FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

نیکیوں کا موسم بہار

اور دوسرے مضامین

               حبیب اللہ

 

خارزار کو بدل ڈالیے

ربیع الاول رحمتوں و سعادتوں کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ  مبارک میں اللہ کی سب سے بڑی رحمت کا ظہور ہوا۔ اس ماہ میں نسل انسانی کو نعمت غیر مترقبہ سے نوازا گیا۔ جس کی وجہ سے ضلالت و گمراہی کے تاریک بادل چھٹ گئے اور سارا جہاں ایمان کے نورسے جگمگا اٹھا۔ اسی ماہِ مبارک میں دنیا کی عظیم ہستی کی ولادت باسعادت ہوئی جس کی لائی ہوئی ہدایت کی روشنی نے تمام عالم کو منور کر دیا۔ بلاشبہ آپ تمام انبیاء علیہم السلام کے سرتاج ہیں۔

جناب محمد کی حیاتِ  مبارکہ کا کمال یہ ہے کہ بیک وقت تمام زندگی کے شعبوں میں انسان کی رہنمائی کرتی ہے جس کی حیاتِ طیبہ تمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرے وہی سارے عالم کے لئے رسول ہوتا ہے۔ آپ کا طُرہ امتیاز خُلق عظیم ہے۔ چونکہ آپ سارے عالم کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اس لئے آپ کی حیاتِ طیبہ کسی خاص جماعت، خاص قوم، خاص ملک یا خاص زمانے کے لئے نہ تھی۔ سرورکائنات جناب محمد کی سیرت مبارکہ کا کمال یہ ہے کہ دنیا کا ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق آپ کی زندگی سے روشنی حاصل کر سکتا ہے اور پھر اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ اس لئے ادب و اخلاق کا کوئی سبق ایسا نہیں جو ہمیں آپ کی حیاتِ طیبہ سے نہ ملتا ہو۔ اب اجمالی طور پر جناب محمد کی سیرت طیبہ کے وہ روشن پہلو پیش کیے جاتے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہو کر آج بگڑے حالات کو سنوارا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے تجارت کو لیجئے ایک تاجر اور کاروباری انسان کی زندگی کا سب سے عمدہ وصف یہ ہے کہ وہ حسن معاملہ کا خوگر اور ایفائے عہد کا پابند ہو۔ ان دو صفات کے بغیر کوئی تاجر بھی اچھا نہیں بن سکتا۔ نبی مکرم کے بارے میں کتب احادیث میں درج ہے کہ جب خدیجہ رضی اللہ عنہا کو آپ کی صدق گوئی، امانت داری اور اخلاقِ حسنہ کے بارے میں معلوم ہوا تو، انہوں نے آپ کو تجارت کی غرض سے اپنا مال دیا۔ تا کہ آپ اسے شام لے جائیں۔ آپ نے ان کی یہ بات قبول کر لی اور مال شام کی طرف لے کر چلے۔ راستے میں تجار سے جو معاملہ کیا وہ واپسی پر خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام میسرہ نے جو کہ آپ کے ہمراہ تھا، خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا۔ وہ آپ سے بہت متا ثر ہوئیں اور نفع بھی دُگنا ہوا۔ اسی طرح ایک حاکم اور عہدے دار کی زندگی میں سب سے بڑا جوہر انصاف ہے۔ جو اس کے او ر اس کے ماتحتوں کے درمیان تعلقات کو شگفتہ بنا سکتا تھا۔ انصاف میں جب اپنے محسنوں ، امراء اور اپنی ذات کے خلاف معاملہ پیش آ جائے تو یہ مرحلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن نبی مکرم اس میں بھی پورے اُترے۔

خاندان بنو مخزوم کے امیر گھرانے کی عورت نے چوری کر لی۔ تو اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ اب اس کے خاندان والوں نے حد سے بچانے کے لئے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سفارش کرنے کا کہا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں سفارش کی۔ تو نبی مکرم غصے میں آ گئے اور فرمایا اگر آج فاطمہ بن محمد بھی چوری کر لیتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ (بخاری:6290) یہ انصاف کا وہ مرحلہ ہے جہاں بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ مگر آپ نے اس نازک ترین مرحلے سے گزر کر دنیا کے حاکموں کے لئے قابل تقلید نمونہ چھوڑا۔

اسی طرح دوستی و تعلقات کی دنیا میں نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا۔ اس کی بنیادیں خلوص، باہمی ربط اور آپس میں ہمدردی سے مستحکم ہوتی ہیں۔ آپ بحیثیت ایک دوست صحابہ میں کیسے گھل مل کر رہتے تھے۔ ملاحظہ ہو، جب مسجد نبوی کی تعمیر کی جا رہی تھی تو نبی اپنے صحابہ کے ساتھ گارا اور اینٹیں اٹھا کر دے رہے تھے۔ صحابہ نے عرض کی کہ ہم خود یہ کام کر لیتے ہیں آپ رہنے دیں۔ لیکن محمد نے انکار کر دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ (بخاری:3616)

دشمنوں کے ساتھ بھی آپ نے اخلاق و کردار کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس پر عمل پیرا ہو کر بڑے سے بڑا دشمن بھی دوست بنایا جا سکتا ہے۔ آپ کی سیرت مبارکہ یہ ہے کہ جو بڑھیا روزانہ کچرا ڈالتی اس کے بیمار ہونے پر عیادت کرنے پہنچ گئے۔ جنہوں نے پتھر برسا کر لہولہان کیا ان کے لئے ہدایت کی دعا کی۔ جو ساری زندگی ظلم کے پہاڑ ڈھاتے رہے۔ فتح مکہ کے موقع پر انہیں معاف کر کے ایک ایسی مثال قائم کر دی جو ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔ لیکن آج نام نہاد مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ جو ایک مارے اسے دو سے جواب دیا جائے۔ ان کے لئے بھی اس سیرت میں عمدہ نمونہ ہے۔ اسی طرح اگر مالدار ہونے کی حیثیت سے دنیا والے کسی اچھے معاشرتی نظام کو رائج کرنا چاہتے ہیں تو انہیں رسول اللہ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ آپ کی سیرت تو یہ ہے کہ مال آتے ہی تقسیم فرما دیتے اپنی ذات کی فکر نہ کرتے ہوئے۔ جب رمضان کا مہینہ آتا تو سخاوت ایسے کرتے گویا سخاوت کی آندھیاں چل پڑی ہیں۔ (بخاری:1769)

اس طرح آپ نے خواہش کی کہ اگر مجھے احد پہاڑ سونے کا بنا کر دے دیا جائے تو تین دن میں تقسیم فرما کر ختم کر دوں گا۔ (مسنداحمد:70607) آج کل کے سرمایا یہ داروں کی سوچ یہ ہے کہ روپے جمع کیے جائیں انسانوں کے وسائل پر قبضہ کر کے ان کو اپنے پاس روک کر رکھا جائے تاکہ مہنگائی کا بحران قائم کر کے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس نظریہ نے معیشت کو تباہ کر کے چند لوگوں کو سارے مال کا مالک بنا دیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں فاقہ کش، مزدور، قرض دار پیدا ہوئے۔ اور وہ دانے دانے کو ترس رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے زکوٰۃ کا عملی نظام نافذ کر کے اور مال کو صدقات کی صورت میں بہا کر عمدہ نمونہ پیش کیا۔ اسی طرح آپ نے یہ حکم بھی ارشاد فرمایا کہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دی جائے۔ (سن ابن ماجہ:2434)

آج کے دور میں خود غرض اور نفس پرست سرمایہ داروں نے جن مصائب کو انسانوں پر مسلط کیا وہ غریبوں کے لئے عذاب الیم سے کم نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! جو شخص ذخیرہ اندوزی اس نیت سے کرے کہ مہنگائی کا بحران پیدا کر کے پھر نفع کمائے گا تو فرمایا وہ بڑا گنہگار ہے۔ (مسنداحمد:8263) اسی طرح مال کے بارے میں یہ بھی تعلیمات ملتی ہیں کہ بچی جانے والی چیز کی خوبیوں کے ساتھ خامیاں بھی سامنے لائی جائیں۔ ایک بار آپﷺ غلہ کے ڈھیر سے گزرنے لگے اور اس میں ہاتھ داخل کیا تو اوپر سے خشک اور اندر سے نم تھا۔ آپ نے اس کی خرابی کو واضح کرنے کا حکم دیا۔

آپ ﷺ نے اس تفوق و برتری کو مٹا دیا جو ہزار سال سے انسان کی فطرت میں جاگزیں تھی۔ آپ نے اسے مٹا کر دنیا کو احترام انسانیت کے درس اور مساوات کی نعمت سے سرفرازفرمایا۔ آپﷺ نے اس کی حقیقت کو آشکار کیا، آقا و غلام ، شاہ و گدا، اللہ کہ عدالت میں سب برابر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ” اور فرمایا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں یہ بھی فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر اور کسی عجمی پر عربی کو کوئی فضلیت نہیں اللہ کے ہاں بلند وہ ہے جو زیادہ خوف و الٰہی تقویٰ کی دولت سے دامن کو مالامال کیے ہوئے ہے۔ (بخاری:4051) اور اسی طرح آپ ﷺ نے یہ روشن تعلیمات بھی لوگوں کے لئے عام کر دیں ” تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ “(ترمذی:1847) بظاہر تو اس مختصر تحریر میں جناب محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کی اس قدر بھی جھلک نہیں دکھائی گئی جیسے آفتاب کے سامنے شرارہ ہوتا ہے۔

دفتر تمام گشت و بہ پایاں رسید عمر

ماہ ہمچناں درِ اول وصف تو ماندہ ایم

 اگر ہم آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کے ان گوشوں پر عمل پیرا ہو جائیں۔ تو آج ہم اس خار زارِ جہاں کو چمنستان میں بدل سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

 

 

عزتوں کا مالک

اللہ بڑا بادشاہ ہے۔ وہ چاہے تو چھوٹی سی چیونٹی سے دیو قامت ہاتھی کو ہلاک کروا دے۔ اگر وہ چاہے تو پتلی سی کونپل سے سخت پہاڑ کے سینے کو شق کروا دے۔ اس کی طاقت کا کوئی شمار نہیں۔ وہ صفات میں قوی ہے۔ قھار ہے۔ جبار ہے۔ اس نے قرآن میں یہ قانون بیان کر دیا ہے کہ “کتنی ہی کمزور جماعتوں نے طاقتور جماعتوں کو کچل ڈالا فقط اللہ کی توفیق سے۔ ” (البقرۃ:249) اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر دنیا میں اللہ کا نام لیوا کوئی نہ رہتا۔ آج سے تقریباًََ 14 سو سال پہلے جب ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ ہتھیاروں سے لیس ہو کر نکلا۔ ارادہ کیا تھا؟ اللہ کے گھر کو گرانا ہے۔ اس کی سوچ بھی یہی تھی کہ مجھ سے کوئی طاقتور نہیں۔ اسے بھی طاقت پر گھمنڈ تھا۔ وہ بڑا اتراتا اور تکبرانہ چال چل کر آیا۔ مگر کیا ہوا۔ اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کرنا تھی۔ لہٰذا ابابیلوں کو باریک کنکریاں دے کر بھیج دیا۔ وہ کنکریاں کیا تھیں ؟ “ایٹمی میزائل” تھے۔ دنیا نے تو آج ایٹم بم تیار کیا ہے۔ مگر میرے مولا نے چودہ صدیاں پہلے وہ “ایٹم بم” ابرہہ کے لشکر پر برسا دیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس شخص یا ہاتھی کو وہ ایٹمی کنکریاں لگتی تھیں۔ اس کا گوشت جھڑنا شروع ہو جا تا۔ آخر کار وہ موت کے منہ میں چلا جاتا۔ تو اس طرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت وقت کے فرعون سے کمزور مخلوق ابابیلوں سے کروائی۔

وہ رب تو بادشاہ ہے کہ جب کسی کے تکبر و گھمنڈ کو خاک میں ملانے پر آ جائے تو پھر ہواؤں کے لشکر بھیج کر انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ قوم عاد کے ڈھانچے دریافت ہوئے ہیں۔ 20 سے 25 میٹر لمبے لوگ ، کھجور کے تنوں جیسے۔ آج کے لوگ جن کی ران کا مقابلہ بڑی مشکل سے کریں۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے غضب کو دعوت دی تو کیا ہوا؟ زبردست ہوائی طوفان چلا اور انہیں پتھر کے گھروں سے باہر کھینچ کر زمین پر پٹخ ڈالا۔ میرا مولیٰ بڑا بادشاہ ہے۔ وہ چاہے تو فرعون کے لشکر کو غرقِ آب کر دے۔ وہ چاہے تو نمرود کو مچھر سے مروائے۔ وہ چاہے تو قارون جیسے متکبر مالدار کو زمین میں دھنسادے۔ وہ چاہے تو ابو جہل کو دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں ذلت کے ساتھ جہنم رسید کروائے۔ اس کی طاقت کے کیا کہنے۔

آج سے چند سال پہلے جس روس کے بڑے چرچے تھے۔ اس جیسی دفاعی ٹیکنالوجی کسی کے پاس نہ تھی۔ وہ روس جس کے ہتھیاروں کی دنیا میں نظیر نہ ملتی تھی۔ جو تکبر کی وجہ سے مست ہو گیا تھا۔ اسے بھی جب مروایا تو ان کمزور افغانیوں کے ہاتھوں سے خشک پہاڑوں پر لا کر۔ جن کے پاس جدید اسلحہ تو درکنا ر عام ہتھیار بھی سب کے پاس نہ تھے۔ مگر رب نے اپنے ضعیف بندوں کے ہاتھوں اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ پھر اس کے بعد امریکہ اسی تکبر کی کرسی پر براجمان ہوا۔ وہی منصوبے کہ دنیا پر میرا نظام چلے۔ دنیا پر میری حکومت ہو۔ تمام وسائل میرے قبضے میں ہوں۔ اسلام کا نام مٹ جائے۔ واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کا نام و نشان مٹ جائے۔ وہ انہی منصوبہ کے ساتھ نکلا تھا۔

اللہ اللہ ! اکیلا بھی نہیں ” نیٹو” کی صورت میں 52ممالک کا فوجی اتحاد بھی ساتھ تھا۔ ہر طرح کی فوجی ٹیکنالوجی تمام ممالک کی افواج اسلحہ، گولہ بارودسے لیس تھی۔ مگر ہاں ! میرے رب کے منصوبے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ انہوں نے زمین پر ایک چال چلی تو میرا رب آسمان پر اپنی تدبیر کر چکا تھا۔ میرے رب نے فرعون کو برباد کرنا تھا تو اسے بھی عین دریائے نیل کے بیچ میں لایا۔

ہاں ہاں ! مولا تیری شان بعینہ جب امریکہ کے تکبر کو خاک میں ملاتا تھا۔ تو فرعونیوں کی طرح انہیں بھی ان کے محلات سے کھینچ باہر نکالا۔ وہ خوبصورت محلات، وہ دل کے ٹکڑے بیوی بچے ، خشیوں بھری دنیا وی چمک دھمک سے نکال کر افغانستان کے پہاڑوں پر لے آیا۔ وہ امریکہ جس کا نام سن کر ظاہری روشن خیال کانپ جاتے تھے۔ وہ امریکہ جس کی پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر مشرف نے پاکستان کو حقیقت میں ذلت میں دھکیل دیا۔ اس امریکہ کو اللہ نے برباد کیا تو ایسا ذلیل کر کے کہ جس ذلت پر ذلت بھی پناہ مانگے۔ اب تو روزانہ اخبارات میں شکست خوردہ امریکہ کی واپسی کی خبریں جگمگا رہی ہوتی ہیں۔ لیکن نام نہاد روشن خیال آج بھی امریکہ کے راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ وہ آج بھی امریکا کی گود میں پناہ لینے کو باعث مسرت گردانتے ہیں۔ وہ آج بھی امریکہ کے اشاروں پر مٹنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے پاس تمام اختیارات ہیں وہ چاہے تو زمین میں زلزلہ برپا کر دے ، وہ چاہے تو سمندر میں طوفان برپا کر دے، وہ چاہے تو ملکوں کو نیست و نابود کر دے۔ مگر ان نظریات نے کب جگہ پکڑی جب مسلمان ایمان سے کورے ہو گئے۔

ہائے افسوس! اے مسلمان جانے تیری عقل خداداد کہاں کھو گئی کہ ذلت کے گھروندوں میں تو عزت کی تلاش میں نکل پڑا ہے۔ مسلمانوں ! جان لو عزت و ذلت کا مالک اللہ ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے ” وہ جسے چاہے عزتوں کے تاج پہنائے جسے چاہے ذلتوں کی نشیب میں دھکیل دے۔ ” (ال عمران :26) عزت مل سکتی ہے تو قرآن پر عمل کر کے مل سکتی ہے۔ عزت کے متلاشی ہو تو نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو سینے سے لگاؤ۔ یہ ظاہری ترقی یافتہ ممالک۔ حقیقت میں جن کی ترقی بقول شاعر

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

یہ عزتیں عارضی ہیں مگر اس میں رب کی ناراضگی مول لینا بہت بڑے خسارے کا سودہ ہے۔ آج بھی امریکا کو اپنا قبلہ سمجھنے والوں اپنا قبلہ درست کر لو۔ واپس پلٹ آؤ۔ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والو حقیقی مسلمان بن جاؤ کیونکہ

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا

 نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

حقیقی طور پر قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جاؤ۔ اسی کتاب سے عزتیں ملتی ہیں اور اسی سے ذلتیں ملتی ہیں۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” یقیناًَ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ اقوام کو عزتیں عطا کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بعض اقوام کو ذلیل کرتا ہے۔ ” (رواہ مسلم) ظاہر ہے جو اپنی زندگیاں قرآن کے مطابق ڈھال لیتے ہیں وہ عزت و شرف کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں اور جو اس آسمانی کتاب کو پس پشت ڈالتے ہیں وہ بربادی و ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتے ہیں۔ اے روشن خیال مسلمانوں ! آج جیسے امریکا ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے نکل رہا ہے کہی تمہیں بھی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنا نہ پڑ جائے۔ لہٰذا سنبھل جاؤ

فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن

قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں

٭٭٭


 

آپ کے لیے بہترین ہتھیار

اس نفسانفسی کے دور میں لوگوں کی اکثریت زندگی سے مایوس نظر آتی ہے۔ حالانکہ لوگوں میں صلاحیتیں پنہاں ہیں مگر چونکہ اللہ پر ایمان ، یقین ، توکل و بھروسہ نہیں۔ اس لئے لوگ اپنے تئیں یہ محسوس کرتے ہیں کہ” میں معاشرے کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اپنی زندگی سنوارنے کے لئے میرے اندر کوئی خوبی نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب مچھلی کو پانی سے نکال دیا جائے تو وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہے کیونکہ پانی کے بغیر اس کی زندگی محال ہے۔ تو جیسے پانی سے نکال دینے پر مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی بعینہ جب مومن بندہ ایمان کے سمندر سے نکل جائے تو اس کے لئے اطمینان و سکون کی زندگی بسر کرنا ناممکن ہے۔ ایسے لوگ ساری زندگی معاشرے میں ٹھوکریں لگنے پر تڑپتے رہتے ہیں۔ اب اگر وہ اپنے اللہ کی طرف پلٹ آئیں۔ اپنے گناہوں سے اظہار ندامت کر لیں۔ اپنے رب سے دعا کر کے غلطیوں کا ازالہ کر لیں تو اللہ ان کی زندگی کو راحتوں سے بھر دیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی میں آگے نکل جائیں تو پھر ایسے لوگ مصائب میں مبتلا ہو کر ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی ذلت کی حالت میں ان کی زندگی کا دیا بجھ جاتا ہے۔ تو ایسے وقت میں جب کوئی سہارا نظر نہیں آتا اور زندگی سے مایوسیاں چمٹ جاتی ہیں تو ایک مسلمان کے لئے بہترین ہتھیار دعا ہے جس کے ذریعے وہ کانٹوں بھری غمگین زندگی سے نجات پا کر موسم بہار میں گلاب کے پھول سے معطر اور پر سکون زندگی کا راز پال یتا ہے۔

سبحان اللہ ! آج ہمیں ایسے سینکڑوں واقعات ملیں گے کہ جو لوگ بیماری، تنگ دستی یا کسی اور وجہ سے اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ جب انہوں نے دعا کے ہتھیار کو استعمال کیا تو ان کی زندگی میں ایک بار پھر نئے سرے سے بہار آ گئی اور وہ امن وسکون اور لطف و چین کی زندگی بسر کرنے لگ گئے۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مصیبت ، تکلیف یا پریشانی میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ زندگی نام ہی آزمائش کا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے پیدائش سے لے کر موت تک کانٹا تک نہ چبھے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایسی زندگی جس میں راحت ہی راحت ، سکون ہی سکون ملے اور پریشانی کا دور دور تک نام و نشان دکھائی نہ دے یہ صرف جنت میں ممکن ہے دنیا میں ناممکن ہے۔

ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایسے حالات سے یقیناً دوچار ہوتا ہے۔ جب اس کے سارے دنیاوی سہارے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ظاہری اسباب و وسائل ناکام ہو جاتے ہیں۔ قریب ترین عزیز و اقارب پر اعتماد نہیں رہتا۔ ماں ، باپ، بہن، بھائی گویا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان تنہا و بے کس نظر آتا ہے تو وہ اس تنہائی میں تڑپنے لگتا ہے۔

مصائب نے آ کے دل کو پا ش پاش کیا

تنہا ئی نے آ کے تو قصہ ہی صاف کیا

اس تنہائی کے عالم میں وہ سکون کی طلب کے لئے جدوجہد کرتا ہے مگر ہر طرف سے مایوس ہو جانے پر انسان کے ضمیر سے یہ آواز اٹھتی ہے۔ کہ ایک سہارا اب بھی موجود ہے۔ ایک دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ وہاں انسان اپنے دکھوں اور الم بھری داستان ہر وقت بیان کر سکتا ہے۔ اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے۔ اس کیفیت کو اللہ نے قرآن میں کچھ اس طرح ذکر کیا ہے۔

“بھلا وہ کونسی ذات ہے جو بے قرار کی دعا اس وقت جب بے قرار اسے پکارے تو اسے قبول کرتا ہے اور پھر اس مشکل سے تمہیں نجات دیتا ہے۔ اسی عظیم ہستی نے ہی تو تمہیں زمین میں جانشین بنایا ہے۔ (اب عقل سے کام لے کر بتاؤ کہ ایسے کام کرنے والا)اللہ کے سوا کوئی اور بھی ہے؟”(النمل26:) قرآن کریم نے ہمارے سامنے انبیاء کرام علیہ السلام کی بہت سی مثالیں رکھی ہیں کہ انہوں نے بھی مصائب و پریشانیوں میں اللہ کو پکارا اور اللہ نے انہیں اس پریشانی سے نجات دی۔ آدم علیہ السلام نے جنت سے نکالے جانے پر رب کو پکارا تو زکریا علیہ السلام نے اولاد نہ ملنے پر دعا کی۔ یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں رب کو پکارا تو یوسف نے عورتوں کے شر سے بچنے کے لئے رب سے دعا کی۔ ایوب علیہ السلام نے بیماری کی حالت میں رب کو پکارا تو لوط علیہ السلام نے کمزوری کی حالت میں رب سے دعا کی۔ نوح علیہ السلام نے قوم سے مایوس ہوکر رب کو پکارا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے رب سے دعا کی۔ غرض ایسی بے شمار مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اہمیت و فضلیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ” اللہ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بڑھ کر عزت والی نہیں “(ابن حبان) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بے شک دعا ہی عبادت ہے” (ترمذی) بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم گناہ گار ہیں گنہگاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ یہ خیال شریعت کی رو سے بالکل غلط ہے۔ اے کاش ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ ہماری زندگیاں بدل جائیں۔ کیا شیطان سے بڑا مردود و ملعون بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ اس نے کھلم کھلا اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے بعد دعا کی۔ ” اے اللہ مجھے قیامت تک (لوگوں کو گمراہ کرنے کی) مہلت دے۔ تو اللہ نے اس کی پکار قبول کر کے مہلت دے دی(الحجر36:)شیطان نے کسی نیک مقصد کے لئے دعا نہیں کی مگر پھر بھی قبول ہو گئی تو یہ سمجھنا کہ گناہ گاروں کی دعا قبول نہیں ہوتی محض شیطانی فریب و دھوکہ ہے۔ اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اور وقتی طور پر دعا قبول نہ ہو پھر دعا مانگنا چھوڑ دے یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ قبولیت دعا کی تین صورتیں ہیں۔

(۱) دعا بندے کی خواہش کے مطابق فوراََ قبول ہو جاتی ہے۔

(۲) اس کے بدلے اس کی دنیاوی کوئی آفت ٹل جاتی ہے۔

 (۳) یااس کی دعا آخرت کے لئے ذخیرہ کر دی جاتی ہے۔ (رواہ احمد)

بعض مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اللہ کو ہماری حالت کا علم ہے تو دعا کی کیا ضرورت ہے۔ تو اس کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ نے خود دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ حیات طیبہ کا کوئی لمحہ دعا سے خالی نہیں گزرا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صحیح احادیث سے ثابت شدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی تعداد سات سو کے لگ بھگ ہے۔ اسی طرح اللہ نے اہل ایمان کو مختلف واقعات کے حوالے سے ستر سے زائد دعائیں سکھائی ہیں جس سے دعا کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ لہٰذا اگر آج ہم زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور تمام سہارے ٹوٹ چکے ہیں تو آج ہی اللہ کے حضور اپنے ہاتھوں کو بلند کریں اور مسنون طریقے سے دعائیں مانگیں۔ پھر دیکھیں اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا آپ پر نزول ہو گا۔ اور خزاں بھری زندگی میں بہار آئے گی۔ انشاءاللہ

٭٭٭

 

“جھوٹ” قبیح عمل

اسلام عالم گیر مذہب ہے۔ اسلامی تعلیمات اس بات پر گواہ ہیں کہ جو بھی انہیں اپناتا ہے وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنی زندگی کے اندر ایک ایسا انقلاب برپا کرتا ہے کہ وہ فراز کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام کی روشن تعلیمات سے اعراض کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ لوگ نشیب کے اندر ایسے گرتے ہیں کہ ان گہرائیوں اور پستیوں سے نکلنا ان کے لئے دشوار ہو جاتا ہے۔ اسلام نے ہر چیز کو چاہے وہ قول سے متعلق ہو یا فعل سے، بالفاظ دیگر اس کا تعلق زبان سے ہو یا عمل سے ہو۔ ہر چیز کے منفی و مثبت پہلوؤں کو واضح کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر اگر بنظرِ غور ان تعلیمات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک جسم کی مانند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لئے دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو اچھائی و برائی کی تنبیہ کر دی ہے۔ ان برائیوں میں سے ایک زہریلی بیماری جھوٹ نا صرف خود بیماری ہے بلکہ بے شمار بہت سی اخلاقی ہمدردیوں کا سبب بنتا ہے۔

 شریعت میں اس عمل کی قباحت کی وجہ سے جھوٹ بولنے کی سخت ممانعت وار د ہوئی ہے۔ جھوٹ بولنے والوں کو اللہ کی لعنت کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے۔ جھوٹ مطلقاً بولنا حرام ہے اور وہ چاہے مذاقاً ہو حقیقتاً ہو۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے: “یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (تمام معاملات میں) سیدھا راستہ نہیں دکھاتا جو جھوٹا اور حق سے انکار کرنے والا ہو۔ “(الزمر:3) لیکن ہم اپنی زندگیوں میں نظر دوڑائیں ہم اپنے معاملات کو درست کرنے کے لیئے جھوٹ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں مگر ہمارے معاملات درست ہونے کے بجائے بگڑتے ہی جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ کہ حکم کو مان کر جھوٹ کو ترک نہیں کیا۔ جھوٹ کو ترک کرنا مومنوں کی صفات میں ایک صفت ہے۔ جیسا کہ جناب محمد ﷺسے سوال کیا گیا:”کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟”آپﷺ نے فرمایا :”ہاں “پھر دریافت کیا گیا :”کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے؟”فرمایا:”ہاں “پھر پوچھا گیا :”کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے؟”فرمایا :”نہیں (جھوٹ بولنا مومن کی شایانِ شان نہیں)”(موطا امام مالک)لیکن ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولنا عادت بنا لیا گیا ہے۔ اور یہ حقیقتاً یا مذاقاً بولا جا رہا ہے۔ جب کسی کو جھوٹ بولنے سے منع کیا جائے تو جواب ملتا کہ “جناب میں تو مذاق کر رہا تھا۔ “لیکن نا جا نے کیوں ہم مذاقاََ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ جو شخص دوسروں کو ہنسانے کے لیئے جھوٹ بولے وہ چاہے زبان سے ہو یا SMS کے ذریعے اس کے بارے میں دل تھا م کر فرمان رسول ﷺ پڑھ لیجئے۔ “ہلاک ہو جائے وہ شخص جو لوگو کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے وہ پھر ہلاک ہو جائے وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ “(رواہ ابوداؤد)

اب کچھ لوگ جھوٹ بولتے تو نہیں مگر دوسروں سے جھوٹے لطیفے ، قصے ، کہانیاں ، اسٹیج ڈرامے، ناول وغیرہ پڑھ اور سن کر بہت محفوظ ہوتے ہیں۔ بچوں کو نصیحت کرنے کے لیئے جھوٹی کہانیوں کاسہارا لیا جاتا ہے۔ یا سب جہالت کی وجہ سے ہے۔ تاریخ اِسلام حقیقی روشن کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ اس میں بہت ہی پند و نصاح اوراسباق پوشیدہ ہیں۔ مگر دین سے دوری کی وجہ سے بچوں کو اسلامی واقعات سنانا تو درکنار بڑے بھی ان سے واقف تک نہیں۔ پھر بھی ہم اپنے بچوں کہ بگڑنے سے ناداں ہیں۔ اور انہیں ٹوکتے اور ڈانٹتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم اس میں برابر کہ قصور وار ہیں۔ اس لیئے ہم اپنے بچوں کومسلم حکمرانوں اور نوجوانوں کی بہادری کے حقیقی واقعات سنائیں تاکہ ان میں نصیحت کے حصول کے ساتھ ساتھ ایمان بھی پختہ ہو اور بہادری بھی آئے۔ ویسے بھی اب ہمارے لیئے مختلف مکتبات مثلاً دارالسلام، دارالاندلس اور ان کے علاوہ بھی کئی مکتبات نے بچوں کی سیریز کے نام اسلامی واقعات پر مشتمل کتب ، سی ڈیز وغیرہ متعارف کرا کر آسانی پیدا کر دی ہے۔ لہٰذا جھوٹے ناولوں اور کہانیوں کی بجائے بچوں کو اسلامی سیریز خرید کر دیں۔ اور جھوٹ سے کنا رہ کشی اختیار کریں۔ اسلام نے جھوٹ بولنے کہ ساتھ اس کے سننے سے بھی منع کیا ہے۔ اللہ تعالی قرآنِ کریم میں ارشاد فرما رہے ہیں :”اور جب آپ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ ہماری آیات میں مشغول ہیں (انہیں جھوٹے قصے کہ کر نشانہ تحقیر بنا رہے ہیں)تو آپ وہاں سے چلے جائیں یہاں تک کے وہ لوگ دوسری باتوں میں مشغول ہو جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ہرگز ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ ” (الانعام:68)

جھوٹ بولنا مطلقاً قبیح عمل ہے مگر جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر بولا جائے تو یہ فورا عذابِ الٰہی کو دعوت دینے والا عمل ہے۔ ہم اس میں بھی دانستہ یانادانستہ طور پر مشغول نظر آتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی حقیقی تعلیمات کو یہ کہ کر ترک کر دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ان پر عمل ممکن نہیں۔ پھر ہم قرآن و حدیث کے علاوہ پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت حقیقی اسلام سے دور نظر آتی ہے۔ ایسے لوگو کے بارے میں قرآن میں یہ حکم آیا ہے۔ “جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں یقیناً وہ(دنیا و آخرت میں)کامیاب نہیں ہوں گے۔ (ایسے جھوٹ کا)فائدہ تو تھوڑا ہے مگر (دنیا و آخرت)میں ان جھوٹوں کے لیئے دردناک عذاب تیا ر کر دیا گیا ہے۔ “(النحل:116,117)اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو شخص جانتے بوجھتے مجھ پر جھوٹ بولے تو وہ یقین کر لے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ “(بخاری/مسلم)اس حدیث کی زد میں تمام جدید لوگ جو شریعت کو ناقص سمجھتے ہیں اور غیروں کی تعلیمات ہر عمل پیرا ہو چکے ہیں آ جاتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری حضرات کی طرف نظر دوڑائی جائے تو نظر آتا ہے کہ کاروباری حضرات جب تک جھوٹ نہ بولیں انہیں کاروبار چمکتا نظر نہیں آتا۔ ان کے بارے میں بھی یہ سخت وعید آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تین لوگ ایسے ہیں کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھے گا بلکہ ان کے لیئے سخت دردناک عذاب ہے:

(۱)اپنے ازار(شلوار، تہ بندیا پینٹ وغیرہ)کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا

(۲)کسی پراحسان کر کے اسے جتلانے (ذلیل کرنے)والا

(۳)جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا(مسلم)

اسی طرح گھروں میں خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ عادتاً اپنے بچوں کو بلانے کے لیئے جھوٹ بولتی ہیں۔ مگر جب بچہ پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں دیا جاتا۔ تو یہ بھی جھوٹ ہے۔ جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دن رسول اللہﷺ ہمارے گھر تشریف لائے۔ اسی دوران میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا “آؤ !تمہیں کچھ دونگی۔ “تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ” تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟”کہنے لگیں “کھجور دینے کا”آپ نے فرمایا “اگر تم انہیں کچھ نہ دیتیں تو یہ تمہارے حق میں جھوٹ لکھ دیا جاتا”(ابو داؤد)جھوٹ بولنا اتنی بری صفت ہے کہ یہ منافقین کی صفت میں شمار کی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں منافقین کی صفات بیان کی گئیں ہیں :(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (۲)جب بھی وعدہ کرے تو جھوٹ بولے۔ (۳)اسے امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (بخاری)اسی طرح رسول اللہﷺ نے اپنے ایک صحابی ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے متعلق نہ بتلاؤں ؟یہ بات آپ نے تین بار ارشاد فرمائی۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے فرمایا :”کیوں نہیں ضرور بتلائیں۔ “آپ نے فرمایا:”اللہ کے ساتھ کسی اور کو برابر ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپﷺ نے کسی چیز کا سہارا لیا ہو ا تھا پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے:”خبر دار جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی سے بچو، خبر دار جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی سے اجتناب کرو یہ الفاظ آپﷺ نے بار بار دہرائے۔ صحابی فرماتے ہیں کہا آپ نے یہ الفاظ اتنی بار دہرائے کہ میں دل میں خواہش کی کاش اب تو بس آپ خاموش ہو جائیں “(بخاری:5976)تو اس حدیث سے جھوٹ کی کراہت معلوم ہوتی ہے کہ یہ کتنا قبیح عمل ہے۔ اس لیے تو یہ جہنم میں لے جانے کاسبب بنتا ہے۔ جیسا حدیث مبارکہ میں آتا ہے:”کہ تم جھوٹ سے ہمیشہ بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچا دیتے ہیں اور ایک شخص ہمیشہ جھوٹ بولتا اور جھوٹ کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے تو اللہ کے ہاں لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے۔ “(مسلم:2607)

اس لیے جھوٹ کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دے کر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ جھوٹ جیسے قبیح فعل کو ترک کر دیتے ہیں وہ دنیاو آخرت کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جھوٹ بولنا تمام مواقع پر منع سوائے چند شرعی مصلحتوں کی بناپر تین مواقع پر جھوٹ بولنا جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ وہ تین مواقع یہ ہیں۔ سیدہ امِ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:”میں نے لوگو ں کو ان باتوں میں سے جو وہ (جھوٹ کو جائز قرار دینے کے لیئے) کہتے ہیں۔ کسی جھوٹی بات کی اجازت دیتے ہوئے رسول اللہﷺ کو نہیں سنا سوائے تین مواقع پر(۱)جنگ کے دوران(۲) لوگو کے درمیان اصلاح کروانے کے لیئے(۳)میاں بیوی کے درمیان صلح کروانے کے لیئے۔ (مسلم:2605) ان تین مقامات پر اس مصلحت کے تحت جھوٹ بولنا جائز ہے کہ مومنوں کے آپس میں تعلقات عمدہ رہیں۔ ورنہ مطلقا جھوٹ بولنا حرام ہے۔ تواس طرح جھوٹ کی قباحت قارئین پر واضح ہو چکی ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو جھوٹ بول بول کر ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔ جھوٹ سے کنارہ کشی اختیار کریں اور سچ کے دامن کو تھام لیں کامیابی ان کا مقدر بن جائے گی۔ ان شاء اللہ

٭٭٭

 

 

اچھی صحت کا بہترین راز

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے”اے ایمان والو!جب تم نماز ادا کرنے کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے اور بازوؤں کو کہنی تک اچھی طرح دھو لیا کرو اور اپنے سر کامسح کرو اور پاؤں کو بھی ٹخنوں تک اچھی طرح دھو لیا کرو۔ “قرآنِ کریم کی اس آیت کی معرفت سے ابھی ماضی قریب میں ہی دنیا نے جسمانی طہارت یعنی غسل و وضو کی برکات کو پہچانا ہے۔ وہ ممالک جو ترقی یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہوں نے بھی تقریباًََ پچھلے 90سال سے چہرے اور جسم کو دھونا شروع کیا ہے۔ جبکہ مسلمان اس نعمتِ عظیمہ سے 1400سال سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس سلسے میں سائنسی حقائق پر علمِ حیاتیات کے ماہرین نے پچھلے 30سالوں میں کئی دریافتیں کی ہیں اب سائنس کی تحقیق دیکھتے ہیں کہ وضو سے کس طرح انسانی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ وضو کے بنیادی تین اہم فوائد ہیں۔

               (1)خون کی شریانوں کے عمل پر وضو کے اثرات

خونی شریانوں کے عمل کا نظام دو بڑے اصولوں پر قائم ہے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ دل سے صاف خون جسم کے ہر ہر خلیے تک پہنچانا۔ دوسرا اصول استعمال شدہ خون دل تک واپس پہنچانا ہے۔ اگر ایک با ر یہ دو طرفہ نظام درہم برہم ہو جائے تو خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اس عمل کو سائنسی زبان میں (Diastolic)ڈائیسٹالک کہتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انسان کی عمر میں کمی اور موت کا وقت قریب سے قریب تر ہو تا جاتا ہے۔ تازہ خون لے جانے اور استعمال شدہ خون واپس لانے کا کام خون کی شریانیں کرتی ہیں۔ یہ لچکدار ہوتی ہیں اور دل سے نکل کر سارے جسم میں پھیلی ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ان کا فاصلہ دل سے بڑھتا جاتا ہے یہ اس قدر پتلی ہوتی جاتی ہیں۔ اگر یہ باریک نسیں سخت ہو کر اپنی لچک کم کر دیں نتیجے میں دل پر دباؤ بڑھ جا تا ہے۔ یہ عمل شریانوں کا سخت ہونا کہلاتا ہے۔ زیادہ تر یہ عمل ان نسوں میں ہوتا ہے جو دل سے دور ہوں جیسے دماغ ، پاؤں اور ہاتھوں میں موجود نسیں۔ سکڑنے کا یہ عمل کم رفتاری سے شروع ہو کر وقت کے ساتھ تیزی سے بڑھتا ہی جاتا ہے۔ لیکن روز مرہ زندگی میں ایک خاص چیز ہے جو خون کی نالیوں کو پھیلنے اور سکڑنے کی ورزش کروا کر ان کی لچک برقرار رکھتی ہے۔ وہ پانی ہے۔ گرم پانی دل سے دور خون کی نالیوں کو کھول کر یا چوڑا کر کے لچک مہیا کرتا ہے اور ٹھنڈا پانی ان کو سکڑنے کے عمل سے گزارتا ہے۔ اس ورزش کے نتیجے میں وہ غذائی مادے جو نسوں میں خون کی سست گردش سے جم جاتے ہیں وہ دوبارہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس عمل سے خون کا دورانیہ مناسب رہتا ہے اور انسان مکمل صحت مند رہتا ہے۔ تو مسلمان یہ کمی وضو کے ذریعے پوری کرتے رہتے ہیں۔ وضو کی برکات سب سے زیادہ اس شخص کی صحت پر نظر آتی ہیں جو بچپن سے اس کا عادی ہو لہٰذا اپنے بچوں کو خصوصی طور پر اس کی تلقین کرتے رہنا چاہیے۔

               (2)وضو کا بیماریوں کے خلاف نظام کو مستعد رکھنا

خون میں گردش کرنے والے خلیے دو طرح کے ہوتے ہیں (۱)سرخ خلیے (۲)سفیدخلیے، سفید خلیوں کو گردش میں رکھنے والا نظام، اس نظام سے دس گنا زیادہ باریک ہے جو کہ سرخ خلیوں کو گردش میں رکھتا ہے۔ اس بے رنگ مادہ کو ہم کسی چھوٹے زخم یا خراش کے کناروں سے رِستہ ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ جب بھی کوئی خطرناک جرثومہ انسانی جسم پر حملہ آور ہوتا ہے تو جسم میں موجود سفید خلیوں کا نظام اسے تباہ کر دیتا ہے۔ انسان میں بیماریاں اس وقت عام ہوتی ہیں۔ جب یہ نظام کمزور ہو کر سکڑ جاتا ہے۔ یہ نظام سائنسی اصطلاح میں) (Lecu Cocytesلیکو سائٹس کہلاتا ہے۔ گردش میں رہنے والا یہ نظام کسی طرح پھیلتا اور سکڑتا ہے۔ اگر یہ زیادہ سکڑ جائے تو جسم کے جن حصوں تک اس کی پہنچ نہ ہو ان پر بیماریاں حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ یہ نظام بھی وضو کے ذریعے متحرک رہتا ہے اور تقویت پاتا رہتا ہے۔ جس سے انسانی جسم کا دفاعی نظام بیماریوں کا اچھی طرح مقابلہ کرتا ہے۔

               (3)وضو اور جسمانی ساکت بجلی

انسانی جسم میں بجلی یا برق کی ایک خاص مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس خاص توازن میں جو اشیاء خلل ڈالتی ہیں وہ فضائی حالات اور پلاسٹک سے بنی ملبوسات و اشیائے ضروریات شامل ہیں۔ جب اس خاص توازن میں کمی یا زیادتی سے فرق آتا ہے تو اس برق کا جلد کے نیچے موجود چھوٹے چھوٹے خلیوں پر اثر پڑتا ہے۔ نتیجتاََ وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسانی جلد پر جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر چہرہ اس کی زد میں آتا ہے اوریوں انسان وقت سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگتا ہے۔ چہرے کی خوبصورتی اور ترو تازگی کے لیے نا جانے کیا کیا ڈھونگ اور ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں اور مہنگی مہنگی کریمیں خرید کر استعما ل کی جاتی ہیں تاکہ چہرے کی رونق بحال ہوسکے۔ چہرے کو اس برقی نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے وضو ایک عمدہ حل ہے۔ وضو کے ذریعے برقی توازن برقرار رہتا ہے اور یہ نظام سکڑنے سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی لیے تو آپ جان چکے ہوں گے کہ نمازیوں کے چہرے ترو تازہ کیوں رہتے ہیں ؟جو شخص وضو کا عادی ہو وہ باقی لوگوں سے زیادہ صحت مند اور خوبصورت جلد کا مالک ہوتا ہے۔ جو خوبصورتی کروڑوں خرچ کیے واپس نہیں لائی جا سکتی، وہ وضو کے ذریعے مفت میں مل جا تی ہے۔ یہ وضو کے جسمانی فوائد ہیں اور روحانی فوائد تو بے شمار ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ہر وقت با وضو رہنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اس لیئے آج سے ہی اپنے آپ پر لازم کر لیجیے کہ ہر وقت با وضو رہنا ہے۔

٭٭٭

 

 

اسلامی نظام کا نفاذ

الیکشن مہم بڑے زور و شور سے جاری ہے۔ تمام لیڈر اپنا دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ کہیں جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ تو کہیں تمام لیڈران اپنا ووٹ پختہ کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔ مختلف جلسوں میں عوام کے سامنے اسٹیج پر آ کر اپنی وفاداری اور سچائی کا یقین دلا رہے ہیں اور استدعا کر رہے ہیں کہ اپنا قیمتی ووٹ ہمیں دیں۔ میں آپ کے ووٹ کی طاقت سے برسراقتدار آ کر مہنگائی کا خاتمہ کروں گا۔ لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان مٹا دوں گا۔ غربت کا خاتمہ کروں گا۔ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر تنقید کے نشتر بھی برسائے جا رہے ہیں کہ فلاں نے پہلے کون سا کمال کر دیا تھا۔ فلاں نے سابقہ دور حکومت میں اتنی لوٹ مار کی تھی۔ عوام کا اس قدر خون نچوڑا تھا۔ اس لیے اس سے بچیں۔ بعض کا جوش و خروش تو اس قدر بڑھا کہ زبان کے بے قابو ہونے سے عوام کے سمندر کے سامنے اپنے مدمقابل کے انتخابی نشان پر مہر لگانے کا اعلان چیخ چیخ کر بیٹھے۔ الیکشن کی اس مہم میں ملک کی ساری دیواروں ، چوراہوں کو رنگ برنگے بینروں سے رنگین کر دیا جاتا ہے۔ جیسے پہلے جوش و خروش سے چودہ اگست کو ہر طرف جھنڈے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ بعینہ اس کسر کو پورا کرنے کے لیے الیکشن مہم میں حصہ لینے والے بھی کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے۔ جس علاقے پر ان کا زیادہ کنٹرول ہے اس میں پارٹی کے جھنڈوں اور اسٹیکرز سے ماحول کو رنگین بنا دیا جاتا ہے۔ عوام کو سبز باغ دکھا کر اپنی اپنی پارٹی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ مزدور بھی رکھ لیے گئے ہیں۔ چلو! ان ناسوروں سے کوئی اور فائدہ ہو نہ ہو ؟ چند غریبوں کو تو کچھ دن کے لیے روٹی میسر ہو گئی ہے۔ کسی کو دیواریں رنگین کرنے پر لگایا ہوا ہے تو کسی کو موبائل کے ذریعے رابطہ کر کے ووٹ پختہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی گھر گھر جا کر مہم چلا رہے ہیں تو کچھ علاقے کے سربراہوں کو یہ کہہ کہ اعتماد میں لینے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ” اس دفعہ آپ کا ووٹ ہمارے علاوہ کہیں اور ضائع نہ ہونے پائے۔ “

یہ جمہوریت ہے۔ جس میں عہدے اور منصب کو طلب کیا جاتا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے یہی نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔ کہ یہ سبز باغ دکھانے والے لیڈران ووٹ کی طاقت سے مسند اقتدار کے ملتے ہی سلیمانی ٹوپی پہن کر عوام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات، سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ اپنی تجوریاں کھول لیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کی تشہیر پر جو رقم خرچ ہوئی اب اس سے واپس لینا بھی ہمارا حق ہے۔ اسی غرض سے عوام کے مسائل حل کرنا تو درکنار عوام کی طرف نظر رحمت سے دیکھتے تک نہیں۔ یہ لیڈر حصول اقتدار کے بعد اپنے آپ کو آسمانی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں جو کہ اپنی عوام سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں۔ پھر پانچ سال تک کیا خوب ہی عوام کی خیر و بھلائی کے کام کرتے ہیں کہ عوام کو سابقہ ادوار حسرت سے یاد آنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں شروع دن سے ہی جمہوریت کا نفاذ کیا گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک جتنے بھی لیڈر جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر مسند اقتدار پر براجمان ہوئے ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔ یہاں جمہوریت ایک کاروبار بن چکا ہے۔ کرسی اس کو ملتی ہے جو زیادہ تگڑی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ آج اس تمثیل پر خوب اچھے طریقے سے عمل ہو رہا ہے۔ ” پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ” ہمیشہ صاحب اقتدار وہی بنتے ہیں جن کی کمر مضبوط ہو۔ اس کرسی کے حصول کے لیے بڑی بڑی رقوم خرچ کی جاتی ہیں اور مقصد صرف کرسی کا حصول ہوتا ہے ناکہ عوام کی خیر و بھلائی۔ اس کا رونا سرائیکی شاعر شاکر کچھ اس طرح سے روتا ہے۔

غریب کوں کیں غریب کیتے جواب ڈے وو امیر زادو

ضرورتاں داحساب گھنو، عیاشیاں داحساب ڈے وو

زیادہ پھلدا ہے کالا جیکوں ، خرید گھندا ہے اھو کرسی

الیکشن دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈے وو

” کہ امیر زادو ضرورتوں کا حساب لو اور اپنی عیاشیوں کا جواب دو۔ غریب کو کس نے غریب کیا ہے یہ جواب دو۔ یہاں کرسی وہی خریدتے ہیں جن کے پاس مال ہے تو الیکشن کا ڈرامہ رچا کر عوام کو عذاب مت دو ” یہ سب جمہوریت کی برکات ہیں۔ اوہ یارو! غیروں کے نظاموں کا پھندا پہنے کئی سال گزر چکے ؟ اس کے نتائج کھل کر ہمارے سامنے آ چکے ہیں۔ دولت سمٹ کر چند خاندانوں کے ہاتھوں میں جا چکی ہے۔ جمہوریت نے صاحب ثروت و مالداروں کو امیر سے امیر ترین اور غریبوں کو غربت کی نچلی ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس نظام نے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس لیے تو اب عالمی سطح پر کیے جانے والے سروے میں بھی مسلم اکثریت اپنا فیصلہ سنا چکی ہے۔ کہ تمام عوامی مسائل کا حل ممکن ہے۔ مگر کس نظام سے ؟ کیا جمہوریت سے ؟ نہیں نہیں جمہوریت کے ڈ سے اب ہوش میں آنا شروع ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ قوانین کے نفاذ سے ، پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت نے بھی اس بات کا اقرار کر لیا ہے کہ تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے درست راہوں کا انتخاب کرنا ہو گا اور جمہوریت کو ترک کر کے اسلامی تعلیمات کو اپنانا ہو گا۔

ہاں ہاں ! اے پاک سرزمین کے باسیو جمہوریت کو تم نے آزما لیا۔ اس کا نتیجہ بھی تمہارے سامنے آ چکا ہے۔ اب تو اکثریت جان چکی ہے کہ جمہوری نظام عوام کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ بوجھ ہے۔ جس نے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے لوگوں کو مزید مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مسلم ممالک کو عالمی بینک اور IMF کا غلام بنا دیا ہے۔

 اب اس نظام کو بھی تو آزما کر دیکھو کہ جس کا نعرہ لگا کر وطن عزیز حاصل کیا گیا تھا۔ یعنی وہ قرآن و حدیث کا نظام۔ وہ حقیقی اسلامی قوانین کا نفاذ۔ اس جمہوری نظام کے ذریعے مسند اقتدار پر براجمان لیڈروں کا تویہ حال ہے کہ اسلامی ملک کے نمائندے ہونے کے باوجود دین سے ذرہ برابر بھی واقف نہیں۔ وہ خاک اسلام کا نام روشن کریں گے۔ وہ تو اسلام کے نام پر دھبہ ہیں۔ کہ ہر غیر اسلامی اقوال و افعال جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مگر بدنامی اسلام کا سبب بن رہے ہو تو اسے اسلام کی طرف منسوب کر کے تعلیمات اسلامی کو نشانہ بناتے ہیں۔ اے پاک سر زمین کے محافظوں ! اس دھرتی کی آبیاری آپ نے ہی کرنی ہے۔ اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے کہ جب اس دھرتی پر بسنے والوں پر دھرتی کے مالک کا قانون نافذ کیا جائے۔ تو ذرا اس جانب بھی توجہ اور دھیان دو۔ اور ان سیاست کے کارخانوں کو بند کرو جن میں انسان بکتے ہیں۔

اتھاں لیڈر و پاری ھن سیاست کا رخانہ ہے

ترقی دی حوس دے وچ ، ہراک انسان وکدا پئے

میڈے ملک اچ خدا ڈالر ، میڈے ملک اچ بنی پیسہ

اتھاں ممبر وکاؤمال ئن، اتھاں ایوان وکدا پئے

 “اس جمہوی نظام میں انسانوں کے سودے ہوتے ہیں۔ اس نظام میں ڈالر خدا کو بنا لیا گیا ہے اور نبی پیسے کو سمجھ لیا گیا ہے۔ یہاں کے ممبرو محراب بک چکے ہیں۔ یہاں ایوان بھی بک رہے ہیں۔ ” تو اس نظام سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی سود مند ہے۔

٭٭٭

 

 

واقعہ معراج کی حقیقت

اس وسیع و عریض کائنات میں مخلوق الٰہ میں سب سے عظیم ترین انسان انبیاء کرام علیہم السلام گزرے ہیں۔ گزشتہ تمام امتوں کی طرف جن انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا گیا وہ کسی خاص علاقے یا قوم کی طرف دعوت دین لے کر آئے۔ مگر امام الانبیاء جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک آنے والی ساری نسانیت کی طرف پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا گیا۔ آپ کی حیات طیبہ سے پھوٹنے والی ضیاءبار کرنوں نے ساری کائنات کو روشن کر دیا۔ جو لوگ کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوب چکے تھے انہیں راہ راست پر لایا۔ بجھے دلوں کو تقویت ملی۔ زندگی سے مایوس لوگوں کو نئی زندگی نصیب ہوئی۔ دشمن آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ غرض کہ متلاشیان حق بے دینی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر راہ ہدایت پر گامزن ہو گئے۔ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے دنیا کا ہر فرد چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ رب کائنات نے آپ کو خصوصی مقام و مرتبہ سے نوازا۔ اسی طرح آپ کو عظیم معجزات بھی عطا کیے گئے۔ جن میں شب معراج یعنی صرف ایک رات میں مکہ سے بیت المدس اور ساتوں آسمانوں اور ان کے ارد گرد کی مخلوقات کا مشاہدہ بھی ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس عظیم معجزے کو یہ احقر قلم بعینہ بیان نہیں کر سکتا۔ مگر پھر بھی استطاعت انسانی کے تحت چند الفاظ میں آپ کے سامنے یہ عظیم واقعہ و معجزہ بیان کیا جا رہا ہے۔

27رجب کی بابرکت رات تھی۔ جب اس کائنات کی سب سے عظیم ہستی یعنی امام الا نبیاء جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں استراحت فرماتے تھے۔ اچانک آسمان سے فرشتوں کا نزول ہوا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کو سینے سے لے کر ناف تک چاک کیا اور دل باہر نکالا۔ سبحان اللہ! یہ اس وقت کی بات ہے جب عرب جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ علم طب کے ماہرین موجود نہ تھے۔ آج کے دور میں جدید آلات سے بھی دل کا آپریشن ایک رسک لے کر کیا جاتا ہے۔ مگر چودہ سو سال پہلے جب اس ٹیکنالوجی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس وقت دل کا آپریشن کیا گیا۔ سرور کائنات فرماتے ہیں : آنے والے نے میرا پیٹ چاک کیا سینے سے لے کر ناف تک کا حصہ کاٹ ڈالا اور پھر میرا دل باہر نکالا ، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو کہ ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔

میرے دل کو دھویا گیا اور اسے (ایمان و حکمت) سے بھر کر اپنی جگہ لوٹا دیا گیا۔ پھر ایک سفید جانور لایا گیا جو کہ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا، وہ براق تھا کہ اپنا قدم وہاں تک رکھتا تھا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ مجھے جب جبرائیل علیہ السلام نے اس پر سوار ہونے کا کہا تو وہ اچانک بدکنے لگا۔ جبرائیل علیہ السلام فرمانے لگے!” ٹھہر جا” آج تجھ پر وہ عظیم سواری سوار ہو رہی ہے کہ کبھی بھی اس طرح کی سواری نے تجھ پر سفر نہ کیا۔ مجھے اس پر سوار کر دیا گیا اور جبرائیل علیہ السلام مجھے اپنے ساتھ لے چلے۔ آپ کو مسجد اقصیٰ لایا گیا۔ وہاں آپ نے براق کو کھونٹی سے باندھا جس میں دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام بھی اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر آپ کو تمام انبیاء کرام علیہم السلاکی امامت کے لیے آگے کر دیا گیا۔ آپ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو امامت کروائی یوں آپ امام الانبیاء بن گئے۔ اس کے بعد دوبارہ براق لایا گیا۔ پھر آپ اس پر سوار ہوئے اور جبرائیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے چلے۔ یہاں تک پہلے آسمان (آسمان دنیا) تک پہنچ گئے۔ جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا کہا ! ” پوچھا گیا کون ؟” کہا میں جبرائیل ہوں۔ ” پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ ” فرمانے لگے : ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ” “سوال کیا گیا کیا انہیں پیغام دے کر بلوایا گیا ہے؟” جبرائیل علیہ السلام نے جواباً کہا : ” ہاں ” انہیں خوش آمدید کہا گیا اور پھر دربان نے دروازہ کھول دیا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ اور تمام آسمانوں پر گفتگو کے بعد دروازہ کھولا گیا۔

جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” جب میں نے پہلے آسمان پر قدم رکھا تو دیکھا وہاں آدم علیہ السلام ہیں۔ جبرائیل امین فرمانے لگے : ” یہ آپ کے باپ آدم علیہ السلام ہیں۔ ” انہیں سلام کریں۔ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا :” خوش آمدید ! نیک بیٹے اور نیک پیغمبر “۔ پھر جبرائیل امین نے فرمایا: “یہ جو آدم علیہ السلام کے دائیں اور بائیں جانب پرچھائیاں ہیں یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ ان میں سے دائیں جانب والی جنتی اور بائیں جانب والی جہنمی ہیں۔ جب آدم علیہ السلام اپنے بائیں جانب دیکھتے تو (خوشی سے) ہنستے اور بائیں جانب دیکھتے تو (غم کی وجہ سے) رو پڑتے۔ اس کے بعد دووسرے آسمان پر آپ کی ملاقات یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام سے کروائی گئی۔ دونوں خالہ زاد تھے۔ جبرائیل امین علیہ السلام نے فرمایا: ” یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ انہیں سلام کریں۔ ” آپ نے دونوں کو سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ” نیک بھائی اور صالح پیغمبر کو خوش آمدید “۔ پھر تیسرے آسمان پر آپ کی ملاقات یوسف علیہ السلام سے کروائی گئی۔ جبرائیل علیہ السلام کی رہنمائی سے آپ نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواباً فرمایا: ” نیک بھائی اور صالح پیغمبر کو خوش آمدید۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا انہیں دنیا کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔

پھر چوتھے آسمان پر آپ کی ملاقات ادریس علیہ السلام سے کروائی گئی۔ انہوں نے بھی سلام کے جواب میں خوش آمدید کہا اور نیک بھائی اور صالح پیغمبر کے القاب سے نوازا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کی ملاقات ہارون علیہ السلام سے کروائی گئی۔ ان سے دعا سلام کے بعد چھٹے آسمان پر آپ کی ملاقات موسیٰ علیہ السلام سے کروائی گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے آگے بڑھنے لگے تو موسیٰ علیہ السلام رو پڑے۔ رونے کی وجہ پوچھی گئی تو جواباً موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ” اس لیے روتا ہوں کہ یہ لڑکا جو میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا ہے اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے۔ ” پھر ساتویں آسمان پر آپ کی ملاقات ابراہیم علیہ السلام سے کروائی گئی۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کے بعد فرمانے لگے: ’ ’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کو میری طرف سے سلام پہنچا دینا اور یہ بتلا دینا کہ جنت کی مٹی بڑی عمدہ ہے۔ اس کا پانی میٹھا ہے لیکن وہ چٹیل میدان ہے (اس میں کاشت کی ضرورت ہے) اس کی کاشتکاری “سُبحَان َ اللہِ  وَالحَمدُلَلہِ وَلَااِلٰہ اِ لّا اللہُ وَاللہُ اَکبَر”ہے۔ اس کے بعد آپ کے سامنے بیت المعمور کو بلند کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا تو جبرائیل امین علیہ السلام نے بتلایا: ” یہ فرشتوں کی عبادت گاہ بیت المعمور ہے۔ اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں تو دوبارہ (قیامت تک) ان کی باری نہیں آتی۔ ” پھر آپ کے لیے تین برتن لائے گئے ایک شراب کا ، دوسرا دودھ کا ، تیسرا شہد کا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دودھ کا پیالہ لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا:” یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ “

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا۔ تو اس میں بیری کا درخت میرے سامنے آیا۔ جس کا پھل (ایک بیر) جسامت میں ہجر شہر کے مٹکوں کے برابر تھا اوراس کے پتے ہاتھی کے کان کے کانوں کے جیسے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ میں نے جنت میں دیکھا کہ وہاں موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی ہے ، جنت میں چار نہریں تھیں دو نہریں اندر تھیں اور دو باہر جا رہی تھیں۔ میں نے دریافت کیا: ” اے جبرائیل علیہ السلام! یہ دو نہریں کہاں ہیں ؟ فرمایا: “دو باطنی نہریں ، وہ جنت میں ہیں اور جو دو نہریں ظاہر ہیں وہ نیل و فرات ہیں۔ پھر میں ایک اور نہر پر آیا اس کے دونوں کنارے موتیوں کے قبے کے تھے۔ میں جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق سوال کیا۔ جبرائیل امین بتلانے لگے : “یہ کوثر ہے اس کی مٹی بھی خوشبودار کستوری کی ہے۔ ” جنت میں (دوران سیر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” جبرائیل علیہ السلام یہ کس کے چلنے کی آواز ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: ” یہ آپ کے مؤذن بلال کے قدموں کی آہٹ ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتلایا : ” بلال کامیاب ہو گیا میں نے اسے (جنت میں) اس طرح دیکھا ہے۔ “

جنت کی سیر کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم کا مشاہدہ بھی کروایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” معراج کے موقع پر میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ناخن پیتل کے تھے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا ؟ فرمایا: ” یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔ (یعنی غیبت کرتے تھے) اسی طرح میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے ان کے بارے میں جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا : ” یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو تو بھلائی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور خود ان نصیحتوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔ حالانکہ وہ وہ کتاب بھی پڑھتے اور سمجھتے تھے۔ ” پھر مجھ پر ایک (رات کو) دن میں پچاس نمازیں قرض کر دی گئیں۔ جب میں واپس پلٹا اور دوبارہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا : ” آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟ ” میں نے کہا: ” ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ “موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ” آپ کی امت روزانہ پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی۔ اللہ کی قسم میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزما چکا ہوں۔ پس آپ اپنے رب کے پاس جا کر تخفیف (کمی) کا سوا ل کریں۔ چنانچہ میں دوبارہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرنے لگا تو انہوں نے پھر پوچھا اور میں نے بتلایا ” چالیس نمازیں ” پھر انہوں نے مجھے واپسی کا مشورہ دیا۔ پھر میں گیا اور تحفیف کا سوال کیا تو دس نمازیں مزید کم کر دی گئیں۔ اسی طرح پھر موسیٰ علیہ السلامجھے کمی کا مشورہ دے کر واپس بھیجتے رہے۔ اور نمازوں میں تخفیف ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں بچ گئیں۔ پھر بھی موسیٰ علیہ السلام نے کم کروانے کا مشورہ دیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “میں بار بار اپنے رب سے سوال کر چکا ہوں حتیٰ کہ اب مجھے شرم آ رہی ہے۔ اس لیے اب میں اسی پر راضی ہوں اور اسے ہی تسلیم کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے کچھ آگے آئے تو ایک منادی نے بہ آواز بلند کہا :” میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں پر تخفیف کر دی۔ “

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس زمین پر پلٹ آئے۔ مکہ میں جب صبح لوگوں کو بتلایا تو ان کی طرف سے مذاق ہونے لگا۔ آپ صبح کے وقت سخت پریشان ہوئے۔ لوگ بار بار الٹے سیدھے سوال کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی سوچوں میں غمگین بیٹھے تھے کہ مشرکین کا سردار ابو جہل آیا اور مذاقاً پوچھا: “کیا کوئی خاص بات ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں کل رات مجھے سیر کروائی گئی۔ پوچھا گیا کہاں تک؟ فرمایا : ” مسجد اقصیٰ تک ” اس نے کہا پھر صبح آپ ہمارے درمیان؟ فرمایا: ” ہاں “کہا اگر تمہاری قوم کو بلا کر لاؤں سب کے سامنے اس کا اقرار کرو گے” فرمایا: ” ہاں ” چنانچہ عرب کے طریقے کے مطابق اس نے آواز لگائی: ” اے بنو کعب بن لوئی! اس کی آواز سنتے ہی لوگ مجلسوں سے اٹھ کر اس کے پاس آ گئے۔ وہ ان سب کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہنے لگا: ” اب اپنی قوم کے سامنے وہی بات بیان کرو” اس پر جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” کل رات مجھے سیر کرائی گئی ہے۔ ” انہوں نے سوال کیا: ” کہاں تک؟”فرمایا: ” بیت المقدس تک ” انہوں نے کہا :”پھر صبح آپ ہمارے درمیان بھی موجود ہیں ؟”فرمایا : ” ہاں “یہ سنتے ہی وہ تالیاں پیٹنے لگے اور اسے جھوٹ سمجھ کر اپنے سروں پر تعجب سے ہاتھ رکھ لیے۔

ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے بیت المقدس ” مسجد اقصیٰ ” کی طرف سفر بھی کیا تھا اور مسجد اقصیٰ دیکھی بھی تھی۔ بغرض تصدیق وہ کہنے لگے :” کیا آپ مسجد اقصیٰ کی صفات بیان کریں گے؟ “اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ مگر اللہ نے فوراً ہی مسجد معجزانہ طور پر ان کے سامنے کر دی جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آنے لگی پھر جو کچھ بھی انہوں نے مسجد کے متعلق سوالات کیے اور نشانیاں پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ صفات بیان کر دیں۔ مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہنے لگے : ” اللہ کی قسم اس نے تو تمام صفات صحیح بیان کی ہیں۔ اس کے بعد مشرکین میں سے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے اچھے صحابی اور دوست ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گئے اور کہا:آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھی عجیب و غریب بات بیان کر رہا ہے۔ آج آپ کو بھی پتا چل جائے گا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے سارا قصہ بیان کر دیا۔ تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ نے تصدیق کے طور پر پوچھا کیا ایسا واقعی میرے محبوب نے بیان کیا ہے؟ مشرکین نے جھٹ سے جواب دیا ” ہاں “تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے: ” اللہ کی قسم انہوں نے جو کچھ کہا ہے۔ میں دل و جان سے کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کا علم ہوا اور اپنے یار غار کی تصدیق کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ” صدیق” (یعنی تصدیق کرنے والا) رکھ دی۔

مصادر و مراجع:

٭صحیح البخاری

۱) کتاب الصلاۃ، ح349

۲)کتاب بدءالخلق، حدیث3207

۳) کتاب مناقب الا نصار، ح3886/3887

۴) کتاب التوحید ، ح 7515

۵) کتاب احادیث الانبیائ، ح3396/3394

۶) کتاب التفسیر ، 4710/4709

۷) تفسیر سورۃالنجم، 4858/4855

٭صحیح مسلم

۱) کتاب الایمان

٭٭٭

 

 

نیکیوں کا موسم بہار

اس کائنات میں انسانی نگاہیں جدھر رُخ کرتی ہیں تو انہیں چہار سو قدرت کی تخلیق کاری کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے۔ غرض کے انسانی نظروں میں آنے یا نہ آنے والی تمام مخلوقات کو اکیلے خالقِ کائنات نے تخلیق فرمایا ہے۔ وہ چاہے ارض و سما ہوں ، چاہے شجر و ہجر ہوں ، چاہے شمس و قمر ہوں ، لہلہاتی کلیاں ہوں یا خوشبو سے معطر کرتے اظہارِ دلربا ہوں ، صبح و شام ہوں یا راتوں اور دنوں کی گردش۔ غرض ہر چیز میں قدرت الٰہی کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ اسی مالک و الملک نے زمانے کا نظام مرتب فرما کر سال کے اندر بارہ مہینے پروئے ہیں۔ پھر ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ ماہ رمضان کو باقی تمام مہینوں پر خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس ماہ مبارک میں خالق کائنات کی خاص کرم فرمائیاں انسانوں پر ہوتی ہیں اور اللہ رب العالمین کی طرف سے انسانوں پر رحمتوں اور برکتوں کی موسلادھار برسات برستی ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ انسانوں کے لیے تذکیہ نفس اور اصلاح ذات کا مؤثر ترین مہینہ ہے۔ باقی تمام مہینوں کی نسبت اس ماہ مقدس میں برائیوں سے بچنا اور راہِ مستقیم پر گامزن ہو کر رضا الٰہی کو سمیٹنا اور نیکیاں کمانا بہت زیادہ آسان ہے۔ کیونکہ اس ماہ مبارک کی تقدیس کے پیش نظر مالک کائنات اس ماہ کے آغاز سے ہی برائی کے داعیوں کو جکڑ دیتا ہے۔ جہنم کے تمام دروازے بند کر کے جنت کے تمام دروازے کھول دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے عمل صالح پر ثواب کثیر عطا فرماتا ہے۔ اسی لیے اس ماہ مبارک میں نیکی و بھلائی، خیر و ہمدردی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دینا چاہیے۔

اس ماہ مبارک میں جس طرح باقی تمام اعمال صالحہ پر ثواب کی نسبت بلند ہو جاتی ہے بعینہ اس ماہ کے روزوں کا بھی اعلیٰ مقام ہے۔ اسی ماہ مقدسہ میں باقی نیک اعمال کے ساتھ سب سے زیادہ اہمیت روزوں کی ہے۔ صیام رمضان کے ذریعے بندہ اپنے رب کی رضامندی حاصل کر سکتا ہے۔ روزہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم اور بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے”دین اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی سچا معبود نہیں۔ (2) نماز کو قائم کرنا۔ (3) زکوٰۃ کو ادا کرنا۔ (4) حج ادا کرنا۔ (5) رمضان کے روزے رکھنا۔ ” (بخاری)

اسلام کی عمارت کے بنیادی ارکان یہی پانچ ہیں۔ کسی بھی ایک رکن کے ترک کر دینے سے اسلام کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ اسی لئے تو ان ارکان میں سے ایک کا انکار مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ روزہ اسلام کا ستون ہونے کے ساتھ ساتھ فرض بھی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے “اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کر دیا گیا ہے جیسے پہلی (سابقہ) امتوں پر روزے فرض تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ ” (البقرۃ: 183)

رمضان المبارک ایک مسلمان کے لیے رحمتیں سمیٹنے کا، خیر و بھلائی جمع کرنے کا، گناہ معاف کروانے اور جنت میں جانے کا سنہری موقع ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے۔ تو گویا وہ اللہ تعالیٰ سے یہ عہد، پختہ کر رہا ہوتا ہے۔ کہ اے اللہ! جس طرح میں نے تیرے حکم سے فجر سے لے کر مغرب تک حلال چیزوں کو ترک کر دیا حالانکہ ان کا استعمال جائز ہے۔ اسی طرح میں تیرے حکم پر عمل پیرا ہو کر ان تمام امور سیئہ سے بھی اجتناب کروں گا جو تیرے نزدیک حرام ہیں۔ وہ یہ تجدید عہد کر رہا ہوتا ہے کہ میں ہر قسم کی گندگیوں ، برائیوں ، غلاظتوں اور گناہوں کے تاریک راستوں پر چلنے کو بھی ترک کرتا ہوں۔ روزوں کے فرض کرنے کا اصل مقصد بھی اسلام کے ماننے والوں کی تربیب کرنا ہے۔ کیا اللہ کے بندوں کو بھوکا پیاسہ رکھ کر کوئی مطلب مقصود ہوتا ہے؟ نہیں نہیں بلکہ وہ مالک الملک تو اپنے بندوں میں یہ احساس ہمدردی پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جس طرح ہمیں فجر سے لے کر مغرب تک کے وقت میں بھوکا پیاسہ رہنا پڑا بعینہ ان لوگوں کو بھی ہم یاد رکھیں کہ جنہیں کھانے کے لیے روٹی تک میسر نہیں۔ جن کے شب و روز فاقوں میں گزرتے ہیں۔ جن کے دن و رات سسک سسک کر گزر رہے ہوتے ہیں۔ جو اپنی صبح و شام بلک بلک گزارتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا کرنا بھی روزوں سے مطلوب ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ روزوں کا جو اصل مقصد ہے وہ تقویٰ و پرہیز گاری کا حصول ہے۔ متقی یا پرہیزگار اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کے حکم کو مان کر خلاف شریعت خواہشات کو ترک کر دیتا ہے۔ جس کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف سما جاتا ہے۔ اب وہ لوگوں کی مجلسوں میں ہو یا زمین کے کسی بھی کونے میں گوشہ نشین ہو جائے وہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ اللہ کی یاد ہی اسے تمام معصیات اور برائیوں سے بچائے رکھتی ہے۔ اسی لیے لوگوں سے دور کسی تنہا ویرانے میں اگر شیطان اس کے دل میں گناہ کا وسوسہ ڈال دے تو وہ اللہ کے خوف سے استغفار کرنے میں مگن ہو جاتا ہے اور شیطان کے وسوسے کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیتا۔ اسے چھوٹی سی برائی بھی ایک بڑے پہاڑ کی مانند نظر آتی ہے۔ ایسا شخص شریعت اسلامیہ پر بھی عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس کے برعکس جس بندے کے دل سے خشیت الٰہی اور خوف الٰہی کا مادہ نکل جائے۔ وہ شیطان کی چالوں میں آ کر نفسِ کی چاہتوں کا غلام بن جائے۔ تو پھر اس کی نظروں میں کوئی بھی گناہ، گناہ نہیں رہتا۔ وہ بھری مجلسوں میں معصیات کی دلدل میں دھنسنے کو معیوب نہیں سمجھتا۔ یہی تو وجہ ہے کہ جب کوئی بھی انسان بری خواہشات کو ترک کر دیتا ہے تو وہ گناہ کے کاموں سے بچتا رہتا ہے۔ گناہوں سے بچنا بھی روزے سے ممکن ہے۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “روزہ گناہوں کے آگے ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ خلاف شریعت دل لگی کی باتیں اور شور و غوغا نہ کرے اور اگر اسے کوئی شخص گالی بھی دے دے یا لڑائی جھگڑے کی کوشش کرے (تو بجائے انتقامی کاروائی کے یہ روزے دار) کہہ دے میں روزے سے ہوں۔ ” (بخاری: 1904) روزہ صرف گناہوں سے بچاتا ہے بلکہ سابقہ گناہوں کے لیے بھی کفارہ بن جاتا ہے مگر اس میں خلوصِ نیت شرط ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” جس نے رمضان کے روزے ایمان اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے رکھے تو اس کے ساتھ سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (بخاری: 1901)

اسی طرح اگر روزہ اگر خالص رضا الٰہی کا متلاشی بن کر رکھا جائے تو اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اور روزے کے بارے میں اللہ نے خصوصی طور پر فرمایا: “روزے میرے لیے خاص ہے اور اس لیے اس کا اجر بھی میں دوں گا۔ ” (مسلم: 1151/164) لیکن اگر نیت میں خلل آ گیا یا روزہ رکھ کر بھی جھوٹ، فریب، دغا بازی یا ناپ تول میں کمی، رشوت، سود، دھوکہ، فسق و مجور وغیرہ سے انسان باز نہ آئے تو ایسے روزے کی اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: “اگر کوئی شخص جھوت بولنا اور دغا بازی نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس کے بھوکہ پیاسہ رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ ” اسی لیے آج ہم پر ماہ فوزان آ چکا ہے۔ اب ہم نے اس کے اصل مقاصد کو سمجھ کر روزے رکھنے ہیں۔ اصل مقاصد کو پس پشت ڈال دیا تو پھر بقول شاعر

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

٭٭٭

 

عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

اللہ کے فیصلے بھی بڑے انوکھے ہیں۔ کرہ ارض کی تزئین و آرائش کے لیے اس عظیم مالک نے ایسا نظام تخلیق کیا ہے۔ جسے دیکھ کر انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔ جہاں اس مالک نے خزاں کو بنایا ہے کہ جس میں درختوں کے پرانے پتے جھڑ جائیں۔ وہاں اس خالق نے موسم بہار بھی ترتیب دیا ہے کہ جس میں تازہ کونپلیں پھل و پھول کھلتے ہیں۔ ہر طرف خوشبو کے معطر جھونکے ماحول کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ زمین پر ہریالی ہی ہریالی اس قدر ہو جاتی ہے کہ جیسے اس نے سبز لباس زیب تن کر لیا ہو۔ پرانے پتوں کی جگہ نئے پتوں سے ماحول جگمگانے لگتا ہے۔ یہ تو اس علیم کی تقسیم ہے جس وقت چاہے پت جھڑ آئے اور جب چاہے سبزہ سے کرہ ارض کو بھر دے۔ بعینہ اس رب کے نظام میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔ جن میں نیکیوں کی بہاریں پھوٹ پڑتی ہیں یہ تو اس حکیم کی دلکش و دلربا تقسیم ہے۔ اسی طرح اس مصور کی تخلیق میں غور کرتے جائیں تو ایسے ایسے راز آشکارا ہوتے ہیں کہ ولد آدم حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ ایک ہی درخت ہوتا ہے ایک ہی طرح کا پانی ملتا ہے۔ مگر پھلوں کے ذائقے علیحدہ ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ! اسی طرح سال کے ایام میں کچھ خاص ایام کو بھی باقی دنوں پر فضیلت حاصل ہے اس وقت ہم پر ذی الحجہ جیسا عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے۔ اس مہینہ کو کئی لحاظ سے فضیلت حاصل ہے۔ حج کا اہم فریضہ اس کی ادائیگی بھی اس میں کی جاتی ہے کہ جس کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں اللہ کے کمزور و ناتواں بندے ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اسلامیان ایک جگہ جمع ہو کر یک جہتی و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس میں میدان محشر کا منظر بپا ہوتا ہے۔ امیر و غریب ، گورے و کالے، عربی و عجمی، سب کے سب ایک ہی صف میں مالک حقیقی کے حضور سجدے میں جھک جاتے ہیں۔

حج ایک ایسا عظیم فریضہ ہے کہ جس کا حج مقبول ہو جائے بارگاہ الٰہی میں اسے شرف و عزت سے نوازتے ہوئے سابقہ زندگی کے کالے کرتوت، گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ جیسے آج ہی وہ اپنی والدہ کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ تو اس ماہ کے حج کی فضیلت ہے۔ اسی طرح اس ماہ کے پہلے عشرے کو بھی بڑی فضیلت حاصل ہے۔ جو لوگوں میں عشرہ ذی الحجہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس عشرہ میں نیکیوں کے جام سرعام پیش کیے جاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جتنا کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں محبوب ہے اتنا کسی بھی دن پسند نہیں۔ آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسولﷺ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ مگر یہ کہ کوئی شخص اللہ کے راستے میں اپنے جا ن و مال کے ساتھ جائے اور شہید ہو جائے۔ (ابو داود: 2438)

ان دنوں کو اتنی زیادہ فضیلت و عظمت حاصل ہے کہ ان کا مقابلہ سال کے باقی ایام سوائے لیلۃ القدر کے نہیں کر سکتے۔ اسی طرح ان دنوں کے اعمال بھی باقی دنوں کے مقابلے میں زیادہ افضلیت کے حامل ہیں۔ جیسا کہ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک کوئی عمل اتنا باعظمت اور محبوب و مقروب نہیں جتنا وہ عمل ہے جو ان دس دنوں میں کیا جائے۔ اس لیے تم ان دس دنوں میں کثرت کے ساتھ تمہید (اللہ کی تعریف) تہلیل اور تکبیر (اس کی الوہیت و کبریائی) کثرت سے بیان کیا کرو۔ (مسند احمد: 5464) اس فرمان رسولﷺ سے ان دس دنوں کی شان و شوکت مزید فراز کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت و قرب حاصل کرنے کے لیے بھی یہ ایام کس قدر اہم ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات بغیر کسی اجمال کے منکشف ہو جاتی ہے۔ یعنی کہ جس قدر یہ دس دن بہت ہی اعلیٰ و بالا ہیں۔ اجر و ثواب کی بڑھوتری ان دنوں کو چار چاند لگا دیتی ہے۔

 اسی اہمیت کے پیش نظر رسول اللہﷺ کا اسوہ حسنہ یہ تھا کہ آپ ذی الحجہ کے پہلے 9دنوں میں روزے رکھا کرتے تھے۔ ان ایام عشرہ کی اہمیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دس ذی الحجہ کو یوم النحر (قربانی کا دن) کہتے ہیں۔ ایک اور حدیث کے مطابق اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت وا لا دن یوم النحر ہے۔ مگر افسوس ! آج مسلمان دین سے بے بہرہ ہو چکے ہیں۔ ان تمام احکام و فضائل کو غلط تاویلوں ، تمثیلوں ، اور جھوٹی بے بنیاد تعلیمات کے پیچھے پڑ کر بھلا چکے ہیں۔ دنیاوی امور میں تو بڑے حساس ہیں۔ ہلکی ہلکی بات پر تحقیق کرتے نظر آتے ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز خریدنا ہو تو پہلے وہ اسے ہر طرف سے گھما کر دیکھتے ہیں۔ دبا کر دیکھتے ہیں ، کہیں اس میں کوئی عیب یا خرابی نہ ہو۔ مگر جب بار ی اسلام کی آتی ہے تو پھر اس قدر جستجو کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

یہ عشرہ ذی الحجہ بھی ماہ رمضان کی طرح نیکیوں کی موسم بہار ہے۔ اس موسم بہار سے صحابہ کرام بہت زیادہ مستفید ہو ا کرتے تھے۔ سیدنا ابو ہریرہ اور عبداللہ بن عمرؓ کا ان دس دنوں میں معمول یہ تھا کہ وہ ان دس ایام میں بازاروں میں نکل جایا کرتے تھے۔ اور بلند آواز سے تکبیریں پڑھا کرتے تھے۔ (تاکہ لوگوں کو ترغیب ہو نتیجتاً) انہیں دیکھ کر لوگ بھی تکبیریں پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔ (بخاری کتاب العیدین: باب 11) حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ عشرہ ذوالحجہ میں نیک اعمال کرنے میں خوب سعی و کوشش کرتے تھے یہاں تک کہ قریب نہ ہوتا کہ کوئی اس پر قادر ہو۔ (سنن الدارمی: 1781)

لہٰذا ہمیں بھی اسی سیرت کو تھامنا ہو گا اسی صراط مستقیم پر گامزن ہونا ہو گا۔ یہی مشعل نور تھامنے کی ضرورت ہے۔ اس دفعہ ان دس دنوں میں نبوی طریقے کے مطابق یکم ذوالحجہ سے لے کر 13 ذی الحجہ تک تکبیرات کا ورد کریں۔ اللہ کے رسولﷺ سے ثابت تکبیرات میں سے دو یہ ہیں۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر و للہ الحمد (الارواءالغلیل: 654) اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا(فتح الباری 595/2)

اس کے ساتھ ساتھ روزے رکھنا بھی سنت طریقہ ہے تو کوشش کی جائے کہ روزے بھی رکھے جائیں۔ جب ہم اعمال صالحہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کر دیں گے تو پھر کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس کامیابی و کامرانی کا متلاشی ہے۔

٭٭٭

 

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

اسلام کی سنہری تاریخ کی طرف اگر نگاہیں اٹھائی جائیں تو ایسی گرانقدر اور عظیم ہستیاں انسانی آنکھوں کو خیرہ کرتی نظر آتی ہیں جن کی مثال ملنا محال ہے۔ اگرچہ اسلام کی ابتدائی حالت ضعف سے دوچار تھی۔ مگر اللہ نے اپنے اس دین کی کمر مضبوط کرنا تھی۔ لہٰذا پیارے رسول جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سپہ سالار اور جانشین عطا کئے کہ جنہوں نے اس کو اپنے لہو سے سیراب کر کے ایسی بنیاد مہیا کی کہ وہ مضبوط تنا آور شجر کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کی شاخیں شرق و غرب کو چھونے لگیں۔ اس دین کی بار آوری کے لیے جن عظیم شخصیات نے قربانیاں دیں۔ ان میں ایک لہلہاتا پھول خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صورت میں کھلکھلاتا نظر آتا ہے۔ جو اپنوں کے لئے نرم خو اور غیروں کے لئے ترش رو تھے۔ جنہوں نے حق پر سر تسلیم خم کر دیا تو ان کے لئے مشفق و مہربان باپ کی صورت اختیار کر گئے مگر جنہوں نے راہ حق سے روگردانی کی ان کے لئے فولاد کی طرح سخت بن گئے۔ اس چھوٹی سی تحریر میں آپ کی زندگی کے روشن پہلوؤں پر نظر ڈالنا گویا سورج کے سامنے دیا سلائی جلانا ہے۔

 آپ عظیم صحابی، عظیم خلیفہ و حکمران، عظیم مدبر و مفکر تھے۔ آپ کے قبول اسلام سے قبل مسلمان انتہائی کمزور و ضعیف تھے۔ چھپ چھپ کر عبادتیں کیا کرتے تھے۔ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھائے جاتے تھے۔ حتی کہ ان کا دائرہ اس قدر وسیع ہوچکا تھا کہ قلم اس کا نقشہ کھینچنے سے قاصر ہے۔ مگر جیسے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام کو سینے سے لگایا تو مسلمانوں میں خوشی کی ایک ایسی لہر دوڑ گئی کہ سب نے مل کر نعرہ تکبیر کی صدا بلند کی جس کی آواز اردگرد میں دور دور تک سنی گئی۔ عمر فاروق گھر سے نکلے تاکہ اسلام کے عظیم داعی و پیغمبر جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ مگر اس خوش بخت کے کیا کہنے کہ اللہ نے اس شیر کو اسلام کا حامی بنا دیا اور ایسا حامی کہ اپنے اسلام کا علی الاعلان اظہار فرما دیا۔ جو مسلمان گھروں میں چھپ چھپ کر عبادتیں کیا کرتے تھے۔ اب سب کے سامنے کعبہ میں نمازیں ادا کرنے لگے۔ اہلیان اسلام پر سختیوں کا وسیع دائرہ سکڑ گیا۔ غرض کہ اسلام کو ایک ایسی بنیاد مل گئی کہ اسلام کا ڈگمگاتا بیڑہ تیزی سے منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہونے لگا۔

خوب گورے چٹے، سرخی مائل رنگ، ہاتھ پاؤں اور ہتھیلیاں موٹی، گوشت سے پر اعضاء، دراز قامت، مضبوط جسم، سر کے سامنے سے بال گرے ہوئے، قد و قامت اتنی جمی گویا گھوڑے پر سوار ہوں ، طاقتور، بہادر، تیز چلتے تھے، اونچا بولتے تھے، رعب دار آواز، مارتے تو کاری ضرب لگاتے تھے۔ یہ تھے خلیفہ ثانی۔ آپ کا نام عمر بن خطاب بن نفیل تھا۔ کنیت ابو حفص تھی۔ لقب فاروق تھا کیونکہ مکہ میں آپ کے اظہار اسلام کی وجہ سے اللہ نے کفر و ایمان کے درمیان واضح جدائی کروا دی۔ اللہ نے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے اسلام کے نور سے مالامال فرمایا۔ آپ دور جہالت میں جس قدر مسلمانوں کے سخت مخالف تھے بعینہ اسلام لانے کے بعد اس سے اور بڑھ کر اسلام و اہل اسلام کے ہمدرد بن گئے۔ چونکہ آپ سردار تھے اور آپ کا شمار قریش کے چوٹی کے سرداروں میں ہوتا تھا۔ اس لیے آپ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کی کمر مضبوط ہو گئی اور ان کے حوصلے پختہ ہو گئے۔ آپ نے دین اسلام کی نصرت و تائید کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار کو ناکوں چنے چبانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرا سی گستاخی پر آپ کا خون کھول اٹھتا۔ آنکھیں سرخ ہو جاتیں۔ چہرہ لال ہو جاتا۔ ہاتھ تلوار کے دستے پر چلے جاتے اور غصے سے کانپنے لگتے۔ فرماتے اے آقا! مجھے اجازت دیجئے میں اس شخص کی گردن تن سے جدا کر دوں ، مگر اللہ کے رسول ﷺ کے صبر کی تلقین کرتے تو غصہ جڑسے اتر جاتا۔ آپ “اطیعو اللہ واطیعوالرسول” کا عملی نمونہ تھے۔ شریعت کے سختی سے پابند تھے، اللہ نے آپ کو عقل سلیم سے منور  فرمایا تھا۔ یہی وجہ تھی آپ کی زبان سے کتنی ایسی تجاویز ادا ہوئیں جو اللہ کو اس قدر پسند آئیں کہ قرآنی آیات کا نزول فرما دیا۔

 آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ مل کر ہر غزوے میں شرکت کی اور مشرکین مکہ کے دانت کھٹے کیئے۔ اپنے مال و جان سے اور وقت سے اسلام کی تائید کی۔ اسی طرح آپ سیدناابوبکر صدیقؓ کے دور میں بھی ان کے لیے مضبوط سہارا بنے رہے۔ یہاں تک کہ خلافت کا بار گراں آپ کے کندھوں پر آ گرا۔ آپ نے سب سے پہلے بطور خلیفہ جو خطبہ دیا وہ کچھ اس طرح سے تھا۔

“اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تم کو آزمایا ہے اور میرے دونوں رفقاء(محمد رسول اللہﷺ اور ابوبکر صدیقؓ) کے بعد تمہارے ذریعے مجھ کو آزمایا ہے۔ اللہ کی قسم تمہارا جو معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا میں خود اس کو حل کروں گا اور جو معاملات مجھ سے دور ہوں گے ان کے لیے قوی و امین حضرات کو مقرر کروں گا۔ اللہ کی قسم ! اگر لوگوں نے مجھ سے اچھا برتاؤ کیا تو میں بھی ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر غلط طریقے سے پیش آئے تو ان کو سزا دوں گا۔ “

اسی طرح آپ نے اور بھی چند نصیحتیں کیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ “حاکم جب تک اللہ کے حقوق ادا کرتا ہے رعایا اس کے حقوق ادا کرتی ہے اور جب حاکم اللہ کے حقوق پامال کرنا شروع کر دیتا ہے تو رعایا اس کے حقوق یا پامال کرنے لگتی ہے۔ ” اسی لیے تو آپ حقوق اللہ پر سختی سے کاربند رہے۔ جو لوگ حقوق اللہ کو ادا کرنے میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتے تھے آپ ان کی سرزش کیا کرتے تھے۔ خلافت کے بار گراں کے کندھوں پر آ جانے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے غم کو اپنا سمجھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے “اگر اللہ نے مجھے صحیح سالم رکھا تو عراق کی کسی بیوہ کو محتاج نہ چھوڑوں گا جو میرے بعدکسی سے اپنی ضرورت مانگے۔ “

اس لیے راتوں کے اندھیروں میں غلہ کمر پر لاد کر غریب ومستحقین تک پہنچایا کرتے تھے۔ طلحہ بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ایک رات سیدناعمررضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے میں نے آپ کو دیکھ لیا۔ آپ رات کی تاریکی میں ایک گھر سے دوسرے گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے تھے۔ صبح ہوئی تو میں ان گھروں میں آ گیا۔ ایک گھر میں بوڑھی نابینا خاتون بیٹھی ملی، پوچھا کہ یہ شخص جو رات کو آپ کے گھر آتا ہے کون ہے اور کیوں آتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ جو بھی آتا ہے وہ کافی عرصہ سے میرے گھر آتا ہے۔ ہمیں اشیائے ضرورت دے کر چلا جاتا ہے اور ہماری پریشانیوں کو دور کرتا ہے۔ یہ سن کر طلحہ نے اپنے آپ کو کہا: “تیرا برا ہو تو عمر کی خامیاں تلاش کرتا ہے۔ “

آپ اپنی رعایا میں نا صرف انسانوں بلکہ جانوروں کا بھی اس حد تک خیال رکھتے تھے کہ جس سے آپ کے کردار کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ ایک دفعہ سیدنا عمر ایک اونٹ کے پاس پہنچے اور اپنا ہاتھ اس کی دم کے پاس رکھ کر کردرنے لگے اور اسے دیکھنے لگے۔ وہ اونٹ کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ آپ نے خود کو مخاطب کر کے فرمایا: “میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تیرے بارے میں اللہ کے ہاں مجھ سے باز پرس نہ ہو۔ “

یہ تو آپ کی معاشرتی زندگی کی ایک ہلکی سی جھلک تھی۔ اب آپ کی زندگی کے وہ نمایاں پہلو زیر بحث لاتے ہیں جس کی وجہ سے اسلام کا پیغام دنیا کے چاروں اطراف میں پھیلا۔ آپ نے دین کی سربلندی کے لیے دشمنان اسلام سے دو دو ہاتھ کیے۔ جن لوگوں نے تعلیمات اسلام کو قبول کر کے اطاعت کی تو آپ ان کے لیے نرم خو رہے مگر اعراض کرنے والوں کو تلوار سے سبق سکھایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030 مربع میل یعنی مکہ مکرمہ سے شمال کی جانب 1036، مشرق کی جانب 1087، جنوب کی جانب 483 میل تھا، باقی اس کے علاوہ ہے۔ اسی طرح شام، عراق، جزیرہ، خوزستان، عجم، آرمینیا، آذربائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران جس میں بلوچستان کا بھی کچھ حصہ آ جاتا ہے، شامل تھا۔ یہ تمام فتوحات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فتوحات ہیں اور اس کی تمام مدت دس برس سے کچھ زیادہ نہیں۔ آپ کی سیرت کا روشن پہلو یہی جہادی عمر ہے۔ بڑے بڑے غیر مسلم حکمران آپ کا نام سن کر کانپنے لگتے تھے۔ مگر آپ میں سادگی انتہا کی تھی۔ اس سادگی کے نتیجے میں اللہ نے عمر کی شان بہت بلند کر دی تھی۔ سیدنا عمر کو تو خود اس رعب و دبدبے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس راستے سے تم گزر جاتے ہو شیطان وہ راستہ بدل لیتا ہے۔ اس سب کے باوجود آپ نے حق سے کنارہ کشی نہ کی۔ شاعر نے کیا خوب کہا کہ

جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی

رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی

آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بہت سی اصلاحات کیں اور چند نئی چیزوں کا آغاز کیا، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ محاسبۃ السوق کا اجراء، مجلس شوریٰ کا اہتمام، خلیفہ کا عام حقوق میں سب کے ساتھ مساوی ہونا، ملک کی تقسیم، صوبہ جات اور اضلاع، عہدیداران ملکی، صیغہ محاصل یعنی خراج کا قیام، صیغہ عدالت کا قیام، افتاء کی سہولت، پولیس کا قیام، بیت المال یا خزانہ کا قیام، شہروں کو آباد کرنا، سڑکیں بنانا، پل اور کنویں کھدوانا، صیغہ فوج کا اجراء، چھاؤنیوں کا قیام، فوجیوں کی اسلامی تربیت کے لیے چھاؤنیوں میں اسلامی تربیت گاہیں ، سن ہجری کا مقرر کرنا، مردم شماری کا بندوبست، ذمیوں کے ساتھ عمدہ سلوک، غلامی کا رواج ختم کرنا، سیاست و تدبر، عدل و انصاف، امامت و اجتہاد وغیرہ۔

غرض کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور اہل اسلام کے لئے ایک زریں دور تھا۔ اس لئے کفار کی آنکھوں میں آپ کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے آپ کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیلظ منصوبہ بنایا۔ ابو لولو فیروز کو جو کہ غلام تھا، اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کے لئے تیار کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ جیسے ہی فجر کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ اکبر کہا۔ اس مجوسی نے خنجر کا وار کر کے آپ کو زخمی کر دیا۔ پھر وہ مردود اپنا دو دھاری خنجر لے کر بھاگا۔ دائیں بائیں جو مسلمان آئے ان کو زخمی کرتا ہوا بھاگتا رہا۔ یہاں تک کہ 13 آدمیوں کو زخمی کیا۔ ان میں سے سات شہادت پا گئے۔ یہ دیکھ کر ایک مسلمان نے اپنا جبہ اس پر ڈال کر اسے پھنسا لیا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب تو پھنس چکا ہوں اسی خنجر کو اپنی گردن پر چلا کر جہنم واصل ہوا۔ ادھر عبدالرحمن بن عوف کو سیدنا عمر نے نماز کے لئے آگے کیا۔ آپ نے نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ سب مسلمان شدت غم سے نڈھال ہو چکے تھے۔ ہر طرف سے آنسوؤں ، آہوں اور سسکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ آپ کو جو کچھ کھلایا گیا وہ پیٹ کے راستے سے نکل آیا۔ یوں آپ نے یکم محرم سن 23 ہجری کو جام شہادت نوش کیا۔ اس وقت آپ کی عمر 63 سال تھی۔ مدت خلافت دس سال چھ مہینے اور کچھ دن ہے۔ یوں یہ اللہ کا شیر، عالم اسلام کے عظیم حکمران اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://karachiupdates.com/v3/islam/199-habibullah.html

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید