FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

کشتِ جاں

اختر ضیائی​

منتخب غزلیں

جمع و ترتیب اور ٹائپنگ: شیزان اقبال

 

کشتِ جاں جس کے ترشح کو ترستی ہے ابھی

اب وہ بادل نہ کبھی لوٹ کے پھر آئے گا

 

اختر ضیائی​

 

 

 

 

چہرے کی دھوپ، زُلف کے سائے سمٹ گئے

پل کی جھپک میں وصل کے ایام کٹ گئے

 

اور مصلحت شناس تیرا کھُل گیا بھرم!

لے ہم ہی تیرے پیار کے رستے سے ہٹ گئے

 

پاسِ ادب کہ پاسِ مرّوت کہیں اسے

اکثر لبوں تک آئے گِلے اور پلٹ گئے

 

پائی نہ پھر بتوں نے وہ یکسانی الست

رنگوں میں بٹ گئے کبھی شکلوں میں بٹ گئے

 

گلشن میں چل گیا ہے بدلتی رُتوں کا سحر

نغمے ابل پڑے کبھی ملبوس پھٹ گئے

 

گزری چمن سے موجِ صبا ناچتی ہوئی

کانٹے مچل کے دامنِ گل سے لپٹ گئے

 

اختر وہ شوقِ دید کی لذت، وہ بے کلی!

آ کر گئے وہاں ، کبھی جا کر پلٹ گئے​

٭٭٭

 

 

 

 

سرورِ محفلِ مہتاب اب بھی زندہ ہے

خیالِ خاطرِ احباب اب بھی زندہ ہے

 

یہ اس کی فطرتِ سیماب کا تقاضا ہے

کشا کش دلِ بیتاب اب بھی زندہ ہے

 

جگر کو داغ کی قندیل بخشنے والے!

یہ تیرا تحفۂ نایاب اب بھی زندہ ہے

 

عقیدتوں کے صنم کب سے ٹوٹ پھوٹ گئے

طلسمِ سلسلۂ خواب اب بھی زندہ ہے

 

خزاں نصیب سہی معرضِ تخیل میں

فروغِ موسمِ شاداب اب بھی زندہ ہے

 

بجا کہ عشق کے ماروں کا اب نہیں چرچا

وفا شعاریِ پنجاب اب بھی زندہ ہے

 

نہ جانے اہلِ نوا و صدا پہ کیا گزرے

کہ موجِ فکر میں گرداب اب بھی زندہ ہے

 

نوائے ساز کی حسرت مٹی نہیں اختر

شعورِ لذتِ مضراب اب بھی زندہ ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

رنگوں کو، خوشبوؤں کو ترا نام بخش دوں

جی چاہتا ہے زیست کو انعام بخش دوں

 

ڈسنے لگی ہے تلخ حقائق کی تیز دھوپ

چاہو اگر تو سایۂ اوہام بخش دوں

 

الجھے تخیلات کی ترسیل کے لئے

اظہار کو سہولتِ ابہام بخش دوں

 

بہتر ہے ہمرہی میں مصائب کا تجزیہ!

آغاز کو نہ تہمتِ انجام بخش دوں

 

ایسا نہ ہو کہیں دلِ بے چین ایک دن

ناکامیوں کا تجھ کو ہی الزام بخش دوں

 

یہ دور دلفریب سرابوں کا دور ہے

اس کو شعورِ ذات کا پیغام بخش دوں

 

ان کی خبث دلی، کریں چھپ کر مخالفت

میرا یہ حوصلہ کہ سرِ عام بخش دوں

 

حور و طہور صحبتِ غلماں کی یاد میں

آ شیخ تجھ کو باد گلفام بخش دوں

 

کچھ دیر ذکرِ صبحِ قیامت کو بھول جا

ناداں تجھے مہکتی ہوئی شام بخش دوں

 

مدت کے بعد کیوں نہ عدم کی زبان میں

اختر غزل کو منصبِ الہام بخش دوں​

٭٭٭

 

 

 

 

قائد اعظم کے حضور !

 

یقین تُو نے دیا ، اعتبار تُو نے دیا

نظر کو نور، دلوں کو قرار تُو نے دیا

 

ترے نثار اے ملت کے قائدِ اعظم !

جو کھو چکے، ہمیں وہ وقار تُو نے دیا

 

نشانِ منزلِ مقصود کر دیا روشن

نقوشِ رہ گزر کو نکھار تُو نے دیا

 

ورائے عقل تھیں شیرازہ بندیاں تیری

جفا گروں کو وفا کا شعور تُو نے دیا

 

شعورِ ذات کو جہدِ بقا کی لذت دی

بھڑک اٹھا جو عمل کا شرار تُو نے دیا

 

چمن میں یورشِ صر صر سے جو پریشاں تھے

گلوں کو مژد عہدِ بہار تُو نے دیا

 

نمو پذیر تھے گو شاخسار برسوں سے

ہوائے شوق غمِ برگ و بار تُو نے دیا

 

بھٹک رہے تھے جو مدت سے دشتِ غربت میں

سبک سروں کو مقدس دیار تُو نے دیا

 

ہزار تلخ جراحت ملے ، نہ بھولیں گے

وہ جیسے خاک نشینوں کو پیار تُو نے دیا

 

کہاں وہ طرزِ قیادت، طریقِ راہبری

جو ہر قدم پہ بصد افتخار تُو نے دیا !

٭٭٭

 

 

 

 

 

میں سبک نوش ہوں مری گلرُو

مجھ کو کافی ہے انکھڑیوں کا سبُو

 

ایک بے نام بے کلی سی ہے

اے دلِ زار چل گیا جادُو

 

صبح ِ تمثیل ہیں تیرے عارض

شام آثار ہیں تیرے گیسُو

 

ترے دیدارِ یک نظر کے نثار

آنکھ کا نُور اور جگر کا لہُو

 

آہ عہدِ شباب کے لمحے

وحشت آموز دشت کے آہُو

 

عشق سے بھی مفر نہیں لیکن

زیست کے اور بھی تو ہیں پہلُو

 

چشمِ بینا کے واسطے اختر

ان کے جلوے ہیں ہر کہیں ، ہر سُو​

٭٭٭

 

 

 

 

 

کنجِ زنداں فرازِ دار قبول

یعنی ہر ہدیۂ بہار قبول

 

شوکت دوجہان تج بیٹھے

تھی جنہیں تیری رہگزار قبول

 

تا بہ کے زیست سے نبھا سکتے

کر لی آخر ہمیں نے ہار قبول

 

شرط اک جلوۂبے حجابانہ!

حشر تک ہم کو انتظار قبول

 

ہم اذیت پسند لوگوں نے

پھول دے کر کئے ہیں خار قبول

 

بعض اوقات زہر بھی ساقی!

ہنس کے کرتے ہیں میگسار قبول

 

کتنے نادان تھے ہم بھی اے اختر

کر لیا آگہی کا بار قبول​

٭٭٭

 

 

 

 

 

اُس کو منزل ملی نہ گھر ہی رہا

تم سے بچھڑا تو در بدر ہی رہا

 

آنکھ کچھ منظروں پہ رکتی رہی

دل تو آمادۂ سفر ہی رہا

 

ایک عالم کی فکر تھی جس کو

میری حالت سے بے خبر ہی رہا

 

خوف سے کانپ کانپ جاتا تھا

زرد پتہ جو شاخ پر ہی رہا

 

دوسروں کے جو عیب گنتا تھا

حیف تا عمر بے ہُنر ہی رہا

 

زیست صد جشنِ آرزو ٹھہری

یہ فسانہ بھی مختصر ہی رہا

 

وسعتِ کائنات میں اختر

جلتا بجھتا سا اک شرر ہی رہا​

٭٭٭

 

 

 

 

 

رعنائی دستورِ مشیت کی ادا ہوں

آئینہ صفت پرتوِ آئینہ نما ہوں

 

ہر چند تیری یاد میں جاں سوز خلش ہے

ہمت ہے کہاں پھر بھی تجھے بھولنا چاہوں

 

جُز اشک میں کچھ دے نہ سکا ارضِ وطن کو

بادل ہوں مگر دشت کے دامن سے اٹھا ہوں

 

فرصت ہو تو پل بھر کے لیے غور سے دیکھیں!

بھولے ہوئے لمحوں کا میں پیمانِ وفا ہوں

 

پیتا ہوں تیری چشمِ بلا خیز کے ساغر

گردابِ بلا ہوں کبھی ہم دوشِ صبا ہوں

 

پابندیِ آدابِ تمنا سے نکل کر

لو آج میں دیوارِ خرد پھاند گیا ہوں

 

ہستی کی کڑی دھوپ نے جھُلسا دیا اختر

اس راہ میں ہر گام پہ مر مر کے جیا ہوں​

٭٭٭

 

 

 

 

ریزہ ریزہ بکھر گئے ہم بھی

کشتِ جاں سے گزر گئے ہم بھی

 

وقت ناساز گار تھا پھر بھی

کچھ نہ کچھ کام کر گئے ہم بھی

 

ہم کہ صبحِ ازل کے بھولے تھے

شام آئی تو گھر گئے ہم بھی

 

کچھ تو ظلمت کا تُند تھا ریلا

کچھ مثالِ شرر گئے ہم بھی

 

بجھ گئی آرزُو کی چنگاری

جس کے بجھتے ہی مر گئے ہم بھی!

 

باغِ ہستی میں پھُول کی مانند

دو گھڑی شاخ پر گئے ہم بھی

 

پاسِ عہد وفا رہا اختر

یوں تو ڈرنے کو ڈر گئے ہم بھی​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ظلمتوں کے پروردہ روشنی سے ڈرتے ہیں

موت کے یہ سوداگر زندگی سے ڈرتے ہیں

 

علم ہی وہ طاقت ہے، خوف کی جو دشمن ہے

مصلحت کے خوشہ چیں آگہی سے ڈرتے ہیں

 

دشمنوں کی نیت تو ہم پہ خوب ظاہر تھی

پر قریب لوگوں کی دوستی سے ڈرتے ہیں

 

جن کو فرض کی خاطر راستی پہ مرنا ہو

کچھ بھی کر گزرنا ہو، کب کسی سے ڈرتے ہیں !

 

جانے کس گھڑی کھل کر حرفِ آرزو کہہ دے

ہم کو فکر کانٹوں کی، وہ کلی سے ڈرتے ہیں

 

پائیں گی توجہ گو جذب و جوش کی باتیں

عقل و ہوش والے تو خامشی سے ڈرتے ہیں

 

وہ کہ جو سمجھتے ہیں فکر و فن کو بے معنی !

جانے کس لئے اختر شاعری سے ڈرتے ہیں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

کیاری کیاری صحن چمن میں گو تھے عام پریشاں پھُول

فصلِ بہاراں آتے ہی پر ہو گئے چاک گریباں پھُول

 

پریت لگا کر جس کو ساجن بیکل تنہا چھوڑ گیا

کوئل کی فریاد پہ بُلبُل گم سم حیراں حیراں پھُول

 

جھیل کنارے ساون رُت میں جیسے پریوں کا میلہ

حدِ نظر تک نیلے نیلے اُجلی دھُوپ میں رخشاں پھُول

 

حسب توقع توڑ کے ہم بھی زلفوں میں اٹکا دیتے

کاش گلستاں میں مل جاتے ان کی شان کے شایاں پھُول

 

جھلمل کرتے نیل گگن میں چھُپ گئے روشن تارے، اور

ڈالی ڈالی رو کر شبنم کر گئی اور نمایاں پھُول

 

تیری یاد میں میں ہوں جیسے جنگل جنگل روتی اوس

مجھ کو بھول کے تو ہے جیسے گلشن گلشن خنداں پھُول

 

لمبی عمروں والے کانٹے سب کو دکھ پہنچاتے ہیں

اختر دل کو موہ لیتے ہیں پل دو پل کے مہماں پھُول​

٭٭٭

 

 

 

 

 

اک نظر سوئے بام کر چلئے

چلتے چلتے سلام کر چلئے

 

گردشِ وقت سے نکل کے ذرا

شرکتِ دورِ جام کر چلئے

 

ہوش کی دھُوپ جی جلاتی ہے

خم کے سائے میں شام کر چلئے

 

کیوں نہ ایامِ عشرتِ فانی

مہ جبینوں کے نام کر چلئے

 

عشق کے راستے ہیں ناہموار

اب ذرا مجھ کو تھام کر چلئے

 

کاروبارِ وفا چلانے کو

رسمِ وحشت کو عام کر چلئے

 

کچھ تو نام و نشاں رہے اختر

کچھ تو دنیا میں کام کر چلئے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

پڑے ہیں اک عمر سے قفس میں

نفس نفس ہے کسی کے بس میں

 

جُنوں کے طور و طریق الگ ہیں

جدا ہیں عقل و خرد کی رسمیں

 

بساط کونین کے حقائق

میرے تخیّل کی دسترس میں

 

بنا لیا بجلیوں نے مسکن

میرے نشیمن کے خار و خس میں

 

محال لاکھوں میں کوئی ہم سا

عبث ہے ڈھونڈو جو پانچ دس میں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ساحل پر کی آوازوں سے کبھی نہ ٹھہرا دریا

اپنی دھُن میں بہتا جائے اندھا بہرا دریا!

 

اُچھلیں گے کم ظرف چھچھورے چھوٹے ندی نالے

اتنا ہی گھمبیر ہمیشہ جتنا گہرا دریا

 

بیت گئی یوں پلک جھپک میں چھایا روپ جوانی

ساون میں جس طرح سے اُترے دے کر لہرا دریا

 

انساں اک دن اس کے من کا سیپ چرا ہی لے گا

بپھرے طوفانوں سے دے گا کب تک پہرا دریا

 

اس کا پانی پی کر اختر دھرتی سونا اُگلے

کھیتوں کھیتوں دولت بانٹے سیٹھ سنہرا دریا​

٭٭٭

 

 

 

 

ہجر میں حوصلے نہیں رہتے

دور کے سلسلے نہیں رہتے

 

حسن کی کج ادائیوں کے طفیل

عشق میں ولولے نہیں رہتے

 

جاگ اٹھے جو خواہشِ منزل

پھر کوئی مرحلے نہیں رہتے

 

تُند خُو ہیں مسائلِ ہستی

مدتوں تک ٹلے نہیں رہتے

 

چھوڑ جاتے ہیں کچھ نشاں اپنے

دشت میں قافلے نہیں رہتے

 

بوند ساگر میں جب ملے اختر

جسم کے فاصلے نہیں رہتے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہر طرف شورِ فغاں ہے یارو

ہر نشیمن میں دھُواں ہے یارو

 

سہمی سہمی ہوئی ہر ایک نظر

طالب حفظ و اماں ہے یارو

 

غور فرماؤ تو خاموشی بھی

ایک اندازِ بیاں ہے یارو!

 

ہم بھی سینے میں جگر رکھتے ہیں

اپنے منہ میں بھی زباں ہے یارو!

 

چھٹ ہی جائے گی یہ تاریکیِ شب

جو کراں تا بہ کراں ہے یارو

٭٭٭

 

 

 

 

 

​ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے

روشن ہیں یہ چراغ ہر اک یادگار کے

 

دن کے قرار، رات کی نیندوں کو کھا گئے

سوز و گداز عشق کے لیل و نہار کے

 

ہم جانتے ہیں صبح ِ قیامت کی بے کلی

جھیلے ہم نے دکھ جو شبِ انتظار کے

 

گرداب نے بپھر کے سفینہ ڈبو دیا

دیکھا ہے ناخدا کو بھی ہم نے پکار کے

 

ان کو فراق و وصل کی لذت کی کیا خبر

بیٹھے نہ دو گھڑی بھی جو پہلو میں یار کے

 

رندوں نے میکدوں کو مدرسہ سمجھ لیا

لے آئے شیخ جی کو یہاں گھیر گھار کے

 

سینے میں یہ جو عشق چراغاں کا سماں ہے

چرکے بھڑک اٹھے ہیں غمِ روزگار کے

 

صحنِ چمن میں بلبل و گل برگ شاخسار

مدت سے منتظر ہیں نسیمِ بہار کے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

خنجر سے سوا کاٹ ہے اب تارِ نفس میں

مرنا مرے بس میں ہے نہ جینا مرے بس میں

 

پھرتے ہیں جگر چاک، جنوں کیش یگانے

اب بھی ہیں وہی کوچۂ دلدار کی رسمیں

 

جُز داغِ وفا کچھ نہ ملا کوئے ستم سے

بہتات تھی ہر جنس کی بازارِ ہوس میں

 

نفرت بہ الفت ہے عداوت بھری قُربت

مقصد کے لئے قول تو اغراض کی قسمیں !

 

مدت سے نگاہوں میں وہی نقش ہے اختر

غلطاں ہے سماعت اُسی آواز کے رس میں​

٭٭٭

 

 

 

 

ابتلائے بشر نہیں لکھتے

جانتے ہیں مگر نہیں لکھتے

 

جوڑتے ہیں حروف کو باہم

پر ذرا سوچ کر نہیں لکھتے

 

خواہشوں کے سراب میں گم ہیں

داستانِ سفر نہیں لکھتے

 

گھومتے ہیں گلی گلی لیکن

اکتسابِ نظر نہیں لکھتے

 

خود پریشاں ہیں اور دل و جاں کو

ڈستا رہتا ہے ڈر، نہیں لکھتے

 

شہر ویرانیوں کا چرچا ہے

کیوں اجڑتے ہیں گھر، نہیں لکھتے

 

جن کو دہشت ہے کنجِ عافیت

کیا ہے اس کا اثر، نہیں لکھتے

 

ایک مدت سے غم کے سوداگر

کوئی اچھی خبر نہیں لکھتے

 

راہ گزاروں میں روز مرتے ہیں

کس کے لختِ جگر، نہیں لکھتے

 

پتھروں کو خدا سمجھتے ہیں

وصفِ لعل و گہر نہیں لکھتے

 

پھرتے رہتے ہیں بے اماں اختر

لوگ کیوں دربدر نہیں لکھتے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ڈسنے لگی جو گردشِ ایام، پی گیا

بے چارگی میں لے کے تیرا نام پی گیا

 

سوزِ فراق، دردِ محبت، جفائے دہر

گل مے کے ساتھ میں غم و آلام پی گیا

 

ساغر بدست کب سے پریشاں خیال تھا

ملتے ہی تیری آنکھ کا پیغام پی گیا

 

چھٹکی ہوئی تھی صحنِ شبستاں میں چاندنی

کیفِ نظر سے حسن لبِ بام پی گیا

 

زاہد نے جب طہور کی لذت بیان کی

چھلکا کے میں بھی باد گلفام پی گیا

 

اختر عجیب تھی میرے قاتل کی بے بسی

اس نے دیا تو زہر بھرا جام پی گیا​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ساز بجنے دو جام چلنے دو

میکدے کا نظام چلنے دو

 

سرمگیں گیسوؤں کے سائے میں

جھومتی مست شام چلنے دو

 

چند روزہ شباب کی عشرت

مہ جبینوں کے نام چلنے دو

 

بے خودی کی حسین وادی میں

مجھ کو دو چار گام چلنے دو!

 

بھول کر زیست کے غم و آلام

اک تمنائے خام چلنے دو

 

گھٹ گئی ہے خلوص کی قیمت

جو بھی لگتا ہے دام، چلنے دو

 

حادثوں سے مفر نہیں اختر

دن گزرتے ہیں، کام چلنے دو!​

٭٭٭

 

 

 

 

قصرِ سبا ،نہ تختِ سلیماں کی بات کر

کوہِ ندا میں چشمۂ حیواں کی بات کر

 

مایوسیوں کی یورشِ پیہم کو بھول جا!

شامِ فراق کوچۂ جاناں کی بات کر

 

مجھ سے متاعِ ہوش کی خوبی نہ کر بیاں

مجھ سے طلسم خانۂ وجداں کی بات کر!

 

خلعت بدوش حلقۂ دانش نہ کر قبول

ساغر بدستِ محفلِ یاراں کی بات کر

 

یک دو نفس فراغتِ ہستی کی خیر مانگ

سنجیدگی سے عمرِ گریزاں کی بات کر

 

مانا کہ دلفریب ہے ذکرِ حدیث دوش

پیدا جو آج ہے نئے امکاں کی بات کر!

 

گرد و غبارِ خارِ مغیلاں کے باوجود

دشتِ زیاں میں کنجِ غزالاں کی بات کر

 

کب سے سنا رہا ہے تو حوروں کی داستاں

اے شیخ اب ذرا غمِ دوراں کی بات کر!

 

ڈسنے لگی ہے روح کو اختر شبِ خزاں

عہدِ بہار و صبحِ درخشاں کی بات کر​

٭٭٭

 

 

 

 

مخصوص کہیں اجارہ فن نہیں ہے

خوشبوؤں کا کوئی وطن نہیں ہے

 

سمجھو تو ظہور ہے نظریہ کار

سوچو تو خیال کا بدن نہیں ہے

 

درد مندو عمل کا راستہ نکالو!

بحث و تمحیص کی یہ انجمن نہیں ہے

 

زرد پتوں کے ڈھیر جا بجا ہیں بکھرے

لوٹ ہے یہ نگہداریِ چمن نہیں ہے

 

ہم ہیں جس طرح ندی کے دو کنارے

دید ہی دید ہے پر ملن نہیں ہے

 

تم ہی آزماتے پھرو نئے ڈھنگ پر ضیائی

تجربہ ہو تو ہو یہ بانکپن نہیں ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

تھی جوانی کچھ تو دیوانی بہت

ہم نے لیکن دل کی بھی مانی بہت

 

محفلِ یاراں مجھے برہم لگی

اور نگاہِ ناز بیگانی بہت

 

حسن کو جلوہ گری مقصود تھی

عشق نے کی حشر سامانی بہت

 

شکر ہے بارِ گراں سے بچ گئے

کام آئی تنگ دامانی بہت

 

بادیہ گردی کی تنہا شام کو

یاد آئی خانہ ویرانی بہت

 

کاش مل جاتی کوئی راہ نجات

خاک دشتِ ذات کی چھانی بہت

 

دربدر پھرتے ہیں یوں بے نیل مرام

تھا جنہیں زعم ہمہ دانی بہت

 

سچ تو جاں جوکھوں کا کاروبار پے

جھوٹ میں رہتی ہے آسانی بہت

 

چھوڑ بھی اختر گئے وقتوں کا سوگ

ہو چکی اب مرثیہ خوانی بہت​

٭٭٭

 

 

 

 

 

خوشیوں کی آرزو میں غموں سے نڈھال ہیں

عبرت سرائے دہر میں ہم بے مثال ہیں

 

کچھ تو جواب دے انہیں اے خاطرِ ازل؟

الجھے ہوئے نقوش سراپا سوال ہیں

 

زندان باصفا کو زر و مال سے نہ جانچ

یہ خوش مزاج لوگ بڑے باکمال ہیں

 

مجھ کو بھی ہو عطا میرے حالات پر گرفت

بے رنگ و بے نشان میرے ماہ و سال ہیں

 

اختر ضیائی ظرفِ غزل میں تمہارے شعر

آئینہ جمال و حدیث جلال ہیں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

شام سویرے یاد تمہاری ملنے آتی ہے

تم تو جیسے بھول گئے ہو، یہ تڑپاتی ہے

 

کون ہے جو ان کرب کے لمحوں میں دمساز ہے

دل ہی اپنا یار ہے اب تو درد بھی ذاتی ہے

 

بالے پن کے دھندلے سپنے زندہ رہتے ہیں

تنہائی سو بار جنہیں اکثر دہراتی ہے

 

ہر چہرے میں ان کاچہرہ، ان کے نقش نگار

محرومی بھی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے

 

کب آو گے بجھنے کو ہے دو نینوں کی جوت

جیون کے اس دیپ میں اب تو تیل نہ باتی ہے

 

تن من جو الفت کی مجبوری میں ہار گیا

سچ کہتے ہو تم لوگو، اختر جذباتی ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

جو ہم اس دور میں مہر و وفا کی بات کرتے ہیں

یقیناً اک نئے ارض و سما کی بات کرتے ہیں

 

ابھی تک ذات کے جنگل سے جو باہر نہیں آئے

زمانے سے سدا بانگِ درا کی بات کرتے ہیں

 

تعجب ہے سرِ دشتِ زیاں وحشی بگولوں سے

ہم آہنگ و نوا رقصِ صبا کی بات کرتے ہیں

 

سفر تو اور بھی ہوتے ہیں لیکن راہ الفت میں

ہمیشہ ابتداء سے انتہا کی بات کرتے ہیں

 

ہزاروں خوف انساں کو تحفظ دے نہیں پائے

ابھی تک لوگ جو خوفِ خدا کی بات کرتے ہیں

 

بتوں سے ہم کو بھی نسبت ہے لیکن حضرت واعظ!

جزا کے نام پر حرص و ہوا کی بات کرتے ہیں

 

کسی سے کیا کہیں اختر کہ کیوں تنہائی میں خود سے

ہم اکثر اس وفا نا آشنا کی بات کرتے ہیں

​٭٭٭

 

 

 

 

 

مری نظر کی اساس رہنا

یہیں کہیں آس پاس رہنا

 

تری وفا کا غرور ہوں میں

تُو بن کے میرا لباس رہنا

 

خوش آ گیا حسنِ دلربا کو

رہینِ لطف و سپاس رہنا

 

مری طبعیت کا ہے تقاضا

کبھی کبھی وقفِ یاس رہنا

 

شعور کا بوجھ بن گیا ہے

اسیرِ ہوش و حواس رہنا

 

ہوائے موسم پہ منحصر ہے

فضائے گلشن کا راس رہنا

 

سمجھ میں آتا نہیں صبا کا

بہار میں بھی اداس رہنا

 

نحیف سبزے کا درد بن کر

نڈھال پھولوں کی باس رہنا

 

اگر ہے کچھ فکرِ خلق اختر

حیات میں غم شناس رہنا​

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

وہ جس کے ظلم سے ناشاد ہو گیا ہے دل

اسی کی یاد میں برباد ہو گیا ہے دل

 

نقوشِ حسن تلون شعار کیا کہیے؟

نگار خانۂ اضداد ہو گیا ہے دل

 

شعورِ ذات کا باعث بنی تھی عقل، مگر

فشارِ عقل کی بنیاد ہو گیا ہے دل

 

سرابِ وعدۂ فردا میں دلکشی نہ رہی

فریبِ لطف سے آزاد ہو گیا ہے دل

 

سحر سے شام تلک تیرے دھیان میں گم ہے

کچھ اس طرح ترا ہمزاد ہو گیا ہے دل

 

تری نگاہ کی تصویر بن گئی ہے آنکھ

تری زبان کا ارشاد ہو گیا ہے دل

 

ستم ظریف غم زندگی کا شیدائی

میرے لئے تو اک افتاد ہو گیا ہے دل

 

ہوئی ہے عظمتِ آدم کی معرفت جب سے

شریکِ مسلکِ الحاد ہو گیا ہے دل

 

بصد خلوص لکھے کیوں نہ مرثیہ اختر

شہید خنجر بے داد ہو گیا ہے دل​

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

 

دلوں میں محبت کی جولانیاں ہیں

وفا کوشیاں ہیں، ستم رانیاں ہیں

 

زمانہ ہوا اک جھلک اُن کی دیکھے

ابھی تک نگاہوں میں حیرانیاں ہیں

 

چمن میں مسرت کے غُنچے بہت ہیں

مگر کیا کریں تنگ دامانیاں ہیں

 

رمیدہ رمیدہ تجاہل سے ظاہر

کشیدہ کشیدہ پشیمانیاں ہیں

 

تمہیں خانۂ دل کو آباد کر لو!

یہاں ایک مدت سے ویرانیاں ہیں

 

ابھی حسن و الفت کی باتیں نہ چھیڑو

ابھی اور لاکھوں پریشانیاں ہیں

 

رفیقوں کی بے مہریوں میں ضیائی

خود اپنی ہی دراصل نادانیاں ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

​اب کے موسم میں عجب شعبدہ پیرائی ہے

جیسے روٹھی ہوئی ہر شاخ سے پروائی ہے

 

موت کے خوف سے جیتے ہیں نہ مر سکتے ہیں

ان کو اصرار کہ یہ دورِ مسیحائی ہے

 

جب سے پھیری ہیں زمانے نے نگاہیں ہم سے

ہم نے حالات بدلنے کی قسم کھائی ہے

 

جن کی بے داد سے رسوائی ہوئی، جی سے گئے

وہ بھی کہتے ہیں کہ نادان ہے، سودائی ہے

 

خود ہی کر لیجئے اس طرزِ عمل کی تاویل

ہم سے رغبت نہیں، غیروں سے شناسائی ہے

 

نہ تبسم، نہ تکلم، نہ محبت کی نظر

کتنا دلچسپ یہ اندازِ پذیرائی ہے

 

سایۂ زلف کی امید کہاں ، دید کہاں؟

کہ مقدر میں سیہ رات ہے، تنہائی ہے

 

مستقل چیز ہے حوروں کی جوانی واعظ!

سچ ہے کہ آپ کی ہر بات میں گہرائی ہے

 

اس کی نیت پہ بھلا مجھ کو ہو کیا شک اختر

وہ جو یوسف کا خریدار نہیں بھائی ہے!​

٭٭٭

 

 

 

 

منزلِ شوق اب کہاں لینا

نام کو چھوڑنا، نشاں لینا

 

جس کو عشاق کی خبر بھی نہ تھی

آ گیا اس کو امتحاں لینا!

 

جب حقائق کی دھوپ ڈسنے لگے

دو گھڑی سایۂ گماں لینا

 

تیرا جانا بدن کے قالب سے

روح کا جستِ بیکراں لینا

 

تج دیا ہے زمیں کی چاہت میں

ہم نے احسانِ آسماں لینا

 

بخت اس کا، جس نے سیکھ لیا

ہاتھ میں وقت کی عناں لینا

 

اس جفا کش دور میں اختر

ہنس کے دشنامِ دوستاں لینا!​

٭٭٭

 

 

 

 

بے کلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے

دل وہ بگڑا ہوا بالک جو کھلونا چاہے

 

حسن معصوم ہے پر خواب خزانوں کے بنے

کبھی ہیرے، کبھی موتی، کبھی سونا چاہے

 

تجھ سے بچھڑا ہے تو گھائل کی عجب حالت ہے

بیٹھے بیٹھے کبھی ہنسنا، کبھی رونا چاہے

 

اس بات ناز کو دیکھوں تو میرا ذوق نظر

ایک اک نقش میں سو رنگ سمونا چاہے

 

لاکھ بہلاؤ بھلے وقت کے گلدستوں سے

تلخ ماضی تو سدا خار چبھونا چاہے

 

کھلی آنکھوں کسی کروٹ، نہ ملے چین اکثر

نیند آئے تو نہ پھر سیج بچھونا چاہے

 

ایسا بپھرا ہے غمِ زیست کا ساگر اختر

اس کی ہر لہر میری ناؤ ڈبونا چاہے​

٭٭٭

 

 

 

 

جب سے مے نوش ہو گیا ہوں میں

غم فراموش ہو گیا ہوں میں

 

تیرے جلووں میں اس طرح گم ہوں

خود سے روپوش ہو گیا ہوں میں

 

بن گئی تھی جو جان کا آزار

دشمنِ ہوش ہو گیا ہوں میں

 

ہاں کبھی میں خرد نواز بھی تھا

اب جُنوں کوش ہو گیا ہوں میں

 

چھوڑیئے میرے حال پر تشویش!

قصۂ دوش ہو گیا ہوں میں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

مہتاب جب آئینۂ سیماب میں آئے

سو رنگ سے پھر جلوہ گہہِ خواب میں آئے

 

اب تک یونہی آباد ہیں یادوں کے جھروکے

تصویر تری وقت کی محراب میں آئے

 

اِس آس پہ زندہ ہوں کہ شائد کبھی وہ بھی

خوشبُو کی طرح موسمِ شاداب میں آئے

 

وہ حُسنِ جہاں تاب بدلتا ہے ٹھکانے

آنکھوں میں سما کر دلِ بے تاب میں آئے

 

دل نذر کریں، جان بھی مانگے تو فدا ہوں

یہ بات بھی تو عشق کے آداب میں آئے

 

ممکن ہے کہ بن جائے گھر قطر نیساں

قسمت سے اگر دامنِ گرداب میں آئے

 

ہر بار لئے جان و تمنا کی تب و تاب

اختر کی غزل حلقۂ احباب میں آئے​

٭٭٭

 

 

 

 

سرِ شاخِ بخت گلِ اُمید کِھلا نہ تھا

رہے ڈھونڈتے جسے عمر بھر وہ مِلا نہ تھا

 

ہے لہو لہو تیری بے وفائی کے وار سے

دلِ زار کا ابھی پہلا زخم سِلا نہ تھا

 

یہ غُرورِ حُسن تھا یا انا کا معاملہ

کہ ستم گری میرے پیار کا تو صِلہ نہ تھا

 

تُو بچھڑ گیا نئی منزلوں کی تلاش میں

میرے ہمسفر! مجھے تجھ سے کوئی گِلہ نہ تھا

 

مجھے یاد ہیں وہ شکستِ عہد کی ساعتیں

رہی چشم نم، لبِ غم گسار ہلا نہ تھا​

٭٭٭

 

 

 

 

جُنوں پسند ہوں شوریدگی سے مطلب ہے

نہ غم سے کام، نہ مجھ کو خوشی سے مطلب ہے

 

مشاہدات کی تلخی سے رو بھی دیتا ہوں

میں گل نہیں جسے خندہ بہی سے مطلب ہے

 

کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو ہے سرخوشی کی تلاش

ہمیں علاجِ غمِ زندگی سے مطلب ہے

 

وہ اور ہوں گے جنہیں تیری ذات سے ہے غرض

مجھے تو دوست تیری دوستی سے مطلب ہے

 

بہت جھُکے ہو اطاعت میں مصلحت کیشو!

عَلم اٹھاؤ کہ اب سرکشی سے مطلب ہے

 

یہ اور بات کہ حُوروں کی ہے طلب اختر

وگرنہ شیخ کو بس بندگی سے مطلب ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

بدلیں گے حالات

بپھرے ہوئے جذبات

 

آخر ڈھل جائے گی

غم کی بوجھل رات

 

ساتھی دکھ بندھن میں

چھیڑ ملن کی بات

 

من پگلا تو جانے

پیار کو ہی سوغات

 

دھن بیوپار میں سب کی

اپنی اپنی ذات

 

لمحوں میں بنتی ہے

صدیوں کی اوقات

 

مر کے یہاں ملتی ہے

سانسوں کی خیرات

 

سوچ میں گم ہیں اختر

دانشور حضرات!​

٭٭٭

 

 

 

 

مرتا ہوں کہ جینے کا سہارا سا لگے ہے

غیروں کے بھرے شہر میں اپنا سا لگے ہے

 

پہلے تو کبھی اس کو یقیناً نہیں دیکھا

وہ شخص مجھے پھر بھی شناسا سا لگے ہے

 

احباب کے جھرمٹ میں رہے خود سے مخاطب

محفل میں بھی بیٹھا ہوا تنہا سا لگے ہے

 

ہر حال میں ہے میرے مقدر کا وہ ساتھی

غربت کی کڑی دھوپ میں سایا سا لگے ہے

 

کرتا ہے کسی اور کے آنگن میں اجالا

لیکن میری قسمت کا ستارا سا لگے ہے

 

پتھر بھی ہے آئینہ صفت موم کی صورت

مجھ کو کبھی شبنم، کبھی شعلہ سا لگے ہے

 

کھل کر بھی اگر بات وہ کرتا ہے ضیائی

کچھ اور پراسرار معمہ سا لگے ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

یہ صدیوں کا بھید پرانا، یہ جیون کا حاصل ہے

جس کی بات نہ سمجھے کوئی، وہ مورکھ ہے، جاہل ہے

 

محرومی کے اندھیاروں میں آشاؤں کی جوت نہیں

سُونا دل کا کاشانہ ہے، سُونی دل کی محفل ہے

 

ٹھیک طرح سے سوچ لو پہلے، پھر جی کا بیوپار کرو!

پریت لگانا تو آساں ہے، پریت نبھانا مشکل ہے

 

اپنے من میں ڈوب کے پا لے شکتی کا انمول رتن

من ہی تیری راہ مسافر، من ہی تیری منزل ہے

 

اختر اب بھنڈار دکھوں کا سکھ کی آس میں جیتا ہے

کون کہے گا دانش مند ہے، کون کہے گا عاقل ہے؟​

٭٭٭

 

 

 

 

ہار گئے پگ چلتے چلتے، اب آرام کروں میں

جی کرتا ہے جیون پتھ پر ہی بسرام کروں میں

 

کون کسی کے غم لیتا ہے، موہ کا جال سمیٹوں!

زیست کی یہ بے کیف صبوحی اک دو جام کروں میں

 

دل کے بدلے دل کی دولت ہاتھ آ سکتی ہے تو

لالچ کی منڈی میں اس کو کیوں نیلام کروں میں

 

توڑ کے سُندر سپنوں کے گجرے او جانے والے!

پیار کی بے انجام کہانی کس کے نام کروں میں؟

 

ان کو مری بے لوث محبت کی نہیں خاص ضرورت!

وہ جو ہنس ہنس کر کہتے ہیں سستے دام کروں میں

 

دو لمحے سو سال کا جینا، دو صدیاں بے حاصل!

دنیا میں جو یاد رہیں، کچھ ایسے کام کروں میں

 

بچھڑ گیا دلدار، ہوئیں ویران نگر کی گلیاں

تم ہی کہو کس آس پہ اے دل، صبح کو شام کروں میں!​

٭٭٭

 

 

 

 

درد و درمان خوبصورت ہے

کل کا پیمان خوبصورت ہے

 

جس کے ملنے کی اب نہیں اُمید

اس کا ارمان خوبصورت ہے

 

ساتھ دیتا ہے وحشتِ دل کا

چاکِ دامان خوبصورت ہے

 

حُسن کردار سے ہے ناواقف

کتنا نادان خوبصورت ہے

 

جھوٹ گو مصلحت نواز سہی

سچ کی پہچان خوبصورت ہے

 

کاش گھر بھی اسی طرح ہوتا

جیسا مہمان خوبصورت ہے

 

اک غزل اُن کے نام کرنے سے

سارا دیوان خوبصورت ہے

 

عشق کی بارگاہ میں اکثر

دل کا فرمان خوبصورت ہے

 

کھیت بھی ہیں مگر کچھ ان کے سوا

دستِ دہقان خوبصورت ہے

 

اس بھری کائنات میں اختر

نقشِ انسان خوبصورت ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

تھی بے قرار بہت چشمِ منتظر خاموش

چلے گئے وہ میرے غم سے بے خبر خاموش

 

نہ پوچھ ہائے یہ مجبوریاں محبت کی!

میں اپنے صحن میں ، تُو اپنے بام پر خاموش

 

وہ میگسار ابھی مطمئن نہیں ساقی!

جو رہ گئے ہیں تیری سمت دیکھ کر خاموش

 

وہ نرم آنچ کہ پتھر کا دل پگھل جائے

ترے فراق میں جھیلی ہے عمر بھر خاموش

 

کسی کی یاد میں دل کی عجیب حالت ہے

مثالِ شعلہ، کبھی صورتِ شرر، خاموش

 

بفیض تلخیِ حالات ایک مدت سے

برنگِ دشت ہے اختر ہمارا گھر خاموش

٭٭٭

 

 

 

 

​لگتے ہیں بیگانے لوگ

اب جانے پہچانے لوگ

 

دیکھے غرض کے دھاگوں سے

بُنتے تانے بانے لوگ

 

ہم سے نہ الجھو فرزانو

ہم ٹھہرے دیوانے لوگ

 

چشمِ کرم رہنے دیجئے!

گھڑ لیں گے افسانے لوگ

 

حسن کا جادو جب جاگے

بھولیں ٹھور ٹھکانے لوگ

 

پیار میں جیون کاٹ گئے

تھے خوش بخت پرانے لوگ

 

وقت پڑا تو پل بھر میں

توڑ گئے یارانے لوگ

 

اپنے کئے پر جانے کیوں؟

لگتے ہیں پچھتانے لوگ

 

رنگ برنگی تصویریں

یہ گلیاں، مے خانے لوگ

 

اپنی کہو تو لے بیٹھیں

اپنے روگ سنانے لوگ

 

سن تو سہی اختر کیا کیا

آئے ہیں سمجھانے لوگ!

٭٭٭

 

 

 

​رکھے گئے جو اہلِ نظر کے نصاب میں

مضمون پڑھ رہا ہوں میں دل کی کتاب میں

 

اک رہزنِ ضمیر ہے، اک رہبرِ عمل!

تفریق بس یہی ہے گناہ و ثواب میں

 

تسکینِ جاں ہے ربط ہی، گو جانتا ہوں میں

لکھیں گے آپ کیا مرے خط کے جواب میں

 

مجھ پر کھلے ہیں صدق و صفا کے معاملات

جب بھی گیا ہوں پیرِ مغاں کی جناب میں

 

نفرت کا کاروبار بجا پر جنابِ شیخ

ارشاد کچھ تو آج محبت کے باب میں!

 

بہتر ہے درمیاں یہ سرا پرد مجاز

شائد نہ لا سکوں ترے جلوؤں کی تاب میں!

 

اختر یہ کائنات بھی ہے کارگاہ کن

دیکھی ہر ایک چیز یہاں انقلاب میں

٭٭٭

 

 

 

​لٹتی رہے گی سادگیِ رنگ و بوئے گل

گل چیں کے ہاتھ میں ہے اگر آبروئے گل

 

گلشن میں دور تک ہے یوں رنگوں کا سلسلہ

جیسے میان سبزہ جولاں ہو جوئے گل

 

ہر موسمِ بہار ہے اک محشر خروش

برپا ہے شاخ شاخ پہ پھر ہاؤ ہوئے گل

 

دیکھی ہے ہم نے سرخیِ رخسارِ مہوشاں

کھینچیں گے شعر شعر میں ہم ہو بہوئے گل

 

دنیائے بے ثبات پر اک طنز دل نواز

ناداں ہے جو سمجھ نہ سکے خند روئے گل

 

عرض طلب پہ یوں متبسم ہے اور خموش

پا لی ہو جیسے اس بتِ کافر نے خوئے گل

 

ترسدز نوکِ خار نگاہِ غلط نگر

اختر بچشم شوق کنم جستجوئے گل​

٭٭٭

 

 

 

برق کی زد میں آشیاں ہیں

جب سے صیاد پاسباں ہیں

 

کچھ عجب ہے یہاں کا دستور

راہزن میرِ کارواں ہیں

 

ہم ہیں مہر و وفا کے بندے

آپ بے وجہ بدگماں ہیں

 

ہم ہیں دانائے رازِ ہستی

ہم اسیرِ غمِ جہاں ہیں

 

پھر نئے عزم سے مسافر

سوئے منزل رواں دواں ہیں

 

حوصلے بھی ملے ہیں ان کو

جن کے درپیش امتحاں ہیں

 

دل تو بجھ سا گیا ہے اختر

آرزوئیں مگر جواں ہیں

٭٭٭

 

 

 

​تھک کے ہونے لگے نڈھال تو پھر؟

بڑھ گیا عشق کا وبال تو پھر!

 

جسم کیا روح تک ہوئی گھائل

ہو سکا گر نہ اندمال تو پھر؟

 

جس کو رکھا ہے شوق سے مہماں

کر گیا گھر ہی پائمال تو پھر!

 

ہجر تو مستقل اذیت ہے

اس نے جینا کیا محال تو پھر!

 

بھول جانا تو کیا عجب اس کا

روز آنے لگا خیال تو پھر!

 

راز داں ہی تو ہے بھروسا کیا!

چل گیا یہ بھی کوئی چال تو پھر؟

 

کر لیا ہے دماغ کو قائل!

دل بھی کرنے لگا سوال تو پھر

 

عشق دو چار دن کی بات نہیں

یوں ہی بیتے جو ماہ و سال تو پھر

 

سخت نازک ہے دل کا آئینہ

تم نہ اس کو سکے سنبھال تو پھر!

 

مان جائیں گے آپ کو اختر

بچ گئے اب کے بال بال تو پھر!

٭٭٭

 

 

 

 

​کم نصیبوں کو ستانے کی سزا پائے گا

ظلم پھر ظلم ہے اک روز ثمر لائے گا

 

بس گیا جس کے رگ و پے میں وہ سیماب صفت

کیا کوئی اس دلِ مجبور کو سمجھائے گا

 

کشتِ جاں جس کے ترشح کو ترستی ہے ابھی

اب وہ بادل نہ کبھی لوٹ کے پھر آئے گا

 

ہم نے کچھ روز کیا آنکھ سے اوجھل جس کو

کیا خبر تھی کہ بہت دور چلا جائے گا!

 

جو کسی طرزِ وفا کا نہیں قائل اختر

خلقتِ شہر پہ کیا کیا نہ ستم ڈھائے گا؟

​٭٭٭

 

 

 

 

یہ دہر سجدہ طلب سومنات ہے مجھ کو

حیات معرضِ تخفیفِ ذات ہے مجھ کو

 

مچل رہا ہے نگاہوں میں رنگِ موسم ِ گل

فضائے کنج قفس کائنات ہے مجھ کو

 

کلی کے کان میں یہ کہہ کے اڑ گئی شبنم

نمودِ صبح پہ مٹ کر ثبات ہے مجھ کو!

 

نبردِ عشق میں کیسا مقام آیا ہے

اگر میں جیت بھی جاؤں تو مات ہے مجھ کو

 

ترس گیا ہوں سبوئے خلوص کو اختر

رہا میں ساحل جہلم فرات ہے مجھ کو!​

٭٭٭

 

 

 

 

جس کا ہر نقشِ وفا دل سے مٹایا ہم نے

یاد ہے آج بھی گو لاکھ بھلایا ہم نے

 

ہر نئی سانس نئی آس سے معمور رہی

زندگی ہنس کے ترا بوجھ اٹھایا ہم نے!

 

کوئی آیا نہ گیا کنجِ ندامت میں کبھی

پیار کا دیپ کچھ اس طرح بجھایا ہم نے!

 

خلوت افروز رہا لعل و گہر کی صورت

جو ترا زخم سدا سب سے چھپایا ہم نے

 

کیوں پریشان ہوں رفیقانِ سفر جب اختر

ان سے جو عہد کیا وہ تو نبھایا ہم نے

٭٭٭

 

 

 

​عدم کی وادیوں میں کھو گئے ہیں

مسافر تھک کے آخر سو گئے ہیں

 

نہ پایا زخمِ دانش کا مداوا

جنوں کی سرحدوں تک تو گئے ہیں

 

وفا نا آشنا، یادوں کے کانٹے

ہماری کشتِ جاں میں بو گئے ہیں

 

رہے ہم دُور بازارِ ہوس سے

ہزاروں اہلِ حاجت گو گئے ہیں

 

غنیمت ہیں یہی اشکِ ندامت

گناہوں کی سیاہی دھو گئے ہیں

 

یہی ہیں رخصتِ شب کے ستارے

تلاشِ صبحِ نو میں جو گئے ہیں

 

نقوشِ پا نہ کوئی گرد اختر

نہ جانے کس طرف رہرو گئے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

​پہنچے فرازِ خلد سے یہ اجنبی کہاں

دشتِ فنا میں چھوڑ گئی زندگی کہاں

 

مٹ کر بھی جس کی خوئے تجسس نہ کم ہوئی

لے جائے گی اسے ہوسِ آگہی کہاں

 

رہتی ہے جس کو لحظہ بہ لحظہ نئی طلب

اس رہروِ حیات کو آسودگی کہاں

 

دل تو اسی کے حسن کی آماجگاہ تھا

برقِ نگاہِ یار بھی آ کر گری کہاں

 

اختر جو دل کو سوزِ تمنا نہ دے سکے

الفاظ کا فریب ہے وہ، شاعری کہاں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

جو مخلص ہوں انہیں نزدیک رکھیئے

محبت کا قرینہ، ٹھیک رکھیئے

 

شرافت ہے نہ عزت خود فروشی

غرض کی منفعت کو بھیک رکھیئے

 

نوازش ناروا ہے بندہ پرور!

تو اپنے پاس ہی یہ بھیک رکھیئے!

 

نمودِ ظاہری کے پیچ و خم میں

نگاہِ جستجو باریک رکھیئے!

 

سخن کا حسن کیا روشن خیالی

اگر دل کا نگر تاریک رکھیئے

 

وفا کوشوں کے حق میں اپنے لب پر

ہمیشہ ہدیۂ تبریک رکھیئے!

 

ہوس کی گرم بازاری میں اختر

نجاتِ خلق کی تحریک رکھیئے!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

چند اُس طرف، کچھ اِس طرف گرے

ایک دو جام سے کم ظرف گرے

 

اس کے چہرے کی خفت دیدنی تھی

لب سے اقرار کے جب حرف گرے

 

ہوں تصور میں مضامیں اتریں

جس طرح بھور سمے برف گرے

 

سچ بیزار ہے دنیا جیسے

قیمت سکہ بے صرف گرے

 

کند ہو تیغِ بلاغت اختر

یوں کہ معیار سے اک حرف گرے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

سورج مکھیا!جنم جنم کی تُو دکھیاری پر مکھیا کہلائے

نگر نگر وہ سونا بانٹے، سورج نام دھرائے

 

پورب پچھم، اتر دکن، اس کی جگمگ لیلا

دنیا کے تو کام سنوارے اور تجھ کو ترسائے

 

تجھ کو اپنے سوامی کے درشن ہی لگیں عبادت

جس جانب مُکھ اس کا دیکھے، اس جانب مڑ جائے

 

پھر بھی کبھی تو سوچا ہوتا وہ کیوں پھرے اداس

نسدن جس کی چاہ میں تُو نے آس کے دیپ جلائے

 

گھاس کپاس نہ گل بوٹوں کو تیرے سنگ ہمدردی!

تو من مورکھ، پگلی برہن، چھُپ چھُپ نِیر بہائے

 

جب آکاش پہ پھیلے ہر سُو وہ پرکاش اجالا

تیرے لئے بھگوان پدھاریں، پریتم چَھب دکھلائے

 

تیرا سپنا ہر دم تپنا ، کب ہو گا سوئیکار

ساگر اندر وہ جل مندر میں جو ڈوب نہائے

 

تُو دھرتی میں وہ امبر پر، تیرا میل نہ ہوئے

رات گئے ہمراز سہیلی اوس بچاری روئے

٭٭٭

 

 

 

آخر کار جدائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

گلی گلی رسوائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

شہروں شہروں آج ہمارے عشق کا چرچا عام ہوا

اپنی بات پرائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

وہ چت چور، وہ بھولا بھالا، وہ معصوم سا پردیسی

اس نے نیند چرائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

کیاری کیاری صحنِ چمن میں پھرنے والی موجِ صبا

پی کا سندیسہ لائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

اہلِ ستم سے مہر و وفا کی ہم کو کوئی امید نہ تھی

یوں بے درد خدائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

بن جانے جو کر بیٹھے تھے، اس وعدے کے بندھن سے

موت کے بعد رہائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا

 

صبحِ طرب کی آس لگائے اپنا جیون بیت چلا

اتنی دیر ضیائی ہو گی، یہ تو نہ ہم نے سوچا تھا​

٭٭٭

 

 

 

 

بے سبب رُوٹھ گیا چھوڑ کے جانے والا

پھر سے شاید وہ نہیں لوٹ کے آنے والا

 

وہ جو برسا نہ کھُلا، ابرِ گریزاں کی طرح

چشم مے گوں سے میری پیاس بجھانے والا

 

وہ دھنک تھا کہ شفق، پیکر خوشبو بن کر

دل کے آنگن میں نئے پھول کھلانے والا

 

مٹ گیا حرفِ غلط کی طرح وہ دنیا سے

کیا کوئی اور نہ تھا نقش مٹانے والا!

 

سب کو کچھ روز ٹھہرنا ہے، گزر جانا ہے

ہے یہاں کون بھلا ٹھور ٹھکانے والا ؟

 

جانے کیوں غیر سا لگتا ہے بھری محفل میں

دل میں رہ کر بھی سدا آنکھ چرانے والا

 

کیا تعجب اسے احساس ہے یکتائی کا!

کہ میرا عشق نہیں عام زمانے والا

 

اب نہ دیکھو گے کبھی چاند سا مکھڑا اختر

خُوں رُلا کر بھی نگاہوں میں سمانے والا​

٭٭٭

 

 

 

قول و قرار، مہر و وفا، دوستی میں ہے

سچ ہے کہ زندگی کا مزا دوستی میں ہے

 

رنج و ملال، جور و جفا، دشمنی کے رنگ

پراعتماد لطف و عطا دوستی میں ہے

 

جانِ بہار بادِ صبا کا پیام سن!

بُلبُل کا سوز، گل کی ادا دوستی میں ہے

 

معصوم لغزشوں پہ میری بدگماں نہ ہو

آنکھوں کا جرم، دل کی سزا دوستی میں ہے

 

تم کو ہے مال و زر کے تعاقب کی بے کلی

مجھ کو جو یہ سکُون ملا، دوستی میں ہے

 

میں اپنے آپ میں نہ رہا تجھ کو دیکھ کر

اور بے خودی میں جو بھی کہا دوستی میں ہے

 

او ناسپاس نامِ خدا بے رخی کو چھوڑ!

اختر کے دردِ دل کی دوا دوستی میں ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

نظر نظر کا نصاب چہرے

شباب رُت میں گلاب چہرے

 

برنگِ قندیلِ نیم شب وہ

دمکتے زیرِ نقاب چہرے

 

خطاب کرتے مسافروں سے

سوال پر لاجواب چہرے

 

حروف پلکیں نقوش زلفیں

حدیث باطن کتاب چہرے

 

بکھرتے آنچل نکھرتے منظر

سحاب گیسو شہاب چہرے

 

تھی جن سے روشن بساطِ یاراں

کدھر گئے آفتاب چہرے

 

مرے تخیل کی آبرو ہیں

گئے دنوں کے وہ خواب چہرے

 

فریب دیتے ہیں دوستی کا

کبھی کبھی انتخاب چہرے

 

کہاں یہ غربت کی دھُول اختر

کہاں شرافت مآب چہرے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

سفر بے منزل و بے انتہا کیا

“نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا”

 

غرض مندی کے بازارِ ہوس میں

کسی کی بے وفائی کا گلہ کیا

 

خیالِ یار میں ہر دم پریشاں

مریضِ عشق پائے گا شفا کیا

 

الجھ کر عقل کے کارِ زیاں میں

دلِ ناداں تجھے آخر ملا کیا؟

 

توجہ ہے کبھی نہ ربط باہم

تعلق میں ہمارے اب رہا کیا

 

عمل میں گر نہ ہو اخلاص تو پھر

کہا کیا آپ نے، ہم نے سُنا کیا

 

سبھی محتاج ہیں اس در کے اختر

تونگر کیا، فقیرِ بے نوا کیا​

٭٭٭

 

 

 

جلوۂ حسن چار سُو کیا ہے

اور نگاہوں میں جستجو کیا ہے

 

اہلِ حرص و ہوا کو کیا معلوم

لذتِ زخم آرزو کیا ہے

 

معجزہ ہے صدف نشینی کا

ورنہ قطرے کی آبرو کیا ہے

 

تجھ کو اجداد کی سند پہ غرور

مجھ کو اتنی غرض کہ تُو کیا ہے

 

جز محبت ہم اہل دل کے لیے

اور موضوع گفتگو کیا ہے

 

پتی پتی میں رنگ بھرتی ہوئی

مستقل خواہش نمو کیا ہے

 

وقت کے بے کنار صحرا میں

میری ہستی کی آبجو کیا ہے

 

دوستوں کا خلوص دیکھ اختر

تجھ کو اندیشۂ عدو کیا ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ساون نے رم جھم برسائی تیری یاد

پھولوں کی خوشبو، پروائی تیری یاد

 

شام ڈھلے جب سارے ساتھی چھوڑ گئے

ہردے کا پٹ کھول کے آئی تیری یاد

 

ہر چہرے پر تیرے رخ کی جوت جگی

ہر پیمانے میں لہرائی تیری یاد

 

اب تو یہ میرے جیون بھر کے ساتھی ہیں

میٹھا میٹھا غم، تنہائی، تیری یاد!

 

جب جب آس کا پنچھی پت جھڑ میں بھٹکے

جاگ اٹھے میری انگنائی تیری یاد

 

باقی دنیا کی دم سازی جھوٹی بات

دکھیا جیون کی سچائی تیری یاد

 

ہر موسم کے ساتھ چلی آتی ہے جو

اختر نے سو بار بھلائی تیری یاد​

٭٭٭

 

 

 

رہتا ہے سدا حسن جواں دل کے نگر میں

ارزاں ہے بہت جنسِ گراں دل کے نگر میں

 

اللہ رے ویرانیِ جذبات کا عالم!

شعلے نہ شرارے نہ دھواں، دل کے نگر میں

 

تم ڈھونڈ چکے ہو جسے شائد یہیں مل جائے

دیکھو ذرا صاحبِ نظراں دل کے نگر میں

 

پھر بسنے لگیں اجڑی تمناؤں کے ایواں

آ جاؤ کبھی راحتِ جاں دل کے نگر میں

 

تنہائی میں اکثر یوں کھنکتی ہے سماعت

جیسے ہو کوئی رقص کناں دل کے نگر میں

 

دامن میں چھپائے ہوئے ہے اک نئی دنیا

ہر منظر صد رشک جناں دل کے نگر میں

 

تا عمر کبھی ہم کو نہ بھولے گا وہ اختر!

دیکھا ہے اک ایسا بھی سماں دل کے نگر میں​

٭٭٭

 

 

 

 

غم کے پاتال میں جیتے رہنا

یعنی ہر حال میں جیتے رہنا

 

جب کوئی آس نہ ہو ، مشکل ہے

بس مہ و سال میں جیتے رہنا

 

بخت کا ساتھ نبھانے کے لیے

وقت کی چال میں جیتے رہنا

 

تلخ صہبائے گرانباری کے

رود و سیال میں جیتے رہنا

 

اپنی کرنی کی سزا ہو جیسے

جی کے جنجال میں جیتے رہنا

 

خوش مزاجی کا چلن لگتا ہے

خواہشِ مال میں جیتے رہنا

 

یہ تو مرنا ہے نہ جینا اختر

بھوک اور کال میں جیتے رہنا

٭٭٭

 

 

 

 

​سنتے تو ہیں بہار کا احساس بھی تو ہو!

جنگل کے گل کدوں میں وہ بُو باس بھی تو ہو!

 

نکھری ہوئی ہیں سرخ چناروں کی چوٹیاں!

سیرابیوں سے سیر کبھی گھاس بھی تو ہو!

 

اے خضر تیری راہ شناسی میں شک نہیں

پر رہروانِ شوق کو وشواس بھی تو ہو!

 

کب تک جئیں گے کشمکشِ بیم و جور میں

لوگوں کی زندگی میں کوئی آس بھی تو ہو

 

اختر ہزار خلد نشاں ہے دیارِ غیر

لیکن ہمیں یہ آب و ہوا راس بھی تو ہو!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

الجھے الجھے رستوں سے جو ڈر جاتے ہیں

صبح کے بھولے شام کو اکثر گھر جاتے ہیں

 

جیسے شبنم سے نکھرے پھولوں کا جوبن

وصل کے بعد تو چہرے اور نکھر جاتے ہیں

 

یار سے ملنے کی دھُن میں پاگل پروانے

آگ کے دریاؤں کے پار اتر جاتے ہیں

 

آس کی ڈوری کو ہر حال میں تھامے رکھنا

غم کے موسم بھی اک روز گزر جاتے ہیں

 

من موجی رندوں کا شوق نرالا دیکھا

شام ڈھلے سب مل کر چاند نگر جاتے ہیں

 

رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو کے سپنے

کبھی کبھی کانٹوں سے دامن بھر جاتے ہیں

 

حیرت ہے کچھ لوگ بہار سے بھی ڈرتے ہیں

اس کے آنے سے تو کام سنور جاتے ہیں

 

جانے کیا جادو ہے اس کوچے میں اختر

توبہ کرتے ہیں سو بار، مگر جاتے ہیں​

٭٭٭

 

 

 

 

ابتدا ہے نہ انتہا میری

یعنی منزل ہے نارسا میری

 

دشمنوں کو خبر نہیں شائد

زہر بن جائے گی دوا میری

 

زندگی کی نئی مسافت ہے

جس کو سمجھے ہیں وہ فنا میری

 

تیرے جلوے کی تاب ناممکن

اور یہی شرطِ خوں بہا میری

 

قافلہ کھو گیا سرابوں میں

گونجتی رہ گئی صدا میری

 

غرق ہونے سے ناؤ بچ جاتی

بات سنتا جو ناخدا میری

 

دار پر مجھ کو کھینچنے والو!

کچھ بتاؤ ہے کیا خطا میری؟

 

کوئے جاناں کی بے رخی اختر

کاش ہو جائے ہمنوا میری​

٭٭٭

 

 

 

 

 

تاجر دھن دولت کا رسیا، فاقہ کش مزدور وہی

حرص و طلب کی منڈی میں مختار وہی ، مجبور وہی

 

عہدِ جفا کے دشتِ زیاں میں کب سے یہی منظر ٹھہرا!

ظالم بھوت نگر کا راجہ، خلقت بے مقدور وہی

 

جیون پتھ پر گرتے پڑتے کتنے ہی یگ بیت گئے

آس کی منزل آج بھی، جتنی صدیوں سے تھی دور، وہی

 

کوئی نہیں جو اس کو سنبھالے، ڈھارس دے، فریاد سنے

جینے کی پاداش میں تنہا دل زخموں سے چُور وہی

 

لوٹ کھسوٹ کی خاطر مل کر شور مچائیں، نام دھریں

اندگے بہرے بے دردوں کا برسوں سے دستور وہی

 

دولت ہی قانون ِ مشیت، جرم و سزا تقدیرِ بشر

طاقت والوں کی جو مرضی، دنیا کو منظور وہی

 

چھوڑیئے یہ بیکار کہانی، اختر کی عادت ہے پرانی

اوپر سے خوش باش ہمیشہ، بھیتر سے رنجور وہی​

٭٭٭

 

 

 

 

 

آنکھوں میں سما جانا، یادوں میں مکیں رہنا

اس شوخ کی عادت ہے، بس پردہ نشیں رہنا

 

خلوت کو سجا دینا، خوابوں کو بسا دینا

جس رنگ میں بھی رہنا، کچھ اور حسیں رہنا

 

اس جانِ صباحت کی تقدیر میں لکھا ہے

محبوبِ نظر ہونا، فرخندہ جبیں رہنا

 

پہلے تری فرقت میں بے چین سے رہتے تھے

پھر سیکھ لیا ہم نے ہر وقت حزیں رہنا

 

یہ بھی تو کرشمہ ہے اس رشکِ مسیحا کا!

جس دل پہ ستم کرنا، اس دل کے قریں رہنا

 

یک رنگیِ دوراں سے اکتا گیا جی اختر

اس شہر سے اب رخصت، چل اور کہیں رہنا​

٭٭٭

 

 

 

 

خار دے دو کہ چند پھول ہمیں

جو بھی بخشو گے وہ قبول ہمیں

 

بے طلب، بے غرض، طریقِ وفا

دل نے بخشا ہے یہ اصول ہمیں

 

جسم و جاں آپ کی امانت ہے

کوئی حاصل نہ کچھ وصول ہمیں

 

سوچتے ہیں کہ راس آ جاتی

کاش تیری گلی کی دھول ہمیں

 

بے وضاحت کہیں، پسند نہیں

دوستوں کے سخن میں طول ہمیں

 

اک بتِ رمز آشنا کے بغیر

ساری محفل لگے فضول ہمیں

 

ان کا چہرہ نصابِ فطرت کی

معرفت کے لئے رسول ہمیں

 

حسن کی بارگاہ میں اختر

یاد ہے ایک ایک بھول ہمیں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

خواب لے ڈوبے ہیں تعبیروں کا بوجھ

بن گیا تخریب تعمیروں کا بوجھ

 

پاؤں پر اپنے کھڑا ہونے نہ دے

تیسری دنیا کو زنجیروں کا بوجھ

 

اپنی کج بنیاد دیواروں کو دیکھ!

کیا اٹھا لیں گی یہ شہتیروں کا بوجھ

 

دے رہا ہے جرم کو اب تو فروغ

ناروا سفاک تعزیروں کا بوجھ

 

کام تدبیروں سے لے سکتے نہ تھے

زیست پر جن کی تھا تقدیروں کا بوجھ

 

سطوتِ اجداد میں محبوس تھے

جن کے کندھوں پر تھا جاگیروں کا بوجھ

 

بن گیا بڑھ کر ندامت کا سبب

بے ہنر، بے سود تشہیروں کا بوجھ

 

حیف! اختر دیدۂ ظلمت سرشت

کب اٹھا سکتا تھا تنویروں کا بوجھ​

٭٭٭

 

 

 

 

گزر چکی ہیں جنُوں کی حکایتیں کیا کیا

سنا رہا ہے زمانہ روایتیں کیا کیا

 

ہجوم عرض طلب پیش حسن خاموشی

رکی ہوئی ہیں زباں پر شکایتیں کیا کیا

 

وہ جن کا آج یہاں نام تک نہیں باقی

فلک کی آنکھ نے دیکھی ہیں صورتیں کیا کیا

 

بچھڑ کے تم سے دلِ نامراد بجھ سا گیا

وگرنہ اس میں فروزاں تھیں حسرتیں کیا کیا

 

الم نصیب پریشان حال کیا جانیں

کہ زندگی کو میسر ہیں راحتیں کیا کیا

 

نبرد عشق میں اختر بصد خلوص ملیں

وبالِ جان و جگر سوز ساعتیں کیا کیا​

٭٭٭

 

 

 

 

 

جب تک کفِ میزان میں تعدیل نہ ہو گی

جو صورتِ حالات ہے تبدیل نہ ہو گی

 

سچ ہے کہ عزائم بھی بڑی چیز ہیں ، لیکن

بے جہد و عمل ان کی بھی تکمیل نہ ہو گی

 

وہ قادر و عادل ہے جھٹک دے گا یقینآ!

اور ظلم کی رسی کو سدا ڈھیل نہ ہو گی

 

نافذ ہے اگر حکم تو پھر روزِ مکافات

کوتاہیِ کردار کی تاویل نہ ہو گی

 

ڈس لے جو کڑے وقت سیہ ناگ کی صورت

کچھ بھی ہو تری زلف کی تمثیل نہ ہو گی

 

میں پرد ظلمات میں چھپ جاؤں گا اس دن

جب دل میں تیرے پیار کی قندیل نہ ہو گی

 

جس میں نہ غمِ زیست کے پہلو ہوں نمایاں

اختر وہ میرے شعر کی تشکیل نہ ہو گی​

٭٭٭

 

 

 

 

 

غم میں ڈوبے ، خوشی کو بھول گئے

ایسے روئے ہنسی کو بھول گئے

 

زندہ رہنا ہی بس غنیمت تھا

لوگ زندہ دلی کو بھول گئے

 

چشمِ شبنم نے اشک برسائے

پھول خندہ لبی کو بھول گئے

 

مرگ سامانیوں میں گم ہو کر

بے بصر زندگی کو بھول گئے

 

رونقِ کائنات تھی جس سے

حیف! ہم آدمی کو بھول گئے

 

داغِ بے مائیگی تو مٹ نہ سکا

اہلِ دل سرکشی کو بھول گئے

 

کتنی دلچسپ بھول تھی اختر

ہم یہ سمجھے کسی کو بھول گئے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

سرِ آفاق جو رختِ سفر تھا

گرا خاشاک پر تو مشتِ پر تھا

 

نشاطِ خلد میں کب تک بہلتا!

تلوّن کیش اندازِ بشر تھا

 

در و دیوار بھی کچھ اجنبی تھے

جو دیکھا غور سے تو اپنا گھر تھا

 

جگر کے خون سے دیکھا کئے ہم

تمنا کا شجر جو بے ثمر تھا

 

وفورِ تیرگی میں برق تڑپی

کھلا کہ چاکِ دامانِ سحر تھا

 

تجھے ملنے سے پہلے جانِ الفت

میں خود اس کیفیت سے بے خبر تھا!

 

وہ کل شب بام پر بے پردہ نکلے

فرازِ چرخ پر حیراں قمر تھا

 

کرم کی آرزو میں جس کو پوجا

بتِ نا مہرباں بے داد گر تھا

 

کسی کے حسن میں رنگِ غافل

ہماری ہی وفاؤں کا اثر تھا

 

عدم آباد ہی منزل تھی اختر

قیام زیست کتنا مختصر تھا!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہم سفر بے کنار ویرانے

بن گئے غمگسار ویرانے

 

منزلوں کے سراب رخشندہ

اور سب رہگذار ویرانے

 

ہے مقفل درِ نمود و شہود

اور طبیعت پہ بار ویرانے

 

شب ڈھلے اوس کی محبت میں

ہو گئے اشکبار ویرانے

 

چند شاداب مرغزار بھی ہیں

اور ہیں شرمسار ویرانے

 

سقفِ شہرِ نگار گونج اٹھے

اس طرح سے پکار ویرانے!

 

کھا گئیں جن کو بے اماں سڑکیں

بستیوں پر نثار ویرانے

 

ایک مدت سے منتظر ہیں تیرے

اور نسیمِ بہار، ویرانے!

 

کب سے ساون کی راہ دیکھتے ہیں

خشک سینہ فگار ویرانے

 

دیکھ سنسان قریۂ جاں کو

جس پہ قرباں ہزار ویرانے

 

کارگاہیں دھواں دھواں اختر

وقف ِ گرد و غبار ویرانے!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

گل نے کِھل کے بکھر ہی جانا ہے

کشتِ جاں سے گزر ہی جانا ہے

 

جب بھی اس دشت شام غربت سے

جان چھوٹے گی ، گھر ہی جانا ہے

 

وقت ناسازگار ہے، پھر بھی

کچھ نہ کچھ کام کر ہی جانا ہے

 

رفتہ رفتہ یہ ساغرِ ہستی

تلخ صہبا سے بھر ہی جانا ہے

 

ہر گھڑی زندگی کا ماتم کیوں؟

آخر اک روز مر ہی جانا ہے

 

ہم نے مقصودِ بندگی زاہد!

احترامِ بشر ہی جانا ہے

 

بخت کی دھوپ چھاؤں کو ہم نے

اک فریبِ نظر ہی جانا ہے

 

روشنی کا سفیر ہے اختر

اس کو وقتِ سحر ہی جانا ہے​

٭٭٭

 

 

 

صداقتوں سے سدا اجتناب کرتے ہیں

عجیب ڈھنگ سے تعبیرِ خواب کرتے ہیں

 

سرشتِ نوعِ بشر کا شعور ہے جن کو

خود اپنی ذات کا بھی احتساب کرتے ہیں

 

بہت دنوں سے تمنائے بازدید لئے

ہم انتظارِ شب ماہتاب کرتے ہیں

 

جفا کشانِ خرد کو جنوں کی راہ ملے

جو ہو سکے تو یہ کارِ ثواب کرتے ہیں

 

مچل کے عہدِ جوانی میں سیم تن اختر

سحاب زلف تو چہرہ گلاب کرتے ہیں​

٭٭٭

 

 

 

 

 

ایک سا اب تو شام سویرا رہتا ہے

ہر دم دل میں یاس کا ڈیرا رہتا ہے

 

ہر لحظہ ، ہر آن بدلتی دنیا میں

وقت نہ تیرا اور نہ میرا رہتا ہے

 

دل میں غم و آلام کا جھرمٹ ہے جیسے

مرگھٹ میں آسیب کا گھیرا رہتا ہے

 

میری بستی میں بھی سکھ کے چاند نکل

اس بستی میں گھور اندھیرا رہتا ہے

 

شوق سے کھلنے والے اُجلے پھُولوں کا

شاخ پہ کچھ دن رین بسیرا رہتا ہے

 

خوف سے جس کا کوئی نام نہیں لیتا

میرے شہر میں ایک لٹیرا رہتا ہے

 

لاکھ بھلاؤ دردِ طلب اختر صاحب!

عمر کے ساتھ کچھ اور گھنیرا رہتا ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

شعورِ لُطف و محبت کو عام کرنا تھا

جہاں میں رہ سکے باقی جو کام کرنا تھا

 

وفا کے نام پر مٹ کر مسافرانِ عدم

کچھ اہتمامِ بقائے دوام کرنا تھا

 

نوازشِ نگہِ التفات کا مطلب

ہمیں اسیرِ تمنائے خام کرنا تھا

 

یہ کیا کہ جس کو ہمارے وجود سے نفرت

اسی کا ذکر ہمیں صبح و شام کرنا تھا

 

جناب شیخ کی منطق عجیب، ان کے لیے

وہ سب حلال جو ہم پر حرام کرنا تھا

 

کہاں تلک دلِ خانہ خراب کی سنتے

کہ ایک روز تو قصہ تمام کرنا تھا

 

کسی کے وہم و گماں میں بھی یہ نہ تھا اختر

کہ آدمی کو خلد میں خرام کرنا تھا!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

عہدِ وفا کا قرض ادا کر دیا گیا

محرومیوں کا درد عطا کر دیا گیا

 

پھُولوں کے داغ ہائے فروزاں کو دیکھ کر

ارزاں کچھ اور رنگِ حنا کر دیا گیا

 

وارفتگان شوق کا شکوہ سُنے بغیر

گلشن سپردِ اہلِ جفا کر دیا گیا

 

دل سے اُمنگ، لب سے فغاں چھین لی گئی

کہتے ہیں اہلِ دل کو رہا کر دیا گیا

 

مانگی تھی عافیت کی دُعا، آگہی کا غم

پہلے سے بھی کچھ اور سوا کر دیا گیا

 

یک دو نفس بھی کارِ زیاں ہم نہ کر سکے

خُوشبو کو پیرہن سے جدا کر دیا گیا

 

اختر ہوس گرانِ عقیدت کے فیض سے

وہ بھی جو ناروا تھا، روا کر دیا گیا​

٭٭٭

 

 

 

 

مجھ سے وہ سرگراں سا رہتا ہے

فاصلہ درمیاں سا رہتا ہے

 

عشق کی بے قراریاں توبہ!

ہر گھڑی امتحاں سا رہتا ہے

 

ان سے ملنے کے بعد مجھ پہ محیط

حسن کا آسماں سا رہتا ہے

 

اک سمن پوش کے تصور میں

فصلِ گل کا سماں سا رہتا ہے

 

داغِ فرقت کبھی نہیں مٹتا

دھندلا دھندلا نشاں سا رہتا ہے

 

زندگی جیسے غم کے ساگر میں

اک سفینہ رواں سا رہتا ہے

 

جس پہ دونوں جہاں لٹا بیٹھے

وہ کچھ بدگماں سا رہتا ہے

 

مصلحت کوش فکر کے درپے

عقل کا پاسباں سا رہتا ہے

 

لُطفِ خُوباں کے فیض سے اختر

شعر میرا جواں سا رہتا ہے​

٭٭٭

 

 

 

دل گرفتارِ زیاں لے ڈوبا

جلوۂ حسنِ بتاں لے ڈوبا

 

عشق کی دھوپ میں بھٹکے برسوں

سایۂ ابرِ رواں لے ڈوبا

 

پار اترنے کی تمنا تھی، مگر

ہم کو اندیشۂ جاں لے ڈوبا

 

ہر نئی سانس پہ اک اور طلب

زیست کو بارِ گراں لے ڈوبا

 

ان کو ساحل کا یقیں تھا کہ نہیں

جن کو گردابِ گماں لے ڈوبا

 

ہم کو ہر لہر میں طوفان ملے

ناخدا جانے کہاں لے ڈوبا

 

خواب دیکھے تو نہ تعبیر ملی

نام چاہا تھا، نشاں لے ڈوبا

 

کچھ تو حالات بھی ناساز ہی تھے

کچھ ہمیں عزمِ جواں لے ڈوبا

 

بعض لوگوں کو، یہ سچ ہے، اختر

تیرا اندازِ بیاں لے ڈوبا!​

٭٭٭

 

 

 

 

 

مانا کہ خواب خواب ہے، تعبیر کچھ تو ہو

دھندلا سہی پہ منظرِ تصویر کچھ تو ہو

 

اس شہر میں ہے دہشت و غارتگری کا راج

فرمانروائے وقت کی تعزیر کچھ تو ہو

 

رہنے دو میرے چاکِ گریباں کو تار تار

اہلِ جنوں کی بزم میں توقیر کچھ تو ہو

 

لو دے اٹھے گی میرے لہو سے جبینِ دار

کچھ بھی ہو اس کے ظلم کی تشہیر کچھ تو ہو

 

محتاط! مٹ نہ جائے کہیں آرزو کا داغ

بجھتے ہوئے چراغ کی تنویر کچھ تو ہو

 

چلنے نہ دیں گے حیلہ گروں کا کوئی فسوں

کٹ جائے اب کے جبر کی زنجیر، کچھ تو ہو

 

چھایا ہوا ہے حلقۂ دانش میں کیوں سکوت؟

آخر نجاتِ خلق کی تدبیر کچھ تو ہو

 

تخریبِ انقلاب کا کھٹکا ہے ہر گھڑی

اختر ظہورِ صورت تعمیر کچھ تو ہو​

٭٭٭

 

 

 

 

اوروں کا وصف اور ہنر مانتا نہیں

اپنے سوا کسی کو وہ گردانتا نہیں

 

بیگانگی سے آنکھ چرا کر نکل گیا

جیسے وہ شخص اب مجھے پہچانتا نہیں

 

جلتا رہوں ہزار مصائب کی دھوپ میں

سر پر میں مصلحت کی رِدا تانتا نہیں

 

زاہد نہ پا سکے گا تو عرفانِ بندگی

جب تک مقامِ نوع بشر جانتا نہیں

 

مجھ سے نہ محض حسنِ عقیدت کی بات کر

دل میں اگر خلوصِ عمل ٹھانتا نہیں

 

اختر میں تجزیئے کا تو قائل ضرور ہوں

وہم و گماں کی خاک مگر چھانتا نہیں​

٭٭٭

 

 

 

خواب در خواب انتشار میں ہے

زندگی یاس کے غبار میں ہے

 

پھونک سکتی ہے سطوتِ دوراں

آگ وہ عشق کے شرار میں ہے

 

بے محابانہ سر خوشی کا سرُور!

او ستم گار تیرے پیار میں ہے

 

بے یقینی کی ابتلا میں کہاں؟

غم کی لذت جو اعتبار میں ہے

 

کشتِ امید ایک مدت سے

موسمِ گل کے انتظار میں ہے

 

اضطرابِ نمو غنیمت ہے

موت کی بے حسی قرار میں ہے

 

بن کے ملتا ہے ناصحِ مشفق

جو بھی شامل مزاجِ یار میں ہے

 

اہلِ کردار خوب جانتے ہیں

فرق جو تخت اور دار میں ہے

 

اس زمانے میں بھی وفا کا اسیر

دیکھ مجھ سا کوئی ہزار میں ہے؟

 

دا و تحسین اور تجھے اختر!

شاعری میں تُو کس شمار میں ہے​

٭٭٭

ٹائپنگ:شیزان اقبال

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید