FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

الفاروق

فہرست مضامین

حصہ اول

شمس العلماء شبلی نعمانی

 

دیباچہ

(طبع اول از مصنف)

الفاروق جس کا غلغلہ وجود میں آنے سے پہلے تمام ہندوستان میں بلند ہو چکا ہے ، اول اول اس کا نام زبانوں پر اس تقریب سے آیا کہ المامون طبع اول کے دیباچہ میں ضمناً اس کا ذکر آ گیا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ مصنف کی طرف سے بالکل سکوت اختیار کیا گیا تاہم نام میں ہی  ایسی دلچسپی تھی کہ خود بخود پھیلتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کے ابتدائی اجزاء ابھی تیار نہیں ہوئے تھے کہ تمام ملک میں اس سرے سے اس سرے تک الفاروق کا لفظ بچہ بچہ کی زبان پر تھا۔

ادھر کچھ ایسے اسباب پیش آئے کہ الفاروق کا سلسلہ رک گیا اور اس کے بجائے دوسرے کام چھڑ گئے۔ چنانچہ اس اثناء میں متعدد تصنیفیں مصنف کے قلم سے نکلیں اور شائع ہوئیں۔ لیکن جو نگاہیں فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کوکبۂ جلال کا انتظار کر رہی تھیں ان کو کسی دوسرے جلوہ سے سیری نہیں ہو سکتی تھی۔ سوء اتفاق یہ کہ میرے ساتھ الفاروق کی طرف سے بیدلی کے بعض ایسے اسباب پیدا ہو گئے تھے کہ میں نے اس تصنیف سے گویا ہاتھ اٹھا لیا تھا لیکن ملک کی ہر طرف سے تقاضے کی صدائیں رہ رہ کر بلند ہوتی تھیں کہ میں مجبوراً قلم ہاتھ سے رکھ رکھ کر اٹھا لیتا تھا۔ بالآخر 18 اگست 1894 عیسوی کو میں نے ایک قطعی فیصلہ کر لیا اور مستقل اور مسلسل طریقے سے اس کام کو شروع کیا۔ ملازمت کے فرائض اور اتفاقی موانع وقتاً فوقتاً اب بھی سد راہ ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ متعدد دفعہ کئی کئی مہینے کا ناغہ پیش آ گیا لیکن چونکہ کام کا سلسلہ قطعاً بند نہیں ہوا اس لئے کچھ نہ کچھ ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آج پورے چار برس کے بعد یہ منزل طے ہوئی اور قلم کے مسافر نے کچھ دنوں کے لئے آرام کیا۔

شکر کہ جماز بہ منزل رسید

زورق اندیشہ بساحل رسید

یہ کتاب دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں تمہید کے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت سے وفات تک کے واقعات اور فتوحات ملکی کے حالات ہیں۔ دوسرے حصے میں ان کے ملکی اور مذہبی انتظامات اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل ہے اور یہی دوسرا حصہ مصنف کی سعی و محنت کا تماشا گاہ ہے۔

اس کتاب کی صحت طبع میں اگرچہ کم کوشش نہیں کی گئی۔ کاپیاں میں نے خود دیکھیں اور بنائیں۔ لیکن متواتر تجربوں کے بعد مجھ کو اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میں اس وادی کا مرد میداں نہیں اور میں اس کی کوئی تدبیر نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر صاحب مطبع اجازت دیں تو اس قدر کہنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ اس جرم کا میں تنہا مجرم نہیں بلکہ کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں۔ بہرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگا دیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے۔

اس کتاب میں بعض الفاظ کے املا کا نیا طریقہ نظر آئے گا۔ مثلاً اضافت کی حالت میں ” مکہ ” اور ” مدینہ ” کی بجائے ” مکے ” اور ” مدینے ” اور جمع کی حالت میں ” موقع” اور “مجمع” کے بجائے “موقعے ” اور “مجمعے ” لیکن یہ میرا طریقہ املاء نہیں ہے۔ بلکہ کاپی نویس صاحب کا ہے اور اس کے برخلاف عمل کرنے پر کسی طرح راضی نہ ہوئے۔

یہ بھی واضح رہے کہ یہ کتاب سلسلۂ آصفیہ کی فہرست میں داخل ہے۔ لیکن پہلے سلسلۂ آصفیہ کی ماہیت اور حقیقت سمجھ لینی چاہیے۔

ہمارے معزز اور محترم دوست شمس العلماء مولانا سید علی بلگرامی بجمیع القابہ کو تمام ہندوستان جانتا ہے۔ وہ جس طرح بہت بڑے مصنف، بہت بڑے مترجم، بہت بڑے زبان دان ہیں اسی طرح بہت بڑے علم دوست اور اشاعت علوم و فنون کے بہت بڑے مربی اور سرپرست ہیں۔ اس دوسرے وصف نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ انہوں نے جناب نواب محمد فضل الدین خان سکندر جنگ اقبال الدولہ، اقتدار الملک، سر وقار الامراء بہادر کے سی، آئی، ای مدار المہام دولت آصفیہ خلدہا اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ درخواست کی کہ حضور پر نور، رستم دوراں، افلاطون زماں فلک بارگاہ سپہ سالار مظفر الملک فتح جنگ ہز ہائینس نواب میر محبوب علی خان بہادر، نظام الملک آصف جاہ سلطان دکن خلد اللہ ملکہ کے سایۂ عاطفت میں علمی تراجم و تصنیفات کا ایک مستقل سلسلہ قائم کیا جائے جو سلسلۂ آصفیہ کے لقب سے ملقب ہو اور وابستگان دولت آصفیہ کی جو تصنیفات خلعت قبول پائیں وہ اس سلسلہ میں داخل ہو جائیں۔

جناب نواب صاحب ممدوح کو علوم و فنون کی ترویج و اشاعت کی طرف ابتدا سے جو التفات و توجہ رہی ہے اور جس کی بہت سی محسوس یادگاریں اس وقت موجود ہیں اس کے لحاظ سے جناب ممدوح نے اس درخواست کو نہایت خوشی سے منظور کیا۔ چنانچہ کئی برس سے یہ مبارک سلسلہ قائم ہے اور ہمارے شمس العلماء کی کتاب تمدن عرب جس کی شہرت عالمگیر ہو چکی ہے اسی سلک کا ایک بیش بہا گوہر ہے۔

خاکسار کو 1896 عیسوی میں جناب ممدوح کی پیش گاہ سے عطیہ ماہوار کی جو سند عطا ہوئی اس میں یہ بھی درج تھا کہ خاکسار کی تمام آئندہ تصنیفات اس سلسلے میں داخل کی جائیں۔

اسی بنا پر یہ ناچیز تصنیف بھی اس مبارک سلسلے میں داخل ہے۔

جلد اول کے آخر میں اسلامی دنیا کا ایک نقشہ شامل ہے جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک سے لے کر بنو امیہ کے زمانے تک ہر عہد کی فتوحات کا خاص خاص رنگ دیا گیا ہے۔ جس کے دیکھنے سے بیک نظر معلوم ہو سکتا ہے کہ ہر خلیفہ کے وقت میں دنیا کا کس قدر حصہ اسلام کے حلقہ میں شامل ہو گیا۔ یہ نقشہ اصل میں جرمن کے چند لائق پروفیسروں نے تیار کیا تھا۔ لیکن چونکہ وہ ہمارے کتاب کے بیانات سے پورا پورا مطابق نہیں ہوتا تھا، اس لئے ہم نے اصل کتاب کے حاشیہ میں موقع بموقع ان اختلافات کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔

شبلی نعمانی

مقام اعظم گڑھ دسمبر 1898 عیسوی

 

حصہ اول

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اے ہمہ در پردہ نہان راز تو

بے خبرز انجام و آغاز تو

الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ علی رسولہ محمد و  الہ و اصحابہ اجمعین۔

 

تمہید – تاریخ کا عنصر

تمدن کے زمانے میں جو علوم و فنون پیدا ہو جاتے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کا ہیولیٰ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ تمدن کے زمانے میں وہ ایک موزوں قالب اختیار کر لیتا ہے۔ اور پھر ایک خاص نام یا لقب سے مشہور ہو جاتا ہے۔ مثلاً استدلال اور اثبات مدعا کے طریقے ہمیشہ سے موجود تھے۔ اور عام و خاص سب ان سے کام لیتے تھے۔ لیکن جب ارسطو نے ان جزئیات کو ایک خاص وضع سے ترتیب دیا تو اس کا نام منطق ہو گیا اور وہ ایک مستقل فن بن گیا۔ تاریخ و تذکرہ بھی اسی قسم کا فن ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں انسانوں کا کوئی گروہ موجود تھا، تاریخ و تذکرے بھی ساتھ ساتھ تھے۔ کیونکہ فخر و ترجیح کے موقعوں پر لوگ اپنے اسلاف کے کارنامے خواہ مخواہ بیان کرتے تھے۔ تفریح اور گرمی صحبت کے لیے مجالس میں پچھلی لڑائیوں اور معرکوں کا ذکر ضرور کیا جاتا تھا۔ باپ دادا کی تقلید کے لیے پرانی عادات و رسوم کی یادگاریں خواہ مخواہ قائم رکھی جاتی تھیں۔ اور یہی چیزیں تاریخ و تذکرہ کا سرمایہ ہیں۔ اس بناء پر عرب، عجم، تاتار، ہندی، افغانی، مصری، یونانی، غرض دنیا کی تمام قومیں فن تاریخ کی قابلیت میں ہمسری کا دعویٰ کر سکتی ہیں۔

عرب کی خصوصیت

لیکن اس عموم میں عرب کو ایک خصوصیت خاص حاصل تھی۔ عرب میں خاص خاص باتیں ایسی پائی جاتی تھیں جن کو تاریخی سلسلے سے تعلق تھا۔ اور جو اور قوموں میں نہیں پائی جاتی تھیں۔ مثلاً انساب کا چرچا جس کی یہ کیفیت تھی کہ بچہ بچہ اپنے آبا و اجداد کے نام اور ان کے رشتے ناطے دس دس بارہ بارہ پشتوں تک محفوظ رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ انسانوں سے گزر کر گھوڑوں اور اونٹوں کے نسب نامے محفوظ رکھے جاتے تھے۔ یالیام العرب جس کی بدولت ” عکاظ ” کے سالانہ میلے میں قومی کارناموں کی روایتیں، سلسلہ بسلسلہ ہزاروں لاکھوں آدمیوں تک پہنچ جاتی تھیں یا شاعری جس کا یہ حال تھا کہ اونٹ چرانے والے بدو جن کو لکھنے پڑھنے سے کچھ سروکار نہ تھا۔ اپنی زبان آوری کے سامنے تمام عالم ہیچ سمجھتے تھے۔ اور درحقیقت جس سادگی اور اصلیت کے ساتھ وہ واقعات اور جذبات کی تصویر کھینچ سکتے تھے دنیا میں کسی قوم کو یہ بات کبھی نصیب نہیں ہوئی۔

عرب میں تاریخ کی ابتداء

اس بناء پر عرب میں جب تمدن کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے تاریخی تصنیفات وجود میں آئیں۔ اسلام سے بہت پہلے بادشاہ جبرۃ نے تاریخی واقعات قلمبند کرائے اور وہ مدت تک محفوظ رہے۔ چنانچہ ابن ہشام نے کتاب الجیجان میں تصریح کی ہے کہ میں نے ان تالیفات سے فائدہ اٹھایا۔ اسلام کے عہد میں زبانی روایتوں کا ذخیرہ ابتداء ہی میں پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن چونکہ تالیف و تصنیف کا سلسلہ عموماً ایک مدت کے بعد قائم ہوا۔ اس لئے کوئی خاص کتاب اس فن میں نہیں لکھی گئی۔ لیکن جب تالیف کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلی کتاب جو لکھی گئی تاریخ کے فن میں تھی۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ المتوفی 60 ہجری کے زمانے میں عبیدہ بن شربہ ایک شخص تھا جس نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا اور اس کو عرب و عجم کے اکثر معرکے یاد تھے ، امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو صنعاء سے بلایا اور کاتب اور محرر متعین کئے کہ جو کچھ وہ بیان کرتا جائے قلم بند کرتے جائیں۔ علامہ ابن الندیم نے کتاب الفبرست میں اس کی متعدد تالیفات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے ایک کتاب کا نام کتاب الملوک والاخبار الماضیین لکھا ہے ، غالباً یہ وہی کتاب ہے جس کا مسودہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے تیار ہوا تھا۔ عبیدہ کے بعد عوانہ بن الحکم المتوفی 47 ھ کا نام ذکر کرنے کے قابل ہے۔ جو اخبار و انساب کا بڑا ماہر تھا۔ اس نے عام تاریخ کے علاوہ خاص بنو امیہ اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں ایک کتاب لکھی۔ 117 ہجری میں ہشام بن عبد الملک کے حکم سے عجم کی نہایت مفصل تاریخ کا ترجمہ پہلوی سے عربی میں کیا گیا۔ اور یہ پہلی کتا ب تھی جو غیر زبان سے عربی میں ترجمہ کی گئی۔

سیرۃ  نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں سب سے پہلی تصنیف

143 ہجری میں جب تفسیر، حدیث، فقہ وغیرہ کی تدوین شروع ہوئی تو اور علوم کے ساتھ تاریخ و رجال میں بھی مستقل کتابیں لکھی گئیں۔ چنانچہ محمد بن اسحاق المتوفی 151 ہجری نے منصور عباسی کے لیے خاص سیرۃ نبوی پر ایک کتاب لکھی جو آج بھی موجود ہے۔ (مغازی محمد اسحاق کا ایک قلمی نسخہ مکتبہ کوپریلی استنبول میں موجود ہے۔ )

ہمارے مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ فن تاریخ کی یہ پہلی کتاب ہے۔ لیکن یہ صحیح ہے کہ اس سے پہلے موسیٰ بن عقبہ المتوفی 141 ہجری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی مغازی قلم بند کئے تھے۔ موسیٰ نہایت ثقہ اور محتاط شخص تھے اور صحابہ کا زمانہ پایا تھا۔ اس لئے ان کی یہ کتاب محدثین کے دائرے میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ (مغازی موسیٰ بن عقبہ 1904 عیسوی میں یورپ میں چھپ چکی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ کے لئے تہذیب التہذیب و مقدمہ فتح الباری شرح صحیح بخاری دیکھو)۔

اس کے بعد فن تاریخ نے نہایت ترقی کی اور بڑے بڑے نامور مؤرخ پیدا ہوئے۔ جن میں ابو محتف کلبی اور واقدی زیادہ مشہور ہیں۔ ان لوگوں نے نہایت عمدہ اور جدید عنوانوں پر کتابیں لکھیں۔ مثلاً واقدی نے افواج اسلام، قریش کے پیشے ، قبائل عرب کے مناظرات، جاہلیت اور اسلام کے احکام کا توارد، ان مضامین پر مستقل رسالے لکھے ، رفتہ رفتہ اس سلسلے کو نہایت وسعت ہوئی۔ یہاں تک کہ چوتھی صدی ہجری تک ایک دفتر بے پایاں تیار ہو گیا اور بڑی خوبی کی بات یہ تھی کہ ہر صاحب قلم کا موضوع اور عنوان جدا تھا۔

اس دور میں بے شمار مؤرخ گزرے ہیں۔ ان میں جن لوگوں نے بالتخصیص آنحضرت صلی اللہ علی و سلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حالات میں کتابیں لکھیں، ان کی مختصر فہرست یہ ہے :

قدیم تاریخیں

نام مصنف

تصنیف

کیفیت

مدنی (حجم بن عبد الرحمٰن، المتوفی 170 ھ

غزوات نبوی

نصر بن مزاخم کوفی

کتاب الجمل یعنی حضرت علی رضی اللہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ کی لڑائی کا حال

سیف بن عمر الاسدی (سیف بن عمر کوفی خلیفہ ہارون رشید کے زمانہ میں فوت ہوا (تہذیب التہذیب جلد 4 )

کتاب الفتوح الکبیر

نہایت مشہور مؤرخ ہے

معمر بن راشد کوفی (معمر بن راشد کوفی 134 ھ (تہذیب التہذیب جلد 5 )

کتاب المغازی

امام بخاری کے استاذ الاستاذ تھے۔

ابو البحر وہب بن وہب

کتاب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم و کتاب فضائل الانصار

200 ھ میں انتقال کیا۔

عبد اللہ بن سعد زیری المتوری 380 ہجری

فتوحات خالد بن ولید رضی اللہ

ابو الحسن علی بن محمد بن عبد اللہ المدائنی، المتوفی 324 ھ

اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء کے حالات میں کثرت سے کتابیں لکھیں اور نئے عنوان اختیار کئے

احمد بن حارث خزاز

کتاب المغازی، اسماء الخلفاء و کتابہم

مدائنی کا شاگرد تھا

عبد الرحمٰن بن عبدہ

مناقب قریش

نہایت ثقہ اور معتمد مؤرخ تھا

عمر بن شبہ، المتوفی 262 ھ

کتاب امراء الکوفہ، کتاب امراء البصرۃ

مشہور مؤرخ تھا

قدماء کی جو تصنیفات آج موجود ہیں اگرچہ یہ تصنیفات آج ناپید ہیں۔ لیکن اور کتابیں جو اسی زمانے میں یا اس کے بعد قریب تر زمانے میں لکھی گئیں، ان میں ان تصنیفات کا بہت کچھ سرمایہ موجود ہے۔ چنانچہ ہم ان کے نام ان کے مصنفین کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ المتولد 213 ہجری ولمتوفی 276 ہجری یہ نہایت نامور اور مستند مصنف ہے۔ محدثین بھی اس کے اعتماد اور اعتبار کے قائل ہیں۔ تاریخ میں اس کی مشہور کتاب ” معارف ” ہے۔ جو مصر وغیرہ میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ نہایت مختصر ہے ، لیکن اس میں ایسی مفید معلومات ہیں جو بڑی بڑی کتابوں میں نہیں ملتیں۔

احمد بن داؤد ابو حنیفہ دینوی المتوفی 281 ہجری یہ بھی مشہور مصنف ہے۔ تاریخ میں اس کی کتاب کا نام “الاخبار الطوال” ہے۔ اس میں خلیفہ معتصم باللہ تک کے حالات ہیں۔ خلفاء راشدین کی فتوحات میں سے عجم کی فتح کو تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ کتاب پورے یورپ میں بہ مقام لیڈن 1885 عیسوی میں چھپی ہے۔

محمد بن سعد کاتب الواقدی، المتوفی 230 ہجری نہایت ثقہ اور معتمد مؤرخ ہے ، اگرچہ اس کا استاد واقدی ضعیف الروایہ ہے۔ لیکن خود اس کے ثقہ ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ اس نے ایک کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین اور تبع تابعین کے حالات میں نہایت بسط و تفصیل سے دس بارہ (طبقات ابن سعد کامل 8 جلدوں میں پہلے 1907 عیسوی میں لیڈن میں طبع ہوئی پھر اس کے بعد 1958 عیسوی میں بیروت میں طبع ہوئی ہے۔ ) جلدوں میں لکھی ہے۔ اور تمام واقعات کو محدثانہ طور پر بہ سند صحیح لکھا ہے۔ یہ کتاب طبقات ابن سعد کے نام سے مشہور ہے۔ میں نے اس کا قلمی نسخہ دیکھا ہے۔ اب جرمنی میں بڑے اہتمام سے چھپ رہی ہے۔

احمد بن ابی یعقوب واضح کاتب عباسی – یہ تیسری صدی ہجری کا مؤرخ ہے۔ مجھ کو اس کے حالات رجال کی کتابوں میں نہیں ملے۔ لیکن اس کی کتاب خود شہادت دیتی ہے کہ وہ بڑے پایہ کا مصنف ہے ، چونکہ اس کو دولت عباسیہ کے دربار سے تعلق تھا۔ اس لیے تاریخ کا اچھا سرمایہ بہم پہنچا سکا ہے۔ اس کی کتاب جو ” تاریخ یعقوبی” کے نام سے مشہور ہے ، یورپ میں بہ مقام لیڈن 1883 عیسوی میں چھاپی گئی ہے۔

احمد بن یحییٰ البلاذری المتوفی 279 ہجری ابن سعد کا شاگرد اور المتوکل باللہ عباسی کا درباری تھا۔ اس کی وسعت نظر اور صحت روایت محدثین کے گروہ میں بھی مسلم ہے۔ تاریخ و رجال میں اس کی دو کتابیں مشہور ہیں۔ فتوح البلدان و انساب الاشراف، پہلی کتاب کا یہ طرز ہے کہ بلاد اسلامیہ میں سے ہر ہر صوبہ یا ضلع کے نام سے الگ الگ عنوان قائم کئے ہیں۔ اور ان کے متعلق ابتدائے فتح سے اپنے عہد تک کے حالات لکھے ہیں۔ دوسری کتاب تذکرے کے طور پر ہے جس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات بھی ہیں۔ “فتوح البلدان ” یورپ میں تہایت اہتمام کے ساتھ چھپی ہے۔ اور ” انساب الاشراف ” کا قلمی نسخہ قسطنطنیہ میں نظر سے گزرا ہے۔ (یہ کتاب تقریباً اجزا میں 1883 عیسوی میں یروشلم میں چھپ چکی ہے۔ )

ابو جعفر محمد بن جریر الطبری المتوفی 310 ہجری یہ حدیث و فقہ میں بھی امام مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ ائمہ اربعہ کے ساتھ لوگوں نے ان کو مجتہدین کے زمرہ میں شمار کیا ہے۔ تاریخ میں انہوں نے نہایت مفصل اور بسیط کتاب لکھی ہے جو 13 ضخیم جلدوں میں ہے اور یورپ میں بہ مقام لیڈن نہایت صحت اور اہتمام کے ساتھ چھپی ہے۔

 ابو الحسن علی بن حسین مسعودی المتوفی 386 ہجری فن تاریخ کا امام ہے۔ اسلام میں آج تک اس کے برابر کوئی وسیع النظر مؤرخ پیدا نہیں ہوا۔ وہ دنیا کی اور قوموں کی تواریخ کا بھی بہت بڑا ماہر تھا۔ اس کی تمام تاریخی کتابیں ملتیں تو کسی اور تصنیف کی حاجت نہ ہوتی۔ لیکن افسوس ہے کہ قوم کی بد مذاقی سے اکثر تصانیف ناپید ہو گئیں، یورپ نے بڑی تلاش سے دو کتابیں مہیا کیں، ایک ” مروج الذہب” اور دوسری کتاب الاشراف والتنبیہ (یہ مکتبہ العصریہ بغداد سے 1938 عیسوی میں شائع ہوئی۔ )۔ ” مروج الذہب” مصر میں بھی چھپ گئی ہے۔ یہ تصنیفات جس زمانے کی ہیں وہ قدماء کا دور کہلاتا ہے۔

متاخرین کا دور

پانچویں صدی کے آغاز سے متاخرین کا دور شروع ہوتا ہے۔ جو فن تاریخ کے تنزل کا پہلا قدم ہے۔ متاخرین میں اگرچہ بیشمار مؤرخ گزرے جن میں سے ابن اثیر، سمعانی ذہبی ابو الغداء، نویری اور سیوطی وغیرہ نے نہایت شہرت حاصل کی۔ لیکن افسوس ہے کہ ان لوگوں نے تاریخ کے ساتھ ساتھ من حیث الفن کوئی احسان نہیں کیا۔

قدماء کی خصوصیتیں

متاخرین نے قدماء کی جو خصوصیات تھیں، کھو دیں اور خود کوئی نئی بات پیدا نہیں کی۔ مثلاً قدماء کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ہر تصنیف نئی معلومات پر مشتمل ہوتی تھی۔ متاخرین نے یہ طرز اختیار کیا کہ کوئی قدیم تصنیف سامنے رکھ لی اور بغیر اس کے کہ اس پر کچھ اضافہ کر سکیں تغیر اور اختصار کے ساتھ اس کا قالب بدل دیا۔ تاریخ ابن الاثیر کو علامہ ابن خلکان نے من خیار التواریخ کہا ہے اور حقیقت میں اس کی قبولیت عام نے تصحیفیں ناپید کر دیں۔ زمانہ کا اشتراک ہے ایک بات بھی اس میں طبری سے زیادہ نہیں مل سکتی، اسی طرح ابن الاثیر کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے انہوں نے اپنی تصنیف کا مدار صرف ابن الاثیر پر رکھا۔ وھلم جراً اس سے بڑھ کر یہ کہ متاخرین نے قدماء کی کتابوں کا جو اختصار کیا۔ اس طرح کیا کہ جہاں جو بات چھوڑ دی وہی اس تمام واقعہ کی روح تھی۔ چنانچہ ہماری کتاب کے دوسرے حصے میں اس کی بہت مثالیں آئیں گی۔

قدماء میں ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ تمام واقعات کو حدیث کی طرح بسند متصل نقل کرتے تھے ، متاخرین نے یہ التزام بالکل چھوڑ دیا۔ ایک اور خصوصیت قدماء میں یہ تھی کہ وہ اگرچہ کسی عہد کی معاشرت و تمدن پر جدا عنوان نہیں قائم کرتے تھے۔ لیکن ضمناً ان جزئیات کو لکھ جاتے تھے جن سے تمدن و معاشرت کا کچھ کچھ پتہ چلتا تھا۔ متاخرین نے یہ خصوصیت بھی قائم نہ رکھی۔

لیکن اس عام نکتہ چینی میں ابن خلدون کا نام شامل نہیں ہے۔ اس نے فلسفۂ تاریخ کا فن ایجاد کیا۔ اور اس پر نہ صرف متاخرین بلکہ مسلمانوں کی کل قوم ناز کر سکتی ہے۔ اسی طرح اس کا شاگرد علامہ مقریزی بھی نکتہ چینی کی بجائے مدح و ستائش کا مستحق ہے۔

بحر حال الفاروق کی تالیف کے لیے جو سرمایہ کام آ سکتا تھا وہ یہی قدماء کی تصنیفات تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ و تذکرے کے فن نے جو آج ترقی کی ہے۔ اس کے لحاظ سے یہ بے بہا خزانے بھی چنداں کارآمد نہیں۔ اس اجمال کی تفصیل سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ فن تاریخ کی ماہیت اور حقیقت کیا ہے۔

تاریخ کی تعریف

تاریخ کی تعریف ایک بڑے مصنف نے یہ کی ہے کہ فطرت کے واقعات نے انسان کے حالات میں جو تغیرات پیدا کئے ہیں اور انسان نے عالم فطرت پر جو اثر ڈالا ہے ، ان دونوں کے مجموعہ کا نام تاریخ ہے۔ ایک اور حکیم نے یہ تعریف کی ہے ان حالات اور واقعات کا پتہ لگانا جن سے یہ دریافت ہو کہ موجودہ زمانہ گزشتہ زمانے سے کیونکر بطور نتیجہ کے پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی چونکہ  یہ مسلم ہے کہ آج دنیا میں جو تمدن، معاشرت، خیالات اور مذاہب موجود ہیں، سب گزشتہ واقعات کے نتائج ہیں جو خواہ مخواہ ان سے پیدا ہونے چاہیے تھے۔ اس لئے ان گزشتہ واقعات کا پتہ لگانا اور ان کو اس طرح ترتیب دیان جس سے ظاہر ہو کہ موجودہ واقعہ گزشتہ واقعات سے کیونکر پیدا ہوا۔ اسی کا نام تاریخ ہے۔

تاریخ کے لیے کیا کیا چیزیں لازم ہیں

ان تعریفات کی بناء پر تاریخ کے لئے دو باتیں لازم ہیں۔

ایک یہ کہ جس عہد کا حال لکھا جائے اس زمانے کے ہر قسم کے واقعات قلم بند کئے جائیں، یعنی تمدن، معاشرت، اخلاق، عادات، مذہب ہر چیز کے متعلق معلومات کا سرمایہ مہیا کیا جائے۔

دوسرے یہ کہ تمام واقعات میں سبب اور مسبب کا سلسلہ تلاش کیا جائے۔

قدیم تاریخوں کے نقص اور ان کے اسباب

قدیم تاریخوں میں یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں، رعایا کے اخلاق و عادات اور تمدن و معاشرت کا تو سرے سے ذکر ہی نہیں آتا، فرمانروائے وقت کے حالات ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں بھی فتوحات اور خانہ جنگیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ نقص اسلامی تاریخوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ایشیائی تاریخوں کا یہی انداز تھا اور ایسا ہونا مقتضائے انصاف تھا، ایشیا میں ہمیشہ شخصی سلطنتوں کو رواج رہا۔ اور فرمانروائے وقت کی عظمت و اقتدار کے آگے تمام چیزیں ہیچ ہوتی تھیں اس کا لازمی اثر یہ تھا کہ تاریخ کے صفحوں میں شاہی عظمت و جلال کے سوا اور کسی چیز کا ذکر نہیں آیا۔ اور چونکہ اس زمانے میں قانون اور قاعدہ جو کچھ تھا،بادشاہ کی زبان تھی۔ اس لیے سلطنت کے اصول اور آئین کا بیان کرنا بے فائدہ تھا۔

واقعات میں سلسلہ اسباب پر توجہ نہ کرنے کا بڑا سبب یہ ہوا کہ فن تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہا جو فلسفہ اور عقلیات سے آشنا نہ تھے۔ اس لیے فلسفہ تاریخ کے اصول و نتائج پر ان کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث و سیر میں روایات کا پلہ ہمیشہ درایت سے بھاری رہا۔ بلکہ انصاف یہ ہے کہ درایت سے جس قدر کام لیا گیا نہ لیے جانے کے برابر تھا۔ آخر میں ابن خلدون نے فلسفہ تاریخ کی بنیاد ڈالی اور اس کے اصول و آئین منضبط کئے ، لیکن اس کو صرف اس قدر فرصت ملی کہ اپنی تاریخ میں ان اصولوں سے کام لے سکتا۔ اس کے بعد مسلمانوں میں علمی تنزل کا ایسا سلسلہ قائم رہا کہ کسی نے پھر اس طرف خیال بھی نہ کیا۔

ایک بڑا سبب جس کی وجہ سے تاریخ کا فن نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ تمام قوموں میں ناتمام رہا۔ یہ ہے کہ تاریخ میں جو واقعات مذکور ہوتے ہیں ان کو مختلف فنون سے رابطہ ہوتا ہے۔ مثلاً لڑائی کے واقعات فن حرب سے ، انتظامی امور قانون سے ، اخلاقی تذکرے علم اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں۔ مؤرخ اگر ان تمام امور کا ماہر ہو تو واقعات کو علمی حیثیت سے دیکھ سکتا ہے ورنہ اس کی نظر اسی قسم کی سرسری اور سطحی ہو گی۔ جیسی کہ ایک عامی کی ہو سکتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کسی عمدہ عمارت پر ایک ایسے واقعہ نگار انشاء پرداز کا گزر ہو جو انجینئری کے فن سے ناواقف ہے تو گو وہ اس عمارت کا بیان ایسے دلکش پیرایہ میں کر دے گا جس سے عمارت کی رفعت اور وسعت اور ظاہری حسن و خوبی کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ لیکن اگر اس میں خاص انجینئری کے علمی اصول اور اس کی باریکیاں ڈھونڈی جائیں تو نہ مل سکیں گی۔ یہی سبب ہے کہ تاریخوں میں حالات جنگ کے ہزاروں صفحے پڑھ کر بھی فن جنگ کے اصول پر کوئی معتدبہ اطلاع نہیں حاصل ہوتی۔

انتظامی امور کے ذکر میں قانونی حیثیت کا اسی وجہ سے پتہ نہیں لگتا کہ مؤرخین خود قانون دان نہ تھے ، اگر خوش قسمتی سے تاریخ کا فن ان لوگوں کے ہاتھ میں رہا ہوتا۔ جو تاریخ کے ساتھ فن جنگ، اصول قانون، اصول سیاست اور علم اخلاق سے بھی آشنا ہوتے تو آج یہ فن کہاں سے کہاں تک پہنچا ہوتا۔

یہ بحث اس لحاظ سے تھی کہ قدیم تاریخوں میں تمام ضروری واقعات مذکور نہیں ہوتے۔ اور جس قدر ہوتے ہیں ان میں اسباب و علل کا سلسلہ نہیں ملتا، لیکن ان کے علاوہ ایک اور ضروری بحث ہے ، وہ یہ کہ جو واقعات مذکور ہیں خود ان کی صحت پر کہاں تک اعتبار ہو سکتا ہے۔

واقعات کی صحت کا معیار

واقعات کے جانچنے کے صرف دو طریقے ہیں۔

روایت و درایت – روایت سے یہ مراد ہے کہ جو واقعہ بیان کیا جائے اس شخص کے ذریعے سے بیان کیا جائے جو خود اس واقعہ میں موجود تھا۔ اس سے لے کر اخیر راوی تک روایت کا سلسلہ بہ سند متصل بیان کیا جائے۔ اس کے ساتھ تمام راویوں کی نسبت تحقیق کیا جائے کہ وہ صحیح الراویہ اور ضابطہ تھے یا نہیں۔

درایت سے یہ مراد کہ اصول عقلی سے واقعہ کی تنقید جائے۔

روایت

اس امر پر مسلمان بے شبہ فخر کر سکتے ہیں کہ روایت کے فن کے ساتھ انہوں نے جس قدر اعتنا کیا کسی قوم نے کبھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے ہر قسم کی روایتوں میں مسلسل سند کی جستجو کی اور راویوں کے حالات اس تفحص اور تلاش سے بہم پہنچائے کہ اس کو ایک مستقل فن بنا دیا جو فن رجال کے نام سے مشہور ہے۔ یہ توجہ اور اہتمام اگرچہ اصل میں احادیث نبوی کے لئے شروع ہوا تھا۔ لیکن فن تاریخ بھی اس فیض سے محروم نہ رہا۔ طبری، فتوح البلدان، طبقات ابن سعد وغیرہ میں تمام واقعات بسند متصل مذکور ہیں۔ یورپ نے فن تاریخ کو آج کمال درجہ پر پہنچا دیا ہے۔ لیکن اس خاص امر میں وہ مسلمان مؤرخوں سے بہت پیچھے ہیں۔ ان کو واقعہ نگار کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ جرح و تعدیل کے نام سے بھی آشنا نہیں۔

درایت

درایت کے اصول بھی اگرچہ موجود تھے۔ چنانچہ ابن حزم، ابن القیم، خطابی ابن عبد البر (ابن عبد البر قرطبی المتوفی 463 ھ) نے متعدد روایتوں کی تنقید میں ان اصولوں سے کام لیا ہے۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ اس فن کو جس قدر ترقی ہونی چاہیے تھی نہیں ہوئی۔ اور تاریخ میں تو اس سے بالکل کام نہیں لیا گیا۔ البتہ علامہ ابن خلدون نے جو آٹھویں صدی ہجری میں گزرا ہے ، جب فلسفۂ تاریخ کی بنیاد ڈالی تو درایت کے اصول نہایت نکتہ سنجی اور باریک بینی کے ساتھ مرتب کئے۔ چنانچہ اپنی کتاب کے دیباچہ میں لکھتا ہے :

ان الاخبار اذا اعتمد فیھا علی مجرد النقل لم تحکم اصول العادۃ و قواعد السیاسۃ و طبیعۃ العمر ان و الا حوال فی الاجتماع الانسانی و لا قیس الغائب منھا بالشاھدو الحاضر بالذاھب فیھا لم یؤمن فیھا من العثور۔

“خبروں میں اگر صرف روایت پر اعتبار کر لیا جائے اور عادات کے اصول اور سیاست کے قواعد اور انسانی سوسائٹی کے اقتضا کا لحاظ اچھی طرح نہ کیا جائے اور غائب کو حاضر پر، اور حال کو گزشتہ پر نہ قیاس کیا جائے تو اکثر لغزش ہو گی۔ “

علامہ موصوف نے تصریح کی ہے کہ واقعہ کی تحقیق کے لئے صرف راویوں کی جرح و تعدیل سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ واقعہ فی نفسہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ اگر واقعہ کا ہونا ممکن ہی نہیں تو راوی کا عادل ہونا بیکار ہے۔ علامہ موصوف نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ موقعوں میں امکان سے امکان عقلی مراد نہیں بلکہ اصول عادت اور قواعد تمدن کی رو سے ممکن ہونا مراد ہے۔

اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ جو نقص قدیم تاریخوں کے متعلق بیان کئے گئے ان کی آج کہاں تک تلافی کی جا سکتی ہے۔ یعنی ہم اپنی کتاب (الفاروق) میں کس حد تک اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ امر بالکل صحیح ہے کہ جو کتابیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں مستقل حیثیت سے لکھی گئی ہیں ان میں ہر قسم کے ضروری واقعات نہیں ملتے۔ لیکن اور قسم کے تصنیفوں سے ایک حد تک اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔ مثلاً ” الاحکام السلطانیہ” لابن الوردی مقدمہ ابن خلدون و کتاب الخراج سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق حکومت اور آئین انتظام کے متعلق بہت سی باتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔ اخبار القضاۃ لمحمد بن خلف الوقیع سے خاص صیغۂ قضا کے متعلق ان کا طریق معلوم ہوتا ہے۔ کتاب الاوائل لابی ہلال العسکری و  محاسن الوسائل الی الاخبار الاوائل میں ان کی اولیات کی تفصیل ہے۔ عقد  الفرید و کتاب البیان والمتبیین للجاحظ میں ان کے خطبے منقول ہیں۔ کتاب العمدۃ لابن رشیق القیر دانی سے ان کا شاعرانہ مذاق معلوم ہوتا ہے۔ میدائنی ” کتاب الامثال ” میں ان کے حکیمانہ مقولے نقل کئے ہیں۔ ابن جوزی نے ” سیرۃ العمرین ” میں ان کے اخلاق و عادات کو تفصیل سے لکھا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں ان کے فقہ اور اجتہاد پر اس مجتہدانہ طریقے سے بحث کی ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ (ان تصنیفات میں سے کتاب الاوائل اور کتاب العمدۃ کا قلمی نسخہ میرے کتب خانہ میں موجود ہے۔ سیرۃ العمرین، اخبار القضاۃ اور محاسن الوسائل کے نسخے قسطنطنیہ کے کتب خانہ میں موجود ہیں اور میں نے ان سے ضروری عبارتیں نقل کر لی تھیں۔ باقی کتابیں چھپ گئی ہیں۔ اور میرے پاس موجود ہیں)۔

یہ تمام تصنیفات میرے پیش نظر ہیں اور میں نے ان سے فائدہ اُٹھایا ہے ریاض الضرۃ للمحب الطبری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات تفصیل سے ملتے ہیں اور شاہ ولی اللہ صاحب نے اسی کتاب کو اپنا ماخذ قرار دیا ہے۔ لیکن اس میں نہایت کثرت سے موضوع اور ضعیف روایتیں مذکور ہیں۔ اس لیے میں نے دانستہ اس سے احتراز کیا۔

واقعات کی تحقیق و تنقید کے لیے درایت کے اصول سے بہت بڑی مدد مل سکتی ہے۔ درایت کا فن ایک مستقل فن بن گیا ہے۔ اور اس کے اصول  و قاعدے نہایت خوبی سے منضبط ہو گئے ہیں۔ ان میں سے جو اصول ہمارے کام آ سکتے ہیں حسب ذیل ہیں۔

(۱)  واقعہ مذکور اصول عادت کی رو سے ممکن ہے یا نہیں؟

(۲)  اس زمانے میں لوگوں کا میلان عام واقعہ کے مخالف تھا یا موافق؟

(۳)  واقعہ اگر کسی حد تک غیر معمولی ہے تو اسی نسبت سے ثبوت کی شہادت زیادہ قوی ہے یا نہیں؟

(۴)  اس امر کی تفتیش کہ راوی جس چیز کو واقعہ ظاہر کرتا ہے اس میں اس کی قیاس و رائے کا کس قدر حصہ شامل ہے ؟

(۵)  راوی نے واقعہ کو جس صورت میں ظاہر کیا وہ واقعہ کی پوری تصویر ہے یا اس امر کا احتمال ہے کہ راوی اس کے ہر پہلو پر نظر نہیں ڈال سکا۔ اور واقعہ کی تمام خصوصیتیں نظر میں نہ آ سکیں۔

(۶)  اس بات کا اندازہ کہ زمانے کے امتداد اور مختلف راویوں کے طریقہ ادا نے روایت میں کیا کیا اور کس کس قسم کے تغیرات پیدا کر دیئے ہیں۔

ان اصولوں کی صحت سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ اور ان کے ذریعے سے بہت سے مخفی راز معلوم ہو سکتے ہیں۔  مثلاً آج جس قدر تاریخیں متداول ہیں، ان میں غیر قوموں کی نسبت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نہایت سخت احکام منقول ہیں۔ لیکن جب اس بات پر لحاظ کیا جائے کہ یہ اس زمانے کی تصحیحیں ہیں جب اسلامی گروہ میں تعصب کا مذاق پیدا ہو گیا تھا اور اسی کے ساتھ قدیم زمانہ کی تصنیفات پر نظر ڈالی جائے جن میں اس قسم کے واقعات بالکل نہیں یا بہت کم ہیں۔ تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر تعصب آتا گیا اسی قدر روایتیں خود بخود تعصب کے سانچے میں ڈھلتی گئی ہیں۔

اصول درایت سے جن امور کا پتہ لگ سکتا ہے

تمام تاریخوں میں مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا تھا کہ عیسائی کسی وقت اور کبھی ناقوس نہ بجانے پائیں۔ لیکن قدیم کتابوں (کتاب الخراج طبری وغیرہ) میں اصول درایت سے جن امور کا پتہ لگ سکتا ہے یہ روایت اس قید کے ساتھ منقول ہے کی جس وقت مسلمان نماز پڑھتے ہوں اس وقت عیسائی ناقوس نہ بجائیں۔ ابن الاثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا تھا کہ قبیلہ تغلب کے عیسائی اپنے بچوں کو اصطباغ نہ دینے پائیں۔ لیکن یہی روایت ” تاریخ طبری” میں ان الفاظ سے مذکور ہے کہ ” جو لوگ اسلام قبول کر چکے ہوں ان کے بچوں کو زبردستی اصطباغ نہ دیا جائے۔ “

یا مثلاً بہت سی تاریخوں میں یہ تصریح ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحقیر و تذلیل کے لیے عیسائیوں کو خاص لباس پر مجبور کیا تھا۔ لیکن زیادہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صرف اس قدر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عیسائیوں کو ایک خاص لباس اختیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تحقیر کا خیال راوی کا قیاس ہے۔ چنانچہ اس کی مفصل بحث آگے آئے گی۔

یا مثلاً وہ روایتیں جو تاریخی ہونے کے ساتھ مذہبی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ ان میں یہ خصوصیت صاف محسوس ہوتی ہے کہ جس قدر ان میں تنقید ہوتی گئی ہے اسی قدر مشتبہ اور مشکوک باتیں کم ہوتی گئی ہیں۔ فدک، قرطاس، سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعات ابن عساکر، ابن سعد، بیہقی، مسلم، بخاری سب نے نقل کئے ہیں۔ لیکن جس قدر ان بزرگوں کے اصول اور شدت احتیاط میں فرق مراتب ہے۔ اسی نسبت سے روایتوں میں مشتبہ اور نزاع انگیز الفاظ کم ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ خود مسلم و بخاری میں فرق مراتب کا یہ اثر موجود ہے۔ چنانچہ اس کا بیان ایک مناسب موقع پر تفصیل سے آئے گا۔

ان ہی اصول عقلی کی بناء پر مختلف قسم کے واقعات میں صحت و اعتبار کے مدارج بھی مختلف قائم کرنے ہوں گے۔ مثلاً یہ مسلم ہے کہ حضرت عمرؓ  کی خلافت کے واقعات سو برس کے بعد تحریر میں آئے اور اس بنا پر یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ معرکوں اور لڑائیوں کی نہایت جزئی تفصیلیں مثلاً صف آرائی کی کیفیت فریقین کے سوال و جواب، ایک ایک بہادر کی معرکہ آرائی، پہلوانوں کے داؤ پیچ اس قسم کی جزئیات کی تفصیل کا رتبہ یقین تک نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن انتظامی امور اور قواعد حکومت چونکہ مدت تک محسوس صورت میں موجود رہے۔ اس لیے ان کی نسبت جو واقعات منقول ہیں وہ بے شبہ یقین کے لائق ہیں۔ اکبر نے ہندوستان میں جو آئین اور قاعدے جاری کئے۔ ایک ایک بچہ ان سے واقف ہے۔ اور انکی نسبت شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس کی یہ وجہ نہیں کہ حدیث کی طرح اس کے لئے قطعی روایتیں موجود ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ وہ انتظامات مدت تک قائم رہے۔ اور اکبر کے نام سے ان کو شہرت تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبے اور حکمت آمیز مقولے جو منقول ہیں ان کی نسبت یہ قیاس کرنا چاہیے کہ جو فقرے زیادہ تر پر اثر اور فصیح و بلیغ ہیں وہ ضرور صحیح ہیں۔ کیونکہ ایک فصیح مقرر کے وہ فقرے ضرور محفوظ رہ جاتے ہیں اور ان کا مدت تک چرچا رہتا ہے۔ جن میں کوئی خاص قدرت اور اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح خطبوں کے وہ جملے ضرور قابل اعتماد ہیں جن میں احکام شرعیہ کا بیان ہے۔ کیونکہ اس قسم کی باتوں کو لوگ فقہ کی حیثیت سے محفوظ رکھتے ہیں۔

جو واقعات اس زمانے کے مذاق کے لحاظ سے چنداں قابل ذکر نہ تھے اور باوجود اس کے ان کا ذکر آ جاتا ہے ، ان کی نسبت سمجھنا چاہیے کہ اصل واقعہ اس سے زیادہ ہو گا۔ مثلاً ہمارے مؤرخین رزم بزم کی معرکہ آرائیوں اور رنگینیوں کے مقابلے میں انتظامی امور کے بیان کرنے کے بالکل عادی نہیں ہیں۔ باایں ہمہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حال میں عدالت، پولیس، بندوبست، مردم شماری وغیرہ کا ضمناً جو ذکر آ جاتا ہے اس کی نسبت یہ خیال کرنا چاہیے کہ جس قدر قلمبند ہوا اس سے بہت زیادہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زہد و تقشف، سخت مزاجی اور سخت گیری کی نسبت سینکڑوں روایتیں مذکور ہیں۔ اور بے شبہ اور صحابہ کی نسبت یہ اوصاف ان میں زیادہ تھے لیکن اس کے متعلق تمام روایتوں کو صحیح نہیں خیال کرنا چاہیے۔ جو حلیۃ الاولیاء ابن عساکر،  کنز العمال، ریاض النضرۃ وغیرہ میں مذکور ہیں۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ چونکہ اس قسم کی روایتیں عموماً گرمی محفل کا سبب ہوتی تھیں۔ اور عوام ان کو نہایت ذوق سے سنتے تھے۔ اس لئے خود بخود ان میں مبالغہ کا رنگ آتا گیا ہے۔ اس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ جو کتابیں زیادہ مستند اور معتبر ہیں ان میں یہ روایتیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اسی لئے میں نے اس قسم کی جو روایتیں اپنی کتاب میں نقل کی ہیں ان میں بڑی احتیاط کی ہے اور ” ریاض الضرہ” و ابن عساکر و حلیۃ الاولیاء وغیرہ کی روایتوں کو بالکل نظر انداز کیا ہے۔

اخیر میں طرز تحریر کے متعلق کچھ لکھنا بھی ضروری ہے۔ آج کل کی اعلیٰ درجہ کی تاریخیں جنہوں نے قبول عام حاصل کیا ہے۔ فلسفہ اور انشاء پردازی سے مرکب ہیں۔ اور اس طرز سے بڑھ کر اور کوئی طرز مقبول عام نہیں ہو سکتا۔ لیکن درحقیقت تاریخ اور انشاء پردازی کی حدیں بالکل جدا جدا ہیں۔ ان دونوں میں جو فرق ہے وہ نقشہ اور تصویر کی فرق سے مشابہ ہے۔ نقشہ کھینچنے والے کا یہ کام ہے کسی حصہ زمین کا نقشہ کھنچے تو نہایت دریدہ ریزی کے ساتھ اس کی ہیئت، شکل، سمت، جہت، اطراف، اضلاع ایک ایک چیز کا احاطہ کرے۔ بخلاف اس ے مصور صرف ان خصوصیتوں کو لے گا یا ان کو زیادہ نمایاں صورت میں دکھلائے گا جن میں کوئی خاص اعجوبگی ہے۔ اور جن سے انسان کی قوت مضحکہ پر اثر پڑتا ہے۔ مثلاً رستم و سہراب کی داستان کو ایک مؤرخ لکھے گا تو سادہ طور پر واقعہ کی تمام جزئیات بیان کر دے گا۔ لیکن ایک انشاء پرداز ان جزئیات کو اس طرح ادا کرے گا کہ سہراب کی مظلومی و بیکسی اور رستم کی ندامت و حسرت کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور واقعہ کے دیگر جزئیات باوجود سامنے ہونے کے نظر نہ آئیں۔

مؤرخ کا اصلی فرض یہ ہے کہ وہ سارا واقعہ نگاری کی حد سے تجاوز نہ کرنے پائے۔ یورپ میں آج کل جو بڑا مؤرخ گزرا ہے اور جو طرز حال کا موجود ہے رینگی ہے ، اس کی تعریف ایک پروفیسر نے ان الفاظ میں کی ہے۔

” اس نے تاریخ میں شاعری سے کام نہیں لیا۔ وہ نہ ملک کا ہمدرد بنا نہ مذہب اور قوم کا طرفدار ہوا۔ کسی واقعہ کے بیان کرنے میں مطلق پتہ نہیں لگتا کہ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور اس کی ذاتی اعتقاد کیا ہے۔ “

یہ امر بھی جتا دینا ضروری ہے کہ اگرچہ میں نے واقعات میں اسباب و علل کے سلسلے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس باب میں یورپ کی بے اعتدالی سے احتراز کیا ہے۔ اسباب و علل کے سلسلے پیدا کرنے کے لیے اکثر جگہ قیاس سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس لئے مؤرخ کو اجتہاد اور قیاس سے چارہ نہیں۔ لیکن یہ اس کا لازمی فرض ہے کہ وہ قیاس اور اجتہاد کو واقعہ میں اس قدر مخلوط نہ کر دے کہ کوئی شخص دونوں کو الگ کرنا چاہے تو نہ کر سکے۔

اہل یورپ کا عام طرز یہ ہے کہ وہ واقعہ کو اپنے اجتہاد کے موافق کرنے کے لئے ایسی ترتیب اور انداز سے لکھتے ہیں کہ وہ واقعہ بالکل ان کے اجتہاد کے قالب میں ڈھل جاتا ہے اور کوئی شخص قیاس اور اجتہاد کو واقعہ سے الگ نہیں کر سکتا۔

اس کتاب کی ترتیب اور اصول تحریر کے متعلق چند امور لحاظ رکھنے کے قابل ہیں۔

(۱)  بعض واقعات مختلف حیثیتیں رکھتے ہیں اور مختلف عنوانوں کے تحت آ سکتے ہیں۔ اس لئے اس قسم کے واقعات کتاب میں مکرر آ گئے ہیں اور ایسا ہونا ضروری تھا۔ لیکن یہ التزام رکھا گیا ہے کہ جس خاص عنوان کے نیچے وہ واقعہ لکھا گیا ہے وہاں اس عنوان کی حیثیت زیادہ تر دکھائی گئی ہے

(۲)  کتابوں کا حوالہ زیادہ تر انہیں واقعات میں دیا گیا ہے جو کسی حیثیت سے قابل تحقیق تھے اور کوئی خاص خصوصیت رکھتے تھے۔

(۳)  جو کتابیں روایت کی حیثیت سے کم رتبہ مثلاً ازالتہ الخفاء و ریاض النضرۃ وغیرہ ان کا جہاں حوالہ دیا ہے اس بناء پر دیا ہے کہ خاص روایت کی تصدیق اور معتبر کتابوں سے کر لی گئی ہے۔ غرض کئی برس کی سعی و محنت اور تلاش و تحقیق کا جو نتیجہ ہے وہ قوم کے سامنے ہے۔

من کہ یک چند زدم مہر خموشی برلب

کس چہ داند کہ دریں پردہ چہ سودا کردم

پیکرے تازہ کہ خواہم بہ عزیزاں بنمود

لختے ازذوق خودش نیز تماشا کردم

محفل ازبادۂ دوشینہ نیاسودہ ہنوذ

بادۂ تندتر از دوش بہ مینا کردم

باز خواہم کہ دمم درتن اندیشہ رداں

من کہ دریوزۂ فیض ازدم عیسیٰ کردم

ہم نشیں نکتہ حکمت ز شریعت می جست

لختے از نسخہ روح القدس املا کردم

شاہد راز کہ کس پردہ ز رویش نگرفت

گرہ ازبند قبایش بہ فسوں وا کردم!

بشکہ ہر بار گہر بار گذشتم زیں راہ

دست معنی ہمہ پر لولوے لالہ کردم

 

حضرت عمر: نام و نسب – سن رشد و تربیت

سلسلہ نسب یہ ہے کہ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک۔

اہل عرب عموماً عدنان یا قحطان کی اولاد ہیں۔ عدنان کا سلسلہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ عدنان کے نیچے گیارہویں پشت میں فہر بن مالک بڑے صاحب اقدار تھے۔ ان ہی کی اولاد ہے جو قریش کے لقب سے مشہور ہے۔ قریش کی نسل میں دس شخصوں نے اپنے زور لیاقت سے بڑا امتیاز حاصل کیا، اور ان کے انتساب سے دس جدا نامور قبیلے بن گئے۔ یعنی ہاشم، امیہ، نوفل، عبد الدار، اسد، تیم، مخزوم، عدی، جمح، سمح، حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عدی کی اولاد سے ہیں۔ عدی کے دوسرے بھائی مرۃ تھے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اجداد سے ہیں۔ اس لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے آٹھویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے۔ قریش چونکہ خانہ کعبہ کے مجاور بھی تھے۔ اس لئے دنیاوی جاہ و جلال کے ساتھ مذہبی عظمت کا چھتر بھی ان پر سایہ فگن تھا۔ تعلقات کی وسعت اور کام کے پھیلاؤ سے ان لوگوں کے کاروبار کے مختلف صیغے پیدا ہو گئے تھے۔ اور ہر صیغے کا اہتمام جدا تھا۔ مثلاً خانہ کعبہ کی نگرانی، حجاج کی خبر گیری، سفارت، شیوخ قبائل کا انتخاب، فصل مقدمات،  مجلس شورا وغیرہ وغیرہ، (عدی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد اعلیٰ تھے ) اس صیغوں میں سفارت کے صیغے کے افسر تھے۔ یعنی قریش کو کسی قبیلے کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آتا تو یہ سفیر بن کر جایا کرتے۔ (یہ تمام تفصیل عقد الفرید باب فضائل عرب میں ہے )۔ اس کے ساتھ منافرہ کے معرکوں میں ثالث بھی ہوا کرتے تھے۔ عرب میں دستور تھا کہ برابر کے دو رئیسوں میں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو ایک لائق اور پایہ شناس ثالث مقرر کیا جاتا۔ اور دونوں اس کے سامنے اپنی اپنی ترجیح کے دلائل بیان کرتے۔ کبھی کبھی ان جھگڑوں کو اس قدر طور ہوتا کہ مہینوں معرکے قائم رہتے۔ جو لوگ ان معرکوں میں حکم مقرر کئے جاتے ان میں معاملہ فہمی کے علاوہ فضاحت اور زور تقریر کا جوہر بھی درکار ہوتا، یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جد امجد

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا  نفیل بن عبد العزیٰ نے اپنے اسلاف کی طرح ان خدمتوں کو نہایت قابلیت سے انجام دیا اور اس وجہ سے بڑے عالی رتبہ لوگوں کے مقدمات ان کے پاس فیصلہ کرنے کے لئے آتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جد امجد عبد المطلب اور حرب بن امیہ میں جب ریاست کے دعویٰ پر نزاع ہوئی تو دونوں نے نفیل ہی کو حکم مانا۔ نفیل نے عبد المطلب کے حق میں فیصلہ کیا۔ اور اس وقت کی طرف مخاطب ہو کر یہ جملے کہے :

اتنا فرر جلاً ھو اطول منک قامۃً و او سم و سامۃً و اعظم منک ھامۃً و اکثر منک ولداً و اجزل منک مفداً او انی لا اقوال ھذا و انک لبعید الغضب رفیع الصوت فی العرب جلد المریرۃ لحبل العشیرۃ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برادرِ عم زاد

نفیل کے دو بیٹے تھے۔ عمرو، عمرو معمولی لیاقت کے آدمی تھے۔ لیکن ان کے بیٹے زید جو نفیل کے پوتے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کے شخص تھے۔ وہ ان ممتاز بزرگوں میں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعثت سے پہلے اپنے اجتہاد سے بت پرستی کو ترک کر دیا تھا۔ اور موحد بن گئے تھے۔ ان میں زید (زید کا مفصل حال اسد الغابہ کتاب الاوائل اور معارف ابن قنیبہ میں ملے گا) کے سوا باقیوں کے یہ نام ہیں۔ قیس بن ساعدہ، ورقہ بن نوفل۔

زید بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو علانیہ برا کہتے تھے اور لوگوں کو دین ابراہیمی کی ترغیب دلاتے تھے۔ اس پر تمام لوگ ان کے دشمن ہو گئے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد خطاب سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ خطاب نے اس قدر ان کو تنگ کیا کہ وہ آخر مجبور ہو کر مکہ معظمہ سے نکل گئے۔ اور حراء میں جا رہے۔ تاہم کبھی کبھی چھپ کر کعبہ کی زیارت کو آتے۔ زید کے اشعار آج بھی موجود ہیں۔ جن سے ان کے اجتہاد اور روشن ضمیری کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ دو شعر یہ ہیں :

ارباً واحداً ام الف ربِ
ادین اذا تقسمت الامور
ترکت اللات والعزیٰ جمیعاً
کذلک یفعل الرجل البصیر

ایک خدا کو مانوں یا ہزاروں کو؟ جب کہ امور تقسیم ہو گئے۔ میں نے لات اور عزیٰ (بتوں کے نام تھے ) سب خیر باد کہا اور سمجھدار آدمی ایسا ہی کرتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد خطاب

خطاب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد قریش کے ممتاز آدمیوں میں سے تھے (کتاب المعارف ابن قتیبہ)۔ قبیلہ عدی اور بنی عبد الشمس میں مدت سے عداوت چلی آتی تھی اور چونکہ بنو میں خطاب بھی شامل تھے ،  مجبور ہو کر سہم کے دامن میں پناہ لی، اس پر بھی مخالفوں نے لڑائی کی دھمکی دی تو خطاب نے یہ اشعار کہے :

ابو عد لی ابو عمر و دولی
رجال لا ینھنھا الوعید
رجال من بنی سھم بن عمرو
الی ابیا تھم باوی الطرید

کل آٹھ شعر ہیں اور علامہ ارزقی نے تاریخ مکہ میں ان کو بتمامہا نقل کیا ہے۔ عدی کا تمام خاندان مکہ معظمہ میں مقام صفا میں سکونت رکھتا تھا۔ لیکن جب انہوں نے بنو سہم سے تعلق پیدا کیا تو مکانات بھی انہی کے ہاتھ بیچ ڈالے۔ لیکن خطاب کے متعدد مکانات صفا میں باقی رہے جن میں سے ایک مکان حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وراثت میں پہنچا تھا۔ یہ مکان صفا اور مروہ کے بیچ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ڈھا کر حاجیوں کے اترنے کے لیے میدان بنا دیا۔ لیکن اس سے متعلق بعض دکانیں مدت تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان کے قبضے میں رہیں۔ (تاریخ مکہ للارزقی۔ ذکر رباع بن بنی عدی بن کعب)۔ خطاب نے متعدد شادیاں اونچے گھرانوں میں کیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں کا نام خنتمہ تھا، جو ابن ہشام بن المغیرۃ کی بیٹی تھیں، مغیرۃ اس رتبہ کے آدمی تھے کہ جب قریش کسی سے لڑنے کے لئے جاتے تھے تو فوج کا اہتمام انہی سے متعلق ہوتا تھا۔ اسی مناسبت سے ان کو صاحب الاعنہ کا لقب حاصل تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی کے پوتے تھے۔ مغیرہ کے بیٹے ہشام بھی جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا تھے۔ ایک ممتاز آدمی تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور روایات کے مطابق ہجرت نبوی سے 40 برس قبل پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت اور بچپن کے حالات بالکل نامعلوم ہیں۔ حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں عمرو بن عاص کی زبانی ایک روایت نقل کی ہے۔ کہ میں چند احباب کے ساتھ ایک جلسہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ دفعتہً غُل اٹھا۔ دریافت سے معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا ہوا ہے۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیدا ہونے پر غیر معمولی خوشی کی گئی تھی۔ ان کے سن رشد کے حالات بھی بہت کم معلوم ہیں اور کیونکر معلوم ہوتے۔ اس وقت کس کو خیال تھا کہ یہ جوان آگے چل کر فاروق اعظم ہونے والا ہے۔ تاہم نہایت تشخیص اور تلاش سے کچھ کچھ حالات بہم پہنچے جن کا نقل کرنا ناموزوں نہ ہو گا۔

سن رشد

سن رشد پہنچ کر ان کے باپ خطاب نے ان کو جو خدمت سپرد کی وہ اونٹوں کو چرانا تھا۔ یہ شغل اگرچہ عرب میں معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قومی شعار تھا لیکن خطاب نہایت بے رحمی کے ساتھ ان سے سلوک کرتے۔ تمام دن اونٹ چرانے کا کام لیتے اور جب کبھی تھک کر دم لینا چاہتے تو سزا دیتے۔ جس میدان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ مصیبت انگیز خدمات انجام دینی پڑتی تھی۔ اس کا نام ضجنان تھا۔ جو مکہ معظمہ کے قریب قدید سے 10 میل کے فاصلہ پر ہے۔ خلافت کے زمانے میں ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا تو ان نہایت عبرت ہوئی، آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ اللہ اکبر ایک وہ زمانہ تھا کہ میں نمدہ کا کرتہ پہنے ہوئے اونٹ چرایا کرتا تھا اور تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ کے ہاتھ سے مار کھاتا۔ آج یہ دن ہے کہ خدا کے سوا میرے اوپر کوئی حاکم نہیں۔ (طبقات ابن سعد)۔

شباب کا آغاز ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان شریفانہ مشغلوں میں مشغول ہوئے جو شرفائے عرب میں عموماً معمول تھے ، عرب میں اس وقت جن چیزوں کی تعلیم دی جاتی تھی اور جو لازمہً شرافت خیال کی جاتی تھیں، نسب دانی، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری تھی، نسب دانی کا فن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان میں موروثی چلا آتا تھا، جاحظ نے کتاب البیان والبتیین میں بہ صریح لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے باپ اور دادا نفیل تینوں بڑے نساب تھے (طبقات ابن سعد، مطبوعہ مصر ص 117-122)، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان میں جیسا کہ ہم ابھی لکھ آئے ہیں سفارت اور منافرۃ یہ دونوں منصب موروثی چلے آتے تھے اور ان کے انجام دینے کے لیے انساب کا جاننا سب سے مقدم امر تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انساب کا فن اپنے باپ سے سیکھا۔ جاحظ نے تصریح کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب انساب کے متعلق کچھ بیان کرتے تھے تو ہمیشہ اپنے باپ خطاب کا حوالہ دیتے تھے۔

پہلوانی اور کشتی کے فن میں بھی کمال حاصل تھا، یہاں تک کہ عکاظ کے دنگل میں معرکے کی کشتیاں لڑتے تھے ، عکاظ جبل عرفات کے پاس ایک مقام تھا جہاں سال کے سال اس غرض سے میلہ لگتا تھا کہ عرب کے تمام اہل فن جمع ہو کر اپنے کمالات کے جوہر دکھاتے تھے اس لیے وہی لوگ یہاں پیش ہو سکتے تھے جو کسی فن میں کمال رکھتے تھے۔ نابغہ، زبیانی، حسان بن ثابت، قیس بن ساعدہ، خنساء جن کو شاعری اور ملکۂ تقریر میں تمام عرب مانتا تھا، اسی تعلیم گاہ کے تعلیم یافتہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت علامہ بلاذری نے کتاب الاشراف (انساب والاشرف یروشلم میں شائع ہو گئی ہے ) میں ب سند روایت نقل کی ہے کہ عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔ اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس فن میں پورا کمال حاصل کیا تھا۔

شہسواری کی نسبت ان کا کمال عموماً مسلم ہے۔ چنانچہ جاحظ نے لکھا ہے کہ وہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے تھے اور اس  طرح جم کر بیٹھتے تھے کہ جلد بدن ہو جاتے تھے۔ قوت تقریر کی نسبت اگرچہ کوئی مصرح شہادت موجود نہیں لیکن یہ امر تمام مؤرخین نے باتفاق لکھا ہے کہ اسلام لانے سے پہلے قریش نے ان کو سفارت کا منصب دے دیا تھا۔ اور یہ منصب صرف اس شخص کو مل سکتا تھا جو قوت تقریر اور معاملہ فہمی میں کمال رکھتا تھا۔

اس کتاب کے دوسرے حصے میں ہم نے اس واقعہ کو تفصیل سے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شاعری کا نہایت عمدہ مذاق رکھتے تھے اور تمام مشہور شعراء کے چیدہ اشعار ان کو یاد تھے اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ یہ مذاق انہوں نے جاہلیت میں ہی عکاظ کی تعلیم گاہ میں حاصل کیا ہو گا۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد وہ مذہبی اشغال میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اس قسم کے چرچے بھی چنداں پسند نہیں کرتے تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ اور یہ وہ خصوصیت تھی جو اس زمانے میں بہت کم لوگوں کو حاصل تھی۔ علامہ بلاذری نے بہ سند لکھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے تو قریش کے تمام قبیلے میں 17 آدمی تھے ، جو لکھنا جانتے تھے ، ان میں ایک عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ (فتوح البلدان بلاذری )۔

ان فنون سے فارغ ہو کر وہ فکر معاش میں مصروف ہوئے ، عرب میں معاش کا ذریعہ زیادہ تر تجارت تھا۔ اس لئے انہوں نے بھی یہی شغل اختیار کیا۔ اور یہی شغل ان کی بہت بڑی ترقیوں کا سبب ہوا، وہ تجارت کی غرض سے دور دور ملکوں میں جاتے تھے۔ اور بڑے بڑے لوگوں سے ملتے تھے۔ خود داری، بلند حوصلگی، تجربہ کاری، معاملہ دانی، یہ تمام اوصاف جو ان میں اسلام لانے سے قبل پیدا ہو گئے تھے ، سب انہی سفروں کی بدولت تھے ، ان سفروں کے حالات اگرچہ نہایت دلچسپ اور نتیجہ خیز ہوں گے لیکن افسوس ہے کہ کسی مؤرخ نے ان پر توجہ نہیں کی۔ علامہ مسعودی نے اپنی مشہور کتاب ” مروج الذہب” میں صرف اس قدر لکھا ہے کہ :

ولعمر بن الخطاب اخبار کثیرۃ  فی اسفارہ فی الجاھیلۃ الی الشام والعراق مع کثیر من ملوک العرب والعجم و قدا تینا علی مبسوطھا فی کتابنا اخبار الزمان والکتب الاوسط۔

“عمر بن خطاب نے جاہلیت کے زمانے میں عراق اور شام کے جو سفر کئے ان سفروں میں جس طرح وہ عرب و عجم کے بادشاہوں سے ملے اس کے متعلق بہت سے واقعات ہیں جن کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب اخبار الزمان اور کتاب الاوسط میں لکھا ہے۔ “

علامہ موصوف نے جن کتابوں کا حوالہ دیا اگرچہ وہ فن تاریخ کی جان ہیں۔ لیکن قوم کی بد مذاقی سے مدت ہوئی ناپید ہو چکیں۔ میں نے صرف اس غرض سے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان حالات کا پتہ لگ سکے۔ قسطنطنیہ کے تمام کتب خانے چھان مارے۔ لیکن کچھ کامیابی نہیں ہوئی۔

محدث بن عساکر نے ” تاریخ دمشق” میں جس کی بعض جلدیں میری نگاہ سے گزریں ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سفر کے بعض واقعات لکھے ہیں۔ لیکن ان میں کوئی دلچسپی نہیں۔

مختصر یہ کہ عکاظ کے معرکوں اور تجارت کے تجربوں نے ان کو تمام عرب میں روشناس کرا دیا اور لوگوں پر ان کی قابلیت کے جوہر روز برزر کھلتے گئے۔ یہاں تک کہ قریش نے ان کو سفارت کے منصب پر مامور کر دیا۔ جب کوئی پرخطر معاملہ پیش آتا تو انہی کو سفیر بنا کر بھیجتے۔

قبول اسلام اور ہجرت

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ستائیسواں سال تھا کہ عرب میں آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے اور اسلام کی صدا بلند ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھرانے میں زید کی وجہ سے توحید کی آواز بالکل نامانوس نہیں رہی تھی۔ چنانچہ سب سے پہلے زید کے بیٹے سعید اسلام لائے۔ سعید کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن فاطمہ سے ہوا تھا۔ اس تعلق سے فاطمہ بھی مسلمان ہو گئیں۔ اسی خاندان میں ایک اور معزز شخص نعیم بن عبد اللہ نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ ان کے کانوں میں جب یہ صدا پہنچی تو سخت برہم ہوئے۔ یہاں تک کہ قبیلے میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے ان کے دشمن بن گئے۔ لبینہ ان کے خاندان میں ایک کنیز تھی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کو بے تحاشہ مارتے اور مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے ذرا دم لے لوں تو پھر ماروں گا۔ لبینہ کے سوا اور جس جس پر قابو چلتا تھا زد و کوب سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ لیکن اسلام کا نشہ ایسا تھا کہ جس کو چڑھ جاتا تھا اترتا نہ تھا۔ ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بد دل نہ کر سکے۔ آخر مجبور ہو کر فیصلہ کیا کہ (نعوذ باللہ) خود بانی اسلام کا قصہ پاک کر دیں، تلوار کمر سے لگا کر سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف چلے۔ کارکنان قضا نے کہا :

ع : آمد آں یارے کہ ماہم خواستیم

راہ میں اتفاقاً نعیم بن عبد اللہ مل گئے۔ ان کے تیور دیکھ کر پوچھا خیر تو ہے ؟ بولے کہ ” محمد کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں۔ ” انہوں نے کہا کہ ” پہلے اپنے گھر کی خبر لو، خود تمہاری بہن اور بہنوئی اسلام لا چکے ہیں۔ ” فوراً پلٹے اور بہن کے ہاں پہنچے۔ وہ قرآن پڑھ رہی تھیں۔ ان کی آہٹ پا کر چپ ہو گئیں۔ اور قرآن کے اجزاء چھپا لئے لیکن آواز ان کے کانوں میں پڑ چکی تھی۔ بہن سے پوچھا کہ یہ کیا آواز تھی۔ بہن نے کہا کہ کچھ نہیں۔ بولے کہ نہیں میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو۔ یہ کہہ کر بہنوئی سے دست و گریبان ہو گئے۔ اور جب ان کی بہن بچانے کو آئیں تو ان کی بھی خبر لی۔ یہاں تک کہ ان کا بدن لہو  لہان ہو گیا۔ اسی حالت میں ان کی زبان سے نکلا کہ ” عمر! جو بن آئے کرو۔ لیکن اسلام اب دل سے نہیں نکل سکتا۔ ” ان الفاظ نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر خاص اثر کیا۔ بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کے بدن سے خون جاری تھا۔ یہ دیکھ کر اور بھی رقت ہوئی فرمایا کہ تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھ کو بھی سناؤ۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن کے اجزاء لا کر سامنے رکھ دیئے۔ اٹھا کر دیکھا تو یہ سورۃ تھی۔

سبح للہ ما فی السموت والارض و ھو العزیز الحکیم۔

ایک ایک لفظ پر ان کا دل مرعوب ہوتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے امنوا باللہ و رسولہ تو بے اختیار پکار اٹھے کہ اشھد  ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمداً رسول اللہ۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ارقم کے مکان میں جو کوہ صفا کی تلی میں واقع تھا پناہ گزین تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آستانہ مبارک پر پہنچ کر دستک دی۔ چونکہ شمشیر بکف گئے تھے۔ اور اس تازہ واقعہ کی کسی کو اطلاع نہ تھی اس لیے صحابہ کو تردد ہوا۔  لیکن حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آنے دو۔ مخلصانہ آیا ہے۔ تو بہتر ورنہ اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اندر قدم رکھا تو رسول اللہ خود آگے بڑھے اور ان کا دامن پکڑ کر فرمایا ” کیوں عمر کس ارادہ سے آیا ہے ؟” نبوت کی پر رعب آواز نے ان کو کپکپا دیا۔ نہایت خضوع کے ساتھ عرض کیا کہ ” ایمان لانے کے لئے ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے۔ اور ساتھ ہی تمام اصحاب نے مل کر زور سے اللہ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی تمام پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ (نساب الاشراف بلاذری و طبقات ابن سعد و اسد الغابہ ابن عساکر و کامل ابن الاثیر)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے نے اسلام کی تاریخ میں نیا دور پیدا کر دیا۔ اس وقت تک 40، 50 آدمی اسلام لا چکے تھے۔ عرب کے مشہور بہادر حضرت حمزہ سید الشہداء نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم اپنے مذہبی فرائض علانیہ نہیں ادا کر سکتے تھے۔ اور کعبہ میں تو نماز پڑھنا بالکل ناممکن تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کے ساتھ دفعۃً یہ حالت بدل گئی۔ انہوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا۔ کافروں نے اول اول ان پر بڑی شدت کی۔ لیکن وہ برابر ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ کعبہ میں جا کر نماز ادا کی۔ ابن ہشام نے اس واقعہ کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی ان الفاظ میں روایت کیا۔

فلما اسلم عمر قاتل فریشاً حتی صلی عند الکعبۃ و صلینا معہ۔

“جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے تو قریش سے لڑے ، یہاں تک کہ کعبہ میں نماز پڑھی اور ان کے ساتھ ہم نے بھی پڑھی۔ “

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا واقعہ سنہ نبوی کے چھٹے سال میں واقع ہوا۔

 

ہجرت

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہجرت

اہل قریش ایک مدت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے دعویٰ کو بے پروائی کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ لیکن اسلام کو جس قدر شیوع ہوتا جاتا تھا ان کی بے پروائی غصہ اور ناراضی سے بدلتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب ایک جماعت کثیر اسلام کے حلقے میں آ گئی تو قریش نے زور اور قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہا۔ حضرت ابو طالب کی زندگی تک تو علانیہ کچھ نہ کر سکے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد کفار ہر طرف سے اٹھ کھڑے ہوئے اور جس جس مسلمان پر قابو ملا اس طرح ستانا شروع کیا کہ اگر اسلام کے جوش اور وارفتگی کا اثر نہ ہوتا تو ایک شخص بھی اسلام پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ حالت پانچ چھ برس تک رہی اور یہ زمانہ اس سختی سے گزارا کہ اس کی تفصیل ایک نہایت درد انگیز داستان ہے۔

اسی اثناء میں مدینہ منورہ کے ایک معزز گروہ نے اسلام قبول کر لیا تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جن لوگوں کو کفار کے ستم سے نجات نہیں مل سکتی وہ مدینہ کو ہجرت کر جائیں۔ سب سے پہلے ابو سلمہ عبد اللہ بن اشہل رضی اللہ تعالیٰ عنہم پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مؤذن اور عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیس آدمیوں کے ساتھ مدینہ کا قصد کیا۔ صحیح بخاری میں 20 کا عدد مذکور ہے۔ لیکن ناموں کی تفصیل نہیں۔ ابن ہشام نے بعضوں کے نام لکھے اور وہ یہ ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جن لوگوں نے ہجرت کی

زید بن خطاب، سعید بن زید بن خطاب، خنیس بن حذافہ سہمی، عمرو بن سراقہ، عبد اللہ بدن سراقہ، واقد بن عبد اللہ تمیمی، خولی بن ابی خولی، مالک بن ابی خولی، لیاس بن بکیر، عاقل بن بکیر، عامر بن بکیر، خالد بن بکیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان میں سے زید حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی، سعید بھتیجے ، خنیس داماد اور باقی دوست احباب تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیام گاہ

مدینہ منورہ کی وسعت چونکہ کم تھی، مہاجرین زیادہ تر قبا میں (جو مدینہ سے دو تین میل ہے ) قیام کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہیں رفاعہ بن عبد المنذر کے مکان پر ٹھہرے۔ قباء کو عوالی بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ان کی فرد و گاہ کا نام عوالی ہی لکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد اکثر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ہجرت کی۔ یہاں تک کہ (662 عیسوی) 13 نبوی میں جناب رسالت صلی اللہ علی و سلم نے مکہ چھوڑا اور آفتاب رسالت مدینہ کے افق سے طلوع ہوا۔

مہاجرین اور انصار میں اخوت

مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مہاجرین کے رہنے سہنے کا انتظام کیا۔ انصار کو بلا کر ان میں اور مہاجرین میں برادری قائم کی جس کا اثر یہ ہے کہ جو مہاجر جس انصاری کا بھائی بن جاتا انصاری مہاجر کو اپنی جائیداد، اسباب، نقدی تمام چیزوں میں آدھا آدھا بانٹ دیتا تھا۔ اس طرح تمام مہاجرین اور انصار بھائی بھائی بن گئے۔ اس رشتہ کے قائم کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم طرفین کے رتبہ اور حیثیت کا فرق مراتب ملحوظ رکھتے تھے ، یعنی جو مہاجر جس درجے کا ہوتا اسی رتبے کے انصاری کو اس کا بھائی بناتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلامی بھائی

چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس کا بھائی قرار دیا، ان کا نام عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا، جو قبیلہ بنو سالم کے سردار تھے (دیکھو سیرت ابن ہشام حافظ ابن حجر نے مقدمہ فتح الباری () میں عتبان کی بجائے اوس بن خولی کا نام لکھا ہے لیکن تعجب ہے کہ خود موصوف نے اصایہ میں ابن سعد کے حوالہ سے عتبان ہی کا نام لکھا ہے اور اوس بن خولی کا جہاں حال لکھا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخوت کا ذکر نہیں کیا)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریف لانے پر بھی اکثر صحابہ نے قباء ہی میں قیام رکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہیں مقیم رہے۔ لیکن یہ معمول کر لیا کہ ایک دن ناغہ دے کر بالالتزام آنحضرت صلی اللہ علی و سلم کے پاس جاتے اور دن بھر خدمت اقدس میں حاضر رہتے۔ ناغہ کے دن یہ بندوبست کیا تھا کہ ان کے برادر اسلامی عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ اور جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے سنتے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر روایت کرتے تھے۔ چنانچہ بخاری نے متعدد ابواب مثلاً العلم، باب النکاح وغیرہ میں ضمناً اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔

    مدینہ پہنچ کر اس بات کا وقت آیا کہ اسلام کے فرائض و ارکان محدود اور معین کئے جائیں کیونکہ مکہ معظمہ میں جان کی حفاظت ہی سب سے بڑا فرض تھا، یہی وجہ تھی کہ زکوٰۃ، روزہ، نماز جمعہ، نماز عیدین، صدقہ فطر کوئی چیز وجود میں نہیں آئی تھی۔ نمازوں میں بھی یہ اختصار تھا کہ مغرب کے سوا باقی نمازوں میں صرف دو دو رکعتیں تھیں۔ یہاں تک کہ نماز کے لئے اعلان کا طریقہ بھی نہیں معین ہوا تھا۔  چنانچہ سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا انتظام کرنا چاہا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں نماز کے اعلان کے لئے بوق اور ناقوس کا رواج تھا۔ اس لئے صحابہ نے یہی رائے دی، ابن ہشام نے روایت کی ہے کہ یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تجویز تھی۔ بہرحال یہ مسئلہ زیر بحث تھا، اور کوئی رائے قرار نہیں پائی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ نکلے اور انہوں نے کہا کہ ایک آدمی اعلان کرنے کے لیے کیوں نہ مقرر کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی وقت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اذان کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان)۔

 

اذان کا طریقہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے موافق قائم ہوا

یہ بات لحاظ کے قابل ہے کہ اذان نماز کا دیباچہ اور اسلام کا بڑا شعار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے اس سے زیادہ کیا فخر کی بات ہو سکتی ہے کہ یہ شعار اعظم انہی کی رائے کے موافق قائم ہوا۔

 

سن 1 ہجری (623 عیسوی) تا وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

غزوات و دیگر حالات

سن 1 ہجری (623 عیسوی) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات اور حالات در حقیقت سیرۃ نبوی کے اجزاء ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو جو لڑائیاں پیش آئیں غیر قوموں سے جو معاہدات عمل میں آئے وقتاً فوقتاً جو انتظامات جاری کئے گئے ، اشاعت اسلام کے لئے جو تدبیریں اختیار کی گئیں ان میں سے ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرکت کے بغیر انجام پایا ہو، لیکن مشکل یہ ہے کہ اگر تمام واقعات پوری تفصیل کے ساتھ لکھے جائیں تو کتاب کا یہ حصہ سیرۃ نبوی سے بدل جاتا ہے۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ کارنامے گو کتنے ہی اہم ہوں لیکن چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سلسلۂ حالات سے وابستہ ہیں، اس لئے جب قلمبند کئے جائیں گے تو تمام واقعات کا عنوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نامی قرار پائے گا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارنامے ضمناً ذکر میں آئیں گے۔ اس لئے ہم نے مجبوراً یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ یہ واقعات نہایت اختصار کے ساتھ لکھے جائیں۔ اور جن واقعات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاص تعلق ہے ان کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھا جائے۔ اس صورت میں اگرچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارنامے نمایاں ہو کر نظر نہ آئیں گے۔ کیونکہ جب تک کسی واقعہ کی پوری تصویر نہ دکھائی جائے اس کی اصل شان قائم نہیں رہتی تاہم اس کے سوا اور کوئی تدبیر نہ تھی۔

اب ہم اختصار کے ساتھ ان واقعات کو لکھتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جب مدینہ کو ہجرت کی تو قریش کو خیال ہوا کہ اگر مسلمانوں کا جلد استیصال نہ کر دیا جائے تو وہ زور پکڑ جائیں گے۔ اس خیال سے انہوں نے مدینہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کیں۔ تاہم ہجرت کے دوسرے سال تک کوئی قابل ذکر معرکہ نہیں ہوا، صرف اس قدر ہوا کہ دو تین دفعہ قریش چھوٹے چھوٹے گروہ کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر پا کر ان کو روکنے کے لئے تھوڑی تھوڑی سی فوجیں بھیجیں اور وہ وہیں رک گئے۔

غزوہ بدر سن 2 ہجری (624 عیسوی)

2 ہجری (624 عیسوی) میں بدر کا واقعہ پیش آیا جو نہایت مشہور معرکہ ہے۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ ابو سفیان جو قریش کا سردار تھا، تجارت کا مال لے کر شام سے واپس آ رہا تھا کہ راہ میں یہ (غلط) خبر سن کر کہ مسلمان اس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، قریش کے پاس قاصد بھیجا اور ساتھ ہی تمام مکہ امڈ آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ خبر سن کر تین سو آدمیوں کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے۔ عام مؤرخین کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مدینے سے نکلنا صرف قافلہ کے لوٹنے کی غرض سے تھا۔ لیکن یہ امر محض غلط ہے۔ قرآن مجید جس سے زیادہ کوئی قطعی شہادت نہیں ہو سکتی، اس میں جہاں اس واقعہ کا ذکر ہے یہ الفاظ ہیں۔

کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و ان فریقاً من المومنین لکارھون یجادلونک فی الحق بعد ما تبین کانما یساقون الی الموت و ھم منطرون و اذیعد کم اللہ احدے الطائفتین انھا لکم و تودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔

” جیسا کہ تجھ کو تیرے پروردگار نے تیرے گھر (مدینہ) سے سچائی پر نکالا اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ ناخوش تھا وہ تجھ سے سچی بات پر جھگڑتے تھے۔ بعد اس کے سچی بات ظاہر ہو گئی گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں اور وہ اس کو دیکھ رہے ہیں اور جب کہ خدا دو گروہوں میں سے ایک کا تم سے وعدہ کرتا تھا اور تم چاہتے تھے کہ جس گروہ میں کچھ زور نہیں ہے وہ ہاتھ آئے۔ “

(۱) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ سے نکلنا چاہا تو مسلمانوں کا ایک گروہ ہچکچاتا تھا۔ اور سمجھتا تھا کہ موت کے منہ میں جانا ہے۔

(۲) مدینے سے نکلنے کے وقت کافروں کے دو گروہ تھے ایک غیر ذات الشوکۃ یعنی ابو سفیان کا کاروان تجارے اور دوسرا قریش کا گروہ مکہ سے حملہ کرنے کے لیے سر و سامان کے ساتھ نکل چکا تھا۔

اس کے علاوہ ابو سفیان کے قافلہ میں 40 آدمی تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مدینے سے تین سو بہادروں کے ساتھ نکلے تھے۔ تین سو آدمی 40 آدمی کے مقابلہ کو کسی طرح موت کے منہ میں جانا نہیں خیال کر سکتے تھے۔ اس لئے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم قافلے کو لوٹنے کے لیے نکلتے تو خدا ہر گز قرآن مجید میں یہ نہ فرماتا کہ مسلمان ان کے مقابلے کو موت کے منہ میں جانا سمجھتے تھے۔

بہر حال 8 رمضان 3 ہجری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم 313 آدمیوں کے ساتھ جن میں 83 مہاجرین اور باقی انصار تھے ، مدینہ سے روانہ ہوئے۔ قریش کے ساتھ 950 کی جمیعت تھی۔ جن میں بڑے بڑے مشہور بہادر شریک تھے۔ مقام بدر میں جو مدینہ منورہ سے قریباً 6 منزل پر ہے ، معرکہ ہوا۔ اور کفار کو شکست ہوئی۔ مسلمانوں میں سے 14 آدمی شہید ہوئے جن میں 6 مہاجر اور 8 انصار تھے۔ قریش کی طرف سے 70 مقتول اور 80 گرفتار ہوئے۔ مقتولین میں ابو جہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ اور بڑے بڑے رؤسائے مکہ تھے ، اور ان کے قتل ہونے سے قریش کا زور ٹوٹ گیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ اس معرکہ میں رائے و تدبیر، جانبازی و پامردگی کے لحاظ سے ہر موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست و بازو  رہے۔ لیکن ان کی شرکت کی مخصوص خصوصیات یہ ہیں :

(1)  قریش کے تمام قبائل اس معرکہ میں آئے۔ لیکن بنو عدی یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلے میں سے ایک متنفس بھی شریک جنگ نہیں ہوا۔ (طبری کبیر میں ہے : ولم یکن بقی من قریش بطن الانفر منھم نا سالاناس الا بنی عدی بن کعب لم یخرج رجل واحد )۔  اور یہ امر جہاں تک قیاس کیا جا سکتا ہے صرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رعب و ذات کا اثر تھا۔

(2)حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے قبیلے اور حلفاء کے 12 آدمی شریک جنگ تھے۔ جن کے نام یہ ہیں : زید، عبد اللہ بن سراقہ، عمرو بن سراقہ، واقد بن عبد اللہ، خولی بن ابی خولی، عامر بن ربیعہ، عامر بن بکیر، خالد بن بکیر، ایاس بن بکیر، عاقل بن بکیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔

(3)سب سے پہلے جو شخص اس معرکہ میں شہید ہوا وہ مھجع حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام تھا۔ (ابن ہشام )۔

(4) عاصی بن ہشام بن مغیرہ جو قریش کا ایک معزز سردار اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ماموں تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ (ابن حریر  و استیعاب)۔

    یہ بات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خصوصیات میں شمار کی گئی ہے کہ اسلام کے معاملات میں قرابت اور محبت کا اثر ان پر کبھی غالب نہیں آ سکتا تھا۔ چنانچہ یہ واقعہ اس کی پہلی مثال ہے۔

اس معرکہ میں مخالف کی فوج سے جو لوگ زندہ گرفتار ہوئے ان کی تعداد کم و بیش 70 تھی۔ اور ان میں اکثر قریش کے بڑے بڑے سردار تھے۔ مثلاً حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عقیل (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی) ابو العاص بن الربیع، ولید بن الولید، ان سرداروں کا ذلت کے ساتھ گرفتار ہو کر آنا ایک عبرت خیز سماں تھا۔ جس نے مسلمانوں کے دل پر بھی اثر کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مبارکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظر جب ان پر پڑی تو بے اختیار بول اٹھیں کہ ” اعطیتم بایدیکم ھلا متم کراما” تم مطیع ہو کر آئے ہو۔ شریفوں کی طرح لڑ کر مر کیوں نہیں گئے۔

قیدیوں کے معاملے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے

اس بناء پر یہ بحث پیدا ہوئی کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام صحابہ سے رائے لی۔ اور لوگوں نے مختلف رائیں دیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ اپنے ہی بھائی بند ہیں، اس لئے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اختلاف کیا اور کہا کہ اسلام کے معاملے میں رشتہ اور قرابت کو دخل نہیں۔ ان سب کو قتل کر دینا چاہیے۔ اور اسطرح کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے عزیز کو  آپ قتل کر دے۔ علی عقیل کی گردن ماریں، حمزہ عباس کا سر اڑائیں، اور فلاں شخص جو میرا عزیز ہے اس کا کام میں تمام کروں (طبری 5)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے شان رحمت کے اقتضاء سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے پسند کی۔ اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی حتیٰ یثخن فی الارض الخ

“کسی پیغمبر کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ خوب خونریزی نہ کر لے۔ “

بدر کی فتح نے اگرچہ قریش کے زور کو گھٹایا لیکن اس سے اور نئی مشکلات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مدینہ منورہ اور اس کے اطراف پر ایک مدت سے یہودیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جب مدینہ تشریف لائے تو ملکی انتظامات کے سلسلے میں سب سے پہلا کام یہ کیا کہ یہودیوں سے معاہدہ کیا کہ ” مسلمانوں کے برخلاف دشمن کو مدد نہ دیں گے اور کوئی دشمن مدینہ پر چڑھ آئے تو مسلمانوں کی مدد کریں گے۔ ” لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بدر سے فتح یاب آئے تو ان کو ڈر پیدا ہوا کہ مسلمان زور پکڑ کر ان کے برابر کے حریف نہ بن جائیں۔ چنانچہ خود چھیڑ شروع کی۔ اور کہا کہ ” قریش والے فن حرب سے ناآشنا تھے۔ ہم سے کام پڑتا تو ہم دکھا دیتے کہ لڑنا اس کو کہتے ہیں” نوبت یہاں تک پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جو معاہدہ کیا تھا توڑ ڈالا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے شوال 2 ہجری میں ان پر چڑھائی کی۔ اور بالآخر وہ گرفتار ہو کر مدینہ سے جلا وطن کر دیئے گئے۔ اسلام کی تاریخوں میں یہودیوں سے لڑائیوں کا جو ایک متصل سلسلہ نظر آتا ہے اس کی ابتداء اسی سے ہوئی تھی۔

غزوہ سویق

قریش بدر میں شکست کھا کر انتقام کے جوش میں بیتاب تھے۔ ابو سفیان نے عہد کر لیا تھا کہ جب تک بدر کا انتقام نہ لوں گا غسل تک نہ کروں گا۔ چنانچہ ذوالحجہ 2 ہجری میں دو سو شتر سواروں کے ساتھ مدینہ کے قریب پہنچ کر دھوکے سے دو مسلمانوں کو پکڑا۔ اور ان کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کیا۔ لیکن ابو سفیان نکل گیا تھا۔ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات اور بھی پیش آتے رہے یہاں تک کہ شوال 3 ہجری (635 عیسوی) میں جنگ احد کا مشہور واقعہ ہوا۔

غزوہ احد 3 ہجری

اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل اور دیگر بہت سے سرداران قریش نے ابو سفیان سے جا کر کہا کہ تم مصارف کا ذمہ اٹھاؤ تو اب بھی بدر کا انتقام لیا جا سکتا ہے۔ ابو سفیان نے قبول کیا۔ اور اسی وقت حملہ کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ کنانہ اور تہامہ کے تمام قبائل بھی ساتھ ہو گئے۔ ابو سفیان ان کا سپہ سالار بن کر بڑے سر و سامان کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوا۔ اور ماہ شوال بدھ کے دن مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر مقام کیا۔ آنحضرت کی رائے تھی کہ مدینہ میں ٹھہر کر قریش کا حملہ روکا جائے۔ لیکن صحابہ نے نہ مانا اور آخر مجبور ہو کر جمعہ کے دن مدینہ سے نکلے ، قریش کی تعداد تین ہزار تھی جس میں 200 سوار اور 700 زرہ پوش تھے۔ میمنہ کے افسر خالد بن الولید اور میسرہ کے عکرمہ بن ابی جہل تھے۔ (اس وقت تک یہ دونوں صاحب اسلام نہیں لائے تھے ) ادھر کل 700 آدمی تھے جن میں سو زرہ پوش اور صرف دو سو سوار تھے۔ مدینہ سے قریباً تین میل پر احد ایک پہاڑ ہے ، اس کے دامن میں دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد اللہ بن جبیر کو 50 تیر اندازوں کے ساتھ فوج کے عقب پر متعین کیا کہ ادھر سے کفار حملہ نہ کرنے پائیں۔ 7 شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی، سب سے پہلے زبیر نے اپنی رکاب کی فوج کو لے کر حملہ کیا۔ اور قریش کے میمنہ کو شکست دی، پھر عام جنگ شروع ہوئی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو دجانہ دشمن کی فوج میں گھس گئے۔ اور ان کی صفیں الٹ دیں۔ لیکن فتح کے بعد لوگ غنیمت پر ٹوٹ پڑے ، تیر اندازوں نے سمجھا کہ اب معرکہ ختم ہو چکا ہے۔ اس خیال سے وہ بھی لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔ تیر اندازوں کا ہٹنا تھا کہ خالد نے دفعتاً عقب سے بڑے زور و شور کے ساتھ حملہ کیا۔ مسلمان چونکہ ہتھیار ڈال کر غنیمت میں مصروف ہو چکے تھے۔ اس ناگہانی زد کو نہ روک سکے ، کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر پتھروں اور تیروں کی بوچھاڑ کی۔ یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے۔ پیشانی پر زخم آیا اور رخساروں میں مغفر کی کڑیاں چبھ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک گڑھے میں گر پڑے۔ اور لوگوں کی نظر سے چھپ گئے۔ اس برہمی میں یہ غُل پڑ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مارے گئے۔ اسی خبر نے مسلمانوں کے استقلال کو متزلزل کر دیا۔ اور جو جہاں تھا وہیں سراسیمہ ہو کر رہ گیا۔

اس امر میں اختلاف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اخیر تک کس قدر صحابہ ثابت قدم رہے۔ صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صرف سات انصار اور دو قریشی یعنی سعد اور طلحہ رہ گئے تھے۔ نسائی اور بیہقی میں بسند صحیح منقول ہے کہ گیارہ انصار اور طلحہ کے سوا اور کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نہیں رہا تھا۔ محمد بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 14 آدمیوں کا نام لیا ہے۔ اسی طرح اور بھی مختلف روایتیں ہیں (یہ پوری تفصیل فتح الباری مطبوعہ مصر جلد 7  میں ہے )۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری  میں ان روایتوں میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ لوگ جب ادھر ادھر پھیل گئے تو کافروں نے دفعتاً عقب سے حملہ کیا۔ اور مسلمان سراسیمہ ہو کر جو جہاں تھا وہ وہیں رہ گیا۔ پھر جس طرح موقع ملتا گیا لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچتے گئے۔

تمام روایتوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو کچھ تو ایسے سراسیمہ ہوئے کہ انہوں نے مدینہ آ کر دم لیا۔ کچھ لوگ جان پر کھیل کر لڑتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جینا بیکار ہے۔ بعضوں نے مجبور و مایوس ہو کر سپر ڈال دی کہ اب لڑنے سے کیا فائدہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس تیسرے گروہ میں تھے۔ علامہ طبری میں بسند متصل جس کے رواۃ حمید بن سلمہ، محمد بن اسحاق، قاسم بن عبد الرحمٰن بن رافع ہیں، روایت کی ہے کہ اس موقع پر جب انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور چند مہاجرین اور انصار کو دیکھا کہ مایوس ہو کر بیٹھ گئے ہیں، تو پوچھا کہ بیٹھے کیا کرتے ہو، ان لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ نے جو شہادت پائی۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے کہ رسول اللہ کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے تم بھی انہی کی طرح لڑ کر مر جاؤ۔ یہ کہہ کر کفار پر حملہ آور ہوئے اور شہادت حاصل کی (طبری 4)۔ قاضی ابو یوسف نے خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی نقل کیا ہے کہ انس بن نضر میرے پاس سے گزرے اور مجھ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کیا گزری۔ میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ شہید ہوئے۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ شہید ہوئے تو ہوئے خدا تو زندہ ہے۔ یہ کہہ کر تلوار میان سے کھینچ لی۔ اور اس قدر لڑے کہ شہادت حاصل کی (کتاب الخراج )۔ ابن ہشام میں ہے کہ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ میں ستر زخم کھائے۔

طبری کی روایت میں یہ امر لحاظ کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں میں طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی ہے۔ اور یہ مسلم ہے کہ اس معرکہ میں ان سے زیادہ کوئی ثابت قدم نہیں رہا تھا۔ بہرحال یہ امر تمام روایتوں سے ثابت ہے کہ سخت برہمی کی حالت میں بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان جنگ سے نہیں ہٹے۔ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا زندہ ہونا معلوم ہوا تو فوراً خدمت میں پہنچے۔ طبری اور سیرت ہشام میں ہے۔

فلما عرف المسلمون رسول اللہ نھضوا بہ و نھض نحو الشعب معہ علی بن ابی طالب و ابوبکر بن ابی قحافہ و عمر بن الخطاب و طلحہ بن عبید اللہ و الزبیر بن العوم و الحارث بن صمۃ۔

” پھر جب مسلمانوں نے رسول اللہ کو دیکھا تو آنحضرت کے پاس پہنچے اور آپ لوگوں کو لے کر پہاڑ کے درہ پر چڑھ گئے اس وقت آپ کے ساتھ حضرت علی، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن العوام اور حارث بن صمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تھے۔ “

علامہ بلاذری صرف ایک مؤرخ ہیں جنہوں نے انساب الاشراف میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حال میں یہ لکھا ہے :

و کان ممن انکشف یوم احد فغفرلہ

“یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں تھے جو احد کے دن بھاگ گئے تھے۔ لیکن خدا نے ان کو معاف کر دیا۔ “

علامہ بلاذری نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنی خلافت کے زمانے میں لوگوں کے روزینے مقرر کئے تو ایک شخص کے روزینے کی نسبت لوگوں نے کہا اس سے زیادہ مستحق آپ کے فرزند عبد اللہ ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس کا باپ احد کی لڑائی میں ثابت قدم رہا تھا۔ اور عبد اللہ کا باپ (یعنی حضرت عمر) نہیں رہا تھا۔ لیکن یہ روایت قطع نظر اس کے درایۃً غلط ہے ، کیونکہ معرکہ جہاد سے بھاگنا ایک ایسا ننگ تھا۔ جس کو کوئی شخص علانیہ تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔ اصول روایت کے لحاظ سے بھی ہم اس پر اعتبار نہیں کر سکتے ، علامہ موصوف نے جس رواۃ کی سند سے یہ روایت بیان کی ہے۔ ان میں عباس بن عبد اللہ الباکسائے اور فیض بن اسحاق ہیں اور دونوں مجہول الحال ہیں۔ اس کے علاوہ اور تمام روایتیں اس کے خلاف ہیں۔

اس بحث کے بعد ہم پھر اصل واقعہ کی طرف آتے ہیں۔

خالد ایک دستہ فوج کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھے ، رسول اللہ اس وقت تیس (30) صحابہ کے ساتھ پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے۔ خالد کو آتا دیکھ کر فرمایا کہ خدایا۔ یہ لوگ یہاں تک نہ آنے پائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند مہاجرین اور انصار کے ساتھ آگے بڑھ کر حملہ کیا اور ان لوگوں کو ہٹا دیا۔ (سیرۃ ابن ہشام -5 و طبری 1)۔ ابو سفیان سالار قریش نے درہ کے قریب پہنچ کر پکارا کہ اس گروہ میں محمد ہیں یا نہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ کیا کہ کوئی جواب نہ دے۔ ابو سفیان نے پھر حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نام لے کر کہا کہ یہ دونوں اس مجمع میں ہیں یا نہیں؟ اور جب کسی نے کچھ جواب نہ دیا تو بولا کہ “ضرور یہ لوگ مارے گئے “۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رہا نہ گیا، پکار کر کہا ” او دشمن خدا! ہم سب زندہ ہیں” ابو سفیان نے کہا اعل ھبل ” اے ہبل (ایک بت کا نام تھا) بلند ہو” رسول اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا جواب دو اللہ اعلیٰ و اجل یعنی خدا بلند و برتر ہے۔ (سیرت ہشام  و طبری 5)

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عقد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ

اس سال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ ان کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عقد میں آئیں۔ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح جاہلیت میں خنیس بن خذافہ کے ساتھ ہوا۔ خنیس کے انتقال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خواہش کی کہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے نکاح میں لائیں۔ انہوں نے کچھ جواب نہ دیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی، وہ بھی چپ رہے۔ کیونکہ ان دونوں صاحبوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ 3 ہجری شعبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ سے نکاح کیا۔

واقعہ بنو نضیر 4 ہجری (626 عیسوی)

4 ہجری (626 عیسوی) میں بنو نضیر کا واقعہ پیش آیا، اوپر ہم لکھ آئے ہیں کہ مدینہ منورہ میں یہود کے جو قبائل آباد تھے ، آنحضرت نے ان سے صلح کا معاہدہ کر لیا تھا۔ ان میں سے بنو قینقاع نے بدر کے بعد نقض عہد کیا اور اس جرم میں مدینے سے نکال دیئے گئے۔ دوسرا قبیلہ بنو نضیر کا تھا۔ یہ لوگ بھی اسلام کے سخت دشمن تھے۔  ۴ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ایک معاملے میں استعانت کے لیے حضرت عمر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ  عنہم کو ساتھ لے کر ان کے پاس گئے ، ان لوگوں  نے ایک شخص کو جس کا نام عمرو بن حجاش تھا آمادہ کیا کہ چھت پر چڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے سر پر پتھر کی سل گرا دے۔ وہ چھت پر چڑھ چکا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر ہو گئی، آپ اٹھ کر چلے آئے۔ اور کہلا بھیجا کہ تم لوگ مدینے سے نکل جاؤ۔ انہوں نے انکار کیا۔ اور مقابلے کی تیاریاں کیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر قابو پا کر جلا وطن کر دیا۔ چنانچہ ان میں کچھ شام کو چلے گئے کچھ خیبر میں جا کر آباد ہوئے۔ اور وہاں حکومت قائم کر لی۔ (طبری )

خیبر والوں میں سلام بن ابی الحقیق، کنانہ بن الربیع اور حیی بن اخطب بڑے بڑے معزز سردار تھے۔ یہ لوگ خیبر میں پہنچ کر مطمئن ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے انتقام لینا چاہا، مکہ معظمہ میں جا کر قریش کو ترغیب دی، قبائل عرب کا دورہ کیا اور تمام ممالک میں ایک آگ لگا دی۔

جنگ خندق یا احزاب 5 ہجری (627 عیسیوی)

چند روز میں دس ہزار آدمی قریش کے علم کے نیچے جمع ہو گئے۔ اور شوال 5 ہجری میں ابو سفیان کی سپہ سالاری میں اس سیلاب نے مدینہ کا رخ اختیار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ سے باہر نکل کر سلع (مدینہ سے ملا ہوا ایک پہاڑ ہے ) کے آگے ایک خندق تیار کروائی، عرب میں خندق کا رواج نہ تھا۔ اس لئے کفار کو اس کی کچھ تدبیر بن نہ آئی۔ مجبوراً محاصرہ کر کے ہر طرف فوجیں پھیلا دیں اور رسد وغیرہ بند کر دی۔ ایک مہینے تک محاصرہ رہا۔ کفار کبھی کبھی خندق میں اتر کر حملہ کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس غرض سے خندق کے ادھر ادھر کچھ فاصلہ پر اکابر صحابہ کو متعین کر دیا تھا کہ دشمن ادھر سے نہ آنے پائیں، ایک حصے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ متعین تھے۔ چنانچہ یہاں ان کے نام کی ایک مسجد آج بھی موجود ہے۔ ایک دن کافروں نے حملہ کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زبیر کے ساتھ آگے بڑھ کر روکا۔ اور ان کی جماعت درہم برہم کر دی۔ (یہ واقعہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے۔ لیکن میں نے کسی کتاب میں اس کی سند نہیں پائی)۔ ایک دن کافروں کے مقابلے میں اس قدر ان کو مصروف رہنا پڑا کہ عصر کی نماز قضا ہوتے ہوتے رہ گئی۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ آج کافروں نے نماز پڑھنے تک کا موقع نہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں نے بھی اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی۔

اس لڑائی میں عمرو بن عبدوو عرب کا مشہور بہادر جو 500 سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ اس کے مارے جانے کے بعد ادھر تو قریش میں کچھ بیدلی پیدا ہوئی، ادھر نعیم بن مسعود نے جو اسلام لا چکے تھے اور کافروں کو ان کے اسلام کی خبر نہ تھی، جوڑ توڑ سے قریش اور یہود میں پھوٹ ڈلوا دی، مختصر یہ کہ کفر کا ابر سیاہ جو مدینہ کے افق پر چھا گیا تھا روز بروز چھٹتا گیا۔ اور چند روز کے بعد مطلع بالکل صاف ہو گیا۔

واقعہ حدیبیہ 6 ہجری (628 عیسوی)

6 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت کا قصد کیا۔ اور اس غرض سے کہ قریش کو لڑائی کا شبہ نہ ہو، حکم دیا کہ کوئی شخص ہتھیار باندھ کر نہ چلے۔ ذوالحلیفہ (مدینہ سے چھ میل پر ایک مقام ہے ) پہنچ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ اس طرح چلنا مصلحت نہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی رائے کے موافق مدینہ سے ہتھیار منگوا لئے۔ جبکہ مکہ معظمہ دو منزل رہ گیا تو مکہ سے بشر بن سفیان نے آ کر خبر دی کہ “تمام قریش نے عہد کر لیا ہے کہ مسلمانوں کہ مکہ میں قدم نہ رکھنے دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چاہا کہ اکابر صحابہ میں سے کسی کو سفارت کے طور بھیجیں کہ ہم کو لڑنا مقصود نہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس خدمت پر مامور کرنا چاہا۔ انہوں نے عرض کی کہ قریش کو مجھ سے سخت عداوت ہے اور میرے خاندان میں وہاں کوئی میرا حامی موجود نہیں۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عزیز و اقارب وہیں ہیں، اس لئے ان کو بھیجنا مناسب ہو گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس رائے کو پسند کیا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ بھیجا۔  قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روک رکھا۔ اور جب کئی دن گزر گئے تو یہ مشہور ہو گیا کہ وہ شہید کر دیئے گئے۔ رسول اللہ نے یہ سن کر صحابہ سے جو تعداد میں چودہ سو تھے جہاد پر بیعت لی۔ اور چونکہ بیعت ایک درخت کے نیچے لی تھی، یہ واقعہ بیعت الشجرۃ کے نام سے مشہور ہوا۔ قرآن مجید کی اس آیت میں ” لقد رضی اللہ عن المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ” اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور آیت کی مناسبت سے اس کو بیعت رضوان بھی کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت سے پہلے لڑائی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ صحیح بخاری (غزوہ حدیبیہ) میں ہے کہ حدیبیہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے عبد اللہ کو بھیجا کہ فلاں انصاری سے گھوڑا مانگ لائیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر نکلے تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں سے جہاد پر بیعت لے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی جا کر بیعت کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس واپس آئے تو دیکھا کہ وہ ہتھیار سجا رہے ہیں۔ عبد اللہ نے ان سے بیعت کا واقعہ بیان کیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت اٹھے اور جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

قریش کو اصرار تھا کہ رسول اللہ مکہ میں ہر گز داخل نہیں ہو سکتے۔ بڑے رد و بدل کے بعد ان شرائط پر معاہدہ ہوا کہ اس دفعہ مسلمان الٹے واپس جائیں۔ اگلے سال آئیں۔ لیکن تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں، معاہدہ میں یہ شرط بھی داخل تھی کہ دس برس تک لڑائی موقوف رہے۔ اور اس اثناء میں اگر قریش کا کوئی آدمی رسول اللہ کے ہاں چلا جائے تو رسول اللہ اس کو قریش کے پاس واپس بھیج دیں۔ لیکن مسلمانوں میں سے اگر کوئی شخص قریش کے ہاتھ آ جائے تو ان کو اختیار کہ اس کو اپنے پاس روک لیں۔ اخیر شرط چونکہ بظاہر کافروں کے حق میں زیادہ مفید تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہایت اضطراب ہوا۔ معاہدہ ابھی لکھا نہیں جا چکا تھا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس طرح دب کر کیوں صلح کی جائے۔ انہوں نے سمجھایا کہ رسول اللہ جو کچھ کرتے ہیں اسی میں مصلحت ہو گی۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسکین نہیں ہوئی۔ خود رسول اللہ کے پاس گئے اور اس طرح بات چیت کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! کیا آپ رسول خدا نہیں ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم !  بے شک ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کیا ہمارے دشمن مشرک نہیں ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم !  ضرور ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! پھر ہم اپنے مذہب کو کیوں ذلیل کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم !  میں خدا کا پیغمبر ہوں اور خدا کے حکم کے خلاف نہیں کرتا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی یہ گفتگو اور خصوصاً انداز گفتگو اگرچہ خلاف ادب تھا، چنانچہ بعد میں ان کو سخت ندامت ہوئی۔ اور اس کے کفارہ کے لئے روزے رکھے۔ نفلیں پڑھیں، خیرات دی، غلام آزاد کئے ، (طبری 6  )۔ تاہم سوال و جواب کی اصل بناء اس نکتہ پر تھی کہ رسول کے کون سے افعال انسانی حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور کون سے رسالت کے منصب سے۔ چنانچہ اس کی مفصل بحث کتاب کے دوسرے حصے میں آئے گی۔

غرض معاہدہ صلح لکھا گیا اور اس پر بڑے بڑے اکابر صحابہ کے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی داخل تھے دستخط ثبت ہوئے۔ معاہدہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا کہ مجھ پر وہ سورۃ نازل ہوئی جو مجھ کو دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیتیں پڑھیں ” انا فتحنا لک فتحاً مبیناً” (صحیح بخاری واقعہ حدیبیہ)

    محدثین نے لکھا ہے کہ اس وقت تک مسلمان اور کفار بالکل الگ الگ رہتے تھے۔ صلح ہو جانے سے آپ میں میل جول ہوا۔ اور رات دن کے چرچے اسلام کے مسائل اور خیالات روزبروز پھیلتے گئے۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ دو برس کے اندر اندر جس کثرت سے لوگ اسلام لائے 18 برس قبل کی وسیع مدت میں نہیں لائے تھے۔ (فتح الباری مطبوعہ مصر جلد 7  ذکر حدیبیہ)۔ جس بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صلح کی تھی اور لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فہم میں نہ آ سکی، وہ یہی مصلحت تھی۔ اور اسی بناء پر خدا نے سورۃ فتح میں اس صلح کو فتح سے تعبیر کیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنی بیویوں کو طلاق دینا

اس زمانے تک کافرہ عورتوں کو عقد نکاح میں رکھنا جائز تھا۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی ” ولا تمسکو ھن بعصم الکوافر” تو یہ امر ممنوع ہو گیا۔ اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دونوں بیویوں کو جو کافرہ تھیں طلاق دے دی۔ ان میں سے ایک کا نام قریبہ اور دوسری کا ام کلثوم بنت جرول تھا۔ ان دونوں کو طلاق دینے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمیلہ سے جو ثابت بن ابی الا جلح کی بیٹی تھیں نکاح کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند عاصم انہی کے بطن سے تھے۔ (طبری واقعات 6ھ)۔ اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلاطین اور والیان ممالک کے نام دعوت اسلام کے خطوط بھیجے۔

جنگ خیبر 7 ہجری (639 عیسوی)

7 ہجری میں خیبر کا مشہور معرکہ پیش آیا۔ اوپر تم پڑھ آئے ہو کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہودی جو مدینہ منورہ سے نکالے گئے تھے خیبر میں جا کر آباد ہوئے۔ انہی میں سے سلام و کنانہ وغیرہ نے 5 ہجری میں قریش کو جا کر بھڑکایا۔ اور ان کو مدینہ پر چڑھا لائے۔ اس تدبیر میں اگرچہ ان کو ناکامی ہوئی۔ لیکن انتقام کے خیال سے وہ باز نہ آئے۔ اور اس کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ 6 ہجری میں قبیلہ بنو سعد نے ان کی اعانت پر آمادگی ظاہر کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر معلوم ہوئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا۔ بنو سعد بھاگ گئے۔ اور پانچ سو اونٹ غنیمت میں ہاتھ آئے۔ (مواہب لگنیہ وزر قانی زکر سریہ)۔ پھر قبیلہ عظفان کو آمادہ کیا، چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خیبر کی طرف بڑھے تو سب سے پہلے اسی قبیلہ نے سد راہ ہونا چاہا۔ ان حالات کے لحاظ سے ضروری تھا کہ یہودیوں کا زور توڑ دیا جائے ورنہ مسلمان ان کے خطرے سے مطمئن نہیں ہو سکتے تھے۔

غرض 7 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے چودہ سو پیدل اور دو سو سواروں کے ساتھ خیبر کا رخ کیا۔ خیبر میں یہودیوں نے بڑے مضبوط قلعے بنا لئے تھے۔ مثلاً حصن ناعم، حصن قموص، حصن صعب و طیح اور سلالم، یہ سب قلعے جلد از جلد فتح ہو گئے۔ لیخ وطیح و سلالم جن پر عرب کا مشہور بہادر مرحب قابض تھا۔ آسانی سے فتح نہیں ہو سکتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو سپہ سالار بنا کر بھیجا۔ لیکن وہ ناکام آئے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مامور ہوئے ہوئے۔ وہ برابر دو دن جا کر لڑے۔  لیکن دونوں دن ناکام رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ کل میں ایسے شخص کو علم دوں گا جو حملہ آور ہو گا۔ اگلے دن تمام اکابر صحابہ علم نبوی کی امید میں بڑے سر و سامان سے ہتھیار سجا سجا کر آئے۔ ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ان کا خود بیان ہے کہ میں نے کبھی اس موقع کے سوا علم بر داری اور افسری کی آرزو نہیں کی، لیکن قضا و قدر نے یہ فخر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اٹھا رکھا تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کی طرف توجہ نہیں کی۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کرعلم ان کو عنایت کیا۔ مرحب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے مارا گیا اور اس کے قتل پر اس معرکہ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ خیبر کی زمین آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجاہدوں کو تقسیم کر دی۔ چنانچہ ایک ٹکڑا جس کا نام شمع تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے میں آیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو خدا کی راہ میں وقف کر دیا۔ چنانچہ صحیح مسلم باب الوقف میں یہ قصہ بہ تفصیل مذکور ہے۔ اور اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا وقف تھا جو عمل میں آیا۔

اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم  نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 30 آدمیوں کے ساتھ قبیلہ ہوازن کے مقابلے کو بھیجا۔ ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد سنی تو بھاگ نکلے اور کوئی معرکہ پیش نہیں آیا۔

8 ہجری میں مکہ فتح ہوا، اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ حدیبیہ میں جو صلح قرار پائی تھی اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قبائل عرب میں جو چاہے قریش کا ساتھ دے  اور جو چاہے اسلام کے سایہ امن میں آئے۔ چنانچہ قبیلہ خزاعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم  اور خاندان بنوبکر نے قریش کا ساتھ دیا۔ ان دونوں قبیلوں میں مدت سے ان بن تھی۔ اور بہت سے معرکے ہو چکے تھے۔ لڑائی کہ سلسلہ جاری تھا کہ حدیبیہ کی صلح وقوع میں آئی اور شرائط معاہدہ کی رو سے دونوں قبیلے لڑائی سے دست بردار ہو گئے۔ لیکن چند روز بعد بنوبکر نے نقض عہد کیا۔ اور قریش نے ان کی اعانت کی۔ یہاں تک کہ خزاعہ نے حرم میں جا کر پناہ لی۔ تب بھی ان کو پناہ نہ ملی۔ خزاعہ نے جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس۔ ۔ ۔ ۔ کیا۔ ابو سفیان کو یہ خبر معلوم ہوئی تو پیش بندی کے لیے مدینہ منورہ پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قریش کی طرف سے تجدید صلح کی درخواست کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ جواب نہ دیا تو اٹھ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیا کہ آپ اس معاملے کو طے کر دیجیئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سختی سے جواب دیا کہ وہ بالکل ناامید ہو گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ کی تیاریاں شروع کیں۔  اور رمضان 8 ہجری میں 10 ہزار فوج کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ مقام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نزول اجلال ہوا۔ تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر پر سوار ہو کر مکہ کی طرف چلے۔ ادھر سے ابو سفیان آ رہا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا۔ آ میں تجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے امن دلا دوں ورنہ آج تیری خیر نہیں۔ ابو سفیان نے غنیمت سمجھا اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہو لیا۔ راہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سامنا ہوا۔ ابو سفیان کو ساتھ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیال کیا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی سفارش کے لیے جا رہے ہیں۔ بڑی تیزی سے بڑھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مدتوں کے بعد اس دشمن اسلام پر قابو ملا ہے۔ اجازت دیجیئے کہ اس کی گردن مار دوں۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ” عمر ابو سفیان اگر عبد مناف کے خاندان سے نہ ہوتا اور تمہارے قبیلہ کا آدمی ہوتا تو تم اس کی جان کے خواہاں نہ ہوتے۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ ” خدا کی قسم میرا باپ خطاب اسلام لاتا تو مجھ کو اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس وقت ہوئی تھی۔ جب آپ اسلام لائے تھے۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سفارش قبول کی۔ اور ابو سفیان کو امن دیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بڑے جاہ و جلال سے مکہ میں داخل ہوئے اور درِ کعبہ پر کھڑے ہو کر نہایت فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا۔ جو بعید تاریخوں میں منقول ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر مقام صفا پر لوگوں سے بیعت لینے کے لئے تشریف فرما ہوئے۔ لوگ جوق در جوق آتے تھے اور بیعت کرتے جاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے قریب لیکن کس قدر نیچے بیٹھے تھے۔ جب عورتوں کی باری آئی تو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بیگانہ عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ تم ان سے بیعت لو، چنانچہ عورتوں نے انہی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی۔

غزوۂ حنین

اسی سال ہوازن کی لڑائی پیش آئی جو (حنین، عرفات کے پیچھے ایک وادی کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے نو دس میل ہے ) غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہے۔ ہوازن عرب کا مشہور اور معزز قبیلہ تھا۔ یہ لوگ ابتداء سے اسلام کی ترقی کو رقابت کی نگاہ سے دیکھتے آئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جب فتح مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو ان لوگوں کو گمان ہوا کہ ہم پر حملہ کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ اسی وقت جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اور جب یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مکہ پہنچے تو مکہ پر حملہ کے لیے بڑے ساز و سامان سے روانہ ہو کر حنین میں ڈیرے ڈالے (تاریخ طبری)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خبر سنی تو بارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے۔ حنین میں دونوں فوجیں صف آراء ہوئیں۔  مسلمانوں نے پہلے حملہ میں ہوازن کو (صحیح مسلم غزوہ حنین) بھگا دیا۔ لیکن مال غنیمت کے لوٹنے میں مصروف ہوئے تو ہوازن نے حملہ کیا۔ اور اس قدر تیر برسائے کہ مسلمانوں میں ہلچل مچ گئی۔ اور بارہ ہزار آدمیوں سے معدودے چند کے سوا باقی سب بھاگ نکلے۔ اس معرکہ میں جو صحابہ ثابت قدم رہے ان کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے۔ اور ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں۔ چنانچہ علامہ طبری نے صاف تصریح کی ہے۔ محمد بن اسحاق نے جو امام بخاری کے شیوخ حدیث میں داخل ہیں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے امام مانے جاتے ہیں۔ کتاب السغازی میں لکھا ہے کہ ” وبا و پیغمبر چند تن از مہاجرین و انصار و اہل بیعت بازماند۔ ۔ ۔ وند مثل ابو بکر و علی و عمر و عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم (ابن اسحاق کی اصل کتاب میں نے دیکھی، لیکن اس کا ایک نہایت قدیم ترجمہ فارسی زبان میں میری نظر سے گزرا ہے اور عبارت منقولہ اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ ترجمہ 662 عیسوی میں سعدان زندگی کی حکم سے کیا گیا تھا۔ اور  بس ایک نہایت قدیم نسخہ الہ آباد کے کتب خانہ عام میں موجود ہے ) تھے۔ لڑائی کی صورت۔ ۔ ۔ ۔ کر پھر بن گئی۔ یعنی مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اور ہوازن کے چھ ہزار آدمی گرفتار ہوئے۔

9 ہجری میں خبر مشہور ہوئی کہ قیصر روم عرب پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر صحابہ کو تیاری کا حکم دیا اور چونکہ یہ نہایت تنگی اور عسرت کا زمانہ تھا، اس لئے لوگوں کو زر و مال سے اعانت کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ اکثر صحابہ نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقعہ پر تمام مال و اسباب میں سے لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا (ترمذی و ابو داؤد میں واقعہ فضائل ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تحت میں منقول ہے۔ لیکن غزوہ کی تعیین نہیں ہے )۔ غرض اسلحہ اور رسد کا سامان مہیا کیا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ سے روانہ ہوئے۔ لیکن مقام تبوک میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی۔ اسی لیے چند روز قیام فرما کر واپس آئے۔

اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج مطہرات سے ناراض ہو کر ان سے علیحدگی اختیار کی۔ اور چونکہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز عمل سے یہ خیال ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ازواج کو طلاق دے دی اس لئے تمام صحابہ کو نہایت رنج و افسوس تھا۔ تاہم کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کچھ کہنے سننے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے حاضر ہونا چاہا۔ لیکن بار بار اذن مانگنے پر بھی اجازت نہ ملی۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکار کر دربان سے کہا کہ ” شاید رسول اللہ کو یہ گمان ہے کہ میں حفصہ (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ) کی سفارش کے لئے آیا ہوں۔ خدا کی قسم اگر رسول اللہ حکم دیں تو میں جا کر حفصہ کی گردن مار دوں۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فوراً بلایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ ” کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ازواج کو طلاق دے دی؟”  آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” نہیں ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تمام مسلمان مسجد میں سوگوار بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اجازت دیں تو انہیں یہ مژدہ سنا آؤں۔ اس واقعہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرب کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہی واقعات کے سلسلے میں ایک موقع پر کہا کہ ” عمر! تم ہر چیز میں دخیل ہو گئے۔ یہاں تک کہ اب ازواج کے معاملہ میں بھی دخل دینا چاہتے ہو۔ “

10 ہجری (636 عیسوی) میں اطراف عرب سے نہایت کثرت سے سفارتیں آئیں۔ اور ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام کے حلقے میں آئے۔ اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کے لئے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور یہ حج آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری حج تھا۔ 11 ہجری (623 عیسوی) (یہ سن غلط ہے یا پھر اوپر دیا ہوا سن غلط ہے ) ماہ صفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے رومیوں کے مقابلے کے لیے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مامور کیا۔ اور تمام اکابر صحابہ کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ جائیں۔ لوگ تیار ہو چکے تھے کہ آخیر صفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بیمار ہو گئے اور تجویز ملتوی ہو رہ گئی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بہ روایتِ مشہور 13 دن بیمار رہے۔ بہقی نے بہ سند صحیح ان کی تعداد دس دن بیان کی ہے۔ سلیمان تمیمی نے بھی مغازی میں یہی تعداد لکھی ہے (فتح الباری، جلد 5، )۔ بیماری کی حالت یکساں نہ تھی۔ کبھی بخار کی شدت ہو جاتی تھی اور کبھی اس قدر افاقہ ہو جاتا تھا کہ مسجد میں جا کر نماز ادا فرماتے تھے ، یہاں تک عین وفات کے دن نماز فجر کے وقت طبیعت  اس قدر بحال تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دروازے تک آئے اور پردہ اٹھا کر لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا، نہایت محظوظ ہوئے اور تبسم فرمایا۔

قرطاس کا واقعہ

بیماری کا بڑا مشہور واقعہ قرطاس کا واقعہ ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات سے تین روز پہلے قلم اور دوات طلب کیا۔ اور فرمایا کہ ” میں تمہارے لئے ایسی چیز لکھوں گا کہ تم آئندہ گمراہ نہ ہو گے۔ ” اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو درد کی شدت ہے اور ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ حاضرین میں سے بعضوں نے کہا کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ ” (نعوذ باللہ) روایت میں ہجر کا لفظ ہے جس کے معنی ہذیان کے ہیں۔

یہ واقعہ بظاہر تعجب انگیز ہے۔ ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ اس سے گستاخی اور سرکشی ہو گی کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر مرگ پر ہیں اور امت کے درد و غمخواری کے لحاظ سے فرماتے ہیں کہ ” لاؤ میں ایک ہدایت نامہ لکھ دوں جو تم کو گمراہی سے محفوظ رکھے۔ یہ ظاہر ہے کہ گمراہی سے بچانے کے لیے جو ہدایت ہو گی وہ منصب نبوت کے لحاظ سے ہو گی۔ اور اس لئے اس میں سہو و خطا کا احتمال نہیں ہو سکتا۔ باوجود اس کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے پروائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ ضرورت نہیں ہم کو قرآن کافی ہے۔ طرہ یہ کہ بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد کو ہذیان سے تعبیر کیا تھا۔ (نعوذ باللہ)۔

یہ اعتراض ایک مدت سے چلا آتا ہے۔ اور مسلمانوں کے دو مختلف گروہوں نے اس پر بڑی طبع آزمائیاں کی ہیں۔ لیکن چونکہ اس بحث میں غیر متعلق باتیں چھڑ گئیں۔ اور اصول درایت سے کسی نے کام نہیں لیا۔ اس لئے مسئلہ نا منفصل رہا اور عجیب عجیب بیکار بحثیں پیدا ہو گئیں۔ یہاں تک کہ یہ مسئلہ چھڑ گیا کہ پیغمبر سے ہذیان ہونا ممکن ہے۔ کیونکہ ہذیان انسانی عوارض میں ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم عوارض انسانی سے بری نہ تھے۔

یہاں دراصل یہ امر غور طلب ہے کہ جو واقعہ جس طریقے سے روایتوں میں منقول ہے اس سے کسی امر پر اسثناد ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس بحث کے لیے پہلے واقعات ذیل کو پیش نظر رکھنا چاہیے :

(۱)   آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کم و بیش 13 دن تک بیمار رہے۔

(۲)  کاغذ و قلم دوات طلب کرنے کا واقعہ جمعرات کے دن کا ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں بہ تصریح مذکور ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دو شنبہ کے دن انتقال فرمایا۔ اس لئے اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چار دن تک زندہ رہے۔

(۳) اس تمام مدت بیماری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت اور کوئی واقعہ اختلال حواس کا کسی روایت میں کہیں مذکور نہیں۔

(۴)  اس واقعہ کے وقت کثرت سے صحابہ موجود تھے۔ لیکن یہ حدیث باوجود اس کے بہت سے طریقوں سے مروی ہے۔ (چنانچہ صرف صحیح بخاری میں سات طریقوں سے مذکور ہے۔ ) باایں ہمہ بجز عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور کسی صحابی سے اس واقعہ کے متعلق ایک حرف بھی منقول نہیں۔

(۵)  عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اس وقت صرف 13 – 14 برس کی تھی۔

(۶)  اس سے بڑھ کر یہ کہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے۔ اس موقع پر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود موجود نہ تھے۔ اور یہ معلوم نہیں کہ یہ واقعہ انہوں نے کس سے سنا۔ (بخاری باب کفایہ العلم میں جو حدیث مذکور ہے اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ میں موجود تھے۔ اس لئے محدثین نے اس پر بحث کی ہے اور بہ دلائل قطعیہ ثابت کیا ہے موجود نہ تھے۔ دیکھو فتح الباری باب کفایہ العلم)۔

(۷)  تمام روایتوں میں مذکور ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کاغذ قلم مانگا تو لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہکی ہوئی باتیں کر رہے ہیں۔ (علامہ قرطینی نے یہ تاویل کی ہے اور اس پر ان کو ناز ہے کہ ” لوگوں نے یہ لفظ استعجاب کے طور پر کہا تھا۔ یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔ خدانخواستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہذیان تو نہیں کہ اس کا لحاظ نہ کیا جاوے۔ یہ تاویل دل کو لگتی ہوئی ہے۔ لیکن بخاری و مسلم کی بعض روایتوں میں ایسے الفاظ ہیں جن میں تاویل کا احتمال نہیں۔ مثلاً ھجر ھجر (دو دفعہ) با ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ھجر (صحیح مسلم)۔

    اب سب سے پہلے یہ امر لحاظ کے قابل ہے کہ جب اور کوئی واقعہ یا قرینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اختلال حواس کا کہیں کسی روایت میں مذکور نہیں تو صرف اس قدر کہنے سے کہ ” قلم دوات لاؤ” لوگوں کو ہذیان کا کیونکر خیال پیدا ہو سکتا ہے ؟ فرض کر لو کہ انبیاء سے ہذیان سرزد ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ معمولی بات بھی کہیں تو ہذیان سمجھی جائے۔ ایک پیغمبر کا وفات کے قریب یہ کہنا کہ قلم دوات لاؤ میں ایسی چیزیں لکھ دوں کہ تم آئندہ گمراہ نہ ہو اس میں ہذیان کی کیا بات ہے۔ (ہمارے نکتہ سنجوں نے یہ مضمون آفرینی کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لکھنا نہیں جانتے تھے اس لئے آپ کا یہ فرمانا کہ میں لکھ دوں ہذیان کا قرینہ تھا۔ لیکن اس لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ لکھنے کے معنی لکھوانے کے بھی آتے ہیں۔ اور یہ مجاز عموماً شائع و ذرائع ہے۔ ) یہ روایت اگر خواہ مخواہ صحیح سمجھی جائے تب بھی اس قدر سیر حال تسلیم کرنا ہو گا کہ راوی نے روایت میں وہ واقعات چھوڑ دیئے ہیں جن سے لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہوش میں نہیں ہیں۔ اور مدہوشی کی حالت میں قلم دوات طلب فرما رہے ہیں۔ پس ایسی روایت سے جس میں راوی نے واقعہ کی نہایت ضروری خصوصیتیں چھوڑ دیں۔ کسی واقعہ پر کیونکر استدلال ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جب ان امور کا لحاظ کیا جائے کہ اتنے بڑے عظیم الشان واقعہ میں تمام صحابہ میں سے صرف حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے راوی ہیں اور یہ کہ ان کی عمر اس وقت 13-14 برس کی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ واقعہ کے وقت موجود نہ تھے۔ تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس روایت کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کوتاہ نظر پر یہ امر گراں گزرے کہ بخاری اور مسلم کی حدیث پر شبہ کیا جائے لیکن اس کو سمجھنا چاہیے کہ بخاری اور مسلم کے کسی راوی کی نسبت یہ شبہ کرنا کہ وہ واقعہ کی پوری ہیئت محفوظ نہ رکھ سکا، اس سے کہیں زیادہ آسانی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت ہذیان اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت گستاخی کا الزام لگایا جائے۔

غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اس واقعہ کے بعد چار دن زندہ رہے۔ اور اس اثناء میں وقتاً فوقتاً بہت سی ہدادیتیں اور وصیتیں فرمائیں۔ عین وفات کے دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حالت اس قدر سنبھل گئی تھی کہ لوگوں کو بالکل صحت کا گمان ہو گیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی خیال سے اپنے کو جو مدینہ منورہ سے دو میل پر تھا واپس چلے گئے  (طبری -14)۔  لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات کے وقت تک موجود رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے 12 ربیع الاول 11 ہجری دو شنبہ کے دن دوپہر کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں انتقال فرمایا۔ سہ شنبہ کو دوپہر ڈھلنے پر مدفون ہوئے۔ جماعت اسلام کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جو صدمہ ہوا اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے ؟ عام روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر خود رفتہ ہوئے کہ مسجد نبوی میں جا کر اعلان کیا کہ ” جو شخص یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی اس کو قتل کر دوں گا” لیکن قرائن اس روایت کی تصدیق نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک چونکہ مدینے میں کثرت سے منافقین کا گروہ موجود تھا۔ جو فتنہ پردازی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا منتظر تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصلحتاً اس خبر کو پھیلنے سے روکا ہو گا۔ اسی واقعہ نے روایتوں کے تغیرات سے مختلف صورت اختیار کر لی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں اس قسم کی تصریحات موجود ہیں جو ہمارے اس قیاس کے مطابق نہیں ہو سکتیں۔

سقیفہ بنی ساعدہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استخلاف

یہ واقعہ بظاہر تعجب سے خالی نہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم  نے انتقال فرمایا تو فوراً خلافت کی نزاع پیدا ہو گئی۔ اور اس بات کا بھی انتظار نہ کیا گیا کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کی تجہیز و تکفین سے فراغت حاصل کی جائے۔ کس کے قیاس میں آ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انتقال فرمائیں اور جن لوگوں کو ان کے عشق و محبت کا دعویٰ ہو وہ ان کو بے گور و کفن چھوڑ کر چلے جائیں۔ اور اس بندوبست میں مصروف ہوں کہ مسند حکومت اوروں کے قبضہ میں نہ آ جائے۔

تعجب پر تعجب یہ ہے کہ یہ فعل ان لوگوں (حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) سے سرزد ہوا جو آسمان اسلام کے مہروماہ تسلیم کئے جاتے ہیں،اس فعل کی ناگواری اس وقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم  سے فطری تعلق تھا، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خاندان بنی ہاشم ان پر فطری تعلق کا پورا پورا اثر ہوا اور اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے درد غم اور تجہیز و تکفین سے ان باتوں کی طرف سے متوجہ ہونے کی فرصت نہ ملی۔

ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ کتب حدیث و سیر سے بظاہر اسی قسم کا خیال پیدا ہوتا ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم  کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر سقیفہ بنی ساعدہ کو چلے گئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچ کر خلافت کے باب میں انصار سے معرکہ آرائی کی۔ اور اس طرح ان کوششوں میں مصروف رہے کہ گویا ان پر کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کو نہ صرف انصار بلکہ بنو ہاشم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بزور منوانا چاہا، گو بنو ہاشم نے آسانی سے ان کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ لیکن اس بحث میں جو غور طلب باتیں ہیں وہ یہ ہیں :

(۱)  کیا خلافت کا سوال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے چھیڑا تھا؟

(۲)  کیا یہ لوگ خود اپنی خواہش سے سقیفہ بنی ساعدہ میں گئے تھے ؟

(۳)  کیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بنو ہاشم خلافت کی فکر سے بالکل فارغ تھے ؟

(۴)  ایسی حالت میں جو کچھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے کیا، وہ کرنا چاہیے تھا یا نہیں؟

پہلی دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی نسبت ہم نہایت مستند کتاب ابو۔ ۔ ۔ ۔ کی عبارت نقل کرتے ہیں جس سے واقعہ کی کیفیت بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے۔

بینما لحن فی منزل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذا رجل ینادی من وراء ال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان اخرج الی یا ابن الخطاب فقلت الیک عنی فانا عنک مشاغیل یعنی بامر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال لہ قد حدث امر فان الانصار اجمعوا فی سقیفۃ بنی ساعدہ فادر کو ھم ان یحدثوا امر یکون فیہ حرب فقلت لابی بکر انفلقَ

” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حلقہ مبارک میں بیٹھے تھے کہ دفعتاً دیوار کے پیچھے سے ایک آدمی نے آواز دی کہ ابن الخطاب (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ذرا باہر آؤ۔ میں نے کہا چلو ہٹو ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بندوبست میں مشغول ہیں۔ اس نے کہا کہ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ یعنی انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس لئے جلد پہنچ کر ان کی خبر لو۔ ایسا نہ ہو کہ انصار کچھ ایسی باتیں کر اٹھیں جس سے لڑائی چھڑ جائے۔ اس وقت میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ چلو۔ “

اس سے ظاہر ہو گیا کہ نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے خلافت کی بحث کو چھڑا تھا نہ اپنی خواہش سے سقیفہ بنی ساعدہ کو جانا چاہتے تھے۔

تیسری بحث کی کیفیت یہ ہے کہ اس وقت جماعت اسلامی تین گروہوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی (۱) بنو ہاشم جس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل تھے ، (۲) مہاجرین کے رئیس و افسر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ تھے۔ (۳)  انصار جن کے شیخ القبیلہ سعد بن عبادہ تھے۔ ان تینوں میں سے ایک گروہ بھی خلافت کے خیال سے خالی نہ تھا۔ انصار نے اپنا ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔ بنو ہاشم کے خیالات ذیل کی روایت سے معلوم ہوں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وفات کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکان سے باہر نکلے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مزاج کیسا ہے ، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری حالت بالکل سنبھل گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا کے فضل و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اچھے ہو گئے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ خدا کی قسم تم تین دن کے بعد غلامی کرو گے۔ میں آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عنقریب اس مرض میں وفات پائیں گے۔ کیونکہ مجھ کو اس کا تجربہ ہے کہ خاندان عبد المطلب کا چہرہ موت کے قریب کس طرح متغیر ہو جاتا ہے۔ آؤ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد منصب (خلافت) کس کو حاصل ہو گا۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لیے وصیت فرما دیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے عنہ نے کہا۔ ” میں نہ پوچھوں گا کیونکہ اگر پوچھنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے انکار کیا تو پھر آئندہ کوئی امید نہ رہے گی (صحیح بخاری باب مرض النبی فتح الباری)۔

اس روایت سے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال تو صاف معلوم ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کا اس وقت تک یقین نہ تھا اس لئے انہوں نے کوئی تحریک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے علاوہ اپنے انتخاب کئے جانے پر بھروسہ نہ تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک مجمع ہوا تھا جس میں تمام بنو ہاشم اور ان کے اتباع شریک تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیشرو تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی روایت ہے (صحیح بخاری کتاب الحدود باب رحم الحبلی)

” کان من خبرنا حین توفی اللہ لیہ ان الانصار خللونا واجتمعوا باسر ھم فی سقیفنۃ بی ساعدہ و خائف عنا علی وائریر ومن معھما واجتمع المھاجرون الی ابی بکر۔ “

ہماری سرگزشت یہ ہے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو اٹھا لیا تو انصار نے قابطہ ہماری مخالف کی اور سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور علی اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان کے ساتھیوں نے بھی مخالفت کی۔ اور مہاجرین ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جمع ہوئے۔ “

یہ تقریر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بہت بڑے مجمع میں کی تھی جس میں سینکڑوں صحابہ موجود تھے اس لیے اس بات کا گمان نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے کوئی امر خلاف واقع کہا ہو، ورنہ یہ لوگ ان کو وہیں ٹوکتے۔ امام مالک رحمۃ اللہ کی روایت میں یہ واقعہ اور صاف ہو گیا ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں :

و ان علیا والزبیر و من کان معھما تخلفوا فی بیت فاطمہ بنت رسول اللہ (فتح الباری شرح حدیث مذکور)

” اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور لوگ ان کے ساتھ تھے وہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہم سے الگ ہو کر جمع ہوئے۔ “

تاریخ  طبری میں ہے :

و تخلف علی والزبیر واخترط الزبیر سیفہ و قال لا اعمدہ حتی یبابع علی۔ (تاریخ طبری )۔

” اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے علیحدگی اختیار کی، اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار میان سے کھینچ لی اور کہا جب تک علی کے ہاتھ پر بیعت نہ کی جائے میں تلوار میان میں نہ ڈالوں گا۔ “

ان تمام روایتوں سے صاف یہ نتائج نکلتے ہیں کہ :

(۱)  آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے ساتھ ہی خلافت کے باب میں تین گروہ ہو گئے :

(۱)  انصار         (۲)  مہاجرین    (۳)  بنو ہاشم

(۲)  مہاجرین حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اور بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔

(۳)  جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ آنحضرت صلی اللہ کو چھوڑ کر سقیفہ کو چلے گئے تھے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے چلے ائے تھے ، اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں بنو ہاشم کا مجمع ہوا تھا۔

سقیفہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نہ جانا اس وجہ سے نہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے غم و الم میں مصروف تھے ، اور ان کو ایسے پر درد  موقع پر خلافت کا خیال نہیں آ سکا تھا۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ سقیفہ میں مہاجرین اور انصار جمع تھے۔ اور ان دونوں گروہ میں سے کوئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دعویٰ کی تائید نہ کرتا۔ کیونکہ مہاجرین حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیشوا تسلیم کرتے تھے۔ اور انصار کے رئیس سعد بن عبادہ تھے۔

اخیر بحث یہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ بے جا تھا یا بجا؟ اس کو ہر شخص جو ذرا بھی اصول تمدن سے واقفیت رکھتا ہو باآسانی سمجھ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جس وقت وفات پائی، مدینہ منورہ منافقوں سے بھرا پڑا تھا جو مدت سے اس باتکے منتظر تھے کہ رسول اللہ کا سایہ اٹھ جائے تو اسلام کو پامال کر دیں۔ اس نازک وقت میں آیا یہ ضروری تھا کہ لوگ جزع اور گریہ زاری میں مصروف رہیں یا یہ کہ فوراً خلافت کا انتظام کر لیا جائے۔ اور ایک منطم حالت قائم ہو جائے۔ انصار نے اپنی طرف سے خلافت کی بحث چھیڑ کر حالت کو اور نازک کر دیا۔ کیونکہ قریش جو انصار کو اس قدر حقیر سمجھتے تھے کہ جنگ بدر میں جب انصار ان کے مقابلے کو نکلے تو عتبہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے کہا کہ ” محمد! ہم نا جنسوں سے نہیں لڑ سکتے ” کسی طرح انصار کے آگے سر تسلیم خم نہیں کر سکتے تھے۔ قریش پر کیا موقوف ہے ، تمام عرب کو انصار کی متابعت سے انکار ہوتا، چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سقیفہ میں جو خطبہ دیا اس میں صاف اس خیال کو ظاہر کیا اور کہا ” و ان العرب لا تعرف ھذا الا مرالا لھذا الحیی من قریش” اس کے علاوہ انصار میں خود گروہ تھے ، اوس اور خزرج اور ان میں باہم اتفاق نہ تھا۔ اس حالت میں ضروری تھا کہ انصار کے دعویٰ خلافت کو دبا دیا جائے ، اور کوئی لائق شخص فوراً انتخاب کر لیا جائے۔ مجمع میں جو لوگ موجود تھے ان میں سب سے با اثر بزرگ اور معمر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ اور فوراً ان کا انتخاب بھی ہو جاتا۔ لیکن لوگ انصار کی بحث و نزاع میں پھنس گئے تھے۔ اور بحث طول پکڑ گئی۔ قریب تھا کہ تلواریں میان سے نکل آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رنگ دیکھ کر دفعتہً حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا کہ سب سے پہلے میں بیعت کرتا ہوں۔ ساتھ ہی حضرت عثمان، ابو عبیدہ بن جراح، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہم نے بھی ہاتھ بڑھا دیئے (ابن المادردی نے الاحکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ اول صرف پانچ شخصوں نے بیعت کی تھی)۔ اور پھر عام خلقت ٹوٹ پڑی۔ اس کاروائی سے ایک اٹھتا ہوا طوفان رک گیا۔ اور لوگ مطمئن ہو کر کاروبار میں مشغول ہو گئے۔ صرف بنو ہاشم اپنے ادغا پر رکے رہے ، اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں وقتاً فوقتاً جمع ہو کر مشورے کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بزور ان سے بیعت لینی چاہی۔ لیکن بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکا سکتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے ” مصنف ” میں اور علامہ طبری نے ” تاریخ کبیر ” میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا ” یا بنت رسول اللہ خدا کی قسم آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ تاہم اگر آپ کے یہاں لوگ اس طرح مجمع کرتے رہے تو میں ان لوگوں کی وجہ سے گھر میں آگ لگا دوں گا۔ ” اگرچہ سند کے اعتبار سے اس روایت پر ہم اپنا اعتبار ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ اس روایت کے رو۔ ۔ ۔ ۔ کا حال ہم کو معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم درایت کے اعتبار سے اس واقعہ کے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کچھ بعید نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نازک وقت میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت تیزی اور سرگرمی کے ساتھ جو کاروائیاں کیں ان میں گو بعض بے اعتدالیاں پائی جاتی ہوں، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ انہی بے اعتدالیوں نے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیا۔ بنو ہاشم کی سازشیں اگر قائم رہتیں تو اسی وقت جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا۔ اور وہیں خانہ جنگیاں برپا ہو جاتیں جو آگے چل کر جناب علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں واقع ہوئیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی مدت سوا دو برس ہے۔ کیونکہ انہوں نے جمادی الثانی 13 ہجری میں انتقال کیا۔ اس عہد میں اگرچہ جس قدر بڑے بڑے کام انجام پائے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرکت سے انجام پائے۔ تاہم ان واقعات کو ہم الفاروق میں نہیں لکھ سکتے کیونکہ وہ پھر بھی عہد صدیقی کے واقعات ہیں۔ اور اس شخص کا حصہ ہیں جس کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح عمری لکھنے کا شرف حاصل ہو۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اگرچہ مدتوں کے تجربہ سے یقین ہو گیا تھا کہ خلافت کا بار گراں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا اور کسی سے اٹھ نہیں سکتا تاہم وفات کے قریب انہوں نے رائے کا اندازہ کرنے کے لئے اکابر صحابہ سے مشورہ کیا۔ سب سے پہلے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر پوچھا۔ انہوں نے کہا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قابلیت میں کیا کلام ہے۔ لیکن مزاج میں سختی ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ” ان کی سختی اس لئے تھی کہ میں نرم تھا۔ جب کام انہی پر آ پڑے گا تو وہ خود نرم ہو جائیں گے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر پوچھا، انہوں نے کہا کہ ” میں اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ عمر کا باطن ظاہر سے اچھا ہے اور ہم لوگوں میں ان کو جواب نہیں۔ ” جب اس بات کے چرچے ہوئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ مقرر کرنا چاہتے ہیں تو بعضوں کو تردد ہوا۔ چنانچہ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر کہا کہ ” آپ کے موجود ہوتے ہوئے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہم لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ تھا؟ اب وہ خود خلیفہ ہوں گے تو خدا جانے کیا کریں گے۔ اب آپ خدا کے ہاں جاتے ہیں۔ یہ سوچ لیجیئے کہ خدا کو کیا جواب دیجیئے گا۔ ” حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” میں خدا سے کہوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر اس شخص کو افسر مقرر کیا جو تیرے بندوں میں سب سے زیادہ اچھا تھا۔ ” یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور عہد نامہ لکھوانا شروع کیا۔ ابتدائی الفاظ لکھوائے جا چکے تھے کہ غش آ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیکھ کر یہ الفاظ اپنی طرف سے لکھ دیئے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد ہوش آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا لکھا ہے مجھ کو پڑھ کر سناؤ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھا تو بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور ” کہا کہ خدا تم کو جزائے خیر دے۔ ”  عہد نامہ لکھا جا چکا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام کو دیا کہ مجمع عام میں سنائے پھر خود بالا خانے پر جا کر لوگوں سے جو نیچے جمع تھے مخاطب ہوئے اور کہا کہ میں نے اپنے کسی بھائی بند کو خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ بلکہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا۔ کیا تم لوگ اس پر راضی ہو؟ سب نے سمعنا و اطعنا کہا۔ پھر حضرت عمر رضیا للہ تعالیٰ عنہ کو نہایت مؤثر اور مفید نصیحتیں کیں جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے عمدہ دستور العمل کی جگہ کام آئیں۔

خلافت اور فتوحات

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں مرتدین عرب اور مدعیان نبوت کا خاتمہ ہو کر فتوحات ملکی کا آغاز ہو چکا تھا۔ خلافت کے دوسرے ہی برس یعنی 12 ہجری میں عراق پر لشکر کشی ہوئی اور حیرہ کے تمام اضلاع فتح ہو گئے۔ 13 ہجری (633 عیسوی) میں شام پر حملہ ہوا۔ اور اسلامی فوجیں تمام اضلاع میں پھیل گئیں۔ ان مہمات کا ابھی آغاز ہی تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عنان خلافت اپنے ہاتھ میں لی تو سب سے ضروری کام انہی مہمات کا انجام دینا تھا۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم ان واقعات کی تفصیل لکھیں یہ بتانا ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے فارس و شام سے کیا تعلقات تھے۔

عرب کا نہایت نہایت قدیم خاندان جو  ” عربِ بایدہ ” کے نام سے مشہور ہے۔ اگرچہ اس کے حالات نامعلوم ہیں تاہم اس قدر ہے کہ عاد اور عمالقہ نے عراق پر قبضہ کر لیا تھا۔ عرب عرباء جو یمن کے فرمانروا تھے ان کی حکومت ایک زمانہ میں بہت زور پکڑ گئی تھی۔ یہاں تک کہ چند بار عراق پر قابض ہو گئے۔ اور سلطنت فارس کے ساتھ ان کو ہمسری کا دعویٰ رہا۔

رفتہ رفتہ عرب خود حکومت فارس کے علاقہ میں آباد ہونے شروع ہو گئے۔ بخت نصر نے جو بابل کا بادشاہ تھا۔ اور بیت المقدس کی بربادی نے ان کے نام کو شہرت دے دی ہے۔ جب عرب پر حملہ کیا تو بہت سے قبیلے اس کے مطیع ہو گئے۔ اور اس تعلق سے عراق میں جا کر آباد ہو گئے۔ رفتہ رفتہ معد بن عدنان کی بہت سی نسلیں ان مقامات میں آباد ہوتی گئیں۔ یہاں تک کہ ریاست کی بنیاد پڑ گئی۔ اور چونکہ اس زمانے میں سلطنت فارس میں طوائف الملوکی قائم ہو گئی تھی، عربوں نے مستقل حکومت قائم کر لی۔ جس کا پہلا فرمانروا مالک بن فہم عدنانی تھا۔ اس خاندان میں جزیمتہ الابرش کی سلطنت نہایت وسیع ہوئی۔ اس کا بھانجا عمرو بن عدی جو اس کے بعد تخت نشین ہوا۔ اس نے حیرہ کو دارالسلطنت قرار دیا۔ اور عراق کا بادشاہ کہلایا۔ اس دور میں  اس قدر تمدن پیدا ہو گیا تھا کہ ہشام کلبی کا بیان (ہشام کلبی نے یہ تصریح کتاب ” النیجان” میں کی ہے ) ہے کہ میں نے عرب کے زیادہ تر حالات اور فارس و عرب کے تعلقات زیادہ تر انہی کتابوں سے معلوم کیے جو حیرہ میں اس زمانے میں تصنیف ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں اردشیر بن مالک نے طوائف الملوکی مٹا کر ایک وسیع سلطنت قائم کی اور عمرو بن عدی کو باج گزار بنا لیا۔ عمر بن عدی کا خاندان اگرچہ مدت تک عراق میں فرمانروا رہا۔ لیکن درحقیقیت وہ سلطنت فارس کا ایک صوبہ تھا۔

شاہ پور بن اردشیر جو سلسلۂ ساسانیہ کو دوسرا فرمانروا تھا۔ اس کے عہد میں حجاز و یمن دونوں باجگزار ہو گئے۔ اور امراء العیس کندی ان صوبوں کا گورنر مقرر ہوا۔ تاہم مطیع ہو کر رہنا عرب کی فطرت کے خلاف تھا۔ اس لئے جب کبھی موقع ملتا تھا تو بغاوت برپا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ شاہ پور ذی الاکتاف جب صغیر سنی میں فارس کے تخت پر بیٹھا تو تمام عرب میں بغاوت پھیل گئی۔ یہاں تک کہ قبیلہ عبد القیس نے خود فارس پر حملہ کر دیا۔ اور ایاد نے عراق کے صوبے دبا لئے۔ شاہ پور بڑا ہو کر بڑے عزم و استقلال کا بادشاہ ہوا۔ اور عرب کی بغاوت کا انتقام لینا چاہا۔ ہجر میں پہنچ کر نہایت خونریزی کی اور قبیلہ عبد القیس کو برباد کرتا ہوا مدینہ منورہ تک پہنچ گیا۔ روءسائے عرب جو گرفتار ہو کر اس کے سامنے آتے تھے ان کے شانے اکھڑوا ڈالتا تھا۔ چنانچہ اسی وجہ سے عرب میں وہ ذو الاکتاف کے لقب سے مشہور ہے۔

سلاطین حیر ہ میں سے نعمان بن منذر نے جو کسریٰ پرویز کے زمانہ میں تھا۔ عیسوی مذہب قبول کر لیا۔ اور اس تبدیل مذہب پر یا کسی اور سبب سے پرویز  نے اس کو قید کر دیا۔ اور قید ہی میں اس نے وفات پائی۔ نعمان نے اپنے ہتھیار وغیرہ ہانی کے پاس امانت رکھوا دیئے جو قبیلہ بکر کا سردار تھا، پرویز نے اس سے وہ چیزیں طلب کیں۔ اور جب اس نے انکار کیا تو ہرمزان کو دو ہزار فوج کے ساتھ بھیجا کہ بزور چھین لائے۔ بکر کے تمام قبیلے ذی وقار ایک مقام میں بڑے سر و سامان سے جمع ہوئے اور سخت معرکہ ہوا۔ فارسیوں نے شکست کھائی۔ اس لڑائی میں جناب رسول اللہ بھی تشریف رکھتے تھے۔ اور آپ نے فرمایا کہ :

ھذا اول یوم انتصفت العرب من العجم۔

یعنی ” یہ پہلا دن ہے کہ عرب نے عجم سے بدلہ لیا۔ “

عرب کے تمام شعراء نے اس واقعہ پر بڑے فخر اور جوش کے ساتھ قصیدے اور اشعار لکھے۔ سنہ 6 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے خطوط لکھے تو باوجود اس کے کہ ان خطوط میں جنگ و جدل کا اشارہ تک نہ تھا، پرویز نے خط پڑھ کر کہا کہ میرا غلام ہو کر مجھ کو یوں لکھتا ہے۔ اس پر ہی قناعت نہ کی بلکہ بازان کو جو یمن کا عامل تھا لکھا کہ کسی کو بھیج دو کہ ” محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو گرفتار کر کے دربار میں لائے۔ ” اتفاق سے اسی زمانے میں پرویز کو اس کے بیٹھے ہلاک کر دیا اور معاملہ یہیں  تک رہ گیا۔

    رومی سلطنت سے عرب کا جو تعلق تھا وہ یہ تھا کہ عرب کے چند قبیلے سلیح و غسان و جذام وغیرہ شام کے سرحدی اضلاع میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ ان لوگوں نے رفتہ رفتہ شام کے اندرونی اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور زیادہ قوت و جمعیت حاصل کر کے شام کے بادشاہ کہلانے لگے تھے لیکن یہ لقب خود ان کا خانہ ساز لقب تھا۔ ورنہ جیسا کہ مؤرخ ابن الاثیر نے تصریح کی ہے درحقیقت وہ رومی سلطنت کے صوبہ دار تھے۔

ان لوگوں نے اسلام سے بہت پہلے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔ اور اس وجہ سے ان کو رومیوں کے ساتھ ایک قسم کی یگانگت ہو گئی، اسلام کا زمانہ آیا تو مشرکین عرب کی طرح وہ بھی اسلام کے دشمن نکلے۔ سنہ 6 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر روم کو دعوت اسلام کا خط لکھا۔ اور وحیہ کلبی (جو خط لے کر گئے تھے ) واپس آتے ہوئے ارض جذام میں پہنچے تو انہی شامی عربوں نے وحیہ پر حملہ کر دیا۔ اور تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔ اسی طرح جب رسول اللہ نے حارث بن عمیر کو خط دے کر بصریٰ کے حاکم کے پاس بھیجا تو عمرو بن شرجیل نے ان کو قتل کرا دیا۔ چنانچہ اس کے انتقام کے لیے رسول اللہ نے سنہ 8 ہجری میں لشکر کشی کی اور غزوہ موتہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس لڑائی میں زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبد بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بڑے بڑے رتبہ کے صحابہ تھے ، شہید ہوئے۔ اور گو خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکمت عملی سے فوج صحیح و سلامت نکل آئی تاہم نتیجہ جنگ در حقیقت شکست تھا۔

9 ہجری میں رومیوں نے خاص مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کیں۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود پیش قدمی کر کے مقام تبوک تک پہنچے تو ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اگرچہ اسی وقت عارضی طور سے لڑائی رک گئی لیکن رومی اور غسانی مسلمانوں کی فکر سے کبھی غافل نہیں رہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ مدینہ پر چڑھ نہ آئیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت مشہور ہوا کہ آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی تو ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر کہا کہ کچھ تم نے سنا! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا؟ کہیں غسانی تو نہیں چڑھ آئے۔

اسی حفظ ماتقدم کے لئے 11 ہجری میں رسول اللہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سردار بنا کر شام کی مہم پر بھیجا۔ اور چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مقابلہ تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بڑے بڑے نامور صحابہ مامور ہوئے کہ فوج کے ساتھ جائیں۔ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی روانہ نہیں ہوئے تھے کہ رسول اللہ نے بیمار ہو کر انتقال فرمایا۔ غرض جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو عرب کی یہ حالت تھی کہ دونوں  ہمسایہ سلطنتوں کا ہدف بن چکا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام پر لشکر کشی کی تو فوج سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مارا جائے گا شہید ہو گا۔ اور جو بچ جائے گا مدافع عن الدین ہو گا۔ یعنی دین کو اس نے دشمنوں کے حملے سے بچایا ہو گا۔ اس واقعات سے ظاہر ہو گا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کام شروع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس کی تکمیل کی اس کے کیا اسباب تھے ؟ اس تمہیدی بیان کے بعد ہم اصل مطلب شروع کرتے ہیں۔

فتوحات عراق

(جغرافیہ نویسوں نے عراق کے دو حصے کئے ہیں یعنی جو حصہ عرب سے ملحق ہے ، اس کو عراق عرب اور جو حصہ عجم سے ملحق ہے اس کو عراق عجم کہتے ہیں۔ عرا ق کی حدوداربعہ یہ ہیں شمال میں جزیرہ جنوب میں بحر فارس، مشرق میں خوزستان اور مغرب میں دیار بکر ہے جس کا مشہور شہر موصل ہے اور دارالسلطنت اس کا بغداد ہے اور جو بڑے بڑے شہر اس میں آباد ہیں وہ بصرہ کوفہ واسطہ وغیرہ ہیں۔

ہمارے مؤرخین کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ سنین کو عنوان قرار دیتے ہیں لیکن اس میں یہ نقص ہے کہ واقعات کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مثلاً ایران کی فتوحات لکھتے آ رہے ہیں کہ سنہ ختم ہوا چاہتا ہے اور ان کو اس سنہ کے تمام واقعات لکھنے ہیں۔ اس لیے قبل اس کے کہ ایران کی فتوحات تمام ہوں یا موزوں موقع پر ان کا سلسلہ ٹوٹے شام و مصر کے واقعات کو جو اسی سنہ میں پیش آئے تھے چھیڑ دینا پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے ایران کی تمام فتوحات کو ایک جا شام کو ایک جا اور مصر کو ایک جا لکھا ہے )۔

فارس کی حکومت کا چوتھا دور جو ساسانی کہلاتا ہے نوشیروان عادل کی وجہ سے بہت نام آور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں اسی کا پوتا پرویز تخت نشین تھا۔ اس مغرور بادشاہ کے زمانے تک سلطنت نہایت قوی اور زور آور رہی لیکن اس کے مرنے ساتھ دفعتہً ایسی ابتری پیدا ہو گئی کہ ایوان حکومت مدت تک متزلزل رہا۔ شیرویہ اس کے بیٹھے نے کل آٹھ مہینے حکومت کی اور اپنے تمام بھائیوں کو جو کم و بیش پندرہ تھے قتل کرا دیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا اردشیر 7 برس کی عمر میں تخت پر بیٹھا لیکن ڈیڑھ برس کے بعد دربار کے ایک افسر نے اس کو قتل کر دیا۔ اور آپ بادشاہ بن بیٹھا۔ یہ سنہ ہجری کا بارہواں سال تھا۔ چند روز کے بعد درباریوں نے اس کو قتل کر کے جوان شیر کو تخت نشین کیا۔ وہ ایک برس ے بعد قضا کر گیا۔ اب چونکہ خاندان میں یزدگرد کے سوا جو نہایت صغیر السن تھا۔ اولاد ذکور باقی نہیں رہی تھی۔ پوران دخت کو اس شرط پر تخت نشین کیا گیا کہ یزدگرد سن شعور کو پہنچ جائے گا تو وہی تخت و تاج کا مالک ہو گا۔ (شیرویہ کے بعد سلسلہ حکومت کی ترتیب اور ناموں کی تعین میں مؤرخین اس قدر مختلف ہیں کہ دو مؤرخ بھی باہم متفق نہیں۔ فردوسی کا بیان سب سے الگ ہے۔  میں نے بلحاظ قدیم العہد اور فارسی النسل ہونے ابو حنیفہ دینوری کے بیان کو ترجیح دی ہے )۔

پرویز کے بعد جو انقلابات حکومت ہوتے رہے اس کی وجہ سے ملک میں جا بجا بے امنی پھیل گئی۔ پوران کے زمانے میں مشہور ہو گیا کہ فارس میں کوئی وارث تاج و تخت نہیں رہا۔ برائے نام ایک عورت کو ایوان شاہی میں بٹھا رکھا ہے۔ اس خبر کہ شہرت کے ساتھ عراق میں قبیلہ وائل  کے دو سرداروں۔  شیبانی اور سوید۔ نے تھوڑی سی جمعیت بہم پہنچا کر عراق کی سرحد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طرف غارت گری شروع کی (الاخبار الطوال ابو حنیفہ دینوری)۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا اور خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیف اللہ یمامہ اور دیگر قبائل عرب کی مہمات سے فارغ ہو چکے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عراق پر حملہ کرنے کی اجازت حاصل کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خود اگرچہ اسلام لا چکے تھے۔ لیکن اس وقت تک ان کا تمام قبیلہ عیسائی یا بُت پرست تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت سے واپس آ کر انہوں نے اپنے قبیلہ کو اسلام کی ترغیب دی اور قبیلہ کا قبیلہ مسلمان ہو گیا (فتوح البلدان بلازری صفحہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ )۔ ان نو مسلموں کے ایک بڑے گروہ نے عراق کا رخ کیا۔ ادھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلد کو مدد کے لئے بھیجا۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق مے تمام سرحدی مقام فتح کر لئے۔ اور حیرۃ پر علم فتح نصب کیا۔ یہ مقام کوفہ سے تین میل ہے۔ اور چونکہ یہاں نعمان بن منذر نے حوزنق ایک مشہور محل بنایا تھا وہ ایک یادگار مقام خیال کیا جاتا تھا۔

عراق کی یہ فتوحات خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بڑے کارناموں پر مشتمل ہیں۔ لیکن ان کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں تھا۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمات عراق کا خاتمہ کر دیا ہوتا۔ لیکن چونکہ ادھر شام کی مہم درپیش تھی اور جس زور شور سے وہاں عیسائیوں نے لڑنے کی تیاریاں کی تھی اس کے مقابلے کا وہاں پورا سامان نہ تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ربیع الثانی 13 ہجری (634 عیسوی) میں خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بھیجا کہ فوراً شام کو روانہ ہوں اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اپنا جانشین کرتے جائیں۔ ادھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روانہ ہوئے اور عراق کی فتوحات دفعتہً رک گئیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر بیٹھے تو سب سے پہلے عراق کی مہم پر توجہ کی۔ بیعت  خلافت کے لیے تمام اطراف و دیار سے بیشمار آدمی آئے تھے۔ اور تین دن تک ان کا تانتا بندھا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔ ا ور مجمع عام میں جہاد کا وعظ کہا۔ لیکن چونکہ لوگوں کا عام خیال تھا کہ عراق حکومت فارس کا پایہ تخت ہے۔ اور وہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغیر فتح نہیں ہو سکتا۔ اس لئے سب خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کئی دن تک وعظ کہا، لیکن کچھ اثر نہ ہوا۔ آخر چوتھے دن اس جوش سے تقریر کی کہ حاضرین کے دل ہل گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیبانی نے اٹھ کر کہا کہ ” مسلمانوں! میں نے مجوسیوں کو آزما لیا ہے۔ وہ مرد میدان نہیں ہیں۔ عراق کے بڑے بڑے اضلاع کو ہم نے فتح کر لیا ہے۔ اور عجم ہمارا لوہا مان گئے ہیں” حاضرین میں سے ابو عبیدہ ثقفی بھی تھے جو قبیلہ ثقیف کے مشہور سردار تھے وہ جوش میں آ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ انا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کام کے لئے میں حاضر ہوں۔ ابو عبیدہ کی ہمت نے تمام حاضرین کو گرما دیا۔ اور ہر طرف سے غلغلہ اٹھا کہ ہم بھی حاضر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ اور مضافات سے ہزار آدمی (بلازری کی روایت ہے ابو حنیفہ دینوری نے 5 ہزار تعداد لکھی ہے )۔ انتخاب کئے اور ابو عبیدہ کو سپہ سالار مقرر کیا۔

ابو عبیدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کا شرف حاصل نہ تھا۔ یعنی صحابی نہ تھے اس وجہ سے ان کی افسری پر کسی کو خیال ہوا۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے آزادانہ کہا کہ ” عمر! صحابہ میں سے کسی کو یہ منصب دو۔ فوج میں سینکڑوں صحابہ ہیں اور ان کا افسر بھی صحابی ہی ہو سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ صحابہ کی طرف دیکھا اور کہا کہ ” تم کو جو شرف تھا وہ ہمت اور استقلال کی وجہ سے تھا۔ لیکن اس شرف کو تم نے خود کھو دیا۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو لڑنے سے جی چرائے وہ افسر مقرر کئے جائیں۔ ” تاہم چونکہ صحابہ کی دلجوئی ضروری تھی، ابو عبیدہ کو ہدایت کی کہ ان کی ادب ملحوظ رکھنا اور ہر کام میں ان سے مشورہ لینا۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں عراق پر جو حملہ ہوا اس نے ایران کو چونکا دیا تھا۔ چنانچہ پوران دخت نے رستم کو جو فرخ زاد گورنر خراسان کا بیٹا اور نہایت شجاع اور صاحب تدبیر تھا دربار میں طلب کیا۔ اور سزیر حرب مقرر کر کے کہا کہ تو سیاہ سپید کا مالک ہے۔ یہ کہہ کر اس کے سر پر تاج رکھا۔ اور درباریوں کو جن میں تمام امرا اور اعیانِ سلطنت شامل تھے۔ تاکید کی کہ رستم کی اطاعت سے کبھی انحراف نہ کریں۔ چونکہ اہل فارس اپنی نا اتفاقیوں کا نتیجہ دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے دل سے ان احکام کی اطاعت کی۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ چند روز میں تمام بد انتظامیاں مٹ گئیں اور سلطنت نے پھر وہی زور و قوت پیدا کر لی جو ہرمز و پرویز کے زمانے میں اس کو حاصل تھی۔

رستم نے سب سے پہلی تدبیر یہ کی کہ اضلاع عراق میں ہر طرف ہرکارے اور نقیب دوڑائیے جنہوں نے مذہبی حمیت کا جوش دلا کر تمام ملک میں مسلمانوں کے خلاف بغاوت پھیلا دی۔ چنانچہ ابو عبیدہ کے پہنچنے سے پہلے فرات کی تمام اضلاع میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور جو مقامات مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ پوران دخت نے رستم کی اعانت کے لیے ایک اور فوج گراں تیار کی۔  اور نرسی و جاہان کو سپہ سالار مقرر کیا۔ جاہان عراق کا ایک مشہور رئیس تھا۔ اور عرب سے اس کو خاص عداوت تھی۔ نرسی کسریٰ کا خالہ زاد بھائی تھا۔ اور عراق کے بعض اضلاع قدیم اس کی جاگیر تھے۔ یہ دونوں افسر مختلف راستوں سے عراق کی طرف بڑھے اور ادھر ابو عبیدہ اور مثنی حیرۃ تک پہنچ چکے تھے کہ دشمن کی تیاریوں کا حال معلوم ہوا۔ مصلحت دیکھ کر خفان کو ہٹ آئے۔ جاہان نمازق پہنچ کر خیمہ زن ہوا۔

ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی اثناء میں جوج کو سر و سامان سے آراستہ کر لیا۔ اور پیش قدمی کر کے خود حملے کے لیے بڑھے۔ نمازق پر دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں۔ جاہان کے میمنہ و میسرہ پر جوشن شاہ اور مردان شاہ دو مشہور افسر تھے جو بڑی ثابت قدمی سے لڑے لیکن بالآخر شکست کھائی اور عین معرکہ میں گرفتار ہو گئے۔ مردان شاہ بدقسمتی سے اسی وقت قتل کر دیا گیا۔ لیکن جاہان اس حیلے سے بچ گیا کہ جس شخص نے اس کو گرفتار کیا تھا وہ اس کو پہچانتا نہ تھا۔ جاہان نے اس سے کہا کہ اس بڑھاپے میں کس کام کا ہوں۔ مجھ کو چھوڑ دو اور معاوضے میں مجھ سے دو جوان غلام لے لو۔ اس نے منظور کر لیا۔ بعد لوگوں نے جاہان کو پہچانا تو غل مچایا کہ ہم ایسے دشمن کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ لیکن ابو عبیدہ نے کہا کہ اسلام میں بد عہدی جائز نہیں۔

ابو عبیدہ نے اس معرکہ کے بعد کسکر کا رخ کیا۔ جہاں نرسی فوج لئے پڑا تھا۔ سقاطیہ میں دونوں فوجیں مقال ہوئیں۔ نرسی کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا۔ اور خود کسریٰ کے دو ماموں زاد بھائی ہندویہ اور تیریہ میمنہ اور میسرہ پر تھے۔ تاہم نرسی اس وجہ سے لڑائی میں دیر کر رہا تھا کہ پایہ تخت سے امدادی فوجیں روانہ ہو چکی تھیں۔ ابو عبیدہ کو بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے بڑھ کر جنگ شروع کر دی۔ بہت بڑے معرکے کے بعد نرسی کو شکست فاش ہوئی۔ ابو عبیدہ نے خود مقاطیہ میں مقام کیا۔ اور تھوڑی سی فوجیں ہر طرف بھیج دیں کہ ایرانیوں نے جہاں جہاں پناہ لی ہے ان کو وہاں سے نکال دیں۔

فرخ اور فرلوند جو باروعما اور زوادی کے رئیس تھے ، مطیع ہو گئے ، چنانچہ اظہار خلوص کے لئے ایک دن ابو عبیدہ کو نہایت عمدہ عمدہ کھانے پکوا کر بھیجے۔ ابو عبیدہ نے دریافت کیا کہ یہ سامان کل فوج کے لئے ہے یا صرف میرے لئے ؟ فرخ نے کہا کہ اس جلدی میں ساری فوج کا اہتمام نہیں ہو سکتا تھا۔ ابو عبیدہ نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ مسلمانوں میں ایک دوسرے پر کچھ ترجیح نہیں۔

اس شکست کی خبر سن کر رستم نے مروان شاہ کو جو عرب سے دلی عداوت رکھتا تھا۔ اور جس کو نوشیرواں نے تقدس کے لحاظ سے ہیمن کا خطاب دیا تھا۔ چار ہزار فوج کے ساتھ اس سامان سے روانہ کیا کہ درفش کادیانی جو کئی ہزار برس سے کیانی خاندان کی یادگار چلا آتا تھا۔ اور فتح و ظفر كا دیباچہ سمجھا جاتا تھا۔  اس کے سر پر سایہ کرتا جاتا تھا۔ مشرقی فرات کے کنارے ایک مقام پر جس کا نام مروحہ تھا، دونوں حریف صف آرا ہوئے۔ چونکہ بیچ میں دریا حائل تھا،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے کہلا بھیجا کہ یا تم اس پار اتر کو آؤ یا ہم آئیں۔ ابو عبیدہ کے تمام سرداروں نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم کو اس طرف رہنا چاہیے۔ لیکن ابو عبیدہ جو شجاعت کے نشے میں سرشار تھے کہا کہ یہ نامردی کی دلیل ہے۔ سرداروں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا کہ جانبازی کے میدان میں مجوسی ہم سے آگے بڑھ جائیں۔ مروان شاہ جو پیغام لے کر آیا تھا، اس نے کہا کہ ہماری فوج میں عام خیال ہے کہ ” عرب مرد میدان نہیں ہیں۔ ” اس جملے نے اور بھی اشتعال دلایا۔ اور ابو عبیدہ نے اسی وقت فوج کو کمر بندی کا حکم دے دیا۔ مثنی اور سلیط وغیرہ بڑے بڑے افسران فوج اس رائے کے بالکل مخالف تھے اور عظمت و شان میں ان کا رتبہ ابو عبیدہ سے بڑھ کر تھا۔

جب ابو عبیدہ نے اصرار کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ اگرچہ ہم کو قطعی یقین ہے کہ اس رائے پر عمل کرنے سے تمام فوج غارت ہو جائے گی۔ تاہم اس وقت تم افسر ہو اور افسر کی مخالفت ہمارا شیوہ نہیں۔ غرض کشتیوں کا پل باندھا گیا اور تمام فوج پار اتر کر غنیم سے معرکہ آراء ہوئی۔ پار کا میدان تنگ اور ناہموار تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو موقع نہیں مل سکتا تھا کہ فوج کو ترتیب سے آراستہ کر سکتے۔

ایرانی فوج کا نظارہ نہایت مہیب تھا۔ بہت سے کوہ پیکر ہاتھی تھے جن پر گھنتے لٹکتے تھے اور بڑے زور سے بجتے جاتے تھے۔ گھوڑوں پر آہنی پاکھریں تھیں۔ سوار سمور کی لمبی ٹوپیاں اوڑھے ہوئے صحرائی جانور معلوم ہوتے تھے۔ عرب کے گھوڑوں نے یہ مہیب نظارہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بدک کر پیچھے ہٹے۔ ابو عبیدہ نے دیکھا کہ ہاتھیوں کے سامنے کچھ زور نہیں چلتا۔ گھوڑے سے کود پڑے اور ساتھیوں کو للکارا کہ جانبازو! ہاتھیوں کو بیچ میں لے لو اور ہودوں کو سواروں سمیت الٹ دو۔ اس آواز کے ساتھ گھوڑوں سے کود پڑے اور ہودوں کی رسیاں کاٹ کر فیل نشینوں کو خاک پر گرا دیا۔ لیکن ہاتھی جس طرف جھکتے تھے صف کی صف پس جاتی تھی۔ ابو عبیدہ یہ دیکھ کر پیل سفید پر جو سب کا سردار تھا حملہ آور ہوئے اور سونڈ پر تلوار ماری کہ مستک سے الگ ہو گئی۔ ہاتھی نے بڑھ کر ان کو زمین پر گرا دیا اور سینے پر پاؤں رکھ دیئے کہ ہڈیاں تک چور چور ہو گئیں۔

    ابو عبیدہ کے مرنے پر ان کے بھائی حکم نے علم ہاتھ میں لیا۔ اور ہاتھی پر حملہ آور ہوئے۔ اس نے ابو عبیدہ کی طرح ان کو بھی پاؤں میں لپیٹ کر مسل دیا۔ اس طرح سات آدمیوں نے جو سب کے سب ابو عبیدہ کے ہم نسب اور خاندان ثقیف سے تھے ، باری باری سے علم ہاتھ میں لئے اور مارے گئے۔ آخر میں مثنی نے علم لیا۔ لیکن اس وقت لڑائی کا نقشہ بگڑ چکا تھا۔ اور فوج میں بھگدڑ پڑ چکی تھی۔ طرہ یہ ہوا کہ ایک شخص نے دوڑ کر پل کے تختے توڑ دیئے کہ کوئی شخص بھاگ کر جانے نہ پائے۔ لیکن لوگ اس طرح بدحواس ہو کر بھاگتے تھے کہ پل کی طرف راستہ نہ ملا تو دریا میں کود پڑے۔ مثنی نے دوبارہ پل بندھویا اور سواروں کا ایک دستہ بھیجا کہ بھاگتوں کو اطمینان سے پار اتار دے۔ خود بچی کھچی فوج کے ساتھ دشمن کا اگا روک کر کھڑے ہوئے اور اس ثابت قدمی سے لڑے کہ ایرانی جو مسلمانوں کو دباتے آتے تھے رک گئے اور آگے نہ بڑھ سکے۔ تاہم حساب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ نو ہزار فوج میں سے صرف تین ہزار رہ گئی۔ اسلام کی تاریخ میں میدان جنگ سے فرار نہایت شاذ و نادر وقوع میں آیا ہے اور اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آ بھی گیا تو اس کا عجیب افسوس ناک اثر ہوا ہے۔ اس لڑائی میں جن لوگوں کو یہ ذلت نصیب ہوئی وہ مدت تک خانہ بدوش پھرتے رہے۔ اور شرم سے اپنے گھروں کو نہیں جاتے تھے۔ اکثر رویا کرتے اور لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ مدینہ منورہ میں یہ خبر پہنچی تو ماتم پڑ گیا۔ لوگ مسلمانوں کی بدقسمتی پر افسوس کرتے تھے۔ اور روتے تھے ، جو لوگ مدینہ پہنچ کر گھروں میں روپوش تھے ، اور شرم سے باہر نہیں نکلتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس جا کر ان کو تسلی دیتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ تم او متحیزا الی فئۃ میں داخل ہو۔ لیکن ان کو اس سے تسلی نہیں ہوتی تھی۔

یہ واقعہ (حسب بیان بلاذری) ہفتہ کے دن رمضان 13 ہجری میں واقع ہوا۔ اس لڑائی میں نامور صحابیوں میں سے جو لوگ شہید ہوئے وہ سلیط، ابو زید انصاری، عتبہ و عبد اللہ، پسران قبطی بن قیس، یزید بن قیس الانصاری، ابو امیہ الفرازی وغیرہ تھے۔

واقعہ بویب رمضان 14 ہجری (635 عیسوی)

اس شکست نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت برہم کیا۔ اور نہایت زور شور سے حملہ کی تیاریاں کیں۔ تمام عرب میں خطباء اور نقیب بھیج دیئے جنہوں نے پرجوش تقریروں سے تمام عرب میں ایک آگ لگا دی۔ اور ہر طرف سے عرب کے قبائل امنڈ ائے۔ قبیلہ ازو   کا سردار محتف بن سلیم سات سو سواروں کو ساتھ لے کر آیا۔ بنو تمیم کے ہزاروں آدمی حصین بن معبد کے ساتھ آئے۔ حاتم طائی کے بیٹے عدی ایک جمعیت کثیر لے کر پہنچے ،اسی طرح قبیلہ رباب جو کنانہ ختم بنو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے بڑے بڑے جھتے اپنے اپنے سرداروں کے ساتھ آئے ، یہ جوش یہاں تک پھیلا کہ نمرو تغلب کے سرداروں نے جو مذہباً عیسائی تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ” آج عرب و عجم کا مقابلہ ہے۔ اس قومی معرکہ میں ہم بھی قوم کے ساتھ ہیں۔ ان دونوں سرداروں کے ساتھ ان کے قبیلے کے ہزاروں آدمی تھے اور عجم کے مقابلہ کے جوش میں لبریز تھے۔

اتفاق سے انہی دنوں انہی دنوں جریر نجلی دربار خلافت میں حاضر ہوا، یہ ایک مشہور سردار تھا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی تھی کہ اپنے قبیلے کا سردار مقرر کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ درخواست منظور کر لی تھی لیکن تعمیل کی نوبت نہیں آئی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے عرب کے تمام عمال کے نام احکام بھیج دیئے کہ جہاں جہاں اس قبیلے کے آدمی ہوں، تاریخ معین پر اس کے پاس پہنچ جائیں۔ جریر یہ جمعیت اعظم لے کر دوبارہ مدینہ میں حاضر ہوئے۔

ادھر مثنی نے عراق کے تمام سرحد مقامات پر نقیب بھیج کر ایک بڑی فوج جمع کر لی تھی۔ ایرانی جاسوسوں نے یہ خبریں شاہی دربار میں پہنچائیں۔ پوران دخت نے حکم دیا کہ فوج خاصہ سے بارہ ہزار سوار انتخاب کئے جائیں۔ اور مہران بن مہرویہ ہمدانی افسر مقرر کیا جائے۔ مہران کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ اس نے خود عرب میں تربیت پائی تھی اور اس وجہ سے وہ عرب کے زور قوت کا اندازہ کر سکتا تھا۔ کوفہ کے قریب بویب نام ایک مقام تھا، اسلامی فوجوں نے یہاں پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ مہران پایہ تخت سے روانہ ہو کر سیدھا بویب پہنچا اور دریائے فرات کو بیچ میں ڈال کر خیمہ زن ہوا۔ صبح ہوتے ہی فرات اتر کر بڑے سر و سامان سے لشکر آرائی شروع کیا۔ مثنی نے نہایت ترتیب سے صف درست کی، فوج کے مختلف حصے کر بڑے بڑے ناموروں کی ماتحتی میں دیئے۔ چنانچہ میمنہ پر مذعور، میسرہ پر لسیر، پیدل پر مسعود، والتیر پر عاصم، گشت کی فوج پر عصمہ کو مقرر کیا۔ لشکر آراستہ ہو چکا تو مثنی نے اس سرے سے اس سرے تک ایک بار چکر لگایا۔ اور ایک ایک علم کے پاس کھڑے ہو کر کہا ” بہادرو دیکھنا تمہاری وجہ سے تمام عرب پر بدنامی کا داغ نہ آئے۔ “

اسلامی فوج کی لڑائی کا یہ قاعدہ تھا کہ سردار تین دفعہ اللہ اکبر کہتا تھا۔ پہلی تکبیر پر فوج حربہ و ہتھیار سے آراستہ ہو جاتی تھی۔ دوسری تکبیر پر لوگ ہتھیار تول لیتے تھے۔ اور تیسرے نعرہ پر حملہ کر دیا جاتا تھا۔ مثنی نے دوسری تکبیر ابھی نہیں کہی تھی کہ ایرانیوں نے حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر مسلمان ضبط نہ کر سکے اور کچھ لوگ جوش میں آ کر صف سے آگے نکل گئے۔ مثنی نے غصے میں آ کر داڑھی دانتوں میں دبا لی، اور پکارے کہ ” خدا کے لئے اسلام کو رسوا نہ کرو” اس آواز کے ساتھ فوراً لوگ پیچھے ہٹے اور جس شخص کی جہاں جگہ تھی وہیں آ کر جم گیا۔ چوتھی تکبیر کہہ کر مثنی نے حملہ کیا۔

عجمی اس طرح گرجتے ہوئے بڑھے کہ تمام میدان گونج اٹھا،  مثنی نے فوج کو للکارا کہ گھبرانا نہیں یہ نامردانہ غل ہے۔ عیسائی سرداروں کو جو ساتھ تھے بلا کر کہا کہ تم اگرچہ عیسائی ہو لیکن ہم قوم ہو۔ اور آج قوم کا معاملہ ہے۔ میں مہران پر حملہ کرتا ہوں، تم ساتھ رہنا۔ انہوں نے لبیک کہا، مثنی نے ان سرداروں کو دونوں بازوؤں پر لے کر حملہ کیا۔ اور پہلے حملہ میں مہران کا میمنہ توڑ کر قلب میں گھس گئے۔ عجمی دوبارہ سنبھلے اور اس طرح ٹوٹ کر گرے کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے۔ مثنی نے للکارا کہ ” مسلمانو! کہاں جاتے ہو، میں یہ کھڑا ہوں۔ ” اس آواز کے ساتھ سب پلٹ پڑے۔ (الاخبار الطوال ۔ ۔ ۔ ۔ حنیفہ دنیوری (طبری روایت سیف)۔ مثنی نے ان کو سمیٹ کر حملہ کیا۔ عین اس حالت میں مسعود جو مثنی کے بھائی اور مشہور بہادر تھے زخم کھا کر گرے۔ ان کی رکاب کی فوج بیدل ہوا چاہتی تھی، مثنی نے للکارا کہ ” مسلمانو! میرا بھائی مارا گیا تو کچھ پروا نہیں۔ شرفاء یوں ہی جان دیا کرتے ہیں۔ دیکھو تمہارے علم جھکنے نہ پائیں۔ ” خود مسعود نے گرتے گرتے کہا کہ ” میرے مرنے سے بے دل نہ ہونا۔ “

دیر تک بڑی گھمسان کی لڑائی رہی۔ انس بن ہلال جو عیسائی سردار تھا اور بڑی جانبازی سے لڑ رہا تھا زخم کھا کر گرا، مثنی نے خود گھوڑے سے اتر کر اس کو گود میں لیا۔ اور اپنے بھائی مسعود کے برابر لٹا دیا۔ مسلمانوں کی طرف کے بڑے بڑے افسر مارے گئے لیکن مثنی کی ثابت قدمی کی وجہ سے لڑائی کا پلہ اسی طرف بھاری رہا۔ عجم کا قلب خوب جم کر لڑا۔ مگر کُل کا کُل برباد ہو گیا۔ شہر براز جو ایک مشہور افسر تھا۔ قرط کے ہاتھ سے مارا گیا۔ ، تاہم سپہ سالار مہران ثابت قدم تھا۔ اور بہادری سے تیغ بکف لڑ رہا تھا۔ کہ قبیلہ تغلب کے ایک نوجوان نے تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا۔ مہران گھوڑے سے گرا تو نوجوان نے اچھل کر گھوڑے کے پیٹھ پر جا بیٹھا اور فخر کے لہجہ میں پکارا۔ ” میں تغلب کا نوجوان ہوں اور رئیس عجم کا قاتل ہوں۔ “

مہران کے قتل پر لڑائی کا خاتمہ ہو گیا۔ عجم نہایت ابتری سے بھاگے۔ مثنی نے فوراً پُل کے پاس پہنچ کر رستہ روک لیا کہ عجم بھاگ کر نہ جانے پائیں۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ کسی لڑائی نے اس قدر بے شمار لاشیں اپنی یادگار میں نہیں چھوڑیں۔ چنانچہ مدتوں کے بعد جب مسافروں کا ادھر گزر ہوا۔ تو انہوں نے جا بجا ہڈیوں کے انبار پائے۔ اس فتح کا ایک خاص اثر یہ ہوا کہ عربوں پر عجم کا جو رعب چھایا ہوا تھا جاتا رہا۔ اس کو یقین ہو گیا کہ اب سلطنت کسریٰ کے اخیر دن آ گئے۔ خود مثنی کا بیان ہے کہ اسلام سے پہلے میں بارہا عجم سے لڑ چکا ہوں۔ اس وقت سو عجمی ہزار عرب پر بھاری تھے۔ لیکن آج ایک عرب دس عجمی پر بھاری ہے۔

اس معرکہ کے بعد مسلمان عراق کے تمام علاقہ میں پھیل پڑے۔

جہاں اب بغداد  آباد ہے اس زمانے میں وہاں بہت بڑا بازار لگتا تھا۔ مثنی نے عین بازار کے دن حملہ کیا۔ بازاری جان بچا کر ادھر ادھر بھاگ گئے اور بے شمار نقد اور اسباب ہاتھ آیا، پائے تخت میں یہ خبریں پہنچیں تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ” زنانہ حکومت اور آپس کے اختلافات کا یہی نتیجہ ہونا تھا۔ ” اس وقت پوران دخت کو تخت سے اتار کر یزدگرد کو جو سولہ برس (یہ ابو حنیفہ دینوری کی روایت ہے۔ طبری نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی عمر بیان کی ہے ) کا جوان تھا۔ اور خاندان کسریٰ کا وہی ایک نرینہ یادگار رہ گیا تھا۔ تخت نشین کیا۔ رستم اور فیروز جو سلطنت کے دست بازو تھے ، آپس میں عناد رکھتے تھے ، درباریوں نے ان سے کہا کہ اب بھی اگر تم دونوں متفق ہو کر کام نہیں کرتے تو ہم خود تمہار فیصلہ کیئے دیتے ہیں۔ غرض یزدگرد  کی تخت نشینی کے ساتھ سلطنت میں نئے سرے سے جان آ گئی۔ ملکی اور فوجی افسر جہاں جہاں جس کام پر تھے ، مستعد ہو گئے۔ تمام قلعے اور چھاؤنیاں مستحکم کر دی گئیں۔ عراق کی آبادیاں جو فتح ہو چکی تھیں عجم کا سہارا پا کر وہاں بھی بغاوت پھیل گئی۔ اور تمام مقامات مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبریں پہنچیں تو فوراً مثنی کو حکم بھیجا کہ فوجوں کو ہر طرف سے سمیٹ کر عرب کی سرحد کی طرف ہٹ آؤ۔ اور  ربیعہ و مضر کے قبائل جو عراق کی حدود میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کو طلبی کا حکم بھیج دو کہ تاریخ معین پر جمع ہو جائیں۔

اس کے ساتھ خود بڑے ساز و سامان سے فوجی تیاریاں شروع کیں۔ ہر طرف نقیب دوڑائے کہ اضلاع عرب میں جہاں جہاں کوئی رئیس، صاحب تدبیر، شاعر، خطیب، اہل الرائے ہو، فوراً دربارِ خلافت میں آئے۔ چونکہ حج کا زمانہ آ چکا تھا۔ خود مکہ معظمہ کو روانہ ہوئے اور حج سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہر طرف سے قبائل عرب کا طوفان امنڈ آیا۔ سعد بن ابی وقاص نے تین ہزار آدمی بھیجے۔ جن میں ایک ایک شخص تیغ و علم کا مالک تھا۔ حضر موت، صدف، مذحج، قیس، غیلان کے بڑے بڑے سردار ہزاروں کی جمعیت لے کر آئے۔ مشہور قبائل میں سے یمن کے ہزار، بنو تمیم و رباب کے چار ہزار، بنو اسد کے تین ہزار آدمی تھے۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج کر کے واپس آئے تو جہاں تک نگاہ جاتی تھی، آدمیوں کا جنگل نظر آتا تھا۔ حکم دیا کہ لشکر نہایت ترتیب سے آراستہ ہو۔ میں خود سپہ سالار بن کر چلوں گا۔ چنانہ ہراول پر طلحہ، میمنہ پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، میسرہ پر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر کیا۔ فوج آراستہ ہو چکی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر خلافت کے کاروبار سپرد کئے اور خود مدینہ سے نکل کر عراق کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس مستعدی سے ایک عام جوش پیدا ہو گیا۔ اور سب نے مرنے پر کمریں باندھ لیں۔ صرار جو مدینہ سے تین میل پر ایک چشمہ ہے وہاں پہنچ کر مقام کیا۔ اور اس سفر کی گویا پہلی منزل تھی۔ چونکہ امیر المومنین کا خود معرکہ جنگ میں جانا بعض مصلحتوں کے لحاظ سے مناسب نہ تھا۔ اس لئے صرار میں فوج کو جمع کر کے تمام لوگوں سے رائے طلب کی۔ عوام نے یک زبان ہو کر کہا کہ امیر المومنین! یہ مہم آپ کے بغیر سر نہ ہو گی۔ لیکن بڑے بڑے صحابہ نے جو معاملہ کا نشیب و فراز سمجھتے تھے اس کے خلاف رائے دی۔ عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا کہ لڑائی کے دونوں پہلو ہیں۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوئی اور آپ کو کچھ صدمہ پہنچا تو پھر اسلام کا خاتمہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر ایک پراثر تقریر کی۔ اور عوام کی طرف خطاب کر کے کہا کہ ” میں تمہاری رائے پر عمل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اکابر صحابہ اس رائے سے متفق نہیں” غرض اس پر اتفاق ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود سپہ سالار بن کر نہ جائیں۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ اور کوئی شخص اس بار گراں کے اٹھانے کے قابل نہیں ملتا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی مہمات میں مصروف تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی گئی تو انہوں نے انکار کیا۔ لوگ اسی حیض میں تھے کہ دفعتہً عبد الرحمٰن بن عوف نے اٹھ کر کہا کہ میں نے پا لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کون؟ بولے کہ “سعد بن ابی وقاص”  رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے مرتبہ کے صحابی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ماموں تھے۔ ان کی بہادری اور شجاعت بھی مسلم تھی۔ لیکن تدبیر جنگ اور سپہ سالاری کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی طرف سے اطمینان نہ تھا۔ اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی تردد تھا۔ لیکن جب تمام حاضرین نے عبد الرحمٰن بن عوف کی رائے کی تائید کی، چار و ناچار منظور کیا۔ تاہم احتیاط کے لحاظ سے لشکر کی تمام مہمات قبضہ اختیار میں رکھیں۔ چنانچہ ان معرکوں میں اول سے آخر تک فوج کی نقل و حرکت، حملہ کا بند و بست، لشکر کی ترتیب، فوجوں کی تقسیم وغیرہ کے متعلق ہمیشہ احکام بھیجتے رہتے تھے۔ اور ایک کام بھی ان کی خاص ہدایت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا تھا۔ یہاں تک کہ مدینے سے عراق تک کی فوج کی منزلیں بھی خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نے نامزد کر دی تھیں۔ چنانچہ مؤرخ طبری نے نام بنام ان کی تصریح کر دی ہے۔

غرض سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کا نشان چڑھایا اور مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ 17 – 18 منزلیں طے کر کے ثعلبہ (بلاذری نے ثعلبہ اور طبری نے ژور لکھا ہے۔ یہ دونوں مقامات آپس میں نہایت متصل اور بالکل قریب ہیں) اور یہاں مقام کیا۔ ثعلبہ کوفہ سے تین منزل پر ہے اور پانی کی افراط اور موقع کی خوبی کی وجہ سے یہاں مہینے کے مہینے بازار لگتا تھا۔ تین مہینے یہاں قیام رہا۔ مثنی موضع زی قار میں آٹھ ہزار آدمی لئے پڑے تھے۔ جن میں خاص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وائل کے چھ ہزار جوان تھے۔ مثنی کو سعد کی آمد کا انتظار تھا کہ ساتھ ہو کر کوفہ پر بڑھیں۔ لیکن جسر کے معرکے میں جو زخم کھائے تھے بگڑتے گئے اور آخر اسی صدمے سے انتقال کیا۔ سعد نے ثعلبہ سے چل کر مشراف میں ڈیرے ڈالے ، یہاں مثنی کے بھائی ان سے آ کر ملے اور مثنی نے جو ضروری مشورے دیئے تھے ، سعد سے بیان کئے چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم تھا کہ فوج کا جہاں پڑاؤ ہو وہاں کے تمام حالات لکھ کر آئیں۔ سعد نیاس مقام کا نقشہ، لشکر کا پھیلاؤ، فرود گاہ کا ڈھنگ، رسد کی کیفیت ان تمام حالات سے ان کو اطلاع دی وہاں سے سے ایک مفصل فرمان آیا۔ جس میں بہت سی ہدایتیں اور فوج کی ترتیب کے قواعد تھے۔ سعد نے ان احکام کے موافق پہلے تمام فوج کا جائزہ لیا۔ جو کم و بیش تین ہزار ٹھہری۔ پھر میمنہ و میسرہ کی تقسیم کر کے ہر ایک پر جدا جدا افسر مقر کئے۔ فوج کے جدا جدا حصوں اور ان کے افسروں کی تفصیل طبری کے بیان کے موافق ذیل کے نقشے سے معلوم ہو گی۔

حصہ

نام افسر

مختصر حال

ہراول

زہرہ بن عبد اللہ بن قتادہ

جاہلیت میں یہ بحرین کے بادشاہ تھے۔ رسول اللہ کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے وکیل ہو کر آئتے تھے اور اسلام لائے تھے۔

میمنہ (دایاں حصہ)

عبد اللہ بن المعتصم

صحابی تھے

میسرہ (بایاں حصہ)

شرجیل بن السمط

نوجوان آدمی تھے ، مرتدین کی جنگ میں نہایت شہرت حاصل کی تھی۔

ساقہ (پچھلا حصہ)

عاصم بن عمرو التمیمی

طلایع (گشت کی فوج)

سود بن مالک

مجرد (بے قاعدہ فوج)

سلمان ربیعہ الباہلی

پیدل

جمال بن مالک الاسدی

شتر سوار

عبد اللہ بن ذی السمین

قاضی و خزانچی

عبد اللہ بن ربیعہ الباہلی

راید یعنی رسد وغیرہ کا بندوبست کرنے والے

سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مشہور صحابی ہیں۔ فارس کے رہنے والے تھے

مترجم

ہلال ہجری

منشی

زیاد بن ابی سفیان

طبیب

(افسوس ہے کہ طبری نے طبیبوں کے نام نہیں لکھے۔ صرف اسی قدر لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کے ساتھ طبیب بھیجے۔ )

امرائے اعشار میں ستر وہ صحابہ تھے جو غزوہ بدر میں شریک تھے ، تین سو وہ جو بیعت الرضوان میں حاضر تھے۔  اسی قدر وہ بزرگ جو فتح مکہ میں شریک تھے۔ سات سو ایسے تھے جو صحابہ نہ تھے لیکن صحابہ کی اولاد تھے۔

سعد شراف ہی میں تھے کہ دربار خلافت سے ایک اور فرمان آیا جس کا مضمون یہ تھا کہ شراف سے آگے بڑھ کر قادسیہ (کوفہ سے 35 میل پر ایک چھوٹا سا شہر ہے ) میں مقام کرو اور اس طرح مورچے جماؤ کہ سامنے عجم کی زمین اور پشت پر عرب کے پہاڑ ہوں، تاکہ فتح ہو تو جہاں تک چاہو بڑھتے جاؤ اور خدانخواستہ دوسری صورت پیش آئے تو ہٹ کر پہاڑوں کی پناہ میں آ سکو۔

قادسیہ نہایت شاداب، نہروں اور پلوں کی وجہ سے محفوظ مقام تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جاہلیت میں ان مقامات سے اکثر گزرتے تھے۔ اور اس موقع کی ہیئت اور کیفیت سے واقف تھے۔ چنانچہ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو فرمان بھیجا، اس میں قادسیہ کا موقع اور محل بھی مذکور تھا۔  تاہم چونکہ پرانا تجربہ تھا۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ قادسیہ پہنچ کر سر زمین کو پورا نقشہ لکھ بھیجو کیونکہ میں نے بعض ضروری باتیں اسی وجہ سے نہیں لکھیں کہ موقعہ اور مقام کے پورے حالات مجھ کو معلوم نہ تھے۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ نہایت تفصیل سے موقع جنگ کی حدود اور حالات لکھ کر بھیجے۔ دربار خلافت سے روانگی کی اجازت آئی۔ چنانچہ سعد شراف سے چل کر عذیب پہنچے۔ یہاں عجمیوں کا میگزین رہا کرتا تھا جو مفت ہاتھ آیا۔ قادسیہ پہنچ کر سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر طرف ہرکارے دوڑائے کہ غنیم کی خبریں لائیں۔ انہوں نے آ کر بیان کیا کہ رستم (پسر فرخ زاد) جو آرمینیہ کا رئیس ہے سپہ سالار مقرر ہوا ہے۔ اور مدائن سے چل کر ساباط میں ٹھہرا ہے۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی۔ وہاں سے جواب آیا کہ لڑائی سے پہلے لوگ سفیر بن کر جائیں اور ان کو اسلام کی رغبت دلائیں۔ سعد نے سرداران قبائل میں سے چودہ نامور اشخاص انتخاب کئے جو مختلف صفتوں کے لحاظ سے تمام عرب میں انتخاب تھے۔ عطارد بن حاجب، اشعث بن قیس، حارث بن حسان، عاصم بن عمر، عمرو بن معدی کرب، مغیرہ بن شعبہ، معنی بن حارثہ قد و قامت اور ظاہری رعب و داب کے لحاظ سے تمام عرب میں مشہور تھے۔ نعمان بن مقرن، اسر بن ابی رہم، حملہ بن جوتیہ، منظلہ الربیع التمیمی، فرات بن حیان العجل، عدی بن سہیل، مغیرہ بن زاراہ، عقل و تدبیر اور حزم و سیاست میں اپنا جواب نہیں رکتھے تھے۔

ساسانیوں کا پائے تخت قدیم زمانے میں اصطخر تھا۔ لیکن نوشیروان نے مدائن کو دار السلطنت قرار دیا تھا۔ اسی وقت سے وہی پایہ تخت چلا آتا تھا۔ یہ مقام سعد کی فرودگاہ یعنی قادسیہ سے 30 – 40 میل کے فاصلے پر تھا۔ سفراء گھوڑے اڑاتے ہوئے سیدھے مدائن پہنے۔ راہ میں جدھر سے گزر ہوتا تھا، تماشائیوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ یہاں تک کہ آستانہ سلطنت کے قریب پہنچ کر ٹھہرے۔ اگرچہ ان کی ظاہری صورت یہ بھی کہ گھوڑوں پر زین اور ہاتھوں میں ہتھیار تک نہ تھا۔ باہم بیباکی اور دلیری ان کے چہروں سے ٹپکتی تھی اور تماشائیوں پر اس کا اثر پڑتا تھا۔ گھوڑے جو سواری میں تھے رانوں سے نکلے جاتے تھے اور بار بار زمین پر ٹاپ مارتے تھے۔ چنانچہ ٹاپوں کی آواز یزدگرد کے کان تک پہنچی اور اس نے دریافت کیا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے سفراء آئے ہیں۔ یہ سن کر بڑی ساز و سامان سے دربار سجایا اور سفراء کو طلب کیا۔ یہ لوگ عربی جبے پہنے کاندھوں پر یمنی چادریں ڈالے ، ہاتھوں میں لوڑے لئے موزے چڑھائے دربار میں داخل ہوئے۔ پچھلے معرکوں نے تمام ایران میں عرب کی دھاک بٹھا دی تھی۔ یزد گرد نے سفیروں کو اس شان سے دیکھا تو اس پر ہیبت طاری ہو گئی۔

ایرانی عموماً ہر چیز سے فال لینے کے عادی تھے ، یزدگرد نے پوچھا کہ عربی میں چادر کو کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برد (فارسی کے معنی کے لحاظ سے ) کہاں ” جہاں برد” پھر کوڑے کی عربی پوچھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ ” سوط”  وہ سوخت سمجھا اور بولا کہ ” پارس راسوخقند” ان بدفالیوں  سے سارا دربار برہم ہوا جاتا تھا۔  لیکن شاہی آداب کے لحاظ سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ پھر سوال کیا کہ تم اس ملک میں کیوں آئے ہو؟ نعمان بن مقرن جو سرگروہ تھے جواب دینے کے لیے آگے بڑھے ، پہلے مختصر طور پر اسلام کے حالات بیان کئے پھر کہا کہ ہم تمام دنیا کے سامنے دو چیزیں پیش کرتے ہیں۔ جزیہ یا تلوار۔ یزدگرد نے کہا تم کو یاد نہیں کہ تمام دنیا میں تم سے زیادہ ذلیل اور بدبخت کوئی قوم نہ تھی، تم جب کبھی ہم سے سرکشی کرتے تھے تو سرحد کے زمینداروں کو حکم بھیج دیا جاتا تھا اور وہ تمہارا بل نکال دیتے تھے۔

اس پر سب نے سکوت کیا۔ لیکن مغیرہ بن زراہ ضبط نہ کر سکے۔ اٹھ کر کہا کہ ” یہ لوگ (اپنے رفیقوں کی طرف اشارہ کر کے ) رؤسائے عرب ہیں۔ علم وقار کی وجہ سے زیادہ یاوہ گوئی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے جو کچھ کہا یہی زیبا تھا۔ لیکن کہنے کے قابل باتیں رہ گئیں۔ انکو میں بیان کرتا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ ہم بدبخت اور گمراہ تھے۔ آپس میں کٹتے مرتے تھے۔ اپنی لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ لیکن خدائے تعالیٰ نے ہم پر ایک پیغمبر بھیجا جو حسب و نسب میں ہم سے ممتاز تھا۔ اول اول ہم نے اس کی مخالفت کی۔ وہ سچ کہتا تھا تو ہم جھٹلاتے تھے۔ وہ آگے بڑھتا تو ہم پیچھے ہٹتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کی باتوں نے دلوں میں اثر کیا۔ وہ جو کچھ کہتا تھا خدا کے حکم سے کہتا تھا اور جو کچھ کرتا تھا، خدا کے حکم سے کرتا تھا، اس نے ہم کو حکم دیا کہ اس مذہب کو تمام دنیا کے سامنے پیش کرو۔ جو لوگ اسلام لائیں وہ تمام حقوق میں تمہارے برابر ہیں، جن کو اسلام سے انکار ہو، اور جزیہ پر راضی ہوں وہ اسلام کی حمایت میں ہیں۔ جس کو دونوں باتوں سے انکار ہوا، اس کے لیے تلوار ہے۔ ” یزدگرد غصے سے بیتاب ہو گیا اور کہا کہ اگر قاصدوں کا قتل جائز ہوتا تو تم میں سے کوئی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ کہہ کر مٹی کا ٹوکرا منگوایا اور کہا کہ تم میں سب سے معزز کون ہے ؟ عاصم بن عمر نے بڑھ کر کہا ” میں “۔ ملازموں نے ٹوکرا ان کے سر پر رکھ دیا۔ وہ گھوڑا اڑاتے ہوئے سعد کے پاس پہنچے کہ ” فتح مبارک ہو۔ دشمن نے اپنی زمین خود ہم کو دے دی۔ “

اس واقعہ کے بعد کئی مہینے تک دونوں طرف سکوت رہا۔ رستم جو سلطنت فارس کی طرف سے اس مہم پر مامور تھا۔ ساباط میں لشکر لئے پڑا تھا۔ اور یزدگرد کی تاکید پر بھی لڑائی کو ٹالتا جاتا تھا۔ ادھر مسلمانوں کا یہ معمول تھا کہ آس پاس کے دیہات پر چڑھ جاتے تھے۔ اور رسد کے لئے مویشی وغیرہ لوٹ لاتے تھے۔ اس عرصہ میں بعض بعض رئیس ادھر سے ادھر آ گئے۔ ان میں جوشن ماہ بھی تھا جو سرحد کی اخبار نویسی پر مامور تھا۔ اس حالت نے طول کھینچا تو رعایا جوق در جوق یزدگرد کے پاس پہنچ کر فریادی ہوئی کہ اب ہماری حفاظت کی جائے ورنہ ہم اہل عرب کے مطیع ہوئے جاتے ہیں۔ چار و ناچار رستم کو مقابلے کے لئے بڑھنا پڑا۔ ساٹھ ہزار کی جمعیت کے ساتھ ساباط سے نکلا اور قادسیہ پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ لیکن فوج جن جن مقامات سے گزری ہر جگہ نہایت بے اعتدالیاں کیں۔ تمام افسر شراب پی کر بدمستیاں کرتے تھے اور لوگوں کے ناموس تک کا لحاظ نہیں رکھتے تھے۔ ان باتوں نے عام ملک میں یہ خیال پھیلا دیا کہ سلطنت عجم اب فنا ہوتی نظر آتی ہے۔

رستم کی فوجیں جس دن ساباط سے بڑھیں، سعد نے ہر طرف جاسوس پھیلا دیئے کہ دم دم کی خبریں بپہنچتی رہیں۔ فوج کا رنگ ڈھنگ، لشکر کشی کی ترتیب، اتارے کا رخ، ان باتوں کے دریافت کے لیے فوجی افسر متعین کئے۔ اس میں کبھی کبھی دشمن کا سامنا بھی ہو جاتا تھا۔ چنانچہ طلحہ ایک دفعہ رات کے وقت رستم کے لشکر میں لباس بدل کر گئے ، ایک جگہ بیش بہا گھوڑا تھان پر بندھا دیکھا۔ تلوار سے باگ ڈور کاٹ کر اپنے گھوڑے کی باگ ڈور سے اٹکا لی۔ اس عرصہ میں لوگ جاگ اٹھے اور ان کا تعاقب کیا۔ گھوڑے کا سوار ایک مشہور افسر تھا۔ اور ہزار سوار کے برابر مانا جاتا تھا۔ اس نے قریب پہنچ کر برچھی کا وار کیا۔ انہوں نے خالی دیا۔ وہ زمین پر گرا، انہوں نے جھک کر برچھی ماری کہ سینے کے پار ہو گئی۔ اس کے ساتھ دو سوار تھے۔ ان میں ایک ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔ اور دوسرے نے اس شرط پر امان طلب کی کہ میں قیدی بن کر ساتھ چلتا ہوں۔ اتنے میں فوج میں ہل چل پڑ گئی اور لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے لیکن طلحہ لڑتے بھڑتے صاف نکل آئے اور ساٹھ ہزار فوج دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ قیدی نے سعد کے سامنے اسلام قبول کیا۔ اور کہا کہ دونوں سوار جو طلحہ کے ہاتھ سے مارے گئے ، میرے ابن عم تھے۔ اور ہزار ہزار سوار کے برابر مانے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد قیدی کا نام مسلم رکھا گیا اور اس کی وجہ سے دشمن کی فوج کے بہت سے ایسے حالات معلوم ہوئے جو اور کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتے تھے ، وہ بعد کے تمام معرکوں میں شریک رہا اور ہر موقع پر ثابت قدمی اور جانبازی کے جوہر دکھائے۔ رستم چونکہ لڑنے سے جی چراتا تھا، ایک دفعہ اور صلح کی کوشش کی۔ سعد کے پاس پیغام بھیجا کہ تمہارا کوئی معتمد آدمی آئے تو صلح کے متعلق گفتگو کی جائے۔ سعد نے ربعی بن عامر کو اس خدمت پر مامور کیا۔ وہ عجیب و غریب ہیئت سے چلے۔ عرق گیر کی زرد نائی اور اسی کا ایک ٹکڑا سر سے لپیٹ لیا۔ کمر میں رسی کا پٹکا باندھا اور تلوار کے میان چیتھڑے لپیٹ لئے۔ اس ہیئت کذائی سے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے۔ ادھر ایرانیوں نے بڑے ساز و سامان سے دربار سجایا۔ دیبا کا فرش زرین، گاؤ تکئے ، حریر کے پردے ، صدر نشیں مرصع، ربعی فرش کے قریب آ کر گھوڑے سے اترے اور باگ ڈور کو گاؤ تکئے سے اٹکا دیا۔

درباری بے پروائی کی ادا سے اگرچہ کچھ نہ بولے۔ تاہم دستور کے موافق ہتھیار رکھوا لینا چاہا۔ انہوں نے کہا میں بلایا آیا ہوں۔ تم کو اس طرح میرا آنا منظور نہیں تو میں الٹا پھر جاتا ہوں۔ درباریوں نے رستم سے عرض کی اس نے اجازت دی۔ یہ نہایت بے پروائی کی ادا سے آہستہ آہستہ تخت کی طرف بڑھے۔ لیکن برچھی جس سے عصا کا کام لیا تھا، اس کی انی کو اس طرح فرش میں چبھوتے جاتے تھے کہ پرتکلف فرش اور قالین جو بچھے ہوئے تھے جابجا سے کٹ پھٹ کر بیکار ہو گئے۔ تخت کے قریب پہنچ کر زمین پر نیزہ مارا، جو فرش کو آرپار کر کے زمین میں گڑ گیا۔ رستم نے پوچھا کہ اس ملک میں کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ” اس لئے کہ مخلوق کی بجائے خالق کی عبادت کی جائے ” رستم نے کہا میں ارکان سلطنت سے مشورہ کر کے جواب دوں گا۔ درباری بار بار ربعی کے پاس آ کر ان کے ہتھیار  دیکھتے تھے اور کہتے تھے اسی سامان پر ایران کی فتح کا ارادہ ہے ؟ لیکن جب ربعی نے تلوار میان سے نکالی تو آنکھوں میں بجلی سی کوند گئی۔ اور جب اس کے کاٹ کی آزمائش کے لئے ڈھالیں پیش کی گئیں تو ربعی نے ان کے ٹکڑے اڑا دیئے۔ ربعی اس وقت چلے آئے لیکن نامہ و پیام کا سلسلہ جاری رہا۔

اخیر سفارت میں مغیرہ گئے۔ اس دن ایرانیوں نے بڑے ٹھاٹھ سے دربار جمایا۔ جس قدر ندیم اور افسر تھے تاج پہن کر کرسیوں پر بیٹھے خیمے میں دیباد سنجاب کا فرش بچھایا گیا۔ اور خدام اور منصب دار قرینے سے دو رویہ پرے جما کر کھڑے ہوئے۔ مغیرہ گھوڑے سے اتر کر سیدھے صدر نشیں کی طرف بڑھے اور رستم کے زانو سے زانوں ملا کر بیٹھ گئے۔ اس گستاخی پر تمام دربار برہم ہو گیا۔ یہاں تک کہ چوبداروں نے بازو پکڑ کر ان کو تخت سے اتار دیا۔ مغیرہ نے افسران دربار کی طرف خطاب کر کے کہا کہ ” میں خود نہیں آیا بلکہ تم نے بلایا تھا۔ اس لئے مہمان کے ساتھ یہ سلوک زیبا نہ تھا۔ تمہاری طرح ہم لوگوں میں یہ دستور نہیں کہ ایک شخص خدا بن بیٹھے اور تمام لوگ اس کے آگے بندہ ہو کر گردن جھکائیں۔ ” مترجم نے جس نام عبود تھا حیرہ کا باشندہ تھا، اس تقریر کا ترجمہ کیا تو سارا دربار متاثر ہوا۔ اور بعض لوگ بول اٹھے کہ ہماری غلطی تھی جو ایسی قوم کو ذلیل سمجھتے تھے۔ رستم بھی شرمندہ ہوا اور ندامت مٹانے کو کہا کہ ” یہ نوکروں کی غلطی تھی۔ میرا ایما یا حکم نہ تھا۔ ” پھر بے تکلفی کے طور پر مغیرہ کے ترکش سے تیر نکالے اور ہاتھ میں لے کر کہا کہ ” ان تکلوں سے کیا ہو گا؟” مغیرہ نے کہا کہ ” آگ کی لو گو چھوٹی ہے پھر بھی آگ ہے۔ ” رستم نے ان کی تلوار کا نیام دیکھ کر کہا ” کس قدر بوسیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” ہاں لیکن تلوار پر باڑھ ابھی رکھی گئی ہے۔ ”  اس نوک جھونک کے بعد معاملے کی بات شروع ہوئی۔ رستم نے سلطنت کی شان و شوکت کا ذکر کر کے اظہار احسان کے طور پر کہا کہ اب بھی واپس چلے جاؤ تو ہم کو کچھ ملال نہیں بلکہ کچھ انعام دلا دیا جائے گا۔ مغیرہ نے تلوار کے قبضے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ” اگر اسلام اور جزیہ منظور نہیں تو اس سے فیصلہ ہو گا۔ ” رستم غصہ سے بھڑک اٹھا اور کہا کہ آفتاب کی قسم کل تمام عرب کو برباد کروں گا۔ مغیرہ اٹھ کر چلے آئے اور صلح و آشتی کی تمام امیدوں کا خاتمہ ہو گیا۔

 

قادسیہ کی جنگ اور فتح

(قادسیہ عراق عرب کا مشہور شہر تھا اور مدائن سبعہ کے وسط میں تھا۔ اب ویران پڑا ہوا ہے۔ ہمارے نقشے میں اس کو شہر مدائن کے متصل سمجھنا چاہیے۔ )

محرم 14 ہجری (635 عیسوی)

رستم اب تک لڑائی کو برابر ٹالتا جاتا تھا لیکن مغیرہ کی گفتگو نے اس کو اس قدر غیرت دلائی کہ اسی وقت کمر بندی کا حکم دیا۔ نہر جو بیچ میں حائل تھی حکم دیا صبح ہوتے ہوتے پاٹ کر سڑک بنا دی جائے۔ صبح تک یہ کام انجام کو پہنچا۔ اور دوپہر سے پہلے فوج نہر کے اس پار آ گئی۔ خود سامان جنگ سے آراستہ ہوا۔ دسہری زرہیں پہنیں، سر پر خود رکھا۔ ہتھیار لگائے پھر اسپ خاصہ طلب کیا۔ اور سوار ہو کر جوش میں کہا کہ ” کل عرب کو چکنا چور کر دوں گا۔ ” کسی سپاہی نے کہا ” ہاں اگر خدا نے چاہا” بولا کہ ” خدا نے نہ چاہا تب بھی۔ “

فوج کو نہایت ترتیب سے آراستہ کیا۔ آگے پیچھے صفیں قائم کیں۔ قلب کے پیچھے ہاتھیوں کا قلعہ باندھا۔ ہودجوں اور عماریوں میں ہتھیار بند سپاہی بٹھائے۔ میمنہ و میسرہ کے پیچھے قلعہ کے طور پر ہاتھیوں کے پرے جمائے۔ خبر رسانی کے لیے موقع جنگ سے پایہ تخت تک کچھ کچھ فاصلے پر آدمی بیٹھا دیئے جو واقعہ پیش آتا تھا۔ موقع جنگ کا آدمی چلا کر کہتا تھا۔ اور درجہ بدرجہ مدائن تک خبر پہنچ جاتی تھی۔

قادسیہ میں ایک قدیم شاہی محل تھا جو عین میدان کے کنارے پر واقع تھا۔ سعد کو چونکہ عرق النساء کی شکایت تھی اور چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ اس لیے فوج کے ساتھ شریک نہ ہو سکے۔ بالاخانے پر میدا ن کی طرف رخ کر کے تکیہ کے سہارے سے بیٹھے اور خالد بن عرطفہ کو اپنے بجائے سپہ سالار مقرر کیا۔ تاہم فوج کو لڑاتے خود تھے۔ یعنی جس وقت جو حکم دینا مناسب ہوتا تھا پرچوں پر لکھوا کر اور گولیاں بنا کر خالد کی طرف پھینکتے جاتے تھے۔ اور خالد انہی ہدایتوں کے موافق موقع بہ موقع لڑائی کا اسلوب بدلتے جاتے تھے۔ تمدن کے ابتدائی زمانے میں فن جنگ کا اس قدر ترقی کرنا تعجب کے قابل اور عرب کی تیزی طبع اور لیاقت جنگ کی دلیل ہے۔

فوجیں آراستہ ہو چکیں تو عرب کے مشہور شعراء اور خطیب صفوں سے نکلے اور اپنی آتش بیانی سے تمام فوج میں آگ لگا دی۔ شعرا میں شماخ، حطیئہ، اوس بن مغراء عبدۃ بن الطیب، عمرو بن معدی کرب اور خطیبوں میں قیس بن ہبیرہ، غالب بن الہذیل الاسدی، بسر بن ابی رہم الجہنی، عاصم بن عمرو، ربیع معدی، ربعی بن عامر میدان میں کھڑے تقریریں کر رہے تھے اور فوج کا یہ حال تھا کہ جیسے ان پر کوئی جادو کر رہا ہے۔ ان تقریروں کے بعض جملے یاد رکھنے کے قابل ہیں۔

ابن الہذیل اسدی کے الفاظ یہ تھے :

یا معاشر سعد اجعلوا حصونکم السیف و کونوا علیھم کاسود الا جم و ادرعوا العجاج الا بصارو اذا کلت السیوف فارسلوا الجنادل فانھا یوذن لھا فیما لا یوذن للحدید۔

“خاندان سعد! تلواروں کو قلعہ بناؤ اور دشمنوں کے مقابلے میں شیر بن کر جاؤ۔ گرد کی زرہ پہن لو اور نگاہیں نیچی کر لو۔  جب تلواریں تھک جائیں تو تیروں کی باگ چھوڑ دو کیونکہ تیروں کو جہاں بار مل جاتا ہے تلواروں کو نہیں ملتا۔ “

اس کے ساتھ قاریوں نے میدان میں نکل کر نہایت خوش الحانی اور جوش سے سورۃ جہاد کی آیتیں پڑھنی شروع کیں۔ جس کی تاثیر سے دل ہل گئے۔ اور آنکھیں سرخ ہو گئیں۔

سعد نے قاعدے کے موافق تین نعرے مارے اور چوتھے پر لڑائی شروع ہوئی۔ سب سے پہلے ایک ایرانی قدر انداز دیبا کی قبا زیب بدن کئے ، زریں کمر بند لگائے ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنے میدان میں آیا۔ ادھر سے عمرو بن معدی کرب اس کے مقابلے کو نکلے۔ اس نے تیر کمان میں جوڑا اور ایسا تاک کر مارا کہ یہ بال بال بچ گئے۔ انہوں نے گھوڑے کو دابا اور قریب پہنچ کر کمر میں ہاتھ ڈال کر معلق اٹھا زمین پر دے پٹکا، اور تلوار سے گردن اڑا کر فوج کی طرف مخاطب ہوئے کہ یوں لڑا کرتے ہیں” لوگوں نے کہا “ہر شخص معدی کرب کیونکر ہو سکتا ہے۔ “

اس کے بعد اور بہادر دونوں طرف سے نکلے اور شجاعت کے جوہر دکھائے۔ پھر عام جنگ شروع ہوئی، ایرانیوں نے بجیلہ کے رسالہ پر جو سب میں ممتاز تھا، ہاتھیوں کو ریلا، عرب کے گھوڑوں نے یہ کالے پہاڑ کہاں دیکھے تھے۔ دفعتہً بدکے منتشر ہو گئے۔ پیدل فوج ثابت قدمی سے لڑی۔ لیکن ہاتھیوں کے ریلے میں ان کے پاؤں بھی اکھڑ جاتے تھے۔ سعد نے یہ ڈھنگ دیکھ کر فوراً قبیلہ اسد کو حکم بھیجا کہ بجیلہ کو سنبھالو۔ طلیحہ نے جو قبیلہ کے سردار اور مشہور بہادر تھے ، ساتھیوں سے کہا ” عزیزو! سعد نے کچھ سمجھ کر تم سے مدد مانگی ہے۔ تمام قبیلے نے جوش میں آ کر باگیں اٹھائیں اور ہاتھوں میں برچھیاں لے کر ہاتھیوں پر حملہ آور ہوئے۔ ان کی پامردی سے اگرچہ یہ کالی آندھی ذرا تھم گئی لیکن ایرانیوں نے بجیلہ کو چھوڑ کر سارا زور اس طرف دیا۔ سعد نے قبیلہ تمیم کو جو تیر اندازی اور نیزہ بازی میں مشہور تھے کہلا بھیجا کہ تم سے ہاتھیوں کی کچھ تدبیر نہیں ہو سکتی؟ یہ سن کر وہ دفعتہً بڑھے اور اس قدر تیر برسائے کہ فیل نشینوں کو گرا دیا۔ پھر قریب پہنچ کر تمام ہودے اور عماریوں الٹ دیں۔ شام تک یہ ہنگامہ رہا۔ جب بالکل تاریکی چھا گئی تو دونوں حریف میدان سے ہٹے۔ قادسیہ کا یہ پہلا معرکہ تھا اور عربی میں اس کو یوم الارماث کہتے ہیں۔

سعد جس وقت بالا خانہ پر بیٹھے فوج کر لڑا رہے تھے ان کی بیوی سلمٰی بھی ان کے برابر بیٹھی تھیں۔ ایرانیوں نے جب ہاتھیوں کو ریلا اور مسلمان پیچھے ہٹے تو سعد غصے کے مارے بیتاب ہوئے جاتے تھے۔ اور بار بار کروٹیں بدلتے تھے۔ سلمٰی یہ حالت دیکھ کر بے اختیار چلا اٹھیں کہ ” افسوس آج مثنی نہ ہوا۔ ” سعد نے اس کے منہ پر تھپڑ کھینچ کر مارا کہ ” مثنی ہوتا تو کیا کر لیتا۔ ” سلمٰی نے کہا ” سبحان اللہ بزدلی کے ساتھ غیرت بھی۔ ” یہ اس بات پر طعن تھا کہ سعد خود لڑائی میں شریک نہ تھے۔

اگلے دن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے میدان جنگ سے مقتولوں کی لاشیں اٹھوا کر دفن کرائیں اور جس قدر زخمی تھے ، مرہم پٹی کے لیے عورتوں کے حوالے کئے پھر فوج کو کمر بندی کا حکم دیا۔ لڑائی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی کہ شام کر طرف سے  غبار اٹھا۔ گرد پھٹی تو معلوم ہوا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام سے جو امدادی فوجیں بھیجی تھیں وہ آ پہنچیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس زمانے میں عراق پر حملے کی تیاریاں شروع کی تھیں اسی زمانے میں ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو شام کی مہم پر مامور تھے۔ لکھ بھیجا تھا کہ عراق کو جو فوج وہاں بھیج دی گئی تھی اس کو حکم دو کہ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج سے جا کر مل جائے۔ چنانچہ عین وقت پر یہ فوج پہنچی اور تائید غیبی سمجھی گئی۔ چھ ہزار سپاہی تھے۔ جن میں پانچ ہزار ربیعہ و مضر اور ہزار خاص حجاز کے تھے۔ ہاشم بن عتبہ سعد کے بھائی سپہ سالار تھے۔ اور ہراول قعتاع کی رکاب میں تھا۔ قعتاع نے پہنچتے ہی صف سے نکل کر پکارا کہ ایرانیوں میں کوئی بہادر ہو تو مقابلے کو آئے۔ ادھر سے بہمن نکلا۔ قعقاع جسر کا واقعہ یاد کر کے پکار اٹھے کہ ” لینا ابو عبیدہ کا قاتل جانے نہ پائے ” دونوں حریف تلوار لے کر مقابل ہوئے اور کچھ دیر کی رد و بدل کے بعد بہمن مارا گیا۔ دیر تک دونوں طرف کے بہادر تنہا تنہا میدان میں نکل کر شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے۔ سیتان کا شہزادہ براز، اعوان بن قطبہ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ بزر جمیر ہمدانی جو ایک مشہور بہادر تھا، قععاع سے لڑ کر قتل ہوا۔ غرض ہنگامہ ہونے سے پہلے ایرانی فوج نے اکثر اپنے نامور بہادر کھو دیئے۔ تاہم بڑے زور شور سے دونوں فوجیں حملہ آور ہوئیں۔ شام کی امدادی فوج کو قعقاع نے اس تدبیر سے روانہ کیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے دستے کر دیئے تھے۔ اور جب ایک دستہ میدان جنگ میں پہنچ جاتا تھا تو دوسرا ادھر سے نمودار ہوتا تھا۔ اس طرح تمام دن فوجوں کا تانتا بندھا رہا۔ اور ایرانیوں پر رعب چھاتا گیا۔ ہر دستہ اللہ اکبر کے نعرے مارتا ہوا آتا تھا قعقاع اس کے ساتھ ہو کر دشمن پر حملہ آور ہوتے تھے۔ ہاتھیوں کے لئے قعقاع نے یہ تدبیر کی کہ اونٹوں پر جھول ڈال کر ہاتھیوں کی طرح مہیب بنایا۔ یہ مصنوعی ہاتھی جس طرف رخ کرتے تھے ایرانیوں کے گھوڑے بدک کر سواروں کے قابو سے نکل جاتے تھے۔

عین ہنگامہ جنگ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاصد پہنچے جن کے ساتھ نہایت بیش قیمت عربی گھوڑے اور تلواریں تھیں۔ ان لوگوں نے فوج کے سامنے پکار کر کہا کہ امیر المومنین نے یہ انعام ان لوگوں کو بھیجا ہے جو اس کا حق ادا کر سکیں۔ چنانچہ قعقاع نے جمال بن مالک، ربیل بن عمرو و طیلحہ بن خویلد،  عاصم بن عمرو التمیمی کو تلواریں حوالہ کیں اور قبیلہ یربوع کے چار بہادروں کو گھوڑے عنایت کئے۔ ربیل نے فخر کے جوش میں آ کر فی البدیہہ یہ شعر پڑھا۔

لقد علم الاقوام انا احقھم

اذا حصلوا بالمرھفات البوالر

“سب لوگوں کو معلوم ہے کہ میں سب سے زیادہ مستحق ہوں، جس وقت لوگوں نے کاٹنے والی نازک تلواریں پائیں۔ “

جس وقت لڑائی کا ہنگامہ گرم تھا، ابو محجن ثقفی جو ایک مشہور بہادر شاعر تھے اور جن کو شراب پینے کے جرم میں سعد نے قید کر دیا تھا۔ قید خانے کے دریچے سے لڑائی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اور شجاعت کے جوش میں بے اختیار ہوتے جاتے تھے۔ آخر ضبط نہ کر سکے ، سلمٰی (سعد کی بیوی) کے پاس گئے کہ خدا کے لیے اس وقت مجھ کو چھوڑ دو۔ لڑائی سے جیتا بچا تو خود آ کر بیڑیاں پہن لوں گا۔ سلمٰی نے انکار کیا۔ یہ حسرت کے ساتھ واپس آئے اور بار بار پردرد لہجہ میں یہ اشعار پڑھتے تھے۔

کفی حزناً ان تردی الخیل بالقنا
و اترک مشدوداً علی و تالیا

” اس سے بڑھ کر کیا غم ہو گا کہ سوار نیزہ بازیاں کر رہے ہیں، اور میں زنجیروں میں بندھا ہوا ہوں۔ “

اذا قمت عنا فی الحدید و اغلفت
مصاریع من دونی لصم المنادیا

“جب کھڑا ہونا چاہتا ہوں تو زنجیر اٹھنے نہیں دیتی، اور دروازے اس طرح بند کر دیئے جاتے ہیں کہ پکارنے والا پکارتے پکارتے تھک جاتا ہے۔ “

ان اشعار نے سلمٰی کے دل پر یہ اثر کیا کہ خود آ کر بیڑیاں کاٹ دیں۔ انہوں نے فوراً اصطبل میں جا کر سعد کے گھوڑے پر جس کا نام بلقا تھا زین کسا اور میدان جنگ پہنچ کر بھالے کے ہاتھ نکالتے ہوئے ایک دفعہ میمنہ سے میسرہ تک کا چکر لگایا۔ پھر اس زور و شور سے حملہ کیا کہ جس طرف نکل گئے صف کی صف الٹ دی۔ تمام لشکر متحیر تھا کہ یہ کون بہادر ہے۔

سعد بھی حیران تھے اور دل میں کہتے تھے کہ حملہ کا انداز ابو محجن کا ہے۔ لیک وہ قید خانے میں قید ہے۔ شام ہوئی تو ابو محجن نے آ کر خود بیڑیاں پہن لیں۔ سلمٰی نے یہ تمام حالات سعد سے بیان کئے۔ سعد نے اسی وقت ان کو رہا کر دیا اور کہا ” خدا کی قسم مسلمانوں پر جو شخص یوں نثار ہو میں اس کو سزا نہیں دے سکتا۔ “

ابو محجن نے کہا ” بخدا میں بھی آج سے پھر کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگاؤں گا۔ (کتاب الخراج قاضی ابو یوسف )۔

خنساء جو عرب کی مشہور  شاعرہ تھی (خنساء کے واقعات نہایت دلچسپ اور عجیب و غریب ہیں۔ اس کا دیوان بیروت میں چھپ گیا ہے۔ اور اس کے مفصل حالات علامہ ابو الخرج اصفہانی نے کتاب الاثانی میں لکھے ہیں۔) اصناف شعر میں، مرثیہ گوئی میں اس کا کوئی نظیر نہیں گزرا۔ چنانچہ بازار عکاظ میں اس کے خیمے کے دروازے پر ایک علم نصب کیا جاتا تھا جس پر لکھا ہوتا تھا رثی العرب یعنی تمام عرب میں سب سے بڑھ کر مرثیہ گو۔ وہ اسلام بھی لائی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں حاضر ہوئی تھی)۔ اس معرکے میں شریک تھی اور اس کے چاروں بیٹھے بھی تھے۔ لڑائی جب شروع ہوئی تو اس نے بیٹوں کی طرف خطاب کیا اور کہا :

لم تئب بکم البلاد ولم تفعکم السنۃ ثم جئتم بامکم عجوز کبیرۃ فوضعنموھا بین ابدی احل فارس واللہ الکم لبنود جل واحد کما الکم بنو امراۃ واحدۃما خت اباکمولا لضحت بحالکم انطلقوا فاشھدو اول انفعال و اخرہ۔

    “پیارے بیٹو! تم اپنے ملک کو دوبھر نہ تھے ، نہ تم پر قحط پڑا تھا۔ باوجود اس کے تم اپنی کہن سال ماں کو یہاں ہائے اور فارس کے آگے ڈال دیا۔ خدا کی قسم جس طرح تم ایک ماں کی اولاد ہو، اسی طرح ایک باپ کے بھی ہو۔ میں نے تمہارے باپ سے بد دیانتی نہیں کی، نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا، تو جاؤ آخر تک لڑو۔ “

بیٹوں نے ایک ساتھ باگیں اٹھائیں اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ جب نگاہ سے اوجھل ہو گئے تو خنساء نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا ” خدایا میرے بیٹوں کو بچانا۔ “

اس دن مسلمان دو ہزار اور ایرانی دس ہزار مقتول و مجروع ہوئے۔ تاہم فتح و شکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ یہ معرکہ اغواث کے نام سے مشہور ہے۔

تیسرا معرکہ یوم العماس کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں قعقاع نے یہ تدبیر کی کہ رات کے وقت چند رسالوں  اور پیدل فوج کو حکم دیا کہ پڑاؤ سے دور شام کی طرف نکل جائیں۔ پو پھٹے سو سو سوار میدان جنگ کی طرف گھوڑے اڑاتے ہوئے آئیں۔ اور رسالے اسی طرح برابر آتے جائیں۔  چنانچہ صبح ہوتے ہوتے پہلا رسالہ پہنچا۔ تمام فوج نے اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔ اور غُل پڑ گیا کہ نئی امدادی فوجیں آ گئیں۔ ساتھ ہی حملہ ہوا۔ حسن اتفاق یہ کہ ہشام،  جن کو ابو عبیدہ نے شام سے مدد کے لئے بھیجا تھا، عین موقع پر سات سو سواروں کے ساتھ پہنچ گئے۔ یزد گرد کو دم دم کی خبریں پہنچتی تھیں اور وہ اور فوجیں بھیجتا جاتا تھا۔ ہشام نے فوج کی طرف خطاب کیا اور کہا تمہارے بھائیوں نے شام کو فتح کر لیا ہے اور فارس کی فتح کا جو خدا کی طرف سے وعدہ ہے وہ تمہارے ہاتھ سے پورا ہو گا۔ معمول کے موافق جنگ کا آغاز یوں ہوا کہ ایرانیوں کی فوج سے ایک پہلوان شیر کی طرح دھاڑتا ہوا میدان میں آیا۔

اس کا ڈیل ڈول دیکھ کر لوگ اس کے مقابلے سے جی چراتے تھے۔ لیکن عجیب اتفاق ہے وہ ایک کمزور سپاہی کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ ایرانیوں نے تجربہ اٹھا کر ہاتھیوں کے دائیں بائیں پیدل فوجیں قائم کر دیں تھیں۔ عمرو معدی کرب نے رفیقوں سے کہا ” میں مقابل ہاتھی پر حملہ کرتا ہوں، تم ساتھ رہنا، ورنہ عمرو معدی کرب مارا گیا تو پھر معدی کرب پیدا نہیں ہو گا۔ ” یہ کہہ کر تلوار میان سے گھسیٹ لی اور ہاتھی پر حملہ کیا۔ لیکن پیدل فوجیں جو دائیں بائیں تھیں دفعتہً ان پر ٹوٹ پڑیں اور اس قدر گر اٹھی کہ یہ نظر سے چھپ گئے۔ یہ دیکھ کر ان کی فوج حملہ آور ہوئی اور بڑے معرکے کے بعد دشمن پیچھے ہٹے۔ عمرو معدی کرب کا یہ حال تھا کہ تمام جسم خاک سے اٹا ہوا تھا۔ بدن پر جابجا برچھیوں کے زخم تھے۔ تاہم تلوار قبضے میں تھی۔ اور ہاتھ چلتا جاتا تھا۔ اسی حالت میں ایک ایرانی سوار برابر  سے نکلا۔ انہوں نے اس کے گھوڑے کی دم پکڑ لی۔ ایرانی نے بار بار مہمیز کیا لیکن گھوڑا جگہ سے ہل نہ سکا، آخر سوار اتر کر بھاگ نکلا۔ اور یہ اچھل کر گھوڑے کی پیٹھ پر جا بیٹھے۔

سعد نے یہ دیکھ کر کہ ہاتھی جس طرف رخ کرتے ہیں دل کا دل چھٹ جاتا ہے۔ ضخم و سلم کو وغیرہ جو پارسی تھے اور مسلمان ہو گئے تھے ، بلا کر پوچھا کہ اس بلائے سیاہ کا کیا علاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سونڈ اور آنکھیں بیکار کر دی جائیں۔ تمام غول میں دو ہاتھی نہایت مہیب اور کوہ پیکر گویا کل ہاتھیوں کے سردار تھے۔ ایک ارض اور دوسرا اجرت کے نام سے مشہور تھا۔ سعد نے قعقاع، عاصم، حمائل، زمیل کو بلا کر کہا یہ مہم تمہارے ہاتھ ہے۔ قعقاع نے پہلے کچھ سوار اور پیادے بھیج دیئے کہ ہاتھیوں کو نرغہ میں کر لیں۔ پھر خود برچھا ہاتھ میں لے کر پہلے سفید ہاتھی کی طرف بڑھے۔ عاصم بھی ساتھ تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ برچھے مارے کہ آنکھوں میں پیوست ہو گئے۔ ہاتھی جھرجھری لے کر پیچھے ہٹا۔ ساتھ ہی قعقاع کی تلوار پڑی اور سونڈ مستک سے الگ ہو گئی۔ ادھر ربیل و حمال نے اجرب پر حملہ کیا۔ وہ زخم کھا کر بھاگا تو تمام ہاتھی اس کے پیچھے ہو لئے اور دم کے دم میں یہ سیاہ بادل بالکل چھٹ گیا۔

اب بہادروں کو حوصلہ آزمائی کا موقع ملا اور اس زور کا رن پڑا کہ نعروں کی گرج سے زمین دہل پڑتی تھی۔ چنانچہ اسی مناسبت سے اس معرکہ کو لیلتہ المریر کہتے ہیں۔ ایرانیوں نے فوج نئے سرے سے ترتیب دی۔ قلب میں اور دائیں بائیں تیرہ تیرہ صفیں قائم کیں۔ مسلمانوں نے بھی تمام فوج کو سمیٹ کر یکجا کیا۔ اور آگے پیچھے تین پرے جمائے۔ سب سے آگے سواروں کا رسالہ ان کے بعد پیدل فونیں اور سب سے پیچھے تیر انداز۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا تھا کہ تیسری تکبیر پر حملہ کیا جاوے لیکن ایرانیوں نے جب تیر برسانے شروع کئے تو قعقاع سے ضبط نہ ہو سکا۔ اور اپنی رکاب کی فوج لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ فوجی اصولوں کے لحاظ سے یہ حرکت نافرمانی میں داخل تھی۔ تاہم لڑائی کا ڈھنگ اور قعقاع کا جوش دیکھ کر سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منہ بے اختیار نکلا ” اللھم اغفرہ وانصرہ” یعنی اے خدا قعقاع کو معاف کرنا اور اس کا مددگار رہنا۔ ” قعقاع کو دیکھ کر بنو اسد  اور بنو اسد کی دیکھا دیکھی نحع، بجیلہ، کندہ سب ٹوٹ پڑے۔ سعد ہر قبیلے کے حملے پر کہتے جاتے تھے کہ خدایا اس کو معاف کرنا اور یاور رہنا۔ اول اول سواروں کے رسالے نے حملہ کیا۔ لیکن ایرانی فوجیں جو دیوار کی طرح جمی کھڑی تھی۔ اس ثابت قدمی سے لڑیں کہ گھوڑے آگے نہ بڑھ سکے۔ یہ دیکھ کر سب گھوڑوں سے کود پڑے اور پیادہ حملہ آور ہوئے۔

    ایرانیوں کا ایک رسالہ سرتاپا لوہے میں غرق تھا۔ قبیلہ حمیعہ نے اس پر حملہ کیا۔ لیکن تلواریں روہوں پر سے اچٹ اچٹ کر رہ گئیں۔ سرداران قبیلہ نے للکارا۔ سب نے کہا زرہوں پر تلواریں کام نہیں دیتیں۔ اس نے غصے میں آ کر ایک ایرانی پر برچھے کا وار کیا کمر توڑ کر نکل گیا۔ یہ دیکھ کر اوروں کو بھی ہمت ہوئی اور اس بہادری سے لڑے کہ رسالہ کا رسالہ برباد ہو گیا۔

تمام رات ہنگامہ کارزار گرم رہا۔ لوگ لڑتے لڑتے تھک کر چور ہو گئے تھے۔ اور نیند کے خمار میں ہاتھ پاؤں بیکار ہوئے جاتے تھے۔ اس پر بھی جب فتح و شکست کا فیصلہ نہ ہوا تو قعقاع نے سرداران قبائل میں سے چند نامور بہادر انتخاب کئے اور سپہ سالار فوج (رستم) کی طرف رخ کیا۔ ساتھ ہی قیس ، اشعت، عمر معدی کرب،۔ ۔ ۔ ذی البروین نے جو اپنے اپنے قبیلے کے سردار تھے ، ساتھیوں کو للکارا کہ دیکھو! یہ لوگ خدا کی راہ میں تم سے آگے نکلنے نہ پائیں اور سرداروں نے بھی جو بہادری کے ساتھ زبان آور بھی تھے اپنے قبیلوں کے سامنے کھڑے ہو کر اس جوش سے تقریریں کیں کہ تمام لشکر میں ایک آگ لگ گئی۔ سوار گھوڑوں سے کود پڑے اور تیر و کمان پھینک کر تلواریں گھسیٹ لیں۔ اس جوش کے ساتھ تمام فوج سیلاب کی طرح بڑھی اور فیروزن و ہرمزان کو دباتے ہوئے رستم کے قریب پہنچ گئے۔ رستم تخت پر بیٹھا فوج کو لڑا رہا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر تخت سے کوڈ پڑا اور دیر تک مردانہ وار لڑتا رہا۔ جب زخموں سے بالکل چور ہو گیا تو بھاگ نکلا۔ بلال نامی ایک سپاہی نے تعاقب کیا۔ اتفاق سے ایک نہر سامنے آ گئی۔ رستم کود پڑا کہ تیر کر نکل جائے۔ ساتھ ہی بلال بھی کودے اور ٹانگیں پکڑ کر باہر کھینچ لائے۔ پھر تلوار سے کام تمام کر دیا۔

بلال نے لاش خچروں کے پاؤں ڈال دی۔ اور تخت پر چڑھ کر پکارے کہ ” رستم کا میں نے خاتمہ کر دیا (علامہ بلاذری نے لکھا ہے کہ رستم کے قاتل کا نام معلوم نہیں۔ لیکن عمرو معدی کرب، طلحہ بن خویلد، قرط ان رحماحان تینوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔ میں نے جو روایت لکھی ہے وہ الاخبار الطوال کی روایت ہے )۔ ایرانیوں نے دیکھا تو تخت سپہ سالار سے خالی تھا۔ تمام فوج میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے دور تک تعاقب کیا اور ہزاروں لاشیں میدان میں بچھا دیں۔

افسوس ہے کہ اس واقعہ کو ہمارے ملک الشعراء نے قومی جوش کے اثر سے بالکل غلط لکھا ہے۔

برآمد خروسے بکروار عد

زیک سوئے رستم زیکسوئی سعد

چوویدار رستم بہ خون تیرہ گشت

جواں مرد تازی بر چیرہ گشت

ہمارے شاعر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سعد اس واقعہ میں سرے سے شریک ہی نہ تھے۔

شکست کے بعد بھی چند نامور افسر جو ریاستوں کے مالک تھے میدان میں ثابت قدم رہے۔ ان میں شہریار،۔ ۔ ۔ البرید، فرخان اہوازی، خسرو شنوم ہمدانی نے مردانہ وار جان دی۔ لیکن ہرمزان اہواز ، قارن موقع پا کر بھاگ نکلے۔ ایرانیوں کے کشتوں کا تو شمار نہ تھا۔ مسلمان بھی کم و بیش چھ ہزار کام آئے۔ اس فتح میں چونکہ سعد خود شریک جنگ نہ تھے ، فوج کو ان کی طرف سے بدگمانی رہی۔ یہاں تک کہ ایک شاعر نے کہا :

و قاتلک حتی انزل اللہ نصرہ
و سعد باب القادسیۃ معصم

” میں برابر لڑا کیا یہاں تک کہ خدا نے اپنی مدد بھیجی، لیک سعد قادسیہ کے دروازے ہی سے لپٹے رہے۔ “

فابنا و قدامت نساء کثیرۃ
و نسوۃ سعد لیس فیھن ابم

” ہم واپس پھرے تو سینکڑوں عورتیں بیوہ ہو چکی تھیں، لیکن سعد کی بیوی بیوہ نہیں ہوئی۔ “

یہ اشعار اسی وقت بچے بچے کی زبان پر چڑھ گئے۔ یہاں تک کہ سعد نے تمام فوج کو جمع کر کے آبلوں کے زخم دکھائے اور اپنی معذوری ثابت کی۔

سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامہ فتح لکھا اور دونوں طرف کے مقتولوں کی تفصیل لکھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ حال تھا کہ جس دن سے قادسیہ کا معرکہ شروع ہوا تھا ہر روز آفتاب نکلتے مدینے سے نکل جاتے اور قاصد کی راہ دیکھتے۔ ایک دن معمول کے موافق نکلے۔ ادھر سے ایک شتر سوار آ رہا تھا۔ بڑھ کر پوچھا کہ کدھر سے آتے ہو۔ دو سعد کا قاصد تھا اور مژدہ فتح لے کر آیا تھا۔ جب معلوم ہوا کہ سعد کا قاصد ہے تو اس حالات پوچھنے شروع کئے۔ اس نے کہا کہ خدا نے مسلمانوں کو کامیاب کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رکاب کے برابر دوڑتے جاتے تھے اور حالات پوچھتے جاتے تھے۔ شتر سوار شہر میں داخل ہوا تو دیکھتا جو شخص آتا ہے ان کو “امیر المومنین کے لقب سے پکارتا ہے ، ڈر سے کانپ اٹھا۔ اور کہا کہ حضرت نے مجھ کو اپنا نام کیوں نہ بتایا کہ میں اس گستاخی کا مرتکب نہ ہوتا۔ ” فرمایا ” نہیں کچھ حرج نہیں۔ تم سلسلہ کلام کو نہ توڑو۔ چنانچہ اسی طرح اس کے رکاب کے ساتھ ساتھ گھر تک آئے۔ مدینے پہنچ کر مجمع عام میں فتح کی خوشخبری سنائی۔ اور ایک نہایت پُر اثر تقریر کی جس کا اخیر فقرہ یہ تھا۔ ” مسلمانوں! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو غلام بنانا چاہتا ہوں۔ میں خدا کا غلام ہوں۔ البتہ خلافت کا بار میرے سر پر رکھا گیا ہے۔ اگر میں اسی طرح تمہارا کام کروں کہ تم چین سے گھروں میں سوؤ تو میری سعادت ہے اور اگر یہ میری خواہش ہو کہ تم میرے دروازے پر حاضری دو تو میری بدبختی ہے۔ میں تو کو تعلیم دینا چاہتا ہوں لیکن باتوں سے نہیں عمل سے۔ “

قادسیہ کے معرکے میں جو عجم یا عرب مسلمانوں سے لڑتے تھے ان میں ایسے بھی تھے جو دل سے لڑنا نہیں چاہتے تھے ، بلکہ زبردستی فوج میں پکڑے آئے تھے۔ بہت سے لوگ گھر چھوڑ گئے تھے۔ فتح کے بعد یہ لوگ سعد کے پاس آئے اور امن کی درخواست کی۔ سعد نے دربار خلافت کو لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو بلا کر رائے لی۔ اور سب نے بالاتفاق منظور کیا۔ غرض تمام ملک کو امن دیا گیا۔ جو لوگ گھر چھوڑ کر نکل گئے تھے۔ واپس آ کر آباد ہوتے گئے۔ رعایا کے ساتھ یہ ارتباط بڑھا کہ اکثر بزرگوں نے ان میں رشتہ داریاں کر لیں۔

ایرانیوں نے قادسیہ سے بھاگ کر بابل میں مقام کیا اور چونکہ یہ ایک محفوظ و مستحکم مقام تھا، اطمینان کے ساتھ جنگ کے تمام سامان مہیا کر لیے تھے اور فیرزان کو لشکر قرار دیا تھا۔ سعد نے ان کے استیصال کے لیے 15 ہجری میں بابل کا ارادہ کیا اور چند سردار آگے روانہ کئے کہ راستہ صاف کرتے جائیں۔ چنانچہ مقام برس میں بصیری سدراہ ہوا اور میدان جنگ میں زخم کھا کر بابل کی طرف بھاگ گیا۔ برس کے رئیس نے جس کا نام اسطام تھا، صلح کر لی اور بابل تک موقع بہ موقع پل تیار کرا دیئے۔ کہ اسلامی فوجیں بے تکلف گزر جائیں۔ بابل میں اگرچہ عجم کے بڑے بڑے سردار خیز جان، ہرمزان، مہران، مہرجان وغیرہ جمع تھے۔ لیکن پہلے ہی حملے میں بھاگ نکلے۔ سعد نے خود بابل میں مقام کیا اور زہرہ کی افسری میں فوجیں آگے روانہ کیں۔ عجمی فوجیں بابل سے بھاگ کر کوفی میں ٹھہری تھیں اور شہریار جو رئیس زادہ تھا ان کا سپہ سالار تھا زہرہ کوفی سے جب گزرے تو شہر یار آگے بڑھ کر مقابل ہوا اور میدان جنگ میں آ کر پکارا کہ جو بہادر تمام لشکر میں انتخاب ہو مقابلے کو آئے۔ زہرہ نے کہا میں نے خود تیرے مقابلے کا ارادہ کیا تھا، لیکن جب تیرا یہ دعویٰ ہے تو کوئی غلام تیرے مقابلے کو آ جائے گا۔ یہ کہہ کر ناہل کو جو قبیلہ تمیم کا غلام تھا اشارہ کیا۔ اس نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ شہریار روپو کا سا تن و توش رکھتا تھا۔ ناہل کو کمزور دیکھ کر نیزہ ہاتھ سے پھینک گردن میں ہاتھ ڈال کر زور سے کھینچا اور زمین پر گرا کر سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اتفاق سے شہریار کا انگوٹھا ناہل کے منہ میں آ گیا۔ ناہل نے اس زور سے کاٹا کہ شہریار تلملا گیا۔ ناہل موقع پا کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا اور تلوار سے پیٹ چاک کر دیا۔ شہریار نہایت عمدہ لباس اور اسلحہ سے آراستہ تھا۔ ناہل نے زرہ وغیرہ اس کے بدن سے اتار کر سعد کے آگے لا کر رکھ دیں۔ سعد نے عبرت کے لیے حکم دیا، ناہل وہی لباس اور اسلحہ سجا کر آئے۔ چنانچہ شہریار کے زرق برق لباس اور اسلحہ سے آراستہ ہو کر جب مجمع عام میں آیا تو لوگوںکی آنکھوں میں زمانے کی نیرنگیوں کی تصویر پھر گئی۔

کوثی ایک تاریخی مقام تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود نے یہیں قید میں رکھا تھا۔ چنانچہ قید خانے کی جگہ اب تک محفوظ تھی۔ سعد اس کی زیارت کو گئے۔ اور درود پڑھ کر آیت پڑھی ” تلک الایام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بین الناس”۔ کوثی سے آگے پائے تخت کے قریب ببرہ شیر ایک مقام تھا۔ یہاں ایک شاہی رسالہ رہتا تھا۔ جو ہر روز ایک بار قسم کھا کر کہتا تھا کہ ” جب تک ہم ہیں سلطنت فارس میں کبھی زوال نہیں آ سکتا۔ ” یہاں ایک شیر پلا ہوا تھا جو کسریٰ سے بہت ہلا ہوا تھا۔ اور اسی لیے اس کو ببرۃ شیر کہتے تھے۔ سعد کا لشکر قریب پہنچا تو وہ تڑپ کر نکلا۔ لیکن ہاشم نے جو ہراول کے افسر تھے اس صفائی سے تلوار ماری کہ وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ سعد نے اس بہادری پر ان کی پیشانی چوم لی۔

آگے بڑھ کر سعد نے ببرۃ شہر کا محاصرہ کیا۔ اور فوج نے ادھر ادھر پھیل کر ہزاروں آدمی گرفتار کر لئے۔ شیرزاد نے جو ساباط کا رئیس تھا، سعد سے کہا یہ یہ معمولی کاشتکار ہیں۔ ان کے قید کرنے سے کیا حاصل۔ چنانچہ سعد نے ان کے نام دفتر میں درج کر لیے اور چھوڑ دیا۔ آس پاس کے تمام رئیسوں نے جزیہ قبول کر لیا۔ لیکن شہر پر قبصہ نہ ہو سکا۔ دو مہینے تک برابر محاصرہ رہا۔ ایرانی کبھی کبھی قلعہ سے نکل کر معرکہ آرا ہوتے تھے۔ ایک دن بڑے جوش و خروش سے سب نے مرنے پر کمریں باندھ لیں اور تیر برساتے ہوئے آ نکلے۔ مسلمانوں نے برابر کا جواب دیا۔ زہرہ جو ایک مشہور افسر تھے اور معرکوں میں سب سے آگے رہتے تھے ، ان کی زرہ کی کڑیاں کہیں کہیں سے ٹوٹ گئیں تھیں۔ لوگوں نے کہا کہ اس زرہ کو بدل کر نئی پہن لیجیئے۔ بولے کہ میں ایسا خوش قسمت کہاں کہ دشمن کے تیر سب کو چھوڑ کر میری ہی طرف آئیں۔ اتفاق کہ پہلا تیر انہی کو آ کر لگا۔ لوگوں نے نکالنا چاہا تو انہوں نے منع کیا کہ جب تک یہ بدن میں ہے اسی وقت تک زندہ بھی ہوں۔ چنانچہ اسی حالت میں حملہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور شربراز کو جو ایک نامی افسر تھا، تلوار سے مارا۔ تھوڑی دیر لڑ کر ایرانی بھاگ نکلے اور شہر والوں نے صلح کا پھریرا اڑا دیا۔

ببرۃ شیر اور مدائن میں صرف دجلہ حائل تھا۔ سعد سیرۃ شیر سے بڑھے تو آگے دجلہ تھا۔ ایرانیوں نے پہلے سے جہاں جہاں پل بنے تھے توڑ کر بیکار کر دیئے تھے۔ سعد دجلہ کے کنارے پہنچے۔ نہ پل تھا نہ کشتی، فوج سے مخاطب ہو کر کہا ” برادران اسلام! دشمن نے ہر طرف سے مجبور ہر کر دریا کے دامن میں پناہ لی ہے۔ یہ مہم بھی سر کر لو تو پھر مطلع صاف ہے۔ ” یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ ان کو دیکھ کر اوروں نے بھی ہمت کی۔ اور دفعتہً سب نے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے۔ دریا اگرچہ نہایت زخار اور مواج تھا، لیکن ہمت اور جوش نے طبیعتوں میں یہ استقلال پیدا کر دیا کہ موجیں برابر گھوڑوں سے آ آ کر ٹکراتی تھیں اور یہ رکاب ملا کر آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ یمین و یسار کی جو ترتیب تھی اس میں بھی فرق نہ آیا۔ دوسرے کنارے پر ایرانی یہ حیرت انگیز تماشہ دیکھ رہے تھے۔ جب فوج کنارے کے قریب آ گئی تو ان کو خیال ہوا کہ یہ آدمی نہیں جن ہیں۔ چنانچہ (تاریخ طبری کے بعینہ یہیں الفاظ ہیں)  ” دیواں آمدند، دیواں آمدند” کہتے ہوئے بھاگے۔ تاہم سپہ سالار خرزاد تھوڑی سی فوج کے ساتھ جما رہا اور گھاٹ پر تیر اندازوں کے دستے معین کر دیئے۔ اور ایک گروہ دریا میں اتر کر سد راہ ہوا۔ لیکن مسلمان سیلاب کی طرح بڑھتے چلے گئے اور تیر اندازوں کو خس و خاشاک کی طرح مٹاتے پار نکل آئے۔ یزدگرد نے حرم اور خاندان شاہی کو پہلے ہی حلوان روانہ کر دیا تھا۔ یہ خبر سن کر خود بھی شہر چھوڑ کر نکل گیا۔ سعد مداین میں داخل ہوئے تو ہر طرف سناٹا تھا۔ نہایت عبرت ہوئی اور بے اختیار یہ آیتیں زبان سے نکلیں۔

” کم تر کوا من جنت و عیون و زروع و مقام کریم و نع،ۃ کانوا فیھا فکھین کذلک و اورثھا قوما الحرین۔ “

ایوان کسریٰ میں تخت شاہی کے بجائے منبر نصب ہوا۔ چنانچہ جمعہ کی نماز اسی میں ادا کی گئی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عراق میں ادا کیا گیا۔ ہمارے فقہاء کو تعجب ہو گا کہ سعد نے باوجود یہ کہ اکابر صحابہ میں سے تھے اور برسوں جناب رسالت مآب کی صحبت میں رہے تھے۔ عالمگیر و محمود کی تقلید نہیں کہ بلکہ ایوان میں جس قدر مجسم تصویریں تھیں سب برقرار رہنے دیں۔ (علامہ طبری نے جو بڑے محدث بھی تھے تصریح کے ساتھ اس واقعہ کو لکھا ہے )۔

دو تین دن ٹھہر کر سعد نے حکم دیا کہ دیوانات شاہی کا خزانہ اور نادرات لا کر یکجا کئے جائیں۔ کیانی سلسلے سے لے کر نوشیرواں کے عہد تک کی ہزاروں یادگاریں تھیں۔ خاقان چین، راجہ داہر، قیصر روم، نعمان بن منذر، سیاؤش، میر ام چوبیں کی زرہیں اور تلواریں تھیں۔ کسریٰ ہرمز اور کیقباد کے خنبر تھے۔ نوشیروان کا تاج زرنگار اور ملبوس شاہی تھا۔ سونے کا ایک گھوڑا تھا جس پر چاندی کا زین کسا ہوا تھا، اور سینے پر یاقوت اور زمرد سے جڑے ہوئے تھے۔ چاندنی کی ایک اونٹنی تھی جس پر سونے کی پالان تھی اور مہار میں بیش قیمت یاقوت پروئے ہوئے تھے۔ ناقہ سوار سر سے پاؤں تک جواہرات سے مرصع تھا۔ سب سے عجیب و غریب ایک فرش تھا، جس کو ایرانی بہار کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ فرش اس غرض سے تیار کیا گیا تھا کہ جب بہار کا موسم نکل جاتا تھا تو اس پر بیٹھ کر شراب پیتے تھے۔ اس رعایت سے اس میں بہار کے تمام سامان مہیا کئے تھے۔ بیچ میں سبزی کا چمن تھا۔ چاروں طرف جدولیں تھیں۔ ہر قسم کے درخت اور درختوں میں شگوفے اور پھول پھل  تھے۔ طرہ یہ کہ جو کچھ تھا زر و جواہر کا تھا۔ یعنی سونے کی زمین، زمرد کا سبزہ، پکھراج کی جدولیں، سونے چاندی کے درخت، حریر کے پتے ، جواہرات کے پھل تھے۔

یہ تمام سامان فوج کی عام غارتگری میں ہاتھ آیا تھا۔ لیکن فوجی ایسے راست باز اور دیانتدار تھے کہ جس نے جو چیز پائی تھی بجنسہ لا کر افسر کے پاس حاضر کر دی۔ چنانچہ جب سب سامان لا کر سجایا گیا اور دور دور تک میدان جگمگا اٹھا تو خود سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حیرت ہوئی۔ بار بار تعجب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن لوگوں نے ان نادرات کو ہاتھ نہیں لگایا، بے شبہ انتہاء کے دیانتدار ہیں۔

مال غنیمت حسب قاعدہ تقسیم ہو کر پانچواں حصہ دربار خلافت میں بھیجا گیا۔ فرش اور قدیم یادگاریں بجنسہ بھیجی گئیں کہ اہل عرب ایرانیوں کے جاہ و جلال اور اسلام کی فتح و اقبال کا تماشا دیکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے جب یہ سامان چنے گئے تو ان کو بھی فوج کی دیانت اور استغناء پر حیرت ہوئی۔

محلم نام کا مدینہ میں ایک شخص تھا جو نہایت موزوں قامت اور خوبصورت تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ نوشیروان کے ملبوسات اس کو لا کر پہنائے جائیں۔ یہ ملبوسات مختلف حالتوں کے تھے۔ سواری کا جدا، دربار کا جدا، جشن کا جدا، تہنیت کا جدا، چنانچہ باری باری تمام ملبوسات محلم کو پہنائے گئے۔ جب ملبوس خاص اور تاج زرنگار پہنا تو تماشائیوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور دیر تک لوگ حیرت سے تکتے رہے۔ فرش کی نسبت لوگوں کی رائے تھی کہ تقسیم نہ کیا جائے۔ خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی منشاء تھا لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصرار سے اس بہار پر بھی خزاں آئی اور دولت نوشیروانی کے مرقع کے پرزے اڑ گئے۔

یورپ کے موجودہ مذاق کے موافق یہ ایک وحشیانہ حرکت تھی لیکن ہر زمانے کا مذاق جدا ہے۔ وہ مقدس زمانہ جس میں زخارف دنیوی کی عزت نہیں کی جاتی تھی۔ دنیاوی یادگاروں کی کیا پرواہ کر سکتا تھا۔

جلولاء 16 ہجری (637) عیسوی

(جلولا بغداد کے سواد میں ایک شہر ہے جا بسبب چھوٹے ہونے کے نقشے میں مندرج نہیں ہے۔ بغداد سے خراسان جاتے وقت راہ میں پڑتا ہے )

یہ معرکہ فتوحات عراق کا خاتمہ تھا۔ مدائن کی فتح کے بعد ایرانیوں نے جلولاء میں جنگ کی تیاریاں شروع کیں۔ اور ایک بڑی فوج جمع کر لی۔ خرزاد نے جو رستم کا بھائی اور سر لشکر تھا۔ نہایت تدبیر سے کام لیا۔ شہر کے گرد خندق تیار کرائی اور راستوں اور گزرگاہوں پر گوکھرو  (ایک کانٹا جو سہ گوشہ ہوتا ہے (پنجابی) بھکڑا، لوہے کے بنے ہوئے کانٹے جو دشمن کی راہ میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ فیروز اللغات (انوار الحق قاسمی) بچھا دیئے۔ سعد کو یہ خبر پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا۔ وہاں سے جواب آیا کہ ہاشم بن عتبہ بارہ ہزار فوج لے کر اس مہم پر جائیں اور مقدمۃ الجیش پر قعقاع، میمنہ پر مشعر بن مالک، میسرہ پر عمرو بن مالک، ساقہ پر عمرو بن مرہ مقرر ہوں۔ ہاشم مدائن سے روانہ ہو کر چوتھے روز جلولاء پہنچے اور شہر کا محاصرہ کیا۔ مہینوں محاصرہ رہا۔ ایرانی وقتاً فوقتاً قلعہ سے نکل کر حملہ آور ہوتے تھے ، اس طرح اسی (80) معرکے ہوئے لیکن ایرانیوں نے ہمیشہ شکست کھائی۔ تاہم چونکہ شہر میں ہر طرح کا ذخیرہ تھا اور لاکھوں کی جمعیت تھی، بیدل نہیں ہوتے تھے اور ایک دن بڑے زور شور سے نکلے۔ مسلمانوں نے بھی جم کر مقابلہ کیا۔ اتفاق یہ کہ دفعتاً اس زور کی آندھی چلی کہ زمین آسمان میں اندھیرا ہو گیا۔ ایرانی مجبور ہو کر پیچھے ہٹے لیکن گرد و غبار کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ہزاروں آدمی خندق میں گر کر مر گئے۔ ایرانیوں نے یہ دیکھ کر جا بجا خندق کو پاٹ کر راستہ بنایا۔ مسلمانوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا اور حملہ کی تیاریاں کیں۔ ایرانیوں کو بھی دم دم کی خبریں پہنچتی تھیں۔ اسی وقت مسلمانوں کی آمد کے رخ گوکھرو بچھوا دیئے اور فوج کو ساز و سامان سے درست کر کے قلعہ کے دروازے پر جما دیا۔ دونوں حریف اس طرح دل توڑ کر لڑے کہ لیلتہ الہریر کے سوا کبھی نہیں لڑے تھے۔ اول تیروں کا مینہ برسا، ترکش خالی ہو گئے تو بہادروں نے نیزے سنبھال لئے۔ یہاں تک کہ نیزے بھی ٹوٹ ٹوٹ کر ڈھیر ہو گئے۔ تو تیغ و خنجر کا معرکہ شروع ہوا۔ قعقاع نہایت دلیری سے لڑ رہے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ قلعہ کی پھاٹک تک پہنچ گئے۔ لیکن سپہ سالار فوج یعنی ہاشم پیچھے رہ گئے تھے۔ اور فوج کا بڑا حصہ انہیں کی رکاب میں تھا۔ قعقاع نے نقیبوں سے کہلوا دیا کہ سپہ سالار قلعہ کے دروازے تک پہنچ گیا۔ فوج نے قعقاع کو ہاشم سمجھا اور دفعتہً ٹوٹ کر گری۔ ایرانی گھبرا کر ادھر ادھر بھاگے لیکن جس طرف جاتے تھے گوکھرو بچھے ہوئے تھے۔ مسلمانوں نے بے دریغ قتل کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ مورخ طبری کی روایت کے موافق لاکھ آدمی جان سے مارے گئے اور تین کروڑ غنیمت ہاتھ آئی۔

سعد نے مژدہ فتح کے ساتھ پانچواں حصہ مدینہ منورہ بھیجا۔ زیاد نے جو مژدہ فتح لے کر گئے تھے ، نہایت فصاحت کے ساتھ جنگ کے حالات بیان کئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان واقعات کو اسی طرح مجمع میں بیان کر سکتے ہو؟ زیاد نے کہا میں کسی سے مرعوب ہوتا تو آپ سے ہوتا، چنانچہ مجمع عام ہوا اور انہوں نے اس فصاھت اور بلاغت سے تمام واقعات بیان کئے کہ معرکہ کی تصویر کھینچ دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بول اٹھے کہ خطیب اس کو کہتے ہیں۔ انہوں برجستہ کہا :

ان جندنا الطلقونا
بالفعال لساننا

اس کے بعد زیاد نے غنیمت کا ذخیرہ حاضر کیا۔ لیکن اس وقت شام ہو چکی تھی۔ اسی لیے تقسیم ملتوی رہی اور صحن مسجد میں ان کا ڈھیر لگا دیا گیا۔ عبد الرحمٰن بن عوف اور عبد اللہ بن ارقم نے رات بھر پہرہ دیا۔ صبح کو مجمع عام میں چادر ہٹائی گئی۔ درہم و دینار کے علاوہ انبار کے انبار جواہرات تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ساختہ رو پڑے۔ لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ یہ رونے کا کیا محل ہے ؟ فرمایا کہ جہاں دولت کا قدم آتا ہے رشک و حسد بھی ساتھ آتا ہے۔

یزدگرد  کو جلولاء کی شکست کی خبر پہنچی تو حلوان چھوڑ کر رے کو روانہ ہوا اور خسرو شنوم کو جو ایک معزز افسر تھا چند رسالوں کے ساتھ حلوان کی حفاظت کے لیے چھوڑتا گیا۔ سعد خود جلولاء میں ٹھہرے اور قعقاع کو حلوان کی طرف روانہ کیا۔ قعقاع قصر شیریں (حلوان سے تین میل پر ہے ) کے قریب پہنچے تھے کہ خسرو شنوم خود آگے بڑھ کر مقابل ہوا۔ لیکن شکست کھا کر بھاگ نکلا۔ قعقاع نے حلوان پہنچ کر مقام کیا۔ اور ہر طرف امن کی منادی کرا دی۔ اطراف کے رئیس آ آ کر جزیہ قبول کرتے جاتے تھے اور اسلام کی حمایت میں آتے جاتے تھے۔ یہ فتح عراق کی فتوحات کا خاتمہ تھی۔ کیونکہ عراق کی حد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔

فتوحات شام

سلسلہ واقعات کے لحاظ سے ہم اس موقع پر شام کی لشکر کشی کے ابتدائی حالات بھی نہایت اجمال کے ساتھ لکھتے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آغاز 13 ہجری (634 عیسوی) میں شام پر کئی طرف سے لشکر کشی کی۔ ابو عبیدہ کو حمص پر، یزید بن ابی سفیان کو دمشق پر، شرجیل کو اردن پر، عمرو بن العاص کو فلسطین پر مامور  کیا۔ فوجوں کی مجموعی تعداد 4000 تھی، عرب کی سرحد سے نکل کر ان افسروں کو ہر قدم پر رومیوں کے بڑے بڑے جتھے ملے جو پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار تھے ، ان کے علاوہ قیصر نے تمام ملک سے فوجیں جمع کر کے الگ الگ افسروں کے مقابلے پر بھیجیں۔ یہ دیکھ کر افسران اسلام نے اس پر اتفاق کیا کہ کل فوجیں یکجا ہو جائیں۔ اس کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ اور فوجیں مدد کو روانہ کی جائیں، چنانچہ خالد بن ولید جو عراق کی مہم پر مامور تھے عراق سے چل کر راہ میں چھوٹی چھوتی لڑائیاں لڑتے اور فتح حاصل کرتے دمشق پہنچے اور اس کو صدر مقام قرار دے کر وہاں مقام کیا۔ قیصر نے ایک بہت بڑی فوج مقابلے کے لیے روانہ کی جس نے اجنادین پہنچ کر جنگ کی تیاریاں شروع کیں۔ خالد اور ابو عبیدہ خود پیش قدمی کر کے اجنادین پر بڑھے اور افسروں کو لکھ کر بھیجا کہ وہیں آ کر مل جائیں۔ چنانچہ شرجیل، یزید، عمرو بن العاص وقت مقرر پر اجنادین پہنچ گئے۔ خالد نے بڑھ کر حملہ کیا اور بہت بڑے معرکے کے بعد جس میں تین ہزار مسلمان مارے گئے۔ فتح کامل حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ حسب روایت ابن اسحاق 28 جمادی الاول 13 ہجری (634 عیسوی) میں واقع ہوا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر دمشق کا رخ کیا۔ اور دمشق پہنچ کر ہر طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ اگرچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں شروع ہوا، چونکہ فتح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں حاصل ہوئی، اس لئے ہم اس معرکہ کی حال تفصیل سے لکھتے ہیں۔

فتح دمشق

یہ شہر شام کا ایک بڑا صدر مقام تھا اور چونکہ جاہلیت میں اہل عرب تجارت کے تعلق سے اکثر وہاں آیا جایا کرتے تھے اس کی عظمت کا شہرہ تمام عرب میں تھا۔ ان وجوہ سے خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے اہتمام سے محاصرہ کے سامان کئے۔ شہر پناہ کے بڑے بڑے دروازوں پر ان افسروں کو مقرر کیا، جو شام کے صوبوں کی فتح پر مامور ہو کر آئے تھے۔ چنانچہ عمرو بن العاص باب توما پر، شرجیل باب الفرادیس پر، ابو عبیدہ باب الجلیہ پر متعین ہوئے۔ اور خود خالد نے پانچ ہزار فوج ساتھ لے کر باب الشرق کے قریب ڈیرے ڈالے۔ محاصرہ کی سختی دیکھ کر عیسائی ہمت ہارتے جاتے تھے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ انکے جاسوس جو دریافت حال کے لئے مسلمانوں کی فوج میں آتے جاتے تھے۔ آ کر دیکھتے تھے کہ تمام فوج میں ایک جوش کا عالم ہے۔ ہر شخص پر ایک نشہ سا چھایا ہوا ہے۔ ہر ہر فرد میں دلیری، ثابت قدمی، راستبازی، عزم اور استقلال پایا جاتا ہے۔ تاہم ان کو یہ سہارا تھا کہ ہرقل سر پر موجود ہے اور حمص سے امدادی فوجیں چل چکی ہیں۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے۔

عیسائیوں کو یہ بھی خیال تھا کہ اہل عرب ان ممالک کی سردی کو برداشت نہیں سکتے ، اس لئے موسم سرما تک یہ بادل آپ سے آپ چھٹ جائے گا۔ لیکن ان کو دونوں امیدیں بیکار گئیں۔ مسلمانوں کی سرگرمی جاڑوں کی شدت میں بھی کم نہ ہوئی۔ ادھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذوالکاع کو کچھ فوج دے کر دمشق سے ایک منزل کے فاصلے پر متعین کر دیا تھا کہ ادھر سے مدد نہ آنے پائے۔ چنانچہ ہرقل نے حمص سے جو فوجیں بھیجی تھیں وہیں روک لی گئیں۔ دمشق والوں کو اب بالکل یاس ہو گئی۔ اسی اثناء میں اتفاق سے ایک واقعہ پیش آیا جو مسلمانوں کے حق میں ئائید غیبی کا کام دے گیا۔ یعنی بطریق دمشق کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔ جس کی تقریب میں تمام شہر نے خوشی کے جلسے کئے اور کثرت سے شرابیں پی کر شام سے پڑ کر سو رہے۔ خالد راتوں کو سوتے کم تھے اور محصورین کی ذرا ذرا سی بات کی خبر رکھتے تھے۔ اس سے عمدہ موقع کہاں ہاتھ آ سکتا تھا۔ اسی وقت اٹھے اور چند بہادر افسروں کو ساتھ لیا۔ شہر پناہ کے نیچے خندق پانی سے لبریز تھی۔ مشک کے سہارے پار اترے اور کمند کے ذریعے سے دیوار پر چڑھ گئے اور جا کر رسی کی سیڑھی کمند سے اٹکا کر نیچے لٹکا دی۔ اور اس ترکیب سے تھوڑی دیر میں بہت سے جانثار (یہ طبری کی روایت ہے۔  بلاذری کا بیان ہے کہ خالد کو عیسائیوں کے جشن کی خبر خود ایک عیسائی نے دی تھی اور سیڑھی بھی عیسائی لائے تھے ) فصیل پر پہنچ گئے۔ خالد نے اتر کر پہلے دربانوں کو تہ تیغ کیا۔ پھر قفل توڑ کر دروازے کھول دیئے۔ ادھر فوج پہلے سے تیار کھڑی تھی۔ دروازے کھلنے ساتھ سیلاب کی طرح گھس آئی اور پہرہ کی فوج کو تہ تیغ کر دیا۔ عیسائیوں نے یہ رنگ دیکھ کر شہر پناہ کے تمام دروازے کھول دیئے اور ابو عبیدہ سے ملتجی ہوئے کہ ہم کو خالد سے بچائیے۔ مقسلاط میں جو ٹھٹھیروں کا بازار تھا۔ ابو عبیدہ اور خالد کا سامنا ہوا۔ خالد نے شہر کا جو حصہ فتح کر لیا تھا۔ اگرچہ لڑ کر فتح کیا تھا۔ لیکن ابو عبیدہ نے چونکہ صلح منظور کر لی تھی۔ مفتوحہ حصے میں بھی صلح کی شرطیں تسلیم کر گئیں۔ یعنی نہ غنیمت کی اجازت دی گئی نہ کوئی شخص لونڈی غلام بنایا گیا۔ یہ مبارک فتح جو تمام بلاد شامیہ کی فتح کا دیباچہ تھی رجب 14 ہجری (635 عیسوی) میں ہوئی۔

 

فحل ذوقعدہ 14 ہجری (635 عیسوی)

دمشق کی شکست نے رومیوں کو سخت برہم کر دیا اور وہ ہر طرف سے جمع ہر کو بڑے زور اور قوت کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلے کے لئے آمادہ ہوئے۔ دمشق کی فتح کے بعد چونکہ مسلمانوں نے اردن کا رخ کیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اسی صوبے کے ایک مشہور شہر وسان میں فوجیں جمع کرنی شروع کیں۔ شہنشاہ ہرقل نے دمشق کی امداد کے لئے جو فوجیں بھیجی تھیں اور دمشق تک نہ پہنچ سکی تھیں، وہ بھی اس میں آ کر شامل ہو گئیں۔ اس طرح تیس چالیس ہزار کا مجمع جمع ہو گیا۔ جس کا سپہ سالار سکار نام کا ایک رومی افسر تھا۔

موقعہ جنگ سمجھنے کے لئے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ شام کا ملک چھ ضلعوں میں منقسم ہے جن سے دمشق، حمص، اردن، فلسطین مشہور اضلاع ہیں۔ اردن کا صدر مقام طبریہ ہے جو  دمشق سے چار منزل ہے۔ طبریہ کے مشرقی جانب بارہ میل کی لمبی ایک جھیل ہے جس کے قریب چند میل پر ایک چھوٹا سا شہر جس کا پرانا نام سلا اور نیا یعنی عربی نام فحل ہے۔ یہ لڑائی اسی شہر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مقام اب بالکل ویران ہے۔ تاہم اس کے کچھ کچھ آثار اب بھی سمندر کی سطح سے چھ سو فٹ بلندی پر محسوس ہوتے ہیں۔ ہیسان طبریہ کی جنوبی طرف 18 میل پر واقع ہے۔

غرض رومی فوجیں جس طرح ہیسان میں جمع ہوئیں، اور مسلمانوں نے ان کے سامنے فحل پر پڑاؤ ڈالا۔ رومیوں نے اس ڈر سے کہ مسلمان دفعتہً نہ آ پڑیں، آس پاس جس قدر نہریں تھیں سب کے بند توڑ دیئے۔ اور فحل سے ہیسان تک تمام عالم آب ہو گیا۔ کیچڑ اور پانی کی وجہ سے تمام راستے رک گئے لیکن اسلام کا سیلاب کب رک سکتا تھا۔ مسلمانوں کا استقلال دیکھ کر عیسائی صلح پر آمادہ ہوئے اور ابو عبیدہ کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی شخص سفیر بن کر آئے۔ ابو عبیدہ نے معاذ بن جبل کو بھیجا۔ معاذ رومیوں کے لشکر میں پہنچے تو دیکھا کہ خیمے میں دیبائے زریں کا فرش بچھا ہے وہیں ٹھہر گئے۔ ایک عیسائی نے آ کر کہا کہ گھوڑا میں تھام لیتا ہوں آپ دربار میں جا کر بیٹھئے۔ معاذ کی بزرگی اور تقدس کا عام چرچا تھا۔ اور عیسائی تک اس سے واقف تھے۔ اس لئے وہ واقعی ان کی عزت کرنی چاہتے تھے اور ان کا باہر کھڑے رہنا ان کو گراں گزرتا تھا۔ معاذ نے کہا کہ میں اس فرش پر جو غریبوں کا حق چھین کر تیار ہوا ہے بیٹھنا نہیں چاہتا۔ یہ کہہ کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عیسائیوں نے افسوس کیا اور کہا کہ ہم تمہاری عزت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن تم خود کو اپنی عزت کا خیال نہیں تو مجبوری ہے۔ معاذ کو غصہ آیا۔ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا کہ جس کو تم عزت سمجھتے ہو مجھ کو اس کی پرواہ نہیں۔ اگر زمین پر بیٹھنا غلاموں کا شیوہ ہے تو مجھ سے بڑھ کر کون خدا کا غلام ہو سکتا ہے ؟ رومی ان کی بے پروائی اور آزادی پر حیرت زدہ تھے ، یہاں تک ایک شخص نے پوچھا کہ مسلمانوں میں تم سے بھی کوئی بڑھ کر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ” معاذ اللہ یہی بہت ہے کہ میں سب سے کم ترہوں۔ ” رومی چپ ہو گئے۔ معاذ نے کچھ دیر انتظار کر کے مترجم سے کہا کہ ” ان سے کہہ دو کہ اگر تم کو مجھ سے کچھ نہیں کہنا ہے تو میں واپس جاتا ہوں۔ ” رومیوں نے کہا، ہم کو یہ پوچھنا کہ تم اس طرف کس غرض سے آئے ہو۔ ابی سینا کا ملک تم سے قریب ہے ، فارس کا بادشاہ مر چکا ہے اور سلطنت ایک عورت کے ہاتھ میں ہے۔ ان کو چھوڑ کر تم نے ہماری طرف کیو رخ کیا؟ حالانکہ ہمارا بادشاہ سب سے بڑا بادشاہ ہے اور تعداد میں ہم آسمان کے ستاروں اور زمین کے ذروں کے برابر  ہیں۔ معاذ نے کہا کہ سب سے پہلے ہماری یہ درخواست ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ ہمارے کعبہ کی طرف نماز پڑھو، شراب پینا چھوڑ دو۔ سور کا گوشت نہ کھاؤ۔ اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تمہارے بھائی ہیں۔ اگر اسلام لانا منظور نہیں تو جزیہ دو۔ اس سے بھی انکار ہو تو آگے تلوار ہے۔ اگر تم آسمان کے ستاروں کے برابر ہو تو ہم کو قلت اور کثرت کی پرواہ نہیں۔ ہمارے خدا نے کہا کہ ” کم من فئۃِ قلیلۃِ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللہ ” تم کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال کا اختیار ہے لیکن ہم نے جس کو اپنا بادشاہ بنا رکھا ہے وہ کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اگر وہ زنا کرے تو اس کو درے لگائے جائیں۔ چوری کرے تو ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں، وہ پردے میں نہیں بیٹھتا، اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا، مال و دولت میں اس کو ہم پر ترجیح نہیں۔ ” رومیوں نے کہا ” اچھا ہم تم کو بلقاء کا ضلع اوراردن کا وہ حصہ جو تمہاری زمین سے متصل ہے دیتے ہیں۔ تم یہ ملک چھوڑ کر فارس جاؤ۔ معاذ نے انکار کیا اور اٹھ کر چلے آئے۔ رومیوں نے براہ راست ابو عبیدہ سے گفتگو کرنی چاہی۔ چنانچہ اس غرض سے ایک خاص قافلہ بھیجا۔ جس وقت وہ پہنچا ابو عبیدہ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہاتھ میں تیر تھے جن کو الٹ پلٹ کر رہے تھے۔ قاصد نے خیال کیا تھا کہ سپہ سالار بڑا جاہ و حشم رکھتا ہو گا۔ اور یہی اس کی شناخت کا ذریعہ ہو گا۔ لیکن وہ جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا سب ایک رنگ میں ڈوبے نظر آتے تھے۔ آخر گھبرا کر پوچھا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے ابو عبیدہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہ حیران رہ گیا اور تعجب سے ان کی طرف مخاطب ہو کر کہا کیا درحقیقت تم ہی سردار ہو؟

ابو عبیدہ نے کہا! ” ہاں ”  قاصد نے کہا، ہم تمہاری فوج کو فی کس دو دو اشرفیاں دیں گے ، تم یہاں سے چلے جاؤ۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا۔ قاصد برہم ہو کر اتھا۔ ابو عبیدہ نے اس کے تیور دیکھ کر فوج کو کمر بندی کا حکم دیا اور تمام حالات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ بھیجے (فتوح الشام ازدی میں ہے کہ یہ خط ایک شامی لے کر گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ترغیب سے مسلمان ہو گیا )۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب مناسب لکھا اور ” حوصلہ دلایا کہ ثابت قدم رہو۔ خدا تمہارا یاور اور مدد گار ہے۔ “

ابو عبیدہ نے اسی دن کمر بندی کا حکم دے دیا تھا۔ لیکن رومی مقابلے میں نہ آئے۔ اگلے دن تنہا خالد میدان میں گئے۔ صرف سوارون کا رسالہ رکاب میں تھا۔ رومیوں نے بھی تیاری کی اور فوج کے تین حصے کر کے باری باری میدان میں بھیجے۔ پہلا دستہ خالد ان کی طرف باگیں اٹھائے چلا آتا تھا کہ خالد کے اشارے سے قیس بن ببیرہ نے صف سے نکل کر ان کا اگا روکا اور سخت کشت و خون ہوا۔ یہ معرکہ ابھی سر نہیں ہوا تھا کہ دوسری فوج نکلی۔ خالد نے سبرۃ بن مسروق کو اشارہ کیا۔ وہ اپنی رکاب کی فوج کو لے کر مقابل ہوئے ، تیسرا لشکر بڑے ساز و سامان سے نکلا۔ ایک مشہور سردار اس کا سپہ سالار تھا۔ اور بڑی تدبیر سے فوج کو بڑھاتا آتا تھا۔ قریب پہنچ کر خود ٹھہر گیا۔ اور ایک افسر کو تھوڑی سی فوج کے ساتھ خالد کے مقابلہ پر بھیجا۔ خالد نے یہ حملہ بھی نہایت استقلال سے سنبھالا۔ آخر سپہ سالار نے خود حملہ کیا اور پہلی دونوں فوجیں بھی آ کر مل گئیں، دیر تک معرکہ رہا۔ مسلمانوں کی ثابت قدمی دیکھ کر رومیوں نے زیادہ لڑنا بیکار سمجھا اور الٹا واپس جانا چاہا۔ خالد نے ساتھیوں کو للکارا کہ رومی اپنا زور صرف کر چکے ہیں۔ اب ہماری باری ہے۔ اس صدا کے ساتھ مسلمان دفعتہً ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو برابر دباتے چلے گئے۔

عیسائی مدد کے انتظار میں لڑائی ٹالتے جاتے تھے۔ خالد ان کی یہ چال سمجھ گئے اور ابو عبیدہ سے کہا کہ رومی ہم سے مرعوب ہو چکے ہیں۔ حملے کا یہی وقت ہے۔ چنانچہ اسی وقت نقیب فوج میں جا کر پکار آئے کہ کل حملہ ہو گا۔ فوج ساز و سامان سے تیار رہے۔ رات کے پچھلے پہر ابو عبیدہ بستر خواب سے اٹھے اور فوج کی ترتیب شروع کی۔ معاذ بن جبل کو میمنہ پر مقرر کیا، ہاشم بن عتبہ کو میسرہ کی افسری دی۔ پیدل فوج پر سعید بن زید متعین ہوئے۔ سوار خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں دیئے گئے۔ فوج آراستہ ہو چکی تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سرے سے اس سرے تک کا ایک چکر لگایا۔ ایک ایک علم کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تھے اور کہتے تھے۔

عباد اللہ استرحوا من اللہ النصر بالصبر فان اللہ مع الصبرین۔

“یعنی خدا سے مدد چاہتے ہو تو ثابت قدم رہو کیونکہ خدا ثابت قدموں کے ساتھ رہتا ہے۔ “

رومیوں نے جو تقریباً 50 ہزار تھے آگے پیچھے پانچ صفیں قائم کیں جن کی ترتیب یہ تھی کہ پہلی صف میں ہر ہر سوار کے دائیں بائیں دو دو قدر انداز، میمنہ اور میسرہ پر سواروں کے رسالے ، پیچھے پیادہ فوجیں، اس ترتیب سے نقارہ دمامہ بجاتے مسلمانوں کی طرف بڑھے۔ خالد چونکہ ہراول پر تھے۔ پہلے انہی سے مقابلہ ہوا۔ رومی قدر اندازوں نے تیروں کا اس قدر مینہ برسایا کہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادھر سے پہلو دے کر میمنہ کی طرف جھکے کیونکہ اس میں سوار ہی سوار تھے ، قدر انداز نہ تھے۔ رومیوں کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ میمنہ کا رسالہ فوج سے الگ ہو کر خالد پر حملہ آور ہوا۔ خالد آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ رسالہ فوج سے دور نکل آیا۔ خالد نے موقع پا کر اس زور سے حملہ کیا کہ صفیں کی صفیں الٹ دیں۔ گیارہ بڑے بڑے افسر ان کے ہاتھ سے مارے گئے۔ ادھر قیس بن ببیرہ نے میسرہ پر حملہ کر کے دوسرا بازو بھی کمزور کر دیا۔ تاہم قلب کی فوج تیر اندازوں کی وجہ سے محفوظ تھی۔ ہاشم بن عتبہ نے جو میسرہ کے سردار تھے علم ہلا کر کہا ” خدا کی قسم جب تک قلب میں پہنچ کر نہ گاڑوں گا، پھرکر نہ آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر گھوڑے سے کود پڑے۔ ہاتھ میں سپر لے کر لڑتے بھڑتے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ تیر و خدنگ سے گزر کر تیغ و شمشیر کی نوبت آئی۔ کامل گھنٹہ بھر لڑائی رہی۔ اور تمام میدان خون سے رنگین ہو گیا۔ آخر رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور نہایت بدحواسی سے بھاگے۔ ابو عبیدہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامۂ فتح لکھا اور پوچھا کہ مفتوحین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ (واقعہ محل کی تفصیل فتوح شام ازدی سے لی گئی ہے۔ طبری وغیرہ نے نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے اور واقعہ کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے )۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں لکھا کہ ” رعایاؤی قرار دی جائے اور زمین بدستور زمینداروں کے قبضے میں چھوڑ دی جائے۔ “

اس معرکے کے بعد ضلع اردن کے تمام شہر اور مقامات نہایت آسانی سے فتح ہو گئے۔ اور ہر جگہ شرائط صلح میں یہ لکھ دیا گیا کہ مفتوحین کی جان، مال، زمین، مکانات، گرجے ، عبادت گاہیں سب محفوظ رہیں گے۔ صرف مسجدوں کی تعمیر کے لئے کس قدر زمین لی جائے گی۔

حمص 14 ہجری (635 عیسوی)

شام کے اضلاع میں سے یہ ایک بڑا ضلع اور قدیم شہر ہے۔ انگریزی میں اکوامیشا کہتے ہیں۔ قدیم زمانے میں اس کی شہرت زیادہ اس وجہ سے ہوئی کہ یہاں آفتاب کے نام پر ایک بڑا ہیکل تھا جس کے تیرتھ کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے اور اس کی پجاری ہونا بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی تھی۔ دمشق اور اردن کے بعد تین بڑے بڑے شہر رہ گئے تھے جن کا مفتوح ہونا شام کا مفتوح ہونا تھا۔ بیت المقدس، حمص اور انطاکیہ، جہاں خود ہرقل مقیم تھا۔ حمص ان دونوں کی بہ نسبت زیادہ قریب اور جمعیت و سامان میں دونوں سے کم تھا۔ اس لئے لشکر اسلام نے اول اسی کا ارادہ کیا۔ راہ میں بعلبک پڑتا تھا وہ خفیف سی لڑائی کے بعد فتح ہو گیا۔ حمص کے قریب رومیوں نے خود بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا۔ چنانچہ فوج کثیر حمص سے نکل کر جوسیہ میں مسلمانوں کے مقابل ہوئی لیکن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلے ہی حملے میں ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ خالد نے مبرہ بن مسروق کو تھوڑی سی فوج دے کر حمص کو روانہ کیا۔ راہ میں رومیوں کی ٹوٹی پھوٹی فوجوں سے جو ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں مٹھ بھیڑ ہوئی اور مسلمان کامیاب رہے۔

اس معرکے میں شرجیل حمیری نے اکیلے سات سو سواروں کو قتل کیا اور فوج سے الگ ہو کر جریدہ حمص کی طرف بڑھے۔ شہر کے قریب رومیوں کے ایک رسالہ نے ان کو تنہا دیکھ کر حملہ کیا۔ انہوں نے بڑی ثابت قدمی سے جنگ کی۔ یہاں تک کہ جب دس گیارہ شخص ان کے ہاتھ سے مارے گئے تو رومی بھاگ گئے اور ایک گرجا میں جو دیر مسحل کے نام سے مشہور تھا جا کر پناہ لی۔ ساتھ ہی یہ بھی پہنچے۔ گرجا میں ایک جماعت کثیر موجود تھی۔ یہ چاروں طرف سے گھر گئے اور ڈھیلوں اور پتھروں کی بوچھاڑ میں زخمی ہو کر شہادت حاصل کی۔ مبرۃ کے بعد خالد نے اور ابو عبیدہ نے بھی حمص کا رخ کیا۔ اور محاصرہ کے سامان پھیلا دیئے۔ چونکہ نہایت شدت کی سردی تھی اور رومیوں کو یقین تھا کہ مسلمان کھلے میدان میں دیر تک نہ لڑ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہرقل کا قاصد آ چکا تھا کہ بہت جلد امدادی فوج تھیجی جاتی ہے۔ چنانچہ اس حکم کے موافق جزیرہ سے ایک جمعیت عظیم روانہ ہوئی۔ لیکن سعد بن ابی وقاص نے جو عراق کی مہم پر مامور تھے ، یہ خبر سن کر کچھ فوجیں بھیج دیں۔ جس نے ان کو وہیں روک لیا اور آگے بڑھنے نہ دیا۔ (کاکل ابن الاثیر)۔ حمص والوں نے ہر طرف سے مایوس ہو کر صلح کی درخواست کی۔ ابو عبیدہ نے عبادہ بن صامت کو وہاں چھوڑا اور خود حماۃ (یہ ایک قدیم شہر حمص اور قعسرین کے درمیان واقع ہے ) کی طرف روانہ ہو گئے۔ حماۃ والوں نے ان کے پہنچنے کے ساتھ صلح کی درخواست کی اور جزیہ دینا منظور کیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر شیرز اور شیرز سے معرۃ العمان پہنچے اور ان مقامات کے لوگوں نے خود اطاعت قبول کر لی۔ ان سے فارغ ہو کر لاذقیہ کا رخ کیا۔ یہ ایک نہایت قدیم شہر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عہد میں اس کو اماثنا کہتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے یہاں سے کچھ فاصلہ پر مقام کیا۔ اور اس کی مضبوطی اور استواری دیکھ کر ایک نئی تدبیر اختیار کی۔ یعنی میدان میں بہت سے غار کھدوائے۔ یہ غار اس تدبیر اور احتیاط سے تیار ہوئے کہ دشمنوں کو خبر تک نہ ہونے پائی۔ ایک دن فوج کو کوچ کا حکم دیا۔ اور محاصرہ چھوڑ کر حمص کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر والوں نے جو مدت کی قلعہ بندی سے تنگ آ گئے تھے اور ان کا تمام کاروبار بند تھا۔ اس کو تائید غیبی خیال کیا۔ اور شہر پناہ کا دروازہ کھول کر کاروبار میں مصروف ہوئے۔ مسلمان اسی رات کو واپس آ کر غاروں میں چھپ رہے تھے۔ صبح کے وقت کمین گاہوں سے نکل کر دفعتہً حملہ کیا اور دم بھر میں شہر فتح ہو گیا۔ حمص کی فتح کے بعد ابو عبیدہ نے خاص ہرقل کے پائے تخت کا ارادہ کیا اور کچھ فوجیں اس طرف بھیج بھی دیں۔ لیکن دربار خلافت سے حکم پہنچا کہ اس سال اور آگے بڑھنے کا ارادہ نہ کیا جائے۔ چنانچہ اس ارشاد کے موافق فوجیں واپس بلا لی گئیں۔ اور بڑے بڑے شہروں میں افسر اور نائب بھیج دیئے گئے کہ وہاں کسی طرح کی ابتری نہ ہونے پائے۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ہزار فوج کے ساتھ دمشق کو گئے۔ عمرو بن العاص نے اردن میں مقام کیا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود حمص میں اقامت کی۔

 

یرموک 5 رجب 15 ہجری (636 عیسوی)

رومی جو شکست کھا کھا کر دمشق و حمص وغیرہ سے نکلے تھے۔ انطاکیہ پہنچے۔ ہرقل سے فریاد کی کہ عرب نے تمام شام کو پامالکر دیا۔ ہرقل نے ان میں سے چند ہوشیار اور معزز آدمیوں کو دربار میں طلب کیا اور کہا کہ ” عرب تم سے زور میں جمعیت میں، ساز و سامان میں کم ہیں پھر تم ان کے مقابلے میں کیوں نہیں ٹھہر سکتے۔ ” اس پر سب نے سر جھکا لیا۔ اور کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔ لیکن ایک تجربہ کار بڈھے نے عرض کی کہ ” عرب کے اخلاق ہمارے اخلاق سے اچھے ہیں۔ وہ رات کو عبادت کرتے ہیں، دن کو روزے رکھتے ہیں، کسی پر ظلم نہیں کرتے۔ آپس میں ایک  سے ایک برابری کے ساتھ ملتا ہے۔ ہمارا یہ حال ہے کہ شراب پیتے ہیں، بد کاریاں کرتے ہیں، اقرار کی پابندی نہیں کرتے ، اوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے کام میں جوش اور استقلال پایا جاتا ہے۔ اور ہمارا جو کام ہوتا ہے ہمت اور استقلال سے خال ہوتا ہے۔ قیصر درحقیقت شام سے نکل جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔ لیکن ہر شہر اور ہر ضلع سے جوق در جوق عیسائی فریادی چلے آتے تھے۔ قیصر کو سخت غیرت آئی اور نہایت جوش کے ساتھ آمادہ ہوا کہ شاہنشاہی کا پورا زور عرب کے مقابلے میں صرف کر دیا جائے۔ روم، قسطنطنیہ، جزیرہ، آرمینیہ ہر جگہ احکام بھیجے کہ تمام فوجیں پائے تخت انطاکیہ میں ایک تاریخ معین تک حاضر ہو جائیں۔ تمام اضلاع کے افسروں کو لکھ بھیجا کہ جس قدر آدمی جہاں سے مہیا ہو سکیں روانہ کئے جائیں۔ ان احکام کا پہنچنا تھا کہ فوجوں کا ایک طوفان امنڈ آیا۔ انطاکیہ کے چاروں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی فوجوں کا ٹڈی دل پھیلا ہوا تھا۔

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مقامات فتح کئے تھے۔ وہاں کے امراء اور رئیس ان کے عدل و انصاف کے اس قدر گرویدہ ہو گئے تھے کہ باوجود مخالف مذہب کے خود اپنی طرف سے دشمن کی خبر لانے کے لیے جاسوس مقرر کر رکھے تھے۔ چنانچہ ان کے ذریعے سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام واقعات کی اطلاع ہوئی۔ انہوں نے تمام افسروں کو جمع کیا۔ اور کھڑے ہو کر ایک پر اثر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں! خدا نے تم کو بار بار جانچا اور تم اس کی جانچ پر پورے اترے۔ چنانچہ اس کے صلہ میں خدا نے ہمیشہ تم کو منصور رکھا۔ اب تمہارا دشمن اس ساز و سامان سے تمہارے مقابلہ کے لیے چلا ہے کہ زمین کانپ اٹھی ہے۔ اب بتاؤ کیا صلاح ہے ؟ یزید بن ابی سفیان (معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی) کھڑے ہوئے اور کہا کہ ” میری رائے ہے کہ عورتوں اور بچوں کو شہر میں رہنے دیں۔ اور ہم خود شہر کے باہر لشکر آرا ہوں۔ اس کے ساتھ خالد اور عمرو بن العاص کو خط لکھا جائے کہ دمشق اور فلسطین سے چل کر مدد کو آئیں۔ ” شرجیل بن حسنہ نے کہا کہ اس موقع پر ہر شخص کو آزادانہ رائے دینی چاہیے۔ یزید نے جو رائے دی بلا شبہ خیر خواہی سے دی ہے لیکن میں اس کا مخالف ہوں۔ شہر والے تمام عیسائی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ تعصب سے ہمارے اہل و عیال کو پکڑ کر قیصر کے حوالے کر دیں۔ یا خود مار ڈالیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ اس کی تدبیر یہ ہے کہ ہم عیسائیوں کو شہر سے نکال دیں۔ شرجیل نے اٹھ کر کہا اے امیر! تجھ کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں۔ ہم نے ان عیسائیوں کو اس شرط پر امن دیا ہے کہ وہ شہر میں اطمینان سے رہیں۔ اس لئے نقض عہد کیونکر ہو سکتا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے اپنی غلطی تسلیم کی لیکن یہ بحث طے نہیں ہوئی کہ آخر کیا کیا جائے۔ عام حاضرین نے رائے دی کہ حمص میں ٹھہر کر امدادی فوج کا انتظار کیا جائے۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ اتنا وقت کہاں ہے ؟ آخر یہ رائے ٹھہری کہ حمص کو چھوڑ کر دمشق روانہ ہوں۔ وہاں خالد موجود ہیں اور عرب کی سرحد قریب ہے۔ یہ ارادہ مصمم ہر چکا تو حضرت ابو عبیدہ نے حبیب بن مسلمہ کو جو افسر خزانہ تھے بلا کر کہا کہ عیسائیوں سے جو جزیہ یا خراج لیا جاتا ہے اس وقت ہماری حالت ایسی نازک ہے کہ ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان لیے جو کچھ ان سے وصول ہوا ہے۔ سب ان کو واپس دے دو۔ اور ان سے کہہ دو کہ ہم جو تمہارے ساتھ جو تعلق تھا اب بھی ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت تمہاری حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے اس لیے جزیہ جو حفاظت کا معاوضہ ہے واپس کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کئی لاکھ کی رقم جو وصول ہوئی تھی کل واپس کر دی گئی۔ عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو واپس لائے۔ یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے کہا ” تورات کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں، قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔ اور ہر جگہ چوکی پہرہ بٹھا دیا۔ ابو عبیدہ نے صرف حمص والوں کے ساتھ یہ برتاؤ نہیں کیا بلکہ جس قدر اضلاع فتح ہو چکے تھے ہر جگہ لکھ بھیجا کہ جزیہ کی جس قدر رقم وصول ہوئی ہے واپس کر دی جائے۔ (ان واقعات کو بلاذری نے فتوح البلدان  میں، قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں ، ازدی نے فتوح الشام  میں تفصیل سے لکھا ہے )۔

غرض ابو عبیدہ دمشق کو روانہ ہوئے (میں نے یہ تفصیلی واقعات فتوح الشام ازدی سے لیے ہیں۔ لیکن ابو عبیدہ کا حمص چھوڑ کر دمشق چلا آنا ابن واضح عباسی اور دیگر مورخوں نے بھی بیا ن کیا ہے۔ ) اور ان تمام حالات کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر کہ مسلمان رومیوں کے ڈر سے حمص سے چلے آئے۔ نہایت رنجیدہ ہوئے لیکن جب ان کو یہ معلوم ہوا کل فوج اور افسران نے یہی فیصلہ کیا تو فی الجملہ تسلی ہوئی اور فرمایا کہ خدا نے کسی مصلحت سے تمام مسلمانوں کو اس رائے پر متفق کیا ہو گا۔ ابو عبیدہ جو جواب میں لکھا کہ ” میں مدد کے لیے سعد بن ابی عامر کو بھیجتا ہوں۔ لیکن فتح و شکست فوج کی قلت و کثرت پر نہیں ہے۔ ابو عبیدہ نے دمشق پہنچ کر تمام افسروں کو جمع کیا اور ان سے مشورت کی۔ یزید بن ابی سفیان، شرجیل بن حسنہ، معاذ بن جبل، سب نے مختلف رائیں دیں۔ اسی اثناء میں عمرو بن العاص کا قاصد خط لے کر پہنچا جس کا یہ مضمون تھا کہ ” اردن کے اضلاع میں عام بغاوت پھیل گئی ہے۔ رومیوں کی آمد آمد  نے سخت تہلکہ ڈال دیا ہے اور حمص کو چھوڑ کر چلے آنا نہایت بے رعبی کس سبب ہوا ہے۔ ”  ابو عبیدہ نے جواب میں لکھا کہ حمص کو ہم نے ڈر کر نہیں چھوڑا بلکہ مقصود یہ تھا کہ دشمن محفوظ مقامات سے نکل آئے اور اسلامی فوجیں جا بجا پھیلی ہوئی ہیں یکجا ہو جائیں۔ خط میں یہ بھی لکھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ٹلو، میں وہیں آ کر تم سے ملتا ہوں۔

دوسرے دن ابو عبیدہ دمشق سے روانہ ہو گئے اور اردن کی حدود میں یرموک پہنچ کر قیام کیا۔ عمرو بن العاص بھی یہیں آ کر ملے ، یہ موقع جنگ کی ضرورتوں کے لیے اس لحاظ سے مناسب تھا کہ عرب کے سرحد بہ نسبت اور تمام مقامات کے یہاں سے قریب تھی۔ اور پشت پر عرب کی سرحد تک کھلا میدان تھا۔ جس سے یہ موقع حاصل تھا کہ ضرورت پر جہاں تک چاہیں پیچھے ہٹتے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعید بن عامر کے ساتھ جو فوج روانہ کی تھی وہ ابھی نہیں پہنچی تھی۔ ادھر رومیوں کی آمد اور ان کے سامان کا حال سن سن کر مسلمان گھبرائے جاتے تھے۔ ابو عبیدہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک قاصد دوڑایا۔ اور لکھا کہ ” رومی بحر و بر سے اُبل پڑے ہیں۔ اور جوش کا یہ حال ہے کہ فوج جس راہ سے گزرتی ہے راہب اور خانقاہ نشین جنہوں نے کبھی خلوت سے قدم باہر نہیں نکالا تھا۔ نکل نکل کر فوج کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں۔ ” خط پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور خط پڑھ کر سنایا۔ تمام صحابہ بے اختیار رہ پڑے اور نہایت جوش کے ساتھ پکار کر کہا کہ ” امیر المومنین، خدا کے لیے ہم کو اجازت دیجیئے کہ ہم اپنے بھائیوں پر جا کر نثار ہو جائیں۔ خدانخواستہ ان کا بال بیکا ہوا تو پھر جینا بے سود ہے۔ مہاجر و انصار کا جوش بڑھتا جاتا تھا یہاں تک کہ عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا کہ امیر المومنین، تو خود سپہ سالار بن اور ہم کو ساتھ لے کر چل، لیکن اور صحابہ نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اور رائے یہ ٹھہری کہ اور امدادی فوجیں بھیجی جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاصد سے دریافت کیا کہ دشمن کہاں تک آ گئے ہیں؟ اس نے کہا کہ یرموک سے تین چار منزل کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت غمزدہ ہوئے اور فرمایا کہ ” افسوس اب کیا ہو سکتا ہے ؟ اتنے عرصہ میں کیونکر مدد پہنچ سکتی ہے۔ ” ابو عبیدہ کے نام نہایت پُر تاثیر الفاظ میں ایک خط لکھا اور قاصد سے کہا کہ خود ایک ایک صف میں جا کر یہ خط سنانا اور زبانی کہنا۔

الاعمر یفرلگ السلام و یقول لکم یا احل الاسلام اصدقو اللقاء و تشدوا علیھم شد اللبوت ولیکونوا اھون علیکم من اللو فانا قد کما علمنا الکم علیھم منصورون۔

یہ ایک عجیب حسن اتفاق ہوا کہ جس دن قاصد ابو عبیدہ کے پاس آیا۔ اسی دن عامر بھی ہزار آدمی کے ساتھ پہنچ گئے۔ مسلمانوں کو نہایت تقویت ہوئی اور انہوں نے نہایت استقلال کے ساتھ لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔ رومی فوجیں یرموک کے مقابل دیر الجبل میں اتریں۔ خالد نے لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔ معاذ بن جبل کو جو بڑے رتبہ کے صحافی تھے ، میمنہ پر مقرر کیا۔ قباث بن الثھم کو میسرہ اور ہاشم بن عتبہ کو پیدل فوج کی افسری دی۔ اپنے رکاب کی فوج کے چار حصے کئے۔ ایک  کو اپنی رکاب میں رکھا۔ باقی پر قیس بن بیرہ، میرہ بن مسروق، عمرو بن الطفیل کو مقرر کیا۔ یہ تینوں بہادر تمام عرب میں انتخاب تھے۔ اور اس وجہ سے فارس العرب کہلاتے تھے۔ رومی بھی بڑے سر و سامان سے نکلے۔ دو لاکھ سے زیادہ کی جمعیت تھی۔ اور 24 صفیں تھیں۔ جس کے آگے آگے مذہبی پیشوا ہاتھوں میں صلیبیں لئے جوش دلاتے جاتے تھے۔ فوجیں بالکل مقابل آ گئیں تو ایک بطریق صف چیر کر نکلا اور کہا کہ میں تنہا لڑنا چاہتا ہوں۔ میسرہ بن مسروق نے گھوڑا بڑھایا مگر چونکہ حریف نہایت تنومند اور جوان تھا، خالد نے روکا اور قیس بن ببیرہ کی طرف دیکھا۔ وہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے بڑھے۔

صل النساء اطبی الی احجابھا

الست یوم الحرب من ابطالھا

“پردہ نشین عورتوں سے پوچھ لو، کیا میں لڑائی کے دن بہاروں کے کام نہیں کرتا۔ “

قیس اس طرح جھپٹ کر پہنچے کہ بطریق ہتھیار بھی نہیں سنبھال سکا تھا۔ کہ ان کا وار چل گیا۔ تلوار سر پر پڑی اور خود کو کاٹتی ہوئی گردن تک اتر گئی۔ بطریق ڈگمگا کر گھوڑے سے گرا۔ ساتھ ہی مسلمانوں نے تکبیر کا نعرہ مارا۔ خالد نے کہا “شگون اچھا ہوا۔ اور اب خدا نے چاہا تو آگے فتح ہے۔ ” عیسائیوں نے خالد کے ہمرکاب افسروں کے مقابلے میں جدا جدا فوجیں متعین کی تھیں۔ لیکن سب نے شکست کھائی۔ اس دن یہیں تک نوبت پہنچ کر لڑائی ملتوی ہو گئی۔

رات کو باہان نے سرداروں کو جمع کر کے کہا کہ عربوں کو شام کی دولت کا مزہ پڑ چکا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مال و زر کی طمع دلا کر ان کو یہاں سے ٹالا جائے۔ سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ دوسرے دن ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قاصد بھیجا کہ ” کسی معزز افسر کو ہمارے پاس بھیج دو ہم اس سے صلح کے متعلق گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔ ” ابو عبیدہ نے خالد کو انتخاب کیا۔ قاصد جو پیغام لے کر آیا تھا، اس کا نام جارج تھا۔ جس وقت پہنچا شام ہو چکی تھی۔ ذرا دیر کے بعد مغرب کی نماز شروع ہوئی۔ مسلمان جس ذوق شوق سے تکبیر کہہ کر کھڑے ہوئے اور جس سکون و وقار، ادب و خضوع سے انہوں نے نماز ادا کی، قاصد نہایت حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ جب نماز ہو چکی تو اس نے ابو عبیدہ سے چند سوالات کئے ، جن میں ایک یہ تھا کہ تم عیسیٰ کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہو؟ ابو عبیدہ نے قرآن کی یہ آیتیں پڑھیں :

یا اھل الکتب لا تفلوا فی دینکم ولا تقولو اعلی اللہ الا الحق الھا المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ و کلمنہ الفاھا الی مریم سے لن یستکف المسیح ان یکون عبد اللہ ولا الملٰکۃ المقربون تک۔

مترجم نے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ تو جارج پکار اٹھا کہ ” بے شک عیسیٰ کے یہی اوصاف ہیں اور بے تمہارا پیغمبر سچا ہے۔ ” یہ کہہ کر اس نے کلمہ توحید پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس واپس جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔ لیکن حضرت ابو عبیدہ نے اس خیال سے کہ رومیوں کو بد عہدی کا گمان نہ ہو، مجبور کیا اور کہا کہ کل یہاں سے جو سفیر جائے گا اس کے ساتھ چلے آنا۔

دوسرے دن خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رومیوں کی لشکر گاہ میں گئے۔ رومیوں نے اپنی شان و شوکت دکھانے کے لیے پہلے سے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ راستے کے دونوں جانب سواروں کی صفیں قائم کی تھیں جو سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھے۔ لیکن خالد اس بے پروائی اور تحقیر کی نگاہ سے ان پر نظر ڈالتے جاتے تھے ، جس طرح شیر بکریوں کے ریوڑ کو چیرتا چلا جاتا ہے۔ باہان کے خیمے کے پاس پہنچے تو اس نے نہایت احترام کے ساتھ استقبال کیا اور لا کر اپنے برابر بٹھایا۔ مترجم کے ذریعے سے گفتگو شروع ہوئی۔ باہان نے معمولی بات چیت کے بعد لکچر کے طریقے پر تقریر شروع کی۔ حضرت عیسٰی کی تعریف کے بعد قیصر کا نام لیا۔ اور فخر سے کہا کہ ہمارا بادشاہ تمام بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔ مترجم ان الفاظ کا پورا ترجمہ نہیں کر چکا تھا کہ خالد نے باہان کو روک دیا اور کہا کہ تمہارا بادشاہ ایسا ہی ہو گا۔ لیکن ہم نے جس کو سردار بنا رکھا ہے اس کو ایک لمحہ کے لیے اگر بادشاہی کا خیال آئے تو ہم فوراً اس کو معزول کر دیں گے۔ باہان نے پھر تقریر شروع کی، اور اپنے جاہ و دولت کا فخر بیان کر کے کہا کہ ” اہل عرب تمہاری قوم کے لوگ ہمارے ملک میں آ کر آباد ہوئے۔ ہم نے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستانہ سلوک کئے۔ ہمارا خیال تھا کہ ان مراعات کا تمام عرب ممنون ہو گا، لیکن خلاف توقع تم ہمارے ملک پر چڑھ آئے اور چاہتے ہو کہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دو۔ تم کو معلوم نہیں کہ بہت سی قوموں نے بارہا ایسے ارادے کئے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اب تم کو کہ تمام دنیا میں تم سے زیادہ کوئی قوم وحشی اور بے ساز و سامان نہیں، یہ حوصلہ ہوا ہے ، ہم اس پر بھی درگزر کرتے ہیں۔ بلکہ اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو انعام کے طور پر سپہ سالار کو دس ہزار دینار اور افسر کر ہزار ہزار اور عام سپاہیوں کو سو سو دینار دلا دیئے جائیں گے۔

باہان  اپنی تقریر ختم کر چکا تو خالد اٹھے اور حمد نعت کے بعد کہا کہ ” بے شبہ تم دولت مند ہو، مالدار ہو، صاحب حکومت ہو، تم نے اپنے ہمسایہ عربو کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی ہم کو معلوم ہے لیکن یہ تمہارا کچھ احسان نہ تھا بلکہ اشاعت مذہت کی ایک تدبیر تھی جس کا یہ اثر ہوا کہ وہ عیسائی ہو گئے اور آج خود ہمارے مقابلے میں تمہارے ساتھ ہو کر ہم سے لڑتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہم نہایت محتاج تنگدست اور خانہ بدوش تھے۔ ہمارے ظلم و  جہالت کا یہ حال تھا کہ قوی کمزور کر پیس ڈالتا تھا۔ قبائل آپس میں لڑ لڑ کر برباد ہو جاتے تھے ، بہت سے خدا بنا رکھے تھے اور ان کو پوجتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے بت تراشتے تھے اور اس کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن خدا نے ہم پر رحم کیا اور ایک پیغمبر بھیجا جو خود ہماری قوم سے تھا۔ اور ہم میں سب سے زیادہ شریف، زیادہ فیاض، زیادہ پاک خو تھا۔ اس نے ہم کو توحید سکھائی اور بتلا دیا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بیوی و اولاد نہیں رکھتا۔ وہ بالکل یکتا و یگانہ ہے۔ اس نے ہم کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہم ان عقائد کو تمام دنیا کے سامنے پیش کریں، جس نے ان کو مانا وہ مسلمان ہے اور ہمارا بھائی ہے۔ جس نے نہ مانا، لیکن وہ جزیہ دینا قبول کرتا ہے اس کے ہم حامی اور محافظ ہیں۔ جس کو دونوں سے انکار ہو اس کے  لیے تلوار ہے۔ “

باہان نے جزیہ کا نام سن کر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اپنے لشکر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ” یہ مر کر بھی جزیہ نہ دیں گے۔ ہم جزیہ لیتے ہیں دیتے نہیں۔ ” غرض کوئی معاملہ طے نہیں ہوا اور خالد اٹھ کر چلے آئے۔ اب اس آخری لڑائی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ جس کے بعد رومی پھر کبھی سنبھل نہ سکے۔ خالد کے چلے آنے کے بعد باہان نے سرداروں کو جمع کیا اور کہا کہ ” تم نے سنا اہل عرب کا دعویٰ ہے کہ جب تک تم ان کی رعایا نہ بن جاؤ ان کے حملہ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ تم کو ان کی غلامی منظور ہے ؟ تمام افسروں نے بڑے جوش سے کہا کہ ” ہم مر جائیں گے مگر یہ ذلت گوارا نہیں ہو سکتی۔ “

صبح ہوئی تو رومی اس جوش اور سر و سامان سے نکلے کہ مسلمانوں کو حیرت ہوئی۔ خالد نے یہ دیکھ کر عرب کے عام قاعدے کے خلاف نئے طور سے فوج آرائی کی۔ فوج جو 30 – 35 ہزار تھی اس کے 36 حصے کئے اور آگے پیچھے نہایت ترتیب کے ساتھ اس طرح صفیں قائم کیں، قلب فوج ابو عبیدہ کو دیا۔ میمنہ پر عمرو بن العاص اور شرجیل مامور ہوئے۔ میسرہ یزید بن ابی سفیان کی کمان میں تھا۔ ان کے علاوہ ہر صف پر الگ الگ جو افسر متعین کئے چن چن کر ان لوگوں کو متعین کیا جو بہادری اور فنون جنگ میں شہرت عام رکھتے تھے۔ خطباء جو اپنے زور کلام سے لوگوں میں ہل چل ڈال دیتے تھے اس خدمت پر مامور ہوئے کہ پرجوش تقریروں سے فوج کو جوش دلائیں۔ انہی میں ابی سفیان بھی تھے جو فوجوں کے سامنے یہ الفاظ کہتے پھرتے تھے۔

الا الک، زارۃ العرب و انصار الا سلام و انھم زارۃ الروم و انصار الشرک اللھم ان ھذا یومن آیاتک اللھم انزل نصرک علی عبادک۔

عمرو بن العاص کہتے پھرتے تھے۔

ایھا الناس غضوا ابصار کم واشر عوا الرماح والزموا مراکز کم فانا حمل عدوکم فامھلوھم حتی اذا رکبوا اطراف الاسنۃ و ثبوا فی وجوھھم و ثوب الاسد۔

” یارو! نگاہیں نیچی رکھو برچھیاں تان لو، اپنی جگہ پر جمے رہو، پھر جب دشمن حملہ آور ہوں تو آنے دو۔ یہاں تک کہ جب برچھیوں کی نوک پر آ جائیں تو شیر کی طرح ان پر ٹوٹ پڑو۔

فوج کی تعداد اگرچہ کم تھی یعنی 30 – 35 ہزار سے زیادہ آدمی نہ تھے۔ لیکن تمام عرب میں منتخب تھے۔ ان میں سے خاص وہ بزرگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال مبارک دیکھا تھا۔ ایک ہزار تھے ، سو بزرگ وہ تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمرکاب تھے۔ عرب کے مشہور قبائل میں سے دس ہزار سے زیادہ صرف ازد کے قبیلے کے تھے۔ حمیر کی ایک بڑی جماعت تھی۔ ہمدان، کولان، خم، جذام، وغیرہ کے مشہور بہادر تھے۔ اس معرکہ کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ عورتیں تھی اس میں شریک تھیں اور نہایت بہادری سے لڑیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں ہندہ حملہ کرتی ہوئی بڑھتی تھیں تو پکارتی تھیں۔ عضدو العلفان بسیوفکم۔ امیر معاویہ کی بہن جویریہ نے بھی بڑی دلیری سے جنگ کی۔

مقداد جو نہایت خوش آواز تھے فوج کے آگے آگے سورۃ انفال (جس میں جہاد کی ترغیب ہے ) تلاوت کرتے جاتے تھے۔ ادھر رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لیں کہ ہٹنے کا خیال تک نہ ائے۔ جنگ کی ابتدا رومیوں کی طرف سے ہوئی۔ دو لاکھ ٹڈی دل لشکر ایک ساتھ بڑھا۔ ہزاروں پادری اور بشپ ہاتھوں میں صلیب لئے آگے آگے تھے۔ اور حضرت عیسٰی کے جے پکارتے آتے تھے۔ یہ ساز و سامان دیکھ کر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار نکلا اللہ اکبر کس قدر بے انتہا فوج ہے۔ خالد نے جھلا کر کہا ” چپ رہ خدا کی قسم میرے گھوڑے کے سم اچھے ہوتے تو میں کہہ دیتا کہ عیسائی اتنی ہی فوج اور بڑھا لیں۔ “

غرض عیسائیوں نے نہایت زور شور سے حملہ کیا اور تیروں کا مینہ برساتے بڑھے۔ مسلمان دیر تک ثابت قدم رہے لیکن حملہ زور کا تھا کہ مسلمان کا میمنہ ٹوٹ کر فوج سے علیحدہ ہو گیا۔ اور نہایت بے ترتیبی سے پیچھے ہٹا۔ یزیمت یافتہ ہٹتے ہٹتے حرم کے خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔ عورتوں کو یہ حالت دیکھ کر سخت غصہ آیا، اور خیمہ کی چوبیں اکھاڑ لیں۔ اور پکاریں کہ ” نامرادو ادھر آئے تو چولوں سے تمہارا سر توڑ دیں گے ” خولہ یہ شعر پڑھ کر لوگوں کو غیرت دلاتی تھیں :

یاھارباً عن نسوۃ تفلیات
و میت بالسھم والمنیات

یہ حالت دیکھ کر معاذ بن جبل جو میمنہ کے ایک حصے کے سپہ سالار تھے گھوڑے سے کود پڑے اور کہا کہ ” میں پیدل لڑتا ہوں، لیکن کوئی بہادر اس گھوڑے کا حق ادا کر سکے تو گھوڑا حاضر ہے۔ ” ان کے بیٹے نے کہا ” ہاں یہ حق میں ادا کروں گا۔ کیونکہ میں سوار ہو کر اچھا لڑ سکتا ہوں۔ ” غرض دونوں باپ بیٹھے فوجوں میں گھسے اور دلیری سے جنگ کی کہ مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سنبھل گئے۔ ساتھ ہی حجاج جو قبیلہ زبیدہ کے سردار تھے ، پانسو آدمی لے کر بڑھے اور عیسائیوں کا جو مسلمانوں کا تعاقب کرتے چلے آتے تھے اگا روک لیا۔ میمنہ میں قبیلہ ازد شروع حملہ سے ثابت قدم رہا تھا۔ عیسائیوں نے لڑائی کا سارا زور ان پر ڈالا لیکن وہ پہاڑ کی طرح جمے رہے۔ جنگ میں یہ شدت تھی کہ فوج میں ہر طرف سر ہاتھ بازو کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے لیکن ان کے پائے ثبات کی لغزش نہیں ہوتی تھی۔ عمرو بن الطفیل جو قبیلہ کے سردار تھے تلوار مارتے جاتے تھے کہ ازدیو دیکھنا۔ مسلمانوں پر تمہاری وجہ سے داغ نہ آئے۔ بڑے بڑے رومی بہادر انکے ہاتھ سے مارے گئے اور آخر خود شہادت حاصل کی۔

حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کو پیچھے لگا رکھا تھا۔ دفعتہً صف چیر کر نکلے اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کی صفیں ابتر کر دیں۔ عکرمہ نے جو ابو جہل کے فرزند تھے اور اسلام لانے سے پہلے اکثر کفار کے ساتھ رہ کر لڑتے تھے۔ گھوڑا آگے بڑھایا اور کہا ” عیسائیو! میں کسی زمانے میں (کفر کی حالت میں) خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے لڑ چکا ہوں کیا آج تمہارے مقابلہ میں میرا پاؤں پیچھے پڑ سکتا ہے۔ ” یہ کہہ کر فوج کی طرف دیکھا اور کہا مرنے پر کون ،،،،،،،،،، کرتا ہے ؟ چار سو شخصوں نے جن میں ضرار بن ازور بھی تھے مرنے پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی اور اس ثابت قدمی سے لڑے کہ قریباً سب کے سب وہیں کٹ کر رہ گئے۔ عکرمہ کی لاش مقتولوں کے ڈھیر میں ملی۔ کچھ کچھ دم باقی تھی۔ خالد نے اپنے رانوں پر انکا سر رکھا اور گلے میں پانی ٹپکا کر کہا ” خدا کی قسم عمر کا گمان غلط تھا کہ ہم شہید ہو کر نہ مریں گے۔ ” (تاریخ طبری واقعہ یرموک)۔

غرض عکرمہ اور انکے ساتھ گو خود ہلاک ہو گئے۔ لیکن رومیوں کے ہزاروں آدمی برباد کر یئے۔ خالد کے حملوں نے اور بھی ان کی طاقت توڑ دی۔ یہاں تک کہ آخر ان کو پیچھے ہٹنا پڑا اور خالد ان کو دباتے ہوئے سپہ سالار  در۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تک پہنچ گئے۔ در۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور رومی افسروں نے آنکھوں پر رومال ڈال لئے کہ اگر یہ آنکھیں فتح کی صورت نہ دیکھ سکیں تو شکست بھی نہ دیکھیں۔

عین اس وقت جب ادھر میمنہ میں بازار قتال گرم تھا ابن ناطیر (رومیوں کے میمنہ کا سردار تھا) نے میسرہ پر حملہ کیا۔ بد قسمتی سے اس حصے میں اکثر لخم و غسان کے قبیلہ کے آدمی تھے جو شام کے اطراف میں بود و باش رکھتے تھے۔ ایک مدت سے روم کے باج گزار رہتے آئے تھے۔ رومیوں کا رعب جو دلوں میں سمایا ہوا تھا اس کا یہ اثر ہوا کہ پہلے ہی حملے میں انکے پاؤں اکھڑ گئے۔ اور اگر افسروں نے بھی بے ہمتی کی ہوتی تو لڑائی کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ رومی بھاگتوں کا پیچھا کرتے ہوئے خیموں تک پہنچ گئے۔ عورتیں یہ حالت دیکھ کر بے اختیار نکل پڑیں اور ان کی پامردی نے عیسائیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ فوج اگرچہ ابتر ہو گئی تھی لیکن افسروں میں سے قباث بن الحثم، سعید بند زید، یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص، شرجیل بن حسنہ داد شجاعت دے رہے تھے۔ قباث کے ہاتھ سے تلواریں اور نیزے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے جاتے تھے۔ مگر ان کے تیور پر بل نہ آیا تھا۔ نیزہ ٹوٹ کر گرتا تو کہتے کہ کوئی ہے ؟ جو اس شخص کو ہتھیار دے جس نے خدا سے اقرار کیا ہے کہ میدان جنگ سے ہٹے گا تو مر کر ہٹے گا۔ لوگ فوراً تلوار یا نیزہ ان کے ہاتھ میں لا کر دے دیتے۔ اور پھر وہ شیر کی طرح جھپٹ کر دشمن پر جا پڑتے۔ ابو الا عود گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے رکاب کی فوج سے مخاطب ہو کر کہا کہ ” صبر و استقلال دنیا میں عزت ہے۔ اور عقبٰی میں رحمت، دیکھنا یہ دولت ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ ” سعید بن زید غصہ میں گھٹنے ٹیکے ہوئے کھڑے تھے۔ رومی ان کی طرف بڑھے تو شیر کی طرح جھپٹے اور مقدمہ کے افسر کو مار گرایا۔ زید بن ابی سفیان (معاویہ کے بھائی) بڑی ثابت قدمی سے لڑ رہے تھے۔ اتفاق سے ان کے باپ ابو سفیان جو فوج کو جوش دلاتے پھرتے تھے ان کی طرف سے نکلے۔ بیٹے کو دیکھ کر کہا ” جان پدر، اس وقت میدان میں ایک ایک سپاہی شجاعت کے جوہر دکھا رہا ہے۔ تو سپہ سالار ہے اور سپاہیوں کی بہ نسبت تجھ پر شجاعت کا زیادہ حق ہے۔ تیری فوج میں سے ایک سپاہی بھی اس میدان میں تجھ سے بازی لے گیا تو تیرے لئے شرم کی بات ہے۔ ” شرجیل کا یہ حال تھا کہ رومیوں کا چاروں طرف سے نرغہ تھا اور یہ بیچ میں پہاڑ کی طرح کھڑے تھے۔ قرآن کی یہ آیت ” ان اللہ اشعری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقطون و یقطون” پڑھتے تھے اور نعرہ مارتے تھے کہ خدا کے ساتھ سودا کرنے والے اور خدا کے ہمسایہ بننے والے کہاں ہیں؟ یہ آواز جس کے کان میں پڑی بے اختیار لوٹ پڑا۔ یہاں تک کہ اکھڑی ہوئی فوج سنبھل گئی اور شرجیل نے ان کو لے کر اس بہادری سے جنگ کی کہ رومی جو لڑتے چلے آتے تھے بڑھنے سے رک گئے۔

ادھر عورتیں خیموں سے نکل نکل کر فوج کی پشت پر آ کھڑی ہوئیں۔ اور چلا کر کہتی تھیں کہ ” میدان سے قدم ہٹایا تو پھر ہمارا منہ نہ دیکھنا۔ “

لڑائی کے دونوں پہلو اب تک برابر تھے۔ بلکہ غلبہ کا پلہ رومیوں کی طرف تھا۔ دفعتہً قیس بن ہبیرہ، جو کو خالد نے فوج کا ایک حصہ دے کر میسرہ کی پشت پر متعین کر دیا تھا، عقب سے نکلے اور طرح ٹوٹ کر گرے کہ رومی سرداروں نے بہت سنبھالا مگر فوج سنبھل نہ سکی۔ تمام صفیں ابتر ہو گئیں اور گھبرا کر پیچھے ہٹیں۔ ساتھ ہی سعید بن زید نے قلب سے نکل کر حملہ کر دیا۔ رومی دور تک ہٹتے چلے گئے۔ یہاں تک میدان کے سرے پر جو نالہ تھا اس کے کنارے تک آ گئے۔ تھوڑی دیر میں ان کی لاشوں نے وہ نالہ بھر دیا۔ اور میدان خالی ہو گیا۔

اس لڑائی کا یہ واقعہ (یہ تمام واقعہ فتوح البلدان  میں مذکور ہے ) یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، حباش بن قیس جو ایک بہادر سپاہی تھے ، بڑی جانبازی سے لڑ رہے تھے ، اسی اثنا میں کسی نے ان کے پاؤں پر تلوار ماری اور ایک پاؤں کٹ کر الگ ہو گیا۔ حباش کو خبر تک نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ ” میرا پاؤں کیا ہوا؟” ان کے قبیلے کے لوگ اس واقعہ ہر ہمیشہ فخر کرتے تھے۔ چنانچہ سوار بن ادنٰی نامی ایک شاعر نے کہا ہے :

ومنا ابن عناب و ناشدر جلہ
و منا للذی اوسی الیٰ الحی حاجباً

    رومیوں کے جس قدر آدمی مارے گئے ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ طبری اور۔ ۔ ۔ ۔ نے لاکھ سے زیادہ تعداد بیان کی ہے۔ بلازری نے ستر ہزار لکھا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے تین ہزار کا نقصان ہوا۔ جن میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سعید وغیرہ تھے۔ قیصر انطاکیہ میں تھا کہ شکست کی خبر پہنچی۔ اس وقت قسطنطنیہ کی تیاری کی۔ چلتے وقت شام کی طرف رخ کر کے کہا ” الوداع اے شام۔ “

ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامہ فتح لکھا اور ایک مختصر سی سفارت بھیجی جن میں حذیفہ بن۔ ۔ ۔ ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یرموک کی خبر کے انتظار میں کئی دن سوئے نہ تھے۔ فتح کی خبر پہنچی تو دفعتہً سجدہ میں گرے اور خدا کا شکر ادا کیا۔

ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یرموک سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو واپس گئے اور خالد کو  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روانہ کیا۔ شہر والوں نے اول مقابلہ کیا لیکن پھر قلعہ بند ہو کر جزیہ کی شرط پر صلح کر لی۔ یہاں عرب کے قبائل میں سے قبیلہ۔ ۔ ۔ ۔ مدت سے آ کر آباد تھا۔ یہ لوگ برسوں تک کمبل کے خیموں میں بسر کرتے رہے تھے لیکن رفتہ رفتہ تمدن کا ان پر یہ اثر ہوا کہ بڑی بڑی عالیشان عمارتیں بنوائی تھیں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم قومی کے لحاظ سے ان کو اسلام کی ترغیب دی۔ چنانچہ سب مسلمان ہو گئے۔ صرف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کا خاندان عیسائیت پر قائم رہا۔ اور چند روز کے بعد وہ بھی مسلمان ہو گیا۔ قبیلہ طے کے بھی بہت سے لوگ یہاں آباد تھے۔ انہوں نے بھی اپنی خوشی سے اسلام قبول کر لیا۔ قصرین کی فتح کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حلب کا رخ کیا۔ شہر سے باہر میدان میں عرب کے بہت سے قبیلے آباد تھے۔ انہںوں نے جزیہ پر صلح کر لی اور تھوڑے دنوں کے بعد سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ حلب والوں نے ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد سن کر قلعہ میں پناہ لی۔ عیاض بن ٹنم نے جو مقدمنہ الجیش کے افسر تھے شہر کا محاصرہ کیا۔ اور چند روز کے بعد اور مفتوحہ شہروں کی طرح ان شرائط پر صلح ہو گئی کہ عیسائیوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا۔ اور ان کی جان و مال، شہر پناہ، مکانات قلعے اور گرجوں کی حفاظت کا معاہدہ لکھ دیا گیا۔ حلب کے بعد انطاکیہ آئے۔ چونکہ یہ قیصر کا خاص دارالسلطنت تھا، بہت سے رومیوں اور عیسائیوں نے یہاں آ کر پناہ لی تھی۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر طرف سے شہر کا محاصرہ کیا۔ چند روز کے بعد عیسائیوں نے مجبور ہو کر صلح کر لی۔ ان صدر مقامات کی فتح نے تمام شام کو مرعوب کر دیا۔ اور یہ نوبت پہنچی کہ کوئی افسر تھوڑی سی جمعیت کے ساتھ جس طرف نکل جاتا تھا عیسائی خود آ کر امن و صلح کے خواستگار ہوتے تھے۔ چنانچہ انطاکیہ کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چاروں طرف فوجیں پھیلا دیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لوگ اور عبان یہ چھوٹے چھوٹے مقامات اس آسانی سے فتح ہوئے کہ خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرا۔ اسی طرح پالس اور قاصرین بھی پہلے ہلہ میں فتح ہو گئے۔ جوجومہ والوں نے جزیہ سے انکار کیا اور کہا کہ ہم لڑائی میں مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ چونکہ جزیہ فوجی خدمت کا معاوضہ ہے ، ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی۔

انطاکیہ کے مضافات میں بفرامن ایک مقام تھا جس سے ایشیائے کوچک کی سرحد ملتی تھی۔ یہاں عرب کے بہت سے قبائل طسان، تنوغ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رومیوں کے ساتھ ہرقل کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ حبیب بن مسلمہ نے ان پر حملہ کیا اور بڑا معرکہ ہوا۔ ہزاروں قتل ہوئے۔ خالد مے مرعش پر حملہ کیا اور اس شرط پر صلح ہوئی کہ عیسائی شہر چھوڑ کر نکل جائیں۔

بیت المقدس 16 ہجری (637 عیسوی)

ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شام پر چڑھائی کی تو ہر صوبہ پر الگ الگ افسر بھیجے۔ چنانچہ فلسطین عمرو بن العاص کے حصے میں آیا۔ عمرو بن العاص نے بعض مقامات حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے عہد میں فتح کر لئے تھے اور فاروقی عہد تک تو نابلس، لد، عمواس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جریں تمام بڑے بڑے شہروں پر قبضہ ہو چکا تھا۔ جب کوئی عام معرکہ پیش آ جاتا تھا تو وہ فلسطین چھوڑ کر ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتے تھے اور ان کو مدد دیتے تھے۔ لیکن فارغ ہونے کے ساتھ فوراً واپس آ جاتے تھے۔ اور اپنے کام میں مشغول ہو جاتے تھے (فتوح البلدان )۔ یہاں تک کہ آس پاس کے شہروں کو فتح کر کے خاص بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ عیسائی قلعہ میں بند ہو کر لڑتے رہے۔ اس وقت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کے انتہائی اضلاع قسرین وغیرہ فتح کر چکے تھے۔ چنانچہ ادھر سے فرصت پا کر بیت المقدس کا رخ کیا۔ عیسائیوں نے ہمت ہار کر صلح کی درخواست کی۔ اور مزید اطمینان کے لئے یہ شرط اضافہ کی کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود یہاں آئیں اور معاہدہ صلح ان کے ہاتھوں سے لکھا جائے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ بیت المقدس کی فتح آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام معزز صحابہ کو جمع کیا۔ اور مشورت کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ عیسائی مرعوب اور شکستہ دل ہو چکے ہیں۔ آپ ان کی درخواست کو رد کر دیں تو ان کو اور بھی ذلت ہو گی اور یہ سمجھ کر کہ مسلمان ان کو بالکل حقیر سمجھتے ہیں، بغیر شرط کے ہتھیار ڈال دیں گے۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے خلاف رائے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان ہی کی رائے کو پسند کیا اور سفر کی تیاریاں کیں (یہ طبری کی روایت ہے )۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نائب مقرر کر کے خلافت کے کاروبار ان کے سپرد کیے (فتوح البلدان )۔ اور رجب 16 ہجری میں مدینہ سے روانہ ہوئے۔

ناظرین کو انتظار ہو گا کہ فاروق اعظم کا سفر اور سفر بھی وہ جس سے دشمنوں پر اسلامی جلال کا رعب بٹھانا مقصود تھا۔ کس ساز و سامان سے ہوا ہو گا؟ لیکن یہاں نقارہ نوبت، خدم و حشم لاؤ لشکر ایک طرف معمولی ڈیرہ اور خیمہ تک نہ تھا۔ سواری میں گھوڑا تھا اور چند مہاجر و انصار ساتھ تھے۔ تاہم جہاں یہ آواز پہنچتی تھی کہ فاروق اعظم نے مدینہ سے شام کا ارادہ کیا ہے زمین دہل جاتی تھی۔

سرداروں کو اطلاع دی جا چکی تھی کہ جابیہ میں آ کر ان سے ملیں۔ اطلاع کے مطابق یزید بن ابی سفیان اور خالد بن الولید وغیر نے یہیں استقبال کیا۔ شام میں رہ کر ان افسروں میں عرب کی سادگی باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے یہ لوگ آئے تو اس ہیئت سے آئے کہ بدن پر حریر و دیبا کی چکنی اور پر تکلف قبائیں تھیں۔ اور زرق برق پوشاک اور ظاہری شان و شوکت سے عجمی معلوم ہوتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت غصہ آیا۔ گھوڑے سے اتر پڑے اور سنگریزے اٹھا کر ان کی طرف پھینکے کہ اس قدر جلد تم نے عجمی عادتیں اختیار کر لیں۔

ان لوگوں نے عرض کی کہ ” قباؤں کے نیچے ہتھیار ہیں۔ ” (یعنی سپہ گری کا جوہر ہاتھ سے نہیں دیا ہے ) فرمایا تو کچھ مضائقہ نہیں (طبری  – 21)۔ شہر کے قریب پہنچے تو ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کرچاروں طرف نگاہ ڈالی۔ غوطہ کا دلفریب سبزہ زار اور دمشق کے شاندار مکانات سامنے تھے۔ دل پر ایک خاص اثر ہوا۔ عبر کے لہجہ میں یہ آیت پڑھی کم ترکوا امن جنت و عچون الخ پھر چیغہ کے چند حسرت انگیز اشعار پڑھے۔

جابیہ میں دیر تک قیام رہا۔ اور بیت المقدس کا معاہدہ بھی یہیں لکھا گیا۔ وہاں کے عیسائیوں کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد کی خبر پہلے سے پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ رئیسان شہر کا ایک گروہ ان سے ملنے کے لیے دمشق کو روانہ ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوج کے حلقے میں بیٹھے تھے کہ دفعتہً کچھ سوار آئے جو گھوڑے اڑاتے چلے آتے تھے اور کمر میں تلواریں چمک رہی تھیں۔ مسلمانوں نے فوراً ہتھیار سنبھال لئے۔ حضرت عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا خیر ہے ؟ لوگوں نے سواروں کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فراست سے سمجھا کہ بیت المقدس کے عیسائی ہیں۔ فرمایا گھبراؤ نہیں۔ یہ لوگ امان طلب کرنے آئے ہیں۔ غرض معاہدہ صلح لکھا گیا۔ بڑے بڑے معزز صحابہ کے دستخط ہو گئے۔ (یہ طبری کی روایت ہے۔ بلاذری اور ازدی نے لکھا ہے کہ معاہدہ صلح بیت المقدس میں لکھا گیا ہے کہ اس معاہدے کو بتمامہا ہم نے اس کتاب کے دوسرے حصہ میں نقل کیا ہے۔ (دیکھو اس کتاب کا دوسرا حصہ)۔

معاہدہ کی تکمیل کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المقدس کا ارادہ کیا۔ گھوڑا جو سواری میں تھا اس کے سم گھس کر بیکار ہو گئے اور رک رک کر قدم رکھتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دیکھ کر اتر پڑے۔ لوگوں نے ترکی نسل کا ایک عمدہ گھوڑا حاضر کیا۔ گھوڑا شوخ اور چالاک تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہوئے تو کلیل کرنے لگا۔ فرمایا ” کمبخت یہ غرور کی چال تو نے کہاں سیکھی” یہ کہہ کر اتر پڑے اور پیادہ چلے۔ بیت المقدس قریب آیا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سرداران فوج استقبال کو آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لباس اور ساز و سامان جس معمولی حیثیت کا تھا۔ اس کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرم آتی تھی کہ عیسائی اپنے دل میں کیا کہیں گے۔ چنانچہ لوگوں نے ترکی گھوڑا اور قیمتی پوشاک حاضر کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت  ہے اور ہمارے لئے یہی بس ہے۔ ” غرض اس حال سے بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد گئے ، محراب داؤد کے پاس پہنچ کر سجدۂ داؤد کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا۔ پھر عیسائیوں کے گرجا میں آئے اور ادھر ادھر پھرتے رہے۔

چونکہ یہاں اکثر افسران فوج اور عمال جمع ہو گئے تھے۔ کئی دن تک قیام کیا اور ضروری احکام جاری کئے۔ ایک دن بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رسول اللہ کے مؤذن) نے آ کر شکایت کی کہ امیر المومنین ہمارے افسر پرند کا گوشت اور میدہ کی روٹیاں کھاتے ہیں۔ لیکن عام مسلمانوں کو معمولی کھانا بھی نصیب نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے افسران کی طرف دیکھا، انہوں نے عرض کی کہ اس ملک میں تمام چیزیں ارزاں ہیں۔ جتنی قیمت میں حجاز میں روٹی اور کھجور ملتی ہے۔ یہاں اسی قیمت پر پرندہ کا گوشت اور میدہ ملتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ افسروں کو مجبور نہ کر سکے ، لیکن حکم دیا کہ مال غنیمت اور تنخواہ کے علاوہ سپاہی کا کھانا بھی مقرر کر دیا جائے۔

ایک دن نماز کے وقت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ آج اذان دو۔ بلال نے کہا میں عزم کر چکا تھا کہ رسول اللہ کے بعد کسی کے لیے اذان نہ دوں گا لیکن آج (اور صرف آج) آپ کا ارشاد بجا لاؤں گا۔ اذان دینی شروع کی تو تمام صحابہ کو رسول اللہ کا عہد مبارک یاد آ گیا۔ اور رقت طاری ہو گئی۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل روتے روتے بیتاب ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہچکی لگ گئ۔ دیر تک یہ اثر رہا۔

ایک دن مسجد اقصیٰ میں گئے اور کعب بن احبار کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ نماز کہاں پڑھی جائے۔ مسجد اقصیٰ میں ایک پتھر ہے جو انبیاء سابقین کی یادگار ہے۔ اس کو صخرہ کہتے ہیں۔ اور یہودی اس کی اسی طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح مسلمان حجر اسود کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ” تم میں اب تک یہودیت کا اثر باقی ہے۔ اور اسی کا اثر تھا کہ تم نے صخرہ کے پاس آ کر جوتی اتار دی۔ ” اس واقعہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو جو طرز عمل اس قسم کی یادگاروں کی نسبت تھا، ظاہر ہوتا ہے۔ اس موقع پر ہماری اس کتاب کے دوسرے حصہ کے صفحہ کو بھی ملاحظہ کرنا چاہیے۔

حمص پر عیسائیوں کی دوبارہ کوشش

17 ہجری (638 عیسوی)

یہ معرکہ اس لحاظ سے یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس سے جزیرہ اور آرمینیہ کی فتوحات کا موقع پیدا ہوا تھا۔ ایران اور روم کی مہمیں جن اسباب سے پیش آئیں۔ وہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ لیکن اس وقت تک آرمینیہ پر لشکر کشی کے لیے کوئی خاص سبب نہیں پیدا ہوا تھا۔ اسلامی فتوحات چونکہ روز بروز وسیع ہوتی جاتی تھیں اور حکومت اسلام کے حدود برابر بڑھتے جاتے تھے۔ ہمسایہ سلطنتوں کو خود بخود خوف پیدا ہوا کہ ایک دن ہماری باری بھی آتی ہے۔ چنانچہ ادھر جزیرہ والوں نے قیصر کو لکھا کہ نئے سرے سے ہمت کیجیئے ہم ساتھ دینے کو موجود ہیں۔ چنانچہ قیصر نے ایک فوج کثیر حمص کو روانہ کی۔ ادھر جزیرہ والے 30 ہزار کی فوج کی بھیڑ بھاڑ کے ساتھ شام کی طرف بڑھے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادھر ادھر سے فوجیں جمع کر کے حمص کے باہر صفیں جمائیں۔ ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام حالات کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آٹھ بڑے بڑے شہروں میں فوجی چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں اور ہر جگہ چار چار ہزار گھوڑے فقط اس غرض سے ہر وقت تیار رہتے تھے کہ کوئی اتفاقیہ موقع پیش آ جائے تو فوراً ہر جگہ سے فوجیں یلغار کر کے موقع پر پہنچ جائیں۔ ابو عبیدہ کا خط آیا تو ہر طرف قاصد دوڑا دیئے۔ قعقاع بن عمو کو جو کوفہ میں مقیم تھے لکھا کہ فوراً چار ہزار سوار لے کر حمص پہنچ جائیں۔ سہیل بن عدی کو حکم بھیجا کہ جزیرہ پہنچ کر جزیرہ والوں کو حمص کی طرف بڑھنے سے روک دیں۔ عبد اللہ بن عتبان کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی طرف روانہ کیا۔ ولید بن عقبہ کو مامور کیا کہ جزیرہ پہنچ کر عرب کے ان قبائل  کو تھام رکھیں جو جزیرہ میں آباد تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان انتظامات پر ہی قناعت نہ کی بلکہ خود مدینہ سے روانہ ہو کر دمشق میں آئے۔ جزیرہ والوں نے جب یہ سنا کہ خود ان کے ملک میں مسلمانوں کے قدم آ گئے تو حمص کا محاصرہ چھوڑ کر جزیرہ کو چل دیئے۔ عرب کے قبائل جو عیسائیوں کی مدد کو آئے تھے وہ بھی پچھتائے اور خفیہ خالد کو پیغام بھیجا کہ تمہاری مرضی ہو تو ہم اسی وقت عین موقی پر عیسائیوں سے الگ ہو جائیں۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہلا بھیجا کہ ” افسوس! میں دوسرے شخص (ابو عبیدہ) کے ہاتھ میں ہوں۔ اور وہ حملہ کرنا پسند نہیں کرتا ورنہ مجھ کو تمہارے ٹھہرنے اور چلے جانے کی مطلق پرواہ نہ ہوتی۔ تاہم اگر تم سچے ہو تو محاصرہ چھوڑ کر کسی طرف نکل جاؤ۔ ” ادھر فوج نے ابو عبیدہ سے تقاضا شروع کیا کہ حملہ کرنے کی اجازت ہو۔ انہوں نے خالد سے پوچھا۔ خالد نے کہا ” میری جو رائے معلوم ہے عیسائی ہمیشہ کثرت فوج کے بل پر لڑتے ہیں، اب کثرت بھی نہیں رہی۔ پھر کس بات کا اندیشہ ہے۔ ” اس پر بھی ابو عبیدہ کا دل مطمئن نہ تھا، تمام فوج کو جمع کیا اور نہایت پر زور اور مؤثر تقریر کی کہ مسلمانو! آج جو ثابت قدم رہ گیاوہ اگر زندہ بچا تو ملک و مال ہاتھ آئے گا۔ اور مارا گیا تو شہادت کی دولت ملے گی۔ میں گواہی دیتا ہوں (اور یہ جھوٹ بولنے کا موقع نہیں) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص مرے اور مشرک ہو کر نہ مرے وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ فوج پہلے ہی سے حملہ کرنے کے لیے بے قرار تھی۔ ابو عبیدہ کی تقریر نے اور بھی گرما دیا۔ اور دفعتاً سب نے ہتھیار سنبھال لئے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قلب فوج اور خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عباس میمنہ و میسرہ کو لے کر بڑھے۔ قعقاع نے جو کوفہ سے چار ہزار فوج کے ساتھ مدد کو آئے تھے۔ حمص سے چند میل پر راہ میں تھے کہ اس واقعہ کی خبر سنی۔ فوج چھوڑ کر سو سواروں کے ساتھ ابو عبیدہ سے آ ملے۔ مسلمانوں کے حملہ کے ساتھ عرب کے قبائل (جیسا کہ خالد سے اقرار ہو چکا تھا) ابتری کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ ان کے ہٹنے سے عیسائیوں کا بازو ٹوٹ گیا۔ اور تھوڑی دیر لڑ کر اس بدحواسی سے بھاگے کہ مرف الدیباج تک ان کے قدم نہ جمے۔ یہ اخیر معرکہ تھا جس کی ابتدا خود عیسائیوں کی طرف سے ہوئی۔ اور جس کے بعد ان کو پھر کبھی پیش قدمی کا حوصلہ نہیں ہوا۔

حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معزول ہونا

شام کی فتوحات اور 17 ہجری (638 عیسوی) کے واقعات میں حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معزول ہونا ایک اہم واقعہ ہے۔ عام مؤرخین کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عنان خلافت ہاتھ میں لینے کے ساتھ پہلا جو حکم دیا وہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معزولی تھی۔ ابن الاثیر وغیرہ سب یہی لکھتے آئے ہیں۔ لیکن یہ ان کی سخت غلطی ہے۔ افسوس ہے کہ ابن الاثیر کو خود اختلاف بیانی کا بھی خیال نہیں۔ خود ہی 13 ہجری کے واقعات میں خالد کا معزول ہونا لکھا ہے اور خود ہی 17 ہجری کے واقعات میں ان کی معزولی کا الگ عنوان قائم کیا ہے اور دونوں جگہ بالکل ایک سے واقعات نقل کر دیئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بعض بے اعتدالیوں کی وجہ سے مدت سے ناراض تھے۔ تاہم آغاز خلافت میں ان سے کچھ تعرض کرنا نہیں چاہا۔ لیکن چونکہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ وہ کاغذات حساب دربار خلافت کو نہیں بھیجتے تھے۔ اس لئے ان کو تاکید لکھی کہ آئندہ سے اس کا خیال رکھیں۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں لکھا کہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے ایسا ہی کرتا آیا ہوں۔ اور اب اس کے خلاف نہیں کر سکتا۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی یہ خود مختاری کیونکر پسند ہو سکتی تھی۔ اور وہ بیت المال کی رقم کو اس طرح بدریغ کیونکر کسی کے ہاتھ میں دے سکتے تھے۔ چنانچہ خالد کو لکھا کہ تم اسی شرط پر سپہ سالار رہ سکتے ہو کہ فوج کے مصارف کا حساب ہمیشہ بھیجتے رہو۔ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شرط کو نامنظور کیا۔ اور اس بناء پر وہ سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کر دیئے گئے۔ چنانچہ اس واقعہ کو حافظ ابن حجر نے کتاب الاصابہ میں حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احوال میں تفصیل سے لکھا ہے۔

بایں ہمہ ان کو بالکل معزول نہیں کیا۔ بلکہ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماتحت کر دیا۔ اس کے بعد 17 ہجری (638 عیسوی) میں واقعہ پیش آیا کہ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شاعر کو دس ہزار روپے انعام میں دے دیئے۔ پرچہ نویسوں نے اسی وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پرچہ لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ خالد نے یہ انعام اپنی گرہ سے دیا تو اسراف کیا۔ اور بہت المال سے دیا تو خیانت کی۔ دونوں صورتوں میں وہ معزولی کے قابل ہیں۔

خالد جس کیفیت سے معزول کئے گئے وہ سننے کے قابل ہے۔ قاصد نے جو معزولی کا خط لے کر آیا تھا۔ مجمع عام میں خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ” یہ انعام تم نے کہاں سے دیا۔ ” خالد اگر اپنی خطا کا اقرار کر لیتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم تھا کہ ان سے درگزر کی جائے۔ لیکن وہ خطا کے اقرار کرنے پر راضی نہ تھے۔ مجبوراً قاصد نے معزولی کی علامت کے طور پر ان کے سر سے ٹوپی اتار لی۔ اور ان کی سرتابی کی سزا کے لئے انہی کے عمامہ سے ان کی گردن باندھی۔ یہ واقعہ کچھ کم حیرت انگیز نہیں کہ ایک ایسا سپہ سالار جس کی نظیر تمام اسلام میں کوئی شخص موجود نہ تھا۔ اور جس کی تلوار نے عراق و شام کا فیصلہ کر دیا تھا، اس طرح ذلیل کیا جا رہا ہے۔ اور مطلق دم نہیں مارتا۔  اس واقعہ سے ایک تو خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیک نفسی اور حق پرستی کی شہادت ملتی ہے اور دوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سطوت و جلال کا اندازہ ہوتا ہے۔

خالد نے حمص پہنچ کر اپنی معزولی کے متعلق ایک تقریر کی۔ تقریر میں یہ بھی کہا  کہ ” امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ کو شام کا افسر مقرر کیا۔ اور جب میں تمام شام کو زیر کر لیا تو مجھ کو معزول کر دیا۔ ” اس فقرے پر ایک سپاہی اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ اے سردار چپ رہ! ان باتوں سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ” خالد نے کہا ” ہاں! لیکن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہوتے ہوئے فتنہ کا کیا احتمال ہے (دیکھو کتاب الخراج ابو یوسف 178 تاریخ طبری 7)۔

خالد مدینہ آئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : کہ عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) خدا کی قسم تم میرے معاملہ میں ناانصافی کرتے ہو۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ” تمہارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی۔ ” خالد نے کہا کہ مال غنیمت سے۔ ” اور یہ کہہ کر کہا کہ ” ساتھ ہزار سے جس قدر زیادہ رقم نکلے وہ میں اپ کے حوالہ کرتا ہوں۔ ” چنانچہ بیس ہزار روپے زیادہ نکلے اور وہ بیت المال میں داخل کر دیئے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ ” خالد واللہ تم مجھ کو محبوب بھی ہو، اور میں تمہاری عزت بھی کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر تمام عمالان ملکی کو لکھ بھیجا کہ میں نے خالد کو ناراضی سے یا خیانت کی بناء پر موقوف نہیں کیا۔ لیکن چونکہ میں دیکھتا تھا کہ لوگ اس کے مفتوں ہوتے جاتے ہیں۔ اس لئے میں نے ان کو معزول کرنا مناسب سمجھا تا کہ لوگ یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ کرتا ہے۔ خدا کرتا ہے۔ ” (طبری 8)۔ ان واقعات سے ایک نکتہ بین شخص باآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خالد کی معزولی کے کیا اسباب تھے۔ اور اس میں کیا مصلحتیں تھیں۔

عمواس کی وبا 18 ہجری (639 عیسوی)

اس سال شام و مصر و عراق میں سخت وبا پھیلی اور اسلام کی بڑی بڑی یادگاریں خاک میں چھپ گئیں۔ وبا کا آغاز 17 ہجری کے اخیر میں ہوا اور کئی مہینے تک نہایت شدت رہی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اول جب خبر پہنچی تو اس کی تدبیر اور انتظام کے لیے خود روانہ ہوئے۔ سرغ  (ایک مقام کا نام) پہنچ کر ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے جو ان کے استقبال کو آئے تھے ، معلوم ہوا کہ بیماری کی شدت بڑھتی جاتی ہے۔ مہاجرین اولین اور انصار کو بلایا۔ اور رائے طلب کی۔ مختلف لوگوں نے مختلف رائیں دیں۔ لیکن پھر سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ کل کوچ ہے۔ حضرت ابو عبیدہ چونکہ تقدیر کے مسئلہ پر نہایت سختی کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے۔ ان کو نہایت غصہ آیا۔ اور طیش میں آ کر کہا افراد من قدر اللہ یعنی اے عمر! تقدیر الہٰی سے بھاگتے ہو۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی سخت کلامی کو گوارا کیا اور کہا۔

افر من قضاء اللہ الی قضاء اللہ یعنی ہاں تقدیر الہٰی سے بھاگتا ہوں۔ مگر بھاگتا بھی تقدیر الہٰی کی طرف ہوں۔

غرض خود مدینہ چلے آئے اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ مجھ کو تم سے کام ہے کچھ دنوں کے لیے یہاں آ جاؤ۔ ابو عبیدہ کو خیال ہوا کہ وبا کے خوف سے بلایا ہے۔ جواب میں لکھ کر بھیجا کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو گا۔ میں مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنی بچانے کے لیے یہاں سے ٹل نہیں سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خط پڑھ کر روئے اور لکھا کہ فوج جہاں اتری ہے وہ نشیب اور مرطوب جگہ ہے۔ اس لئے کوئی عمدہ موقع تجویز کر کے وہاں اٹھ جاؤ۔ ابو عبیدہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور جابیہ میں جا کر مقام کیا۔ جو آب و ہوا کی خوبی میں مشہور تھا۔ جابیہ پہنچ کر ابو عبیدہ بیمار پڑھے۔ جب زیادہ شدت ہوئی تو لوگوں کو جمع کیا۔ اور نہایت پراثر الفاظ میں وصیت کی۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ اور چونکہ نماز کا وقت آ چکا تھا، حکم دیا کہ وہی نماز پڑھائیں۔ ادھر نماز ختم ہوئی ادھر انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ بیماری اسی طرح زوروں پر تھی اور فوج میں انتشار پھیلا ہوا تھا۔ عمرو بن العاص نے لوگوں سے کہا کہ یہ وبا انہی بلاؤں میں سے ہے جو بنی اسرائیل کے زمانے میں مصر پر نازل ہوئی تھیں۔ اس لیے یہاں سے بھاگنا چاہیے۔ معاذ نے سنا تو منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ یہ وہ بلا نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی رحمت ہے۔ خطبہ کے بعد خیمہ میں آئے تو بیٹے کو بیمار پایا۔ نہایت استقلال کے ساتھ کہا۔ یا بنی الحق من ربک فلا تکونن من الممترین۔ یعنی اے فرزند یہ خدا کی طرف سے حق ہے۔ دیکھ شبہ میں نہ پڑھا۔ بیٹے نے جواب دیا ستجلنی انشاء اللہ من الصٰبرین یعنی خدا نے چاہا تو آپ مجھ کو صابر پائیں گے۔ یہ کہہ کر انتقال کیا۔ معاذ بیٹے کو دفنا کر آئے تو خود بیمار پڑ گئے۔ عمرو بن العاص کو خلیفہ مقرر کیا اور اس خیال سے کہ زندگی خدا کے قرب کا حجاب تھی بڑے اطمینان اور مسرت سے جان دی۔

مذہب کا نشہ بھی عجیب چیز ہے۔ وبا کا وہ زور تھا اور ہزاروں آدمی لقمہ اجل ہوتے جاتے تھے لیکن معاذ اس کو خدا کی رحمت سمجھا کئے۔ اور کسی قسم کی کوئی تدبیر نہ کی، لیکن عمرو بن العاص کو یہ نشہ کم تھا۔ معاذ کے مرنے کے ساتھ انہوں نے مجمع عام میں خطبہ پڑھا اور کہا کہ وبا جب شروع ہوتی ہے تو آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس لئے تمام فوج کو یہاں سے اٹھ کر پہاڑوں پر جا رہنا چاہیے۔ اگرچہ ان کی رائے بعض صحابہ کو جو معاذ کے ہم خیال تھے ناپسند ائی، یہاں تک کہ ایک بزرگ نے علانیہ کہا کہ تو جھوٹ کہتا ہے۔ تاہم عمرو نے اپنی رائے پر عمل کیا۔ فوج ان کے حکم کے مطابق ادھر ادھر پہاڑوں پر پھیل گئی اور وبا کا خطرہ جاتا رہا۔ لیکن یہ تدبیر اس وقت عمل میں آئی کہ 25 ہزار مسلمان جو آدھی دنیا فتح کرنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے۔ موت کے مہمان ہو چکے تھے۔ ان میں ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یزید بن ابی سفیان، حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، عتبہ بن سہیل بڑے درجہ کے لوگ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان تمام حالات سے اطلاع ہوتی رہتی تھی اور مناسب احکام بھیجتے رہتے تھے۔ یزید بن ابی سفیان اور معاذ کے مرنے کی خبر آئی تو معاویہ کو دمشق کا اور شرجیل کو اردن کا حاکم مقرر کیا۔

اس قیامت خیز وبا کی وجہ سے فتوحات اسلام کا سیلاب دفعتہً رک گیا۔ فوج بجائے اس کے کہ مخالف پر حملہ کرتی خود اپنے حال میں گرفتار تھی۔ ہزاروں لڑکے یتیم ہو گئے۔ ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ جو لوگ مرے تھے ان کا مال و اسباب مارا مارا پھرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان حالات سے مطلع ہو کر شام کا قصد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کی حکومت دی اور خود ایلہ کو روانہ ہوئے۔ یربان کا غلام اور بہت سے صحابہ ساتھ تھے۔ ایلہ کے قریب پہنچے تو کسی مصلحت سے اپنی سواری غلام کو دی اور خود اس کے اونٹ پر سوار ہو گئے۔ راہ میں جو لوگ دیکھتے تھے کہ امیر المومنین کہاں ہیں فرماتے کہ تمہارے آگے۔ اسی حیثیت سے ایلہ آئے اور یہاں دو روز قیام کیا۔ گزی کا کرتہ جو زیب بدن تھا، کجاوے کی رغر کھا کھا کر پیچھے سے پھٹ گیا تھا۔ مرمت کے لیے ایلہ کے پادری کے حوالے کیا۔ اس نے خود اپنے ہاتھ سے پیوند لگائے۔ اور اس کے ساتھ ایک نیا کرتہ تیار کر کے پیش کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کرتہ پہن لیا۔ اور کہا کہ اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ ایلہ سے دمشق آئے اور شام کے اکثر اضلاع میں دو دو چار چار دن قیام کر کے مناسب انتظامات کئے۔ فوج کی تنخواہیں تقسیم کیں۔ جو لوگ وبا میں ہلاک ہوئے تھے ان کے دور نزدیک کے وارثوں کو بلا کر ان کی میراث دلائی۔ سرحدی مقامات پر فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ جو آسامیاں خالی ہوئی تھیں، ان پر نئے عہدیدار مقرر کئے۔ ان باتوں کی دوسری تفصیل دوسرے حصے میں آئے گی۔ چلتے وقت لوگوں کو جمع کیا۔ اور جو انتظامات کئے تھے ان کے متعلق تقریر کی۔

اس سال عرب میں سخت قحط پڑا۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت مستعدی سے انتظام نہ کیا ہوتا تو ہزاروں لاکھوں آدمی بھوکوں مر جاتے۔ اسی سال مہاجرین اور انصار اور قبائل عرب کی تنخواہیں اور روزینے مقرر کئے۔ چنانچہ ان انتظامات کی تفصیل دوسرے حصے میں آئے گی۔

قیساریہ کی فتح شوال (بلاذری) 19 ہجری (640 عیسوی)

یہ شہر بہر شام کے ساحل پر واقع ہے اور فلسطین کے اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔ آج ویران پڑا ہے۔ لیکن اس زمانے میں بہت بڑا شہر تھا۔ اور بقول بلاذری کے تین سو بازار آباد تھے۔ اس شہر پر اول 13 ہجری (635 عیسوی) میں عمرو بن العاص نے چڑھائی کی۔ اور مدت تک محاصرہ کئے پڑے رہے لیکن فتح نہ ہو سکا۔ ابو عبیدہ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کو ان کی جگہ مقرر کیا تھا اور حکم دیا کہ قیساریہ کی مہم پر جائیں۔ وہ 17 ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے اور شہر کا محاصرہ کیا لیکن 18 ہجری (639 عیسوی) میں جب بیمار  ہوئے تو امیر معاویہ (اپنے بھائی) کو اپنے قائم مقام کر کے دمشق چلے آئے۔ اور یہیں وفات پائی۔ امیر معاویہ نے بڑے ساز و سامان سے محاصرہ کیا۔ شہر والے کئی دفعہ قلعہ سے نکل نکل کر لڑے۔ لیکن ہر دفعہ شکست کھائی۔ تاہم شہر پر قبضہ نہ ہو سکا۔ ایک دن ایک یہودی نے جس کا نام یوسف تھا، امیر معاویہ کے پاس آ کر ایک سرنگ کا نشان دیا جو شہر کے اندر اندر قلعہ کے دروازے تک گئی تھی۔ چنانچہ چند بہادروں نے اس کی راہ قلعہ کے اندر پہنچ کر دروازہ کھول دیا۔ ساتھ ہی تمام فوج ٹوٹ پڑی اور کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ کم سے کم عیسائیوں کی اسی ہزار فوج تھی جس میں بہت کم زندہ بچی۔ چونکہ یہ ایک مشہور مقام تھا، اس کی فتح سے گویا شام کا مطلع صاف ہو گیا۔

جزیرہ 16 ہجری (637 عیسوی)

(جزیرہ اس حصہ آبادی کا نام ہے جو دجلہ اور فرات کے بیچ میں ہے۔ اس کی حدوداربعہ یہ ہیں مغرب آرمینیہ کا کچھ حصہ اور ایشیائے کوچک، جنوب شام، مشرق عراق، شمال آرمینیہ کے کچھ حصے۔ یہ مقام درج نقشہ ہے۔ )

مدائن کی فتح سے دفعتہً تمام عجم کی آنکھیں کھل گئیں۔ عرب کو یا تو وہ تحقیر کی نگاہ سے دیکھتے تھے یا اب ان کو عرب کے نام سے لرزہ آتا تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر صوبے نے بجائے خود عرب کے مقابلے کی تیاریاں شروع کیں، سب سے پہلے جزیرہ نے ہتھیار سنبھالا کیونکہ اس کی سرحد عراق سے بالکل ملی ہوئی تھی۔ سعد نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان حالات کی اطلاع دی۔ وہاں سے عبد اللہ بن المعتم مامور ہوئے اور چونکہ حضرت عمر رضی اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس معرکہ کا خاص خیال تھا اس لیے افسروں کو بھی خود ہی نامزد کیا۔ چنانچہ مقدمۃ الجیش پر ربعی بن الافکل، میمنہ حارث بن حسان، میسرہ پر فرات بن حیان، ساقہ پر ہانی بن قیس مامور ہوئے۔ عبد اللہ بن المعتم پانچ ہزار کی جمیعت سے تکریت (تکریت جزیرہ کا سب سے آبائی شہر ہے جس کی حد عراق سے ملی ہوئی ہے۔ دجلہ کے غربی جانب واقع ہے اور موصل سے 6 منزل پر ہے ) کی طرف بڑھے اور شہر کا محاصرہ کیا۔ مہینے سے زیادہ محاصرہ رہا اور 24 دفعہ حملے ہوئے۔ چونکہ عجمیوں کے ساتھ عرب کے چند قبائل یعنی ایاد، تغلب، نمر بھی شریک تھے۔ عبد اللہ نے خفیہ پیغام بھیجا اور غیرت دلائی کہ تم عرب ہو کر عجم کی غلامی کیوں گوارا کرتے ہو؟ اس کا اثر یہ ہوا کہ سب نے اسلام قبول کیا۔ اور کہلا بھیجا کہ تم شہر پر حملہ کرو ہم عین موقع پر عجمیوں سے ٹوٹ کر تم سے آ ملیں گے۔ یہ بندوبست ہو کر تاریخ معین پر دھاوا کیا۔ عجمی مقابلہ کو نکلے تو خود ان کے ساتھ عربوں نے عقب سے ان پر حملہ کیا۔ عجمی دونوں طرف سے گھر کر پامال ہو گئے۔

یہ معرکہ اگرچہ جزیرہ کی مہمات میں شامل ہے لیکن چونکہ اس کا موقع اتفاقی طور سے عراق کے سلسلے میں آ گیا تھا اس لیے مؤرخین اسلام جزیرہ کی فتوھات کو اس واقعہ سے شروع نہیں کرتے۔ اور خود اس زمانے میں یہ معرکہ عراق کے سلسلے سے الگ نہیں خیال کیا جاتا تھا۔ 17 ہجری میں جب عراق و شام کی طرف سے اطمینان ہو گیا تو سعد کے نام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم پہنچا کہ جزیرہ پر فوجیں بھیجی جائیں۔ سعد نے عیاض بن غنم کو پانچ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مہم پر مامور کیا۔ وہ عراق سے چل کر جزیرہ کی طرف بڑھے اور شہر رہا کے قریب جو کسی زمانے میں رومن امپائر کا یادگار مقام تھا ڈیرے ڈالے۔ یہاں کے حاکم نے خفیف سے روک ٹوک کے بعد جزیہ پر صلح کر لی۔ رہا کے بعد چند روز میں تمام جزیرہ اس سرے سے اس سرے تک فتح ہو گیا۔ جن جن مقامات پر خفیف خفیف لڑائیاں پیش آئیں ان کے نام یہ ہیں : رقہ، حران، نصیبین، میادفارقین، س،ساط، سروج، قرقییا، زوزان، عین الوردۃ۔

خوزستان

(خوزستان اس حصہ آبادی کا نام ہے جو عراق اور فارس کے درمیان واقع ہے۔ اس میں 14 بڑے شہر ہیں جس میں سب سے بڑا شہر اہواز ہے جو نقشہ میں درج کر دیا گیا ہے۔ )

15 ہجری (636 عیسوی) میں مغیرہ بن شعبہ بصرہ کے حاکم مقرر ہوئے اور چونکہ خوزستان کی سرحد بصرہ سے ملی ہوئی ہے ، انہوں نے خیال کیا کہ اس کی فتح کے بغیر بصرہ میں کافی طور سے امن و امان قائم نہیں ہو سکتا، چنانچہ 16 ہجری (637 عیسوی) کے شروع میں اہواز پر جس کو ایرانی ہرمز شہر کہتے تھے حملہ کیا۔ یہاں کے رئیس نے ایک مختصر سی رقم دے کر صلح کر لی۔ مغیرہ وہیں رک گئے۔ 17 ہجری (638 عیسوی) میں مغیرہ معزول ہوئے۔ ان کی جگہ ابو موسیٰ اشعری مقرر ہوئے۔ ان انقلاب میں اہواز کے رئیس نے سالانہ رقم بند کر دی اور اعلانیہ بغاوت کا اظہار کیا۔ مجبوراً ابو موسیٰ اشعری نے لشکر کشی کی اور اہواز کو جا گھیرا۔ شاہی فوج جو یہاں رہتی تھی اس نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ لیکن آخر شکست کھائی اور شہر فتح ہو گیا۔ غنیمت کے ساتھ ہزاروں آدمی لونڈی غلام بن کر آئے۔ لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ سب رہا کر دیئے جائیں۔ چنانچہ وہ سب چھوڑ دیئے گئے۔ ابو موسیٰ نے اہواز کے بعد مناذر کا رخ کیا، یہ خود ایک محفوظ مقام تھا۔ شہر والوں نے بھی ہمت اور استقلال سے حملے کو روکا۔ اس معرکہ میں مہاجر بن زیاد جو ایک معزز افسر تھے شہید ہوئے اور قلعہ والوں نے ان کا سر کاٹ کر برج کے کنگرہ پر لٹکا دیا۔

ابو موسیٰ نے مہابر کے بھائی ربیع کو یہاں چھوڑا اور خود سوس کو روانہ ہوئے۔ ربیع نے مناذر کو فتح کر لیا۔ اور ابو موسیٰ نے سوس کا محاصرہ کر کے ہر طرف سے رسد بند کر دی۔ قلعہ میں کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا۔ مجبوراً رئیس شہر نے صلح کی درخواست کی کہ اس کے خاندان کے سو آدمی زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ ابو موسیٰ نے منظور کی۔ رئیس ایک ایک آدمی کو نامزد کرتا تھا اور اس کو امن دے دیا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے شمار میں رئیس نے خود اپنا نام نہیں لیا تھا۔ چنانچہ جب سو کی تعداد پوری ہو گئی تو ابو موسیٰ اشعری نے رئیس کو جو شمار سے باہر تھا قتل کرا دیا۔ سوس کے بعد اہواز کا محاصرہ ہوا۔ اور آٹھ لاکھ سالانہ پر صلح ہو گئی۔ یزدگرد اس وقت قم میں مقیم تھا۔ اور خاندان شاہی کے تمام ارکان ساتھ تھے۔ ابو موسیٰ کی دست درازیوں کی خبریں اس کو برابر پہنچتی تھیں۔ ہرمزان نے جو شیرویہ کا ماموں اور بڑی قوت کا سردار تھا یزدگرد کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اگر اہواز و فارش میری حکومت میں دے دیئے جائیں تو عرب کے سیلاب کو آگے بڑھے سے روک دوں۔ یزدگرد نے اسی وقت فرمان حکومت عطا کر کے ایک جمعیت عظیم ساتھ دی۔ خوزستان کا صدر مقام شوستر تھا وہاں شاہی عمارات اور فوجی چھاؤنیاں تھیں۔ ہرمزان نے وہاں پہنچ کر قلعہ کی مرمت کرائی اور خندق اور برجوں سے مستحکم کیا۔ اس کے ساتھ ہر طرف نقیب اور ہرکارے دوڑا دیئے کہ لوگوں کو جوش دلا کر جنگ کے لیے آمادہ کریں۔ اس تدبیر سے قومی جوش جو افسردہ ہو گیا تھا، پھر تازہ ہو گیا اور چند روز میں ایک جمعیت عظیم فراہم ہو گئی۔ ابو موسیٰ نے دو بار خلافت کو نامہ لکھا اور مدد کی درخواست کی۔ وہاں سے عمار بن یاسر کے نام جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے حکم آیا کی نعمان بن مقرن کو ہزار آدمی کے ساتھ مدد کو بھیجیں۔ لیکن غنیم نے جو ساز و سامان کیا تھا۔ ابو موسیٰ نے دوبارہ لکھا، جس کے جوات میں عمار کو حکم پہنچا کہ آدھی فوج کو عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ کوفہ میں چھوڑ دو اور باقی فوج لے کر خود ابو موسیٰ کے مدد کو جاؤ۔ ادھر جریر بجلی ایک بڑی فوج لے کر جلولاء پہنچا۔ ابو موسیٰ نے اس ساز و سامان سے شوستر کا رخ کیا۔ اور شہر کے قریب پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ ہرمزان کثرت فوج کے بل پر خود شہر سے نکل کر حملہ آور ہوا۔ ابوموسیٰ نے بڑی ترتیب سے صف آرائی کی۔ میمنہ براء بن مالک کو دیا (یہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی) کے بھائی تھے۔ میسرا پر براء بن عازب انصاری کو مقرر کیا۔ سواروں کا رسالہ حضرت انس کی رکاب میں تھا۔  دونوں فوجیں خوب جی توڑ کر لڑیں، براء بن مالک مارتے دھاڑتے شہر پناہ کے پھاٹک تک پہنچ گئے ، ادھر ہرمزان پردچو نہایت بہادری کے ساتھ فوج کو لڑا رہا تھا۔ عین پھاٹک پر دونوں کا سامنا ہوا اور مارے گئے۔ ساتھ ہی محراۃ بن ثور نے جو محنہ کو لڑا رہے تھے ، بڑھ کر وار کیا لیکن ہزمزان نے ان کا بھی کام تمام کر دیا۔ تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ عجمی ایک ہزار مقتول ہوئے اور چھ سو زندہ گرفتار ہوئے۔ ہرمزان نے قلعہ بند ہو کر لڑائی جاری رکھی۔

ایک دن شہر کا ایک آدمی چھپ کر ابو موسیٰ کے پاس آیا۔ اور کہا اگر میرے جان و مال کو امن دیا جائے تو میں شہر پر قبضہ کرا دوں گا۔ ابو موسیٰ نے منظور کیا۔ اس نے ایک عرب کو جس کا نام اشرس تھا ساتھ لیا۔ اور نہر وجل سے جو دجلہ کی ایک شاخ ہے ، اور شوستر کے نیچے بہتی ہے ، پار اتر کر ایک تہہ خانے کی راہ میں داخل ہوا۔ اور اشرس کے منہ پر چادر ڈال کر کہا کہ نوکر کی طرح میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ چنانچہ شہر کے گلی کوچوں سے گزرتا خاص ہرمزان کے محل میں آیا۔ ہرمزان رئیسوں اور درباریوں کے ساتھ جلسہ جمائے بیٹھا ہوا تھا۔

شہری نے ان کو تمام عمارات کی سیر کرائی۔ اور موقع کے نشیب و فراز دکھائے۔ ابو موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں اپنا فرض ادا کر چکا ہوں، آگے تمہاری ہمت اور تقدیر ہے۔ اشرس نے اس کے بیان کی تصدیق کی۔ اور کہا کہ دو سو جانباز میرے ساتھ ہوں تو شہر فوراً فتح ہو جائے۔ ابو موسیٰ نے فوج کی طرف دیکھا۔ دو سو بہادروں نے بڑھ کر کہا کہ خدا کی راہ میں ہماری جان حاضر ہے۔ اشرس اسی تہہ خانے کی راہ شہر پناہ کے دروازے پر پہنچے اور پہرداروں کو نہہ تیغ کر کے اندر کی طرف سے دروازے کھول دیئے۔ ادھر ابو موسیٰ فوج کے ساتھ موقع پر موجود تھے۔ دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی تمام لشکر ٹوٹ پڑا اور شہر میں ہلچل پڑ گئی۔ ہرمزان نے بھاگ کر قلعے میں پناہ لی۔ مسلمان قلعے کے نیچے پہنچے تو اس نے برج پر چڑھ کر کہا کہ میرے ترکش میں اب بھی سو تیر ہیں۔ اور جب تک اتنی ہی لاشیں یہاں نہ بچھ جائیں میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔ تاہم میں اس شرط پر اترتا ہوں کہ تم مجھ کو مدینہ پہنچا دو۔ اور جو کچھ فیصلہ ہو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے ہو۔ ابو موسیٰ نے منظور کیا۔ اور حضرت انس کو مامور کیا کہ مدینہ تک اس کے ساتھ جائیں۔ ہزمزان بڑی شان و شوکت سے روانہ ہوا۔ بڑے بڑے رئیس اور خاندان کے تمام آدمی رکاب میں لئے مدینہ کے قریب پہنچ کر شاہانہ ٹھاٹھ سے آراستہ ہوا۔ تاج مرصع جو آذین کے لقب سے مشہور تھا، سر پر رکھا، دیبا کی قبا زیب تن کی۔ شاہان عجم کے طریقے کے موافق زیور پہنے۔ کمر سے مرصع تلوار لگائی۔ غرض شان و شوکت کی تصویر بن کر مدینے میں داخل ہوا اور لوگوں سے پوچھا کہ امیر المومنین کہاں ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ جس شخص کے دبدبہ نے تمام دنیا میں غلغلہ ڈال رکھا ہے اس کا دربار بھی بڑے ساز و سامان کا ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اور فرش خاک پر لیٹے ہوئے تھے۔

ہرمزان مسجد میں داخل ہوا تو سینکڑوں تماشائی ساتھ تھے۔ جو اس کے زرق برق لباس کو بار بار دیکھتے تھے اور تعجب کرتے تھے۔ لوگوں کی آہٹ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کھلی تو عجمی شان و شوکت کا مرقع سامنے تھا۔ اوپر سے نیچے تک دیکھا اور حاضرین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ” یہ دنیائے دوں کی دلفریبیاں ہیں” اس کے بعد ہرمزان کی طرف مخاطب ہوئے۔ اس وقت تک مترجم نہیں آیا تھا۔ مغیرہ بن شعبہ کچھ کچھ فارسی سے آشنا تھے ، اس لئے انہوں نے ترجمانی کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے وطن پوچھا۔ مغیرہ وطن کی فارسی نہیں جانتے تھے اس لیے کہا کہ ” ازکدام ارضی”؟ پھر اور باتیں شروع ہوئیں۔ قادسیہ کے بعد ہرمزان نے کئی دفعہ سعد سے صلح کی تھی۔ اور ہمیشہ اقرار سے پھر جاتا تھا۔ شوستر کے معرکے میں دو بڑے مسلمان افسر اس کے ہاتھ سے مارے گئے۔ (ان واقعات کو طبری نے نہایت تفصیل سے لکھا ہے۔ ) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان باتوں کا اس قدر رنج تھا کہ انہوں نے ہرمزان کے قتل کا پورا ارادہ کر لیا تھا۔ تا ہم اتمام حجت کے طور پر عرض معروض کی اجازت دی۔ اس نے کہا عمر! جب تک خدا ہمارے ساتھ تھا تم ہمارے غلام تھے۔ اب خدا تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے ہیں۔ یہ کہہ کر پینے کا پانی مانگا۔ پانی آیا تو پیالہ ہاتھ میں لے کر درخواست کی کہ جب تک پانی نہ پی لوں مارا نہ جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منظور کر لیا۔ اس نے پیالہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اور کہا کہ میں پانی نہیں پیتا اور اس لئے شرط کے موافق تم مجھ کو قتل نہیں کر سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مغالطہ پر حیران رہ گئے۔ ہرمزان کے کلمہ توحید پڑھا اور کہا کہ میں پہلے ہی اسلام لا چکا تھا لیکن یہ تدبیر اس لیے کی کہ لوگ نہ کہیں کہ میں نے تلوار کے ڈر سے اسلام قبول کیا ہے۔ (عقد الفرید الابن عبد الرباب المیکدہ فی الحرب)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت خوش ہوئے۔ اور خاص مدینہ میں رہنے کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ دو ہزار سالانہ روزینہ مقرر کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فارس وغیرہ کی مہمات میں اکثر اس سے مشورہ لیا کرتے تھے۔

شوستر کے بعد جندی سابور پر حملہ ہوا۔ جو شوستر سے 24 میل ہے۔ کئی دن تک محاصرہ رہا۔ ایک دن شہر والوں نے خود دروازے کھول دیئے اور نہایت اطمینان کے ساتھ تمام لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوئے۔ مسلمانوں کو ان کے اطمینان پر تعجب ہوا۔ اور اس کا سبب دریافت کیا۔ شہر والوں نے کہا ” تم ہم کو جزیہ کی شرط پر امن دے چکے ہو۔ اب کیا جھگڑا رہا” سب کو حیرت تھی کہ امن کس نے دیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک غلام نے لوگوں سے چھپا کر امن کا رقعہ لکھ دیا ہے۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ ” ایک غلام کی خود مختاری حجت نہیں ہو سکتی۔ ” شہر والے کہتے تھے کہ ہم آزاد اور غلام نہیں جانتے۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا گیا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ “مسلمان غلام بھی مسلمان ہے۔ اور جس کو اس نے امان دے دی تمام مسلمان امان دے چکے۔ ” اس شہر کی فتح نے تمام خوزستان میں اسلام کا سکہ بٹھا دیا۔ اور فتوحات کی فہرست میں ایک اور نئے ملک کا اضافہ ہو گیا۔

عراق عجم 21 ہجری (641 عیسوی)

(سر زمین عراق دو حصوں پر منقسم ہے۔ مغربی حصے کو عراق عرب کہتے ہیں اور مشرقی حصے کو عراق عجم کہتے ہیں۔ عراق عجم کی حدود اربعہ یہ ہیں کہ شمال میں طبرستان جنوب میں شیراز مشرق میں خوزستان اور مغرب میں شہر مراغہ واقع ہیں۔ اس وقت اس کے بڑے شہر اصفہان، ہمدان اور رے سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت رے بالکل ویران ہو گیا۔ اور اس کے قریب طہران آباد ہو گیا ہے جو شاہان قاچار کا دار السطنت ہے۔ )

جلولا کے بعد جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔ یزدگرد ” رے ” چلا گیا۔ لیکن یہاں کے رئیس آبان جدویہ نے بیوفائی کی۔ اس لئے رے سے نکل کر اصفہان اور کرمان ہوتا ہوا خراسان پہنچا۔ یہاں پہنچ کر مرو میں اقامت کی۔ “آتش پارسی” ساتھ تھی۔ اس کے لئے آتش کدہ تیار کر لیا۔  اور مطمئن ہو کر پھر سلطنت حکومت کے ٹھاٹھ لگا دیئے۔ یہیں اسے خبر ملی کہ عربوں نے عراق کے ساتھ خوزستان بھی فتح کر لیا۔ اور ہزمزان جو سلطنت کا زور و بازو تھا زندہ گرفتار ہو گیا۔ یہ حالات سن کر نہایت طیش میں آیا۔ اگرچہ سلطنت کی حیثیت سے اس کا وہ پہلا رعب و داب باقی نہیں رہا تھا، تاہم تین ہزار برس کا خاندانی اثر دفعتہً نہیں مٹ سکتا تھا۔ ایرانی اس وقت تک یہ سمجھتے تھے کہ عرب کی آندھی سرحدی مقامات تک پہنچ کر رک جائے گی۔ اس لئے ان کو اپنی خاص سلطنت کی طرف سے اطمینان تھا۔ لیکن خوزستان کے واقعہ سے ان کی آنکھیں کھلیں۔ ساتھ ہی شہنشاہ کے فرامین اور نقیب پہنچے ، اس سے دفعتہً طبرستان، جرجان، نہاوند، رے ، اصفہان، ہمدان سے گزر کر خراسان اور سندھ تک تلاطم مچ گیا۔ اور ڈیڑھ لاکھ ٹڈی دل لشکر قم میں آ کر ٹھہرا۔ یزدگرد نے مردان شاہ کو (ہرمز کا فرزند تھا) سر لشکر مقرر کر کے نہاوند کی طرف روانہ کیا۔ اس معرکہ میں درفش کاویانی جس کو عجم طال ظفر سمجھتے تھے۔ مبارک فالی کے لحاظ سے نکالا گیا۔ چنانچہ مردان ساہ جب روانہ ہوا تو اس مبارک علم کا پھریرا اس پر سایہ کرتا جاتا تھا۔ عمار بن یاسر نے جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان حالات سے اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمار کا خط لئے ہوئے مسجد نبوی میں آئے اور سب کو سنا کے کہا کہ ” گروہ عرب اس مرتبہ تمام ایران کمر بستہ ہو کر چلا ہے کہ مسلمانوں کو دنیا سے مٹا دے۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟” طلحہ بن عبید اللہ نے اٹھ کر كہا کہ امیر المومنین! واقعات نے آپ کو تجربہ کار بنا دیا ہے۔ ہم اس کے سوا کچھ نہیں جاتے کہ آپ جو حکم دیں بجا لائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” میری رائے ہے کہ شام، یمن، بصرہ کے افسروں کو لکھا جائے کہ اپنی اپنی فوجیں لے کر عراق کو روانہ ہوں اور آپ خود اہل حرم کو لے کر مدینہ سے اٹھیں، کوفہ میں تمام فوجیں آپ کے علم کے نیچے جمع ہوں، اور پھر نہاوند کی طرف رخ کیا جائے۔ حضرت عثمان کی رائے کو سب نے پسند کیا لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چپ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف دیکھا، وہ بولے کہ “شام اور بصرہ سے فوجیں ہٹیں تو ان مقامات پر سرحد کے دشمنوں کا قبضہ ہو جائے گا۔  اور آپ نے مدینہ چھوڑا تو عز میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ اور خود اپنے ملک کا تھامنا مشکل ہو جائے گا۔ میری رائے ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں۔ اور شام اور یمن، بصرہ وغیرہ میں فرمان بھیج دیئے جائیں کہ جہاں جہاں جس قدر فوجیں ہیں ایک ایک ثلث ادھر روانہ کر دی جائیں۔ ”  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میری رائے بھی یہی تھی۔ لیکن تنہا اس کا فیصلہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اب یہ بحث پیش آئی کہ ایسی بڑی مہم میں سپہ سالار بن کر کون جائے۔ لوگ ہر طرف خیال دوڑا رہے تھے۔ لیکن اس درجہ کا کوئی شخص نظر نہیں آتا تھا۔ جو لوگ اس منصب کے قابل تھے وہ اور مہمات میں مصروف تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مراتب کمال میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انہوں نے ملک کے حالات سے ایسی واقفیت حاصل کی تھی کہ قوم کے ایک ایک فرد کے اوصاف ان کی نگاہ میں تھے۔ چنانچہ اس موقع پر حاضرین نے خود کہا کہ اس کا فیصلہ آپ سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعمان بن مقرن کا انتخاب کیا۔ اور سب نے اس کی تائید کی۔ نعمان تیس ہزار کی جمیعت لے کر کوفہ سے روانہ ہوئے۔ اس فوج میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ جن میں سے حذیفہ بن الیمان، عبد اللہ بن عمر، جریر بجلی، مغیرہ بن شعبہ، عمرو معدی کرب زیادہ مشہور ہیں۔ نعمان نے جاسوسوں کو بھیج کر معلوم کیا کہ نہاوند تک راستہ صاف ہے۔ چنانچہ نہاوند تک برابر بڑھتے چلے گئے۔ نہاوند سے 9 میل ادھر اسپدہان ایک مقام تھا۔ وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ ایک بڑی تدبیر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کی کہ فارس میں جو اسلامی فوجیں موجود تھیں ان کو لکھا کہ ایرانی اس طرف سے نہاوند کی طرف بڑھنے نہ پائیں۔ اس طرح دشمن ایک بہت بڑی مدد سے محروم رہ گیا۔

عجم نے نعمان کے پاس سفارت کے لئے پیغام بھیجا۔ چنانچہ مغیرہ بن شعبہ جو پہلے بھی اس کام کو انجام دے چکے تھے ، سفیر بن کر گئے۔ عجم نے بڑی شان سے دربار آراستہ کیا۔ مردان شاہ کو تاج پہنا کر تخت زریں پر بٹھایا۔ تخت کے دائیں بائیں ملک ملک کے شہزادے دیبائے زرکش کی قبائیں سر پر تاج زر ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہن کر بیٹھے۔ ان کے پیچھے دور دور تک سپاہیوں کی صفیں قائم کیں۔ جن کی برہنہ تلواروں سے آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں۔ مترجم کے ذریعے گفتگو شروع ہوئی۔ مردان شاہ نے کہا کہ اے اہل عرب سب سے بدبخت، سب سے زیادہ فاقہ مست، سب سے زیادہ ناپاک قوم جو ہو سکتی ہے تم ہو۔ یہ قدر انداز جو میرے تخت کے گرد کھڑے ہیں ابھی تمہارا فیصلہ کر دیتے۔ لیکن مجھ کو یہ گوارا نہ تھا کہ ان کے تیر تمہارے ناپاک خون میں آلودہ ہوں۔ اب بھی اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو میں تم کو معاف کر دوں گا۔ ” مغیرہ نے کہا : ” ہاں ہم لوگ ایسے ہی ذلیل تھے۔ لیکن اس ملک میں آ کر ہم کو دولت کا مزہ پڑ گیا۔ اور یہ مزہ ہم اسی وقت چھوڑیں گے جب ہمارے لاشیں خاک پر بچھ جائیں۔ غرض سفارت بے حاصل گئی۔ اور دونوں طرف جنگ کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ نعمان نے میمنہ اور میسرہ پر حذیفہ اور سوید بن مقرن کو مجردہ پر قعقاع کو مقرر کیا۔ ساقہ پر مجاشع متعین ہوئے۔ ادھر میمنہ پر زروک اور میسرہ پر بہمن تھا۔ عجمیوں نے میدان جنگ میں پہلے سے ہی  ہر طرف گوکھرو بچھا دیئے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو آگے بڑھنا مشکل ہوتا تھا۔ اور عجمی جب چاہتے تھے شہر سے نکل کر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ نعمان نے یہ حالت دیکھ کر افسروں کو جمع کیا۔ اور سب سے الگ الگ رائے لی۔ طلیحہ بن خالد الاسدی کی رائے کے موافق فوجیں آراستہ ہو کر شہر سے چھ سات میل کے فاصلے پر ٹھہریں اور قعقاع کو تھوڑی سی فوج دے کر بھیجا کہ شہر پر حملہ آور ہوں۔ عجمی بڑے جوش سے مقالہ کو نکلے اور اس بندوبست کے لئے کہ کوئی شخص پیچھے نہ ہٹنے پائے ، جس قدر بڑھتے آتے تھے گوکھرو بچھاتے آتے تھے۔  قعقاع نے لڑائی چھیڑ کر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ عجمی برابر بڑھتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ گوکھرو کی سرحد سے نکل ائے۔ نعمان نے ادھر جو فوجیں جما رکھی تھیں۔ موقع کا انتظار کر رہی تھیں، جونہی عجمی زد پر آئے ، انہوں نے حملہ کرنا چاہا۔ لیکن نعمان نے روکا۔ عجمی جو تیر برسا رہے تھے اس سے سینکڑوں مسلمان کام آئے۔ لیکن افسر کی یہ اطاعت تھی زخم کھاتے تھے اور ہاتھ روکے کھڑے تھے۔ مغیرہ بار بار کہتے تھے کہ فوج بیکار  ہوئی جاتی ہے۔ اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہے۔ لیکن نعمان اس خیال سے دوپہر کے ڈھلنے کا انتظار کر رہے تھے کہ رسول اللہ جب دشمن پر حملہ کرتے تھے تو اسی وقت کرتے تھے۔ غرض دوپہر ڈھلی تو نعمان نے دستور کے موافق تین نعرے مارے۔ پہلے نعرے پر فوج ساز و سامان سے درست ہو گئی۔ دوسرے پر لوگوں نے تلواریں تول لیں۔ تیسرے پر دفعتہً حملہ کیا۔ اور اس بے جگری سے ٹوٹ کر گرے کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ میدان میں اس قدر خون بہا کہ گھوڑوں کے پاؤں پھسل پھسل جاتے تھے۔ چنانچہ نعمان کا گھوڑا پھسل کر گرا، ساتھ ہی خود بھی گرے اور زخموں سے چور ہو گئے۔ ان کا امتیازی لباس جس سے وہ معرکے میں پہچانے جاتے تھے۔ کلاہ اور سفید قبا تھی۔ جونہی وہ گھوڑے سے گرے نعیم بن مقرن کے بھائی نے علم کو جھپٹ کر تھام لیا اور ان کی کلاہ اور قبا پہن کر ان کے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ اس تدبیر سے نعمان کے مرنے کا حال کسی کو معلوم نہ ہوا۔ اور لڑائی بدستور قائم رہی۔ اس مبارک زمانے میں مسلمانوں کو خدا نے ضبط و استقلال دیا تھا۔ اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ نعمان جس وقت زخمی ہو کر گرے تھے اعلان کر دیا تھا کہ میں مر  بھی جاؤں تو کوئی شخص لڑائی چھوڑ کر میری طرف متوجہ نہ ہو۔ اتفاق سے ایک سپاہی ان کے پاس سے نکلا، دیکھا تو کچھ سانس باقی ہے۔ اور دم توڑ رہے ہیں، گھوڑے سے اتر کر ان کے پاس بیٹھنا چاہا۔ ان کا حکم یاد آ گیا۔ اسی طرح چھوڑ کر چلا گیا۔ فتح کے بعد ایک شخص سرہانے گیا۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں اور پوچھا کہ کیا انجام ہوا؟ اس نے کہا “مسلمانوں کو فتح ہوئی” خدا کا شکر ادا کر کے کہا “فوراً عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دو۔ “

    رات ہوتے ہی عجمیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے ہمدان تک تعاقب کیا۔ حذیفہ بن الیمان نے جو نعمان کے بعد سر لشکر مقرر ہوئے نہاوند پہنچ کر مقام کیا۔ یہاں ایک مشہور آتش کدہ تھا۔ اس کا موبد حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ مجھ کو امن دیا جائے تو میں ایک متاع بے بہا کا پتہ دوں۔ چنانچہ کسریٰ پرویز کے نہایت بیش بہا جواہرات لا کر پیش کئے جس کو کسریٰ نے مشکل وقتوں کے لیے محفوظ رکھا تھا۔ حذیفہ نے مال غنیمت کو تقسیم کیا اور پانچواں حصہ مع جواہرات کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہفتوں سے لڑائی کی خبر نہیں پہنچی تھی۔ قاصد نے مژدۂ فتح سنایا تو بے انتہا خوش ہوئے۔ لیکن جب نعمان کا شہید ہونا سنا تو بے اختیار رہ پڑے اور دیر تک سر پر ہاتھ رکھ کر روتے رہے۔ قاصد نے اور شہداء کے نام گنائے اور کہا کہ بہت اور لوگ بھی شہید ہوئے جن کو میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر روئے اور فرمایا کہ “عمر جانے نہ جانے خدا ان کو جانتا ہے۔ ” جواہرات کو دیکھ کر غصہ سے کہا کہ “فوراً واپس لے جاؤ۔ اور حذیفہ سے کہو کہ بیچ کر فوج کو تقسیم کر دیں۔ ” چنانچہ یہ جواہرات چار کروڑ درہم کے فروخت ہوئے۔ “

اس لڑائی میں تقریباً تیس ہزار عجمی لڑ کر مارے گئے۔ اس معرکہ کے بعد عجم نے کبھی زور نہیں پکڑا، چنانچہ عرب نے اس فتح کا نام فتح الفتوح رکھا۔ فیروز جس کے ہاتھ جس کے ہاتھ پر حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت لکھی تھی، اسی لڑائی میں گرفتار ہوا تھا۔

ایران پر عام لشکر کشی 21 ہجری (642 عیسوی)

اس وقت تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایران کی عام تسخیر کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اب تک جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لئے تھیں۔ عراق کا البتہ ممالک محروسہ میں اضافہ کر لیا گیا تھا۔ لیکن وہ درحقیقت عرب کا ایک حصہ تھا۔ کیونکہ اسلام سے پہلے اس کے ہر حصہ میں عرب آباد تھے۔ عراق سے آگے بڑھ کر جو لڑائیاں ہوئیں وہ عراق کے سلسلہ میں خود بخود پیدا ہوتی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ” کاش ہمارے اور فارس کے بیچ میں آگ کا پہاڑ ہوتا تا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کر سکتے نہ ہم ان پر چڑھ کر جا سکتے۔ ” لیکن ایرانیوں کو کسی طرح چین نہیں آتا تھا۔ وہ ہمیشہ نئی فوجیں تیار کر کے مقابلے پر آتے تھے اور جو ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے وہاں غدر کروا دیا کرتے تھے۔ نہاوند کے معرکہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس پر خیال ہوا۔ اور اکابر صحابہ کو بلا کر پوچھا کہ ممالک مفتوحہ میں بار بار بغاوت کیوں ہو جاتی ہے۔ لوگوں نے کہا  جب تک یزدگرد ایران کی حدود سے نکل نہ جائے ، یہ فتنہ فرو نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب تک ایرانیوں کو یہ خیال رہے گا کہ تخت کیانی کا وارث موجود ہے ، اس وقت ان کی امیدیں منقطع نہیں ہو سکتیں۔”

 اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام لشکر کشی کا ارادہ کیا۔ اپنے ہاتھ سے متعدد علم تیار کئے۔ اور جدا جدا ممالک کے نام سے نامزد کر کے مشہور افسروں کے پاس بھیجے۔ چنانچہ خراسان کا علم احتف بن قیس کو، سابورو اردشیر کا مجاشع بن مسعود کو، اصطخر کا عثمان بن العاص الشقفی کو، افساء کا ساریہ بن رہم الکنافی کو، کرمان کا سہیل بن عدی کو، سیستان کا عاصم بن عمرو کو، مکران کا حکم بن عمیر التغسلبی کو، آذر بائیجان کا عتبہ کو عنایت کیا۔ 21 ہجری میں یہ افسر اپنے اپنے متعینہ ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔ چنانچہ ہم ان کی الگ الگ ترتیب کے ساتھ لکھتے ہیں۔

فتوحات کے سلسلے میں سب سے پہلے اصفہان کا نمبر ہے۔ 21 ہجری میں عبد اللہ بن عبد اللہ نے اس صوبہ پر چڑھائی کی، یہاں کے رئیس نے جس کا نام استندرا تھا۔ اصفہان کے نواح میں بڑی جمیعت فراہم کی تھی جس کے ہراول پر شہربرز جادویہ ایک پرانہ تجربہ کار افسر تھا۔ دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو جادویہ نے میدان میں آ کر پکارا کہ جس کا دعویٰ ہو، تنہا میرے مقابلہ کو آئے۔ عبد اللہ خود مقابلے کو آئے۔ جادویہ مارا گیا اور ساتھ ہی لڑائی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ استندار نے معمولی شرائط پر صلح کر لی۔ عبد اللہ نے آگے بڑھ کر “جے ” یعنی خاص اصفہان کا محاصرہ کیا۔ فاذوسفان یہاں کے رئیس نے پیغام بھیجا کہ دوسروں کی جانیں کیوں ضائع ہوں، ہم تم لڑ کر خود فیصلہ کر لیں، دونوں حریف میدان میں آئے۔ فاذوسفان نے تلوار کا وار کیا، عبد اللہ نے اس پامردی سے اس کے حملہ کا مقابلہ کیا کہ فاذوسفان کے منہ سے بے اختیار آفریں نکلی۔ اور کہا کہ میں تم سے نہیں لڑنا چاہتا۔ بلکہ شہر اس شرط پر حوالہ کرتا ہوں کہ باشندوں میں سے جو چاہے جزیہ دے کر شہر میں رہے اور جو چاہے نکل جائے۔ عبد اللہ نے یہ شرط منظور کر لی۔ اور معاہدہ صلح لکھ دیا۔

اسی اثناء میں خبر لگی کہ ہمدان میں غدر ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم بن مقرن کو ادھر روانہ کیا۔ انہوں نے بارہ ہزار کی جمیعت سے ہمدار پہنچ کر محاصرہ کے سامان کئے۔ لیکن جب محاصرہ میں دیر لگی تو اضلاع میں ہر طرف فوجیں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ ہمدان چھوڑ کر باقی تمام مقامات فتح ہو گئے۔ یہ حالت دیکھ کر محصوروں نے بھی ہمت ہار دی اور صلح کر لی۔ ہمدان فتح ہو گیا۔ لیکن ویلم نے رے اور آذر بائیجان وغیرہ سے نامہ و پیام کر کے ایک بڑی فوج فراہم کی۔ ایک طرف سے فرخان کا باپ سمینیدی جو رے کا رئیس تھا، انبوہ کثیر لے کر آیا اور دوسری طرف سے اسفند یار رستم کا بھائی پہنچا۔ وادی رود میں یہ فوجیں مقابل ہوئیں۔  اور اس زور کا رن پڑا کہ لوگوں کو نہاوند کا معرکہ یاد آ گیا۔ آخر ویلم نے شکست کھائی۔ عروہ جو واقعہ جبیر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس شکست کی خبر لے کر گئے تھے ، اس فتح کا پیغام لے کر گئے تھے تا کہ اس دن کی تلافی ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ویلم کی تیاریاں سن کر نہایت تردد میں تھے۔ اور امداد کا سامان کر رہے تھے کہ دفعتاً عروہ پہنچے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ شگون اچھا نہیں، بے ساختہ زبان سے انا للہ نکلا۔ عروہ نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ خدا نے مسلمانوں کو فتح دی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم کو نامہ لکھا کہ ہمدان پر کسی کو اپنا قائم مقام کر کے روانہ ہوں۔ رے کا حاکم اس وقت سیاؤش تھا جو بہرام چوبیں کا پوتا تھا۔ اس نے دماوند، طبرستان، قوس، جرجان کے رئیسوں سے مدد طلب کی اور ہر جگہ سے امدادی فوجیں آئیں۔ لیکن زمیندی جس کو سیاؤش سے کچھ ملال تھا۔ نعیم بن مقرن سے آ ملا۔ اس کی سازش سے شہر پر حملہ ہوا، اور حملہ کے ساتھ دفعتاً شہر فتح ہو گیا۔ نعیم نے زمیندی کو رے کی ریاست دی اور پرانے شہر کو برباد کر کے حکم دیا کہ نئے سرے سے آباد کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق نعیم نے خود رے میں قیام کیا۔ اور اپنے بھائی سوید کو قومس پر بھیجا، جو بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔ اس فتح کے ساتھ عراق عجم پر پورا پورا قبصہ ہو گیا۔

آذربئیجان 22 ہجری (643 عیسوی)

(نقشہ دیکھنے سے آذربائیجان کا پتہ اس طرح لگے گا کہ شہر تبریز کو اس کا صدر مقام سمجھنا چاہیے (سابق میں شہر مراغہ دار الصدر تھا)۔ بروعہ اور اردبیل اسی صوبہ میں آباد ہیں۔ آذربائیجان کی وجہ تسمیہ میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ موبد آذر آباد نے ایک آتشکدہ بنایا تھا۔ جس کا نام آباد گان تھا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ لغت پہلوی میں آذر کے معنی آتش کے ہیں۔ اور بائیگان کے معنی ہیں محافظ۔ یعنی نگاہ دارانِ آتش چونکہ اس صوبے میں آتش کدوں کی کثرت تھی۔ اس کی وجہ سے یہی نام ہو گیا جس کو عربوں نے اپنی زبان میں آذر بائیجان کر لیا۔ )

جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آذر بائیجان کا علم عتبہ بن فرقد اور بکیر کو بھیجا تھا اور ان کے بڑھنے کی سمتیں بھی متعین کر دی تھیں۔ بکیر جب میدان میں پہنچے تو اسفند یار کا سامنا ہوا۔ اسفند یار نے شکست کھائی اور زندہ گرفتار ہو گیا۔ دوسرے طرف اسفند یار کا بھائی بہرام عتبہ کا سد راہ ہوا، وہ بھی شکست کھا کر بھاگ گیا۔ اسفند یار نے بھائی کی شکست کی خبر سنی تو بکیر سے کہا کہ اب لڑائی کی آگ بجھ گئی اور میں جزیہ پر تم سے صلح کر لیتا ہوں۔ چونکہ آذر بائیجان انہی دونوں بھائیوں کے قبضے میں تھا۔ عتبہ نے اسفند یار کو اس شرط پر رہا کر دیا کہ وہ آذر بائیجان کا رئیس رہ کر جزیہ ادا کرتا رہے۔ مؤرخ بلاذری کا بیان ہے کہ آذربائیجان کا علم حذیفہ بن یمان کو ملا تھا۔ وہ نہاوند سے چل کر اردبیل پہنچے جو آذربائیجان کا پایہ تخت تھا۔ یہاں کے رئیس نے ماجروان، ہیمند، سراۃ، سبز، میانج وغیرہ سے ایک انبوہ کثیر جمع کر کے مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ پھر آٹھ لاکھ سالانہ پر صلح ہو گئی۔ حذیفہ نے اس کے بعد موقان و جیلان پر حملہ کیا۔ اور فتح کے پھریرے اڑائے۔

اسی اثناء میں دربار خلافت سے حذیفہ کی معزولی کا فرمان پہنچا اور عتبہ بن فرقد ان کی جگہ مقرر ہوئے۔ عتبہ کے پہنچتے پہنچتے آذربائیجان کے تمام اطراف میں بغاوت پھیل چکی تھی۔ چنانچہ عتبہ نے دوبارہ ان مقامات کو فتح کیا۔

طبرستان 22 ہجری (643 عیسوی)

(نقشہ میں طبرستان فتوحات شمالی میں ملے گا۔ اس لئے کہ خلافت فاروقی میں جزیہ دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کی حدود اربعہ یہ ہیں۔ مشرق میں خراسان و جرجان، مغرب میں آذر بائیجان، شمال میں جوزجان اور جنوب میں بلاخیل، بصام اور استر آباد اس کے مشہور شہر ہیں۔ )

ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ نعیم نے جب رے فتح کر لیا تو ان کے بھائی سوید قومس پر بڑھے اور یہ وسیع صوبہ بغیر جنگ و جدل کے قبضہ میں آ گیا۔ یہاں سے جرجان جو طبرستان کا مشہور ضلع ہے ، نہایت قریب ہے۔ سوید نے وہاں کے رئیس روزبان سے نامہ پیام کیا۔ اس نے جزیہ پر صلح کر لی۔ اور معاہدہ صلح میں بتصریح لکھ دیا کہ مسلمان جرجان اور دہستان وغیرہ کے امن کے ذمہ دار ہیں۔ اور ملک والوں میں جو لوگ بیرونی حملوں کے روکنے میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے وہ جزیہ سے بری ہیں۔ جرجان کی خبر سن کر طبرستان کے رئیس نے بھی جو سپہدار کہلاتا تھا اس شرط پر صلح کر لی کہ پانچ لاکھ درہم سالانہ دیا کرے گا اور مسلمانوں کو ان پر یا ان کو مسلمانوں پر کچھ حق نہ ہو گا۔

 

آرمینیہ

(صوبہ آرمینیہ کو بلاد ارمن بھی کہتے جو ایشائے کوچک کا ایک حصہ ہے۔ شمال میں بحر اسود، جنوب میں کوہی اور صحرائی حصہ دور تک چلا گیا ہے۔ مشرق میں گرجستان اور غرب میں بلاد روم واقعہ ہیں۔ چونکہ یہ صوبہ خلافت عثمانی میں کامل فتح ہوا تھا۔ اس لئے نقشہ میں فاروقی رنگ جدا ہے۔ )

بکیر جو آذربئجان کی مہم پر مامور ہوئے تھے۔ آذربیجان فتح کر کے باب کے متصل پہنچ گئے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نئی فوج تیار کر کے ان کی مدد کو بھیجی، باب کا رئیس جس کا نام شہر براز تھا مجوسی تھا اور سلطنت ایران کا ماتحت تھا۔ مسلمانوں کی آمد کا سن کر خود حاضر ہوا۔ اور کہا مجھ کو آرمینیہ کے مکینوں سے کچھ ہمدردی نہیں ہے۔ میں ایران کی نسل سے ہوں۔ اور جب خود ایران فتح ہو چکا تو میں تمہارا مطیع ہوں، لیکن میری درخواست ہے کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے۔ جب ضرورت پیش ائے تو فوجی امداد لی جائے۔ چونکہ جزیہ درحقیقت صرف محافظت کا معاوضہ ہے اس لیے یہ شرط منظور کر لی گئی۔ اس سے فارغ ہو کر فوجیں آگے بڑھیں۔ عبد الرحمٰن بن ربیعہ، بلخیر کی طرف جو مملکت خرز کا پائے تخت تھا، روانہ ہوئے۔ شہربراز ساتھ تھا۔ اس نے تعجب سے کہا کہ کیا ارادہ ہے ؟ ہم لوگ اپنے عہد میں اسی کو غنیمت سمجھتے تھے کہ وہ لوگ ہم پر چڑھ کر نہ آئیں۔ عبد الرحمٰن نے کہا کہ ” لیکن میں جب تک اس کے جگر میں گھس جاؤں باز نہیں آ سکتا۔ ” چنانچہ بیضا فتح کیا تھا کہ خلافت فاروقی کا زمانہ تمام ہو گیا۔ ادھر بکیر نے قان کو جہاں سے اردن کی سرحد شروع ہوتی ہے فتح کر کے اسلام کی سلطنت میں ملا لیا، حبیب بن مسلمہ اور حذیفہ نے ثقلیس اور جیال املان کا رخ کیا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہاں اسلام کا پھریرا اڑتا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ ختم ہو گیا۔ یہ تمام مہمات حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں انجام کو پہنچیں۔

 

فارس 23 ہجری (644 عیسوی)

(حال کے جغرافیہ میں عراق کی حدود گھٹا کر فارس کی حدود بڑھا دی گئی ہیں۔ مگر ہم نے جس وقت کا نقشہ دیا ہے اس وقت فارس کے حدود یہ تھے۔ شمال میں اصفہان جنوب میں بحر فارس مشرق میں کرمان اور مغرب میں عراق۔ عرب اس کا سب سے بڑا اور مشہور شہر شیراز ہے۔ )

فارس پر اگرچہ اول اول 17  ہجری میں حملہ ہوا۔ لیکن چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے نہ تھا اور نہ اس وقت چنداں کامیابی ہوئی۔ ہم نے اس زمانے کے واقعات کے ساتھ اس کو لکھنا مناسب نہ سمجھا۔ عراق اور اہواز جو عرب کے ہمسایہ تھے فتح ہو چکے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اور فارس کے بیچ میں آتشیں پہاڑ حائل ہوتا تو اچھا تھا۔ لیکن فارس سے ایک اتفاقی طور پر جنگ چھڑ گئی۔ علاء بن الحضرمی 17 ہجری میں بحرین کے عامل مقرر ہوئے۔ وہ بڑی ہمت اور حوصلہ کے آدمی تھے۔ اور چونکہ سعد بن وقاص سے بعض اسباب کی وجہ سے رقابت تھی۔ ہر میدان میں ان سے بڑھ کر قدم مارنا چاہتے تھے۔ سعد نے جب قادسیہ کی لڑائی جیتی تو علاء کو سخت رشک ہوا۔ یہاں تک کہ دربار خلافت سے اجازت تک نہ لی۔ اور فوجیں تیار کر کے دریا کی راہ فارس پر چڑھائی کر دی۔ خلید بن منذر سر لشکر تھے اور جارود بن المعلی اور سوار بن ہمام کے ماتحت الگ الگ فوجیں تھیں۔ اصطخر پہنچ کر جہاز نے لنگر کیا۔ اور فوجیں کنارے پر اتریں۔ یہاں کا حاکم ہیربد تھا۔ وہ ایک انبوہ کثیر لے کر پہنچا اور دریا اتر کر اس پار صفیں قائم کیں کہ مسلمان جہاز تک نہ پہنچ پائیں۔ اگرچہ مسلمانوں کی جمعیت کم تھی۔ اور جہاز بھی گویا دشمن کے قبضے میں آ گئے تھے۔ لیکن سپہ سالار فوج کی ثابت قدمی میں فرق نہ آیا۔ بڑے جوش کے ساتھ مقابلہ کو بڑھے اور فوج کو للکارا کہ مسلمانو! بے دل نہ ہونا۔ دشمن نے ہمارے جہازوں کو چھیننا چاہا ہے۔ لیکن خدا نے چاہا تو جہاز کے ساتھ دشمن کا ملک بھی ہمارا ہے۔

خلید اور جارود بڑی جانبازی سے رجز پڑھ پڑھ کر لڑے اور ہزاروں کو تہ تیغ کیا۔ جلید کا رجزیہ تھا :

یاآل عبدالقیس للنزاع
قدحفل الامداد بالجراع
وکلھم فی سنن المصاع
بحسن ضرب القوم بالقطاع

غرض سخت معرکہ ہوا۔ اگرچہ فتح مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی، لیکن چونکہ فوج کا بڑا حصہ برباد ہو گیا، نہ بڑھ سکے۔ پیچھے ہٹنا چاہا۔ مگر غنیم نے جہاز غرق کر دیئے تھے۔ مجبور ہو کر خشکی کی راہ بصرہ کا رخ کیا۔ بدقسمتی سے ادھر بھی راہیں بند تھیں۔ ایرانیوں نے پہلے سے ہر طرف ناکے روک رکھے تھے۔ اور جا بجا فوجیں متعین کر دی تھیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فارس کے حملہ کا حال معلوم ہوا  تو نہایت برہم ہوئے۔ علاء کو نہایت تہدید نامہ لکھا۔ ساتھ ہی عتبہ بن غزوان کو لکھا کہ مسلمانوں کے بچانے کے لیے فوراً لشکر تیار ہو اور فارس پر جائے۔ چنانچہ بارہ ہزار فوج جس کے سپہ سالار ابو سرۃ تھے تیار ہو کر فارس پر بڑھی اور مسلمان جہاں رکے پڑے تھے وہاں پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ ادھر مجوسیوں نے ہر طرف نقیب دوڑا دیئے تھے۔ اور ایک انبوہ کثیر اکٹھا کر لیا جس کا سر لشکر شہرک تھا۔ دونوں حریف دل توڑ کر لڑے۔ بالآخر ابوسرۃ نے فتح حاصل کی۔ لیکن چونکہ آگے بڑھنے کا حکم نہ تھا۔ بصرہ واپس چلے آئے۔ واقعہ نہاوند کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر طرف فوجیں روانہ کیں تو فارس پر بھی چڑھائی کی۔ اور جدا جدا فوجیں متعین کیں۔ پارسیوں نے توج کو صدر مقام قرار دے کر یہاں بڑا سامان کیا تھا۔ لیکن جب اسلامی فوجیں مختلف مقامات پر پھیل گئیں تو انکو بھی منتشر ہونا پڑا اور یہ ان کی شکست کا دیباچہ تھا۔ چنانچہ سابور، اردشیر، توج، اصطخر سب باری باری فتح ہو گئے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخیر خلافت یعنی 23 ہجری میں جب عثمان بن ابی العاص بحرین کے عامل مقرر ہوئے تو شہرک نے جو فارس کا مرزبان تھا، بغاوت کی اور تمام مفتوحہ مقامات ہاتھ سے نکل گئے۔ عثمان نے اپنے بھائی حکم کو ایک جمیعت کثیر کے ساتھ مہم پر مامور کیا۔ حکم جزیرہ ابکادان فتح کر کے توج پر بڑھے اور اس کو فتح کر کے وہیں چھاؤنی ڈال دی۔ مسجدیں تعمیر کیں اور عرب کے بہت سے قبائل آباد کئے۔ یہاں سے کبھی کبھی اٹھ کر سرحدی شہروں پر حملہ کرتے اور  پھر واپس آ جاتے۔ اس طرح اردشیر، سابور، اصطخر، ارجان کے بہت سے حصے دبا لئے۔ شہرک یہ دیکھ کر نہایت طیش میں آیا۔ اور ایک فوج عظیم جمع کر کے توج پر بڑھا۔ رامشہر پہنچا تھا کہ ادھر سے حکم خود آگے بڑھ کر مقابل ہوئے۔ شہرک نے نہایت ترتیب سے صف آرائی کی۔ فوج کا ایک دستہ اس نے پیچھے رکھا کہ کوئی سپاہی پاؤں ہٹائے تو وہیں قتل کر دیا جائے۔ غرض جنگ شروع ہوئی اور دیر تک معرکہ رہا۔ پارسیوں کو شکست ہوئی اور شہرک جان سے مارا گیا۔ اس کے بعد عثمان نے ہر طرف فوجیں بھیج دیں۔ اس معرکہ سے تمام فارس میں دھاک بیٹھ گئی۔ عثمان نے جس طرف رخ کیا، ملک کے ملک فتح ہوتے چلے گئے۔ چنانچہ گازروں، نوبند جان، ارجان، شیراز، سابور جو فارس کے صدر مقامات ہیں، خود عثمان کے ہاتھ سے فتح ہوئے۔ فساء دار البحر وغیرہ فوجیں گئیں اور کامیاب آئیں۔

کرمان 23 ہجری (644 عیسوی)

(اس کا قدیم نام کرمانیہ ہے۔ حدود اربعہ یہ ہیں : شمال میں کوہستان جنوب میں بھر عمان مشرق میں سیستان مغرب میں فارس ہے۔ امانہ سابق میں اس کا دار الصدر کر اسیر (بیروسیر) تھا۔ جس کی جگہ اب جبرفت آباد ہے۔ )

کرمان کی فتح پر سہیل بن عدی مامور ہوئے تھے۔ چنانچہ 23 ہجری میں ایک فوج لے کر جس کا ہراول بشیر بن عمر التجلی کی افسری میں تھا۔ کرمان پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں کے مرزبان نے قفس وغیرہ سے مدد طلب کر کے مقابلہ کیا۔ لیکن وہ خود میدان جنگ میں نسیر کے ہاتھ سے مارا گیا۔ چونکہ آگے کچھ روک ٹوک نہ تھی، جبرفت اور سیرجان تک فوجیں بڑھتی چلی گئیں۔ اور بے شمار اونٹ اور بکریاں غنیمت میں ہاتھ آئیں۔ جبرفت کرمان کی تجارت گاہ اور سرجان کرمان کا سب سے بڑا شہر تھا۔

سیستان 23 ہجری (644 عیسوی)

 (سیستان کو عرب سجستان کہتے ہیں۔ حدود اربعہ یہ ہیں : شمال میں ہرات، جنوب میں مکران، مشرق میں سندھ اور مغرب میں کوہستان۔ یہاں کا مشہور شہرزرنج ہے جہاں میوہ افراط سے پیدا ہوتا ہے۔ رقبہ 25000 مربع میل ہے۔ )

یہ ملک عاصم بن عمر کے ہاتھ سے فتح ہوا۔ باشندے سرحد پر برائے نام لڑ کر بھاگ نکلے عاصم برابر بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ زرنج کا جو سیستان کا دوسرا نام ہے ، محاصرہ کیا۔ محصوروں نے چند روز کے بعد اس شرط پر صلح کی درخواست کی  ان کی تمام اراضی حمی سمجھی جائے۔ مسلمانون نے یہ شرط منظور کر لی۔ اور اس طرح وفا کی کہ جب مرزروعات کی طرف نکلے تھے تو جلدی سے گزر جاتے تھے کہ زراعت چھو تک نہ جائے۔ اس ملکے کے قبضے میں آنے سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سندھ سے لے کر نہر بلخ تک جس قدر ممالک تھے ان کی فتح کی کلید ہاتھ میں آ گئی۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً ان ملکوں پر حملے ہوتے رہے۔

مکران 23 ہجری (644 عیسوی)

(آج کل مکران کا نصف حصہ بلوچستان کہلاتا ہے۔ اگرچہ مؤرخ بلاذری فتوحات فاروقی کی آمد سندھ کے شہر دیبل تک لکھتا ہے۔ مگر طبریٰ نے مکران ہی کو اخیر حد قرار دیا ہے۔ اس لیے ہم نے بھی نقشہ میں فتوحات فاروقی کی وہیں تک حد قرار دی ہے۔ )

مکران پر حکم بن عمرو التغلبی مامور ہوئے تھے۔ چنانچہ 23 ہجری میں روانہ ہو کر نہر مکران کے اس طرف فوجیں اتاریں، مکران کا بادشاہ جس کا نام راسل تھا خود پار اتر کر آیا اور صف آرائی کی۔ ایک بڑی جنگ کے بعد راسل نے شکست کھائی اور مکران پر قبضہ ہو گیا۔ حکم نے نامہ فتح کے ساتھ چند ہاتھی بھی جو لوٹ میں میں آئے تھے ، دربار خلافت میں بھیجے۔ صحار عبدی جو نامہ فتح لے کر گئے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مکران کا حال پوچھا، انہوں نے کہا ” ارضً سھلھا جبلً ماء ھاوشلً و ثمر ھاوقلً و عدوھا بطلً و خیرھا قلیلً و شرھا طویلً والکثیر بھا قلیلً۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واقعات کے بیان کرنے میں قافیہ بندی کا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واقعی حالات بیان کرتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا کہ فوجیں جہاں تک پہنچ چکی ہیں وہیں رک جائیں۔ چنانچہ فتوحات فاروقی کی اخیر حد یہی مکران ہے لیکن یہ طبریٰ کا بیان ہے۔ مؤرخ بلاذری کی روایت ہے کہ دیبل کے نشیبی حصہ اور تھانہ تک فوجیں آئیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں اسلام کا قدم سندھ و ہندوستان میں بھی آ چکا تھا۔

خراسان کی فتح اور یزدگرد کی ہزیمت۲۳ ہجری (644 عیسوی)

(علامہ بلاذری کے نزدیک تمام ماورا النہر فرغانہ، خوارزم، طخارستان اور سیستان کا رقبہ خراسان میں داخل تھا مگر اصل یہ ہے کہ اس کے حدود ہر زمانے میں مختلف رہے ہیں۔ اس کے مشہور شہر نیشاپور، مرو، ہرات، بلخ، طوس فسا اور ابی درد وغیرہ تھے۔ جن میں سے پچھلے با بالکل ویران ہیں۔ )

اوپر ہم لکھ آئے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن جن افسروں کو ملک گیری کے علم بھیجے تھے ان میں احتف بن قیس بھی تھے۔ اور ان کو خراسان کا علم عنایت ہوا تھا۔ احتف نے 22 ہجری میں خراسان کا رخ کیا۔ طیسن ہو کر ہرات پہنچے اور اس کو فتح کر کے مرد شاہجہان پر بڑھے ، یزدگر شاہنشاہ فارس یہیں مقیم تھا۔ ان کی آمد سن کر مرور رود چلا گیا۔ اور خاقان چین اور دیگر سلاطین کو استمداد کے نامے لکھے۔ احتف نے مرد شاہجہان پر حارثہ بن النیمان باہلی چھوڑا اور خود مرورود کی طرف بڑھے۔ یزدگرد یہاں سے بھی بھاگا۔ اور سیدھا بلخ پہنچا۔ اس اثناء میں کوفہ سے امدادی فوجیں آ گئیں جس سے میمنہ و میسرہ وغیرہ کے افسر علقمہ بن الضری، ربعی بن عامر التمیمی، عبد اللہ بن ابی عقیل السقنی ابن ام غزال الہمدانی تھے۔ احتف نے تازہ دم فوج لے کر بلخ پر حملہ کیا۔ یزدگرد نے شکست کھائی اور دریا اتر کر خاقان کی حکومت میں چلا گیا۔ احتف نے میدان خالی پا کر ہر طرف فوجیں بھیج دیں اور نیشاپور طخارستان تک فتح کر لیا۔ مرورود کو تخت گاہ قرار دے کر مقام کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامہ لکھا کہ خراسان اسلام کے قبضہ میں آ گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتوحات کی وسعت کو چنداں پسند نہیں کرتے تھے۔ خط پڑھ کر فرمایا کہ ہمارے اور خراسان کے بیچ میں آگ کا دریا حائل ہوتا تو خوب ہوتا، احتف کے مردانہ حوصلوں کی اگرچہ تعریف کی اور فرمایا کہ احتف شرقیوں کا سرتاج ہے۔ تاہم جواب نامہ میں لکھا کہ جہاں تک پہنچ چکے ہو وہاں سے آگے نہ بڑھنا، ادھر یزدگرد خاقان کے پاس گیا اور اس نے بڑی عزت و توقیر کی۔ اور ایک فوج کثیر ہمراہ لے کر یزدگرد کے ساتھ خراسان روانہ ہوا۔ احتف جو بیس ہزار فوج کے ساتھ بلخ میں مقیم تھے ، خاقان کی آمد سن کر مرورد کو روانہ ہوا۔ اور وہاں پہنچ کر مقام کیا۔ خاقان بلخ ہوتا ہوا مرورود پہنچا۔ یزدگرد سے الگ ہو کر مروشاہجہان کی طرف بڑھا۔ احتف نے کھلے میدان میں مقابلہ کرنا مناسب نہ سمجھا، نہر اتر کر ایک میدان میں جس کی پشت پر پہاڑ تھا، صف آرائی کی۔ دونوں فوجیں مدت تک آمنے سامنے صفیں جمائے پڑی رہیں۔

صبح اور شام ساز و سامان سے آراستہ ہو کر میدان جنگ میں جاتے تھے۔ اور چونکہ ادھر سے کچھ جواب نہیں دیا جاتا تھا۔ بغیر لڑے واپس آ جاتے تھے۔ ترکوں کا عام دستور ہے کہ پہلے تین بہادر جنگ میں باری باری طبل و دمامہ کے ساتھ جاتے ہیں پھر سارا لشکر جنبش میں آتا ہے۔ ایک دن احنف خود میدان میں گئے ، ادھر سے معمول کے موافق ایک طبل و علم کے ساتھ نکلا۔ احنف نے حملہ کیا۔ اور دیر تک رد و بدل رہی۔ آخر احنف نے جوش میں آ کر کہا۔

ان علی کل رئیس حقا
ان یخضب الصعدۃ او یندقا

قاعدے کے موافق دو اور بہادر ترک میدان میں آئے اور احنف کے ہاتھ سے مارے گئے۔ خاقان جب خود میدان میں آیا تو اس نے بہادروں کی لاشیں میدان میں پڑی دیکھیں، چونکہ شگون بُرا تھا۔ نہایت پیچ و تاب کھایا اور فوج سے کہا کہ ہم بے فائدہ پرایا جھگڑا کیوں مول لیں۔ چنانچہ اسی وقت کوچ کا حکم دے دیا۔

یزد گرد مرد شاہجہان کا محاصرہ کئے پڑا تھا کہ یہ کبر پہنچی، فتح سے ناامید ہو کر خزانہ اور جواہر خانہ ساتھ لیا اور ترکستان کا قصد کیا۔ درباریوں نے یہ دیکھ کر ملک کی دولت ہاتھ سے نکلی جاتی ہے۔ روکا اور جب اس نے نہ مانا تو برسر مقابل آ کر تمام مال اور اسباب ایک ایک کر کے چھین لیا۔ یزدگرد بے سر و سامان خاقان کے پاس پہنچا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخیر خلافت تک فرغانہ میں جو خاقان کا دارالسلطنت تھا، مقیم رہا۔ احنف نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فتح نامہ لکھا۔ قاصد مدینہ پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام آدمیوں کو جمع کر کے مژدہ فتح سنایا۔ اور ایک پُر اثر تقریر کی۔ آخر میں فرمایا کہ آج مجوسیوں کی سلطنت برباد ہو گئی۔ اور اب وہ اسلام کو کسی طرح ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن اگر تم بھی راست کر داری پر ثابت قدم نہ رہے تو خدا تم سے بھی حکومت چھین کر دوسروں کے ہاتھ میں دے دے گا۔

مصر کی فتح 20 ہجری (641 ء)

مصر کی فتح اگرچہ فاروقی کارناموں میں داخل ہے۔ لیکن اس کے بانی مبانی عمرو بن العاص تھے وہ اسلام سے پہلے تجارت کا پیشہ کرتے تھے۔ اور مصر ان کی تجارت کا جولا نگاہ تھا۔ اس زمانے میں مصر کی نسبت گو اس قسم کا خیال بھی ان کے دل میں نہ گزرا ہو گا۔ لیکن اس کی زرخیزی اور شادابی کی تصویر ہمیشہ ان کی نظر میں پھرتی رہتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کو جا اخیر سفر کیا اس میں یہ ان سے ملے اور مصر کی نسبت گفتگو کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے احتیاط کے لحاظ سے انکار کیا۔ لیکن آخر ان کے اصرار پر راضی ہو گئے۔ اور چار ہزار فوج ساتھ کر دی۔ اس پر بھی ان کا دل مطمئن نہ تھا۔ عمرو سے کہا کہ خدا کا نام لے کر روانہ ہو۔ لیکن مصر پہنچنے سے پہلے اگر میرا خط پہنچ جائے تو الٹے پھر آنا۔ عریش پہنچے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط پہنچا۔ اگرچہ اس میں آگے بڑھنے سے روکا تھا۔ لیکن چونکہ شرطیہ حکم تھا۔ عمرو نے کہا اب تو ہم مصر کی حد میں آ چکے ہیں۔ (مقریزی وغیرہ میں لکھا ہے کہ قاصد مقام رفج میں عمرو سے ملا۔ انہوں نے اس خیال سے کہ آگے بڑھنے سے منع کیا ہو گا قاصد سے خط نہیں لیا اور کہا کہ جلدی کیا ہے منزل پر پہنچ کر لے لوں گا۔ عریش کے قریب پہنچے تو خط لے کر کھولا اور پڑھا اور کہا کہ امیر المومنین نے لکھا ہے کہ “مصر نہ پہنچ چکے ہو تو رک جانا۔ ” لیکن ہم تو مصر کی حد میں آ چکے ہیں لیکن عمرو بن العاص کی نسبت ایسی حیلہ بازی کے اتہام کی کیا ضرورت ہے۔ اولاً تو بلاذری وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خط ان کو عریش ہی میں ملا لیکن رفج ملا ہو تو بھی حرج نہیں کیونکہ رفج خود مصر میں داخل ہے )۔

غرض عریش سے چل کر فرما پہنچے ، یہ شہر بحر روم کے کنارے پر واقع ہے۔ اور گو اب ویران پڑا ہے لیکن اس زمانے میں آباد تھا۔ اور جالینوس کی زیارت گاہ ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز شہر گنا جاتا تھا۔ یہاں سرکاری فوج رہتی تھی۔ اس نے شہر سے نکل کر مقابلہ کیا۔ اور ایک مہینے تک معرکہ کارزار گرم رہا۔ بالآخر رومیوں نے شکست کھائی۔ عمرو فرما سے چل کر بلبیس، اور ام دنین کو فتح کرتے ہوئے فسطاط پہنچے۔ فسطاط اس زمانے میں کف دست میدان تھا۔ اور اس قطعہ زمین کا نام تھا، جو دریائے نیل اور جب مقطم کے بیچ میں واقع ہے۔ اور جہاں اس وقت زراعت کے کھیت یا چراگاہ کے تختے تھے لیکن چونکہ یہاں سرکاری قلعہ تھا، اور رومی سلطنت کے حکام جو مصر میں رہتے تھے یہیں رہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ چونکہ دریائے نیل پر واقع تھا، اور جہاز اور کشتیاں قلعہ کے دروازے پر آ کر لگتی تھیں۔ ان وجوہ سے سرکاری ضرورتوں کے لیے نہایت مناسب مقام تھا۔ عمرو نے اول اسی کو تاکا اور محاصرہ کی تیاریاں کیں۔ مقوقس جو مصر کا فرمانروا اور قیصر کا باجگزار تھا، عمرو بن العاص سے پہلے قلعہ میں پہنچا تھا اور لڑائی کا بندوبست کر رہا تھا۔ قلعہ کی مضبوطی اور فوج کی قلت کو دیکھ کر عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا۔ اور اعانت طلب کی۔ انہوں نے دس ہزار فوج اور چار افسر بھیجے اور خط میں لکھا کہ ان افسروں میں ایک ایک ہزار ہزار سوار کے برابر ہے۔ یہ افسر زبیر بن العوام، عبادہ بن الصامت، مقداد بن عمرو، سلمہ بن مخلد تھے۔ زبیر کا جو رتبہ تھا اس کے لحاظ سے عمرو نے ان کو افسر بنایا۔ اور محاصرہ وغیرہ کے انتظامات ان کے ہاتھ میں دیئے۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کے چاروں طرف چکر لگایا۔ اور جہاں جہاں مناسب تھا، مناسب تعداد کے ساتھ سوار اور پیادے متعین کئے۔ اس کے ساتھ منجیقوں سے پتھر برسانے شروع کئے۔ اس پر پورے ساتھ مہینے گزر گئے اور فتح و شکست کا کچھ فیصلہ ہوا۔ زبیر نے ایک دن تنگ آ کر کہا آج میں مسلمانوں پر فدا ہوتا ہوں۔ یہ کہہ کر ننگی تلوار ہاتھ میں لی اور سیڑھی لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھ گئے۔ چند اور صحابہ نے ان کا ساتھ دیا۔ فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ تکبیر کے نعرے بلند کئے۔ ساتھ ہی تمام فوج نے نعرہ مارا کہ قلعہ کی زمین دہل اٹھی۔ عیسائی یہ سمجھ کر کہ مسلمان قلعہ کے اندر گھس آئے۔ بدحواس ہو کر بھاگے۔ زبیر نے فصیل سے اتر کر قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور تمام فوج اندر گھس آئی۔ مقوقس نے یہ دیکھ کر صلح کی درخواست کی۔ اور اسی وقت سب کو امان دے دی گئی۔

ایک دن عیسائیوں نے عمرو بن العاص اور افسران فوج کی دھوم دھام سے دعوت کی۔ عمرو بن العاص نے قبول کر لی۔ اور سلیقہ شعار لوگوں کو ساتھ لے گئے۔

دوسرے دن عمرو نے ان لوگوں کی دعوت کی۔ رومی بڑے تزک و احتشام سے آئے۔ اور مخملی کرسیوں پر بیٹھے۔ کھانے میں خود مسلمان بھی شریک تھے۔  اور جیسا کہ عمرو نے پہلے سے حکم دیا تھا سادہ عربی لباس میں تھے۔ اور عربی انداز اور عادات کے موافق کھانے بیٹھے ، کھانا بھی سادہ یعنی معمولی گوشت اور روٹی تھی۔ عربوں نے کھانا شروع کیا تو گوشت کی بوٹیاں شوربے میں ڈبو ڈبو کر اس زور سے دانتوں سے نوچتے تھے کہ شوربے کے بھینٹیں اڑ کر رومیوں کے کپڑوں پر پڑتی تھیں۔ رومیوں نے کہا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو کل ہماری دعوت میں تھے۔ یعنی وہ ایسے گنوار اور بے سلیقہ نہ تھے۔ عمرو نے کہا ” وہ اہل الرائے تھے ، اور یہ سپاہی ہیں۔ “

مقوقس نے اگرچہ تمام مصر کے لئے معاہدہ صلح لکھوایا تھا۔ لیکن ہرقل کو جب خبر ہوئی تو اس نے نہایت ناراضگی ظاہر کی اور لکھ بھیجا کہ قبطی اگر عربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے تو رومیوں کی تعداد کیا کم تھی۔ اسی وقت ایک عظیم فوج روانہ کی کہ اسکندریہ پہنچ کر مسلمانوں کے مقابلے کے لئے تیار ہو۔

اسکندریہ کی فتح 21 ہجری (42 – 641 ء)

قسطاط کی فتح کے بعد عمرو نے چند روز تک یہاں قیام کیا۔ اور یہیں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ فسطاط فتح ہو چکا۔ اجازت ہو تو اسکندریہ پر فوجیں بڑھائی جائیں۔ وہاں سے منظوری آئی، عمرو نے کوچ کا حکم دیا۔ اتفاق سے عمرو کے خیمہ میں ایک کبوتر نے گھونسلا بنا لیا تھا۔ خیمہ اکھاڑا جانے لگا تو عمرو کی نگاہ پڑی، حکم دیا کہ اس کو یہیں رہنے دو کہ ہمارے مہمان کو تکلیف نہ ہونے پائے۔ چونکہ عربی میں خیمہ کو  فسطاط کہتے ہیں اور عمرو نے اسکندریہ سے واپس آ کر اسی خیمہ کے قریب شہر بسایا، اس لئے خود شہر بھی فسطاط کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور آج تک یہی نام لیا جاتا ہے۔ بہر حال 21 ہجری میں عمرو نے اسکندریہ کا رخ کیا۔ اسکندریہ اور فسطاط کے درمیان میں رومیوں کی جو آبادیاں تھیں انہوں نے سد راہ ہونا چاہا۔ چنانچہ ایک جماعت عظیم سے جس میں ہزاروں قبطی بھی تھے ، فسطاط کی طرف بڑھے کہ مسلمانوں کو روک لیں۔ قام کریون نے دونوں حریفوں کا سامنا ہوا۔ مسلمانوں نے نہایت طیش میں آ کر جنگ کی اور بے شمار عیسائی مارے گئے۔ پھر کسی نے روک ٹوک کی جرات نہ کی اور عمرو نے اسکندریہ پہنچ کر دم لیا۔ مقوقس جزیہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا۔ لیکن رومیوں کے ڈر سے نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم یہ درخواست کی کہ ایک مدت معین کے لیے صلح ہو جائے۔ عمرو  نے انکار کیا۔ مقوقس نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے شہر کے تمام آدمیوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر شہر پناہ کی فصیل پر مسلمانوں کے سامنے صف جما کر کھڑے ہوں، عورتیں بھی اس حکم میں داخل تھیں اور اس غرض سے کہ پہچانی نہ جا سکیں۔ انہوں نے شہر کی طرف منہ کر لیا تھا۔ عمرہ نے کہلا بھیجا کہ ہم تمہارا مطلب سمجھتے ہیں، لیکن تم کو معلوم نہیں کہ ہم اب تک جو ملک فتح کئے کثرت فوج کے بل پر نہیں کئے۔ تمہارا بادشاہ ہرقل جس ساز و سامان سے ہمارے مقابلہ کو آیا تم کو معلوم ہے اور جو نتیجہ ہوا وہ بھی مخفی نہیں (فتوح البدان )۔ مقوقس نے کہا سچ ہے۔ “یہی عرب ہیں جنہوں نے ہمارے بادشاہ کو قسطنطنیہ پہنچا کر چھوڑا۔ ” اس پر رومی سردار نہایت غضبناک ہوئے۔ مقوقس کو بہت بُرا کہا اور لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔

    مقوقس کی مرضی چونکہ جنگ کی نہ تھی، اس لئے عمرو سے اقرار لے لیا تھا کہ ” چونکہ میں رومیوں سے الگ ہوں، اس وجہ سے میری قوم (یعنی قطبی) کو تمہارے ہاتھ سے ضرر نہ پہنچنے پائے۔ ” قبطیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اس معرکے میں دونوں سے الگ رہے بلکہ مسلمانوں کو بہت کچھ مدد دی۔ فسطاط سے اسکندریہ تک فوج کے آگے آگے پلوں کی مرمت کرتے اور سڑکیں بناتے گئے۔ خود اسکندریہ کے محاصرہ میں بھی رسد وغیرہ کا انتظام انہی کی بدولت ہو سکا۔ رومی کبھی کبھی قلعہ سے باہر نکل نکل کر لڑتے تھے۔ ایک دن سخت معرکہ ہوا۔ تیر و خدنگ سے گزر کر تلوار کی نوبت آئی۔ ایک رومی نے صف سے نکل کر کہا کہ جس کا دعویٰ ہو تنہا میرے مقابلے کو آئے۔ مسلمہ بن مخلد نے گھوڑا بڑھایا۔ رومی نے ان کو زمین پر دے مارا۔ اور جھک کر تلوار مارنا چاہتا تھا کہ ایک سوار نے آ کر جان بچائی، عمرو کو اس پر اس قدر غصہ آیا کہ متانت ایک طرف مسلمہ کے رتبہ کا بھی خیال نہ کر کے کہ کہ “زنخوں کو میدان جنگ میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ” مسلمہ کو نہایت ناگوار ہوا۔ لیکن مصلحت کے لحاظ سے کچھ نہ کہا۔ لڑائی کا زور اسی طرح قائم رہا۔ آخر مسلمانوں نے اس طرح دل توڑ کر حملہ کیا کہ رومیوں کو دباتے ہوئے قلعہ کے اندر گھس گئے۔ دیر تک قلعہ کے صحن میں معرکہ رہا۔ آخر میں رومیوں نے سنبھل کر ایک ساتھ حملہ کیا۔ اور مسلمانوں کو قلعہ سے باہر نکال کر دروازے بند کر دیئے۔ اتفاق یہ کہ عمرو بن العاص اور مسلمہ اور دو شخص اندر رہ گئے۔ رومیوں نے ان لوگوں کو زندہ گرفتار کرنا چاہا۔ لیکن ان لوگوں نے مردانہ وار جان دینی چاہی تو انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے ایک ایک  آدمی مقابلے کو نکلے ، اگر ہمارا آدمی مارا گیا تو ہم تم کو چھوڑ دیں گے کہ قلعہ سے نکل جاؤ اور تمہارا آدمی مارا جائے تو تم سب ہتھیار ڈال دو گے۔

عمرو بن العاص نے نہایت خوشی سے منظور کیا۔ اور خود مقابلے کے لئے نکلنا چاہا۔ مسلمہ نے روکا کہ تم فوج کے سردار ہو۔ تم پر آنچ آئی تو انتظام میں خلل ہو گا۔ یہ کہہ کر گھوڑا بڑھایا۔ رومی بھی ہتھیار سنبھال چکا تھا۔ دیر تک وار ہوتے رہے۔ بالآخر مسلمہ نے ایک ہاتھ مارا کہ رومی وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ رومیوں کو معلوم نہ تھا کہ ان میں کوئی سردار ہے۔ انہوں نے اقرار کے موافق قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ اور سب صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ عمرو نے مسلمہ سے اپنی پہلی گستاخی کی معافی مانگی اور انہوں نے نہایت صاف دلی سے معاف کر دیا۔

محاصرہ جس قدر طول کھینچتا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زیادہ پریشانی ہوتی تھی۔ چنانچہ عمرو کو خط لکھا کہ ” شاید تم لوگ وہاں رہ کر عیسائیوں کی طرح عیش پرست بن گئے ہو۔ ورنہ فتح میں اس قدر دیر نہ ہوتی۔ جس دن میرا خط پہنچے تمام فوج کو جمع کر کے جہاد پر خطبہ دو اور پھر اس طرح حملہ کر کہ جن کو میں نے افسر کر کے بھیجا تھا فوج کے آگے ہوں اور تمام فوج ایک دفعہ دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ عمرو نے تمام فوج کو یکجا کر کے خطبہ پڑھا اور ایک پُر اثر تقریر کی کہ بجھے ہوئے جوش تازہ ہو گئے۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جا برسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں رہے تھے بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھ کے دیجیئے۔ خود سر سے عمامہ اتارا اور نیزہ پر لگا کر ان کو حوالہ کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے اور آج اپ سپہ سالار ہیں۔ زبیر بن العوام اور مسلمہ بن مخلد کو فوج کا ہراول کیا۔ غرض اس سر و سامان سے قلعہ پر دھاوا ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں شہر فتح ہو گیا۔ عمرو نے اسی وقت معاویہ بن خدیج کو بلا کر کہا کہ جس قدر تیز جا سکو جاؤ۔ اور امیر المؤمنین کو مژدہ فتح سناؤ۔ معاویہ اونٹنی پر سوار ہوئے اور دو منزلہ سہ منزلہ کرتے ہوئے مدینہ پہنچے۔ چونکہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ اس خیال سے کہ یہ آرام کا وقت ہے ، بارگاہ خلافت میں جانے سے پہلے سیدھے مسجد نبوی کا رخ کیا۔ اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لونڈی ادھر آ نکلی اور ان کو مسافر کی ہیئت میں دیکھ کر پوچھا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اسکندریہ سے۔ اس نے اسی وقت جا کر خبر کی اور ساتھ ہی واپس آئی کہ چلو امیر المؤمنین بلاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنا بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے ، خود چلنے کے لیے تیار ہوئے اور چادر سنبھال رہے تھے کہ معاویہ پہنچ گئے۔ فتح کا حال سن کر زمین پر گرے اور سجدۂ شکر ادا کیا۔ اٹھ کر مسجد میں آئے اور منادی کرا دی الصلوۃ جامعہ سنتے ہی تمام مدینہ امڈ آیا۔ معاویہ نے سب کے سامنے فتح کے حالات بیان کئے۔ وہاں سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر پر گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لونڈی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے۔ وہ روٹی اور روغن زیتون لائی۔ مہمان کے آگے رکھا اور کہا کہ آنے کے ساتھ ہی میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے۔ انہوں نے کہا میں نے خیال کیا کہ یہ آرام کا وقت ہے ، شاید آپ سوتے ہوں۔ فرمایا افسوس تمہارا میری نسبت یہ خیال ہے۔ میں دن کو سوؤں گا تو خلافت کا بار کون سنبھالے گا۔ (یہ تمام تفصیل مقرریزی سے لی گئی ہے۔ )

عمرو اسکندریہ کی فتح کے بعد قسطاط کو واپس گئے اور وہاں شہر بسانا چاہا۔ الگ الگ قطعے متعین کئے۔ اور داغ بیل ڈال کر عرب کی سادہ وضع کی عمارتیں تیار کرائیں۔ تفصیل اس کے دوسرے حصے میں آئے گی۔

اسکندریہ اور فسطاط کے بعد اگرچہ عمرو کا کوئی حریف نہیں رہا تھا۔ تاہم چونکہ مصر کے تمام اضلاع میں رومی پھیلے ہوئے تھے۔ ہر طرف تھوڑی تھوڑی فوجیں روانہ کیں کہ آئندہ کسی خطرے کا احتمال نہ رہ جائے۔ چنانچہ خارجہ بن حذافہ العدوی فیوم، اشموتین، احمیم، بشر دوات، معید اور اس کے تمام مضافات میں چکر لگا آئے اور ہر جگہ لوگوں نے خوشی سے جزیہ دینا قبول کیا۔ اسی طرح عمیر بن وہب الجمحی نے تینس دمیاط، تونہ ، دمیرہ، شطا، وقبلہ، بنا، بوہیر کو مسخر کیا۔ عقبہ بن عامر الجھنی نے مصر کے تمام نشیبی حصے فتح کئے۔ (فتوح البلدان )۔

چونکہ ان لڑائیوں میں نہایت کثرت سے قبطی اور رومی گرفتار ہوئے تھے۔ عمرو نے دربار خلافت کو لکھا کہ ان کی نسبت کیا کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب لکھا کہ سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختیار ہے کہ مسلمان ہو جائیں یا اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ اسلام قبول کریں گے تو ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ ورنہ جزیہ دینا ہو گا۔ جو تمام ذمیوں سے لیا جاتا ہے۔ عمرو نے تمام قیدی جو تعداد میں ہزاروں سے زیادہ تھے ، ایک جگہ جمع کئے ، عیسائی سرداروں کو طلب کیا۔ اور مسلمان و عیسائی الگ الگ ترتیب سے آمنے سامنے بیٹھے۔ بیچ میں قیدیوں کا گروہ تھا۔ فرمان خلافت پڑھا گیا تو بہت سے قیدیوں نے جو مسلمانوں میں رہ کر اسلام کے ذوق سے آشنا ہو گئے تھے ، اسلام قبول کیا اور بہت سے اپنے مذہب پر قائم رہے۔ جب کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا تھا تو مسلمان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے اور خوشی سے بچھے جاتے تھے۔ اور جب کوئی شخص عیسائیت کا اقرار کرتا تھا تو تمام عیسائیوں میں مبارکباد کا غل پڑتا تھا۔ اور مسلمان اس قدر غمزدہ ہوتے تھے کہ بہت سوں کے آنسو نکل پرتے تھے۔ دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا اور دونوں فریق اپنے اپنے حصہ رسدی کے موافق کامیاب آئے۔ (طبری  – 283)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت

(26 ذوالحجہ 23 ہجری – 644 عیسوی)

(کل مدت خلافت دس برس چھ مہینے چار دن)

مدینہ منورہ میں فیروز نامی ایک پارسی غلام تھا۔ جس کی کنیت ابو لولو تھی، اس نے ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آ کر شکایت کی کہ میرے آقا مغیرہ بن شعبہ نے مجھ پر بہت بھاری محصول مقرر کیا ہے۔ آپ کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تعداد پوچھی۔ اس نے کہا روزانہ دو درہم (قریباً سات آنے )۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، تو کون سا پیشہ کرتا ہے ، بولا کہ “نجاری نقاشی، آہنگری” فرمایا کہ ” ان صنعتوں کے مقابلہ میں رقم کچھ بہت نہیں ہے۔ فیروز دل میں سخت ناراض ہو کر چلا گیا۔

دوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح کی نماز کو نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے کچھ لوگ اس کام پر مقرر تھے کہ جب جماعت کھڑی ہو تو صفیں درست کریں۔ جب صفیں درست ہو جاتیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لاتے تھے اور امامت کراتے تھے۔ اس دن بھی حسب معمول صفیں درست ہو چکیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امامت کے لئے برھے۔ اور جوں ہی نماز شروع کی، فیروز نے دفعتہً گھات میں سے نکل کر چھ وار کئے جن میں ایک ناف کے نیچے پڑا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوراً عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ کھڑا کر دیا۔ اور خود زخم کے صدمہ سے گر پڑے۔

عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی حالت میں نماز پڑھائی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے بسمل پڑے تھے۔ فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا لیکن بالآخر پکڑا گیا، اور ساتھ ہی اس نے خود کُشی کر لی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگ گھر لائے۔ سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ” میرا قاتل کون تھا۔ ” لوگوں نے کہا کہ ” فیروز” فرمایا کہ الحمد اللہ کہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اسلام کا دعویٰ رکھتا ہو۔ لوگوں کو خیال تھا کہ زخم چنداں کاری نہیں۔ غالباً شفا ہو جائے۔ چنانچہ ایک طبیب بلایا گیا۔ اس نے نبیذ اور دودھ پلایا۔ اور دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل آئیں۔ اس وقت لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ اس زخم سے جانبر نہیں ہو سکتے۔

چنانچہ لوگوں نے ان سے کہا کہ ” اب آپ اپنا ولی عہد منتخب کر جائیے۔ “

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ اپنے فرزند کو بلا کر کہا کہ ” عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاؤ اور کہو کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ عبد اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے ، وہ رو رہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلام کہا اور پیغام پہنچایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ ” اس جگہ کو میں اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ لیکن آج میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پر ترجیح دوں گی۔ ” عبد اللہ واپس ائے۔ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر کی۔ بیٹے کی طرف مخاطب ہوئے اور کہا کہ کیا خبر لائے ؟ انہوں نے کہا کہ جو آپ چاہتے تھے۔ فرمایا ” یہی سب سے بڑی آرزو تھی۔ “

اس وقت اسلام کے حق میں جو سب سے اہم کام تھا وہ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا تھا۔ تمام صحابہ بار بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کرتے تھے کہ اس مہم کو آپ طے کر جائیے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کے معاملہ پر مدتوں غور کیا تھا۔ اور اکثر سوچا کرتے تھے۔ بار بار لوگوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ سب سے الگ متفکر بیٹھے کچھ سوچ رہے ہیں۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خلافت کے باب میں غلطاں و پیچاں ہیں۔

مدت کے غور فکر پر بھی ان کے انتخاب کی نظر کسی شخص پر جمتی نہ تھی۔ بارہا ان کے منہ سے بیساختہ آہ نکل گئی۔ کہ “افسوس بار گراں کا کوئی اٹھانے والا نظر نہیں آتا۔ ” تمام صحابہ میں اس وقت چھ شخص تھے جن پر انتخاب کی نگاہ پڑ سکتی تھی، علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد بند ابھی وقاص، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سب میں کچھ نہ کچھ کمی پاتے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور بزرگوں کی نسبت جو خوردہ کیریاں کیں، گو ہم نے ان کو ادب سے نہیں لکھا لیکن ان میں اجئے کلام نہیں البتہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق جو نکتہ چینی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی عام تاریخوں میں منقول ہے۔ یعنی یہ کہ ان کے مزاج میں ظرافت ہے۔ یہ ایک خیال ہی خیال معلوم ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظریف تھے مگر اسی قدر جتنا لطیف المزاج بزرگ ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تعلقات قریش کے ساتھ کچھ ایسے پیچ در پیچ تھے کہ قریش کسی طرح ان کے آگے سر نہیں جھکا سکتے تھے۔ علامہ طبری نے اس معاملے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خیالات مکالمہ کی صورت میں نقل کئے ہیں۔ ہم ان کو اس موقع پر اس لئے درج کر رہے ہیں کہ اس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خیالات کا راز سربستہ معلوم ہو جائے گا۔ مکالمہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہم قبیلہ اور طرفدار تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : کیوں عبد اللہ بن عباس! علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں شریک ہوئے ؟

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : میں نہیں جانتا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : تمہارے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کے چچیرے بھائی ہو۔ پھر تمہاری قوم تمہاری طرفدار کیوں نہیں ہوئی؟

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : میں نہیں جانتا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : لیکن میں جانتا ہوں، تمہاری قوم تمہارا سردار ہونا گوارا نہیں کرتی تھی۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : کیوں ؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : وہ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ایک ہی خاندان میں نبوت اور خلافت دونوں آ جائیں۔ شاید تم یہ کہو گے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تم کو خلافت سے محروم کر دیا۔ لیکن خدا کی قسم یہ بات نہیں۔ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کیا جس سے زیادہ مناسب کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر وہ تم کو خلافت دینا بھی چاہتے تو ان کو ایسا کرنا تمہارے حق میں کچھ مفید نہ ہوتا۔

دوسرا مکالمہ اس سے زیادہ مفید ہے کچھ باتیں تو وہی ہیں جو پہلے مکالمہ میں گزریں کچھ نئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں :

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : کیوں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہارے نسبت میں بعض باتیں سنا کرتا تھا، لیکن میں نے اس خیال سے اس کی تحقیق نہیں کی کہ تمہاری عزت میری آنکھوں میں کم نہ ہو جائے۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : وہ کیا باتیں ہیں؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : میں نے سنا ہے کہ تم کہتے ہو کہ لوگوں نے ہمارے خاندان سے خلافت حسداً ظلماً چھین لی۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : ظلماً کی نسبت تو میں نہیں کہہ سکتا، کیونکہ یہ بات کسی پر مخفی نہیں۔ لیکن حسداً تو اس میں تعجب کیا ہے۔ ابلیس نے آدم پر حسد کیا اور ہم لوگ آدم ہی کی اولاد ہیں پھر محسود ہوں تو کیا تعجب ہے ؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : افسوس خاندان بنی ہاشم کے دلوں سے پرانے رنج اور کینے نہ جائیں گے۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : ایسی بات نہ کہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی ہاشمی ہی تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ : اس تذکرے کو جانے دو۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ : بہت مناسب۔ (دیکھو تاریخ طبری 8 تا 2771)

ان مکالمات سے علاوہ اصل واقعہ کے تم اس بات کا بھی اندازہ کر سکو گے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک عہد میں لوگ کس دلیری اور بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ اور یہ زیادہ تر اسی وجہ سے تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود آزادی اور حق گوئی کو قوم میں پھیلانا چاہتے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور اس کا انہوں نے مختلف موقعوں پر اظہار بھی کر دیا تھا۔  چنانچہ طبری وغیرہ میں ان کے ریمارکس کس بتفصیل مذکور ہیں۔ مذکورہ بالا بزرگوں میں وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ لیکن بعض اسباب سے ان کی نسبت قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے۔ (طبری 7)۔

غرض وفات کے وقت جب لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ ” ان چھ شخصوں میں جس کی نسبت کثرت رائے ہو وہ خلیفہ منتخب کر لیا جائے۔ “

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قوم اور ملک کی بہبودی کا جو خیال تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عین کرب و تکلیف کی حالت میں جہاں تک ان کی قوت اور حواس نے یاوری کی اسی دھن میں مصروف رہے۔ لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ” جو شخص خلیفہ منتخب ہو اس کو میں وصیت کرتا ہوں کہ پانچ فرقوں کے حقوق کا نہایت خیال رکھے۔ مہاجرین، انصار، اعراب و اہل عرب جو اور شہروں میں جا کر آباد ہو گئے ہیں۔ اہل ذمہ (یعنی عیسائی، یہودی، پارسی جو اسلام کی رعایا تھے )۔ ” پھر ہر ایک کے حقوق کی تصریح کی، چنانچہ اہل ذمہ کے حق میں جو الفاظ کہے وہ یہ تھے ” میں خلیفہ وقت کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ خدا کی ذمہ داری اور رسول اللہ کی ذمہ داری کی لحاظ رکھے۔ یعنی اہل ذمہ سے جو اقرار ہے وہ پورا کیا جائے۔ ان کے دشمنوں سے لڑا جائے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔ “

قوم کے کام سے فراغت ہو چکی تو اپنے ذاتی مطالب پر توجہ کی۔ عبد اللہ اپنے بیٹھے کو بلا کر کہا کہ مجھ پر کس قدر قرض ہے۔ معلوم ہوا کہ چھیاسی ہزار درہم، فرمایا کہ میرے متروکہ سے ادا ہو سکے تو بہتر ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر وہ بھی پورا نہ کر سکیں توکل قریش سے۔ لیکن قریش کے علاوہ اوروں کو تکلیف نہ دینا۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ (دیکھو کتاب المناقب باب قصۃ البیعہ والاتفاق علی عثمان) لیکن عمر بن شیبہ نے کتاب المدینہ میں بسند صحیح روایت کیا ہے کہ نافع جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے ، کہتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قرض کیونکر رہ سکتا تھا۔ حالانکہ ان کے ایک وارث نے اپنے حصہ وراثت کو ایک لاکھ میں بیچا تھا۔ (دیکھو فتح الباری مطبوعہ مصر جلد 7 )۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر چھیاسی ہزار کا قرض ضرور تھا۔ لیکن وہ اس طرح ادا کیا گیا کہ ان کا مسکونہ مکان بیچ ڈالا گیا۔ جس کو امیر معاویہ نے خریدا۔ یہ مکان باب السلام اور باب رحمت کے بیچ میں واقع تھا۔ اور اس مناسبت سے کہ اس سے قرض ادا کیا گیا، ایک مدت تک دار القضا کے نام سے مشہور رہا۔ چنانچہ ” خلاصۃ الوفانی اخبار دار المصطفیٰ”  میں یہ واقعہ بتفصیل مذکور ہے۔ (دیکھو کتاب مذکور مطبوعہ مصر  – 129)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین دن کے بعد انتقال کیا۔ اور محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن مدفون ہوئے۔ نماز جنازہ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی۔ حضرت عبد الرحمٰن، حضرت علی، حضرت عثمان، طلحہ، سعد بن ابی وقاص، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبر میں اُتارا اور وہ آفتاب عالمتاب خاک میں چھپ گیا۔

٭٭٭

ٹائپنگ: محمد شمشاد خاں

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید