FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

ژیینت

 

 

 

                   قیصر تمکین

 

پیسکش:عدنان مسعود

 

 

 

 

 

اردو کے ممتاز افسانہ نگار قیصر تمکین کی جانب سے دریائے گومتی سے ٹیمز تک ایک کہانی ایک عورت کی داستان، وہ ایک مصور تھی اور خود ایک تصویر۔

 

 

نمائش کا وقت ساتھ بجے تھا مگر وہ چھ بجے سے پہلے ہی تیار ہو گیا اور بہت پر تکلف انداز میں پہلی منزل پر آیا۔ استقبالیہ ہال طے کرتا ہوا وہ لاؤنج میں داخل ہوا۔ میزوں پر عمومی شمعیں جھل ملا رہی تھیں۔ پس منظر میں دھیمے دھیمے سروں میں ارغون بج رہا تھا اور اکا دکا جوڑے سرگوشیوں میں مصروف تھے ۔

 

وہ بار کے قریب پہنچا تو برابر کے اسٹول پر بیٹھی ہی لڑکی کو دیکھ کر چونکا۔ اس کی آنکھیں بہت بڑی بڑی اور بہت کالی تھیں۔ اس کے بال بھی بہت سیاہ اور لمبے تھے ۔ اس نے سیدھی مانگ نکال رکھی تھی مگر اس کا چہرہ میک اپ سے بالکل خالی تھا دودھ کی طرح اجلا ہوا اور صاف۔ اس کی حرکات و سکنات میں ایسی تمکنت تھی جیسے وہ کہیں مہارانی ہو۔ عدّو نے اسے کئی بار نظر بچا کر دیکھا پھر بولا۔ "معاف فرمایئے گا، میرا خیال ہے ، میں نے آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے ؟”

 

وہ بد دماغ اور مغرور سی لڑکی تھی،یہ جملہ سن کرایسی شگفتگی سے مسکرائی کہ عدّو ڈر گیا۔” لڑکیوں سے متعارف ہونے کا یہ طریقہ بہت پرانا ہو چکا ہے مسٹر!”

 

عدّو کچھ خفیف ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ وہ شاید غلطی پر ہے ۔ چہروں کی مشابہت کبھی کبھی بے حد گم راہ کن ہوتی ہے ۔ وہ اپنا گلاس لے کر وہاں ٹہلنے لگا۔ اچانک وہ مہارانی قسم کی لڑکی بولی۔”اگر آپ گپ شپ کے موڈ میں ہوں تو بیٹھیے ۔ مجھے بھی فی الحال کچھ فرصت ہے "۔

 

عدّو کی شرمندگی رفع ہو گئی۔ وہ ایک مشاق مصاحب کی طرح لڑکی کو ایک طرف لے کر چلا۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ اسے اعلا خواتیں کی محفلوں میں کام آنے والے تمام حربے معلوم ہیں۔

 

دونوں چند ثانیوں کے لیے خاموش رہے ۔ نیم تاریک میز پر موم بتی پگھلتی رہی۔ آخر عدّو نے ابتدا کی۔ "برسبیل تذکرہ یہ ذکر ضروری ہے کہ خادم کو عدیل کہتے ہیں، عدیل احمد۔”

 

لڑکی نے بے خیالی میں کہا۔ "مجھے معلوم ہے ۔”اس سے پہلے کہ عدّو اس کے جواب پر حیرت کا اظہار کرتا، دو تین آدمی وہاں آ گئے لڑکی فوراً کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگی۔

 

جب وہ دوبارہ بیٹھی تو عدّو کی پوری توجہ اس کے چہرے کی طرف تھی۔ لڑکی نے پوچھا۔”آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا شناسائی کی کوئی نئی ترکیب سوچ رہے ہیں؟”

 

عدّو نے پورے اعتماد کے ساتھ اردو میں کہا۔”ژینیت بیٹا! میں سوچ رہا ہوں کہ تم اس آزادی کے ساتھ شراب کب سے پینے لگیں”۔

 

لڑکی کے ابروؤں پر بل پڑ گئے ، وہ کسی بے تکلف دوست کے بجائے پھر ایک بد دماغ مہارانی نظر آنے لگی۔ جواب اس نے فرانسیسی ہی میں دیا۔” اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے ۔”

 

اس رکھائی سے القط کئے جانے کے بعد عدّو کے پاس گفتگو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا تھا۔ اسی وقت وہاں دو تین لوگ اور آ گئے ۔ لڑکی ان سے باتیں کرتے کرتے بے خیالی میں لاؤنج سے باہر چلی گئی۔

 

اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو عدّو دوبارہ اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں کیونکہ اسے نظر انداز کیا گیا تھا مگر اسے شک نہیں، اب یقین تھا کہ لڑکی ژیینت ہی ہے اس لیے عدّو کو اس سے ملنے کا اشتیاق ہو گیا۔ سالہا سال بعد ہزاروں میل دور ایک بالکل نئی زمین اور نئے آسمان کے نیچے کسی پرانے جاننے والے کا ملنا ایک تقریب ہوتا ہے ۔ زینت سے اس کی قریبی رشتہ داری تھی۔

 

دوسری بار عدّو نے ژینیت کو مصوری کی ایک نمائش گاہ میں دیکھا۔ وہ بہت سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ اس کا نام یقیناً  ژینیت تھا کیونکہ جن تصاویر کے آس پاس اس کے دوست جمع تھے ، اس سب پر ژینیت کے دستخط تھے ۔ ژینیت  کاکوری ضلع لکھنؤ کی رہنے والی تھی، اس کا پیرس کی عالمی تصویر گاہ میں ژینیت بن جانا زیادہ تعجب کی بات نہیں تھی۔ عدّو غور سے دیکھنے لگا۔ قریب قریب سب تصویریں ڈراؤنے یا عبرت ناک رنگوں کی آمیزش سے بنائی گئی تھیں اور صرف بچوں کے نقوش پر مشتمل تھیں۔ یہ بچے حبشہ کے تھے ، بیافرا کے تھے ، کلکتے اور برازیل کے تھے ۔ ان سب کے جسم سوکھے سوکھے اور پیٹ پھولے ہوئے تھے ۔ سب کی آنکھوں سے بھوک اور بیماریوں کا عفریت جھانک رہا تھا۔ گندگی کے ڈھیر میں لتھڑے ہوئے یہ بچے انسانی تہذیب و ترقی کے تمام دعووں کی تردید کر رہے تھے ۔

 

آس پاس بائیں بازو کے مردوں اور عورتوں کا جمگھٹ تھا۔ مصور ژینیت کی سفاک حقیقت انگیزی نے سب کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر ایک کرب تھا اور آنکھوں میں ایک عزم۔ گویا ابھی باہر نکل کر انقلاب برپا کر دیں گے اور انقلاب سے ایک ایسی دنیا وجود میں آئے گی جس میں کوئی بچہ بھوک سے بلکتا ہوا دم نہیں توڑے گا۔

 

عدّو چھٹی پر تھا۔ پیرس کی یہ سیر محض تفریح کے لیے تھی۔ ان دنوں ایک بہت بڑا فلمی میلا چل رہا تھا۔ عدّو کو اپنی نئی کتاب کا معاوضہ ایک بار پھر ملا تھا، اس کتاب کا سستا ایڈیشن چھاپا جا رہا تھا۔ اس گھاٹے کی آمدنی کے باوجود عدّو نے قیمتی ہوٹل میں ٹھیرنا پسند کیا۔ زینت کی تصویریں دیکھ کر اسے ایک عجیب سا افسوس ہوا۔ اپنی تمام فلسفہ طرازیوں کے باوجود وہ زینت کی طرح حقیقت کا ایسا برہنہ اور بے رحم مشاہدہ کرنے سے قاصر تھا اور اسے زینت کی ترقی و مقبولیت پر بھی رشک ہو رہا تھا۔ اسے وطن کی وہ واہیات، نامعقول، میلی کچیلی سی لڑکی یاد آ گئی۔ وہ بیچارے نوابو چچا کی اکلوتی لڑکی تھی۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے وہ بس باورچی خانے سے طعام خانے تک جاتی دکھائی دیتی تھی یا پھر ایرے غیرے بچوں کو لادے لادے گھوما کرتی۔ وہی لڑکی عصر حاضر کی چیختی چنگھاڑتی زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال چکی تھی۔

نمائش میں زینت نے اسے ٹرخا دیا تھا۔ عدّو کو بہت غصّہ آ رہا تھا۔ وہ رات گئے تک ہوٹل کے زمین دوز شراب خانے میں بیٹھا رہا۔ آخر بالکل ہی تھک گیا تو چوتھی منزل پر اپنے کمرے کی طرف چلا۔ پورے ہوٹل میں ایسی خاموشی تھی کہ دبیز قالین پراس کی چپ ایک طرح کا شور پیدا کر رہی تھی۔ گیلری کے موڑ پر ایک کمرے کا دروازہ کھلا زینت نے جھانک کر دیکھا۔ آیئے عدّو بھائی! میں آپ کا انتظار کر رہی تھی” عدّو کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ زینت نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ اس وقت آنے والا میں ہی ہوں گا؟ دوسرے ہی لمحے عدّو بے تکلف زینت کے کمرے میں داخل ہو گیا۔

 

"بیٹھیے ۔ کیا پیجیے گا؟ کافی یا کچھ اور؟” زینت نے سنگھار میز کے سامنے اپنے لمبے لمبے بال برش سے برابر کرتے ہوئے کہا۔ وہ صرف ایک لمبا سا فرغل پہنے ہوئے تھی اور بالکل کشمیرن لگ رہی تھی۔

 

عدّو نے آرام کرسی پر بے تکلفی سے نیم دار ہوتے ہوئے کہا۔ "تو گویا تم مجھے پہچان گئی تھیں۔”

 

"میں نے آپ کو دوپہر ہی پہچان لیا تھا، جب آپ ہوٹل کے رجسٹر پر دستخط کر رہے تھے ۔” زینت نے کافی کی مشین بند کر دی۔ بھاپ نکل رہی تھی اور کافی کی بھینی بھینی خوشبو پورے کمرے میں پھیل رہی تھی۔ اس نے کافی کی پیالی عدّو کے سامنے رکھی اور بولی”۔ معاف کیجیے گا مجھے سونے سے پہلے نہانے کی عادت ہے ابھی آئی”۔ یہ کہتی ہوئی وہ غسل خانے میں چلی گئی۔

 

صبح کے چار بج رہے تھے ۔ زینت نہانے میں مشغول تھی، غسل خانے سے دھیمے دھیمے سروں میں داہن ولیمس کے نغمہ بحر کی دھن سنائی دے رہی تھی۔ دروازے پر کچھ کھٹ پٹ ہوئی۔ عدّو نے جا کر دیکھا۔ صبح کا ویٹر اخباروں کا پلندہ پھینک گیا تھا۔

 

تمام اخباروں کے ثقافتی صفحات پر گزشتہ رات کی تصویری نمائش کا واقعہ شائع ہوا تھا۔ ژینیت کی حقیقت پسندی پر سبھی نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے خامہ فرسائی کی تھی۔ محض قدامت پرست اخباروں کو اس بہانے تیسری دنیا کے مسائل پر درس دینے کا موقع مل گیا تھا۔”لائیگرو” کا ٢٣ واں صفحہ رشک و حسد سے پڑھتے ہوئے عدّو کسی خیال میں کھو گیا اور پھر سو گی غازی میاں کی ترقی کے سلسلے میں دعوت تھی۔ وہ پی۔سی۔ ایس کے آدمی تھے مگر وزیر اعلا نے ان کی کار کردگی سے خوش ہو کر انہیں آئی، اے ، ایس بنا دیا تھا۔ اب وہ ضلع کمایوں کے کمشنر ہو کر الموڑے جا رہے تھے ۔ محل سرا کے بڑے دالان میں تخت کا فرش لگا تھا۔ ادھر ادھر گاؤ تکیے رکھے تھے ، ان سے ٹیک لگائے دلارے میاں، خوشبو بھیا، جانی میاں اور مصنف خالو قسم کے لوگ حقہ پی رہے تھے ۔ ساتھ ہی وہ پرتاب گڑھ والے سنگھ کیرون کے قتل پر تبادلہ خیال میں مصروف تھے ۔ صحن میں چاروں طرف پکوان پھیلا ہوا تھا۔۔ لچکے گوٹے کے بھاری بھاری جوڑوں اور پائنچوں سے لدی پھندی عورتیں پسینہ پونچھتے ہوئے ورقی سموسے اور بلائی کے پان وغیرہ بنا رہی تھی۔ اس گرمی میں تھوڑا سا اضافہ ہو گیا تھا اس لیے کہ جمبو دیپ کی رانی بٹیا بھی برسوں بعد اپنے بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی تھیں۔ ان کی ایک بہو انگریز تھیں، وہ شلوار قمیص پہنے کرسی پر بیٹھی بس مسکرائے جا رہی تھی۔ کہنے والوں کا کہنا تھا کہ ڈارلنگٹن کے کسی کیفے میں ویٹرس تھیں مگر رانی بٹیا کو اصرار تھا کہ یہ کسی بڑے لارڈ کی نور نظر ہیں۔

 

بڑی اماں والے دالان میں بچوں کی چوپال جمی ہی تھی۔ عدّو بھائی حسب معمول ہیرو بنے چہک رہے تھے ۔ وہ غازی میاں کے اکلوتے بیٹے تھے اور پانچ بیٹیوں کے بعد ہوئے تھے اس لیے سبھی کی آنکھ کا تارہ تھے ۔۔وہ اپنے کالج کی کرکٹ ٹیم کے خوفناک بولر بھی تھے ۔اطراف میں کوئی کالج اور اسکول ایسا نہیں تھا جس کی ٹیم کے ایک آدھ کھلاڑی کا سر عدّو بھائی کی بولنگ سے نہ پھٹا ہو۔ بڑے بڑے چوے چھکے اڑانے والے بلے باز بھی ان کی پستول کی گولی جیسی گیند سے گھبراتے تھے ۔

 

عدّو بھائی کا عام معلومات کے مقابلوں میں بھی شہر کے گنے چنے طلبہ میں شمار ہوتا تھا۔ انہیں بچوں سے بہت محبت تھی، وہ بچوں ہی کے ہیرو تھے ۔ وہ بچوں کو عام معلومات بتاتے پھر ان سے سوالات کرتے ۔ ایک دن انہوں نے کسی لڑکے سے سوال کیا۔ "اچھا بتائیے جناب!” ٹیلی فون کس نے ایجاد کیا تھا؟”

 

سب بچے بغلیں جھانکنے لگے ۔ نوابو چچا کی لڑکی جنو چندن آپا کا موٹا تازہ بچہ گود میں لیے ذرا دور کھڑی تھی، بول اٹھی۔”گراہم بیل نے سن ١٨٧٦ میں”۔

 

بچے مڑ کر دیکھنے لگے ۔ عدّو بھائی نے بھی جننو کو قدرے ناگواری سے دیکھا۔ وہ میلی کچیلی جھبرے جھبرے بالوں والی لڑکی کسی بھنگن کی اولاد لگ رہی تھی لیکن سوال کا جواب صحیح بتا رہی تھی۔ ایک بچہ چمکیلی پھول دار شرٹ پہنے ہوئے تھا، وہ غصّے میں بولا "چل ہٹ یہاں سے ۔ مہترانی کہیں کی۔” جنو کے آنسو نکل پڑے ۔ وہ وہاں سے ہٹ گئی۔

 

عدّو بھائی نے رسمی طور پر بچے کو سمجھایا۔”نہیں بھیا! ایسا کسی کو نہیں کہتے ۔ بری بات ہے "۔

 

منجھلی ممانی نے دسترخوان پر بیٹھے بیٹھے ایک جھوٹی پلیٹ میں کئی پلیٹوں کا بچا ہوا قورمہ، قلیہ، دال اور ترکاری وغیرہ جمع کر کے اس کے اوپر ادھر ادھر کے بچے ہوئے چاول ڈالے اور پھر اس ملغوبے پر دو چپاتیاں تہ کر کے پٹخ دیں اور حاتم کی قبر پر لات مارتے ہوئے پکاریں۔ "اے کوئی جنو کی ماں کو بھی کھانا دے آتا”

 

جننو کی ماں یعنی عفت آراکراستھویٹ کالج کی گریجویٹ تھیں۔ انہیں فیشن، بناؤ سنگھار اور نمود و نمائش کا شوق تھا مگر ان کی شادی اردو کے ایک ادیب سے ہو گئی، ان کی واحد خوبی یہ تھی کہ وہ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے ۔ رشوت اور قرض لینے سے نفرت کرتے تھے ، خوشامد اور دربار داری کے بھی قائل نہیں تھے چنانچہ اول دن سے محض کلرک رہے ۔ گھر میں آئے دن فاقے رہتے ۔ جنو کی ماں فیشن وغیرہ کیا کرتیں، سال میں ایک جوڑے کو بھی ترسنے لگیں۔ ان حالات کے باعث انہیں پہلے کچھ سنک ہو گئی۔ مالی طور پر اپنی بہنوں کے مقابلے میں ان کی اوقات ایک چمارن سے بھی کم تھی۔ رفتہ رفتہ وہ واقعی دیوانی ہو گئیں۔

 

جنو کی پگلی اماں کوٹھے پر ایک سائبان کے نیچے پڑی ہوئی چارپائی پر دیوار کی طرف منہ کے بیٹھیں تھیں۔ وہ تھوڑی دیر بعد ناخنوں سے دیوار کا چونا یا پلاستر کھرچ کر کھا لیتیں اور آپ ہی آپ ہنسنے لگتیں جب کوئی آنے جانے والا گزرنے لگتا تو بهکارنوں کی طرح رٹتیں۔”دودھ ملیدہ النی دے گا۔ دودھ ملیدہ النی دے گا۔” یعنی الله ہی دے گا۔ ان کے پلنگ کے پاس پرانے کپڑوں کے ڈھیرپر جھبری جھبری میلی کچیلی جنو سو رہی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور ایک تانگ تو بالکل ننگی تھی۔ مکھیوں سے بچنے کے لیے اس نے پھٹی ہوئی دھجی جیسی اوڑھنی سے منہ ڈھک رکھا تھا۔ عدّو نے یہ منظر کتب خانے سے کھلی ہی چھت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ شاید کچھ سوچا بھی ہو مگر پھر وہ بہت سارے پیارے پیارے گول مٹول بچوں میں جا کر چہکنے لگا۔

 

عدّو کو زینت کا ایک خاصا مشہور واقعہ بھی یاد آیا۔ جنو کے والد نوابو چچا کے دو لڑکے بھی تھے ۔ بڑا لڑکا محمود عام مسلمانوں کی طرح ہائی اسکول میں فیل ہوتا رہا پھر سینما، سگریٹ، اردو شاعری اور فیشن پرستی کی لتوں میں پڑ گیا۔ باپ نے سمجھانے کی کوشش کی تو پاکستان بھاگ گیا۔ وہاں بھی بات نہ بنی تو کینیڈا چلا گیا۔ کینیڈا میں اس نے پرچون کی دوکان کھول کے کسی فاقہ زدہ اطالوی فاحشہ سے شادی کر لی تھی مگر اب اس کی بیوی نہایت نیک خاتون بن گئی تھی۔ محمود اگر باپ کے مسلسل تقاضوں پر کبھی ایک آدھ خط لکھتا بھی تو اپنی مصیبتوں اور بدنصیبوں کا رونا زیادہ روتا محض اس ڈر سے کہ باپ اس سے کہیں مالی امداد کی توقع نہ کر بیٹھے ۔

 

دوسرا لڑکا احمد زینت سے چھوٹا تھا۔ وہ شروع سے کمزور تھا اور مسلسل بیماریوں کی وجہ سے دھان پان پان ہو کر رہ گیا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ میں خفیف سالنگ بھی تھا۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھی بچوں میں ہمیشہ ہنسی مذاق کا نشانہ بنتا۔ اکثر شیطان لڑکے اس کی ضروری اور غیر ضروری ٹھکائی بھی کرتے رہتے ۔ ایک دن زینت کونوں کھدروں سے کاٹھ کباڑ نکال کر  دھوپ میں ڈال رہی تھی۔ اس نے احمد کو سائبان کے کونے میں چپ چاپ بیٹھے دیکھا، وہ گرج کر بولی۔”تم اسکول نہیں گئے ؟” احمد نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زینت ایک سخت گیراستانی کی طرح اس کے سرپر جا دھمکی اور اسے جھنجھوڑ کر بولی۔”جواب کیوں نہیں دیتے ؟ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔” احمد نے بے چارگی سے بہن کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ زینت کا دل ہل گیا۔ اس کی ساری شفقت، محبت اور توجہ کا مرکز صرف احمد تھا۔ ماں کی جگہ زینت اس کی خبر گیری کرتی تھی اس نے بھلا پھسلا کر احمد سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ احمد نے کہا کہ اسکول میں لڑکے اسے چھیڑتے ہیں۔ کل ایک لڑکے نے کہا کہ تیرا باپ بھک منگا ہے ۔ احمد نے یہ بھی کہا کہ وہ اب اسکول نہیں جائے گا، پڑھنے لکھنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اب وہ کسی دوکان میں نوکری کر لے گا۔ زینت کا چہرہ تمتما اٹھا مگر وہ کچھ بولی نہیں۔

 

دوسرے دن احمد کو اپنے ساتھ لے کر زینت اسکول گئی۔اسکول کے پاس دونوں طرف درختوں کی قطاریں تھیں۔ پھاٹک سے پہلے مور پنکھی اور مہندی کی گھنٹی باڑیں لگی تھیں۔ زینت ذرا ہت کر کھڑی ہو گئی۔ احمد کو اس نے ٹھیل کر اسکول کی طرف بھیجا۔ ابھی گھنٹہ بجنے میں دائر تھی، زیادہ تر لڑکے پھاٹک کے باہر ہی دھما چوکڑی مچا رہے تھے ۔ سنگھاڑے ، مونگ پھلی اور امرود بیچنے والے بھی اپنے اپنے ٹوکرے سجائے بیٹھے تھے ۔

 

احمد پھاٹک میں داخل ہو رہا تھا۔ اچانک ایک لڑکا تیزی سے اسے دھکا دیتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ احمد کے ہاتھ سے کتابیں گر پڑیں، وہ انہیں سمیٹنے جھکا ہی تھا کہ ایک دوسرے لڑکے نے اس کی ٹوپی اتار کر جھاڑیوں کے دوسری طرف پھینک دی۔ پہلا لڑکا واپس آ گیا اور ہنس کر بولا۔”یہ کتابیں تیری بہن چرا کر لائی ہے ۔” یہ سننا تھا کہ زینت بھوکی شیرنی کی طرح لپکی۔ اس نے فقرہ کسنے والے لڑکے کو پوری طاقت سے دھکا دے کے زمین پر گرا دیا اور اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی اسے بندر کی طرح بھنبھوڑ کھایا۔ پھر اس زور سے اس کی کلائی میں کاٹا کہ خون نکلنے لگا۔

 

اسے روتا ہوا چھوڑ کر زینت دوسرے لڑکے کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر زینت نے تیزی سے کھینچا۔ اس کی قمیص پھٹ گئی اور گلے میں پھانسی سی لگنے لگی۔ وہ بچنے کے لیے جھکا تو زینت نے چپل اتار کر بے تکان اس کی پٹائی شروع کر دی۔ لڑکے کی سوچنے سمجھنے کی قوت سلب ہو گئی۔ وہ ہاتھ چھڑا کر بھاگنے یا ایک لڑکی سے دھینگا مشتی کرنے کے بجائے بے بسی سے پیٹے جا رہا تھا گویا کوئی استاد اسے سزا دے رہا ہو۔ زینت کے ہاتھ بھی چل رہے تھے ، زبان بھی ، وہ پرانے زمانے کی بھٹیارنوں کی طرح گالیاں بک رہی تھی۔ چپراسیوں، سودے والوں اور ماسٹروں کے ہوش اڑے جا رہے تھے ۔ یہ تماشا کوئی ساتھ منٹ جاری رہا پھر زینت خود تھک گئی اور لڑکے کے منہ پر زور سے تھوک کر الگ ہو گئی پھر اپنی سانسیں قابو میں کرتے ہوئے اس نے سڑک کے کنارے سے اپنا دوپٹا اٹھایا۔ دوپٹا گرد میں آٹا ہوا تھا۔ زینت نے اسے گلے میں مفلر کی طرح ڈالا اور احمد کا ہاتھ پکڑ کر اسے پھاٹک کے اندر لے جانے لگی۔

 

ہیڈ ماسٹر رائے آنند رام بے کس فیض آبادی شور سن کر اپنے کمرے سے  نکل رہے تھے ۔ وہ اپنی عادت کے مطابق ہاتھ میں بید گھماتے پھاٹک کی طرف چلے ہی تھے کہ ان کی مڈبھیڑ رضا نواب حسن کی صاحب زادی زینت حسن سے ہو گئی۔ زینت حسن اس شان سے آ رہی تھیں کہ ان کے پیچھے ماسٹروں، لڑکوں، چپراسیوں اور سودے والوں کا باقاعدہ جلوس تھا۔ زینت گرج کر بولی۔ "یہ میرا بھائی احمد حسن ہے ۔ اگر اب کسی حرام زادے نے اسے کچھ کہا تو میں آپ کے پورے اسکول کو لڑکوں سمیت آگ لگا دوں گی۔ کھری سیدانی ہوں میں۔ مجھے کوئی دیسی ویسی مت سمجھیے گا۔”

 

ہیڈ ماسٹر رائے آنند رام بے کس فیض آبادی ایم، اے ، ایل، ٹی کا منہ کھلا رہ گیا۔ ایک لڑکی کی زبان سے یہ زور دار باتیں سن کر وہ ساری ہیڈ ماسٹری بھول گئے ۔ ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔ زینت ایک شاہانہ دبدبے کے ساتھ پھاٹک کی طرف مڑ گئی۔ باہر اس نے اشارے سے ایک رکشا بلایا اور بڑے ٹھستے سے بیٹھ گئی۔ ایسے جیسے نادر شاہ دلی لوٹ کر واپس جا رہا ہو۔

 

اس ہنگامے کا ذکر جس نے بھی سنا دانتوں میں انگلی دبا لی۔ پورے شہر میں زینت کی دھاک بیٹھ گئی۔ خوانچے فروش اور پھیری والے بھی اس کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے ڈرنے لگے ۔ رکشے والوں کا تو کیا ذکر ہے ۔ سٹی اسٹیشن اور تھانا وزیر گنج کے پولیس والے بھی اس کا بڑی بٹیا کہہ کر  ادب کرنے لگے ۔

 

 

جنو کے بارے میں ایک تاثر عدّو کو اور یاد تھا۔ وہ اپنے کالج سے نکال دی گئی تھی کیونکہ اس نے اپنی پرنسپل کے خلاف ایک اخبار میں یہ خط شائع کرا دیا تھا کہ کالج کی پرنسپل مسز جارڈن نے طالبات کو وزیر اطلاعات کی انتخابی مہم میں حصّہ لینے پر مجبور کیا اور انتخاب میں کام کرنے والی لڑکیوں کی جھوٹی حاضری بھی لگا دی۔

 

عدّو کو ان تمام لوگوں سے چڑ تھی جو بڑوں سے بدتمیزی کرتے ، اسکولوں میں ہڑتالیں کراتے یا نظم و نسق کے ذمے داروں یعنی کسی بھی عہدے دار یا افسر کی نافرمانی کرتے ۔ وہ ایک روایتی قدامت پسند تھا اس کے دادا، پردادا نے انگریزوں کی خدمت کی تھی پھر باپ اور چچا نے بھی اسی لگن اور وفاداری سے کانگریسیوں کی خدمت کی تھی اور اب وہ خود بھی اسی ڈھرے پر چل رہا تھا۔ اس نے بی۔اے ۔ کے بعد ہی پولیس سروس کے مقابلے میں تحریری امتحان پاس کر لیا تھا اور اب انٹرویو کے لیے اس کی کال بھی آ گئی تھی۔

 

زینت کے بارے میں وہ بہت جھنجھلایا۔ اسے خیال آیا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اس کے خاندان کی ایک لڑکی بائیں بازو کی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے کیریر پر اثر پڑ سکتا ہے ۔

 

بہت دنوں بعد اپنے وطن میں عدّو کو زینت کے بارے میں ایک اخبار سے کچھ معلوم ہوا۔ کسی ثقافتی تقریب کے سلسلے میں زینت کا فوٹو چھپا تھا۔ عدّو نے فوٹو کئی بار دیکھا۔ زینت اچھی خاصی خوبصورت نظر آ رہی تھی۔ بعد میں عدّو کی بیوی نے وہ اخبار چولھے میں جھونک دیا۔

 

 

اب کوئی تیرہ برس کے بعد وہ زینت کو پھر دیکھ رہا تھا۔ اس نے آہٹ محسوس کر کے اخبار ایک طرف کیا۔ اس کے سامنے زینت اسٹوڈیو کوچ پر خاموشی سے بیٹھی اطالوی نشات ثانیہ کے کسی بھولے بسرے مصور کی میڈونا لگ رہی تھی۔ اس کا ذہن بھی غالباً گزرے دنوں کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ عدّو کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو بولا۔”یہ ماننا پڑے گا کہ تم بہت خطرناک طور پر حسین و دلکش ہو گئی ہو۔”

 

"شکریہ۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے یورپ کی ریا کاری سے بہت کچھ اثر قبول کیا ہے ۔” عدّو خفیف بھی ہوا اور جزبز بھی مگر زینت نے فورا موضوع بدل کر پوچھا۔ "آپ نے بتایا نہیں کہ پیرس میں آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ کو کہیں آئی جی ہونا چاہیے تھا۔ کیا کسی انٹرپول سے وابستہ ہو گئے ہیں؟”

 

"میں نے سرکاری ملازمت تین چار سال بعد ہی چھوڑ دی تھی۔” عدّو کو خیال ہوا کہ زینت اس کے بارے میں مزید استفسار کرے گی مگر اس نے کسی اشتیاق کا اظہار نہیں کیا بلکہ بولی۔ "میں آج شام دینی زوئلا جا رہی ہوں۔ شاید آپ سے پھر ملاقات نہ ہو اس لیے بہتر ہے کہ آپ ناشتہ یہیں کیجیے ۔ اس کے بعد میں پورا دن اطمینان سے سونے میں گزاروں گی۔”

 

عدّو ہی ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔ اس نے زینت کو بتایا کہ کس طرح اس نے ایک فساد کی اطلاع وزیر داخلہ کو بھجوائی اور کس طرح فرقہ پرستوں نے اس کے خلاف جھوٹی مہم چلا دی۔ اخباروں اور اسمبلی میں اس کے بیان کی صداقت تسلیم نہیں کی گئی اور اس کا تبادلہ ایک غیرآباد جگہ کر دیا گیا۔ اس نے جھنجھلا کر استعفا دے دیا۔ نوکری چھوڑنے پر سسرال والوں نے اسے احمق اور پاگل قرار دے دیا، خود اس کی بیوی بھی اپنے بچے کو لے کر الگ ہو گئی۔ عدّو نے ایسی ہتک محسوس کی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جلا وطنی اختیار کر لی اور اب لندن میں ایک ممتاز اخبار میں جھک مار رہا ہے جسے بعض لوگ صحافت کا نام دے کر خاصا رومان محسوس کرتے ہیں۔

 

بہ ظاہر زینت نے سب کچھ دلچسپی سے سنا مگر اسے نیند آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں واقعی بند ہونے لگیں تو عدّو کو احساس ہوا۔ وہ رخصت ہو گیا۔ چلتے وقت اس نے زینت کو اپنا کارڈ دیا۔ کارڈ پر لندن کا پتہ اور ٹیلی فون نمبر درج تھا۔

 

بھر ناترے دیم کے گھنٹے بج رہے تھے اور پیرس میں خزاں کا ایک اور بیمار بیمار سا اتوار شروع ہو چکا تھا۔

 

وہ اپنے دفتر سے باہر آیا۔ ستمبر کی زرد زرد رات فلیٹ اسٹریٹ کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے تھی۔ زیادہ تر اخباروں کے پہلے ایڈیشن چھپ چکے تھے اور شاہ راہ پر اخباروں سے بھری ہوئی لاریاں دندناتی پھر رہی تھیں۔ عدّو نے گاڑی خاصی دور کھڑی کی اور پیدل پریس کلب کی طرف چلا۔

 

وہاں سناٹا تھا،۔ دو چار معمر صحافی خاموشی سے سگار پینے میں مصروف تھے ۔ ان کے سامنے سسستی قسم کی لاگر کے گلاس شطرنج کے مہروں کی طرح رکھے ہوئے تھے ۔ وہ بہت سوچ کرگلاس اٹھاتے اور ایک گھونٹ لے کر پھر اپنے بے معنی خیالوں میں کھو جاتے ۔ بعض تو اس طرح بیٹھے تھے گویا اب صور اسرافیل ہی انہیں اٹھائے گا۔ یہ ممی خانے جیسی خاموشی جان منچ نے توڑ دی۔ وہ دو تین فوٹو گرافروں سے سرگوشیوں میں مصروف تھا۔عدّو کو دیکھ کر وہ اس کی طرف آ گیا۔ جان منچ فلیٹ اسٹریٹ کے ایک بدنام ترین فحش نگار اور فضیحت نگار اخبار میں ڈائری کا نگران تھا اور اکثر و  بیشتر ازالہ حیثیت عرفی کے مقدمات میں پیش ہوتا رہتا تھا۔ اس نے عدّو کو زبردستی ایک تقریب میں چلنے پر مجبور کر دیا۔

 

تقریب عدّو کے اخبار کی سو سالہ سالگرہ کے سلسلے میں ہو رہی تھی۔ اس کے پاس با وقار پاس موجود تھا لیکن اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی تھی۔ پیلس سے ایک میل پہلے ہی با وردی اور سادہ کپڑوں میں پولیس کا ہجوم تھا۔ اسے کئی جگہ روک کر اپنا پاس دکھانا پڑا۔ پھر بھی پیلس کے پاس گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ نہیں مل سکی۔

 

ہیمپٹن کورٹ پیلس طوفان نغمہ و رنگ اور نوروسرووکی بنا پر الف لیلہ کی کسی کہانی کا ایک بڑا ٹکڑا نظر آ رہا تھا۔ شاہی گھرانے کے افراد کے علاوہ دنیا کے تقریباً سبھی قابل ذکر لوگوں کا ہجوم تھا۔ دو ڈھائی ہزار مہمانوں میں پانچ چھ سو خفیہ پولیس والے بھی معززین و عمائد بنے گھوم رہے تھے ۔ جان منچ ہجوم میں غرق ہو گیا گویا کوئی مچھلی دوبارہ پانی میں پہنچ گئی ہو مگر عدّو اکا دکا جاننے والے کو رسمی اور سرسری اشارے کرتے ہوئے بھٹکنے لگا۔ کسی نے کسی مسئلے پر تبادلہ خیال یا موسم کا حال جاننے کی کوشش کی تو وہ جلدی سے معذرت کر کے الگ ہو گیا۔

 

اسی بوریت میں اسے زینت دکھائی دی۔ وہ اپنے پورے بدن پر ایک سفید چادر لپیٹے ہوئے تھی۔ اس کے شانے بالکل ننگے تھے ۔ اس کی پیٹھ بھی بالکل ننگی تھی۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ اس نے بلاؤز وغیرہ نہیں پہنا ہے ۔ اس کے کالے کالے بال آدھے تو کمر پر لٹک رہے تھے اور آدھے اس کا سینہ ڈھکے ہوئے تھے ۔ وہ بالکل یونانی اساطیری دیوی تھالیا لگ رہی تھی۔ ایک ممتاز امریکی سینیٹر کی بیوی بہ ظاہر اسے بنگلادیش کی غربت کے مسئلے پر بصیرت سے معمور کر رہی تھی کہ کس طرح یہ مجسمہ خرید کر اپنے ڈرائنگ روم کے کسی شوکیس میں سجالے ۔

 

زینت یقیناً کوفت میں مبتلا تھی۔ وہ عدّو کو دیکھتے ہی سینیٹر کی بیوی سے معذرت کر کے اس کے پاس آ گئی۔”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ کب آئیں؟” عدّو نے پوچھا۔ وہ محویت سے زینت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے سفید شانوں پر سیاہ بال یقیناً جان منچ کے لیے ایک ڈائری نوٹ فراہم کر سکتے تھے ۔ وہ بہت سادہ ہونے پر بھی اتنی سنسی خیز فیشن ایبل لگ رہی تھی کہ آس پاس کی متعدد جان بہاراں اور شمع انجمن قسم کی خواتین رشک میں مبتلا تھیں۔ برا نہ ماننا کہنا پڑ رہا ہے کہ تم انتہائی دل فریب نظر آ رہی ہو۔”

 

زینت نے کچھ کہا ضرور مگر عدّو نے سنا نہیں۔ محل کے کونوں میں گھیرے درختوں کے کنجوں میں چھپے ہوئے بہترین بینڈ جذبات انگیز دھنیں چھیڑ رہے تھے ، دو آدمیوں کا عام آواز میں گفتگو کرنا بہت مشکل تھا۔ معلوم نہیں کیوں عدّو کو یہ دیکھ کر ایک طرح کا سکون ہوا کہ اعلا ترین مشروبات موجود ہونے کے باوجود زینت صرف ٹماٹر کا عرق پی رہی ہے ۔ وہ اس بارے میں کچھ کہتا مگر زینت کی تنک مزاجی سے کچھ ڈر لگا۔

 

جان منچ ہر قیمت پر ہر مفید آدمی سے تعارف حاصل کرنے میں مصروف تھا۔ عدّو کے ساتھ زینت کو دیکھ کر وہ ادھر آ گیا اور زینت کے بارے میں کوئی چٹ پٹا شگوفہ چھوڑنے کے خیال سے اس کے پیچھے ہی پڑ گیا۔ عدّو کو برا بھی لگا مگر وہ کچھ کہے بغیر دوسروں سے ملتا جلتا ہوا ہجوم میں غائب ہو گیا اور اس طرح باہر نکل آیا کہ کسی کو پتہ نہیں چلا۔

 

رات کے دو بج رہے تھے مگر پکڈلی میں چاندنی چوک کا سماں تھا۔ ساؤتھمپسٹن رو سے ٹیوی اسٹاک پیلس کی طرف جاتے ہوئے وہ خود سے باتیں کر رہا تھا۔ "یہ ضرور ہے کہ وقت کے ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے مگر بسا اوقات حالات ایسا موڑ اختیار کرتے ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ اب بھی دیکھیے میں عدیل احمد عباسی آئی، پی، ایس اس طرح بدلا ہوں گویا ہمیشہ سے بائیں بازؤ کی دانش ورانہ سرگرمیوں سے متعلق رہا ہوں۔ دوسری طرف جنو ہے ۔ وہ میلی کچیلی غریب لڑکی اس طرح بدلی گویا ہمیشہ سے بین الاقوامی جٹ سٹ کی رکن رہی ہو۔ اس کی آنکھیں اف، کیا ہمیشہ اتنی بڑی بڑی تھیں؟ اگر تھیں تو میں نے بچپن میں غور کیوں نہیں کیا؟” زینت کے بارے میں یہ سب کچھ سوچتے ہوئے عدّو کے دل میں نہ تحقیر کا جذبہ تھا، نہ رشک و حسد کا وہ بالکل غیر جانب دارانہ طریقے سے سوچ رہا تھا۔ جیسے میکسیکو یا برازیل کے بارے میں کوئی ادارتی نوٹ لکھ رہا ہو۔

 

کلیر کورٹ کے فلیٹ میں آرام کرسی پر وہ باقاعدہ کپڑے پہنے نیم دراز تھا۔ اسے خیال آیا کہ زینت کے گھر والوں کے ساتھ کیسا اہانت آمیز سلوک ہوتا تھا پھر بھلا اسے کیا حق ہے کہ وہ زینت سے کسی دوستی یا مرحمت کی توقع کرے ۔ وہ نئے زمانے کے ساتھ تھی اور میں؟

 

میری تمام جدوجہد ہمیشہ دوسرے اور تیسرے درجے کے متوسط مسلمان گھرانوں کی ذہنیت کی مظہر رہی، باپ دادا سے آج تک میں بس ایک ڈھرے پر چلتا رہا۔ وہ ڈھرا جہاں اچھی ملازمت اور اچھا کھانے پہننے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ دادا نے باقاعدہ رشوتیں لے کر جائیداد کھڑی کر لی، باپ نے گو پھوہڑپن سے حرام کمائی نہیں بٹوری مگر ان کے پاس بھی ناجائز تحائف کی بھر مار رہتی تھی۔ پانچوں لڑکیوں کی شادی انہوں نے دھوم دھام سے کی۔ یہ اچھے خاصے نوابوں اور تعلقہ اداروں کے بس کی بات بھی نہیں تھیں۔ آخر یہ سب کہاں سے آیا؟ میں نے ایک بار اصول پرستی کا سہارا لیا تو ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا مگر یہ کوئی بہت بڑی قربانی تو نہیں تھی۔ اصول تو زینت کے باپ کے تھے ۔ نوابو چچا نے ہمیشہ غربت اور ذلت کے دن گزارے ۔ انہیں دربار داری اور جاہ پرستی سے ازلی بئیر تھا۔ ان کا پورا محکمہ رشوت پر چلتا تھا مگر انھوں نے کبھی رشوت نہیں لی۔ ان کا کہنا تھا کہ حلال کی کمائی کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو، اس میں برکت ہوتی ہے ۔ ویسے ہم نے کبھی ان کے گھر میں برکت ورکت دیکھی نہیں، ہمیشہ فاقے رہا کرتے ۔ کبھی کبھی تو انکے گھر میں عید کے دن بھی چولھا نہیں جلتا تھا۔ نوابو چچا کی مفلسی ان کی تحقیر و تذلیل اور فاقہ کشی کا سب سے اذیت ناک پہلو یہ تھا کہ ان کے تمام سسرال والے یعنی ہم سب لوگ انہیں ملامت کے قبل سمجھتے تھے ، اچھوت سمجھ کر کتراتے تھے ۔ میرا خیال ہے ، میرے گھرانے میں کبھی ایک اچھا جملہ بھی نوابو چچا کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔ عدّو کو نوابو چچا کا حلیہ یاد آیا۔ میلے کچیلے کپڑے تار تار شیروانی، ہڈیوں کے ڈھانچے جیسا جسم، ہونق چہرہ اور بے نور آنکھیں۔ گھر میں ہر وقت تو تکار اور بک بک جھک جھک نے ان کی بیوی کو دیوانی بنا کر رکھ دیا تھا۔ نوابو چچا کا بڑے اطمینان سے محلے کی مسجد میں جا کر اور اردو وظائف میں مبتلا رہنا بھی عدّو کو یاد تھا۔ وہ تھے تو اچھے وجیہہ، خوبصورت اور علی گڑھ کے بذلہ سنج گریجویٹ مگر اس طرح ٹوٹ پھوٹ گئے تھے کہ ہمارے گھر میں ہر شخص انھیں جاہل، نالائق، خبطی، ناکارہ اور کندہ نا تراش سمجھتا تھا۔ مگر آج میں نوابو چچا کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہوں؟ ہاں نوابو چچا کا انتقال بھی تو عجیب طریقے سے ہوا تھا۔ وہ جب ملازمت سے سبک دوش ہو کر آئے تو قیمتیں آسمان پر تھیں۔ ان کی ٣٤ روپے کی پینشن سے گھر کا خرچ تو نہیں چل سکتا تھا اس لیے وہ لکھنؤ کے فتح گنج بازار میں غلہ فروشوں کے ہاں اناج کے بورے ڈھونے لگے ۔ ایک دن ایک بوری اپنی کمر پر لادے ہوئے وہ کسی خریدار کے حکم کی تکمیل میں مصروف تھے ، اچانک ان کا پیر پھسلا اور نالے میں گر پڑے ۔ دو تین ہی دن میں الله کا شکر ادا کرتے ہوئے دنیا سے سدھار گئے ۔ ان دنوں ان کے بڑے صاحب زادے اپنی بیوی کے ساتھ اٹلی کے آثار قدیمہ کی تفریح میں مشغول تھے ۔ والد کے انتقال پر انہوں نے زینت کو لکھا۔ "میں ہمیشہ سے بدنصیب رہا ہوں۔ میری ازلی بدنصیبی دیکھو کہ آخر وقت میں ابو میاں کو دیکھ نہ سکا۔ پتہ نہیں قدرت کو میرے ساتھ کیا ضد ہے کہ ساری بدنصیبیاں میرے ہی مقدر میں لکھ دی گئی ہے ۔”

 

ان حالات کی روشنی میں زینت کو اگر میرے گھر والوں سے یا مجھ سے چڑ ہے تو اس کا کیا قصور؟ اس نے الماری کھولی اور شی واز ریگل کی بوتل نکالی پھر ایک حسین گلاس میں یہ آب نشاط انگیز انڈیلا مگر معلوم نہیں کیوں اسے اس کی بو ہی سے کراہت ہوئی۔ اس نے گلاس چھوڑ دیا اور دھیرے دھیرے جا کر پھر آرام کرسی پر نیم دراز ہو گیا۔ ہندوستان چھوڑنے کے بعد آج اسے پہلی بار اپنی بیوی کا خیال آیا۔ سعیدہ! سعیدہ! مگر وہ بھی کیا کرتی، وہ ایک ایسے گھرانے کی پروردہ تھی جہاں عہدے ، ترقی، کپڑے لتے ، زیور اور موٹر کی پرستش ہوتی ہے ۔ اس کے سامنے عفت خالہ کا انجام تھا۔ وہ عفت خالہ کی طرح دیوانی ہو کر دیواروں کا پلاستر کھانے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وہ تو آرام سے زندگی گزارنے آئی تھی۔ میرا ملازمت اسے استعفا اس کے خیال میں پاگل پن تھا۔ جس طرح اپنے ماحول کی پیداوار تھا۔ اسی طرح سعیدہ بھی اپنے ماں باپ کے معیاروں میں پروان چڑھی تھی مگر زینت! لاحول و و لا قوت۔ میں زینت کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہوں؟

 

کرسی پر لیٹے لیٹے اس کی آنکھ لگ گئی۔ وہ طرح طرح کے الجھے الجھے ، بے تکے اور بے سروپا خواب دیکھتا رہا۔

 

 

رات کے آٹھ بجے کے قریب عدّو اپنے دفتر میں تھا۔ اس نے اطمینان سے پیر اٹھا کر میز پر رکھے اور آرام دہ کرسی پر تقریبا لیٹتے ہوئے اخبارات دیکھنے لگا۔ نیویارک ہرلڈ ٹریبیون، لیون برگ زائٹنگ، کوریلا ڈیلاسیرا، واشنگٹن پوسٹ، الاہرام اور لائیگرو وغیرہ۔ وہ سرخیوں پر سرسری نظر ڈالتا، ادارتی کالم ذرا توجہ سے دیکھتا اور پھر پورا اخبار اٹھا کر کونے میں پھینک دیتا۔ البتہ لائیگرو اس نے نہیں پھینکا بلکہ ثقافتی صفحے پڑھتے ہوئے معلوم نہیں کیا سوچنے لگا۔ معاً ٹیلی فون کی روشنی جلنے لگی۔ اس نے رسی ور اٹھایا۔ "میں زینت بول رہی ہوں۔”

 

عدّو اچھل پڑا۔ "ہاں۔ ہاں۔ کہاں ہو؟ لندن میں؟ کیا کہا، کہاں؟ میرے فلیٹ میں؟” عدّو چکرا گیا۔زینت نے بتایا کہ وہ رسل اسکوائرکے ایک ہوٹل میں ٹھیری ہوئی ہے ، اسے خیال آیا کہ قریب ہی عدّو کا فلیٹ ہے اس لیے اس نے وہاں جا کر پوچھا۔ پہرے دار نے اسے عدّو کی رشتے دار سمجھ کر فلیٹ کھول دیا چنانچہ اب وہ وہاں اپنی پسند کے کھانے پکا رہی ہے ۔

 

"امید ہے آپ اس بے تکلفی پر خفا نہیں ہوں گے ۔” زینت کی آواز آئی۔

 

"نہیں نہیں بھئی۔ کیسی باتیں کر رہی ہو مگر کمال کر دیا تم نے اچھا خوب۔”عدّو نے گھڑی دیکھی، پہلا ایڈیشن چھپ کر آنے میں ابھی دیر تھی۔ اس نے زینت سے کہا۔”تم وہیں ٹھیرو یا اپنے ہوٹل کا نمبر دے دو، مجھے یہاں سے نکلنے میں دیر لگے گی۔”

 

"نہیں۔ میں ہوٹل تو دائر میں جاؤں گی۔ کہنا یہ ہے کہ آپ کھانا باہر نہ کھائیے گا۔ میں نے یہاں پکا رکھا ہے ، آپ بھی کیا کہیں گے ۔” زینت بڑی بے تکلفی سے بول رہی تھی۔ عدّو کو اپنی بہنیں عطیہ اور زہرا یاد  آ گئیں۔ وہ دونوں اس سے بس سال، دو سال بڑی تھی اور اس کی تقریباً دوست تھیں۔ باقی تین بہنیں اس سے بہت بڑی تھیں، وہ زیادہ تر اپنے بال بچوں میں مبتلا رہتی تھیں

 

عدّو ملے جلے جذبات کے ساتھ گھر پہنچا۔ اسے یہ سوچ کر ہنسی آ رہی تھی کہ زینت کیسے مزے سے اس کے فلیٹ میں آ گئی گویا ہمیشہ سے میری اس کی بے تکلفی ہو۔

 

فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اس نے باتوں کی آواز سنی اس پر بجلی سی گری۔ کون ہو سکتا ہے زینت کے ساتھ؟ وہ ٹی وی والے کمرے میں داخل ہوا۔ صوفے پر کوئی شخص بیٹھا تھا۔ اس کی قومیت اور شہریت کے بارے میں عدّو اپنے تجربے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کرسکا۔ کمرے میں روشنی کا زاویہ ایسا تھا کہ اس کا تقریبا ًآدھا وجود نیم تاریکی میں تھا، زینت نے اٹھ کر عدّو کا استقبال کیا۔ وہ صرف جین اور جمپر پہنے ہوئے تھی اور ایس او، ایس یعنی ایشیائی اور افریقی مطالعات کے اسکول کے نوجوان حلقوں کی رکن رکیں معلوم ہو رہی تھی۔ وہ دونوں چائے پی رہے تھے ۔ زینت نے عدّو سے کہا۔”ان سے ملیے ۔ میرے اچھے دوست ہیں، ایاندو”۔

 

ایاندو نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ عدّو نے دیکھا کہ اس کی ایک ٹانگ غائب ہے ۔ رسمی طور پر علیک سلیک کے بعد عدّو اپنی خواب گاہ میں کپڑے بدلنے گیا۔وہاں یہ دیکھ کراسے سخت تعجب ہوا کہ ہر چیز نہایت قاعدے سے رکھی ہوئی ہے ۔

 

"ہم لوگوں نے آپ کے انتظار میں کھانا نہیں کھایا۔ زینت نے اسے کھانے کے کمرے کی طرف لے جاتے ہوئے کہا۔ زینت کے پیچھے ایاندو اپنی بے ساکھی کے سہارے چل رہا تھا اور اس کے پیچھے عدّو تھا۔ عدّو اس اچانک یلغار پر کچھ گڑبڑایا ہوا تھا۔

 

کھانے کی میز پر پلیٹیں سلیقے سے رکھی تھی۔ زینت نے چند منٹ میں کھانا چن دیا۔ عدّو کی بھوک چمک اٹھی۔ ایاندو بھی کسی جھجک کے بغیر ہر چیز رغبت سے کھا رہا تھا”۔ یہ تمھیں سوجھی کیا؟ عدّو نے زینت سے فرانسیسی میں پوچھا۔ اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایاندو کو فرانسیسی بھی نہیں آتی، وہ صرف ہسپانوی زبان جانتا تھا۔ ایاندو مزے لے لے کر کھانا کھا رہا تھا۔ اس کی عمر بے حد کم تھی۔زیادہ سے زیادہ بائیس تیئیس برس کا ہو گا۔ اپنی کم عمری چھپانے کے لیے اس نے داڑھی خوب بڑھا رکھی تھی۔ اس کی موجودگی سے عدّو کو ایک بے نام سی خلش ہوئی تھی۔ وہ بڑی حد تک کم ہو گئی۔ شاید اس لیے کہ ایاندو معذور تھا۔ اس کی ایک ٹانگ تو غائب تھی، ہاتھوں کی جلد پر بھی جا بہ جا جلنے کے نشانات تھے ۔

 

زینت نے کہا۔ "میں بس آپ کو دیکھنے چلی آئی۔ پہرے دار نے فلیٹ کھول دیا تو ہم دونوں نے سوچا، یہاں اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پی جائے مگر آپ کا باورچی خانہ دیکھا تو تمام سامان موجود تھا لہٰذا کھانا پکانے کی سوجھی۔ بہت دنوں بعد پکایا ہے آج۔ ادھر ادھر کا واہیات کھانا کھاتے کھاتے طبعیت بیزار ہو چکی تھی اسی لیے خوب مسالے دار کھانا پکایا ہے ۔” وہ اب اردو میں باتیں کر رہی تھی۔

 

عدّو نے کھاتے کھاتے ایک دم کہا۔”اب تم برا مانو یا جو بھی کہو مگر میں یہ ضرور بتاؤں گا کہ میں نے جب تمھیں پیرس میں دیکھا تھا۔ اس وقت ایک قسم کی لاعلاج عورت سمجھ لیا تھا۔ اب تمھیں اردو بولتے دیکھ کر اور یہ کھانا کھا کے محسوس ہو رہا ہے کہ تم میں اب بھی کچھ………”

 

"عدّو بھائی! پلیز میرے بارے میں کوئی بات نہ کیجیے ۔ مجھے سخت کوفت ہوتی ہے "۔ عدّو نے زینت کے چہرے پر بھرپور نظر ڈالی۔ زینت ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر بولی۔” اصل میں پچھلے اٹھارہ یا انیس برسوں سے میرے دل میں آپ لوگوں کے خلاف جو غصّہ اور نفرت ہے ، میں اسے ختم کرنے سے قاصر ہوں اس لیے صرف آج کی باتیں کیجیے ۔ مجھے گزرے ہوئے کل یا آنے والے کل سے کوئی دلچسپی نہیں”۔ اس بار اس نے پھر انگریزی کا سہارا لیا۔

 

عدّو چپ رہا پھر آہستہ سے بولا۔”تو کیا تمہاری نفرت بدلے ہوئے حالات میں ختم ہونے کا امکان بھی نہیں ہے ؟”

 

"یہ کہنا مشکل ہے مگر جب رات کے پچھلے پہر آپ ہوٹل کے بار میں تنہا بیٹھے تھے یا پھر بعد میں میرے کمرے میں اپنے متعلق باتیں کر رہے تھے تو مجھے آپ سے ایک طرح کی ہمدردی ہو گئی۔ میرا خیال تھا کہ آپ اب بھی وہی جاہ پرست،خر دماغ اور مغرور و عدیل احمد ہوں گے اور مجھے اسی حقارت و ذلت سے دیکھیں گے جو میرے ماں باپ کے لیے آپ کے گھر والوں کی رگ رگ میں بسی ہوئی تھی مگر مجھے ایسا لگا جیسے آپ نے دنیا کے دوسرے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالنا سیکھ لیا ہے اسی لیے میں پارٹی میں آپ سے ملی اور یہاں بھی آ گئی”۔

 

"میں اپنے گھر والوں کی اور خود اپنے رویے کے سلسلے میں باقاعدہ معافی مانگنے کو تیار ہوں مگر تمھیں مجھ پر ترس کھانے یا مجھ سے ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میرا خیال ہے ، میں بہت مطمئن اور خوش ہوں”۔ آخری جملہ کہتے ہوئے عدّو نے ایسا محسوس کیا جیسے وہ کسی بھیانک ویرانے میں گنگنانے کی کوشش کر رہا ہو۔

 

"خیر چھوڑیے یہ باتیں۔ ہاں آپ یہ گم راہ کب سے ہو گئے ، آپ تو ہمیشہ سے بڑے نیک آدمی تھے ، آپ کے کمرے میں منتخب اور چیدہ چیدہ شرابوں کی الماری دیکھ کر خیال آیا کہ اگر آپ کی آپا جان کو یہ معلوم ہو گیا تو کیا ہو گا؟”

 

عدّو نے جملہ بالکل نظرانداز کر دیا۔ وہ ایاندو سے اشاروں اور ٹوٹے پھوٹے مخلوط جملوں میں کچھ کہنے سننے کی کوشش کرنے لگا۔

 

زینت بولی۔”آپ کے باورچی خانے اور طعام خانے کا سلیقہ دیکھ کر میں سمجھی تھی کہ شاید آپ نے دوسری شادی کر لی ہے اور بیگم کہیں گئی ہوئی ہیں”۔

 

"باورچی خانہ میرے ایک دوست نے سجایا ہے ۔ وہ ایک جہاز راں کمپنی سے متعلق ہے اور دنیا بھر میں معلوم نہیں کیا کیا الا بلا کھاتا پھرتا ہے ۔ یہاں آ کر وہ اپنے ذائقے اور پسند کی چیزیں پکانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ کھانے پکانے میں اسے مہارت  حاصل ہے مگر میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ اس کے کمال سے کم سے کم فائدہ اٹھاؤں”

 

زینت کو ہنسی آ گئی۔ میں نے آج تک کوئی ایسا مسلمان نہیں دیکھا جو اردو میں شاعری نہ کرتا ہو۔ اسی طرح دنیا بھر میں آج تک مجھے کوئی ایشیائی ایسا نہیں ملا جسے مغل کھانے پکانے میں کمال کا دعوا نہ ہو۔”

 

عدّو نے زینت کے اصرار کے باوجود خود کافی بنائی۔ تینوں کافی پینے میں مشغول ہو گئے ۔ زینت نے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں مگر وہ عدّو کو بولنے کا زیادہ موقع دے رہی تھی۔ اپنے یا ایاندو کے بارے میں اس نے کچھ نہیں بتایا پھر تینوں تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے ۔

"عدّو بھائی! ہم سب مجبور ہیں۔ ہم سب اپنے ماحول کی پیداوار ہیں، اپنے اپنے ماں باپ اور خاندان کی قدروں کے اسیر ہیں۔ کسی کا کوئی قصور نہیں۔”

 

عدّو اچھل پڑا۔”کمال ہو گیا”۔

 

زینت نے حیرت سے پوچھا۔”کیا؟”

 

"یہی جو تم نے کہا۔ سچ بالکل یہی جملہ دو تین روز پہلے میرے ذہن میں بھی ابھرا تھا۔ میں تمھارے اور نوابو چچا کے بارے میں سوچ رہا تھا”۔

 

"آیئے باہر چلتے ہیں۔ پارک میں ٹہلیں گے ۔” زینت نے اپنے والد کا نام سنتے ہی گفتگو کا رخ موڑ دیا۔

 

"وہ تینوں رات گئے تک پارک میں ٹہلتے رہے ۔ کہر بہت گہرا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی صورت بھی نہیں دیکھ پا رہے تھے ۔ چاروں طرف بلند قامت درخت ٹنڈ منڈ کھڑے تھے اور سوکھے سنہرے پتوں کا فرش بچھا تھا۔ پتوں پر ان کے قدم پڑنے سے کراہ سی نکلتی تھی، عدّو کو اسرائیلی قید خانہ یاد آ جاتا جہاں زنجیروں میں جکڑے ہوئے فلسطینی کروٹیں بدلنے کی کوسش کرتے وقت کراہتے ہیں۔”

 

عدّو کی چھٹی تھی۔ اس نے زینت کو فون کیا مگر وہ ہوٹل میں نہیں تھی۔ عدّو کو ذرا مایوسی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ہوٹل گیا اور وہاں زینت کے نام ایک پیغام چھوڑ آیا۔” میں دگمور ہال جا رہا ہوں، وہاں ایک نئی جاپانی وائلن نواز کا کنسرٹ ہے ۔ اگر تمہیں دلچسپی ہو تو آ جاؤ۔”

 

شام کے ابتدائی حصّے میں وہ ادھر ادھر گھومتا رہا۔ ایک چھوٹے سے ہوٹل میں اس نے چائے پی پھر وگمور ہال پہنچا۔

 

وہاں زینت و دیکھ کر وہ کھل اٹھا۔ زینت نے خوش دلی سے کہا "آپ کا پیغام مل گیا تھا، شکریہ۔ میں ایک اور جگہ جا رہی تھی مگر وہاں کوفت کا امکان زیادہ تھا اس لیے ایاندو کو بھیج دیا”۔ عدّو کو ایاندو کے ذکرسے نہ معلوم کیوں دھکا سا لگا۔ زینت ایک معمولی ساڑی بندھے ہوئے تھی۔ اس نے بالوں کا بڑا سا جوڑا بنا کر گوتم بدھ کے مجسمے کی طرح سر پر جما رکھا تھا۔ تمام ثقافت پسند لوگوں کی نظریں اس کی طرف رہی تھیں۔ "عدّو نے ذرا جھنجھلاہٹ سے سوچا، معلوم نہیں کیا بات ہے ، بالکل معمولی اور سادہ فیشن کے باوجود زینت اپنی شخصیت کو ایسا رخ دے دیتی ہے کہ سب کی نظریں اسی پر پڑنے لگتی ہیں۔”۔

 

شام زیادہ دلچسپ نہیں رہی کیونکہ عدّو کی تمام کوششوں کے باوجود زینت نے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا، اس کے علاوہ وہ وائن پیتی رہی۔ کنسرٹ کے وقت وہ اس قدر پی چکی تھی کہ ہال میں اونگھتی ہی نہیں رہی بلکہ باقاعدہ سوتی رہی۔ عدّو نے دو تین باراسے دیکھا پھر خموشی سے سامنے دیکھنے لگا۔وائلن نواز نے اپنی شخصیت موتزارٹ کے ارفع ترین آدرش میں سمو کر رکھ دی تھی۔

 

کنسرٹ کے بعد عدّو نے زینت کو ایک چینی ہوٹل میں کھانے کی دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا کیونکہ دوسرے شہر کی ایک اچھی آرٹ گیلری میں اس کی نئی تصویروں کی نمائش شروع ہونے والی تھی۔ عدّو نے اسے باہر سڑک پر ایک گاڑی سے اتارا تو دیکھا کہ ایک جاپانی توئٹا کار اس کے انتظار میں کھڑی ہے ۔ سڑک اچھی طرح روشن تھی پھر بھی وہ ڈرائیور کے متعلق پورا اندازہ نہیں لگا سکا۔ اس نے زینت کے ساتھ کار تک جانا بھی گوارا نہیں کیا، وہیں سے اسے الوداع کہ کر وہ ہال کی پچھلی طرف والی سڑک پر آ گیا، یہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی۔

 

دوسرے دن اتفاق سے عدّوکی چھٹی تھی۔ وہ ساوتھ بینک گھومتا گھامتا آرٹ گیلری چلا گیا۔ وہاں اس نے رات والے ڈرائیور کو پوری روشنی میں دیکھا، وہ گنپتی تھا۔ معلوم نہیں گنپتی نے اسے دیکھا یا نہیں مگر زینت نے عدّو سے خود ذکر کیا۔ گنپتی بڑا پر جوش انقلابی ہے ۔ تیسری دنیا کے مسائل پر بہت ڈپٹ کر بولتا ہے ۔ تمام قابل ذکر تہذیبی و ادبی مجلسوں میں شرکت کرتا ہے ۔ جنوبی مشرقی ایشیائی سوسائٹی کا سرگرم رکن ہے اور گارجین اور اسٹیٹس مین کے حلقوں میں لوگ اس کا خاصا ادب کرتے ہیں۔”

 

عدّوخاموشی سے سنتا رہا۔ اپنی پیالی میں خواہ مخواہ چمچا ہلاتے ہوئے اور پیالی میں دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔”تم ککب سے جانتی ہو اسے ؟”

 

"یہیں ایک تصویری نمائش میں ملا تھا۔ دو ایک جاننے والوں کے ذریعے میرا اس سے تعارف ہوا۔ کیوں کیا آپ اسے جانتے ہیں؟”

 

عدّو نے کہا۔ "بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ آرے میں تھا۔ میں ان دنوں وہاں نیا، ڈی ایس پی ہو کر گیا تھا۔”

 

"آپ ملے کیوں نہیں اس سے ؟ اچھا کل میں آپ کو ملاؤں گی۔” "نہیں میرا خیال ہے ملنے سے بہتر یہ ہے کہ تم سردست میرا ذکر کر دینا۔ اگر وہ کچھ گرم جوشی ظاہر کرے تو ملنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ورنہ سبکی کا ڈر ہے ۔” بات آئی گئی ہو گئی

 

کئی دن بعد زینت نے بتایا کہ گنپتی سے عدّو کا ذکر ہوا تھا۔ عدّو نے زینت کا چہرہ دیکھا اور سراپا سوال بن کر پوچھا۔”پھر؟”

 

"وہ آپ کو ری ایکشنری، ٹوڈی اور کیئریرسٹ کہ رہا تھا۔”

 

عدّو نے مسکرا کر کہا۔ یہ الفاظ تو اس نے انٹرنیشنل پیمانے پراور عالمی تناظر میں استعمال کے ہیں ورنہ آرے میں اس نے مقامی بولی استعمال کی تھی یعنی کہ میں پاکستانی جاسوس ہوں اور مسلمان غدار ہوں۔”

 

کیا مطلب! کچھ اور بتائیے ؟”

 

"پورا قصّہ یہ ہے کہ حکومت نے کچھ جھگیوں کی صفائی کا حکم دیا تھا۔ میں نے حکم کی تکمیل کے لیے جھگی والوں کو نوٹس دیا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر جگہ خالی کر دیں ورنہ پولیس سب کو بے دخل کر دے گی۔ چھ سات دن کچھ نہیں ہوا پھر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ میں پولیس لے کر جاؤں اور جھگیوں کی صفائی شروع کر دوں مگر اس وقت تک گنپتی آ چکا تھا، یہ جن سنگھ کا لیڈر تھا۔ اس کا باپ بھی مہا سبھا کا مقامی لیڈر تھا۔ ان لوگوں کو جھگی والے ایک روپیہ فی جھگی کے حساب سے روزانہ دیتے تھے ۔ گنپتی کے ساتھیوں نے وہاں کہیں سے لا کر دو چار مورتیاں رکھ دیں، ایک سادھو ترشول لگا کر بیٹھ گیا اور شہر میں افواہ اڑا دی گئی کہ مسلمان ڈی ایس پی نے ایک مندر اکھاڑ پھینکا ہے ۔ افواہ پر بہت زور کا فساد ہوا۔ میں نے وزیر داخلہ کو لکھا کہ وہ عدالتی تحقیقات کرائیں، وہاں مندر کب تھا؟ اور نوٹس ختم ہونے کے کے دن ہی کیسے وجود میں آ گیا؟ میں نے جن سنگھ کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک تفصیلی جائزہ بھی بھیجا مگر وزیر داخلہ خود کمزور تھا اس کے بہت سے رشتے دار جن سنگھ میں شامل تھے ، اسنے کوئی قدم نہیں اٹھایا پھر ڈپٹی کمشنر کا تو کچھ نہیں بگڑا، میرا ایک انتہائی گم نام سی جگہ تبادلہ کر دیا گیا۔ہندی اخبار سب گنپتی اور جن سنگھ کے زیر اثر تھے ، انہوں نے یہ خبر شائع کی کہ میں پاکستانی جاسوس ہوں اور میرے گھر میں پاکستانی ریڈیو سنا جاتا ہے ۔ میں نے غصّے میں ملازمت پر لات ماردی۔”

 

سنتی رہی پھر بولی! تعجب ہے ۔ یہاں تو یہ بہت بڑا ترقی پسند سمجھاجاتا ہے ۔ مجھ سے مسلمان عورتوں کی مظلومی وغیرہ کے بارے میں خاصی سمجھ داری کی باتیں کرتا ہے ۔ ذاتی طور پر میرا بہت ہی خیر خواہ ہے ۔”

 

"لڑکی کے تو سبھی خیر خواہ ہو جاتے ہیں۔”

 

"آپ اتنے کٹر مسلمان کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے ، آپ تو بڑے سیکولر تھے ۔”

 

"اس سوال کے جواب میں میں تمھیں ایک سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ سر سید احمد بہت زبردست قوم پرست اور ہندو مسلم اتحاد کے شدید مبلغ تھے لیکن بعد میں وہ صرف مسلمانوں کے مسائل پر غور کرنے لگے ۔ اقبال ایک عظیم وطن دوست اور ہندو مسلم دوستی کے سرگرم علمبردار تھے مگر پھر وہ محض مسلمانوں کے ترجمان بن گئے ۔ محمّد علی جناح سے بڑا قوم پرست ان کے ساتھیوں میں کون تھا؟ ان کے تو سارے دوست انگریز اور ہندو تھے ۔ مسلمانوں سے ان کے مراسم برائے نام بھی نہیں تھے مگر بعد میں وہ بھی صرف مسلمانوں کے وکیل ہو گئے اور اس شدومد سے ہوئے کہ انہوں نے لوہے کے حصاروں کی طرح مضبوط کانگریسی قیادت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ غلطی ایک آدمی سے ہو سکتی ہے ۔ یہ تین اتنے عظیم اور عاقل و دانا لوگ ایک ہی غلطی کے کس طرح مرتکب ہو گئے ؟ تم پچھلے سو برسوں کی ہندوستانی تاریخ کا تجزیہ کرو گی تو مجھے مسلمان ہو جانے کا طعنہ نہیں دو گی؟”

 

زینت نے کہا۔”بہرحال میں کسی کو ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کی نظر سے نہیں دیکھتی۔ غور کیا جائے تو انسانوں میں سب سے بڑی تقسیم امیر و غریب کی ہے ۔ بنیادی طور پر میں اپنے رشتے داروں کے مقابلے میں ایک غریب ہندو سے زیادہ قریب ہوں۔ میرے تمام قریبی عزیز مال دار تھے ، انھوں نے مجھے اور میرے ماں باپ کو اچھوت سے بد تر بنا کر رکھ دیا تھا۔ جن لوگوں نے میری پڑھی لکھی ماں کو دیوانی بنایا، وہ بڑے دین دار لوگ تھے ۔ ہمارے ماموں جان نماز روزے کے کتنے پابند تھے ، بچپن سے آخر تک انھوں نے کبھی روزے قضا نہیں کیے مگر جب میرا بھائی احمد بیماری سے سسک رہا تھے تو سگے ماموں کی جیب سے دوا کے لیے دو روپے بھی نہ نکل سکے ۔”

 

میں نے جواب میں زیر بحث موضوع کے مختلف پہلوؤں اور ان کے اسباب پر کچھ گفتگو کی پھر کہا کہ”میں اتنی عمر میں صرف ایک نتیجے پر پہنچا ہوں، وہ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی عورت بے وقوف نہیں ہوتی۔ عورتوں کے اخذ کیے ہوئے نتیجے عموما  ًصحیح اور مثبت ہوتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ مرد حقیقت واضح طور پر تسلیم کرنے سے شرماتا ہے ۔”

 

"چلیے ایک بات تو آپ نے غیر اختلافی کہی”۔ زینت ہنسنے لگی۔ عدّو نے گھڑی پر نظر ڈالی اور جلدی سے کھڑا ہو گیا۔ دفتر کے وقت میں صرف پانچ منٹ رہ گئے تھے ۔

 

زینت کے بارے میں بہ ظاہر عدّو بہت غیر جانب داری سے سوچتا تھا مگر وہ محسوس کرتا تھا کہ ان سوچوں کی تہ میں کچھ اور بھی ہے مگر کیا؟ اس بارے میں اس نے کسی ذہنی توجیہہ و تشریح کی کوشش نہیں کی۔ وہ شاید اپنے آپ سے بھی ڈرتا تھا۔ کہیں اس کے تحت الشعور سے کچھ اور برآمد نہ ہو۔ ویسے وہ اب اکیلے کہیں جانے کے بجائے یہ پسند کرنے لگا تھا کہ تقریبات اور تفریح میں اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہو۔ اس کا خیال تھا کہ اکیلے کسی محفل میں جانا اپنی سماجی ناکامی کا  ڈھنڈھورا پیٹنے کے برابر ہے ۔

 

ایک ہی شخصیت کے دو چہروں کے مختلف احساسات میں مبتلا تھا۔ ژینیت میں ایک دوری تھی مگر زینت قریب تھی۔ ژینیت کا تصور کرتے ہی اسے ان جانے اندیشے گھیر لیتے مگر زینت کے خیال سے وہ ایک قسم کی طمانیت محسوس کرتا۔ زینت کے بارے میں اسے بہت کچھ معلوم تھا مگر ژینیت کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ یہ بھی بدلے ہوئے حالات ہی کا اثر تھا کہ اس نے ژینیت کے متعلق کوئی تفشیش کرنے کی کوشش نہیں کی ورنہ کسی بھی سراغ رساں ادارے کو فون کر کے وہ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں ژینیت کا سارا کچا چٹھا معلوم کر سکتا تھا مگر ژینیت کے لیے اس نے ایسا نہیں کیا۔ معلوم نہیں کیوں اسے ڈر تھا کہ بعض ایسی باتیں بھی معلوم ہو سکتی ہیں کہ اسے خواہ مخواہ افسوس اور رنج ہو گا۔

 

دن کے وقت تصویری نمائش کے دوران اکثر اس کا اور زینت کا ساتھ ہو جاتا۔ وہ والڈورف کے پائیں باغ میں دن کے کھانے کے وقت کولڈ سالڈ اور کافی وغیرہ سے شوق کرتے ۔ اس کے بعد زینت اپنی نمائش میں چلی جاتی اور عدّو دفتر کی راہ لیتا۔

 

وہ دفتر سے گیارہ بارہ بجے کے قریب اپنے فلیٹ پہنچتا تو زینت کو ٹیلی فون کرنے کا ارادہ کرتا مگر صرف سوچتا رہ جاتا۔ اسے کئی بار یہ معلوم کرنے کا خیال آیا کہ نمائش کے بعد زینت کہاں جاتی ہے مگر اسے خوف تھا کہ اگر زینت کو اس کے تجسس کا پتہ چل گیا تو وہ بہت برا مانے گی اور کیا پتہ، اس سے پھر نہ ملے ۔ فی الحال عدّو کے لیے یہی کافی تھا کہ زینت محض ایک جاننے والی کی حیثیت سے اس سے ملتی رہے ۔ وہ دونوں ساؤتھ بینک کی ادبی و تہذیبی ہماہمی پر خوب باتیں کرتے ۔

 

نمائش کے اختتام پر زینت عدّو کو کچھ بتائے بغیر بوڈا پسٹ چلی گئی۔ وہاں بھی ایک چھوٹی نمائش کا اہتمام تھا۔ ایک سہہ پہر عدّو نے ایاندو کو ایک نشست پر لیٹے ہوئے کوئی ہسپانوی ناول پڑھتے دیکھا۔ ایاندو نے اشاروں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اسے بتایا کہ ژینیت بوڈاپسٹ میں ہے اور وہاں سے کہیں اور جائے گی۔

 

اس شام وہ خود کو بہت اکیلا اکیلا اداس اداس کر رہا تھا مگر اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش بھی کر رہا تھا کہ مجھے آخر زینت میں اتنی دلچسپی لینے کی کیا ضرورت ہے ۔ میرا اور اس کا کیا تعلق ہے ؟ میں کون ہوتا ہوں اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والا؟

 

جمعے کی شام تھی چاروں طرف ہنگامہ سا تھا۔ بازاروں میں کرسمس کی روشنیاں جگمگا  رہی تھیں۔ عدّو کی چھٹی تھی۔ وہ بے حد تنہا تھا۔ کلب یا تھیٹر جانے کے بجائے اس نے اپنے فلیٹ جا کر کچھ لکھنے پڑھنے کا فیصلہ کیا۔

 

فلیٹ میں داخل ہو کر اس نے دیکھا کہ ہر طرف سوٹ کیس اور تھیلے پڑے ہیں۔ کھانے کے کمرے سے باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ایک دم سن ہو کر رہ گیا۔ آپا جان کینیڈا سے وطن واپس جاتے ہوئے لندن آ گئی تھیں۔ آپا جان وہ اپنی اماں کو کہتا تھا۔ اس کی اماں اپنی بہنوں میں سب سے بڑی تھیں اس لیے سب انھیں آپا جان کہتے تھے ۔ سب سے سن سن کر ان کی اولاد بھی انھیں آپا جان کہنے لگی۔ چوکی دار کو عدّو نے ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ اس کے مہمانوں کے لیے فلیٹ کھول دیا کرے ۔ اس طریقے کا نقصان اسے آج معلوم ہوا۔ اسے یقین تھا کہ آپا جان نے آتے ہی ایک حسب عادت ایک ایک کونہ ٹٹولا ہو گا۔ اس طرح شرابوں کی الماری بھی ان سے پوشیدہ نہیں رہی ہو گی۔ اس کے فلیٹ میں کوئی چیز مقفل نہیں رہتی تھی۔

 

وہ جھپٹ کر آپا جان کے گلے لگ گیا۔ ماں نے بولنا شروع کر دیا، معلوم ہوتا تھا کہ باتوں کا سیلاب آ گیا ہے ۔ آپا جان کے ساتھ عدّو کے بڑے سالے نور میاں اور بڑی بہن کا لڑکا مسعود بھی تھا۔ وہ دونوں بیچ بیچ میں بولتے جاتے اور آپا جان کے نامکمل جملوں کی تکمیل کرتے ۔

 

آپا جان ٹھسے سے صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ عدّو بھی اپنی کرسی قریب گھیسٹ لایا تھا۔ آپا جان کی باتوں کا ریلا ذرا تھما تو عدّو نے پوچھا۔”آپ نے نہ ٹیلی فون کیا، نہ خط لکھا۔ اطلاع کے بغیر کیسے آ گئیں؟”

 

"اے بیٹا! خدیجہ نے تمہیں دو تین بار ٹیلی فون کیا۔ تم نہ گھر ملے نہ دفتر۔ اور خط تو میں نے خود تم کو لکھا تھا کہ واپسی میں لندن ضرور رکوں گی۔ تم کو ائیر پورٹ پر نہ دیکھ کر میرا دل دھک سے رہ گیا تھا کہ خدا نہ خواستہ کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے ۔ وہ تو کہوں نور میاں پہنچ گئے تھے ورنہ مسعود کو ساتھ لیے کہاں کہاں بھٹکتی پھرتی۔”

 

عدّو ذرا چکرا کے بولا۔”نہیں آپا جان! مجھے ذرا بھی معلوم نہیں تھا آپ کا پروگرام۔ میں تو سمجھ رہا تھا، آپ مہینے کے آخرسے پہلے ہی کینیڈا سے چلیں گی ہی نہیں۔”

 

آپا جان نے اس  کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اچانک پوچھا۔ "اور یہ زینت یہاں کیا کرتی ہے ؟”

 

"معلوم نہیں۔ بس یہی پینٹنگ وغیرہ کرتی ہے یعنی تصویریں بناتی ہے "۔عدّو نہ انتہائی بے پرواہی سے جواب دیا۔

 

نور میاں اور آپا جان کو یقین ہو گیا کہ زینت کا وجود عدّو کے لیے ہمیشہ کی طرح آج تک محض تام چینی کے چھدرے پیالے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ پھر بھی آپا جان بولیں۔”میرا مطلب ہے کہ تمھارے فلیٹ میں کیا کر رہی تھی وہ؟” ان کا لہجہ استغاثے کے وکیل کی جرح جیسا تھا۔

 

عدّو نے کوئی گھبراہٹ ظاہر نہیں کی۔”وہ تو کئی بار یہاں آ چکی ہے ۔اس کی تصویروں کی نمائش پر ہمارے اخبار میں تبصرہ ہوا تھا، اسی سلسلے میں وہ مجھ سے بات کرنے آئی تھی۔ اسی نے مجھے پہچان لیا پھر بہت دنوں بعد ایک بار اس نے یہاں آ کر کھانا بھی پکایا۔”

 

ماں کو ایک طرح کی تسلی ہو گئی۔ نور میاں مدھم مدھم نظر آنے لگے پھر بھی آپا جان نے بے جھجک دو ٹوک کہا۔ "بیٹا! وہ شریفوں سے ملنے کے قابل نہیں ہے ۔ خبردار جو تم نے اسے ذرا بھی منہ لگایا۔ ویسے بھی یہ چھوٹے گھر والے ہمیشہ کے فسادی ہیں۔” نوابو چچا کے گھر والے چھوٹے گھر والے کہلاتے تھے ۔

 

اور کوئی موقع ہوتا تو عدّو شاید کچھ بحث کرتا مگر نور میاں کے سامنے اس نے یہ ذکر ختم کر دینا ہی مناسب سمجھا۔ خیر  چھوڑیے ۔ یہ بتائیے کہ منجھلے بھائی اب کیسے ہیں؟ میں نے ایک ہفتے کی چھٹی لی ہے ۔ انہیں دیکھنے جانے کے خیال سے ۔”

 

"اب الله کا شکر ہے ، اچھے ہیں۔ وہ تو کہو، جان بچ گئی”۔ آپا جان کا دھیان بٹ گیا۔

 

خدیجہ عدّو کی منجھلی بہن تھی، اس کے شوہر پر دل کا دورہ پڑا تھا۔ اسی سلسلے میں عدّو کی اماں مونٹریال گئی تھیں۔ ان کا کہنا صحیح تھا کہ خدیجہ نے کئی بار ٹیلی فون کیا مگر عدّو ملا ہی نہیں۔

 

عدّو کی سمجھ میں بہت سی باتیں آ رہی تھیں۔ مثلاً یہی کہ زینت اسے کچھ بتائے بغیر کیوں چلی گئی، آپا جان اچانک یہاں کیوں آپہنچیں اور سعید کے بھائی نور میاں آپا جان کی مصاحبت میں کیوں ہیں۔

 

نور میاں آپا جان سے اس طرح گپ شپ کر رہے تھے کہ عدّو کو بارہ بنکی ردولی اورسترکھ کے وہ سب اعزا یاد آ گئے جو پان چبا چبا کر تمام رشتے داروں کے بخیے ادھیڑتے اور خاندانی جھگڑوں پر سیر حاصل تبصرے کرتے ۔ وہ عام طور پر غیبت میں غضب کی مہارت رکھتے تھے ۔ اس طرح کے لوگ تمام تقریبوں کے انتظامات خود بہ خود اپنے ذمے لے لیتے ۔ شادی ہو یا غمی، برات آ رہی ہو یا جنازہ جا رہا ہو، دولھا دلھن سے ایجاب و قبول کرایا جا رہا ہو یا قبر میں میت اتری جا رہی ہو۔ یہ لوگ کہے سنے بغیر منتظم بن جاتے تھے ۔ ایسے لوگ لڑنے جھگڑنے اور طعن و تشنیع کی برچھیاں چلانے میں بھی آگے آگے رہتے اور صلح و صفائی کی کوششوں میں بھی پیش پیش۔

 

نور میاں جیسوں کے حلیے بدل چکے ہیں مگر ایک طبقے کی حیثیت سے وہ آج بھی ہر جگہ زندہ اور مصروف عمل ہیں۔ عدّو کے یہ سالے صاحب ہندوستان میں شیعہ کالج میں کیمیا کے لیکچرر تھے ۔ آج کل ویمبلے میں ایک کیش اینڈ کیری اسٹور اور حلال میٹ کی دکان کے مالک تھے ۔ یہ ہمیشہ ہر خاندانی جھگڑے کا مرکزی کردار ہوتے تھے ، اکثر جھگڑوں میں فساد کی جڑ موصوف ہی کی شخصیت ہوتی تھی۔ لگائی بجھائی اور فضول باتیں بکنے میں

 

انہیں کمال حاصل تھا۔ اس وقت بھی تھری پیس سوٹ پہنے وہ اس طرح دربار داری میں مصروف تھے گویا ساؤتھمپٹن رو بھی محلہ اشراف یا قاضی گڑھی کا ایک حصّہ ہو، ان کے سر پربالوں کا جنگل بھی ہمیشہ کی طرح اگا ہوا تھا مگر اب بال بڑی محنت سے رنگے ہوئے تھے اور خوب چمک رہے تھے مگر ان کی چاکلیٹی رنگت، گول گول چہرے اور عبرت ناک توند کی وجہ سے انھیں کسی چکن کری ہاؤس کے مالک کے سوا کچھ نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ انھیں عدّو کے بارے میں خاصی معلومات حاصل تھیں۔ خود عدّو کو حال میں اپنی ایک بہن کے خط سے پتہ چلا تھا کہ”نور میاں بھی تو لندن میں رہتے ہیں”۔نور میاں اور آپا جان کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے خاندان کے تمام افراد ترک وطن کر کے انگلستان یا کینیڈا میں بس گئے ہوں۔ نور میاں باتیں کرتے کرتے نہایت اطمینان سے سگریٹ کی راکھ قالین پر گراتے رہتے ۔ ایک بار مسعود نے راکھ دان کی طرف اشارہ کیا تو انھیں کچھ احساس ہوا اور وہ چائے کی پیالی یا طشتری ایش ٹرے کے طور پر استعمال کرنے لگے ۔

 

ایک ہفتے تک نور میاں آپا جان کو دور اور قریب کے رشتے داروں سے ملانے لے جاتے رہے ۔ آپا جان اور عدّو کو فرصت سے بیٹھنے کا موقع کم ہی ملا حالاں کہ عدّو نے کینیڈا جانے کے لیے جو چھٹی لی تھی، وہ آپا جان کے قیام کی وجہ سے لندن ہی میں گزاری۔

 

نور میاں کی ایک لڑکی حمیرہ تھی۔ اسے بھی مصوری کا شوق تھا۔ اس نے ہیورڈ گیلری میں ژینیت کی تصویری نمائش دیکھی تھی اور بہت متاثر ہوئی تھی۔ ایک تصویر کا کوری کے عرس کی بھی تھی۔ اس میں درگاہ کے راستے میں پڑے ہوئے فاقہ کش بچے دکھائے گئے تھے ۔ کاکوری کا نام حمیرہ نے اپنے گھر میں سنا تھا اس لیے زینت سے مل کر اس سلسلے میں کچھ جاننا چاہا۔ زینت دوسرے لوگوں سے گھری ہوئی تھی۔ اس نے حمیرہ کو ٹال دیا۔

 

بعد میں حمیرہ نے اپنے باپ سے اس کا ذکر کیا۔ نور میاں کو مصوری وغیرہ کا شعور تو خیر کیا ہوتا مگر کاکوری کا نام سن کر انھیں بھی اشتیاق ہوا، وہ وہاں گئے اور زینت کو انھوں نے پہچان لیا۔ زینت نے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا بھی نہیں، بس پھر کیا تھا۔ نور میاں نے زینت کے بارے میں بہت کچھ معلوم کر لیا۔ اس کی عدّو سے ملاقاتوں کا حال بھی انھیں کسی نہ کسی طرح معلوم ہو گیا۔ اس کا ذکر انھوں نے فورا آپا جان کے نام ایک خط میں کرنا ضروری سمجھا۔ آپا جان اپنے داماد کی عیادت کے لیے کینیڈا میں تھیں۔ نور میاں کا خط ملتے ہی انھوں نے مونٹریال میں اپنے قیام مختصر کر دیا اور پہلی فرصت میں لندن پہنچ گئیں۔

 

نور میاں کی بہن سعیدہ عدّو کو کھڈ تو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ عدّو نے بھی پلٹ کر نہ پوچھا۔ عدّو کے والد نے اسے میاں بیوی کا معاملہ قرار دے دیا اور کوئی دلچسپی نہیں لی۔ سعیدہ کے گھر والے آپا جان ہی پر انحصار کیے بیٹھے رہے ۔ اس کا خیال تھا کہ آپا جان ڈانٹ ڈپٹ کر عدّو کو آمادہ کر لیں گی کہ وہ سعیدہ کو لے آئے ۔ عدّو کا کہنا تھا، نہ میں نے بیوی سے کہا تھا کہ جاؤ، نہ یہ کہوں گا کہ آ جاؤ۔ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے ، میں کیوں اسے ہاتھ جوڑ کر منانے جاؤں۔

 

آپا جان نے اس جملے کی معقولیت ہمیشہ تسلیم کی تھی۔ انھیں بھی سعیدہ پر غصّہ تھا مگر دوسری طرف وہ اس امر سے بھی ڈرتی تھیں کہ اس گھرانے میں جو بات اب تک نہیں ہوئی تھی، کہیں وہ نہ ہو جائے ۔ ان کا مطلب طلاق سے تھا۔ انہوں نے عدّو سے کہ دیا تھا کہ "میرے جیتے جی طلاق ولاق کی لعنت اس گھر میں داخل نہیں ہو گی۔” اس بات پر گھر میں آئے دن چخ چخ رہنے لگی توعدّو  تنگ آ کر ملک سے بھاگ کھڑا ہوا۔

 

لیکن نور میاں کی وجہ سے اب وہ یہاں بھی اپنی ماں کی چکر میں پھنس گیا تھا۔ نور میاں آپا جان کے ساتھ سائے کی طرح اس لیے لگے ہوئے تھے کہ عدّو سے کچھ کہیں۔ امریکا کی سیر کے افسانے لوگوں نے بڑھا چڑھا کر سعیدہ اور اس کے گھر والوں تک پہنچائے ۔ نور میں کو بھی لندن کے صحافیوں کی حیثیت کا تھوڑا بہت اندازہ تھا۔ اس وجہ سے عدّو کی بیوی سعیدہ شاید اسی نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ اس کا شوہر خبطی نہیں تھا۔ وہ خود جب چاہتی عدّو کے پاس آ سکتیتھی مگر اس کے لیے بھی یہ بے غیرتی تھی کہ وہ یوں بے بلائے منہ اٹھائے پہنچ جائے ۔ادھر عدّو کی بہن ایک بار کہہ چکی تھی کہ "میرا بھیا سعیدہ کو لینے کیوں جائے ، سعیدہ جب تک اپنا تھوکا نہ چاٹے ، ہماری جوتی کو کیا پڑی ہے کہ اس کے ناز اٹھائیں اور بھلا عدّو کو بیویوں کی کونسی کمی ہے ۔ خوش رہے میرا بھائی، گلی گلی بھر جائی”۔

 

آپا جان کو بھی یہ احساس ہو گیا تھا کہ سعیدہ یا اس کے گھر والوں کے لیے کیا مشکل ہے ، اس لیے اب وہ چاہتی تھیں کہ عدّو برائے نام سہی، اپنے لڑکے کو دیکھنے کے بہانے سہی، دو سطریں لکھ دے ۔ یہی سبب تھا کہ عدّو کی زینت سے دوستی کی بھنک کان میں پڑتے ہی آپا جان کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے لندن آئی تھیں۔

 

واپسی سے ایک دن پہلے آپا جان حمیرہ، مسعود اور نور میاں سے باتیں کر رہی تھیں۔ عدّو بھی آ گیا۔ آپا جان کسی تمہید کے بغیر بولیں۔”عدّو بیٹے ! یہ حمیرہ تو زینت کی بڑی تعریف کرتی ہے ؟” یہ گول مول طریقے سے گفتگو کسی خاص منزل تک لے جانے کی کوشش تھی۔ آپا جان کی گفتگو شطرنج کے کھیل کی طرح ہوتی تھی۔ شطرنج میں ایک دو مہرے غیر ضروری طور پر ادھر ادھر کرنے سے مخالف کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ فرزیں یا رخ کے سہارے کوئی بڑا جارحانہ قدم اٹھانے کی مہلت مل جائے ۔ اس طرز گفتگو میں آپا جان کو مہارت حاصل تھی مگر ان کا بھول پن یہ تھا کہ وہ یہ کھیل اپنے بیٹے ہی سے کھیلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

 

عدّو نے ابتدائی عمر سے یہ طور طریقے اچھی طرح سمجھ لیے تھے ۔ اس نے ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا۔ "ارے گولی ماریے زینت کو۔ یہ بتائیے کہ آپ واپس کب آئیں گی؟ صبح سویرے آپ کی پرواز ہے ۔ وقت سے بہت پہلے ہوائی اڈے پہنچنا ہے ۔”

 

نور میاں بیچ میں کود پڑے ۔”ایک حمیرہ کا کیا ذکر، تعجب تو مجھے بھی ہوتا ہے زینت کو دیکھ کر پوری یورپین لگتی ہے ۔ نوابو چچا کے گھر میں رنگ تو سب کا گورا تھا”۔ نور میاں کے لہجے میں رشک کا جذبہ بھی تھا کیوں کہ ان کی دونوں لڑکیاں اچھی خاصی کالی تھیں اور رنگ روپ کے بارے میں نور میاں اسی افسردہ مفروضے کا شکار تھے کہ گوری چمڑی خوب صورتی کی دلیل ہوتی ہے ۔

 

"ارے توبہ کرو۔ ایسا بھی کیا رنگ۔ گورا آدمی بالکل پھیکا شلجم لگتا ہے ۔ مجھے تو سب سے زیادہ برا احمد لگتا تھا۔ کیسا لال لال تھا، بالکل بندر کے موافق۔” آپا جان گوری رنگت کی برائی میں مصروف ہو گئیں۔ نور میاں کو قرار سا آ گیا مگر آپا جان نے پھر گفتگو کو ایک غیر متوقع موڑ دے دیا۔ "اے ہاں عدّو میاں! اب تمھاری تنخواہ کیا ہے ؟”

 

عدّو گڑبڑا گیا۔ وہ اپنی ماں سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا مگر نور میاں، حمیرہ اور مسعود کے سامنے یہ واہیات ذکر نبھانا مشکل تھا۔ وہ ذراسنبھل کر بولا۔”آپا جان! یہاں تنخواہ وغیرہ سے کچھ نہیں ہوتا۔ مہنگائی اتنی ہے کہ کیا کیا جائے ۔اب اس کا فلیٹ کا کرایہ ہی پانچ سو پونڈ مہینہ ہے "۔

 

"پانچ سو پونڈ؟” آپا جان تقریباً چلّا اٹھیں۔ عدّو کو ہنسی آ گئی۔

 

حمیرہ بولی۔”پانچ سو پونڈ دے کر تو ایک مکان خرید سکتے ہیں۔”

 

"مگر وہ ایسے اچھے اور مرکزی مقام پر تھوڑی ملے گا۔” مسعود نے انگریزی میں کہا۔

 

نور میاں نے اندھیرے میں تیر چلایا۔”لندن کے کسی اخبار میں بیس ہزار سے کم تن خواہ ہوتی ہی نہیں۔”

 

عدّو کو بہت غصّہ آ رہا تھا مگر وہ صرف اپنی ماں کی وجہ سے ضبط کر رہا تھا۔ آپا جان کو اس کے چہرے سے کچھ اندازہ ہو گیا، انہوں نے بات بدلی۔”اب تم گھر کب آؤ گے ؟ رمضان کے بعد آ جاؤ تو اچھا ہے ۔ ظہور میاں کے بیٹے کی شادی بھی ہے "۔

 

عدّو کچھ نہیں بولا۔ وہ آپا جان کا پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ بے وجہ دیکھتا رہا۔ اس نے دیکھا کہ نور میاں نے سگریٹ کی راکھ پھر فلیٹ کے بڑھیا قالین پر گرا دی ہے اور بڑی چالاکی سے اسے جوتے کی نوک سے صوفے کے نیچے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گویا کسی نے دیکھا نہ ہو۔ راکھ کا گل ان کے جوتے کی نوک سے ایسا بکھرا کہ اس کا صوفے کے نیچے چھپانا مشکل ہو گیا۔نور میاں نے اپنی ٹانگ اپنے حسابوں بے پروائی سے ہلاتے ہلاتے بکھری ہوئی راکھ رگڑ دی۔ اس کا دھبہ بھی قالین کے گل بوٹوں کا جزو بن گیا تھا۔ نور میاں نے اطمینان کی سانس لی مگر اس کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ عدّو نے جھنجلاہٹ میں یہ سب کچھ دیکھ لیا ہے ۔ اس سے پہلے نور میاں فلیٹ کے ٹوائلٹ میں قدم رنجہ فرما چکے تھے اور وہاں بھی اپنی بچپن کی عادتوں کے ثبوت چھوڑ آئے تھے ۔ عدّو نے کئی بار خاموشی سے فلیٹ اور ٹوائلٹ صاف کیا تھا تاکہ صفائی کرنے والی عورت یہ قصباتی طریقے دیکھ کر اپنے جاننے والوں میں انھیں بھی پیکی جوکس کے طور پر استعمال نہ کرسکے ۔

 

معلوم نہیں، کہاں کہاں کی بات کرتے ہوئے آپا جان نے کہا۔ "تمھارا کفیل کو بھی دیکھنے کا دل نہیں نہیں چاہتا؟”

 

عدّو اپنے خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔ وہ چونکا۔ اس نے سوچا کہ کچھ کہے مگر اس کی نظر نور میاں پر پڑ گئی۔ وہ جلدی سے کھڑا ہو گیا۔ "اٹھیے ۔ وقت ہو گیا ہے ۔ اب ٹریفک کم ہو گیا ہو گا”۔

 

نور میاں آپا جان کو کسی رشتے دار کے ہاں لے جانے آئے تھے سب لوگ چلنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ عدّو نے حسب معمول جانے سے انکار کر دیا۔ وہ نور میاں کی ساری سیاست سمجھ چکا تھا اور اب اس سے ان کی صورت سے بیزاری ہو رہی تھی۔

 

دوسری صبح عدّو آپا جان کو ہوائی اڈے پر رخصت کرنے چلا۔ اس نے پلٹ کر نور میاں پر نظر بھی نہیں ڈالی۔ نور میاں مسلمانوں کی ایک جماعت کے رہنما سے یہ معلوم کر کے مسرت کا اظہار کر رہے تھے کہ خلا باز نیل آرم اسٹرانگ مسلمان ہو گیا ہے ۔

 

نور میاں کی سرگرمیوں سے بڑا نقصان ہوا ہے ۔ عدّو کے شب و روز میں اچھا خاصہ خلل پڑ گیا ہے ۔ پہلے وہ سکون سے گمنامی کے دن گزار رہا تھا مگر اب بہت رشتے داروں کو اس کا علم ہو گیا۔ طرح طرح کے لوگ اسے وقت بے وقت فون کرنے لگے ۔ عجیب عجیب تقریبوں کے دعوت نامے ملنے لگے ۔ کوئی منیر بھائی تھے انکے لڑکے کا عقیقہ تھا۔ کوئی مجاہد بھائی تھے ، انہوں نے رجب کے کونڈوں میں بلایا تھا اور ایک جبار ماموں تھے ، ان کے گھر ختم خواجگاں تھا اور اپنے ریاض چچا کے گھر گیارھویں کے فاتحہ میں شرکت نہ کرنا تقریباً جرم تھا۔ پھر عاشور انکل تو عدّو کے لڑکپن کے ساتھی تھے انہوں نے مجلس عزا میں شرکت کا حکم دیا تھا، اسے ٹالنا گویا باپ کا حکم ٹالنے کے برابر تھا۔ ان سب سے الگ اردو انجمنیں مشاعروں کے دعوت نامے بھیجتیں اور چندے کا تقاضا بھی کرتیں۔ ایک خط ڈاکٹر مہرا کا ملا، وہ عدّو کی ماں کو آپا جان کہتے تھے ، انہوں نے عدّو کو لکھا کے تم میرے مریض بن جاؤ، میرا اپنا نرسنگ ہوم ہے ، اس میں تمھارے ساتھ خاص رعایت برتی جائے گی۔ اس کے بعد اسے ایک پرچہ ملا۔ بہت خوبصورت خط میں لکھا تھا۔

 

"مدینے شریف کے حاجیوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ قیامت قریب ہیں۔ مسلمانوں کو نماز روزے کی پابندی کرنی چاہیے ۔ جو شخص اس طرح کے پرچے لکھ کر تقسیم کرے گا، اس کے کاروبار میں برکت ہو گی ورنہ جلد ہی اسے کوئی بری خبر سننی پڑے گی”۔

 

کوئی ایک ڈیڑھ مہینے ہی میں اسے تمام رشتے داروں کی رقابتوں اور جھگڑوں کے بارے میں اچھی خاصی واقفیت ہو گئی۔ اسے یہ سوچ سوچ کر افسوس ہوتا رہا کہ یہ لوگ آج بھی اپنے اپنے مسائل میں اسی طرح الجھے ہوئے ہیں جیسے زمیں داری کے زمانے میں تھے ۔ زمانہ بڑھتا گیا اور برابر ترقی پذیر ہے مگر ان کے ذہنی افق اسی طرح محدود ہیں۔

 

حمیرہ بھی عدّو کے نظام الاوقات سے خوب آگاہ ہو گئی۔ وہ ہمیشہ ایسے وقت آتی جب عدّو گھر ہوتا، وہ اس کے لیے چائے بناتی یا بہت زیادہ ترقی پسند بننے کی غرض سے عدّو کے لیے مناسب مقدار میں سوڈا، ٹانک یا پانی ملا کر شراب کے جرعے تیار کرتی اور برمنگھم اور ایسٹ انڈ کے مزدور طبقے کے لہجے میں انگریزی بول کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ یہاں کے سماج میں رچی بسی ہوئی ہے مگر جب وہ مزدور طبقے کی بلائی می شٹ قسم کے لفظ استعمال کرتی تو عدّو اسے ضرور ٹوکتا۔

 

ایک رات عدّو کے دو تین جاننے والے آ گئے ، ان کا تعلق میڈرڈ اور بیروت کی یونی ورسٹیوں سے تھا، وہ انگریزی ادب پر عربی اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔ حمیرہ اس موضوع میں کسی طرح حصّہ نہیں لے پا رہی تھی۔ یہ کمی اس نے خود بھی بری طرح محسوس کی اور اسے یہ اندازہ بھی ہوا کہ عدّو بھی اس کی کم زوری محسوس کر رہا ہے ۔ وہ اسی فکر میں غلطاں تھی کہ اس کے ہاتھ سے شیری کی بوتل گر پڑی۔ قالین خراب ہو گیا، اسے اپنے آپ پر غصّہ آیا۔ وہ ویسٹ انڈ کی ٹھیٹ پھکڑ عورتوں کی طرح بے ساختہ چلائی۔ "آؤ۔ فاکٹ۔”

 

عدّو کے مہمان تعجب سے دیکھنے لگے پھر مسکرا کر چپ ہو گئے ۔ عدّو شرم اور غصّے سے پانی پانی ہو گیا۔

 

بعد میں عدّو نے حمیرہ سے صاف کہہ دیا۔”اگر تمھیں یہی بازاری پن دکھانا ہے تو اب یہاں نہ آنا”۔

 

دوسرے دن سہ پہر کو ایک کتاب پڑھتے پڑھتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ کوئی سات بجے وہ آگ بجھانے والے انجنوں کی آواز سے چونکا۔ اس نے کھڑکی کھول کر باہر سڑک کی طرف دیکھا۔ کسی دکان کے سامنے خالی ڈبوں اور اخباروں کے ڈھیر سے دھواں اٹھ رہا تھا، ایک آدھ شعلہ بھی لپک جاتا۔ ایک انجن آگ بجھانے میں تقریباً کامیاب ہو چکا تھا اور دوسرا انجن سڑک کے دوسری طرف اس طرح کھڑا تھا کہ راستہ تقریباً بند ہو ہو گیا تھا۔ عدّو یہ تماشا دیکھ رہا تھا کہ اس نے نور میاں کی سرمئی مرسڈیز گاڑی دیکھی۔ گاڑی پولیس والوں اور آگ والوں کے احتجاج کی پروا کیے بغیر غیر مسلط طریقے سے مڑتی مڑاتی آ رہی تھی۔ گاڑی اس کے کورٹ کے آگے آ کر رکی، اس میں سے حمیرہ نکلی۔ وہ لمبی قمیض اور چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوئے تھی، گلے میں دپٹا بھی تھا۔ وہ کسی اچھے گھرانے کی بہو لگ رہی تھی تا ہم اس کے بال اسی طرح کٹے ہوئے تھے ، انہیں دیکھ کر عدّو کو کروڑی مل اسپتال کی اناؤں اور دائیوں کا خیال آتا تھا۔

 

پچھلی رات عدّو نے بری طرح حمیرہ کو ڈانٹا تھا، اس کا خیال تھا کہ اب حمیرہ ادھر کا رخ نہیں کرے گی۔ نور میاں بھی تھے ۔ عدّو سوچنے لگا کہ نور میاں اپنی بیٹی کو یہاں پہنچانے کیوں آئے ہیں؟ اب ان کا کیا کھیل ہے ؟

 

حمیرہ فلیٹ میں داخل ہوئی۔”میں کل رات کی بے ہودگی پر آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں۔”

 

"میرا کیا ہے ، معافی تمھیں میرے مہمانوں سے مانگنا چاہیے تھا۔”

 

عدّو سمجھاتے ہوئے بولا۔”اگر تم اچھے اخبار پڑھو اچھی کتابیں پڑھو یا پڑھے لکھے لوگوں میں بیٹھو تو زبان خود بہ خود ٹھیک ہو جائے گی ۔”

 

"عدّو بھائی! یہی تو مصیبت ہے ۔ مجھے نہ پڑھے لکھوں کا ساتھ ملتا ہے ، نہ خود کچھ پڑھنے لکھنے کا موقع ہاتھ آتا ہے "۔

 

"کیوں؟”۔ عدّو نے تعجب سے پوچھا۔

 

"ڈیڈی کو منافع خوری اور پیسہ جوڑنے کے سوا کوئی کام نہیں ہے ۔ ہر وقت پیسہ پیسہ، اور اپنی اس حرص کا رشتہ وہ مذہب سے جوڑتے رہتے ہیں”۔

 

"ان کے لالچ کا تم پر کیا اثر پڑتا ہے ؟”

 

"بہت پڑتا ہے ۔ ان کی لالچ کے سبب ہم ان کے کیش اینڈ کیری اسٹور میں کام کرتے ہیں۔ ہمیں تھینک یو کے بجائے "تھا اور گڈ لارڈ کے بجائے بلائی می کہنا پڑتا ہے ۔ گاہک ہمیں اپنے ہی قبیل کا سمجھ کر خوش ہوتے اور فحش مذاق کرتے ہیں۔ اس طرح بکری بڑھتی ہے اور ڈیڈی کا بینک بیلنس بڑھتا ہے ۔”

 

عدّو کو نور میاں کی ذہنیت پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ اس کے تقریباً سبھی اعزا ہر وقت پیسہ بٹورنے اور عیش و عشرت کے سامان جمع کرنے میں مشغول رہتے تھے ۔ اسے یہی غنیمت معلوم ہوا کہ حمیرہ کو مصوری کا شوق ہے ۔ وہ آرٹ اسکول بھی جاتی تھی اور جدید مصوری پر دو تین رسالے بھی پڑھتی تھی۔ عدّو نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔”مگر میں تمھارا بھائی کہاں سے ہو گیا؟ اگر رشتہ دیکھو تو میں تمھارا پھوپھا ہوا، سعیدہ تمھاری پھوپھی ہیں۔”

 

"مجھے تو آپ بالکل پھوپھا نہیں لگتے ۔ ویسے بھی آپ سگے پھوپھا تو نہیں ہیں۔سعیدہ پھوپھی ڈیڈی کی سگی بہن کہاں ہیں۔ ہاں اصلی پھوپھا تو نجیب پھوپھا ہوئے جو ہر طرح اس رشتے کے تصور پر بھی پورے اترتے ہیں۔ آپ تو زیادہ سے زیادہ بڑے بھائی لگتے ہیں۔”

 

عدّو کو ہنسی آ گئی۔ "میں تم سے کم از کم بیس سال بڑا ہوں۔”

 

"ہر گز نہیں۔ مجھے معلوم ہے "۔ حمیرہ نے فورا بات کاٹی۔

 

"کیا معلوم ہے ؟”

 

"یہی کہ آپ کی عمر ابھی پورے چالیس سال بھی نہیں ہے ۔ کل ہی ڈیڈی باتیں کر رہے تھے ۔ انہوں نے نضحات النسیم کھول کر آپ کی تاریخ پیدائش ڈھونڈ نکالی۔”

 

عدّو نے تعجب سے پوچھا۔”تمھارے ہاں نضحات النسیم ہے ؟ کبھی موقع ملے تو ذرا مجھے بھی دکھانا۔” نضحات النسیم عدّو کے گھرانے کا شجرہ تھا، اس میں خاندان کے سب لوگوں کی پیدائش اور وفات کی تاریخیں درج کی جاتی تھیں۔ ہر پانچ چھ برس بعد مناسب ترمیم اور اضافے کے ساتھ نیا ایڈیشن شائع ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔

 

"عدّو بھائی۔ آپ مجھے بچا لیجیے "۔ حمیرہ نے آہستہ سے کہا۔

 

"کیا مطلب؟ کس سے بچا لوں اور کس طرح؟”

 

"کوئی لڑکا پیسے والے گھرانے کا ہے ۔ اسے یہاں کی شہریت درکار ہے ۔ وہ مجھ سے شادی کر کے یہاں کا شہری بننا چاہتا ہے ۔ ڈیڈی اور ممی آنکھیں بند کر کے تیار نظر آتے ہیں مگر مجھے اس سودے بازی کے خیال ہی سے نفرت ہو جاتی ہے ۔”

 

"مگر میں تمہیں کیسے بچا لوں؟ نور میاں سے میرے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے اور اب تو وہ مجھ سے اور بھی خفا ہوں گے ۔”

 

"نہیں ایسا نہیں ہے ۔ اب تو وہ کبھی کبھی آپ کی تعریف کرتے ہیں۔ ہر وقت سعیدہ پھوپھی ہی کو برا کہتے ہیں۔ آپ بس یہ ثابت کر دیجیے کہ آپ مجھے پسند کرتے ہیں۔”

 

اس میں ثابت کیا کرنا۔ پسند تو میں تمھیں بہت کرتا ہوں، تمھاری تمام بے وقوفیوں کے باوجود۔”

 

"نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ۔۔۔”وہ ایک ثانیے کور کی پھر اٹھ کر اچانک عدّو کے سینے سے لگ گئی اور سسکنے لگی۔

 

عدّو بولا۔ ارے …۔۔رے رے ۔ یہ کیا کر رہی ہو، دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا؟”

 

عدّو نے اسے سینے سے الگ کیا اور ڈانٹ کر بولا۔” جاؤ منہ دھو کر آؤ۔”

 

حمیرہ منہ دھو کر آئی مگر اس طرح کہ اس کے کٹے ہوئے بال دوپٹے میں اچھی طرح چھپے ہوئے تھے ۔ عدّو نے کہا۔”تم بہت موڈرن ہو مگر تم میں ہمت نہیں ہے ۔ ماں باپ سے صاف کیوں نہیں کہہ دیتیں کہ اپنی مرضی کے خلاف شادی نہیں کروں گی۔”

 

حمیرہ نے کہا۔”بات اتنی معمولی نہیں۔ قصّہ یہ ہے کہ ڈیڈی کا کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ اس کا انھیں ہر وقت احساس رہتا ہیں۔ ہم دونوں بہنیں اپنے کو مجرم سمجھتے ہوئے ان کی ہر خواہش کا احترام کرنے پر مجبور ہیں۔ پھر ہم انھیں یہ احساس بھی دلانا چاہتے ہیں کہ لڑکا نہ ہونا کوئی کمی نہیں ہے ۔ ہم بھی وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو ان کے بیٹے کرتے ۔ میں نے اسی لیے اسکول چھوڑ کر ان کے اسٹور میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اگر انھیں یہ خیال ہوتا کہ لڑکا پڑھ لکھ کر نام پیدا کرتا تو میں دنیا کی ساری ڈگریاں سمیٹ لیتی، سارے علم گھول کر پی جانے کی کوشش کرتی”۔

 

"یہ مصوری کا کیا چکر ہے ؟”

 

"یہ بھی جعلی ہے ۔ زینت کی مقبولیت کا ڈیڈی پر اثر ہوا ہے ۔ یہ بات ان کے لیے ایک انکشاف تھی کہ زینت کی طرح ان کے گھرانے کی لڑکیاں بھی کچھ کرسکتی ہیں، اسی لیے انھوں نے میرے شوق کی حوصلہ افزائی کی۔ اور تو اور اب وہ یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ ثمینہ ڈاکٹری پڑھنے کی کوشش کرے ۔ ثمینہ، حمیرہ کی چھوٹی بہن تھی۔

 

"تمھاری ماں کیا کہتی ہیں؟”

 

"انھیں چھوڑیے ۔ ان میں تو بہت چھچورا پن ہے ، سوچ کر ہی شرم آتی ہے ۔ وہ ہر وقت کپڑوں لتوں، گہنوں اور فرنیچر وغیرہ کے بارے خیال میں غرق رہتی ہیں، اس کے علاوہ انھیں افیون کی طرح فلموں کی لت ہے ۔ گھر میں ہر وقت وڈیو اور فلموں کا چرچا رہتا ہے ۔ شاید آپ یقین نہ کریں، ممی ایک ایک فلم بیس بیس بار دیکھتی ہیں پھر بھی ان کا جی نہیں بھرتا۔ ان کی سب جاننے والیاں بھی اسی ماق کی ہیں۔” عدّو چپ چاپ سوچتا رہا۔

 

حمیرہ خالص مشرقی لڑکیوں کی طرح دپٹا دونوں ہاتھوں میں بے کار مروڑ رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ نظریں نیچے کیے ہوئے بولی۔”اب تو آپ مجھ سے خفا نہیں ہیں؟”

 

عدّو زور سے ہنسا۔”نہیں بھئی۔ مجھے خفا ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔”

 

"آپ نے کل کہا تھا کہ اب یہاں قدم نہ رکھنا۔” اس کی آواز بھرّا گئی۔

 

عدّو کو افسوس ہوا۔ وہ اپنے جملے کی تلخی چھپانے کے لیے بہت زور سے ہنسا۔ "اماں ہٹاؤ بھی۔ وہ تو کل کی بات تھی۔ یہ فلیٹ تمھارا ہے ۔ جب چاہو آؤ جاؤ، بشرطیکہ نور میاں کو کوئی اعتراض نہ ہو۔”

 

چند ہی روز میں حمیرہ باقاعدہ عدّو کی زندگی میں دخیل ہو گئی۔ جس دن وہ نہ آتی، عدّو کو کمی محسوس ہوتی۔ یہ کہیں زینت ہی جیسی کمی تو نہیں ہے ؟ ایک بار عدّو نے خود تنقیدی کے عالم میں سوچا مگر حسب معمول وہ اپنے آپ سے جواب حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

 

حمیرہ جب بھی آتی۔ اسے اصرار سے کہیں نہ کہیں لے جاتی۔ زیادہ تر وہ رشتے داروں میں جاتے تھے ۔ عدّو کو معلوم تھا کہ لوگ حمیرہ اور اس کی محبت پر کانا پھوسی کرنے لگے ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ نور میاں سب کچھ جانتے ہوئے بھی چپ ہیں۔ عام طور پر وہ عدّو کے سامنے نہیں آتے تھے ۔ ایک آدھ بار تو عدّو نے محسوس کیا کہ عدّو کی آئی ٹائپ دیکھتے ہی وہ خواہ گھر میں ہو یا دکان پر کسی نہ کسی طرح سامنے سے ہٹ جاتے اور یہ تاثر دیتے کہ وہ موجود نہیں ہیں یا عدّو کی موجودگی انکے علم میں نہیں ہے ۔

 

 

کئی دن سے عدّو کے پیٹ میں ہلکا ہلکا درد تھا۔ اسے خیال آیا کہ اب بہت دنوں بعد اب وہ مسالے دار کھانے اور مرغن پکوان پھر کھانے لگا ہے اسی لیے شاید ہاضمے پر برا اثر پڑا ہے ۔ ایک بار اس نے ایک تقریب میں ڈاکٹر مہرا سے اس کا ذکر کیا۔ انھوں نے جوش و خروش سے اپنے کلینک آنے کی دعوت دی۔

 

عدّو نے کلینک کے استقبالیہ کمرے میں اپنا نام بتایا۔ ڈاکٹر مہرا سب چھوڑ چھاڑ کے اس سے ملنے آ گئے ۔ اسے انھوں نے اپنے خاص الخاص کمرے میں بٹھایا اور صوبے کی سیاست عدّو کے والد اور آپا جان کے بارے میں باتیں کرنے لگے اور یہ یقین دلاتے رہے کہ "اس سے اچھا نرسنگ ہوم تمھیں یہاں کہیں نہیں ملے گا۔ میں خود ہر مریض کو پوری توجہ سے دیکھتا ہوں۔ اب ذرا تم لیٹو۔ میں دیکھوں، کیا گڑبڑ مچائی ہے تم نے دعوتیں کھا کھا کر۔”

 

ڈاکٹر مہرا نے تفصیلی معائنہ کیا پھر اپنے دو معاون ڈاکٹروں کو بلایا۔ تینوں نے طرح طرح کی مشینوں پر مختلف لکیریں اور سوئیاں اٹھتی، بڑھتی، گھٹتی دیکھیں پھر ایک نرس نے عدّو سے کہا کہ وہ کپڑے پہن لے ۔

 

ڈاکٹر مہرا بہ ظاہر بہت بے فکری سے باتیں کر رہے تھے مگر ان کی شگفتگی کم ہو گئی تھی۔ عدّو کو اپنے نرسنگ ہوم میں داخل کرنے کے بجائے انھوں نے اسے ایک خط دیا کہ وہ امپیریل انسٹی ٹیوٹ میں بھی جانچ کرائے ۔

 

تو یہ بات ہے جناب! بس باندھیے بوریا بستر۔ عدّو نے امپیریل انسٹی ٹیوٹ سے واپسی میں سوچا۔ بہار کی آمد آمد تھی اور مدتوں بعد خوب چمکیلا سورج نکلا تھا۔ نائٹس برج اور کیسنٹگتٹن ہائی اسٹریٹ پر خوشیوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ عدّو دھیرے دھیرے گاڑی چلاتا ٹیوی اسٹاک پیلس کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے سڑک کے دونوں اطراف نظر ڈال کر کہا۔ "اے دل تجھے کیا ہو گیا؟”

 

پچھلی رات دفتر میں اس نے ایڈیٹر سے کہا۔”مجھے اب اس ملازمت سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی ہے ۔”

 

فلیٹ پر ڈاکٹر مہرا کے دو تین دوست عدّو کو اسپتال میں داخل کرانے آئے تھے ۔

 

ڈاکٹروں نے آپریشن کے لیے دائیں طرف سے پیٹ کاٹا تو سکتے میں رہ گئے ۔ پورے نچلے حصّے میں سرطان پھیل چکا تھا۔ اب آپریشن سے کسی افاقے کی امید نہیں تھی، انھوں نے زخم یوں ہی بند کر کے ٹانکے لگا دیے ۔

 

جان منچ نقلی داڑھی مونچھ لگائے ، ناک کی نوک پر آدھے شیشوں کی عینک جمائے رٹز ہوٹل کے چائے خانے میں بیٹھا تھا۔ بہ ظاہر وہ "وال اسٹریٹ جرنل” پڑھنے میں مصروف تھا مگر دراصل ہالی وڈ کی ایک مشہور اداکارہ کی ٹوہ میں تھا۔ جان منچ کو بھنک ملی تھی کہ وہ اداکارہ ایک فرضی نام سے ہوٹل میں ٹھیری ہوئی ہے ۔ ہوٹل کے ملازموں کو بھی عام طور پر اس کے قیام کی خبر نہیں تھی۔ معاً اس کی نظر ژنییت پر پڑی۔ وہ کسی پیج بوائے سے باتیں کرتی ہوئی باہر جا رہی تھی۔ جان منچ نے سوچا کہ اگر ژنییت بھی یہیں مقیم ہے تو اس سے مدد مل سکتی ہے ۔ وہ فی الفور اٹھ کر اس طرح باہر جانے لگا کہ زینت سے ٹکرا گیا۔ جان بوجھ کر اس نے اخبار بھی اپنے ہاتھ سے گرا دیا۔ چنانچہ زینت نے رک کر اس سے معذرت چاہی۔ جان منچ نے ایک دم کہا۔”تم ژنییت ہونا۔ میں تمہی سے ملنے یہاں آیا ہوں۔ زینت کو تعجب ہوا مگر جان منچ نے اسے جلدی جلدی بتایا کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔”

 

زینت کو ہنسی آ گئی۔ وہ بولی۔”افسوس میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتی کیوں کہ جو اداکارہ یہاں ٹھیری ہوئی ہے ، وہ، وہ نہیں ہے جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔”

 

جان منچ کو یقین نہیں آیا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ ہوٹل ہی میں رکے گا خواہ ساری رات انتظار کرنا پڑے ۔ زینت جانے لگی تو جان منچ نے اس سے کہا۔”مجھے تمھارے دوست کے بارے میں بڑا افسوس ہوا۔”

 

"کون سا دوست؟” زینت نے تعجب سے پوچھا۔

 

جان منچ نے کہا۔”وہی آڈل آمڈ جو اخبار میں تھا۔”

 

زینت ٹھٹک کر بولی۔”کیوں؟ کیا ہوا اسے ؟”

 

"ارے تمہیں معلوم ہی نہیں؟ اسے سرطان ہے ۔ پرنسس گریس اسپتال میں ہے وہ۔ تم کیسی دوست ہو کہ تمھیں۔۔”

 

زینت اپنی تمام مصروفیات کو منسوخ کر کے سیدھی پرنسس گریس اسپتال پہنچی۔ عدّو کے کمرے کے باہر نوٹس لگا تھا کہ یہ مریض کے آرام کا وقت ہے ، کسی کو ملنے کی اجازت نہیں۔ مگر زینت نے ایک نرس کو سمجھا بجھا کر آمادہ کر لیا۔ اس نے اسے اندر جانے کی اجازت دے دی۔

 

عدّو نیم غنودگی میں تھا۔ کئی دن سے غذا بالکل بند تھی، وہ بے حد نحیف و  نزار ہو گیا تھا۔ کمرے کی کھڑکیاں آدھی کھلی تھیں، ان پر پردے لہرا رہے تھے ۔ باہر سے زندگی کی گہماگہمی اور بشاشت سے بھرپور آوازیں آ رہی تھیں اور کمرے میں ہر طرف تازہ پھولوں سے بھرے ہوئے گل دان رکھے تھے ۔

 

کوئی تین مہینے پہلے اس نے عدّو کو چھوڑا تھا۔ اس وقت عدّو ایک وجیہہ، بد دماغ اور اپنی صلاحیتوں کے بارے میں اعتماد سے بھرپور کوئی ہیرو لگتا تھا اور یہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ تیس پینتیس سال کاہو گا مگر آج وہ کم زور تھا۔ اس کا شیو بڑھا ہوا تھا اور داڑھی کے بال سفید نظر آرہے تھے ۔ اس کا چہرہ بالکل بے نور تھا اور اس کی عمر پینتالیس پچاس کے درمیان نظر آ رہی تھی۔ اس کی سفید سفید کلائیوں پر ابھری ہوئی نیلی نیلی رگیں زینت کو بہت اچھی لگتی تھیں مگر اب وہ نظر نہیں آ رہی تھیں۔اس کے ہاتھ سوکھے ہوئے تھے اور ان کی رنگت میں جھلسی جھلسی تھی۔

 

زینت کرسی پر بیٹھ کر عدّو کو دیکھتی رہی۔

 

عدّو کو یکایک کمرے میں کسی اور کے ہونے کا احساس ہوا۔ اس نے آنکھیں کھول کر زینت کو دیکھا مگر کوئی حیرت ظاہر کیے بغیر معمول کے مطابق اس نے انگیزی میں زینت سے پوچھا۔”کیسی ہو؟”

 

زینت نے اپنی آواز پر قابو پاتے ہوئے دھیرے سے بولی۔”مجھے آپ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ ابھی کوئی ایک گھنٹہ پہلے جان منچ نے بتایا۔”

 

عدّو کے سرھانے رکھے ہوئے ریڈیو فون پر نرس نے پوچھا۔ سمندر پار سے آپ کا فون ہے ، بات کیجیے گا؟ عدّو نے "ہاں” کہہ کر میز کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ زینت نے ٹیلی فون اٹھانے میں اس کی مدد کی۔

 

"جی ہاں آپا جان! اچھا ہوں۔ سب ٹھیک ہے ، بس دو تین ہی دن میں گھر چلا جاؤں گا۔”

 

عدّو بن بن کر زور زور سے باتیں کر رہا تھا جیسے کوئی خاص بات نہیں ہے ۔ دوسری طرف سے ماں بھی یہی تاثر دے رہی تھی کہ اس نے سررا ہے گا ہے خیریت کے لیے فون کیا ہے حالاں کہ وہ دلّی سے بول رہی تھی اور جلد سے جلد لندن کے لیے ہوائی جہاز کی نشست حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھی۔

 

ٹیلی فون رکھ کر عدّو ہانپنے لگا۔ زور زور سے بات کرنے اور اپنی آواز میں زندگی کا ثبوت دینے کے بعد وہ ایسا تھک گیا تھا گویا اب کوئی حرف منہ سے نہیں نکل سکے گا۔ زینت اسپتال سے نہیں گئی۔

 

عدّو کے سب ملنے والے آ کر جا چکے تو زینت نے لڑ جھگڑ کر عدّو ہی کے کمرے میں رہنے کی اجازت حاصل کر لی۔

 

عدّو کو خواب آور دوا دی گئی تھی، وہ سکون سے سو رہا تھا اور درد کی اذیت سے محفوظ تھا مگر زینت کو رات بھر نیند نہیں آئی۔ وہ بس عدّو کو دیکھتی رہی اور نہ معلوم کیا کیا سوچتی رہی۔

 

صبح ہوتے وقت ذرا زینت کی آنکھ لگی مگر جلد ہی وہ کسی برے خواب سے ڈر کر چونکی اور رونے لگی۔

 

عدّو خاموشی سے زینت کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں مایوسی کو پرچھائیاں دیکھ کر زینت کانپ اٹھی۔ یہ آنکھیں، یہ چہرہ اور یہ مایوسی اس نے پہلی بھی کہیں دیکھی تھی! مگر کہاں؟ ہاں یاد آیا، ابو! مگر ابو اور عدّو بھائی کے چہرے ایک جیسے کیوں لگ رہے ہیں؟ اب اگر میں عدّو بھائی کی تصویر بناؤ گی تو لوگ سمجھیں گے کہ میں نے اپنے باپ کی شبہہ اتاری ہے ۔

 

"تم رو کیوں رہی ہو؟ یہ لو انٹر کام، اپنے لیے کافی منگاؤ۔” عدّو نے آہستہ آہستہ زینت سے کہا۔

 

"عدّو بھائی! آپ تو بالکل ابو کی طرح لگ رہے ہیں۔ ابھی ابھی میں اپنے خواب میں ابو کو دیکھا ہے ، وہ حسب معمول کلمے کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر کہ رہے تھے ۔”الله کی مرضی، الله کی مرضی”۔

 

عدّو خواہ مخواہ مسکرایا۔ "زینت بٹیا!افلاس ہو یا بیماری، بے کسی ہو یا دیوانگی۔ روپ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے ۔ نوابو چچا کی جو شکل مفلسی میں تھی، وہی بیماری میں میری ہو گئی۔ اسمیں تعجب کی کیا بات ہے ؟” زینت حسرت سے عدّو کو دیکھ رہی تھی، اس کا ذہن نہ جانے کہاں کہاں بھٹک رہا تھا۔ عدّو بولا۔ "مگر تم نے یہ نہیں بتایا کہ تمام گھریلو تعصبات، حقارتوں اور نفرتوں کی فولادی دیواریں توڑ کر تم میری طرف کیسے نکل آئیں؟”

 

"دراصل میری ساری جدوجہد کا بنیادی سبب آپ ہی تھے "۔ زینت نے آپی آپ محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔

 

"میں؟ کیسے ؟” عدّو نقاہت اور تکلیف کے باوجود بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔

 

کسی جادوئی کہانی کی طرح دیو کی طرح ٹھیک اسی وقت ایک نرس داخل ہوئی۔ اس نے بہت بناوٹی محبت سے ڈانٹ کر کہا۔”۔۔۔۔نہیں، نہیں شیطانی کرنے کی ضرورت نہیں۔ چپ چاپ لیٹے رہو۔”

 

ایک نرس نے کمرے کے پردے کھولے اور دوسری نرس نے بہت سے تازہ پھول گل دان میں سجا دیے ۔ تیسری نرس "مسز احمد” کے لیے ناشتہ لے کر آئی۔ اس نے ناشتہ زینت کے سامنے میز پر چن دیا۔ یہ نرس غالباً  فلپائن کی تھی۔ "ولانام احمد” یعنی یہ لیجیے بیگم احمد ! زینت نے عجیب شرم سے عدّو کو دیکھا۔ وہ ہنسنے لگا۔

 

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹروں، مشیروں اور ملنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ زینت واپس ہوٹل چلی گئی۔ تقریباً دن بھر سوتی رہی۔ شام کو اس نے جگہ جگہ فون کر کے اپنی مصروفیات منسوح کیں اور پرنسس گریس اسپتال فون کیا۔ اسے معلوم ہوا کہ مریض کے پاس رات کو کوئی نہیں رہے گا۔ اسنے اپنے جاننے والوں کا سہارا لے کر وہاں رات بھر کے لیے قیام کی باقاعدہ اجازت حاصل کر لی۔

 

شام کو وہ خالی خالی گھومتی ہوئی پیدل اسپتال پہنچی۔ اس نے وہاں بہت سسے لوگوں کو دیکھا۔ زیادہ تر اس کے رشتے دار تھے ۔ وہ ایک طرف الگ کھڑی ہو گئی تا کہ اس پر کسی کی نظر نہ پڑے ۔

 

"عدّو بھائی! سب بچوں کی طرح میں بھی آپ کو اپنا ہیرو سمجھتی تھی مگر میں دوسروں کے مقابلے میں اپنی عام معلومات بڑھانے کے چکر میں رہتی تھی تا کہ آپ مجھے شاباشی دیں لیکن میں نے جلد محسوس کر لیا کہ آپ کو اصل میں سارے بچوں سے محبت نہیں ہے ، آپ کو صرف اچھے ، صاف ستھرے ، کھاتے پیتے اور خوبصورت بچوں سے محبت ہے ۔ اگر آپ کو واقعی سارے بچوں سے محبت ہوتی تو آپ مجھے مہترانی، بھنگن اور چمارن کہ کر نہ بھگاتے ۔ میں تو آپ کے شوق میں خوب اخبار اور کتابیں پڑھتی تھی مگر آپ نے کبھی میری طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔”

 

"پھر اچانک امی کا دیوانہ پن میری سمجھ میں آ گیا۔ میں ابو سے بے پناہ محبت کرنے لگی۔ میں نے کبھی انہیں یہ الزام نہیں دیا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح کھانے پینے کی چیزیں گھر میں کیوں نہیں لاتے ۔ میں نے احمد کو بھی بہت سمجھایا مگر وہ ہمیشہ کا بیمار تھا، وہ علاج کے بغیر ہی مر گیا۔ ابو، امی اور احمد تینوں کو گور غریباں میں دفن کیا گیا اور آج کسی کو ان کی قبروں کا نشان بھی نہیں معلوم مگر عدّو بھائی! میں جب تک زندہ ہوں، انھیں میں اپنی کوششوں میں زندہ رکھوں گی۔” عدّو غور سے آنکھیں کھولے زینت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا ایک ایک حرف عدّو کا ذہن پر نقش ہو رہا تھا۔ زینت کو ایک دم کچھ احساس ہوا، وہ کچھ رک کر بولی۔”آپ غلط نہ سمجھیے گا، میں آپ کو کچھ یاد نہیں دلا رہی ہوں بلکہ آپ کو میرے بارے میں جاننے کی خواہش ہے اس لیے یہ ذکر کر رہی ہوں۔ اب میری تمام نفرتیں اور تلخیاں ختم ہو گئی ہیں، اس لیے ہلکے دل سے آپ کو مزے لے لے کر بتا رہی ہوں تا کہ آپ بھی لطف لے سکیں۔ کسی اور کو دنیا میں کبھی یہ سب کچھ معلوم نہیں ہو گا، نہ میں بتاؤں گی۔ کہنا مجھے صرف یہ ہے کہ میں نے تے کرلیا ہے اپنے ماں باپ کی ذلتیں بھولوں گی نہیں اس لیے کبھی ہار نہیں مانوں گی۔ اگر میری جیت نہ ہوئی تو بھی لڑتی رہوں گی۔”

 

عدّو کی نظروں میں زینت کے لیے عقیدت و احترام کا حقیقی جذبہ تھا اور کچھ احساس زیاں بھی جھلک رہا تھا۔

 

رات کو نرس آئی۔ اس نے معمول کے مطابق خون، دل اور نبض کا جائزہ لیا، رات کی دوا تیار کر کے رکھی اور سب روشنیاں بجھا کر جانے لگی۔ اس نے زینت سے کہا کہ وہ سو جائے ، مریض کو زیادہ تھکن نہ ہونے دے ۔

 

عدّو نے سرھانے کا مدھم بلب جلا دیا اور زینت سے کہا۔ "مجھے یہ دوا نہیں پینی، اس سے نیند آ جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ دیر تک جاگتا رہوں اور تم سے باتیں ہوتی رہیں۔”

 

"یہ آپ کے لیے مضر ہو گا۔” زینت نے سمجھایا۔

 

عدّو ہنس پڑا۔ "تمھیں اب تک یہی اندازہ نہیں ہوا کہ میں مضر اور مفید کے تصورات سے عاری ہو چکا ہوں۔ جو ہونا ہے ، وہ مجھے بہ خوبی معلوم ہے اور تم بھی اس سے ناواقف نہیں ہو”۔ زینت خاموشی سے اپنے ناخن دیکھتی رہی۔

 

چند لمحوں بعد زینت بولی میں کالج سے طلبہ یونین کے جھگڑے کی بنا پر نکالی گئی تھی، یونین میں ایک کشمیری لڑکا کول بھی تھا، وہ میرا بری طرح عاشق ہو گیا، جان دینے پر آمادہ تھا۔”

 

"ہاں، اس بارے میں مجھے ذرا ذرا معلوم ہوا تھا۔”

 

"کول نے میری ہر طرح مدد کی۔ بڑے گھرانے کا لڑکا تھا پھر بھی مجھ سے باقاعدہ شادی کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مجھے بھی اس کے احسانوں کا بدلہ چکانے کی بہت فکر تھی۔”

 

"پھر؟”

 

"پھر میں نے اسے چھوڑ کر اقبال سے شادی کر لی۔”

 

"کیوں؟” عدّو نے تعجب سے کہا۔ اسے زینت کی داستان میں بے حد دلچسپی محسوس ہو رہی تھی، وہ اپنی بیماری اور تکلیف بھول گیا۔

 

"اقبال بہت بیمار تھا۔ اسے نہ معلوم کیا بیماری تھی۔ خود بہ خود گھلا جا رہا تھا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ جوڑ جوڑ کر خوشامد کی کہ میں اس سے شادی کر لوں۔ آخر مجھے اس پر رحم آ گیا۔ میں نے اس کی زندگی کی آخری خواہش پوری کرنے کے خیال سے ہاں کہہ دیا۔ وہ میرے ساتھ تین چار مہینے رہا پھر انگلستان آ گیا۔ بہت سی مجبوریوں کی وجہ سے میں اس کے ساتھ نہیں آسکی۔ اصل میں مجھے آخر وقت تک کول ہی سے شادی کرنے کا خیال رہا۔”

 

"خوب یہ سب کچھ ہو گیا اور خاندان والوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی؟”

 

"یہ نہ کیسے ۔ خبر سب کو تھی مگر چوں کہ میں احمد کے مرنے کے بعد بالکل بے سہارا اور طوفان میں تنکے کی طرح تھی۔ اس لیے کہ میری خاطر اپنے سر کسی طرح کی مصیبت یا ذمے داری لینے کو تیار نہیں تھا۔ بہر حال مختصر طور پر یہ بتانا بہتر ہے کہ مجھ سے پہلے اقبال، کول کی بہن چترا کا عاشق تھا۔ ہماری جماعت والوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ کول کے رشتے دار ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ تھے ، پارٹی کا کہنا تھا کہ اس کی غیر معمولی تشہیر ہو گی۔ کیا پتہ، ہندو مسلم فساد ہو جائے اس لیے چترا زبردستی امریکا بھیج دی گئی اور اقبال کو جماعت سے نکال دیا گیا۔”

 

"مگر تمھاری جماعت کو تمھارے اور کول کے تعلقات بلکہ شادی کے منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں ہوا؟”

 

"میں نے اس پر غور نہیں کیا مگر یہ سب باتیں اقبال نے اپنے ایک خط میں لکھی تھیں، وہ خط اس کے مرنے کے بعد مجھے ملا تھا، اس نے ایک جملہ مزے کا لکھا تھا، میں خوب ہنسی۔ اس نے لکھا تھا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ طلبہ کی اپنی تنظیم بھی اصل میں فرقہ پرستوں کی جماعت کا ایک حصّہ ہے اور اس کا اصل کام مسلمان لڑکیوں کو خراب کرنا ہے ۔” عدّو کو ہنسی آ گئی۔

 

زینت بھی بشاش نظر آنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ بولی۔”مگر سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ اقبال کو مجھ سے بالکل دلچسپی نہیں تھی۔”

 

"کیا مطلب؟” عدّو نے حیران ہو کر پوچھا۔

 

"وہ کول کو چترا کے امریکا جانے کا ذمے سمجھتا تھا اور مجھ سے شادی کر کے کول سے انتقام لے رہا تھا۔ اپنے انتقامی مقصد کے لیے اس نے مجھے استعمال کیا۔”

 

"مگر تم کیوں استعمال ہو گئیں؟”

 

عدّو بھائی! میں بالکل بے سہاراتھی، اقبال نے کم سے کم مجھے سہارا تو دیا۔ وہ ایک پیسے والے گھرانے کا اکلوتا لڑکا تھا، معاشیات میں وہ پوری یونی ورسٹی میں اول آیا تھا۔ طبیعت کا بھی اچھا تھا۔ میں نے اس سے شادی رحم کھا کر کی تھی مگر جب میں اس کی پوری جائداد اور پیسے وغیرہ کی مالک بن گئی تو احساس ہوا کہ اب رشتے دار مجھے رشک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ بعد میں میں نے اقبال کی ڈائری پڑھی۔ ڈائری پڑھنے کے بعد میں اس سے شادی کرنے پر مطلق نادم نہیں ہوں۔”

 

"ہونھ۔” عدّو نے کچھ سوچتے ہوئے کروٹ بدلنے کی کوشش کی۔ درد کی وجہ سے وہ کروٹ نہیں بدل سکا اس لیے سیدھا لیٹ کر چھت دیکھنے لگا۔

 

"میں اقبال کی ساری املاک کی وارث تو تھی ہی، اقبال کے باپ کی ایک بڑی رقم یہاں ایک بیمہ کمپنی میں پھنسی ہوئی تھی، وہ بھی مجھی کو ملی۔ میں نے آرٹ اسکول میں باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کی پھر بچوں کی امداد کے عالمی ادارے میں شامل ہو گئی۔ مجھے بھی بچوں سے محبت ہے مگر ہر طرح کے بچوں سے ۔ ننگے ، بھوکے ، بیمار، سوکھے اور یتیم بچے میرا خاندان ہیں۔ ان کے لیے میں ملکوں ملکوں پھرتی ہوں اور اپنی تصویروں کی زیادہ تر آمدنی بچوں کی بہبود کے فنڈ میں دے دیتی ہوں۔ ایسا کر کے میں کسی پر احسان نہیں کرتی بلکہ مجھے احمد کا خیال رہتا ہے ، اس کی دوا کے لیے اس کے سگے ماموں نے دو روپے دینے سے انکار کر دیا تھا۔”

 

"ایاندو بھی ایک طرح میرا بچہ ہے ، اسے میں نے اس کے وطن خانہ جنگی میں کوڑے کے نیچے دبا ہوا پایا تھا۔ اس کے سب گھر والے مارے جا چکے تھے ۔ اب میں ہی اس کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ ایاندو کے معاملے میں آپ کی تشویش غلط تھی۔” عدّو نے چونک کر زینت کی طرف دیکھا۔ زینت ایک افسردہ مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔ عدّو کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اس نے بات بدلی۔” آپ بہت تھک گئے ہیں۔ اب سوجائیے ۔ میں کل کی طرح آج بھی صوفے پر سو جاؤں گی۔” مگر عدّو زینت کو برابر دیکھتا رہا۔ زینت بے کلی محسوس کرتے ہوئے بولی۔”کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟”

 

"کچھ نہیں۔” عدّو پھر چھت دیکھنے لگا۔ دونوں خاموش اور ساکت تھے ۔ خاموشی بہت گہری اور دل خراش تھی۔ پورا اسپتال ایک سکوت میں ڈوبا ہوا تھا، سکوت کی حدیں اس منزل سے ملتی تھیں جس کی جانب تمام مریض دم بہ دم بڑھ رہے تھے ۔

 

زینت کے آنے جانے سے کسی کو اعتراض ہویا نہ ہو مگر عدّو کی وجہ سے سب خاموش تھے ۔ عدّو نے ایک آدھ بار حمیرہ کے بارے میں کسی سے پوچھا مگر کوئی تشفی بخش جواب نہیں ملا۔ اس نے سوچا، شاید حمیرہ خود زینت کی وجہ سے کٹی کٹی رہتی ہو یا پھر نور میاں نے کوئی قدم اٹھایا ہو۔

 

زینت کو یقین تھا کہ آپا جان کے آنے کے بعد اس کا اسپتال میں داخلہ بینڈ ہو جائے گا مگر عدّو کے کہنے پر وہ مستقل آتی رہی۔ آپا جان آئیں تو انھوں نے بھی اعتراض نہیں کیا بلکہ خود اکثر و بیشتر زینت سے خیریت وغیرہ پوچھتیں۔ آپا جان زیادہ تر اسپتال میں رہتیں، جب وہ نہانے دھونے کے لیے عدّو کے فلیٹ جاتیں تو زینت عدّو کے پاس رہتی۔ اسپتال میں کھانے کا کوئی انتظام خاص طور پر آپا جان کے لیے نہیں تھا، اس لیے بھی انہیں فلیٹ جانا پڑتا تھا۔

 

ایک سہہ پہر وہاں کوئی نہیں تھا۔ عدّو بھی بظاہر بہتر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ تکیے سے ٹیک لگائے آدھا بیٹھا اور آدھا لیٹا ہوا تھا۔ اس نے زینت سے کہا۔”مجھے خوشی اس کی ہے کہ جو کام میں نہیں کرسکا، وہ تم نے کر دکھایا۔”

 

زینت نے پوچھا۔”کون سا کام؟”

 

عدّو نے کہا۔”یہی اپنے گھر کی روایت کو توڑنا۔ میں نے تھوڑی بہت کوشش کی مگر بہت اوپر نہیں اٹھ سکا۔ اچھا ہوا کہ تم نے تمام زنجیریں توڑ دیں۔ تمھاری فکر میں توازن کی کمی بھی نہیں ہوئی۔”

 

زینت نے کہا۔ "اصل میں آپ کا اپنے باپ دادا کی روش ترک کرنا زیادہ بہادری کا کام ہے ۔ آپ نے زندگی کو دوسرے زاویے سے دیکھنا بھی سیکھ لیا ہے ۔ آپ نے ہر آرام وآسائش پر لات ماردی۔ میرے پاس ٹھکرانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں اس لیے میں نے سب کچھ پایا ہی پایا ہے ۔ میرے برعکس آپ نے سب کچھ کھویا ہی کھویا ہے ۔”

 

"میرا خیال ہے ، یہ فیصلہ قبل از وقت ہے ۔” عدّو نے اس طرح مسکرا کر کہا گویا اسے ابھی کئی صدیوں تک زندہ رہنا ہے ۔

 

تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد زینت نے بات بدل کر کہا۔ "عدّو بھائی”! یاد ہے ، آپ نے مجھ سے پوچھا تھا نہ کہ میں کیوں کسی اور کے مقصد کے لیے استعمال ہو گئی؟ چلیے ، میری تو مجبوری تھی مگر نور میاں کی لڑکیاں کیوں اپنے باپ کے مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں؟ لوگ برطانوی شہریت حاصل کرنے کے لیے ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی تو۔۔خیر ہٹائیے ۔”

 

"کہو کہو۔ چپ کیوں ہو گئیں۔” عدّو نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ "میں آپ کو زیادہ نہیں بتاؤں گی مگر

 

نور میاں ہی نے شاید کچھ ایسا کیا تھا کہ آپ سے ملے بغیر چلی گئی تھی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے ۔”

 

عدّو نے زینت کے چہرے پر بھرپور نظر ڈالی۔ وہ ایک معمولی سی گھریلو لڑکی لگ رہی تھی۔ ایسی لڑکی جو بہو بیٹی کی حیثیت سے کسی بھلے گھرانے کی واقعی زینت ہو سکتی ہو۔ "ہونھ…۔ کچھ کچھ سمجھ آ رہا ہے ۔” عدّو چپ ہو گیا۔ زینت بہ ظاہر ایک رسالے کی ورق گردانی کر رہی تھی مگر چور نظروں سے عدّو کو بھی دیکھتی جا رہی تھی۔ عدّو کے چہرے پر عجیب سے سائے منڈلا رہے تھے ۔

 

دو تین دن بعد ڈاکٹروں نے ہر چیز کے تفصیلی تجزیے کی بنا پر ایک جائزہ مرتب کیا۔ جائزے کے آخر میں کہا گیا تھا کہ اسپتال میں مریض کے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں، اسے وہاں جانا چاہیے جہاں اس کے اپنے لوگ اس کی دیکھ بھال کر سکیں۔

 

عدّو کو ایک ایمبولینس کے ذریعے ہوائی اڈے تک پہنچایا گیا، ایمبولینس کے پیچھے کئی گاڑیاں تھیں، ان میں عدّو کے جاننے والے اور اعزا وغیرہ تھے ۔ سب سے آخر میں زینت کی ٹیکسی تھی۔

 

ایمبولینس ہوائی اڈے کے خفیہ راستے سے ہوائی جہاز تک گئی۔ زینت نے صبح عدّو کو اسپتال میں اس وقت دیکھا تھا جب اسے ایمبولینس میں لے جایا جا رہا تھا، عدّو پر نیم غشی طاری تھی اور غالباً اسے خبر نہیں تھی کہ وہ ایمبولینس میں لیٹا ہوا ہے ۔

 

ایمبولینس اندر چلی گئی۔ جاننے والوں کی گاڑیاں بھی چلی گئیں۔ زینت نے ایک پرچے پر نظر ڈالی۔ یہ پرچا عدّو نے پچھلی شام اس کے لیے رکھا تھا۔ صرف ایک جملہ تھا۔ وہ بھی انگریزی میں۔ "تمھارا یہ خیال غلط ہے کہ میں نے بہت کچھ پا لیا، تمھیں۔ کیا یہ کم ہے ؟ ” زینت خاموشی سے ٹیکسی میں بیٹھے پرچا دیکھ جا رہی تھی۔ بہت دیر بعد ٹیکسی ڈرائیور نے جھنجلا کر کہا۔ "کیا بات ہے ؟ تمھارے پاس کرائے کے پیسے نہیں ہیں؟ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہو۔”

 

زینت نے بہت سے نوٹ نکال کر اگلی نشست پر پھینک دے اور سسک سسک کر رونے لگی۔ "عدّو بھائی۔ عدّو بھائی۔”

 

’بائی بائی‘ ٹیکسی والے نے کہا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://urdu.adnanmasood.com/2013/11/%DA%98%DB%8C%D9%86%D8%AA-%D8%A7%D8%B2-%D9%82%DB%8C%D8%B5%D8%B1-%D8%AA%D9%85%DA%A9%DB%8C%D9%86/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید