FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

قرآن کا قانون :عروج و زوال

 

 

 

               مولانا ابو الکلام آزاد

 

 

 

 

 

 

فہرست

 

پیش لفظ.. 3

امت مسلمہ….. 5

حقیقت اسلام. 19

وحدت اجتماعیہ.. 36

مرکزیت قومیہ.. 48

جغرافیائی مرکزیت… 58

فکری وحدت  اور  فکری مرکزیت… 70

عروج و زوال کے فطری اصول. 85

عزم و استقامت…. 93

تجدید و تاسیس…. 109

کامیابی کی چار منزلیں… 122

 

 

پیش لفظ

 

مولانا ابوالکلام آزاد بلاشبہ ایک طاقت ور تجدیدی کر دار رکھتے تھے مگر بعض رکاوٹوں کی وجہ سے پوری طرح بروئے کار نہ آ سکا۔بعض سیاسی تعصبات نے، جو ممکن ہے کہ کوئی جواز بھی رکھتے ہوں، ہمیں ان سے مستفیدہونے سے روک رکھا ہے۔ ۔اس رویے نے ہماری قومی زندگی کو اتنا اتھلا  اور  تنگ بنا دیا ہے کہ وہ گہرائی  اور  پھیلاؤ مفقود ہو کر رہ گیا ہے جس کے بغیر کوئی قوم وہ اجتماعی ذہن  اور  ارادہ نہیں پیدا کر سکتی جواس کی آزادی  اور  بقا کے لیے لازماً درکار ہے۔ اگر ہم اس روایت سے انحراف نہیں کرنا چاہتے جس میں حقیقت دین  اور  اس کے مظاہر کو عمل میں ڈھال کراس کے تاریخی بقا کا واحد اصول اخذ کیا جاتا ہے، توہم بڑے سے بڑے اختلاف کے باوجود ابوالکلام سے بے نیازی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وہ اس روایت کے آخری بڑے نمائندے تھے۔ ان کے تصور دین میں عمل  اور  تاریخ کی بڑی اہمیت ہے جن کے ذریعے سے اسلام اپنا روحانی  اور  آفاقی کمال ظاہر کرتا ہے۔ مولانا کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ ان کا فہم دین قرآنی  اور  تصور تاریخ انسانی ہے۔ ۔۔یعنی ان کی فکر ما بعد الطبعی اسلوب  اور  عقلی مطلقیت کو قبول نہیں کرتی بلکہ محکمات، خواہ دینی ہوں یا فطری،کے درمیان وہ نسبتیں دریافت کرتی ہے جو عمل کا موضوع  اور  محرک بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا بڑا کام اس مسئلے سے متعلق ہے کہ قرآنی احکام  اور  تاریخی واقعیت میں وہ ہم آہنگی کس طرح بروئے کار لائی جائے جس کے ذریعے دین زمانے کی روکو اپنے قابو میں رکھتا ہے ؟جب وہ عمل پر زور دیتے ہیں تواس سے انکی مراد اطاعت الہیہ ہوتی ہے، جو در حقیقت احکام ہی کا ایک زندہ ظہور ہے، اسی طرح تاریخ ان کی نظر میں اطاعت کے کمال یا ضعف کا آئینہ ہے۔

ابوالکلام،بر صغیر کی حد تک غالباً پہلے آدمی تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی بنیادی ساخت کا قرآن کی روشنی میں تعین کیا، اور اس کی شکست و ریخت کے اسباب  اور  امکانات کی پوری قطعیت کے ساتھ نشان دہی کی، اور  پھر یہیں رکے نہیں بلکہ اپنے قول و عمل سے وہ راستے بھی دکھائے جن پر چل کر زوال کی راہ روکی جا سکتی ہے۔ اس کام کے لیے جس آفاقی انداز نظر،تاریخی بصیرت،قوت عمل  اور  بلندی کر دار کی ضرورت تھی،وہ ان سب سے بہرہ ور تھے۔ روایتی علماء ہوں یا جدید دانشور،مولاناسب کی رہنمائی کر سکتے تھے۔ یہ جامعیت جس نے انہیں اپنے زمانے کے مفسروں، محدثوں، فقہا،متکلمین  اور  علمائے لغت کے ساتھ ساتھ فلسفہ،تاریخ سیاست،شعر و ادب،صحافت وغیرہ کے ماہرین کا معتقد بنا رکھا تھا،سچ پوچھیں تو صدیوں میں کسی ایک شخص کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت میں دینداری  اور  اتباع سنت کا پہلو کچھ  اور  مضبوط ہوتا تو وہ ائمہ امت میں شمار ہوتے۔

“قرآن کا قانون عروج و زوال”مولانا کے ان مضامین کا ایک موضوعاتی مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً “الہلال”میں چھپتے رہے تھے۔ ان مضامین سے جو مجموعی خاکہ مرتب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ہونا،انفرادی  اور  اجتماعی سطح پرجن ذمہ داریوں کو قبول کرنے کا نام ہے، ان سے عہدہ برآ ہونے کی مؤثر صورتیں کیا ہیں ؟اسلام،مسلمان  اور  تاریخ اس کتاب میں یہ مثلث تشکیل دی گئی ہے  اور  اس کے ہر زاویے کو قرآنی رخ پر مکمل کیا گیا ہے۔ مثلاً:”حقیقت اسلام”میں تعلق باللہ  اور  کمال بندگی کے اصول و مظاہر بتائے گئے ہیں  اور  جہاد و قربانی پر ایک وسیع تر تناظر میں گفتگو کی گئی ہے۔ “امت مسلمہ’تاسیس  اور  نشاۃ ثانیہ”دین ابراہیمی کی تاسیس و تکمیل ایک مکمل تصویر ہے جس کا مرکز کعبۃ اللہ ہے۔ حقیقت حج پر بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر مولانا کی یہ تحریر کئی لحاظ سے منفرد  اور  ممتاز ہے۔ اس سے حج کا جامع العبادات  اور  اصول جمیعت ہونا پوری طرح منکشف ہو جاتا ہے  اور  اس کے علاوہ اسلامی تصور قومیت میں حج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہ بھی۔

 

 

امت مسلمہ

تاسیس  اور  نشاۃ ثانیہ

اہل عرب نے اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مجموعہ تعلیم و ہدایت کو بالکل بھلا دیا تھا،لیکن انہوں نے خانہ کعبہ کے کنگرے  پر چڑھ کر تمام دنیا کو جو دعوت عام دی تھی،اس کی صدائے بازگشت اب تک عرب کے درودیوارسے آ رہی تھی۔

واذبوانالابرھیم مکان البیت ان لاتشرک بی شیاوطھربیتی للطائفین والقائمین والرکع السجود۔واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالاوعلی کل ضامریاتین من کل فج عمیق۔(22:26،27)

اور  جب ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ایک معبد قرار دیا  اور  حکم دیا کہ ہماری جبروت میں  اور  کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا  اور  اس گھر کو طواف کرنے والوں  اور  رکوع وسجود کرنے والوں کرنے والوں کے لیے ہمیشہ پاک ومقدس رکھنا،نیز ہم نے حکم دیا کہ دنیا میں حج کی پکار بلند کرو،لوگ تمہاری طرف دوڑتے چلے آئیں گے۔ ان میں پیادہ بھی ہوں گے  اور  وہ بھی جنہوں نے مختلف قسم کی سواریوں پر دور دراز مقامات سے قطع مسافت کی ہو گی۔

لیکن سچ کے ساتھ جب جھوٹ مل جاتا ہے تو وہ  اور  بھی خطرناک ہو جاتا ہے اہل عرب نے اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت قدیمہ کو اب تک زندہ رکھا ہے، لیکن بدعات و اختراعات کی آمیزش نے اصل حقیقت کو بالکل گم کر دیا تھا۔خدا نے اپنے گھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیام کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ کسی کو خدا کا شریک نہ بنانا۔

لاتشرک بی شیا(26:22)

لیکن اب خدا کا گھر تین سوساٹھ بتوں کا مرکز بن گیا تھا  اور  ان کا طواف کیا جاتا تھا۔

خدا نے حج کا مقصد یہ قرار دیا  تھا کہ دنیوی فوائد کے ساتھ خدا کا ذکر قائم کیا جائے لیکن اب صرف آباء و اجداد کے کارنامے، فخر و غرور کے ترانے گائے جاتے تھے۔

حج کا ایک مقصد تمام انسانوں میں مساوات قائم کرنا تھا،اسی لیے تمام عرب بلکہ تمام دنیاکواس کی دعوت دی گئی  اور  سب کو وضع ولباس میں متحد کر دیا گیا۔

لیکن قریش کے غرور فضیلت نے اپنے لیے بعض خاص امتیازات قائم کر لئے تھے جو اصول مساوات کے بالکل منافی تھے۔ مثلاً تمام عرب عرفات کے میدان میں قیام کرتے تھے۔ لیکن قریش مزدلفہ سے باہر نہیں نکلتے تھے  اور  کہتے تھے کہ ہم متولیان حرم،حرم کے باہر نہیں جا سکتے، جس طرح آج کل کے امراء فسق  اور  والیان ریاست عام مسلمانوں کے ساتھ مسجدمیں آ کر بیٹھنے  اور  دوش بدوش کھڑے ہونے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ قریش کے سواعرب کے تمام مرد و زن برہنہ طواف کرتے تھے۔ سترعورت کے ساتھ صرف وہی لوگ طواف کر سکتے جن کو قریش کی طرف سے کپڑا ملتا  اور  قریش نے اس کو بھی اپنی اظہارسیادت کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا۔

عمرہ گویا حج کا ایک مقدمہ یا تکملہ تھا لیکن اہل عرب ایام حج میں عمرہ کوسخت گناہ سمجھتے تھے  اور  کہتے تھے کہ جب حاجیوں کی سواریوں کے پشت کے زخم اچھے ہو جائیں  اور  صفر کا مہینہ گذر جائے تب عمرہ جائزہوسکتا ہے۔  حج کے تمام ارکان و اجزاء میں یہودیانہ رہبانیت کا عالم گیر مرض جاری وساری ہو گیا تھا۔

اپنے گھرسے پاپیادہ حج کرنے کی منت ماننا،جب تک حج ادانہ ہو جائے، خاموش رہنا،قربانی کے اونٹوں پرکسی حالت میں سوارنہ ہونا،ناک میں نکیل ڈال کر جانوروں کی طرح خانہ کعبہ کا طواف کرنا،زمانہ حج میں گھرکے اندر دروازے کی راہ سے نہ گھسنا،بلکہ پچھواڑے کی طرف سے دیوار پھاند کر آنا،در و دیوار پر قربانی کے جانوروں کے خون کا چھاپہ لگانا عرب کا عام شعار ہو گیا تھا۔

اسلام کا ظہور درحقیقت دین ابراہیم کی حقیقت کی تکمیل تھی۔اس لیے وہ ابتدا ہی سے اس حقیقت گم شدہ کی تجدید و احیاء میں مصروف ہو گیاجس کا قالب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں نے تیار کیا تھا۔اسلام کا مجموعہ عقائد و عبادات صرف توحید،نماز،روزہ،زکوٰۃ، اور  حج سے مرکب ہے۔ لیکن ان تمام ارکان میں حج ہی ایک ایسارکن ہے جس سے ان تمام مجموعہ کی ہئیت ترکیبی مکمل ہوتی ہے  اور  یہ تمام ارکان اس کے اندر جمع ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسلام کو صرف خانہ کعبہ ہی کے ساتھ معلق کر دیا۔

انما امرث ان اعبدرب ھذہ البلدۃ الذی حرمھاولہ کل شیئی وامرت ان اکون من المسلمین۔(91:27)

مجھ کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر(مکہ)کے خدا کی عبادت کروں جس نے اس کو عزت دی۔سب کچھ اسی خدا کا ہے  اور  مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اسی کافرمانبردارمسلم بنوں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے ہر موقع پر حج کے ساتھ اسلام کا ذکر بطور لازم و ملزوم کے کیا ہے :

ولکل امۃ جعلنامسکالیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام فالھکم الہ واحدفلہ اسلمووبشرالمخبتین۔(34:22)

اور  ہر ایک امت کے لیے ہم نے قربانی قرار دی تھی تاکہ خدا نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں، ان کی قربانی کے وقت خدا کا نام لیں۔ پس تم سب کا خدا ایک ہے۔ اس کے لیے تم سب فرمانبردار بن جاؤ  اور  خدا کے خاکساربندوں کو حج کے ذریعے دین حق کی بشارت دو۔

اسلام خدا  اور  بندے کا ایک فطری معاہدہ تھاجس کوانسان کی ظالمانہ عہد شکنی نے بالکل چاک چاک کر دیا تھا اس لیے خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نا خلف اولاد کو روز اول ہی سے اس کے ثمرات سے محروم کر دیا۔

واذ ابتلی ابرھیم ربہ بکلمت فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماقال ومن ذریتی قال لاینال عھدی الظلمین۔(124:2)

جب خدا نے چند احکام کے ذریعے ابراہیم علیہ السلام کو آزمایا  اور  خدا کے امتحان میں پورے پورے اترے تو خدا نے کہا اب میں تمہیں دنیا کی امامت عطا کرتا ہوں۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا،کیا میری اولاد کو بھی؟ارشاد ہوا کہ ہاں مگراس قول و قرار میں ظالم لوگ داخل نہیں ہوسکتے۔

خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن کلمات کے ذریعے آزمایا  اور  جن کی بنا پر انہیں دنیا کی امامت عطا ہوئی،وہ اسلام کے اجزاء اولین توحید الٰہی،قربانی نفس و جذبات،صلوات الٰہی کا قیام  اور  معرفت دین فطری کے امتحانات تھے۔ اگرچہ ان کی اولاد میں سے چند نا خلف لوگوں نے ان ارکان کو چھوڑ کر اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور اس موروثی عہد سے محروم ہو گئے۔

قال لاینال عھدی الظلمین۔124:2

لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات کے اندر ایک دوسری امت بھی چھپی ہوئی تھی جس کے لیے خود انہوں نے خدا سے دعا کی تھی۔

ان ابراھیم کان امۃ قانتا(120:16)

حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام گو بظاہر ایک فرد واحد تھے۔ مگر ان کی فعالیت روحانیہ و الہیہ کے اندر ایک پوری قوم قانت ومسلم پوشیدہ تھی۔

اب اس امت مسلمہ کے ظہور کا وقت آ گیا  اور  وہ رسول موعود غار حرا کے تاریک گوشوں سے نکل کر منظر عام پر نمودار ہوا۔تاکہ اس نے خوداس اندھیرے میں جو روشنی دیکھی ہے، وہ روشنی تمام دنیا کو بھی دکھلا دے۔

یخرجھم من الظلمت الی النور(257:2)

قدجاءکم من اللہ نوروکتب مبین(15:5)

وہ پیغمبر ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور ہدایت  اور  ایک کھلی ہدایتیں دینے والی کتاب آئی۔

وہ منظر عام پرآیاتوسب سے پہلے اپنے باپ کے موروثی گھر کو ظالموں کے ہاتھ سے واپس لینا چاہا۔لیکن اس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرح بتدریج چند روحانی مراحل سے گذرنا ضروری تھا۔چنانچہ اس نے ان مرحلوں سے بتدریج گذرنا شروع کیا۔اس نے غارحراسے نکلنے کے ساتھ ہی توحید کا غلغلہ بلند کیا کہ خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو عہد لیا تھا اس کی پہلی شرط یہی تھی۔ان لاتشرک بی شیئا(26:22)پھراس نے صف نماز قائم کی کہ یہ صرف خدا ہی کے آگے سرجھکانے والوں کے لیے بنایا گیا تھا للطائفین والقائمین والرکع السجود(26:22)اس نے روزے کی تعلیم دی کہ وہ شرائط حج کا جامع و مکمل تھا۔

فمن فرض فیھن الحج فلارفث ولافسوق ولاجدال فی الحج(197:2)

جس شخص نے ان مہینوں میں حج کا عزم کر لیاتواس کوہرقسم کی نفس پرستی،بد کاری،جھگڑے  اور  تکرارسے اجتناب کرنا لازمی ہے۔

اور  روزہ کی حقیقت یہی ہے کہ وہ انسان کو غیبت،بہتان،فسق و فجور،مخاصمت،تنازعت  اور  نفس پرستی سے روکتا ہے۔جیساکہ احکام صیام میں فرمایا۔

ثم اتموالصیام الی الیل ولاتباشروھن وانتم عکفون فی المسجد(187:2)

پھر رات تک روزہ پورا کرو  اور  روزہ کی حالت میں عورتوں کے نزدیک نہ جاؤ اور اگرمساجدمیں اعتکاف کرو تو شب کو بھی ان سے الگ رہو۔

اس نے زکوٰۃ بھی فرض کر دی۔وہ بھی حج کا ایک اہم مقصد تھا۔

فکلوامنھاواطعموا البائس الفقیر۔(28:22)

قربانی کا گوشت خود بھی کھاؤ  اور  فقیروں  اور  محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔

اس طرح جب امت مسلمہ کا روحانی خاکہ تیار ہو گیاتواس نے اپنی طرح ان کو بھی منظر عام پر نمایاں کرنا چاہا،اس غرض سے اس نے عمرہ کی تیاری کی  اور  چودہ پندرہ سوکی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوا کہ پہلی بار اپنے آبائی گھرکوحسرت آلود نگاہوں سے دیکھ کر چلے آئیں۔

لیکن یہ کاروان ہدایت راستے میں بمقام حدیبیہ پر روک دیا گیا۔دوسرے سال حسب شرائط صلح زیارت کعبہ کی اجازت ملی  اور  آپ مکہ میں قیام کر کے چلے آئے۔ اب اس مصالحت نے راستے کے تمام نشیب و فراز ہموار کر دیے تھے۔ صرف خانہ کعبہ میں پتھروں کا ایک ڈھیر رہ گیا تھا۔اسے بھی فتح مکہ نے صاف کر دیا۔

دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ وحول الکعبۃ ثلاث مائۃ وستون نصبافجعل یطعنھابعودفی یدہ وجعل یقول جاء الحق وزھق الباطل۔ جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ (81:17)

آں حضرت فتح مکہ کے بعد جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تواس کے گرد تین سوساٹھ بت نظر آئے۔ آپ ان کو ایک لکڑی کے ذریعے ٹھکراتے جاتے تھے  اور  یہ آیت پڑھتے جاتے تھے۔

یعنی حق اپنے مرکز پر آ گیا  اور  باطل نے اس کے سامنے ٹھوکر کھائی۔باطل پامال ہونے ہی کے قابل تھا۔اب میدان صاف تھا۔راستے میں ایک کنکری بھی سنگ راہ نہیں ہوسکتی تھی۔باپ نے گھرکوجس حال میں چھوڑا تھا،بیٹے نے اسی حالت میں اس پر قبضہ کر لیا۔تمام عرب نے فتح مکہ کواسلام و کفر کا معیار صداقت قرار دیا۔جب مکہ فتح ہوا تو لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ وقت آ گیا تھا کہ دنیاکواس جدیدہ النشاۃ امت مسلمہ کے قالب روحانی کا منظر عام طور پر دکھایا جاتا۔اس لیے دوبارہ اسی دعوت نامہ کا اعادہ کیا گیاجس کے ذریعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تمام عالم میں ایک غلغلہ عام ڈال دیا تھا۔مگراس قوت کا تعلق میں آنا ظہور ہی پر موقوف تھا۔

وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا(97:3)

جو لوگ مالی  اور  جسمانی حالت کے لحاظ سے حج کی استطاعت رکھتے ہیں ان پر اب حج فرض کر دیا گیا۔اس صدا پر تمام عرب نے لبیک کہا  اور  آپ کے گرد تیرہ چودہ ہزار آدمی جمع ہو گئے، عربوں نے ارکان حج میں جو بدعات  اور  اختراعات پیدا کر رکھی تھیں، ان کو ایک ایک کر چھڑا دیا گیا۔

فاذکروا اللہ کذکرکم اباء کم اواشدذکرا(200:2)

زمانہ حج میں خدا کواسی جوش و خروش سے یاد کروجس طرح اپنے آباء و اجداد کے کارناموں کا اعادہ کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ سرگرمی کے ساتھ۔قریش کے تمام امتیازات مٹا دیے گئے  اور  تمام عرب کے ساتھ ان کو بھی عرفہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر دیا گیا۔

ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا اللہ ان اللہ غفوررحیم(199:2)

اور جس جگہ سے تمام لوگ روانہ ہوں، تم بھی وہیں سے روانہ ہوا کرو  اور  فخر و غرور کی جگہ خداسے مغفرت مانگو کیوں کہ خدا بڑا بخشنے والا  اور  رحم کرنے والا ہے۔

سب سے بدترین رسم برہنہ طواف کرنے کی تھی  اور  مردوں سے زیادہ حیاسوزنظارہ برہنہ عورتوں کے طواف کا ہوتا تھا لیکن ایک سال پہلے ہی اس کی عام ممانعت کرا دی گئی۔

انا اباھریرۃ اخبرہ ان ابابکرالصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعثہ فی الحجۃ التی امرہ علیھارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قبل حجۃ الوداع یوم النحرفی رھط یؤذن فی  الناس الا لا یحج بعدالعام مشرک ولایطوف بالبیت عریان۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حجۃ الوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرہ ہی کا احرام باندھا  اور  صحابہ کو بھی عمرہ کرنے کا حکم دیا۔پاپیادہ  اور  خاموش حج کرنے کی کی ممانعت کی گئی۔قربانی کے جانوروں پرسوارہونے کا حکم دیا گیا۔ناک میں رسی ڈال کر طواف کرنے سے روکا گیا  اور  گھر میں دروازے سے داخل ہونے کا حکم ہوا۔

ولیس البربان تاتوا البیوت من ظھورا ھاولکن البرمن اتقی واتوا البیوت من ابوابھا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون(189:2)

یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ گھروں میں پچھواڑے سے آؤ۔نیکی تو صرف اس کی ہے جس نے پرہیزگاری اختیار کی۔پس گھروں میں دروازے ہی کی راہ سے آؤ اور خداسے ڈرو۔یقین ہے کہ تم کامیاب ہو گے۔

قربانی کی حقیقت واضح کر دی گئی  اور  بتایا گیا کہ وہ صرف ایثارنفس و فدویت جان و روح کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ اس کا گوشت یا خون خدا تک نہیں پہنچتا کہ اس کے چھاپہ سے دیواروں کو رنگین کیا جائے۔ خدا تو صرف خالص نیتوں  اور  پاک وصاف دلوں کو دیکھتا ہے۔

لن ینال اللہ لحومھا ولادماء ھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم(37:22)

خدا تک قربانی کے جانوروں کا گوشت و خون نہیں پہنچتا بلکہ اس تک صرف تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔

یہ چھلکے اترگئے توخالص مغزباقی رہ گیا۔اب وادی مکہ میں خلوص کے دوقدیم وجدیدمنظرنمایاں ہو گئے۔ ایک طرف آب زمزم کی شفاف سطح لہریں لے رہی تھی دوسری طرف ایک جدیدالنشاۃ قوم کادریائے وحدت موجیں ماررہا تھا۔

لیکن دنیا اب تک اس اجتماع کی حقیقت سے بے خبرتھی۔اسلام کی 23سالہ زندگی کامدوجزرتمام عرب دیکھ چکا تھا۔مگرکوئی نہیں جانتا تھاکہ اسلام کی تاریخی زندگی کن نتائج پرمشتمل تھی  اور  مسلمانوں کی جدوجہد۔فدویت وایثارنفس وروح کامقصداعظم کیا تھا۔اب اس کی توضیح کاوقت آ گیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھرکاسنگ بنیادرکھاتویہ دعاپڑھی تھی۔

واذ قال ابراھیم رب اجعل ھذا بلدا امناوارزق اھلہ من الثمرات من امن منھم باللہ والیوم الآخر(126:2)

جب ابراہیم علیہ السلام نے کہاخداوند!اس شہرکوامن کاشہربنا  اور  اس کے باشندے اگرخدا  اور  روزقیامت پرایمان لائیں توان کوہرقسم کے ثمرات وانعام عطافرما۔جس وقت انہوں نے یہ دعاکی تھی تمام دنیافتنہ وفساد کاگہوارہ بن رہی تھی دنیاکا امن وامان اٹھ گیا تھا۔اطمینان وسکون کی نیندآنکھوں سے اڑگئی تھی۔دنیاکی عزت وآبرومعرض خطرمیں تھی۔جان ومال کاتحفظ ناممکن ہو گیا تھا۔کمزور اور ضعیف لوگوں کے حقوق پامال کر دیے گئے تھے۔ عدالت کاگھرویران،حرمت انسانیت مفقود اور نیکی کی مظلومیت انتہائی حدتک پہنچ چکی تھی۔کرہ ارض کاکوئی حصہ ایسانہ تھاجوظلم وکفرکی تاریکی سے ظلمت کدہ نہ ہو۔

اس لیے انہوں نے آبادودنیاکے ناپاک حصوں سے کنارہ کش ہو کرایک وادی غیرذی زرع میں سکونت اختیارکی۔وہاں ایک دارالامن بنایا  اور  تمام دنیاکوصلح وسلام کی دعوت دی۔اب ان کی صالح اولادسے یہ دارالامن،چھین لیا گیا تھا اس لیے اس کی واپسی کے لیے پورے دس سال تک اس کے فرزندنے بھی باپ کی طرح میدان میں ڈیرہ ڈال دیا۔فتح مکہ نے جب اس کا امن وملجاواپس دلایا،تو وہ اس میں داخل ہواکہ باپ کی طرح تمام دنیاکوگم شدہ حق کی واپسی کی بشارت دے۔ چنانچہ وہ اونٹ پرسوارہو کرنکلا  اور  تمام دنیاکومثردہ امن وعدالت سنایا۔

ان دمالکم واموالکم علیکم حرام کحرمۃ یوکم ھذا فی شھر کم ھذا فی بلد کم ھذا الا ان کل شئی من امرا الجاھلیۃ تحت قدمی موضوع واول امراضعہ دماء فاول دم ابن ربیعۃ وربا الجاھلیۃ موضوع واول ربا اضع رباعباس بن عبدالمطلب اللھم اشھداللھم اشھداللھم اشھد

جس طرح تم آج کے دن کی،اس مہینہ کی،اس شہرمقدس کی حرمت کرتے ہو،اسی طرح تمہاراخون  اور  تمام مال بھی تم پرحرام ہے۔ اچھی طرح سن لوکہ جاہلیت کی تمام بری رسموں کوآج میں اپنے دونوں قدموں سے کچل ڈالتاہوں۔ بالخصوص زمانہ جاہلیت کے انتقام  اور  خون بہالینے کی رسم توبالکل مٹادی جاتی ہے۔ میں سب سے پہلے اپنے بھائی ربیعہ کے انتقام سے دست بردارہوتاہوں۔ جاہلیت کی سودخواری کاطریقہ بھی مٹادیا جاتا ہے  اور  سب سے پہلے میں اپنے چچاعباس ابن عبدالمطلب کے سود کوچھوڑتاہوں۔ خدایاتوگواہ رہیو۔خدایاتوگواہ رہیو۔خدایاتوگواہ رہیو!!!کہ میں نے تیراپیغام بندوں تک پہنچادیا۔

اب حق پھراپنے اصل مرکزپرآ گیا  اور  باپ نے دنیاکی ہدایت وارشاد کے لیے جس نقطہ سے پہلاقدم اٹھایا تھا،بیٹے کے روحانی سفرکی وہ آخری منزل ہوئی  اور  اس نقطہ پرپہنچ کراسلام کی تکمیل ہو گئی۔اس لیے کہ اس نے تمام دنیاکومثردہ امن سنایا تھا۔آسمانی فرشتہ نے بھی اس کواپنے کامیاب مقصد کی سب سے آخری بشارت دیدی۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ووضیت لکم الاسلام دینا(3:5)

آج کے دن میں نے تمہارے دین کوبالکل مکمل کر دیا  اور  تم پراپنے احسانات پورے کر دیے  اور  میں نے اسلام کوبطورایک برگزیدہ دین منتخب کیا۔

لیکن ان تمام چیزوں سے مقدم  اور  ان تمام ترقیوں کاسنگ بنیادایک خاص امت مسلمہ  اور  حزب اللہ کاپیدا کرنا  اور  اس کا استحکام ونشوونما تھا۔

حضرت ابراہیم واسماعیل علیھما السلام نے حج کامقصداولین اسی کو قراردیا تھا۔

ربناواجعلنامسلمین لک ومن ذریتنآامۃ مسلمۃ لک وارنامناسکناوتب علینا انک انت التواب الرحیم۔(128:2)

خدایاہم کواپنافرمانبرداربنا  اور  ہماری اولادمیں سے اپنی ایک امت مسلمہ پیدا کر اور اگرہم سے ان کی فرمابرداری میں لغزش ہوتواس کومعاف فرما۔توبڑامہربان  اور  معاف کرنے والا ہے۔

لیکن جس قالب میں قومیت کاڈھانچہ تیارہوتا ہے۔ اس میں دوقوتیں نہایت شدت  اور  وسعت کے ساتھ عمل کرتی ہیں۔ آب وہوا  اور  مذہب۔ آب وہوا  اور  جغرافیہ یعنی حدودطبعیہ اگرچہ قومیت کے تمام اجزاء کونہایت وسعت کے ساتھ احاطہ کر لیتے ہیں، لیکن ان کے حلقہ اثرمیں کوئی دوسری قوم نہیں داخل ہوسکتی۔یورپ  اور  ہندوستان کی قدیم قومیت نے صرف ایک محدودحصہ تک دنیامیں نشوونماپائی ہے  اور  آب وہواکے اثرنے ان کودنیاکی تمام قوموں سے بالکل الگ تھلگ کر دیا ہے۔ لیکن مذہب کاحلقہ اثرنہایت وسیع ہوتا ہے  اور  وہ ایک محدودقطعہ زمین میں اپناعمل نہیں کرتابلکہ دنیاکے ہرحصے کواپنی آغوش میں جگہ دیتا ہے۔ کرہ آب وہواکاطوفان خیزتصادم اپنے ساحل پرکسی غیر   قوم کوآنے نہیں دیتا۔مگرمذہب کا ابرکرم اپنے سایے میں تمام دنیاکولے لیتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام جس عظیم الشان قوم کاخاکہ تیارکر رہے تھے اس کامایہءخمیرصرف مذہب تھا  اور  اس کی روحانی ترکیب عنصرآب وہواکی آمیزش سے بالکل بے نیازتھی۔جماعت قائم ہو کراگرچہ ایک محسوس مادی شکل میں نظرآتی ہے لیکن درحقیقت اس کانظام ترکیبی بالکل روحانی طریقہ پرمرتب ہوتا ہے جس کوصرف جذبات  اور  خیالات بلکہ عام معنوں میں صرف قوائے دماغیہ کا اتحادواشتراک ترتیب دیتا ہے۔ اس بناپراس قوم کے پیداہونے سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مذہبی رابطہ اتحاد کے رشتہ کومستحکم کیا۔

اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین۔(131:2)

جب کہ ابراہیم علیہ السلام سے اس کے خدانے کہاکہ صرف ہماری ہی فرمانبرداری کروتوانہوں نے جواب دیاکہ میں مسلم ہواپروردگارعالم کے لیے۔

ووصی بھا ابرھم بنیہ ویعقوب یبنی ان اللہ اصطفے لکم الدین فلاتموتن الاوانتم مسلمون۔(132:2)

اور پھراسی طریقہ اسلامی کوانہوں نے  اور  یعقوب علیہ السلام نے اپنی نسل کووصیت کی  اور  کہاخدانے تمہارے لیے ایک نہایت برگزیدہ دین منتخب کر دیا ہے تم اس پرعمربھرقائم رہنا  اور  مرناتومسلمان مرنا۔

لیکن جماعت عموما اپنے مجموعہ عقائد کومجسم طورپردنیاکی فضائے بسیط میں دیکھناچاہتی ہے  اور  اس کے ذریعے اپنی قومیت کے قدیم عہدمودت کوتازہ کرتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اس جدیدالنشاۃ قومیت کے ظہوروتکمیل کے لیے ایک نہایت مقدس  اور  وسیع آشیانہ تیارکیا۔

واذیرفع ابرھم القواعدمن البیت واسمعیل ربناتقبل منا انک انت السمیع العلیم(127:2)

جب ابراہیم واسماعیل علیھما السلام خانہ کعبہ کی بنیادڈال رہے تھے تویہ دعا ان کی زبانوں پرتھی۔خدایاہماری اس خدمت کوقبول کر۔تودعاؤں کاسننے والا  اور  نیتوں کاجاننے والا ہے۔

یہ صرف اینٹ پتھرکاگھرنہ تھابلکہ ایک روحانی جماعت کے قالب کا آب وگل تھا اس لیے جب وہ تیارہو گیاتوانہوں نے اس جماعت کے پیداہونے کی دعاکی۔

ربناواجعلنامسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک(128:2)

اب یہ قوم پیداہو گئی  اور  حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آخری وصیت کے ذریعے اس روحانی سررشتہ حیات کواس کے حوالہ کر دیا۔

ووصی بھا ابرھم بنیہ ویعقوب یبنی ان اللہ اصطفے لکم الدین فلاتموتن الاوانتم مسلمون(132:2)

اور ابراہیم  اور  یعقوب علیھما السلام دونوں نے اس کے روحانی طریقہ پرنشوونماکی  اور  اپنے اپنے بیٹوں کووصیت کی کہ خدانے تمہارے لیے ایک برگزیدہ دین منتخب فرمادیا ہے تم اس پرقائم رہنا۔

واذحضریعقوب الموت اذقال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالونعبدالھک والہ ابآئک ابرھیم واسمعیل واسحق الھاواحداونحن لہ مسلمون(133:2)

اور پھرکیاتم اس وقت موجودتھے جب یعقوب کے سرپرموت آکھڑی ہوئی  اور  اس آخری وقت میں انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھامیرے بعد کس چیزکی پوجا کروگے۔ انہوں نے جواب دیاکہ ہم تیرے  اور  تیرے مقدس باپ ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام واسحاق علیہ السلام کے خدائے واحد کی عبادت کریں گے  اور  ہم اسی کے فرمانبرداربندے ہیں۔

اب اگرچہ یہ جماعت دنیامیں موجودنہ تھی  اور  اس کے آثارصالحہ کوزمانے نے بے اثرکر دیا تھا۔

تلک امۃ قدخلت لھاماکسبت ولکم ماکسبتم(134:2)

وہ قوم گذرگئی۔اس نے جوکام کئے اس کے نتائج اس کے لیے تھے  اور  تم جوکچھ کروگے اس کے نتائج تمہارے لیے ہوں گے لیکن اس کی ترتیب ونشوونماکاعہدقدیم اب تک دستبردزمانہ سے بچاہوا تھا  اور  اپنے آغوش میں مقدس یادگاروں کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتا تھا۔اس کے اندراب تک آب زمزم لہریں لے رہا تھا۔صفاومروہ کی چوٹی کی گردنیں اب تک بلندتھیں۔ مذبح اسماعیل علیہ السلام اب تک مذہب کے خون سے رنگین تھا۔حجراسوداب تک بوسہ گاہ خلق تھا۔مشاعرابراہیم علیہ السلام اب تک قائم تھے۔ عرفات کے حدودمیں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔غرضیکہ اس کے اندرخدا کے سواسب کچھ تھا  اور  صرف اس کے جمال جہاں آراکی کمی تھی۔اس لیے کی تجدیدالنفخ روح کے لیے، ایک مدت کے بعدحضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکاسب سے آخری نتیجہ ظاہرہوا۔انہوں نے کعبۃ اللہ کی بنیادرکھتے ہوئے دعاکی تھی۔

ربناوابعث فیھم رسولامنھم یتلوا علیھم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیزالحکیم(129:2)

خدایا ان کے درمیان انہی لوگوں میں سے ایک پیغمبربھیج کہ وہ ان کوتیری آئتیں پڑھ کرسنائے  اور  کتاب  اور  حکمت کی تعلیم دے  اور  ان کے نفوس کاتزکیہ کر دے۔ توبڑاصاحب اختیاروحکمت ہے۔

چنانچہ اس کاظہوروجودمقدس سے حضرت رحمۃ للعالمین وختم المرسلین علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں ہوا جو ٹھیک ٹھیک اس دعاکاپیکرومثل تھا۔

ھوالذی بعث فی الامین رسولامنھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ(2:62)

وہ خداجس نے ایک غیرمتمدن قوم میں سے اپنا ایک رسول پیداکیاجواللہ کی آیات اس کوسناتا ہے۔ اس کے نفوس کاتزکیہ کرتا ہے  اور  کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

پس انہوں نے جوقوم پیدا کر دی تھی اسی کے اندرسے ایک پیغمبراٹھا۔اس نے اس گھرمیں سب سے پہلے خدا کوڈھونڈناشروع کیالیکن وہ انیٹ پتھرکے ڈھیرمیں بالکل چھپ گیا تھا۔فتح مکہ نے اس انبارکوہٹاکودیاتوخدا کے نورسے قندیل حرم پھرروشن ہو گئی۔

وہ قوم جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔اس پیغمبر کے فیض صحبت سے بالکل مزکی و تربیت یافتہ ہو گئی تھی۔اب ایک مرکز پر جمع کر کے اس کے مذہبی جذبات کو صرف جلا دینا باقی  تھا۔چنانچہ اسے خانہ کعبہ کے اندر لا کر کھڑا کر دیا گیا  اور  اس کی مقدس قدیم مذہبی یادگاروں کی تجدید و احیاء سے اس کے مذہبی جذبات کو بالکل پختہ ومستحکم کر دیا۔ان الصفاوالمروۃ من شعائراللہ فمن حج البیت اواعتمرفلاجناح علیہ ان یطوف بھما(158:2)

صفا و مروہ خدا کی قائم کی ہوئی یادگاریں ہیں۔ جو لوگ حج یا عمرہ کرتے رہیں، ان پران دونوں کا طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

کبھی ان کو مشعر حرام کی یاد دلائی گئی۔

فاذا افضتم من عرفت فاذکروا اللہ عندالمشعرالحرام(198:2)

جب عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام(مزدلفہ)کے نزدیک خدا کی یاد کرو۔

خانہ کعبہ جو دنیا کی سب سے قدیم یادگار تھی لیکن اس کی ایک ایک یادگار کو نمایاں تر کیا گیا۔

فیہ ایت بیت مقام ابرھیم(97:3)

اس میں بہت سی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ منجملہ ان کے ایک نشانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔

لیکن جو لوگ خدا کی راہ میں ثابت قدم رہے ان کے نقش پاسجدہ گاہ خلق ہونے کے مستحق تھے۔ اس لیے حکم دیا گیا۔

واتخذومن مقام ابراھیم مصلی(185:2)

اور  ابراہیم علیہ  السلام کے کھڑے ہونے کی جگہ کو اپنا مصلی بنا لو۔

مادی یادگاروں کی زیارت صرف سیروتفریح کے لیے کی جاتی ہے۔ لیکن روحانی یادگاروں سے صرف دل کی آنکھیں ہی بصیرت حاصل کر سکتی ہیں۔ اس لیے ان کے ادب و احترام کو اتقاء کی دلیل قرار دیا گیا۔

ومن یعظم شعائراللہ فانھامن تقویٰ القلوب(32:22)

اور  جو لوگ خدا کی قائم کی ہوئی یادگاروں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ ان کے دلوں کی پرہیزگاری پر دلالت کرتی ہے۔

ومن یعظم حرمت اللہ فھوخیرلہ عندربہ(30:22)

اور  جو شخص خدا کی قرار دی ہوئی قابل ادب چیزوں کا احترام کرتا ہے تو خدا کے نزدیک اس کا نتیجہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان مقدس یادگاروں کے روحانی اثر و نفوذ کو دلوں مین جذب کرا دینا چاہتے تھے۔ اس لیے خاص طور پر لوگوں کو ان کی طرف متوجہ فرماتے رہتے تھے۔

ھذہ مشاعرابیکم ابراہیم

خوب غورسے دیکھو  اور  بصیرت حاصل کروکیوں کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگاریں ہیں۔

جب اسلام نے اس جدید النشاۃ قوم کے وجود کی تکمیل کر دی  اور  خانہ کعبہ کی ان مقدس یادگاروں کی روحانیت نے اس کی قومیت کے شیرازہ کومستحکم کر دیا تو پھر ملت ابراہیمی کی فراموش کر دہ روشنی دکھا دی گئی۔

فاتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفاوماکان من المشرکین(95:3)

پس ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ کی پیروی کرو جو صرف ایک خدا کے ہو رہے تھے۔

اب تمام عرب نے ایک خط مستقیم کو اپنا مرکز بنا لیا  اور  قدیم خطوط منحنیہ حرف غلط کی طرح مٹا دیے گئے۔ جب یہ سب کچھ ہوچکاتواس کے بعد خدائے ابراہیم واسماعیل علیھما السلام کاسب سے بڑا احسان پورا پورا ہو گیا۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا(3:5)

آج میں نے تمہارے اس دین کو کامل کر دیاجس نے تم کو قومیت کے رشتے میں منسلک کر دیا ہے  اور  اپنے تمام احسانات تم پر پورے کر دیے  اور  تمہارے لیے صرف ایک دین اسلام ہی منتخب کیا۔

 

حواشی

 

البخاری شریف،کتاب المظالم والقصاص باب ھل نکسرالدنان التی فیھا الخمر2478 کتاب التفسیرباب قولہ وقل جاء الحق وزھق الباطل 4725

البخاری کتاب المناسک باب لایطوف بالبیت عریان ولایحج مشرک 1622

سیرۃ ابن ہشام 603:2

 

 

 

 

حقیقت اسلام

 

سب سے پہلے اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ اسلام کی وہ کون سی حقیقت تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر طاری ہوئی  اور  جس کو قرآن حکیم نے امت مرحومہ کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا۔

اسلام کا مادہ سلم ہے جو باختلاف حرکات مختلف اشکال میں آ کر مختلف معنی پیدا کرتا ہے۔ لیکن لغت کہتی ہے کہ”سلم”بفتحتین  اور  اسلام کے معنی کسی چیزکوسونپ دینے، اطاعت و  انقیاد  اور  گردن جھکا دینے کے ہیں۔ اس سے تسلیم بمعنی سونپ دینے کے  اور  استلم(ای انقادواطاع)،آتا ہے  اور  فی الحقیقت،لفظ اسلام،بھی انہی معنی  پر مشتمل ہے۔ قرآن کریم میں ان معانی کے شواہداس کثرت سے ملتے ہیں کہ ایک مختصر مضمون میں سب کا استقصاء ممکن نہیں۔ تاہم ایک دو آیتوں پر نظر ڈالیے تو یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے مثلاً احکام طلاق کی آیات میں ایک موقعہ پر فرمایا۔

وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلاجناح علیکم اذا سلمتم ما آتیتم بالعروف(233:2)

اگر تم چاہو کہ اپنے بچے کوکسی دایاسے دودھ پلواؤتواس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں۔ بشرطیکہ دستورکے مطابق ان کی ماؤں کو جو دینا کیا  تھا وہ ان کے حوالے کر دو۔

اس آیت میں “سلمتم”حوالہ کر دینے کے معنی میں صاف ہے۔ اس طرح بمعنی اطاعت و انقیاد یعنی گردن نہادن کے معنی میں فرمایا ہے۔

ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعاوکرھا(83:3)

اس آسمان و زمین میں کوئی نہیں جو چار و ناچار دین الٰہی کا حکم بردار  اور  مطیع و منقاد نہ ہو۔

قالت الاعراب امناقل لم تومنوولکن قولوآ اسلمنا(14:49)

اور  یہ  جو عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے تو ان سے کہہ دوکہ تم ابھی ایمان نہیں لائے۔

کیونکہ وہ دل کے اعتقاد کامل کا نام ہے جو تمہیں نصیب نہیں۔ البتہ یوں کہو کہ ہم نے اس دین کو مان لیا۔ہر شے کی اصل حقیقت وہی ہوسکتی ہے جواس کے نام کے اندر موجود ہو۔دین الٰہی کی حقیقت لفظ اسلام کے معنی میں پوشیدہ ہے۔ لفظ اسلام کے معنی اطاعت،انقیاد،گردن نہادن  اور  کسی چیز کے حوالہ کر دینے کے ہیں۔ پس اسلام کی حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان اپنے پاس جو کچھ رکھتا ہے، خدا تعالیٰ کے حوالے کر دے۔ اس کی تمام قوتیں،اس کی تمام خواہشیں، اس کے تمام جذبات، اس کی تمام محبوبات غرضیکہ سرکے بالوں سے لے پاؤں کے انگوٹھے تک جو کچھ اس کے اندر ہے  اور  جو کچھ اپنے سے باہر رکھتا ہے، سب کچھ۔۔۔۔ایک لینے والے کے سپرد کر دے۔  اور  اپنے قوائے جسمانی و دماغی کے ساتھ خدا کے آگے جھک جائے  اور  ایک مرتبہ ہر طرف سے منقطع ہو کر  اور  اپنے تمام رشتوں کوتوڑکراس طرح گردن رکھ دے کہ پھر کبھی نہ اٹھے۔ نفس کی حکومت سے باغی ہو جائے  اور  احکام الٰہی کا مطیع و منقاد۔یہی وہ حقیقت اسلامی کا قانون فطری ہے جو تمام کائنات عالم میں جاری وساری ہے۔ اس کی سلطنت سے زمین وآسمان کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں۔ ہر شے جواس حیات کدہ عالم میں وجود رکھتی ہے اپنے اعمال طبعی کے اندراس حقیقت اسلامی کی ایک مجسم شہادت ہے۔ کون ہے جواس کی اطاعت وانقیادسے آزاد ہے  اور  اس کے سامنے سے اپنے جھکے ہوئے سرکواٹھا سکتا ہے۔ اس نے کہا میں کبیر المتعال ہوں۔ پھر کون سی ہستی ہے جواس کی کبریائی و جبروت کے آگے اپنے اندراسلامی انقیاد کی ایک صدائے عجز نہیں رکھتی۔زمین پر ہم چلتے ہیں  اور  آسمان کو ہم دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا دونوں اس حقیقت اسلامی کی طرف داعی نہیں ہیں۔ زمین کو دیکھو جو اپنے گرد و غبار کے اندر ارواح نباتاتی کی ایک بہشت حیات ہے جس کے الوان جمال سے اس حیات کدہ اراضی کی ساری دل فریبی  اور  رونق ہے، جس کی غذا بخشی انسانی خون کے لیے سرچشمہ تولید ہے  اور  جو اپنے اندر،زندگیوں  اور  ہستیوں کا ایک خزانہ لازوال رکھتی ہے۔ کیا اس کی وسیع سطح حیات پرور پر ایک ایک ہستی بھی ہے جواس حقیقت اسلامی کے قانون عام سے مستثنی ہو؟کیا اس کی کائنات نباتاتی کا ایک ذرہ خدائے اسلام کے قائم کئے ہوئے حدود و قوانین کامسلم یعنی اطاعت شعار نہیں ہے۔

بیج جب زمین کے سپرد کیا جاتا ہے تو وہ فوراً لے لیتی ہے کیوں کہ اس کے بنانے والے نے اس کوایساہی حکم دیا ہے۔ پھر اگر تم وقت سے پہلے واپس مانگو تو نہیں دے سکتی کیوں کہ اس کاسرخدا کے آگے جھکا ہوا ہے  اور  خدا نے ہر بات کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا ہے۔ ولکل اجل کتاب(38:13)پس محال ہے کہ کوئی شے اس کی خلاف ورزی کرے  اور  حقیقت اسلامی کے قانون عام کی مجرم ہو۔

قانون الٰہی نے زمین کی قوت نامیہ کے ظہور کے لیے مختلف دور مقرر کر دیے ہیں  اور  ہر دور کے لیے وقت خاص لکھ دیا ہے۔ زمین کی درستگی کے بعداس میں بیج ڈالا جاتا ہے۔ آفتاب کی تمازت اس کو حرارت پہنچاتی ہے۔ پانی کابمقدارمناسب حصول اس کی نشو و نما کو زندگی کی تازگی بخشتا ہے۔ یہ تمام چیزیں ایک خاص تسویہ وتناسب کے ساتھ اس کو مطلوب ہیں۔ پھر بیج کے گلنے  اور  سڑنے، مٹی کے اجزائے نباتاتی کی آمیزش،کونپلوں کے پھوٹنے، ان کے بتدریج بلند ہونے  اور  اس کے بعد شاخوں کے انشعاب  اور  پتوں  اور  پھولوں کی تولید وغیرہ۔ان تمام مرحلوں سے اس بیج کا درجہ بدرجہ گذرنا ضروری ہے  اور  ہر زمانے کے لیے ایک حالت  اور  مدت مقرر کر دی گئی ہے۔ یہی تمام مختلف مراحل و منازل زمین کی پیداوار کے لیے ایک شریعت الہیہ ہیں جس کی اطاعت کائنات نباتات کی ہر روح  پر فرض کر دی گئی ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ زمین ایک لمحہ ایک منٹ کے لیے  اور  ایک مستثنے مثال میں بھی اس شریعت کے مسلم ہونے یعنی اس کی اطاعت سے انکار کر دے  اور  پھراگراس کی خلاف ورزی کی جائے تو کیا ممکن ہے کہ ایک دانہ بھی بار  اور   اور  ایک پھول بھی شگفتہ ہو۔

ایک درخت ہے جو پانچ سال کے اندر پھل لاتا ہے۔ پھر تم کتنی ہی کوشش کرو۔وہ پانچ ماہ کے اندر کبھی پھل نہیں دے گا۔ایک پھول ہے جس کے پودے کو زیادہ مقدار میں حرارت مطلوب ہے پھر یہ محال ہے کہ وہ سائے میں زندہ رہ سکے۔ کیوں !اس لیے کہ پانچ سال کے اندراس کا حد بلوغ کو پہنچنا  اور  دھوپ کی تیزی میں اس کا نشو و نما پانا۔شریعت الٰہی نے مقرر کر دیا ہے۔ پس وہ مسلم ہے  اور  حقیقت اسلامی کا قانون عام اس کوسرکشی و خلاف ورزی کاسراٹھانے کی اجازت نہیں دیتا۔

ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون(26:30)

اور  جو کچھ آسمان میں ہے  اور  جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے  اور  سب اس کے حکم کے تابع  اور  منقاد ہیں۔

پس فی الحقیقت زمین کے عالم نظم و تدبیر میں جو کچھ ہے حقیقت اسلامی کا ظہور ہے۔

وفی الارض ایت للموقنین(20:51)

اور  زمین میں ارباب یقین کے لیے خدا کی ہزاروں نشانیاں بھری پڑی ہیں۔ یہ سربفلک پہاڑوں کی چوٹیاں جو اپنے عظیم الشان قامتوں کے اندر خلعت کائنات کی سب سے بڑی عظمت رکھتی ہیں۔ یہ شیریں  اور  حیات بخش دریاجوکسی مخفی تعلیم کے نقشے کے مطابق زمین کے اندر گاہ مستقیم  اور  گاہ پر پیچ و خم،راہ  پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہ خوفناک وقہارسمندرجس کی بے کنارسطح مہیب کے نیچے طرح طرح کے دریائی حیوانات کی بے شمار اقلیمیں آباد ہیں، غور کیجئے کہ کیاسلطان اسلام کی حکومت سے باہر ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں کے سرگوبلندہیں، مگر اطاعت کے پابند اور اسلام شعارانہ سرجھکے ہوئے ہیں۔ زمین کا جو گوشہ  اور  سمندرکاجوکنارہ ان کودے دیا گیا ہے، ممکن نہیں کہ وہ ایک انچ بھی اس سے باہر قدم رکھ سکیں۔ ان کے ارتقائے جسمانی کے لیے جوغیرمحسوس رفتار نمو شریعت الہیہ نے مقرر کر دی ہے، محال ہے کہ اس سے زیادہ آگے بڑھ سکیں ورنہ انقلابات طبعیہ  کا حکم الٰہی ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔پھر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ اسی طرح دریاؤں  اور  سمندروں کی طرف کان لگائیے کہ ان کی زبان حال اسی حقیقت اسلامی کی کیسی شہادت دے رہی ہے۔ آپ نے سمندروں کو طوفانوں  اور  موجوں کی صورت میں دیکھا ہے کہ پانی کی سرکشیاں کیسی شدید ہوتی ہیں۔ لیکن سرکش  اور  مغرور دیو پر جب حقیقت اسلامی کی اطاعت و انقیاد کا قانون نافذہواتواس عجز و تذلل کے ساتھ اس کاسرجھک گیا کہ ایک طرف میٹھے پانی کا دریا بہہ رہا ہے  اور  دوسری طرف کھارے پانی کا بحر زخار ہے۔ دونوں اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ کوئی شے ان میں حائل نہیں مگر نہ دریا کی مجال ہے کہ سمندرکی سرحدمیں قدم رکھے  اور  نہ سمندرباہمہ قوت و قہار یہ جرأت رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی موجوں سے اس پر حملہ کرے۔

مرج البحرین یلتقین۔  بیبنھمابرزخ لایبغین۔فبای الاء ربکماتکذبین(55:21-19:)

اس نے کھارے  اور  میٹھے پانی کے دوسمندروں کو جاری کیا کہ دونوں کے درمیان پردہ حائل ہے  اور  وہ بھی ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے۔ کیوں کہ دونوں کے درمیان اس نے حد فاصل قائم کر دی ہے۔

دوسری جگہ فرمایا ہے۔

وھوالذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھما برزخاوججراً محجورا۔(53:25)

اور  وہی قادر مطلق ہے جس نے دو دریاؤں کوآپس میں ملا دیا۔ایک کا پانی شیریں و خوش ذائقہ  اور  ایک کا کھارا کڑوا  اور  پھر دونوں کے درمیان ایک ایسی حد فاصل  اور  لاگ رکھ دی کہ دونوں باوجود ملنے کے بالکل الگ رہتے ہیں۔

اب ذرا نظر اوپر اٹھاؤ  اور  ملکوت السموات کے ان اجرام عظیمہ کو دیکھو جن کے مرئیات عریضہ سے یہ سطح نیلگوں ہے۔ یہ ادراک انسانی کاسب سے بڑا منظر تحیر ہے۔ یہ عظیم الشان قیرمان تجلی جو روز ہمارے سروں پر چمکتا ہے، جس کی فیضان بخشی حیات تمیز قرب وبعدسے م اور اء ہے، جس کا جذب و انجذاب کائنات عالم انسانی کے لیے تنہاوسیلہ تنویر ہے  اور  جس کا قہر حرارت کسی تجلی گاہ حقیقی کاسب سے بڑاعکس و ظلال ہے۔ غور کرو تو اپنے اندر حقیقت اسلامی کی کئی مؤثر شہادتیں رکھتا ہے۔  اور  جس کی جبروت و عظمت کے آگے تمام کائنات عالم کاسرجھکاہوا ہے، کیسے مسلم شعارانہ، انکسارکے ساتھ فاطر السموات کے آگے سربسجود کہ ایک لمحے  اور  ایک عشیر دقیقے کے لیے بھی اپنے اعمال و افعال کے لیے مقرر کردہ حدودسے باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔

تبرک الذی جعل فی السماء بروحاوجعل فیھاسرجاوقمرامنیرا۔(61:25)

کیا مبارک ہے ذات قدوس اس کی جس نے آسمان میں گردش سیارات کے دائرے بنائے  اور  اس میں آفتاب کی مشعل روشن کر دی نیز روشن و منور چاند بنایا۔

پھراسی طرح  اور  تمام اجرام سماویہ کو دیکھو  اور  ان کے افعال و خواص کا مطالعہ کرو۔ان کے طلوع و غروب، ایاب و ذھاب،حرکت و رجعت،جذب و انجذاب،اثر و تاثر  اور  فعل  و افعال کے لیے جو قوانین رب السموات نے مقرر کر دیے ہیں، کس طرح ان کی اطاعت وانقیاد کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہی قوانین ہیں جن کو قرآن حکیم حدود اللہ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے  اور  یہی دین ہے جو تمام نظام کائنات کے لیے المنزلہ  مرکز قیام و حیات ہے۔ عالم ارضی وسماوی کی کوئی مخلوق نہیں جواس دین الٰہی کی پیرو نہ ہو  اور  آفتاب سے لے کر خاک کے ذرے تک کوئی نہیں جواس کی اطاعت سے انکار کرے۔

الشمس والقمربحسبان۔النجم والشجریسجدن۔والسماء رفعھاووضع المیزان۔الاتطغوا فی المیزان۔(5-8:55)

اس کے حکم سے سورج  اور  چاند ایک حساب معین پر گردش میں ہیں  اور  تمام عالم نباتات کے سراس کے آگے جھکے ہوئے ہیں  اور  اسی نے آسمان کو بلندی قرار دیا  اور  (قانون الہی) کا میزان بتایا تاکہ تم لوگ اندازہ کرنے میں حد اعتدال سے متجاوز نہ ہو۔

پس نظام شمسی میں جس قدر نظم  و تدبیر ہے۔ سب اسی حقیقت اسلامی کا ظہور ہے۔ حقیقت اسلامی کی اطاعت و انقیاد نے ہر مخلوق کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں محدود کر دیا ہے  اور  ہروجودسرجھکائے ہوئے اپنے اپنے فرض کے انجام دینے میں مشغول ہے، اگر زمین اپنے محور پر حرکت کرتی ہوئی اپنے دائرہ کا چکر لگاتی ہے، اگر آفتاب کی کشش اس کو ایک بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہونے دیتی،اگرہرستارہ اپنے اپنے دائرہ حرکت کے اندر ہی محدود ہے، اگر تم ستاروں کی باہمی جذب محیط ہمیشہ اس تسویہ و میزان کے ساتھ قائم رہتی ہے کہ عظیم الشان قوتوں کے یہ پہاڑآپس میں نہیں ٹکراتے۔ اگر ان کی حرکت وسیرکی مقدار  اور  اوقات مقررہ میں طلوع و غروب ایک ایساناممکن التبدیل قانون ہے جس میں کبھی کمی بیشی نہیں ہوئی  اور  اگر

لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھاروکل فی فلک یسبحون(40:36)

نہ تو آفتاب کے اختیار میں ہے کہ چاند کو جا لے  اور  نہ رات کے بس میں ہے کہ دن سے پہلے ظاہر ہو جائے  اور  تمام اجرام سماویہ اپنے اپنے دائروں کے اندر ہی گھوم رہے ہیں۔

توپھراس کے کیا معنی ہیں ؟کیا یہ اعمال کائنات اس امر کی شہادت نہیں ہیں کہ دنیا میں اصل قوت صرف اسلام ہی کی قوت ہے  اور  اس عالم کا وجود صرف اسی لیے زندہ ہے کہ حقیقت اسلامی اس پر طاری ہو چکی ہے ورنہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اس حقیقت کی حکومت دنیاسے اٹھ جائے تو تمام نظام عالم درہم برہم ہو جائے ؟

افغیردین اللہ یبغون ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعاوکرھاوالیہ یرجعون۔(83:3)

کیا یہ دین الٰہی کوچھوڑکرکسی  اور  کے آگے سرجھکاناچاہتے ہیں حالانکہ آسمان  اور  زمین میں کوئی نہیں جواس دین الٰہی کام مسلم یعنی مطیع و منقاد نہ ہو اور آسمان و زمین پر کیا موقوف ہے کوئی اگر خود اپنے اندر بھی دیکھے توجسم انسانی کاکونساحصہ ہے جس پر حقیقت اسلام طاری نہیں۔ خود آپ کوتواس کے آگے جھکنے سے انکار ہے۔ لیکن اس کی خبر نہیں کہ آپ کے اندر جو کچھ ہے، اس کا ایک ایک ذرہ کس کے آگے سربسجودہے۔

دل کے لیے یہ شریعت مسترد کر دی گئی کہ اپنے قبض وبسط سے جسم کے تمام حصول میں خون کی گردش جاری رکھے کہ اس کا اضطراب و التہاب ہی روح کے سکون حیات کا ذریعہ ہے۔ نیز حرکت کی ایک مقدار مقرر کر دی ہے  اور  خون کے دخل و خروج کے لیے ایک پیمانہ اعتدال بنا دیا۔پھر ذرا اپنے بائیں پہلو پر ہاتھ رکھ کر دیکھئے کہ اس عجیب و غریب گوشت نے کس استغراق و محویت کے ساتھ حقیقت اسلامی کے سامنے سرجھکایاہوا ہے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے غافل نہیں ؟ اور  اگر ایک چشم زون کے لیے بھی سرکشی کاسراٹھائے تو نظام حیات بدنی کا کیا حال ہو۔اس طرح کارخانہ جسم کے ایک ایک پرزے کے تشریحی فرائض پر نظر ڈالئے  اور  دیکھئے کہ آپ کے اندرسرسے پاؤں تک جس قدر زندگی ہے، اسی حقیقت اسلامی ہی کے نظام سے ہے ؟آنکھوں کا۔۔۔ارتسام وانعکاس،کانوں کی قوت سامعہ،معدے کا فعل انہضام  اور  سب سے بڑھ کرطلسم سرائے دماغ کے عجائب و غرائب سب اسی لیے کام دے رہے ہیں کہ مسلم ہیں  اور  حقیقت اسلامی کے اطاعت شعار۔آپ کے جسم کی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے، کبھی آپ نے یہ بھی سوچاکہ کس کے حکم سطوت و جبروت ہے جواس رہ نورد لیل و نہار کو دوڑا رہی ہے۔

وفی انفسکم افلاتبصرون۔(21:51)

اور  اگر باہر کی طرف سے تمہاری آنکھیں بند ہیں تو اپنے نفس کے اندر بھی نہیں دیکھتے۔

اور  یہی اشارہ ہے جواس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے کہ:

سنریھم ایتنافی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق۔(53:41)

ہم اپنی نشانیاں عالم کائنات کے مختلف اطراف و جوانب میں بھی دکھلائیں گے۔  اور  انسان کے اندر بھی،یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ دین الٰہی برحق ہے۔

اور  یہی حقیقت اسلامی کی وہ اطاعت شعاری ہے جس کولسان الٰہی نے عالم کائنات کی تسبیح وتقدیس سے تعبیر کیا ہے کیوں کہ فی الحقیقت اس عالم کا ہر وجود اپنے فنائے اسلامی کی زبان حال سے اس سبوح وقدوس کی عبادت میں مشغول ہے۔

تسبح لہ السموت السبح والارض ومن فیھن وان من شی ء الایسبح بحمدہ ولکن لاتفقھون تسبیحھم انہ کان حلیما غفورا۔(44:17)

تمام آسمان  اور  تمام زمینیں  اور  جو کچھ ان کے اندر ہے۔ سب کے سب اسی خدا کی تسبیح وتقدیس میں مشغول ہیں  اور  کائنات میں کوئی چیز نہیں جو زبان اطاعت سے اس کی حمد و ثنا  اور  تسبیح وتقدیس نہ کرتی ہو مگر تم ان کی اس آواز کو نہیں سمجھتے  اور  اس پر غور نہیں کرتے۔

اور  یہی وہ عہد و میثاق عبودیت تھاجس کا  اقرار صبحت ازل کے ہر جرعہ نوش جام”بلے “سے لیا گیا  اور  حقیقت اسلامی کی محویت اول نے سب کی زبان سے بے اختیارانہ انقیاد کرا لیا۔

واذاخذربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوابلے (172:7)

اور  وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے اس کی ذریت کو(بصورت تعین اولی)نکالا  اور  ان کے مقابلے میں خود انہی سے شہادت دلوا دی۔اس طرح کہ ان سے پوچھا:۔کیا میں آمر و حاکم  اور  رب الارباب نہیں ہوں۔ سب سے اطاعت ہے  اور  اسی حقیقت اسلامی کے سرجھکانے کا نتیجہ وہ سربلندی ہے جوانسان کو تمام مخلوق ارضیہ میں حاصل ہے  اور  جس کی وجہ سے وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، حکم  دیا کہ اسی کے آگے تم بھی جھک جاؤ کہ من تواضع رفعہ اللہ۔

ولقدکرمنابنی ادم وحملنھم فی البرو البحرورزقنھم من الطیب(70:17)

اور  ہم نے شرف کرامت عطا فرمایا،نسل انسانی کو  اور  تمام خشکی و تری کی چیزوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے مطیع ہو جائیں  اور  اس کو اٹھائیں  اور  اس کے لیے دنیا میں بہترین اشیاء پیدا کریں۔

کائنات کی ہر مخلوق نے اس حکم کی تعمیل کی کیوں کہ ان کے سرتواس کے آگے جھکے ہوئے تھے پر ایک شریرہستی تھی جس نے غرور تکبر کے ساتھ سراٹھایا  اور  انسان کی اطاعت سے انکار کر دیا۔

واذقلناللملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبروکان من الکفرین(34:2) اور  جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کے آگے اطاعت کے سرجھکادوتوسب جھک گئے مگر ایک ابلیس تھاجس نے انکار کیا  اور  تکبر اور غرورکاسراٹھایا  اور  وہ یقیناً کافروں میں سے تھا۔

وکان من الکافرین کیونکہ اسلام کے معنی جھکنے کے ہیں انکار پھر نام ہے سرکشی کا۔ابلیس نے جھکنے سے انکار کیا  اور  سرکشی کاسراٹھایا۔پس وہ ضرور کافروں میں سے تھا۔

یہی ایک شریر طاقت ہے جو تمام سرکشیوں  اور  ہر طرح کے ظلم و طغیان کا عالم میں مبدء ہے۔ یہی وہ تاریکی کا اہرمن ہے جو یزدانی نورو ضیا کے مقابلے میں اپنے تئیں پیش کرتا ہے  اور  یہی وہ سراپاضلالت ہے جوانسان کے پاؤں میں اپنی اطاعت کی زنجیریں ڈال کراس کواسلامی اطاعت سے باز رکھتا ہے۔ یہی وہ ابوالکفر ہے جس کی ذریت انسان کے اندر  اور  باہر،دونوں طرفوں میں پھیلی ہوئی ہے  اور  جب چاہتا ہے انسان کے حجرائے دم کے اندر پہنچ کر اپنی ضلالت کے لیے راہ پیدا کر لیتا ہے  اور  یہی وہ اسلام کی حقیقت کی اصل ضد اور اس کی قوت ہدایت کا قدیمی دشمن ہے جس نے اپنے کفر کے پہلے دن کہہ دیا ہے کہ:-

قال ارءیتک ھذا الذی کرمت علی لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لاحتنکن ذریتہ الاقلیلا(62:17)

شیطان نے آدم کی طرف اشارہ کر کے کہا یہی ہے جس کوتو نے مجھ سے فوقیت دی ہے لیکن تو مجھ کو روز قیامت تک مہلت دے تومیں اپنی قوت ضلالت سے اس کی تمام نسل کو تباہ کر دوں۔ البتہ وہ تھوڑے سے لوگ جن پرمیرا جادو نہ چلے گا میری حکومت سے باہر رہ جائیں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ:-

اذھب فمن تبعک منھم فان جھنم جزآؤکم جزآء موفورا۔واستفززمن استطعت منھم بصوتک واجلب علیھم بخیلک ورجلک وشارکھم فی الاموال والاولاد وعدھم ومایعدھم الشیطن الاغرورا۔(64:63:17)

جا،دور ہو۔جو شخص نسل آدم میں سے تیری متابعت کرے گا،اس کے لیے عذاب جہنم کی پوری سزاہو گی۔ان میں سے جن جن کو تو اپنی پر فریب صداؤں سے بہکا سکتا ہے !بہکا لے، ان پر اپنی فوج کے سواروں  اور  پیادوں سے چڑھائی کر دے۔ ان کی مال و دولت  اور  اولاد و فرزند میں شریک ہو کر اپنا ایک حصہ لگا لے  اور  ان سے جتنے جھوٹے وعدے کر سکتا ہے، کر لے۔ شیطان کے وعدہ محض دھوکے  اور  فریب سے زیادہ نہیں ہیں، پھر یہی ہے جس کو خواہ تم اپنے سے خارج سمجھویاخوداپنے اندر تلاش کرو،اس کے حکم،ضلالت کے احکام دونوں جگہ جاری ہیں۔ وہ کبھی تمہاری رگوں کے اندر کے خون میں اپنی ذریات کو اتار دیتا ہے تاکہ تم پراندرسے حملہ کرے، کبھی باہرسے آ کر تمہارے دماغ  اور  حواس پر قابض ہو جاتا ہے تاکہ  تم کو اپنے آگے جھکا کر خدا کے آگے جھکنے سے باز رکھے۔ وہ کبھی تمہارے مال و متاع میں، کبھی محبت اہل و عیال میں  اور  کبھی عام محبوبات و مرغوبات دنیویہ میں شریک ہو جاتا ہے  اور  اسی طرح تمہاری ہر شے خدا کی جگہ اس کے لیے ہو جاتی ہے، تم چلتے ہو تو اس کے لیے، کھاتے ہوتواس کے لیے  اور  پہنتے ہوتواس کے لیے حالانکہ حقیقت اسلامی چاہتی ہے کہ تم جو کچھ کرو خدا کے لیے کرو۔

ہر تاریکی جو روشنی کو چھپانا چاہتی ہے، ہرسیاہی جوسفیدی کے مقابلے میں ہے ہرتمردوسرکشی جو اطاعت الٰہی کی ضد ہے  اور  ہر وہ سرکشی جو حقیقت اسلامی سے خالی ہے، یقین کرو کہ شیطان ہے  اور  دنیا کی لذت  اور  ہر راحت جس کا انہماک اس درجہ میں پہنچ جائے کہ وہ حقیقت اسلامی کی انقیاد پر غالب آ جائے، شیطان کی ذریت میں داخل ہے۔ پس اس کے وجود کی نسبت کیوں سوچتے ہو کہ وہ کیا ہے  اور  کہاں ہے !اس کو دیکھو کہ وہ تمہارے ساتھ کر کیا رہا ہے۔ مسیح علیہ السلام نے کہا ہے کہ نوکر دو آقاؤں کو خوش نہیں کر سکتا  اور  قرآن کریم کہتا ہے۔

ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ(4:33)

اللہ نے کسی انسان کے پہلو میں دو دل نہیں رکھے بلکہ دل ایک ہی ہے۔

پس ایک دل کے سربھی دو چوکھٹوں پر نہیں جھک سکتے  اور  دنیا میں دل ہی ایک ایساجوہرہے جس کی تقسیم نہیں ہوسکتی۔قوت شیطانی کا مطیع و منقاد ہو گایا وہ قوت رحمانی کا،وہ شیطان کا عبادت گذار ہو گایا خدائے رحمان کا۔ اور  عبادت وپرستش سے مقصود یہی نہیں ہے کہ پتھر کا ایک بت تراش کراس کے آگے سربسجودہو۔یہ تو وہ ادنی شرک ہے جسسے قریش مکہ کا خیال بھی بلند تھا۔بلکہ ہر وہ انقیاد،ہر وہ سخت و شدید انہماک  اور  وہ استغراق واستیلاء جو حقیقت اسلامی کے انقیاد  اور  محبت الٰہی پر غالب آ جائے  اور  تم اس طرح اپنی طرح کھینچ لے کہ جس کی طرف تمہیں کھینچا تھا اس کی طرف سے گردن موڑ لو تو درحقیقت وہی تمہاری پرستش و عبادت کا بت ہے  اور  تم اس کے بت پرست  اور  اصل و حقیقی مشرک کے شریک یہی سبب ہے کہ حقیقت شناسان توحید نے فرمایا۔

من شغلک عن اللہ فھوصنمک ومن والاک فھومولاک۔جس چیز نے تم کو اللہ سے الگ کر کے اپنی طرف متوجہ کر لیا،وہی تمہارے لیے بت ہے  اور  تم اس کے پوجنے والے ہو۔۔۔۔خواہ وہ جنت کی ہوس  اور  حور و قصور کا شوق ہی کیوں نہ ہو۔

رابعہ بصریہ سے جب پوچھا کہ:ما الشرک؟شرک کی حقیقت کیا ہے ؟تواس نے کہا کہ طلب الجنۃ واعراض من ربھا۔جنت کی طلب کرنا  اور  مالک جنت کی طرف غافل ہو جانا۔یہی سبب ہے کہ قرآن کریم نے ہوائے نفس کو معبود و الہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔

ارءیت من اتخذالھہ ھوہہ(43:25)

آیا تم اس گمراہ کو نہیں دیکھتے جس نے اپنے ہوائے نفس کو معبود بنا لیا۔ اور کس قدر میرے مطلب کو واضح تر کر دیتی ہے، سورۃ یاسین کی وہ آیت جس میں فرمایا:

الم اعھدالیکم یبنی ادم ان لاتعبدو الشیطن انہ لکم عدومبین۔وان اعبدونی ھذا صراط مستقیم(61:60:36)

کیا ہم نے تم سے اے اولاد آدم اس کا عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجاسے باز رہو کیوں کہ وہ تمہارا ایک دشمن ہے  اور  صرف ہماری ہی عبادت کرو کہ یہی ہدایت کی راہ ہے۔

یہاں شیطان کی اطاعت کو بندگی  اور  عبادت کے لفظ سے تعبیر کیا  اور  عبادت الٰہی کے اس عہد و میثاق کو یاد دلایا۔یعنی الست بربکم کے سوال کا جواب جو تمام بنی آدم سے لیا جا چکا ہے۔ پس حقیقت اسلامی یہ چاہتی ہے کہ انسان قوت شیطانی سے باغی ہو کر صرف خدا تعالیٰ کاہو جائے  اور  اس کے آگے سرانقیادجھکا کر اپنے میثاق بلے کی تجدید کرے تاکہ وہ اللہ کا بندہ ہو  اور  اللہ کا بندہ وہی ہے جو شیطان کا مطیع نہیں ہے۔ ان عبادی لیس لک علیھم سلطن الامن اتبعک من الغوین(42:15)

خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ جو میرے بندے ہیں ان پر تیری حکومت نہیں چلے گی  اور  خدا اپنے بندوں کی کارسازی کے لیے بس کرتا ہے۔

یہاں ان بندگان مخلصین کو جو شیطان کے اثرواستیلاء سے محفوظ ہوں خدا نے اپنی طرف نسبت دی یعنی ان عبادی  جو لوگ میرے بندے ہیں۔ حالانکہ کون ہے جواس کا بندہ نہیں ہے۔ مگر مقصود یہ تھا کہ میرے بندے تو وہی ہیں جو صرف میرے لیے ہیں، لیکن جنہوں نے میرے آگے سرکوجھکادیاپھراپنے سرکودوسری چوکھٹوں پربھی جھکا دیا تو دراصل انہوں نے بندگی کا رشتہ کاٹ دیا۔گو وہ میرے تھے لیکن اب میرے باقی نہیں رہے، کیونکہ انہوں نے توحید محبت کو شرکت غیرسے محفوظ نہیں رکھا۔افسوس کہ یہ موقعہ اس بیان تشریح و تفصیل کا مقتضی نہیں  اور  مطالب اصل منتظر رجوع!

پس لفظ اسلام کے معنی کسی چیز کے حوالہ کر دینا،اپنا آپ دے دینا  اور  گردن رکھ دینے کے ہیں  اور  یہی حقیقت دین اسلام کی ہے کہ انسان اس رب الارباب کے آگے اپنی گردن رکھ دے  اور  اس انقطاع کامل  اور  انقیاد حقیقی کے ساتھ گویا اس نے اپنی گردن اس کے سپرد کر دی  اور  کوئی حق و ملکیت  اور  مطالبہ اس کا باقی نہیں رہا۔اب وہ اپنی کسی شے کا خواہ وہ اس کے اندر ہو یا باہر،مالک نہیں رہا۔بلکہ ہر شے قدرت الہیہ کی ہو گئی بس اسی کا نام اسلام ہے۔

انسان کے اندر اور انسان کے باہرسینکڑوں مطالبات ہیں جواس کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ اس کے اندرسب سے بڑے مظہرابلیس یعنی نفس کی قوت قاہرہ کادست طلب بڑھا ہوا ہے  اور  ہر دم  اور  ہر لمحے اس کی ہر شے کواس سے مانگ رہا ہے تاکہ اس کو خدا کی جگہ اپنا لے۔ باہر دیکھتا ہے تو محبوبات  دنیوی  اور  ممالک حیات کے دام قدم قدم پر بچھے ہوئے ہیں  اور  جس طرف وہ جاتا ہے اس سے اس کا قلب و دماغ مانگا جاتا ہے تاکہ اسے خداسے چھین لیں۔ جذبات  اور  خواہشات کے بے اعتدلانہ اقدامات کی فواجوں نے اس کے دماغ کا محاصرہ کر لیا ہے۔  اور  آزمائشوں  اور  امتحانوں کی کثرت سے اس کا ضمیر  اور  دل ایک دائمی شکست سے مجبور ہے۔ اہل و عیال،عزت و جاہ،مال و دولت کے قناطیر مقنطرہ  اور  تمام وہ چیزیں جن کو قرآن زینت حیات سے تعبیر کرتا ہے اس کے کمزور دل کے لیے اپنے اندر ایک ایساپرکشش سوال رکھتی ہیں جس کو رد کرنا اس کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہو جاتا ہے۔

زین للناس حب الشھوت من النساء والبنین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ والخیل المسومۃ والانعام والحرث۔(14:3)

انسان کی حالت اس طرح کی واقع ہوئی ہے کہ اس کے لیے دنیا کی ہر مرغوب شے مثلاً اہل و عیال،سونے چاندی کے ڈھیر،عمدہ گھوڑے، مویشی  اور  کاشت کاری کے لیے بڑی وابستگی ہے۔

پس انقیاداسلامی کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی جنس دل و جان کے بہت سے خریدار نہ بنائے بلکہ ایک ہی خریدارسے معاملہ کرے۔ وہ ان مانگنے والوں سے جن کے ہاتھ اس کی طرف بڑھے ہوئے ہیں اپنے تئیں بچائے  اور  اس ایک ہاتھ کو دیکھے جوباوجوداس کے طرح طرح کی بے وفائیوں کے پھر بھی وفائے محبت کے ساتھ اس کی طرف بڑھا ہوا ہے  اور  گو کہ اس نے اپنے متاع دل و جان کو کتنا ہی ناقص  اور  خراب کر دیا ہو،لیکن پھر بھی بہترسے بہتر قیمت دے کر خریدنے کے لیے موجود ہے  اور  صدائے محبت، من تقرب الی شبرا تقربت الیہ ذراعا۔سے ہر آن  اور  ہر لمحہ عشق نواز ہے جو خواہ انسان کتنی ہی پیمان شکنیاں کرے لیکن وہ اپنا عہد محبت آخر تک نہیں توڑتا کہ:

یا ابن آدم لوکان ذنبک عنان السماء ثم استغفری لاغفرن لک

اور جس کی وفائے محبت کا یہ حال ہے کہ خواہ تم تمام عمراسے کتنا ہی روٹھا ہوا رکھو لیکن اگر انابت و اضطرار کا ایک آنسوبھی سفارش کے لیے ساتھ لے جاؤ تو وہ پھر بھی سننے کے لیے تیار ہے  اور  جس کے دروازے سے خواہ تم کتنا ہی بھاگو لیکن پھر اگر شوق کا ایک قدم بڑھاؤ تو وہ دو قدم بڑھ کر تمہیں لینے کے لیے منتظر ہے۔

عاشقاں ہرچندمشتاق جمال دلبراند

دلبراں برعاشقاں ازعاشقاں عاشق تراند

جس کا دروازہ قبولیت کبھی بند نہیں  اور  جس کے یہاں مایوسی سے بڑھ کر  اور  کوئی جرم نہیں۔

قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃاللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفورالرحیم(53:39)

اے وہ میرے بندہ کہ گناہوں میں ڈوب کر تم نے اپنے نفوس پرسخت زیادتیاں کی ہیں خواہ تم کیسے ہی غرق مصیبت ہو،مگر پھر بھی اس محبت فرما کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔یقیناً وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔بے شک وہی درگذر کرنے والا ہے  اور  اس کی بخشش رحم عام ہے۔

*

باگناہگاراں بگوئم تانیندازنددل

من وفائے دوست رادربے وفائی یافتم

اب اس قدر توطیہ ء و تمہید کے بعد قرآن کریم کی طرف رجوع کرو کہ وہ اس حقیقت اسلامی کو بار بار دہراتا ہے یا نہیں ؟اول تو خود لفظ اسلام ہی اس حقیقت کے وضوح کے لیے کافی ہے لیکن اگر کافی نہ ہوتوجس قدر کہہ چکا ہوں، اس سے زیادہ کہنے کے لیے ابھی باقی ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی اسلام کا لفظ آیا ہے، غور کیجئے تواس حقیقت کے سوا  اور  کوئی معنی ثابت نہ ہوں گے۔

ومن یسلم وجھہ الی اللہ وھو محسن فقداستمسک بالعروۃ الوثقی(22:31)

اور جس نے اپنا منہ اللہ کی طرف جھکا دیا یا اپنی گردن اللہ کے حوالے کر دی، اور  اعمال حسنہ انجام دیے توبس دین الٰہی کی مضبوط رسی اس کے ہاتھ آ گئی۔

ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔

ومن احسن دیناممن اسلم وجھہ للہ وھومحسن(145:4)

اور اس شخص سے بہترکس کا دین ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے لیے اپناسرجھکادیایا اللہ کے حوالے کر دیا  اور  اعمال حسنہ انجام دیے۔

سورت آل عمران کی ایک آیت میں جواسلام کی حقیقت کی تفصیل و تشریح کے لیے ایک جامع ترین آیت ہے، اسلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔

ان الذین عنداللہ الاسلام(19:3)دین اللہ کے یہاں صرف ایک ہی ہے  اور  وہ اسلام ہے۔ پھراس کے بعد کہا۔

فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للہ ومن اتبعن وقل للذین اوتوا الکتب والامینء اسلمتم فان اسلموفقداھتدووان تولوافانماعلیک البلغ واللہ بصیربالعباد(30:3)

اگر منکرین اس بارے میں تم سے حجت کریں تو کہہ دوکہ میں نے  اور  میرے پیروؤں نے تو صرف اللہ ہی کے آگے اپناسرجھکادیا ہے  اور  پھر یہود و نصاریٰ  اور  مشرکین عرب سے پوچھو کہ بھئی اس کے آگے جھکے یا نہیں۔ سواگر وہ جھک گئے یعنی مسلم ہو گئے توبس انہوں نے ہدایت پائی  اور  اگر انہوں نے گردنیں موڑ لیں تو وہ جانیں  اور  ان کا کام۔تمہارا فرض تو حکم الٰہی پہنچا دینا تھا  اور  اللہ اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔

اسی طرح دوسری جگہ فرمایا ہے۔

وامرث ان اسلم لرب العلمین(66:40)

اور  مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرف منہ پھیرکراس کے آگے جھک جاؤ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر جگہ اسلام کے ساتھ منکرین اسلام کے لیے “ولی”واعرض کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ولی عن الثینی کے معنی لغت میں اعراض کے ہیں جہاں تولی عنہ  اور  اعرض عنہ ہر جگہ پاؤ گے یعنی کسی چیز کی طرف سے منہ موڑ لینا  اور  گردن پھیر لینا۔

ایتناولی مستکبرا کان لم یسمعھا(7:31)

اور  جب ان میں سے کسی منکر کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو۔۔۔غرورسے اکڑتا ہوا گردن پھیر کر چل دیتا ہے۔

اسی طرح  اور  سینکڑوں مقامات میں فرمایا۔

فان تولی افقل حسبی اللہ(129:9)

اگر وہ تیری طرف سے گردن پھیر لیں تو کہہ دے کہ مجھ کوخدابس کرتا ہے۔

ولوعلی ادبارھم نفورا(46:17)

جب کفار کے آگے ذکر الٰہی کرو تو پیچھے کی طرف منہ موڑ کر نفرت کناں چل دیتے ہیں۔

چونکہ اسلام کی حقیقت اللہ کے آگے سرجھکادینا  اور  اپنی گردن سپرد کر دینا ہے، اس لیے اس سے انکار کو ہر جگہ”تولی” اور “واعرض”سے تعبیر کیا گیا ہے۔

کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون۔فان تولوفانماعلیک البلغ المبین(82:81:16)

اور اسی طرح اللہ اپنی نعمتیں تم پر پوری کرتا ہے تاکہ تم اس کے آگے جھکو  اور  اے پیغمبراگرباوجوداس کے بھی لوگ گردن نہ جھکائیں تو تمہارا فرض تو صرف حکم الٰہی پہنچا دینا ہی ہے۔

پس یہی وہ اصل اسلام ہے جس کو قرآن جہاد فی سبیل اللہ سے تعبیر کرتا ہے  اور  کبھی اسلام کی جگہ جہاد  اور  کبھی جہاد کی جگہ اسلام،کبھی مسلم کی جگہ مجاہد  اور  کبھی مجاہد کی جگہ مسلم بولتا ہے۔ اس لیے کہ حقیقت جہاد،اپناسب کچھ اس کے لیے قربان کر دینا ہے۔ ہر وہ کوشش وسعی جو اس کی خاطر ہو،وہ جہاد ہے۔ خواہ ایثار وہ جان کی سعی ہو یا قربانی مال و اولاد کی جدوجہد  اور  یہی حقیقت اسلام ہے کہ اپناسب کچھ اس کے سپرد کر دیا جائے۔ پس جہاد  اور  اسلام ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں   اور   ایک ہی معنی کے دو مترادف الفاظ ہیں یعنی اسلام کے معنی جہاد ہیں اور   جہاد کے معنی اسلام ہیں پس کوئی ہستی مسلم ہو نہیں سکتی جب تک کہ مجاہد نہ ہو اور کوئی مجاہد ہو نہیں سکتاجب تک مسلم نہ ہو۔اسلام کی لذت اس بدبخت کے لیے حرام ہے جس کا ذوق ایمانی لذت جہادسے محروم ہو اور زمین پرگواس نے اپنا نام مسلم رکھا ہو لیکن اس کو کہہ دوکہ آسمانوں میں اس کا شمار کفر کے زمرے میں ہے۔ آج جب ایک دنیا لفظ جہاد کی دہشت سے کانپ رہی ہے جبکہ عالم مسیحی کی نظروں میں یہ لفظ عفریت مہیب یا ایک حربہ بے امان ہے، جبکہ اسلام کے مدعیان حویت نصف صدی سے کوشش کر رہے ہیں کہ کفر کی رضا کے لیے اہل اسلام کو مجبور کریں کہ وہ اس لفظ کو لغت سے نکال دیں جب کہ بظاہر انہوں نے کفرواسلام کے درمیان ایک راضی نامہ لکھ دیا کہ اسلام لفظ جہاد کو بھلا چکا ہے۔ لہذا کفر اپنے توحش کو بھول جائے۔ تاہم آج کل کے ملحدمسلمین  اور  مفسدین کا ایک حزب الشیطان بے چین ہے کہ بس چلے تو یورپ سے درجہ تقرب و عبودیت حاصل کرنے کے لیے “تحریف الکلم عن مواضعہ“کے بعد سرے سے اس لفظ کو قرآن سے نکال دے تو پھر یہ کہا ہے کہ میں جہاد کو صرف ایک رکن اسلامی،ایک فرض دینی،ایک حکم شریعت بتلاتا ہوں حالاں کہ میں تو صاف صاف کہتا ہوں کہ اسلام کی حقیقت ہی جہاد ہے، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام سے اگر جہاد کو الگ کر لیا جائے تو وہ ایک ایسالفظ ہو گاجس میں معنی نہ ہوں۔ ایک اسم ہو گاجس کامسمی نہ ہو،ایک قشر محض ہو گاجس سے مغز نکال لیا گیا ہے۔ پھر کیا میں ان اعمال مصلحین،مجاہدین کو غارت کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے تطبیق بین التوحیدوالتشلیت یا اسلام  اور  مسحیت کے اتحاد کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے تطبیق بین التوحیدوالتشلیت یا اسلام  اور  مسحیت کے اتحاد کے لیے انجام دی ہیں۔ وہ اصلاح جدید کی شاندار عمارتیں جو مغربی تہذیب وشائستگی کی ارض مقدس پر کھڑی کی گئی ہیں۔ کیا دعوت جہاد دے کر جنود مجاہدین کو بلاتا ہوں کہ اپنے گھوڑوں کے سموں سے انہیں پامال کر دیں  اور  چاہتا ہوں کہ اسلام کی زندگی کا افق جو حرارت حیات کی گردسے پاک کر دیا گیا تھا،مجاہدین کی اڑائی ہوئی خاک سے پھر غبار آلود ہو جائے۔

ہاں !اے غارت گران حقیقت اسلامی اے دزدان متاع ایمانی! اور اے مفسدین ملت و مدعیان اصلاح!ہاں میں ایساہی چاہتا ہوں، میری آنکھیں ایساہی دیکھنا چاہتی ہیں، میرا دل ایسے ہی وقت کے لیے بے قرار ہے، خدائے ابراہیم ومحمد علیھما السلام کی شریعت ایساہی چاہتی ہے۔ قرآن کریم اسی کو حقیقت اسلامی کہتا ہے۔ وہ اس اسوہ حسنہ کی طرف سے اپنے پیروؤں کو بلاتا ہے۔ اسلام کا اعتقاداسی کے لیے ہے  اور  اس کی تمام عبادتیں اسی کے لیے ہیں، اس کے تمام جسم اعمالی کی روح میں یہی شئے ہے  اور  یہی چیز ہے جس کی یاد کواس نے ہمیشہ زندہ رکھنا چاہا  اور  عید الاضحی کو یوم جشن ومسرت بنایا۔

 

 

حواشی

 

1-      مسلم : کتاب البر49-45۔ترمذی:82

(حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں ماتواضع احدللہ الارفعہ اللہ)

البخاری:کتاب التوحید7536،مسلم:کتاب الزکر20

ترمذی:الدعوات:3549

 

 

 

 

وحدت اجتماعیہ

 

 

اس مقام کی مزید وضاحت کے لیے بہتر ہو گا کہ دو خاص اصطلاحی لفظوں کے معانی پر آپ پہلے غور کر لیں، ایک اجتماع  اور  ائتلاف ہے، دوسرا اشتات  اور  انتشار۔نہ صرف امت ا سلامیہ بلکہ اقوام عالم کی موت و حیات ترقی و تنزل  اور  سعادت و شقاوت کے جو اصولی اسباب و مراتب قرآن حکیم نے بیان کئے ہیں ان کی سب سے زیادہ اہم حقیقت انہی الفاظ میں پوشیدہ ہے۔

اجتماع کے معنی ہیں ضم الشئی یقرب بعضہ من بعض،یعنی مختلف چیزوں کا باہم اکٹھا ہو جانا  اور  ائتلاف،”ا”سے ہے  اور  اس کے معنی ہیں۔ جمع من اجزاء مختلفہ ورتب ترتیباقدم فیہ ماحقہ ان یقدم واخرفیہ ماحقہ ان یوخر۔یعنی مختلف چیزوں کا اس تناسب  اور  ترتیب کے ساتھ اکٹھا ہو جانا کہ جس چیزکوجس جگہ ہونا چاہیے وہی جگہ اسے ملے، جو پہلے ہونے کی حقدار ہے، وہ پہلے رہے جس کو آخری جگہ ملنی چاہیے، وہ آخری جگہ پائے، عید اجتماع و ائتلاف سے مقصود وہ حالت ہے جب مختلف کارکن قوتیں کسی ایک مقام،ایک مرکز،ایک سلسلے، ایک وجود،ایک طاقت  اور  ایک فرد واحد میں اپنی قدرتی  اور  مناسب ترکیب و ترتیب کے ساتھ اکٹھی ہو جاتی ہیں  اور  تمام مواد قومی اعمال  اور  افراد پر ایک اجتماعی و انضمامی دور طاری ہو جاتا ہے، بحدے کی ہر قوت اکٹھی،ہر عمل باہم دگر جڑا  اور  ملا ہوا ہو یعنی ہر چیز بندھی  اور  سمٹیہوئی،ہر فرد زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے متحد و متصل ہو جاتا ہے، کسی چیز،کسی گوشے، کسی عمل میں علیحدگی نظر نہیں آتی،جدائی و انتشار اور الگ الگ،جزء جزء،فرد فرد ہو کر رہنے والی حالت نہیں ہوتی،مادہ میں جب یہ اجتماع و انضمام پیدا ہو جاتا ہے تواس سے تخلیق و تکوین  اور  وجودہستی کے تمام مراتب ظہور میں آتے ہیں۔ اسی کو قرآن حکیم نے اپنی اصطلاح میں مرتبہ تخلیق وتسویہ سے بھی تعبیر کیا ہے۔ الذی خلق فسویٰ(2:27)پس زندگی  اور  وجود نہیں ہے مگر اجتماع و ائتلاف۔ اور موت و فنا نہیں ہے مگراس کی ضد۔یہی حالت جب افعال و اعمال پر طاری ہوتی ہے تو اخلاق کی زبان میں اس کو خیر اور شریعت کی زبان میں عمل صالح  اور  حسنات کہتے ہیں، جب جسم انسانی پر طاری ہوتی ہے، تو طب کی اصطلاح میں تندرستی سے تعبیر کی جاتی ہے  اور  حکیم کہتا ہے کہ یہ زندگی ہے  اور  پھر یہی حالت ہے کہ جب قومی و جماعتی زندگی کی قوتوں  اور  عملوں پر طاری ہوتی ہے تواس کا نام حیات قومی و اجتماعی قرار پاتا ہے  اور  اس کا ظہور قومی اقبال و ترقی  اور  نفوذوتسلط کی شکل میں دنیا دیکھتی ہے۔ الفاظ بہت سے ہیں، معنی ایک ہے، مظاہر گو مختلف ہیں مگراس حکیم یگانہ و واحد کی ذات کی طرح اس کا قانون حیات و وجود بھی ایک ہی ہے۔ ولنعم ماقبل

اس حالت کی ضد اشتات و انتشار ہے۔ اشتات شت سے ہے جس کے معنی لغت میں تفریق  اور  الگ الگ ہو جانے کے ہیں۔ یقال شت جمعہم شتاوشتاتاوجاؤا اشتاتا ای متفرقی النظام(مفردات 652)قرآن حکیم میں ہے۔

یؤمئیدیصدرالناس اشتاتا(6:99) اور    من نبات شتی  اور   وقلوبھم شتی(14:49)ای مختلفہ۔ انتشارنشرسے ہے۔ اس کے معنی بھی الگ الگ ہو جانے کے ہیں یعنی تفرق کے سورۃ جمعہ میں ہے :۔

فاذاقضیت الصلوۃ فانتشروا(10:62)

یعنی تفرقوا اشتات وانتشارسے مقصود وہ حالت ہے جب اجتماع و ائتلاف کی جگہ الگ الگ ہو جائے۔ متفرق  اور  پراگندہ ہونے  اور  باہم دگر علیحدگی و بیگانگی کی حالت پیدا ہو جائے۔ یہ حالت جب مادہ پر طاری ہوتی ہے تو تکوین کی جگہ فساد اور وجود کی جگہ عدم و فنا کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ جب جسم پریہ حالت طاری ہوتی ہے تواس کا نام پہلے بیماری  اور  پھر موت ہے، اعمال پر طاری ہوتی ہے تواس کا قرآن حکیم اپنی اصطلاح میں عمل سوء  اور  عصیان سے تعبیر کرتا ہے  اور  پھر یہی چیز ہے کہ جب قوموں کی اجتماعی زندگی پر طاری ہوتی ہے تو دنیا دیکھتی ہے کہ اقبال کی جگہ،ادبار،عروج کی جگہ تسفل،ترقی کی جگہ تنزل،عظمت کی جگہ ذلت،حکومت کی جگہ محکومی، اور بالآخر زندگی کی جگہ موت اس پر چھا جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے جا بجا اجتماع و ائتلاف کو قومی زندگی کی سب سے بڑی بنیاد اور انسان کے لیے اللہ کی جانب سے سب سے بڑی رحمت و نعمت قرار دیا ہے  اور  اس کو اعتصام بحبل  اور  اسی طرح کی تعبیرات عظیمہ سے موسوم کیا ہے۔ مسلمانوں کے اولین مادہ تکوین امت یعنی اہل عرب کو مخاطب کر کے  اور  پھر تمام عرب و عجم سے فرمایا۔

واعتصموا بحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا(103:3)

سب مل جل کر اور پوری طرح اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی مضبوط پکڑ لو۔سب کے ہاتھ اسی ایک حبل اللہ سے وابستہ ہو اللہ کا یہ احسان یاد کرو کہ کسی عظیم الشان نعمت ہے جس سے وہ سرفرازکئے گئے۔

تمہارا یہ حال تھا کہ بالکل بکھرے ہوئے  اور  ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اللہ نے تم سب کو باہم ملا دیا  اور  اکٹھا کر دیا،پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے، اب بھائی بھائی ہو گئے ہو۔

اس کے بعد فرمایا کہ اشتات و انتشار کی زندگی کو بقاء و قیام نہیں ہوسکتا۔وہ بلا کی ایک آگ ہے جس کے دہکتے ہوئے شعلوں کے اوپر کبھی قومی زندگی نشو و نما نہیں پا سکتی۔

وکنتم علی شفاحفرۃ من النار فانقذکم منھا کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تھتدون(103:3)

اور تمہارا حال یہ  تھا کہ آگ کے دہکتے ہوئے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ پر اللہ نے تمہیں بچا لیا،اللہ اپنے فضل و رحمت کی نشانیاں اس طرح کھولتا ہے تاکہ کامیابی کی راہ پالو۔

یہ بھی جا بجا بتلا دیا کہ قوموں  اور  ملکوں میں اس اجتماع و ائتلاف کی صالح و حقیقی زندگی پیدا کر دینا محض انسانی تدبیرسے ممکن نہیں، دنیا میں کوئی انسانی تدبیر امت نہیں پیدا کر سکتی۔یہ کام صرف اللہ ہی کی توفیق و رحمت  اور  اس کی وحی و تنزیل کا ہے کہ بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک بنا دے۔

لوانفقت مافی الارض جمیعامآالفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم انہ عزیزحکیم(63:8)

اگر تم زمین کاساراخزانہ بھی خرچ کر ڈالتے جب بھی ان بکھرے ہوئے دلوں کو اکٹھا کر دیا اسی لیے قرآن حکیم ظہور شریعت و نزول وحی کا پہلا نتیجہ یہ قرار دیتا ہے کہ اجتماع و ائتلاف پیدا ہو اور بار بار کہتا ہے کہ تفرقہ و انتشار اور شریعت و وحی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتے  اور  اسی لیے یہ نتیجہ شریعت سے یعنی عدوان  اور  اس کو بالکل ترک کر دینے کا ہے۔

فما اختلفوا حتی جآءھم العلم(93:10)

واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الامن بعدماجاء ھم العلم بغیابینھم(14:45)

ولاتکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعدماجآء ھم البینت(105:3)

اور اس بنا پر شارع نے اسلام  اور  اسلامی زندگی کادوسرانام جماعت رکھا ہے  اور  جماعت سے علیحدگی کو جاہلیت  اور  حیات جاہلی سے تعبیر کیا ہے جیساکہ آگے بالتفصیل آئے گا۔

من فارق الجماعۃ فمات میتۃ جاھلیۃ۔وغیرذالک

اور اسی بنا پر بکثرت وہ احادیث و آثار موجود ہیں جن میں نہایت شدت کے ساتھ ہرمسلمان کو ہر حال میں التزام جماعت  اور  اطاعت امیر کا حکم دیا گیا ہے۔ اگرچہ امیرغیرمستحق ہو،نا اہل ہو،فاسق ہو،ظالم ہو،کوئی ہو،بشرطیکہ مسلمان ہو اور نماز قائم رکھے۔ ما اقوموالصلوۃ  اور  ساتھ ہی بتلا دیا گیا کہ جس شخص نے جماعت سے علیحدگی کی راہ اختیار کی تواس نے اپنے تئیں شیطان کے حوالے کر دیا۔یعنی گمراہی  اور  ٹھوکراس کے لیے لازم ہو گئی ہے۔ زنجیر کا توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن کوئی کڑی زنجیرسے الگ ہو گئی ہو تو ایک چھوٹے سے حلقہ کا حکم رکھتی ہے جس کو انگوٹھے سے مسل دیا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خطبوں مین بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

علیکم بالجماعۃفان الشیطان مع الفذۃ وھومن الاثنین ابعد۔

دوسری روایت میں ہے۔ فان الشیطان مع الواحد(حدیث مبارکہ)

یعنی جماعت سے الگ نہ ہو،ہمیشہ جماعت بن کر رہو کیونکہ جب کوئی تنہا  اور  الگ  ہوا تو شیطان اس کاساتھی ہو گیا،دوانسان بھی مل کر رہیں تو شیطان ان سے دور رہے گا۔یعنی اتحادی  اور  جماعتی قوت ان میں پیدا ہو جائے گی۔اب وہ راہ حق سے نہیں بھٹک سکتے۔ یہ الفاظ مشہور خطبہ جابیہ کے ہیں، جو عبداللہ بن دینار،عامر بن سعد،سلیمان بن یساروغیرہم سے مروی ہے۔  اور  بیھقی نے امام شافعی کے طریق سے نقل کیا کہ انہوں نے اجماع کے اثبات میں اسی روایت سے استدلال کیا۔

اسی طرح حدیث متواتر بالمعنی، علیکم بالسوادالاعظم فانہ من شذشذفی النار اور یداللہ علی الجماعۃ لایجمع اللہ امتی علی الضلالۃ اوکماقال خطبۃ حضرت امیرکہ وایاکم والفرقۃ فان الشاذمن الناس للشیطان کما ان الشاذمن الغنم للذنب الامن دعا الی ھذا الشعارفاقتلوہ ولوکان تحت عمامتی ھذا۔غیرذالک۔

اس بارے میں معلوم و مشہور ہیں، آخری قول دیگر روایات میں بطریق مرفوع بھی منقول ہے۔ خلاصہ سب کا یہ ہے کہ ہمیشہ جماعت کے ساتھ مل کر رہو،جو جماعت سے الگ ہوا اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ افراد تباہ ہوسکتے ہیں مگر ایک صالح جماعت تباہ نہیں ہوسکتی۔اس پر اللہ کا ہاتھ ہے  اور  وہ کبھی ایسانہیں ہونے دے گا کہ پوری جماعت گمراہی پر جمع ہو جائے۔ اسی طرح نماز کی جماعت کی نسبت ہر حال میں التزام پر زور دینا  اور  اگرچہ امام نا اہل ہو لیکن سعی قیام اہل کے ساتھ التزام جماعت کو بھی جاری رکھنا حتیٰ کہ صلواخلف کل بروفاجر۔تواس میں بھی یہی حقیقت مضمر ہے کہ زندگی جماعتی زندگی ہے۔ انفراد و فرقت ہر حال میں بربادی و ہلاکت ہے۔ پس جماعت سے کسی حال میں باہر نہ ہونا  اور  یہی سبب ہے کہ سورۃ فاتحہ میں جو قومی دعامسلمانوں کوسکھلائی گئی۔اس میں متکلم واحد نہیں بلکہ جمع، حالانکہ وہ دعا فرداً فرداً ہر مومن کی زبان سے نکلنے والی تھی۔اھدنا الصراط المستقیم(5:1)۔اہدنی نہیں کہا گیا۔یہ اس لیے کہ قرآن کے نزدیک فرد کی ہستی کوئی شے نہیں، ہستی صرف اجماع  اور  جماعت کی ہے  اور  فرد کا وجود اور اعمال بھی صرف اسی لیے ہیں تاکہ ان کے اجتماع و تالیف سے ہئیت اجتماعیہ پیداہواس لیے اس دعا میں کہ حاصل ایمان،خلاصہ قرآن  اور  عصارہ ا سلام ہے، متکلم جمع کا صیغہ آیا نہ کہ واحد کا  اور  اسی لیے مسلمانوں کی باہمی ملاقات کے وقت جو امتیازی دعا سکھلائی گئی،وہ جمع آئی ہے اگرچہ مخاطب واحد ہو یعنی السلام علیکم،السلام علیک نہیں قرار دیا گیا۔علت اس کی یہی ہے، نہ کہ وہ جو لوگوں نے سمجھی ہے۔

اور اسی بنا پر احکام و اعمال شریعت کے ہر گوشے  اور  ہر شاخ میں یہی اجتماعی و ائتلافی حقیقت بطور اصل اساس کے نظر آتی ہے، نماز کی جماعت خمسہ  اور  جمعہ و عیدین کا حال ظاہر ہے  اور  حج بجز اجتماع کے  اور  کچھ نہیں، زکوٰۃ کی بنیاد میں اجتماعی زندگی کا قیام  اور  ہر فرد کے مال و اندوختہ میں جماعت کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔

علاوہ بریں اس کی ادائیگی کا نظام بھی انفرادی حیثیت سے نہیں رکھا گیا بلکہ جماعتی حیثیت سے یعنی ہر فرد کو اپنی زکوٰۃ خرچ کر دینے کا اختیار نہیں دیا گیاجیساکہ بدقسمتی سے آج مسلمان کر رہے ہیں  اور  جو صریحاً غیر شرعی طریقہ ہے بلکہ مصارف زکوٰۃ کی رقم امام و خلیفہ وقت کے سپرد کر دینے کا حکم ہے، پس اس کے خرچ کی بھی اصلی صورت جماعت ہے۔ نہ کر فرد۔یہ امام کا کام ہے کہ اس کا مصرف تجویز کر لے  اور  مصارف مخصوصہ میں سے جو مصرف زیادہ ضروری ہواس کو ترجیح دے۔ ہندوستان میں اگر امام کا وجود نہ تھا،جس طرح جمعہ و عیدین وغیرہ کا انتظام اسی عذر کی بنا پرکیا گیا،زکوٰۃ کا بھی کیا جاتا تو پھر یہ حقیقت کسی قدر واضح ہو جاتی ہے۔ اگر ان تمام مشہور احادیث پر غور کیا جائے جن میں مسلمانوں کی متحدہ قومیت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ تری المؤمنین فی تراحمھم وتوادھم وتعاطفھم کمثل الجسداذا اشتکی عضوآ تداعی لہ سائرجسدہ بالسھروالحتمی۔المؤمن للمومن کالینیان یشدبعضہ بعضا۔

یعنی مسلمانوں کی قومیت ایسی ہے جیسے ایک جسدیعنی جسم  اور  اس کے مختلف اعضاء ایک عضو میں دردہوتوساراجسم دردمحسوس کرتا ہے  اور  اس کی بے چینی  اور  تکلیف میں اس طرح حصہ لیتا ہے جیسے خوداس کے اندر درد اٹھ رہا ہو نیز ان کی مثال دیوار کی سی ہے ؛ہر اینٹ دوسری اینٹ سے سہاراپاتی  اور  اسے سہارادیتی ہے۔ پھر تشبیک اصابع کر کے اس کی تصویر بتلا دی یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں رکھ کر دکھلا دیا کہ اس طرح ایک دوسرے سے جڑا ہوا متصل ہے۔ سوان تمام تصریحات میں بھی اسی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اسلام کی قومیت متفرق اینٹوں کا نام نہیں ہے، دیوار نام ہے۔ الگ الگ اینٹ کامستقل وجود نہیں ہے، تو اجتماعی وجود ہے۔ یعنی دیوار کا ایک جزو ہے  اور  ان اجزاء کے ملنے سے دیوار متشکل ہوتی ہے۔

اور یاد رہے کہ یہ جونمازتسویہ صفوف یعنی صف بندی  پرسخت زور دیا گیا ہے یعنی صف بندی پر اور سب کے سروں، سینوں، پاؤں کے سیدھ ہونے پر۔ لتسون صفوفکم اولیخالفن اللہ بین وجوھکم(بخاری شریف) اور روایت انس کی، سوواصفوفکم فان تسویہ الصفوف من اقامۃ الصلوۃ (بخاری شریف)

                                    “وفی لفظ”من مقام الصلوۃ۔تواس میں بھی یہی بھید ہے  اور  تشریح کا یہ موقع نہیں ہے۔ اس کے بارے میں قرآن وسنت کی تصریحات و کمالات جو محتاج تفسیروکشف تھیں ایک ضخیم کتاب مجلدموسوم بہ تفسیرالبیان میں مفصل لکھ چکا ہوں۔

اس قانون الٰہی کے مطابق مسلمانوں کی قومی زندگی کے عروج کا اصلی دور وہی تھا جب ان کی قومی و انفرادی، مادی و معنوی، اعتقادی و عملی زندگی پر اجتماع و ائتلاف کی رحمت طاری تھی  اور  ان کے تنزل و ادبار کی اصل بنیاداس وقت پڑی جب اجتماع و ائتلاف کی جگہ اشتات و انتشار کی نحوست چھانی شروع ہو گئی۔

ابتدا میں ہر مادہ مجتمع تھا۔ہر طاقت سمٹی ہوئی تھی۔ہر چیز بندھی ہوئی تھی،لیکن بتدریج تفرقہ و انتشار کی ایسی ہوا چلی کہ ہر بندھن کھلا۔۔۔ہر جماؤ پھیلا  اور  ہر ملی جلی  اور  اکٹھی طاقت الگ الگ ہو کر منتشر اور تتربتر ہو گئی۔قرآن کریم کے بتلائے ہوئے قانون تنزل اقوام کے مطابق یہ حالت ہر چیز اور ہر گوشہ وجود و عمل پر طاری ہوئی  اور  ایک ہزاربرس پر تین صدیاں گذر چکی ہیں کہ برابر طاری ہو رہی ہے  اور  بڑھتی جاتی ہے۔ لوگ اسباب تنزل امت پر بحث کرتے، طرح طرح کی علتیں ٹھہراتے  اور  طرح طرح کے ناموں سے موسوم کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالانکہ قرآن وسنت  اور  عقلیات صادقہ کے نزدیک تنزل کے تمام فسادات و نتائج صرف اسی ایک چیز کا نتیجہ ہیں۔ اس ایک حقیقت کو کتنے ہی مختلف ناموں سے پکارو مگر اصل علت اس کے سواکوئی نہیں۔

قوتوں کے انتشارکادورساری چیزوں پر طاری ہوا۔لیکن یہاں صرف ایک ہی پہلو واضح کرنا مقصود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاوجوداسلامی طاقت کی اصلی شخصیت تھی۔آپ جب دنیاسے تشریف لے گئے تو صرف ایک ہی داعی شریعت یا عامل وحی کی جگہ خالی نہیں ہوئی۔بلکہ ان ساری قوتوں، سارے منصوبوں ساری حیثیتوں  اور  ہر طرح کے نظری عملی اختیارات و قوی کی جو آپ کی شخصیت مقدسہ میں اکٹھی تھیں  اور  جن کا آپ کے تنہاوجودمقدس میں جمع ہونا اسلام کی شرعی و دینی خصوصیات میں سے تھا۔اسلام کا داعی مسیحیت کے مقدس پہاڑی واعظ کی طرح صرف ایک اخلاقی معلم نہ تھا  اور  نہ ہی دنیا کے فاتح حکمرانوں کی طرح محض ایک جہانگیر اور عالم ستان شہنشاہ تھا۔اسلام نے دین کودنیاسے  اور  شریعت کو حکومت و جہانبانی سے الگ نہیں رکھا۔وہ یہ سکھلانے آیا تھا کہ دین و دنیا دو نہیں ایک ہی چیز ہیں  اور  شریعت سے حکومت وسلطنت الگ نہیں۔ بلکہ سچی حکومت  اور  خدا کی مرضی کے مطابق سلطنت وہی ہے جس کو شریعت نے خود پیدا کیا ہو۔پس اسلام کے داعی کا وجود ایک ہی وقت میں ان تمام حیثیتوں  اور  منصوبوں کا جامع تھا جو ہمیشہ دنیا کی صدہا مختلف شخصیتوں کے اندرمنقسم رہی ہے۔ وہ اللہ کا پیغمبر تھا۔شریعت کا خقلن تھا،امت کا بانی تھا،ملکوں کا حاکم  اور  سلطنت کا مالک تھا۔وہ اگر پتوں  اور  چھال سے بنی ہوئی مسجد کے منبر پر وحی الٰہی کا ترجمان  اور  انسانی سعادت و ہدایت کا واعظ تھاتواسی کے صحن میں یمن کا خراج تقسیم کرنے والا  اور  فوجوں کو میدان جنگ میں بھیجنے کے لیے سپہ سالارلشکربھی تھا۔وہ ایک ہی وقت  اور  ایک ہی زندگی میں گھروں کا نظام معاشرت درست کرتا،نکاح و طلاق کے قوانین نافذ کرتا،ساتھ ہی بدر کے کنارے دشمنوں کا حملہ بھی روکتا  اور  مکہ کی گھاٹیوں میں سے ایک فاتح حکمران کی طرح نمایاں بھی ہوتا تھا۔غرضیکہ اس کی ایک شخصیت کے اندر مختلف حیثیتیں  اور  مناصب جمع تھے۔ اسلام کا نظام دینی یہی تھا کہ یہ ساری قوتیں ایک ہی فرد میں جمع رہیں۔ ۔۔جب آپ دنیاسے تشریف لے گئے تو خلفاء راشدین کی خلافت خاصہ اسی اجتماع قوی و مناصب پر قائم ہوئی  اور  اس لیے اس کو منہاج نبوت سے تعبیر کیا  گیا یعنی یہ نیابت ٹھیک ٹھیک ہر لحاظ  اور  ہرپہلوسے جامع نبوت کی سچی قائم مقامی اپنے اندر رکھتی تھی۔

منصب نبوت مختلف اجزاء نظر و عمل سے مرکب ہے۔ ازاں جملہ ایک جزو وحی تنزل کا مورد ہونا  اور  شریعت میں تشریح وتاسیس قوانین کا اختیار رکھنا ہے یعنی قانون وضع کرنا  اور  اس کے وضع و قیام کی معصومانہ وغیرمسئولانہ قوت،اس جزء کے اعتبارسے، نبوت آپ کے وجود پر ختم ہو چکی ہے  اور  قیامت تک کے لیے شریعت و قانون کے وضع و قیام کا معاملہ کامل ہو چکا ہے۔

جب نعمت کامل ہو چکی تو پھر کامل چیز کوہی ہمیشہ باقی رہنا چاہیے۔ اس کی جگہ کسی دوسری چیز کا  آنا نقص کا ظہور ہو گانہ کہ تکمیل کا۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔(3:5)

لیکن منصب نبوت اس اصلی جز کے ساتھ جہت سے طبعی اجزاء پربھی مشتمل تھا  اور  ضرور تھا کہ ان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے۔ اس چیز کو مختلف احادیث میں مختلف تعبیرات سے موسوم کیا گیا ہے۔ حضرت  عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے محدث(بالفتح) کا مقام بتلایا گیا،علماء کو انبیاء کا وارث کہا گیا۔معتبرات صادقہ کو نبوت کاچالیسواں جزء قرار دیا۔

                                    لم یبق من النبوۃ الا المبشرات۔حدیث تجدید بھی اسی سلسلہ میں داخل ہے پس خلفائے راشدین کی جو نیابت پہنچی،اس میں وحی و تشریح کی قائم مقامی تو نہیں ہوسکتی تھی،لیکن  اور  تمام اجزاء وحی و خصائص نبوت کی نیابت داخل تھی۔داعی اسلام کا وجود نبوت کے ساتھ خلافت ارض،حکومت وسلطنت،نظام و قوام سیاست،قیاد تفوج  و حرب،فتح و عمران ممالک،ریاست مجالس شوری غرض جہاں بانی و حکمرانی کے تمام منصب تنہا اپنی شخصیت کے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے ٹھیک اسی طرح خلافت خاصہ میں بھی خلفاء راشدین کا تنہا وجود ان ساری نظری و عملی قوتوں  اور  تمام منصوبوں کا جامع ہوا۔وہ ایک ہی وجود کے اندر صاحب امامت و خلافت بھی تھے، صاحب اجتہاد و قضا بھی تھے، صاحب سیاست  اور  نظم و احکام بلاد بھی۔اصلاً امامت کبری کا مقام اجتہاد دینی  اور  سیاست ملکی دونوں سے مرکب ہے۔ اس لیے ان کی امامت میں یہ دونوں قسمیں اپنی تمام شاخوں کے ساتھ اکٹھی تھیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کے دار الشوریٰ میں مسائل شرعیہ کا بہ حیثیت ایک مجتہد کے فیصلہ کرتے تھے۔ عدالت میں مقدمے سنتے تھے  اور  دیوان فوجی میں فوجوں کو تنخواہ بانٹتے تھے۔ اگر وہ نماز جنازہ کی معین تکبیرات پر صحابہ کا اجماع کراتے تھے راتوں کو شہر میں گشت لگا کراحتساب کا فرض بھی ادا کرتے تھے۔ میدان جنگ میں احکام بھی وہی بھیجتے  اور  روم کے سفیرکوبہ حیثیت شہنشاہ اسلام اپنے سامنے بھی وہی بلاتے۔

اسی طرح نبوت کا مقام تعلیم و تربیت امت کی مختلف قوتوں سے مرکب تھا۔قرآن حکیم نے ان کو تین اصولی قسموں میں بانٹ دیا۔

یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم  ویعلمھم الکتب والحمکمۃ(2:62)

تلاوت آیات،تزکیہ نفوس  اور  تعلیم کتاب و حکمت۔خلفائے راشدین ان تینوں منصبوں میں وجود نبوت کے نائب تھے۔ وہ منصب اجتہاد و قضاء شرح کے ساتھ قوت ارشاد و تزکیہ نفوس و تربیت بھی رکھتے تھے۔ وہ ایک صاحب وحی کی طرح خدا کے کلام کی منادی کرتے۔ ایک نبی کی طرح تعلیم و کتاب  اور  حکمت وسنت سے امت کی تربیت و پرورش کرنے والے تھے۔

وہ ایک ہی وجود میں ابوحنیفہ و شافعی بھی تھے  اور  جنید وشبلی بھی،نخعی و حماد بھی تھے  اور  ابن معین و ابن راہویہ بھی،جسموں کا نظام بھی انہی کے ہاتھ میں تھا  اور  دلوں کی حکمرانی بھی انہی کے قبضہ میں تھی۔یہی حقیقت  اور  کامل معنی منصب نبوت کی نیابت کے ہیں  اور  اسی لیے ان کا وجود اور ان کے اعمال بھی نبوت کا آخری جزء تھے کہ:۔علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین۔  اور  اسی طرح وعضوا علیھابالنواجز۔کے حکم میں نہ صرف سنت عہد نبوت بلکہ خلافت راشدہ و خاصہ کی سنت بھی داخل ہوئی  اور  شرح اس سرالٰہی کی بہت طولانی ہے۔ یہاں محض اشارات مطلوب ہیں !

لیکن جیساکہ پہلے سے خبر دے دی گئی تھی،اجتماع و ائتلاف کی۔یہ حالت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ختم ہو گئی۔اس کے بعد اشتات و انتشار کا دور شروع ہوا۔ازاں جملہ مرکزی قوتوں  اور  منصوبوں کا انتشار و اشتات تھاجس نے فی الحقیقت امت کا تمام نظام شرعی و اصلی درہم برہم کر دیا۔خلافت خاصہ کے بعد یہ ساری یکجا قوتیں الگ الگ ہو گئیں۔ ایک وجود کی جگہ مختلف وجودوں میں ان کا ظہور اور نشو و نما ہوا۔حکومت و فرمانروائی کا ٹکڑا الگ ہو کر مجرد پادشاہی کی شکل میں آ گیا۔اسی کی طرف اشارہ تھا۔ الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثم ملک۔اس کے بعد صرف پادشاہی ہی رہ گئی،اجتہاد اور قضاء شرعی جزء خلافت سے الگ ہوا۔مجتہدین و فقہا کی ایک جماعت پیدا ہو گئی۔انہوں نے یہ کام سنبھالا،اسی طرح تعلیم و تربیت روحانی کے کاروبارسے نظام حکومت بالکل الگ ہو گیا۔

پہلے خلافت کی ایک ہی بیعت تمام مقاصد کی کفیل تھی۔اب خلیفہ کا وجود محض پادشاہی کے لیے  اور  فقہاکامجردواستنباط احکام ومسائل کے لیے رہ گیا۔تزکیہ نفس  اور  ارشاد قلوب کے لیے ایک دوسری بیعت مستقلاقائم ہوئی جو بیعت توبہ و ارشاد۔اس طرح اصحاب طریقت و تصوف کی بنیاد پڑی،پہلے صرف ایک وجود تھا،وہ پادشاہ،مجتہد،مرشد،قاضی القضاۃ،سپہ سالارجنگ،میر عدل واحتساب،سب کچھ تھا۔اب یہ ساری قوتیں الگ الگ ہو گئیں حکومت و فرمانروائی الگ الگ وجود میں آئی۔اجتہاد اور تقیہ کے لیے دوسراوجودمرکزبناء قضا کے تیسرا  ارشاد و تزکیہ،قلوب کے لیے چوتھا وھلم جر غرضیکہ عہد اجتماع قومی و مناصب کے بعد دور انتشاری قوی و مناصب شروع ہو کر رفتہ رفتہ کمال ظہور و بلوغ تک پہنچ گیا۔حتی کہ یہ تمام قوتیں اس طرح ایک دوسرے سے بیگانہ و مخالف ہو گئیں کہ یا تو ایک ہی وجود میں جمع تھیں یا اب مختلف وجودوں میں بٹ کر بھی متفق نہ رہ سکیں۔ اختلاف صرف تعدد و تنوع میں نہیں رہا بلکہ اختلاف قضاء کی شکل میں پیدا ہو گئی۔یہی سب سے بڑی مصیبت و ہلاکت تھی جو امت پر طاری ہوئی۔

مسلمانوں کے تنزل و ادبار کی اصلی علت یہ ہے۔ وہ افسانے نہیں ہیں جن میں تم سرمت ہو۔افسوس کہ سطحی و جزئی حالات کی استغراق نے اصلی اسباب و علل پر غور کرنے کی تمہیں کبھی مہلت نہ دی  اور  بحث و نظر میں یورپ کی تقلیدسے آزاد  نہ ہوسکے کہ خالص اسلامی فکرونظرسے اسباب ترقی و تنزل پر تدبر کرتے۔

غرضیکہ خلافت راشدہ کے بعدسلسلہ خلافت قائم ہوا۔خواہ وہ قرشی رہا ہو یا غیر قرشی،مجرد ملوکی و پادشاہی کاسلسلہ تھا  اور  بجزچندمستثنی اوقات کے جیساکہ عہد حضرت عمر بن العزیز،یہ نہایت نبوت کے تقریباً تمام اجزا سے یک قلم خالی رہا۔منصب بٹ چکے تھے۔ قوتیں منتشر ہو چکی تھیں۔ البتہ جو انقلاب سلطان عبدالحمید خاں کے زمانے میں ہوا  اور  جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلاطین عثمانیہ کی خلافت طریق استبدادی و شخصی طریق شوری میں تبدیل ہو گئی۔سوبلاشبہ خلافت راشدہ کی طرف عود و رجعت کا ایک یہ مبارک قدم تھاجس کے لیے شوری  اور  پارلیمنٹ کاہوناسب سے پہلی شرط ہے۔ لیکن ان جزئی مستثنیات کے علاوہ تمام حالات و خصائص ہر دور اور ہرسلسلے کے وہی رہے جو ایک جامع لفظ ملک عضوض میں بتلا دیے گئے تھے۔  اور  اس میں بھی کبھی کوئی نمایاں  اور  پائیدار تبدیلی نہ ہوئی لیکن یہاں اس بات کا لحاظ ضروری ہو گا یعنی اجتماع،اتحاد،ائتلاف،امتزاج  اور  انتظام یہ پانچ عناصر ہیں جو ہر قومی تنظیم کے لیے ضروری ہیں  اور  ان میں ترتیب فطری طور پر یہی ہو گی جو یہاں ذکر ہے۔ سب سے پہلے درجہ اجتماع ہو گا۔پھر ائتلاف اس کے بعد امتزاج  اور  سب کے آخر میں انتظام ہو گا۔جس قوم نے یہ پانچ مراتب طے کے لیے توسمجھوکہ اس نے عروج و ارتقاء فلاح و کامرانی کی سب منزلیں طے کر لیں اب اس کے لیے منزل مقصود تک پہنچنا مشکل نہیں۔

جماعت سے مقصود یہ ہے کہ افراد کا ایک ایسامجموعہ تیار کیا جائے جس میں اتحاد،امتزاج  اور  نظم ہو۔اتحادسے مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال حیات میں منتشر نہ ہوں۔ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں  اور  ان کے تمام اعمال مل جل کر انجام پائیں کسی گوشہ عمل میں بھی پھوٹ  اور  بے گانگی نہ ہو،ائتلاف کا مرتبہ اتحاد سے بلند تر ہے۔ اتحاد صرف باہم مل جاتا ہے، ضروری نہیں کہ کسی تناسب کے ساتھ ترکیب ہوئی ہو لیکن ائتلاف سے مقصودایسا اتحاد ہے جو محض اتحاد ہی نہ ہو بلکہ ایک صحیح ومناسب ترکیب کے ساتھ اتحاد ہو یعنی منتشرافراداس طرح باہم ملے ہوں کہ جس فرد کواس کی صلاحیت و قوت کے مطابق جو جگہ ملنی چاہیے، وہی جگہ اسے ملی ہو اور فرد کی انفرادی قوت کو جماعتی ترکیب میں اتنا ہی دخل دیا جائے، جتنی مقدار میں دخل پانے کی اس میں استعدادہے۔ ایسانہ ہو کہ زید کوسردارہوناچاہیے لیکن اس سے چاکری کا کام لیا جائے  اور  عمر کی قابلیت کا عنصر چھٹانک بھر جزو جماعت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کوسیربھرقراردے دیا جائے۔

امتزاج ترکیب کاتیسرادرجہ ہے، اس میں کمیت سے کیفیت حاصل کر سکتا ہے۔

ویساہی مزاج اس کے ساتھ ملایا جائے۔ یہ نہ ہو کہ دوایسے آدمیوں کو ملا دیا گیا،جن کی طبیعت و خصلت  اور  استعدادوصلاحیت باہم دگر میل نہیں کھا سکتی  اور  اس لیے خواہ کتنا ہی دونوں کو ملاؤ لیکن تیل  اور  پانی کی طرح ہمیشہ الگ ہی نظر آئیں گے۔ باہم مل جل کریک جان نہ ہو پائیں۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح عناصرکواس لیے پیدا کیا ہے کہ باہم دگر مل کر ایک مرکب وجود میں متشکل ہوں، افرادانسانی کو بھی اسی لیے پیدا کیا تاکہ ان کے باہم ملنے سے جماعت پیدا ہو۔جماعت ایک مرکب وجود ہے۔ افراداس کے عناصر ہیں۔ فرد بجائے خود کوئی کامل وجود نہیں پا سکتا۔لیکن یہ باہم ملنا امتزاج کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ ٹکڑا اپنے صحیح ومناسب ٹکڑے کے ساتھ مل کراس طرح جڑ جائے کہ معلوم ہو کہ یہ نگینہ اسی انگشتری کے لیے تھا۔نظم سے مقصود جماعت کی وہ تربیتی و تقویمی حالت ہے جب اس کے تمام افراد اپنی اپنی جگہوں میں قائم،اپنے اپنے دائرہ میں محدود اور اپنے اپنے فرائض و اعمال کے انجام دینے میں سرگرم ہوں۔

 

 حواشی

 

مفرادات امام راغب 95

مفرادات 19

مسنداحمد1/275،البخاری:کتاب الفتن7054

مسلم کتاب الامارۃ ص۔129

سنن البیھقی 7/91

مشکوۃ باب الاعتصام 1/30

مشکوۃ باب الاعتصام 1/30

سنن البیھقی:4/19 قال البیھقی ضعیف

البخاری:کتاب الادب 6511

البخاری:کتاب الادب 6+026

البخاری:کتاب الاذان 717

البخاری کتاب الاذان 723

البخاری:کتاب التعبیرص:6990

الترمذی : ابواب العلم:2681وقال ھذاحدیث حسن صحیح

الترمذی ابواب الفتن2231

 

 

 

 

مرکزیت قومیہ

 

 

اس کے بعد اہم مسئلہ اتباع خلیفہ کا ہے۔ خلیفہ خلف سے ہے۔ خلف کے معنی جانشینی  اور  قائم مقامی کے ہیں، خواہ یہ نیابت و جانشینی امورحسنہ میں ہویا اعمال قبیحہ میں، ہر صورت میں خلافت  اور  نیابت ہے نبی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ فرمایا ہے کیوں کہ انسان بھی اپنے خالق کا اپنے اعمال و احوال تکوینیہ  اور  افعال و کیفیات طبیعہ میں اپنے خالق کا قائم مقام  اور  جانشین ہے۔ ایسے ہی امور شرعیہ  اور  معاملات تشریعیہ میں بھی اس کی نیابت و قائم مقامی کا شرف اس کو حاصل ہے۔ امور شرعیہ میں اس کی قائم مقامی  اور  جانشینی اس طرح ہو گی کہ نظام عدل و انصاف کو اپنے شہنشاہ حقیقی کی جانب سے نافذ اور جاری کرنے کا حق اس کوہو گا۔بنابریں خلافت اقتدار ارضی کا نام ہے۔ یہ کوئی اقتدارسماوی نہیں۔ جس کے پاس ارضی  اور  زمینی حکومت و اقتدار ہے وہ خلیفہ ہے ورنہ نہیں، اس اجمالی تمہید کے بعدسب سے زیادہ اہم مسئلہ سامنے آتا ہے یعنی اسلام کا وہ نظام شرعی جوعرمسلمان کو خلیفہ وقت کی معرفت  اور  اطاعت پراسی طرح مجبور کرتا ہے جس طرح اللہ  اور  اس کے رسول کی اطاعت پر۔جب تک وہ اللہ  اور  اس کے رسول کے خلاف کوئی حکم نہ دے، اسلام کا قانون اس بارے میں اپنی تمام شاخوں  اور  تعلیموں کی طرح فی الحقیقت کائنات ہستی کے لدنی نظام کا ایک جزو اور اقوام ہستی کی زنجیر فطرت کی ایک قدرتی کڑی ہے۔ کائنات کے ہر حصہ  اور  ہر گوشہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کی قدرت وسنت ایک خاص نظام پر کارفرما ہے جس کا قانون مرکز یا قانون ادوارسے تعبیرکیاجا سکتا ہے یعنی قدرت نے خلقت و نظام خلقت کے بقا و قیام کے لیے ہر جگہ  اور  ہر شاخ وجود میں یہ صورت اختیار کر رکھی ہے کہ کوئی ایک وجود تو بمنزلہ مرکز کے ہوتا ہے  اور  بقیہ اجسام ایک دائرے کی شکل میں اس کے چاروں طرف وجود پاتے ہیں  اور  پورے دائرے کی زندگی  اور  بقا صرف اس مرکزی وجود کی زندگی  اور  بقاء پر موقوف ہوتی ہے۔ اگر ایک چشم زون کے لیے بھی دائرہ کے اجسام اپنے مرکزسے الگ ہو جائیں یا مرکز کی اطاعت وانقیادسے باہر ہو جائیں تو معاً نظام ہستی درہم برہم ہو جائے  اور  دائرہ کی اکیلی ہستیاں مرکزسے الگ رہ کر کبھی قائم قائم و باقی نہیں رہ سکتیں گی۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو بعض اصحاب اشارات نے یوں تعبیر کیا ہے کہ الحقیقۃ کا مکرہ  اور  اصحاب فتوحات نے کہا کہ دائرہ قاب قوسین ہے۔

یہ قانون مرکزیت و دائرہ نظام ہستی کے ہر جزء  اور  ہر حصہ میں صاف صاف دیکھاجا سکتا ہے۔ یہ نظام شمسی جو ہمارے اوپر ہے، ستاروں کی گنجان آباد  کروں کا یہ صحرائے بے کنارہ،زندگی  اور  حرکت کا یہ محیرالعقول طلسم کیا ہے ؟کس نظام پریہ پورا کارخانہ چل رہا ہے۔ اسی قانون مرکزیت پر متحرک سیاروں کے حلقے  اور  دائرے ہیں۔ ہر دائرہ کا نقطہ حیات و بقاء سورج کا مرکزی نقطہ ہے۔ تمام ستارے اپنے اپنے کعبہ مرکز کا طواف کر رہے ہیں  اور  ہر دائرہ کی ساری زندگی  اور  بقامرکزشمس کی اطاعت و انقیاد پر موقوف ہے۔ ذلک تقدیرالعذیزالعلیم(96:6)خود ہماری زمین بھی ایک ایسے ہی دائرہ کی ایک کڑی ہے  اور  شب و روز اپنے مرکز کے طواف و انقیاد میں مشغول ہے۔ ہرستارے کے طواف و دوران کے لیے حکمت الٰہی نے ایک خاص راہ  اور  ایک خاص زمانہ قرار دے دیا ہے۔ وہ اس سے باہر نہیں جا سکتا۔سببحکم ولہ اسلم من فی السموت ومن والارض(83:3)بحکم الم تران اللہ یسجدلہ من فی السموت ومن فی الارض الشمس والقمروالنجوم(18:22)خدا کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق اپنی اپنی جگہ میں کام کر رہے ہیں۔ لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھاروکل فی فلک یسبحون(40:36)قانون مرکزیت کا یہ پہلا  اور  بلند ترین نظارہ تھا۔اب اس کے بعدجس قدر نیچے اترتے آئیں گے  اور  حرکت و حیات کی بلندیوں سے لے زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے گوشوں تک نظر ڈالیں گے۔ ہر جگہ زندگی  اور  بقا اس قانون سے وابستہ نظر آئے گی۔عالم نباتات میں درخت کودیکھواس کی ایک مجتمع وحدت کتنی وسیع کثرت سے مرکب ہے، ڈالیاں ہیں، شاخیں ہیں، پتے ہیں، پھول ہیں لیکن سب کی زندگی ایک ہی مرکز یعنی جڑسے وابستہ ہے۔ جونہی جڑسے کوئی شاخ الگ ہوئی،موت و فنا اس پر طاری ہو گئی۔آفاق کو چھوڑ کر عالم النفس کی طرف آؤ قانون مرکزیت کا یہ پہلا  اور  بلند ترین نظارہ تھا۔اب اس کے بعدجس قدر نیچے اترتے آئیں گے  اور  حرکت و حیات کی بلندیوں سے لے کر زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے گوشوں تک نظر ڈالیں گے۔ ہر جگہ زندگی  اور  بقا اس قانون سے وابستہ نظر آئے گی۔عالم نباتات میں درخت کودیکھواس کی ایک مجتمع وحدت کتنی وسیع کثرت سے مرکت ہے، ڈالیاں ہیں، شاخیں ہیں، پتے ہیں، پھول ہیں لیکن سب کی زندگی ایک ہی مرکز یعنی جڑسے وابستہ ہے۔ جونہی جڑسے کوئی شاخ الگ ہوئی،موت و فنا اس پر طاری ہو گئی۔آفاق کو چھوڑ کر عالم النفس کی طرف آؤ اور خود اپنے وجود کودیکھوجسے کے دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں۔ تمہارے وجود کتنے مختلف ظاہری و باطنی اعضاء سے مرکب ہیں۔ اجسام  اور  وجود کی ایک پوری ہستی ہے جوتم میں آباد ہے۔ ہرجسم کا ایک فعل ہے  اور  ایک خاصہ لیکن دیکھو یہ ساری آبادی کس طرح ایک ہی مرکز کے آگے سربسجودہے۔

سب کی حیات کا مرکز صرف قلب ہے۔ اس سے الگ رہ کر ایک عضو بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔الا ان فی الجسدمضفتہ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوھی القلب

اسلام فی الحقیقت سنت اللہ ا ور فطرت اللہ کاہی کادوسرا نام ہے۔ اگر نوع انسانی کی سعادت و ارتقاء کے لیے قانون اسلام اسی فاطر السموات ولارض کا بنایا ہوا ہے جس نے تمام کائنات کے لیے قانون حیات بنایا تو ضرور ہے کہ دونوں اختلاف نہ ہو بلکہ پہلا قانون پچھلے قانون عام کا ایک ایساقدرتی جزء نظر آئے جیسے زنجیر کی ایک کڑی۔

پس اسلام کا نظام شرعی بھی ٹھیک ٹھیک اسی قانون مرکزیت پر قائم ہوا۔قرآن نے یہ حقیقت جا بجا واضح کی ہے کہ جس طرح اجسام و اشیاء کی زندگی اپنے اپنے مرکزسے وابستہ ہے۔ اس طرح نوع انسانی  اور  اس کی جماعت و افراد کاجسمانی و معنوی بقا بھی قانون مرکزیت پر موقف ہے جس طرح ستاروں کی زندگی  اور  حرکت کامرکزومحورسورج کا وجود ہے۔ اسی طرح نوع انسانی کامرکزسعادت انبیاء کرام کا وجود ہے۔ پس ان کی اطاعت و انقیاد و بقاء حیات کے لیے ناگزیر ٹھہری وما ارسلنامن رسول الالیطاع باذن اللہ(64:4)

دنیا میں کوئی نبی نہیں آیامگراس کی اطاعت کی جائے  اور  اس لیے فرمایا۔فل اور بک لایؤمنون حتی یحکموک فیماشجربینھم ثم لایجدوا فی انفسھم حرجامماقضیت ویسلموا تسلیما(65:4)

لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ(21:33)پھر قوم و ملت کے بقاء کے لیے ہر طرح کے دائرے  اور  ہر طرح کے مرکز قرار دیے۔ اعتقاد میں اصلی مرکز عقیدہ توحید کوٹھہرایاجس کے گرد تمام عقائد کا دائرہ قائم ہے۔

ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء(48:4)

عبادت میں نماز کو مرکز عمل ٹھہرایاجس کے ترک کر دینے کے بعد تمام دائرہ اعمال منہدم ہو جاتا ہے۔

فمن اقامھا اقام الدین ومن ترکھافقدھدم الدین  اور  اس لیے یہ بات ہوئی کہ کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لایرون شیئامن الاعمال ترکہ کفرغیرالصلوۃ(ترمذی)یعنی صحابہ کرام کسی عمل کے ترک کر دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔ مگر نماز کے ترک کو۔اسی طرح تمام قوتوں  اور  ملکوں کا ارضی مرکزسعادت وادی حجاز کو کعبۃ اللہ قرار پایا۔

                                    جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیماللناس(97:5)پر غور کرو اور چونکہ یہ مرکز ٹھہرا اس لیے تمام دائرہ کا رخ بھی اس طرف ہوا۔خواہ دنیا کی کسی جہت میں مسلمان ہوں لیکن ان کامرکزاسی طرف ہونا چاہیے۔

وحیث ماکنتم فولووجوھکم شطرہ(144:2)

پھرجس طرح شخصی و اعتقادی  اور  عملی زندگی کے لیے مراکز قرار پائے، ضرور تھا کہ جماعتی  اور  ملی زندگی کے لیے بھی ایک مرکزی وجود قرار پائے۔ لہذا وہ مرکز بھی قرار دے دیا گیا۔تمام امت کواس مرکز کے گرد بطور دائرہ کے ٹھہرایا یا اس کی معیت،اس کی طلب پر لبیک  اور  اس کی دعوت پر انفاق جان و مال ہرمسلمان کے لیے فرض کر دیا گیا—— ایسافرض جس کے بغیر وہ جاہلیت کی ظلمت سے نکل کراسلامی زندگی کی روشنی میں نہیں آ سکتا۔اسلام کی اصطلاح میں اس قومی مرکز کا نام خلیفہ  اور  امام ہے  اور  جب تک یہ مرکز اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا ہے یعنی کتاب وسنت کے مطابق تواس کا حکم ہرمسلمان پراس کی اطاعت و اعانت اسی طرح فرض ہے جس طرح خودا للہ  اور  اس کے رسول کی۔

یایھا الذین امنواطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم فان تنازعتم فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخرذلک خیرواحسن تاویلا(59:4)

مسلمانو!اطاعت کرو اللہ کی، اس کے رسول کی  اور  تم میں جو اولو الامر ہو،اس کی۔پھراگرکسی معاملہ میں تم مختلف ہو جاؤ تو چاہیے کہ اللہ  اور  اس کے رسول کی طرف لوٹو اور اس کے فیصلہ پر متفق ہو جاؤ۔

اس آیت میں بالترتیب تین اطاعتوں کا حکم دیا گیا ہے، اللہ کی، رسول کی  اور  مسلمانوں میں جو اولو الامر ہو،اس کی۔اللہ کی اطاعت کتاب اللہ کی اطاعت ہے۔ رسول کی اطاعت سے مقصودسنت قول و فعل ہے۔ باقی رہی اطاعت اولو الامر تو نہایت قوی  اور  روشن دلیل موجود ہیں کہ اولوالامرسے مقصودمسلمانوں کا خلیفہ و امام ہے جو کتاب وسنت کے احکام نافذ کرنے والا،نظام امت قائم رکھنے والا  اور  تمام اجتہادی امور میں حکم وسلطان ہے۔

اولابحکم القرآن یفسربعضہ بعضا،اولوالامر کی تفیسرخودقرآن ہی کے اندر تلاش کرنی چاہیے۔ اسی سورت میں آگے چل کر یہ لفظ دوبارہ آیا ہے۔

واذاجاء ھم امرمن الامن اوالخوف اذاعوابہ ولوردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنھم لعلمہ الذین یستبطونہ منھم(83:4)

اور جب کوئی امن یا خوف کی خبر ان تک پہنچتی ہے توبلاسوچے سمجھے لوگوں میں پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اللہ کے رسول کی طرف  اور  ان لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جوان میں اولو الامر ہیں تو فوراً اصلیت کھل جاتی  اور  وہ اس خبر کے سچے جھوٹے ہونے کا پتہ لگا لیتے۔

اس آیت میں اس وقتوں کا ذکر کیا گیا ہے جب امن و خوف یعنی صلح و جنگ اور فتح وشکست کی افواہیں ملک میں پھیلتی ہیں  اور  بے اصل خبروں کی اشاعت سے لوگوں میں اضطراب  اور  غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتیں منافقین  اور  بعض ضعیف القلب مسلمانوں کی وجہ سے عہد نبوی میں بھی پیش آ جاتی تھی۔پس فرمایا کہ جب کوئی افواہ سنوتوپہلے اللہ کے رسول  اور  اولو الامر تک پہنچاؤ تاکہ وہ اس کی صحت و عدم صحت کی تحقیق کر لیں  اور  خبر کی نوعیت  اور  رایوں کی حالت پر غور کر کے صحیح نتائج کا استنباط کریں۔ ایسانہ کرو کہ جہاں کوئی افواہ سنی فوراً اس پر یقین کر لیا  اور  لوگوں میں پھیلانا شروع کر دیا۔

اب غور کرنا چاہیے کہ اس آیت میں اولوالامرسے مقصود کون لوگ ہوسکتے ہیں یہ ظاہر ہے کہ ذکر امن و خوف کے لیے حالات کا ہے یعنی صلح و جنگ  اور  فتح وشکست کا۔ان حالات کا تعلق صرف حکام و امرء ملک ہی سے ہوسکتا ہے، علماء فقہاسے نہیں ہوسکتا۔معاملہ نظم ملک و قیام امن کا ہے، استنباط مسائل  اور  حلال و حرام کا نہیں۔ پس لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اولوالامرسے مقصود وہی لوگ ہیں جن کے سپردملک کا انتظام  اور  جنگ و امن کا نظم ونسق ہوتا ہے  اور  جو ان خبروں کی تحقیق کر سکتے ہیں۔ یعنی ارباب حکومت و امارت۔

ثانیاً،کتاب وسنت  اور  صدر اول کے آثار عربیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ امر جب ایسی ترکیب کے ساتھ بولا جائے جیساکہ یہاں ہے تواس کا اطلاق عموماً حکومت وسلطنت ہی کے معنوں پر ہوتا ہے۔ احادیث میں یہ استعمال کثرت سے موجود ہے کہ ایک صاحب نظر کے لیے کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں۔ نیز لغت کی بنا پربھی ظاہر ہے کہ امر کے معنی حکم کے ہیں  اور  اولی الامر کے معنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ذوی الامر کے کئے ہیں یعنی حکم والا  اور  معلوم ہوا کہ صاحب حکم وہی ہوسکتا ہے جو صاحب حکومت  ہو۔

ثالثاً،احادیث صحیح سے ثابت ہے کہ خود یہ آیت جس واقعہ کی نسبت اتری وہ امیر جماعت کی اطاعت ہی کا معاملہ تھا۔بخاری ومسلم میں ہے۔ عن ابن عباس نزلت فی عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی اذبعثہ النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم فی سریہ۔ اور امام طبری نے تفسیرمیں ایک روایت درج کی ہے کہ یہ آیت عمار بن یاسر اور خالد بن ولید کے باہمی نزاع کے بارے میں اتری۔ خالد امیر تھے  اور  عمار نے بلا ان کے حکم کے ایک شخص کو مزدوری پر رکھ لیا تھا۔نزلت فی قصہ حرث لعمارمع خالدوکان خالدامیرافاجارعماررجلایغیرامرہ فتخاصما۔

دونوں روایتوں میں ثابت ہوا کہ معاملہ امیر کی اطاعت و عدم اطاعت کا تھانہ کہ احکام ومسائل کا۔

رابعاً۔اکثر اقوال مرویہ صحابہ و تابعین سے بھی یہ ہی تفسیرمنقول ہوئی ہے بلکہ صدر اول میں صرف یہی تفسیرومعلوم تھی۔بہت سی موشگافیاں جو پیدا کی گئی ہیں، سب بعد کے مفسرین کی طبع زاد ہے حافظ ابن حجر نے ابن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہے۔

سنالت زید بن اسلم عنھالم یکن بالمدینہ احدیفسرالقرآن بعدمحمدابن کعب مثلہ فقال اقراماقبلھاتصرف فقرات ان اللہ بامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھاواذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل فقال ھذہ فی الولاۃ

یعنی مدینہ میں محمد بن کعب کے بعد زید بن اسلم سے بڑھ کر قرآن کامفسرنہ تھا۔میں نے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا اس آیت سے ماقبل آیت پڑھو،میں نے پڑھا۔

ان اللہ یامرکم ان نودوا الامنت الی اھلھاواذاحکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل(58:4)

تو انھوں نے کہا کہ مقصوداس سے حکام ہیں، چونکہ پہلے سے ذکر حکومت و قضا کا ہو رہا ہے۔ پس اولوالامرسے مقصود ارباب اقتدار ہیں جو حکومت رکھتے ہوں، طبری نے بسندصحیح حضرت ابوہریرہ  اور  میمون بن مھران وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ “ھم  الامراء” اور علامہ ابن حزم نے ان تمام صحابہ و تابعین کو شمار جن سے یہ تفسیرمنقول ہے۔ باقی رہا بعض صحابہ و تابعین کا یہ کہنا کہ اولوالامرسے مقصود اہل  اور  اصحاب نظر ہیں۔ مثلاً جابر بن عبداللہ کا قول کہ ہم اہل العلم والخیر، اور “مجاہد و عطاء،و ابو العالیہ کا قول کہ”ہم العلماء”تو ان اقوال میں  اور  اصحاب کی مشہورتفسیرمیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دراصل اسلام کا نظام حکومت و جماعت تو یہی تھا کہ حکومت و ولایت کا منصب تمام شرعی و علمی قوتوں سے مرکب ہوا  اور  اس وقت تک قوتوں کے انتشار اور مناصب کے تفرقہ کی بنیاد نہیں پڑی تھی۔پس جو شخص والی ملک  اور  حاکم مسلمین ہوتا تھا۔وہ بدرجہ اولی عالم و فقیہہ بھی ہوتا تھا۔پس جن صحابہ و تابعین نے اولو الامر کی تفسیرمیں علم و خیر کا ذکر کیا ہے تو انہوں نے واقعی بہت صحیح تفیسرکوگویاظاہرکر  دیا کہ مسلمانوں کا اولوالامرایسے ہی افراد کو ہونا چاہیے جو اہل علم و خیر ہوں۔ مگراس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اولوالامرسے مقصود علماء و فقہا کا وہ مخصوص گروہ مراد ہے۔ جواسالم کی جماعت کے انقراص کے بعد پیدا ہوا  اور  جس کا صدر اول کے مفسرین کو وہم و گمان بھی نہ ہوا ہو گا۔امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کا ایک قول نقل کیا کہ اولوالامرسے مراد ابو بکر و عمر ہیں۔ اس سے بھی ان کا مقصود یہی ہے کہ اولو الامر ہی مسلمانوں کا خلیفہ و امام ہوسکتا ہے۔ جیسے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور  عمر رضی اللہ تعالیٰ۔

اصل یہ ہے کہ قرآن وسنت ایک قانون ہے لیکن قانون بالکل بیکار ہے، اگر کوئی قوت نافذہ نہ ہو یعنی اس قانون پر عمل کرانے والی قوت  اور  ظاہر ہے کہ جب قوت نافذہ ہو گی تواس کے بعد لامحالہ قوت مقننہ کی اطاعت ہو گی۔ایک دیہاتی تک جانتا ہے کہ گورنر اور نائب السطنت کی اطاعت عین بادشاہ کی اطاعت ہے بلکہ ایک سپاہی کی اطاعت بھی عین بادشاہ  اور  قانون کی اطاعت ہے  اور  اس سے مقابلہ کرنا عین بادشاہ  اور  قانون سے بغاوت کرنا ہے۔ یہ ساری بحثیں اس لیے پیدا ہوئیں کہ اسلام کے جماعتی نظام کی اہمیت  پر نظر نہ گئی۔اگر یہ حقیقت پیش نظر ہوتی کہ شریعت کا نفاذ اور امت کے قوام و انضمام کے لیے ایک مرکزی اقتدار ضروری ہے  اور  وہ امام  اور  اس کا نائب  اور  امراء ہیں۔ تو اولو الامر کا مطلب بالکل صاف تھا۔کسی کاوش  اور  بحث کی ضرورت ہی نہ تھی۔

فان تنازعتم سے یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی کہ اسلامی خلیفہ کاوجودمسیحی پوپ سے کسی درجہ مختلف ہے جواسلام کے نزدیک ارباب من اللہ میں داخل ہے مسیحیت کا خلیفہ دراصل ارضی خلیفہ نہیں بلکہ آسمانی فرمانروا ہے جو مذہب کی آخری طاقت اپنے قبضہ میں رکھتا ہے لیکن اسلامی خلافت،ارضی یعنی حکومت وسلطنت ہے۔ وہ صرف شریعت و امت کا حفاظت کرنے والا  اور  احکام شریعت نافذ کرنے والا ہے یعنی محض ایک قوت نافذہ ہے نہ کہ مقننہ۔اس کی ذات کو اصل شریعت  اور  اس کے احکام میں کوئی دخل نہیں۔

اگرایسانہ ہوتا تو فرد وہ الی اللہ والرسول نہ فرمایا جاتا یعنی اگرکوئیایسی صورت پیش آ جائے کہ جس میں نزاع و اختلاف پیداہوتوپھراس کے آخری فیصلہ کی اطاعت خلیفہ کا حکم نہیں بلکہ اولی و محمود حقیقی کو حق ہے کہ فیصلہ کریں یعنی قرآن وسنت کو فیصل  مانا جائے گا  اور  قوت فیصلہ ان کو حاصل ہو گی  اور  خود فیصلہ بھی۔اس کی اطاعت کے لیے مرکز مجبور ہے جس طرح جماعت امت کا ایک فرد۔یہی وجہ ہے اطیعوا اللہ کے بعداطیعوا الرسول میں تو فعل اطیعوا کا اعادہ کیا گیا مگراولو الامرمیں نہیں کہا گیا۔یعنی وہاں اطیعوا اولی الامر نہیں فرمایا بلکہ اولو الامر فرمایا  اور  فعل کو ترک کر دیا گیا تاکہ واضح ہو جائے کہ اصل اطاعت جو مطلوب ہے، وہ صرف اللہ کی ہے  اور  اس کے رسول کی یعنی کتاب وسنت کی۔  اور  اولو الامر کی اطاعت صرف اس لیے ہے کہ تاکہ کتاب وسنت کی اطاعت کی جائے بلاستقلال نہیں ہے۔ پھر فان تنازعتم کہہ کر زیادہ واضح کر دیا۔کہ اولو الامر کتاب وسنت کے خلاف کوئی حکم دیں تواس حکم میں ان کی اطاعت نہیں ہے۔ بلکہ اللہ  اور  اللہ کے رسول کی طرف لوٹنا ہو گا یعنی کتاب وسنت کی جانب۔غرضیکہ اس آیت کریمہ میں قرآن نے اس قانون شریعت کا اعلان کیا ہے کہ خلیفہ و امام کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے  اور  اس کا وجود نظام جماعت کے مرکزی اقتدار کا مالک کیوں کہ کسی جماعت کی جماعتی زندگی بغیرکسی مرکزی قوت کے ناممکن ہے۔ تم پانچ آدمیوں کی بھی کوئی مجلس منعقد کرتے ہوتوسب سے پہلے ایک پریذیڈنٹ کا انتخاب کرتے ہو کہ جب تک کسی کو صدر نہ مان لیں گے، پانچ آدمیوں کی مجلس بھی کوئی صحیح کام نہیں کر سکے گی۔فوج ترتیب دیتے ہوئے تودس آدمیوں کو بھی بغیر ایک افسرکے نہیں چھوڑتے  اور  اس کی اطاعت ماتحتوں کے لیے فرض سمجھتے ہو اور یقین کرتے ہو کہ بغیراس کے فوج کا نظام باقی نہیں رہ سکتا۔پانچ دس آدمی بھی اگر بغیر امیر کے کام نہیں سکتے تو قومیں کیوں کربلا امیر اپنے فرائض انجام دے سکتی ہیں۔ اس سے بھی سادہ مثال یہ ہے کہ اپنے اپنے گھروں  اور  خاندانوں کو دیکھو،خود تمہارا گھر بھی ایک چھوٹی سی آبادی ہے۔ اگر بیوی تمہارا حکم نہ مانے تو تم کیوں بگڑتے ہو۔اگر گھرکے لوگ تمہارے کہنے پرنہ چلیں تو تم کیوں لڑتے ہو۔تم کہتے ہو کہ فلاں گھر میں امن و نظام نہیں، روزانہ خانہ جنگی ہوتی رہتی ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہے نہ صرف اس لیے کہ کوئی جماعت امن و نظم پا نہیں سکتی جب تک اس کا کوئی امیر نہ ہو۔گھر اور خاندان بھی ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ تم گھرکے بڑے ہو یعنی امیرپس گھرکی عافیت  اور  انتظام و کامیابی اس پر موقوف ہے کہ سب تمہاری سنیں  اور  تمہارے کہنے پر چلیں توپھراسلام بھی یہی کہتا ہے کہ اقوام عالم کا نظم و ضبط اس وقت تک ہو نہیں سکتاجب تک کہ ایک امیر و صدر خلیفہ و حاکم مرکزی نہ ہو اور اس کی اطاعت نہ کی جائے۔

لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اقتداء و اطاعت میں فرق ہے۔ لوگوں نے ہمیشہ ان کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔  اور  افراط و تفریط میں پھنس کر بڑے بڑے فتنے برپا کئے۔ معتزلہ و خوارج نے سمجھاکہ جب خلیفہ  اور  اس کے حکام کے خلاف تنقید اور روک ٹوک جائز ہے تو ان کی اطاعت سے روگردانی کر کے بغاوت پھیلانا بھی جائز ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر انہوں نے ہمیشہ خلفاء کی اطاعت سے بغاوت و خروج کیا  اور  سینکڑوں فتنوں کا باعث بنے۔ ان کے مقابلے میں فقہاء و علماء سوء کی ایک جماعت اٹھی  اور  انہوں نے سمجھاکہ خلفاء امراء کی اطاعت واجب ہے  اور  اس کی خلاف ورزی گناہ ہے تو ان پر تنقید کرنا  اور  ان کے مظالم شدیدہ کے خلاف احتجاج کرنا بھی گناہ ہے۔ لہذا امراء و حکام کے اعمال خواہ کتنے ہی برے ہوں ہمیں چپ بیٹھ کر تماشہ دیکھنا چاہیے بلکہ ان کی اعانت کرنا فرض ہے کیوں کہ یہ بھی اطاعت امیر ہے  اور  اطاعت امیر فرض ہے۔ لہذا امراء کے جور و جفا کے لیے میدان ہموار ہو گیا  اور  جب کبھی کسی ایک آدھے عالم ربانی نے امربالمعروف ونھی عن المنکرکاسلسلہ شروع کیا  اور  افضل الجھاد کلمۃ الحق عندسلطان جائز۔پر عمل کرنا شروع کیاتوسب سے پہلے اس کی مخالفت علماء ہی کی جانب سے کی گئی کہ یہ اطاعت امیر کا منکر ہے لہذا باغی و خارجی ہے۔ یوں غلط فتوے دے کرسلاطین کے جوروستم کے لیے جواز مہیا کیا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر پہلے گروہ نے تفریط اختیار کی  اور  ترک اقتداء پر ترک اطاعت کو بھی قیاس کیا  اور  اطاعت امیر کے باب میں تنگ ظرفی کا ثبوت دیا  اور  طرح طرح کے فتنے برپا کئے۔ ۔۔۔تودوسرے فرقہ نے بھی افراط سے کام لے کر وجوب اطاعت پر وجوب اقتداء کوقیاس کیا  اور  آزادی امراء کا باعث بنے چنانچہ دونوں نے امت میں فتنے کے دروازے کھولے، پہلے گروہ کے ذریعے سے ہمیشہ بغاوتوں کاسلسلہ شروع ہوا  اور  ملک کے امن و امان کو ہر وقت خطرہ لاحق رہا  اور  دوسرے گروہ کے ذریعے سے امراءسلاطین کادست نظم آزاد ہو گیا  اور  ہمیشہ علماء حق کی گردنوں پران کی تلوار بے نیام رہی  اور  اس وجہ سے ہزاروں علماء حق کا خون بہایا گیا۔درحقیقت اس فتنہ کے مضر اثرات پہلے فتنے سے کہیں زیادہ تھے۔ مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ یا امیر وقت کی اطاعت سے مراد ہے اس کے حکم کو ماننا  اور  اس پر عمل کرنا  اور  بے شک یہ فرض ہے  اور  اس کا تارک مجرم لیکن اقتداء اطاعت سے الگ چیز ہے۔

اقتداء کا مطلب ہے کہ خلیفہ و بادشاہ کے ہر حکم و قانون کوجائزسمجھاجائے  اور  اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی جائے کہ یہ حکم یا یہ قانون غلط ہے لہذا اس کو مٹانا  اور  بدلنا ضروری ہے۔ پس جو قانون یا حکم خلیفہ یا بادشاہ یا ان کے کسی نائب کی طرف سے جاری ہواہواس پر عمل کیا جائے لیکن اگر وہ غلط ہے تواس کی غلطی کو ظاہر کیا جائے۔ خلیفہ کو بھی آگاہ کیا جائے کہ یہ غلط ہے، اس کو بدلنا  اور  عوام میں بھی اس کے خلاف نفرت پھیلانا  اور  اس کے غلط ہونے کا ذہن پیدا کرنا ضروری ہے  اور  یہی امر بالمعروف  اور  نہی عن  المنکر کا  امتثالی  امر ہے  اور  اس کے حکم کی تعمیل ہے۔ پس اطاعت فرض و ضروری ہے  اور  اقتداء خلاف شرع امور میں ناجائز ہے  اور  منع ہے۔

 

حواشی

 

البخاری : کتاب الایمان 52

ترمذی:ابواب الایمان 2627

البخاری کتاب التفسیرحدیث:4584

فتح الباری 8/254:طبری تفسیر4/94

ابوداؤد: کتاب الملاحم2/249،ترمذی:ابواب الفتن 2/90

 

 

 

 

جغرافیائی مرکزیت

 

 

کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی جب تک اس کا کوئی ارضی مرکز نہ ہو۔کوئی تعلیم باقی نہیں رہ سکتی جب تک اس کی ایک قائم و جاری درس گاہ نہ ہو۔کوئی دریا جاری نہیں رہ سکتاجب تک ایک محفوظ سرچشمہ سے اس کالگاؤ نہ ہو۔

نظام شمسی کاہرستارہ روشنی  اور  حرارت صرف اپنے مرکزشمسی ہی سے حاصل کرتا ہے، اسی کی بالا تر جاذبیت ہے جس نے یہ پورا معلق کارخانہ سنبھال رکھا ہے۔

اللہ الذی رفع السموت بغیرعمدترونھاثم استوی علی العرش وسحرالشمس والقمرکل یجری لاحل مسمی (2:13)

یہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کر دیا  اور  تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون انہیں تھامے ہوئے نہیں، پھر وہ اپنے تخت(حکومت)پر نمودار ہوا(یعنی مخلوقات میں اس کے احکام جاری ہو گئے ) اور سورج  اور  چاند کو کام پر لگا دیا کہ ہر ایک اپنی ٹھہرائی ہوئی میعاد تک(اپنی اپنی راہ)چلا جا رہا ہے۔ وہی(اس تمام کارخانہ خلقت کا)انتظام کر رہا ہے  اور  (اپنی قدرت و حکمت کی)نشانیاں الگ الگ کر کے بیان کر دیتا ہے تاکہ تمہیں یقین ہو جائے کہ(ایک دن)اپنے پروردگارسے ملنا ہے۔ ان بے شمار مصلحتوں  اور  حکمتوں کی بنا پر جن کی تشریح کا یہ موقع نہیں، اسلام نے اس غرض سے سرزمین حجاز کو منتخب فرمایا۔یہی ناف زمین کی آخری  اور  دائمی ہدایت وسعادت کے لیے مرکزی سرچشمہ  اور  روحانی درس گاہ قرار پائی  اور  چوں کہ سرزمین حجاز جزیرہ عرب میں واقع تھی،وہی اسلام کا اولین موطن رہی۔ اس کاسب سے پہلا یہی سرچشمہ تھا اس لیے ضرور تھا کہ اسلامی مرکز کے قریبی گرد و پیش کا بھی وہی حکم ہوتا ہے جو اصل مرکز کا تھا۔لہذا یہ تمام سرزمین بھی جو حجاز کی وادی غیر ذی زرع کو گھیرے ہوئے ہے، اس حکم میں داخل ہو گئی۔

ذلک تقدیرالعزیزالعلیم(38:36)

مرکزی ارض سے مقصود یہ ہے کہ اسلام کی دعوت ایک عالمگیر اور دنیا کی بین الملی دعوت تھی۔وہ کسی خاص ملک  اور  قوم میں محدود نہ تھی۔مسلمانوں کی قومیت کے اجزاء تمام کرہ ارض میں بکھر جانے  اور  پھیل جانے والے تھے۔ پس ان بکھرے ہوئے اجزاء کو ایک دائمی متحدہ قومیت کی  ترکیب میں قائم رکھنے کے ضروری تھا کہ کوئی ایک مقام ایسامخصوص کر دیا جاتا جو ان تمام متفرق و منتشر اجزاء کے لیے اتحاد و انضمام کا مرکزی نقطہ ہوتا۔سارے بکھرے ہوئے اجراء وہاں پہنچ کرسمت جاتے۔ تمام پھیلی ہوئی شاخیں وہاں اکٹھی ہو کر جڑ جاتیں۔ ہر شاخ کواس جڑسے زندگی ملتی ہے، ہرنہراس سرچشمہ سے سیراب ہوتی، ہرستارہ اس سورج سے روشنی  اور  گرمی لیتا،ہر دوری اس سے قرب پاتی،ہر فصل کواس سے مواصلات ملتی  اور  ہرانتشارکواس سے اتحاد و یگانگی حاصل ہوتی۔تاکہ وہی مقام تمام امت کی تعلیم و ہدایت کے لیے ایک وسطی درس گاہ کا کام دیتا۔وہی تمام کرہ ارض کی پھیلی ہوئی کثرت کے لیے نقطہ وحدت ہوتا۔ساری دنیا ٹھنڈی پڑ جاتی پراس کا تنور کبھی نہ بجھتا۔ساری دنیا تاریک ہو جاتی مگراس کی روشنی گل نہ ہوتی۔اگر تمام دنیا اولاد آدم کے باہمی جنگ و جدال  اور  فتنہ وفسادسے خونریزی کا دوزخ بن جاتی،پھر بھی ایک گوشہ قدس ایسارہتاجوہمیشہ امن و صحت کا بہشت ہوتا  اور  انسانی فتنہ وفساد کی پرچھائیں بھی وہاں نہ پڑسکتیں۔

اس کا ایک چپہ مقدس ہوتا،اس کا ایک ایک کونہ خدا کے نام پر محترم ہوتا۔اس کا ایک ایک ذرہ اس کے جلال وقدوسیت کا جلوہ گاہ ہوتا۔خونریز اور سرکش انسانہرمقام کو اپنے ظلم وفساد کی نجاست سے آلود کر سکتا۔پراس کی فضاء مقدس ہمیشہ پاک و محفوظ رہتی  اور  جب زمین کے ہر گوشے میں انسانی سرکشی اپنی مجرمانہ خداوندی کا اعلان کرتی وہاں خدا کی سچی عبادت کا تخت عظمت و جلال بچھ جاتا  اور  اس کا ظل عاطفت تمام بندگان حق کو اپنی طرف کھینچ بلاتا۔

دنیا پر کفر و شرک کے جماؤ  اور  اٹھان کاکیساہی سخت  اور  برا وقت آجاتامگرسچی توحید اور بے حیل خداپرستی کا وہ ایک ایساگھرہوتاجہاں خدا  اور  اس کی صداقت کے سوانہ کسی خیال کی پہنچ ہوتی نہ کسی صدا کی گونج اٹھ سکتی۔وہ انسان کی پھیلی نسل کے لیے ایک مشترک  اور  عالمگیر گھر ہوتا۔کٹ کٹ کر قومیں وہاں جڑتیں  اور  بکھر بکھر کے نسلیں وہاں سمٹتیں، پرندجس طرح اپنے آشیانوں کے طرف اڑتے ہیں  اور  پروانوں کو تم نے دیکھا کہ روشنی کی طرف دوڑتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح انسانوں کے گروہ  اور  قوموں کے قافلے اس کی طرف دوڑتے  اور  زمین کی خشکی و تری کی وہ ساری راہیں جواس تک پہنچ سکتیں وہ ہمیشہ مسافروں  اور  قافلوں سے بھری رہتیں۔ ۔۔۔۔

دنیا بھرکے زخمی دل وہاں پہنچتے  اور  شفا  اور  تندرستی کا مرہم پاتے۔ بے قرار و مضطرب روحوں کے لیے اس کے آغوش گرم میں آرام وسکون کی ٹھنڈک ہوتی۔گناہوں کی کثافتوں سے آلودہ جسم وہاں لائے جاتے  اور  محرومی  اور  نامرادی کی مایوسیوں سے گھائل دل چیختے  اور  تڑپتے ہوئے اس کی جانب دوڑتے، تواس کی پاک ہوا امید و مراد کی عطر بیزی سے مشک بار ہو جاتی۔اس کے پہاڑوں کی چوٹیاں خدا کی محبت و بخشش کے بادلوں میں چھپ جاتیں  اور  اس کی مقدس فضا میں رحمت کے فرشتے غول در غول اتر کر اپنی معصوم مسکراہٹ  اور  اپنے پاک نغموں کے ساتھ مغفرت  اور  قبولیت کی بشارتیں بانٹتے۔

شاخوں کی شادابی جڑ پر موقوف ہے۔ درختوں کی اگرجڑسلامت ہے تو شاخوں  اور  پتوں کے مرجھا جانے سے باغ اجڑ نہیں سکتا۔دس ٹہنیاں کاٹ دی جائیں گی توبیس نئی نکل آئیں گی۔اس طرح قوم کا مرکز ارضی اگر محفوظ ہے تواس کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی بربادی سے قوم نہیں مٹ سکتی۔سارے ٹکڑے مت جائیں، اگر مرکز باقی ہے تو پھر نئی نئی شاخیں بھی پھوٹیں گی  اور  نئی نئی زندگیاں بھی ابھریں گی۔پھرجس طرح مسلمانوں کے مجموعی دائرہ کے لیے خلیفہ و امام کے وجود کو مرکز ٹھہرایا گیا،اسی طرح ان کی ارضی وسعت و انتشار کے لیے عبادت کدہ ابراہیمی کا کعبۃ اللہ اس کی سرزمین حجاز اور اس کا ملک جزیرہ عرب، دائمی مرکز قرار پایا۔یہی معنی ان آیات کریمہ کے ہیں کہ:۔

جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیماًللناس(97:5)

اللہ نے کعبہ کواس کا محترم گھر بنایا  اور  انسانوں کے بقا و قیام کا باعث ٹھہرا۔

واذجعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا(125:2)

اور جب ایساہواکہ ہم نے خانہ کعبہ کوانسانوں کے لیے اجتماع کا مرکز اور امن کا گھر بنایا  اور

ومن دخلہ کان امنا(97:3)

جواس کی حدود کے اندر پہنچ گیا،اس کے لیے کسی طرح کا خوف  اور  ڈر نہیں۔

اور یہی علت تھی تحویل قبلہ کی،نہ وہ جو کہ لوگوں نے سمجھی۔

وحیث ماکنتم قولواوجوھکم شطرہ(144:2)

اور تم کہیں بھی ہو لیکن چاہیے کہ اپنا رخ اسی جانب رکھو۔

کیوں کہ جب یہی مقام ارضی مرکز قرار پایا تو تمام اقوام کے لیے لازمی ہوا کہ جہاں کہیں بھی ہوں، رخ ان کا اسی طرف رہے  اور  دن میں پانچ مرتبہ اپنے قومی مرکز کی طرف متوجہ ہوتے رہیں  اور  یاد رہے کہ من جملہ بے شمار مصالح و حکم کے ایک بڑی مصلحت فریضہ حج میں یہ بھی ہے کہ اس نے ساری امت تمام کرہ ارضی  اور  تمام اقوام عالم کواس نقطہ مرکزسے دائمی پیوستگی بخش دی۔

واذن فی ا لناس بالحج یاتوک رجالاوعلی کل ضامریاتین من کل فج عمیق(27:22)

اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔پھرایساہو گا کہ ساری دنیا کو یہ گوشہ برکت کھینچ بلائے گا۔لوگوں کے پیادے  اور  سوارقافلے دوردورسے یہاں پہنچیں گے۔

اس مرکز کے قیام و بقا کے لیے سب سے پہلے بات یہ ہے کہ دائمی طورپراس کو صرف اسلام کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ جب تک یہ خصوصیت قائم نہ کی جاتی،امت کے لیے اس مرکزیت کے مطلوبہ مقاصد و مصالح حاصل نہ ہوتے۔

چنانچہ اسی بناپرمسلمانوں کو حکم دیا گیا۔انما المشرکون نجس فلایقربو المسجدالحرام بعدعامھم ھذا(28:9)

مسجدحرام کے حدود صرف توحید کی پاکی کے لیے مخصوص ہیں۔ اب آئندہ کوئی غیرمسلم اس کے قریب بھی نہ آنے پائے یعنی نہ صرف یہ کہ وہاں غیرمسلم نہ آئیں بلکہ کسی حال میں داخل نہ ہوں۔

جمہور اہل اسلام نے اتفاق کیا کہ مسجدا الحرام سے مقصود صرف احاطہ کعبہ ہی نہیں ہے بلکہ تمام سرزمین حرم ہے  اور  دلائل و مباحث اس کے اپنے مقام پر درج ہیں۔ اس طرح احادیث صحیحہ و کثیرہ سے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،سعدبن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ،جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ،رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ،سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ہم اجلہ صحابہ سے مروی ہیں، ثابت ہو چکا ہے کہ مدینہ کی زمین بھی مثل مکہ کے حرم ہے  اور  عیروثوراس کے حدود ہیں۔

المدینہ حرم مابین عیرالی ثور۔اخرجہ الشیخان  اور  روایت سعد کہ:انی حرم مابین لابتی المدینہ ان یقطع عضاھما  اور  یقتل صیدھا۔رواہ مسلم  اور  روایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ متفق علیہ کہ

اللھم ان ابراھیم حرم مکۃ وانی احرم مابین لابیتھا۔

خدایا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا،میں مدینہ کو حرم ٹھہراتا ہوں۔ یہ احکام تو خاص اس مرکز کی نسبت تھے۔ باقی رہا اس کا گرد و پیش یعنی جزیرہ عرب توگواس کے لیے اس قدر اہتمام کی ضرورت نہ تھی،تاہم اس کا خالص اسلامی ملک ہونا ضروری تھا تاکہ اسلامی مرکز کا گرد و پیش  اور  اس کا مولد و منشا ہمیشہ غیروں کے اثرسے محفوظ رہے۔

اسلام کا جب ظہور ہوا تو علاوہ مشرکین عرب کے یہود و نصاریٰ کی بھی ایک بڑی جماعت جزیرہ عرب میں  آباد تھی۔مدینہ میں متعدد یہودیوں کے قبیلے تھے۔ خیبر میں انہی کی ریاست تھی۔یمن میں نجران عیسائیوں کا بہت بڑا مرکز تھا۔مدینہ میں آپ کی زندگی ہی میں یہودیوں سے سرزمین خالی ہو گئی۔آخری جماعت جو مدینہ سے خارج کی گئی،بنو قیتقاع  اور  بنو حارثہ کا گروہ تھا۔امام مسلم نے ابن عمر کا قول نقل کیا ہے۔

ان یھودبنی النضیروقریظۃ حاربوارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاجلی بنی النضیرواقرقریظۃ ومن علیھم حتی حاریت قریطہ فقتل رجالھم وقسم اولادھم ونساء ھم واموالھم بین المسلمین الابعضھم لحقوا برسول اللہ فامنھم واسلموا واجلی یھودالمدینہ کلھم بنی قینقاع وھم قوم عبداللہ بن سلام یھودبنی حارثۃ وکل یھودی کان بالمدینہ۔

بخاری ومسلم میں اس آخری اخراج کا واقعہ بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ آپ صحابہ کوساتھ لے کر یہودیوں کی تعلیم گاہ میں تشریف لے گئے  اور  فرمایا۔یامعشرالیھود!اسلمواتسلموا۔اسلام قبول کرو،نجات پاؤ گے پھر فرمایا۔اعلموا ان الارض للہ ورسولہ وانی اریدان اجلیکم من ھذا الارض فمن وجدمنکم بمالہ شینافلیبعہ والاعلموا ان الارض للہ ورسولہ۔میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم کواس ملک سے خارج کر دوں۔ پس اپنا مال و متاع فروخت کرنا چاہو تو کر لو ورنہ جان رکھو کہ اس ملک کی حکومت صرف اللہ  اور  اس کے رسول ہی کے لیے ہے۔

جب آپ دنیاسے تشریف لے گئے تو دو مقام ایسے رہ گئے تھے جہاں سے یہود و نصاریٰ کا اخراج نہ ہوسکا۔خیبر اور نجران۔پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ آئندہ جزیرہ عرب صرف اسلام کے لیے مخصوص کر دیا جائے جوغیرمسلم اس ملک میں باقی رہ گئے ہیں، وہ خارج کر دیئے جائیں۔ امام بخاری نے باب باندھا ہے۔

اخراج الیھودمن جزیرۃ العرب۔اس میں پہلی روایت یہود و مدینہ کے اخراج کی لائے ہیں جو اوپر گذر چکی ہے۔ دوسری روایت حضرت ابن عباس کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مرض الموت میں تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی۔ایک یہ تھی۔اخرجوالمشرکین من حزیرۃ العرب۔حافظ ابن حجر لکھتے ہیں۔ اقتصرعلی ذکرالیھودالآنھم یوحدون اللہ تعالیٰ الا القلیل منھم ومع ذالک امرباخراجھم فیکون اخراج غیرھم من الکفاربطریق الاولی۔(فتح الباری6/326)یعنی امام بخاری نے عنوان باب میں صرف یہود کا ذکر کیا ہے۔ اس میں استدلال یہ ہے کہ تمام غیرمسلم اقوام میں یہودی سب سے زیادہ توحید کے قائل ہیں۔ ان کو خارج کیا گیا تو دیگر مذاہب کے اخراج کا وجوب بدرجہ اولی ثابت ہو گیا۔پس حاجت تصریح نہیں !!

حضرت  عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں یہود و نصاریٰ کا لفظ ہے۔

لاخرجن الیھودوالنصاریٰ من جزیرۃ العرب حتی لا ادع الامسلما۔

ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

کان آخرماتکلم بہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم اخرجوابھوداھل الحجازواھل نجران من جزیرۃ العرب

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما صدیقہ کی روایت میں اس کی علت بھی واضح کر دی ہے۔

آخرماعھدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قال لایترک بجزیرۃ العرب دینان۔

یعنی سب سے آخری وصیت رسول اللہ کی ہی تھی کہ جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہ ہوں بلکہ یہ صرف اسلام ہی کے لیے خاص جائے۔ امام مالک نے موطا میں عمر بن عبدالعزیز اور ابن شہاب کے مراسل نقل کئے ہیں  اور  مصمودی وغیرہم نے بھی باب باندھا ہے۔

اخراج الیھودوالنصاریٰ من جزیرۃ العرب عمر بن عبدالعزیز کی روایت میں ہے۔

کان من آخرماتکلم بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان قال قاتل اللہ الیھودوالنصاری اتخذواقبورانبیانھم مساجدالالایقین دینان بارض العرب

اور ابن شہاب کا نقطہ ہے

لایجتمع دینان فی جزیرۃ العرب

حضرت عمر بن عبد العزیز نے آخر تکلم قاتل اللہ الیھود و انصاری جو یہ نقل کیا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے صحیحین وغیرہا میں بطریق رفع بھی ثابت ہے۔

حافظ نووی نے گو امام بخاری کا اتباع کیا  اور  اجلا الیھود کاباب استدلالاکافی سمجھالیکن حافظ منذری نے تخلیص مسلم میں اخراج الیھودوالنصاری من جزیرۃ ا لعرب کا الگ باب باندھ کر جزیرہ عبر والی روایتیں روایات اجلاء یہودسے الگ کر دی ہیں۔ یہ وصیت نبوی علاوہ طریق بالا کے مسندامام احمد،مسندحمیدی،سنن بیہقی وغیرہ میں بھی مختلف طریقوں سے مروی ہیں  اور  ان سب کا مضمون متحد اور باہم دگر اجمال و تبیین  اور  اعتقاد و تقویت کا حکم دیتا ہے۔

احکام شرعیہ دوقسم کے ہیں، ایک قسم ان احکام کی ہے جن کا تعلق افراد کی اصلاح و تزکیہ سے ہوتا ہے جیسے تمام اوامر و نواہی  اور  فرائض و واجبات،دوسرے وہ ہیں جن کا تعلق افرادسے نہیں بلکہ امت کے قومی  اور  اجتماعی فرائض  اور  ملکی،سیاسیات سے ہوتا ہے جیسے فتح ممالک  اور  قوانین سیاسیہ و ملکیہ۔

سنت الٰہی یوں واقع ہوئی ہے کہ پہلی قسم کے احکام خود شارع کی زندگی ہی میں تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں  اور  وہ دنیا نہیں چھوڑتا مگر ان کی تکمیل کا اعلان کر کے لیکن دوسری قسم کے لیے ایساہوناضروری نہیں۔ کچھ احکام ایسے ہوتے ہیں جن کے نفاذ اور وقوع کے لیے ایک خاص وقت مطلوب ہوتا ہے  اور  وہ شارع کے بعد بتدریج تکمیل و تنفیذ پاتے ہیں۔ پس ان کی نسبت یا تو بطریق پیش گوئی کے خبر دی جاتی ہے یا اپنے جانشینوں کو وصیت کر دی جاتی ہے۔ یہ معاملہ اسی دوسری قسم میں تھا کہ اس کا پورا پورا نفاذ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ میں ممکن نہ تھا۔اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہود مدینہ کے اخراج کا عملاً نفاذ شروع کر دیا  اور  یہودخیبرسے ابتداء میں شرط کر لی تھی کہ جب ضرورت ہو گی اس سرزمین سے خارج کر دیے جاؤ گے۔

پھر تکمیل کے لیے اپنے جانشینوں کو وصیت فرما دی۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تکمیل کا وقت آ گیا  اور  یہود خیبر نے طرح طرح کی شرارتیں  اور  نافرمانیاں کر کے خود ہی اس کا موقع بہم پہنچا دیا۔پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وصیت کی تحقیق کی  اور  جب پوری طرح تصدیق ہو گئی تو تمام صحابہ کو جمع کر کے اعلان کر دیا۔سب نے اتفاق کیا  اور  یہود خیبر و فدک سے نکال دیے گئے۔ اس طرح نجران سے بھی عیسائیوں کا اخراج عمل میں آیا۔امام زہری نے ابن عتبہ سے  اور  امام مالک نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔

مازال عمرحتی وجدالثبت عن رسول اللہ انہ قال لا

یجتمع لجزیرہ العرب دینان فقال من کان لہ من اھل الکتابین عھدفلیات بہ انقدوالافانی اجلیکم فاجلاھم اخرجہ ابن ابی شیبہ

امام بخاری نے یہود خیبر کے اخراج کا واقعہ کتاب الشروط کے باب اذا اشرط فی المزارعۃ اذاشئت اخرجتک میں درج کیا ہے  اور  ترجمہ میں استدلال ہے کہ یہود خیبر کا تقرر پہلے ہی سے عارضی و مشروط تھا،بالاستقلال نہ تھا۔حافظ عسقلانی لکھتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجلاء کر دہ اہل کتاب کی تعدادچالیس ہزار منقول ہے۔

پس صاحب شریعت کے قول و عمل،ان کے آخریں لمحات حیات کی وصیت،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیق و تصدیق۔تمام صحابہ کے اجماع و اتفاق سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اسلام نے ہمیشہ کے لیے جزیرہ عرب کو صرف اسلامی آبادی کے لیے مخصوص کر دیا ہے الا یہ کہ کسی مصلحت سے خلیفہ وقت عارضی طورپرکسی گروہ کو داخل ہونے کی اجازت دے دے  اور  ظاہر ہے کہ وہاں غیرمسلموں کا قیام  اور  دو دینوں کا اجتماع شریعت کو منظور نہیں توغیرمسلموں کی حکومت یا حاکمانہ نگرانی وبالادستی کو جائز رکھنا کب مسلمانوں کے لیے جائزہوسکتا ہے۔

باقی رہا یہ مسئلہ کہ جزیرہ عرب سے مقصود کیا ہے ؟تو یہ بالکل واضح ہے جس کے لیے کسی بحث و نظر کی ضرورت ہی نہیں۔ نص حدیث میں جزیرہ عرب کا لفظ وارد ہے  اور  عقلاً  اور  اصولاً معلوم ہے کہ جب تک کوئی سبب قوی موجود نہ ہو،کسی لفظ کے منطوق  اور  عام و متعارف مدلول سے انحراف جائز نہ ہو گا  اور  نہ بلا مخصص کے قیاساًتخصیص جائز۔شارع نے جزیرہ کا لفظ کہا  اور  دنیا میں اس وقت سے لے کراب تک جزیرہ عرب کا اطلاق ایک خاص ملک پر ہر انسان کو معلوم ہے  اور  جان رہا ہے۔ پس جو مطلب اس کاسمجھا جاتا تھا۔وہی سمجھا جائے گا۔

تمام مورخین  اور  جغرافیہ نگاران قدیم و جدید متفق ہیں کہ اس خطہ کو جزیرہ اس لیے کہا گیا کہ تین طرف سمندر اور ایک طرف دریا کے پانی سے محصور ہے یعنی تین طرف بحر ہند،خلیج فارس،بحر احمر و قلزم واقع ہیں، ایک طرف دریائے دجلہ و فرات۔

فتح الباری وغیرہ میں ہے۔ قال الخیل سمیت جزیرۃ العرب لان بحرفارس وبحرالحبشہ والفراط والدجلۃ احاطت بھا۔ اور اصمعی کا قول ہے۔

لاحاطۃ البحاربھایعنی بحرالھندوالقلزم وبحرفارس وبحرالحبشہ ودجلہ۔

نہایہ میں امام زہری کاقول نقل کیا ہے۔ سمیت جزیرۃ لان بحرالفارس والبحرالاسودان احاطہ یجانبھاوحاطہ بالجانب الشمالی دجلہ وفرات

یہی قول ارباب لغت کا بھی ہے۔ قاموس میں ہے۔ جزیرہ عرب احاطہ بھایعنی لبحرالھندوالشام ثم دجلہ والفرات۔پروفیسرپطرس بستانی نے بھی(جو زمانہ حال میں شام کا ایک مشہورمسیحی مصنف گذرا ہے  اور  جس نے عربی میں انسائکلوپیڈیالکھنی شروع کی تھی۔۔محیط المحیط میں یہی تعریف کی ہے۔

حاصل سب کا یہی ہے کہ جزیرہ عرب وہ سرزمین ہے جس کے تین جانب سمندرہیں  اور  شمالی جانب دریائے دجلہ و فرات۔سب سے زیادہ مفصل جغرافیہ یاقوت حموی سے معجم البلدان میں دیا گیا ہے اس سے زیادہ جامع و معتبر کتاب عربی میں جغرافیہ و تقدیم البلدان کی کوئی نہیں۔

اماسمیت بلادالعرب جزیرۃ لاحاطۃ الانھاروالبحاروذالک ان الفرات اقبل من بلادالروم فظھربناحیۃ قنسرین ثم انحط علی اطراف الجزیرۃ وسوادالعراق حتی وقع بالبحرفی ناجیۃ البصرہ والایلۃ وامتدالی عبادان واخذالبحرفی ذالک الموضع مغربان منعطفابیلادالعرب۔

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ عرب اس لیے جزیرہ مشہور ہوا کہ سمندروں  اور  دریاؤں سے گھرا ہوا ہے۔ صورت اس کی یوں ہے کہ دریائے فرات بلد روم سے شروع ہوا  اور  قنسرین کے نواح میں عرب کی سرحد پر ظاہر ہوا پھر عراق سے ہوتا ہوا بصرہ کے پاس سمندرمیں جا ملا۔وہاں سے پھرسمندرنے عرب کو گھیرا  اور  ،قطیف  و ہجر کے کناروں سے ہوتا ہوا عمان  اور  شجرسے گذر گیا پھر حضر موت  اور  عدن ہوتا ہوا پچھم کی جانب یمن کے ساحلوں سے ٹکرایا حتیٰ کہ جدہ میں نمودار ہوا جو مکہ وحجازکاساحل ہے پھرساحل طور اور خلیج املیہ پرجا کرسمندرکی شاخ ختم ہو گئی۔

پھرسرزمین مصر شروع ہوتی ہے  اور  قلزم نمودار ہوتی ہے  اور  اس کاسلسلہ بلدفلسطین سے سواحل عسقلان سے ہوتاہواسرزمین سواحل اردن تک بیروت پر پہنچا ہے  اور  آخر میں پھرقنسرین تک منتہی ہو کروہ جگہ آتی ہے جہاں سے فرات نے عرب کا احاطہ شروع کیا تھا۔پس اس طرح چاروں طرف پانی کاسلسلہ قائم ہے۔ بحر احمر اور قلزم کی درمیانی خشکی بھی پانی سے خالی نہیں کیونکہ سوڈان سے دریائے نیل وہاں آ پہنچتا ہے  اور  قلزم میں گرا ہے۔ یہی جزیرہ ہے جس سے عرب کی سرزمین عبارت ہے  اور  یہی عرب اقوام کا مولد و منشا ہے۔

اس تفصیل سے واضح ہو گیا کہ جزیرہ عرب کے حدود کیا ہیں۔ عرب کا نقشہ اپنے سامنے رکھو اور اس پر مندرجہ بالا تخطیط منطبق کر کے دیکھو۔اوپر شمال ہے۔ داہنے مشرق،بائیں مغرب، شمال میں دریائے فرات مغرب سے خم کھاتا ہوا نمودار ہوتا ہے  اور  صحرائے شام کے کنارے سے گذرتا ہوا دجلہ میں مل جاتا ہے پھر دونوں مل کر خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ فرات کے پیچھے دجلہ کا خطہ ہے، اسی پر بغداد واقع ہے۔

خلیج فارس کے مشرق میں ایران ہے  اور  مغربی ساحل میں قطیب وحسا پھر یہ خلیج تنگ نائے سرمزسے نکل کرمسقط و عمان کے کنارے سے گزرتا ہے  اور  اس کے بعد ہی بحر عمان نمودار ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد حضرموت کاساحل دیکھو گے پھر عدن آ گیا  اور  باب المندب سے جوں جوں آگے بڑھے، بحر احمر شروع ہو گیا۔چونکہ اس کا مغربی ساحل افریقہ و حبش سے متصل ہے اس لیے قدیم جغرافیہ میں اس کو بحر حبش بھی کہتے ہیں۔ بحر احمر کے کنارے پہلے یمن ملے گا پھر جدہ اس کے بعدساحل حجاز حتیٰ کے سمندرکی شاخ پتلی ہو کرطورسیناتک منتہی ہو گئی  اور  اس کے ساتھ ہی خلیج عقبہ کی شاخ نمودار ہوئی۔

اب مصر کی سرزمین شروع ہو گئی۔نہرسویزکے بننے سے پہلے یہ خشکی کا ٹکڑا تھاجس کوبحرمتوسط سے جدا کر دیا گیا تھا۔اس لیے صاحب معجم نے یہاں دریائے نیل کاذکرکیاجس کواس درمیانی نقطہ خشک کے بائیں جانب دیکھ رہے ہو۔وہ قاہرہ سے ہوتا ہوا۔سکندریہ کے پاس سمندرمیں جا گرتا ہے پس اگرچہ اس زمانے میں یہ ٹکڑا خشک تھامگرسمندرکی جگہ دریائے نیل کا خط آبی موجود تھا۔اس کے بعدبحرمتوسط ہے جس کے ابتدائی حصہ کو قدیم جغرافیہ نویس بحر مصر و شام سے موسوم کرتے تھے۔ اس پر بیروت واقع ہے  اور  ساحل کے اندر کی جانب دیکھو گے  تو پھر وہی مقام سامنے ہو گا جہاں سے دریائے فرات نمودار ہو  کر خلیج فارس کی طرف بڑھا تھا۔پس یہ مثلث نما ٹکڑا ہے جواس تمام بحری احاطہ کے اندر واقع ہے۔ صرف خشکی کا ایک حصہ شمال میں فرات کے دائیں جانب نظر آتا ہے یعنی سرحدشام،یہی مثلث ٹکڑا جزیرہ عرب ہے۔ قدیم و جدید جغرافیہ نگاراس پر متفق ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عرب کے جزیرے  اور  جزیرہ نما ہونے میں سب سے اہم وجہ دریائے دجلہ و فرات کا ہے کیوں کہ اگر یہ عرب کے حدودسے کوئی متصل تعلق نہیں رکھتے توپھراس کی ایسی صورت ہی باقی نہیں رہتی جس پر جزیرہ کا اطلاق ہوسکے یعنی شمال کی جانب بالکل خشک رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے عرب کی تعریف کی احاطہ بحر و نہر کا لفظ کہہ کر واضح کر دیا کہ جانب شمال دجلہ تک پھیلا ہوا ہے  اور  جنھوں نے مقامات کے نام لے کر حدود متعین کئے انھوں نے بھی صاف کہہ دیا کہ شمالی حد دجلہ ہے۔ نہایہ معجم البلدان  اور  فتح الباری میں اصمعی کا قول ہے۔

من اقصی عدن الی بین ریف العراق طولاومن جدہ وساحل البحرانی اطراف الشام عرضا۔

کرمانی نے کہا۔

ھی مابین عدن الی ریف العراق طولاومن جدہ الی الشام عرضا۔

یہی قاموس میں ہے۔ ایساہی ابن کلبی سے مروی ہے۔ دفاعہ بک ططاری نے قدیم و جدید کتب سے اخذ کر کے عربی میں “تعریفات النافعہ بہ الجغرافیہ”لکھی۔اس میں یہی حدود ہیں۔ پس صاحب معجم کی تفصیل  اور  تمام اقوال سے ثابت ہو گیا کہ عرب طول میں عدن سے لے کر عراق کی ترائی تک  اور  عرض میں ساحل بحراحمرسے خلیج فارس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی حد شمال میں دہنی جانب دجلہ ہے  اور  اگر عرض کا خط کھینچیں تو بائیں جانب شام،آج کل کے جغرافیوں میں بھی عرب کے یہی حدود بتلائے جاتے ہیں۔ پچھم میں بحر احمر،جنوب میں بحر ہند،یورپ میں خلیج فارس  اور  دکن میں ملک شام۔

اس معجم البلدان من عراق کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے الی انھا اسفل ارض العرب یعنی عراق،اس لیے نام ہوا کہ یہ زمین عرب کاسب سے زیادہ نچلا حصہ ہے۔ اس بھی ثابت ہوا کہ عراق عرب میں داخل ہے۔ البتہ عراق کا وہ حصہ جو دجلہ کے پار واقع ہے، اس میں داخل نہیں۔

 

حواشی

 

البخاری : کتاب فضائل المدینہ حدیث:1875

مسلم:کتاب الحج 1/445،مسلم:کتاب الحج:1/445

کتاب الجہادمسل2/94،بخاری کتاب الجزیہ3167

مسلم:کتاب الجہاد،2/94 البخاری:کتاب الجزیہ 3167

البخاری : کتاب الجزیہ 3168

مسلم:کتاب الجہاد،2/94

رواہ مسلم،احمدوالرمذی،صححہ

مسنداحمد6/275

موطا امام مالک:کتاب الجامع مع ص:698

البخاری :کتاب ا لصلوۃ1/62

فتح الباری6/205

معجم البلدان/جغرافیہ وتقدیم البلدان

انتہاملخصا،جلد3،2،100

نہایہ معجم البلدان/فتح الباری

ایضا۔رفاعہ بک ططاری،النافعہ بہ الجغرافیہ

 

 

 

 

فکری وحدت  اور  فکری مرکزیت

 

قرآن کہتا ہے اقتدار اعلیٰ و قوت حاکمہ خدا کے لیے مانی جائے۔ اس کے سواکسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے سامنے سرنیازخم کیا جائے  اور  اپنی پیشانیوں کو جھکایا جائے۔ وہی وحدہ لاشریک لہ ہے۔ صرف وہ ایک ہی اس لائق ہے کہ اس کے لیے قوت حاکمہ  اور  اقتدار اعلیٰ مانا جائے۔ وہی ایک صرف اس قابل ہے کہ بنی نوع انسان کے دلوں پر حکومت کرے۔ وہی اس کامستحق ہے کہ جبین نیاز اور سرعجزاس کے سامنے خم کیا جائے۔ دل و دماغ میں صرف اس کا خوف سمائے۔ امیدیں اسی سے وابستہ کی جائیں۔ حاکم و بادشاہ،شہنشاہ،واضع قانون،شارع  اور  قانون سازصرف اس کو مانا جائے۔ ماننے کے لائق  اور  تسلیم کے قابل صرف اس کا قانون ہوسکتا ہے۔ صرف اس کے لیے جانی و مالی قربانی کی جائے۔ ایثار و فدا کاری کے لائق صرف وہی ہے۔ وہی ہے جس سے محبت کی جائے  اور  دل لگایا جائے۔ اسی سے ڈرایا جائے۔ اس کے سواکوئی پناہگاہ نہیں۔ کوئی مادی و ملجا نہیں۔ اس کے سواکوئی نہیں جو نفع پہنچا سکے یا ضرر دے سکے۔ وہ جس کو ضرر دینا چاہے تو کوئی طاقت اس کو روکنے والی نہیں۔ اگر وہ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ روک نہیں سکتا۔وہی الہ ہے۔ وہی معبود،وہی رب،وہی حاکم،الالہ احلکم ولامر،خبرداراس کے لیے حکومت ہے۔  اور  اسی کا امر قابل قبول ہے۔ کوئی نہیں جس کا حکم مانا جائے۔ کوئی نہیں جس کا امرتسلیم کیا جائے۔ انسان کے ظاہر و باطن پر صرف اسی کی حکمرانی ہے۔ وہ کہتا ہے، جب تم دیکھتے ہو کہ تمہارے وجود کے اندر اور باہر عالم تکوین میں صرف اسی کی حکمرانی ہے تو پھر تمہارے قلوب،اعمال،افعال  اور  کاروبار زندگی میں اسی کی حکمرانی کیوں نہ ہو۔وہ کہتا ہے، دنیا مختلف قسم کے الہ و معبود بنا لیتی ہے۔ کہیں انسانی استبدادواستعاد کے وہ مہیب بت ہیں جنھوں نے اپنی غلامی کی زنجیروں سے خدا کے بندوں کو جکڑ رکھا ہے  اور  ان کی قوت شیطان کے مظاہر کبھی حکومتوں کے جبروتسلط کی صورت میں، کبھی دولت و مال میں کبھی عزت و جاہ کے غرور میں، کبھی جماعتوں کی رہنمائی و حکمرانی کے ادعاء میں، کبھی علم و فضل  اور  کبھی زہد و تقویٰ کے گھمنڈ میں غرض مختلف شکلوں میں  اور  مختلف ناموں سے اللہ کے بندوں کو اللہ سے چھیننا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کہیں چاندی  اور  سونے کے ڈھیروں کے بت،کہیں قیمتی کپڑوں، موٹروں  اور  ہوٹلوں  اور  کوٹھیوں کے بت،اس میں لیڈروں و حکام کے بت ہیں  اور  کہیں پیروں، مولویوں، پیشواؤں  اور  رہنماؤں کے بت ہیں تو کہیں خواہشات نفسانی کے بت ہیں۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت میں تو تین سوساٹھ بت تھے جن سے بیت خلیل کی دیواریں چھپ گئی تھیں لیکن آج ان کی امت میں تو ہر چمکیلی ہستی لات و منات کی قائم مقام ہے  اور  ہر حاکم،ہررئیس  اور  سب سے آخرمگرسب سے پہلے ہر خوش لباس لیڈر ایک بت کا حکم رکھتا ہے۔ پوری ملت موحد انہی کی پوجاوپرستش میں مشغول ہے۔ پس قرآن کہتا ہے، یہ سب کچھ جو تم کر رہے ہو،شرک ہے  اور  کفر ہے۔ یہ اس کی صفات میں ساجھی ٹھہرانا ہے  اور  اس کی حاکمیت میں غیروں کاسہیم و حصہ دار بنانا ہے جس کا مٹانا قرآن کا اولین فرض ہے۔ غرضیکہ اسلام کسی ایسی اقتداء کوتسلیم نہیں کرتا جو شخصی ہو۔اسلام تو آزادی و جمہوریت کا ایک مکمل نظام ہے جو نوع انسانی کواس سے چھینی ہوئی آزادی واپس دلانے کے لیے آیا تھا۔یہ آزادی بادشاہوں، اجنبی حکومتوں، خودغرض مذہبی پیشواؤں، سوسائٹی کی طاقتوں  اور  جماعتوں نے غصب کر رکھی تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ حق طاقت و غلبہ کا نام ہے لیکن اسلام نے ظاہر ہوتے ہی اعلان کیا کہ طاقت حق نہیں ہے بلکہ خود حق طاقت ہے  اور  خدا کے سواکسی انسان کوسزاوارنہیں کہ بندگان خدا کو اپنا محکوم  اور  غلام بنائے۔ اس نے امتیاز اور بالادستی کے تمام قومی ونسلی مراتب یک قلم مٹا دیے  اور  دنیا کو بتلا دیا کہ سب انسان درجہ میں برابر ہیں۔ سب کے حقوق برابر ہیں۔ نسل قومیت  اور  رنگ معیار امتیاز نہیں بلکہ صرف عمل ہے  اور  سب سے بڑا وہی ہے جس کے کام سب سے اچھے ہوں۔

ان اکرمکم عنداللہ اتقکم(13:49)یہی اس کا طرہ امتیاز اور خصوصی نشان ہے۔ انسانی حقوق کا یہ وہ اعلان ہے جو انقلاب فرانس سے گیارہ سوبرس پہلے ہوا۔یہ صرف اعلان ہی نہ تھا بلکہ عملی نظام تھا جو مشہور مورخ گبن (Gibbon) کے لفظوں میں اپنی کوئی مثال نہیں رکھتا۔پیغمبراسلام اس کے جانشینوں کی حکومت ایک مکمل جمہوریت تھی  اور  صرف قوم کی رائے نیابت انتخاب ہے اس کی بناوٹ ہوتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کی اصطلاح میں جیسے عمدہ  اور  جامع الفاظ اس مقصد کے لیے موجود ہیں شاید ہی دنیا کی کسی زبان میں پائے جائیں۔

اسلام نے پادشاہ کے اقتدار اور شخصیت سے انکار کیا ہے، وہ صرف ایک ریئس جمہوریت(پریذیڈنٹ آف دی پبلک)کا عہدہ جائز قرار دیتا ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی خلیفہ کا لقب  تجویز کیا گیا ہے جس کے معنی نائب و جانشین کے ہیں اس کا اقتدار محض نیابت قوم ہے  اور  بس نیابت الٰہی  تو ہر مسلمان کو حاصل ہے۔ پس خلیفہ صرف قوم کا نائب و نمائندہ ہوتا ہے  اور  قوم خدا کی نائب،توسب اختیارات کاسرچشمہ وہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے خدائی خطابات و القاب کوکسی خلیفہ یا حاکم کے لیے استعمال کرنے کو شرک فی  الصفات قرار دیا  اور  اس کا نام اسماء پرستی رکھا۔کلمات تعظیم و تجلیل عجیب و غریب ہیں۔ جو ملوک وسلاطین عالم کے ناموں کے پہلے نظر آتے ہیں  اور  جن کے بغیر ذات شاہانہ کی طرف اشارہ کرنا بھی سوء ادب کی آخیر حد ہے۔ مگر مرقع خلافت اسلامیہ میں ان کی مثال ڈھونڈنا بے کار ہو گا۔ایک ادنی مسلمان آتا ہے  اور  یا ابا بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور  یا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ کر پکارتا ہے  اور  وہ خوشی سے جواب دیتے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ جو الفاظ تعظیمی استعمال ہوسکتے ہیں، وہ خلیفہ رسول اللہ  اور  امیرالمومنین ہیں جو مدح نہیں بلکہ واقعہ ہے۔ امراء و حکام ملک نہیں الفاظ سے خلفاء کو خطاب کرتے تھے  اور  عوام  اور  غرباء بھی۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بھی یہی حالت تھی۔آپ اپنے لیے لفظ آقاوسیدسنناپسندنہیں فرماتے تھے۔ ایک معمولی بدوی آتا تھا  اور  یا محمد کہہ کر خطاب کرتا تھا۔ایک بار ایک بدوی حاضر ہوا  اور  ڈرتا ہوا خدمت نبوی میں آگے بڑھا تو آپ نے فرمایا۔تم مجھ سے ڈرتے ہو۔میں اس ماں کا بیٹا ہوں جو ثرید کھاتی تھی،سبحان اللہ

چہ عظمت دادہ یارب بخلق آن عظیم الشان

کہ انی عبدہ،گوید بجائے قوم سبحانی

ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو خدمت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں بھیجنا چاہا۔اس نے آپ سے پوچھا کہ اگر حضور اندر تشریف فرما ہوں تومیں کیوں کر آواز دوں، باپ نے کہا۔جان پدر،کاشانہ نبوت درباروقیصروکسرے نہیں ہے۔ حضور کی ذات تفضل وتکبرسے پاک ہے۔ آپ اپنے جانثاروں سے کسی قسم کی توقع نہیں کرتے، تو یا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہہ کر پکارنا۔سبحان اللہ کیا عالم تھا تربیت یافتگان نبوی کا۔

کیا دنیا بھول گئی کہ مسلمان نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اور  خلفائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان کے ناموں سے پکارا  اور  اپنے خلفاء کو بات چیت پر ٹوکا۔ان پرسخت اعتراض کئے۔ ان کو خطبہ دیتے ہوئے روک دیا  اور  اس وقت تک خطبہ نہیں دینے دیا جب تک خلیفہ اپنی صفائی نہیں پیش کر چکے۔ اپنے خلفاء کو تلوار کی دھار،نیزہ کی آنی  اور  تیر کے پھل سے درست کرنے کی دھمکی دی  اور  خلفاء نے ان باتوں پر بجائے ناراض ہونے کے فخر کیا  اور  خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا کہ  الحمد للہ ایسے حق گو امت میں موجود ہیں لیکن اس کے مقابلے میں آج بادشاہوں  اور  ریاستوں کو چھوڑ کر صرف اپنی قوم کے ان لوگوں کو دیکھو جن کے پاس جائیداد کا کوئی حصہ یا چاندی سونے کا کچھ حصہ جمع ہو گیا ہو۔ان میں بہت سے لوگ دولت کو تمام فضیلتوں کا منبع قرار دیتے ہیں  اور  ۔۔۔۔اس لیے لیڈر ہیں۔ پیشوائی کے مدعی ہیں۔ ان میں بہت سے فراعنہ  اور  نماردہ تم کوایسے ملیں گے جن کام نام اگر ان خطابوں سے الگ کر کے زبان سے نکالا جائے جوان کے شیطانی خبث و غرور نے گھڑ لیے ہیں یا حکومت کی خوشامد و غلامی کا اصطباغ لے کر حاصل کئے ہیں تو ان کے چہرے مارے غضب کے درندوں کی طرح خونخوار ہو جاتے ہیں  اور  چار پایوں کی طرح ہیجان و غصہ  اور  غلاظت کو روک نہیں سکتے۔ اس بدترین نسل فراعنہ سے کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ کیا نمرودیت  اور  فرعونیت و شیطانیت ہے۔ کیا ہے جس نے ان کے نفسوں کو مغرور کر دیا ہے  اور  وہ کونس اور ثہ عظمت و جلال ہے جو تکبر اور غرور کی طرح ان کو اپنے مورث اعلیٰفرعون  اور  نمردوسے ملا ہے۔ اگر دولت کا گھمنڈ ہے تو مجھے اس میں شک ہے کہ ان کے پاس جہل کی طرح دولت بھی کثیر ہے  اور  اگر ان پرستاروں  اور  مصاحبوں کا انہیں غرور ہے جو غلامی  اور  دولت پرستی کے کیڑے ہیں تومیں یہ ب اور کرنے کے لیے کوئی وجہ نہیں پاتا کہ دنیا کے مغرورومستبدبادشاہوں سے بھی بڑھ کر اپنے پرستاروں  اور  غلامی کا حلقہ اردگرد دیکھتے ہیں۔ بہرحال کچھ بھی ہو مگر میری آواز کو ہر سامع آج انہیں ان کی قوت کی ناکامی کا پیام پہنچا دے۔ اب ان کی تباہی و بربادی کا آخری وقت آ گیا۔وہ دنیاجس نے بحر احمر میں فرعون  اور  ان کے ساتھیوں کو غرق ہوتے دیکھا تھا  اور  اس طرح کے ان گنت تماشے ہزاروں بار دیکھ چکی ہے، وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کے اندر بحر حریت و صداقت میں جس کی موجیں نہ صرف نام ہی کو نہیں بلکہ حقیقت میں بھی احمر ہوں گی،ان مغرور لیڈروں کے غرق ہونے کا تماشہ دیکھ لے گی۔وہ وقت دور نہیں جبکہ ان کے  اور  ان کے مصاحبوں کے لیے آتش کدے تیار ہوں گے  اور  ان کے خاکسترکوتندوتیزہواکے جھونکوں میں اڑتے ہوئے دیکھے گی۔

آج ارض وسماء،بحر و بر،فضائے آسمانی  اور  خلاء سلطانی میں ان کی ہلاکت و بربادی کی آندھیاں چل رہی ہیں  اور  مرد مومن کی چشم بصیرت کو یہ تمام تماشہ انقلاب امم واستبدال دول و اقوام کا نظر آ رہا ہے۔ آج کی رفتار،دریا کی روانی،لیل   گردش،اقوام و ملل کے تغیرات  اور  گردش زمانہ کی حرکت افراد و اشخاص کے نفسیاتی تمول،اذہان و قلوب کے میلانات،طبا‏ئع انسانی کے رجحانات یہ سب بتا رہے ہیں کہ نماردہ و فراعنہ دور حاضر کی ہلاکت و فلاکت،تباہی و بربادی،خسروان و مغفوریت کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جبکہ ان کی دولت و مال  اور  عز و جاہ کے جنازے نکلیں گے  اور  یہ صفحہ ہستی سے یوں مٹائے جائیں گے کہ تاریخ عالم میں ان کے افسانے رہ جائیں گے،  اور  نام و نشان باقی نہ رہیں گے۔ ان کی تباہی و بربادی پر کوئی نوحہ و ماتم کرنے والا نہ ہو گا۔نہ زمین ان پرترس کھائے  اور  نہ ہی آسمان روئے گا۔

فمابکت علیھم السماء والارض وماکانوا منظرین(29:44)

ان الحکم الاللہ(57:6)لوگ دنیا میں سینکڑوں قوتوں کے محکوم ہیں۔ ماں باپ کے محکوم ہیں، دوست و احباب کے محکوم ہیں، استاد اور مرشد کے محکوم ہیں۔ امیروں، حاکموں  اور  بادشاہوں کے محکوم ہیں۔ اگرچہ وہ دنیا میں بغیرکسی زنجیر اور بیڑی کے آئے تھے مگر دنیا نے ان کے پاؤں میں بہت سی بیڑیاں ڈال دی ہیں۔

لیکن مومن ومسلم ہستی وہ ہے جو صرف ایک ہی کی محکوم ہے، اس کے گلے میں محکومی کی ایک بوجھل زنجیر ضرور ہے، پر مختلف سمتوں میں کھینچنے والی بہت سی ہلکی زنجیریں نہیں ہیں۔ وہ ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے کیونکہ اس کے ایک ہی حاکم نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ دوستوں سے محبت رکھتا ہے کیوں کہ اسے رفیقوں  اور  ساتھیوں کے ساتھ سچے برتاؤ کی تلقین کی گئی ہے۔  وہ اپنے سے  ہر بزرگ  اور  بڑے کا ادب ملحوظ رکھتا ہے کیونکہ اس کے ادب آموز حقیقی نے ایسے ہی بتایا ہے۔ وہ پادشاہوں  اور  حاکموں کا حکم بھی لیتا ہے کیوں کہ حاکموں کے ماننے سے اسے نہیں روکا گیا ہے جواس کے حاکم حقیقی کے حکم کے خلاف نہ ہو۔وہ دنیا کے ایسے پادشاہوں کی اطاعت کرتا ہے جواس کی آسمانی پادشاہت کی ا طاعت کرتے ہیں کیوں کہ اسے تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ ہی ایسا کرے لیکن یہ سب کچھ وہ کرتا ہے تواس لیے نہیں کرتا کہ سب کے لیے کوئی حکم مانتا  اور  ان کو جھکنے کی جگہ سمجھتا ہے بلکہ صرف اس لیے کہ اطاعت ایک ہی کے لیے ہے  اور  حکم صرف ایک ہی کا ہے۔ جب اس ایک ہی حکم دینے والے نے ان سب باتوں کا حکم دے دیا تو ضرور ہے کہ خدا کے لیے ان سب بندوں کو بھی مانا جائے  اور  اللہ کی اطاعت کی خاطر وہ اس کے بندوں کا بھی مطیع ہو جائے۔

پس فی الحقیقت دنیا میں  ہر انسان کے لیے بے شمار حاکم  اور  بہت سی جھکانے والی قوتیں ہیں لیکن مومن کے لیے صرف ایک ہی ہے۔ اس کے سواکوئی نہیں۔ وہ صرفاسی کے آگے جھکتا ہے  اور  صرف اسی کو مانتا ہے۔ اس کی اطاعت کا حق ایک ہی کو ہے۔ اس کی پیشانی کے جھکنے کی چوکھٹ ایک ہی ہے۔  اور  اس کے دل کی خریداری کے لیے بھی ایک ہی ہے وہ اگر دنیا میں کسی دوسری ہستی کی اطاعت کرتا بھی ہے تو صرف اسی ایک کے لیے۔ اس لیے اس کی بہت سی اطاعتیں بھی اسی ایک ہی اطاعت میں شامل ہو جاتی ہیں۔

مقصودماکہ دیروحرم جزحبیب نیست

ہر جاکنیم سجدہ بداں آستاں رسد

حضرت یوسف علیہ السلام نے قید خانے میں اپنے ساتھیوں سے کیا پوچھا تھا۔

ءارباب متفرقون خیرام اللہ الواحدالقھار(39:12)

بہت سے معبود بنا لینا بہتر ہے یا  ایک قہار و مقتدر خدا کو پوجنا۔

یہی وہ خلاصہ ایمان واسلام ہے جس کی  ہر مومن ومسلم کو قرآن کریم نے تعلیم دی ہے کہ

ان الحکم الاللہ امرالاتعبدو الا ایاہ(40:12)

تمام جہاں میں اللہ کے سوا  اور  کوئی نہیں جس کی حکومت ہو۔اس نے ہمیں حکم دیا کہ اس کے سوا  اور  کسی کونہ پوجیں  اور  نہ کسی کو اپنا معبود بنائیں۔ یہی دین قیم ہے جس کی پیروی کا حکم دیا گیا۔

ذلک الدین القیم ولکن اکثرالناس لایعلمون(40:12)

حدیث صحیح یہ ہے کہ فرمایا:

لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق

جس بات کے ماننے میں خدا کی نافرمانی ہواس میں کسی بندے کی فرماں برداری نہ کرو۔

اسلام نے یہ کہہ کرفی الحقیقت ان تمام ماسوائے اللہ اطاعتوں  اور  فرماں برداریوں کے بندشوں سے مومنوں کو آزاد و حر کامل کر دیا جن کی بیڑیوں سے تمام انسانوں کے پاؤں بوجھل ہو رہے تھے  اور  اس کے ایک ہی جملہ نے انسانی اطاعت  اور  پیروی کی حقیقت اس وسعت  اور  احاطہ کے ساتھ سمجھادی کہ اس کے بعد کچھ باقی نہ رہا۔یہی ہے جواسلامی زندگی کادستورالعمل ہے  اور  یہی ہے جو مومن کے تمام اعمال و اعتقادات کی ایک مکمل تصویر ہے۔ اس تعلیم الٰہی نے بتلا دیا کہ جتنی اطاعتیں جتنی فرماں برداریاں جتنی وفاداریاں  اور  جس قدر بھی تسلیم و اعتراف ہے، صرف اس وقت کے لیے ہے جب تک بندے کی بات ماننے سے خدا کی بات نہ مانی جاتی ہو اور دنیا والوں کے وفا دار بننے سے خدا کی حکومت کے آگے بغاوت نہ ہوتی ہو۔لیکن اگر کبھی ایسی صورت پیش آ جائے کہ اللہ  اور  اس کے بندوں کے احکام میں مقابلہ آ پڑے، تو پھر تمام اطاعتوں کا خاتمہ،تمام عہدوں  اور  شرطوں کی شکست،تمام رشتوں  اور  ناموں کا انقطاع  اور  تمام دوستوں  اور  صحبتوں کا اختتام ہے۔ اس وقت نہ تو حاکم،حاکم ہے، نہ پادشاہ،پادشاہ،نہ باپ باپ ہے، نہ بھائی بھائی سب کے آگے تمرد،سب کے ساتھ انکار،سب کے سامنے سرکشی،سب کے ساتھ بغاوت،پہلے جس قدر غلامی تھی اتنی ہی اب سختی چاہیے، پہلے جس قدر اعتراف تھا اتنا ہی اب تمرد چاہیے، پہلے جس قدر جھکاؤ تھا  اتنا ہی اب غرور ہو کیوں کہ رشتے کٹ گئے  اور  عہد توڑ ڈالے گئے۔ رشتہ دراصل ایک ہی تھا  اور  یہ سب رشتے اسی ایک رشتے کی خاطر تھے۔ حکم ایک ہی کا تھا  اور  یہ سب اطاعتیں اسی ایک کی اطاعت کے لیے تھیں۔ جب ان کے ماننے میں اس سے انکار اور ان کی وفاداری میں اس سے بغاوت ہونے لگی توجس حکم سے رشتہ جوڑا تھا اس کی تلوار نے کاٹ بھی دیا  اور  جس کے ہاتھ نے ملایا تھا،اسی کے ہاتھ نے الگ بھی کر دیا کہ۔

لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق

سرورکائنات  اور  سیدالمرسلین صلی اللہ  علیہ والہ وسلم سے بڑھ کرمسلمانوں کا کون آقاہوسکتا ہے۔ لیکن خود آپ نے بھی جب،عقبہ،میں انصارسے بیعت لی تھی تو فرمایا۔

والطاعۃ فی معروف۔میری اطاعت تم پراسی وقت تک کے لیے واجب ہے جب تک میں تم کو نیکی کا حکم دوں جب اس شہنشاہ کونین کی اطاعت مسلمانوں پر نیکی و معروف کے ساتھ مشروط ہے تو پھر دنیا میں کون سے پادشاہ،کونسی حکومت،کون سے پیشوا کون سے رہنما  اور  کون سی قوتیں ایسی ہوسکتیں ہیں جن کی اطاعت ظلم  و عدوان کے بعد بھی ہمارے لیے باقی رہے۔

آدم علیہ السلام کی اولاد دو کی محکوم نہیں ہوسکتی،وہ ایک سے ملے گی،دوسرے کو چھوڑ دے گی۔ایک سے جڑے گی،دوسرے سے کٹے گی،پھر خدارا مجھے بتلاؤ کہ ایک مومن کس کو چھوڑے گا  اور  کس سے ملے گا۔ایک ملک کے دو بادشاہ نہیں ہوسکتے۔ ایک باقی رہے گا،ایک کو چھوڑنا پڑے گا۔پھر مجھے  بتلاؤ کہ مومن کی اقلیم دل کس کی بادشاہت قبول کرے گی۔کیا وہ اس سے ملے گاجس کی حالت یہ ہے کہ:۔

ویقطعون مآامراللہ بہ ان یوصل(27:2)

خدا نے جس کو جوڑنے  اور  ملانے کا حکم دیا ہے وہ اسے توڑتے  اور  جدا کرتے ہیں۔ کیا اس کی بادشاہت قبول کرے گاجس کی حالت  کی تصویر یہ ہے۔

ویفسدون فی الارض اولنک ھم الخسرون(27:2)

وہ دنیا میں فتنہ  اور  فسادپھیلاتے ہیں  اور  انجام کار وہی ناکام و نامراد رہیں گے  اور  کیا اس کی بادشاہت سے گردن موڑے گا جو پکارتا ہے کہ

یایھا الانسان ماغرک بربک الکریم(6:82)

اے غافل انسان:کیا ہے کہ جس کے گھمنڈنے تجھے اپنے مہربان  اور  پیار کرنے والے آقاسے سرکش بنا دیا ہے۔

مگر آہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔

کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتافاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیبکم ثم الیہ ترجعون(28:2)

تم اس شہنشاہ حقیقی کی حکومت سے کیوں کر انکار کرو گے جس نے تمہیں اس وقت زندہ کیا جبکہ تم مردہ تھے  اور  تم پر موت طاری کرے گا اس کے بعد دوبارہ زندگی بخشے گا۔پھر تم اسی کے پاس بلا لیے جاؤ گے۔

دنیا  اور  اس کی بادشاہیاں فانی ہیں۔ ان کے جبروت و جلال کو ایک دن مٹنا ہے۔ خدائے منتقم و قہار کے بھیجے ہوئے فرشتہ ہائے عذاب،انقلاب و تغیرات کے حربے لے کر اترنے والے ہیں۔ ان کے قلعے مسمارہو جائیں گے۔ ان کی تلواریں کند ہو جائیں گی۔ان کی فوجیں ہلاک ہو جائیں گی۔ان کی توپیں ان کو پناہ نہ دیں گی۔ان کے خزانے ان کے کام نہ آئیں گے۔ ان کی طاقتیں نیست و نابود کر دی جائیں گی۔ان کا تاج غرور ان کے سرسے اتر جائے گا۔ان کا تخت جلال و عظمت واژگوں نظر آئے گا۔

ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلا۔الملک یومئذالحق للرحمن وکان یوماعلیٰالکفرین عسیرا(26:25:25)

اور جس دن آسمان ایک بادل کے ٹکڑے پرسے پھٹ جائے گا  اور  اس بادل کے اندرسے فرشتے جوق در جوق اتارے جائیں گے۔ اس دن کسی کی بادشاہت باقی نہ رہی گی۔صرف خدائے رحمان ہی کی حکومت ہو گی  اور  یاد رکھو کہ وہ دن کافروں کے لیے بہت ہی سخت ہو گا۔

پھراس دن جبکہ رب الافواج اپنے ہزاروں قدوسیوں کے ساتھ نمودار ہو گا  اور  ملکوت السموات والارض کا نقیب پکارے گا۔

لمن الملک الیوم للہ الواحدالقھار(16:40)

آج کے دن کس کی بادشاہی ہے ؟کسی کی نہیں، صرف خدائے واحد قہار کی۔

تواس وقت کیا عالم ہو گا۔ان انسانوں کا جنھوں نے بادشاہ ارض وسماء کو چھوڑ کر مٹی کے تودوں کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے  اور  وہ ان کے حکموں کی اطاعت کو خدا کے حکموں کی اطاعت پر ترجیح دیتے ہیں۔

آہ اس دن وہ کہاں جائیں گے جنھوں نے انسانوں سے صلح کرنے کے لیے خداسے جنگ کی  اور  اپنے اس ایک ہی آقا کو ہمیشہ اپنے سے روٹھا ہوا رکھا۔وہ پکاریں گے پر جواب نہ دیا جائے گا۔وہ فریاد کریں گے پرسنی نہ جائے گی۔وہ توبہ کریں گے پر قبول نہ ہو گی  اور  ندامت کام نہ دے گی۔اے انسان! اس دن کے لیے تجھ پرافسو س ہے۔

ویل یومئذللمکذبین(37:77)

وقیل ادعواشرکاءکم فدعوھم فلم یستجیبوالھم(64:28)

ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے خداوندوں  اور  حاکموں کو پکارو جن کو تم خدا کے طرح مانتے تھے  اور  خدا کی طرح ان سے ڈرتے تھے۔ وہ پکاریں گے پر کچھ جواب نہ پائیں گے۔

پس وہ معلم الہی،وہ داعی ربانی،وہ مبشر،وہ منذر،وہ رحمۃ للعالمین، وہ محبوب رب العالمین،وہ سلطان کونین آگے بڑھے گا  اور  حضور خداوندی میں عرض کرے گا۔

وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجورا(30:25)اے پروردگارافسوس ہے کہ میری امت نے قرآن کی ہدایتوں  اور  تعلیموں پر عمل نہ کیا  اور  اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا۔اس کا یہ نتیجہ جو وہ آج بھگت رہے ہیں۔

اللھم صل وسلم علیہ وعلی آلہ وصحبہ واتباعہ الی یوم الدین

پس سفرسے پہلے زاد راہ کی فکر کر لو اور طوفان سے پہلے کشتی بنا لو کیونکہ سفرنزدیک تر ہے  اور  طوفان کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں۔ جن کے پاس زاد راہ نہ ہو گا وہ بھوکے مریں گے  اور  جن کے پاس کشتی نہ ہو گی،وہ سیلاب میں غرق ہو جائیں گے۔ جب تم دیکھتے ہو کہ مطلع غبار آلود ہوا  اور  دن کی روشنی بدلیوں میں چھپ گئی تو تم سمجھتے ہو کہ برق و باراں کا وقت آ گیا۔پھر تمہیں کیا ہو گیا کہ دنیا کی امن وسلامتی کا مطلع غبار آلود ہو رہا ہے۔ دین الٰہی کی روشنی ظلمت و کفر و طغیان میں چھپ رہی ہے مگر تم یقین نہیں کرتے کہ موسم بدلنے والا ہے  اور  تیار نہیں ہوتے کہ انسانی بادشاہوں سے کٹ کر خدا کی بادشاہت کے مطیع ہو جاؤ۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا کے تخت جلال کی منادی پھر بلند ہو اور اس کی زمین صرف اسی کی لیے ہو جائے۔

حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ(39:8)

آہ ہم بہت سوچکے  اور  غفلت وسرشاری کی انتہا ہو چکی۔ہم نے اپنے خالق سے ہمیشہ غرور کیا لیکن مخلوق کے سامنے کبھی بھی فروتنی سے نہ شرمائے۔ ہمارا وصف یہ بتلایا گیا تھا کہ:

اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکافرین(54:5)

مومنوں کے ساتھ نہایت عاجز و نرم،مگر کافروں کے مقابلہ میں نہایت مغروروسخت۔

ہمارے اسلاف کرام کی یہ تعریف کی گئی تھی کہ:۔

اشدآء علی الکفاررحماء بینھم(29:48)

کافروں کے لیے نہایت سخت ہیں، پرآپس میں نہایت رحم والے  اور  مہربان۔

پھر ہم نے اپنی تمام خوبیاں گنوا دیں  اور  دنیا کی مغضوب قوموں کی تمام برائیاں سیکھ لیں۔ ہم اپنوں کے آگے سرکش ہو گئے  اور  غیروں کے سامنے ذلت سے جھکنے لگ گئے۔ ہم نے اپنے پروردگار کے آگے دست سوال نہیں بڑھایا۔لیکن بندوں کے دسترخوان کے گرے ہوئے ٹکڑے چننے لگے۔ ہم شہنشاہ ارض وسماء کی خداوندی سے نافرمانی کی مگر زمین کے چند جزیروں کے مالکوں کواپناخداوندسمجھ لیا۔ہم پورے دن میں ایک بار بھی خدا کا نام ہیبت  اور  خوف کے ساتھ نہیں لیتے۔ سینکڑوں مرتبہ اپنے غیرمسلم حاکموں کے تصورسے لرزتے  اور  کانپتے رہتے ہیں۔

یا ایھا الانسان ماغرک بربک الکریم۔الذی خلقک فسوک فعد ک۔فی ای صورۃ ماشاء رکبک۔کلابل تکذبون بالدین۔وان علیکم لحفظین۔کراماکاتبین۔یعلمون ماتفعلون۔ان الابرارلفی نعیم۔وان الفجارلفی جحیم۔یصلونھایوم الدین۔وماھم عنھابغائبین۔وما ادراک مایوم الدین۔ثم ما ادراک مایوم الدین۔یوم لاتملک نفس لنفس شیناوالامریومنذللہ(19:6:82)

اے سرکش انسان!کس چیز نے تجھے اپنے مہربان  اور  محبت کرنے والے پروردگار کی  جناب میں گستاخ کر دیا۔وہ کہ جس نے تجھے پیدا کیا تیری ساخت درست کی،تیری خلقت کو اعتدال بخشا  اور  جس صورت میں چاہا تیری شکل کی ترکیب کی۔پھر یہ کس کی وفاداری ہے۔ جس نے تجھے اس سے باغی بنا دیا ہے، نہیں اصل یہ ہے کہ تمہیں اس کی حکومت کا یقین ہی نہیں۔ حالاں کہ تجھ پراس کی طرف سے ایسے بزرگ نگران کار متعین ہیں جو تمہارے اعمال کا ہر آن احتساب کرتے رہتے ہیں  اور  تمہارا کوئی فعل بھی ان کی نظرسے مخفی نہیں۔ یاد رکھو کہ ہم نے ناکامی  اور  کامیابی کی ایک تقسیم کر دی ہے۔ خدا کے اطاعت گذار بندے عزت و مراد اور فتح و کامرانی کے عیش و نشاط میں رہیں گے  اور  بد کار لوگ خدا کی بادشاہی کے دن نامرادی کے عذاب میں مبتلا  ہوں گے جس سے کبھی نکل نہ سکیں گے۔ یہ خدا کی بادشاہی کا دن کیا ہے۔ وہ دن جس میں کوئی کسی کے لیے کچھ نہ کر سکے گا۔ اور صرف خدا کی اس دن حکومت ہو گی۔

اس سے پہلے کہ خدا کی بادشاہی کا دن نزدیک آئے، کیا بہتر ہیں کہ اس کے لیے ہم اپنے تئیں تیاری کر لیں۔ تاکہ جب اس کامقدس دن آئے توہم یہ کہہ کر نکال نہ دیے جائیں کہ تم نے غیروں کی حکومت کے آگے خدا کی حکومت کو بھلا دیا تھا۔جاؤ کہ آج خدا کی بادشاہت میں بھی تم بالکل بھلا دیے گئے ہو۔

لابشری یؤمندللمجرمین وقیل الیوم ننسکم کمانسیتھم لقاء یومکم ھذاوماوکم النارومالکم من ناصرین۔ذالکم بانکم اتخذتم آیات اللہ ھزوا وعزتکم الحیاۃ الدنیافالیوم لایخرجون منھاولاھم یستعتبون۔(35:34:45)

اور اس وقت ان سب سے کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کی حکومت الٰہی کو بھلا دیا تھا،آج ہم بھی تم کو بھلا دیں گے۔ تمہارا ٹھکانا آگ کے شعلے ہیں۔  اور  کوئی نہیں جو تمہارا مددگار ہو،یہ اس کی سزا ہے کہ تم نے خدا کی آیتوں کی ہنسی اڑائی  اور  دنیا کی زندگی  اور  اس کے کاموں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا۔پس آج نہ تو عذاب سے تم نکالے جاؤ گے  اور  نہ ہی تمہیں اس کا موقع ملے گا کہ توبہ کر کے خدا کو منا لو کیوں کہ اس کا وقت تم نے کھو دیا۔

آج خدا کی حکومت  اور  انسانی بادشاہوں میں ایک سخت جنگ چاہیے۔ شیطان کا تخت زمین کے سب سے بڑے حصے پر بچھا دیا گیا ہے۔ اس کے گھرانے کی وراثت اس کے پوجنے والوں میں تقسیم کر دی گئی ہے۔  اور  دجال کی فوج  ہر طرف پھیل گئی ہے۔ یہ شیطانی بادشاہتیں چاہتی کہ خدا کی حکومت کونیست و نابود کر دیں۔ ان کی داہنی جانب دنیوی لذتوں  اور  عزتوں کی ایک ساحرانہ جنت ہے۔  اور  بائیں جانب جسمانی تکلیفوں  اور  عقوبتوں کی ایک دکھائی دینے والی جہنم بھڑک رہی ہے۔ جو فرزند آدم خدا کی بادشاہت سے انکار کرتا ہے۔ وہ دجال کفر و ظلمت اس پر اپنے جادو  کی جنت کا دروازہ کھول دیتے ہیں کہ حق پرستوں کی نظر میں فی الحقیقت خدا کی لعنت  اور  پھٹکار کی جہنم ہے۔

لبثین فیھا احقابا۔لایذوقون فیھابرداولاشرابا(24:23:78)

اور جو خدا کی بادشاہت کا اقرار کرتے ہیں ان کوابلیس عقوبتوں  اور  جسمانی سزاؤں کی جہنم میں دھکیل دیتے ہیں کہ:۔

حرقوہ وانضروا الھتکم(68:21)مگر فی الحقیقت سچائی کے عاشقوں  اور  راست بازی کے پرستاروں کے وہ جہنم،جہنم نہیں ہے۔ لذتوں  اور  راحتوں کی ایک جنت النعیم ہے۔ کیوں کہ ان کے لسان و ایقان کی صدا یہ ہے کہ:۔

فاقض ما انت قاض انماتقضی ھذہ الحیاۃ الدنیا انا امنابربنالیغفرلناخطینا(73:72::20)

اے دنیوی سزاؤں کے طاقت پر مغرور ہونے والے بادشاہ تو جو کچھ کرنے والا ہے، کر گذر۔تو صرف دنیا کی اس زندگی  اور  گوشت  اور  خون کے جسم پر حکم چلا سکتا ہے، پس چلا دیکھ۔ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ ہماری خطاؤں کو معاف کرے تیری دنیاوی سزائیں ہمیں اس کی راہ سے باز نہیں رکھ سکتیں۔

جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے  اور  زمین کے ایک خاص ٹکڑ ے ہی میں نہیں بلکہ اس کے  ہر گوشے میں آج یہی مقابلہ جاری ہے تو بتلاؤ،پرستاران دین حنیفی ان دجاجلہ کفر و شیطنیت  اور  حکومت و امر الٰہی میں سے کس کاساتھ دیں گے۔ کیا ان کواس آگ کے شعلوں کا ڈر ہے جو دجال کی حکومت اپنے ساتھ ساتھ سلگاتی آتی ہے۔ لیکن کیا ان کو معلوم ہے کہ ان کا مورث اعلیٰکون تھا۔دین حنیف کے اولین داعی نے بابل کی ایک ایسی ہی سرکش حکومت کے مقابلے میں خدا کی حکومت کو ترجیح دی  اور  اسے آگ میں ڈالنے کے لیے شعلے بھڑکائے گئے، پراس کی نظر میں ہلاکت کے وہ شعلے گلزار بہشت کے شگفتہ پھول تھے۔

قلنایانارکونی برداوسلاماعلیٰا براھیم(29:21)

کیا ان کے دل میں دنیوی لذتوں  اور  عزتوں کی اس جھوٹی جنت کی لالچ پیدا ہو گئی ہے جس کے فریب باطل سے یہ جنود شیطانی انسانی روح کو فتنہ میں ڈالنا چاہتی ہے۔ اگرایسا ہے تو کیا انہیں خبر نہیں کہ مصر کا بادشاہ حکومت الٰہی کا منکر ہو کر اپنی عظیم الشان گاڑیوں  اور  بڑی بڑی رتھوں سے  اور  اس ملک سے جس پراسے رب الاعلیٰ ہونے کا گھمنڈ تھا،کتنے دن متمتع ہوسکا۔

ان فرعون علافی الارض وجعل اھلھاشیعایستضعف طآئفۃ منھم یذبح انبآء ھم ویستحیی نساء ھم انہ کان من المفسدین۔ونریدان نمن علی ا لذین استضعفوافی الارض ونجعلھم ائمۃ ونجعلھم الورثین۔ونمکن لھم فی الارضونری فرعون وھامان وجنودھمامنھم ماکانوا یحذرون(6:4:28)

فرعون ارض مصر میں بہت بڑھ چڑھ کر نکلا تھا۔اس نے ملک کے باشندوں میں تفریق کر کے الگ الگ گروہ قرار دے رکھے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ بنی اسرائیل کواس قدر کمزور اور بے بس سمجھ رکھا تھا کہ ان کے فرزندوں کو  قتل کرتا  اور  ان کے اعراض وناموس کو برباد کرتا۔اس میں شک نہیں کہ وہ زمین کے مفسدوں میں سے بڑا ہی مفسدتھالیکن باہیں ہمہ ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو قوم اس کے ملک میں سب سے زیادہ کمزورسمجھی گئی تھی اس پراحسان کریں۔ اس قوم کے لوگوں کو وہاں کی سرداری وریاست بخشیں۔ انہی کو وہاں کی سلطنت کا وارث بنائیں  اور  انہی کی حکومت کو تمام ملک میں قائم کرا دیں۔ اس سے ہمارا مقصد یہ تھا کہ فرعون  اور  ہامان  اور  اس کے لشکرکوجس ضعیف قوم طرف سے بغاوت و خروج کا کھٹکا لگا رہتا تھا۔اسی کے ہاتھوں ان کے ظلم واستبداد کے نتیجے ان کے آگے آئیں۔

مسلمانو!کیا متاع آخرت بیچ کر دنیا کے چند خزف ریزوں پر قناعت کی خواہش ہے۔ کیا اللہ کی حکومت سے بغاوت کر کے دنیا کی حکومتوں سے صلح کرنے کا ارادہ ہے۔ کیا نقد حیات ابدی بیچ کر معیشت چند روزہ کاسامان کر رہے ہیں۔ کیا تمہیں یقین نہیں کہ۔

وماھذہ الحیاۃ الدینآ۔الالھوولعب وان الدارالاخرۃ لھی الحیوان۔(64:29)

یہ دنیا کی زندگی جو تعلق الٰہی سے خالی ہے اس کے سواء  اور  کیا ہے کہ فانی خواہشوں کے بہلانے کا ایک کھیل ہے۔ اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے جس کے لیے اس زندگی کو تیار کرنا چاہیے۔

اگر تم صرف دنیا کے طالب ہو جب بھی اپنے خدا کونہ چھوڑو۔کیوں کہ وہ دنیا و آخرت دونوں بخشنے کے لیے تیار ہے۔ تم کیوں صرف ایک ہی پر قناعت کرتے ہو۔

من کان یریدثواب الدنیا فعنداللہ ثواب الدینا والاخرۃ(134:4)

اور جو شخص دنیا کی بڑی برتری کا طالب ہے۔ اس سے کہہ دوکہ صرف دنیا ہی کے لیے کیوں ہلاک ہوتا ہے۔ حالانکہ خدا تو دین و آخرت دونوں کی برتری دے سکتا ہے۔ وہ خدا کے پاس آئے  اور  آخرت کے ساتھ دنیا کو بھی لے۔

مسلمانو!پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اب بھی خدائے قدوس کی سرکشی و نافرمانی سے باز آ جاؤ اور بادشاہ ارض وسماء کو اپنے سے روٹھا ہوا نہ چھوڑوجسے کے روٹھنے کے بعد زمین وآسمان کی کوئی ہستی بھی تم سے من نہیں سکتی۔اس سے بغاوت نہ کرو۔بلکہ دنیا کی تمام طاقتوں سے باغی ہو  کر صرف اسی کے وفادار ہو جاؤ۔پھر کوئی ہے جواس آواز پر کان دھرے۔

فھل من مستمع

آسمانی بادشاہت کے ملائکہ مکرمین  اور  قدوسیان مقربین اپنے نورانی پروں کو پھیلائے ہوئے اس راست باز روح کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جو مخلوق کی بادشاہت چھوڑ کر خالق کی حکومت میں بسناچاہتی ہے۔ کون ہے جواس پاک مسکن کا طالب ہو اور پاکباز روحوں کی طرح پکار اٹھے۔

ربنا انناسمعنامنادیاینادی للایمان ان امنوبربکم فامناربنافاغفرلناذنوبناوکفرعناسیاتناوتوفنامع الابرارربنا اتناماوعدتناعلیٰرسلک ولاتخزنایوم القیامۃ انک لاتخلف المیعاد(194:193:4)

اے ہمارے حقیقی بادشاہ ہم نے ایک پکارنے والے کی آوازسنی،جو تیری بادشاہت کی آواز دے رہا تھا۔اے ہمارے ایک ہی بادشاہ!ہم نے تیری بادشاہت قبول کی۔پس ہمارے گناہ معاف کر۔ہمارے عیوب پر پردہ ڈال۔اپنے نیک بندوں کی معیت میں ہمارا خاتمہ کر۔تو نے اپنے منادی کرنے والے کی زبانی ہم سے جو وعدہ کئے تھے وہ پورے کر۔ اور اپنی آخری بادشاہت میں  ہمیں ذلیل و خوار نہ کر کہ تو اپنے وعدوں سے کبھی نہیں ٹلتا۔

 

حواشی

 

مشکوۃ 2/321

شرح السنۃ

 

 

 

عروج و زوال کے فطری اصول

 

 

تم کرہ ارض کی کوئی قوم لے لو اور زمین کا کوئی ایک قطعہ سامنے رکھ لو،جس وقت سے اس کی تاریخ روشنی میں آئی ہے اس کے حالات کا کھوج لگاؤ تو تم دیکھو گے کہ اس کی پوری تاریخ کی حقیقت اس کے سواکچھ ہے کہ وارث و میراث کی ایک مسلسل داستان ہے یعنی ایک قوم قابض ہوتی پھر مٹ گئی  اور  دوسری وارث ہو گئی۔پھراس کے لیے بھی مٹنا ہوا  اور  تیسرے وارث کے لیے جگہ خالی ہو گئی۔وھلم جرا قرآن کہتا ہے یہاں وارث و میراث کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اب سوچنایہ چاہیے کہ جو ورثہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں، کیوں ہوتے ہیں  اور  جو وارث ہوتے ہیں کیوں وراثت کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ فرمایا اس لیے کہ یہاں خدا کا ایک اٹل قانون کام کر رہا ہے کہ:۔

ان الارض یرثھاعبادی الصالحون(105:21)

کہ زمین کے وارث خدا کے بندے ہوتے ہیں۔

یعنی جماعتوں  اور  قوموں کے لیے یہاں بھی یہ قانون کام کرہا ہے کہ انہی لوگوں کے حصہ میں ملک کی فرماں پذیری آتی ہے جو نیک ہوتے ہیں، صالح ہوتے ہیں۔ صلح کے معنی سنوارنے کے ہیں۔ فساد کے معنی بگڑنے  اور  بگاڑنے کے ہیں۔ صالح انسان وہ ہے جو اپنے کوسنوارلیتا ہے  اور  دوسرے میں سنوارنے کے استعدادپیدا کرتا ہے  اور  یہی حقیقت بد عملی کی ہے پس قانون یہ ہو کہ زمین کی وراثت سنورنے  اور  سنوارنے والوں کی وراثت میں آتی ہے۔ ان کی وراثت میں نہیں جو اپنے اعتقادو عمل میں بگڑ جاتے ہیں  اور  سنوارنے کی جگہ بگاڑنے والے بن جاتے ہیں۔

تورات،انجیل  اور  قرآن تینوں نے وراثت ارض کی ترکیب جا بجا استعمال کی  اور  غور کرو یہ ترکیب صورت حال کی کتنی سچی  اور  قطعی تعبیر ہے۔ دنیا کے  ہر گوشے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرح کی بدلتی ہوئی میراث کاسلسلہ برابر جاری رہتا ہے یعنی ایک فرد اور ایک گروہ طاقت و اقتدار حاصل کرتا ہے۔ پھر وہ چلا جاتا ہے  اور  دوسرا فرد یا گروہ اس کی ساری چیزوں کا وارث ہو جاتا ہے۔ حکومتیں کیا ہیں، محض ایک ورثہ ہیں۔ جو ایک گروہ سے نکلتا ہے  اور  دوسرے گروہ کے حصہ میں آ جاتا ہے۔ پس قرآن کہتا ہے ایساکیوں ہے، اس لیے کہ وراثت ارض کی شرط اصلاح و صلاحیت ہے۔ جو صالح نہ رہے ان سے نکل جائے گی۔جو صالح ہوں گے ان کے ورثہ میں آئے گی۔

فلن تجدلسنت تبدیلاولن تجدلسنت اللہ تحویلا(43:35)

سورۃ رعد میں فرمایا۔یہ جو کچھ بھی ہے، حق  اور  باطل کی آویزش ہے۔ لیکن حق  اور  باطل کی حقیقت کیا ہے۔ کونساقانون ہے جواس کے اندر کام کر رہا ہے۔ یہاں واضح کیا ہے کہ یہ بقاء انفع کا قانون ہے۔ لیکن وہ کبھی لفظ انفع کی بجائے لفظ اصلح استعمال کرتا ہے۔ لفظ دو ہیں معنی ایک ہے یعنی اللہ نے قانون ہستی کے قیام و اصلاح کے لیے یہ قانون ٹھہرایا ہے کہ یہاں وہ چیز باقی رہ سکتی ہے جس میں نفع ہو۔جس میں نفع نہیں وہ نہیں ٹھہرسکتی۔اسے نابود ہو جانا ہے کیوں کہ کائنات ہستی کا یہ بناؤ،یہ حسن،یہ ارتقاء قائم نہیں رہ سکتا۔اگراس میں خوبی کی بقاء  اور  خرابی کے ازالے کے لیے ایک اٹل قوت سرگرم کار نہ رہتی۔یہ قوت کیا ہے، فطرت کا انتخاب ہے، فطرت ہمیشہ چھانٹتی رہتی ہے۔ وہ  ہر گوشہ میں صرف خوبی  اور  برتری ہی باقی رکھتی ہے فساد اور نقص محو کر دیتی ہے۔ ہم فطرت کے اس انتخاب سے بے خبر نہیں ہیں۔ قرآن کہتا ہے اس کار گاہ فیضان و جمال میں صرف وہی چیز باقی رکھی جاتی ہے جس میں نفع ہو کیوں کہ یہاں رحمت کارفرما ہے  اور  رحمت چاہتی ہے کہ افادہ فیضان ہو۔وہ نقصان گوارا نہیں کر سکتی۔وہ کہتا ہے۔ جس طرح تم مادیات میں دیکھتے ہو کہ فطرت چھانٹتی ہے۔ جو چیز نافع ہوتی ہے اسے باقی رکھتی ہے  اور  جو نافع نہیں ہوتی اسے محو کر دیتی ہے۔ ٹھیک ٹھیک عمل ایساہی معنویات میں بھی جاری ہے جو عمل حق ہو گا قائم  اور  ثابت رہے گا،جو باطل ہو گا مٹ جائے گا  اور  جب کبھی حق و باطل کا مقابلہ ہو گا تو بقاء حق کے لیے ہو گی نہ کہ باطل کے لیے۔ وہ اسی کو قضاء بالحق سے تعبیر کرتا ہے یعنی فطرت کا فیصلہ حق جو باطل کے لیے نہیں ہوسکتا۔

فاذاجآء امراللہ قضی بالحق وخسرھنالک المبطلون(78:40)

یعنی جب فیصلہ کا وقت آ  گیا تو فیصلہ حق نافذ کیا گیا  اور  باطل پرست تباہ و برباد کئے گئے۔ وہ کہتا ہے اس قانون سے تم کیوں انکار کر سکتے ہو،جبکہ زمین وآسمان کا تمام کارخانہ اسی کی کارفرمائیوں پر قائم ہے۔ اگر فطرت کائنات برائی  اور  نقصان چھانٹتی نہ رہتی  اور  بقاء  اور  قیام صرف اچھائی  اور  خوبی کے لیے نہ ہوتا تو تمام کارخانہ ہستی درہم برہم ہو جاتا۔

ولواتبع الحق اھوآء ھم لفسدت السموت والارض ومن فیھن(71:23)

یعنی اگر قانون ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو یقین کرو کہ یہ زمین وآسمان  اور  جو کچھ اس میں ہے، سب درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ وہ کہتا ہے، امم،ملل،اقوام  اور  جماعات کا اقبال و ادبار ہدایت و شقاوت کا معاملہ بھی اسی قانون سے وابستہ ہے۔ وہ اس سے مستثنیٰ نہیں، یہ کیوں کرہوسکتا ہے کہ جو قانون کارخانہ ہستی کے  ہر گوشہ  اور   ہر ذرہ میں اپنا عمل کر رہا ہے، وہ یہاں آ کر بے کار ہو جائے۔ جس قانون کی وسعت پنہانی سے کائنات کا کوئی ذرہ باہر نہ ہو اقوام و امم کا عروج و اقبال  اور  انزال وادباراس سے کیوں کر رہ جائے۔ وہ کہتا ہے یہاں بھی وہ قانون کام کر رہا ہے۔ قوموں  اور  جماعتوں کے گذشتہ اعمال ہی ہیں جن سے ان کا حال بنتا ہے  اور  حال کے اعمال ہی ہیں جوان کامستقبل بناتے ہیں۔ پھراس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔خدا کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا،جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے یعنی اس بارے میں خودانسان کا عمل ہے، وہ جیسی حالت چا ہے، اپنے عمل  اور  صلاحیت عمل سے حاصل کر لیں۔ اگر ایک قوم بدحال ہے  اور  وہ اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی پیدا کر لیتی ہے جس سے خوشحالی پیداہوسکتی ہے۔  تو خدا کا قانون یہ ہے کہ یہ تبدیلی فوراً اس کی حالت بدل دے گی  اور  بدحالی جگہ خوش حالی آ جائے گی۔اس طرح خوشی حالی کی بجائے بدحالی کاتغیرسمجھ لو فرمایا جب ایک قوم نے اپنی عملی صلاحیت کھودی  اور  اس طرح تبدیل حالت کے مستحق ہو گئی تو ضروری ہے کہ اسے برائی پہنچے۔ یہ برائی کبھی ٹل نہیں سکتی کیوں کہ یہ خود خدا کی جانب سے ہوتی ہے۔ یعنی اس کے ٹھہرائے ہوئے قانون کا نفاذ ہوتا ہے  اور  خدا کے قانون کا نفاذ کون ہے جو روک سکے  اور  کون ہے جواس کی زدسے بچا سکے۔ اس کو قرآن استبدال اقوام سے تعبیر کرتا ہے  اور  جابجامسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ اگر تم نے صلاحیت عمل کھودی تو وہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اقبال و ارتقاء کی نعمت عظمی سے نوازیں گے  اور  کوئی نہیں جو اس کوایسا کرنے سے روک سکے  اور  پھر وہ دوسری قوم تمہاری طرح صلاحیت و اصلاح سے محروم نہ ہو گی۔بلکہ نیکوں کے ساتھ نرم  اور  بروں کے ساتھ سخت ہوں گے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم یوں ہی قوموں کے دن بدلتے رہتے ہیں  اور  ایک کے ہاتھوں دوسرے کو صفحہ ءہستی سے مٹا دیتے ہیں کیوں کہ اگر ہم ایسانہ کرتے  اور  ایک قوم کے دست تظلم سے دوسری مظلوم قوم کو نجات نہ دلاتے۔ اگر ہم ضعیف کو نصرت سے نہ بخشتے تاکہ وہ قوی کے طغیان وفسادسے محفوظ ہو جائے تو دنیا کا چین  اور  سکھ ہمیشہ کے لیے غارت ہو جاتا  اور  قوموں کی راحت ہمیشہ کے لیے ان سے روٹھ جاتی  اور  اللہ کی زمین پروہ تمام منارے گرائے جاتے جواس کی گھرکی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ وہ تمام مقدس عمارتیں خاک کا ڈھیر ہو جاتیں جن کے اندراس کی پرستش  اور  اس کے ذکر کی پاک صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ یہ حسین و جمیل دنیا ایک ایسی ناقابل تصور ہلاکت و بربادی کا منظر ہو جاتی جس کی سطح پر مردہ انسانوں کی بوسیدہ ہڈیوں  اور  منہدم عمارتوں کی اڑتی ہوئی خاک کے سوا  اور  کچھ نہ ہوتا۔یہ انقلاب جو قوموں  اور  ملکوں میں ہوتے رہتے ہیں، یہ جو پرانی قومیں مرتی  اور  نئی قومیں ان کی جگہ لے لیتی ہیں، یہ جو قومیں کمزور ہو جاتی ہیں  اور  کمزوروں و ضعیفوں کو باوجود ضعف کے غلبہ کے سامان میسرآجاتے ہیں، یہ تمام حوادث اسی حکمت  اور  قانون الٰہی کا نتیجہ ہیں جو تمام کائنات ہستی میں کارفرما ہے  اور  جس کا نام بقاء اصلح یا بقاء انفع کا قانون فطرت ہے۔ یہ سب کچھ اس کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ اس لیے جو قوم حق پر ہے وہی نافع ہے  اور  اس کے لیے ثبات و بقاء ہے، اقبال و عروج ہے۔  اور  جو قوم جادۂ حق سے منحرف ہو،وہی باطل پر ہے  اور  غیر نافع ہے  اور  اس کے لیے بربادی ہے، فنا ہے  اور  زوال ونیستی ہے۔

پھر دیکھو قرآن کریم نے اس نازک  اور  دقیق حقیقت کے لیے کیسی صاف  اور  عام مثال بیان کر دی جس کے معائنہ سے کوئی انسانی آنکھ بھی محروم نہیں ہوسکتی فرمایا۔جب پانی برستا ہے  اور  زمین کے لیے شادابی و گل ریزی کاسامان مہیا ہونے لگتا ہے توہم دیکھتے ہیں کہ تمام وادیاں نہروں کی طرح رواں ہو جاتی ہیں۔ لیکن پھر کیا تمام پانی رک جاتا ہے۔ کیا میل کچیل  اور  کوڑا کرکٹ اپنی اپنی جگہ تھمے رہتے ہیں۔ کیا زمین کی گود ان کی حفاظت کرتی رہتی ہے۔ نئی زمین کو اپنی نشو و نما کے لیے جس قدر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ جذب کرتی ہے۔ ندی نالوں میں جس قدرسمائی ہوتی ہے۔ اتنا ہی وہ پانی روک لیتے ہیں۔ باقی پانی جس تیزی کے ساتھ گرا تھا،اسی تیزی سے بہہ بھی جاتا ہے۔ میل کچیل  اور  کوڑا کرکٹ جھاگ بن کرسمٹتا  اور  ابھرتا ہے۔ پھر پانی کی روانی اسے اس طرح اٹھا کر لے جاتی ہے کہ تھوڑی دیر کے  بعد وادی کا ایک ایک گوشہ دیکھ جاؤ،کہیں ان کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا۔اس طرح جب سوناچاندی یا  اور  کسی دھات آگ پر تپاتے ہو۔تو کھوٹ الگ ہو جاتا ہے۔ خالص دھات الگ نکل آتی ہے۔ کھوٹ کے لیے نابود ہو جانا ہے  اور  خالص دھات کے لیے باقی رہنا ہے۔

ایساکیوں ہوتا ہے، اس لیے کہ یہاں بقاء انفع کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں باقی رہنا اس کے لیے ہے جو نافع ہو۔جو نافع نہیں وہ چھانٹ دیا جائے گا۔یہی حقیقت حق  اور  باطل کی ہے حق وہ بات ہے جس میں نفع ہے۔ پس وہ کبھی مٹنے والی نہیں۔ ٹکنا اس کے لیے ثابت ہوا،باقی رہنا اس کا خاصہ ہے۔  اور  حق کے معنی ہی قیام و ثبات کے ہیں لیکن باطل وہ ہے جو نافع نہیں اس لیے اس کا قدرتی خاصہ یہ ہوا کہ مٹ جائے، محو ہو جائے، ٹل جائے۔

ان الباطل زھوقا(81:17)

اس حقیقت کا ایک گوشہ ہے۔ جس ہم نے بقاء اصلح کی شکل میں دیکھا ہے  اور  قرآن نے اس کو اصلح بھی کہا ہے۔  اور  انفع بھی کیوں کہ صالح وہی ہے جو نافع ہو۔کارخانہ ہستی کی فطرت میں بناوٹ  اور  تکمیل ہے  اور  تکمیل جب ہی ہوسکتی ہے۔ جبکہ حرف نافع اشیاء میں باقی رکھے جائیں۔ غیر نافع چھانٹ دیے جائیں۔ قرآن نے نافع کو حق سے  اور  غیر نافع کو باطل سے تعبیر کیا کہے  اور  اس تعبیرسے ہی اس نے حقیقت کی نوعیت واضح کر دی کیوں کہ حق اسی چیز کو کہتے ہیں جو ثابت  اور  قائم رہے  اور  اس کے لیے مٹ جانا،زوال پذیر ہونا  اور  فناء و نابود ہونا ممکن نہ ہو۔ اور باطل کے معنی ہی یہی ہیں یعنی مٹ جانا  اور  محو ہو جانا۔پس وہ جب کسی بات کے لیے کہتا ہے کہ یہ حق تو یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ دعویٰ کے ساتھ اس کے جانچ کا معیار بھی پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بات حق ہے اس لیے نہ مٹنے والی  اور  نہ ٹلنے والی بات ہے  اور  اس کے ثبوت و وجود قیام و بقاء کے لیے صرف اس کا حق ہونا کافی ہے  اور  جب یہ کہا جائے کہ یہ باطل ہے یعنی نہ ٹک سکنے والی،ٹلنے والی ہے۔ اس عدم و زوال پذیری کے لیے اس کا باطل ہونا ہی کافی ہے۔ مزید دلیل کی حاجت نہیں۔ یہ دونوں اصطلاحیں قرآن کے مہمات معارف میں سے ہیں۔  لیکن افسوس کہ علماء نے غور نہیں کیا۔ورنہ بعض اہم مقامات میں دور از کار تاویلوں کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اور اگر یہ ایک حقیقت سمجھ لی جائے تو ہماری پستی  اور  ادبار کے لیے ان وہی اسباب تنزل و ادبار کی ضرورت ہی نہ تھی۔

لیکن افسوس کہ قوم کے رہنماؤں نے غوروفکرسے کام نہ لیاتوکسی نے باعث ادبارکسی وہمی بات کو بنا لیا،کسی نے تقلید یورپ کو اور کسی نے تملق و خوشامد غلامانہ کو۔

تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ لیکن اتنی بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ قرآن نے ہمارے ظہور کی علت غائی جو فرمائی ہے وہی ہمارے عروج کی بھی علت غائی قرار دی ہے۔ یعنی

کنتم خیرامۃ اخرجت للناس(110:3)میں ہمارے ظہور کا مقصد نفع خلائق قرار دیا ہے۔ یوں ہی:۔

الذین ان مکناھم فی الارض اقاموالصلوۃ واتوا الزکوۃ وامروابالمعروف ونھوعن المنکر(41:22)

میں ہمارے عروج کی علت غائی بھی اس نے یہی قرار دی ہے۔ کہ اقامتہ الصلوۃ نظام زکوٰۃ  اور  امر بالعمروف  و نہی عن المنکر۔یہ تینوں باتیں نفع رسانی خلائق کے لیے ہیں، تو گویا ہمارا ظہور و عروج دونوں نفع رسانی ناس کے لیے تھے۔ یعنی اللہ کی سلطنت قائم کرنا  اور  عدل الٰہی کو دنیا میں غلبہ دیناجس سے بڑھ کر کوئی نفع نہیں۔  اور  یہی معنی ہیں صفات الہیہ کے مظہر ہونے کے کیوں کہ مظہریت  بغیر تین باتوں کے ہو نہیں سکتی۔پہلی بات وحدت مرکزیہ کا قیام ہے جس کے لیے اقامۃ  الصلوٰۃ  کا حکم ہے، دوسری بات ہے اشتراک مال کی اسلامی صورت جس کی طرف نظام زکوٰۃ کے ذریعہ رہنمائی کی گئی  اور  تیسری بات ہے عدل الٰہی کا قیام۔سووہی چیز امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے  اور  یہی مقصد اعلیٰ امور عظام میں سے ہے۔

ہم جب تک اپنے ظہور و عروج کے مقاصد کوسنبھالے رکھا تو دنیا کے لیے نافع رہے۔ اس لیے ہمیں تکمیل فی الارض حاصل رہا  اور  جب سے ہم نے اپنے ظہور و عروج کا مقصد بھلا دیا تو پھر ہمیں اس منصب سے بھی محروم ہونا پڑا  اور  قومی زندگی کی بجائے قومی موت کاسامناہواتوخدارابتلاؤکہ ہم بدبختوں  اور  سیاہ کاروں کا کیا حق ہے کہ قومی موت کاسامناہواتوخدارابتلاؤکہ ہم بدبختوں  اور  سیاہ کاروں کا کیا حق ہے کہ قومی زندگی  اور  اجتماعی ترقی کا دعویٰ کریں۔ آج نہ ایمان کی دولت ساتھ ہے  اور  نہ طاعات وحسنات کی پونجی دامن میں۔ زندگی یکسرغفلت و معصیت میں برباد اور عمریں یک قلم نفس پرستی و نافرمانی میں تاراج۔اغراض نفسیاتی کی پرستش  اور  نفاق،نافرمانی  اور  انکار۔ پھر نہ ندامت و ملامت  اور  نہ ہی توبہ و انابت،توخدارابتلاؤکس منہ سے ہم اپنی زندگی و بقا کے مدعی بن سکتے ہیں۔ فواحسرتاومصیبتاۃ۔

اصل یہ ہے کہ نظام عالم کے قوانین اساس کی بنیاد صرف قیام عدل کی ناقدانہ قوت پر ہے۔ خداوند تعالیٰ دنیا میں انبیاء علیہم ا لسلام کو بھی ا س لیے بھیجتا رہتا ہے کہ دنیا میں اللہ کے عدل کو قائم کریں۔ لیکن چوں کہ اس کے لیے اکثر اوقات قہر و غلبہ کی قوت قاہرہ بھی دیتا رہا  اور  استیلاواستقلاء کی نعمت عظمی سے نوازا تاکہ دنیاسے ظلم و برائی کا خاتمہ ہو جائے  اور  عدل الٰہی کا دور دورہ ہو اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا فرض منصبی بھی امر بالمعروف  اور  نھی عن المنکر قرار دے کران کو قیام عدل کے لیے منتخب فرمایا  اور  میزان عدل قسطاس المستقیم  اور  صراط مستقیم کا قانون اجتماعی دے کر دنیا والوں کے لیے ان کو شہداء یعنی حق کو گواہی دینے والا بنایا۔

پس مسلمانوں کے ظہور کی اصل علت غائی صرف یہ ہے کہ شہادۃ علی الناس کا فریضہ باحسن وجود پورا ہو۔یہی وجہ کہ تمکین فی الارض والی آیۃ کے سواء جہاں کہیں بھی ان کے ظہور کے علت غائی سی نشاندہی فرمائی۔کسی جگہ بھی اقامۃ الصلوٰۃ و آتو  الزکوٰۃ کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف شھادۃ علی ا لناس و امر بالمعروف و نھی عن المنکر پر زور دیا۔فرمایا۔

کذالک جعلناکم امۃ وسطالتکونواشھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا(143:2)

یعنی اس طرح ہم نے تم کو امت درمیانی بنایا تاکہ  اور  لوگوں کے مقابلہ میں تم گواہ بنو اور تمہارے مقابلے میں تمہارارسول گواہ ہو اور فرمایا۔

ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینھون عن المنکرواولنک ھم المفلحون(104:3)

یعنی تم میں ایک جماعت ہونی چاہیے جو دنیا کو نیکی کی دعوت دے بھلائی کا حکم کرے  اور  برائی سے روکے وہی فلاح یافتہ ہیں  اور  فرمایا۔

کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر(115:3)

یعنی تمام امتوں میں سب سے بہتر امت ہو کہ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو۔

ان تینوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا اصلی مشن مقصد تخلیق  اور  قومی امتیاز و شرف خصوصی اس چیز کو  قرار دیا ہے کہ دنیا میں اعلان حق ان کاسرمایہ زندگی ہے۔  اور  وہ دنیا میں اس لیے کھڑے کئے گئے ہیں کہ خیر کی طرف داعی ہوں  اور  نیکی کا حکم دیں  اور  برائی کو جہاں کہیں دیکھیں اس کو روکیں۔ عمران و تمدن کے تمام اصولوں  اور  قوانین کا متن قرآن کاہی اصل اصول ہے اسی اصول کی ہمہ گیری ہے کہ امم قدیمیہ کے حالات ہم پڑھتے ہیں تو ہر قوم کا ایک دور عروج ہمارے سامنے آتا ہے  اور  دوسرازمانہ انحطاط ان دونوں میں ما بہ الامتیاز اور فاصل اگر کوئی چیزہوسکتی ہے تو وہ قیام عدل  اور  نفاذ جور و جفا ہے۔

جب تک قومیں قیام عدل میں مساعی  اور  جدوجہد کرنے والی ہوتی ہیں۔ تو فتح و کامرانی نصرت الٰہی و کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ لیکن جب قیام عدل کی بجائے۔        افشاء ظلم  اور  ترویج جوروستم ان کا شعار بن جاتا ہے تو پھر قانون فطرت حرکت میں آتا ہے  اور  بیک جنبش ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیتا ہے  اور  پھر ان کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔

دور جانے کی ضرورت نہیں خود اپنی تاریخ کو اٹھا کر دیکھو۔جب تک ہم دنیا میں حق  اور  انصاف کے حامی و مددگار رہے تو خدا تعالیٰ بھی ہمارا مددگار رہا  اور  دنیا کی کوئی طاقت بھی ہمارے سامنے نہ ٹھہرسکی۔لیکن جوں ہی تاریخ اسلام کا عہد تاریک شروع ہوا  اور  علم و مذہب،اعلان حق  اور  دفع باطل کے لیے نہ رہا بلکہ حصول عز و جاہ  اور  حکومت وتسلط کے لیے آلہ کاربن گیا  اور  اس طرح علم و مذہب حصول قوت حکمرانی  اور  دولت جاہ دنیوی  کا ذریعہ بن گیا تو اجتماعی فسادات  اور  امراض کے چشمے پھوٹ پڑے۔ حکام عیش و عشرت کی زندگی بسرکرنے لگے  اور  علماء  اور  فقہاء ان کے درباروں کی زینت بن گئے تو قوت  حاکمۂ کائنات کے دست قدرت نے بھی استبدال اقوام  اور  انتخاب ملل کے فطری قانون کو حرکت دی  اور  عمل بالمحاذات کے دستوراٹل کو عمل میں لائی۔تو پھر ہمارے ادبار اور شقاوت کونہ ہماری حکومت روک سکی  اور  نہ ہی عسکری قوت۔رسوائی و ذلت کے اس بحر متلاطم کے تھپیڑوں سے نہ علماء و مشائخ بچ سکے  اور  نہ عمال  اور  زاہد۔

آج جنتی رسواء عالم مسلمان قوم ہے شاید ہی کوئی قوم اس درجہ مغضوب و مقہور ہوئی ہو۔

وضربت علیھم الذلۃ والمسکنۃ وباءوبغضب من اللہ (61:2)کا مصداق بنی اسرائیل کے بعد ہم ہی ہیں۔

وتلک الایام نداولھابین الناس(140:3)

یہ گردش ایام قوموں  اور  ملتوں، جماعتوں  اور  لوگوں کے درمیان ہمیشہ جاری وساری رہا کرتی ہے۔ اس کی گرفت سے دنیا کا کوئی شاہ نہیں بچ سکتا۔یہ اٹل  اور  لازوال حقیقت ہے۔

 

 

عزم و استقامت

 

ولاتھنوولاتحزنواوانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۔ان یمسسکم فرح فقدمس القوم فرح مثلہ وتلک الایام نداولھابین الناس(140:139:3)

ہمت نہ ہارو اور نہ اس شکست کی خبرسن کر غمگین و دل شکستہ ہو۔یقین کرو کہ اگر تم سچے مومن ہو تو آخر کار تمہارا ہی بول بالا ہے۔ اگر تم کواس لڑائی میں سخت زخم لگے تو ہمت نہ ہارو کہ طرف ثانی کی قوت بھی اس طرح مجروح ہو چکی ہے  اور  یہ وقت کے نتائج و حوادث ہیں۔ جو نوبت بہ نوبت سب لوگوں کو پیش آتے رہتے ہیں۔

اس امید آباد عالم میں  ہر لمحہ  اور   ہر آن کتنی امیدیں ہیں جو پیدا ہوتی ہیں  اور  کتنے ولولے ہیں جو اٹھتے ہیں۔ پھر ان میں کتنے ہیں جن کے نصیب میں فیروز مندی و کامرانی ہے  اور  کتنے ہیں جن کے لیے حسرت ویاس کے سواء کچھ نہیں۔ بے کس انسان جو آرزوؤں کا بندہ  اور  حسرتوں کے خمیر کا پتلہ ہے شاید صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ نصف عمر امیدوں کے پالنے میں صرف کر دے  اور  بقیہ نامرادی کے ماتم میں کاٹ دے۔

یحیی برمکی نے صحرا میں ایک اعرابی کو دیکھا کہ میدان سے پتھروں کے ٹکڑوں کو جمع کرتا ہے  اور  جب ڈھیر جمع ہو جاتا ہے۔ تو پھر ایک ایک ٹکڑے کو اٹھاتا ہے  اور  جہاں سے لایا تھا اسی طرف پھینکنے لگتا ہے۔ کیا انسانی ہستی کی پوری تاریخ اس مثال میں پوشیدہ  نہ تھی۔

ہماری زندگیاں جن کے ہنگامہ حیات سے کارگر عالم میں شورش کے طوفان اٹھتے ہیں۔ غور کیجئے تو ایک تار عنکبوت  اور  عسرت کے ایک جلتے ہوئے تنکے سے زیادہ ہستی رکھتی ہے۔

ساری عمر دو ہی کاموں میں صرف کر دیتے ہیں یا صحرائے دجلہ کے اعرابی کی طرح فتح تمنا میں امیدوں کے سنگریزے جمع کرتے ہیں یا شام نامرادی میں جہاں سے لائے تھے وہیں پھینک دیتے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے مدفون ہو جائیں۔

مثل یہ میری کوشش کہ ہے کہ مرغ اسیر

کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

کارسازقدرت کی بھی کیا کرشمہ سازیاں ہیں۔ کچھ خاک امید کی لی  اور  کچھ خاکسترحسرت کی،دونوں کی آمیزش سے ایک پتلا بنایا  اور  انسان نام رکھ کراس ہنگامہ زار ارضی میں بھیج دیا۔وہ کبھی امید کی روشنی سے شگفتہ ہوتا ہے، کبھی نا امید کی تاریکی سے گھبرا جاتا ہے، کبھی ولولوں کی بہار میں زمزمہ سازنغمہ انبساط ہوتا ہے  اور  کبھی حسرت وافسوس کی خزاں میں امیدوں کے پژ مردہ پتوں کو گنتا ہے، کبھی ہنستا ہے  اور  کبھی ڈرتا ہے۔ کبھی رقص نشاط  اور  کبھی سینہ ماتم ایک ہاتھ سے جمع کرتا ہے  اور  دوسرے سے کھوتا ہے۔

سراپارہن عشق و ناگزیر الفت ہستی

عبادت برق کی کرتا ہوں  اور  افسوس حاصل کا

پس اے ساکنان غفلت آبادہستی:وائے رہروان سفرمدہوشی و افراموشی!مجھے بتلاؤ کہ تمہاری ہستی کی حقیقت اگر یہ نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ؟ اور اے نیرنگ آرائے تماشہ گام عالم کیا یہ ہنگامہ حیات،یہ شورش زندگی،یہ رستخیزکشاکش ہستی تو نے صرف اتنے ہی کے لیے بنائی ہے۔

کمند کوتہ وبازوئے ست وبام بلند

بمن حوالہ ونومیدیم گنہ گیرند

ربناماخلقت ھذابطلا۔(191:3)

نہیں معلوم آغاز عالم سے آج تک یہ سوال کتنے دلوں کے اضطراب و التہاب کا باعث ہو گا۔مگر یہ سچ ہے کہ اپنے کان ہی بہرے ہیں۔ ورنہ کائنات عالم ہی کا ذرہ ذرہ اس سوال کا جواب نفی میں دے رہا ہے۔

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ سے سازکا

وکاین من ایۃ فی السموات والارض یمرون علیھاوھم عنھامعرضون(105:12)

یہ سچ ہے کہ مصائب و ناکامی کا ہجوم انسان کے دل میں ایسے خیالات پیدا کر دیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ضعف گاہ عالم کا یہ سازوسامان صرف اتنے ہی کے لیے نہیں ہوسکتا۔وہ عالم انسانیت کبری جو تاج خلافت الٰہی سرپر اور خلعت کرامت۔  ولقد کرمنابنی آدم(70:17)۔اپنے دوش عظمت پر رکھتا ہے، کیوں کر ممکن ہے کہ صرف امیدوں کے پالنے  اور  پھر ان کی موت و اقتضاء کا تماشہ دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہو۔

افحسبتم انماخلقنکم عبثاوانکم الینالاترجعون۔(115:23)الذین یذکرون اللہ فیاماوقعوداوعلی جنوبھم ویتفکرون فی خلق السموت والارض ربناماخلقت ھذا باطلاسبحنک فقناعذاب النار(191:3)

جو ارباب فکر و حکمت اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں ذکر کرتے ہیں  اور  آسمان  اور  زمین کے ملکوت و آثار قدرت پر تفکر و تدبر کی نظر ڈالتے ہیں، ان کی زبان سے تو یہ عالم صنعت دیکھ کر بے اختیار صدا نکل جاتی ہے کہ خدایا یہ تمام کار گاہ صنعت تو نے بیکار و عبث نہیں پیدا کی ہے۔

 

بہار و خزاں  اور  امید و بیم

 

اس میں توشک نہیں کہ جس قدر کاوش سے غور کیجئے گا۔جذبات انسانی کی تحلیل و تفرید کے آخری عناصر یہی دو چیزیں یعنی امیدوحسرت نظر آئے گی۔وہ جو کچھ کرتا ہے، یا آئندہ کی امید ہے، یا رفتہ پرحسرت۔البتہ یہ ضرور ہے کہ امیدویاس کی تقسیم کو صرف افراد و اشخاص میں محدود نہ کیجئے بلکہ اس میں دراصل قوموں  اور  ملکوں کی تاریخ پوشیدہ  ہے، باغ و چمن میں، بہار و خزاں  ہر موسم میں جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں  اور  اپنی اپنی آمد کے متضاد و مخالف آثار چھوڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح امید اور حسرت کو دو مختلف موسموں کا تصور کیجئے جو قوموں  اور  ملکوں پربھی آتے ہیں  اور  وہ نامرادی و کامرانی کی تقسیم ہے جو اپنے اپنے وقتوں پر قوموں میں ہو جاتی ہے بعض قومیں ہیں جن کے حصہ میں امید کی بہار آئی  اور  بعض ہیں جواب یاس  اور  حسرت کی خزاں ہی کے لیے رہ گئی ہیں۔

موسم بہار زندگی و شگفتگی کاموسم ہوتا ہے  اور  انسان کے اندر رگوں میں دوڑنے والے خون سے لے کر درختوں کی شاخوں  اور  ٹہنیوں تک  ہر چیز میں جوش حیات  اور  ولولہ انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی حال ان قوموں کا ہوتا ہے وہ جب پنے دورامیدسے گذرتی ہیں، تمام دنیا ان کے لیے ایک بہشت امید بن جاتی ہے  اور  اس کی  ہر آواز ان کے کانوں کے لیے ایک ترانہ امید کا کام دیتی ہے۔ وہ اپنے اندر دیکھتے ہیں تو دل کا ہر کونہ امیدوں  اور  ولولوں کا آشیانہ نظر آتا ہے  اور  باہر نظر ڈالتے ہیں  تو دنیا کا کوئی حصہ عروس امید کی مسکراہت سے خالی نہیں ہوتا۔اس طلسم زارہست ونیست میں انسان سے باہر نہ غم کا وجود ہے  اور  نہ خوشی کا۔زندگی کی تمام کامیابیاں  اور  مسرتیں دراصل دل کی عشرت کامیوں سے ہیں۔ جب تک آپ کے دل کے طاق مخفی میں امید کا چراغ روشن ہے، اس وقت تک دنیا بھی عیش ومسرت کی روشنی سے خالی نہیں۔ لیکن اگر باد صرصر و نامرادی کا کوئی جھونکا وہاں تک پہنچ گیا تو پھر خواہ آفتاب نصف النہار پر درخشاں کیوں نہ ہو مگر یقین کیجئے کہ دنیا کا یہ تمام نظام منور آپ کے ظلمت سرائے تاریک ہے۔

یہ وہ خوش نصیب قومیں ہیں کہ ان کے دل کے اندر امید کا چراغ روشن ہوتا ہے۔ یہ جہاں جاتے ہیں، اقبال و کامرانی کی روشنی استقبال کرتی ہے چوں کہ ان کے دل کے اندرسلطان امید فتح یاب ہوتا ہے، اس لیے زمین کے اوپر بھی نامرادی و ناکامی کی صفوں پر فتح یاب ہوتا ہے۔ جس ہاتھ میں امید کا علم ہو تو پھر دنیا کی کوئی قوت اس ہاتھ کو زیر نہیں کر سکتی۔ان کی امید،حسرت و آرزو نہیں ہوتی جو محض ناکامی و نامرادی کے ماتم کے لیے ہے۔ بلکہ کامیابیوں کا ایک پیغام دعوت ہے جو دل میں امید بن کر اور دل کے باہر عیش و مراد کی کامرانی و فیروز مندی کی نوید بن کر جلوہ آرا ہوتی ہے۔ لیکن اس سطح ارضی کے اوپر جو امید کی کام بخشیوں سے خوش نصیب قوموں کے لیے عیش مراد کا ایک چمن زار نشاط ہے، وہ بدنصیب قومیں بستی ہیں جن کے دامن حیات میں امیدویاس کی بخشش کے وقت امید کے پھولوں کی جگہ صرف نا امیدی کے کانٹے ہی آتے ہیں جو خزاں کے لیے افسردہ کن موسم کی طرح دنیا میں صرف اس لیے زندہ رہتے ہیں کہ بہار گذشتہ پر ماتم کریں  اور  خزاں کے جھونکوں سے اپنے درخت امید کی پت جھڑ دیکھ دیکھ کرآنسوبہائیں، وہ دنیا جو اوروں کے لیے اپنی  ہر صدا میں پیغام امید رکھتی ہو،ان کے لیے یکسرماتم کدہ یاس بن جاتی ہے۔ دل جب مایوس ہو تو دنیا کی  ہر چیز میں مایوسی ہے۔ ان کے دلوں میں امید کا چراغ بجھ جاتا ہے تو دل کے باہر بھی کہیں روشنی نظر نہیں آتی۔دنیا کہ وہ وسیع صحرا جن پر قدرت نے طرح طرح کی نباتاتی نعمتوں کادسترخوان چن دیا ہے، وہ خوش نما  اور  عظیم الشان آبادیاں جن کوانسانی اجتماع  اور  مدنی نعمتوں زمین کے عیش و نشاط کا بہشت بنا دیا ہے، وہ عظیم الشان  اور  بے کنارسمندرجن پر حکمرانی کی طاقت حاصل کرنے کے بعد پھر خشکی کے ٹکڑوں پر حکمرانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔غرضیکہ اس زمین  اور  زمین پر نظر آنے والی تمام چیزیں ان سے اس طرح منہ پھیر لیتی ہیں گویا وہ اس زمین  کے فرزند ہی نہیں ہیں بلکہ بڑی بڑی آبادیاں قوموں  اور  جماعتوں کی فاتحانہ امنگوں کا جولان گاہ ہوتی ہے تو ان بدنصیبوں کے لیے صحراؤں کے بھٹ  اور  پہاڑوں کے غاروں میں بھی کوئی گوشہ عافیت نہیں ہوتا۔

صحراؤں کی فضائیت،ہوا کی سنسناہٹ  اور  دریاؤں کی صدائے روانی  اوروں کے لیے پیام امید ہوتی ہے۔ مگر ان کے کانوں میں ان سب سے نامرادی و فنا کی صدائیں اٹھ اٹھ کر طعنہ زن ہوتی رہتی ہیں۔ دنیا میں اگر بہار و خزاں، امیدویاس،شادی و غم،نغمہ و نوحہ،خندہ و گریہ  اور  فنا و بقا دو ہی چیزیں ہیں جن کی زمین کے بسنے والوں کو بخشش ہوئی ہے۔ تو مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ پہلی قوموں کو بہار و امید اور شادی و نشاط کا حصہ ملا ہے۔  اور  دوسروں کویکسریاس و حزن نوحہ و ماتم  اور  گریہ و فغاں کا۔

ماخانہ رمیدگان ظلمیم

پیغام خوش ازیارمانیست

وماظلموناولکن کانوا انفسھم یظلمون(57:2)

لیکن یہ حالات و نتائج کا ایک دور ہے جو نوبت بہ نوبت دنیا کی تمام قوموں بلکہ کائنات کی  ہر شے پر طاری ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔

وتلک الایام نداولھابین الناس(140:4)

امیدویاس،شادی و غم  اور  فتح وشکست کے یہ ایام ہیں جو نوبت بہ نوبت انسانوں پر گذرتے ہیں۔

دنیا میں کوئی شے نہیں جس نے غم سے پہلی خوشی کے دن نہ دیکھے ہوں  اور  باغ میں کونسادرخت ہے جس نے خزاں کے جھونکوں کے ساتھ نسیم بہار کی لذتیں بھی نہ لوٹی ہوں۔ دنیا عالم اسباب ہے  اور  یہاں کا ایک ذرہ بھی قوانین فطریہ وسلسلہ علل واسباب کی ماتحتی سے باہر نہیں۔ پس یہ انقلاب کی حالت بھی ایک قانون الٰہی  اور  ناموس فطری کے تحت ہے۔ جس نے ہمیشہ اس عالم میں یکساں نتائج پیدا کئے ہیں  اور  ان میں تبدیلی ممکن نہیں۔

فلن تجدلسنت اللہ تبدیلا(43:35)

اللہ کے بنائے ہوئے قانون میں تم کبھی تبدیلی نہ دیکھو گے۔

باغ و چمن میں بہار و خزاں کا انقلاب ہو،دریاؤں میں مد و جزر کا  اتار چڑھاؤ ہو۔سمندروں میں سکون و ہیجان کا تغیر ہو۔افراد حیوانی کی حیات و ممات  اور  شباب و کہولت کا ایاب و ذھاب،افراد کی صحت و علالت  اور  اقوام کا عروج و زوال یہ تمام حالتیں فی الحقیقت انہی قوانین فطریہ کے ماتحت ہیں جن کو۔فاطرالسموت و الارض۔نے اس عالم کے نظام و قوام کے لیے روز ازل سے مقرر کر دیا ہے۔ پھر جن افراد و اقوام نے ان قوانین کے مطابق راہ امید اختیار کی ہے، ان کے لیے امید کی زندگی ہے  اور  جنھوں نے اس سے روگردانی کی ہے، ان کے لیے نامرادی و ناکامی کی مایوسی ہے۔ قانون جرم کی سزادیتا ہے۔ پر مجرم کو جرم کرنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔پس شکایت کارسازقدرت کی نہیں بلکہ خود اپنی ہونی چاہیے۔ خدا نے امید کا دروازہ کسی پر بند نہیں کیا ہے  اور  زمین کی راحت کسی ایک قوم کے ورثہ میں نہیں دے دی ہے۔ اس نے پھول  اور  کانٹے دونوں پیدا کئے ہیں۔ اگر ایک بدبخت کانٹوں پر چلتا ہے مگر پھولوں کا دامن میں نہیں چنتاتواسے اپنی محرومی پر رونا چاہیے باغبان کا کیا دوش۔

فماکان اللہ لیظلمھم ولکن کانوانفسھم یظلمون(70:9)خدا کے انصاف سے بعید تھا کہ وہ کسی پر ظلم کرے مگرافسوس کہ بد اعمالیاں کر کے خود آپ انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔

دوسری جگہ فرمایا۔

ذلک بماقدمت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید(182:3)

یہ سب بربادیاں تم نے اپنے ہاتھوں مول لیں ورنہ اللہ تو اپنے بندوں کے لیے کبھی ظالم نہیں۔

اس نے دنیا کے آرام و راحت  اور  عیش و کامرانی کوانسان کے ماتحت نہیں بلکہ انسانی اعمال کا محکوم بنایا ہے  اور  جب تک کوئی قوم خود اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا نہیں کر دیتی۔ اس پر زمین کی راحتوں کا دروازہ بھی بند نہیں ہوتا۔

ذالک بان اللہ لم یک مغیرا نعمۃ انعمھاعلیٰقوم حتی یغیروامابانفسھم وان اللہ سمیع علیم(53:8)

ان قوموں کو نامرادی ومایوسی کی یہ سزا اس لیے دی گئی کہ ایساہی اس کا قانون ہے جو نعمت خدا نے کسی قوم کودی ہو پھر کبھی واپس نہیں لی جاتی۔تا آنکہ خود وہ قوم اپنی صلاحیت  اور  قابلیت کو بدل نہ ڈالے۔

 

ماضی  اور  حال

 

یہ انقلاب قدرتی ہے  اور  نہیں معلوم اس دنیا میں کتنے دور قوموں  اور  ملکوں پراس کے گذر چکے ہیں۔ آج امید و کامیابی کے جس آفتاب سے غیروں کے ایوان اقبال روشن ہو رہے ہیں، کبھی ہمارے سروں پربھی چمک چکا ہے  اور  جس بہار کے موسم عیش و نشاط سے ہمارے حریف گذر رہے ہیں، ایک زمانہ تھا کہ ہمارے باغ و چمن ہی میں اس کے جھونکے آیا کرتے تھے۔ اب کس سے کہیے کہ کہنے کا وقت ہی چلا گیا۔

گذر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پربھی

ہم ہمیشہ سے ایسے نہیں جیسے کہ اب نظر آ رہے ہیں۔ زمانہ ہمیشہ ہم سے برگشتہ نہیں رہا۔مدتوں امید کا ہم میں اشیا نہ رہا ہے۔ بلکہ ہمارے سوا اس کا کہیں ٹھکانہ نہ تھا۔اب دنیا میں ہمارے لیے ماتم و نا امیدی،دوہی کام کرنے کے لیے باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن زیادہ دن نہیں گذرے کہ ہماری زندگی کے لیے اس دنیا میں  اور  بھی بہت سے کام تھے۔

وبلوناھم بالحسنات والسیبئات لعلھم یرجعون(168:7)

اور ہم نے ان قوموں کو اچھی  اور  بری امید اور مایوسی،فتح  اور  شکست دونوں حالتوں میں ڈ ال کر آزمایا کہ شاید یہ بداعمالیوں سے توبہ کریں  اور  راہ حق بھی اختیار کر لیں۔

ان فی ذالک لایۃ وماکان اکثرھم مؤمنین(8:26)

اور بے شک اس انقلابی حالت میں عبرت و موعظت کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ مگر ان میں اکثر لوگ ایمان و ایقان کی دولت سے محروم تھے۔

 

ہجوم یاس و اختلال نظام امید

 

من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدنیاوالاخرۃ فلیمذدبسب الی السماء ثم لیقطع فلینظر ھل یذھبن کیدہ مایغیظ وکذلک انزلنہ آیات بینات وان اللہ یھدی من یرید(16:15:22)

جو شخص مایوس ہو کر اللہ کی نسبت ایساظن رکھتا ہو کہ اب دنیا و آخرت میں خدا اس کی مدد کرے ہی گا نہیں، توپھراس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف رسی تانے  اور  اس کا پھندا بنا کر اپنے گلے میں پھانسی لگا لے  اور  اس طرح زمین سے جہاں اب وہ اپنے لیے مایوسی سمجھتا ہے، اپنا تعلق قطع کر لے۔ پھر دیکھے کہ آیا اس تدبیرسے اس کی وہ شکایت جس کی وجہ سے مایوسی ہو رہی ہو،وہ دور ہو گئی یا نہیں۔ اس طرح ہم نے قرآن کریم میں ہدایت فلاح کی روشن دلیلیں اتاری ہیں کہ تم ان پر غور کرو۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے ہدایت بخشتا ہے۔

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس

ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

موجودہ جنگ بلقان  اور  جنگ اسلام و فرنگ کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی تواس میں شایدسب سے زیادہ موثر اور درد انگیز باب مسلمانان عالم کے اضطراب امید و بیم کاہو گا۔یہ سچ ہے کہ میدان جنگ میں صرف مجاہدین ترک تھے۔ لیکن ہزاروں ہیں جنہیں خواب غفلت سے مہلت نہیں تو ان کی تعداد بھی کم نہیں جو گو اب تک بستروں پر لیٹے ہیں مگر اضطراب کی کروٹیں بھی بدل رہے ہیں  اور  یہ یقیناً کار فرمائے قدرت کی ایک سب سے بڑی توفیق بخشی ہے۔ اگرموسم کے بدلنے کا وقت آ گیا ہے تو اتنے آثار بھی کم نہیں۔ ہم نے بڑے بڑے آتش کدوں  اور  تنوروں کو دیکھا ہے۔ ان کے اندر آگ کے مہیب شعلے اٹھ رہے تھے۔ حالاں کہ چند گھنٹے پیشتر ان کی تہہ میں چند بجھی ہوئی چنگاریوں کے سوا  اور  کچھ نہ تھا۔انہی خاکسترکے تودوں میں چھپی ہوئی چنگاریوں کو جب  باد تند و تیز کے چند جھونکے میسرآگئے تو چشم زون میں دہکتے ہوئے انگاروں  اور  اچھلتے ہوئے شعلوں سے تنور بھر گیا۔پھر کیا عجب ہے کہ سوزتپش کی جو چنگاریاں اس وقت دلوں میں بجھی ہوئی نظر آ رہی ہیں توفیق الٰہی کی باد شعلہ افروز انہیں اس آتشکدہ حیات کو گرم کر دے جوافسوس ہے کہ روزبروزخاکسترسے بھرتا جا رہا ہے۔

                                    ذالک بان اللہ یولج اللیل فی النھارویولج النھارفی اللیل وان اللہ سمیع بصیر(61:22)

بہتر ہے کہ اس بارے میں میری زبان پر صاف صاف سوالات ہوں پھر کیا وقت آ گیا ہے کہ ہم ہمیشہ مایوس ہو جائیں۔ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ امیدویاس کی تقسیم میں ایک ہمارے لیے صرف یاس ہی رہ گئی ہے  اور  تکمیل فنا میں جس قدر وقت باقی رہ گیا ہے اس میں صرف رفتہ کا ماتم  اور  آئندہ کی نا میدی دوہی کام کرنے کے لیے باقی رہ گئے ہیں ؟کیا جو کچھ ہو رہا ہے، ہماری زندگی کی آخری مساعات  اور  موت کے احتضار کی آخری حرکت ہے ؟

کیا چراغ میں تیل ختم ہو گیا  اور  بجھنے کا وقت قریب ہے  اور  سب سے آخر یہ کیا اعداء اسلام سے اسلام کا آخری مقابلہ ہو چکا ہے  اور  یسوع کی مصلوب  اور  مردہ لاش نے خدائے حی و قیوم پر فتح پائی۔معاذاللہ

میں سمجھتاہوں کہ یہ سوالات مختلف شکلوں میں آج بہتوں کے سامنے ہوں گے۔ ممکن ہے کہ مایوسی کا غلبہ میرے اعتقاد کو مغلوب کرے، اس لیے ممکن ہے کہ میں تسلیم کر لوں کہ ہمارے مٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتاکہ کوئی مسلم قلب جس میں ایک ذرہ بھی برابرنوراسلام باقی نہیں ہے۔ ایک منٹ،ایک لمحہ ایک دقیقے  اور  ایک عشیرہ دقیقے کے لیے بھی اس کو مان سکتا ہے کہ اسلام کے مٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ انسانوں  ہی نے ہمیشہ انسانوں کو مغلوب کیا ہے  اور  نئی قوموں نے ہمیشہ  پرانی قوموں کی جگہ لی ہے۔ انسان کا حریف اس عالم میں دیو نہیں بلکہ انسان ہی ہے۔ پس یہ کوئی عجیب بات نہیں اگر ہم کو ہمارے صدسالہ دشمن آج مغلوب کر کے فنا کر دیں۔ مگر اے خدا کی رحمت کی توہین کرنے والو!میں یہ کیوں مان لوں کہ ایک مصلوب لاش حی و قیوم خدائے ذوالجلال کو مغلوب کر سکتی ہے  اور  مایوسی خواہ کتنی ہو مگر کیوں کرتسلیم کر لوں کہ انسانی گروہ خدائے قادر و ذوالجلال کی جبروت و کبریائی کوشکست دے سکتا ہے۔

حیران ہوں کہ آج مسلمان مایوس ہو رہے ہیں۔ حالاں کے میں توکفرومایوسی کے تصورسے کانپ جاتا ہوں، کیوں کہ یقین کرتا ہوں کہ مایوس ہونا اس خدائے ذوالجلال والاکرام کی شان رحمت و ربوبیت کے لیے سب سے بڑا انسانی کفر اور اس کی جناب میں سب سے زیادہ نسل آدم کی شوخ چشمی ہے۔ تم جو ان بربادیوں  اور  شکستوں کے بعدمایوس ہو رہے ہو تو بتلاؤ کہ تم نے خدائے اسلام کی قوت و رحمت کوکس پیمانہ سے ناپا۔وہ کون ساکاہن ابلیس ہے جس نے خدا کے خزانہ رحمت کو دیکھ کر تمہیں بتلا دیا ہے کہ اب اس میں تمہارے لیے کچھ نہیں۔

اطلع الغیب ام اتخذعندالرحمن عھدا۔(78:19)ام عندھم الغیب فھم یکتبون(41:52)

پھر تم کو کیا ہو گا کہ تم مایوس ہو رہے ہو اور کیوں کہ تم نے خدا کی طرف منہ پھیر لیا ہے تم کہتے ہو کہ اب ہمارے لیے مایوسی کے سواکچھ نہیں حالانکہ ایک مسلم دل کے لیے نا امیدی سے بڑھ کر کوئی کفر نہیں۔

لقدجنتم شینا ادا۔تکادالسموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھذا(90:89:19)

یہ تم نے ایسی بڑی سخت بات منہ سے نکالی ہے جس کی وجہ سے عجب نہیں کہآسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے  اور  پہاڑ ریزے ریزے ہو کر زمین کے برابر ہو جائیں۔

 

امید و بیم

 

ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون(56:15)

خدا کی رحمت سے کافروں کے سوا  اور  کون مایوس ہوسکتا ہے۔

انسان شایدیاس و امید کے بارے میں کچھ فطرتاً عاجل ہے۔ اس کی فطرت سادہ بچوں کی مثال سے واضح ہے۔ بچوں کا قاعدہ ہے کہ  ہر حالت کا اثر بغیر تفکر و تدبر کے دفعتہً قبول کر لیتے ہیں۔ روتے ہوئے بچے کو مٹھائی کا ایک ٹکڑا پکڑا دیجئے توہنسنے لگتا ہے  اور  چھین لیجئے تو فوراً مچل جاتا ہے۔

بعینہ یہ حال عقل و فکر کے نشو و نما کے بعد بھی انسان کا ہوتا ہے البتہ تاثیر و نتائج کی صورت میں بدل جاتی ہے۔ قرآن کریم نے اسی فطرت انسانی کی عجلت پسند کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جبکہ کہا ہے کہ۔خلق الانسان من عجل(37:21)انسان کی خلقت میں جلد بازی  اور  تعجیل کار ہے۔ مصائب کے حس و شادمانی کے غرور میں بھی دیکھے تواس کی یہی جلد بازی  اور  زور اثری  ہر موقع پر کام کرتی ہے۔ وہ کس قدر جلد غمگین ہو جاتا ہے  اور  پھر ایک روتے ہوئے بچے کی طرح جس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ٹکڑا دے دیا گیا ہو،کس قدر جلد خوش ہو جاتا ہے۔ اس کی مایوسی  اور  امیدواری دونوں کا یہی حال ہے۔ جب کبھی وہ اپنی کسی توقع میں ناکامی دیکھتا ہے توفوراًمایوس ہو کر بیٹھ رہتا ہے  اور  پھر جب کبھی کوئی کامیابی کی خبرسن لیتا ہے توامیدومسرت کے ضبط سے عاجز ہو کر اچھل پڑتا ہے۔ حالانکہ نہ تواس کو ان اسباب کی خبر ہے جو بشارت امیدسے بعد میں پیش آنے والے ہیں۔ اس کی خداپرستی بھی اس جلد بازانہ یاس و بیم سے شکست کھا جاتی ہے اگر کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے توسمجھتا ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے  اور  اگر نتائج حالات  اور  مشیت الٰہی کسی ابتلا و مصیبت میں ڈال دیتی ہے تو دیوانہ وارمایوس ہو جاتا ہے کہ خدا نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ سورۃ الفجر میں اسی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے  اور  تمہارے اندر وہ کون سی شئے ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ نہیں کیا۔

فاما الانسان اذا ما ابتہ ربہ فاکرمہ ونعمۃ فیقول ربی اکرمن۔ومآاذاما ابتلہ فقدرعلیہ رزقہ فیقول ربی اھانن(16:15:89)

انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کاپروردگاراس کے ایمان کواس طرح آزماتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت  اور  نعمت عطا فرماتا ہے تو فوراً خوش ہو جاتا ہے  اور  کہتا ہے کہ میرا پروردگار اعزاز و اکرام کرتا ہے  اور  جب اس کے ایمان کوکسی آزمائش میں ڈال کراس طرح آزماتا ہے کہ اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے یعنی مصیبت میں ڈال کر دیتا ہے توپھرمعامایوس ہو کر کہنے لگتا ہے کہ میرا پروردگار تو مجھے ذلیل کر رہا ہے  اور  میرا کچھ خیال نہیں کرتا۔

 

حیات امید و موت قنوط

 

منجملہ اس حالت کے سب سے زیادہ خطرناک گمراہی انسان کی وہ مایوسی ہے جو مصائب و آلام کا ہجوم دیکھ کر اپنے دل میں  پیدا کر لیتا ہے  اور  اس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنے مستقبل کے لیے نامرادی و ناکامی کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔

مایوسی سے بڑھ کر کوئی شے انسانیت کے لیے قاتل و مہلک نہیں  اور  دنیا کی تمام کامرانیاں صرف امید کے قیام پر موقوف ہیں۔ یہ امید ہی ہے جس نے زمینوں پر قبضہ کیا،پہاڑوں کے اندرسے راستہ پیدا کیا،سمندرکی قہاری کو مغلوب کیا ہے  اور  جب چاہا ہے اس میں اپنی سواری کے مرکب چلائے ہیں  اور  جب چاہا اس کے کناروں کو میلوں  اور  فرسخوں تک خشک کر دیا ہے۔ پھر امید ہی ہے جس نے مردہ قلوب کو زندہ کیا ہے۔ بسترمرگ سے بیماروں کو اٹھایا ہے۔ ڈوبتوں کو کناروں تک پہنچایا ہے۔ بچوں کو جوانی کی سی تیزی سے دوڑایا ہے  اور  بوڑھوں کو جوانوں سے زیادہ قوی و طاقتور بنا دیا ہے۔ جب کہ قومیں جواب دے دیتی ہیں۔ جب کہ زمانہ منہ پھیر لیتا ہے، جب کہ زمین کے کسی گوشہ سے صدائے ہمت نہیں آتی  اور  جب کہ تمام اعضائے عمل جواب دے دیتے ہیں تو امید ہی فرشتہ ہوتا ہے جومسکراتاہوا آتا ہے، اپنے پروں کو کھولتا ہے  اور  اس کے سایہ میں لے کر قوت و طاقت،ہمت ومستعدی وچستی و چالاکی کی ایک روح تازہ دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔ دنیا کی کامیابی اعمال کا نتیجہ ہے  اور  اعمال کے لیے پہلی چیز امید ہے۔ جب تک انسان کے اندر امید قائم ہے، مصیبتوں  اور  ہلاکتوں کے عفریت بھی سامنے آ کھڑے ہوں تو بھی اس کوشکست نہیں دے سکتے۔

اگر خون  اور  اس کا دوران انسان کی جسمانی حیات کے ضروری ہے تو یقین کیجئے کہ اخلاقی و ادبی حیات کے لیے امیداس کے اندر بمنزلہ روح کے ہے۔ جب تک اس کا دوران دل سے اٹھ کر اصطلاح حال دماغ سے نکل کرجسم کے تمام گوشوں میں حرارت عمل پیدا کر رہا ہے، اس کی قوت عمل زندہ اس کے اعضائے کار متحرک  اور  پائے مستعدی سرگرم تگاپو ہیں، لیکن جہاں روح دل سے نکلی۔پھرجسم اجسانی کے لیے قبر کے سواء کہیں بھی کوئی ٹھکانا نہیں۔

ایک شخص جب مایوس ہو گیا جب اس نے یقین کر لیا کہ اب اس کے لیے دنیا میں کچھ نہیں، جب اس نے فیصلہ کر لیا کہ خدا اسے کچھ نہ دے گا تو ظاہر کہ اس کا دماغ کیوں نہ سوچئے، دل میں امنگ کیوں پیدا ہو،ہاتھ کیوں ہلے  اور  پاؤں بڑھنے کے لیے کیوں متحرک ہوں۔

قوموں کی زندگی ایک بہت بڑی علامت یہ ہے کہ ان کا دل امید کا دائمی آشیانہ ہوتا ہے  اور  خواہ ناکامی  اور  مصائب کا کتنا ہی ہجوم ہو مگر امید کاطائرمقدس ان کے گوشے سے نہیں اڑتا۔وہ دنیا کو ایک کار گاہ عمل سجھتے ہیں  اور  امید کہتی ہے کہ یہاں جو کچھ ہے صرف تمہارے لیے ہے۔ اگر آج تم اس پر قابض نہیں تو غم نہیں کیوں کہ عمل و جہد کے بعد کل کو وہ تمہارے ہی لیے ہونے والی ہے۔ مصیبتیں جس قدر آتی ہے وہ ان کو صبر و تحمل کی ڈھال پر روکتے ہیں  اور  غم و اندوہ سے اپنے دماغ کو معطل نہیں ہونے دیتے بلکہ مصیبتوں کو دور کرنے  اور  ان کی صفوں پر غالب آنے کی تدابیر پر غور کرتے ہیں۔ نامرادی ان کے دلوں کو مجروح کرتی ہے مایوس نہیں کرتی  اور  غم کے لشکرسے ہزیمت اٹھاتے ہیں، پر بھاگتے نہیں۔

دنیا ایک میدان کارزار ہے  اور  جس چیز کو تم عمل کہتے ہو۔دراصل یہ ایک حریفانہ کش مکش  اور  مقابلہ ہے۔ پس جس طرح جنگ میں رہنے والے سپاہیوں کو فتح وشکست سے چارہ نہیں وہ کبھی زخمی کرتے ہیں  اور  کبھی خود زخمی ہوتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں بھی مخلوق بستی ہے اسے کامیابی  اور  ناکامی  اور  فیروز مندی و نامرادی سے چارہ نہیں کیا ضرور ہے کہ ہمیشہ ہماری تلوار اور دشمن کی گردن ہو کیوں نہ ہم اپنے سروسینے میں بھی زخم کے نشان پائیں۔ بسترپرآرام کرنے والوں کو رونا چاہیے کہ پاؤں میں کانٹا چبھ گیا۔لیکن سپاہی کو زخموں پر زخم کھا کر بھی اف نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کی جگہ توبسترنہیں۔ بلکہ میدان جنگ ہے۔

شکست و زخم کا خوف ہے تو میدان جنگ میں قدم ہی نہ رکھو اور تلواروں سے بچنا چاہتے ہو تو تمہارے لیے بہترین جگہ پھولوں کی سیج ہے۔ چلو گے ٹھوکر کھاؤ گے  اور  لڑو گے تو زخم سے چارہ نہیں۔ پس اگر ٹھوکر لگی ہے تو آنکھیں کھولو اور بیٹھ کر رونے کی جگہ تیزی سے چلو کیوں کہ جتنی دیر بیٹھ کر تم نے اپناگھٹناسہلایا،اتنی دیر میں قافلہ  اور  دور نکل گیا۔

پھر اگر دشمن کی کاٹ نے زخمی کیا ہے تو بھاگتے کیوں ہو۔مایوسی خود کشی ہے  اور  امید زندگی،زیادہ چابک دستی سے پیکار جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ کیوں کہ جب تک دوسروں کو زخمی کرتے تھے زیادہ ہمت مطلوب نہ تھی لیکن زخم کھا کر تم نے معلوم کر لیا کہ دشمن توقع سے زیادہ قوی ہے  اور  اب پہلے سے زیادہ ہمت  اور  مستعدی مطلوب ہے۔

میں نے کہا کہ قومی زندگی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس کا ہر فرد ایک پیکر امید ہوتا ہے  اور  اپنے دل کو امید کی جگہ سمجھتا ہے نہ کہ مایوسی کی۔لیکن اتنا ہی نہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ زندہ قوموں کے لیے مایوسی کے اسباب میں امید کا پیغام ہوتا ہے  اور  مصیبتیں جتنی بڑھتی ہیں، اتنی ہی وہ اپنی امید کو اور زیادہ محبت  اور  پیارسے پالتے ہیں۔

مصیبتیں ان کومایوس نہیں کرتیں بلکہ غفلت سے ہوشیار کر دیتی ہیں  اور  عبرت و تنبیہ کی صورت میں ان کے سامنے آتی ہیں۔ وہ مصائب کے سیلاب کو دیکھ کر بھاگتے نہیں بلکہ اس راہ کو ڈھونڈ کر بند کرنا چاہتے ہیں جہاں سے اس نے نکل کر بہنے کی راہ نکالی ہے۔

پس مصائب ان کے لیے ہو جاتے ہیں  اور  نامرادی ان کے کامیابی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ وہ جس قدر کھوتے ہیں اتنا ہی زیادہ پاتے ہیں  اور  جس قدر گرتے ہیں۔ اتنا ہی زیادہ مستعدی سے اٹھتے ہیں۔ وہی دنیا جو کل تک ان کے لیے نامرادیوں کی دوزخ تھی یکایک  کامیابیوں کا بہشت بن جاتی ہے  اور  جس طرف دیکھتے ہیں، تخت فتحیابی بچھے ہوئے  اور  انہار کامرانی بہتی نظر آتی ہے۔ یہی بہشت امید ہے جس کے رہنے والوں کی نسبت کہا گیا ہے کہ:۔

متکین فیھاعلیٰالارائک لایرون فیھاشمساولازمھریرا(13:76)

کامیابی و فیروز مندی کے تخت پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ غم و اندوہ کی سوزش و تپش کا انہیں حس تک نہ ہو گا۔کیوں کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے پس دنیا بھی ان کومایوس نہیں کرتی۔زندگی امید اور موت قنوط۔

لیکن اسی طرح قومی زندگی کے ایام ممات  اور  انسانی ارتقائے حیات کاسدباب اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن کاشانہ دل سے امید کا جنازہ اٹھتا  اور  مایوسی کا لشکر فنا امنڈتا ہے جس فردیاجس قوم کا مصیبتوں  اور  ناکامیوں کے لیے عالم میں مایوس دیکھو۔یقین کرو کہ اس کا آخری دن آ گیا۔مصیبتیں تواس لیے تھیں کہ غفلت کوشکست  اور  ہمت کو تقویت ہو لیکن  جو لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتے ہیں دنیا کے اعمال و تدابیر کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں  اور  یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہمارے لیے دنیا میں کچھ نہیں رہا وہ تو خود اپنے لیے زندگی کے بدلے موت کوپسند کرتے ہیں۔ پھر دنیا کی کامیابی زندگی کو لڑ کر لینے والوں کے لیے ہے، مٹ جانے کے متلاشی کے لیے نہیں ہے۔

دیکھو قرآن کریم نے کیسے جامع الفاظ میں ایسے لوگوں کی حالت  اور  ان کی مایوسی کے نتائج کی طرف اشارہ کیا ہے  اور  اس نے کسی چیز کی طرف اشارہ نہیں کیامگرافسوس کہ بہت کم لوگ ہیں جواس کی صداؤں پرکان لگاتے ہیں۔

ومن الناس من یعبداللہ علی حرف فان اصابہ خیراطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ القلب علی وجھہ خسرالدنیاوالاخرۃ ذالک ھوالخسران المبین(11:22)

اور انسانوں میں بعض ایسے ہیں جو خدا کی پرستش تو کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں استقامت نہیں ہوتی اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچ گیا تو مطمئن ہو گئے۔ اگر کبھی مصیبت آ پڑی توجدھرسے آئے تھے ادھر ہی کو لوٹ گئے یعنی مایوس ہو کر ایمان سے ہاتھ اٹھا لیا۔یہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی دنیا بھی کھوئی  اور  آخرت بھی  اور  یہی سب سے بڑا  اور  صریح نقصان ہے۔

فرمایا کہ:۔

خسرالدنیاوالاخرۃ

کیوں کہ مایوسی کے بعدانسان کی قوت عمل معطل ہو جاتی ہے پھر وہ نہ صرف دنیا ہی میں ناکام و نا مراد رہتا ہے بلکہ عاقبت کی خوش حالی سے بھی نا امیدی ہی ملتی ہے۔

انسان کا فرض سعی و تدبر ہے  اور  جب تک اس دنیا کی سطح پر باقی ہے اس کوسعی و کوشش سے باز نہیں آنا چاہیے۔  ہمارا کوئی عزیز بیمار ہوتا ہے۔  اور  اس کی حالت صحت کی طرف سے مایوس کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر بھی جواب دے دیتے ہیں۔ تاہم سعی و علاج سے آخری ساعت نزع تک باز نہیں آتے۔ جب افراد کے ساتھ ہمارا حال یہ ہے تو تعجب ہے کہ قوم و ملت کے ساتھ نہ ہو۔کس کو معلوم ہے کہ کب دروازہ رحمت کھلنے والا ہے  اور  کب بارش ہونے والی ہے۔ دہقان کا کام صرف یہ ہے کہ تخم پاشی کرتا رہے۔

چوں دمبدم عنایت توفیق ممکن است

درتنگنائے نزع نہ کوشد کسے چرا

ہاں اگر یہ سچ ہے تو بے شک تمہاری لا فناء زندگی کوجسے قیصر روم  اور  کسرائے فارس موت سے بدل نہ سکا تھا۔اس نے مجروح کر دیا ہے۔ تمہارے ان آہنی جسموں کو جنہیں یرموک کے میدان میں متمدن رومیوں کے لاکھوں تیروں کے نشانے زخمی نہ کر سکے تھے یقیناً اس نے خاک و خون میں تڑپا دیا ہے  اور  تمہارے ان نشان ہائے توحید اور علمہائے دین الٰہی کوجسے آٹھ صلیبی حملوں کے لاکھوں نیزے بھی نہ گرا  سکے تھے۔ سچ یہ ہے کہ سرویاکے سورچرانے والے نے آج پارہ پارہ کر کے گرا دیا ہے۔ پھراس میں شک کہ تم مر گئے تم جو کبھی نہیں مرسکتے تھے یقیناً مر گئے۔ تم کو تمہاری رگوں کے اندر خدا کی روح جلال جاری ہے  اور  اس کی نصرت و حمایت کے ملائکہ مسومین تمہارے آگے دوڑتے تھے۔ یقیناً آج مر گئے پس جس قدر تم کو ماتم کرنا ہے  اور  جس قدر جلد اپنی  قبرکھودسکتے ہو کھود لو کیوں کہ خدا کی رحمت  اور  دنیا کی زندگی صرف امید رکھنے والوں کے لیے ہے  اور  مایوسی کا نتیجہ موت کے سوا  اور  کچھ نہیں۔ خدا تم کو نہیں چھوڑتا،پر تم اسے چھوڑ رہے ہو۔وہ تمہاری طرف دیکھتا ہے لیکن تم نے نا امید ہو کراس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔تم کو معلوم نہیں کہ یہی مایوسی ہے جس کو تمہارے  خدا نے کفر کی خود کشی سے تعبیر کیا ہے۔

من کان یظن ان لن ینضرہ اللہ فی الدنیاوالاخرۃ فلیمددبسبب الی السماء ثم لیقطع فلینظرھل یذھبن کیدہ مایغیظ۔۔ کذلک انزلنہ آیات بینات وان اللہ یھدی من یرید(16:15:22)جو  شخص مایوس ہو کر اللہ کی نسبت ایساظن رکھتا ہو کہ اب دنیا و آخرت میں خدا اس کی مدد کرے گاہی نہیں توپھراس کو چاہیے کہ اوپر کی طرف ایک رسی تانے  اور  اس کا پھندا بنا کر اپنے گلے میں پھانسی لگا لے  اور  اس طرح زمین سے جہاں اب وہ اپنے لیے مایوسی سمجھتا ہے۔ اپنا تعلق قلع کرے پھر دیکھے کہ آیا اس تدبیرسے اس کو شکایت جس کی وجہ سے مایوس ہو رہا تھا،دور ہو گئی ہے اس طرح ہم نے قرآن کریم میں  ہدایت و فلاح کی روشن دلیلیں اتاری ہیں تاکہ تم ان پر غور کرو اور اللہ جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے ہدایت بخشتا ہے۔

دنیا میں ہمیشہ واقعات کا مطالعہ کرنے کے لیے دو طرح کی نظریں رہی ہیں، ایک امید کی  اور  دوسری مایوسی کی۔حکمائے یونان کی نسبت سناہو گا کہ آثار و نتائج عالم پر بحث کرتے ہوئے ان میں دو مختلف مذاہب امیدومایوسی کے تھے پھرجس طرح کی نظرسے تم دنیا کو دیکھو گے۔ وہ اسی رنگ میں نظر آئے گی۔مایوسی کی نظرسے دیکھوتواس کے دلائل بے شمار ہیں  اور  امید کا مذہب اختیار کروتو اس کے پہلومایوسی سے کم نہیں۔ اسلام ہم کو ہمیشہ امید کی تلقین کرتا ہے پس کیوں نہ ہم امید کے پہلوؤں ہی پر نظر ڈال لیں۔

ان تیرہ سوبرس کے اندر کتنی قومیں آئیں  اور  اپنی اپنی باری میں حفاظت اسلام کی خدمت انجام دے کر چلی گئی۔جب تک انہوں نے اسلام کاساتھ دیا اپنے اعمال و اعتقادات میں اس سے منہ نہیں موڑا،اس وقت تک وہ بھی ان کے ساتھ رہا۔لیکن جب انہوں نے اپنی صلاحیت  اور  قابلیت کھودی  اور  اس مقصد کو بھول گئے جس کی انجام دہی کے لیے زمین کی وراثت ان کودی گئی تھی تو ان کا دور فرمائی ختم ہو گیا  اور  اللہ نے اپنے دین کی حفاظت کی امانت کسی دوسری جماعت کے سپرد کر دی۔وہ اپنے کلمہ مقدس کی حفاظت کے لیے ہمارا محتاج نہیں ہے بلکہ ہم اپنی زندگی کے لیے اس کے دین مبین کی خدمت گذاری کے محتاج ہیں۔

یا ایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ واللہ ھوالغنی الحمید۔ان یشائذھبکم ویاب بخلق جدیدوماذالک علی اللہ بعزیز(17:15:35)

 

 

تجدید و تاسیس

 

حضرات!اس وقت میں آپ کی توجہ ایک خاص مسئلہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، وہ ہے تاسیس و تجدید کا فرق۔ہماری قومی و جماعتی ترقی کے لیے تاسیس سراسرتباہی و ہلاکت ہے  اور  تجدید ضروری ہے۔ میں نے دو لفظ بولے ہیں۔ ایک تاسیس  اور  ایک تجدید۔ان کے معانی آپ پر روشن ہیں۔

تاسیس اساس سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ازسرنوکسی چیز کو بنانا۔تجدید جدت سے ہے  اور  اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی پیشتر کی بنی ہوئی چیز کو تازہ کرنا  اور  اس طرح سنواردیناگویاوہ بالکل نئی ہو گئ۔ آج ہمارے قومی کاموں کی  ہر شاخ میں ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ ہم نے اصولی طور پر طریق اصلاح کا فیصلہ نہیں کیا۔مسلمانوں کی اصلاح حال کے لیے ضرورت طریقہ تاسیس کی ہے یا تجدید کی یعنی ضرورت یہ ہے کہ ازسرنونئی باتیں، نئے طریقے، نئے ڈھنگ،نئے نظام  اور  نئی نئی چالیں اختیار کی جائیں یا صورت حال یہ ہے کہ پہلے سے ایک کارخانہ ملت موجودجس کو اپنی بقاء  اور  ترقی کے لیے کسی نئی بات کی احتیاج نہیں بلکہ طرح طرح کی خرابیاں عارض ہو گئی ہیں  اور  بہت سی نئی نئی باتیں پڑھا دی گئیں ہیں۔ پس ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ خرابیاں دور کر دی جائیں، پھوٹی ہوئی چیزیں واپس لے لی جائیں  اور  اس کوویساہی بنا دیا جائے جیساکہ اصل میں تھا۔تاسیس کے معنی تو یہ ہوئے کہ آپ نے ایک پرانی عمارت گرا کر اور اس کوازسرنوتعمیرکر کے بنایا جائے۔ تجدید یہ ہوئی کہ مکان پہلے سے موجود ہے صرف شکست و ریخت کی درستگی مطلوب ہے۔ پس آپ نے نقائص دور کر کے اسے درست کر لیا۔ہم کو غور کر لینا چاہیے کہ بناء ملت کی درستگی کے لیے تعمیرات اساسیہ مطلوب ہیں یا صرف اصلاحات تجدیدیہ۔پس اگرتاسیس مطلوب ہے تو بلاشبہ ہمارا پہلا کام یہ ہو گا کہ نئے نئے ڈھنگ اختیار کریں۔ لیکن اگر تجدید کی ضرورت ہے تو ہمیں نئی نئی چیزوں کی ضرورت نہ ہو گی۔  بلکہ صرف یہ دیکھنا ہو گا کہ پہلے سے جو چیزیں موجود ہیں، ان  کا کیا حال ہے  اور  ان میں جو جو خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں وہ کیوں کر دورکرجا سکتی ہیں۔ حضرات دین کامل ہو چکا ہے  اور  اتمام نعمت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

الیوم الکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام(3:5)

آج ہم نے تمہارے دین کو کامل کر کے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے  اور  وہ پسندیدہ دین اسلام ہے  اور  مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں میں ایک فرد بھی ایسانہ ہو گا جو یہ کہے کہ اصلاح ملت اسلامیہ کے لیے شریعت قرآنیہ کی تعلیمات و نظامات کافی نہیں ہیں  اور  ہمیں غیرمسلموں کی تقلید اور دریوزہ گری کی ضرورت ہے۔ پس یہ اصل تو شفق ومسلم ہے کہ راہ اصلاح میں ضرورت صرف تجدید کی ہے تاسیس کی نہیں  اور  خود شارع علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے بھی ہمیں تجدید کی خبر دی ہے نہ تاسیس کی جیساکہ ابوداؤد میں ابوہریرہ سے روایت ہے۔

ان اللہ یبعت لھذہ الامۃ علی  راس کل مائۃ سنۃ من یجددلھادینھا۔

میری امت کی خاطر اللہ تعالیٰ  ہر سوسال میں ایک مجدد بھیجے گا جو تجدید دین کرے گا۔

لیکن میں کروں گا کہ اگر یہ سچ ہے تو عملاً نتیجہ اس اعتقاد کا یہ ہونا چاہیے کہ ہمارا قدم طلب اصلاح میں تجدید کی طرف ہو جائے  اور  وقت کے نظر فریب اسلوب کار علی الخصوص یورپ کے مجلسی و اجتماعی طریقے ہمیں نظم شرعی سے رو گردان نہ کریں۔ افسوس کہ اس تک تمام داعیان اصلاح کا طرز عمل اس کے مخالف رہا ہے  اور  یقین کیجئے کہ  یہی علت ہے کہ اس وقت تک ہماری کوئی اصلاح و ترقی فوز و فلاح نہ پا سکی۔اسلام اگر دین کامل ہے تو ضرورت ہے کہ اس نے اپنے پیرووں کی تمام انفرادی و اجتماعی  اور  مدنی ضروریات کے لیے کامل و اتم تعلیم دیدی ہو اور اگر وہ دین آخری ہے تو ضروری ہے کہ اس کی تعلیم  اور  شارع کی عملی سنت  ہر عہد، ہر زمانے  اور   ہر حالت  اور   ہر شکل کے لیے رہنما و کفیل ہو۔ہمارا ایمان ہے کہ حقیقت ایسی ہے  اور  اسلام نے ہمارے تمام اجتماعی و قومی برکات کاسامان کر دیا ہے۔ لیکن پھر یہ کیا مصیبت ہے کہ ہم ان کھوئی ہوئی برکتوں کوواپس نہیں لینا چاہتے بلکہ نئی نئی راہوں کی جستجومیں حیران وسرگرداں ہیں۔

حضرات!غورسے سنوکہ قوم افرادسے مرکب ہے کہ ایک جماعتی سلک میں تمام افرادمنسلک ہو جائیں  اور  تفرقہ و تشتت کی جگہ وحدت و اتحاد پر افراد کی شیرازہ بندی کی جائے۔ ہم اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ لیکن یورپ کے اجتماعی طریقوں کی نقالی کرنا چاہتے ہیں  اور  یہ بھول جاتے ہیں کہ آخراسلام نے بھی حیات اجتماعی کے لیے کوئی نظم ہمیں دیا تھا یا نہیں۔ اگر دیا تھا  اور  ہم نے اسے ضائع کر دیا تو یورپ کی دریوزہ گری سے پہلے خود اپنی کھوئی چیز کیوں نہ واپس لے لیں  اور  سب سے پہلے اسلام کا قرار دادہ نظام جماعتی کیوں نہ قائم کریں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک مجالس نہ ہوں، اجتماعیات نہ ہوں، انجمنیں نہ ہوں، کانفرنسیں نہ ہو،تو کوئی قومی عمل انجام نہیں پا سکتا۔نہ اتحاد و تعاون کی برکت حاصل ہوسکتی ہے۔ پس ہم آج کل کے مجلسی طریقوں کے مطابق انجمنیں بناتے ہیں۔ کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں۔ مگر ہم میں سے کسی کو بھی اس کا خیال نہیں آتا کہ اسی مقصد اجتماع و تعاون کے لیے اسلام نے بھی پانچ وقت کی نماز با جماعت،جمعہ،عیدین  اور  حج کا حکم دیا ہوا ہے لیکن اس کا نظام  و قوام درہم برہم ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے کیوں نہ اسے درست کر لیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک کوئی قومی فنڈ نہ ہواس وقت تک قومی اعمال انجام نہیں پا سکتے۔ پس ہم نئے نئے فنڈ قائم کرتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے مگر کاش کوئی یہ بھی سوچے کہ خود شریعت نے اس ضرورت کو رفع کرنے کے لیے زکوٰۃ و صدقات کا حکم دیا ہے۔ اس کا نظم ٹھیک ہے کہ نہیں۔ اگر وہ قائم ہو جائے توپھرکیاکسی فنڈ یا چندہ کی ضرورت ہو گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ قوم کی  تعلیم عام کے لیے مجامع و محافل کی ضرورت ہے۔ ہم اس کے لیے نئی نئی تدبیریں کرنے لگتے ہیں مگر کبھی یہ حقیقت ہمارے دلوں کو بیقرار نہیں کرتی کہ عین اسی مقصدسے شریعت نے خطبہ جمعہ کا حکم دیا ہے  اور  ہم نے اس کی برکتوں کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی قومی و اجتماعی کام انجام پا نہیں سکتاکہ جب تک اس میں نظم و انضباط نہ ہو اور یہ ہو نہیں سکتاجب تک کہ اس کا کوئی رئیس و قائد مقرر نہ کیا جائے۔ پس ہم تیار ہو جاتے ہیں کہ جلسوں  اور  انجمنوں کے لیے کوئی صدر تلاش کریں لیکن اگر یہی حقیقت شریعت کی ایک اصطلاح امامت کے لفظ میں ہمارے سامنے آتی ہے تو ہمیں تعجب و حیرانی ہوتی ہے  اور  اس کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے۔ ان مثالوں سے مقصود یہ ہے کہ ہمارے لیے راہ عمل تجدید و احیا ہے نہ کہ تاسیس و اختراع۔پس کسی طرح بھی یہ طریق صواب نہ ہو گا کہ علمائے و قائدین کی جمعیت بھی اپنے نظام و قوام کے لیے محض آج کل کی مجلسوں کے قاعدوں کی نقل و محاکات پر اکتفا کر لے۔ کیونکہ قائدین امت مرحومہ کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ عمل کے لیے ان مجلسوں کے ڈھنگوں  اور  طریقوں کے محتاج ہوں۔ ان کی راہ تو اتباع شریعت  اور  اقتداء بہ مشکوٰۃ نبوت کی ہے  اور  اسوہ حسنہ نبوت  اور  حکمت ورسالت نے انہیں تمام انسانی طریقوں سے مستغنی و بے نیاز کر دیا ہے۔ ہمارا طریق عمل تو یہ ہونا چاہیے کہ ہم تمام طرف سے آنکھیں بند کر کے حکمت اجتماعیہ نبویہ کواپنادستورالعمل بنا لیں، شریعت کے کھوئے ہوئے نظام کوازسرنوقائم واستوارکریں تاکہ اس طرح اسلام کی مٹی ہوئی سنتیں زندہ ہو جائیں۔ محض مجلس آرائی و ہنگامہ سازی ہمارے لیے کچھ سودمندنہیں ہوسکتی۔

حضرات:آج وقت کی سب سے بڑی مہم  اور  ادائے فرض اسلامی کی سب سے نازک  اور  فیصلہ گھڑی ہے جو آزادی ہند اور مسئلہ خلافت کی شکل میں ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ہندوستان میں دس کروڑمسلمان ہیں جواس وقت سرشارغلفت تھے  اور  اب آمادہ ہوئے ہیں کہ اطاعت و اعانت خلیفہ،عہد حفظ و حمایت بلاداسلامیہ  اور  آزادی ہندوستان کی ارہ میں اپنا اولین فرض اسلام سرانجام دیں۔ خدارا ابتلائے کہ اس صورت حال کا طریق کار کیا ہونا چاہیے  اور  ایسے وقتوں کے لیے آخراسلام نے بھی کوئی نظام بتلایا ہے کہ نہیں یاوہ باوجود دعویٰ تکمیل شریعت معاذاللہ اس قدر نامراد ہو گیا کہ آج اس کے پاس وقت کی مشکل و مصیبت کا کوئی حل نہیں۔ اگر بتلایا ہے تو وہ کیا ہے یا محض انجمن سازی  اور  ہنگامہ مجلس آرائی ہے یا محض اتباع اراعی رجال  اور  تقلید ارباب ظن و تخمین ہے۔ علی وجہ البصیرت اعلان کرتا ہوں کہ اس بارے میں بھی شرعی راہ صرف وہی ایک ہے  اور  جب تک وہ ظہور نہ آئے گی ہماری کوئی سعی مشکور نہیں ہوسکتی  اور  کوئی کوشش بار اور ثابت نہیں ہوسکتی۔جس طرح آج ہمارے لیڈر اور قائد ہمیں لے جا رہے ہیں کہ  ہر بات میں یا یورپ کی تقلید کی جائے  اور  یاپھردوسرے ابنائے وطن کے طریق کی نقل اتاری جائے  اور  ان کی اقتداء کی جائے۔ یقیناً یہ تباہی و ہلاکت کی راہ ہے۔ واحلواقومھم دارالبوار(28:14)کہ قوم کو تباہی  اور  ہلاکت کے گڑھے میں گرا رہے ہیں۔ ہمارے سامنے صرف ایک ہی راہ ہے  اور  وہ ہے قرآن کی راہ۔  قل بل ملۃ ابراھیم حنیفاوماکان من المشرکین (135:2)

کہ ہم تو صرف ملت ابراہیمی کی اطاعت کریں گے  اور  دوسری کوئی راہ نہیں جس کی ہم اطاعت کر سکیں  اور  یہی صراط مستقیم ہے کہ آدم علیہ السلام نے بھی اسی پر قدم رکھا۔نوح علیہ السلام نے بھی پتھروں کی بارش میں اس کا وعظ کیا۔ابراہیم علیہ السلام نے اس کی نشان دہی کے لیے قربان گاہ بنائی۔اسماعیل علیہ السلام نے اسی کی اینٹیں چنیں۔ یوسف علیہ السلام نے مصر کے قید خانہ میں اسی کا اعلان کیا۔موسی علیہ السلام پر وادی طور پر میں اسی کی روشنی پر تجلی پڑی تھی۔گلیلی کا اسرائیلی واعظ جب یروشلم کے نزدیک ایک پہاڑ پرچڑھاتواس کی نظراسی راہ پرتھی  اور  پھر جب خداوندسعیرسے چمکا  اور  فاران کی چوٹیوں پر نمودار ہوا تو وہی راہ تھی جس کی طرف اس نے دنیا کو دعوت دی کہ- ان ھذا صراطی مستقیما(135:6)۔یہ ہے میری راہ فاتبعبونی پھر تم میری ہی اتباع کرو۔پھر خدارا بتلاؤ آج ہم اس کو چھوڑ کر کدھر جائیں  اور  سراج منیرکوپس پشت ڈال کرکس سے روشنی حاصل کریں۔ پس یہی ہمارا ایمان ہے  اور  یہی ہماراراستہ ہے۔ اب ہم اس نشست میں اسی کو بیان کرتے ہیں۔

 

تقلید کادیوتاسنگ راہ ہے

 

ہر اصلاحی تحریک و دعوت کے لیے پہلے منزل تقلید کی بندشوں کو توڑنا ہوتا ہے کیونکہ تقلید کے اہرمن سے بڑھ کرانسان کے تمام یزدانی خصائل کا  اور  کوئی دشمن نہیں۔ انسانی اعمال کی جس قدر گمراہیاں ہیں ان سب کی تخم ریزی صرف تقلید ہی سرزمین میں ہوتی ہے۔ اس لیے راہ اصلاح کا اولین منظر یہ ہے کہ تقلیدپرستی کے سلاسل و اغلال سے انسانوں کو نجات حاصل ہو۔خدا تعالیٰ نے  ہر انسان کوسوچنے والا  اور   ہر آنکھ کو دیکھنے والا بنایا ہے۔

الم نجعل لہ عینین ولساناوشفتین وھدیناہ التجدین(107:90)

کیا ہم نے انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں دیں  اور  بولنے کے لیے زبان  اور  لبیں نہیں عطا کیں  اور  پھر ہدایت و ضلالت کی دونوں راہیں اس کے سامنے نہیں کھول دیں۔

اس لیے  ہر انسان اپنی ہدایت و گمراہی کا ذمہ دار اور اپنے فکر و دماغ سے کام لینے کے لیے خود مختار ہے۔ لیکن انسان کی تمام قوتیں نشو و نما کی محتاج ہیں  اور  نشو و نما ہو نہیں سکتی جب تک قوتوں کوبغیرسہارے کے خود ورزش کے لیے چھوڑ نہ دیا جائے۔ انسان چلنے کی قوت اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ بچے کو جب تک خود کھڑا ہونے  اور  پاؤں پر زور دینے کے لیے چھوڑ نہ دیجئے گا،کبھی اس کے پاؤں نہیں کھلیں گے۔ تقلیدسے پہلی ہلاکت جوانسانی دماغ پرچھا جاتی ہے، وہ یہی ہے کہ انسان اپنے چند پیشواؤں  اور  مقتداؤں کی تعلیم یا آباء و اجداد کے طریق ورسوم پر اپنے تئیں چھوڑ دیتا ہے  اور  صرف انہی کا تعبد کرتے کرتے خود اپنی قوتوں سے کام لینے کی عادت بھول جاتا ہے۔  اس عالم میں پہنچ کراس کی حالت بالکل ایک چوپائے کی سی ہو جاتی ہے  اور  انسانی ادراک و تفعل کی تمام صلاحیتیں مفقود ہونے لگتی ہیں۔ انسان کا اصل شرف نوعی  اور  ما بہ الامتیازاس کے دماغ کا تدبر و تفکر اور اجتہادوتجس ہے۔ دنیا میں جس قدر علوم و فنون کا انکشاف ہوا،قوانین الہیہ  اور  نوامیس فطریہ کے چہروں سے جس قدر پردے اٹھے، اشیاء کائنات کے خواص کا کچھ سراغ لگا،تمدن و مصنوعات میں جس درجہ ترقیاں ہوئیں، نئے نئے حالات  اور  نئے نئے وسائل راحت جس قدر ایجاد ہوئے غرض کہ انسان کے ارتقاء ذہنی و فکری کے جس قدر کرشمے دنیا میں نظر آ رہے ہیں۔ یہ تمام تراسی انسانی تدبر و تفکر کے نتائج ہیں لیکن تقلیدپرستی کی عادت ہلاکت و بربادی کی ایک چٹان ہے جوانسانی تدبر و تفکر اور ادراک و تعقل کی تمام قوتوں کو کچل ڈالتی ہے  اور  اس کی قوت نشو و نما کا دائمی سدباب کر دیتی ہے۔ قرآن کریم جس دعوت کو لے کر آیا، فی الحقیقت اس کا اصل مقصد یہی تھا کہ تقلید اور استبدادفکری کی زنجیروں سے انسان کو نجات دلائے۔ بت پرستی  اور  انسان پرستی کی تمام شاخیں بھی اسی تقلید آباء ورسوم سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے قرآن کریم نے اپنی تعلیم توحید کا اساس بھی انسان کی اجتہاد فکری پر رکھا  اور  تفکر پر زور دیا۔

افلایتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا(24:47)کیا لوگ اپنے دماغ سے قرآن پر غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ گئے ہیں۔

مقلدین محض کو چوپائیوں  اور  حیوانوں سے تشبیہ دی ہے  اور  پھراس کو بھی اظہار ضلالت کے لیے ناکامی قرار دے کران سے بھی بد تر فرمایا۔

لھم قلوب لایفقھون بھاولھم اعین لایبصرون بھاولھم اذان لایسمعون بھا اولئک کالانعام بل ھم اضل(179:7)

ان کے پاس دل و دماغ ہیں مگر نہیں سمجھتے۔ آنکھیں ہیں پر نہیں دیکھتے۔ کان ہیں پر نہیں سنتے۔ خود اپنے ذہن سے کام نہ لینے  اور  مقلد محض ہونے میں وہ مثل چوپائیوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ۔

پس خواہ مذہبی اصلاح ہویا اخلاقی تمدن ہویاسیاسی، ہر راہ میں پہلا پتھر تقلید کا حائل ہوتا ہے  اور  اگر یہ ہٹ جائے تو پھر آگے کے لیے راہ صاف ہے۔ ہم کومسلمانوں کے موجودہ سیاسی تغیرات میں سب سے زیادہ مہلک  اور  تباہ کن جو چیز نظر آ رہی ہے وہ یہی لیڈروں کی تقلیدپرستی ہے۔ اب فی الحقیقت پالیٹکس میں نہ تو قوم کی کوئی پالیسی ہے  اور  نہ کوئی رائے۔ صرف چند ارباب رسوخ و اقتدار میں جو اپنے محلوں میں بیٹھ کر تجویز بافی کر لیتے ہیں  اور  پھر تمام قوم کی آنکھوں پرپٹی باندھ کران کے ہاتھوں میں اپنی چھڑی پکڑا دیتے  اور  وہ کنویں کے بیل کی طرح ان کے بنائے ہوئے مرکز ضلالت کا طواف کرتی رہتی ہے۔ اصل قوت عام قوم کی ہے  اور  سچی پالیسی وہی ہے جو خود قوم کے دماغوں میں پیدا ہوئی ہو۔لیڈروں کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی نگہداشت کریں  اور  اس کو صحیح  اور  باقاعدہ تنظیم کے ساتھ ہمیشہ قائم رکھیں۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں لیڈروں نے نہ تو کبھی خود قوم کوسوچنے  اور  سمجھنے کا موقع دیا  اور  نہ خود قوم کو اپنے ذاتی اجتہاد اور قوت تدبروفکرسے کام لینے کی مہلت دی۔ابتداسے لیڈروں کی یہی تعلیم رہی ہے کہ تقلید و اتباع پر قناعت کرو اور جو کچھ کہا جائے اس پرچون و چرا مت کرو۔کیونکہ ابھی تم میں تعلیم نہیں  اور  کئی صدیوں تک چار پایوں کی سی زندگی بسرکرنے کے لیے مجبور ہو۔نعوذ باللہ،پیشوایان قوم کا صحیفہ تعلیم بھی گویا کلام الٰہی تھا کہ:

واذا قری القرآن فاستمعوالہ وانصتوا لعلکم ترحمون(204:7)

جب قرآن کریم پڑھا جائے تو پوری توجہ  اور  انقطاع کے ساتھ سنو اور چپ رہو تا کہ تم پر اللہ کی نظر ترحم مبذول ہو۔

پس  ہر تحریک اصلاح  اور  جد و جہد تعمیر کے لیے تقلیدپرستی کے سنگ راہ کوراستہ سے ہٹانا اولین فرض ہے  اور  اس کے بغیر ہر سعی عمل بے نتیجہ  اور   ہر کوشش رائیگاں ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تقلیدپرستی کے مہلک مرض کاسرچشمہ  اور  منشاء و مبداء احباری و رہبانی سطوت و جبروت ہے۔ پس تقلید کے قید خانے سے آدمی اس وقت تک نہیں نکل سکتاجب تک پیشواؤں کے رعیت و جبروت کی زنجیروں سے رہائی نہ پائے۔ انسان کے نظام دماغی پر صرف اعتقادات کی حکومت ہے۔ پس جب اس کا دماغ کسی خارجی عظمت و جبروت کے اثرسے مرعوب ہو جاتاتواس کے تمام اعمال و معتقدات میں اس مرعوبیت کا اثرسرایت کر جاتا ہے۔ بلکہ وہ جو کچھ دیکھتا  اور  سنتا ہے وہ بھی اس مرعوبیت کے اثرسے خالی نہیں ہوتا۔چونکہ اس کی قوت فکری بے کار ہو جاتی ہے اس لیے یہ مرعوبیت جو کچھ دکھاتی ہے دیکھتا ہے  اور  جو یقین دلاتی ہے یقین کرتا ہے۔ ایک بت پرست جب انتہاء درجہ کی عاجزی کے ساتھ ایک پتھر کی مورتی کے آگے سرٹیکتا ہے تو کیا اس کا دماغ مختل ہو جاتا ہے  اور  کیا اس کی قوت بصارت جواب دے جاتی ہے کہ سوچنے  اور  سمجھنے والی قوت اس کے دماغ سے اس وقت چھین لی جاتی ہے تو کیا کوئی خاص قوت تفکر موحد اور اللہ پرست انسان کو نصیب ہے جو بت پرستوں کو نصیب نہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ ہم کو جو شئے محض پتھر کا ایک ٹکڑا نظر آتی ہے۔ جو۔ مالاینفعھم ولایضرھم(55:25)کا درجہ رکھتی ہے اسی شئے میں بت پرست انہیں قوتوں  اور  عظمتوں کا کرشمہ دیکھتا ہے  اور  جو قوت فکری ہمیں اس پرہنساتی ہے وہی اس کی طاقتوں کا اسے یقین دلاتی ہے۔ اس کا اصل سبب یہی ہے کہ تقلیدآباءورسوم نے ان بتوں کی عظمت و جبروت سے اس کے دماغ کو مرعوب کر دیا ہے  اور  تمام قوتیں وحواس اس کے گو قائم و صحیح ہیں، مگراس رعب وسطوت کے بوجھ سے اس طرح دب گئی ہیں کہ ان کو اپنے اعمال کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔قوت فکری چا ہے اس کے دل میں شکست  اور  تزلزل پیدا کرے کہ ان بتوں میں کیا دھرا ہی کیا ہے، مگر مرعوبیت اس کی مہلت ہی نہیں دیتی۔آنکھیں چا ہے اس کو دکھلائیں کہ یہ ایک حقیر و ذلیل پتھر ہے مگر مرعوبیت کی باندھی ہوئی پٹی دیکھنے ہی نہیں دیتی۔اس کے پاس غور و فکر کی وہ تمام قوتیں موجود ہیں جو ایک موحد اور ملک السموات والارض پر غور کرنے والے حکیم کے پاس ہیں، مگر اعتقاد و عظمت کا دیو انہیں اپنے پنجہ کی گرفت سے نکلنے نہیں دیتا۔قرآن کریم نے اسی حالت کی نسبت فرمایا ہے :

فانھالاتعمی الابصارولکن تعمی القلوب التی فی الصدور(46:22)

گمراہوں کی آنکھیں اندھی نہیں ہو جاتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جوان کے سینوں میں ہیں۔ یہ حالت عام ہے  اور  اس کی نظیریں انسانی اعمال کی  ہر شاخ میں مل سکتی ہیں، مذہب کی طرح پالیٹکس میں بھی اپنے پیشواؤں کی عظمت و جبروت کا رعب  اس طرح چھایا ہوا ہے کہ ان کو کبھی خود غور کرنے  اور  اپنی حالت کوسمجھنے کی جرأت ہی نہیں ہوسکتی۔اگر کبھی کسی شخص کے دل میں شک و شبہ بھی پیدا بھی ہو جائے تواس مرعوبیت کے استیلاء سے شکست کھا جاتا ہے۔ پس  ہر مصلح کے لیے سب سے پہلا کام قوم کے قلب و دماغ سے لیڈروں کی اس رہبانی سطوت  اور  احباری جبروت و قہرمانی کے کابوس کا نکالنا ہے تاکہ تقلید کی بندشیں توڑ کر قوم کو صراط مستقیم پر گامزن کرا کے منزل مقصود کی جانب حرکت دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں  اور  ان کے جانشینوں کو ہمیشہ اسی بندش کے توڑنے  اور  سنگ راہ کو ہٹانے میں بڑے سے بڑے مصائب پیش آئے لیکن جب یہ بند ٹوٹ گیا تو۔یدخلون فی دین اللہ افوا جا(2:110)لوگ جوق در جوق فوجوں کی فوجیں دعوت پر لبیک کہنے لگیں۔ ھذاماعندی والعلم عنداللہ۔

 

قرآنی مشعل راہ ضروری ہے

 

لیکن یہ جو کچھ بیان ہوا ہے تصویر کا ایک رخ ہے۔ یہ صرف سلبی پہلو ہے  اور  اسلام کا کوئی نظام اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا۔۔۔جب تک کہ سلب کے سا تھ ایجاب نہ ہو۔اسی لیے اس کے  ہر نظام و اصول کی تحمیل سلب و ایجاب  اور  نفی و اثبات دونوں سے مل کر ہوتی ہے۔ اسلام کا اساسی میثاق جس کو شریعت کی زبان میں کلمہ طیبہ کہا جاتا ہے، نفی و اثبات دونوں سے مرکت ہے۔ پس ضروری ہے کہ ارتقاء اسم کا قانون بھی سلب و ایجاب سے مرکب ہو۔اس کے اجزاء ترکیب میں دونوں کا وجود ناگزیر ہے تاکہ اجزاء سلبیہ لوح قلب کو تقلید اغیار سے صاف کریں  اور  ایجابی اجزاء کے نقوش اس پر کندہ کئے جائیں۔ اگرسلب نے تجلیہ کہا تو ایجاب کا کام کرے  اور  انسانی قلوب محلی ہو کر ارتقائی منازل طے کریں۔ اس لیے پہلی بحث میں ہم نے سلب و نفی پر روشنی ڈالی تھی۔اب بحث میں اثبات و ایجاب پر کچھ نوک قلم کے سپرد کرتے ہیں۔ پس جیسے سلب میں  ہر ماسوائی اللہ کی تقلید کی زنجیروں کو توڑنا ضروری ہے، ایسے ہی ایجاب میں صرف خداوندی کا طوق گلے میں ڈالنا ہے۔ انسان دنیا میں  ہر طاقت کی غلامی سے آزاد پیدا ہوا ہے  اور  صرف اسی ایک کی غلامی کے لیے آیا ہے  اور  اس کی غلامی سے اس کے قانون کی تقلید و پیروی و اتباع ہے۔ ہمارے پاس اگر کچھ ہے تو قرآن ہی ہے۔ اس کے سواہم کچھ نہیں جانتے۔ ساری دنیا کی طرف سے ہماری آنکھیں بند ہیں  اور  تمام آوازوں سے کان بہرے ہیں۔ اگر دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہے تو یقین کیجئے کہ ہمارے پاس توسراج منیر کی بخشی ہوئی ایک ہی روشنی ہے۔ اسے ہٹا دیجئے گا تو بالکل اندھے ہو جائیں گے۔

                                    کتاب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظمات الی النور(1:14)

قرآن ایک کتاب ہے جوتم پر نازل کی گئی اسی لیے کہ انسان کو تاریکی سے نکالے  اور  روشنی میں لائے۔

ہمارے عقیدے میں  ہر وہ خیال جو قرآن کے سواکسی تعلیم گاہ سے حاصل کیا گیا ہو ایک کفر صریح ہے۔ افسوس کہ لوگوں نے اسلام کو کبھی بھی اس کی اصلی عظمت میں نہیں دیکھا۔و ما قدروا اللہ حق قدرہ(91:6)ورنہ پولیٹیکل پالیسی کے لیے نہ تو گورنمنٹ کے دروازے پر جھکنا پڑتا  اور  نہ ہندوؤں کی اقتداء کرنے کی ضرورت پیش آتی بلکہ اسی سے سب کچھ سیکھتے  اور  اسی کی بدولت تمام دنیا کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سب کچھسکھلایا تھا۔اسلام انسان کے لیے ایک جامع  اور  اکمل قانون لے کر آیا ہے  اور  انسانی اعمال کا کوئی مناقشہ ایسانہیں جس کے لیے وہ حکم نہ ہو۔وہ اپنی تعلیم توحید میں نہایت غیور ہے  اور  کبھی پسندنہیں کرتا کہ اس کی چوکھٹ پر جھکنے والے کسی دوسرے دروازے کے سائل بنیں مسلمانوں کی اخلاقی زندگی ہو یا علمی سیاسی ہو یا معاشرتی،دینی ہو یا دنیوی،حاکمانہ ہو یا محکومانہ،وہ  ہر زندگی کے لیے ایک اکمل ترین قانون اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگرایسانہ ہوتا تو یہ دنیا کا آخری  اور  عالمگیر مذہب نہ ہوسکتا۔وہ خدا کی آواز اور اس کی تعلیم گاہ خدا کا حلقہ درس ہے جس نے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔وہ پھرکسی انسانی دستگیری کا محتاج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے  ہر جگہ اپنے تئیں ماما مبین،حق القین،نور کتاب مبین تبیانالکل شی ء بصائرللناس ھادی،ھدی اھدی الی السبیل بلاغ للناس ذکرتذکرۃ روح شفاء موعظمہ حکمۃ حکم حادی الجریرجامع اضراب وامثال فرقان کتاب حکیم۔ اور اسی طرح کے ناموں سے یاد کیا ہے۔ اکثر موقعوں پر کہا کہ وہ روشنی ہے  اور  روشنی جب نکلتی ہے تو ہر طرح کی تاریکی دور ہو جاتی ہے خواہ مذہبی گمراہیوں کی ہویاسیاسی کی۔دنیا میں کون سی کتاب ہے جس نے اپنے متعلق اپنی زبان سے ایسے عظیم الشان دعوے کئے ہوں۔

قدجاء کم من اللہ نوروکتاب مبین یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سل السلام ویخرجھم من الظمات الی النورباذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم(16:15:5)

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی  اور   ہر بات کو بیان کرنے والی کتاب آئی ہے۔ اللہ اس کے ذریعے سے سلامتی کے راستوں پر ہدایت کرتا ہے۔ اس کوجواس کی رضا چاہتا ہے، اس کو ہر طرح کی گمراہی کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتا ہے  اور  سیدھی راہ چلاتا ہے۔

اس آیت میں صاف بتلایا گیا ہے کہ قرآن مجید روشنی ہے  اور  انسانی اعمال کی تمام تاریکیاں صرف اسی سے دورہوسکتی ہیں۔ پھر کہا وہ  ہر بات کو کھلے کھلے طور پر بیان کر دینے والی ہے  اور  انسانی اعمال کی کوئی شاخ ایسی نہیں جس کے اندر فیصلہ نہ ہو۔اس ٹکڑے کی تائیددوسری جگہ کر دی۔ولقدجنتھم بکتاب فصلنہ علی علم ھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون(52:7)

بیشک ہم نے ان کو کتاب دی  اور  اس کو ہم نے علم کے ساتھ مفصل کر دیا ہے وہ ہدایت بخشش  اور  رحمت ہے، ارباب ایمان کے لیے۔

پھر غور کرو کہ پہلی آیت میں قرآن کوسبل السلام کے لیے ہادی فرمایا کہ وہ تمام سلامتی کی راہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے  اور  اگر آپ کے سامنے پولٹیکل اعمال کی بھی کوئی راہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی سلامتی آپ کو قرآن کے اندر نہ ملے۔ پھر کہا کہ وہ انسان کو تمام گمراہیوں کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتی ہے  اور  ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا  پولٹیکل گمراہیاں صرف اس لیے ہیں کہ ہم نے قرآن کے دست و رہنما کو اپنے ہاتھ سپردنہیں کی اور نہ تاویل کی جگہ آج ہمارے چاروں طرف روشنی ہوتی۔آخر میں کہہ دیا کہ وہ صراط مستقیم پرلے جانے والی ہے  اور  صراط مستقیم کی اصطلاح قرآن مجید میں امور مہم سے ہے۔ ایسی جامع و مانع اصطلاح ہے جس کی نظیر نہیں ایک جگہ فرمایا۔

ونزلناعلیک الکتاب تبیانالکل شی ء ھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین(89:16)

ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے جو ہر چیز کو کھول کر بیان کر دینے والی  اور  ہدایت و رحمت ہے، صاحبان ایمان کے لیے۔

سورۃ یوسف کے آخر میں فرمایا۔

ماکان حدیثایفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل کل شی ء وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون(111:12)

یہ قرآن کی بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ وہ صداقتیں پہلے کی موجود ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے  اور  اس میں ارباب ایمان کے لیے  ہر چیز کا تفصیلی بیان  اور  ہدایت و رحمت ہے۔

ایک  اور  جگہ ارشاد ہے :۔

ولقدضربناللناس فی ھذا القرآن من کل مثل لعلھم یتذکرون(27:39)ہم نے انسان کوسمجھانے کے لیے اس قرآن میں سب طرح کی مثالیں بیان کر دی ہیں تاکہ لوگ نصیحت و عبرت حاصل کریں  اور  راہ ہدایت پائیں۔ ان آیات میں قرآن کا دعویٰ بالکل صاف ہے۔ وہ  ہر طرح کی تعلیمات کے لیے اپنے تئیں ایک کامل معلم ظاہر کرتا ہے پھر مزید بر آں یہ کہ اس کی تعلیم صاف  اور  غیر پیچیدہ ہے بشرطیکہ اس میں تدبر و تفکر کیا جائے۔ اس کی تعلیم میں کسی طرح کا داؤ پیچ نہیں  ہر طرح کے الجھاؤسے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات الجھی ہوئی نہیں۔

الحمداللہ الذی انزل علی عبدہ الکتاب ولم یحفل لہ عوجا(1:18)

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندہ پر قرآن اتاراجس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔

پس یہ کیونکہ ممکن ہوسکتا ہے کہ اسی کے ماننے والے زندگی کے کسی شعبہ میں دوسروں کے مسائل نہیں۔ حالانکہ خود قرآن ان کے پاس ایک حکم موجود ہے۔ وکل شی ء احصینہ فی امام مبین(12:36) اور انسانی زندگی کے  ہر شعبہ حیات کے مسائل کو ہم نے اس کتاب واضح میں جمع کر دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔

انہ لقول فصل وماھوبالھزل(14:13:86)بیشک یہ قرآن قول فیصل ہے تمہارے تمام اختلافات و اعمال کے لیے  اور  یہ کوئی بے معنی و فضول بات نہیں۔

مسلمانوں کی ساری مصیبتیں صرف اسی غفلت کا نتیجہ ہیں کہ انہوں نے ایسی تعلیم گاہ کو چھوڑ دیا  اور  سمجھنے لگے کہ صرف روزہ نماز کے مسائل کے لیے اس کی طرف نظر اٹھانے کی ضرورت ہے، ورنہ اپنے تعلیمی،سیاسی  اور  تمدنی اعمال سے اسے کیاسروکار۔لیکن وہ جس قدر قرآن سے دور ہوتے چلے جائیں گے اتنا ہی تمام دنیا ان سے دور ہوتی چلی جائے گی لیکن آج خودمسلمانوں کا یہ حال ہے کہ زبانی دعوے تو بہت ہیں مگر عملاً قرآن سے اپنے اعمال دنیویہ کو بالکل نکال دیا ہے۔ اس وقت کی پیش گوئی قرآن نے پہلے کر دی تھی کہ:۔

وقال الرسول یارب ان قومی اتخلواھذا القرآن مھجورا(30:25)

قیامت کے دن رسول خدا عرض کریں گے خدایا میری امت نے اس قرآن کو ہذیان سمجھا  اور  اس پر عمل نہ کیا بلکہ پس پشت ڈال دیا۔

ہم نہیں سمجھتے کہ اگر نزول قرآن کے وقت مشرکین مکہ اس سے اعراض و اغماض کرتے تھے تو ان میں سے اس سے زیادہ کیاتمردوسرکشی تھی جتنی آج تمام مسلمانان عالم  اور  ان کا ہر طبقہ خواہ وہ مدعیان ریاست دینی کاہویامسندنشینان تخت دنیوی کا،بلا استثناءکر رہا ہے۔ وہ ا گر قرآن کی تلاوت کے وقت کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے یا کعبہ کے اندر شور مچاتے  اور  تالیاں پیٹتے تھے تاکہ اس کی آوازکسی کے سننے میں نہ آئے تو آج خودمسلمان کانوں کی جگہ دلوں کو بند کئے ہوئے ہیں  اور  شور مچانے کی جگہ خاموش ہیں۔ مگر ان کے نفس انسانی ہنگاموں کا ایساغل مچا رہے ہیں کہ خدا کی آوازکسی کے کانوں میں نہیں پڑتی۔پھراسے ساکنان ضلالت آباد دنیا  اور  اے سرگران خمار غفلت و مدہوشی  اور  اے دلدادگان غفلت و بیہوشی!ہم تم کوکیسے مسلمان سمجھیں  اور  اپنے آپ کوکس طرح تمہاری پیروی و اتباع کے لیے آمادہ کریں۔ اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے تم کو زمرہ کفار میں داخل سمجھا  اور  اسلام سے خارج کیا تو ہاں ایساہی سمجھا ہے۔ قسم خدائے محمد و قرآن کی ایساہی کہا ہے۔ پس کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک قرآن کو اپنے لیے مشعل راہ نہ بنائے۔ اس کارخانہ ہستی میں اقوام و امم کی ترقی و عروج قرآن ہی کی بدولت ہوسکتی ہے  اور  یہی وہ مرقات ترقی  اور  معراج ارتقاء ہے جس پر چل کر قوموں نے ترقی حاصل کی تھی  اور  آج بھی کر رہی ہے  اور  اسی کو چھوڑ کر ہم آج گرفتار غلامی ہیں

ھذاکتاب یرفع اللہ بہ اقواماویضت اخرین ط

 

حواشی

 

ابوداؤد۔ کتاب الملاحم(2/241)

 

 

 

کامیابی کی چار منزلیں

 

تمہارے سامنے کوئی مقصد ہے جس کو تم نے حاصل کرنا چاہتے ہو اور اس کے حصول کے لیے تم بے قرار ہو۔اس کی محرومی سے تم تلخ ہو۔تمہارا ایک مطلب ہے جس کے حاصل کرنے کی تم جستجوکر رہے ہو۔کوئی مراد ہے جس کے تم متلاشی ہو،کوئی مقصود ہے جس کی طلب سے تم تشنہ کام ہو۔اس کی طلب و تلاش میں تم سرگرداں ہو۔وہ اگر حاصل ہو جائے تو تم کامیاب و کامران ہو۔اس کا حصول تمہاری جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ ثمرہ ہے جس کا پا لینا تمہاری فلاح و کامیابی ہے۔ اس کی طلب و تلاش میں تم سرگرداں ہو۔اس کا ملنا تمہارے دل کی تمنا و آرزو ہے۔ اسی کے ملنے میں تمہاری سرخروئی وسرفرازی ہے۔ وہی تمہارا امتنہاء عروج ہے۔ فرض کرو اگر وہ نہ حاصل ہو تو تم خائب وخاسرہو اور اس کے عدم حصول پر تم ماتم کناں و گریہ کناں ہو۔اس کا نہ ملنا ہی تمہاری ناکامی ہے۔ اس کونہ پانے سے تم ذلت و انحطاط کے گڑھے میں پہنچ جاتے ہو۔یہی تمہاری رسوائی و اہانت ہے۔ اس سے بڑھ کر نہ تمہاری کوئی بے عزتی ہوسکتی ہے  اور  نہ نامرادی وخسران۔تو کیا ایسامقصداعلیٰبغیرکسی شرط و قید کے حاصل ہوسکتا ہے۔ کیا ایسے اہم مقصد کے لیے کچھ کرنا نہ ہو گا۔پس قرآن کہتا ہے، قومی و اجتماعی مقاصد علیا کے لیے بھی شرائط و قیود ہیں۔ جب تک وہ شرائط نہ پوری کی جائیں، جماعتیں محروم و نامراد رہتی ہیں  اور  یہی ان کاخسران و محرومی ہے  اور  یہی ان کی رسوائی و ذلت ہے۔ والعصر۔ان الا انسان لفی خسر۔الا الذین امنوا وعملو الصلحت وتواصوابالحق وتواصوابالصبر(1:3:103)

گردش زمانہ شاہد ہے کہ  ہر جماعت خسارہ میں گھری ہوئی ہے۔ مگر وہی جو یہ چار کام انجام دیں۔ ایمان لائیں  اور  عمل صالح کریں، حق و صداقت کا اعلان کرتے رہیں  اور  صبر کی تلقین کریں۔

زمانہ اس لیے شاہد ہے کہ اس آسمان کے نیچے قوموں  اور  جماعتوں کی بربادی و کامیابی  اور  ارتقاء انحطاط کی کہانی پرانی ہے اتنا ہی پرانا زمانہ بھی ہے۔ دنیا میں اگر کوئی اس انقلاب اقوام کا ہم عصرہوسکتا ہے تو وہ صرف زمانہ ہے۔ پھر قوموں کی تباہی و بربادی  اور  کامیابی و فلاح جو کچھ بھی بھی ہوتا رہا ہے۔ وہ زمانہ کی گود میں ہوا۔پس انقلاب امم پر اگر کوئی چیز گواہ ہوسکتی ہے تھی تو وہ صرف گردش ایام ہی تھا۔اس لیے قرآن نے زمانہ کواس پر شاہد اور گواہ بنایا کہ زمانہ  اور  اس کی گردش ایام ہی تھا۔اس لیے قرآن نے زمانہ کواس پر شاہد  اور گواہ بنایا کہ زمانہ  اور  اس کی گردش ورفتاراس بات پر شاہد ہے کہ کوئی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ان اصولوں چہار گانہ کونہ اپنا لے۔  ہر جماعت خسارے میں رہے گی وہ اگر ان چار دفعات پر عمل پیرانہ ہو۔پس قرآن اعلان کرتا ہے کہ اس آسمان کے نیچے نوع انسان کے لیے انسانوں کی تلاشوں  اور  جستجوؤں کے لیے  اور  امیدوں و تمناؤں کے لیے بڑی بڑی ناکامیاں ہیں گھاٹے  اور  ٹوٹے ہیں، خسران  اور  نامرادی ہے، محرومی  اور  بے مرادی ہے۔ لیکن دنیا کی اس عام نامرادی سے کون انسان ہے، کون جماعت ہے جو کہ بچ سکتی ہے  اور  نا کامیابی کی جگہ کامیابی  اور  نا امیدی کی جگہ امیداس کے دل میں اپنا آشیانہ بنا سکتی ہے۔ وہ کون انسان ہیں، وہ انسان جو کہ دنیا میں ان چار شرطوں کو قولاً و عملاً اپنے اندر پیدا کر لیں۔ جب تک یہ پیدا نہ ہوں گی،اس وقت تک دنیا میں نہ کوئی قوم کامیاب ہوسکتی  اور  نہ ملک۔حتی کہ ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی کامیابی نہیں پا سکتے۔ ان چار شرطوں کے نام سے گھبرا نہ جانا۔پہلی شرط وہ ہے جس کا نام قرآن کی بولی میں ایمان ہے۔ الا الذین امنو۔تم جبھی کامیابی پا سکتے ہو جب تمہارے دلوں کے اندر اور روح و فکر میں وہ چیز پیدا ہو جائے جس کا نام قرآن کی زبان میں ایمان ہے۔ ایمان کے معنی عربی زبان میں زوال شک کے ہیں یعنی کامل درجہ کابھروسہ  اور  کامل درجہ کا  اقرار تمہارے دل میں پیدا ہو جائے۔ جب تک کامل درجہ کا یقین تمہارے دلوں کے اندر پیدا نہ ہو اور اللہ کی صداقت وسچائی  اور  اللہ کے قوانین و اصولوں پر کامل یقین تمہارے قلوب میں موجزن نہ ہو جائے تب تک کامیابی کا کوئی دروازہ تمہارے لیے نہیں کھل سکتا۔شک کا  اگر ایک کانٹا بھی تمہارے دل کے اندر چبھ  رہا ہے تو تم کو اپنے اوپر موت کا فیصلہ صادر کرنا چاہیے۔ تم کو کامیابی نہیں ہوسکتی۔اس لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ تمہارے قلوب میں ایمان ہو،اطمینان ہو،یقین ہو،جماؤ ہو اور تمکن و اقرار پیدا ہو۔دل کا یہ کام،دماغ کا یہ فعل۔تصور کا یہ نقشہ کامیابی کی پہلی منزل ہے۔ اگراسی میں تمہارا قدم ڈگمگا رہا ہے تو کامیابی کی بو بھی تم نہیں سونگھ سکتے۔ کیا تم شک کا روگ اپنے پہلو میں لے کر دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی بھی پا سکتے ہو۔کیا تم دنیا میں ایک مٹھی بھرجو اور چاول پا سکتے جب تک تمہارے لیے دلوں میں اس کے لیے یقین و اعتماد اور بھروسہ و اطمینان نہ ہو۔دنیا میں کوئی مقصدبغیراعتمادوبھروسہ کے حاصل ہوسکتا ہے کیا چیونٹی سے لے کر ہاتھی کے کوہ پیکر وجود تک کوئی طاقت اپنا مقصد اور اس کے لیے جدوجہد کی سرگرمی بغیر عزم و ارادہ کے دکھا سکتی ہے۔ کیا عزم و ارادہ بغیر یقین و اطمینان کے پیداہوسکتا ہے۔ اگر نہیں، تو قرآن تم سے یہی مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے اندر یقین و اعتماد پیدا کرو تا کہ تمہارے لیے عزم و ارادہ پیدا ہو اور پھر تم سرگرم عمل ہو کر جد و جہد کرو۔لیکن کیا حصول مقصد کے لیے دل کا یہ یقین  اور  دماغ کا یہ فعل کافی ہے  اور  منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے  اور  کچھ نہیں کرنا۔کیا اسی سے کامیابی حاصل ہو جائے گی۔فرمایا نہیں۔ بلکہ ایک دوسری منزل اس کے بعد آتی ہے جب تک وہ دوسری منزل بھی کامیابی کے ساتھ طے نہ کر لو گے تو صرف پہلی منزل کو طے کر کے کامیابی نہیں پا سکتے۔ اس کا نام قرآن کی زبان میں عمل صالح ہے۔ وعملوالصلحت۔یعنی وہ کام جو اچھائی کے ساتھ کیا جائے۔ جس کام کوجس صحت  اور  جس طریقے کے ساتھ کرنا چاہیے  اور  جو طریقہ اس کے لیے سچاطریقہ ہوسکتا ہے، اس کام کواسی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اس سے سادہ تر الفاظ میں یہ کہ جو طریقہ اس کام کے انجام دینے کا صحیح طریقہ ہوسکتا ہے، اسے اسی طریقہ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ قرآن کا یہ اصول تو عام ہے کہ کیوں کہ ایمان کے معنی ہیں وہ کامل یقین و کامل اطمینان  اور  اقرار جو عمل سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔

فرض کرو کہ تمہارے سامنے ایک مکان ہے، جس وقت یہ اکی چٹیل میدان تھا۔کوئی وجوداس عمارت و مکان نہ تھا۔کسی کاریگر نے اس وقت یہاں کوئی تعمیر نہ کی تھی۔نہ دیواریں تھیں  اور  نہ چھت وغیرہ کچھ بھی نہ تھاتواس وقت بھی یہ مکان معہ اپنی لائنوں  اور  نقوش مزینہ کے موجود  تھا۔کہاں ؟کاریگر اور مالک کے دماغ میں پیدا ہوا تھا۔پس وہ چیزجواس کے دماغ میں موجود تھی۔وہ ارادہ جواس کے دماغ میں پیدا ہوا تھا،وہ پہلی منزل ہوئی جو مذہب میں آ کر ایمان کا نام اختیار کر لیتی ہے۔ بالکل جیسے وہ عمل دماغ ہے ویسے ہی تصور و یقین بھی عمل قلب ہے  اور  اسی کو قرآن ایمان کہتا ہے۔ اسی بناپرسب سے پہلی منزل ایمان کی ہوئی۔پس تجویز یہ ہے کہ پہلے تمہارے دل کے اندرسچا اطمینان و یقین  اور  صحیح ارادہ عزم پیدا ہو پھر صرف دماغ کی منزل طے کر کے قدم نہ ٹھہر جائیں بلکہ ایک دوسری منزل وعملوا الصالحات کی بھی ہے یعنی عمل صالح کی منزل۔تو جو طریقہ اس کو انجام دینے کاہو اسی طریقہ سے انجام دو گے تو مکان کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گی۔ورنہ نہیں۔ ایسے ہی یہاں بھی جس مقصد کو تم حاصل کرنا چاہتے ہواس کے حاصل کرنے کے لیے جو عمل وسعی بھی کرو۔وہ اسی طریقہ سے کرو،جو طریقہ اس کے کرنے کا ہے۔ اس کو بھی جب پورا کر لیاتواس کے یہ معنی ہوئے کہ فتح مندی  اور  کامیابی کی دو منزلیں تم نے طے کر لیں۔ مگر پھر کیا تمہارا کام ختم ہو گیا۔اس کے بعد کیا تم منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے۔ قرآن کی عالمگیر صداقت کہتی ہے کہ نہیں بلکہ ان دو منزلوں کے بعد دو منزلیں  اور  باقی نہیں۔ اپنی ہمت تو آزما لو کہ ان کے لیے تمہارے تلوے تیار ہیں یا نہیں۔ تمہاری کمر ہمت مضبوط ہے کہ نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ دو منزلیں تمہارے لیے سودمندنہ ہوں جو صرف ایک زنجیر کی کڑی کے ظاہر و باطن کی درستگی ہے۔ لیکن کیا ایک کڑی کے درست ہو جانے سے پوری زنجیر کا کام پورا ہو جایا کرتا ہے۔ اگر نہیں تو تم اپنی جگہ ایک کڑی ہو۔تمہارا وجود قومی زنجیر کی ایک کڑی ہے۔ پس زنجیر کا کام ابھی باقی ہے  اور  تم گویا ہوا میں بکھری ہوئی شکل میں بے کار ہو۔اس میں تمہارا کوئی وجود نہیں کیوں کہ قرآن وجود مانتا ہے، اجتماع کا نہ کہ کڑیوں کا۔اس کے نزدیک وجود کڑیوں کا نہیں ہے بلکہ زنجیر کا ہے۔ تم میں  ہر وجود ایک کڑی ہے۔ اس کا کام پورا نہیں ہوسکتا۔جب تک وہ باقی کڑیوں کی خبر نہ لے۔ جب تک باقی کڑیاں مضبوط نہ ہوں گی زنجیر نہیں ہوسکتی۔اس لیے فرمایا کامیابی کاسفراس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا،جب تک تیسری منزل تمہارے سامنے نہ آئے۔ وہ تیسری منزل ہے توحید حق کی۔وتواصوابالحق۔ یعنی ان منزلوں سے کامیابی کے ساتھ گذرنے کے بعدتیسری منزل کو بھی کامیابی سے طے کرو یعنی دنیا میں خدا کی سچائی کا پیغام پہنچاؤ۔جب تک تم میں یہ بات نہ ہو کہ تمہارا دل سچائی کے اعلان کے لیے تڑپنے لگے، تب تک تم کو کامیابی نہیں مل سکتی۔اب اگرتیسری منزل کے لیے تیار ہو گئے۔ اگر توفیق الٰہی نے تمہاری دستگیری کی ہے  اور  تم نے یہ منزل بھی کامیابی کے ساتھ طے کر لی ہے تو کیا پھر مقصود حاصل ہو جائے گا  اور  کچھ نہ کرنا پڑے گا۔قرآن کہتا ہے، نہیں۔ بلکہ ایک  اور  آخری منزل بھی ہے جو کہ اعلان صبر کی منزل ہے۔ واتواصوبالصبر۔اعلان صبر کی منزل اعلان حق کی منزل کے ساتھ لازم و ملزوم کا رشتہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کی گردن اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ جدا نہیں کی جا سکتی۔فرمایا کہ حق کا وہ اعلان کریں گے۔ حق کا پیغام پہنچائیں گے۔ حق کا پیغام سنائیں گے۔ حق کی دعوت دیں گے۔ حق کی تبلیغ کریں گے۔ حق کا چیلنج کریں گے۔ حق کا پراپیگنڈا کریں گے۔ لیکن حق کا یہ حال ہے کہ حق کی راہ میں کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا،جب تک قربانیوں کے لیے نہ اٹھے۔ حق کا پیغام پہنچانا بغیر قربانی و ایثار کے ایساہی ہے جیساکہ آگ کو ہاتھ میں پکڑ لینا،بغیراس کی گرمی کے۔ جیسے یہ ناممکن ہے، ویسے ہی وہ بھی محال ہے اس لیے چوتھی منزل صبر کی ہے۔ جب تک یہ منزل بھی طے نہ کی جائے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔

٭٭٭

ٹائپنگ: جاوید اقبال

ماخذ: ای سنپس فولڈر

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید