FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

قرآن و احادیث  کی روشنی میں ماہ  رمضان المبارک کی فضیلت

 

 

                مرتبہ:نسیم عباس نسیمی

 

 

 

 

ہجری قمری سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے جس میں طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک چند امور سے قربت خدا کی نیت سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ مثلاً کھانا پینا اور بعض دوسرے مباح کام ترک کر دیئے جاتے ہیں۔ شرعی زبان میں اس ترک کا نام “روزہ” ہے جو اسلام کی ایک اہم ترین عبادت ہے۔ روزہ فقط اسلام میں ہی واجب نہیں بلکہ تمام ملل و مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھا جاتا ہے اور تمام الہی ادیان اس کی افادیت کے قائل ہیں۔ البتہ ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنا اسلام سے ہی مختص ہے۔ اسی لئے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ماہ مبارک رمضان کو اپنی ایک دعا میں جو صحیفہ سجادیہ میں موجود ہے “شہرالاسلام” یعنی اسلام کا مہینہ قرار دیا ہے۔

اسلام ، انسان سازی کا مکتب ہے، مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا ایک راز تزکیہ نفوس ہے، کیونکہ خداوند عالم ،کمال مطلق ہے، تو اس کا انتخاب اور چناؤ بھی بر اساس حکمت ہے، اس نے ممالک ہستی کے درمیان سے بہشت کو انتخاب کیا تو بہشتی نہروں کے درمیان سے کوثر کو چنا، بہشتی درختوں میں طوبی کو منتخب کیا۔

تمام موجودات اور مخلوقات کے درمیان سے انسان کو، سارے انبیاء اور پیغمبروں کے درمیان سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اور مکاتب و مذاہب میں سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔

زمینی بستیوں میں کعبہ، پتھروں میں حجرالاسود، راستوں میں صراط مستقیم، کتب آسمانی میں قرآن کریم، قرآنی سوروں میں یاسین، ارکان میں نماز، ایام ہفتہ میں جمعہ، مہینوں میں رمضان، اور عبادت میں روزہ کو منتخب فرمایا ہے۔

 

                ماہ مبارک رمضان کی وجہ تسمیہ

 

ماہ مبارک رمضان کو “رمضان” کے نام سے کیوں یاد کیا جاتا ہے؟۔ اس سلسلے میں چند اقوال ذکر کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر قول اپنی جگہ ایک دلیل رکھتا ہے لیکن ہم یہاں ان اقوال میں جو وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے اسی کے ذکر پر اکتفا کریں گے:

۱۔ رمضان “رمض” سے ماخوذ ہے جس کے معنی “دھوپ کی شدت سے پتھر، ریت وغیرہ کے گرم ہونے” کے ہیں۔ اسی لئے جلتی ہوئی زمین کو “رمضا” کہا جاتا ہے اور جب پہلی دفعہ روزے واجب ہوئے تو ماہ مبارک رمضان سخت گرمیوں کے ایام میں پڑا تھا۔ جب روزوں کی وجہ سے گرمیوں کا احساس بڑھا تو اس مہینے کا نام رمضان پڑ گیا۔ یا یہ کہ یہ مہینہ گناہوں کو اس طرح جلاتا ہے جس طرح سورج کی تمازت زمین کی رطوبتوں کو جلا دیتی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

“انما سمی رمضان لان رمضان یرمض الذنوب”۔

[رمضان کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے]۱۔ تفسیر نور، جلد 1، صفحہ 370،

۲۔ یہ کہ رمضان “رمضی” سے ماخوذ ہے جس کے معنی “ایسا ابر و باراں ہے جو موسم گرما کے اخیر میں آئے اور گرمی کی تیزی کو دور کر دے”۔ رمضان کا مہینہ بھی گناہوں کے جوش کو کم کرتا ہے اور برائیوں کو دھو ڈالتا ہے۔

۳۔ رمضان کسی دوسرے لفظ سے نہیں لیا گیا بلکہ یہ اللہ تعالی کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ہے۔ چونکہ اس مہینے کو خداوند عالم کے ساتھ ایک خصوصی نسبت حاصل ہے لہذا خدا کے ساتھ منسوب ہونے کی وجہ سے رمضان کہلاتا ہے۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ منسوب ہے:

“لا تقولوا ھذا رمضان و لا ذھب رمضان و لا جاء رمضان فان رمضان اسم من اسماء اللہ تعالی و ہو عز و جل لا یجیؤ و لا یذھب ولکن قولوا شھر رمضان”۔

[یہ نہ کہا کرو کہ یہ رمضان ہے اور رمضان گیا اور رمضان آیا۔ اس لئے کہ رمضان اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور خداوند عالم کہیں آتا جاتا نہیں ہے لہذا کہا کرو ماہ رمضان]۲۔ ترجمہ و حواشی صحیفہ کاملہ، مفتی جعفر حسین، صفحہ 320،

 

                اسماء ماہ رمضان

 

متعدد روایات کہ جو ماہ رمضان کی عظمت کو اجاگر کرتی ہیں اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں جیسا کہ ماہ رمضان المبارک کے اسماء گرامی، ماہ رمضان المبارک کی عظمت و جلالت کو اجاگر کرتے ہیں،ماہ رمضان المبارک کے متعدد اسماء ہیں جو احادیث میں وارد وارد ہوئے ہیں اور سب کے سب ایک مفصل بیان و تشریح کے محتاج ہیں ماہ رمضان المبارک کے بعض اسماء اس طرح ہیں:

ماہ خدا، ماہ اکبر خدا ، ماہ ضیافت خدا، ماہ نزول قرآن، ماہ تلاوت قرآن، ماہ صیام، ماہ اسلام، ماہ طہور، ماہ تمحیص، ماہ قیام، ماہ عتق و آزادی، ماہ صبر، ماہ مواسات، ماہ برکت، ماہ مغفرت، ماہ رحمت، ماہ توبہ، ماہ انابہ، ماہ استغفار ، ماہ دعا، ماہ عبادت، ماہ اطاعت، ماہ مبارک، ماہ عظیم، وہ مہینہ کہ جس میں خداوند عالم مومن کے رزق کو زیادہ کرتا ہے، مہینوں کا آقا و سردار، اولیاء خدا

 

                روزہ گذشتہ امتوں میں

 

تفسیر نمونہ میں مفسرین نے لکھا ہے: “موجودہ تورات اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ روزہ یہود و نصاری میں بھی تھا جیسا کہ “قاموس کتاب    مقدس میں بھی ہے۔ روزہ ہر زمانے کی امتوں، گروہوں اور مذہب میں غم و اندوہ اور اچانک مصیبت کے موقع پر معمول تھا”۳۔

(   ۳۔ قاموس کتاب مقدس، صفحہ 42۷،        )”

تورات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے چالیس دن تک روزہ رکھا جیسا کہ لکھا ہے: “جب میں پہاڑ پر گیا تاکہ پتھر کی تختیاں یعنی وہ عہد والی تختیاں جو خدا نے تمہارے ساتھ منسلک کر دی ہیں حاصل کروں اس وقت میں پہاڑ میں چالیس راتوں تک رہا، وہاں میں نے نہ روٹی کھائی اور نہ پانی پیا”۴

(       ۴۔ تورات، سفر تشینہ، فصل 9، شمارہ 9،   )

یہودی جب توبہ کرتے اور رضائے الہی طلب کرتے تو روزہ رکھتے تھے۔ اکثر اوقات یہودی جب موقع پاتے کہ خدا کی بارگاہ میں عجز و انکساری اور تواضع کا اظہار کریں تو روزہ رکھتے تاکہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے روزہ اور توبہ کے ذریعے حضرت اقدس” روزہ فقط اسلام میں ہی واجب نہیں بلکہ تمام ملل و مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں روزہ رکھا جاتا ہے اور تمام الہی ادیان اس کی افادیت کے قائل ہیں۔ “

الہی کی رضا و خوشنودی حاصل کریں۵۔ (۵۔ قاموس کتاب مقدس، صفحہ 428،)

احتمال ہے کہ “روزہ اعظم با کفارہ” سال میں مخصوص ایک دن کیلئے ہو جس کا یہودیوں میں رواج تھا البتہ وہ دوسرے موقتی روزے بھی رکھتے تھے مثلاً شلیم کی بربادی کے وقت رکھا گیا روزہ وغیرہ۔( ۶۔ قاموس کتاب مقدس، صفحہ 428 )

جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی چالیس دن روزے رکھے۔ “اس وقت عیسی قوت روح کے ساتھ بیابان میں لے جائے گئے تاکہ ابلیس انھیں آزمائے۔ پس انہوں نے چالیس شب و روز روزہ رکھا اور وہ بھوکے رہے”۷۔

(   ۷۔ انجیل متی، باب 4، شمارہ 1 و 2،)

انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کے حواری بھی روزہ رکھتے تھے۔ جیسا کہ انجیل میں ہے: “انہوں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے کہ یحیی کے شاگرد ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور دعا کرتے رہتے ہیں جبکہ تمہارے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا جب داماد ان میں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ اس وقت روزہ رکھیں گے”۸۔(  ۸۔ انجیل لوقا، باب 5، شمارہ 33-35  )

کتاب مقدس میں بھی ہے: “اس بنا پر حواریین اور گذشتہ زمانے کے مومنین کی زندگی انکار لذات، بے شمار زحمات اور روزہ داری سے بھری پڑی تھی”۹۔

( ۹۔ قاموس کتاب مقدس، صفحہ  428

 

                رمضان اور روزے کی فضیلت

 

مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،رمضان اور روزہ کی فضیلت و اہمیت میں ارشاد فرماتے ہیں: ” لوگو! ماہ خدا برکت ، رحمت اور مغفرت کے ہمراہ تمہارے سامنے ہے، یہ مہینہ ، پیش خدا تمام مہینوں سے برتر ، اس کے دن بہترین ایام، اس کی راتیں ساری شبوں سے بہتر اور اس کا وقت و لمحہ بہترین اوقات سے ہے۔

اس ماہ میں آپ لوگوں کو ضیافت الہی کی طرف دعوت دی گئی ہے ،اور اس کے حضور اہل کرامت بنایا گیا ہے، اس میں تمہاری سانسیں تسبیح کا دربہ رکھتی ہیں اور اس میں تمہاری نیندیں عبادت، اور تمہارے عمل مقبول ، تمہاری دعائیں مستجاب ہیں، لہذا خداوند عالم سے خلوص نیت اور پاکیزہ قلوب سے سوال کرو تاکہ تمہیں اس کے روزے، اس کی کتاب کی تلاوت کی توفیق مرحمت ہو، یقیناً بدنصیب ہے وہ شخص جو اس ماہ عظیم میں خداوند عالم کی بخشش سے محروم رہ جائے۔

اس ماہ میں اپنی بھوک اور پیاس سے روز قیامت کی جوع و عطش کو یاد کرو ، ضرورتمندوں اور محتاجوں کو صدقہ دو، اپنے بزرگوں کی توقیر کرو اور بچوں پر رحم و نوازش کرو، صلہ رحم کرو اور اپنی زبانوں کو(برائیوں سے) حفظ کرو، اپنی آنکھوں کو جن کو دیکھنا حلال نہیں ہے اور سماعتوں کو جن چیزوں کوسننا ناجائز ہے بچاؤ۔ اے لوگو! یتیموں سے مہربانی سےپیش آؤ تاکہ تمہارے یتیموں سے مہربانی کی جائے اپنے گناہوں کی خداسے توبہ کرو، اوقات نماز اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھاؤ، بے شک وہ بہترین وقت ہے خداوند عالم اپنے بندوں کی طرف نظر رحمت کرتا ہے ، مناجات کا جواب دیتا ہے ، جب اسے آواز دی جائے تو لبیک کہتا ہے اور جب اسے بلایا جائے تو قبول فرماتا ہے ۔

اے لوگو! تمہاری سانسیں تمہارے اعمال کا مرہون منت ہیں ، تو تم انہیں استغفار سے آزاد کرو اور تمہاری پشتیں گناہوں سے سنگین ہو گئی ہیں لہذا انہیں طولانی سجدوں سے سبک کر لو، اور جان لو کہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ نماز گزاروں کو اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب سےمحفوظ رکھے، نہ آتش جہنم سے نہ ڈرائے جس دن لوگ امر خدا کی خاطر اٹھائے جائیں گے۔

اے لوگو! تم میں سے جو شخص کسی مومن کو اس ماہ میں افطاری کرائے اس کے لیے خدا کے نزدیک غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے اور گذشتہ گناہوں سےمغفرت ہے، کہا گیا : اے رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک افطاری کرانے پر قادر نہیں ہے! حضور نے فرمایا: خود کو آتش جہنم سے بچاؤ چاہے آدھی کھجور سے ہی کیوں نہ ہو ، آگ سے دوری اختیار کرو گرچہ تھوڑے پانی ہی سے سیراب کر کے۔

اے لوگو! جو شخص اس ماہ میں اپنے اخلاق کو نیک بنائے اس کے لیے پل صراط سے گزرنے کا پروانہ ہے جس دن قدم متزلزل ہونگے، اور جو کوئی اس ماہ میں اپنے غلام اور کنیز سےکم خدمت لے خداوند عالم اس کے حساب کو سبک کرے گا، اور اس کے ساتھ سختی نہیں کرے گا، اور جو کوئی اس ماہ میں شر اور برائی سے دور رہے خداوند عالم اپنے غضب کو اس سے دور رکھے گا جس دن وہ اس سےملاقات کرے، اور جو کوئی اس ماہ میں یتیم کا اکرام کرے خداوند تبارک و تعالیٰ روز قیامت اسے مکرم بنائے گا ، جو کوئی صلہ رحم کرے وہ روز قیامت خداوند عالم کے سایہ رحمت میں رہے گا اور جو قطع رحم کرے خداوند روز قیامت اس سے اپنی رحمت قطع کر لے گا۔اور جو شخص اس ماہ میں مستحبی نمازیں بجا لائے خداوند عالم آتش جہنم سے آزادی و برأت کا پروانہ اس کے لیے کھولے گا، اور جو واجب نمازوں کو ادا کرے گا تو اس کے لیے اس شخص کی طرح ثواب ہے کہ جس نے ستر(70) واجبات کو ماہ رمضان کے علاوہ انجام دیا ہے، اور جو مجھ پر کثرت سے صلوات بھیجے خداوند عالم اس کے میزان کو سنگین بنادے گا جس دن بار میزان سبک و ہلکے ہوں گے، اور جو شخص قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے اس کے لیے اس شخص کی طرح اجر و ثواب ہے جس نے غیر ماہ رمضان میں قرآن کامل ختم کیا ہو۔

اے لوگو! اس ماہ میں دروازہ بہشت کھول دیے گئے ہیں، اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ انہیں تم پر بند نہ کرے، اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں لہذا اپنے خداسے چاہو کہ تمہارے لیے نہ کھولے، اس ماہ میں شیاطین قید کر دیے گئے ہیں خداوند عالم سےالتجا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کر دے۔

امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اٹھا، اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا : یا رسول اللہ ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس مہینے میں سب سے بہترین عمل ان چیزوں سے بچنا اور دور رہنا ہے جنہیں خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ حرام سے پرہیز کرنا ماہ رمضان کا افضل ترین عمل ہے ،اور تقوی اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے یعنی جس طرح انسان جنگل و بیابان سے گزرتے وقت خار و خاشاک سے بچتا ،احتیاط کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے ، اپنے لباس کو بچاتا ہے اور آہستہ آہستہ احتیاط سے قدم بڑھاتا ہے تاکہ کوئی نقصان و آسیب نہ پہنچے، اسی طرح چاہیے کہ معاصی و گناہ سے دور رہے اور اپنی زندگی احتیاط سے بسر کرے ۔ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: تقوی ؛ اخلاقیات کا منبع اور بنیاد ہے۔

خداوند عالم کا ارشاد گرامی ہے :اگر تقوی الہی اختیار کرو گے تو خداوند عالم تمہیں فرقان(حق و باطل کی تشخیص کی قدرت) عطا کرے گا۔ اور اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے: جو کوئی تقوی الہی اختیار کرے خدااس کے لیے راہ خروج قرار دے گا۔

 

                قرآن کی روشنی میں ماہ رمضان کی فضیلت

 

یا أيّھا الّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون

ترجمہ:اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکہے گئے تھے شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ۔

رمضان کا مہینہ ایک مبارک اور با عظمت مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل رحمت پروردگار نازل ہوتی رہتی ہے اس مہینہ میں پروردگار نے اپنے بندوں کو یہ وعدہ دیا ہے کہ وہ ان کی دعا کو قبول کرے گا یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان دنیا و آخرت کی نیکیاں حاصل کرتے  ہوئے کمال کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔اور پچاس سال کا معنوی سفر ایک دن یا ایک گھنٹہ میں طے کر سکتا ہے۔ اپنی اصلاح اور نفس امارہ پر کنٹرول کی ایک فرصت ہے جو خدا وند متعال نے انسان کو دی ہے۔۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ایک بار پھر ماہ مبارک رمضان نصیب ہوا اور یہ خود ایک طرح سے توفیق الھی ہے تا کہ انسان خدا کی بارگاہ میں آکراپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کر سکے ، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو پچھلے سال ہمارے اور آپ کے ساتھ تھے لیکن آج وہ اس دار فنا سے دار بقاء کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔۔

اس مہینہ اور اس کی ان پر برکت گھڑیوں کی قدر جانیں اور ان سے خوب فائدہ اٹھائیں اس لئے کہ نہیں معلوم کہ اگلے سال یہ موقع اور یہ بابرکت مہینہ ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔۔

ماہ مبارک عبادت و بندگی کا مہینہ ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

قال اللہ تبارک و تعالیٰ : یا عبادی الصّدیقین تنعموا بعبادتی فی الدّنیا فانّکم تتنعّمون بھا فی الآخرۃ

خداوند متعال فرماتا ہے: اے میرے سچے بندو ! دنیا میں میری عبادت کی نعمت سے فائدہ اٹھاؤ تاکہ اس کے سبب آخرت کی نعمتوں کو پا سکو۔۔

یعنی اگر آخرت کی بے بہا نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر دنیا میں میری نعمتوں کو بجا لاؤں اس لئے کہ اگر تم دنیا میں میری نعمتوں کی قدر نہیں کرو گے تو میں تمہیں آخرت کی نعمتوں سے محروم کر دوں گا۔۔اور اگر تم نے دنیا میں میری نعمتوں کی قدر کی تو پھر روز قیامت میں تمھارے لئے اپنی نعمتوں کی بارش کر دوں گا۔۔

انہیں دنیا کی نعمتوں میں سے ایک ماہ مبارک اور اس کے روزے ہیں کہ اگر حکم پروردگار پر لبیک کہتے  ہوئے روزہ رکھا ، بھوک و پیاس کو تحمل کیا تو جب جنّت میں داخل ہو گے تو آواز قدرت آئے گی:

کلوا و اشربوا ھنیئا بما أسلفتم فی الأيّام الخالیۃ

ترجمہ: اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گذشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے۔۔

ماہ مبارک کے روز و شب انسان کے لئے نعمت پروردگار ہیں جن کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بابرکت اوقات اور اس زندگی کی نعمت کا کیسے شکریہ ادا کیا جائے ، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

من قال أربع مرّات اذا أصبح ، ألحمد للہ ربّ العالمین فقد أدّیٰ شکر یومہ و من قالھا اذا أمسیٰ فقد أدّٰی شکر لیلتہ

جس شخص نے صبح اٹھتے وقت چار بار کہا : ((الحمد للہ ربّ العالمین ))اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کو کہا اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔۔

کتنا آسان طریقہ بتا دیا امام علیہ السلام نے اور پھر اس مہینہ میں تو ہر عمل دس برابر فضیلت رکھتا ہے ایک آیت کا ثواب دس کے برابر ، ایک نیکی کا ثواب دس برابر،امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :

من قرء فی شھر رمضان آیۃ من کتاب اللہ کان کمن ختم القرآن فی غیرہ من الشّھور

جو شخص ماہ مبارک میں قرآن کی ایک آیت پڑہے تو اس کا اجر اتنا ہی ہے جتنا دوسرے مہینوں میں پورا قرآن پڑھنے کا ہے۔۔

کسی شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا :

یا رسول اللہ ! ثواب رجب أبلغ أم ثواب شھر رمضان ؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : لیس علی ثواب رمضان قیاس

یا رسول اللہ! رجب کا ثواب زیادہ ہے یا ماہ رمضان کا؟ تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ماہ رمضان کے ثواب پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔گویا خداوند متعال بہانہ طلب کر رہا ہے کہ کسی طرح میرا بندہ میرے سامنے آ کر جھکے تو سہی۔۔ کسی طرح آ کر مجھ سے راز و نیاز کرے تو سہی تا کہ میں اس کو بخشش دوں۔۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ مبارک کی فضیلت بیان فرماتے ہیں :

انّ شھر رمضان ، شھر عظیم یضاعف اللہ فیہ الحسنات و یمحو فیہ السیئات و یرفع فیہ الدرجات

ماہ مبارک عظیم مہینہ ہے جس میں خداوند متعال نیکیوں کو دو  برابر کر دیتا ہے۔ گناہوں کو مٹا دیتا اور درجات کو بلند کرتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :

اذا أسلم شھر رمضان سلّمت السّنۃ ورأس السّنۃ شھر رمضان

اگر کوئی شخص ماہ مبارک میں سالم رہے تو پورا سال صحیح و سالم رہے گا اور ماہ مبارک کو سال کا آغاز شمار کیا جاتا ہے۔۔اب یہ حدیث مطلق ہے جسم کی سلامتی کو بھی شامل ہے اور اسی طرح روح کی بھی۔۔ یعنی اگر کوئی شخص اس مہینہ میں نفس امارہ پر کنٹرول کرتے  ہوئے اپنی روح کو سالم غذا دے تو خداوند متعال کی مدد اس کے شامل حال ہو گی اور وہ اسے اپنی رحمت سے پورا سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا۔۔ اسی لئے تو علمائے اخلاق فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک خود سازی کا مہینہ ہے تہذیب نفس کا مہینہ ہے۔۔ اس ما ہ میں انسان اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتا ہے

اور اگر وہ پورے مہینہ کے روزے صحیح آداب کے ساتھ بجا لاتا ہے تو اسے اپنے نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہو جائے گا اور پھر شیطان آسانی سے اسے گمراہ نہیں کر پائے گا۔۔

جو نیکی کرنی ہے وہ اس مہینہ میں کر لیں ، جو صدقات و خیرات دینا چاہتے ہیں وہ اس مہینہ میں حقدار تک پہنچائیں اس میں سستی مت کریں۔۔مولائے کائنات امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں اے انسان تیرے پاس تین ہی تو دن ہیں ایک کل کا دن جو گذر چکا اور اس پر تیرا قابو نہیں چلتا اس لئے کہ جو اس میں تو نے انجام دینا تھا دے دیا۔۔ اس کے دوبارہ آنے کی امید نہیں اور ایک آنے والے کل کا دن ہے جس کے آنے کی تیرے پاس ضمانت نہیں ، ممکن ہے زندہ رہے، ممکن ہے اس دنیا سے جانا پڑ جائے، تو بس ایک ہی دن تیرے پاس رہ جاتا ہے اور وہ آج کا دن ہے جو کچھ بجا لانا چاہتا ہے اس دن میں بجا لا۔اگر کسی غریب کی مدد کرنا ہے تو اس دن میں کر لے ، اگر کسی یتیم کو کھانا کھلانا ہے تو آج کے دن میں کھلا لے، اگر کسی کو صدقہ دینا ہے تو آج کے دن میں دے ، اگر خمس نہیں نکالا تو آج ہی کے اپنا حساب کر لے ، اگر کسی ماں یا بہن نے آج تک پردہ کی رعایت نہیں کی تو جناب زینب سلام اللہ علیھا کاواسطہ دے کر توبہ کر لے، اگر آج تک نماز سے بھاگتا رہا تو آج اس مبارک مہینہ میں اپنے ربّ کی بارگاہ میں سرجھکا لے خدا رحیم ہے تیری توبہ قبول کر لے گا۔۔ اس لئے کہ اس نے خود فرمایا ہے :

أدعونی أستجب لکم

اے میرے بندے مجہے پکار میں تیری دعا قبول کروں گا۔۔

یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے بخشش کا مہینہ ہے۔ اور پھر خود رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

انّما سمّی رمضان لأنّہ یرمض الذّنوب

رمضان المبارک کو رمضان اس لئے کہا جاتا ہے چونکہ وہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے

یہ مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے اس مہینہ کا نام رمضان اسی لئے رکھا گیا کہ اس میں روزہ دار کے گناہوں کو مٹا کر اسے کمال کی سعادت سے فیضیاب کیا جاتا ہے اس ماہ کے دن و رات کی قدر کریں۔ رسولخداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

أیھاالنّاس قد أقبل الیکم شھر اللہ شھر ہو عند اللہ أفضل الشھور و أيّامہ أفضل الأيّام و لیالیہ أفضل اللّیالی و ساعاتہ افضلالسّاعات

اے لوگو! خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا ہے۔۔وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا ہے ، جس کے دن بہترین دن ، جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیں۔۔

اور پھر اس ماہ کی فضیلت کو بیان کرتے  ہوئے فرمایا :

أنفاسکم فیہ تسبیح و نومکم فیہ عبادۃ

اس ماہ میں تمھارا سانس لینا تسبیح اور تمھارا سونا عبادت شمار ہوتا ہے۔۔ اس سے بڑھ کر عزیزان گرامی اس ذات ذوالجلال کا اپنے بندوں پر کیا لطف و کرم ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی عمل بھی نہیں کر رہا مگر وہ خدا اس قدر رؤوف ہے اپنے بندوں پر کہ انہیں اجر پہ اجر دیتا جا رہا۔۔

امام صادق علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو نصیحت کرتے  ہوئے فرماتے ہیں :

اذا دخل شھر رمضان ، فاجھدوا أنفسکم فانّ فیہ تقسیم الأرزاق و تکتب الآجال و فیہ یکتب وفد اللہ الّذین یفدون الیہ و فیہ لیلۃ العمل فیھا خیر من العمل فی ألف شھر

جب ماہ مبارک  آ جائے تو سعی و کوشش کرو اس لئے کہ اس ماہ میں رزق تقسیم ہوتا ہے تقدیر لکھی جاتی ہے اور ان لوگوں کے نام لکہے جاتے ہیں جو حج سے شرفیاب ہوں گے۔۔اور اس ماہ میں ایک رات ایسی ہے کہ جس میں عمل ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے۔۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مقدس مہینہ کے بارے میں فرماتے ہیں :

أنّ شھرکم ھذا لیس کالشّھور ، أنّہ اذا أقبل الیکم أقبل بالبرکۃ و الرّحمۃ، و اذا أدبر عنکم أدبر بغفران الذّنوب ، ھذا شھر الحسنات فیہ مضاعفۃ ، و اعمال الخیر فیہ مقبولۃ

یہ مہینہ عام مہینوں کے مانند نہیں ہے۔جب یہ مہینہ آتا ہے تو برکت و رحمت لے کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو گناہوں کی بخشش کے ساتھ جاتا ہے ، اس ماہ میں نیکیاں دو برابر ہو جاتی ہیں اور نیک اعمال قبول ہوتے ہیں۔۔یعنی اسکا آنا بھی مبارک ہے اور اس کا جانا بھی مبارک بلکہ یہ مہینہ پورے کا پورا مبارک ہے لہذا اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کریں،کوئی لمحہ ایسا نہ ہو جو ذکر خدا سے خالی ہو اور یہی ہمارے آئمہ ھدیٰ علیہم السلام کی سیرت ہے۔۔امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں ملتا ہے :

کان علی بن الحسین علیہ السلام اذا کان شھر رمضان لم یتکلّم الّا بالدّعا و التّسبیح والاستغفار والتکبیر

جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو امام زین العابدین علیہ السلام کی زبان پر دعا، تسبیح ،استغفار اور تکبیر کے سوا کچھ جاری نہ  ہوتا۔۔ وہ خدا کتنا مہربان ہے کہ اپنے بندوں کی بخشش کے لئے ملائکہ کو حکم دیتا ہے کہ اس ماہ میں شیطان کو رسیوں سے جکڑ دیں تا کہ کوئی مومن اس کے وسوسہ کا شکار ہو کر اس ماہ کی برکتوں سے محروم نہ رہ جائے لیکن اگر اسکے بعد بھی کوئی انسان اس ماہ مبارک میں گناہ کرے اور اپنے نفس پر کنٹرول نہ کرسکے تو اس سے بڑھ کر کوئی بدبخت نہیں ہے۔رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے:

قد وكّل اللہ بکلّ شیطان مرید سبعۃ من الملائکۃ فلیس بمحلول حتّيٰ ینقضی شھرکم ھذا

خدا وند متعال نے ہر فریب دینے والے شیطان پر سات فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے تاکہ وہ تمہیں فریب نہ دے سکے، یہاں تک کہ ماہ مبارک ختم ہو۔۔

کتنا کریم ہے وہ ربّ کہ اس مہینہ کی عظمت کی خاطر اتنا کچھ اہتمام کیا جا رہا ، اب اس کے بعد چاہئے تو یہ کہ کوئی مومن شیطان رجیم کے دھوکہ میں نہ آئے اور کم از کم اس ماہ میں اپنے آپ کو گناہ سے بچائے رکھے اور نافرمانی خدا سے محفوظ رہے ورنہ غضب خدا کا مستحق قرار پائے گا۔۔ اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

من أدرک شھر رمضان فلم یغفرلہ فأبعدہ اللہ

جو شخص ماہ رمضان المبارک کو پائے مگر بخشا نہ جائے تو خدا اسے راندہ درگاہ کر دیتا ہے۔۔

اس میں کوئی ظلم بھی نہیں اس لئے کہ ایک شخص کے لئے آپ تمام امکانات فراہم کریں اور کوئی مانع بھی نہ ہو اس کے باوجود وہ آپکی امید پر پورا نہ اترے تو واضح ہے کہ آپ اس سے کیا برتاؤ کریں گے۔

عزیزان گرامی!اس مبارک مہینہ سے خوب فائدہ اٹھائیں اس لئے کہ نہیں معلوم کہ آئندہ سال یہ سعادت نصیب ہو یا نہ ہو ؟تا کہ جب یہ ماہ انتھاء کو پہنچے تو ہمارا کوئی گناہ باقی نہ رہ گیا ہو۔۔ جب رمضان المبارک کے آخری ايّام آتے تورسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے:

 اللّھمّ لاتجعلہ آخر العھد من صیامی شھر رمضان ، فان جعلتہ فاجعلنی مرحوما ولا تجعلنی محروما

خدایا! اس ماہ رمضان کو میرے روزوں کا آخری مہینہ قرار نہ دے ، پس اگر یہ میرا آخری مہینہ ہے تو مجہے اپنی رحمت سے نواز دے اور اس سے محروم نہ رکھ۔

آئیں ہم سب بھی مل کر یہی دعا کریں کہ اے پالنے والے ہمیں اگلے سال بھی اس مقدس مہینہ کی برکتیں نصیب کرنا لیکن اگر تو اپنی رضا سے ہمیں اپنے پاس بلا لے توایسے عالم میں اس دنیا سے جائیں کہ تو ہم راضی ہو اور ہمارے امام ہم سے خوشنود

 

                روزے کا فلسفہ

 

یاأيّھاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون۔

ترجمہ: اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے تاکہ شاید اس طرح تم متّقی بن جاؤ۔!جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ خداوند متعال نے روزے کا فلسفہ تقویٰ کو قرار دیا ہے یعنی روزہ تم پر اس لئے واجب قرار دیا تا کہ تم متقی بن سکو، پرہیز گار بن سکو۔اور پھر روایات میں اسے روح ایمان کہا گیا۔۔امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

من أفطر یوما من شھر رمضان خرج روح الایمان منہ

جس شخص نے ماہ رمضان میں ایک دن روزہ نہ رکھا اس سے روح ایمان نکل گئی۔۔

یعنی روزے کی اہمیت اور اس کے فلسفہ کا پتہ اسی فرمان سے چل جاتا ہے کہ روزے کے واجب قرار دینے کا مقصد ایمان کو بچانا ہے اوراسی ایمان کو بچانے والی طاقت کا دوسرا نام تقویٰ ہے جسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ١٨٣ میں روزے کا فلسفہ بیان کیا گیا۔

تو یہ تقویٰ کیا ہے جسے پروردگار عالم نے روزے کا فلسفہ اور اس کا مقصد قرار دیا ہے ؟ روایات میں تقویٰ کی تعریف میں تین چیزیں بیان  ہوئی ہیں:

١۔ اطاعت پروردگار ٢۔ گناہوں سے اجتناب ٣۔ ترک دنیا

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

علیک بتقوی اللہ فانّہ رأس الأمر کلّہ

تمہارے لئے تقویٰ ضروری ہے اس لئے کہ ہر کام کا سرمایہ یہی تقویٰ ہے۔۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسا روزہ جو انسان کو گناہوں سے نہ بچاسکے اسے بھوک و پیاس کا نام تو دیا جاسکتا ہے مگر روزہ نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ روزہ کا مقصد اور اس کا جو فلسفہ ہے اگر وہ حاصل نہ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ جس روزہ کا حکم دیا گیا تھا ہم نے وہ نہیں رکھا ، بلکہ یہ ہماری اپنی مرضی کا روزہ ہے جبکہ خدا ایسی عبادت کو پسند ہی نہیں کرتا جو انسان خدا کی اطاعت کے بجائے اپنی مرضی سے بجا لائے ورنہ شیطان کو بارگاہ ربّ العزّت سے نکالے جانے کا کوئی جواز ہی رہتا چونکہ اس نے عبادت سے تو انکار نہیں کیا تھا۔۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

قلت یا رسول اللہ ! ما افضل الأعمال فی ھذا الشھر ؟ فقال یا ابا الحسن أفضل الأعمال فی ھذا الشّھر ، ألورع من محارم اللہ ۔عزّوجلّ۔

امیر المؤمنین علیہ السّلام فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !اس مہینہ میں کونسا عمل افضل ہے ؟ فرمایا : اے ابوالحسن ! اس ماہ میں افضل ترین عمل گناہوں سے پرہیز یعنی تقویٰ الہی ہے۔

نیز مولائے کائنات فرماتے ہیں:

علیکم فی شھر رمضان بکثرۃ الاستغفار و الدّعا فأمّا الدّعا فیدفع بہ عنکم البلاء و أمّا الاستغفار فیمحیٰ ذنوبکم

ماہ رمضان میں کثرت کے ساتھ دعا اور استغفار کرو اس لئے کہ دعا تم سے بلاؤں کو دور کرتی ہے اور استغفار تمھارے گناہوں کے مٹانے کا باعث بنتا ہے۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

من صام شھر رمضان فاجتنب فیہ الحرام والبھتان رضی اللہ عنہ و أوجب لہ الجنان

جو شخص ماہ رمضان کا روزہ رکھے اور حرام کاموں اور بہتان سے بچے تو خدا اس سے راضی اور اس پر جنّت کو واجب کر دیتا ہے۔۔

اور پھر ایک دوسری روایت میں فرمایا :

انّ الجنّۃ مشتاقۃ الی أربعۃ نفر : ١۔ الی مطعم الجیعان۔۔ ٢۔ وحافظ اللّسان۔ ٣۔ و تالی القرآن۔۔ ٤۔ وصائم شھر رمضان۔

 

                جنّت چار لوگوں کی مشتاق ہے

 

١۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے والے

٢۔ اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے

٣۔ قرآن کی تلاوت کرنے والے

٤۔ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والے

روزے کا فلسفہ یہی ہے کہ انسان حرام کاموں سے بچے اور کمال حقیقی کی راہوں کو طے کرسکے۔۔رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

شھر رمضان شھر فرض اللہ ۔ عزّوجلّ ۔ علیکم صیامہ ، فمن صامہ ایمانا و احتسابا ، خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمّہ

ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں خدا وند متعال نے تم پرروزے واجب قرار دیئے ہیں پس جو شخص ایمان اور احتساب کی خاطر روزہ رکھے تو وہ اسی طرح گناہوں سے پاک ہو جائے گا جس طرح ولادت کے دن پاک تھا۔۔

ویسے بھی گناہ سے اپنے آپ کو بچانا اور حرام کاموں سے دور رہنا مومن کی صفت ہے اس لئے کہ گناہ خود ایک آگ ہے جو انسان کے دامن کو لگی  ہوئی ہو اور خدا نہ کرے اگر کسی کے دامن کو آگ لگ جائے تو وہ کبھی سکون سے نہیں بیٹھتا جب تک اسے بجھا نہ لے اسی طرح عقل مند انسان وہی ہے جو گناہ کے بعد پشیمان ہو اور پھر سچی توبہ کر لے اس لئے کہ معصوم تو ہم میں سے کوئی نہیں ہے لہذا اگر خدا نہ کرے غلطی سے کوئی گناہ کر بیٹھے تو فورا اس کی بارگاہ میں آ کر جھکیں ، یہ مہینہ توبہ کے لئے ایک بہترین موقع ہے کیونکہ اس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے۔آئیں اہل بیت علیہم السلام کا واسطہ دیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں، یقیناً خدا قبول کرے گا۔۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

من صام شھر رمضان فحفظ فیہ نفسہ من المحارم دخل الجنّۃ

جو شخص ماہ مبارک میں روزہ رکھے اور اپنے نفس کو حرام چیزوں سے محفوظ رکھے ، جنّت میں داخل ہوگا۔۔

امام صادق علیہ السلام روزہ کا ایک اور فلسفہ بیان کرتے  ہوئے فرماتے ہیں :

انّما فرض اللہ عزّوجلّ الصّیام لیستوی بہ الغنيّ والفقیر و ذٰلک أنّ الغنيّ لم یکن لیجد مسّ الجوع فیرحم الفقیر لأنّ الغنيّ کلّما أراد شیئا قدر علیہ ، فأراد اللہ عزّ وجلّ أن یسّوی بین خلقہ ، و أن یذیق الغنيّ مسّ الجوع والألم لیرقّ علی الضّعیف فیرحم الجائع

خداوند متعال نے روزے اس لئے واجب قرار دیئے تاکہ غنی و فقیر برابر ہو سکیں۔۔اور چونکہ غنی بھوک کا احساس نہیں کرسکتا جب تک کہ غریب پر رحم نہ کرے اس لئے کہ وہ جب کوئی چیز چاہتا ہے اسے مل جاتی ہے۔لہذا خدا نے یہ ارادہ کیا کہ اپنی مخلوق کے درمیان مساوات برقرار کرے اور وہ اس طرح کہ غنی بھوک و درد کی لذت لے تاکہ اسکے دل میں غریب کے لئے نرمی پیدا ہو اور بھوکے پر رحم کرے۔۔

عزیزان گرامی! یہ ہے روزے کا فلسفہ کہ انسان بھوک تحمل کرے تاکہ اسے دوسروں کی بھوک و پیاس کا احساس ہو لیکن افسوس ہے کہ آج تو یہ عبادت بھی سیاسی صورت اختیار کر گئی ہے بڑی بڑی افطار پارٹیاں دی جاتی ہیں جن میں غریبوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کے بھوکے بچوں اور انہیں مزید اذیت دی جاتی ہے نہ جانے یہ کیسی اہل بیت علیہم السلام اور اپنے نبی کی پیروی ہو رہی اس لئے کہ دین کے ہادی تو یہ بتا رہے کہ اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ غریبوں اور فقیروں کی مدد کرو جبکہ ہم علاقہ کے ایم این اے اور ایم پی اے یا پیسے والے لوگوں کو دعوت کر رہے اور باقاعدہ کارڈ کیے ذریعہ سے کہ جن میں سے اکثر روزہ رکھتے ہی نہیں۔

! روزہ افطار کروانے کا بہت بڑا ثواب ہے لیکن کس کو؟ روزہ دار اور غریب لوگوں کو۔۔ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ ان لوگوں کو افطار نہ کروائیں ان کو بھی کروائیں لیکن خدارا غریبوں کا خیال رکھیں جن کا یہ حق ہے۔۔ خداوند متعال ہمیں روزے کے فلسفہ اور اس کے مقصد سے آگاہ ہونے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔اور اس با برکت مہینہ میں غریبوں کی مدد کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔۔۔

آئیں مل کر دعا کریں کہ اے پالنے والے تجہے اس مقدس مہینہ کی عظمت کا واسطہ ہم سب کو اس ما ہ میں اپنے اپنے نفس کی تہذیب و اصلاح اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرماجس طرح تو چاہتا ہے اس لئے کہ تیری مدد کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے۔۔۔آمین یا ربّ العالمین

 

                ماہ رمضان المبارک خطبۂ شعبانیہ کے آئینہ میں

 

 

ماہ رمضان المبارک اپنے آپ کو برائیوں اور گناہوںسے پاک کرنے ، فضائل و کمالات سے آراستہ ہونے اور رب کریم سے قرب کا ایک بہترین اورمناسب موقع ہے۔لیکن اس فرصت اور موقع سے صحیح اور مکمل استفادہ کرنا اسی وقت میسر ہے جب انسان اس مہینہ کی عظمت و فضیلت ، اس کے احکام و اعمال واجبات و محرمات سے باخبر ہو۔

اس سلسلہ کا ایک عظیم الشان منبع و ماخذ خطبۂ شعبانیہ ہے جس میں ان تمام چیزوں کو بطور احسن بیان کیا گیا ہے۔ انسان اس میں غور  و فکر کے ذریعہ مذکورہ امور کی معرفت اور شناخت پیدا کر سکتا ہے۔ اس خطبہ کو رسول اکرم ، حضرت محمد مصطفےٰ نے ماہ شعبان کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے سامنے ارشاد فرمایا ہے ۔

اس خطبہ کو شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ’’اخبار عیون الرضا علیہ السلام ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے آبائے طاہرین سے انھوں نے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے اور آپ (ع) نے رسول اکرم سے نقل فرمایا ہے۔

خطبۂ شعبانیہ میں بیان شدہ مطالب کو چار اہم محور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ فضائل ماہ رمضان المبارک؛

۲۔ اعمال ماہ رمضان المبارک؛

۳۔ تقویٰ و پرہیز گاری؛

۴۔ حضرت علی علیہ السلام کا تعارف۔

 

 

                پہلا محور: فضائل ماہ رمضان المبارک

 

اس خطبہ کے شروع میں رسول اکرم نے مومنین کو ماہ رمضان کی آمد کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ایھا الناس انہ قد اقبل الیکم شھر اللہ بالبرکۃ و الرحمۃ و المغفرۃ۔ اے لوگو! ماہ خدا تمہاری طرف برکت ، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آ گیا ہے۔‘‘ آپ (ص) نے اس مہینہ کو شہرا للہ ﴿خدا  کا  مہنیہ ﴾کہا ہے ، اگرچہ سارے مہینے خدا ہی کے مہینے ہیں لیکن چونکہ ماہ رمضان کو ایک خاص شرف و فضیلت حاصل ہے اور اس مہینہ میں خدا سے نزدیک ہونے اور عبودیت و اخلاص کے زیور سے آراستہ ہونے کے تمامتر مواقع فراہم ہوتے ہیں اسی لئے روایات میں اس مہینہ کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔

 

                اوج فضیلت

 

رسول اعظم نے ارشاد فرمایا:

شہر ہو عند اللہ افضل الشہور و ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی و ساعاتہ افضل الساعات۔

’’یہ مہینہ خدا کے نزدیک سب سے برتر اور با فضلیت مہینہ ہے، اس کے دن سب سے افضل دن، اس کی راتیں سب سے افضل راتیں اور اس کے اوقات و ساعات سب سے افضل اوقات و ساعات ہیں۔ ‘‘اس کے بعد آپ نے ایک بہت اہم بات بیان فرمائی کہ اس مہینہ میں مومنین کو خدا کی مہمانی کی دعوت دی گئی ہے اور انھیں کرامت الٰہی کا اہل قرار دیا گیا ہے: دعیتم فیہ الیٰ ضیافۃ اللہ و جعلتم فیہ من اھل کرامۃ اللہ۔ یہ ماہ رمضان المبارک کی سب سے برتر اور بالاتر فضیلت ہے اسلئے کہ ایک کریم صاحب خانہ اپنے مہمانوں کی بطور احسن مہمان نوازی کرتا ہے اور اس کی حاجتوں کو روا کرتا ہے۔

نبی کریم نے اس بے نظیر مہمان نوازی کے بعض جلووں کو اس طرح بیان فرمایا ہے:

۱۔ ماہ رمضان میں انسان کی اطاعت و عبادت کے علاوہ اس کے روزمرہ کے غیر اختیاری امور کو بھی عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے اور ان پر ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس مبارک مہینہ میں مومنین کی سانسوں کو تسبیح اور نیند کو عبادت کا ثواب دیا جاتا ہے :

انفاسکم فیہ تسبیح و نومکم فیہ عبادۃ۔

۲۔ نیک اعمال اسی وقت انسان کے معنوی ارتقائ کا باعث بن سکتے ہیں جب وہ بارگاہ خداوند ی میں قبول کر لئے جائیں ۔لیکن بسا اوقات ایساہوتا ہے کہ اعمال مختلف آفات کی بنا پر شرف قبولیت سے محروم رہ جاتے ہیں، مگر یہ کہ فضل و کرم پروردگار ان کی قبولیت کا باعث بن جائے۔ ماہ رمضان میں یہ فضل و کرم مومنین کے شامل حال ہوتا ہے اور ان کے اعمال مقبول بارگاہ الٰہی قرار پاتے ہیں: و عملکم فیہ مقبول۔

۳۔ ماہ رمضان میں خداوند عالم اپنے مہمانوں کی حاجتوں کو بر لاتا ہے اور ان کی دعاؤں کو مستجاب کرتا ہے : دعائ کم فیہ مستجاب۔

۴۔ پروردگار عالم نے ہر نیک عمل کے لئے ایک خاص مقدار میں ثواب معین کر رکھا ہے ۔ لیکن ماہ رمضان میں یہ ثواب کئی گنا ہو جاتے ہیں ۔ نبی اکرم اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جو شخص اس مہینہ میں کسی مومن روزہ دار کو افطاری دے گا ، پروردگار اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دے گا اور اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دے گا ۔ جو شخص اس مہینہ میں ایک واجبی نماز ادا کرے گا خداوند عالم اسے ستر واجبی نمازوں کا ثواب عطا فرمائے گا اور جو شخص ایک آیت قرآن کی تلاوت کرے گا اسے ایک قرآن ختم کرنے کا ثواب دے گا۔

۵۔ ماہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے:

ایھا الناس ان ابواب الجنان فی الشھر مفتحۃ و ابواب النیران مغلقۃ و الشیاطین مغلولۃ۔

 

                دوسرا محور: اعمال ماہ رمضان المبارک

 

اگرچہ ماہ رمضان میں تمام انسانوں کو خدائی مہمانی کی دعوت دی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کے سب خدا کے مہمان ہیں بلکہ صرف وہی افراد خدا کے مہمان بن سکتے ہیں جنھوں نے خالص و صحیح نیت اور نیک و پسندیدہ اعمال کے ساتھ اس دعوت الٰہی پر لبیک کہا ہے اور اس عظیم مہمانی میں داخل ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ جس طرح میزبان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کی اچھی طرح مہمان نوازی کرے اسی طرح مہمانوں کے اوپر بھی میزبان کے سلسلہ میں کچھ ذمہ داریاں ہیں کہ ان کا برتاؤ بھی میزبان کے شایان شان ہوں۔ اس مہینے میں روزہ داروں کے حالات، عادات و اطوار اور رفتار و کردار دوسرے مہینوں سے الگ ہوں اور انھیں مندرجہ ذیل اعمال کو مزید اخلاص اور توجہ کے ساتھ انجام دینا چاہئے:

 

۱۔ تلاوت قرآن کریم

 

اس خطبہ میں رسول اعظم نے حکم روزہ کے بعد جس چیز کی زیادہ تاکید فرمائی ہے وہ تلاوت قرآن کریم ہے ۔ آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا: سچی نیتوں اور پاک و پاکیزہ دلوں سے اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اس مہینہ میں روزہ رکھنے اور قرآن کی تلاوت کی توفیق عنایت فرمائے۔ماہ رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت اور اس کی آیات میں تدبر و تفکر کو ایک خاص اہمیت اور فضیلت حاصل ہے ، اس لئے کہ یہ مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور شاید ماہ رمضان کی فضیلت کا ایک اہم سبب یہی ہے کہ اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا ہے جیسا کہ پروردگار نے ارشاد فرمایا:

شَہْْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنزِلَ فِیہِ الْْقُرْْآنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنْْ الْْہُدَی وَالْْفُرْْقَان۔ ﴿سورۂ بقرہ،آیت۵۸۱﴾

’’ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔‘‘

اگرچہ اس مہینہ میں تلاوت قرآن کا بہت ثواب ہے لیکن تلاوت ،اس کتاب سے استفادہ کا پہلا اور ادنیٰ مرحلہ ہے ۔مومنین کو صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ انھیںاس بات کی پوری کوشش کرنا چاہئے کہ قرآنی مفاہیم و تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ روشناس ہوں اور اس میں تدبر کر کے قرآنی احکام و تعلیمات کو اپنی زندگی میں جاری کریں اور اس کی نورانی آیات پر عمل کرک ے اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو منور کریں۔نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: من جعلہ امامہ قادہ الی الجنۃ و من جعلہ خلفہ ساقہ الی النار۔ ﴿الکافی، ج۲،ص۹۹۵﴾

’’ جو شخص قرآن کو آگے رکھے گا اور زندگی میں اس کی پیروی کرے گا قرآن ، قیامت میں اسے جنت کی طرف رہنمائی کرے گا اور جو قرآن کو پس پشت ڈال دے گا اور اس کے دستورات سے لاپرواہی کرے گا قرآن اسے جہنم میں ڈھکیل دے گا۔‘‘

 

۲۔ دوسروں کے ساتھ نیکی

 

 

انسان جتنا اپنے معبود سے نزدیک ہو گا اور اس کا رابطہ اپنے رب سے جتنا مضبوط ہو گا وہ اتنا ہی بندگان خدا کے ساتھ مہربان ہو گا اور ان کی حاجتیں پوری کرنے کی کوشش کرے گا۔ رسول اکرم جو خدا کے سب سے مقرب بندہ ہیں، قرآن نے انھیں عالمین کے لئے رحمت قرار دیا ہے : ﴿سورۂ انبیائ،آیت۷۰۱﴾ اور آنحضرت (ص) نے فرمایا: من اصبح و لم یھتم بامور المسلمین فلیس بمسلم۔ لہٰذا اسلام میں ایسی گوشہ نشینی جائز نہیں جو دیگر مسلمانوںکے امور سے بے توجہی اور لاپرواہی کا سبب بنے۔

رسول اکرم نے اس خطبہ میں دوسروں کے ساتھ نیکی اور احسان کے مختلف مصادیق کی طرف توجہ اور تاکید فرمائی ہے؛ جیسے فقرا ئ و مساکین کی مالی امداد، بڑوں کا احترام و اکرام اور چھوٹوں کے ساتھ مہربانی، رشتہ داروں سے صلہ رحم، یتیموں کے ساتھ شفقت و مہربانی، مومن روزہ دار کو افطاری دینا اور دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا: و تصدقوا علیٰ فقرائکم و مساکینکم و وقروا کبارکم و ارحموا صغارکم و صلو اارحامکم و تحننوا علیٰ ایتام الناس۔

 

                ۳۔ خدا اور اولیائے خدا سے قریبی رابطہ

 

ماہ رمضان، پروردگار اور خاصان و مقربان  درگاہ الٰہی سے قریب ہونے اور ان سے رابطہ کو مضبوط و مستحکم کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ رسول خدا نے اس خطبہ میں مومنین کو توبہ و استغفار کی دعوت دی ہے تاکہ وہ گذشتہ گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہو کر خدا سے رابطہ برقرار کر سکیں۔ آپ (ص) نے ارشاد فرمایا: بارگاہ خدا میں اپنے گناہوں سے توبہ کرو ۔ تمہاری جانیں تمہارے اعمال کی قیدی ہیں انھیں استغفار کے ذریعہ آزاد کراؤ ۔ تمہاری پیٹھ گناہوں کے بوجھ سے سنگین ہو گئی ہیں انھیں طولانی سجدوں کے ذریعہ ہلکا کرو۔۔۔ جو شخص بھی اس مہینہ میں نماز فافلہ ادا کرے گا خدا اس کے لئے آتش جہنم سے برائت نامہ لکھ دے گا: توبوا الی اللہ من ذنوبکم۔۔۔۔ ان انفسکم مرھونۃ باعمالکم ففکوھا باستغفارکم و ظہورکم ثقیلۃ من اوزارکم فخففوا عنھا بطول سجودکم۔۔ من تطوع فیہ بصلاۃ کتب اللہ برائۃ من النار۔

نیز رسول اعظم اور ہادی امت سے اپنا رابطہ مضبوط و مستحکم رکھنے اور اس رابطہ کی برکتوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے آپ (ص) نے صاحبان ایمان کو اپنے اوپر زیادہ سے زیادہ درود و صلوات بھیجنے کی تاکید و ترغیب فرمائی: ومن اکثر فیہ من الصلاۃ علیّ ثقل اللہ میزانہ یوم تخف الموازین۔ جو شخص اس مہینے میں میرے اوپر زیادہ سے زیادہ صلوات بھیجے گا خداوند عالم اس کے میزان اعمال کواس دن سنگین کر دے گا جب بہت سے لوگوں کے میزان اعمال سبک ہوں گے۔

 

                تیسرا محور: تقویٰ و پرہیزگاری

 

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میںاس خطبہ کے دوران کھڑا ہوا اور سول خدا سے سوال کیا: اس مہینے میں سب سے برتر اور افضل عمل کیا ہے ؟ رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا: خدا کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرنا: الورع عن محارم اللہ۔

گناہوں کو ترک کرنا جسے اسلامی اصطلاح میں تقویٰ کہا جاتا ہے ، قرآن مجید اور روایات معصومین علیہم السلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اسے تمام کمالات اور خوبیوں کا سرچشمہ کہا گیا ہے ۔ قرآن مجید نے تقویٰ کو بہترین زاد آخرت بتایا ہے : فَاِنَّ خَیْْرَ الزَّادِ التَّقْْوَی ﴿سورۂ بقرہ،آیت۷۹۱﴾ ایک مقام پر اسے ایک ایسا لباس کہا ہے جو انسان کی برائیوں کو چھپاتا ہے :وَلِبَاسُ التَّقْْوَی ذَلِکَ خَیْْرٌ ﴿سورۂ اعراف،آیت۶۲﴾ اور ایک آیت میں آیا ہے کہ خداوند عالم صرف صاحبان تقویٰ کے اعمال کو قبول کرتا ہے: انَّمَا یَتَقَبَّلُ اﷲُ مِنْْ الْْمُتَّقِینَ۔

﴿سورۂ مائدہ،آیت۷۲﴾

حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: یقیناً تقویٰ ہدایت کی کنجی اور آخرت کا ذخیرہ ہے۔ ہر گرفتاری سے آزادی اور ہر تباہی سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے وسیلہ سے کوشش کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ عذاب سے فرار کرنے والے نجات پاتے ہیں اور بہترین مطالب حاصل ہوتے ہیں۔﴿نہج البلاغہ،خطبہ۰۳۲،ترجمہ علامہ جوادی(رح)﴾

نیز ار شاد فرمایا: بندگان خدا ! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی نصیحت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے اوپر اللہ کا حق ہے اور اس سے تمہارا حق پروردگار پر پیدا ہوتا ہے ۔اس کے لئے اللہ سے مدد مانگو اور اس کے ذریعہ اسی سے مدد طلب کرو کہ یہ تقویٰ آج دنیا میں سپراور حفاظت کا ذریعہ اور کل جنت تک پہونچنے کا راستہ ہے ۔ اس کا مسلک واضح اور اس کا راہرو فائدہ حاصل کرنے والا ہے۔۔۔

۔﴿نہج البلاغہ، خطبہ۱۹۱، ترجمہ علامہ جوادی(رح)﴾

 

                چوتھا محور : حضرت علی – کا تعارف

 

رسول خدا حضرت علی علیہ السلام کے سوال کا جواب دینے کے بعد رونے لگے ۔ امیرا  لمومنین (ع) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ(ص) کے گریہ کا سبب کیا ہے ؟ آپ (ص) نے فرمایا: اے علی (ع)! میں تمہارے لئے رورہا ہوں اس لئے کہ ایک دن اسی مہینہ میں تمہارا خون بہایا جائے گا۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بارگاہ الٰہی میں نماز میں مصروف ہو اور اولین و آخرین میں سب سے شقی اور بدبخت شخص تمہارے سر پر ضربت لگا رہا ہے اور تمہاری داڑھی سر کے خون سے رنگین ہو گئی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا کے اس کلام کو سننے کے بعد ایک بہت ہی اہم اور سبق آموز سوال فرمایا: کیا اس وقت میرا دین سالم ہو گا؟ رسول خدا نے فرمایا: بے شک ، سالم ہو گا۔

حضرت علی – کا یہ سوال اس بات کی علامت ہے کہ ایک مومن کو کس حد تک اپنے دین و ایمان کی سلامتی کی فکر میں رہنا چاہئے، بالخصوص موت اور اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرتے وقت اس لئے کہ بعض روایت کی روشنی میں موت کے وقت شیطان اپنی پوری کوشش کر ڈالتا ہے کہ کسی طرح مومن کے ایمان کو اس سے چھین لے ۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایمان و اعتقاد کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے باوجود اپنے بعض گناہوں کی وجہ سے موت کے وقت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شقی و بدبخت بن جاتا ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ بارگاہ الٰہی میں تضرع و زاری اور اولیائے خدا سے توسل کے ذریعہ اپنے ایمان کو ان حضرات کے حوالہ کر دیں اور ان سے درخواست کریں کہ موت کے وقت ہمارے ایمان کو ہمیں واپس کر دیں اور اس کی حفاظت فرمائیں تاکہ ہم اس دنیا سے باایمان رخصت ہوں اور اس طرح زندگی بسر کریں کہ جب موت کا وقت نزدیک آئے تو ہم اطاعت معبود میں ہوں ۔ قرآن مومنین سے ایسی ہی موت چاہتا ہے:

یَاأیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَتَمُوتُنَّ الاَّ وَأنْْتُمْْ مُسْْلِمُونَ۔ ﴿سورۂ آل عمران،آیت۲۰۱﴾

’’ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جو ڈرنے کا حق ہے اور خبردار ایسی حالت میں مرنا کہ تم مسلمان ہو۔‘‘

اس خطبہ میں بھی رسول اعظم نے حضر ت علی علیہ السلام کو اپنا ہم رتبہ اور ہم مرتبہ قرار دیتے ہوئے امام علی علیہ السلام کو مخاطب قرار دے کر فرمایا: یا علی (ع)! من قتلک فقد قتلنی و من ابغضک فقد ابغضنی و من سبک فقد سبنی لانک منی کنفسی، روحک من روحی و طینتک من طینتی۔ اے علی (ع)! جس نے تمہیں قتل کیااس نے مجھے قتل کیا، جس نے تم سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی، جس نے تمہیں برا بھلا کہا اس نے مجھے برا بھلا کہا؛ اس لئے کہ تم میری جان کے مانند ہو ، تمہاری روح میری روح میں سے ہے اور تمہاری طینت میری طینت میں سے ہے ۔

جس طرح ولایت نبی آپ (ص) کی نبوت و رسالت میں ظاہر ہوتی ہے اور تمام لوگوں پر آپ کے فرامین پر عمل کرنا واجب ہے اسی طرح اوصیائے نبی (ص) کی ولایت ، ان حضرات کی امامت میں ظاہر ہوتی ہے اور سب پر واجب ہے کہ ان کی امامت پر ایمان لائیں اور ان کے حکم کی اطاعت کریں۔ رسول خدا نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

ان اللہ تبارک و تعالیٰ۔۔۔ و اختارنی للنبوۃ و اختارک للامامۃ فمن انکر امامتک فقد انکر نبوتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے نبوت کے لئے اور تمہیں امامت کے لئے منتخب کیا ۔ پس جس نے بھی تمہاری امامت کا انکار کیا اس نے میری نبوت کا انکار کیا ہے۔

اس کے بعد ارشا د فرمایا: یا علی (ع)! انت وصیی و ابو ولدی و زوج ابنتی و خلیفتی علی امتی فی حیاتی و بعد موتی ، امرک امری و نہیک نہیی۔ اے علی (ع)! تم ہی میرے وصی ، میرے بچوں ﴿حسنین علیہما السلام﴾کے والداور میری بیٹی کے شوہر ہو۔ میری امت کے درمیان میری زندگی میں اور میری وفات کے بعد میرے جانشین ہو ۔ تمہارا حکم میرا حکم اور تمہاری نہی میری نہی ہے۔

مرسل اعظم نے خطبۂ شعبانیہ کے آخری حصہ میں اس طرح فرماتے ہیں:

اقسم الذی بعثنی بالنبوۃ و جعلنی خیر البریۃ ، انک لحجۃ اللہ علیٰ خلقہ و امینہ علیٰ سرہ و خلیفتہ علیٰ عبادہ۔ قسم اس ذات پاک کی جس نے مجہے نبی بنایا اور مخلوقات میں سب سے افضل قرار دیا ۔ بے شک تم خلق خدا پر اس کی حجت ہو ، سر الٰہی کے راز دار اور بندگان خدا پر خلیفۃ اللہ ہو۔

٭٭٭

 

 

فضائل رمضان المبارک احادیث کی روشنی میں

 

اِنَّ الْجَنَّۃَ تَزَ حْرَفُ لِرَمْضَانَ مِنْ رَاسِ الََْحَوْلِ حَوْلٍ قَابِلٍ قَالَ فِاذَا کَانَ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ہَبَّتْ رِیْحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ عَلَی الْحُوْرِ الْعَیْنِ فَیَقُلْنَ یَا رَبِّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ عِبَادِکَ اَزْوَجًا تَقِرُّبِہِمْ اَعْیُنُنَا وَ تَقِرُّ اَعْیُنُہُمْ بِنَا ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ مشکوۃ ص ١٧٤)

بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔

نَادیٰ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی انْفِجَارِ الصُّبْحِ یَا بَا غِیَ الْخَیْرِ تَمِّمْ وَ اَبْشِرْ وَیَا باَغِیَ الشَّرِ اَقْصِرْ وَ اَبْصِرْ ہَلْ مَنْ مُّسْتَغْفِرٍ یَّغْفِرُ لَہ، ہَلْ مَنْ تَائِبٍ یُّتَابُ عَلَیْہِ ہَلْ مَنْ دَاعٍ یُّسْتَجَابُ لَہ، ہَلْ مَنْ سَا ئِلٍ یُّعْطیٰ سُؤَا لَہ، فِطْرٍمِّنْ کُلِّ شَہْرِ رَمَضَانَ کُلَّ لَیْلَۃٍ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ سِتُّوْنَ اَلْفًا فَاِذَاکَانَ یَوْمُ الْفِطْرِ اَعْتَقَ فِیْ جَمِیْعِ الشَّہْرِ ثَلَا ثِیْنَ مَرَّۃً سِتِّیْنَ اَلْفًا۔ (زواجر جلد اول)

رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کر اور اے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتا ہے جب عید کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہینہ میں آزاد فرماتا ہے۔ تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔(یعنی اٹھارہ لاکھ)

یَغْفَرُ لِاُمَّتِہ فِیْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ اِنَّمَا یُوَفّیٰ اَجْرُہ، اِذَا قَضــیٰ عَمَلُہ، ۔ رواہ احمد (مشکوٰۃ ص١٧٤)

رمضانِ پاک کی آخری رات میں میری امت کی بخشش کی جاتی ہے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کیا وہ شبِ قدر ہے۔ فرمایا نہیں لیکن کام کرنے والے کا اجر پورا دیا جاتا ہے۔ جب کہ وہ اپنا کام ختم کرتا ہے۔

اُحْضِرُوْ الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا فَلَمَّاارْ تَقـیٰ دَرْجَۃً قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـیٰ الدَّرْجَۃَ الثّانِیَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـیٰ الدَّرْجَۃَ الثَالِثَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْــئًا مَا کُنَّا نَسْمَعُہ، قَال اِنَّ جِبْرَئِیْلَ عَرَضَ لِیْ فَقَالَ بَعُد مَنْ اَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرُ لَہ، قُلْتُ اٰمِیْنَ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَہَ قَالَ بَعُدَ مَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ قُلْتُ اٰمِیْنَ۔ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَۃَ قَالَ بَعُدَ مَنْ اَدْرَکَ اَبَوَیْہِ عِنْدَہُ الْکِبَرُ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یُدْ خِلَا ہُ الْجَنَّۃَ قُلْتُ اٰمِیْنَ (زواجر جلد اول)

تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبر کے پاس حاضر ہوئے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ”آمین”۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا”آمین”۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ”آمین”۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیلؑ نے آ کر عرض کی کہ ــ”بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی” میں نے کہا ــ”آمین ”۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ”وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑہے ”میں نے کہا ”آمین”جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ” دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ”میں نے کہا ”آمین”

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عنہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَا لِہَا اِلـیٰ سَبْعِ مِائَۃٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالـیٰ اِلَّا الصَّوْمِ فَاِنَّہ، لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ یَدْعُ شَہْوَتُہ، وَطَعَا مُہ، مِنْ اَجْلِیْ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّہٖ وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَالصِّیَامُ جُنَّــۃٌ ۔ الحدیث رواہ البخاری و مسلم (مشکوٰۃ ١٧٣)

سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ رسول خُداا نے فرمایا کہ ”آدم کے بیٹے کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے ایک نیکی سے دس گنا سے سات سو تک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”مگر روزہ کہ اس کا ثواب بے شمار ہے ، بے شک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔” روزہ دار اپنی خواہش اور طعام میرے لئے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت۔ اور ایک خوشی دیدارِ الٰہی کے وقت ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور روزے ڈھال ہیں۔”

اِذَا دَخَلَ رَمَضَانَ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجِنَانِ وَ غُلِّقَتْ اَبْوَابُ الْجَہَنَّمِ وَسُلْسِلَۃِ الشَّیَاطِیْنَ (بخاری)

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں

 

                روایات معصومین علیھم السلام اور ماہ مبارک رمضان

 

۱۔ روزے کی اہمیت

 

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

“بنی الاسلام علی خمس دعائم علی الصلوۃ و الزکوۃ و الصوم و الحج

” اس آیت سے روزے کے جو چند احکام اخذ ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: الف: معین اور مخصوص ایام میں روزے کا واجب ہونا، ب: معذور افراد کیلئے روزے کی قضا، “

و الولایۃ”۱۳۔(بحار، جلد 76، صفحہ 257،۔۔۔)

[اسلام پانچ بنیادوں پر قائم ہے: نماز، زکات، روزہ، حج اور ولایت]۔

 

۲۔ روزہ داروں کی فضیلت

 

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

“نوم الصائم عبادۃ و صمتہ تسبیح و عملہ متقبل و دعاءہ مستجاب عند الافطار دعوۃ لا ترد”۱۴۔

[روزے دار کی نیند عبادت اور اسکی خاموش تسبیح اور اسکا عمل قبول شدہ ہے، اسکی دعا مستجاب ہو گی اور افطار کے وقت اسکی دعا رد نہیں کی جائے گی]۔( بحار، جلد 96، صفحہ 253،۔۔۔)

۳۔ روزے کی حکمت:

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا:

(بحار، جلد 96، صفحہ 368،۔۔)”فرض اللہ الصیام تثبیتاً للاخلاص”۱۵

[خداوند متعال نے روزے کو اس لئے واجب کیا ہے تاکہ لوگوں کے اخلاص کو محکم کرے]۔

 

۴۔ روزہ بدن کی زکات

 

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

(بحار، جلد 96، صفحہ 246،۔) “لکل شی زکوۃ و زکوۃ الابدان الصیام”۱۶

[ہر چیز کی زکات ہے اور انسانوں کے بدن کی زکات روزہ ہے]۔

 

۵۔ روزہ عبادت خالص

 

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:

(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 20، صفحہ 296،َ) “الصوم عبادۃ بین العبد و خالقہ لا یطلع علیھا غیرہ و کذلک لا یجاری عنھا غیرہ”۱۷

[روزہ خدا اور انسان کے درمیان ایک ایسی عبادت ہے جس سے خدا کے سوا کوئی آگاہ نہیں ہوتا لہذا خدا کے علاوہ کوئی اور اس کا اجر ادا نہیں کر سکتا]۔

 

۶۔ روزہ آتش جہنم کی ڈھال

 

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

(روضۃ المتقین، جلد 3، صفحہ 228،۔۔)”الا اخبرک بابواب الخیر؟ الصوم جنۃ من النار”۱۸

[کیا میں تمہیں نیکی کے دروازوں کی خبر نہ دوں؟ اسکے بعد فرمایا: روزہ آتش جہنم کی ڈھال ہے]۔

 

۷۔ روزہ محبوب پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

 

پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

(مواعظ العددیہ، صفحہ 76،،)”ان من الدنیا احب ثلاثۃ اشیاء الصوم فی الصیف و الضرب بالسیف و اکرام الضیف”۱۹

[میں دنیا میں سے تین چیزوں سے محبت کرتا ہوں، موسم گرما کا روزہ، راہ خدا میں تلوار چلانا اور مہمان کا احترام کرنا]۔

 

۸۔ زندگی کی مشکلات میں روزے سے مدد حاصل کرنا

 

،”و استعینوا فی الصبر و الصلوۃ” کے ذیل میں امام معصوم علیہ السلام فرماتے ہیں: “الصبر الصوم اذا نزلت بالرجل الشدۃ او النازلۃ فلیصم”۲۰

[آیہ شریفہ کے ذیل میں امام معصوم علیہ السلام سے منقول ہے: صبر سے مراد روزہ ہے، جب بھی زندگی میں تمہیں کوئی مشکل پیش آئے تو روزہ رکھو اور اس سے مدد طلب کرو] (بحار، جلد 96، صفحہ ۔۔، 254

 

۹۔ برترین روزہ

 

حضرت امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

(غررالحکم، جلد 1، صفحہ 417،)”صوم القلب خیر من صیام اللسان و صوم اللسان خیر من صیام البطن”۲۱

[دل کا روزہ زبان کے روزے سے بہتر اور زبان کا روزہ پیٹ کے روزے سے برتر ہے]۔

 

۱۰۔ حقیقی روزہ

 

مولای متقیان حضرت امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

(بحار، جلد 96، صفحہ 294،)””الصیام اجتناب المحارم کما یمتنع الرجل من الطعام و الشراب”۲۲

[روزہ محرمات الہی سے پرہیز کا نام ہے جیسا کہ انسان کھانے پینے کی چیزوں سے پرہیز کرتا ہے]۔

 

۱۱۔ بے ارزش روزہ

 

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:

(بحار، جلد 96، صفحہ 294،)”لا صیام لمن عصی الامام و لا صیام لعبد ایق حتی یرجع و لا صیام لامراۃ ناشزۃ حتی تتوب و لا صیام لولد عاق حتی یبر”۲۳

[چند لوگوں کا روزہ صحیح نہیں: جو شخص امام معصوم علیہ السلام کی نافرمانی کرے، وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگ جائے، وہ عورت جو اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے، وہ فرزند جو والدین کا عاق ہو مگر یہ کہ غام واپس آ جائے اور عورت توبہ کر لے اور فرزند نیک بن جائے]۔

 

۱۲۔ برترین اجر و ثواب

 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

(روضۃ المتقین، جلد 3، صفحہ 225،)”الصوم لی و انا اجزی بہ”۲۴

[روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کا اجر و ثواب دوں گا]۔

 

۱۳۔ شیطان کے چہرے کا سیاہ ہونا

 

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

(روضۃ المتقین، جلد 3، صفحہ 227،)”الصوم یسود وجھہ الشیطان”۲۵

[روزہ شیطان کے چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے]۔

 

۱۴۔ روزہ اور تندرستی

 

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

(بحار، جلد 62، صفحہ 294،) “اغزوا تغنموا و صوموا تصحوا سافروا تستغنوا”۲۶

[جنگ و جہاد کرو اور غنیمت حاصل کرو، روزہ رکھو تاکہ سلامت رہو اور سفر کرو تاکہ بے نیاز اور غنی ہو جاو]۔

 

۱۵۔ روزہ اور مغفرت

 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

“یا جابر ھذا شھر رمضان من صام نھارہ و” سب سے پہلی خاصیت یہ ہے کہ قرآن، جو ہدایت اور انسانی رہبری کی کتاب ہے اور جس نے اپنے قوانین اور احکام کی صحیح روش کو غیر صحیح راستے سے جدا کر دیا ہے اور جو انسانی سعادت کا دستور لے کر آئی ہے، اسی مہینے میں نازل ہوا ہے۔ “

قام وردا من لیلۃ و عف بطنہ و فرجہ و کف لسانہ خرج من ذنوبہ کخروجہ من الشھر فقال جابر یا رسول اللہ ما احسن ھذا الحدیث فقال رسول اللہ یا جابر و ما اشد ھذا الشروط”۲۷

۲۷۔ فروع کافی، جلد 4، صفحہ 87،۔۔۔

[اے جابر، یہ ماہ رمضان کا مہینہ ہے، جس نے اس ماہ میں روزہ رکھا، رات دعا اور عبادت میں گزاری، پیٹ اور شرم گاہ کی عفت کا خیال رکھا اور زبان کو قابو میں رکھا وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل گیا جیسے ماہ رمضان سے نکل گیا۔ جابر نے عرض کی یا رسول اللہ یہ حدیث کس قدر اچھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے جابر ان شروط پر عمل کرنا اور انکی رعایت کرنا بھی کس قدر مشکل ہے]۔

 

۱۶۔ فقراء کے ساتھ ہمدردی

 

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

وسائل الشیعہ، جلد 7، صفحہ 3،)”انما فرض اللہ عزوجل لیستوی الغنی و الفقیر۔۔۔۔۔۔۔ و ان یذیق الغنی مس الجوع و الالم لیرق علی الضعیف و یرحم الجائع”۲۸

[خدا نے مسلمانوں پر روزہ واجب کیا ہے تاکہ فقیر اور غنی برابر ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔ اور خدا نے روزے کے ذریعے اغنیا کو بھوک و پیاس کی سختی اور درد کا ذائقہ چکھانے کا ارادہ کیا ہے تاکہ وہ ضعفاء اور بھوکے پیاسے لوگوں پر رحم کریں]۔

 

۱۷۔ روزہ اور شہوات نفسانی کا خاتمہ

 

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔۔۔ فاالصوم یمیت مراد النفس و شھوۃ الطبع فیہ صفاء القلب و طھارۃ الجوارح و عمارۃ الظاھر و الباطن و الشکر علی النعم و الاحسان الی فقراء و زیادۃ التضرع و الخشوع و البکاء و حبل الالتجاء الی اللہ و سبب انکسار الشھوۃ و تخفیف الحساب و تضعیف الحسنات و فیہ من الفوائد ما لا یحصی”۲۹

۲۹۔ بحار، جلد 96، صفحہ 254،

[رسول اللہ صلی اللہ علی و آلہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ خواہشات نفسانی اور طبیعت کی شہوت کو کمزور کرتا ہے، قلب کی پاکیزگی، بدن کے اعضاء کی صفائی کا باعث بنتا ہے اور انسان کے ظاہر و باطن کو آباد کرتا ہے۔ نیز نعمت کے شکر، فقرا پر احسان، اور پروردگار کی بارگاہ میں تضرع اور خشوع اور گریہ و زاری کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح خدا کی محکم رسی سے تمسک اور شہوت کے ختم ہونے اور حساب کتاب میں تخفیف اور نیکی کے دو برابر ہونے کے علاوہ بے شمار حسنات و فوائد کا موجب بنتا ہے]۔

 

۱۸۔ ماہ مبارک رمضان کا بہترین عمل

 

جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ مبارک رمضان کی فضیلت میں ایک خطبہ بیان فرما رہے تھے تو حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا: ماہ مبارک رمضان میں بہترین عمل کون سا ہے؟۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا:

“یا اباالحسن افضل الاعمال فی ھذا الشھر الورع عن محارم اللہ”۳۰

[اے ابوالحسن، اس ماہ مبارک میں بہترین عمل محرمات الہی کی نسبت ورع اور تقوی اختیار کرنا ہے]۔

۳۰۔ وسائل الشیعہ، جلد 10، صفحہ 30،

ماہ مبارک رمضان اور صحیفہ سجادیہ: امام زین العابدین علیہ السلام “دعائے استقبال ماہ رمضان” میں اس ماہ مبارک کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنے لطف اور احسان کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ یعنی رمضان کے مبارک مہینے، صیام کے مہینے، اسلام کے مہینے، پاکیزگی کے مہینے، تصفیہ و تطہیر کے مہینے، عبادت و قیام کے مہینے کو قرار دیا ہے۔ وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کیلئے رہنما اور ہدایت ہے، ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی روشن صداقتیں رکھتا ہے چنانچہ تمام مہینوں پر اس کی فضیلت اور برتری کو آشکارا کیا۔ ان فراوان عزتوں اور نمایاں فضیلتوں کی وجہ سے جو اس کیلئے قرار دیں اور اسکی عظمت کے اظہار کیلئے جو چیزیں دوسرے مہینوں میں جائز کی تھیں اس میں حرام کر دیں اور اس کیلئے احترام کے پیش نظر کھانے پینے کی چیزوں سے منع کر دیا اور ایک واضح زمانہ اس کیلئے معین کر دیا۔ خدائے بزرگ و برتر یہ اجازت نہیں دیتا کہ اسے اس سے موخر کر دیا جائے۔ پھر یہ کہ اس کی راتوں میں سے ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں پر فضیلت دی اور اسکا نام “شب قدر” رکھ دیا۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس ہر اس امر کے ساتھ جو اسکا قطعی فیصلہ ہوتا ہے اسکے بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے نازل ہوتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جسکی برکت طلوع فجر تک دائم و برقرار ہے۔ اے اللہ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور انکی آل علیھم السلام پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ہدایت فرما کہ ہم اس مہینہ کے فضل و شرف کو پہچانیں۔ اس کی عزت’’ روزہ خدا اور انسان کے درمیان ایک ایسی عبادت ہے جس سے خدا کے سوا کوئی آگاہ نہیں ہوتا لہذا خدا کے علاوہ کوئی اور اس کا اجر ادا نہیں کر سکتا “

و حرمت کو بلند جانیں اور اس کے روزے رکھنے میں ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روکنے اور ان کاموں میں مصروف رکھنے جو تیری خوشنودی کا باعث ہیں ہماری اعانت فرما تاکہ ہم بیہودہ باتوں ک

ی طرف کان نہ لگائیں، ممنوع چیزوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں، تیری حلال کی ہوئی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کو ہمارے پیٹ قبول نہ کریں، تیری بیان کی ہوئی باتوں کے سوا ہماری زبانیں گویا نہ ہوں۔ صرف ان چیزوں کے بجا لانے کا بار اٹھائیں جو تیرے ثواب سے قریب کریں اور صرف ان کاموں کو انجام دیں جو تیرے عذاب سے بچائیں”۳۱۔

۳۱۔ صحیفہ کاملہ ترجمہ علامہ مفتی جعفر حسین، دعائے استقبال ماہ رمضان،

فضائل و خصائص ماہ رمضان خاص اہمیت کے حامل ہیں یہ مہینہ خدا کی نعمتوں کی بنیاد و اساس ہے کہ جن کو نہ شمار کیا جاسکتا ہے اور نہ جن کا حساب لگایا جاسکتا ہے، اس ماہ کی مادی و معنوی عظمت و جلالت کو اگر اجاگر کرنے سے انسان قاصر ہے اور اگر اس ماہ کا فضل و شرف اہل ایمان پر واضح ہو جائے اور مسلمین صحیح معرفت سے بہرہ مند ہوتے تو یقیناً تمنا کرتے کہ اے کاش سال بھر ماہ رمضان رہتا جیسا کہ خود حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے واضح ہے :

1- “لو یعلم العباد ما فی رمضان ؛ لتمنت ان تکون رمضان سنۃ” اگر بندگان خدا ماہ رمضان کی حقیقت سے واقف ہوتے ، یقیناً تمنا کرتے کہ رمضان سال بھر رہے۔

2- اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لو علمتم ما فی شہررمضان لزدتم للہ شکرا ؛ اگر تم ماہ رمضان کے بارے میں علم رکھتے کہ (اس ماہ میں کیا ہے) یقیناً  خدا کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرتے۔

3- پھر فرمایا: شعبان شھری و شھر رمضان شہر اللہ ؛ یعنی ماہ شعبان میرا مہینہ ہے اور ماہ رمضان خدا کا مہینہ ہے۔

4- ایک اور روایت میں فرمایا: شہر رمضان شہر اللہ وشہر شعبان شہری ؛ شہر المطہرو رمضان المکفر؛ ماہ رمضان ماہ خدا اور ماہ شعبان میرا مہینہ ہے ، ماہ شعبان طاہر اور پاکیزہ بناتا ہے اور ماہ رمضان گناہوں کا کفارہ ہے۔

5- ایک اور جگہ فرمایا: انما سمی رمضان ؛ لانہ یرمض الذنوب؛ رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ جھاڑ دیتا ہے اور جلا دیتا ہے۔

اسی طرح کی اور بھی احادیث مختلف طرق سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے ماہ رمضان کے فضائل و برکات کو بیان کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں جن کو اس مختصر مقالہ میں اکھٹا نہیں کیا جاسکتا اس کی عظمت و جلالت کے لیے یہی کہہ دینا کافی ہے کہ یہی وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن کریم اور دیگر کتب آسمانی کا نزول ہوئی ہیں ۔ لیلۃ القدر، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے اس ماہ میں موجود ہے ، جس کی ابتداء فضل و رحمت اور آخر اجابت دعا و پروانہ آزادی پر ہے۔

جب ماہ رمضان کی ابتداء ہوتی ہے تو رحمت کے ابواب کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ، شیاطین کو زندانی بنا دیا جاتا ہے ۔

ایک مفصل حدیث جو کتاب ثواب الاعمال شیخ صدوق اور روضۃ الواعظین شیخ شہید ابی علی محمد بن علی نیشاپوری اور وسائل الشیعہ شیخ حر عاملی میں ملتی ہے یہاں پر بیان کی جاتی ہے ، مقالہ کے طویل ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے ہم صرف حدیث کے ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں جو اس طرح ہے:

ترجمہ حدیث شریف: سعید بن جبیر کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے سوال کیا کہ جو شخص ماہ رمضان میں روزہ رکھے اور اس کے حق کو پہچانتا ہو تو اسے کیا ثواب ملے گا؟

ابن عباس سے فرمایا: تیار ہو جا اے فرزند جبیر! تاکہ تجھے سناؤں وہ چیز جس کو تیرے کان نے نہ سنا ہو ، اور تیرے دل میں خطور نہ ہوا ہو، اور خود کو تیار کر اس چیز کے سننے کے لیے جس چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، میں تجہے بتانے کا ارادہ رکھتا ہوں اس چیز کے بارے میں جو علم اولین و آخرین میں سے ہے۔

سعید کہتے ہیں : میں ابن عباس کے پاس سے اٹھا اور باہر چلا گیا اور اپنے آپ کو اس کے لیے آمادہ کر لیا، صبح سویرے وقت طلوع فجر ابن عباس کے پاس پہنچا ، نماز صبح ادا کی اس کی یاد دہانی کرائی جس کا وعدہ ہوا تھا، انہوں نے اپنا رخ میری طرف کیا اور فرمایا: جو میں کہہ رہا ہوں غور سے سن!

میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سناکہ آپ نے فرمایا: اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ ماہ رمضان میں تمہارے لیے کیا فائدہ ہے ، یقیناً شکر الہی کثرت سے کرتے، جیسے ہی شب اول ماہ رمضان آتی ہے ، خداوند عالم امت کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے چاہے وہ گناہ مخفی و پوشیدہ کیا ہو یا علی الاعلان کیا ہو، اور تمہارے دو دو ہزار درجات بلند کرتا ہے، اور تمہارے لیے شہر بناتا ہے۔

دوسرے دن خداوند عالم ہر وہ قدم جو بڑھتے ہیں اس دن ایک سال کی عبادت کا ثواب اور ثواب پیغمبری لکھتا ہے اور ایک سال کے روزے کا ثواب بھی خداوند عالم تمہارے لیے لکھتا ہے۔

تیسرے دن خداوند عالم تمہارے بدن کے ہر بال کے مقابلے فردوس میں درہ بیضاء سے ایک قبہ عطا کرتا ہے کہ جس کے اوپر بارہ ہزار نور کے حجرے ہیں اور اس کے نیچے بھی بارہ ہزار حجرے ہیں اور ہر حجرے میں ہزار تخت اور ہر تخت پر ایک حور ہے۔ ہر روز تمہارے پاس ہزار فرشتے آئیں گے اور ہر فرشتے کے ساتھ ایک ہدیہ ہو گا۔

چوتھے روز خداوند عالم تمہیں عنایت کرتا ہے بہشت خلد میں ستر ہزار قصر، ہر قصر میں سترہزار حجرے اور ہر حجرے میں پچاس ہزار تخت اور ہر تخت پر ایک حور ہے۔ اس حور کے سامنے ہزار کنیز اور خدمتگار ہیں کہ جن کے مقنع و روپوش کا ایک حصہ اس دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔

پانچویں روز خداوند عالم تم کو عطا فرماتا ہے بہشت ماوہ میں ہزار ہزار شہر کہ جس کے ہر شہر میں ستر ہزار حجرے ہیں، اور ہر حجرے میں ستر ہزار دسترخوان و طعام ہیں ، ہر دسترخوان پر ستر ہزار کاسے و پیالیاں ہیں، اور ہر کاسہ میں ساٹھ ہزار قسم کے کھانے ہیں کہ جو ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔

چھٹے دن خداوند عالم عطا فرماتا ہے دارالسلام میں ایک لاکھ شہر ، ہر شہر میں ایک لاکھ گھر، ہر گھر میں ایک لاکھ حجرے ، ہر حجرے میں ایک لاکھ سونے کے تخت ہیں اور ہر تخت ہزار ذراع کے برابر ہے اور ہر ایک تخت پر ایک حور ہے ہر حور کے تیس ہزار گیسو ہیں جو یاقوت اور موتی سے بنے ہوئے ہیں جس کے ہر گیسو کو ایک لاکھ کنیزیں اٹھاتی ہیں۔

ساتویں روز خداوند عالم تم کو عطا فرماتا ہے بہشت نعیم میں چالیس ہزار شہیدوں کا اجر اور چالیس ہزار صدیق کا ثواب۔

آٹھویں روز خداوند عالم تم کو عطا فرماتا ہے ساٹھ ہزار عابد کے عمل اور ساٹھ ہزار زاہد کا ثواب۔

نویں روز خداوند عالم تم عطا فرماتا ہے وہ چیزیں جو ہزار عالم کو عطا فرماتا ہے اور ہزار اعتکاف کرنے والوں کا کہ جنہوں نے مسجد میں شریعت کے مقرر ہ دستور کے مطابق خدا کے لیے عمل اعتکاف انجام دیا ہو اور ہزار مرابط( وہ شخص جو دشمن سے سرحدوں کی محافظت کرتا ہے)کا ثواب۔

دسویں روز خداوند عالم تم کو عطا فرماتا ہے ثواب قضا اور ستر ہزار حاجات کے پورا کرنے کا ثواب۔ اور تمہارے لیے طلب مغفرت کرتے ہیں ،سورج،چاند اور ستارے اور اور ہر چوپایہ ،ہر جاندار، ہر پرندہ ، ہر درندہ، ہر سنگ و ہر ڈھیلا، اور ہر خشک و تر، دریاؤں کی مچھلیاں، درختوں کے پتے۔

گیارہویں روز خداوند عالم عنایت فرماتا ہے چار ہزار حج و عمرہ کا ثواب کہ جس کا ہر حج کسی پیغمبر کے ساتھ انجام دیا گیا ہو، اور ہر عمرہ جو کسی صدیق و شہید کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔

بارہویں روز خداوند عالم لکھتا ہے سیات کو حسنات یعنی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور حسنات و نیکیوں کو کئی گناہ بڑھا دیتا ہے اور ہر حسنہ و نیکی کے بدلے ہزار ہزار حسنہ تحریر فرماتا ہے۔

تیرہویں روز خداوند عالم تمہارے لیے لکھتا ہے اہل مکہ اور مدینہ کی عبادات کی مثل اور تمہیں عطا فرماتا ہے مکہ و مدینہ کے درمیان تمام پتھر و سنگریزوں کے برابر شفاعت کرنے کا حق۔

چودہویں دن ایسا ہے کہ جیسے تم نے ملاقات کی ہو آدم ،نوح، ابراہیم، موسی، داؤد اورسلیمان سے اور جیسے تم نے خداوند عالم کی عبادت کی ہو تمام پیغمبروں کے ساتھ دوسوسال تک۔

پندرہویں روز خداوند عالم تمہاری دنیا اور آخرت کی ہزار حاجتوں کو مستجاب فرماتا ہے اور تمہیں وہ چیزیں عطا فرماتا ہے کہ جو حضرت ایوب کا اجر ہے۔ اور حامل عرش تمہارے لیے طلب مغفرت کرتے ہیں اور خداوند عالم تم کو روز قیامت چالیس نور عطا فرمائے گا کہ جس میں سے دس نو ر تمہارے داہنی جانب اور دس تمہاری بائیں جانب ، دس نور سامنے اور اور دس تمہارے پیچھے ہوں گے۔

سولہویں روز عطا کرتا ہے تمہارے لیے کہ جس وقت تم قبر سے باہر آتے ہو ساٹھ زیور اوربہشتی پوشاک تاکہ تم انہیں زیب تن کرو ، اور بہشتی ناقہ و مرکب تاکہ اس پر سوار ہو جاؤ، اور تمہارے اوپر اس روز کے گرمی کے بدلے بادل کو سایہ فگن ہونے کے لیے بھیجتا ہے۔

سترہویں دن فرماتا ہے : بحق و یقین میں نے تمہیں بخش دیا ہے اور تمہارے والدین کو بھی، اور قیامت کی شدائد و سختیوں کو تم سے دور کیا۔

اور جب اٹھارہواں روز آتا ہے تو خداوند عالم امر فرماتا ہے جبرئیل و  مکائیل و اسرافیل اور تمام حاملان عرش اور تمام فرشتوں کو کہ آئندہ سال تک امت محمد کے لیے طلب مغفرت کریں۔اور تم کو خداوند عالم اہل بدر کا ثواب عطا فرماتا ہے۔

اور جب انیسواں روز آتا ہے تو زمین وآسمان کے تمام ملائکہ خداوند عالم کی طرف سے تمہاری قبروں کی زیارت کے لیے اجیر ہو جاتے ہیں اور ہر فرشتے کے ساتھ ایک جام اور بہشتی ہدیہ و تحفہ رہتا ہے ۔

اور جب تمہارے ماہ رمضان کا بیسواں روز ختم ہو جائے تو خداوند عالم تمہاری طرف مبعوث کرتا ہے ستر ہزار ملائکہ تاکہ تمہیں بارگاہ الہی سے نکالے ہوئے شیطانوں سے محفوظ رکھیں، اور ہر اس دن جس روزہ رکھا ہے خداوند عالم تمہارے لیے سوسال کے روزوں کا ثواب لکھتا ہے اور تمہارے اور آتش جہنم کے درمیان خندق بناتا ہے۔ اور تم کو توریت ، زبور، انجیل اور فرقان کی تلاوت کا ثواب عطا فرماتا ہے اور تمہارے لیے ہر اس ایک بال کی تعداد میں کہ جو جبرئیل کے پرو ں میں ہیں ایک سال کی عبادت کا ثواب تحریر فرماتا ہے۔اور تسبیح عرش وکرسی کا ثواب عطا فرماتا ہے اور قرآن کریم کی ہر ایک آیت کے بدلے حور العین کے ساتھ تمہاری تزویج کرتا ہے ۔

اکیسویں روز خداوند عالم تمہاری قبروں کو ہزار فرسخ وسیع فرماتا ہے تاریکی اور وحشت قبر کو دور کرتا ہے ، تمہاری قبروں کو شہداء کی قبروں کے مثل بناتا ہے ، تمہاری صورتوں کو حضرت یوسف بن یعقوب کی جیسا بنا دیتا ہے۔

بائیسویں روز خداوند عالم تمہاری طرف ملک الموت کو بھیجتا ہے جس طرح انبیاء علیہم السلام کی جانب بھیجتا ہے ، منکر و نکیر کی وحشت کو دور کرتا ہے اور دنیا و آخرت کے عذاب کو اٹھا لیتا ہے ۔

تیئسویں روز آپ لوگ پیغمبروں ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ پل صراط سے اترتے ہیں اور اس طرح کہ جیسے تم نے میری امت کے ہر یتیم کو سیر کیا ہو اور میری ہر امت کے ہر بے لباس کو لباس پہنایا ہو۔

چوبیسویں رو ز، اس وقت تک آپ دنیا سے نہیں جاتے جب اپنی جگہ بہشت میں دیکھ نہیں لیتے اور تمہیں ہزار مریض ، ہزار غریب کا ثواب کہ جو اپنے وطن سے دور مر گئے ہوں، اور فرزندان اسماعیل میں سے ہزار غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب عطا فرماتا ہے۔

پچیسویں روز خداوند عالم زیر عرش تمہارے لیے ہزار سبزرنگ کے قبہ بناتا ہے کہ ہر قبہ پر نور کا خیمہ ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ اے امت محمد ! میں تمہارا پروردگار ہوں ، تم سب میرے بندے اور کنیز ہو میرے عرش کے سایے میں میں آ جاؤ، اور ان قبوں میں مقیم و مستقر ہو جاؤ،کھاؤ پیو اور لذت حاصل کرو، تم پر کسی طرح کا خوف و حزن نہیں ہے، اے امت محمد! میری عزت و جلالت کی قسم یقیناً میں تمہیں بہشت کی طرف بھیجوں گا اس طرح کہ اولین و آخرین تمہیں دیکھ کر تعجب کریں ، تم میں سے ہر ایک کے سر پر نور کے ہزار تاج رکھوں گا اور تم کو اس ناقہ پر سوار کروں گا کہ جو نورسے خلق ہوا ہے، ان کی لجام نور سے ہے اور ہر لجام میں ہزار سونے کے حلقے ہیں اور ہر حلقے پر ایک فرشتہ ہے اور ہر فرشتے کے ہاتھ میں نور کا عصا ہے یہاں تک کہ آپ بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہو جاؤ۔

اور جب ماہ رمضان المبارک کا چھبیسواں دن ہو تو خداوند عالم تمہاری طرف نظر رحمت فرماتا ہے تمہارے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے سوائے اس خون کے جو ناحق بہایا گیا ہو، یا مال و متاع جو ناحق حاصل کیا گیا ہو اور پاک و پاکیزہ کرتا ہے تمہارے مکانوں کو ہر روز ستر غیبت و جھوٹ و بہتانوں سے۔

ستائیسواں روز ثواب میں ایسا ہے کہ جیسے کہ آپ نے مدد کی ہو کسی مرد مومن اور مومنہ کی، اور ستر ہزار بے لباسوں کو لباس پہنایا ہو، اور ہزار مرابط کی خدمت کی ہو، اور ایسا ہے کہ جیسے تم نے ہر اس کتاب کی قرأت کی ہو کہ جو خداوند عالم نے اپنے انبیاء پر نازل کی ہے۔

اٹھائیسویں دن خداوند عالم تمہارے لیے بہشت میں نور کے ایک لاکھ شہر عطا فرماتا ہے، کہ ہر ایک میں ایک لاکھ چاندی کے قصر ہیں اور جنت الفردوس میں ایک لاکھ شہر اور ہر ایک شہر میں ہزار حجرے ، اور جنت جلال میں مشک کے ایک لاکھ منبر اور ہر ایک منبر کے درمیان ہزار زعفران کے حجرے ہیں ہر حجرے میں ہزار در یاقوت کے تخت اور ہر تخت پر حور العین ہے۔

جب انتیسوان دن ہوتا ہے تو خداوند عالم عطا فرماتا ہے: تمہیں دس لاکھ محلے عطا کرتا ہوں کہ ہر ایک محلہ کے بیچ میں سفید گنبد ہے ہر قبہ میں سفید کافور کا تخت ہے اس تخت پر سندس سبز کے ہزار فرش ہیں، اور ہر فرش پر حور العین ہے کہ اس حور کوستر ہزار بہشتی زیور اور پوشاک پہنائی گئی ہیں اس حور کے سر پر اسی ہزار گیسوہیں اور ہر گیسو موتی و یاقوت سے مزین ہیں۔

جب تیس روز تمام ہو جاتے ہیں خداوند عالم تمہارے لیے تحریر فرماتا ہے ہر دن کی تعداد میں دو ہزار روز کا ثواب اور تمہارے درجات کو گیا ہ نیل(شاید مراد یہ ہو کہ اگر دریائے نیل کے پانی کو صحرا میں ڈالیں اور وہاں گیا ہ و گھاس اگے اس ) کی تعداد کے برابر بلند کرتا ہے ، اور خداوند عالم تمہارے لیے آتش جہنم سے برأت و بیزاری لکھتا ہے ، پل صراط سے عبور اور عذاب سے امان نامہ ، اور بہشت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے جسے صرف روز قیامت کھولا جائے گا، لہذا اسے امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، کے روزہ دار مردوں اور عورتوں کے لیے کھولا جائے گا،اسوقت رضوان بہشت کا خزانہ دار آواز دے گا: اے امت محمد! ریان کی طرف دوڑیے ، میری امت اس دروازے سے بہشت میں داخل ہوں گے اور جو شخص ماہ رمضان میں بخشا نہ گیا تو پھر وہ کس ماہ میں بخشا جائے گا، اور حول و قوت نہیں ہے سوائے ذات مقدس خدائے تبارک و تعالی کے۔

ماہ رمضان اور روزے کے فضائل بہت زیادہ ہیں کہ جس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے ہر ایک روزہ ایک خصوصی فضیلت کا حامل ہے دعا گو ہیں کہ خداوند عالم ہم کو بھی روزے داروں میں شمار فرماتے ہوئے اس کے دنیوی اور اخری ، مادی و معنوی اجر و ثواب عنایت فرمائے۔ آمین۔

٭٭

 

                حوالہ جات

 

تفسیر نور، جلد 1، صفحہ 370

ترجمہ و حواشی صحیفہ کاملہ، مفتی جعفر حسین، صفحہ 320،

قاموس کتاب مقدس، صفحہ 42۷،

تورات، سفر تشینہ، فصل 9، شمارہ 9

قاموس کتاب مقدس، صفحہ 428

انجیل متی، باب 4، شمارہ 1 و 2

انجیل لوقا، باب 5، شمارہ 33-35

سورۂ بقرہ،آیت۵۸۱﴾

﴿الکافی، ج۲،ص۹۹۵﴾

سورۂ انبیاء،آیت۷۰۱

سورۂ بقرہ،آیت۷۹۱﴾

سورۂ اعراف،آیت۶۲

سورۂ مائدہ،آیت۷۲

نہج البلاغہ،خطبہ۰۳۲،ترجمہ علامہ جوادی(رح

سورۂ آل عمران،آیت۲۰۱

رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ مشکوۃ ص ١٧٤

زواجر جلد اول

مشکوٰۃ ص١٧٤)

بحار، جلد 76، صفحہ 257

شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد 20، صفحہ 296

خطبہ شعبانیہ۔

نہج البلاغہ، حکمت 410۔

سورہ انفال آیت 29۔

سورہ طلاق آیت 2

– بحارالانوار،ج 96، ص 347 فصل 13 فضائل الاشھر الثلاثہ۔ 6ش

– ثواب الاعمال، ص 903۔روضۃالواعظین، ص 375۔

– تحف العقول، ص 13۔

– کنزالعمال،ج8،ص466۔

– کنزالعمال،ج8،ص466۔

– ثواب الاعمال ، شیخ صدوق، ص 38۔ روضۃ الواعطین، شہید ابو علی بن محمد بن علی الفتال نیشاپوری، ص288۔ وسائل الشیعہ، شیخ حر عاملی، ص96۔

 

http://quran.al-shia.org/urd/maqalat/900120-1/004.htm

http://news.aqr.ir/portal/home/?news http://www.alhassanain.com/urdu/show_articles.php?articles_id=1285&link_articles=ethics_and_supplication/general_articles/mah_ramazan_khutba_shabaina_kay_ayinay

http://haqobatil.blogspot.com

http://www.erfan.ir/urdu/20476.html

http://www.taghrib.ir/urdu/index.php?option=com_content&

http://imamrezashrine.aqr.ir/

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید