FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

اقبال ریویو

 

رومی نمبر

 

مدیر سید امتیاز الدین

 

 

 

 

اداریہ

 

اقبال ریویو کی ہمیشہ سے  کوشش رہی ہے  کہ اس کا ہر شمارہ اپنے  مضامین کے  اعتبار سے  معلومات افزا بھی ہو اور اقبال پر تحقیق کا ذوق رکھنے  والوں  کے  لئے  ایک یادگار تحفہ بھی ثابت ہو۔ مولانا رومی کی پیدائش کو اس سال آٹھ سو برس مکمل ہوتے  ہیں۔ علمی حلقوں  میں  اس سال کو مولانا رومی کے  سال سے  منسوب کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے  خود کو پیر رومی کے  مرید کی حیثیت سے  پیش کیا ہے۔ اقبال کے  کلام  پر مولانا روم کے  اثرات کتنے  زیادہ ہیں  یہ ہر اقبال شناس جانتا ہے۔ جاوید نامہ جو اقبال کی زندگی کا حاصل ہے  رومی کے  فیض سے  مستفاد ہے۔ سیر افلاک میں  رومی اقبال کے  ہمسفر بھی ہیں  اور رہنما بھی ۔ اقبال کہتے  ہیں  :

صحبتِ پیرِ روم سے  مجھ پہ ہوا یہ راز فاش

لاکھ  حکیم  سر  بجیب  ایک  کلیم  سر بکف

اس شمارے  میں  ہم نے  مختلف کتب و جرائد سے  رومی اور اقبال پر مستند اقبال شناسوں  کے  مضامین یکجا کئے  ہیں ۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ، ڈاکٹر سید عبداللہ ، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، ڈاکٹر منظر اعجاز اور نذیر مومن کے  مضامین اقبال اور رومی کے  باہمی فکری اور معنوی تعلق کو ظاہر کرتے  ہیں ۔

یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے  کہ اقبال جیسی عالمگیر شخصیت کے  نام سے  جو رسالہ شائع ہو وہ اگر صرف اردو تک محدود ہو کر رہ جائے  تو عالمی سطح پر اس کی صحیح معنی میں  پذیرائی نہیں  ہو سکتی اس لئے  اس رسالے  کا ایک حصہ انگریزی میں  بھی شائع کر رہے  ہیں۔ مولانا روم پر سوانحی نوعیت کے  مضامین انگریزی میں  بھی شامل کئے  گئے  ہیں۔ امید ہے  کہ ہمارے  نوجوان قارئین کو انہی مضامین سے  رومی کے  بارے  میں  ضروری معلومات حاصل ہو نگی ۔

عمر قاضی صاحب کیرالا کے  اٹھارویں  صدی کے  ایک صوفی شاعر تھے۔ علامہ اقبال اور عمر قاضی کے  عنوان سے  ایک انگریزی مضمون بھی شریک اشاعت ہے۔ یہ مضمون ایک ہونہار نوجوان جناب مجیب الرحمن جیحون نے  تحریر کیا ہے۔ صدر اقبال اکیڈیمی نے  جیحون کی انگریزی میں  ایک قابل قدر کتاب پر پیش لفظ لکھا تھا جو اس شمارے  میں  شامل کیا گیا ہے۔

اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی کے  ڈائرکٹر جناب بشیر احمد نحوی صاحب کا مضمون

’’پروفیسر سید سراج الدین چند یادیں  ، چند باتیں  ‘‘پروفیسر سراج الدین نمبر کی اشاعت کے  بعد ہمیں  ملا ۔ اس مضمون کی اثر آفرینی اور جذبۂ اخلاص کی بنا پر اسے  اس بار شامل کیا گیا ہے  اس مضمون سے  پروفیسر سراج الدین صاحب کے  قیام کشمیر کی یادیں  بھی تازہ ہو جاتی ہیں ۔

اس کے  علاوہ مولانا رضوان القاسمی مرحوم کا ایک مختصر مضمون بھی شائع کیا جا رہا ہے  جو موصوف نے  ’’میر عرب ﷺ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں  سے  ‘‘ کے  پس منظر کے  بارے  میں  تحریر فرمایا تھا ۔

ممتاز شاعر اور مترجم کلامِ اقبال جناب مضطر مجاز نے  زیر نظر مقالوں  کے  فارسی اشعار کا ترجمہ کیا ہے۔ اس گراں  قدر تعاون کے  لئے  ادارہ مو صوف کا ممنون ہے۔

اقبال ریویو کے  اس شمارے  کے  بارے  میں  اپنی رائے  سے  ہمیں  نوازیں۔ اس علمی جریدے  کو آپ کی سرپرستی کی ضرورت ہے  تاکہ اس کی اشاعت میں  اضافہ ہو ۔ ہماری تمنا ہے  کہ دنیا بھر میں  جہاں  جہاں  اقبال کے  چاہنے  والے  ہیں۔ وہاں اقبال ریویو کا شمارہ پہنچے  تاکہ اقبال کے  کلام کو ہر خاص و عام تک  پہنچانے  کی ہماری کوشش کامیاب ہو ۔

 

(سید امتیاز الدین)

 

****

 

 

ڈاکٹر سید عبداللہ

 

مُطالعۂ رومی میں  اقبالؒ کا مقام

 

 

مطالعہ اقبال کے  سلسلے  میں  رومی کو جو اہمیت حاصل ہے  اسکا اعادہ لاحاصل ہے  کیونکہ یہ ایک ایسا موضوع ہے  جس کو اقبال کے  معمولی سے  معمولی ناقد یا شارح نے  بھی نظر انداز نہیں  کیا۔ مگر مطالعہ رومی کے  سلسلے  میں  اقبال کو جو اہمیت حاصل ہے  ، اس کی طرف اب تک کوئی توجہ نہیں  ہوئی ۔ حالانکہ یہ موضوع بذاتِ خود اہم ہونے  کے  علاوہ اقبال اور رومی دونوں  کے  تقابلی مقام کو سمجھنے  کے  لئے  بھی ضروری ہے۔ اس خیال کے  تحت میں  نے  اس مضمون میں  مطالعہ رومی کی تحریک کا عہد بہ عہد مگر مختصر جائزہ لینے  کی کوشش کی ہے۔ اس سے  مقصد یہ بھی ہے  کہ مختلف ادوار میں  رومی کے  اثرات و فیوض کا سراغ لگایا جائے۔ اور یہ بھی کہ رومی کو تاریخ افکار میں  جو رتبہ اقبال نے  دلایا ہے  اور ان کے  معارف و اسرار کو جس طرح علوم ثابتہ کی روشنی میں  بے  نقاب کیا ہے  اس کا صحیح صحیح اعتراف کیا  جا سکے۔ اس لحاظ سے  یہ کہنا شاید غلط نہیں  کہ اگر رومی نے  اقبال کی فکر کو چار چاند لگائے  ہیں  تو اقبال نے  بھی رومی کے  افکارِ عالیہ کو بڑی عقیدت سے  دنیا میں  متعارف کرایا ہے ۔ جس سے  ان کے  رتبہ و مقام کو پہلے  سے  کہیں  زیادہ سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ اقبال کی سعادت مندی ہے  کہ وہ رومی کی غائبانہ شاگردی سے  مفتخر ہوئے۔ مگر یہ فکر رومی کی بھی خوش نصیبی ہے  کہ اس کواقبال جیسا ہو شمند اور بالغ نظر شارح ملا ۔ جس نے  اپنے  نامور استاد کی عظمت کے  مینار اور اونچے  کر دئیے۔ اور ان کی شہرت کو فلک الافلاک تک پہنچا دیا ۔ چنانچہ مثنوی کے  زمانۂ تصنیف سے  لے  کر آج تک جتنے  علما و فضلا نے  افکار رومی کا تجزیہ کیا ہے  ان میں  شاید اقبال ہی مثنوی کے  وہ واحد ترجمان ہیں  جن کی توجیہات نے  مثنوی کو ایک سائنسی فکر اور مثبت و پائیدار اقدارِ زندگی کا حامل ثابت کیا اور ان کی حکمتوں  کو دریافت کیا ہے  جن سے  کائنات اور حیات کے  ارتقا ء و تکمیل کے  بڑے  بڑے  راز دریافت ہوئے  ہیں۔ مطالعۂ رومی کے  سلسلے  میں  اقبال کی یہ اہمیت جب ہی ثابت کی جا سکتی ہے  کہ ہم پہلے  مثنوی کے  تنقید نگاروں  یا عالموں  کے  کام پر نظر ڈال کر یہ واضح کر دیں  کہ اقبال سے  پہلے  رومی کے  مطالعہ کی نوعیت جزوی اور انفرادی سی تھی ۔ یہ اقبال ہی تھے  جن کے  طفیل رومی کے  افکار کی وہ تشریح ہوئی جس سے  وہ حیاتِ اجتماعی اور ارتقائے  انسانی کے  ایک بڑے  ترجمان اور محرمِ اسرار ثابت ہوئے۔

مولانا روم کا انتقال ۱۲۷۳ء/ ۶۷۲ھ میں  ہوتا ہے۔ اس کے  بعد آج تک تقریباً سات سو سال کا عرصہ گزرا ہے۔ اس طویل مدت میں  تقریباً ہر دور میں  مثنوی پر کام کرنے  والے  بیسیوں   ۱؂

کی تعداد میں  نظر آتے  ہیں۔ جو مثنوی کی مقبولیت کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ اس معاملہ میں  اگر مثنوی کے  مقابلے  پر فارسی کی کوئی اور کتاب لائی جا سکتی ہے  تو وہ دیوان حافظ ہے ۔ مگر دیوان حافظ کی حیثیت  محض شعر و معرفت کی کتاب کی ہے۔ مثنوی ان دونوں  حیثیتوں  کے  علاوہ اسرارِ دین اور علمِ کلام کی کتاب بھی ہے۔ اس وجہ سے  ایران و خراسان بلکہ ترکی اور پاک و ہند میں  بھی مثنوی کو ایک مقدس اور الہامی کتاب کا درجہ حاصل رہا ہے۔ چنانچہ یہ مشہور مصرع   ؂

۱؂ ہست قرآن در زبانِ پہلوی

(فارسی زبان میں  قرآن ہے  )

اسی حقیقت کا اعلان کر رہا ہے۔ غرض مثنویِ رومی ادبیاتِ فارسی کی مقبول ترین کتاب ہے۔ جس کا ثبوت اس بات سے  بھی مہیا ہوتا ہے  کہ اس کی لا تعداد شرحیں  ،  ترجمے  اور فرہنگ لکھے  گئے  ہیں۔ جن میں  سے  بعض کی اپنی علمی سطح بھی اتنی بلند ہے  کہ ان کو بذاتِ خود ادبیاتِ عالیہ میں  شمار کیا جا سکتا ہے۔

رومی کے  مطالعہ و تتبع کی تحریک خود رومی کی زندگی ہی میں  شروع ہو چکی تھی ان کے  بعد ان کے  فرزند سلطان ولہ نے  حباب نامہ کے  نام سے  ایک مثنوی لکھی جس میں  اپنے  والد بزرگوار کی مثنوی کا تتبع کیا ۔ سلطان ولہ کی مثنوی الدی کے  دیباچے  سے  یہ معلوم ہوتا ہے  کہ ان کے  والد ،مولانائے مثنوی کی شرحوں ، تر جموں  ، انتخابوں  کا ذکر جن میں  عربی ،فارسی ،ترکی اور مغرب کی زبانوں  کی سب تصنیفات شامل ہیں۔ بانکی پور  لائبریری کی فہرست مخطوطات  ج۱۰ ص۵ نیز حاجی خلیفہ کشف الظنون   ج۵،۳میں  ملاحظہ فرمائیں۔

روم، کی مثنوی بہت جلد ان کے  متبعین میں  مقبول ہو گئی تھی اور کثرت مطالعہ و تفاوت کے  سبب اس کا اسلوب اور وزن و بحر بھی اس قدر  خاطر نشین ہو گیا تھا کہ مثنوی نگاری  کے  لئے  (خصوصاً صوفیانہ مطالبات کے  سلسلے  میں  )کوئی دوسرا اسلوب لوگوں  کو پسند ہی نہ آتا تھا ۔

براں  وزن از  خواندانِ بسیار خو کردہ اندو ایں  وزن در طبع شاں  نشستہ است

مثنوی رومی کے  مطالعے  کی لہر نویں  صدی ہجری  کے  آغاز میں  اور بھی تیز ہو گئی ۔ حُسین خوارزمی اسی زمانے  کے  ایک مصنف ہیں  جن کی شرح مثنوی (جواہر الاسرار کے  نام سے  ) ۸۳۵ھ میں  تصنیف ہوئی ۔ دسویں  صدی ہجری میں  مثنوی رومی عام مطالعہ کے  علاوہ نصاب درس و تدریس میں  بھی شامل ہو گئی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایران و خراسان میں  اس کی مشکلات کو سمجھنے  اور سمجھانے  کی خاصی کوششیں  ظہور میں  آتی ہیں۔ اس تدریسی رجحان کا ایک اثر یہ   بھی ہوا کہ مثنوی کے  اسرار و معارف کی پردہ کشائی کے  بجائے  اس کی لفظی مشکلات کی طرف زیادہ توجہ ہونے  لگی اس زمانے  میں  علامہ داعی شیرازی (متوفی ۹۱۵ھ ) کی شرح اور شاہدی کا انتخاب گلشنِ توحید (تصنیف ۹۳۷ھ) متوفی اور سرور ۹۶۹ھ کی شرح مثنوی قابل ذکر ہیں۔ ان شرحوں  میں  صرف داعی شیرازی کا انداز تدوین اس قسم کا ہے  کہ اس سے  لفظی فرہنگ نویسی کے  علاوہ مثنوی کے  معارف کی بھی کچھ راہنمائی اور نقاب کشائی ہوتی ہے۔ یہ داعی  حضرت شاہ نعمت اللہ کے  دوست تھے۔ اور ان کی رفاقت میں  انہوں  نے  عمر کا ایک حصہ زہد و عبادت میں  بھی گزارا تھا ۔ چنانچہ ان کی اس زاہدانہ زندگی کا اثر ان کے  مطالعات میں  بھی نظر آتا ہے۔ اور اس کے  واضح نقوش ان کی اس شرح میں  بھی دکھائی دیتے  ہیں۔ مگر داعی کی شرح محض تدریسی  یا محض زاہدانہ رنگ کی نہیں۔ اس میں  فکر کی برجستگی بھی کسی حد تک ہے  یہ اور بات ہے  کہ ان کے  افکار میں  تصوف اور زہد کا رنگ شوخ ہے۔

دسویں  صدی کے  آخر اور گیارھویں  صدی کے  شروع میں  رومی کی مثنوی ہندوستان میں  بھی باقاعدہ طور پر درس و تدریس میں  شامل ہو جاتی ہے  مگر ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ اکبر کا دورِ عقلیّت مثنوی کی عرفانی اور وجدانی روح کا متحمل نہ تھا ۔ اس لئے  بظاہر مثنوی رومی اکبر کے  زمانے   کے  اہم مطالعات کے  دائرہ میں  جگہ نہیں  پا سکی اور تعجب تو یہ ہے  کہ اس زمانے  کا شاید سب سے  با شعور مصنف ابو الفضل جو عقل کے  تصرّفات کا قائل ہوتے  ہوئے  عرفان اور وجدان کی برکتوں     کا بھی معترف تھا ایک موقع پر مثنوی کے  کمیاب ہونے  کی شکایت کرتا ہے۔ وہ جلال الدین اکبر کے  ساتھ میدانِ پکھلی سے  گزر رہا ہے  اور فرصت کے  اوقات کو کسی علمی مشغلہ میں  گزارنا چاہتا ہے ۔ اور اس وقت اس کی طبیعت مطالعہ مثنوی کی طرف مائل ہے۔ مگر بدقسمتی سے  اسے  اس گرد و نواح  میں  مثنوی کا کوئی مکمل نسخہ نہیں  ملتا ۔ اس لئے  نا چار ابو بکر شاشی کے  انتخاب مثنوی ہی سے  کام چلاتا  ہے  اور اس  سے  اپنے  ذوق و حال کے  مطابق اشعار کا انتخاب کر لیتا ہے۔ اس سے  یہ قیا س ہو سکتا ہے  کہ اس زمانے  میں  (کم از کم اس گرد و نواح میں  ) مثنوی رومی شاید وقت کی مقبول ترین کتابوں  میں  نہ تھی ۔ بظاہر یہ بات تعجب خیز ہے  مگر یہ دیکھ کر کہ مثنوی کا مزاج ایک خاص نفسی کیفیت اور اجتماعی شعور کا مطالبہ کرتا ہے  اور بعض خاص ادوار میں  اس کے  مطالعہ کی طلب اور ادوار کے  مقابلے  میں  زیا دہ ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال پر کچھ زیادہ تعجب نہیں  ہوتا کہ اکبری دور میں  مثنوی کا چرچا کیوں  کم ہو گیا تھا تاہم اکبری اور خصوصاً جہانگیری عہد اس معاملے  میں  بالکل کورا بھی نہیں  اور آنے  والے  ادوار میں  تو مثنوی کا ذوق اس قدر بڑھ جاتا ہے  کہ ہر طرف  اس کے  شارح اور فرہنگ نویس بہ تعدادِ کثیر نکل آتے  ہیں۔ چنانچہ گیارھویں  صدی ہجری کے  ہندوستان اور ایران میں  لکھی ہوئی شروحِ مثنوی کی فہرست خاصی طویل ہے۔ ان میں  عبد الفتاح المعانی (۱۰۴۹ھ) عبداللطیف عباسی (متوفی ۱۰۴۸ھ)کی لطائف المعنوی ، محمد رضا کی مکاشفات رضوی (تصنیف۱۰۸۴ھ)اور شرح شاہ عبدا لفتاح (متوفی ۱۰۹۰ھ)چند قابل ذکر کتابیں  ہیں ۔

عبداللطیف عباسی کی کتاب معارف المعنوی مثنوی کی مکمل شرح نہیں۔ کیونکہ عباسی نے  صرف مشکل اشعار کی شرح کی ہے۔ جس میں  عربی عبارتوں  اور قرآن مجید کی آیتوں  کا ترجمہ بھی ہے۔ عبد اللطیف عباسی عہدِ شاہ جہانی کے  بزرگ تھے۔ انہوں  نے  عمر کا بیشتر حصہ مثنوی کے  مطالعہ میں  صرف کیا اور ا س کے  مشکل الفاظ کا فرہنگ بھی مرتب کیا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ شاہجہاں  کے  آخری زمانے  میں  مطالعہ مثنوی کی تحریک پہلے  سے  زیادہ زور سے  اٹھی اور آہستہ آہستہ اس میں  اتنی شدت اور وسعت پیدا ہو گئی کہ اورنگ زیب کے  زمانے  میں  مثنوی ہی وقت کی محبوب ترین کتاب بن جاتی ہے۔ اس کی بے  شمار شرحیں  لکھی جاتی ہیں ،ترجمے  ہوتے  ہیں  اور انتخابات تیار کئے  جاتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ درس میں  اس کو مرکزی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے  اشعار مجالس اور محافل میں  بڑے  ذوق و شوق سے  پڑھے  جاتے  ہیں  اور اس سے  واعظ اور خطیب تذکر ہ و تلقین کا کام لینے  لگتے  ہیں۔ غرض اس زمانے  میں  اس کو نہایت ہمہ گیر مقبولیت ملتی ہے۔ اور عام و خاص سب اس کے  مطالعہ سے  لطف و سعادت حاصل کرتے  ہیں۔

عہد عالمگیری کے  مثنوی شناسوں  میں  دو اہم شخص ایسے  تھے  جن کی مثنوی دانی کی اس عہد کے  مو رخوں  نے  بڑی تعریف کی ہے۔ ان میں  سے  ایک عاقل خان رازی (میر عسکری)تھے  جو اس زمانے  کے  اچھے  شاعروں اور ادیبوں  میں  شمار کئے  جاتے  تھے  اور دوسرے  انہیں  کے  داماد سید شکر اللہ خان خاکسار تھے  جن کی شرح مثنوی خاصی شہرت رکھتی ہے۔ عاقل خان رازی کے  متعلق مآثر امراء میں  لکھا ہے   ؂

’در حلِ ّ تد قیقاتِ مثنویِ  مولائے  روم خودرایگانہ می دانست !‘

اور نواب شکر اللہ خان کے  متعلق شیر خاں  لودھی نے  مرأۃ الخیال میں  ہم کو یہ اطلاع دی ہے  کہ :۔

’کمترین شاگرد انش بہ مثنوی دانی معروف وادنیٰ تلمیذ ش بصفاتِ صوفیہ مو صوف!‘

ان خوش ذوق امرائے  عہد کی بدولت مثنوی کے  مطالعہ کا شوق اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔ چنانچہ اس زمانے  میں  اور اس کے  بعد مثنوی کا علم ، شائستگی اور اوصافِ مجلسی کا لازمی عنصر بن جاتا ہے۔ جس کے  زیر اثر شرحوں  اور فرہنگوں  کا سلسلہ بدستور قائم رہتا ہے۔ اس موقع پر اس عہد کی ان سب کتابوں  کا تذکرہ جو مثنوی سے  متعلق ہیں  دشوار بھی ہے  اور بے  ضرورت بھی ۔ البتہ ان میں  سے  سب سے  قابل ذکر کتابوں  کے  نام لکھے  جا سکتے  ہیں۔ مثلاً محمد عابد کی الغنی (۱۱۰۰ھ) شاہ افضل الہٰ آبادی کی ’حل مثنوی‘ (۱۱۰۴ھ) شکر اللہ خان کی شرح مثنوی ، خواجہ ایوب پارسا لاہوری کی شرح  مثنوی (۱۱۲۰ھ) ولی محمد اکبرآبادی کی مخزن الاسرار (۱۱۴۹ھ) خلیفہ خویشگی قصوری کی ’اسرار مثنوی‘ وغیرہ ان سب کے  آخر میں  ملا عبد العلی بحر العلو م(متوفی ۱۸۱۹ء/۱۲۳۵ھ) کی شرح مثنوی آتی ہے  جس پر مطالعہ مثنوی کا پچھلا دور ختم ہو جاتا ہے  اور کچھ دیر کے  بعد نئے  حالات کے  تحت مثنوی سے  استفادہ کی جدید (اور کئی معنوں  میں  پچھلی تحریکوں  سے  مختلف) تحریک پیدا ہوتی ہے۔

اس تحریک کا آغاز شبلی نعمانی کی کتاب ’سوانح مولانا روم ‘ سے  ہو ا جس کی اشاعت سے  حکمتِ رومی کا (جدید زمانے  میں  )پہلا علمی تعارف ہوا۔ اس علمی تعارف سے  مطالعۂ رومی کی شاہراہیں  بہت کشادہ ہوئیں۔ مگر اس اثنا میں  قدرت نے  ایک اور دانائے  راز ایسا پیدا کیا جس نے  مثنوی کو ایک نئے  عصر کی تخلیق کا وسیلہ اور ایک نئی زندگی کی تشکیل کا ذریعہ بنا کر اس کو مستقبل کی ’عصر آفریں  کتاب ‘بنا دیا ۔

مطالعہ مثنوی کی اس طویل تاریخ میں  کم و بیش پانچ اہم سنگ میل ہمارے  سامنے  آتے  ہیں :۔ اوّل  خوارزمی کی ’جواہرالاسرار‘ جو ۸۴۰ھ میں  تصنیف ہو ئی ۔ دوم عبداللطیف عباسی کی تصنیفات جو شاہجہاں  کے  زمانے  سے  متعلق ہیں۔ سوم ملا  بحرالعلوم(متوفی ۱۸۱۹ء/ ۱۲۳۵ھ) کی شرحِ مثنوی ۔ چہارم شبلی کی سوانحِ مولانا روم۔ پانچواں  اقبال کا استفادۂ رومی ۔ تاریخ پر نظر ڈالنے  سے  معلوم ہوتا ہے  کہ مطالعۂ رومی کے  یہ پانچوں  سنگ میل تاریخ اسلامی کے  نہایت پر اضطراب زمانوں  سے  متعلق ہیں  اور یوں  مثنوی خود بھی ایک ایسے  پر آشوب زمانے  کی یادگار ہے  جس میں  خدا پر ایمان و یقین اور انسان پر اعتقاد و اعتماد حملۂ تاتار کے  سیلاب میں  خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا تھا ۔ اور یہ ایک ایسا قیامت خیز واقعہ تھا جس نے  تہذیب کے  پچھلے  نقوش کو تقریباً مٹا دیا تھا ۔ گویا رومی کی تصنیف کا زمانہ ایک خلا اور ابہام کا زمانہ تھا ۔ جس میں  روحیں  کسی نئی منزل کی تلاش میں  بھٹک رہی تھیں  اور ذہن انسانی کسی نئی دنیا کی جستجو میں  آوارہ و سر گرداں تھا ۔ ایسے  روحانی انتشار اور ذہنی خلفشار کے  زمانے  میں  مثنوی ظہور میں  آئی ۔ اس میں  وہ جذب و سرور ،وہ وجد و حال اور وہ بیخودی و مستی تھی جس کی اس زمانے  کی پریشان و سر گرداں  روحوں  کو ضرورت تھی ۔ کیونکہ لوگ عام طور سے  خدا ، انسان اور کائنات تینوں  کا اعتقاد کھو بیٹھے  تھے۔ ایسی حالت میں  رومی نے  جب اپنا نغمہ عشق سنایا تو اس سے  اعتقاد کی بجھی ہوئی چنگاریوں  میں  پھر گرمی پیدا ہوئی اور حیات نے  اپنی بکھری ہو ئی کڑیوں  کو پھر سے  جوڑا ۔ غرض مثنوی کے  پیغام اور اس کے  بیا ن کی یہ مسلم خصوصیت معلوم ہو تی ہے  کہ اس سے  بے  یقینی ، جمو د اور روحانی بے  اعتقادی کے  ہر زمانے  میں  احیائے  جدید کا  کام لیا گیا۔ جس کا سبب یہ ہے  کہ رومی کے  کلام میں  ڈھارس بندھانے  اور امید پیدا کرنے  کی خاص صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لہذا جب بھی روح کو امید کے  آب بقا ء کی ضرورت ہو ئی ہے  رومی کے  فیضان عام ہی سے  اس کی پیاس بجھائی گئی ہے۔

حملۂ تاتار کی طرح تیمور کی ترک تازیوں  کا زمانہ بھی انسانی شرافتوں  کے  لحاظ سے  تاریکی کا زمانہ تھا ۔ اس کی ظلمتوں  میں  خوارزمی نے  پھر رومی کی شمع جلائی ۔ اسی طرح ہندوستان میں  اکبر کا زمانہ اگر چہ سیاسی عروج کا زمانہ تھا ۔ مگر عقلیّت نے  وجدان و یقین کے  سر چشمے  خشک کر دئیے  تھے ۔ جہانگیر کے  عہد میں  رومانیّت کی ایک لہر ضرور پیدا ہوئی  جس میں  مقبول ترین ادبی ہیرو حافظ بنے۔ مگر یہ رومانیّت لذت اندوزی اور رو بہ انحطاط مسرت کوشی میں  اعتقاد رکھتی تھی ۔ اس لئے  روحانی تسکین کیلئے  کسی اور آبِ زندگی کی ضرورت پیدا ہوئی۔ چنانچہ شاہجہاں   اور اور نگ زیب کے  زمانے  میں  پھر مثنوی کا غلغلہ بلند ہوا۔ جس نے  سکون و تسکین کے  سامان پیدا کئے۔ غرض ہر زمانۂ زوال میں  تھوڑے  تھوڑے  وقفہ کے  بعد رومی کی طلب ہوتی رہی۔ یہاں  تک کہ وہ زمانہ آ گیا جس میں  اقبال نے  دنیا کے  سامنے  رومی کے  پیغام کی نئی تعبیر پیش کی۔

مثنوی کے  زمانہ تصنیف سے  لے  کر آج تک اس کے  مطالعہ کے  چار مختلف مطمحِ نظر اور مقصد نظر آتے  ہیں  :۔ اوّل زبان کی مشکلات کے  نقطۂ نظر سے  مطالعہ ۔ دوم صوفیا نہ اسرار و معارف کے  نقطۂ نظر سے  ، سوم علم و ادب کے  نقطۂ نظر سے  ، چہارم علومِ اجتماعیہ اور فلسفہ و حکمت کے  نقطۂ نظر سے ۔ بعض صورتوں  میں  پہلا اور دوسرا نقطۂ نظر ملاجلا سا منے  نظر آتا ہے۔ پرانے  زمانے  کے  اکثر شارح اور مفسر مثنوی کو عموماً اسی نقطۂ نظر سے  دیکھتے  رہے۔ ان میں  سے  تصوف اور عرفان کے  نقطۂ نظر سے   خوارزمی نے  مثنوی کی نئی تعبیر و توجیہ کی ۔ داعی شیرازی نے  بھی کسی حد تک اسی حیثیت سے  مطالعہ کیا ۔

عبد اللطیف عباسی نے  زیاد ہ تر زبان و بیان کی مشکلات کی طرف توجہ کی ۔ ہندوستان میں  شاید علامہ ابو الفضل پہلے  شخص تھے   جنہوں  نے  مثنوی کے  مطالعہ کے  لئے  دانش رسمی اور عرفان دونوں  کی اہمیت پر زور دیا ۔ مگر ابو الفضل کا مطمحِ نظر بھی فرد کی روحانی اصلاح و تہذیب سے  زیادہ کچھ نہ تھا ۔ مغلوں  کے  آخری دور میں  مثنوی کا عام مطالعہ دراصل روحانی سکون و تسکین کے  خیال  سے  ہوتا رہا ۔ اور یہ اس ذہنی و روحانی انتشار کے  خلاف ایک نسخۂ شفا تھا ۔ جس سے  طبائع کو عارضی طور پر مسرت اور تفریح مل جاتی تھی ۔

مطالعۂ  مثنوی کی تاریخ میں  اقبال سے  پہلے  شاید سب سے  بڑا نام مُلا بحرالعلوم کا ہے ۔ جن کی طویل و ضخیم شرح مثنوی نہ صرف مثنوی کی مبسوط ترین تفسیر ہے  بلکہ اس کا درجہ فارسی تصوف اور علم کلام میں  بھی بہت بلند ہے۔ مولانا عبدالعلی بحر العلوم اس نامور خاندان کے  ایک فرد ہیں  جس کو اسلامی ہندوستان کے  دورِ آخر میں  احیائے  علومِ عربیہ کی تحریک کا بانی اور علمبردار سمجھا جاتا ہے۔ بحرالعلوم کے  والد مولانا نظام الدین سہالوی(انتقال ۱۱۶۱ھ) نے  در سِنظامیہ کی بنیاد رکھی اور فلسفہ حکمت پر بہت سی کتابیں  لکھیں۔ بحرالعلوم تجدید و احیا ء کے  لحاظ سے  موروثی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں  کے  مالک تھے۔ وہ اپنے  والد کی طرح حکمت ، منطق اور علم کلام وغیرہ میں  بھی کامل دسترس رکھتے  تھے۔ انہوں  نے  مثنوی کو علم کلام اور محی الدین ابنِ عربی کے  متصوّفانہ نقطۂ نظر سے  پڑھا اور اس کی ایسی شرح لکھی جس میں  فتوحاتِ مکیّہ کا پورا پورا رنگ منعکس ہے۔ اس لحاظ سے  ان کی شرح معارفِ دین سے  کہیں  زیادہ معارفِ طریقت کی کتاب بن گئی ہے۔ اور یہی اس کی خصوصیت ہے۔ مطالعۂ مثنوی کے  سلسلے  میں  شبلی کی یہ اہمیت ہے  کہ انہوں  نے  مثنوی کے  اس حصے  پر خاص توجہ دی جس کا تعلق احیائے  دین اور علومِ طبعیہ کے  بعض انکشافات سے  ہے۔ شبلی نے  مثنوی کو ابن عربی کے  اثرات سے  نجات دلا کر غزالی ؒکی تحریکِ تجدید دین و تکمیلِ اخلاق سے  منسلک کر دیا ۔ انہوں  نے  مجرّد فکر اور فلسفۂ اجتماع دونوں  کے  نقطہ نظر سے  اس کا علمی تجزیہ کیا ۔ مثنوی رومی اور علومِ جدید میں  مطابقت پیدا کرنے  کی یہ پہلی کو شش تھی ۔ جس نے  آگے  چل کر مثنوی کی علمی تشریح و تعبیر کی بڑی حوصلہ افزائی کی ۔

جدید زمانے  میں  مطالعہ رومی کی تحریک کا نقطۂ عروج اقبال کا تجزیۂ مثنوی ہے۔ اس سلسلے  میں  اقبال کے  مطالعۂ رومی کا امتیازی وصف یہ ہے  کہ انہوں  نے  مثنوی کو محض مطالعہ کی کتاب سے  اثباتی فکر و عمل کی کتاب میں  بدل دیا ۔ ان کے  نزدیک مثنوی کی غایت تفریح یا (بلند تر سطح پر ) جدل و جدال نہیں  بلکہ عمل اور فکر کی وہ تعمیر ہے  جس کے  سہارے  انسان عالمِ انفس و آفاق کی تسخیر کر سکتا ہے  اور یاد رہے  کہ اقبال کی تسخیر انفس و آفاق کا دائرہ اثر صرف ذات اور فرد کی اکائی تک محدود نہیں  بلکہ اس کے  قوسِ صعودی کی حدِّ ملت اور اس سے  بھی آگے  نوع انسان کے  نوعی اور اجتماعی ارتقا ء کے  بعید ترین گوشوں  سے  جا ملتی ہے۔

میں  نے  سطورِ بالا میں  یہ عرض کیا ہے  کہ اقبال نے  مثنوی کو مطالعہ کی کتاب سے  عمل کی کتاب بنا دیا ۔ اس سے  مراد یہ نہیں  کہ اقبال سے  پہلے  مثنوی ایک بے  اثر کتاب رہی ۔ مثنوی اس سے  پہلے  بھی یقیناً بڑی با اثر ،مقبول اور مفید کتاب ثابت ہوتی رہی ہے ۔ (جیسا کہ گزشتہ صفحات میں  ثابت کیا گیا ) مگر اس میں  کچھ کلام نہیں  کہ مثنوی کے  فیوض کی جو حدیں  اقبال نے  دریافت کی ہیں  وہ ان سے  پہلے  کسی نے  دریافت نہیں  کیں  اور چند مستثنیات کے  سوا عموماً یہ نظر آتا ہے  کہ  مثنوی دانوں اور مثنوی خوانوں   نے  مولانا روم کی اس نصیحت پر عمل نہیں  کیا جو انہوں  نے  (ایک روایت کے  مطابق ) مثنوی کے  مطالعہ کرنے  والوں  کے  لئے  لکھی تھی ۔ ان کی نصیحت یا ہدایت یہ تھی۔

’ مثنوی را جہتِ آں  نگفتہ ام کہ حمائل کنند و تکرار کنند بلکہ زیر پا نہند وبالائے  اسماں  روند کہ مثنوی نردبانِ معراجِ حقائق است نہ  آنکہ نردبان را بگردن گیری و شہر بہ شہر بگردی ‘ ہر گز بر بامِ مقصود نردی و بمرادِ دل نرسی‘اورحق تو یہ ہے  کہ اقبال تک مطالعہ ٔ مثنوی کی عمومی حیثیت یہی رہی جو ’حمائل کنندو تکرار کنند‘ میں  ہے۔ اقبال نے  اس کمی کو محسوس کیا اور رومی کی ہم نوائی میں  جاوید (یا نثراد نَو ) کو یوں  مخاطب کیا :۔

(۱) پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز

تا خدا بخشد ترا سوز وگداز

(۲) شرح او کر دند ادراکس ندید

معنیٔ اوچوں  غزال از مارمید

(۳)رقصِ تن از حرفِ ا و آمو ختند

چشم راز رقص جاں  بر دوختند

(۴)رقصِ تن در گردش آرد خاک را

رقصِ جاں  برہم زند افلاک  را

(۵) علم و حکم از رقصِ جاں  آید بدست

ہم زمیں  ہم آسماں  آید بدست

(۶) رقصِ جاں  آموختن کارے  بود

غیر حق را سو ختن کارے  بُود

ترجمہ:۔ (۱)پیر رومی کو اپنا رفیق راہ بنا لے  تاکہ خدا تجھ کو سوز و گداز عطا کرے۔

(۲) سب اس کی شرح کرتے  ہیں  اور اس کو کسی نے  نہیں  دیکھا اس کے  معنی غزالوں  کی طرح بھاگ کھڑے  ہوئے۔

(۳)اس سے  لوگوں  نے  صرف رقصِ  تن ہی سیکھا ۔ اور رقصِ جان سے  اپنی آنکھیں  بند کر لیں۔

(۴) رقصِ تن خاک کو گردش میں  لاتا ہے  جب کہ رقصِ جاں  افلاک کو برہم کر دیتا ہے

(۵) علم و حکمت رقصِ جان کا باعث بنتے  ہیں  اور زمین و آسمان کو ہاتھ میں  لے  لیتے  ہیں۔

(۶) اصل کام تو رقصِ جاں  سیکھنا ہے  اور غیرِ حق کو جلا کر خاک کر دینا اس کا کام  ہے۔

مطالعہ ٔ مثنوی کے  سلسلے  میں  اقبال کا نصب العین یہی رقصِ جاں  ہے  جس سے  علم و حکمت تک رسائی ہو تی ہے۔ ایسے  علم و حکمت تک جس سے  زمین و آسمان کی تسخیر ممکن ہے۔ اقبال کے  نزدیک قرآن کے  بعد جو کتاب اس مقصدِ عظیم کو پورا کر سکتی ہے  و ہ مثنوی رومی ہے۔ اقبال کے  مطالعہ مثنوی کا یہی پہلو نیا اور انوکھا ہے  جس تک متقدمین و متاخرین میں  سے  کوئی نہ پہنچا ۔

اقبال کے  میلانات کا ایک عجیب انداز یہ ہے  کہ وہ مثنوی رومی کے  اثر کا تو اعتراف کرتے  ہیں  مگر حدیقۂ سنائی کا چنداں  اعتراف نہیں  کرتے  اور عطار کی عظمت تو ان میں  مشکوک سی ہے۔ حالانکہ یہ دونوں  بزرگ رومی کے  مرشدانِ روحانی تھے۔    ؂

ما از  پیے ٔسنائی وعطار آمدیم

(ہم سنائی اور عطار کے  لئے  آئے  ہیں۔ )

اس کا سبب یہ ہے  کہ سنائی اور عطار کی کتابیں  (اقبال کی نظر میں  ) اس رقصِ جاں  یعنی اس ذوق و شوق اور علم و حکمت سے  محروم ہیں  جس سے  رومی کی مثنوی از سر تا پا لبریز ہے۔ حدیقہ میں  اخلاقیات کا پہلو غالب ہے  اور عطار کی مثنویوں  میں  ظاہری دین داری پر زیادہ زور ہے۔ اقبال کی نظر میں  یہ دونوں  باتیں  کافی نہیں۔ اقبال کو جس شئے  کی طلب ہے  وہ ہے  زندگی کا سوز اور ایک مثبت فلسفۂ حیات ۔ ان مسائل میں  اقبال کو رومی سے  بہتر کوئی رہنما میسر نہیں  آیا ۔

رومی آں  عشق و محبت را دلیل

تشنہ کاماں  را کلامش سلسبیل

ترجمہ:۔ رومی جو عشق و محبت کی دلیل ہیں۔ ان کا کلام تشنہ کاموں  کے  لئے  سلسبیل ہے۔

اقبال نے  اپنی شاعری سے  بھی اپنی پیاس بجھائی ہے  اور اپنے  حکیمانہ خطبات سے  بھی۔ مگر اقبال کا استفادہ صرف استفادہ ہی نہیں  افادہ بھی ہے۔ انہوں  نے  رومی سے  صرف لیا ہی نہیں  ان کو کچھ دیا بھی ہے  بہت کچھ !معتد بہ !اقبال کی پیشکش رومی  کی بارگاہ میں  وہ نئی تعبیرو توجیہ مثنوی ہے۔ جس سے  رومی کے  خیالات میں  نئی تابانی ،نئی چمک پیدا ہو گئی ہے۔ رومی کی روح پہلی مرتبہ ان قیود سے  آزاد ہوئی جن میں  پرانے  فرہنگ نویسوں  اور شرح نگاروں  نے  اس کو قید کر دیا تھا ۔ اقبال  نے  رومی کو جدید حکمت میں  متعارف کرایا ہے  اور یہ ثابت کر دیا ہے  کہ رومی کے  پاس عصرِ حاضر کے  ان مسائلِ پیچیدہ کے  کامیاب حل بھی موجود ہیں  جن سے  انسان حواس باختہ ہو کر اپنی روشن تقدیر سے  مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ دور میں  دنیا کو ایک  ایسے  مذہب (یا مسلک فکر و عمل ) کی تلاش ہے  جس کے  اساسی اصولوں  سے  سائنس بھی انکار نہ کر سکے۔ اور ایک  ایسے  سائنسی نقطۂ نظر کی ضرورت ہے  جس میں  وجدانیات کے  وجود کو تسلیم کئے  بغیر چارہ نہ رہے  زیر کی اور عشق کا یہ اجتماع انسان کے  روشن مستقبل کے  لئے  اتنا ہی ضروری ہے  جتنا جسمِ انسانی کے  لئے  آب و ہوا  کا وجود۔ اقبال نے  ان میں  سے  اکثر مسائل کے  حل رومی کے  حوالے  سے  پیش کئے  ہیں ۔ اور یہ حکمتِ رومی کی سب سے  بڑی خدمت ہے۔

اقبال نے  رومی سے  استفادہ ہی نہیں  کیا ۔ بلکہ ایک دبستانِ فکرِ رومی کی بنیاد رکھی ہے  ان کے  زیر اثر رومی کے  مطالعہ و تجزیہ کی تحریک کو بڑا فروغ ہو ا ہے۔ چنانچہ اب اقبال کے  خاص نقطۂ نظر سے  رومی کے  افکار کی چھان پھٹک کا کام بڑے  زور سے  ہو رہا ہے۔  ۱؂    یہ صحیح ہے  کہ محض رومانی ذوق و شوق کے  خیال سے  بھی رو می کی تلاوت کا عمل پہلے  سے  کم نہیں  مگر اقبال کے  زیر اثر ان کی حکمت کی تشریح کی طرف خاص توجہ کی جا رہی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے  سب سے  نمایاں  کام ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا ہے  جن کی کتاب حکمتِ رومی ، رومیاتی ادب کی ایک ممتاز تصنیف ہے۔ جس سے  فکر رومی کے  بہت سے  عقدے  حل ہوئے  ہیں۔ ان سب پہلوؤں  سے  اگر دیکھا جائے  تو یہ محسوس ہوتا

ہے  کہ جس طرح مطالعہ اقبال کے  سلسلے  میں  رومی کی مثنوی اور ان کے  افکار ایک اہم بلکہ اہم ترین ماخذ کا درجہ رکھتے  ہیں۔ اسی طرح مطالعۂ رومی کے   سلسلے  میں  اقبال کی  شرح و تعبیر یکتا اور منفرد حیثیت رکھتی ہے۔

۱؂      نئے  زمانے  میں  جن لو گوں  نے  مثنوی رومی کا خاص مطالعہ کیا ہے  ان میں  ڈاکٹر نکلسن کو نظر انداز نہیں  کیا جا سکتا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے  مثنوی کا ذوق عام کیا اور میر ولی اللہ ،

عبد الماجد دریا بادی اور قاضی تلمذ حسین نے  مثنوی سے  استفادہ بھی کیا اور اس کی ترتیب و تدوین کی بھی کوشش کی ۔ ڈاکٹر عشرت حسن بھی حکمت رومی کے  بعض پہلوؤں  کی اسرار کشائی میں  مصروف ہیں۔ پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی نے  ’مولانائے  روم تمثیلات کی روشنی میں  ‘ کے  نام سے  ایک کتاب لکھی ہے۔

ماخوذ  : از   مسائل اقبال۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ ۔ مئی ۱۹۷۴؁ء

 

****

 

 

 

ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم

 

 رومی اور اقبال

 

چو رومی در حرم دادم اذاں  من

از وآمو ختم اسرارِ جاں  من

بہ دورِ فتنۂ عصرِ کہن او

بہ دورِ فتنۂ عصر رواں  من

(مثل رومیؒ حرم میں  میں  نے  اذان دی ہے۔ اسی سے  اسرارِ جاں  بھی میں  نے  سیکھے  ہیں۔ )

مثالِ رومؒ دیتا ہوں  اذاں  میں            اسی سے  سیکھتا ہوں  سرِّ جاں  میں

بہ دورِ فتنہ عصرِ کہن وہ      بہ دورِ فتنۂ عصرِ رواں  میں

(تر جمہ : م۔ م)

اقبال نے  ان اشعار میں  جو دعویٰ کیا ہے  وہ کوئی شاعرانہ تعلّی نہیں  بلکہ اظہارِ حقیقت  ہے۔ اقوام کو جس قسم کے  فتنوں  کا سامنا کرنا پڑتا ہے  ان میں  کو ئی فتنہ سیا سی ہوتا ہے۔ کوئی علمی یا عقلی اور کوئی فتنہ اخلاقی اور روحانی ۔ کسی ملت کی اساسی حیثیت کی استواری  کا ثبوت اس سے  ملتا ہے  کہ وہ کہاں  تک ان مختلف اقسام کے  زلزلوں  سے  متزلزل ہو کر پھر اپنا توازن قائم کر سکتی ہے۔

اسلام اپنی چودہ سو سال کی تاریخ میں  ہر قسم کے  فتنوں  سے  دوچار ہوتا رہا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی وفات کے  بعد ہی تمام عرب میں  عدم ادائیگیِ زکوٰۃ کا فتنہ بپا ہوا اور جھو ٹی نبوت کے  مدعی پھر بڑے  بڑے  قبائل کو ساتھ ملا کر الحاد پر تل گئے۔ حضرت عمر فاروق ؓ جیسے  قوی ارادے  والا  عظیم الشان انسان بھی کچھ عرصہ کے  لئے  متذبذب اور متزلزل ہوا۔ لیکن حضرت ابو بکر ؓ کی بصیرت نے  جلد ان کی ہمت بندھا دی ۔ اس کے  بعد رنگا رنگ کے  سیا سی اور عقائدی فتنے  برپا ہو تے  رہے  لیکن اسلامی تہذیب و تمدن  و سیا ست دنیا پر چھاتی گئی اس کے  بعد سب سے  زیادہ ملت کو بیخ و بن سے  اکھا ڑ دینے  والا فتنہ ، فتنۂ تاتار تھا ۔ جس کے  متعلق اسلام کے  ضامن خدا نے  یہ معجزہ دکھا یا کہ بقول اقبال   ؂

پاسباں  مل گئے  کعبے  کو صنم خانے  سے

اقبال نے  ان اشعار میں  ایک فتنۂ عصر کہن کا ذکر کیا ہے  جس کو فرو کرنے  اور اس کا مقابلہ کرنے  کے  لئے  رومی کو خدا نے  ایک خاص وجدان اور ایک خاص  اندازِ بصیرت بخشا تھا ۔ رومی کے  زمانہ میں  شدید قسم کے  سیاسی فتنے  بھی موجود تھے۔ لیکن اقبال جس فتنے  کی طرف اشارہ کرتا ہے  وہ عقلی ،اخلاقی اور روحانی فتنہ ہے۔ رومی کے  عہد میں  ایک محدود قسم کی یونانی حکما سے  اخذ کردہ عقلیت نے  اسلامی عقائد کو منطق اور علم الکلام کی ایک چیستاں  بنا دیا تھا اور سادہ روحانیت والے  لوگ اس سے  بیزار ہو کر پکار اٹھتے  تھے  :

رہِ عقل جز پیچ در پیچ نیست

بر عاشقاں  جز خدا ہیچ نیست

(عقل کے  راستے  میں  پیچیدگیاں  ہی پیچیدگیاں  ہیں۔ عاشقوں  کے  پاس خدا کے  سوا کچھ اور نہیں۔ )

اسلام بھی انسان کو تدبر اور تفکر اور مظا ہرِ ارض و سمٰوٰت کا گہرا مطالعہ کرنے  کی تلقین کرتا ہے  اور عقل کو استعمال نہ کرنے  والوں  کو جانور بلکہ اس سے  کمتر مخلوق گردانتا ہے۔ لیکن جس قسم کی عقل کو قرآن کریم  استعمال کرنے  کی تعلیم دیتا ہے  وہ عقل ایسی ہونی چاہیے  جو انفس و آفاق کے  وسیع مطالعہ پر مبنی ہو اور غیر ملوث بصیرت سے  اس سے  صحیح نتائج اخذ ہو سکیں۔ اگر یہ بات نہ ہو تو عقل فقط ظنیات کے  ساتھ کھیلتی رہتی ہے۔ اور اس کھیل میں  اس کو لذت ملنی شروع ہو جاتی ہے ۔ مولانا روم کے  زمانہ میں  عقلیات کا ڈھانچہ کچھ اس انداز کا تھا جو نہ مشاہدۂ فطرت میں  معاون ہوتا تھا اور نہ توسیع و تزکیۂ نفس میں۔ اس قسم کی بحثیں  کہ کلامِ الٰہی حادث ہے  یا قدیم۔ ذات صفات سے  الگ ہے  یا اس سے  غیر منفک طور پر وابستہ ۔ تعددِ صفات سے  توحید میں  شرک پیدا ہوتا ہے  یا نہیں۔ خدا ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے  یا نہیں۔ اور توحید تمام علائق اور اضافات سے  منزہ ہو کر خالص ہوتی ہے  یا اضافات اس کا لازمی جزو ہیں۔ اس قسم کی منطقی بحثیں  جزو دین بن گئی تھیں۔ بلکہ یوں  کہنا چاہیے  کہ ان بحثوں  نے  اصلی دین کو برطرف کر کے  اس کی جگہ لے  لی تھی۔ کچھ سیاسی دھڑلے  بندیوں  نے  اور کچھ اس قسم کے  لا  طائل مباحث مے  فروعی اور غیر اصلی اختلافات کی بنا پر مسلمانوں  میں  بے  شمار فرقے  پیدا کر دئیے  تھے۔ معقولات والوں  کا یہ حال تھا کہ وہ یونانی حکما کے  مرید ہو گئے  تھے۔ اور ان کی ظنیات کو وحی الٰہی کا درجہ دیتے  تھے۔ کہتے  تھے  کہ ہم اہلِ عقل ہیں۔ لیکن تھے  حقیقت میں  وہ بھی اہلِ نقل ۔ ان لو گوں نے  ان ظنیات کو اسلام کے  ساتھ ایسی آمیزش کی تھی کہ دودھ اور پانی کو الگ کرنا محال ہو گیا تھا ۔ متکلمین مناظرہ پسند تھے۔ اور متقشفین ظاہر پرست ۔ متکلمین کے  ہاں  بس قیل و قال تھی ۔ اور راسخ العقیدہ کہلانے  والے  علما کے  ہاں  فقط ظاہر پرستی اور  لفظ پرستی ۔ دین کی روح نہ اس طبقہ میں  تھی اور نہ اس طبقہ میں۔ روحانیت کے  دعویدار ، رہبانیت اور ترکِ دنیا پر مائل تھے۔ یا کم از کم اس کی تعلیم دیتے  تھے۔ ان کے  ہاں  نہ آفاق کا مشاہدہ تھا نہ تسخیرِ فطرت اور تقویتِ ملت کی خواہش ۔ تصوف ایک حیات گریز چیز بن گئی تھی ۔ دنیا کا کوئی شعبہ قابلِ اعتنا نہ تھا۔ قرآن کی تعلیم یہ تھی کہ ظاہر بھی حق ہے  اور باطن بھی حق۔ اول بھی حق ہے  اور آخر بھی حق ۔ خدا کی خلقت اور کائنات میں نہ بطلان ہے  اور نہ فتور۔ لیکن دنیا کو ہیچ سمجھنے   والوں  نے  اس کو دیوانے  کا خواب بنا دیا تھا :

ایک معمہ ہے  سمجھنے  کا نہ سمجھا نے  کا

علم و حکمت کو قرآن کریم خیرِ کثیر کہتا ہے۔ لیکن صوفیوں  نے  کہنا شروع کر دیا تھا کہ علم حجابِ اکبر ہے۔ خدا وجو د کو حقیقی کہتا ہے۔ اور نعمت کے  طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن صوفی کہتا تھا کہ تیرا وجود ہی سب سے  بڑا گناہ ہے۔ صوفیائے  کرام جو حقیقت آشنا تھے  وہ بھی ان کلمات کو دہراتے  تھے۔ لیکن ان کے  ہاں  ان کی لطیف تعبیریں  تھیں۔ متصوفین کے  ہاں  ان تصورات نے  فرار عن الحیات کا رنگ اختیا ر کر لیا تھا اور غلط تصوف نے  وجود کی بجائے  عدم کی توصیف کو اپنا مسلک بنا لیا تھا :

صورتِ وہمی بہ ہستی متہم داریم ما

چوں  حباب آئینہ بر طاقِ عدم داریم ما

(ہستی پر ہم نے  وہم کا اتّہام لگا دیا        طاقِ عدم پر حباب کا آئینہ  لگا دیا )

تمام کائنات خدا کا خواب و خیال بن گئی تھی :

تا تو ہستی خدائے  در خواب است

تونہ مانی چو او شود بیدار

(جب تک تو جاگتا ہے  خدا سو رہا ہے  جب وہ جاگ جائیگا تو باقی نہ رہے  گا ۔ )

خدا جب تک خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ کیمیائی کائنات تب تک قائم معلوم ہوتی ہے۔ اگر کہیں  وہ جاگ اٹھا تو بس :

عدمی عدم  عدمی عدم

زعدم چہ صرفہ بری عبث

(سب عدم ہی عدم ہے  تو عدم سے  کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ )

اسلام کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں  اس طرح رہا جائے  کہ دنیا دین بن جائے  لیکن ترکِ علائق کی تعلیم نے  یہ زور پکڑا کہ :

ترکِ دنیا ترکِ عقبیٰ ترکِ مولیٰ  ترکِ ترک

غرض کہ رومی کے  زمانہ میں  ملا ظاہر پرست رہ گیا تھا اور فقیہ و فقر پرست ۔ یہ گروہ دین کے  مغز کو چھوڑ کر اس کی ہڈیاں  چبا رہے  تھے۔ بلکہ ان ہڈیوں  پر ایک دوسرے  سے  لڑ رہے  تھے۔ اسی صورت حال کے  متعلق مولانا روم کا یہ مشہور شعر ہے  :

من  ز قراں   مغز ہا برداشم

استخواں  پیش سگاں  اندا ختم

میں نے  قرآن سے  مغز اٹھا لیا ہے  اور ہڈیوں  کو کتوں  کے  سامنے  پھینک دیا ہے۔

اب غور طلب بات یہ ہے  کہ رومی اور اقبال کے  زمانوں  میں  کس قسم کی مطابقت ہے  اور ان دونوں  نے  اپنے  اپنے  زمانے  کے  احوال و افکار کی نسبت جو زاویۂ نگاہ اختیار کیا اس میں  کیا مماثلت ہے  ؟ رومی کے  زمانہ میں  ایک خاص قسم کے  عقلی علوم کا چرچا تھا اور ایک خاص انداز کا فلسفہ جزو تعلیم بن گیا تھا ۔

رومی کی مثنوی پڑھنے  سے  معلوم ہوتا ہے  کہ وہ اپنے  زمانے  کے  تمام عقلی علوم سے  کماحقہٗ واقف ہے  اور ان سے  واقف ہو تے  ہوئے  اور ان میں  جس قدر حقیقت کا پہلو ہے  اس کو اپناتے  ہوئے  بھی کسی محدود اور ظنی عقلیت کا شکار نہ تھا بلکہ ہر مسئلہ پر رومی غیر معمولی بصیرت اور غیر معمولی جرأت سے  تنقید کرتا ہے۔ وہ عقل کو خدا کی ایک عظیم نعمت سمجھتا ہے  اور حکمت کا دلدادہ ہے۔ لیکن اس کے  ہاں  عقل و حکمت کے  دائرے  بڑے  وسیع ہیں۔ اس کی عقل صرف مادّیات اور حسیات تک محدود نہیں۔ وہ عقل کو صفات اللہ کا ایک عالمگیر مظہر تصور کرتا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے  :

آں  چہ دریا ہا ست در پہنائے  عقل

(عقل کی پہنائیوں  (وسعتوں  ) میں  کتنے  ہی دریا موجود ہیں۔

اس کے  نظریۂ حیات میں  مادّے  سے  لے  کر خدا تک زندگی ہی زندگی ہے۔ لیکن انتہائی پستی سے  انتہائی بلندی تک اس کے  بہت سے  مدارج ہیں۔ ہر درجۂ حیات زندگی ہی کا ایک  درجہ ہے ۔ اور جہاں  زندگی ہے  وہاں  کسی نہ کسی درجے  کی عقل بھی ہے۔ چنانچہ عارفِ رومی عقلِ جمادی ، عقلِ نباتی ، عقلِ انسانی اور عقلِ نبوی کے  مدارج کا ذکر کرتا ہے۔ خدائے  حکیم کی خلقت اور مظاہر میں  سے  کوئی مظہر حکمت سے  خالی نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے  کہ جس درجے  کا مظہر ہے  اسی درجے  کی عقل ہے۔

اقبال اور رومی کے  ہاں  بہت سے  نظریات مشترک ملتے  ہیں۔ اقبال کا نظریۂ خودی جو اقبال کے  کمال کی وجہ سے  اس کا اپنا بن گیا ہے۔ اس کے  بنیادی تصورات بھی رومی کے  ہاں  ملتے  ہیں۔ عام صوفیا نے  فنا اور ترک پر زور دینا عین دین بنالیا تھا ۔ رومی نے  اس کو بقا کے  نظریہ میں  بدل دیا۔ اگرچہ یہ صحیح ہے  کہ ہر ترقی کے  لئے  پہلی حالت کو فنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مقصود بقا اور ارتقا ہے۔ رومی کے  ہاں  بھی خودی کا استحکام لازمی ہے۔ اور اس کا طریقہ قوتِ تسخیر میں  اضافہ کرنا ہے ۔ عجمی تصوف نے  ترکِ حاجات کو خدا رسی کا ذریعہ قرار دیا تھا ۔ رومی کہتا ہے  نہیں  حاجت تو مصدرِ وجود اور منبعِ بہبود ہے۔ ہاں  یہ ضرور دیکھنا چاہیے  کہ حاجات کہیں  پست اور حیات کش نہ ہوں ۔ زندگی کے  تقاضے  بلند ہونے  چاہئیں۔ رومی کی تلقین اس بارے  میں  یہ ہے  کہ :

پس بیفزا حاجت اے  محتاجِ زود

(اے  جلد باز بلند تر حاجت پیدا کر )

مثنوی میں  اس مصرع کی تشریح میں  مولانا روم لکھتے  ہیں  کہ خدا نے  زمین و آسمان بھی عبث نہیں  پیدا کئے  بلکہ کسی حاجت ہی سے  پیدا  کئے  ہیں۔

اسی خیال کو اقبال طرح طرح سے  اپنے  فارسی اور اردو کلام میں  ادا کرتا ہے۔

زندگانی را بقا از مدعا ست

کا روانش راورا از مدعا ست

زندگی در جستجو پوشیدہ است

اصلِ او در آرزو پوشیدہ است

آرزو جانِ جہانِ رنگ و بو ست

فطرتِ ہر شے  امینِ آرزو ست

از تمنا رقص دل در سینہ ہا

سینہ ہا از تابِ او آئینہ ہا

(زندگی کی بقا حصولِ مدعا سے  ہے۔ اس کے  کارواں  کو مدعا ہی بانگِ درا کا کام کرتی ہے ۔ زندگی جستجو میں  پوشیدہ ہے  اور اس کی اصل آرزو میں  پوشیدہ ہے۔ آرزو اس جہانِ رنگ و بو  کی جان ہے۔ ہر شئے  کی فطرت آرزو کی امین ہے۔ یہ آرزو /تمنا ہی ہے۔ جس کے  سبب سینے  میں  دل رقص کر رہا ہے۔ اور اسی آرزو کی تب و تاب سے  سینے  آئینے  کی طرح چمک اٹھتے  ہیں ۔ )

اس کے  بعد عقل کی آفرینش کا نظریہ اقبال کے  ہاں  ملتا ہے  کہ عقلِ ندرت کو ش و گردوں تاز بھی آرزو ہی کا اعجاز ہے  اور عقل آرزو ہی کے  بطن سے  پیدا ہوتی ہے۔

اقبال اور رومی میں  اور بھی کئی مشترکہ باتیں  ہیں۔ دونوں  بقا پر ست ہیں  اور دونوں  ارتقا پسند ۔ مولانا فرماتے  ہیں  کہ تمام زندگی خدا ہی کی ذات سے  سرزد ہوتی ہے۔ اور تمام زندگی کا میلان خدا کی طرف رجعت ہے۔ کیونکہ وجود کا اصل اصول یہ ہے  کہ ہر چیز اپنے  اصل کی طرف عود کر تی ہے۔ کل شیء یر جع الیٰ اصلہٖ

ہر کسے  کو دور ماند از اصلِ خویش

باز جوید روزگارِ وصلِ خویش

(ہر وہ شخص جو اپنی اصل سے  دور جا پڑا پھر وہ اپنی تلاش میں  نکل پڑتا ہے۔ )

اس رجعت الی اللہ میں  ہر چیز اوپر کی طرف اٹھ رہی ہے۔ ہر وجود کے  اندر صرف اپنے  آپ کو قائم رکھنے  ہی کا میلان نہیں  ہے۔ بلکہ اپنے  مخفی ممکنات کو ظہور میں  لانے  کی مضطربانہ  آرزو ہے۔ تمنائے  رفتار سے  پاؤں  پیدا ہوتے  ہیں  اور تمنائے  نوا سے  منقار ۔ چونکہ خدا کی ذات لامتناہی ہے  اس لئے  مرحلہ بھی کبھی طے  نہیں  ہو سکتا :

ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلّی

اللہ کرے  مرحلۂ شوق نہ ہو طے

قرآن کریم کہتا ہے  کہ آفاق آدم کے  لئے  مسخر ہو سکتے  ہیں  اور اقبال اور رومی دونوں  فقط آفاق کی تسخیر پر قناعت نہیں  کرتے۔ عارف رومی کہتا ہے  :

بریز کنگرۂ کبریاش مردانند

فرشتہ صید و پیمبر شکار و یزداں  گیر

کبریا کے  کنگرے  کے  نیچے  کچھ ایسے  لوگ بھی ہیں  جو فرشتے  کو صید کرتے  ہیں۔ پیمبر کا شکار کرتے  ہیں۔ اور یزداں  کو پکڑ لیتے  ہیں۔

اور اقبال اس کا ہم نوا ہو کر پکارتا ہے  :

در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں  صیدے

یزداں  بکمند آور اے  ہمت مردانہ

(میرے  جنوں  کے  دشت میں  جبریل ایک صید زبوں  ہے۔ اے  ہمت مردانہ !ضرورت اس بات کی ہے  کہ یزداں  کو بھی اپنی کمند میں  لے  آ!)

اقبال اور رومی کے  ہاں  عقل اور عشق کا مضمون بھی مشترک ہے۔ عقل اور عشق کے  مقامات بھی ان دونوں  کے  ہاں  ایک ہی قسم کے  ہیں۔ دونوں  کے  ہاں  زندگی اور خودی کی اصل عشق ہے۔ عشق ہی بقا اور ارتقا کا ضامن ہے۔ عقل عشق کا اولیں  مظہر سہی لیکن بہرحال مظہر ہے ۔ عقل عشق کا آلۂ کار ہے۔ عقل عشق کی مقصد برآری کی معاون ہے۔ زندگی کا حضور عشق کو حاصل ہے۔ اگر چہ اس کے  ظہور میں  عقل کارفرما ہے  :

عقل گو آستاں  سے  دور نہیں

اس کی تقدیر میں  حضور نہیں

علم میں  بھی سرور ہے  لیکن

یہ وہ جنت ہے  جس میں  حور نہیں

عقل سے  اسرارِ آفاق فاش ہو تے  ہیں۔ لیکن عشق سے  اسرارِ ذات کا انکشاف ہوتا ہے  :

مذہبِ عشق از ہمہ دیں  ہا جد است

عشق اصطرلاب اسرار خدا ست

(مذہب عشق تمام دینوں  سے  جداگانہ حیثیت کا حامل ہے۔ عشق تو خدا کے  اسرار کا اصطرلاب (Laboratory) (معمل ) ہے۔ )

دونوں  کے  ہاں  عشق کا مفہوم عام مفہوم سے  اس قدر الگ ہو گیا ہے  کہ مولانا روم لوگوں  کو خبردار کرتے  ہیں  کہ جس عشق کا میں  ذکر کرتا ہوں  اس کو کہیں  اشیا اور اشخاص کی طلب کا جذبہ نہ سمجھ لینا :

ایں  نہ عشق است ایں  کہ ور مردم بود

ایں  فساد از خو ردنِ گندم بود

(یہ عشق نہیں  ہے  جو عام لوگوں  میں  پا یا جاتا ہے۔ یہ فساد تو گیہوں  کھانے  سے  پیدا ہوا ہے۔ )

دونوں  کا عشق خودی میں  خدا کی صفات پیدا کرنے  کی کوشش اور  تخلقو ا باخلاق اللہ کی تفسیر ہے۔ مولانا فرماتے  ہیں :

عشق آں  زندہ گزیں  کو باقی است

و ز شرابِ جانفزا یت ساقی است

(اس زندہ رہنے  والے  عشق کو تلاش کر جو باقی رہنے  والا ہے  جو اس شراب جاں  فزا کا ساقی ہے ۔ )

اشیا اور اشخاص کا عشق ایک آنی جانی چیز ہے۔ محبوب کے  بدل جانے  سے  عشق بھی بدل جاتا ہے  اور محبوب کے  فنا ہو جانے  سے  اس کا عشق بھی زود و دیر فنا ہو جاتا ہے۔ دونوں  کا عشق انفس و آفاق کی تمام کیفیتوں  کو اپنانا اور جزوِ حیات بنا نا ہے۔ یہ عشق عالمِ رنگ و بو اور عالمِ آب و گل تک محدود نہیں  رہ سکتا :

تو ہی ناداں  چند کلیوں پر قناعت کر گیا

ورنہ گلشن میں  علاجِ تنگیِ داماں  بھی ہے

آخر میں  ایک اور مسئلہ میں  رومی اور اقبال کا اشتراک قابلِ بیان ہے۔ صوفی ہو یا ملّا،متکلم ہو یا حکیم ۔ سب نے  جبر کا عقیدہ جزوِ دین اور جزوِ حکمت بنا رکھا تھا ۔ اور تقدیر کا ایک غلط مفہوم قائم کر رکھا تھا کہ جو کچھ ہونے  والا ہے  وہ ازل سے  متعین ہے۔ زاہد کا زہد اور رند کی رندی،محتسب کا احتساب اور چور کی چوری ، سب مرضیِ  الٰہی سے  سرزد ہوتی ہیں۔ جبر کا یہ عقیدہ مسلمانوں  کے  عقائد اور ان کے  ادبیات میں  ایسا عام ہو گیا کہ زندگی کی جدوجہد کی قوتیں  اس سے  بری طرح متاثر ہوئیں  :

حافظ بخود نہ پوشیدایں  خرقۂ مَے  آلود

اے  شیخ پاک دامن معذور دارمارا

در کوی نیک نامی مارا گذر نہ وارند

گر تو نمی پسندی ، تغیییر کن قضارا

(حافظ نے  خود یہ خرقۂ مئے  نہیں  پہنا ہے۔ ]یہ تو اسی (خدا)کا پہنایا ہوا ہے۔ اے  پاک دامن شیخ ہم کو اس میں  معذور جان![ ۔ نیک نامی کے  کوچے  میں  اگر ہمارا گزر نہیں  (تو اس میں  ہمارا کو ئی قصور نہیں ) ۔ اگر تجھے  یہ پسند نہیں  تو جا اور ہماری تقدیر (قضا) کو بدل دے۔

یا میر تقی میر کہتے  ہیں  :

ناحق ہم مجبوروں  پر تہمت ہے  مختاری کی

جو چاہیں  سو آپ کرے  ہیں  ہم کو عبث بدنام کیا

’قدجف القلم‘ کے  یہ معنی لیے  گئے  ہیں  کہ کاتبِ تقدیر کا قلم ابدالآباد تک سب کی تقدیر مفصل درج کرنے  کے  بعد سوکھ گیا۔ اب اس میں  کوئی کمی بیشی نہیں  ہو سکتی ۔ حکما و صوفیا میں  مولانا روم واحد شخص ہیں  جنہوں  نے  تقدیر کی اس تعبیر کے  خلا ف بڑا مدلل اجماع کیا اور فرمایا کہ تقدیر خدا کے  معین کردہ آئین کا نام ہے۔ تقدیر زاہد کو زہد پر یا چور کو چوری پر مجبور نہیں  کرتی بلکہ یہ کہتی ہے  کہ خدا کا یہ قانون اٹل ہے  کہ تقویٰ سے  ایک خاص قسم کے  نتائج صادر ہوں  گے۔ اور عصیاں  و طغیاں  سے  دوسری قسم کے۔ اسی کا نام سنت اللہ ہے  جس میں  تبدیلی نہیں  ہو سکتی ۔

اقبال بھی بڑی شدت سے  انسان کی خودی میں  اختیار کے  قائل ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  کہ کافر مجبور ہوتا ہے  اور مومن مختار ۔ اور اپنی خودی کو بلند کر کے  مومن ایسے  مقام پر پہنچ جاتا ہے  جہاں  اس کی رضا خدا کی رضا سے  ہم کنار ہو جاتی ہے  :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے  پہلے

خدا بندے  سے  خود پوچھے  بتا تیری رضا کیا ہے

مولانا روم ایک لطیف استدلال کر تے  ہیں  کہ جبر و اختیار کا مسئلہ تو کتے  کو بھی معلوم ہے ۔ کتے  کو جب کوئی پتھر مارتا ہے  تو حالانکہ چوٹ پتھر سے  لگتی ہے۔ لیکن وہ کاٹنے  نہیں  دوڑتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے  کہ پتھر تو مجبور ہے ۔ مارنے  والا مختار ہے ۔ اس سے  بدلہ لینا چاہیے ۔ چنانچہ وہ پتھر مارنے  والے  کو کاٹنے  دوڑتا ہے۔

اقبال اور رومی  دونوں  کا خیال ہے  کہ تقدیر کے  غلط مفہوم نے  انسان کو خودی اور اخلاقی زندگی کو سخت نقصان پہنچا یا ہے۔ اسی لئے  ان دونوں  نے  اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ اور تقدیر کا ایسا مفہوم پیش کیا ہے  جو انسانی خودی اور جدوجہد کی قوتوں  کو ابھارے  اور زندگی کو سنوارے۔

(ماہِ نو ۔ اپریل ۱۹۵۲ء)

ماخوذ  از  مقالاتِ حکیم  جلد دوم : اقبالیات ، مرتبہ : شاہد حسین رزّاقی       مطبوعہ  ۱۹۶۹  ء

 

****

 

 

 

ڈاکٹر محمد علی صدیقی

 

اقبال اور مولانا رومی

 

مولانا رومی کی ’ مثنوی معنوی‘ نے  ایران، وسطی ایشیائ، ایشیائے  کوچک ،افغانستان اور برصغیر کے  مسلم ذہن پر ایک عرصے  تک حکومت کی ہے۔ میرا خیال ہے  کہ قرآن مجید کے  بعد شاید ہی کوئی اور کتاب ہو جو ہمارے  نظامِ اقدار،نظامِ حکمرانی اور قربت الی اللہ  کے  مقاصد اولیٰ کے  لئے  ’ مثنوی معنوی ‘ کی طرح منبع ہدایت ثابت ہوئی ہے۔

علامہ اقبال جن کے  بارے  میں  مولانا محمد علی جوہر نے  مولانا عبدالماجد دریابادی کے  نام ایک خط میں  کہا تھا کہ:

’ خدا کی رحمت ہو اقبال پر تعلیمِ مولانا روم کا اتمام کر رہا ہے۔ ‘

وہ شاید ٹھیک ہی کہا تھا۔ علامہ اقبال نے  ’ مثنویِ روم‘ کو اپنے  روحانی اور جمالیاتی نظام کا کچھ اس طرح حصہ بنایا تھا کہ وہ غیر شعوری طور پر بھی مختلف مسائل پر’ مثنویِ روم‘ کے  خیالات کو اپنے  خیالات کے  طور پر پیش کرتے  رہتے  تھے ۔ وجہ یہ تھی کہ علامہ اقبال کے  استاد مولوی میر حسن اور والد شیخ نور محمد نے  ’ مثنویِ روم‘ کا درس اس خشوع و خضوع کے  ساتھ دیا تھا کہ اقبال نے  بی ۔ اے  کے  طالب علمی کے  زمانے  میں  اپنے  ساتھی سوامی رام تیرتھ کو’ مثنوی مولانا روم ‘ کی باقاعدہ تعلیم دی تھی ۔ یہ وہی سوامی رام تیرتھ ہیں  جن کی وفات پر علامہ اقبال نے  اپنی نظم ’سوامی رام تیرتھ‘ میں  جو ’بانگِ درا‘ میں  شامل ہے  اس طرح اظہار افسوس کیا ہے ۔

چشمِ نابینا سے  مخفی معنیِ انجام ہے

تھم گئی جس دم تڑپ سیماب سیمِ خام ہے

توڑ دیتا ہے  بتِ ہستی کو ابراہیمِ عشق

ہوش کا دارو ہے  گویا مستی تسنیمِ عشق

علامہ اقبال کا پہلا شعری مجموعہ ’اسرار خودی‘ بھی ان کے  والد کے  بے  حد اصرار پر تخلیق ہوا۔ ان کے  والد چاہتے  تھے  کہ اقبال بو علی قلندر کی مثنوی کے  نمونے  پر ایک عاشقانہ مثنوی لکھیں لیکن اقبال مولانا روم کی مثنوی کے  لحن اور بحر (Metrical composition) سے  اس درجہ متاثر تھے  کہ انہوں  نے  اپنی پہلی فارسی تصنیف میں  مولانا روم کی پیروی کی۔ اقبال پر مولانا روم کے  اثرات کا ایک اور مظہر یہ ہے  کہ جب اقبال کیمبرج یونیورسٹی کیلئے  اپنا تحقیقی مقالہ Development of Metaphysics in Persia لکھ رہے  تھے  تو اس وقت وہ مولانا روم کو وحدت الوجودی صوفی سمجھتے  تھے  اور ابنِ عربی سے  بے  حد متاثر تھے۔ یہ اور بات ہے  کہ ابھی وہ مولانا روم کی متابعت کے  اس مرحلے  میں  نہ تھے  جو  ’جاوید نامہ‘ میں  نظر آتا ہے۔ (یہی مقالہ میونخ یونیورسٹی میں   Ph.D کے  لیے  پیش کیا گیا۔ اور یہ اس زمانے  کے  قانون اور رواج کے  مطابق کیا گیا تھا ۔ اس سلسلے  میں  ڈاکٹر سعید اختر درانی نے  اقبال کی ’غلط بیانی ‘ کی طرف جو اشارے  کئے  ہیں  وہ سراسر غلط ہیں جیسا کہ میں  اپنے  ایریل (Ariel) کے  کالم میں  پوری صراحت کے  ساتھ بیان کر چکا ہوں   ۱ ؂  اور ڈاکٹر سعید اختر درانی نے  میرے  مؤقف کو چیلنج بھی نہیں  کیا ہے۔ )

حقیقت تو یہ ہے  کہ علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی اور اسکے  تمام مقامات مثنویِ  مولانا روم سے  مستنبط ہیں ۔ بجائے  اس کے  کہ میں  سید وزیر الحسن عابدی کے  تحقیقی مقالے  ’اقبال کے  شعری ماخذ ۔ ۔ مثنوی رومی میں ،۲؂   میں  مندرج مماثلتوں  کا مولانا روم اور اقبال کے  اشعار کی صورت میں ایک طویل گوشوارہ پیش کروں اور ایک طرح سے  سید وزیر الحسن عابدی کے  وقیع کام کا اعادہ کروں میں  صرف ان مضامین کی فہرست پیش کرنے  کی اجازت چا ہوں  گا جن کے  تحت علامہ اقبال اور مولانا روم کے  اشعار پیش کئے  گئے  ہیں ۔ ان موضوعات کی تعداد۹۸ہے  اور ان موضوعات کے  تحت ذیلی مضامین کی تعداد ۱۱۲ہے۔ یعنی مثنویِ  مولانا روم اور  اقبال کے  فارسی کلام میں  ۲۱۰مماثلتیں  ہیں ۔ بسا اوقات تو اس قدر معمولی فرق نظر آتا ہے  کہ علامہ اقبال کے  یہاں  ایک یا دو الفاظ کی تبدیلی نظر آتی ہے  یا پھر ایک ہی مفہوم کو قدرے  نئی Vocabulary میں  نظم کر دیا گیا ہے۔ اقبال کی یہ وہ خوبی ہے  جس کے  بارے  میں  خلیفہ عبدالحکیم یوں  رقم طراز ہیں :

’شعر میں  اقبال نے  جو موتی پروئے  ہیں ان کے  متعلق محض یہ کہہ دینا نا انصافی ہو گی کہ وہ موتی اس نے  دوسرے  جوہریوں  سے  لیے  ہیں۔ ہیرا جب تک تراشا نہ جائے  اور موتی جب تک مالا میں  پرویا نہ جائے  اور جواہرات جب تک زیور میں  جڑے  نہ جائیں  ، ان کا جمال معمولی سنگ ریزوں  اور خزف پاروں  سے  زیادہ نہیں  ہوتا ۔ اقبال نے  شاعری پر جو احسان کیا ہے  وہ یہ ہے  کہ      مشرق اور مغرب اور ماضی اور حال کے  وہ جواہر پارے  جو نفس انسانی کے  تارے  ہیں  کمال شاعری سے  اس طرح تراشے  اور پروئے  اور جڑے  ہیں  کہ نوع انسانی کے  لیے  ہمیشہ کے  لیے  بصیرت افروز ہو گئے  ہیں ۔ بعض نقادوں  کا خیال ہے  کہ اقبال ان بعض متضاد چیزوں  کو جوڑ نہیں  سکا جس وقت جو جس سے  چاہا لے  لیا ۔ یہی اعتراض افلاطون پر بھی کیا گیا ہے۔ جلال الدین رومی پر بھی اور نطشے  پربھی ۔ اقبال کا کمال یہ ہے  کہ متضاد رنگوں  کے  تار و پود کو وہ دل کش نقشوں  میں  بن لیتا ہے۔ منطقی حیثیت سے  کسی کو تشفی ہو نہ ہو لیکن بیان کی ساحری ایسی ہے  کہ اقبال کو پڑھتے  ہوئے  تضاد کا احساس نہیں  ہوتا ۔ ۳؂

اقبال نے  نطشے  سے  قوموں  کے  زوال کے  اسباب لئے  ، مولانا روم سے  ارتقا اور خوب سے  خوب تر کی جستجو کے  ذریعے  قوموں  کی تعمیرِ نو کا عزم لیا اور عالمِ اسلام پر منڈ لاتے  ہوئے  زوال کے  خاتمے  کے  لئے  یہ ضروری خیال کیا کہ مومن خدائی صفات سے  متصف ہو جائے  تو پھر وہ نہ صرف اپنے  زوال کو روک سکتا ہے  بلکہ تعمیر و ترقی کی جلد از جلد منازل طئے  کر کے  قابل رشک ترقی کی منزل میں  داخل ہو سکتا ہے۔ یہاں  اقبال نے  لفظ ’خودی‘ کو بعض مغربی فلسفیوں  کے  یہاں  استعمال ہو نے  والے  لفظ ego کے  معنی میں  استعمال کیا ۔ نطشے  نے  بھی یہی کہا تھا کہ جن اقوام کی ego مردہ ہو جاتی ہے  وہ جہدِ للبقا کی جنگ ہار کے  معدوم ہو جایا کرتی ہیں ۔

میرا خیال تھا کہ اقبال کے  یہاں  خودی(ego) کا مفہوم سراسر مغربی حوالوں  سے  آیا ہے  لیکن یہاں  بھی وہ بنیادی طور پر مولانا روم ہی سے  مستفید ہوئے  ہیں  اور مولانا روم اپنے  مرشد کے  حوالے  سے  سینٹ جون آف دی کراس(St.John of the cross) سے ۔ ایک خودی ہی کیا عقل و عشق کے  مابین آویزش ہو یا جبر و قدر کی بحث ہو یا پھر ابلیس کے  بارے  میں  اقبال کا تصور ہو ، یا ارادہ و عمل کی بات ،پیکارِ خیر  و شر ہو یا تسخیرِ زمان و مکان ہو یا حسی ادراک و وجدان کا معاملہ ہو عشق اور تسخیر ارض کی بات ہو یا خودی اور ممکناتِ خودی کی تحقیق کا معاملہ ہو ،اقبال نے  جو کچھ سوچا ہے  اور لکھا ہے  وہ بڑی حد تک مولانا روم ہی کی فکر سے  مستنبط  ہے۔ اقبال اپنی شاعری میں  مغرب کے  لئے  خیالات کی آمیزش اور پیوند کاری کے  سبب مولانا روم سے  قدرے  مختلف ہو جاتے  ہیں  لیکن وہ مضامین کی حد تک مولانا روم ہی کے  متبع رہتے  ہیں ۔

مثلاً آپ خودی کے  بنیادی مسئلے  ہی کو لیجئے  مولانا روم نے  روحِ انسانی کے  مستقبل کے  بارے  میں  کہا ہے  :

گوہرِ جاں  چوں ورائے  فصل است

خوی او ایں  نیست ’’خوئی کبریا‘‘ ست

(گوہر جاں  فصل سے  پرے  ہے  یہ اس کی خو نہیں  بلکہ خوئے  کبریا ہے۔ )

اقبال کہتے  ہیں :

تعمیر خودی میں  ہے  خدائی

یا

برائے  او نگہ دارم خودی را

(اس کے  لئے  میں  اپنی خودی کی حفاظت کرتا ہوں۔ )

یہ وہ مقام ہے  جہاں  مولانا روم کی ’خوئی ‘اقبال کی ’خودی ‘بن جاتی ہے۔

اگر گوئی کہ ’من‘ وہم و گماں  است

نمودش چوں  نمودِ ایں  و آں  است

بگو بامن کہ دارائے  گماں  کیست

یکے  در خود نگر ، آں  بے  نشاں  کیست؟

اگر تو کہتا ہے  کہ ’میں  ‘ محض وہم و گمان ہے  اس کی نمود ایں  و آں  (اس کی اور اسی کی)نمود کی طرح ہے۔ مجھ کو بتلا کہ ورائے  گماں  کیا ہے  ؟کبھی اپنے  آپ کو دیکھ وہ بے  نشان کون ہے  ؟

مولانا روم اسی مفہوم کو اس طرح بیا ن کرتے  ہیں  :

از انا چوں  رست ، شُد اکنوں  انا

آفریں  بر آں  انائے  بے  عنا

(جب ’ انا ‘ سے  چھوٹا تو اب کی انا (یعنی لمحاتی انا) بنا ۔ آفریں  ہے  اس بے  عنا  انا پر یعنی ذات واجب پر)

زاں  انائے  بی انا خوش گشت جاں

شد جہاں  او از انائے  بے  جہاں

(وہ انائے  بے  انا جان بن گئی پھر وہ انائے  بے  جہاں سے  نکل کر جہان بن گئی)

مولانا روم کے  مندرجہ بالا اشعار سے  مولانا روم کے  یہاں  اقبال کی ’خودی‘ کے  لئے  ’انا‘ کا لفظ بھی موجود ہے  جو حیران کن حد تک جدید مفہوم میں  ایغو(ego) کا نعم البدل ہے  اور یوں  لگتا ہے  کہ نطشے  بذات خود جس انا کی تعمیر اور اضمحلال کی بات کر رہا ہے  وہ مولانا روم پر نطشے  کے  مفہوم میں  مستحضر تھا ۔

بنا بریں  یہ خیال درست ہے  کہ اقبال نے  جہاں  کہیں  لفظ ’خودی‘ استعمال کیا ہے  وہ ایک طرح سے  فرسودہ فکر کے  خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ مغلوں  نے  عالمِ اسلام کو جس طرح تاراج کیا مولانا روم کی بلخ سے  بہ سمتِ قونیہ ہجرت خود اسی فتنۂ  مغل کے  باعث ہوئی تھی ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں  میں  من حیثیت گروہِ دینی ، زندگی اور نمو کی خواہشوں  نے  دم توڑ دیا تھا ۔ نطشے  کے  خیال میں  مذہب کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم اثباتِ حیات کی موید اور وکیل ہے  اور دوسری نفی ٔ حیات کی۔ وہ عیسائیت اور بدھ مت کو (بلکہ ہندو مت کو بھی ) نفیِ حیات کے  مذاہب قرار دیتا ہے ۔ اُس کے  یہاں  صرف وہی مذہب زندہ رہ سکتا ہے  جو پیکارِ حیات کا قائل ہے۔ ہمہ دم مائل بہ ارتقا اور یہ کہ وہ اپنے  پیروؤں  کو غلامانہ اخلاق کے  بجائے  آقائی اخلا ق کی تعلیم دے۔ وہ سمجھتا تھا کہ عیسائیت میں  غلامانہ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ وہ فکرِ افلاطون کا اسی لئے  مخالف تھا کہ ا س نے  بھی پیکارِ حیات سے  گریز اور غلامانہ اخلاق کی تعلیم دی ہے۔ اقبال نے  رہبانیت کی مخالفت اسی بنیا د پر کی کہ وہ پیکارِ حیات اور اولوالعزمی کی راہ سے  ہٹا کر ترکِ دنیا کی تعلیم دیتی ہے۔

اقبال کا خیال صحیح تو ہے  لیکن وہ اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے  کہ فتنۂ مغل نے  اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور مسلمانوں  کے  جسدِ سیاست میں  فتنے  سے  مقابلے  کی ہمت ختم ہو چکی تھی۔ ایک ایسی صورت میں  جب مکمل شکست کے  بعد اولوالعزمی کے  جملہ محرکات دور از کار ہو گئے  ہوں پیکارِ حیات کاIdeal بھی دور  ہو جاتا ہے۔ اور قوموں  کو تعمیرِ نو کے  اہم کام کے  لئے  دوبارہ تیار کرنے  کے  لئے  خاصہ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ رہبانیت اور ترکِ دنیا کے  خلاف علامہ اقبال کے  جذبات اپنی جگہ پر درست تھے  اور ہیں ۔ لیکن فتنۂ  مغل کے  بعد ایران میں  صفوی  ، ہندوستان میں  مغل اور ایشیائے  کوچک میں  عثمانی ترک یعنی مسلمانوں  کی تین مضبوط حکومتیں  قائم ہوئیں  اور ان حکومتوں  میں  عثمانی سلاطین کی حکومت نے  ماسکو اور ویانا تک یورش کی اور اپنا دبدبہ قائم کیا ۔ اگر عثمانی حکمراں  یا مغل حکمران چاہتے  تو پرنٹنگ پریس اور  بعد میں  اسٹیم انجن کے  ذریعہ جہاز رانی اور صنعت و حرفت کی ترقی میں  دلچسپی لے  لیتے  اور اپنے  زیر تسلط ممالک کی علمی نشاۃ الثانیہ اور صنعتی ترقی کے  لئے  بروقت اقدامات کے  ذریعے  مسلم ممالک کو نو آبادیاتی استیلا سے   محفوظ کر سکتے  تھے  لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اسلامی دنیا  اپنی کمزور معیشت اور سیاست کے  باعث نو آبادیا تی نظام کے  لئے  لقمۂ تر بن گئی ۔ ایک طرف بر صغیر کی مسلم حکومت ختم ہو ئی ۔ دوسری طرف عثمانیہ حکومت انیسویں  صدی کے  آخر تک یورپ کا مردِ بیمار بن گئی اور ایران کی قاچار حکومت مغربی دائرۂ  اثر میں  اس قدر آ گئی  کہ اسے  بو شہر پر برطانوی بیڑے  کی یلغار کے  بعد ۱۸۵۲؁ء میں  ہرات سے  ہاتھ دھونا پڑا۔

مغربی غلبے  کے  خلاف اسلامی ممالک میں  جتنی تحریکیں  بھی چلیں  وہ اُن ہی علما کی سر کر دگی میں  چلیں  جو جدید علوم اور مغربی تہذیب کو کلیتاً مسترد کرنے  کے  بجائے  ان سے  اخذ و اکتساب کے  ذریعے  سیاسی طور پر طاقتور ہونا چاہتے  تھے۔ اسلامی دنیا کی رجعت پسندانہ تحریکوں  کی نو آبادیاتی طاقتوں  کے  سامنے  کچھ نہ چلی ۔ علامہ اقبال کے  خطبات میں  بھی جس پہلو پر زور دیا گیا ہے  وہ برطانوی حکومت سے  مقابلے  اور مخاصمت کے  بجائے  سیاسی مطالبوں   کے  لئے  آئینی راہ اختیار کرنے  کی تلقین کرتا ہے۔ (اسی سبب سے  علامہ اقبال کا خطبۂ  الہ آباد جو اس کتاب کے  حصہ ضمیمہ جات میں  شامل ہے  ، شمال مغربی ہندوستان کے  مسلم اکثریتی صوبوں  کے  ایک ایسے  وفاق پر زور دیتا ہے  جسے  ہندوستان ہی کا حصہ ہونا تھا ۔ یہ اور  بات ہے  کہ حالات اس حصے  کو علیحدہ ہونے  پر مجبور کریں  جیسا کہ بعد میں  عملاً ہوا بھی )۔

علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی دراصل کمزوروں  کے  لئے  دوبارہ طاقتور ہونے  کا ویسا ہی فکری نسخہ ہے  جیسا کہ یورپ کے  بعض مورخین اور مفکرین نے  اپنی قوموں  کی سیاسی پسپائی اور  شکستوں  کے  بعد تعمیرِ نو کے  لئے  بعض ایسے  سیاسی نظریات پیش کئے  جو تنگ نظر قوم پرستی پر منتج ہوئے۔ علامہ اقبال ، ظاہر ہے  کہ ان یورپی مفکروں  سے  بالکل متفق نہیں  تھے۔ ان کے  یہاں  بسا اوقات جمہوریت سے  نفور کے  رجحانات کی عمل داری نظر آتی ہے  اور یہ بر صغیر کے  فرقہ وارانہ مسئلے  کے  حل کے  لئے  جمہوری منطق کے  خلاف رویہ ہے۔ چونکہ وہ برصغیر کے  مسلمانوں  کو ایک ایسی اقلیت خیال کرتے  تھے  جو ہندوستان کے  اکثریتی فرقے  کے  نظریۂ قومیت سے  متفق نہ تھی اور مذہب کو اساسِ قومیت خیال کرتی تھی اور نہ صرف برصغیر کے  تناظر میں  بلکہ ملت مسلمہ کے  رُکن کی حیثیت سے  بھی۔

اقبال کے  یہاں  اجتماعیت کے  جس تصور سے  رغبت ملتی ہے  وہ شرر سے  ستارہ اور ستارے  سے  آفتاب بننا چاہتا ہے۔ یعنی وہ مائل بہ ارتقا ہے۔

دم بہ دم نو آفرینی کار حُر

نغمۂ  پیہم تازہ ریز زِ تارِ حُر

فطرتش زحمت کشِ تکرار نیست

جادۂ او حلقۂ پرکار نیست

(دم بہ دم نئی تخلیق آزاد مرد کا کام ہے۔ اس کے  تار سے  ہر لمحہ نیا نغمہ نکلتا ہے۔ اس کی فطرت تکرار کی زحمت نہیں  اٹھاتی ۔ اس کا راستہ حلقۂ پرکار کی طرح نہیں  ہے۔ )

رومی تقریباً اسی خیال کو ذرا مختلف انداز میں  اس طرح کہتے  ہیں  :

خلق را چوں  آب داں  صاف و زلال

و اندر و تاباں  صفاتِ ذوالجلال

ہر نفس نومی شدن اندر بقا

بے  خبر از نوشدن اندر بقا

کارگاہِ  صبحِ حق درنیستی است

غرۂ ہستی چہ داند نیست چیست

(خلق کو صاف و پاک پانی کی طرح سمجھ جس میں  اللہ تعالیٰ کی صفات چمکتی ہیں  ہر لمحہ بقا کی منزل میں  نوبہ نو جلوے  ہیں  نیستی میں  صبح حق کی کارگاہ ہے  ہستی کا غرور کب یہ جان سکے  گا کہ ’نیست‘ کیا ہے  ؟)

وہ اقبال جو کارگاہ صبحِ حق کو ’نیستی ‘کے  بجائے  ’ہستی ‘ سمجھتا ہے  وہ اجتماعیت کی طاقت میں  اضافے  کو انسانی تہذیب و اقدار کی ترقی ہی سمجھ سکتا ہے۔ اہم یہ نہیں  کہ اقبال رومی اور نطشے  کے  بیک وقت عاشق کیوں  ہیں۔ اہم یہ ہے  کہ اقبال نے  نطشے  کی فکر کے  کون سے  موتی چنے  ہیں اور  کن موتیوں  کو نظر انداز کر دیا ہے۔

حوالہ جات

1)Ariel,Daily Dawn (Karachi ,21 February 2001).

سید وزیر الحسن عابدی ،  ’اقبال کے  شعری مآخذ ۰۰۰ مثنوی روم میں  ‘ (لاہور مجلس ترقی ادب ، ۱۹۷۷ء )

خلیفہ عبد الحکیم ،  ’ رومی نطشے  اور اقبال ‘  ‘مقالاتِ حکیم ‘ جلد دوم (لاہور : ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ ، ۱۹۶۹ء) ص ۲۶۹۔ ۲۷۰

ماخوذ  :  تلاشِ اقبال۔  مطبوعہ ۲۰۰۴ء

 

 

٭٭٭٭

 

 

ڈاکٹر منظر اعجاز

 

مولانا روم

 

 

اقبال کی فلسفیانہ ،حکیمانہ اور شاعرانہ شخصیت کا اہم وصف یہ ہے  کہ انہوں  نے  جس طرح اپنے  اقوال و اشعار اور افکار سے  اپنے  ہمعصروں  اور آئندہ نسلوں  کو متاثر کیا ۔ اسی طرح انہوں  نے  اپنے  متقدمین اور معاصرین کے  صالح اثرات قبول کئے۔ اسی کشادہ قلبی اور وسیع النظری کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ اپنی زندگی ہی میں  بین الاقوامی سطح پر  مشہور و معروف اور مقبولِ خاص و عام ہوئے ۔ اور نہ صرف یہ کہ عالمی سیا ست و تدبر کے  معاملے  میں  ان کے  نام کا شہرہ سات سمندر پار تک ہوا بلکہ انہوں  نے  عالمی ادب میں  بھی اپنا ایک خاص اور اہم مقام بنا لیا ۔ کہا تو جاتا ہے  کہ اقبال جدید ذہن رکھتے  تھے۔ اور جدید مغربی علوم و افکار سے  متاثر تھے  اور ان کا نظام فکر مغربی فکری دھاروں  ہی سے  سیراب ہوا تھا لیکن یہ درست نہیں  ہے۔ اقبال کی ذہنی تعمیر کو سمجھنے  کے  لئے  تین باتوں  کو سمجھنا چاہیے۔ اور وہ تین باتیں  یہ ہیں۔

۱؂ ۔  آریائی نسلی لا شعوری میراث

۲؂۔  خاندانی اسلامی لاشعوری میراث (تصوف کے  ساتھ )

۳؂۔  شعوری مشرقی مغربی اکتسابات ۔

یہ تینوں  دھارے  ہم آہنگ ہو کر اقبال کی ذہنی تشکیل بن جاتے  ہیں۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے  کہ انہوں  نے  مغربی افکار و علوم سے  تحریک حاصل کی تھی اور افکار و علوم کی جانچ پڑتال مشرقی علماء ، حکما ء اور صوفیہ اور فقراء کے  افکار و تصورات کی بنیاد پر کی تھی ۔ انہوں  نے  اس سلسلے  میں  نہ صرف قرآن کریم کی تعلیمات اور سرور کائنات رسول ا کرم ﷺ  کے  ارشادات اور سیرت پاک سے  خاص طور پر استفادہ کیا (جو ان کے  خاندانی اسلامی لاشعور کی دین تھی ) بلکہ آریائی نسلی لاشعوری میراث سے  فائدہ اٹھاتے  ہوئے  روم و تبریز کے  رموز اخذ کئے  اور مشرقی و مغربی فلسفوں  کے  غائر مطالعے  پر اپنے  افکار کی بنیاد رکھی ۔ یہی وجہ ہے  کہ جب ان کے  کلام کو شاعری کا درجہ دیا جانے  لگا اور انہیں  شاعر کہا جانے  لگا تو انہوں  نے  بہت سارے  تردیدی اشعار کہے۔ یہاں  تک کہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں  انہوں  نے  شکایت کی :

من اے  میرِ اممؐ داداز تو خواھم

مرایاراں  غزلخوانے  شمر دند

(میں  اے  میر  اممﷺ آپ سے  داد کا خو است گار ہوں۔ مجھے  میرے  یاروں  نے  محض غزل خواں  سمجھا ہوا ہے۔ )

یا وہ قوم کی شکایت کرتے  ہوئے  کہتے  ہیں  :

اُو حدیث دلبری خواھد زمن

رنگ وآبِ شاعری خواھدزمن

کم نظر بے  تابیِ جانم نہ دید

آشکارم دید وپنہانم نہ دید

(وہ مجھ سے  حدیث دلبری اور رنگ و آبِ شاعری کے  طلب گار ہیں۔ انہوں نے  میری جان کی بے  تابی پر نظر نہ کی ۔ میرے  آشکار ہی کو دیکھا ۔ میرا اندرون نہیں  دیکھا ۔ )

اور اس سلسلے  میں  اقبال نے  اپنی صفائی اس طرح پیش کی :

گر دلم آئینۂ بے  جو ہر است

ور بحر فم غیر قرآں  مضمر است

روز محشر خوار و رسواکن مرا

بے  نصیب از بو سۂ پاکن مرا

(اگر میرے  دل کا آئینہ بے  جوہر ہے  اور اگر میری شاعری میں  قرآن سے  ہٹ کر کوئی بات ہے  تو مجھے  حشر کے  روز خوار اور رسوا کر دیجئے  بلکہ اپنے  پا نو کا بوسہ لینے  سے  بھی مجھے  محروم کر دیجئے۔ )

محولۂ بالا اشعار سے  دو باتیں  واضح ہو تی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اقبال بنیادی طور پر خود کو شاعر نہیں  مانتے ۔ اور شاعر کہے  جانے  پر ہتک محسوس کرتے  ہیں۔ اور دوسری اہم بات یہ ہے  کہ ان کے  اشعار و افکار کا ماخذ قرآن ہے  جسے  تمام تر فصاحت و بلا غت اور معنی آفرینی کے  باوجود بھی کوئی شعری مجموعہ نہیں  کہہ سکتا ۔

اب جن لوگوں  نے  مولانا جلال الدین رومی کے  احوال پر ایک سرسری نظر بھی ڈالی ہو گی انہیں  یہ سمجھنے  میں  دیر نہیں  لگ سکتی کہ اقبال مولانا روم سے  کس حد تک متاثر تھے۔ یہاں  وضاحت کی گنجائش نہیں۔ اگر قول واقعی سچ ہے   کہ ’ عقل مند وں  کے  لئے  اشارہ کافی ہے۔ تو دیکھئے  کہ مولانا روم کیا فرماتے  ہیں  :

از ہم آن کہ ملول نہ شوند ۔ شعری گویم

واللہ کہ من از شعر بیزارم

(اس خطرے  سے  کہ تم لوگ ملول نہ ہو جاؤ میں  شعر کہہ رہا ہوں  ورنہ قسم خدا کی میں  شعر و شاعری سے  بیزار ہوں۔)

مولانا نے  بزبان شعر بھی اس مفہوم کو ادا کیا  ہے  اور اپنی شاعری کے  بنیادی مقصد کو اس طرح بیان کیا ہے  :

من ز قراں  مغز برداشتم

استخواں  پیشِ سگاں  انداختم

(میں  نے  قرآن سے  مغز  اٹھا لیا ہے  اور ہڈیاں  کتوں  کے  سامنے  ڈال دی ہیں۔ )

بقول مولانا اصلاح الدین احمد:

’ مولانا جلال الدین رومی بنیادی طور پر شاعر نہیں  تھے۔ بلکہ ایک مرد مومن تھے۔ جنہیں  علم و فکر ، ذوق و شوق ، سوز و خلوص اور کلام و بیان کے  خزائن عامرہ میں  سے  ایک بہر ئہ عظیم عطا کیا گیا تھا ہی۔ خود اپنی زندگی کو ان مقاصد عالیہ اور ان اقدارِ جلیلہ سے  ہم آہنگ کرنے  کی توفیق بھی ارزانی ہوئی تھی جن کا فروغ ان کا منتہائے  نظر تھا۔ (تصورات اقبال صفحہ ۲۳۷)

اور ولیم سی شٹک (WILLIAM C.CHITTIC) کے  مطابق:

"Jalal al-Din one of the greatest spiritual masters of Islam, is well known in the west and next to al-Ghazzali perhaps the Sufi most studied by western orientalists”

(The Sufi Doctrine of Rumi- An Introduction. P.7)

’ رومی اسلام کے  وحید العصر روحانی پیشوا مغرب میں  الغزالی کے  بعد اہم ترین مفکر مانے  جاتے  ہیں  اور ان کا گہرا مطالعہ مستشرقین کا خصوصی موضوع ہے۔ ‘

آر ۔ کے۔ نکلسن (R.K.NICHOLSON)کے  مطابق :

"To those interested in the history of religion, morals, and culture, in fables and folklore in divinity, philosophy, medicine, astrology and the other branches of mediaeval learning, in eastern poetry and life and manners and human nature, the Mathnawi should not be a sealed book even if it cannot always be an open one.”

(The Mathnaawi of Jalaluddin Rumi. Translation P.17 Gibb  Memorial series, New series IV, 1960. London)

(’وہ لوگ جو مذہبی تاریخ ، اخلاقی اقدار، تہذیب ، حکایات پارینہ اور معاشرتی نغمات ، روحانیت ، فلسفہ ،طب ،علم ہیئت اور عہد وسطیٰ کے  دیگر علوم کے  علاوہ مشرقی شاعری ،معاشرتی معاملات اور فطرتِ انسانی کا مطالعہ کرنا چاہتے  ہیں۔ ان کے  لئے  مثنوی کو بند کتاب نہیں  ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے  کہ وہ اکثر و بیشتر ان پر منکشف نہ ہو ۔ ‘)

مولانا صلاح الدین ، رومی کے  تصور عشق پر تبصرہ کرتے  ہوئے  لکھتے  ہیں  :

’مولانا روم کی نگاہ میں  عاشقِ صادق وہ ہے  جس کا دل گرم ، نگاہ پاک اور روح عملِ خیر کے  لئے  سراپا اضطراب ہو ۔ وہ نہ صرف اللہ پر بلکہ خو د اپنے  آپ پر ایمان رکھے  کہ وہی اس جہانِ گذراں  میں  اس کا نائب اور اس کی مشیّتوں  کا نگراں  ہے۔ تسلیم و رضا اس کا شیوہ ، جانبازی و سرفروشی اس کا شعار اور خدمت خلق اس کی عبادت ہو ۔ ‘(تصورات اقبال صفحہ ۳۳۰)

بقول اقبال :

چہ باید مرد  را طبعِ بلند ے ، مشرب نابے

دلِ گرمے ، نگاہِ پاک بینے  ،جان بیتابے

(مردِ حق کو کیا چاہیے۔ طبع بلند اور مشرب ناب (خالص مشرب) دل گرم ، نگاہ پاک بین اور جان بے  تاب۔ )

مولانا روم کے  اثرات علامہ اقبال پر نو عمری کے  زمانے  سے  ہی مرتب ہونے  لگے  تھے ۔ واقعہ یہ ہے  کہ اقبال صوفی گھرانے  میں  پیدا ہوئے  تھے ۔ اور وہ صوفی گھرانہ بھی نو مسلم تھا۔ جس میں  مذہبی شدت پسندی کے  عناصر شامل تھے۔ اقبال کے  والد محترم شیخ نور محمد صوفی منش اور فقیر مشرب بزرگ تھے ۔ اقبال  کے  بعض محققین اور خود اقبال نے  بھی بعض کرامات ان کی ذاتِ با برکات سے  منسوب کی ہیں۔ اور بقول اقبال بنام جاوید (جاوید اقبال ) :

جس گھر کا  مگر چراغ ہے  تو             ہے  اس کا مذاق عارفانہ  !

اقبال کے  سوانح نگاروں  نے  یہ بھی لکھا ہے  کہ بچپن سے  ہی ہر روز صبح میں  تلاوتِ قرآن اقبال کے  معمول میں  تھی ۔ ایک روز جب اقبال قدرے  ہو ش گوش والے  ہو چکے  تو والد نے  کہا کہ قرآن پڑھو تو یہ سمجھ کر پڑھو کہ تم ہی پر نازل ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالی خو د تم سے  ہمکلام ہے۔ اقبال ان ہی دنوں  اپنے  فاضل وقت میں  والد کی سلائی کی دوکان میں  بیٹھتے  اور وہاں  مثنوی مولانائے  روم کا مطالعہ بھی کرتے  تھے ۔ اپنے  والد کی ان ہی خصوصیات کی بنا پر انہوں  نے  کہا :

اس کی نفرت بھی عمیق اس کی محبت بھی عمیق

قہر بھی اس کا ہے  اللہ کے  بندوں  پہ شفیق

پرورش پاتا ہے  تقلید کی تاریکی میں

ہے  مگر اس کی طبیعت کا تقاضہ تحقیق

انجمن میں  بھی میسر رہی خلوت اس کو

شمع محفل کی طرح سب سے  جدا سب کا رفیق

مثلِ خو رشید سحر فکر کی تابانی میں

بات میں  سادہ و آزادہ معانی میں  دقیق

اس کا انداز نظر اپنے  زمانے  سے  جدا

اس کے  احوال سے  واقف نہیں  پیران طریق

چنانچہ میں  یقین کے  ساتھ کہہ سکتا ہوں  کہ ان ہی دنوں  اقبال نے  قرآن اور مثنوی مولانا روم  کا تقابلی مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا ۔ کیونکہ اس کا جواز پہلے  سے  موجود تھا یعنی:

مثنویِ  مولویِ معنوی

ہست قرآں  در زبان پہلوی

کیونکہ مولانا نے  قرآن کے  معانی و مفاہیم مثنوی میں  سمیٹ لئے  تھے۔ اس طرح انہوں نے  قرآن کی جدید تفسیر منظوم صورت میں  پیش کی اور زمانہ اسی کا متقاضی بھی تھا ۔ علماء اور فقہا کی حالت بقولِ روم کتوں  جیسی تھی ۔ ایسی صورت میں  عوام و خواص نے  مثنویِ  معنوی کو الہامی صحیفے  کا درجہ دیا ۔ یہاں  تک کہ مثنوی نے  عالم اسلام کی سرحدوں  سے  آگے  نکل کر غیر اسلامی دنیا میں  بھی اپنے  اثرات مرتب کئے۔ یہ دور خصوصاً عالم اسلام کے  لئے  ایسا دور تھا جس میں  ملت اسلامیہ عیسائیوں  کی ریشہ دوانیوں  اور چنگیزی قیامت کا شکار ہو کر اپنے  اوپر نشۂ بیخودی طاری کر رہی تھی۔ یہ حالات کی نامساعدت کے  مقابلے  میں  نفیِ حیات کا اظہار تھا ۔ روحانی ، الہیاتی ، تفکر کی فکری مایہ داری کو پھر ایک نئے  چنگیزی چیلنج کا سامنا تھا ۔ جبکہ کچھ ہی زمانہ قبل یونانی مفکر عالم اسلام کے  لئے  چیلنج بنا ہو ا تھا ۔ تو امام غزالی نے  یونانی تفکر کی بنیاد پر یونانی فکری حملے  کا مقابلہ کیا تھا جس کی مثال ان کی گراں  مایہ تصنیفات ’احیا ء العلوم‘ اور ’المنقذمن الضلال‘ ہیں۔ جن کی ادبی گرفت ذہنوں  پر شعری پیرائے  کی گرفت کے  مقابلے  میں  بہر حال کم ہے  اور ایسا ہونا فطری بھی ہے۔ ملت اسلامیہ کی ذہنی حالت ساڑھے  چھ سو سال پہلے  مولانا روم کے  زمانے  میں  ایسی ہی تھی اور پھر مولانا روم کے  ساڑھے  چھ سو سال بعد اقبال کے  عہد کا حال بھی ویسا ہی تھا ۔ اقبال نے  ’ مثنویِ  گلشنِ رازِ جدید‘ کی تمہید میں  یہ بات واضح کر دی ہے  کہ مولانا روم کو چنگیزی قیامت سے  واسطہ پڑا تھا اور میری نگاہ نے  دوسرا انقلاب دیکھا ہے  :

نگاہم انقلابے  دیگرے  دید

طلوعِ آفتا بے  دیگرے  دید

(میری نگاہ نے  دوسرا انقلاب دیکھا        ایک اور ہی طلو ع آفتا ب دیکھا)

ان کے  عہد کی کشمکش کا تناظر رومی اور بو علی سینا کے  اس موازنے  سے  واضح ہوتا ہے  :

بو علی اندر غبارِناقہ گم

دست رومی پردۂ محمل گرفت

( بو علی غبارِ ناقہ میں  گم ہو گئے         اور رومی نے  پردۂ محمل تھام لیا )

یہی وجہ تھی کہ اقبال نے  مولانا روم کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر لیا ۔ مولانا روم زاویۂ وجدان کے  رہبر تسلیم کئے  جاتے  ہیں۔ اور اقبال بھی چونکہ وجدانی اہمیت کے  قائل ہیں  اس لئے  مولانا روم کو وہ وجدانی تصور کے  تحت اپنا مرشد تسلیم کرتے  ہیں۔ غزالی اور مولانا روم کے  عہد کے  جس تناؤ نے  المنقذ اور مثنوی کی تحریک کی تھی اقبال کا عہد بھی اسی تناؤ سے  دو چار تھا ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے  کہ مولانا روم حلقۂ تصوف میں  وحدت الوجود کے  قائل ہیں  اور حافظ بھی۔ لیکن اقبال کا خیال جداگانہ تھا۔

’جبکہ مولانا روم کو اپنا پیر طریقت تسلیم کرتے  ہیں  لیکن فرق یہ ہے  کہ حافظ کی حال مستی عمل میں  مانع ہوتی ہے  اور مولانا روم کی جستجو محرکِ عمل بن جاتی ہے۔ مولانا کا عشق عمل کا محرک جذبہ ہے۔ بقول مولانا اصلاح الدین احمد :

’’مولانا کی اپنی زندگی اسی عشق صادق کی تفسیر تھی ۔ رحم و کرم ، جود و سخا اور مہر و محبت ان کی شخصیت کے  عناصر تھے۔ اور اس کے  ساتھ انہیں  حق پر ستی اور راست بازی کی نعمتِ عظمیٰ اس کثرت سے  عطا ہوئی تھی کہ حق کی پاسداری میں  دنیا کے  بڑے  بڑے  خطرے  کو خاطر میں  نہیں  لاتے  تھے۔ طبیعت کے  انتہائی گداز ہونے  کے  باوجود شجاعت اور اعتمادِ محبت کا یہ عالم تھا کہ جب ہلاکو خاں  کے  سپاہ سالار بیخو خاں  نے  قونیہ پر حملہ کیا تو اسے  محصور کر لیا۔ محاصرے  سے  تنگ آ کر اہل شہر مولانا کی خدمت میں  حاضر ہوئے۔ آ پ نے  ایک بلند ٹیلے  پر جو بیخو خاں  کے  خیمے  کے  عین سامنے  تھا جا کر مصلّے ٰ بچھا دیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی ۔ اہل فوج نے  معاً تیروں  کی بارش کی لیکن مولانا استقلال اور دلجمعی کے  ساتھ مصروف عبادت رہے۔ بیخو خاں نے  خیمے  سے  کئی تیر چلائے  لیکن اسے  ایمان کا اعجاز کہئے  یا عشق کی کرامت کہ مولانا  کو کوئی گزند نہیں  پہنچا اور وہ پورے  خشوع و خضوع کے  ساتھ برابر نماز پڑھتے  رہے۔ بیخو خاں  کے  دل پر اس کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ محاصرہ اٹھا کر چلا گیا۔ (تصوراتِ اقبال صفحہ ۳۳۵)

اقبال مولانا کے  تصور عشق اور ان کی عملی شخصیت سے  بہت ہی متاثر تھے  کیونکہ مولانا کے  عشق میں  بے  عملی کی بجائے  عمل کی حرکت و حرارت ہے۔ اقبال نے  مولانا کے  عشق کو اپنا مطمحِ نظر بنا لیا کیونکہ وہ ایسے  عشق کو کرامت تصور کرتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں :

عشق کی مستی سے  ہے  پیکر گُل تابناک

عشق ہے  صہبائے  خام عشق ہے  کاس الکرام

حالات کی نا مساعدات میں  مولانا روم نے  حیات کے  جس رد عمل کا مظاہر ہ کیا اس کی مثال عجم کے  روایتی صوفیہ میں  ملنی مشکل ہے۔ اس طرح صوفیا نہ میلان کو دو ذہنی رویوں  میں  تقسیم کیا جا سکتا ہے  اور ان  ہی دو ذہنی حالتوں  کا بیان ہم اقبال کی فارسی نظم ’اگر خواہی حیات اندر خطر زی‘ میں  پاتے  ہیں۔ یہ ایک علامتی تمثیلی نظم ہے۔ جو عالم اسلام کے  ذہنی فکری ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بظاہر صحرا میں  د و غزالوں  کے  درمیان کا مکالمہ ہے۔   ؂

غزالی باغزالی دردِ دل گفت

(ایک غزال نے  دوسرے  غزال سے  اپنا دردِ دل بیا ن کیا ۔ )

لیکن حقیقت میں  یہ دو ذہنی صورتِ حال کا بیان ہے۔ الٰہیاتی تفکرات و تصورات  کا جو حال انیسویں  صدی کے  اواخر اور بیسویں  صدی کے  اوائل میں  ہو گیا تھا وہ ایسا ہی تھا جس میں   الٰہیاتی تصورات کی بقا کا امکان مفقود ہوتا جا رہا تھا اور مادی و مثالی فلسفیانہ نظریات   روحانی اور الٰہیاتی تفکر کی فکری مایہ داری کو چیلنج کر رہے  تھے۔ روایات اور فقہہ کے  بندھے  ٹکے  اصولوں  میں  یہ صلاحیت نہیں  تھی کہ وہ موجودہ علوم کا مقابلہ اپنی بنیادوں  پرکر سکیں۔ یہ صورتِ حال ویسی ہی تھی جس میں  غزالی نے  یونانی تفکر کا مقابلہ یونانی فکری بنیاد پر کر کے  ’احیاء العلوم‘ مرتب کی تھی ۔ اقبال نے  بھی ایسی صورتِ حال کا مقابلہ کیا اور انہوں  نے  غزالی کے  ہی اصول کو اپنایا ۔ ان کے  خیال کے  مطابق نا مساعد حالات سے   بھاگ جانا نفیِ حیات ہے۔ کیونکہ حالات کی نامساعدت  رد عمل کی قوت کو بڑھا دیتی ہے۔ اس تناظر میں  نظم کا آغاز ہمارے  ذہن کو فوراً ’ احیا ء العلوم‘ اور’ تشکیل جدید‘ کے  دو غزالوں  سے  ملا دیتا ہے۔ لیکن یہاں  یہ بات توجہ طلب ہے  اور قبل عرض کی جا چکی ہے  کہ امام غزالی کی احیاء العلوم میں  فلسفیانہ اور منطقی خشکی ہے  چنانچہ اس کے  اثرات دیر پا ثابت نہ ہو سکے۔ امام غزالی نے  اس کی خشکی کو اپنی دوسری تصنیف ’المنقذ ‘ سے  دور کرنے  کی کوشش کی تو یہ عہد خود ان کی گوشہ گیری کا تھا ۔ چنانچہ اس میں  عجمی تصوف کا وہی منفی میلان ہے  جس کی مخالفت اپنے  عہد میں  مولانا روم نے  فکری اور عملی دونوں  سطح پر کی ۔ پھر جب اقبال نے  اپنے  عہد کا جائزہ لیا اور مولانا روم ہی کی طرح اس میلان کی مخالفت کی ۔ اس ذہنی اور فکری ماحول کو اقبال نے  اس طرح بیان کیا ہے  :

غزالی با غزالی دردِ دل گفت

ازیں  پس در حرم گیرم کنامی

بصحراصید بنداں  درکمیں  اند

بکامِ آہواں  صبحی نہ شامی

اماں  از فتنۂ صیاد خواہم

دلم اندیشہ ہا آزاد خواہم

(ایک ہرن نے  دوسرے  ہرن سے  کہا بس اب حرم میں  گوشہ گیر ہو جائیں  کیونکہ صحرا میں  شکاری دام الجھائے  بیٹھے  ہیں  اور ہرنوں  کے  لئے  اب نہ صبح ہے  نہ شام ہے۔ فتنۂ صیاد سے  امان ہم ڈھونڈتے  ہیں  اور دل کو تمام اندیشوں سے  آزاد رکھنا چاہئیے ۔ )

اس بند میں  تصوف کا وہی منفی میلان ہے  جس سے  اقبال نے  اختلاف کیا ہے۔ اقبال کا مشورہ ملاحظہ فرمائیں  :

رفیقش گفت اے  یار خردمند

اگر خواہی حیات اندر خطر زی

دمادم خویشتن رابر فساں  زن

زتیغِ پاک گو ہر تیز ترزی

خطر تاب وتواں  را امتحان است

عیار جسم وجاں  را امتحان است

(اس کے  ساتھی نے  کہا کہ اے  عقل مند اگر تو جینا ہی چاہتا ہے  تو خطرات میں  بھی ہر لمحہ خود کو کسوٹی پر رکھتا چلا جا اور تیغ پاک گوہر سے  بڑھ کر جی ۔ خطرہ طاقت کے  لئے  امتحان ہے۔ )

اقبال جس خطر پسندی کی تلقین کرتے  ہیں  عملی طور پر یہ خطر پسندی غزالی یا دوسرے  صوفیا میں  نہ تھی جبکہ مولانا روم نے  تیروں  کی باڑھ پر اپنی زندگی کے  عیار کو تول کر بتا دیا تھا ۔ حیات کی تکمیل عشق کے  بغیر نہیں  ہو سکتی اور عشق جذبۂ ایثار و قربانی کے  بغیر اپنی تکمیل نہیں  کر  سکتا ۔ ارادے  کی پختگی ، عمل کی شدت اور مقصد کی پاکیزگی و طہارت اس میں  شامل ہے  اور ان ہی مجموعی کیفیات کے  اظہار کے  لئے  اقبال نے  علامت کے  طور پر لفظ خودی استعمال کیا ہے۔ آدم کی تخلیقی سرشت میں  یہ عنا صر موجود ہیں  چنانچہ اقبال کہتے  ہیں  :

نعرہ زد عشق کہ خونیں  جگر ے  پیدا شد

حسن لر زید کہ صاحب نظرے  پیدا شد

فطرت آشفت کہ از خاکِ جہانِ مجبور

خودگرے  ، خو د شکنے  ، خود نگرے  پیداشد

(عشق نے  نعرہ لگایا کہ خونیں  جگر پیدا ہو ا حسن لرز اٹھا کہ صاحب نظر پیدا ہو ا۔ فطرت پریشان ہو گئی کہ جہاں  مجبور کی خاک سے  ایک خود گر، خود شکن اور خود نگر پیدا ہو گیا۔ )

مولانا روم شمس تبریز کے  رمز آشنا تھے  چنانچہ بقول صلاح الدین احمد :

’’مولانا کا کلام اسی گرمیِ دل ، اسی حرارتِ عشق ، اسی اعتمادِ ذات اور اسی جذبۂ رضا کا آئینہ دار ہے۔ وہ اس حیات مستعار کو اپنے  طلب کی وسعتوں  میں  سمیٹ لیتے  ہیں  اور اس طرح سے  بسر کر تے  ہیں  اور بسر کرنا سکھا تے  ہیں  کہ خود زندگی زندہ رہنے  والے  کی اسیر ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں  دیکھتے  کہ ہم زندگی سے  کیا کیا لیں  بلکہ وہ یہ دیکھتے  ہیں  کہ ہم زندگی کو کیا کچھ دیں ‘‘ :

(تصوراتِ اقبال صفحہ ۳۳۱)

مولانا روم انسانیت کے  جملہ امراض کا علاجِ واحد عشق کو سمجھتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  :

شاد باش اے  عشق خو ش سو دائے  ما

اے  طبیبِِ جملہ علت ہائے  ما

(خوش ہو اے  عشقِ خوش سودا مرے            اے  مری تمام بیماریوں  کے  طبیب)

جسمِ خاک از عشق بر افلاک شد

کوہ در رقص آمد و چالاک

(خاکی جسم عشق کے  فیض سے  افلاک پر پہونچ گیا ۔ پہاڑ رقص کرتا ہوا چست  و چالاک ہو گیا)

عشق جانِ طور آمد عاشقا

طورمست و خرّ  موسیٰ صائقا

(عشق جانِ طور بن گیا اے  عاشق!طور مست ہو گیا اور موسیٰ بے  ہو ش ہو کر گر پڑے  )

بالبِ دم ساز خودگر جفتمی

ہمچو نے  من گفتنی ہا گفتنی

(اگر لب دم ساز کو میں  بانسری سے  ملاؤں  تو تمام گفتنی باتیں  کہہ ڈالوں ۔ )

بشنواز نے  چوں  حکایت می کند

وز جدائی ہا شکایت می کند

(سنو تو بانسری کیا حکایت سنا رہی ہے۔ وہ تو جدائی کی شکایت کر رہی ہے۔ )

سینہ خواہم شرح شرح از فراق

تابگویم شرحِ دردِ اشتیاق

(میرا سینہ فراق میں  چھلنی چھلنی ہو گیا ہے  تاکہ اپنا دردِ اشتیاق بیان کر سکوں ۔ )

یہ مولانا روم کے  اشعار ہیں  جن سے  ان کے  تصور عشق پر روشنی پڑتی ہے۔ روایتی صوفیا عشق میں  وصال کے  قائل ہیں  لیکن مولانا روم فراق پر زور دیتے  ہیں  کیونکہ حالات کی نامساعدت میں  عالمِ فراق بھی غنیمت ہے۔ مولانا روم کے  اس وجدانی تصور کو مرتب کرنے  میں  شمس تبریز کی صحبتوں  کا اہم رول تھا ۔ اقبال اپنے  آپ کو شمس تبریز اور مولانا روم دونوں  کا رمز آشنا بتا تے  ہیں ۔ اقبال کہتے  ہیں  :

مرا بنگر کہ در ہندوستاں  دیگر نمی بینی       برہمن زادۂ رمز آشنائے  روم وتبریز است

(مجھے  دیکھ کہ ہندوستان میں  مجھ جیسا کو ئی اور برہمن زادہ رمز آشنائے  روم و تبریز نہیں  ملے  گا۔ )

اس لئے  اقبال بھی مولانا روم کی طرح عشق کی کیفیت میں  فراق ہی کو ترجیح دیتے  ہیں  :

عالم سوز و ساز میں  وصل سے  بڑھ کے  ہے  فراق

وصل میں  مرگِ آرزو ہجر میں  لذت طلب

عینِ وصال میں  مجھے  حوصلۂ نظر نہ تھا

گرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہِ بے  ادب

گرمیٔ آرزو فراق شورش ہائے  و ہو فراق

موج کی جستجو فراق ،قطرہ کی آبرو فراق

پہلا تاثر ،آخری تاثر والی بات اقبال پر بھی صادق آتی ہے۔ کم عمری کے  زمانے  سے  ہی مولانا روم ، اقبال کے  دل و دماغ پر چھانے  لگے  تھے۔ چنانچہ ’بانگ درا‘ اور ’پیام مشرق‘ میں  بھی مولانا موجود ہیں  اور ’زبور عجم‘ میں  پوری قوت و توانائی کے  ساتھ ان کا ظہور ہوتا ہے  :

راز معنی مر شد رومی کشود

فکر من بر آستانش در سجود

(معنی کا راز مرشدِ رومی نے  مجھ پر کھولا ۔ میری فکر ان کے  آستاں  پر سر بہ سجود ہے۔ )

اقبال میں  شخصیت کے  تحفظ  اور ارتقاء کی امنگ جگانے  والے  رومی ہی تھے۔ دوسری گول میز کانفرنس (لندن ) سے  جب اقبال بد دل ہوئے  تو اس وقت بھی مولانا روم کے  کلام نے  انہیں  سنبھالا اور

مولانا روم کی عظمت کا سکہ ان کے  دل پر بٹھا دیا:

ہم خو گرِ محسوس ہیں  ساحل کے  خریدار

اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے  رومی

اقبال کا عصر جن انقلابات کے  اثرات کا آئنہ دار تھا ان میں  ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ برطانوی نو آبادیاتی نظام میں  خلل آ رہا تھا ۔ شخصی حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی ۔ صنعتی ، سیاسی اور مذہبی انقلابات رونما ہونے  لگے  تھے  اور مختلف حالات میں  کامیابیاں  حاصل کر رہے  تھے ۔ سرمایہ داری اور اشتراکیت کے  درمیان کی کشاکش ایک نئے  مخلوط معاشی نظام کے  تصور کو جنم دے  رہی تھی اور صورت حال بقول اقبال یہ تھی :

گیا دورِ سرمایہ داری گیا

تماشہ دکھا کر مداری گیا

گراں خواب چینی سنبھلنے  لگے

ہمالہ کے  چشمے  ابلنے  لگے

دلِ طور سینا و فاراں  دونیم

تجلی کا پھر منتظر ہے  کلیم

یہ صورتِ حال ایسی تھی جو اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ انسانیت پھر ایک بار ا تھاہ سناٹے  سے  دوچار ہونے  والی ہے  جہاں  آگے  کی راہ کا کوئی تعین ممکن نہ ہو گا اور پھر وجدان،روحانی اور اخلاقی اقدار ہی انسانیت کے  ارتقائی سفر کو آگے  بڑھا نے  کا کارنامہ انجام دیں  گے۔ انہوں  نے  اس ماحول کو دیکھتے  ہوئے  کہا تھا :

تمہاری تہذیب اپنے  خنجر سے  آپ ہی خود کشی کرے  گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے  گا ، نا پائیدار ہو گا

اقبال صرف اتنا ہی کہہ کر ر ک نہیں  گئے  تھے۔ انہوں  نے  اس دیرینہ بیماری اور اس دل کی نا محکمی کا علاج بھی اسی آبِ نشاط انگیز کو بتایا جس سے  شمس تبریز اور مولانا جلال الدین رومی سرشار تھے  :

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے  ساقی

جدید سائنسی طلسم اور اس کے  اثرات و نتائج  پر جن لوگوں  کی نگاہ ہے  وہ اس غزل کو عصرِ حاضر کی روشنی میں  محسوس کر سکتے  ہیں  :

دگرگوں  ہے  جہاں تاروں  کی گردش تیز ہے  ساقی

دل ہر ذرہ میں  غوغائے  رستا خیز ہے  ساقی

متاعِ دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں  کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں  ریز ہے  ساقی

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے  ساقی

حرم کے  دل میں  سوز آرزو پیدا نہیں  ہوتا

کہ پیدا ئی تری اب تک حجاب آمیز ہے  ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے  لالہ زاروں  سے

وہی آب و گلِ ایراں  ، وہی تبریز ہے  ساقی

نہیں  ہے  نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں  سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے  ساقی

اقبال نے  جس قدر مولانا  روم کا اثر قبول کیا اس قدر مشرق و مغرب کے  کسی بھی مفکر یا شاعر کا اثر قبول نہیں  کیا اور مولانا روم کی یہ اثر پذیری اقبال کے  نزدیک صرف اس وجہ سے  نہیں  ہے  کہ وہ ایک عظیم مفکر یا شاعر ہیں۔ بلکہ مولانا روم کے  یہاں  فکر و عمل میں  کلی ربط ہے۔ وہ اپنے  افکار کی تشریح و تفسیر اپنے  اعمال سے  کرتے  ہیں۔ اور اقبال کو مولانا کا یہی پہلو سب سے  زیادہ متاثر کرتا ہے  اور وہ مولانا روم کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر لیتے  ہیں۔ انہیں  مولانا سے  غیر معمولی عقیدت اور داخلی ربط ہے ۔ اقبال نے  نہ صرف یہ کہ بالِ جبریل  کی نظم مریدِ ہندی اور مرشد رومی میں  خود کو مرید اور مولانا کو مرشد قرار دیا ہے۔ بلکہ مولانا کی مثنوی کی تقلید اس طرح کی ہے  کہ اسی زمین اور  اسی بحر میں  ’ اسرار و رموز ‘ اور ’ جاوید نامہ ‘ کی تخلیق کی۔ اسرار خودی کے  آغاز میں  انتساب  کے  طور پر مولانا کی ایک غزل کے  تین اشعار شامل کئے  اور اپنے  اشعار و اقوال کے  ذریعہ بہت سارے  مواقع و مراحل پر اس امر کا کھلے  دل سے  اعتراف و اظہار کیا کہ رومی ؔ ان کے  مرشدِ معنوی ہیں  اور بصارت و بصیرت کی ساری منزلیں  انہوں  نے  مولانا روم کی ہی روحانی رہنمائی میں  طے  کی ہیں۔

ماخوذ از : ۔  اقبال۔ عصری تناظر۔ مئی ۱۹۹۶ء

 

****

 

 

 

 

مولانا رضوان القاسمی مرحوم

 

 

یادداشت بابت

’’میرِ  عربؐ  کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں  سے ‘‘

 

(ساؤتھ  آفریقہ سے  اقبال ریویو کے  ایک قاری کے  استفسار پر مولانا رضوان القاسمی مرحوم نے  یہ نوٹ تحریر فرمایا تھا جو قارئین کی خدمت میں  پیش کیا جا رہا ہے )

۔ ۔ ۔

علامہ اقبالؒ نے  ’’ہندوستانی بچوں  کے  قومی گیت‘‘ کے  عنوان سے  جو نظم کہی ہے  اس کا ایک مصرعہ یہ ہے :

میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں  سے

(کلیاتِ اقبالؔ، حصہ بانگ درا: ص ۷۲، مرکزی مکتبہ اسلامی، نئی دہلی)

اگرچہ بانگِ درا کے  شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے  لکھا ہے  کہ ’’اس میں  آنحضرتﷺ کی حدیث کی طرف اشارہ ہے  کہ آپ ﷺ نے  ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ’’مجھے  ہندوستان سے  توحید کی خوشبو آتی ہے ‘‘ لیکن چشتی صاحب نے  جن احادیث اور آثار کو بنیاد بنایا ہے ، ان میں  صراحتاً ’’توحید‘‘ کا لفظ نہیں  ہے، ہاں ! معنی خوشبو کا لحاظ کرتے  ہوئے  احادیث اور آثار میں  جو الفاظ آئے  ہیں  ان سے  توحید اور ایمان کا اشارہ حاصل کیا  جا سکتا ہے ۔

سید غلام علی آزاد بلگرامی کی ایک کتاب ’’سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان‘‘ کے  نام سے  ہے، یہ اپنے  موضوع پر اہم اور وقیع کتاب ہے، اور ہندوستان کے  موضوع پر لکھتے  ہوئے  کوئی محقق اور مورخ اس کتاب سے  بے  نیاز نہیں  ہو سکتا، اس کتاب کے  ابتدائی صفحات کے  مطالعہ سے  یہ معلوم ہوتا ہے  کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ السلام جب فیصلہ خداوندی کے  تحت جنت سے  زمین پر تشریف لائے  تو یہ مقام ’’سراندیپ‘‘ کا تھا۔ آزاد بلگرامی اور دوسرے  محققین نے  تفصیل سے  اس کا ذکر کیا ہے  کہ حضرت آدمؑ جنت سے  اپنے  ہمراہ کن چیزوں  کو لے  کر اترے  تھے، ان چیزوں  میں  خوشبو کی قبیل کی جن چیزوں  کا ذکر ملتا ہے  وہ یہ ہیں :

۱۔ عود، ۲۔ صندل، ۳۔ مشک، ۴۔ عنبر، ۵۔ کافور،

کیا عجب کہ ’’ابو البشرؑ‘‘ سے  غیبی نظام کے  تحت یہ بات، ’’خیر البشرؐ‘‘ تک پہنچتی ہو، اور آپﷺ نے  کسی خاص موقع پر ارشاد فرمایا ہو کہ ہندوستان کی سرزمین سے  مجھے  خوشبو آ رہی ہے، یہ خوشبو مادی اور ظاہری حیثیت کی بھی ہو سکتی ہے  جس سے  مشامِ جاں  تازہ اور معطر ہوا کرتا ہے، اور ایمان و توحید کی روحانی اور غیر مرئی خوشبو بھی ہو سکتی ہے ، جو ہندوستان جیسے  کفر و شرک زدہ علاقہ میں  صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور اسلاف و اکابر کے  ذریعے  پھیلنے  والی تھی، جو پھیل کر رہی، اور بعد کے  تاریخی احوال اور آثار نے  اس احساسِ نبویؐ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

روحانی احساس، یقین اور ایمان کی بنیاد پر ابھرتا اور اجاگر ہوتا ہے، اس کے  لیے  انبیاء اور روحانی شخصیتوں  کی بہت ساری مثالیں  پیش کی جا سکتی ہیں، تاہم قرآن کریم میں  حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے  بیٹے  حضرت یوسف علیہ السلام کے  واقعہ کے  ذیل میں  جو  بیان ہوا  ہے  کہ حضرت یوسف ؑ کے  کرتہ کی خوشبو بہت دور دراز مسافت سے  سے  انہیں  آنے  لگی تی، جب کہ ان کے  پاس میں  رہنے  والے  بیٹے  ان کے  اس احساس کو غلط قرار دے  رہے  تھے، تاہم ان کے  اندر کا یقین بول رہا تھا کہ یہ جو کچھ میں  بیان کر رہا ہوں  ناقابلِ تردید حقیقت ہے، پھر ہوا یہی کہ جو کچھ حضرت یعقوبؑ نے  بیان کیا تھا وہ ہو کر رہا، اور جب حضرت یوسف ؑ کا کرتہ نگا ہوں  کے  سامنے  آ گیا تو ان کے  ان بیٹوں  نے  بھی اس سچائی کے  اعتراف پر اپنے  آپ کو مجبور پایا۔ گویا:

بُعدِ مسافت نہ بود در سفرِ روحانی

روحانی سفر میں  زمان و مکان حائل نہیں  ہوا کرتا، اور نبیؐ اپنی آنکھوں  سے  اپنے  دور میں  وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے  جسے  دور کے  لوگ نہیں  دیکھ سکتے، نبیؐ کی پیش گوئیاں  بھی اسی قبیل کی ہیں، اور بعد میں  آنے  والے  حالات کی اطلاع بھی اسی نوعیت کی ہے ۔

ان اجمالی مباحث کے  بعد یہ عرض ہے  کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے  حضرت علی رضی اللہ عنہ سے  منسوب کر کے  یہ قول نقل کیا ہے  ’’أطیب ریحا أرض الھند‘‘ ہندوستان پاکیزہ ترین خوشبو والا ملک ہے ۔ (ابن عسا کربحوالہ المرجان فی آثار ہندوستان، صفحہ ۳۱)

بعض لوگوں  نے  اس قول کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کیا ہے  لیکن مشہور محقق، مورخ، اور سیرت نگار مولانا سید سلیمان ندویؒ نے  لکھا ہے  کہ

’’یہ تمام روایتیں  فنِ حدیث کے  لحاظ سے  بہت کم درجہ کی ہیں ۔ ‘‘ (عرب و دیار ہند، از مولانا خواجہ بہاء الدین ا کرمی ندوی، صفحہ ۱۳)

آخر میں  اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے  کہ علامہ اقبالؒ اپنے  دور میں  عظیم شاعر کی حیثیت ہی سے  نہیں  اُبھرے  تھے  بلکہ ادیان و مذاہب کی تاریخ پر بھی ان کی گہری نظر تھی، وہ تاریخی شعور بھی رکھتے  تھے  اور تاریخی واقعات کو قرینہ اور سلیقہ سے  پیش کرنے  کا انہیں  فن بھی آتا تھا۔ اقبالؔ نے  بیشمار تاریخی واقعات کو اشعار میں  اپنے  گہرے  فلسفیانہ شعور کے  ساتھ جو سمویا ہے ، وہ انہیں  اپنے  معاصر شعراء کے  درمیان امتیاز بخشتا ہے، اور اس معاملہ میں  ان کا کوئی ہم عصر ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں  کر سکتا۔

’’میر عرب ؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں  سے  ‘‘ ۔ ۔ ۔  اس زبردست تلمیحاتی مصرعہ سے  اقبالؔ نے  ہندوستان کی عظمت کوکہاں  سے  کہاں  تک پہنچایا، ہندوستان سے  متعلق جتنے  قومی گیت اور ترانے  ہیں  وہ سب ایک طرف اور اقبال ؔ کا یہ مصرعہ ایک طرف، اقبال ؔ کا یہ مصرعہ باشندگانِ ہند کی ذمہ داریوں  کو یاد دلاتا ہے  کہ اس طرح سے  مل جل کر رہیں  کہ سب کی آنکھیں  ٹھنڈی ہوں، اور داعیانِ توحید بھی اپنے  فرائض کی تکمیل میں  سرگرم عمل رہیں ۔

 

٭٭٭٭

 

 

پروفیسر بشر احمد نحویؔ

ڈائرکٹر اقبال انسٹی ٹیوٹ

کشمیر یونیورسٹی، سری نگر

 

پروفیسر سید سراج الدین۔ ۔ ۔ چند یادیں، چند باتیں

 

اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی اپنے  یوم آغاز سے  بلند پایہ شخصیات  کی موجودگی اور ادارے  میں  ان کی خدمات سے  معمور و مسرور رہا ہے ۔ پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر عبدالحق، پروفیسر عالم خوندمیری، پروفیسر مسعود حسین خان، پروفیسر کبیر احمد جائسی، پروفیسر آنا میری شمل، پروفیسر صبیح احمد کمال، پروفیسر مرغوب بانہالی، پروفیسر محمد عبداللہ شیدا، پروفیسر محمد امین اندرابی اور مرحوم پروفیسر سید سراج الدین، اقبال انسٹی ٹیوٹ کے  ساتھ طویل اور قلیل مدت تک وابستہ رہے  اور ان برگزیدہ، ہستیوں  نے  اپنے  وسیع تجربات، مطالعات اور مشاہدات سے  ادارے   کا نام سربلند کرنے  میں  اپنا اپنا حصہ ادا کیا ۔ شخصیات کی اس کہکشاں  میں  پروفیسر سید سراج الدین (حیدرآباد) میرے  ان کرم فرما بزرگ دوستوں  میں  سے  تھے، جنہیں  پروفیسر سرور مرحوم نے  توسیعی خطبات مرحمت  فرمانے  کے  لیے  کشمیر آنے  کی دعوت دی تھی۔ یہ سال ۱۹۸۵ء کی بات ہے  کہ سراج صاحب چند مہینوں  کے  لیے  کشمیر تشریف لائے ۔ میں  ان دنوں  ’’تصوف اور اقبال‘‘ کے  موضوع پر مواد اکٹھا کر رہا تھا۔ سید صاحب بنیادی طور پر انگریزی ادب کے  استاد تھے، لیکن فارسی اور اردو ادبیات پر ان کی گہری نظر کا مجھے  اس وقت اندازہ ہوا، جب  آپ نے  رسالۂ قشیریہ سے  لے  کر ابواللیث صدیقی کی کتاب اقبال اور مسلک تصوف، تک درجنوں  کتابوں   کے  نام ان کے  مصنفین سمیت دہرائے  جو میرے  موضوع سے  تعلق رکھتی تھی۔ ۲ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو ہم ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی ایک ڈیلکس بس سے  انسٹی ٹیوٹ کے  جملہ محققین کے  ہمراہ پکنک پر پہلگام گئے ، یہ ایک یادگار دن تھا جب سرور صاحب اور سراج صاحب جیسی سربرآوردہ شخصیتوں  کی معیت میں  مناظر فطرت سے  لطف اندوز ہونے  کا ہمیں  موقع فراہم ہوا۔ دن بھر مناظر و مظاہر کے  حوالے  سے  ہم نے  بیت بازی کی اور مجھے  یاد آ رہا ہے  کہ جب میں  نے  عرشؔ ملیسیانی، چکبستؔ لکھنوی، شمیم کرہانی اور عابدؔ مناوری کے  وہ اشعار سنائے  جو کشمیر کے  حوالے  سے  لکھے  گئے  ہیں، تو سراج صاحب نے  داد و تحسین کے  ایسے  جملے  دہرائے، جو اب بھی میرے  لوحِ ذہن پر محفوظ ہیں ۔ سید سراج الدین صاحب نے  پہلگام کی رنگینی اور رعنائی سے  متاثر ہو کر لدرؔ کے  کنارے  گھومتے  گھومتے  کہا کہ ’’کاش ولیم وارڈس ورتھ ایک بار ان مناظر کو دیکھتا ان کی فطرت شناس شاعری کا حلیہ ہی بدل گیا ہوتا۔ ‘‘

پروفیسر سراج صاحب کی نرم مزاجی، نازک خیالی، سادگی، خدا ترسی اور اقبال کے  ساتھ ان کی بے  پناہ وابستگی مجھے  ان کی طرف روز بروز مائل کرتی ہیں  چنانچہ ہم شام کے  اوقات میں  ڈل جھیل کی سیر کرنے  اور لال چوک کی گہما گہمی کی مشاہدہ کرنے  ایک ساتھ جاتے  تھے ۔ ایک دن ریگل چوک سرینگر میں   مشر وبات کی دکان پر میں  نے  سراج صاحب کو مینگو شیک کا ایک بڑا گلاس پلایا، چنانچہ مرحوم کئی دن تک شدتِ تمازت میں  نوش کئے  اس مشروب کا شکریہ آدابِ کلام کے  جملہ محاسن کے  ساتھ کیا کرتے  تھے  اور دوسری بار مغل دربار ریستوران میں  مرغ اور نان تناول فرما کر سراج صاحب اس قدر ممنون رہے  کہ مناظر قدرت، مہمان نوازی اور خطۂ گل کے  لوگوں  کی دلربائی کا ذکر کرتے  ہوئے  عرفیؔ کا یہ شعر بار بار دہراتے  تھے   ؂

کاں  سوختہ جانے  کہ بہ کشمیرؔ در آید

گر مرغ کباب است بے  بال و پر آید

سید سراج الدین مرحوم ایک بار میرے  ساتھ مغل باغات دیکھنے  گئے ۔ مجھے  اچھی طرح یاد ہے  کہ پرانی اینٹوں، پتھروں، سبزہ زاروں  اور چناروں  کو دیکھ کر ان کا اندازِ گفتار دیوانگی کی حدوں  تک چلایا گیا۔ سراج صاحب کی زندگی کے  اس پہلو کی عکاسی کرتے  ہوئے  ڈاکٹر محمد نعیم الدین پروفیسر معاشیات عثمانیہ یونیورسٹی نے  سید سراج الدین کی وفاتِ حسرت آیات پر اپنے  تاثراتی نوعیت کے  مضمون میں  لکھا ہے

’’سراج صاحب ایک اچھے  آرٹسٹ بھی تھے ۔ ان کو قدرتی مناظر، درخت، پہاڑ، پرانی عمارتوں  کی تصویر کشی بڑی پسند تھی۔ ان کی اپنی بنائی ہوئی چند تصاویر کو انہوں  نے  اپنے  دیوان خانے  میں  لگا رکھا تھا۔ ایک ایسے  آدمی کہ جس نے  مصوری باقاعدہ نہ سیکھی ہو، اتنی اچھی تصاویر بنانا حیرت انگیز تھا۔ ان کی پسندیدہ تصویر ایک چھوٹی ٹوٹی پھوٹی پرانی مسجد کی ہے، جو انہوں  نے  بہت پہلے  بنائی تھی اور اس کو محفوظ رکھا تھا۔ مناظر سے  لطف اندوز ہوتے  اور اچھے  مناظر سے  متاثر ہوتے  تھے  اور گھنٹوں  ان میں  گم ہو جاتے  تھے  وہ کہا کرتے  تھے  کہ سوئٹزرلینڈ کے  مناظر بے  حد خوبصورت ہیں  مگر وہ اتنے  Rich ہیں  کہ تھوڑی دیر کے  بعد آدمی ان سے  چھک جاتا ہے، ہمارے  مناظر سے  دل کبھی نہیں  بھرتا۔ ‘‘

پروفیسر سراج صاحب کا قیام کشمیر اگر چہ چند مہینوں  کا تھا، لیکن مجھے  ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے  ساتھ میرے  مراسم کئی عشروں  سے  قائم و دائم تھے ۔ ہر قدم پر حوصلہ افزائی، رہنمائی، علمی فراخدلی، عالی ظرفی اور مروت کا مظاہرہ ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ ریاکاری، مداہنت اور نخوت سے  کوسوں  دور یہ شخص اقبال کے  الفاظ میں  ’’مسلماں  کے  لہو میں  ہے ۔ سلیقہ دلنوازی کا ‘‘ عملی نمونہ اور بقول ایک اور شاعر ’’ابھی اگلی شرافت کے  نمونے  پائے  جاتے  ہیں  ‘‘ کا بین ثبوت تھا۔ سراج صاحب سے  اپنی یادوں  کا ذکر کرتے  ہوئے  ہمارے  جید نقاد شمس الرحمان فاروقی صاحب نے  بہت خوب لکھا ہے  اور بجا لکھا ہے ۔

’’سراج الدین صاحب نے  صرف یہ کہ اپنے  علم کی نہیں  نمائش کرتے  تھے  بلکہ وہ صحیح معنی ہیں  منکسر المزاج تھے  اور اس سے  بڑی بات یہ کہ دوستوں  کا لحاظ اور دوستوں  کی خوبیوں کا احترام بھی ان کے  مزاج کا حصہ تھا۔ لہذا وہ دوستوں  کی تحریروں  کے  شائق رہتے  اور انہیں  کھل کر داد دیتے   تھے  اور اپنے  بارے  میں  کسی سے  توقع نہ رکھتے  تھے ۔ یہ وسیع النظری اور پاسِ مروت اب ہمارے  لکھنے  والوں  میں  تقریباً نایاب ہے ۔ ایسا نہیں  کہ ان کی قدر نہیں  ہوئی یا توقع ہے  سے  کم ہوئی۔ لیکن  ان کی کسی بات سے  یہ تاثر نہیں  پیدا ہوتا تھا کہ وہ کچھ زیادہ کے  متوقع تھے، یا جیسا کہ  آجکل اکثر لوگوں  کا شیوہ ہے۔ انہیں معاصرین سے  نا قدردانی کی شکایت کبھی نہ ہوئی۔ ان میں  ایک طرح کی درویشی اور بے  نیازی تھی۔ اس کے  ساتھ ساتھ سرچشمی  اور فیاضی بھی ان کے  مزاج  میں  بہت تھی۔ ’’شبِ خون‘‘ کی محفلوں  میں  وہ بہت دیر میں  شریک ہوئے ۔ لیکن انہوں  نے  اکثر کہا اور لکھا بھی کہ ’’شب خون‘‘ میں  اشاعت کے  باعث ان کے  پڑھنے  والوں  کی تعداد میں  بہت اضافہ ہوا ہے ۔ خصوصاً شمال ہند اور بیرون ملک میں  زیادہ تر لوگ انہیں  ’’شب خون ‘‘ کے  حوالے  سے  جانتے  تھے ۔ یہ ان کا کہنا تھا اور میں  ان سے  ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ آپ کی تحریروں  کے  باعث علمی حلقوں  میں  ’’شب خون‘‘ کی قدر بڑھی ہے ۔ ‘‘

مجھے  ۳۱! اکتوبر ۱۹۸۵ء کی وہ ادبی نشست یاد آ رہی ہے  جو سرور صاحب مرحوم نے  سراج صاحب کے  اعزاز  میں  آراستہ کی تھی اور جس میں  یونیورسٹی کے  نامور اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ محفل میں  اقبال انسٹی ٹیوٹ کے  محققین، اساتذہ،سرور صاحب اور دیگر شعبوں  کے  علم دوست حضرات موجود تھے ۔ علمی و ادبی تقاریر سے  فراغت کے  بعد سید سراج الدین نے  ایک آزاد نظم سنائی، جس میں  انسٹی ٹیوٹ کے  اسکالروں، پروفیسر آل احمد سرور کی شخصیت کی رعنائیوں  اور سید سراج الدین کی کشمیر سے  دلچسپیوں  کا ذکر خیر کیا گیا تھا۔ محفل میں  نظم کو کافی سراہا گیا اور خوش قسمتی سے  اب تک وہ پوری نظم میرے  حافظے  میں  محفوظ ہے  اور پہلی بار سپرد قلم بھی ہو رہی ہے ۔ مرحوم سراج صاحب یوں  رطب اللسان ہوئے ۔

چند نوجواں،

میزوں ، کتابوں  اور الماریوں  کے  درمیاں

کچھ لڑکیاں

رفتار میں  سرو کارواں

گفتار میں  شیریں  بیاں

لوح و قلم کی پاسباں

اور ان سب سے  الگ

اک میز پر، اک پیرِ دانا

ایک مرد معتبر، علم کے  ہر پیچ و خم سے  باخبر

جس کی آنکھوں  میں  ہے  شعلہ عشق کا

جس کے  بالوں  میں ہے  پیری کا دھواں

خوش طبیعت، خوش بیاں

پیرانہ سالی میں  جواں

میں  نے  بھی گردش میں  لائے  ہیں  یہاں  جام و سبو

رندوں  سے  کی ہے  دوستی، شیخوں  کی صحبت میں عیاں

ہیں  کہ وابستہ دکنؔ کی خاک سے  اے  میری جاں

وہ چٹانوں  کی زمیں

وہ آم اور املی کا دیس

وہ مروت کا نشیمن، وہ دیارِ دوستاں

یاد رکھنا، اے  کِ شیر[1]، اے  وادیِ جنت نشاں

کشمیر میں  نامساعد حالات کے  سبب اقبال انسٹی ٹیوٹ کا رابطہ بڑی حد تک معروف علمی شخصیات سے  منقطع ہو کر رہ گیا تھا، لیکن خدا کے  فضل سے  گذشتہ پانچ چھ برسوں  میں  سمیناروں، اور توسیعی خطبوں  کے  سلسلے  میں ہم نے  کئی اصحاب علم و دانش کو سرینگر بلایا اور ان سے  مقالات پڑھوائے  اور توسیعی خطبات دلوائے ۔ گذشتہ سال جولائی کے  مہینے  میں  دو روزہ بین الاقوامی سمینار کے  انعقاد کا ہم نے  پروگرام مرتب کیا تھا اور اس سلسلے  میں  ٹیلیفون پر سید سراج الدین صاحب سے  بھی رابطہ قائم کیا تھا۔ اپنی شیرین اور ملائم زبان میں  سید صاحب نے  کشمیر آنے  کی دعوت قبول کر لی تھی اور وہ اپنے  اہل خانہ کے  ساتھ آنے  کی خواہش بھی ظاہر کر چکے  تھے ۔ میں  نے  ان کے  لیے  اپنے  ایک دوست کے  ہاؤس بوٹ میں  قیام کا انتظام بھی کرا دیا تھا، چنانچہ چند نامساعد حالات کے  پیش نظر یہیں  وہ سمینار  التوا میں  رکھنا پڑا اور التوا کی یہ اطلاع ہم مدعو مہمانوں  کو بذریعہ ٹیلیفون ارسال کر رہے  تھے  کہ میں  نے  سراج صاحب کے  فون نمبر پر رابطہ کیا اور ان کے  گھر پر ایک خاتون نے  یہ درد انگیز خبر سنائی وہ، داعی اجل کو لبیک کہہ گئے  ہیں    ؂

آنکھ پر ہوتا ہے  جب یہ سرِّ مجبوری عیاں

خشک ہو جاتا ہے  دل میں  اشک کا سیل رواں

یہ خبر سن کر میں  اشکبار ہو گیا، لیکن ایک اطمینان کا سامان میرے  پاس موجود تھا کہ مرحوم سراج صاحب نے  ڈاکٹر نذیر احمد شیخ سینئر لکچرار اردو ڈگری کالج بائز  بارہمولہ کے  ہاتھ ایک نادر تحفہ عنایت فرمایا تھا اور وہ ہے  اقبال کے  جاوید نامہ کا منظوم آزاد ترجمہ۔ آپ نے  اپنے  ایک خط میں  جو اسی مسودے  کے  ساتھ شامل تھا، یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اس ترجمے  کو اقبال اکیڈیمی حیدرآباد کے  مالی اشتراک سے  شائع کیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ راقم نے  یونیورسٹی کے  وائس چانسلر پروفیسر عبدالواحد قریشی کو ا س نادر ترجمہ کی اشاعت کے  بارے  میں  ایک نوٹ پیش کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جاوید نامہ کا یہ منظوم ترجمہ بحسن و خوبی زیور کتابت و طباعت سے  آراستہ ہونا چاہئے  اللہ کا شکر ہے  کہ کمپوزنگ کے  مرحلے  سے  نکل کر عنقریب یہ کتابی شکل میں  شائع ہو رہا ہے  اور شیدایانِ ادب اس کتاب سے  مستفید و محظوظ ہونگے۔

اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی خالصۃً ایک تحقیقی ادارہ ہے  اور اس میں  آج تک پچاس اسکالرز ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں  مختلف عنوانات پر تحقیقی کام انجام دینے  کے  حوالے  سے  حاصل کر چکے  ہیں ۔ فکری اور فنی موضوعات پر مقالات لکھوانے  کے  ساتھ ماہرینِ اقبالیات کی شخصیت اور خدمات پر بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے  مقالے  تحریر کروائے  جاتے  ہیں ۔ ادارے  کی ریسرچ کمیٹی نے  متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا ہے  کہ اگلے  سال پروفیسر سید سراج الدین کی اقبال شناسی کے  موضوع پر ایک مبسوط تحقیقی مقالہ لکھوا کر حیدرآباد کی مردم خیز بستی کے  اس بطل جلیل کی خدمات کے  تئیں  عقیدت کا اظہار ہو اور جن پاکیزہ اور صالح قدروں  کے  احیاء و بقا  کے  لیے  انہوں  نے  اپنی زندگی وقف کر دی تھی، ان اقدار کی بازیافت ہو   ؂

حق مغفرت کرے  عجب آزاد مرد تھا

۔۔۔۔۔

*  نوٹ :  اقبال اکیڈیمی حیدرآباد کو اس بات کی کوئی اطلاع نہ تھی کہ پروفیسر سید سراج الدین مرحوم نے  جاوید نامہ کے  ترجمہ کی ایک نقل ڈاکٹر نذیر احمد شیخ صاحب کو روانہ کی ہے ۔ پروفیسر سراج کے  افراد خاندان کو بھی اس کا علم نہیں  تھا۔ ان کے  قریبی مخلص احباب فرزند اور صاحبزادی کی خواہش تھی کہ جاوید نامہ کا ترجمہ اقبال اکیڈیمی حیدرآباد کے  زیر اہتمام شائع ہو۔ چنانچہ یہ ترجمہ اب شایع ہو چکا ہے ۔ (ادارہ)

 

****

 

 

***

تشکر: محمد امتیاز الدین اور مصطفیٰ قاسمی (شارپ کمپیوٹرس، چادر گھاٹ، حیدر آباد)

تدوین اور ای بک: اعجاز عبید

 

[1] (۱)کشمیر کو ’کشیر‘ کے  نام سے  پڑھا جاتا ہے