FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

منکرین حدیث کے چار اعتراضات

 

 

                تألیف: فضیلۃ الشیخ عَبدالرحمٰن کیلانی (رحمہ اللہ)

                تخریج و حواشی: ابُوسیاف اعجاز احمد تنویر(حفظہ اللہ)

 

کمپوزنگ ابو بکرالسلفی

 

 

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

مُنکرینِ حَدیث کے چار اعتراضات اور ان کا علمی و تحقِیقی جائزہ

 

 

 

مسنُون خُطبہ​

 

ان الحمدللہ نحمدہ ونستعینہ ، ونستفرہ ، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات أعمالنا ، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ، ومن یضلل فلا ھادی لہ، وأشھد ان لا الہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ

 

أما بعد: فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمدﷺ وشر الامور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالہ وکل ضلالۃ فی النار۔

 

“بلا شبہ سب تعریف اللہ ہی لے لیے ہے۔ ہم اسی کی تعریف کرتے ، اسی سے مدد مانگتے اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ دھتکار دے اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔”

“حمد و صلوٰۃ کے بعد! یقیناً تمام باتوں سے بہتر بات اللہ کی کتاب اور تمام طریقوں سے بہتر طریقہ محمدﷺ کا ہے اور تمام امور میں برے کام(دین میں) خود ساختہ (بدعت والے) کام ہیں، ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔”

(یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَ بَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِہ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا – یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ، یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا)

“اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم مسلمان ہو۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، (پھر) اس سے اس کی بیوی کو بنایا اور (پھر) ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں اور انہیں(زمین پر) پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرتے رہو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قطع رحمی سے (بچو)۔ یقیناً اللہ تم پر نگران ہے۔ اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (سچی اور کھری) بات کہو۔ اللہ تمہارے اعمال سنواردے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، یقیناً اس نے عظیم کامیابی حاصل کر لی۔”

1- ((مسلم، الجمعۃ، مایا تحفیف الصلوۃ والخطبۃ، حدیث 868 و867 – والنسائی، 3278))
2- ((رواہ الاربعۃ واحمد والدارمی وروی البغوی فی شرح السنۃ مشکوٰۃ مع تعلبقات الابانی، النکاح، باب اعلان النکاح۔۔۔۔ وقال الالبانی حدیث صحیح۔))

تنبیہات:

 صحیح مسلم ، سنن نسائی مسند احمد میں ابن عباسؓ اور ابن مسعود ؓ کی حدیث میں خطبہ کا آغاز((ان الحمدللہ)) سے ہے لہٰذا ((الحمدللہ)) کی بجائے(( ان الحمدللہ)) کہنا چاہیئے۔

 یہاں((نومن بہ ونتوکل علیہ)) کے الفاظ صحیح احادیث میں موجود نہیں ہیں۔

 یہ خطبہ نکاح، جمعہ اور عام وعظ و ارشاد یا درس وتدریس کے موقع پر پڑھا جاتا ہے۔ اسے خطبہ حاجت کہتے ہیں اسے پڑھ کر آدمی اپنی حاجت و ضرورت بیان کرے۔

 

 

 

پیش لفظ​

 

میرے مطالعہ کی حد تک فتنہ انکارِ حدیث کے بنیادی اسباب دو ہیں:

1- فلسفہ اور سائنٹیفک نظریات سے مرعوبیت ، جسے یہ حضرات ” موجودہ دور کی علمی سطح کے مطابق” کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں۔

2- اتباع نفس ، یعنی احکام قرآنیہ کی وہ تشریح جو آپﷺ نے اپنے قول و فعل سے پیش فرمائی اس کو :” تکلیف مالا یطاق” سمجھ کر اس سے گریز کی راہیں تلاش کرنا، جیسا کہ موجودہ دور میں ادارہ” طلوع اسلام” نے ” مرکز ملت” کو یہ حق عطا فرمایا کہ وہ قرآن کے احکام اور اصولوں کی جزئیات موجودہ دور کے تقاضوں کے مابین متعین کرے۔

اس مقصد کے حصول کی خاطر ان حضرات کا شروع سے طریق کا ر بھی ایک ہی جیسا رہا ہے۔ یعنی پہلے سنت میں تشکیک(شک و شبہ) کے پہلو تلاش کر کے سنت کو ناقابل اتباع قرار دینا۔ پھر اس کے بعد اخبارو آثار سےمطلقاً آزاد ہو کر لغت کے حوالہ سے قرآن کی من مانی تاویلات پیش کرنا۔ معتزلہ نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ آج ہمارے یہ دوست بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔

زیر نظر مقالہ دراصل میری مبسوط تصنیف” آئینہ پرویزیت” کا ایک باب ہے جسے”سلفیہ رائزنگ انجینئرز” فوری طور پر چھپوانا چاہتے ہیں۔ اس کتاب کے آٹھ دس مضامین ماہنامہ ” محدث” اور” ترجمان الحدیث” میں پہلے چھپتے رہتے ہیں، کتاب مذکور کے درج ذیل چھ حصے ہیں:

1- معتزلہ سے” طلوع اسلام” تک:

اس حصہ میں انکار حدیث کے آغاز سے لے کر آج تک اس کے ” فکر قرآنی” کے ارتقاء کی داستان تفصیل سے مذکور ہے۔

2- “طلوع اسلام” کے مخصوص نظریات:

اس حصہ میں”طلوع اسلام” کے مخصوص نظریات مثلاً:

(1) حَسبُنَا کِتَابُ اللہِ (2) عجمی سازش (3) مسئلہ ارتقاء

(4) مساوات مرد و زن (5) مرکز ملت (6) نظام ربوبیت

3- قرآنی مسائل:

یہ حصہ”طلوع اسلام” کی تصنیف” قرآنی فیصلے” کے جواب میں لکھا گیا ہے۔

4- دوام حدیث:

اس حصہ میں حافظ اسلم صاحب جیراجپوری کے ان مقامات کا جواب دیا گیا ہے اور ان اعتراضات کا بھی جو پرویز صاحب نے ” مقام حدیث” میں اُٹھائے ہیں۔

5- دفاع حدیث:

اس حصہ میں مجموعہ احادیث کے داخلی امور پر اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، جو “طلوع اسلام” کی مطبوعہ کتاب “مقام حدیث” میں مذکور ہیں۔

6- “طلوع اسلام” کا اسلام:

اس حصہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ حجیت حدیث سے انکار کے بعد” طلوع اسلام” کس قسم کا اسلام پیش کرتا ہے؟

کتاب کے آخر میں” طلوعِ اسلام” سے ” چند بنیادی سوالات” بطور ضمیمہ شامل کیے گئے ہیں۔

زیر نظر کتاب”حدیث رسول ﷺ پر چند بنیادی اعتراضات کا جواب” پانچویں حصہ” دفاع حدیث” کا ایک باب ہے۔ جس میں چار زبان زد عام اعتراضات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے، جو یہ ہیں:

(1) کیا “ظن” دین بن سکتا ہے؟

(2) کیا واقعی حدیث اور تاریخ ایک ہی سطح پر ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے؟(تقابلی جائزہ)

(3) کثرت احادیث مثلاً یہ اعتراض کہ امام بخاری کو چھ(6) لاکھ احادیث یاد تھیں وہ آ کہاں سے گئیں اور پھر گئیں کدھر؟

(4) طلوع اسلام والوں کے ہاں معیار حدیث کیا ہے؟

عبد الرحمٰن کیلانی(رحمہ اللہ)​

 

 

 

ابتدائے نگارش

 

قرآن مجید ایک ایسی کتابِ دستور و آئین ہے جس میں اصول و کلیات بیان ہوئے ہیں اور اسلامی نظام کی فکری اور اخلاقی بنیادیں خوب واضح کی گئیں ہیں۔ جہاں تک اسلام زندگی کی عملی صورت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں اللہ رب العزت نے نبی مکرم، رسول معظم، ہادئ اعظم جناب محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ تاکہ وہ قرآن حکیم میں بیان کیے ہوئے اصول و کلیات ، دستور و آئین اور قانونی متن کی وضاحت کریں۔ اور زندگی کے ایک ایک پہلو اور شعبہ کے متعلق تفصیلی قوانین بتائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(1) (وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ​) (النحل:44)

“یہ ذکر (قرآن مجید) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے(اس لیے) کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں۔ شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔”

(2) (وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ١ۗ وَ مَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا١ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ) (الحشر:7)

“اور تمھیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رُک جاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔”

(3) (قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَ اِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ) (النور:54)

“(اے نبی کریمﷺ!) کہہ دیجئے! اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور رسول اللہ(ﷺ) کا حکم مانو۔ پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو(یاد رکھو) رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے۔ ہدایت تو تمھیں اسی وقت ملے گی جب تم رسول اللہ(ﷺ) کا حکم مانو گے۔(سنو) رسول اللہ(ﷺ) کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔”

(4) (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ١ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا) (النساء:80)

“اس رسول(ﷺ) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا”

(5) (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ) (محمد:33)

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور رسول اللہ(ﷺ) کا حکم مانو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔”

(6) (وَ النَّجْمِ اِذَا ہَوٰى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى) (النجم:1-4)

“قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے کہ تمہارا ساتھی(یعنی محمد رسول ﷺ) راستہ نہیں بھولا اور نہ ہی وہ غلط راہ پر چلا ہے۔ اور نہ ہی اپنی خواہش سے کوئی بات کہتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو (اس کی طرف) اتاری جاتی ہے۔”

(7) (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا) (النساء:65)

“سو قسم ہے تیرے پروردگار کی ! یہ لوگ ایمان دار نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آ پ کو حاکم نہ مان لیں۔ پھر جو فیصلہ آپ ان کے درمیان کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔”​

مندرجہ بالا سات فرامین الٰہی فقط بطور نمونہ کے پیش کیے گئے ہیں ، ورنہ ان جیسی قرآن مجید میں سینکڑوں آیات ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صاحبِ منصبِ رسالت جناب محمد کریمﷺ کی شخصیت کو قرآن کریم میں بیان کردہ اصول و کلیات کے سمجھنے کے لیے بڑا عمل دخل ہے۔ قرآنی ہدایت و تعلیمات کے مطابق اسلامی زندگی کی عملی صورت کا نام حدیث رسول اور سنت رسول ہے۔ حدیث رسول ہی قرآن کے معنی و مفہوم کو متعین کرتی ہے اور قرآن پر عمل کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ یہ حدیث رسول ﷺ ہی ہے جو قرآن مجید کو بازیچہ اطفال بنانے سے باز رکھتی ہے۔ تاکہ کوئی ملحد و زندیق آیاتِ قرآنیہ کو اپنی من مانی تاویلات اور آراء فاسدہ کی بھینٹ نہ چڑھا سکے۔

لیکن دورِ حاضر کے بعض جدّت پسندیدوں اور روشن خیالوں کو یہ قطعاً گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں میں قرآن و سنت کی خالص تعلیمات رواج پا سکیں۔ قرآن مجید کا انکار تو خیر، ان کے بس کا روگ ن تھا البتہ انھوں نے حدیث رسول کو اپنا ہدف بنا کر حدیث رسول کو حجتِ شرعی ماننے سے انکار کر دیا۔

دین اسلام کے اس باغی گروہ اور امت منکرہ نے اپنی جدّت پسندیدی، ترقی ، روشن خیالی، آزادی خیالی، سیکولر ازم ، لبرل ازم، بے پردگی ، بے حجابی ، عریانی اور فحاشی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حدیث رسول اللہ ﷺ کو سدِّ راہ سمجھا۔ لہٰذا بعض نے کھلے الفاظ میں اور بعض نے دبے الفاظ میں حدیث کو ماننے سے انکار ہی کر دیا ۔

فتنہ انکارِ حدیث اگرچہ خوارج و معتزلہ کا کھڑا کیا ہوا ہے۔ مگر برّصغیر پاک و ہند میں اس” شجر زقوم” کی آبیاری کا شرف سب سے پہلے سرسید احمد خان کے حصے میں آیا۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ حافظ اسلم جیراجپوری نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ غلام جیلانی برق، قاسم نوری اور علی محمد چدھڑ نے بھی اس” شجرہ خبیثہ” کو پانی ڈالا۔ مگر پاکستان میں سب سے زیادہ انکار حدیث کا فکر فاسد ایرانی کافر بادشاہ خروپرویز کے ہم نام مسٹر پرویز احمد نے عام کیا۔ وہی فکر فاسد فی ہذاالوقت مسٹر جاوید احمد غامدی عام کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جن کو اسلام کی پابندیاں اور شریعت کی حدود و قیود نا گوار تھیں۔ انھوں نے فوراً اس فکر فاسد پر لبیک کہا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مسٹر پرویز کا ہم نام اسلامیان پاکستان کا صدر روشن خیالی ، جدّت پسندی اور اعتدال پسندی کے نام سے کفر و الحاد ، لادینیت اور بے راہ روی پھیلا رہا ہے۔ کبھی شرعی سزاؤں اور حدود اللہ کا مذاق اڑاتا ہے ت کبھی قرآن و سنت کے پابند مردوں کی داڑھی اور شریعت کی پابند عورتوں کے پردے کا تمسخر اڑاتا ہے۔ گویا جو نظریات مسٹر پرویز اپنی عقلِ عیار کے بل بوتے پر ٹھونسنا چاہتا تھا وہی نظریات آج ڈنڈے اور اقتدار کے زور پر اہل پاکستان پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔

فتنہ انکار حدیث کے قلع قمع کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں ایسے افراد پیدا کیے جنھوں نے اس کی خوب خوب خبر لی۔ چنانچہ اس موقع پر برصغیر پاک و ہند کی صرف دو بڑی نامور اور قد آور شخصیات کے دو اقتباسات پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے:

(1) محترم سید سلیمان ندویؒ فرماتے ہیں:

“جن لوگوں کو نظر مِلَل ونِحل اور علمِ کلام و عَقَائد اور تاریخِ فِرق پر ہے وہ آسانی سے اس بات کو مان لیں گے کہ اسلام میں جتنے بدعتی(گمراہ اور بد راہ) فرقے پیدا ہوئے وہ وہی ہیں جنھوں نے کتاب وسنت سے یا سنت کو کتاب سے الگ کرنا چاہا۔ خواج نے کتاب اللہ کو مانا اور سنت رسول سے انحراف کیا۔ ان کے مقابل فرقہ نے کتاب کو محرَّف(تبدیل شدہ) بنا کر چھوڑا اور صرف اپنے ائمہ کی پیروی کا دعویٰ کیا۔ اسی طرح معتزلہ نے قرآن کو بتاویل تسلیم کیا اور حدیث سے اعراض کیا اور راہ راست سے دور رہے ۔

جو کچھ پہلے ہوا وہ آج بھی ہو رہا ہے۔ سرسید کے زمانہ سے احادیث کا فن نا آشنانِ فن کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ چونکہ ان کے خود ساختہ عقل کے معیار پر جو چیز پوری نہیں اترتا گر وہ قرآنِ پاک کی کوئی آیت ہے تو اس کی دور از کار تاویل اور اگر حدیث ہے تو اس کا انکار کر کے اپنے زعم میں اسلام کے چہرہ سے اس کے خلاف عقل ہونے کا داغ مٹانا چاہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ داغ سمجھ سمجھ کر خدا جانے اسلام کی صحیح تصویر کے کتنے اجزاء کو مٹا چکے ہیں۔”

(2) محترم الشیخ محمد اسماعیل سلفیؓ فرماتے ہیں:

“دین کی وسعت میں انکارِ حدیث سے جو خلا پیدا ہوا تھا اسے پاٹنے کے لیے پون صدی کی کوششیں تو ہمارے سامنے ہیں ۔ اس عرصہ میں بے چاری نماز ہی ان علماء کا تختہ مشق بنی رہی۔ آج تک یہ ارباب تحقیق نماز کے وقت، ہیئت اذکار، نوافل و فرائض، واجباتِ رکعات اور ارکان کا فیصلہ ہی نہیں کرسکے جو اتحاد کا نعرہ لگا کر اختلافات سے پچنے کا عہد لے کر نکلے تھے۔ اب تک سراپا اختلاف ہیں۔ صرف قرآن پر اکتفاء کرنے کے بعد وہ چند گھڑیاں بھی اتفاق سے نہیں گزار سکے۔”(حوالہ/ سنت قرآن کے آئینہ میں، صفحہ:26)

پچھلی تین چار دہائیوں میں اس فتنہ پرور گروہ نے جو فتنہ پھیلایا۔ اس کی روک تھام کے لیے اللہ رب العزت نے محترم الشیخ عبد الرحمٰن کیلانی ؓ جیسی شخصیت کو پیدا کیا۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ انھوں نے ” فتنہ پرویزیت” کا خوب رد کیا ۔ اس کے لیے انھوں نے ایک ضخیم اور مبسوط کتاب” آئینہ پرویزیت” تصنیف کی۔ اس کتاب کو مصنفؒ نے چھ حصوں میں تقسیم کیا۔ ان میں سے پانچواں حصہ” دفاع حدیث” ہے۔ اس حصہ میں مجموعہ احادیث کے داخلی امور پر اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ جو طلوع اسلام کی طرف سے شائع کردہ کتاب” مقام حدیث” میں مذکور ہیں۔

پھر اس پانچویں حصے” دفاع حدیث” کو مصنف ؒ نے مندرجہ ذیل نو(9) ابواب میں تقسیم کیا :

 باب اوّل: حدیث پر چند بنیادی اعتراضات

 باب دوم: حدیث اور چند نامور اہل علم و فکر

 باب سوم: جمع قرآن روایات کے آئینے میں

 باب چہارم: تفسیر بالحدیث

 باب پنجم: متعہ کی اِباحت و حرمت

 باب ششم: حصولِ جنت

 باب ہفتم: باوری کی قابل اعتراضات احادیث

 باب ہشتم: خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں

پھر ان میں سے پہلے باب” حدیث پر چند بنیادی اعتراضات” کو مصنفؒ نے مندرجہ ذیل چار مباحث یا چار اعتراضات میں تقسیم کیا ۔

 پہلا اعتراض: حدیث ظنی علم ہے اور ظن دین نہیں ہو سکتا

 دوسرا اعتراض: تاریخ اور حدیث کا فرق

 تیسرا اعتراض: کثرت احادیث

 چوتھا اعتراض: “طلوع اسلام” کا معیار حدیث۔

1986ء میں انجینئرنگ یونی ورسٹی لاہور کے سلفی طلباء کی تنظیم” سلفیہ رائزنگ انجینئرز” کی طرف سے پہلے تین اعتراضات اور ان کے جوابات پر مشتمل زیر نظر کتابچہ شائع کیا گیا ۔ بعد ازاں 1998ء میں اس کتابچہ کو اس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر دوبارہ چھپوانے کا پروگرام بنا۔ اس وقت محترم انجینئر عبد القدوس سلفی صاحب(حفطہ اللہ) داوالاندلس کے مسئول تھے اور مرکز الدعوۃ والارشاد کا دفتر5- چیمبر لین روڈ پر تھا۔ راقم الحروف نے دوبارہ اشاعت کے وقت اس کی احادیث کی تخریج بھی کر دی، چند مقامات پر ضروری فٹ نوٹ س(حواشی) بھی تحریر کر دیے اور ساتھ ہی ساتھ پہلے باب کے چوتھے اعتراض” طلوع اسلام” کا معیار حدیث” کو بھی ساتھ شامل کر دیا۔ جب دوسری دفعہ اس کتاب کو شائع کیا گیا تو اس کا نام” دفاع حدیث” رکھا گیا۔ اسی نام کے ساتھ یہ کتاب دارالاندلس کی طرف سے تا حال چھپ رہی ہے۔

اب کی بار اس کو چھپوانے کا ارادہ بنا تو راقسم الحروف نے اس میں چند مزید اور مفید حواشی کا اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر اس کے” دوسرے اعتراض” میں درج ذیل پانچ باتوں پر حواشی قلمبند کیے:

1- صحابہ کرام ؓ واقعہ کے عینی شاہد ہیں جو کچھ وہ روایت کرتے ہیں خود آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر روایت کرتے ہیں۔

2- صحابہ کرام ؓ اس بات کے پابند اور مامور ہیں کہ جس ہستی کی تاریخ اور سیرت وہ مرتب کر رہے ہیں اس کی ایک ایک نقل و حرکت کو بغور ملاحظہ کریں، پھر اپنے آپ میں وہی خصوصیات پیدا کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں۔

3- صحابہ کرام ؓ اس بات کے بھی مامور ہیں کہ اس سیرت طیبہ کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو غیر حاضر ہیں یا بعد میں آنے والے ہیں۔

4- صحابہ کرام ؓ کو یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ جس ہستی کے وہ مؤرخ بننے والے اس کو اپنی جان سے عزیز سمجھیں۔

5- پھر ساتھ ہی ساتھ اس صحابہ کرام ؓ پر یہ تلوار بھی لٹک رہی تھی کہ” جس نے مجھ پر کوئی جھوٹ باندھا کوئی غلط بات منسوب کی اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔”

مندرجہ بالا پانچوں باتیں اپنی جگہ اٹل اور بے بدل حقائق ہیں اور قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ مگر بہت حال کتاب میں ان کی حیثیت محض” دعویٰ” کی تھی۔ اس لیے کہ مندرجہ بالا پانچوں باتیں ادِلّہ وأمثلہ کے بغیر تھیں۔ بندہ ناچیز نے چند دنوں کی محنت کے بعد ان کو دلائل و واقعات سے مزین کرنے کی جد و جہد کی ہے۔ اس ضمن میں اختصار کی کوشش کرتے ہوئے قدرے طویل حواشی نوٹ کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں اس کتاب کا نام” منکرین حدیث کے چار اعتراضات” اور ان کا علمی و تحقیقی جائزہ” رکھا گیا ہے۔ کیونکہ دفاع حدیث تو مبسوط کتاب” آئینہ پرویزیت” کے مکمل چھٹے حصے کا نام ہے ۔ کتاب کے مضامین کی مناسبت سے” منکرین حدیث کے چار اعتراضات” ہی زیادہ موزوں لگتا ہے۔ لہٰذا اب اسی نام سے اس کتاب کو شائع کیا جا رہا ہے۔

اس کتاب میں تو منکرین حدیث کے چار اعتراضات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کتاب کے ساتھ ہی ایک اور کتاب بھی دارلاندلس کی طرف سے شائع کی جا رہی ہے۔ جو راقم الحروف نے خود تصنیف کی ہے۔ اس میں قرآن مجید کی روشنی میں ” منکرین حدیث سے چار سوالات” کیے گئے ہیں۔ اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حدیث رسول بھی قرآن کی طرح نازل شدہ وحی ہے۔

اللہ رب العزت اس کتاب کے مصنف الشیخ عبد الرحمٰن کیلانی ؒ کی حسنات میں اضافہ فرمائے اور حدیث رسول ﷺ کے حوالے سے بندہ ناچیز کی اس کوشش کو قبول و منظور فرمائے، اس کو توشئہ آخرت بنائے، اس کو علم نافع بنائے اور روز محشر رسول اکرم ﷺ کی طرف سے اہل توحید کے حق میں ہونے والی ” شفاعت کبریٰ” کا حقدار بنائے۔

اللہ تعالیٰ محترم سیف اللہ خالد صاحب(مدیر دارالاندلس) کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔ جن کی ترغیب و تحریض بندہ ناچیز کے لیے چراغِ راہ ثابت ہوتی رہتی ہے۔ اللہ رب العزت میری تمام دینی کاوشوں کے اجر و ثواب میں میرے والد گرامی(رحمہ اللہ) کو بھی شریک فرمائے۔ جن کی خواہشوں اور کوششوں کے نتیجے میں بندہ آج دین متین کی کچھ خدمت کرنے کے قابل ہوا ہے۔

اللھم الغرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ۔۔۔۔۔(آمین یا رب العالمین)​

العبد الفقیر الی رحمۃاللہ القدیر

ابوسیاف اعجاز احمد تنویر

29/ذی قعدہ1427 ہجری

(بمطابق21 دسمبر2006ء)​

 

 

 

پہلا اعتراض: حدیث ظنی علم ہے اور ظن دین نہیں ہوسکتا

 

 

ذخیرہ کتب احادیث کو بے کار ثابت کرنے کے لیے” طلوع اسلام” نے جس موضوع پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وہ ظن اور یقین کی بحث ہے، پھر اس ضمن میں کئی ذیلی مباحث پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، مقام حدیث کے پیش لفظ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ:

 

“طلو ع اسلام ” کا دعویٰ:

 

“آپ کسی مسلمان سے پوچھئے وہ بلا تامل کہہ دے گا کہ دین نام ہے قرآن و حدیث کا۔ قرآن ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، خود خدا نے اسے دین کا ضابطہ قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حدیث بھی دین کا جزو ہے؟ یہ تھا وہ سوال جس پر “طلو ع اسلام ” نے غور کرنے کی دعوت دی۔” طلوع اسلام” کا کہنا یہ تھا کہ اگر حدیثیں بھی دین کا جزو تھیں تو رسول اللہﷺ کو چاہیے تھا کہ جس طرح آپ نے امت کو قرآن دیا تھا اسی طرح اپنی احادیث کا ایک مستند مجموعہ بھی امت کو دے جاتے، لیکن رسول اللہﷺ نے ایسا نہیں کیا۔”(مقام حدیث کا پیش لفظ)

 

مغالطے اور جھوٹ:

 

ہمارے خیال میں مندرجہ بالا چند سطور کے اقتباس میں جتنے فقرے ہیں اس سے زیادہ اس میں مغالطے دیئے گئے ہیں جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

1-آپ لکھتے ہیں :” قرآن دین ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں، خود خدا نے اسے دین کا ضابطہ قرار دیا ہے” اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کو ہی دین کا ضابطہ قرار دیا ہے؟ ہمارے خیال میں اس کا جواب نفی میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (بِمَاانزَلَ اللہ) (جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے) کو دین کا ضابطہ قرار دیا ہے، (الانعام:45،47،49) اور (بِمَا انزَلَ اللہ) میں ہر قسم کی وحی شامل ہے۔ خواہ وہ قرآن میں مذکور ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ نیز ہمارے خیال میں “طلوع اسلام” قرآن کی ایک بھی ایسی آیت پیش نہیں کرسکتا جس میں یہ وضاحت ہو کہ دین صرف قرآن ہی ہے۔

2- پھر ارشاد فرمایا:” اگر حدیثیں بھی دین کا جزو تھیں تو جس طرح آپ نے امت کو قرآن دیا تھا اس طرح اپنی احادیث کا ایک مستند مجموعہ بھی امت کو دے جاتے۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ایسا نہیں کیا۔” اس ایک فقرہ میں دو جھوٹ ہیں اور ایک مغالطہ ، جھوٹ یہ ہیں:

اولاً: اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے احادیث کا تو کوئی مستند مجموعہ امت کو نہیں دیا تھا البتہ قرآن کا مستند مجموعہ ضرور دیا تھا۔

ثانیاً:دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ” لیکن رسول اللہﷺ نے ایسا نہیں کیا” اس فقرہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہﷺ نے قرآن کا تو مستند مجموعہ امت کو دیا تھا، لیکن حدیث کا نہیں دیا تھا۔ اس قضیہ(جملہ) کا پہلا حصہ ہی جب بے بنیاد ہو تو وہ دوسرے حصہ کے لیے بنیاد کا کیسے کام دے سکاا ہے؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت قرآن پورے کا پورا تحریر شکل میں موجود تھا، تو کیا احادیث کا بھی کچھ سرمایہ تحریری طور پر موجود تھا؟ اس سوال کے جواب میں ہم پرویز صاحب کی تصنیف” مقام حدیث” ہی کے حوالوں سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت قرآن کے مواد کے لگ بھگ احادیث کا بھی تحریری سرمایہ موجود تھا جو آپ کے حکم ، اجازت یا ترغیب کی بناء پر لکھایا لکھوایا گیا تھا۔[1]

مغالطہ اس فقرہ میں یہ ہے کہ آپ جاتے ہوئے امت کو کوئی مستند لکھا ہوا مجموعہ حدیث نہیں دے کر گئے۔ جب کہ (بما انزل اللہ) یا وحی”منزل من اللہ” کے لیے قطعاً یہ ضروری نہیں کہ جب تک آپ اس وحی کی کتابت نہ کروا جاتے ۔ وہ دین نہیں بن سکتی تھی۔ یہ ایسا مفروضہ ہے جو سراسر غلط ہے۔

 

                ظن اور یقین کی بحث​

 

“طلوع اسلام” نے اپنے اسی دعویٰ کو ایک دوسرے انداز میں یوں دہرایا ہے:”دین کے متعلق ایک چیز سے متعلق تو یقیناً آپ متفق ہوں گے ۔ یعنی یہ کہ دین وہی ہوسکتا ہے جو یقینی ہو۔ ظنی اور قیاسی نہ ہو”(مقام حدیث صفحہ4) پھر اس کے بعد قرآن کے یقینی ہونے سے متعلق چند آیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس بات سے تو ہر مسلمان” طلو ع اسلام” سے اتفاق رکھتا ہے۔ لہٰذااس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت بھی نہیں، بحث جہاں سے شروع ہوتی ہے وہ یہ بات ہے کہ بعض محدثین خود اعتراف کرتے ہیں کہ حدیث کا علم ظنی ہے، (حالانکہ قرآن نے اسے یقین کے معنوں میں بھی استعمل کیا ہے) لہٰذا “طلوع اسلام” نے محدثین کے اس قول اور عوام کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام تر مجموعہ احادیث کو ظنی اور قیاسی قرار دے دیا ہے اور یہی بات در اصل محل نزاع ہے۔

 

لفظ”ظن” کی لغوی بحث:

 

اس لغوی بحث میں ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھنا چاہتے بلکہ مفردات امام راغب سے اس کی تفصیل نقل کیے دیتے ہیں، جسے”طلوعِ اسلام” نے بھی لغات القرآن کے مقدمہ مین ایک مستند لغت کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے اور اس سے کافی حد تک استفادہ بھی کیا ہے۔

“کسی چیز کی علامت سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے”ظن” کہتے ہیں۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو ان سے علم کا درجہ حاصل ہوتا ہے مگر جب بہت کمزور ہوں تو وہ نتیجہ وہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔[2]

“یہی وجہ ہے کہ جب نتیجہ قوی ہو اور علم کا درجہ حاصل کرے تو اس کے بعد”اَنَّ” یا”اَن” کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آیات:

1-الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ [البقرہ:46]

“(اللہ تعالیٰ کا ڈر رکھنے والے وہ لوگ ہیں) جو یقین کیئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔”

2-قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِیْرَۃًۢ بِاِذْنِ اللّٰہِ [القبرہ:249]

“کہا ان لوگوں نے جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کے رو برو حاضر ہونا ہے۔ بسا اوقات چھوٹی سی جماعتیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں۔”

3-وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ [القیامۃ:28]

“اور اس (جاں بلب شخص) نے یقین کر لیا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔”​

مندرجہ بالا آیات میں “ظن ” کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد امام راغب رحمہ اللہ نے مزید آٹھ(8) قرآنی آیات سے استشہاد(استدلال) کیا ہے جہاں ظن کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جنہیں ہم طوالت سے بچنے کی خاطر نظر انداز کر رہے ہیں۔

پھر امام راغب رحمہ اللہ کہتے ہیں:” مگر جب وہ ظن کمزور ہو اور وہم کے درجہ سے آگے نہ بڑھے تو پھر اس کے ساتھ اِن یا انَّ استعمال ہوتا ہے۔ جو کسی قول یا فعل کے عدم کے ساتھ مختص ہے”( اور اس کی دوسری علامت یہ ہوتی ہے ۔ ظن کے مقابلہ میں یقین، علم ، حق یا اس جیسے دوسرے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔ جو ظن کے معنی کو وہم کے ساتھ مختص کر دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر” ظن” کا معنی” وہم” صرف اس صورت میں ہوگا جب اس کے لیے قرینہ موجود ہوگا۔ اب ایسی مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

1-یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّۃِ [آل عمران:154]

“اور وہ(منافقین) اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق زمانہ جاہلیت کے سے گمان رکھتے ہیں۔”

2- اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیًْٔا[النجم:28]

“بے شک(ظن) یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا ۔”

3-وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْءِ[الفتح:6]

“اور تاکہ (اللہ تعالیٰ) ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب سے دو چار کرے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے خیال رکھتے ہیں۔”

4-وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ السَّاعَۃُ لَا رَیْبَ فِیْہَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَۃُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ [الجائیۃ:32]

“اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو(کافرو!) تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہم تو اسے محض وہم ہی خیال کرتے ہیں اور اس پر یقین نہیں رکھتے “​

 

“طلوع اسلام” کی دیانت:

 

اب “طلو ع اسلام” کی دیانت یہ ہے کہ لفظ “ظن” کی بحث میں قرآن سے صرف ایسی آیات پیش کرے گا۔ جہاں لفظ” ظن” کا معنی وہم و قیاس ہو اور ایسی آیات کو یکسر نظر انداز کر دے گا جن میں “ظن” یقین یا علم کے معنی دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں ایسی آیات جن میں “ظن” علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے، آیات سے بہت زیادہ ہیں ، جن میں “ظن” بمعنی وہم و گمان استعمال ہوا ہے۔

٭٭

 

 

 

                محدثین کے نزدیک لفظ “ظن” کا مفہوم

بلاشبہ بعض محدثین نے علم حدیث کے لیے “ظن” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لیکن اس سے ان کی ایسی مراد ہر گز نہ تھی جیسا تاثر “طلوع اسلام” دینا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ ان لفظ ظن کو ان جملہ پہلوؤں میں لیتے تھے ۔ جن پر قرآن کریم نے روشنی ڈالی ہے یا جو مفاہیم اس زمانے میں مستعمل تھے۔ جن کی وضاحت محدثین نے کر دی ہے۔ مثلاً:

 

1-سُنَن مُتَوَاتِرہ وَمُتَعَامِلَہ:

 

جن پر امت دور صحابہ سے لے کر آج تک بلا اختلاف کاربند چلی آ رہی ہے اور ان کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ مثلاً یہ کہ نمازوں کی تعداد پانچ ہے۔ نماز کی ادائیگی کی ترکیب ، رکات کا تعین، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے طریقے ، نکاح و طلاق ، قوانین عدل و انصاف اور اسلامی عدالتوں کا طریق کار، انفرادی عقائد و اعمال۔ اس لحاظ سے احادیث کا بہت بڑا حصہ متواتر ہے۔ جو بغیر کسی انقطاع کے نَسلًا بَعدَ نَسل کروڑہا انسانوں کے ذریعہ مشرق و مغرب میں منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ یہ تعامل ِ امت قطعی اور یقینی ہے۔

 

2- احادیثِ مُتَوَاتِرَہ:

 

بعض ایسی احادیث بھی ہیں جن کا عمل سے نہیں بلکہ عقیدہ سے تعلق ہوتا ہے مثلاً:

1- ((اِنَّمَا الاَعمَالُ بالنَّیَّات))[3]

2- ((مَن کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلیَتَبَوَّا مَقعَدَہ منَ النَّار))[4]

 

3-حدیث عزیز اور مشہور:

 

حدیث عزیز وہ ہوتی ہے جس کے راوی ہر سطح پر دو ہوں اور وہ عادل و ضابط بھی ہوں اور حدیث مشہور وہ ہے ، جس کے راوی ہر سطح پر دو سے زیادہ رہے ہوں۔ ایسی احادیث سے واضح دلائل کی بناء پر گمان غالب حاصل ہوتا ہے۔

 

4-حدیث غریب:

 

ایسی حدیث ہے جس کے راوی کسی سطح پر صرف ایک ہی رہ گیا ہو۔ عزیز، مشہور اور غریب تینوں خبر واحد کی قسمیں ہیں، ایسی ہی احادیث ہیں جن کے متعلق محدثین نے “ظنی علم” کا لفظ استعمال کیا ہے۔

لیکن یہاں بھی ظن کے ساتھ علم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہاں بھی” ظن ” وہم اور شک کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ کیونکہ محدثین نے پہلے روایت اور درایت کے معیار مقرر کیے۔ پھر ان معیاروں پر حدیث کو جانچا اور پرکھا۔ پھر بعد میں حدیث کے متعلق کھلے الفاظ میں اپنی رائے ظاہر کر دی کہ یہ حدیث ہماری تحقیق کے مطابق صحیح ہے یا حسن، ضعیف ہے یا موضوع، یا کہ متروک ۔ اور ظن کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ یہ روایت و درایت کی جانچ پڑتال کی تمام تر کوششیں بہر حال انسانی ہیں، جن میں سہو و خطاء کا امکان ہے۔ لہٰذا اس تحقیق و تنقید کے میدان کو بعد میں آنے والے محدثین کے لیے کھلا چھوڑ دیا ہے۔ تاکہ متعلقہ محدث کی تحقیق کے بعد بھی تحقیق و تنقید کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ مثلاً امام ابن حجر عسقلانی نے بخاری و مسلم کے بعض رجال پر تنقید کی ہے۔ حالانکہ ان دونوں کتابوں کو صحیحین کہا جاتا ہے۔

“طلوع اسلام” کا احادیث پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اقوال منسوب الی الرسول کی دو قسمیں ہونی چاہئیں کہ آیا وہ صحیح ہے یا غلط؟ یہ کیا ہوا کہ کسی حدیث کو صحیح کہہ دیتے ہیں ، کسی کو حسن، کسی کو ضعیف ، کسی کو متروک وغیرہ وغیرہ، تو ہمارے خیال میں” طلو ع اسلام” کا یہ اعتراض لاعلمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ قبولیت کے لحاظ سے احادیث کی دو ہی قسمیں ہیں۔ ایک مقبول دوسری مردود(“طلوع اسلام” کے الفاظ میں ایک صحیح اور دوسری غلط) پھر صحت و عدم صحت کے لحاظ سے مقبول اور مردود احادیث کی کئی اقسام ہیں۔ جو فن حدیث کی وسعت اور تبحر علمی پر دلالت کرتی ہیں۔ اب جو لوگ ان علوم سے بے بہرہ ہوں یا ان سے کچھ دلچسپی نہیں رکھتے انہیں ا س کی کیا قدر ہو سکتی ہے؟

وہ اپنی لاعلمی کی بنا پر ان اقسام پر اعتراض نہ کریں تو کیا کریں؟ اپنی استعداد سے بڑھ کر جو کام انھوں نے شروع کر رکھا ہے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا ہو بھی کیا سکتا ہے کہ ان علوم سے بے بہرہ لوگوں کو شک میں ڈال کر انھیں اس علم سے بد ظن کرتے ہیں۔

 

حدیث مقبول کی اقسام:

 

الغرض مقبول حدیث مندرجہ ذیل اقسام میں سے کوئی ایک ہو سکتی ہے:

1-متواتر

2-مشہور

3-عزیز

4-غریب

5-صحیح

6-حسن

7-محکم

8-محفوظ

9-معروف

10-مُرسَل الصحابی

11 -مختلف الحدیث

12-ناسخ

13-مُسَلَلُ التَّامُ

(نمبر 2 اور 3 کو اکثر علماء نے خبر واحد ہی کی قسم بتلایا ہے)

 

حدیث مردود کی اقسام:

 

جب کہ مردود حدیث کی درج ذیل اقسام ہیں:

1- موضوع

2- متروک

3- ضعیف

4- مضطرب

5- شاذ(محفوظ کی ضد)

6- منکر(معروف کی ضد)

7- مّعلَّل

8- مُعضَل

9- منقطع

10- مقلوب

11- منسوخ

12- مبہم

13- مُرسَل الخَفیِ

14- مُرسلُ التَابعینَ

ان اقسام کی تشریح و توضیح اس مقام پر نہ ہمارا موضوع ہے اور نہ ہی یہ سردست ممکن ہے ۔ تاہم اس مختصر سی وضاحت سے بھی دو باتوں کا ضرور پتہ چلتا ہے : ایک یہ کہ محدثین نے اس فن کو کس حد کمال تک پہنچایا ہے اور دوسرے یہ کہ ان میں جرح کا پہلو تعدیل کے پہلو سے بہر حال غالب رہا ہے اور یہ اس تحقیق و تنقید کا تقاضا تھا۔

 

عقلوں کا فرق:

 

ہم اس بات کے تو حق میں ہیں کہ ایسی احادیث پر مزید جرح و تنقید کا عمل ہوسکتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط بھی لازم ہے کہ یہ حق کسی ماہر فن ہی کو دیا جا سکتا ہے جیسا کہ بعد میں آنے والے بعض محدثین نے اس حق کا استعمال کیا ہے۔ لیکن اس بات کے حق میں قطعاً نہیں کہ ہر کس و ناکس جو علوم حدیث کی ابجد بھی نہ سمجھتا ہو، محض اپنی عقل کو معیار بنا کر اس ذخیرہ کتب احادیث پر تیشہ چلانا شروع کر دے۔ کیونکہ عقل ہر ایک کی اپنی اپنی ہوتی ہے۔ محدثین روایت و درایت کے تمام اصولوں کے تحت ایک حدیث کو مقبول قرار دیتے ہیں۔ لیکن ایک عام آدمی جو فن حدیث سے بے بہرہ ہے اپنی کوتاہ عقلی کی وجہ سے اسے مردود قرار دیتا ہے تو اس حدیث کو مردود قرار دینے کی بجائے اسے اس ناتمام عقل کی کوتاہی سمجھا جائے گا۔

٭٭

 

ظن غالب پر دین کی بنیادیں

 

 

نگاہِ باز گشت:

 

اب آگے بڑھنے سے پیشتر” طلوع اسلام” کے تمام اعتراضات کو ایک دفعہ پھر سامنے لائیے ، جو یہ ہیں:

1- اگر حدیث بھی دین کا حصہ تھیں۔ تو رسول اللہﷺ نے جس طرح قرآن کا مستند نسخہ لکھوا کر امت کے حوالہ کیا تھا۔ احادیث کا ایسا مستند مجموعہ لکھوا کر امت کے حوالہ کیوں نہ کیا؟

2- قرآن سے “یقینی علم” حاصل ہوتا ہے لیکن احادیث کے متعلق محدثین کا اپنا اعتراف ہے کہ ان سے “ظنی علم” حاصل ہوتا ہے اور ظن دین نہیں بن سکتا ۔

3- خبر متواتر سے فی الواقعہ”یقینی علم” حاصل ہوتا ہے لیکن خبر متواتر کا وجود کہیں نہیں پایا جاتا (گویا خبر متواتر کی اصطلاح بیکار محض ہے)

4- حافظ اسلم صاحب[5] نے ابو علی جبائی معتزلی کی تائید میں یہ اقرار تو کر لیا کہ روایت بمنزلہ شہاد ہے۔ اگر ابتداء میں ایک صحابی اور بعد میں دو دو راوی آخر تک روایت کرتے جائیں تو ایسی حدیث مقبول ہے۔ لیکن جب دیکھا کہ اس طرح تو تمام مشہور اور عزیز احادیث کو ماننا پڑے گا تو ایسی روایات کے وجود سے بھی انکار کر دیا۔

5- روایت بالمعنیٰ کے متعلق آپ کا بیان یہ ہے کہ سب روایات روایت بالمعنیٰ ہیں اور الفاظ کی تبدیلی سے چونکہ فرق یقینی ہے ۔ لہٰذا متون احادیث بھی ظنی ہیں۔

6- متون کی اسانید۔ یعنی جرح و تعدیل بھی ظنی ہے۔ کیونکہ کسی کے صدق و کذب کا پتہ لگانا باطنی صفات سے تعلق رکھتا ہے اور اس سے یقین ہو جانا انسان کے بس کی بات بھی نہیں۔ پھر اس جرح و تعدیل میں ذاتی میلانات اور رجحانات کا بھی اثر انداز ہونا ناگزیر ہے۔ لہٰذا صرف احادیث ہی ظنی نہیں بلکہ ان کو جانچنے کے طریقے بھی ظنی اور قیاسی ہیں۔

7- پھر اس سے نتیجہ یہ نکالا ہے کہ جہاں ہر طرف ظن ہی ظن ہو۔ اسے دین کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ لہٰذا اس ذخیرہ کتب احادیث کو ہم زیادہ سے زیادہ اس دور کی تاریخ کہہ سکتے ہیں۔ جس کے رد و قبول میں ہر شخص آزاد ہونا چاہیے۔ گویا”طلو اسلام” کی ساری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ:

  1. ظن دین نہیں ہوسکتا۔
  2. احادیث کی حیثیت محض تاریخ اور ظنی ہے لہٰذا یہ دین نہیں ۔

اب ہم انھی دونوں باتوں پر تبصرہ کریں گے۔

کیا ظن دین ہوسکتا ہے؟:

اگر تو ظن کا معنی شک اور وہم لیا جائے کہ “طلو ع اسلام” عوام کو یہی تاثر دیتا چلا آ رہا ہے ۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ظن دین نہیں ہوسکتا۔ اگر ظن کا معنی “مفید علم نظری” یعنی قرائن سے”گمان غالب” یا”یقین حاصل کرنا” لیا جائے۔ جیسا کہ محدثین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے اور قرآنی آیات سے بھی یہی معنی ثابت ہیں تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسا ظن دین یا دین کا حصہ بن سکتا ہے اور ہمارے دعویٰ کے اثبات کے کے لئے ہمارے پاس درج ذیل دلائل ہیں۔

٭٭

 

 

                قرآن سے استدلال​

 

1- شہادت:

 

شہادت ظنی چیز ہے تاہم قرآن نے اسے قابل اعتماد سمجھ کر اس کا حکم دیا ہے اور یہ بحث پہلے تنقید حدیث میں گزر چکی ہے۔[6]

 

2- ثالثی فیصلہ:

 

اب میں ایسی آیات کا ذکر کرتا ہوں جس میں شہادت تو دور کی بات ہے کسی بھی اہل عدل کے ذہن پر کلی طور پر انحصار کیا گیا ہے۔ مثلاً اگر کوئی حاجی حالت احرام میں شکار کر گزرے تو اس کے کفارہ کے لیے دیئے جانے والےء جانور کے تعین کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِہ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ہَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَۃِ​ [المائدہ:95]

“تو اس کا بدلہ اس طرح کا چوپایہ ہے جسے تم میں سے دو معتبر شخص مقرر کر دیں اور یہ جانور بطور قربانی کعبہ تک پہنچائی جائے۔”​

اب دیکھئے! یہاں جانور کا کفارہ تجویز کرنے کے لیے دو صاحب عدل لوگوں کے فیصلہ پر انحصار کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان صاحب عدل لوگوں کی تجویز ایسی ہی یقینی اور قطعی ہوسکتی ہے جیسی کہ ہمارے یہ دوست چاہتے ہیں؟ لیکن اس تجویز کے غیر یقینی اور ظنی ہونے کے باوجود ان کی تجویز اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے اور یہ کام بھی خالص دینی ہے۔ قرآن واقعتاً یقینی سہی لیکن جو احکام یہ بتلاتا ہے وہ اگر غیر یقینی اور ظنی ہوں تو اس کا کیا علاج ہے؟

 

3-اعمال کے نتائج:

 

ہم جو کام اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سرانجام دیتے ہیں۔ ان کے نتائج بھی ظنی ہیں اور یہ ظن بلکہ خطرہ رہتا ہے کہ شاید یہ عمل بارگاہ الٰہی میں قبول ہویا نہ ہو۔

جیسا کہ ارشاد باری ہے:

تَتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ [السجدۃ:16]

“ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں”۔​

بات بالکل واضح تھی جسے حافظ اسلم صاحب نے اپنی بات کی پچ میں آ کر کچھ کا کچھ بنا دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے اس عدالت کی تحقیق کا صرف اسی حد تک مطالبہ کیا ہے۔ جس حد تک انسان کے بس میں ہے۔ اگرچہ معقول اور منطقی حضرات کے مطابق اس سے یقین کا مل کا درجہ نہ بھی حاصل ہو۔ پھر اسی انسانی تحقیق کے مطابق عمل کرنا عین اطاعت الٰہی ہوگا اور دین یا اس کا حصہ ہی شمار ہوگا۔

 

آئمہ رجال اور مولانا مودودی صاحب:

 

اس عقل کے میدان مین محترم ابو الاعلیٰ مودودی صاحب بھی”طلوع اسلام” کا پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔ چنانچہ”طلو ع اسلام ” نے “مقام حدیث” میں ان کے بہت سے اقتباسات پیش کیے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

1-“محدثین رحمہ اللہ علیہم کی خدمات مسلم۔ یہ بھی مسلم کی نقد حدیث کے لیے جو مواد انھوں نے فراہم کیا ہے وہ صدر اول کے اخبار و آثار کی تحقیق میں بہت کارآمد ہے۔ کلام اس میں نہیں بلکہ صرف اس امر میں ہے کہ کلیتاً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے؟ وہ بہر حال تھے تو انسان ہی۔ انسانی علم کے لیے جو حدیں فطرتاً اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہیں۔ ان سے آگے تو وہ نہیں جا سکتے تھے۔ انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا ہے اس سے ان کے کلام محفوظ نہ تھے۔پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس کو وہ صحیح قرار دیتے ہیں ، وہ حقیقت میں بھی صحیح ہے؟ صحت کا کامل یقین تو خود ان کو بھی نہ تھا۔”

2-“محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا۔ جو بلاشبہ بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کون سی ایسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو؟”

3-“نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک عمل دخل ہو جائے ۔ یہ امکان محض امکان عقلی نہیں بلکہ اس امت کا ثبوت موجود ہے۔”

4-“اس قسم کی مثالیں پیش کرنے سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسماء الرجال کاسارا علم غلط ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن حضرات نے اسماء الرجال کی جرح و تعدیل کی ہے، وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضروری ہے کہ جس کو انھوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتو میں ثقہ ہو اور جس کو انھوں نے غیر ثقہ قرار ٹھہرایا ہے وہ غیر ثقہ ہو؟”

5- “ان سب چیزوں کی تحقیق انھوں نے اس حد تک کی ہے جس حد تک وہ کرسکتے تھے، مگر لازم نہیں کہ روایت کی تحقیق میں یہ سب امور ان کو ٹھیک ٹھاک معلوم ہو گئے ہوں۔ بہت ممکن ہے کہ جس روایت کو وہ متصل السند قرار دے رہے ہیں وہ در حقیقت منقطع ہو۔ یہ اور ایسے ہی بہت سے امور ہیں جن کی بناء پر اسناد اور جرح و تعدیل کے علم کو کلیتاً صحیح نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ مواد اس حد تک قابل اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبوی اور آثار صحابہ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے”(مقام حدیث۔ صفحہ2223 بحوالہ تفہیمات، حصہ اول، صفحہ :318تا322)

ان اقتباسات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ:

1-ذخیرہ جرح و تعدیل کو بے کار ثابت کرنے کے لیے جو دلائل”طلوع اسلام” دیتا ہے وہی دلائل مولانا مودودی صاحب نے بھی پیش کیے ہیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ جس انداز میں مولانا نے یہ دلائل پیش کیے ہیں۔ شاید اس انداز میں”طلوع اسلام” بھی پیش نہیں کرسکا۔ تو زیادہ مناسب ہوگا۔

2-البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ”طلوع اسلام” تو ایسے دلائل دینے کے بعد ذخیرہ اسماء الرجال کو بے کار تسلیم کروانا چاہتا ہے جب کہ موصوف زبانی پر پر محدثین کی خدمات کے معترف بھی ہیں اور اس ذخیرہ کو بہت کار آمد اور عظیم الشان بھی سمجھتے ہیں مگر بالواسطہ وہی کچھ کہہ گئے ہیں جو”طلو اسلام” کہنا چاہتا ہے۔

موصوف کے ان اقتباسات کے جوابات تو میں پہلے”اصول حدیث” کے باب میں پیش کر چکا ہوں[7]۔ تاہم مختصراً درج ذیل ہیں:

1- ان آئمہ کو انسانی کمزوریوں ، فطری میلانات اور بشری حدود کا پورا پورا پتہ تھا، اس لیے انھوں نے اس علم کو”ظنی” قرار دیا۔ جس کا مطلب یہ نہ تھا کہ یہ سب کچھ شک و وہم اور قیاس و تخمین ہے۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ ہم اس تحقیق میں اپنی امکانی کوشش صرف کر چکے ہیں اور یہ کچھ ہماری تحقیق کا ماحصل ہے۔ لہٰذا انھوں نے آیت( قرانیلَا یُكَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا) [البقرہ:286]کے مطابق تحقیق کی، پھر اپنی اس تحقیق کے مطابق خود بھی عمل کیا اور اسے دوسروں کے لیے واجب الاتباع قرار دیا ۔

2- چونکہ انسانی علم کی حدیں محدود ہیں لہٰذا انھوں نے اس بات پر قطعی اصرار نہیں کیا کہ جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں یہ حرف آخر ہے اور یہی ان کا “ظنی” کہنے کا مطلب تھا اور تحقیق کے میدان کو آنے والی نسلوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیحین کی اسانید پر جرح کی۔ جس کو امت نے گوارا کر لیا۔ ار دوسرا کوئی ماہر فن مزید تحقیق کر کے اس میں کوئی غلطیاں نکالے تو علمائے حق اتنے تنگ ظرف نہیں کہ اس کو خوش آمدید نہ کہیں۔ تحقیق کے بعد جو بات ثابت ہوگی۔ بعد میں وہی بات واجب الاتباع قرار پائے گی اور دین کا حصہ ہوگی کیونکہ یہ بات (اِلَّا وسعَھَا) کے ضمن میں آ گئی۔

3- رہی یہ بات کہ انسانی کمزوریوں اور محدود علم کا سہارا لے کر اس بناء پر انکار کر دیا جائے کہ اس سے قطعی یقین حاصل نہیں ہوتا تو یہ بات در اصل قرآنی آیت: لَا یُكَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاکا انکار ہے۔

 

                سنت رسولﷺ سے استدلال

 

فرمان نبوی ہے:​

” إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَیَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ یَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَقْضِی عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ مِنْ حَقِّ أَخِیہِ شَیْئًا فَلَا یَأْخُذْہُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ​ “[8]

“تم تنازعات لے کر میرے پاس آتے ہو۔ ممکن ہے کوئی تم میں سے دلیل پیش کرنے میں ہوشیار ہو اور میں اس کی بات پر فیصلہ کر دوں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کا ناجائز حق نہ لے۔ اگر لیتا ہے تو آگ کا ٹکڑا لیتا ہے۔”​

اس حدیث رسول ﷺ سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے:

1- باوجود اس بات کے کہ گواہوں کے بیانات میں کذب بیانی کا امکان ہوتا ہے۔عدالت انھی بیانات کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہوتی ہے۔

2- قاضی خواہ کتنی ہی دیانت داری سے فیصلہ کرے اور درست فیصلہ کرے لیکن چونکہ بنیاد(گواہوں کے بیانات) میں کذب بیانی کا امکان ہے لہٰذا اس فیصلہ کے صدور میں غلطی کا امکان رہتا ہے۔

3- اس غلطی کے امکان کے باوجود اور اس بات کے باوجود کہ ایک شخص عدالت کے روبرو حرام طریقہ سے دوسرے شخص کا حق حاصل کرسکتا ہے۔ وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔ اور یہ سارا “عملِ قضاء” اطاعت الٰہی کے تحت آتا ہے۔ لہٰذا یہ عین دین ہے اور ناجائز حق وصول کرنے والے کو اخروی زندگی میں اس کی سزا مل کے رہے گی اور یہ بھی دین ہے۔

4- اب بتلائیے! اس بارے میں آپ کی عقل کیا رہنمائی کرتی ؟ زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے فیصلہ میں غلطی کا امکان نہیں ہوسکتا۔ لیکن عالم الغیب تو وہ بھی نہ تھے۔ پھر دوسرے قضاۃ (منصفوں اور ججوں) کے علم کی محدودیت کے علاوہ بشری کمزوریاں بھی لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ تو کیا ایسی اسلامی عدالتیں جو قانون الٰہی کے تحت فیصلے کرتی ہیں وہ دین ہے یا نہیں؟ کیا کبھی کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ چنکہ عدالتی فیصلوں میں ظن کا امکان غالب رہتا ہے اس لیے عدالتوں کو فیصلے کرنا ترک کر دینا چاہیے؟

٭٭

 

 

 

                دینی معمولات سے استدلال​

 

فرض کیجئے کہ آپ نماز بھول جاتے ہیں اور آپ کو یقین نہیں کہ میں اس وقت تک تین رکعت ادا کر چکا ہوں یا چار۔ اب اس صورت میں آپ کا ظن غالب ضرور رہنما ئی کرے گا۔ یعنی اس شک میں بھی ایک کمزور پہلو ضرور ہوگا اور دوسرا غالب ہوگا ۔ اب اطاعت الہٰی یہ ہے کہ آپ اپنے گمان غالب کے مطابق عمل کریں اور بھولنے کے عوض نماز کے آخر سجدہ سہو کریں۔ یہ عین دین ہے ۔ حالانکہ اس کی بنیاد یقین پر نہ رہی تھی اور ہمارے اس دعوے کی دلیل یہ حدیث ہے:

” دَعْ مَا یَرِیبُكَ إِلَى مَا لَا یَرِیبُكَ​ “[9]

“اس چیز کو چھوڑ دو جو کھٹک کا باعث ہے اور اس کو اختیار کرو جس میں کھٹک نہیں۔”​

اگر آپ اس بات کو سمجھ جائیں گے تو بہت سی خلش پیدا کرنے والی باتوں کا آپ کو” آپ سے آپ” جواب مل جائے گا۔ بس مقصد اطاعت الٰہی اور نیت خالص ہونی چاہیے۔ پھر اگر اجتہاد میں یا یادداشت میں کوئی غلطی ہو بھی جائے تو اس سے آپ کے دین یا اطاعت الٰہی میں چنداں فرق نہیں پڑے گا۔ اگرچہ اس کی بنیاد یقین پر نہیں۔

٭٭

 

 

 

                “طلوع اسلام” کے نظریہ سے استدلال​

 

ادارہ مذکورہ کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو قوانین مذکور ہیں صرف وہ غیر متبدل ہیں۔ باقی قوانین زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں کے مطابق”مرکز ملت ” وضع کرے گا اور اس طرح شریعت اسلامی مکمل ہوگی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “مرکز ملت” جو قوانین بنائے گا ان کی بنیاد یقین پر ہوگی؟ کیا اس ادارہ کے انسان بشری کمزوریوں، علم کی محدودیت اور ذاتی رجحانات سے مبرا ہوں گے؟ آخر وہ کون سی خامی ہے جو آئمہ رجال یا محدثین میں تو موجود ہے مگر ان میں وہ موجود نہ ہوگی؟ پھر کیا ظن وہ تخمین پر بننے والے یہ قوانین دین کا حصہ ہوں گے؟ اگر ہوں گے تو کیسے؟ جب کہ یقین پر مبنی کوئی بات نہیں اور یقینی چیز تو صرف قرآن ہے۔

٭٭

 

 

 

                عام معمولات سے استدلال​

 

اس دنیا میں تمام امور خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی ظن کے سہارے پر ہی چل رہے ہیں اور چل سکتے ہیں۔ دنیا امید پر قائم ہے، یقین کہیں بھی نہیں ہوتا۔

تاجر یا کاروباری حضرات کو ایسا یقین نہیں ہوتا کہ جو سودا یا کاروبار وہ کر رہے ہیں اس میں یقیناً نفع ہوگا۔ بس امید ہی ہوتی ہے۔

بادشاہ لشکر کشی کرتے ہیں تو انھیں بھی فتح کی امید ہی ہوتی ہے۔ جب کہ معاملہ دگر گوں بھی ہوسکتا ہے۔

کسان کھیتی باڑی کرتا ہے تو وہ بھی امید کی بناء پر کرتا ہے۔

غرضیکہ اس کائنات کا تمام کاروبار امید یا گمان غالب کے سہارے چل رہا ہے اور اسی گمان غالب کو محدثین ” ظن” کہتے ہیں۔ جس سے انسان کے لیے اس دنیا میں مفر کی کوئی صورت نہیں۔ خواہ معاملہ دینی ہو یا دنیوی۔

 

دوسرا اعتراض: تاریخ اور حدیث کا فرق

 

                تاریخ اور حدیث کا فرق​

 

ادارہ” طلوع اسلام” کی طرف سے اکثر و بیشتر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ذخیرہ احادیث کی حیثیت محض تاریخ کی سی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کو “دینی تاریخ” کہا جا سکتا ے لیکن یہ دین نہیں ہوسکتا۔ اس پر دلیل بھی دی جاتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب( جو آج کل صحیح البخاری کے نام سے موسول ہے) کا نام رکھا تھا”

“الجامع الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ وایامہ​”​

 

                صحیح البخاری کے پورے نام کی وضاحت

 

لطف کی بات یہ ہے کہ اس نام میں امور اور ایام کے الفاظ پر خاصا زور دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان الفاظ تاریخ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے الفاظ جو حدیث کو تاریخ سے بلند تر مرتبہ پر فائز کرتے ہیں۔ ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس نام پر غور کرنے سے تاریخ اور حدیث کا فرق بہت حد تک واضح ہو جاتا ہے جو کچھ اس طرح ہے:

 

1- الجامع:

 

محدثین کی اصلاح میں”الجماع” کا لفظ اس مجموعہ حدیث کے لیے بولا جاتا ہے کہ جو زندگی کے جملہ پہلوؤں کو محیط ہو۔ تاریخ کا میدان یہ ہے کہ مؤرخ کسی بادشاہ یا علاقہ کے سیاسی حالات کو قلمبند کرے پھر اس میں ضمناً کچھ نہ کچھ معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کا ذکر بھی آ جاتا ہے۔لیکن” الجامع” کا میدان اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ وہ عقائد و اعمال ، اخلاق و عادات ، معیشت و معاشرت ، اکتساب و معاملات حتی کہ مابعد الطبیعات تک کے مسائل مثلاً حشر نشر، مکافات عمل اور جنت و دوزخ تک سب کو محیط ہے۔

 

2- الصحیح:

 

یہ کتاب” الصحیح” بھی ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں صحیح حدیث وہ ہے جس کے تمام راوی ثقہ یعنی عادل و ضابط ہوں۔ پھر ان تمام راویوں میں اتصال ہو اور وہ حدیث کسی دوسری صحیح حدیث سے متصادم بھی نہ ہو۔

اب دنیا بھر کی کوئی تاریخ کی کتاب اٹھا کر دیکھئے ۔ ان کے مؤرخین نے لکھتے وقت ایسی کسی ایک شرط کی بھی پابندی کی ہے؟ ایک عام تاریخی تصنیف کے متعلق ایک بڑے مشہور مسلم الثبوت مؤرخ کا بیان ہے کہ:

“کسی زمانہ کے حالات جب قلمبند کیے جاتے ہیں تو یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ ہر قسم کی بازاری افواہیں قلمبند کر لی جاتیں ہیں۔ جن کے راویوں کا نام و نشان تک معلوم نہیں ہوتا۔ ان افواہوں سے وہ واقعات انتخاب کر لیے جاتے ہیں جو قرائن وقیاسات کے مطابق ہوتے ہیں۔ تھوڑے زمانہ بعد(یعنی کتابی شکل اختیار کرنے کے بعد) یہی مجموعہ ایک دلچسپ تاریخی کتاب بن جاتی ہے۔ یورپ کی اکثر تصانیف اسی طرز پر لکھی گئی ہیں”

اب اگر اس طرح لکھی ہوئی تاریخ کی ہم آہنگی میں کوئی قلمی نوشتہ بھی مل جائے تو پھر تو اس تاریخ کے مستند ہونے کے کیا کہنے۔ یہ قلمی نسخہ جتنا زیادہ پرانا اور دیمک خوردہ ہوگا، اسی نسبت سے وہ ایک قیمت ستاویز قرار پائے گا۔ حالانکہ اس کا راوی مجہول الحال (جس کے حالات زندگی ہی کس کو معلوم نہیں) اور نہ معلوم کس قسم کے کردار کا مالک ہوتا ہے۔ آج کل تو لوگوں نے ایسی قیمتی ستاویزات کے حصول کے لیے کئی مصنوعی طریقے بھی دریافت کر لیے ہیں۔

پھر اگر کہیں سے پتھر یا دھات پر کوئی تحریر زمین میں دفن شدہ مل جائے۔ تو اس کی وقعت وحی الٰہی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ گویا اس کا تحریر کنندہ ہر طرح کے عیوب اور غلطیوں سے پاک صاف تھا۔ تاہم چونکہ ایسے کتبوں کی آج کل وقعت بہت بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا ایسی تحریریں بھی خود ہی اس وقت کے رسم الخط میں لکھ کر کسی دور افتادہ مقام پر گاڑھ دی جاتی ہیں اور کچھ مدت بعد نکال کر انھیں دنیا کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔

تاریخ کے میدان میں جو چیز فی الواقع کچھ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ خود نوشتہ سوانح حیات(autobiography) ہو۔ لیکن اس میں بھی انسانی عواطف، جانبداری اور”ملا در مدح خود می گوید”[10] کے فطری رجحانات سے کون انکار کرسکتا ہے؟ بس یہ ہے تاریخ کی کل کائنات۔ جس کی تصنیف و تدوین کے لیے تمام حکومتیں اپنے وسیع ذرائع استعمال کرتی اور کروڑہا روپے خرچ کر رہی ہیں۔ اب اس کے مقابلہ میں حدیث کی تصنیف پر نظر ڈالیے، جس کے اولین راوی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاک باز جماعت ہے۔جن میں دوسرے راویوں کے علاوہ کچھ زائد خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جو یہ ہیں:

1-یہ اولین راوی واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ جو کچھ روایت کرتے ہیں خود آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر روایت کرتے ہیں۔[11]

2-وہ اس بات کے پابند اور مامور ہیں کہ جس ہستی کی تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔ اس کی ایک ایک نقل و حرکت اور ادا کو بغور ملاحظہ کریں۔ پھر اپنے آپ میں وہی خصوصیات پیدا کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں اور حتی المقدور اپنے آپ کو انھیں کے رنگ میں رنگ لیں۔[12]

3-وہ اس بات کے بھی پابند اور مامور ہیں کہ آپ کی اس سیرت طیبہ کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو غیر حاضر ہیں یا بعد میں آنے والے ہیں۔[13]

4-انھیں یہ حکم بھی دیا گیا تھا جس ہستی کے وہ مؤرخ بننے والے ہیں۔ اس کو اپنی جان سے بھی عزیز سمجھیں۔ اس حکم نے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں جانثاری کی کیفیت پیدا کر دی تھی وہاں آپ کے ساتھ دلی لگاؤ اور قلبی محبت بھی پیدا کر دی تھی۔ اس بات کا جو اثر حافظہ پر قائم ہوگا وہ ہر عام و خاص کو معلوم ہے۔[14]

5-پھر ساتھ ہی ان صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ تلوار بھی لٹک رہی تھی کہ جس نے مجھ پر کوئی جھوٹ باندھا یا کوئی غلط بات منسوب کی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔[15]

یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آ پ کی کوئی حدیث یا تو بیان ہی نہ کرتے تھے یا پھر انتہاء درجہ کی حزم و احتیاط سے کام لیتے تھے۔ اسی لیے مؤرخین نے یہ اصول قائم کیا کہ

“الصحابۃ کلھم عدول”[16]​

اب بتلائیے! دنیا کی کسی تاریخ کے مؤرخ میں یہ خصوصیات پائی جاتیں ہیں؟ اگر اس بات کا جواب نفی میں ہے، تو حدیث کی حیثیت تاریخ کی کیسے ہوسکتی ہے؟

 

3-المسند:

 

کا مطلب یہ ہے کہ کسی حدیث میں جس قدر رُواۃ(راویان حدیث) آتے ہوں۔سب کو بالترتیب ذکر کر دیا گیا ہو۔ اس سلسلہ میں نہ تو انقطاع ہو، نہ تدلیس اور نہ ہی کوئی علت۔ خواہ یہ روایت کسی تابعی پر ختم ہوتی ہو یا صحابی پر یا خود رسول اللہﷺ کی ذات پر ، بالفاظ دیگر صحیح بخاری میں صرف سنن رسول ﷺ کا ہی ذکر نہیں بلکہ صحابہ و تابعین کے آثار کا بھی ذکر ہے۔

یہ سلسلہ اسناد صرف احادیث کے ساتھ مخصوص ہے۔ دنیا بھر کی کسی دوسری تاریخ میں ایسا التزام و اہتمام نہیں۔ پھر ان رواۃ(راویان روایت) کی ثقاہت کی جانچ پڑتال کے لیے اسماء الرجال کی لاتعداد کتابیں موجود ہیں کہ اگر اس سلسلہ میں مزید تحقیق کی ضرورت پیش آئے۔ تو ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے احادیث کا رتبہ اناجیل اربعہ سے بھی بلند ہے۔

 

4-المختصر:

 

کا مطلب یہ ہے کہ بخاری میں ان جملہ احادیث صحیحہ کو درج نہیں کیا گیا، جو امام بخاری کی شرائط پر پوری اترتی تھیں۔ جتنی احادیث سے سیرت طیبہ کے جملہ پہلوؤں پر روشنی پڑسکتی ہے یا ان سے شرعی مسائل کا استنباط کیا جا سکتا ہے۔ اتنی ہی درج کی گئی ہیں۔ طوالت سے بچنے کی خاطر”تکرار برائے تکرار” کے اصول کو نہیں اپنایا گیا۔

 

5-من امور رسول اللہﷺ:

 

یعنی اس کتاب میں صرف ایک ہستی یعنی محمد رسول اللہﷺ سے متعلق ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والی احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔

یہاں سے تاریخ کا میدان پھر حدیث سے الگ ہو جاتا ہے۔ تاریخ میں کسی ملک کے ایک طویل دور کی داستان قلمبند کی جاتی ہے۔ علاقہ وسیع، مدت طویل اور مؤرخ ایک شخص یا دو یا چند اشخاص پر مشتمل ادارہ۔ لیکن حدیث میں صرف اور صرف ایک شخص کی ذات کے جملے پہلوؤں کو قلمبند کیا جاتا ہے۔ اور اس تاریخ ساز ہستی کے ابتدائی مؤرخین(محدثین) کی تعداد کم از کم چار ہزار(4000) ہے۔ جو آپ کی ایک ایک بات کی تحقیق کے لیے مہینوں کا سفر گوارا کر لیتے، مصائب جھیلتے اور بے دریغ مال و دولت صرف کرتے ہیں۔ پھر ان مؤرخین میں جہاں مرد ہیں وہاں عورتیں بھی ہیں۔ جن کی وجہ سے آپ کی خانگی زندگی کا کوئی گوشہ پس پردہ نہیں رہ گیا۔ یہی صورت تھی جس کی وجہ سے آپ نے فرمایا تھا:

((جئت بدین بیضاء لیلھا کنھارھا))[17]

یعنی”میں ایسا روشن دین لے کر آیا ہوں۔ جس کی رات بھی اسی طرح تابناک ہے۔ جس طرح اس کا دن۔”​

اب بتلایئے! آپ کی ہستی کے سوا دنیا کا کوئی انسان: خواہ وہ پیغمبر ہو یا بادشاہ، جرنیل ہو یا فاتح ، ایسا ہے جس کی سوانح حیات اس انداز میں لکھی گئی ہو؟ یقیناً ایسی کوئی تاریخ نہ آپﷺ سے پہلے مرتب ہوئی اور نہ ہی آئندہ تا قیامت ہوسکتی ہے۔ پھر حدیث اور تاریخ کا درجہ ایک جیسا کیونکہ ہوسکتا ہے؟

 

6-واسننہ وایامہ:

 

“ایامہ” کے الفاظ سے گو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ یا اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ ہے۔ جب اس لفظ کو “سننہ” کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ نہیں۔ صرف عرب کے علاقہ کی بھی نہیں۔ صرف اس دور کی بھی نہیں بلکہ کتب احادیث میں جملہ نوع انسانیت کے لیے اور قیامت تک کے لیے ضابطہ حیات کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے اس تاریخ نویسی میں ایسی کڑی شرائط کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

اب اگر”طلوع اسلام” صحیح البخاری کے اس پورے نام سے صرف آخری لفظ “ایامہ” سے ثابت کرے کہ یہ محض تاریخ ہے اور ثابت بھی اس انداز سے کرے کہ اس میں اور تاریخ کی دوسری کتابوں میں چنداں فرق نہیں اور وہ ظنی ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں تو سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

“بریں عقل و دانش بباید گریست”[18]​

اب ہم تاریخ اور حدیث کے اس فرق کو نکات وار پیش کرتے ہیں۔ تاکہ یہ فرق پوری طرح واضح ہوجائے۔

٭٭

 

 

 

تاریخ اور حدیث کا تقابل​

 

1-تاریخ کی بنیاد افواہوں پر رکھی جاتی ہے۔ جنہیں بعد میں قرائن و قیاسات سے ترتیب دے کر تاریخ مرتب کری جاتی ہے۔

جبکہ: حدیث کا مواد عینی شاہدوں کے بیانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان شاہدوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو سفر و حضر غرض یہ کہ ہر وقت آپ ﷺ کے ساتھ اور آپﷺ کے صحبت میں رہتے تھے۔ مثلاً: سیدنا انس، سیدنا ابوہریرہ ، سیدنا عبد للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ۔

2-مؤرخ کا صاحبِ تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

جبکہ:محدثین کا صاحب حدیث سے گہرا قلبی لگاؤ ہونا ضروری ہے۔

3-مؤرخ کے ذاتی کردار کو کبھی زیر بحث نہیں لایا جاتا۔

جبکہ:محدثین کا قبل اعتماد ہونا ضروری شرط ہے اور سب سے پہلے راوی کا کردار ہی زیر بحث لایا جاتا ہے۔

4-تاریخ کا تعلق کسی خاص ملک اور خاص دور سے ہوتا ہے۔

جبکہ:حدیث کا تعلق تمام نوع انسانیت سے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔

5-تاریخ میں کسی حکمران اور اس کے قبیلہ (یا اس کی کابینہ) کے حالات قلم بند کیے جاتے ہیں۔

جبکہ:ابتدائی راویوں کے تعداد چار ہزار(4000) ہے۔ پھر بعد میں اس سلسلہ میں منسلک ہونے والے بھی شامل کیے جائیں تو یہ تعداد لاکھوں تک جا پہنچتی ہے۔

7-مؤرخین کی تعداد کم اور حلقہ تحقیق زیادہ ہونے کی وجہ سے اکثر غلطیوں کا امکان ہوتا ہے۔

جبکہ:محدثین کی تعداد کثیر اور حلقہ تحقیق صرف ایک ہستی ہونے کی وجہ سے غلطی کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ پھر ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی لکھی ہوئی احادیث کی رسول اللہﷺ سے تصحیح و تصویب بھی کرالی تھی۔

8-مؤرخ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ وضاحت کرے کہ اس نے یہ مواد کن ذرائع سے حاصل کیا ہے۔ تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ ذرائع قابل اعتماد بھی ہیں یا نہیں؟

جبکہ:محدث کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان تمام ذرائع اور اسانید کا ذکر کرے، پھر ان ذرائع کا بھی قابل اعتماد ہونا ضروری ہوتا ہے۔

9-تاریخ کا میدان صرف کسی علاقہ میں مخصوص دور کے سیاسی نظام کو قلمبند کرنا ہے ۔ پھر اس میں اس دور کی تہذیب و تمدن پر بھی کچھ روشنی پڑ جاتی ہے۔

جبکہ:حدیث کا میدان اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ پر وہ بات جس کا تعلق رسول اللہﷺ کی ذات سے ہو، وہی اس کا میدان ہے۔ پھر ان ابتدائی محدثین میں چونکہ عورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا آپ کی خانگی زندگی کا ہر گوشہ سامنے آ جاتا ہے۔

10-تاریخ نویسی میں مؤرخ کے ذاتی اور قومی رجحانات کو بڑا دخل ہے۔ لہٰذا ہر دور میں کسی مخصوص علاقہ کی تاریخ موڑ توڑ کر پیش کی جاتی ہے۔

جبکہ:حدیث کے معاملہ میں صورت حال یہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ جہاں محدثین کی تعداد کی یہ کثرت ہو اور ان میں ملک ملک کے باشندے شامل ہوں تو ایسے احتمالات ختم ہو جاتے ہیں۔

11-تاریخ کے سلسلہ میں غلط بیانی اور غلط نویسی پر کوئی قدغن نہیں ہوتی ۔ لہٰذا مؤرخ اپنی رائے کے مطابق بات کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔

جبکہ:حدیث کے معاملہ میں غلط بیانی کی صورت میں جہنم کی وعید کی تلوار ہر وقت سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ لہٰذا محدث پوری حزم و احتیاط اور وثوق سے بات کہتا ہے، یا پھر چپ رہتا ہے۔

12- تاریخ لکھنے والے مؤرخ یا ادارے معقول معاوضے پاتے ہیں اور حکومتوں کا اس تاریخ تویسی پر لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔

جبکہ:محدثین کا کچھ لینا تو درکنار ۔ انھوں نے اپنا تن ، من، دھن سب کچھ اس راستہ پر نثار کر دیا۔

 

احادیث اور اناجیل:

 

ذرا غور فرمائیے! جن معیاروں پر اس اسوہ حسنہ کو کس کر پیش کیا گیا ہے۔ کیا دنیا کی کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ تاریخ تو درکنار انجیل تک کا یہ حال ہے کہ اس کے ابتدائی راوی صرف چار (4) ہیں۔ پھر انھوں نے بھی خود قلمبند نہیں کی۔ بلکہ بعد میں آنے والے شاگردوں نے کی۔سلسلہ اسناد کا کوئی ذکر نہیں۔ روایت اور درایت کا کوئی معیار نہیں۔ تورات قوم موسیٰ کو لکھی لکھائی مل گئی۔ جو بعد میں دو دفعہ ضائع ہوئی ۔ پھر سینکڑوں سال بعد دوبارہ ضبط تحریر میں لائی گئی۔ ان دونوں کتابوں میں قرآن کی روح سے تحریف بھی ثابت ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کتابوں سے کبھی اتنا بد ظن نہیں کیا۔ جتنا ہمارے یہ کرم فرما ہمیں اس ذخیرہ حدیث سے بد ظن کرنا چاہتے ہیں جو انسان کی ممکنہ کوششوں کی حد تک مُنقَّح (غلطیوں سے پاک) کر دیا گیا ہے۔

 

اعجاز حدیث:

 

 

اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ آیا اس اسوہ حسنہ کی حفاظت کا یہ اہتمام محض اتفاقی طور پرہوگیا ہے؟ اگر ایسی بات ہوتی تو اس کی کوئی اور مثال بھی مل جانی چاہیے تھی۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا ہم لامحالہ اس نتیجہ ہیں کہ اسوہ رسول ﷺ کی ایسی حفاظت کے سلسلہ میں دست قدرت بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی ان لوگوں کو ایسا حافظہ اور ہمت دی۔ جس کی مثال بعد میں نہیں ملتی۔ پھر انھیں دولت سے نوازا۔ تو انھوں نے بے دریغ اس مقصد پر خرچ کیا اور اپنی انتھک جسمانی اور دماغی کوششوں سے اس فریضہ کو سرانجام دینے والی پاک باز جماعت پیدا کی۔ تو کیا یہ سب امر اتفاقی تھا؟ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر کے اس اسوہ رسول ﷺ اور دین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کر دی۔ جس کا اس نے ذمہ لے رکھا تھا اور جسے تا قیامت باقی رہنا تھا۔ ورنہ اس اسوہ کی حفاظت کے بغیر قرآن کے الفاظ کی حفاظت تو کچھ معنی نہیں رکھتی۔

٭٭

 

 

 

تیسرا اعتراض: کثرت احادیث

 

                احادیث کی عددی کثرت کے اسباب

 

علم حدیث پر منکرین حدیث نے یہ اعتراض بھی بڑی شدومد سے اٹھایا ہے کہ محدثین کے پاس اتنی تعداد میں احادیث آ کہاں سے گئیں؟ وہ نہایت مہیب اعداد و شمار پیش کر کے قارئین کرام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان میں سے 95% موضوع اور جعلی احادیث تھیں۔ جو پانچ فیصد صحیح تھیں بھی تو وہ اس طرح غلط ملط ہو گئی تھیں کہ ان کو الگ کر دینا کسی بھی انسان کے بس کا روگ نہ تھا۔لہٰذا محدثین نے اپنے فہم و بصیرت کے مطابق جو بھی احادیث قبول کی ہیں۔ وہ بھی چنداں قابل اعتبار نیں۔ حالانکہ کثرت تعداد احادیث کے درج ذیل پانچ اسباب میں سے صرف ایک سبب موضوع احادیث کا وجود ہے۔ وہ اسباب درج ذیل ہیں:

 

1- بلحاظ وسعت معانی:

 

سنن اور احادیث میں جو فرق ہے وہ ہم پہلے واضح کر چکے ہیں۔ سنن کا تعلق صرف رسول اللہﷺ کی ایک ذات سے ہے۔ جب کہ احادیث کا تعلق بیشمار صحابہ اور تابعین کے اقوال وافعال سے بھی ہے۔ لہٰذا احادیث کی تعداد سنن رسول ﷺ سے کئی گناہ زیادہ ہونا لازمی امر ہے۔

 

2- بلحاظ اسناد اور طُرق:

 

جس کی مثال ہم پہلے پیش کر چکے ہیں کہ:”انَّمَا الاَ عمَالُ بالنَّیَّات”[19] ایک سنت قولی ہے۔ جب کہ احادیث کے لحاظ سے اس کا شمار سات سو (700) ہے۔ اس لحاظ سے بھی احادیث کی تعداد سنن سے بیسیوں گنا بڑھ جاتی ہے۔

 

3- سنت رسول ﷺ کا دارو مدار زیادہ تر تعامل صحابہؓ پر:

 

دور نبوی میں سنت کا دار و مدار کتابت و روایت سے زیادہ تعامل صحابہ پرتھا۔مثلاً صحابہ آپ کو جیسے نماز پڑھتے دیکھتے ویسے ہی پڑھ لیتے۔یا جو وفود باہر سے مدینہ آتے۔ آپ انھیں چند دن اپنے پاس ٹھہرا کر، جاتے وقت یہ وصیت کرتے کہ”صَلُّوا کَمَا رَأَیُتُمُونِی أُّصَلَّی[20]

یا آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:”خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُم”[21]

پھر جب صحابہؓ نے نماز،حج،روزہ،زکوٰۃ اور دوسرے احکام کے کوائف و تفصیلات کو روایت و کتابت کرنا شروع کیا تو انھیں چھوٹے چھوٹے ارشادات سے دفتر کے دفتر تیار ہو گئے۔

 

4- موضع احادیث کا وجود:

 

اس ضمن میں ہم اپنے مضمون”وضع حدیث اور وضاعین” میں بھر پور تبصرہ پیش کر چکے ہیں۔[22]

 

5- موضوع احادیث کے طریق اور اسناد:

 

ہم محولہ بالا مضمون میں یہ بھی بتلاچکے ہیں کہ محدثین کو موضوع احادیث کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد کو بھی یاد رکھنا پڑتا تھا۔تاکہ ان سے عوام کو متنبہ رکھ سکیں۔تو جس طرح سنن رسولﷺ جب طرق کے لحاظ سے بیان کی جاتی ہیں تو احادیث بیسیوں گنا بڑھ جاتی ہیں۔اس طرح موضوع احادیث بھی طرق کے لحاظ سے کئی گنازیادہ شمار ہونے لگی تھیں۔

کثرت احادیث کی بات جب چل ہی نکلی تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لگے ہاتھوں ان اعتراضات کا بھی جائزہ لیتے چلیں جو اس سلسلہ میں”طلوع اسلام” کی طرف سے اٹھائے گئے ہیں:

حدیثوں کی تعداد:احادیث کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے حدیثوں کی تعداد کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح ہے۔ مقام حدیث کے صفحہ نمبر 25 پر زیر عنوان”کتنی حدیثوں کو رد کر دیا” لکھتے ہیں:

“ضمناً یہ بھی دیکھیے! ان حضرات کو کس قدر احادیث ملیں اور ان سے انھوں نے کتنی احادیث کو منتخب کر کے اپنے مجموعہ میں داخل کیا:

1-امام بخاری رحمہ اللہ علیہ:

چھ لاکھ(6،00،000) میں سے مکررات (تکرار والی) نکال کر صرف 2762؟

2-امام مسلم رحمہ اللہ علیہ:

تین لاکھ(3،00،000) میں سے مکررات نکال کر صرف 4248

3-امام ابو داود رحمہ اللہ علیہ :

پانچ لاکھ(5،00،000) میں سے مکررات نکال کر صرف 4800

4-امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ:

(امام ترمذی کی روایات اور تعداد درج کرنا چھوڑ گئے ہیں)

5-امام ابن ماجہ رحمہ اللہ علیہ:

چار لاکھ (4،00،000) میں سے مکررات نکال کر صرف 4000

6- امام نسائی رحمہ اللہ علیہ:

دو لاکھ(2،00،000) میں سے مکررات نکال کر صرف 4321

ظاہر ہے کہ جب رد قبول کا دار و مدار جامع الأحادیث (احادیث جمع کرنے والے) کی ذاتی بصیرت ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ لاکھوں کے انبار میں سے جنہیں ان حضرات نے مسترد قرار دے دیا تھا کتنی صحیح حدیثیں بھی ضائع ہو گئیں ہوں گی؟ باقی رہا یہ معاملہ کہ جن احادیث کا ان حضرات نے انتخاب کیا۔ ان میں کتنی حدیثیں ایسی آ گئی ہوں گی جسے کسی صورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کے اقوال یا افعال قرار نہیں دیا جا سکتا۔”

(مقام حدیث صفحہ نمبر :25-26)

امام بخاری کے متعلق ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

“انھوں نے شہر بہ شہر اور قریہ بہ قریہ پھر کر چھ لاکھ (6،00،000) کے قریب احادیث جمع کیں۔ ان میں سے انھوں نے اپنے معیار کے مطابق صرف 7200 احادیث کو صحیح پایا اور انھیں اپنی کتاب میں درج کر لیا باقی پانچ لاکھ ترانوے ہزار کو مسترد کر دیا۔ (مقام حدیث صفحہ نمبر:22)

اور تیسرے مقام پر امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کے متعلق فرمایا:

“ذرا سوچئے کہ اگر امام بخاری ؒ پانچ لاکھ چورانوے ہزار(5،94،000) احادیث کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کی دانست میں رسول اللہﷺ کی نہیں ہو سکتیں اور اس سے منکرین حدیث نہیں قرار پاتے تو اگر آج کوئی شخص ایک حدیث کے متعلق کہتا ہے کہ اس کی بصیرت قرآن کی رو سے (یہ حدیث) رسول اللہﷺ کی نہیں ہوسکتی تو وہ کافر اور خارج از اسلام کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ وہ در حقیقت ایک جامع حدیث کے فیصلے یا راوی کی روایت کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہے۔ ارشاد نبوی سےنکار نہیں کرتا”(مقام حدیث صفحہ نمبر:56)

مندرجہ بالا اقتباسات سے درج ذیل امور قابل غور ہیں:

 

کذب بیانی اور دھوکہ دہی:

 

اقتباس نمبر ایک میں مندرجہ احادیث کی تعداد بیس(20) لاکھ(20،00،000) سے متجاوز ہے۔ جب کہ ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد جو روایت میں مذکور ہے وہ چودہ لاکھ(14،00،000) ہے۔ جس میں صرف مندرجہ بالا محدثین ہی شامل نہیں بلکہ دوسرے محدثین بھی شامل ہیں اور اس کثرت تعداد کے پانچ اسباب ہم پہلے بتاچکے ہیں۔ گویا یہ تعداد مختلف طرق واسانید کی ہے نہ کہ متون ، سنن اور آثار کی۔ چونکہ محدثین ہر طریق اور سند کو الگ حدیث شمار کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ تعداد انہیں کے شمار کے مطابق ہے۔ متون کے شمار کے مطابق نہیں ۔

 

احادیث کی اصل تعداد:

 

مکرّرات نکال کر جو اعداد و شمار بیان کیے ہیں وہ متون، سنن اور آثار مندرج ہیں۔ جسے عرف عام میں حدیث کہا جاتا ہے۔ ان کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے متجاوز نہیں۔ پھر بے شمار ایسی احادیث ہیں۔ جو مندرجہ بالا مختلف مجموعوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں۔ اس طرح ان کی اصل تعداد نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ چنانچہ امام حاکم کی تحقیق کے مطابق صحاح ستہ کے علاوہ مسند احمد بن حنبل سمیت صحیح احادیث کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں ۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

ذرا سوچئے کہ اگر امام بخاری رحمہ اللہ علیہ پانچ لاکھ چورانوے ہزار (5،94،000) احادیث کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کی دانست میں رسول اللہﷺ کی نہیں ہوسکتیں اور اس سے منکر حدیث نہیں قرار پاتے تو اگر آج کوئی شخص ایک حدیث کے متعلق کہتا ہے کہ اس کی بصیرت قرآن کی رو سے (یہ حدیث) رسول اللہﷺ کی نہیں ہوسکتی تو وہ کافر و خارج از اسلام کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ وہ در حقیقت ایک جامع حدیث کے فیصلے یا راوی کی روایت کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہے ۔ ارشاد نبوی سے انکار نہیں کرتا”ّّ(مقام حدیث صفحہ نمبر:56)۔

مندرجہ بالا اقتباسات سے درج ذیل امور قابل غور ہیں:

کذب بیانی اور دھوکہ دہی: اقتباس نمبر ایک میں مندرجہ احادیث کی تعداد بیس(20) لاکھ(20،00،000) سے متجاوز ہے۔ جب کہ ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد جو روایات میں مذکور ہے وہ چودہ لاکھ(14،00،000) ہے۔ جس میں صرف مندرجہ بالا محدثین ہی شامل نہیں بلکہ دوسرے محدثین بھی شامل ہیں اور اس کثرت تعداد کے پانچ اسباب ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ گویا یہ تعداد مختلف طرق و اسانید کی ہے نہ کہ متون، سنن اور آثار کی۔ چونکہ محدثین ہر طریق اور سند کو الگ حدیث شمار کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ تعداد انھیں کے شمار کے مطابق ہے۔ متون کے شمار کے مطابق نہیں۔

احادیث کی اصل تعداد: مکرّرات نکال کر جو اعداد و شمار بیان کی۴ے ہیں وہ متون ، سنن اور آثار مندرج ہیں۔

جسے عرف عام میں حدیث کہا جاتا ہے۔ ان کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے متجاوز نہیں۔ پھر بے شمار ایسی احادیث ہیں ۔ جو مندرجہ بالا مختلف مجموعوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں ۔ اس طرح ان کی اصل تعداد نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ چنانچہ امام حاکم کی تحقیق کے مطابق صحاح ستہ کے علاوہ مسند احمد بن حنبل سمیت صحیح احادیث کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

“اَلَا حَادیثُ الَّتِی فی الَّدرَجّۃِ الاُولٰی لَا تَبلُغُ عَشَرَۃَ آلاف”

(توجیہ النظر بحوالہ”تدوین حدیث” صفحہ نمبر”200)

“اعلیٰ درجہ کی حدیثوں کی تعداد دس ہزا ر تک نہیں پہنچ پاتی”

اب اگر دس ہزار میں زیادہ سے زیادہ وسعت پید ا کی جائے اور صرف صحیح اور اعلیٰ درجہ کی احادیث کے علاوہ حسن اور ضعیف روایتوں کو بھی لیا جائے اور صحاح ستہ اور مسندر احمد کے علاوہ دوسری بیسیوں کتب احادیث کو بھی جن کا شمار طبقہ سوم اور چہارم مین ہوتا ہے۔ تو ان کی مجموعی تعداد کے متعلق جناب مناظر احسن گیلانی اپنی تصنیف” تدوین حدیث” میں لکھتے ہیں:

” بہر حال شمار کرنے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صحیح ، حسن، ضعیف ہر قسم کی تمام حدیثیں جو اس وقت صحاح ستہ ، مسند احمد اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں۔ ان کی تعداد پچاس ہزار (50،000) بھی نہیں ہے۔ اور یہ ہر رطب و یابس کے مجموعہ کی تعداد ہے۔ تمام کتابوں سے چھان بین کر ابن جوزی ہی نے نہیں، جن کی تنقید کا معیار بہت سخت ہے۔ بلکہ امام حاکم نے ، جونرمی اور مسامحت میں مشہور ہیں، کہا ہے:” اول درجہ کی صحیح حدیثوں کی تعداد دس ہزار تک بھی نہیں پہنچی”(تدوین حدیث:195)

یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اس پچاس(50) ہزار کی تعداد میں احادیث کی جملہ اقسام(خواہ وہ احادیث مقبول کے ضمن میں آتی ہوں یا مردود کے) شامل ہیں۔ مردود احادیث کی اقسام میں موضوعات سب سے کم تر درجہ کی ہیں۔ پھر جب ہمارے طبقہ سوم اور چہارم میں بالخصوص موضوعات کی ایک کثیر تعداد موجود ہے تو اس حقیقت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے؟

 

ذخیرہ احادیث میں رطب ویابس کا اندراج:ذخیرہ احادیث میں رطب ویابس کا اندراج:

 

رہا یہ سوال کہ محدثین نے ہر طرح کے رطب ویابس کو اپنے مجموعوں میں کیوں شامل کر دیا؟ تو اس کا جواب ہم” وضع حدیث” میں دے چکے ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ باطل فرقوں کے اس اعتراض کی گنجائش کو ختم کر دیا گیا ہے کہ”محدثین نے ہماری روایات کو ضائع کر دیا ہے حالانکہ وہ صحیح تھیں۔”

 

صحیح احادیث کی صحت کی عقلی دلیل:

 

بات ہو رہی تھی صحیح احادیث کی کل تعداد کی کہ وہ دس ہزار تک بھی نہیں پہنچتی۔ تو اب اس تعداد کا اس تحریر سرمایہ احادیث سے مقابلہ کیجیے۔ جو عہد نبوی میں تحریر ہو چکا تھا۔ جس کی تفصیل ہم کتابت حدیث میں پیش کر چکے ہیں اور جس کا “طلو ع اسلام” کو بھی اعتراف ہے۔ کیا اس بات سے یہ حقیقت واضح نہیں ہو جاتی ؟ کہ تیسری اور چوتھی ہجری میں اگر سرمایہ حدیث میں کچھ اضافہ یا ملاوٹ ہوئی بھی تھی تو محققین کی جماعت نے اس کی نشاندہی کر کے اسے پھر سے علیحدہ کر دیا ہے اور اس اسوہ رسول ﷺ کے صحیح خدوخال نکھر کر سامنے آ گئے ہیں۔ جس کی اتباع تا قیامت مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی تھی اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی تھی۔ یہ تو ظاہر ہے انسانی دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری انسانوں کے ذریعہ ہی پوری کراتا ہے اور جن انسانوں نے اس ذمہ داری کو پورا کیا وہ یہی محدثین کرام رحمہ اللہ علیہ کی جماعت تھی۔

 

“طلوع اسلام ” کا سفید جھوٹ:

 

آپ دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا تینوں اقتباسات میں احادیث کے رد و قبول کے سلسلہ میں”طلوع اسلام” نے محدثین (الخصوص امام بخاری رحمہ اللہ علیہ) کے متعلق “ذاتی بصیرت، اپنے معیار اور اپنی دانست” کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ جھوٹ اس لیے ہے کہ محدثین نے احادیث کے رد و قبول کے لیے اپنی دانست یا بصیرت کو قطعاً معیار نہیں بنایا۔ بلکہ ان کا معیار روایت و درایت یا چھان بین کے وہ اصول تھے جن کی ابتداء سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود کی تھی اور بتدریج ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے محدثین تک پہنچے تھے۔ نیز یہ سفید جھوٹ اس لیے بھی ہے کہ”طلوع اسلام” نے اسی کتاب “مقام حدیث” کے صفحہ 107، اور صفحہ :158 پر ان اصولوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

روایت کے معیار کے لیے صفحہ”30 پر اسماء الرجال ، صفحہ :24 پر ثقاہت کا فیصلہ، صفحہ :107تا112 پر تنقید حدیث ، صفحہ :120،119 پر روایت اور شہادت ، وغیرہ عنوانات کے تحت جو تبصرہ اور تنقید پیس کی گئی ہے۔ اگر روایت کے معیار کے لیے محدثین کے ہاں کوئی اصول ہی نہ تھے اور وہ محض اپنی دانست اور بصیرت سے رد و قبول کرتے تھے تو پھر ادارہ مذکور کو مندرجہ بالا موضوعات پر تبصرہ فرمانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

حدیثوں کے ضیاع کی فکر:فرماتے ہیں کہ” ان لاکھوں کے انبار میں جنہیں ان حضرات نے مسترد کر دیا تھا کتنی صحیح حدیثیں بھی ضائع ہو گئی ہوں گی۔”

ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ فکر تو ان لوگوں کو ہونی چاہیے جن کے ہاں حدیث کی کچھ اہمیت ہے اور وہ اسوہ رسول ﷺ کو واجب الاتباع اور دین کا حصہ سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جن کے ہاں صحیح حدیث کی بھی فقط اتنی ہی اہمیت ہو کہ وہ صرف عہد نبوی میں ہی واجب الاتباع یا اسوہ حسنہ تھی۔ اب ا س کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اب زمانہ کے حالات بدل چکے ہیں اور نہ ہی وہ اسے دین کا حصہ سمجھتے ہیں۔ انھیں ایسی فکر کیوں ہو؟

تاہم اطلاعاً عرض ہے کہ صحیح البخاری میں مرویات (مع اخبار و آثار) کی کل تعداد 9684 ہے۔ اگر آثار اور مراسیل کو حذف کر دیا جائے تو باقی مرفوع احادیث کی تعداد مکررات نکالنے کے بعد 2663 رہ جاتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے باقی پانچ لاکھ نوے ہزار کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ امام مذکور کی یہ کتاب” المختصر” بھی ہے۔ پھر ایسی نظر انداز شدہ صحیح احادیث جو امام مذکور کی شرائط پر پوری اترتی تھیں وہ بھی ضائع نہیں ہوئیں۔ بلکہ بعد میں آنے والے محدث امام حاکم نے انھیں اپنی تصنیف “مستدرک حاکم” میں جمع کر دیا ہے۔ لہٰذا اس بات پر افسوس کی ضرورت نہیں کہ دین کا کچھ حصہ ضائع ہو گیا ہوگا۔

“طلوع اسلام ” کی اصل شکایت: اب تیسرے اقتباس کو پھر سامنے لایئے: جو یہ ہے۔

“ذرا سوچئے کہ اگر امام بخاری پانچ لاکھ چورا نوے ہزار(5،94،000) احادیث کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ ان کی دانست میں رسول اللہﷺ کی نہیں ہوسکتیں اور وہ کافر اور خارج از اسلام کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ وہ درحقیقت ایک جامع حدیث (احادیث جمع کرنے والے) کے فیصلے یا راوی کی روایت کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہے۔ ارشاد نبوی سےانکار نہیں کرتا۔”

اس سوال پر تو در اصل “طلوع اسلام” ہی کو سوچنا زیادہ مناسب تھا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ لیکن اس نے سوچنے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی ۔ یہ سوال جن مفروضوں کو اکھٹا کر کے بنایا گیا ہے ان کی کچھ وضاحت ہم ذیل میں کیے دیتے ہیں:

1-امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے جن احادیث کو چھوڑا ان کی حیثیت تین قسم کی تھی:

۱۔محض طرق واسانید، شواہد و توابع کی جن کا درج کرنا ضروری نہ تھا۔

ب۔ ایسی احادیث جو آپ کی مقرر کردہ شرائط پر پوری نہ اترسکیں۔ مثلاً:

آپ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ راویوں کا محض ہم عصر ہونا کافی نہیں بلکہ ان کی ملاقات کا ثابت ہونا بھی شرط ہے۔لیکن امام مسلم رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک ملاقات شرط نہیں، لہٰذا بہت سی ایسی صحیح احادیث ہیں جنہیں امام بخاری نے چھوڑ دیا لیکن امام مسلم رحمہ اللہ علیہ نے انہیں اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔ گویا امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کا بعض حدیثوں کو چھوڑنا ، حدیث کے فِی نَفسہ صحت وسقم کی بناء پر نہ تھا بلکہ ان کی مقرر کردہ شرائط پر پورا نہ اترنا تھا۔

ج۔ پھر آپ نے اپنی شرائط پر پوری اترنے والی بھی بہت سی حدیثوں کو اس لیے نظر انداز کر دیا کہ ان کا پورا مفہوم پہلی منتخب شدہ احادیث میں آ چکا تھا۔

2-امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے احادیث کی تحقیق میں اپنی دانست یا پسندیدگی و ناپسندیدگی سےکام نہیں لیا بلکہ روایت و درایت کے ان کڑے معیاروں کو ملحوظ رکھا ہے۔ جن کی بنیاد سیدنا علی ؓ نے ڈالی پھر اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے ، وہ دوسری صد ی ہجری کے آخر تک ایک مکمل فن کی حیثیت اختیار کر چکے تھے ۔ امام بخاریؒ، اس فن کے جملہ علوم کے ماہر تھے اور انہوں نے صحیح بخاری کو مرتب کرنے سے پہلے خود سے بھی اس فن پر چند کتابیں لکھیں۔

3- امام بخاری ؒ کی دانست یا بصیرت محض قرآنی نہ تھی بلکہ دینی تھی۔ جس میں اسوہ رسول ﷺ بھی شامل ہے۔ جو انہیں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی راہ سے ملی۔

تبع تابعین کا دور 220 ہجری اور بقول بعضے 260 ہجری ہے اور امام صاحب کی پیدائش 194 ہجری اور وفات 257 ہجری ہے۔ لہٰذا آپ کو تبع تابعین سے استفادہ کا بھر پور موقع ملا ہے۔ پھر یہ دینی بصیرت بھی محض متوارث نہ تھی۔ بلکہ یہ بصیرت بھی روایت و درایت کے معیاروں کی سختی سے پابند تھی۔ اسی بصیرت کے تحت آپ نے لاکھوں کے انبار سے چند احادیث کا انتخاب کیا اور جن احادیث کو آپ نے صحیح سمجھا ان پر خود بھی عمل کیا اور دوسروں نے بھی اسے واجب العمل قرار دیا۔ تاآنکہ کوئی حدیث مزید رد و قدح کے بعد صحت کے معیار سے گر نہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب پر ہر طرف سے مدح وتحسین کی صدائیں بلند ہوئیں۔ کفر یا خروج از اسلام تو دور کی بات ہے، جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتی تھی۔

 

کفر کی اصل وجہ:

 

 

اب اس قرآنی بصیرت والے شخص کی طرف آئیے۔ اس کی قرآنی بصیرت کے ماخذ دو ہیں:

  1. دور جاہلیت کی عربی لغت۔
  2. زمانہ بھر میں پھیلے ہوئے جدید اور ملحدانہ افکار و نظریات۔

اب یہ شخص ان افکار و نظریات کو لغت سے کا م لے کر اپنی عقل کی روشنی میں قرآن میں سمونا چاہتا ہے۔ وہ شخص تحریف معنوی، آیات کی تقدیم و تاخیر اور ان کے جوڑ تو ڑ میں بڑا دلیر اور مشاق ہے۔ اب عقل کے لیے یہ کام بھی کیا کم ہے؟ کہ وہ شخص سنن رسول ﷺ کی اطاعت کا پھندا بھی اپنے گلے میں ڈال کر خواہ مخواہ راہ میں رکاوٹیں پیدا کر لے اس شخص کے لیے احادیث میں مذکور اسوہ رسول ﷺ کا مفہوم یہ ہو ا کہ اس کی اتباع صرف صحابہ کے لیے لازم تھی۔ بعد میں آنے والے ادوار میں اسوہ رسول ﷺ کی اتباع کا مفہوم یہ ہو کہ مرکز ملت جو شریعت وضع کرے اسی کی اتباع فی الحقیقت اسوہ رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ گویا اس کی نظروں میں تمام تر ذخیرہ احادیث بے کار بھی ہے اور بعد از وقت بھی۔ لہٰذا آپ ہی بتائیں ایسے شخص کو منکر سنت یا منکر حدیث نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟

رہا امام بخاری ؒ کی کسی ایک حدیث سے انکار پر کافر اور خارج از اسلام قرار پانے کا مسئلہ تو اس کا کوئی قائل نہیں۔ مقام حدیث میں امام ابو حنیفہؒ اور ان کے علاوہ اور بھی” چند نامور ہستیوں” کے متعلق مذکور ہ کہ وہ بعض حدیثوں کا انکار کر دیتے تھے۔ یا ان پر جرح کی ہے۔ لیکن ان پر محض اس بناء پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا گیا۔(کہ وہ اس حدیث کے صحیح ہونے پر متفق نہیں ہوتے تھے۔ ان کی تحقیق کے مطابق وہ حدیث صحت کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھی) کفر کا سوال در اصل اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب کسی سنت رسول ﷺ کے صحیح ثابت ہو جانے کے بعد بھی اسے واجب الاتباع نہ سمجھا جائے۔

 

کثرت احادیث اور صحیفہ ہمام بن منبہؒ:

 

مقام حدیث صفحہ:19 پر پرویز صاحب لکھتے ہیں:” اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ امام ہمام بن منبہ 58 ہجری سے پہلے مدینہ میں بیٹھ کر احادیث کا مجموعہ مرتب کرتے ہیں اور انہیں صرف 138حدیثیں ملتی ہیں۔ تیسری صدی ہجری میں جب امام بخاریؒ احادیث کو جمع کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو انہیں چھ(6) لاکھ احادیث مل جاتی ہیں۔(امام احمد بن حنبلؒ کو دس(10) لاکھ اور امام یحییٰ بن معین ؒ کو بارہ (12) لاکھ احادیث ملی تھیں) نیز یہ حقیقت بھی غور طلب ہے کہ جو احادیث حضرت ابوہریرہؓ سے م روی ہیں ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ لیکن ان کے شاگرد کے مجموعہ میں کل 138(ایک سواڑتیس) احادیث ہیں۔ بہر حال پہلی صدی ہجری میں انفرادی طور پر جمع کرنے کی جو کوشش ہوئی اس کا ماحصل صحیفہ ہمام بن منبہؒ کی ایک سو اڑتیس (138) احادیث ہیں ۔ اس کے علاوہ اس دور کے کسی تحریر ی سرمایہ کا سراغ نہیں ملتا۔”

مندرجہ بالا اقتباس میں آپ نے دو عدد غور طلب حقیقتیں بیان فرمائیں اور تیسرا انہیں غور طلب حقیقتوں کا نتیجہ ۔ اب ہم ان تینوں حقیقتوں پر بالترتیب غور کرتے ہیں:

 

چند غور طلب حقائق:

 

پہلی غور طلب بات میں ایک اور غور طلب بات ضمناً شامل ہو جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمام بن منبہ 58ھ میں احادیث لکھتے ہیں تو انہیں صرف 138(ایک سو اڑتیس) احادیث ملتی ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ 12 ہجری سے پہلے لکھنے بیٹھتے ہیں تو انہیں 500(پانچ سو) احادیث مل جاتی ہیں ۔ غور کیجیے کہ سیدنا ابوبکر ؓ ہمام بن منبہؒ سے 47 سال پہلے لکھنا شروع کرتے ہیں تو انہیں چار گناہ زیادہ احادیث مل جاتی ہیں۔ پھر یہ بات کیا ہوئی؟ سیدنا ابوبکرؓ کے پانچ سو احادیث لکھنے کی حقیقت کو “طلوع اسلام” نے مقام حدیث میں کئی مقامات پر تسلیم کیا ہے۔ جہاں تک احادیث کو تحریر میں لانے اور ان احادیث کے صحیح ترین مجموعہ ہونے کا تعلق ہے۔ اس سے کس کو انکار ہے؟ پھر اس سے ضمناً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ سے پہلے دور نبوی میں 500 سے زیادہ احادیث بھی تحریر میں آ سکتی ہیں۔ جیسا کہ صحیح روایات سے بھی ثابت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے آپ ﷺ کے حکم سے ایک ہزار(1000) احادیث پر مشتمل ” الصحیفۃ الصادقہ” تحریر کیا تھا۔

 دوسری غور طلب بات آپ نے یہ فرمائی کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کی مرویات کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے ۔ لیکن ان کے شاگردوں کے مجموعہ میں کل 138 احادیث ہیں۔ یہ غور طلب مسئلہ بھی در اصل کم فہمی پر مبنی ہے۔ اگر تو ہمام بن منبہؒ نے کہیں یہ بھی لکھا ہوتا کہ میں نے اپنے استاد سے ساری حدیثیں اخذ کر لی ہیں تو پھر ” طلوع اسلام” کا اعتراض بجا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ نہ امام ہمام ؒ نے کہیں یہ لکھا ہے کہ جو کچھ میں نے اپنے استاد سے اخذ کیا اس کا ماحصل یہی 138 احادیث ہیں۔ آج کل بعض لوگ اربعین لکھتے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس ے اپنے استاد سے بس یہی چالیس(40) حدیثیں ہی سیکھی ہیں۔ یا اس سے آگے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس کے استاد کو یہی چالیس (40) حدیثیں ہی معلوم ہوں گی۔ جہالت پر مبنی نہیں تو اور کیا ہے؟

سیدنا ابوہریرہ ؓ کے آٹھ سو(800) شاگرد تھے۔ جن میں ایک امام ہمام بن منبہ بھی ہیں۔ جس طرح ہر شاگرد نے اپنی بساط کے مطابق استاد سے علم حاصل کیا ۔ اسی طرح ہمام بن منبہؒ نے بھی کیا ۔ آپ نے جو مجموعہ مرتب کیا۔ اس کا تعلق صرف اقوال رسول ﷺ سے ہے یعنی اس میں قولی حدیثیں درج ہیں۔ فعلی اور تقریری وغیرہ مذکور نہیں۔ پھر ان قولی احادیث میں سے انتخاب میں آپ کی پسند کو بھی خاصا دخل ہے۔ یہ آپ نے کہیں وضاحت نہیں فرمائی کہ جتنی قولی حدیثیں میں نے اپنے استاد سے حاصل کیں۔ وہ سب اس مجموعہ میں درج کر دی ہیں۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے تاریخ حدیث کے دوسرے حصہ انتخاب حدیث میں صرف سات سو(700) احادیث درج کی ہیں اور محترم عبد الغفار حسن نے اپنی کتاب انتخاب حدیث میں صرف چار سو(400) حدیثیں درج کی ہیں۔ تو کیا اس سے یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ ان حضرات کا اپنا یا اپنے استادوں کا علم بس اتنی ہی احادیث تک محدود تھا؟

ان دو قابل غور حقیقتوں کے بعد آپ نے جو نتیجہ پیش فرمایا وہ یہ ہے کہ” پہلی صدی کے آخر تک ماسوائے ان 138 احادیث کے اور کسی تحریری سرمایہ کا سراغ نہیں ملتا۔”

آپ کا یہ نتیجہ جھوٹ کا پلندا اس لیے ہے کہ اس تحریر(صفحہ نمبر: 19 کی تحریر) سے پہلے آپ کو اس تحریری سرمایہ کا بہت کچھ سراغ لگ چکا تھا۔ جو پہلی صدی کے آخر میں نہیں بلکہ دور نبوی میں موجود تھا اور جس کا ذکر آپ نے مقام حدیث کے صفحہ:10 پر چار(4) نمبروں کے تحت کیا ہے۔ نیز جس پر ہم کتابت حدیث کے ضمن میں اپنا تبصرہ پیش کر چکے ہیں۔

٭٭

 

 

 

 

 

چوتھا اعتراض: “طلوع اسلام” کا معیار حدیث

 

مرکز ملت کی دریافت کے بعد بھی حدیث کے بہت سے ایسے گوشے باقی رہ گئے تھے۔ جن کی بناء پر “طلوع اسلام” کو احادیث کی افادیت کا اقرار کرنا ہی پڑا۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا تھا کہ اگر احادیث کی روایات کو ناقابل اعتماد قرار دے دیا جائے تو سرے سے قرآن کریم کو ہی اللہ کا کلام اور اس کا محفوظ شکل میں موجود ہونا بھی ثابت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی مجبوری کے تحت پرویز صاحب نے فرمایا:

“آ پ سوچئے تو کہ اگر احادیث و روایات سے انکار کر دیا جائے تو پھر خود قرآن کے متعلق شبہات پیدا ہو جائیں گے۔ آخر یہ بھی تو روایات ہی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺ نے قرآن کو موجود شکل میں ترتیب دیا۔”(مقام حدیث صفحہ: 340)

لہٰذا” طلوع اسلام” کو اپنی ضرورت اور پسند کی روایات کے لیے کچھ معیار قائم کرنے پڑے جو یہ ہیں:

“جہاں تک احادیث کا تعلق ہے ہم ہر اس حدیث کو صحیح سمجھتے ہیں جو قرآن کریم کے مطابق ہو یا جس سے حضور نبی اکرمﷺ یا کبار صحابہ ؓ کی سیر داغدار نہ ہوتی ہو۔” (طلوع اسلام کا مقصد و مسلک، شق نمبر: 14)

اس اقتباس سے درج ذیل تین معیار سامنے آئے:

  1. حدیث قرآن کے مطابق ہو۔
  2. اس میں رسول اللہﷺ پر کسی قسم کا طعن نہ پایا جاتا ہو کہ اس سے آپ کی سیرت داغدار ہو۔
  3. یہی اصول کبار صحابہ ؓ کے لیے بھی سامنے رکھا جانا چاہیے۔

 

معیار اول، قرآن کے مطابق ہو:

 

اس معیار پر درج ذیل اعتراض وارد ہوتے ہیں:

  1. جو حدیث قرآن کے مطابق ہوگی اس کو تسلیم کرنے کا فائدہ کیا ہے؟ کیا اس کے عوض قرآن ہی کافی نہیں؟ قرآن کو اپنی تائید کے لیے کسی حدیث یا روایت کی ضرورت ہی کیا ہے؟
  2. جو روایات قرآن کی آیات کی ترتیب بتلاتی اور اس کی محفوظیت کو ثابت کرتی ہیں۔ آپ انہیں کس قاعدہ کی رو سے درست سمجھتے ہیں؟ یا مثلاً یہ کہ نمازوں کی تعداد ہر دن میں پانچ ہے۔ یہ حدیث قرآن کی کون سی آیت کے مطابق ہے؟ پھر کیا یہ حدیث ایسی احادیث”طلوع اسلام” کے نزدیک صحیح ہوں گی یا غلط؟ یہ بھی خیال رہے کہ ایسی روایات سے نہ رسول کریمﷺ کی سیرت داغدار ہوتی ہے نہ صحابہ کرام ؓ کی۔
  3. قرآن تو حروف و الفاظ کا مجموعہ ہے جب تک اس کا کوئی مفہوم متعین نہ کیا جائے یہ کیسے معلوم ہو کہ فلاں حدیث قرآن کے مطابق ہے یا نہیں؟ اب ظاہر ہے کہ “طلوع اسلام” کے قرآن مفہوم[23] کو صحیح تصور کیا جائے جو کہ ہر آن بدلتا رہتا ہے۔ تو اس کے مطابق ایک ہی حدیث ایک مقام پر تو صحیح قرار پاتی ہے لیکن دوسرے مقام پر یا دوسرے دور میں وہی حدیث مردود بن جاتی ہے تو اس قسم کی کئی مثالیں آپ کو اس کتاب میں مل سکتی ہیں۔
  4. اگر قرآن ہی کی ایک آیت دوسری کے مخالف یا متعارض ہوتو پھر کیا کیا جائے؟ مثلاً

ارشاد باری ہے:

1- (اِنَّكَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ​) (القصص:56)

“(اے محمد!) تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دےسکتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے”​

اور دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

2- (وَ اِنَّكَ لَتَہْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ) (الشوریٰ: 52)

“اور بے شک (اے محمد!) تم سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہو”​

اسی طرح جب و قدر کی آیات میں بھی بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہے۔ پھر اور بھی کئی ایسے امور ہیں ۔ اب ہم چونکہ قرآن کے ارشاد کے مطابق اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن میں اختلاف نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے مقامات پر تاویل کے ذریعہ تطبیق پیدا کر لیتے ہیں۔[24] پھر جو لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اور رسول اللہﷺ کے قول و فعل میں تعارض یا خلاف نہیں ہوسکتا۔ تو وہ اگر ایسے مقامات پر تاویل کے ذریعہ تطبیق پیدا کر لیں تو ان پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ لہٰذا درج بالا وجود کی بناء پر یہ معیار درست نہیں۔

 

معیار دوم، رسول اللہ ﷺ کی توہین:

 

اب دیکھئے اگر قرآن کی کسی آیت سےر سول اللہﷺ کی سیرت بظاہر داغدار معلوم ہوتی ہو تو اس کا کیا حال ہوگا؟ کیا پھر قرآن کی اس آیت کو بھی (نعوذ باللہ) مردود سمجھا جائے گا۔ مثلاً قرآن میں ہے:

1- (عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى اَنْ جَآءَہُ الْاَعْمٰى) (عبس: 1-2)

“اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا”​

اب دیکھئے! یہ آیت ایک اخلاقی عیب کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ جس سے آپ کی سیرت داغدار ہوتی ہے۔

2- (اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙلِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ) (الفتح: 1-2)

“بے شک ہم نے آپ کو فتح مبین دے دی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دے”

3- (وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْہِمْ شَیًْٔا قَلِیْلًا) (بنی اسرائیل: 74)

“اور اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو تم کسی قدر ان (مشرکین مکہ) کی طرف مائل ہو ہی چلے تھے”​

بتایے! کیا یہ آیت رسول اکرم ﷺ کے کسی کمزور پہلو کی نشاندہی نہیں کر رہی ؟ اور اس سے آپﷺ کی سیرت داغدار نہیں ہوتی؟

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہی باتیں قرآنی آیات کے بجائے احادیث میں مذکور ہوتی تو وہ یقیناً اس معیار کے مطابق مردود قرار پاتیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ” طلوع اسلام” کا یہ قائم کردہ معیار بھی درست نہیں۔

بات در اصل یہ ہے کہ بھول چوک اور لغزش انسانی فطرت میں داخل ہے اور اس سے انبیاء بھی مبرا نہ تھے۔ انبیاء کی عصمت کا مطلب صرف یہ ہے کہ ان کی لغزشوں پر انہیں مطلع کر دیا جاتا ہے۔

 

معیار سوم، توہین صحابہ ؓ:

 

1- سورہ تحریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک راز کی بات کا ذکر کرتے ہوئے دو ازواج مطہرات کے سلسلہ میں فرمایا:

(اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا) (التحریم: 4)

“اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کر لو تو (یہی بہتر ہے ورنہ) تمہارے دل ٹیڑھے ہو گئے ہیں۔”​

2- سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات ؓ کے دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کی طرف میلان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

(یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا) (الاحزاب: 28)

“اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کی طلب گار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے دوں اور تمہیں اچھی طرح رخصت کر دوں”​

گویا ازواج مطہرات ؓ کا یہ میلان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظروں مین اتنا ناپسندیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو حکم دیا کہ اگر وہ اپنے اس میلان سے باز نہیں آتیں تو ان سب کو طلاق دے کر رخصت کر دو۔ بتلائیے! یہ زواج مطہرات ؓ کی صریح توہین نہیں؟

ا ب صحابہ کرام ؓ کی بات سنئے! کبار صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں:

1- (وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَا انْفَضُّوْۤا اِلَیْہَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىِٕمًا) (الجمعہ: 11)

“اور یہ لوگ جب کوئی تجار ت یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں”

2- (وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِہُوْنَۙ یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ ہُمْ یَنْظُرُوْنَ) (الأنفال: 5-6)

“اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی۔ وہ اس حق کے بارے میں اس کے بعد کہ اس کا ظہور ہو گیا تھا، آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔”

3- (عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ) (البقرہ: 187)

“اللہ تعالیٰ نے معلوم کر لیا تم اپنی جانوں سے خیانت کرتے تھے۔ پس اللہ رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہوا اور تمہارا قصور معاف فرما دیا۔”

4- (حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ) (آل عمران: 152)

“یہاں تک کہ تم نے(جنگ اُحد میں) بزدلی دکھائی اور حکم (رسول ﷺ) میں جھگڑا کیا اور اپنی پسندیدہ چیز (فتح کے آثار) دیکھ لینے کے بعد تم نے (رسول ﷺ کی) نافرمانی کی۔”​

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ خطبہ جمعہ کے وقت تجارت کا مال یا کوئی تماشا دیکھ کر نبی اکرمﷺ کو کھڑا چھوڑ جاتے تھے۔ بعض جہاد کو ناپسند کرتے تھے۔ بعض ماہ رمضان میں رات کو مباشرت کر لیتے تھے اور بعض نے جنگ احد میں بزدلی بھی دکھائی اور رسولﷺ کی نافرمانی بھی کی تھی۔ اب دیکھئے ان واقعات سے کبار صحابہ ؓ کی توہین ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر طلوع اسلام کا قائم کردہ یہ معیار اتنا ہی اہم تھا تو قرآن نے ان واقعات کا ذکر کیوں کر دیا؟ اب اگر ان ہی واقعات کی تشریح یا ایسی کوئی دوسری بات طلوع اسلام ذخیرہ احادیث میں دیکھ پاتا تو اسے محض بناء پر موضوع قرار دیتا کہ اس سے صحابہ کی توہین ہوتی ہے یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ لہٰذا طلوع اسلام کا قائم کردہ یہ معیار بھی درست نہیں ۔

روایت حدیث کے یہ تین معیار تو پرویز صاحب نے بتلائے ہیں اور ان کے استاد حافظ اسلم صاحب جہاں مرویات ابو ہریرہؓ کا ذکر کرتے ہیں ، تو فرماتے ہیں:

“ان میں سے بہت سی حدیثیں ایسی ہیں کہ ان پر علم و عقل کی رو سے گرفت[25] کی گئی ہے اور کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمارا ضمیر قبول نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی روایتیں انہوں (حضرت ابوہریرہؓ) نے بیان کی ہوں گی۔”(مقام حدیث صفحہ نمبر:82)

گویا حافظ اسلم صاحب نے چوتھا معیار یہ بتلایا کہ وہ علم کے خلاف نہ ہو۔ علم سے ان کی مراد قرآنی علوم نہیں۔ قرآن کا ذکر تو ہو چکا ۔ اس لیے ان کی مراد جدید سائنسی علوم یا مشاہدہ اور تجربہ وغیرہ کا علم ہی ہوسکتے ہیں۔ جب کہ پانچواں معیار بتلایا کہ وہ عقل کے خلاف نہ ہو۔

 

معیار چہارم، خلافِ علم نہ ہو:

 

اب دیکھئے! جہاں تک چوتھے معیار کا تعلق ہے تو قرآن میں مذکور تمام معجزات انبیاء اور مابعد الطبیعات امور ، جدید سائنسی علوم یا مشاہدہ اور تجربہ کے خلاف ہیں۔ اب منکرین حدیث کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن میں مذکور تمام معجزات اور مابعد الطبیعات امور کا علی الاطلاق انکار تو نہیں کرتے، مگر ان کی نہایت بھونڈی تاویلات پیش کر دیتے ہیں جن پر علم و عقل کی رو سے بھی شدید گرفت کی جا سکتی ہے اور بہت سے مقامات پر ہم نے بھی کی ہے۔ لیکن ایسے ہی واقعات آپ حدیث میں دیکھ پاتے ہیں تو ان احادیث کو موضوع قرار دے کر انکار کر دیتے ہیں:

 

معیار پنجم، خلافِ عقل نہ ہو:

 

یہ معیار محدثین نے بھی قائم کیا ہے لیکن اس معیار پر پرکھنے کے بعد محدثین جس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ منکرین حدیث کی عقلیں انہیں بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ ان دونوں فرقوں کی عقل میں فرق ہے۔ محدثین اپنی عقل کو وحی الٰہی کے تابع رکھتے اور عقل کا جائز استعمال کرتے ہیں۔ جس کی تفصیل ہم دوسرے باب میں پیش کر آئے ہیں۔ لیکن طلوع اسلام عقل کی برتری اور تفوق کا قائل ہے اور یہ چیز اسے معتزلین سے ورثہ میں ملی ہے۔ اگرچہ صوفیہ کی طرح” طلوع اسلام” کا بھی زبانی دعویٰ یہی ہے:

“تنہا عقل انسانی زندگی کے مسائل کا حل دریافت نہیں کر سکتی۔ اسے اپنی رہنمائی کے لیے اسی طرح وحی کی ضرورت ہے جس طرح آنکھ کو سورج کی روشنی کی ضرورت “ّ(طلوع اسلام کا مسلک: شق نمبر:1)

مگر عملاً وہ وحی کے سور ج کو عقل کا چراغ دکھانے سے باز نہیں آتے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: میری مفصل تصنیف” آئینہ پرویزیت” کا حصہ دوم “طلوع اسلام” طلوع اسلام کے نظریات” اور حصہ ششم” طلوع اسلام کا اسلام”

قرآن کی جن آیات میں عقل و بصیرت سے کام لینے کا ذکر ہے یہ حضرات صرف انہیں آیات کا ذکر کرتے ہیں انہیں بار بار دہرایا کرتے ہیں اور جن آیات میں عقل کو وحی کے تابع رکھنے کی ہدایت ہے، ان کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتے ہیں:

(وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا) (الأحزاب: 36)

“جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو اس کے بعد مومن مرد یا عورت کا کچھ اختیار باقی نہیں رہتا۔(یعنی اس کے بعد عقل کا استعمال حرام ہو جاتا ہے) (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا”​

پھر مومنوں کو اللہ تعالیٰ یہ حکم بھی دیں:

(فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا) (النساء: 65)

“اگر وہ اپنے اختلافات میں رسول اللہﷺ کو قاضی نہ بنائیں۔ پھر ان کا فیصلہ بلا چون و چرا اور برضا و رغبت تسلیم نہ کریں تو وہ مومن ہو ہی نہیں سکتے”​

اس طرح فرمان نبویﷺ کے سامنے بھی عقل کے استعمال پر اتنی شدید پابندی لگا دی گئی تھی لیکن ان سب باتوں کے باوجود طلوع اسلام کو داد دیجئے کہ اس نے وحی الٰہی میں عقل کی مداخلت کے لیے قرآن ہی سے ایک عدد دلیل بھی مہیا فرما دی جو یہ ہے:

 

عقل کے استعمال کی دلیل:

 

اور وہ (یعنی قرآن) مومنین کی خصوصیت یہ بتاتا ہے کہ:

(وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا) (الفرقان: 73)

“یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے(اور تو اور) آیات الٰہی بھی پیش کی جائیں تو وہ ان پر بھی بہرے اور اندھے بن کر نہیں گرے”​

(بلکہ عقل و فکر سے کام لے کر انہیں قبول و اختیار کرتے ہیں) (مقام حدیث:4)

اب دیکھئے ! ترجمہ میں خط کشیدہ تمام الفاظ پرویز صاحب کی طرفسے یا تو اضافہ ہیں یا مغالطے ہیں۔

1- (ذُکرُوا) کا ترجمہ” پیش کی جائیں” غلط ہے۔ پیش کرنا کے لیے لفظ” عَرَضَ” آتا ہے۔

(ذُکرُوا) کا صحیح ترجمہ” نصیحت کیے جاتے ہیں” ہوگا۔

2- آخر میں پرویز صاحب نے اضافہ فرمایا: (بلکہ عقل و فکر سے کام لے کر انہیں قبول و اختیار کرتے ہیں) اس میں ” قبول و اختیار” کا اضافہ کسی لفظ سے بھی مستنبط نہیں ہوتا۔(صُمّاً وَّ عُمیَاناً) کے الفاظ سے” غور سے سننا اور اس میں فکر کرنا” تو مستنبط ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا جب ان کو اپنے پروردگار کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ بہرے اور اندھے نہیں ہو رہتے(بلکہ وہ ان آیات کو غور و فکر سے سنتے ہیں) اس ترجمہ میں وحی الٰہی میں عقل کی مداخلت کا کوئی جواز نہیں نکلتا۔ جب کہ پرویز صاحب کے طبع زاد ترجمہ سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ آیات الٰہی میں عقل و فکر سے کام لو۔ پھر اگر قبول و اختیار کرنے کی چیز ہو تو قبول و اختیار کرو، ورنہ رد کر دو۔ یہ کام ایک کافر کا تو ہوسکتا ہے۔ مسلمان کا نہیں ہو سکتا ۔ اس آیت میں(لَم یَخِرُّوا عَلَیھَا صُمَّا وَّ عُمیَاناً) در اصل اپنے لغوی معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ محاورہ ہے جس کے معنی ہیں” ٹس سے مس نہ ہو نا۔” یعنی مومنوں کی یہ حالت نہیں ہوتی کہ وہ آیات الٰہی سے نصیحت کیے جائیں تو وہ ٹس سے مس[26] بھی نہ ہوں، بلکہ ان آیات کو غور سے سنتے اور دل میں جگہ دیتے ہیں۔ اب اگر اس آیات سے پرویز صاحب وحی پر عقل کی برتری ثابت کر دکھائیں تو اسے ان کا کرشمہ ہی سمجھنا چاہیے۔ پھر جب آپ قرآن میں عقل کا اس طرح استعمال کرسکتے ہیں تو احادیث کب ان کے معیار پر پوری اترسکتی ہیں؟

((الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات))[27] ​

٭٭

 

 

 

ایک دھوکہ

 

                از قلم: محترم الشیخ‌ محمد اسماعیل السلفیٌ​

 

بعض منکرین سنت نے بڑی عنایت فرمائی وہ فرماتے ہیں کہ ہم احادیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ یہ تاریخ کا ایک قیمتی سرمایہ ہے اور مقدس تاریخی دستاویز۔

كَبُرَتْ كَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ​       [سورۃ الکہف:5]

“بہت بڑا کلمہ ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہا ہے”​

مقام نبوت کو سمجھ لینے کے بعد اس کا مطلب انکار نبوت کے سوا کچھ نہیں۔ بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی توہین ہے۔ اس لفظی ملمع سازی کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ابن خلدون، ابن جریر، ابن کثیر اور دیگر مؤرخین کے پس و پیش ہوگا۔ہر آدمی کو اس پر بحث و تنقید کا حق ہوگا۔ پیغمبر تاریخی مباحث کا تختہ مشق ہوگا۔ بحث و نظر کی موشگافیاں نبوت کے ماحول پر محیط ہوں گی۔ یہ مقام تمام علماء کا ہے بلکہ بحیثیت مورخ یورپ کے ملحدوں نے بہترین تاریخی سرمایہ علم کی منڈیوں میں بکھیرا ہے جو اہل نظر کے لیے دعوت فکر کا سامان مہیا کر رہا ہے۔

ہمارے یہ دوست(اگر شرم و حیا دنیا سے نابود نہیں ہو گئی تو) غور کریں کہ یہ کونسا مقام ہے جو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رہے ہیں۔ ایک شخص اپنے باپ کے متعلق کہتا ہے کہ میں اس کا بیٹا تو نہیں لیکن ویسے وہ شریف آدمی ہے۔ یورپ کے اکثر بے دین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدس انسان سمجھتے ہیں۔ لیکن پیغمبر نہیں سمجھتے ۔ یہی حیثیت حضرات اہل قرآن(پرویزی، غامدی، چکڑالوی) نے انبیاء کو عنایت فرمائی ہے۔ وہ دیانت داری سے سوچیں کہ مقام نبوت اور عام علماء کے مقام میں کیا فرق رہا ۔

فَلْیَحْذَرِ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ [سورہ النور:24]

“ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اس (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں۔ کہیں انہیں کوئی آزمائش نہ آ پہنچے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب نہ آلے۔​

اقبتاس از حجیت حدیث صفحہ:167 (147)مطبوعہ فاران اکیڈمی اردو بازار لاہور۔​

٭٭

 

حواشی

 

[1]: اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے: مصنفؒ کی مبسوط کتاب ” آئینہ پرویزیت” کے حصہ چہارم کا باب دوم” کتابت و تدوین حدیث”

[2]: “(دیکھئے مفردات القرآن(اردو ترجمہ) صفحہ نمبر :657، طابع و ناشر شیخ شمس الحق۔ اقبال ٹاؤن لاہور۔)

[3]: ترجمہ: “تمام اعمال کا دار و مدار صرف نیتوں پر ہے”

تخریج: صحیح البخاری: بَدہ الوحی (قبل کتاب الایمان) : باب کیف کان بدہ الوحی الی رسول اللہﷺ، الحدیث:1/ صحیح مسلم: کتاب الامارۃ: باب قولہﷺ (انما الاعمال بانیات) ، الحدیث:1907

[4]: ترجمہ : ” میرے ذمے جو کوئی بات جان بوجھ کر لگائے حالانکہ میں نے وہ نہ کہی ہو تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ کی) آگ میں بنا لے۔

تخریج: صحیح البخاری: کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبیﷺ ، الحدیث:107/ صحیح مسلم، المقدمۃ: باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہﷺ۔

[5]: یہ شخص منکرین حدیث کا ایک مبلغ اور بہت بڑا وکیل تھا۔ انکار حدیث کی تائید و حمایت میں اس نے بہت کام کیا ہے۔ محترم الشیخ عبد الرحمٰن کیلانی صاحب نے اس کے باطل اور مردود نظریات کا اپنی کتاب آئینہ پرویزیت کے “چوتھے حصے” میں خوب رد کیا ہے۔ اس کا پورا نام حافظ محمد اسلم جیراجپوری ہے۔ یہ شخص بھارت(یو-پی) کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک قصبہ “جیراج پور” میں 1882ء میں پیدا ہوا۔ 1903ء میں “پیسہ اخبار” لاہور میں عربی کا مترجم اور 1906ء میں علی گڑھ کالج میں عربی اور فارسی کا استاد رہا اس کی بڑی تصنیف “تاریخ الامت” (آٹھ جلدیں) ہے(ابو عمار ابن عبدالجبار)

[6]: اس بحث کے لئے ملاحظہ ہو: مصنف کی مفصل کتاب” آئینہ پرویزیت” کے حصہ چہارم کا باب سوم “تنقید حدیث” وہاں مصنف ؓ نے دو قرآنی آیات کے حوالے دیئے ہیں، جو درج ذیل ہیں:

1- (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ) (المائدۃ: 106)

ترجمہ:” اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کو موت آ موجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم(مسلمانوں) میں دو مرد عادل( صاحب اعتبار) گواہ بنیں۔”

2- (فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِكُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْہِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ) (الطلاق: 2)

ترجمہ:”پھر جب (مطلقہ) عورتیں اختتام عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو اچھی طرح(زوجیت میں) پاس رکھو یا پھر اچھے طریقے سے علیحدہ کر دو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ بنا لو۔ اور گواہی کو اللہ تعالیٰ کے لیے قائم کرو۔”​

بعد ازاں مصنف ؒ فرماتے ہیں:” اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔ جو نبی نہیں ہوتے کہ انہیں وحی یا الہام کے ذریعے گواہوں کی عدالت یا صدق و کذب کا پتہ چل جائے۔ بقول حافظ اسلم صاحب” کسی کے صدق و کذب پر یقینی شہادت ہو ہی نہیں سکتی” پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم کیوں دیا جو عام انسانوں کے بس سے باہر ہے؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

(لَا یُكَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا) (البقرۃ: 286)

ترجمہ:” اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔”​

[7]: تفصیل کے لئے دیکھئے”آئینہ پرویزیت کے حصہ چہارم” دوام حدیث ” کا باب چہارم” اصول حدیث” صفحہ نمبر 577-595 مطبوعہ از مکتبہ السلام وسن پورہ لاہور(دسمبر 1994ء)

[8]: (صحیح البخاری کتاب الاحکام،باب موعظہ الامام اللخصوم ، الحدیث :7169، صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ: باب الحکم بالظاھر واللحن بالحجۃ، الحدیث:1713)
[9]: صحیح الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ: باب منہ (رقم الباب:22، الحدیث:2045، صحیح النسائی کتاب الأشربۃ، باب الحب علی ترک الشبھات، الحدیث :5269، سنن الدارمی، کتاب البیوع ، باب دع مایربیک الی مالا یربیک، الحدیث:2535، مسند احمد:1/200، ارواء الغلیل، الحدیث :12،2074، اس حدیث کو امام ابن حبان ، امامبیھقی، امام حاکم اور امام طبرانی (رحمہ اللہ علیہم) نے بھی روایت کیا ہے۔

[10]: یہ فارسی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جس کا معنی ہے کہ” ملا اپنی تعریف آپ ہی کر رہا ہے”

[11]: صحابہ کرامؓ کسی بھی رو نما ہونے والے واقعہ کے سب سے پہلے عینی شاہد(Eye Witness) تھے۔ وہ جو کچھ روایت کرتے تھے اس کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا اور کانوں سے سنا ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث میں جا بجا صحابہ کرام ؓ احادیث کو روایت کرتے ہوئے۔ “رَأَیَتُ” یا”سِمِعتُ” کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ “رَأَیتُ” کا معنی ہے کہ میں نے دیکھا اور ” سَمِعتُ” کا معنی ہے کہ میں نے سنا ۔ دونوں کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

1- ((انما انت حجر لا تضر ولا تنفع ولا لاانی رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلک ماقبلتک ، ثم قبلہ))

(اے حجر اسود!) تو محض ایک پتھر ہے۔ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ ۔ اور اگر میں نے رسول اللہﷺ کو تیرا بوسہ لیئے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا، یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد سیدنا عمر ؓ نے حجر اسود کا بوسہ لیا۔”​

(مؤطا امام مالک، کتاب الحج: باب تقبیل الرکن الأسود فی الاستلام، صحیح ابن خزیمۃ)

2- ایک قریشی بزرگ جناب اسماعیل بن عبد الرحمٰن ؒ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ کا ” مقامِ حمی” تک کے سفر میں ساتھی بنا۔ جب آفتاب غروب ہو گیا تو میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو یہ ن کہنے میں ڈر محسوس کیا کہ انہیں عرض کروں کہ نماز مغرب کا وقت ہو چکا ہے۔ غروب آفتاب کے بعد بھی وہ مسلسل محوِ سفر رہے۔ یہاں تک کہ آسمان کے کنارے کی سفیدی جاتی رہی اور نماز عشاء کی سیاھی چھا گئی۔ یعنی نماز عشاء کا وقت ہو گیا۔ تب وہ اپنی سواری سے اترے اور مغرب کی تین رکعات پڑھیں اس کے بعد (نماز عشاء کی) دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد اپنے ساتھ سفر کرنے والے قریشی بزرگ جناب اسماعیل بن عبد الرحمٰن ؒ سے فرمانے لگے:

((ھکذا رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یفعل))

“میں نے رسول اللہﷺ کو اس طرح (مغرب و عشاء کو جمع) کرتے ہوئے دیکھا ہے۔” ​

(نسائی ۔ کتاب المواقیت: باب الوقت الذی یجمع فیہ المسافر بین المغرب والعشاء: 592)

3- سیدنا شداد بن اوس ؓ فرماتے ہیں:

((خصلتان سمعتھما من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان اللہ کتب الاحسان علیٰ کل شیء۔ فاذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح ولیحد احد کم شفرتہ ولیرح ذبیحتہ))

“میں نے رسول اکرم ﷺ سے دو قسم کی عادتوں کے متعلق سنا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے احسان اور خوش اسلوبی کا معاملہ کرنا فرض کیا ہے۔ لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھی طرح قتل کیا کرو۔(یعنی قصاص میں خون کا بدلہ لینا پڑے تو مقتول کو جلدی فارغ کر دیا کرو اس کو تڑپا کر قتل نہ کیا کرو۔) اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے کا ارادہ کرو تو اس کو بھی بہتر طریقہ سے ذبح کیا کرو، اپنی جھری تیز کر لیا کرو اور جانور کو ذبح کرتے وقت راحت پہنچانے کا اہتمام کیا کرو۔”​

4- ام المومنین سیدہ میمونہ ؓ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان کے بعض گھر والوں نے انہیں اس کام سے منع کیا کہ آپلوگوں سے قرض نہ لیا کریں۔ گویا ان کے گھر والوں نے سیدہ میمونہ ؓ کے قرض لینے کے معاملہ کو برا جانا۔ سیدہ میمونہ ؓ فرماتی ہیں:

((بلیٰ انی سمعت نبی وخلیلی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: مامن مسلم یدان دینا یعلم اللہ منہ انہ یرید اداءہ الا اداہ اللہ عنہ فی الدنیا))

“جی ہاں! میں نے اپنے نبی اور دلی دوست جناب محمد رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی مسلمان جب کسی سے قرض لے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہو کہ اس کا ارادہ واقعتاً اسے لوٹانے کا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کی طرف سے ضرور ادا کرا دے گا۔”​

(ابن ماجۃ، کتاب الصدقات: باب من ادان دینا وھو ینوی قضاء: 2408)

مذکورہ بالا چار مثالوں میں سے پہلی دو کا تعلق آنکھوں سے دیکھنے کے ساتھ ہے۔ جب کہ آخری دو کا تعلق کانوں سے سننے کے ساتھ ہے۔ (ابو عمار)

[12]: صحابہ کرامؓ سیرت رسول ﷺ کو بغور دیکھنے کے بعد اس بات کے واقعتاً پابند تھے کہ اس کو اپنی عملی زندگی (practical Life) میں لاگو بھی کریں۔ تعلیمات رسول ﷺ کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

(لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰہَ كَثِیْرًا) (الأحزاب: 21)

“یقیناً تمہارے لیے رسول اللہﷺ میں عمدہ نمونہ (موجود ) ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور آخرت کے دن کی توقع رکھتا ہے۔ اور بکثرت اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔”​

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر میں ارشاد فرمایا ہے:

(وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ١ۗ وَ مَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا١ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ) (الحشر: 7)

“تمہیں جو کچھ رسول(ﷺ) دے وہ لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔”​

پھر صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہﷺ کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر بن کر دکھا دیا۔ جو مزاج رسول میں آتا وہ اس پر اپنا سرتسلیم خم کر دیتے۔

اس کی صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

1- خالد بن اسید کے خاندان کے ایک فرد نے سیدنا ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن عمر ؓ سے سوال کیا :

((یا ابا عبد الرحمن انا نجد صلوۃ الخوف وصلوۃ الحضر فی القرآن و لا نجد صلوۃ السفر فقال عبد اللہ بن عمر: یا ابن أخی! ان اللہ تعالیٰ بعث الینا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم ولا تعلم شیئا فانما نفعل کما رایناہ یفعل))

“اے ابو عبد الرحمٰن! بلا شک و شبہ ہم حالت جنگ کی نماز(صلٰوۃ خوف) اور حالت اقامت کی نماز کا بیان تو قرآن میں پاتے ہیں۔ مگر نماز سفر کا تذکرہ قرآن مجید میں نہیں ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: اے میرے بھتیجے! بے شک اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف محمدﷺ کو نبی بنا کر مبعوث کیا تھا، جب کہ ہم دین اور شریعت کے بارے کچھ نہیں جانتے تھے۔ (لہذا ہمارے لئے متبع و مقتدی شخصیت جناب محمدﷺ ہیں۔) جیسے جیسے ہم نے انہیں کوئی عمل سرانجام دیتے دیکھا ہے ویسے ویسے ہم عمل کرتے رہے۔(جن میں سے ایک نماز سفر بھی ہے۔ اگرچہ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں نہیں ہے مگر ہم اس کو اس لئے پڑھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے حالت سفر میں یہ نماز ثابت ہے۔) “​

(موطا امام مالک، کتاب قصر الصلوۃ فی السفر)

2- سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ایک شخص حالت نماز میں با آواز بلند یہ کلمات کہنے لگا:

((اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا))

“اللہ سب سے بڑا ہے، بہت زیادہ تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے نقص سے پاک ہے۔ صبح و شام ہم ان باتوں کا اعتراف و اقرار کرتے ہیں۔” ​

نماز سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہﷺ نے پوچھا: یہ کلمات کہنے والا شخص کون ہے؟ قوم کا وہ فرد بول پڑا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے یہ کلمات ادا کیئے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

((عجبت لھا وذکر کلمۃ معنا ھا فتحت لھا ابواب السماء ، قال ابن عمر: ماترکتہ منذ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقولہ))

“مجھے ان کلمات کی بنا پر بڑا تعجب ہوا ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس کا مطلب کچھ یوں تھا:” ان کلمات کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔” ​

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: جب سے میں نے آپﷺ کا یہ ارشاد گرامی سنا ہے تب سے میں نے یہ کلمات کبھی نہیں ترک کیئے ۔”

(نسائی، کتاب الافتتاح : باب القول الذی یفتتح بہ بالصلٰوۃ: 887) (ابوعمار)

[13]: سیرت طیبہ کے اعتقادی، عملی، معاشرتی، معاشی، سیاسی،عائلی، ثقافتی، اندرونی، بیرونی الغرض تمام پہلوؤں کے بعد آنے والی امت محمدیہﷺ کے افراد تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھانے کا رسول اللہﷺ نے انہیں حکم بھی دیا تھا اور یہ ذمہ داری نبھانے والے کے لیے دعائیہ کلمات بھی ارشاد فرمائے تھے۔ صرف دو مثالیں پیش خدمت ہیں:

1- مشہور تابعی جناب ابو شریحؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (یزید بن معاویہ کی طرف سے متعین کردہ گورنر مدینہ) عمرو بن سعید سے اس وقت کہا، جب وہپ مکہ مکرمہ کی طرف(سیدنا عبد اللہ بن زبیر ؓ سے لڑنے کے لیے) فوجیں بھیج رہے تھے:

“امیر محترم! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ کے سامنے بیان کروں جو رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے روز ارشاد فرمائی تھی ۔ اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اکرمﷺ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری دونوں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں۔ آپﷺ نے (سب سے پہلے) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر ارشاد فرمایا:” مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے۔ انسانوں نے مکہ کو حرم قرار نہیں دیا۔لہذا((سن لو!) کسی شخص کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالی ٰاور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ مکہ میں کسی کا خون بہائے یا کسی درخت کو کاتے۔ اگر کوئی شخص مکہ میں خون بہانے کا اس بات سے جواز نکالے کہ مکہ میں رسول اللہﷺ نے بھی تو(فتح مکہ کے روز) جنگ کی تو اس کو کہہ دینا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت عطا کی تھی، تمہارے لیے اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت ویسی ہی لوٹ آئی ہے جیسی کل تھی۔ جو افراد یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں تک میرا یہ پیغام اور میری دعوت پہنچا دیں جو آج یہاں اس میدان میں نہیں ہیں۔

(صحیح بخاری، کتاب العلم: باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب: 104، صحیح مسلم، کتاب الحج: باب تحریم مکۃ وصیدھا وخلاھا وشجر ھا ولقطتھا: 1354)

2- مشہور تابعی ابان بن عثمان ؒ فرماتے ہیں:” ایک دفعہ سیدنا زید بن ثابتؓ مروان بن حکم کے پاس سے نکلے۔ دوپر کا وقت تھا۔ ہم نے کہا کہ مروان نے سیدنا زید ؓ کو کسی اہم بات کے لیے اپنے ہاں بلایا ہو گا۔ لہذا ہم ان کی طرف چل دیے اور ان سے سوال کیا کہ کس مقصد کے لیے مروان نے آپ کو بلایا تھا۔ سیدنا زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہم سے ایسی باتوں کے بارے سوال کیا تھا جو ہم نے رسول اللہﷺ سے سماعت کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ حدیث تھی۔(جو میں نے ابھی انہیں سنائی ہے) یہ حدیث رسول ﷺ میں نے خود رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔

آپﷺ یہ دعا فرما رہے تھے۔

((نضر اللہ امرأ سمع منا حدیثا فحفظہ حتی یبلغہ غیرہ۔ فرب حامل فقہ الی من ھوأفقہ منہ۔ ورب ھامل فقہ لیس بفقیہ))

“اللہ تعالیٰ ترو تازہ اور سر سبز و شاداب رکھے اس شخص کو جو ہم سے حدیث سنتا ہے۔پھر اس کو یاد کر لیتا ہے۔ پھر اس کو ایسے شخص تک پہنچاتا ہے جس تک وہ حدیث نہ پہنچی ہو۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس فقہ اسلامی(یعنی حدیثِ رسولﷺ) کا علم ہوتا ہے لیکن جسے وہ آگے بیان کرتے ہیں وہ بیان کرنے والے سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس حدیث رسول ﷺ کا علم تو ہوتا ہے مگر وہ فقیہ (محدث) نہیں ہوتے۔”​

(ترمذی، کتاب العلم: باب فی الحب علیٰ تبلیغ السماع: 2656 ابن ماجۃ، کتاب السنۃ: باب من بلغ علما: 230) (ابوعمار)

[14]: یہ بات روز روشن کی طرح ایک اٹل اور بے بدل حقیقت ہے کہ صحابہ کرام ؓ رسول اللہﷺ کو دنیا اور دنیا کے تمام رشتوں اور ناتوں سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔ کوئی عزیر سے عزیر رشتہ بھی رسول اکرمﷺ سے بڑھ کر انہیں عزیز نہ تھا۔ ایسا ہوتا بھی کیوں؟ سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:

((لا یومن احد کم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین))

“تم میں کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہ ہوگا جب تک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔”​

(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان: 15، صحیح مسلم ، کتاب الایمان : باب وجوب محبۃ رسول اللہﷺ اکچر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعین۔۔۔۔۔ الخ:44)

سیدنا عبد اللہ بن ہشام ؓ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کے متعلق ایک واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں:

((کنا مع النبی ﷺ وھو آخذ بید عمر بن الخطاب فقال لہ عمر : یا رسول اللہ! لانت احب الی من کل شیء الا من نفسی۔ فقال النبیﷺ لہ:” لا والذی نفسی بیدہ حتیٰ اکون احب الیک من نفسک” فقال لہ عمر: فانہ الان واللہ لانت احب الی من نفسی۔ فقال النبیﷺ ” الان یا عمر!” ))

“ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ جا رہے تھے اور آپﷺ سیدنا عمر بن خطاب ؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر ؓ نے عرض کیا! یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے عزیز ہیں، سوائے میری اپنی جان کے۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا :” نہیں! اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔(آپ کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں” سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ! پھر اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہاں! عمر! اب تیرا ایمان مکمل ہوا ہے۔”​

(صحیح البخاری، کتاب الایمان والنذور: باب کیف کانت یمین النبیﷺ : 6632)

یہ بات محض زبانی کلامی اور نظریاتی (Ideological ) ہی نہ تھی بلکہ عملی (Practically ) لحاظ سے بھی حقیقت پر مبنی تھی۔ اس ضمن میں غزوہ احد کا نقشہ ذرا اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں جب اسلامی لشکر کا ایک بہت بڑا حصہ رسول اللہﷺ سے جدا ہو جاتا ہے۔ اسلامی لشکر کا دوسرا حصہ دشمن پر فدایانہ حملے شروع کر دیتا ہے۔ جب کہ اسلامی لشکر کا تیسرا گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی قطعاً پروا نہیں تھی انہیں صرف اور صرف رسول اکرمﷺ کی فکر دامن گیر تھی۔ رسول اللہﷺ کے ارد گرد کافروں کے گھیراؤ اور محاصرہ کا علم ہوتے ہی یہ گروہ رسول اللہﷺ کی طرف پلٹا۔ ان میں سرفہرست سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا علی ابن ابی طالب ؓ تھے۔ یہ لوگ کافروں پر تابڑ توڑ حملے کرنے میں بھی پیش پیش تھے ۔ مگر جب نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی کے لیے انتہائی خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی تو آپﷺ کی حفاظت اور دفاع کرنے والوں میں بھی سب سے آگے آ گئے۔ عین اس وقت جب اسلامی لشکر نرغے میں آ کر مشرکین کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہا تھا رسول اللہﷺ کے آس پاس خونریز معرکہ آرائی جاری تھی۔ ایک ایسا نازل مرحلہ بھی آیا کہ مشرکین کے محاصرہ(Crake Down) کے وقت رسول اکرمﷺ نے مسلمانوں کو پکارا۔ میرے ساتھیو! میری طرف آؤ۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو آپ کی آواز مسلمانوں سے پہلے مشرکین نے سن لی اور آپ کو پہچان لیا۔ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی بہ نسبت مشرکین رسول اللہﷺ کے زیادہ قریب تھے۔ چنانچہ مشرکین نے جھپٹ کر آپ پر حملہ کر دیا او کسی مسلمان کے پہنچنے سے پہلے اپنی پوری قوت صرف کر ڈالی۔ اس فوری حملے کے نتیجہ میں مشرکین اور وہاں موجود 9 جانثار صحابہ کے درمیان نہایت سخت معرکہ آرائی شروع ہو گئی۔ ان 9 صحابہ میں سے سات انصاری تھے اور دو مہاجر۔ اس سخت معرکہ آرائی میں 9 صحابہ کرام ؓ نے جو داد شجاعت دی۔ محبت رسول اور جاں نثاری کے جو نادر نمونے پیش کیے، جانبازی کے جو جوہر دکھائے وہ جریدہ عالم پر آج بھی انمٹ نقوش بن کر ثبت ہیں۔ دشمن آپ کو چند صحابہ یعنی سات انصاریوں اور دو قریشیوں کے ساتھ تنہا پا کر سر چڑھ جاتے ہیں۔ ان جذبات انگیز لمحات کو سیدنا انس ؓ یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ اس وقت فدائی کاروائی پر برانگیختہ کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں:

((من یردھم عنا ولہ الجنہ(او ھو رفیقی فی الجنۃ) فتقدم رجل من الانصار فقاتل حتی قتل ۔ ثم رھقوہ ایضا فقال من یردھم عنا ولہ الجنہ(او ھو رفیقی فی الجنۃ) فتقدم رجل من الانصار فقاتل حتیٰ قتل۔ فلم یزل کذالک حتیٰ قتل السبعۃ فقال رسول اللہ ﷺ لصاحبیہ:” ما انصفناأصحابنا” ))

“دشمنوں کو ہم سے کون دور ہٹائے گا؟ جو ہٹائے گا اس کے لئے جنت ہوگی۔ (یا آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔) یہ سن کر ایک انصاری آگے بڑھ کر دشمنوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔ دوبارہ دشمن سر پر چڑھ آتے ہیں تو دوبارہ رسول اکرمﷺ اسی طرح خوشخبری سناتے ہیں: کون ہے جو ان کو ہم سے دور ہٹائے؟ اس کے لیے جنت ہے( یا آپﷺ نے فرمایا کہ وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا) پھر ایک انصاری صحابی آگے بڑھتا ہے اور قتال کرتے ہوئے شہید ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ساتوں انصاری صحابہ جنت کے حصول کی خوشخبری پر جانیں قربان کر دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ دونوں قریشی ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو ان کی غیر ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ہم نے اپنے انصاری ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں برتا ۔(کہ وہ تو جنت کی بشارت پر ہمارے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر گئے اور ہم پیچھے رہ گئے۔)​

(صحیح مسلم، کتاب الجہاد: باب غزوہ أحد: 1789۔)

ان ساتوں فدائی صحابہ کرام ؓ میں سے آخری انصاری صحابی سیدنا عمارہ بن یزید بن السکم ؓ تھے۔ وہ لڑتے رہے ، لڑتے رہے ، یہاں تک کہ زخموں سے چور ہو کر گر پڑے۔ وہ لڑتے رہے ، لڑتے رہے ، یہاں تک کہ زخموں سے چور ہو کر گر پڑے۔ لڑتے لڑتے ان کے گرنے اور شہید ہونے کا منظر بھی بڑا دلفریب اور دلکش ہے۔ جب سیدنا عمارہ بن یزید ؓ زخموں سے چور ہو کر گرے ہوئے تھے۔ اس وقت صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت وہاں آن پہنچی۔ انہوں نے کفار کو سیدنا عمارہ سے پیچھے دھکیلا اور انہیں رسول اللہﷺ کے قریب لے آئے۔ آپﷺ نے انہیں اپنے پاؤں پر ٹیک لیا اور انہوں نے اس حالت میں دم توڑ دیا کہ ان کا رخسار رسول اللہﷺ کے پاؤں مبارک پر تھا۔ (ابن ہشام:2/81) بعض اپنی آرزو کا یوں اظہار کرتے ہیں:

نکل جائے دم تیرے قدموں کے نیچے

یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے​

مگر سیدنا عمارہ بن یزید بن السکن ؓ کی یہی آرزو اور دل کی حسرت تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یوں حقیقت بن گئی کہ:

نکل جائے دم تیرے قدموں کے “اوپر”

یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے​

ساتوں انصاری صحابہ میں سے آخری فدائی صحابی سیدنا عمارہ بن یزید کے گرنے کے بعد رسول اللہﷺ کے ہمراہ صرف دونوں قریشی صحابی رہ گئے تھے۔ ایک سیدنا طلحہ بن عبید اللہ اور دوسرے سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ ۔ یہ لمحہ رسول اللہﷺ کی زندگی کے لیے نہایت ہی نازل ترین لمحہ تھا۔ ادھر مشرکین مکہ کے لیے یہ لمحہ سنہری موقعہ تھا۔ مشرکین نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور چاہا کہ آج رسول اللہﷺ کا کام تمام کر کے ہی دم لیں گے ۔ ایک کافر عتبہ بن ابی وقاص نے آپ کو پتھر مارا جس سے آپ پہلو کے بل گر گئے اور آپ کا داہنا نچلا ریاعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ کا نچلا ہونٹ مبارک زخمی ہو گیا۔ دوسرے ایک کافر عبد اللہ بن شہاب زہری نے آگے بڑھ کر آپ کی مبارک پیشانی زخمی کر ڈالی۔ ایک اور اڑیل اور ضدی کافر سوار عبداللہ بن قمہ۔ آپ کے کندھے پر ایسی سخت تلوار ماری کہ آپ ایک منہ سے زیادہ اس کی تکلیف محسوس کرتے رہے۔ اس کے بعد عبد اللہ بن قمہ کافر نے اسی طرح کا ایک بھر پور اور زور دار تلوار کا وار کیا جو آنکھ کے نیچے کی ابھری ہوئی ہڈی پر لگا اور اس کی وجہ سے خود(زرہ) کی دو کڑیاں چھرے کے اندر دھنس گئیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز کافر رسول اکرمﷺ کا کام تمام کرنا چاہتے تھے لیکن:

مجھ کو تو بچا لیا میرے پروردگار نے ​

دونوں قریشی صحابیوں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ ؓ نے جانبازی اور بے مثل بہادری سےکام لیتے ہوئے صرف دو ہونے کے باوجود مشرکین کی کامیابی ناممکن بنا دی۔ یہ دونوں عرب کے ماہر ترین تیر انداز تھے۔ انہوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر مسلسل تیر پھینک پھینک کر حملہ آوروں کو رسول اللہﷺ سے دور ہٹائے رکھا۔

جہاں تک سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ کا تعلق ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنے ترکش کے سارے تیر ان کے لیے بکھیر دیے اور فرمایا: ((اِرم! فداک ابی وامی))”سعد! تیر چلاؤ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔” ان کی صلاحیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ان کے علاوہ کسی اور کے لیے ماں باپ کے فدا ہونے کی بات نہیں کہی۔

جہاں تک سیدنا طلحہؓ کا تعلق ہے ان کے کارنامے کا اندازہ سنن نسائی(2/53،52) کی اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں سیدنا جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ساتوں انصاری صحابہ شہید ہو گئے تو سیدنا طلحہ ؓ آگے بڑھے اور انہوں نے تنہا گیارہ آدمیوں کے برابر لڑائی کی۔ ان کے ہاتھ پر تلوار کی ایک ایسی ضرب لگی جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔ اس پر ان کے منہ سے آواز نکلی”حس” (جیسے ہمارے ہاں تکلیف کے عالم میں منہ سے بے اختیار “سی” نکل آتا ہے) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر” حس” کی جگہ” بسم اللہ” کہتے تو تمہیں اللہ کے فرشتے اوپر اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے۔ ابو داودطیالسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے ۔ سیدنا ابوبکر ؓ جب جنگ احد کا تذکرہ فرماتے تو کہا کرتے تھے۔”یہ جنگ ساری کی ساری طلحہ کے لیے تھی۔”(یعنی اس جنگ کے تھے۔” جنگ ساری کی ساری طلحہ کے لیے تھی۔”(یعنی اس جنگ کے مرد میدان(Man of the war) سیدنا طلحہؓ تھے ۔ انہوں نے اپنی جان کو انتہائی خطرے میں ڈال کر دشمنوں کے مسلسل حملے روک کر رسول اللہ کے تحفظ کا اصل کارنامہ سرانجام دیا تھا۔)

مذکورۃ الصدر احادیث اور غزوہ احد کے اس نقشہ کو چشم تصور سے دھرانے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ واقعتاً صحابہ کرام ؓ رسول اللہﷺ کو اپنی جان بھی زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ قرآن مجید کی ایک آیت پیش کر کے اس گفتگو کو سمیٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

(مَا كَانَ لِاَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَ مَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہ) (التوبۃ:120)

“مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردو پیش رہتے ہیں ان کو زیب نہیں دیتا کہ رسول اللہﷺ کو(چھوڑ کر جنگ سے) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ زیب دیتا ہے کہ اپنی جان کو ان کی جان سے زیادہ عزیز سمجھیں۔”(ابو عمار)​

[15]: اس بارے میں رسول اللہﷺ نے بہت زیادہ احادیث میں انتباہ فرمایا ہے۔ بطور مثال اور دلیل کے صرف دو احادیث پیش خدمت ہیں:

1- سیدنا عبد اللہ بن عمر وؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

((بلغوا عنی ولو آیۃ وحدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج، ومن کذب علی متعمداً فلیتبوا مقعدہ من النار))

“میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو اس میں کو۴ی حرج نہیں ہے۔ جو شخص مجھ پر عمداً جھوت بولے اسے چاہے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔”​

(صحیح البخاری، کتاب أحادیث الانبیاء: باب ما ذکر عن بنی اسرائیل،: 3461، ترمذی، کتاب العلم: باب ماجاء فی الحدیث عن بنی اسرائیل :2669، سنن الدارمی ، المقدمۃ: باب البلاغ عن رسول اللہﷺ وتعلیم السنن، الحدیث :548، مسند احمد: 2/214،202،159)

2- سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((من حدث عنی بحدیث یریٰ انہ کذب فھو احد الکاذبین))

“جو مجھ سے ایسی حدیث بیان کرے جس کے بارے میں گمان یہ ہو کہ وہ جھوٹی ہے تو وہ بیان کرنے والا جھوٹوں میں سے ایک جھوتا ہے۔”​

(صحیح مسلم، المقدمہ: باب وجوب الروایۃ عن الثقات وترک الکذابین والتحذیر من الکذب علی رسول اللہﷺ ، الترمذی، کتاب العلم: باب ماجاء فی من رویٰ حدیثاً وھو یریٰ انہ کذب، الحدیث:2662)

معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر کے کوئی ضعیف اور موضوع حدیث بیان کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ بلکہ اپنا گھر جہنم میں بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام حدیث بیان کرتے وقت اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ اگر کسی لفظ اور جملہ پر شک ہوتا تو دونوں قسم کے الفاظ اور جملے بیان کر دیتے ۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا ہے یا یہ۔(ابو عمار)

[16]: ترجمہ: “صحابہ ؓ سب کے سب عادل ہیں۔(تذریب الراوی شرح تقریب النووی:2:214)

[17]: مُسند احمد: اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: فتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی لا حمد عبد الرحمان البنا: القسم الاول: کتاب الاعتصام بالتکاب والسنۃ: بابا فی الاعتصام بسنۃﷺ والاھتداء بھدیہ۔ شیخ البانی فرماتے ہیں: اس کی سند کثرت طرق کی وجہ سے صحیح ہے۔ دیکھئے: المشکاۃ بتحقیق الالبانی، الحدیث:177) امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔ اس حدیث کو امام ابوداؤد، امام ترمذی ، امام ابن ماجہؒ نے بھی الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔

[18]: “ایسی عقل و دانش پر آنسوبہانے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟”

[19]: ترجمہ: “اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے”

صحیح البخاری، کتاب بدالوحی، باب کیف کان بدلوحی۔۔۔۔ الخ:1،صحیح مسلم، کتاب الامارۃ: باب قولۃ((انما الاعمال بالنیۃ)) :1907

[20]: ترجمہ:” نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔” صحح البخاری: کتاب الاذان: باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ۔۔۔۔۔ الخ :631۔

[21]: ترجمہ:” مجھ سے حج کے ارکان کی ادائیگی کے طریقے سیکھ لو۔”

تخریج: (سنن الکبریٰ للبیھقی۔ کتاب الحج: باب الایضاع فی وادی محسر (5:125) ، الحدیث: 9524۔ یہ روایت صحٰح ہے۔ دیکھئے: اروآء الغلیل، الحدیث: 1074، اس حدیث کو الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ امام مسلم، امام ابو داود ، امام ترمذی ، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام ابونعیم امام ابو یعلیٰ اور امام احمد(ﷺ) نے بھی روایت کیا ہے۔

[22]: مصنف نے اس موضوع پر بڑی تفصیل اور دلیل سے گفتگو فرمائی ہے۔ اس کے لیے ملاحظہ ہو مصنف رحمہ اللہ کی کتاب” آئینہ پرویزیت” کے حصہ چہارم کے پہلے باب کا ایک عنوان” وضاعین کون تھے؟” نیز ملاحظہ ہو حصہ چہارم کا چٹھا باب” وضع حدیث اور وضاعین۔” آپ کی گفتگو کا ما حاصل یہ ہے کہ:

“مسلمانوں میں منافقین اور مرتدین کا ایک گروہ شامل تھا۔ جو آپ کی وفات کے بعد کھل کر سامنے آ گیا تھا ۔ ایک واقعہ تو رسول اللہﷺ کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوا جس کو ابن عدی نے کامل میں سیدنا بریدہ ؓ کی سند سے بیان کیا ہے۔ پھر اس کے بعد وضاعین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ۔ وہ حدیثیں گھڑنے والے چھ(6) قسم کے لوگ تھے:

1- زنافقہ(سیکولرز)

2- اہل تشیع

3- صوفیہ

4- امراء و سلاطین

5- معتزلین

6- خوارج

انہوں نے اپنے اپنے فرسودہ نظریات اور باطل عقائد کو سچا ثابت کرنے کے لیے بے شمار احادیث خود گھڑ لی تھیں۔ جن سے وہ اپنے عقائد دفاع کرتے اور اہل حق کے نظریات کا رد کرتے ۔ پھر ایک ایک موضوع حدیث کو کئی کئی اسناد سے جب بیان کیا جائے تو لا محالہ بظاہر احادیث و روایات کی تعداد بہت زیادہ محسوس ہوگی۔

[23]: قرآنی مفہوم کے لیے دیکھئے”آئینہ پرویزیت” کا مضمون” ایمان بالکتاب” حصہ ششم۔

[24]: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کی آیات اور صحیح احادیث میں کوئی تعارض و تضاد نہیں ہے۔ اگر کہیں قرآن کی دو آیات میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے وہ حقیقتاً تضاد نہیں ہے۔ بلکہ دونوں آیات کا مطلب الگ الگ ہے۔ اسی طرح اگر کسی صحیح حدیث اور قرآن کی آیت مین بظاہر تضاد نظر آ رہا ہے تو وہاں پر ی بات سمجھنی چاہیے کہ دونوں کا مطلب الگ الگ ہے۔ جس طرح دو قرآنی آیات میں تضاد نہیں ہوسکتا اسی طرح رسول اللہﷺ کی صحیح حدیث اور قرآنی آیت مین بھی تضاد نہیں ہوسکتا۔

پہلی مثال: قرآن مجید کے ایک مقام کی طرف مصنفؒ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ ایک سورۃ القصص کی آیت نمبر 56 ہے اور دوسری سورۃ الشوریٰ کی آیت نمبر :52 ہ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے میرے نبی! جس کو پسند کریں اس کو ہدایت سے نواز دیں آپ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔ بلکہ ہدایت دینے یا ہدایت سے محروم رکھنے کا اختیار ہمارے پاس ہے۔ اس آیات کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے دل میں صراط مستقیم کی ہدایت کو اتار دینا۔ اس کو عملی اور واقعاتی طور پر صراط مستقیم پر چلا دینا یہ صرف ہمارا کام ہے۔

قرآن مجید کی اس آیت کا مطلب اس آیت کے شان نزول سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی اکرمﷺ کے ہمدرد اور غمگسار چچا ابو طالب بن عبد المطلب کا انتقال ہونے لگا۔ تو آ پ ﷺ نے کوشش فرمائی کہ میرے چچا جان ایک دفعہ” لاالہ الا اللہ” کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی سفارش کرسکوں۔ لیکن وہاں دوسرے رؤساء قریش کی وجہ سے ابو طالب قبول ایمان کی سعادت سے محروم رہے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہو گیا ۔ نبی ﷺ کو اس بات کا بڑا قلق اور صدمہ تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر نبی ﷺ پر واضح کر دیا کہ آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت اور رہنمائی کرنا ہے۔ لیکن ہدایت کے راستہ پر چلا دینا یہ صرف ہمارا کام ہے۔ ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں، نہ کہ اسے جسے آپ ہدایت پر دیکھنا پسند کریں۔

(صحیح البخاری: کتاب التفیسر باب قولہ: (انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء) :4776، صحیح مسلم: کتاب الایمان ، باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضرہ الموت۔۔۔۔:24)

جبکہ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:” اے نبی! آپ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں:” اس آیت کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ آپ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں، لوگوں کو صحیح راستہ دکھا رہے ہیں، دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں، کتاب و حکمت کی تعلیم دے رہے ہیں، تزکیہ نفس کر رہے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت کے اس مطلب کا تعین بھی قرآن مجید کی ہی دیگر آیات کرتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

(یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ) (المائدہ:67)

“اے رسول ! جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے(وہ لوگوں تک) پہنچا دیجیے۔”

(اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ) (النحل: 125)

“اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہے۔”

(یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ) (المدثر: 1-3)

“اے کپڑا اوڑھنے والے، اٹھ کھڑا ہو(اور لوگوں) کو ڈرایئے اور اپنے رب کی کبریائی بیان کیجئے”​

دوسری مثال: سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

(فَوَرَبِّكَ لَنَسَْٔلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَۙ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (الحجر:92-93)

“(اے نبیﷺ) تیرے پروردگار کی قسم ہے! ہم ان سب سے(قیامت کے روز) ضرور سوال کریں گے، اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے”​

لیکن ۔۔۔۔ سورۃ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یُسَْٔلُ عَنْ ذَنْبِہ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِ) (الرحمٰن: 39-41)

“اس (قیامت والے) دن کسی انسان کو کسی جن سے اس کے گناہوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے گا، پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے، مجرم اپنی علامت سے پہچان لیئے جائیں گے اور ان کی پیشانیوں کے بالوں اور قدموں سے پکڑ لیئے جائیں گے(اور انہیں جہنم میں جھونک دیا جائے گا)”​

مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ضرور سوال کریں گے۔ جب کہ دوسری آیت میں اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سوال نہیں کریں گے۔ بظاہر کتنا واضح تضاد اور تعارض ہے۔ مگر دونوں آیتوں کے معنی و مفہوم کو سمجھ لیں تو یہ تضاد دور ہو جاتا ہے۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم قیامت کے روز سب لوگوں سے ان کے اعمال کے متعلق ضرور سوال کریں گے کہ بتاؤ تم نے یہ یہ جرم اور گناہ کیوں کیا؟ اور ودسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ دریافت نہیں کریں گے کہ تم نے کیا کیا گناہ اور جرم کیا۔ بلکہ ان کے اعمال نامے اور مکمل ریکارڈ تو پہلے ہی تیاری حالت میں ہمارے پاس ہوں گے۔ پس ان کی شکلوں اور حلیوں سے پہچان کر اور پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکا جاتا رہے گا۔ المختصر قیامت کے روز یہ سوال ہو گا کہ جرم کیوں کیا؟ یہ سوال نہیں ہوگا کہ جرم کیا کیا؟ اس طرح دونوں آیات کا تعارض دور ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی قرآن مجید میں بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ یہ دو مثالیں فقط نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ علی ھذا القیاس اگر کہیں کوئی صحیح حدیث، قرآن کی آیت سے متعارض و متضاد نظر آئے تو ان کے تعارض کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔ قرآن و سنت کے دیگر دلائل ملحوظ رکھ کر دونوں کا ایسا معنی کیا جائ ے گا کہ دونوں پر عمل ممکن ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی کوئی صحیح حدیث قرآن کی کسی آیت کے مخالف نہیں ہوسکتی ۔(ابو عمار)

[25]: اس گرفت کے لیے دیکھئے: اس کتاب کا مضمون” بخاری کی قابل اعتراض احادیث”

[26]:واضح رہے کہ مفہوم القرآن کے مقدمہ میں پرویز صاحب نے خود اس آیت کو ان آیات میں شمار کیا ہے جن کا لفظی ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔

[27]:ترجمہ:” سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں۔ جس کے فضل و کرم سے اچھے اچھے کام بایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔”

حوالہ: ان کلمات کو امم حاکم نے المستدرک علی الصحیحین میں روایت کیا ہے کتا بالدعاءِ والتکبیر والتسبیح والذکر، الحدیث: 1840۔ امام حاکمؒ نے کہا ہے” حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ے۔ دیکھئے : مستدرک علی الصحیحین بتحقیق مصطفیٰ عبد القادر عطا۔ ان کلمات کو ابن سنی نے عمل الیوم واللیلۃ میں بھی روایت کیا ہے۔ اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے صحیح الجامع: 201:4
((ائذن لی ایھا الامیر! أحدثک قولا قام بہ النبی ﷺ من یوم الفتح سمعتہ اذنای، ووعاہ قلبی وابصرتہ عینای، حین تکلم بہ حمداللہ وأثنی علیہ ثم قال: ((ان مکۃ حرمھا اللہ ولم یھرمھا الناسفلا یحل الامری یومن باللہ والیوم الآکر أن یسفک بھا دما ولا یعضد بھا شجرۃ فان أحد ترخص لقتال رسول اللہﷺ فیھا فقولوا: ان اللہ قد أذن لرسولہ ولم یأذن لکم وانما أذن لی فیھا ساعۃ من نھار ثم عادت ھرمتھا الیوم کحرمتھا بالأمس، والیبلغ الشاھد الغائب))

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urdumajlis.net/threads/%D9%85%D9%86%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%DA%A9%DB%92-%DA%86%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%DB%94.21399/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید