FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

گماں آباد

 

 

 

               اعجاز گل

 

 

 

 

انتساب

 

محلہ خواجگان ، چکوال کی ایک گلی میں بارشوں سے گرے ہوئے مکان کے نام

 

اک مکاں خاک ہوئے جس کو زمانہ گزرا

اس کے دیوار و در و بام سے لپٹا ہوں میں

 

 

 

 

اعجاز گل کی شاعری

 

انسانی ذہن سوالات کی آماج گاہ ہے،اور شاعر کا ذہن عام انسانی فکر سے ماورا ہے۔ اس لیے اس کے ہاں زندگی کی حقیقتوں کو جاننے کے لیے عام روش سے ہٹ کر سوچنے کا عمل دکھائی دیتا ہے۔  چناں چہ اس کا ذہن ایسے سوالات اٹھانے پر مجبور رہتا ہے جو عام سطح پر انسانی شعور کا حصہ نہیں بنتے۔ اگرچہ شاعر کوئی ماورائی مخلوق نہیں ، اُس کا ذہن بھی اپنے چار سو میں انھی مشاہدات کی آئینہ کاری کرتا ہے جو دوسروں کے لیے بھی تعجب خیز ہوتے ہیں ۔لیکن وہ سلیقہ اور وہ احساس جو شاعر کے ہاں گہری فکر سے نمو پذیر ہوتا ہے،اس کی فکری سطح عمومیت سے ماورا ہونے کی بنا پر کئی قسم کے سوالات اٹھاتی ہے۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ ان کی نوعیت تین قسم کی نظر آتی ہے۔ اول وہ جن کے جواب سے شاعر خود واقف نہیں ہوتا۔وہ دوسروں سے ان کے جواب کی توقع رکھتا ہے۔ وہ جب ایسے حقائق سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں ان کا جواب یا اصلیت جاننے کی خواہش بیدار ہوتی ہے لیکن بہ استثنائے چند وہ اپنے محدود علم یا واقفیت کے باعث ان حقیقتوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا۔ ایسے میں وہ استفہامیہ انداز میں دوسروں کی طرف دیکھتا ہے۔ دوم وہ سوالات جن کے جواب سے شاعر خود واقف ہوتا ہے۔ لیکن وہ دوسروں کے مطمع نظر سے واقفیت کا خواہاں رہتا ہے۔ ایسے سوالات قاری میں جذبۂ تجسس کو بیدار کرتے ہیں ،اور کبھی کبھی کسی ایک تحریک کا موجب بنتے ہیں ۔ سوالات کی تیسری قسم وہ ہے جن کا جواب خود شاعر ہی کیا، کسی کے پاس بھی نہیں ۔ یہیں سے وہ تحیر خیز فضا جنم لیتی ہے جو شعری اسلوب کی مختلف پرتوں کو نمایاں کرتی ہے اور شاعری میں دل کشی اور معنی آفرینی کی خصوصیات کو اجاگر کرتے ہوئے قاری پر نئے جہانوں کے در وا کرتی ہے۔ سوالات کا تیسرا سلسلہ ما بعد الطبیعیاتی فلسفے سے تعلق رکھتا ہے جس کا تعلق بہ ہر حال کسی نہ کسی طور تصوف  کے قریب تر ہو جاتا ہے۔

یہ تمہید ہمیں اس لیے باندھنا پڑی کہ اعجاز گل کے زیر نظر مجموعہ ’’ گماں آباد‘‘ میں ’ کیا ہے؟‘ ، ’کیوں ہے؟‘ بہت ہے۔ اِس’ کیا ہے؟‘،’ کیوں ہے؟‘ کے متعلق بات کرنا آسان نہیں کہ کہیں کہیں یہ سلسلہ بہت الجھ جاتا ہے۔ تاہم مابعد الطبیعیاتی شاعری کا تعلق انسان کے کلی تجربے سے ہوتا ہے۔

انسان اپنے گرد و پیش کی دنیا، کائنات، زمان و مکاں کی حقیقت جاننے کا ہمیشہ سے متمنی رہا ہے۔ اس میں کبھی کہیں کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے تو کبھی علوم کا حصول بے کار نظر آنے لگتا ہے۔کبھی یہ سب ایک دھوکہ معلوم پڑتا ہے، کبھی محض خیالی باتیں ۔ انسان کی غایت کیا ہے؟ انسان کی تخلیق سے پہلے کیا تھا؟ انسان کے بعد کیا ہو گا؟ یہ ہنگامہ سا کیا برپا ہے؟ ، اس طرح کے کئی سوال اعجاز گل کے ہاں نمایاں دکھائی دیتے ہیں :

ذرا بتلا،زماں کیا ہے ؟ مکاں کے اُس طرف کیا ہے

اگر یہ سب گماں ہے، تو گماں کے اُس طرف کیا ہے

سنا ہے ، اِک جہانِ رفتگاں ہے دوسری جانب

خبر کیا ہے؟ جہانِ رفتگاں کے اُس طرف کیا ہے

 

کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید

گنبدِ وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا

میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہ میں

مشغلہ اُس کا مری ذات سے پہلے کیا تھا

 

منتظر بعدِ فنا کیا ہے ؟ کسے معلوم ہو

گردشِ ہفت آسماں ، ہفت آسماں کے بعد بھی

کیا خبر کتنے جہاں ہیں اس جہاں کے بعد بھی

یا گماں اندر گماں ہے ہر گماں کے بعد بھی

ایسے سوالات پر مبنی کتنے ہی شعر اپنے خوبصورت پیرائے میں اعجاز گل کی شعری فضا کو مترنم بناتے ہیں لیکن ان سوالات کا جواب دینا یا حاصل کرنا ہر کس و ناکس کے بس میں نہیں ۔ حقیقت تک رسائی آسان نہیں کہ ایک پردہ درمیان پڑتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں تک عقلِ نارسا کام کرتی ہے:

حیرت ہے ، سب تلاش پہ اُس کی رہے مُصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

 

ازل ابد کا معمہ رہا ہے لاینحل

ترے مراقبے سے ، میرے اعتکاف سے بھی

عجیب ہے یہ تری کائناتِ صد اَسرار

کھلی نہ مجھ پہ کسی اسمِ انکشاف سے بھی

 

یہ دھندلکا سا ہے شاید ہر خرابی کا سبب

جو یقیں سے پیش تر ہے اور گماں  کے بعد بھی

 

نہیں جواب سوالوں کے میرے پاس ، سو میں

کلام خود سے زیادہ کبھو نہیں کرتا

 

ایک حساس شاعر کی زندگی میں مختلف تجربات پیش آتے ہیں ۔ محبت، رومانویت، محبت کا روحانی و جسمانی پہلو، خدا سے انسان کا روحانی ربط، انسان سے انسان کا تعلق، امکانی و احتمالی ابدیت، غم، خوشی اور علمی و فنی ادراک۔ شاعر کا مزاج اس بات کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے کہ اس کا جھکاؤ فنی و حِسی اعتبار سے کس طرف ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے لائق ہے کہ جھکاؤ اِدھر ہو یا اُدھر، انسانی زندگی کے تمام تجربے اپنی کلی حیثیت میں اس پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں ادراک ہو جاتا ہے اور کہیں بات اس سے آگے نکل جاتی ہے۔

اعجاز گل کے ہاں محبت کا پہلو ذرا دبا دبا سا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں نے اعجاز گل کا اُس دور کا کلام نہیں دیکھا، جس میں محبت کے جمالیاتی پہلوؤں کا ذکر بڑے دھڑلے سے ہوتا ہے۔ وصال، فراق اور متعلقاتِ ہجر و وصال کا اظہار بھی دکھاتی دیتا ہے۔ اس کا نمایاں اظہار ممکن ہے اُن کے عہدِ جوانی کے کلام میں موجود ہو جو اس مجموعے میں شامل نہیں کہ موصوف اسے متروک قرار دے چکے ہیں ۔ یوں نقاد کے لیے بڑی مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ شاعر کے ہاں ان نازک معاملوں سے متعلق اظہار کہیں بہت نیچے کی تہ میں چلا جاتا ہے اور اس کی دریافت کارِ دشوار۔ بعض مقامات پر اعجاز گل کے اشعار میں دبی دبی یا ملفوف کیفیات نظر آتی ہیں جن سے اشارے ملتے ہیں اور ایک مکمل کہانی ترتیب دی جا سکتی ہے:

قریبِ سنگِ منزل آ گیا تھا

نظر رخسار کا تل آ گیا تھا

 

مہک اٹھے ہیں مرے باغ کے خس و خاشاک

کوئی ٹہلتا ہوا صورتِ صبا گیا ہے

 

ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

 

اسے بھی اپنے مشاغل سے فرصتیں کم ہیں

یہ واقعہ ہے کہ میں بھی اُدھر نہیں جاتا

 

حسن تھا ہنگامہ آرا اندرونِ ذات اور

بے خبر عشاق دشت و کاخ و کو پھرتے رہے

 

میں تھا کہ جس کے واسطے پابندِ عہدِ ہجر

وہ اور ایک ہجر کے میثاق میں رہا

 

کھلے کواڑ ہیں نہ سائے چلمنوں کی اوٹ میں

تو کیا کرے گی جھانک کے اب آرزو اِدھر اُدھر

 

چلمن سے جھانکتی تھیں جو آنکھیں کہاں گئیں ؟

تھا سامنے گلی میں جو دَر باز، کیا ہوا؟

 

مسئلہ حل نہ ہوا عشق کی ارزانی سے

حُسن کم یاب یہاں اور گرانی سے ہوا

 

سینکڑوں محمل تھے لیکن سب سراب اندر سراب

پوچھ مت لیلیٰ کا قصہ اِس گریباں چاک سے

 

نہیں کرتا وہ دل جوئی کبھی کاغذ کے ٹکڑے سے

مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے

 

اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا

روشن چراغ دور کسی طاق میں رہا

 

کبھی قطار سے باہر ، کبھی قطار کے بیچ

میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

 

جل بجھ چکا ہے خواہشِ ناکام سے وجود

پرچھائیں پھر رہی ہے مکانِ سیاہ میں

ہلکان مَیں نہیں تری خاطر سرِ ہجوم

سب مر رہے ہیں خواہشِ یک دو نگاہ میں

 

اے حسن! اختتامِ تعلق سے پیش تر

طے کر ذرا جدائی کی تفصیل میرے ساتھ

 

ترکِ تعلقات پہ رخصت سے پیش تر

دل میں مراجعت کا ارادہ کیا گیا

 

رات کے پچھلے پہر تک اُس گلی سے اِس گلی

پوچھنے احوالِ ہجراں ، ماہتاب آیا کِیا

 

داخلہ ممنوع ٹھہرا میرا میری ذات میں

دائرہ کھینچا کسی نے جب سے اپنے نام کا

 

معکوس و عکس کیسے ہیں پیوست دیکھ تو

آئینہ کر رہا ہے سنگھار آئنے کے ساتھ

 

کوئی پلٹ کے نہ آیا اِدھر ، برس گزرے

کوئی چراغ جلاتا کنارِ بام کہ ہے

 

وصال کی کیفیات میں ہجر کا احساس کہ جسے ایک دائمی احساسِ تشنگی بھی کہا جا سکتا ہے۔وصال، وصال نہیں اور فراق، فراق نہیں ۔ کرب و نشاط کے رنگوں کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ ایک نفسیاتی اضطراب ہے۔ یہ بڑی عجیب لیکن دل چسپ رمز ہے کہ بقول اشفاق احمد : ’’محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہو گی، وہ محبت ہی نہیں جو اُداس نہ کر دے۔‘‘  ان کیفیات سے دوچار یہ شعر دیکھیے:

عجب ہے قطعِ تعلق ، فراق بھی مفقود

کہ دل وصال کی بھی آرزو نہیں کرتا

 

مخفی بھی تھا وصال کا وہ بابِ مختصر

کچھ دل بھی محوِ ہجر کے اسباق میں رہا

 

ہے کھیل نارسائی کا عجیب گرد و پیش میں

کہ تو کبھو اُدھر اِدھر تو میں کبھو اِدھر اُدھر

 

محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہے

چاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہے

ہجر ، سرِ ویرانۂ جاں بھی مہر بلب

وصل ، گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے

 

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

 

کبھی وصال بے کشش ، کبھی فراق بے طلب

طریق مختلف رہا ہے دل کی واردات کا

 

گویا ’’وصل میں مرگِ آرزو،  ہجر میں لذتِ طلب‘‘ لیکن وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ انسان کفِ افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔شاد عظیم آبادی کا شعر حسبِ حال ہے:

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا ، نہ عشاقوں کا ریلا تھا

خدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا

 

اسی تناظر میں منیر نیازی کا ایک شعر دھیان میں آتا ہے:

میں خوش نہیں ہوں بہت اس سے دور ہونے پر

جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

 

یہاں منیر نیازی کی نظم کا ایک مصرع:

اور دونوں کے بیچ کھڑی ہے بیس برس کی جدائی

 

تو یہی حال اعجاز صاحب کے ہاں بھی نظر آتا ہے۔ وہ کہاوت ہے ناں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے:

اب اتنے سال کی دوری سے کون پہچانے

برا کیا ہے بڑھاپے نے سب کا حال تو پھر

خالد احمد کہتے ہیں :

’’ادیب زندگی کو اپنا موضوعِ سخن قرار دے یا نہ دے، زندگی بہرطور ادیب کی ہر تخلیق میں در آتی ہے، اور یہ بات کسی وضاحت کی محتاج بھی نہیں کہ یہ فن کار کے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی کے سوا کوئی اور زندگی نہیں ہوتی۔یہ بات بھی کسی تفصیل کی طالب نہیں کہ یہ زندگی کی اطلاقی صورت کے عکس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔‘‘

(ادب میں وابستگی کا مسئلہ: جدید تر پاکستانی ادب)

اعجاز گل کی شاعری میں بھی اردگرد کی زندگی اپنی پوری توانائی سے در آئی ہے۔ اپنے اردگرد پھیلے انسانوں کے مسائل، ان کے غم، ان کی خوشیاں اعجاز کے اہم موضوعات ہیں ۔ان کے ہاں عصری شعور کی ترجمانی بھورپور طور پر موجود ہے ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک شخص جو عرصہ دراز سے پردیس میں ہے، اس سے امید تو یہ بنتی تھی کہ وہ ہجرت کے تجربات کو اپنے اظہار میں لائے گا۔ غریب الوطنی کے آلام کو بیان کرے گا لیکن عجیب اور دل چسپ بات یہ نکلی کہ ایسا نہیں ہوا بل کہ اس کی شاعری کو دیکھ کر تو ایسا لگا کہ اس شخص نے سرے سے ہجرت کی ہی نہیں ، وہ مسائل جو ہجرت اور غریب الوطنی سے متعلق ہیں ، اس کے تجربے ہی میں نہیں آئے تو کیا ہم سچ مچ یہ مان لیں کہ اعجاز گل کے تجربے میں ہجرت کہیں نہیں ؟ اک ذرا توقف کہ اگر ایسا کیا جائے تو بات شاید انصاف پر مبنی نہ ہو۔ ’’گماں آباد‘‘ کی شاعری کے بار بار مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ محبت بھی ہے، ہجر بھی ہے، وصال بھی ہے، ہجرت بھی ہے، غریب الوطنی بھی ہے لیکن ہر موضوع سے بڑھ کر جو موضوع ہے وہ یہ کہ اعجاز گل کے جسم نے ہجرت کی، اس کے دل نے نہیں ، دماغ نے نہیں ۔ میں واقفِ حال تو نہیں پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ ہجرت جو تلاشِ روزگار کے لیے تھی، اس نے اعجاز کو اپنے وطن سے دور نہیں کیا۔سو وہ وہاں بیٹھ کر بھی یہاں کے حالات پر کڑھتے نظر آتے ہیں لیکن اس کا اظہار واقعاتی سطح سے اوپر اٹھتا محسوس ہوتا ہے:

شیشۂ عمر پریشان ہمارا کیوں ہے

عکس ناقابلِ پہچان ہمارا کیوں ہے

ہم تماشائی ہیں جب اپنی زبوں حالی کے

دوسرا کوئی نگہبان ہمارا کیوں ہے

طاقِ نسیاں پہ دھرا رہتا ہے زادِ رستہ

ہر سفر بے سر و سامان ہمارا کیوں ہے

 

ہنر تھا جس میں سفید و سیاہ کرنے کا

کیا ہے کام اُسی نے تباہ کرنے کا

 

گنگ تھیں سب کی زبانیں خوفِ حاکم کے سبب

لوگ ہونٹوں میں دبائے گفتگو پھرتے رہے

 

دشمنوں نے جو کیا تھا ، سو کیا تھا لیکن

اک نگر تھا کہ مکینوں نے بھی برباد رکھا

 

مخالف سمت طے کی تھی مسافت

وگرنہ کب کا ساحل آ گیا تھا

 

مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر

سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے

 

 

عجب تھا شہر ، فلاطونِ عقل تھے سب لوگ

یہاں کسی نے کسی سے نہ استفادہ کیا

 

جو سنگِ میل تھے پہچان کے ، ہوئے معدوم

تری رضا جہاں اب راہِ بے نشاں ! لے چل

 

اور پھر یہ معاملات، یہ کرب اپنی ذات، اپنے لوگوں ، اپنے ملک سے اوپر اٹھ کر پوری انسانیت کے دکھوں کا احاطہ کرتے محسوس ہوتے ہیں ۔عام انسان کے مسائل آج بھی وہی ہیں جو کل تھے، افلاس، مجبوری آج بھی اس کا منہ چڑا رہے ہیں ۔طاقت ور اپنی طاقت کے بل بوتے پر جو چاہتا ہے،کرتا ہے۔ محکوم، محکوم ہی ہے۔انسان کی پہچان کہیں کھو گئی ہے۔قدریں اپنا جواز کھو چکی ہیں ۔

معروف بنگلہ دیشی بنکار اور ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد یونس (نوبل انعام یافتہ) لکھتے ہیں :

 

“The system we have built refuses to recognize people. Only credit cards are recognized. Drivers’ licenses are recognized. But not people. People haven’t any use for faces anymore, it seems. They are busy looking at your credit card, your driver’s licence, your social security number. If a driver’s license is more reliable than the face I wear, then why do I have a face?”

(Banker to the Poor: Micro-Lending and the Battle Against World Poverty)

یہ ایک سوال ہے جو جدید تمدن کے رسیا اور پرچارکوں سے بنتا ہے۔اگر مادی ذرائع ہی سب کچھ ہیں تو پھر انسان کہاں گیا؟ انسانیت کیا ہوئی؟

بند تھا جن پر فراتِ آرزو پھرتے رہے

اپنے ہاتھوں میں لیے خالی سبو پھرتے رہے

 

خوشبو کے پھیلنے سے ہوا نام باغ کا

ورنہ تو ہر شجر پہ تصرف ہے زاغ کا

 

بچھڑنے جا رہی تھی نسلِ آدم

دلوں میں خطِ فاصل آ گیا تھا

 

قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

پڑتا ہے بیابان ، بیابان سے آگے

 

اماں کو نیل میسّر نہ میں کوئی موسیٰ

مجھے سپردِ فراعین کر دیا گیا ہے

 

گلی میں آیا ہے قاصد ، ذرا خبر تو لے

ترے علاوہ وہ کس کس کے گھر نہیں جاتا

مرے وجود سے گردش ہے جس زمانے کو

گروں جو تھک کے تو دم بھر ٹھہر نہیں جاتا

 

اٹکا ہوا سورج ہے اسی ایک سبق پر

بڑھتا نہیں دن رات کی گردان سے آگے

 

قائم ہے یہاں وقت کی تقسیم ازل سے

بدلا ہے شب و روز کا دوران بہت کم

 

عام سی مخلوق ، موسم گرم ، لکڑی کے مکاں

دیکھتا ہوں شہرِ حاصل چشمِ حیرت ناک سے

 

درست بات تھی اپنی شناخت سے محروم

غلط ہوئی تو جہاں میں مثال ہو گئی ہے

 

کرتی ہے روز قتل مجھے زندگی یہاں

جاتا نہیں ہوں چھوڑ کے اس قتل گاہ کو

 

بدل نہ اب بیان کو ، اگر کہا گیا تھا کل

یہی زمین آسمان کائنات ہے فقط

 

فلک زمین سے اب گفتگو نہیں کرتا

یہ خاک زاد بھی کچھ ہاؤ ہو نہیں کرتا

 

فلسفۂ  وجودیت میں انسان کی پیدائش اور موت جبر کی علامت ہیں ، جب کہ اسی فلسفے میں خود ایک جبری صورت یوں نمو پذیر ہوتی ہے کہ ان دونوں وقوعات یعنی پیدائش اور موت کے درمیانی عرصہ میں فرد کو با اختیار قرار دیا گیا ہے۔حال آں کہ فلسفۂ  وجودیت کو اگر پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ اختیار بھی بے معنی ہے۔ اس رویے کا لازمی نتیجہ شدید مغائرت تھا۔ معاشرہ بے چینی کا شکار ہوا۔کوئی کسی کی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں ۔ انسان اپنے مفادات کے لیے اپنا راگ الاپنے لگا۔انسان خدا، فطرت حتیٰ کہ اپنے ہم جنسوں سے بھی الگ ہوتا گیا۔ روایتی معاشرے میں ایسا نہیں تھا۔ دکھ سکھ سانجھے تھے۔ ملکیت کا تصور نہیں تھا۔چناں چہ:

’’ روایتی معاشرے میں انسان ذی شعور اور ذی ارادہ تھا۔ وہ ایک عقلی اور روحانی حقیقت تھا۔ اسے اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس تھا اور اپنی بڑائی کا بھی شعور۔‘‘

(انسان کے دو جدید تصور: قصہ نئی شاعری کا)

نہیں وجود و عدم سے مجھے کوئی نسبت

ہوں ایک وہم جو دونوں کے درمیاں کا ہے

 

سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے

سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے

 

پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں

مشکل ہے خود کو ڈھونڈنا عکسِ تباہ میں

 

لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے یہ خاک داں

معدوم ہو رہا ہوں میں اپنے غبار میں

لا حاصلی کی بھیڑ میں کیا تذکرہ کہ تُو

آگے قطار میں ہے کہ پیچھے قطار میں

جتنا کہ اس طلب کو کشادہ کیا گیا

محرومیوں کو حد سے زیادہ کیا گیا

 

مرے  علاوہ  نہیں  ہے  اگر  کوئی  موجود

سنا  رہا  ہوں  کسے  داستاں  اکیلا  میں

 

بے منظر و مکالمہ ، کردار سے تہی

تنہائی کی عجیب ہے تَمثیل میرے ساتھ

 

آگ بھی منکرِ تعظیم تھی وقتِ تخلیق

خاک بھی خاک کی کرتی رہی تذلیل یہاں

 

کھلتا نہیں کچھ ہونے نہ ہونے کا معمہ

پہلے تھا کہ اب آیا ہوں افلاک کے اندر

 

اعجاز گل نے انسانی آشوب کو اپنی فکر پر طاری کیا ہوا ہے۔اور یہی فکر شعر کے روپ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ اعجاز گل انسانی نفسیات میں پیدا تشکیک ، وجود کی حقیقت، انسانی زندگی میں موجود تضادات، زندگی میں شکست و ریخت کو اپنے اشعار کا موضوع بناتے ہیں ، اس لیے کہ ہم سیاسی، سماجی،ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار اور افراتفری کا دور میں زندہ ہیں ۔

اعجاز گل حیات آشنا ہیں ۔روحِ عصر سے آگاہی رکھتے ہیں ۔ کیفیاتِ حیات، عصری تغیرات، تحولات و ترجیحات سے آشنائی ان کے اشعار سے آشکارا ہے۔وہ اخلاقی اقدار کو اعلیٰ زندگی کی کلید قرار دیتے ہیں ۔اعلیٰ انسانی اقدار کی زبوں حالی نے انسان اور انسانیت کو شدید صدمات سے دوچار کر رکھا ہے:

منظر سمٹ گئے ہیں تماشے کے یا مری

محدود کر دیا گیا حدِ نگاہ

 

یہیں کہیں ہے کوئی ساتویں جہت موجود

ملا نہیں وہ اگر شش جہات کے اندر

کس شے کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے واپس

رکتا نہیں تا دیر کوئی خاک کے اندر

 

کترا کے اس طرف سے گزرتی رہی بہار

جو انتظار میں تھے ، رہے انتظار میں

 

یہ خاک ، چاک نیا مانگتی ہے ، ڈھونڈتا ہوں

تجھے ، اے کوزہ گرِ دو جہاں ! اکیلا میں

 

ایسا نہیں کہ جسم ہے میرا فنا پذیر

ہوتے ہیں گرد و پیش بھی تبدیل میرے ساتھ

 

ایسا نہیں کہ پہلے نہ رُسوا کیا گیا

اس بار کچھ زیادہ تماشا کیا گیا

پھیلا کے آفتاب سے پرچھائیوں کا خوف

ظلمت میں بستیوں کو اکیلا کیا گیا

آہو قفس میں ڈال کے کھیلا گیا شکار

گرد و نواحِ شہر کو صحرا کیا گیا

 

کسی کسی سے یہ رکھتا ہے صحبتیں ایسی

کلام کرتا نہیں سب سے عیش دُنیا کا

 

آتی نہیں ہے لوٹ کے اب باز گشت بھی

آخر طلسم گنبدِ آواز کیا ہوا

 

غلط سلط کو مشتہر کیا گیا ہے اِس طرح

غلط سلط قبولِ خاص و عام ہو چکا ہے اب

 

اعجاز گل کی شاعری میں مشاہدے کی بہت اہمیت ہے۔ اس مشاہدہ میں سرسری پن ہرگز نہیں بلکہ ایک عمق ہے۔پھر اس مشاہدہ کے بیان میں جذباتی پن کی جگہ تفکر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے استعارے کلام کو مزید پراثر بنا دیتے ہیں :

مختلف کچھ بھی نہ تھا اِس رات  دن کے کھیل میں

ہُو بہ ہُو سا واقعہ تھا ، جُوں کا تُوں ہوتا گیا

 

میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے اُلٹ

تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

 

کیا گیا ہے زیر آج پیاس ہی سے پیاس کو

شکستہ کر کے پتھروں پہ یہ سبو اِدھر اُدھر

 

بدلتے رہتے ہیں شکلیں یہاں تماشائی

طلسم ایک سا ہے منظرِ تماشا کا

رہا یہ راز بدن اور عمر کے مابین

کہ کس نے کس کا ہے بارِ گراں اٹھایا ہوا

 

سانحہ یہ کہ رہی خاک نمو سے محروم

باغ ویران ہوا اور بھی گل کاری سے

 

حیرت مجھے آئینے پہ ، وہ مجھ سے پریشان

اک زنگ سے آلودہ تو اک خال نہ خد سے

 

رستے کی بھیڑ بھاڑ پہ شور و شغب سوا

باتیں ہیں دائیں بائیں تو اجسام پیش و پس

 

دیوار کے پیچھے ہے جاری کوئی ہنگامہ

یہ صحن تو مدّت سے سنسان برابر ہے

 

زنگارِ شام نے کیا ہر آئنہ خراب

چاندی سے عکسِ صبح کی رنگت ہوئی تمام

 

پڑھا سنا تھا ذکر ایک عمرِ بے ثبات کا

یہ کیا ہے فلسفہ نیا حیات در حیات کا

 

کر دیا سورج نے شاید دوپہر کو منجمد

یا ہُوا ہے دھوپ میں تحلیل سایہ شام کا

اب کھلا ہے ، وہ تماشا تھا یہی یک دو نفس

جس تماشے کی طلب میں چارسُو پھرتے رہے

 

جلوسِ تخت نشینی نہ میّتِ شاہی

تو کیسی بھیڑ لگی ہے یہ رہ گزار کے گرد

 

کل کہ جس بات پہ ہوتا تھا کرشمے کا گماں

عقل حیران ہے وہ آج حکایت نکلی

 

ماضی کی یاد اور ماضی پرستی دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔اعجاز گل کے ہاں اول الذکر کیفیت نمایاں ہے۔کہیں گم گشتہ اقدار کا نوحہ ہے تو کہیں گزشتگاں کی یاد۔کہیں گزرے دنوں کی انبساط انگیز یادیں ہیں تو کہیں ماضی میں درپیش تلخیاں اور کہیں دیروز اور امروز میں نامرادی کی یکسانیت کا تذکرہ لیکن انھوں نے کہیں بھی ماضی کی یادوں کو پرستش نہیں بننے دیا۔  Rick Warren لکھتے ہیں :

“We are products of our past, but we don’t have to be prisoners of it.”

(The Purpose Driven Life: What on Earth Am I Here for?”)

Sarah Dessen کہتی ہیں :

Your past is always your past. Even if you forget it, it remembers you.

(What Happened to Goodbye)

 

نہ ڈھونڈ عمرِ گزشتہ کے داغ پانی میں

جو خاک گھل گئی ، کیسا سراغ پانی میں

 

ملتے ہیں روز خاک میں غلطاں نقوشِ پا

گم گشتہ یادِ عمر کی معدوم راہ میں

 

کبھی گزر تھا اِدھر سے بھی ایک دریا کا

کہ اب ٹھکانہ ہے جن بستیوں میں صحرا کا

 

گزشتگاں ہی مرے منتظر ہیں ، یا کوئی

نیا یہ سلسلہ دنیائے بے نشاں کا ہے

 

جب نشاں ملتا نہیں کھوئے ہوئے ایام کا

تذکرہ کیسے کریں اُس شہرِ دل آرام کا

 

انکار ہے امروز کو بھی میری طلب سے

رفتہ نے بھی پورے کیے ارمان بہت کم

 

میں خرچ کرتا ہوں امروز کو بھی رفتہ میں

کہ سکّہ چلتا ہے واں میری بادشاہت کا

 

عمرِ رفتہ! ترے مٹی سے اَٹے رستوں پر

کوئی معدوم ہوئے نقشِ قدم ڈھونڈتا ہے

 

کبھی کبھی تو غنیمت ہے یاد رفتہ کی

بٹھا نہ روز لگا کے اسے سرہانے سے

 

رائیگانی اور احساسِ زیاں کا احساس اعجاز گل کے ہاں شکلیں بدل بدل کر سامنے آتا ہے۔ کہیں اپنے اعمال پر بے اطمینانی کا اظہار ہے تو کہیں اپنے سامع کی ناسمجھی کا ادراک:

یہیں پہ فردِ عمل کھول ، پڑھ سنا تفصیل

زیاں زیاں ہی رہے گا ، کسی جہاں لے چل

 

وہ سن رہا ہے جسے کچھ سمجھ نہیں آتی

جسے سمجھ ہے وہ سامع نہیں حکایت کا

 

جو عمر باقی ہے تفصیل اس کی نامعلوم

جو  کی  گئی  ہے  بسر ،  رایگاں   زیادہ  ہے

 

متفق دونوں ہیں اس جسم کی بربادی پر

دن بھی بہتر نہ کٹے ، رات بھی ابتر ٹھہرے

 

آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعتِ نسیاں !

کیا رکھا ترے طاق پہ ، کیا طاق سے باہر

 

تمام کام ادھورے رہیں تو حیرت کیا

دِنوں میں ختم ہو جب عمرِ ماہ و سال تو پھر

 

مرے علاوہ بھی اِس ذات کے خرابے میں

کوئی مکین شب و روز خود کلام کہ ہے

 

موت کے حوالے سے خلیل جبران کے درج ذیل اقوال لائقِ توجہ ہیں :

’’ میں نے ایک مرتبہ زندگی سے کہا، ’میں چاہتا ہوں ، زندگی کو بولتے سنوں ۔ زندگی نے اپنی آواز قدرے بلند کی اور کہا:  تم اس وقت موت کی آواز سن رہے ہو۔‘‘

اور اعجاز گل کے اشعار میں موت کا حوالہ بہ کثرت ملتا ہے۔کہیں علامتی پیرایہ میں موت کے متعلق استفسار ہے تو کہیں صاف، سیدھا، سچا بیان۔کہیں موت کے بعد زندگی کی طرف اشارہ ہے تو کہیں خال و خد کے اجڑنے کا ذکر۔ کہیں بڑھاپے میں لاحق تنہائی سے عاجز آ کر درونِ ذات محفلیں سجانے کا عندیہ۔کہیں خود سے بچھڑ جانے کا ماتم ہے تو کہیں گزرتے سن و سال پر اطمینان کا اظہار۔ کہیں کسی کے اشارے کا انتظار ہے تو کہیں موت کی آواز سنائی دیتی ہے:

کتنی دھوپ چھاؤں ہے ، راستہ کہاں تک ہے

اِس سفر میں منزل کا فاصلہ کہاں تک ہے

کتنی دیر مہلت ہے اور ابر و باراں کی

کاغذی سا یہ پیکر اُڑ رہا کہاں تک ہے

 

اور کتنی دیر ہے اب اِس سرائے میں قیام

کتنی ساعت اور ہے اب میزبانی خاک کی

 

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اِس خاک سے باہر

 

ٹھہر تو اور برس دو برس گزارتے ہیں

نہیں پسند اگر عمرِ مہرباں ! لے چل

 

آخرِ دم ، تن کی حالت دیدنی

اور کہے دل ، سیرِ جادہ ایک اور

ہے معمہ زندگی کا یہ طلسم

بند اک در تو کشادہ ایک اور

 

زنگارِ عمر نے کیے سب خال و خد تمام

عکسِ نگارِ آئنہ پرداز کیا ہوا

 

درونِ ذات سجا محفلیں ، کہن سالی!

زمانہ تجھ سے اگر گفتگو نہیں کرتا

 

ہے کون یہ مقیم مرے خاکدان میں

وہ  شخص  جس  کا  نام  تھا  اعجاز  کیا  ہوا

 

یہ عمر مناسب ہے تناسب کے ہنر سے

دشوار زیادہ ہے نہ آسان بہت کم

 

اٹھا کے پھینک تو دوں سر سے عمر کا اسباب

ہے انتظار کسی اور کی اجازت کا

 

کیا گیا تھا کہیں سے پہلے بھی بے ٹھکانہ

میں منتقل ہو رہا ہوں اب خاکدان سے بھی

 

سنبھال ، عمرِ کہن! اپنے سقف ، دیواریں

کہیں نواح میں آوازِ انہدام کہ ہے

 

لیکن درج ذیل دو اشعار میں تو انھوں نے حد ہی کر دی۔ ساٹھ سال کے قیام کو کافی سمجھ کر نئے نگر، نئی جگہ کوچ کی تیاری اور اس پر مستزاد یہ کہ اپنے کیے دھرے کو شعبدہ گری قرار دے کر سانس کی مہلت کے ختم ہونے کا اعلان کر ڈالا:

چل اُٹھ بھی ، کوچ کر کسی نئی جگہ ، نئے نگر

اِدھر توساٹھ سال کا قیام ہو چکا ہے اب

 

کر بند حرف و صوت کی یہ شعبدہ گری

اعجاز! اُٹھ ، کہ سانس کی مہلت ہوئی تمام

 

اعجاز صاحب! آپ یہ عمر کی سیڑھیاں گننا چھوڑ دیں ۔ گرتے در و دیوار آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ آپ کے اندر کا تخلیق کار ابھی بہت توانا ہے۔ میرے کہے پر یقین نہ ہو تو اپنا شعر ہی دیکھ لیجیے کہ ابھی تو:

ہے ارتکازِ ذات میں وقفہ ذرا سی دیر

ٹوٹا نہیں ہے رابطہ لَو سے چراغ کا

———-

نوید صادق

 

 

 

 

 

ذرا بتلا ، زماں کیا ہے ؟ مکاں کے اُس طرف کیا ہے

اگر یہ سب گماں ہے، تو گماں کے اُس طرف کیا ہے

 

اگر پتھر سے بکھرے ہیں تو آخر یہ چمک کیسی

جو مخزن نور کا ہے ، کہکشاں کے اُس طرف کیا ہے

 

یہ کیا رستہ ہے؟ آدم گامزن ہے کس مسافت میں

نہیں منزل تو پھر اِس کارواں کے اُس طرف کیا ہے

 

عجب پاتال ہے دروازہ و دیوار سے عاری

زمیں اندر زمینِ بے نشاں کے اُس طرف کیا ہے

 

تہِ آبِ رواں سنتا ہوں یہ سرگوشیاں کیسی

سکونت کس کی ہے اور آستاں کے اُس طرف کیا ہے

 

سمجھتے آ رہے تھے جس خلا کو شہرِ گم گشتہ

وہ شے کیا ہے ، خلائے بے کراں کے اُس طرف کیا ہے

 

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

زمیں کے اِس طرف اور آسماں کے اُس طرف کیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

اتنا طلسم یاد کے چقماق میں رہا

روشن چراغ دور کسی طاق میں رہا

 

مخفی بھی تھا وصال کا وہ بابِ مختصر

کچھ دل بھی محو ہجر کے اسباق میں رہا

 

صحرا کے اشتراک پہ راضی تھے سب فریق

محمل کا جو فساد تھا ، عشاق میں رہا

 

مفقود ہو گیا ہے سیاق و سباق سے

جو حرفِ عمر سینکڑوں اوراق میں رہا

 

میں تھا کہ جس کے واسطے پابندِ عہدِ ہجر

وہ اور ایک ہجر کے میثاق میں رہا

 

اطوار اِس کے دیکھ کے آتا نہیں یقیں

انساں سنا گیا ہے کہ آفاق میں رہا

 

خفتہ تھے دائیں بائیں کئی مارِ آستیں

زہراب کا اثر مرے تریاق میں رہا

 

تاریخ نے پسند کیا بھی کسی سبب

یا بس کہ شاہِ وقت تھا ، اَوراق میں رہا

٭٭٭

 

 

 

جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے

اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے

 

مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر

سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے

 

اماں کو نیل میسّر نہ میں کوئی موسیٰ

مجھے سپردِ فراعین کر دیا گیا ہے

 

سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے

سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے

 

یہ منتہا ہے مری نارسائی کا شاید

جو دور حدِ نظر سے پرے خلا گیا ہے

 

مہک اٹھے ہیں مرے باغ کے خس و خاشاک

کوئی ٹہلتا ہوا صورتِ صبا گیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

خاشاک سے خزاں میں رہا نام باغ کا

ورنہ تو ہر درخت پہ قبضہ ہے زاغ کا

 

حیرت ہے ، سب تلاش پہ اُس کی رہے مُصر

پایا گیا سراغ نہ جس بے سراغ کا

 

ہے ارتکازِ ذات میں وقفہ ذرا سی دیر

ٹوٹا نہیں ہے رابطہ لَو سے چراغ کا

 

کب کس پہ مہربان ہو اور کب اُلٹ پڑے

کس کو یہاں پتا ہے کسی کے دماغ کا

 

ہوتا ہے پھر وہ اور کسی یاد کے سپرد

رکھتا ہوں جو سنبھال کے لمحہ فراغ کا

 

مشقِ سخن میں دل بھی ہمیشہ سے ہے شریک

لیکن ہے اس میں کام زیادہ دماغ کا

٭٭٭

 

 

 

( جنابِ خالد احمد کے لیے )

 

مکانِ خاک کا اب انہدام ہو گیا ہے

مکیں کا جتنا لکھا تھا قیام ، ہو گیا ہے

 

روانگی میں کوئی ردّ و کد نہیں باقی

پیامِ رخصت و حرفِ سلام ہو گیا ہے

 

نگہ خموش ہوئی ، ہاتھ کی گرفت نہیں

حیات! دیکھ ، ترا اختتام ہو گیا ہے

 

نہ گرم جوش بدن ہے نہ وہ بغل گیری

بچھڑنے ملنے کا قصہ تمام ہو گیا ہے

 

گلی میں چھوڑ کے عشّاق منتظر اپنے

وہ لا پتا پسِ دیوار و بام ہو گیا ہے

 

خبر یہی ہے کہ اس کی نئی رہائش کا

بہشت میں کہیں اب انتظام ہو گیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

عذاب آئے تو سر سے گزر نہیں جاتا

فنا کے بعد فنا کا اثر نہیں جاتا

 

سمجھ  قیام  کسی  جا  بھی  عارضی ،  جب  تک

کمر سے رختِ مسافت اُتر نہیں جاتا

 

گلی میں آیا ہے قاصد ، ذرا خبر تو لے

ترے علاوہ وہ کس کس کے گھر نہیں جاتا

 

کھلے جو آنکھ تو معدوم ساری تصویریں

غلط  کہ   خواب   سحر  سے  بکھر  نہیں  جاتا

 

اُسے بھی اپنے مشاغل سے فرصتیں کم ہیں

یہ واقعہ ہے کہ میں بھی اُدھر نہیں جاتا

 

مرے وجود سے گردش ہے جس زمانے کو

گروں جو تھک کے تو دم بھر ٹھہر نہیں جاتا

٭٭٭

 

 

 

 

 

گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سے

میں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سے

 

کبھی کبھی تو غنیمت ہے یاد رفتہ کی

بٹھا نہ روز لگا کے اسے سرہانے سے

 

عجیب شخص تھا میں بھی بھلا نہیں پایا

کیا نہ اس نے بھی انکار یاد آنے سے

 

اٹھا رکھی ہے کسی نے کمان سورج کی

گرا  رہا  ہے  مرے  رات  دن  نشانے  سے

 

کوئی  سبب  تو   ہے  ایسا  کہ  ایک  عمر  سے  ہیں

زمانہ مجھ سے خفا اور میں زمانے سے

٭٭٭

 

 

 

 

ہے بے خبر کسی شے سے نہ واقعات سے دور

رہا ہے پھر بھی وہ آدم کی واردات سے دور

 

کہ تنگ آ کے ہوا ہے وہ لاتعلق ، یا

کیا ہے خلق نے اپنے معاملات سے دور

 

پہنچ  رہا  ہوں  میں  تجھ  تک  نشانیوں  کے  طفیل

جو لامکان سا تیرا ہے کائنات سے دور

 

ہے منصفی کا تماشا عجب کہ عادل نے

رکھی ہے عدل کی زنجیر میرے ہات سے دور

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہُنر تھا جس میں سفید و سیاہ کرنے کا

کیا ہے کام اُسی نے تباہ کرنے کا

 

ہوئی ہے اس کے بدن کو نصیب عریانی

جسے تھا شوق یہاں کج ، کُلاہ کرنے کا

 

بروں دروں سے رہا اشتراک پر راضی

دروں بروں سے ہے منکر نباہ کرنے کا

 

مدارِ ہجر کی گردش اگرچہ لازم ہے

طوافِ وصل بھی ہے گاہ گاہ کرنے کا

 

گنوائی عمر تعلق میں اس زمانے کے

نہ آیا خود سے ہنر رسم و راہ کرنے کا

 

خبر نہیں کہ ہوئی بھی ہے لفظ کی ترسیل

یا شغل ہی رہا کاغذ سیاہ کرنے کا

 

نہیں تمیزِ گناہ و ثواب جس کو ، اُسے

ہے اختیار ثواب و گناہ کرنے کا

٭٭٭

 

 

 

 

کہاں بے منظری سے اب کوئی منظر نکلتا ہے

کرامت ہو بھی جائے تو الٹ یک سر نکلتا ہے

جو ابتر میری رائے میں ہے وہ بہتر نہیں ہوتا

جسے بہتر سمجھتا ہوں وہی ابتر نکلتا ہے

 

رسائی غل مچاتی ہے تو چادر کھینچ لیتا ہوں

جو کونا نارسائی کا ذرا باہر نکلتا ہے

 

نہیں کرتا وہ دل جوئی کبھی کاغذ کے ٹکڑے سے

مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے

 

کتابِ عمر پڑھتا ہوں کہ ہے دستور مکتب کا

ورق جو بھی پلٹتا ہوں سبق ازبر نکلتا ہے

 

مقیّد ہوں کہ کھینچی ہے ہوا نے چار دیواری

نہ میری سانس رکتی ہے نہ کوئی در نکلتا ہے

 

اُڑاتا ہوں ہمیشہ خاک باہر رائیگانی کی

ادھر جاتا نہیں جو راستا اندر نکلتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

شکار ہونا کسی مرگِ ناگہاں کا ہے

عجب نصیب یہ ہم اہلِ خاک داں کا ہے

 

نہیں دوام میسر کسی وظیفے سے

وہی  فنا  ہے  کہ  انجام  جسم  و  جاں  کا  ہے

 

ہوا ہے ختم یہیں  قصہ رایگانی کا

کہ باب باقی کوئی زیبِ داستاں کا ہے

 

نہیں وجود و عدم سے مجھے کوئی نسبت

ہوں ایک وہم جو دونوں کے درمیاں کا ہے

 

گمان تیرا غلط تھا خلا کے بارے میں

درست میرا یقیں ہے جو آسماں کا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

قبولِ  ہجر   نہ  ردِ  وصال   ہو  گئی  ہے

وہ عرض ملتوی و پائمال ہو گئی ہے

 

درست بات تھی اپنی شناخت سے محروم

غلط ہوئی تو جہاں میں مثال ہو گئی ہے

 

رہی نہ سہل کہ جب جمع و خرچ کی تفصیل

تو ختم حسرتِ مال و منال ہو گئی ہے

 

دیا ہے آمد و رفتِ نفس نے اب کے فریب

کہ مشتہر خبرِ انتقال ہو گئی ہے

 

کسی سے حل نہ ہوا مسئلہ یہ  لا والا

تمام مشقِ جواب و سوال ہو گئی ہے

 

گرا تھکان سے سورج بھی شام کے در پر

نہیں کہ دھوپ سفر سے نڈھال ہو گئی ہے

 

رہا نہیں ہے بحالی کا اب کوئی امکان

کچھ اس طرح یہ طبیعت بحال ہو گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ

میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ

 

بنا ہوا ہے تعلق سا اُستواری کا

مرے طواف سے اس محور و مدار کے بیچ

 

کہ آتا جاتا رہے عکسِ حیرتی اِس میں

بچھا دیا گیا آئینہ آر پار کے بیچ

 

ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو

خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ

 

یہ میں ہوں ، تو ہے ، ہیولا ہے ہر مسافر کا

جو مٹ رہا ہے تھکن سے ادھر غبار کے بیچ

 

کوئی لکیر سی پانی کی جھلملاتی ہے

کبھی کبھی مری متروک آبشار کے بیچ

 

میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے اُلٹ

تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ

٭٭٭

 

 

 

 

 

تھا اتفاق کہاں حرفِ اعتراف سے بھی

کہ اختلاف رہا اپنے اختلاف سے بھی

 

نہ مطمئن کیا اثبات نے بغیر دلیل

میں منحرف ہوا ہر بار انحراف سے بھی

 

بہت عجیب تھی یہ کائناتِ صد اَسرار

کھلی نہ مجھ پہ کسی اسمِ انکشاف سے بھی

 

ازل    ابد    کا   معمہ   رہا   ہے   لا ینحل

ترے  مراقبے  سے  ،  میرے  اعتکاف  سے  بھی

 

کہیں نشیب میں بیٹھی ہے چھپ کے گدلاہٹ

عیاں ہوا ہے یہ پانی کی سطحِ صاف سے بھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہاں یقیں کی حکایت سے انحراف کیا

ذرا حروف کو دستِ گماں سے صاف کیا

 

ازل سے پیشِ خرد ہے معاملہ کوئی

نہ رد ہوا کبھی اس سے نہ اعتراف کیا

 

نہاں تھا گوہرِ مقصود کشف کے اندر

یہ مجھ پہ میرے تغافل نے انکشاف کیا

 

فراق  تھا  تو  اسے  سات  آسماں  سونپے

وصال  رحل  میں  رکھا ،  تہِ  غلاف  کیا

 

ہوا ہے اور بھی دھُندلا یہ شک کا آئینہ

کہ جس قدر ہنرِ صیقلی نے صاف کیا

 

رہا دماغ کا ہر فیصلہ مرے حق میں

اگر خلاف ہوا ، دل نے اختلاف کیا

 

سوائے اُس کے جو تھی ایک بات رنجش کی

کسی نے مجھ کو ، تو میں نے اُسے معاف کیا

٭٭٭

 

 

 

کوئی خبر تو دیتا ہے دشمن سپاہ کو

دل جب بسانے لگتا ہے شہرِ تباہ کو

 

احوال مختصر یہ ، ہوا منحرف طلسم

کرتا تھا کل گلاب یہاں جو گیاہ کو

 

منظر سمٹ گئے ہیں تماشے کے یا مری

محدود کر دیا گیا حدِ نگاہ کو

 

مٹتا نہیں یقین تری کج ادائی کا

دیتا رعایتیں ہوں بہت اشتباہ کو

 

کرتی ہے روز قتل مجھے زندگی یہاں

جاتا نہیں ہوں چھوڑ کے اس قتل گاہ کو

 

منزل کو انتظار ہے ، لیکن میں بدگماں

چلتا ہوں تھوڑی دور ، بدلتا ہوں راہ کو

٭٭٭

 

 

 

 

پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں

مشکل ہے خود کو ڈھونڈنا عکسِ تباہ میں

 

جل بجھ چکا ہے خواہشِ ناکام سے وجود

پرچھائیں پھر رہی ہے مکانِ سیاہ میں

 

میں وہ اجل نصیب کہ قاتل ہوں اپنا آپ

ہوتا ہوں روز قتل کسی قتل گاہ میں

 

رکھا گیا ہوں عزت و توقیر کا اسیر

باندھا گیا ہے سر کو غرورِ کلاہ میں

 

ہلکان میں نہیں تیری خاطر سرِ ہجوم

سب مر رہے ہیں حسرتِ یک دو نگاہ میں

٭٭٭

 

 

 

 

قفس میں بھی غیر مطمئن اور اڑان سے بھی

رہا پرندے کو خوف تیر و کمان سے بھی

 

یقین پر بھی تھی معترض سی یہ بے یقینی

میں بدگماں سا رہا ہمیشہ گمان سے بھی

 

کیا گیا تھا کہیں سے پہلے بھی بے ٹھکانہ

میں منتقل ہو رہا ہوں اب خاکدان سے بھی

 

ملی نہ مطلب کی چیز بازار سے جہاں کے

نہیں ہے آگے دُکان اب اس دُکان سے بھی

 

زمیں تعاقب سے اس کے بے سود بھاگتی ہے

فرار پایا کسی نے ہے آسمان سے بھی

 

سلوک بھی ناروا تھا منزل کا راستے سے

معاملہ فاصلے کا اُلجھا تھکان سے بھی

 

رہا سوال و جواب میں جو ، مغالطہ تھا

کہ ہے نتیجہ وہی نئے امتحان سے بھی

 

چلا تو بے شک یہ تیر نامہربانیوں کے

نہ پھینک صوتِ ملال تو اب زبان سے بھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

کسے فراغ ہے ، سنے یہ ہاؤ ہو اِدھر اُدھر

کلام کر رہے ہیں ، جو بھی ، میں کہ تو اِدھر اُدھر

 

کیا گیا ہے زیر آج پیاس ہی سے پیاس کو

شکستہ کر کے پتھروں پہ یہ سبو اِدھر اُدھر

 

کہ اب جو خشک ریت جمع ہے نشیبِ عمر میں

کبھی یہ گھومتی تھی مثلِ آب جو اِدھر اُدھر

 

یہاں تو میری تیغ اور مرے سوا کوئی نہیں

اگر مِرا نہیں تو کس کا ہے لہو اِدھر اُدھر

 

ہے کھیل نارسائی کا عجیب گرد و پیش میں

کہ تو کبھو اُدھر اِدھر تو میں کبھو اِدھر اُدھر

 

کھلے کواڑ ہیں نہ سائے چلمنوں کی اوٹ میں

تو کیا کرے گی جھانک کے اب آرزو اِدھر اُدھر

٭٭٭

 

 

 

 

کبھی گزر تھا اِدھر سے بھی ایک دریا کا

کہ اب ٹھکانہ ہے جن بستیوں میں صحرا کا

 

کر احتیاط سے ضائع فراغِ حاصل کو

عذاب دُور رہے تاکہ تنگیِ جا کا

 

بدلتے رہتے ہیں شکلیں یہاں تماشائی

طلسم ایک سا ہے منظرِ تماشا کا

 

کسی کسی سے یہ رکھتا ہے صحبتیں ایسی

کلام کرتا نہیں سب سے عیش دُنیا کا

 

اُسے گریز تھا جس مدعائے بے پر سے

مجھے تھا ذوق اُسی گفتگوئے بے جا کا

٭٭٭

 

 

 

 

محور نے آفتاب کے رکھا مدار میں

گردش رہی زمین کی لیل و نہار میں

 

پہلے تو مجھ سے چھین لیا آئنے نے عکس

اب خود سے شرمسار ہے اَٹ کر غبار میں

 

لا حاصلی کی بھیڑ میں کیا تذکرہ یہاں

تُو ہے سرِ قطار یا پیچھے قطار میں

 

ایسا گرا نشیب میں وقتِ زوال جسم

مسکن مرے غرور کا تھا کوہ سار میں

 

لمحہ بہ لمحہ ٹوٹ رہا ہے یہ خاک داں

معدوم ہو رہا ہوں میں اپنے غبار میں

 

کترا کے اس طرف سے گزرتی رہی بہار

جو انتظار میں تھے ، رہے انتظار میں

 

خالی ہے اعتبار سے ہر ظرفِ اعتبار

بے اعتباریاں ہیں بہت اعتبار میں

 

اس کو نہ دستیاب تھا وقفہ سکوت کا

میں تو خلل پذیر تھا آوازِ یار میں

٭٭٭

 

 

 

 

اک پھول گرا تھا تری آوازِ گلو کا

اطراف میں پھیلا ہے چمن نکہت و بو کا

 

دل اپنا سیے جاتا ہے کانٹوں سے کہ اک شخص

احسان اٹھاتا نہیں سامانِ رفو کا

 

بوسیدگیِ جسم چھپانے کو زمانہ

پیوند عطا کرتا ہے روزانہ لہو کا

 

برباد نہ کر آگ کے شعلوں سے زمیں کو

اے خاک! ترا خاک سے رشتہ ہے نمو کا

 

اک جست میں کر آتا ہوں کعبے کی زیارت

محتاج تصور ہے مسافت نہ وضو کا

٭٭٭

 

 

 

 

ہر ورَق پر کھنچ رہے ہیں ، شوقِ طولانی کے بیچ

کتنے خط دُشواریوں کے ، روز آسانی کے بیچ

 

میں تو ٹھہرا ہوں کہ ہے میرے ٹھہرنے کا سبب

وقت کیوں چلتا نہیں میری پریشانی کے بیچ

 

چشمِ حسرت کے لیے ، حسنِ سبا کی سیر کو

خواب کے روزن ہیں دیوارِ سلیمانی کے بیچ

 

ہے تعلق منقطع شاید عصا اور خاک کا

اب کہیں بنتا نہیں ہے راستہ پانی کے بیچ

 

گوندھ رکھا ہے کسی کوزہ گری نے آگ کو

صورتِ غصہ دماغِ نوعِ انسانی کے بیچ

 

تھے پڑاؤ اور بھی لیکن لڑکپن نے مجھے

یاد آ آ کے رُلایا عمرِ طولانی کے بیچ

 

ہر طلسم اپنی جگہ ، لیکن نہیں حیران اب

آدمی حیران تھا کل تک جو حیرانی کے بیچ

٭٭٭

 

 

 

 

جتنا کہ اس طلب کو کشادہ کیا گیا

محرومیوں  کو  حد  سے  زیادہ  کیا  گیا

 

نکلی  تھی  مشت  خاک  کی  نسیاں  کے  طاق  میں

جب  یادِ  عمر  تیرا  اعادہ  کیا  گیا

 

اسمِ  عمل  سے  رکھا  گیا  تھا  یہ  منسلک

دستک  پہ  وا  نہ  بابِ  ارادہ  کیا  گیا

 

اس  حسنِ  پر  غرور  کے  تھے  پیچ  و  خم  وہی

سو  بار  مشقِ  عشق  سے  سادہ  کیا  گیا

 

چلنے لگا تو وقت نے کھینچا قمیص کو

بیٹھا تو نوکِ پا سے ستادہ کیا گیا

 

ترکِ تعلقات پہ رخصت سے پیش تر

دل میں مراجعت کا ارادہ کیا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

یہ کیا طلسم سا ہے آسماں اُٹھایا ہوا

خلا کے بعد خلا درمیاں اٹھایا ہوا

 

کسی کشش نے ازل سے سنبھال رکھا ہے

گرا  زمیں  پہ  نہیں  سائباں  اٹھایا  ہوا

 

جہانِ ہفت ہے اک نوکِ بے کرانی پر

تماشا  گر  نے  کراں  تا  کراں  اٹھایا  ہوا

 

چھوا تھا وقت کو انگشتِ پائیداری نے

حباب  ٹوٹ  گیا  ناگہاں  اٹھایا  ہوا

 

رہا   یہ    راز     بدن    اور   عمر   کے  مابین

کہ کس نے کس کا ہے بارِ گراں اٹھایا ہوا

 

گماں ہمیشہ ہے قائم یقین سے اپنے

یقین  نے  ہے  یہاں  ہر  گماں  اٹھایا  ہوا

 

مسافروں  نے   ابھی   رہ  گزر  نہیں  چھوڑی

تھکان نے ہے سفر رایگاں اٹھایا ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

فقیر ٹھہرا مقابل یہاں اکیلا میں

چہار سمت ہے غولِ سگاں ، اکیلا میں

 

گرا تو چرخ سبھی پر مگر سلیقے سے

تھا مختلف ہدَفِ آسماں اکیلا میں

 

یہ خاک ، چاک نیا مانگتی ہے ، ڈھونڈتا ہوں

تجھے ، اے کوزہ گرِ دو جہاں ! اکیلا میں

 

جوان ہو گئے سب میرے آس پاس کے لوگ

کہن رسیدہ ہوا تو جواں اکیلا میں

 

مرے  علاوہ  نہیں  ہے  اگر  کوئی  موجود

سنا رہا ہوں کسے داستاں اکیلا میں

 

مخالفت پہ ہے ہم زاد تک کمربستہ

بس اپنی ذات پہ ہوں مہرباں اکیلا میں

٭٭٭

 

 

 

 

عکس معدوم ہوا جاتا ہے زنگاری سے

آئنے! کام لے اب صیقلِ ہشیاری سے

 

سانحہ یہ کہ رہی خاک نمو سے محروم

باغ ویران ہوا اور بھی گل کاری سے

 

عمر کو رنج ہے سانسوں کے بچھڑ جانے کا

جسم افسردہ ہے مٹی کی زیاں کاری سے

 

وقت کو سہل تھا دیوار اُٹھانا ، لیکن

لوگ روزن بھی بناتے رہے دُشواری سے

 

رات دیدار کے دشمن رہے ابر و باراں

صبح تھا چاند کو انکار نموداری سے

 

جب بھی تنہائی اُلجھتی ہے تو باہر آ کر

خود کو بہلاتے ہیں اس رونقِ بازاری سے

 

کارگر عشق پہ تھی حسن کی سادہ لوحی

حسن قابو نہ ہوا عشق کی عیاری سے

 

کل تھا اسباب تو اب جسم ہوا ہے نابود

فرق اتنا پڑا سیلاب کی تیاری سے

٭٭٭

 

 

 

 

بے عکس اب ہے شیشۂ ایام پیش و پس

آغاز اپنا دیکھ لے انجام پیش و پس

 

رکھتے ہیں بے سکون یہ اطرافِ نامراد

بے کل بہت ہے خواہشِ آرام پیش و پس

 

کھینچا ہوا ہے وہم نے وہ تارِ عنکبوت

آئے نظر یقین بھی اوہام پیش و پس

 

رستے کی بھیڑ بھاڑ پہ شور و شغب سوا

باتیں ہیں دائیں بائیں تو اجسام پیش و پس

 

نزدیک و دُور ایک سے اوقات اس جگہ

ٹھہرا ہوا ہے دیر سے ہنگام پیش و پس

 

کرتا ہے وقت ، وقت کو زیر و زبر یہاں

ہارا ہے بود ، است سے ہر گام پیش و پس

 

رکھتا ہے وقت عادتِ دل کا بہت خیال

لاتا ہے کھینچ کھینچ کے آلام پیش و پس

 

ہرگز نہیں ہے ذہن کو انکارِ حرف و صوت

نازل ہے چشم و گوش پہ ایہام پیش و پس

٭٭٭

 

 

 

 

خیال ہے کہ تماشا ہے آسمان سی شے

مگر یقین کا باعث ہے یہ گمان سی شے

 

یہ لگ رہا ہے کہ پہلے بھی سن چکا ہوں کہیں

سنا رہے ہیں جو دن رات داستان سی شے

 

ہو ملتفت تو درونِ سکوت ، حیرت کا

عجیب شہر دکھاتی ہے خاک دان سی شے

 

ہوا عذاب مرے دن کو آفتاب کا بوجھ

طلسمِ شام! ہٹا سر سے یہ چٹان سی شے

 

بہت نحیف تھے اِس عمر کے در و دیوار

کہ اپنے زور سے گرتی رہی مکان سی شے

 

ہر ایک فعل مرا نیکیوں سے ہے مشروط

رکھے اسیر مجھے دوسرے جہان سی شے

 

سفر کے بعد بھی ہوتی نہ تھی تھکان کبھی

سفر سے پہلے بدن میں ہے اب تھکان سی شے

 

وہ کوئلہ ہے کہ پتھر کہ راکھ ، بے معنی

اگر پسند تجھے ہے یہ کہکشان سی شے

٭٭٭

 

 

 

عکس اُبھرا نہ تھا آئینۂ دلداری کا

ہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کا

 

ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقتِ رخصت

بھید سائے پہ کھُلا شام کی عیاری کا

 

جس قدر خرچ کیے سانس ، ہوئی ارزانی

نرخ گرتا گیا رسم و رہِ بازاری کا

 

رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض

راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا

 

ایسا ویران ہوا ہے کہ خزاں روتی ہے

کل بہت شور تھا جس باغ میں گل کاری کا

 

بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش

کچھ ہدف ہو گا زمانے کی ستم گاری کا

 

پا بہ زنجیر کیا تھا مجھے آسانی نے

مرحلہ ہو نہ سکا طے کبھی دُشواری کا

 

مطمئن دل ہے عجب بھیڑ سے غم خواروں کی

سلسلہ طول پکڑ لے نہ یہ بیماری کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ملنے  کا  نہ  ملنے  کا  امکان  برابر  ہے

اس  ہجرت و وصلت کی  میزان  برابر  ہے

 

میلان   اشارت   کا  آپس  میں  ہے  یک  طرفہ

بے  گفت  و  شنید  اپنی  پہچان  برابر  ہے

 

پائی گئی آخر میں اتنی ہی شناسائی

جتنا کہ وہ پہلے تھا انجان ، برابر ہے

 

جھکتا  ہے  بدن  لیکن  گرتا  نہیں  رستے  میں

اس عمر کا گنتی میں سامان برابر ہے

 

نزدیک  سے  دنیا  کا  ہر  کام  ہے  الٹا  سا

دوری سے مگر لگتا آسان برابر ہے

 

دیوار کے پیچھے ہے جاری کوئی ہنگامہ

یہ صحن تو مدّت سے سنسان برابر ہے

 

بے رونقی گھٹنے سے کچھ فرق نہیں دل کو

رونق کے نہ بڑھنے سے ویران برابر ہے

 

اعمال  سے  کھنچتا   ہوں   دوزخ  کی  طرف  لیکن

جنت پہ ابھی میرا ایمان برابر ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

اُڑ رہے ہیں سامنے طائر نشانی خاک کی

ہو مبارک کشتیوں کو میزبانی خاک کی

 

کیا خبر ، کتنے ازل دُہرا چکے ہیں زیرِ لب

اور باقی کس ابد تک ہے کہانی خاک کی

 

اور کتنی دیر ہے اب اِس سرائے میں قیام

کتنی ساعت اور ہے اب میزبانی خاک کی

 

یاد کرنے پر بھی اب آتا نہیں ہے یاد کچھ

کل تلک ازبر تھیں سب شکلیں زبانی خاک کی

 

ساتھ دیتی ہے ہمیشہ وقتِ ابر و باد میں

ہے ادائے دوستانہ یہ پرانی خاک کی

 

چھوڑتی ہے روح بھی کہنہ سنی میں یہ بدن

راس آتی ہے یہاں سب کو جوانی خاک کی

٭٭٭

 

 

 

 

ازل ابد کی طرف اور عیاں نہاں کی طرف

یہاں وہاں ہے روانہ فلاں ، فلاں کی طرف

 

عجب  سزا   ہے  کہ  واپس  بھی  لوٹ  آتا  ہے

یہ  شہر  چلتا   ہے  ہر  روز  رایگاں  کی  طرف

 

نہ تنگ دل ہو ، اگر ہے رُخِ یقیں معدوم

پلٹ کے دیکھ لے سکہ ذرا گماں کی طرف

 

کیا جو آئنہ سیدھا ، کھُلا کہ میرے سوا

فلاں فلاں کی نگاہیں بھی تھیں فلاں کی طرف

 

یہ دل ہمیشہ رہا تیسری جہت کا نقیب

مخالفین کا ساتھی نہ حکمراں کی طرف

 

تھا  بے  پری  کا  تماشا  سو  تھک  کے  بیٹھ  گئی

اڑی تھی خاک ہواؤں میں آسماں کی طرف

٭٭٭

 

 

 

 

 

وقت زندہ ہے یہاں اب زندگانی کے بغیر

رات دن جنبش میں ہیں لیکن روانی کے بغیر

 

ہے علاقہ مختلف الفاظ کا اعداد سے

بے اثر ہے شاعری سب خوش بیانی کے بغیر

 

کوئی ثانی ہے بتا اِس خواب کی جاگیر کا

ہے جہاں اندر جہاں سدِّ زمانی کے بغیر

 

آگہی نے زیر کیں ایسے خلا کی وسعتیں

لامکاں سی چیز ہے اب لامکانی کے بغیر

 

اب تو کرتے ہیں پرندے چہچہانے سے گریز

باغ ردِّ باغ ٹھہرا گل فشانی کے بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

 

سو معرکے ہیں پیش سرِ فیل میرے ساتھ

پہنچے کہاں کہاں یہ ابابیل میرے ساتھ

 

ایسا نہیں کہ جسم ہے میرا فنا پذیر

ہوتے ہیں گرد و پیش بھی تبدیل میرے ساتھ

 

ہر   چند  اب  ہے  شعبدہ  بازی  سے  منحرف

چلتا  ہے  وقت  صاحبِ  زنبیل  میرے  ساتھ

 

تاخیر  نے  تو  خیر  جو  رکھا   روا  سلوک

کرتی  رہی  فریب  یہ  تعجیل  میرے ساتھ

 

اے حسن! اختتامِ تعلق سے پیش تر

طے کر ذرا جدائی کی تفصیل میرے ساتھ

 

بے منظر و مکالمہ ، کردار سے تہی

تنہائی کی عجیب ہے تَمثیل میرے ساتھ

٭٭٭

 

 

 

 

آ پاس بیٹھ ، عمر! حکایت بیان کر

گزری جو ماہ و سال قیامت ، بیان کر

 

اے سانس! تو نے جسم سے رکھا تھا کیا سلوک

کی وقت نے جو تجھ سے عداوت ، بیان کر

 

راوی نے جان بوجھ کے جس سے کیا گریز

چوپال واقعے کی روایت بیان کر

 

اس آسماں نے کھینچ لیا معجزوں سے ہاتھ

اب تجھ میں خاک ہے تو کرامت بیان کر

 

لکھا اگر غلط تجھے تاریخ دان نے

تاریخ! لوٹ اور صداقت بیان کر

 

فرصت ہو بعدِ جشن میّسر تو فتح یاب!

خلقت کی معرکے میں ہلاکت بیان کر

 

آخر ، مریضِ عشق! دُعا و دوا سوا

کیا چاہیے ہے بہرِ عیادت ، بیان کر

٭٭٭

 

 

 

 

رخصت ہوا ہے ہجر وہ وصلت ہوئی تمام

لا حاصلی و راحتِ قسمت ہوئی تمام

 

گر وقتِ نامراد تھا آہستہ رَو یہاں

اس ساعتِ کمال پہ عجلت ہوئی تمام

 

دشوار کام کو کیا تاخیر نے مطیع

آسانیوں کے ہاتھ سے دقّت ہوئی تمام

 

اس بے دِلی نے زیر کیا شہرِ آرزو

ناحسرتی کے زور سے حسرت ہوئی تمام

 

بیٹھا ہوں دھوپ سینکنے ، تپتا نہیں بدن

کیا  میری  طرح  مہر  کی  حدت  ہوئی  تمام

 

بیرون محفلوں کے اُجڑنے کا غم نہیں

جو اندرونِ ذات تھی صحبت ، ہوئی تمام

 

زنگارِ شام نے کیا ہر آئنہ خراب

چاندی سے عکسِ صبح کی رنگت ہوئی تمام

 

کر بند حرف و صوت کی یہ شعبدہ گری

اعجاز! اُٹھ ، کہ سانس کی مہلت ہوئی تمام

٭٭٭

 

 

 

کھینچ لایا کس جگہ ہنگام آخر عمر کا

اس طرح سوچا نہ تھا انجام آخر عمر کا

 

کچھ  جوانی  کو  سمجھنے   میں  بھی   تھا  انکار  سا

کچھ  کہانی   میں  بھی   تھا   ابہام  آخر  عمر  کا

 

یاد  آتی  ہے  بہت   وہ  سیرِ  دشت  و  کاخ  و  کو

جسم بستر پر ہے بے آرام آخر عمر کا

 

دیکھتا  ہے  اب  قفس   میں  بیٹھ  کر   افلاک  کو

اک پرندہ آ کے زیرِ دام آخر عمر کا

٭٭٭

 

 

 

 

ایسا نہیں کہ پہلے نہ رُسوا کیا گیا

اس بار کچھ زیادہ تماشا کیا گیا

 

پھیلا کے آفتاب سے پرچھائیوں کا خوف

ظلمت میں بستیوں کو اکیلا کیا گیا

 

ہانکا گیا سوار کو پیدل کے زور سے

اور آخری لکیر پہ پسپا کیا گیا

 

آہو قفس میں ڈال کے کھیلا گیا شکار

گرد و نواحِ شہر کو صحرا کیا گیا

 

پھولوں کے رنگِ سعد میں ملبوس شاخ کو

کانٹوں کی دل لگی میں برہنہ کیا گیا

 

جو کام ہو گیا ، اُسے رکھا گیا الگ

اک اور کارِ نو کا تقاضا کیا گیا

 

تاویلِ صفر کے لیے سارے حساب میں

جو بھی عدد تھا جمع کا ، منہا کیا گیا

 

حیرت  ہے  اپنا  آپ  تھا  دشمن  یہ  بدنصیب

مقتول پر ہی قتل کا دعوا کیا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

انجام   ہنس    رہا    ہے   کہ   آغاز   کیا    ہوا

راہِ طلب کا نقشِ تگ و تاز کیا ہوا

 

چلمن سے جھانکتی تھیں جو آنکھیں کہاں گئیں ؟

تھا سامنے گلی میں جو دَر باز ، کیا ہوا؟

 

کیا سلطنت ہوئی یہاں عیشِ ملال کی

غم کیا ہوئے ، وہ لمحۂ غماز کیا ہوا

 

سب کچھ لٹا دیا گیا در پر وصال کے

اندوختۂ ہجر تھا دم ساز ، کیا ہوا؟

 

آتی  نہیں  ہے  لوٹ  کے  اب  باز  گشت  بھی

آخر طلسم گنبدِ آواز کیا ہوا

 

زنگارِ عمر نے کیے سب خال و خد تمام

عکسِ نگارِ آئنہ پرداز کیا ہوا

 

دام و قفس کی قید نئی بات تو نہ تھی

بال و پری کا جذبۂ پرواز کیا ہوا

 

ہے  کون    یہ  مقیم   مرے   خاکدان    میں

وہ  شخص  جس  کا  نام  تھا  اعجاز  کیا  ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

باعثِ خیر! سرِ معرکۂ فیل یہاں

بس کہ منقار تہی ، بھیج ابابیل یہاں

 

بدگمانی ہے کہ آواز یقیں پر حاوی

دستکیں دے کے پلٹ جاتا ہے جبریل یہاں

 

آگ بھی منکرِ تعظیم تھی وقتِ تخلیق

خاک بھی خاک کی کرتی رہی تذلیل یہاں

 

طلبِ حسن نے رکھے تھے زمانے مغلوب

قتل ہوتے رہے قابیل سے ہابیل یہاں

 

جب سمجھتا ہی نہیں بات کو مکتوب اِلیہ

کیا لکھیں خط میں اشارات کہ تفصیل یہاں

 

اک بہانہ ہے ملاقات کا ، ورنہ کیا ہے

مدّعا کہنا تو سننا نئی تاویل یہاں

 

دل مؤحد ہے ، کسی طور نہ مانے بے شک

روز پڑھوایئے کم بخت کو انجیل یہاں

٭٭٭

 

 

 

 

زندگی صحرا کی صورت تھی ، سراب آیا کیا

شیشۂ ریگِ رواں میں عکسِ آب آیا کیا

 

رات کے پچھلے پہر تک اُس گلی سے اِس گلی

پوچھنے احوالِ ہجراں ، ماہتاب آیا کیا

 

سرد مہری سے کیا اُس نے تدارک تو مگر

شوق خود سر تھا ، ہمیشہ باریاب آیا کیا

 

مطمئن مت رہ ، خموشی میں ہے ہنگامہ خفی

سطحِ ساکت میں زیادہ اضطراب آیا کیا

 

تھا تقاضا منزلوں کا یا خراجِ رہ گزر

لوٹ کر ہر راہ رَو نا کامیاب آیا کیا

٭٭٭

 

 

 

 

پڑھا سنا تھا ذکر ایک عمرِ بے ثبات کا

یہ کیا ہے فلسفہ نیا حیات در حیات کا

 

سمجھ نہ یہ خلا کوئی دکاں کنارِ آسماں

کہ تو خرید لے گا ہر سراغ کائنات کا

 

ہوا نہیں ہے ردّ اثر کسی دم و درُود سے

قیام مستقل ہے ذہن میں توہمات کا

 

کسی جنم میں آشکار ہو گا اِس جہان پر

جو راز ہے ثبات کا ، حیات در ممات کا

 

کبھی وصال بے کشش ، کبھی فراق بے طلب

طریق مختلف رہا ہے دل کی واردات کا

 

جو تیرے میرے درمیاں تھیں دُوریاں ، ہنوز ہیں

کہ برقرار فاصلہ ہے اب بھی ایک ہات کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

چہل پہل دوام سی درونِ ذات ہے فقط

برون محفلِ ثبات ، بے ثبات ہے فقط

 

کبھی گماں کو رد کرے ہے بیعتِ یقین میں

کبھی یہ دل کہے یقیں گمانِ ذات ہے فقط

 

محیط ساٹھ سال پر ہے عمر خوابِ مہرباں

کہاں  کہاں  پھرائے  مختصر  سی  رات  ہے  فقط

 

تو پھر عیاں نہاں میں ہے عدد کا فرق کس طرح

جو پیش و پس ممات کے ، وہی حیات ہے فقط

 

کبھی تھے سانس اَن گنت کہ بعد   نفی جمع کے

جو حاصلِ حساب ہے تو پانچ سات ہے فقط

 

بدل نہ اب بیان کو ، اگر کہا گیا تھا کل

یہی زمین آسمان کائنات ہے فقط

 

سمیٹ بحث کو اِدھر پڑے ہیں قفل عقل پر

یہاں فضول اب کلامِ صد نکات ہے فقط

٭٭٭

 

 

 

 

جہاں بھی فرشِ خاک تھا ، خرام ہو چکا ہے اب

سفر کنارِ آب تک تمام ہو چکا ہے اب

 

کہو یہ نطق سے ، کرے مراجعت سکوت میں

یہاں درونِ ذات سب کلام ہو چکا ہے اب

 

مگر وہ صد جہاں کہ ہیں اڑان میں پسِ فلک

یہ طائرِ خلا تو زیرِ دام ہو چکا ہے اب

 

غلط سلط کو مشتہر کیا گیا ہے اِس طرح

غلط سلط قبولِ خاص و عام ہو چکا ہے اب

 

تلاش کر کہیں سے کوئی حرفِ غیر معتبر

کہ حرفِ معتبر سے رد پیام ہو چکا ہے اب

 

اگر ہے عقل کارِ سہل میں تو منہمک رہے

بغیر عقل غیر سہل کام ہو چکا ہے اب

 

چل اُٹھ بھی ، کوچ کر کسی نئی جگہ ، نئے نگر

اِدھر تو ساٹھ سال کا قیام ہو چکا ہے اب

٭٭٭

 

 

 

 

جب نشاں ملتا نہیں کھوئے ہوئے ایام کا

تذکرہ کیسے کریں اُس شہرِ دل آرام کا

 

کر دیا سورج نے شاید دوپہر کو منجمد

یا ہُوا ہے دھوپ میں تحلیل سایہ شام کا

 

داخلہ ممنوع ٹھہرا میرا میری ذات میں

دائرہ کھینچا کسی نے جب سے اپنے نام کا

 

آگہی نے کر دیا گنبد صداؤں سے تہی

منقطع سا لگ رہا ہے رابطہ الہام کا

 

بے یقینی جس قدر ہے مائلِ قطع و برید

سج رہا ہے حرفِ تازہ سے ورَق اوہام کا

٭٭٭

 

 

 

 

بند تھا جن پر فراتِ آرزو پھرتے رہے

اپنے ہاتھوں میں لیے خالی سبو پھرتے رہے

 

گنگ تھیں سب کی زبانیں خوفِ حاکم کے سبب

لوگ ہونٹوں میں دبائے گفتگو پھرتے رہے

 

حسن تھا ہنگامہ آراء اندرونِ ذات اور

بے خبر عشاق دشت و کاخ و کو پھرتے رہے

 

اب کھلا ہے ، وہ تماشا تھا یہی یک دو نفس

جس تماشے کی طلب میں چارسُو پھرتے رہے

 

خشک تھی لیکن پرندوں نے رکھا پاس و لحاظ

جب بھی کی پرواز ، گردِ آب جو پھرتے رہے

 

آرزو میں تھا خسارہ اور پشیمانی سوا

فائدے میں تھے کہ جو بے آرزو پھرتے رہے

 

زور آور تھی خزاں ، باغات میں برگِ نحیف

بے اماں پیشِ ہوائے تند خو پھرتے رہے

٭٭٭

 

 

 

 

سنتے ہیں کوئی شہر ہے افلاک کے اُس پار

اس خاک سے باہر ، کہیں ادراک کے اُس پار

 

گردش میں ستارے رہے آدم کے عجب سمت

پہنچا نہ پلٹ کر کبھی افلاک کے اُس پار

 

آزار اُٹھا رکھا ہے ہر آن ہوس نے

اک شیشہ بدن کا جو ہے پوشاک کے اُس پار

 

کچھ شوق نہیں قبضۂ املاک کا ، لیکن

ہے خال ترا جسم کی املاک کے اُس پار

 

پہلے تو گرہ کھولنا سکھلاتی ہے تقدیر

پھر جال سا پھیلاتی ہے پیچاک کے اُس پار

 

رونق سے ترے باغ کی ، انکار کسے ہے

افسوس ! مگر ہے مرے خاشاک کے اُس پار

 

افسردہ سا مجمع ہے اِدھر خاک کے اندر

خوش باش ہیں کچھ لوگ اُدھر خاک کے اُس پار

 

اے عمر! ذرا صبر کہ ہنگام سے پہلے

اُترا نہ کوئی لمحۂ سفاک کے اُس پار

٭٭٭

 

 

 

 

انجام میں آغاز کی تاخیر تھی ، سو ہے

ہر کام میں ناکامیِ تدبیر تھی ، سو ہے

 

اک شہر کہ تعمیر سے پہلے ہوا نابود

اس شہر کی پھر حسرتِ تعمیر تھی ، سو ہے

 

رُک رُک کے گرا کرتے ہیں آفاق سے سکّے

کم کم کششِ کاسۂ تقدیر تھی ، سو ہے

 

پرواز کی کوشش میں رہی روح ازل سے

مضبوط مگر خاک کی زنجیر تھی ، سو ہے

 

پڑھتا نہیں خط حسنِ سمجھ دار کسی کے

عشاق کو جو خفّتِ تحریر تھی ، سو ہے

٭٭٭

 

 

 

 

پہیلیاں تھیں یا سبق غلط بہم کیا گیا

کہ اس کتابِ عمر کو اُلٹ رقم کیا گیا

 

عجیب داستان تھی ، اگر قرینِ فہم کچھ

لکھا ہوا ملا بھی تو زدِ قلم کیا گیا

 

کسی سبب تھیں صفر ، ایک کی اکائیاں الگ

کسی وجہ سے ایک صفر کو دہم کیا گیا

 

جہانِ انتظار میں تھا وقت خود بھی منتظر

یہاں کبھی بھی آج کو نہ کل بہم کیا گیا

 

فلک پسند دیکھتا نہ تھا زمین کی طرف

سو دیکھ جسمِ پُر غرور کیسے خم کیا گیا

 

تھی راس جب مریض کو فقط دوا وصال کی

تو کیوں دم و درُود کا طلسم کم کیا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر

یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر

 

رُودادِ گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی

فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر

 

خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا

نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر

 

چاہا تھا مفر دل نے مگر زلفِ گرہ گیر

پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر

 

آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعتِ نسیاں !

کیا رکھا ترے طاق پہ ، کیا طاق سے باہر

 

سنتا ہوں کہیں دُور سے نقارہ صبا کا

اُتری ہے بہار اب کے بھی خاشاک سے باہر

 

کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا

ناپید ہیں یہ رونقیں اِس خاک سے باہر

 

موجود خلا میں ہیں اگر اور زمینیں

افلاک بھی ہوں گے کہیں افلاک سے باہر

٭٭٭

 

 

 

 

اے اسپِ عمر! اور ٹھہر خاک میں ابھی

کر سیر دائیں بائیں ، گزر خاک میں ابھی

 

گردش کو روک تھام ذرا چاکِ کوزہ گر!

کچھ ڈال رنگِ خوف و خطر خاک میں ابھی

 

دم بھر رکی تھی رُوح تماشے کے واسطے

کھلتا نہیں ہے روزنِ در خاک میں ابھی

 

کل کس جگہ کہاں ہو ٹھکانہ ، کسے خبر

آدم کا اس جنم میں ہے گھر خاک میں ابھی

 

بجھتی ہوئی سی راکھ ہے ، شامِ وداع عمر

باقی کہاں وہ رقصِ شرر خاک میں ابھی

 

آسیب پھر گیا ہے کہ ملتا نہیں سراغ

اعجاز گھومتا تھا اِدھر خاک میں ابھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہر ایک چیز رواں ہے خطِ مدار کے گرد

غبار ساتھ خزاں کے ، صبا بہار کے گرد

 

جلوسِ تخت نشینی نہ میّتِ شاہی

تو کیسی بھیڑ لگی ہے یہ رہ گزار کے گرد

 

کیے گئے تھے مہیا فرار کے رستے

مگر حصار بھی موجود تھا حصار کے گرد

 

پہنچ سکے نہ کبھی جو درُونِ آئینہ

ہزار عکس مقید تھے اس غبار کے گرد

 

کہیں  وصال  سے  دل  منحرف  نہ  ہو  جائے

نہ کھینچ دائرے اب اور انتظار کے گرد

 

مکین دیتا نہیں ہے اگر مکاں کا سراغ

تو چل طواف کریں لامکانِ یار کے گرد

 

ملول ہوتا ہوں اُس وقت کس قدر ، مت پوچھ

کہ جیت کرتی ہے جب رقص میری ہار کے گرد

٭٭٭

 

 

 

 

در آئی کسی سمت سے تھی چاک کے اندر

جو آگ ہے پوشیدہ مری خاک کے اندر

 

کھلتا نہیں کچھ ہونے نہ ہونے کا معمہ

پہلے تھا کہ اب آیا ہوں افلاک کے اندر

 

کس شے کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے واپس

رکتا نہیں تا دیر کوئی خاک کے اندر

 

باہر تھا جو ادراک سے ، مشکل تھا ، مگر میں

سمجھا کہاں جو سہل تھا ادراک کے اندر

 

آدم  نے  نکالا  ہے  وہ  قد  تنگیِ جا  سے

ٹکراتا  ہے  سر  اس  کا  اب  آفاق  کے  اندر

 

خم کھا گئی اِس عمر کی محراب زیادہ

لگتا نہیں محفوظ دِیا ، طاق کے اندر

 

جس موسمِ گل کے لیے در باز جہاں تھا

آرام نشیں ہے خس و خاشاک کے اندر

 

ہشیار ، ذرا کھیل میں ، اے خلقتِ معصوم!

پیچاک ہیں سو حاکمِ چالاک کے اندر

٭٭٭

 

 

 

 

پیچاکِ عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ

باقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھ

 

حاسد بہت ہے ، پل میں ہویدا کرے خزاں

اتنا نہ لگ کے بیٹھ بہار آئنے کے ساتھ

 

پتھرا گئے ہیں لوگ تجلی سے حسن کی

تھوڑا سا ڈال رُخ پہ غبار آئنے کے ساتھ

 

کرتا ہے عکس زیر و زبر نامراد وقت

جب گھومتا ہے اُلٹے مدار آئنے کے ساتھ

 

پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکسِ حیرتی

گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ

 

معدوم ہو رہے ہیں خدوخال کس سبب

گفت و شنید کر مرے یار! آئنے کے ساتھ

 

ویران سا کھنڈر ہے مگر سیر کے لیے

لگتی ہے اک طویل قطار آئنے کے ساتھ

 

معکوس و عکس کیسے ہیں پیوست دیکھ تو

آئینہ کر رہا ہے سنگھار آئنے کے ساتھ

٭٭٭

 

 

 

 

 

پیش تر جنبشِ لب ، بات سے پہلے کیا تھا

ذہن میں صفر کی اوقات سے پہلے کیا تھا

 

وصلت و ہجرتِ عشاق میں کیا تھا اوّل

نفی تھی بعد تو اثبات سے پہلے کیا تھا

 

کوئی گردش تھی کہ ساکت تھے زمین و خورشید

گنبدِ وقت میں دن رات سے پہلے کیا تھا

 

میں اگر پہلا تماشا تھا تماشا گہ میں

مشغلہ اُس کا مری ذات سے پہلے کیا تھا

 

کچھ وسیلہ تو رہا ہو گا شکم سیری کا

رزقِ خفتہ کہ نباتات سے پہلے کیا تھا

 

میں اگر آدمِ ثانی ہوں تو ورثہ ہے کہاں

ظرفِ اجداد میں اموات سے پہلے کیا تھا

 

ہر ملاقات کا انجام جدائی تھا اگر

پھر یہ ہنگامہ ملاقات سے پہلے کیا تھا

 

میں بھی مغلوب تھا حاجات کی کثرت سے ، مگر

لطف اس کو بھی مناجات سے پہلے کیا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

فلک زمین سے اب گفتگو نہیں کرتا

یہ خاک زاد بھی کچھ ہاؤ ہو نہیں کرتا

 

عجب ہے قطعِ تعلق ، فراق بھی مفقود

کہ دل وصال کی بھی آرزو نہیں کرتا

 

درونِ ذات سجا محفلیں ، کہن سالی!

زمانہ تجھ سے اگر گفتگو نہیں کرتا

 

فقیر پیاس بجھاتا ہے پیاس سے اپنی

سبو دراز سرِ آب جو نہیں کرتا

 

گزرتا رہتا ہے موسم بہار کا ، لیکن

تنِ شکستہ ذرا مشک بُو نہیں کرتا

 

نہیں جواب سوالوں کے میرے پاس ، سو میں

کلام خود سے زیادہ کبھو نہیں کرتا

٭٭٭

 

 

 

 

آگہی کی راہ باطل میں کہیں گم ہو گیا

وہ گماں کی بھیڑ تھی ، طفلِ یقیں گم ہو گیا

 

تھا یہیں موجود کل تک جاودانی آسماں

اب خلا میں ڈھونڈتا ہوں تو کہیں گم ہو گیا

 

جو ابد تھا وہ رہا دائم گمانوں سے پرے

اس گماں کے لامکاں کا لامکیں گم ہو گیا

 

رات شہرِ خواب میں یک جا کیے خال و خطوط

صبح سب اسباب وقتِ واپسیں گم ہو گیا

 

نقص تھا شاید ہتھیلی میں ، ستارہ بخت کا

لمحہ بھر چمکا ، درُون آستیں گم ہو گیا

 

پھر رہا ہے ناقۂ لیلیٰ تلاشِ قیس میں

بھاگتا تھا ساتھ جو صحرا نشیں ، گم ہو گیا

 

خلق نیچے منتظر تھی ، ماہتابِ آرزو

جس بلندی پر ہوا ظاہر ، وہیں گم ہو گیا

 

ختم کی سانسوں نے اپنی آمد و شد ایک دن

خاک داں واپس تہِ خاکِ زمیں گم ہو گیا

٭٭٭

 

 

 

 

سوار کم تو زیادہ یہ پا پیادہ کیا

عجب طریق سے طے زندگی کا جادہ کیا

 

مگر گراں تھی طبیعت پہ تنگ دامانی

ہزار طرح سے کھینچا ، اِسے کشادہ کیا

 

تھے اُس لکیر سے نیچے بھی ہم سے کاسہ بدست

جہاں بسر تجھے دنیا نے ، عمرِ سادہ! کیا

 

عجب  تھا  شہر  ،  فلاطونِ  عقل  تھے  سب  لوگ

یہاں کسی نے کسی سے نہ استفادہ کیا

 

رہا گزر تو کسی تیسرے خرابے میں

نہ رسمِ خانقہی کی نہ رقصِ بادہ کیا

 

کرم کیا تو دیے خود کو خلعت و دستار

ستم ہوا تو رعایا کو بے لبادہ کیا

 

ہوا ہے محو تو اب قابلِ اعادہ نہیں

کہ جب نہ محو تھا دل نے نہیں اعادہ کیا

٭٭٭

 

 

 

 

ہوا! اُڑا کے مجھے شہرِ بے نشاں لے چل

جہاں مقیم ہیں سب میرے رفتگاں ، لے چل

 

یہاں پہ ختم ہوئی سرحدِ یقیں ، آگے

اب اِس مقام سے تُو طائرِ گماں ! لے چل

 

ٹھہر تو اور برس دو برس گزارتے ہیں

نہیں پسند اگر عمرِ مہرباں ! لے چل

 

خلا میں پھینک نہ میرے بجھے ستارے کو

سمیٹ راکھ ، ابد پار کہکشاں لے چل

 

یہیں پہ فردِ عمل کھول ، پڑھ سنا تفصیل

زیاں زیاں ہی رہے گا ، کسی جہاں لے چل

 

میں معترض تو نہیں تیری ہم رکابی سے

بنا سبیلِ اجل ، ساتھ خاک داں لے چل

 

جہاں سے مجھ کو اُتارا گیا زمینوں پر

کبھی تو گردشِ افلاک! اُس مکاں لے چل

 

جو سنگِ میل تھے پہچان کے ، ہوئے معدوم

تری رضا جہاں اب راہِ بے نشاں ! لے چل

٭٭٭

 

 

 

 

وقت کی نا مہربانی سے زبوں ہوتا گیا

جو خمیدہ پشت تھا وہ سر نگوں ہوتا گیا

 

سختیٔ ایّام سے گرتے رہے دیوار و در

رفتہ رفتہ سقف جاں کا ، بے ستوں ہوتا گیا

 

تھا بہت وحشت زدہ پہلے پہل آشفتہ دل

ہجر کی عادت پڑی تو پُرسکوں ہوتا گیا

 

سامنے موجود تھا جب تک ، سراپا پُر کشش

آنکھ سے اوجھل ہوا اور بے فسوں ہوتا گیا

 

مختلف کچھ بھی نہ تھا اِس رات دن کے کھیل میں

ہُو بہ ُہو سا واقعہ تھا ، جُوں کا تُوں ہوتا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

نہ ڈھونڈ عمرِ گزشتہ کے داغ پانی میں

جو خاک گھل گئی ، کیسا سراغ پانی میں

 

طلسم ہے کسی سوراخ کا کہ بھرتا نہیں

ہزار ڈال کے رکھیے ایاغ پانی میں

 

ہے اس کے پاؤں میں چقماق کا اثر ایسا

ہوئے ہیں لمس سے پتھر چراغ پانی میں

 

ہوئی ہے خشک تو خاشاک و خار انکاری

کہ جس زمین پہ کھلتے تھے باغ پانی میں

 

ہنر تھا اس میں فقط آگ سے حفاظت کا

بچا سکا نہ بدن کو دماغ پانی میں

 

جو فرق تھا ، اُسے آفات نے تمام کیا

پڑے ہیں سامنے مینا و زاغ پانی میں

 

بہا کے لے گئی سب ہست و بود موجِ فنا

اگر رہا ہے تو پانی کا داغ پانی میں

٭٭٭

 

 

 

 

ہر ایک عکس یہاں عکسِ بے دوام کہ ہے

مگر دوام تماشائے شیشہ فام کہ ہے

 

نہیں ہے زور ذرا زندگی پہ حالاں کہ

سوار پشت پہ ہوں ، ہاتھ میں لگام کہ ہے

 

سنبھال ، عمرِ کہن! اپنے سقف ، دیواریں

کہیں نواح میں آوازِ انہدام کہ ہے

 

نیامِ صلح لیے پھر رہا ہوں اسپ بہ اسپ

وہاں ، ازل سے جہاں ، تیغ بے نیام کہ ہے

 

گزر   چکے   ہیں  سبھی   کاروانِ   ہجر  و   وصال

قیامِ حسن نہ اب رونقِ خیام کہ ہے

 

کوئی پلٹ کے نہ آیا اِدھر ، برس گزرے

کوئی چراغ جلاتا کنارِ بام کہ ہے

 

مرے علاوہ بھی اِس ذات کے خرابے میں

کوئی مکین شب و روز خود کلام کہ ہے

 

ہوا  ہے  حرص  کا  خوگر  تو  طائرِ  آزاد

جو  کل  اڑان   میں  تھا  آج  زیرِ    دام  کہ  ہے

٭٭٭

 

 

 

 

کتنی دھوپ چھاؤں ہے ، راستہ کہاں تک ہے

اِس سفر میں منزل کا فاصلہ کہاں تک ہے

 

کب نشیب میں جا کر ڈوبتی ہیں آوازیں

بازگشت سے گنبد گونجتا کہاں تک ہے

 

کتنی دیر مہلت ہے اور ابر و باراں کی

کاغذی سا یہ پیکر اُڑ رہا کہاں تک ہے

 

کس قدر لکیریں ہیں ہر لکیر کے پیچھے

دائروں کے پیچھے بھی دائرہ کہاں تک ہے

 

کتنے سانس کھنچتی ہے اور عمر کی ڈوری

روز و شب درازی کا سلسلہ کہاں تک ہے

 

کس قدر ذخیرہ ہے آب و خاک کا باقی

جسم کے خلا اندر اب ہوا کہاں تک ہے

 

کس نے روک رکھا ہے پانیوں کا پھیلاؤ

ثبت ریت کے اوپر نقشِ پا کہاں تک ہے

٭٭٭

 

 

 

 

ہجومِ شوق رکھے وا درِ خیال تو پھر

گزر کرے نہ اِدھر سے پری جمال تو پھر

 

نہیں ہے سہل بچانا متاعِ بخت و عروج

پسِ کمال تعاقب میں ہو زوال تو پھر

 

کیا تھا تذکرۂ خصلتِ جہاں تجھ سے

لیا تھا نام کسی کا ، نہ دی مثال تو پھر

 

میں کس سراب کے پیچھے رہا تھا سرگرداں

اگر نہیں تھا رواں محملِ وصال تو پھر

 

یقین کم ہے کہ بدلے گا رُخ مگر اک بار

مرے نصیب کا سکہ ذرا اُچھال تو پھر

 

اب اتنے سال کی دُوری سے کون پہچانے

برا کیا ہے بڑھاپے نے سب کا حال تو پھر

 

تمام کام ادھورے رہیں تو حیرت کیا

دِنوں میں ختم ہو جب عمرِ ماہ و سال تو پھر

٭٭٭

 

 

 

 

 

دانشِ وقت اگر حجرے کے اندر ٹھہرے

کون پھر کارِ جہاں کے لیے باہر ٹھہرے

 

آنکھ کو شوق تماشا رہے جاری ہر دم

دل کو حسرت ، کوئی اِس تخت کے اوپر ٹھہرے

 

تھا جنہیں زعم پذیرائی ، پشیماں ہو کر

پھر سرِ ہجر کدہ اپنے برابر ٹھہرے

 

بس کہ آپس میں زمین و زر و زن کی خاطر

آدمی معرکہ آرا یہاں اکثر ٹھہرے

 

متفق دونوں ہیں اس جسم کی بربادی پر

دن بھی بہتر نہ کٹے ، رات بھی ابتر ٹھہرے

 

دھوپ چھاؤں کے سبھی کھیل تھے سورج کے ساتھ

شام کے بعد نہ سورج تھا ، نہ منظر ٹھہرے

 

تھک گئے لوگ طوافِ غمِ جاں سے ، ہستی!

کب تُو محور سے ہٹے ، گردشِ پیکر ٹھہرے

٭٭٭

 

 

 

 

 

محمل ہے مطلوب نہ لیلیٰ مانگتا ہے

چاک گریباں قیس تو صحرا مانگتا ہے

 

ہجر ، سرِ ویرانۂ جاں بھی مہر بلب

وصل ، گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے

 

اِس آئینہ خانے کا ہر رقص کناں

اپنے سامنے اپنا تماشا مانگتا ہے

 

نااُمّیدی لاکھ قفس ایجاد کرے

طائرِ دل پروازِ تمنّا مانگتا ہے

 

عمر بتاتا ہے امروز میں اور مکیں

دروازے پر دستکِ فردا مانگتا ہے

 

دھوپ جوانی کا یارانہ اپنی جگہ

تھک جاتا ہے جسم تو سایہ مانگتا ہے

 

باندھ سگِ آوارہ چوکھٹ کے اندر

ایک مسافر تجھ سے رستا مانگتا ہے

 

لوگ طوالت سے گھبراتے ہیں ، ورنہ

ایک زمانہ سیدھا رستا مانگتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

تکتا ہوں اپنے باغ کی ہر شے ملال سے

خاشاک بن کے اڑتی ہوا میں زوال سے

 

قائم ہے نقشِ عمر ابھی رفت و بود کا

ہر چند رہگزار ہوئے پائمال سے

 

میں اور عقل دونوں مسافر وہیں کے ہیں

آگے ہے لامکان جو خواب و خیال سے

 

کچھ کا الٹ نصیب ہے ، لیکن ہے معتبر

کرنا طواف ہجر کا پہلے وصال سے

 

جب بھی ہوا سوال سے وہ لاجواب ہے

اس نے دیا جواب مکرر سوال سے

 

ہر کارِ التوا ہے مجھے غیرسود مند

ہوتا ہے لیت و لعل سے یا قیل و قال سے

 

دل کو مگر ہے روز وہی حاجتِ رفو

بھرتا نہیں یہ زخمِ ہوس اندمال سے

٭٭٭

 

 

 

ہوئی ہے شام ، پرندہ سفر سمیٹتا ہے

کہ تھک گیا ہے اڑانوں سے ، پر سمیٹتا ہے

 

درخت ، جس پہ بہاروں کی مہربانی ہو

خزاں کی رُت میں زیادہ خطر سمیٹتا ہے

 

جتن تو کرتا ہوں نکلوں کہیں مگر در پر

کھڑا ہے واہمہ ، رختِ سفر سمیٹتا ہے

 

مآل ایک سا سب کا یہاں کہ ہر ہشیار

الم کثیر ، خوشی مشت بھر سمیٹتا ہے

 

کوئی سوار بھٹکتا ہے منزلوں سے پرے

کوئی پیادہ پہنچ کر ثمر سمیٹتا ہے

 

جو گرد باد سا اڑتا ہے ، کر حذر اُس سے

بدن لپیٹتا ہے ، یہ نظر سمیٹتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

بات پھیلی گھر زیادہ ایک اور

جس قدر ڈالا لبادہ ایک اور

 

ذات تیری منکشف ہو ، اِس لیے

باندھتا ہوں پھر ارادہ ایک اور

 

ہے معمہ زندگی کا یہ طلسم

بند اک در تو کشادہ ایک اور

 

شہرِ ہجراں تھا سدا گریہ طلب

روز مانگے ہجر زادہ ایک اور

 

اب اُٹھا اس خاکِ فتنہ خیز کو

خلق کر مخلوقِ سادہ ایک اور

 

ہاتھ لرزیدہ گرفتِ جام سے

تشنگی چلاّئے ، بادہ ایک اور

 

میں جنوں ہوں شوق چاکِ پیرہن

اے خرد! پہنا لبادہ ایک اور

٭٭٭

 

 

 

 

 

شیشۂ عمر پریشان ہمارا کیوں ہے

عکس ناقابلِ پہچان ہمارا کیوں ہے

 

ایک دُنیا ہے رواں منزلِ مقصود کی سمت

واپسی کا ہے تو امکان ہمارا کیوں ہے

 

لوٹ لیتا ہے جو اسباب سرِ آخرِ شب

اور کسی کا نہیں دربان ہمارا کیوں ہے

 

کشتیاں ٹوٹ کے گرتی ہیں کنارِ ساحل

جو گزرتا ہے وہ طوفان ہمارا کیوں ہے

 

طاقِ نسیاں پہ دھرا رہتا ہے زادِ رستہ

ہر سفر بے سر و سامان ہمارا کیوں ہے

 

ہم تماشائی ہیں جب اپنی زبوں حالی کے

دوسرا کوئی نگہبان ہمارا کیوں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

آدمی رنج طلب حیلۂ غم ڈھونڈتا ہے

دستکیں دیتا ہے ، آوازِ ستم ڈھونڈتا ہے

 

عمرِ رفتہ! ترے مٹی سے اَٹے رستوں پر

کوئی معدوم ہوئے نقشِ قدم ڈھونڈتا ہے

 

کھول دروازہ ، پہ ہشیار ، مکاں کے باہر

حاکمِ شہر ہے ، اہدافِ ستم ڈھونڈتا ہے

 

کل میسر تھا تو نا قدر رہا ایسا کہ بس

آج جب تجھ کو نہیں وقت بہم ڈھونڈتا ہے

 

ناز کر اے بدَنِ خاک! سرِ آخرِ دم

لمحۂ غم ترا ہر پیچ کہ خم ڈھونڈتا ہے

 

تیرے ہاتھوں نے کیا ارض کو دوزخ تمثال

تو یہاں سیر کو اب باغِ ارم ڈھونڈتا ہے

 

کوئی قابض ہے ذخیرے پہ بزورِ بازو

کوئی اک نانِ جویں خشک کہ نم ڈھونڈتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

گمان ہوتا نہیں شعر میں شراکت کا

ثبوت دیتا ہے ہم زاد اس مہارت کا

 

وہ  سن  رہا  ہے  جسے  کچھ   سمجھ  نہیں  آتی

جسے سمجھ ہے وہ سامع نہیں حکایت کا

 

اٹھا کے پھینک تو دوں سر سے عمر کا اسباب

ہے انتظار کسی اور کی اجازت کا

 

کیا گیا یہاں انجام بخت سے مشروط

ہُنر کا اس میں تعلق نہ کم مہارت کا

 

میں خرچ کرتا ہوں امروز کو بھی رفتہ میں

کہ سکّہ چلتا ہے واں میری بادشاہت کا

 

سو ، جا کے میں نے ہی ، انکار کی سماعت کی

ہوا نہ حوصلہ قاصد کو جب وساطت کا

 

کبھی  سکوت  سے  لے  کام  شوقِ  ناچاقی!

سوال اٹھتا وضاحت سے ہے وضاحت کا

٭٭٭

 

 

 

کم سنی سے تو کوئی زائدِ میعاد سے تنگ

اک زمانہ ہے یہاں عمر کی افتاد سے تنگ

 

جھوٹ سچ کی ہے دروں ذات عجب آویزش

وہ مرے فعل سے میں عادتِ ہم زاد سے تنگ

 

کوزہ گر خلق سے اپنی ہے فلک پر بیزار

اور زمیں پر ہیں یہ افراد کہ افراد سے تنگ

 

اِس سبق کو بھی نہیں ہے ذرا رغبت مجھ سے

میں بھی مکتب سے خفا ہوں کبھی استاد سے تنگ

 

شور سے اپنا قفس سر پہ اٹھا لیتے ہیں

جب پرندے یہ ہوا کرتے ہیں صیاد سے تنگ

 

میں تو انکار کا اقرار میں دیتا ہوں جواب

وہ ہے ناراض اشارے سے مرے صاد سے تنگ

 

ذہن سے محو ہوا گزرے زمانے کا خیال

حافظہ لگتا ہے آموختۂ یاد سے تنگ

٭٭٭

 

 

 

 

راہ سے راہ چلی ، تازہ مسافت نکلی

اس  مسافر کی نہ منزل سے قرابت نکلی

 

کل کہ جس بات پہ ہوتا تھا کرشمے کا گماں

عقل حیران ہے وہ آج حکایت نکلی

 

لفظ جب نطق سے گزرا تو تکلم ٹھہرا

حرف اوراق پہ اترے تو عبارت نکلی

 

تجربہ صدیوں کا موجود تھا اس کے پیچھے

زندگی خرچ ہوئی جب تو کہاوت نکلی

 

جھوٹ اب پرسشِ افعال سے آزاد ہوا

میری  عادت  سے  صداقت  کی  شراکت  نکلی

 

رات بھی ہو گی کسی اور عجوبے کا مذاق

دن  اگر  میرا  ہے  سورج  کی  شرارت  نکلی

 

کچھ سبب تھا کہ نہ تھا اتنی خبر ہے ، لیکن

اک زمانے کی زمانے سے عداوت نکلی

 

آبِ دریا ہی رہا وسعتِ دریا کے خلاف

لہر سے  لہر  نہیں  بچ  کے  سلامت  نکلی

٭٭٭

 

 

 

 

دروغ و صدق کے ان واقعات کے اندر

میں خود گواہ تھا ہر واردات کے اندر

 

خراب حال ہوں لیکن مرے گزشتہ کا

کمال دیکھ ذرا معجزات کے اندر

 

وہ اہرمن کہ جسے عاق کر دیا گیا تھا

دخیل کچھ ہے سوا کائنات کے اندر

 

یہیں کہیں ہے کوئی ساتویں جہت موجود

ملا نہیں وہ اگر شش جہات کے اندر

 

میں حادثوں کے تعطل سے خوف کھاتا ہوں

ہوئی  ہے  عمر  بسر  حادثات   کے  اندر

 

سوائے اس کے نہیں قرضِ عشق کی تفصیل

ہے ہجر اور بہت ، واجبات کے اندر

٭٭٭

 

 

 

 

وصال شہرِ بتاں میں گراں زیادہ ہے

کہ خرچ ہجر سرا کا یہاں زیادہ ہے

 

زمانہ لگتا ہے رزقِ فقیر کا دشمن

ذرا سی چاپ پہ شورِ سگاں زیادہ ہے

 

یہ طول عرض کی پیمائشیں ہیں سب بے کار

کہ عرض طول سے جب آسماں زیادہ ہے

 

جو عمر باقی ہے تفصیل اس کی نامعلوم

جو  کی  گئی  ہے  بسر،  رایگاں   زیادہ  ہے

 

صبا گزرتی ہے عجلت میں ، سو ازالے کو

ٹھہرتی باغ میں اپنے خزاں زیادہ ہے

 

پڑا ہے فرق یہ سورج کے گھوم جانے سے

بروں سے دھوپ دروں سائباں زیادہ ہے

 

دھواں ہے ایک سا گہرا تو کیا ہو اندازہ

فسادِ خلق کدھر کم ، کہاں زیادہ ہے

 

حسب   نسب  کا  ہوں  منکر  ادھر  نہیں  جاتا

جدھر پرستشِ ابنِ فلاں زیادہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

چلتا تو نہیں بے سر و سامان بہت کم

منزل سے مسافر کی ہے پہچان بہت کم

 

انکار ہے امروز کو بھی میری طلب سے

رفتہ نے بھی پورے کیے ارمان بہت کم

 

یہ عمر مناسب ہے تناسب کے ہنر سے

دشوار زیادہ ہے نہ آسان بہت کم

 

قائم ہے یہاں وقت کی تقسیم ازل سے

بدلا ہے شب و روز کا دوران بہت کم

 

رہتا   تو  ہے   ہر  گام  پہ   ہم  زاد  مرے  ساتھ

آپس میں طبیعت کا ہے میلان بہت کم

 

آسودگی بخشی تو مجھے حسبِ ضرورت

ناحق کیا فطرت نے پریشان بہت کم

 

انجام میں برباد کیا صحبتِ بد نے

ظاہر ہوا آغاز میں نقصان بہت کم

٭٭٭

 

 

 

 

کبھی ایسا ہوا ہے کام ابتر رہ گیا ہے

جو بہتر تھا وہی ہونے سے اکثر رہ گیا ہے

 

کشش سے جھوٹ کی کھنچ کر میں باہر آ گیا ہوں

جو سچ میرا محافظ تھا وہ اندر رہ گیا ہے

 

ہے اندازہ یہی کہ اس نفس کی رفت و آمد

مہینے سال کی گنتی کا چکر رہ گیا ہے

 

تھا وعدہ نزدِ شہ رگ کا مگر ہائے تغافل

مجھے نیچے اتارا خود فلک پر رہ گیا ہے

 

سجاوٹ اب کہاں ممکن ، کسی صندوقچی میں

مقفل اُس جوانی کا وہ زیور رہ گیا ہے

 

ابھی تک گھومتا ہے مجھ میں سیاحِ زمانہ

کھنڈر میں دلکشی کا کوئی منظر رہ گیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

ذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کے

 

ہے کائنات معمہ جدا طریقے کا

فقط سلجھتا ہے آپس میں گرہیں الجھا کے

 

نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا

کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے

 

مسافروں سے رہا ہے وہ راستا آباد

پلٹ کے آئے نہیں جس سے پیش رو جا کے

 

یہ ہجر زاد سمجھتا ہے کم وصال کی بات

بتا جو رمز و کنایہ ہیں خوب پھیلا کے

 

کہ بند رہتا ہے شہرِ طلب کا دروازہ

یقین آیا مجھے بار بار جا ، آ کے

 

خفیف ہو کے میں چہرے کو پھیر لیتا ہوں

اگر  گزرتا   ہے  تجھ  آشنا  سا  کترا  کے

 

جواب  میرا  غلط  تھا  ،  سوال   اس  کا  درست

کھلا   یہ  مجھ   پہ  کسی  نا سمجھ  کو  سمجھا  کے

٭٭٭

 

 

 

 

منصفِ وقت نے اِس طرح بھی ناشاد رکھا

عمر میں قید کیا زائدِ میعاد رکھا

 

تو کہ رازق تھا تو پھر رزقِ شکم کی خاطر

کیسے افراد کو منت کشِ افراد رکھا

 

دشمنوں نے جو کیا تھا ، سو کیا تھا لیکن

اک نگر تھا کہ مکینوں نے بھی برباد رکھا

 

ناموافق تھا ہواؤں کا چلن اور ہم نے

خاک کو لا کے سرِ رستۂ بے داد رکھا

 

زیر  دستوں  میں  زیادہ  ہوئی  انکار کی خوُ

چوب  بردار  نے   جتنا  ستم  ایجاد  رکھا

 

یہ زمانہ تھا کہ ناخوش رہا ہم لوگوں سے

لاکھ ہر بات پہ اثبات کیا ، صاد رکھا

 

نیکیاں تھیں مرے اجداد کی ، جو کام آئیں

ہاتفِ غیب نے اِس قوم کو آباد رکھا

٭٭٭

 

 

 

برتر کسی سے آدمی کمتر کسی سے ہے

اپنے سوا کہاں یہ برابر کسی سے ہے

 

ویسے ہی سب کے حسنِ کدورت میں ہوں شریک

جیسے کہ بول چال مری ہر کسی سے ہے

 

جب کام دھوپ کا ہے سپرد آفتاب کے

ہوتا کہاں طلوع یہ منظر کسی سے ہے

 

اپنی کشش سے گھوم رہا ہوں مدار میں

یا خاک منسلک مری محور کسی سے ہے؟

 

رکھنا اسے ہے اپنے برابر ترا کمال

دنیا یہ زیرِ پا ہے نہ اوپر کسی سے ہے

 

لا نسخہِ وصال کمی ہجر میں مرے

تعویذ و دم نہ جنتر و منتر کسی سے ہے

 

رنجش نہ کچھ ملال ہے تجھ سے خدا گواہ

شاعر ہوں بغضِ شعر مجھے ہر کسی سے ہے

٭٭٭

 

 

 

قریبِ سنگِ منزل آ گیا تھا

نظر رخسار کا تل آ گیا تھا

 

مخالف سمت طے کی تھی مسافت

وگرنہ کب کا ساحل آ گیا تھا

 

غریبِ شہر تھا سو میرے در پر

تلاشِ جاں میں قاتل آ گیا تھا

 

ہرا پایا نہ تھا مجھ کو زمانہ

میں خود اپنے مقابل آ گیا تھا

 

حدِ تقسیم کھینچی جا رہی تھی

زمیں پر وقت مشکل آ گیا تھا

 

بچھڑنے جا رہی تھی نسلِ آدم

دلوں میں خطِ فاصل آ گیا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

 

اضافت ہے تناسب میں نہ کمتر مختلف ہے

مگر سورج بناتا روز منظر مختلف ہے

 

کیا ہے جتنی دفعہ بھی حسابِ جمع و تفریق

جوابِ آں سوال آیا نکل کر مختلف ہے

 

جہانِ شور و غل میں بھی اکیلا کب نہیں تھا

درونِ ذات تنہائی میسر مختلف ہے

 

بپا رہتا ہے ہنگامہ بروں سیارگاں کا

جو رونق میری محفل کی ہے ، اندر مختلف ہے

 

جوانی کے مقابل ہیچ سونا اور چاندی

کہ رعنائی میں مٹی کا یہ زیور مختلف ہے

 

شکن آلود ایسا ہے لباسِ خاک کہ بس

اب آئینے کو بھی لگتا ہے پیکر مختلف ہے

 

غنیمت جان ، دنیا ! میں ذرا سا مختلف ہوں

جو مجھ میں دوسرا ہے تجھ سے یکسر مختلف ہے

 

وہی ہے آج بھی کل سا طبیعت کا خلاصہ

نہ بہتر میں ہے یکسانی نہ ابتر مختلف ہے

 

ہمیشہ بے ثمر انجام ، گردش بے نتیجہ

مدار اپنا الٹ ہے یا کہ محور مختلف ہے

 

مسرت تھی اگر قلت میں دنیا سے جدا تو

یہ غم اپنا فراوانی میں یکسر مختلف ہے

 

نہیں آپس میں موجود و گزشتہ بھی مماثل

اور ان دونوں سے فردا بھی برابر مختلف ہے

٭٭٭

 

 

 

گرویدہ زمانہ ہے فقط قامت و قد کا کے

صورت پہ ہے آوازہ یہاں داد و ستد کا

 

آئینے میں رہتا ہے کوئی مجھ سے مماثل

اک عکس پریشان کسی خال نہ خد کا

 

فرزند ہمیشہ سے ہے میراث کا پابند

اپناتا وہی ہے کہ جو ہو راستا جد کا

 

جب بھی ہوا مسمار مکاں تو رہا شاکی

بارش سے زیادہ یہ مکیں دھوپ کی زد کا

 

اک شمع بھی تقریب کی رونق کو بہت ہے

محتاج جَنم دن نہیں پینسٹھ کے عدد کا

 

اس حسن کے قربان کہ غیروں کے علاوہ

ہمزاد بھی آوازہ لگاتا ہے حسد کا

٭٭٭

 

 

 

 

ہے  کام  زمانے  کو  فقط  قامت  و  قد  سے

سیرت  رہی  محروم  یہاں  داد  و  ستد  سے

 

کرتا نہیں کم فاصلہ وہ اپنی طرف کا

بڑھنے کی اجازت نہیں مجھ کو مری حد سے

 

ہلکان نہ بیکار ہو انکار میں اس کے

جو ذات کہ ہے ماورا اثبات یا رد سے

 

رک جاتے ہیں سیّار نہ چل پڑتا ہے ثابت

کھلتا ہے مگر راز نیا مشقِ خرد سے

 

ہے عقلِ عطا ذہن کی پرواز میں حارج

پوشاک یہ چھوٹی ہے مرے قامت و قد سے

 

حیرت مجھے آئینے پہ ، وہ مجھ سے پریشان

اک زنگ سے آلودہ تو اک خال نہ خد سے

 

کہتا ہے فقط بات بُرائی میں زمانہ

سننا اسے اچھائی ہے ممنوع حسد سے

 

تعداد  نہیں  ساعت  و  فرسنگ  کی  معلوم

رکھا  تو  نفس  نے  ہے  ابھی  دور  لحد  سے

٭٭٭

 

 

 

 

جو تھا طلسمِ سفید و سیاہ ، اب نہیں ہے

گلاب بنتا یہ خاشاکِ راہ اب نہیں ہے

 

مری طرف سے خزاں کو ہوا ہے اطمینان

نمو کو باغ میں آب و گیاہ اب نہیں ہے

 

لباسِ فاخرہ والے بدن نہیں محفوظ

اماں سروں کو بھی زیرِ کلاہ اب نہیں ہے

 

نہیں تمیز گناہ و ثواب کی باقی

جہاں میں فرقِ ثواب و گناہ اب نہیں ہے

 

وہی طریق تو رائج ہیں بادشاہت سے

پہنتا تاج فقط بادشاہ اب نہیں ہے

 

شکستہ دل ہوں عجب غیر کے تعلق سے

کہ اپنے آپ سے بھی رسم و راہ اب نہیں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

نسبت کوئی گماں کی ہے میرے یقیں کے ساتھ

کرتا ہوں بات ہاں میں ہمیشہ نہیں کے ساتھ

 

لیلا کو اپنے ناقہ و محمل رہے عزیز

رکھا ذرا سا شغل بھی صحرا نشیں کے ساتھ

 

گرتا ہے جس سبب  یہ فلک ، اس مثال کے

اسباب بے شمار ہیں میری زمیں کے ساتھ

 

نکلے وطن سے اور پلٹ کر نہ جا سکے

ہے ایک سا معاملہ سب تارکیں کے ساتھ

 

گزرا جہاں ہو عہد لڑکپن کا وہ مکاں

رہتا ہے یادِ خاص میں اپنے مکیں کے ساتھ

 

معدوم ہو گئے جو مناظر نگاہ سے

ہے ڈھونڈنا محال کسی دور بیں کے ساتھ

٭٭٭

 

 

 

 

 

کیا خبر کتنے جہاں ہیں اس جہاں کے بعد بھی

یا گماں اندر گماں ہے ہر گماں کے بعد بھی

 

یہ دھندلکا سا ہے شاید ہر خرابی کا سبب

جو یقیں سے پیش تر ہے اور گماں کے بعد بھی

 

منتظر بعدِ فنا کیا ہے کسے معلوم ، ہو

گردشِ ہفت آسماں ،  ہفت آسماں  کے بعد بھی

 

کون جانے نسلِ آدم پھر کرے آغازِ نو

خاک داں ہی ہو ٹھکانہ خاک داں کے بعد بھی

٭٭٭

 

 

 

 

ایک دن اترے گا کوئی زینۂ افلاک سے

پوچھ لے گا نیک و بد اس آدمِ بے باک سے

 

کچھ رعایا سادگی میں بات سمجھی تھی غلط

کچھ توقع تھی زیادہ حاکمِ چالاک سے

 

سینکڑوں محمل تھے لیکن سب سراب اندر سراب

پوچھ مت لیلیٰ کا قصہ اِس گریباں چاک سے

 

تاک میں طوفان تھا ، پہنچا سروں پر دفعتاً

کشتیاں پانی میں اُتریں جب کنارِ خاک سے

 

عام سی مخلوق ، موسم گرم ، لکڑی کے مکاں

دیکھتا ہوں شہرِ حاصل چشمِ حیرت ناک سے

 

غُل مچاتا ہے مرے اندر کوئی آسیب سا

چاہتا ہے اب رہائی جسم کی پوشاک سے

٭٭٭

 

 

 

 

تنگ آ گیا ہے اب یہ پرندہ اڑان سے

چلتا ہے کوئی تیر نہ گرتا تھکان سے

 

ناآشنا مکیں سے مکیں ہے پڑوس میں

کہنے کو ہر مکان جڑا ہے مکان سے

 

محفوظ ہے جو لفظ لُغَت میں دماغ کی

اب تک ادا ہوا نہیں میری زبان سے

 

کل تک یہاں رقم تھا جوانی کا واقعہ

اس وقت نے کیا ہے حذف داستان سے

 

باقی رہے ہوَس کو طلب کی نہ کچھ مجال

تھا جس قدر خرید لیا سب دکان سے

 

کر درمیاں دلیل کی دیوار استوار

رکھتا اگر یقیں ہے تعلّق گمان سے

 

اتنے ہی فاصلے پہ تعاقب میں ہیں سوار

جتنے قدم ہے دور پیادہ امان سے

 

نا مہرباں ہوا کا بھروسہ ذرا نہیں

لپٹی ہوئی تو ہے یہ ابھی بادبان سے

 

زرخیز   ہو  کہ   بانجھ   ہمیشہ  سے   یہ  زمیں

دیتی پتا ہے قدر کا اپنے لگان سے

٭٭٭

 

 

 

 

دشوار   ہے   اب  راستا   آسان   سے  آگے

رکھ ، عمرِ کہن ! پچھلا قدم دھیان سے آگے

 

اٹکا ہوا سورج ہے اسی ایک سبق پر

بڑھتا نہیں دن رات کی گردان سے آگے

 

قسمت کی خرابی ہے کہ جاتا ہوں غلط سمت

پڑتا ہے بیابان بیابان سے آگے

 

پہنچا تو نہیں میں درِ وصلت پہ مگر ، ہاں

سنتا ہوں کہیں ہے شبِ ہجران سے آگے

 

نَے تخت ، نہ آباد کوئی شہر سبا کا

اک گریہ ہے دیوارِ سلیمان سے آگے

 

خمیازہ ہے اس عادتِ اصراف کا اور بس

جو بے سر و سامانی ہے سامان سے آگے

 

کل شور بپا دل میں تھا پہچان کی خاطر

اب سکتہ ہے آزار کا پہچان سے آگے

 

نکلی نہ کسی ایک کی تعبیر موافق

سو خواب تھے ہر خوابِ پریشان سے آگے

٭٭٭

 

 

 

 

جب کوئی لفظ تہی رنگِ معانی سے ہوا

ہو کے متروک جدا اپنی کہانی سے ہوا

 

خاک نے خاک کو اس طرح کیا آسودہ

جو نہ ممکن کسی امکانِ زمانی سے ہوا

 

مسئلہ حل نہ ہوا عشق کی ارزانی سے

حسن کم یاب یہاں اور گرانی سے ہوا

 

لاکھ چاہا گیا خلقت سے چھپانا ، لیکن

راز افشا کسی وصلت کی نشانی سے ہوا

 

ردِّ  اقرار  کیا  صورتِ  تحریر  کہ  جب

اس سے انکار نہ گفتارِ زبانی سے ہوا

 

ایسا سیدھا کیا فرصت میں بڑھاپے نے دماغ

کارِ دشوار نہ جو میری جوانی سے ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

 

نہیں مسافروں کی رہ گزر علاحدہ ہے

عطا کیا گیا زادِ سفر علاحدہ ہے

 

شجر ہیں ایک سے لیکن جدا جدا موسم

سپردگانِ خزاں کا ثمر علاحدہ ہے

 

کسی کے حصے میں آئے جواب کورا سا

کسی کو دیتا ورق نامہ بر علاحدہ ہے

 

ہے دونوں سمت بنی اسکے جھوٹ کی تصویر

جو سکہ سچ کا ہے رائج ادھر علاحدہ ہے

 

خبر کے ردِ خبر کا یقین رکھتے ہیں

گمانِ بے خبری کی خبر علاحدہ ہے

 

ذرا سا دیر سے کھلتا ہے دور کا منظر

جہانِ کم نظراں کی نظر علاحدہ ہے

 

عجیب شہرِ اماں ہے گھروں میں ہیں محفوظ

قدم رکھا نہیں باہر کہ سر علاحدہ ہے

 

ہوا ہوں چاپ سے بھی رات میں سراسیمہ

لگا ہے ساتھ جو سائے کا ڈر علاحدہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

وجود آئینہِ صد نہاں کے سامنے ہے

اور اُس کا عکس اِدھر آسماں کے سامنے ہے

 

ہے کون کس کے تعاقب میں کچھ نہیں کھلتا

یہ چاند پیچھے ہے یا کہکشاں کے سامنے ہے

 

نہیں یہ گردشیں رسمِ طواف سے عاری

کوئی مدار تو سیارگاں کے سامنے ہے

 

مکان ٹوٹ چکا صرف نام کی تختی

لٹک رہی در و دیوارِ جاں کے سامنے ہے

 

مزاج اس کا ہے جب تک کہ دوستانہ سا

یہ مشت خاک کی بادِ رواں کے سامنے ہے

 

عجب مناظر و گفتار کی ہے یکسانی

کہ دن پرانی کسی داستاں کے سامنے ہے

 

مرے عمل کی خرابی ہے مجھ سے پوشیدہ

جو نقص اس کا ہے وہ دیگراں کے سامنے ہے

 

عطا ہوا جسے نطقِ زباں نہ ہو مغرور

کمال ہیچ یہ عجزِ بیاں کے سامنے ہے

٭٭٭

 

 

 

 

نباہ کرتا ہوں یوں بھی تھکن پرانی سے

کیا   قیام   اگر   تو   گیا   روانی   سے

 

لیا گیا ہے کڑا امتحان نسیاں کا

سبق  تو   یاد  تھے  سارے   مجھے  زبانی   سے

 

رہا  ہے  واقعے  سے   واقعہ  مگر   پیوست

علاحدہ ہوئے کردار سَو کہانی سے

 

کوئی فنا کی دوا کر ، طبیب ! مت بتلا

بنا مَیں خاک سے ہوں باد سے کہ پانی سے

 

رکھا ہے تُو نے تعلق فراق سے کہ نہیں

یہ دل جڑا ہے ترے وصل کی نشانی سے

 

نہیں خیال بھی سمتِ دگر کا آتا ہے

مسافروں کو گزرتے ہوئے جوانی سے

٭٭٭

 

 

 

 

نہیں بدن میں لہو کا اچھال پہلے سا

مگر ہے شوق کا دل میں وبال پہلے سا

 

عجب ہے چرخ کی گردش کہ ایک مدت سے

زوال آتا ہے بعدِ زوال پہلے سا

 

کوئی دلیل نہیں کارگر سرِ تشکیک

پسِ جواب کھڑا ہے سوال پہلے سا

 

کسے مفر ہے یہاں رنجِ رایگانی سے

کہ ہر ظہور ہوا پایمال پہلے سا

 

بڑھا کبھی نہ دعا و سلام سے آگے

مگر ہے شغل پرانا بحال پہلے سا

 

ہوا ہے ختم تماشائے عشق کچھ ایسے

فراق ہے نہ کہیں ہے وصال پہلے سا

٭٭٭

 

 

 

 

 

تماشا گاہِ برتر میں تماشا ابتری کا ہے

لہو میدان میں بہتا ہمیشہ لشکری کا ہے

 

سرِ گورِ  سپاہی   ہے   وہی  بے نام   سا  کتبہ

لکھا  تاریخ   میں   قصہ  فقط   اسکندری   کا   ہے

 

نشاں زد کر لئے ہیں یوم سارے اہلِ خلعت نے

کوئی جشنِ غلاماں کو بھی خانہ جنتری کا ہے؟

 

نہیں ڈھلتا بجز اخلاص کچھ ٹکسال میں دل کی

جو سکہ رائج البازار ہے چاندی زری کا ہے

 

تقاضا خلق کا ہے پرسشِ احوالِ دو لفظی

تعلق خاک سے باقی اگر کوزہ گری کا ہے

 

 

ہوا ہوں تنگ یکسانی سے کوئی نقص ہے مجھ میں

مناظر گر کسے شکوہ تری خوش منظری کا ہے

 

ٹھہر قاصد نہ کر عجلت مکمل خط تو پڑھنے دے

ابھی انکار یہ اس کا نگاہِ سرسری کا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

عقل ہے خام مگر ایسی اکہری نہیں ہے

اپنے اطراف نظر رکھتی ہے بہری نہیں ہے

 

وقت کرتا ہے فنا سامنے آئی ہر چیز

کوئی تخصیصِ سیہ اور سنہری نہیں ہے

 

حال مت پوچھ عجب طور سے الٹی ہے بساط

کل ہما چھت پہ تھا ، آنگن میں گلہری نہیں ہے

 

گردشیں ہیں کسی محور کی کشش سے قائم

یہ زمیں پاوں کے نیچے ابھی ٹھہری نہیں ہے

 

شام ڈھلنے دے نکل آئے گا ہمزاد ، ابھی

شام آئینہ لئے سامنے ٹھہری نہیں ہے

 

جسم پردیس میں رہتا ہے ، مقدر اس کا

دل سوا اپنے کسی دیس کا شہری نہیں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

جب بھی پلٹا ہوں مجھے منتظرِ داد ملا

یہ نگر یاد کا افراد سے آباد ملا

 

تھا کوئی ردِ عمل کارِ غلط کا میرے

بعدِ تفتیش یہ نکتہ پسِ افتاد ملا

 

تھے الگ دائرے دونوں کے ازل سے قائم

شاد کو شاد تو ناشاد سے ناشاد ملا

 

حاضری جس کی تھی کم اس نے نہ سیکھا ، ورنہ

ہر کسی کو ہے یہاں وقت سا استاد ملا

 

داد رس ہو کوئی دنیائے عبث کا شاید

ہاتھ پھیلا ذرا فریاد سے فریاد ملا

٭٭٭

 

 

 

نشان زندگی

 

کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر

کون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہے

میرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتا

میں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتے

اپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھا

اپنا سامان اٹھاتا تو شبِ نصف پہر

دستِ ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغ

جسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتا

خاک ہی خاک کی خوشبو کا تدارک کرتی

جانتا تھا نہیں محفوظ ٹھکانہ میرا

لوگ موجود ہیں جو مجھ پہ نظر رکھتے ہیں

دور نزدیک نہاں خانوں کے اندر بیٹھے

ایک حرکت ہو تو سو عکس بنا لیتے ہیں

ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے زر و مال مرا

طرزِ تعمیر مری منبر و محراب مرے

ان کے اہداف ہیں دیوار و در و باب مرے

اور اک گوہرِ نایاب کہ تہ خانے میں

ہوسِ دل کو ہے اسباب پریشانی کا

میری دیوانگی و وحشت و حیرانی پر

مجھ پہ مامور کہن سال سگانِ خفتہ

کل کسی ساعتِ کمزور کی تاریکی میں

اس کمیں گاہ میں سوراخ سے در آئے تھے

دور دالان کے کونے میں کھڑے ہنستے ہیں

٭٭٭

 

 

 

بدوؤں کا گروہ

 

نشان زد کیا اس نے مرے ستارے کو

کہا بلند ہو اقبال اور عمر طویل

یہ حرف و صوت ہوئے آج سے غلام ترے

تو جیسے چاہے برت ان کو اپنی مرضی سے

سنبھال ، جیب میں رکھ رختِ حکمرانی ہے

سمجھ ترے لیے اعجاز آسمانی ہے

کلید باب طلسمات کی مبارک ہو

کہیں ہے تخت سلیمان منتظر تیرا

کہیں سبا کی عنایات ، بے قرار تری

وہ دیکھ راستا جاتا ہے منزلوں کی طرف

چلا تو تاک میں بیٹھا تھا بدوؤں کا گروہ

لیا حصار میں قابض ہوا اثاثے پر

کہ تار تار کیا کشف کی کمائی کو

گلیم تک بھی نہ چھوڑی مری فقیری کی

پہنچ سکا نہ مسافر کسی مدینے میں

بھٹک رہا ہوں اٹھائے طوالتِ عمری

نہ دستِ غیب بڑھاتا ہے زم زمِ تازہ

جو حرف و صوت کی ترسیل کو بحال کرے

عطا ہو پھر سے پرانا کمال ابجد کا

نہ خضر ملتا ہے اب ہونٹ پر شنید لیے

کہ شہر علم کا رستا ادھر کو جاتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

فراعین کی سپاہ

 

سوراخ کشتیوں میں ہیں پانی فصیل سا

تم ہی بتاؤ کیسے یہ دریا عبور ہو

کاندھے پہ رکھ کے لا کوئی چپُو طلسم کا

سنگِ سفید خشتِ سیاہ خاکِ بے نمود

یا پھر عصا کہ پارۂ مامون ہو بلند

اور خشک راستے پہ چلے مفلسوں کی قوم

پیچھے لگی ہے جن کے فراعین کی سپاہ

ہر چند ہیں زمان و مکاں مختلف تمام

میدان نئے نئے ہیں فریقین ایک سے

آجر ہیں اور اجیر ہیں طرفین ایک سے

حاکم ہے ایک رعایا الگ الگ

اس کے گماشتے ہیں کہ موجود ہر جگہ

بازار کا ہجوم ہو یا پھر محل سرا

بیرون و اندرون پس و پیش ہر لکیر

اس کی ہتھیلیوں پہ ہیں نقشے جہان کے

پہنچے پلک جھپکتے کہیں بھی قدم دراز

ماہ و نجوم خشک کہ تر سب پہ دسترس

اس دشمن وصال سے بازی کا جیتنا

مشکل اگر نہیں ہے تو آسان بھی نہیں

٭٭٭

 

 

 

سالِ نو

 

میری پوتی کہتی ہے

کوئی خواہش سال نو لکھیں اس دل کے شکستہ کاغذ پر

اس دست کہن پر خط کھینچیں مہتابی سا

جو پچھلی ساٹھ لکیروں کی تنسیخ کرے

اور اپنی چمک سے عمر گزشتہ و آئندہ کی تاریکی روشن کر دے

یا تعویذ گلے میں ڈالیں جیسا آپ کے بچپن میں دستور تھا

دادا

کچھ سنتے ہیں

نیچے گلی میں دف بجتے ہیں

سانتا کی آمد آمد ہے

بچّے رنگ برنگے کپڑے پہنے استقبالی جھنڈیاں لہراتے ہیں

 

لوگ قطاروں میں استادہ گیت خدا کے گاتے ہیں

ذرا بالکونی میں آ کر ایک نظر دوڑائیں

عینک کیا کیا دکھلاتی ہے

کیا رونق ہے کیسا رش ہے

لگتا ہے خوشیاں تو فقط اس خطے کی میراث ہیں

دادا

میری مانیں ہو سکتا ہے اگلا برس دھوکا دے جائے

آئیں

دونوں مل کر سال نو کے طلسمی دروازے پر

کھل جا سم سم دہراتے ہیں

شاید اوپر والا سن لے

جیسے ان کی سنتا ہے

ہم لوگوں کی بھی غلطی سے

٭٭٭

 

 

 

سید زادی

 

اک خاتون ہمیشہ کالی شال لپیٹے گھر آتی تھی

اس کو دیکھ کے ماں گھبراتی اٹھ کر دوڑتی گر گر جاتی

دھوم مچاتی سیّد زادی آئی ہے

اس کو اپنی کرسی دیتی نیچے بیٹھتی سر اس کے زانو پر رکھتی

اشک لٹاتی سسکیاں بھر بھر کہتی جاتی

میں تیری مقروض ہوں

مجھ پر قرض ادا کرنا لازم ہے

حیرانی میرا حصہ تھی بچّہ تھا کم فہم تھا

بات سمجھنے سے قاصر تھا

کیسا قرض تھا جس کی میری ماں مقروض تھی

بچپن گزرا موسم بیتے شاید دودھ کی ہے تاثیر یا جانے کیا ہے

جب بھی عشرہ محرم کا وارد ہوتا ہے

اونچے کالے علم اٹھائے مجلس کرتا نوحے پڑھتا

سچائی کا سوگ سناتا بازاروں میں ماتم کرتا

معصوموں کے تعزیئے تھامے سرخ شکستہ ہاتھوں پر

تو میں روتا ہوں

آج بھی جب وہ سیّد زادی گھر آتی ہے

ماں اس کے زانو پر سر رکھ کر روتی ہے

میرے بچّے میری طرح کچھ حیران نہیں ہوتے ہیں

ان کو شاید علم ہے اس کا ان کے آباء میں سے کوئی

اس لشکر میں تھا جو وقتِ فیصلا  حرُ کے

پیچھے پیچھے چلنے سے معذور رہا تھا

وہ مقروض ہیں اس ساعت کے

٭٭٭

 

 

 

 

دشمنوں کے درمیان صلح

 

برگ آوارہ صدا آئے ہیں

کوئی آوازۂ پا لائے ہیں

تیرے پیغام رساں ہیں شاید

اور پیمان وفا لائے ہیں

گفتگو نرم ہے لہجہ دھیما

اب کے انداز جدا لائے ہیں

اک ندامت بھی ہے پچھتاوا بھی

خفّتِ جرم و جفا لائے ہیں

آنکھ میں اشک پشیمانی کے

ہونٹ پر حرفِ دعا لائے ہیں

سارے سامان رفو گری کے

جیب و دامن میں اُٹھا لائے ہیں

مرہم زخم کے انبار کے ساتھ

پارۂ خاکِ شفا لائے ہیں

شاخ زیتون بھی عمامے بھی ہیں

اور عبائے بھی سلا لائے ہیں

حجرِ اسود نے چھوا ہے جس کو

ایک ایسی بھی ردا لائے ہیں

کچھ مدینے کی کھجوروں کے طبق

کاسۂ سر پہ سجا لائے ہیں

ایک مشکیزۂ آبِ زم زم

پشتِ نازک پہ اُٹھا لائے ہیں

اگلے پچھلے سبھی مقتولوں کا

گویا کہ خون بہا لائے ہیں

٭٭٭

تشکر: شاعر جنہوں نے فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید