FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

پہاڑ مجھے بلاتا ہے

 

 

                اکبر حمیدی

 

 

 

 

 

پیش لفظ

 

میرا موقف شروع سے ہی یہ رہا ہے کہ انشائیے کو بھی دوسری بڑی اصناف ادب کی طرح پوری انسانی زندگی کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ اسلوبیاتی نقطۂ نظر سے بھی انشائیے کو محض ہلکے پھلکے انداز میں ہی نہیں بلکہ گھمبیر لب و لہجے میں بھی لکھا جانا چاہیے۔ سو موضوع کے اعتبارسے بھی اس میں وسعت آنی چاہیے اور اندازِ بیان کے اعتبار سے بھی اس میں رنگا رنگی کے مناظر دکھائی دینے چاہئیں۔ مَیں نے اس قسم کے کچھ تجربے کئے ہیں۔

غرض میرے نزدیک کوئی موضوع بھی اور کوئی اسلوب بھی انشائیے کے لیے شجرِ ممنوعہ نہیں ہے۔ بشرطیکہ وہ معنی آفرینی سے عاری نہ ہو اور اس میں معنی کے نئے نئے ابعاد دکھائی دیتے چلے جائیں۔ محض طنزیہ یا مزاحیہ مضمون ہو کر نہ رہ جائے۔

انسانی مزاج کے ہزاروں رنگ ہیں اور یہ سب رنگ انشائیے میں بھی اپنی معنی آفرینی کے ساتھ نظر آنے چاہئیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر اردو انشائیے کو زندہ رہنا ہے اور ایک بڑی اور طاقتور صنفِ ادب کے طور پر زندہ رہنا ہے تو اسے پوری زندگی اور انسانی مزاج کے تمام رنگوں کو اختیار کرنا ہو گا۔ میں نے اپنے انشائیوں میں کوشش کی ہے کہ انشائیے کو وسعت دی جائے اور اس میں جمود یا ٹھہراؤ نہ آنے دیا جائے۔ اسی طرح مَیں نے اسلوب کو دلکش اور دلچسپ بنانے کے لیے شعریت اور جملہ سازی کے انداز بھی اختیار کیے ہیں تاکہ موضوع کے علاوہ انشائیہ اپنے اندازِ بیان کے ذریعے بھی قاری کو اچھا لگے۔ علاوہ ازیں شگفتہ نگاری اور طنز و مزاح سے بھی کام لیا ہے۔ لُوز ٹاکنگ کا اسلوب انشائیے میں متعارف کروا کر مَیں نے انشائیے کے مزاج کو وسعت اور دلکشی دینے کی بھی سعی کی ہے۔ یہ لُوز ٹاکنگ آپ کو بے معنی نہیں لگے گی۔

ان سب باتوں کا مقصد انشائیے کو بڑھاوا دینا ہے۔ مَیں انشائیے کے ناقدین سے بھی یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ نئے عہد کے اس انشائیے پر نئے افق سے نگاہ ڈالیں گے۔ انشائیہ نگاروں کے ساتھ ساتھ اگر تنقید نگار بھی تنقید کے نئے مدار تلاش کریں گے تو انشائیے کا مستقبل یقیناً روشن تر ہوتا چلا جائے گا۔

زیرِ نظر مجموعہ میرے انشائیوں کا چوتھا مجموعہ ہے۔ یوں میرے چاروں مجموعوں میں اسّی (80) سے زیادہ انشائیے شامل ہیں۔

میں امید رکھتا ہوں کہ میرے انشائیوں کو ہر قسم کے تعصّبات سے بالاتر ہو کر پڑھا جائے گا اور محض اس لیے نظرانداز نہ کیا جائے گا کہ یہ انشائیے ہیں اور یہ کہ یہ صنف ہی گردن زدنی ہے۔ ادب کی دنیا میں کوئی صنف بھی اور کوئی موضوع بھی گردن زدنی نہیں اور نہ ہی اہل علم کے لیے اس قسم کی فتویٰ بازی کبھی قابل قبول ہوئی ہے۔ میرے پہلے تین مجموعے وسیع حلقۂ قارئین میں مقبول ہوئے ہیں مجھے امید ہے یہ مجموعہ بھی اسی طرح پذیرائی حاصل کرے گا۔

اکبر حمیدی

22.10.2003

 

 

 

 

اکبر حمیدی کے انشائیے

 

 

اردو انشائیہ کے موجودہ تخلیقی رنگ روپ میں بعض ہمعصر انشائیہ نگاروں کا نمایاں حصہ رہا ہے اور ان میں اکبر حمیدی پیش پیش ہیں۔

اکبرحمیدی ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی ہیں اور اپنی شعری خوؤں کو کام میں لا کے وہ روزمرہ کے انشائی موضوعات میں بھی باتوں باتوں میں قارئین کو اتنا پار پرے لے جاتے ہیں گویا ان کی تیسری آنکھ کھُل گئی ہو اور کمال یہ بھی ہے کہ اپنی دو آنکھوں کو ہی حمیدی تیسری آنکھ کا وسیلہ بنا لیتے ہیں اور اس مانند گرد و پیش کو بھی اوجھل نہیں ہونے دیتے۔ بظاہر یہ سب کچھ بڑی آسانی سے ہو رہا ہوتا ہے او ر خیال گزرتا ہے کہ وہ یہ مرحلہ قلم برداشتہ طے کر لیتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے اس قدر باریک فکر میں تخلیقی گپ شپ کی خوشگوار، غیر رسمی اور فراخ آسانیاں پیدا کرنے کے لیے وہ کیونکر رُک رُک کر ہر جملے میں اپنا دم پھونکتے ہوں گے۔

اکبر حمیدی کے قارئین نے ان کے انشائیوں کے گذشتہ مجموعوں کا بڑے تپاک سے خیرمقدم کیا تھا۔ مجھے یقین ہے ان کا یہ مجموعہ بھی بڑے مانوس تحّیراور مسرّت سے پڑھا جائے گا۔

اس میں شک نہیں کہ انگریزی انشائیوں کی نثر میں برتر لسانی وسعت کا احساس ہوتا ہے مگر حالیہ اردو انشائیہ نے اپنی نسبتاً کمتر لسانی وسعتوں میں بھی خنداں سنجیدگی کا جو تخلیقی سماں باندھا ہے وہ شاید انگریزی انشائیے کو بھی نصیب نہیں۔ اس اعلیٰ انشائی کارکردگی میں اگر صرف چار نام ہی گنوانا مقصود ہو تو بھی اکبر حمیدی اتنے پُرکار اور فراواں ہیں کہ بے دھڑک ذہن میں گھُستے چلے آتے ہیں۔

مَیں اپنے عزیز دوست کو انشائیوں کی ایک اور اہم کتاب پیش کر پانے پر اپنی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

جوگندر پال

 

 

 

 

خالی گیراج

 

اب مَیں نے بھی اس کا حل ڈھونڈھ لیا ہے!

بات یہ ہے کہ گاڑی تواب یہاں ہر ایرے غیر ے نے خرید لی ہے۔ اس لیے گاڑی خریدنے کا ارادہ میں نے ترک کر دیا ہے۔ طے یہ کیا ہے کہ گاڑی کی بجائے ریل گاڑی خرید لوں۔ ہر شام اپنی گلی میں کسی ہمسائے کے گھر جاؤں۔ دروازے پر دستک دوں۔ جب کوئی حضرت برآمد ہوں ان سے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہوں “جناب میرے ہاں مہمان آ گئے ہیں جن کی گاڑی میں اپنے گیراج میں کھڑی کر لوں گا۔ آپ براہ کرم مجھے ریل گاڑی رات بھر کے لیے اپنے گیراج میں کھڑی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ آخر میں آپ کا ہمسایہ ہوں اور ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی ہر بھلے آدمی کے فرائض میں شامل ہے”۔

تب میں دیکھوں گا وہ کس طرح حقوقِ ہمسائیگی ادا نہیں کرتا!

صاحب آپ میری اس تلخ نوائی سے ہر گز یہ مطلب اخذ نہ کر لیں کہ میں کوئی غیر مہذب آدمی ہوں یا معاشرتی اخلاقیات سے بے بہرہ ہوں ایسا نہیں ہے اور قطعی نہیں ہے۔ معاشرتی اخلاقیات سے بے بہرہ ہونا تو درکنار میں تو معاشرتی اخلاقیات کا مارا ہوا ایک ایسا بے کس و بے چارا انسان ہوں جو حقوقِ ہمسائیگی ادا کرتے کرتے خود اپنے اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرنے سے غفلت کا مرتکب ہو رہا ہے!

میری خطا اس میں صرف اتنی سی ہے کہ جب میں نے اپنا گھر تعمیر کروایا تو اس میں گیراج تو بنوا لیا مگر گاڑی خریدنا بھول گیا!

اب میرے طبقے کے لوگوں سے ایسی بھول چوک تو اکثر ہو جایا کرتی ہے۔ بس یہ ہوا ہے کہ اس بھول چوک کا عرصہ ذرا طویل ہو گیا ہے۔ یعنی اسے اب کئی برس ہو چکے ہیں اور اب جب مجھے یاد آیا کہ گیراج خالی نہیں چھوڑنا چاہیے (کہ بقول کسے خالی جگہوں میں شیطان گھُس آتے ہیں ) تب تک ہر ایرے غیرے نے گاڑی خرید لی اور مجھے اب اس صورت حال میں گاڑی خریدنا کوئی باعثِ عزت کام نظر نہیں آتا۔ مگر گیراج بنوانا اور گاڑی نہ خریدنا کیا اتنا ہی سنگین جرم تھا کہ گلی کے سارے لوگ اپنی اپنی گاڑیاں لے کر میرے خالی گیراج پر ٹوٹ پڑیں۔

پچھلے کئی برسوں سے میرا خالی گیراج ہمسایوں کی یلغار کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گلی میں اکثر کسی نہ کسی کے ہاں مہمان آتے رہتے ہیں اور میری قسمت سے وہ بھی گاڑی والے ہی ہوتے ہیں تب ہمسایہ صاحب نہایت غیرسنجیدہ شکل بنا کر (جو اب مجھے نہایت سنجیدہ لگنے لگی ہے) میرے ہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں “حمیدی صاحب کیا ہمیں اپنی گاڑی رات بھر کے لیے آپ کے خالی گیراج میں کھڑی کرنے کی اجازت ہے”۔ میں ان کی شکل دیکھتا ہوں جو بھیگی بلی سے بھی زیادہ رونی شکل بن چکی ہوتی ہے سوچتا ہوں کیا جواب دوں۔ کبھی اپنے خالی گیراج کو دیکھتا ہوں کبھی دروازے پر کھڑے ہمسائے صاحب کی رونی صورت کو دیکھتا ہوں ایسا محسوس ہوتا ہے اگر میں ذرا بھی حرفِ انکار زبان پر لایا تو حضرت واقعتاً رونے لگیں گے۔ میں کوئی ایسا رقیق القلب شخص بھی واقع نہیں ہوا ہوں مگر پھر بھی اپنے خالی گیراج کو دیکھتا ہوں تو خیال گزرتا ہے کہ گیراج خالی رکھا ہے تو اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ اتنے میں ہمسائے صاحب کی ممیاتی ہوئی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے “دیکھیے حمیدی صاحب آپ کے پاس تو گاڑی نہیں ہے اور آپ کا گیراج خالی بھی پڑا ہے ایسی صورت میں ایک رات کے لیے ہی آپ کو تھوڑی زحمت ہو گی۔ انکار نہ کرنا پلیز” اب ایسے جملے سُن کر آپ ہی بتائیے میں کیا جواب دوں۔ یہ درست ہے میں کوئی رقیق القلب انسان نہیں ہوں مگر بے مروت اور بے لحاظ بھی تو نہیں ہوں۔ پھر یہ خیال بھی میرے سر پر سوار ہے کہ اللہ میاں کے ہاں حقوق ہمسائیگی کے سلسلے میں مجھے جوابدہ بھی ہونا ہے(ہمسایوں کو ہونا ہو یا نہ ہونا ہو) تب میں نہایت مریل سی آواز میں کہتا ہوں “لے آئیے صاحب اپنی گاڑی میرے خالی گیراج میں۔ ” اور یہ سلسلہ اب اتنے تواتر سے جاری ہے کہ شاید ہی کوئی رات ایسی ہو گی جب میرے خالی گیراج میں کسی نہ کسی ہمسائے کی گاڑی براجمان نہ ہوتی ہو کہ گلی کے سبھی لوگ اب میرے ہمسائے بنے بیٹھے ہیں !

بعض اوقات ہمسایہ خواتین بھی اس غرض سے تشریف لے آتی ہیں۔ اب میں اپنے انشائیہ نگار دوست جیلانی صاحب کی طرح خواتین کے معاملے میں نہ صرف بہت نرم دل ہوں بلکہ کمزور طبع واقع ہوا ہوں۔ مجھ سے کسی خاتون سے انکار کرتے نہیں بنتی۔ پھر جب وہ ہمسائے میں رہتی ہوں اور دن رات آتے جاتے ان سے آمنا سامنا ہونے کی بھی امید ہو!

اتفاق سے میں اب ملازمت سے ریٹائر زندگی بسر کر رہا ہوں سو ہمسایوں کی ذہانت اور ذکاوت ملاحظہ ہو کہ اب وہ مجھے بھی ایک خالی گیراج ہی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جونہی کالج کھلتے ہیں کوئی صاحب یا کوئی صاحبہ تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں “حمیدی صاحب ہمارا بچہ یا ہماری بچی ایف۔ ایس۔ سی کے فائل ایئر میں ہے اگر آپ شام کو تھوڑا سا وقت اسے عطا کرسکیں تو یہ ایک بڑی نیکی ہو گی۔ ”

میرے ساتھ والی گلی میں کسی صاحب نے کوئی فلاحی ادارہ قائم کر دیا ہے جہاں اکثر اجتماع ہوتے رہتے ہیں اور نئی نسل کو نیکی اور پرہیزگاری کی تعلیم دینے کے لیے لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ یہاں تک تو یہ سب کچھ اچھا تھا اور مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے مگر ان حضرات کو خدا جانے کس نے میرے بارے میں یہ کہہ دیا ہے کہ میں ان دنوں فارغ الاوقات ہوں۔ سو اس ادارے کا وفد کئی مرتبہ میرے پاس تشریف لا چکا ہے کہ میں اس ادارے کا کوئی عہدہ قبول کروں یا کم سے کم گاہے بگاہے نئی نسل کی رہنمائی کے لیے وہاں لیکچر وغیرہ دے دیا کروں جبکہ سچی بات یہ ہے اور اب آپ کو بھی بتا ہی دوں کہ میں نے کالج میں بھی اپنے کلاس روم کو کبھی دفترِ اصلاح و ارشاد نہیں بنایا تھا!

آج کل شہر میں پھر سے ہڑتالوں اور جلسے جلوسوں کا کاروبار زوروں پر ہے۔ ظاہر ہے ایسے کاموں کے لیے فارغ آدمیوں کی بکثرت ضرورت ہوتی ہے۔ کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ کہیں ان حضرات کو بھی میرے فارغ ہونے کی اطلاع نہ ہو جائے اور دوسروں کی طرح یہ لوگ بھی مجھے خالی گیراج سمجھ کر استعمال کرنا نہ شروع کر دیں !

مُلک بھر سے کئی طرح کی رنگارنگ تنظیمیں مجھے اپنا لٹریچر بھیجتی رہتی ہیں جن میں انہوں نے اپنے نہایت مفید اغراض و مقاصد بیان کیے ہوتے ہیں۔ اپنا منشور بھی درج کیا ہوتا ہے۔ نیز یہ بات بڑی وضاحت سے اور زور دے کر بیان کی گئی ہوتی ہے کہ اس زمانے میں خصوصاً اس قسم کے حالات میں ان کی تنظیم کا وجود بے حد ضروری تھا ورنہ معاشرے اور قوم کے گمراہ ہونے کا اندیشہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ کچھ دردمند اور خیر خواہانِ قوم ایک جگہ اکٹھے ہو گئے ہیں اور انہوں نے قوم کی ڈگمگاتی ہوئی کشتی کو ساحلِ مراد پر پہنچانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ آخر میں انہوں نے دردمند دل رکھنے والے حضرات سے اس تنظیم میں شرکت کرنے اور دل کھول کر اس کارِ خیر کے لیے چندہ دینے کی پُر زور اپیل کی ہوتی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ مَیں ایسا درد دل رکھنے والا آدمی نہیں ہوں کہ اپنے لکھنے پڑھنے کا کام چھوڑ کر کسی غیر متعلقہ کام میں جا پھنسوں۔

مگر ان سب باتوں کے پیچھے جس بات کو سوچ کر مجھے دکھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ان سب لوگوں نے کیا واقعی مجھے بھی خالی گیراج سمجھ لیا ہے جہاں یہ اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے کے درپے ہیں۔

میرا معاملہ ایک انفرادی سطح کا سنجیدہ معاملہ ہے مگر میں تو دیکھتا ہوں کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی جہاں جہاں خالی گیراج نظر آئے تھے دوسروں نے وہاں وہاں اپنی گاڑیاں کھڑی کر لی ہیں۔

اس ناگوار صورتِ حال سے بچنے کے لیے دوستو آپ بھی اس بات پر غور کر لیں کہ کیا آپ کے گیراج میں آپ کی اپنی گاڑی کھڑی ہے یا پھر آپ کے گیراج کو بھی خالی گیراج کہہ کر ہمسایوں نے اپنی گاڑیوں کے تصّرف میں لے لیا ہے۔ اگر ایسا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو……..تو پھر جلدی سے گاڑی لے لیجیے تاکہ آپ کے گیراج میں آپ کی اپنی گاڑی نظر آئے!۔

مَیں تو خیر اب ریل گاڑی ہی لوں گا!!

٭٭٭

 

 

 

 

ہمایوں کا ایک دن

 

 

ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ کچھ باتوں کے عادی ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح گذشتہ زمانوں میں بادشاہ بادشاہت کے عادی ہوتے تھے۔ جس طرح عادی شخص اپنی عادت پورے کیے بغیر رہ ہی نہیں سکتا اسی طرح یہ بادشاہ لوگ بادشاہت کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ گویا یہ سب لوگ اپنی اپنی عادتوں کے غلام تھے مگر انہیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ !

یہ صورتِ حال اس حد تک پختہ ہو چکی تھی کہ عادی بادشاہوں نے ایک فارمولا قسم کا جملہ بنا رکھا تھا کہ “تخت یا تختہ”یعنی یا تو بادشاہ بن کر برسرِ دربار ہوں گے یا پھر تختے پر دکھائی دیں گے۔ گویا جیتے جی تخت کے بغیر گزارا نہیں کریں گے۔ اس پختہ ارادے کا نتیجہ تھا کہ تمام دنیا میں جا بجا ملک در ملک بادشاہ حضرات تختوں پر جلوہ افروز دکھائی دیتے تھے۔

اپنے خاندان میں بادشاہت پکّی کرنے کے لیے یہ بادشاہ حضرات اپنی زندگی میں ہی بڑے برخوردار کو ولی عہد نامزد کردیتے تھے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ بادشاہوں کے خاندانوں میں بادشاہت کا رواج کچھ اتنا پختہ ہو گیا تھا کہ رعایا بادشاہ کے ساتھ ساتھ اپنا روئے اطاعت ولی عہد کی طرف بھی رکھتی تھی۔ بادشاہت کی تربیت دینے کے لیے بادشاہ کچھ چھوٹے موٹے اختیارات ولی عہد کو بھی تفویض فرما دیتا تھا۔ یہ گویا آبائی پیشہ میں ٹریننگ دینے کا ایک طریقہ تھا تاکہ وقت آنے پر ولی عہد ایک پختہ کار بادشاہ ثابت ہو۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے ایک کسان اپنے بیٹے کو کاشتکاری کا کام سکھاتا ہے یا ایک تاجر اپنے بیٹے کو تجارت کرنا سکھاتا ہے۔ تربیت کے بعد ولی عہد کا وقت آنے پر بادشاہ بننا تو ایک معمول کی بات تھی لیکن بعض اوقات بعض واقعات وقت آنے سے پہلے بھی پیش آ جاتے تھے۔ مثلاً اگر کوئی ولی عہد صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا تو بادشاہ یعنی اپنے والدِ بزرگوار کو بادشاہت کا زمانہ پورا کر لینے کی اجازت دے دیتا لیکن اگر کوئی ولی عہد صبر و تحمل کرنا مناسب نہ سمجھتایا اس کی چنداں ضرورت محسوس نہ کرتا تو بادشاہ یعنی اپنے والدِ بزرگوار کو ناگوارِ خاطر سمجھ کر تخت حکومت سے اور بعض اوقات تختِ حیات سے ہی برخواست کر دیتا۔ یوں ایک عادی بادشاہ کے بعد دوسرا عادی بادشاہ تختِ حکومت پر براجمان ہو جاتا۔ اس قسم کی مثالوں سے تاریخِ عالم بھری پڑی ہے اور برِصغیر کی تاریخ بھی اس لائحہ عمل سے خالی نہیں ہے۔ مغلیہ خاندان میں ہی ایسی مثالیں مل جاتی ہیں۔

بعض اوقات یوں بھی ہوا ہے کہ چونکہ ولی عہد بڑے بیٹے کو نامزد کیا جاتا تھا۔ اس لیے ولی عہد کے برادرانِ خُورد اس نامزدگی کو باپ کی محبت کے علاوہ کھلی ناانصافی سمجھتے کہ وہ خود کو بھی ولی عہد کے والد کی حقیقی اولاد خیال کرتے تھے۔ چنانچہ حصولِ تخت کے لیے ایک وسیع کشمکش شروع ہو جاتی جس کی لپیٹ میں اکثر بادشاہ اور ولی عہد دونوں آتے۔ مغل شہنشاہ شاہ جہان اور اس کے برخورداران میں یہی ماجرا ہوا۔ اورنگ زیب نے والدِ محترم کو نہایت عزت و تکریم سے معزول کر کے قید میں اے کلاس دے دی جہاں شاہ جہان کی وفات ہو گئی کہ عادی بادشاہوں کا گزارا بادشاہت کے بغیر کہاں ہوتا ہے۔ ولی عہد دارا کو جو اورنگ زیب کا برادرِ بزرگ تھا قیدِ حیات سے نجات دلا دی گئی۔ اورنگ زیب نیک آدمی تھا اس نے یہ سب کچھ شاہانہ روایت کے تحت کر ڈالا۔ ورنہ کسی بھی نیک آدمی سے ان باتوں کی توقع نہیں ہوتی۔ اس لیے تاریخ اورنگ زیب کو زیادہ موردِ الزام نہیں ٹھہراتی……..ویسے بھی تاریخ ہمیشہ جیتی ہوئی پارٹی کی ہمنوا ہوتی ہے۔ !

عادی ہونے میں کچھ سہولتیں تو بہرحال ہوتی ہیں۔ اگرچہ انسان عادت کا غلام ہو جاتا ہے مگر روز مرہ کی مشق کے باعث کام عام طور پر سہل ہو جاتے ہیں۔ جیسے ایک افیمی افیم کا زہر بڑی آسانی سے معدے میں اتار لیتا ہے یا ہیروئن کا عادی شخص بڑی سہولت سے زہر نگل جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ جان جوکھوں کے کام ہیں مگر عادت کی بدولت آسان ہو جاتے ہیں اور آسان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ہے کہ آدمی اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ عادت پوری کیے بغیر ایک دن بھی بسر کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ عادی بادشاہوں کا بھی یہی حال ہو جاتا ہے!

ایک روز مجھے خیال آیا کہ بادشاہ ہمایوں جب فتح یاب ہونے کے بعد دوبارہ برصغیر پہنچا اور اس نے اپنے محسن نظام سقّہ کو اس کی خواہش کے مطابق ایک دن کی پوری بادشاہت سونپ دی تو بادشاہت کے بغیر وہ ایک دن ہمایوں نے کیسے بسر کیا ہو گا۔ کیونکہ اپنے آباو اجداد کی طرح وہ بھی بادشاہت کا شدید عادی تھا۔ عادی نہ ہوتا تو برصغیر واپس آنے کی ہی کیا ضرورت تھی! اچھا خاصا جان بچا کر نکل گیا تھا!

سوکبھی کبھی مَیں چشم تصوّر سے اس ہمایوں کو دیکھتا ہوں جو ایک روز کے لیے شہنشاہ نہیں رہا تھا اور اپنی عادت کے برخلاف ایک عام آدمی کی زندگی پر اتر آیا تھا۔ مجھے خیال آتا ہے اُس کے گھر کا تو نقشہ ہی تبدیل ہو گیا ہو گا۔ سب امرا وزرا نظام سقّہ کے گھر کا رُخ کر چکے ہوں گے۔ پھر ہمایوں پر کیا گزری ہو گی اور اس نے یہ پہاڑ سا دن کیسے گزارا ہو گا؟ کیسے؟

الصبح ہمایوں کے خادمِ خاص نے جو اب نظام سقّہ کے ہاں پہنچ گیا ہو گا جب بادشاہ کو نیند سے بیدار کرنے کے لیے بصد ادب وہ جملہ نہیں کہا ہو گا جسے سُن کر ہمایوں انگڑائی لیتا ہوا بسترسے برآمد ہوتا ہو گا تو ہمایوں نیند سے (اگر اسے نیند آئی ہو گی) بیدار کیسے ہوا ہو گا اور بستر چھوڑنے کو اس کا جی کیسے چاہا ہو گا۔ وہ تاریخی جملہ کیا تھا؟ دیکھیے۔ خادم خاص ہر صبح سرنگوں ہو کر با ادب با ملاحظہ آواز میں کہتا تھا۔

“حضور آفتاب شرفِ باریابی چاہتا ہے”۔ یعنی سورج طلوع ہونے والا ہے۔

اور پھر جب “با ادب با ملاحظہ ہوشیار نگاہ روبرو شہنشاہِ عالم جلوہ افروز ہو رہے ہیں ” کی آوازیں ہمایوں کے فردوس گوش نہیں ہوئی ہوں گی تو اس پر کیا گزری ہو گی۔ اپنے کمرے سے باہر نکلنے کو اس کا جی کیسے چاہا ہو گا؟!!

ان سب باتوں اور حالات و واقعات کے پیشِ نظر آپ ہمایوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کیجیے کہ ہمایوں نے یہ دن کیسے بسر کیا ہو گا؟ملکۂ عالیہ کا کیا حال ہوا ہو گا؟ کیا وہ مُوئے نظام سقّے کو کوسنے نہ دیتی ہوں گی۔ یا پھر ہمایوں کے لتّے نہیں لیتی ہوں گی کہ آخر اس دریا دلی کی ضرورت ہی کیا تھی….کیا پتہ اب نظام سقّہ حکومت واپس کرتا بھی ہے یا نہیں ؟ ملکۂ عالیہ جواب محض بیگم ہمایوں بن کر رہ گئی تھیں یہ اندیشہ بھی محسوس کرتی ہوں گی کہ کیا پتہ یہ مُوا سقّہ اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے کیا عُذر تراش لے۔ کوئی نظریۂ ضرورت تلاش کر لے!۔ اگر اس نے ایسا کر لیا…….. تب کیا ہو گا؟ ملک میں کون ہو گا جو اسے اس کارروائی سے روکے گا؟ ممکن ہے وہ کوئی ایسا راستہ اختیار کر کے اپنی دستبرداری کو دس بارہ برسوں تک ٹالنے میں کامیاب ہو جائے جسے سب لوگ آئینی اور وقت کی ضرورت قرار دے دیں۔ اگر ایسا ہوا تو دس بارہ برس تک تو لوگ ہمیں بھول بھال بھی جائیں گے اور تب تک تو یہ خود بادشاہت کا عادی ہو جائے گا…….. پھر گھر آئی ہوئی مُرغی کو چھوڑتا بھی کون ہے!!

بیگم ہمایوں کا یہ سب کچھ سوچنا اور اس دوران ہمایوں کو قہر و غضب کی نظروں سے دیکھتے جانا بالکل فطری باتیں ہیں۔ مگر ایسے حالات میں یہ باتیں سُن کر خود ہمایوں پر کیا گزر رہی ہو گی……..یہ سوچنے کی بات ہے!!

لیکن میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپ ہمایوں کی جگہ ہوتے اور آپ سے یہی حرکت سرزد ہوئی ہوتی تو آپ اپنی بیگم کو ایسی حقیقت افروز تاریخی باتوں کا کیا جواب دیتے؟ جواب دیتے بھی یا پھر صبر کا گھونٹ پی کر اپنے آپ کو وقت کے حوالے کر دیتے؟……..کیا آپ مجھے بتا سکیں گے؟؟؟

٭٭٭

 

 

 

شوقِ فضول

 

 

میں نے طے کیا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا!

شاید میں ایسا کرنے سے باز نہ آتا اگر مجھے اس کے سنگین نتائج میں سے گزرنا نہ پڑتا۔ میری خوش بختی کہ یہ سنگین نتائج مجھے بھگتنے نہیں پڑے لیکن ان نتائج میں سے گزرتے وقت جو صورت حال مجھ پر گزری ہے اب بھی اسے سوچ کر اور محسوس کر کے میں لرز جاتا ہوں اور یوں ایک طرح سے اب تک مَیں اس کے نتائج ہی بھگت رہا ہوں۔ یہ درست ہے کہ مَیں راستے کے آخری حصّے پر سے لوٹا ہوں۔ بس آگے چند ہی قدم باقی تھے……..اور یہ قدم بہت ڈھلوانی تھے……..پھر مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی مجھے اس ڈھلوان پر دھکیل رہا ہے…….. دراصل دھکیلنے والا بھی خود مَیں ہی تھا……..میں خود کو دھکیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا مگر روک نہیں پا رہا تھا……..جیسے میں اپنے کہے میں نہیں رہا تھا……..جیسے میں اپنے آپ سے الگ ہو چکا تھا……..جیسے میں دو ایسے حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا جو ایک دوسرے سے بے تعلق ہو چکے تھے اور دونوں میری گرفت سے آزاد ہو گئے تھے۔

کہتے ہیں جب معمر رستم نوجوان سہراب کے ساتھ نبرد آزما ہوا تو اسے اپنی کم طاقتی اور نوجوان سہراب کی شہ زوری کا اندازہ ہوا۔ تب اس نے خداوند کریم کو مخاطب کر کے کہا کہ “اے خدا میری وہ قوت مجھے لوٹا دے جو کبھی مجھ سے سنبھالی نہیں جاتی تھی اور مَیں نے تیرے پاس اس خیال سے محفوظ کروا دی تھی کہ حسبِ ضرورت اپنی امانت واپس لے لوں گا” تب رستم کو اس کی امانت لوٹا دی گئی……..اور بوڑھے رستم نے شہ زور سہراب کو گرا دیا۔

اس روز مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا جیسے میری کوئی خوابیدہ قوت مجھ میں بیدار ہو گئی ہے……..اور مَیں اپنے دولخت حِصّوں کو جوڑنے میں کامیاب ہو گیا ہوں ! اور پھر آہستہ آہستہ نڈھال قدموں کے ساتھ واپس آنے لگا ہوں !

مَیں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ تجربے سے سیکھنا ایک خطرناک کھیل ہے جس میں بعض اوقات ادائیگی حصول کی نسبت کہیں زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ ویسے بھی یہ دوسرے درجے کے لوگوں کی سرشت ہے۔ صفِ اوّل کے لوگ تجربے سے سیکھنے کی بجائے دماغ سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مَیں بھی اکثر ایسا ہی کرتا ہوں مگر جب شوقِ فضول کا بھوت سر پر سوار ہو تو بعض اوقات آدمی اس بھوت کے اشاروں پر ناچنے لگتا ہے۔

یہ بتانے……..بلکہ اس اعتراف میں اب کوئی حرج نہیں کہ مَیں بھی اس بھوت کے اشاروں پر ناچنے لگا تھا! مگر اب جبکہ مَیں اس بات کو سمجھ رہا ہوں کہ یہ بھوت میری زندگی کی باگ کو کس طرف موڑ دینا چاہتا تھا میرے دل و دماغ میں اس بھوت سے شدید نفرت بلکہ غم و غصّہ کے جذبات ابھرنے لگے ہیں !

آج سے کچھ سال پہلے مجھ میں ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا شوقِ فضول کچھ اس شدت سے پیدا ہو گیا تھا کہ مَیں بڑے جوش و خروش کے ساتھ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے کمربستہ ہو گیا…….. مجھے ہر گز اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ یوں مَیں تیزی سے آگے کی منزلیں مارتی ہوئی گاڑی سے اتر کر واپس جانے والی گاڑی پر سوار ہو رہا ہوں ! بلکہ اس کے برعکس مَیں اسے ایک پُر لطف مشغلہ سمجھ رہا تھا! اس سے مجھے جذباتی سکون میّسر آنے کی امید تھی!

اس شوقِ فضول کو پورا کرنے کی کارروائی کا آغاز مَیں نے اپنے گاؤں سے کیا جہاں مَیں نے بچپن، لڑکپن اور پھر نوجوانی کا زمانہ گزارا تھا۔ مَیں سوچتا تھا کہ پانی سے بھری مشرقی اور جنوبی ڈھابیں (بڑے تالاب) اب کیسی ہوں گی جہاں مَیں گھر والوں سے چوری چھُپے نہانے جایا کرتا تھا۔ مچھانا (تالاب) اب کیسا ہو گا۔ گاؤں سے مغرب میں راجباہ کا پانی کیا اب بھی اسی طرح ٹھنڈا ٹھار ہو گا جیسے کبھی ہوتا تھا۔ بنک گھر کی چھتیں چاندنی راتوں میں اب کیسی لگتی ہوں گی۔ چاچے تُلّے کے شہتوت کیا اب بھی ویسے ہی شہد بھرے ہوں گے۔ اسی طرح گاؤں کی سب چیزوں کو مَیں اپنے عہدِ جوانی کی نظروں سے دیکھتا تھا لیکن جونہی مَیں نے ان جگہوں کو دیکھا ایسا لگا جیسے سب کچھ تبدیل کر دیا گیا ہو! ڈھابیں برائے نام باقی رہ گئی تھیں۔ لوگوں نے انہیں مٹی سے بھر دیا تھا اور وہاں اپنے گھر تعمیر کر لیے تھے۔ مچھانا آس پاس کے زمینداروں نے اپنے اپنے کھیتوں میں شامل کر لیا تھا۔ بینک گھر کی عمارت نہایت خستہ ہو چکی تھی۔ مَیں اس کے صحن میں سے ٹوٹی پھوٹی عمارت کے بیرونی حصّے دیکھ کر ہی لوٹ آیا۔ راجباہ سوکھا پڑا تھا۔ پھر مَیں اپنے آبائی گھر کی اس چھت پر گیا جہاں وہ گلاب کے پھول جیسی لڑکی صبح سویرے مجھے گلاب کے پھول لا کر دیا کرتی تھی۔ مَیں نے دیکھا منڈیریں خاموش تھیں اور اس لڑکی کے گھر کی چھتیں بہت سنسان!!

گزرے زمانے کے نوجوان دوستوں سے ملنے کی کوشش کی۔ کوئی تلاش معاش میں دُور اور کوئی بہت دُور جا چکا تھا……..مَیں ہاتھ بڑھا کر بھی انہیں چھُو نہیں سکتا تھا۔ سب اپنے اپنے وظیفۂ روزگار میں سرتا پا گم تھے۔ ……..کہ میں انہیں دیکھ بھی نہ سکا……..!

یہ سب کچھ میرے لیے بے مزگی کا باعث تو ضرور ہوا مگر کسی جذباتی صدمے کا باعث نہیں بنا……..کہ مَیں نے ان سب باتوں کو معمول کی باتیں خیال کیا……..یہی وجہ ہے کہ مَیں نے اس شوقِ فضول کی تکمیل میں وہ ایک قدم بھی اٹھا لیا جس کا ذکر مَیں یہاں بطور خاص کرنا چاہتا ہوں ……..اب بھی سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ قدم نہ آسمان پر تھا اور نہ ہی زمین پر……..کسی ان جانی سمت میں تھا۔ !!

کئی برسوں سے مجھے یہ شوق ستا رہا تھا کہ کبھی شہر کی اس سب سے بڑی اور سب سے قدیم درسگاہ کو دیکھوں جہاں مَیں نے اسکول کے بعد چار سال کا سنہری زمانہ بسر کیا تھا اور جس کی عمارت کی ایک ایک اینٹ سے میری جذباتی دل بستگی ہے۔ سوچتا تھا وہ کمرے اب کیسے ہوں گے جہاں مَیں اپنے فاضل پروفیسران سے پڑھا کرتا تھا۔ وہ سرسبزلان کیا اب بھی ویسے ہی سرسبز ہیں جہاں بیٹھ کر مَیں دوستوں کے ساتھ چائے پیا کرتا تھا اور لمبی لمبی پُر جوش بحثیں۔ اور وہ شاندار عمارت اور وہ ہال، لائبریری اور وہ سٹاف روم۔ کالج کا چائے خانہ، سائیکل سٹینڈ، کالج گیٹ کے سامنے سڑک پار دکان میں بیٹھی ہوئی وہ نخریلی نوخیز لڑکی….!

میں نے اس شوقِ فضول کی تکمیل کے لیے دو تین کوششیں کیں مگر جب بھی کالج میں داخل ہوا وہاں کے پروفیسرحضرات نے مجھے آ لیا اور وہ اچک کر مجھے اپنے کمروں میں لے گئے اور پھر چائے میں گھُلی ملی شاعری کے دَور چلنے لگے۔ دو چار گھنٹوں کی اس نشست کے بعد مجھے وہیں سے واپس آنا پڑا……..کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ تم کس غرض سے آئے تھے…….. اور میں سمجھتا ہوں کہ اچھا ہی ہوا جو کسی نے نہیں پوچھا کہ مَیں کس غرض سے آیا تھا……..اگر وہ پوچھ لیتے تو میں انہیں کیا بتاتا……..اور اگر بتا دیتا تو وہ میرا کیا حال کرتے؟! ان کے منطقی اور عالمانہ قہقہے میرے غیر منطقی شوقِ فضول کی دھجیاں نہ اڑا دیتے!

مگر برسوں بعد ایک مرتبہ جب مَیں اسلام آباد سے اپنے شہر گیا ہوا تھا مجھے اس کا موقع مل گیا۔ !

مَیں نے اپنے دو قریبی دوستوں کو ہمراہ لیا اور ہم اس وقت اس درسگاہ میں داخل ہو گئے جب وہاں چھٹی ہوئے کوئی نصف گھنٹہ ہوا تھا۔ ہمیں اندازہ تھا کہ پروفیسر حضرات کالج سے جا چکے ہوں گے اور کالج کی عمارت بھی طلبا سے خالی ہو چکی ہو گی……..دوسرا اہتمام ہم نے یہ کیا کہ بڑے دروازے کی بجائے سائیکل سٹینڈ کی طرف کے راستے سے کالج میں داخل ہوئے۔ یوں ہمیں اطمینان تھا کہ ہم بغیر کسی دخل اندازی کے کالج میں گھوم سکیں گے……..اور ہم اس میں کامیاب بھی ہو گئے۔

برسوں کا شوق آج پورا ہو رہا تھا……..مَیں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ میرے اندر جذبات کا کتنا بڑا طوفان تھا جو اس وقت پوری شدت سے امنڈ آیا جب ہم نے کالج کی عمارت میں قدم رکھا۔

یہ کالج کی لائبریری تھی جہاں میں دن کا زیادہ وقت گزارتا تھا اور جہاں مَیں نے وہ ماہوار رسالہ کھول کر دیکھاتھا جس میں میری پہلی نظم شائع ہوئی تھی۔

پھر کالج ہال آیا جس کے اونچے اونچے چار دروازے تھے۔ اس ہال میں مَیں نے کئی جلسے خود کروائے تھے۔ تقریریں کی تھیں مشاعرے پڑھے تھے۔ راتوں کو مباحثے کروائے تھے۔ جشن منائے تھے!

پھر وہ کمرہ جس میں ہم بی۔ اے کے دو لڑکے پروفیسر صاحب کے سامنے بیٹھ کر اردو ادب پڑھتے تھے۔ پھر انگریزی کا کمرہ، پھر پرشین اور پھر اکنامکس کا کمرہ۔ ان سب کمروں کے ساتھ ان گنت یادیں وابستہ تھیں۔ روشن، چمکیلے، مسکراتے، حسین و جمیل نوجوان، دلکش چہرے جو ماضی کے البم سے نکل کر جیسے زندہ ہو گئے ہوں اور جو میرے ارد گرد ہجوم کرنے لگے ہوں ……..مَیں پاگلوں کی طرح کمروں کے بند دروازوں کے شیشوں میں سے اندر جھانک رہا تھا!

دفعتاً مجھے محسوس ہوا جیسے مَیں ہانپ رہا ہوں ……..میرا چہرہ میرے آنسوؤں سے بھیگنے لگا ہے۔ میرے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب……..بہت بے ترتیب ہو رہی ہیں ……..اور پھر مجھے محسوس ہوا جیسے مَیں اپنے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہوں !میری سانس بہت تیزی سے چل رہی تھی! ابھی کچھ کمرے باقی تھے……..مگر مجھے یکلخت ایسا لگا جیسے مَیں کسی خطرناک جگہ پر کھڑا ہوں ……..اور اپنے کہے میں نہیں ہوں ……..میرے دماغ میں فوری طور پر یہ خیال آیا مجھے اس مقام سے……..اس فضا سے……..جتنی جلدی ممکن ہے نکل آنا چاہیے……..ورنہ……..ورنہ……..!

مَیں عمارت کی گیلریوں سے نکل کر بیرونی راہداری میں ……..قدرے کھُلے میں آ کر کھڑا ہو گیا……..میرے دوست میرے ہمراہ بہت نارمل حالت میں کھڑے تھے۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی تاکہ اس کیفیت سے نکل سکوں جس کے سحر نے مجھے بے بس کر دیا تھا……..مگر مَیں بڑی مشکل سے دھیما سا مسکرا سکا……..اس طلسم کو اپنے حواس پر پوری قوت سے طاری ہوتے ہوئے محسوس کر رہا تھا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ مجھے دکھائی نہیں دے رہا تھا……..کوئی مجھے آگے……..اور آگے دھکیل رہا تھا……..تاریک ڈھلوان پر لڑھکنے کے لیے!

مَیں عجیب سی بے بسی محسوس کر رہا تھا……..ایک لحظے کے لیے میرے ذہن میں یہ خیال آیا…….. “:شاید مَیں اس کیفیت سے باہر نہ آ سکوں “……..اور تب ایک خوف اور سراسیمگی کی حالت مجھ پر طاری ہونے لگی! “کیا کسی شوق کی تکمیل کا انجام اس طرح کا بھی ہوسکتا ہے”؟ میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا۔

“ہاں اگر کسی شوق کو بے مہار چھوڑ دیا جائے” جواب آیا۔ والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے “جس کھانے کا بہت شوق ہو وہ بہت مشکل سے ہضم ہوتا ہے” اور مَیں اس وقت کو کوسنے لگا جب مَیں نے ماضی کی بازیافت کے اس شوقِ فضول کو اپنے جی میں جگہ دی تھی……..اور پھر اسے بے لگام چھوڑ دیا تھا!

میرے اندرسے کسی نے زوردار آواز میں کہا

“مجھے پوری طاقت کے ساتھ اپنے آپ پر قابو پانا چاہیے……..”! مَیں نے مُڑ کر دیکھا……..واپسی کا راستہ موجود تھا……..صرف مجھے اپنا رُخ تبدیل کرنا تھا……..مَیں نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک طاقتور آدمی سمجھا ہے……..مَیں نے اپنے حواس کو بڑی آہستگی سے جمع کرنا شروع کیا! اپنی تمام قوت کے ساتھ رُخ تبدیل کرنے کے لیے قدم اٹھایا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری قوت…….. بحال ہونے لگی ہے! پہلی دفعہ……..بہت دیر کے بعد……..مجھے سکون……..اور اعتماد کی ہلکی سی……..گہری سانس نصیب ہوئی……..! مَیں پلٹ آیا تھا!

میرے دوستوں نے جو آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے……..اور شاید میری باطنی حالت سے یکسر بے خبر……..مجھے مخاطب کر کے کہا “حمیدی صاحب اب یہاں سے فارغ ہوں ……..کھانے پر جانا ہے۔ وہ لوگ ہمارے منتظر ہوں گے”۔ ! تب میری توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی……..ایک لمبی جست بھر کر مَیں نے واپسی کا بہت سا راستہ طے کر لیا تھا……..اور اس طلسماتی مقام سے دُور نکل آیا تھا جہاں مَیں بہت دیر تک بے دست و پا کھڑا تھا!

رستم نے اپنے دشمن سہراب پر غلبہ پا لیا تھا!! مَیں نے نظریں اٹھا کر دیکھا سورج اپنے اگلے سفر پر رواں دواں تھا!!

٭٭٭

 

 

 

 

دہشت گرد

 

 

گذشتہ کچھ عرصے سے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے خلاف قومی اور بین الاقوامی طور پر دہشت گردی ہو رہی ہے !کئی ایک شہروں سے کلاشنکوفوں کے چلنے اور بموں کے دھماکوں کی آوازیں مَیں سنتا رہتا ہوں۔ سمندر پار سے بھی ایسی ہی خوفناک آوازیں میری سماعت کا حصّہ بن رہی ہیں۔ پھر پریس جس دہشت ناک انداز میں اس دہشت گردی کو پیش کرتا ہے وہ بجائے خود دہشت گردی سے کم نہیں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے یہ سب کچھ اہمیت اور طاقت حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ہر کوئی گویا اپنی اپنی آواز میں مجھے مخاطب کر رہا ہے کہ “ادھر دیکھو مَیں بھی ہوں ……..میری اہمیت اور طاقت کو تسلیم کرو۔”

لیکن کچھ عرصے سے وہ شعبے بھی جو بڑی خاموشی سے امن و امان کے ساتھ اپنا اپنا کام کیا کرتے تھے اب اپنے تیور بدل رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے وہ بھی بزورِ علم نہیں بلکہ بزور بازو اپنی اہمیت اور فضیلت مجھ سے منوانا چاہتے ہیں اور اپنی طرف بلکہ ان میں سے ہر کوئی اپنی ہی طرف مجھے متوجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ پتہ نہیں انہیں اپنے بارے میں یہ احساس کیوں ہونے لگا ہے کہ میں انہیں غیر اہم سمجھ رہا ہوں۔ ان سب کی اہمیت تو ہمیشہ میرے دل میں موجود رہی ہے اور گاہے بگاہے جس خاموشی سے یہ شعبے کام کرتے چلے آ رہے ہیں اسی خاموشی سے میں ان کی اہمیت کو تسلیم کرتا چلا آ رہا ہوں۔ کچھ ایسا لگتا ہے وقت میں جو تیزی آ رہی ہے یہ سب بھی اس تیزی کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ چاہتے ہیں جلدی سے مرکز نگاہ بن جائیں۔ راتوں رات امیر بننے کا جو رجحان ہمارے تمام شعبوں میں نظر آ رہا ہے۔ شاید ایسا ہی رجحان ان شعبوں میں در آیا ہے اور یوں یہ راتوں رات مرکزِ نگاہ بن جانا چاہتے ہیں۔

مثلاً کچھ سالوں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا بھر کے سائنسدان عجیب و غریب پیش گوئیاں کرنے لگے ہیں۔ کبھی سمندروں کے اُلٹ جانے کی خبر دیتے ہیں۔ کبھی قطب شمالی میں صدیوں سے منجمد برفوں کے میلوں انبار پگھل جانے کی اطلاع دیتے ہیں۔ کبھی درجۂ حرارت انتہائی زیادہ اور کبھی انتہائی کم ہو جانے کی فکر میں ڈالتے ہیں۔ کبھی کسی سیارے کی مخلوق کے زمین پر حملہ آور ہونے کی خبر فراہم کرتے ہیں۔ پھر اس خبر کو دہشت ناک بنانے کے لیے یہ بھی کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق اسلحہ سازی میں اہلِ زمین سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ گویا ان کے ہاتھوں اہلِ زمین کے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ وہ تو خدا بھلا کرے ان سیّاروں کی ان دیکھی مخلوقات کا جو فی الحال ہمارے سائنسدانوں کی دہشت گردی میں مددگار بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔ یوں بھی میرا خیال ہے اگر وہ لوگ ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں تو انہیں قوت آزمائی کے لیے زمین کا رُخ کرنے کی فرصت کہاں ملے گی…….. ہماری طرح وہ ایک دوسرے سے ہی فارغ نہیں ہو سکیں گے ……..اوّل خویش اور بعد درویش کی کہاوت وہ ضرور جانتے ہوں گے !۔

سیاّروں کی مخلوق سے ہمارے سائنسدان کچھ زیادہ پُر امید دکھائی نہیں دیتے کیونکہ گذشتہ نصف صدی سے ان کی راہ دیکھ دیکھ کر اب ان کی آنکھیں دھندلانے لگی ہیں۔ سو اس سال یعنی ۱۹۹۸ء کے وسط میں انہوں نے ایک نہایت خطرناک اور غیر ذمہ دار سیّارے کے حوالے سے عالمی سطح پر اس پیش گوئی کو پھیلا یا ہے کہ اسی نومبر میں ایک مہیب سیّارہ زمین سے ٹکرا جائے گا اور ہماری دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ وہ سیّارہ اپنے مدار سے نکل چکا ہے اور اب کا رُخِ روشن عین زمین کی طرف ہے۔ اس خبر میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اور شاید اپنی کوئی مالی مطلب برآری کے لیے یہ بھی کہہ دیا کہ امریکی صدر کلنٹن اس معاملے میں بڑی تشویش محسوس کر رہے ہیں۔ نیز انہوں نے ایک بڑی رقم سائنسدانوں کے لیے مختص کر دی ہے تاکہ وہ اس سیّارے کا رُخ کسی طرح زمین کی سمت سے ہٹا کر کسی اور طرف موڑ دیں۔ پھر اپنی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ اب دنیا کی بقا کا انحصار صرف سائنسدانوں کی مہارت اور شبانہ روز محنت پر ہے۔ فرمایا کہ سائنسدان دن رات اس سّیارے کا رُخ تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ اس سیّارے نے بھی خلائی مخلوق کی طرح اپنی ذمہ داری محسوس کی اور سائنسدانوں کی دہشت گردی میں شریکِ کار نہیں ہوا۔!

دنیا کے دوسرے ممالک میں ان پیش گوئیوں کا خدا جانے کیا اثر ہوا مگر کم سے کم مجھ پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ میں بچپن سے ایسی پیش گوئیاں سننے اور ان کے بے نتیجہ ہونے کا تجربہ رکھتا ہوں۔ مجھے یاد ہے میرے بچپن میں چھوٹی چھوٹی پرچیاں تقسیم ہوتی تھیں جن پر لکھا ہوتا تھا “قیامت بس آنے ہی والی ہے۔ توبہ کر لو اور اچھے کام کرنا شروع کر دو۔ نیز اس پرچی کی پچاس پرچیاں لکھ کر آگے تقسیم کرو ورنہ کسی بڑی مصیبت میں مبتلا ہو جاؤ گے ” وغیرہ وغیرہ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایسی پرچیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کے باعث ہمارے لوگوں نے سائنسدانوں کی پیش گوئی کو ایسی ہی ایک پرچی سے زیادہ اہمیت نہیں دی!

مَیں دیکھ رہا ہوں کہ کوئی بھی شعبہ مجھ سے نرمی اختیار نہیں کر رہا ہے ہر کوئی مجھے یہی کہتا دکھائی دیتا ہے کہ میری اور میری دنیا کی بقا صرف اس بات میں ہے کہ میں غیر مشروط طور پر اس کی اطاعت کرتا رہوں۔ مذہبی پنڈتوں کے ہاں میرے بچ نکلنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ وہ ایسے ایسے انداز میں بات کرتے ہیں کہ سُن کر دہشت طاری ہونے لگتی اگر اللہ میاں کے حُسن و احسان کی عادت سے مَیں ذاتی طور پر متعارف نہ ہوتا!

حکومتیں وطن دوستی کے حوالے سے مجھے ہمیشہ زیر بار رکھتی ہیں۔ یہ لوگ کلاشنکوفوں سے نہیں اپنے اختیارات کے ذریعے دہشت گردی کرتے ہیں کہ میرے لیے قربانیاں دینے اور ان کے لیے قربانیاں لینے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہے۔ ہر سال نئے نئے ٹیکس لگتے ہیں اور ساتھ ہدایت ملتی ہے کہ قوم قربانیاں دے۔ اب قربانیاں دے دے کر قوم کی حالت عید قربان کے دُنبے کی سی ہو چکی ہے ! میرے اپنے شعبے ادب میں یہ خیال عام ہو گیا ہے کہ لوگ ادبی ذوق سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ اسی لیے وہ اعلیٰ انسانی قدروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں سوال یہ ہے کہ خود ادیبوں میں اعلیٰ انسانی قدریں کہاں تک نظر آتی ہیں جنہوں نے ادب پڑھا ہے اور ادب لکھا ہے !

میرے بچپن کے زمانے میں والدین بچوں کے سر پر سوار نہیں ہوتے تھے کہ انہیں لازماً سی۔ ایس۔ پی افسر۔ ڈاکٹر۔ انجینئر یا اس طرح کا کوئی اور مفید پیشہ ور آدمی بنانا ہے۔ اب اگر بچہ ٹیچر بننا چاہتا ہے تو والدین بضد ہیں کہ اسے ڈاکٹر۔ انجینئر یا سی۔ ایس۔ پی افسر قسم کی کوئی مخلوق بنا کر دم لیں گے۔ یوں والدین بچوں کے لیے کسی دہشت گرد سے کم نہیں اور جب اس قسم کی دہشت گردی کا پروردہ بچہ وہ کچھ بن جاتا ہے جو وہ نہیں بننا چاہتا تھا تب وہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا دہشت گرد ثابت ہوتا ہے !

اب حالت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد اپنے اپنے سکّوں میں مجھ سے باقاعدہ جگّاٹیکس وصول کرتے ہیں۔ میرے ذرا سے انکار پر وہ جاہل۔ کافر۔ باغی غدار کی کلاشنکوف تان لیتے ہیں !

میرا مزاج کچھ ایسا ہے اور غنیمت ہے کہ ایسا ہے کہ جب بھی ماحول حد سے زیادہ سنجیدہ ہونے لگے۔ میرے اندر سے غیر سنجیدگی کی ایک چھوٹی سی لہر اٹھتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے برف سے ڈھکے سنجیدگی کے بحرِ بیکراں پر حاوی ہو جاتی ہے جیسے بعض اوقات تازہ ہوا کا ایک آہستہ خرام جھونکا ہمارے پژمردہ چہرے کو شاداب کر دیتا ہے !

ایک روز وطنِ عزیز کے خراب اقتصادی حالات کا ذکر ہو رہا تھا۔ ماحول سنجیدگی کی برف تلے میلوں تک دبتا چلا جا رہا تھا۔ بعض حضرات رونی شکل بنا کر بڑی ہی کسمپرسی کے عالم میں دائیں بائیں دیکھ رہے تھے۔ شاید اس امید پر کہ کوئی انہیں اس برف زار سے نکالے کہ اچانک میرے اندر سے میری دوست لہر نے سر اُٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ لہر ایک دلکش مسکراہٹ کی طرح میرے چہرے پر ہی نہیں میرے رگ و پے میں بھی پھیل گئی۔ تب میں نے اپنے ایک شاعر دوست سے سنا ہوا قصّہ بیان کیا اور کہا “دوستو سیاچین کی برفوں تلے ہیرے جواہرات سے بھری ہوئی کانیں ہیں۔ جونہی کسی روز اوپر کی برف پگھل گئی یہ جواہرات بھری کانیں ہمارے دامن میں اپنے منہ کھول دیں گی۔ اس لیے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں “۔

یہ کہہ کر میں نے حاضرین کے چہروں کی طرف دیکھا۔ وہاں ہلکی ہلکی روشنی اتر رہی تھی کہ اچانک محفل میں سے ایک دہشت گرد نے سر نکالا اور بولا “حمیدی صاحب اگر برف پگھلی تو اس کے پانیوں کا رُخ کس طرف کو ہو گا”؟ میں نے صورتِ حال کی نزاکت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا اور میں اس دہشت گرد کی بدنیّتی کو بھی پوری طرح بھانپ چکا تھا اس لیے فوراً کہا “سمندر کی طرف” اور تب ایک طویل زور دار قہقہہ میرے ، حلق سے نکلا اور سنجیدگی کی منحوس سرد برف زار کو میلوں تک ٹکڑے ٹکڑے کرتا چلا گیا!!!

٭٭٭

 

 

 

پہاڑ مجھے بلاتا ہے

 

 

جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا ہے پہاڑ مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے……..مسلسل!

مَیں جب زندگی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میری زندگی پہاڑ کا سفر ہے۔ مگر جیسے جیسے مَیں پہاڑ کی طرف بڑھ رہا ہوں ویسے ویسے وہ پیچھے ہٹتا چلا جا رہا ہے……..پیچھے…….. پیچھے…….. اور پیچھے! پھر بھی مَیں خوش ہوں کہ میرا سفر آگے کا ہے……..مسلسل آگے کا……..اور آگے کا!

کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کیا مَیں کبھی پہاڑ کو چھُو نہیں سکوں گا؟……..نہیں چھُو سکوں گا تو کیا ہوا! مسلسل پہاڑ کی طرف بڑھتے چلے جانا پہاڑ کو چھو لینے سے کم تو نہیں ……..!

اپنی نوجوانی میں مَیں ایک ایسے چھوٹے سے گاؤں کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ جہاں مَیں رہوں۔ اس کے ایک طرف گھنے سرسبز باغات ہوں۔ دوسری طرف روشن شفاف پانیوں بھرا دریا ہو۔ تیسری طرف چھوٹے چھوٹے پھول دار درختوں والا ٹیلہ اور چوتھی سمت مَیں خود۔ اس ٹیلے پر بیٹھ کر راتوں کو مَیں بانسری بجایا کروں۔ اگر چاند راتیں ہوں تو وصال کے گیت گاؤں اور اگر راتیں اندھیری ہوں تو بھی وصال کے گیت۔ لیکن پھر جیسے جیسے مَیں بڑا ہوتا گیا یہ ٹیلہ بھی بڑا ہوتا چلا گیا…….. حتیٰ کہ پہاڑ کی شکل اختیار کر گیا۔ اب جب بھی میں کہیں پہاڑ کو دیکھتا ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے…….. کبھی آہستہ سے ……..کبھی بلند آواز سے……..اور کبھی کبھی تو وہ بازو اٹھائے مجھے اپنی طرف آنے کے اشارے کر رہا ہوتا ہے۔ تب مَیں بے اختیار اس کی طرف کھینچا چلا جاتا ہوں …….. اور پھر وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتا ہے ……..شاید وہ مجھے کہیں اپنے پاس لے جانا چاہتا ہے……..جہاں وہ خود رہتا ہے!!

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مَیں بس پر کہیں جا رہا ہوں۔ بس فراٹے بھرتی ہوئی سڑک پر جیسے اُڑی چلی جا رہی ہے۔ مَیں کھڑکی میں سے نکل کر دُور تک پھیلے ہوئے میدانوں، دیہاتوں، کھیتوں اور سایوں سے بھرے نخلستانوں میں گھومنے چلا جاتا ہوں کہ اچانک ایک طرف سے پہاڑ میرا راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے…….. بالکل اس طرح جیسے آپ کہیں آگے جا رہے ہوں اور آپ کا کوئی نہایت عزیز دوست آپ کا راستہ روک کر کھڑا ہو جائے “مَیں آپ کو آگے نہیں جانے دوں گا…….. آج آپ میرے پاس رہیں گے”!۔

مَیں اس کے بلند و بالا قد و قامت۔ مسکراتے ہوئے چہرے اور اپنی طرف پھیلے ہوئے بازوؤں کو دیکھتا ہوں اور اس سے لپٹ جاتا ہوں ‘

“پیارے میری زندگی کا سفر تمہاری ہی طرف ہے…….. مَیں تمہاری طرف رواں دواں ہوں ……..کبھی میں تمہارے پاس آن بسوں گا…….. یقین رکھو میرے دوست……..ایسا ضرور ہو گا!!”

مَیں جانتا ہوں ابھی میرے پاس اور اس کے درمیان بہت سی زمین۔ بہت سا آسمان، بے شمار نشیب، آن گنت تنگنائے حائل ہیں جنہیں مَیں طے کروں گا……..اور یقیناً طے کروں گا!

لیکن جب بھی مَیں پہاڑ کی طرف دیکھتا ہوں وہ مجھے اپنی طرف بلا رہا ہوتا ہے…….. وہ میرے جذبوں کو…….. میری ہمتوں کو ……..میری سوچوں کو…….. میری منزلوں کو کبھی میری نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا۔ اُسے دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے رگ و پے میں آگ بھڑکنے لگی ہے۔ مَیں جب بھی اس کی سربفلک چوٹیوں کو دیکھتا ہوں مجھے اپنی منزل یاد آنے لگتی ہے……..جہاں ایک روز مجھے جانا ہے…….. ضرور جانا ہے!

جب میں گاؤں میں رہتا تھا اور مسلسل کلرکی کی چکی میں پس رہا تھا۔ تب وہ میرا دوست پہاڑ ہی تھا جو مجھے اپنی بلندیوں کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنے کی دعوت دیتا تھا اور کہتا تھا……..”حمیدی پیارے…….. تمہاری منزل میری بلندیاں ہیں …….. آؤ مَیں تمہارا منتظر ہوں “…….. اور پھر وہ بازو پھیلا دیتا۔ مجھے یاد ہے سردیوں کی صبحوں میں جب کھیتوں کی سیر کے لیے مَیں نکلتا تو دُور شمال پار ہمالیہ پہاڑ اپنی سفید پوش چوٹیوں کے ساتھ میری طرف مسکرا مسکرا کر دیکھ رہا ہوتا تھا……..پھر مجھے ایسا لگتا جیسے مَیں ہمالیہ کے زینے پر قدم بقدم بلند ہو رہا ہوں !

کیا آپ یقین کریں گے اسلام آباد میں سب سے پہلی دعوت مجھے مارگلہ پہاڑ کی طرف سے ملی تھی!؟

وہ تعطیل کی ایک روشن صبح تھی۔ مَیں جونہی گھر سے باہر آیا مارگلہ پہاڑ اپنے پورے شان و شکوہ کے ساتھ میرے دروازے پر کھڑا تھا۔ مَیں نے اس سے آنے کا وعدہ کر لیا اور پھر ایک روز مَیں اس سے ملنے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوا! تب اس روز پہلی مرتبہ مجھے پوری طرح معلوم ہوا پہاڑ قریب نہیں ہوتے اپنی دلکشی کے باعث قریب نظر آتے ہیں !

منزل نظر آنے لگے تو قدم تیز ہونے لگتے ہیں لیکن تیز قدموں کے راستوں سے اتر جانے کے امکان بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ قدموں کو دل کا نہیں دماغ کا ہم سفر ہونا چاہیے۔ پہاڑ کا سفر بہت خطرناک سفر ہے……..بس ایک قدم کی ساری بات ہے۔ پہاڑ کے سفر میں واپسی نہیں ہوتی اور اگر واپسی ہوتی ہے تو پھر ہم نہیں ہوتے!

پہاڑ کے سفر میں مجھے معلوم ہوا جو چیزیں دُور کی تھیں وہ نزدیک کی ہیں اور جو چیزیں نزدیک تھیں وہ دراصل دُور کی ہیں ……..ان خوشیوں کی طرح جو ہمیشہ نزدیک ہی نظر آتی ہیں مگر ان تک پہنچنے میں عمریں لگ جاتی ہیں۔ مجھے تجربہ ہوا کہ کٹی پھٹی پگڈنڈیوں کو کتنی احتیاط اور دانشمندانہ صبر کے ساتھ عبور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے! کہیں مجھے ایسا لگا جیسے میں دنیا کے اس حصے میں پہنچ گیا ہوں جہاں صرف میں ہوں اور بس میں ہوں ! کبھی وقت مجھے ایک طویل تنگنائے کی طرح نظر آنے لگا۔ مجھے محسوس ہوا میری ساری دانائی، میری ساری عزت……..میری تمام تر خیریت کسی نہ کسی طرح اس تنگنائے کو عبور کر جانے میں ہے……..کہیں راستے نے اچانک میرا ساتھ چھوڑ دیا اور مَیں ٹھٹھک کر رہ گیا……..مَیں نے نظریں اٹھا کر دُور تک دیکھا……..دُور پار راستہ چمکتا ہوا نظر آتا تھا…….. مگر وہاں کوئی راستہ جاتا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کبھی میں ایک ایسے دوراہے پر پہنچ گیا جہاں درست راستے کی پہچان بے حد مشکل تھی…….. تب میں نے نظریں اٹھا کر پہاڑ کی طرف دیکھا وہ کسی مہربان ممتحن کی طرح مسکرا مسکرا کر مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی ساری ہمدردیاں میرے ساتھ تھیں مگر اس کے ہونٹ خاموش تھے۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی وہاں مجھے ایک ایسا جذبہ نظر آیا جو کہہ رہا تھا…….. “دیکھو دوست گھبرانا نہیں ……..مَیں تمہاری آمد کا منتظر ہوں ” تب میرے دل و دماغ میں ایک ایسی دانائی شعلہ زن ہونے لگی جو زمین کے سینے پر بچھے ہوئے ہزاروں سرد تاریک راستوں میں سے اپنا راستہ شناخت کر لیتی ہے ! اس راستے میں مجھے معلوم ہوا کہ آدمی کی ساری عزت اس کی کامیابی میں ہے۔ کامیاب آدمی کی دانائیاں اور ناکام آدمی کی حماقتیں شمار کی جاتی ہیں۔ اس سفر میں کئی بستیاں آئیں۔ کئی ویرانے آئے۔ کئی موسم محسوس ہوئے اور خود میرے اندر کے موسموں نے کئی رنگ دکھائے اور اپنی شدتوں کا احساس دلایا۔ تھوڑی تھوڑی دُور کے لیے کئی ہمسفر ملے ایسے بھی جو ساون کے بدلوں کی طرح مہربان، خنک، حسین تھے…….. اور بعض اپنے سفر کے خول میں بند۔ بعض بہت مددگار……..ہموار……..جن کی رفاقت سے مجھے اپنی ذات کا عرفان ملا۔ مجھ میں اعتماد آیا۔ اپنے کچھ ہونے کا احساس ہوا……..پھر بھی اکثر مجھے محسوس ہوتا رہا کہ سارا سفر دراصل مجھے اپنے ہی ساتھ طے کرنا ہے اور سارے سفر میں میرا اپنا آپ ہی میرا سب سے بڑا ہمسفر ہے……..دوسرے تو صرف اس لیے میرے ساتھ ہیں کہ مَیں بھی ہوں اور مَیں بھی کچھ ہوں ……..!

پہاڑ کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے ایک تحریک سی محسوس ہوئی ہے کہ میں اس سے ملوں۔ اسے قریب سے دیکھوں۔ اسے جان سکوں۔ سمجھ سکوں۔ شاید کہیں میرے دل میں اس کی طرح سر اٹھا کر جینے کا جذبہ ہے جو اسے دیکھ کر متحرک ہوتا ہے…….. یا شاید میرے اپنے اندر بھی کوئی پہاڑ ہو! کچھ بھی ہو اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر پہاڑ مجھے اپنی طرف نہ بلاتا تو مَیں نشیبوں کے دکھ برداشت کرنے اور بلندیوں کی طرف قدم اٹھانے کے کبھی قابل نہ ہوتا!

اسلام آباد کو مَیں پاکستان کا ڈرائنگ روم سمجھتا ہوں اور ڈرائنگ روم کس کو اچھا نہیں لگتا مگر سچ پوچھیے تو میری محبت ڈرائنگ روم سے زیادہ اس پہاڑ کے لیے ہے جس نے اسلام آباد کو تین اطراف سے اپنے بازو کے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ چوتھی سمت میں تو مَیں خود کھڑا اسے دیکھ رہا ہوں ……..ڈرائنگ روم کی کھڑکی میں سے……..

میرا گھر کچھ ایسی جگہ پر واقع ہے کہ جب بھی مَیں گھر سے باہر نکلتا ہوں پہاڑ سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ اسے دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مجھے اپنی طرف بلا رہا ہے!

میں آہستہ سے اس کی طرف قدم بڑھاتا ہوں …….. میں جانتا ہوں پہاڑوں کے سفر آہستگی سے طے ہوتے ہیں ! بڑے صبر و استقامت کے ساتھ……..مجھے معلوم ہے پہاڑ اتنے نزدیک نہیں ہوتے جتنے نظر آتے ہیں !!

٭٭٭

 

 

 

 

نام بدنام

 

میرا خیال ہے یہ کارستانی کسی ماہرِ لسانیات کی یا پھر ماہرین لسانیات کی ہے۔ !

آپ اگر اس معاملے میں دلِ درد مند رکھتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اچھے الفاظ استعمال کرنے کے عادی ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ کارنامہ ماہرِ لساّنیات کا ہے! ویسے مجھے یہ کارنامے سے زیادہ کارستانی لگتی ہے۔

میری مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتدا میں چیزوں کے نام رکھے۔ تب صورتِ حال یہ تھی کہ چیزیں اَن گنت تھیں اور میرا خیال ہے نام بھی انہوں نے خاصی بڑی مقدار میں جمع کر رکھے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی چیز بغیر نام کے نہ رہی۔ ہر چیز کو کچھ نہ کچھ نام ضرور دے دیا گیا۔ آج یہ نام اس قدر عام ہو گئے ہیں اور زبان زدِ خلائق بھی کہ ہم نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ چیزوں کے نام آخر کس بنیاد پر رکھے گئے ہیں۔ حالانکہ ہم اپنے بچے کا نام رکھتے وقت بھی نام اور بچے میں کوئی مماثلت ضرور دھیان میں رکھتے تھے۔ آج تو مجھے پتہ نہیں آپ بچے میں اور اس کے نام، میں مماثلت تلاش کرنے کا کوئی جواز سمجھتے بھی ہیں یا نہیں لیکن آج سے چالیس پچاس سال پہلے ہمارے دیہات میں جس بچے کا نام کالو رکھا جاتا تھا وہ لازمی طور پر کالا ہوتا تھا۔ ذرا سوچئے آخر کالے خاں کا نام کالے خاں ہی کیوں رکھا گیا! مَیں سمجھتا ہوں وہ لوگ آج کے لوگوں کی نسبت زیادہ حقیقت پسند تھے۔ جبکہ آج ہم بے دریغ اپنے بچے کا نام صداقت رکھ دیتے ہیں جبکہ اس کی صداقت کے کہیں آثار بھی ظاہر نہیں ہوتے! یا پھر نام رکھ دیتے ہیں آفتاب جبکہ نام ہونا چاہیے تھا کچھ اور!

اب چیزوں کی ماہیت کا تصوّر ان کے ناموں سے وابستہ ہے۔ مثلاً جب کوئی شخص لفظ “پانی” بولتا ہے تو ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی مراد وہ چیز ہے جسے ہم پیتے ہیں اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ یا جس سے نہاتے ہیں یا جس میں تیرتے ہیں۔ یا کوئی روٹی کا لفظ زبان سے ادا کرتا ہے تو فوراً ہم سمجھ لیتے ہیں کہ کھائی جانے والی روٹی مراد ہے خواہ یہ ڈبل روٹی ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں یہ خیال بھی آتا ہے کہ ڈبل روٹی کیا دُہری روٹی ہوتی ہے اور کیا پھر کبھی ٹرپل روٹی کا بھی امکان ہے؟ یا مثلاً جب کوئی کہتا ہے “جوتے” تو ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دقّت نہیں ہوتی کہ اس کی مراد پاؤں میں پہننے والی کوئی چیز ہے!

یہاں تک تو بہت خیریت ہے لیکن اگر روٹی کا نام جوتے رکھ دیا گیا ہوتا تب صورتِ حال کیا ہوتی؟ ذرا اس پر بھی غور فرمائیے!

مثلاً ڈاکٹر آپ کے پیٹ کی خرابی کے لیے دوائی دیتا اور پرہیز کے طور پر کہتا “جناب دو دن تک جوتے کھانے سے پرہیز کیجیے ورنہ آپ کی انتڑیاں زخمی ہو جائیں گی۔ ”

آپ کسی کو دعوت پر مدعو کرتے اور نہایت ادب اور اخلاص کے ساتھ کہتے “جناب آج دوپہر ہمارے ہاں تشریف لائیے اور جوتے کھائیے”۔ کوئی سیاستدان “روٹی۔ کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگانے کی بجائے “جوتے۔ کپڑا اور مکان” کا نعرہ بلند کرتا۔ دوسرا اس کے جواب میں پریس ریلیز بھیجتا اور کہتا “اے میرے پیارے اہل وطنو میرے مخالف کے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں۔ وہ آپ کو جوتے کہاں سے کھلائے گا وہ تو خود دوسروں سے جوتے کھاتا پھرتا ہے۔ آپ مجھے ووٹ دیجیے۔ میں نہایت خلوص سے اعلان کرتا ہوں کہ برسرِ اقتدار آ کر آپ کو جی بھر کر جوتے کھلاؤں گا” ایسی ہی مثالیں دوسری چیزوں کی دی جا سکتی ہیں۔ مثلاً پانی کا نام اگر لکڑی رکھ دیا گیا ہوتا تب کیا صورتِ حال ہوتی؟ آپ اپنے ملازم سے کہتے “ایک گلاس لکڑی پلا دو” یا اگر پانی کا نام آگ رکھ دیا گیا ہوتا تو سردیوں کی شام پانی پیتے وقت آپ بیگم سے کہتے “بیگم آج تو آگ بہت ہی ٹھنڈی ہے۔ پینا مشکل ہو گیا ہے”۔

ایسا لگتا ہے ناموں کا اپنے زمانے سے بھی تعلق ہے اور مذہبی عقائد سے اور جغرافیائی صورتِ حال سے بھی تعلق ہے اور کسی ایسی بات سے بھی جو میرے علم میں نہیں ہے! مثلاً ہمارے ہاں کے سب نام ہمارے عقائد کی بنیاد پر رکھے گئے ہیں اور ہمارے عقائد کا اشاریہ بن گئے ہیں ! مثلاً میرا نام ہے محمد اکبر۔ آپ کا نام ہے ذوالفقار علی۔ ایک دوست کا نام ہے رحمت مسیح۔ اسی طرح بھگوان داس۔ کرشن چندر۔ کرتارسنگھ ہمارے ہی خطّے کے دوستوں کے نام ہیں۔ یہاں تک سب ٹھیک ہے اور سمجھ میں بھی آتا ہے۔ لیکن انگریزی ناموں میں مسٹر وُلف بھی ایک بہت پسندیدہ نام ہے۔ یعنی جناب بھیڑیا۔ یا محترم بھیڑیا۔ انہی جگہوں پر جب ہم ایک پھول کے نام پر مِس لِلّی کا نام سنتے ہیں تو طبیعت ذرا بحال ہوتی ہے اور ذہن سے مسٹر وُلف کا خوف بھی کم ہوتا ہے……..ہمارے عقائد میں گھرے ہوئے خطے میں ہی چاند بی بی اور کِکّر سنگھ کے نام بھی سننے میں آئے ہیں۔ ان سب ناموں کے الفاظ ہماری سمجھ میں آتے ہیں کہ ان کے مقرر کردہ معانی ہم جانتے ہیں۔ اصل اطمینان جان لینے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

نوجوانی میں مجھے دوسروں کے نام رکھنے کی بہت عادت تھی۔ اب میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ ہم دوسروں کی منشا کے خلاف اُن کا کوئی نام رکھ دیں !۔

کسی چیز کو معنی پہنا دینا یا کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف کوئی نام پہنا دینا دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔ ابتدا میں چیزوں کو جو نام دیے گئے وہ ایک ضرورت تھی اور میرا خیال ہے کارخانۂ حیات کو یاکارخانۂ قدرت کو چلانے کے لیے یا پھر انسان نے خود چیزوں کی پہچان مقرر کرنے کے لیے اس ضرورت کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کر دیا اور جو نام جس چیز کے لیے مناسب لگا دے دیا گیا۔ چیزوں کے مُنہ میں نہ زبان تھی نہ سر میں دماغ تھا نہ ان کے اندر کوئی خودی تھی جس کے بلند ہو جانے کا کسی وقت اندیشہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے ماہرینِ لسانیات نے بلاخوف و خطر ان کو نام دے دیئے اور ان ناموں کے ذریعے ہم ان چیزوں کو پہچاننے لگے۔

ہم انسانوں کے نام ہمارے والدین نے کسی شناخت کے لیے بھی رکھے ہیں اور ان کا جواز بھی پیش نظر رکھا ہے۔ میرا مطلب ہے جہاں تک ممکن ہے جواز کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ انسان چونکہ بول سکتا ہے۔ سوچ سکتا ہے اور کسی بھی موقع پر کسی نامناسب بات پر اپنی خودی کو بلند کر کے اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے اس لیے اس کا نام رکھتے وقت جواز اور شناخت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ مثلاً عبدالرحمان نام سنتے ہی ہم سمجھ لیتے ہیں کہ یہ صاحب مسلمان ہیں۔ رحمت مسیح۔ کرپال سنگھ۔ سمندر خاں۔ دولت رام بھی اپنی اپنی مذہبی اور ایک حد تک کلچرل پہچان کرواتے ہیں۔ مسٹر وُلف اور مِس لِلّی کے ناموں سے اس خطّے کے اندازِ فکر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ان ناموں کوسُن کر جو تاثّر، ہمارے رگ و ریشہ میں پھیل جاتا ہے اس سے ہمارے انداز فکر کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ !

لیکن ایک لحظہ کے لیے سوچیے اگر آپ نے کبھی عبدالرحمن کو مسٹر وُلف کہہ دیا تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ یا بھگوان داس کو کِکّر سنگھ کہہ کر بلا لیا۔ یا رحمت مسیح کو شمشیر سنگھ کے نام سے بلا لیا۔ تب ردّ عمل کیا ہو گا؟

اس صورتِ حال کا خیال مجھے ابھی کل ہی آیا جب ایک دیو ہیکل شخص نے! مجھے یہ کہہ کر آواز دی “ارے او مسٹر Tortoiseرُک جاؤ” مَیں نے مُڑ کر دیکھا اور کہا “جناب میرا نام اکبر حمیدی ہے”۔ اُس نے اپنی دیو جیسی لال بھبھوکا آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا آج سے تمارا نام Tortoiseیعنی کچھوا ہے۔ سمجھے۔ ” مَیں نے اس کی دیو جیسی شکل دیکھی اور فوراً سمجھ گیا!! میرا جی چاہا کہوں “تم جانور ہو”۔ مگر آواز میرے حلق سے باہر نہ آ سکی۔ !!

٭٭٭

 

 

 

 

ٹیلی فون کال

 

 

“ھیلوپڑوسی تم کیسے ہو؟ اچھے تو ہو”؟

“میں تم سے زیادہ اچھا ہوں۔ مگر تم کیسے ہو”؟

“میں بھی تم سے زیادہ اچھا ہوں ”

“مگر تم مجھ سے زیادہ اچھے کیسے ہو سکتے ہو”؟

“میری آواز میں تم سے زیادہ گھن گرج ہے”

“مگر تمہاری آواز میں مجھے کئی طرح کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے”

“اور تمہاری آواز تو پھٹے ہوئے ڈھو ل کی طرح ہے”

“اور تمہاری آواز”؟

“اور تمہاری”؟

“اور تمہاری”؟

“تمہاری….”

“تمہاری….”

“دیکھو میں تمہارا حال پوچھ رہا تھا تم نے مجھے غصہ دلا دیا۔ ”

“تم نے مجھے غصہ دلا دیا ہے۔ ”

“معلوم ہوتا ہے تم نے آج ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا۔ ”

“مجھے معلوم ہوتا ہے تم نے آج کھانا کھا لیا ہے۔ ”

“یہ تمہارے گھر ہر وقت مار دھاڑ کی آوازیں کیوں آتی رہتی ہیں “؟

“اور تمہارے گھر میں ہر وقت جو ہا ہا کار مچی رہتی ہے”

“تمہیں اتنے بڑے گھر کا کیا فائدہ اگر اس کا انتظام اچھا نہیں کر سکتے”

“تمہیں چھوٹا گھر ہونے کا کیا فائدہ اگر انتظام اچھا نہیں ”

“تم نے دوسروں کے پلاٹوں پر قبضہ کر کے گھر بڑا کر لیا ہے”۔

“اور تم تو اپنا پلاٹ بھی سنبھال کر نہیں رکھ سکے ہو”۔

“تمہارے گھر سے طرح طرح کی بولیاں سنائی دیتی ہیں ”

“اور تمہارے گھر سے تو دنیا بھر کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں۔ دروازہ بند نہیں رکھتے کیا”

“میں نے تو ہاؤس گارڈ بٹھا رکھے ہیں “۔

“میں نے تم سے زیادہ ہاؤس گارڈ بٹھا رکھے ہیں “۔

“اور میرے ہاؤس گارڈوں کے پاس کلاشنکوفیں ہیں “۔

“میرے پاس میزائل ہیں ”

“میرے پاس تم سے زیادہ میزائل ہیں ”

“میرے پاس بہت بڑا بم ہے”

“تم نے بنایا ہے تو اب میں نے بھی بنا لیا ہے”

“لیکن میں پہلے نہیں چلاؤں گا”

“میں بھی پہلے نہیں چلاؤں گا”

“مگر تم اس کی کیا گارنٹی دے سکتے ہو”؟

“اور تم کیا گارنٹی دے سکتے ہو”؟

“تو پھر بنایا کیوں ہے”؟

“تم نے کیوں بنایا ہے”؟

“تم نے کیوں “؟

“تم نے کیوں “؟

“تم نے کیوں “؟

“تم نے کیوں “؟

“آؤ صلح کر لیں اور عہد کریں کہ آئندہ کبھی آپس میں نہیں لڑیں گے”۔

“مگر پہلے تم مجھ سے دیوار کا جھگڑا طے کرو”۔

“چھوڑو جھگڑے کو، آؤ آپس میں اچھے ہمسائیوں کی طرح رہیں “۔

“مگر آخر تم جھگڑا طے کیوں نہیں کرتے۔ سب دنیا نے اپنے جھگڑے طے کر لیے ہیں “۔

“میں جھگڑا کیسے طے کر لوں “۔

“اور میں جھگڑا کیسے چھوڑ دوں “۔

“بس چھوڑ دو”۔

“مگر تم طے کیوں نہیں کرتے”؟

“مجبور ہوں “۔

“میں بھی مجبور ہوں “۔

“اچھا چلو مذاکرات شروع کرتے ہیں “۔

“ٹھیک ہے مذاکرات شروع کرتے ہیں “۔

“اور یہ تمہارے گھر سے بچوں کے چیخنے کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں “؟

“چھوٹے بچوں کو رات سے دودھ نہیں ملا…. مگر تمہارے گھر سے بھی ایسی ہی آوازیں آ رہی ہیں “۔

“میری بچی بیمار ہے۔ اسے دوائی کی ضرورت ہے”۔

“تو بچی کو دوائی لا کر کیوں نہیں دیتے”؟

“اور تم اپنے بچوں کو دودھ لا کر کیوں نہیں دے رہے ہو”۔

“بکواس نہ کرو”

“تم بھی بکواس نہ کرو”

“پھر”؟

“میرا خیال ہے ہمیں یہ جھگڑے جاری رکھنے چاہئیں “۔

“وہ کیوں “؟

“ہماری ساری ترقی ہمارے جھگڑوں اور باہمی مقابلوں کے باعث ہے”۔

“وہ کیسے”؟

“بموں کے دھماکوں کے بعد اب ہم تیسری دنیا کے اہم ترین ملکوں میں شمار ہونے لگے ہیں “۔

“یعنی اب ہم غیر ترقی یافتہ ملکوں کے ترقی یافتہ ممالک ہیں “؟

“تو اور کیا”!

“مگر وہ دیوار کا مسئلہ”؟

“چھوڑو اس مسئلے کو اور خاموشی سے ترقی کرتے رہو”

“ترقی”؟

“ہاں ترقی”

“ترقی”

“ترقی”

“مگر وہ دیوار….”؟

(رابطہ منقطع)

٭٭٭

 

 

 

 

 

گوجرانوالہ

 

 

کبھی کبھی مَیں اپنے آپ کو ایک ایسی دلہن خیال کرتا ہوں جو ایک طویل عرصہ پر مشتمل اپنی جوانی میکے میں یعنی گوجرانوالہ میں گزار کر بالآخر اسلام آباد بیاہی گئی اور آپ جانتے ہیں جن دلہنوں کو میکے میں زیادہ عمر تک رہنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ وہ سسرال جا کر بھی ساری زندگی میکے کو اور میکے والوں کو یاد کرتی رہتی ہیں۔ میری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ !

مَیں چوالیس برس کی بہاریں گوجرانوالہ میں دیکھ کر اسلام آباد پہنچا۔ گو یہاں مجھ سے سلوک ویسا ہی ہوا جیسا ایک خوبصورت دلہن کے ساتھ اس کے استقبالیہ دنوں میں ہوتا ہے اور میرے سسرال والوں نے میری خدمت خاطر میں کوئی کمی اٹھا نہ رکھی۔ سوائے اس کمی کے کہ جو سکھیاں اور راز دار سکھیاں میں گوجرانوالہ میں چھوڑ کر آیا تھا وہ مجھے یہاں میسر نہیں آئیں۔ یہاں آنکھیں نچا نچا کر باتیں کرنے والیاں اور گھور گھور کر دیکھنے والیاں تماش بین تو مجھے نظر آتی رہیں لیکن راسخ، اسلم، قاضی، انصر، خیال، تنویر جیسی سکھیاں کہاں جن سے میری راز داریاں تھیں۔ عمر بھر کا بھروسہ تھا۔ عزت و ذلت کا سانجھا تھا اور جیون مرن کا رشتہ تھا۔

اسلام آباد میں گو میری نندیں بھی ہیں۔ ساس بن کر پیش آنے والی کھچروٹ بڑھیائیں بھی مگر پھر بھی گھرکے بہت سے دوسرے لوگوں نے مجھے بہت عزت اور محبت دی لیکن یہ محبتیں کیسی بھی ہوں کتنی بھی ہوں پہلی پہلی محبتوں کے مزے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔ یہاں مَیں نے بہت سے دوست پیدا کیے……..جی ہاں پیدا کیے……..اور مجھ میں قدرت نے اتنی دلکشی ضرور رکھی ہے کہ مَیں نے جسے چاہا اپنی طرف متوجہ کر لیا اور اپنا دوست بنا لیا……..مجھے کہنے دیجیے کہ اسلام آباد کے تمام وہ لوگ جو دوستی کے لائق ہیں میرے دوست ہیں۔ جو دوست نہیں ہیں مجھے ان میں کوئی دلکشی نظر نہیں آئی یا وہ دوستی کے منصب کے لائق نہیں ہیں۔

چوالیس سال ایک عمر ہے جو مَیں نے گوجرانوالہ میں گزاری اور وہاں کی ادبی دنیا میں ایک ہنگامہ بن کر گزاری۔ گوجرانوالہ کا ایک ایک بازار ایک ایک گلی۔ ایک ایک چوک۔ دکانیں۔ کالج۔ سینما گھر۔ سڑکیں۔ مکان اور وہاں کی رونقیں سب ابھی تک میرے بطون میں موجود ہیں۔ نشاط سینما جہاں مَیں چھ ماہ تک فلم بیجو باورا تسلسل کے ساتھ دیکھتا رہا تھا۔ ریل بازار میں گوجرانوالہ کا پاک ٹی ہاؤس جسے کپور تھلہ ہوٹل کہتے تھے بھلا میرے دل و دماغ سے کبھی نکل سکتا ہے۔ جہاں صبح چھ بجے سے رات ایک بجے تک ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، سیاستدانوں کے جمگھٹے لگے رہتے تھے۔ ایسی ایسی بحثیں گرم ہوتیں کہ سامنے رکھی چائے کی پیالیاں ٹھنڈی ہو جاتیں۔ نامور صحافی بشیر صحرائی کا ہفت روزہ اخبار “قومی دلیر” جو آج کے بیشتر روز ناموں سے زیادہ معیاری اور دلکش تھا اور جس کے ذریعے مَیں نے لکھنا سیکھا اور جس میں کالم لکھ کر مَیں نے اپنے پیارے فاضل رشیدی کو متوجہ کیا جس کی تقریروں سے گوجرانوالہ کے در و دیوار گونجتے تھے۔ ڈاکٹر سرور کا اخبار روزنامہ “تحفہ” جس میں مَیں نے بے تحاشا لکھا۔ طارق مرزا کا بنایا ہوا “دستگیر” اخبار جس کے ذریعے مَیں نے مصنوعی شاعروں ادیبوں کے پول کھولے!

ریل بازار کی رونقیں انہی تینوں کے دم قدم سے تھیں۔ ریل بازار۔ بازار سیَد نگریاں۔ گوندلانوالہ چوک۔ اردو بازار۔ راسخ عرفانی کا چوک نیائیں جو مشاعروں کا مرکز تھا۔ میرے دفتر مارکیٹ کمیٹی کے مشاعرے جہاں والد صاحب مشاعروں میں پُرتکلف کھانے کا اہتمام کرتے۔ سٹیزن فین میں راسخ صاحب کی طرف سے کل پاکستان یوم آزادی کے مشاعرے۔ گنج منڈی کے عین درمیان میرا دفتر مارکیٹ کمیٹی ہے جہاں شاعروں کا جمگھٹا لگا رہتا۔ جس کے ایک طرف اسلم سراج الدین کا گھر تھا اور دوسری طرف اس کا اسکول۔ جہاں محمود احمد قاضی نے مجھے پہلا ٹیلیفون کیا تھا۔ جہاں مَیں اور قاضی دوپہر کا کھانا ماش کی مکھن سے بگھاری ہوئی دال کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ یہ وہی مارکیٹ کمیٹی ہے جس نے مجھے بہت ہنسایا اور بہت رلایا بھی۔ جو میرے بُرے دنوں کی پناہ گاہ تھی۔ جہاں مَیں نے کلرکی کی بیس سالہ چکّی کاٹی……..کبھی رو رو کر اور کبھی ہنس ہنس کر۔ ! جہاں اختر حسین جعفری کئی دفعہ آئے اور مجھے اپنے گھر مہمان بنا کر لے گئے!!

اسلامیہ کالج کی عظیم درسگاہ جہاں مَیں نے اپنی نوجوانی کے حسین ترین سال گزارے۔ جہاں مظفر علی سید تھے جن کا مَیں عاشق تھا اور جو شاید میرے بھی عاشق تھے۔ ڈاکٹر وحید قریشی تھے جن سے آج بھی میرا محبت و مؤدت کا رشتہ ہے۔ میرے محبوب پروفیسر اسرار احمد خان سہاروی تھے جن کے گھر سٹلائیٹ ٹاؤن میں آخر دم تک مَیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتا رہا۔ جہاں پرنسپل ملک احمد حسن تھے جنہیں ہم قائد اعظم کہا کرتے تھے……..اور کالج کینٹین کے عین سامنے سڑک کے دوسری طرف کریانے کی دکان میں بیٹھی ہوئی وہ حسین و نوخیز لڑکی جس سے ہم بلا ضرورت بھی سگریٹ لینے جایا کرتے تھے۔ جس کے سامنے کھڑے ہو کر عین سڑک کے اوپر جمیل اپنا فیلٹ اٹھا کر ڈانس کیا کرتا تھا اور ہم اس کے چاروں طرف کھڑے تال دیا کرتے تھے۔ گرجاکھ کے آغاز پر کالج سے قریب تر سینما میں برجیٹ بار ڈٹ کی فلم دیکھنے ہم ہر جمعہ کو جاتے جسے جنسی بلّی کہا جاتا تھا۔

اردو بازار میں منظور بُک ڈپو، اسلامی کتب خانہ، حافظ بُک ڈپو بس دوچار دکانیں تھیں۔ جی۔ ٹی۔ روڈ بھی خاصی خالی خالی ہوتی تھی۔ جہاں اکثر انصر، قاضی اور مَیں پیدل گھوما کرتے تھے۔ اور پھر اسلم کے گھر بھی پاؤں کے بل پہنچتے تھے۔ اسلم کا وہ چھوٹا سا بیڈ روم جہاں مَیں کئی دفعہ ٹھہرا۔ انصر کا گھر۔ راسخ صاحب کا ذاتی اندرونی بیڈ روم۔ جہاں مَیں ہمیشہ ٹھہرا کرتا۔ میاں ایم۔ آئی شمیم صاحب کا بالاخانہ جہاں ہم اکثر چائے پیتے۔ امین خیال کا دو مرلے کا گرجاکھی دولت خانہ جس کے اوپر ایک کمرا نہیں کمری تھی اور جو امین خیال کی پناہ گاہ تھی۔ انصر کا گھر جہاں ہمیں زندگی کے بہترین کھانے ملے۔ اسلم کی خاموشیاں اور سنجیدگیاں۔ قاضی کی گھُرکیاں۔ انصر کی چہلیں خیال کے قہقہے یہ سب وہ دولتیں ہیں جو میرا سرمایہ تھیں اور سرمایہ ہیں۔ منیر عصری کی حیرتیں بلکہ وحشتیں۔ سادگیاں مگر شاعری میں دیوانگیاں نہیں فرزانگیاں۔ تنویر کی چاہتیں اور راسخ عرفانی کا وہ جملہ کہ “مَیں اکبر حمیدی کے لیے سارے شہر کو چھوڑ سکتا ہوں “۔ راز کاشمیری کی مروتیں۔ احسان رانا کی صحبتیں۔ محمد احمد شاد کی خجالتیں۔ وہ دوستوں کی جانثاریاں اور مخالفوں کی جاں کاریاں مگر بے اختیاریاں۔ وہ ارشد میر کا کہنا کہ “اکبر حمیدی میرے چچا زاد بھائی ہیں “۔

اسد اللہ مرزا کا گھر جو کالج کے زمانے میں میری قیام گاہ رہتا۔ اور مشفق و مہربان اور عالمِ بے بدل مُفتی جعفر حسین صاحب سے ملاقاتیں جو مہر و محبت کے پیکر تھے اور جنہوں نے میری نظم “زندگی” سُن کر مجھے بہت داد دی تھی۔ لاہوری دروازے کے اندر صوفی کی چائے۔ اللہ رکھے کے کباب۔ جھُورے کی دیگ کا گوشت۔ محمد شریف کی ٹھنڈی میٹھی کھیر۔ بڑے چوک میں فالودے کی دکانیں۔ جی۔ ٹی۔ روڈ کے نِکّے کباب۔ ریلوے اسٹیشن کی کنٹین جہاں چوبیس گھنٹے چائے ملتی تھی۔ گوندلانوالہ چوک میں ماسٹر حمید کا دفتر۔ بازار خراداں میں اسد اللہ کے والد مستری جیب اللہ کے خرادوں کی مشہور دکان۔ جب گوجرانوالہ انڈسٹری سے برسوں دُور تھا۔ اسلم شیخ کے والد شیخ عبدالرشید صاحب جو ہائڈ مارکیٹ کے چیئرمین تھے اور جن کے ہاں میں چھ ماہ تک رہائش پذیر رہا۔ جہاں ملنے کے لیے آنے والے کالج کے دوستوں سے مجھے پھاٹک کی کھڑکی میں سے بات کرنے کی اجازت تھی۔ پھاٹک سے باہر آ کر ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ کنور گڑھ میں رہائش جہاں مَیں نے پہلی مرتبہ ناصر کاظمی کو دیکھا! وہ افضل سہیل کی اکلوتی غزل جس سے وہ مشاعرہ لوٹ کیا کرتا تھا اور اس غزل کا مقطع……..

ایک افضل ہی نہیں کوچۂ رسوائی میں

آپ کا نام بھی بدنام ہے ماشا اللہ

سنا ہے اب افضل سہیل کوچۂ رسوائی سے نکل گیا ہے۔ خدا کرے یہ خبر غلط ہو۔ !

مجھے یہ تو یاد نہیں مَیں گوجرانوالہ میں پہلی مرتبہ کب آیا کہ میری مستقل رہائش تو اس کے گاؤں فیروزوالہ میں تھی۔ ہاں مَیں چھٹی کلاس میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل ہوا تھا۔ شیخوپورہ روڈ کے پاس اور اس درسگاہ سے میری کتنی ہی یادیں وابستہ ہیں۔ ماسٹر عبدالحق صاحب کو مَیں کیسے بھول سکتا ہوں ! اور وہ لکڑی کا کام سکھانے والے ماسٹر صاحب جو مجھے دیکھتے ہی آتش زیرپا ہو جاتے تھے کہ اس زمانے میں مجھے آوارہ گردیوں نے مبتلا کر رکھا تھا۔

وہ زمانے بہت ہی عجیب تھے جب کسی کو شہرت حاصل کرنے اور اخباروں میں تصویریں چھپوانے کا کوئی شوق نہیں تھا بس شعر کہنے کا اور شاعری میں ایک دوسرے سے بڑھ کر اچھا شعر کہنے کا جنون تھا۔ اور اس جنون سے شہر گونج رہا تھا۔ مائل کرنالی۔ راسخ عرفانی۔ شہید جالندھری۔ سلیم اختر فارانی۔ اثر لدھیانوی۔ کوثر جموی۔ والد گرامی چودھری منظور احمد منظور اساتذۂ شہر تھے۔ پنجابی شاعری میں علامہ یعقوب انور کا ڈنکا بجتا تھا اور اس ڈنکے کی آواز پورے پنجاب میں سنائی دیتی تھی۔ وہ گوجرانوالہ کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے شاعر تھے۔ نہایت بانکے ترچھے دلنواز دوست اور جدید تر آہنگ کے پنجابی شاعر۔ غلام مصطفی بسمل کی اس زمانے میں اٹھان تھی اور جان کاشمیری مشق و ریاضت کے لیے اثر لدھیانوی کے دامن سے وابستہ تھے۔

میری زندگی کا یہ زمانہ ایسا ہے جب مَیں گھڑا جا رہا تھا۔ بھرا جا رہا تھا اور گوجرانوالہ کے ان سب ہنگاموں میں مرکزی نہیں ورکری کردار ادا کر رہا تھا۔ اس زمانے کو اب مَیں نے یوں ادا کیا ہے۔

مجھ کوساری وسعت میرے شہر نے دی

مَیں تو گوجرانوالہ میں لاہور ہُوا

اب مَیں سسرال میں بیٹھا اپنے میکے کو یاد کر رہا ہوں جس طرح دلہنیں ساری عمر سسرال میں بیٹھ کر اپنے میکے کو یاد کرتی رہتی تھیں ……..

غالب بھی آگرہ چھوڑ دلّی میں آن بسا تھا……..مگر زندگی بھر آگرے کی پتنگوں اور دوستوں مثلاً بنسی دھر کو یاد کرتا رہا۔ ! شیکسپیئر بھی اپنے میکے گاؤں کو یاد کرتے نہیں تھکتا!

کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ لڑکیاں اپنے جنم سنگھاسن کو ترک کر کے اور اپنے جی جان سے پیاروں کو چھوڑ چھاڑ کر کس طرح سسرال میں آ کر عمر بھر کے لیے بس جاتی ہیں ……..مگر اب مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنے میکے کو چھوڑ کر نہیں آتیں بلکہ میکے کو اپنے جی جان میں ڈال کر اپنے ساتھ ہی سسرال لے آتی ہیں ……..بالکل اس طرح جیسے مَیں گوجرانوالے کو اپنے آپ میں ڈال کر اسلام آباد لے آیا ہوں۔ کبھی مَیں گوجرانوالہ میں رہتا تھا……..اب گوجرانوالہ مجھ میں رہتا ہے…….. مَیں جب چاہوں گردن جھکا کر اسے دیکھ سکتا ہوں …….. اور جب چاہوں دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوسکتا ہوں !!

٭٭٭

 

 

 

 

آگ

 

 

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا!

کہتے ہیں حضرت موسیٰ آگ لینے کوہِ طور پر گئے اور پیغمبری لے کر آ گئے….ہم روٹی پانی کے لیے اسکول کالج گئے اور ادب کی آگ لے آئے۔ اُس وقت تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلا ہم اسے روٹی پانی ہی سمجھتے رہے مگر گھر آ کر جو دیکھا تو اس میں روٹی پانی کم اور آگ زیادہ تھی….مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ ہماری دوڑ تو اسکول کالج تک ہی تھی سو ہم یہ دوڑ دوڑتے رہے……..کوہِ طور تک پہنچنا ہمارے بس میں نہیں تھا….ویسے بھی ہمارے اور کوہِ طُور کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ !

ہمارے حصّے میں جو آگ آئی اس نے ہمیں جلایا بھی بہت مگر روشن بھی کیا۔ اس روشنی میں ہم کیا کیا دیکھتے رہے۔ اس کی تفصیل بتانی ممکن نہیں اور نہ ہی ابھی اس کا وقت آیا ہے۔ یوں سمجھیے کہ ایسی چکا چوند تھی جس میں بسا اوقات سوائے اپنے کچھ اور دکھائی ہی نہیں دیتا تھا……..اور اگر کبھی کچھ اور دکھائی دیتا بھی تو وہ ….وہ نہ ہوتا جو ہَم سمجھے ہوتے ….تب ایک عجیب طرح کی کشمکش شروع ہو جاتی جو اکثر دید اور شنید کے درمیان ہوتی رہتی ہے….سو جب ہم جمع تفریق کرتے تو اکثر حاصل کچھ نہ ہوتا!

مجھے یاد ہے اپنے لڑکپن اور جوانی میں مجھے عجیب طرح کا تجربہ ہوتا رہا۔ اس تجربے کا تعلق میری آزادہ گردیوں سے تھا……..مَیں یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ مَیں نے لڑکپن اور نوجوانی کی آوارہ گردیوں کو کبھی آوارہ گردیاں نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ آزادہ گردیاں ہی کہا ہے کیونکہ ان آزادہ گردیوں کو کبھی آوارہ گردیاں نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ آزادہ گردیاں ہی کہا ہے کیونکہ ان آزادہ گردیوں میں نظر اور خبر کے دونوں سلسلے قائم ہوتے……..مگر اس فرق کے ساتھ کہ نظر کا تعلق اس آگ سے ہوتا جو مجھ سے باہر اپنے جلوے دکھاتی اور خبر کا تعلق اس آگ سے ہوتا جو میرے اندر کی دنیاؤں کو روشن کرتی۔ اگرچہ باہر کی آگ میں بھی خبر کے پہلو شامل ہوتے مگر اس خبر میں خبروں کا ایس اژدہام ہوتا جیسا کسی اچھی خبررساں ایجنسی میں ہوتا ہے اور پھر اس اژدہام میں مطلوبہ اور موزوں خبریں چھانٹنی پڑتی ہیں جو ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی ایسی خبر کو ہاتھ میں نہ لے لیں جس میں کسی نے دانستہ آگ بھری ہو اور آگ بھرنے والے نے کسی اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے آگ بھر رکھی ہو۔

اکثر اوقات لڑکپن اور نوجوانی کی کئی گھٹا ٹوپ اندھیری راتیں مَیں نے گھر سے دُور کھلے آسمان تلے بسر کی ہیں ……..بسر بھی کی ہیں اور سفر بھی کی ہیں۔ تب اس تاریک ماحول میں جب کچھ دکھائی نہ دیتا۔ یکلخت بجلی چمکتی اور اس چمک میں جو بادلوں میں بھری آگ کے باعث ہوتی مجھے اپنا ماحول بھی دکھائی دیتا اور راستہ بھی……..مگر آپ حیران ہوں گے کہ لطف اس وقت آتا جب اس چمکتی آگ میں مجھے اپنا آپ دکھائی دیتا……..آگ کی یہ چمک ایک لحظے ہی کے لیے ہوتی مگر کتنی ضروری ہوتی تھی……..مجھے یوں لگتا آگ کی اس جلوہ گری نے میرے اندر ایک نئی آگ بھر دی ہے….جیسے یہ دونوں آگیں دراصل ایک ہی ہوں اور ایک دوسری سے ہم رشتہ ہونا چاہتی ہوں ……..جیسے ایک دوسری کی تلاش میں ہوں۔ مجھے یوں لگتا بادلوں میں دھڑکنے والی اس آگ نے مجھے آگ سے بھر دیا ہے….جیسے بیٹری چارج نہیں کی جاتی!؟ بالکل اسی طرح یہ آگ مجھے چارج کر دیتی……..بغیر کسی سرچارج کے۔ اکثر اس آگ کی روشنی میں مجھے اپنا آپ دکھائی دے جاتا!!

مجھے یاد ہے مَیں نے ایک مرتبہ ایک ایسا آتشیں چہرہ دیکھا جس میں آنکھیں اور لب و عارض اس قدر دھک رہے تھے کہ مَیں نے محسوس کیا اگر ایک نظر اور مَیں نے دیکھ لیا تو مجھے آگ لگ جائے گی اور مَیں جل اٹھوں گا……..یہ ایک عجیب تجربہ تھا……..جب مَیں نے اپنے اس تجربے کا ذکر اپنے ایک انشائیہ نگار دوست سے کیا تو وُہ بہت ہنسے اور انہوں نے اس کا ذکر کئی ایک دوستوں سے میری موجودگی میں کیا……..یہ ایک نادر تجربہ تھا……..اس لیے نہیں کہ مَیں نے ایک نادر چہرہ دیکھ لیا تھا……..بلکہ اس لیے کہ مجھے اپنے باطن میں ایک نادر و نایاب آگ کی شدت کا احساس ہوا تھا……..مجھے اندازہ ہوا تھا کہ مَیں کس قدر زندہ ہوں ……..اور مجھ میں خارج سے داخل میں اترنے والے راستے کتنے حساّس اور کشادہ ہیں ……..اور میرے باطنی آلات کس قدر فعال ہیں !!

جوشیلے اور جذباتی لوگ ہم عام طور پر اچھے نہیں سمجھے جاتے……..مگر مجھے ہمیشہ اچھے لگے ہیں کہ ان میں زندگی کی آگ بہت تیز ہوتی ہے……..زندگی کی آگ دراصل جذبوں کی آگ ہے اور جذبوں کی آگ ہی تخلیق کی آگ ہے……..اب یہ الگ بات ہے کہ اس آگ کو کوئی فیملی پلاننگ کی خلاف ورزی کرنے میں صرف کرتا ہے یا کوئی اس سے اپنے باطن کو جِلا دیتا ہے۔

دراصل آگ ہی زندگی کی قوت ہے۔ جو کوئی اسے خارجی معاملات و مسائل کی بہتری کے لیے استعمال کرتا ہے اس کے ذریعے اپنے معاشرتی ماحول کو روشن کرتا ہے اور جو اسے اپنے باطن کی روشنی کے لیے استعمال کرتا ہے وہ اپنی شخصیت کو روشن کر لیتا ہے۔ یہیں سے ایسے بہت سے راستے نکلتے ہیں جو کائنات کو روشن کرنے والوں کے لیے ہوتے ہیں اور یہیں سے تخلیق کاروں اور صوفیوں کے راستے تھوڑے تھوڑے فاصلے سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ !!

آگ تو آگ ہے……..وہ روشن بھی کرتی ہے……..اور جلاتی بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ روشن کرنے کے لیے یا جلانے کے لیے؟ اگر روشن کرنے کے لیے تو کسے؟ اور اگر جلانے کے لیے تو کسے جلانے کے لیے؟ کہیں ہم اسے خود کو جلانے کے لیے تو استعمال نہیں کر رہے ہیں ؟

آگ زندگی ہے! آگ تخلیقی قوت ہے! اور ان قوتوں کے اظہار کا استعار ابھی….یہ بات مَیں ایک شاعر کی زبان سے پیش کرتا ہوں …….. شاید اس طرح بہتر انداز میں وضاحت ہو اور آپ اس سے خوش بھی ہوں ……..اور شاید اسے پڑھ کر آپ کے اندر کی آگ میں پُر لطف لہریں پیدا ہونے لگیں ……..ممکن ہے ان لہروں کی آب و تاب میں آپ کو اپنا آپ بھی دکھائی دے جائے۔ شعر ہے:

وہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگے

مژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے

یہاں مَیں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ اپنے جذباتی پن کو قائم رکھنا جہاں ضروری ہے وہاں اتنا ہی ضروری اسے قابو میں رکھنا بھی ہے….! جیسے تلوار کی دھار پر چلنا سخت مشکل ہے اسی طرح اپنے جذباتی پن کو قائم رکھنا اور پھر قابو میں بھی رکھنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ !

جذبے وہ آگ ہیں جو زندگی کی برفباریوں میں آپ کو گرم رکھتے ہیں اور برف نہیں ہونے دیتے۔ تیز جذبہ ایک ایسی گاڑی ہے جس کی حدِ رفتار عام گاڑیوں کی حدِ رفتار سے زیادہ ہے۔ گاڑی کی حدِ رفتار کا زیادہ ہونا ایک خوبی ہے مگر اسے قابو میں رکھنا گاڑی کی سلامتی کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہے……..مگر اس کے لیے آپ کو گاڑی کی آگ پر قابو رکھنے سے زیادہ خود اپنی آگ پر قابو رکھنے کی ضرورت ہے کہ اصل خطرہ اپنی آگ سے ہے!!

ایک پیغمبر کے لیے آگ جلوۂ ربی تھا……..مگر ایک تخلیق کار کے لیے آگ تخلیقی قوت ہے…….. اور عام انسان کے لیے آگ وہ قوت ہے جو اسے سب تنگ و تاریک حالات میں زندہ۔ روشن اور کشادہ رکھتی ہے…….. یہ وہ آگ ہے جس کا شعلہ برفیلے موسموں میں بھی فروزاں رہتا ہے!

کہتے ہیں پانی زندگی ہے……..مگر آگ قوت ہے اور قوّت کے بغیر زندگی بے معنی ہے……..مگر کبھی کبھی جب پانی میں آگ بھر جاتی ہے تو پانی آگ بن جاتا ہے……..پانی کو آگ لگ جاتی ہے……..پانی کو آگ لگنا بہت ضروری ہے……..زندگی کے سب مظاہر……..سب اظہار……..سب کرشمے کرامات……..ڈائقے……..رنگ ڈھنگ……..پانی کو آگ لگنے سے ہی ظاہر ہوتے ہیں ……..ورنہ انسان پانی کے جوہڑ میں پڑے ہوئے ایک پتھرسے زیادہ نہ ہوتا!!

مجھے ایسا لگتا ہے انسانی زندگی آگ اور پانی کا کھیل ہے……..انسان کے باطن میں زندگی بھر آگ اور پانی کا کھیل جاری رہتا ہے……..جب تک آگ پانی پر حاوی رہتی ہے…. اور پانی کو آگ بنائے رکھنے کی قوت بحال رکھتی ہے……..تب تک انسانی زندگی کا کھیل جاری رہتا ہے……..لیکن پھر وہ وقت بھی آتا ہے جب پانی آگ کو بجھا دیتا ہے……..اور آدمی سرد پانی سے بھر جاتا ہے……..تب وہ آگ باقی نہیں رہتی جس کی روشنی میں ہمیں اپنا آپ نظر آتا تھا……..اصل بات تو اپنا آپ نظر آتے رہنے میں ہے۔

زندگی تو اپنا آپ نظر آنے تک ہے……..اور یہ کرشمہ آگ ہی ہمیں دکھا سکتی ہے۔ پانی میں تو ہم صرف اپنا سایہ ہی دیکھ سکتے ہیں ….صرف سایہ!!

٭٭٭

 

 

 

 

مچھلیوں بھرے تالاب

 

کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم سب مچھلیاں پکڑنے کی ڈوریاں اپنے اپنے تالابوں میں ڈالے کناروں پر بیٹھے ہیں اور مچھلی کے کانٹے سے لگنے کے منتظر ہیں !!

کس کانٹے کو کون سی مچھلی لگتی ہے؟ کتنی بڑی مچھلی لگتی ہے؟ کب لگتی ہے؟ اس میں ہمارا کوئی دخل نظر نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے مچھلی کو ڈوری کے رنگوں میں بھی کوئی کشش نظر نہیں آتی….شاید کانٹے پر لگے گوشت کی بُو اسے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے یا پھر اس گوشت کا ذائقہ جسے وہ آہستہ آہستہ نوچنا شروع کرتی ہے……..مَیں ذاتی طور پر تقدیر پرست انسان نہیں ہوں مگر مچھلی اور کانٹے کے مسئلے پر غور کرتا ہوں تو اس میں اپنا اختیار اتنا ہی دکھائی دیتا ہے کہ مَیں کانٹے دار ڈوری تالاب میں ڈال دوں ….اور بس بیٹھا انتظار کروں !!

مَیں نے زندگی کو کئی سطحوں پر گزارا ہے اور خدا کا شکر ہے کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ زندگی نے مجھے گزارا ہو۔ ورنہ ایسا بھی اکثر لوگوں ….اور اچھے اچھے لوگوں کے ساتھ ہوا ہے کہ زندگی گزار رہے ہیں …. اور پھر یکلخت زندگی نے انہیں اپنی آہنی گرفت میں لے لیا ہے اور اپنی منشا کے مطابق انہیں گزارنے لگی ہے…. اور وہ سیلاب کی رو میں بہنے والے تنکے کی طرح بڑی ہی بے بسی سے زندگی کے رحم و کرم پر گزرنے لگتے ہیں !

مَیں نے گاؤں کی زندگی بسر کی ہے۔ پھر شہر کی…. اور پھر ملک کے دار الخلافے کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ یہ سب تالاب ہیں اور مَیں نے ان سب کو مچھلیوں سے بھرے ہوئے پایا ہے۔ اور ان سب میں مَیں نے مچھلیاں پکڑنے کا تجربہ کیا ہے اور یوں میرے پاس رنگا رنگ تجربے ہیں اور رنگا رنگ مچھلیاں ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ مَیں کبھی بڑے ساز و سامان والا آدمی نہیں بنا کہ جال کاندھے پر ڈال کر نکلوں اور منوں کے حساب سے مچھلیاں پکڑوں۔ مگر میری کُنڈی نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ ویسے بھی میرا خیال ہے جو مزا کنڈی سے مچھلیاں پکڑنے میں ہے وہ جال سے پکڑنے میں نہیں۔ کُنڈی سے پکڑنے میں صبر و سکون، انتظار، آہستگی اور تفریحِ طبع کا سا مان ہے۔ جبکہ جال سے مچھلیاں پکڑنے میں ہوس کاری۔ جلد بازی اور افرا تفری ہے۔ تفریح کی بجائے بے اطمینانی اور کاروبار کی بے چینی ہے کھیل کا لطف نہیں ! راتوں رات امیر بن جانے کی جلد بازی ہے!

آپ کی طرح میری زندگی میں بھی کئی رنگ آئے ہیں ….بے رنگی اور بد رنگی کبھی نہیں آئی…. اور اگر کبھی ایسا محسوس ہونے لگا ہے تو مَیں نے بے رنگی اور بد رنگی میں تھوڑا سا رنگ ڈال لیا ہے۔ گاؤں میں میرے بچپن اور جوانی کے زمانے بسر ہوئے ہیں اور ان زمانوں کے مختلف اوقات میں میرے مشغلے بھی مختلف بلکہ رنگا رنگ ہوتے رہے ہیں !

سو ایک وقت میرے لڑکپن میں ایسا بھی آیا جب مَیں دوسرے لڑکوں کے ساتھ صبح ناشتے کے بعد کُنڈی اپنے تھیلے میں ڈال کر “مچھانے” پر پہنچ جاتا۔ “مچھانا” ایک تالاب تھا جو گاؤں سے کوئی دو فرلانگ پر ہماری زمینوں کے قریب واقع تھا….یہ ایک چھوٹا سا تالاب تھا کوئی دو ایکڑ پر پھیلا ہوا….مگر پانی اور مچھلیوں سے بھرا ہوا۔ ساون بھادوں کی بارشوں سے اور اُس پاس کے کھیتوں سے فاضل پانی آنے کے باعث یہ خوب بھرا ہوتا۔ ان دو تین مہینوں میں چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کا “پَونگ” بڑا ہو کر مچھلیوں میں تبدیل ہو جاتا!!

دوسرے کئی ہم جھولیوں کے ساتھ جو تالاب کے چاروں طرف کُنڈیاں ڈالے کناروں پر بیٹھے ہوتے مَیں بھی کپڑے کے سفید تھیلے سے کُنڈی نکالتا۔ کانٹے پر گوشت کا ٹکڑا لگاتا اور کُنڈی تالاب میں پھینک دیتا….پھر کُنڈی کی ڈوری ہاتھ میں لیے بیٹھا مچھلی لگنے کا انتظار کرتا رہتا۔ ہم سب کوشش کرتے کہ ہوا کے رُخ پر بیٹھا جائے کہ زیادہ تر مچھلیاں ہوا کے رُخ پر بہتی ہیں ….بہت سے انسانوں کی طرح……..اور پھر بہت سے انسانوں ہی کی طرح جلد شکار بھی ہو جاتی ہیں !!

تالاب میں چھوٹی چھوٹی لہریں پیدا ہوتی رہتیں۔ دائرے بنتے اور پھیلتے رہتے اور مَیں مسلسل ٹکٹکی باندھے یہ سب دیکھتا رہتا۔ کبھی کبھی یہ سب کچھ دیکھ دیکھ کر خود مجھے چکر سے آنے لگتے۔ اور تب مَیں نظریں تالاب سے ہٹا کر آس پاس کے سرسبز و شاداب کھیتوں کو دیکھنے لگتا….یوں مجھے معلوم ہوا کہ تالاب پر مسلسل نظریں ٹکائے رکھنا اچھا نہیں ہوتا۔ آس پاس کے سبزہ زاروں سے لطف اندوز ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن محض تفریح طبع کے لیے ہی نہیں ….تالاب کے چکروں سے بچنے کے لیے بھی……..ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی چکّر کے باعث ہم خود ہی تالاب میں سر کے بل جا گریں اور دوسروں کے لیے تماشا بن جائیں !

اصل میں میری تمام تر توجہ پانی میں لٹکے کانٹے کے اوپر پانی پر تیرتی ہوئی اس کانی پر لگی ہوتی جس کا ہلنا یا نہ ہلنا دونوں معنی رکھتے ہیں۔ اگر یہ کافی جھٹکے کھانے لگتی ہے۔ کبھی پانی کے اندر اور کبھی باہر آنے کا منظر پیش کرنے لگتی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مچھلی کانٹے پر آن لگی ہے اور کانٹے کی تیز دھار سے بے خبر کانٹے پر لگے گوشت کے ٹکڑے پر جھپٹ رہی ہے۔ بڑی مچھلیاں بڑی جلد باز ہوتی ہیں …….. آتے ہی جھپٹا مار کر……..ایک دو حملوں میں ہی کانٹے پر لگا گوشت اتار لے جانا چاہتی ہیں ……..تب ان کے جھپٹنے سے کانی جب ساری کی ساری پانی میں سر کے بل ڈوب جاتی یا ڈوبنے کے قریب ہوتی……..تب مَیں ڈوری کھینچ لیتا اور مچھلی کانٹے سے لٹکی تالاب سے باہر آن گرتی….چھوٹی مچھلیاں زیادہ ہوشیار اور زیادہ سمجھ دار ہوتی ہیں۔ ان کے اندر صبر و سکون کا جذبہ یا پھر احتیاط کا رجحان زیادہ ہوتا ہے……..دوسرے بہت سے چھوٹے جانوروں کی طرح جو بڑے جانوروں میں رہ کر زندگی بحفاظت بسر کر لے جاتے ہیں چھوٹی مچھلیاں بھی زیادہ تیز اطوار۔ زیادہ چالاک۔ زیادہ محتاط….بلکہ مَیں تو یہ کہوں گا کہ زیادہ دانا ہوتی ہیں۔ جب چھوٹی مچھلی لگتی ہے تو کانٹے پر لگے گوشت پر بڑی آہستگی سے جھپٹتی ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ کانٹے پر لگے گوشت کو اُڑا لے جانا بھی چاہتی ہے….اور کانٹے سے بچ کر بھی رہنا چاہتی ہے۔ مَیں سطحٔ آب پر تیرتی اور اور بہت آہستگی سے ڈوبتی ابھرتی کانی کو دیکھتا رہتا ہوں …. چھوٹی مچھلی بڑی دانائی سے…. اور احتیاط سے….اپنا شکار حاصل کرتی ہے….بالکل چھوٹے آدمیوں کی طرح جو بے حد محتاط ہوتے ہیں کہ ان کی سلامتی کا راز احتیاط میں ہی چھپا ہوتا ہے!!

بعض اوقات تویہ چھوٹی مچھلی گوشت کا ٹکڑا کانٹے پر سے اتارنے میں گھنٹہ لگا دیتی ہے….اور اکثر بڑی کامیابی سے….بحفاظت تمام….اپنا شکار اڑا کر لے جاتی ہے….تب کانی ہلنی بند ہو جاتی ہے اور مَیں سمجھ لیتا ہوں کہ اس دفعہ مچھلی شکار ہونے کی بجائے….شکار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے……..زندگی میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور ہمارا طویل تھکا دینے والا انتظار بھی بے نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔

تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مچھلی کا شکار ہماری زندگیوں سے کس قدر قریب ہے!!

کبھی کبھی تو انتظار کے باعث۔ یا مچھلی نہ لگنے پر….یا مچھلی کے کانٹے کا گوشت لے اُڑنے پر مایوسی بھی ہوتی ہے……..مگر یہ سب تو اس کھیل کا حصّہ ہے….پھر اگر تالاب مچھلیوں سے بھرا ہوا ہے تو ایک حوصلہ سا ملتا ہے….کہ تالاب میں بھری ہوئی سب مچھلیاں میرے کانٹے کا شکار ہی تو ہیں ….اب نہیں تو تھوڑی دیر بعد……..آ ج نہیں تو کل سہی!! مچھلی کی ماں کب تک خیر منائے گی!!

مگر بعض اوقات ایک عجیب واقعہ بھی پیش آتا ہے…. مچھلی کی بجائے کوئی کچھوا کانٹے سے آن لگتا ہے! کبھی کبھی تو وہ کانٹے کا شکار ہو جاتا ہے مگر اکثر وہ کانٹے کو معہ اس کی ڈوری کے کاٹ لے جاتا ہے…. یہ اکثر بڑے تالابوں میں ہوتا ہے۔ جہاں کچھووں کی بہتات ہوتی ہے۔ اس کا تجربہ مجھے شہر کی اور خصوصیت سے دار الخلافے کی زندگی میں ہوا….کہ یہ بڑے تالاب ہیں ……..یہ درست ہے کہ یہاں مچھلیاں بھی زیادہ ہیں او ر بڑی بڑی بھی ہیں ……..مگر کچھووں کی بھی کمی نہیں ……..اور پھر کیا پتہ پانی کے اندر مچھلی ہے یا کھچوا…. ان تالابوں میں ڈالنے کے لیے ڈوری مضبوط اور کانٹا بڑا ہونا چاہیے….کیونکہ یہ بھی ہے کہ بڑی مچھلیاں چھوٹے کانٹے کو در خورِ اعتنا بھی نہیں سمجھتیں !!

بڑے تالابوں میں اکثر مچھلی کے دھوکے میں کچھوے سے سابقہ پڑ جاتا ہے…….. یہاں شکاری کے لیے مچھلی اور کچھوے کی نفسیات کو اور ان کے نفسیاتی اسرار کو سمجھنا بیحد ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ان کے طریقۂ واردات میں امتیاز کرسکے!

ایک اور واقعہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے……..بعض اوقات کچھوا تو کیا کوئی آبی سانپ ڈوری پر جھپٹ پڑتا ہے۔ یہ زیادہ محتاط اور سمجھ دار نہیں ہوتا۔ جلد ہی کانٹا لے بھاگنے کی کوشش میں ہوتا ہے اور پھر کانٹے کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر اس سے اصل خطرہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ پانی سے باہر آ جاتا ہے اور اپنے بھاری پن کے باعث کانٹے سے آزاد ہو کر شکاری کے عین اوپر آ کر گرتا ہے…. یا پُشت پر آن گرتا ہے اور پلٹ کر شکاری پر حملہ آور ہوتا ہے!

مگر ان سب خطرات کے باوجود تالاب اگر مچھلیوں سے بھرے ہیں تو ہمارے لیے طمانیت۔ کشش اور دلچسپی کا بڑا سامان بنے رہتے ہیں !

مَیں ان تینوں سطحوں کے تالابوں میں مچھلی کے شکار کرنے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بڑے تالابوں سے اگرچہ بڑی مچھلیاں دستیاب ہوتی ہیں مگر ان تالابوں کے پانیوں میں بڑے بڑے خطرات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں …. اور شکاری کو لطف اندوزی کی نسبت خطرے کا احساس زیادہ رہتا ہے….پھر یہ بھی ہے کہ بڑے تالابوں میں اچھے کنارے بڑے شکاریوں کے قبضے میں ہوتے ہیں !

سچّی بات یہ ہے کہ مَیں نے بڑی مچھلیاں بڑے تالابوں سے ہی پکڑی ہیں ……..مگر شکار کا لطف چھوٹے تالاب سے ہی ملا ہے۔ ممکن ہے اس میں میرے لڑکپن کی بے فکریوں اور اندیشوں سے بے پروا ہو کر جینے کا بھی دخل ہو……..اور میرا خیال ہے ایسا ضرور ہو گا کہ جیسے جیسے آدمی بڑا ہوتا جاتا ہے اس میں لطف اندوز ہونے کا رجحان کم ہوتا چلا جاتا ہے کہ(قدرت اس کی بعض حسیّات (ریسیورز) آہستہ آہستہ بند کرنے لگتی ہے)۔ جو بے پروائی۔ بے فکری اور لا ابالی پن سے مشروط ہیں۔ پھر بڑی عمر میں زیادہ احتیاطوں کی بدمزگیاں بھی شامل ہونے لگتی ہیں !

چھوٹے تالابوں کے ساتھی شکاری….دوستوں کی طرح تھے….جب کہ بڑے تالابوں کے ساتھی شکاری حریفوں کی شکل میں پیش آتے ہیں ! مگر ان سب باتوں کے با وصف زندگی کا۔ زندگی کے مشغلوں کا اور زندگی کی خوشیوں کا دار و مدار مچھلیوں سے بھرے تالابوں پر ہے جو ہر لمحہ ہمیں پُر امید رکھتے ہیں با مقصد رکھتے ہیں ……..پُر جوش رکھتے ہیں۔

انہی تالابوں کی طرح ایک تالاب ہمارے اندر بھی ہے…. ہمارا ذہن۔ ہمارا ظرف….ہماری نظر….ہمارا اپنا آپ….یہ سب چیزیں جتنی بڑی ہوں گی اتنا ہی ہمارے اندر کا تالاب بڑا ہو گا اور اسی قدر یہ تالاب رنگارنگ مچھلیوں سے بھرا ہو گا!

مَیں تو اکثر اپنے اندر کے تالاب میں ان رنگا رنگ مچھلیوں کو بعض اوقات بڑی ہی آہستہ خرامی سے ناز و ادا کے ساتھ تیرتے ہوئے دیکھتا ہوں ……..اور بعض اوقات بڑی مچھلیوں کو اُچھلتے کودتے اور پانی میں ان کی غڑاپ شڑاپ کی آوازیں سنتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں کہ میرا تالاب مچھلیوں سے لبالب بھرا ہے۔ جو ہر لمحہ “آؤ ہمیں شکار کرو” کی دعوت دیتی ہیں۔ مچھلیوں سے بھرا یہی تالاب میری زندگی ہے۔ میری زندگی کا……..میری خوشیوں کا سرمایہ ہے۔ جو ہر لمحہ مجھے پُر جوش رکھتا ہے اور کبھی میرے جذبوں کو سرد نہیں ہونے دیتا!!

آج بھی مَیں تالاب میں ڈوری ڈالے کنارے پر اطمینان سے بیٹھا ہوں اور تالاب میں مچھلیوں کے اچھلنے کودنے اور غڑاپ شڑاپ کی آوازیں سُن سُن کر خوش ہو رہا ہوں کہ میرا تالاب مچھلیوں سے بھرا ہوا ہے!!

٭٭٭

 

 

 

کامیابی کی دیوی

 

دیوی دیوتاؤں کا تعلق یوں تو یونانی متھالوجی سے ہے۔ مگر جس طرح یونانی ادویات ایک زمانے میں ہمارے ہاں بہت مقبول اور شاید مفید بھی رہیں اسی طر ح ایک وقت تھا کہ یونانی متھالوجی کے دیوی دیوتاؤں کا بھی ہمارے ادب میں بہت چرچا اور عمل دخل رہا۔ پھر ان دیوی دیوتاؤں کو علامتی رنگ دے دیا گیا۔ عشق کے دیوتا کیوپڈ اور دولت کی دیوی لکشمی کا ذکر ہم اکثر سنتے رہے۔ لکشمی دیوی تو خوش بختی کی علامت بن کر بھی ادب کو با ثروت بناتی رہی۔ اسی طرح ہم جیسے لوگوں نے دیوی کو مختلف طرح کی معنوی علامتیں دے کر ادب میں شامل رکھا۔ مثلاً کامیابی کے امیدواروں نے کامیابی کی دیوی کے خدوخال مرتب کر لیے اور اس کے انتظار میں عمریں بسر کر دیں !

ایک عرصے تک ہم بھی اس خیال میں رہے کہ کامیابی کی سُندر دیوی ایک روز ہمیں تلاش کرتی ہوئی خود ہی ہمارے پاس آئے گی اور چمکتے دمکتے موتیوں کی قیمتی مالا ہمارے گلے میں ڈال کر اپنی نہایت دلنشیں آواز میں کہے گی”حمیدی صاحب آپ کہاں چھپے بیٹھے تھے……..مَیں کب سے آپ کی تلاش میں ماری ماری پھر رہی تھی…….. لیجیے مَیں زندگی کے عظیم میدانوں میں آپ کا سواگت کرتی ہیں “!۔

ایک طویل عرصے تک ہم انہی سوچوں میں مگن اور دیوی جی کے دل میں اتر جانے والے محبت بھرے الفاظ کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوتے رہے اور  دیوی جی کے آنے کے دل خوش کُن منظر سے دل کو بہلاتے رہے اور انتظار کی گھڑیوں کو دیوی کے حسین تصور سے رنگین کرتے رہے……..مگر دیوی جی کو شاید ہمارے گھر کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ وجہ غالباً یہ ہوئی کہ ہماری گلی کی نمبر پلیٹ جس پر گلی نمبر32 لکھا تھا کرکٹ کھیلنے والے لونڈوں کی گیند کا شکار ہو گئی تھی!

ایک مدت تک گھر کے اندر دیوی جی کے انتظار میں بے چین ہو ہو کر ٹہلتے رہے۔ کان دروازے پر اور قدم زمین پر…….. مگر آخر عالم بیقراری میں باہر کے دروازے کی طرف لپکے۔ گھر کا دروازہ کھولا اور باہر گلی میں جھانکا۔ وہاں عجیب منظر تھا جس نے ہمیں حیران کر دیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کامیابی کی سُندر دیوی ہمارے آس پاس کے گھروں پر دستک دہے رہی ہے اور لوگ تو جیسے پہلے سے ہی اسے خوش آمدید کہنے کے لیے دروازوں کے باہر کھڑے تھے۔ بلکہ بعض تو اس کی تلاش میں دوسری گلیوں میں بھی گھوم پھر آئے تھے۔ میں نے ذرا ہمت سے کام لیا اور دیوی جی کو مخاطب کر کے کہا “اے کامیابی اور عزت و شہرت کی دیوی ہم کب سے آپ کے انتظار میں گھر سے باہر ہیں۔ آئیے ہمارے ہاں بھی قدم رنجہ فرمائیے۔ ”

تب دیوی جی مسکراتی ہوئی ہماری جانب بڑھیں مگر ایک کاغذ ہمارے ہاتھوں میں تھما کر ہنستی مسکراتی ہوئی واپس ہوئیں۔ حیران ہو کر پوچھا “ہم تو آپ کے ہاتھوں سے قیمتی موتیوں کی مالا کے امیدوار تھے۔ کامیابی اور عزت و شہرت کی خاطر ہم نے برسوں لہو پانی ایک کیا ہے۔ محنت اور مشقّت اٹھائی ہے۔ اب قیمتی موتیوں کی مالا پر ہمارا بھی حق ہے۔ آپ نے ہم سے کمتر درجے کے لوگوں کو مالا پہنائی ہے اور اب یہ کھُلی ناانصافی ہے”۔

کامیابی کی دیوی نے مسکراتی نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور کہا……..”اس دَور میں لہو پانی کو اور محنت مشقت کو کیش کروانے کی ضرورت ہے اور آپ نے اس پر توجہ نہیں دی۔ “! پھر کہا “اس کاغذ پر کچھ آسان نسخے درج ہیں انہیں استعمال کریں اور پھر قدرت کے کرشمے دیکھیں “۔

سو ہم نے ان نسخوں پر غور کرنا شروع کیا۔ سب سے پہلے اپنی خاندانی وجاہت پر غور کیا جو وجاہت سے زیادہ شرافت نکلی اور یہ کوئی کارآمد چیز نہیں تھی۔ بس سیدھے سادے کسانوں کا خاندان تھا جو کام کرنے کو اہمیت دیتے ہیں۔ مہربان اور مشفق اساتذہ کی طرف دھیان گیا جنہوں نے ہمیں تربیت کیا تھا۔ سو یاد آیا کہ وُہ بھی ہمیشہ محنت کی عظمت پر ہی زور دیا کرتے تھے۔ پھر اخلاقیات میں اقبال کی دی ہوئی “خودی” پر نظر پڑی۔ پتہ چلا ہم نے اسے خواہ مخواہ سنبھا ل کر رکھا ہوا ہے۔ یہ تو بڑی مہنگی چیز ہے اور اس کے اچھے خاصے دام مل سکتے ہیں۔ بعض لوگوں نے تو اسے فروخت کر کے غریبی میں بھی اچھا خاصا نام پیدا کر رکھا ہے!

بس پھر کیا تھا ہم ساری صورتِ حال کو سمجھ گئے۔ جی ہی جی میں وہ سب ٹوٹکے اپنا لیے جو دوسروں کے لیے عزت و شہرت اور کامیابی و کامرانی کا باعث بن رہے تھے کہ ہمارے ہاں کی زیادہ تر کامیابیاں انہی ٹوٹکوں کی مرہونِ منت ہیں۔ کامیابی کی دیوی نے جاتے جاتے ہمیں جو نصیحت کی تھی وہ کاغذ پر لکھی ہوئی تھی “اِس دَور میں لہو پانی ایک کرنے کی بجائے لہو پانی کو کیش کروانے کی ضرورت ہے۔ ” سو ہم خاندانی شرافت، محنت کی عظمت، اقبال کی خودی اور ایسی ہی بہت سی قیمتی اشیا ریڑھی پر سجا کر گھر سے نکلے اور آواز لگائی۔

“ہر شے ایک ایک روپے میں جو چاہو لے لو”۔

لیکن اس سے پہلے کہ کوئی گاہک ہماری طرف آتا ساری گلی دن کی روشنی کے باوجود ایسی غیر معمولی روشنی سے جگمگا اٹھی کہ آنکھیں چندھیا گئیں۔ حیران ہوئے کہ کیا ہونے والا ہے۔ سامنے دیکھا کہ کوئی دیوی ہیرے جواہرات کی مالائیں ہاتھوں میں لیے ہماری طرف نہایت سنجیدہ چہرے کے ساتھ آ رہی ہے۔ دیوی ہمارے قریب آ کر رُکی اور پھر بڑے جاہ و جلال کے ساتھ بولی۔

“اکبر حمیدی صاحب……..آپ نے ہمارا انتظار نہ کیا اور کامیابی کی جھوٹی دیوی کے فریب میں آ گئے۔ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور سچائی اور خود داری سے ہی ہمیشہ عزت حاصل ہوتی ہے (پھر ریڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) ہٹائیے یہ کام آپ کے شایان شان نہیں ” کامیابی کی دیوی نے پاؤں کی ایک ٹھوکر سے ریڑھی کو ایک طرف ہٹا دیا اور مسکراتے ہوئے کہا:۔

“حمیدی صاحب ہمارے آنے میں اکثر تھوڑی سی تاخیر ہو جایا کرتی ہے۔ مگر بھروسہ رکھیے ہم آپ کی طرف آ رہے ہیں ……..آج نہیں تو کل”!۔

اور پھر سورج دیس کی یہ شہزادی دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ تب مجھے یہ شعریاد آیا۔

میں کہتا ہوں آج

وہ کہتی ہے کل

مجھے اندازہ ہوا کامیابی اُن لوگوں کے لیے ہے جو کل کا انتظار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور آج کا شکار نہیں ہو جاتے!!

٭٭٭

 

 

 

 

یہ توندیں

 

 

ابھی پچھلے دنوں ایک نہایت دلچسپ خبر اخبار میں شائع ہوئی جسے پڑھ کر مجھے بہت لطف آیا۔ خوشی بھی ہوئی کہ آخر کسی نے تو اس بدصورتی کا نوٹس لیا!

خبر یہ تھی کہ کسی ڈی۔ آئی۔ جی۔ پولیس نے اپنے ماتحتوں سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنی پھولی ہوئی توندیں بلکہ پھیلی ہوئی توندیں سمیٹ لیں ورنہ ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کی جائے گی۔ اس خبر میں زیادہ خوشی کی یہ بات ہے کہ پاکستان میں پھیلی ہوئی توندوں کو ضابطے میں لانے کے لیے کوئی ضابطہ بھی بنایا گیا ہے اور اب اس ضابطے پر عمل کروانے کی خبریں آنے لگی ہیں !!

ظاہر ہے یہ حُکم اس لیے دیا گیا ہے کہ توندیں فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں حائل ہوتی ہیں۔ توندوں والوں کے خود اپنے فرائض منصبی میں بھی حائل ہوتی ہیں اوردوسروں کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے سے بھی روکتی ہیں۔ یوں بھی ایسی بے ہنگم بڑھی ہوئی توندیں محکمے کے لیے اور پورے وطنِ عزیز کے لیے بدصورتی کا باعث بھی بنتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ سب وجوہات بہت معقول ہیں اور اگر ان کے مطابق کام جاری رکھا جائے تو پھیلی ہوئی توندوں جیسی نامعقولیت کا سدِباب ممکن ہے۔ آج کل تو ویسے بھی ہر طرف رَش نظر آتا ہے اور ایسے میں اگر دو چار بڑی بڑی توندوں والے حضرات بھی اس رَش میں داخل ہو جائیں تو دوسروں کا کیا حال ہو گا اور انہیں راستہ کہاں سے ملے گا!۔ پھر منظر بھی کتنا بدصورت نظر آئے گا! یہ سب ہمارے سوچنے کی باتیں ہی!

ہمارے ہاں جو راستے صدیوں سے رُکے ہوئے نظر آتے ہیں تو اس کی بڑی وجہ کیا ہے؟ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ یہی بڑی بڑی توندیں ہیں جو اپنے جامے سے باہر نکل کر چلنے کی عادی ہیں۔ یہ بات بہت سامنے کی ہے کہ جہاں پانچ بڑی بڑی توندوں والے رہ سکتے ہیں وہاں عام طرح کے دس شریف آدمی خیر و عافیت سے گزارا کر سکتے ہیں اور ان کا امن خطرے میں پڑنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ آپ ایک لحظے کے لیے سوچئے کہ کسی دکان میں داخل ہوتے وقت یا دکان سے خارج ہوتے وقت دکان کے عین دروازے میں آپ کسی بڑی توند سے ٹکرا جاتے ہیں تو آپ کا حشر کیا ہو گا؟ یہ تو ایک مثال ہے ورنہ یہ توندیں زندگی کے کسی بھی مقام پر۔ کسی بھی جگہ پر۔ کہیں بھی آپ کو پیش آ سکتی ہیں ……..اور پھر آپ کا ….اور ہم سب کا خدا حافظ ہے۔ یوں بھی جہاں ہم آپ رہتے ہیں اور جہاں کئی کئی طرح کی توندیں کثرت سے پائی جاتی ہیں وہاں ہم سب کا خدا ہی حافظ ہے!!

بھاری بھر کم توندوں سے ویسے تو کسی کو بھی کہیں نہ کہیں واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے مگر اس سلسلے میں مجھے جو تجربہ ہوا وہ یاد آتا ہے تو آج بھی وحشت سی ہونے لگتی ہے۔ ہوا یہ کہ ایک مرتبہ مَیں کسی دوست کے ہاں مہمان تھا۔ جس کمرے میں میرے سونے کا انتظام کیا گیا تھا وہ بظاہر بہت آرام دہ۔ پُرسکون بلکہ تکلف کی حد تک پُر آسائش تھا۔ چند ہی منٹوں میں نیند نے مجھے آ لیا……..لیکن رات کے کسی وقت اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی گنجان اور پُر خطر جنگل میں کھڑا ہوں اور میرے عین سامنے ایک خونخوار چیتا اپنے بڑے بڑے دانت نکالے غراّ رہا ہے۔ ایسے موقعوں پر ہر امن پسند انسان گھبراہٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہ بالکل فطری تھا……..مگر میری کسی چھٹی یا ساتویں حِس نے مجھے بتا دیا کہ مَیں حالتِ خواب میں ہوں لیکن آپ جانتے ہیں خواب کی اذیّت بھی کچھ کم نہیں ہوتی اور بعض اوقات تو خواب حقیقت سے زیادہ شدّت اختیار کر لیتے ہیں۔ سو مَیں نے اس کیفیت سے باہر آنے کا ارادہ کر لیا اور ایک زور دار جست لگا کر عالمِ خواب سے عالم بیداری میں آ گیا……..لیکن عجیب بات یہ تھی کہ چیتے کے غراّنے کی آواز بدستور اُسی دہشت ناک انداز میں آ رہی تھی۔ یہ صورتِ حال اور بھی تشویش ناک تھی۔ ایک لحظے کے لیے خیال آیا کہ کہیں مَیں سچ مچ کسی جنگل میں تو نہیں پہنچ گیا اور میرا سابقہ سچ مچ کے کسی چیتے سے تو نہیں پڑ گیا……..مگر میرے ذہن نے فوراً اس کی تردید کی۔ مَیں نے آواز کی سمت میں غورسے دیکھا اور اپنے تمام تر حواس کے ذریعے امرِ واقعہ کا جائزہ لیا۔ مجھے پتہ ہے کہ ایسے موقعوں پر سب سے زیادہ قابل اعتماد قوت انسانی حواس ہیں اور مَیں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ خارجی خطرات کو ذہن کے میزان پر ڈالے رکھوں اور انہیں حواس تک نہ پہنچنے دوں۔ جو میری حقیقی قوت ہے۔ سو اب کے بھی مَیں نے ذہن کی ڈھال کو استعمال کیا اور خود حواس سمیت خطرے کے خطے سے دو قدم باہر رہا۔ رات کی تاریکی میں اپنے محلِ وقوع اور آواز کے جغرافیائی ماحول کا غور سے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ایک بھاری بھر کم توند والا شخص سامنے کے بیڈ پر محوِ استراحت زور زور سے خراٹے لے رہا ہے۔ اوّل تو مجھے حیرت ہوئی کہ یہ حضرت کس وقت یہاں پہنچ گئے!……..مگر شاید اپنی گہری نیند کے باعث مَیں ان کی آمد سے بے خبر رہا اور تب مجھے معلوم ہوا کہ بعض اوقات بے خبری کس قدر باعثِ رحمت ہوتی ہے۔ گویا مَیں ان کی آمد کا منظر دیکھنے سے بچ گیا تھا۔

کئی منٹ تک مَیں سوچتا رہا۔ اپنی بے بسی اور پھر اپنی بے کسی کا احساس بھی ہوا۔ مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ اس مصیبتِ ناگہانی سے کس طرح نجا ت پائی جائے۔ میرے ایک فلاسفر دوست نے ایسے موقع کے لیے ایک بار یہ تجویز دی تھی کہ ناخوشگوار ماحول میں رہتے ہوئے بھی انسان ذہنی طور پر اس ماحول سے باہر نکل سکتا ہے۔ سو اس کی بھی کوشش کر دیکھی مگر نکلنے کے سب دروازے بند پائے۔ بس یوں سمجھیے کہ بڑی دیر کے بعد تھک ہار کر کہیں صبح کے وقت آنکھ لگی۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ایک بڑی توند نیند اور آرام و سکون میں کس طرح حائل ہو گئی تھی!!

بڑی توندوں کے مضر اثرات کئی طرح کے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ توندیں کئی طرح کی ہیں اور وہ انسانی زندگی پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں کسی دعوت میں برٹرینڈ رسل کا سامنا ایک بڑی توند والے ممبر پارلیمنٹ سے ہو گیا۔ اس شخص نے اس دُبلے پتلے فلسفی کو چھیڑنے کے لیے کہا “مسٹر رسل اگر کوئی غیر ملکی آپ کو دیکھ لے تو وہ یہی سمجھے گا کہ انگلینڈ میں قحط پڑا ہوا ہے۔ ” برٹرینڈرسل نے اپنی نکٹائی کی گرہ ٹائٹ کرتے ہوئے جواب دیا “مجھے اس کی کوئی فکر نہیں کیونکہ جب وہ آپ کو دیکھے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ انگلینڈ میں قحط کیوں پڑا ہے”!!

وطنِ عزیز میں قحط کی حالت تو نہیں ہے لیکن مذکورہ ممبر پارلیمنٹ کی طرح کے کئی بھاری بھر کم توندوں والے لوگوں کے باعث ایسے لوگ بکثرت ملیں گے جو اپنے وقت کے برٹرینڈرسل ہو گئے ہیں میری مراد جسمانی حالت سے ہے!

ظاہر ہے جب تین آدمیوں کا کھانا ایک بڑی توند میں ڈال لیا جائے گا تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ نتیجہ وہی ہو گا جو ایسی صورتِ حال میں ہوا کرتا ہے! یہاں مَیں نے تین آدمیوں کے کھانے کا ذکر کیا جبکہ ہمارے ہاں تو تین تین سو آدمیوں کا کھانا ایک توند ہڑپ کر جاتی ہے!۔

بڑی توند کا تعلق صرف کھانے سے ہی نہیں ہے اور بھی کئی چیزوں سے ہے۔ مَیں نے آغاز میں عرض کیا ہے کہ توندیں کئی طرح کی ہیں۔ بلکہ کئی رنگوں اور کئی ناموں کی ہیں جس طرح ہمارے ہاں بیوروکریسی کئی طرح کی ہے! ہر بڑی توند ایک طرح کی بیوروکریسی ہے جس نے کسی نہ کسی طرح۔ کسی نہ کسی نام پر اپنے حصّے سے زیادہ لے رکھا ہے۔ بعضوں نے قوم اور ملک کے نام پر بعض نے کسی بہت پاکیزہ اور پوتر نام پر۔ بعضوں نے قوانین۔ سماجیات۔ روایات اور کئی طرح کے ناموں سے توندیں بڑھا لی ہیں اور انہیں کم کرنے پر رضامند نہیں۔ یہ توندیں ان کی قوتیں ہیں۔ جن کے بارے میں کچھ سوچنا بھی ہماری اخلاقیات کے منافی ہو چکا ہے۔ !!

ایسے میں مجھے پولیس کے ڈی۔ آئی۔ جی صاحب کا یہ حکم بہت بروقت اور مناسب لگتا ہے کہ بڑی توندوں والے تین ماہ کے اندر اندر اپنی پھیلی ہوئی توندیں سمیٹ لیں ورنہ ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کی جائے گی!!

کاش پورے وطنِ عزیز میں کوئی ڈی۔ آئی۔ جی ایسا بھی آئے جو بڑی توندوں والوں کو خواہ ان کی توندیں کسی بھی طرح۔ کسی بھی رنگ اور نسل کی ہوں۔ کسی بھی نام کی ہوں اپنی اپنی توندیں سمیٹ لینے کا حکم جاری کرے تاکہ عام لوگ سہولت سے زندگی کا راستہ طے کر سکیں اور وطنِ عزیز سے اس بدصورتی کا خاتمہ ہوسکے!!

٭٭٭

 

 

 

 

مہمانِ خصوصی

 

پُر لطف باتوں کا تعلق پُر لطف خیالات سے ہوتا ہے!

یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے ایک دوست نے ایک موقع پر مجھے بہت لطف اندوز کیا۔ یہ دوست اپنے گھر پر بڑی باقاعدگی سے ہر پندرہ دن کے بعد مشاعرہ کرواتے جس میں اپنے احباب کو مدعو کرتے۔ مجھے خاص طور سے شرکت کی دعوت دیتے۔ کچھ تو شعر سننے سنانے کا چسکا اور کچھ اپنے عزیز دوست کی مخلصانہ دعوت مَیں اکثر ان کے مشاعرہ میں شرکت کرتا۔

ظاہر ہے میزبان تو وہ خود ہی ہوتے مگر میرے لیے حیرت کی بلکہ پُر لطف حیرت کی بات یہ تھی کہ ایسی تمام تقریبات کے جو ان کے دولت خانہ پر منعقد ہوتیں صدر بھی وہ خود ہی ہوتے۔ اس با ت کو پُر لطف حیرت مَیں نے اس لیے کہا ہے کہ جو لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں ان کی سب اداؤں سے ہم لُطف لیتے ہیں !

ایک روز بڑی احتیاط کے ساتھ ڈرتے ڈرتے میں نے کہا “جناب اپنے ہی گھر کی تقریبات کا خود ہی صدر ہونا کیا کچھ عجیب سا نہیں لگتا”؟ اس پر بڑے اطمینان کے ساتھ مجھے سمجھانے کے انداز میں جیسے میری کسی غلط فہمی کی اصلاح کرنا چاہتے ہوں۔ فرمایا “نہیں نہیں حمیدی صاحب اس میں عجیب کوئی بات بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ جب صدر گھر میں موجود ہے تو باہر سے لانے کی کیا ضرورت ہے؟ ” یہ سُن کر مجھے ایسا لگا جیسے میں اس آسان سی بات کو بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ سو مَیں سمجھ بھی گیا اور لُطف اندوز بھی ہوا کہ یہ جواب ایک غیر معمولی جواب تھا۔ مگر اس جواب نے مجھے جیسے باور سا کروا دیا کہ ہاں جب صدر گھر میں موجود ہے تو پھر باہر سے منگوانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جو چیز ہمارے گھر میں موجود ہوتی ہے ہم اس کو استعمال کرتے ہیں اور باہر سے منگوانے کی فضول خرچی برداشت نہیں کرتے! یہاں مَیں یہ بھی بتا دوں کہ میرا اندازِ فکر تو بہرحال ان کے حق میں تھا کہ وہ میرے مہربان دوست تھے اور اپنی تقریبات میں اکثر مجھے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شامل کرتے!!

صدارت کے مزے تو خیر وہ جانیں سچی بات یہ ہے کہ مجھے مہمانِ خصوصی بن کر بھی خاصا مزا آتا رہا۔ پوری محفل کی نگاہوں میں آ جانا اور ایک امتیازی حیثیت سے محفل میں جگہ پانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ ہاں جب صدر سے پہلے مجھے تقریر کرنا ہوتی تب ایک تلاطم سا کہیں میرے دل و دماغ میں اُٹھتا اور میں بیک وقت کئی باتیں سوچنے لگتا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں کوئی تجربہ کار پیشہ ور مہمانِ خصوصی نہیں تھا۔ مثلاً کبھی جی چاہتا کہ دوسروں کے بارے میں دل کھول کر سچی باتیں کہہ دوں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے علم و فضل کا اظہار بلکہ اعلان کر دوں کہ سچ بولنا ایک اچھی عادت ہے۔ مگر پھر خیال آتا کہ بچ بچا کے نکل جاؤں اور جو عزت ملی ہے اسے سنبھال کر کسی دوسرے موقعے کے لیے رکھ لوں۔ کبھی تقریر کرتے ہوئے طبیعت میں ایسا گداز پیدا ہوتا کہ جی چاہنے لگتا کہ اپنی تمام تر کم علمی کا اظہار کر دوں۔ مگر فوراً ہی سوچتا کہ جو عزت ملی ہے اسے ہضم کرنا چاہیے اور اپنی نااہلی کا ڈھول یوں سرِ عام نہیں بجانا چاہیے! مہمانِ خصوصی بن کر جو مزہ آنا تھا وہ اس قسم کی مسلسل کشمکش کی نذر ہونے لگا۔ وجہ یہ تھی کہ میں پیشہ ور مہمانِ خصوصی کی شکل اختیار نہ کر سکا اور سچ بولنے کا جوش و خروش ہمیشہ میرے دل و دماغ میں موجیں مارتا رہا! جو کم سے کم کسی مہمانِ خصوصی کے لیے نیک فال نہیں ہے۔ پھر شاید یہ بھی وجہ ہو کہ جو چیز مفت میں مل جاتی ہے انسان اس کی قدر نہیں کرتا مگر اِن سب باتوں کے با وصف میری کامیابی یہ تھی کہ میں نے دل کی اُن باتوں کو زبان سے کچھ فاصلے پر ہی رکھا۔ اگرچہ چھ فٹ کے آدمی کے لیے چھ انچ کی زبان پر قابو رکھنا بعض اوقات بہت مشکل بھی ہو جاتا!! مگر پھر بھی……..!!

آہستہ آہستہ مجھے مہمانِ خصوصی بننے میں کوفت سی محسوس ہونے لگی۔ مَیں سوچنے لگا صدر تو خیر ٹھیک ہے کہ صدر ہے۔ مہمانِ خصوصی کیا ہوا؟ مجھے مہمانِ خصوصی ایک فالتو سا آدمی نظر آنے لگا۔ میں سوچتا صدر تو صدارت کر رہا ہے۔ مہمانِ خصوصی کیا کر رہا ہے؟ اس کا جواب مجھے نہ ملتا۔ اور مجھے اپنی مہمانِ خصوصی کی حیثیت خاصی عجیب سی بلکہ مضحکہ خیز سی لگنے لگی!

دوسری تقریبات کو بھی دیکھتا تو مقررین تقاریر کے دوران بار بار محفل کے صدر کو مخاطب کرتے اور صدر صاحب بڑے فخر و ناز کے ساتھ اکڑی ہوئی گردن گھما کر مقرر کی طرف دیکھتے جیسے اسے رسید دے رہے ہوں یا اس کی انٹ شنٹ باتوں کی تائید فرما رہے ہیں اور کوئی بڑا احسان کر رہے ہیں۔ مگر صدر کی اس حرکت (حرکت ہی کہنا چاہیے) میں ایک احساسِ خود شناسی جھلکتا اور یوں لگتا صدر صاحب کی خود ی اس وقت خاصی بلند ہو چکی ہے۔ کم سے کم ہماری آپ کی دسترس سے دو چار آسمان بلند!!

اس کے برعکس مہمانِ خصوصی کو حرفِ آغاز میں ایک ہی بار رسمی انداز میں مخاطب کیا جاتا اور پھر تو جیسے مقرر اسے فراموش ہی کر دیتے! اور سارا روئے سخن تا دمِ آخر صدر کی طرف مبذول رہتا۔ یہ سب کچھ دیکھ دیکھ کر مہمانِ خصوصی بننے سے مجھے چڑ سی ہو گئی……..حتیٰ کہ اپنی بجائے محفل کے آخر میں بیٹھا ہوا وہ لا ابالی سا آدمی مجھے زیادہ سُکھی اور با وقار نظر آتا جو صدر کی لن ترانیوں اور فخر و ناز سے بے نیاز سب کی نظروں سے محفوظ و مامون کسی کمپلیکس میں مبتلا ہوئے بغیر بے فکر ہو کر بیٹھا جمائیاں لے رہا ہے۔ اس کی مرضی ہے کسی مقرر کے آنے یا جانے پر تالی بجائے یا نہ بجائے۔ یا سب کے آنے اور جانے کو نہایت غیر اہم واقعہ سمجھ کر چنگھم چباتا رہے۔

وہ جلسے کے اسٹیج سیکرٹری یا صدر کی زَد میں بھی نہیں بلکہ پورا جلسہ اس کی زَد میں ہے کہ جب اس کا جی چاہے سب کو ٹھکرا کر چلا جائے۔ اس کو تقریر کے جملے نہیں سوچنے۔ حاضرین سے اپنی تقریر کے دوران تالیاں بجوانا اس کا مسئلہ نہیں ہے۔ جھوٹے۔ سطی فیشنی جملوں سے وہ اپنی زبان کو آلودہ نہیں کرتا۔ صدر کی۔ میزبانوں کی یا کسی اور مفید اور باثر مقرر کی تعریف و توصیف میں بھی وہ الفاظ ضائع نہیں کرتا!

بس کچھ ایسی ہی باتیں تھیں جن کے باعث مہمانِ خصوصی مجھے ایک بہت مجبور و مشروط قسم کا انسان دکھائی دینے لگا جس کی عزت اس قسم کی ناگوار شرائط کے ساتھ نتھی کر دی گئی تھی اور جن کو قبول کرنا اس لالچی اور ضرورت مند انسان کے لیے ضروری ہوتا ہے جیسے ورلڈ بنک کی شرائط تیسری دنیا کے ممالک کے لیے!!

بعض معاشروں میں سیاسی نظام وہاں کی معاشرتی زندگی پر بڑے غیر شعوری انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔ مگر اس بات کو اپنے معمول کے مطابق مَیں بڑی دیر سے سمجھا ہوں۔ دیر سے اس لیے کہ میرا دماغ مشینی نہیں انسانی ہے جسے اوپر تک پہنچنے کے لیے کچھ سیڑھیاں طے کرنی پڑتی ہیں !!

بات یہ ہوئی کہ اس سال جون کے مہینے میں اپنے عزیزوں کے بے حد اصرار پر مجھے انگلینڈ جانے کا موقع ملا۔ موسمِ گرما وہاں کا موسمِ بہار ہوتا ہے اور اس دفعہ کے موسم بہار کا کچھ حصہ میری قسمت میں بھی لکھا تھا۔ چنانچہ وہاں کے کئی ایک ادبی اداروں نے مجھے اپنے مشاعروں میں بحیثیت مہمانِ خصوصی کے مدعو کیا۔ چونکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مَیں اب کچھ زیادہ خوشی محسوس نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے پہلے مشاعرے میں بڑی ہی بے دلی سے شریک ہوا۔ مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں کا مہمانِ خصوصی تو کچھ اور ہی چیز ہے۔ بے شک صدر کوئی اور صاحب تھے مگر شرکا کی اور میزبان کی تمام تر توجہ میری جانب ہی مبذول رہی۔ ایک خوبصورت اور خوب سیرت مہربان خاتون نے میرے تعارف کے طور پر ایک خاصا طویل مضمون پڑھا جسے سُن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور اپنے بارے میں اہلِ وطن کی غفلت اور بے خبری اور بے مہری کا انداز ہوا۔ اس خاتون نے اپنے مضمون میں میرے لیے بہت سے مرکباتِ توصیفی استعمال کیے تھے۔ یہاں بھی تقریر میں مجھے اپنے بارے میں اظہار کی بہت سی مشکلیں پیش آئیں مگر جو اعزاز مجھے بحیثیت مہمانِ خصوصی کے وہاں ملے وہ گویا ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے کافی تھے۔ یہاں مجھے بہت سی تقریبات کا مہمانِ خصوصی بنایا گیا اور صدر کسی اور کو مگر ہر جگہ صدر ایسا تھا جس کے بارے میں کہنا چاہیے ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ مجھے محسوس ہوا یہاں مہمانِ خصوصی ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے!

مَیں نے اس صورت حال پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کے سیاسی نظام میں صدر کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ بادشاہت ہے مگر وہی ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے! اس نظام میں وزیرِ اعظم کو قدر و منزلت دی جاتی ہے۔ گویا وزیراعظم وہاں کا مہمانِ خصوصی ہے!!

میرا خیال ہے کہ زمان و مکاں کی دُوری ذہنوں کے فاصلوں میں اضافہ کرتی ہے۔ یعنی اندازِ فکر کا تعلق فاصلوں سے بھی ہے۔ فاصلے اندازِ فکر میں اور اندازِ فکر فاصلوں میں کمی بیشی کا باعث بنتے ہیں۔ ابتدا میں مَیں نے اپنے اس دوست کا ذکر کیا ہے جو اپنے گھر میں میزبان ہونے کے علاوہ تقریبات کے صدر بھی خود ہی ہوتے تھے۔ بابا آدم اور اماں حوّا جنت میں بے شک مہمانانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیے گئے تھے مگر ان کا سابقہ اس شخصیت سے پڑا تھا جو میرے دوست کی طرح اپنے گھر میں میزبان بھی تھی اور صدر بھی۔ بابا اور اماں کہاں تک احتیاط کرتے۔ وہ اکبر حمیدی تو نہیں تھے کہ جنت لے کر اپنے آپ کو کھو دیتے!!

٭٭٭

 

 

 

 

ایک فلسفی کی مخالفت میں

 

زندگی میں مجھے اکثر محسوس ہوا ہے کہ اپنی ذات کے اندر مَیں کئی طرح کے لوگوں کے ساتھ شب و روز گزار رہا ہوں۔ بعض اوقات تو مَیں اس ہجوم میں کہیں کھو بھی جاتا ہوں اور پھر بڑی کوشش سے اپنے آپ کو تلاش کر پاتا ہوں !!

بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے مَیں کسی چڑیا گھر میں رہتا ہوں۔ گو ان کا مہتمم ہوں مگر پھر بھی مَیں ان سے اور یہ سب مجھ سے الگ الگ نہیں ہیں۔ یہ سب براہِ راست میری زندگی پر اور میری زندگی کی حالتوں اور کیفیتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے یہ میرے وجود کے لازمی حصّے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات بھی مجھے ہی بھگتنے پڑتے ہیں !

ان میں سے بعض کی خصلتیں رنگا رنگ انسانوں جیسی ہیں اور بعض کی رنگا رنگ جانوروں اور پرندوں اور دوسری بہت سی مخلوقات جیسی کبھی کبھی تو مجھے اپنا آپ چڑیا گھر سے زیادہ ایک گھنا جنگل لگنے لگتا ہے۔ جن میں موجود مخلوقات کا کوئی شمار نہیں۔ تفصیل سے ذکر کروں تو کہاں تک! اس وقت مَیں دو حضرات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کے اختلافات وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ میرے لیے تکلیف کا باعث یہ امر ہے کہ ان کا میدان جنگ مَیں ہوں ……..یعنی میری ذات ہے!! میری سرزمین!!

ان میں سے ایک تو وہ فلسفی صاحب ہیں جو ہمیشہ مجھے عظیم آدرشوں کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ مجھے بہت باوقار اور شاندار روئیے اپنانے پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ مجھے بہت بلند اخلاقی مسند پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں …….. گویا مجھے اس دَور کا دیوجانس کلبی بنا دینے پر مُصر ہیں۔ !!

مَیں ان کا شکر گزار ہوں کہ وہ اپنی طرف سے میری بھلائی چاہتے ہیں اور مجھے بہت معزز دیکھنے کے آرزومند ہیں ……..مگر وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ مجھے زندگی نہیں ملی جو مجھے عظیم آدرشوں پر عمل پیرا ہونے دے۔ عظیم بننے کی خواہش مجھے بھی ہے مگر اپنی موجودہ زندگی اور اس کی مجبوریوں بلکہ معذوریوں کے ساتھ اگر مَیں فلسفی صاحب کی تعلیمات پر عمل کرنے لگوں گا تو شاید مَیں اپنی اس معمولی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں جو میں گزار رہا ہوں ……..اور جو مجھے بہرحال عزیز ہے اور مَیں کسی بڑے مقصد کے لیے اس سے محروم نہیں ہونا چاہتا…….. صاف لفظوں میں کہوں گا کہ میں اس دنیا سے خالی ہاتھ نہیں جانا چاہتا……..کم سے کم وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیاں ضرور حاصل کرنا چاہتا ہوں جو مَیں حاصل کر رہا ہوں اور جو میری سطح سے مطابقت رکھتی ہیں۔ میرا شروع سے ہی یہ نظریہ ہے کہ ہرسطح کی زندگی میں انسان کے لیے خوشیاں موجود ہیں اور ہر سطح کی زندگی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے!

اپنے فلسفی سے مجھے بہت عقیدت ہے۔ وہ انسانی عظمتوں کے علمبردار ہیں …….. مجھے ان سے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ان کی تعلیمات اور ان کے عظیم درس میرے لیے نہیں ہیں !! یعنی میری سطح کے آدمی کے لیے ناقابل عمل ہیں !!

فلسفی صاحب کے برعکس اپنے اندر کے اس جانور سے مجھے زیادہ وابستگی محسوس ہوتی ہے جو بظاہر میرے جسم کی صورت میں میرے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ مجھے اس وقت تک کچھ نہیں کہتا جب تک مَیں اس کے معمولات کو خراب نہ کروں !!

زیادہ اختلافات انہی دو حضرات کے درمیان پیدا ہوتے ہیں !!

اس میں شک نہیں کہ فلسفی صاحب کے دلائل بہت مضبوط ہوتے ہیں ……..مگر ان دلائل کا تعلق ہمیشہ عظیم آدرشوں سے ہوتا ہے……..حقائق سے نہیں ہوتا۔ جبکہ میرے ساتھ زندگی بسر کرنے والے جانور کے مطالبات کا تعلق زندگی کے بنیادی حقائق سے ہوتا ہے۔ پھر بھی یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود کبھی کبھی مَیں فلسفی کی باتوں میں آ جاتا ہوں اور اس کے نتیجے میں میرا حشر وہ ہوتا ہے جو حقیقتوں کو نظرانداز کرنے والوں کا ہوتا ہے۔

یہ باتیں کسی ترقی یافتہ معاشرے میں شاید اس طرح نہ ہوں مگر ہمارے جیسے پس ماندہ معاشرے میں اس بات کی بڑی اہمیت ہے کہ کون کس مرتبے پر فائز ہے۔ اس کے پاس کسی کو کچھ دینے کے لیے کتنے اختیارات ہیں ……..اور کسی سے کچھ چھیننے کے لیے کتنی قوت ہے۔ لوگ اوّل الذکر کی عزت محض اس لیے کریں گے اور اسے خوش رکھیں گے…….. کہ کیا جانے کب اس سے کوئی کام پڑ جائے……..دوسرے کی قوت سے ڈر کر اس کی عزت کریں گے اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کے شَر سے محفوظ رہ سکیں۔ تیسرے درجے پر کسی کی اچھی مالی حالت ہے۔ وہ کبھی کسی کی مدد کرنے پر آمادہ ہو یا نہ ہو مگر بھوک افلاس کے مارے ہوئے معاشرے کے لوگوں کے دلوں پر دولت کی بڑائی کا سکہ ضرور چلتا ہے۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ محفل میں کوئی اہم شخص کتنی بھی غیر اہم اور سرسری بات کرے لوگ اسے توجہ سے سنتے ہیں اور اگر وہ کوئی گھٹیا درجے کی مزاح آلودہ بات بھی کرے گا تو لوگ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور اسے داد دینے کے لیے زور زور سے ہنسنے لگیں گے۔ گویا اس کی ہر حرکت کو اہمیت ملے گی مگر ایک بے وسیلہ شخص کی اچھی سے اچھی بات بھی لوگوں کے کانوں تک نہیں پہنچے گی!!

افسوس کہ میرے اندر کا فلسفی ایک اعلیٰ تصوراتی دنیا میں رہتا ہے اور ان حقائق سے ہمیشہ صرف نظر کرتا ہے۔ ان معاملات میں مجھے اپنا جانور زیادہ اچھا لگتا ہے جو ان تلخ حقائق کا ادراک رکھتا ہے اور مجھے ان حقائق کے مطابق زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ “حمیدی صاحب آپ اگر روم میں رہ رہے ہیں تو اس طرح رہیں جیسے رومن رہ رہے ہیں ……..تاکہ آپ اپنی زندگی بسر کر سکیں ……..یعنی جو زندگی آپ کو ملی ہے اسے بسر کر جائیں ……..نہ کہ عظیم آدرشوں کی صلیب پر لٹکتے نظر آتے رہیں !!”۔

روز مرہ کی زندگی میں بھی مجھے من آنم کہ من دانم کے اصولوں پر کارفرما ہونا پڑتا ہے۔ حقیقت میں مَیں وہ زندگی بسر نہیں کر رہا ہوں جو مَیں بسر کرنا چاہتا ہوں اور جس کی تعلیم فلسفی مجھے دیتا ہے…….. مجھے بہرحال وہ زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے جو معاشرے نے مجھے دے رکھی ہے!!

اس زندگی کی تلخیوں کا احساس خصوصیت سے مجھے اس وقت ہوتا ہے جب مَیں کسی تقریب میں شریک ہوں۔ گو اپنی طرف سے مَیں خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتا اور نہ ہی کسی احساس کمتری کا شکار ہوتا ہوں کہ ایک مصنوعی معاشرے میں ایک پڑھے لکھے مگر بے وسیلہ شخص کی حیثیت کا تعیّن اسی طرح سے ہوا کرتا ہے۔ مَیں اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے معاشرے سے مجھے اپنے علم و فضل (وہ جیسا بھی ہے) کی توقیر کی امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں جو ابھی ذہنی زندگی کے مدار میں داخل ہی نہیں ہوا……..بلکہ جسمانی اور حیوانی زندگی بسر کر رہا ہے۔ اسی لیے مجھے اپنے فلسفی کی افلاطونی باتیں غیر موزوں لگتی ہیں۔

ابھی چند روز قبل مجھے اپنے ایک عزیز دوست کے ہاں کھانے کی دعوت میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ میرے دوست نے جو ایک پڑھا لکھا شخص ہے بڑے ہی پُر تپاک انداز میں میرا استقبال کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ کر کچھ دیر تک باتیں کرتا رہا……..یوں گویا اس نے دوسروں پر میری اہمیت واضح کی……..سب لوگ آپس میں بڑے خوشگوار موڈ میں گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس دوران میں کھانا میزوں پر لگایا جاتا رہا۔ میرے دوست اٹھے اور چند منٹ تک میزوں پر کھانا لگنے کا جائزہ لیتے رہے۔ پھر بڑی آہستگی سے آئے اور مہمانوں کو کھانے کے لیے بلایا۔ مَیں سوچ رہا تھا کہ مہمانوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے۔ اس لیے اب کے اطمینان سے کھانا کھائیں گے!

مگر صاحب کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے کھانے کی میز کے قریب پہنچنے سے کہیں پہلے دوسرے بہت سے حضرات کھانے کی میزوں پر قابض ہو چکے تھے۔ سب لوگ اپنے کاموں میں اتنے مصروف تھے کہ کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ سب حضرات جو ابھی کچھ دیر پہلے نہایت مہذب اور با مروت دکھائی دیتے تھے اپنے سارے حُسنِ اخلاق کو بالائے طاق رکھ کر کھانے پر ٹوٹ پڑے تھے!

چمچوں اور پلیٹوں کی آوازیں طبلِ جنگ کی طرح سنائی دے رہی تھیں !

حیرت اس بات پر تھی کہ جو حضرات ابھی کچھ دیر پہلے ہمارے پاس بیٹھے نہایت خوش مزاجی سے ہنس ہنس کر ہم سے باتیں کر رہے تھے وہ بھی ہمیں چھوڑ کر اس گھمسان کی جنگ میں شریک ہو چکے تھے۔ مَیں نے کھڑے کھڑے ایک نگاہ میدانِ خورد و نوش پر ڈالی۔ جہاں “ابھی ورنہ کبھی نہیں ” کا منظر تھا!! بعض حضرات پلیٹیں میزوں پر رکھ کر کھانا کھا رہے تھے گویا انہوں نے میزوں کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کروا لیے تھے!

ہجوم پر نظر دوڑا کر میزبان دوست کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ دیکھا تو وہ بھی ان معرکہ آراؤں میں شامل ہوکر دادِ شجاعت دے رہے تھے۔ مرغِ مسلّم اور مرغ بریانی کے علاقوں میں بلا کا رن تھا! ایسے حالات میں ہمیں اپنی دال گلتی نظر نہ آئی……..سوچا کہ میزبان سے اجازت لے کر گھر کی راہ لیں کہ کھانے تک پہنچنے کی سب راہیں مسدود تھیں ……..مگر میزبان ان حالات میں دستیاب نہیں تھے۔

گھر تک واپسی کے راستے میں ہم نے اس تمام واقعہ اور اس میں شامل کرداروں کے رویوں پر غور کیا……..ہمارے اندر کے فلسفی نے ان سب کرداروں کے رویئے کو نہایت غیر مہذب قرار دیا۔ انہوں نے ایک معمولی کھانے کی خاطر اپنی شخصیت اور حُسنِ اخلاق کو داؤ پر لگا کر کوئی اچھا سودا نہیں کیا…….. ان کے برعکس ہمیں اپنا کردار بہت مہذب اور شریفانہ لگا۔ فلسفی صاحب نے ہمارے اس کردار کو بہت عظیم قرار دیا کہ ہم نے کھانے کی خاطر اخلاق کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا….اس سے ایک لمحے کے لیے ہمیں سکون سا حاصل ہوا……..!

مگر دوسرے ہی لمحے ایسا محسوس ہوا جیسے ہم نے تہذیب و شرافت کے نام پر اپنی کم ہمتی اور کوتاہ دستی کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ گویا تہذیب و شائستگی کے پردے میں بزدلی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے……..اندر سے کسی نے کہا……..آخر آپ اس ماحول میں اپنے آپ کو کیوں ایڈجسٹ نہ کر سکے؟

آپ مجھے جو بھی کہیں مگر سچّی بات یہ ہے کہ مجھے فلسفی صاحب کے عظیم خیالات کچھ اچھے نہیں لگے!

پیٹ میں روٹی نہ ہو اور آدمی تہذیب و شائستگی کے مظاہرے کرتا پھرے! ایسا لگا جیسے یہ سب بھرے پیٹ کی باتیں ہی……..! پیٹ کی آگ بلند و بالا آدرشوں اور شائستہ رویّوں سے نہیں بجھتی……..روٹی سے بجھتی ہے! مَیں نے اپنے آپ کو ایک عجیب سے دوراہے پر کھڑے دیکھا…….. ایک طرف تہذیب وشائستگی کے اعزاز اور عظمتیں تھیں …….. اور دوسری طرف خالی پیٹ کے تقاضے تھے۔

بھوک تو خیر ایک بہت ہی بنیادی انسانی احتیاج ہے…. مَیں سمجھتا ہوں کسی بھی آفت اور مصیبت میں انسان کے شائستہ رویئے بحال نہیں رہتے……..مثلاً آپ نہایت صبر و سکون کے ساتھ آرام کرسی میں لیٹے ٹی۔ وی۔ پر اپنی کوئی پسندیدہ فلم دیکھ رہے ہیں ……..کہ اچانک زلزلے کے تیز جھٹکوں سے زمین لرزنے لگتی ہے……..تو ایسے میں کیا آپ کے شائستہ رویئے بحال رہیں گے؟میرا خیال ہے یہ بہت ہی مشکل ہے……..ممکن ہے آپ جوتے بھی چھوڑ چھاڑ کر باہر کا رُخ کریں کہ اس موقع پر شائستگی کو سنبھالنا نہیں جان کو بچانا آپ کی اولین ترجیح ہو گی۔ !!

ایسی ہی بہت سی باتیں ہیں جو مجھے فلسفیانہ باتوں سے برگشتہ کر دیتی ہیں اور مَیں انہیں اچھا سمجھنے کے باوجود ان کے بارے میں اپنے تحفظات رکھتا ہوں ! فلسفی صاحب مجھے زندہ رہنے کی بجائے زندۂ جاوید ہو جانے کے جو مشورے دیتے ہیں۔ ان پر مَیں اس وقت عمل کروں گا جب میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے تقاضوں اور معمولی ضرورتوں کو پورا کر کے ان سے بلند تر ہو جاؤں گا!! عظیم لوگوں کی طرح!

فی الحال تو میری بقا کی ضمانت صرف میرے اس حیوان یا جانور کے پاس ہے جس نے میری ہستیٔ ناپائیدار کی عمارت کا سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے…….. اور ذرا ہمدردی سے سوچا جائے تو شکم پروری اس کی مجبوری ہے…….. فلسفی تو بنی بنائی عمارت پر اپنی عظمت کا پرچم لہرانا چاہتا ہے!!

٭٭٭

 

 

 

اپنی دنیا

 

 

 

میرے ایک دیرینہ دوست ہیں ….کالج کے زمانے کے۔ دبلے پتلے سے۔ قدرے دراز قامت۔ چلتے وقت آگے کو جھکے ہوئے۔ موٹی موٹی تین چار کتابیں بغل میں دبائے نہایت سنجیدہ صورت ….بلکہ رنجیدہ صورت۔ سارے کالج میں فلاسفر کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ہمیشہ دوسروں سے اختلاف کرتے۔ دوسرا اگر بائیں کنارے پر ہے تو یہ دائیں کنارے پر نظر آئیں گے اور اگر دوسرا دائیں کنارے پر ہے تو یہ حضرت بائیں کنارے پر کھڑے نظر آئیں گے۔ غرض یہ اللہ کا بندہ کبھی کسی سے متفق ہوتے نہیں پایا گیا۔ اگر کبھی کسی نے ان کے اختلاف سے بچنے کے لیے گومگو کی پالیسی اختیار کر لی تو فرمایا “کھُل کر بات کرو اور اختلاف کرنے سے گھبراؤ نہیں ……..اختلاف کرو تاکہ بات آگے بڑھے۔ !!

مجھ پر بہت مہربان تھے….اس لیے کہ مجھ سے اختلاف کرنے میں وہ بڑی سہولت محسوس کرتے۔ میرا ان کا ساتھ کالج کے تمام عرصے پر محیط ہے بلکہ اب بھی دوستی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ کالج کا زمانہ تو ویسے بھی دوست بنانے کا زمانہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ان سے اختلاف نہیں کرتے تھے یا نہیں کرنا چاہتے تھے انہیں وہ سخت ناپسند کرتے۔ اول اول مَیں بھی ان سے بچ بچا کر بات کرتا کہ بحث ہمیشہ بے نتیجہ ہوتی ہے….مگر جب وہ محسوس کرتے کہ مَیں بحث مباحثے سے بچنا چاہتا ہوں تب وہ ڈانٹنے کے سے انداز میں کہتے “یہ کیا چوں چوں لگا رکھی ہے۔ کھُل کر اختلاف کرو تاکہ بات آگے بڑھے”۔ حضرت یہ نہیں جانتے تھے کہ مَیں بات بڑھانے سے ہی تو ڈر رہا ہوں۔

تب ایک بار ہمت کر کے مَیں نے پوچھ لیا کہ یار یہ آپ ہر بات پر اختلاف کیوں کرتے ہیں۔ مَیں دائیں ہوتا ہوں تو آپ بائیں ہو جاتے ہیں اور اگر مَیں متفق ہونے اور اختلاف سے بچنے کے لیے بائیں ہوتا ہوں تو آپ دائیں کو سرک جاتے ہیں۔ کیا یہ تضاد خیالی نہیں ہے؟ کہنے لگے یہ تضاد بیانی نہیں حقیقت بیانی ہے۔ جس وقت مَیں جو بات درست سمجھتا ہوں وہ کہہ دیتا ہوں۔ کیا تم میری آزادیِ فکر پر پابندی لگانا چاہتے ہو؟ آزادیِ فکر ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور مَیں اسے استعمال کرنے کا مجاز ہوں “۔ مَیں نے لاجواب ہوتے ہوئے کہا “مگر آپ کبھی کسی جگہ ٹھہرا بھی تو کریں تاکہ آپ کے مؤقف کو سمجھا جا سکے”۔ بولے “آپ کا سمجھنا ضروری نہیں ہے ایسی کتنی ہی باتیں ہیں جنہیں آپ نہیں سمجھتے اور انہیں سمجھے بغیر بھی آپ کا گزارا ہو رہا ہے”۔ مَیں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ فرمایا “اختلاف کرو تاکہ بات آگے بڑھے اگر اتفاق ہی کرتے رہو گے تو بات آگے کیسے بڑھے گی۔ تم یہی سوچ لو کہ اگر اگلی نسلیں پچھلی نسلوں سے اختلاف نہ کرتیں تو آج علوم اس بڑی منزل پر نہ پہنچتے جہاں وہ آج دکھائی دے رہے ہیں۔ ویسے بھی اس طرح تو تم کُند ذہن ہو جاؤ گے”۔ یہ حضرت اگرچہ کالج کے طالب علم تھے مگر اپنے طور اطوار۔ شکل و صورت اور گفتگو کے لب و لہجے سے کوئی “بڑے میاں ” نظر آتے!

اکثر ہم کالج لان میں گھاس پر بیٹھے چار پانچ دوست چائے پی رہے ہوتے اور قہقہے لگا رہے ہوتے تو حضرت نازل ہو جاتے۔ ہم میں سے کوئی نظر بچا کر دھیمی آواز میں کہتا “آ گئے انسانی خوشیوں کے دشمن”۔ مجھے مخاطب کر کے کہ اکثر آپ کا روئے سخن میری ہی طرف ہوتا کہتے “اکبر اوّل تو اس وقت چائے پینا قطعاً ضروری نہیں ہوتا کہ یہ چائے کا وقت ہی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ قہقہے لگانا اور وہ بھی اس کھلی فضا میں ….انسانی صحت کے لیے بیحد مضر حرکت ہے”۔ ایک روز مَیں نے پوچھ لیا کہ “جناب اب تک تو یہی سنتے آئے تھے کہ قہقہے لگانا اور مسکراتے نظر آنا صحت کے لیے مفید باتیں ہیں …. اب آپ نے ایک نئی بات کہہ دی کہ یہ سب مضر ہیں ” غصّے سے بولے “ایک تو تم لوگ ہر نئی بات سے انکار پر تُلے رہتے ہو۔ دوسرے یہ کہ ہنسنا مسکرانا اور بات ہے اور مُنہ تین چار انچ نصف قطر تک کھول کر قہقہے لگانا ایک بالکل مختلف بات ہے۔ ….دیکھتے نہیں ہماری فضا کس قدر آلودہ ہو چکی ہے اور یہ ساری آلودگی تم اپنے اندر اتار رہے ہو۔ ”

زمانۂ طالب علمی میں تو ہمارا یہی حال ہوتا رہا۔ آہستہ آہستہ مَیں ان کا مزاج شناس ہو گیا اور سمجھ لیا کہ آپ کا متفق ہونا ممکن نہیں۔ یہ بات مجھے اکثر بہت عجیب لگتی کہ کالج کے زمانۂ طالب علمی میں اس کے سارے طور طریقے بزرگانہ سے ہو گئے تھے۔ جیسے کوئی نوجوان بوڑھا! بہرحال مَیں یہاں تک سمجھ گیا کہ حضرت سے متفق ہونا تو درکنار….متفق ہونے کی کوشش کرنا بھی ان کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود مَیں غور کرتا تو وہ مجھے ایک معصوم سا بے ضرر انسان نظر آتا!!

کالج سے فارغ ہوئے تو سب دوست بکھر سے گئے۔ ٹوٹی ہوئی مالا کے موتیوں کی طرح۔ وہ صاحب بھی چند سالوں کے لیے کہیں بیرونِ ملک چلے گئے۔ یہ خبر سُن کر کچھ اطمینان سا ہوا کہ اب اختلاف اور مستقل اختلاف کرنے والا ایک شخص تو کم ہوا…. عارضی طور پر ہی سہی۔ پھر بھی اس دوران میں اکثر وہ یاد آتا رہا۔ اگرچہ کالج کے زمانے میں مَیں اس سے اکتایا ہوا سا تھا۔ مگر سچّی بات یہ ہے کہ اس جدائی کے عرصے میں کئی بار اس دوست کی یاد آتی رہی جو دوسروں سے بہت مختلف تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ بے ضرر اور معصوم انسان تھاجسے سوائے بحث و تمحیث کے اور کسی بات میں دلچسپی نہیں تھی۔ کالج کے آخری ایّام میں میری اس سے خاص بے تکلفی ہو گئی تھی….اس کے بزرگانہ طور اطوار کے باوجود!!

چند سالوں بعد ایک روز اس کا ٹیلی فون آیا کہ وہ وطن واپس آ گیا ہے۔ اس کا فون آیا تو کالج کے زمانے کی کئی پُرلطف یادیں بھی ذہن میں تازہ ہو گئیں ! اور دل میں مسرت کی ایک لہرسی دوڑ گئی۔ جدائی انسان کو اور بھی قریب کر دیتی ہے بشرطیکہ دلوں میں خلوص ہو۔ کچھ ایسی ہی کیفیت میری بھی تھی۔

پھر ایک روز وہ مجھے ملنے کے لیے بھی آ گیا….بالکل ویسا ہی تھا…. مگر قدرے بشاش!

کچھ دیر مَیں نے اُس سے اِدھر اُدھر کی گفتگو کی…. مگر بچ بچا کر کہ اب وہ میرے گھر میں بیٹھا تھا۔ اور اس کی حیثیت بلاشبہ ایک معزز مہمان کی سی تھی۔ مَیں چاہتا تھا کہ ہماری گفتگو اگر اختلاف سے بچ نہیں پاتی تو بھی بلند آہنگ نہ ہونے پائے۔ سچی بات یہ ہے اب آپ کو بتا ہی دوں کہ اندر سے ہمیشہ مَیں اس کے طرزِ استدلال سے مرعوب رہا ہوں۔ اور مجھے یقین سا ہو گیا تھا کہ بحث و تمحیث میں اسے لا جواب کرنا ممکن نہیں۔ ویسے بھی وہ میرے کالج کے زمانے کا ایک مخلص دوست تھا….بے ضرر سا!!

تب باتوں ہی باتوں میں اس نے موضوع بدلا اور مجھے پوچھا……..”سناؤ تمہارے احوال کیا ہیں اور ان دنوں تم کیا سوچ رہے ہو”۔ میرا ماتھا ٹھنکا اور مَیں نے بڑی احتیاط سے آہستہ آواز میں کہا “ملکی حالات بھی کچھ بہتر نہیں ہیں۔ ابھی تک لوگ ناداری اور بیماری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور دنیا میں بھی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ ایسے حالات میں ایک سوچنے سمجھنے والا انسان خوش کیسے رہ سکتا ہے”۔ اس پر انہوں نے ایک ایسی بات کہی کہ مَیں چکرا سا گیا۔ کہا “اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اکثر گھر سے باہر رہتے ہو”۔ مَیں سوچنے لگا کہ اس بات کا میری بات سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا تو بے اختیار پوچھ لیا۔ “یار تمہاری بات کا میری بات سے کیا تعلق ہے؟” بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔ “دیکھو اکبر تمہارا گھر تمہاری دنیا ہے اور تمہاری دنیا ادب ہے نہ کہ سیاست۔ نہ تو تم سیاستدان ہو اور نہ ہی کوئی سماجی کارکن۔ ہاں اپنی دنیا میں رہو گے تو پُرسکون رہو گے یہاں رہ کر تم جو چاہو کر سکتے ہو۔ اپنی اس دنیا سے ضرور نکلو….مگر جلد واپس آؤ اور مستقل قیام اپنی دنیا میں رکھو۔ جیسے ہم سب کام کاج کے لیے نکلتے ہیں اور پھر گھر لوٹ آتے ہیں۔ مَیں نے کہا “یار یہ کیسے ممکن ہے کہ میں باہر کی دنیا میں پاؤں نہ رکھوں اور اپنے گردو و پیش سے بے خبر اور بے اثر رہوں ….مَیں کوئی جزیرہ انڈیمان تو نہیں “۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا “اکبر صاحب یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ اعمال ہیں اور اعمال اسباب نہیں ہوتے…. نتائج ہوتے ہیں بہت سی باتوں کے جو تمہارے میرے اختیار سے باہر ہیں …. اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں “۔

یہ کہا اور مجھ سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔ مَیں اسے گلی میں جاتے ہوئے دُور تک دیکھتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ اگلا موڑ مُڑ گیا!!

مَیں حیران ہو کر سوچ رہا تھا کہ یہ مجھے کیا کہہ گیا ہے؟ اعمال اسباب نہیں ہوتے……..نتائج ہوتے ہیں ؟ اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں ؟؟!!

٭٭٭

 

 

 

وال کلاک کے پیچھے

 

میرے بیڈ روم میں میرے بیڈ کے سامنے کی دیوار پر ایک بڑا سا ہشت پہلو وال کلاک لگا ہے جس کے پیچھے ایک بہت بڑی۔ بھدی۔ بدصورت چھپکلی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں …….. اور اب گذشتہ کچھ عرصے سے سچی بات ہے میں اس سے ڈرنے بھی لگا ہوں !

اس سے نفرت تو مجھے شروع سے ہی تھی اور بھلا چھپکلی سے محبت کون کر سکتا ہے۔ خصوصاً اس صورتِ حال میں جب یہ بد شکل اور بد ہیئت مخلوق بیڈ کے عین سامنے والی کلاک کے پیچھے رہتی ہو اور اپنا رُخِ نازیبا وقت بے وقت ظاہر بھی کرتی رہتی ہو۔ میرا خیال تھا کہ وال کلاک کا عقب اس کی عارضی رہائش گاہ ثابت ہو گا اور میں جلد ہی اس بد منظر ڈرامے سے نجات حاصل کر لوں گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس بدصورت مخلوق کو یہ خوبصورت جگہ شاید کچھ زیادہ ہی پسند آ گئی ہے۔ ویسے خاصے دن میں نے اس خوش گمانی میں امن وسکون سے گزار لیے تھے اور خوش گمانی کو اسی لیے میں نے ہمیشہ مفید خیال کیا ہے لیکن جب آہستہ آہستہ یہ خوش گمانی بدگمانی میں تبدیل ہونے لگی کہ یہ مخلوق جلدی پیچھا چھوڑنے والی نہیں ہے تو یہ نفرت غم و غصے میں تبدیل ہونے لگی اور جب غم و غصے سے بھی مجھے کچھ افاقہ نہ ہوا تب مجھے اس بدمعاش سے ڈر سا آنے لگا۔ شاید نفسیاتی طور پر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ اوّل اوّل نفرت سر اٹھاتی ہے۔ پھر نفرت کی کوکھ سے غم و غُصّہ جنم لیتا ہے اور جب اس تمام دوران میں صورتِ حال تبدیل نہیں ہوتی تو انسان ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔ اسے آپ اظہارِ بے بسی ہی جانیئے!!

ایسا بھی نہیں کہ میں کوئی بزدل شخص ہوں یا چھپکلی سے اپنے بے خوف ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی بہادری ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں جس طرح لکھنوی بانکے بات بات پر قرولی تلاش کرتے ہیں پنجاب کے لوگ بات بات پر ہاتھ ڈانگ پر لے جاتے ہیں اور چھپکلی پر تو ڈانگ اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں ایک جُوتا اچھال دینا ہی کافی ہے!

میرے بیڈ کے سامنے کی دیوار پر لگا وال کلاک جتنا خوبصورت، چمکدار، سنہری اور دلکش ہے اس سے وابستہ یہ مخلوق اتنی ہی بدصورت ہے۔ یوں بعض اوقات مجھے فطرت کی اس ستم ظریفی پر حیرت بھی ہوتی ہے کہ زندگی میں بدصورتی کس کس طرح خوبصورتی پر حاوی ہونے لگتی ہے یا چھوٹی سی بدصورتی بہت بڑی خوبصورتی کو زائل کر دیتی ہے یا خود ہم ہی بہت بڑی خوبصورتی کو نظر انداز کر کے کسی چھوٹی سی بدصورتی پر مرکوز ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے انسان ہر طرف اور ہمہ وقت خوبصورتی ہی خوبصورتی دیکھنا چاہتا ہے اور بدصورتی کو خواہ وہ کتنی بھی حقیر ہو برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ ویسے دیکھا جائے تو چھپکلی کے کہیں سے بھی خواہ وہ وال کلاک کا عقبی حصہ ہی کیوں نہ ہو برآمد ہونے کا واقعہ اتنی بڑی اہمیت نہیں رکھتا کہ ہم اسے اپنے لیے تکلیف دہ بنا لیں …….. چھوٹی موٹی بدمزگیوں کو تھوڑی سی کوشش سے نظرانداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ پتہ نہیں آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو بعض اوقات سورج کے عقب سے برآمد ہونے والے واقعات بھی چھپکلیوں کی طرح ہی لگتے ہیں۔ آخر یہ بھی چھپکلیاں ہی تو ہیں جو ہمارے سامنے کی دیواروں پر بے ہنگم انداز میں دوڑتی بھاگتی نظر آتی ہیں اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نظروں سے غائب ہوتی چلی جاتی ہیں ……..فرق صرف یہ ہے کہ یہ موصوفہ میرے وال کلاک کے پیچھے شاید مستقل طور پر اپنا گھر بنا چکی ہیں اور کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ میری زندگی کا مستقل حصہ بن چکی ہے!

رات جب میرے بیڈ کے سرہانے کی طرف کوئی ڈیڑھ فٹ بلند لکڑی کی شیلف پر رکھے ٹیبل لیمپ کی روشنی بیڈ کے سامنے ہشت پہلو، سنہری، چمکدار وال کلاک پر پڑتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھے اپنا وال کلاک جامِ جہاں نما میں تبدیل ہوتا نظر آنے لگتا ہے……..تب یہ بدصورت مخلوق عین اسی وقت وال کلاک کے عقب سے برآمد ہوتی ہے اور پھر مجھے یوں لگتا ہے جیسے وہ وال کلاک کے چمکتے دمکتے ہندسوں کو ایک ایک کر کے نگل رہی ہے……..اور مجھے میر کا شعر یاد آنے لگتا ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

یا پھر ایسے جیسے جنت پر شیطان کا قبضہ ہو گیا ہو!!

آپ خود ہی بتائیے اس وقت آپ پر کیا گزرے گی جب آپ اپنے آپ کو کسی جنتِ خیال میں آباد ہوتے محسوس کر رہے ہوں اور اچانک کوئی اس جنتِ خیال میں در آئے اور اسے تہس نہس کر ڈالے۔ ایسے مواقع پر میرا حال ایسی کیفیت سے ذرا بھی مختلف نہیں ہوتا!

کئی دفعہ میں نے دیکھا کہ رات میں اپنے بیڈ پر نیم دراز حالت میں پڑھ رہا ہوں یا کچھ لکھ رہا ہوں اور کبھی کبھی میری نظر از خود اس وال کلاک پر بھی اُٹھ جاتی ہے۔ مگر اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدصورت۔ بد ہیئت۔ بہت بڑی چھپکلی وال کلاک کے عقب سے نکل کر دیوار پر اپنے لمبے لمبے پاؤں کے ساتھ قابض ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ صرف سامنے کی دیوار پر ہی قابض نہیں ہے بلکہ پورے منظر نامے پر حاوی ہو چکی ہے اور وال کلاک کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ تب موصوفہ پوری دیوار پر گویا پردۂ سکرین پر اچھل اچھل کر اپنے شکار پر جھپٹ رہی ہے او ر پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ واپس آتی ہے اور وال کلاک کے پیچھے اپنی اقامت گاہ میں غائب ہو جاتی ہے!

کوئی بات معمولات کا حصہ بن جائے تو اس کی اہمیت اور تاثر عام طور پر کم ہو جاتا ہے مگر چھپکلی کے بارے میں مجھے ایسا ہوتا محسوس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر دفعہ مجھے پہلے سے کچھ زیادہ ہی اذیت ملتی ہے۔ پتہ نہیں اس معاملے میں اب زیادہ قصور وار چھپکلی کی بد ہیئتی ہے یا میری بد مزاجی۔ اپنی بد مزاجی کو خصوصاً اس معاملے میں تو خوش مزاجی ہی کہوں گا۔ اس لیے بھی کہ خوش مزاج لوگ ہی بدصورتی کے عادی نہیں ہو پاتے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے غور فرمائیے کہ اگر ہم بدصورتیوں کے عادی ہونے لگیں تو ہمارا ا ور ہمارے معاشرے کا حال کیا ہو جائے۔ کیا ہر طرف بدصورتیوں ہی کا راج نہ ہو جائے؟ ! سو بدصورتی کا عادی ہونا کم سے کم میرے لیے ایک مشکل امر ہے۔ یہ درست ہے کہ اس عادت کے نہ ہونے سے میں مستقل طور پر ذہنی اذیت کا شکار ہوتا رہتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بدصورتیوں کا عادی نہ ہونا ہمارا ایک اخلاقی اور معاشرتی فریضہ بھی ہے۔ یوں آپ جان گئے ہوں گے کہ چھپکلی سے مستقل مزاجی کے ساتھ نفرت کے جذبے بحال رکھ کر میں ایک معاشرتی فریضہ بھی سرانجام دے رہا ہوں ! اگرچہ مجھے اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے!

میں عرض کر چکا ہوں کہ اب مجھے اس بد ہیئت مخلوق سے ڈر سا آنے لگا ہے کہ اس نے میرے وال کلاک پر مستقبل قبضہ کر رکھا ہے۔ بلکہ یوں سمجھیے کہ میرے حواس پر مستقبل قبضہ کر لیا ہے کہ کسی بھی وقت جب بھی وہ چاہے برآمد ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اب مجھے قدیم داستانوں کا وہ شہر یاد آنے لگتا ہے جس میں سمندر سے نکل کر کوئی بلا در آتی تھی اور شہر سنسان ہو جایا کرتا تھا!!

٭٭٭

 

 

 

مَیں کہاں ہوں

 

کل صبح جب مَیں سو کر اٹھا تو خلافِ معمول بہت سنجیدہ تھا!

دراصل رات سونے سے پہلے ایک عجیب سا خیال میرے دماغ میں گھُس آیا تھا جس کا میں کوئی جواب فوری طور پر نہ دے سکا تھا۔ ویسے تو یہ ایک خیال ہی تھا مگر اس میں ایک سوال بھی موجود تھا اور اس سوال نے مجھے کچھ گڑ بڑا دیا تھا۔ سوچا صبح اٹھوں گا تو اطمینان سے اس کے بارے میں سوچ لوں گا۔ پھر مجھے برٹرینڈرسل کی یہ نصیحت بھی یاد آ گئی تھی کہ “رات کو تو بالکل سوچنا نہیں چاہیے”۔ ایک ہلکا سا گمان یہ بھی تھا کہ ممکن ہے صبح تک یہ عجیب سا خیال کہیں نقلِ مکانی کر جائے اور مَیں اپنی ہشّاش بشّاش زندگی بسر کرتارہوں۔ عجیب خیالوں سے بعض اوقات اور سنجیدہ لوگوں سے اکثر اوقات جہاں تک ممکن ہوتا ہے مَیں بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ عجیب خیالوں تک تو بات قابلِ برداشت ہے کہ بعض اوقات عجیب خیالات سنجیدہ نہیں بھی ہوتے اور ان کا عجب پن کسی قدر پُر لطف بھی ہوتا ہے۔ پھر میرا تجربہ یہ بھی ہے کہ عجیب خیالوں کو اگر تھوڑا سا ٹوسٹ twistدے کر دیکھا جائے تو اکثر وُہ پُر لطف ہو جاتے ہیں۔ ٹوسٹ دینے سے میری مراد ہے ذرا ان کے زاویے بدل بدل کر انہیں دیکھا جائے تو ان کے کئی ایک ایسے مناظر بھی سامنے آتے ہیں جو خاصے دل خوش کُن ہوتے ہیں اور سنجیدگی کی بور کیفیت سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں !

یہاں مثلاً ایک معمولی سی بات مَیں عرض کرتا ہوں جو میرے ذاتی تجربے میں آتی رہتی ہے کہ جب کبھی کوئی بور سا عجیب خیال جو سنجیدگی میں ملوّث ہو مجھے ستانے لگتا ہے تو مَیں احتیاطاً آئینہ دیکھ لیتا ہوں اور اس میں اپنے چہرے کو گھما پھرا کر کئی زاویوں سے مشاہدہ کرتا ہوں اور تسلی کرنا چاہتا ہوں کہ مَیں وہی ہوں نا جو کچھ دیر پہلے اچھا خاصا خوش و خرم چل پھر رہا تھا اور ہر طرح خیر و عافیت سے تھا اور اگر وہی ہوں تو پھر یہ سنجیدگی زدہ عجیب خیال کیسے مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ اکثر مَیں اپنے آپ کو اس حالت میں پاتا ہوں جو ایک نارمل سی حالت ہوتی ہے….تب مَیں اطمینان کی سانس لیتا ہوں کہ خیر ہے کوئی خطرے کی بات نہیں ….ایسے ہی کہیں کھانے پینے میں کمی بیشی ہو گئی ہے۔

زندگی میں کئی مرتبہ آدمی کو کوئی ایسی صورت حال پیش آ جاتی ہے کہ انسان پریشان ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں بھی مَیں یہی نسخہ آزماتا ہوں یعنی آئینہ دیکھنے والا۔ مگر اس میں ذرا سا اضافہ اپنے آپ سے مکالمے کا بھی کر لیتا ہوں۔ مثلاً سخت پریشانی یا بے چینی میں اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ کر مسکراتا ہوں اور پوچھ لیتا ہوں ……..”سناؤ بچّے کیا حال ہے……..بڑے پھنّے خاں بنتے تھے بس اتنے میں چیں بول گئی”۔ اکثر اُدھر سے جواب آتا ہے “نہیں نہیں پیارے مَیں ٹھیک ہوں بس ذرا یونہی بے چین ہو گیا تھا۔ تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ٹھاک ہے”۔ تب مَیں مسکراتا ہوں اور اپنا چہرہ بحفاظت آئینے سے باہر نکال لیتا ہوں۔ تب اطمینان کی گہری سانس لیتا ہوں۔ حافظ ایسے میں اکثر یاد آتا ہے “چناں نہ ماند چنیں نیز ہم نخواہد ماند”۔ یعنی وہ حالت نہیں رہی ہے تو یہ بھی نہیں رہے گی۔

آغاز میں مَیں نے ذکر کیا تھا کہ رات سونے سے پہلے ایک عجیب سا خیال میرے ذہن میں گھُس آیا تھا۔ واقعہ یہ ہوا کہ مَیں ذرا سا پریشان تھا سو حسبِ معمول آئینے میں اپنے آپ سے مکالمہ کیا۔ خیال تھا کہ مجرب نسخہ ہے حسبِ سابق کامیاب ثابت ہو گا۔ مگر اب کے شاید عمل میں کچھ کمی رہ گئی تھی۔ سو اس خیال کو اندر ہی اندر گھما پھرا کر مختلف زاویوں سے دیکھنے کے باوجود افاقہ نہ ہوا۔ بلکہ یہ عجیب سا سوال سنجیدگی اختیار کرتا چلا گیا اور اُلٹا مجھے اپنے سنجیدہ زاویئے دکھانے لگا۔ ہوا یوں کہ جیسے ہی مَیں نے آئینے میں اپنے آپ سے مکالمہ آغاز کیا فوری طور پر یہ خیال میرے ذہن میں در آیا کہ یہ مکالمہ مَیں کس سے کر رہا ہوں ؟ مَیں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا “اپنے آپ سے”۔ لیکن اُدھر سے پھر سوال آیا “تم کہاں ہو”۔ اب ذرا سا مجھے سوچنا پڑا کہ جواب میں کیا کہوں کہ وہاں ہوں آئینے کے اندر یا یہاں ہوں آئینے کے باہر۔ بظاہر تو باہر ہی نظر آتا ہوں ……..مگر کیا باہر بھی ہوں ؟

بس اس پر مجھے پریشانی سی ہوئی اور سوچنا پڑا کہ “مَیں کہاں ہوں “۔ “میں کہاں ہوں ” “مَیں کہاں ہوں ” اور پھر جب “مَیں مَیں ” کی اچھی خاصی آوازیں آنے لگیں تو مجھے ایسا لگا جیسے مَیں ممیانے لگ گیا ہوں۔ تب جیسے کوئی ٹھنڈے پانی کا گلاس پیتا ہے کہ ذرا سکون آئے۔ مَیں نے برٹرینڈ رسل کو یاد کیا جس نے کہا تھا “رات کو تو بالکل سوچنا نہیں چاہیے”۔ اس سے مجھے کچھ اطمینان سا ہوا اور مَیں نے جی ہی جی میں کہا کہ اس سوال کا جواب اسی وقت تلاش کرنا کچھ ایسا ضروری بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سوال کا جواب تلاش کیے بغیر بھی یہ دنیا چلتی رہے گی اور حمیدی صاحب آپ بھی اگر چاہیں تو اس کا جواب دیئے بغیر آرام سے سو سکتے ہیں۔ سو ایسا ہی ہوا۔ سوال کو کل پر ٹال کر مَیں اطمینان سے سو گیا۔

اب جونہی صبح مَیں بیدار ہوا یہ سوال خیال کی شکل میں پھر سے میرے دماغ میں گھُس آیا کہ “میں کہاں ہوں “۔ اس کا آسان سا جواب تو یہی تھا کہ “مَیں اپنے گھر پر ہوں اور کہاں ہوں ” مگر پتہ نہیں کیوں اس سے کچھ اطمینان حاصل نہ ہوا۔ شاید سوال کی نوعیت میرے لاشعور میں عمل پیرا تھی۔ تب یہ سوال مجھے اپنے زاویئے دکھانے لگا جس طرح پہلے مَیں خیالوں کو ان کے زاویئے بدل بدل کر دیکھتا تھا اور اس مشغلے میں اچھا خاصا لطف اندوز بھی ہوتا تھا۔ بالکل اسی طرح سے یہ عجیب خیال چہرے بدل بدل کر میرے سامنے آنے لگا۔ اب مَیں سوال کی نوعیت کو کچھ کچھ سمجھنے لگا تھا کہ اپنے جسم میں مَیں کہاں ہوں۔ کس جگہ واقع ہوں ……..کس حصے میں ہوں ؟

سب سے پہلے دھیان دماغ کی طرف گیا جو میرے حکم پر مگر بعض اوقات میرے حکم کے بغیر بھی……..بلکہ کئی مرتبہ منع کرنے پر بھی کسی بات پر خود کار مشین کی طرح سوچنے لگتا ہے اور اکثر میرے بس میں نہیں رہتا!۔ وہ کچھ بھی سوچ جاتا ہے جو مَیں نہیں چاہتا۔ تب پتہ چلا کہ دماغ کوئی الگ چیز ہے……..گویا “مَیں دماغ نہیں ہوں “۔ دماغ اور مَیں دو مختلف ہستیاں ہیں یا کم سے کم میرا قیام دماغ میں نہیں ہے۔ کہیں اور ہے……..مگر کہاں “؟

تو پھر مَیں کہاں ہوں ؟ دماغ کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں دل کو بھی ایک خاص جذباتی اور بعض اوقات فیصلہ کُن حیثیت دی جاتی ہے۔ اگرچہ میڈیکل والے اسے محض خون کو گردش دینے والا ایک آلہ ہی کہتے ہیں مگر خصوصاً ادب میں اور روحانیات میں دماغ کے متوازی دل کی بھی ایک بڑی حیثیت ہے تو پھر کیا مَیں دل میں ہوں۔ یا کیا مَیں دل ہوں ؟……..مگر دل کا تو مجھ سے اور میرا دل سے اکثر اختلاف رہتا ہے اور اب تو مَیں بعض اوقات اس کے سامنے خاصا شرمسار رہتا ہوں۔ ایک زمانہ تھا جب آتش جوان تھا اور حضرتِ دل زوروں پر تھے۔ ہر وقت مشورے دیتے رہتے تھے کہ “یہ کر لو۔ وہ کر لو۔ موقع ہے۔ پھر نہیں ملے گا۔ بعض اوقات یہ حضرت دماغ کو بھی ساتھ ملا لیتے تھے۔ اپنے مزاج اور عادت کے خلاف اپنے حق میں بھرپور دلائل دیتے تھے۔ اس کے با وصف کہ یہ مشورے اکثر مجھے بہت لذیذ اور عزیز لگتے تھے اور میں یہ سمجھتا تھا کہ ان مشوروں پر عمل کرنے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے یہی مواقع ہیں جو ایک بار ہاتھ سے نکل گئے تو پھر عمر عزیز میں دوبارہ نہیں آنے کے میں نے ان مشوروں کو ہمیشہ ٹھکرا دیا تھا اور اب جبکہ میں اس عمر کو پہنچا ہوں تو جذباتی سطح پر دل کے مشوروں کو درست خیال کرنے لگا ہوں۔ بعض اوقات افسوس ہوتا ہے کہ میں نے دل کے مشوروں کو ٹھکرا کر اپنی زندگی کو کیوں بے کیف رکھا اور کیوں نہ زندگی کے اوراق کو رنگین کر لیا۔ اُس وقت مجھے اپنا یہ رویہ بہت پیغمبرانہ سا لگتا تھا اور قابلِ فخر بھی مگر سچی بات یہ ہے اب وہی رویّہ ایک تکلیف دہ حسرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ جس کے باعث میں حضرتِ دل کے سامنے اب مستقل طور پر شرمسار ہوں !!

مگر خیر یہ باتیں تو برسبیلِ حکایت زبان پر آ گئیں۔ کہنا یہ تھا کہ دماغ کی طرح دل کی بھی اگر کوئی جذباتی حقیقت ہے تو دل بھی مجھ سے مختلف کوئی چیز ہے!

تو پھر کیا مَیں ضمیر ہوں ؟

نہیں ہر گز نہیں۔ مَیں اس زاہدِ خشک سے اکثر اختلاف عمل کرتا رہا ہوں۔ مَیں نے ہمیشہ انسانی سطح پر رہنے کی کوشش کی ہے جبکہ یہ صاحب ہمیشہ مجھے ایک پاکیزہ بلکہ متبرک انسان دیکھنا چاہتے تھے۔ جو انسان تو ہو مگر فرشتہ بن کر زندگی گزارے اور دھوبی سے دھُلے ہوئے کپڑے کی طرح صاف شفاف دکھائی دے۔ میں ذاتی طور پر اپنے آپ کو ایک روشن خیال اور ایک حد تک آزاد خیال انسان بنائے رکھنے کے لیے کوشاں رہا ہوں۔ کوئی متبرک انسان بن کر رہنا بہت اچھا سہی مگر میرے بس کی بات نہیں۔ جن کل پرزوں سے جو ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی خداوند کریم نے مجھے بنا کر بھیجا ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ کم سے کم میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ ایک پاکیزہ انسان ہونا بلاشبہ قابل ستائش ہے اور اس کا ایک بڑا مرتبہ ہے مگر سماجی اور اخلاقی سطح پر ایک متبرک اور پاکیزہ انسان کو کس قدر پاکباز رہنا پڑتا ہے اور دنیاوی لذائذ سے محروم بھی یہ مجھ ایسے شخص کے لیے سوچنا بھی مشکل ہے۔ کچھ بھی ہو اور مَیں کسی کی وکالت بھی نہیں کرنا چاہتا مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک متبرک اورپاکباز انسان تو معمولی معمولی لذاتِ دنیاوی سے بھی اور ذہنی تفریحات سے بھی خود کو جس طرح محفوظ رکھتا ہے وہ بذات خود ایک بڑی نفسانی قربانی ہے جو مجھ ایسے شخص کے بس کی بات نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے لیے اس قسم کی زندگی کو پسند بھی نہیں کرتا۔ کیونکہ بعض حالتوں میں یہ پاکبازی انسان کو فخر و غرور کے اس مقام پر بھی پہنچا دیتی ہے جس کا نتیجہ عام انسانوں سے نفرت تک جا پہنچتا ہے اور میں بذاتِ خود ایک عام انسان ہوں اور مجھے عام انسان سے محبت بھی ہے اور ہمدردی بھی!!

جبلت اس کے برعکس کوئی چیز ہے جو مجھے کھل کھیلنے کی آزادی دیتی ہے بلکہ ترغیب بھی۔ کئی دفعہ اس قوت نے مجھ پر غلبہ پانے کی سعی بھی کی ہے مگر میں نے واپس جنگل میں جانے سے ہمیشہ انکار کر دیا ہے۔ بھلا میں واپس کیوں جاؤں جبکہ راستہ مجھے جنگل سے باہر بلاتا ہے۔ میں صدیوں پر پھیلی ہوئی انسانی محنت و ریاضت کو اپنے قدموں سے برباد کر دینے کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے سکتا!

پہلے آدم سے لے کر آج اکیسویں صدی کے آدم تک انسان نے تہذیب و تمدن کا جو طویل اور دشوار گزار سفر طے کیا ہے……..کیا میں اس عظیم سفر کو بے حقیقت کر دوں اور پھر سے واپس جنگل میں چلا جاؤں اور جانوربن جاؤں ؟!

گو کوشش اور خواہش کے باوجود مَیں جبلّت سے کُلی طور پر نجات حاصل نہیں کر سکا مگر پھر بھی مَیں اس کے غلبے کو قبول نہیں کر سکتا اور اپنی زندگی اور اپنا مستقبل اس کے حوالے نہیں کر سکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں کسی کا بھی اور کسی بھی قسم کا غلبہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں خود غالب رہنا چاہتا ہوں۔ یہ جذبہ مجھے بنانے والے نے میرے اندر ڈال رکھا ہے۔ ڈارون صاحب نے جس جنگل کی نشاندہی کی تھی بے شک ابھی اس جنگل کا کچھ حصہ میرے اندر موجود ہے جہاں سے مجھے وحشی غراّہٹوں کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ کبھی کبھی میں اس جنگل کو اپنے آس پاس پھیلتا ہوا محسوس کرتا ہوں مگر میں اس جنگل کو اپنی قیام گاہ نہیں بنانا چاہتا……..نہیں بنانا چاہتا……..کہ دنیا کے دلکش اور تہذیب یافتہ مناظر مجھے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ تو پھر میری قیام گاہ کہاں ہے؟ اور مَیں کہا ہوں ؟

اپنے جسم پر نگاہ ڈالتا ہوں تو چھ فٹ ایک انچ کے اس رقبے میں مجھے کوئی ایک مقام بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جہاں ہونے کا دعویٰ میں کر سکوں …….. یا جسے میں کہہ سکوں کہ یہ مَیں ہوں !!

یہ سب چیزیں جن کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے میرے آس پاس کی چیزیں ہیں اور بے شک کسی نہ کسی طرح میری زندگی میں دخیل ہیں مگر ان میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے جسے میں اپنی ذات کہہ سکوں یا جسے میں اپنا مقام قرار دے سکوں۔ یہ سب چیزیں میری زندگی کا لازمی حصہ ہیں مگر پھر بھی ایسی ہیں جو اختلافی ہیں یا جن سے میرے اختلافات بہت واضح نظر آتے ہیں۔ یہ سب مجھ میں ہونے کے باوجود مجھ سے الگ تھلگ ہیں اور اپنی اپنی زندگیاں بسر کر رہی ہیں۔ اور اپنے اپنے مزاجوں کی مالک ہیں۔

کئی دفعہ سوچتا ہوں تو اندازہ نہیں کر پاتا کہ مَیں اپنے جسم کے اندر ہوں یا باہر!! لیکن ایسا لگتا ہے کہیں نہ کہیں ہوں تو ضرور۔ اس حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں !!

جب میں آئینے میں اپنے آپ سے مکالمہ کر رہا ہوتا ہوں تب کیا مَیں آئینے کے اندر ہوتا ہوں یا آئینے کے باہر؟ آئینے کے اندر تو میرا ہی عکس ہوتا ہے۔ باہر والے شخص کی حقیقت کا حال کسی قدر میں نے عرض کر دیا ہے…….. تو پھر وہ کون ہے جو مکالمہ کر رہا ہوتا ہے؟ اور کس کی خیر خبر پوچھ رہا ہوتا ہے؟ مجھے نہیں معلوم !!

مگر یوں لگتا ہے تب میں وہیں کہیں آس پاس ہی موجود ہوتا ہوں ……..مجھے یقین ہے میں کسی روز ضرور اپنے آپ کو تلاش کر لوں گا اور تب یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا واقعہ ہو گا!!!

٭٭٭

 

 

 

زیرو پوائنٹ

 

 

انسانی جسم کے اندر اور باہر لگی ہوئی نظر آنے والی اور بیشتر نظر نہ آنے والی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں تحقیق مَیں نے اپنے ذمے لے رکھی ہے!

میرا خیال ہے اس میدان میں تحقیق کا کامِ اوّل تو ہوا ہی نہیں ہے……..میرا مطلب ہے کچھ باقاعدہ نہیں ہوا……..اور اگر ہوا ہے تو نہ ہونے کے برابر۔ سو اس تحقیق کے لیے مَیں نے اپنے انشائیوں میں اس سے پہلے بھی کچھ کام دکھایا ہے!

انسانی جسم کے اندر اور باہر بہت سے ریسیورز Receiversلگے ہیں۔ جن کا بہت بڑا حصّہ ابھی بند پڑا ہے۔ میرے خیال میں انسان صدیوں کی جدوجہد اور تلاش و جستجو کے بعد ان میں سے ابھی تک محض پانچ سات ریسیورز ہی کھول سکاہے۔ حتیٰ کہ اکیسویں صدی کا آغاز ہو گیا ہے۔ اب تک انسان کو کم سے کم اپنے اکیس ریسیورز تو کھول لینے چاہئیں تھے۔ گویا انسان اپنی کارکردگی کے لحاظ سے سائنسی میدان میں وقت سے بہت پیچھے رہا جاتا ہے۔

ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانے کو مَیں انسان کی حُسنِ کارکردگی نہیں سمجھتا بلکہ انسانی نقطۂ نظر سے یہ اس کی منفی کارکردگی ہے۔ پھول سے نرم و نازک انسان کو مارنے کے لیے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانے کی آخر کیا تُک ہے؟

یہ سب باتیں سوچ کر مَیں نے محسوس کیا ہے کہ اس شعبے میں بھی میری بہت ضرورت ہے تاکہ انسانی پیش قدمی کی باگ اُن کاموں کی طرف موڑ دی جائے جنہیں ہم انسان کے لیے حسنِ کارکردگی کے کاموں میں شمار کر سکتے ہیں۔ اس لیے فلاحِ عوام و خواص کے لیے مجھے اپنی ذمہ داریاں بہرحال پوری کرنی ہیں اور اپنے حصّے کا چراغ روشن کرنا ہے!

اب تک یہ کام فلسفیوں، صوفیوں، سائنسدانوں، میڈیکل والوں اور اسی طرح کے کچھ لوگوں کے ذمے رہا ہے۔ مگر جیسا کہ مَیں نے عرض کیا ہے ان حضرات نے وقت کی ضرورت سے بہت کم کام سرانجام دیا ہے۔ زیادہ تر اپنی ضرورتوں کو پورا کرتے رہے ہیں !

ایک بات بالآخر آج مَیں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ دنیا کے بہترین دماغ خواہ ان کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے رہا ہو زیادہ تر اپنے عہد کے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اور جو نہیں ہوئے انہوں نے مصائب کی زندگی بسر کی ہے۔ شاید حُسن کارکردگی کے میدان میں انسانوں کی کامیابی کے کم ہونے کے اسباب کچھ ایسے ہی ہیں۔ !!

شاید ہم کچھ زیادہ سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔ میں سنجیدگی کو پسند کرنے والوں میں شمار نہیں ہونا چاہتا اور میرا خیال ہے آپ کا حال بھی مجھ سے مختلف نہیں ہو گا۔ سنجیدہ لوگوں کی سنجیدہ کاریوں نے دنیا کی روشنیوں میں ہمیشہ دھُوئیں کا اضافہ کیا ہے!!

اور روشنی میں دھوئیں کی ملاوٹ اچھی نہیں ہوتی!!

مَیں عرصے تک ان باتوں کو سوچتا رہا ہوں۔ آخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان کا ریسیورز کھولنا اور پھر کھولتے چلے جانا ہی حقیقی انسانی خدمت ہے کہ انسانی ترقی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے!

سو آج کی ملاقات میں مَیں اپنی تحقیق کا ایک اور انکشاف کرنا چاہتا ہوں ……..!! اور بتانا چاہتا ہوں کہ انسان کے اندر ایک مقامِ زیرو پوائنٹ ہے جو بہت صحت افزا مقام ہے اور جہاں کی رہائش انسان کو بے شمار مسائل سے محفوظ رکھ سکتی ہے……..تاہم اگر مستقل رہائش کے لیے جگہ نہ ملے کہ مہنگائی کا زمانہ ہے اور ہرشریف آدمی اس کی زَد میں ہے۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں کسی نئی جگہ پلاٹ حاصل کرنا اور اس پر رہائش تعمیر کرنا ایک اور مشکل کام ہے اس لیے اگر زیرو پوائنٹ پر کسی بھی وجہ سے آپ کی مستقل رہائش نہیں ہو سکتی تو یہاں آتے جاتے رہنا بھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے بلکہ بہت مفید ہے! بالکل اسی طرح جس طرح بہت سے سیاستدان اور شاعر ادیب کسی نہ کسی بہانے پاکستان کے دار الخلافے اسلام آباد میں آتے جاتے ہیں کہ اسلام آباد کے ابتدائی تعمیر کاروں نے یہاں کے ایک مقام کو زیرو پوائنٹ کے نام سے تعمیر کیا ہے! اسلام آباد میں داخل ہونے کا ابتدائی اور با وقار راستہ یہی ہے!

انسان کے سارے معاملات اچھے ہوں یا اچھے نہ سمجھے جاتے ہوں جذبات سے ہی بندھے ہیں کہ دراصل جذبات ہی انسان کی حقیقی قوت ہے۔ یوں جذبات کا نارمل سطح پر رہنا ہی نفسیاتی اور ذہنی اور جسمانی صحت مندی کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس لیے زیرو پوائنٹ انسان کے اندر ایک ایسا مقام ہے جہاں رہنا یا اس سے وابستہ رہنا متوازن اور صحت مند زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے……..ویسے بھی سب راستے یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس لیے بار بار اس مقام پر آنے سے درست راستے کا تعین سہل ہو جاتا ہے……..اور پھر درست راستے کو شناخت کرنے کا وقت بھی مل جاتا ہے۔ !!

زیرو پوائنٹ دراصل ہمیں ہر بار نئے آغاز کا موقع فراہم کرتا ہے……..اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے!!

لہٰذا آپ آج سے ہی اپنے اندر کے زیرو پوائنٹ کو تلاش کرنے کام شروع کر دیں ……..یہ جگہ آپ کے اندرون میں کہیں موجود ہے……..جس طرح آپ خود اپنے اندرون میں موجود ہیں !…….. ضرورت صرف تلاش کرنے کی ہے۔ !

آج سے چند سال پہلے مجھے اپنے زیرو پوائنٹ کا سراغ مل گیا تھا۔ میری خوش قسمتی کہ بہت سی ناکامیوں کو ہضم کرنے کے بعد اور بہت سی کامیابیوں کے خواب دیکھنے کے لیے مَیں اچانک پھرتے پھراتے ایک ایسی جگہ پر نکل آیا ……..جہاں مجھے سکون سا محسوس ہوا!!ہوا کے ایک فرحت بخش جھونکے نے اپنا خوشبو بھرا خنک دامن جب میرے چہرے پر خالی کیا تو ایسا لگا کسی نے مجھے دکھ کے زہر سے پاک کر دیا ہے!! تب ہوائے خنک نے سرگوشی کی “حمیدی صاحب پیارے پچھلے راستوں کا غبار پھانکتے رہنے میں وقت ضائع نہ کریں ……..سامنے دیکھیں …….. کتنے ہی کشادہ…….. سرسبز……..پُر رونق……..دلکش راستے آپ کے لیے آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں ……..اپنی پسند کا راستہ انتخاب کر لیں ……..آپ کی منزل اب آگے کی طرف ہے……..پیچھے کی طرف نہیں ہے……..ماضی ایک گیا گزرا زمانہ ہے اس پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے!!

تب مَیں نے نظر یں اٹھا کر دیکھا……..بے شمار راستے میرے سامنے بازو پھیلائے کھڑے تھے…….. شاید میرا استقبال کرنے کے لیے!۔ تب مَیں نے اس مقام کو غور سے دیکھا جہاں میں ہارے ہوئے شہنشاہ کی طرح پناہ لیے ہوئے بیٹھا تھا…….. مسرت کی ایک خنک لہر…….. جذبوں کا ایک سرگرم جھونکا مَیں اپنے اندر بیک وقت محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا……..یہی وہ مقام ہے جس کی مجھے تلاش تھی……..مَیں خوش قسمت تھا کہ مجھے یہ جگہ بہت بھٹکنے کے بعد ہی سہی……..مگر بغیر تلاش کے کولمبس کی طرح مل گئی……..جس طرح کولمبس نے اتفاقاً امریکہ دریافت کر لیا تھا……..سو اپنے اندر کا زیرو پوائنٹ دریافت کرنا امریکہ دریافت کرنے سے کم نہیں ہے!!

اب مجھے اس زیرو پوائنٹ پر سر چھپانے کے لیے جگہ مل گئی ہے اور مَیں برسوں سے یہاں سر چھپائے بیٹھا ہوں ……..سر چھپائے اس لیے کہ دوسروں کا مسئلہ بے شک سر اٹھانا ہی ہو گا…….. مگر میرا مسئلہ ہمیشہ سر چھپانا رہا ہے!!

زیرو پوائنٹ اگرچہ میری مستقل رہائش ہے لیکن کبھی کبھی میں چند روز کے لیے یہاں سے باہر بھی نکلتا ہوں ! کچھ تبدیلی کے لیے بھی مگر زیادہ تر اس لیے کہ قدرِ عافیت معلوم ہوتی رہے!!

یہاں رہتے ہوئے مجھے اطمینان ہے کہ جب بھی چاہوں اپنی مطلوبہ جگہ کا راستہ لے سکتا ہوں کہ سب راستے زیرو پوائنٹ کی انگلیوں سے بندھے ہیں ……..اس زیرو پوائنٹ کو مَیں جذبات کا زیرو پوائنٹ بھی کہتا ہوں کہ جذبات کو زیرو پوائنٹ پر لائے بغیر درست راستے کا انتخاب مشکل ہوتا ہے!!

دراصل زیرو پوائنٹ وہ جگہ ہے جہاں ہم بار بار واپس آتے ہیں اور جہاں کی تنہا…. خنک فضا میں ہمیں زندگی کے راستے نئے سرے سے مگر غیر جذباتی انداز میں منتخب کرنے کا موقع ملتا ہے!!

زیرو پوائنٹ عجیب جگہ ہے۔ یہاں چند روز قیام کر لیں تو عجیب سے خیالات آپ کے آس پاس……..رنگا رنگ پھولوں کی طرح کِھلنے لگتے ہیں۔ ایک خیال ایک روز اچانک میرے ذہن میں آیا۔ اس کا اظہار مَیں پہلے بھی کر چکا ہوں مگر متعلقہ لوگوں تک بات پہنچانے کے لیے دوبارہ کہتا ہوں …….. شاید وہ اونچا سنتے ہیں !!

مَیں روشنی کا ایک ایسا غبارا ایجاد کرنا چاہتا ہوں جس کی تابناک شعاعوں کے دائرۂ اثر میں کوئی بارود پھٹ نہ سکے تاکہ دنیا آج کے خوفناک ایٹمی اسلحے کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے!! کیا سائنسدان اور سیاستدان اس کارِ خیر میں میرا ہاتھ بٹا سکتے ہیں ؟؟

یہ خیال میرے ان بہت سے خیالات میں سے ایک ہے جو زیر و پوائنٹ پر رہتے ہوئے میرے دل و دماغ میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ آپ اپنا زیرو پوائنٹ دریافت کر لیں گے تو آپ کو بھی ایسے بہت سے خیالات پَر لگا دیں گے اور آپ محوِ پرواز ہو جائیں گے……..مگر انسان کو پر لگانے کا یہ میرا ایک اور خیال ہے جو پھر کبھی سہی۔

فی الحال مَیں آپ کو اپنا زیرو پوائنٹ تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہوں !!

٭٭٭

ماخذ:

http://www.punjnud.com/PageList.aspx?BookID=2905&BookTitle=Pahar

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید