FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی

 

فہرست

آن لائن اشاعت.. 4

مقدمہ.. 5

اصطلاحات اربعہ کی اہمیت…. 7

غلط فہمی کا اصل سبب.. 8

غلط فہمی کے نتائج.. 10

الٰہ. 11

لغوی تحقیق…. 11

اہل جاہلیت کا تصور الٰہ. 13

اُلوہیّت کے باب میں ملاک اَمر.. 19

قرآن کا استدلال. 19

رب.. 29

لغوی تحقیق…. 29

قرآن میں لفظ رب کے استعمالات.. 32

ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات.. 36

قرآن کی دعوت.. 66

عبادت.. 73

لغوی تحقیق…. 73

لفظ عبادت کا استعمال قرآن میں… 75

عبادت بمعنی غلامی و اطاعت.. 75

عبادت بمعنی اطاعت.. 77

عبادت بمعنی پرستش…. 79

عبادت بمعنی بندگی اور اطاعت وپرستش…. 82

دین.. 90

لغوی تحقیق…. 90

قرآن میں لفظ دین کا استعمال. 92

دین ایک جامع اصطلاح. 98

 

آن لائن اشاعت

انٹرنیٹ فکری جنگ کے اس دور میں ایک ایسے میڈیم کے طور پر سامنے آیا ہے جو قلوب و اذہان کو متاثر کرنے کی خاصی صلاحیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کا المیہ ہے کہ  مثبت استعمال اور پھر اسلام کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اس کا استعمال بہت ہی کم ہو رہا ہے، لغویات ہی ہماری توجہ کا مرکز بن کر رہ گئی ہیں۔ اس منظر نامے میں اسلام کی اصل اور مکمل دعوت کو اس طرح پیش کرنے کی ضرورت ہے  کہ ذہنوں کا غبار صاف ہو سکے اور مسلم نوجوان  اپنی خودی پہچاننے والے بن جائیں۔

            سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی یہ کتاب ان بنیادی اصطلاحات (Terminologies) کو کھولتی ہے جن کا ذہن و دل میں روشن یا دھندلا ہونا، مسلم فرد اور معاشرے کی کامیابی یا ناکامی کی بنیاد رہی ہے۔ آج کے  حالات میں اس کتاب کی اہمیت  اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ دین و عبادت عین وہی تصورات ہیں جن کا مفہوم محدود کرنا آج  گلوبلائزیشن کے ایجنڈے کا ایک باقاعدہ حصہ ہے۔ یہ کتاب اسلام کے آفاقی اور ہمہ گیر تصور کی طرف راہنمائی کرتی ہے تو ساتھ ہی ساتھ  دین کو محض محض عقائد سے نتھی کر رکھنے اور عبادت کو پوجا پاٹ کے علاوہ ہر میدان سے کاٹ دینے کی ترویج میں دن رات مصروف کار گلوبلائزیشن بارے اسلام کا اصولی نقطہ نظر بھی واضح کر دیتی ہے۔

            کتاب کو یونیکوڈ کرنے میں جن دوستوں نے حصہ لیا ان میں عکرمہ سعید، عیشال حیدر اور زین العابدین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتاب کی سیٹنگ اور فائنل ٹچ محترم اعجاز عبید صاحب کا حسن نظر ہے جو انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اللہ سب کی کاوشوں کو قبول فرمائیں۔ آمین۔

عبداللہ آدم

 

مقدمہ

الٰہ، رب، دین اور عبادت، یہ چار الفاظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا رب و الٰہ ہے، اس کے سوا نہ کوئی الٰہ ہے نہ رب، اور نہ الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے، لہٰذا اسی کو اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر کسی کی الٰہیت اور ربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہردوسرے دین کو رد کر دو۔

 وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ(الانبیاء :۲۵)

“ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، کہ “میرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے لہٰذا میری عبادت کرو”

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (التوبہ:۳۱)

“اور ان کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ ایک ہی الٰہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ پاک ہے۔ اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں “

إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبیاء:۹۲)

“یقیناً تمہارا (یعنی تمام انبیاء کا) یہ گروہ ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری عبادت کرو”

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ(انعام:۱۶۴)

“کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی ا ور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔ “

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَا ءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا۔  (کہف:۱۱۰)

“تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی  عبادت شریک نہ کرے۔ “

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ(نحل:۳۶)

“ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرو۔ “

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ(آل عمران:۸۳)

“تو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمینوں میں ہیں۔ سب چار و ناچار اس کی مطیع ہیں اور اسی کی طرف انہیں پلٹ کر جانا ہے۔ “

قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْن (زمر:۱۱)

“(اے نبی ﷺ) کہو، کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے “

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ  ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ(آل عمران:۵۱)

“اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تم سب کا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ “

یہ چند آیات محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ ورنہ جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اول نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارا بیان انہی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیالCentral Idea یہی ہے کہ :

اللہ رب اور الٰہ ہے۔

اور ربوبیت و الٰہیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔

لہٰذا عبادت اسی کی ہونی چاہیے۔

اور دین دین خالصتا اسی کے لیے ہونا چاہیے۔

اصطلاحات اربعہ کی اہمیت

اب یہ بات ظاہر ہے کہ قرآن کی تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان چاروں اصطلاحوں کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا بالکل ناگزیر ہے۔ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ الٰہ اور رب کا مطلب کیا ہے ؟ عبادت کی تعریف کیا ہے ؟ اور دین کسے کہتے ہیں ؟ تو دراصل اس کے لیے پورا قرآن بے معنی ہو جائے گا۔ وہ نہ توحید کو جان سکے گا، نہ شرک کو سمجھ سکے گا، نہ عبادت کو اللہ کے لیے مخصوص کر سکے گا، اور نہ دین ہی اللہ کے لیے خالص کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی کے ذہن میں ان اصطلاحوں کا مفہوم غیر واضح اور نامکمل ہو تو اس کے لیے قرآن کی پوری تعلیم غیر واضح ہو گی اور قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کا عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل رہ جائیں گے۔ وہ لا الٰہ الا اللہ کہتا رہے گا اور اس کے باوجود بہت سے ارباب من دون اللہ اس کے رب بنے رہیں گے۔ وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، اور پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا۔ وہ پورے زور کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے دین میں ہوں، اور اگر کسی دوسرے دی کی طرف اسے منسوب کیا جائے تو لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ مگر اس کے باوجود بہت سے دینوں کا قلادہ اس کی گردن میں پڑا رہے گا۔ اس کی زبان سے کسی غیر اللہ کے لیے “الٰہ” اور “رب” جیسے الفاظ تو کبھی نہ نکلیں گے مگر یہ الفاظ جن معانی کے لیے وضع کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے بہت سے الٰہ اور رب ہوں گے اور بے چارے کو خبر تک نہ ہو گی کہ میں نے واقعی اللہ کے سوا دوسرے ارباب و الٰہ بنا رکھے ہیں۔ اس کے سامنے اگر آپ کہہ دیں کہ تو دوسروں کی “عبادت” کر رہا ہے اور “دین” میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ پتھر مارنے اور منہ نوچنے کو دوڑے گا مگر عبادت اور د ین کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے واقعی وہ دوسروں کا عابد اور دوسروں کے دین میں داخل ہو گا اور نہ جانے گا کہ یہ جو کچھ میں کر ر ہا ہوں یہ حقیقت میں دوسروں کی عبادت ہے اور یہ حالت جس میں میں مبتلا ہوں حقیقت میں غیر اللہ کا دین ہے۔

غلط فہمی کا اصل سبب

عرب میں جب قران پیش کیا گیا تو ہر شخص جانتا تھا کہ الٰہ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلے سے مستعمل تھے، انہیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا اللہ ہی اکیلا الٰہ اور رب ہے اور الوہیت و ربوبیت میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں ہے، تو وہ پوری بات کو پا گئے۔ انہیں بلا کسی التباس و اشتباہ کے معلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیے کس چیز کی نفی کی جا رہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جا رہا ہے۔ جنہوں نے مخالفت کی یہ جان کر کی کہ غیر اللہ کی الوہیت و ربوبیت کے انکار سے کہاں کہاں ضرب پڑتی ہے، اور جو ایمان لائے وہ یہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہو گا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں، عبودیت کس حالت کا نام ہے، عبادت سے کونسا رویہ مراد ہے، اور دین کا کیا مفہوم ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ، تو انہیں قران کی دعوت سمجھنے میں کوئی غلط فہمی پیش نہ آئی۔ وہ سنتے ہی یہ سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کے نظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے۔

            لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصل معنی جو نزول قران کے وقتسمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ان کے لیے الٰہ اور رب اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے جو نزول قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے۔ انہی دونوں وجوہ سے دور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآنی الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کی بجائے ان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے۔ مثلاً:

لفظ الٰہ کو قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا، رب کو پالنے اور پوسنے والے یا پروردگار کا مترادف ٹھہرایا گیا، عبادت کے معنی پوجا اور پرستش کیے گئے۔

دین کو دھرم اور مذہب اور (religion) کے مقابلہ کا لفظ قرار دیا گیا۔

طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جانے لگا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی سمجھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ بناؤ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بتوں ا ور دیوتاؤں کو چھوڑ دیا ہے لہٰذا قرآن کا منشا پورا کر دیا، حالانکہ الٰہ کا مفہوم اور جن جن چیزوں پر عائد ہوتا ہے ان سب کو وہ اچھی طرح پکڑے ہوئے ہیں اور انہیں خبر نہیں ہے کہ ہم غیر اللہ کو الٰہ بنا رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو رب تسلیم نہ کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ کے سوا کسی کو پروردگار نہیں مانتے لہٰذا ہماری توحید مکمل ہو گئی، حالانکہ رب کا اطلاق اور جن مفہومات پر ہوتا ہے ان کے لحاظ سے اکثر لوگوں نے خد اکی بجائے دوسروں کی ربوبیت تسلیم کر رکھی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ طاغوت کی عبادت کو چھوڑ دو اور صرف اللہ کی عبادت کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے، شیطان پر لعنت بھیجتے ہیں، اور صرف اللہ کو سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا ہم نے قران کی یہ بات بھی پوری کر دی، حالانکہ پتھر کے بتوں کے سوا دوسرے طاغوتوں سے وہ چمٹے ہوئے ہیں اور پرستش کے سوا دوسری قسم کی تمام عبادتیں انہوں نے اللہ کی بجائے غیر اللہ کے لیے خاص کر رکھی ہیں۔ یہی حال دین کا ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خاص کرنے کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی”مذہب اسلام” قبول کر لے اور ہندو یا عیسائی یا یہودی نہ رہے۔ اس بنا پر ہر وہ شخص جو “مذہب اسلام” میں ہے یہ سمجھ رہا ہے کہ میں نے اللہ کے لیے دین کو خالص کر رکھا ہے، حالانکہ دین کے وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہے۔

غلط فہمی کے نتائج

پس یہ حقیقت ہے کہ محض ان چار اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی(۴/۳) سے زیادہ تعلیم بلکہ اس کی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ہے، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و اعمال میں جو نقائص نظر آرہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے۔

اگرچہ میں اس سلسلے میں اس سے پہلے اپنے متعدد مضامین میں ان کے مفہوم پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر چکا ہوں۔ لیکن جو کچھ اب تک میں نے بیان کیا ہے وہ نہ تو بجائے خود تمام غلط فہمیوں کو صاف کرنے کے لیے کافی ہے، اور نہ اس سے لوگوں کو پوری طرح اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ ان چار اصطلاحوں کا مکمل مفہوم واضح کر دوں، اور کوئی ایسی بات بیان نہ کروں جس کا ثبوت لغت اور قرآن سے نہ ملتا ہو۔

 

الٰہ

لغوی تحقیق

اس لفظ کا مادہ ا ل ہ ہے – اس مادہ سے جو الفاظ لغت میں آئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے :

اَلِہَ اذاتحیر : حیران و سر گشتہ ہوا۔

اَلِھْتُ اِلیٰ فُلَانِِاَیْ سَکَنَتُ اِلَیْہِ: اس کی پناہ میں جا کر یا اس سے تعلق پیدا کر کے میں نے سکون و اطمینان حاصل کیا۔

اَلِہَ الرَّجُلُ یَألَہُ اِذَا فَزِعَ مِنْ اَمْرِِ نَزَلَ بِہِ فَآلَھَہُ غَیْرُہ اَیْ اَجَارَہُ: آدمی کسی مصیبت یا تکلیف کے نزول سے خوف زدہ ہوا اور دوسرے نے اس کو پناہ دی۔

اَلِہَ الرَّجُلُ اِلٰی الرَّجُلِ اِتَّجَہَ اِلَیْہِ لِشَدَّۃِ شُوْقِہِ اِلَیْہِ: آدمی نے دوسرے کی طرف شدت شوق کی وجہ سے توجہ کی۔

اَلِہٰ الْفَصِیْلُ اِذَا وَلَعَ بِاُمِّہِ: – اونٹنی کا بچہ جو اس سے بچھڑ گیا تھا ماں کو پاتے ہی اس سے چمٹ گیا۔

لَاہَ یَلِیْہُ لِیْھًا وَلَا ھًا اِذَا احْتَجَبَ: پوشیدہ مستور ہوا- نیز ارتفع یعنی بلند ہوا۔

اِلَہَ اِلَھَۃً وَاَلُوْھَۃً وَاُلُوْھِیَّۃً عَبَدَ: عبادت کی۔

ان تمام معانی مصدریہ پر غور کرنے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اَلِہَ یَالَہُ اِلَھَۃً کے معنی عبادت (پرستش) اور الٰہ کے معنی معبود کس مناسبت سے پیدا ہوئے :

۱: انسان کے ذہن میں عبادت کے لیے اولین تحریک اپنی حاجت مندی سے پیدا ہوتی ہے – وہ کسی کی عبادت کا خیال تک نہیں کر سکتا جب تک اسے یہ گمان نہ ہو کہ وہ اس کی حاجتیں پوری کر سکتا ہے، خطرات اور مصائب میں اسے پناہ دے سکتا ہے، اضطراب کی حالت میں اسے سکون بخش سکتا ہے۔

۲: پھر یہ بات کہ آدمی کسی کو حاجت روا سمجھے اس تصور کے ساتھ لازم و ملزوم کا تعلق رکھتی ہے کہ وہ اسے اپنے سے بالاتر سمجھے اور نہ صرف مرتبہ کے اعتبار سے اس کی برتری تسلیم کرے، بلکہ طاقت اور زور کے اعتبار سے بھی اس کی بالادستی کا قائل ہو۔

۳: پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سلسلہء اسباب و علل کے تحت جن چیزوں سے بالعموم انسان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور جن کی حاجت روائی کا سارا عمل انسان کی آنکھوں کے سامنے یا اس کے حدود علم کے اندر واقع ہوتا ہے ان کے متعلق پرستش کا کوئی جذبہ اس میں پیدا نہیں ہوتا مثلاً مجھے خرچ کے لیے روپے کی ضرورت ہوتی ہے، میں جا کر ایک شخص سے نوکری یا مزدوری کی درخواست کرتا ہوں، وہ میری درخواست کو قبول کر کے مجھے کوئی کام دیتا ہے اور اس کام کا معاوضہ مجھے دے دیتا ہے۔ یہ سارا عمل چونکہ میرے حواس اور علم کے دائرے کے اندر پیش آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس نے میری یہ حاجت کس طرح پوری کی ہے۔ اس لیے میرے ذہن میں اس کے لائق پرستش ہونے کا وہم تک نہیں گزرتا- پرستش کا تصور میرے ذہن میں صرف اسی حالت میں پیدا ہو سکتا ہے جبکہ کسی کی شخصیت یا اس کی طاقت یا اس کی حاجت روائی و اثر اندازی کی کیفیت پر راز کا پردہ پڑا ہوا ہو۔ اسی لیے معبود کے معنی میں وہ لفظ اختیار کیا گیا جس کے اندر رفعت کے ساتھ پوشیدگی ا ور حیرانگی و سرگشتگی کا مفہوم بھی شامل ہے۔

۴:پھر جس کے متعلق بھی انسان یہ گمان رکھتا ہو کہ وہ احتیاج کی حالت میں حاجت روائی کر سکتا ہے، خطرات میں پناہ دے سکتا ہے، اضطراب میں سکون بخش سکتا ہے، اس کی طرف انسان کا اشتیاق کے ساتھ توجہ کرنا ایک امر ناگزیر ہے۔

پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہ کا لفظ جن تصورات پر بولا گیا وہ یہ ہیں : حاجت روائی، پناہ دہندگی، سکون بخشی، بالاتری و بالادستی۔ ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائے کہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا پراسرار ہونا یا منظر عام پر نہ ہونا-انسان کا اس کی طرف مشتاق ہونا۔

اہل جاہلیت کا تصور الٰہ

اس لغوی تحقیق کے بعد ہمیں دیکھنا چاہیے کہ الوہیت کے متعلق اہل عرب اور امم قدیمہ کے وہ کیا تصورات تھے جن کی تردید قرآن کرنا چاہتا ہے۔

(۱)  وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا

“اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں تا کہ وہ ان کے لیے ذریعہ قوت ہوں(یا ان کی حمایت میں آ کر وہ محفوظ رہیں)۔ “(مریم-۸۱)

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنْصَرُوْن

“اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی(یعنی وہ الٰہ ان کی مدد کریں گے )”(یٰسین :۷۴)

ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جاہلیت جن کو الٰہ کہتے تھے ان کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ان کے پشتیبان ہیں، مشکلات اور مصائب میں ان کی حفاظت کرتے ہیں۔

(۲) وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَا ءَ اَمْرُ رَبِّكَ  وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ

“جب تیرے رب کے فیصلہ کا وقت آ گیا تو ان کے وہ الٰہ جنہیں وہ اللہ کی بجائے پکارا کرتے تھے، ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکے اور وہ ان کے لیے تباہی و ہلاکت کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ کا سبب نہ بنے “(ہود:۱۰۱)

وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَئًْا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ۔ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ   وَمَا يَشْعُرُوْنَ   اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ

“اور اللہ کی بجائے جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا- تمہارا الٰہ تو ایک ہی الٰہ ہے “(النحل:۲۰۔ ۲۲)

وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ   لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ   كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَ   لَهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ

اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں[1]۔

وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَا ءَ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ

“جو لوگ اللہ کے بجائے دوسرے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض وہم پر چلتے ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں”(یونس:۶۶)

ان آیات سے چند اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ اہل جاہلیت جن کو الٰہ کہتے تھے انہیں مشکل کشائی و حاجت روائی کے لیے پکارتے یا بالفاط دیگر ان سے دعا مانگتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کے یہ الٰہ  صرف جن یا فرشتے اور دیوتا ہی نہ تھے بلکہ وفات یافتہ انسان بھی تھے، جیسا کہ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ   وَمَا يَشْعُرُوْنَ    اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ  سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان الٰہوں کے متعلق وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ان کی دعاؤں کو سنتے ہیں اور ان کی مدد کو پہنچنے پر قادر ہیں۔

یہاں دعا کے مفہوم اور اس امداد کی نوعیت کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے جس کی الٰہ سے توقع کی جاتی ہے۔ اگر مجھے پیاس لگتی ہے اور میں اپنے خادم کو پانی لانے کے لیے پکارتا ہوں، یا اگر میں بیمار ہوتا ہوں اور علاج کے لیے ڈاکٹر بلاتا ہوں، تو اس پر نہ دعا کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ اس کے معنی خادم یا ڈاکٹر کو الٰہ بنانے کے ہیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ سلسلہ اسباب کے تحت ہے نہ کہ اس سے مافوق۔ لیکن اگر میں پیاس کی حالت میں یا بیماری میں خادم یا ڈاکٹر کو پکارنے کی بجائے کسی ولی یا دیوتا کو پکارتا ہوں تو یہ ضرور اس کو الٰہ بنانا اور اس سے دعا مانگنا ہے، کیونکہ جو ولی صاحب مجھ سے سینکڑوں میل دور کسی قبر میں آرام فرما رہے ہیں، ان کو پکارنے کے معنی یہ ہیں کہ میں ان کو سمیع و بصیر سمجھتا ہوں اور یہ خیال رکھتا ہوں کہ عالم اسباب پر ان کی فرمانروائی قائم ہے جس کی وجہ سے وہ مجھ تک پانی پہنچانے یا میری بیماری دور کر دینے کا ا نتظام کر سکتے ہیں علیٰ ہذا القیاس ایسی حالت میں کسی دیوتا کو پکارنے کے معنی یہ ہیں کہ پانی یا صحت یا مرض پر اس کی حکومت ہے اور وہ فوق الطبعی طور پر میری حاجت پوری کرنے کے لیے اسباب کو حرکت دے سکتا ہے۔ پس الٰہ کا وہ تصور جس کی بنا پر دعا مانگی جاتی ہے، لا محالہ ایک فوق الطبعی اقتدار(Supernatural Authority) اور اس کے ساتھ ہی فوق الطبعی قوتوں کے مالک ہونے کا تصور ہے۔

(۳) وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً  بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ  وَذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ

“تمہارے اردگرد جن بستیوں کے آثار ہیں ان کو ہم ہلاک کر چکے ہیں، انہیں ہم نے بار بار بدل کو اپنی نشانیاں دکھائی تھیں تاکہ وہ رجوع کریں تو جن کو انہوں نے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اللہ کے سوا اپنا الٰہ بنایا تھا۔ انہوں نے نزول عذاب کے وقت کیوں نہ ان کی مدد کی؟ مدد تو درکنار وہ تو انہیں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ یہ تھی حقیقت ان کے جھوٹ اور ان کی من گھڑت باتوں کی”(احقاف: ۲۷۔ ۲۸)

وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً اِنْ يُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّىْ شَفَاعَتُهُمْ شَئًْا وَّلَا يُنْقِذُوْنِ

“کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے ! کیا اس کے سوا میں ان کو الٰہ بناؤں جن کا حال یہ ہے کہ اگر رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہیں آسکتی اور وہ مجھے چھڑا نہیں سکتے “(یٰسین: ۲۲۔ ۲۳)

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْ مَا هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ

جنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے حامی و کارساز بنا رکھے اور کہتے ہیں ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں الله سے قریب کر دیں، الله ان کے درمیان اس معاملے کا فیصلہ(قیامت کے روز) کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (الزمر:۳)

وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ

“وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچانے پر قادر ہیں نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں”(یونس:۱۸)

ان آیات سے چند مزید باتوں پر روشنی پڑتی ہے کہ اہل جاہلیت اپنے الٰہوں سے متعلق یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ساری خدائی انہی کے درمیان تقسیم ہو گئی ہے اور ان کے اوپر کوئی خداوند اعلیٰ نہیں ہے۔ وہ واضح طور پر ایک خداوند اعلیٰ کا تصور رکھتے تھے جس کے لیے ان کی زبان میں اللہ کا لفظ تھا، اور دوسرے الٰہوں کے متعلق ان کا اصل عقیدہ یہ تھا کہ اس خداوند اعلیٰ کی خدائی میں ان الٰہوں کا کچھ دخل اور اثر ہے، ان کی بات مانی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے ہمارے کام بن سکتے ہیں، ان کی سفارش سے ہم نفع حاصل کر سکتے ہیں اور نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ انہی خیالات کی بنا پر وہ اللہ کے ساتھ ان کو بھی الٰہ قرار دیتے تھے۔

لہٰذا ان کی اصطلاح کے مطابق کسی کو خدا کے ہاں سفارشی قرار دے کر اس سے مدد کی التجا کرنا اور اس کے آگے مراسم تعظیم و تکریم بجا لانا اور نذرو نیاز پیش کرنا اس کو الٰہ بنانا ہے۔[2]

(۴) وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَيْنِ اثْنَيْنِ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١  فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ

“اللہ فرماتا ہے دو الٰہ نہ بناؤ، الٰہ تو ایک ہی ہے۔ لہذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ “(النحل:۵۱)

وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ رَبِّيْ شَئًْا  وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ

“اور ابراہیمؑ نے کہا کہ میں ان سے ہرگز نہیں ڈرتا جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو۔ الاّ یہ کہ میرا رب ہی کچھ چاہے تو وہ البتہ ہو سکتا ہے۔ “(انعام:۸۰)

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ

“ہود (علیہ السلام)کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں کہ تجھ پر ہمارے الہٰوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔ ” )ھود:۵۴)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اہل جاہلیت اپنے الہٰوں سے یہ خوف رکھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کسی طرح ناراض کر دیا، یا ان کی توجہات و عنایات سے محروم ہو گئے تو ہم پر بیماری، قحط، نقصان جان و مال اور دوسری قسم کی آفات نازل ہو جائیں گی۔

(۵) اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ

انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا، اور مسیح ابن مریمؑ کو بھی رب ٹھہرایا، حالانکہ انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔ (التوبہ:۳۱)

وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِنَ المُجرِمينَ   وَكَفىٰ بِرَبِّكَ هادِيًا وَنَصيرًا(الفرقان:۳۱)

“تیرا کیا خیال ہے اس شخص کے متعلق جس نے اپنی خواہش نفس کو الٰہ بنا لیا ہے ؟ کیا تو اس کی ذمہ داری لے سکتا ہے ؟”

وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثيرٍ مِنَ المُشرِكينَ قَتلَ أَولٰدِهِم شُرَكاؤُهُم (انعام:۱۳۷)

اس طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں (یعنی شرکاء فی الالوہیت)نے اپنی اولاد کو قتل کرنے کا فعل خوشنما بنا دیا۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَن ْ بِهِ اللّٰهُ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ  وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ(الشوریٰ :٢١)

کیا وہ ایسے شرکاء (یعنی شرکاء فی الالوہیت) رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے ازقسم دین ایسی شریعت مقرر کی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی۔

ان آیات میں الٰہ کا ایک اور مفہوم ملتا ہے جو پہلے مفہومات سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں فوق الطبعی اقتدار کا کوئی تصور نہیں ہے جس کو الٰہ بنایا گیا ہے وہ یا تو کوئی انسان ہے یا انسان کا اپنا نفس ہے۔ اور الٰہ اس کو اس معنی میں نہیں بنایا گیا ہے کہ اس سے دعا مانگی جاتی ہو یا اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جاتا ہو، اور اس سے پناہ ڈھونڈی جاتی ہو۔ بلکہ وہ الٰہ اس معنی میں بنایا گیا ہے اس کے حکم کو قانون تسلیم کیا گیا، اس کے امرو نہی کی اطاعت کی گئی، اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام مان لیا گیا، اور یہ خیال کر لیا گیا کہ اس کو بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا اختیار حاصل ہے، کوئی اور اقتدار اس سے بالاتر نہیں جس کی سند لینے اور جس سے رجوع کرنے کی ضرورت ہو۔

پہلی آیت میں علماء اور راہبوں کو الٰہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس کی واضح تشریح ہم کو حدیث میں ملتی ہے۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اس آیت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے علماء اور راہبوں نے حلال کیا اسے تم لوگ حلال مان لیتے تھے، اور جسے حرام قرار دیا اسے تم لوگ حرام تسلیم کر لیتے تھے اور اس بات کی کچھ پروانہ کرتے تھے کہ اللہ کا اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔

رہی دوسری آیت تو اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جو شخص اپنی خواہش نفس کی اطاعت کرتا ہو اور اسی کے حکم کو بالاتر رکھتا ہو وہ دراصل اپنے نفس ہی کو اپنا الٰہ بنائے ہوئے ہے۔

اس کے بعد والی دونوں آیتوں میں اگرچہ الٰہ کے بجائے شریک کا لفظ آیا ہے، مگر جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں واضح کیا ہے، شریک سے مراد الہٰیّت میں شریک ٹھہرانا ہے۔ اور یہ دونوں آیتیں صاف فیصلہ کرتی ہیں کہ جو لوگ اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کے مقرر کیے ہوئے رواج یا ضابطہ یا طریقہ کو جائز قانون سمجھتے ہیں وہ اس قانون ساز کو الہٰیّت میں خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

 

اُلوہیّت کے باب میں ملاک اَمر

الٰہ کے یہ جتنے مفہومات اوپر بیان ہوئے ہیں ان سب کے درمیان ایک منطقی ربط ہے۔ جو شخص فوق الطبعی معنی میں کسی کو اپنا حامی و مدد گار، مشکل کشا اور حاجت روا، دعاؤں کا سننے والا اور نفع یا نقصان پہنچانے والا سمجھتا ہے۔ اس کے ایسا سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک وہ ہستی نظام کائنات میں کسی نہ کسی نوعیّت کا اقتدار رکھتی ہے۔ اسی طرح جو شخص کسی سے تقویٰ اور خوف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ناراضی میرے لیے نقصان کی اور رضا مندی میرے لیے فائدے کی موجب ہے اس کے اس اعتقاد اور اس عمل کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اس ہستی کے متعلق ایک طرح کے اقتدار کا تصور رکھتا ہے۔ پھر جو شخص خداوند اعلیٰ کے ماننے کے باوجود اس کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجات کے لیے رجوع کرتا ہے اس کے اس فعل کی علّت بھی صرف یہی ہے کہ خداوندی کے اقتدار میں وہ ان کو کسی نہ کسی طرح کا حصہ دار سمجھ رہا ہے۔ اور علیٰ ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کے حکم کو قانون اور کسی کے امرو نہی کو اپنے لیے واجب الاطاعت قرار دیتا ہے وہ بھی اس کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتا ہے۔ پس الوہیّت کی اصل روح اقتدار ہے، خواہ وہ اقتدار اس معنی میں سمجھا جائے کہ نظام کائنات پر اس کی فرماں روائی فوق الطبعی نوعیت کی ہے، یا وہ اس معنی میں تسلیم کیا جائے کہ دنیوی زندگی میں انسان اس کے تحت امر ہے اور اس کا حکم بذات خود واجب الاطاعت ہے۔

قرآن کا استدلال

یہی اقتدار کا تصور ہے جس کی بنیاد پر قرآن اپنا سارا زور غیر اللہ کی الہٰیّت کے انکار اور صرف اللہ کی الٰہیّت کے اثبات پر صرف کرتا ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زمین اور آسمان میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات و اقتدارات کی مالک ہے۔ خلق اسی کی ہے، نعمت اسی کی ہے، امر اسی کا ہے، قوت اور زور بالکل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چارو ناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے، اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم  چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اور انتظام کے رازوں سے واقف ہے اور نہ کوئی اختیارات حکومت میں ذرّہ برابر شریک و حصہ دار ہے۔ لہٰذا اس کے سوا حقیقت میں کوئی الٰہ نہیں ہے، اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے تو تمہارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الٰہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو، اصلاً غلط ہے، خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈنے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نے دوسروں سے قائم کر رکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں، کیونکہ وہی اکیلا صاحب اقتدار ہے۔

اس باب میں قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے وہ اسی کی زبان سے سنیے۔

وَ هُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ(الزخرف:۸۴)

“وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی الٰہ ہے، اور وہی حکیم اور علیم ہے (یعنی آسمان و زمین میں حکومت کرنے کے لیے جس علم اور حکمت کی ضرورت ہے وہ اسی کے پاس ہے )”

اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔۔ ۔ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَئًْا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ۔۔إِلٰهُكُم إِلٰهٌ وٰحِدٌ (النحل: ۱۷,۲۰,۲۲)

“تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور جو پیدا نہیں کرتا دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تمہاری سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی ؟۔۔ خدا کو چھوڑ کر یہ جن دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔۔تمہارا الٰہ تو ایک ہی الٰہ ہے۔ “

ياَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ  هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ(فاطر:۳٣)

“لوگو ! تم پر اللہ کا جو احسان ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ پھر تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو؟”

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِهٖ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُوْنَ(الانعام:۴۶٤٦)

“کہو!تم نے کبھی سوچا کہ اللہ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوتیں سلب کر لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے (یعنی عقل چھین لے )تو اللہ کے سوا کونسا الٰہ ہے جو یہ چیزیں تمہیں لا دے گا؟”

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِوَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَآءٍ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ (القصص:۷۰۔ ۷۲)

“اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ اسی کے لیے تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور وہی اکیلا صاحب حکم و اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔ کہو تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے روز قیامت تک رات طاری کر دے تو اس کے سوا کونسا دوسرا الٰہ ہے جو تمہیں روشنی لا دے گا؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟کہو تم نے کبھی اس پر غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اس کے سوا اور کونسا الٰہ ہے جو تمہیں رات لا دے گا کہ اس میں تم سکون حاصل کرو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟”

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ۔ وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۔ (السبا : ۲۲، ۲۳ )

“کہو کہ اللہ کے سوا تم نے جن کو کچھ سمجھ رکھا ہے انہیں پکار کر دیکھو۔ وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں، نہ آسمان و زمین کے نظام میں ان کی کوئی شرکت ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے، اور نہ اللہ کے ہاں کوئی سفارش کام آتی ہے بجز اس کے جس کے حق میں اللہ خود ہی سفارش کی اجازت دے “

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ يُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ  كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى اَلَا هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ۔ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّن ْ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۔ (الزمر:۵۔ ۶)

“اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر چڑھا کر لاتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو تابع کر رکھا ہے اور ہر ایک اپنی مدت مقررہ تک چل رہا ہے۔اس نے ایک نفس سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی(یعنی انسانی زندگی کا آغاز کیا )پھر اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤ ں کے پیٹ میں اسی طرح پیدا کرتا ہے کہ تین پردوں [3] کے اندر تمہاری تخلیق کے یکے بعد دیگرے کئی مدارج طے ہوتے ہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اقتدار حکومت اسی کا ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر تم کدھر پھیرے جا رہے ہو؟”

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَن ْبَتْنَا بِهٖ حَدَآىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُن ْبِتُوْا شَجَرَهَا ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ ۔ اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَ جَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ يَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ۔ اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ يُّرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرً ا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ (النمل:٦۶۰۔ ۔ ۶۴)

“کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر وہ خوش منظر باغ اگائے۔ جن کے درخت اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ان کاموں میں شریک ہے ؟مگر یہ لوگ حقیقت سے منہ موڑتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا جاری کیے اور اس کے لیے پہاڑوں کو لنگر بنایا اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کیا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ان کاموں میں شریک ہے ؟ مگر اکثر مشرکین بے علم ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو اضطرار کی حالت میں آدمی کی دعا سنتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو تم کو زمین خلیفہ بناتا ہے ؟ (تصرف کے اختیارات دیتا ہے ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ان کاموں میں شریک ہے ؟مگر تم کم ہی دھیان کرتے ہو۔ پھر وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کے اندھیاروں میں راستہ دکھاتا ہے اور اپنی رحمت(یعنی بارش)سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ان کاموں میں شریک ہے ؟ اللہ بالاتر ہے ان کے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے ؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ان کاموں میں شریک ہے ؟ کہو اگر تم اپنے شرک میں سچے ہو تو اس پر دلیل لاؤ‘[4]

الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۔ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَئًْا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ وَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَيٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا

وہ جو آسمانوںا ور زمینوں کی حکومت کا مالک ہے۔ اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور اقتدار حکومت میں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ا ور ہر چیز کے لیے پورا پورا اندازہ مقرر کیا۔ لوگوں اسے چھوڑ کر ایسے الٰہ بنا لیے ہیں جو کسی کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور جن کو موت اور زندگی اور دوبارہ پیدائش پر کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ (الفرقان:۲۔ ۳)

بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ  وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ   لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ   خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ   وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ

آسمان و زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی اس کے سوا الٰہ نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کی حفاظت و خبر گیری کا کفیل ہے۔ (انعام:۱۰۲۔ ۱۰۳)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ کَحُبِّ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ وَ لَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ١ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا١ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ

“بعض لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کو خدائی کا شریک و مماثل قرار دیتے ہیں اور اللہ کی طرح ان کو بھی محبوب رکھتے ہیں، حالانکہ جو ایمان لانے والے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ کاش یہ ظالم جس حقیقت کو نزول عذاب کے وقت محسوس کریں گے، آج ہی محسوس کر لیتے کہ قوت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے ” (بقرہ:۱۶۵)

قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ اِيْتُوْنِيْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَآ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ

“کہو تم نے اپنے معبودوں کی حالت پر کبھی غور بھی کیا جنہیں تم خدا کی بجائے حاجت روائی کے لیے پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین کا کتنا حصہ ان کا بنایا ہوا ہے، یا آسمان کی پیدائش میں ان کی کس قدر شرکت ہے ؟۔اس سے بڑھ کر  اور کون گمراہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتا  [5] (احقاف:۴۔ ۵)”

لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۔ لَا يُسَْٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ  وَهُمْ يُسَْٔلُوْنَ

“اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی الٰہ ہوتے تو نظام عالم درہم برہم ہو جاتا پس اللہ جو عرش(یعنی کائنات کے تخت سلطنت) کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی فعل کے لیے جواب   دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں۔ “(انبیاء:۲۲۔ ۲۳)

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ

“اللہ نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر الٰہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو لے کر الگ ہو جاتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔ “(المومنون:۹۱)

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا۔ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا

“اے نبی کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ ہوتے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے، تو وہ مالک عرش کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے ضرور تدبیریں تلاش کرتے۔ پاک ہے وہ اور بہت بالاتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ “(بنی: اسرائیل۴۴.۴۳)

ان آیات میں اول سے آخر تک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ الہٰیّت و اقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ جو اقتدار نہیں رکھتا وہ الٰہ نہیں ہو سکتا۔ اور اسے الٰہ نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ الٰہ سے تمہاری جس قدر ضروریات متعلق ہیں یا جن ضروریات کی خاطر تمہیں کسی کو الٰہ ماننے کی حاجت پیش آتی ہے، ان میں سے کوئی ضرورت بھی اقتدار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔ لہذا غیر مقتدر کا الٰہ ہونا بے معنی ہے، حقیقت کے خلاف ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنا لاحاصل ہے۔

اس مرکزی خیال کو لے کر قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے اس کے مقدمات اور نتائج حسب ذیل ترتیب کے ساتھ اچھی طرح سمجھ میں آسکتے ہیں۔

۱:حاجت روائی، مشکل کشائی، پناہ دہندگی، امداد و اعانت، خبر گیری و حفاظت اور استجابت دعوت، جن کو تم نے معمولی کام سمجھ رکھا ہے۔ دراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سر رشتہ پورے نظام کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سے جا ملتا ہے۔ تمہاری ذرا ذرا سی ضرورتیں جس طرح پوری ہوتی ہیں اس پر غور کرو تو معلوم ہو کہ زمین و آسمان کے عظیم الشان کارخانہ میں بے شمار اسباب کی مجموعی حرکت کے بغیر ان کا پورا ہونا محال ہے۔ پانی کا ایک گلاس جو تم پیتے ہو، اور گیہوں کا ایک دانہ جو تم کھاتے ہو اس کو مہیا کرنے کے لیے سورج اور زمین اور ہواؤں اور سمندروں کو خدا جانے کتنا کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں یہ چیزیں تم کو بہم پہنچتی ہیں۔ پس تمہاری دعائیں سننے اور تمہاری حاجتیں رفع کرنے کے لیے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین و آسمان پیدا کرنے کے لیے، سیاروں کو حرکت دینے کے لیے ہواؤں کو گردش دینے اور بارش برسانے کے لیے، غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لیے درکار ہے۔

۲: یہ اقتدار ناقابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خلق کا اقتدار کسی۔ کے پاس ہو، اور رزق کا کسی اور کے پاس۔ سورج کسی کے قبضہ میں ہو اور زمین کسی اور کے قبضہ میں پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری و صحت کسی اور کے اختیار میں، اور موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں، اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کائنات کبھی چل ہی نہ سکتا۔ لہذا تمام اقتدارات و اختیارات کا ایک ہی مرکزی فرمانروا کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔ کائنات کا انتظام چاہتا ہے کہ ایسا ہو، اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔

۳:جب تمام اقتدار ایک ہی فرماں روا کے ہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے، تو لامحالہ الوہیّت بھی بالکلیہ اسی فرمانروا کے لیے خاص ہے اور اس میں کوئی حصہ دار نہیں ہے۔ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ تمہاری فریاد رسی کر سکے، دعائیں قبول کر سکے، پناہ دے سکے، حامی و ناصر اور ولی و کارساز بن سکے۔ نفع و نقصان پہنچا سکے۔ لہذا الٰہ کا جو مفہوم بھی تمہارے ذہن میں ہے اس کے لحاظ سے کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ حتی کہ کوئی اس معنی میں بھی الٰہ نہیں کہ فرمانروائے کائنات کے ہاں مقرب بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور سفارش مانی جاتی ہو۔

اس کے انتظام سلطنت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ کوئی اس کے معاملات میں دخل نہیں دے سکتا۔ اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اسی کے اختیار میں ہے۔ کوئی زور کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کرا سکے۔

۴: اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت و فرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جز بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کا شریک نہیں، جب رزاق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کا شریک نہیں، جب پورے نظام کائنات کا مدبر و منتظم وہ ہے اور تدبیر و انتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، تو یقیناً حاکم وآمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیے اور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کے شریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کے دائرے میں اس کے سوا کسی دوسرے کا فریاد رس اور حاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہے، اسی طرح کسی دوسرے کا مستقل بالذات حاکم اور خود مختار فرماں روا اور آزاد قانون ساز ہونا بھی غلط ہے۔ تخلیق اور رزق رسانی، احیاء اور اماتت، تسخیر شمس و قمر اور تکویر لیل و نہار، قضا اور قدر، حکم اور پادشاہی، امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار و حاکمیت کے مختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کے حکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہے تو وہ ویسا ہی شرک کرتا ہے جیسا کہ غیر اللہ سے دعا مانگنے والا شرک کرتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعوی بالکل اسی طرح خدائی کا دعویٰ ہے جس طرح فوق الطبعی معنی میں کسی کا یہ کہنا کہ تمہارا ولی و کارساز اور مدد گار و محافظ میں ہوں۔ اسی لیے جہاں خلق اور تقدیر اشیاء اور تدبیر کائنات میں اللہ کے لاشریک ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہیں لہ الحکم اور لہ الملک اور لم یکن لہ شریک فی الملک بھی کہا گیا ہے جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیّت کے مفہوم میں بادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے اور توحید الٰہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے بھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت تسلیم نہ کی جائے اس کو اور زیادہ کھول کر حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

کہو یا اللہ، تو جو ملک کا مالک ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے۔ (آل عمران:۲۶)

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ

پس بالا و برتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرش بزرگ کا مالک ہے۔ (المومنون:۱۱۶)

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ إِلٰهِ النَّاسِ۔

کہو میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب سے، انسانوں کے بادشاہ سے، انسانون کے الٰہ سے۔ (الناس۱-۳)

اور اس سے زیادہ تصریح سورہ المومن میں ہے جہاں فرمایا:

يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ لَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ  لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ  لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

یعنی جس روز سب لوگ بے نقاب ہوں گے، کسی کا کوئی راز اللہ سے چھپا نہ ہو گا، اس وقت پکارا جائے گا کہ آج کس بادشاہی کس کی ہے ؟ اور جواب اس کے سوا کچھ نہ ہو گا کہ اس اکیلے اللہ کی جس کا اقتدار سب پر غالب ہے (المومن:۱۶)

اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

اِنَّہُ تَعَالٰی یَطوِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضَ بِیَدِہِ ثُمَّ یَقُولُ ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ؟

“اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اپنی مٹھی میں لے کر پکارے گا میں ہوں پادشاہ، میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، کہاں ہیں وہ جو زمین میں بادشاہ بنتے تھے ؟ کہا ں ہیں جبار؟ کہاں ہیں متکبر۔[6] ”   عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضور خطبہ میں یہ الفاظ فرما رہے تھے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرایسالرزہ طاری تھا کہ ہم ڈر رہے تھے کہ کہیں آپ منبر سے گر نہ پڑیں۔

 

رب

لغوی تحقیق

اس لفظ کا مادّہ ر ب ب ہے جس کا ابتدائی و اساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سے تصرف، خبر گیری، اصلاح حال اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت، سیادت، مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے۔ لغت میں اس کے استعمالات کی چند مثالیں یہ ہیں:

۱:پرورش کرنا، نشوونما دینا، بڑھانا۔ مثلاً ربیب اور ربیبہ پروردہ لڑکے اور لڑکی کو کہتے ہیں۔ نیز اس بچے کو بھی ربیب کہتے ہیں جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائے۔ نیز اس بچے کو بھی ربیب کہتے ہیں جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائے۔ پالنے والی دائی کو بھی ربیبہ کہتے ہیں۔ راتبہ سوتیلی ماں کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کو پرورش کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے رآبّ سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مربَّب یا مربّی اسی دوا کو کہتے ہیں جو محفوظ کر کے رکھی جائے۔ رَبَّ۔ یُرَبُّ۔ ربًّا کے معنی اضافہ کرنے بڑھانے اور تکمیل کو پہنچانے کے ہیں۔ جیسے رَبَّ النِّعْمَۃَ، یعنی احسان میں اضافہ کیا یا احسان کی حد کر دی۔

۲:سمیٹنا، جمع کرنا، فراہم کرنا۔ مثلاً کہیں گے فَلَانٌ یَرُبُّ النَّاسَ یعنی فلاں شخص لوگوں کو جمع کرتا ہے، یا سب لوگ اس شخص پر مجتمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ کو مَربّ کہیں گے۔ سمٹنے اور فراہم ہو جانے کو تَرَبُّبْ کہیں گے۔

۳: خبر گیری کرنا، اصلاح حال کرنا، دیکھ بھال کرنا اور کفالت کرنا۔ مثلاً

رَبَّ ضَیْعَتَہ کے معنی ہوں گے فلاں شخص نے اپنی جائیداد کی دیکھ بھال اور نگرانی کی۔ ابوسفیان سے صفوان نے کہا تھا

لِاَنْ یَرُبَّنِیْ رَجُلٌ مِنْ قریشٍ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ یَرُبَّنِیْ رَجُلٌ مِنْ ھَوَازِن یعنی قریش میں سے کوئی شخص مجھے اپنی ربوبیت میں لے لے یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ ہوازن کا کوئی آدمی ایسا کرے۔

علقمہ بن عبیدہ کا شعر ہے :

وَکُنْتَ امُئِرًا اَفْضَتُ اِلَیْکَ رَبَابَتِیْ                                                      وَقَبُلَکَ رَبَتَّنِیْ فَضِعْتُ رُبُوْبی

یعنی تجھ سے پہلے جو رئیس میرے مربی تھے انہیں میں نے کھو دیا، آخر کار اب میری کفالت و ربابت تیرے ہاتھ آئی ہے۔

فرزدق کہتا ہے :

کانوا کَسَائِلۃٍ حَمْقَا ءَ اِزْ حَقَنَتْ                                                                          سَلَاءَھَا فِیْ اَدِیْم غَیْرِ مَرْبُو بِ

اس شعر میں ادیم غیر مربوب سے مراد وہ چمڑا ہے جو کمایا نہ گیا ہو، جسے دباغت دے کر درست نہ کیا گیا ہو۔ کَسَائِلۃٍ حَمْقَا ءَ اِزْ حَقَنَتْ  کے معنی ہوں گے فلاں شخص فلاں کے پاس اپنے پیشہ کا کام کرتا ہے یا اس سے کاریگری کی تربیت حاصل کرتا ہے۔

۴۔ فوقیت، بالادستی، سرداری، حکم چلانا، تصرف کرنا۔ مثلاً قد ربّ فلان قومِہ یعنی فلاں شخص نے قوم کو اپنا تابع کر لیا۔ ربیت القوم یعنی میں نے قوم پر حکم چلایا اور بالادست ہو گیا۔

لبید بن ربیعہ کہتا ہے :

وَاَھُلَکْنَ یَوْمًا رَبَّ کِنْدَۃَ وَابْنَہُ                    وَرَبَّ مَعَدٍّ بَیْنَ خَبْتٍ وَعَرْ عَرٍ

یہاں رب کندہ سے مراد کندہ کا سردار ہے جس کا حکم اس قبیلہ میں چلتا تھا۔ اس معنی میں نابغہ ذیبانی کا شعر ہے :

تَخِبُّ اِلٰی النُّعْمَانِ حتّٰی تَنَالٰہُ فِدًی                                                     لَکْ مِنْ رَّبٍّ تَلِیْدِی وَطَارِ فِیْ

۵۔ مالک ہونا، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اَرَبُّ غَنَم اَمْ رَبُّ ابل؟ تو بکریاں کا مالک ہے یا اونٹوں کا؟ اس معنی میں گھر کے مالک کو رَبُّ الدَّارِ اونٹی کے مالک کو رَبُّ النَاقَہ جائداد کے مالک کو رب الضیعہ کہتے ہیں۔ آقا کے معنی میں بھی رب کا لفظ آتا ہے اور عبد، یعنی غلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔

غلطی سے رب کے لفظ کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیّت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے کہ ھوَ اَنْشَاَ الشَّئْ حَالًا فَحَالًا اِلیٰ حَدِّ التَّمَامِ(یعنی ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر پایہ کمال کو پہنچانا)۔ حالانکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے۔ اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسبِ ذیل مفہومات پر حاوی ہے :

۱:پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا۔ تربیت اور نشو و نما دینے والا۔

۲:کفیل، خبر گیراں، دیکھ بھال اور اصلاح حال کا ذمہ دار۔

۳:وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس میں متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں۔

۴:سید مطاع، سردار ذی اقتدار، جس کا حکم چلے، جس کی فوقیت و بالا دستی تسلیم کی جائے، کجس کو تصرف کے اختیارات ہوں۔

۵:مالک، آقا۔

 

قرآن میں لفظ رب کے استعمالات

قرآن مجید میں یہ لفظ ان سب معانی میں آیا ہے۔ کہیں ان میں سے کوئی ایک یا دو معنی مراد ہیں، کہیں اس سے زائد اور کہیں پانچوں معنی۔ اس بات کو ہم آیات قرآنی قرآنی سے مختلف مثالیں دے کر واضح کریں گے۔

پہلے معنی میں :

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّہ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ

اس نے کہا کہ پناہ بخدا! وہ تو میرا رب[7] ہے جس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔ (یوسف:۲۳)

دوسرے معنی میں جس کے ساتھ پہلے معنی کا تصور بھی کم و بیش شامل ہے :

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ وَالَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَيَسْقِيْنِ وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ

تمہارے یہ معبود تو میرے دشمن ہیں، بجز رب کائنات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جو میری رہنمائی کرتا ہے، جو مجھے  جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔ (الشعراء:۷۷ تا ۸۰)

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجَْٔرُوْنَ ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ  مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ

تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی سے حاصل ہوئی ہے، پھر جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اسی کی طرف تم گھبرا کر رجوع کرتے ہو مگر جب وہ تم پر سے مصیبت ٹال دیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے ایسے ہیں جو اپنے رب کے ساتھ (اس نعمت کی بخشش اور اس مشکل کشائی میں )دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ (النحل:۵۳۔ ۵۴)

قُلْ اَغَیْرَاللہِ اَبْغِیْ رَبًّاوَّ ھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ

کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کرو۔ حالانکہ ہر چیز کا رب وہی ہے

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا

وہ مغرب و مشرق کا رب ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ (المزمل۔ ۹)

لہذا اسی کو اپنا وکیل (اپنے سارے معاملات کا کفیل و ذمہ دار)بنا لے۔

تیسرے معنی میں:۔

هُوَ رَبُّكُمْ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ

وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم پلٹا کر لے جائے جاؤ گے۔ (ہود۔ ۳۴)

ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ

پھر تمہارے رب کی طرف تمہاری واپسی ہے۔ (الزمر۔ ۷)

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنا رَبُّنَا

کہو کہ ہم دونوں فریقوں کو ہمارا رب جمع کرے گا۔ (سبا۔ ۲۶)

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ يُحْشَرُوْنَ

زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور ہوا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے جو تمہاری ہی طرح ایک امت نہ ہو۔ اور ہم نے اپنے دفتر میں کسی کے اندراج سے کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر وہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔ (الانعام۔ ۳۸)

وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ يَنْسِلُوْنَ

اور جونہی کہ صور پھونکا جائے گا وہ سب اپنے ٹھکانوں کی طرف نکل پڑیں گے۔ (یٰس۔ ۵۱)

چوتھے معنی جس کے ساتھ کم و بیش تیسرے معنی کا تصور بھی موجود ہے :۔

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ

انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے علما اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا۔ (التوبہ۔ ۳۱)

وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١

اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ (اٰل عمران۔ ۶۴)

دونوں آیتوں میں ارباب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو قوموں اور گروہوں نے مطلقاً اپنا رہنما و پیشوا مان لیا ہو۔ جن کے امرو نہی، ضابط و قانون اور تحلیل و تحریم کو بلا کسی سند کے تسلیم کیا جاتا ہو۔ جنہیں بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار سمجھا جاتا ہو۔

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا١۔۔وَ قَالَ لِلَّذِيْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِيْ عِنْدَ رَبِّكَ    فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِيْنَ       

یوسف (علیہ السلام)نے کہا کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب کو شراب پلائے گا۔اور ان دونوں میں سے جس کے متعلق یوسفؑ کا خیام تھا کہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ اپنے رب سے میرا ذکر کرنا، مگر شیطان نے اسے بھلاوے میں ڈال دیا اور اس کو اپنے رب سے یوسفؑ کا ذکر کرنے کا خیال نہ رہا۔ (یوسف۔ ۴۲)

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسَْٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ  اَيْدِيَهُنَّ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ

جب پیغام لانے والا یوسفؑ کے پاس آیا تو یوسفؑ نے اس سے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا رب تو ان کی چال سے با خبر ہے ہی۔ (یوسف۔ ۵۰)

ان آیات میں حضرت یوسفؑ نے مصریوں سے خطاب کرتے ہوئے بار بار فرعون مصر کو ان کا رب قرار دیا ہے، اس لیے کہ جب وہ اس کی مرکزیت اور اس کا اقتدار اعلیٰ اور اس کو امرو نہی کا مالک تسلیم کرتے تھے، تو وہی ان کا رب تھا۔ برعکس اس کے خود حضرت یوسفؑ اپنا رب اللہ کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ فرعون کو نہیں، صرف اللہ کو مقتدر اعلیٰ اور صاحب امر و نہی مانتے تھے۔

پانچویں معنی میں:۔

فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ۔ الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ

لہذا انہیں اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے جس نے ان کی رزق رسانی کا انتظام کیا ہے اور انہیں بد امنی سے محفوظ رکھا ہے۔ (قریش:۳، ۴)

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

تیرا رب جو عزّت و اقتدار کا مالک ہے ان تمام صفات عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ (صفت۔ ۱۸۰)

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ

اللہ جو عرش کا مالک ہے ان تمام صفاتِ عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ (الانبیاء۔ ۲۲)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ

پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش بزرگ کا مالک کون ہے ؟(المومنون۔ ۸۶)

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ

وہ جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں اور سب چیزوں کا جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (الصفٰت۔ ۵)

وَاَنَّه هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى

اور یہ کہ شعریٰ کا مالک بھی وہی ہے (النجم۔ ۴۹)

ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات

ان شواہد سے لفظ رب کے معانی بالکل غیر مشتبہ طور پر متعین ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ربوبیت کے متعلق گمراہ قوموں کے وہ کیا تخیلات تھے جن کی تردید کرنے کے لیے قرآن آیا، اور کیا چیز ہے جس کی طرف قرآن بلاتا ہے۔ اس سلسلہ میں زیادہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن گمراہ قوموں کا ذکر قرآن نے کیا ہے ان کو الگ الگ لے کر ان کے خیالات سے بحث کی جائے تاکہ بات بالکل منقح ہو جائے۔

(۱) قوم نوح:سب سے پہلے جس قوم کا ذکر قرآن کرتا ہے، حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ہے۔ قرآن کے بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے جواب میں ان کا یہ قول خود قرآن نے نقل کیا ہے :

مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ  يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ  وَلَوْ شَا ءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰ ىِٕكَةً

یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تم جیسا ایک انسان۔ یہ دراصل تم پر اپنی فضیلت جمانا چاہتا ہے۔ ورنہ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ (المؤمنون۔ ۲۴)

انہیں اللہ کے خالق ہونے اور پہلے اور دوسرے معنی میں اس کے رب ہونے سے بھی انکار نہ تھا۔ چنانچہ حضرت نوح جب ان سے کہتے ہیں کہ

هُوَ رَبُّكُمْ   وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ[8] (ہود۔ ۳۴)

 اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ  اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا[9]  (نوح۔ ۱۰)

اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللّٰهُ اَنْ بَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا[10]  (نوح۔ ۱۵ ۔۔۱۷)

تو ان میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہمارا رب نہیں ہے، یا پھر زمین و آسمان کو اور ہمیں اس نے پیدا نہیں کیا ہے، یا زمین و آسمان کا یہ سارا انتظام وہ نہیں کر رہا ہے۔ پھر ان کو اس بات سے بھی انکار نہ تھا کہ اللہ ان کا الٰہ ہے۔ اسی لیے تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی دعوت ان کے سمانے ان الفاظ میں پیش کی کہ مالکم من الٰہ غیرہ (اس کے سوا تمہارے لیے کوئی دوسرالٰہ نہیں ہے )ورنہ وہ اگر اللہ کے الٰہ ہونے سے منکر ہوتے تو دعوت کے الفاظ یہ ہوتے اِتَخذوا اللہ الٰھا ( اللہ کو اپنا الٰہ بنا لو)۔

اب سوال یہ ہے کہ ان کے اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان نزاع کس بات پر تھی؟ آیات قرانی کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ بنائے نزاع دو باتیں تھیں۔

ایک یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام کی تعلیم یہ تھی کہ جو رب العالمین ہے، جسے تم بھی مانتے ہو کہ تمہیں اور تمام کائنات کو اسی نے وجود بخشا ہے اور وہی تمہاری ضروریات کا کفیل ہے، دراصل وہی اکیلا تمہارا الٰہ ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔ کوئی اور ہستی نہیں ہے جو تمہاری حاجتیں پوری کرنے والی، مشکلیں آسان کرنے والی، دعائیں سننے والی اور مدد کو پہنچنے والی ہو۔ لہٰذا تم اسی کے آگے سرِنیاز جھکاؤ۔

يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُہ۔وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ

اے برادران قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے۔مگر میں رب العالمین کی طرف سے پیغامبر ہوں۔ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ (اعراف۔ ۵۹، ۶۲)

اس کے برعکس وہ لوگ اس بات پر مصر تھے کہ رب العالمین تو اللہ ہی ہے مگر دوسرے بھی خدائی کے انتظام میں تھوڑا بہت دخل رکھتے ہیں، اور ان سے بھی ہماری حاجتیں وابستہ ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ ہم دوسروں کو الٰہ مانیں گے :

وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا

ان کے سرداروں اور پیشواؤں نے کہا کہ لوگو! اپنے الٰہوں کو نہ چھوڑو، ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو نہ چھوڑو۔ (نوح۔ ۲۳)

دوسرے یہ کہ وہ لوگ صرف اس معنی میں اللہ کو رب مانتے تھے کہ وہ ان کا خالق، زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کا مدبر اعلیٰ ہے۔ لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اخلاق، معاشرت، تمدن، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں بھی حاکمیت و اقتدار اعلیٰ اسی کا حق ہے، وہی رہنما ہے، وہی قانون ساز، وہی صاحب امر و نہی بھی ہے اور اسی کی اطاعت بھی ہونی چاہیے۔ ان سب معاملات میں انہوں نے اپنے سرداروں اور مذہبی پیشواؤں کو اپنا رب بنا رکھا تھا۔ برعکس اس کے حضرت نوح کا مطالبہ یہ تھا کہ ربوبیت کے ٹکڑے نہ کرو۔ تمام مفہومات کے اعتبار سے صرف اللہ ہی کو رب تسلیم کرو، اور اس کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جو قوانین اور احکام میں تمہیں پہنچاتا ہوں ان کی پیروی کرو۔

اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ

میں تمہارے لیے خدا کا معتبر رسول ہوں۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (الشعراء۔ ۱۰۷۔ ۱۰۸)

(۲)قوم عاد: قوم نوح کے بعد قرآن عاد کا ذکر کرتا ہے۔ یہ قوم بھی اللہ کی ہستی سے منکر نہ تھی۔ اس کے الٰہ ہونے سے بھی اس کو انکار نہ تھا۔ جس معنی میں نوح علیہ السلام کی قوم اللہ کو رب تسلیم کرتی تھی اس معنی میں یہ قوم بھی اللہ کو رب مان رہی تھی۔ البتہ بنائے نزاع وہی دو امور تھے جو اوپر قوم نوح کے سلسلہ میں بیان ہو چکے ہیں۔ چنانچہ قران کی حسب ذیل تصریحات اس پر صاف دلالت کرتی ہیں:

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗقَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَوَحْدَہ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَا ؤُنَا

عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے برادران قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔انہوں نے جواب دیا کیا تو اس لیے آیا ہے کہ بس ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ  دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی آ رہی ہے۔ (اعراف۔ ۶۵۔ ۷۰)

قَالُوْا لَوْ شَا ءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰ ىِٕكَةً

انہوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیج سکتا تھا۔ (حٰم السجدہ۔ ۱۴)

وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ

اور یہ عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت قبول نہ کی، اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی اختیار کی۔ (ہود۔ ۵۹)

(۳)قوم ثمود: اب ثمود کو لیجئے جو عاد کے بعد سب سے بڑی سرکش قوم تھی۔ اصولا اس کی گمراہی بھی اسی قسم کی تھی جو قوم نوح اور قوم عاد کی بیان ہوئی ہے۔ ان لوگوں کو اللہ کے وجود اور اس کے الٰہ اور رب ہونے سے انکار نہ تھا، اس کی عبادت سے بھی انکار نہ تھا۔ بلکہ انکار اس بات سے تھا کہ اللہ ہی الٰہ واحد ہے، صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، اور ربوبیت اپنے تمام معانی کے ساتھ اکیلے اللہ ہی کے لیے خاص ہے، وہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی فریاد رس، حاجت روا، اور مشکل کشا ماننے پر اصرار کرتے تھے۔ اور اپنی اخلاقی و تمدنی زندگی میں اللہ کی بجائے اپنے سرداروں اور پیشواؤں کی اطاعت کرنے اور ان سے اپنی زندگی کا قانون لینے پر مصر تھے۔ یہی چیز ان کے بالآخر ان کے ا یک فسادی قوم بن جانے اور مبتلائے عذاب ہونے کا موجب ہوئی۔ اس کی توضیح حسب ذیل آیات سے ہوتی ہے :

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ اِذْ جَائَتْھُمُ الرُّسُلُ مِنْ  بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ  قَالُوْا لَوْ شَا ءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰ ىِٕكَةً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہ كٰفِرُوْنَ

اے محمد! اگر یہ لوگ تمہاری پیروی سے منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ عاد اور ثمود کو جو سزا ملی تھی ویسی ہی ایک ہولناک سزا سے میں تم کو ڈراتا ہوں۔ جب ان قوموں کے پاس ان کے پیمبر  آگے اور پیچھے سے آئے اور کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا تم جو کچھ لے کر آئے ہو اسے ہم نہیں مانتے۔

(حٰم السجدہ۔ ۱۳۔ ۱۴)

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُہ۔قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَا ؤُنَا

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ اس نے کہا اے برادران قوم! اللہ کی پرستش و بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔۔ ۔ انہوں نے کہا صالح! اس سے پہلے تو ہماری بڑی امیدیں تم سے تھیں، کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے۔ (ہود۔ ۶۱۔ ۶۲)

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ وَلَا تُطِيْعُوْٓا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ الَّذِيْنَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ

جب ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں اپنے بچاؤ کی کوئی فکر نہیں؟ دیکھو میں تمہارے اللہ کا معتبر رسول ہوں لہٰذا اللہ کی ناراضگی سے بچو اور میری اطاعت قبول کرو۔اور ان حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (الشعراء۔۱۴۲۔ ۱۵۲)

(۴)قوم ابراہیم و نمرود: اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کی قوم کا نمبر آتا ہے۔ اس قوم کا معاملہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس کے بادشاہ نمرود کے متعلق یہ عام غلط فہمی ہے کہ وہ اللہ کا منکر اور خود خدا ہونے کا مدعی تھا۔ حالانکہ وہ اللہ کی ہستی کا قائل تھا، اس کے خالق و  تدبرِ کائنات ہونے کا معتقد تھا، اور صرف تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی کے اعتبار سے اپنی ربوبیت کا دعویٰ کرتا تھا۔ نیز یہ بھی عام غلط فہمی ہے کہ یہ قوم اللہ سے بالکل ناواقف تھی اور اس کے الٰہ اور رب ہونے کی سرے سے قائل ہی نہ تھی۔ حالانکہ فی الواقع اس قوم کا معاملہ قومِ نوح اور عاد اور ثمود سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔ وہ اللہ کے وجود کو بھی مانتی تھی، اس کا رب ہونا اور خالقِ ارض و سما اور تدبر کائنات ہونا بھی اسے معلوم تھا۔ اس کی عبادت سے بھی وہ منکر نہ تھی۔ البتہ اس کی گمراہی یہ تھی کہ ربوبیت بمعنی اول و دوم میں اجرام فلکی کو حصہ دار سمجھتی تھی۔ اور اس بناء پر اللہ کے ساتھ ان کو بھی معبود قرار دیتی تھی۔ اور ربوبیت بمعنی سوم و چہارم و پنجم کے اعتبار سے اس نے اپنے بادشاہوں کو رب بنا رکھا تھا۔ قرآن کی تصریحات اس بارے میں اتنی واضح ہیں کہ تعجب ہوتا ہے کس طرح لوگ اصل معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہ گئے۔

سب سے پہلے حضرت ابراہیمؑ کے آغازِ ہوش کا وہ واقعہ لیجیے جس میں نبوت سے پہلے ان کی تلاشِ حق کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

فلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَ‌أَىٰ كَوْكَبًا قَالَ هَٰذَا رَ‌بِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ۔ فَلَمَّا رَ‌أَى الْقَمَرَ‌ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَ‌بِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَ‌بِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ۔ فَلَمَّا رَ‌أَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَ‌بِّي هَٰذَا أَكْبَرُ‌ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِ‌يءٌ مِّمَّا تُشْرِ‌كُونَ۔ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ حَنِيفًا   وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ۔

جب اس پر رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا۔ کہنے لگا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ تارا ڈوب گیا تو اس نے کہا ڈوبنے والوں کو تو میں پسند نہیں کرتا۔ پھر جب چاند چمکتا ہوا دیکھا تو کہا، یہ میرا رب ہے مگر وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا، اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو یہ خطرہ ہے کہ کہیں میں بھی ان گمراہ لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤں۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی چھپ گیا تو وہ پکار اٹھا کہ اے برادران قوم جو شرک تم کرتے ہو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے تو سب طرف سے منہ موڑ کر اپنا رخ اس کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (انعام:۷۶تا۷۹ )

خط کشیدہ فقروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں حضرت ابراہیمؑ نے آنکھ کھولی تھی اس میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے کا تصور، اور اس ذات کے رب ہونے کا تصور، ان سیاروں کی ربوبیت کے تصور سے الگ موجود تھا۔ اور آخر کیوں نہ موجود ہوتا جبکہ یہ لوگ ان مسلمانوں کی نسل سے تھے جو حضرت نوحؑ پر ایمان لائے تھے، اور ان کی قریبی رشتہ دار ہمسایہ اقوام(عاد و ثمود) میں پے در پے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ سے دینِ اسلام کی تجدید بھی ہوتی چلی آ رہی تھی(جَاءَتْھُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ) پس حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کے فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور رب ہونے کا تصور تو اپنے ماحول سے مل چکا تھا، البتہ جو سوالات ان کے دل میں کھٹکتے تھے وہ یہ تھے کہ نظام ربوبیت میں اللہ کے ساتھ چاند، سورج اور سیاروں کے شریک ہونے کا جو تخیل ان کی قوم میں پایا جاتا ہے، اور جس کی بنا پر یہ لوگ عبادت میں بھی اللہ کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرا رہے ہیں، یہ کہاں تک مبنی بر حقیقت ہے[11]۔ چنانچہ نبوت سے پہلے اسی کی جستجو انہوں نے کی اور طلوع و غروب کا انتظام ان کے لیے اس امر واقعی تک پہنچنے میں دلیل راہ بن گیا کہ فاطر السماوات والارض کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اسی بنا پر چاند کو غروب ہوتے دیکھ کر وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو خوف ہے کہ کہیں میں بھی حقیقت تک رسائی پانے سے نہ رہ جاؤں، اور ان مظاہر سے دھوکا نہ کھا جاؤں جن سے میرے گرد و پیش لاکھوں انسان دھوکا کھا رہے ہیں۔

پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام منصب نبوت پر سرفراز ہوئے اور انہوں نے دعوت الیٰ اللہ کا کام شروع کیا تو جن الفاظ میں وہ اپنی دعوت پیش فرماتے تھے ان پر غور کرنے سے سے وہ بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں:

وَكَيْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا  فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ  اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

اور آخر میں ان سے کس طرح ڈر سکتا ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان کو شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے الٰہیت و ربوبیت میں شریک ہونے پر اللہ نے تماھرے پاس کوئی سند نہیں بھیجی ہے۔ (انعام۔ ۸۲)

وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ

تم اللہ کے سوا اور جن جن سے دعائیں مانگتے ہو ان سے میں دست کش ہوتا ہوں۔ (مریم۔ ۴۸)

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الَّذِيْ فَطَرَهُنَّ قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَئًْا وَّلَا يَضُرُّكُمْ

کہا تمہارا رب تو صرف آسمانوں اور زمین کا رب ہی ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع و نقصان پہنچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے ؟ (انبیاء۔ ۵۶۔ ۶۶)

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ اَىِٕفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِيْدُوْنَ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا، یہ تم کن کی عبادت کر رہے ہو؟ کیا اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ الٰہوں کی بندگی کا ارادہ ہے ؟ پھر رب العالمین کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ (صٰفٰت۔ ۸۵تا۸۷)

إِنَّا بُرَ‌آؤ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْ‌نَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ

“ابراہیم ؑ اور اس کے ساتھی مسلمانوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے صاف کہہ دیا) کہ ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا جن جن کی عبادت تم کرتے ہو ان سب سے کوئی تعلق نہیں، ہم تمہارے طریقے کو ماننے سے انکار کر چکے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ سے بغض و عداوت کی بنا پڑ گئی ہے جب تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان نہ لاؤ”۔ (الممتحنہ:۴)

حضرت ابراہیم کے ان تمام ارشادات کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مخاطب وہ لوگ نہ تھے جو اللہ سے بالکل ناواقف اور اس کے رب العٰلمین اور معبود ہونے سے منکر یا خالی الذہن ہوتے۔ بلکہ وہ لوگ تھے جو اللہ کے ساتھ ربوبیّت(بمعنی اول و دوم)اور الٰہیّت میں دوسروں کو شریک قرار دیتے تھے۔ اسی لیے تمام قرآن میں کسی ایک جگہ بھی حضرت ابراہیمؑ کا کوئی ایسا قول موجود نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی ہستی اور اس کے الٰہ اور رب ہونے کا قائل کرنے کی کوشش کی ہو گی، بلکہ ہر جگہ وہ دعوت اس چیز کی دیتے ہیں کہ اللہ ہی رب اور الٰہ ہے۔

اب نمرود کے معاملہ کو لیجیے۔ اس سے حضرت ابراہیمؑ کی جو گفتگو ہوئی اسے قرآن اس طرح نقل کرتا ہے :۔

أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَ‌اهِيمَ فِي رَ‌بِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ رَ‌بِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِ‌قِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِ‌بِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ‌  

تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے ابراہیمؑ سے اس کے رب کے بارے میں بحث کی، اس بنا پر کہ اللہ نے اسے حکومت دے رکھی تھی- جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے، تو اس نے کہا زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے – ابراہیم ؑ نے کہا، اچھا تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اب تو ذرا  اسے مغرب سے نکال لا- یہ سن کر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا-(البقرۃ:۲۸۵)

اس گفتگو سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جھگڑا اللہ کے ہونے یا نہ ہونے پر نہ تھا بلکہ اس بات پر تھا کہ ابراہیم ؑ “رب” کسے تسلیم کرتے ہیں- نمرود اول تو اس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اللہ کی ہستی کو مانتی تھی- دوسرے جب تک وہ بالکل ہی پاگل نہ ہو جاتا وہ ایسی صریح احمقانہ بات کبھی نہ کہ سکتا تھا زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو گردش دینے والا وہ خود ہے – پس دراصل اس کا دعوی یہ نہ تھا کہ میں اللہ ہوں- یا رب السموت و الارض ہوں، بلکہ اس کا دعوی صرف یہ تھا کہ میں اس مملکت کا رب ہوں جس کی رعیت کا ایک فرد ابراہیم ؑ ہے – اور یہ رب ہونے کا دعوی بھی اسے ربوبیت کے پہلے اور دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نہ تھا، کیونکہ اس اعتبار سے تو وہ خود چاند اور سورج اور سیاروں کی ربوبیت کا قائل تھا- البتہ وہ تیسرے، چوتھے اور پانچویں مفہوم کے اعتبار سے اپنی مملکت کا رب بنتا تھا- یعنی اس کا دعویٰ یہ تھا کہ میں اس ملک کا مالک ہوں، اس کے سارے باشندے میرے بندے، میرا مرکزی اقتدار ان کے اجتماع کی بنیاد ہے، اور میرا فرمان ان کے لیے قانون ہے – ان اٰتا ہ اللہ الملک کے الفاظ صریحاً اس بات کی طرف اشارہ کر رہے کہ اس دعوی ربوبیت کی بنیاد بادشاہی کے زعم پر تھی- جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی رعیت میں ابراہیم ؑ نامی ایک نوجوان اٹھا ہے جو نہ چاند اور سورج اور سیاروں کی فوق الفطری ربوبیت کا قائل ہے نہ بادشاہ وقت کی سیاسی و تمدنی ربوبیت تسلیم کرتا ہے، تو اس کو تعجب ہوا اور اس نے حضرت ابراہیم ؑ کو بلا کر دریافت کیا آخر تم کسے رب مانتے ہو؟ حریت ابراہیم ؑ نے پہلے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں زندگی اور موت کے اختیارات ہیں- مگر اس جواب سے وہ بات کی تہ کو نہ پہنچ سکا اور یہ کہ کر اس نے اپنی ربوبیت ثابت کرنی چاہی کہ زندگی اور موت کے اختیارات تو مجھے حاصل ہیں جسے چاہوں قتل کرا دوں اور جس کی چاہوں جان بخشی کر دوں- تب حضرت ابراہیم ؑ نے اسے بتایا کہ میں صرف اللہ کو رب مانتا ہوں، ربوبیت کے جملہ مفہومات کے اعتبار سے میرے نزدیک تنہا اللہ ہی رب ہے، اس نظام کائنات میں کسی دوسرے کی ربوبیت کے لیے گنجائش ہی کہاں ہو سکتی ہے جبکہ سورج کہ طلوع و غروب پر وہ ذرہ برابر اثرانداز نہیں ہو سکتا- نمرود آدمی ذی ہوش تھا- اس دلیل کو سن کر اس پر یہ حقیقت کھل گئی کہ فی الواقع اللہ کی سلطنت میں اس کا دعویٰ  ربوبیت بجز ایک زعم باطل کے اور کچھ نہیں ہے، اسی لیے وہ دم بخود ہو کر رہ گیا- مگر نفس پرستی اور شخصی و خاندانی اغراض کی بندگی ایسی دامنگیر ہوئی حق کے ظہور کے باوجود وہ خود مختارانہ حکمرانی کے منصب سے اتر کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر آمادہ نہ ہوا- یہی وجہ ہے کہ اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد اللہ تعالی فرماتا ہے : واللہ لا یھدی القوم الظالمین (مگر اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا) یعنی اس ظہور حق کے بعد جو رویہ اسے اختیار کرنا چاہیے تھا اسے اختیار کرنے کے لیے جب وہ تیار نہ ہوا اور اس نے غاصبانہ فرماں روائی کر کے دنیا پر اور خود اپنے نفس پر ظلم کرنا ہی پسند کیا تو اللہ نے بھی اسے ہدایت کی روشنی عطا نہ کی، کیونکہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جو خود ہدایت کا طالب نہ ہو اس پر زبردستی اپنی ہدایت مسلط کر دے۔

(۵)قوم لوط علیہ السلام:قوم ابراہیم ؑ کے بعد ہمارے سامنے وہ قوم آتی ہے جس کی اصلاح پر حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط ؑ مامور کیے گئے تھے – اس قوم کے متعلق بھی قرآن سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ تو اللہ کے وجود کی منکر تھی نہ اس بات کی منکر تھی اللہ خالق اور رب بمعنی اول و دوم ہے – البتہ اسے انکار اس سے تھا کہ اللہ ہی کو تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی میں بھی رب مانے اور اس کے معتمد علیہ نمائندے کی حیثیت سے رسول کے اقتدار کو تسلیم کرے وہ چاہتی تھی کہ اپنی خواہش نفس کے مطابق خود جس طرح چاہے کام کرے۔ یہی اس کا اصلی جرم تھا اور اسی بنا پر وہ عذاب میں مبتلا ہوئی- قرآن کی حسب ذیل تصریحات اس پر شاہد ہیں:-

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ  اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ      فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ    وَمَآ اَسَْٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ    اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ      اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ      وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ   بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ    

جب ان کے بھائی لوط علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم تقوی اختیار کرو، دیکھو میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں- لہذا اللہ کے غضب سے بچو اور میری اطاعت کرو- اس کام پر میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، مرا معاوضہ تو صرف رب العالمین کے ذمہ ہے – کیا دنیا کے لوگوں میں سے تم لڑکوں کی طرف جاتے ہو اور تمہارے رب نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو؟تم بڑے ہی حس سے گزرنے والے لوگ ہو۔ (الشعراء:۱۶۱تا۱۶۵)

 ظاہر ہے کہ یہ خطاب ایسے ہی لوگوں سے ہو سکتا تھا جو اللہ کے وجود اور اس کے خالق خالق اور پروردگار ہونے کے منکر نہ ہوں- چنانچہ جواب میں وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ اللہ کیا چیز ہے ؟ یا وہ پیدا کرنے والا کون ہوتا ہے ؟ یا وہ کہاں سے ہمارا رب ہو گیا؟ بلکہ کہتے یہ ہیں کہ :-

قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ

اے لوط! اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ملک سے نکال باہر کیے جاؤ گے۔ (الشعرا :۱۶۷)

دوسری جگہ اس واقعہ کو یوں فرمایا گیا ہے :-

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ۡ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ — اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَۭفَمَاكَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔

“اور ہم نے لوط کو بھیجا جب اس نے قوم سے کہا کہ تم لوگ وہ فعل شنیع کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہ کیا تھا، کیا تم مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، راستوں پر ڈاکے مارتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ ایک دوسرے کے سامنے بد کاریاں کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو”

کیا یہ جواب کسی منکر خدا قوم کا ہو سکتا تھا؟پس معلوم ہوا کہ ان کا اصلی جرم انکار الوہیت و ربوبیت نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ وہ فوق الفطری میں اللہ کو الٰہ اور رب مانتے تھے۔ لیکن اپنے اخلاق اور تمدن، معاشرت میں اللہ کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کرنے سے انکار کرتے تھے اوراس کے رسول کی ہدایت پر چلنے کے لیے تیار نہ تھے۔ (عنکبوت:۲۸-۲۹)

(۶)قوم شعیب علیہ السلام: اس کے بعد اہل مدین اور اصحاب الایکہ کو لیجیے جن میں حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھے، اس لیے یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے وجود اوراس کے الٰہ  اور رب ہونے کے قائل تھے یا نہ تھے۔ ان کی حیثیت دراصل ایک ایسی قوم کی تھی جس کی ابتداء اسلام سے ہوئی اور بعد میں وہ عقائد و اعمال کی خرابیوں میں مبتلا  ہو کر بگڑتی چلی گئی بلکہ قرآن سے تو کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مومن ہونے کے  بھی مدعی تھے، چنانچہ بار بار حضرت شعیب علیہ السلام ان سے فرماتے تھے کہ”اگر تم مومن ہو”تو تمہیں یہ کرنا چاہیے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی ساری تقریروں اور ان کے جوابات کو دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم تھی جو اللہ کو مانتی تھی، اسے معبود اور پروردگار بھی تسلیم کرتی تھی، مگر وہ دو طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہو گئی تھی۔ ایک یہ کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کے سوا دوسروں کو بھی الٰہ اور رب سمجھنے لگی تھی۔ اس لیے ان کی عبادت صرف اللہ کے لیے مختص نہ رہی تھی، دوسرے یہ کہ اس کے نزدیک اللہ کی ربوبیت کو انسان  کے اخلاق، معاشرت، معیشت، تمدن وسیاست سے کوئی سروکار نہ تھا، اس بنا پر وہ کہتی تھی کہ اپنی تمدنی زندگی میں ہم مختار ہیں، اپنے معاملات کو جس طرح چاہیں چلائیں۔

قرآن کی حسب ذیل آیات ہمارے اس بیان کی تصدیق کرتی ہیں:

وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ ۔ وَ اِنْ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِيْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآىِٕفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا وَ هُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ (الاعراف:۸۵، ۸۷)

اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا” اے برادرانِ قوم ! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن ہدایت آ چکی ہے، پس ناپ تول ٹھیک کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح کی جا چکی تھی۔ اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم مومن ہو۔اگر تم میں سے ایک گروہ اس ہدایت پر، جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ “

وَ يٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ(۸۵) بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ١ ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ(۸۶ )قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ۸۷(ھود:۸۵۔ ۔ ۸۷)

“اور اے برادرانِ قوم، پیمانے اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو۔ اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو۔ اللہ کی عنایت سے کاروبار میں جو بچت ہو وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔ اور میں تمہارے اوپر کوئی نگہبان نہیں ہوں، انہوں نے جواب دیا اے شعیب!کیا تمہاری نمازیں تمہیں یہ حکم دیتی ہیں کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے، یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا ترک کر دیں؟تم ہی ایک راست بردبار اور راست باز رہ گئے ہو۔ “

آخری الفاظ خصوصیات کے ساتھ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ربوبیت و الوہیت کے بارے میں ان کی اصل گمراہی کیا تھی۔

(۷)فرعون اور آل فرعون: اب ہمیں فرعون اور اس کی قوم کو دیکھنا چاہیے جس کے باب میں نمرود اوراس کی قوم سے بھی زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ فرعون نہ صرف خدا کی ہستی کا منکر تھا بلکہ خود خدا ہونے کا مدعی تھا یعنی اس کا دماغ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ دنیا کے سامنے کھلم کھلا یہ دعوی کرتا تھا کہ میں خالق ارض وسما ہوں اور اس کی قوم اتنی پاگل تھی کہ اس کے دعوے پر ایمان لاتی تھی، حالانکہ قرآن اور تاریخ کی شہادت سے اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ الوہیت و ربوبیت کے باب میں اس کی گمراہی نمرود کی گمراہی سے، اوراس کی قوم کی گمراہی قومِ نمرود کی گمراہی سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ فرق جو کچھ تھا وہ صرف اس بنا پر تھا کہ یہاں سیاسی اسباب سے بنی اسرائیل کے ساتھ ایک قوم پرستانہ ضد اور متعصبانہ ہٹ دھرمی پیدا ہو گئی تھی اس لیے محض عناد کی بنا پر اللہ کو الٰہ اور رب ماننے سے انکار کیا جاتا تھا اگرچہ دلوں میں اس کا اعتراف چھپا ہوا تھا جیسا کہ آج کل بھی اکثر دہریوں کا حال ہے۔

اصل واقعات یہ ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جب مصر میں اقتدار حاصل ہوا تو انہوں نے پوری قوت اسلام کی تعلیم پھیلانے میں صرف کر دی اور سر زمین پر اتنا گہرا نقش مرتسم کیا کہ صدیوں تک کسی کے مٹائے نہ مٹ سکا۔ اس وقت چاہے تمام اہل مصر نے اسلام دین حق قبول نہ کر لیا ہو مگر یہ ناممکن تھا کہ اہل مصر میں کوئی شخص اللہ سے ناواقف رہ گیا ہو اور یہ نہ جان گیا ہو کہ وہی خالق ارض وسماء ہے یہی نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کا کم از کم اتنا اثر ہر مصر ی پر ضرور ہو گیا تھا کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کو الٰہ اللہ اور رب الارباب تسلیم کرتا تھا اور کوئی مصری اللہ کی الوہیت کا منکر نہ رہا تھا البتہ جو ان میں کفر پر قائم رہ گئے تھے وہ الوہیت اور ربوبیت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے یہ اثرات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے وقت تک باقی تھے[12]۔ چنانچہ اس کا صریح ثبوت وہ تقریر ہے جو فرعون کے دربار میں ایک قبطی سردار نے کی تھی جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا تو اس کے دربار کا امیر جو مسلمان ہو چکا تھا مگر اپنا اسلام چھپائے تھا، بے قرار ہو کر بول اٹھا:

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْبِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ اِنَّاللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ۔يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ فِي الْاَرْضِ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِن ْبَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا۔يٰقَوْمِ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِۙ۔ ۔ مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِيْنَ مِن ْ بَعْدِهِمْ وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِن ْ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا۔وَ يٰقَوْمِ مَا لِيْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَى النَّارِتَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ۔ ۔ (المومن۔ ۲۸۔ ۴۲)

“کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سامنے کھلی کھلی نشانیاں لایا ہے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر ضرور پڑے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جس انجام سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر نازل ہو کر رہے گا یقین جانو کہ اللہ کسی حد سے بڑھے ہوئے جھوٹے آدمی کو فلاح کا راستہ نہیں دکھاتا۔ اے برادران قوم!آج تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے، زمین میں تم غالب ہو مگر کل اللہ کا عذاب ہم پر آ جائے تو کون ہماری مدد کرے گا۔اے برادران قوم میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر وہ دن نہ آ جائے جو بڑی بڑی قوموں پرآ چکا ہے، اور وہی انجام تمہارا نہ ہو جو قوم نوح اور عاد اور ثمود اور بعد کی قوموں کا ہوا۔اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم اس چیز کے متعلق شک میں پڑے رہے جسے وہ لائے تھے۔ پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اللہ ان کے بعد کوئی رسول نہ بھیجے گا۔اور اے برادران قوم! یہ عجیب معاملہ ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ان کو شریک ٹھہراؤں جن کے شریک ہونے پر میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ہے، اور میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں جو سب سے زبردست ہے اور بخشنے والا ہے۔ (المومن:۲۸تا۳۱، ۳۴، ۴۱تا۴۲)

یہ پوری تقریر اس بات پر شاید ہے کہ یوسف علیہ السلام کی عظیم شخصیت کا اثر کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس وقت تک باقی تھا اور اس جلیل القدر نبی کی تعلیم سے متاثر ہونے کے باعث یہ قوم جہالت کے اس مرتبے پر نہ تھی کہ اللہ کی ہستی سے بالکل ہی ناواقف ہوتی یا یہ نہ جانتی کہ اللہ رب اور الٰہ ہے اور قوائے فطرت پر اس کا غلبہ و قہر قائم ہے اور اس کا غضب کوئی ڈرنے والی چیز ہے۔ اس کے آخری فقرے سے یہ بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اللہ کی الوہیت اور ربوبیت کی قطعی منکر نہ تھی بلکہ اس کی گمراہی وہی تھی جو دوسری قوموں کی بیان ہو چکی ہے۔ یعنی ان دونوں حیثیتوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا۔

شبہ جس وجہ سے واقع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فرعون حضرت موسٰی علیہ السلام کی زبان سے اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (ہم رب العالمین کے رسول ہیں ) سن کر پوچھتا ہے وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ( رب العالمین کیا چیز ہے ؟) اپنے وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ میرے لیے ایک اونچی عمارت بنا کہ میں موسٰی کے الٰہ کو دیکھوں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کو دھمکی دیتا ہے کہ میرے سوا کسی اور کو تم نے الٰہ بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا۔ ملک بھر میں اعلان کرتا ہے کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔ اپنے درباریوں سے کہتا ہے کہ میں اپنے سوا تمہارے کسی الٰہ کو نہیں جانتا۔ اس قسم کے فقرات دیکھ کر لوگوں کو گمان ہوا کہ شاید وہ اللہ کی ہستی ہی کا منکر تھا، رب العالمین کے تصور سے بالکل خالی الذہن تھا اور اپنے آپ کو ہی واحد معبود سمجھتا تھا۔ مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام باتیں قوم پرستانہ ضد کی وجہ سے تھیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں صرف یہی نہیں ہوا تھا کہ آنجناب کی زبردست شخصیت کے اثر سے اسلام کی تعلیمات مصر میں پھیل گئی تھیں، بلکہ حکومت میں جو اقتدار ان کو حاصل ہوا تھا ان کی بدولت بنی اسرائیل مصر میں بہت با اثر ہو گئے تھے۔ تین چار سو سال تک یہ بنی اسرائیلی اقتدار مصر پر چھایا رہا۔ پھر وہاں اسرائیلیوں کے خلاف قوم پرستانہ جذبات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے اقتدار کو الٹ پھینکا گیا اور ایک مصری قوم پرست خاندان فرمانروا ہو گیا۔ ان نئے فرمانرواؤں نے محض اسرائیلیوں کو دبانے اور کچلنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ دور یوسفی کے ایک ایک اثر کو مٹانے اور اپنے قدیم جاہلی مذہب کی روایات کو تازہ کرنے کی کوشش کی۔ اسی حالت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تو ان لوگوں کو خطرہ ہوا کہ کہیں اقتدار پھر ہمارے ہاتھوں سے نکل کر اسرائیلیوں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے۔ یہی عناد اور ہٹ دھرمی کا جذبہ تھا جس کی بنا پر فرعون چندرا چندرا کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے پوچھتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ میرے سوا اور الٰہ کون ہو سکتا ہے ؟ ورنہ دراصل وہ رب العالمین سے بے خبر نہ تھا۔ اس کی اور اس کے اہل دربار کی جو گفتگوئیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو تقریریں قرآن میں آئی ہیں، ان سب سے یہ حقیقت بین طور پر ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً ایک موقع پر فرعون اپنی قوم کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ موسیٰ خدا کے پیغمبر  نہیں ہیں، کہتا ہے :

فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَا ءَ مَعَهُ الْمَلٰ ىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ

تو کیوں نہ اس کے لے سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا فرشتے صف بستہ ہو کر اس کے ساتھ کیوں نہ آئے ؟ (الزخرف:۵۳)

کیا یہ بات ایک ایسا شخص کہہ سکتا تھا جو اللہ اور ملائکہ کے تصور سے خالی الذہن ہوتا؟ ایک اور موقع پر فرعون اور حضرت موسٰی کے درمیان یہ گفتگو ہوتی ہے :

فَقَالَ لَہ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَا ءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ بَصَا ىِٕرَ   وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا

۔پس فرعون نے اس سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو سمجھتا کہ تیری عقل خبط ہو گئی ہے۔ موسیٰ نے جواب دیا تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب زمین و آسمان کے سوا کسی اور کی نازل کی ہوئی نہیں ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ اے فرعون تیری شامت ہی آ گئی ہے۔ (بنی اسرائیل:۱۰۱۔ ۱۰۲)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرعونیوں کی قلبی حالت اس طرح بیان فرماتا ہے :

فَلَمَّا جَا ءَتْهُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا ھٰذَاسِحْرٌ مُّبِيْنٌ وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا

جب ہماری نشانیاں ان کے سامنے علانیہ نمایاں ہو گئیں تو انہوں نے کہا کہ صریح جادو ہے – ان کے دل اندر سے قائل ہو چکے تھے مگر انہوں نے مضس شرارت اور تکبر و سرکشی کی بنا پر ماننے سے انکار کیا۔ (النمل:۱۴، ۱۳)

ایک اور مجلس کا نقشہ قرآن یوں کھینچتا ہے :-

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ   وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰى  قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى

موسیٰ نے ان سے کہا تم پر افسوس ہے – اللہ پر جھوٹ افتراء نہ باندھو ورنہ وہ سخت عذاب سے تمہیں تباہ کر دے گا- اور افتراء جس نے بھی باندھا وہ نامراد ہو کر ہی رہا ہے – یہ سن کر لوگ آپس میں رد و کد کرنے لگے اور خفیہ مشورہ ہوا جس میں کہنے والوں نے کہا یہ دونوں (موسیٰ و ہارون) تو جادوگر ہیں- چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سرزمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی(آئیڈیل) طریق زندگی کو مٹا دیں۔ (طہٰ:ٰ ۶۲، ۶۱)

ظاہر ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور افترا کے انجام سے خبردار کرنے پر ان کے درمیان رد و کد اسی لیے شروع ہو گئی تھی کہ ان لوگوں کے دلوں میں کہیں تھوڑا بہت اثر خدا کی عظمت اور اس کے خوف کا موجود تھا- لیکن جب ان کے

قوم پرست حکمران طبقہ نے سیاسی انقلاب کا خطرہ پیش کیا، اور کہا کہ موسیٰ اور ہارون کی بات ماننے کا انجام یہ ہو گا کہ مصریت پھر اسرائیلیت سے مغلوب ہو جائے گی تو ان کے دل پھر سخت ہو گئے اور سب نے بالاتفاق رسولوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔

اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد ہم بآسانی یہ تحقیق کر سکتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان اصل جھگڑا کس بات پر تھا۔ فرعون اس کی قوم کی حقیقی گمراہی کس نوعیت کی تھی، اور فرعون کس معنی میں الوہیت و ربوبیت کا مدعی تھا- اس غرض کے لیے قرآن کی حسب ذیل آیات ترتیب وار ملاحظہ کیجیے۔

۱: فرعون کے درباریوں میں سے جو لوگ حضرت موسیٰ کی دعوت کا استحصال کرنے پر زور دیتے تھے وہ ایک موقع پر فرعون کو خطاب کر کے کہتے ہیں:-

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ

 کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائے اور آپ کے الٰہوں کو چھوڑ دے -دوسری طرف انہی درباریوں میں سے جو شخص حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا تھا وہ ان لوگوں کو خطاب کر کے کہتا ہے (اعراف:۱۲۷)

تَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ

تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان کو شریک کروں جن کے شریک ہونے کے لیے میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں۔ (المومن :۴۲)

ان دونوں آیتوں کو جب ہم ان معلومات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں جو تاریخ و آثار قدیمہ کے ذریعے سے ہمیں اس زمانہ کے اہل مصر کے متعلق حاصل ہوئی ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ فرعون خود بھی اور اس کی قوم کے لوگ بھی ربوبیت کے پہلے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے بعض دیوتاؤں کو خدائی میں شریک ٹھہرداتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے – ظاہر ہے کہ اگر فرعون فوق الفطری معنوں میں خدا ہونے کا مدعی ہوتا، یعنی اگر اس کا دعوی یہی ہوتا کہ سلسلہِ اسباب پر وہ خود حکمران ہے اور اس کے سوا زمین و آسمان کا الٰہ و رب کوئی نہیں ہے، تو وہ دوسرے الٰہوں کی پرستش نہ کرتا-[13]

۲: فرعون کے یہ الفاظ جو قرآن میں نقل کیے گئے ہیں کہ :-

وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ

لوگو! میں تو اپنے سوا کسی الٰہ کو جانتا نہیں ہوں-۔ (القصص :۳۸)

قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ

اے موسیٰ! اگر میرے سوا تو نے کسی کو الٰہ بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔ (الشعرا :۲۹)

ان الفاظ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرعون اپنے سوا دوسرے تمام الٰہوں کی نفی کرتا تھا، بلکہ اس کی اصل غرض حضرت موسیٰ کی دعوت کو رد کرنا تھا- چونکہ حضرت موسیٰ ایک ایسے الٰہ کی طرف بلا رہے تھے جو صرف فوق الفطری معنی ہی میں معبود نہیں ہے بلکہ سیاسی و تمدنی معنی میں امر و نہی کا مالک اور اقتدار اعلیٰ کا حامل بھی ہے، اس لیے اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہارا ایسا الٰہ تو میرے سوا کوئی نہیں ہے، اور حضرت موسیٰ کو دھمکی دی کہ اس معنی میں میرے سوا کسی کو الٰہ بناؤ گے تو جیل کی ہوا کھاؤ گے –

نیز قرآن کی ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، اور تاریخ و آثار قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ فراعنہِ مصر محض حاکمیت مطلقہ (Absolute Sovereignty) ہی کے مدعی نہ تھے بلکہ دیوتاؤں سے اپنا رشتہ جوڑ کر ایک طرح کی قدوسیت کا بھی دعویٰ رکھتے تھے تا کہ رعایا کے قلب و روح پر ان کی گرفت خوب مضبوط ہو جائے – اس معاملے میں تنہا فراعنہ ہی منفرد نہیں ہیں، دنیا کے اکثر ملکوں میں شاہی خاندانوں نے سیاسی حاکمیت کے علاوہ فوق الفطری الوہیت و کا دعویٰ محض ایک تدبیر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے – اسی لیے مصر میں اور دوسرے جاہلیت پرست ملکوں میں بھی ہمیشہ سیاسی زوال کے ساتھ ہی شاہی خاندانوں کی الوہیت بھی ختم ہوتی رہی ہے – اور تتس جس کے پاس گیا ہے الوہیت بھی اسی کی طرف منتقل ہوتی چلی گئی ہے۔

۳: فرعون کا اصلی دعویٰ فوق الفطری خدائی کا نہیں بلکہ سیاسی خدائی کا تھا- وہ ربوبیت کے تیسرے چوتھے اور پانچویں معنی کے لحاظ سے کہتا تھا کہ میں سر زمین مصر اور اس کے باشندوں کا رب اعلیٰ (Over Lord) ہوں- اس ملک اور اس کے تمام وسائل و ذرائع کا مالک میں ہوں، یہاں کی حاکمیت مطلقہ کا حق مجھ ہی کو پہنچتا ہے یہاں کے تمدن و اجتماع کیاساس میری ہی مرکزی شخصیت ہے – یہاں قانون میرے سوا کسی اور کا نہ چلے گا- قرآن کے الفاظ میں اس کے دعویٰ کی بنیاد یہ تھی :-

وَنَادٰى فِرْعَوْنُ فِيْ قَوْمِهٖ قَالَ يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ وَهٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ   اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی کہ اے قوم! کیا میں ملک مصر کا مالک نہیں ہوں؟ اور یہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟۔ (زخرف :۵۱)

یہ وہی بنیاد تھی جس پر نمرود کا دعوائے ربوبیت مبنی تھا (حَآجَّ إِبْرَاہِیْمَ فِیْ رِبِّہِ أَنْ آتَاہُ اللّہُ الْمُلْکَ) اور اسی بنیاد پر حضرت یوسف ؑ کا ہم عصر بادشاہ بھی اپنے اہل ملک کا رب بنا ہوا تھا-

۴: حضرت موسیٰ کی دعوت جس پر فرعون اور آل فرعون سے ان کا جھگڑا تھا، دراصل یہ تھی کہ رب العالمین کے سوا کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا الٰہ اور رب نہیں ہے – وہی تنہا فوق الفطری معنی میں بھی الٰہ اور رب ہے، اور سیاسی و اجتماعی معنی میں بھی- پرستش بھی اسی کی ہو، بندگی و اطاعت بھی اسی کی ہو، اور پیروی و قانون بھی اسی کی- نیز یہ کہ صریح نشانیوں کے ساتھ اس نے مجھے اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے، میرے ذریعہ سے وہ اپنے امر و نہی کے احکام دے گا، لہٰذا اس کے بندوں کی عنان اقتدار تمہارے ہاتھ میں نہیں، میرے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ اسی بنا پر فرعون اور اس کے اعیان حکومت بار بار کہتے تھے کہ یہ دونوں بھائی ہمیں زمین سے بے دخل کر کے خود قابض ہونا چاہتے ہیں اور ہمارے ملک کے نظام مذہب و تمدن کو مٹا کر اپنا نظام قائم کرنے کے درپے ہیں۔

َولَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ اِلٰي فِرْعَوْنَ وَمَلَا ىِٕهٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ   وَمَآ اَمْرُ  فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ (ہود: ۹۷، -۹۶)

ہم  فظحت

نے موسیٰ کو اپنی آیات اور صریح نشان ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداران قوم کی طرف بھیجا تھا، مگر

ان لوگوں نے فرعون کے امر کی پیروی کی، حالانکہ فرعون کا امر راستی پر نہ تھا۔

وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَا ءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ اَنْ اَدُّوْٓا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ  وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِنِّىْٓ اٰتِيْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ(دخان: ۱۹-۱۷)

اور ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ایک معزز رسول ان کے پاس آیا  اور ان سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں- اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے صریح نشان ماموریت پیش کرتا ہوں-

اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًاعَلَيْكُمْ كَمَآاَرْسَلْنَآاِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِيْلًا (المزمل: ۱۶، -۱۵)

(اے اہل مکہ!) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہی دینے والا ہے، اسی طرح جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا- پھر فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا-

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى(طٰهٰ: ۵۰-، ۴۹)

فرعون نے کہا اے موسیٰ (اگر تم نہ دیوتاؤں کو رب مانتے ہو نہ شاہی خاندان کو) تو آخر تمہارا رب کون ہے ؟ موسیٰ نے جواب دیا، ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی پھر اسے اس کے کام کرنے کا طریقہ بتایا۔

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا  اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَا ىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا  اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ (الشعراء: ۲۳تا۲۹)

فرعون نے کہا اور یہ رب العالمین کیا ہے ؟موسیٰ نے جواب دیا زمین و آسمان اور ہر اس چیز کا رب جو ان کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ فرعون اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے بولا، سنتے ہو؟ موسیٰ نے کہا تمہارا رب بھی اور تمہارے آباء و اجداد کا رب بھی۔ فرعون بولا تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل ہیں۔ موسٰی نے کہا مشرق اور مغرب اور ہر اس چیز کا رب جو ان کے درمیان ہے اگر تم کچھ عقل رکھتے ہو۔ اس پر فرعون بول اٹھا کہ اگر میرے سوا تو نے کسی اور کو الٰہ بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يٰمُوْسٰى(طٰہ:۵۷)

فرعون نے کہا اے موسٰی کیا تو اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہماری زمین سے بے دخل کر دے ؟

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِيْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْيَدْعُ رَبَّهٗ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ (المومن:۲۶)

“فرعون نہ کہا چھوڑو مجھ کو میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو مدد کے لیے پکار کر دیکھے، مجھے خطرہ ہے وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا”

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيْدٰنِ اَنْ يُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ يَذْهَبَا بِطَرِيْقَتِكُمُ  الْمُثْلٰى (طہ:۶۳)

“انہوں نے کہا کہ یہ دونوں تو جادوگر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کریں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کو مٹا دیں”

ان تمام آیات کو ترتیب وار دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ  ربوبیت کے باب میں وہی ایک گمراہی جو ابتداء سے دنیا کی مختلف قوموں میں چلی آ رہی تھی ارضِ نیل میں بھی ساری ظلمت اسی کی تھی اور وہی ایک دعوت جو ابتداء سے تمام انبیاء دیتے چلے آرہے تھے، موسیٰ و ہارون علیہما السلام بھی اسی کی طرف بلاتے تھے۔

(۸)یہود و نصاریٰ: قوم فرعون کے بعد ہمارے سامنے بنی اسرائیل اور وہ دوسری قومیں آتی ہیں جنہوں نے یہودیت اور عیسائیت اختیار کی، ان کے متعلق یہ تو گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر ہوں گے یا اس کو الٰہ اور رب نہ مانتے ہوں گے اس لیے کہ خود قرآن نے ان کے اہل کتاب ہونے کی تصدیق کی ہے پھر سوال یہ ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کے عقیدے اور طرز عمل کی وہ کونسی خاص غلطی ہے جس کی بنا پر قرآن نے ان لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے، اس کا مجمل جواب خود قرآن ہی سے ملتا ہے :

قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ (المائدہ:۷۷)

“کہو اے اہل کتاب!اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان قوموں کے فاسد خیالات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے گمراہ ہو چکی ہیں، جنہوں نے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کیا اور خود بھی راہ راست سے بھٹک گئیں”

اس سے معلوم ہوا کہ یہود یوں اور عیسائیوں کی گمراہی بھی اصلاً اسی نوعیت کی ہے جس میں ان سے پہلے کی قومیں ابتداء سے مبتلا ہوتی چلی آئی ہیں، نیز اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ گمراہی ان کے اندر غلو فی الدین کے راستے سے آئی ہے، اب  دیکھیے اس اجمال کی تفصیل قرآن کس طرح کرتا ہے :

وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُ ا۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ (التوبہ:۳۰)

“یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے “

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَ قَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبَّكُمْ (المائدہ:۷۲)

“کفر کیا ان عیسائیوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور  تمہارا بھی”

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ (المائدہ:۷۳)

“کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔ حالانکہ ایک الٰہ کے سواکوئی دوسرا الٰہ  ہے ہی نہیں”

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ١  بِحَق (المائدہ:۱۱۶)

“اور جب اللہ پوچھے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ!کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی الٰہ بنا لو، تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ سبحان اللہ میری کیا مجال تھی کہ میں وہ بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ۔ وَ لَا يَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ وَ النَّبِيّٖنَ اَرْبَابًا اَيَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(المائدہ:۷۹۔ ۸۰)

“کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اسے کتاب اور نبوت اور حکم سے سرفرازکرے اور پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ ربانی(خدا پرست)بنو۔ جس طرح تم خدا کی کتاب میں پڑھتے پڑھاتے ہو اور جس کے درس دیا کرتے ہو اور نبی کا یہ کام ہے کہ وہ تم کو یہ حکم دے کہ ملائکہ اور پیغمبروں کو رب بنا لو کیا وہ تمہیں کفر کی تعلیم دے گا جبکہ تم مسلمان ہو چکے ہو”

ان آیات کی رو سے اہل کتاب کی پہلی گمراہی یہ تھی کہ جو بزرگ ہستیاں۔۔ انبیاء، اولیاء، ملائکہ وغیرہ۔۔ دینی حیثیت سے قدر و منزلت کی مستحق تھیں، ان کو انہوں نے حقیقی مرتبہ سے بڑھا کر خدائی کے مرتبہ میں پہنچا دیا، کاروبار خداوندی میں انہیں دخیل و شریک ٹھہرایا، ان کی پرستش کی، ان سے دعائیں مانگیں۔ انہیں فوق الفطری ربوبیت و الوہیت میں حصہ دار سمجھا، اور یہ گمان کیا کہ وہ بخشش اور مددگاری اور نگہبانی کے اختیارات رکھتی ہیں۔

اس کے بعد دوسری گمراہی یہ تھی کہ:

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ

انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو بھی اپنا رب بنا لیا۔ (التوبہ: ۳۱)

یعنی نظام دینی میں جن لوگوں کی حیثیت صرف یہ تھی کہ خدا کی شریعت کے احکام بتائیں اور خدا کی مرضی کے مطابق اخلاق کی اصلاح کریں، انہیں رفتہ رفتہ یہ حیثیت دے دی کہ خود جس چیز کو چاہیں حرام اور جسے چاہیں حلال ٹھہرا دیں اور کتاب الٰہی کی سند کے بغیر جو حکم چاہیں دے دیں، جس چیز سے چاہیں منع کر دیں اور جو سنت چاہیں جاری کر دیں۔ اس طرح یہ لوگ انہیں دو عظیم الشان گمراہیوں میں مبتلا ہو گئے جن میں قوم نوح، قوم ابراہیم، عاد، ثمود، اہل مدین اور دوسری قومیں مبتلا ہوئی تھیں۔ ان کی طرح انہوں نے بھی فوق الطبیعی ربوبیت میں فرشتوں اور بزرگوں کو اللہ کا شریک بنایا۔ اور انہی کی طرح انہوں نے تمدنی و سیاسی ربوبیت اللہ کی بجائے انسانوں کو دی اور اپنے تمدن، معاشرت، اخلاق اور سیاست کے اصول و احکام اللہ کی سند سے بے نیاز ہو کر انسانوں سے لینے شروع کر دیے حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ

کیا تم نے دیکھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب اللہ کا ایک حصہ ملا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مان رہے ہیں۔ (النساء:۵۱)

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ  اُولٰ ىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَا ءِ السَّبِيْلِ

کہو! میں تمہیں بتاؤں اللہ کے نزدیک فاسقین سے بھی زیادہ بدتر انجام کس کاہے ؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی، جن پر اس کا غضب ٹوٹا، جن میں بہت سے لوگ اس کے حکم سے بندر اور خنزیر تک بنائے گئے اور انہوں نے طاغوت کی بندگی کی، و ہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں اور راہ راست سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (المائدہ:۶۰)

“جبت” کا لفظ تمام اوہام و خرافات کے لیے جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، کہانت، فال گیری، سعدو نحس کے تصورات، غیر فطری تاثیرات، غرض جملہ اقسام کے توہمات شامل ہیں۔ اور ” طاغوت” سے مراد ہر وہ شخص یا گروہ یا ادارہ ہے جس نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی ہو، اور بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خداوندی کا علم بلند کیا ہو۔ پس یہود و نصاریٰ جب مذکورہ بالا دو گمراہیوں میں پڑ گئے تو پہلی قسم کی گمراہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ہر قسم کے توہمات نے ان کے دلوں اور دماغوں پر قبضہ کر لیا، اور دوسری گمراہی نے ان کو علماء و مشائخ اور زہاد و صوفیہ کی بندگی سے بڑھا کر ان جباروں اور ظالموں کی بندگی و اطاعت تک پہنچا کر جو کھلم کھلا خدا سے باغی تھے۔

(۹)مشرکین عرب: اب دیکھنا چاہیے کہ وہ عرب کے مشرکین جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے، اور جو قرآن کے اولین مخاطبین تھے، اس باب میں ان کی گمراہی کس نوعیت کی تھی۔ کیا وہ اللہ سے ناواقف تھے یا اس کی ہستی کے منکر تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے بھیجے گئے تھے کہ انہیں وجود باری تعالٰی کا معترف بنائیں؟ کیا وہ اللہ کو الٰہ اور رب نہیں مانتے تھے اور قرآن اس لیے نازل ہوا تھا کہ انہیں حق تعالٰی شانہ کی الٰہیت اور ربوبیت کا قائل کرے ؟ کیا انہیں اللہ کی عبادت و پرستش سے انکار تھا؟ یا وہ اللہ کو دعائیں سننے والا اور حاجتیں پوری کرنے والا نہیں سمجھتے تھے ؟ کیا ان کا خیال تھا یہ تھا کہ لات اور منات اور عزٰی اور ہبل اور دوسرے معبود ہی اصل میں کائنات کے خالق، مالک، رازق اور مدبر و منتظم ہیں؟ یا وہ اپنے ان معبودوں کو قانون کا منبع اور اخلاق و تمدن کے مسائل میں ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ مانتے تھے ؟ان میں سے ایک ایک سوال کا جواب ہم کو قرآن سے نفی کی صورت میں ملتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ عرب کے مشرکین نہ صرف یہ کہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے، بلکہ اسے تمام کائنات کا اور اپنے معبودوں تک کا خالق، مالک اور خداوند اعلیٰ مانتے تھے اس کو رب اور الٰہ تسلیم کرتے تھے۔ مشکلات اور مصائب میں آخری اپیل وہ جس سرکار میں کرتے تھے وہ اللہ ہی کی سرکار تھی۔ انہیں اللہ کی عبادت و پرستش سے انکار نہ تھا۔ ان کا عقیدہ اپنے دیوتاؤں اور معبودوں کے بارے میں نہ تو یہ تھا کہ وہ ان کے اور کائنات کے خالق و رازق ہیں اور نہ یہ کہ یہ معبود زندگی کے تمدنی مسائل میں ہدایت و رہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ ذیل کی آیات اس پر شاہد ہیں:

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ قُلْ مَنْ  بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ

اے نبی! ان سے کہو، زمین اور جو کچھ زمین میں ہے وہ کس کی ملک ہے ؟بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اللہ کی ملک ہے۔ کہو پھر بھی تم نصیحت قبول نہیں کرتے۔ کہو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ وہ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر بھی تم نہیں ڈرتے ؟ کہو ہر چیز کے شاہانہ اختیارات کس کے ہاتھ میں ہیں اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلے میں پناہ دینے کی طاقت کسی میں نہیں بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے یہ صفت اللہ ہی کی ہے۔ کہو پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے ؟ حق یہ ہے کہ ہم نے صداقت ان کے سامنے پیش کر دی ہے اور یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔ ( المومنون:۸۴تا۹۰)

ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ    اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ  وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَا ءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَا ءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ   دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ لَىِٕنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے حتٰی کہ جس وقت تم کشتی میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ طوفان میں گھر گئے اس وقت سب اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کر کے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے اس بلا سے ہم کو بچا لیا تو ہم تیرے شکر گزار بندے بنیں گے، مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ (یونس:۲۲، ۲۳)

وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ   فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ  وَكَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا

جب سمندر میں تم پر کوئی آفت آتی ہے تو اس ایک رب کے سوا  اور جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں مگر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے پھر جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا نا شکرا ہے۔ (بنی اسرائیل:۶۷)

اپنے معبودوں کے متعلق جو ان کے الفاظ تھے وہ خود انہی کے الفاظ میں قرآن اس طرح نقل کرتا ہے :

وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَا ءَ   مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى

جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے ولی اور کارساز ٹھہرا رکھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ

یہ ہم کو اللہ سے قریب کر دیں۔ (الزمر:۳)

وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَا ءِ شُفَعَا ؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے حضور میں ہمارے سفارشی ہیں۔ (یونس:۱۸)

پھر وہ اپنے معبودوں کے بارے میں اس قسم کا بھی کوئی گمان نہ رکھتے تھے کہ وہ مسائل زندگی میں ہدایت بخشنے  والے ہیں۔

چنانچہ سورہ یونس میں اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ:

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَا ىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ

ان سے پوچھو، تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی حق کی طرف راہنمائی کرنے والا بھی ہے۔ (یونس:۳۵)لیکن یہ سوال سن کر ان پر سکوت چھا جاتا ہے ان میں سے کوئی یہ جواب نہیں دیتا کہ ہاں لات منات یا عزیٰ یا دوسرے معبود ہمیں فکر و عمل کی صحیح راہیں بتاتے ہیں اور وہ دنیا کی زندگی میں عدل اور سلامتی اور امن کے اصول ہمیں سکھاتے ہیں اور ان کے سرچشمہ علم سے ہم کو کائنات کے بنیادی حقائق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ تب اللہ

اپنے نبی سے فرماتا ہے :

 قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَا ىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ  قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ اَفَمَنْ يَّهْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّهْدٰى   فَمَا لَكُمْ  ۣ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ

کہو، مگر اللہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پھر بتاؤ کون اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ؟ وہ جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، یا وہ جو خود ہدایت نہیں پایا جاتا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟  تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟ (یونس:۳۵)

ان تصریحات کے بعد اب یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کی وہ اصل گمراہی کیا تھی جس کی اصلاح کرنے کے لیے اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور کتاب نازل کی؟ اس سوال کی تحقیق کے لیے جب ہم قرآن میں نظر کرتے ہیں تو ان کے عقائد و اعمال میں بھی ہم کو انہی دو بنیادوں کا سراغ ملتا ہے جو قدیم سے تمام گمراہ قوموں میں پائی جاتی ہیں، یعنی:

ایک طرف فوق الطبیعی ربوبیت و الٰہیت میں وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہوں اور ارباب کو شریک ٹھہراتے تھے، اور یہ سمجھتے تھے کہ سلسلہِ اسباب پر جو حکومت کارفرما ہے اس کے اختیارات و اقتدارات میں کسی نہ کسی طور پر ملائکہ اور بزرگ انسان اور اجرام فلکی وغیرہ بھی دخل رکھتے ہیں اسی بنا پر دعا اور استعانت اور مراسم عبودیت میں وہ صرف اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے بلکہ ان بناوٹی خداؤں کی طرف بھی رجوع کیا کرتے تھے۔

دوسری طرف تمدنی وسیاسی ربوبیت کے باب میں ان کا ذہن اس تصور سے بالکل خالی تھا کہ اللہ اس معنی میں بھی رب ہے، اس معنی میں وہ اپنے مذہبی پیشواؤں، اپنے سرداروں اور اپنے خاندان کے بزرگوں کو رب بنائے ہوئے تھے اور انہی سے اپنی زندگی کے قوانین لیتے تھے۔

چنانچہ پہلی گمراہی کے متعلق قرآن یہ شہادت دیتا ہے :

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُ ا طْمَاَنَّ بِهٖ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ا۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ ۫ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ۔ ۔ يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَ مَا لَا يَنْفَعُهٗ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۔ يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِيْرُ۔

انسانوں میں کوئی تو ایسا بھی ہے جو خدا پرستی کی سرحد پر کھڑا ہو کر خدا کی عبادت کرتا ہے۔ فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو الٹا پھر گیا۔ یہ شخص دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھانے والا ہے۔ وہ اللہ سے پھر کر ان کو پکارنے لگتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ فائدہ پہنچانے کی۔ یہی بڑی گمراہی ہے۔ وہ مدد کے لیے انہیں پکارتا ہے، جنہیں پکارنے کا نقصان بہ نسبت نفع کے زیادہ قریب ہے کیسا برا مولیٰ ہے اور کیسا برا ساتھی ہے۔ (الحج:۱۱تا۱۳)

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَا ءِ شُفَعَا ؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ قُلْ اَتُنَبُِّٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (یونس -۱۸)

یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، کہو (اے پیغمبر!ﷺ) کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں[14]؟  اللہ پاک ہے ا س شرک سے جو یہ کرتے ہیں-

قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا (حٰم السجدہ -:۹)

اے نبی! ان سے کہو، کیا واقعی تم اس خدا سے جس نے دو دن میں زمین کو پیدا کر دیا کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہو-

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۭوَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (المائدہ:-۷۶)

کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا کچھ اختیار رکھتے ہیں نہ فائدے کا؟ حالانکہ سننے اور جاننے والا تو اللہ ہی ہے –

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ  (الزمر:- ۸ )

اور جب انسان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو یکسو ہو کر اپنے رب ہی کو پکارتا ہے، مگر جب وہ اپنی نعمت سے اسے سرفراز کرتا ہے تو یہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں مدد کے لیے اس سے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا اور اللہ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے[15]  تا کہ یہ حرکت اسے اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے۔

وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجَْٔرُوْنَ –ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ –لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ  فَتَمَتَّعُوْا ۣ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ–وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا  يَعْلَمُوْنَ نَصِيْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ  تَاللّٰهِ لَتُسَْٔلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ (النحل:۵۶تا۵۳)

تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ کی بخشش سے حاصل ہے۔

جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ ہی کی طرف فریاد لے کر تم جاتے ہو، مگر جب وہ اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو (اس مشکل کشائی میں) دوسروں کو شریک ٹھہر انے لگتے ہیں تا کہ ہمارے احسان کا جواب احسان فراموشی سے دیں۔ اچھا مزے کر لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ یہ لوگ جن کو نہیں جانتے ان کے لیے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے حصے  مقرر کرتے ہیں[16]۔ خدا کی قسم جو افتراء پردازیاں تم کرتے ہو ان کی باز پرس تم سے ہو کر رہے گی۔ رہی دوسری گمراہی تو اس کے متعلق قرآن کی شہادت یہ ہے :

وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍمِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَا ؤُهُمْ لِيُرْدُوْهُمْ وَلِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ

اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے بنائے ہوئے شریکوں نے اپنی اولاد کا قتل پسندیدہ بنا دیا تا کہ انہیں ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان کے دین کو ان کے لیے مشتبہ بنا دیں۔ (الانعام:۱۳۷)

ظاہر کہ یہاں “شریکوں” سے مراد بت اور دیوتا نہیں ہیں بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنہوں نے قتل اولاد کو اہل عرب کی نگاہ میں ایک بھلائی اور خوبی کا کام بنا دیا اور حضرت ابراہیم ؑ و اسمٰعیلؑ کے دین میں اس رسم قبیح کی آمیزش کر دی۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ خدا کے “شریک”اس معنی میں قرار نہیں دیے گئے تھے کہ اہل عرب ان کوسلسلہ اسباب پر حکمران سمجھتے تھے یا ان کی پرستش کرتے اور ان سے دعائیں مانگتے تھے، بلکہ ان کو ربوبیت و الٰہیت میں شریک اس لحاظ سے ٹھہرایا گیا تھا کہ اہل عرب ان کے اس حق کو تسلیم کرتے تھے کہ تمدنی و معاشرتی مسائل اور اخلاقی و مذہبی امور میں وہ جیسے چاہیں قوانین مقرر کر دیں۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَن ْ بِهِ اللّٰهُ

کیا یہ ایسے شریک بنائے بیٹھے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی قسم سے وہ قانون بنا دیا ہے جس کا اللہ نے کوئی اذن نہیں دیا ہے “(الشوریٰ:۲۱)

لفظ “دین” کی تشریح آگے چل کر بیان ہو گی اور وہیں اس آیت کے مفہوم کی وسعت بھی پوری طرح واضح ہو سکے گی، سکے گی، لیکن یہاں کم از کم یہ بات تو صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر ان کے پیشواؤں اور سرداروں کا ایسے ضابطے اور قاعدے مقرر کرنا جو “دین”کی نوعیت رکھتے ہوں اور اہل عرب کا ان ضابطوں اور قاعدوں کو واجب التقلید مان لینا یہی ربوبیت والٰہیت میں ان کا خدا کے ساتھ شریک بننا اور یہی اہل عرب کا ان کی شرکت کو تسلیم کر لینا تھا۔

قرآن کی دعوت

گمراہ قوموں کے تخیلات کی یہ تحقیق جو پچھلے صفحات میں کی گئی ہے، اس حقیقت کو بالکل بے نقاب کر دیتی ہے کہ قدیم ترین ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزول قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم، فاسد العقیدہ اور بد راہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی خدا کی ہستی کی منکر نہ تھی نہ کسی کو اللہ کے مطلقاً رب اور الٰہ ہونے سے انکار تھا، البتہ ان سب کی اصل گمراہی اور مشترک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے ربوبیت کے ان پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کر چکے ہیں، دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش، خبر گیری، حاجت روائی اور نگہبانی کا کفیل ہوتا ہے، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگرچہ رب اعلی ٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے مگر اس کے ساتھ فرشتوں اور دیوتاؤں کو، جنوں کو، غیر مرئی قوتوں کو، ستاروں اور سیاروں کو، انبیاء اور اولیاء اور روحانی پیشواؤں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔

اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امر و نہی کا مختار، اقتدار اعلی کا مالک، ہدایت و رہنمائی کا منبع، قانون کا ماخذ، مملکت کا رئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہے، ان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کی بجائے صرف انسانوں کو ہی رب مانتے تھے یا نظریے کی حد تک اللہ کو رب ماننے کے بعد عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کے آگے سرِاطاعت خم کیے دیتے تھے۔

اسی گمراہی کو دور کرنے کے لیے ابتداء سے انبیاء علیہ السلام آتے رہے ہیں اور اسی کے لیے آخرکار محمدﷺ کی بعثت ہوئی، ان سب کی دعوت یہی تھی کہ ان تمام مفہومات کے اعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے، ربوبیت ناقابل تقسیم ہے۔ اس کا کوئی جز کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے، کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا جس پر ایک خدا فرماں روائی کر رہا ہے جس کے سارے اختیارات و اقتدار کا مالک ہی خدا ہے نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے نہ اس کی تدبیر و انتظام میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی۔

وہی تمہارا معبود ہے، وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے، وہی تمہاری دعاؤں کا ملجا و ماویٰ ہے، وہی تمہارے توکل و اعتماد کا سہارا ہے، وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے اوراسی طرح وہی بادشاہ ہے، وہی مالک الملک ہے، وہی شارع و قانون اور امر و نہی کا مختار بھی ہے۔

ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرے سے الگ ٹھہرا لیا ہے، حقیقت میں خدائی لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں، انہیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جا سکتا ہے اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہرانا درست ہے، اس دعوت کو قرآن جس طریقہ سے پیش کرتا ہے وہ خود اس کی زبانی سنیے :

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا١ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِهٖ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (الاعراف:۵۴)

“حقیقت میں تمہارا رب تو اللہ ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہو گیا، جو دن کو رات کا لباس اڑھاتا ہے اور پھر رات کے تعاقب میں دن تیزی کے ساتھ دوڑ آتا ہے، سورج اور چاند اور تارے سب کے سب جس کے تابع فرمان ہیں۔ سنو!خلق اسی کی ہے اور فرماں روائی بھی اسی کی۔ بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب”

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ ۔ فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖ  فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(یونس:۳۱۔ ۳۲)

“اِن سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کس کے قبضہ و اختیار میں ہے ؟ کون ہے جو بے جان کو جاندار میں سے اور جان دار کو بے جان میں سے نکالتا ہے ؟اور کون اس کارگاہِ عالم کا انتظام چلا رہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ کہو، پھر تم ڈرتے نہیں ہو؟جب یہ سارے کام اسی کے ہیں تو تمہارا حقیقی رب اللہ ہی ہے، حقیقت کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رہ جا تا ہے ؟آخر کہاں سے تم کو یہ ٹھوکر لگتی ہے کہ حقیقت سے پھرے جاتے ہو”

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ  يُكَوِّرُ الَّيْلَ عَلَي النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَي الَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ  كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى۔ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(الزمر:۵۔ ۶)

“اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ رات کو دن پر اور دن کو رات پر وہی لپیٹتا ہے۔ چاند اور سورج کو اسی نے ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلا جا رہا ہے۔یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، آخر یہ تم کہاں سے ٹھوکر کھا کر پھرے جاتے ہو؟”

اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۭ۔ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ   لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ۔ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۔ ۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ   فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔ —هُوَالْحَيُّ لَآاِلٰهَاِلَّاهُوَفَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ– (المومن:۶۱تا۶۵)

اللہ جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں تم سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن کیا—–وہی تمہارا اللہ تمہارا رب ہے، ہر چیز کا خالق، کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں، پھر یہ کہاں سے دھوکا کھا کر تم بھٹک جاتے ہو؟—–اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا، آسمان کی چھت تم پر چھائی، تمہاری صورتیں بنائیں اور خوب ہی صورتیں بنائیں، اور تمہاری غذا کے لیے پاکیزہ چیزیں مہیا کیں، وہی اللہ تمہارا رب ہے – بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب- وہی زندہ ہے۔ کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں۔ اسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے۔

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ۔يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ڮ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى    اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَا ءَكُمْ   وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ  وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ (فاطر:۱۳، ۱۴)

اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا——وہ رات کو دن میں پرو دیتا ہے اور دن کو رات میں، اس نے چاند اور سورج کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلے جا رہا ہے – یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ پادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا جن دوری ہستیوں کو تم پکارتے ہو ان کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا بھی اختیار نہیں ہے۔ تم پکارو تو وہ تمہاری پکاریں سن نہیں سکتے، اور سن بھی لیں تو تمہاری درخواست کا جواب دینا ان کے بس میں نہیں- تم جو انہیں شریک خدا بناتے ہو اس کی تردید وہ خود قیامت کے دن کر دیں گے۔

وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۔ —-ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ — بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ —–فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ١ۙ  وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ۔ (الروم ۳۰-۲۶)

آسمانوں کے رہنے والے ہوں یا زمین کے، سب اس کے تابع فرمان  ہیں۔اللہ خود تمہاری اپنی ذات سے ایک مثال تمہارے سامنے بیان کرتا ہے۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ان چیزوں کی ملکیت میں تمہارا شریک ہوتا ہے جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں؟ کیا ان چیزوں کے اختیارات و تصرفات میں تم اور تمہارے غلام مساوی ہوتے ہیں؟ کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنے برابر والوں سے ڈرا کرتے ہو؟ جو لوگ عقل سے کام لینے والے ہیں ان کے لیے تو ہم حقیقت تک پہنچا دینے والی دلیلیں اس طرح کھول کر بیان کر دیتے ہیں مگر ظالم لوگ علم کے بغیر اپنے بے بنیاد خیالات کے پیچھے چلے جا رہے ہیں——لہٰذا تم بالکل یکسو ہو کر حقیقی دین کے راستہ پر اپنے آپ کو ثابت قدم کر دو اللہ کی فطرت پر قائم ہو جاؤ، جس پر اس نے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی خلقت کو بدلا نہ جائے – یہی ٹھیک سیدھا طریقہ ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ   وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌ  بِيَمِيْنِهٖ  سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ (الزمر:- ۶۷)

ان لوگوں نے اللہ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ جیسا کہ کرنا چاہیے تھا، نہیں کیا۔ قیامت کے روز یہ دیکھیں گے کہ زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہے اور آسمان اس کے ہاتھ میں سمٹے ہوئے ہیں- اس کی ذات منزہ اور بالاتر ہے اس سے کہ کوئی اس کا شریک ہو، جیا کہ یہ لوگ قرار دے رہے ہیں۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ —–وَلَهُ الْكِبْرِيَا ءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۠ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (جاثیہ: ۳۷، ۳۶)

پس ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کا رب ہے – کبریائی اسی کی ہے۔ آسمانوں میں بھی  اور زمین میں بھی-۔ اور وہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ  هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا (مریم : ۶۵)

وہ زمین  اور آسمانوں کا مالک اور ان ساری چیزوں کا مالک ہے جو زمین وآسمان میں ہیں۔ لہذا تو اس کی بندگی کراوراس کی بندگی پر ثابت قدم رہ۔ کیا اس جیسا کوئی اور تیرے علم میں ہے ؟

وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَإِلَيْهِ يُرْ‌جَعُ الْأَمْرُ‌ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ

“زمین وآسمان کی ساری پوشیدہ حقیقتیں اللہ کے علم میں ہے اور سارے معاملات اس کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا تو اسی کی بندگی کر اوراسی پر بھروسہ کر”(سورہ ھود:۱۲۳)

رَّ‌بُّ الْمَشْرِ‌قِ وَالْمَغْرِ‌بِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا

“مشرق و مغرب سب کا وہی مالک ہے اس کے سوا کوئی  معبود نہیں۔ لہٰذا تو اسی کو اپنا مختارِ کار بنا لے “(المزمل:۹)

إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ۔ ۔ وَتَقَطَّعُوا أَمْرَ‌هُم بَيْنَهُمْ   كُلٌّ إِلَيْنَا رَ‌اجِعُونَ

“حقیقت میں تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔ لہٰذا تم میری بندگی کرو۔ لوگوں نے اس کارِ ربوبیت اوراس معاملۂ بندگی کوآپس میں خود ہی تقسیم کر لیا ہے مگر ان سب کو بہرحال ہماری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے “(الانبیاء:۹۲، ۹۳)

اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ

“پیروی کرو اس کتاب کی جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اسے چھوڑ کر دوسروے کارسازوں کی پیروی نہ کر”(الاعراف:۳)

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِ‌كَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ

“کہو اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم نہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیں اور نہ ہم میں سے کوئی انسان کسی دوسری انسان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے “(آل عمران:۶۴)

قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ النَّاسِ۔ ۔ مَلِكِ النَّاسِ۔ ۔ إِلَٰهِ النَّاسِ

“کہو میں پناہ ڈھونڈتا  ہوں اس کی جو انسانوں کا رب، انسانوں کا بادشاہ،  اور انسانوں کا معبود ہے “(الناس)

“پس جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی اور کی بندگی شریک نہ کرے “

ان آیات کو سلسلہ وار پڑھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اورسلطانی (sovereignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور”رب”کا یہ تصور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطان مطلق اور لا شریک مالک اور حاکم ہے۔

اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور تمام جہاں کا پروردگار، مربی اور حاجت روا ہے۔

اسی حیثیت سے اس کی  وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی عمارت کی بنیاد صحیح طور پر قائم ہوتی ہے اوراس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے۔

اسی حیثیت سے وہ ہماری اور تمام مخلوقات کی بندگی، اطاعت اور پرستش کا مستحق ہے۔

اسی حیثیت سے وہ ہمارا ا اور ہر چیز کا مالک، آقا اور فرماں روا ہے۔

اہل عرب اور دنیا کی تمام جاہل لوگ ہر زمانہ میں اس غلطی میں مبتلا تھے اور اب تک ہیں کہ ربوبیت کے اس جامع تصور کو انہوں نے پانچ مختلف النوع ربوبیتوں میں تقسیم کر دیا۔ اور اپنے قیاس و گمان سے یہ رائے قائم کی کہ مختلف قسم کی ربوبیتیں مختلف ہستیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں اور متعلق ہیں۔ قرآن اپنے طاقتور استدلال سے ثابت کرتا ہے کہ کائنات کے اس مکمل مرکزی نظام میں اس بات کی مطلق گنجائش نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ جس کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا ربوبیت کا کوئی کام کسی دوسری ہستی سے کسی درجہ میں بھی متعلق ہو۔ اس نظام کی مرکزیت خود گواہ ہے کہ ہر طرح کی ربوبیت اسی خدا کے لیے مختص ہو جو اس نظام کو وجود میں لایا۔ لہٰذا جو شخص اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ربوبیت کا کوئی جز کسی معنی میں بھی خدا کے سوا کسی اور سے متعلق سمجھتا ہے یا متعلق کرتا ہے، وہ دراصل حقیقت سے لڑتا ہے، صداقت سے منہ موڑتا ہے، حق کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور امر واقعی کے خلاف کام کر کے اپنے آپ کو خود نقصان اور ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔

 

عبادت

لغوی تحقیق

عربی زبان میں عبودۃ، عبودیہ اور عبدیۃ کے اصلی معنی خضوع اور تذلل کے ہیں- یعنی تابع ہو جانا، رام ہو جانا، کسی کے سامنے اس طرح سپر ڈال دینا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی مزاحمت یا انحراف و سرتابی نہ ہو، اور وہ اپنے منشا کے مطابق جس طرح چاہے خدمت لے – اسی اعتبار سے اہل عرب اس اونٹ کو بعیر معبد کہتے ہیں جو سواری کے لیے پوری طرح رام ہو چکا ہو، اور اس راستے کو طریق معبد جو کثرت سے پامال ہو کر ہموار ہو گیا ہو- پھر اسی اصل سے اس مادہ میں غلامی، اطاعت، پوجا، ملازمت اور قید یا رکاوٹ کے مفہومات پیدا ہوئے ہیں- چنانچہ عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب “لسان العرب” میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے :

۱:العبد۔ المملوک، خلاف الحر:عبد وہ ہے جو کسی کی ملک ہو اور یہ لفظ حر (آزاد) کی ضد ہے – تعبد الرجل آدمی کو غلام بنا لیا اس کے ساتھ غلام جیسا معاملہ کیا- یہی معنی عبدہ، اعبد اور اعتبدہ کے ہیں- حدیث میں آتا ہے : ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُل اِعتَبَدَ محررا، (وفی روایۃ اعبد محررا) تین آدمی ہیں جس کے خلاف قیامت کے دن میں مستغیث بنوں گا۔ من جملہ ان کے ایک وہ شخص ہے جو کسی آزاد کو غلام بنانے یا غلام کو آزاد کرنے کے بعد پھر اس سے غلام کا سامعاملہ کرے -” حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا تھا- وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ (الشعراء:۲۲)  اور تیرا وہ احسان جس کا طعنہ تو مجھے دے رہا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا۔

۲:”اَلعِبَادَۃُ اَلطَاعَۃُ مَعَ الخُضُوع“:عبادت اس طاعت کو کہتے ہیں، جو پوری فرماں برداری کے ساتھ ہو۔ “عَبَدَ الطَاغُوت َای اَطَاعَہُ”، طاغوت کی عبادت کی، یعنی اس کا فرماں بردار ہو گیا” إِيَّاكَ نَعْبُدُ ای نُطِيعُ طَاعَۃً، التي يَخضَعُ مَعَهَا” ہم تیری عبادت کرتے ہیں یعنی ہم تیری اطاعت پوری فرمانبرداری کے ساتھ کرتے ہیں” اُعبُدُو رَبَّکُم اَی اَطِیعُوا رَبَّکُم” اپنے رب کی عبادت کرو۔ یعنی اس کی اطاعت کرو” قَومَھُمَا لَنَا عَابِدُون اَی دَائِنُون و کُلُ  منَ دَانَ لِمَلِک ٍٍٍفھو عابدٌلَہُ وقالَ ابنُ الاَنبارِی فلانٌ عَابِدٌ وھو الخَاضِعُ لِرَبِہ المُستَسلِم ُالمُنقَادُ لِاَمرِہ۔ یعنی فرعون نے جو یہ کہا تھا کہ موسیٰؑ اور ہارونؑ کی قوم ہماری عابد ہے – اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری تابع فرمان ہے – جو کسی بادشاہ کا مطیع ہے وہ اس کا عابد ہے۔ “اور ابن الانباری کہتا ہے فلان عابد کے معنی ہیں “وہ اپنے مالک کا فرمانبردار اور اس کے حکم کا مطیع ہے۔ “

۳:عَبّدَہ عبادۃًٍ و مُعَبَّدًا و معَبَّدۃ ًتالَّہ  لَہُ:اس کی عبادت کی۔ یعنی اس کی پوجا کی-” التعبد التنسک “تعبد سے مراد ہے کسی کا پرستار اور پجاری بن جانا-” شاعر کہتا ہے اَری المالَ عندَالباخلینَ مُعَبّدًا– “میں دیکھتا ہوں کہ بخیلوں  کے ہاں روپیہ پجتا ہے۔

۴: عَبَدَہُ وَ عَبَدَ بِہِ لَزِمَہُ فلَم یُفَارِقہُ: عَبَدَہُ اور عَبَدَبِہِ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ وابستہ ہو گیا اور جدا نہ ہوا، اس کا دامن تھام لیا اور چھوڑا نہیں۔

۵:مَا عَبَدَکَ عَنِیِّ اَی مَاحَبَسَکَ:جب کوئی شخص کسی کے پاس آنے سے رک جائے تو وہ یوں کہے گا کہ “مَاعَبدَکَ عَنِیِّ”یعنی کس چیز نے تمہیں میرے پاس آنے سے روک دیا۔ “

اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالادستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا، سرتابی و مزاحمت چھوٹ دینا، اور اس کے لیے رام ہو جاتا ہے یہی حقیقت بندگی و غلامی کی ہے۔ لہذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہین میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی و غلامی ہی کا تصور ہے۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی  اطاعت و فرمانبرداری ہے، اس لیے لازما اس کے ساتھ ہی اطاعت۲ کا تصور پیدا ہوتا ہے اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی و اطاعت میں محض اپنے آپ کو ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاد اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو اور اس کی مہربانیوں پر شکر واحسان مندی کے جذبے سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا ہے، مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجا لاتا ہے اسی کا نام پرستش۳ ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے  جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو، رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات ہیں، اصلی اور بنیادی نہیں۔

لفظ عبادت کا استعمال قرآن میں

اس لغوی تحقیق کے بعد جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب پاک میں یہ لفظ تمام تر پہلے تین معنوں میں استعمال ہوا ہے کہیں معنی اول و دوم ایک ساتھ مراد ہیں، کہیں معنی دوم اور کہیں صرف معنی سوم مراد لیے گئے ہیں اور کہیں تینوں معنی بیک وقت مقصود ہیں۔

عبادت بمعنی غلامی و اطاعت

پہلے اور دوسرے معنی کی مثالیں حسب ذیل ہیں:

ثُمَّ أَرْ‌سَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُ‌ونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ۔ ۔ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاسْتَكْبَرُ‌وا وَكَانُوا قَوْمًا عَالِينَ۔ ۔ فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَ‌يْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ(المومنون:۴۵، ۴۶، ۴۷)

“پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور صریح دلیل ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا مگر وہ تکبر سے پیش آئے، کیونکہ وہ با اقتدار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کا کہنا مان لیں اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری عابد ہے “

وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ(الشعراء:۲۲)

“فرعون نے جب موسیٰ علیہ السلام کو طعنہ دیا کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں بچپن سے پالا ہے تو موسیٰ نے کہا اور تیرا وہ احسان جس کا تو مجھے طعنہ دے رہا ہے یہی تو ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا عبد بنا لیا۔ “

دونوں آیات میں عبادت سے مراد غلامی اور اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ فرعون نے کہا موسیٰ اور ہارون کی قوم ہماری عابد ہے، یعنی ہماری غلام اور ہمارے فرمان کے تابع ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا عبد بنا لیا ہے یعنی ان کو غلام بنا لیا ہے اور ان سے من مانی خدمات لیتا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَ‌زَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُ‌وا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ(البقرہ:۱۷۲)

“اے ایمان والو!اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو تو ہم نے جو پاک چیزیں تمہیں بخشی ہیں انہیں کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو”

اس آیت کا موقع اور محل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کے احکام اور اپنے آباء و اجداد کے اوہام کی پیروی میں کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق طرح طرح کی قیود کی پابندی کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ”اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو، تو ان ساری پابندیوں کو ختم کرو اور جو کچھ ہم نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھ کر بے تکلف کھاؤ پیو”اس کا صاف مطلب ہے کہ تم اپنے پنڈتوں اور بزرگوں کے نہیں بلکہ ہمارے بندے ہو اور اگر تم نے واقعی ان کی اطاعت و فرمانبرداری چھوڑ کر ہماری اطاعت و فرمانبرداری  قبول کی ہے تو اب تمہیں حلّت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے معاملے میں ان کے بنائے ہوئے ضابطوں کی بجائے ہمارے ضابطے کی پیروی کرنا ہو گی۔ لہذا یہاں بھی عبادت کا لفظ غلامی اطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ (المائدہ:۶۰)

“کہو میں بتاؤں تمہیں کہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا انجام کن لوگوں کا ہے ؟وہ جن پر اللہ کی پھٹکار ہوئی اور اس کا غضب ٹوٹا، جن میں بہت سے لوگ بندر اور سور تک بنا دئیے گئے، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی”

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ (النحل:۳۶)

“ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر یہ تعلیم دینے کے لیے بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے باز رہو”

وَ الَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى(الزمر:۱۷)

“اور خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے طاغوت کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کیا”

تینوں آیات میں طاغوت کی عبادت سے مراد طاغوت کی غلامی اور اطاعت ہے، جیسا کہ اس سے پہلے ہم اشارہ کر چکے ہیں، قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد ہر وہ ریاست و اقتدار اور ہر وہ رہنمائی و پیشوائی ہے جو خدا سے باغی ہو کر خدا کی زمین پر اپنا حکم چلائے اوراس کے بندوں کو زور و جبر سے یا تحریص و اطماع سے یا گمراہ کن تعلیمات سے اپنا تابع امر بنائے۔ ایسے ہر اقتدار اورایسی ہر پیشوائی کے آگے سرتسلیم خم کرنا اوراس کی بندگی اختیار کر کے اس کا حکم بجا لانا طاغوت کی عبادت ہے۔

عبادت بمعنی اطاعت

اب ان آیات کو لیجیے جن میں عبادت کا لفظ معنی دوم میں استعمال ہوا ہے :

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ(یٰسٓ:۶۰)

“اے بنی آدم!کیا میں نے تم کو  تاکید نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے”

ظاہر ہے شیطان کی پرستش تو دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا، بلکہ ہر طرف سے اس پر لعنت اور پھٹکار ہی پڑتی ہے۔ لہذا بنی آدم پر جو فرد جرم قیامت کے روز لگائی جائے گی، وہ اس بات کی نہ ہو گی کہ انہوں نے شیطان کو پوجا، بلکہ اس بات کی ہو گی کہ وہ شیطان کے کہنے پر چلے اور اس کے احکام کی اطاعت کی اورجس جس راستہ کی طرف وہ اشارہ کرتا چلا گیا اس پر دوڑتے چلے گئے۔

اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَۙ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ۔وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ۔ قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ۔ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ ۔ وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۔

“جب قیامت برپا ہو گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمام ظالموں اور ان کے ساتھیوں کو اور معبودان غیر اللہ کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔پھر وہ آپس میں  ایک دوسرے سے رد و کد کرنے لگیں گے۔ عبادت کرنے والے کہیں گے کہ تم وہی لوگ تو ہو جو خبر کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے۔ ان کے معبود جواب دیں گے کہ اصل میں تو خود ایمان لانے پر تیار نہ تھے۔ ہمارا کوئی زور تم پر نہ تھا، تم آپ ہی نافرمان لوگ تھے “(صٰفٰت:۲۲تا۳۰)

اس آیت میں عابدوں اور معبودوں کے درمیان جو سوال و جواب نقل کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت اور دیوتا نہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی، بلکہ وہ پیشوا ورہنما ہیں جنہوں نے سجادوں اور تسبیحوں اور جبوں اور گلیموں سے بندگان خدا کو دھوکہ دے دے کر اپنا معتقد بنایا، جنہوں نے خیر و اصلاح کے دعوے کر کر کے شر اور فساد پھیلائے۔ ایسے لوگوں کی اندھی تقلید اور ان کے احکام کی بے چون وچرا اطاعت کرنے ہی کو یہاں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا (التوبہ:۳۱)

“انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو خدا کے بجائے اپنا رب بنا لیا اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک الٰہ کے سوا کسی کی عبادت کا حکم نہیں دیا گیا تھا”

یہاں علماء و مشائخ کو رب بنا کر عبادت کرنے سے مراد ان کو امر و نہی کا مختار بنانا اور خدا و پیغمبر کی سند کے بغیر ان کے احکام کی اطاعت بجا لانا ہے۔ اسی معنی کی تصریح روایات صحیحہ میں خود نبی کریمﷺ نے فرما دی ہے، جب آپ سے عرض کیا گیا کہ ہم نے علماء اور مشائخ کی پرستش کبھی نہیں کی، تو آپﷺ نے جواب دیا جس چیز کو انہوں نے حلال ٹھہرایا، کیا تم نے اسے حلال نہیں سمجھ لیا؟اورجسے انہوں نے حرام قرار دیا کیا تم نے اسے حرام نہیں بنا لیا؟

عبادت بمعنی پرستش

اب تیسرے معنی کی آیات کو لیجیے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ قرآن کی رو سے عبادت بمعنی پرستش میں دو چیزیں شامل ہیں۔

ایک یہ کہ کسی کے لیے سجدہ و رکوع اوردست بستہ قیام اور طواف اور آستانہ بوسی اور نذر و نیاز اور قربانی وغیرہ کے وہ مراسم ادا کیے جائیں جو بالعموم پرستش کی غرض سے ادا کیے جاتے ہیں قطع نظر اس سے کہ اسے مستقل بالذات معبود سمجھا جائے یا بڑے معبود کے ہاں تقرب اور سفارش کا ذریعہ سمجھ کر ایسا کیا جائے، یا بڑے معبود کے ماتحت خدائی کے انتظام میں شریک سمجھتے ہوئے یہ حرکت کی جائے۔

دوسرے یہ کہ کسی کو عالم اسباب پر ذی اقتدار خیال کر کے اپنی حاجتوں میں اس سے دعا مانگی جائے، اپنی تکلیفوں اور مصیبتوں میں اس کو مدد کے لیے پکارا جائے اور خطرات و نقصانات سے بچنے کے لیے اس سے پناہ مانگی جائے۔

یہ دونوں قسم کے فعل قرآن کی روسے یکساں پرستش کی تعریف میں آتے ہیں۔

مثالیں:

قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِيَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّيْ(المومن:۶۶)

“کہو، مجھے تو اس سے منع کر دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی طرف سے صریح ہدایت پا لینے کے بعد میں ان کی پرستش کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو”

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّيْ ۔ فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ۔ (مریم:۴۸۔ ۴۹)

“ابراہیم علیہ السلام نے کہا)میں تم کو اور اللہ کے ماسوا جنہیں تم پکارتے ہو، ان سب کو چھوڑتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں۔پس جب وہ ان سے اور اللہ کے سواجن کی وہ عبادت کرتے تھے، ان سب سے الگ ہو گیا تو ہم نے اسے اسحاق جیسا بیٹا عطا کیا۔ “

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ۔ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ(احقاف:۵، ۶)

“آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے، جنہیں خبر تک نہیں کہ انہیں پکارا جا رہا ہے اور وہ روز حشر میں(جب لوگ جمع کیے جائیں گے )اپنے ان پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے[17]

تینوں آیات میں قرآن نے خود تصریح کر دی ہے کہ یہاں عبادت سے مراد دعا مانگنا اور مدد کے لیے پکارنا ہے۔

بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْن(سبا:۴۱)

“بلکہ وہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لائے ہوئے تھے “

یہاں جنّوں کی عبادت اور ان پر ایمان لانے سے جو کچھ مراد ہے، اس کی تشریح سورہ جن کی یہ آیت کرتی ہے۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ(سورہ جن:۶)

“اور یہ کہ انسانوں میں سے بعض اشخاص جنوں میں سے بعض اشخاص کی پناہ ڈھونڈتے ہیں”

اس سے معلوم ہوا کہ جنوں کی عبادت سے مراد ان کی پناہ ڈھونڈنا ہے اور خطرات و نقصانات کے مقابلے میں ان سے حفاظت طلب کرنا ہے اور ان پر ایمان لانے سے مراد ان کے متعلق یہ یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ وہ پناہ دینے اور حفاظت  کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَن ْبَغِيْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَآءَ(الفرقان:۱۷، ۱۸)

“جس روز اللہ ان کو اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے تو وہ ان سے پوچھے گا کہ میرے بندوں کو تم نے بہکایا تھا یا یہ خود راہ راست سے بہک گئے ؟وہ عرض کریں گے سبحان اللہ، ہم کو کب زیبا تھا کہ حضور کو چھوڑ کر کسی کو ولی و رفیق بنائیں”

یہاں انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ معبودوں سے مراد اولیاء و صلحا ہیں اور ان کی عبادت سے مراد ان کو بندگی کی صفات سے بالاتر اور خدائی کی صفات سے متصف سمجھنا، ان کو غیبی امداد اور مشکل کشائی و فریاد رسی پر قادر خیال کرنا او ران کے لیے تعظیم کے وہ مراسم ادا کرنا ہے جو پرستش کی حد تک پہنچے ہوئے ہوں۔

وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ (سبا:۴۰۔ ۴۱)

“جس روز اللہ سب کو اکٹھا کرے گا، پھر فرشتوں [18] سے پوچھے گا، کیا وہ تم ہو جن کی یہ لوگ عبادت کرتے تھے ؟تو وہ کہیں گے، سبحان اللہ!ہمیں ان سے کیا تعلق؟ہمارا تعلق تو آپ سے ہے “

یہاں فرشتوں کی عبادت سے مراد ان کی پرستش ہے جو ان کے استھان اور ہیکل اور خیالی مجسمے بنا کر کی جاتی تھی اوراس پوجا سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ ان کو خوش کر کے ان کی نظر عنایت اپنے حال پر مبذول کرائی جائے اور اپنے دنیوی معاملات میں ان سے مدد حاصل کی جائے۔

وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ (یونس:۱۸)

“وہ اللہ کو چھوڑ کران کی عبادت کرتے تھے جو نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں”

اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ وَ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى (الزمر:۳)

“جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنا رکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں”

یہاں بھی عبادت سے مراد پرستش ہے اوراس غرض کی بھی تشریح کر دی گئی ہے جس کے لیے یہ پرستش کی جاتی ہے۔

عبادت بمعنی بندگی اور اطاعت وپرستش

اوپر کی مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن میں عبادت کا لفظ کہیں غلامی و اطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کہیں مجرد اطاعت کے معنی میں۔ اب قبل اس کے کہ ہم وہ مثالیں پیش کریں جن میں یہ لفظ عبادت کے ان تینوں مفہومات کا جامع ہے، ایک مقدمہ ذہن نشین کر لینا ضروری ہے۔

اوپر جتنی مثالیں پیش کی گئی ہیں ان سب میں اللہ کی عبادت کے سوادوسروں کا ذکر ہے، جہاں عبادت سے مراد غلامی و اطاعت ہے وہاں معبود یا توانسان ہیں یا وہ باغی انسان ہیں جنہوں نے طاغوت بن کر خدا کے بندوں سے خدا کے بجائے اپنی اطاعت و بندگی کرائی، یا وہ رہنما و پیشوا ہیں جنہوں نے کتاب اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے خود ساختہ طریقوں پر لوگوں کو چلایا اور جہاں عبادت سے مراد پرستش ہے وہاں معبود یا تو اولیاء، صلحا اور انبیاء ہیں جنہیں ان کی تعلیم و ہدایت کے خلاف معبود بنایا گیا، یا فرشتے اور جن ہیں جن کو محض غلط فہمی کی بنا پر فوق الطبیعی ربوبیت میں شریک سمجھ لیا گیا۔

یہ خیالی طاقتوں کے بت اور تماثیل ہیں جو محض شیطانی اغوا سے مرکز پرستش بن گئے، قرآن ان تمام قسموں کے معبودوں کا باطل اور ان کی عبادت کو غلط ٹھہراتا ہے، خواہ ان کی غلامی کی گئی ہو یا اطاعت یا پرستش۔ وہ کہتا ہے تمہارے سب یہ معبود جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو، اللہ کے بندے اور غلام ہیں، نہ انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ان کی عبادت کی جائے اور نہ ان کی عبادت سے بجز نامرادی اور ذلت ورسوائی کے تم کو کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ حقیقت میں ان کا اور ساری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے، اس کے ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں۔ لہذا عبادت کا مستحق اکیلے اللہ کے سوا کوئی نہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ  نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ (الاعراف:۱۹۴۔ ۔ ۱۹۷)

“اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں، جیسے تم خود بندے ہو۔ انہیں پکار کر دیکھ لو۔ اگر تمہارا عقیدہ ان کے بارے میں صحیح ہے تو وہ تمہاری پکار کا جواب[19]  دیں۔۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔ “

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ۔ لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ۔ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ١ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ(الانبیاء:۲۶۔ ۲۷۔ ۲۸)

“یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا، بالاتر ہے وہ اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو، جنہیں یہ اس کی اولاد کہتے ہیں وہ دراصل اس کے بندے ہیں جن کو عزت دی گئی ہے ان کی اتنی مجال نہیں کہ وہ خود سبقت کر کے اللہ کے حضور کچھ عرض کرسکیں بلکہ جیسا وہ حکم دیتا ہے اسی کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں، جو کچھ ان پر ظاہر ہے اسے بھی اللہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے پوشیدہ ہے اس کی بھی اللہ کو خبر ہے، وہ اللہ کے حضور کسی کی سفارش نہیں کر سکتے بجز اس کے کہ جس کی سفارش خود اللہ ہی قبول کرنا چاہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے سہمے رہتے ہیں[20]

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا(الزخرف:۱۹)

“ان لوگوں نے فرشتوں کو جو دراصل رحمان کے بندے ہیں دیویاں بنا رکھا ہے “

وَ جَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَ بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ(الصفت:۱۵۸)

“انہوں نے جنوں کے اور خدا کے درمیان نسبی تعلق فرض کر لیا ہے حالانکہ جن خود بھی جانتے ہیں کہ روز حساب کے لیے اس کے حضور پیش ہونا ہے “

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰ ىِٕكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ ۭوَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ اِلَيْهِ جَمِيْعًا (النساء: ۲۷۱)

“نہ مسیح نے کبھی اس کو اپنے لیے عار سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں نے۔ اور جو کوئی اس کی بندگی و غلامی میں عار سمجھے اور تکبر کرے (وہ بھاگ کر جا کہاں سکتا ہے ) ایسے سب لوگوں کو اللہ اپنے حضور کھینچ بلائے گا۔ “

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ ۔ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ (الرحمٰن-: ۵-۶)

“سورج اور چاند سب گردش میں لگے ہیں اور تارے اور درخت خدا کے آگے سر اطاعت جھکائے ہوئے ہیں۔”

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ  وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ  (بنی اسرائیل :-۴۴)

“ساتوں آسمان اور زمین اور جس قدر موجودات آسمان و زمین میں ہیں سب کے سب اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، کوئی چیز ایسی نہیں حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔ مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ “

وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ (الروم:-۶۲)

“آسمانوں اور زمین کی کل موجودات اس کی ملک ہے اور ساری چیزیں اس کے فرمان کی تابع ہیں۔ “

مَا مِنْ دَا بَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌ  بِنَاصِيَتِهَا ہ(ود-: ۶۵)

“کوئی جاندار ایسا نہیں جو اللہ کے قبضۂ قدرت میں جکڑا ہوا نہ ہو۔ “

اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا–لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا–وَكُلُّهُمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَرْدًا  (مریم:-۳۹-۵۹)

“زمین اور آسمانوں کے باشندوں میں سے کوئی نہیں جو رحمٰن کے سامنے غلام کی حیثیت سے پیش ہونے والا نہ ہو۔ اس نے سب کا شمار کر رکھا ہے اور قیامت کے روز سب اس کے حضور فردا فردا پیش ہوں گے۔ “

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَا ءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَا ءُ  وَتُعِزُّ مَنْ تَشَا ءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَا ءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ  اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

“کہو! خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے، یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔ “(آل عمران:-۶۲)

اس طرح ان سب کو جن کی عبادت کسی شکل میں کی گئی ہے، اللہ کا غلام اور بے اختیار ثابت کر دینے کے بعد قرآن تمام جن و انس سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر مفہوم کے لحاظ سے عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔ غلامی ہو تو اس کی اطاعت ہو تو اس کی پرستش ہو تو اس کی، ان میں سے کسی نوع کی عبادت کا شائبہ تک بھی غیراللہ کے لیے نہ ہو۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ   ( النحل:- ۶۳)

“ہم نے ہر قوم میں ایک رسول یہی پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرو۔ “

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْٓا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى (الزمر:-۷۱)

“خوشخبری ہے ان کے لیے جنہوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا۔ “

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِيْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْم (یٰسین۔ ۶۱، ۶۰)

“اے بنی آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہ کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری عبادت کرنا، یہی سیدھا راستہ ہے۔ “

اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ   وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰهًا وَّاحِدًا (التوبہ۔ ۳۱)

“انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ “

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (بقرہ۔ ۱۷۲)

“اے ایمان لانے والو! اگر تم نے واقعی ہماری عبادت اختیار کی ہے تو جو پاک نعمتیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔ “

ان آیات میں اللہ کے لیے اس عبادت کو مخصوص کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو بندگی و غلامی اور اطاعت و فرمانبرداری کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے صاف قرینہ موجود ہے کہ طاغوت اور شیطان اور احبار و رہبان اور آباء و اجداد کی اطاعت و بندگی سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَا ءَنِيَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّيْ ۡ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (المومن۔ ۶۶)

“کہو، مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں اپنے رب کو چھوڑ کر ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کی بجائے پکارتے ہو، جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس بینات بھی آ چکی ہیں۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سرتسلیم خم کر دوں۔ “

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ  اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ (المومن۔ ۶۰)

“اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔ اور جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ یقیناً جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ “

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ  وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَا ءَكُمْ   وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ  وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ  وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ (فاطر۔ ۱۳، ۱۴)

“وہی اللہ تمہارا رب ہے، پادشاہی اسی کی ہے، اس کے سوا تم جن کو پکارتے ہو ان کے اختیار میں ذرہ برابر کچھ نہیں۔ تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔ اور قیامت کے روز وہ تمہارے اس شرک کا انکار کریں گے۔ “

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا  وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

“کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع پہنچانے کی، سب کچھ سننے اور جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔ “(المائدہ۔ ۷۶)

ان آیات میں اس عبادت کو اللہ کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو پرستش کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے بھی صاف قرینہ موجود ہے کہ عبادت کو دعا کے مترادف کی حیثیت سے استعمال کیا گیا ہے اور ماقبل و مابعد کی آیات میں ان معبودوں کا ذکر پایا جاتا ہے جنہیں فوق الطبیعی ربوبیت میں اللہ کا شریک قرار دیا جاتا ہے۔

اب کسی صاحب بصیرت آدمی کے لیے یہ سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جہاں جہاں قرآن میں اللہ کی عبادت کا ذکر ہے اور آس پاس کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے جو لفظ عبادت کو اس کے مختلف مفہومات میں سے کسی ایک مفہوم کے لیے خاص کرتا ہو، ایسے تمام مقامات میں عبادت سے مراد غلامی، اطاعت اور پرستش، تینوں مفہوم ہوں گے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات کو دیکھیے :

اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ (طٰہ۔ ۱۴)

“میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی الٰہ نہیں، لہٰذا تو میری ہی عبادت کر۔ “

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ   لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ   خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوْهُ   وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ  (انعام۔ ۱۰۲)

“وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر شے کی خبرگیری کا متکفل ہے۔ “

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ وَاُمِرْتُاَنْاَكُوْنَمِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (یونس۔ ۱۰۴)

“کہو، کہ اے لوگو! اگر تمہیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہو جاؤں۔ “

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَا ءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَا ؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ  اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ  ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ(یوسف۔ ۴۰)

“اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبودیت نازل نہیں کی ہے۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے۔ “

وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ (ہود۔ ۱۲۳)

“آسمانوں اور زمین کی جس قدر حقیقتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا علم اللہ ہی کو ہے اور سارے معاملات اسی کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا تو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ “

لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ   وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہ (مریم۔ ۶۴، ۶۵)

“جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہم سے پوشیدہ ہے اور جو کچھ ان دونوں حالتوں کے درمیان ہے، سب کا مالک وہی ہے، اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ وہ مالک ہے آسمان کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں لہٰذا تو اسی کی عبادت کر اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہ۔ “

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَا ءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا (کہف۔ ۱۱۰)

“پس جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ “

کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات میں اور ایسی ہی دوسری آیات میں عبادت کے لفظ کو محض پرستش یا محض بندگی و اطاعت کے لیے مخصوص ٹھہرا لیا جائے۔ اس طرح کی آیات میں دراصل قرآن اپنی پوری دعوت پیش کرتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن کی دعوت یہی ہے کہ بندگی، اطاعت، پرستش جو کچھ بھی ہو اللہ کی ہو۔ لہٰذا ان مقامات پر عبادت کے معنی کو کسی ایک مفہوم میں محدود کرنا حقیقت میں قرآن کی دعوت کو محدود کرنا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت کا ایک محدود تصور لے کر ایمان لائیں گے وہ اس کی ناقص و ناتمام پیروی کریں گے۔

 

دین

لغوی تحقیق

کلام عرب میں لفظ دین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

(۱) غلبہ و اقتدار، حکمرانی و فرمانروائی، دوسرے کو اطاعت پر مجبور کرنا، اس پر اپنی قوت قاہرہ (Sovereignty )استعمال کرنا، اس کو اپنا غلام اور تابع امر بنانا۔ مثلاً کہتے ہیں دانَ الناسَ، ای قَھَرَھُم علی الطاعۃِ(یعنی لوگوں کو اطاعت پر مجبور کیا) دِنتُھُم فَدَا نُوای قھرتُہُم فَاَطَاعُوا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کیا اور وہ مطیع ہو گئے ) دنت ُالقوم َای ذللتُھم واستَعبَدتُہُم (میں نے فلاں گروہ کو مسخر کر لیا اور غلام بنا لیا) دَانَ الرجلُ اذا عزَّ (فلاں شخص عزت او ر طاقت والا ہو گیا) دنتُ الرجلَ  حَمَلتُہ علیٰ ما یَکرَہُ– (میں نے اس کو ایسے کام پر مجبور کیا جس کے لیے وہ راضی نہ تھا) دِینَ فلانٌ- اذا حُمِلَ علیٰ مکروہ ٍ(فلاں شخص اس کام کے لیے بزور مجبور کیا گیا) دِنتُہُ ای سُستُہ ُو مَلَکتُہُ (یعنی میں نے اس پر حکم چلایا اور فرمانروائی کی) دَیّنتُہُ  القومَ وَلَّیتُہ ُسِیَاسَتَھُم (یعنی میں نے لوگوں کی سیاست و حکمرانی فلاں شخص کے سپرد کر دی)  اسی معنی میں حطیّہ اپنی ماں کو خطاب کر کے کہتا ہے :

لقد دُیّنتِ امرَ بَنِیکِ                                                                            حتیٰ تَرَکتِھِم اَدَقَّ مِنَ الطَّحیِنِ

“تو اپنے بچوں کے معاملات کی نگراں بنائی گئی تھی – آخر کار تو نے انہیں آٹے سے بھی زیادہ باریک کر کے چھوڑا”حدیث میں آتا ہے اَلكَيّسُ مَن  دانَ نَفسَهُ وعَمِلَ لِمَابعد َالموتِ یعنی عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا اور وہ کام کیا جو اس کی آخرت کے لیے نافع ہو۔ اسی معنی کے لحاظ سے دیان اس کو کہتے ہیں جو کسی ملک یا قوم یا قبیلے پر غالب و قاہر ہو اور اس پر فرماں روائی کرے۔ چنانچہ احشی الحرمازی نبیﷺ کو خطاب کر کے کہتا ہے یا سید الناس ودیان العرب۔ اور اسی لحاظ سے مدین کے معنی غلام اور مدینہ کے معنی لونڈی، اور ابن مدینہ کے معنی لونڈی زادے کے آتے ہیں۔ اخطل کہتا ہے ربت وربانی حجرھا ابن مدنتۃ – اور قرآن کہتا ہے

فَلَوْلَآ اِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِيْنِيْنَ–تَرْجِعُوْنَهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

“یعنی اگر تم کسی کے مملوک، تابع ماتحت نہیں ہو تو مرنے والے کو موت سے بچا کیوں نہیں لیتے ؟ جان کو واپس کیوں نہیں پلٹا لاتے ؟”(الواقعہ-: ۶۸-۷۸)

(۲) اطاعت، بندگی، خدمت، کسی کے لیے مسخر ہو جانا، کسی کے تحتِ امر ہونا، کسی کے غلبہ و قہر سے دب کر اس کے مقابلہ میں ذلت قبول کر لینا۔ چنانچہ کہتے ہیں دنتھم فدا نوا ای قھرتھم فاطاعو (یعنی میں نے ان کو مغلوب کر لیا اور وہ لوگ مطیع ہو گئے ) دنت الرجل، ای خدنتہ (یعنی میں نے فلاں شخص کی خدمت کی( حدیث میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا ارید من قریش کلمۃ تدین لھم بھا العرب ای تطیعھم و تخضع لھم-(میں قریش کو ایک ایسے کلمہ کا پیرو بنانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے مان لے تو تمام عرب اس کا تابع فرمان بن جائے اور اس کے آگے جھک جائے ) اسی معنی کے لحاظ سے اطاعت شعار قوم کو قوم دین کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں دین کا لفظ حدیث خوارج میں استعمال کیا گیا ہے یمرقون من الدین مردقلھم من الرمیۃ۔[21]

۳) شریعت، قانون، طریقہ، کیش و ملت، رسم و عادت۔ مثلاً کہتے ہیں ما زال ذلك دینی وودینی– یعنی یہ ہمیشہ سے میرا طریقہ رہا ہے۔ یقال دان، اذا اعتاد خیرا و شرا – یعنی آدمی خواہ برے طریقہ کا پابند ہو یا بھلے طریقہ کا، دونوں صورتوں میں اس طریقہ کو جس کا وہ پابند ہے دین کہیں گے۔ حدیث میں ہے کانت قریش ومن دان بددینھم۔ قریش اور وہ لوگ جو ان کے مسلک کے پیرو تھے۔ اور حدیث میں ہے انہ علیہ السلام کان علی دین قومہ – نبیﷺ نبوت سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے۔ یعنی نکاح، طلاق میراث اور دوسرے تمدنی و معاشرتی امور میں انہی قاعدوں اور ضابطوں کے پابند تھے جو اپنی قوم میں رائج تھے۔

۴) جزاءِ عمل، بدلہ، مکافات، فیصلہ، محاسبہ۔ چنانچہ عربی میں مثل ہے کما تدین تدان، یعنی جیسا تو کرے گا ویسا بھرے گا، قرآن میں کفار کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے اء نا لمدینون؟ کیا مرنے کے بعد ہم سے حساب لیا جانے والا ہے اور ہمیں بدلہ ملنے والا ہے۔ عبداللہ ابن عمرو کی حدیث میں آتا ہے “لا تسبوا السلطان فان کان لا بد فقولوا اللھم دنھم کما یدینون“۔ “اپنے حکمرانوں کو گالیاں نہ دو۔ اگر کچھ کہنا ہی ہو تو یوں کہو خدایا جیسا یہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ویسا ہی تو ان کے ساتھ کر”۔ اسی معنی میں لفظ دیان بمعنی قاضی و حاکم عدالت آتا ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے جب حضرت علی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا “کان دیان ھذہ الامۃ بعد نبیھا” یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ امت کے سب سے بڑے قاضی تھے “۔

قرآن میں لفظ دین کا استعمال

ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں، یا بالفاظ دیگر یہ لفظ عربی زبان میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے۔

۱۔ غلبہ و تسلط، کسی ذی اقتدار کی طرف سے۔

۲۔ اطاعت، تعبد اور بندگی صاحب اقتدار کے آگے جھک جانے والے کی طرف سے۔

۳۔ قاعدہ و ضابطہ اور طریقہ جس کی پیروی کی جائے۔

۴۔ محاسبہ اور فیصلہ اور جزا و سزا۔

انہی تصورات میں سے کبھی ایک کے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے اہل عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے، مگر چونکہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا۔ اور یہ کسی باقاعدہ نظام فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشا کے لیے مناسب پا کر بالکل واضح اور متعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی مخصوص اصطلاح بنا لیا۔ قرآن کی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس کی ترکیب چار اجزاء سے ہوتی ہے۔

۱- حاکمیت و اقتدار اعلیٰ۔

۲- حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم و اطاعت۔

۳- وہ نظام فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے۔

۴- مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت کے صلے میں یا سرکشی و بغاوت کی پاداش میں دی جائے۔

قرآن کبھی لفظ دین کا اطلاق معنیِ اول و دوم پر کرتا ہے، کبھی معنیِ سوم پر، کبھی معنیِ چہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزاء سمیت مراد لیتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے حسب ذیل آیات قرآنی ملاحظہ ہوں۔

دین بمعنی اول و دوم:

اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَا ءَ بِنَا ءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ښفَتَبٰرَكَاللّٰهُرَبُّالْعٰلَمِيْنَ– هُوَالْحَيُّلَآاِلٰهَاِلَّاهُوَفَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ۭاَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (المومن:-۴۶-۵۶)

“وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس پر آسمان کا قبہ چھایا، جس نے تمہاری صورتیں بنائیں، جس نے پاکیزہ چیزوں سے تم کو رزق بہم پہنچایا، وہی اللہ تمہارا رب ہے اور بڑی برکتوں والا ہے وہ رب العٰلمین ہے۔ وہی زندہ ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ لہٰذا تم اسی کو پکارو دین کو اسی کے لیے خاص کر کے۔ تعریف اللہ رب العٰلمین کے لیے ہے۔ “

قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ –وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِيْنَ۔۔ قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُمُخْلِصًا لَّهٗ دِيْنِيْ –فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ۔۔وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْٓا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى۔ (الزمر:-۱۱، -۷۱)

“کہو! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کر کے اسی کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ کہ سب سے پہلے میں خود سر اطاعت جھکاؤں۔کہو! میں تو دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں گا۔ تم کو اختیار ہے اس کے سوا جس کی چاہو بندگی اختیار کرتے پھرو۔  اور جو لوگ طاغوت کی بندگی کرنے سے پرہیز کریں اور اللہ کی ہی طرف رجوع کریں۔ ان کے لیے خوشخبری ہے۔”

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ–اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ  (الزمر:-۲-۳)

“ہم نے تمہاری طرف کتاب برحق نازل کر دی ہے لہٰذا تم دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اسی کی بندگی کرو۔ خبردار! دین خالصتا  اللہ ہی کے لیے ہے۔ “

وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا ۭاَفَغَيْرَاللّٰهِتَتَّقُوْنَ (النحل:- ۲۵)

“زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اللہ کے لیے ہے اور دین خالصتہً اسی کے لیے ہے، پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے ؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی خلاف ورزی سے تم بچو گے اور جس کی ناراضی سے تم ڈرو گے ؟)”

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ  (آل عمران:-۳۸)

“کیا یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کا دین چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارو ناچار اللہ ہی کی مطیع فرمان ہیں اور اسی کی طرف ان کو پلٹ کر جانا ہے۔ “

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ حُنَفَاءَ (البینیہ-:۵)

“اور ان کو اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ یکسو ہو کر دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کریں۔ “

ان تمام آیات میں دین کا لفظ اقتدار اعلیٰ اور اس اقتدار کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت و بندگی قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حاکمیت، فرمانروائی، حکمرانی اللہ کے سوا کسی کی تسلیم نہ کرے، اور اپنی اطاعت و بندگی کو اللہ کے لیے اس طرح خالص کر دے کہ کسی دوسرے کی مستقل بالذات بندگی و اطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک نہ کرے[22]۔

دین بمعنی سوم :

قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ  وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ  

“کہو کے اے لوگو!اگر تم کو میرے دین کے بارے میں کچھ شک ہے (یعنی اگر تم کو صاف معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے )تو لو سنو!میں ان کی بندگی اور عبادت نہیں کرتا جن کی بندگی و عبادت تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو، بلکہ میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو جاؤں جو اسی اللہ کے ماننے والے ہیں، اور یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تو یکسو ہو کر اسی دین پر اپنے آپ کو قائم کر دے اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہو”(یونس:۱۰۴۔ ۱۰۵)

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (یوسف:۴۰)

“حکمرانی اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا فرمان ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے “

وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ (الروم۔ ۲۶۔ ۔ ۳۰)

“زمیں وآسمانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کے مطیع فرمان ہیں۔وہ تمہیں سمجھانے کے لیے خود تمہارے اپنے معاملہ سے ایک مثال پیش کرتا ہے، بتاؤ یہ غلام تمہارے مملوک ہیں؟کیا ان میں سے کوئی ان چیزوں میں جو ہم نے تمہیں دی ہیں تمہارا شریک ہے ؟کیا تم انہیں اس مال کی ملکیت میں اپنا برابر حصہ دار بناتے ہو۔ کیا تم ان سے اپنے ہم چشموں کی طرح ڈرتے ہو؟۔۔ سچی بات یہ ہے کہ ظالم لوگ علم کے بغیر محض اپنے تخیلات کے پیچھے چلے آرہے ہیں۔۔ ۔ پس تم یکسو ہو کر اپنے آپ کو اس دین پر قائم کر دو۔ اللہ نے جس فطرت پر انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی کو اختیار کر لو، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلا نہ جائے[23]، یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪وَّلَاتَاْخُذْكُمْبِهِمَارَاْفَةٌفِيْدِيْنِاللّٰهِ(النور:۲)

“زانی اور زانیہ دونوں کو سو سو کوڑے مارو اور اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو ان پر رحم نہ آئے “

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ(التوبہ:۳۶)

كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ(یوسف:۷۶)

“اس طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کے لیے تدبیر نکالی، اس کے لیے جائز نہ تھا کہ اس بادشاہ کے دین میں اپنے بھائی کو پکڑتا”

وَ كَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوْهُمْ وَ لِيَلْبِسُوْا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ (الانعام:۱۳۷)

“اوراس طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں  [24]نے اپنی اولاد کے قتل کو ایک خوش آئند فعل بنا دیا تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے لیے ان کے دین کو مشتبہ بنائیں [25]

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَن ْ بِهِاللّٰهُ(الشوریٰ:۲۱)

“کیا انہوں نے کچھ شریک ٹھہرائے رکھے ہیں جوان کے لیے دین کی قسم سے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کا اللہ نے اذن نہیں دیا ہے ؟”

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ(الکافرون)

“تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین”

ان سب آیات میں دین سے مراد قانون، ضابطہ، شریعت، طریقہ اور وہ نظام فکر و عمل ہے جس کی پابندی میں انسان زندگی بسر کرتا ہے، اگر وہ اقتدار جس کی سند پر کسی ضابطہ و نظام کی پابندی کی جاتی ہے۔ خدا کا اقتدار ہے تو آدمی دینِ خدا میں ہے۔ اگر وہ کسی بادشاہ کا اقتدار ہے تو آدمی دینِ بادشاہ میں ہے، اگر وہ پنڈتوں اور پروہتوں کا اقتدار ہے تو آدمی انہی کے دین میں ہے اور اگر وہ خاندان، برداری، یا جمہورِ قوم کا اقتدار ہے تو آدمی انہی کے دین میں ہے۔ غرض جس کی سند کو آخری سند اور جس کے فیصلے کو منتہائے کلام مان کر آدمی کسی طریقے پر چلتا ہے، اسی کے دین کا وہ پیرو ہے۔

دین بمعنی چہارم:

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ۔ وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ(الذٰریات:۶)

“وہ خبر جس سے تمہیں آگاہ کیا جاتا ہے (یعنی زند      گی بعد موت)یقیناً سچی ہے اور دین یقیناً ہونے والا ہے “

أَرَ‌أَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ۔ فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ۔ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ(الماعون:۱، ۲، ۳)

“تم نے دیکھا اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے دین کو، وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اورمسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا”

وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ۔ ثُمَّ مَا أَدْرَ‌اكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ۔ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۖوَالْأَمْرُ‌يَوْمَئِذٍلِّلَّهِ

“تمہیں کیا خبر کہ یوم الدین کیا ہے، ہاں تم کیا جانو کیا ہے یوم الدین۔ وہ دین ہے کہ جب کسی متنفس کے اختیار میں کچھ نہیں ہو گا کہ دوسرے کے کام آسکے، اس روز سب اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہو گا” (الانفطار:۱۷، ۱۸، ۱۹)

ان آیات میں دین بمعنی محاسبہ و فیصلہ و جزائے اعمال استعمال ہوا ہے۔

 

دین ایک جامع اصطلاح

یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انہی مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہل عرب کی بول چال میں مستعمل تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظام زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلی تسلیم کر کے اس کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرنے، اس کے حدود و ضوابط اور قوانین کی تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت، ترقی اور انعام کا امیدوار ہواوراس کی نافرمانی پر ذلت و خواری اورسزا سے ڈرے۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے نظام پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ”اسٹیٹ”کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی اس کو”دین”کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔

حسب ذیل آیات میں”دین”اسی اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے۔

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَابِالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَلَا يُحَرِّ‌مُونَ مَا حَرَّ‌مَ اللَّه ُوَرَ‌سُولُهُ وَلَايَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَعَن يَدٍوَهُمْ صَاغِرُ‌ونَ

“اہل کتاب میں سے کو لوگ اللہ کو مانتے  ہیں (یعنی اس کو واحد مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کرتے ) نہ یوم آخرت ( یعنی یوم الحساب اور یوم الجزاء) کو ماتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام مانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ “(التوبہ:۲۹)

اس آیت میں “دین حق” اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضع اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود کر دی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو “دین حق” سے تعبیر کیا گیا ہے۔

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِيْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٗ  اِنِّىْ ٓاَخَاف ُاَن ْيُّبَدِّل َدِيْنَكُم اَوْاَنْ يُّظْهِرَفِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ 

“فرعون نے کہا چھوڑو مجھے، میں اس موسٰی کو قتل ہی کیے دیتا ہوں اور اب پکارے وہ اپنے رب کو مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمہارا دین نہ بدل دے، یا ملک میں فساد نہ کھڑا کر دے۔ “(المومن: ۲۶)

قرآن میں قصہ فرعون و موسیٰ کی جتنی تفصیلات آئی ہیں ان کو نظر میں رکھنے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ دین یہاں مجرد “مذہب” کے معنی میں نہیں آیا ہے۔ فرعون کا یہ کہنا تھا کہ اگر موسٰی اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے تو سٹیٹ بدل جائے گا۔ جو نظام زندگی اس وقت فراعنہ کی حاکمیت اور رائج الوقت قوانین و رسوم کی بنیادوں پر چل رہا ہے وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا اور اس کی جگہ یا تو دوسرا نظام بالکل دوسری ہی بنیادوں پر قائم ہو گا، یا نہیں تو سرے سے کوئی نظام قائم ہی نہ ہو سکے گا بلکہ تمام ملک میں بدنظمی پھیل جائے گی۔

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ

“اللہ کے نزدیک دین تو دراصل ” اسلام ہے۔ “(آل عمران:۱۹)

وَمَنْ يَّبْتَغِغَيْرَالْاِسْلَامِدِيْنًافَلَنْيُّقْبَلَمِنْهُ۔

“اور جو اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا۔ اس سے وہ دین ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ “(آل عمران: ۵۸)

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙوَلَوْكَرِهَالْمُشْرِكُوْنَ

“وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو صحیح رہنمائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اگرچہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ “(التوبہ:۳۳)

وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ۔

“اور تم ان سے لڑے جاؤ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکلیہ اللہ ہی کا ہو جائے۔ “(انفال: ۹۳)

اِذَا َا ءَنَصْرُاللّٰهِ وَالْفَتْحُ، وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَبِّك َوَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا

جب اللہ کی مدد آ گئی اور فتح نصیب ہو چکی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اب اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس سے درگزر کی درخواست کرو، وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ (النصر:۱تا ۴)

ان سب آیات میں دین سے پورا نظام زندگی اپنے تمام اعتقادی، نظری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سمیت موجود ہے۔

پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظام زندگی صرف وہ ہے جو کود اللہ ہی کی اطاعت و بندگی(اسلام) پر مبنی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام، جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو، مالک کائنات کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہے، اور فطرتاً نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق، مملوک اور پروردہ ہے، اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتا ہے، وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سوا کسی دوسرے اقتدار کی بندگی و اطاعت میں زندگی گزارنے اور کسی دوسرے کی ہدایات پر چلنے کا حق رکھتا ہے۔

تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اسی صحیح و برحق نظام زندگی یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے رہے۔

چوتھی آیت میں دین اسلام کے پیروؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ، یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے اور پورا نا م اطاعت و بندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہو جائے۔

پانچویں آیت میں نبی ﷺ سے اس اس موقع پر خطاب کیا گیا ہے جب کہ ۲۳ سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہو چکی تھی، اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی و فکری، اخلاقی و تعلیمی، تمدنی و معاشرتی اور معاشی و سیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہو گیا تھا، اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آ کر اس نظام کے دائرے  میں داخل ہونے لگے تھے۔ اس طرح جب وہ کام تکمیل کو پہنچ گیا جس پر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو مامور کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگنا، نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمہارے رب ہی کی ہے، لہٰذا اس کار عظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد و ثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ مالک! اس ۲۳ سال کے زمانہ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہوں انہیں معاف فرما دے۔

٭٭٭

تشکر: عبد اللہ آدم جنہوں نے یونی کوڈ فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید



[1]    یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ قرآن میں لفظ الٰہ دونوں معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔ ایک وہ معبود جس کی فی الواقع عبادت کی جا رہی ہو قطع نظر اس کے کہ حق ہو یا باطل۔ دوسرے وہ معبود جو درحقیقت عبادت کا مستحق ہو۔ اس آیت میں الٰہ کا لفظ دو جگہ انہی دو الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

[2] یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سفارشیں دو قسم کی ہیں ۔ایک وہ جو کسی نہ کسی نوع کے زور و اثر پر مبنی ہو اور بہر حال منوا کر ہی چھوڑی جائے ۔دوسری وہ جو محض ایک التجا اور درخواست کی حیثیت میں ہو اور جس کے پیچھے کوئی منوا لینے کا زور نہ ہو پہلے مفہوم کے لحاظ سے کسی کو شفیع یا سفارشی سمجھنا اسے الٰہ بنانا اور خدائی میں اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے ۔اور قرآن اسی شفاعت کی تردید کرتا ہے۔رہا دوسرا مفہوم تو اس لحاظ سے انبیاء، ملائکہ،صلحا،اہل ایمان اور سب بندے دوسرے بندوں کے حق میں شفاعت کر سکتے ہیں اور خدا کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ کسی کی شفاعت قبول کرے یا نہ کرے ۔قرآن اس شفاعت کا اثبات کرتا ہے۔

[3] تین پردوں سے مراد پیٹ ،رحم اور مشیمہ ہیں۔

[4] یعنی اگر تم مانتے ہو کہ یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں اور ان کاموں میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو آخر کس دلیل سے تم الٰہیت میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو؟ جن کے پاس اقتدار نہیں اور زمین و آسمان میں جن کا کوئی خود مختارانہ کام نہیں وہ الٰہ کیسے ہو گئے۔

[5] یعنی اس کی درخواست کے جواب میں کوئی کاروائی نہیں کر سکتا۔

[6] صحیح  مسلم، صفات المنافقن  و احکامھم، باب صفۃ القاچمۃ و الجنۃ و النار۔

[7]     کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ حضرت یوسف عزیز مصر کو اپنا رب فرما رہے ہیں، جیسا کہ بعض مفسرین کو شبہ ہوا ہے، بلکہ دراصل “وہ” کا اشارہ خدا کی طرف ہے جس کی پناہ انہوں نے مانگی ہے۔ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّہ رَبِّيْٓ جب مشار الیہ قریب ہی مذکور ہے تو کوئی غیر مذکور مشار الیہ تلاش کرنے کی کیا ضرورت؟

[8] وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔

[9] اپنے رب سے معافی چاہو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔

[10] دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کیسے ہفت آسمان تہ بہ تہ بنائے اور چاند کو ان کے درمیان نور اور سورچ کو چراغ بنایا اور تم کو بھی اسی طرح سے پیدا کیا۔

[11] یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وطن ار کے متعلق اثار قدیمہ کی کھدائیوں میں جو انکشافات ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں چندر ماں دیوتا کی پرستش ہوتی تھی جسے ان کی زبان میں “ننار” کہا جاتا تھا۔ اور اس کے ہمسایہ علاقہ مین جس کا مرکز لوسہ تھا سورج دیوتا کی عبادت ہوتی تھی جس کا نام ان کی زبان میں شماس تھا۔ اس ملک کے فرماں روا خاندان کا بانی ارنمو تھا جو عرب میں جا کر نمرود ہو گیا اور اسی کے نام ہر وہاں کے فرمانروا کا لقب ہی نمرود قرار پایا، جیسے نظام الملک کے جانشین نظام کہلاتے ہیں ۔

[12] اگر توراۃ کی تاریخی بیان پر اعتماد کیا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مصر کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ مسلمان ہو چکا تھا تو راۃ میں بنی اسرائیل کی جو مردم شماری درج کی گئی ہےاس کی رو سے وہ لوگ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے تھے تقریباً ۲۰لاکھ تھے اور مصر کی آبادی اس زمانے میں ایک کروڑ سے زیادہ نہ ہو گی۔توراۃ میں ان سب لوگوں کو بنی اسرائیل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے لیکن کسی حساب سے یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ۱۲بیٹوں کی اولاد۵سوسال کے اندر بڑھ کر۲۰ لاکھ ہو گئی ہو۔لہذا قیاس یہی چاہتا ہے کہ مصر کے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد مسلمان ہو کر بنی اسرائیل میں شامل ہو گئی ہوگی اور ہجرت کے موقع پر ان مصر ی مسلمانوں نے بھی اسرائیلی مسلمانوں کا ساتھ دیا ہو گا،اس سے اس تبلیغی کا م کا اندازہ ہو سکتا ہے جو حضرت یوسف اور ان کے خلفا نے مصر میں کیا۔

[13] بعض مفسرین نے محض اس مفروضہ پر کہ فرعون خود الٰہ العالمین ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا، سورہ اعراف کی مذکورہ متن آیت میں اِلٰھَتَکَ کی قرات اختیار کی ہے اور اِلٰھَۃ ٌبمعنی عبادت لیا ہے- یعنی ان کی قرات کے مطابق آیت کا ترجمہ یوں ہو گا کہ “آپ کو اور آپ کی عبادت کو چھوڑ دے-” لیکن اول تو یہ قرات شاذ ہے اور معروف قرات کے خلاف ہے، دوسرے وہ مفروضہ ہی سرے سے بے بنیاد ہے جس پر یہ قرات اختیار کی گئی ہے- تیسرے اِلٰھَۃٌ کے معنی عبادت کے علاوہ معبود یا دیوی کے بھی ہو سکتے ہیں- سورج کے لیے عرب جاہلیت میں اِلٰھَۃٌ ہی کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بالعموم مصریوں کا صنم اکبر سورج تھا- سورج کو مصری زبان میں “رع” کہتے تھے اور فرعون کا مفہوم “رع کی اولاد” یا ” رع کا اوتار” تھا پس درحقیقت فرعون جس چیز کا مدعی تھا وہ صرف یہ تھی کہ میں سورج دیوتا کا جسمانی ظہور ہوں۔

[14] یعنی کہ تم اس خیال خام میں مبتلا ہو کہ تمہارے ان معبودوں کا میرے ہاں ایسا زور چلتا ہے کہ جو سفارش یہ مجھ سے کر دیں وہ بس قبول ہو کر رہتی ہے، اور اسی لیے تم ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے اور نذریں چڑھاتے ہو- مگر میں تو آسمانوں اور زمین کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتا جو میرے دربار میں اتنی زورآور ہو یا مجھے ایسی محبوب ہو کہ میں اس کی سفارش قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں پھر کیا تم مجھے ان سفارشیوں کی خبر دے رہے ہو جنہیں میں خود نہیں جانتا؟ ظاہر ہے کسی چیز کا اللہ کے علم میں نہ ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس چیز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

[15] اللہ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے- یعنی کہنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں بزرگ کی برکت سے ٹلی اور یہ نعمت فلاں حضرت کی عنایت سے نصیب ہوئی-

[16] یعنی جن کے متعلق انہیں ہرگز کسی ذریعۂ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ مصیبت کے ٹالنے والے اور مشکل کو آسان کرنے والے وہ تھے، ان کے لیے شکرانے کے طور پر چڑھاوے اور نظریں اور نیازیں نکالتے ہیں اور لطف یہ کہ ہمارے دیے ہوئے رزق سے نکالتے ہیں۔

[17] یعنی صاف کہیں گے کہ نہ ہم نے ان سے کہا کہ ہماری عبادت کرو اور نہ ہمیں اس کی کبھی خبر ہوئی کہ یہ ہماری عبادت کرتے تھے۔

[18] یہی فرشتے دوسری مشرک قوموں میں دیوتا(gods)قرار دیے گئے تھے اور اہل عرب ان کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔

[19] جواب دینے سے مراد جواب میں پکارنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد جوابی کاروائی کرنا ہےجیسا کہ اس سے پہلے ہم اشارہ کر چکے ہیں۔

[20] ان معزز بندوں سے مراد فرشتے ہیں۔

[21] اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوارج دین بمعنی ملت سے نکل جائیں گے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب ان کے متعلق پوچھا گیا اکفارھم ؟کیا یہ لوگ کافر ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا من الکفر فروا، کفر ہی سے تو وہ بھاگے ہیں ۔ پھر پوچھا گیا افمنافقون ھم؟ ، کیا یہ منافق ہیں؟ آپ نے  فرمایا منافق تو خدا کو کم یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اسی پر یہ متعین ہوتا ہے کہ اس حدیث میں دین سے مراد اطاعت امام ہے۔ چنانچہ ابن اثیر نے نہایہ میں اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں :ارادَ بالدینِ الطاعَۃَ، ای انھم یخرجون من طاعَۃِالامامِ المُفتَرَضِ الطاعَۃِو ینسلخونَ منھا-(جلد۲،صفحہ ۱۴،۲۴)

[22] یعنی اللہ کے سوا جس کی اطاعت بھی ہو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اس کے مقرر کردہ حدود کے اندر ہو۔ بیٹے کا باپ کی اطاعت کرنا، بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا، غلام یا نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا اور اسی نوع کی دوسری تمام اطاعتیں اگر اللہ کے حکم کی بنا پر ہوں اور ان حدود کے اندر ہوں جو اللہ نے مقرر کر دی ہیں تو یہ عین اطاعت الٰہی ہیں۔ اور اگر وہ اس سے آزاد ہوں، یا بالفاظ دیگر بجائے خود مستقل اطاعتیں ہوں، تو یہی عین بغاوت ہیں۔ حکومت اگر اللہ کے قانون پر مبنی ہے اور اس کا حکم جاری کرتی ہے تو اس کی اطاعت فرض ہے اور اگر ایسی نہیں ہے تو اس کی اطاعت جرم۔

[23] “یعنی اللہ تعالیٰ نے جس ساخت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انسان کی تخلیق میں،اس کی رزق رسانی میں،اس کی ربوبیت میں خود اللہ کے سوا کوئی دوسرا شریک نہیں ہے نہ اللہ کے سواکوئی اس کا خدا ہے نہ مالک نہ مطاعِ حقیقی۔پس خالص فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی بس اللہ کا بندہ ہواورکسی کا بندہ نہ ہو”۔۔’’اللہ کے نوشتے میں تو اس وقت سے مہینوں کی تعداد۱۲ہی چلی آتی ہے،جب سے اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے۔ان بارہ مہینوں میں سے۴مہینے حرام ہیں،یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔”

[24] شریک سے مراد ہے خداوندی و فرماں روائی میں اور قانون بنانے میں خدا کا شریک ہونا۔

[25] دین کو مشتبہ بنانے سے مطلب یہ ہے کہ جھوٹے شریعت ساز اس گناہ کو ایسا خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں جس سے عرب کے لوگ اس شُبہ میں پڑ گئے ہیں کہ شاید یہ فعل بھی اس دین کا ایک جز ہے جو ان کو ابتداء حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام سے ملا تھا۔