دی کہ وہ ایک جگہ ساکن کھڑا رہے اور کنویں میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی بات کا احتیاط سے مشاہدہ کرے۔ کچھ دیر بعد ہی وہ چلایا” الحمد للہ! مجھے پتا چل گیا۔ میرے پیروں تلے ریت میں حرکت ہو رہی ہے۔ پانی اسی راستے میں داخل ہو رہا ہے۔” پھر اس نے پورے کنویں کا ایک چکر لگا یا اور مجھے بتایا کہ پورے کنویں میں یہی کیفیت ہر جگہ ہے۔ دراصل کنویں میں آنے والا پانی، تہہ کے ہر مقام سےیکساں طور پر داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی سطح اپنی جگہ پر رہتی ہے۔ یہ مشاہدات مکمل کرنے کے بعد میں نے یورپی تجربہ گاہوں کے لیے آبِ زم زم کے نمونے لیے۔ واپسی سے پہلے میں نے کعبہ کے عہدیداروں سے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں دریافت کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ دوسرے کنویں اکثر اوقات خشک رہتے ہیں۔”

جب میں جدہ میں اپنے دفتر واپس پہنچا اور اپنے افسر کو اس دریافت کے بارے میں بتا یا تو وہ بہت متاثر ہوا۔ مگر اس نے انتہائی غیر معقول توجیح بیان کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا کہ زم زم کا کنواں اندرونی طور پر بحیرۂ احمر سے متصل ہوسکتا ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا جب کہ شہرِ مکہ سمندر سے تقریباً 75 کلو میٹر دور ہے اور شہر کے آس پاس کے بیشتر کنویں اکثر خشک رہتے ہیں؟ آبِ زم زم کے نمونوں کے تجزئیے کے بعد یورپی تجربہ گاہوں نے جو نتائج دئیے تھے، ہمارے تجزیاتی نتائج بھی تقریباً وہی تھے۔ زم زم کے پانی اور شہر کے دوسرے مقامات سے حاصل شدہ پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم نمکیات کی حل شدہ مقداروں کا فرق تھا۔ آبِ زم زم میں ان نمکیات کی مقدار تھوڑی سی زیادہ پائی گئی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ پانی پی کر تھکے ہوئے حاجیوں کو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔”

مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آبِ زم زم میں قدرتی طور پر فلورائیڈ مرکبات بھی موجود ہیں جو اہم جراثیم کُش خصوصیات رکھتے ہیں۔ یورپی تجربہ گاہوں نے اس پانی پر جو تبصرہ کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پینے کے لیے اس سے بہتر پانی کوئی اور نہیں۔ اس طرح مصری ڈاکٹر کا بیان غلط ثابت  ہو گیا۔ جب شاہ فیصل کو اس کی اطلاع دی گئی تو بہت خوش ہوئے اور انہوں نے حکم دیا کہ مصری ڈاکٹر کے دعوے کو غلط ثابت کرنے والی یہ خبر یورپی اخبارات کو جاری کر دی جائے۔”

یہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی تھی کہ آبِ زم زم کے تجزیاتی مطالعے کے بعد اس کی کیمیائی ترکیب منظر عام پر لائی گئی۔ درحقیقت آپ جتنا کھوجتے چلے جائیں گے، اتنے ہی زیادہ عجائبات آپ کے سامنے آئیں گے اور آپ اس پانی( آبِ زم زم ) میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات پر ایمان لاتے جائیں گے۔۔۔ ”

اب میں آبِ زم زم کی کچھ امتیازی خصوصیات مختصراً بیان کرنا چاہوں گا:

٭ یہ کنواں (از خود) کبھی خشک نہیں ہوا بلکہ، اس کے برعکس، اس نے پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات ہمیشہ پوری کی ہیں۔

٭ اس کا ذائقہ اور اس میں موجود نمکیات کی مقدار، چاہِ زم زم وجود میں آنے سے لے کر آج تک جوں کی توں ہے۔

٭ اس کی نوشیدگی( یعنی پینے کے لیے موزونیت) بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عازمینِ حج یا عمرہ میں سے کوئی آبِ زم زم پینے کی وجہ سے بیمار پڑا ہو۔ اس کے برعکس اسے پینے والوں نے ہمیشہ خود کو تازہ دم اور چاق و چوبند ہی پایا ہے۔

٭ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی کنویں کے پانی کا ذائقہ تبدیل  ہو جاتا ہے اور اسے کیمیائی طور پر صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ آبِ زم زم کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا۔

بیشتر کنوؤں میں کھدائی کے کچھ عرصے بعد دیواروں پر نامیاتی اجسام اور خودرو نباتات وغیرہ پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ چند سال ہی میں ان کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ  ہو جاتا ہے جو کنویں کے پانی کو بد ذائقہ اور بدبو دار کر کے پینے کے لیے ناموزوں بنا دیتا ہے۔ چاہِ زم زم کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس میں ایسی کسی نامیاتی افزائش کے آثار نہیں پائے گیے ہیں۔”

 

 

کیمیائی ترکیب​

 

پاکستانی کیمیکل انجینئر، طارق حسین کی آبِ زم زم کے بارے میں خود نوشت آپ نے ملاحظہ کی۔ یہ آبِ زم زم کا اوّلین کیمیائی تجزیہ تھا۔ بعد ازاں وقتاً فوقتاً آبِ زم زم کا کیمیائی تجزیہ ہوتا رہا ہے اور ہر بار اسے صحت بخش خصوصیات سے مالا مال پایا گیا ہے۔

1400 ہجری(بمطابق 1980ء) میں شاہ خالد السعودی مرحوم کی زندگی میں چاہِ زم زم کی صفائی اور کنویں کے چاروں طرف جمع ہونے والے پانی کی نکاسی کا انتظام بہتر بنانے کے بعد ، آبِ زم زم کے کچھ تازہ نمونے امریکی تجاہوں (تجربہ گاہوں )میں تجزئیے کے لیے روانہ کیے گیے۔ علاوہ ازیں، اسی دوران سعودی عرب کے مغربی صوبے میں واقع پانی کی فراہمی اور آلودہ پانی کی صفائی پر مامور سرکاری شعبے کی ایک تجربہ گاہ میں بھی کچھ نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔

بعض مقامات پر ڈاکٹر احمد عبدالقادر المہندسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آبِ زم زم کی “پی ایچ ویلیو”(pH value) یعنی ہائیڈروجن آئنوں کی تناسبی مقدار 5.7 ہے۔یعنی اس میں معمولی سے الکلی خواص ہیں۔

امریکی تجربہ گاہوں کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ آبِ زم زم میں معلوم شدہ عناصر کے علاوہ مزید تیس عناصر کی انتہائی معمولی مقداریں (trace amounts) بھی موجود ہیں ان میں سے بعض کی شرح 01.0 حصے فی دس لاکھ (01.0پی پی ایم ) سے بھی کم ہے۔

متعدد کیمیائی تجزیات کے بعد آج یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ سعودی عرب کے گرم اور خشک موسم میں ہونے والی زیادہ تبخیر کی وجہ سے آبِ زم زم میں نمکیات کی شرح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جو اسے انسانی جسم کے لیے مفید بناتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے پانی کی نوشیدنی کے بارے میں خاصی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے تحت کسی بھی مقام پر دستیاب پانی میں پینے کے لحاظ سے موزونیت کا تعین کر کے درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ جب آبِ زم زم کا تجزیہ ان معیارات کے مطابق کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ پانی نہ صرف پینے کے لیے بہت موزوں ہے بلکہ عمومی صحت پر بھی اس کے انتہائی مثبت اور غیر معمولی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آبِ زم زم میں موجود اہم معدنیات کا خلاصہ یہ ہے:

معدن ۔۔۔ ۔ تناسبی مقدار (پی پی ایم)

کیلشیم ۔۔۔ ۔ 198

میگنیشیم ۔۔۔ ۔ 7.43

کلورائیڈ ۔۔۔ ۔ 335

گندھک ۔۔۔ ۔ 370

فولاد ۔۔۔ ۔ 15.0

مینگنیز ۔۔۔ ۔ 15.0

تانبا (کاپر) ۔۔۔ ۔ 12.0

 

 

ارضیاتی حقائق

 

جناب عبدالمطلب کے زمانے میں چاہِ زم زم کی کھدائی کے بعد سے لے کر اب تک اس کنویں کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی میں تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ یعنی یہ آج تک 18 فٹ لمبا، 14 فٹ چوڑا اور تقریباً 5فٹ گہرا ہے۔

مکہ کا شہر جس وادی میں ہے وہ چاروں طرف سے گرینائٹ چٹانوں والے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ حرم شریف ( مسجد الحرام) وادی میں سب سے نچلے مقام پر ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام سمیت پورا شہر مکہ، ریت اور گاد کی تہ ( sand and silt formation) پر واقع ہے۔ جس کی گہرائی 50 سے 100 فٹ تک ہے اور جس کے نیچے آتشی چٹانوں کی ایک تہہ پھیلی ہوئی ہے۔ چاہِ زم زم بھی ریت / گاد کی اسی تہہ پر واقع ہے اور اس میں پانی کی سطح ، اطراف کی زمین سے 40 تا 50 فٹ کی گہرائی پر ہے۔

یہ انکشاف یقیناً دلچسپی سے خالی نہ  ہو گا کہ چاہِ زم زم میں پانی پہنچانے کا کام نفوذ پذیر ریت پر مشتمل ایک تہہ سے ہوتا ہے جسے ریت سے بھری ہوئی ایک لمبی سرنگ کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ آب اندوخت(aquifer) کسی ڈھلوان سطح کی مانند، ابوالقبیس پہاڑ کی سخت چٹانوں کے نیچے سے گزرتی ہوئی ، کچھ او پر کو اُٹھتی ہوئی طائف کی پہاڑیوں تک چلی گئی ہے۔ اس کا انکشاف جون 1982ء میں اس وقت اتفاقیہ طور پر ہوا جب حرم شریف میں صفا کی جانب ایک سرنگ کھودی جا رہی تھی۔ سرنگ کی چھت کھودتے کھودتے اچانک ہی وہاں سے پانی اُبل پڑا۔ ذراسی دیر میں وہاں جل تھل  ہو گیا اور سرنگ میں اس قدر پانی جمع  ہو گیا کہ وہاں کا م کرنے والے مزدوروں کی زندگیاں بھی خطرے میں نظر آنے لگیں۔ عین اس لمحے چاہِ زم زم میں پانی کا بہاؤ متاثر ہوا اور شاید تاریخ میں پہلا موقع آیا جب یہ کنواں (اس واقعے کے سبب ) تقریباً خشک  ہو گیا۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز نے اس واقعے کی فوری چھان بین کے لیے ایک ہنگامی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی میں شاہ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز سے وابستہ، ارضی طبیعیات کے پاکستانی پروفیسر، ڈاکٹر عدنان نیازی بھی شامل تھے۔

پانی کے تجزئیے سے معلوم ہوا کہ سرنگ میں بھر نے والا پانی اور چاہِ زم زم کا پانی بالکل ایک جیسے تھے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ سرنگ میں کھدائی کے کام نے کنویں تک پانی پہنچانے والی آب اندوخت میں شگاف ڈال کر اس فراہمی کو بُری طرح متاثر کیا تھا۔ جون 1982ء میں جن لوگوں کو اُس سرنگ میں جانے کا موقع ملا تھا، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے (سرنگ کی ) ٹوٹی ہوئی چھت میں سے پانی کا سیلاب سا اُبلتے ہوئے دیکھا تھا۔ بہر کیف ! فوری مرمت کے بعد یہ شگاف بند کر دیا گیا اور یوں چاہِ زم زم کو پانی کی فراہمی دوبارہ بحال  ہو گئی۔

 

 

 

کنوؤں کی اقسام اور آبیات کے قوانین

 

 

اس سے پہلے کہ آبِ زم زم کے حوالے سے اس بحث کو مزید آگے بڑھایا جائے ، قارئین کے لیے یہ جاننا ضروری  ہو گا کہ زیرِ زمین پانی کا نظریہ(گراؤنڈ واٹر تھیوری ) کیا کہتی ہے اور اس کی مساواتوں کے تحت کسی کنویں میں پانی کے بہاؤ کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ جاننے کے بعد قارئین اس قابل ہوں گے کہ وہ چاہِ زم زم کی آبیات( Hydraulics) اور زیرِ زمین پانی کے مروجہ نظریات کا آپس میں موازنہ کر سکیں۔

کنوؤں کی دو اقسام ہیں جنہیں بالترتیب” کھلے کنویں ” (Open wells) اور “گہرے کنویں”( Deep wells) کہا جاتا ہے۔ گہرے کنوؤں کے لیے عام طور پر “ٹیوب ویل” کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جو یقیناً بہت سے قارئین کے لیے نیا نہیں  ہو گا۔

ایسے مقامات جہاں زیرِ زمین پانی کی گہرائی زیادہ نہ ہو، وہاں کدال اور پھاؤڑے وغیرہ کی مدد سے کھلے کنویں کھودے جاتے ہیں جن کا قطردس سے پندرہ فٹ تک ہوسکتا ہے۔ کسی کھلے کنویں کی عمومی گہرائی 100 فٹ سےکم ہوتی ہے اور اگر اس کے کناروں پر پتھر نہ ہوں تو ان میں مٹی گرنے سے روکنے کے لیے پتھروں یا اینٹوں سے چار دیواری بنا دی جاتی ہے۔ کنویں کے اندر بنائی گئی یہ چار دیوار کچھ ایسی رکھی جاتی ہے کہ پتھروں یا اینٹوں کے درمیان سے پانی رِ س رِ س کر کنویں میں پہنچتا رہے ۔ کنویں کے فرش پر بجری کی موٹی تہہ بچھا دی جاتی ہے تاکہ اگر کبھی کنویں میں پانی ا بہاؤ زیادہ ہو یا فرش سے پانی کی زیادہ مقدار اُبل پڑے تو مٹی / ریت اوپر نہ آسکے۔ ایسے کسی کنویں کا منفی پہلو ا س میں پانی کی کم شرح اخراج(discharge rate) ہے، جو 1.0 مکعب فٹ فی سیکنڈ (یعنی 45 گیلن فی منٹ ) یا اس سے بھی کم ہوتی ہے۔کنویں سے زیادہ پانی کھینچنے یا زیادہ آبی اخراج کی وجہ سے فرش کی مٹی بھی پانی میں شامل ہو کر اسے گدلا سکتی ہے اور آخر کار اس کا نتیجہ کنویں کی دیواریں گرنے اور اس کے بند  ہو جانے کی شکل میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔

گہرے کنویں (ٹیوب ویل) خاصی گہرائی تک کھودے جاتے ہیں اور یہ کام مشینوں سے لیا جاتا ہے۔ اگر انہیں سخت چٹانوں میں کھودا جائے تو ان سے پانی نکالنے کے لیے عموماً کسی چھلنی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم اگر انہیں باریک ریت یا ایلوویئم (مٹی اور گارے کی تہہ) میں کھودا جائے تو فرش کی تہہ تھامے رکھنے کے لیے چھلنی لگائی جاتی ہے۔ ایسے کنوؤں کا قطر12 سے 15 انچ تک ہوتا ہے اور انہیں پانی کی بلند شرح اخراج–یعنی تین مکعب فٹ فی سیکنڈ(1326 گیلن فی منٹ) تک — کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

عشرہ 1950ء کے ابتدائی برسوں سے پہلے تک چاہِ زم زم سے پانی نکالنے کے لیے دستی نظام استعمال ہوتا تھا۔اُن دنوں اس کنویں میں پانی کا اخراج اتنا ہوتا تھا کہ حج کے دنوں میں پانی کی اضافی ضرورت بہ آسانی پوری  ہو جاتی — جبکہ اس زمانے میں حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔

آج ہر سال یہاں تقریباً 30 لاکھ سے زیادہ افراد فریضۂ حج ادا کرنے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں چاہِ زم زم سے مسجد نبوی کو مدینہ منورہ میں بھی پانی فراہم کیا جاتا ہے جس کے لیے مکہ سے مدینہ تک 450 کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ آج چاہِ زم زم پر نصب برقی پمپ کی استعدادِ کار تین مکعب فٹ فی سیکنڈ سے کچھ زیادہ (1350گیلن فی منٹ)ہے۔

آبِ زم زم کا یہ کنواں گزشتہ 1450سال سے مسلسل استعمال میں ہے۔ آج سے نصف صدی قبل، یعنی برقی پمپ کی تنصیب سے پہلے تک، یہاںسے پانی کا اخراج کبھی 05.0مکعب فٹ فی سیکنڈ(تقریباً 5.22 گیلن فی منٹ) سے زیادہ نہیں ہوا تھا۔ تاہم اُس وقت سے لے کر آج تک اس کنویں سے پانی کے اخراج میں حاجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج یہ تین مکعب فٹ فی سیکنڈ(1346گیلن فی منٹ ) شرح پر پہنچ چکا ہے۔ اس سے روزانہ کئی کئی گھنٹے تک مسلسل پانی کھینچا جاتا ہے، جب کہ بعض اوقات رُکے بغیر کئی دن تک پانی کھینچنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اس موقع پر بیان دلچسپی سے خالی نہ  ہو گا کہ 1968ء میں ایامِ حج کے دوران شدید طوفان کی وجہ سے بیت اللہ شریف میں بھی سیلاب آگیا اور ایک وقت وہ بھی آیا جب پانی، خانہ کعبہ کے دروازے تک آگیا، جو زمین سے تقریباً سات فٹ کی اونچائی پر ہے حرم شریف کی نچلی منزلیں مکمل طور پر زیرِ آب آگئی تھیں اور تقریباً 30 حاجی ڈوب کر جاں بحق  ہو گیے۔ اس واقع کے بعد سعودی حکام کو یہ خیال آیا کہ بارش اور سیلاب کا پانی چاہ زم زم تک بھی یقیناً جا پہنچا  ہو گا لہٰذا اسے صاف کرنا چاہیے۔ اس طرح پہلے مطاف(خانۂ کعبہ کے گرد طواف کی جگہ) سے پانی نکالا گیا۔ اس مقصد کے لیے طاقتور پمپ نصب کیے گیے تھے جو 4 مکعب فٹ فی سیکنڈ (تقریبا 1800گیلن فی منٹ ) کی رفتار سے پانی کھینچ سکتے تھے۔ بعد ازاں انہی پمپوں کو چاہِ زم زم میں سے پانی کھینچنے اور صفائی کے لیے استعمال کیا گیا۔ منصوبہ کچھ یہ تھا کہ پہلے ان پمپوں کے ذریعے پورا کنواں مکمل طور پر خشک کر دیا جائے۔ پھر اس میں بتدریج خالص آبِ زم زم ازسرِ نو جمع ہونے دیا جائے۔

یہ بات آج بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ 4 مکعب فٹ فی سیکنڈ کی زبردست طاقت رکھنے والے یہ پمپ بڑی دیر تک چلتے رہے مگر چاہِ زم زم میں پانی کی سطح کم نہ ہوئی ۔ جب کنواں خشک ہونے کے کوئی آثار نظر نہ آئے تو چند گھنٹوں بعد یہ کوششیں ترک کر دی گئیں۔

دنیا کا کوئی بھی کھلا کنواں لے لیجیے، اس کا استعمال شروع ہونے کے کچھ سال بعد ہی الجی (کائی ) پیدا  ہو جانے کی وجہ سے اس کے پانی میں بدبو کا مسئلہ آ جاتا  ہے اور وہ پینے کے قابل نہیں رہتا ۔ اس کے برعکس چاہِ زم زم چودہ سو سال سے استعمال میں ہے لیکن وہاں اب تک ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ چند سال پہلے تک یہ پانی کسی ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزارے بغیر فراہم کیا جاتا تھا، تاہم کچھ عرصے سے سعودی حکام نے اس کی کلوری نیشن (یعنی پانی سے کلورین گزارنے) کا عمل ضرور شروع کر دیا ہے۔

چاہِ زم زم پر آ کر زیرِ زمین پانی کے بہاؤ اور آبیات (ہائیڈرولوجی) کے تمام معلومہ قوانین دم توڑ جاتے ہیں۔ یہ اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے ایک واضح معجزے سے کم نہیں۔ رہا سوال اُن لوگوں کا جنہوں نے اس آنکھوں دیکھی سچائی کو نہ ماننے کا تہیہ کر رکھا ہے، تو انہیں راہِ راست پر لانے کا ذمہ تو اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں لیا۔ بھلا پھر ہماری اور آپ کی باتیں ان پر کیا اثر کریں گی۔

٭٭٭

 

مدیرِ اعلیٰ (گلوبل سائنس)۔

بشکریہ: ماہنامہ گلوبل سائنس،فروری 2003ء۔ کراچی۔

ماخذ: اردو ویب ڈاٹ آرگ

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید