FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

سَر بکف

 

شمارہ ۶، مئی جون ۲۰۱۶ء

 

                مدیر: فقیر شکیب احمد

 

 

 

 

 

                مجلسِ مشاورت

 

مفتی آرزومند سعد

مولانا ساجد خان نقشبندی

عبد الرشید قاسمی سدھارتھ نگری

مفتی محمد آصف

عباس خان

جاوید خان صافی

جواد خان

 

 

 

 

اداریہ

 

      اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۝ۚ

      پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا۔ (سورہ ۹۶، العلق:۱)

 

دو رنگی چھوڑ دے۔ ..

(تیسری اور آخری قسط)

 

                مدیر

 

۴۔ احسان والی زندگی

 

ان لوگوں کے لیے نیکیاں کرنا آسان ہو جاتا ہے، گناہ سے بچنا آسان ہو جاتا ہے، کیسا ہی مخالف ماحول ہو جہاں صرف غیروں کی تہذیب کا سکہ چلتا ہو، یہ بطور “مسلمان” جاتے ہیں۔ کوئی بزم ہو، یہ سنتِ نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے شرماتے نہیں۔ نبی پاکﷺ کی لائی ہوئی تہذیب کے سوا ہر تہذیب کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ سنتِ نبویﷺ کے علاوہ ہر طریقے کو حماقت گردانتے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے کہ یہ کس عمل کی برکت ہے ؟ کون سے تعویذ کا اثر ہے ؟ یا کس بزرگ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے کہ ان کے لیے وصول الی اللہ کی راہ اس قدر سہل ہو جاتی ہے ؟

یہ ساری آشفتہ سری ہے “عشق” کی! عشق و محبت وہ تعویذ ہے جس کے اثر کو دنیا کی کوئی قوت چیلنج نہیں کر سکتی۔ عشق وہ لازوال جذبہ ہے جس کے سامنے باطل سر نگوں ہونے پر مجبور ہے۔ پھر لاکھ گناہوں کے پھندے تیار کر دیے جائیں اور کتنی ہی للچانے والی لذات سامنے کر دی جائیں۔ ..عاشق کی نظر صرف پیارے اللہ پر ہوتی ہے۔ .. اس کا ٹکٹکی باندھے دیکھنا ختم ہو تو کسی اور جانب توجہ دے۔

محبت کے ان پروں سے جب انسان وصول الی اللہ کی راہوں پر چل پڑتا ہے تو اس کے لیے تہجد میں اٹھنا بھی آسان، اللہ کا ذکر کرنا بھی آسان، قرآن کی تلاوت بھی آسان، ہر موقع پر بلا خوف و خطر، سر بکف ہو کر حق کی بات کرنا بھی آسان!

ایک ہماری نماز ہے، ڈیلی روٹین(Daily Routine) والی۔ ..ریا والی۔ ..بے سوز۔ ..بے لذت۔ ..

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں

اور ایک ان عاشقوں کی نماز ہے جو نماز سے پہلے نماز کے منتظر ہیں۔ .. شدّت سے رب دو جہاں کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کے منتظرہیں۔ پھر نماز بھی ایسی۔ .. جس میں یہ رب کو دیکھتے ہیں۔ .. اور رب۔ .. ان کو دیکھتا ہے۔ ..

أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ

تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو۔

(صحیح مسلم، جلد اول: حدیث نمبر ۹۶)

کتنا پیارا جواب ہے پیارے آقاﷺ کا ! جبرئیل علیہ السلام کا سوال تھا، “احسان کیا ہے ؟”

آپ نے معیار متعین کر دیا

“کَاَنَّکَ تَرَاہُ”

گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔

ان لوگوں کی نماز احسان کے درجہ کی ہوتی ہے۔ ان کے دل اللہ کی محبت میں دھڑکتے ہیں۔ ان کی سانسیں اللہ اللہ پکارتی ہیں۔ ان کے اعمال و افعال سے۔ ..حتیٰ کہ فقط دیدار سے۔ ..اللہ یاد آتا ہے۔ ان کی پیشانی کا نور چھپائے نہیں چھپتا۔ چھپے بھی کیسے ؟ یہ مردِ حق کی پیشانی کا نور ہوتا ہے۔

مردِ حقانی کی پیشانی کا نور

کب چھپا رہتا ہے پیشِ ذی شعور

ان کا رونا بڑا عجیب ہوتا ہے۔ کم از کم ہم گناہگاروں کے لیے تو بے حد عجیب۔

ایک اللہ والے سے کسی نے کہا کہ جنت اعمال کے بدلے کی جگہ ہے، وہاں اعمال نہیں کرنے ہوں گے۔ .. سن کر رونے لگے کہ جنت میں نماز نہ ہو گی۔

ہاں ! یہ جنت میں نماز پڑھنے کے لیے روتے ہیں۔ ..یہ تکبیرِ اولیٰ فوت ہونے پر روتے ہیں۔ ..یہ تہجد چھوٹ جانے پر روتے ہیں۔ .. اور ایسا روتے ہیں کہ شیطان نماز کے لیے اٹھا دیتا ہے۔

اس مقام پر پہنچنا بھی چنداں مشکل نہیں۔ پیارے آقا مدنیﷺ نے دین کو آسان بتایا ہے، اور مقامِ احسان کوئی دین سے باہر کی چیز تو ہے نہیں کہ اس تک رسائی مشکل ہو۔

ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ جنت دو قدم ہے۔ کسی نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا “اے دوست! تو اپنا پہلا قدم نفس پر رکھ لے، تیرا دوسرا قدم جنت میں پہنچ جائے گا۔ ”

یہ کوئی نیا اور خود سے گھڑا ہوا ضابطہ نہیں، اللہ کا بنایا ہوا ضابطہ ہے۔

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى 40؀ۙفَاِنَّ الْجَنَّۂَ ھِیَ الْمَاْوٰى 41؀ۭ

لیکن وہ جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا تھا اور اپنے نفس کو بری خواہشات سے روکتا تھا۔ تو جنت ہی اس کا ٹھکانا ہو گی۔

( سورہ ۷۹، النازعات: ۴۰-۴۱)

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ 46۝ۚ

اور جو شخص (دنیا میں ) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا تھا، اس کے لیے دو جنتیں / باغ ہوں گے۔

( سورہ ۵۵، الرحمٰن: ۴۶)

احسان والی زندگی تک پہنچنے کے لیے بھی صرف نفس پر ایک قدم درکار ہے۔ نفسِ امارہ کو مار دیں، حتیٰ کہ آپ کی پسندیدہ چیزیں وہی بن جائیں جنہیں شریعت نے پسند کیا ہے۔

اس کا حصول کثرتِ ذکرِ الٰہی۱ اور صحبتِ اولیاء اللہ۲ سے ہو گا۔

پہلی۱۝چیز ذکرِ الٰہی کی کثرت ہے جو نفس کو کچلنا آسان بناتی ہے۔ ظاہر ہے، آپ جس کا ذکر کریں، وہ چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ تجربہ کر کے دیکھ لیں ! تکرار اچھی چیز کی ہو یا بری چیز کی، اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے۔ ایک پانی کا قطرہ تسلسل سے پتھر پر گرتا رہے تو پتھر میں سوراخ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آقاﷺ نے فرمایا کہ گناہ کرنے سے انسان کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ ..اگر توبہ کر لے تو وہ نقطہ مٹ جاتا ہے ورنہ پھر گناہ کرنے سے پھر ایک نقطہ لگ جاتا ہے۔ ..حتیٰ کہ اس تکرار کے سبب اس کا پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ ..پھر بھلی بات اس کے دل پر اثر نہیں کرتی۔ یہ تکرار ہی کا تو اثر ہے۔

جس طرح کثرت سے گناہ کرنے سے آدمی گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا، درست و نادرست کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، بالکل اسی طرح اگر تکرار اللہ کے پاک نام کی ہو تو دل اجلا ہونے لگتا ہے۔ ..نیکی کی سمت دل راغب ہوتا ہے اور نفس کا کچلنا آسان معلوم ہوتا ہے۔

دوسری چیز، جو نفس کو کچلنے اور مقامِ احسان پر پہنچنے میں معاون ہے وہ اللہ والوں کی صحبت ہے۔ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں۔

“میرے پیر و مرشد فرمایا کرتے تھے کہ سبزی ملتی ہے سبزی والوں کے پاس، کپڑا ملتا ہے کپڑے والوں کے پاس، لوہا ملتا ہے لوہے والوں کے پاس، اسی طرح اللہ ملتا ہے اللہ والوں کے پاس۔ ”

صحبتِ اولیاء سے ہی محبتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے اور جھوٹی، دکھاوے اور نمود کی عبادتوں میں اخلاص کی چاشنی گھلتی ہے، دو رنگی اترتی ہے اور ایک خالص رنگ چڑھتا ہے۔ وہ رنگ جسے اللہ نے سب سے بہتر رنگ بتایا ہے۔ ..

صِبْغَۂَ اللّٰہِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۂً

(کہہ دو کہ ہم نے ) اللہ کا رنگ (اختیار کر لیا ہے ) اور اللہ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے ؟

( سورہ ۲، البقرہ: ۱۳۸)

فقیر ہی کا ایک شعر ہے۔ ..

سب سے بڑھ کر رنگ ہے اللہ کا

اور اس میں رنگنا آسان ہے

صبغۃ اللہ میں رنگے ہوئے ان عاشقوں کی دیوانگی کے کیا کہنے ! ان کا رونا ہنسنا عجیب۔ .. چال ڈھال عجیب۔ .. اور دعائیں۔ ..سبحان اللہ! عجیب و غریب دعائیں۔ ..اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی دعا کو ہاتھ اٹھائیں۔ ..اشکِ محبت سے آنکھیں تر ہوں۔ ..عشقِ حقیقی سے دل پگھل رہا ہو۔ ..دنیا و ما فیہا کو بھول کر۔ .. یوں محبت میں ڈوبی دعائیں مانگیں۔ ..

ربا!

ترے عشق کی انتہاء چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا

وہی “لَنْ تَرَانِی” سنا چاہتا ہوں

بلا شبہ یہ وہ ہیں جو عاشق ہیں۔ .. اور۔ .. یہ وہ ہیں جو کامیاب ہیں۔ ..اللہ ہمیں بھی اپنے عشاق میں شامل فرمائے۔

فقیر شکیبؔ احمد عفی عنہٗ

بروز پیر، ۱۱:۱۰ بجے صبح

٭٭٭

 

 

 

قرآنِ مقدس

 

فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ 45؀ۧ

لہذا قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہو جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔ (سورہ ۵۰، ق:۴۵)

 

رمضان المبارک کی قدر دانی

 

                حضرت مولانا کلیم صدیقی دامت برکاتہم

 

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ۭ

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دیتی ہیں، لہذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔

(آسان ترجمہ قرآن- سورہ ۲، البقرہ: ۱۸۵)

ہر انسان کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں اس کو میسر ہیں ان میں برکت اور اضافہ ہوتا رہے اور وہ نعمت اس سے چھین نہ لی جائے۔ نعمت میں اضافہ اور برکت کے لئے اور نعمت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے منعم حقیقی اور رب کائنات نے یہ ضابطہ ارشاد فرمایا ہے :

اور جب تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ اگر تم شکرو گے تومیں اور بڑھا دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔

شکر نعمت پر نعمت میں اضافہ اور کفران نعمت پر اللہ کی پکڑ سخت ہونے کا اعلان بالکل فطری اور ضابطہ کے مطابق ہے، ناشکری پر اللہ کے غصہ اور پکڑ کے تین درجے ہیں :

پہلا درجہ یہ ہے کہ کفران نعمت کے وبال میں نعمت چھین لی جائے۔

دوسرا درجہ نعمت کے چھین لینے سے زیادہ ہے کہ نعمت موجود ہے مگر نعمت کا فائدہ اٹھانے کی توفیق نہیں رہتی۔

اور تیسرا سب سے زیادہ سخت ہے کہ نعمت کا فائدہ ہونے کے بجائے ناقدری کی وجہ سے نعمت کا نقصان ہو جاتا ہے اور گویا نعمت، زحمت بن جاتی ہے۔

نعمت کے شکر کا ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ زبان سے اللہ کا شکر اور حمد کرے۔ ہر نعمت کے ملنے کے احسان میں الحمد للہ کہے۔ اس کے آگے دوسرا درجہ یہ ہے کہ منعم کی احسان مندی اور آخری درجہ میں شکر کی کیفیت اس قدر پیدا ہو جائے جو بندے کو نافرمانی سے روک دے۔ اور شکر کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ دی ہوئی نعمت کو اللہ کی مرضی کے مطابق قدردانی کے ساتھ استعمال کرے۔ بنانے والے اور دینے والے کی مرضی کے مطابق نعمت کا استعمال اس کی حقیقی قدردانی ہے، اللہ تعالیٰ اس کائنات کے خالق ہیں اور بندوں کی ہر چیز ان کی عطا ہے۔ دنیا کی تمام مخلوقات اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے بنایا ہے لیکن ان چیزوں کے نفع اور نقصان کا دار و مدار انسان کے اپنے استعمال کے انداز پر ہے۔

یہ عام ضابطہ ہے کہ ہر بنانے والا کسی چیز کو جس مقصد کے لئے بناتا ہے وہ مقصد اور نفع حاصل کرنے کے لئے اس کے استعمال کا قاعدہ اور ضابطہ بھی متعین کرتا ہے اور اسی ضابطہ پر اس کے نفع کا انحصار ہوتا ہے، اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے سے فائدہ کے بجائے نقصان ہونے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف فیکٹریاں گاڑیاں اور کاریں بناتی ہیں، جن کے ذریعہ انسان بڑی عافیت کے ساتھ لمبے سفر کی مسافت جلدی طے کر لیتا ہے۔ اللہ کی اس نعمت میں بنانے والوں نے ایک ضابطہ مقر ر کر دیا ہے کہ یہاں ڈرائیور بیٹھے گا یہاں سواریاں بیٹھیں گی، یہاں پٹرول اور یہاں پانی ڈالا جائے گا، اگر سامنے راستہ صاف ہو تو ایکسی لیٹر دبا کر گاڑی کی رفتار بڑھائی جائے گی اور اگر سامنے سے کوئی دوسری گاڑی آ رہی ہو یا کوئی اور رکاوٹ ہو تو بریک لگائے جائیں گے اور ضرورت کے مطابق گاڑی کو روکا یا سست رفتار کیا جائے گا، ان ضوابط کی جب بھی خلاف ورزی کی جائے گی نقصان یقینی ہو گا، مثال کے طور پر کہیں بھیڑ ہے اور ٹریفک زیادہ ہے اور ضابطہ کے اعتبار سے آپ کو گاڑی روکنی ہے، لیکن آپ نے ایکسی لیٹر پر پاؤں دبا کر ریس مزید بڑھا دی تو ایسا خطرناک ایکسیڈنٹ ہونے کا اندیشہ ہے جس سے آپ کا زندگی کا سفر ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا وہی گاڑی جو ایک نعمت تھی، ضابطہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ذریعہ ہلاکت بن گئی۔

اسی طرح ساری بندوقیں اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ آدمی اپنی جان کے دشمنوں سے اپنی حفاظت کرے، بنانے والوں نے اس کے لئے یہ ضابطہ بنایا ہے کہ آپ کو دشمن سے خطرہ ہو تو بندوق میں گولی ڈالئے اور نال کو دشمن کی طرف کر کے فائر کیجئے، آپ کا دشمن وہیں ڈھیر ہو جائے گا اور آپ کی جان محفوظ رہے گی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس ضابطہ کی خلاف ورزی کر کے فائر کر دے۔ تو وہی بندوق جو جان کی حفاظت کے لئے خریدی گئی تھی خود اسی کی ہلاکت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس لئے کہ اس میں اس کے ضابطہ استعمال کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

جس طرح دنیا کی چیزوں میں ضابطہ اور قاعدہ جاری ہے اسی طرح خالق کائنات اور منعم حقیقی نے دنیا کی تمام مخلوق اور اشیاء میں جو انسانوں کو بطور نعمت عطا کی گئی ہیں ان کے استعمال کا ایک قاعدہ مقر ر کیا ہے۔ اگر ان ضوابط کی رعایت رکھی جائے گی تو اس نعمت کا فائدہ ہو گا اور اس میں برکت ہو گی اور یہ نعمت کا شکر بھی ہو گا اور اگر ضابطوں کے مطابق انسان نعمتوں کو استعمال نہیں کرے گا تو یہ کفران نعمت بھی ہو گا اور یہ نعمت انسان کے لئے زحمت بھی بن جائے گی۔

آنکھ اللہ کی ایک نعمت ہے ایک معمولی درجہ کے غریب انسان سے اگر کہا جائے کہ آپ کے پاس دو آنکھیں ہیں آپ کا کام ایک آنکھ سے بھی چل سکتا ہے اس لئے آپ دو کروڑ روپئے لے کر ایک آنکھ مجھے دیدیں تو کوئی صاحب عقل انسان اس کے لئے تیار نہ ہو گا۔ اتنی قیمتی آنکھ اللہ نے بلا طلب ہمیں عطا فرمائی ہے، اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ضابطہ اور قاعدہ مقر ر کر دیا ہے اسی کے مطابق آنکھ کا استعمال کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر حدیث میں آیا ہے کہ ایک مطیع بیٹے کی اپنے والد کی طرف محبت کی ایک نگاہ مقبول حج کا ثواب رکھتی ہے کسی صحابی نے عرض کیا، یا رسول اللہ !اگر کوئی روزانہ سو بار دیکھے ؟آپ نے فرمایا: اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں سو مقبول حج کا ثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف نامحرم کو یا کسی کا ستر دیکھنے سے منع فرمایا ہے، اور اس کے لئے آنکھ کو گرم سلاخوں سے داغ دئیے جانے کی وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ باپ کو دیکھنے پر مقبول حج کا ثواب اس لئے ہے کہ آنکھ کا استعمال بنانے والے کے ضابطہ کے مطابق کیا گیا ہے اور نامحرم کو دیکھنے پر سزا اس لئے ہے کہ اس کا استعمال بنائے گئے ضابطے کے خلاف کیا گیا ہے، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نعمت کے نفع اور برکت کا دار و مدار یا اس نعمت کے نقصان کا دار و مدار اس نعمت کو اللہ کی مرضی کے مطابق یا اس کے خلاف استعمال کرنے پر ہے۔ ایمان بھی در حقیقت اس عہد کا نام ہے کہ کلمہ پڑھ کر آدمی اس کا عہد کرے کہ ہر نعمت کا استعمال اللہ کی مرضی کے مطابق اس طرح کروں گا جس طرح اللہ نے اپنے رسول کے واسطے سے اس کے استعمال کا طریقہ بتایا ہے۔ اللہ کی طرف سے بندوں پر جو انعامات مسلسل بارش کی طرح برستے ہیں اور جن کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہے : و ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا(اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنے لگو تو ان کو شمار نہیں کر سکتے )

ان تمام انعامات میں سب سے بڑی نعمت قرآن کریم ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ جہاں اللہ نے سورۂ رحمٰن میں اپنی خاص نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں ہر نعمت کے ذکر کے ساتھ فبای آلاء ربکما تکذبان (تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے )فرمایا گیا ہے، یعنی ہم نے تم کو یہ ساری نعمتیں جو عطا فرمائی ہیں ان میں سے کون کون سی نعمت کا ان کار کرو گے ؟اس ضمن میں اپنی صفتِ رحمٰن کی دلیل اور ثبوت کے طور پر جو نعمتیں شمار کرائی گئی ہیں ان میں سب سے پہلے اور بطور عنوان جس نعمت کا تذکرہ ہے وہ علم قرآن کی نعمت ہے۔ ارشاد ہے :

الرحمٰن علم القرآن(سورہ ۵۵، الرحمٰن: ۱-۲)(وہ رحمٰن ہے، اس نے قرآن سکھایا)

اس نمتِ قرآن کی شان دیکھئے کہ جس رات میں قرآن نازل ہوا، اس رات کو لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات ) قرار دیا اور اس رات کے ایک ہزار ماہ سے افضل ہونے کا شاہی اعلان کر دیا گیا۔ اور جس مہینے میں قرآن نازل ہوا اس پورے مہینے کو عطائے شاہی کے جشن کا مہینہ قرار دیا اور پوری دنیا کی سردار امت کو اسے احکم الحاکمین کے دستور کے شاہی جشن کے طور پر منانے کا حکم دیا، کسی بھی ملک کے دستور اور آئین کے نفاذ کے دن کو وہاں کا قومی دن شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ضابطہ اور آئین و اصول انسان کے لئے ذریعہ عافیت و سکون ہوتے ہیں، حضرت مولانا محمد احمد پر تاب گڈھی کے بقول :

اگر آزاد ہم ہوتے نہ جانے ہم کہاں ہوتے

مبارک عاشقوں کے واسطے دستور ہو جانا

قرآن حکیم کی نعمت عظمیٰ کے اعزاز میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے پورے ماہ مبارک کو اپنی رحمت کا عظیم ان جشن اور اپنی عطا و بخشش کا مہینہ قرار دے کر، امت کے گنہ گاروں اور ہر خاص و عام کے لئے اپنی رحمت کے دہانے کھول دئیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا کس شان کے ساتھ ذکر فرمایا ہے :

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ۭ

(گویا اللہ تعالیٰ یوں فرما رہے ہیں، واہ واہ !ہمارا رمضان کا مہینہ بھی کیا مہینہ ہے، جس میں ہم نے اپنی سب سے بڑی نعمت قرآن نازل فرمائی جو انسان کے لئے ہدایت ہے )

ایک سچے مسلمان اور اللہ کے فرماں بردار غلام پر فرض ہے کہ وہ بندگی کا حق ادا کرے اور بندگی کے حق کے طور پر اس ماہِ مبارک کی قدردانی کا حق یہ ہے کہ اس ماہ مبارک کو رب کریم کی عظیم نعمت سمجھ کر دل سے احسان مند ہو، اور اس کی مرضی کے مطابق اس نعمت کا استعمال کرے اور پورے ماہ مبارک کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے انداز میں گذار کر قدردانی کا ثبوت پیش کرے، ایسا نہ ہو کہ اس عظیم ان نعمت کی ناقدری سے ہم فائدہ اٹھانے اور اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے بجائے، اپنے لئے حرمان اور کم نصیبی کا سامان پیدا کر لیں۔

ماہ مبارک ہمارے اوپر اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہونے والا ہے، ضروری ہے کہ اس کے اہتمام کے لئے چھوٹے چھوٹے چند امور پر توجہ کر لی جائے :

اول :ہر مسلمان اپنے کو غلام سمجھ کر ایک ضرورت مند اور محتاج غلام کی طرح اس جشن شاہی کا انتظار کرے، اور اپنے گھر، اپنے محلّہ اور اپنے دوستوں کی مجلسوں میں خوشی خوشی اس کا ذکر شروع کر دے۔ یہ ذکر اس طرح ہو کہ اس سے ماہ مبارک کی آمد پر خوشی کا اظہار ہوتا ہو، مثلاً ماشاءاللہ رمضان آ رہا ہے، ان شاء اللہ وہ بہت سے خیر کے حاصل ہونے کا ذریعہ بن جائے گا۔ رمضان سے پہلے اس کی آمد کا ذکر اور اس کے فضائل و اعمال کا ذکر کرنا خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا تاکہ پہلے ہی دن سے اس مبارک ماہ کی قد رکی جا سکے۔

دوم :رمضان کے اعمال، تلاوت اور اذکار وغیرہ کے لئے وقت کو فارغ کرنے کی سعی کرے بہت سے ایسے کام جو ماہ مبارک سے پہلے پورے کئے جا سکتے ہیں ان کو مکمل کر لے، تاکہ کچھ وقت نوافل ذکرو تلاوت کے لئے فارغ کیا جا سکے۔

سوم :بہت احتیاط کے ساتھ کم از کم ماہ مبارک کے لیے حلال روزی کا انتظام کرے، اگر خدانخواستہ ہم کسی ایسے روزگار سے متعلق ہیں جو شرعی اعتبار سے غلط یا مشتبہ ہے اور کوئی دوسرا روزگار نہیں مل رہا ہے تو ماہ مبارک کے لئے کم از کم حلال قرض لے لیں۔

چہارم :ماہ مبارک کے لئے ہم اپنی سہولت کے لئے پہلے سے نظام الاوقات طے کر لیں مثلاً تلاوت کے لئے ایک مقدار طے کر لیں کہ مجھے اتنی تلاوت ضرور کرنی ہے، اتنا کلمہ طیبہ ضرور پڑھنا ہے، اتنا استغفار روزانہ کرنا ہے، اتنا وقت دعا کے لئے خاص کرنا ہے، یہ مہینہ اللہ کے یہاں قبولیت کا ہے، جب ہمارے سارے کام بننے کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے تو پھر منظوری کے جشن کا یہ زمانہ ہاتھ سے جانے دینا بڑی محرومی کی بات ہے۔ دعا میں دل لگنے اور باب دعا کے کھلنے کے لئے وقت متعین کر کے بہ تکلف کچھ دیر تک دعا کا معمول بنانا بہت مفید ہے، اس طرح جب آدمی تکلف کے ساتھ دعا کرتا رہتا ہے تو کریم آقا اسے مانگنا بھی سکھا دیتے ہیں خصوصاً تہجد اور سحر گاہی کو تو مزے کی چیز سمجھنا چاہئے۔

پنجم :اس کا ارادہ کریں کہ اس مبارک مہینہ میں مجھے اپنی زندگی میں کچھ تبدیلی لانے کی کوشش کرنی ہے، کچھ خاص برائیاں اور منکرات جو زندگی میں داخل ہیں ان کو چھوڑنے کی، اور کچھ اچھائیاں جو چھوٹ رہی ہیں ان کی پابندی کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس کی کوشش کریں کہ جن لوگوں کے حقوق العباد معاف کروا سکتے ہیں تو ان کے حقوق معاف کروا لیں اور جن کے حقوق ادا کرنے ضروری ہیں ماہ مبارک سے ان کی شروعات کریں، اگر صاحب نصاب ہیں تو باقاعدہ حساب لگا کر زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر آپ صاحب نصاب نہیں ہیں، تو بھی راہ خدا میں جو کچھ خرچ کرنا ممکن ہو اس کو خرچ کرنے کی نیت کریں۔ اور اگر بالفرض آپ کسی کی مالی خدمت سے معذور ہیں تو کچھ جانی خدمت کا ہی ارادہ کریں، اگر ممکن ہو تو عشرۂ آخر میں اعتکاف کوبڑی خیر اور نعمت سمجھیں، کم از کم آخری عشرہ کی راتوں میں اعتکاف کا اہامکم کر لیں۔ اگر اس مبارک ماہ میں کسی اللہ والے کے پاس کچھ وقت گذارنا نصیب ہو جائے، یا جماعت میں جانے کا موقع مل جائے تو یہ ماہ مبارک کی قدردانی کا بہترین طریقہ ہے، جن خوش قسمت لوگوں کو والدین کا سایہ میسر ہے وہ لوگ اس موقع پر ان کو خوش کرنے اور ان کی خدمت کو خاص وظیفہ سمجھ کراس نعمت کی قدر دانی کریں۔ غرض ابھی سے ہمارے اندرون اور ہمارے حال سے یہ واضح ہو کہ ہم جشن شاہی کی اس نعمت پر شاداں و فرحاں ہیں اور اس کی سچی قدردانی کرنے والے ہیں۔ یہ ماہ مبارک اور لیلۃ القدر جس نعمت کے نازل ہونے کے اعزاز میں قیامت تک کے لئے رحمت اور برکت کا ذریعہ بنی وہ قرآن حکیم ہے، اس سے اپنے کو وابستہ کرنا اس ماہ کی اصل قدردانی ہے، خوب تلاوت ہو، قرآن میں غور و فکر ہو، تفسیر کے حلقے ہوں، حق تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی قدردانی کے بغیر اس مبارک ماہ کا شکر اور اس کی قدر ممکن نہیں۔ اس لئے اس ماہ میں قرآن حکیم کی قدردانی کا بہت اہتمام کرنا چاہئے، قرآن حکیم کی قدردانی، اس پر ایمان، اس کی شکر گذاری اور رب کریم کی ہدایت کے مطابق اس کا استعمال اس مقصد کی تکمیل کی کوشش پر منحصر ہے، جس کے لیے اسے نازل کیا گیا ہے، وہ مقصد پوری دنیا کی ہدایت، اور پوری انسانیت کو کفر و شرک کی ظلمات سے نکال کر ایمان کے نور میں لانے کی کوشش کرنا ہے اس لئے کہ لوگوں کی ہدایت کی فکر اور ان کی ایمانی دعوت کے لئے قرآن کریم میں چھ ہزار آیات نازل ہوئیں اور انسانوں کی اصلاح و تزکیہ کے لئے احکام کے بارے میں باقی پانچ سو سے زائد آیات ہیں۔

خود قرآن کریم میں جا بجا اس کے مقصد نزول کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے، مثلاً یہ آیات :

نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىۂَ وَالْاِنْجِیْلَ ۝ۙ مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ڛ (سورۃ ۳، آل عمران: ۳۔ ۴ )

اے نبی !اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں، اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے جو حق و باطل کا فرق دکھانے والی ہے۔

الۗرٰ ۣ تِلْکَ ایٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ۝ اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا (سورۃ ۱۰، یونس :۱۔ ۲ )

الر، یہ اس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہیں۔ کیا لوگوں کے لئے یہ عجیب بات ہو گی کہ ہم نے خود انہیں میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکا دے، اور جو مان لیں ان کو خوش خبری دے۔

الۗرٰ ۣ کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ ایٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ ۝ۙ (سورہ ۱۱، ہود :۱۔ ۳ )

یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں، صاف صاف بیان کی گئی ہیں ایک حکیم باخبر کی طرف سے، یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو۔ میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔

الۗرٰ ۣ کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلیٰ صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ  ۝ۙ (سورہ ۱۴، ابراہیم :۱ )

یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا تاکہ آپ ان لوگوں کو ان کے پرورد گار کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف یعنی خدائے غالب و حمید کی راہ کی طرف لاویں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا  ۝ڸ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا حَسَنًا ۝ۙ (سورہ ۱۸، کہف :۱۔ ۲ )

تمام خوبیاں اللہ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی، بالکل استقامت کے ساتھ موصوف بنایا تاکہ وہ ایک عذاب سے جو کہ منجانب اللہ ہو ڈرائے، اور ان اہل ایمان کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوش خبری دے کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے۔

طٰہٰ  ۝ۚ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی  ۝ۙاِلَّا تَذْکِرَۂً لِّمَنْ یَّخْشٰى  ۝ۙ (سورہ ۲۰، طہ :۱۔ ۳ )

طہ، ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ تکلیف اٹھائیں بلکہ ایسے شخص کی نصیحت کے لئے ہے جوا للہ سے ڈرتا ہو۔

تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَۨا  ۝ۙ (سورہ ۲۵، الفرقان :۱ )

بڑی عالی شان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب اپنے بندۂ خاص (محمدﷺ)پر نازل فرمائی، تاکہ وہ تمام دنیا جہاں والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

الۗمّۗ  ۝ۚ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ  ۝ۭ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ ۚ بَلْ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ  ۝ (سورہ ۳۲، السجدہ :۱۔ ۳ )

یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں، یہ رب العالمین کی طرف سے ہے، کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ اپنے دل سے بنا لیا ہے بلکہ یہ سچی کتاب ہے آپ کے رب کی طرف سے، تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ لوگ راہ پر آ جائیں۔

یٰسۗ  ۝ۚوَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ  ۝ۙاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ  ۝ۙعَلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Ć۝ۭتَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمĈ۝ۙ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُہُمْ فَہُمْ غٰفِلُوْنَ Č ۝ (سورہ۳۶، یٰسین :۱۔ ۶ )

قسم ہے اس قرآن با حکمت کی، بے شک آپ پیغمبروں میں سے ہیں، سیدھے راستہ پر ہیں، یہ قرآن خدائے زبردست مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے تھے، سویہ اس سے بے خبر ہیں۔

اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ 69؀ۙلِّیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ 70 ؀

(سورہ۳۶، یٰسین:۶۹۔ ۷۰ )

وہ تو صرف ذکر ہے اور قرآن مبین ہے، تاکہ وہ زندوں کو ڈرائے اور کافروں پر اپنی بات ثابت کرے۔

صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ  ۝ۭ (سورہ۳۸،ص :۱ )

ص، قسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔

حٰمۗ  ۝ۚ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ۝ۚ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ ایٰتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ  ۝ۙ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا ۚ (سورہ۴۱، حم سجدہ/فصلت :۱۔ ۴ )

یہ کتاب ہے جس کی آیات صاف صاف بیان کی گئی ہیں۔ یہ ایسا قرآن ہے جو عربی میں ہے، ایسے لوگوں کے لئے نافع ہے جو دانش مند ہیں۔ بشارت دینے والا ہے اور ڈرانے والا ہے۔

غرض قرآن حکیم میں جا بجا اس کے نزول کا مقصد، انسانیت کی ہدایت، انسانوں کو ایمان و اعمال اختیار کرنے پر جنت کی بشارت اور کفر و شرک اور گناہوں پر دوزخ سے ڈرانا یعنی دعوت الی اللہ کا مبارک کام قرار دیا گیا ہے۔

حامل قرآن یہ امت اور کوئی مرد مومن، تمام نعمتوں میں افضل نعمت قرآن حکیم کی قدردانی اور اس پر ایمان کا حق اس وقت تک ادا نہیں کر سکتا جب تک وہ خود کو مجسم قرآن نہ بنا لے اور مجسم قرآن صرف وہی مسلمان کہلائے جانے کا ہے جو مجسم دعوت بن جائے، جس کی زندگی کا مقصد اللہ کے بندوں کو دوزخ سے بچانے کی فکر میں قرآن کریم کے مقصد نزول سے ہم آہنگ ہو جائے، علامہ اقبال نے کہا ہے :

یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

ماہ مبارک کی قدردانی اور اس کی برکات کے حصول کا انحصار قرآن حکیم کی قدردانی پر، اور اپنے آپ کو قرآن حکیم سے وابستہ کر دینے بلکہ مجسم قرآن بن جانے پر ہے اور یہ بات دعوت دین کے غم اور سوز کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، اس لئے ہر مسلمان کو اس ماہ مبارک میں اپنے کو مجسم قرآن یعنی مجسم دعوت بننے کو، اس کار دعوت کے لئے قبولیت، اس کا حوصلہ اور اہلیت کی عطا کو، اور نشانہ بنا کر لوگوں کے لئے ہدایت کی دعا، اور پوری دنیا کے لئے ہدایت کی دعوت کو اس ماہ مبارک کا مبارک ترین وظیفہ سمجھنا چاہئے، اور اس مبارک کام کے لیے، کچھ نشانے متعین کر کے کچھ عزم بھی کرنا چاہئے، اس طرح یہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے حقیقی معنوں میں قرآن حکیم کی قدردانی ہو گی۔

٭٭٭

 

 

 

حدیث شریف

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ

جس نے رسول کی اطاعت کی، حقیقت میں اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (سورہ ۴، النساء:۸۰)

 

الاحادیث المنتخبہ

 

                پیش کش: مدیر

 

 

روزہ دار کے منہ کی بو

 

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۂَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۂَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّیَامُ جُنَّۂٌ فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَجْہَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَہُ أَوْ شَاتَمَہُ فَلْیَقُلْ إِنِّی صَائِمٌ مَرَّتَیْنِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ تَعَالَی مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ یَتْرُکُ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَشَہْوَتَہُ مِنْ أَجْلِی الصِّیَامُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ وَالْحَسَنَۂُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر ۱۸۲۰، حدیث مرفوع)

مکر رات:٭صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1830، جلد سوم:حدیث نمبر 888، 2385، 2432 ٭صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 210، 212 – 214٭ سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 122 – 126، 129 ٭سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1639 ٭موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 563 ٭سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1704 ٭مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 2296، جلد چہارم:حدیث نمبر 56، 76، 468، 547، 653، 819، 1394، 1928، 2086، 2133، 2174، 2516، 2687، 2711، 2940، 2966، 3006، 3080، 3280، 3315، 3452، 3643

عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لئے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دو بار کہہ دے۔ (رسول اللہﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور نیکی دس گنا ملتی ہے اور (اللہ تعالیٰ کا قول) میں اس کا بدلہ دیتا ہوں۔

ماہِ رمضان میں شیطان قید کر دیے جاتے ہیں

حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی أَنَسٍ مَوْلَی التَّیْمِیِّینَ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۂَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَہَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّیَاطِینُ

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1825 حدیث مرفوع )

مکر رات:٭ سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 14

یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابن ابی انس تیمیوں کے غلام، ابی انس، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ردِّ فرق باطلہ

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۂِ وَالْمَوْعِظَۂِ الْحَسَنَۂِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ ۭ

اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ (سورہ ۱۶، النحل:۱۲۵)

 

 بھائی وسیم احمد سے ایک ملاقات

 

                وسیم احمد/انل ٹھکّر

 

 

احمد اوّاہ :السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

وسیم احمد :وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سوال :وسیم صاحب !آپ کہاں رہ رہے ہیں ؟اور اس وقت کہاں سے آئے ہیں ؟

جواب :اس وقت میں دہلی تبلیغی اجتماع سے آ رہا ہوں، میں پرسوں آیا تھا، حضرت سے فون پر کنٹیکٹ ہوا تھا، تو حضرت نے بتایا کہ میں احمد آباد آ گیا ہوں، اب اچھا موقع ہے دہلی کا اجتماع ہو رہا ہے، آپ دو روز کے لئے وہاں چلے جائیں، آج دوپہر دعا ہوئی، تو واپس آیا، اس سے پہلے ایک بار بھوپال کے اجتماع میں گیا تھا، اس کے بعد کسی اجتماع میں جانے کا موقع نہیں ملا تھا، بہت ہی اچھا لگا۔

س:آپ آج کل کہاں رہ رہے ہیں ؟

ج:میں آج کل رائے پور چھتیس گڑھ میں رہ رہا ہوں۔ ویسے میرا گھر بلاس پور میں ہے، اور ہمارا پورا پریوار (خاندان) بلاس پور میں ہی رہتا ہے میں اپنے بچوں کے ساتھ رائے پور رہ رہا ہوں، وہیں میرا کاروبار ہے۔

س:وہاں کیا کاروبار ہے ؟

ج:اصل میں میں آئی ٹی انجینئر ہوں، اور میں نے ایک آئی ٹی کمپنی بنائی ہے، اس کا ایک آفس میں نے پونہ میں، ایک بنگلور میں، اور تین مہینہ پہلے ایک آفس دبئی میں بھی کھولا ہے، اور انشاءاللہ اس سال ہم کولالمپور ملیشیا میں بھی اس کی ایک برانچ کھولنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔

س:یہ کمپنی آپ نے کب بنائی ؟ماشاءاللہ اس کی بہت سی برانچیں ہو گئی ہیں ؟

ج:ابھی آٹھ سال ہوئے ہیں، میرے اللہ کا کرم ہے بہت جلدی ہمارا کام سیٹ ہو گیا، اور بہت سے لوگوں کو میرے ساتھ روزگار ملا ہوا ہے، ایک سو چھپن لوگ ہماری کمپنی میں ملازم ہیں، زیادہ تر آئی ٹی کے لوگ ہیں، ایک آدمی کے ذریعہ اگر اتنے خاندانوں کا روزگار مل جائے تو یہ انسانیت اور ملک کی بڑی خدمت ہے۔

س:آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ ہیں ؟وہ کہاں کی ہیں ؟وہ بھی ابھی مسلمان ہوئی ہیں کیا؟

ج:میری اہلیہ خاندانی مسلمان ہیں، اور وہ ناگپور کی رہنے وا الی ہیں، ان کے والد صاحب بلاس پور میں سروس کرتے تھے، ریلوے میں ملازم تھے، ریٹائرڈ ہو گئے ہیں، وہ اصل میں بریلوی طبقہ سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہماری سسرال والے لوگوں میں درگاہوں وغیرہ پر جانے اور تعزیہ نکالنے کوہی زیادہ دین سمجھا جاتا ہے، اب اللہ کا شکر ہے میرے ذریعہ ان کے یہاں اصل دین کو سمجھنے اور ماننے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

س:حیرت کی بات ہے، ظاہر ہے آپ اپنی اہلیہ کی وجہ سے ہی مسلمان ہوئے ہوں گے، تو پھر آپ کو ان ہی کے طریقہ کا مسلمان بننا چاہئے تھا، آپ کہہ رہے ہیں، آپ کے ذریعہ ان کے یہاں سے خرافات کم ہو رہی ہیں، ذرا بتائیے کیسے ؟ اور اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بھی بتائیے ؟

ج:اصل میں ہمارا پریوار بلاس پور کا راجپوت، زمین دار خاندان ہے، اور ہمارے دادا اس علاقہ کے راجہ کہلاتے تھے، میں نے بارہویں کلاس کے بعد آئی۔ اے۔ ایس کے مقابلہ میں شریک ہونے کا پروگرام بنایا، مگر اچانک میری صحت بگڑ گئی، میرا ٹائیفائڈ بگڑ گیا، اس کی وجہ سے میرا یہ خواب پورا نہ ہو سکا، اور میں نے ایک انجینئرنگ کالج ہی میں بی ٹیک میں داخلہ لیا، بی ٹیک اور ایم ٹیک کرنے کے بعد، ہماری بوا کے لڑکے جو امریکہ میں رہتے ہیں وہ ہندوستان آئے، انہوں نے مجھے اپنی آئی ٹی کمپنی کھول کر بزنس کا مشورہ دیا، میرے پتاجی جو خود ایک اسکول بھی چلاتے تھے ان کو یہ بات پسند آ گئی تومیں نے ناگ پور میں ایک جگہ کرایہ پرلے کر آئی ٹی کمپنی شروع کی، ایک لڑکی جو اَب میری بیوی ہے، رضوانہ نام کی، میرے کالج میں میرے ساتھ ملاسپور میں میری جونیئر تھی، جس نے بلاس پور سے ہی بی ٹیک کیا تھا، میں نے اس کو اور دو لڑکوں کو اپنی کمپنی میں ملازم رکھا، صفائی اور چائے وغیرہ کے لئے ایک مسلمان لڑکے کو جس کا نام بدر الدین تھا، لوگ اسے ندو کہتے تھے، آفس بوائے رکھا، رضوانہ بہت خوبصورت ایک بے حد ایکٹیو (Active) لڑکی تھی، ہر وقت ساتھ رہتے رہتے ہم ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، ہمارے رشتوں کی لمبی داستان ہے، وہ آپ کے مطلب اور کام کی نہیں، اس لئے اسے چھوڑتا ہوں، وہ اب میرے لئے بھی ذرا ناپسند ہے، میں نے رضوانہ سے کہا تم اپنے گھر والوں کو شادی کے لئے تیار کر لو اس نے کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی، بات بہت آگے بڑھ گئی تھی، ہم لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے بنا رہنا مشکل تھا، اس لئے اب میں نے اپنے گھر والوں پر کوشش شروع کی، بہت زیادہ گھر میں اس پر دھمال مچا اور جب میں نے آخری بات کے طور پر گھر والوں سے کہہ دیا، کہ اگر اس لڑکی سے میری شادی نہ ہوئی تومیں ریل سے کٹ کر خودکشی کر لوں گا، تو میرے گھر والے کیوں کہ میں ان کا اکلوتا تھا، اس شرط پر تیار ہو گئے، کہ پہلے کورٹ میریج ہو، اور پھر وہ ہندو بن کر ہندوانی رواج کے مطابق شادی کر لے، رضوانہ کچھ زیادہ دین دار نہ تھی، بلکہ دین کیا ہے، اسے کچھ زیادہ نہیں پتہ تھا، وہ تو بس کیا بتلاؤں، مزاروں پر جانا اور تعزیہ، بس اس کو دین سمجھتی تھی، وہ اس کے لئے تیار ہو گئی۔ ہم لوگوں نے پہلے کورٹ میریج کی اور پھر میں نے ناگپور سے کمپنی بلاسپور شفٹ کرنے کا پروگرام بنایا، کمپنی ناگپور سے بند کی، اور ایک روز رضوانہ کولے کر بلاس پور آ گیا۔ ان کے گھر والوں نے میرے خلاف پولیس میں ایف آئی آر، مقدمہ وغیرہ کیا، مگر ہم نے ہائی کورٹ سے قانونی کار روائی پوری کرالی تھی، کچھ نہ ہو سکا، بلاس پور میں میری شادی باقاعدہ ہمارے ہندو راجپوت رواج کے مطابق ہو گئی۔

س:آپ پھر کیسے مسلمان ہوئے ؟

:ہاں میں بتا رہا ہوں، ناگپور میں جو آفس بوائے ندو تھا، اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اس کی پانچ بہنیں تھیں اور ماں کا وہ اکیلا بیٹا تھا، اور مجبوراً وہ پڑھائی بند کر کے میرے یہاں نوکری کرنے لگا تھا اور پرائیویٹ امتحان دے رہا تھا، ان کی ماں ایک ولی صفت عورت ہیں، انہوں نے اس لڑکے کو شروع سے دین پر چلایا۔ وہ بہت پکا نمازی اور بارہ سال سے تہجد گذار تھا، ، ہماری کمپنی کا آفس ناگپور میں جہاں پرتھا، پاس میں کوئی مسجد نہ تھی، اس نے ملازمت طے کرتے وقت یہ بات مجھ سے کھل کر طے کی تھی کہ ڈیوٹی کے درمیان میں دوپہر اور شام کو دو وقت کی نماز پڑھوں گا، اس میں پندرہ منٹ اور دس منٹ مجھے لگا کریں گے، اور آفس میں ایک کونے میں نماز پڑھنے کی اجازت آپ کو چاہے کچن میں ہی ہو، دینی پڑے گی۔ وہ بہت ہی ایمان دار اور محنتی لڑکا تھا، اس نے میری کمپنی میں دو اور انجینئر لڑکوں فیروز اور شاہنواز دونوں کو نماز پڑھانا شروع کر دی، اور وہ تینوں بہت پابندی سے جماعت سے نماز پڑھتے تھے، کئی بار میں نے آخری درجہ میں غربت اور پریشان حالی کے باوجود اس کی ایمان داری دیکھی تھی، اور اس میں خدمت کا بھی بڑا جذبہ تھا، اس لئے مجھے اس لڑکے سے بہت ہی محبت ہو گئی تھی، اور رضوانہ سے تعلق کی وجہ سے بھی اب مجھے مسلمانوں سے دوری ختم ہو کر کچھ تعلق سا لگنے لگا تھا، ندو کو جب معلوم ہوا کہ میں کمپنی بند کرنے جا رہا ہوں تو وہ بہت اداس ہو گیا، اور ایک بار آفس میں آ کراس نے مجھ سے بہت ضد کی کہ آپ کمپنی بند مت کرو، آپ کے بعد ہمیں ایسی نوکری نہیں ملے گی، میری ماں اور بہنوں کی پرورش کا سوال ہے، میں نے اس سے کہا کہ میں رائے پور تمہیں لے جاؤں گا، اس نے اپنی ماں سے مشورہ کیا، انہوں نے اجازت دے دی، میں نے رائے پور آفس میں اس کو رکھ لیا، اور وہ ہمارے گھر پرہی ایک سرونٹ روم میں رہنے لگا، وہ جب نماز پڑھتا تو بڑا ڈوب کر پڑھتا تھا، میں اس کی نماز سے بہت امپریس (متأثر)تھا، نماز میں کھڑے ہو کراس کے چہرہ سے لگتا تھا کہ ایک غلام اپنے بڑے آقا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہے، اور رکوع میں جاتا تو ایسے لگتا جیسے اس نے واقعی اپنے وجود کو جھکا دیا ہے، اور جب وہ سجدہ میں جاتا تو جیسے اس نے اپنی پوری ہستی کو اللہ کے سامنے رکھ دیا ہو، اور رکوع اور سجدہ میں جاتے وقت میرے اندر یہ لگتا تھا جیسے جیسے وہ نیچے کوہو رہا ہے، تو اس کا سر اور جسم نیچے کو جا رہا ہے، مگر مجھے لگتا کہ اس کی ہستی، اس کی آتما(روح )اوپر اٹھتی جا رہی ہے۔ مجھے اس کی نماز کا انتظار رہتا، کبھی کبھی مجھے اس کی نماز کو دیکھنے کی ایسی بے چینی ہوتی، کہ میں اس سے پوچھتا ’’ندو! نماز کتنی دیر میں پڑھو گے ‘‘نماز کے طریقے اور اس کے صرف ظاہری ڈھنگ نے مجھے اسلام کی طرف کھینچ لیا، رضوانہ کے ساتھ جس کا نام ہمارے خاندان والوں نے رجنی ٹھکّر رکھ دیا تھا۔

س:یہ ٹھکّر کیا ہے ؟

ج: یہ اصل میں خاندان کاسرنیم (Sir Name) ہے۔ میرا نام انل ٹھکّر تھا، تو اس کا نام پتاجی نے رجنی رکھ دیا تھا، اور کورٹ میریج میں بھی یہی نام لکھوایا گیا تھا۔

س:جی !تو آگے بتائیے ؟

ج:میری ماں کی خواہش تھی کہ میں رجنی کولے کر ویشنو دیوی جاؤں یا تروپتی مندر جاؤں، شادی کے بعد کسی تیرتھ یاترا کو جانا ہمارے خاندان میں بہت ضروری سمجھا جاتا تھا، ہم لوگوں نے اس خیال سے کہ ویشنو دیوی ہل اسٹیشن بھی ہے، ، پکنک بھی ہو جائے گی، اور ماتا پتا(ماں باپ )کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی، ویشنو دیوی جانا طے کیا، وہاں کے پورے سسٹم کو دیکھ کر میرا من ہندو مذہب سے چڑھ سا گیا، لیپ ٹاپ ساتھ تھامیں نے اپنی تسلی کے لئے ’’او مائی گاڈ‘‘ مووی دیکھی، ماں سے بات ہوئی تو وہ پورنیما پر برت رکھنے کی ضد کرتی رہی، اور بار بار تقاضا کرتی رہی کہ میری طرف سے دیوی جی کو پرشاد چڑھانا۔ وہاں جانا اور پرشاد چڑھانے کی کٹھن پوجا میرے من اور بدھی کوکسی طرح نہ بھائی۔ ماں کا آرڈر سمجھ کر ہم دونوں نے برت رکھا، اور ہم کسی طرح کچھ پیدل اور جب تھک گئے تو گھوڑے پر سوار ہو کر پرشاد لے کر پوجا اور ماں کی طرف سے چڑھاوا چڑھانے کے لئے وہاں پہنچے، میں نے دیکھا ایک بالکل مریل بیمار کتا جس کے پورے شریر(جسم )پر کھجلی ہو رہی تھی بھیڑ میں اندر آیا اور لوگوں کے سامنے اس نے سارے پرشاد پر موت دیا(پیشاب کر دیا)، میں پرشاد پھینک کر واپس آیا اور برت توڑ دیا، رجنی نے مجھے سمجھایا کہ ایسے اَنادر سے ماں کی آستھا کو چوٹ لگے گی۔ مگر میرا من نہیں مانا اور میں نے ہوٹل جا کر لیپ ٹاپ نکالا اور رجنی سے کہا یار ایک بار اور ’’او مائی گاڈ‘‘ مووی دیکھیں، اس مووی نے مجھے ہندو دھرم سے بالکل الرجک کر دیا، میں نے رجنی سے کہا جب ہم دونوں شادی کی بات کر رہے تھے توتو نے ایک بار بھی مجھے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہا، حالانکہ ہر آدمی دوسرے کو اپنی طرف جھکانے کی کوشش کرتا ہے، تمھارے دھرم میں تو یہ کچھ بھی نہیں ہے، ندو مسجد نہ ملے تو آفس میں بالکل آسانی سے نماز پڑھتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اوپر والا اس کی نماز قبول کرنے کے لئے اس کے سامنے اتر آیا ہو، اس نے کہا اصل میں مجھے تم سے اتنا پیار تھا کہ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی تھی، تمھارے بغیر میرا رہنا ممکن نہیں تھا، مجھے ڈر لگا کہ اگر میں نے تم سے مسلمان ہونے کا مطالبہ رکھا تو تمھارے گھر والے قبول نہیں کریں گے اور پھر تم بھی گھر والوں کی مرضی کے خلاف نہیں کر سکتے میں نے کہا اگر تمھیں مجھ سے سچ مچ میں پیار تھا، تو اور بھی مجھے مجبور کرنا چاہئے تھا، اس لئے کہ ہر آدمی اپنے دھرم کو سپیریر (Superior)سمجھتا ہے، تو جس سے محبت ہو اس کو سپیریر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے، میں نے معلوم کیا کہ کیا تم اپنے دھرم اسلام کو ہندو دھرم سے اچھا نہیں سمجھتیں، اس نے کہا کہ سپیریر اور اچھا ہی نہیں بلکہ دھرم سے زیادہ تعلق نہ ہونے کے باوجود ہمارے گھر کا بچہ بھی صرف اسلام کو دھرم اور دین سمجھتا ہے، باقی دھرموں کو ہم لوگ دھرم ہی نہیں سمجھتے، آپ کے ساتھ ہندو بن گئی ہوں مگر میں ہندو دھرم یا اسلام کے علاوہ عیسائی، بدھ، سکھ ازم کو دھرم ہی نہیں سمجھتی بلکہ وہ تو دھرم سے وچلت بگڑے طریقے ہیں، میں نے کہا اصل میں رجنی مجھے مسلمانوں میں جو۲۴ نمبر وہابی لوگ ہوتے ہیں، ان کا دھرم جنیون(Genuine، اصلی) اور پرچلت سا لگتا ہے، شیعوں اور بریلی والوں نے تو اصل میں ہندو دھرم سے دھرم کو پروفیشن بنایا اور اس کا کمرشیلائیزیشن کر کے چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے، رجنی اس پر ذرا چڑ گئی۔

ہم لوگ واپس بلاس پور پہنچے، میں نے جا کر گھر والوں سے بحث کرنا شروع کر دی میرے تاؤ بہت دھارمک تھے، ان سے بھی مورتی پوجا اور دھرم کے نام پر دھندا کرنے کے لئے خوب بحث کی انھوں نے کہا نہیں، ہندو دھرم ایک سمندر ہے جس میں ہزاروں ندیاں ملتی ہیں، جس کامن جس ندی سے ملے وہ وہاں کا پانی پئے، تمھارا من مورتی پوجا سے نہیں ملتا تو آریہ سماج میں جاملو، اور انھوں نے اپنے ایک دوست سے میری بات کرائی، جو آریہ سماج مندر کے سنچالک تھے، میں ان کے یہاں گیا، چار پانچ مہینے انھوں نے مجھے آریہ سماج کا لٹریچر پڑھوایا، مگر مجھے ایسا لگا کہ ہندو دھرم سے بھاگنے والوں کے لئے بس ایک جال بنایا گیا ہے، اور میرے من کو ایسا لگا کہ یہ لوگ خود سیٹسفائی (Satisfy، مطمئن )نہیں ہیں۔

ان سے بھی مورتی پوجا اور دھرم کے نام پر دھندا کرنے کے لئے خوب بحث کی انھوں نے کہا نہیں، ہندو دھرم ایک سمندر ہے جس میں ہزاروں ندیاں ملتی ہیں، جس کامن جس ندی سے ملے وہ وہاں کا پانی پئے، تمھارا من مورتی پوجا سے نہیں ملتا تو آریہ سماج میں جاملو، اور انھوں نے اپنے ایک دوست سے میری بات کرائی، جو آریہ سماج مندر کے سنچالک تھے، میں ان کے یہاں گیا، چار پانچ مہینے انھوں نے مجھے آریہ سماج کا لٹریچر پڑھوایا، مگر مجھے ایسا لگا کہ ہندو دھرم سے بھاگنے والوں کے لئے بس ایک جال بنایا گیا ہے۔

اس بیچ میں نے بدو سے اسلام پر لٹریچر لانے کو کہا، وہ ناگ پور سے مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کی کچھ پستکیں (کتابیں ) لے کر آیا اور اس نے مجھے نیٹ پر سرچ کرنے کو کہا، یہ بات میری بھی سمجھ میں آئی، میں نے مولانا طارق جمیل صاحب کی تقریریں سنیں، اس کے بعد پیس ٹی وی دیکھنا شروع کیا، اس بیچ میں نے بنگلور میں اپنی کمپنی کی ایک برانچ کھولی، ہمارے ایک کسٹمر حاجی رفیق صاحب نے اپنے داماد سے ملوایا، جو آئی ٹی انجینئر ہیں، اور ایک اور کمپنی کے بڑے افسر ہیں، وہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے پہلی میٹنگ میں مجھ سے کہا “ریلیجن (Religion، مذہب )کے بارے میں آپ کا یہ حال کہہ رہا ہے کہ اوپر والا آپ کو حق کی طرف بلا رہا ہے، اور جب وہ خود بلا رہا ہے تو پھر اِدھر اُدھر بھاگنے سے کیا فائدہ ؟”

انھوں نے اپنے محلّہ سے فون کر کے ایک آٹو رکشہ والے سلیم میاں کو بلایا، سلیم نے مجھے سیدھے اسلام کی دعوت دی، اور آپ کے ابی کی کتاب ’’آپ کی امانت آپ کی سیوا میں ‘‘، نراشنس اور انتم رشی، اور کے ایس راما راؤ کی کتاب اسلام کے پیغمبر محمد صاحبﷺ تین پمفلٹ دئیے، میں نے کہا یہ لٹریچر پڑھ لوں، پھر کل بات کرتے ہیں، سلیم میاں مجھے فورس کرتے رہے، کہ کل سے پہلے ہم دونوں مر گئے تو کیا ہو گا، میں نے کہا اگر مر گئے تو اوپر والا جانتا ہے کہ ہم کھوج تو کر رہے ہیں، ان پمفلٹ کو پڑھ کر میرا ذہن بالکل صاف ہو گیا، کہ اصل دین اسلام ہے، اور یہ سب دھرم کے نام پر دکانیں چلانے والوں کی بگڑی شکلیں ہیں، اگلے روز دس بجے سلیم میاں آٹو لے کر آ گئے، اور بولے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں نے آپ کو کلمہ پڑھا دیا ہے، اور آپ کا نام میں نے وسیم رکھا ہے، اور اپنے حضرت مولانا محمد کلیم صاحب سے ملوایا ہے وہ جو آپ کی امانت کے رائٹر ہیں۔ خواب دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کے کلمہ پڑھنے کا وقت آ گیا ہے، اس کے بعد سلیم میاں نے مجھے کلمہ پڑھوایا اور رات کو مرکز ہفتہ واری اجتماع میں جانے کا مشورہ دیا، مرکز میں انھوں نے مجھے اپنے بڑے ابا ڈاکٹر شکیل صاحب سے ملوایا جو پرانے جماعت کے لوگوں میں ہیں، انھوں نے بڑی محبت سے مجھے گلے لگایا، الگ کمرہ میں بٹھا کر چائے پلائی اور مجھے چار مہینے جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، اور میری فوراً چالیس دن کی تشکیل کر لی، اگلے اتوار سے جماعت نکل رہی تھی، میں جماعت میں چلا گیا، جماعت علی گڑھ شہر میں گئی۔ علی گڑھ جماعت میں میرا وقت بہت اچھا لگا اور وہاں کے جماعت کے ذمہ داروں سے میری ملاقات ہوئی، جس سے اسلام میرے لئے بالکل پیدائشی مذہب بن گیا، جماعت سے واپس آ کر میں ایک مولانا عقیل صاحب کو جو آئی ٹی میں بی ٹیک بھی تھے، اسلام پڑھنے کے لئے بنگلور آفس سے رائے پور لے آیا، ان سے اردو عربی پڑھنا شروع کی، پہلے انھوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا۔

س:آپ کی بیوی کا کیا ہوا؟

ج:کلمہ پڑھ کر میں نے رضوانہ سے مسلمان ہونے کو کہا۔ ان کے لئے اس سے بہتر کیا تھا، میں نے مسجد سے امام صاحب کو بلا کران کو کلمہ پڑھوایا، اور انھوں نے ہمارا نکاح بھی کرایا، اب ہم رضوانہ کی اپنی ماں سے فون پر کبھی کبھی بات کرنے لگے، اور وہ اپنے بیٹے کولے کر رائے پور ہمارے گھر آئیں، ہم لوگوں نے ان کو بہت اچھی طرح رکھا، اور ان کی بہت خاطر کی، وہ میرے اخلاق سے بہت متأثر ہوئیں، سسرال والوں سے تعلق شروع ہو گئے، اور الحمد للہ میں نے پہلے اپنے چھوٹے سالے، شفیق میاں کی اور پھر بڑے سالے انیس بھائی کی چلہ کے لئے تشکیل کر لی، بعد میں ان کے والد نے پہلے تین دن لگائے، پھر چار مہینے لگائے، اور اللہ کا شکر ہے کہ ساری خرافات سے انھوں نے توبہ کی۔

س:آپ کے گھر والوں کی طرف سے مخالفت نہیں ہوئی ؟

ج: اللہ کا عجیب کرم ہوا، رائے پور کا ایک خاندان اپنی گاڑی سے دہلی مولانا سے ملنے ان کے گلوبل پیس سنٹر دہلی آیا، کسی مہاراشٹر کے مولانا نے ان کو “یا ہادی یا رحیم” ٹرین میں پڑھنے کے لئے بتایا تھا، یہ لوگ کافی دنوں سے وہ پڑھ رہے تھے، ان کی کتنی ہی مشکلیں اللہ نے حل کر دی تھیں، ان میں سے ایک صاحب ہمارے پتاجی کے کارخانہ میں منیم تھے، یہ سب لوگ یہاں سے کلمہ پڑھ کر گئے، اور ہمارے پتاجی سے وہاں کی بڑی تعریف کی، ہمارے پتاجی نے ایک کے بعد ایک، چھ کارخانے لگائے، مگر ذرا کام چلتا اچانک کوئی ایکسیڈنٹ ہو جاتا، اور ایسا بڑا کوئی حادثہ ہوتا کہ کارخانہ بند کرنا پڑتا، ہمارے تاؤ جی نے ایک سیانے کو بلایا تو اس نے بتایا کہ کسی نے کاروبار پر کرنی کرا رکھی ہے، اس کے لئے ہمارے منیم جی جے پرکاش مشرا جن کا پہلا نام تھا، اب ان کا نام حضرت نے عبداللہ رکھا تھا، انھیں دہلی گلوبل پیس سنٹر جا کر مولانا صاحب سے ملنے کا مشورہ دیا، پتاجی نے پروگرام بنایا، وہاں پر مولانا دلشاد اور پادری بلال سے ان کی ملاقات ہوئی، ایک رات وہ وہاں رہے، اور صبح کو میرے اللہ کا کرم ہے انھوں نے کلمہ پڑھ لیا، حضرت سے ان کی ملاقات دوسرے روز تھوڑی دیر ہو سکی، کہ حضرت کو ایک سفر سے آ کر دوسرے سفر پر جانا تھا، حضرت نے میرے والد کو جماعت میں جانے کا مشورہ دیا، وہ بلاس پور پہنچے، میں ان سے ملنے گیا، تو یہ معلوم ہو کر میرے سرپرائز کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا کہ میرا سب سے اہم کام ہو گیا تھا، اگلے مہینہ بھوپال کا اجتماع تھا، رائے پور سے ایک جماعت اجتماع میں شرکت کے لئے جا رہی تھی، میں نے پتاجی کو بلایا، اور ان کو اجتماع میں لے گیا، وہاں سے چالیس دن کی جماعت میں وہ چلے گئے، مگر جماعت یوپی میں آگرہ گئی، جہاں کی سردی میں ان کا حال خراب ہو گیا اور وہ سخت بیمار ہو گئے، اور دس دن میں واپس آ گئے، بعد میں ان کوکسی نے مشورہ دیا کہ جماعت سے درمیان سے آنے والوں کو زندگی بھر مشکل سہنی پڑتی ہے ۔ اس لئے وہ دوبارہ مارچ میں جماعت میں گئے، الحمد للہ۔ اس کے بعد میری چھوٹی بہن اور ماں بھی مسلمان ہو گئیں۔

س:ان لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کر دیا؟

ج:میرے والد بہت بہادر اور نڈر آدمی ہیں۔ انھوں نے دہلی سے آتے ہی اعلان کر دیا، ہمارے علاقہ میں دور دور تک کوئی مسلمان نہیں ہے، مگر وہ ذرا نہیں ڈرے، بلکہ انھوں نے اپنے گھرکے ایک ہال کمرہ کو خاص کر کے اس میں اذان اور نماز شروع کر دی، اور گوالیر سے ایک حافظ صاحب کو بلاکر امام بھی رکھ لیا، بعد میں، میں نے نسیم ہدایت کے جھونکے کتاب سنی، تو ان کو ہندی میں لا کر دی، اس کے بعد ان کو دعوت کی دھن لگ گئی، ڈیڑھ سال میں ان کی کوشش سے ۳۶ ؍لوگ مسلمان ہوئے، ان کو شوگر اور بلڈ پریشر۱۵ ؍سال سے تھا، اچانک ایک دن ان کے سر میں درد ہوا، اور وہ بے ہوش ہو کر کوما میں چلے گئے، بلاس پور کے بڑے اسپتال میں ان کو دکھایا گیا، بعد میں رائے پور ریفر کیا گیا، مگر سرکی جانچ وغیرہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی دماغ کی نس پھٹ گئی ہے، اور فوراً علاج نہ ہونے کی وجہ سے دماغ کا ایک حصہ خراب ہو گیا ہے، ایک ہفتہ اسپتال رہ کران کا انتقال ہو گیا۔

س:ان کی تدفین اسلامی طریقہ پر ہوئی ؟

ج:خاندان کے کچھ لوگوں نے چاہا کہ ان کو جلایا جائے، مگر میری ممی نے ایس پی کو فون کر دیا اور کہا کہ میرے پتی مسلمان ہو کر مرے ہیں، اگر ان کو جلایا گیا تومیں جل کر مر جاؤں گی ایس پی صاحب نے فوراً ایکشن لیا اور ان کی گاؤں میں ہی نماز اور تدفین ہوئی، الحمد للہ۔

س:آپ کے بچے نہیں ہوئے ؟

ج:ہاں ہیں، دو بچے مریم اور عیسیٰ دونوں رضوانہ کے ساتھ اندر آپ کے گھر میں ہیں۔

س:ارمغان کے قارئین کو آپ کوئی پیغام دیں گے ؟

ج:آج کی دنیا میں عقل اور علم کا زمانہ ہے، سائنس کا دور ہے، سائنٹفک ذہن رکھنے والی انسانیت کو اسلام ہی بھا سکتا ہے، بس ہمیں دھرم کے نام پر ادھرم کے ظلم میں دبے، اور مذہبی کاروبار میں قید انسانوں کو اسلام کا آئینہ دکھانا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کا اسلام ہو، اور توحید و سنت اس کی بنیاد ہو، ایسا ہو نہیں سکتا کہ آدمی اسلام کے سایہ میں نہ آئے، مگر ہم اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے ہیں اور دور دور سے ڈر رہے ہیں۔

س:بلاشبہ !آپ بالکل سچ کہتے ہیں، جرم ہمارا ہی ہے، بہت بہت شکریہ، جزاک اللہ، السلام علیکم!

ج: وعلیکم السلام، شکریہ تو آپ کا آپ نے مجھے اپنی مبارک کڑی میں جوڑ لیا۔

٭٭٭

٭ بشکریہ ماہنامہ ارمغان، مارچ    ۲۰۱۵، ص ۱۷-۲۲

 

 

 

مقبول رمضان

 

                سعدی

 

اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان… ماہ رمضان، ماہ رمضان

دل خوش ہوا؟

کیا رمضان المبارک کے تشریف لانے پر ہمارا دل خوش ہوتا ہے ؟؟

اگر خوش ہوتا ہے تو پھر مبارک ہو، صد مبارک!

رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کے لئے بڑا انعام ہے … رمضان المبارک نہ آئے تو ہم نفس و شیطان کے ہاتھوں برباد ہو جائیں … رمضان المبارک کے روزے اسلام کے بنیادی اور لازمی فرائض میں سے ہیں … ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھتا ہے … اور اُن کی آمد اور ادائیگی پر خوش ہوتا ہے …

ہمارے آقا حضرت محمد مدنیﷺ رمضان المبارک کا خوشی سے استقبال فرماتے تھے اپنے صحابہ کرام کو رمضان المبارک کی خوشخبری دیتے تھے … اور رمضان المبارک کے آغاز میں علوم و حکمت کی بارش فرماتے تھے …یاد رکھیں روزہ بوجھ اور مشقت نہیں … قوّت اور لذت ہے … ایسی قوت کہ مسلمانوں نے رمضان المبارک میں بدر بھی فتح کر لیا… اور مکہ مکرمہ پر بھی فتح کا جھنڈا لہرا دیا…

مرحبا اے رمضان!… خوش آمدید اے رمضان!

دل گھبرا گیا؟

کیا رمضان المبارک کے تشریف لانے پر ہمارا دل گھبراتا ہے ؟

اگر گھبراتا ہے تو ہم ابامہ کی رنگت والے اس ’’کالے ‘‘ دل کی اصلاح کر لیں …جی ہاں ! ابھی موقع ہے … اگر خدانخواستہ اسی حالت میں جان نکل گئی تو یہ ’’ابامہ‘‘ ہمارے ساتھ قبر میں چلا جائے گا… اللہ نہ کرے قبر تندور بن جائے … جیسے بلوچستان میں سالم بکرے کو سجی بنانے کے لیے ایک گڑھا کھود کر اُسے دھکتے انگاروں سے بھر دیتے ہیں …

…یا اللہ !عذاب قبر سے بچا لیجئے …

روزہ نہ گرمی کا مشکل نہ سردی کا مشکل… روزہ صرف ’’نفس پرست‘‘ کا مشکل… ارے محبوب کے لئے بھوکا، پیاسا رہنا… کمزوری سے خستہ حال ہو جانا یہ تو عشق کے مزیدار مراحل ہوتے ہیں … ایسے مراحل ہی میں اُن کی نظر خاص نصیب ہوتی ہے …

الصوم لی وانأ اجزی بہ

ارشاد فرمایا: روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں خود دوں گا، خاص بدلہ، محبت والا بدلہ… بہت ہی بڑا بدلہ…

انسان جب تک اپنے محبوب کے لئے خستہ حال نہ ہو… کمزور اور زخمی نہ ہو، بھوکا اور پیاسا نہ ہو تو محبت دل میں کہاں اُترتی ہے ؟

حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی محبوب ترین چیزوں میں سے ایک یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ:

الصوم فی الصیف

سخت گرمی میں روزہ رکھنا…

معروف صاحب حکمت صحابی، حضرت سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :

صلّوافی ظلمۃ اللیل رکعتین لظلمۃ القبور

رات کے اندھیرے میں دو رکعت ادا کیا کرو، قبر کے اندھیرے سے بچنے کے لئے …

صوموا یوما شدید حرّہ، لحرّیوم النشور

سخت گرمی کے دن روزہ رکھا کرو، قیامت کے دن کی گرمی سے حفاظت کے لئے

تصدّقوا بصدقہٍ لِشَرِّ یومٍ عسیر

اور صدقہ دیا کرو، ایک مشکل دن کی آسانی کے لئے …

آج کل خوب گرمی ہے … سورج آگ برساتا ہے اور لوڈ شیڈنگ پسینے نکالتی ہے … عاشقوں کے روزے اور زیادہ مزیدار ہو جاتے ہیں … اور عشق کی سرشاری سے بھیگ بھیگ جاتے ہیں … اے مسلمانو! خوش ہونا چاہئے، بہت خوش ہونا چاہئے کہ قرآن مجید کا موسم آ گیا…مغفرت کا موسم آ گیا… محبوب کے لئے روزے رکھنے اور بھوک پیاس اٹھانے کا موسم آ گیا… ہم سب اپنے دل کو سمجھائیں کہ… بابا سیدھا ہو جا… ہر وقت موٹا تازہ، ہٹا کٹا، بنا سنورا اور تر و تازہ رہنا یہ عاشقوں کی شان نہیں … آگے قبر میں جانا ہے جس نے اس دنیا میں اپنے رب کے لئے جتنی مشکل اٹھائی، آگے اس کو اتنی ہی آسانی نصیب ہوئی…

رمضان المبارک کے اعمال

رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں …ایک دروازہ بھی بند نہیں رہتا… اور جہنم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں … اور ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا… اس لئے یہ اعمال والا مہینہ ہے … شریعت نے بعض اعمال تو ایسے ارشاد فرمائے ہیں … جو صرف اسی مہینے میں ادا ہو سکتے ہیں … اور بعض ایسے اعمال بیان فرمائے ہیں کہ… جن کا اجر اس مہینہ میں بڑھا دیا جاتا ہے … قرآن وسنت میں رمضان المبارک کے جو اعمال بیان کئے گئے ہیں … ان کی ایک فہرست حاضر خدمت ہے … دیکھ لیں کہ ہم نے کون کون سے اعمال کمائے ہیں …

۱۔ روزہ… یہ سب سے اہم اور فرض ہے اور بڑی شان والا فریضہ ہے … اور یہی اس مہینہ کا اصل اور بنیادی عمل ہے …

۲۔ جہاد فی سبیل اللہ… اسی مہینہ میں غزوہ بدر اور غزوہ فتح مکہ پیش آئے، فضیلت کا اندازہ خود لگا لیں …

۳۔ رات کا قیام… تراویح اور تہجد

۴۔ صدقہ… روایت میں آیا ہے کہ:

افضل الصدقۃ صدقۃ رمضان

سب سے افضل صدقہ… رمضان المبارک کا صدقہ ہے

۵۔ تلاوت… یہ قرآن مجید کا مہینہ ہے …اسی میں تمام آسمانی کتب نازل ہوئیں اس مہینہ میں قرآن مجید خوب کھلتا ہے اور خوب رنگ جماتا ہے

۶۔ اعتکاف… یہ عبادت اسی مہینے کے آخری عشرے کے ساتھ بطور سنت مؤکدہ خاص ہے … البتہ واجب یا نفل اعتکاف کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے …

۷۔ عمرہ… رمضان المبارک کا عمرہ فضیلت میں حج کے برابر ہو جاتا ہے

۸۔ لیلۃ القدر کو تلاش کرنا اور اسے زندہ رکھنا… یہ عظیم فضیلت اسی مہینہ کے ساتھ خاص ہے

۹۔ ذکر، استغفار، درود شریف اور دعاء کی کثرت کرنا… رمضان المبارک میں ذکر اور دعاء زیادہ قبول ہوتے ہیں … بہت مقبول ہوتے ہیں …

۱۰۔ صلہ رحمی کرنا…

اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام اعمال کی توفیق عطاء فرمائے …

مقبول رمضان

ہمارا رمضان المبارک مقبول جا رہا ہے یا نہیں ؟… ہم میں سے ہر ایک کو خود اس کی فکر کرنی چاہئے … قبولیت کا اندازہ اس سے ہو گا کہ… ہم حضرت آقا مدنیﷺ کی طرف دیکھیں کہ… آپﷺ کا رمضان المبارک میں کیا رنگ اور کیا انداز ہوتا تھا…پھر اگر ہمیں اپنے اندر… اُس رنگ اور انداز کی کچھ خوشبو محسوس ہو تو ہم شکر ادا کریں … اسے قبولیت کی علامت سمجھیں اور مزید محنت کریں … حضرت آقا محمد مدنیﷺ پر رمضان المبارک میں فرض روزہ کے علاوہ… تین باتوں کا رنگ غالب رہتا…

(۱) قرآن مجید کی طرف توجہ

(۲) بہت بہادری اور جذبہ جہاد

(۳) بہت زیادہ سخاوت

ویسے تو آپﷺ کی یہ تین صفات دائمی تھیں … مگر سیرت مبارکہ پر غور کریں تو یہی نظر آتا ہے کہ… رمضان المبارک میں آپﷺ پر ان تین صفات کا گویا حال طاری ہوتا تھا… آپ قرآن مجید کی طرف متوجہ رہتے … حضرت جبریل امین علیہ السلام بھی تشریف لاتے اور پھر ان دو عظیم ہستیوں کے درمیان قرآن مجید کا دور چلتارہتا… دوسرا حال جہاد کی طرف توجہ اور بے حد بہادری کا ہوتا… بدر کی طرف نکلنا آسان نہ تھا… بے سروسامانی تھی اور چاروں طرف سے خطرات… مگر رمضان المبارک کا عشق ایسا چمکا کہ یہ خستہ حال لشکر…مشرکین مکہ کے تر و تازہ اور پُر شوکت لشکر سے ٹکرا گیا… اور جہاد کو ناقابل تسخیر بنیاد فراہم کر گیا…

فتح مکہ کا معاملہ بھی آسان نہ تھا… وہ فتح اکبر اور فتح اعظم تھی اور اسی سے دین اسلام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے … ایک عظیم قوت اور مرکزیت ملی… اسی لئے کئی اہل علم رمضان المبارک کی خصوصیات میں جن دو بڑی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں … ان میں پہلی نزول قرآن… اور دوسری فتح مکہ ہے …خلاصہ یہ کہ رسول کریمﷺ کی رمضان المبارک میں … جہاد کی طرف خاص توجہ رہتی تھی…

تیسرا حال جو رمضان المبارک میں آپﷺ پر زیادہ طاری رہتا… وہ تھا سخاوت… آپﷺ تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے … آپﷺ تو پہلے سے ہی سخیوں کے سخی بادشاہ تھے … مگر رمضان المبارک میں اس سخاوت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا… بس سب کچھ مالک کے لئے قربان اور ہر ضرورت مند کے ساتھ احسان… اور ہمدردی…

ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں :

کیا قرآنِ پاک کی طرف توجہ زیادہ ہوئی؟

اگر ہو گئی ہے تو… الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ رب العالمین

کیا سخاوت زیادہ ہوئی؟

اگر ہوئی ہے تو…الحمد للہ رب العالمین… الحمد للہ رب العالمین

کیا بہادری بڑھی؟… اللہ تعالیٰ کے لئے جان دینے کا جذبہ زیادہ ہوا؟… دل میں شوق جہاد بڑھا؟… اسلام کے لئے کچھ کر گزرنے کا جنون فراواں ہوا؟

اگر ہوا تو… الحمد للہ، ثم الحمد للہ… الحمد للہ رب العالمین

لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…

اللّٰھم صل علیٰ سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارک و سلم تسلیما کثیرا کثیرا…

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…

٭٭٭

 

 

 

رفض و شیعت کا موجد ابن سبا ایک یہودی

 

(تیسری اور آخری قسط)

 

                سرونٹ آف صحابہ

 

حصہ سوم

شیعہ اعتراض ابن سبا کا وجود ہے لیکن شیعت کا بانی یہ نہیں ہے

جو شیعہ یہ بات مانتے ہیں کہ ابن سبا کا وجود ہے تووہ یہ نہیں مانتے کہ شیعت کا موجد یہ ہے ہم سنی جب یہ کہتے ہیں کہ ابن شیعت کا بانی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ایسی جماعت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو کہ اہل بیت سے محبت کرتی ہے بلکہ ہم اس کی نشاندہی کر رہے ہیں جو رافضی ہیں اور منافقانہ عقائد رکھتے ہیں یعنی ابو بکر و عمر رضوان اللہ کو کافر کہنا، قیامت سے پہلے امام کا واپس آنا اور ولایت تقوینیہ پر ایمان رکھنا وغیرہ۔

شیعوں کا یہ ٹولہ کم سے کم اس حد تک اپنے بڑوں کی عزت کرتا ہے کہ وہ اپنی کتب میں موجود ابن سبا یہودی کا ان کار نہیں کرتا پر وہ اس بات کو رد کرتے ہیں کہ شیعت کا ابن سبا یا سبائی گروہ سے کوئی تعلق ہے وہ اس کے ثبوت میں آپ کو محمد بن حسن طوسی (رافضیوں کا مشہور عالم متوفی 460) کا حوالہ دیتے ہیں کہ وہ خود ابن سبا یہودی کو کافر مانتے ہیں۔

رجال طوسی ص 75 نمبر 718

طوسی کہتا ہے ابن سبا کافر ہو گیا تھا اور وہ غلت میں پڑ گیا تھا۔

یہ رافضی الکاشی کی صحیح روایات بھی پیش کرتے ہیں حوالہ کے طور پر جس میں اماموں نے ابن سبا یہودی پر لعنت کی ہے وہ اسی بنا پر ہی مانتے ہیں کہ ابن سبا یہودی کا وجود تھا لیکن شیعہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ابن سبا یہودی ایسا آدمی ہے جس کو لعنت کی گئی ہے اماموں کی طرف سے کیونکہ اس نے امیر المومنین علی کی امامت کے بجائے ان کے رب ہونے کی پرچار شروع کر دی۔

یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ حقیقت کو مسخ کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیعہ علماء اس بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ ابن سبا نے علی کے رب ہونے کا پرچار کیا اس کے ساتھ یہ پہلا شخص ہے جس نے شیعوں کے دو بنیادی عقائد کی پرچار بھی کی جو کہ صرف شیعوں کے ٹولہ میں پائی جاتی ہیں۔

1۔ ابن سبا یہودی وہ پہلا شخص ہے جس نے اعلانیہ ابو بکر و عمر، عثمان اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین پر کھلا تبرا کیا بلکہ ان سے بیزاری کا اعلان کیا اور یہ بکواس بھی کی اسے ایسا کرنے کو علی نے کہا ہے (جیسے آج کے رافضی دعوی کرتے ہیں ) علی اسے قتل کرنے والے تھے لیکن لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے اسے جلاوطن کر دیا اس بات کو نوبختی، الکشی، سعد بن عبداللہ القمی نے قبول کیا ہے۔

2۔ ابن سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے شہادت دی کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اوراس نے اعلانیہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کی اور انہیں کافر قرار دیا (جو آج کے رافضیوں کے ایمان کا حصہ ہے ) یہ شیعہ علماء کی طرف سے ایک اور اقرار ہے جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی کی بنیاد ہر جس نے شیعوں کی مخالفت کی تو بلاججھک کہا کہ رفض کی بنیاد یہود کے عقائد پر ہے اور یہی بات جو کہ جس کو مسلمان مانتے ہیں اور اہل سنت کہتے ہیں شیعہ عقائد کی بنیاد ابن سبا یہودی کے عقائد پر ہے اور پھر رافضیوں کے بے تکے سوالوں کے جواب میں یہی کہتے ہیں مثال کے طور پر رافضی کہتے ہیں :

٭شیعہ کا کون اصول ابن سبا سے لیا گیا ہے، شیعہ کے کس فقہی مسلے کو لیا گیا ہے، کیا ہمارے امام ابن سبا کی تعریف کرتے تھے، ہم نے ابن سبا سے کتنے احادیث لیں ہیں ؟

٭کیا شیعہ پاگل یا جاہل ہیں کہ 1400 سالوں میں یہ نہیں جان سکے کہ ان کے عقائد کی بنیاد جھوٹی روایات پر ہے جو عبداللہ بن سبا کی طرف سے آئیں ہیں ؟

٭اگر ابن سبا یہودی شیعوں کے لئے اتنا اہم ہے تو شیعوں نے اماموں کی طرح اس کی روایات کو کیوں نہیں نقل کیا؟ یقیناً اگر ابن سبا ان کا آقا ہوتا تو وہ ضرور اس کی روایات نقل کرتے اور اس پر فخر کرتے۔

اس قسم کے سوالات کرنے والے العسکری، یاسر الخبیث، عمار نخوانی، الوائیلی وغیرہ ہیں اور ان کا سادہ سا جواب یہ ہے :

کسی بھی مسلم سنی عالم نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ابن سبا کی تقلید کے لائق ہے یا اس کی تقلید رافضیوں کے لئے ضروری ہے وہ صرف یہ لکتے آئے ہیں کہ رافضی صرف اس کے یہودی خیالات کی پیروی کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آج کے عیسائی کبھی یہ نہیں مانتے کہ وہ ان کی مذہب بنیاد سیدنا مسیح علیہ السلام کی عقائد پر نہیں ہے بلکہ پال جاہل کے عقائد پر ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے شیعہ (پیروکار) ہیں۔ اسی طرح شیعت ایک ایسی جماعت ہے جس کی بنیاد رکھنے والا ایک یہودی ہے خاص طور ہر صحابہ کی تکفیر اور امامت علی کا فرض ہونے کے عقائد اہل بیت کے نہیں ہیں بلکہ یہ عقائد ابن سبا یہودی کے ہیں جس نے ان عقائد کی بنیاد رکھی اور وہی بقول شیعہ علماء کے پہلا شخص ہے جس ان عقائد کی لوگوں میں پرچار اسی لئے کہا جاتا ہے اور تا قیامت کہا جائے گا۔

ابن سبا رافضیوں کا روحانی باپ ہے اور ایسی عقائد کی بنیاد رکھنے ولا ہے جو کسی بھی فرقے میں نہیں ملتے سواء رافضیوں کے (خاص اثنا عشریوں میں )

جو بھی کہتے ہیں کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی اس کی وجہ اس کے عقائد ہیں خاص کر صحابہ کی تکفیر، رجا، علی کے بارے میں غلط اور وہ ان عقائد کی وجہ سے ہی مشہور ہے شاید کوئی کوشش کرے کہ ایسے عقائد ابن سبا سے پہلے بھی تھے لیکن وہ اس کے لئے کوئی بھی چیز نہیں ڈھونڈ سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی جس مین شیعت کے سب کے سب عقائد بشمول امامت کے آتے ہیں تو اس بات کسی نے بھی دعوی نہیں کیا اور نہ ہی ایسی چیز لکھی ہے مقصد کی بات یہ ہے ابن سبا یہودی نے رفض کی بنیاد رکھی جو کہ اہل بیت کے نام پر کی گئی اور آج تک اثنا عشری فرقہ اس کی تقلید میں صحابہ خاص کر ابو بکر و عمر کی تکفیر کرتا آ رہا ہے۔

نتیجہ

مسلم علماء اور شیعہ علماء حقیقت میں اس بات کے قائل ہیں کہ ابن سبا یہودی کے ہی خیالات ہیں جو شیعت کی بنیاد کے ذمہ دار ہیں پر یہ مکمل شیعت کا بانی نہیں ہے کیوں کہ رافضیت صدیوں کی ارتقا سے گزری ہے۔ آپ تاریخ دمشق میں دیکھیں کہ وہاں کچھ روایات ہیں ابن سبا کے بارے میں جو علی کو خالق کائنات کہہ رہا ہے۔ الجوزنجانی متوفی 259 ہجری اپنی کتاب رجال میں ابن سبا کھا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابن سبا نے کہا کہ ہمارے پاس صرف 9/1 قرآن باقی ہے، پورا قرآن علی کے پاس ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس بات نے یہ عقیدہ بنا لیا ہو گا کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔

آخری بات یہ کہ ابن سبا نے اہل بیت کے نام پر اپنے یہودی عقائد کی پرچار کی اور آج کی شیعہ بھی اہل بیت کے نام پر غلیظ شیعت کی پرچار کرتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ردِّ قادیانیت کورس

 

( قسط۔ ۴)

 

                 منظور احمد چنیوٹی ﷫

 

 

اب ہم مرزا کے چند ایک جھوٹ پیش کرتے ہیں اس کے کذبات کا کما حقہ احاطہ کرنا کارے دارد ہے۔ ہم نمونے کے طور پر چند اکاذیب مرزا بیان کریں گے۔

٭جھوٹ نمبر ۱

’’ اولیا ء گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی ہے کہ وہ (مسیح موعود۔ ناقل) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا۔ ‘‘

(اربعین نمبر ۲ص۲۳ طبع چناب نگر(ربوہ)، روحانی خزائن ج۱۷ ص۳۷۱)

﴿مطبع قادیان میں انبیاء کا لفظ ہے بعد کے ایک ایڈیشن میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہ لفظ غلطی سے لکھا گیا اور اب نئے ایڈیشن میں یہ وضاحت بھی حذف کر دی گئی ہے ﴾

اولیا ء جمع کثرت ہے اور جمع کثرت دس سے اوپر ہوتی ہے اس لئے کم از کم دس معتمد اولیاء کے نام پیش کرو جنہوں نے بذریعہ کشف مہر لگائی ہو اور ولی ایسا ہو جس کو دونوں فریق صحیح ولی مانیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ سفید جھوٹ ہے کسی مسلمہ ولی نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ مہدی چودہویں صدی میں ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا۔ یہ تمام اولیاء کرام پر جھوٹ ہے۔

٭جھوٹ نمبر ۲

’’ اے عزیزو تم نے وہ وقت پا یا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ ‘‘

(اربعین نمبر ۴ص ۱۳، روحانی خزائن ص۴۴۲ ج۱۷)

یہ بھی بالکل صاف جھوٹ ہے کسی ایک پیغمبر سے یہ خواہش کرنا ثابت نہیں ہے۔

ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین۔

٭جھوٹ نمبر ۳

’’ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے۔ ‘‘

(کشتی نوح ص ۵، روحانی خزائن ص۵ ج۱۹)

اسی عبارت کے متعلق اسی صفحہ پر حاشیہ لکھا :

’’ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے :زکریا باب ۱۴ آیت ۱۲بائبل ۸۹۱، انجیل متی باب ۲۴ آیت ۸، مکاشفات باب ۲۲ آیت ۸، عہد نامہ جدید ص۲۵۹۔ ‘‘

اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی چار آسمانی کتابوں پر چار عدد جھوٹ ہیں۔ مذکورہ کتب کے مذکورہ صفحات پر ہر گز مسیح موعود کے وقت طاعون کے پڑنے کا ذکر نہیں ہے۔

مرزا ئی عذر:

جب مرزائیوں سے سوال کیا جا تا ہے کہ قرآن مجید میں مسیح موعود کے وقت طاعون پڑنے کا ذکر کہاں ہے تو مرزا ئی جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑنے کا ذکر ہے اور یہ آیت پڑھتے ہیں :

’’ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَاۗبَّۂً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ……الخ‘‘ (پ۲۰، سورۃ النمل آیت ۸۲)

اور کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب نزول مسیح ص۳۸، ۳۹، ۴۰، روحانی خزائن ص۴۱۶تا ۴۱۸ج ۱۸ میں اس ’’دابۃ الارض ‘‘ سے مراد طاعون لیا ہے اور مرزائی اس آیت کو طاعون پر اس طرح چسپاں کرتے ہیں کہ دابۃ الارض سے مراد چوہا ہے جو زمین سے نکلے گا اور تُکَلِّمُہُمْ کا مطلب ہے کہ ان کو کاٹے گا۔

  • جواب اول:

کسی مفسر، کسی محدث، کسی مجدد نے یہاں دابۃ سے مراد طاعون اور طاعون کا چوہا نہیں لیا، یہ مرزا کا اپنا افترا ء ہے ہم بلا خوف تردید قادیانی امت کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ تیرہ صدیوں کے کسی مجدد کا نام پیش کریں جس نے اس آیت میں دابۃ الارض سے مراد طاعون لیا ہو۔

  • جواب ثانی :

اگر بالفرض تمہاری یہ من گھڑت تفسیر مان بھی لی جائے تو اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ طاعون مسیح موعود کے وقت میں پڑے گا؟ تقریب تام نہیں ہے۔

  • جواب ثالث:

خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اس آیت کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں۔ اپنی کتاب ازالہ اوہام ج۲ ص۲۰۹، روحانی خزائن ص۳۷۰ ج۳ پر لکھتا ہے :

’’ وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَاۗبَّۂً مِّنَ الْاَرْضِ ……الخ‘‘

﴿ سورہ ۲۷، اَلنمل: ۸۲﴾

یعنی جب ایسے دن آئیں گے جب کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقر ر قریب آ جائے تو ایک گروہ دابۃ الارض کا زمین سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کا ہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علما ء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولیٰ ہو گا۔ ‘‘

اس عبارت میں خود مرزا نے دابۃ الارض سے مراد متکلمین و علماء ظاہر لئے ہیں۔ معلوم ہوا دابۃ الارض سے مراد طاعون و طاعون کا چوہا نہیں ہے۔

اسی طرح اپنی کتاب’ حمامۃ البشریٰ ‘ میں دابۃ الارض سے مراد علماء سوء لیا ہے :

’’ ان المراد من دابۃ الارض علماء سوء الذین یشھدون باقوالھم ان الرسول حق والقرآن حق ثم یعملون الخبائث ویخدمون الدجال کان وجودھم من الجزئین جزء مع الاسلام وجزء مع الکفر اقوالھم کاقوال المومنین وافعالھم کافعال الکافرین فاخبر رسول اللہﷺ عن ان ھم یکثرون فی آخر الزمان وسموا دابۃ الارض لانہم اخلدو الی الارص وما ارادوان یرفعوا الی السماء ……الخ ‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۸۶، روحانی خزائن ص۳۰۸ج۷ )

یہاں مرزا صاحب نے دابۃ الارض سے مراد علماء سوء یعنی منافقین کو لیا ہے پھر اس سے مراد طاعون کا چوہا کیسے ہو گیا، کہاں علماء سوء کہاں علماء متکلمین اور کہاں طاعون کا چوہا، اور یہ تین اقوال آپس میں متضاد ہیں۔ ایک ہی آیت کی تین تفسیریں مرزا صاحب کے کذاب اور منافق ہونے کی واضح دلیل ہیں اور مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ جاہل، پاگل، مجنون منافق کے کلام میں تضاد ہوتا ہے۔ ( ست بچن ص۳۱، روحانی خزائنص ۱۴۳ج۱۰) معلوم ہوا کہ خود مرزا صاحب جاہل، پاگل، مجنون اور منافق ہیں۔

مذکورۃ الصدر حمامۃ البشریٰ کی عبارت میں ایک اور جھوٹ بھی ہے کہ یہ ’’فاخبر رسول اللہﷺ ‘‘ سے شروع ہوتا ہے ہم پوچھتے ہیں کہ حضورﷺ نے یہ کس حدیث میں خبر دی ہے وہ حدیث پیش کریں۔ یہ حضورﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپﷺ نے فرمایا :

’’ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار ‘‘

’’ یعنی جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ‘‘

لہذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزا جہنمی ہوا۔

٭جھوٹ نمبر ۴:

’’ ہمارے نبی اکرمﷺ نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا مگر عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توراۃ پڑھی تھی ……۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن و حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن و حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہویا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہو۔ ‘‘

(ایام صلح ص۱۴۷، روحانی خزائن ص۳۹۴ج ۱۴)

یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ؟ یہ ان انبیا ء پر صریح الزام ہے، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراۃ پڑھی تھی۔ حالانکہ قرآن پاک میں ہے ’’ ویعلمہم الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے :

’’ واذاعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘

اور جب میں نے کتاب اور حکمت توراۃ و انجیل سکھائی۔ (پ۷ سورۃ المائدۃ آیت ۱۱۰ رکوع ۱۰)

اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے ……الخ۔ یہ بھی صاف جھوٹ ہے ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔ کتاب البریۃ ص۱۶۱ تا ۱۶۳، روحانی خزائن ص۱۸۰۔ ۱۸۱ ج۱۳ کے حاشیہ پر اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی تعلیم کا حال موجود ہے جیسا کہ شروع میں گذر چکا ہے۔

  • مرزائی عذر :

مرزائی ان ہر دو حوالوں میں تاویل کر کے تطبیق کرتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ نہیں ہے جو پڑھا ہے اس سے مراد قرآن کے ظاہری الفاظ ہیں اور جہاں لکھا کہ نہیں پڑھا اس سے مراد معارف و معانی ہیں۔

  • جواب

یہ تاویل درج ذیل متعدد وجوہ سے غلط ہے :

وجہ اول:

مرزا غلام احمد نے اپنے حال کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حال سے تشبیہ دی ہے کیا حضورﷺ نے بھی ظاہری الفاظ کسی استاد سے پڑھے تھے ؟ یہ اس کا تشبیہ دینا بتا رہا ہے کہ وہ خود یہاں ظاہری الفاظ و معانی وغیرہ کا فرق مراد نہیں لے رہا۔

وجہ ثانی :

اس سے معارف و معانی مراد لینا غلط ہے کیونکہ اس نے خود تین چیزیں بیان کیں :

۱) قرآن ۲) حدیث ۳) تفیسر

معارف و معانی تو تفسیر میں ہوتے ہیں یہ اس کا علیحدہ علیحدہ بیان کرنا یعنی ایک جگہ قرآن بولنا اور آگے تفسیر بولنا اس پر دال ہے کہ وہ ظاہری الفاظ و معارف دونوں کی نفی کر رہا ہے کہ دونوں میں میرا استاد کوئی نہیں۔

وجہ ثالث:

اس عبارت میں یہ تاویل کرنا کہ اس سے مراد معارف و معانی ہیں ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس میں اس نے قسم اٹھائی ہے ’’ سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں ……الخ‘‘ اور قسم میں ظاہر معنی مراد ہوتا ہے وہاں تاویل استثناء وغیرہ نہیں چل سکتے مرزا صاحب نے خود قسم کے متعلق اصول بیان کیا ہے، یہ بڑا اہم اصول ہے جو ہمیں نزول مسیح کی احادیث میں بھی کام دے گا۔ جہاں نبی کریمﷺ نے قسم اٹھا کر ایک مضمون بیان فرما یا ہے اسی طرح یہاں بھی یہ اصول کام دے گا اور ایک جگہ مرزا کا ایک مرید مرزا کی صفت میں یہ شعر کہتا ہے :

خدا سے تو خدا تجھ سے ہے واللہ

ترا رتبہ نہیں آتا بیاں میں

مرزائی اس کی تاویل کرتے ہیں مگر چونکہ یہاں اس نے واللہ کے لفظ سے قسم اٹھا دی اس لے تاویل نہیں چل سکے گی اس طرح یہ اصول بیشمار مواقع میں کام دے گا اصول یہ ہے :

’’ والقسم یدل علی ان الخبر محمول علی الظاھر لاتاویل فیہ ولا استثناء والا فای فائدۃ کانت فی ذکر القسم ‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص۲۶ حاشیہ روحانی خزائن ص۱۹۲ج۷)

علاوہ ازیں خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ تمام انبیا ء کا کوئی استاد اور اتالیق نہیں ہوتا :

’’اور تمام نفوس قدسیہ انبیاء کو بغیر کسی استاد اور اتالیق کے آپ ہی تعلیم اور تادیب فرما کر اپنے فیوض قدیمہ کا نشان ظاہر فرمایا۔ ‘‘

( دیباچہ براہین احمدیہ ص ۷ روحانی خزائن ج۱ ص۱۶)٭

(جاری ہے۔ ..)

٭٭٭

 

 

 

ردِّ فرق ضالہ

فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّۂِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمھَْدِیِّیْن

      میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کی سُنت تم پر لازم ہے۔ (سنن ابی داؤد ج۲ص۲۹۰باب فی لزوم السنۃ)

 

فضائلِ اعمال پر اعتراضات کا جواب فضائلِ اعمال سے

 

                عبد الرحمٰن بجرائی شافعی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فضائلِ اعمال حضرت شیخ الحدیث کی لکھی ہوئی مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے، جن میں حضرت شیخ الحدیثؒ کی تحقیق اور قرآن کریم کی آیات کی تفسیر و احادیثِ شریفہ کی شرح موجود ہے۔ فضائلِ اعمال پر بعض احباب تنقید کرتے ہیں اور اس پر بہت سے اعتراضات کرتے ہیں جن کے جوابات بھی بہت سے دئے گئے ہیں۔ خود شیخ الحدیثؒ نے بھی بعض اعتراضات کے جوابات دئے ہیں جو کتابی شکل میں موجود ہے، نیز دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ تخصص فی الحدیث کے استاذ حضرت مولانا مفتی عبد اللہ معروفی صاحب دامت برکاتہم نے بھی ایک عمدہ کتاب “فضائلِ اعمال پر اعتراضات کا اصولی جائزہ” تحریر فرمائی۔ نیز اس سلسلہ کی سب سے اہم کاوش “تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل اعمال” جو عربی میں ہے اس کا اردو ترجمہ “تصحیح الخیال” کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اعتراضات کے جوابات کی سب سے اہم کڑی اور سب سے اہم کام حضرت مولانا الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم عالیہ نے ویڈیو کی شکل میں دیا جس سے بہت سے اعتراضات کی ہوا نکل گئی۔

ایک قاعدہ یاد رکھنا چاہئے کہ نفسِ اعتراض بذاتِ خود بری شے نہیں ہے بلکہ اعتراض کا حق تو سب کو حاصل ہے لیکن اعتراض حسد اور تنقیص پر مبنی نہ ہو، بلکہ جب اعتراض کا جواب مل جائے تو اسے قبول کر لینا چاہئے نہ کہ اسی پر اصرار کرنا چاہئے۔

خیر! ہم ہمارے اس مضمون میں ان شاء اللہ فضائلِ اعمال پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا جواب فضائلِ اعمال سے ہی دیں گے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ غور سے تعصب کا چشمہ اتار کر اسے پڑھئے ان شاء اللہ اعتراضات دفع ہو جائیں گے۔

بنیادی طور پر فضائلِ اعمال پر جتنے اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کو ہم دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں

۱۔ ضعیف و من گھڑت روایات

۲۔ قصے کہانیاں

۱۔ ضعیف و من گھڑت روایات:- جہاں تک ضعیف اور من گھڑت روایات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں قاری کو چاہئے کہ کوئی بھی اصول حدیث کی کتاب پہلے پڑھ کر سمجھ لے کہ ضعیف حدیث کیا ہوتی ہے اور من گھڑت(موضوع) حدیث کیا ہوتی ہے۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق آپ کو ملے گا۔

فضائلِ اعمال میں احادیثِ صحیحہ کے ساتھ ساتھ احادیث ضعیفہ بھی ان کے ضعف کی وضاحت کے ساتھ موجود ہیں۔ سند پر تفصیلی کلام حضرت شیخ الحدیثؒ نے عربی میں کیا ہے جیسا کہ حضرتؒ نے خود اس کی وضاحت فرمائی ہے۔

فضائلِ نماز کے مقدمہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ تحریر فرماتے ہیں :

“چونکہ نماز کی تبلیغ کرنے والے اکثر اہلِ علم بھی ہوتے ہیں اس لئے حدیث کا حوالہ اور اس کے متعلق جو مضامین اہلِ علم سے تعلق رکھتے تھے وہ عربی میں لکھ دئے گئے ہیں کہ عوام کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہے اور تبلیغ کرنے والے حضرات کو بسا اوقات ضرورت پڑ جاتی ہے اور ترجمہ و فوائد وغیرہ اردو میں لکھ دئے گئے ہیں۔ ”

( فضائل نماز مقدمہ ص 5)

ایک جگہ چالیس احادیث کے جمع کرنے کی فضیلت پر کلام کرتے ہوئے فضائلِ قرآن مجید کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں :

“مناوی کہتے ہیں میری امت پر محفوظ کر لینے سے مراد ان کی طرف نقل کرنا ہے۔ سند کے حوالے کے ساتھ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ مسلمانوں تک پہچانا ہے اگرچہ وہ بر زبان یاد نہ ہوں نہ ان کے معنی معلوم ہوں، اسی طرح چالیس حدیثیں بھی عام ہیں کہ سب صحیح ہوں یا حَسن یا معمولی درجہ کی ضعیف جن پر فضائل میں عمل جائز ہو۔ ”

( فضائلِ قرآن مجید، مقدمہ ص 4)

فضائلِ نماز کے بالکل اختتام پر حضرت شیخ الحدیثؒ متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“اخیر میں اس امر پر تنبیہ بھی ضروری ہے کہ حضراتِ محدثین رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک فضائل کی روایات میں توسّع ہے اور معمولی ضعف قابلِ تسامح (ہے )۔ ..۔ .. ”

( فضائلِ نماز، آخری صفحہ )

ایک جگہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“محدثین کو اس کے بعض رواۃ میں کلام ہے لیکن اول تو فضائل میں اس قدر کلام قابل تحمل ہے۔ دوسرے اس کے اکثر مضامین کی دوسری روایات مؤید ہیں۔ ”

( فضائل رمضان فصل اول حدیث نمبر ۱ فائدہ ص 5)

اسی طرح اکثر جگہ آپ ضعیف حدیث کے متعلق فضائلِ اعمال میں محدثین کے ان اصول کی وضاحت پائیں گے اور جو حدیث صحیحین یعنی بخاری و مسلم کے علاوہ ہو اکثر جگہ حضرت شیخ الحدیثؒ کا اس پر آپ کو عربی میں کلام ملے گا جیسا کہ حضرت نے وضاحت فرما دی تھی۔

اب ان تصریحات کے بعد یہ اعتراض بالکل رفع ہو جاتا ہے کہ فضائلِ اعمال میں ضعیف و من گھڑت روایات موجود ہیں۔ کیوں کہ حضرت نے ضعیف احادیث فضائل میں لینے کے متعلق محدثین کی تصریحات بیان فرما دیں، اور من گھڑت روایات ہمارے علم میں تو فضائلِ اعمال میں نہیں ہے اگر کوئی اس کے من گھڑت ہونے کا دعویٰ کرے تو وہیں اس کا عربی متن دیکھ لیں ان شاء اللہ وضاحت مل جائے گی۔

۲۔ قصے کہانیاں :- اب دوسرا اعتراض یہ رہ جاتا ہے کہ اس میں قصے کہانیاں ہیں اور یہ کامک بک (Comic Book) ہے، اس میں ایسے واقعات ہیں جو ہماری عقل میں نہیں آتے، کیلکولیٹر(Calculator) کام کرنا بند کر دیتے ہیں، بعض جگہ طنز کرتے ہوئے یہ کہنا کہ یہ تو ورلڈ ریکارڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ انداز دنیا داروں کا تو ہو سکتا ہے مگر اہلِ علم یا دینداروں کا نہیں ہو سکتا۔ آئیے اس سلسلہ میں بھی فضائلِ اعمال سے ہی ان واقعات کے متعلق چند تصریحات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

حضرت شیخ الحدیثؒ نے واقعات کا ذکر فضائلِ اعمال میں کیوں کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے فضائلِ درود میں فرماتے ہیں :

“درود شریف کے بارے میں اللہ تعالیٰ شانہ کے حکم اور حضور اقدسﷺ کے پاک ارشادات کے بعد حکایات کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رہتی۔ لیکن لوگوں کی عادت کچھ ایسی ہے کہ بزرگوں کے حالات سے ترغیب زیادہ ہوتی ہے، اسی لئے اکابر کا دستور اس ذیل میں کچھ حکایات لکھنے کا بھی چلا آ رہا ہے۔ ”

( فضائلِ درود پانچویں فصل   ٭ر چکا ہے۔ ٭عقائد رکہرنے پر تُی تشکیل: اعجاز عبیدص 82 )

صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات کی حقیقت و درجہ بتاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

“اخیر میں اس امر پر تنبیہ بھی ضروری ہے کہ حضراتِ محدثین رضی اللہ عنہم اجمعین کے نزدیک فضائل کی روایات میں توسّع ہے اور معمولی ضعف قابلِ تسامح… باقی صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات تو تاریخی حیثیت رکھتے ہی ہیں اور ظاہر ہے کہ تاریخ کا درجہ حدیث کے درجہ سے کہیں کم ہے۔ ”

( فضائلِ نماز ص 88 )

اسی طرح صوفیائے کرام رحمہم اللہ کے واقعات و کرامات پر جو عقل میں نہیں آتے کہا جاتا ہے اس کے متعلق بڑی ہی اہم بات حضرت شیخ الحدیثؒ نے تحریر فرمائی ہے :

“ساری رات کو بے چینی اور اضطراب یا شوق و اشتیاق میں جاگ کر گزار دینے کے واقعات کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں۔ ہم اس لذّت سے اتنے دُور ہو گئے ہیں کہ ہم کو ان واقعات کی صحت میں بھی تردد ہونے لگا، لیکن اوّل تو جس کثرت اور تواتر سے یہ واقعات نقل کئے گئے ہیں ان کی تردید میں ساری ہی تواریخ سے اعتماد اٹھتا ہے کہ واقعات کی صحت کثرتِ نقل ہی سے ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے ہم لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو آئے دن دیکھتے ہیں جو سینما اور تھیٹر میں ساری رات کھڑے کھڑے گزار دیتے ہیں کہ نہ ان کو تعب ہوتا ہے، نہ نیند ستاتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ایسے معاصی کی لذّتوں کا یقین کرنے کے باوجود ان طاعات کی لذّتوں کا ان کار کریں، حالانکہ طاعات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے قوت بھی عطا ہوتی ہے۔ ہمارے اس تردّد کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم ان لذّتوں سے نا آشنا ہیں اور نابالغ بلوغ کی لذّتوں سے ناواقف ہوتا ہی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اس لذّت تک پہنچا دیں تو زہے نصیب۔ ”

( فضائلِ نماز  ص 87 )

حضرت شیخ الحدیثؒ کی ان تصریحات سے تمام اعتراضات رفع ہو جاتے ہیں کہ ان واقعات کی حقیقت و حیثیت تاریخی ہے اور وہ حدیث سے بہت زیادہ کم درجہ رکھتی ہے اور جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ عقل میں بات نہیں آتی وہ دنیا دار سینیما، فون اور رات میں گپ شپ کرنے والوں کو دیکھ لیں کہ وہ نافرمانی کے کاموں میں بشاشت کے ساتھ راتیں گذار دیتے ہیں تو کیا اللہ کی اطاعت میں کوئی ایسا نہیں کر سکتا ؟

ایسی تصریحات کو فضائلِ اعمال میں بہت سی جگہ ملے گی۔

اب ہمارے اس مضمون کو حضرت شیخ الحدیثؒ کی ہی تصریحات میں سے چند جو فضائلِ حج کے آخر میں مذکور ہیں سے ختم کرتے ہیں :

“عشاق اور مخلصین کے واقعات کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا، پورے چودہ سو سال میں سے ہر سال میں کتنے عُشاق اور مخلصین ایسے ہوں گے جن کے عجیب واقعات گذرے، کوئی لکھے تو کہا تک لکھے، ستر(70) کا عدد احادیث میں بھی کثرت پر دلالت کرتا ہے، اس لئے اسی عدد پر اس سلسلہ کو ختم کرتا ہوں البتہ ان واقعات میں تین امر قابلِ لحاظ ہیں :-

(۱)اول یہ کہ یہ احوال اور واقعات جو گذرے ہیں وہ عشق اور محبت پر مبنی ہیں اور عشق کے قوانین عام قوانین سے بالاتر ہیں۔ ..۔ ..”

( فضائل حج ص 287 )

کچھ آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔ ..

“لہذا ان واقعات کو اسی عینک سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس رنگ میں رنگے جانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ لیکن جب تک عشق پیدا نہ ہو اس وقت تک نہ تو ان واقعات سے استدلال کرنا چاہئے اور نہ ان پر اعتراض کرنا چاہئے، اس لئے کہ وہ عشق کے غلبہ میں صادر ہوتے ہیں، امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص محبت کا پیالہ پی لیتا ہے وہ مخمور ہو جاتا ہے اور جو مخمور ہوتا ہے اس کے کلام میں بھی وسعت آ جاتی ہے، اگر اس کا وہ نشہ زائل ہو جائے تو وہ دیکھے کہ جو کچھ اس نے غلبہ میں کہا ہے وہ ایک حال ہے حقیقت نہیں اور عُشّاق کے کلام سے لذت تو حاصل کی جاتی ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ (احیاء 3)

(۲) دوسرا یہ ہے کہ ان قِصّوں میں اکثر مواقع میں توکل کی وہ مثالیں گذری ہیں جو ہم جیسے نا اہلوں کے عمل تو درکنار ذہنوں سے بھی بالاتر ہیں، ان کے متعلق یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ توکل کا مُنتہا یہی ہے جو ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ پسندیدہ بھی ہے اور اس کے کمال پر پہنچنے کی سعی اور کم سے کم تمنا تو ہونا ہی چاہئے لیکن جب تک یہ درجہ حاصل نہ ہو اس وقت تک ترکِ اسباب نہ کرنا چاہئے۔ ”

پھر اس کی تشریح احادیث و علماء کے کلام سے فرمائی اور مثالوں کا ذکر فرمایا اور ان پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کو رفع کیا اور پھر ص 293 میں تیسری بات ذکر کی۔ ..

“(۳) تیسری بات جو ان واقعات میں قابلِ لحاظ ہے اور وہ بھی حقیقت میں پہلے ہی بات پر مُتَفرّع ہے، وہ یہ ہے کہ بعض واقعات میں ایسی شِدّت ملتی ہے جو سرسری نظر میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور بظاہر یہ ناجائز معلوم ہوتا ہے، اس کے متعلق یہ بات ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ یہ واقعات بمنزلہ دوا کے ہیں اور دوا میں طبیب حاذق(ماہر ڈاکٹر) بعض اوقات سنکھیا بھی استعمال کرایا کرتا ہے، لیکن اس کا استعمال طبیب کی رائے کے موافق ہو تو مناسب ہے، بلکہ بسا اوقات ضروری لیکن بدون اس کے مشورے کے ناجائز، اور مُوجبِ ہلاکت، اسی طرح ان واقعات میں جن حاذِق طبیبوں نے ان دواؤں کا استعمال کیا ہے ان پر اعتراض اپنی نادانی اور فن سے ناواقفیت پر مبنی ہے، لیکن جو خود طبیب نہ ہو اور کسی طبیب کا اس کو مشورہ حاصل نہ ہو اس کو ایسے امور جو شریعتِ مطہرہ کے خلاف معلوم ہوتے ہوں اختیار کرنا جائز نہیں ہیں، البتہ فن کے ائمہ پر قواعد سے واقف لوگوں پر اعتراض میں جلدی کرنا بالخصوص ایسے لوگوں کی طرف سے جو خود واقفیت نہ رکھتے ہوں غلط چیز ہے، اور ہلاکت میں اپنے آپ کو ڈالنا ہر حال میں ناجائز نہیں ہے،ا گر دینی مصلحت اس کی متقاضی ہو تو پھر مباح سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ ”

( فضائل حج باب ان واقعات کے متعلق ضروری تنبیہات 287 تا 294آخر )

پھر حضرت شیخ الحدیثؒ نے وہیں پر احادیث پیش کر کے اپنے اوپر کے کئے گئے بیان کی وضاحت کی ہے، صفحہ 287 سے آخر تک آپ غور سے پڑھ لیں گے تو بہت سی باتیں سمجھ میں آ جائیں گی۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی صحیح فکر و سمجھ عطا فرمائے اور ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے اور حضرت شیخ الحدیثؒ کے درجات کو بلند فرمائے اور قبر کو نور سے منور فرمائے۔

آمین!

٭٭٭

 

 

 

کیا فقہ حنفی میں متعہ جائز ہے ؟

 

 غیر مقلدین کا دھوکہ

 

                محسن اقبال

غیر مقلدین کا فقہ حنفی پہ ایک اعتراض یہ ہے کہ فقہ حنفی میں معین مدت تک نکاح یعنی کہ متعہ جائز ہے لیکن غیر مقلدین ہمیشہ کی طرح یہاں بھی دھوکہ دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ طلاق کی نیت سے نکاح کرنے کا ہے جس میں فقہا کا اختلاف ہے اور اسی بات کو فتاوی عالمگیری میں ذکر کیا گیا ہے جس کو غیر مقلد دھوکہ سے متعہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

سب سے پہلی بات کہ یہ فتوی ان غیر مقلدین نے شیعہ سے چوری کیا ہے۔

شیعہ یہ الزام اہلسنت پہ لگاتے ہیں کہ اہلسنت کے نزدیک متعہ جائز ہے جس کو غیر مقلدین احناف اور فقہ حنفی کے بغض اور حسد میں آگے پھیلا رہے ہیں۔

غیر مقلدین کی اطلاع کے لئے سعودیہ کے مشہور محدث علامہ ابن بازؒ کے نزدیک بھی طلاق کی نیت سے نکاح کرنا جائز ہے اور یہ متعہ نہیں کہلاتا۔

علامہ ابن بازؒ کا یہ فتوی ان کی کتاب مقالات و فتاوی ابن باز، ج4 صفحہ 30 اور مسائل امام ابن باز، ج1 صفحہ 185 پر واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے۔

علامہ ابن بازؒ کے علاوہ کئی اکابرین کے نزدیک طلاق کی نیت سے نکاح جائز ہے۔

امام نووی الشافعی کہتے ہیں :

وبہ قال القاضی أبو بکر الباقلانی قال القاضی وأجمعوا على أن من نکح نکاحا مطلقا ونیتہ أن لا یمکث معہا الا مدۂ نواہا فنکاحہ صحیح حلال ولیس نکاح متعۂ وإنما نکاح المتعۂ ما وقع بالشرط المذکور

اور یہ وہ ہے جو قاضی ابو بکر الباقلانی نے کہا ہے۔ قاضی کہتے ہیں :’اس بات پر اجماع” ہے کہ جو بھی مطلق نکاح(نکاح دائمی) کرتا ہے لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ عورت کے ساتھ صرف کچھ مدت کے لیے ہی رہے گا، تو بلاشبہ ایسا نکاح صحیح اور حلال ہے اور یہ نکاح المتعہ (کی طرح حرام) نہیں ہے کیونکہ نکاح المتعہ میں پہلے سے ہی یہ شرط مذکور ہوتی ہے (کہ ایک مدت کے بعد خود بخود طلاق ہو جائے گی)۔ اور امام مالکؒ کے نزدیک یہ اخلاق میں سے نہیں ہے اور امام اوزاعیؒ کے نزدیک یہ متعہ ہی ہے۔

( کتاب المنہاج شرح مسلم، جلد 9 صفحہ 182)

امام اہلسنت ابن قدامہ الحنبلی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

إن تزوجہا بغیر شرط، إلا أن فی نیتہ طلاقہا بعد شہر، أو إذا انقضت حاجتہ فی ہذا البلد، فالنکاح صحیح فی قول عامۂ أہل العلم إلا الأوزاعی، قال: ہو نکاح متعۂ۔ والصحیح أنہ لا بأس بہ

اگر وہ عورت سے (مدت) کی کوئی شرط کیے بغیر نکاح کرتا ہے لیکن دل میں نیت ہے کہ اُسے ایک ماہ کے بعد طلاق دے دے گا یا پھر اُس علاقے یا ملک میں اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد طلاق دے دے گا (اور پھر آگے روانہ ہو جائے گا) تو پھر اہل علم کے مطابق بلاشبہ ایسا نکاح بالکل صحیح ہے، سوائے الاوزاعی کے جنہوں نے اسے عقد المتعہ ہی جانا ہے لیکن صحیح یہی رائے ہے (جو اہل علم کی ہے ) کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

( المغنی، جلد 7، صفحہ 573)

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز فرماتے ہیں :

( شیخ ابن باز صاحب سے سوال): آپ نے ایک فتوی جاری کیا ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ ویسٹرن (مغربی) ممالک میں اس نیت سے شادی کر لی جائے کہ کچھ عرصے کے بعد عورت کو طلاق دے دی جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر آپ کے اس فتوے اور عقد متعہ میں کیا فرق ہوا؟

(شیخ ابن باز کا جواب): جی ہاں، یہ فتوی سعودیہ کی مفتی حضرات کی مستقل کونسل کی جانب سے جاری ہوا ہے اور میں اس کونسل کا سربراہ ہوں اور یہ ہمارا مشترکہ فتوی ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ شادی کی جائے اور دل میں نیت ہو کہ کچھ عرصے کے بعد طلاق دینی ہے )ہمارا تبصرہ: یعنی لڑکی کو دھوکے میں رکھنا جائز ہے اور اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ دل میں نیت تو کچھ عرصے بعد طلاق کی کر رکھی ہے (۔ اور یہ (طلاق کی نیت) معاملہ ہے اللہ اور اس کے بندے کے درمیان۔

اگر کوئی شخص (سٹوڈنٹ) مغربی ملک میں اس نیت سے شادی کرتا ہے کہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد یا نوکری ملنے کے بعد لڑکی کو طلاق دے دے گا تو اس میں تمام علماء کی رائے کے مطابق ہرگز کوئی حرج نہیں ہے۔ نیت کا یہ معاملہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور یہ نیت نکاح کی شرائط میں سے نہیں ہے۔

عقد متعہ اور مسیار میں فرق یہ ہے کہ عقد متعہ میں باقاعدہ ایک مقر رہ وقت کے بعد طلاق کی شرط موجود ہے جیسے مہینے، دو مہینے یا سال یا دو سال وغیرہ۔ عقد متعہ میں جب یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے اور نکاح منسوخ ہو جاتا ہے، چنانچہ یہ شرط عقد متعہ کو حرام بناتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی سنت کے مطابق نکاح کرتا ہے، چاہے وہ دل میں طلاق کی نیت ہی کیوں نہ رکھتا ہو کہ جب وہ مغربی ملک کو تعلیم کے بعد چھوڑے گا تو لڑکی کو طلاق دے دے گا، تو اس چیز میں کوئی مضائقہ نہیں، اور یہ ایک طریقہ ہے جس سے انسان اپنے آپ کو برائیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور زناکاری سے بچ سکتا ہے، اور یہ اہل علم کی رائے ہے۔

(مقالات و فتاوی ابن باز، ج4 صفحہ 30 اور مسائل امام ابن باز، ج1 صفحہ 185، فتاوی اسلامیہ، جلد 3 صفحہ 264)

غیر مقلدین کے مکتبہ دار السلام سے غیر مقلدین کی تصدیق شدہ کتاب ”کتاب النکاح” میں بھی سید سابقؒ کے حوالے سے طلاق کی نیت سے نکاح کو صحیح مانا گیا ہے۔

اس کتاب کو عمران ایوب لاہوری نے لکھا ہے اور اس میں علامہ البانیؒ کی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے اور غیر مقلدین کے مکتبہ دارالسلام نے اس کتاب کو چھاپا ہے۔

کیا غیر مقلدین علامہ ابن بازؒ، علامہ البانیؒ اور عمران ایوب لاہوری پہ یہ فتوی لگائیں گے کہ ان علماء کے نزدیک بھی احناف کی طرح متعہ جائز ہے ؟

یہ تھی غیر مقلدین کے جاہلانہ الزام کی حقیقت اور اب غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ اگر وہ قرآن و حدیث کے ماننے والے ہیں تو احناف کے ساتھ ساتھ ان اکابرین پہ بھی متعہ کے جائز کہنے کا فتوی لگائیں۔

شکریہ

غلامِ خاتم النبیینﷺ

محسن اقبال

٭٭٭

 

 

 

ایک چیلنج

 

                عبد الرشید قاسمی سدھارتھ نگری

 

مشہور اہل حدیث عالم اور مصنف مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی مرحوم اپنی کتاب “الظفر المبین فی رد مغالطات المقلدین” کے صفحہ 40 پر مغالطہ نمبر 3 کے تحت قیاس کی حرمت اور عدم مشروعیت کا فتوی دینے کے بعد صفحہ 43 پر مغالطہ نمبر 4 کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:

“اگر کوئی شخص غور سے از راہ تحقیق قرآن اور حدیث کی طرف نظر کرے اور دیکھے تو ہر ایک مسئلہ قرآن اور حدیث سے معلوم ہو سکتا ہے  کسی مسئلہ کے لئے بھی کسی کو مسائل فقہیہ کی حاجت (ضرورت) نہیں رہے گی۔ ”

(الظفر المبین حصہ اول)

یہاں ہمیں اس سے بحث نہیں ہے کہ قیاس حجت اور دلیل ہے یا نہیں ؟

اگر حجت ہے تو اس کے دلائل کیا ہیں ؟

اور اگر حجت نہیں ہے تو اکثر علماء غیر مقلدین کیوں اپنی کتابوں میں قیاس کو چوتھی دلیل اور حجت تسلیم کرتے ہیں؟

نہ اس سے بحث ہے کہ جو علماء غیر مقلدین قیاس کو اپنی کتب میں حجت مانتے ہیں، ان کی بات صحیح ہے یا آپ کی؟

نہ یہ وضاحت کرنی ہے کہ اکثر علماء غیر مقلدین قیاس کو بوجہ مجبوری حجت مانتے ہیں، یا لوگوں کو فریب میں مبتلاء کرنے کے لئے ؟

اور۔ ..

نہ آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جب قرآن و حدیث کی طرف از راہ تحقیق دیکھ لینے سے مسائل فقہیہ کی حاجت نہیں رہتی تو بقول آپ کے محدث گوندلوی (رحمہ اللہ)، شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے فتاوی کا اکثر حصہ کیوں فقہ حنفی سے ماخوذ ہے ؟

کیا شیخ الکل فی الکل کی نظر از راہ تحقیق قرآن و حدیث کی طرف نہیں تھی؟

اگر تھی تو فقہ حنفی کا سہارا لینے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر نہیں تھی تو

پھر۔ ..۔ .

صرف یہ عرض کرنا ہے کہ جب بقول شما فقہی مسائل میں قیاس حجت اور دلیل نہیں، بلکہ حرام ہے، اور سارے پیش آمدہ مسائل قرآن و حدیث میں از راہ تحقیق نظر کرنے سے مل جائیں گے، تو زیادہ نہیں، ایک بھینس اور اس کے دودھ کی حلت ہی قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی ایسی حدیث سے ثابت کر دیں جس میں قیاس کا قطعاً دخل نہ ہو

ہے کوئی مردِ مجاہد!!!

٭٭٭

 

 

 

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت کا جائزہ

 

                مولانا مفتی نجیب اللہ عمر

 

ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے بدلنے کی عادت

 

(ا) عَلَیْھِمْ کو ’’لھَُمْ‘‘ سے بدل دیا:

احمد رضا خان نے قرآن مجید کی آیت اس طرح نقل کی ہے

’’کلآ سیکفرون بعباد تھم ویکونون لھم ضداً‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ ۳۶ نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ آیت کریمہ کے اصل الفاظ یوں ہیں

’’کلا سیکفرون بعبادتھم ویکونون علیھم ضداً‘‘ (الآیۃ)

(سورۃمریم آیت نمبر ص۸، پ۱۶)

(غلطی) خان صاحب بریلوی نے آیت میں ’’عَلَیْھِمْ‘‘ کی جگہ ’’لھَُمْ‘‘ لکھ دیا ہے جو واضح غلطی ہے اور احمد رضا کے سوءِ حافظہ کی گواہی ہے۔

(۲)آیت میں تبدیلی کا ایک اور انداز:

احمد رضا نے آیت کریمہ یوں ذکر کی

’’افنجعل المتقین کالفجار‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفہ ۱۸۵، نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ آیت کریمہ کے اصل الفاظ یوں ہیں

’’ام نجعل المتقین کالفجار ‘‘(الآیۃ)

(سورۃص آیت نمبر۲۸)

(غلطی) اس آیت میں احمد رضا خان نے لفظ ’’ اَمْ‘‘ کو حرف استفہام ’’أَ‘‘ اور حرف عاطفہ ’ف‘‘ سے بدل کر اپنی عادت تحریفی کا اظہار کیا ہے۔

(۳)ضمیر جمع کو واحد سے بدل دیا:

احمد رضا خان نے قرآنی آیت اس طرح پڑھی

’’ومن یتولہ منکم فانہ منھم‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۸۸نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ آیت شریفہ اصل میں یوں ہے

’’ومن یتولھم منکم فانہ منھم ‘‘(الآیۃ)

(پ۶ المائدہ آیت ۵۱)

(غلطی)اس آیت میں احمد رضا نے ھُم جمع ضمیر کے بجائے ہ ضمیر واحد پڑھ دی جو احمد رضا کے ذوق تحریف کی واضح مثال ہے یا سوءِ حافظہ کی واضح مثال ہے۔

(۴) ’’کُنتُمْ‘‘ کو ’’أَنْتُمْ ‘‘سے تبدیل کر دیا:

احمد رضا خان بریلوی نے آیت یوں درج کی

’’قل أباللہ وایٰتہ ورسولہ أنتم تستھزء ون‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفہ۲۰۱نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ قرآن میں آیت کریمہ اسطرح ہے۔

’’قل أباللہ وایٰتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون‘‘(الایۃ)

(پ۱۰سورۃ التوبہ آیت ۶۵)

ترجمہ احمد رضا :تم فرما دو کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے ہو۔ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۲۰۱نوری کتب خانہ لاہور)

(غلطی)اس آیت کریمہ میں احمد رضا نے لفظ ’’ کُنْتُم‘‘ْ کو ’’ أنتم ‘‘سے بدل دیا۔ یہ احمد رضا کے عمدہ حافظہ کی گواہی ہے۔

(۵) ’’لَمّا‘‘ کو ’’لِماَ‘‘ کر دیا:

فاضل بریلوی نے آیت شریفہ یوں لکھی ہے

’’وان کل ذالک لِمَامتاع الحیٰوۃ الدنیا‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۳۱نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ اصل میں آیت کریمہ یوں ہے۔

’’وَإنْ کُلُّ ذَالِکَ لَمّا مَتاع الحیٰوۃ الدُنْیاَ‘‘۔

(پ۲۵ الزخرف آیت ۳۵)

(غلطی)اس آیت مین احمد رضا نے ’’ لَمآَ ‘‘(لام مفتوح و میم مشدد)کو ’’لِمَا‘‘(لام مکسور و میم مخفف )سے بدل دیا جو احمد رضا کے سوء حافظہ اور تحریف کی آئینہ دار ہے۔

(۶) ’’بمخرجین ‘‘کو ’’بخارجین ‘‘سے بدل دیا:

ایک مقام پر احمد رضا خان بریلوی نے آیت اس طرح لکھی ہے

’’وما ھم منھا بِخَارجین‘‘

ترجمہ احمد رضا:اور وہ لوگ جنت سے کبھی نہ نکلیں گے۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ چہارم صفحہ۳۴۹نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ اصل میں آیت شریفہ یوں ہے۔

’’وما ھم منھا بمخرجین‘‘(الآیۃ)

(پ۱۴سورۃ الحجر آیت ۴۸)

(غلطی)اس آیت میں احمد رضا نے ’’ مخرجین‘‘(ثلاثی مزید کے صیغہ اسم مفعول )کو ’’خارجین ‘‘ثلاثی مجرد ( کے صیغہ اسم فاعل) سے تبدیل کر کے اپنے محّرف ہونے کا ثبوت دیا ہے یا حافظہ کی کمزوری کے وجہ سے ایسا کیا ہے۔

(۷) ’’اِنَّا‘‘ کو ’’أَنَا ‘‘سے بدل دیا:

احمد رضا خان بریلوی نے قرآن مجید کی آیات یوں لکھی۔

’’انا بُراء منکم ومما تعبدون من دون اللہ‘‘

ترجمہ احمد رضا :ہم بیزار ہیں تم سے اور اللہ کے سوا تمھارے معبودوں سے ہم تم سے کفر و انکار رکھتے ہیں۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ ۳۶ نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ قرآن پاک میں ہے۔

’’اِنَّا بُرئٰ ؤا منکم ومما تعبدون من دون اللہ‘‘۔ (الآیۃ)

(۲۸، الممتحنہ آیت ۴)

(غلطی)یہاں پر احمد رضا خان نے ’’اِنّ‘‘ حروف تحقیق کو چھوڑ ا دی اور ’’أَنَا‘‘ ضمیر واحد متکلم کا اضافہ کر دیا اور ترجمہ بھی متکلم کا کیا ہے ’’اِنّ ‘‘کا ترجمہ چھوڑ دیا۔

(۸) ’’ ف‘‘ کو ’’ اِلَّا‘‘سے بدل دیا:

خان صاحب بریلوی نے قرآن مجید کی آیت اس طرح درج فرمائی ہے۔

’’اِلآمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ ۵۲ نوری کتب خانہ لاہور)

جبکہ قرآن مجید میں یہی آیت اسطرح ہے

’’فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃِ ‘‘(الآیۃ)

(پ۶، سورۃ المائدہ آیت ۳)

(غلطی)اس آیت میں احمد رضا خان نے ’’الّا‘‘ لکھ کر ’’ف‘‘ کو حذف کر دیا۔

(۹) ’’ لَعَلّھَُمْ بِلِقَائِ رَبّھِمْ‘‘ کو ’’ لِقَوْم ‘‘ سے بدل دیا:

ایک سائل نے رضا خانی مذہب کے پیشوا احمد رضا سے سوال میں آیت اس طرح پڑھی۔

’’ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسیٰ الکتاب تَمَا ماً علیٰ الذی احسن وتفصیلاً لکل شیء وّھدیً وّرَحْمَۃ لقوم یُومِنُوْن‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ سوئم صفحہ۲۲۸نوری کتب خانہ لاہور اشاعت ۲۰۰۰ء)

در اصل یہ آیت کریمہ اس طرح ہے :

’’ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسیٰ الکتاب تَمَا ماً علیٰ الذی احسن وتفصیلاً لکل شیء وّھدیً وّرَحْمَۃ لعلَّھم بلقاء ربھم یومِنُوْن‘‘

(پ ۸ الانعام آیت ۱۵۴)

لیکن خان صاحب نے سائل کے اس آیت کریمہ کو غلط پڑھنے پر نہ ہی اس کی اصلاح کی ہے اور نہ ہی کوئی نوٹس لیا ہے اور ظاہر ہے اس طرح اسی وقت ہو سکتا ہے جب حافظہ کمزور ہو۔

 

لفظ چھوڑ دینے کا مرض

 

(۱۰) لفظ ’’قَد ْ‘‘ چھوڑ دیا:

احمد رضا خان نے قرآن کی آیت اس طرح درج کی ہے۔

’’اٰ لئن وعَصَیْتَ قَبَلْ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۳۷ نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ اصل میں یہ آیت کریمہ یوں ہے۔

“اٰلْئٰن وَقَدْعَصَیْتَ قَبَل‘‘۔ (الآیۃ)

(پ ۱۱، سورۃ یونس آیت۱۹)

(غلطی)اس آیت کے نقل میں احمد رضا نے لفظ ’’قَدْ‘‘ دیدہ دانستہ یا نادانستہ طور پر چھوڑ دیا جو ان کی تحریفی عادت یا سوء حافظہ کی نشانی ہے۔

(۱۱) ’’واؤ‘‘ عاطفہ کو ترک کر دیا:

فاضل بریلوی نے قرآن کی آیت یوں لکھی:

’’اَضَلَّہُ اللہُ عَلیٰ عِلْم‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۴۷ نوری کتب خانہ لاہور)

در اصل قرآن کی آیت اس طرح ہے۔

’’وَاَضَلَّہُ اللہ عَلیٰ عِلْم‘‘

(پ ۲۵سورۃالجاثیہ آیت ۲۳)

(غلطی)اس آیت میں احمد رضا بریلوی نے دانستہ یا نادانستہ طور پر قرآن کی آیت میں سے حرف ’’واؤ ‘‘ نکال دیا جو ان کی پرانی عادت کی مظہر ہے۔

(۱۲) ’’ ھٰذٰ‘‘ اور لفظ ’’رَبکُمْ‘‘ غائب کر دیا:

خان صاحب بریلوی نے قرآن کی آیت شریفہ اسطرح لکھی ہے۔

’’بلیٰ اِنْ تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم یمددکم بخمسۃ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۹۵ نوری کتب خانہ لاہور)

جبکہ قرآن پاک میں یہی آیت ان الفاظ کے ساتھ ہے۔

’’بلیٰ اِنْ تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ اٰلاف من الملائکۃ مُسَوِّمِین‘‘(الآیۃ)

(پ۴، سورۃ اٰل عمران ۱۲۵)

(غلطی)آیت میں احمد رضا نے لفظ ’’ھٰذٰا‘‘اور لفظ ’’رَبکُم‘‘ چھوڑ دیا ہے جس سے ان کی تحریفی عادت یا کُند ذہنی ظاہر ہو رہی ہے۔

(۱۳) ’’لِیَبْلُغُ فَاہ ‘‘ کو حذف کر دیا:

بریلوی رضا خانی مذہب کے پیشواء نے آیت اس طرح ذکر کی ہے۔

’’کباسط کفیہ الیٰ الماء وماھوببالغہ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ سوئم صفحہ۲۴۲ نوری کتب خانہ لاہور)

قرآن مجید میں آیت شریفہ کے الفاظ یہ ہیں۔

’’کباسط کفیہ الیٰ الماء لیبلغ فاہ وماھوببالغہ‘    ‘

(پ ۱۳سورۃ الرعد آیت ۱۴)

(غلطی)اس آیت میں احمد رضا بانی مذہب رضا خانیت نے آیت کریمہ کے پورے جملے کو بالکل اڑا دیا جو ان کے قوت حافظہ یا ذوق تحریف کی مانند آفتاب گواہی ہے۔

 

لفظ زیادہ کرنے کی خصلت

 

(۱۴) ’’واؤ‘‘ زیادہ کر دیا:

بریلوی حضرات کے بڑے حضرت نے آیت کریمہ بایں الفاظ نقل کی ہے۔

’’وما کان اللہ لیذر المومنین‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۴۵ نوری کتب خانہ لاہور)

حالانکہ اصل میں آیت کے الفاظ اسطرح ہیں۔

’’ما کان اللہ لیذر المؤمنین‘‘(الآیۃ)

(پ۴ سورۃال عمران آیت ۱۷۹)

(غلطی)اس آیت میں خان صاحب بریلوی نے اپنی پرانی عادت کی وجہ سے قرآن میں لفظ ’’واؤ‘‘ زیادہ کر دیا۔

 

ترتیب بدلنے کی عادت

 

(۱۵)آیت کریمہ کی ترتیب بدل دی:

رضا خانی جماعت کے اعلیٰ حضرت نے آیت مبارکہ اس طرح بیان کی ہے۔

’’وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُواْ وَالّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُم أذَیً کَثِیراً‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۶۰ نوری کتب خانہ لاہور اشاعت ۲۰۰۰ء)

اور ترجمہ بھی اسی محرف ترتیب کے مطابق نقل کیا ہے۔

ترجمہ احمد رضا: البتہ تم مشرکوں اور اگلے کتابیوں سے بہت کچھ برا سنو گے۔

(ملفوظات ص ۱۶۰ حصہ دوئم)

جبکہ اصل آیت کریمہ کی ترتیب اس طرح ہے۔

’’وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُم وََ مِنَ الَّذِیْنَ أَشْرَکُوْاأَذیً کَثِیراً‘‘

(پ۴سورۃاٰل عمران آیت ۱۸۶)

(غلطیاں )اس آیت میں احمد رضا خان نے ’’الذین اوتو الکتاب من قبلکم ‘‘کو ’’وَمِنَ الذین اشرکوا‘‘ سے پہلے بیان کر دیا اور ’’واؤ‘‘ جو کہ ’’مِنَ الذین ‘‘سے پہلے تھا اسے ’’الذین اوتوالکتاب‘‘سے پہلے ذکر کر دیا۔

اور یہ سب تبدیلی کے ساتھ آیت کے ترجمہ میں بھی غلط ترتیب والا ترجمہ کیا(جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے )

اور آیت کے شروع والے ’’واؤ ‘‘کا ترجمہ چھوڑ دیا یہ سب احمد رضا کے قوت حافظہ کا کرشمہ ہے یا پھر ذوق تحریف کی کارستانی ہے۔

اس آیت کا ترجمہ احمد رضا نے اپنے ترجمہ قرآن میں اس طرح کیا ہے۔

ترجمہ احمد رضا :اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ بُرا سنو گے۔

(کنزالایمان مع نورالعرفان(تحت ہذہ الآیۃ) پیر بھائی کمپنی لاہور)

 

احادیث کے نقل کرنے میں غلطیاں

 

(۱)حدیث میں کمی بیشی کی پہلی مثال :

احمد رضا خان حدیث نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں

حدیث میں ہے۔

’’انانخاف لو متَّ علیٰ ذالک علیٰ غیر الفطرۃ ای غیر دین محمدﷺ‘‘

{ترجمہ احمد رضا} :ہم اندیشہ کرتے ہیں کہ تو اسی مال پر مرا تو دین محمدﷺ پر نہ مرے گا۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۱۶نوری کتب خانہ لاہور۔ اشاعت۲۰۰۰ء)

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۱۵۔ حامد اینڈ کمپنی لاہور)

اصلی الفاظ یوں ہیں۔

’’عن سلیمان قال سمعتُ زید بن وھب قال رایٰ حذیفۃُ رجلاً لَمْ یتمِّ الرکوع والسجود وقال ماصلیت ولو مُتَّ، مُتَّ علیٰ غیر الفطرۃ التی فَطَرَ اللہمحمداًﷺ‘‘

(صحیح البخاریص ۱۰۹ جلد اول الجز ۳ کتاب الاذان۔ باب اذالم یتم الرکوع۔ قدیمی کتب خانہ)

(صحیح البخاری۔ کتاب الاذان باب اذالم یتم الرکوع۔ الحدیث ۷۹۱ج۱ ص۲۷۸)

(دار الکتب العلمیہ بیروت)

 

حدیث کے نقل میں غلطیاں

 

(۱) اس حدیث کے الفاظ میں احمد رضا خان نے ’’انّانخاف‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا اور اس اضافے کو کاتب یا ناشر کی غلطی بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اسلئے کہ اس لفظ کا ترجمہ بھی احمد رضا نے کر دیا کہ ’’ہم اندیشہ کرتے ہیں ‘‘

(۲)اور اس حدیث میں ’’ متُ‘‘ کا لفظ دو دفعہ مذکور تھا لیکن احمد رضا نے ایک دفعہ ذکر کیا۔

(۳) اور اصل حدیث میں ’’ذالک‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں لیکن خان صاحب نے اس کا بھی اضافہ کر دیا۔

ّ(۴) اور ’’التی فطراللہ محمدﷺ‘‘کو احمد رضا نے ’’ای غیر دین محمدﷺ‘‘سے تبدیل کر دیا۔

۲)تا خیر فجر والی حدیث کے نقل میں درجن بھر غلطیاں :

احمد رضا خان لکھتے ہیں

اور حدیث میں ہے جیسے امام ترمذیؒ وغیرہ نے دس صحابہؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم صبح کو نماز فجر کے لیے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے۔ اور حضورﷺ کی تشریف آوری میں دیر ہوئی ’’ حتیٰ کدنا ان نترای الشمس ‘‘ یعنی قریب تھا کہ آفتاب طلوع کرآئے کہ اتنے میں حضورﷺتشریف فرماہوئے اور نماز پڑھائی پھر صحابہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم جانتے ہو۔ کیوں دیر ہوئی سب نے عرض کی ’’اللہورسولہ اعلم ‘‘اللہورسول خوب جانتے ہیں۔

ارشاد فرمایا: ’’اتانی ربی فی احسن صورۃ ‘‘۔ میرا رب (عز و جل)سب سے اچھی تجلّی میں میرے پاس تشریف لایا یعنی میں ایک دوسری نماز میں مشغول تھا، اس نماز میں عبد درگاہ معبود میں حاضر ہوتا ہے اور وہاں خود ہی معبود کی عبد پر تجلّی ہوئی ’’قال یامحمد فیما یختصم الملاء الاعلیٰ ‘‘اس نے فرمایا اے محمدﷺ یہ فرشتے کس بات میں مخاصمہ اور مباھات کر تے ہیں، ’’ففلتُ لا ادری ‘‘میں نے عرض کی کہ میں بے تیرے بتائے کیا جانوں ’’فوضع کفہ بین کتفی فوجدت برداناملہ بین ثدیی فتجلَّی لی کل شئی وعرفت‘‘ تو رب العزت نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی اور میرے سامنے ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے پہچان لی۔

صرف اسی پر اکتفا نہ فرمایا کہ کسی وہابی کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ کل شئے سے مراد ہر شئی متعلق بشرائع ہے بلکہ ایک روایت میں فرمایا ’’مافی السمٰوات والارض ‘‘میں نے جان لیا جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ الخ

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ۲۹۔ ۳۰نوری کتب خانہ لاہور۔ اشاعت۲۰۰۰ء)

اصل الفاظ اس طرح ہیں :

یہ حدیث ترمذی صفحہ۲۶۹اور صفحہ ۶۳۰ جلد ثانی، ابواب التفسیرمیں ہے۔

(۱) احمد رضا خان نے صحابہؓ کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ’’ایک روز ہم صبح کو نماز فجر کے لیے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے۔ ‘‘

ترمذی کی اس روایت میں یہ الفاظ کسی ایک صحابیؓ سے بھی مروی نہیں ہیں۔ یہ خان صاحب کا اضافہ ہیں۔

(۲) اور بانئ رضا خانیت نے صحابیؓ کے اگلے الفاظ یوں نقل کئے ہیں۔

’’حتیٰ کدنا ان نترای الشمس‘‘

جبکہ اصل الفاظ یوں ہیں۔

’’حتیٰ کدنا نترای عین الشمس‘‘

(ترمذی ۶۳۰ جلد ثانی، ابواب التفسیر، تفسیر سورۃص)

(۳) احمد رضا خان نے اِن الفاظ میں ’’اَنْ ‘‘کو اپنی طرف سے حدیث میں داخل کر دیا۔ اور لفظ ’’عین ‘‘کو حدیث میں سے نکال دیا۔

(۴) اور بابائے بریلویت نے اس جگہ نبیﷺ کی طرف اس بات کو بھی منسوب کیا ہے کہ:

’’تم جانتے ہو کیوں دیر ہوئی‘‘

یہ الفاظ ترمذی کی روایت میں بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ اس جگہ میں یہ ارشاد ہے :

’’فقال لنا علیٰ مصافکم کما انتم ثم انفتل الینا فقال اما انی سا حد ثکم ما حبسنی عنکم الغداۃ‘‘

(ترمذی صفحہ۶۳۰ جلد ثانی)

(۵) اور خان صاحب کا صحابہؓ کرام کی طرف اس قول کا منسوب کرنا بھی حدیث میں زیادتی ہے کہ ’’سب نے عرض کی اللہ و رسولہ اعلم ‘‘ اللہ و رسول خوب جانتے ہیں۔

اس لیے کہ یہ الفاظ بھی ترمذی کی اس روایت میں بالکل ناپید ہیں اور یہ الفاظ بھی احمد رضا خان کی ضعف حافظہ اور ذوق تحریف کے آئینہ دار ہیں۔

(۶)اور امام ترمذیؒ کی اس تفصیلی روایت میں احمد رضا نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔

’’اتانی ربی فی احسن صورۃٍ‘‘

جبکہ اس روایت میں یہ الفاظ اس طرح ہیں :

’’فاذا انا بربّی تبارک وتعالیٰ فی احسن صورۃٍ‘‘         (ترمذی ۶۳۰ جلد دوم مکتبہ رحمانیہ لاہور)

(۷) اس کے علاوہ رضا خانی پیشوا کا نبیﷺ کی طرف اس بات کا منسوب کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے کہ:

’’میں ایک دوسری نماز میں مشغول تھا اِس نماز میں عبد درگاہ معبود میں حاضر ہوتا ہے اور وہاں خود ہی معبود کی عبد پر تجلی ہوئی‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول صفحہ29نوری کتب خانہ لاہور۔ اشاعت۲۰۰۰ء)

اس لئے کہ حدیث میں یہ الفاظ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

(۸) اور احمد رضا نے حدیث کے اگلے الفاظ کچھ یوں نقل کئے ہیں :

’’فقال یا محمد فیما یختصم الملاء الاعلیٰ ‘‘

جبکہ اصل الفاظ اس طرح ہیں۔

’’فقال یا محمد قلت رب لبیک قال فیم یختصم الملاء الاعلیٰ ‘‘

اس مقام پر احمد رضا نے ’’قلت رب لبیک ‘‘کے الفاظ بالکل غائب کر دیئے۔

(۹ ) احمد رضا کے نقل کردہ حدیث کے جملہ ’’فقلت لا ادری‘‘ میں ’’ف‘‘ کا اضافہ ہے۔ یہ اصل حدیث میں موجود نہیں ہے۔

(۱۰) اور ’’ فرأیتہ وضع کفہ بین کتفی ‘‘ کو احمد رضا نے ’’فوضع کفہ بین کتفی ‘‘سے بدل دیا۔

(۱۱ ) اصل حدیث میں ’’قدوجدتُ برداناملہ‘‘ ہے جیسے احمد رضا نے ’’فوجدت ‘‘بنا دیا اور ’’قَدُ‘‘کو بالکل غائب کر کے اس کی جگہ ’’فا‘‘کا اضافہ کر دیا۔

(۱۲) اور احمد رضا نے دوسری روایت کے جملے ’’فعلمتُ ما فی السمٰوت ومافی الارض‘‘ کو ’’ما فی السمٰوات والارض ‘‘سے بدل دیا۔

۳)نقل حدیث میں غلطی کی ایک اور مثال :

عرض:-اگر کوئی تنہا خشوع کے لیے نماز پڑھے اور عادت ڈالے تاکہ سب کے سامنے بھی خشوع ہو تو یہ ریا ہے یا کیا۔ ۔ ؟

ارشاد:-یہ بھی ریا ہے کہ دل میں نیت غیر خدا ہے۔ یہاں ایک حدیث وہابی کُش بیان کرتا ہوں کہ اس مسئلہ سے متعلق ہے، عادتِ کریمہ تھی کہ کبھی شب میں اپنے اصحاب کا تفقّد اِحوال فرماتے۔ مثلاً ایک شب نماز تہجد میں صدیق اکبر پر گزر فرمایا۔ صدیق اکبرؓ کو دیکھا کہ بہت آہستہ پڑھ رہے ہیں، فاروق اعظمؓ کی طرف تشریف لے گئے ملاحظہ فرمایا کہ بہت بلند آواز سے پڑھتے ہیں۔

بلالؓ کی طرف تشریف لے گئے۔ انھیں دیکھا کہ جا بجا متفرق آیتیں پڑھ رہے ہیں صبح ہر ایک سے اس کے طریقے کا سبب دریافت فرمایا۔ صدیقؓؓ نے عرض کی ’’ یا رسول اللہ اسمعت من اناجیہ‘‘۔ میں جس سے مناجات کرتا ہوں، اسے سنا لیتا ہوں یعنی اوروں سے کیا کام کہ آواز بلند کروں۔ فاروق نے عرض کی:

’’ یارسول اللہ اطردالشیطان واوقظ الوسنان‘‘میں شیطان کو بھگاتا ہوں اورسوتوں کو جگاتا ہوں یعنی جہاں تک آواز پہنچے گی بھاگے گا۔ اور تہجد والوں میں جس کی آنکھ نہ کھلی ہو وہ جاگ کر پڑھے گا۔ اس لئے اس قدر زور سے پڑھتا ہوں حضرت بلال نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ کلام طیب یجمع اللہ بعضہ مع بعض ‘‘ پاکیزہ کلام ہے کہ اللہ اس کے بعض کو بعض سے ملاتا ہے۔ (کچھ آگے لکھا ہے )

حضور اقدسﷺ نے فرمایا ’’کلکم قداَصَاب‘‘ تم سب ٹھیک پر ہو مگر اے صدیق تم آواز قدرے بلند کرو۔ اور اے فاروق تم قدرے پست اور اے بلال تم سورت ختم کر کے دوسری سورت کی طرف چلو۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۵۴نوری کتب خانہ لاہور)

یہ روایت ابوداؤد ۱۹۶، ۱۹۷کتاب الصلوٰۃ باب فی رفع الصوت بالقراۃ حدیث نمبر ۱۳۲۹، ۱۳۳۰ مکتبہ رحمانیہ لاہور میں ہے۔

(۱)احمد رضا نے حضرت ابوبکرؓ کا قول ان لفظوں میں نقل کیا ہے :

’’یارسول اللہﷺ اسمعت من اناجیہ‘‘

جبکہ اصل حدیث میں الفاظ یوں ہیں :

’’قداسمعتُ من ناجیتُ یارسول اللہ‘‘

(ابوداؤد ۱۹۶، ۱۹۷ کتاب الصلوٰۃ باب فی رفع الصوت بالقراۃ حدیث نمبر۱۳۲۹، ۱۳۳۰ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

(۲) اور احمد رضا نے حضرت فاروق اعظمؓ کے الفاظ اس طرح ذکر کئے ہیں :

’’یارسول اللہ اطرد الشیطان واوقظ الوسنان‘‘

حالانکہ اصل میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں :

’’یارسول اللہﷺ اوقظ الوسنان واطرُدُالشیطان‘‘

(۳) اور احمد رضا نے حضرت بلالؓ کا فرمان یوں ذکر کیا ہے :

’’یا رسول اللہ کلام طیب یجمع اللہ بعضہ مع بعض ‘‘

اور حقیقت میں حضرت بلالؓ کے الفاظ کچھ یوں ہیں۔

’’کلام طیب یجمعہ اللہ بعضہ الیٰ بعضِ‘‘

(ابوداؤد صفحہ ۱۹۶، ۱۹۷ کتاب الصلوٰۃ باب فی رفع الصوت بالقراۃ حدیث نمبر۱۳۲۹، ۱۳۳۰ مکتبہ رحمانیہ لاہور)

(۴) اور اس حدیث ابوداؤد میں احمد رضا کا رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کردہ یہ جملہ: ’’اے بلال تم سورت ختم کر کے دوسری سورت کی طرف چلو‘‘ بالکل مذکور نہیں ہے۔ یہ احمد رضا کی طرف سے حدیث میں زیادتی ہے۔

(۴) حدیث میں اپنی طرف سے ’’تمامی‘‘ کے لفظ کا اضافہ :

احمد رضا خان نے لکھا ہے کہ:کعب بن مالکؓ عرض کرتے ہیں۔

’’یا رسول اللہ اِنَّ مِن تَماَ مِیْ تَوْ بَتِی اَنْ انخلع من مالی صدقۃ الیٰ اللہ ورسولہ ‘‘

{ترجمہ}: ’’یارسول اللہ میری توبہ کی تمامی یہ ہے کہ اپنے مال سے باہر آؤں سب اللہ ورسول کے نام پر تصدق کر دوں۔ ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۵۵نوری کتب خانہ لاہور)

اس حدیث کے الفاظ اصل میں اسطرح ہیں :

’’وقال کعب بن مالک قلت یارسول اللہﷺ ان من توبتی ان اَنْخلع من مالی صدقۃ الیٰ اللہ والیٰ رسولہ۔ ۔ ۔ ‘‘ الخ

(صحیح البخاری جلد اول ۱۹۲کتاب الزکاۃ۔ باب لاصدقۃ الاعن ظھر غنی )

(غلطیاں )

(۱) اصل حدیث میں ’’تمامی‘‘ کا لفظ نہیں ہے جبکہ احمد رضا نے ذکر کیا ہے اور اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

(۲) اور اصل حدیث میں ’’الیٰ رسولہ ‘‘کا لفظ ہے حالانکہ احمد رضا نے ’’الیٰ ‘‘کو اُڑا دیا ہے۔

اس غلطی کو کاتب کی جانب بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا اسلئے کہ ترجمہ میں بھی اس غلطی کو دھرایا گیا ہے۔

(۵)الفاظ حدیث بدلنے اور غائب کرنے کی عادت:

احمد رضا خان ایک روایت یوں نقل کرتے ہیں :

ام المؤمنین صدیقہؓ عرض کرتی ہیں : ’’یارسول اللہ تُبْتُ الیٰ اللہ و رسولہ‘‘

{ترجمہ احمد رضا}: ’’یارسول اللہ میں اللہ و رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں ‘‘

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۵۵نوری کتب خانہ لاہور)

اصل الفاظ:

حضرت ام المؤمنینؓ کے اصل الفاظ اس طرح ہیں :

’’عن عائشہ زوج النبیﷺ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فقلتُ اتوبُ الیٰ اللہ والیٰ رسولہ‘‘

(صحیح البخاری کتاب النکاح باب ھل یرجع صفحہ ۷۷۸ج ۲ قدیمی کتب خانہ

بخاری صفحہ۴۰۶ج ۳ حدیث نمبر۵۱۸۱ دار الکتب العلمیہ بیروت)

نقلِ حدیث میں غلطیاں :

اس حدیث کے نقل کرنے میں احمد رضا خان نے دو غلطیاں کی ہیں :

(۱) ایک یہ کہ ’’اْتُوْبُ‘‘ فعل مضارع کے صیغہ واحد متکلم کو ’’تُبْتُ‘‘ فعل ماضی کے صیغہ واحد متکلم سے تبدیل کر دیا۔

(۲) دوسرا یہ کہ اس میں لفظ ’’ الیٰ ‘‘ دو دفعہ مذکور تھا اور رضا خان نے اسے ایک دفعہ نقل کیا اور دوسری جگہ سے غائب کر دیا۔

(۶)المدینۃ خیر کو المدینہ افضل سے بدل دیا :

خان صاحب بریلوی ایک حدیث کے الفاظ اس طرح لکھتے ہیں :

دوسری حدیث نصّ صریح ہے کہ فرمایا:

’’المدینہ افضل من مکّۃ‘‘

{ترجمہ احمد رضا}       :مدینہ مکہ سے افضل ہے۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۵۸نوری کتب خانہ لاہور)

حدیث کے اصل الفاظ:

جبکہ اس حدیث کے اصل الفاظ یوں ہیں

’’المدینۃ خیر من مکّہ‘‘           ترجمہ:مدینہ مکہ سے بہتر ہے۔

(المعجم الکبیر حرف المیم حدیث نمبر۴۴۵ج ۴، ص۲۸۸ داراحیاء التراث العربی )

نقل حدیث میں غلطیاں :

(۱) نقل حدیث میں احمد رضا نے حدیث میں لفظ ’’خیر ‘‘کو ’’افضل‘‘سے بدل دیا۔

(۲) اور ترجمہ بھی ’’افضل ‘‘کا کیا ہے اسلئے اس غلطی کو کاتب کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

(۷) تیر اندازی اور تیرنا سیکھنے والی حدیث کی ترتیب بدل دیتے تھے :

احمد رضا نے ایک حدیث کچھ اس طرح لکھتے ہیں :

حدیث میں ارشاد ہوا :

’’علّمُوا بنینکم الرَّمیٰ والسباحۃ‘‘

{ترجمہ احمد رضا}:اپنے بیٹوں کو تیر اندازی اور تیرنا سکھاؤ۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۶۱نوری کتب خانہ لاہور)

حدیث کے اصل الفاظ:

جبکہ یہ روایت کشف الخفاء (للعلامۃ اسماعیل بن محمد العجلونی الشافعی المتوفی ۱۱۶۳ہجری )میں اس طرح ہے :

’’علّموا بنینکم السباحۃ والرَّمیٰ ‘‘

ترجمہ:اپنے بیٹوں کو تیرنا اور تیر اندازی سکھاؤ۔

(کشف الخفاء صفحہ۶۳ج ۲ حدیث نمبر۱۸۶۰ مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

غلطیوں کی نشاندہی:

(۱) اس حدیث میں خان صاحب نے ’’الَّرمیٰ ‘‘کو ’’السباحۃ‘‘پر مقدم کر دیا جبکہ اصل الفاظ اسطرح ہیں جیسے ہم نے نقل کئے ہیں۔

(۲) اور خان صاحب نے ترجمہ بھی پہلے ’’الرَّمیٰ ‘‘کا کیا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کاتب یا ناشر کی غلطی نہیں بلکہ خود احمد رضا کا قصور ہے۔

(۸) ’’غیرہ ‘‘کے بجائے ’’معہ ‘‘نقل کر دیا:

بانئی مسلک بریلویت حدیث کے الفاظ یوں لکھتے ہیں :

اور حدیث میں ہے : ’’کان اللہ ولم یکن معہ شئی‘‘

{ترجمہ احمد رضا} :ازل میں اللہ تھا اور اس کے ساتھ کچھ نہ تھا۔

(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ۱۶۳نوری کتب خانہ لاہور)

حدیث کے اصل الفاظ:

در اصل اس روایت کے اصل الفاظ اس طرح ہیں :

’’کان اللہ ولم یکن شئی غیرہ‘‘

ترجمہ:اللہ تعالیٰ ازل سے تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

(صحیح البخاری ۴۵۳ج اول کتاب بدء الخلق۔ باب فی قول اللہ الخ قدیمی کتب خانہ)

نقل روایت کی غلطیاں :

اس روایت کے نقل کرنے میں بھی احمد رضا نے غلطی کی ہے۔

(۱)اصل حدیث کے لفظ ’’غیرہ ‘‘کو ’’ معہ ‘‘سے بدل کر ترجمہ بھی ’’معہ ‘‘کا کر دیا۔

(۲)اور ’’شئی ‘‘کو بالکل آخر میں نقل کیا جبکہ یہ آخر میں نہیں بلکہ آخر سے پہلے مذکور تھا۔

(۳)اور احمد رضا کی طرف سے کئے گئے ترجمہ سے بھی یہ غلطی اور واضح ہوتی ہے کہ یہ کاتب اور ناشر کی نہیں بلکہ خود احمد رضا کی اپنی ہے۔ اور یہ احمد رضا کے حافظے کا کمال ہے۔

(جاری ہے )

٭٭٭

 

 

شعر و ادب

 

اِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حِکْمَۂً

بلا شبہ کتنی ہی شاعری حکمت و دانائی سے لبریز ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری، جلد سوم:حدیث نمبر ۱۰۹۸ )

 

غزل

 

                فقیر شکیبؔ احمد

 

جب سے تو عاملِ فرمودۂ اسلاف نہیں

نام انصاف کا باقی ہے پہ انصاف نہیں

 

ضربِ شمشیر، بجا! نعرۂ تکبیر درست!

سب ہے ! بس تجھ میں مجاہد سے وہ اوصاف نہیں

 

کیا بہانہ ہے مرے قلب کو ٹھکرانے کا

کرچیاں دیکھ کے کہتے ہیں کہ “شفاف نہیں !”

 

یا خدا! امتِ احمد بھی وہی تو بھی وہی

کیا سبب ہے کہ وہ پہلے کے سے الطاف نہیں

 

آہ! یہ عشق بھی کیسا ہے ترا جس میں شکیبؔ

عشق کا عین نہیں شین نہیں قاف نہیں

٭٭٭

 

 

صدیق

 

                علامہ اقبالؒ

 

اک دن رسول پاک نے اصحاب سے کہا             دیں مال راہ حق میں جو ہوں تم میں مالدار

ارشاد سن کے فرطِ طرب سے عمر اٹھے               اس روز ان کے پاس تھے درہم کئی ہزار

دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صدیق سے ضرور              بڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوار

لائے غرض کہ مال رسولِ امیں کے پاس            ایثار کی ہے دست نگر ابتدائے کار

پوچھا حضور سرورِ عالم نے، اے عمر!        اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار

رکھا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تو نے کیا؟            مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار

کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق

باقی جو ہے وہ ملّتِ بیضا پہ ہے نثار

اتنے میں وہ رفیقِ نبوت بھی آ گیا           جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار

لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد وفا سرشت        ہر چیز، جس سے چشم جہاں میں ہو اعتبار

ملک یمین و درہم و دینار و رخت و جنس             اسپِ قمر سم و شتر و قاطر و حمار

بولے حضور، چاہیے فکر عیال بھی          کہنے لگا وہ عشق و محبت کا راز دار

اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر!               اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار!

پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس

٭٭٭

 

 

 

 

غزل

 

                پروفیسر کلیم عاجزؔ مرحوم

 

زمانے کو نیند آ رہی ہے جگاؤ

کلیم آؤ کوئی غزل گنگناؤ

 

ذرا دل کے زخموں سے پردہ اٹھاؤ

غضب کا اندھیرا ہے شمعیں جلاؤ

 

وہ بولے کہاں زخمِ دل ہے دکھاؤ

کہو کیا کہیں، کیا بتائیں بتاؤ؟

 

یہاں سب کرو، دل نہ ہرگز لگاؤ

ہم اس دھوکہ میں آ چکے تم نہ آؤ

 

وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤ

وفا یاد رکھو، ستم بھول جاؤ

 

کہاں ہو تم اے فصل گل کی ہواؤ

ادھر سے بھی گزرو، یہاں بھی تو آؤ

 

ترنم سے ہے گرم فریادِ عاجزؔ

بڑی تیز ہے آنچ دامن بچاؤ

٭٭٭

تصوف و سلوک قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنْ الْإِحْسَانِ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ

جبریل ؑ نے پوچھا احسان کی حقیقت بتائیے ؟ رسولﷺ نے فرمایا : احسان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ مرتبہ حاصل نہ ہو تو (تو کم از کم) اتنا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے۔ (صحیح مسلم، جلد اول:حدیث نمبر ۹۶)

 

 

 

 

علم و فضل کے ساتھ تواضع و للہیت

 

                مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

 

اگر صرف وسعت مطالعہ، قوتِ استعداد اور کثرتِ معلومات کا نام علم ہو تو یہ صفت آج بھی ایسی کمیاب نہیں لیکن اکابر دیوبند کی خصوصیت یہ ہے کہ علم و فضل کے سمندر سینے میں جذب کر لینے کے باوجود اُن کی تواضع، فنائیت اور للہیت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ یہ محاورہ زبان زدِ عام ہے کہ ’’پھلوں سے لدی ہوئی شاخ ہمیشہ جھکتی ہے ‘‘ لیکن ہمارے زمانے میں اس محاورے کا عملی مظاہرہ جتنا اکابر دیوبند کی زندگی میں نظر آتا ہے اور کہیں نہیں ملتا۔ چند واقعات ملاحظہ فرمائیے :

٭۱- بانیِ دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم بحر نا پیدا کنار تھے۔ اُن کی تصانیف آبِ حیات، تقریر دلپذیر، قاسم العلوم اور مباحثہ شاہجہاں پور وغیرہ سے اُن کے مقامِ بلند کا کچھ اندازہ ہوتا ہے اور ان میں سے بعض تصانیف تو ایسی ہیں کہ اچھے اچھے علماء کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ حد یہ ہے کہ ان کے ہم عصر بزرگ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ دارالعلوم میں معروف تھا کہ ’’میں نے آبِ حیات کا چھ مرتبہ مطالعہ کیا ہے، اب وہ کچھ کچھ سمجھ میں آئی ہے۔ ‘‘

اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

’’اب بھی مولانا (نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ) کی تحریریں میری سمجھ میں نہیں آتیں اور زیادہ غور و خوض کی مشقت مجھ سے برداشت ہوتی نہیں، اس لیے مستفید ہونے سے محروم رہتا ہوں اور اپنے دل کو یوں سمجھالیتا ہوں کہ ضروریات کا علم حاصل کرنے کے لیے اور سہل سہل کتابیں موجود ہیں پھر کیوں مشقت اٹھائی جائے ‘‘۔

ایسے وسیع و عمیق علم کے بعد، بالخصوص جب کہ اس پر عقلیات کا غلبہ ہو، عموماً علم و فضل کا زبردست پندار پیدا ہو جایا کرتا ہے لیکن حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا حال یہ تھا کہ خود فرماتے ہیں :

’’جس طرح صوفیوں میں بدنام ہوں اسی طرح مولویت کا دھبہ بھی مجھ پر لگا ہوا ہے، اس لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے، اگر یہ مولویت کی قید نہ ہوتی تو قاسم کی خاک کا بھی پتہ نہ چلتا۔ ‘‘

چنانچہ اُن کی بے نفسی کا عالم یہ تھا کہ بقول مولانا احمد حسن صاحب امروہوی رحمۃ اللہ علیہ:

’’حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس طالب علم کے اندر تکبر دیکھتے تھے اُس سے کبھی کبھی جوتے اُٹھوایا کرتے تھے اور جس کے اندر تواضع دیکھتے تھے اُس کے جوتے خود اُٹھا لیا کرتے تھے ‘‘۔

٭۲- یہی حال حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا تھا۔ انھیں اُنکے تفقّہ کے مقامِ بلند کی بناء پر حضرت مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ابوحنیفۂ عصر‘‘ کا لقب دیا تھا اور وہ اپنے عہد میں اسی لقب سے معروف تھے۔ حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جیسے بلند پایہ محقق جو علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کو ’’فقیہ النفس‘‘ کا مرتبہ دینے کے لیے تیار نہ تھے، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو ’’فقیہ النفس‘‘ فرمایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ واقعہ سناتے ہیں کہ:

’’حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ حدیث کا سبق پڑھا رہے تھے کہ بارش آ گئی۔ سب طلبہ کتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا رحمۃ اللہ علیہ سب طلباء کی جوتیاں جمع کر رہے تھے کہ اُٹھا کر لے چلیں۔ لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے ‘‘

٭۳- شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہ کے علم و فضل کا کیا ٹھکانا؟ لیکن حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ راوی ہیں کہ ’’ایک مرتبہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے وعظ کہنے کے لیے اصرار کیا۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے عذر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لیے کھڑے ہو گئے اور حدیث ’’فقیہ واحد أشدّ علی الشیطٰن من ألف عابد‘‘ پڑھی اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ:

’’ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔ ‘‘

مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ: ’’یہ ترجمہ غلط ہے اور جس کو ترجمہ بھی صحیح کرنا نہ آوے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں۔ ‘‘

حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا جوابی ردِّ عمل معلوم کرنے سے پہلے ہمیں چاہیے کہ ذرا دیر گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ اگر اُن کی جگہ ہم ہوتے تو کیا کرتے ؟ ترجمہ صحیح تھا اور اُن صاحب کا اندازِ بیان توہین آمیز ہی نہیں، اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن اس شیخ وقت کا طرزِ عمل سنیے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر:

’’مولانا فوراً بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں ہے مگر ان لوگوں نے نہیں مانا۔ خیر اب میرے پاس عذر کی دلیل بھی ہو گئی، یعنی آپ کی شہادت۔ ‘‘

چنانچہ وعظ تو پہلے ہی مرحلے پر ختم فرما دیا، اس کے بعد اُن عالم صاحب سے بطرزِ استفادہ پوچھا کہ ’’غلطی کیا ہے ؟ تاکہ آئندہ بچوں ‘‘ انھوں نے فرمایا کہ أشدّ کا ترجمہ أثقل (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کا آتا ہے۔ ‘‘ مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے برجستہ فرمایا کہ ’’حدیث وحی میں ہے، یاتینی مثل صلصلۃ الجرس وہو أشدّ علیّ‘‘ (کبھی مجھ پر وحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے ) کیا یہاں بھی أضرّ (زیادہ نقصان دہ) کے معنی ہیں ؟ اس پر وہ صاحب دم بخود رہ گئے۔

٭۴- حکیم الامّت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جب کانپور میں مدرس تھے، انھوں نے مدرسہ کے جلسہ کے موقع پر اپنے استاذ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو بھی مدعو کیا، کانپور میں بعض اہل علم معقولات کی مہارت میں معروف تھے اور کچھ بدعات کی طرف بھی مائل تھے۔ ادھر علمائے دیوبند کی زیادہ توجہ چونکہ خالص دینی علوم کی طرف رہتی تھی۔ اس لیے یہ حضرات یوں سمجھتے تھے کہ علمائے دیوبند کو معقولات میں کوئی درک نہیں ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت نوجوان تھے اور اُن کے دل میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو مدعو کرنے کا ایک داعیہ یہ بھی تھا کہ یہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر ہو گی تو کانپور کے ان علماء کو پتہ چلے گا کہ علمائے دیوبند کا علمی مقام کیا ہے ؟ اور وہ منقولات و معقولات دونوں میں کیسی کامل دستگاہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ جلسہ منعقد ہوا اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر شروع ہوئی، حسن اتفاق سے تقریر کے دوران کوئی معقولی مسئلہ زیر بحث آ گیا۔ اس وقت تک وہ علماء جن کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر سنانا چاہتے تھے، جلسہ میں نہیں آئے تھے۔ جب حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر شباب پر پہنچی اور اُس معقولی مسئلہ کا انتہائی فاضلانہ بیان ہونے لگا تو وہ علماء تشریف لے آئے جن کا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو انتظار تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس موقع پر بہت مسرور ہوئے کہ اب ان حضرات کو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام کا اندازہ ہو گا۔ لیکن ہوا یہ کہ جونہی حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اُن علماء کو دیکھا۔ تقریر کو مختصر کر کے فوراً ختم کر دیا اور بیٹھ گئے۔ حضرت مولانا فخرالحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے، انھوں نے یہ دیکھا تو تعجب سے پوچھا کہ:

’’حضرت! اب تو تقریر کا اصل وقت آیا تھا، آپ بیٹھ کیوں گئے ؟‘‘

شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: ’’ہاں ! در اصل یہی خیال مجھے بھی آ گیا تھا۔ ‘‘٭

(جاری ہے۔ ۔ ۔ )

٭٭٭

 

 

اظہارِ خیال

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَایٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ 42؀

یقیناً اس بات میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ (سورہ ۳۹، الزمر: ۴۲)

 

مومن کا روزہ

 

                حضرت مولانا سید مفتی مختار الدین کربوغہ شریف

 

مومن کا روزہ اس کی صفات شکر، صبر، رحم اور تقویٰ کو ترقی دیتا ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی حدود اور احکامات اور جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اس معاملہ میں انتہائی محتاط رہے اور اس کی پوری نگہداشت کرے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو جائے۔ پس متقی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ناپسندیدہ چیز سے بچنے کی انتہائی کوشش کرتا ہے۔

روزہ میں انسان بھوک، پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ یہی چیزیں ایک طرف تو بھوکوں پیاسوں کا احساس دلاتی ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدردانی اور شکر میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ کیونکہ جب شدت پیاس نہ ہو تو پانی کی اہمیت کا کیسے اندازہ ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح جب جائز چیزیں موجود ہوں اور اس کا جی بھی چاہتا ہے کہ اسے کھائے پئے یا استعمال کرے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے کھاتا ہے نہ پیتا ہے تو یہ اس کے اندر ضبط اور حق پر جمنے یعنی صبر کی قوت کو بڑھاتا ہے اور خوب پیاسا ہے بھوکا ہے کھانا موجود ہے لیکن پھر بھی ہاتھ نہیں لگاتا۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کی حضوری (کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے )کو ترقی دیتا ہے اور جب پاک حلال چیزوں سے روکنے کی مشق ہوتی ہے۔ تو اس کی وجہ سے جو چیزیں حرام ہیں۔ ان سے بچنے کے بارے میں سخت محتاط ہو جاتا ہے۔ سال میں ایک ماہ، ماہ رمضان اسی اصلاح و تربیت کے لئے مقر ر کیا گیا ہے۔ تاکہ انسان کی پوری زندگی ایک روزہ دار کی زندگی ثابت ہو جائے اور وہ ہر آن اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں اور حدود کے متعلق محتاط رہے لیکن یہ اس وقت حاصل ہو گا۔ جب روزہ قانون اور رسمی انداز سے نہ رکھا جائے۔ بلکہ بندگی اور احتیاط کی روح سے بھری ہوئی مشق کے ساتھ ہو۔ ورنہ اگر روزہ میں حلال چیزوں کوتو وقتی طور پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن غیبت، دھوکہ دہی، جھوٹ، افتراء اور کمزوروں پر ظلم اور ان کے خلاف غصہ، گالی گلوچ، تجارت، معاملات میں سود، حرام اور نا جائز کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ علماء سے مسئلہ معلوم کر کے نشہ اور دوائیں انجکشن کے ذریعے جسم میں اتار کر مزہ لیتا رہے۔ تو آخر اس روزہ سے صبر و استقامت، شکر، مہربانی اور تقویٰ کیسے پیدا ہو گا؟

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۱۸۳ۙ

’’اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

(بقرہ۔ آیت:۸۵ )

اور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’الصوم لی و انا اجزی بہ‘‘ یعنی روزہ (خاص )میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ ‘‘(بخاری و مسلم )

یعنی روزے سے اللہ تعالیٰ، اس کی محبت، اس کا صحیح تعلق اور اس کی خوشنودی ملتی ہے اور یہ اسی لئے ہوتا ہے کہ روزہ کی وجہ سے انسان خالص اللہ تعالیٰ کاہو کر رہ جاتا ہے اور اس حالت میں ترقی کرتا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کاہو کر رہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کاہو جائے گا۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ

“من کان للہ کان اللہ لہٗ”

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کاہو کر رہ گیا، اللہ تعالیٰ اس کاہو گیا۔ ‘‘

باقی رہے وہ روزے جن کو صرف رسمی طور پر رکھا جائے۔ تو ان سے قطعاً مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ چنانچہ ایسے روزہ داروں کے متعلق جو صرف قانوناً بھوکے پیاسے رہ کر حرام چیزوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتے۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ

“من لم یدع قول الزور و العمل بہ فلیس للہ حاجۃ، ان یدع طعامہ و شرابہ”

’’جو شخص روزہ رکھتے ہوئے باطل کلام اور باطل کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘‘(بخاری و مشکوٰۃ)

اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

“رب صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع” ” و رب قائم لیس لہ من قیامہ الا السھر”

مطلب یہ کہ ’’بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزہ (کے ثمرات )میں سے بجز بھوکا رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں کو قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ جن کو(تہجد کے اور راتوں کے )قیام کے ثمرات میں سے صرف جاگنے (کی مشقت )کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘(الترغیب والترہیب و مشکوٰۃ کتاب الصیام)

مگر افسوس یہ ہے کہ بعض بے رحم لوگ امت کو صرف قانونی اور رسمی چیزوں میں الجھائے رکھتے ہیں اور لوگوں کے سامنے اختلافی مسائل چھیڑتے ہیں اور انہی مسائل میں لوگوں کو ایسے الجھاتے ہیں کہ اصل مقاصد عوام کے ذہنوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں وہ غیر ضروری چیزوں کو مقصد بنا کر دین کے مقاصد سے دور ہٹ جاتے ہیں۔ نماز میں قنوت اور خشوع پرنہ زور دیا جاتا ہے، نہ ٹوکا جاتا ہے۔ بلکہ خود دین کے علمبردار ہو کر نماز میں وہ کام کرتے ہیں جو صرف قنوت، خشوع کے خلاف نہیں بلکہ صراحتاً سنت کے خلاف ہیں۔ مثلاً داڑھی سے اور کپڑوں سے اس طرح کھیلتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ کے سامنے نہیں بلکہ آئینہ کے سامنے کھڑے ہیں اور نماز میں وہ کرتوت کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے سے زیادہ منصب والے کے سامنے تو کیا اپنے برابر کے منصب والوں کے سامنے بھی نہیں کر سکیں گے۔ لیکن پھر بھی آمین بالجہر اور بالسِر، ہاتھ کو سینے پریا اس کے نیچے رکھنا وغیرہ جیسی چیزوں پر لڑتے ہیں اور ان چیزوں پر اپنے لوگوں کو اس طرح پکا کرتے ہیں کہ دوسروں کو کافر، مشرک، بدعتی یا تارک سنت وغیرہ قرار دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بہت سے علماء ایسے بھی ہیں کہ وہ عوام کو یہی بتاتے ہیں کہ کیا تمہاری نماز نے تمہارے اندر رحم کی صفت پیدا کی ہے یا نہیں ؟تمہیں فحش، منکرات سے بچایا ہے یا نہیں ؟اور انھیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ تم جب اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوتے ہو تو عاجزی کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور عاجزی سے کھڑا ہونا تو ہر کوئی جانتا ہے کہ جس کی ہیبت اور عظمت تمہارے دل پر ہو تو پھر اس کے سامنے تم کیسے کھڑے ہوتے ہو۔ یہی عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ لیکن ایسے علماء امت کی اصلاح کے لئے ناکافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی نماز، روزہ کی توفیق عنایت فرمائے۔ ٭

٭٭٭

 

 

مسلمانان عالم۔ ۔ داخلی مسائل و مشکلات

 

                مولانا حبیب الرحمن اعظمی

 

آج سے تقریباً چودہ سو برس پہلے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی قوم کی تشکیل کی تھی جس کو خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن اور سیرت طیبہ کی شکل میں انتہائی روشن اور نورانی شاہراہ پر چھوڑا تھا، جس کے متعلق خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ” لیلھا کنھارھا” اپنے ابتدائی دور میں یہ قوم اس شاہراہ پر اس طرح چلی کہ دنیا بھر کی کامیابیاں اس کے قدم بوس ہوئیں، لیکن رفتہ رفتہ اس قوم نے اس شاہراہ سے انحراف کر دیا اور اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے ہی دنیاوی مسائل و مشکلات نے دبوچنا شروع کیا اور اب یہ قوم مصائب کے گھیرے میں ہے۔

عصر حاضر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات بہت ہیں، طاغوتی لشکر کا حملہ ہر چہار سو سے ہے اور ہم مصائب میں الجھے زندگی گزار رہے ہیں۔ .. تو سب سے پہلے ہم ان مسائل و مشکلات کے اسباب تلاش کرتے ہیں۔ ہم صرف سرسری نظر اپنی زندگیوں پر ڈالیں گے تو مسئلہ ہم پر عیاں ہو جائے گا۔

قرآن و حدیث میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس جہان رنگ و بو میں کوئی چیز از خود اور اتفاق سے نہیں ہوتی بلکہ وہ منجانب اللہ ہوتی ہے اور ظاہر میں اس کے اسباب بھی ہوتے ہیں۔ جن کو اللہ پاک نے قرآن مجید میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث پاک میں بیان فرمایا ہے۔

چناں چہ ارشاد خداوندی ہے :

﴿ وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم﴾ (الشوری: 30)

اور جو کچھ مصیبت تم کو (حقیقتاً) پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی اعمال کی بدولت پہنچتی ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

﴿ ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون﴾ (الروم: 41)

لوگوں کے اعمال کی بدولت بر و بحر (یعنی خشکی اور تری) غرض ساری دنیا میں فساد پھیل رہا ہے (اور بلائیں وغیرہ نازل ہو رہی ہیں )، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھا دے، شاید کہ وہ اپنے ان اعمال سے باز آ جائیں۔

اس قسم کے مضامین قرآن میں بہت جگہ ہیں۔ پہلی آیت کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:

“اس آیت کی تفسیر میں تجھے بتاتا ہوں، اے علی! جو کچھ پہنچے، مرض ہو یا کسی قسم کا عذاب ہو یا دنیا کی کوئی بھی مصیبت ہو، وہ تیرے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔ (بحوالہ اسباب مصائب اور ان کا علاج ص: 8)

اب ایسی بھی بات نہیں ہے کہ کوئی مسئلہ ہی نہ پیش آئے اور کسی کو کوئی مشکل ہی نہ پڑے، مسائل و مشکلات تو پیش آتے ہی رہیں گے۔ مشکلات و مسائل کا نام ہی زندگی ہے۔ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ انسان زندگی پائے اور مشکلات و مسائل سے دو چار نہ ہو۔ .. اور ایمان والا انسان، جو اللہ کا سب سے برگزیدہ بندہ ہوتا ہے وہ بھلا رنج و غم سے کیسے بچ سکتا ہے جب کہ ارشاد نبوی (صلی اللہ علیہ و سلم ہے : ” ان عظم الجزاء مع عظم البلاء”۔ (ترمذی: 64/ 4)

یعنی بڑی جزا تو بڑی آزمائش کے ساتھ ہے۔ .. اہل ایمان ہر دور میں مسائل و مشکلات سے دو چار ہوتے رہیں گے اور ابتلا و آزمائش کے مراحل ہی زندگی کا لازمی عنصر بنتے رہیں گے، کیوں کہ

؏

مصائب میں الجھ کر مسکرانا ہے مری فطرت

عصر حاضر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات دو طرح کی ہیں :

ایک تو وہ ہیں جو خو دان کی اپنی ہی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔

دوسری وہ جو غیروں نے ان کی راہ میں کھڑی کر رکھی ہیں۔

اول الذکر کو داخلی مسائل و مشکلات اور دوسرے کو خارجی مسائل و مشکلات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ہمارے داخلی مسائل خارجی مسائل و مشکلات کا سبب ہیں، کیوں کہ باطل کے سیل رواں میں پہلے اتنی بھی قوت نہ تھی کہ تنکہ بہا سکے۔ مگر جب مسلمانوں نے سفینہ۔ ملت میں سوراخ کیا، اپنے ہی ہاتھوں اپنے پاؤں میں کلہاڑی ماری تو

؏

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کودے مارا

مسلمانوں کا اصل مسئلہ “آخرت کے سدھارنے اور سنوارنے اور دینی تشخص و امتیاز برقرار رکھنے کا ہے ” پھر دیگر مسائل ہیں، مسلم معاشرہ کے مسائل و مشکلات کی آگ کی تپش محسوس کر کے ہی ہمارا ادراک صحیح منزل تک پہنچ سکتا ہے اور مسائل و مشکلات کے صحیح ادراک کے بعد ہی کوئی صحیح حل پیش کیا جا سکتا ہے۔

مسلم معاشرہ میں مسائل و مشکلات جراثیم کی مانند پھیلے ہوئے ہیں اور ہمارا سماج گوناگوں مسائل و مشکلات اور اعتقادی و عملی پیچیدگیوں سے بھرا ہے، جن کو ہمیں سمجھنا ہو گا، اس وسیع موضوع پر مجموعی طور پر اور الگ الگ اجزا پر کتب موجود ہیں۔

ہم ذرا غور کریں، مسائل کو پہچانیں اور اپنے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ہم تعلیمی، تہذیبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی اور معاشی، الغرض ہر اعتبار سے پستی میں ہیں، بے دینی اس قدر عام ہے کہ ہم سے دین داری کا شائبہ بھی ختم ہو رہا ہے اور ہم میں مغرب کا زہر سرایت کر رہا ہے۔ دیکھ لیں ! کتنے مسلمان ایسے ہیں جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نورانی سنت با احترام باقی ہے یا بالکل چٹ۔ .. ! چہرے اور وضع قطع سے تو مسلمان کی پہچان دشوار ہو گئی ہے، داڑھی رکھنا شعائر اسلام میں سے ہے اور شعائر اسلام کو بالائے طاق رکھ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیاری سنتوں کو چھوڑ کر ہم کبھی چین نہیں پا سکتے۔ کتنے افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ دعویٰ ہے مسلمان ہونے کا اور مسلم صفات سے آزاد۔ دعویٰ ہے عاشق رسول ہونے کا اور محبوب صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے طور و طریق، جو اسوہ۔ حسنہ ہمارے لیے نمونہ ہیں، انہیں سے بیزاری۔ .. اللہ اکبر! یہ کیسا بگاڑ ہے۔ .. !

آج ایک مسلمان لباس غیروں جیسا پہنتا ہے، غیروں کا کلچر اپناتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے رشتہ توڑ کر طریقۂ یہود و نصاریٰ اس کو بھاتا ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم غیروں کے ہاتھ بک گئے اور کوئی وقعت نہ رہی۔

آج بھائی، بھائی کے خون کا پیاسا ہے، پڑوسی سے نالاں ہے، شکوہ ہے کہ اولاد نا کارہ اور آوارہ ہے، عورتوں کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے، لڑکیوں کا حق مارا جاتا ہے، چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے، بے ایمانیاں اور معاملات کا بگاڑ اپنی انتہا پر ہے، بے دینی اور بد کرداری بالکل عام ہے، مسجدیں، نمازیوں سے خالی ہیں، صفیں مسجود حقیقی کی بارگاہ میں سجدہ ریز جبیں کو ترس رہی ہیں، اہل علم، جذبۂ عمل سے عاری، تعلیم و تعلم، خلوص و للہیت سے خالی، ہماری وضع قطع ایسی کہ شناخت کرنا دو بھر، کون مسلمان ہے، کون نہیں ؟ کوئی امتیاز نہیں

؏

چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی

ہمارا رویہ نماز کے متعلق بہت زیادہ افسوس ناک ہے، نماز جو فارق بین الکفر و الاسلام ہے، جو ایمان کی علامت ہے، غور کریں کتنے مسلمان نماز کی پابندی کر تے ہیں، اسی طرح دوسرے ارکان پر عمل کرنے والے ہیں، اسی سے ہم تمام دینی احکام کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ .. فریضۂ دعوت ہم سے چھوٹ رہا ہے، غیر مسلموں میں تبلیغ دین سے تو ہمارے کان تقریباً نا آشنا ہو چکے ہیں، مسلمانوں کی اصلاح کا بہانہ بنا کر غیر مسلموں تک دعوت دین نہ پہچانے سے مواخذہ ہو گا۔ بزرگان ملت اور دانش ور ان قوم اس مسئلہ پر بھی غور کریں۔ الحمد للہ! آج کل اس کا بھی عملاً کچھ اقدام کیا گیا ہے جس کے لیے طریقۂ کار سے وابستگی نہایت ضروری ہے اور اسی کا ثمرہ ہے کہ دنیا آج اسلام کی طرف ہے۔

ہمارے آپسی اختلاف و انتشار، ملت اسلامیہ کے لیے اور بھی سوہان روح ہیں، جس اتحاد نے دنیا کو اسلامی طاقت کے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیا تھا آج اسی اتحاد کو بالائے طاق رکھنے کی وجہ سے ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر چکا ہے، اتحاد اسلامی کا سرچشمہ قرآن حکیم اب بھی ہمیں اپنی تمام تر تاثیرات کے ساتھ اسلامی اتحاد کی دعوت دیتا ہے، دلوں کو جوڑنے اور اخوت و محبت پیدا کرنے کی سعی پیہم کرتا ہے۔

فرمان الٰہی ہے : ﴿ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا﴾

مگر افسوس کہ آج امت مسلمہ نے کلمۂ حق کی بنیاد پر اتفاق و اتحاد نہیں کیا، ذات برادری کی تفریق کر کے مسلمان خود کے لہو کے پیاسے بن گئے اور اپنی جمعیت کا پارہ پارہ کر کے جذبہ۔ اخوت کا قلع قمع کر دیا۔ دیکھ لیجیے ! عراق اور فلسطین کے مسلمان خانۂ جنگی کی مسموم فضا میں اپنے ہی ہم مذہب سے نبرد آزما ہیں اور اقوام عالم ہمارے کردار سے بھرپور منفعت حاصل کر رہی ہے۔

قرآن کریم اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ پر کیف اور پر سوز لہجے میں گویا ہے :

﴿ واطیعوا اللہ ورسولہ ولاتنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم﴾۔ (الانفال: 46)

اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا فساد مت کرو، ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

حیرت ہے کہ خدا ہمیں راہ راست پر لانا چاہتا ہے، مگر ہم آپس میں نفاق اور نفرت و عداوت کا بیج بو رہے ہیں۔

حیرت ہے کہ غیر قوموں میں مختلف فرقے اور ذاتیں ہیں، جن میں اشد ترین اختلافات بھی ہیں، مگر جب اسلام سے ٹکرانا ہوتا ہے تو سب ایک ہو جاتے ہیں اور ایک مسلمان قوم ہے جسے مدت سے پریشان کیا جا رہا ہے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ مگر متحد نہیں ہو سکتی، اگر ہم اختلاف کی دلدل سے نکل کر اتفاق کے گلشن میں پہنچنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف کلمۂ توحید کی بنیاد پر اسلامی اتحاد قائم کرنا ہو گا، رنگ و نسل کے امتیاز کو ختم کر کے ہمدردی اور اخوت کا جامہ پہننا ہو گا، مسلمان کوئی بھی ہو، کہیں کا بھی ہو، سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ایمان واسلام کے ناطے ہم سب آپس میں بھائی ہیں، نسل پرستی، قومیت اور وطنیت و علاقائیت کی ضد چھوڑو، یہ ہماری ملت اسلامیہ کی بدنصیبی ہے کہ ذاتی مسائل بھی ایک معمہ بن گئے۔ مسلکی اختلاف کیا چیز ہے ؟ دشمن مسلک سے نہیں، مذہب سے لڑ رہا ہے۔ اتحاد اسلامی کی رفعت شان بزبان محسن انسانیت سنیے ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سوا لاکھ صحابۂ کرام کے جم غفیر کو خطاب کر کے فرمایا:

“کلکم من آدم، وآدم من تراب، لافضل لعربی علی عجمی، ولالعجمی علی عربی، ولالأحمر علی اسود، ولا لاسود علی احمر، الا بالتقوی ”

تم سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے تھے، کسی عرب نسل کے آدمی کو کسی عجم نسل کے آدمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت صرف نیکی اور اچھائی کی بنیاد پر ہو گی۔

قرآن آج بھی دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بس ہم قرآنی تعلیمات پر خلوص کے ساتھ عمل پیرا تو ہوں، پھر ویسا ہی اتحاد پیدا ہو گا جیسا رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم نے عرب کے مختلف قبائل و خاندان کو کلمہ توحید کی بنیاد پر تیار کر کے قائم کیا تھا۔

مسلم معاشرہ میں ایک جانب دین اور اس کے احکام سے دوری ہے تو دوسری جانب شریعت کی ممنوعات سے قربت، جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا اور جن کے کرنے والوں پر لعنت اور وعید وارد ہوئی ان میں کتنے رات دن مشغول اور منہمک ہیں۔ شراب ہی کولے لیجیے ! یہ ام الخبائث ہے، اس میں کسی طرح کی شرکت حرام ہے، شراب پینے والا، پلانے ولا، بنانے والے، بنوانے والا، بیچنے و خریدنے والا، لاد کر لے جانے والا، جس کے پاس لاد کر لے جائی جائے وہ اور اس کی قیمت کھانے والا، سب بزبان رسالت ملعون و مردود ہیں، اسی طرح سود کا معاملہ ہے۔ اس کے نہ چھوڑنے والے کے لیے قرآن میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کا اعلان ہے، سود کا سب سے کم درجہ اپنی ماں سے زنا کے مثل ہے، رشوت کے معاملہ میں راشی اور مرتشی دونوں جہنم میں جائیں گے۔ یہ عذاب الٰہیٰ کو دعوت دینا ہے، ہم اپنے حالات پر غور کریں، کتنے معاملات میں سودی لین دین کھلم کھلا ہوتا ہے۔ شراب علی الاعلان پی جانے لگی، رشوت کا کاروبار عام ہے، امانت، مال غنیمت کے مثل ہو گئی۔

یہ امت خرافات اور رسوم و رواج میں کھو گئی، آج ہماری آنکھیں سب سے زیادہ ٹی وی اسکرین اور ویڈیو کو پسند کرتی ہیں، اگر کوئی مشغلہ زیادہ محبوب ہے تو وہ صنف نازک سے نظر بازی ہے، اگر ہم زیادہ کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو عریاں فلمی پوسٹر ہیں۔ آج کل کوئی ایسی بے حیائی کی جگہ نہیں جو مسلمانوں سے خالی ہو، مرد تو مرد، عورتیں بھی اس میں مبتلا ہیں۔ انہیں پردہ کا کوئی اہتمام نہیں۔ یہ گھروں سے نکلنے کے لیے ضرورت پیدا کرتی ہیں، یہ راستوں پر عام چال نہیں، بلکہ ناز سے پہلو بدل کر چلتی ہیں۔ جب کہ قرآن ببانگ دہل اعلان کرتا ہے۔

آپ کہہ دیجیے اے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم)! مسلمان مردوں سے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں اور کہہ دیجیے مسلمان عورتوں سے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنا سنگھار (اور زیب و زینت) نہ دکھلائیں۔

یہی حکم تمام صحابہ کرام و صحابیات کو تھا، یہی حکم ابوبکر و عمر و عثمان و علی کو تھا، یہی حکم اہل صفہ کو بھی تھا، یہی حکم درس گاہ نبوت کے ہر طالب علم کو تھا اور یہی حکم جو چودہ سو سال پہلے فاطمہ زہرا، عائشہ صدیقہ کو تھا، بلا کسی تبدیلی کے ہم اور ہماری مائیں بہنیں بھی اسی کی مکلف ہیں، لیکن آہ! وہ قوم جس کا شیوہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا آج وہ خود چاہ ضلالت میں گری پڑی ہے، ہماری زندگی خرافات کا مجموعہ بن گئی ہے، ناچ گانا، شطرنج و آتش بازی، داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کتروانا، انگریزی بال، رسوم نکاح، فضول خرچی، بے پردگی۔ .. الغرض آج ہم ان خرافات اور رسوم اختراعیہ کے اس قدر پابند ہیں کہ انہیں حق سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی تنگ دستی اور فقر و فاقہ کا رونا روتے ہیں۔ اپنے اوپر مظالم کی شکایات کرتے ہیں، لیکن اپنے اعمال کی خبر نہیں لیتے، اخلاقی امراض جیسے غلط اخلاق و عادات، رقص و سرود، گانے بجانے، ریڈ یو، ٹی وی، سینما، آرام طلبی، منکرات و معاصی، احکام خداوندی کی بر سر عام نافرمانی، فسق و فجور اور الحاد زندقہ پھیلانے والے رسائل و ڈائجسٹ کا گھر گھر پھیل جانا، عریانیت و بے حیائی، اسراف و تبذیر، رسوم و رواج، بے عملی اور دین سے دوری، آپسی اختلاف انتشار، غربت و جہالت اور بد تہذیبی یہ ہمارے وہ داخلی خطرات ہیں جو قوم کے قلب و ضمیر اور معاشرہ کے رگ و پے میں سما گئے ہیں۔ یہ ہمارے داخلی دشمن اور داخلی مہلک امراض جو ہمارے انجام اور ہمارے معاشرہ کے لیے دشمنوں کے لشکر جرار سے کہیں زیادہ مہلک، خطرناک اور زیادہ تشویش ناک ہیں۔ ان کی طرف ہماری توجہ مبذول نہیں ہوتی۔ نہ ہم ان سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر اور موثر اقدام و علاج کرتے ہیں۔ .. حد تو یہ ہے کہ ان داخلی امور میں ہماری بے دینی کی وجہ سے مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے، غیروں کے مسلسل حملوں اور پیہم یلغار کے باوجود ان باتوں میں کمی نہ آنا اور اصلاحی کوششوں کا بار آور نہ ہونا عصر حاضر کے مسلمانوں کا زبردست المیہ ہے۔

یہ طرز زندگی اور یہ اعمال و حرکات جو ہم نے اختیار کر رکھی ہیں، یقیناً ً اللہ کی نصرت اور اس کی رحمت و مدد سے محروم کرنے والی ہیں۔ ہم شیطان کی غلامی میں پھنس گئے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، مصائب و حوادث کی کثرت کا سبب ہے اور اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کی فرماں برداری دار ین کی فلاح کا سبب ہے۔ ٭

٭٭٭

 

 

 

رمضان-ضروری مسائل

 

                ادارہ

 

مسئلہ ۱: رمضان المبارک کا روزہ ہر عاقل، بالغ، مقیم، تندرست، مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ عورت کو حالتِ حیض و نفاس میں روزہ رکھنا درست نہیں۔ بعد میں روزے کی قضا رکھنا ضروری ہے۔

مسئلہ ۲: روزہ نیت کے بغیر نہیں ہوتا اور نیت دل میں روزے کے قصد اور ارادہ کا نام ہے۔ روزے کی نیت رات ہی میں کر لینی چاہیے۔

روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے ؟

  • کوئی چیز جان بوجھ کر کھا پی لینا۔
  • حقہ، بیڑی سگریٹ پینا
  • کھرّا، تمباکو کھانا
  • کلی کرتے وقت حلق میں پانی چلا جانا جب کہ روزہ یاد ہو
  • کان اور ناک میں تیل یا دوا ڈالنا
  • شوگر کے مریضوں کا پیٹ میں انسولین کا انجکشن لینا
  • قصداً منہ بھر کر قے کرنا
  • یا قے آئے چاہے کم ہو یا زیادہ، اس کو قصداً لوٹا لینا

ان صورتوں میں قضا رکھنا ضروری ہے اور بعض صورتوں میں کفارہ ہے۔ وہ صورتیں پیش آنے پر ان کی تفصیل کسی معتبر عالم یا مفتی سے معلوم کر لی جائے۔

روزہ کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟

  • بھول سے کھا پی لینا
  • تھوک نگلنا
  • سرمہ لگانا
  • تیل لگانا
  • وکس یا بام لگانا
  • پھول یا خوشبو سونگنا
  • آنکھ میں دوا ڈالنا
  • مسواک کرنا، چاہے خشک ہو یا تر(یعنی گیلی ہو یا سوکھی)
  • بلا اختیار حلق میں دھواں یا گرد و غبار کا چلا جانا
  • سوتے ہوئے احتلام ہو جانا
  • گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا
  • ہاتھ یا کمر میں انجکشن لگانا
  • سلائن چڑھانا جو کہ دوا کے طور پر ہو( نہ کہ تقویت کے لیے )
  • مسواک کرتے وقت دانتوں سے خون نکل آئے جو حلق میں نہ جائے

ان چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭٭٭

 

 

 

خبر نامہ

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۂً لِّمَنْ یَّخْشٰى 26؀

بلاشبہ اس میں نصیحت کا سامان ہے، ان کے لیے جو (اللہ سے )ڈرتے ہیں۔ (سورہ ۷۹، النازعات:۲۶)

 

                مدیر کے قلم سے

 

وطن کو خدا کا درجہ نہیں دیا جا سکتا:دار الافتاء دار العلوم دیوبند

دیوبند/نئی دہلی(یو این آئی)ام المدارس دار العلوم دیوبند کی جانب سے وطن پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے عام نعرہ “بھارت ماتا کی جَے ” کہنے کو مسلمانوں کے عقیدے سے متصادم بتایا گیا ہے۔ دار الافتاء دیوبند کی جانب سے جاری کردہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ محبت میں وطن کو خدا کا درجہ نہیں دیا جا سکتا، اس لیے بھارت ماتا کی جے کہنا مسلمانوں کے عقیدے سے متصادم ہے۔

دو روز غور و فکر کرنے کے بعد مبینہ طور پر ایک ریزولیوشن میں کہہ دیا گیا ہے کہ محبت میں وطن کو خدا کا درجہ نہیں دیا جا سکتا اس لیے “بھارت ماتا کی جَے ” کہنا مسلمانوں کے عقیدے سے ٹکراتا ہے۔ جاری کردہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ “ہندوستان بلا شبہ ہمارا ملک ہے، ہم اور ہمارے آباء و اجداد یہیں پیدا ہوئے، ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن ہم اسے خدا نہیں مانتے۔ بھارت ماتا کی جَے کہنے والوں کے نزدیک اس کے مفہوم میں وطن کی پرستش شامل ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسا نعرہ لگانا جائز نہیں۔ اسلام کے ماننے والے مسلمان کبھی وحدانیت کے خلاف نعرے سے سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ ”

مسلمان خاتون کے پردے کی عزت کرو: پوپ فرانسس

کیرو، ۲۲ مئی(اے ایف پی، عرب نیوز ڈاٹ کام)پادری فرانسس نے فرانس پر زور دیا ہے کہ وہ مسلم خواتین کے اپنے عقیدے پر قائم رہنے اور حجاب پہننے کا حق دیں، اسی طرح جیسے عیسائیوں کو صلیب(Cross) پہننے کا حق حاصل ہے۔

“اگر ایک مسلم خاتون برقع پہننا چاہتی ہے، تو اسے یہ حق ملنا چاہیے۔ اسی طرح، اگر ایک کیتھولک کراس پہننا چاہتا ہے۔ ..تو لوگوں پر یہ لازم ہے کہ وہ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرنے کا حق دیں۔ ” پوپ فرانسس نے کہا۔

فرانس میں چھ ملین مسلمانوں کی آبادی ہے، جو پورے یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ فرانس کے مسلمان عرصہ سے اپنے مذہبی معمولات کی ادائیگی پر پابندی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ۲۰۰۴ء میں فرانس نے پردے پر پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ سے عوامی مقامات اور اسکولوں وغیرہ میں پردہ ہرگز قبول نہیں تھا۔ اپریل ۲۰۱۱ء میں چہرے کے پردے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

٭٭٭

 

 

 

اعلان

 

کیا آپ مصنف ہیں ؟

اپنی کتاب سر بکف پبلیکیشنز سے مفت شائع کرائیں !*

آپ کے لکھنے کی صلاحیت ایک نعمت ہے۔ ..

اور یہ نعمت۔ .. قوم کی امانت ہے۔ ..

اگر آپ کسی کتاب کے مصنف ہیں یا آپ نے کوئی تحریر لکھ رکھی ہے جسے آپ اللہ کے بندوں تک پہچانے کے خواہش مند ہیں۔ ۔ ۔ تو اس تحریر کا متن یونیکوڈ فارمیٹ(ایم ایس ورڈ M.S.Word) میں یا ان پیج فائل میں ہمیں فراہم کریں، ان شاء اللہ “سر بکف پبلیکیشنز” آپ کی کتاب کو پی ڈی ایف کی شکل میں مفت پبلش کر کے فراہم کرے گا۔ علاوہ ازیں آپ کی کتاب سر بکف کے بلاگ، فیس بک پیج وغیرہ اور وسائل و ذرائع کے توسط سے عوام تک پہنچے گی۔

*شرائط:

۱۔ تحریر کم از کم بیس صفحات پر محیط ہونی چاہیے جسے بطور کتابچہ پیش کیا جا سکے۔

۲۔ کتاب کا مضمون تخلیقی ہونا چاہیے۔ اسلام اور ردِّ فرقِ ضالہ و باطلہ کے علاوہ تاریخ و سوانح، سبق آموز کہانیاں یا ناول وغیرہ بھی قابلِ قبول ہوں گے۔ ہر صنفِ سخن قبول ہو گی بشرطیکہ مضمون دعوتی اور قوم کی فلاح پر مبنی ہو۔ فحش یا وقت کے ضیاع والی تحاریر رد کر دی جائیں گی۔ کتاب کے ردّ و قبول کے تمام اختیارات ہماری ٹیم کو حاصل ہوں گے جن کی جانب سے کیا گیا فیصلہ آخری ہو گا۔

۳۔ چونکہ یہ کام مکمل رضا کارانہ طور پر فی سبیل اللہ انجام دیا جائے گا، اس لیے کسی مقر رہ وقت پر کتاب کی تکمیل کا وعدہ نہیں کیا جائے گا۔ ہماری ٹیم رضا کارانہ طور پر اپنے اوقات کی سہولت کے مطابق جلد از جلد کتاب تکمیل تک پہچانے کی مکمل کوشش کرے گی۔

۴۔ بحیثیتِ بشر ہماری ٹیم سے خطا کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے، چنانچہ کسی غلطی کی نشاندہی و دیگر ضروری امور کے لیے طے شدہ ممبر سے ای میل یا فون کے ذریعے گفت و شنید انتہائی نرم خوئی کے ساتھ کی جائے گی۔

۵۔ ہر چند کہ ای بک بنانے کی یہ سہولت مفت ہو گی، لیکن ہم یا ہماری ٹیم میں سے کوئی بھی اس تعلق سے کبھی کوئی احسان نہیں جتلائے گا(ان شاء اللہ)البتہ بطور انسان(اور خصوصاً مسلمان) ہونے کی حیثیت سے یہ آپ کی ذمہ داری ہو گی کہ آپ اپنے لہجے میں تحکم کا شائبہ نہ آنے دیں۔

۶۔ سر بکف کے ذریعے شائع شدہ آپ کی برقی کتاب کو قیمتاً فروخت نہیں کیا جا سکے گا، یہ اللہ کے بندوں کے لیے مفت میں دستیاب ہو گی۔ اگر آپ برقی کتب کو قیمتاً فروخت کرتے ہوئے پائے گئے تو آپ کا یہ عمل اخلاقی، شرعی اور قانونی جرم ہو گا۔ اس صورت میں دیگر کاروائیوں کے علاوہ آپ سے آئندہ ادارہ کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔

۷۔ آپ کی کتاب کا کسی خاص زبان میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اردو کے علاوہ عربی، انگریزی، ہندی، مراٹھی اور دیگر زبانوں میں بھی دے سکتے ہیں۔ رومن اردو میں بھی کتاب دی جا سکتی ہے لیکن بہتر ہو گا کہ اسے اردو ہی میں شائع کرائیں۔

۸۔ ہر کتاب کی طرح آپ کی کتاب کے سر ورق پر “سر بکف پبلیکیشنز” لکھا ہوا ہو گا۔ کتاب کے آخر میں دوسری کتب کے اشتہارات یا ادارہ کی جانب سے نوٹس وغیرہ شامل ہوں گے۔ کتاب کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی اشتہار شامل نہیں کیا جائے گا۔

۹۔ سر ورق کا ڈیزائن مقر ر رہے گا۔ اگر آپ سر ورق خود ڈیزائن کرتے ہیں تو اس صورت میں “سر بکف پبلیکیشنز” نمایاں حروف میں لازمی لکھنا ہو گا اور سر ورق کی تصویر Image File ہمیں ارسال کرنی ہو گی۔

۱۰۔ کسی کو فوقیت نہ دیتے ہوئے “پہلے آئے پہلے پائے ” کے مطابق سہولت فراہم کی جائے گی۔

نوٹ:

٭اگر آپ مناسب خرچ برداشت کر سکتے ہوں تو Typo.pk ویب سائٹ کے ذریعے آپ یہ کام کروا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ Typo.pk سے آپ کی ڈیل کا “سر بکف پبلیکیشنز” سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

٭اس کارِ نیک کے لیے اگر آپ بھی ہماری ٹیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو فقیر سے رابطہ کریں یا مجلسِ مشاورت کے کسی رکن کو مطلع فرمائیں۔

آپ کا خادم

فقیر شکیبؔ احمد

سر بکف پبلیکیشنز

٭٭٭

تشکر: مدیر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید