FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات

 

 

 

 

مبشر نذیر

 

 

 

 

 

 

باب اول: الحاد کی تعریف

 

اللہ تعالیٰ نے جو آسمانی ہدایت اس دنیا کو عطا فرمائی وہ بنیادی طور پر تین عقائد پر مشتمل تھی: یعنی توحید،نبوت و رسالت اور آخرت۔ اس کا خلاصہ یہ ہے اس کائنات کو ایک خدا نے تخلیق کیا ہے۔ تخلیق کرنے کے بعد وہ اس کائنات سے لا تعلق نہیں ہو گیا بلکہ اس کائنات کا نظام وہی چلا رہا ہے۔ اس نے انسانوں کو اچھے اور برے کی تمیز سکھائی ہے جسے اخلاقیات (ethics)   یا دین فطرت کہتے ہیں۔ مزید برآں اس نے انسانوں میں چند لوگوں کو منتخب کر کے ان سے براہ راست خطاب کیا ہے اور انہیں مزید ہدایات دی ہیں جن کے مطابق انسانوں کو اپنی زندگی گزارنا چاہئے۔ انسان کی زندگی موت پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے دوبارہ ایک نئی دنیا میں پیدا کیا جائے گا جہاں اس سے موجودہ زندگی کے اعمال کا حساب و کتاب لیا جائے گا۔ جس نے اس دنیا میں دین فطرت اور دین وحی پر عمل کیا ہو گا، وہ خدا کی ابدی بادشاہی یا جنت میں داخل ہو گا اور جس نے اس سے اعراض کیا ، اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔

الحاد کا لفظ عموماً لادینیت اور خدا پر عدم یقین کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اوپر بیان کئے گئے تینوں عقائد ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا انکار یا اس سے اعراض باقی دو کو غیر موثر کر دیتا ہے اس لئے ان میں کسی ایک کا انکار بھی الحاد ہی کہلائے گا۔ چنانچہ اس تحریر میں ہم جس الحاد کی تاریخ پر گفتگو کریں گے وہ وجود خدا، نبوت و رسالت اور آخرت میں سے نظریاتی یا عملی طور پر کسی ایک یا تینوں کے انکار پر مبنی ہے۔ ہماری اس تحریر میں الحاد کی تعریف میں مروجہ Atheism, Deism   اور  Agnosticism  سب ہی شامل ہیں۔

ازمنہ قدیم سے ہی بعض لوگ الحاد کے کسی نہ کسی شکل میں قائل تھے لیکن اس معاملے میں خدا کے وجود کا انکار بہت ہی کم کیا گیا ہے ۔ بڑے مذاہب میں صرف بدھ مت ہی ایسا مذہب ہے جس میں کسی خدا کا تصور نہیں پایا جاتا۔ ہندو مذہب کے بعض فرقوں جیسے جین مت میں خدا کا تصور نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں صرف چند فلسفی ہی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے خدا کا انکار کیا۔ عوام الناس کی اکثریت ایک یا کئی خداؤں کے وجود کی بہرحال قائل رہی ہے۔ نبوت و رسالت کا اصولی حیثیت سے انکار کرنے والے بھی کم ہی رہے ہاں ایسا ضرور ہوا کہ جب کوئی نبی یا رسول ان کے پاس خدا کا پیغام لے کر آیا تو اپنے مفادات یا ضد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے انہوں نے اس مخصوص نبی یا رسول کا انکار کیا ہو۔ آخرت کا انکار کرنے والے ہر دور میں کافی بڑی تعداد میں دنیا میں موجود رہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے دور کے مشرکین کے بارے میں بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کے منکر تو نہ تھے لیکن ان میں آخرت پر یقین نہ رکھنے والوں کی کمی نہ تھی۔

عالمی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خالص الحاد دنیا میں کبھی قوت نہ پکڑ سکا۔ دنیا بھر میں یا تو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ماننے والے غالب رہے یا پھر دین شرک کا غلبہ رہا۔ دین الحاد کو حقیقی فروغ موجودہ زمانے ہی میں حاصل ہوا ہے جب دنیا کی غالب اقوام نے اسے اپنے نظام حیات کے طور پر قبول کر لیا ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔ اس تحریر میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ وہ کیا عوامل تھے جن کی بنیاد پر الحاد کو اس قدر فروغ حاصل ہوا ؟ دنیا بھر میں الحاد کی تحریک نے کیا کیا فتوحات حاصل کیں اور اسے قبول کرنے والے ممالک اور اقوام کی سیاست، معیشت اور معاشرت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ تاریخ کے مختلف ادوار میں الحاد کی تحریک نے کیا کیا رنگ اختیار کئے اور دور جدید میں الحاد کی کونسی شکل دنیا میں غالب ہے؟ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو چکے ہیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

٭٭٭

 

 

 

باب دوم: یورپ میں الحاد کی تحریک

 

یورپ عیسائی عہد میں

 

یورپ میں قرون وسطیٰ ہی میں عیسائی حکومتیں قائم ہو چکی تھیں اور چرچ کا ادارہ پوری طرح مستحکم ہو چکا تھا۔ جب تیسری صدی عیسوی میں عوام الناس کی اکثریت نے عیسائیت قبول کر لی تو ان کے بادشاہ قسطنطین نے بھی عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد عیسائی علماء اور ان کے قائد پوپ کو حکومتی معاملات میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ حکومتی طاقت کو استعمال کر کے انہوں نے معاشرے میں پھیلے ہوئے شرک اور بت پرستی کا خاتمہ کر دیا اور اس کے ماننے والوں کو عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا۔ جن لوگوں نے عیسائیت قبول کرنے سے انکار کیا انہیں تہہ تیغ کر دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر عیسائیت میں بھی حلول اور مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا ماننے کا عقیدہ پیدا ہو گیا اور شخصیت پرستی اور اکابر پرستی نے جنم لیا۔

عیسائی علماء نے وقت کے مسلمہ نظریات جن میں ارسطو اور افلاطون کے سائنسی اور فلسفیانہ افکار بھی شامل تھے کی مقبولیت کے پیش نظر انہیں اپنے دین میں داخل کر لیا۔ حکومتیں پوپ اور مذہبی رہنماؤں کی رہنمائی میں چلنے لگیں جسے آج تھیو کریسی کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مذہبی رہنما اپنے مسلک اور عقیدے میں شدت اختیار کرتے گئے۔ صدیوں کے انحطاط (Degeneration)   کے عمل سے ان میں بہت سے فرقے بھی پیدا ہو گئے اور ان میں اخلاقی کمزوریاں بھی پیدا ہو گئیں۔ مذہبی انتہا پسندی اس حد تک پہنچ گئی کہ کوئی بھی شخص جو مرکزی چرچ کے معمولی سے حکم سے بھی اختلاف کرتا، اسے مرتد قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ نئے علوم و فنون کی تحصیل پر پابندی عائد کر دی گئی ۔

اسی دور میں مسلمانوں نے یونانی فلسفے کی کتب کا عربی میں ترجمہ کیا اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں قابل قدر اضافے کئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اہل یورپ میں بھی علم حاصل کرنے کا شعور پیدا ہوا اور وہ یہی چیزیں سیکھنے کے لئے مسلم دنیا میں آئے۔ ایک ممتاز امریکی مصنف کے الفاظ میں:

جیسے جیسے مسلمانوں کا اقتدار پھیلتا گیا، یہ لوگ اچھے سیکھنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ثابت ہوئے۔مسلمان حکمرانوں نے مفتوحہ علاقوں کی ترقی یافتہ تہذیب کے مقابلے میں اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے مقامی اداروں، خیالات، نظریات اور ثقافت کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیا ۔ انہوں نے اپنے زیادہ ترقی یافتہ مفتوحین سے سیکھنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کی۔عظیم لائبریریاں اور دار التراجم قائم ہوئے۔ سائنس، طب اور فلسفہ کی بڑی بڑی کتابوں کو مشرق و مغرب سے اکٹھا کر کے ان کے ترجمے کئے گئے۔یونانی، لاطینی، فارسی، شامی اور سنسکرت زبانوں سے ترجمہ کرنے کا کام عام طور پر یہودی اور عیسائی مفتوحین نے سر انجام دیا۔اس طرح ادب، سائنس اور طب کی دنیا بھر کی بہترین کتابیں عوام الناس کے لئے میسر ہو گئیں۔ترجمے کے دور کے بعد تخلیقی کام کا دور شروع ہوا۔تعلیم یافتہ مسلمان مفکرین اور سائنس دانوں نے حاصل شدہ علم میں قابل قدر علمی اضافے کئے۔یہ وہ دور تھا جس میں سائنس اور فلسفہ کے عظیم امام ابن سینا، ابن رشد اور الفارابی پیدا ہوئے۔بڑے بڑے شہروں قرطبہ، نیشاپور، قاہرہ، بغداد، دمشق اور بخارا میں بڑی بڑی لائبریریاں قائم ہوئیں جبکہ یورپ اس وقت دور تاریک سے گزر رہا تھا۔مسلمانوں اور غیر مسلموں کی سیاسی اور ثقافتی زندگیوں کو ، ان کے قبائلی اور مذہبی پس منظر کی رعایت سے اسلام کے فریم ورک میں لایا گیا۔نئے نظریات اور طور طریقوں کو اسلامائز کیا گیا۔اسلامی تہذیب ایک متحرک اور تبدیلی کے تخلیقی عمل کا نتیجہ تھی جس میں مسلمانوں نے دوسری تہذیبوں سے آزادانہ اچھی چیزوں کو لیا۔ یہ خود اعتمادی اور کھلے پن کا مظہر تھا جو اس خیال سے پیدا ہوا کہ ہم آقا ہیں غلام نہیں ہیں، فاتح ہیں مفتوح نہیں ہیں۔بیسویں صدی کے مسلمانوں کے برعکس، وہ مسلمان تحفظ اور اعتماد کے احساسات سے بھرپور تھے۔ان کو مغرب سے کچھ لینے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہوتی تھی کیونکہ مغرب اس وقت ان پر سیاسی یا ثقافتی غلبہ نہ رکھتا تھا۔کلچر کا یہ بہاؤ اس وقت الٹی سمت میں بہنے لگا، جب یورپ تاریک ادوار سے نکل کر مسلم مراکز میں اپنا کھویا ہوا ورثہ سیکھنے کے لئے آیا جس میں مسلمانوں کی ریاضی، طب اور سائنس کے اضافے بھی شامل تھے۔

(John L. Esposito, The Islamic Threat: Myth or Reality, 2nd Ed. p. 33-34)

 

ری نی ساں اور ریفارمیشن کی تحریکیں

 

تیرہویں سے سترہویں صدی تک یورپ میں چرچ کے اقتدار اور تنگ نظری کے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا ہو چکے تھے۔ اس دور میں یورپ میں ری نی ساں (Renaissance)   اور ری فارمیشن (Reformation)  کی تحریکیں چلیں جن میں چرچ پر بھرپور تنقید کی گئی۔

اسی دوران مارٹن لوتھر کی مشہور پروٹسٹنٹ تحریک بھی چلی جس نے دنیائے عیسائیت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یورپ میں ایسے مفکرین بھی پیدا ہونے لگے جن کی تحقیقات نے ارسطو اور افلاطون کے ان سائنسی نظریات کو بھی چیلنج کر دیا جنہیں اہل کلیسا نے طویل عرصے سے مذہبی عقائد کا حصہ بنایا ہوا تھا۔ ان میں سب سے مشہور زمین کے کائنات کا مرکز ہونے اور اس کے ساکن ہونے اور سورج اور تمام اجرام فلکی کے زمین کے گرد گھومنے کا نظریہ تھا۔ ان مفکرین میں لیونارڈو ڈاونسی (1452-1519) ، جیارڈینو برونو(1548-1600) ، گلیلیو (1564-1642)   اور جوہانس کپلر (1571-1630)   زیادہ مشہور ہیں۔

مذہبی علماء نے اس تنقید اور جدید نظریات کا سختی سے نوٹس لیا۔ انہوں نے عقل و منطق اور مشاہدے کی بنیاد پر حاصل ہونے والے سائنسی علم کو طاقت سے دبانا چاہا۔ احتساب (Inquisition)  کی مشہور عدالتیں قائم ہوئیں جو اس قسم کے نظریات رکھنے والے مفکرین کو سخت سزائیں دیا کرتے۔ برونو کو کئی سال قید میں رکھنے کے بعد آگ میں زندہ جلا دیا گیا۔ گلیلیو کو اپنے عقائد سے توبہ کرنا پڑی ورنہ اسے بھی موت کی سزا سنا دی گئی تھی۔

ری نی ساں کا دور فکر انسانی میں ہر اعتبار سے ترقی کا دور ہے۔ اس دور میں آزادانہ سوچ اور الحاد کو فروغ حاصل ہوا۔ صرف اور صرف چرچ کے حکم کی بنیاد پر کسی چیز کو قبول کرنے کی پابندی کے بڑے مخالفین میں لیونارڈو ڈاونسی تھے۔ انہوں نے علم کے حصول کے لئے تجربے کی اہمیت پر زور دیا۔ نکولو میکیاولی بھی چرچ پر مسلسل تنقید کرتے رہے۔ ان کی شہرت بھی ایک ملحد کی ہے۔ جیارڈینو برونو کی موت (1600)   آزادی فکر کے نئے دور کا آغاز ہے۔ برونو اٹلی کے رہنے والے ایک مصنف تھے جو علم کلام کے ماہر تھے۔ اپنی تحریروں کے باعث انہیں محکمہ احتساب (Inquisition)   کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے پورے یورپ کا سفر کیا جس کے دوران وہ اپنے نظریات کو تقریر و تحریر کے ذریعے پھیلاتے رہے۔ انہیں گرفتار ہو جانے کا خطرہ بھی لاحق رہا۔ چودہ سال کے بعد ، وینس شہر میں انہیں ان کے ایک پرانے شاگرد نے احتساب والوں کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔ برونو احتساب کی عدالت کے سامنے اپنے نظریات سے انحراف نہ کر سکے جن میں مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام )کی الوہیت سے انکار، اس دنیا کے ہمیشہ باقی رہنے کا عقیدہ اور روح کے حلول کا عقیدہ شامل ہے۔ وہ نظام شمسی کے کوپر نیکی نظریے (یعنی سورج نظام شمسی کا مرکز ہے)  پر بھی یقین رکھتے تھے اور اس پر لیکچر بھی دیا کرتے تھے۔ برونو پر مقدمہ چلایا گیا اور عدالت کے سامنے ان کا جرم ثابت ہو گیا۔ برونو نے روم میں سات سال جیل میں گزارے۔ بالآخر فروری 1600   انہیں آگ میں زندہ جلا دیاگیا۔ اگلے دو سو سال میں ان کے علاوہ آزادی فکر کے اور بھی شہید موجود ہیں۔

Dr. Gordon Stein, The History of Free Thought and Atheism, www.positiveatheism.org)

مذہبی علماء اور سائنس دانوں میں یہ چپقلش چلتی رہی۔ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے پر اہل کلیسا کی گرفت کمزور ہوتی گئی اور فلسفیوں کا اثر و  ٍرسوخ بڑھتا چلا گیا۔ انیسویں صدی کے وسط تک ملحد فلسفیوں اور سائنس دانوں کی فکر اہل یورپ میں غالب فکر بن چکی تھی۔ چونکہ اہل کلیسا نے اپنے اقتدار کے دور میں سائنس دانوں کے ساتھ بہت ظالمانہ اور جابرانہ رویہ رکھا تھا اس لئے مذہب اور سائنس میں ایک وسیع خلیج پیدا ہو چکی تھی۔ اہل سائنس نے مذہب کے بارے میں کوئی معقول رویہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے سائنسی نظریات کی روشنی میں یہی مناسب سمجھا کہ اسے خیر باد ہی کہہ دیا جائے۔ اس معاملے میں اہل مذہب کا کردار بھی اتنا معیاری نہ تھا کہ اس کی پیروی کی جاتی۔ چنانچہ مشہور برطانوی ملحد فلسفی برٹر ینڈ رسل لکھتے ہیں:

میں تو یہاں تک سوچا کرتا ہوں کہ بعض ہی اہم نیکیاں مذہب کے علمبرداروں میں نہیں ملتیں۔ وہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جو مذہب کے باغی ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو نیکیاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور وہ راست بازی اور ذہنی دیانت ہیں۔ ذہنی دیانت سے میری مراد پیچیدہ مسائل کو ثبوت اور شہادتوں کی بنیاد پر حل کرنے کی عادت ہے۔ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ جب تک کافی ثبوت اور شہادتیں دستیاب نہ ہوں، تب تک ان مسائل کو غیر حل شدہ ہی رہنے دیا جائے۔ ——-  تحقیق کی حوصلہ شکنی ان میں سب سے پہلی خرابی ہے۔ لیکن دوسری خرابیاں بھی پیچھے نہیں رہتیں۔ قدامت پسندوں کو قوت و اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ تاریخی دستاویزات میں اگر کوئی بات عقیدوں کے بارے میں شبہات پیدا کرنے والی ہو تو ان کی تکذیب شروع کر دی جاتی ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر منحرف عقیدے رکھنے والوں کے خلاف مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ پھانسیاں گاڑ دی جاتی ہیں اور نظر بندی کے کیمپ بنا دیے جاتے ہیں۔ میں اس شخص کی قدر کر سکتا ہوں جو یہ کہے کہ مذہب سچا ہے لہٰذا ہم کو اس پر ایمان رکھنا چاہئے (اور سچائی ثابت کرے) لیکن ان لوگوں کے لیے میرے دل میں گہری نفرت کے سوا کچھ نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مذہب کی سچائی کا مسئلہ اٹھانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے اور یہ کہ ہم کو مذہب اس لئے قبول کر لینا چاہئے کہ وہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ نقطہ نظر سچائی کی توہین کرتا ہے ، اس کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے اور جھوٹ کی بالا دستی قائم کر دیتا ہے۔ ——  اشتراکیت کی برائیاں وہی ہیں جو ایمان کے زمانوں میں مسیحیت میں پائی جاتی تھیں۔ سوویت خفیہ پولیس کے کارنامے رومن کیتھولک کلیسا کی قرون وسطیٰ کی عدالت احتساب کے کارناموں سے صرف مقداری طور پر ہی مختلف تھے۔ جہاں تک ظلم و ستم کا تعلق ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس پولیس نے روسیوں کی ذہنی اور اخلاقی زندگی کو ایسا ہی نقصان پہنچایا جیسا کہ مذہبی احتساب کی عدالت نے مسیحی اقوام کی ذہنی اور اخلاقی زندگی کو پہنچایا تھا۔ اشتراکی تاریخ کی تکذیب کرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ تک چرچ بھی یہی کام کیا کرتا تھا۔  —— جب دو سائنس دانوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو وہ اختلاف کو دور کرنے کے لئے ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ جس کے حق میں ٹھوس اور واضح ثبوت مل جاتے ہیں، وہ راست قرار پاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ سائنس دان ہونے کے حیثیت سے ان دونوں میں سے کوئی بھی خود کو بے خطا خیال نہیں کرتا۔ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہو سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف جب دو مذہبی علماء میں اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ دونوں اپنے آپ کو مبرا عن الخطا خیال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔ دونوں میں سے ہر ایک کو یقین ہوتا ہے کہ صرف وہی راستی پر ہے۔ لہٰذا ان کے درمیان فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ دونوں کو یقین ہوتا ہے کہ دوسرا نہ صرف غلطی پر ہے ، بلکہ راہ حق سے ہٹ جانے کے باعث گناہ گار بھی ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور نظری مسائل حل کرنے کے لئے دنگا فساد تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ (برٹرینڈ رسل: لوگوں کو سوچنے دو، اردو ترجمہ قاضی جاوید، ص 81-86  )

 

ڈی ازم کی تحریک

 

اسی دوران Deism   کی تحریک بھی پیدا ہوئی۔ اس کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ اگرچہ خدا ہی نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے لیکن اس کے بعد وہ اس سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ اب یہ کائنات خود بخود ہی چل رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس تحریک کا ہدف مذہب کے عقیدہ رسالت و آخرت کا انکار تھا۔ اس تحریک کو فروغ ڈیوڈ ہیوم اور مڈلٹن کے علاوہ مشہور ماہر معاشیات ایڈم سمتھ کی تحریروں سے بھی ملا۔ ان لوگوں نے بھی چرچ پر اپنی تنقید جاری رکھی اور چرچ کا جبر و تشدد جاری رہا۔ تقریباً دو سو سال تک یہ تحریک بھی موجود رہی۔ کلیسا کے انتہا درجے کے جبر و تشدد کا نتیجہ یہ نکلا کہ اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اہل علم میں بالعموم انکار خدا کی لہر چل نکلی جو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل تک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ ترکی کے مشہور عالم ہارون یحییٰ کے الفاظ میں:

یقیناً الحاد یعنی وجود خدا سے انکار کا نظریہ پرانے وقتوں میں بھی موجود رہا ہے لیکن اٹھارہویں صدی میں کچھ اینٹی مذہب مفکرین کے فلسفے کے پھیلاؤ اور سیاسی اثرات سے اس کا عروج شروع ہوا۔ مادیت پرستوں جیسے ڈائڈرٹ اور بیرن ڈی ہالبیک نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ کائنات مادے کا ایسا مجموعہ ہے جو ہمیشہ سے ایسے ہی موجود ہے اور اس کا کوئی نقطہ آغاز نہیں۔ انیسویں صدی میں الحاد مزید پھیلا۔ بڑے بڑے ملحد مفکرین جیسے مارکس، اینجلز، نٹشے، ڈرخم اور فرائڈ نے سائنس اور فلسفے کی مختلف شاخوں کے علم کو الحادی بنیادوں پر منظم کیا۔ (ان میں سے مارکس اور اینجلز ماہر معاشیات (Economics)، نٹشے ماہر فلسفہ(Philosophy) ،  ڈرخم ماہر عمرانیات(Sociology)   اور فرائڈ ماہر نفسیات (Psychology) تھے۔) الحاد کو سب سے زیادہ مدد (ماہر حیاتیات) چارلس ڈارون سے ملی جس نے تخلیق کائنات کے نظریے کو رد کر کے اس کے برعکس ارتقاء (Evolution)   کا نظریہ پیش کیا۔ ڈارون نے اس سائنسی سوال کا جواب دے دیا تھا جس نے صدیوں سے ملحدین کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ سوال یہ تھا کہ ’’انسان اور جاندار اشیا کس طرح وجود میں آتی ہیں؟‘‘ اس نظریے کے نتیجے میں بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہو گئے کہ فطرت میں ایسا آٹو میٹک نظام موجود ہے جس کے نتیجے میں بے جان مادہ حرکت پذیر ہو کر اربوں کی تعداد میں موجود جاندار اشیا کی صورت اختیار کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر تک ملحدین کائنات کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نظر (Worldview)   بنا چکے تھے جو ان کے نزدیک اس کائنات سے متعلق ہر ایک سوال کا جواب دیتا تھا۔ انہوں نے کائنات کی تخلیق کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کائنات ہمیشہ سے ایسے ہی موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کائنات کا کوئی مقصد نہیں۔ اس میں جو توازن پایا جاتا ہے وہ محض ایک اتفاقی امر ہے۔ انہیں یہ یقین ہو گیا کہ جاندار اشیا کے وجود پذیر ہونے کا سوال ڈارون نے حل کر دیا ہے۔ ان کے خیال میں تاریخ اور عمرانیات سے متعلق ہر مسئلے کی تشریح مارکس اور ڈرخم نے کر دی ہے اور ملحدانہ بنیادوں پر فرائڈ نے ہر نفسیاتی سوال کا جواب دے دیا ہے۔

Harun Yahya, The Fall of Atheism, www.harunyayha.org)

 

سیکولر ازم کا فروغ

 

اسی الحاد کی بنیاد پر سیکولر ازم کا نظریہ وجود پذیر ہوا جو مذہب اور الحاد کے درمیان تطبیق (Reconciliation)   کی حیثیت رکھتا تھا۔ فلسفیانہ اور ملحدانہ نظریات نے اہل یورپ کی اشرافیہ کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔ ان کے ہاں تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہی ملحد اور لادین ہونا تھا۔ دوسری طرف عوام الناس میں اہل مذہب کا اثر و رسوخ خاصی حد تک باقی تھا۔ اہل مذہب کا ایک اور مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اور ایک فرقے کے لئے یہ ناممکن تھا کہ وہ دوسرے کی بالا دستی قبول کر سکے۔ ان حالات میں انہوں نے یہ طے کر لیا کہ ہر فرد کو اپنی ذات میں تو اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی دی جائے لیکن اجتماعی اور ریاستی سطح پر مذہب سے بالکل لاتعلق ہو کر خالص عقل و دانش اور جمہوریت کی بنیادوں پر نظام حیات کو مرتب کر لیا جائے۔ اگر حکومت کا کوئی سرکاری مذہب ہو بھی تو اس کی حیثیت محض نمائشی ہو، اسے معاملات زندگی سے کوئی سروکار نہ ہو۔

سیکولر ازم کے اس نظریے کا فروغ دراصل مذہب کی بہت بڑی شکست اور الحاد کی بہت بڑی فتح تھی۔ اہل مغرب نے اپنے سیاسی، عمرانی اور معاشی نظاموں کو مذہب کی روشنی سے دور ہو کر خالصتاً ملحدانہ بنیادوں پر استوار کیا۔ مذہب کو چرچ تک محدود کر دیا گیا۔ تمام قوانین جمہوری بنیادوں پر بنائے جانے لگے۔ عیسائیت میں بھی فری سیکس گناہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریت کی خواہش پر اسے جائز قرار دیا گیا، حتیٰ کہ ہم جنس پرستی کو بھی قانونی مقام دیا گیا اور ایک ہی جنس میں شادی کو بھی قانونی ٹھہرا لیا گیا۔ سود ہمیشہ سے آسمانی مذاہب میں ممنوع رہا ہے، لیکن معیشت کا پورا نظام سود پر قائم کیا گیا۔

سیکولر ازم کے نتیجے میں الحاد اہل مغرب کے نظام حیات میں غالب قوت بن گیا ۔ان کی اکثریت اگرچہ اب بھی خدا کی منکر نہیں ہے لیکن عملی اعتبار سے وہ خدا، نبوت و رسالت اور آخرت کا انکار کر چکی ہے۔ اگر کوئی مذہب کو حق مانتا ہے تو پھر یہ لازم ہے کہ وہ اسے اپنی پرائیویٹ لائف کے ساتھ ساتھ پبلک لائف میں بھی اپنائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدا کو ماننے کے باوجود وہ عملاً خدا ، نبوت اور آخرت کا انکار کر کے الحاد کو اختیار کر ہی چکا ہے۔ اب اس کے بعد صرف انسانی اخلاقیات یا دین فطرت ہی باقی رہ جاتا ہے جسے ملحدین بھی مانتے ہیں۔ اہل مغرب اگرچہ ان میں سے بہت سے اصولوں کو چھوڑ چکے ہیں لیکن اب بھی وہ ان اخلاقی اصولوں کے بڑے حصے کو اپنائے ہوئے ہیں۔

٭٭٭

 

 

باب سوم: مسلم معاشروں میں الحاد کا فروغ

 

 

پندرہویں اور سولہویں صدی میں اہل یورپ اپنے ممالک سے نکل کر مشرق و مغرب میں پھیلنا شروع ہوئے۔ انیسویں صدی کے آخر تک وہ دنیا کے بڑے حصے پر اپنی حکومت قائم کر چکے تھے۔ ان کی نوآبادیات میں مسلم ممالک کی اکثریت بھی شامل تھی۔ اہل یورپ نے ان ممالک پر صرف اپنا سیاسی اقتدار ہی قائم نہیں کیا بلکہ ان میں اپنے الحادی نظریات کو بھی فروغ دیا۔ مغربی ملحدین نے عیسائیت کی طرح اسلام کی اساسات پر بھی حملہ کیا۔ مسلم ممالک میں ان کے نظریات کے خلاف چار طرح کے رد عمل سامنے آئے:

  • مغربی الحاد کی پیروی
  • مغرب کو مکمل طور پر رد کر دینا
  • مغرب کی پیروی میں اسلام میں تبدیلیاں کرنا
  • مغرب کے مثبت پہلو کو لے کر اسے اسلامی سانچے میں ڈھالنا

 

مسلم اشرافیہ

 

پہلا رد عمل مسلمانوں کی اشرافیہ (Elite)   کا تھا۔ ان کی اکثریت نے اہل مغرب اور ان کے الحاد کو کلی یا جزوی طور پر قبول کر لیا۔اگرچہ اپنے نام اور بنیادی عقائد کی حد تک وہ مسلمان ہی تھے لیکن اپنی اجتماعی زندگی میں وہ الحاد اور لادینیت کا نمونہ تھے۔ بیسویں صدی کے وسط میں آزادی کے بعد بھی ان کی یہ روش برقرار رہی۔  ان میں سے بعض تو اسلام کی تعلیمات کے کھلم کھلا مخالف تھے جن میں ترکی کے مصطفےٰ کمال پاشا، ایران کے رضا شاہ پہلوی، تیونس کے حبیب بورغبیہ اور پاکستان کے جنرل یحیٰی خان شامل ہیں۔ مسلم حکمرانوں کی اکثریت نے اگرچہ اسلام کا کھلم کھلا انکار نہیں کیا لیکن وہ عملی طور پر الحاد ہی سے وابستہ رہے۔ چونکہ مسلم عوام کی اکثریت کا سیاسی و معاشی مفاد انہی کی پیروی میں تھا، اس لئے عوام الناس میں الحاد پھیلتا چلا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔

 

روایتی مسلم علماء

 

دوسرا رد عمل روایتی مسلم علماء کا تھا۔ انہوں نے اہل مغرب کے نظریات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے مغربی زبانوں کی تعلیم، مغربی علوم کے حصول، مغربی لباس کے پہننے، اور اہل مغرب کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو حرام قرار دیا۔ انہوں نے اپنے مدارس کے ماحول کو قرون وسطیٰ کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دور جدید میں کسی مسئلے پر اجتہادی انداز میں سوچنے کی بجائے قدیم ائمہ کی حرف بہ حرف تقلید پر زور دیا۔ برصغیر میں اس نقطہ نظر کو ماننے والے بڑے بڑے علماء میں قاسم نانوتوی، محمود الحسن، سید نذیر حسین دہلوی اور احمد رضا خان بریلوی شامل تھے جن کے نقطہ نظر کو پورے ہندوستان کے دینی مدارس نے قبول کیا۔

اگرچہ ان علماء میں کچھ مسلکی اور فقہی اختلافات موجود تھے لیکن مغرب کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بالکل یکساں تھا۔ اگرچہ ان میں سے بعض مغربی زبانیں سیکھنے اور مغربی علوم کے حصول کے مخالف نہ تھے لیکن عملاً ان کا رویہ اس سے دوری ہی کا رہا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں ان کا اثر و نفوذ کم سے کم تر ہوتا چلا گیا اور ان کے نقطہ نظر کو ماضی کی چیز سمجھ لیا گیا۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان سے بیزار ہونے لگا اور آہستہ آہستہ یا تو پہلے نقطہ نظر کو قبول کر کے الحاد کی طرف چلا گیا یا پھر اس نے تیسرے اور چوتھے نقطہ نظر کو قبول کیا۔

معاشرے میں اب ان اہل علم کا کردار یہی رہ گیا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھا دیں، کسی کے گھر میں ختم قرآن کر دیں یا پھر نکاح، بچے کی پیدائش اور جنازے کے وقت چند رسومات ادا کر دیں۔ عملی زندگی میں ان کے کردار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جمعہ کی نماز کے وقت لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ یہ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ کب مولوی صاحب وعظ ختم کریں اور وہ مسجد میں جا کر نماز جمعہ ادا کریں۔ جیسے ہی وعظ ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے ، لوگ جوق در جوق مسجد کی طرف آنے لگتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے لوگوں کو ان کے وعظ اور تقاریر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہی روایتی علماء میں سے بعض نے جدید دنیا کے علوم سے واقفیت حاصل کر کے عصر حاضر کے زندہ مسائل کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ عام روایتی علماء کی نسبت ان کا اثر و نفوذ معاشرے میں بہت زیادہ ہے اور ان کی دعوت کو سننے والے افراد کی کوئی کمی نہیں۔

 

متجددین

 

اس دور میں امت مسلمہ کی علمی و فکری قیادت برصغیر اور مصر کے اہل علم کے ہاتھ میں آ  چکی تھی۔ بعض مسلمان مفکرین نے اسلام کو جدید الحادی نظریات سے منطبق (Reconcile)   کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے اسلام کے بعض بنیادی عقائد و اعمال کا بھی انکار کر دیا۔ اس نقطہ نظر کو ماننے اور پھیلانے والوں میں ہندوستان کے سر سید احمد خان ، اور مصر کے طٰہٰ حسین اور سعد زغلول شامل ہیں۔ اسی فکر کو بیسویں صدی میں غلام احمد پرویز اور ان کے شاگرد ڈاکٹر عبد الودود نے پیش کیا۔ روایتی اور جدید نقطہ نظر کے حامل علماء کے اثر و رسوخ کے پیش نظر اس فکر کو مسلم معاشروں میں عام مقبولیت حاصل نہ ہو سکی تاہم اس سے اشرافیہ کا ایک اہم حلقہ ضرور متاثر ہوا۔

 

جدید مصلحین

 

چوتھا رد عمل ان اہل علم کا تھا جو روایتی علماء کے قدیم علمی ورثے کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مغرب کے الحادی افکار پر کڑی نکتہ چینی کی اور تیسرے نقطہ نظر کے حامل علماء کے برعکس اسلام کو معذرت خواہانہ انداز کی بجائے با وقار طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے روایتی علماء پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت تو ناقابل تغیر ہے لیکن قرون وسطیٰ کے علماء نے اپنے ادوار کے تقاضوں کے مطابق جو قانون سازی کی تھی، اس کی تشکیل نو (Reconstruction) کی ضرورت ہے۔ روایتی علماء کے برعکس انہوں نے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول پر زور دیا۔

اس نقطہ نظر کے حاملین میں ہندوستان کے اہل علم میں سے محمد اقبال، ابوالکلام آزاد ، شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، حمید الدین فراہی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مصر کے علماء میں رشید رضا، حسن البنا اور سید قطب شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ممالک کے جدید اہل علم نے انہی کی پیروی کی۔ اسی نقطہ نظر کے حاملین نے عالم اسلام میں بڑی بڑی تحریکیں برپا کیں جنہوں نے جدید طبقے کو اسلام سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ روایتی علماء کی نسبت انہیں تعلیم یافتہ طبقے میں کافی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کے اثرات اپنے اپنے معاشروں پر نہایت گہرے ہیں۔

٭٭٭

 

 

باب چہارم: مغربی اور مسلم معاشروں پر الحاد کے اثرات

 

الحاد کے اس عروج نے مغربی اور مسلم معاشروں پر بڑے گہرے اثرات مرتب کئے۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہو گا کہ انہوں نے قدیم ورثے کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا اور عیسائیت اور اسلام کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج پیدا کر دیا۔ ہم الحاد کے اثرات کو نظریات، فلسفے، سیاست، معیشت ، معاشرت اور اخلاق ہر پہلو میں نمایاں طور پر محسوس کر سکتے ہیں:

 

عقائد، فلسفہ اور نظریات

 

سب سے پہلے ہم نظریاتی اور فلسفیانہ پہلو کو لیتے ہیں۔ الحاد نے عیسائیت اور اسلام کے بنیادی عقائد یعنی وجود باری تعالیٰ، رسالت اور آخرت پر حملہ کیا اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ خدا کے وجود سے انکار کر دیا گیا، رسولوں کے تاریخی وجود کا ہی انکار کر دیا گیا اور آخرت سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے۔ اس ضمن میں ملحدین کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ یہ تینوں عقائد مابعد الطبیعاتی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں جسے اس دنیا کے مشاہداتی اور تجرباتی علم کی روشنی میں نہ تو ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ رد کیا جا سکتا ہے۔

ان ملحدین نے عیسائیت پر ایک اور طرف سے بڑا حملہ کیا اور وہ یہ تھا کہ قرون وسطیٰ کے عیسائی علماء نے اپنے وقت کے کچھ سائنسی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے نظام عقائد (Theology)   کا حصہ بنا لیا تھا جیسے زمین کائنات کا مرکز ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ جب جدید سائنسی تحقیقات سے یہ نظریات غلط ثابت ہوئے تو بہت سے لوگوں کا پوری عیسائیت پر اعتماد اٹھ گیا اور انہوں نے فکری طور پر بھی الحاد کو اختیار کر لیا۔ اسلام میں چونکہ اس قسم کے کوئی عقائد نہیں، لہٰذا اسلام اس قسم کے حملوں سے محفوظ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ الحاد کو مغرب میں تو بہت سے ایسے پیروکار مل گئے جو ہر قسم کے مذہب سے بیزاری کا اعلان کر کے خود کو فخریہ طور پر ملحد (Atheist)  کہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں انہیں ایسے پیروکار بہت کم مل سکے۔ مسلمانوں میں صرف ایسے چند لوگ ہی پیدا ہوئے جو زیادہ تر کمیونسٹ پارٹیوں میں شامل ہوئے۔ اگر ہم کمیونسٹ تحریک سے وابستہ نسلی مسلمانوں کا جائزہ لیں تو ان میں سے بھی بہت کم ایسے ملیں گے جو خود کو کھلم کھلا دہریہ یا ملحد کہلوانے پر تیار ہوں۔

عیسائیت پر ملحدین کا ایک اور بڑا حملہ یہ تھا کہ انہوں نے انبیاء کرام بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے انکار کر دیا۔ انہوں نے آسمانی صحیفوں بالخصوص بائبل کو قصے کہانیوں کی کتاب قرار دیا۔ اس الزام کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے کچھ عیسائی ماہرین آثار قدیمہ نے اپنی زندگیاں وقف کر کے علمی طور پر یہ بات ثابت کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک تاریخی شخصیت ہیں اور بائبل محض قصے کہانیوں کی کتاب ہی نہیں بلکہ اس میں بیان کئے گئے واقعات تاریخی طور پر مسلم ہیں اور ان کا ثبوت آثار قدیمہ کے علم سے بھی ملتا ہے۔ یہ الحاد کے مقابلے میں عیسائیت کی بہت بڑی فتح تھی۔

اسلام کے معاملے میں ملحدین ایسا نہ کر سکے کیونکہ قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرنا ان کے لئے علمی طور پر ممکن نہ تھا۔ انہوں نے اسلام پر حملہ کرنے کی دوسری راہ نکالی۔ ان میں سے بعض کوتاہ قامت اور علمی بددیانتی کے شکار افراد نے چند من گھڑت روایات کا سہارا لے کر پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ و سلم کے ذاتی کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے کیونکہ ان من گھڑت روایات کی علمی و تاریخی حیثیت کو مسلم علماء نے احسن انداز میں واضح کر دیا جسے انصاف پسند ملحد محققین نے بھی تسلیم کیا۔ ان محققین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کی عظمت کو کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔

خدا کی ذات کے متعلق جو شکوک و شبہات ان ملحدین نے پھیلائے تھے، اس کی بنیاد چند سائنسی نظریات پر تھی۔ بیسویں صدی کی سائنسی تحقیقات جو خود ان ملحدین کے ہاتھوں ہوئیں، نے یہ بات واضح کر دی کہ جن سائنسی نظریات پر انہوں نے اپنی عمارت تعمیر کی تھی، بالکل غلط ہیں۔ اس طرح ان کی وہ پوری عمارت اپنی بنیاد ہی سے منہدم ہو گئی جو انہوں نے تعمیر کی تھی۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کر رہے ہیں۔

 

سیاست

 

فکری اور نظریاتی میدان میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ الحاد اسلام کے مقابلے میں ناکام رہا مگر عیسائیت کے مقابلے میں اسے جزوی فتح حاصل ہوئی البتہ سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی میدانوں میں الحاد کو مغربی اور مسلم دنیا میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ۔ سیاسی میدان میں الحاد کی سب سے بڑی کامیابی سیکولر ازم کا فروغ ہے۔ پوری مغربی دنیا اور مسلم دنیا کے بڑے حصے نے سیکولر ازم کو اختیار کر لیا۔ سیکولر ازم کا مطلب ہی یہ ہے کہ مذہب کو گرجے یا مسجد تک محدود کر دیا جائے اور کاروبار زندگی کو خالصتاً انسانی عقل کی بنیاد پر چلایا جائے جس میں مذہبی تعلیمات کا کوئی حصہ نہ ہو۔

مغربی دنیا نے تو سیکولر ازم کو پوری طرح قبول کر لیا اور اب اس کی حیثیت ان کے ہاں ایک مسلمہ نظریے کی ہے۔ انہوں نے اپنے مذہب کو گرجے کے اندر محدود کر کے کاروبار حیات کو مکمل طور پر سیکولر کر لیا ہے۔ چونکہ اہل مغرب کے زیر اثر مسلمانوں کی اشرافیہ بھی الحاد کے اثرات کو قبول کر چکی تھی، اس لئے ان میں سے بھی بہت سے ممالک نے سیکولر ازم کو بطور نظام حکومت کے قبول کر لیا۔  بعض ممالک جیسے ترکی اور تیونس نے تو اسے  کھلم کھلا اپنانے کا  اعلان کیا لیکن مسلم ممالک کی اکثریت نے سیکولر ازم اور اسلام کا ایک ملغوبہ تیار کرنے کی کوشش کی جس میں بالعموم غالب عنصر سیکولر ازم کا تھا۔

الحاد کو فروغ جمہوریت کے نظریے سے بھی ہوا۔ اگرچہ جمہوریت عملی اعتبار سے اسلام کے مخالف نہیں کیونکہ اسلام میں بھی آزادی رائے اور شوریٰ کی بڑی اہمیت ہے، لیکن جمہوریت جن نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے وہ خالصتاً ملحدانہ ہے۔ جمہوریت کی بنیاد حاکمیت جمہور کے نظریے پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عوام کی اکثریت خدا کی مرضی کے خلاف فیصلہ دے دے تو ملک کا قانون بنا کر اس فیصلے کو نافذ کر دیا جائے۔ اس کی واضح مثال ہمیں اہل مغرب کے ہاں ملتی ہے جہاں اپنے دین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے فری سیکس، ہم جنس پرستی، شراب اور سود کو حلال کر لیا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اس کی مثال شاید ترکی ہی میں مل سکتی ہے۔

اسلام نظریاتی طور پر جمہوریت کے اقتدار اعلیٰ کے نظریے کا شدید مخالف ہے۔ اسلام کے مطابق حاکمیت اعلیٰ جمہور کا حق نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسلام کی نظر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کرنا شرک ہے۔ سب سے بڑا اقتدار (Sovereignty)  صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اس کے برعکس جہاں اللہ تعالیٰ نے کوئی ہدایت نہیں دی، وہاں عوام کی اکثریتی رائے اور مشورے سے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ اکثریت کی مرضی کے خلاف اس پر اقلیتی رائے کو مسلط کرنا اسلام میں درست نہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر معاملہ مشورے سے طے کریں۔

 

معیشت

 

معیشت کے باب میں الحاد نے دنیا کو دو نظام دیے۔ ان میں سے ایک ایڈم سمتھ کا سرمایہ دارانہ نظام یا کیپیٹل ازم اور دوسرا کارل مارکس کی اشتراکیت یا کمیونزم۔ کیپیٹل ازم دراصل جاگیر دارانہ نظام (Feudalism)  ہی کی ایک نئی شکل ہے جو عملی اعتبار سے جاگیر دارانہ نظام سے تھوڑا سا بہتر ہے۔ کیپیٹل ازم میں مارکیٹ کو مکمل طور پر آزاد چھوڑا جاتا ہے جس میں ہر شخص کو یہ آزادی ہوتی ہے کہ وہ دولت کے جتنے چاہے انبار لگا لے۔ جس شخص کو دولت کمانے کے لامحدود مواقع میسر ہوں وہ امیر سے امیر تر ہوتا جائے گا اور جسے یہ مواقع میسر نہ ہوں وہ غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا۔ حکومت اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں کرتی۔

جاگیر دارانہ نظام کی طرح اس نظام میں بھی سرمایہ دار، غریب کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس کا استحصال کرتا ہے۔ غریب اور امیر کی خلیج اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ ایک طرف تو گھی کے چراغ جلائے جاتے ہیں اور دوسری طرف کھانے کو دال بھی میسر نہیں ہوتی۔ ایک طرف تو ایک شخص ایک وقت کے کھانے پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتا ہے اور دوسری طرف ایک شخص کو بھوکا سونا پڑتا ہے۔ ایک طرف تو علاج کے لئے امریکہ یا یورپ جانا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور دوسری طرف ڈسپرین خریدنے کی رقم بھی نہیں ہوتی۔ ایک طرف بچوں کو تعلیم کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور دوسری طرف بچوں کو سرکاری سکول میں تعلیم حاصل دلوانے کے لئے بھی ماں باپ کو فاقے کرنا پڑتے ہیں۔ ایک طرف محض ایک لباس سلوانے پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور دوسری طرف استعمال شدہ کپڑے خریدنے کے لئے بھی پیٹ کاٹنا پڑتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کے اس تفاوت کی مکمل ذمہ داری الحاد پر ہی نہیں ڈالی جا سکتی کیونکہ اس کا پیشرو نظام فیوڈل ازم ، جو کہ اس سے بھی زیادہ استحصالی نظام ہے، اس دور میں ارتقاء پذیر ہوا جب مغربی دنیا میں عیسائی علماء اور مسلم دنیا میں مسلم علماء طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ عیسائی تھیو کریسی اور مسلم علماء نے جاگیر دارانہ نظام کے ظلم و ستم اور استحصال کے خلاف کبھی موثر جدوجہد نہیں کی بلکہ اپنے ادیان کی تعلیمات کے برعکس وہ اس کے سرپرست بنے رہے۔

اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب کے بعد فیوڈل ازم کی کوکھ سے کیپیٹل ازم نے جنم لیا جو کہ امیر کے ہاتھوں غریب کے استحصال کا ایک نیا نظام تھا لیکن اس کا استحصالی پہلو فیوڈل ازم کی نسبت کم تھا کیونکہ وہاں تو بہتر مستقبل کی تلاش میں غریب کسی اور جگہ جا بھی نہیں سکتا۔چونکہ اہل مغرب اور اہل اسلام اپنے دین کی تعلیمات سے خاصے دور ہو چکے تھے، اس لئے یہ نظام اپنے پورے استحصالی رنگ میں پنپتا رہا۔

یورپ میں کارل مارکس نے کیپیٹل ازم کے استحصال کے خلاف ایک عظیم تحریک شروع کی جس میں اس نظام کی معاشی ناہمواریوں پر زبردست تنقید کی گئی۔ مارکس اور ان کے ساتھی فریڈرک اینجلز، جو بہت بڑے ملحد فلسفی تھے، نے پوری تاریخ کی ایک نئی توجیہ (Interpretation)  کر ڈالی جس میں انہوں نے معاش ہی کو انسانی زندگی اور انسانی تاریخ کا محور و مرکز قرار دیا۔ان کے نزدیک تاریخ کی تمام جنگیں، تمام مذاہب اور تمام سیاسی نظام معاشیات ہی کی پیداوار تھے۔انہوں نے خدا، نبوت اور آخرت کے عقائد کا انکار کرتے ہوئے دنیا کو ایک نیا نظام پیش کیا جسے تاریخ میں کمیونزم کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ کمیونزم کا نظام خالصتاً الحادی نظام تھا۔

کمیونسٹ نظام انفرادی ملکیت کی مکمل نفی کرتا ہے اور تمام ذرائع پیداوار جن میں زراعت، صنعت، کان کنی اور تجارت شامل ہے کو مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں دے دیتا ہے۔ پوری قوم ہر معاملے میں حکومت کے فیصلوں پر عمل کرتی ہے جو کہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں پر مشتمل ہوتی ہے۔کمیونسٹ جدوجہد پوری دنیا میں پھیل گئی ۔ اسے سب سے پہلے کامیابی روس میں ہوئی جہاں لینن کی قیادت میں1917   میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا اور دنیا کی پہلی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی۔ دوسرا بڑا ملک، جس نے کمیونزم کو قبول کیا، چین تھا۔ باقی ممالک نے کمیونزم کی تبدیل شدہ صورتوں کو اختیار کیا۔

کمیونزم کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں فرد کے لئے کوئی محرک (Incentive)   نہیں ہوتا جس سے وہ اپنے ادارے کے لئے اپنی خدمات کو اعلیٰ ترین انداز میں پیش کر سکے اور اس کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت کر سکے۔ اس کے بر عکس کیپیٹل ازم میں ہر شخص اپنے کاروبار کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے اور اس سے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اور اپنی اعلیٰ ترین صلاحیتیں استعمال کرتا ہے۔ کمیونزم کی دوسری بڑی خامی یہ تھی کہ پورے نظام کو جبر کی بنیادوں پر قائم کیا گیا اور شخصی آزادی بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین کی معیشت کمزور ہوتی گئی اور بالآخر 1990  میں یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسے کیپیٹل ازم ہی کو اپنانا پڑا۔ دوسری طرف چین کی معیشت کا حال بھی پتلا تھا۔ چین نے اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کمیونزم کو خیر باد کہہ دیا اور تدریجاً اپنی مارکیٹ کو اوپن کر کے کیپیٹل ازم کو قبول کر لیا۔ چین کی موجودہ ترقی کیپیٹل ازم ہی کی مرہون منت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کیپیٹل ازم اور کمیونزم دونوں نظام ہائے معیشت ہی استحصال پر مبنی نظام ہیں۔ ایک میں امیر غریب کا استحصال کرتا ہے اور دوسرے میں حکومت اپنے عوام کا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اہل مغرب نے اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوں کو اپنا کر کیپیٹل ازم کے استحصالی نقصانات کو کافی حد تک کم کر لیا ہے، لیکن تیسری دنیا جس کی اخلاقی حالت بہت کمزور ہے وہاں اس کے نقصانات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

چونکہ یہاں ہم الحاد کی تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہیں اس لئے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پچھلی تین صدیوں میں معیشت کے میدان میں الحاد کو دنیا بھر میں واضح برتری حاصل رہی ہے اور دنیا نے الحاد پر قائم دو نظام ہائے معیشت یعنی کیپیٹل ازم اور کمیونزم کا تجربہ کیا ہے۔ کمیونزم تو اپنی عمر پوری کر کے تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، اس لئے اس پر ہم زیادہ بحث نہیں کرتے لیکن کیپیٹل ازم کے چند اور پہلوؤں کا ایک مختصر جائزہ لینا ضروری ہے جو انسانیت کے لئے ایک خطرہ ہیں۔

کیپیٹل ازم کے نظام کی بنیاد سود پر ہے۔ بڑی بڑی صنعتوں کے قیام اور بڑے بڑے پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے وسیع پیمانے پر فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سرمایہ دار کے لئے اتنی بڑی رقم کا حصول بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر اس کے پاس اتنی رقم موجود بھی ہو تو اسے ایک ہی کاروبار میں لگا نے سے کاروباری خطرہ (Business Risk)   بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔ کیونکہ ایک کاروبار اگر ناکام ہو جائے تو پوری کی پوری رقم ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر وہی رقم تھوڑی تھوڑی کر کے مختلف منصوبوں میں لگائی جائے تو ایک منصوبے کی ناکامی سے پوری رقم ڈوبنے کا خطرہ نہیں ہوتا اور تمام کے تمام منصوبوں کے ڈوبنے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ اسے علم مالیات (Finance)   کی اصطلاح میں Diversification   کہا جاتا ہے۔

ان بڑے بڑے پراجیکٹس کے لئے رقم کی فراہمی کے لئے دنیا نے Financial Intermediaries  کا نظام وضع کیا ہے۔ اس درمیانی واسطے کا سب سے بڑا حصہ بینکوں پر مشتمل ہے۔ یہ بینک عوام الناس کی چھوٹی چھوٹی بچت کی رقوم کو اکٹھا کرنے کا کام  کرتے ہیں جس پر بینک انہیں سود ادا کرتا ہے۔ پوری ملک کے لوگوں کی تھوڑی تھوڑی بچتوں کو ملا کر بہت بڑی تعداد میں فنڈ اکٹھا کر لیا جاتا ہے جو انہی سرمایہ داروں کو کچھ زیادہ شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر بینک عوام کو 8%  سود کی ادائیگی کر رہا ہے تو سرمایہ دار سے 10% سود وصول کر رہا ہو گا۔ اس 2% میں بینک اپنے انتظامی اخراجات پورے کر کے بہت بڑا منافع بھی کما رہا ہوتا ہے۔

سرمایہ دار عموماً اپنے سرمایے کو ایسے کاروبار میں لگاتے ہیں جو اس سرمایے پر بہت زیادہ منافع دے سکے۔ اگر ہم دنیا بھر کی مختلف کمپنیوں کی سالانہ رپورٹس (Annual Reports)   کا جائزہ لیں تو ہمیں اس میں ایسے کاروبار بھی ملیں گے جن میں Return on Capital Employed  کی شرح 50%  سالانہ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو گی۔اس منافع کا ایک معمولی سا حصہ بطور سود ان غریب لوگوں کے حصے میں بھی آتا ہے جن کا سرمایہ دراصل اس کاروبار میں لگا ہوتا ہے۔

اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھ لیجئے کہ بالفرض ایک سرمایہ دار کسی بینک سے ایک ارب روپے 10%  سالانہ شرح سود پر لیتا ہے اور اس سرمائے سے پچاس کروڑ روپے سالانہ نفع کماتا ہے۔ اس میں سے وہ دس کروڑ بینک کو بطور سود ادا کرے گا اور بینک اس میں سے  8%   سالانہ کے حساب سے آٹھ کروڑ روپے اپنے  کھاتہ داروں (Deposit Holders)   کو ادا کرے گا۔ چونکہ یہ کھاتہ دار بہت بڑی تعداد میں ہوں گے جنہوں نے اپنی تھوڑی تھوڑی بچت بینک میں جمع کروائی ہو گی اس لئے ان میں سے ہر ایک کے حصے میں چند ہزار یا چند سو روپے سے زیادہ نہیں آئے گا۔ اس طریقے سے سرمایہ دار ، عام لوگوں کو چند ہزار روپے پر ٹرخا کر ان کا پیسہ استعمال کرتا ہے اور اسی پیسے سے خود کروڑوں روپے بنا لیتا ہے۔

اس مثال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح جاگیر دارانہ نظام میں جاگیر دار یا مہاجن غریبوں کو سود پر رقم دے کر ان کا استحصال کیا کرتا تھا، اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار غریبوں سے سود پر رقم لے کر ان کا استحصال کرتا ہے۔اس کے علاوہ فیوڈل ازم کے مہاجنی سود کا سلسلہ بھی اس نظام میں پوری طرح جاری ہے جس میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے Micro-Financing   کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے میں 36%  سالانہ کے حساب سے سود بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ اس سود میں سے صرف8-10%    اپنے کھاتہ داروں کو ادا کیا جا رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اور خصوصیت جوئے کا فروغ ہے۔ یہ لعنت فیوڈل ازم میں بھی اسی طرح پائی جاتی تھی۔ دنیا بھر میں جوا کھیلنے کے بڑے بڑے ادارے قائم کئے جا چکے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج، فاریکس کمپنیز اور بڑی بڑی کیپیٹل اور منی مارکیٹس ان کیسینوز کے علاوہ ہیں جہاں بڑی بڑی رقوم کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ کھربوں روپے سٹے میں برباد کر دیے جاتے ہیں مگر بھوک سے مرنے والے بچوں کا کسی کو خیال نہیں آتا۔ ان کیسینوز میں جوئے کے ساتھ ساتھ  بے حیائی اور بدکاری کو بھی فروغ مل رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے جوئے اور بدکاری کے مراکز بھی قائم کئے جا چکے ہیں۔ سود اور جوا ایسی برائیاں ہیں جن کا تعلق الحاد کی اخلاقی بنیادوں سے قائم کیا سکتا ہے۔ اس کی مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔

 

اخلاق اور معاشرت

 

الحاد کے اثرات سے جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، وہ اخلاق انسانی اور نظام معاشرت ہے۔ اگر کوئی یہ مان لے کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے جہاں اسے اپنے کئے کا حساب دینا ہو گا تو پھر سوائے حکومتی قوانین یا معاشرتی دباؤ کے کوئی چیز دنیا میں اسے کسی برائی کو اختیار کرنے سے نہیں روک سکتی۔ پھر اس کی زندگی کا مقصد اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ دولت اور اس سے لطف اندوز ہونا ہی رہ جاتا ہے۔

اگر کسی کو یقین ہو کہ کوئی اسے  نہیں پکڑ سکتا تو پھر کیا حرج ہے کہ اگر وہ اپنے کسی بوڑھے رشتے دار کی دولت کے حصول کے لئے اس کو زہر دے دے؟ اگر وہ اتنا ہوشیار ہو کہ پولیس اس کا سراغ نہیں لگا سکتی تو پھر لاکھوں روپے کے حصول کے لئے چند بم دھماکے کر کے دہشت گرد بننے میں کیا حرج ہے؟ قانون سے چھپ کر کسی کی عصمت دری سے اگر کسی کی درندگی کی تسکین ہوتی ہے تو اس میں کیا رکاوٹ ہے؟ اپنی خواہش کی تسکین کے لئے بچوں کو اغوا کر کے، ان سے زیادتی کر کے ، انہیں قتل کر کے تیزاب میں گلا سڑا دینے میں آخر کیا قباحت ہے؟ اپنے یتیم بھتیجے کا مال ہڑپ کر جانے سے آخر کیا فرق پڑتا ہے؟ جھوٹا کلیم داخل کر کے اگر کسی کو اچھی خاصی جائیداد مل سکتی ہے تو کوئی ایسا کیوں نہ کرے؟ کسی کو اپنی گاڑی کے نیچے کچلنے کے بعد اسے ہسپتال تک پہنچا کر اپنا وقت برباد کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟ جائیداد کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے اگر کوئی اپنی بہن یا بیٹی پر کاروکاری کا الزام لگا کر اسے قتل کر دے تو کیا قیامت برپا ہو جائے گی؟ اپنے دشمنوں کی بہو بیٹیوں کو ننگا کر کے بازاروں میں گھمانے پھرانے سے اگر کسی کے انتقامی جذبات سرد پڑتے ہیں تو ایسا کرنے میں کیا حرج ہے؟ اپنی لاگت (Cost)   کو کم کرنے کے لئے اگر کوئی خوراک یا ادویات میں ملاوٹ بھی کر دے اور خواہ چند لوگ مر بھی جائیں تو کیا ہے، اس کا منافع تو بڑھ جائے گا؟ ذخیرہ اندوزی کر کے اگر کسی کے مال کی قیمتیں چڑھ سکتی ہیں تو وہ ایسا کیوں نہ کرے؟  اگر تیز رفتاری میں کسی کو مزہ آتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے اگر اس سے کوئی ایک آدھ آدمی مر جائے یا ہمیشہ کے لئے معذور ہو جائے، اتنے مزے کے لئے ایک آدھ بندہ مارنا کونسا مسئلہ ہے؟ اگر کوئی کسی کے نظریات سے اختلاف کرے تو اسے گولی مارنے میں کیا قباحت ہے؟ یا پھر یہ سب نہ بھی ہو تو کوئی اپنا وقت معاشرے کی خدمت میں کیوں لگائے، وہ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ enjoyment  کے حصول میں ہی کیوں نہ خرچ کرے؟ اگر کوئی اپنے جرم کو چھپا سکتا ہو تو پھر سرکاری سودوں میں کمیشن کھا کر ملک و قوم کو نقصان پہنچانے میں کیا چیز مانع ہے؟

یہ وہ مثالیں ہیں جو روزانہ ہمارے سامنے اخبارات میں آتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم وحشی درندوں کے درمیان اپنی زندگی گزار رہے ہیں جن پر انسان اور مسلمان ہونے کا محض لیبل لگا ہوا ہے۔ کم و بیش اسی قسم کے واقعات تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پیش آتے ہیں۔  جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ مسلم دنیا پر بھی الحاد غالب آ چکا ہے۔ ایسا تو نہیں ہوا کہ مسلمان توحید، رسالت اور آخرت کا کھلم کھلا انکار کر دیں لیکن عملی طور پر ہم ان حقیقتوں سے غافل ہو چکے ہیں۔ خدا ہے یا نہیں ہے، اس نے اپنے کسی رسول کو اس دنیا بھی بھیجا یا نہیں بھیجا ، آخرت ہو گی یا نہیں ہو گی ، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہمارا ہر عمل پکار پکار کر ہمارے ملحد ہونے کا اعلان دے رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں قانون کی طاقت سے صرف چند بدمعاشوں ہی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی تب جب ان کے جرائم منظر عام پر آ جائیں۔ معاشرہ دباؤ ڈال کر صرف ان لوگوں کی اصلاح کر سکتا ہے جن کے جرائم کا انہیں علم ہو جائے اور ان لوگوں کی تعداد معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہو۔ جو چیز جرائم کی شرح کو کم سے کم کرتی ہے وہ یہی انسانی اخلاقیات کا شعور ہی تو ہے۔ یہ شعور صرف ایک غالب قوت اور اس کے سامنے جواب دہی کے تصور ہی سے پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک ملحدانہ معاشرے میں یہ تصور کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے؟

یہ سب سے نمایاں سوال ہے جو الحاد پر کیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا بھر کے ملحد مفکرین اور فلسفی اس اخلاقی شعور سے بے بہرہ ہوں۔ بلکہ وہ خود کو اخلاق اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا پوری طرح جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک فکر آخرت کا نعم البدل یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کے ساتھ اس وجہ سے زیادتی نہ کرے کہ جواب میں وہ بھی زیادتی کر سکتا ہے یعنی دوسرے شخص کے منفی رد عمل سے بچنے کے لئے اس سے زیادتی نہ کی جائے۔

اگر اس اخلاقی معیار کو درست مان لیا جائے تو ایسا صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب دونوں فریق قوت و اقتدار کے اعتبار سے بالکل مساوی درجے پر ہوں۔ ایک طاقتور شخص اگر کسی سے زیادتی کرے تو اسے جوابی رد عمل کا کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ اگر غور کیا جائے تو دنیا بھر کے مجرموں اور جرائم پیشہ افراد اسی اخلاقی ضابطے کی پیروی کرتے ہیں۔ چوری اور ڈاکے کے بعد لوٹ کا مال آپس میں بڑی دیانت داری سے تقسیم کر لیا جاتا ہے۔ جوئے میں ہاری ہوئی رقم کو بڑی شرافت سے ادا کر دیا جاتا ہے۔ منشیات فروش اپنا اپنا حصہ بڑی دیانت داری سے ایک دوسرے کو ادا کرتے ہیں۔لیکن ایک دوسرے سے دیانت دار یہ جرائم پیشہ لوگ پورے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جار ہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ میرا ساتھی تو کسی طرح مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن ایک عام آدمی نہیں۔

الحاد کے اخلاقی اثرات بڑے واضح طور پر تیسری دنیا میں تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن دنیا کے ترقی یافتہ حصے میں یہ اثرات اتنے نمایاں نہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ الحاد کی تحریک کو سب سے پہلے فروغ مغرب میں حاصل ہوا لیکن وہاں کے لوگوں کا اخلاقی معیار تیسری دنیا سے نسبتاً بہتر ہے۔

کوئی بھی فلسفہ یا نظام حیات سب سے پہلے معاشرے کے ذہین ترین لوگ تشکیل دیتے ہیں اور پھر اسے اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے معاشرے کے ذہین طبقے میں پھیلاتے ہیں جسے عرف عام میں اشرافیہ (Elite)   کہتے ہیں۔ یہی طبقہ معاشرے میں تعلیم و ابلاغ کے تمام ذرائع پر قابض ہوتا ہے ۔ اس فلسفے یا نظام حیات کو قبول کرنے کے بعد یہ اسے عوام الناس تک پہنچاتا ہے۔ عوام ہر معاملے میں اسی اشرافیہ کے تابع ہوتے ہیں، اس لئے وہ اسے دل و جان سے قبول کر لیتے ہیں۔اہل مغرب میں الحادی نظریات کے فروغ میں جن ذہین افراد نے حصہ لیا وہ اخلاقی اعتبار سے کوئی گرے پڑے لوگ نہ تھے۔  انہوں نے خود کو انسانی اخلاق کے علمبردار کی حیثیت سے پیش کیا۔ جدید دور میں الحاد کی تحریک نے اپنا نام انسانی تحریک (Humanist)   رکھ لیا ہے اور وہ خود کو اخلاقیات کا چیمپئن سمجھتے ہیں۔ چنانچہ کونسل فار سیکولر ہیومن ازم کے بانی پال کرٹز اپنی حالیہ تحریر میں لکھتے ہیں۔

ہمیں تیسری طرف جو جنگ لڑنا ہے وہ انسانی اخلاقیات کی جنگ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اخلاقی انقلاب ہی انسانیت کے مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ یہی آخرت کی نجات یا جنت کے عقیدے کے بغیر انسانی زندگی کو بہتر بناتا ہے ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اخلاقی اقدار کو مشاہدے اور دلائل کی بنیاد پر پرکھیں اور نتائج کی روشنی میں اپنی اخلاقی اقدار میں تبدیلی کرنے پر تیار رہیں۔ ہمارا طریقہ عالمی (پلینیٹری)  ہے ، جیسا کہ Humanist Manifesto 2000  میں زور دیا گیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سیارے زمین پر ہر انسان بالکل برابر حیثیت رکھتا ہے۔ اخلاق کے ساتھ ہماری وابستگی یہ ہے کہ عالمی برادری میں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں اور ہم اپنے مشترکہ گھر یعنی اس زمین کی حفاظت کریں۔ انسانی اخلاقیات فرد کی آزادی، پرائیویسی کے حق، انسانی آزادی اور سماجی انصاف کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس کا تعلق پوری نسل انسانیت کی فلاح و بہبود سے ہے۔

Paul Kurtz, The Secular Humanist Prospect: In Historical Perspective, Free Inquiry Magazine, Vol. 23, No. 4, May 2003)

ان فلسفیوں نے انسانی حقوق اور انسانی اخلاق کو اپنے فلسفے میں بہت اہمیت دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان ممالک کے عوام میں اخلاقی شعور نسبتاً بہت بہتر ہے۔ وہ لوگ بالعموم جھوٹ کم بولتے ہیں ، اپنے کاروبار میں بددیانتی سے اجتناب کرتے ہیں، ایک دوسرے کا استحصال کم کرتے ہیں، فرد کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، جانوروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، یتیموں اور اپاہجوں کے لئے ان کے ہاں منظم ادارے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، ان کی سوچ عموماً معقولیت (Rationality)   پر مبنی ہوتی ہے، وہ عقل و دانش کی بنیاد پر اپنے نظریات کو تبدیل کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، ان کے ہاں ایک دوسرے کو مذہبی آزادی دی جاتی ہے، ایک دوسرے کا احترام کیا جاتا ہے، محض اختلاف رائے کی بنیاد پر کوئی کسی کو گولی نہیں مارتا، علم و دانش کا دور دورہ ہے، اشیا ء خالص ملتی ہیں اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے والے ادارے بہت موثر ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ اخلاقی لحاظ سے یہ لوگ فرشتے بن گئے ہیں، بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں بہت سی اخلاقی خرابیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، ان کی خدمت نہیں کرتے، جنسی بے راہ روی ان کے ہاں عام ہے، ان کی اکثریت طرح طرح کے نشے میں سکون تلاش کرتی نظر آتی ہے، ان میں تشدد کا رجحان بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، اور بالخصوص ان کے اخلاقی معیارات اپنی قوم کے افراد کے لئے کچھ اور ہیں اور باقی دنیا کے لئے کچھ اور۔ نیشنلزم کا جذبہ بہت طاقتور ہونے کی وجہ سے یہ اپنی قوم کے افراد کے لئے تو ابریشم کی طرح نرم ہیں اور ہر اخلاقی اصول کی پیروی کرتے ہیں لیکن جب معاملہ کسی دوسری قوم کے ساتھ ہو تو وہاں انسانی حقوق کے تمام سبق یہ بھول جاتے ہیں۔

جب یہ الحادی نظریات اہل مغرب سے نکل کر مشرقی قوموں میں آئے تو اشرافیہ کے جس طبقے نے انہیں قبول کیا، بدقسمتی سے وہ اخلاقی اعتبار سے نہایت پست تھا۔جب یہ طبقہ اور اس کے زیر اثر عوام الناس عملی اعتبار سے الحاد کی طرف مائل ہوئے تو انہوں نے تمام اخلاقی حدود کو پھلانگ کر وحشت اور درندگی کی بدترین داستانیں رقم کیں۔ اگر ہم پاکستان بننے کے بعد ان مظالم کا جائزہ لیں جو خود مسلمانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے ظلم و ستم سے بچ کر آنے والے اپنے مسلمان بھائیوں پر کئے تو ہمیں صحیح معنوں میں الحاد کے اثرات کا اندازہ ہو گا۔ دور جدید میں اس کا اندازہ محض روزانہ اخبار پڑھنے ہی سے ہو جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ملحدین میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں، وہ تو مسلمانوں نے پوری طرح اختیار کر لیں لیکن ان کی خوبیوں کا عشر عشیر بھی ان کے حصے میں نہ آیا۔

الحاد کے معاشرتی اثرات میں ایک بڑا واضح اثر خاندانی نظام کا خاتمہ اور فری سیکس کا فروغ ہیں۔ جنسی زندگی سے متعلق آداب انسان کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہی نے بتائے ہیں اور اس ضمن میں ہر قسم کی بے راہ روی کا خاتمہ کیا ہے۔ جب ایک شخص انہی کا انکار کر دے تو پھر اس کی راہ میں ایسی کونسی رکاوٹ ہے جو اسے دنیا کی کسی بھی عورت سے آزادانہ صنفی تعلقات سے روک سکے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ پھر ماں ، بہن اور بیٹی کا تقدس پامال کرنے بھی کیا حرج رہ جاتا ہے؟ اس کے بعد اگر نئی نئی لذتوں کی تلاش میں مرد مردوں کے پاس اور عورتیں عورتوں کے پاس جائیں تو اس میں کیا قباحت رہ جاتی ہے؟

الحاد کا یہ وہ اثر ہے جسے مغربی معاشروں میں پوری طرح فروغ حاصل ہوا۔ دور غلامی میں خوش قسمتی سے مسلم دنیا الحاد کے ان اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہی لیکن بیسویں صدی کے ربع آخر میں میڈیا کے فروغ سے اب یہ اثرات بھی ہمارے معاشروں میں تیزی سے سرایت کر رہے ہیں۔ جہاں جہاں یہ فری سیکس پھیل رہا ہے وہاں وہاں اس کے نتیجے میں ایک طرف تو ایڈز سمیت بہت سی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور دوسری طرف خاندانی نظام کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں کوئی نہ تو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی بوڑھوں کی خبر گیری کرنے کو۔ کڈز ہومز میں پلنے والے یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اسی بے راہ روی کا شکار ہو کر یہ ذمہ داریاں قبول نہیں کرتے اور مکافات عمل کے نتیجے میں یہ جب بوڑھے ہوتے ہیں تو پھر ان کی خبر گیری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اچھے اولڈ ہومز میں داخلہ بھی اسی کو ملتا ہے جس کی اولاد کچھ فرمانبردار ہو اور اس اولڈ ہوم کا خرچ اٹھا سکے۔ان کی زندگی اب کڈز ہوم سے شروع ہو کر اولڈ ہوم پر ختم ہو جاتی ہے۔

معاشرتی اور معاشی اعتبار سے الحاد نے مسلم معاشروں کو جس اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ دنیا پرستی کا فروغ ہے۔ دنیا پرستی کا فلسفہ مغربی اور مسلم دونوں علاقوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ جب انسان عملی اعتبار سے آخرت کی زندگی کا انکار کر دے یعنی اس کے تقاضوں کو مکمل طور پر فراموش کر دے تو پھر دنیاوی زندگی کی اس کی سرگرمیوں کا مطمح نظر بن جاتی ہے۔ مغربی معاشروں پر تو کسی تبصرے کی ضرورت نہیں لیکن ہمارے اپنے معاشروں میں جس طرح دنیا پرستی کی بھیڑ چال شروع ہو چکی ہے، وہ ہماری پستی کی انتہا ہے۔

ایک طر ف تو ایسے لوگ ہیں جن کی اخلاقی تربیت بہت ناقص ہے اور وہ ہر طرح کے جرائم میں مبتلا ہیں لیکن ان کے برعکس ایسے لوگ جن کی اخلاقی قدریں کافی حد تک قائم ہیں، دنیا پرستی کے مرض میں کس حد تک مبتلا ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ صرف ان کی چوبیس گھنٹے کی مصروفیات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے عام تعلیم یافتہ لوگ جن کی اخلاقی سطح معاشرے کے عام افراد سے بلند ہے، روزانہ صبح اٹھتے ہیں اور اپنے کاروبار یا دفاتر کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو دفتری اوقات کے فوراً بعد واپس آ جاتے ہوں۔ زیادہ سے زیادہ ترقی کے لئے لیٹ سٹنگز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور عام طور پر لوگ آٹھ نو بجے تک دفتر سے اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد گھر واپس آ کر کھانا کھانے ، ٹی وی دیکھنے اور اہل خانہ سے کچھ گفتگو کرنے میں گیارہ بارہ بڑے آرام سے بج جاتے ہیں۔ سوتے سوتے ایک یا دو بج جاتے ہیں۔ بالعموم صبح کی نما ز چھوڑ کر لوگ سات بجے تک بیدار ہوتے ہیں اور پھر دفتر کی تیاری میں لگ جاتے ہیں۔چھٹی کا دن عموماً ہفتے بھر کی نیند پوری کرنے اور گھریلو مسائل میں نکل جاتا ہے۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کو راضی کرنے ، دین سیکھنے، اپنی اخلاقی حالت بلند کرنے اور دین کے تقاضے پورے کرنے کے لئے کتنا وقت نکال سکتے ہیں؟

افسوس ہے کہ اس ترقی کو حاصل کرنے کے لئے جو زیادہ سے زیادہ بیس پچیس سال تک کام دے گی، ہم لامحدود سالوں پر محیط آخرت کی زندگی کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے کاروبار میں بیس روپے منافع کمانے کی دھن اربوں روپے کے سرمائے کا نقصان کر لے یا پھر دریا کی تہہ میں پڑے ہوئے ایک روپے کے سکے کو حاصل کرنے کے لئے لاکھوں روپے کی دولت پھینک کر دریا میں چھلانگ لگا دے۔

٭٭٭

 

 

باب پنجم: الحاد کی سائنسی اساسات کا انہدام

 

 

انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے نصف اول کا زمانہ الحاد کے عروج کا دور ہے۔ اسی دور میں وہ سائنسی تحقیقات ہوئیں جنہوں نے الحاد ی نظریات کی توجیہ پیش کی۔ اسی دور میں الحادی نظریات اور نظام ہائے حیات کو دنیا بھر میں فروغ ملا، اسی عرصے کے دوران دنیا بھر کے انسانوں نے اپنی زندگیوں میں مختلف درجوں پر الحاد کو قبول کیا۔ کوئی الحاد کو نظریاتی طور پر بھی مان کر خالص ملحد اور دہریہ بنا اور کسی نے صرف اس کے عملی اثرات کو قبول کرنے پر اکتفا کیا۔ بیسویں صدی کے نصف آخر سے الحاد کا زوال شروع ہوا۔

دور قدیم کے ملحدین کے پاس الحاد کی کوئی ٹھوس منطقی دلیل نہیں ہوا کرتی تھی۔ انیسویں صدی میں کچھ ایسے سائنسی نظریات وجود میں آئے جنہوں نے الحاد کو کسی حد تک سپورٹ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں کسی کی حیثیت بھی سائنسی قانون (Law)  یا مسلمہ کی نہیں تھی۔ یہ سب کے سب ابھی نظریے (Theory) کے درجے پر تھے۔ ان نظریات کا ایک مختصر جائزہ ہم پیش کر چکے ہیں، یہاں ہم ہارون یحییٰ کے مضمون  The Fall of Atheism   سے ان سائنسی تحقیقات کا اجمالاً ذکر کریں گے جنہوں نے الحاد کی ان سائنسی بنیادوں کو منہدم کیا۔ ان نظریات میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء، فرائڈ کا نظریہ جنس، مارکس اور اینجلز کے معاشی نظریات اور ڈرخم کے عمرانی نظریات شامل ہیں۔جو صاحب ان کی تفصیل جاننا چاہیں، وہ اس آرٹیکل کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یہ آرٹیکل ان کی ویب سائٹ www.harunyayha.org    پر بھی میسر ہے۔ ان سائنسی اساسات کے انہدام پر جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر پیٹرک گلائن کا تبصرہ بڑا معنی خیز ہے:

پچھلے دو عشروں کی ریسرچ نے جدید سیکولر اور ملحد مفکرین کی پچھلی نسل کے تمام مفروضات اور پیش گوئیوں کو گرا کر رکھ دیا ہے جو انہوں نے خدا کے وجود کے بارے میں قائم کئے تھے۔ جدید (ملحد) مفکرین نے یہ فرض کر رکھا تھا کہ سائنس پر مزید تحقیقات اس کائنات کو بے ترتیب (Random)   اور میکانکی ثابت کر دیں گی؛ لیکن اس کے برعکس جدید سائنسی تحقیقات نے کائنات کو غیر متوقع طور پر ایسا منظم نظام ثابت کیا ہے جو کہ ایک ماسٹر ڈیزائن کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہو۔ ماڈرن (ملحد) ماہرین نفسیات یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ مذہب محض ایک دماغی خلل یا نفسیاتی بیماری ثابت ہو جائے گا لیکن انسان کا مذہب کے ساتھ تعلق مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں دماغی صحت کا اعلیٰ ترین نمونہ ثابت ہوا ہے۔ اس حقیقت کو ابھی صرف چند لوگ ہی تسلیم کر رہے ہیں لیکن یہ بات اب واضح ہو جانی چاہئے کہ مذہب اور سائنس میں ایک صدی کی بحث کے بعد اب پانسہ مذہب کے حق میں پلٹ چکا ہے۔ ڈارون کے نظریے کے فروغ کے دور میں ، ملحدین اور متشککین جیسے ہکسلے اور رسل یہ کہہ سکتے تھے کہ زندگی اتفاقی طور پر وجود میں آئی اور کائنات محض ایک اتفاق ہی سے بنی۔ اب بھی بہت سے سائنس دان اور دانشور اسی نقطہ نظر کو مانتے ہیں لیکن وہ اس کے دفاع میں اب بے تکی باتیں کرنے پر ہی مجبور ہیں۔ آج حقائق کے مضبوط اعداد و شمار یہی ثابت کرتے ہیں کہ خدا کے موجود ہونے کا نظریہ ہی درست ہے۔

Patrick Glynn, God: The Evidence, The Reconciliation of Faith and Reason in a Postsecular World , Prima Publishing, California, 1997, pp.19-20, 53)

 

بگ بینگ کا نظریہ

 

اب تک دنیا میں یہ مانا جا رہا تھا کہ یہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اس نظریے کو جدید دنیا میں جرمن فلسفی عمانویل کانٹ نے پیش کیا۔ یہ سمجھا جانے لگا کہ اس کائنات کو کسی نے تخلیق نہیں کیا بلکہ یہ ہمیشہ سے ایسے ہی ہے۔

بیسویں صدی میں فلکیات (Astronomy)   کے میدان میں جدید علمی تحقیقات نے اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا۔  1929 میں امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کہکشائیں مسلسل ایک دوسرے سے دور ہو رہی ہیں۔ اس سے سائنس دانوں نے یہ اخذ کیا کہ ماضی میں کسی وقت یہ کہکشائیں اکٹھی تھیں۔ اس وقت یہ کائنات توانائی کے ایک بہت بڑے گولے کی شکل میں موجود تھیں جو ایک بہت عظیم دھماکے (Big Bang)   کے نتیجے میں مادے کی صور ت اختیار کر گیا۔ملحد مفکرین نے اس نظریے کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن مزید سائنسی تحقیقات نے اس نظریے کو تقویت دی۔ 1960 کے عشرے میں دو سائنس دانوں ارنو پینزیاز اور رابرٹ ولسن نے دھماکے کے نتیجے میں بننے والی Cosmic Background Radiation  کو دریافت کیا۔ اس مشاہدے کی تصدیق 1990 میں Cosmic Background Explorer Satellite   کی ذریعے کی گئی۔ اس صورتحال میں انتھونی فلیو جو کہ یونیورسٹی آف ریڈنگ میں فلسفے کے ایک ملحد پروفیسر ہیں، کہتے ہیں:

اعتراف روح کے لئے اچھی چیز ہے۔ میں اس اعتراف سے آغاز کرتا ہوں کہ علم فلکیات میں اس اتفاق رائے سے ایک ملحد کے نظریات پر زد پڑتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فلکیات دان اس بات کو سائنسی طور پر ثابت کرنا چاہتے ہیں جو سینٹ تھامس فلسفیانہ طور پر ثابت نہ کر سکے یعنی یہ کہ اس کائنات کی کوئی ابتدا ہے۔ اس سے پہلے ہم یہ اطمینان رکھتے تھے کہ اس کائنات کی نہ تو کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی اختتام——  اب یہ کہنا بگ بینگ تھیوری کے سامنے آسان نہیں ۔

Henry Margenau, Roy Abraham Vargesse, Cosmos, Bios, Theos, La Salle IL: Open Court Publishing, 1992, p.241) اب ا مرکز ہے اور سورج اس کے گر عبید

جان میڈکس جو کہ ایک ملحد ہیں اور Nature   کے نام سے رسالہ نکالتے ہیں نے اس نظریے کو اس بنیاد پر رد کر دیا کہ اس سے خدا کو ماننے والوں کو حجت مل جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نظریہ دس سال سے زیادہ نہیں چل سکے گا لیکن مزید تحقیقات نے اس نظریے کو اور تقویت دی۔ برطانوی ملحد اور ماہر طبیعات ایچ پی لیپسن لکھتے ہیں:

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بات کا اعتراف کر لینا چاہئے کہ قابل قبول تشریح یہی ہے کہ اس کائنات کو تخلیق کیا گیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ملحدین کی زبان بند کر دے گی جیسا کہ میرے ساتھ ہوا لیکن ہمیں کسی چیز کو صرف اس بنیاد پر رد نہیں کر دینا چاہئے کہ ہم اسے پسند نہیں کرتے اگرچہ تجربہ اور مشاہدہ اسے ثابت کر رہا ہو۔

H. P. Lipson, “A Physicist Looks at Evolution”, Physics Bulletin, vol. 138, 1980, p. 138)

 

کائنات کا انٹیلی جنٹ ڈیزائن

 

کائنات کے متعلق اہل الحاد کا ایک اور نظریہ بھی تھا اور وہ یہ تھا کہ یہ کائنات بے ترتیب (Random)   ہے۔ اس میں موجود مادے، اجرام فلکی اور جن قوانین کے تحت یہ چل رہے ہیں کا کوئی مقصد نہیں بلکہ یہ محض اتفاق ہی ہے۔ 1970  کے عشرے میں سائنس دانوں نے یہ دریافت کیا کہ کائنات میں ایسا توازن (Balance)   پایا جاتا ہے جس میں اگر ذرا سا بھی ہیر پھیر ہو تو اس میں انسانی زندگی ممکن ہی نہ ہو سکے۔ تمام طبیعی، کیمیائی اور حیاتیاتی قوانین، کشش ثقل اور مقناطیسی قوتیں، ایٹمز اور مالیکیولز کی ساخت، عناصر اور مرکبات کی موجودگی یہ سب کا سب بالکل اسی طرح اس کائنات میں موجود ہے جیسا کہ انسانی زندگی کی ضرورت ہے۔ سائنس دانوں نے اس غیر معمولی ڈیزائن کو Anthropic Principle   کا نام دیا۔ ان کے مطابق اگر بگ بینگ کے وقت دھماکے کی شدت، مادے کے پھیلنے کی رفتار میں ذرا سا بھی فرق پڑ جاتا تو یا تو مادہ دوبارہ جڑ جاتا یا پھر اتنا زیادہ پھیل جاتا کہ موجودہ حالت میں کسی طور پر آ ہی نہ سکتا ، اس طرح انسانی زندگی کبھی ممکن نہ ہوتی۔

زمین کا سائز، سورج کا سائز، سورج اور زمین کا فاصلہ، پانی کی طبعی اور کیمیائی خصوصیات، سورج کی شعاعوں کی ویو لینتھ، زمین کی فضا میں موجود گیسیں اور کشش ثقل سب کی سب اسی تناسب میں موجود ہیں جو انسانی زندگی کے لئے ہونا چاہئے تھا۔ اگر اسن میں سے کسی میں 1/1039  کے برابر بھی فرق پڑ جاتا تو انسانی زندگی ممکن نہ ہوتی۔ کیا ایسا کسی مافوق الفطرت ہستی کی مداخلت کے بغیر ممکن تھا۔ کیا دنیا میں کبھی ایسا ہوا کہ ہوا میں ریت ، بجری اور سیمنٹ کو یونہی اچھا ل دیا جائے اور وہ جب زمین پر بیٹھے تو ایک خوبصورت بنگلے کی صورت اختیار کر جائے جو انسانی رہائش کے لئے موزوں ترین ہو یا پھر روشنائی کے قطروں کو اچھال دیا جائے اور جب وہ نیچے گریں تو غالب کی غزل لکھی ہوئی ہو۔ شاید ایسا صرف کارٹون فلموں ہی میں ممکن ہے لیکن حقیقی دنیا میں اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک منظم نتیجہ حاصل کرنے کے لئے کسی برتر ہستی کی موجودگی ضروری ہوا کرتی ہے۔ ان حقائق نے بہت سے سائنس دانوں جیسے پال ڈیوس، ڈبلیو پریس، جارج گرین اسٹائن اور مالیکیولر بائیولوجسٹ مائیکل ڈینٹن کو کسی برتر ہستی کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

 

ڈارون کے نظریے کی تردید

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ الحاد کو سب سے زیادہ سپورٹ ڈارون کے نظریہ ارتقا سے ملی ہے۔ ڈارون کے مطابق تمام جاندار اشیا بے جان مادے سے ایک ارتقائی عمل کے تحت بنی ہیں۔ سب سے پہلے ایک خلیے پر مشتمل سادہ جاندار وجود میں آئے اور پھر یہ لاکھوں سال میں نسل در نسل ارتقا پذیر ہو کر اعلیٰ جانوروں کی شکل اختیار کرتے گئے۔بیسویں صدی میں پیلی انٹالوجی کے میدان میں قدیم ترین فوسلز پر ریسرچ سے نظریہ ارتقا کسی طرح بھی ثابت نہ ہو سکا۔یہ ریسرچ محض دو جانوروں کے درمیان ارتقا کڑیوں کو جوڑنے میں ناکام رہی۔

اسی طرح جانوروں کی نسلوں میں کئی عشروں تک تبدیلیوں کے مطالعے سے سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی بھی نوع (Specie)   میں تبدیلیاں مخصوص جینیاتی حدود (Genetic Boundries)   سے باہر نہیں جاتیں۔ انسانی آنکھ سے لیکر پرندوں کے پروں تک کسی بھی جاندار کے جسم کا ہر حصہ اتنی sophisticated technology   سے بنا ہوتا ہے کہ اس کا تقابل کسی بھی جدید مشینری سے کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ یہ سب کچھ محض اتفاق ہی سے اندھے قوانین کے تحت بن گیا۔ ان تمام تحقیقات کے نتیجے میں اب مغربی سائنس دانوں میں Intelligent Design   کا نظریہ فروغ پا رہا  ہے۔

 

سگمنڈ فرائڈ کے نظریات کی تردید

 

نفسیات کے میدان میں الحاد کی اساسات سگمنڈ فرائڈ کے نظریات پر قائم تھیں جو کہ آسٹریا کے ماہر نفسیات تھے۔ فرائڈ مذہب کو محض ایک نفسیاتی بیماری قرار دیتے تھے او ران کا خیال یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان جیسے جیسے ترقی کرے گا، یہ مرض دور ہو جائے گا۔ ماہرین نفسیات میں الحاد بہت تیزی سے پھیلا۔ 1972   میں امریکن سائکالوجی ایسوسی ایشن کے ممبرز کے مابین ایک سروے کے مطابق ماہرین نفسیات میں صرف 1.1%   ایسے تھے جو کسی مذہب پر یقین رکھتے ہوں۔ انہی ماہرین نفسیات نے طویل عرصے تک لوگوں کی نفسیات کا مطالعہ کرنے کے بعد جو رائے قائم کی، وہ پیٹرک گلائن کے الفاظ میں کچھ یوں تھی:

نفسیات کے میدان میں پچیس سالہ ریسرچ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ فرائڈ اور ان کے پیروکاروں کے خیال کے برعکس ، مذہب پر ایمان ذہنی صحت اور خوشی کے اہم ترین اسباب میں سے ایک ہے۔ ریسرچ پر ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ مذہب پر ایمان اور اس پر عمل انسان کو بہت سے غیر صحت مندانہ رویوں جیسے خودکشی، منشیات کے استعمال، طلاق، ڈپریشن اور شادی کے بعد جنسی عدم تسکین سے بچاتا ہے۔ مختصراً، مشاہداتی ڈیٹا پہلے سے فرض کردہ سائیکو تھیراپک اجماع سے بالکل مختلف نتائج پیش کرتا ہے۔

Patrick Glynn, God: The Evidence, The Reconciliation of Faith and Reason in a Postsecular World , Prima Publishing, California, 1997, pp.60-61)

 

کمیونزم کا زوال

 

معاشیات کے میدان میں الحاد کی سب سے بڑی شکست کمیونزم کا زوال ہے۔ کمیونزم جو دنیا میں الحاد کا سب سے بڑا داعی تھا، بالآخر اپنے دو بنیادی مراکز روس اور چین میں دم توڑ گیا۔ لینن نے اپنے تئیں خدا کو سوویت یونین سے نکال دیا تھا لیکن خدا نے اس کے غرور کا خاتمہ کر ہی دیا۔ کمیونزم کے آخری دور میں روسی عوام اور آخری صدر گوربا چوف کو خدا کی ضرورت بری طرح محسوس ہوئی۔ سیاسیات کے باب میں الحاد کی بنیاد پر بننے والے نظریات فاشزم وغیرہ بھی دم توڑ گئے۔

معاشریات یا عمرانیات (Sociology)   کے اعتبار سے الحاد اہل مغرب کو سکون فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ یہ بے سکونی اس قدر بڑھی کہ وہاں ہیپی تحریک نے فروغ پایا جو دنیا کی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر منشیات کے نشے میں مست پڑے رہتے اور سکون کی تلاش میں سرگرداں رہتے حتیٰ کہ بعض تو اسی حالت میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔

یہ چند مثالیں ہیں جو بیسویں صدی کی جدید سائنسی تحقیقات کی نتیجے میں الحادی نظریات کی تردید میں آپ کے سامنے پیش کی گئیں۔ ان میں سے اگر صرف کائنات کے توازن اور اس کے عین انسانی ضروریات کے مطابق ہونے ہی کو لیا جائے تو خدا کے وجود کا معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض چیزیں تو اتنی بدیہی ہیں کہ ان کو جاننے کے لئے کسی سائنسی تحقیق کی ضرورت نہیں بلکہ دیہات میں رہنے والے عام انسان بھی ان کو سوچ اور سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں تفصیلی سائنسی دلائل کی بجائے بالعموم ایسی چیزوں سے استدلال کیا گیا ہے جو ہر دور اور ہر ذہنی سطح کے لوگوں کی سمجھ میں آ جائیں۔

دور جدید میں کائنات کا علم یعنی فلکیات ہو یا انسان کی اپنی ذات کا علم یعنی حیاتیات و نفسیات، جیسے جیسے انسان پر حقائق منکشف ہو رہے ہیں ، وہ جانتا جا رہا ہے کہ واقعی اس کائنات کا خدا اور اس کا کلام حق ہے۔  سَنُرِیہِم اٰیٰتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَ فِی اَنفُسِہِم،  حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُم اَنَّہُ الحَقُّ (حم سجدہ 41:53)  ’’ہم عنقریب انہیں(انسانوں کو) اس کائنات اور اور خود ان کی ذات (جسم وروح) میں اپنی  نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ (قرآن) حق ہے۔‘‘

اس موقع پر ہم یہ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ اثبات خدا سے متعلق سائنسی دلائل دیتے ہوئے ہمیں صرف ان چیزوں سے استدلال کرنا چاہئے جن کی حیثیت سائنس میں حتمی قانون (Law)   یا مسلمات کی ہو۔ اگر ہم بھی ملحدین کی طرح محض سائنسی نظریات (Theories)   سے استدلال کرنے لگیں گے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ نظریات بھی غلط ثابت ہو جائیں اور ہمارا استدلال غلط قرار پائے۔

٭٭٭

 

 

باب ششم: الحاد ، اکیسویں صدی اور ہماری ذمہ داریاں

 

 

جیسا کہ ہم نے مطالعہ کیا کہ انیسویں صدی میں جب سائنسی علوم نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ انسان ان کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کر سکتا، بعض خام سائنسی نظریات نے ملحدین کو خدا کا انکار کرنے کا جواز عطا کیا۔ بیسویں صدی میں جب انسان کی علمی سطح بلند ہوئی تو اسے اپنے نظریات کی غلطی کا علم ہوا۔ بہت سے ایسے حقانیت پسند ملحد مفکرین اور سائنس دانوں جن میں پیٹرک گلائن بھی شامل ہیں، نے خدا کا اقرار کر لیا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظریاتی میدان میں اب الحاد کو شکست حاصل ہو چکی ہے۔ لیکن عملی میدان میں الحاد اب بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور اس ضمن میں مغربی اور مسلم دنیا کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ مغربی دنیا میں تو پھر بھی اخلاقی اصولوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس مسلم دنیا اخلاقی اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔

اگر غور کیا جائے تو موجودہ دور میں صورتحال اتنی مایوس کن بھی نہیں ہے۔ ہمارے معاشروں میں تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ دین کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور بالخصوص ذہین لوگ بڑی کثیر تعداد میں دین کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ افراد کی اخلاقی حالت بھی بالعموم غیر تعلیم یافتہ افراد سے نسبتاً خاصی بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ اہل مغرب میں بھی دوبارہ خدا کی طرف رجوع کرنے کا رجحان موجود ہے۔ یہ بات بعید از قیاس نہ ہو گی کہ جس طرح بیسویں صدی میں الحاد کو نظریاتی میدان میں شکست ہوئی، اسی طرح اکیسویں صدی میں انشاء اللہ الحاد کو عملی میدان میں بھی شکست ہونے کا خاصا امکان موجود ہے۔ اس ضمن میں جو لوگ اللہ، رسول اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، ان پر بھی چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ اگر اہل ایمان ان ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ عمل کے میدان میں بھی الحاد کو شکست ہو گی۔

اہل ایمان کو سب سے پہلے اپنا ہدف متعین کر لینا چاہئے۔ اس وقت جو لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں، ان کا ہدف بالعموم اتنا جامع اور متعین نہیں ہے۔ عام علماء بس کسی طرح اپنے روایتی ورثے کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض دینی جماعتوں نے اپنا ہدف سیاسی نظام کی تبدیلی تک محدود کر لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کے بعد کے مسائل پر کسی نے غور کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی ایکشن پلان تیار کرنے کی کسی نے زحمت کی ہے۔ اگر یہ لوگ اسلام کی بنیاد پر دور جدید کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی ماڈلز تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوتے تو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ موجودہ حکمرانوں میں سے کوئی اسے نافذ کرنے پر تیار ہو جاتا۔

اس کے برعکس بعض دینی جماعتوں کا ہدف لوگوں کو چند مخصوص دینی اعمال جیسے نوافل، ورد و وظائف اور عبادات کی تلقین کرنا رہ گیا ہے۔ دین کا کلی تصور ان کے ہاں بھی مفقود ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں دین شرک سب سے بڑا فتنہ تھا اور آپ کی دعوت کا بنیادی ہدف شرک کا خاتمہ تھا، اسی طرح موجودہ دور میں ’’الحاد عملی ‘‘سب سے بڑا فتنہ اور اس کے خاتمہ اہل ایمان پر لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو کسی دوسرے مذہب سے اتنا بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے جتنا کہ الحاد سے جو دنیا پرستی اور اخلاقی انحطاط کی صور ت میں ملت اسلامیہ کے قلب میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ آج کی ہر دینی جدوجہد کا بنیادی ہدف اس الحاد کی جڑ پر تیشہ چلانا ہونا چاہئے۔

یہ حقیقت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اسلام پسند افراد اور تحریکیں الحاد کی بنیاد پر قائم ہونے والے نظریات جیسے جمہوریت، سیکولر ازم اور کیپیٹل ازم وغیرہ کے اسلامی بنیادوں پر قائم  ایسے مربوط اور ترقی یافتہ  متبادل پیش نہیں کر سکے جو دور جدید میں مکمل طور پر قابل عمل ہوں۔  اس معاملے میں امت کے مختلف حلقوں کی جانب سے بہت سی کوششیں ہوئی ہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں۔  اس وقت اس چیز کی ضرورت ہے کہ اسلامی تعلیمات کی اساس پر دور جدید کے تقاضوں کے مطابق قابل عمل سیاسی، معاشی اور عمرانی ماڈلز تیار کئے جائیں اور امت کے ذہین ترین افراد علوم اسلامیہ میں اجتہادی  بصیرت پیدا کر کے اس عمل میں حصہ لیں۔  اب تک اس ضمن میں جو کام ہو چکا ہے، اس کا مسلسل تنقیدی جائزہ لیتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے، تجربے کی کسوٹی پر انہیں پرکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں مزید بہتری لائی جا سکے۔  الحمد للہ امت کے ذہین ترین افراد اس عمل میں مصروف ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصول بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پوری امت کے مزاج کو علمی اور معقول (Rational)   بنانے کی ضرورت ہے جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور آج کل کے اہل مغرب کا مزاج علمی اور عقلی ہے۔ تاریخ میں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ جب ہم علم و دانش کی بلندیوں کو چھو رہے تھے اور اہل مغرب علم و دانش سے کوسوں دور تھے تو ہمارا دور عروج تھا اور جب ہم علم و دانش سے دور ہوئے اور اہل مغرب نے اسے اختیار کیا تو دنیا میں ان کا عروج اور ہمارا زوال شروع ہوا۔ اہم ترین ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ امت مسلمہ کے اخلاق کو کردار کو بہتر بنانے کی بھی کوشش کی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملحدین کی بجائے مسلمان خود کو عملی طور پر اعلیٰ انسانی اخلاقیات کا چیمپئن ثابت کریں۔ مسلمانوں میں ایک بھرپور انسانی تحریک (Humanist Movement)  پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس ضمن میں نہ صرف یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا خود جائزہ لیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ امت مسلمہ سے باہر ہمارا کیا تاثر پایا جاتا ہے ۔ اس میں کیا کیا منفی عوامل شامل ہیں؟ ہم میں ایسی کونسی حقیقی کمزوریاں موجود ہیں جو غیر مسلموں کی نظر میں ہمارے امیج کو خراب کرتی ہیں؟ کیا ہم اسلام کے حقیقی داعی اور مبلغ کا کردار ادا کر رہے ہیں یا ہماری حیثیت بھی بہت سی قوموں کے ہجوم میں محض ایک عام سی قوم کی ہے جو سب کی طرح صرف اپنے ہی حقوق کے لئے مری جا رہی ہو؟ اپنی اخلاقی کمزوریوں کو دور کر کے ایک داعی و مبلغ کا اعلیٰ ترین کردار پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا بہت بڑا جہاد ہے جس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں اس تنقید کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو ملحدین اور دوسرے غیر مسلم مفکرین نے مسلمانوں کے کردار پر کی ہے۔ اگر ان خطوط پر کام کیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ہم آنے والے دور میں الحاد کا بہتر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

اس معاملے میں اچھی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ میں اب یہ احساس پیدا ہو چلا ہے کہ منفی انداز میں ہم نے بہت کچھ کر کے دیکھ لیا مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب مثبت انداز میں جدوجہد کی جائے۔ متعدد ایسے دینی ادارے وجود میں آ رہے ہیں جہاں عصر حاضر کے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں امت کے بہت سے ذہین افراد اسلام کو درپیش چیلنجز پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان  افراد یا اداروں کے ساتھ ہر ممکن طریقے سے تعاون کریں اور اس مثبت جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔

٭٭٭

 

ماخذ:

مبشر نذیر

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید