FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

یوم مئی یا یوم خندق؟

 

پروفیسر شفیع ملک

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل


کنڈل فائل

تعارف

ہم اس کتابچے میں پروفیسر محمد شفیع ملک چیئرمین پاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کے 2 مضامین کو یکجا کر کے چھاپ رہے ہیں۔ ان میں سے پہلا مضمون جو بالکلیہ یوم مئی کے فلسفے، نظریے، تاریخ اور تحریک سے متعلق ہے 1984ء میں پہلے ہی ایک مختصر کتابچے کی شکل میں چھپ چکا ہے جب کہ اس کا دوسرا مضمون ’یوم خندق‘ قومی اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ ان دونوں مضامین کو ملا کر ’’یوم خندق۔ ایک پیغام ایک تحریک‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ ’پاکستان اسٹیل لیبر یونین (پاسلو)‘ نے 16جولائی 1986ء کو شائع کرایا تھا۔ جس میں یوم مئی کے ساتھ یوم خندق کے موضوع پر بھی گفتگو کی گئی تھی۔ اب یہ کتاب نئی شکل میں ’’یوم مئی یا یوم خندق؟‘‘ کے عنوان سے شائع کی جا رہی ہے۔

کتاب میں جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یوم مئی کسی بھی حوالے سے قابل قبول نظریہ نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اسے ایک عام تعطیل کی شکل دے کر ریاستی سرپرستی عطا کر دینا قطعاً غلط ہے۔ اگر کوئی مزدور تنظیم اپنی کسی انفرادی مجبوری کے تحت اسے منانے کا اہتمام کرتی ہے تو اس کی اجازت دینا ایک دوسری بات ہے لیکن اسے قومی دن قرار دے کر سرکاری طور پر منانے کا لازماً یہ مطلب لیا جائے گا کہ اسے پوری ریاست اور پوری قوم کی حمایت اور تائید حاصل ہے جو نہ صرف غلط ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔ مصنف نے اسے ریاستی انحراف (State Deviation) کہا ہے۔ خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ یوم مئی کو سرکاری چھٹی کا اعلان کسی قومی تحریک یا مطالبے کی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ صرف سیاسی مصلحت کے طور پر اور وقتی فائدہ حاصل کرنے کیلئے کیا جاتا رہا ہے۔ حالانکہ اس قسم کے فیصلے بڑے غور و فکر،  قومی اور ملی مفادات کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں۔ جہاں تک کہ اصول اور نظریات کا تعلق ہے پوری کتاب کے مطالعے سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ’یوم مئی‘ کی بجائے ’یوم خندق‘ کا مطالبہ ایک مسلمان ہی کیلئے نہیں بلکہ ہر انصاف پسند شخص کے لئے بھی معقول اور جائز ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ یوم خندق کے پیغام کو لے کر محنت کشوں کی تحریک صحیح معنوں میں اسلامی انقلاب کا سبب بنے گی اور بالآخر پاکستان میں عدل و انصاف پرور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ جائے گا جو پوری دنیا کے غریب اور استحصال زدہ عوام کیلئے دلچسپی اور کشش کا باعث بنے گا (ان شاء اللہ)۔ اس اسلامی معاشرے کی تفصیلات کتاب کے آخری باب میں دی گئی ہے جس کا عنوان ہے ’’اسلام کا طرزِ حکمرانی۔‘‘

(ریاض عالم)

سیکریٹری

یکم مئی: مزدوروں کا دن؟

’یوم خندق‘ کے موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم ’یوم مئی‘ پر کچھ تفصیلی بات کرنا چاہیں گے۔ اس لئے کہ ’یوم خندق‘ کے حوالے سے پاکستان میں جو آواز بھی اٹھی ہے … عوامی سطح سے لے کر سینیٹ تک… وہ یوم مئی کے متبادل کے طور پر ہی اٹھی ہے۔ اس لئے ’یوم خندق‘ کے موضوع پر گفتگو کی معقولیت (Rationality) اُس وقت تک پوری طرح نہیں سمجھی جا سکتی جب تک یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ خود ’یوم مئی‘ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ اور اسے کیوں ایک قومی دن کی سند عطا کر کے سرکاری چھٹی (Public Holiday) کے طور پر منایا جائے؟

یکم مئی کا دن،  جو ’’یوم مئی‘‘ کے اصطلاحی نام سے مشہور ہو گیا ہے،  مزدوروں کا دن (Labour Day) سمجھا جاتا ہے۔ اسے مزدوروں کا دن کہنے والے اس کی تاریخ کا شمار 1886ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں محنت کشوں پر ہونے والے مظالم سے کرتے ہیں۔ اپنے اوقات کار میں کمی کرنے کے لئے جد و جہد کرنے والے محنت کشوں پر اس سال جو مظالم ہوئے،  اسی کی ’یاد‘ تازہ کرنے کے لئے مختلف ممالک میں یکم مئی کو جلسے ہوتے ہیں،  جلوس نکلتے ہیں،  قرار دادیں پاس کی جاتی ہیں،  کچھ نئے عزائم کا اظہار ہوتا ہے اور یہ سب کچھ بظاہر محنت کشوں کے اتحاد اور یک جہتی (Solidarity) کے نام پر ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں، جن میں پاکستان سمیت کچھ مسلم ممالک بھی شامل ہیں،  یکم مئی کو سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے اور اس طرح یوم مئی کے نظریات اور مقاصد سے اظہارِ یک جہتی کے لئے ریاستی سطح پر اہتمام کیا جاتا ہے۔

’یکم مئی‘ ایک تحریک ہے

’یکم مئی‘ کا مسئلہ اتنا سیدھا سادا نہیں ہے جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے بلکہ مسئلہ کا علمی اور تاریخی جائزہ ہمیں بتلاتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک تحریک ہے جو ایک خاص نظریہ اور مقصد کے لئے کام کر رہی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ ’یکم مئی‘ کو محنت کشوں کا دن مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب لوگ اسے اسی طرح تسلیم کر لیں،  انہوں نے اس تحریک کے اصل نظریات اور مقاصد کو عام لوگوں سے ہمیشہ پوشیدہ رکھا ہے لیکن ’ہوشیاری اور ذہانت‘ کے ساتھ کام وہی لئے ہیں جو یکم مئی کی پشت پر کام کرنے والی تحریک کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ضروری سمجھے گئے۔ اسی لیے ’یکم مئی‘ کو محض ایک دن، ایک واقعہ، ایک حادثہ، ایک تقریب یا ایک چھٹی کہنے کی بجائے ہم بوجوہ اسے ایک ’تحریک‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایک ایسی تحریک جس کے کچھ واضح نظریات، کچھ مقاصد اور کچھ اہداف ہیں۔ اسی لئے ہمارے لئے یہ معلوم کر لینا بہت ضروری ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟

’یکم مئی‘ اصلاً ایک تہوار ہے

اگر ’یکم مئی‘ کی تاریخ کا علمی جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دن بالخصوص عیسائی دنیا میں ایک طویل عرصے تک صرف ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا ہے اور کسی قسم کے ’انقلابی نظریئے،  اور ’انقلابی جد و جہد‘ سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ تو دوسری سوشلسٹ انٹرنیشنل کے اجلاس منعقدہ 1889ء (پیرس) کی ایک قرار داد اور اس کے بعد اسی انٹرنیشنل کی دوسری کانفرنسوں کی قرار دادوں کے نتیجے میں یکم مئی کی وہ شکل سامنے آئی ہے جسے آج ہم خود اپنے ملک میں بھی دیکھتے ہیں۔ (1) اس لئے اس بارے میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں رہنی چاہئے کہ یکم مئی کو محنت کشوں کی دنیا میں نام نہاد اور مصنوعی تقدس دلانے کا احساس اور آغاز کہاں سے ہوا ہے؟ کسی علمی کتاب میں اس کے علاوہ کوئی اور تحقیق آپ کو نہیں ملے گی کہ یکم مئی کو ’محنت کشوں کا دن منانے،  کی بات پہلی مرتبہ اُس قرار داد کی شکل میں سامنے آئی تھی جو دوسری سوشلسٹ انٹرنیشنل نے 1889ء میں اپنے پیرس کے افتتاحی اجلاس میں پاس کی تھی لیکن اس سے پہلے یکم مئی ایک تہوار ہی کے طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں منایا جاتا تھا۔ انسائیکلو پیڈیا انٹرنیشنل (Encyclopedia International) کے مصنفین کے مطابق اس بین الاقوامی تہوار کی رسومات کی پشت پر درختوں کی روحوں کے طاقتور اور قوی (Power of Tree) ہونے کا عقیدہ تمام تہذیبوں میں مشترک تھا۔

یعنی یہ کہ درختوں کی روحیں ہوتی ہیں اور ان روحوں میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ درختوں میں نمو اور زرخیزیت کی صلاحیت پیدا کریں۔ یہی عقیدہ مصر اور ہندوستان میں بھی تھا اور یہی عقیدہ رومن دیوی فلورا (FLORA) کے بارے میں قائم تھا اور 28 اپریل سے 3 مئی تک مذہبی تہوار کے نام پر ہر قسم کی بے ہودگی روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے تعلق سے مے پول (MAY POLE) ڈانس کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا جسے انگلینڈ میں سولہویں صدی کے پیورٹین انقلاب (Puritan Revolution) کے زمانے میں بند کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے بحال کر دیا گیا۔ جہاں تک اس کے تہوار ہونے کا تعلق ہے یکم مئی کی تحریک کے ابتدائی قائدین بھی اسے اسی طرح تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونسٹ انٹرنیشنل کے لیبر ریسرچ ڈیپارٹمنٹ (Labour Research Department) (2) کی طرف سے 1921ء میں شائع شدہ لیبر وائٹ پیپر (Labour White Paper) کے نمبر 42 (پیپر کے 22ویں ایڈیشن) میں یوم مئی کی تشریح کے حوالے سے ہمیں اس کے سرورق پر درج ذیل الفاظ ملتے ہیں:

 ’’یوم مئی محنت کشوں کے اقتدار (3) کے بعد ایک تہوار کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس وقت تک یہ سرمایہ دارانہ مظالم اور سامراجی جنگ کے خلاف متحدہ جد و جہد کا دن ہو گا۔‘‘

یوم مئی: تہوار سے تحریک تک

ان معروضات کے بعد یہ جاننا نہایت ضروری ہو گیا ہے کہ یکم مئی کا دن محنت کشوں کا عالمی دن کیسے اور کیونکر بنا؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا  جا چکا ہے کہ تہوار کے بجائے اسے محنت کشوں کے یوم جد و جہد کے طور پر منانے کی پہلی اپیل جولائی 1889ء میں کی گئی کہ ’’یکم مئی 1890ء کو محنت کشوں کی جد و جہد کے دن کی حیثیت دی جائے۔‘‘ ہم اس سلسلے میں دوسری سوشلسٹ انٹرنیشنل کی اس قرار داد کا متن درج کر رہے ہیں جو اس نے اپنے افتتاحی اجلاس (پیرس) میں پاس کی تھی:

 ’’ایک عظیم بین الاقوامی مظاہرہ ایک متعین تاریخ میں کیا جائے گا تاکہ اس طے شدہ دن کو ہر ملک اور ہر شہر کے محنت کش ہر ریاست سے اس بات کا مطالبہ کریں کہ اوقات کار آٹھ گھنٹے کیے جائیں اور پیرس انٹرنیشنل کانگریس کی دوسری قرار دادوں کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ امریکن فیڈریشن آف لیبر نے یکم مئی 1890ء کو اس قسم کے مظاہرہ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی تاریخ بین الاقوامی مطالبے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔‘‘

در اصل یہی وہ اپیل تھی جس نے بالآخر یوم مئی کو تہوار کے بجائے ایک تحریک کی اور پھر بین الاقوامی اشتراکی مزدور تحریک کی شکل دی۔

کمیونسٹ انٹرنیشنل کے ادارے ’’لیبر ریسرچ ڈپارٹمنٹ‘‘ (Labour Research Department) نے صفحہ نمبر 3 پر یوں لکھا ہے:

 ’’یہ اسی قرار داد کا نتیجہ تھا کہ یوم مئی‘ جسے متعدد ممالک کے کسان سینکڑوں برسوں سے موسم بہار کے تہوار کے طور پر مناتے تھے،  دنیا کے محنت کشوں کا دن بن گیا۔‘‘

برٹش یونیورسٹیز انسائیکلوپیڈیا (British Universities Encyclopedia) کا مصنف صفحہ نمبر 98 پر رقم طراز ہے:

 ’’8 گھنٹے اوقات کار کے مطالبے پر یکم مئی 1890ء کو یورپ اور امریکہ میں مزدوروں کے بین الاقوامی مظاہرے ہوئے اور اسی وقت سے یوم مئی بحیثیت مجموعی ’’لیبر ڈے‘‘ ہو گیا۔ جس روز مزدور اور سوشلسٹ مظاہرے کرتے ہیں۔‘‘

انسائیکلوپیڈیا انٹرنیشنل (Encyclopedia International) نے اپنے صفحہ 467 پر لکھا ہے کہ:

 ’’دوسری سوشلسٹ انٹرنیشنل نے 1889ء میں یکم مئی کو انقلابی محنت کشوں کا دن مقرر کیا اور اسی زمانے سے پورے یورپ میں اس روز قومی چھٹی ہوتی ہے۔‘‘

اس لئے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ یکم مئی کو محنت کشوں کا دن مقرر کئے جانے کا فیصلہ سیکنڈ سوشلسٹ انٹرنیشنل نے کیا تھا۔ سوشلسٹ انٹرنیشنل کے بعد کے اجلاس کی قرار دادوں سے یہ اور زیادہ واضح ہو جائے گا کہ اس اپیل کا مقصد کیا تھا لیکن یہ بات سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ عقل و فہم کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ یکم مئی کے تزک و احتشام سے منائے جانے کا اصل فائدہ شعوری اور غیر شعوری طور پر کس کو ملتا ہے؟ بات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکے گی جب تک سوشلسٹ انٹرنیشنل کی دوسری، تیسری اور چوتھی کانگریس کے فیصلوں کو نہ دیکھا جائے۔

یوم مئی کے جارحانہ کردار کی وضاحت کرتے ہوئے 1891ء میں برسلز (Brussels) میں منعقدہ دوسری کانگریس نے درج ذیل قرار داد پاس کی جس سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ یکم مئی کو محنت کشوں کا بین الاقوامی دن مقرر کرنے کی اصل غرض کیا تھی اور وہ کس طرح پوری ہو سکتی تھی:

 ’’8 گھنٹے اوقات کار کے مطالبے اور طبقاتی کشمکش کی صداقت کے دن کے طور پر یکم مئی کے صحیح معاشی کردار کو برقرار رکھنے کی خاطر کانگریس فیصلہ کرتی ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ایک ہی دن مظاہرہ کیا جائے اور یہ مظاہرہ لازماً یکم مئی کو ہی ہونا چاہئے اور سفارش کرتی ہے کہ جہاں کہیں ممکن ہو سکے اس روز ہڑتالیں کی جائیں۔‘‘

لیکن معاملے کی اصل وضاحت ایمسٹرڈم کانگریس منعقدہ 1904ء کی قرار داد سے ہوتی ہے۔ اس قرار داد کے الفاظ میں جو متعین رہنمائی کی گئی ہے اس کے لئے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔ قرار داد کے الفاظ یہ ہیں:

 ’’ہرگاہ کہ مظاہروں کی یکسانیت صرف چند ممالک میں موجود ہے اور کچھ ممالک میں یہ مظاہرے بھی یکم مئی کو نہیں ہوتے بلکہ مہینے کا پہلا اتوار مقرر کر لیا گیا ہے۔ ایمسٹرڈم کانگریس 1893, 1891, 1889 اور 1900کی قرار دادوں کی توثیق تو کرتی ہے اور تمام سوشلسٹ پارٹیوں اور ٹریڈ یونینز سے مطالبہ کرتی ہے کہ یکم مئی کو محنت کش طبقے کے مظاہروں کو شان و شوکت کے ساتھ منظم کریں لیکن یاد رکھئے یہ مظاہرے اسی وقت مؤثر ہو سکتے ہیں جب یکم مئی کو کام بند کر دیا جائے۔‘‘

اس قرار داد پر تبصرہ کرتے ہوئے کمیونسٹ انٹرنیشنل کے ادارے کی لفاظی قابل غور ہے۔ اشتراکی رہنما دنیا بھر میں اس فن کے ماہر سمجھے جاتے رہے ہیں

 ’’یہ طبقاتی کشمکش کے جذبے سے سرشار مظاہرے ہیں،  جن میں بغاوت کی روح شامل ہوتی ہے۔ یہ محنت کش طبقے کو اپنی طاقت کا شعور بخشتے ہیں۔ یہ ان ہی مظاہروں کا نتیجہ ہوتا ہے کہ دنیا کے مزدور نہ صرف ایک ہی انداز میں سوچتے ہیں بلکہ ایک ہی انداز میں مل کر کام بھی کرتے ہیں۔ یوم مئی کا پیغام صرف یہ نہیں ہے کہ ’’دنیا کے محنت کشو! ایک ہو جاؤ‘‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ اہل اقتدار کو تخت حکومت سے گرا دو۔‘‘ (4)

یہی ادارہ آگے چل کر اپنے بلیٹن نمبر 42 کے صفحہ نمبر 12 پر لکھتا ہے:

 ’’جنگ عظیم (۱) کے بعد کی لیبر اور سوشلسٹ انٹرنیشنل نے یوم مئی کو اس کے مقصد سے محروم کر دیا تھا جو 1889ء کی قرار داد میں طے کیا گیا تھا۔ اب اس مقصد کو کمیونسٹ انٹرنیشنل پورا کر رہا ہے۔‘‘

اس کے بعد ادارے نے روس کے انقلاب کی تعریف میں زمین و آسمان کو ایک کر دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ یوم مئی کمیونسٹ انقلاب کے لئے راستے ہموار کرتا رہے گا۔ (5)

انٹرنیشنلز (INTERNATIONALS)

صنعتی انقلاب کے نتیجے میں عام محنت کشوں کی جو دُرگت بنی ہوئی تھی اس کے ازالے کی کوئی شکل سامنے نہیں آ رہی تھی۔ پورے یورپ اور امریکہ میں ایک ہی جیسی صورت حال پید اہو رہی تھی۔ اس صورت حال کی اصلاح کے لئے جہاں مختلف کوششیں جاری تھیں وہیں کچھ بین الاقوامی فورمز (Forums) کی تشکیل بھی زیر بحث تھی۔ مختلف انٹرنیشنلز کے قیام کا سلسلہ بھی اُسی غور و فکر کا نتیجہ تھا۔

دی فرسٹ انٹرنیشنل (The First International)

یہ 1864ء کی بات ہے کہ مغربی یورپ کے مزدور راہنما لندن کے سینٹ مارٹن ہال (St. Martin Hall)میں جمع ہوئے اور انٹرنیشنل ورکنگ مینز ایسوسی ایشن (International Workingmen’s Association) کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تنظیم کا افتتاحی خطاب کارل مارکس کے حصے میں آیا۔ اسی تنظیم کو عرف عام میں (The First International) کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی کام تعلیمی و تربیتی تھا۔ فرسٹ انٹرنیشنل کو محنت کش دانشوروں اور راہنماؤں کا پہلا بین الاقوامی پلیٹ فارم کہا جاتا ہے جس کا دائرۂ اثر برطانیہ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ، بیلجیئم، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ تک پھیلا ہوا تھا۔ روسی انارکسٹ اور بم پھینکنے کے ماہر ’بیکونن‘ جو کارل مارکس کا مخالف تھا‘ کے پیرو کاروں بیکونسٹس (Backonists)کی دہشت گردی سے بچنے کے لئے فرسٹ انٹرنیشنل نے 1872ء میں اپنا ہیڈ کوارٹر لندن سے نیویارک منتقل کر لیا تھا اور بالآخر 1876ء میں فلاڈلفیا میں اس کے رسمی خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔

دی سیکنڈ انٹرنیشنل (The Second International)

دوسری انٹرنیشنل کو تشکیل پاتے پاتے 23سال کا عرصہ لگا اور 1889ء میں پیرس میں مزدور راہنماؤں کی کانفرنس میں اس تنظیم کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد فرانس کے سوشلسٹ حضرات کی کوششوں کا رہینِ منت تھا۔ اس انٹرنیشنل میں مارکسی سوشلسٹ (Marxian Socialist) کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور فرسٹ انٹرنیشنل کے مقابلے میں جو خالصتاً تربیتی (Purely Educative) ایجنڈے پر کام کرنا چاہتی تھی دوسری انٹرنیشنل کے سامنے سیاسی قوت کا حصول تھا۔ اس کی تشکیل کے وقت اس بات کا خیال رکھا گیا کہ اس میں ان دہشت پسندوں (Anarchists) کو نکال دیا گیا تھا جو فرسٹ انٹرنیشنل کی تباہی کا باعث بنے تھے۔

یہ جنگ عظیم اول کے آغاز (1914) تک ہر سال اپنی کانفرنس بلاتی رہی۔ جنگ شروع ہوتے ہی بڑے بڑے سوشلسٹ حضرات ’’دنیا کے مزدوروں! ایک ہو جاؤ!‘‘ کا نعرہ چھوڑ کر اور بین الاقوامیت کے تصور کو خیرآباد کہہ کر اپنے اپنے ملک کے دفاع کے لئے جنگی مورچوں پر پہنچ گئے اور اس طرح دوسری انٹرنیشنل بھی ختم ہو گئی۔ اسی انٹرنیشنل نے اپنے تاسیسی اجلاس 1889ء میں یکم مئی کو بین الاقوامی سطح پر لیبرڈے منانے کا فیصلہ کیا اور ایک قرار داد میں یکم مئی 1890ء کو لیبر ڈے منانے کی کال (Call) دی گئی۔ اس انٹرنیشنل کو اس کی ناکامیوں کی وجہ سے 1916ء میں ختم کر دیا گیا۔

دی تھرڈ انٹرنیشنل (The Third International)

جنگ عظیم اول (1914-18) کے بعد بین الاقوامی صورت حال بدل چکی تھی۔ نومبر1917ء میں لینن اور اس کے بالشویک ساتھیوں نے روس کی حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب پوری دنیا میں اشتراکیت کے لئے کام کرنے کی ذمہ داری سوویت یونین کے پاس آ گئی تھی۔ اس لئے لینن نے دنیا بھر میں کام کرنے والے سوشلسٹ راہنماؤں اور دانشوروں کو 2 تا 6 مارچ 1919ء کو ماس کو میں جمع کیا۔ اسی کانفرنس کے دوران سیکنڈ انٹرنیشنل کو ختم کر دیا گیا اور 2مارچ کو تھرڈ انٹرنیشنل کی تشکیل عمل میں آئی جسے پہلی کمیونسٹ انٹرنیشنل یا Comintern بھی کہا جاتا ہے۔ لینن اس کا پہلا سربراہ تھا۔ دنیا بھر میں ٹریڈ یونینز کو اشتراکی نظریات اور سوویت یونین کے مقاصد اور مفادات کے علاوہ براہ راست اشتراکی اثرات کو وسعت دینے کا کام اسی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے سپرد تھا۔

دی فورتھ انٹرنیشنل (The Fourth International)

تھرڈ انٹرنیشنل 1938ء تک کام کرتی رہی اور اسٹالن کی جابرانہ اور ’غیر اشتراکی‘ پالیسیوں کی مخالفت میں لیون ٹروٹسکی (Leon Trotsky) نے 1938ء میں چوتھی انٹرنیشنل قائم کی۔ ٹروٹسکی کا خیال تھا کہ فرسٹ کمیونسٹ انٹرنیشنل (Comintern) اب ناقابلِ اصلاح ہے اور سوویت بیوروکریسی کے تحت انقلاب دشمن رَوِش اختیار کر چکی ہے۔ اس لئے ایک نئی تنظیم کی ضرورت ہے۔ انہی خیالات کے زیرِ اثر اس نے فورتھ انٹرنیشنل قائم کی لیکن یہ تنظیم بھی خود ٹروٹسکی کے رفقاء کے باہمی اختلافات کے باعث کوئی پیشرفت نہیں کر سکی اور پھر کچھ انقلابیوں کے ذہن میں جو بالخصوص جنوبی امریکا سے متعلق تھے، ففتھ انٹرنیشنل کا تصور ذہن میں آیا۔ اس لئے نومبر 1938ء میں یعنی فورتھ انٹرنیشنل کے قیام کے صرف 2 ماہ بعد پانچویں انٹرنیشنل وجود میں آئی۔ جن لوگوں نے اس تنظیم کو قائم کیا، وہ ٹروٹسکی سے اختلافات کی وجہ سے 1941ء ہی میں علیحدہ ہو چکے تھے۔ اپنی ابتدائی کوششوں میں ناکامی کے بعد The Fifth International of Communist کے نام سے مختلف ناکام کوششیں کی گئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھرڈ انٹرنیشنل کے بعد اس قسم کی کوئی کوشش بھی زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس لئے کہ یہ تمام کوششیں سوویت یونین کی پالیسیوں کے خلاف ردِعمل کے طور پر کی گئی تھیں جن کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔

1990ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے نتیجے میں WFTU بھی بے حال اور بے سہارہ ہو گئی اور اب 10/11 سالوں کے سناٹے کے بعد ورلڈ سوشل فورم کے نام سے جو تنظیم بنی ہے وہ شاید فورتھ انٹرنیشنل (Fourth International) کی شکل اختیار کر لے۔ ورلڈ سوشل فورم (WSF) اپنی تشکیل (برازیل 2001) کے بعد سے اب تک آٹھ دس پروگرام کر چکی ہے۔ (اس تنظیم کی سرگرمیوں کی تفصیلات ہمارے پمفلٹ WSF-xrayed میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ (6)

لاتعلقی کے اسباب

درج بالا گزارشات کی روشنی میں چند امور بالکل واضح ہو گئے ہیں اور یہی امور ہیں جو ہمیں یکم مئی کو ’یوم مئی‘ اور ’یوم مئی‘ کو ’مزدوروں کا دن‘ (Labour Day) اور ’مزدوروں کے دن‘ کو ’قومی دن‘ قرار دینے میں مانع ہیں۔

یکم مئی کا ایک تہوار ہونا

اول یہ کہ 1890ء سے پہلے بالخصوص اور اس کے بعد بھی عیسائی دنیا اور بعض دوسرے مقامات پر یکم مئی ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ اسے باضابطہ طور پر محنت کشوں کا دن مقرر کرنے والوں نے بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان کے نظریات کے مطابق جب پوری دنیا میں نام نہاد انقلاب آ جائے گا تو یوم مئی پھر ایک تہوار کے طور پر منایا جائے گا۔ کیا مسلمانوں کے نزدیک اس جاہلانہ تہوار کی کوئی اہمیت اور حیثیت ہے؟ کیا اس پر کسی تبصرے کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ کیا وہ اس پوزیشن کو قبول کر سکتے ہیں؟

مزدوروں کا دن

دوم یہ کہ 1889ء میں سب سے پہلے ایک بین الاقوامی اشتراکی تنظیم سوشلسٹ انٹرنیشنل نے اپیل کی کہ یکم مئی ہر سال مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جائے۔ اس اپیل کے پیچھے جو ذہن کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ اس نعرے کی آڑ میں محنت کشوں کو اشتراکی مقاصد اور اہداف (Targets) کے حصول کیلئے استعمال کیا جائے اور ان کے اندر ’مزدور راج‘ کے نام پر اشتراکیت کے لئے نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔

صرف یکم مئی مزدوروں کا دن کیوں؟

سوم یہ کہ یکم مئی 1886ء کو شکاگو میں محنت کشوں پر جو ظلم ہوا ہے اس کی تفصیل میں جائے بغیر کہ اس میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کس قدر‘ محنت کشوں پر مظالم کے تو تاریخ میں کتنے ہی واقعات ہیں۔ ظلم ہمیشہ ہوتا رہا ہے،  کہیں کم کہیں زیادہ۔ برطانیہ میں 16 اگست 1819ء کو 11 محنت کش پولیس کے ظلم و تشدد اور بربریت کا نشانہ بنے تھے۔ ہم اس موقعے پر صرف 16/ اگست 1819ء کے سانحے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ قارئین خود اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آخر یہ سانحہ مزدور تحریک کی طرف سے احتجاج کا محرک کیوں نہیں بن سکا؟ درآں حالیکہ اس وقت منظم محنت کشوں کی جد و جہد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اور پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ برٹش ٹریڈ یونین کانگریس (British Trade Union Congress) وجود میں آ گئی۔

برطانیہ کے محنت کش جب اپنی منظم جد و جہد سے خاصی حد تک مایوس ہو گئے تو انہوں نے سیاسی اصلاحات کیلئے چلنے والی تحریکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ملک کے تمام صنعتی مقامات پر بڑے مظاہرے کئے اور بڑی بڑی ریلیز کا اہتمام کیا۔ اسی قسم کی ایک میٹنگ 16 اگست 1819ء کو سینٹ پیٹرز فیلڈز مانچسٹر میں منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں جو کچھ ہوا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کے معروف سیاسی دانشور جناب جی ڈی ایچ کول اپنی کتاب ’’برطانیہ کے محنت کشوں کی مختصر تاریخ‘‘ کے صفحہ نمبر 49 پر کہتے ہیں

 ’’مانچسٹر میٹنگ سیاسی اصلاحات کے حوالے سے ایک بہت بڑا مظاہرہ تھا۔ تمام شہادتیں اس پر متفق ہیں کہ وہ پرامن تھا اور اس کے شرکاء غیرمسلح تھے۔ مظاہرین جن کی تعداد 80 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، مانچسٹر کے گرد و نواح سے سینٹ پیٹرز فیلڈ میں جمع ہوئے۔ میٹنگ کے غیر قانونی ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ہنری ہنٹ (Henry Hunt) جو اس مظاہرے کے اصل مقرر تھے اور جن کیلئے ان کی پچھلی کسی تقریر کے حوالے سے گرفتاری کے احکامات موجود تھے، انہوں نے پیشکش کی کہ وہ مجاز اہلکاروں کے سامنے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن اہل اقتدار نے غیر معمولی راستہ اختیار کیا اور پہلے بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا، پھر رضاکار سواروں کی فوج کو حکم دیا کہ وہ جلسہ گاہ میں گھس جائیں اور ہنری ہنٹ کو تقریر کے دوران گرفتار کر لیں۔ اس اشتعال انگیزی کے باوجود مجمع نے فوجی دستے کو اندر جانے دیا اور ہنٹ نے اپنے آپ کو گرفتاری کیلئے پیش کر دیا۔ لیکن خاص اس مرحلے پر فوج نے مجمع پر ہلہ بول دیا اور لاٹھی چارج کا حکم دے دیا۔ مجمع میں شدید انتشار تھا۔ اسی دوران 11افراد جن میں 2خواتین اور ایک بچہ شامل تھا، گھڑ سوار فوج کا نشانہ بن گئے اور سیکڑوں کی تعداد میں لوگ بھگدڑ میں زخمی ہو گئے۔ غیرمسلح مظاہرین جدھر منہ اٹھا، بھاگ نکلے اور مرنے والے اور زخمی اسی حالت میں میدان میں پڑے رہ گئے۔‘‘

1970ء میں پولینڈ کی اشتراکی حکومت نے ایک ہی دن میں گڈانسک میں 49 محنت کشوں کو پرندوں کی طرح گولی کا نشانہ بنا یا تھا۔ محنت کشوں پر یہ مظالم جاپان‘ جرمنی‘ فرانس‘ روس‘ چین‘ ہندوستان اور پاکستان میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ کیا اب ظلم کے ہر واقعے کو یادگار کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جائے گا؟ اور اگر نہیں تو یکم مئی 1886ء ہی کیوں؟

یہاں خصوصیت کے ساتھ ہم برطانیہ میں ہونے والے متذکرہ واقعے کا تذکرہ ذرا تفصیل کے ساتھ کرنا چاہیں گے۔ اس واقعے کو G.D.H. COLE نے اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ برطانیہ میں ٹیکسٹائل ورکز کی 1818ء کی ہڑتال کے بعد محنت کشوں پر جو جبر و تشدد کیا گیا اس میں برطانوی پارلیمنٹ کی اصلاح کیلئے کام کرنے والے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے۔

اشتراکی انقلاب کیلئے محنت کشوں کو تیار کرنا

چہارم یہ کہ یوم مئی کو اس قدر اہمیت دینے کا اصل مقصد صرف امریکی سامراج کے خلاف جد و جہد نہیں ہے بلکہ اس کا حقیقی محرک یہ تھا کہ آہستہ آہستہ دنیا کے مختلف ممالک کے محنت کشوں کو کمیونسٹ انقلاب کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ امریکی سامراج اگر قابل مذمت ہے (اور بلا شک و شبہ ہے) تو اشتراکی سامراج قابل مذمت کیوں نہیں ہے۔ امریکی سامراج کی نام نہاد مذمت میں ہم اپنے محنت کشوں کو اشتراکی انقلاب کی گود میں کیوں دھکیل دیں؟ امریکی اور اشتراکی سامراج ہی کیا، ہمارے نزدیک ہر سامراج قابل مذمت ہے۔

’شہید‘ کے لفظ کا استعمال

اب ہم کچھ گفتگو بالخصوص مسلمان ممالک کے حوالے سے کرنا چاہتے ہیں۔

یوم مئی کے موقع پر ہر ذی شعور مسلمان اس بات کو شدت سے محسوس کرنے لگا ہے کہ یکم مئی کے دن ہلاک کئے جانے والے ٹام‘ ہیری اور جیک‘ شہداء کا درجہ کس طرح حاصل کر گئے؟ یہاں بھی اشتراکی حضرات کی وہی چال ہے کہ مسلمان محنت کشوں کے کانوں کو تسلسل کے ساتھ ’’شکاگو کے شہداء‘‘ کے الفاظ سے مانوس کرایا جائے۔ تاکہ ان کے اندر اس لفظ کی قبولیت کا ذہن تیار ہو جائے۔ حالانکہ اسلامی معاشرے میں ’شہید‘ ایک خاص اصطلاح ہے اور یہ صرف ان مسلمان افراد کے لئے مستعمل ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتے ہیں۔ اشتراکی دانشور حضرات کی ہمیشہ یہ حکمت عملی رہی ہے کہ اسلامی اصطلاحات کو مسخ کر کے ان کی اہمیت کو کم کیا جائے اور اس کے بار بار اور مسلسل استعمال سے یہ تاثر دیا جائے کہ جس مفہوم اور معنی میں وہ اسے استعمال کر رہے ہیں، وہی صحیح ہے۔ اگر یکم مئی کو شکاگو میں مارے جانے والے غیر مسلم دہشت گرد بھی شہداء کی صف میں شامل ہیں تو ہمیں بتلایا جائے کہ شہدائے بدر سے لے کر آج تک اسلام کی سربلندی کے لئے جان دینے والے مجاہدین کس صف میں کھڑے کئے جائیں گے؟ تقسیم برصغیر سے پہلے ہندوستان کی مزدور تحریک کے ہندو اور نام نہاد مسلمان دانشوروں نے اس اصطلاح کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور کوشش کی کہ اسے عوامی تائید و حمایت حاصل ہو جائے لیکن مسلمان محنت کش ان ’دانشوروں ‘ کے جال میں پھنسنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوم مئی کی تحریک کے قائدین کو کبھی مسلمان محنت کشوں کی کھلی تائید و حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

یوم مئی کے سلسلے میں ان تفصیلات کے بعد مزید کہنے کی گنجائش اب کم ہی محسوس ہوتی ہے لیکن ہمیں ان اسلامی تنظیموں اور ان اسلامی ممالک کے حکمرانوں پر حیرت ہوتی ہے جو یوم مئی پر اسلام کی عظمت اور اسلام کی تعلیمات کی بات کرتے ہیں۔ حالانکہ ’یوم مئی‘ پوری دنیا میں ایک مخصوص نظریئے کی علامت بن چکا ہے،  لہٰذا اگر کوئی مستند عالم دین بھی یوم مئی کو اسلامی تعلیمات سے جوڑنے کی کوشش کرے گا تو اس کا سارا کریڈٹ سوشلسٹ نظریات اور سوشلسٹ کیمپ ہی کو پہنچے گا۔ اسی لئے ہم یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ اس ملک سے اس سلسلے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے اور ایک ایسے دن کا انتخاب کیا جائے جس کے حوالے سے نہ صرف مسلم دنیا کے محنت کشوں کو بلکہ پوری عالم انسانیت کو حقیقی امن اور سکون کا پیغام دیا جا سکے۔

یوم مئی میں صرف سوشلسٹ معاشرے (8) کے قیام کا پیغام ہے حالانکہ وہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں مزدوروں اور کسانوں پر ان کی اپنی حکومت کے نام پر استحصال ہوتا ہے۔ ایک ایسے بے زبان انسانوں کا معاشرہ جو محض پارٹی کے مراعات یافتہ گروہ کے مفادات کے لئے کام کرتا ہو۔ اشتراکی معاشرے کے بنیادی نکات پر ہم نے کتاب کے اگلے صفحات پر گفتگو کی ہے۔ وہ ایسے نکات ہیں کہ ان میں سے کسی ایک نکتے کو نکال دینے سے مارکسزم کے اصولوں پر کھڑی کی جانے والی عمارت نہ ایک دن کے لئے قائم رہ سکتی ہے اور نہ معاشرے کو اس ظلم و استبداد سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے جو اس نظام کی فطرت ہے۔

یوم مئی پر ہمارے مؤقف کے خلاف اعتراضات

یوم خندق پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے ہم ان اعتراضات کا جواب دینا چاہتے ہیں جو مختلف حلقوں کی طرف سے ہمارے مؤقف پر ہوتے رہے ہیں۔

کسی مزدور تنظیم کے استحقاق کا مجروح ہونا

اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کسی بھی مزدور تنظیم کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ یکم مئی کو ’یوم مئی‘ کے طور پر منائے،  پروگرام منعقد کرے اور جلسے جلوس کا اہتمام کرے۔

یہ بات ہمارے موقف سے ناواقفیت کی وجہ سے کہی جاتی ہے۔ ہم نے اس موضوع پر گزشتہ صفحات میں جو گزارشات کی ہیں اس کے باوجود اگر کوئی تنظیم ’یوم مئی‘ کی ’تقدیس‘ کا دم بھرتی ہے تو اسے مبارک ہو۔ البتہ ہم جس بات کو ناقابل قبول کہتے ہیں وہ یکم مئی کو قومی دن قرار دے کر سرکاری چھٹی کرنے کا معاملہ ہے۔ ہمارے نزدیک یکم مئی پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قومی دن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسا کرنا نظریہ پاکستان سے ریاستی انحراف (State Deviation) کے مترادف ہے۔ اگر آپ قومی دنوں کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یکم مئی کی چھٹی ’مخمل میں ٹاٹ‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری چھٹیوں (Public Holidays) میں سے ہر چھٹی کا کوئی نہ کوئی قومی‘ دینی اور نظریاتی پس منظر ہے لیکن یکم مئی کی چھٹی ایک اجنبی نظریہ (Stranger Ideology) کی عکاس ہے۔ سرکاری چھٹیوں کی فہرست دیکھ کر آپ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

عام تعطیلات (Public Holidays) میں ۲۳ مارچ، ۱۴ اگست، ۹ نومبر، ۲۵ دسمبر، ۱۲ ربیع الاول، ایام عاشورہ، عید الفطر، عید الاضحی کی سرکاری چھٹیاں شامل ہیں۔ ان سرکاری چھٹیوں میں ہر ایک کی اپنی توجیہ موجود ہے جسے عام مسلمان بھی پوری طرح سمجھتا ہے اور اس پر اس کا اطمینان ہوتا ہے۔ ان چھٹیوں کی فہرست میں ’یکم مئی‘ قومی دن کے طور پر کہاں فٹ ہوتا ہے؟ قارئین خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ یکم مئی کو سرکاری چھٹی منانا اور اسے قومی دن کے طور پر تسلیم کرنا ریاستی انحراف (State Deviation) ہے جس کا فوری طور پر سد باب ہونا چاہئے۔

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یکم مئی کو عام تعطیل نہ کرنے سے ہم بین الاقوامی برادری سے کٹ جائیں گے۔

یہ نہایت کمزور بات ہے۔ اول تو ہمارا اصولی موقف یہ ہونا چاہئے کہ اپنی نظریاتی قدروں کی قیمت پر ہم کسی دوسری بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور اسی موقف پر ہماری حکومتوں کو اپنی پالیسی بنانی چاہئے۔ لیکن یکم مئی کو سرکاری چھٹی کرنے کے حوالے سے نہ اقوام متحدہ کا کوئی تعلق ہے،  نہ آئی ایل او کا اور نہ ہی ملک کی کسی قومی مزدور فیڈریشن کا، نہ ہی کسی بین الاقوامی مزدور تنظیم سے اس کے الحاق کا۔ یہ ہر ملک کی حکومت کا اپنا فیصلہ ہے۔ قائد اعظم، لیاقت علی خان یا خواجہ ناظم الدین نے یکم مئی کو سرکاری چھٹی کا فیصلہ نہیں کیا۔ کیا کہیں سے کوئی اعتراض آیا؟ بھٹو صاحب نے اپنی سیاسی ضرورت کے تحت یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس کا کسی طرف سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اس سلسلے میں کبھی کوئی قرار داد منظور کی‘ اور ہمیں یقین ہے کہ اگر خود بھٹو صاحب کو کسی ایسے وقت حکومت ملتی کہ مشرقی پاکستان کا المیہ نہ ہوا ہوتا تو شاید وہ بھی اس طرف کا رخ نہ کرتے۔

ایک اور نکتہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر کچھ مسلمان ممالک میں یکم مئی کو سرکاری طور پر مزدوروں کا دن منایا جا سکتا ہے تو پاکستان میں اسے قومی دن قرار دینے میں کیا رکاوٹ ہے؟

یہ ’نکتہ‘ در اصل ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس دلیل میں جتنا کچھ وزن ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ ہم اس ضمن میں اتنا کچھ ہی کہنا چاہیں گے کہ پہلے یہ بات طے کر لیجئے کہ پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے کون سا مسلمان ملک رول ماڈل (Role Model)کی حیثیت رکھتا ہے (10) اور پھر دیکھئے کہ کیا وہاں یکم مئی کو سرکاری حیثیت حاصل ہے؟ ہمارے ’’نکتہ وروں‘‘ کی طرف سے بھی کسی ملک کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے کہ ہم اس پر کچھ بات کر سکیں۔ البتہ ہمارے علم میں ایسے مسلمان ممالک ہیں جہاں یکم مئی کی عام تعطیل کا رواج ہے۔ وہ ملک روسی اثرات‘ سیکولر مزاج‘ آمرانہ نظام اور انتہائی ظالمانہ طرز عمل کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ وہاں عام مسلمانوں کی رائے کا کوئی احترام نہیں۔ اس لئے وہاں کی حکومتوں کے فیصلوں کی کوئی دینی حیثیت نہیں۔ اگر عراق اور شام کی بعث حکمراں پارٹیاں،  صدام حسین اور حافظ الاسد کی قیادت میں یکم مئی کی سرکاری چھٹی کا فیصلہ کریں تو کیا عجب! ان ممالک میں تو آزاد ٹریڈ یونین تحریک ہی کا تصور نہیں ہے۔ ایک ہی قومی فیڈریشن ہوتی ہے جو حکومتی پالیسیوں اور پروگراموں کی تائید اور حمایت کے لئے کھڑی کی جاتی ہے۔ بہرحال یہ ممالک پاکستان کے لئے Role Model کی حیثیت نہیں رکھتے۔ پاکستان نظریاتی اعتبار سے ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں قومی دن کے تعین کے لئے نظریاتی تقاضوں کا لازماً لحاظ رکھا جائے گا۔

ایک اور بڑی دلچسپی کی بات ہمارے موقف کے حوالے سے کہی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یوم مئی کی تحریک کی مخالفت میں سابقہ سوویت یونین کو تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے جبکہ 1886ء یا 1890ء میں سوویت یونین کا وجود ہی نہیں تھا۔

اس موضوع پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اس میں کسی کو بھی کوئی الجھن محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ ہماری اصل مخالفت نظریاتی اور اصولی ہے۔ اس میں کسی ملک کے خلاف دشمنی کا کوئی جذبہ کارفرما نہیں ہے۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ یوم مئی کی تحریک چلی ہی اشتراکی نظریات کے فروغ اور اشتراکی معاشرے کے قیام کے لئے تھی۔ اور حادثے کے طور پر ہی صحیح‘ لیکن پہلا ملک جو اشتراکیت کے نام پر وجود میں آیا وہ روس تھا جس نے اپنا نام ’یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک‘ (USSR) رکھا اور جس نے یوم مئی کی تحریک کے نظریات کو نہ صرف قبول (Own) کیا بلکہ پوری دنیا میں اس کا علمبردار بن گیا۔ ہمارے علم کے مطابق یکم مئی کی سرکاری تعطیل بھی سب سے پہلے سوویت یونین ہی میں ہوئی۔ اس لئے یکم مئی یا یوم مئی کی تاریخ کے حوالے سے جب بھی گفتگو ہو گی تو بات لازماً سوویت یونین تک پہنچے گی۔

 ؎ بات پہنچی تری جوانی تک

یہی نہیں بلکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ ’’تاریخ کی سب سے پہلی مزدور دوست حکومت‘‘ نے مزدوروں کی کیا گت بنائی اور یہ کہ پھر خود مزدوروں ہی کے ہاتھوں اس کی کیسی کچھ دھُنائی ہوئی اور کیوں؟ جو لوگ اب بھی یوم مئی کی تحریک کے ترجمان بننا چاہتے ہیں،  انہیں یہ سب کچھ تو سننا ہی پڑے گا۔

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

سرمایہ دارانہ نظام۔ اصل فتنہ

یکم مئی پر ہمارے موقف کے سلسلے میں ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ یکم مئی کے ساتھ اشتراکی تحریک کے تعلق (Linkage) کو اگر درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو اب یہ ایک Dead Issue ہے۔ نہ اشتراکیت باقی ہے اور نہ بین الاقوامی اشتراکی تحریک۔ سوویت یونین اپنے نظریئے اور نظام کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ نہ اب دنیا میں اس اشتراکیت کا کوئی وجود ہے جس کی بنیاد روس میں لینن نے ڈالی تھی اور نہ دور دور تک اس کا کوئی امکان ہے۔ اس لئے اس پر اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہم اس سوچ میں وزن محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل فتنہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کا ہے جس نے سرمایہ پرستی اور زرپرستی کی شکل اختیار کر لی ہے اور پوری دنیا میں بندگانِ خدا کو غربت، مفلسی، بے روزگاری اور جہالت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

اس ابلیسی نظام کے خلاف اہل اسلام ہر جگہ برسرپیکار ہیں۔ اس کے خلاف جنگ میں ہر ایک کو ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے اور ہر ایک کے ساتھ چلا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بہرحال نہیں ہو سکتا کہ ہمارا محنت کش اس نظام کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے کسی اور جال یا جنجال میں پھنس جائے۔ ہماری فوری دلچسپی بہرحال پاکستان کے معاملات سے ہے اور ہم اس سلسلے میں رائے عامہ کو اس حد تک تیار کرنا اور متحرک کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کو مجبور کر دیں کہ پاکستان میں اگر ’لیبر ڈے ‘ کے طور پر کوئی عام چھٹی ہو گی تو وہ ’یوم خندق‘ کے نام پر ہو گی۔۔ ۔ ’یوم مئی‘ کے نام نہیں۔ اس لئے کہ ’یوم خندق‘ تو ہمارا قومی دن ہو سکتا ہے، ۔۔ ۔ یوم مئی کسی طور نہیں۔

یوم خندق۔ اسلامی طرز حکمرانی کا علامتی اظہار

’یوم خندق‘ پر گفتگو سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ اصطلاح اصلاً ’غزوۂ خندق‘ سے مستعار ہے جو شوال 5 ہجری کو لڑی گئی۔ ’یوم خندق‘ ایک علامتی انتخاب ہے۔ اصل چیز وہ اسلامی معاشرہ ہے جس کو بچانے کے لئے یہ جنگ لڑی گئی تھی۔ اس غزوہ کے چند امور خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور وہ ایسے امور ہیں جو اسلام کے طرز حکمرانی کی بڑی واضح اور کھلی غمازی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس غزوہ میں اسلامی ریاست کے سربراہ کے طور پر شریک تھے اور ہر غزوہ میں آپ کی یہی حیثیت ہوتی تھی۔ آپؐ اسی ریاست اور معاشرے کے قیام کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔ اس غزوے میں آپ کا پورا طرز عمل اُس اسلامی ریاست اور اسلامی اقتدار کے سربراہ کے طرز عمل کا نمونہ تھا جس کی دعا آپؐ نے ہجرت سے پہلے مانگی۔ جو سورۂ بنی اسرائیل میں تا قیامت محفوظ رہے گی۔

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا (بنی اسرائیل80)

ہم اس موقع پر اس آیت کا جو ترجمہ و تفسیر سیدمودودیؒ نے اپنی تفہیم القرآن میں بیان فرمائی ہے اسے اپنی کتاب کی زینت بنانا چاہتے ہیں۔

ترجمہ: ’’اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا، سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال۔ اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔‘‘

تفسیر: ’’یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنادے تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں۔ فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کر سکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ نے کی ہے۔ اور سی کو ابن جریر اور ابن کثیر جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ اور اسی کی تائید نبیﷺ کی یہ حدیث کرتی ہے کہ (ترجمہ) ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کر دیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے، وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کیلئے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جبکہ یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدو اللہ کیلئے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیاپرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیاپرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لئے حکومت کا طالب ہو۔ رہا اللہ کے دین کیلئے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ اللہ پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ اگر جہاد کیلئے تلوار کا طالب ہونا گناہ نہیں تو احیائے شریعت کیلئے سیاسی اقتدار کا طالب ہونا آخر کیسے گناہ ہو جائے گا؟‘‘ (تفہیم القرآن، جلد 2، صفحہ 638)

اول: اس غزوہ میں آپ نے اپنے صحابہ کرامؓ کے ساتھ جو اسلامی ریاست کے عام شہری تھے،  اپنے دست مبارک سے خندق کھودنے کا کام سرانجام دیا اور اس حوالے سے مشکل ترین کام اپنے ذمے لیا۔ یہ در اصل ایک پیغام تھا کہ ذمہ داریوں کے حوالے سے اسلامی ریاست کے سربراہ کی کیا پوزیشن ہوتی ہے اور یہ کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنا کس قدر باسعادت اور مبارک کام ہے۔ آپ نے ہمیشہ اپنے حصے کا کام خود کیا۔

دوئم: اسی غزوے کے دوران جب ایک ایسا موقع آیا کہ آپ کے ساتھی کھانے کی اشیاء سے مسلسل محرومی کے باعث شدید تکلیف محسوس کرنے لگے تو ان میں سے کچھ حضرات نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے اپنی تکلیف کا اظہار کیا اور شدت اضطرار میں اپنے پتھر بندھے پیٹ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دکھلائے۔ یہ وہ حالت تھی کہ اگر ان صحابہ کو عین الیقین کی حد تک اس بات کا اطمینان نہ ہو جاتا کہ مدینے کی اسلامی ریاست کا سربراہ ان سے زیادہ تکلیف میں ہے تو عین میدان جنگ میں ابتری پھیل جاتی۔ حالانکہ صحابہ کرام آپ کو کسی تکلیف میں دیکھنا گوارا نہیں کر سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ کے حصے کی تمام تکالیف کو خود برداشت کر لیں لیکن جب انہوں نے بچشم سر دیکھ لیا کہ بھوک کی شدت سے آپ کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے ہوئے ہیں تو پھر گلہ، شکوہ اور تکلیف کا کیا موقع؟ یہ آپ کا معمول کا طرز عمل تھا اور حقیقت یہ ہے کہ یہی طرز عمل کسی منظم معاشرے اور اجتماعی زندگی میں عوام کی سطح پر اعتماد اور یکسوئی پیدا کرنے اور انہیں حکومت کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔ کسی پالیسی کے طور پر نہیں بلکہ ایک فرض کے طور پر۔ یہی شفاف طرز عمل آپؐ کا بھی تھا اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی خلافت کے سربراہ کی حیثیت سے اسی طرز عمل کو اختیار فرمایا۔

سوئم: غزوۂ خندق کے موقع پر یہ طرز عمل اپنی روح کے اعتبار سے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرنے کے مترادف تھا۔ ’شفاف احتساب‘ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کا طرہ امتیاز رہا ہے اور سربراہ ملک و حکومت کا کھلا احتساب سب سے پہلے ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیشہ اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش فرماتے تھے۔ حالانکہ اس کی قطعاً کوئی ضرورت تھی نہ گنجائش۔ ’’تابہ دیگراں چہ رسد‘‘۔ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ در اصل حقیقی احتساب ہی اسلامی حکومت اور ملوکیت کے درمیان خط امتیاز ہے۔

چہارم: ایک نہایت اہم اصول جس کا اس موقع پر بھرپور انداز میں مظاہرہ ہوا، اجتماعی امور میں با مقصد مشاورت کا ہے۔ مدینے کے دفاع کے لئے خندق کھودنے کا مشورہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیا تھا جسے آپ نے منظور فرما لیا۔ اجتماعی معاملات کو مشورے سے چلانا ایک قرآنی حکم ہے۔ حکم مشورہ لینے کا نہیں،  بلکہ مشورے سے معاملات چلانے کا ہے،  اور دونوں میں بڑا فرق ہے۔ جن معاشروں میں فی الواقع حقیقی مشاورت کا نظام ہوتا ہے،  وہیں معتبر اور باصلاحیت لوگ آگے آتے ہیں۔ عوامی اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوتا ہے اور صلاحیت (Merit) کے نظام کو تقویت ملتی ہے۔

جیسا کہ پہلے کہا  جا چکا ہے کہ 8 ذیقعدہ کا ’یوم خندق‘ کے طور پر انتخاب‘ ایک علامتی اظہار ہے۔ اصل مقصد اسلامی ریاست کا قیام اور اسلامی معاشرے کا تحفظ ہے۔ اس سلسلے میں ہم یہ بات کہنا چاہیں گے کہ اگر دنیا کی پوری مزدور تحریک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو جو بات سب سے زیادہ نمایاں نظر آئے گی وہ ایک ایسے نظام کے قیام کی جستجو اور جد و جہد ہی ہے جس میں محنت کش کو عزت اور عام شہری کے مساوی حیثیت حاصل ہو سکے۔ محنت کش کا مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اسے ملازمت ملے،  ملازمت کا تحفظ حاصل ہو، اسے معقول اجرت دی جائے،  اس کے اوقات کار اس کیلئے بوجھ نہ بن جائیں،  اس کے لئے چھٹیوں،  آرام اور سوشل سیکوریٹی کی سہولت موجود ہو بلکہ ان سب سے پہلے وہ اپنے معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے اور عام شہری کی طرح یہ چاہتا ہے کہ اس معاشرے میں اس کا مال، اس کی جان، اس کی عزت اور آبرو محفوظ رہے۔ اسی معاشرے کے قیام کیلئے حکومتوں کا قیام عمل میں آتا ہے۔ اس لئے مدینے کی اسلامی ریاست در اصل عام انسان کی کسی خواہش اور ضرورت کا جواب تھی۔ اگر اسلامی معاشرے کا کوئی یک نکاتی ایجنڈا ہو سکتا ہے تو اسے اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

کس نہ باشد دَر جہاں محتاجِ کس

محنت کش کے اس ایک نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے شاعر بات کو یوں مکمل کرتا ہے:

کس نہ باشد در جہاں محتاجِ کس

شرحِ دینِ مبیں ایں است و بس

(اسلام کی تشریح محض یہ ہے کہ دنیا میں کوئی شخص دوسرے شخص کا محتاج نہ ہو)

اسلام کی اسی سوچ، فکر، فلسفہ و تعلیم کی بنیاد پر مدینے کی اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ ایسی ریاست اور معاشرے کا قیام ہی ایک عام انسان بلکہ ٹریڈ یونین تحریک کی طلب، جستجو اور جد و جہد کا ایجنڈا بن سکتی ہے۔

غزوہ خندق استحصال سے پاک معاشرے کے تحفظ کی جنگ تھی

اس موضوع پر ہم نے اپنی کتاب کے پہلے ایڈیشن میں لکھا تھا کہ:

 ’’یوں تو نبی اکرمؐ نے محنت کے ذریعے روزی کے حصول کی ہمیشہ ہمت افزائی فرمائی اور سوال کرنے کی ذلت سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ آپ نے خود بکریاں چَرانے سے لے کر مسجد نبوی کی تعمیر تک اپنے ہاتھ سے کام کر کے محنت کی عظمت کو اجاگر کیا لیکن جو اسوہ آپ نے جنگ خندق کے موقع پر قائم فرمایا وہ ایک طرف محنت کے تقدس اور احترام کی عظمتوں کا امین ہے تو دوسری طرف اس میں اسلامی معاشرے کے شاہکار اصول پنہاں ہیں۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 22-20 روز تک خندق کھودنے کا کام سرانجام دیا تاکہ سرداران قریش اور قیصر و کسریٰ کے ایجنٹوں کی اس جارحیت کو شکست دی جا سکے جو چار پانچ سال قبل قائم ہونے والی اسلامی ریاست کے خلاف منظم حملے کی صورت میں سامنے آ چکی تھی۔ اس اسلامی ریاست نے آخر کیا قصور کیا تھا؟ بس بندگان خدا کا ایک نیا معاشرہ قائم کیا تھا جو انسان کے ہاتھوں انسانوں کے استحصال سے پاک تھا۔ جس میں مراعات یافتہ گروہوں کے وجود کو ختم کر دیا گیا تھا۔ جو محنت کر کے رزق حلال کمانے والے ایثار پیشہ اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے بندگان خدا کا معاشرہ تھا‘ جو اپنے رب کی بندگی کرنے والوں،  سچ بولنے والوں،  امانتوں کی حفاظت کرنے والوں اور چادر اور چہار دیواری کا پاس و لحاظ کرنے والے انسانوں کا معاشرہ تھا۔ انسانوں کے ایسے معاشرے کا قیام ہی تو محنت کشوں اور مستضعفین کا نصب العین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قیادت میں مدینہ منورہ میں قائم ہونے والا ایسا ہی معاشرہ جو 13 سال کی شبانہ روز محنت اور تاریخ انسانی کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا آج 8 ذیقعدہ 5 ہجری کے دن باطل اور استحصالی قوتوں کی منظم جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مفاد پرست، مراعات یافتہ اور جاہلیت کے علمبردار آج آسمان کے نیچے استحصال سے پاک واحد معاشرے کے خاتمے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اسی معاشرے کو بچانے کے لئے دنیا کا سب سے زیادہ معزز، محترم اور سچا انسان اپنے مخلص اور انتہائی دیانت دار ساتھیوں کو لے کر جارحیت کے مقابلے کے لئے میدان میں موجود تھا۔ قرآن کے کردار میں ڈھلا ہوا انسان، قرآن کے کردار میں تشکیل پانے والے معاشرہ کے تحفظ کے لئے خندق کی کھدائی میں مصروف تھا۔،،

پیٹ پر پتھر باندھنے کا واقعہ اور اس کی اہمیت

جس اسلامی معاشرے کے تحفظ کی خاطر نبی اکرمؐ اپنے معزز اور محترم ساتھیوں سمیت آج حفاظتی خندق کھودنے میں مصروف تھے اس کی بہت سی خصوصیات سے قطع نظر اس کی ایک اہم خصوصیت کا مظاہرہ اس جنگ خندق کے دوران ہوا تھا۔ تاریخ کا ہر طالب علم اس بات سے واقف ہے کہ خندق کی کھدائی کے دوران جب بعض صحابہ نے نبی اکرم سے بھوک کی شدت کا تذکرہ کیا اور پیٹ کے پتھر بندھے ہوئے دکھائے تو چشم فلک نے دیکھا کہ صحابہ کرام کے ایک پتھر کے مقابلے میں آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب یہ صورت حال دیکھتے تھے کہ ان کا قائد، سپہ سالار اور اسلامی ریاست کا سربراہ صبر و سکون کے ساتھ ان سے کہیں زیادہ تکلیف و مشقت برداشت کر رہا ہے تو لوٹ جاتے تھے اور جارحیت کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی اور استقلال میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا تھا۔ (11)

 نبی اکرم کا یہ طرز عمل قرآنی کردار کی ترجمانی کرتا تھا۔ آپ جو سوسائٹی اور معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے اس کا ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ ’’سید القوم خادمھم‘‘ (قوم کا سردار اُس کا خادم ہوتا ہے ) یہی اصول آپ کے بعد خلفائے راشدین کے طرز حکمرانی کی بنیاد بنا رہا اور جب اس رہنما اصول سے انحراف کیا گیا تو ملوکیت اہل اسلام کا مقدر بن گئی اور اسلام کے نام پر مسلمانوں کا استحصالی معاشرہ وجود میں آ گیا۔

خلافت و ملوکیت کا فرقِ جوہری

یوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کا ہر دن اور ہر واقعہ مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔ اس لئے کہ اسی نمونے کی پیروی میں انسانوں کی فلاح ہے لیکن خندق کا واقعہ اور اس موقع پر نبی اکرمؐ کا طرز عمل اجتماعی عدل و انصاف کے لئے ایسا رہنما اصول فراہم کرتا ہے جو تمام اقتصادی اور معاشرتی خرابیوں کا شافی و کافی علاج ہے۔ آپ کا طرز عمل صرف جنگ خندق کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ کی پوری زندگی اس طرز عمل سے بھرپور ہے۔ تنظیموں،  حکومتوں اور ریاستوں کے سربراہ مراعات اور سہولتوں کے حوالے سے بہت اہم شخصیت (VIP)شمار ہوتے ہیں اور ان کی زندگیاں عام لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آرام دہ گزرتی ہیں۔ اہل اقتدار سرکاری خزانے کو اپنی میراث سمجھ کر اس کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ چاہے دور جاہلیت میں قیصر و کسریٰ کی حکومتیں ہوں یا دور جدید کی جمہوری اور آمرانہ حکومتیں،  سرکاری خزانے کے ساتھ سب کا طرز عمل ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ نبی اکرمؐ کے پیٹ پر دو پتھر باندھنے والی سنت نے جو معجزہ دکھلایا ہے اس کا مظاہرہ خلفاے راشدین کے دور حکومت میں نظر آئے گا۔ در اصل اسی سنت کی پیروی کے باعث پہلے چار خلفاء کی حکومت کو خلافت راشدہ کا مرتبہ حاصل ہوا ہے اور اسی سنت کے ترک کر دینے پر بعد کا دور ملوکیت کا دور شمار ہوتا ہے۔

ہمارے مسائل کا حل

خود ہمارے معاشرے کو آج جو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ اہل اقتدار ملکی وسائل اور قومی خزانے کے معاملے میں اہل ہوس بن کر رہ گئے ہیں۔ اصول یہ بن گیا ہے کہ مشکلات اور تکالیف کے لئے عوام‘ جبکہ مراعات اور سہولتوں کے لئے قائدین اور اہل اقتدار۔ اس اصول سے نہ صرف یہ کہ حکمرانوں اور عوام کے درمیان تلخیاں پیدا ہوتی ہیں اور عدم تعاون کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہو جاتی ہے بلکہ عوام روز بروز ٹیکسوں کے زیر بار ہو جاتے ہیں اور پھر رہی سہی کسر قیمتوں میں اضافے سے پوری ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے قائدین اور اہل اقتدار کا مراعات یافتہ گروہوں کی شکل میں ڈھل جانے سے پورا ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔ جب عام لوگ اپنے مسائل کی بات کرتے ہیں،  اور ساتھ ہی اپنے لئے کچھ سہولتوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو ملک کے غریب ہونے کا نعرہ بلند کر دیا جاتا ہے لیکن اہل اقتدار کے رہنے سہنے،  کھانے پینے اور چلنے پھرنے سے غربت کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ غربت و آلام کے اس سمندر میں آسائشوں اور عیاشیوں کے جزیرے دیکھ کر یہ احساس شدید ہو جاتا ہے کہ ’یوم خندق‘ کی سنت کو زندہ کرنے کے لئے جہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے اس غیر اسلامی معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانے کے لئے نہ جانے کتنا سفر ابھی اور طے کرنا ہے۔ جب تک ’پیٹ پر پتھر باندھنے کی سنت‘ کو مسلمان معاشرے کی اجتماعی زندگی کا کارفرما اصول نہیں بنا لیا جاتا، نہ محنت کی عظمت کا کوئی امکان ہے،  نہ استحصال سے چھٹکارہ ممکن ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو دنیا میں کوئی عزت و وقار حاصل ہو سکتا ہے۔

آئیے! آج کے دن ہم اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں استحصال سے پاک ویسا ہی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے جو نبی کریمؐ اور خلفائے راشدین نے قائم کیا تھا۔ اس معاشرے کو ہر قسم کی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے اور اہل اسلام کو دنیا میں عزت و وقار دلائیں گے کہ اسی میں محنت کشوں کی عزت اور وقار ہے۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ کسی مسلمان مرد و عورت کا کوئی کام اور کوئی عمل چاہے وہ کسی قدر حلال و محترم ہو اس وقت تک معتبر نہیں ٹھہرتا‘ جب تک وہ اسلامی معاشرے کے قیام اور بعد از قیام اس کے تحفظ کے لئے بالارادہ کوشش نہ کرے۔

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

یوم خندق کا اصل پیغام

پچھلے صفحات میں ہم نے جو کچھ کہا ہے،  اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ’یوم خندق‘ کا اصل پیغام ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جس میں مراعات یافتہ گروہوں کے پیدا ہونے کے امکانات کو ختم کر دیا جائے۔ اس کا طریقہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ مسلمانوں کے معاشرے میں ہر سطح پر ایسی قیادت اوپر آئے جو مراعات اور سہولتوں کی دلدادہ نہ ہو بلکہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تکالیف اور مشقتیں برداشت کرنے والی ہو۔ جو سرکاری خزانے اور وسائل کو اپنے پاس لوگوں کی امانتیں سمجھے اور انہیں اللہ کے سامنے جوابدہی کے تصور سے اس طرح استعمال کرے جیسے نبی اکرمؐ نے انہیں استعمال کرنے کی تعلیم دی ہے اور جس طرح خلفائے راشدین نے انہیں استعمال کر کے بتلایا تھا‘ جو اپنے آپ کو بڑی شخصیت (VIP) سمجھنے اور اسی حوالے سے غیر معمولی سہولتیں اور مراعات حاصل کرنے کے بجائے سید القوم خادمہم (قوم کا سردار اُس کا خادم ہوتا ہے) کا عملی نمونہ پیش کرے اور پھر بھی اس تصور سے لرزاں رہے کہ قیامت کے دن اگر اللہ کی طرف سے باز پرس ہو گئی تو مارے گئے۔ ایسی قیادت جو اپنی حدود مملکت میں عام انسان کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو شب بیداریوں پر مجبور پائے اور دریائے فرات پر بھوک سے ہلاک ہو جانے والی بکری کا اندیشہ ہی اسے پریشان کر کے رکھ دے۔ جو سرکاری خزانے پر اپنے لئے ایک عام مزدور سے زیادہ کے حق کا تصور ہی نہ رکھتا ہو اور جب سرکاری خزانے اور قومی دولت کے تقسیم کرنے کی ذمہ داری اسے سونپی جائے تو القاسم’‘ محروم’‘ (تقسیم کرنے والا محروم رہتا ہے) کا عملی نمونہ بن جائے۔ اسلامی معاشرہ اور اسلامی ریاست تو ایسے ہی حکمرانوں کا تصور پیش کرتی ہے۔ یہی ’یوم خندق‘ کا پیغام ہے۔ اسی پیغام کی روح کو پوری طرح سمجھ کر ہی تو علامہ اقبال نے کہا تھا:

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب

سلطنت اہل دل‘ فقر ہے شاہی نہیں

جب ایسی حکومت قائم ہو گی، اور جب ایسا معاشرہ قائم ہو گا تب ہی عام لوگوں کے لئے وسائل میسر آئیں گے،  محنت کشوں کے مسائل حل ہوں گے،  بے چینیوں کا مستقل اور مستحکم حل نکلے گا۔ اس لئے کہ مسائل اور بے چینیوں کے اسباب کارخانوں اور دفاتر میں نہیں پورے معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ عدل اور انصاف پرور معاشرے کے اندر کام کرنے والے کارخانے اور تجارتی ادارے ہی محنت کشوں کے سکون اور اطمینان کے گہوارے بن سکتے ہیں۔

ہماری ذمہ داری

ایسی صورت میں ہماری ذمہ داری ہے کہ:

(1    ملک کا محنت کش استحصال سے پاک اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے جہاد کرے اور اسے اپنی دوسری مصروفیات پر ترجیح دے۔

(2    پاکستان کے اندر اسلامی معاشرے کے قیام اور اس کے تحفظ کے لئے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کو پوری یکسوئی‘ دیانت داری اور لگن سے کیا جائے۔

(3    حکومت کے ذمہ داران اپنے اپنے مناصب کے لحاظ سے نبی اکرمؐ کی سنت کا اتباع اور خلفائے راشدین کے طرز حکومت کی پیروی کرتے ہوئے لوگوں کے لئے اپنی اپنی جگہ نمونہ بنیں تاکہ پوری قوم ایثار، قربانی، محنت اور مشقت کی جیتی جاگتی تصویر بن جائے اور ہر جگہ سے مراعات یافتہ گروہوں کا خاتمہ ہو جائے،  یہ ملک اور یہاں کے عوام ہر قسم کے بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔ اس لئے ’یوم خندق، کا اصل پیغام اسلامی ریاست کے حکمرانوں ہی کے لئے ہے۔ عوامی نمائندوں کی بالخصوص یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکمرانوں کا اسی حوالے سے احتساب کرتے رہیں۔

ہم اس بات کو یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم ایک مرتبہ پاکستان میں ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہاں سے ہر قسم کے تعصبات کے بادل چھٹ جائیں گے،  نفرتوں کی دیواریں گر جائیں گی، طبقاتی تقسیم ختم ہو جائے گی، عدل و انصاف کا بول بالا ہو گا، ظلم، نا انصافی اور استحصال کا منہ کالا ہو گا۔

اعتراضات

’یوم خندق‘ کے موضوع کے حوالے سے ہمارے موقف پر دو عجیب و غریب اعتراضات کئے گئے ہیں:

پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ آپ ہر جگہ اسلام کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر یکم مئی کو سرکای چھٹی ہوتی ہے تو ہوا کرے۔ اس کی جگہ 8ذیقعدہ کیوں آئے؟ ’یوم مئی‘ کی بجائے ’یوم خندق‘ ہماری تحریک کا محرک کیوں بنے؟

’یوم مئی‘ کے نام پر اشتراکی معاشرے کے قیام کی تحریک جائز لیکن ’یوم خندق‘ کے عنوان کو اسلامی معاشرے کے قیام کی تحریک کا محرک قرار دیا جائے تو یہ قابل اعتراض۔ ملک میں بسنت کا تہوار منایا جائے،  میرا تھن ریس (Marathon Race) کا اہتمام ہو یا ویلنٹائن ڈے (Valentine Day) کا جشن… ہمارے معترضین ’چشم ما روشن دل ما شاد‘ کی کیفیت سے سرشار ہوں گے اور اگر معزز معترضین سے یہ گزارش کی جائے کہ کسی تقریب‘ جشن یا میلے کی چھٹی کے اہتمام سے پہلے ذرا یہ دیکھ لیجئے کہ یہ آپ کی تہذیبی اقدار (Value System) سے کس حد تک مطابقت (Compatibility) رکھتی ہیں تو ان کے منہ کا ذائقہ خراب ہونے لگتا ہے۔ (12) ایسے حضرات کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر ہم تہذیبی حوالے سے نہ صرف مطلوبہ بلند مقام پر پہنچنے کی لذت سے محروم رہنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور کسی کم سے کم سطح (Bench-Mark) پر بھی مستحکم انداز میں کھڑے رہنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں تو پھر ہمیں دوسروں کا تر نوالہ بننے سے آخر کیا چیز روک سکتی ہے؟ ایسے لوگ بہرحال موجود ہیں جو اس صورت حال کو قبول نہیں کر سکتے۔

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یوم مئی کی مخالفت اور یوم خندق کا مطالبہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی اسلام نوازی کا رہین منت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مخالف نہیں ہیں البتہ ان کی اسلام دوستی کے مخالف ہیں اور اسلام دوستی کا ’جرم‘ جس سے بھی صادر ہو گا یہ اس کی مخالفت کریں گے بلکہ بعض لوگ دشمنی بھی کریں گے۔ اسی کے ساتھ ہمارا یہ بھی خیال ہے کہ اگر جنرل ضیاء الحق شہید اپنی اسلام دوستی کے باوجود افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت کی حمایت کر دیتے تو یہی لوگ ’’ضیاء الحق زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے۔ ایسے گروہ کی ماضی کی تاریخ اسی قسم کے طرز عمل کی شہادت دیتی ہے۔ لیکن اس صورت حال سے قطع نظر یوم مئی کی اصولی مخالفت کے حوالے سے متذکرہ اعتراض مکمل طور پر مسترد کئے جانے کا مستحق ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ این ایل ایف ابتداء ہی سے (1970ء) یوم مئی کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس موضوع پر اخبارات میں شائع شدہ خبریں اور مضامین اس بات کی منہ بولتی گواہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی اپنی قائم کردہ مجلس شوریٰ میں جب یوم مئی کی مخالفت میں ایک پرائیویٹ قرار داد پیش ہوئی تو وفاقی وزیر محنت نے قرار داد کی مخالفت میں ایک لمبی چوڑی تقریر کی اور خود جنرل صاحب نے شوریٰ کے ممبر مزدور راہنماؤں کو اپنے چیمبر میں بلا کر سمجھانے کی کوشش کی کہ قرار داد پر ووٹنگ نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے باوجود اس قرار داد پر ووٹنگ ہوئی اور بھاری اکثریت سے منظور ہو گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے پورے دور اقتدار میں یکم مئی کی چھٹی کے خاتمے کا مسلسل مطالبہ ہوتا رہا۔ اس کے خلاف اخبارات میں مضامین لکھے جاتے رہے اور جلوس نکلتے رہے لیکن اس مسلسل مطالبے کے باوجود اسے ختم نہیں کیا گیا۔ سینیٹ نے بھی 1986ء میں ایک قرار داد پاس کی لیکن جنرل صاحب کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ اُس دور کی حکومت کے اِس طرز عمل کو دیکھ کر اعتراض کے وزن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اشتراکی طرزِ حکمرانی

پچھلے ابو اب میں جو کچھ حقائق اور تشریحات پیش کی گئی ہیں ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یکم مئی اور 8ذیقعدہ (یوم خندق) در اصل علامتی انتخابات (Symbolic Selections) ہیں۔ یکم مئی کو مزدوروں کا دن منانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اسے دنیا کے مزدوروں کی یکجہتی (Solidarity) کے نعرے کے طور پر اشتراکی معاشرے کے قیام کیلئے استعمال کیا جائے۔ دوسری طرف 8 ذیعقعدہ کو ’یوم خندق‘ کے طور پر منانے کی تجویز اس غرض سے پیش کی گئی ہے کہ ہم اپنی پیش نظر جد و جہد میں اسلامی معاشرے،  اسلامی ریاست اور اسلامی حکومت کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیں کیونکہ ’خندق کا معرکہ‘ جیسا کہ پہلے کہا  جا چکا ہے اسی مقصد کے حوالے سے برپا ہوا تھا۔ اس لئے اس مرحلہ پر یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس اشتراکی معاشرہ کے بنیادی خدوخال بھی بیان کر دیں جس کیلئے یوم مئی کی تحریک شروع کی گئی تھی اور اسی طرح اسلامی معاشرے کی اہم اور اساسی خصوصیات کا تذکرہ بھی کر دیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ایسے معاشرے کا قیام ہی محنت کشوں کی جد و جہد کا اصل نصب العین کیوں ہونا چاہئے۔

اشتراکی معاشرہ

٭     اشتراکی معاشرہ‘سرمایہ دارانہ معاشرہ کی طرح مادہ پرستانہ فکر اور فلسفے پر قائم ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرے کی طرح اس کی ساری دلچسپی صرف ’’اِس دنیا‘‘ میں فلاح اور مفادات کے حصول تک محدود ہے اور ’’اُس دنیا‘‘ کی بھی فلاح اور خیر سے وہ یکسر بے نیاز بلکہ مخالف (Hostile) مزاج کا حامل ہے۔ اسی بنیادی فکر پر اشتراکی معاشرے کا پورا تانا بانا تیار ہوتا ہے اور اسی فکر پر سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ قرآن کی نظر میں یہی سوچ اور اس سوچ اور فکر پر تعمیر ہونے والا طرز عمل انفرادی زندگی اور معاشرے میں ہمہ گیر فساد اور تباہی کو جنم دیتا ہے۔

٭     اشتراکی معاشرہ نظریاتی طور پر ریاستی سرمایہ دارانہ نظام (State Capitalism) کو فروغ دیتا ہے جہاں عملاً ہر شخص کو اپنی آزادی‘انفرادیت اور اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو کر ریاستی غلام بلکہ ’حکومتی غلام‘ بننا پڑتا ہے۔ اسی لئے کہ تمام وسائلِ پیداوار اور روزگار حکومت کی ملکیت میں رہتے ہیں۔ اسی لئے عوامی سطح پر پیش قدمی کرنے اور تخلیقی (Creative) صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع نہیں ہوتے۔ ایسا معاشرہ کار کردگی (Efficiency) کے اعتبار سے اس معاشرے سے بہت پیچھے رہ جاتا ہے جہاں لوگوں کو معاشی جد و جہد کے لئے حقیقی آزادی ہوتی ہے۔

٭     اس معاشرے کا ’ریاستی سرمایہ دارانہ نظام‘ ایک پارٹی یعنی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں رہتا ہے جو اس کے بانی راہنماؤں کے بقول کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔ کسی دوسری سیاسی جماعت کا قیام چونکہ ممنوع ہوتا ہے اور کوئی آزاد اخبار بھی شائع نہیں ہو سکتا اس لئے ریاست مکمل طور پر پولیس اسٹیٹ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کی ڈکٹیٹر شپ اور جاسوسی کا اَن دیکھا نظام پوری سوسائٹی کو اپنی گرفت میں لئے ہوتا ہے۔ (13) جہاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی روز کا معمول (Order of the Day) بن جاتی ہے اور معاشرے میں اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔

٭     سوشلزم کا دم بھرنے والے جس ’مزدور راج‘ کی مالا جپتے ہیں وہاں خود آزاد ٹریڈ یونینز کا وجود تصور کی حد تک بھی ممکن نہیں۔ ٹریڈ یونینز صرف سرکاری ایجنڈے پر کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ حکومتی پالیسیوں، پروگراموں اور احکامات کیلئے Transmission Belt کے طور پر کام کرنے کے علاوہ ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ہر ادارے میں وہ بالکلیہ انتظامیہ کا حصہ بن کر کام کرتی ہیں۔ اس نظام میں اجتماعی سودے کاری کی کوئی گنجائش (Provision) نہیں ہوتی اس لئے کہ آزاد ٹریڈ یونینز کے بغیر اجتماعی سودے کاری محض لایعنی بات ہے۔

٭     کمیونسٹ ریاست میں چونکہ انتخابات نہیں ہوتے بلکہ ایک پارٹی کے کارکنوں کے درمیان انتخابی شو اور تماشہ ہوتا رہتا ہے اس لئے جمہوری ادارے وجود میں نہیں آ سکتے۔ غیر جمہوری معاشرے،  آمرانہ نظام اور ایک پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ میں چونکہ آزاد ٹریڈ یونین اور کھلی فضا میں بامقصد مذاکرات اور باہمی رضامندی کے حامل اجتماعی معاہدات ممکن نہیں ہوتے اس لئے اگر ٹریڈ یونینز موجود بھی ہوں تو محنت کشوں کے مسائل اور حقوق کیلئے ان کا کوئی آزادانہ کردار (Role) نہیں ہو سکتا۔ ’’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘‘ والا معاملہ ہوتا ہے۔

٭     اگر کوئی معاشرہ بدقسمتی سے اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہو جائے جس کا تذکرہ درج بالا گزارشات میں کیا گیا ہے اور جو اشتراکی نظریات کا منطقی نتیجہ ہے تو اس میں مراعات یافتہ طبقہ (Privileged Class) کا پیدا ہو جانا یقینی اور منطقی بات ہے۔ سوویت یونین میں بھی یہی کچھ ہوا۔ یہ مراعات یافتہ کلاس، پارٹی لیڈرز اور اس کے مخصوص کارکنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ کمیونسٹ انٹرنیشنل کی ’جنت نظیر مملکت، سوویت یونین میں یہی کچھ ہوا اور عام محنت کش کے حصے میں سوائے غربت، افلاس، استحصال، ظلم اور زبان بندی کے کچھ نہ آ سکا۔ اسی لئے سوویت یونین میں چہار سو بغاوت ہوتی رہی۔ جو بالآخر پوری سلطنت کو لے ڈوبی۔ اس سلطنت کے قیام کے دوران جو لیڈرشپ تیار ہوئی آج بھی اس کی سفاکی کو دیکھ کر (مثلاً ازبکستان میں ) یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس سلطنت کے دور عروج میں لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہو گا۔ لینن اور اسٹالن کے ہاتھوں ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر سائبیریا کے علاقے میں دفن کرا دینا تو اس کا صرف ایک حصہ ہے۔ ایسے ظالم معاشرے کے قیام کو ’یوم مئی،کی تحریک کے قائدین اپنا نصب العین بنا کر اٹھے تھے لیکن حیرت ہے ان حضرات کی عقل و دانش پر کہ اشتراکی معاشروں کی زبوں حالی، اشتراکی روس کے خاتمے اور اشتراکی قیادت اور نظریے کی مکمل ناکامی کے باوجود اُنہیں یوم مئی کے ’بت‘ کا احترام باقی رکھے جانے پر اصرار ہے۔ اس نئی بت پرستی کے قربان جائیے۔

ہم نے مندرجہ بالا گزارشات میں اس سوشلسٹ اور اشتراکی ریاست کے بنیادی خدوخال پیش کئے ہیں جس کا نام سوویت یونین تھا اور جسے سوشلزم کی سرزمین (Motherland of Socialism) کہا جاتا ہے۔ جہاں اسے 70سال سے زیادہ کام کرنے کا موقع ملا اور اس پورے عرصے (1990-1917) میں اس کی لیڈر شپ کو دنیا بھر کے سوشلسٹ سیاسی راہنماؤں،  جماعتوں اور مزدور تنظیموں کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ کسی بھی نظریئے کے کامیاب تجربے کے لئے اتنا طویل عرصہ بہت ہوتا ہے۔ لیکن تاریخ کے معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوویت یونین کی حدود میں ایک دن کے لئے بھی انسان دوست حکومت نہ بن سکی۔

اسی طرح تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ مارکسزم کے اصولوں کو جہاں بھی اپنایا جائے گا‘ وہی استبدادی نظام ظہور پذیر ہو گا جو سوویت یونین کی حدود میں 1917-90 کے دوران اپنی تعلیمات کے عین منطقی تقاضے کے طور پر وجود میں آیا۔ (14)

اس لئے اب کوئی کمیونسٹ پارٹی بھی مارکسزم کے اصولوں پر اس نظام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جو سوویت یونین میں قائم تھا۔ ابھی حال ہی میں چیکوسلاواکیہ کی کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے بعض نہایت اہمیت کی حامل باتیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں وہ ہمارے تجزیہ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ 10 اپریل 06ء کے روزنامہ ڈان کے صفحہ 12 کی خبر یوں ہے:

Communists Shrug off Mark,

Look to Future.

(کمیونسٹ مارکسزم سے جان چھڑا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں )

 ’’جون میں ہونے والے عام انتخابات کے لئے چیکو سلواکیہ کی کمیونسٹ پارٹی کی لیڈر شپ کا یہ پیغام کہ وہ پرولتاریہ ڈکٹیٹر شپ (Dictatorship of the Proletariat) کے نظام کو ہمیشہ کے لئے ختم کر چکی ہے،  بالکل واضح کر دیا گیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نہ صرف یہ کہ چیکو سلاواکیہ کے لئے یورپی یونین کی ممبرشپ حاصل کرے گی بلکہ وہ ملک میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے جمہوری نظام کی مکمل حمایت کرے گی۔ اسی طرح وہ پرائیویٹ پراپرٹی کے حق کو تسلیم کرتی ہے اور آزاد معاشی اصلاحات اور انفرادی آزادیوں کی علمبردار ہے۔ پارٹی نے اپنے جھنڈے سے ہتھوڑے،  درانتی اور سرخ ستارے کا نشان ختم کر کے جو کبھی کمیونزم کی پہچان سمجھا جاتا تھا، سرخ چیری (Cherries) اور سفید ستارے کا نشان اختیار کر لیا ہے۔ خبر میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں کارل مارکس کا مجسمہ ابھی تک موجود ہے۔‘‘ (15)

ہمیں بتایا جائے کہ اس کے بعد مارکسزم کی بنیادی تعلیمات اور نظریات میں اب کیا چیز باقی رہ گئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ صورتحال کسی ایک ملک میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ ہر اس ملک میں جس نے کمیونزم کا مزہ چکھا، یہی کچھ ہوا ہے۔

؎ بہت آگے گئے،  باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ یہ لیڈرشپ کی نہیں، نظریئے کی جنگ ہے۔

اسلامی معاشرہ

اب یوم خندق کے حوالے سے ہم اسلامی معاشرے کے اساسی خدوخال بیان کرنا چاہیں گے۔ اس موضوع پر نظریاتی گفتگو تو مختصراً پہلے ہو چکی ہے،  یہاں چند مثالوں کے حوالے سے ان نظریات کی عملی صورتیں پیش کی جائیں گی۔

اسلامی ریاست میں دولت کی تقسیم کے حوالے سے قرآن مجید کی آیت مبارکہ

کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَاءِ مِنْکُمْ ایک پالیسی بیان اور دائمی و حتمی حکم ہے۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور خلفائے راشدین کے دور میں یہ طریقہ کار تھا اور ہر دور کی اسلامی ریاست کے لئے یہی طرز عمل (Practice) ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے کہ سرکاری خزانے سے ان افراد کا حصہ جو ریاست کا نظم و نسق چلاتے ہیں ایک عام آدمی سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ سرکاری آمدنی کا بیشتر حصہ عوام کی بہبود اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے خرچ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چشمِ فلک نے وہ دور بھی دیکھا کہ پوری ریاست کی حدود میں صرف زکوٰۃ دینے والے رہ گئے تھے اور زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ تھا۔ خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور حکمرانی میں بیت المال میں بڑی رقوم آتی تھیں لیکن اس میں آپ کا حصہ طے شدہ قاعدے اور اصولوں کے مطابق ہی ہوتا تھا۔ آپ اکثر اپنی گھریلو ضروریات قرض لے کر پورا کرتے تھے اور عام شہری کی ضروریات کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے تھے۔ اس لئے اسلامی ریاست کا پہلا اصول یہ طے پایا کہ حکمرانوں کے مقابلے میں عوام کی ضروریات کو ترجیح اور تقدیم حاصل ہو گی۔ چاروں خلفائے راشدین کی بود و باش کو دیکھ لیجئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ حکمران کچھ اور ہی قسم کی مخلوق تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پہلے دنیا ایسے حاکموں سے واقف تھی جو ظلم وجور سے رعیت کو دبا کر رکھتے تھے اور اونچے اونچے محلوں میں رہ کر اپنی خدائی کا سکہ جماتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اسی دنیا کو ایسے حکمرانوں سے روشناس کرایا جو بازاروں میں عام انسانوں کی طرح چلتے تھے اور عدل و انصاف سے دلوں پر حکومت کرتے تھے۔‘‘ (16)

علامہ اقبال نے ان ہی اسلامی حکمرانوں کے بارے میں اپنے انداز میں یوں کہا ہے:

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب

سلطنتِ اہل دل فقر ہے شاہی نہیں

حضرت فاطمہ آپ کی چہیتی صاحبزادی تھیں۔ گھریلو کام کاج کے بوجھ کے باعث سرکاری خزانے سے ایک خادمہ کی ضرورت کی درخواست پیش فرماتی ہیں۔ والد محترمؐ ریاست کے سربراہ ہیں۔ سرکاری بیت المال آپ کی تحویل میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’جانِ پدر! بدر کے یتیم اور صُفّہ کے مسافر تم سے زیادہ مستحق ہیں۔‘‘

فتح مکہ کے موقع پر فاطمہ نامی ایک مخزومی خاتون چوری کے الزام میں آپ کے سامنے پیش ہوتی ہیں۔ بعض صحابہ نے اُسامہ بن زیدؓ کو سفارشی بنایا۔ آپ نے اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ پچھلی قومیں اسی لئے تباہ ہو گئیں کہ بڑے اور طاقت ور مجرموں کو رعایتیں دی جاتی تھیں اور غریب اور کمزور لوگوں کو سزائیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک تاریخ ساز بات ارشاد فرمائی کہ ’’خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔‘‘ آپ کی یہی تعلیم تھی کہ قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کا اصول اور نظریہ ہر زمانے میں اسلامی معاشرے کا طرۂ امتیاز بنا رہا اور اسی وجہ سے اسلامی مملکت کی حدود میں ہمیشہ امن و امان رہا اور لوگوں کو انصاف ملتا رہا۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے قریب ترین صحابہ میں سے تھے۔ وہ آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں خدمت کا موقع عنایت فرما کر کہیں گورنر مقرر کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ ابو ذر تم کمزور طبیعت کے آدمی ہو۔ گورنری نہ کر سکو گے اور آپ نے حضرت ابو ذر کو یہ ذمہ داری سپرد نہیں کی۔ حکمرانی میں صلاحیت (Merit) کا لحاظ اسی چیز کا نام ہے۔

ریاستی امور میں محض مشورہ لے لینا کافی نہیں بلکہ مشاورت سے بالفعل

 (For practical purposes) راہنمائی حاصل کرنا اور مشورے کے ذریعے ریاستی امور چلانا مطلوب ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ جنگ خندق کے موقع پر آپ کر چکے ہیں۔ بامقصد مشاورت کا راہنما اصول وَاَمْرھُمْ شُوْریٰ بَیْنھُمْ (17) کے ذریعے خود قرآن میں طے کر دیا گیا ہے۔ جس معاشرے اور ریاست میں مشاورت کے ذریعہ اپنے معاملات کو چلانے کا جس قدر شفاف نظام ہو گا اُسی حد تک معاشرہ مفاسد‘ مظالم اور فساد سے محفوظ رہے گا۔

اجتماعی زندگی کو خرابیوں سے بچانے اور اسے عدل و انصاف کے سیدھے راستے پر قائم رکھنے کیلئے حکمرانوں کا کھلا احتساب اور احتسابی نظام کا قیام بھی ضروری ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیشہ اپنے آپ کو کھلے احتساب کیلئے پیش فرمایا۔ حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ جس معاشرے میں حکمرانوں کا کھلا احتساب ہوتا ہے وہیں عدل قائم ہوتا ہے۔ آپ کے نظریاتی مخالفین بھی آپ کی عدالت میں پورے اعتماد کے ساتھ آتے تھے جس میں یہودی بھی شامل تھے اور عدل ہوتے ہوئے دیکھتے تھے اور محسوس کرتے تھے۔ عدل و احسان کو اسلامی معاشرے میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید، رسالت اور آخرت کے تذکروں کے ساتھ ہم ہر جمعہ کو خطبے کے اختتامی کلمات میں قرآن کی یہ مختصر لیکن انتہائی جامع آیت سنتے ہیں: اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلامی ریاست کی بنیادی پالیسی کے طور پر یہ انقلابی فیصلہ فرمایا کہ جو مسلمان مر جائے اور اپنے ذمہ قرضہ چھوڑ جائے اس کو میں ادا کروں گا اور ترکہ وارثوں کا حق ہے۔

اسلامی معاشرے میں عدل و احسان کو ممکن اور آسان العمل بنانے کے لئے جہاں مسلسل ذہن سازی، کردار سازی اور خود احتسابی کا عمل جاری رہتا ہے وہیں ادارے بھی وجود میں لائے جاتے ہیں تاکہ بیت المال کی کڑی نگرانی اور حفاظت کی جا سکے اور اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ تمام ریاستی معاملات کو بامقصد مشاورت کے ذریعے چلایا جا سکے جو صرف اصحاب الرائے ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ تمام سرکاری تقر ریاں صرف اور صرف صلاحیتوں کی بنیاد پر ہو سکیں۔ بڑے اور چھوٹے،  کمزور اور طاقت ور سب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے اور جو قانون بنے وہ عدل کی بنیاد پر تشکیل پا سکے۔ دولت معاشرے کے کمزور اور دور افتادہ علاقوں کے لوگوں تک پہنچ سکے اور سوسائٹی کے مخصوص گروہ میں مرکوز ہو کر نہ رہ جائے،  سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے ہر شخص کو بچایا جا سکے اور پورا معاشرہ بھائی چارے،  اخوت، یگانگت، آزادی، رواداری، پیار و محبت بے خوفی اور خوش حالی کی فضا میں پرورش پا سکے اور ترقی کر سکے۔ یہ ہے اسلامی معاشرہ۔ رُحَمَاءُ بَیْنھَمْ کا معاشرہ۔

ایسا ہی معاشرہ مدینۃُ الرسول میں قائم ہوا تھا جس کے بارے میں مولانا حالی نے مختصر ترین الفاظ میں یوں کہا ہے:

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا

اِدھر سے اُدھر پھر گیا رُخ ہوا کا

اللہ رب العالمین نے ایسے ہی معاشرے کی تشکیل و تعمیر کیلئے اپنے بندوں کو مکلف ٹھہرایا ہے۔ ایسے ہی معاشرے کا قیام در اصل یوم خندق کا اصل پیغام ہے اور پاکستان کے محنت کشوں کو اسی پیغام کا علَم تھام کر منظم تحریک اٹھانی چاہئے۔

٭٭٭

تشکر: فیصل جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل


کنڈل فائل