FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

فی ظلال القرآن

قرآن کے سائے میں

 

سورۃ الفاتحہ وسورۃ البقرۃ کی مکمل تفسیر

حصہ اول

 

                شہید اسلام سید قطب رحمہ اللہ

ترجمہ:سید معروف شاہ شیرازی

الموحدین ویب سائٹ کی پیشکش

 

 

 

شہید اسلام سید قطب رحمہ اللہ اور تفسیر فی ظلال القرآن

 

شہیداسلام سید قطب کا شمار امت مسلمہ کی ان چند برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریک ادوار میں روشنی کے چراغ جلائے اور اسلامی نظام زندگی کو اپنے خون سے سینچا۔

سید قطب رحمہ اللہ ۱۹۰۲ء میں مصر کے ایک صوبہ “اسیوط”کے ایک گاؤں “موشاء “میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حاجی قطب ابراہیم اور والدہ کا نام فاطمہ حسین عثمان تھا۔ دونوں عربی النسل تھے۔ سید قطب اپنے والدین کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔

آپ نے ثانوی تعلیم “تہجیزیہ دارالعلوم”نامی ایک اسکول میں حاصل کی۔ اس اسکول میں طلباء کو دارالعلوم میں داخلہ کے لئے تیار کیا جاتا تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر آپ ۱۹۲۹ء میں قاہرہ کے دارالعلوم میں داخل ہوئے۔ ۱۹۳۲ء میں آپ نے بی۔ اے کی ڈگری اور ڈپلومہ ان ایجوکیشن حاصل کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے محکمہ تعلیم میں بحیثیت انسپکٹر تعلیم ملازمت اختیار کر لی اور ۱۹۵۲ء تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اسی دوران ۱۹۵۴ء میں آپ اخوان المسلمون سے متعارف ہوئے۔ اور ۲ جولائی ۱۹۵۴ء میں آپ کو اخوان کے شعبہ نشر و اشاعت نے اخبار”الاخوان المسلمون”کا ایڈیٹر مقرر کیا۔

شہید اسلام سید قطب رحمہ اللہ ۱۹۵۴ء سے لے کر ۱۹۶۴ء تک جیل میں رہے اور اگست میں عبدالسلام عارف صدر عراق کی کوشش سے رہا ہوئے۔ رہا ہوتے ہی پوری دنیا کے نوجوانوں نے آپ کی طرف رجوع کیا، اور آپ کا لٹریچر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیلنے لگا۔ چنانچہ لادین مغرب پرست کمیونسٹ اور سوشلسٹ عناصر چیخ اٹھے اور بیک وقت ماسکو اور واشنگٹن سے ان کے خلاف سازشیں ہونے لگیں۔ چنانچہ آپ کو ایک سال بعد اگست ۱۹۶۵ء میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور ایک سال بعد ۲۹ اگست ۱۹۶۶ء میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔

سید قطب اخوان المسلمون میں آنے سے پہلے خالص ادبی کام کرتے رہے۔ لیکن تحریک اخوان المسلمون میں شامل ہونے کے بعد اسلامی انقلاب، اور تحریک اسلامی، ان کا خاص موضوع رہا۔

مصنف نے فی ظلال القرآن میں قرآن پاک کی اثر انگیزی، جس نے عرب کی کایا پلٹ دی تھی، کی راہ میں حائل پردوں کو چاک کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا اس تحریک کے ساتھ جا کھڑا ہوتا ہے جو ہبوط آدم علیہ السلام کے وقت سے روئے زمین پر برپا ہوئی اور انبیاء علیہم السلام کی قیادت میں چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور تک آ پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ کے بعد بھی یہ تحریک زندہ اور قیامت تک جاری رہے۔ قاری توحید ورسالت اور آخرت کے عقیدے کو قافلے کے ایک رفیق اور تحریک کے ایک کارکن کی حیثیت سے سنتا اور سمجھتا ہے اور قوموں کے عروج و زوال کی داستان کو امت کے ایک فرد کی حیثیت سے پڑھ کر اس سے سبق لیتا ہے۔

 

 

 

 

قرآن کے سائے میں

 

قرآن کے سائے میں زندگی بسر کرنا نعمت عظمیٰ ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جو اس سے لطف اندوز ہوا ہو۔ یہ نعمت زندگی کی شان بلند کر دیتی ہے، اسے بابرکت بنا دیتی اور اسے پاک کر دیتی ہے۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم عظیم ہے کہ اس نے مجھے ایک عرصہ تک قرآن کے سائے میں جینے کا موقع عنایت فرمایا۔ اس عرصہ میں میری کیفیت یہ تھی کہ گویا میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوں۔ میں ….اللہ کا ایک حقیر اور بے بضاعت بندہ۔ اور ذات باری۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

انسان کے لئے، عالم بالا کے اس جلیل القدر اعزاز سے اور بڑا کوئی اعزاز ہو نہیں سکتا۔ کیا ہیں وہ بلندیاں جہاں تک اللہ کا یہ کلام انسانی زندگی کو پہنچاتا ہے اور کیا ہے وہ مقام بلند، جو بندہ ناچیز کا خالق اسے مرحمت فرماتا ہے، ہاں تو….قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے۔ میں نہایت بلندی سے دیکھتا رہا کہ اس زمین پر جاہلیت کا سیلاب امنڈ رہا ہے۔ میں اس جاہلیت کے پیروکاروں کے حقیر و صغیر تکلفات کو بھی دیکھتا رہا۔ اہل جاہلیت کے خامکارانہ معارف و تصورات اور طفلانہ اہتمامات کو میں ایک فرزانہ اور جہاندیدہ شخص کی نظر سے دیکھتا رہا کہ وہ کھیلتے ہیں گھروندے بناتے ہیں اور بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس گندے اور وبائی ماحول میں خطرناک حد تک گھرے ہوئے ہیں اور اس جلیل القدرآسمانی آواز کو نہیں سن رہے جو انہیں مسلسل پکار رہی ہے اور جو ان کی زندگی کو بلند، بابرکت اور پاکیزہ بنانا چاہتی ہے۔

اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ….

میں اس کائنات کی غرض و غایت، موجودات کے مقصد وجود اور وجود انسانی کے بارے میں ایک مکمل و جامع اور ایک بلند و پاکیزہ تصور سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ میں اس پاکیزہ تصور حیات اور ان جاہلی تصورات زندگی کے درمیان موازنہ کرتا جن کے مطابق مشرق و مغرب میں آج پوری انسانیت زندگی بسر کر رہی ہے اور قدرتی طور پر میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ انسانیت اس سڑانڈ، ان پستیوں اور اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کیونکر زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ اس کے پاس ایک سرسبز و شاداب سیر گاہ، ایک بلند مقام اور ضو پاش چراغ ہے۔

اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ….

میں نے محسوس کیا کہ انسان کی حرکت اور اس پوری کائنات کی حرکت کے درمیان مشیت ایزدی ایک حسین ربط ہے۔ دونوں کو اللہ نے پیدا کیا اور دونوں اسی ارادے کے مطابق متحرک ہیں۔ پھر پوری انسانیت قوانین فطرت کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اس وجہ سے گم کردہ راہ ہو کر بے حد وحساب مصائب کا شکار ہے۔ اس کی فطرت سلیمہ اور ماحول کی اس فاسد اور فتنہ پرور تعلیمات کے درمیان کشمکش برپا ہے۔ جو اس ماحول میں رائج ہیں اور ہر طرف سے اسے یہ خلاف فطرت تعلیمات دیجا رہی ہیں۔ میں بڑی بے بسی سے اپنے دل میں کہتا کہ کوئی شیطان ہے جو پوری انسانیت کو اس جہنم کی طرف لے جا رہا ہے اور حیرت ہے ان لوگوں پر کہ وہ بے خبر ہیں اور نہیں سمجھتے۔

اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ….

میں نے اس کائنات کو اس کی ظاہری شکل و صورت سے کہیں بڑا پایا۔ میں نے دیکھا کہ یہ ایک عظیم حقیقت ہے، اس کے متعدد پہلو ہیں، اس میں صرف عالم عیاں ہی نہیں عالم غیاب بھی ہے۔ وہ صرف دنیا ہی نہیں بلکہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ ایک طویل راہ حیات ہے۔ انسانی زندگی اس کی گھاٹیوں میں پھیلی ہوئی ہے لیکن موت اس سفر حیات کی آخری منزل نہیں ہے بلکہ اس طویل سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ انسان اس زمین پر جو سمیٹ سکتا ہے صرف وہی اس کا پورا حصہ نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے مقرر حظ وافر کی قسط اول ہے۔ اگر اس دنیا میں وہ جرائے وفاق نہیں پا سکا تو کیا بات ہے۔ آخرت میں اسے پورا بدلہ دیا جائے گا وہاں نہ ظلم ہو گا، نہ کمی ہو گی اور نہ ہی ضیاع اجر کا امکان ہو گا….نیز وہ مرحلہ حیات جسے وہ ستارہ زمین کی پشت پر طے کر رہا ہے محض سفر ہی کا نہیں بلکہ وہ اسے ایک زندہ ومانوس اور محب وانیس کائنات کی معیت میں طے کر رہا ہے۔ ایک زندہ، سامع اور مجیب کائنات کے درمیان، جو اسی خالق کائنات کی طرف متوجہ ہے۔ جس کی طرف ایک مومن عالم خضوع اور خشوع میں متوجہ ہوتا ہے وَلِلّٰہِ یَسجُدُ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ طَوعًا وَّ کَرہًا وَّ ظِللُہُم بِالغُدُوِّ وَ الاٰصَالِ (السجدۃ15:)”وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین وآسمان کی ہر چیز طوعاً و کرہاً سجدہ کر رہی ہے “۔ تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبعُ وَ الاَرضُ وَ مَن فِیہِنَّ ط وَ اِن مِّن شَیئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمدِہ(۷۱-۴۴)”اس کی پاکی ساتوں آسمانوں اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔ “کیا راحت ہے اور کیا ہی وسعت ؟اس انس اور وثوق کا کیا کہنا جو ایک چشمے کی طرح زندگی کے اس کامل، ہمہ گیر اور وسیع تصور سے قلب انسانی پر پھوٹا پڑتا ہے۔

اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ….

میں نے پایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک بلند رتبہ دیا ہے اور یہ عزت اور مرتبہ اسے نہ پہلے کسی تصور حیات سے ملا اور نہ آئندہ ملے گا۔ قرآنی تصور کی رو سے انسان وہ ذات ہے جس میں خود اللہ ذوالجلال نے اپنی روح پھونکی۔ وَ نَفَختُ فِیہِ مِن رُّوحِی فَقَعُوا لَہ سٰجِدِینَ(حجر:۹۲)”اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ “بلکہ وہ اس کے ساتھ رب ذوالجلال کا خلیفہ بھی ہے وَ اِذ قَالَ رَبُّکَ لِلمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی جَاعِلٌ فِی الاَرضِ خَلِیفَۃً ط”اور جس وقت کہا آپ کے رب نے فرشتوں کو کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔ “اور لیجئے وہ اس پوری کائنات کا امین بھی ہے اور یہ اسی کے لئے ہے سَخَّرَ لَکُم مَّا فِی الاَرضِ(حج:۵۶)”مسخر کر لیا ہے تمہارے لئے زمین کی چیزوں کو۔ “انسان کی برگزیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی اس قدر و منزلت سے آگے بڑھ کر اللہ کی ہدایت اور مشفقانہ نفخ روح ہی کو پوری انسانیت کے باہمی اجتماعی روابط کی اساس اور وسیلہ بنایا۔ ربط انسانیت کی عمارت کی اساس ایمان باللہ کے عقیدے پر رکھی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک مومن کا نظریہ اور عقیدہ ہی اس کی قومیت قرار پایا۔ اور عقیدہ ہی اس کا وطن بنا۔

ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ما است

عقیدہ ہی اس کا خاندان قرار پایا، ایک مومن بھائی کا درجہ سگے بھائی سے بلند اور مضبوط ہو گیا۔ چنانچہ انسانیت کا مستحکم اجتماع اور اکٹھ ہمیشہ عقیدے ہی کی بنیاد پر ہوا اور کبھی وہ حیوانات اور بہائم کی طرح باڑے، چراگاہ، چارے اور ریوڑ کی بنیاد پر جمع نہ ہوئی۔

ذرا دیکھئے تو سہی مومن کانسب کس قدر بلند ہے۔ اس کا شجرہ نسب تاریخ انسانیت میں دور دور تک جا پہنچا ہے۔ وہ ایک ایسے معزز خاندان کا فر دہے جس کی قیادت اونچے درجے کے معزز حضرات کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بالآخر حضرت محمدﷺاِنَّ ھٰذِہٓ اُمَّتُکُم اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُم فَاعبُدُونِ(الانبیاء :۲۹)”یہ ہے امت ایک اور میں تمہارا رب ہوں پس میری ہی بندگی کرو۔ ”

یہ معزز اور مکرم جماعت، انسانیت کی تاریخ قدیم کے نشیب و فراز میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ قرآن کے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہر فرد کو ایک ہی جیسی صورت حال کا مقابلہ کرنا پڑا۔ ہر جگہ وہی موقف، وہی بحران، اور ویسے ہی تجربات و پیش آنے والے واقعات ہیں۔ زبان و مکان بدل رہے ہیں۔ نئی نئی اقوام تاریخ کے اسٹیج پر آتی ہیں لیکن ایک ہی پارٹ ادا کر رہی ہیں۔ ہر جگہ ان حضرات کا استقبال ضلالت و گمراہی، ہوا وہوس، تمرد وسرکشی، ظلم و تعدی اور تہدید جلاوطنی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ جماعت متاثر ہوئے بغیر برابر اپنی راہ پر گامزن نظر آتی ہے۔ اس کا ضمیر مطمئن ہے، پاؤں جمے ہوئے ہیں اور اسے اللہ کی حمایت و نصرت کا بھرپور یقین ہے۔ نا امیدی کا کہیں نام و نشاں نہیں اور اسے ہر لمحہ اللہ کی حمایت و نصرت کا بھرپور یقین ہے۔ نا امیدی کا کہیں نام و نشان نہیں اور اسے ہر لمحہ اللہ کے اس سچے وعدے پر بھروسہ ہے۔ اس قافلہ حق کو ہر دور میں یہ چیلنج دیا گیا۔

وَ قَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِرُسُلِہِم لَنُخرِجَنَّکُم مِّن اَرضِنَآ اَو لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا فَاَوحٰٓی اِلَیہِم رَبُّہُم لَنُہلِکَنَّ الظّٰلِمِینَ وَ لَنُسکِنَنَّکُمُ الاَرضَ مِنم بَعدِہِم ط ذٰلِکَ لِمَن خَافاَا مَقَامِی وَ خَافَ وَعِیدِ(ابراہیم:۴۱)

“آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ “یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہو گا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔ “تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کر دیں گے اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کاجو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔ ”

ہر جگہ وہی موقف، وہی تجربہ اور وہی تہدید ہے ….لیکن اس کے مقابلے میں ہر جگہ ایک ہی یقین محکم ہے اور ایک ہی وعدہ ہے جو اس برگزیدہ جماعت کے ساتھ ہو رہا ہے اور مومنین کی جماعت۔ “یہ سب مظالم سہتے ہوئے اور ہر قسم کی وعید و تخویف سنتے ہوئے، پایان کار ایک ہی انجام کی منتظر ہے۔

اور قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ….

میں نے جانا کہ اس کائنات میں اندھے اتفاق کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ نہ یہ دنیا بغیر کسی سوچی سمجھی اسکیم کے اچانک ہی نمودار ہو گئی ہے ﴿اِنَّا کُلَّ شَیئٍ خَلَقنہُا بِقَدَرٍ(قمر:49)”ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا۔ ” وَ خَلَقَ کُلَّ شَیئٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیرًا(فرقان:۲)”اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ “بے شک یہاں ہر کام کسی نہ کسی حکمت کے مطابق ہو رہا ہے لیکن یہ حکمت نہایت ہی گہری اور پس پردہ غیب میں مستور ہے اور کبھی وہ ہماری نگہ ظاہر بین سے اوجھل بھی رہتی ہے۔ فَعَسٰٓی اَن تَکرَہُوا شَیئًا وَّ یَجعَلَ اﷲُ فِیہِ خَیرًا کَثِیرًا(نساء :19)”ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔ ” وَ عَسٰٓی اَن تَکرَہُوا شَیئًا وَّ ہُوَ خَیرٌ لَّکُم وَ عَسٰٓی اَن تُحِبُّوا شَیئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُم وَ اﷲُ یَعلَمُ وَ اَنتُم لاَ تَعلَمُونََ (بقرۃ:216)”ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ”

رہی متعارف اسباب کی دنیا، جس کے مطابق لوگ کاروبار زندگی چلاتے ہیں تو اس کی حالت بھی یکساں نہیں ہے۔ کبھی تو ان اسباب سے متوقع نتائج نکل آتے ہیں اور کبھی نہیں نکلتے۔ حتیٰ کہ جن مقدمات کو عوام حتمی اور یقینی سمجھتے ہیں ان سے بھی متوقع نتائج برآمد ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ اس کاسبب یہ ہے کہ ان مقدمات واسباب کو ظہور نتائج میں مطلق دخل نہیں ہے۔ یہ تو صرف اللہ کا ارادہ مطلقہ ہے جو خود ان نتائج کا بھی خالق ہے اور اس طرح ان کے اسباب و مقدمات کو بھی پیدا کرتا ہے لاَ تَدرِی لَعَلَّ اﷲَ یُحدِثُ بَعدَ ذٰلِکَ اَمرًا (طلاق:1)” تجھ کوخبر نہیں، شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ “وَ مَا تَشَآئُونَ اِلَّآ اَن یَّشَآء ِ اﷲُ (دھر:30)”اور اللہ کے چاہے بغیر تم کوئی بات چاہ نہیں سکتے۔ “اس میں شک نہیں کہ ترک اسباب ازروئے شریعت روا نہیں ہے۔ مومن انہیں اختیار کرتا ہے اور و ہ مراعات اسباب پر معمور ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے آثار و نتائج کا صحیح اندازہ صرف اللہ کے علم و قدرت میں ہے اور انسان کے لئے پرامن راستہ صرف یہی ہے کہ وہ اللہ کی رحمت، اس کے عدل و انصاف اور اس کے علم و حکمت پر مطمئن ہو اور صرف اسی صورت میں وہ قلق اور وسوسوں سے نجات پا سکتا ہے۔ اَلشَّیطٰنُ یَعِدُکُمُ الفَقرَ وَ یَامُرُکُم بِالفَحشَآء ِ وَ اﷲُ یَعِدُکُم مَّغفِرَۃً مِّنہُ وَ فَضلاً وَ اﷲُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ (بقرہ:286)”شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ ”

ان وجوہات سے جب قرآن کریم کی چھاؤں میں ….

میں زندگی بسر کر رہا تھا تو میرا دل مطمئن تھا، میرا نفس پرسکون تھا اور میرا ضمیر برقرار تھا۔ مجھے ہر حادثہ اور ہر امر اللہ کی قدرت کا کرشمہ نظر آنے لگا۔ میں خاص اللہ کی پناہ اور نگرانی میں جی رہا تھا۔ اور مجھے صفات الٰہی کی ایجابیت (Positiveness)اور فاعلیت (Activeness)کا مکمل شعور تھا۔

اَمَّن یُّجِیبُ المُضطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکشِفُ السُّوٓ ء ِ(نمل:26)”کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے۔ “وَ ھُوَ القَاھِرُ فَوقَ عِبَادِہ وَ ھُوَ الحَکِیمُ الخَبِیرُ(انعام:18)”وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے۔ “وَ اﷲُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمرِہ وَ ٰلکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لاَیَعلَمُونَ(یوسف:12)”اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ” وَ اعلَمُوآ اَنَّ اﷲَ یَحُولُ بَینَ المَرء ِ وَ قَلبِہ(انفال:42)”اور جان رکھو کہ اللہ، آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ “فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیدُ(ھود:107)”جو چاہے کرے۔ “وَّ یَرزُقہُ مِن حَیثُ لاَ یَحتَسِبُ   وَ مَن یَّتَوَکَّل عَلَی اﷲِ فَہُوَ حَسبُہ   اِنَّ اﷲَ بَالِغُ اَمرِہ (طلاق:3)”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر توکل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ “مَا مِن دَآبَّۃٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذ ٌم بِنَاصِیَتِہَا (ھود:25)”کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ ” اَلَیسَ اﷲُ بِکَافٍ عَبدَہ ٗ وَ یُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِینَ مِن دُونِہ (زمر:36)”کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے، یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں۔ ” وَ مَن یُّہِنِ اﷲُ فَمَا لَہ مِن   مُّکرِمٍ (حج:18)”اور جسے اللہ ذلیل اور خوار کرے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ “وَ مَن یُّضلِلِ اﷲُ فَمَا لَہ مِن ھَادٍ(غافر:33)”جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ ”

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو اندھے اور بہرے مشینی قوانین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ دیا بلکہ ان قوانین فطرت کے پیچھے ایک مدبر ارادہ ہے اور ایک مطلق مشیت ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ میں نے یہ بات اچھی طرح جان لی کہ اللہ کی قدرت برابر کام کر رہی ہے۔ لیکن اس کے کام کا ایک خاص طریقہ ہے اور ہمارے لئے مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی کام میں جلد بازی کریں یا اللہ کی بارگاہ میں تجاویز بھیجتے پھریں کیونکہ اسلامی نظام زندگی….جیسا کہ قرآن کے گہرے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے ….بنایا ہی اس لئے گیا ہے کہ وہ ہر معاشرے میں چلے۔ انسانی ترقی کے ہر مرحلے میں اور بنی نوع انسان کے ذہنی ارتقاء کے مختلف حالات میں سے ہر حال میں رائج و نافذ ہو۔ یہ نظام زندگی اس آدمی کے لئے بنایا گیا ہے جو اس کرہ ارض پر زندگی بسرکر رہا ہے۔ اس نظام میں اس آدمی کی فطرت، اس کی قوتوں اس کی قابلیتوں، اس کے حالات، اس کی کمزوریوں اور ہر لمحہ بدلنے والے حالات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ یہ نظام انسانوں کے بارے میں کوئی بری رائے نہیں رکھتا کہ اس کرہ ارض پر اس کی کوئی حیثیت اور وقعت ہی نہ ہو۔ آدمی مختلف شکلوں اور صورتوں کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بحیثیت ایک فرد بھی بحیثیت ایک جماعت بھی اور یہ نظام زندگی کی کسی ظاہری شکل کو حقیر نہیں سمجھتا۔ اسی طرح یہ نظام محض خیالی باتوں کے درپے نہیں ہوتا اور انسانوں کو اس کی حقیقی قدر و منزلت، اس کی طاقت اور قابلیت اور اس کے مقصد وجود سے زیادہ بلند بھی نہیں کرتا، جس کے لئے اسے روز اول سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ نظام ان دونوں حالتوں میں یہ فرض نہیں کرتا کہ فطرت انسانی کے بنیادی عناصر کوئی سطحی چیز ہے اور انہیں کسی قانون کے ذریعے تخلیق بھی کیا جا سکتا ہے۔ یا محض قلم کاری کے بل بوتے پر انسان کو اپنی فطرت سلیمہ سے معراء کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ انسان اپنی فطرت، اپنے میلانات اور اپنی قابلیت کے نقطہ نظر سے اپنی اسی مخصوص شکل میں ایک مستقل “حقیقت ہے اور اسلامی نظام زندگی صرف اس کی رہنمائی کر کے اسے ان بلند درجات تک پہنچانا چاہتا ہے جو اسی کے لئے، اس کے مقصد تخلیق اور اس کی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے مقرر ہیں۔ یہ نظام آدمی کی ذات، اس کی فطرت اور اس کے بنیادی عناصر ترکیبی کا احترام کرتے ہوئے اسے اس راہ پر چلاتا ہے جو سیدھی ذات باری تک جا پہنچتی ہے ….غرض اسلامی نظام زندگی ایک طویل عرصے کے لئے بنایا گیا ہے جس کی طوالت کا صحیح اندازہ اس انسان کے خالق اور اس قرآن کے نازل کرنے والے ہی کے پاس ہے۔ اس لئے، اپنے بلند مقاصد کے حصول کے لئے، یہ نظام نہ تو بے راہ روی اختیار کرتا ہے نہ جلد بازی سے کام لیتا ہے۔ اس کے سامنے ایک طویل عرصہ حیات اور ایک وسیع میدان کار ہے۔ ایک فرد کی عمر اسے محدود نہیں کرسکتی، نہ ہی کسی فنا ہونے والے کی یہ خواہش اور ڈر کہ اپنے انتہائی مقصد تک پہنچنے سے قبل ہی کہیں اس کا سررشتہ حیات نہ ٹوٹ جائے، اسے اپنی فطری رفتار سے تیز کرسکتا ہے۔

عام طور پر دنیاوی نظریات و مذاہب کے حاملین کا حال ایسا ہوتا ہے کہ وہ تمام کام کو ایک ہی نسل میں کر گزرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ فطرت کے متوازن طریق کار سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک متوازن اور صبر آزما طریق کار کے مطابق کام کرنے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں رکھتے۔ اور وہ جو راہ اختیار کرتے ہیں، اس میں قتل و غارت ہوتی ہے، خون ناحق ہوتا ہے، اعلیٰ اقدار پامال ہوتی ہیں اور زندگی کے پرسکون معاملات میں ایک شدید اضطرابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت سے ٹکرا کر ایسے لوگ خود بھی پاس پاش ہو جاتے ہیں اور جب ان کے مصنوعی نظریات فطرت سلیمہ کی زد میں آتے ہیں تو ان کا نام و نشان ہی صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے، کیونکہ فطرت کے مقابلے میں نا پختہ نظریات کبھی نہیں ٹھہر سکتے۔

اس کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی نہایت دھیمی رفتار سے فطر ت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ بعض مواقع پر وہ فطرت کو آگے بڑھاتا ہے، بعض جگہ وہ اسے پیچھے ہٹاتا ہے۔ اگر اس میں کجی آ جائے تو اسے سیدھا کر دیتا ہے، وہ اس میں توڑ پھوڑ کو پسند نہیں کرتا۔ وہ ایک صاحب بصیرت اور صاحب حکمت انسان کی طرح صبر کرتا ہے، جسے منزل مقصود تک پہنچ جانے کا وثوق ہوتا ہے اور جسے یقین ہوتا ہے کہ جو کام اس کوشش میں نہیں ہو پا سکا وہ دوسری میں ہو جائے گا ورنہ تیسری میں، ورنہ دسویں میں، ورنہ ایک ہزارویں میں تو ہو کے رہے گا۔ کیونکہ زمانہ طویل ہے، مقصد واضح ہے اور اعلیٰ مقصد تک پہنچنے کے لئے راہ دور ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک پودا اگتا ہے، اس کی جڑیں زمین میں گہری ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر اس کی شاخیں فضا میں دور دور تک پھیل جاتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے پیوستہ ہوتی ہیں اور اسی میں ان کے لئے امید بہار ہوتی ہے۔ بعینہ اسی طرح اسلامی نظام حیات کا پودا دلوں میں اگتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ بلند ہوتا ہے اور اس کے بعد زمیں پر ہوتا وہی کچھ ہے جس کے بارے میں اللہ کے ہاں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ ہو جائے۔ دیکھئے کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ فصل ریت میں دب جاتی ہے۔ کبھی اسے ٹڈی دل چاٹ جاتا ہے۔ کبھی خشک سالی اسے تباہ کر دیتی ہے۔ کبھی سیلاب اسے بہا کر لے جاتا ہے لیکن ایک صاحب بصیرت کسان اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ فصل اپنی جڑ کے لحاظ سے باقی ہے۔ اسے کامل ہونا ہے اور بالآخر ایک عرصہ بعد وہ اب سب آفات پر غالب آ جاتی ہے لیکن ان سب حالات کے باوجود کسان جلد بازی نہیں کرتا، پریشان نہیں ہوتا اور فطرت کے متوازن اور تدریجی خوشگوار اور پیارے طریق کار کے علاوہ کسی اور مصنوعی طریقے سے وہ اس فصل کو پکانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ یہی ہے اسلامی انقلاب کا ربانی طریقہ کار جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے۔ یہی سنت اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ سنت اللہ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ” وَلَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبدِیلًا

اسلامی نظام حیات کی رو سے اس کائنات کی تعمیر میں سچائی ایک ٹھوس (Solid)حقیقت ہے۔ یہ کوئی سرسری حادثہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی غیر مطلوب و مقصود اتفاق ہے۔ اللہ ہی حق ہے اور ہر موجود اپنا وجود اسی سے اخذ کرتا ہے۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ ھُوَ الحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدعُونَ مِن دُونِہِ البَاطِلُ وَ اَنَّ اﷲَ ھُوَ العَلِیُّ الکَبِیرُ (لقمٰن:30)”یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دوسری چیز کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بزرگ وبرتر ہے۔ “نیز اللہ نے اس کائنات کو حق پر پیدا کیا ہے اور اس کی مخلوق میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔ مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالحَقِّ”اللہ نے یہ سب کچھ بطور حق بنایا ہے۔ “رَبَّنَا مَا خَلَقتَ ھٰذَا بَاطِلاً سُبحٰنَکَ (آل عمران:191)”پروردگار!یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے۔ “حق و صداقت ہی اس کائنات کا قوام ہیں۔ اگر یہ کائنات صداقت کی ڈگر سے ہٹ جائے تو پھر تباہی یقینی ہے۔ وَلَوِ اتَّبَعَ الحَقُّ اَھوَآء ِ ھُم لَفَسَدَتِ السَّمَوَاتُ وَالاَرضُ وَمَن فِیھِنَّ”اور اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین وآسمان اور ان کے درمیان ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ “بَل نَقذِفُ بِالحَقِّ عَلَی البَاطِلِ فَیَدمَغُہ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌ (انبیاء :18) “مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کاسر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے۔ “اس لئے یہ لابدی ہے کہ سچائی ظاہر ہو اور باطل روپوش ہو جائے۔ اگرچہ بظاہر اس کے خلاف نظر آئے۔

نیز نیکی، بھلائی اور احسان بھی، صداقت کی طرح ٹھوس حقائق ہیں اور جب تک یہ دنیا باقی ہے باقی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَنزَلَ مِنَ السَّمَآء ِ مَآء ً فَسَالَت اَو دِیَۃٌ م   بِقَدَرِہَا فَاحتَمَلَ السَّیلُ زَبَدًا رَّابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیہِ فِی النَّارِ ابتِغَآء ِ حِلیَۃٍ اَو مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثلُہ کَذٰلِکَ یَضرِبُ اﷲُ الحَقَّ وَ البَاطِلَ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذہَبُ جُفَآء ً وَ اَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمکُثُ فِی الاَرضِ کَذٰلِکَ یَضرِبُ اﷲُ الاَمثَالَ (رعد:17)”اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا توسطح جھاگ بھی آ گئے اور ایسے ہی جھاگ ان دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لئے لوگ پگلایا کرتے ہیں۔ اسی مثال سے اللہ حق و باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیزانسانوں کے لئے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی طرح مثالوں سے اللہ اپنی بات سمجھاتا ہے۔ “اور دوسری جگہ ہے اَلَم تَرَ کَیفَ ضَرَبَ اﷲُ مثلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرعُہَا فِی السَّمَآ ء ِتُؤتِیٓ اُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِاِذنِ رَبِّہَا وَ یَضرِبُ اﷲُ الاَمثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُم یَتَذَکَّرُونَ وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیثَۃِ نِجتُثَّت مِن فَوقِ الاَرضِ مَا لَہَا مِن قَرَارٍ یُثَبِّتُ اﷲُ الَّذِینَ اٰمَنُوا بِالقَولِ الثَّابِتِ فِی الحَیٰوۃِ الدُّنیَا وَفِی الاٰخِرَۃِ وَ یُضِلُّ اﷲُ الظّٰلِمِینَ وَ یَفعَلُ اﷲُ مَا یَشَآء ُ(ابراہیم:72)”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑیں زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لئے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اس کے لئے کوئی استحکام نہیں ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا و آخرت دونوں میں ثابت عطا کرتا ہے اور ظالموں کو اللہ بھگا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ ”

ذرا غور تو کیجئے اس قدر عظیم اطمینان ہے جسے یہ تصور حیات جنم دے رہا ہے۔ سکون و طمانیت کا ایک سرچشمہ ہے جس کے سوتے قلب مومن میں پھوٹ رہے ہیں۔ کس قدر بھرپور یقین ہے حق و صداقت اور صلاح و تقویٰ پراور قوت اور سربلندی کا مدہوش کن جام ہے جو ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعہ قلب مومن میں انڈیلا جا رہا ہے۔

قرآن کے سائے میں جی کر….

میں اس یقین محکم اور قطعی فیصلے پر پہنچا کہ اس زمین کی اصلاح، اس میں بسنے والی انسانیت کی مسرت، انسان کے لئے اطمینان قلب، اس زمین میں اس کے لئے سربلندی اور برتری، اس کے کاموں میں برکت اور پاکیزگی اور سب سے زیادہ یہ کہ اس کائنات کے قوانین قدرت اور انسانی زندگی کے فطری امور کے درمیان ہم آہنگی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ انسان از سر نو اللہ کی طرف رجوع کرے۔

قرآن کریم کے گہرے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف “رجوع”صرف ایک صورت میں ممکن ہے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک ہے جس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اس نظامِ حیات کے مطابق تبدیل کر دیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی کتاب میں، پوری انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے۔ اس طرح کہ تمام انسان اپنی پوری زندگی میں اس کتاب کو حکم بنائیں اور اپنی زندگی کے تمام حالات و قضیات میں صرف اسی کے مطابق فیصلے کریں۔ اگر یہ صورت نہیں ہوتی تو پھر روئے زمین پر فساد ہی فساد ہو گا، لوگوں کے لئے بدنصیبی مقدور ہو چکی ہو گی، گندیوں کے سیلاب میں گرنا ہو گا اور اس زمین پر جاہلیت کا دور دورہ ہو گا، جو اللہ کے بجائے ہوائے نفس کی بندگی کرے گی۔ فَاِن لَّم یَستَجِیبُوا لَکَ فَاعلَم اَنَّمَا یَتَّبِعُونَ اَہوَآئَہُم وَ مَن اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَواٰہُ بِغَیرِ ھُدًی مِّنَ اﷲ ِ اِنَّ اﷲَ لاَ یَہدِی القَومَ الظّٰلِمِینَ (قصص:50)”اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے توسمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز نہیں بخشتا۔ ”

اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے کرنے کا یہ حکم کوئی مستحب یا اختیاری امر ہی نہیں ہے بلکہ اس پر ہمارے ایمان کا دارومدار ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ایمان نہیں ہے وَ مَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَّ لَا مُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُولُہٓ اَمرًا اَن یَکُونَ لَہُمُ الخِیَرَۃُ مِن اَمرِھِم   وَ مَن یَّعصِ اﷲَ وَ رَسُولَہ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِینًا(احزاب:63)”کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی معاملے میں فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ ” ثُمَّ جَعَلنکَ عَلٰی شَرِیعَۃٍ مِّنَ الاَمرِ فَاتَّبِعہَا وَ لَا تَتَّبِع اَھوَآء َ الَّذِینَ لَا یَعلَمُونَ اِنَّہُم لَن یُّغنُوا عَنکَ مِنَ اﷲِ شَیئًا وَ اِنَّ الظّٰلِمِینَ بَعضُہُم اَولِیَآء ُ بَعضٍ وَ اﷲُ وَلِیُّ المُتَّقِینَ(جاثیۃ:19)”اس کے بعد اے نبیﷺ ، ہم نے تم کو دین کے معاملے میں ایک شاہراہ (شریعت )پر قائم کیا ہے۔ لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔ ”

لہٰذا یہ معاملہ نہایت ہی اہم ہے اور اس کا تعلق اساسی عقائد سے ہے بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر پوری انسانیت کی سعادت و شقاوت کا دارومدار ہے۔ یہ انسانیت جسے اللہ نے تخلیق کیا ہے، اپنی فطرت کا راز اس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک وہ خود صانع کائنات کی بنائی ہوئی چابیوں کو استعمال نہ کرے۔ اس کے دکھ درد اور اس کی بیماریوں کا علاج صرف اس دوا سے ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تجویز ہو اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عقدے کا حل اور ہر بیماری کا علاج صرف اسلامی نظام زندگی میں ودیعت کیا ہوا ہے۔ وَ نُنَزِّلُ مِنَ القُراٰنِ مَا ھُوَ شِفَآء ٌ وَّ رَحمَۃٌ لِّلمُؤمِنِینَ وَ لَا یَزِیدُ الظّٰلِمِینَ اِلَّا خَسَارًا(اسراء :82)”اور ہم نے اس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شفاء اور رحمت ہے مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کچھ چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ” اِنَّ ھٰذَا القُراٰنَ یَہدِی لِلَّتِی ہِیَ اَقوَمُ(اسراء :9)”حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ را ہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ ”

انسانوں کا بھی عجیب حال ہے کہ وہ اس قفل کو اس کاریگر کے پاس نہیں لے جاتے جس نے اسے بنایا۔ بیمار کے علاج کے لئے مشورہ اس ذات سے نہیں کرتے جس نے بیمار کو پیدا کیا۔ و ہ اپنی شخصیت، اپنی انسانیت اور اپنی شقاوت وسعادت جیسے اہم معاملات میں بھی سادہ اور فطری طریق کار اختیار نہیں کرتے جو اپنے روز مرہ کے چھوٹے موٹے کاموں میں استعمال ہونے والے معمولی آلات اور مشینوں کے سلسلے میں اپنی عام زندگی کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ عام طور پر لوگ کسی مشین کو درست کرنے کے لئے اس کارخانے کے انجینئر یا ماہر کو بلاتے ہیں جس نے اس مشین کو تیار کیا ہوتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ انسانیت اس سادہ اصول کو خود اپنے نفس کے بارے میں استعمال نہیں کرتی تاکہ اسے بھی وہ اس کار گاہ کی طرف لوٹا دے جہاں سے یہ نفس تیار ہو کر آیا ہے۔ وہ اس کے معاملات میں اس ذات سے کوئی استفسارنہیں کرتی جس نے اس عجیب و غریب کل کی تخلیق کی۔ یہ عظیم انسانی مشین، نہایت قیمتی، باریک اور نازک، جس کی باریکیوں اور اندرونی پیچیدگیوں کو صرف وہی جانتا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی تخلیق کی اِنَّہ عَلِیمٌم بِذَاتِ الصُّدُورِ اَلاَ یَعلَمُ مَن خَلَقَ وَ ھُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیرُ(ملک:14)”وہ دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے اسے پیدا کیا ہے اور وہ باریک بین اور پورا باخبر ہے۔ “یہیں اس گم کردہ راہ بیچاری حیران و پریشان انسانیت کی بدبختی کا آغاز ہوتا ہے، جو رشد و ہدایت اور آرام وسعادت صرف اسی صورت میں پا سکتی ہے کہ وہ انسانی فطرت کو، اس کے صانع اور خالق کی طرف لوٹا دے۔ جس طرح کہ وہ ایک معمولی مشین کو اس کے ادنیٰ صانع اور بنانے والے کے پاس بغرض اصلاح لے جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا مقام قیادت سے برطرف کر دیا جانا، انسانیت کی تاریخ میں، پوری انسانی تاریخ کا ایک اندوہناک حادثہ تھا۔ انسانوں کی تاریخ میں یہ ایک عظیم الشان اور تباہ کن شکست تھی۔ اور اس سے قبل انسانیت پر جس قدر مصائب بھی نازل ہوئے، ان سب میں سے یہ عظیم تر مصیبت تھی۔

اسلام نے انسانیت کی قیادت کا منصب اس وقت سنبھالا جبکہ پوری دنیا کا نظام فاسد ہو گیا تھا۔ انسان کے لئے زندگی وبال جان بن گئی تھی، قیادت متعفن ہو گئی اور فاسد قیادت اس کے لئے بے پناہ مصائب و آلام کا باعث بن رہی تھی اور دنیا کی حالت یہ تھی کہ ظَہَرَ الفَسَادُ فِی البَرِّ وَ البَحرِ بِمَا کَسَبَت اَیدِی النَّاسِ(روم:41)”خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔ ”

اسلام نے اس قرآن مجید کو دستور حیات بنا کر دنیا کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی، دنیا کو وہ تصور دیا گیا جو قرآن اور اس کی تعلیمات پر مبنی شریعت نے پیش کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں انسانیت کو بالکل ایک نیا جنم ملا جو اس کے طبیعی جنم سے زیادہ عظیم تھا۔ قرآن کریم نے انسانیت کو اس کائنات، حیات انسانی، اعلیٰ اقدار اور زندگی کے معاملات کی تنظیم کے لئے ایک جدا تصور دیا۔ پھر اس نے اس تصور حیات کے مطابق ایک معاشرہ عملاً قائم بھی کر دیا۔ قرآن مجید کے پیدا کردہ اس معاشرے سے قبل، انسانیت کے لئے محض خیالی اور ایسے مجرد معاشرت کا تصور تک ممکن نہ تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت متقاضی نہ ہوتی اور وہ عملاًاس معاشرے کو قائم نہ کر دیتا تو انسانیت کے لئے ایسے بلند و برتر، حسین و جمیل، سہل وسادہ، مثبت و حقیقت پسندانہ اور متوازن ومتناسب معاشرے کا تصور تک کرنا بھی ممکن نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ……..

قرآن کے سائے میں ……..

قرآنی شریعت کے ذریعہ……..

اور اسلامی نظام زندگی کے مطابق……..

اس زندہ و تابندہ معاشرے کو عالم وجود میں لا کھڑا کر دیا۔

وائے ناکامی !پھر اس کے بعد کیا ہوا۔ اس کے بعد یہ تباہ کن شکست اور تاریخی واقعہ عالم ظہور میں آیا۔ اسلام کو مقام قیادت سے ہٹا دیا گیا تاکہ جاہلیت ایک بار پھر، اپنی مختلف شکل میں دندناتی پھرے۔ جیسا کہ آج وہ مادیت کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔ اور انسانیت ہے کہ اس پر فریفتہ ہوئے جا رہی ہے۔ اس کی مثال بعینہ اسی طرح ہے جیسے بچے زرق و برق لباس اور قیمتی رنگارنگ کھلونوں کو دیکھ کر بے تاب ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے اس وقت ہمارے درمیان ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو انسانیت کا دشمن ہے۔ اور اسے صریح دھوکہ دے رہا ہے۔ یہ طبقہ اسلامی زندگی کو ایک ہاتھ میں اور انسان کی مادی ترقیوں کو دوسرے ہاتھ میں رکھ کر دنیا کو کچھ اس رنگ میں دعوت دیتا ہے کہ “ان دو چیزوں میں سے تم کسی ایک کو اختیار کر لو ! یا اسلامی نظام زندگی اختیار کر لو اور مادی میدان میں انسان جو ترقیاں کی ہیں ان سے دست بردار ہو جاؤ اور یا انسان کی علمی ترقیوں کے پھل چن لو اور اسلامی نظام زندگی کو ترک کر دو۔ “یہ نہایت ہی مذموم دھوکہ ہے اور خباثت سے پر سازش ہے، جو اسلام اور پوری انسانیت کے خلاف کی جا رہی ہے۔ کیونکہ مسئلہ کی حقیقی صورت یہ ہرگز نہیں ہے۔ اسلامی نظام زندگی، انسانی ترقیوں کا مخالف نہیں ہے، وہ تو ان ترقیوں کا موجد ہے اور ان کے لئے ترقی و افادیت کی ایک صحیح سمت مقرر کرتا ہے اور مادی ترقیوں کو صحیح رخ پر ڈال دیتا ہے تاکہ انسانیت خلافت فی الارض کے منصب کو خوش اسلوبی سے سنبھال سکے۔ خلافت خداوندی کا یہ منصب عظیم انسان کو خود اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے اور اسی منصب کی وجہ سے انسان کی قدر و منزلت میں دوسری مخلوق کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ اس منصب کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ خاص قوتیں بھی عطا کیں، جو اس کے فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ضروری تھیں۔ اور انسان کے لئے تکوینی قوانین کو سہل کر دیا گیا تاکہ وہ ان فرائض کی ادائیگی میں انسان کائنات میں زندہ رہے، کام کرے اور نئی نئی چیزیں دریافت کرے۔ لیکن اس کی ہر ایجاد اللہ کی عبادت اور بندگی ہو اور اللہ تعالیٰ کے عظیم انعامات و اکرامات پر شکر گزاری کے وسائل میں اسے ایک وسیلہ ہو۔ اور یہ تمام کام اللہ تعالیٰ کی شرط خلافت کے دائر ے کے اندر رہ کر کیا جائے اور انسان کی ہر حرکت اور اس کا ہر عمل رضائے الٰہی کے دائرے کے اندر محدود ہو۔

جولو گ اسلامی نظام حیات کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھتے ہیں اور انسانی ترقیوں کو دوسرے میں دراصل وہ بدنیت اور شریر ہیں۔ وہ اس حیران اور واماندہ انسانیت کے لئے گھات میں بیٹھے ہیں۔ اور جب بھی وہ اس حیرانی اور ہلاکت سے نکل آئے اور اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں پر امن زندگی بسر کرے تو گھات میں چھپے ہوئے یہ دشمن اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ اس میں خلوص دل کی کمی تو نہیں لیکن وہ معاملے کو صحیح طریقے سے سمجھ نہیں سکا۔ اس کی نظر گہری نہیں ہے ´طبعی اکتشافات اور مادی ترقیوں کی چمک دمک نے اس کی نظروں کو چندھیا دیا ہے اور مادی دنیا میں انسان کی عظیم اور بے مثال کامیابیوں سے وہ مرعوب ہے۔ یہ تحیر اور مرعوبیت ان کے شعور کا جزو بن جاتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ طبعی قوانین اور ایمانی اقدار کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی عملی زندگی میں اور اس کائنات میں، ان اقدار کا جو اثر ہوتا ہے وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ اس گروہ نے طبعی قوانین کے لئے ایک علیحدہ میدان کار تجویز کر رکھا اور ایمانی اقدار کے لئے علیحدہ۔ اس کا خیال ہے کہ طبعی قوانین ایمانی اقدار سے متاثر ہوئے بغیر بھی اپنا کام برابر کرتے رہتے ہیں اور اپنے مخصوص نتائج پیدا کرتے چلے جاتے ہیں اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مومن ہیں یا کافر۔ اسلامی نظام زندگی کے متبع ہیں یا مخالف۔ اپنی زندگی کے تنازعات میں اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں یا لوگوں کی خواہشات کے مطابق۔

یہ نہایت ہی غلط نقطہ نظر ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کی دوقسموں کے درمیان تفریق کرتا ہے اور ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیتا ہے حالانکہ دراصل یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمانی اقدار اللہ کے تکوینی قوانین ہی کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔ اور بالکل طبعی قوانین کی طرح ان کے نتائج بھی ایک دوسرے سے مربوط اور باہم پیشہ ہوتے ہیں۔ ایک مومن کے تصور زندگی اور احساسات میں، ان دونوں کے درمیان جدائی کرنے کی کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔

یہ ہے وہ تصور حیات جسے قرآن کریم، انسان کے دل و دماغ میں پیوست کرتا ہے جبکہ وہ قرآن کے سائے میں زندگی بسر کر رہا ہو۔ یہ تصور پیدا کرنے کے لئے قرآن مجید سابقہ کتب سماوی کے حاملین، ان کی بے راہ روی اور آخر کار اس ضلالت کے نتائج کا بھی ذکر کرتا ہے وَ لَو اَنَّ اَھلَ الکِتٰبِ اٰمَنُوا وَاتَّقَوا لَکَفَّرنَا عَنہُم سَیِّاٰتِہِم وَ لَاَدخَلنہُم جَنّٰتِ النَّعِیمِ وَ لَو اَنَّہُم اَقَامُوا التَّورٰۃَ وَ الاِنجِیلَ وَ مَآ اُنزِلَ اِلَیہِم مِّن رَّبِّہِم لَاَکَلُوا مِن فَوقِہِم وَمِن تَحتِ اَرجُلِہِم (مائدۃ:66)”اگر (اس سرکشی کے بجائے )یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور اللہ ترسی کی روش اختیار کرتے توہم ان کی برائیاں ان سے دور کر دیتے، اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچا دیتے۔ کاش انہوں نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو ان کے لئے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا۔ ”

اس تصور کو ذہن نشین کرنے کے لئے قرآن مجید حضرت نوح علیہ السلام کے اس وعدے کا ذکر بھی کرتا ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا فَقُلتُ استَغفِرُوا رَبَّکُم اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرسِلُ السَّمَآء ِ عَلَیکُم مِّدرَارًا وَّ یُمدِدکُم بِاَموَالٍ وَّ بَنِینَ وَ یَجعَل لَّکُم جَنّٰتٍ وَّ یَجعَل لَّکُم اَنہٰرًا (نوح:12)”اور میں نے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے گنا ہ بخشواؤ۔ بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغ لگا دے گا۔ ا اور تمہارے لئے نہریں بہا دے گا۔ ”

پھر اس تصور کو پیدا کرنے کے لئے قرآن مجید لوگوں کی نفسیاتی صورت حال اور خارجی اور واقعاتی دنیا کے درمیان، جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کے ذریعے عالم وجود میں لانا چاہتے ہیں، ایک حسین ربط پیدا کر دیتا ہے۔ اِنَّ اﷲَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِہِم (رعد:11)”بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ ”

اللہ کی ذات پر ایمان، اس کی ٹھیک ٹھیک بندگی اور زمین میں اس کی شریعت کا نفاذ، سب کے سب دراصل اللہ کے قانون قدرت ہی کے نفاذ ہیں۔ یہ قوانین بھی مثبت اثرات کے حامل ہیں اور اسی سرچشمے سے نکلے ہیں جس سے دوسرے تکوینی اور طبعی قوانین نکلے ہیں اور جن کے اثرات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جو رات دن ہمارے مشاہدے و تجربات میں آتے رہتے ہیں۔

بعض اوقات ہمیں ایسے مظاہر سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جو قوانین قدرت کے درمیان اس تفریق کے بارے میں ہمارے لئے باعث فریب ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایمانی قدروں کی محافظت کرتے ہوئے بھی طبعی قوانین کی پیروی کا میابی کی ضمانت دے رہی ہے۔ اس میں شک نہیں ….کہ شروع شروع میں اس تفریق کے نتائج سامنے نہیں آتے، لیکن آخر کار وہ لازماً ظاہر ہوکے رہتے ہیں۔ یہ صورت حال خود اسلامی معاشرے کو بھی پیش آئی۔ ایمانی قدروں اور طبعی قوانین کے نقطہ ارتقاء سے اسلامی معاشرے کی ترقی شروع ہوئی اور جس نقطے سے ان دونوں کے درمیان افتراق ہوا، اسی سے اسلامی معاشرے کا زوال شروع ہو گیا۔ آج جوں جوں ان کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جاتی ہے، اسلامی معاشرہ اسی نسبت سے زیادہ زوال پذیر ہو رہا ہے اور اس کا یہ زوال اب اس درجے تک آ پہنچا کہ مسلمانوں نے بیک وقت اسلامی قدروں اور طبعی قوانین و مادی ترقیات سب کو کھو دیا ہے۔

ا س کے بالمقابل آج مغربی تہذیب قائم ہے اور اس کی مثال یوں ہے جیسا کہ ایک پرندہ صرف ایک مضبوط پر کے بل بوتے پر اڑنا چاہتا ہے اور فضا میں معلق ہو کر پھڑپھڑا رہا ہے اور اس کا دوسر اپر شل ہو کر لٹک رہا ہے۔ یہ تہذیب مادی ایجادات کے میدان میں جس قدر بلند مقام تک جا پہنچی ہے، انسانی قدروں کے لحاظ سے اسی قدر پستیوں میں جا گری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تہذیب مغرب کے فرزند اس قدر جاں گسل قلق و بے چینی اور اس قدر اعصابی ونفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں جس سے مغربی دنیا کے اہل دانش چیخ اٹھے ہیں۔ لیکن اے کاش کہ یہ بدنصیب اسلامی نظام زندگی کی طرف لوٹتے۔ حالانکہ صورت حال کا صحیح علاج و مداوا صرف وہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے جو شریعت بھیجی ہے، وہ اس کائنات کے لئے اللہ کے کلی قانون کا ایک حصہ اور جز ہے لہٰذا اس دنیا میں اس شریعت کو نافذ کرنے کا لازمی اور مثبت اثر یہ ہو گا کہ اس پوری کائنات کی روش اور لوگوں کے طرز عمل کے درمیان ایک حسین ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی۔

شریعت الٰہی ایمان کا ثمرہ اور نتیجہ ہے اور ایمان اس کی بنیاد ہے۔ یہ اپنی اس بنیاد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی۔ اسے وضع ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ ایک مسلم معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں مدد دے۔ اس عظیم کائنات کے بارے میں اور اس کائنات میں انسانی وجود کے متعلق اسلام جو تصور رکھتا ہے، اور اس تصور کے نتیجے میں انسان کے ضمیر میں جو تقویٰ، اس کے شعور میں جو پاکیزگی اس کی اعلیٰ اقدار کے اندر جو عظمت، اس کے اخلاق کے اندر جو بلندی اور اس کے طرز عمل میں جو استقامت پیدا ہو جاتی ہے، یہ سب چیزیں اس شریعت مطہرہ سے مل کر ایک متکامل الاجزا اکائی بن جاتی ہیں۔ اس طرح اس کائنات کے بارے میں سنت الٰہی کی مختلف قسموں کے درمیان مکمل توافق اور ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے خواہ وہ سنت الٰہی ان امور پر مشتمل ہو جنہیں ہم قوانین قدرت کہتے ہیں یا ان امور پر مشتمل ہو جنہیں ایمانی اقدار سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں اس کائنات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے کلی قوانین وسنن کا ایک جزو اور حصہ ہیں۔

انسان بحیثیت ایک کائناتی قوت، اس کا عمل و ارادہ، اس کا ایمان اور نیکی اور اس کی عبادت اور سرگرمیاں سب کی سب ایسی قوتیں ہیں جو اس کائنات میں مثبت اثرات کی حامل ہیں۔ یہ قوتیں اس سنت الٰہی سے مربوط ہیں جس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے۔ یہ سب قوتیں باہم مل کر کام کرتی ہیں اور جب یہ صحیح طریقہ سے جمع ہو جاتی ہیں اور ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے تو اپنے کامل برگ و بار سامنے لے آتی ہیں لیکن جب ان قوتوں کے درمیان افتراق واقع ہو جائے تو ان کے فاسد نتائج ظاہر ہوتے ہیں، ان میں اضطراب رونما ہوتا جاتا ہے اور زندگی کا پورا نظام بگڑ جاتا ہے اور انسانیت بدبختی اور ہلاکت سے دوچار ہوتی ہے۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ لَم یَکُ مُغَیِّرًا نِّعمَۃً اَنعَمَہَا عَلٰی قَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِہِم   وَ اَنَّ اﷲَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (انفال:35)”اللہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی۔ ”

غرض انسان کے عمل و شعور اور عالمگیر سنت الٰہی کے مطابق وقوع پذیر ہونے تمام واقعات و حوادث کے درمیان ایک گہرا ربط ہے جو شخص بھی اس ربط کو ختم کرنا چاہتا ہے، اس ہم آہنگی کو درہم برہم کرتا ہے، اور انسانیت اور عالمگیر سنت الٰہی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، وہ اس انسانیت کا بدترین دشمن ہے اور وہ دراصل اسے نور ہدایت کی طرف آنے سے روکتا ہے۔ انسانیت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کا پیچھا کرے اور اسے اس راہ سے ہٹا کر پرے پھینک دے جس میں وہ حاصل ہے اور یہ وہ ارادہ ہے جو رب کریم تک پہنچاتی ہے۔

تو ایک عرصہ تک قرآن کے سائے میں جی کر……..!

یہ چند نقوش تھے جو میرے دل میں نقش ہوئے، چند خطوط تھے جو لوح دماغ پر ابھرے۔ میں نے انہیں صفحہ قرطاس پر محض ا س لئے منتقل کر دیا ہے کہ شاید ان سے کسی کا بھلا ہو، کسی کو ہدایت ملے اور حقیقت یہ ہے کہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

سورۃ الفاتحہ

 

سورۂ فاتحہ ایک نظر میں

 

اس مختصر اور سات آیتوں پر مشتمل چھوٹی سی صورت کو ایک مسلمان، رات دن میں کم از کم سترہ مرتبہ دہراتا ہے اور جب وہ سنتیں پڑھتا ہے تو یہ تعداد اس سے بھی دوچند ہو جاتی ہے اور اگر کوئی فرائض وسنن کے علاوہ نوافل بھی پڑھتا ہے تو وہ اسے بے شمار مرتبہ دہراتا ہے۔ اس سورت کی تلاوت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ صحیح حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں “اس کی نماز نہیں ہوتی جس نے فاتحہ نہ پڑھی”

اس سورت میں اسلامی عقائد کے بلند اصول، اسلامی تصور حیات کے کلیات و مبادی اور انسانی شعور اور انسانی دلچسپیوں کے لئے نہایت ہی اہم اصولی ہدایات بیان کی گئی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کی ہر رکعت میں اس سورت کا پڑھنا ضروری قرار دیا ہے، اور جس نماز میں اس سورت کی تلاوت نہ ہو اسے فاسد قرار دیا گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

سُورَۃُ الفَاتِحَۃِ

 

﷽(١)الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(٢)الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ(٣)مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ(٤)إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (٥)اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ(٦)صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہِمْ وَلا الضَّالِّينَ(٧)

 

“اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔

تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے، نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا، روز جزاء کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔ ”

 

                بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

اس سورت کا آغاز”﷽”سے ہوا ہے۔ اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ ہر سورت کی ایک آیت ہے یا پورے قرآن مجید کی ایک آیت ہے، اور صرف پڑھتے وقت ہر سورت کا آغاز اس سے کیا جاتا ہے، لیکن راسخ بات یہی ہے کہ بسم اللہ سورۃ فاتحہ کی ایک آیت ہے اور اس کو ملا کر ہی سورۃ فاتحہ کی آیتوں کی تعداد سات ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے :وَ لَقَد اٰتَینَکَ سَبعًا مِّنَ المَثَانِی وَ القُراٰنَ العَظِیمَ(حجر:87) “ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائے جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن کریم عطا کیا۔ “اس آیت کے مفہوم کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے، کیونکہ اس کی سات آیتیں ہیں اور اسے مثانی اس لئے کہا گیا ہے کہ اسے نماز میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔

بسم اللہ سے آغاز کرنا ان آداب میں سے ہے جو اللہ نے اپنے نبیﷺ کو آغاز وحی کے وقت بتا دیئے تھے۔ اِقرَا بِاسمِ رَبِّکَ”پڑھئے اپنے رب کے نام سے۔ “اور یہ ان آداب میں سے ہے، جو اسلامی تصور حیات کے اساسی عقیدے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :ھُوَ الاَوَّلُ وَ الاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَ البَاطِنُ (حدید:3)”وہی پہلے ہے، وہی پیچھے ہے، وہی ظاہر ہے، وہی مخفی ہے۔ “صرف اللہ موجود برحق اور حقیقی وجود رکھتا ہے اور تمام دوسرے موجودات اپنا وجود اس سے لیتے ہیں۔ ہر چیز کاآغازاس سے ہوتا ہے لہٰذا ایک مسلمان ہر آغاز اور ہر حرکت اسی کے نام سے کرتا ہے۔

اللہ کی صفات رحمان و رحیم، جنہیں شروع میں لایا گیا ہے۔ رحمت کے تمام حالات اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کو یکجا طور پر اللہ ہی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ الرحمن اکیلا بھی صرف اللہ ہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے۔ یہ تو جائز ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی انسان کو بھی رحیم کہہ دیں لیکن اسلامی عقائد کی رو سے یہ جائز نہیں کہ ہم بندے کو رحمان کہیں۔ افضل یہ ہے کہ اللہ کے لئے ان دونوں صفات کو بیک وقت استعمال کیا جائے یعنی “رحمان و رحیم”اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کس لفظ کے معنی وسیع تر ہیں لیکن قرآن کے اس سائے میں ہمیں ایسی بحثوں سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے، ہاں ان کا خاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں صفات ملکہ رحمت کے تمام معانی، تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں۔ ﷽سے آغاز کلام، اللہ کی عظمت اور وحدانیت کے معانی پر مشتمل ہوتے ہوئے اگر اسلامی تصور حیات کا پہلا اصول ہے رحمان رحیم کی دو صفتوں میں رحمت کے تمام مفاہیم تمام حالات اور تمام وسعتوں کا سمو دینا، اسلامی تصور حیات کا دوسرا زریں اصول ہے۔ جس سے ایک بندے اور اس کے اللہ کے درمیان تعلق کی صحیح نوعیت کا اظہار ہوتا ہے۔

﷽ کے ساتھ آغاز کرنے کے بعد، اب انسان اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس کی تعریف کرتا ہے اور پوری کائنات کے لئے اس کی عالمگیر ربوبیت کا اعلان کرتا ہے۔

 

                الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

                “تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے “

 

اللہ کی تعریف وہ شعور ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتے ہی قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے اور مومن کا دل اس سے سرشار ہو جاتا ہے کیونکہ وجود انسانی اپنے آغاز ہی میں بے پایاں نعمتوں اور فیوض میں سے ایک فیض ہے، جو قلب مومن میں اللہ کی حمد و ثنا کے جذبات کے مہمیز کا کام کرتا ہے۔

اللہ کی نعمتیں قدم قدم پر، لمحہ لمحہ، مسلسل اور جوق در جوق آتی ہیں اور اللہ کی تمام مخلوقات اور بالخصوص اس “انسان “کو فیض یاب کر رہی ہے۔ لہٰذا اللہ کی حمد سے ہر کام کا آغاز اور اسی کی تعریف وثنا پر ہر کام کا انجام اسلامی تصور حیات کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے وَ ھُوَ اﷲُ لَآ اِٰلہَ اِلَّا ھُوَ   لَہُ الحَمدُ فِی الاُولٰی وَ الاٰخِرَۃِ’وہی اللہ جس کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں اس کے لئے حمد ہے۔ اول میں بھی اور آخر میں بھی۔ “ایسے بندے پر ذرا اللہ کے فضل و کرم کو تو دیکھئے !جب وہ اپنی زبان سے “الحمد ﷲ”ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں وہ بھلائی لکھ دیتا ہے جو سب نیکیوں پر بھاری ہوتی ہے۔ ابن ماجہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا”کسی بندے نے اللہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا یَارَبِّ لَکَ الحَمدُ کَمَا یَنبَغِی لِجَلَالِ وَجھِکَ وَعَظِیمِ سُلطَانِکَ”اے اللہ تیرے لئے ایسی حمد ہے جو تیرے چہرے کی بزرگی اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہو۔ ”

“فرشتے اس معاملے میں متحیر ہوئے اور فیصلہ نہ کرسکے کہ اسے کس طرح لکھیں چنانچہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی “یا خدایا!تیرے بندے نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کس طرح لکھیں۔ “یہ جانتے ہوئے بھی کہ بندے نے کیا کہا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا “تو میرے بندے نے کیا کہا؟”فرشتوں نے عرض کی، اس نے کہا “اے اللہ تیرے لئے ایسی تعریف ہے جو تیرے چہرے کی عظمت و جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے۔ “تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اسی طرح لکھو کہ جس طرح میرے بندے نے کہا۔ قیامت کے دن وہ مجھ سے ملے گا اور میں خود اس کی جزا دوں گا۔ ”

غرض اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہونا ایک مومن کا وہ شعور ہے جو اللہ کا نام زبان پر آتے ہی، قلب مومن میں موجزن ہوتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا حصہ رب العالمین بھی لفظ اسلامی تصور حیات کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اللہ کی عالمگیر اور مطلق ربوبیت اسلامی عقائد کا اصل الاصول ہے۔ رب اس ذات کو کہتے ہیں جو مالک اور متصرف ہو اور عربی لغت میں یہ لفظ اس سربراہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو اصلاح و تربیت کی خاطر کسی چیز میں تصرف کرتا ہے۔ اصلاح تربیت کے لئے تصرف اور ربوبیت تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کو شامل ہے، اللہ نے مخلوقات کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اسے یونہی مسلسل چھوڑ دیا جائے، بلکہ اللہ ہی اس کائنات میں متصرف اور اس کا مصلح ہے، وہ اس کی نگرانی کرتا ہے اور اسے مسلسل پال رہا ہے، تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کی دیکھ بھال رب العالمین کی نگرانی میں کی جا رہی ہے، خالق اور مخلوق کے درمیان ربط و صلہ ہر لمحہ اور ہر حال میں قائم ہے اور ہر وقت رواں دواں ہے۔

اس مکمل اور ہمہ گیر عقیدہ توحید کی تشریح و توضیح اور اس ژولیدہ فکری کے درمیان قطعی امتیاز کر کے رکھ دیتی ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے کہ لوگ خدائے واحد اور صانع کائنات کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ متعدد الٰہوں اور ارباب کے بھی قائل ہیں اور و ہ ان الٰہوں اور ارباب کو اپنی زندگی میں حاکم تسلیم کرتے ہیں۔ اگرچہ بادی النظر ہی میں یہ عقیدہ نہایت ہی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت واقعہ یہی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا اور اب بھی ہے۔ قرآن کریم نے، بعض مشرکین کا یہ عقیدہ بیان کیا ہے۔ جو و ہ اپنے الٰہوں اور ارباب کے بارے میں رکھتے تھے۔

مَا نَعبُدُہُم اِلَّا لِیُقَرِّبُونَآ اِلَی اﷲِ زُلفٰی (زمر:۳)”ہم تو ان کی عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں “۔ جیسا کہ اہل کتاب کے بارے میں کہا گیا۔ اِتَّخَذُوآ اَحبَارَھُم وَ رُہبَانَہُم اَربَابًا مِّن دُونِ اﷲ ِ(توبۃ:۱۳)”انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔ “نزول قرآن کے وقت مشرکین عرب کی حالت یہ تھی کہ وہ بڑے الٰہوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ارباب کے بھی قائل تھے، اور یہ چھوٹے ارباب ان کے خیالات کے مطابق وہ تھے جو بڑے خداؤں کے ساتھ ساتھ خدائی کا کام کر رہے تھے۔

غرض اس صورت میں عالمگیر ربوبیت کا بیان کرنا اور اسے تمام جہانوں کے لئے عام و شامل کرنے سے غرض یہ ہے کہ جاہلیت کے فکری انتشار اور اسلام کی نظریاتی ہم آہنگی کے درمیان واضح طور پر خط فاضل کھینچ دیا جائے تاکہ یہ پوری کائنات اور تمام لوگ صرف ایک اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی حاکمیت مطلقہ (Boundless Sovereignty)کا اقرار کریں اور اپنی گردنوں سے ارباب متفرقوں کی غلامی کاجو اتار پھینکیں اور بے شمار خداؤں کو ماننے سے وہ جس فکری انتشار و پریشانی میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں ا س سے نجات پائیں۔ اور اس طرح اللہ کی مخلوق کا ضمیر اللہ تعالیٰ کی دائمی نگرانی اور قائم ربوبیت کے سائے میں مطمئن ہو جائے، وہ ربوبیت جو کسی وقت بھی منقطع نہیں ہوتی، جس کا سلسلہ ابد الآباد تک قائم دائم اور جاری وساری ہے۔ یاد رہے یہ کوئی ایسی ربوبیت نہیں جس کا تصور ارسطو نے پیش کیا کہ اللہ نے اس کائنات کی تخلیق کی اور پھر اسے یونہی چھوڑ دیا۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے سے فرو تر چیزوں کے بارے میں فکر کرے، وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں فکر کرتا ہے۔ “یہ خیال اس شخص کا ہے جو ایک عظیم فلسفی سمجھا جاتا ہے، اس کا فلسفہ ایک ٹھوس مانا جاتا ہے اور اس کی عقل کو عقل رسا اور اسے عبقری تسلیم کیا جاتا ہے۔

جب اسلامی تعلیمات کا آغاز ہوا تو اس دنیا میں عقائد و تصورات، افکار و توہمات اور فلسفوں اور روایات کا ایک عظیم ذخیرہ موجود تھا جس میں حق و باطل کا کوئی امتیاز نہ تھا۔ کھرے اور کھوٹے میں کوئی جدائی نہ تھی۔ خرافات دین کا جزو تھے۔ فلسفے اور عقائد اوہام و خرافات کا پلندہ تھے، اور انسانی ضمیر ان اوہام و روایات کے تہہ بہ تہہ ذخیرے کے نیچے دب گیا تھا اور یقین سے محروم وہم و گمان کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔

یہ حیرانی و پریشانی کیا تھی، جس میں اسے نہ سکون ملتا اور نہ نور ہدایت کی کرن نظر آتی ؟یہ فقط اس وقت کا تصور الٰہ تھا۔ الٰہ العالمین اس کی صفات، مخلوق سے اس کا تعلق ایسے مسائل، بالخصوص اللہ تعالیٰ اور انسان کے باہم تعلق کی صحیح نوعیت، اس وقت کے تمام عقائد اس ضلالت اور گمراہی کا شکار تھے۔

اور اس سے قبل کے انسان اپنے اللہ اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی تصور قائم کرتا اور اس وقت کی موجود سرگرمی، سرگردانی اور اوہام و تخیلات کے بھاری بھرکم ذخیرے سے نجات پاتا، انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اس کا ضمیر اس کائنات کے بارے میں یا خود اپنے نفس کے بارے میں اور اپنے لئے کسی نظام زندگی کے بارے میں مطمئن ہو جائے اور اسے قرار وسکون حاصل ہوسکے (لہٰذا سب سے پہلے تصور الٰہ کی درستگی اور ان باطل نظریات سے نجات ضروری تھی)

اس سکون اور تطہیر عقائد کی ضرورت اور اہمیت کا احساس، انسان کو اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس فکری ضلالت کے طول و عرض سے خوب واقفیت نہ رکھتا ہو، اور اسے اس بارے میں پورا علم نہ ہو کہ جب اسلام آیا تو انسان کے دل و دماغ پر غلط عقائد و تصورات، باطل فلسفوں اور غلط روایات کی کس قدر تہیں جمی ہوئی تھیں۔ ہم نے یہاں تو ان کی طرف اجمالی اشارہ کیا ہے۔ تفصیلی بحث ان مقامات میں ہو گی جہاں قرآن کریم نے تفصیلاً ان تصورات سے بحث کی ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر اسلام نے سب سے پہلے اسلامی عقائد اور اسلام کے اساسی تصورات سے تفصیلی بحث کی اور اللہ کی ذات و صفات، مخلوقات سے اس کے تعلق اور مخلوق کے اپنے خالق کے ساتھ ربط کی نوعیت کے بارے میں اسلامی تصور کو قطعی اور یقینی طور پر واضح اور متعین کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی بنیاد، وہ کامل، خالص اور ہمہ گیر توحید بنی جس میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا۔ اسلامی تعلیمات میں مسلسل اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اٹھنے والے تمام شکوک و شبہات کا قلع قمع کیا گیا۔ اس کے متعلق ہر قسم کے خلجان اور اجمال کو دور کیا گیا اور اسے پاک وصاف کر کے خالص اور واضح شکل میں دل مومن میں جاگزیں کیا گیا تاکہ وہ اس معاملے میں کسی طرح وہم و گمان کا شکار نہ ہو، اسلام نے اللہ کی صفات اور صفت ربوبیت مطلقہ کے بارے میں بھی دو ٹوک اور واضح تعلیمات دیں۔ کیونکہ غلط فلسفوں اور بے اصل نظریات کا ایک بڑا حصہ انہی شرکیہ اوہام واساطیر پر مشتمل تھا جو اللہ کی صفات کے بارے میں، ان غلط فلسفوں نے لوگوں کے دل و دماغ میں جاگزیں کر دی تھیں اور انسانی ضمیر پر ان کا بڑا اثر تھا اور پھر انسانی طرز عمل پر بھی یہ تصورات اثر انداز ہو رہے تھے۔

جن لوگوں نے ان کوششوں کا سرسری مطالعہ کیا ہے جو اسلام نے اللہ کی ذات و صفات اور مخلوق کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کے لئے اور جن کے بیان میں قرآن کی لاتعداد آیات نازل ہوئیں اور اس نے ان باطل فلسفوں اور شرکیہ نظریات کا مطالعہ نہیں کیا جن کے بھاری بھرکم بوجھ تلے انسانی ضمیر دبا ہوا تھا۔ اور پوری انسانیت ان نظریات میں گم گشتہ تھی، تووہ قرآن مجید کی ان کوششوں، عقائد کے بارے میں بے حد تاکید و تکرار اور تفصیل و توضیح کی حقیقی وجہ کو ہرگز نہ پا سکے گا۔ لیکن اس کے برعکس جو شخص ان باطل نظریات و عقائد کا گہرا مطالعہ کرے گا جو نزول قرآن کے وقت رائج تھے، اس پر ان کوششوں کی حقیقت و اہمیت اور ضرورت اچھی طرح واضح ہو جائے گی۔ وہ سمجھ سکے گا کہ عقیدۂ توحید نے انسانی ضمیر کی آزادی میں کیا پارٹ ادا کیا۔ کیونکہ اس سے انسان کو اوہام و اساطیر اور متعدد خداؤں کی دیومالائی تصورات سے نجات دی۔

غرض عقیدۂ توحید کاحسن، اس کا کمال، اس کی ہم آہنگی اور جس حقیقت کا اس میں اظہار کیا گیا ہے، اس کی سادگی اور واقعیت پسندی، اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک انسان ان باطل تصورات و عقائد اور اساطیر و روایات کا اچھی طرح جائزہ نہ لے جو اس وقت دنیا میں رائج تھے۔ بالخصوص ذات باری کی حقیقت، اس دنیا کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت وغیرہ، غرض ان باطل افکار کے گہرے مطالعے کے بعد ہی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلامی نظریۂ حیات دراصل ایک نعمت ہے۔ یہ قلب و نظر دونوں کے لئے رحمت ہے، اس کاحسن اور سادگی انعام الٰہی ہے، انسانی فطرت سے اس کی ہم آہنگی اور معقولیت، ذہن انسانی سے قرب اور مانوسیت اور اس کا توازن اور اعتدال یہ سب کچھ اللہ کی رحمت خاص ہے جو اس نے اپنی مخلوق پر کی۔

 

                الرحمن الرحیم

 

الرحمن الرحیم کی صفت کو یہاں وسط سورت میں بطور ایک مستقل آیت پھر دہرایا جا رہا ہے۔ یہ رحمت و شفقت کے تمام معانی، تمام حالات اور تمام وسعتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اور یہاں دوبارہ لانے کی غرض و غایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عالمگیر ربوبیت کی ان صفات کے ایک نہایت ہی ممتاز پہلو کو نمایاں کیا جائے اور خالق و مخلوق اور اللہ اور اس کے پروردہ بندوں کے درمیان ربط و تعلق کو حمد و ثنا پر ابھارتا ہے اور یہ وہ تعلق ہے جو اطمینان قلب کی اساس پر قائم ہے اور اس کی تاریں محبت کے ساتھ بھرے ہوئے دل میں جڑی ہوئی ہیں۔ لہٰذا الحمد للہ درحقیقت انسانی فطرت کی وہ آواز ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے جواب میں بلند کرتی ہے۔

اسلام نے اللہ اور رب کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اس تصور سے سراسر مختلف ہے جو اولمپک (Olympic)خداؤں کے متعلق یونانی افکار نے پیش کیا۔ اس تصور کے مطابق یہ قسی القلب خدا زمانہ امن اور حالت جنگ دونوں میں یکساں طور پر اپنے بندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔ اور ایک دشمن کی طرح اپنے بندوں کے تعاقب میں لگے رہتے تھے۔ لیکن اسلام کا الٰہ العالمین اپنے بندوں کے لئے وہ انتظامی تدابیر اختیار نہیں کرتا جن کا ذکر عہد نامہ قدیم کی منحرف روایات میں ہوا ہے۔ مثلاً سفر تکوین کے باب ۱۱ میں بابل کے متعلق جو داستان بیان کی گئی ہے وہ اس کی واضح ترین مثال ہے (“اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی اور ایسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے ان کو ملک سنمار میں ایک میدان ملا اور وہاں بس گئے اور انہوں نے آپس میں کہا آؤ ہم اینٹیں بنائیں اور ان کو آگ میں خوب پکائیں۔ سو انہوں نے ے پتھر کی جگہ اینٹ سے اور چونے کی جگہ گارے سے کام لیا۔ پھر وہ کہنے لگے آؤ ہم اپنے واسطے ایک شہر اور ایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے، بنائیں اور یہاں اپنا نام کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم تمام روئے زمین پر پراگندہ ہو جائیں اور خداوند اس شہر اور برج کو جس کو بنی آدم بنانے لگے، دیکھنے کو اتر ا ور خداوند نے کہا دیکھو !یہ لوگ سب ایک ہیں اور ان سبھوں کی ایک ہی زبان ہے۔ وہ جو یہ کرنے لگے ہیں تواب کچھ بھی جس کا وہ ارادہ کریں ان سے باقی نہ چھوٹے گا۔ سو آؤ ہم وہاں جا کر ان کی زبان میں اختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھ سکیں۔ پس خداوند نے ان کو وہاں سے تمام روئے زمین میں پراگندہ کیا۔ سو وہ اس شہر کے بنانے سے باز آئے۔ اس لئے اس کا نام بابل ہوا کیونکہ خدا نے وہاں ساری زمین کی زبان میں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خداوند نے ان کو تمام روئے زمین پر پراگندہ کیا۔ “)

 

                مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ

                “روز جزاء کا مالک ہے۔ “

 

اس آیت میں اسلام کا وہ اصولی اور بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے، جس کے اثرات پوری انسانی زندگی پر نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے روز جزاء کے بارے میں ملکیت کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جو قبضہ واستیلاء اور تصرف و اختیار کے نہایت اعلیٰ درجے کو ظاہر کر رہا ہے۔ یو م الدین سے مراد قیامت کا روزِ جزاء ہے۔ یاد رہے کہ نزول قرآن کے وقت بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کو الٰہ مانتے تھے۔ اور اللہ کی صفت تخلیق پربھی یقین رکھتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ اللہ ہی اس دنیا کو عدم سے وجود میں لایا، اس کے باوجود وہ یومِ جزاء اور حساب کتاب کے قائل نہ تھے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے : وَلَئِن سَاَلتَھُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ لَیَقُولُنَّ اللّٰہ”اگر آپ نے ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے۔ “اور دوسری جگہ میں ہے : بَل عَجِبُوآ اَن جَآئَہُم مُّنذِرٌ مِّنہُم فَقَالَ الکٰفِرُونَ ھٰذَا شَیئٌ عَجِیبٌ، أَ اِذَا مِتنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجعٌ م بَعِیدٌ(ق:۳-۲)”انہیں یہ بات عجیب لگی کہ ان کے پاس خود ان میں سے ڈرانے ولا آیا۔ کافروں نے کہا یہ اچنبھے کی بات ہے۔ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے تو پھر آنا عقل سے بعید کی بات ہے۔ ”

یوم آخرت پر ایمان اسلام کے اساسی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے اور لوگوں کے دل اور دماغ میں، اس جہاں سے آگے، دار آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرنے میں اس کی اہمیت حد درجہ مسلمہ ہے۔ اس عقیدے پہ ایمان لانے والے اس دنیائے دنی کی ضروریات کے حصول ہی میں منہمک نہیں ہو جاتے بلکہ اس عقیدے پر ایمان لانے کے بعد وہ دنیاوی حوائج و ضروریات سے بلند ہو کر سوچتے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ اس محدود مختصر عمر اور دنیا کے اس تنگ دائرہ مکافات میں انہیں اپنے اعمال حسنہ کی پوری جزاء ملتی ہے یا نہیں۔ بلکہ ان کی تمام نیکی اور اللہ کی راہ میں تمام جدوجہد سے مقصود صرف اللہ کی رضا جوئی ہوتی ہے۔ وہ اعمال کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے ہیں۔ خواہ وہ اس دنیا میں ملے یا آخرت میں ملے۔ وہ مطمئن رہتے ہیں۔ انہیں حق و صداقت پر بھروسہ ہوتا ہے۔ وہ حق پر جم جاتے ہیں اور وہ دولت یقین، وسعت قلب و نظر اور حسن خلق کے مالک ہو جاتے ہیں ….غرض یہ اصولی عقیدہ اس بات کے لئے معیاروکسوٹی ہے کہ کوئی انسان محض اپنی خواہشات وم رغوبات کا بندہ و غلام ہے یا اسے انسان کی انسانیت کے لائق آزادی و حریت بھی حاصل ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس جہاں میں دنیاوی اقدار، مادی تصورات اور جاہلیت کو برتری حاصل ہے یا ربانی اقدار، روحانی تصورات اور اسلامی نظریۂ حیات کو جاہلیت کی منطق پہ غلبہ حاصل ہے۔ نیز اس اصولی عقیدے کے ذریعے وہ بلند مقام نکھر کر سامنے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے اور ناقص، نا خالص اور منحرف تصورات حیات اور انسانیت کے اس بلند مقام کے درمیان فرق وامتیاز بھی واضح ہو جاتا ہے۔

جب تک انسانوں کے دل و دماغ میں یہ اصولی عقیدہ جاگزیں نہیں ہو جاتا، اور لوگوں کے دلوں میں یہ اطمینان پیدا نہیں ہو جاتا کہ دنیاوی فوائد اور مادی مرغوبات انسان کا پورا مقدر نہیں ہے اور جب تک محدود عمر رکھنے والا یہ انسان، یہ یقین نہیں کر لیتا کہ ایک آنے والی زندگی بھی ہے اور اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اگلے جہاں اور اس زندگی کے لئے بھی محنت کرے، اس کے لئے قربانی دے، حق کی نصرت کرے، بھلائی میں تعاون کرے اور یہ کہ ان سب باتوں کا اجر اسے آخرت میں ملے گا، اس وقت تک انسانی زندگی اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں ہوسکتی۔

عقیدۂ آخرت پر یقین رکھنے والا اور اس کا انکار کرنے والا اخلاق و شعور اور فکر و عمل میں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا یہ دونوں گروہ اللہ کی مخلوقات کے علیحدہ علیحدہ انواع ہیں۔ یہ دونوں مختلف طبائع رکھتے ہیں اور اس دنیا میں ان دونوں کا طرز عمل ہرگز ایک نہیں ہوسکتا اور نہ آخرت میں یہ دونوں ایک ہی طرح کے جزاء کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ عقیدہ ان دونوں کے درمیان ایک واضح فرق و امتیاز کا باعث بن جاتا ہے۔

 

                اِیَّاکَ نَعبُدُ وَ اِیَّاکَ نَستَعِینُ

                “ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں “

 

یہ بھی ایک اصولی عقیدہ ہے اور اس سے پہلے جن عقائد کا ذکر ہوا ہے انہی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اللہ کے سواکوئی بندگی اور عبادت کے قابل نہیں ہے، اور نہ کوئی اس قابل ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے۔ یہ عقیدہ بھی اس میدان میں حق و باطل کے درمیان فرق کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ ہر قسم کی غلامیوں سے مکمل آزادی کیا ہوتی ہے، اور انسان کی جانب سے دوسرے انسانوں کی غلامی کی حقیقت کیا ہے ؟یہ اصول دراصل اس بات کا اہم اعلان عام ہے کہ انسان کو مکمل اور بھرپور آزادی ملنی چاہئے۔ اوہام و خرافات کی پیروی سے آزادی، غلط اوضاع و اطوار کی پابندی سے آزادی اور باطل نظام زندگی کی اطاعت سے آزادی صرف ایک اللہ کی بندگی رہے اور صرف ایک اللہ سے نصرت طلب ہو توانسانی ضمیر کو دوسرے انسانوں، جاہلی نظامہائے حیات اور رسم و رواج کی جکڑ بندیوں سے آزادی نصیب ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اوہام و خرافات اور مذہبی دیومالائی تصورات (Mythology)اور کائناتی قوتوں (Physical Power)کے بارے میں ایک مسلمان کے نقطہ نظر کو واضح کر دیا جائے۔

ایک مسلمان کے نقطہ نظر سے انسانی قوت و اقتدار کی دوقسمیں ہیں۔ ایک وہ قوت ہے جو ہدایت اور صراط مستقیم پر قائم ہوتی ہے اور اسلامی نظام زندگی کی مطیع ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ایک مسلم کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ بھلائی، سچائی اور اصلاحی کاموں میں اس کا معاون و مددگار ہوتا ہے اور اسے اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ دوسری جاہلی قوت ہوتی ہے جو صراط مستقیم سے بھٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ اسلامی نظام زندگی کی مطیع نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں ایک مسلمان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرتا ہے، اس سے لڑتا ہے اور اسے ختم کر کے اس کی جگہ صحیح قوت و اقتدار قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یاد رکھیئے !مسلم کو جاہلی قوت کی ظاہری جسامت اور شان و شوکت کو دیکھ کر مضطرب نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ ایک مسلمان کے لئے قوت کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے۔ اور جاہلیت اپنی طاقت کے اس اصل سرچشمے کو کھو چکی ہوتی ہے، جو مسلسل اور دائمی طور پر انسان کو قوت فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اجرام فلکی میں سے کوئی عظیم جسم جب کسی جلتے ہوئے ستارے سے جدا ہوتا ہے تو بہت دیر نہیں گزرتی کہ وہ بجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کی روشنی مدھم اور تپش ختم ہو جاتی ہے، اگرچہ اس کا ظاہری جسم عظیم الشان ہو۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک حقیر ذرہ بھی اپنی قوت اور روشنی کے اصل منبع سے جڑا ہوتا ہے تو وہ اس سے مسلسل حرارت و روشنی حاصل کرتا رہتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے : کَم مِّن فِئَۃٍ قَلِیلَۃٍ غَلَبَت فِئَۃً کَثِیرَۃً م بِاِذنِ اﷲِ”بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت نے اللہ کے حکم سے ایک کثیر جماعت پر غلبہ پایا”(البقرہ:۲۴۹)۔

رہی طبیعاتی قوت تو اس کے ساتھ ایک مومن کا تعلق علم و معرفت اور دوستی وہم آہنگی کا تعلق ہوتا ہے۔ خوف اور دشمنی کا تعلق نہیں ہوتا۔ کیونکہ انسانی اور طبعی دونوں قوتیں ایک مصدر اور ایک مشیت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ یعنی ارادہ ربی کے تابع ہوتی ہیں اور دونوں خالق کائنات کے ارادوں کے سامنے محکوم و مقہور ہیں۔ ان کے درمیان مکمل آہنگی اور پورا تعاون ہے۔ وہ یکساں طور پر متحرک ہوتی ہیں اور ان کی حرکت کی سمت بھی ایک ہوتی ہے۔

ایک مسلمان کا عقیدہ اور نظریۂ حیات ہی اسے یہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا ہی اس لئے ہے کہ مومن اس کا دوست، معاون اور پشتیبان ہو اور اس دوستی کا تحقق اس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک مومن کائنات میں غور و فکر کرے، اس سے متعارف ہو۔ اس کے ساتھ تعاون کرے اور اس کائنات کے ساتھ مل کر اپنے رب کی طرف منہ موڑے۔ اگرچہ بظاہر بعض اوقات طبعی قوتیں انسان کے لئے باعث مضرت ہوتی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہوتی ہے انسان ان کے سمجھنے میں غلطی کرتا ہے۔ وہ ان کے بارے میں گہری سوچ بچار نہیں کرتا اور وہ اس اصلی طاقت کو بھول جاتا ہے جو اس پوری کائنات کو چلا رہی ہے۔

رومی جاہلیت کے وارث مغرب کے ہاں یہ فیشن سا ہو گیا ہے کہ وہ طبعی طاقتوں کے استعمال کو “تسخیر طبیعت”کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ تعبیر صاف صاف بتا رہی ہے کہ اس جاہلیت کا رشتہ رب کائنات سے ٹوٹ چکا ہے اور اسے کائنات کی اس روح سے کوئی تعلق نہیں ہے جو اللہ کو لبیک کہہ رہی ہے۔ رہا وہ مسلمان جس کا دل رحمان و رحیم سے متعلق ہے اور وہ اس کائنات سے بھی پیوستہ ہے جو اللہ رب العالمین کی تسبیح و تہلیل میں ہر قوت محو ہوتی ہے، وہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ قہر و جفا کے علاوہ کائنات کے ساتھ تعلق کی ایک دوسری نوعیت بھی ہے۔ اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے اس پوری کائنات اور اس کی تمام قوتوں کو پیدا کیا ہے۔ اور اس کے لئے قانون قدرت کا ضابطہ کار مقرر کیا تاکہ یہ تمام قوتیں، اس کے دائرے کے اندر اندر، وہ مقاصد پورے کریں جو اللہ کو مطلوب ہیں۔ اللہ نے اس کائنات کو صرف انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سہولت دی کہ وہ اس کے قوانین و ضوابط کو سمجھ سکے اور اس کے بھیدوں کوپا سکے۔ جب بھی وہ ان رازوں میں سے کسی نئے راز کو پالے تو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے اس کیلئے اس کائنات کو مسخر کیا ہے۔ از خود انسان کے بس میں یہ فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے اس کے لئے اس کائنات کو مسخر کیا ہے۔ از خود انسان کے بس میں یہ بات نہ تھی کہ وہ اس کائنات کو مسخر و مغلوب کرسکتا۔ سَخَّرَ لَکُم مَّا فِی الاَرضِ۔ “مسخر کیا اس نے تمہارے لئے ان سب چیزوں کو جو زمین میں ہیں۔ ”

اس تصور کے نتیجے میں، ان کائناتی قوتوں کے بارے میں ایک مومن کا احساس و شعور، ہر قسم کے اوہام و خرافات سے پاک ہوتا ہے۔ اس کے اور ان کائناتی قوتوں کے درمیان خوف وہراس کے پردے حائل نہیں ہوتے۔ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لاتا ہے، صرف خدائے واحد کی بندگی کرتا ہے اور صرف رب یکتا سے نصرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ رہیں یہ طبعی قوتیں تو اس کے تصور کائنات کی روسے، یہ بھی اللہ کی مخلوقات کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔ وہ ان میں غور و فکر کرتا ہے، ان میں دلچسپی لیتا ہے، اور ان کے بھیدوں کو پانے کی کوشش کرتا ہے، اس کے جواب میں یہ تکوینی قوتیں اس کی مددگار ہوتی ہیں اور اس کے سامنے اپنے راز کھول کر رکھ دیتی ہیں اور وہ ان قوتوں کے ساتھ پرامن “شفیقانہ “ایک صدیق صمیم اور یار مانوس کی سی زندگی بسرکرتا ہے۔ جبل احد کی طرف نظر اٹھاتے ہوئے رسول اللہﷺ نے کیا خوب کہا”یہ پہاڑ ہے اسے ہم سے محبت ہے اور ہمیں اس سے محبت ہے۔ “یہ کلمات اس حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں کہ مسلم اول حضرت نبیﷺ کے دل میں اس کائنات کی ٹھوس ترین شکل ایک پہاڑ کی بھی کس قدر وقعت اور محبت تھی اور ان کو اس کے ساتھ کس قدر لگاؤ تھا۔

اسلامی تصور حیات کی ان اصولی باتوں کے بعد اور اس بات کی وضاحت کے بعد کے عبادت واستعانت میں ایک مسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا ہوتا ہے۔ اب ان باتوں کی عملی تطبیق شروع ہوتی ہے۔ دعا اور تضرع کے ذریعے اب بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور یہ دعا بھی ایک اصولی دعا ہے جو اس صورت کی اصولی فضاء اور اس کے مجموعی مزاج سے مکمل ہم آہنگی اور مطابقت رکھتی ہے۔

 

                اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ(٦)صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْہِمْ وَلا الضَّالِّينَ(٧)

                “ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔”

 

“ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ یعنی ہمیں سیدھے اور منزل مقصود تک پہنچانے والے راستے کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اور اس کو سمجھنے کے بعد اس پر چلنے کی استقامت دے۔ کیونکہ معرفت حق اور پھر اس پر استقامت دراصل اللہ کی رحمت شفقت اور رہنمائی کا ثمرہ ہوتی ہے اور اسی بارے میں اللہ کی طرف رجوع کرنا دراصل عقیدۂ توحید کا ثمرہ ہے۔ لہٰذا ایک مومن جن معاملات میں اپنے رب سے مدد اور نصرت طلب کرتا ہے ان میں سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق کی دعا ایک نہایت ہی اہم اور عظیم مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا و عقبیٰ کی سعادت اس پر موقوف ہے کہ انسان جادہ مستقیم کی طرف راہنمائی پائے۔ اور جادۂ مستقیم تک رسائی دراصل اس الٰہی ناموس تک رسائی ہوتی ہے جو اس پوری کائنات کی حرکت اور اس کے اندر اس چھوٹے سے انسان کی حرکت کے درمیان توازن وتناسق پیدا کر رہا ہے اور ان دونوں کو اللہ رب العالمین کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔

اس کے بعد باری تعالیٰ اس راستے کی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں “وہ ان لوگوں کاراستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے اور جو بھٹکے ہوئے نہیں۔ “یعنی ان لوگوں کاراستہ جن کی قسمت میں اللہ کا انعام لکھا ہوا ہے اور ان لوگوں کا راستہ نہیں جنہوں نے حق کو جانا اور پھر اس سے روگردانی اختیار کی۔ یا جو سرے سے راہ حق کی معرفت ہی سے محروم رکھے گئے۔ اور ہدایت ہی نہ پا سکے۔ بلکہ ان لوگوں کی راہ سعادت مند اور واصلین حق ہیں۔

غرض یہ ایک مختصر اور بکثرت نماز میں دہرائے جانے والی سورت ہے، جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور مختصر ہونے کے باوجود اسلامی نظریۂ حیات کے نہایت ہی اہم اور اصولی عقائد پر مشتمل ہے۔ نیز اس میں وہ شعوری ہدایات دی گئی ہیں جن کے سرچشمے اسلامی تصور حیات سے پھوٹتے ہیں۔

صحیح مسلم میں حضرت علاء رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں :”اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان پورا پورا تقسیم کر دیا ہے۔ نصف اپنے لئے اور نصف بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو وہ طلب کرے۔ جب بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “میرے بندے نے میری حمد اور تعریف کی”اور جب بندہ الرحمن الرحیم ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “میرے بندے نے میری ثناء کی “جب و ہ مالک یوم الدین پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔ اور جب وہ کہتا ہے ” إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ “تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے کے لئے وہ کچھ ہے جو اس نے طلب کیا اور جب وہ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ…….. وَلا الضَّالِّينَ” تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لئے ہے اور اس کے لئے وہ کچھ ہے جو اس نے مانگا۔ ”

اس بیان اور تفسیر کی روشنی میں وہ حکمت کھل کر سامنے آ جاتی ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو کم از کم سترہ مرتبہ نماز کے دوران پڑھنا فرض قرار دیا ہے، اور اگر کوئی اس سے زیادہ پڑھتا ہے تو یہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ دہرائی جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

سورۃ بقرہ ایک نظر میں ۔۔ درس ۱

 

سورۃ بقرہ کا شمار ان ابتدائی سورتوں میں ہوتا ہے جن کا نزول ہجرت کے متصل مابعد شروع ہوا۔ قرآن مجید کی تمام سورتوں میں یہ طویل ترین سورت ہے۔ راجع قول یہی ہے کہ اس کی آیات کا نزول اس طرح تسلسل کے ساتھ نہیں ہوا کہ اس کی تکمیل سے قبل کسی دوسری سورت کی کوئی آیت نازل نہ ہوئی ہو۔ کیونکہ جب ہم سورۃ بقرہ کی بعض آیات اور مدینہ میں نازل ہونے والی دوسری طویل سورتوں کی بعض آیات کے اسباب نزول پر غور کرتے ہیں (اگرچہ اسباب نزول کے واقعات قطعی الثبوت نہیں ہوتے )تو معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام سورتوں کی آیات کا نزول تسلسل سے نہیں ہوا۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت کا نزول شروع ہو جاتا ہے لیکن ابھی اس کی ابتدائی آیات ہی نازل ہوئی ہوتی ہیں کہ دوسری سورت کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سورتوں کے زمانہ نزول کے تعین کا دارومدار ان کی ابتدائی آیات پر ہوتا نہ کہ پوری سورت پر مثلاً سورۂ بقرہ کی آیت ربا کا شمار ان آیات میں ہوتا ہے جو نزول قرآن کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ حالانکہ راجح قول کے مطابق بقرۃ کا ابتدائی حصہ مدنی دور میں سب سے پہے نازل ہوا۔

آیات قرآنی کی ترتیب اور انہیں ایک سورت کی شکل میں جمع کرنے کا کام براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی روشنی میں ہوا۔ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا “آپ لوگوں نے سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو باہم ملا دیا حالانکہ انفال مثانی میں سے ہے اور توبہ “مئین”میں سے ہے۔ نیز آپ حضرات نے دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر بھی نہیں لکھی اور ان کو سبع طوال میں رکھ دیا ہے۔ معلوم نہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا”دراصل بات یہ تھی کہ رسول اللہﷺ پر بیک وقت متعدد سورتیں نازل ہوتی رہتی تھیں، جب کبھی آپ پر نئی آیات کا نزول ہوتا، آپ کاتبین وحی میں سے کسی کو بلا لیتے اور حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں فلاں سورت میں شامل کر دو۔ “سورۂ انفال ان سورتوں میں سے تھی جو مدینہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی اور سورۂ توبہ ایسی آیات پر مشتمل تھی جن کا نزول سلسلہ نزول قرآن کے آخری دور میں ہوا۔ ان دونوں کے مضامین چونکہ باہم مشابہ تھے، اس لئے میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ انفال ہی کا حصہ ہے۔ اس اثناء میں نبیﷺ کا انتقال ہو گیا اور آپ کو اس بات کی وضاحت کا موقع نہ ملا کہ وہ انفال کا حصہ ہے یا نہیں ؟ان وجوہات کی بناء پر میں نے ان دونوں سورتوں کو باہم ملا دیا اور اسی لئے دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھا اور ان کو “سبع طوال “میں رکھ دیا۔ ”

یہ روایت صاف صاف بتا رہی ہے کہ سورتوں کی شکل آیات کی ترتیب خاص نبیﷺ کی ہدایات کے تحت تکمیل پذیر ہوئی۔ امام مسلم اور بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں “رسول اللہﷺ….بھلائی کرنے میں بے حد کشادہ دل تھے۔ بالخصوص رمضان المبارک میں تو آپ کی فراخ دلی کی کوئی انتہا نہ رہتی تھی۔ پورے رمضان المبارک میں ہر رات جبرائیل امین آپﷺ سے ملتے تھے اور نبیﷺ آپ کو قرآن سناتے تھے۔ بعض روایات میں فیدارسہ القرآن کے لفظ آتے ہیں۔ یعنی باہم پڑھتے پڑھاتے تھے۔ تو جب رمضان میں جبرائیل امین آپ سے ملتے تو آپ کار خیر کے لئے فراخدلی میں، ان ہواؤں سے بھی بڑھ جاتے جو بارش لاتی ہیں۔ “اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبیﷺ پورا قرآن مجید جبرائیل امین کو سناتے تھے اور اچھی طرح جبرائیل امین آپ کو سناتے۔ تو معلوم ہوا کہ پورا قرآن سورتوں کی شکل میں بہرحال مرتب تھا۔ جو شخص قرآن کے سائے میں جیتا ہے اور اس میں غور و فکر کرتا ہے اس پر یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ قرآن کی ہر سورت ایک مستقل اور ذی روح شخصیت رکھتی ہے۔ دل مومن تو اس کے ساتھ اسی طرح مانوس ہو جاتا ہے کہ گویا وہ کسی زندہ انسان سے ہم کلام ہے جو واضح خدوخال اور روح و حیات رکھتا ہے ….ہر سورت کا ایک مرکزی مضمون ہے یا کئی مضامین جو ایک ہی محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔ نیز ہر سورت کی ایک مخصوص فضاء ہے جو اس کی تمام موضوعات سخن پر چھائی ہوئی ہے۔ اس میں ان موضوعات پر متعین پہلوؤں سے بحث ہوتی ہے تاکہ ان موضوعات اور سورت کی اس عمومی فضا کے درمیان کامل درجہ کی ہم آہنگی پائی جائے۔ پھر ہر سورت کا ایک مخصوص صوتیاتی اثر ہوتا ہے۔ اور وہ پوری سو رت میں ایک ہی رہتا ہے۔ اگر کہیں اس میں تبدیلی ہو بھی تو وہ اس مخصوص موضوع سخن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ قرآن کی تمام سورتوں کی یہی خصوصیت ہے اور اس سے سورۂ بقرہ جیسی طویل سورتیں بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔

سورہ بقرہ متعدد موضوعات پر مشتمل ہے لیکن وہ تمام موضوعات ایک ہی محور کے گرد گھوم رہے ہیں۔ یہ محور دو متوازی اور باہم مربوط خطوط سے مرکب ہے۔ ایک طرف تو یہ پوری سورت بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل نے دعوت اسلامی کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کیا؟انہوں نے اس دعوت کا استقبال کس طرح کیا؟اس کے پیغامبر کو کیا کیا اذیتیں دیں۔ اس دعوت کی بنیاد پر اٹھنے والی جماعت اور امت مسلمہ کے خلاف کیا کیا سازشیں کیں۔ نیز اس موقف کی دوسری تفصیلات اور کڑیاں مثلاً یہود و منافقین کا باہم گٹھ جوڑ، یہود و مشرکین کا باہم تعلق وغیرہ…. دوسری طرف اس سورت میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اب بنی اسرائیل کو فریضہ ادائیگی خلافت کے لئے نا اہل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس بارے میں اللہ کریم سے جو عہد و پیمان باندھے تھے وہ ایک ایک کر کے توڑ چکے ہیں اور یہ کہ اب انہیں اس تحریک کے داعی اول حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کوئی نسبت نہیں رہی ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو بھی اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ ان غلطیوں سے بچیں جن کی وجہ سے بنی اسرائیل کو نا اہل قرار دیا جا رہا ہے۔ پھر اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اپنے ابتدائی حالات میں (منصب امامت کو سنبھالتے ہوئے ) اسلامی جماعت نے کیا موقف اختیار کیا اور کس پالیسی پر گامزن رہی۔ اس نے فریضہ اقامت دین، دعوت دین اور خلافت فی الارض کی اس عظیم الشان اور بھاری ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے اپنے آپ کو کیوں کر تیار کیا؟

غرض سورۂ بقرہ کے تمام مضامین ان دو متوازی خطوط پر چل رہے ہیں اس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ تفصیلی بحثوں کے دوران آئے گی۔

یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ اس صورت حالات پر اجمالاً بحث کی جائے جس کے مقابلے کے لئے سب سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی تاکہ ایک طرف تو اس سورت اور اس کے مضامین کے درمیان ربط کا صحیح اندازہ ہوسکے۔ اور دوسرے یہ معلوم ہوسکے کہ مدنی دور کے ابتدائی ایام میں دعوت اسلامی کی رفتار کیا تھی؟اس اسلامی جماعت کی سرگرمیاں اور پیش آنے والے حالات کیا تھے ؟یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہ صورت حال اپنے عمومی پہلو سے بعینہ وہی ہے جو ہر دور اور ہر زمانے میں ایک معمولی فرق کے ساتھ دعوت اسلامی کے حاملین کو پیش آتی رہی ہے۔ تاریخ میں دعوت اسلامی کے دشمنوں نے ہمیشہ وہی کردار ہے جو کبھی مدینہ کے اسلام دشمنوں نے ادا کیا تھا۔ اور اس کے دوستوں کا تعلق اخلاص بھی ایسا رہا جو قرن اول کے فدا کار اسلام کا رہا۔ اس طرح یہ قرآنی ہدایات دعوت اسلامی کے لئے ایک طرح کا دائمی دستور بن جاتی ہیں۔ اور ان آیات میں ہر حال اور ہر زمانے کے لئے زندہ جاوید ہدایت پائی جاتی ہے اور یہ آیات امت مسلمہ کے لئے اس طویل اور کٹھن سفر میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جس میں اسے کئی مختلف الشکل لیکن متحد المزاج مخالف عناصر کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ پورے قرآن مجید کی ایک ایک آیت میں یہ خصوصیت موجود ہے اور یہ قرآن کریم کے اعجاز کے ایک خاص پہلو کو ظاہر کر رہی ہے۔

مدینہ کی طرف نبیﷺ کی ہجرت کا عمل ایک محکم منصوبے اور سوچی سمجھی تعلیم کے مطابق ظہور پذیر ہوا۔ اور جن حالات میں ہجرت کا فیصلہ ہوا وہ ایسے تھے کہ انہوں ے ہجرت کے عمل کو لابدی اور حتمی بنا دیا تھا کیونکہ جس منصوبے کے مطابق باری تعالیٰ کو تحریک اسلامی کو چلانا مقصود تھا، اس کے لئے ہجرت ضروری ہو گئی تھی۔ ۔ قریش نے دعوت اسلامی کے بارے میں جو موقف اختیار کیا تھا، حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور ابوطالب کی وفات کے بعد، اس کی وجہ سے مکہ اور اس کے ماحول میں دعوت اسلامی پر ایک جمود اور ٹھہراؤ کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ اگرچہ قریش کی گہری سازشوں اور ان کی بے حد ایذا رسانیوں کے باوجود بعض لوگ دین اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ تاہم قریش کے سخت رویے اور اسلام کے خلاف ان کی چو مکھی لڑائی کی وجہ سے مکہ اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں عملاً دعوت اسلامی کا پھیلاؤ روک دیا گیا تھا اور مکہ کے علاوہ دوسرے عرب قبائل نے بھی محتاط اور “انتظار کرو اور دیکھو”کا رویہ اختیار کر لیا تھا۔ وہ اس بات کے منتظر تھے کہ نبیﷺ اور آپ کے قریبی رشتہ داروں، ابولہب، عمرو ابن ہشام، ابوسفیان بن حرب وغیرہ کے درمیان جو کشمکش برپا ہے اس کا کیا فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ دعوت اسلامی کے قریبی رشتہ دار تھے اور عرب کے قبائلی معاشرے میں کنبہ پروری کو بڑی اہمیت حاصل تھی اور عام لوگ نبیﷺ کے خاندان سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ سب سے پہلے اسلام کو قبول کرے۔ لہٰذا ان کے اس معاندانہ موقف میں کوئی وجہ نہ تھی کہ ایک عام عرب دعوت اسلامی کو قبول کرے بالخصوص جبکہ رسول اللہﷺ کا خاندان کعبہ کا متولی بھی تھا۔ اور جزیرۃ العرب میں وہی دینداری اور مذہبیت کی نمائندگی کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ مسلسل اس بات کی تلاش میں رہے کہ مکہ کے باہر دعوت اسلامی کے لئے کوئی ایسا مرکزی مقام تلاش کیا جائے جو اس نظریۂ حیات کا گہوارہ ہو اور تحریک کو امن و آزادی کی ضمانت دے۔ جہاں تحریک اسلامی اس جمود کی حالت سے نکل سکے جو مکہ میں اس پر طاری ہو گئی تھی اور جہاں آزادی کے ساتھ لوگوں کے سامنے دعوت اسلامی پیش کی جا سکے اور اسے قبول کرنے والا آلام و فتن اور دشمن کی ایذا رسائیوں سے محفوظ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہجرت کے اقدام کے جو اسباب بھی ہوں ان میں یہ پہلا اور سب سے اہم سبب ہے۔

یثرب کو تحریک اسلامی کا مرکز بنانے سے قبل بھی کئی دوسرے مقامات زیر غور رہے تھے۔ سب سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت ہوئی تھی۔ جن لوگوں نے ابتدائی ایام میں دین اسلام کو قبول کیا تھا۔ ان کی بڑی تعداد نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہ بات درست نہیں کہ یہ لوگ محض جسمانی نجات حاصل کرنے کے لئے حبشہ کی طرف نکل گئے تھے۔ کیونکہ قرائن اس کی تردید کرتے ہیں۔ اگر یہ ہجرت صرف جسمانی اذیت سے نجات پانے کے لئے ہوتی تومسلمانوں میں سے صرف وہ لوگ ہجرت کرتے جن کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کا مکہ مکرمہ میں کوئی بندوبست نہ تھا۔ حالانکہ جو لوگ نکلے ان کی حالت ا س سے برعکس تھی۔ ان مہاجرین میں وہ لوگ شامل نہ تھے جن پر جسمانی اذیت کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے مثلاً ضعفاء اور غلام وغیرہ۔ جو لوگ اس ہجرت میں شریک ہوئے وہ سب خاندانی اور ذی وجاہت لوگ تھے۔ اور ان کے خاندان کے ہوتے ہوئے کوئی شخص یہ جرأت نہ کرسکتا تھا کہ انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے۔ کیونکہ قبائلی عصبیت کے اس معاشرے میں لوگ اپنے مسلمان رشتہ داروں کی حمایت بھی کرتے تھے۔ ان مہاجرین کی اکثریت قریش سے نسبی تعلق رکھتی تھی۔ مثلاً جعفر بن ابی طالب (حالانکہ ابوطالب اور دوسرے ہاشمی نوجوان ہی نبیﷺ کی حمایت کر رہے تھے )، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف، ابومسلمہ مخزومی اور عثمان بن عفان وغیرہ، اسی طرح ان مہاجرین مکہ کے اونچے خاندانوں کی خواتین بھی شامل تھیں اور اس بات کا کوئی امکان ہی نہ تھا کہ انہیں کسی قسم کی اذیت پہنچائے۔

البتہ اس بات کا امکان ہے کے ہجرت کے پس منظر میں کچھ اسباب اور بھی پوشیدہ ہوں مثلاً یہ کہ قریشی اونچے درجے کے گھرانوں میں یہ احساس اور بے چینی برپا کرنا کہ اس میں ایسے معزز اور سرکردہ شرفا ان کی ایذاؤں سے تنگ آ کر، اپنے نظریۂ حیات کو لے کر، اور اپنے وطن عزیز اور اعزہ کو الوداع کہہ کر، جاہلیت سے بھاگ رہے ہیں۔ ظاہر ہے عرب جیسے با حمیت اور کنبہ پرست معاشرے میں مسلمانوں کا یہ اقدام غم و غصہ کی لہر دوڑا سکتا تھا۔ جبکہ مہاجرین میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان بھی شامل ہیں جو جاہلیت کا سب سے بڑا علمبردار تھا۔ اور اسلامی نظریۂ حیات اور اس کے داعی کے خلاف برپا کی ہوئی اس فتنہ انگیزی میں ایک بڑا پارٹ ادا کر رہا تھا لیکن ان اسباب کو صحیح تسلیم کرنے کے بعد بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حبشہ کی طرف ہجرت بھی انہی کوششوں کی ایک کڑی تھی۔ جو تحریک اسلامی کے لئے ایک آزاد مرکز کی تلاش کے سلسلے میں ہو رہی تھیں۔ جہاں یہ نئی تحریک آزاد اور پرامن طریقے سے کام کرسکے۔ اس کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو حبشہ کے نجاشی کے اسلام کے بارے میں کتب احادیث میں نقل ہوئی ہیں۔ جن میں کہا گیا کہ نجاشی نے اپنے اسلام کا اعلان محض اس لئے نہ کیا کہ وہ اپنے مذہبی لیڈروں سے خائف تھا۔

سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے قبل نبیﷺ نے طائف کا سفر فرمایا۔ اس کا مقصد بھی دعوت اسلامی کے لئے ایک آزاد اور مامون مرکز کی تلاش تھا۔ لیکن آپ کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ اور ثقیف کے کبراء نے آپ کا استقبال پتھروں سے کیا۔ انہوں نے اپنے نادانوں اور بچوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ لوگ آپ کو پتھر مارنے لگے۔ آپ کے پاؤں مبارک زخمی ہو گئے اور آپ کو مجبوراً عتبہ اور شیبہ پسران ربیعہ، کے باغ میں پناہ لینی پڑی۔ اس باغ میں آپ کی زبان مبارک سے جو پر خلوص اور گہری دعا نکلی وہ داعیان حق کے لئے نمونہ عبرت ہے۔ آپ نے فرمایا!

“اللہ !میں اپنی ناتوانی، قلت تدبیر اور لوگوں کے مقابلے میں اپنی کمزوری کی فریاد آپ ہی سے کرتا ہوں۔ اے ارحم الرحمین !تو ہی میرا اور سب ضعیفوں کا رب ہے تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے۔ کیا تو نے میرا معاملہ دشمن کے سپرد کر دیا ہے ؟یا کسی غیر کے جو مجھ سے ترش روئی سے پیش آئے۔ اگر تو مجھ پر غضبناک نہیں ہے تو پھر مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں لیکن تیری عافیت میرے لئے کشادہ ہے۔ میں تیری غضب اور تیری پھٹکار سے تیرے چہرہ کے نور میں پناہ مانگتا ہوں۔ جس نے اندھیروں کو اجالا کر دیا جن سے دینی اور دنیوی امور درست ہوتے ہیں۔ میں تیرے ہی در کا سوالی ہوں۔ یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے اور تیرے سوا قوت واستطاعت کا کوئی اور مصدر نہیں ہے۔

چنانچہ اس کے بعد نبیﷺ اور دعوت اسلامی کے لئے غیبی اسباب فراہم ہو گئے۔ عقبہ گھاٹی کے دامن میں پہلی بیعت ہوئی۔ پھر اگلے سال دوسری ہوئی۔ چونکہ ان بیعتوں کا ہمارے موضوع اور مدینہ میں دعوت اسلامی کی تاریخ سے گہرا تعلق ہے اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کا مختصر تذکرہ کیا جائے۔

ہجرت سے ۲ سال قبل کا واقعہ ہے کہ حجاج کے سامنے دعوت اسلامی پیش کرنے کے دوران نبیﷺ کی ملاقات خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی۔ آپ کا معمول تھا کہ حج کے موقع پر آپ لوگوں کو دعوت دیتے اور ایک ایک قبیلے سے درخواست کرتے کہ وہ دعوت اسلامی کو قبول کریں اور آپ کی حمایت کریں تاکہ آپ اپنے رب کا پیغام پوری دنیا تک پہنچا سکیں۔ یثرب کے باشندوں کے پڑوس میں چونکہ یہود آباد تھے اور یہ لوگ اکثر اوقات یہودیوں سے یہ بات سنا کرتے تھے کہ ایک نبی آخرالزماں آنے والا ہے اور یہ کہ اس کی حمایت و قیادت میں وہ عربوں پر فتح یاب ہوں گے۔ وہ اللہ سے دعائیں بھی مانگتے تھے کہ وہ انہیں اس کی طفیل فاتح و کامران کرے اور وہ نبی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کا حامی و مددگار ہو گا۔ جب خزرج کے وفد نے نبیﷺ کی دعوت کو سنا تو آپس میں کہنے لگے “خدا کی قسم یہ وہی نبی ہے جس سے تمہیں یہود ڈراتے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ یہودی تم سے پہلے اس پر ایمان لے آئیں۔ لہٰذا انہوں نے نبیﷺ کی دعوت قبول کر لی۔ اور آپ سے کہا کہ “ہماری پوری قوم مدینہ طیبہ میں ہے اور ان میں آج کل ایسی دشمنی اور خانہ جنگی برپا ہے جو کسی دوسری قوم میں نہیں ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ اس دشمنی کو ختم کر دے۔ “جب یثرب لوٹے تو یہ واقعہ انہوں نے اہل مدینہ کو سنایا۔ اہل مدینہ بے حد خوش ہوئے اور دعوت اسلامی کو قبول کر لینے پر متفق ہو گئے۔

اگلے سال اوس اور خزرج کی ایک جماعت موسم حج میں مکہ آئی۔ اس نے رسول اللہﷺ سے ملاقات کی اور حلقہ بگوش اسلام ہو کر لوٹی۔ آپ نے کچھ معلمین اور مبلغین ان کے ساتھ کر دیئے تاکہ وہ ان کی مزید تربیت کریں۔

تیسرے سال اوس و خزرج کی ایک بہت بڑی جمیعت حاضر ہوئی۔ اور آپ کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ حضرت عباس کی موجودگی میں ہوا۔ معاہدہ کی اہم شق یہ تھی کہ اہل یثرب آپ کی حفاظت اس طرح کریں گے جس طرح وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو بیعت عقبہ کبریٰ کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں محمد بن کعب قرظی نقل کرتے ہیں کہ اس میں عبداللہ بن رواحہ نے حضرت نبیﷺ سے کہا “آپ اپنے رب اور اپنی ذات کے لئے جو شرائط ہم سے چاہیں منوا لیں۔ “آپ نے فرمایا اللہ کے لئے صرف یہ شرط ہے کہ آپ لوگ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اپنے لئے میں تم پر صرف یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ آپ لوگ میری حفاظت ایسے ہی کریں گے جیسے اپنی جان و مال کی کرتے ہیں۔ “اس پر عبداللہ بن رواحہ نے کہا تو پھر اس پر ہمیں کیا اجر ملے گا؟”آپ نے فرمایا”جنت!”اس پر سب نے کہا “بہت نفع بخش سودا ہے۔ “نہ ہم اسے واپس کرتے ہیں اور نہ فریق ثانی سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یوں مسلمانوں نے بزور طاقت نظام حکومت اپنے ہاتھ میں لیا اور اسلام مدینہ طیبہ میں تیزی سے پھیل گیا۔ کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں کوئی مسلمان نہ ہو۔ مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آنے شروع ہو گئے۔ اور صرف دولت ایمان لے کر اپنے گھروں سے نکلے اور اپنا سب کچھ راہ حق میں لٹا دیا۔ مدینہ میں ان کے بھائیوں نے جوان سے قبل دارالاسلام اور ایمان میں جم کر بس گئے تھے، ان کے ساتھ جس ایثار اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا، وہ ایسا ہے کہ پوری انسانی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے بعد نبیﷺ اور صدیق اکبر نے ہجرت فرمائی۔ اور آپ اس مامون اور آزاد مرکز میں جاپہنچے جس کے آپﷺ عرصہ سے متلاشی تھے، جس دن آپ مدینہ پہنچے اسی دن اس نئے مرکز میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی تھی۔

جن لوگوں نے تحریک اسلامی کے اس مرحلے میں مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اور ان کے معاون و مددگار پہلے سے مدینہ میں ان کے لئے منتظر بیٹھے تھے، یہ دونوں مل کر وہ جماعت بن گئے جس کی طرف قرآن کریم متعدد مقامات پر اشارہ کرتا ہے۔ سورۂ بقرہ کے آغاز ہی میں جن ایمانی مبادیات کا ذکر شروع ہو جاتا ہے، یہ صفات اگرچہ علی الاطلاق تمام سچے مومنین کی ہیں لیکن ان صفات کا سب سے پہلا مصداق مومنین کی وہ جماعت ہے جو اس وقت مدینہ طیبہ میں جمع تھی۔

 

“الف، لام، میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ ” (۱ تا ۵)

 

مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آ جاتا ہے۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلا مصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔

 

“جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ان کے لئے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ (٦۔ ٧)

 

ان دو گروہوں کے علاوہ منافقین کا ایک تیسرا گروہ بھی موجود تھاجیسا کہ ہم نے بالتفصیل بتایا، جن حالات میں نبیمدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی، ان کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ ہجرت کی تکمیل کے فوراً بعد ہی وہ گروہ پیدا ہو گیا۔ مکہ میں اس گروہ کا وجود نہ تھا۔ کیونکہ وہاں اسلام کی پشت پر کوئی قوت اور حکومت نہ تھی اور نہ کوئی ایسی قومی جماعت تھی جس سے ڈر کر قریش اسلام کے بارے میں کوئی منافقانہ رویہ اختیار کرتے بلکہ اس کے برعکس مکہ میں اسلام کمزور تھا۔ دعوت ہر قسم کے خطرات میں گھری ہوئی تھی۔ صرف مخلصین ہی تھے جو اس دو رمیں دعوت اسلامی کی صفوں میں شامل ہونے کی جرأت کرسکتے تھے، جو اس کی راہ میں ہرقسم کے مصائب جھیلنے کے لئے تیار تھے اور اس کے لئے سب کچھ لٹانے پر تلے ہوتے تھے لیکن یثرب ….(جو پہلے ہی دن سے مدینہ الرسول کے نام سے مشہور ہو گیا)میں حالات کا رخ یکلخت بدل گیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت بن گیا تھاجسے ہر شخص محسوس کرنے لگا تھا اور ہر کوئی مجبور تھا کہ وہ اس قوت سے تھوڑا بہت بنائے رکھے۔ بالخصوص جنگ بدر کی عظیم کامیابی کے بعد تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئی تھیں۔ جو لوگ روش نفاق پر مجبور تھے ان میں بعض کبرائے یثرب بھی تھے۔ ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ اس لئے یہ کبراء بھی اپنی سابقہ پوزیشن کو بحال رکھنے کے لئے اور اپنے مخصوص مصالح کی خاطر بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ ایسے لوگوں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول کا نام سرفہرست تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کی ہجرت سے کچھ قبل ہی اس کی قوم نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ اسے بادشاہ بنا دیں۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اس کی قوم اس کے لئے ہار اور تاج تیار کر رہی تھی۔

سورۂ بقرہ کی ابتداء میں بالتفصیل ان منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔ بعض فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے اکثر و بیشتر فقروں کا مصداق یہی بڑے لوگ ہیں جنہوں نے حالات سے مجبور ہو کر اپنے آپ کو دائرہ اسلام میں داخل کر دیا تھا۔ لیکن وہ اب بھی عوام الناس پر اپنی لیڈر شپ قائم رکھنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اور عام طور پر ایسے متکبرین اکابرین جس طرح، عوام کے بارے میں رائے رکھتے ہیں اسی طرح یہ لوگ اسلام قبول کرنے والوں کو “بے وقوف”لوگ کہہ کر پکارتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

“بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزاہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو “تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں، اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں توہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں ….اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکے چکے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال پر چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں۔ یہ اب نہ پلٹیں گے یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک چمک بھی ہے۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کر لیتا یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مریض دل منافقین پر س بھرپور وار کے دوران، ان کے شیاطین کی طرف اشارے ملتے ہیں۔ اس سورت کے سیاق وسباق اور نبیﷺ کی سیرت طیبہ کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں۔ کیونکہ اس سورت میں ان کے کردار پر بھرپور تنقید کی گئی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں یہودیوں نے جو طرز عمل اختیار کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہود وہ پہلا طبقہ تھا جس نے تحریک اسلامی سے ٹکر لی اور اس ٹکراؤ اور تصادم کے متعدداسباب تھے۔ وہ اوس خزرج جیسی امی اقوام کے مقابلے میں، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ مشرکین عرب میں اگرچہ یہود کی طرف میلان کم پایا جاتا تھا لیکن وہ آسمانی کتاب و ہدایت رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کے لئے مفید طلب تھیں۔ فتنہ وفساد اور تشتت و افتراق وہ میدان ہے جس میں یہودی زیادہ چابکدستی سے کام کرتے ہیں، لیکن جب اسلام آیا تو یہودیوں کے ان تمام مفادات پر زد پڑی۔ وہ ایک ایسی کتاب لے کر آیا جو سابقہ کتب کی تصدیق کرتی تھی اور ان کی تعلیمات کی محافظ تھی۔ پھر اسلام نے اوس اور خزرج کے اختلافات کو بھی ختم کر دیا، جن کے ذریعے یہودی اپنے مکر و فریب کا جال بچھاتے تھے اور مالی مفادات حاصل کرتے تھے۔ اوس اور خزرج کے باہم دست گریبان لوگ اسلامی صفوں میں آ کر ایک دوسرے سے گلے مل گئے اور اوس اور خزرج کے بجائے وہ دونوں مہاجرین کی نصر ت کی وجہ سے انصار کہلانے لگے۔ اور ان سب عناصر کو ملا کر اسلام نے وہ بے نظیر اور نیا اسلامی معاشرہ تیار کیا جس کے تمام افراد متحد اور متفق تھے، یوں کہ گویا وہ تمام ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہیں اور جس کی مثال نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ میں پائی گئی اور نہ اس کے بعد آج تک وجود میں آسکی۔

یہودی اپنے آپ کو اللہ کی مختار اور برگزیدہ قوم سمجھتے تھے۔ ان میں بے شمار رسول اور نبی مبعوث ہوئے تھے اور وہ متعدد کتابوں کے حامل تھے۔ وہ ہمیشہ اس کی توقع رکھتے تھے اور شدت سے منتظر بھی تھے کہ نبی آخرالزماں خود ان کے ہاں مبعوث ہو گا لیکن جب وہ عربوں میں مبعوث ہوا تو پھر انہوں نے یہ توقعات باند ھ لیں کہ شاید نیا نبی ان کو اپنے دائر دعوت سے باہر رکھے گا اور اپنی دعوت کو ان پڑھ عربوں تک ہی محدود رکھے گا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ سب سے پہلے اہل کتاب کو اللہ کی اس آخری کتاب کی دعوت دے رہا ہے اور اس بات پر وہ دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ وہ عربوں کی نسبت زیادہ ذی علم ہیں اور ان کا یہ فرض ہے کہ وہ مشرکین سے بھی پہلے اس دعوت حق پر لبیک کہیں تو ان کے غرورنفس نے انہیں نافرمانی پر آمادہ کر لیا اور انہوں نے اسے اپنے لئے اہانت سمجھا اور اپنے مذہب کے خلاف اس نئی دعوت کو دست درازی تصور کرنے لگے۔

اب یہودی نبیﷺ کے خلاف شدید حسد و بغض میں مبتلا ہو گئے۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں کے منصب کے لئے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو کتاب دی جس کی صداقت میں یہودیوں کو ذرہ بھر بھی شبہ نہ تھا۔ دوسرے اس لئے کہ ظہور نبوت کے ساتھ ساتھ آپ کو اس نئے ماحول میں برق رفتار کامیابی حاصل ہو گئی، ان اسباب کے علاوہ اس حسد و بغض، تحریک اسلامی سے عداوت اور اس کے خلاف ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہودی اس بات کا پختہ شعور رکھتے تھے کہ نئے حالات میں یا تو انہیں اس نئے معاشرے سے پوری طرح کٹ جانا ہو گا اور اس صورت میں ان کی فکری قیادت، تجارت اور سودی کاروبار کے تمام مفادات ختم ہو جائیں گے اور یا پھر انہیں پوری طرح اس نئے معاشرے میں ضم ہو کر گم ہو جانا ہو گا اور یہ دونوں گولیاں ایسی ہیں کہ جو کسی قیمت پر بھی، ایک یہودی کے حلق سے نیچے نہیں اترسکتیں۔

یہ تھے وہ وجوہات جن کی بنا پر یہود ان مدینہ نے تحریک اسلامی کے مقابلے میں وہ سخت رویہ اختیار کیا، جس کی تفصیل سورۂ بقرہ اور دوسری سورتوں میں بیان کی گئی ہے۔ ہم یہاں ایسی چند آیات نقل کر رہے ہیں جن میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

“اے بنی اسرائیل !ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا، اسے پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ ہے اسے میں پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرو، اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذاسب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور مرے غضب سے بچو! باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو، نماز قائم کرو زکوٰۃ دو، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ، تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ ت کتاب کی تلاوت کرتے ہو؟کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟”

ایک دوسری جگہ تفصیل سے وہ رویہ اور طرز عمل بیان کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اختیار کیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کفران کیا۔ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ اور شریعت کے بارے میں بے عملی کا مظاہرہ کیا اور بار بار اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو توڑا۔ یہ کچھ بالتفصیل بیان کر کے قرآن مجید مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے۔

اے مسلمانو!اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔ محمدرسول اللہ کو ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس ایک دوسرے سے تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہو گئے ہو ؟ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں۔ “(البقرہ:72:2)

“وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں ہے۔ الا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے، تو مل جائے ان سے پوچھو، کیا تم نے اللہ کے سے کوئی عہد لے لیا ہے، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا؟یا یہ بات ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی بات کہہ دیتے ہو، جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے۔ “(البقرہ:80:2)

“اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے۔ اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجودیکہ اس کی آمد سے قبل وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آ گئی، جسے وہ پہچان بھی گئے، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ اللہ کی لعنت ان منکرین پر۔ “(89:2)

“جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے، اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں “ہم تو صرف اس چیز پر ایما ن لاتے ہیں جو ہمارے ہاں یعنی نسل بنی اسرائیل میں اتری ہے۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے، جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ “(91:2)

“اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تائید و تصدیق کرتا ہوا آیا، جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو، اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ “(101:2)

“یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔ “(15:2)

“اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا مگر اپنے نفس کی حسد کی بنا پر تمہارے لئے ان کی یہ خواہش ہے۔ “(109:2)

“ان کا کہنا ہے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق)عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں۔ “(111:2)

“یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ “(120:2)

یہ قرآن مجید کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ قرآن نے ان یہودیوں کو جس صفت سے موصوف کیا وہ صفت آج تک ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور یہ صفت ہے جو ان کی ہرنسل میں ان کے ساتھ لازم رہی ہے۔ خواہ وہ نسل قبل اسلام گزری ہو یا اسلام کے بعد آج تک کسی دور میں رہی ہو۔ قرآن کریم ان کو یوں خطاب کرتا ہے گویا یہود ان یثرب بذات خود حضرت موسیٰ اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء علیہم السلام کے ادوار میں موجود تھے۔ کیونکہ اول روز سے بنی اسرائیل کی یہی فطرت رہی ہے۔ ان کے اوصاف وہی ہیں۔ ان کا طرز عمل وہی ہے اور حق و صداقت کے ساتھ وہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک ہی برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوران کلام قوم موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آنے والی اسرائیلی نسلوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ اور قرآن مجید کے یہ زندہ کلمات آج بھی امت مسلمہ اور یہودیوں کے باہم تعلق اور موقف کو ظاہر کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہودی دعوت اسلامی اور امت مسلمہ کے مقابلے میں آج بھی وہی طرز عمل اختیار کر رہے ہیں جو انہوں نے آج سے صدیوں قبل اختیار کیا اور یہی ان کا طرز عمل مستقبل میں بھی ہو گا۔ یہ قرآنی آیات اس وقت امت مسلمہ کے لئے ایک دائمی ہدایت اور تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج بھی وہ یہی بتا رہی ہیں کہ اعداء اسلام نے ہمارے اسلاف کے ساتھ جو رویہ روا رکھا تھا وہی پالیسی وہ آج بھی اختیار کریں گے۔ آج بھی ان کی ریشہ دوانیاں اور مکر و فریب ویسے ہی ہیں جیسے یثرب میں تھے۔ وہ ہر دور میں اسلام کے خلاف مختلف اور متنوع طریقوں سے برسرپیکار ہے۔ لیکن اس جنگ کی حقیقت صرف ایک رہی یعنی اسلام دشمنی۔

غرض اس صورت میں جہاں یہودیوں کے یہ اوصاف بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی سازشوں سے متنبہ کیا گیا، وہاں اسلامی جماعت کی تشکیل اور اس دنیا میں اسلامی نظریۂ حیات کی امانت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے، اسے تیار کرنے اور اس کی تربیت کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں، جبکہ بنی اسرائیل ایک زمانے سے اس امانت کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکے تھے اور آخر میں انہوں نے اس نظریۂ حیات کے بارے میں یہ معاندانہ رویہ اختیار کر لیا تھا۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں سورت کا آغاز ان طبقات کے ذکر سے ہوتا ہے جنہوں نے ہجرت کے متصلاً بعد تحریک اسلامی کے بارے میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کر رکھے تھے۔ ان طبقات میں شیاطین بنی اسرائیل کی طرف مخصوص اشارے بھی تھے۔ جن کا ذکر بعد میں مفصل ہوا۔ اس سورت کے آغاز میں جن طبقات کا ذکر ہوا ہے ان کی نوعیت ایسی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں دعوت اسلامی کے مقابلے میں لوگوں نے ایسے ہی طرز عمل اختیار کئے۔ اس کے بعد پوری سورت کے مباحث اپنے انہی متوازی خطوط پر چل رہے ہیں جن میں اس وحدت و یگانگت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جس سے اس سورت کی خاص شخصیت کا ظہور ہو رہا ہے، حالانکہ اس کے موضوعات سخن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔

کافرین اور منافقین کے تین طبقات کے ذکر اور شیاطین یہود کی طرف اشارا ت کے بعد اب تمام انساں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور اللہ نے اپنے بندے پر جو کتاب نازل کی ہے، اس پر ایمان لے آئیں۔ کافروں کو چیلنج دیا جاتا ہے کہ اگر وہ کتاب کی صداقت میں شک کرتے ہیں تو پھر اس جیسی کوئی ایک سورت لے آئیں، کافروں کو آگ سے ڈرایا جاتا ہے اور مومنین کو جنتوں کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کافروں کو غور و فکر کی دعوت دی جاتی ہے اور متعجبانہ انداز میں ان کے کفر کی تردید کی جاتی ہے۔

“تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو؟حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تمہیں زندگی عطا کی، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “(29:2)

اس حقیقت کی طرف اشارے کے بعد، کہ زمین کی تمام مخلوقات کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے، حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت فی الارض کا بیان شروع ہو جاتا ہے۔

“پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو، جب اس کے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “اس کے بعد قصے کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ آدم وابلیس کا معرکہ پیش آتا ہے اور آخرکار آدم علیہ السلام کا نزول ہوتا ہے اور زمین کے اندر “عہد خلافت آدم”کا آغاز ہوتا ہے۔ جو دراصل دور ایمان ہے۔

ہم نے کہا”تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو یہ لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ “(39:2)

اس کے بعد بنی اسرائیل کی تاریخ پر طویل ترین تبصرہ شروع ہوتا ہے جس کے چند فقرے ہم اسے پہلے نقل کر آئے ہیں۔ اس تبصرے اور تنقید کے درمیان جگہ جگہ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات کو اپنا لیں اور اس کتاب پر ایمان لے آئیں جو ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جن کے حامل وہ خود ہیں۔ ساتھ ساتھ انہیں یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کیا کیا کوتاہیاں کیں۔ کس طرح وہ راہ راست سے بھٹکتے رہے اور حق و باطل کی آمیزش کرتے رہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بحث و تمحیص قرآن مجید کے پہلے پارے کے آخر تک پھیلی ہوئی ہے۔

اس پوری بحث سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے دین اسلام، نبیﷺ اور قرآن مجید کا استقبال کس طرح کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ انہوں حق و باطل کی تلبیس کی، وہ دوسرے لوگوں کو تو یہ مشورہ دیتے کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود اپنے آپ کو بھول جاتے۔ وہ کلام اللہ سنتے، اچھی طرح سمجھتے لیکن اس کے بعد اس کو غلط معانی پہنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے۔ وہ پہلے ایما ن کا اظہار کرتے اور پھر کفر کا اعلان کر کے مومنین صادقین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور جب آپس میں اکھٹے ہوتے تو ایک دوسرے کو بتاکید یہ کہتے کہ “خبردار!وہ راز کی باتیں مسلمانوں کو نہ بتانا، جو حضرت نبیﷺ کے بارے میں کتب سابقہ میں وارد ہیں اور جنہیں انہوں نے چھپا رکھا تھا۔ انہوں نے کوششیں کیں کہ کسی طرح مومنین کو دوبارہ کفر کی روش پر مجبور کر دیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ صحیح اہل ہدایت ہیں ہی یہود۔ جیسا کہ نصرانیوں کا خیال تھا کے روئے زمین پر اہل ہدایت صرف وہ ہیں وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے محض اس لئے دشمن ہو گئے تھے کہ بقول ان کے انہوں نے ان کو چھوڑ کر پیغام خداوندی حضرت محمدﷺ کے پاس پہنچا دیا۔ وہ مسلمانوں کی ہر کامیابی پر متغیض ہو جاتے اور ان کی بربادی کے منتظر رہتے، وہ ہر لحظہ یہ کوشش کرتے کہ وحی الٰہی اور نبیﷺ کے احکام و اوامر میں شک پید ا کیا جائے۔ اور تحویل قبلہ کے موقع پر تو ان کے پروپیگنڈے کی تو کوئی انتہا نہ رہی۔ منافقین کے ساتھ ربط وضبط رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی راہنمائی کرتے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کھل کر کرتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں ان کے کردار پرسخت ترین تنقید پائی جاتی ہے اور سورت انہیں یاددلاتی ہے کہ انہوں نے یہی طرز عمل خود اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں اختیار کیا تھا اور آپ کے بعد بھی انبیاء ورسل کے ساتھ یہ لوگ ایسا سلوک کرتے رہے۔ نسلوں تک ان کا رویہ یہی رہا۔ قرآن کریم انہیں اس طرح مخاطب کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جہاں اور جس دورمیں بھی ہوں گویا وہ ایک ہی گروہ ہے کیونکہ وہ ایک ہی فطرت اور جبلت رکھتے ہیں جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

اس طویل ترین تنقید کے آخر میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے ایمان سے مایوس کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کی یہ خود غرضانہ ذہنیت اور مطلب پرستی اور سڑی ہوئی اور خبیث طبعیت ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بالآخر یہ تقریر ان کے اس دعوے کی تردید پر ختم ہوتی ہے کہ “صرف وہی ہدایت پرہیں کیونکہ وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہیں “اور بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیح وارث وہی لوگ ہیں جو سنت ابراہیمی پر چلتے ہیں اور اس عہد کی پابندی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا لہٰذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وراثت اور جانشینی گویا اب حضرت محمدﷺ اور مومنین کو حاصل ہو گئی ہے، کیونکہ یہودی راہ راست سے بھٹک گئے، اپنے دین کو تبدیل کر دیا اور اب وہ اسلامی نظریۂ حیات کی امانت کی حفاظت کے اہل اور اس زمین پرمنصب خلافت الٰہی کے قابل نہیں رہے لہٰذا یہ ذمہ داری اب حضرت محمدﷺاور آپ پر ایمان لانے والوں نے اپنے کاندھوں پر لے لی۔ خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے جو دعا کی تھی امت مسلمہ کا برپا ہونا گویا اس دعا کی قبولیت کا مجسم ظہور تھا، انہوں نے کہا تھا:

“اے رب ہم دونوں کو اپنا مطیع بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی امت اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور اے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنواردے۔ تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “(129:2)

اب یہاں سے قرآن مجید کا خطاب اور روئے سخن نبیﷺ اور آپ کے گرد جمع ہونے جماعت مسلمہ کی طرف پھر جاتا ہے اور وہ اصول و قواعد بیان کئے جاتے ہیں جن پر اس نئی جماعت کی تشکیل ہوئی ہے جو دعوت دین کا کام لے کر اٹھی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور نظریہ و عمل میں وہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ رکھتی ہے۔

امت مسلمہ کی خصوصیات کا بیان تحویل قبلہ سے شروع ہو جاتا ہے۔ وہ سمت متعین ہو جاتی ہے جس کی امت مسلمہ کو متوجہ ہونا ہے۔ یہ نیا قبلہ بیت الحرام ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کے خاص احکامات کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اللہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اسے تعمیر کریں اور پاک وصاف کریں تاکہ وہاں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی پرستش کی جائے۔ خود نبیﷺ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ بدل دیا جائے لیکن آپ نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

“یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو ہم اس قبلے کی طرف تمہیں پھیر ے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو، اس طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔ “(142:2)

اس کے بعد اسلامی نظامِ حیات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں، جس پر اس جماعت نے عمل پیرا ہونا ہے۔ نظریۂ حیات اور طریق عبادت اور سلوک و معاملات کا بیان شروع ہو جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راہ حق میں جو لوگ جانیں دیتے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو زندہ جاوید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، فصلوں اور پھلوں کی تباہی جیسی ابتلائیں محض اذیتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ آزمائشیں ہوتی ہیں۔ اور یہ ہمیشہ ان لوگوں کی راہ میں آتی ہیں جو دعوت حق کو لے کر اٹھتے ہیں۔ تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں شیطان تمہیں فقر ومسکنت سے ڈراتا ہے اور فحاشی اور بے حیائی پر آمادہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم سے یہ ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بخش دے گا۔ اور تمہیں اپنے فضل سے نوازے گا۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہے اور وہ انہیں ان اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے والی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں۔ اس کے بعد کھانے پینے کی چیزوں میں حلال و حرام احکامات بیان کئے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے۔ صرف ظاہری شکل و صورت ہی کو دیکھ کر نیک و بد کا فیصلہ نہ کرنا چاہئے۔ پھر قتل میں قصاص کے احکام، وصیت کے احکام روزے کے احکام، جہاد کے احکام، حج کے احکام اور نکاح و طلاق کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اسلام کے عائلی نظام کی دقیق شیرازہ بندی کی جاتی ہے۔ اور نظام معیشت میں زکوٰۃ، ربا کی حرمت، لین دین اور تجارت کے احکامات بیان ہوتے ہیں۔

ان تمام موضوعات پر بحث کرتے ہوئے دوران گفتگو، موقع و محل کی مناسبت سے، موسیٰ علیہما السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات کی طرف اشارہ بھی کیا جاتا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کی زندگی کے کچھ پہلو بھی بیان ہوتے ہیں۔ لیکن پہلے پارے کے بعد پوری سورت میں روئے سخن مستقلاً اسلامی جماعت کی طرف پھر جاتا ہے۔ اسے اسلامی نظامِ حیات کی ذمہ داریوں کو اٹھانے اور اللہ کی شریعت کے مطابق، زمین میں نظام خلافت کے قیام کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور اس طرح امت مسلمہ کو تمام دوسری امتوں سے ممتاز کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ امت خود اس کائنات اور رب کائنات (جس نے اس امت کواس عظیم منصب کے لئے چنا )کے درمیان ربط و تعلق کی نوعیت کے بارے میں ایک مخصوص نقطۂ نظر رکھتی ہے۔

سور ت کے آخر میں پہنچ کر ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کے خاتمے میں سورت کے ابتدائیہ کو دہرایا جاتا ہے۔ ایمانی نظریۂ حیات کی حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتی ہے۔ نیز تمام کتب سماوی پر اس کا ایمان ہے اور وہ انبیاء کے بیان کردہ امور غیبیہ پر بھی یقین رکھتی ہے اور انبیاء کی تعلیمات کو مانتی ہے اور دل و جان سے مطیع فرمان ہے۔ فرمایا جاتا ہے :

“رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اس رسول اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں۔ اور ان کا قول یہ ہے کہ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔ اللہ کسی متنفس پر، اس کی مقدر ت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا، ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اس کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے اس کا وبال اسی پر ہے۔ (ایمان لانے والو!تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب !ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر۔ مالک!ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ پروردگار!جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پرنہ رکھ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگذر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ ”

اسی طرح آغاز و انجام کے درمیان پوری پوری یک رنگی پائی جاتی ہے اور سورت کے تمام موضوعات سخن مومنین صادقین کی صفات اور خصوصیات کے ان دو بیانوں کے درمیان سمٹ جاتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

درس ۲ ایک نظر میں

 

آیات کا یہ حصہ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہو جاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو “شیاطین “کا لقب دیتا ہے، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔

         ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری خصوصیات (Style of expression) سے بھی متعارف ہوتے ہیں منظر کشی کے لے خطوط والو ان کی جگہ یہاں حسین الفاظ کا انتخاب پایا جاتا ہے۔ ا ن الفاظ کو پڑھتے ہی اصل مناظر 3؟؟؟

جنِکا اطبوہاز عبیدن اور رحیم ہےآنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہو جاتے ہیں۔ یہ مناظر اور یہ تصورات بڑی تیزی سے حرکت پذیر ہوتے ہیں اور زندگی کی تگ وتازسے بھرپور نظر آتے ہیں۔

         سورت کے آغاز ہی میں ہلکے پھلکے، عام فہم اور مختصر الفاظ میں تین قسم کے انسانوں کی عجیب تصویر کشی کی گئی ہے۔ ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ انسانی افراد اور مجموعوں کی ایک عظیم الشان تعداد کا زندۂ جاوید نمونہ ہے۔ یہ مجموعے حد درجہ حقیقی اور گہرے ہیں اور ہر زمان و مکان میں بار بار وجود میں آتے ہیں اور قرآن کریم کے اعجاز کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ انسانیت کی طویل ترین تاریخ میں روز اول سے لے کر آج تک پوری انسانیت انہی تین گروہوں میں منقسم نظر آتی ہے۔

         ان مختصر کلمات اور معدودے چند جملوں کے ذریعہ، ان طبقوں کے حقیقی خدوخال اس طرح واضح اور مکمل صورت میں لوح دماغ پر منقش ہو جاتے ہیں کہ یہ طبقے زندہ و متحرک، ممتاز و مشخص اور اپنے حقیقی خدوخال کے ساتھ صاف صاف آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بے ساختہ جملے اس قدر موزوں اور متناسب اور اپنے اندر اس قدر مترنم صوتی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ کوئی طویل ترین کلام اور کوئی مفصل ترین بیان بھی اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا۔

         جب ان طبقوں کی منظر کشی ختم ہو جاتی ہے تو پھر قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پہلے طبقے میں شامل ہوں۔ وہ انہیں پکارتا ہے کہ ایک اللہ ایک خالق اور ایک رازق کی بندگی اور غلامی کی طرف لوٹ آئیں، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ اس کے بعد نبیﷺ کی صداقت اور رسالت اور آپ پر نزول قرآن کے بارے میں جو لوگ متشکک ہیں انہیں چیلنج دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی سورت تو بنا لائیں۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے تو پھر دردناک اور خوفناک عذاب کے لئے تیار ہو جائیں۔ اس کے برعکس مومنین اور منیبین کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والا انعام و اکرام ہے۔ اور الفاظ کے آئینے کی جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔

         اس کے بعد پھر یہود و منافقین کی فتنہ پردازی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تمثیلات دی گئی ہیں۔ لہٰذا یہ منزل کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو آڑ بنا کر شکوک و شبہات پھیلانے کا ایک وسیع کاروبار شروع کر دیا تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ مثالیں گہری حکمت پر مبنی ہیں اور یہ کہ انہیں پڑھ کر ایک شخص گمراہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ ہوئے اور دوسری طرف ان سے مومنین کا گروہ ایمان میں اور پختہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ان پر نکیر کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق و مدبر، علیم و بصیر اور جلانے والے اور مارنے والے کا انکار کیوں کر کرتے ہیں ؟حالانکہ وہی توہے جس نے انسان کے لئے پوری کائنات کو پیدا کیا، انہیں یہاں یہ طویل و عریض مملکت دے کر اپنا خلیفہ و خود مختار بنایا اور انہیں بے شمار انعامات و اکرامات سے نوازا۔

٭ ٭ ٭

 

سُورَۃُ البَقَرَۃِ

 

 

اللہ کے نام سے جو بے انتہاء مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔

الف، لام، میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں۔ جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن )اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

جن لوگوں نے ان (باتوں کو تسلیم کرنے سے )انکار کر دیا، ان کے لئے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔ اور جو جھوٹ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ “ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ “خبردار، حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ “ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟”۔ ۔ ۔ خبردار، حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا، یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، یہ اب نہ پلٹیں گے یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ چمک سے ان کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے گی۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کر لیتا، یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

لوگو، بندگی اختیار کرو، اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت سے ہوسکتی ہے۔ وہی توہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مقابل نہ ٹھیراؤ۔

اور اگر تمہیں اس امرمیں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہمنواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تویہ کام کر کے دکھاؤ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین خدا کے لئے۔

اور اے پیغمبر، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق)اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوشخبری دے دو ہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے تووہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیئے جاتے تھے۔ ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ (۱ تا ۲۵)

 

سورت کا آغاز تین حروف مقطعات الف، لام اور میم سے ہوتا ہے۔ اور ان کے متصل مابعد کتاب اللہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے “یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے۔ ”

قرآن کی بعض دوسری سورتوں کے شروع میں ایسے ہی حروف آئے ہیں۔ لوگوں نے ان کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔ ہم ان میں سے اس تشریح کو اختیار کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ یہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب بھی انہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ جو معلوم و معروف ہیں اور یہ حروف و کلمات ایسے ہیں جنہیں عرب بسہولت استعمال کر رہے ہیں لیکن اس حقیقت کے باوجود قرآن کریم صفت اعجاز رکھنے والی کتاب ہے۔ عربوں کی استطاعت سے یہ باہر ہے کہ وہ انہی کلمات سے اس جیسی کتاب تیار کرسکیں۔ یہ کتاب انہیں بار بار چیلنج دیتی ہے کہ اگر ان کے بس میں ہے تو وہ اس جیسی کوئی کتاب پیش کریں، یا اس کی سورتوں جیسی دس سورتیں ہی بنا لائیں۔ ورنہ ایک سورت ہی لے آئیں لیکن اس تحدی کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

قرآن کریم کی شان اعجاز ایسی ہی ہے جیسے اس پوری کائنات کی ہے۔ جیسے اللہ کی تخلیق اور انسانی مصنوعات میں نمایاں فرق ہے۔ ایسے ہی قرآن اور انسانی کلام میں امتیاز ہے۔ ذرا اس مٹی کو دیکھئے کہ یہ چند معلوم و معروف عناصر سے مرکب ہے۔ ہم ان سے اینٹ اور برتن سے زیادہ کوئی پیچیدہ مشین بناتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کو دیکھئے کہ وہ ان ذرات کو حیات بخشتا ہے۔ اور یکایک وہ ذرات ذی روح اور متحرک مخلوق بن جاتے ہیں اور ذات باری کے اس معجزانہ راز یعنی “حیات”کو اپنے اندر لئے ہوئے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ یہ حیات ایسا راز ہے جو انسان کے اندر حیطۂ قدرت سے باہر اور ا س کے ادراک سے وراء ہے۔ بس بعینہ یہی مثال ہے قرآن کریم کہ یہ حرف تہجی اور ان سے مرکب معروف متداول کچھ کلمات ہیں جن سے تمام انسان نظم و نثر بناتے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ اسی مواد کو استعمال کرتا ہے تو وہ قرآن و فرقان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ غرض اللہ کے کلام اور انسانی کلام کے درمیان فرق ایسا ہے جیسے ایک بے جان مادہ اور ایک زندہ متحرک مخلوق کے درمیان ہوتا ہے۔ یہی ہے فرق ظاہری زندگی اور حقیقی زندگی کے درمیان۔

“اس کتاب میں شک نہیں۔ ”

اس میں شک و شبہ کیونکر ہو ؟جبکہ اس کے آغاز ہی میں صداقت و یقین کے دلائل پوشیدہ ہیں۔ حروف تہجی سے عرب ادباء ایسی کتاب بنانے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ یہ حروف و کلمات ان کے درمیان متداول و معروف ہیں لہٰذا اب شک کی کیا گنجائش ہے ؟

“اس میں کوئی شک نہیں اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے۔ ”

بلکہ ہدایت اس کی حقیقت و مزاج میں داخل ہے۔ اس کی ماہیت اور اس کا وجود ہی عین ہدایت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کن لوگوں کے لئے ہدایت ہے ؟اور کن لوگوں کے نور مبین اور مشفق رہنما ہے ؟صرف متقین کے لئے۔ اس سے صرف وہی شخص مستفید ہوسکتا ہے۔ جس کا دل خوف خدا سے اور تقویٰ سے معمور ہے۔ تقویٰ ہی اس کتاب کے لئے دل کے دریچے کھولتا ہے۔ اور جب یہ کتاب کسی کے دل میں اتر جاتی ہے وہاں جا کر ہی یہ اپنا اہم پارٹ ادا کرتی ہے۔ کیونکہ صرف تقویٰ ہی کسی دل کو اس طرف آمادہ کرتا ہے کہ وہ سچائی کو آگے بڑھ کر اٹھا لے اور آواز حق پر لبیک کہے۔

جو شخص قرآن سے ہدایت لینا چاہتا ہے اس کے لئے یہ از حد ضروری ہے کہ وہ قران کے پاس قلب سلیم لے کر آئے اور اس کا دل خلوص سے پر ہو۔ پھر وہ دل تقویٰ اور خوف خداوندی سے بھی معمور ہو۔ اس کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ کہیں گمراہی میں مبتلا نہ ہو یا ضلالت اسے اپنی طرف کھینچ نہ لے۔ جب ایک شخص قرآن کا اس طرح مطالعہ کرتا ہے تو پھر قرآن بھی اس پر اپنے اسرار و رموز کھول دیتا ہے اور اس پر اپنے انوار و برکات کی بارش کر دیتا ہے۔ اور یوں وہ اس خائف۔ متقی، حساس اور منیب دل میں شراب معرفت انڈیل دیتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تقویٰ کا مفہوم کیا ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا “کیا آپ کا گزر کبھی کسی پر خار راستے سے نہیں ہوا؟”آپ نے کہا “ہاں۔ ” تو انہوں نے کہا “تو پھر آپ اس راہ سے کیونکر گزرے ؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا “میں نے اپنے کپڑوں کوسمیٹ لیا اور احتیاط سے چلا!انہوں نے کہا “بس یہی ہے تقویٰ !”

یہ ہے تقویٰ کا مفہوم۔ ضمیر کا احساس، شعور کی صفائی۔ دائمی خوف، مسلسل احتیاط اور زندگی کی شاہراہ میں آنے والے کانٹوں سے بچنا۔ بالخصوص ایسی را جہاں ہر طرف خواہشات نفس اور مرغوبات کے کانٹے بچھے ہوئے ہیں۔ جہاں خوف وہراس کے کانٹے ہیں، طمع و لالچ کے کانٹے ہیں اور جھوٹی تمناؤں اور آرزوؤں کے کانٹے ہیں۔ اور یہ تمنائیں ان لوگوں سے وابستہ ہیں جو انہیں پوری نہیں کرسکتے۔ اور یہ خوف ان لوگوں سے ہے جو کسی کو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ غرض یہ اور دوسرے ہزاروں قسم کے کانٹے اور رکاوٹیں جو ہر وقت۔ ہر طرف سے دامن گیر ہوتی ہیں۔

اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔ ان صفات کا ذکر ہوتا ہے جو مدینہ طیبہ کے سابقین مومنین میں پائی جاتی تھیں۔ اور اب اس امت کے مخلصین کے لئے ہر دور میں وہی معیار بن گئی ہیں۔

“جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن )اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں۔ ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ”

متقین کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں افعال اور مثبت شعوری اتحاد پایا جاتا ہے۔ ان سب کے دل ایمان بالغیب سے معمور ہیں۔ وہ سب ایک جیسے فرائض بجا لاتے ہیں، سب کے سب تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور سب کو قیامت کی جواب دہی کا خوف ہے۔ یہ فکری اتحاد اسلامی نظریۂ حیات کی ممتاز خصوصیت ہے اور جو لوگ اس نظریۂ حیات کو قبول کرتے ہیں ان میں دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کامل اتحاد پایا جاتا ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہے کہ یہ نظریۂ حیات پوری انسانیت کا نظریہ بن جائے۔ پوری انسانیت اسے قبول کرے اور اس نظریۂ حیات کے سائے میں تمام دنیا اپنے احساسات اور طریقہ ہائے حیات کے ساتھ، مکمل اتحاد کی شکل میں زندگی بسر کرے اس کے باشندوں کے شعور و نظریات اور ان کی عملی زندگی اور اجتماعی نظم پر یہ نظریۂ حیات حاوی ہو۔

جب ہم متقین کی اس اہم اور ممتاز خصوصیت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور اس کے ایک ایک جز کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجزاء وہی ہیں جو ہمیشہ تمام انسانوں کی زندگی میں بحیثیت اعلیٰ اقدار مسلم رہے مثلاً الَّذِینَ یُؤمِنُونَ بِالغَیبِ”جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ “اس لئے، ان کی ارواح اور اس وقت کے درمیان جس نے انہیں اور اس پوری کائنات کو پیدا کیا، مادیت اور حسیات کے پردے حائل نہیں ہوتے۔ اس مادی دنیا سے وراء الوراء جو عالم اور جو موجودات اور جو “قوت”اور “حقیقت”موجو د ہے، ان کی روح اور اس کے درمیان حسیات و مادیت کے یہ پردے حائل نہیں ہوسکتے۔

ایمان بالغیب وہ پہلی سیڑھی ہے، جسے انسان عبور کر کے حیوانیت کے مقام ارزل سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ جہاں صرف اسی چیز کا ادراک ہوتا ہے جسے یہ ظاہری حواس پا سکتے ہیں۔ لیکن ایمان بالغیب کے مقام پر آ کے، انسان اب انسانیت کے اس مقام تک بلند ہو جاتا ہے، جہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کائنات جو ا س کی محدود دنیا سے کہیں بہت بڑی ہے۔ جو اس (یا آلات جدیدہ کے ذریعہ ترقی یافتہ حواس)کا دائرہ ادراک بہت محدود ہے اور یہ کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ اس طرح ایک مومن بالغیب “انسان کے تصور کی دنیا میں، اس کی پوری کائنات کی حقیقت کے بارے میں بلکہ وہ خود انسان کے وجود کے بارے میں اور وجود انسانی میں جو قوتیں کارفرما ہیں ان کے بارے میں اور اس کائنات اور ا س کی پشت پر کام کرنے والی مدبرانہ قوت کے متعلق، ایک دور رس تبدیلی اور ایک ہمہ گیر انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ صرف تصور ہی نہیں بلکہ اس کرۂ ارض پر اس کے طور طریقوں میں بھی ایک وسیع تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے ظاہری حواس کی محدود دنیا میں گم رہتا ہے، اس کی زندگی اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتی جو اس عظیم تر کائنات میں رہتا ہو جسے اس کی بصارت یا بصیرت دیکھ رہی ہو اور وہ اپنی دلی گہرائیوں اور اپنے تصور میں، اس وسیع تر اور عظیم تر کائنات کی صدائے بازگشت ہر وقت پا رہا ہو۔ اسے اس بات کا پختہ شعور ہو کہ اس کا انجام زمان و مکاں کے حدود، اور اس کی مختصر عمر میں خود اس کے اپنے حقیر مدرکات سے وراء ہے۔ اور یہ کہ اس ظاہری اور باطنی کائنات کی پشت پر ایک “عظیم حقیقت “کام کر رہی ہے جو اس انسان کے وجود کا مصدر و منبع ہے اور وہ حقیقت صرف “ذات باری تعالیٰ”ہے۔ جو ہماری نظر کی گرفت سے باہر ہے اور عقل کے حیطہ ادراک سے وراء ہے۔ لَاتُدرِکُہُ الاَبصَارُ

صرف یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے انسان کی اس محدود فکری قوت کو پریشانیوں، انتشار اور ایسی لایعنی چیزوں میں مشغول ہونے سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لئے اسے پیدا ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہماری یہ محدود فکری قوت اور ان امور کا احاطہ کرسکتی ہے۔ اور اگر ہم اپنی پوری فکر کو ان امور میں صرف بھی کر دیں تو ان سے ہمیں نہ کوئی دینی فائدہ حاصل ہوتا ہے نہ دنیوی۔ اللہ نے انسان کو جو محدود فکری قوت دی ہے، وہ اسے صرف اسی لئے دی گئی ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے نائب ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے۔ انسانی فکر کے ذمہ صرف اس واقعی اور قریب زندگی کے امور کو سلجھانا۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ انسانی زندگی پر غور کرے، اسے گہری اور عمیق نظر سے دیکھے، اس سے نتائج اخذ کرے۔ اس زندگی کو ترقی دے، حسین تر بنائے، لیکن وہ سب کام اس روحانی قوت کے مستند طریقے کے مطابق کرے جسے اس کائنات اور اس کائنات کے خالق کے ساتھ براہ راست ربط ہے۔ رہے وہ غائبانہ امور اور عالم مغیبات، تو اسے اپنے حال پر چھوڑ دے کیونکہ انسان کی محدود عقل عالم مغیبات کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اسی واقعاتی دنیاسے آئے جو عالم اور جو جہاں ہیں، ان کی تلاش میں جو لوگ اس کوتاہ عقل کو لے کر نکلتے ہیں، جس کی نظر اس زندگی اور اس کرہ ارض تک ہی محدود ہے، اور اس تلاش میں وہ روحانیت اور الہام اور کھلی بصیرت سے بھی کوئی مدد نہیں لیتے اور غائبانہ امور کو ناقابل ادراک سمجھ کر اپنی جگہ نہیں چھوڑتے، ایسے لوگوں کی تمام کوششیں بالآخر ناکامی کا منہ دیکھیں گی۔ ان کی یہ کوشش اس لئے ناکام ہو گئی کہ وہ اس کام کے لئے اس طاقت کو استعمال کر رہے ہیں جو اس میدان میں کام ہی نہیں آسکتی نہ اس کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اور ان کی یہ کوشش عبث اس لئے ہو گی کہ فکری طاقت کو غلط استعمال کر کے وہ اسے منتشر کر دیں گے۔ جب انسانی ذہن اس بات کو تسلیم کر چکاہے کہ ایک محدود ذہن مطلق اور لامحدود اشیاء کا ادراک بھی نہیں کرسکتا تو ذہن انسانی کی اس منطق کا احترام کرنا چاہئے اور اس امر کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ مطلق اور لامحدود امور کا ادراک محال ہے۔ نیز یہ بھی پیش نظر رہے کہ کسی مجہول امر کا عدم ادراک اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ وہ امر سرے سے عالم غیب میں موجود ہی نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ وہ غیبی امور کو قوت عقلی کے علاوہ کسی اور قوت کے سپرد کر دے اور اس بارے میں اسے جو معلومات درکار ہیں وہ اس ذات سے حاصل کرے جو علیم و خبیر ہے، ظاہر و باطن پر محیط ہے۔ عالم غیب اور عالم شہادت اس کے سامنے یکساں ہیں۔

یہ صرف مومن ہی نہیں جو اس نقطہ نظر سے عقل کی اس منطق کا احترام کرتا ہے اور یہاں قرآن مجید اہل تقویٰ کی یہ صفت بیان کرتا ہے کہ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ غائب امور پر ایمان لاتے ہیں۔

ایمان بالغیب کا عقیدہ، درجہ حیوانیت سے انسان کی ترقی کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن ہمارے زمانے کی طرح ہر دور میں مادہ پرست انسانوں نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ انسان کو پیچھے لوٹا کر دو بارہ درجہ حیوانیت میں گرا دیں۔ اسے حیوانی دنیا میں لے جائیں۔ جہاں محسوسات کے سوا کسی اور چیز کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ اس عمل کو “ترقی پسندی “کا نام دیتے ہیں حالانکہ وہ ترقی پسندی نہیں بلکہ رجعت قہقری ہے اور اس سے اللہ نے ایک مومن کو یوں بچایا ہے کہ ان کی ممتاز صفت ہی یہ قرار دی کہ وہ عالم مغیبات پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے ہم اس پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ رہی وہ حیوانیت جس پر یہ مادہ پرست فریفتہ ہو چکے ہیں تو یہ انہیں ہی مبارک ہو۔

وَ یُقِیمُونَ الصَّلٰوۃَ”نماز قائم کرتے ہیں۔ “وہ صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرتے ہیں اور اس طرح وہ انسانوں یا دوسری چیزوں کی غلامی سے بلند اور آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو لامحدود قوت و قدرت کی مالک ہے۔ ان کے سر کسی انسان کے آگے نہیں، بلکہ ذات باری تعالیٰ کے سامنے خم ہو جاتے ہیں۔ وہ “دل”جو صحیح معنوں میں ذات باری کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور شب و روز کی ہر گھڑی میں وہ اللہ سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندر یہ شعور پاتا ہے کہ اس کا تعلق خالق کائنات سے قائم ہے۔ اب وہ اس دنیائے دنی اور اس کی ضروریات میں غرق نہیں ہو جاتا بلکہ وہ زندگی کا ایک بلند نصب العین پالیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ تمام مخلوق سے قوی تر اور برتر ہے کیونکہ اس کا جوڑ اس ذات سے ہے جس نے تمام دنیاوی مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ یہی شعور دراصل انسانی ضمیر کی قوت کا مصدر ہے اور تقویٰ اور نیک و بد کے احساس کی یہی اساس ہے۔ انسانی شخصیت کی تربیت کے لئے یہ ہمیشہ ایک اہم عنصر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو شخصیت تیار ہوتی ہے وہ ربانی فکر، ربانی شعور اور ربانی طرز عمل کی حامل ہوتی ہے۔

وَ مِمَّا رَزَقنَہُم یُنفِقُونَ”جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “یعنی وہ اس کے معترف ہوتے ہیں کہ ان کے قبضے میں جو دولت ہے، وہ اللہ کی دی ہوئی ہے، وہ خود ان کی پیدا کردہ نہیں ہے۔ بخشش رزق کے اس اعتراف ہی کے نتیجے میں، انسان کے دل میں، ناتوانوں کے ساتھ احسان، خالق کائنات کی عیال کے درمیان باہم تعاون اور انسانی اخوت اور روابط کا شعور واحساس پیدا ہوتا ہے، اس اعتراف کی قدر و قیمت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب دوسروں کے ساتھ احسان کر کے نفس انسانی حرص و آز کی امراض سے پاک ہو جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی میں طبقاتی کشمکش اور ظلم وستم کی جگہ طبقاتی تعاون (Co-operation)پیدا ہوتا ہے، دولت کے اس تصور میں ضعیف و ناتواں اور فقیر ومسکین یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ دل اور روح کی دنیا میں رہتے ہیں، انہیں خوبصورت چہروں سے واسطہ پڑتا ہے اور ظلم وستم کے چنگل میں گرفتار نہیں۔ نہ ہی وہ شعور رکھتے ہیں کہ انہیں درندوں اور بھیڑوں سے واسطہ ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ میں زکوٰۃ، صدقات واجبہ اور بھلائی کی راہ میں خرچ ہونے والے سب سرمائے داخل ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کو فرضیت زکوٰۃ سے بھی پہلے لازم کیا گیا۔ یہ دراصل ایک عمومی پالیسی ہے۔ فرضیت زکوٰۃ کی آیات اس کی ایک مخصوص اور جزوی شکلوں کو متعین کرتی ہے۔ فاطمہ بنت قیس نبی سے (بروایت ترمذی )نقل کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا”زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں مساکین کا حق ہے۔ ”

 

وَ الَّذِینَ یُؤمِنُونَ بِمَآ اُنزِلَ اِلَیکَ وَ مَآ اُنزِلَ مِن قَبلِکَ”جو کتاب تم پر نازل کی گئی (یعنی قرآن)اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، ان سب پر ایمان لاتے ہیں۔ “یہی صفت امت مسلمہ شایان شان ہے۔ وہ آسمانی عقائد کی وارث ہے ؟آغاز انسانیت سے لے کر تمام نبیوں کی وہ وارث ہے ؟وہ عقائد کی وارث اور نبوت کے وراثت کی امین ہے اور تا قیامت، اس زمین پر قافلہ ایمان کی حدی خواں ہے۔

اس صفت کی وجہ سے امت مسلمہ میں انسانی اتحاد کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح پوری انسانیت کا دین ایک ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک معبود قرار پاتا ہے اور اس کی طرف سے جو رسول بھیجے گئے سب کے نزدیک وہ رسولان برحق ہو جاتے ہیں۔ اس صفت کی وجہ سے دوسرے ادیان اور ان کے ماننے والوں کے خلاف مذموم تعصب ختم ہو جاتا ہے، جب تک وہ صحیح راہ پر ہوں، اور انسان اس پر مطمئن ہو جاتا ہے کہ مختلف ادوار اور زمانوں میں اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کی ہدایت اور اصلاح کا بندوبست فرماتے رہے ہیں۔ چنانچہ اس نے مسلسل ایک ہی پیغام اور ایک ہی ہدایت مختلف رسولوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ نیز اس صفت کے نتیجے میں یہ احساس بھی ابھرتا ہے کہ مختلف ادوار اور زمانوں میں حالات کی تبدیلی کے باوجود حق اور ہدایت ایک ہی رہی ہے۔ یہ ہدایت اور روشنی اسی ستارے کی مسلسل قائم ہے جو اندھیروں میں ہر فرد کے لئے رہنما ہوتا ہے۔

وَ بِالاٰخِرَۃِ ھُم یُوقِنُونَ”اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔ “یہ مومنین کی صفات میں سے آخری صفت ہے۔ یہاں آ کر اب دنیا کے ڈنڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ابتدا کا ربط انجام سے ہوتا ہے۔ اعمال پر سزاجزاء مرتب ہوتی ہے اور انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی مہمل اور عبث مخلوق نہیں ہے۔ نہ ہی وہ اس دنیا میں خود مختار چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلکہ اسے ایک عظیم عدالت میں جانا ہے تاکہ اس کا دل مطمئن ہو جائے۔ اس کی پریشانیاں دور ہو جائیں۔ وہ اعمال صالحہ کی طرف مائل ہو جائے۔ اور اسے یقین ہو جائے کہ انجام کار اسے اللہ، رحمان و رحیم کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ جہاں ہرکسی کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

محسوسات کے محدود دائرے میں قید رہنے والوں اور اس وسیع کائنات میں آزاد پھرنے والوں کے درمیان، یوم آخرت پر یقین کی وجہ سے واضح طور پر فرق و امتیاز ہو جاتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کا احساس اور شعور یہ ہوتا ہے کہ حیات انسانی بس وہی ہے جو اس کرہ ارض پر گزرتی ہے۔ لیکن دوسرے قسم کے لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا تو دار الامتحان ہے جو جزائے اعمال کی تمہید ہے۔ حقیقی زندگی تواس جہاں کی ہے، جو اس محدود اور مختصر دنیا سے آگے آنے والی ہے۔

جیسا کہ اوپر جائزہ لیا گیا جن صفات کا ذکر یہاں ہوا ہے وہ حیات انسان کی وقیع ترین صفات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان صفات کو متقین کی خصوصی صفات قرار دیا گیا۔ ان سب صفات کے درمیان ایک منطقی ربط پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ باہم مل کر ایک مربوط اور متناسب اکائی بن جاتی ہیں۔ مثلاً انسانی ضمیر میں تقویٰ اس وجدانی حالت کا نام ہے جو کچھ خاص میلانات اور اعمال صالحہ کو جنم دیتی ہے۔ اس صفت کی وجہ سے باطنی احساسات اور انسان کی عملی سرگرمیوں اور تصرفات کے درمیان وحدت اور ربط پیدا ہو جاتا ہے اور انسان اپنی باطنی اور فکری ظاہری اور عملی دونوں پہلوؤں میں اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس کی روح شفا پاتی ہے۔ روح اور عالم غیب وشہادت کی حاوی اور اپنے گھیرے میں لینے والی ذات مطلق کے درمیان تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں۔ معلوم اور مجہول سرحدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔ جب روح شفا پا جائے اور ظاہر و باطن کے درمیان سے حجابات اٹھ جائیں تو اس وقت ایمان بالغیب سچائی کو چھپانے والے پردوں کے اٹھنے کا قدرتی ثمرہ ہوتا ہے۔ اس طرح انسانی روح عالم مغیبات سے جڑ جاتی ہے اور اسے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ تقویٰ اور ایمان بالغیب کے ساتھ اللہ کی عبادت کی وہ صورت بیان ہوئی ہے، جو اللہ نے تجویز کی ہے یعنی نماز۔ اللہ اور بندے کے درمیان یہ ایک خاص تعلق ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے تم پر جو احسانات و اکرامات کئے ان کا شکر ادا کرتے ہوئے انسانی اخوت کے قیام کے لئے تم ان انعامات کا ایک حصہ خرچ کرو۔ پھر قافلہ ایمان کی لمبی تاریخ کے بارے میں وسعت فکر کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ شعور بیدار کیا جاتا ہے کہ ہر مومن ہمارا بھائی ہے۔ ہررسول ہمارا رسول ہے۔ اور ہمیں اس سے فکری قرب ہے۔ اگرچہ وہ بعد زمانی رکھتا ہو اس کے بعد آخرت کی جواب دہی کے متعلق پختہ یقین یہ سب صفات ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔

مدینہ طیبہ میں ابتداً جو جماعت قائم ہوئی وہ ایسی ہی تھی جو مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تی۔ یہ جماعت اپنی ان اوصاف کے ساتھ ایک عظیم حقیقت تھی۔ وہ عظیم حقیقت کہ یہ ایمانی حقائق اس کی زندگی میں مجسم ومتشکل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر انسانی تاریخ میں اس جماعت کے ہاتھوں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ دیا جاتا ہے اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّن رَّبِّہِم ق وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ”ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں۔ اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ “یوں انہوں نے ہدایت پائی لہٰذا وہ کامیاب رہے اور ہمیشہ کے لئے ہدایت و فلاح کی واحد راہ یہی ہے۔ جو چاہے اس پر گامزن ہو جائے۔

اب ہمارے سامنے مفکرین دعوت اسلامی کی تصویر آتی ہے۔ اس تصویر کشی میں وہ تمام عناصر (Groups)بیان کر دیئے گئے ہیں جو کفر کی حقیقت کے اندر پائے جاتے ہیں، یہ کفر جس دور میں ہو اور زمین کے جس حصے میں بھی وہ پایا جائے یہ عناصر اس میں ضرور پائے جاتے ہیں۔

“جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے )انکار کر دیا، ان کے لئے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ”

یہاں متقین اور کافرین بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ کتاب متقین کے لئے تو ہدایت اور نور بصیرت ہے لیکن کفار کا حال یہ ہے کہ خواہ انہیں خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے، وہ ہر حال میں روش کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ مومنین کے دلوں میں ہدایت ربانی کے جو دریچے سداوا ہوتے ہیں اور وہ روابط جن کی وجہ سے وہ ہر وقت اس پوری کائنات، اس کے خالق، اس کے ظاہر و باطن اور اس کے عالم غیب و شہادت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں، رشد و ہدایت کے یہ سب دریچے کفار کے لئے بند نظر آتے ہیں، اسی منظر میں انسان اور خالق کائنات کے درمیان وہ تمام رابطے بالکل کٹے ہوئے ہیں، جو مومنین اور خالق کائنات کے درمیان قائم و دائم ہوتے ہیں۔

خَتَمَ اﷲُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم”اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ “جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد و ہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَۃٌ ز”اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار و تبشیر کو ٹھکرا دیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزاد ی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی، آنکھوں پر پردے پڑ گئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہو گئے ہیں۔ یوں ان کے لئے وعظ و تبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہو گیا۔

یہ نہایت کرخت، جامد اور تاریک تصویر ہے، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہو کر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ”اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ “کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں۔

اب سیاق کلام تیسری تصویر اور تیسرے منظر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اس تیسرے نمونے کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی جاتی ہے۔ “بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا۔ اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں۔ اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ´خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟

خبردار اس حقیقت میں تو یہ خود بے وقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں، اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں توہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کئے جا رہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے، اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ان الفاظ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مدینہ طیبہ کی واقعی صورتحال کی صحیح تصویر کشی ہے لیکن زمان و مکان کی حد بندیوں سے قطع نظر کر کے بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو اس قسم کے لوگ ہمیں انسانوں کی ہر نسل میں موجود نظر آتے ہیں۔ ہر نسل میں ایسے ذی حیثیت منافق لوگ پائے جاتے ہیں جو نہ تو اپنے اندر یہ جرأت پاتے ہیں کہ حق و صداقت کو پوری طرح تسلیم کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نہ ان میں یہ سکت ہوتی ہے کہ حق و صداقت کا صاف صاف انکار کر دیں۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ عوام کے مقابلے میں اپنے لئے ایک اونچی حیثیت اور رتبہ بلند بھی پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو جمہور عوام سے زیادہ علیم و فہیم سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ہم ان آیات کو ہر قسم کی تاریخی مثالوں سے آزاد اور اصولی آیات سمجھتے ہیں جو ہر دور کے ان تمام لوگوں پر صادق ہیں جو منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں۔ غرض ان آیات میں جس نفسیاتی صورتحال کی تصویر کھینچی گئی ہے وہ ایسی صورتحال ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی گہرائیوں میں موجود رہی ہے اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

ٍاس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادم اسلام ہونے )کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن درحقیقت ان کے دل دولت ایمان سے خالی ہوتے ہیں، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جرأت ان کے اندر نہیں ہوتی۔

ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یُخٰدِعُونَ اﷲَ وَ الَّذِینَٰامَنُوا”وہ اللہ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں، دھوکہ بازی کر رہے ہیں۔ “اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں ایک عظیم حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان فضل و کرم ہے کہ قرآن کریم میں بار بار بتاکید و تکرار اس کا اظہار ہوا ہے اور اسی میں دراصل بندہ مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قائم ربط و تعلق کا راز پنہاں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کے محاذ کو خود اپنا محاذ قرار دیتا ہے۔ ان کے معاملات اور حالات کو خود اپنے معاملات اور حالات قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے اور انہیں اپنے دامن شفقت ورافت میں لیتا ہے۔ ان کے دشمن کو خود اپنا دشمن قرار دیتا ہے، ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنے خلاف سازش قرار دیتا ہے۔ یہ اس کی انتہائی شاہانہ کرم نوازی اور عزت افزائی ہے جس سے مومنین کی قدر و منزلت اپنے انتہائی عروج تک جا پہنچتی ہے اور جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کائنات میں ایمان باللہ ایک عظیم ترین حقیقت ہے جس سے دل مومن میں ثبات و طمانیت کے سرچشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے مسائل اور مشکلات کو اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے، اس کا معرکہ اللہ کا معرکہ قرار پاتا ہے، اس کا دشمن اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔ اللہ اسے اپنے محاذ میں لے لیتا ہے اور اپنے عمل عاطفت میں داخل کر لیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پھر انسانوں اور حقیر بندوں کی سازشوں، دھوکہ بازیوں اور ایذا رسانیوں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ؟

اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تہدید ہے جو مومنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی کے درپے ہوتے ہیں۔ انہیں کہا جا رہا ہے کہ ان کی یہ جنگ صرف مومنین کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہ درحقیقت اس ذات اقدس کے خلاف صف آراء ہیں جو قوی و متین ہے اور قہار و جبار ہے۔ اللہ کے دوستوں سے برسرپیکار ہو کر وہ دراصل اللہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی ان ذلیلانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اللہ کے قہر و غضب کے مستحق بن رہے ہیں۔

مومنین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت عظمیٰ کے ان دونوں پہلوؤں پر اچھی طرح غور وفکر کریں تاکہ انہیں اطمینان و ثبات حاصل ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں اور دھوکہ بازوں کے دھوکوں، سازشیوں کی سازشوں اور اشرار کی ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ مومنین کے دشمنوں کو بھی ایک لمحہ کے لئے اس حقیقت پر غور کر لینا چاہئے۔ انہیں چاہئے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور کس ذات کے قہر و غضب کا مستحق بن رہے ہیں۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ مومنین کے درپے آزاد ہو کر وہ کیا خطرہ مول لے رہے ہیں ؟

اب ہم دوبارہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو بزعم خود مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو غایت درجہ کا ذہین اور معاملہ فہم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں۔ لیکن ملاحظہ کیجئے کہ آیت کے اختتام سے پہلے ہی وہ کس عظیم مذاق کا شکار ہو جاتے ہیں۔

وَ مَا یَخدَعُونَ اِلَّاآ اَنفُسَہُم وَ مَا یَشعُرُونَ”مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں یعنی وہ اس قدر غافل ہیں کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں اور اللہ ان کی سب حرکات سے باخبر ہے۔ رہے مومنین تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے ذلیلانہ مکر و فریب سے وہ خود انہیں بچا رہا ہے۔ لیکن یہ نادان خواہ مخواہ دھوکہ کھا رہے ہیں۔ اور اپنے آپ کو برائی اور گناہوں سے ملوث کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ روش نفاق اختیار کر کے انہوں نے بہت نفع بخش سودا کیا ہے۔ اور اس سے انہیں کافی فائدہ پہنچا لیکن اس طرح وہ مومنین کی سوسائٹی میں اعلان کفر جیسے مشکل کام سے بھی بچ گئے اور مومنین کے ساتھ نئے معاشرے کے مفادات بھی انہوں نے سمیٹ لئے۔ حالانکہ جس کفر کو وہ اپنے دل میں چھپا رہے ہیں وہ انہیں ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جا رہا ہے۔ ان کا نفاق ان کے لئے تباہی کاسامان ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایک نہایت نامسعود انجام تک پہنچنے والے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں۔ روش نفاق اختیار کر کے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ”ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کر دے فَزَادَھُمُ اﷲُ مَرَضًا”ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھا دیا۔ “ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط و حدود آگے بڑھتے ہیں اس کا زاویہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔ یہ اللہ کا قانون قدر ہے، جو ہر جگہ جاری وساری ہے۔ یہ قانون فطرت انسانی سوچ اور طرز عمل تمام چیزوں اور تمام حالات میں جاری ہے۔ وہ خود ایک معلوم و معروف انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ وہ انجام جو ان سب لوگوں کے لئے مقدور ہے جو اللہ اور مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ وَ لَہُم عَذَابٌ اَلِیمٌم بِمَا کَانُوا یَکذِبُون”یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ “ان کی اہم صفات میں سے یہ دوسری صفت ہے، بالخصوص ان لوگوں کی جو ان میں سرکردہ تھے اور ہجرت رسولﷺ سے قبل اپنی قوم اور قبیلے میں سرداری کے مناسب پر فائز تھے مثلاً عبداللہ ابن ابی ابن سلول۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مومنین کے خلاف دل میں گہرا کینہ رکھتے تھے اور جو فتنہ وفساد برپا کرتے تھے اس کے لئے تاویلیں پیش کرتے اور اپنے ان کارناموں پر ہر قسم کی سزا و مواخذہ سے بچ کر پھولے نہ سماتے۔

وَإِذَا قِيلَ لَہُمْ لا تُفْسِدُوا فِي الأرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ(١١)أَلا إِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لا يَشْعُرُونَ (١٢)

“جب کبھی ان سے یہ کہا گیا کہ زمین میں فسادبرپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار !حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ ”

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پرہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ “زمین میں فساد نہ کرو۔ “یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ “بھائی ہم کب فساد برپا کر رہے ہیں ؟بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ “مصلح تو ہیں ہی ہم۔ ”

ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپا کر رہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم توبس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں توایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے اور نفس انسانی میں فساد پیدا ہو جائے تو تمام اعلیٰ قدریں اور حسن و قبح کے پیمانے از خود ختم ہو جاتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور ایمان نہ رہے۔ وہ کبھی بھی فساد فکر وعمل کا شعور نہیں پا سکتے اور ان کے دل و دماغ میں خیر و شر اور اصلاح وفساد کا جو پیمانہ ہوتا ہے، وہ ان کی خواہشات نفسانی کی طرف، جھکتا رہتا ہے اور ربانی نظام حیات کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اسی لئے ان کے اس دعوے کا یہ سخت لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا جاتا ہے۔

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ”خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے۔ “ا ن لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class)کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹا وقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاء ُ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآء ُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون”اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟خبردار حقیقت میں یہ تو خود بے وقوف ہیں، مگر جانتے نہیں۔ ”

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جا رہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کر دیں۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کر کے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہو گئے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا تھا اور انہوں نے نبی eکے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے۔ آپﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بے نفسی سے لبیک کہتے تھے۔ چنانچہ منافقین کو دعوت دیجا رہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریمﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class)کے لوگ سمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم و رضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی۔ “خبردار!حقیقت میں تو یہ خود بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔ ”

سوال یہ ہے کہ کوئی بے وقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بے وقوف ہے، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ، فریب کاری، تحقیر مسلمین اور ادعاء و تعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت، لئیم، سازشی اور مکار بھی ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِہِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُونَ”جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں توہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ ”

بعض لوگ اس ذلت اور کمینگی کو قوت اور حکمت سمجھتے ہیں، مکر و فریب ان کے پر خیال میں غایت درجے کی فراست وسیاست ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ چیز درحقیقت بے چارگی اور خسیس پنے کی آخری حد ہوتی ہے۔ ایک پر شوکت اور قوی انسان کبھی کمینہ اور خبیث النفس نہیں ہوسکتا۔ نہ اسے مکر و فریب کی ضرورت پڑتی ہے۔ نہ اسے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ تنہائی میں چغل خوریاں کرے اور طعنے اور طنزسے دل کا غبار نکالے۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے اور مومنین سے مل کر اپنی طرف سے بھی اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ ہم مومن ہیں تاکہ اس طرح وہ مومنین کی جانب سے ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رہیں اور اس طرح محفوظ و مامون ہو کر مومنین کے خلاف نیش زنی کرتے رہیں۔ یہ لوگ جب اپنے شیاطین کے پاس جاتے، جو غالباً (یہود ہوا کرتے تھے، اور جنہیں ایسے لوگوں میں سے ایسے کئی افراد مل جاتے تھے جو اسلامی صفوں میں انتشار و اختلاف پھیلانے کے لئے استعمال ہوں۔ دوسری طرف یہودی بھی ایسے لوگوں کے لئے ایک سہارے اور ملجا و ماویٰ کا کام کرتے تھے۔ چنانچہ یہ منافقین “جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے تو کہتے کہ اصل میں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ “مومنین سے ان کا مذاق یہ تھا کہ وہ ایمان اور تصدیق قلبی کا اقرار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مومنین کیا جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔

ا ن کی اس عیارانہ گفتگو اور مکارانہ طر ز عمل کی وضاحت کے فوراً بعد قرآن کریم انہیں ایسی سخت ڈانٹ پلاتا ہے کہ اگر احساس ہو تو پہاڑ بھی مارے خوف کے کانپ اٹھیں۔

اللَّہُ يَسْتَہْزِئُ بِہِمْ وَيَمُدُّہُمْ فِي طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُونَ”اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ “کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار و جبار جس کے ساتھ مذاق کر رہا ہے ؟اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں “اللہ ان کی رسی دراز کئے جا رہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں۔ “جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جولانی دکھاتا ہے تو یہاں آ کر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بے حس و حرکت کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان مکاریوں کو یوں اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نہ ان کا کوئی مرشد۔ نہ کوئی راہ سجھائی دیتی ہے۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے۔ یہ لوگ اسی سرگردانی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ دست قدرت انہیں اپنی شدید گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ چوہوں کی طرح غفلت و لاپرواہی کے عالم میں جال میں کود جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ ایک خوفناک انجام ہے اور اس کے مقابلے میں اس مذاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو یہ اپنے خیال کے مطابق کر رہے ہیں۔

یہاں اس حقیقت کا اظہار ہو رہا ہے جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ کفر واسلام کے معرکہ میں خود اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہوتا ہے۔ اللہ کے دوستوں اور بندوں کے لئے اس کی سرپرستی میں اگر طمانیت قلب کا ایک عظیم سرمایہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے مخبوط الحواس، غافل اور راندہ درگاہ دشمنوں کے لئے انجام بد اور ایک خوفناک پایان کار کی نشان دہی ہے، جو اس کے لئے دھوکہ کھائے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے لئے رسی دراز کئے جا رہا ہے اور وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ یہ اندھے ہو رہے ہیں، غفلت میں ڈوبے جا رہے ہیں، حالانکہ ایک خوفناک انجام ان کا منتظر ہے۔

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَۃَ بِالْہُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُہُمْ وَمَا كَانُوا مُہْتَدِينَ”یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ ” اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی۔ ان پر ہدایت کے دریا بہا دیئے گئے تھے۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے۔ ویسا ہی انجام ان کا بھی ہوا۔ اس سودے میں انہیں کوئی نفع نہ ہوا اور ہدایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی۔

آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھاجا رہا ہے۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں۔

اس تفصیلی بحث سے ایک طرف تو وہ کردار بھی اچھی طرح ہمارے سامنے آ جاتا ہے جو منافقین مدینہ، فدائیان اسلام کی ایذارسانی، ان کے اندر انتشار اور بے چینی پھیلانے کے سلسلے میں ادا کر رہے تھے۔ دوسری طرف اسلامی جماعت کو متنبہ کر دیا جاتا ہے کہ ہر دور میں ایک منافق، نظم جماعت کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اور اسلامی جماعت میں ان منافقین کی پردہ وری اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے۔

چنانچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات، اس کے مزاج کے تلون، اس کی بے ثباتی اور قلا بازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آ جائیں۔

مَثَلُہُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاء َتْ مَا حَوْلَہُ ذَہَبَ اللَّہُ بِنُورِہِمْ وَتَرَكَہُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ

“ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے۔ ”

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں ان کا رویہ ایسا نہ تھا کہ انہوں نے ہدایت سے اعراض کیا ہو، یا اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہوں، آنکھیں بند کر لی ہوں اور نہ یہ صورت تھی کہ انہوں نے اس تحریک کے مطالعے سے انکار کیا ہو، جیسا کہ کفار نے کیا لیکن بعد میں انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کوپسند کر لیا اور یہ فیصلہ انہوں نے سوچ سمجھ کر غور و خوض کے بعد کیا۔ انہوں نے آگ جلائی۔ اس نے ان کے ماحول کو روشن بھی کیا لیکن انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا حالانکہ وہ روشنی کے متلاشی تھے۔ جب ان لوگوں نے اپنی مطلوب روشنی کو پا کر بھی اس منہ موڑا تو اللہ نے ان کے اس رویے کی وجہ سے ان کا نور بصارت ہی سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکی میں بھٹکتے پھریں کیونکہ انہوں نے عین اس چیز سے منہ موڑا جس کے وہ طالب تھے۔

اللہ نے انسان کو آنکھ، کان اور زبان دی ہی اس لئے ہے کہ انسان بات سن سکے۔ روشنی کو دیکھ سکے اور نور ہدایت سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا۔ بہرے قرار پائے۔ انہوں نے اپنی زبان سے بھی کام نہ لیا۔ پس گونگے قرار دیے گئے، انہوں نے آنکھ سے دیکھنا ہی بند کر دیا لہٰذا اندھے بن گئے۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ سکیں، راہ ہدایت کی طرف مڑسکیں اور صداقت کی روشنی کو دیکھ سکیں۔

اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب، حیرت اور خوف و بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاء ِ…….. إِنَّ اللَّہَ عَلَى كُلِّ شَيْء ٍ قَدِيرٌ”یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں۔ جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کر لیتا یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ”

عجیب منظر ہے یہ بھی، جس دوڑ بھاگ، قلق و اضطراب، گمراہی و ضلالت، خوف و رعب، جزع و فزع، حیرانی و پریشانی، چمک دمک اور چیخ و پکار کی مختلف تصویریں رواں اور دواں نظر آتی ہیں۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں اور نیز چمک اور بجلی کے کڑاکے کی سخت آوازیں ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو اس تیز چمک کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اچانک اندھیرا ہو جاتا ہے۔ بے چارے کھڑے ہو جاتے ہیں، حیران و پریشان ہیں، نہیں جانتے کہ کدھر جائیں، مارے خوف کے کانپ رہے ہیں اور بجلی کے کڑاکے سن کر جان نکلی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں۔

پورا منظر اس تگ و تاز سے بھرا ہوا ہے، موسلا دھار بارش، تاریکیاں، کڑک اور چمک، خوفزدہ اور پریشان مسافر جو ڈرتے ڈرتے کچھ قدم آگے بڑھاتے ہیں اور اندھیرا آتے ہی رک جاتے ہیں۔ اس پورے منظر سے قرآن کریم یہ مثبت تاثر دینا چاہتا ہے کہ منافقین کسی طرح قلق و اضطراب، حیرانی و پریشانی، گمراہی وسرگردانی کا شکار ہیں۔ ادھر مومنین سے ملتے ہیں۔ ادھر اپنے شیاطین سے بھی ان کی ملاقات ہے۔ ادھر اقرار حق ہے تو ایک لحظہ بعد انکار اور سرکشی ہے۔ وہ نور اور ہدایت کے متلاشی ہیں۔ لیکن وہ عملاً اندھیروں اور گمراہیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی محسوس تمثیل اور منظر ہے لیکن منافقین کی خفیہ ترین نفسیاتی صورتحال کو آئینہ دکھا رہا ہے۔ شعوری صورتحال کو مجسم شکل میں ظاہر کر رہا ہے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص اور عجیب اسلوب بیان ہے۔ قرآن کرین نفسیاتی اور الجھی ہوئی ذہنی کیفیات کو اس طرح مخصوص انداز میں بیان کرتا ہے کہ وہ مجسم شکل میں آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔

مذکورہ بالا تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کے بعد سیاق کلام اب پوری انسانیت کو دعوت دینے کی طرف مڑ جاتا ہے۔ پوری انسانیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تین تصاویر میں سے سیدھی اور شریفانہ، پاک و خالص، سرگرم عمل اور نفع بخش اور ہدایت یافتہ اور کامیاب تصویر یعنی متقین کی تصویر کو اختیار کرے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے :

يَا أَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (٢١)الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاء َ بِنَاء ً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (٢٢)

“اے لوگو!بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں، ان سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت میں ہوسکتی ہے۔ وہی توہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی۔ اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تودوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھہراؤ۔ ”

اب گویا یہ تمام لوگوں کو دعوت ہے کہ وہ اس رب واحد کی بندگی میں داخل ہو جائیں جس نے انہیں پیداکیا ہے۔ اور اسی نے ان کے آباء و اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ وہ ایسا رب ہے جو اکیلا اس کائنات کا خالق ہے لہٰذا صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ اور اس کی بندگی کا ایک خاص مقصد ہے اور توقع ہے کہ اللہ کی بندگی کر کے تمام لوگ اس مقصد تک جا پہنچیں اور اسے حاصل کر لیں۔ اور وہ مقصد یہ ہے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ “تم انسانی زندگی کا وہ نقشہ اختیار کر لو جو پسندیدہ ہے اور جو اللہ کو پسند ہے۔ یعنی اللہ کی بندگی کرنے والوں اور اس سے ڈرنے والوں کا نقش حیات، جنہوں نے اللہ کی خالقیت اور ربوبیت کا حق صحیح طرح ادا کر دیا، صرف ایک خالق کی بندگی کی، جو تم حاضر اور گذشتہ لوگوں کا خالق ہے، اور جس نے آسمان و زمین کے وسائل کے ذریعہ ان کے رزق کا بندوبست کیا اور اس کام میں اس کا نہ کوئی مساوی ہے اور نہ شریک۔ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا”جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا۔ ”

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانی حیات کو بے حد سہل بنایا ہے۔ زمین کو اس طرح بنایا کہ وہ انسانوں کے لئے خوشگوار رہائش گاہوں اور فرش کی طرح محفوظ جائے قیام ہو۔ لیکن انسان چونکہ ایک طویل عرصہ تک یہاں رہتے ہیں۔ اس لئے ان کے شعور سے زمین وآسمان کی یہ خوشگواری محو ہو جاتی ہے۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے وسائل حیات فراہم کرنے کے واسطے اس زمین کے موسم کو ان کے لئے کیسا موافق اور خوشگوار بنایا ہے، اور ان کے لئے اس جہاں میں آرام اور آسائش کے کیا کیا ذرائع بہم پہنچائے ہیں۔ اگر یہ وسائل نہ ہوتے تواس کرہ ارض پر ان کی زندگی اس قدر خوشگوار، سہل اور پرسکون نہ ہوتی۔ اس کائنات کے عناصر ترکیبی میں سے اگر کوئی ایک عنصر بھی غائب ہو جائے تو یہاں کا ماحول اس قدر تبدیل ہو جائے کہ اس میں اس پوری انسانیت کی نشوونما محال ہو جائے۔ صرف ہوا ہی کی مثال لیجئے کہ جن مقررہ عناصر پر یہ مشتمل ہے، اگر ان میں ذرہ بھر کمی ہو جائے تو لوگوں کے لئے زمین پرسانس لینا دشوار ہو جائے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی زندہ رہنا ہے۔

وَالسَّمَاء َ بِنَاء ً”اور آسمان کو چھت بنایا”یعنی آسمان ایک چھت کی طرح موزوں اور پختہ ہے۔ اسی زمین میں انسان کی زندگی اور اس زندگی کی آسائشوں کے ساتھ آسمان کو گہرا ربط ہے۔ آسمان کی حرارت اجرام فلکی کی جاذبیت اور توازن وغیرہ غرض زمین و آسمان کے تمام طبعی روابط ممد حیات ہیں اور اس زمین میں قیام حیات کے لئے تمہید اور خشت اول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جب بھی اس جہان کے خالق کی قدرت کا بیان ہوتا ہے، انسان کے رازق کی کبریائی بیان ہوتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں۔ چنانچہ تمام ایسے مواقع پر اللہ کے احسانات کا ذکر ہوتا ہے۔

وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ”اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “اللہ جل شانہ کی قدرت اور اس کے انعامات کے تذکرے کے ضمن میں، آسمان سے پانی برسانے اور اس کے ذریعے مختلف قسم کی پیداوار نکالنے کا ذکر قرآن مجید کے متعدد مقامات میں کیا گیا ہے۔ چنانچہ آسمان سے اترنے والا پانی، طبعی نقطہ نظر سے بھی اس زمین پرقیام حیات کا بنیادی عنصر ہے۔ زمین پر زندگی اپنی مختلف شکلوں اور درجوں میں، اسی پانی کی رہین منت ہے۔ قرآن مجید میں وَجَعَلنَا مِنَ المَآء ِ کُلَّ شَیئٍ حَیٍّ”اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ بنایا۔ “کبھی تو پانی بارش کی صورت میں کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، کبھی وہ میٹھی ندیوں اور نہروں کی صورت میں بہتا ہے۔ اور کبھی وہ زمین کی رگوں میں سرایت کر جاتا ہے اور چشموں اور کنووں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور آلات کے ذریعے زراعت اور کھیتی باڑی کے کام میں استعمال ہوتا ہے۔

زمین میں پانی کی اہمیت، یہاں بقائے حیات میں اس کا کردار اور مختلف چیزوں کی زندگی کا اس پر موقوف ہونا، ایک ایسی بدیہی اور مسلم بات ہے جس کی طرف اشارہ اور یاد دہانی ہی کافی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ جو ہمارا خالق اور رازق ہے اور جس نے یہ تمام نعمتیں ہمیں بخشیں ہیں وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہم صرف اسی کی بندگی کریں۔

اس طریقہ دعوت سے، اسلامی تصور حیات کے دو اہم اصول خود بخود واضح ہو جاتے ہیں، ایک یہ کہ اس پوری کائنات کا خالق ایک ہے۔ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ”جس نے تمہیں اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں، ان سب کو پیدا کیا۔ “یعنی یہ کائنات ایک ہے، اس کی اکائیوں اور اجزا کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اور وہ انسان اور زندگی کے لے معین و مددگار ہے۔

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاء َ بِنَاء ً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجَ بِہِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

“وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “زمین ایک تخت کی طرح بچھی ہوئی ہے۔ اس کی فضاؤں کا نظام قانون قدرت میں بندھا ہوا ہے اس کے ذریعہ آبپاشی کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ روئے زمین پر لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کے لئے ہرقسم کی پیداوار کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کس کے لئے ؟حضرت انسان کے لئے۔ اور یہ سب اس کائنات کے خالق وحدہ لاشریک کا کمال ہے۔

فَلا تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ”پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ۔ “تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ تم سے قبل جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کو پیدا کیا۔ تم جانتے ہو کہ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ آسمان سے پانی اتارا اور اس پورے کام میں اس کا کوئی مددگار نہ تھا جو اس کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا۔ نہ کوئی مدمقابل تھا جو اس کی کسی بات کی مخالفت کرتا۔ لہٰذا اس علم کے بعد بھی اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا نہایت ہی نامناسب طرز عمل ہے۔

عقیدہ توحید کو صاف و شفاف طریقے سے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے قرآن کریم، اللہ تعالیٰ کے جن شریکوں کی بار بار نفی اور تردید کرتا ہے، وہ ہمیشہ صرف اسی معروف صورت میں نہیں ہوتے کہ کچھ بت یا اشخاص ہوں جنہیں اللہ کا شریک بنا کر ان کی پوجا کی جائے بلکہ کبھی وہ اس کے علاوہ دوسری خفی صورتوں میں بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کسی قسم کی امید رکھنا اللہ کے سوا کسی سے کسی قسم کا خوف اپنے دل میں رکھنا بھی شرک ہوتا ہے۔ نیز یہ اعتقاد رکھنا بھی شرک ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انداد شرک ہے اور یہ اس قدر خفی ہوتی ہے جس طرح اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کا آہستہ آہستہ چلنا پوشیدہ ہوتا ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً کوئی کہے کہ “اے فلاں خدا کی قسم، میری جان کی قسم، تیری جان کی قسم۔ “یا کوئی کہے “اگر گئی رات کتیا نہ ہوتی تو چور ہمیں لوٹ لیتے، “یا کوئی کہے “اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی تو چور آ جاتے۔ “یا کوئی اپنے دوست سے کہے جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ یا کسی کا یہ کہنا کہ “اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتے تو”غرض یہ سب اقوال شرک ہیں۔ نیز حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہﷺ سے کہا”جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ “تو آپﷺ نے فرمایا”کیا تم مجھے اللہ کا شریک بنانا چاہتے ہو۔ ”

یہ تھا سلف صالحین کا نقطہ نظر شرک خفی اور اللہ کے شریکوں کے بارے میں ہمیں چاہئے کہ ہم ذرا گریبان میں سر ڈال کر اپنے حال پر غور کریں۔ کہاں سلف کا شرک کے بارے میں یہ شدیداحساس اور کہاں ہم؟کس قدر دور ہو گئے ہیں ہم عقیدہ توحید کی اس عظیم الشان سچائی سے ؟

یہودیوں کو نبیﷺ کی رسالت میں شک تھا۔ منافقین بھی اس میں شک کرتے تھے اور مشرکین کی بھی یہی حالت تھی۔ قرآن کریم یہاں سب کو چیلنج دیتا ہے۔ اور ان کے سامنے ایک فیصلہ کن عملی تجربہ رکھ کر ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس قرآن جیسی کتاب بنا لائیں۔

وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَۃٍ مِنْ مِثْلِہِ وَادْعُوا شُہَدَاء َكُمْ مِنْ دُونِ اللَّہِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (٢٣)

“اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو۔ ”

یہ چیلنج ایک خاص انداز سے شروع ہوتا ہے، جو ا س مقام میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی eکی صفت عبودیت کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے بندے پر کتاب اتاری ہے اگر تمہیں اس بارے میں شک ہے کہ وہ، ہماری جانب سے ہے یا نہیں تو تم اس جیسی کوئی کتاب بنا لاؤ۔

یہاں نبیﷺ کو “اپنا بندہ”کہا گیا ہے، اس سے متعدد اور باہم مربوط باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ آپﷺ کو “ہمارا بندہ”کہہ کر آپ کی عظمت شان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کی بندگی اور غلامی، وہ بلند ترین اعزاز ہے جو کسی انسان کو یہاں دیا جا سکتا ہے اور جس پر کوئی فخر کرسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نبیﷺ کو اپنا بندہ اور غلام کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ذات باری کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ بلکہ سب لوگ اسی کے بندے اور غلام ہیں اور تو اور حضرت نبیﷺ پیغمبر اور مورد وحی ہونے کے باوجود اللہ کے غلام اور بندے ہیں اور انہیں اپنے اس اعزاز پر فخر ہے۔

اس چیلنج میں اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے کہ سورۃ کے آغاز میں حروف تہجی کا ذکر تھا۔ اور یہ کتاب انہی حروف کلمات سے مرکب ہے جو ا ن کی دسترس میں ہیں۔ اگر انہیں اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ ہے تو یہ حروف ان کے پاس موجود ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ اس جیسی کوئی ایک سورت مرتب کر کے لے آئیں۔ اور اس کام میں اپنے تمام ہمنواؤں اور مددگاروں سے بھی کام لیں تاکہ وہ اس سلسلے میں ان کے حق میں کوئی بات کریں۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے اس نے تو اپنے بندے کے حق میں گواہی دے دی ہے کہ وہ سچا ہے۔

یہ چیلنج جو متشککین قرآن کو دیا گیا، رسول اللہﷺ کی پوری زندگی میں اور آپﷺ کے بعد قائم رہا۔ اور آج بھی ہمارے دور تک اسی طرح قائم ہے۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ آج تک قرآن کریم اور تمام انسانی تحریروں اور ادبی شہ پاروں کے درمیان واضح فرق قائم ہے اور قیامت تک یونہی رہے گا اور یہ فرق قیامت تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تصدیق کرتا رہے گا۔

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (٢٤)

“لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے، تو ڈرو ا اس آگ سے، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے۔ ”

یہ چیلنج اگر عجیب ہے تو یہ جزم کہ اسے قیامت تک کوئی قبول ہی نہیں کرسکتا، اس سے عجیب تر ہے، اگر کفار کے بس میں یہ بات ہوتی کہ وہ اس جیسی کتاب بنا لائیں تو وہ ایک لحظہ کے لئے بھی توقف نہ کرتے۔ قرآن کا یہ کہہ دینا کہ “وہ یقیناً اس جیسی کتاب نہیں لا سکتے۔ “اور اس کے بعد صدیوں تک فی الواقعہ مخالفین کا عاجز وہ جانا ہی اپنی جگہ ایک ایسا کھلا معجزہ ہے، جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مخالفین کے لئے ایک عام چیلنج تھا۔ ان کے لئے میدان کھلا تھا۔ اگر وہ اس جیسی کوئی کتاب لے ہی آتے تو قرآن کا اعجاز ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتا تھا مگر وہ ایسا نہ کرسکے اور نہ ایسا کر ہی سکیں گے۔ اگر ابتداً خطاب ایک نسل کو تھا لیکن دراصل یہ پوری انسانیت کو چیلنج دیا گیا تھا اور اعجاز قرآن اور حجیت قرآن کا تاریخی فیصلہ تھا۔

جو لوگ انسانی اسالیب کلام کا کسی قدر ذوق رکھتے ہیں۔ جنہیں، اس کائنات اور موجودات کے بارے میں انسانی تصورات سے کچھ بھی واقفیت ہے اور جو لوگ انسان کے بنائے ہوئے طریقوں اور نظاموں کے بارے میں کچھ بھی جانتے ہیں اور اس کے قائم کئے ہوئے نفسیاتی اور اجتماعی تصورات میں کسی قدر بھی درک رکھتے ہیں۔ وہ یقیناً اس بات کو اچھی طرح سمجھتے یں کہ اس سلسلے میں قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ بالکل ایک دوسری ہی چیز ہے اور اسے ان گھروندوں سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے، جو یہ بے چارہ انسان بناتا رہتا ہے۔ اس بارے میں اگر کوئی شک و شبہ میں مبتلا ہے تو وہ جاہل ہے، اسے کھرے کھوٹے کی کوئی تمیز نہیں ہے یا وہ اپنے کسی مفاد کی خاطر حق و باطل کو گڈمڈ کر رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس چیلنج کے مقابلے میں عاجز آ گئے اور پھر بھی انہوں نے اس کھلی سچائی کو تسلیم نہ کیا ان کے بارے میں یہ وعید شدید آتی ہے۔

فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ”تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لئے۔ ”

اس میں انسان پتھروں کے ساتھ کیوں جمع کئے گئے۔ اور پھر اس خوفناک اور ڈراؤنی صورت میں ؟اس لئے کہ وہ آگ منکرین حق کے لئے تیار کی گئی ہے۔ وہ منکرین جن کا ذکر اس سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ “اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے او ران کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ “یہ وہی لوگ ہیں قرآن کریم یہ چیلنج دیتا ہے کہ وہ اس کے قبول کرنے سے (صدیوں تک )عاجز آ جاتے ہیں لیکن پھر بھی دعوت حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس لئے یہ لوگ بھی گویا اور پتھروں کی طرح پتھر ہیں، اگرچہ ظاہری صورت کے لحاظ سے یہ آدمی نظر آتے ہیں۔ بس اب انتظار اس بات کا ہے قیامت میں یہ پتھر کی قسم کے پتھر اور انسانوں کے پتھر جہنم میں باہم جمع ہو جائیں۔

یہاں پتھروں کے ذکر سے ایک خاص مفہوم کو ذہن نشین کرنا مطلوب ہے۔ یعنی آگ کی خوفناکی۔ ملاحظہ ہو پتھروں کو کھائے جا رہی ہے اور اس آگ کے اندر ان بدبخت آدمیوں کی حالت ملاحظہ ہو جو پتھروں کے اندر دبے پڑے ہوں گے۔

اس خوفناک اور وحشتناک منظر کے بالمقابل ذرا دوسرا رخ بھی دیکھئے کہ انعامات و اکرامات کی کیا فراوانی ہے جو مومنین کا انتظار کر رہی ہے ؟

 

 

“اور اے پیغمبر جو لوگ کتاب پر ایمان لے آئیں، اور اس کے مطابق اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تووہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دیئے جا چکے ہیں۔ ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ ” (٢٥)

 

یہ رنگا رنگ انعامات و اکرامات، نگاہ جا کر ان میں سے پاکیزہ بیویوں پر جا ٹکتی ہے۔ یہ پھل اس سے پہلے کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے اور جن کے بارے میں اہل جنت یہ خیال کریں گے کہ اس سے پہلے بھی جنت میں ان کی تواضع ایسے ہی پھلوں سے کی گئی ہے۔ یا وہ ان پھلوں کے ہم شکل پھل دیئے جائیں گے لیکن جب وہ انہیں چکھیں گے تو ان کی حیرانی کی انتہا نہ رہے گی کہ مزا ہر دفعہ علیحدہ اور پر کیف ہو گا۔ قدم قدم پر انہیں ایسے نئے تجربے ہوں گے، جن سے ظاہر ہو گا کہ وہ رضائے الٰہی کے اطمینان بخش ماحول میں رہ رہے ہیں۔ کیا خوب تفکہہ ہے کہ ہر دفعہ بظاہر ہم شکل پھلوں کی صورت میں انہیں ایک نہی نعمت دی جاتی ہے۔

شکل و صورت کی یہ ہم رنگی اور ذائقہ و حقیقت کا یہ تنوع، تخلیق کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک ممتاز کاریگری ہے، جس سے یہ کائنات بظاہر ایک عظیم حقیقت نظر آتی ہے۔ اس عظیم نکتے کی وضاحت کے لئے مناسب ہے کہ ہم خود اس کا مطالعہ کریں۔ دیکھئے تمام انسان تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں۔ سر، جسم اور دوسرے اعضاء سب ایک جیسے ہیں۔ سب گوشت پوست اور ہڈیوں اور اعصاب سے بنے ہوئے ہیں۔ سب کو دو آنکھیں، دوکان، ایک ناک اور ایک زبان دی گئی ہے، اور سب اسی ایک زندہ (Cell)خلیے سے پیدا کئے گئے ہیں۔ مادہ اور صورت کے لحاظ سے سب ایک جیسے ہیں لیکن اخلاق و قابلیت میں ایک دوسرے کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے اور اس ظاہری مشابہت کے باوجود یہ فرق کبھی آسمان و زمین سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

جب انسان صنعت باری کی ان باریکیوں پر غور کرتا ہے تو سر چکرا جاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے !مخلوقات کی مختلف اقسام اور اجناس میں کیا تنوع ہے۔ مختلف شکلیں اور رنگارنگ خصوصیات، قابلیتوں اور خصوصیتوں میں امتیاز، لیکن ان تمام چیزوں کا آغاز صرف ایک جیسے خلیے سے ہوا ہے جو اپنی ترکیب اور ساخت کے لحاظ سے بالکل یک گونہ ہوتا ہے۔

پس کون سیاہ دل ہے جو اللہ کی قدرت کے ان کھلے آثار اور شواہد کو دیکھ کر بھی صرف اسی کی بندگی اور غلامی اختیار نہیں کرتا ؟اور کون ہے جو ان معجزہ دلائل اور واضح براہین کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کی ذات و صفات میں کسی کو اس کا ہمسر بناتا ہے !حالانکہ یہ بے شمار آثار اور یہ بکثرت دلائل اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہ برابر ان کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ کئی ایسے دلائل بھی ہیں جو اس کی نظروں اور مشاہدے سے اوجھل ہیں۔

 

 

“ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر ترکسی چیز کی تمثیلیں دے۔ جو لوگ حق بات قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے، جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیاسروکار؟اسی طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے، اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں انہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔ اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ” (۲۶، ۲۷)

 

اس سے قبل سورت کی ابتداء میں قرآن مجید یہود و مشرکین سے تعلق رکھنے والے منافقین کو اس شخص سے تشبیہ دی تھی جو آگ جلاتا ہے یا اس شخص کے ساتھ جو آسمانی بادلوں کی تاریکی اور گرج چمک میں گھرا ہوا ہے، نیز اس سے پہلے مکی دور کے نازل شدہ قرآن کریم میں بھی کئی تمثیلیں بیان کی گئی ہیں اور جو مدینہ میں عام طور پر پڑھی جاتی تھیں۔ مثلاً جو لوگ رب العالمین کا انکار کرتے ہیں انہیں مکڑی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا”ان کی مثال اس مکڑی کی طرح ہے کو اپنا گھر بناتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا جالا ہوتا ہے۔ کاش کے یہ لوگ جانتے۔ “ایک جگہ کہا گیا تھا جن کو یہ پکارتے ہیں، ان کے عجز و ماندگی کا حال یہ ہے “وہ لوگ جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ سب بھی جمع ہو جائیں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکیں گے۔ بلکہ اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے بھاگے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ کیا برا حال ہے طالب اور مطلوب دونوں کا؟”

یہ آیات بتا رہی ہیں کہ منافقین جن میں یہود و مشرکین دونوں شریک تھے، ایسی تشبیہات پر اعتراض کرتے تھے کہ ان تشبیہات میں منافقین کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ان میں مکھیوں اور مکڑیوں جیسی حقیر چیزوں کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ کی مقدس ذات اس سے برتر و بالا ہے۔ یہ اعتراض مشرکین مکہ اور منافقین مدینہ کے پھیلائے ہوئے شبہات اور انتشار کے مختلف پہلوؤں اور تدبیروں میں سے ایک ہے۔

چنانچہ ان آیات میں ان شبہات کی تردید کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمثیلوں کے بیان سے اللہ کا مقصد کیا ہے کفار کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ اس فریب کاری سے باز آ جائیں اور مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان مثالوں سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو گا۔

إِنَّ اللَّہَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مثلاً مَا بَعُوضَۃً فَمَا فَوْقَہَا”اللہ اس بات سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی تمثیلیں دے۔ “کیونکہ اللہ جس طرح چھوٹی چیز کا رب ہے اسی طرح بڑی چیزوں کا بھی رب ہے۔ مچھر کا بھی خالق ہے اور ہاتھی کا بھی خالق ہے۔ جس طرح ہاتھی کی تخلیق ایک اعجاز ہے اسی طرح مچھر کی تخلیق بھی ایک اعجاز ہے اور ان دونوں کی زندگی ایک ایسا راز سربستہ ہے، جس کا علم اللہ کے سوا آج تک کسی کو نہیں ہے۔ پھر تمثیل تو ایک پیرایہ اظہار ہوتا ہے اور اس کی غرض و غایت صرف یہ ہوتی ہے کہ اس کی مدد سے مدعا کو اچھی طرح کھول کر ذہن نشین کرایا جائے، نہ یہ کہ جس چیز سے تشبیہ دیجا رہی ہے وہ کوئی عظیم الشان چیز ہی ہو۔ ضرب الامثال میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا تذکرہ معیوب ہو۔ بلکہ ان تمثیلات کے بیان کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ دلوں کو آزماتا اور نفوس کو پرکھنا چاہتا ہے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّہِمْ”جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ ” اپنے ایمان کی بدولت وہ اللہ جل شانہ سے اس طرح ہدایت لیتے ہیں جس طرح ان کی شان ہے۔ نیز وہ جانتے ہیں کہ ان تمثیلوں میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ ان کا نور سے لبریز ہے۔ ان کی روح حساس ہے، ان کا دل و دماغ اس ہدایت کے لئے کھلا ہے۔ ان کے پاس اللہ جو حکم آتا ہے، اللہ کی جو بات ان تک پہنچتی ہے، وہ اس کی حکمت اور اس کے پس منظر کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّہُ بِہَذَا مَثَلا”اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار ؟”یہ اس شخص کا سوال ہے جس کی نظروں سے اللہ کا نور اور اس کی حکمت اوجھل ہے۔ وہ سنت الٰہی اور تدبیر الٰہی کو نہیں جانتا۔ ایسا سوال وہ لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا کوئی احترام نہیں ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو ان نظروں سے نہیں دیکھتے جن سے انہیں اللہ کا ایک بندہ اور فرمانبردار غلام دیکھتا ہے۔ ایسے لوگ کبھی تو بطور اعتراض اور ناپسندیدگی ایسی باتیں کرتے ہیں، یا وہ ایسی باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسی باتیں کرسکتا ہے۔

ان کی اس روش پر تہدید اور تنبیہ کی صورت میں انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ان تمثیلوں کے پیچھے اللہ کی ایک خاص تدبیر کام کر رہی ہے۔ یہ تمثیلیں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کر رہی ہیں۔

يُضِلُّ بِہِ كَثِيرًا وَيَہْدِي بِہِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِہِ إِلا الْفَاسِقِينَ”اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں ان ہی کو مبتلا کر دیتا ہے جو فاسق ہیں۔ “یہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ وہ انسانوں کو امتحان اور ابتلا میں ڈالتا ہے ان آزمائشوں اور ابتلاؤں میں ہرانسان متقضائے طبیعت واستعداد کے مطابق طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ ہر شخص کی روش اس طریق حیات کے مطابق ہوتی ہے جو اس نے اپنے لئے پسند کیا ہوتا ہے۔ آزمائش ایک ہی ہوتی ہے لیکن مختلف نظام ہائے زندگی اختیار کرنے والے لوگوں پر ا س کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً مصیبت اور تکلیف ہی کو لے لیجئے۔ سب لوگ مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مومن بھی اور فاسق بھی۔ ایک صالح جو اللہ کی رحمتوں اور حکمتوں پر پختہ یقین رکھتا ہے وہ جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ زیادہ خشیت زیادہ عاجزی اور تضرع سے اللہ کے سامنے ملتجی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک فاسق تکلیف میں مبتلا ہو تو اس کے قدم اکھڑ جاتے ہیں، وہ اللہ سے اور بعید ہو جاتا ہے۔ وہ مومنین کی صفوں سے نکل جاتا ہے۔ اسی طرح خوشحالی اور تکاثر کو لے لیجئے کہ ….بعض لوگ اس آزمائش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن ایک مومن جب زیادہ انعامات اور اکرامات پاتا ہے تو وہ زیادہ بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ شکر الٰہی میں پہلے سے بھی زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ایک فاس کو سہولتیں ملتی ہیں تو وہ اسے برباد کر دیتی ہیں۔ وہ غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور گمراہی کی روش اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے لوگوں کے لئے جو تمثیلیں بیان کیں ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ يُضِلُّ بِہِ كَثِيرًا”ان سے بھی وہ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے “اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو اچھی طرح قبول نہیں کرتے۔ وَيَہْدِي بِہِ كَثِيرًا”اور بہتوں کو راہ ہدایت دکھا دیتا ہے۔ “اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو حکمت باری کو جانتے ہوتے ہیں۔

وَمَا يُضِلُّ بِہِ إِلا الْفَاسِقِينَ”اور گمراہی میں انہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں۔ “یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دل پہلے سے فاسق ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ ہدایت اور اصلاح کی روش سے نکل جاتے ہیں لہٰذا ان کا صلہ یہی ہے کہ ان کی اس ضلالت میں اور اضافہ کر دیا جائے۔

جس طرح اس سورت کے آغاز میں متقین کی صفات کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا اسی طرح یہا ں فاسقین کی خصوصیات کو بھی قدرے تفصیل سے لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس پوری سورت میں روئے سخن ایسے ہی لوگوں کی طرف رہے گا۔ نیز انسان ہر زمانے میں انہی ہر طبقات میں منقسم رہتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔

 

“جو اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ” (٢٧)

 

وہ کون سا عہد ہے جسے یہ توڑتے ہیں ؟وہ کون ساتعلق ہے کہ اللہ نے اس کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور اسے یہ کاٹتے ہیں ؟اور جو فساد یہ کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے ؟ان سب امور کو سیاق کلام میں مجمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہاں اصولی طور پر ایسے لوگوں کا مزاج بتایا جا رہا ہے۔ ان کی نوعیت کو متعین و مشخص کیا جا رہا ہے۔ کسی حادثے یا کسی مخصوص واقعہ کا بیان مقصود نہیں ہے بلکہ ایک عمومی صورتحال کی وضاحت مطلوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور ایسے لوگوں کے درمیان جو عہد بھی ہے وہ توڑ دیا گیا ہے اور اللہ نے جن جن انسانی رابطوں کے قیام کا حکم دیا ہے، وہ سب کے سب ان لوگوں نے توڑ دیئے ہیں اور جو فساد بھی ممکن ہے اس کا ارتکاب یہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کی فطرت میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ کسی عہد اور کسی رابطے کے پابند نہیں ہیں۔ اور کسی فساد سے بھی باز نہیں رہتے۔ ان کی مثال کچے پھل کی سی ہے، جو شجر حیات سے جدا ہو گیا ہو، گل اور سڑ گیا ہو اور زندگی نے اسے پرے پھینک دیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جن تمثیلوں سے مومنین ہدایت پاتے ہیں، ان سے ایسے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں، جو چیزیں متقین کے لئے سبب ہدایت ہوتی ہیں وہ ان فاسقین کے لئے باعث ضلالت ہو رہی ہیں۔

ایسے لوگ جو کبھی یہود و مشرکین کے منافقین کی صورت میں مدینہ میں پائے جاتے تھے اور جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک بڑی رکاوٹ تھے اور جو آج بھی نام اور عنوان کی مختصر تبدیلی اور بالکل معمولی اختلاف کے ساتھ تحریک کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے ہیں، ان کی فتنہ انگیزیوں کے نشانات تو دیکھئے۔ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَہْدَ اللَّہِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِہِ”جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔ “انسانوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو پیمان بندھا ہوا ہے اس کی کئی شکلیں اور صورتیں ہیں۔ ایک تووہ جبلی عہد ہے جو ہر ذی حیات کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ اس کی رو سے ہر ذی حیات کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے اور اس کی بندگی کرے۔ انسانی فطرت میں ہمیشہ عقیدہ خداوندی کے لئے پیاس رہتی ہے۔ لیکن کبھی اس کی فطرت سلیمہ میں فساد رونما ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے، اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر اور شریک بنانے لگتا ہے۔ نیز اس کی ایک صورت عہد خلافت کی ہے، جو اللہ تعالیٰ اور آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان طے پایا۔ جس کا تذکرہ عنقریب ہو گا۔

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي ہُدًى فَمَنْ تَبِعَ ہُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلا ہُمْ يَحْزَنُونَ (٣٨)وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِيہَا خَالِدُونَ (٣٩)

“پھر میری طرف سے جو ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہ ہو گا اور جو لوگ اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ”

نیز اس عہد کی ایک شکل وہ ہے جو مختلف پیغمبروں کے ذریعے مختلف اقوام سے باندھی گئی کہ وہ صرف ایک اللہ جل شانہ کی بندگی کریں اور اپنی زندگی میں صرف اسی کی تجویز کردہ نظام حیات اور نظام قانون کو اپنائیں گے۔ یہ سب عہد ایسے ہیں جنہیں فاسق لوگ توڑتے ہیں۔ اور جب کوئی اللہ تعالیٰ سے پختہ پیمان باندھنے کے بعد توڑتا ہے تو پھر وہ کسی دوسرے عہد کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ جس کے اندر اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی کا حوصلہ ہوتا ہے، وہ اس کے بعد کسی عہد و پیمان کا کوئی احترام نہیں کرتا۔

وَ یَقطَعُونَ مَآ اَمَرَ اﷲُ بِہٖٓ اَن یُّوصَلَ”اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں۔ “اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کے روابط و تعلقات کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس نے یہ حکم دیا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے، اس نے یہ حکم دیا ہے کہ پوری انسانیت کی عظیم برادری قائم کی جائے اور ہر انسان دوسرے کا بھائی ہو۔ اور ان سب سے مقدم درجے میں اس نے حکم دیا ہے کہ ایک نظریاتی اخوت اور ایمانی برادری قائم کی جائے کیونکہ کوئی ربط اور تعلق ایمان و نظریہ کے سوا مضبوط نہیں ہوسکتا۔ جب وہ تعلقات و روابط ٹوٹ جائیں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو پھر تمام رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور تمام روابط ختم ہو جاتے ہیں۔ زمین پر افراتفری عام ہو جاتی ہے اور شر وفساد پھیل جاتا ہے۔

وَيُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ”اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ “زمین پر فساد پھیلانے کی بھی کئی شکلیں ہیں۔ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑنے کا حکم دیا ہے، ان کے کاٹنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ان تمام فسادات کا سرچشمہ یہ ہے کہ انسان اس نظام حیات کو ترک کر دے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی اور اس کے تصرفات کے لئے تجویز کیا ہے۔ اسلامی نظام حیات ہی وہ راہ ہے جو ان تمام راہوں سے علیحدہ ہو جاتی ہے اور جو شر وفساد پر منتہی ہوتی ہیں۔ اگر صورت یہ ہو کہ اسلامی نظام زندگی کے تصرف و اقتدار سے اس دنیا کے امور آزاد کر دیئے گئے ہوں، اس زندگی کو اللہ کی شریعت کے دائرے سے نکال دیا گیا ہو تو ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا کی اصلاح ہوسکے۔ جب بھی ایساہوا ہے کہ انسانوں اور ان کے رب کے درمیان یہ مضبوط تعلق نہیں رہا۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا شر وفساد کے عظیم سیلاب کی لپیٹ میں آ گئی ہے، انسانی اخلاق خراب ہو گئے ہیں، لوگوں کی زندگی اور احوال تباہ ہو گئے۔ ان کی معیشت برباد ہو گئی۔ غرض ایسے حالات میں یہ زمین اور اس کے اوپر رہنے والی تمام جاندار مخلوق اور تمام چیزوں میں فساد رونما ہو جاتا ہے اور یہی وہ تباہ کاری اور شر وفساد ہے جو اللہ کی نافرمانی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے ایسے فساد میں مبتلا لوگ اسی کے مستحق ہوتے ہیں کہ جن امور سے مومنین کو راہ ہدایت نصیب ہوتی ہے وہ ان کے لئے باعث گمراہی ہوتے ہیں۔

کفر وفسق کے آثار و نتائج کی وضاحت کے بعد اب روئے سخن تمام انسانیت کی طرف پھر جاتا ہے۔ ان کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق و رازق، علیم و مدبر اور حیات و ممات کے مالک ذات باری کا انکار کیونکر کر رہے ہیں ؟

 

 

 

“تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے۔ اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمہاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ وہی توہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ پھر اوپر کی طرف متوجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ” (۲۸، ۲۹)

 

ان قوی دلائل کے ہوتے ہوئے اللہ کا انکار کرنا، کفر و انکار کی وہ قبیح اور ناپسندیدہ روش ہے جس کی پشت پر کوئی سند ودلیل نہیں ہے۔ قرآن کریم یہاں ایک ایسی حقیقت پیش کرتا ہے جس سے ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ اس حقیقت اور اس کے لازمی نتائج کو تسلیم کر لیں۔ قرآن ان کے سامنے قافلۂ حیات اور اس کے مختلف حالات و کیفیات لا کر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مردہ حالت میں تھے، اللہ نے انہیں زندگی سے نوازا، اللہ ہی انہیں حالت موت سے حالت حیات کی طرف لایا، یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ سوائے قدرت الٰہی اور تخلیق الٰہی کے اس کی کوئی اور توجیہ وہ نہیں کرسکتے۔ وہ زندہ ہیں ان کے قلب جسدی میں حیات موجود ہے ؟اس حیات کا خالق کون ہے ؟وہ کون ہے جس نے جمادات میں یہ زائد صفت، صفت حیات پیدا کی ؟کیونکہ جمادات جن پر موت وجمود کی حالت طاری ہے، وہ حیات کی حقیقت و مزاج سے بالکل مختلف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس حیات کا مصدر کیا ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ایسا ہے کہ عقل ونفس ہر وقت کوئی حقیقی اور تشفی بخش جواب چاہتا ہے اور کسی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اس سوال کو نظر انداز کرسکے۔ پھر اس سوال کے جواب میں کوئی ایسی بات انسان کو مطمئن نہیں کرسکتی جس میں اس مادی دنیا سے آگے کسی خالق ذات کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

غرض یہ زندگی جو اس زمین پر رواں دواں ہے اور جس کی روش جمادات سے بالکل مختلف ہے کہاں سے آئی ؟اس کا واحد تشفی بخش جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی اور اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے، یہی جواب ایسا ہے جو سمجھ میں آسکتا ہے۔ اگر کسی کو یہ جواب تسلیم نہیں ہے توہم اس سے پوچھتے ہیں کہ لائے وہ کوئی تشفی بخش جواب؟

یہ ہے وہ حقیقت جسے قرآن کریم اس موقع پر لوگوں کے سامنے رکھتا ہے۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّہِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ”تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی۔ “یعنی تم اس طرح بے جان تھے جس طرح تمہارے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بے جان ہے۔ اس نے تمہارے اندر جان پیدا کی اور تمہیں زندہ کیا۔ کوئی اپنے خالق سے انکار کیوں کرسکتا ہے۔ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ”پھر تمہاری جان سلب کر لے گا۔ “یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ زندہ وذی روح مخلوقات کا مرنا روزمرہ کا معمول و مشاہدہ ہے۔ لہٰذا زندگی کے بعد مرنا ایک ایسی حقیقت ہے جو از خود ہی ذہنوں پر حاوی ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی بحث و جدال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ثُمَّ يُحْيِيكُمْ”پھر وہ تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا۔ “یہ تھی وہ حقیقت جس میں ان کو شک تھا، لہٰذا وہ اس کے بارے میں بحث و جدال کرتے تھے اور آج بھی اس میں بعض کج فطرت لوگ شک کرتے ہیں، جو آج پھر صدیوں قبل کی جاہلیت کی طرف لوٹ چکے ہیں۔ لیکن انسان اگر اس بات پر غور کرے کہ وہ پہلے بھی کچھ نہ تھا۔ اسے پیدا کیا گیا، لہٰذا یہ بات عقل سے بعید نہیں ہے کہ موت کے بعد دوبارہ اسے زندہ کیا جا سکتا ہے۔ پس یہ عقیدہ کوئی ایسا عجوبہ نہیں ہے کہ لازماً اس کی تکذیب ہی کی جائے۔

ثُمَّ إِلَيْہِ تُرْجَعُونَ”پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ “جیسا کہ اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تم اس کی طرف لوٹو گے، جس طرح اس نے تمہیں زمین میں پھیلایا۔ اسی طرح تم اٹھائے جاؤ گے۔ جس طرح تم مردہ حالت سے نکال کر اس زندہ حالت میں لائے گئے۔ اسی طرح تم اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے تاکہ وہ تمہارے درمیان اپنا حکم نافذ کرے اور تمہارے قضیوں کا فیصلہ کرے۔

یہ ایک مختصر سی آیت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پل بھر میں زندگی کا پورا دفتر پھیلا بھی دیا۔ اور لپیٹ بھی لیا۔ ایک چمک اٹھی اور دیکھا گیا کہ پوری انسانیت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ نے پہلے اسے زندہ کر کے زمین میں پھیلایا، پھراسے اچانک موت نے آلیا، پھر روز محشر کا منظر ہے جس میں پوری انسانیت اٹھ رہی ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے بعینہ اسی طرح جس طرح پہلے اللہ نے اسے زندہ کیا تھا۔ اس برق رفتارپیرایہ بیان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ صاف صاف نظر آتی ہے اور انسانی احساس وشعور پر اس کے گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

اس پہلی چمک کے متصلاً بعد روشنی کی ایک دوسری کرن آتی ہے جو پہلی کے لئے تکمیل کا درجہ رکھتی ہے۔ ہُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاء ِ فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَہُوَ بِكُلِّ شَيْء ٍ عَلِيمٌ”وہی توہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کی ہیں، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے بارے میں مفسرین اور متکلمین نے طویل بحثیں کی ہیں، قبلیت، وبعدیت اور استوا اور تسویہ اور دوسری کلامی بحثیں یہاں کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ حضرات اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ قبل وبعد، محض انسانی اصطلاحات ہیں، اللہ تعالیٰ کے لئے ان کاکوئی مفہوم نہیں ہے۔ یہ حضرات اس بات کو بھی سامنے نہیں رکھتے کہ استوا اور تسویہ انسانی لغوی اصطلاحات ہیں جو لامحدود ذات کو انسان کے محدود تصور کے قریب لے آتی ہیں۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ قرآن کی ایسی تعبیروں پر علمائے اسلام نے جو طویل بحثیں کیں، وہ اس مصیبت اور آفت کانتیجہ تھیں جو یونانی فلسفہ اور یہود ونصاریٰ کی لاہوتی بحثوں کی صورت میں امت مسلمہ پر نازل ہوئی۔ یہ بحثیں تب پیداہوئیں جب اس فلسفہ اور ان لاہوتی بحثوں نے عربوں کی سادہ ذہنیت اور مسلمانوں کے پاکیزہ خیالات کو گدلا کر دیا تھا۔ اب ہمارے لئے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ ہم بھی اس مصیبت میں خواہ مخواہ گرفتار ہو جائیں اور منطقی اور کلامی جدلیات میں قرآن کریم کے حسن وجمال کو گم کر دیں۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ان مصنوعی تعبیرات واصطلاحات سے آزاد ہو کر یہ دیکھیں کہ پوری کائنات کو انسان کے لئے پیدا کرنے کی حقیقت کیا ہے ؟اس حقیقت سے کس چیز کا اظہارہو رہا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے وجود انسانی کا کیا مقصد قرار پاتا ہے۔ اس زمین پر انسان کے کیا فرائض ہیں۔ اللہ کے ہاں انسان کی قدر وقیمت کیا ہے۔ نیز اسلامی تصورحیات اور تصور کائنات میں انسان کی کیا قدر وقیمت ہے اور اسلامی نظام زندگی میں انسان کامقام کیا ہے ؟

ہُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا”اللہ تو وہی ہے جس نے تمہاری زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ “یہاں لفظ لکم یعنی “تمہارے لئے “اپنے گہری معنویت لئے ہوئے ہے۔ یہ اس گہری حقیقت کا اظہار کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ زمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہو۔ زمین کے اندر جو کچھ ہو وہ اس کی ملکیت ہو اور وہ اس میں مؤثر اور متصرف ہو۔ کیونکہ اللہ کی اس طویل و عریض کائنات میں وہی اعلیٰ مخلوق ہے۔ وہ اس وسیع میراث کا پہلا وارث ہے۔ لہٰذا اس زمین کے حالات اور اس کے انقلابات کے اندر اس کا کردار بھی اول درجے کا ہے۔ وہ جس طرح اس زمین کا سردار ہے اسی طرح اس کے آلات کا بھی سردار ہے۔ وہ آلات پیداوار کے ہاتھ میں مقید اور بے بس نہیں ہے، جس طرح آج کی مادی دنیا میں انسان ان آلات کے ہاتھوں بے بس ہو چکا ہے۔ نیز وہ ان تبدیلیوں اور تغیرات کا بھی تابع نہیں ہے جو انسان اور انسان کے باہم روابط میں ان آلات کی پیدا کردہ ہیں جیسا کہ آج کل کے مادہ پرستانہ تصور حیات میں انسان اور اس کے کردار کو حقیر تر سمجھا جاتا ہے اور اسے بے جان اور بے شعور آلات کا غلام بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ ان سے برتر اور ان کا سردار ہے۔ قرآن کی رو سے ساری اقدار میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے کہ اسے انسانیت کی قدر و قیمت سے برتری حاصل ہو۔ انسان تو اس کے سامنے ذلیل و خوار ہو اور وہ اس کے مقابلے میں بلند و بالا ہو۔ وہ تمام مقاصد جن کے نتیجے میں انسان کی انسانیت کی تذلیل ہو۔ وہ انسان کے مقصد وجود ہی کے خلاف ہیں اور اس لئے معیوب ہیں، چاہے ان کے نتیجے میں بے شمار مادی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اسلامی تصور حیات کے مطابق انسان کی شرافت اور انسان کی برتری وہ پہلی قدر ہے جوسب اقدار سے اولیت رکھتی ہے۔ تمام مادی قدریں اس کے تابع ہیں اور ان کا درجہ بعد میں آتا ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ اپنی جس نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں اور اس کے کفران پر نکیر ہو رہی ہے وہ صرف یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی تمام نعمتوں سے نوازا بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان ان تمام چیزوں کا مالک اور متصرف بھی ہے اور یہ کہ انسان کی قدر و قیمت ان تمام مادی اقدار سے برتر ہے جن پر یہ زمین حاوی ہے۔ جس انعام کا یہاں ذکر ہے ملکیت کائنات اور زمین کے ذخائر سے انتفاع سے بھی آگے، وہ انسانی شرافت اور انسان کی برتری کی نعمت ہے۔

ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاء ِ فَسَوَّاہُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ”پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے۔ “یہاں اس بات کی ضرورت نہیں کہ استواء الی السماء کی حقیقت و ماہیت کیا ہے ؟ہمارے لئے یہ جاننا کافی ہے کہ آسمان کی طرف متوجہ ہونے سے مراد کیا ہے ؟استوا الی السماء قدرت الٰہی کے اظہار کا ایک پیرایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تخلیق و تکوین کا ارادہ فرمایا۔ اسی طرح سات آسمانوں کی حقیقت اور ان کی شکل اور حدود اربعہ کے تعین کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آیت کے اس اصولی اور عام مفہوم کا سمجھ لینا ہی کافی ہے۔ کفار چونکہ کائنات کے خالق و نگہبان کے منکر تھے، اس لئے یہاں یہ بیان کیا گیا کہ اللہ ہی زمین وآسمان کا خالق ہے۔ اس نے انسانوں کے لئے زمین کی تمام مخلوق کو مسخر کر لیا ہے اور آسمانوں کے اندر اس طرح نظم اور ربط پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے اس کرہ ارض پر زندگی کا باقی رہنا آسان اور سہل ہو گیا ہے۔

وَہُوَ بِكُلِّ شَيْء ٍ عَلِيمٌ”اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “وہی سب کا خالق اور سب کا مدبر ہے، لہٰذا ظاہر ہے کہ وہ ہر چیز کا علم بھی رکھتا ہے۔ پوری کائنات کی تدبیر کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کا علم بھی رکھنا ایک ایسی حقیقت ہے جو اس کائنات کے خالق وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے مہمیز کا کام دیتی ہے۔ اس سے انسان اس وحدہ لاشریک مدبر کی بندگی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور بطور شکر نعمت اپنے رازق اور منعم کی بندگی بجا لاتا ہے۔

یہاں آ کر سورت کی ابتدائی بحثیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس پوری بحث میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگ ایمان لے آئیں اور مومنین و متقین کے اختیار کردہ راستے کو اپنا لیں۔

٭٭٭

 

 

 

درس ۳ ایک نظر میں

 

قرآن کریم میں مختلف مواقع پر قصص کا بیان ہوتا ہے۔ موقع و محل خود بتا دیتا ہے کہ یہاں اس قصے کے بیان سے غرض و غایت کیا ہے، سلسلہ کلام کی کون سی کڑی سے تعرض کیا جا رہا ہے ؟کس شکل و صورت میں قصہ پیش ہو رہا ہے اور وہ طرز ادا کیا ہے جس میں وہ قصہ بیان ہو رہا ہے ……..اس اسلوب کلام سے روحانی، فکری اور فنی فضا میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک تو موضوع کلام کا حق ادا ہو جاتا ہے دوسری طرف بیان قصہ کی نفسیاتی اغراض بھی پوری ہو جاتی ہیں اور قصہ کو لانے سے جو اثرات پیدا کرنے مطلوب ہوتے ہیں وہ ہو جاتے ہین۔

بعض لوگوں یہ وہم ہوا ہے کہ قرآنی قصص میں تکرار ہے کیونکہ ایک ہی قصہ مختلف شکلوں میں کئی جگہ دہرایا گیا ہے۔ لیکن گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہو جاتا ہے کہ جن قصوں کا کوئی ایک حصہ یا پورے قصے کو کسی جگہ دہرایا گیا ہے تو وہاں وہ اپنی سابقہ شکل و صورت میں ہی نہیں بیان ہوا بلکہ دونوں مقامات پر قصے کی مقدار اور سیاق کلام اور طرز ادا بالکل مختلف ہوتی ہے۔ جہاں بھی قصے کا کوئی حصہ دہرایا جاتا ہے وہاں ایک نئی بات کہنی مطلوب ہوتی ہے لہٰذا فی الحقیقت قرآن کریم میں بیان قصص میں کوئی تکرار نہیں ہے۔

بعض کج فہم لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بیان کردہ بعض واقعات تخلیقی ہیں یا ان کے بیان میں تصرف کیا گیا ہے یعنی محض مقاصد اور تحسین کلام کے لئے یہ قصے لائے گئے ہیں۔ لیکن جو شخص بھی فطرت سلیم رکھتا ہو اور کھلی آنکھوں سے قرآن کا مطالعہ کرتا ہو وہ اس حقیقت کو بسہولت پا لیتا ہے کہ ہر جگہ موضوع بحث کی مناسبت سے کوئی قصہ یا اس کا حصہ لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انداز بیان اور طرز ادا بھی موقع و محل کی مناسبت سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ قرآن کریم ایک دعوتی کتاب ہے۔ ایک نظام زندگی ہے اور ایک نظام زندگی کا دستور بھی ہے۔ وہ تسکین ذوق کی حکایت یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت دین کے دوران منتخب قصے بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ قصوں کے اسلوب بیان اور ان کے مقدار کا فیصلہ سیاق کلام اور مناسبت حال کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ بیان قصص میں صرف حسن ادا کی بہترین خوبیوں ہی کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ زور کلام کی خاطر کہیں بھی واقعات میں اضافہ نہیں کیا گیا ہاں ہر جگہ واقعات کو بالکل ایک انوکھے انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اثر انگیزی کے لئے صرف سچائی کی قوت اور حسن ادا پر ہی اعتماد کیا گیا ہے۔

قرآنی قصے درحقیقت قافلہ ایمان کے طویل اور مسلسل سفر کی داستان اور روئداد ہوتے ہیں اور قرآن میں دعوت دین کی طویل کہانی کو سمودیا گیا ہے جو نسلاً بعد نسل لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی رہی اور لوگ اسے قبول کرتے رہے۔ یہ قصے ایک طرف تو انسانوں کی ان برگزیدہ ہستیوں کی کیفیت ایمان کو پیش کرتے ہیں جنہیں اس کام کے لئے منتخب کیا گیا اور دوسری طرف یہ بتاتے ہیں کہ ان برگزیدہ ہستیوں اور رب العالمین کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا تھی؟ان قصوں کے ذریعہ ہم دیکھتے ہیں کہ یو ں یہ قافلہ اہل کرم اس طویل شاہراہ پر چلاآتا ہے۔ دل کی روشنی نور اور طہارت سے بھرتے ہوئے وہ دل کے اندر اس قیمتی متاع، ایمان اور اس کائنات میں اس کی اہمیت کا شعور بیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایمانی تصور حیات کو تمام دوسرے عارضی تصورات زندگی سے ممیز کرتے ہوئے اسے انسان کے حس و شعور میں بٹھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید جو کتاب دعوت ہے اس کا ایک بڑا حصہ ایسے ہی قصص پر مشتمل ہے۔

اب ہمیں چاہئے کہ ان تصریحات کی روشنی میں قصہ آدم کا مطالعہ کریں جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قافلہ حیات انسانی کی زندگی سے بحث کی گئی ہے بلکہ اس پوری کائنات کے وجود سے بحث کی گئی۔ اس کے بعد انسان پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کرہ ارض کا ذکر ہوا اور بتایا گیا کہ اس زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس ضمن میں اس زمین پر حضرت آدم علیہ السلام کو منصب خلافت عطا کئے جانے کا قصہ شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین کے اختیارات حضرت آدم علیہ السلام کے سپرد کر دیتے ہیں لیکن اختیارات کی یہ سپردگی مشروط ہے اور حضرت آدم کے ساتھ ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو علم و معرفت کی وہ ضروری مقدار بھی عطا کرتے ہیں جو بار خلافت اٹھانے کے لئے ضروری تھی نیز بعد میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت کا معاہدہ بنی اسرائیل سے کیا۔ اس لئے قصہ آدم اس کے لئے تمہید کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد بنی اسرائیل کو اس خلافت سے معزول کر دیا اور قلمدان خلافت اس امت مسلمہ کے حوالے کر دی جاتی ہے جو اللہ کے عہد کو اچھی طرح پورا کرنے والی ہے۔ اس طرح یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ اب ہمیں چاہئے کہ لمحے بھر آغاز انسانیت کے احوال پڑھیں اور دیکھیں کہ ان کے پس منظر میں کس قدر قیمتی ہدایات پوشیدہ ہیں۔

پردہ اٹھتا ہے اور سب سے پہلے ہم عالم بالا کے اسٹیج پر پہنچ جاتے ہیں۔ بلندیوں کی چمک اور روشنیوں کے نور بصیرت کے ذریعہ ہم انسانیت کے آغاز کی کہانی کو یوں اسٹیج ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

٭٭٭

 

 

پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ “میں زمین پر خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “انہوں نے عرض کیا “کیا آپ زمین پر کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا؟آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس توہم کر رہی رہے ہیں۔ “فرمایا”میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے۔ ” (٣٠)

 

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَۃِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأرْضِ خَلِيفَۃً”پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “تو معلوم ہوا کہ یہ عالم بالا کی خاص مشیئت ہے کہ اس کائنات میں پیدا کئے جانے والے اس نئے موجود (انسان )کو اس زمین کے تمام اختیارات دے دیئے جائیں۔ اسے اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کائنات کے مقصد تخلیق اور اسے عدم سے وجود میں لانے کی غرض و غایت کا اظہار اور اس کے بروئے کار لانے کا کام اس انسان کے سپردکر دیا جائے اور اس انسان کو اس زمین کی تحلیل و ترکیب، اس کی تبدیلی اور ترقی، اس کے اندر پوشیدہ خزانوں کا کھوج لگانے اور اس خام ذخائر کا پتہ لگانے اور انہیں مسخرکرنے کے کام میں لگا دیا جائے۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہو اور انسان کی اس عظیم مہم کا ایک حصہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اس انسان کے سپرد کی۔

         نیز استخلاف آدم سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے اس جدید مخلوق (انسان) کے اندر ایسی پوشیدہ قوتیں ودیعت کی ہیں اور اسے ایسی استعداددی ہے جس کے ذریعے وہ اس زمین کے اندر پوشیدہ تمام قوتوں، تمام مفید ذخیروں اور خام مواد کو کام میں لا سکتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی اندرونی اور خفیہ طاقتیں دی ہیں جن کے ذریعے وہ اس منشاء خداوندی کو بروئے کار لا سکتا ہے۔

         نیز اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کائنات پر حاوی ہونے والے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت اور اس انسان اور اس کی قوتوں پر نافذ ہونے والے قوانین شریعت کے درمیان مکمل توافق اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے تاکہ ان دونوں قوانین کے درمیان تصادم اور تضاد نہ ہو اور انسانی طاقت اور قوتیں اس عظیم کائنات کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت سے ٹکرا کر پاش پاش نہ ہو جائے۔

         نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک اعزاز ہے جو اس کائنات کے اندر اور اس پورے کرہ ارض پر حضرت انسان کو دیا گیا۔ یہ وہ شرف ہے جو انسان کے خالق رحیم اور خداوند کریم نے اس کے لئے پسند فرمایا اور کیا ہی بلند ہے یہ مقام! اور تمام باتیں عالم بالا کے اس جلیل القدر اشارے سے معلوم ہوتی ہیں کہ “میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “بالخصوص جبکہ آج ہم چشم سر اور بصیرت دونوں سے عیاں دیکھ رہے ہیں کہ انسان نے اس کائنات میں یہ کام کیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی اس زمین میں یہ تکوینی مقصد پورا کیا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا اور اس وسیع مملکت میں اسے اپنا خلیفہ بنایا گیا تھا۔

قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيہَا مَنْ يُفْسِدُ فِيہَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء َ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ”انہوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے اور خونریزیاں کرے گا؟آپ کی حمد وثنا کے ساتھ ساتھ تسبیح اور آپ کے لئے تقدیس توہم کر ہی رہے ہیں۔ “ملائکہ کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یا تو اس وقت موجودہ صورتحال سے آنے والی مخلوق کے بارے میں اندازہ کر لیا تھا یا اس سے پہلے زمین میں جو مخلوق بسائی گئی تھی اس کے تجربات کی روشنی میں انہوں نے یہ بات کہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اپنی خدا داد بصیرت کے ذریعے معلوم کر لیا ہو کہ آنے والی مخلوق کسی ہو گی ؟نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین میں انسانی زندگی کے لئے جو ضروری تقاضے تھے اس سے انہوں نے اس مخلوق کی فطرت کا اندازہ لگا لیا ہو۔ اس لئے وہ جانتے تھے یا کم از کم انہیں یہ توقع تھی کہ آنے والی یہ نئی مخلوق زمیں میں فساد برپا کرے گی اور یہاں خونریزیاں ہوں گی۔ انہوں نے یہ سوال اس لئے بھی اٹھایا کہ اپنی پاک فطرت اور معصومیت کی وجہ سے وہ خیر مطلق اور ہمہ جہت امن و امان کا ہی تصور کرسکتے تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس کائنات کا مقصد وجود اور سبب تخلیق صرف یہ ہے کہ اللہ کی حمد وثنا کے ساتھ اس کی تقدیس کی جائے اور یہ بات ان کی موجودگی سے پوری طرح سرانجام دیجا رہی تھی۔ کیونکہ یہ فرشتے ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے تھے اور کسی وقت بھی اس کی بندگی اور اطاعت سے منہ نہ موڑتے تھے۔

لیکن اس زمین کی ساخت و پرداخت اور اس کی اندر زندگی کی بوقلمونیوں کے بروئے کار لانے میں جو گہری اور دوررس مصلحت کار فرما تھی وہ ان کی نظر سے اوجھل تھی۔ مشیت الٰہی یہ تھی کہ اللہ کا یہ خلیفہ جو اگرچہ کبھی کبھار فساد پھیلائے گا، خونریزیاں بھی کرے گا، اس زمین کو مسخر کرے، اسے ترقی دے، اس کی ساخت کو بدلے تاکہ اللہ کا منشا پورا ہو اور اس معمولی اور جزوی شر وفساد کے ہوئے وہ عظیم بھلائیاں پروان چڑھیں جو عمومی اور سب کائنات کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس وسیع کائنات میں دائمی نشوونما، مسلسل تہذیب کی ترقی، تخریب و تعمیر کا دائمی عمل، پیہم جدوجہد، نہ رکنے والی جستجو، مسلسل تغیر و تبدیلی کے ذریعہ یہ عظیم تربھلائی اور بہبود بروئے کار لائی جائے۔

چنانچہ ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عالم الغیب اور علیم و خبیر ہے یہ فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ”میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ ”

 

“اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے نظام بگڑ جائے گا)توذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ “انہوں نے عرض کیا “نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہم توبس اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔ “پھر اللہ نے آدم سے کا “تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ؟”جب اس نے ان کو سارے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ ” (آیات ۳۲، ٣٣)

 

دیکھئے !اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت منصب خلافت سپرد کیا جا رہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کر دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہارکے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کر لیں کہ انسان ….کے اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ اب دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟جن سے اچانک یہ دوچار ہو گئے۔ اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے کہ درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں جو کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایا جائے۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہو گیا ہے اور جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی و مفہوم کا اظہار ان ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دو قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں ک     ویہ راز نہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب یہ چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتا سکے۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بسہولت سمجھاجا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور اپنے عجز و درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کا تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی راہنمائی کی۔ “میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ ”

دیکھئے !اب چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی کسی جمعیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کو منصب خلافت سپرد کیا جا رہا ہے اور یوں ہمیں اس عظیم راز سے آگاہ کر دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی ہے اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار ما فی الضمیر کرتے ہیں۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو انسان اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں انسان دیکھتا ہے۔ اس زمین پر حیات انسانی کو آسان بنانے کے لئے یہ ایک اہم صلاحیت ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے۔ اس کی افادیت کا صحیح تصور اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کر لیں کہ انسان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اندر اشیاء کے نام رکھنے اور استعمال کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ ایک دیکھئے ایک دوسرے کو سمجھنے میں اور باہم معاملات طے کرنے میں کرنے میں کیا مشکلات ہیں ؟جن سے اچانک یہ دوچار ہو گئے۔ اگرکسی کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں کوئی معاملہ کرنا چاہتا ہے تو خود اس چیز کا حاضر کرنا ضروری ہو جاتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی مفاہمت کرسکیں۔ اگر کسی درخت کا معاملہ درپیش ہے تو ضروری ہے درخت سامنے ہو۔ اگر کسی پہاڑ اور قطعہ زمین کے بارے میں کچھ طے کرنا ہے تو ضروری ہے کہ سب لوگ وہاں جائیں۔ اگر کسی فرد بشر کا معاملہ ہے تو ضروری ہے کہ اسے سامنے لایا جائے۔ ذرا سوچئے مشکلات کا ایک طوفان برپا ہو گیا ہے اور جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ غرض اگر اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو یہ راز نہ بتاتے کہ ہر معنی و مفہوم کا اظہار ناموں کے ذریعے ہوسکتا ہے تو ہماری زندگی دو قدم بھی آگے نہ بڑھ سکتی۔

رہے فرشتے تو انہیں اس قابلیت کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ان کے کام اور ان کی ڈیوٹی کی جو نوعیت تھی اس کے لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ ہر چیز کے نام کو جانیں۔ اس لئے اللہ نے اس وقت فرشتوں کو یہ راز نہ بتایا تھا۔ جب اللہ نے آدم کو یہ راز بتایا اور فرشتوں کے سامنے جب چیزیں پیش کی گئیں تو وہ ان کے نام نہ بتا سکے۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ مختلف چیزوں اور اشخاص کا نام رکھ کر الفاظ کے ذریعے انہیں بہ سہولت سمجھایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی اس ناکامی کو دیکھ کر اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور اپنے عجز اور درماندگی کا اقرار کیا اور کہہ دیا ان کا علم تو صرف انہی چیزوں تک محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام تعارف کرایا اور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پراور آخر میں نتیجہ بحث کے طور پر یوں انہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وسعت علم کی طرف راہنمائی کی۔ “میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ ”

 

 

“پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کے آدم کے آگے جھک جاؤ، مگر ابلیس نے انکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔ پھر ہم نے آدم سے کہا کہ “تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے۔ ”

آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ “اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ “اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ” (۳۴ تا ۳۷)

 

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَۃِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا”پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے۔ اب ذرا اس مفسد اور خوں آشام مخلوق کی عزت افزائی دیکھئے کہ وہ کروبیوں کی مسجود ہو رہی ہے۔ فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتی ہے۔ کیوں ؟اس لئے ایک تو اسے معرفت الٰہی کا راز بخشا گیا دوسرے یہ کہ اسے ایک صاحب ارادہ مخلوق بنایا گیا ہے۔ انسان جس راہ کو اختیار کرنا چاہے آزادانہ اختیار کرسکتا ہے۔ غرض فطرت انسانی کی یہ دو رنگی اپنے ارادے پر اس کا اختیار اور اس کے ذریعے اپنے لئے راہ حیات کے تعین کی آزادی اور اپنی خاص کوششوں اور جدوجہد سے ہداقیت انسانیت کی ذمہ داری اور اس فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی قدرت وغیرہ ہی وہ چیزیں ہیں جن میں اس کے اس عظیم اعزاز کا راز پوشیدہ ہے۔

چنانچہ اس تقریب میں باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سب فرشتے آدم خاکی کے سامنے سربسجود ہو جاتے ہیں إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ “مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا”

اس تقریب میں شریر مخلوق مجسم ہو کر سامنے آ جاتی ہے خود ذات اقدس کی بارگاہ میں باری تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے اور صاحب فضیلت کے فضل اور اعزاز کا انکار کیا جاتا ہے۔ یہ شریر مخلوق گناہ پر مصر ہے اور فہم وفراست کے تمام دروازے اس کے لئے بند ہو جاتے ہیں۔

سیاق کلام سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابلیس اگرچہ فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا لیکن وہ ملائکہ میں سے نہ تھا کیونکہ اگر وہ فرشتوں میں سے ہوتا تو اسے سرتابی کی مجال نہ ہوتی کیونکہ فرشتوں کی صفت اور خاصیت یہ ہے کہ لَا یَعصُونَ مَا اَمَرَھُم وَیَفعَلُوَ مَا یُومَرُونَ “اللہ جو انہیں حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں۔ “اگرچہ یہ استثنائی جملہ کہ “سب فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے “بظاہر یہ بتاتا ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا لیکن وہ چونکہ فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا اسی لئے سلسلہ کلام میں ایسی استثناء لائی گئی۔ عرب کہتے ہیں جَاء َ بَنُوا فُلَانٍ اِلَّا اَحمَدٌ فلاں قوم کے سب لوگ آ گئے مگر احمد حالانکہ احمد ان میں سے نہیں ہوتا بلکہ وہ ان کے جوار میں رہتا ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید اس کی تصریح کرتا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا اور جنوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے۔ اس سے یہ بات قطعیت کے ساتھ معلوم ہو جاتی ہے کہ وہ فرشتوں میں سے نہ تھا۔

اس تقریب کے بعد اب ہمارے سامنے میدان کارزار ہے جس میں خلیفہ شر، ابلیس، اور خلیفہ خدا انسان ہے اور دونوں کے درمیان مسلسل جنگ ہو رہی ہے۔ یہ جنگ درحقیقت انسانی ضمیر اور اس کے دل و دماغ کے میدانوں میں لڑی جا رہی ہے اور اس میں وہی انسان کامیاب ہوتے ہیں جو پختہ ارادے کے مالک ہوتے ہیں۔ وہی سرخرو ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں۔ جوں جوں انسان اپنی خواہشات نفس کا بندہ بنتا چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا جاتا ہے۔ شر کی قوتوں کو پیش قدمی حاصل ہوتی جاتی ہے۔

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ وَكُلا مِنْہَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلا تَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ “پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہوں گے …….. “۔ آدم وحوا کے لئے جنت کے تمام پھل جائز قرار دیئے گئے، صرف ایک درخت کو مستثنیٰ رکھا گیا۔

صرف ایک درخت ……..شاید اس میں یہ اشارہ تھا کہ زمین میں نسل انسانی حلال وحرام کے قیود کی پابند ہو گی، کیونکہ حدودوقیود کے بغیرآزاد اور خود مختار ارادہ کیونکرپیدا ہوسکتا ہے اور ایک متحرک بالارادہ انسان اور ایک مجبور حیوان کے درمیان فرق کیونکر ہوسکتا ہے۔ اس کے سوا تو اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد شدہ حدود وقیود کی پابندی کے سلسلے میں انسان کو آزمایا جائے۔ یہ قوت ارادہ ہی ہے جو ایک حقیقی انسان اور ایک انسان نماحیوان کے درمیان فرق کر دیتی ہے جو مویشیوں کی طرح دنیا میں چرتا پھرتا ہے اور بس۔

فَأَزَلَّہُمَا الشَّيْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا كَانَا فِيہِ”آخرکارشیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ” ……..ذرا تعبیر کا شاہ کار دیکھئے۔ شیطان نے انہیں پھسلایا۔ “پھسلانے کا لفظ ہی پوری صورت حال کی تصویر کھینچ دیتا ہے۔ گویا ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں کہ شیطان انہیں دھکیل دھکیل کر جنت سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گویا وہ اچانک ان کی ثابت قدمی کو دھکا دیتا ہے اور وہ گر جاتے ہیں اور نیچے آ رہتے ہیں۔

یہاں آدم اور ابلیس کشمکش کا پہلا تجربہ مکمل ہو جاتا ہے۔ آدم علیہ السلام اپنے عہد کو بھول جاتے ہیں، وہ اس کے بھٹکانے کے سامنے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اللہ کا حکم سچائی بن کر سامنے آتا ہے اور قضائے الٰہی کا اعلان یوں ہوتا ہے۔

وَقُلْنَا اہْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ “ہم نے حکم دیا کہ اب تم یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ ” یہ اعلان تھا کہ اب آدم وابلیس کا معرکہ اپنی مقرر جگہ یعنی اس زمین پر شروع ہو جانا ہے۔ اور اب یہ معرکہ قیامت تک یوں ہی برپا رہے گا۔

آدم علیہ السلام گرنے کے بعد اب سنبھلتے ہیں اور اٹھتے ہیں، کیونکہ گرنا اور اٹھنا فطرت انسانی ہے۔ اب اللہ کی رحمت انہیں اپنے سایہ رحمت و عاطفت میں لے لیتی ہے اور جو بھی اللہ کی رحمت کے دامن میں پناہ لے اور اس کی چوکھٹ پر آگرے یہ رحمت بے پایاں ہمیشہ اسے ڈھانپ لیا کرتی ہے۔

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّہِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ”اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “آدم اور نسل آدم کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک دآئمی معاہدہ ہے۔ بات مکمل ہو گئی۔ آدم اس زمین پر اللہ کا ایک با اختیار اور ذی ارادہ خلیفہ قرار پایا۔ اس کاکام ہے کہ وہ فلاح کی راہ اختیار کرتا ہے یا ہلاکت و بربادی کی۔

 

 

“ہم نے کہا تم سب یہاں اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا۔ اور جو ا س کو قبول کرنے سے انکار کریں گے وہ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ” یہاں آ کر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان، زمین کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور یوں انسان، آغاز انسانیت سے یہ راز پا لیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟( ۳۸، ٣٩)

 

لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے !اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ “میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے کیوں اسے جنت دکھائی گئی ہے ؟کیوں ایک درخت کو حرام قرار دیا گیا؟اسے ابتلا، میں ڈالا گیا، یوں اسے زمین کی طرف اتارا گیا حالانکہ وہ طے شدہ پروگرام کے مطابق پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ زمیں پر فریضہ خلافت سر انجام دے ؟

میں سمجھتا ہوں کہ کشمکش آدم وابلیس کا یہ پہلا تجربہ کرایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس کے ذریعے سے آدم علیہ السلام کو کاروبار خلافت کے چلانے کے لئے تیار کیا جائے۔ اس طرح آدم علیہ السلام کی پوشیدہ قوتوں کو جگا دیا گیا۔ اسے لغزش کا تجربہ کرایا گیا اور ا س کے نتائج سے دوچار کیا گیا۔ اس کے بعد ندامت و شرمندگی، توبہ، دشمن کی پہچان اور اللہ کی مامون پناہ گاہ میں آنے کا طریقہ سکھایا گیا۔

شجر ممنوعہ کی کہانی، اس کے چکھنے کے لئے شیطان کی وسوسہ اندازی، انسان اول کا نسیان عہد، نسیان کے بعد ہوش میں آنا، پشیمانی اور استغفار۔ یہ سب کیفیات و واردات ایسی ہیں جن کا تجربہ ہر انسان کو ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے۔

اس انسان پر اللہ کی رحمت اور شفقت کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اپنے دارالخلافہ میں تمام ایسے تجربات سے آراستہ ہو کر اترے جس کا پیش آنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھا۔ تاکہ وہ اس وہ اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش (کشمکش آدم وابلیس)کے لئے تیار ہو اور یہ تجربہ اس کے لئے نصیحت آموز اور سامان عبرت ہو۔

آپ دوبارہ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر یہ تجربہ کہاں ہوا ؟وہ جنت کون سی ہے جس میں آدم و حوا کچھ عرصے کے لئے قیام پذیر ہوئے ؟فرشتے کیا ہیں ؟ابلیس کی حقیقت کیا ہے ؟اللہ تعالیٰ نے انہیں کیونکر خطاب کیا؟اور انہوں نے کیونکر جواب دیا؟

بھائی !یہ اور ایسی تمام دوسری باتیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں دراصل اللہ کے ان بھیدوں اور اسرار میں ہیں۔ جن کی حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، اللہ تعالیٰ جو علیم و حکیم ہے، وہ جانتا ہے تھا کہ ان چیزوں کی حقیقی معرفت اور ان کی ماہیت معلوم کرنے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ “لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کی اصلیت کا ادراک کرنے کی صلاحیت ہی نہیں دی۔ وہ ان کی ماہیت کا احاطہ کرہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مدرکات دیئے ہیں وہ صرف اس لئے دیئے ہیں کہ ان کے ذریعے انسان اس زمین میں کاروبار خلافت سرانجام دے۔ یہ مدرکات حقیقت مغیبات کا علم حاصل کرنے کے لئے استعمال ہی نہیں ہوسکتے۔ نیز فریضۂ خلافت کے یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ ہم ان مغیبات کی حقیقت کو بھی جانتے ہوں۔ اللہ کے قوانین قدرت کوکس قدر انسان نے مسخرکیا ہے۔ انسان کو کائنات کے و رموز کا کتنا علم دیا گیا ہے ؟کتنے اسرار غیبیہ ہیں، جو اس کی نظروں سے اوجھل ہیں ؟یہ ایسی باتیں ہیں جن کے علم و ادراک کی حضرت انسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی حالت یہ ہے کہ اس کائنات کے بے شمار اسرار کان پردہ فاش کرنے کے باوجود، وہ اب بھی ان تمام واقعات و حوادث سے مطلقاً بے خبر ہے جو اگلے لمحہ نمودار ہونے والے ہیں۔ تمام مہیا او میسرہ آلات ……..اور ذرائع کے علم کے باوجود جو اسے میسر ہیں، وہ کچھ نہیں جانتا کہ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ جو سانس لے رہا ہے وہ آخری سانس لے رہا ہے یا اس کے بعد وہ دوسرا سانس بھی لے سکے گا۔ پردۂ غیب میں جو حقائق پوشیدہ ہیں یہ ان میں سے ایک ادنیٰ مثال ہے۔ غرض فریضۂ خلافت کی ادائیگی کے لئے اسے ان مغیبات میں سے کسی چیز کا جاننا بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اگر انسان پر بعض اسرار کھول دیئے جائیں تو وہ اس کی کارکردگی پر الٹا اثر ڈالیں گے۔ چنانچہ ایسے پوشیدہ اسرار و رموز کی کئی قسمیں جو پردۂ غیب میں مستور ہیں اور اللہ کے سوا ان کا علم کسی کو بھی نہیں ہے۔

اس لئے عقل انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس میدان میں سعی لاحاصل کرے۔ کیونکہ ا س کے پاس وہ ذرائع اور آلات ہی نہیں جو اس میدان میں کام آتے ہیں۔ جو شخص بھی اس میدان میں جدوجہد کرے گا، اور اپنی قوتیں کھپائے گا، اس کی جدوجہد اکارت جائے گی۔ بالکل ضائع اور لاحاصل۔

جب عقل انسانی وہ ذرائع ہی حاصل نہیں جن کے ذریعے وہ عالم مغیبات کے بارے میں کسی چیز کا ادراک کرسکے تو پھر اسے کوئی حق نہیں کہ وہ محض ہٹ دھرمی کر کے غیبی حقائق کا انکار کرے۔ کیونکہ کسی چیز کا انکار کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے وجود کا علم حاصل ہو۔ اور مغیبات کا علم و ادراک عقل کا کام ہی نہیں ہے۔ نہ اس کے حیطۂ قدرت اور دائرہ کار میں یہ چیزیں آتی ہیں۔ ا س کے پاس ان کے ادراک کے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی عقل کو ان کے ادراک کی ضرورت ہے۔ اور نہ ہی عقل انسانی کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے۔

ہمیں یہ تسلیم ہے کہ وہمیات و خرافات کو تسلیم کرنا نہایت ہی خطرناک اور مضربات ہے، لیکن یہ بات اس سے بھی بدرجہا زیادہ مضر اور خطرناک ہے کہ انسان ایک ایسی چیز کا انکار کرے جو اس کے علم کے دائرہ رسائی ہی سے باہر ہے۔ یاکسی حقیقت کو محض اس لئے مستعبد سمجھا جائے کہ وہ انسان کے حد ادراک اور حدود قدرت سے باہر ہے۔ اگر ہم علم و یقین کا یہ معیار مقرر کر لیں تو یہ ایک حیوانی معیار ہو گا۔ گویا انسانیت پیچھے لوٹ کر دوبارہ حیوانیت کے مقام تک پہنچے گی۔ جہاں عالم محسوسات سے آگے کوئی چیز نہیں ہوتی اور جس کے لئے محسوسات کی چار دیواری سے نکل کر وجود مطلق تک پہنچنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔

لہٰذا ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اس عالم غیب کو اس ذات ہی کے حوالے کر دیں جو اس دنیا کا مالک ہے، اور ہمارے لئے وہی کافی ہے جس کی اطلاع وہ ہمیں دے دے۔ صرف اسی قدر کی ہمیں اس دنیا میں ضرورت ہے جس سے ہماری روحانی اور مادی اصلاح ہو جائے اور بس!

اب ہم اس قصے کے ان پہلوؤں کو لیتے ہیں جو بعض انسانی اور تکوینی حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عالم موجودات کا تصور، اس کا باہم ربط، انسانی مزاج اور اس کا معیار حسن قبیح وغیرہ۔ کیونکہ انہی پہلوؤں میں بشریت کی ہدایت اور منفعت کا سامان ہے۔

یہاں ظلال القرآن کی مناسبت سے، اختصار کے ساتھ ہم ان اشارات، تصورات اور حقائق پر ایک اچٹتی نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔

۱۔         اس قصے سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ مقام اور حیثیت ہے جو اسلامی تصور حیات، خود انسان کو عطا کرتا ہے یعنی اس کائنات میں ا س کی اہمیت، ان اقدار کی اہمیت جن سے اسے پرکھا جاتا ہے اور زمین پر اس کے کردار کی اہمیت وغیرہ۔ پھر یہ کہ اسلامی تصور حیات انسان اور عہد ربانی کے درمیان تعلق کی کیفیت کیا ہے ؟اور اس عہد کی حقیقت کیا ہے جس کی بنیاد پر انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔

چنانچہ ملاء اعلیٰ میں تکریم انسانیت کی جو تقریب منعقد ہوتی ہے اور ا س کے بعد جو عظیم الشان اعلان ہوتا ہے اس سے صاف صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلامی تصور حیات کے مطابق حضرت انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ؟یعنی وہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے زمین میں خلیفۃ اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کا نہایت ہی واضح اظہار اس منظر سے ہوتا ہے جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہوتے ہی سب کروبی اس بندۂ خاکی کے آگے سربسجود ہو جاتے ہیں۔ اس تقریب میں ابلیس استکبارکرتا ہے اور راندۂ درگاہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ سب آغاز سے انجام تک خاص ذات کبریائی کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

انسان کے بارے میں جب یہ نقطۂ نظر اختیار کیا جاتا ہے تو نظریاتی دنیا اور عملی دنیا میں انسان کے اس تصور کے عظیم الشان اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سب سے پہلا تصور یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس زمین کا مالک ہے۔ یہ اسی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس کائنات کی تمام چیزیں بھی اس انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ اس لئے وہ ہر مادی چیز سے زیادہ معزز زیادہ قیمتی اور زیادہ عزیز ہے۔ وہ دنیا کی تمام مادی اقدار سے بلند تر ہے۔ لہٰذا یہاں اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ کسی بڑے سے بڑے مادی مفاد، یا عظیم سے عظیم ماد ی ترقیات کے لئے انسان کو ذلیل و خوار ہونے دیا جائے۔ لہٰذا کسی قسم کی مادی تحقیقات و فتوحات، کسی قسم کی مادی پیداوار یا مادی عناصر میں سے کسی عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ تمام مادیات اور تمام مصنوعات، صرف انسان کی خاطر پیدا کی گئی ہیں۔ اس لئے کہ اس کی انسانیت پروان چڑھے اور بحیثیت انسان یہاں اس کی زندگی قائم رہ سکے۔ لہٰذا اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ محض انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے اس کی اعلیٰ اقدار اور اس کی کرامت اور شرافت کے عناصر ترکیبی ہی کو خیرباد کہہ دیں اور انہیں ضائع کر دیں۔

۲۔        اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس زمین پر انسان ہی اول درجے کی موثر طاقت ہے۔ وہی ہے جو اس زمین کے رنگ ڈھنگ بدلتا ہے اور انسان کی معاشرتی زندگی میں وہی باہمی ربط و تعلق کی نوعیت متعین کرتا ہے۔ وہی ہے جو قافلۂ حیات کا قائد وسالار ہے اور سمت سفر کا تعین کرتا ہے ذرائع پیداوار یا پیداوار کی تقسیم کے کسی نظام کو اس انسان کی قیادت کا مقام حاصل نہیں ہے۔ یوں کہ انسان کی نکیل ان کے ہاتھ میں ہو اور وہ ذلیل و خوار ایک حیوان کی طرح ان کے پیچھے پیچھے عالم بے بسی میں چلتا ہو جیساکہ آج کل کے بعض مادی فلسفے اس کی ایسی ہی تصویر کھینچتے ہیں۔ اور جن کا نظریہ انسانیت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں ……..اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان نظاموں میں جوں جوں مشین کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، انسان کی انسانیت پامال ہوتی جاتی ہے۔

یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ انسان کے لئے جو نظام زندگی تجویز کرتا ہے یا تو وہ اس اسلامی نظریہ کے مطابق تجویز ہوتا ہے یا پھر ا س مادی نقطۂ نظر کے مطابق تشکیل پاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند انسانی اقدار کو یا تو عروج نصیب ہوتا ہے یا تو وہ پامال ہوتی ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات بن جاتا ہے یا ایک حقیر مشین اور آلہ۔ آج کی اس مادی دنیا میں محض مادی ترقی اور کثرت پیداوار کی خاطر ہرقسم کی انسانی آزادیوں، انسانی شرافتوں اور انسان کی انسانیت کو جو پامال اور برباد کیا جا رہا ہے، وہ صرف اسی نقطۂ نظر کا فطری نتیجہ ہے جو مادی نظامہائے حیات اس انسان کی حقیقت اور دنیا میں اس کی اہمیت کے بارے میں رکھتے ہیں۔

لیکن اس مادی دنیا کے برعکس انسان کی حقیقت اور اس کے مقصد تخلیق کے بارے میں اسلام جو تصور دیتا ہے، اس کے ترازو اور معیار میں آداب انسانیت کی قدریں بلند ہو جاتی ہیں، اخلاقی فضائل ومحاسن اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، انسان کی زندگی میں ایمان، نیکی اور اخلاص جیسی صفات اہمیت اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق یہی وہ اعلیٰ اقدار ہیں جن پر خلافت فی الارض کی ذمہ داری موقوف ہے۔

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي ہُدًى فَمَنْ تَبِعَ ہُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلا ہُمْ يَحْزَنُونَ”پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا۔ “غرض یہ اقدار تمام مادی اقدار سے زیادہ قیمتی اور برتر ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان مادی اقدار کا حصول بھی مقاصد خلافت فی الارض میں داخل ہے۔ اس حد تک یہ مادی اقدار اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کے تابع ہوں اور بذات خود اصل مقاصد نہ بننے پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسانی ضمیر کو پاک وصاف اور ایک اعلیٰ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرتا ہے، جبکہ تمام دوسرے مادی نظریات تمام روحانی اقدار کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اور مادیت کے لئے آداب انسانیت تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ اور یہ سب قربانی کس لئے دی جاتی ہے ؟محض ضروریات زندگی سامان تعیش کی فراوانی اور حیوانوں کی طرح شکم پروری کی خاطر) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سید محمد قطب کی کتاب انسان اسلام اور مادیت)

اسلام کا تصور انسان کس قدر بلند ہے ؟ذرا اس کے اس پہلو پر غور کیجئے کہ اس کی رو سے انسان ایک با اختیار اور صاحب عزم واراہ مخلوق ہے۔ کیونکہ اگر ہو با اختیار اور ذی عزم نہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے معاہدے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اختیار ہی کی اساس پر انسان مکلف ہے اور جزاء وسزا کا مستحق ہے۔ اگر وہ اپنے ارادے کا پکا اور خواہشات نفسانیہ پر قابو پا لیتا ہے تو اس طرح وہ فرشتوں سے بھی ارفع مقام حاصل کرسکتا ہے۔ اور ہر اس کجروی سے بچ سکتا ہے جس سے اسے سابقہ درپیش ہو۔ لیکن اگر اس عزم پر خواہشات نفسانیہ غلبہ پالیں، اس کی زندگی میں ہدایت پر ظلمت غالب آ جائے اور وہ اپنے اس عہد الست کو بھول جائے جو اس نے اپنے خالق سے باندھا تھا تو وہ اس بلند مقام سے گر بھی سکتا ہے اور اپنے لئے شقاوت و نکبت کے تمام سامان بھی فراہم کرسکتا ہے۔

اسلامی نظام زندگی نے، اس کائنات میں انسان کو برتری اور شرافت کے جو اصول دیئے ہیں اس قصے میں ان کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ سعادت و شقاوت، بلندی وپستی، ایک با اختیار بلند مرتبت انسان اور مقید و مجبور حیوان جو قعر مذلت میں گر پڑا ہو، ان دونوں کی راہیں کہاں سے جدا ہوتی ہیں۔

اس قصے میں بیان کردہ، واقعات کی تصویر کشی کے دوران یہ یاد دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معرکہ آدم وابلیس کی نوعیت کیا ہے ؟ایک طرف بندے اور خدا کا پیمان ہے اور دوسری طرف شیطان کی فتنہ انگیزی ہے۔ ایک طرف ایمان ہے اور دوسری جاب کفر ہے، ایک محاذ پر حق ہے اور دوسرے پر باطل ہے۔ “ایک صفت اہل ہدایت کی ہے اور دوسری اہل ضلال کی۔ لیکن میدان جنگ کہاں ہے ؟انسان اور اس کی زندگی۔ فاتح بھی انسان اور مفتوح بھی انسان۔ سود و زیاں کا یہ بازار خود اس کے ضمیر میں ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے کیونکہ وہ ہر وقت میدان کارزار میں ہے۔ صورتیں دو ہی ہیں یا تو وہ لٹ جائے اور یا مال غنیمت لے کر ظفر یاب ہو گا۔

اس قصے میں اسلام کے تصور خطا اور توبہ کی وضاحت بھی کر دی جاتی ہے۔ گناہ چونکہ ایک فرد سے سرزد ہوتا ہے۔ لہٰذا توبہ بھی ایک انفرادی عمل ہے۔ یہ ایک ایسا واضح اور صاف نظریہ ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اہل کنیسا کی طرح یہاں کسی ایسے تصور کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے خطا کا مرتکب بن جاتا ہو۔ اسلام میں کسی لاہوتی کفارہ معاصی کا کوئی تصور نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان کو آدم علیہ السلام کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے مصلوب ہوئے۔ یہ ایک غلط تصور ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی ایک لغزش ایک انفرادی عمل تھا۔ اور اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی انفرادی عمل ندامت اور توبہ تھا جو بالکل واضح اور صاف اور قابل فہم ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہر ایک خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ اور سب کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ صاف اور سادہ اور آسان

صد بار اگر توبہ شکستی باز آ

ذرا غو ر کیجئے کہ کس قدر واضح اور دل لگتا تصور ہے یہ۔ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنا بوجھ اٹھائے۔ یہ تصور ہر انسان کو بھلائی کے حصول کی جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور وہ یاس وقنوط کاشکار نہیں ہوتاکیونکہ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

اشارات قصۂ آدم کا یہ صرف ایک پہلو ہے فی ظلال القرآن کے اس مقام پر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ صرف اس ایک پہلو ہی میں بے بہا حقائق اور صحت مند تصورات کا ایک عظیم خزانہ موجود ہے۔ اس قصے میں قیمتی اشارات وہدایات کا ایک وافر ذخیرہ ہے۔

اس میں اسلام کے تصور اجتماع اور طرز معاشرت کی بنیادیں متعین کر دی گئیں ہیں۔ اور جنہیں بھلائی، اخلاق اور دوسرے فضائل کے ذریعے استحکام بخشا گیا ہے۔ جب ہم اس پہلو پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں قرآنی قصوں کی اہمیت اور مقصدیت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ قصے کس طرح اسلامی تصورِ حیات کی بنیادوں کو مضبو ط کرتے ہیں۔ اور ان اعلیٰ اقدار کی وضاحت کرتے ہیں جو ان بنیادوں پر قائم ہوتی ہیں جس کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور جو اللہ ہی کی طرف متوجہ ہے، اور جسے آخر کار اللہ ہی کی طرف جانا ہے، وہ اس بات کی مستحق ہے کہ اس میں وہی اقدار بلند ہوں جو اللہ کے ہاں بلند ہیں۔

معاہدہ خلافت انسانی دراصل ربانی ہدایت پہ قائم ہے۔ اس کی اہم شرط یہ ہے کہ انسان اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔ اس معاہدے کے بعد پوزیشن یہ ہو جاتی ہے کہ انسان ایک ذی ارادہ مخلوق کی حیثیت سے ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسے خدا پکار رہا ہے، اور وہ سن رہا ہے۔ اگر وہ فیصلہ کرتا ہے تو صراط مستقیم پر چل پڑتا ہے۔ دوسری جانب اسے شیطان پکار رہا ہے۔ وہ ضلالت ……..یا حق ہے اور یا باطل ……. اور یا فلاح ہے اور یا خسران…….. یہ ہے حقیقت اور اسے قرآن کریم ہمیشہ بطور حقیقت اولیہ پیش کرتا ہے۔ عالم انسان کے سارے نظریات و تصورات اور طرز ہائے زندگی بس صرف اس ایک حقیقت پر قائم ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

درس ۴ایک نظر میں

 

یہاں آ کر گفتگو کا رخ بنی اسرائیل کی طرف مڑ جاتا ہے۔ مدینہ طیبہ میں صرف انہوں نے دعوت اسلامی کا سختی سے مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے ظاہری اور خفیہ دونوں قسم کی تدبیروں کے ذریعے دعوت اسلامی کو ختم کرنے کوشش کی اور اس کا مقابلہ کیا۔ وہ تحریک اسلامی کے خلاف پے درپے سازشیں کرتے رہے اور ظہور اسلام سے لے کر دعوت کے اس مرحلے تک ایک لمحہ بھر ان کی ریشہ دوانیوں میں کوئی کمی نہ آئی۔ انہیں اس بات کا یقین ہو چلا تھا کہ اقتدار کی کنجیاں ایک ایک کر کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔ جب سے اوس و خزرج کی لڑائیاں بند ہوئیں اور وہ راستے بند ہوئے جن کے ذریعے یہود مشرکین مدینہ کے اندر اثر ورسوخ پیدا کرتے اور ان پر اثر انداز ہوتے تھے، پھر جب مسلمانوں کے لئے، اس نئی کتاب کی بنیاد پر ایک نئے نظام زندگی کی تشکیل شروع ہوئی تو یہودیوں کو یہ احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ اس نئی تحریک نے انہیں ادب وثقافت اور معیشت و اقتصاد دونوں کے اہم شعبوں سے باہر نکال پھینکا ہے۔

غرض یہ ہے وہ معرکہ جو یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اول روز سے شروع کیا اور آج تک وہ جوں کا توں قائم ہے۔ آج بھی وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہی اوچھے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جو اس وقت کر رہے تھے۔ ہتھیاروں کی شکل اگرچہ مختلف ہے، رنگ ڈھنگ نیا ہے۔ لیکن ان کی حقیقت اور مزاج بالکل وہی ہے …….. یاد رہے کہ یہودی اسلام ومسلمانوں کے خلاف اس حقیقت کے باوجود یہ معاندانہ روش اختیار کئے ہوئے ہیں کہ انسانی تاریخ میں پوری دنیا اس قوم کو ہمیشہ دھتکارتی رہی۔ کبھی ادھر سے ادھر اور کبھی ادھر سے ادھر بھگایا جاتا رہا۔ اور یہ لوگ خاک چھانتے پھرے۔ صدیاں یونہی گزر گئیں لیکن بالآخر انہیں آرام اور چین کی زندگی عالم اسلام ہی میں نصیب ہوئی، جو سب کے لئے کھلا ہے اور جس میں عقیدہ و مذہب کی اساس پرکسی کے خلاف کوئی نفرت نہیں ہوا کرتی ہے۔ جہاں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کو ہمیشہ بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں ہر اس شخص کو آنے کی کھلی اجازت رہی ہے جو اسلام کو اذیت نہ دے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہ کرتا ہو اور مسالم ہو کر رہے۔

توقع تو یہ تھی کہ یہود مدینہ، اس نئے رسول اور اس نئی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرتے اور ایمان لاتے۔ جبکہ قرآن کریم اپنی عمومی حیثیت میں ان تمام تعلیمات کی تصدیق کر رہا تھا جو تورات میں بیان کی گئی تھیں۔ پھر ان کو ایک نئے رسول کی آمد کا انتظار بھی تھا۔ ان کو اس کے اوصاف بھی معلوم تھے اور ان کے پاس کتب سماوی میں اس کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں۔ اور وہ ہمیشہ اللہ سے دست بدعا ہوا کرتے تھے کہ وہ نبی منتظر کے طفیل انہیں مشرکین عرب پر ظفر یاب کرے۔

یہ سبق، بنی اسرائیل کے ساتھ قرآن کی وسیع گفتگو کا پہلا حصہ ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ گفتگو درحقیقت ان کے موقف کی تردید اور ان کی سازشوں کو طشت از بام کرنے کے لئے ان پر ایک گہری تنقیدی حملہ ہے اور یہ بطور مجبوری اور ضرورت اس وقت شروع کیا گیا ہے۔ جب دعوت اسلامی نے، مدینہ میں آ کر، انہیں اسلام کی طرف بلانے میں اپنی پوری قوت صرف کر دی، ان پر حجت تمام کر دی اور انہیں اس جدید تحریک کی طرف راغب کرنے کے لئے تمام ذرائع استعمال کر لئے گئے۔

اس سبق کا آغاز باری تعالیٰ کی اس جلیل القدر پکار سے ہوتا ہے جس میں باری تعالیٰ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے، انہیں پکارا جاتا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس عہد کو پورا کرے، جو اس نے ان کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں بطور تمہید، پہلے خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب اور ہدایت کو قبول کر لیں جو ان تمام کتابوں اور ہدایات کی تصدیق کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی طرف اتاریں۔ انہوں نے قرآن کریم کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کی مذمت کرتا ہے، اور انہیں اس بات کی نصیحت کرتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو سب سے پہلے اس کتاب کے منکر بنے۔ اس کی اس روش کی بھی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حق کو چھپاتے ہیں اور حق و باطل کو باہم مشتبہ بناتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہ راست سے بھٹکائیں۔ بالخصوص مسلمانوں کو۔ اور اسلامی جماعت کی صفوں میں فتنہ کھڑا کریں اور انتشار پھیلائیں۔ نیز جو لوگ نئے نئے حلقہ بگوش اسلام ہو رہے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پھیلائیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ ان فتنہ انگیزیوں کو چھوڑ کر اسلامی جماعت میں شریک ہو جائیں۔ مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں، زکوٰۃ ادا کریں اور نظام جماعت قائم کریں اور اپنے آپ کو اس نئے دین میں ضم کر دینے کے مشکل کام میں صبر اور نماز سے مدد لیں۔ اللہ ان کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے کہ وہ مشرکین کو تو یہ کہتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں لیکن خود ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔

اس کے بعد بنی اسرائیل کو وہ نعمتیں یاد دلائی جاتی ہیں جن سے انہیں، ان کی پوری تاریخ میں نوازا جاتا رہا تھا۔ دوران گفتگو حاضرین بنی اسرائیل کو یوں مخاطب کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں خود یہ لوگ وہاں موجود تھے۔ جو آج مدینہ میں موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ایک ہی امت ہیں اور صدیوں سے وہ ایک ہی قومیت اور اسی جبلت پر جمے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ اس کے بعد بھی وہ ہر دور میں ویسے ہی رہے اور انہیں خصوصیات کے حامل رہے۔

اس کے بعد انہیں اس دن یعنی یوم قیامت سے ڈرایا جاتا ہے جہاں کوئی نفس کسی دوسرے کا بدلہ نہ دے سکے گا۔ کسی کی کوئی سفارش نہ چلے گی نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول ہو گا اور اس دن تمام لوگ بے یار و مددگار ہوں گے، اور انہیں قیامت کے عذاب سے بچانے والا نہ ہو گا۔

اب ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی۔ یہ منظر کشی ایسی ہی کہ گویا نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر ان انعامات کا ذکر ہوتا ہے جو پے درپے ان پر ہوتے رہے۔ ان کے سروں پر بادلوں کے سائے کئے جاتے ہیں۔ من وسلویٰ سے ان کی تواضع کی جاتی ہے اور پتھروں کا دل چیر کر ان کے لئے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں شرم دلائی جاتی ہے کہ ان انعامات کے بدلے میں وہ پے درپے کیا کیاسرکشیاں اور کیا کیا خرمستیاں کرتے رہے۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی ایک غلطی معاف کرتے تو وہ دوسری میں جا پڑتے، ایک مصیبت سے نجات دیتے تو وہ اپنے لئے دوسری کا سامان کر دیتے۔

لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے۔ وہی فساد اور کینہ پروری، وہی کجروی اور گمراہی اور اس پر اصرار۔ ہمیشہ انہوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ امانت میں خیانت کی۔ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد توڑا۔ اللہ تعالیٰ اور پیغمبروں کے ساتھ کئے ہوئے ہر میثاق کو انہوں نے بالائے طاق رکھا۔ وہ یہاں تک آگے بڑھے کہ بغیر کسی جواز کے پیغمبروں کو قتل کرنے لگے۔ رب کی آیات کو جھٹلانے لگے۔ بچھڑے کو پوجنے لگے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی گستاخی اس حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے اس وقت تک ایمان لانے سے انکار کر دیا جب تک وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو نہ دیکھ لیں۔ ذرا غور کیجئے !اس کے بعد یہ لوگ اللہ کے حکم کی صریح خلا ف ورزی کرتے ہیں اور گاؤں میں داخل ہوتے وقت وہ الفاظ نہیں ادا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں بتائے تھے، اور جس کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ احکام سبت کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ عہد طور کو تو صاف بھول گئے۔ جس گائے کا ذبح کرنے کا اللہ نے حکم دیا تھا، اس میں ٹال مٹول کرنے لگے اور مجادلہ اور مباحثہ شروع کر دیا۔

غرض یہ سب کام یہ لوگ اس ادعاء کے ساتھ کرتے رہے کہ بس ہدایت یافتہ امت اگر کوئی ہے توبس وہ صرف یہودی اور بنی اسرائیل ہی ہیں۔ قیامت میں اللہ میاں تو صرف بنی اسرائیل سے راضی ہوں گے۔ تمام دین باطل ہیں۔ تمام دوسری امتیں گمراہ ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم اس پہلی تنقیدی گفتگو ہی میں اس کی تردید کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسری امتوں میں سے جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ یوم آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو ان کے رب کے نزدیک ان کے لئے اجر ہے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ انہیں کسی چیز کا حزن و ملال ہو گا۔

بنی اسرائیل پر یہ بھرپور وار یا بعد میں سورت کے مباحثے کے ضمن میں آنے والی تنقیدیں، وقت کی اہم ضرورت تھی۔ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بنی اسرائیل کے تمام کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی جائے اور ان کی تمام سازشوں سے پردہ اٹھایا جائے اور مسلمانوں کو ان تمام سازشوں اور مکاریوں سے آگاہ کر دیا جائے، جو ان کی جدید سوسائٹی کے خلاف کی جا رہی تھیں۔ ان کے دل و دماغ میں وہ اصول بٹھا دئیے گئے جن کی بنا پر بنی اسرائیل یہ سازشیں کرتے پھرتے۔ نیز مسلمانوں کو اس خلفشار اور فتنہ انگیزی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جانے کی ترغیب دی گئی۔

تاریخ بنی اسرائیل پر یہ تنقید اس لئے بھی ضروری تھی کہ خود مسلمان متنبہ ہو جائیں۔ انہیں معلوم ہو جائے کہ خلافت ِ ارضی کے اس نئے منصب میں ان کے سامنے کیا کیا دشواریاں ہیں ؟کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ؟ا س سلسلے میں سابقہ مقتدر امتوں سے کیا کیا لغزشیں ہوئیں اور جس کی وجہ سے وہ منصبِ خلافت سے محروم ہوئیں اور اس زمین میں اللہ کی امانت کے قیام و نگہبانی کا جو شرف انہیں حاصل تھا وہ کس طرح انہوں نے گنوایا۔ اور انسانی قیادت کا نظام کس طرح اور کن اسباب کی بناء پر ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ غرض اس پوری تنقیدی بحث میں کہیں تو کھل کر اور کہیں اشاروں اشاروں میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس راہ اور اس منصب میں ان کے سامنے کیسے کیسے مشکل مقامات آئیں گے ؟جہاں لغزشوں اور پھسلنے کا سخت اندیشہ ہو گا۔ جیسا کہ اس بحث کے دوسرے حصے میں بھی ایسی ہی تنبیہیں ہوں گی۔

مدینہ طیبہ میں امت مسلمہ کو ان تنبیہات اور ہدایات کی اشد ضرورت تھی، جیسا کہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر زمانے میں امت مسلمہ کو ان ہدایات کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آنکھیں کھول کر گہرے اور بصیرت افروز احساس کے ساتھ قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور بزرگ و برتر قیادت کی ان ہدایات اور تعلیمات کو اپنائیں۔ جو اس نے اپنے پرانے دشمنوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیں۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اچھی طرح یہ معلوم ہونا چاہئے کہ انہوں نے ان جدی دشمنوں کی ان سازشوں اور مکاریوں کا مقابلہ کس طرح کرنا ہے، جو یہ دشمن نہایت ہی خفیہ ذرائع اور گہرے فریب کارانہ طریقوں سے اسلامی معاشرہ کے خلاف کرتے ہیں۔ جس شخص کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو اور جو ظاہر و باطن اور خفیہ و اعلانیہ غرض اپنی پوری زندگی میں اس بزرگ و برتر قیادت خداوندی سے ہدایات نہیں لیتا، وہ کبھی بھی ان خفیہ راستوں اور ناپاک راستوں اور زیر زمین ذرائع کا پتہ نہیں لگا سکتا جن کے ذریعے یہ خطرناک اور ناپاک سازشیں اسلامی معاشرے میں گھس آتی ہیں۔

اس بحث میں قرآن کریم کی طرز ادا کی فنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کا ایک خاص پہلو قابل لحاظ ہے۔ تاریخ بنی اسرائیل کی یہ بحث قصہ خلافت آدم کے اختتام کے متصلاً شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بحث ا اس ذہنی پس منظر میں شروع ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے قصہ آدم وابلیس میں اشارے کئے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید کے اسلوب ادا میں اس بات کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ پیش کئے جانے والے قصے اور اس ماحول کے درمیان مکمل مطابقت اور ہم آہنگی ہو جس میں قصہ پیش ہو رہا ہوتا ہے۔

ذرا پیچھے لوٹئے، دوران بحث کہا گیا تھا کہ “اللہ تعالیٰ نے اس زمین کی تمام مخلوقات کو تم انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔ “اس کے بعد زمین میں خلافت آدم کا قصہ شروع ہوتا ہے اور آدم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک اعلانیہ معاہدہ ہوتا ہے۔ آدم کو فرشتوں پر فضیلت دی جاتی ہے اس کے بعد، آدم کو وصیت کرنا، بھول چوک، توبہ و ندامت، ہدایت الٰہی اور مغفرت الٰہی کے مضامین آتے ہیں اور آدم علیہ السلام کو جنت ہی میں شر کی قوتوں اور خیر کی قوتوں کی اس طویل اور نہ ختم ہونے والی کشمکش کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے، جو اس دنیا میں تا قیامت جاری رہنی تھی۔ خیر، اصلاح اور تعمیر کی قوتیں ایک ایسے انسان کی شکل میں پیش ہوتی ہیں جو مومن ہے اور اللہ کی رسی کو تھامے ہوئے ہے اور شر، فساد اور تخریب کی قوتیں ابلیس کی صورت میں مجسم کھڑی ہیں۔

یہ تمام باتیں کرنے کے بعد، اب بنی اسرائیل پر تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ سے پختہ عہد باندھا اور پھر اسے توڑا۔ ان پر کن کن نعمتوں کی بارشیں ہوئیں اور انہوں نے ان کی ناشکری کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں منصب خلافت سے محروم کر دیا اور ذلت ومسکنت کو ان پر مسلط کر دیا۔ مومنین کو ان کی مکاریوں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اپنی تاریخ میں ان سے کیا کیا لغزشیں سرزد ہوئیں ؟یہاں آ کر زمین میں خلیفہ بنانے اور اس کے بعد بنی اسرائیل کو خلیفہ بنانے کے درمیان ایک واضح معنوی ربط پیدا ہو جاتا ہے اور سیاق کلام واضح طور پر باہم مربوط ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم کے پیش نظر یہاں یہ مقصد نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کی قومی تاریخ پیش کرے بلکہ وہ اس تاریخ کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور مناسب اختصار یا مناسب بسط سے۔ اس طویل تاریخ کے بعض مناظر پیش کرتا ہے۔ سورۂ بقرہ سے پہلے قرآن مجید کی تمام مکی سورتوں میں بھی یہ قصہ بار بار آتا ہے۔

لیکن وہاں اس قصے کے بیان سے مطلوب یہ تھا کہ مکی زندگی کے پر آشوب دور میں مسلمانوں کی قلیل جماعت کی ڈھارس بندھائی جائے۔ اس وقت مطلوب یہ تھا کہ آغاز کائنات سے آج تک قافلۂ اہل ایمان کے دعوتی تجربات، مسلمانوں کی اس قلیل جماعت کے سامنے پیش کئے جائیں اور مکہ مکرمہ میں سے جو مرحلہ درپیش تھا، اس کے تقاضوں کے مطابق اسے ہدایات دی جائیں لیکن یہاں (مدینہ میں )مقصد یہ تھا کہ یہودیوں کی ریشہ دوانیوں اور برے ارادوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور اسلامی جماعت کو متنبہ کیا جائے کہ یہودیوں کے ارادے کیا ہیں ؟اور انہیں بروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وسائل کیا ہیں ؟نیز امت مسلمہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ خود وہ بھی انہی کوتاہیوں اور کمزوریوں میں مبتلا نہ ہو جائیں جن میں اس سے قبل یہودی مبتلا ہو چکے تھے۔ چونکہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ طیبہ میں مقاصد بالکل مختلف تھے، اس لئے قرآن کریم نے یہاں قصہ بنی اسرائیل کو مختلف اسلوب میں اور مختلف پہلوؤں سے پیش کیا۔ اگرچہ جو حقائق پیش کئے گئے وہ یہاں اور وہاں بالکل ایک ہی تھے۔ یعنی بنی اسرائیل کی گمراہی اور جادۂ مستقیم سے انحراف (جب مکی سورتوں پر بحث ہو گی جو ترتیب نزول کے اعتبار سے بقرہ سے پہلے نازل ہوئیں تو وہاں ہم اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے۔ )

بنی اسرائیل کا قصہ قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے، اس کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سیاق وسباق میں اسے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہے۔ اور اس مقام کے مقاصد و مطالب اور فکری ہدایات و توجہات کا تکملہ ہے۔ یہاں بھی یہ قصہ سیاق وسباق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ یہاں پہلے انسان کے شرف اور اس کی کرامت کا مضمون بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان اور اللہ کے درمیان عہد اور انسان کی جانب سے بھول چوک کے مضامین آئے، جن میں بطور اشارہ یہ بتایا گیا ہے کہ انسانیت ایک اکائی ہے۔ اس کی جانب آنے والے رسول اور ان کا پیش کردہ دین بھی ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں۔ دوران کلام نفس انسانی اور اس کے عناصر ترکیبی کی طرف بھی جا بجا اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان عناصر ترکیبی کو نظر انداز کرنے اور ان سے انحراف کرنے کے عواقب و نتائج کیا ہوں گے ؟جن پر انسان کے خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کا دارومدار ہے اور جن کی اہمیت یہ ہے کہ جو شخص ان کا انکار کرے گا، وہ اپنی انسانیت کا منکر بن جائے گا، وہ ان اسباب کو گم کر دے گا جن کی بناپر اسے خلافت فی الارض کا منصب ملا، نتیجتاً انسان دوبارہ حیوانیت کے ارذل مقام میں جا گرے گا۔

قرآن کریم میں بنی اسرائیل کا قصہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ اس قصے کے مختلف مقامات اور نصیحت آموز پہلو بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ کا وہ حکیمانہ اسلوب تربیت معلوم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو خلافت کبریٰ کے منصب کے لئے تیار کرنے اور اس کی تعلیم و تربیت کے مقصد کے لئے اختیار فرمایا۔

اس اجمالی بحث کے بعد اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآنی آیات پر تفصیلی نظر ڈالیں۔

 

 

اے بنی اسرائیل ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی۔ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اسے تم پورا کرو تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا، اسے میں پورا کروں، اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو۔ اور میرے غضب سے بچو۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل کام نہیں لیتے ؟صبر اور نماز سے مدد لو، بے شک نماز ایک مشکل سخت کام ہے۔ مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ (آیات ٤٠ تا ٤٦)

 

جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیر ا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں ¬‎تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نواز دے۔

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَہْدِي أُوفِ بِعَہْدِكُمْ”اے بنی اسرائیل !ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا، اسے پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں۔ ”

یہاں جس عہد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ کون سا عہد ہے ؟کیا اس سے “عہد اول”مراد ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان طے پایا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایافَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي ہُدًى فَمَنْ تَبِعَ ہُدَايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلا ہُمْ يَحْزَنُونَ (٣٨) وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِيہَا خَالِدُونَ”پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا اور جواس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ” یا یہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ کئے ہوئے، اس عہد الٰہی سے بھی پہلے کا وہ تکوینی عہد ہے، جو اللہ تعالیٰ اور فطرت انسانی کے درمیان تکمیل پایا، جس میں فطرت کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک کی پیروی کرے۔ یہ فطری معاہدہ تو ایساہے جو بیان اور برہان کا محتاج نہیں کیونکہ انسانی فطرت اپنی حقیقت اور لدنی میلانات کی بنا پر ہی خود بخود معرفت کردگار کی طرف متوجہ ہوا کرتی ہے۔ صرف گمراہی اور فسادفطرت کی ہی کی وجہ سے انسان معرفت الٰہی سے غافل ہو جاتا ہے۔ یا یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم، بنی اسرائیل کے جد اعلیٰ کے ساتھ کیا اور جس کا ذکر اسی سورت میں عنقریب ہو گا۔ وَاِذبتَلٰیَ اِبرَاھِیمَ رَبَّہُ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنً ذُرِّیَتِی قَالَ لَا یَنَالُ عَھدِی الظَّالِمِینَ “یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا”میں تجھے سب لوگوں کو پیشوا بنانے والا ہوں۔ “ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا “اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔ “اس نے جواب دیا”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔ “(۲۔ ۱۲۴)یہ بنی اسرائیل کا وہ مخصوص عہد ہے جو اللہ نے ان کے ساتھ اس وقت طے کیا، جبکہ کوہ طور ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جو ہدایات انہیں دیجا رہی ہیں، وہ سختی سے ان پر عمل کریں اور جس کا ذکر بنی اسرائیل پر اس طویل تنقید کے ضمن ہی میں (۲۔ ۹۳)آ رہا ہے۔

یہ تمام عہد اہل بیت کے لحاظ سے ایک ہی ہیں۔ ان سے مدعا یہ ہے کہ اللہ کے بندے دل و جان سے اس کی طرف متوجہ ہوں، اپنی پوری زندگی کو اس کے حوالے کر دیں اللہ کا دین ایک ہی ہے اور تمام انبیاء جو پیغام لے کر آئے، وہ ایک ہی ہے یعنی دین اسلام اور آغاز کائنات سے لے کر آج تک قافلۂ ایمان، اسی دین کو شعار بنا کر چلتا رہا۔

غرض اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہیں کہ ان معاہدوں کی پابندی کرتے ہوئے وہ اس سے ڈریں اور اپنے اندر صرف اسی کی خشیت پیدا کریں۔ وَإِيَّايَ فَارْہَبُونِ”اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ ”

بنی اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان معاہدوں کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وہ اللہ کے نازل کردہ کلام پر ایمان لائیں، جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہیں، وہ اس کلام کا انکار کرنے اور کفر کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں، کیونکہ ان کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے۔

وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِہِ”اور میں جو کتاب بھیجی ہے، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اسی کتاب کی تائید میں ہے، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ ”

اسلام، جسے اب حضرت محمدﷺ اپنی آخری صورت میں لے کر آئے ہیں، وہ وہی لازوال دین ہے جو ہمیشہ اللہ کی جانب سے آتا رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ مسلسل پیغام ہے اور آغاز انسانیت سے یہ اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ اس سے پہلے بھی اس نے پوری انسانیت کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا اور آئندہ بھی وہ انسانیت کا ہادی و رہبر ہو گا۔ یہ دین عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کو باہم ملاتا ہے۔ اور مستقبل کی انسایت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جو خیر اور بھلائی مطلوب تھی، اس کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ دین اب پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور انہیں باہم متعارف بھائی بھائی قرار دیتا ہے۔ وہ انسانیت کو مختلف گروہوں، جماعتوں، نسلوں اور اقوام کی صورت میں تقسیم نہیں کرتا، بلکہ وہ ان سب کو اللہ کے ایک ایسے بندوں کی صورت میں منظّم کرتا ہے جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جو فجر انسانیت سے آج تک ناقابل تغیر ہے۔

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اس بات سے رو کتے ہیں کہ وہ اس کتاب کا انکار محض دنیاوی مفادات کی خاطر نہ کریں جبکہ وہ ان تمام کتابوں کی تصدیق بھی کرتی ہے، جو تمہارے پاس ہیں۔ وہ زندگی کی تمام مصلحتوں اور ذاتی اغراض کی خاطر، اس سچائی کو رد نہ کریں، بالخصوص احبار اور مذہبی راہنما جو محض اسلام قبول کرنے سے ہچکچاتے تھے کہ انہیں معاشرے میں سیادت و قیادت کا جو مقام حاصل تھا، وہ چلا نہ جائے اور جو مالی مفادات وہ حاصل کر رہے تھے، وہ بند نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں۔ ایسے برے اور گھٹیا خیالات دل میں نہ لائیں وَلا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔ ”

دام و درہم، مال و دولت اور دنیاوی مفادات کی بندگی یہود کا قدیم وصف ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہاں مالی مفادات سے یہودیوں کے مذہبی رہنماؤں کے وہ مفادات مراد ہوں جو وہ دینی خدمات، جھوٹے فتووں اور رؤسائے یہود کو شرعی سزاؤں سے بچانے کی خاطر، آیات الٰہی میں تحریف کرنے کے عوض حاصل کرتے تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر اس کی تفصیلات آئی ہیں۔ ان تمام مفادات کی حفاظت کرنے کے لئے یہ لوگ اپنی قوم کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے، کیونکہ اس صورت میں اس بات کا خطرہ تھا کہ ان کے ہاتھ سے قیادت اور سرداری چلی جائے گی۔ نیز جیسا کہ بعض صحابہ اور تابعین نے اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں تصریح کی ہے، یہ دنیا پوری کی پوری ثمن قلیل ہے۔ کیونکہ آیات الٰہی پر ایمان لے آنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن اہل ایمان کو جو بہتر انجام ہونے والا ہے، اس کے مقابلے میں اس پوری دنیا کی بلکہ اس پوری کائنات کی حقیقت ہی کیا ہے۔

اگلے فقرے میں انہیں ان کی دوسری بری خصلت س ے روکا جاتا ہے، ان کی عادت تھی کہ وہ باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے تھے اور سچائی کو چھپاتے تھے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اسلامی معاشرے کے اندر فکری انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا ایک طوفان کھڑا ہو جائے۔ وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ”باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ “یہودیوں نے ہر موقع اور ہر مناسبت میں سے حق کو چھپایا، اس میں باطل کی رنگ آمیزی کی اور جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے انسانیت کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کی۔ اس لئے قرآن کریم نے بار بار ان کی اس صفت اور عادت کی تفاصیل کو بیان کیا۔ وہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی جماعت میں ہمیشہ فتنے اور اضطرابات پیدا کرتے رہتے تھے۔ خلجان اور انتشار پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ چنانچہ ان کے اس کردار کی کئی مثالیں اسی سورت میں آگے بیان کی گئی ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ بدبختو قافلۂ ایمان جا رہا ہے، ا س میں شامل ہو جاؤ، جماعت کا ساتھ دو، ورنہ مٹ جاؤ گے، مذموم تعصبات کو چھوڑ دو اور اس انفرادیت کو ترک کر کے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی عبادات اور فرائض ادا کرو۔ اس لئے کہ علیحدگی پسندی زمانہ قدیم سے یہودیوں کی عادت مستمر چلی آ رہی ہے۔ وَأَقِيمُوا الصَّلاۃَ وَآتُوا الزَّكَاۃَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

“نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔ “اس کے بعد یہودیوں کو عموماً اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو خصوصاً اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مشرکین اہل عرب میں اپنے آپ کو ایمان کا داعی کہتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے ہیں بھی، اس لئے کہ وہ مشرکین کے مقابلے میں اہل توحید ہیں، لیکن اس کے باوجود، خود اپنی قوم کو، اللہ کے اس دین پر ایمان لانے سے روکتے ہو، جو تمام سابق ادیان کی تصدیق کرتا ہے۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا تَعْقِلُونَ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ “اگرچہ ابتداء میں یہ آیت اس وقت بنی اسرائیل کے اندر موجود کمزوریوں کی عکاسی کر رہی ہے، تاہم یہ نفس انسانی اور بالخصوص ہر مذہب و ملت کے دینی پیشواؤں کے لئے سرمہ بصیرت ہے۔ کسی قوم اور ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ نہ کسی خاص فعل اور زمانے تک محدود ہے۔

جب کوئی دین ایک زندہ اور موجزن نظریۂ حیات کے بجائے محض ایک پیشہ اور کاروبار بن جاتا ہے تو دین کے پیشواؤں کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے جو کچھ کہتے ہیں، وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا!وہ بھلائی کا وعظ کرتے ہیں اور خود کار دیگر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بر اور تقویٰ کی دعوت دیتے ہیں، لیکن بر و تقویٰ جس چیز کا نام ہے، وہ خود انہیں چھوکر بھی نہیں گزری ہوتی۔ وہ سیدھی بات کو غلط معنی پہنا کر بتنگڑ بناتے ہیں، نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے قطعی نصوص میں تاویلات کرتے ہیں۔ وہ ایسی ایسی حسین تاویلات اور ایسے ایسے مدلل فتوے میدان میں لا ڈالتے ہیں جو بظاہر آیات و نصوص کے ظاہر مفہوم سے بالکل موافق ہوتے ہیں لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کی حقیقت اور اصلیت سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ یہ لوگ اپنے مفادات اور دلی خواہشات کے لئے کرتے ہیں اور ان لوگوں کی خاطر جو یا تو مالدار ہوتے ہیں یا اہل اقتدار۔ یہودیوں کے مذہبی پیشوا یہی کام کرتے تھے۔

لوگوں کو بھلائی کی طرف دعوت دینا، اور پھر اپنی عملی زندگی میں خود، اس کے خلاف چلنا، ایک ایسا مرض ہے اور ایک ایسی وبا ہے جو نہ صرف یہ کہ خود داعیوں کے دلوں میں شبہات و شکوک پیدا کر دیتی ہے، بلکہ دعوت بھی اس سے مشکوک ہو جاتی ہے۔ قول و فعل کے اس تضاد کی وجہ سے لوگوں کے دلوں اور ان کے افکار میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ لوگ کانوں سے تو بہترین بات سنتے ہیں لیکن آنکھوں سے قبیح ترین افعال دیکھتے ہیں۔ قول و فعل کا یہ تضاد دیکھ کر وہ بے چارے حیران رہ جاتے ہیں۔ ان کے ایمان نے یہ دعوت و وعظ سن کر جو دیا ان کی روحانی دنیا میں روشن کیا تھا، وہ بجھ جاتا ہے، دلوں سے ایمان کی روشنی ختم ہو جاتی ہے اور جب انہیں مذہبی پیشواؤں میں سے کوئی عقیدت نہیں رہتی، تو اس کے نتیجہ میں پھر خود دین سے ان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔

داعی بے عمل کی بات بے جان ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی چنگاری ہوتی ہے جو دوسروں تک پہنچتے پہنچتے بجھ جاتی ہے۔ ایسے داعیوں کی بات بے اثر ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بات مقفیٰ ومسجع، چکنی چپڑی اور جوش و خروش سے پر ہو، کیونکہ یہ بات ایسے دل سے نکلی ہی نہیں جو اس پر یقین رکھتا ہو۔ اثر تو اسی بات میں ہوتا ہے جو دل سے نکلتی ہے۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ ایک داعی اپنی بات کا صحیح مومن اسیوقت ہوسکتا ہے، جب وہ اپنے کردار کے اعتبار سے اس بات کی تفسیر اور ترجمہ ہو، جو دعوت وہ دے رہا ہے، وہ خود اس کی زندگی کی صورت میں عملاً مجسم ہو۔ جب کوئی انسان اس معیار تک پہنچ جاتا ہے، تو پھر لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس پر یقین کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کی باتیں چکنی چپڑی نہ ہوں اور اس کی تقریر، دھواں دھار نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس بات کے اندر اس کی چرب لسانی سے نہیں بلکہ اس کی واقعیت اور حقیقت پسندی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت کلام کی صداقت ہی اس کا حسن ہوتا ہے۔ چرب لسانی سے زور کلام پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود قول و فعل میں تطابق، ایمان و عمل کے درمیان ہم آہنگی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ کوئی آسان طریقہ نہیں ہے جسے بسہولت اختیار کر لیا جائے۔ اسے حاصل کرنے کے لئے سخت ریاضت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے تعلق باللہ، اللہ کی اعانت و توفیق اور اس کی ہدایت سے مدد لینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ عملی زندگی کے مختلف احوال، اس کی ضرورت اور ا س کی مجبوریاں، انسان کو اپنے دلی معتقدات سے یا ان باتوں سے جن کی طرف اسے دوسرے لوگ بلا رہے ہوتے ہیں، دور پھینک دیتی ہیں یہ انسان، خواہ کسی عظیم قوت کا مالک کیوں نہ ہو، جب تک مالک الملک اور قادر مطلق ہستی کا دامن نہیں تھامے گا، کمزور اور ناتواں ہی رہے گا، کیونکہ شر، فساد اور انسان کے لئے گمراہ کن شیطانی قوتیں ہر طرف جال بچھائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ انسان بسا اوقات اور بار بار ان پر غالب آسکتا ہے۔ لیکن جوں ہی کسی لمحہ وہ کمزوری دکھاتا ہے، تو گر جاتا ہے، ذلیل ہو جاتا ہے، اپنے ماضی، حال اور مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ لیکن جب انسان کا اعتماد اس ازلی اور ابدی طاقت پر ہوتا ہے، تو پھر اس کی قوت کے کیا کہنے، وہ ہر چیز پر غالب آ جاتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں اور اپنی خواہشات نفس تک کو مغلوب کر لیتا ہے۔ وہ اپنی ضروریات اور اپنی مجبوریوں پر بھی غالب آ جاتا ہے۔ وہ ان تمام قوتوں پر غالب آ جاتا ہے جو اس کا سامنا کرتی ہیں۔

اس لئے قرآن کریم یہاں پہلے تو یہود کو اس طرف متوجہ کرتا ہے، کیونکہ روئے سخن ان کی طرف ہے اور پھر ان کے بعد پوری دنیا کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اس مشکل کام اور کٹھن معرکے کو سرکرنے کے لئے صبر و ثبات اور نماز و نیاز سے مدد حاصل کریں۔ یہودیوں ب سے مطلوب یہ تھا کہ مذہبی خدمات، یا پوری دنیا کا مال و متاع جو انہیں حاصل تھا، اسے متاع قلیل سمجھیں اور اس کے مقابلے میں حق کو ترجیح دیں۔ کیونکہ مدینہ میں اپنی مذہبی حیثیت اور مذہبی معلومات کی وجہ سے ے وہ اس سچائی و صداقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لئے ان کا فرض ہے کہ جلد قافلۂ ایمان کے ہمرکاب ہو جائیں کیونکہ وہ پہلے سے لوگوں کو ایمان کی طرف بلا رہے ہیں۔ چونکہ یہودیوں کی طرف سے کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لئے قوت و شجاعت کی ایک بڑی مقدار کی ضرورت تھی، اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ صبر و ثبات اور نیاز و نماز سے مدد لیں۔

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاۃِ وَإِنَّہَا لَكَبِيرَۃٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (٤٥)الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّہُمْ مُلاقُو رَبِّہِمْ وَأَنَّہُمْ إِلَيْہِ رَاجِعُونَ

بے شک نماز اور صبر سے مدد لو، بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ”

میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں، بڑا مشکل اور جاں گسل کام ہے، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر و ثبات سے مدد لینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اتر آئے، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب و کمائی پر لات مار دے اور سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہو جائے۔

سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مدد لے ؟

نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے، جو دنیا کے تمام مال و متاع سے زیادہ قیمتی ہے۔ نبیﷺ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے، حالانکہ آپﷺ کا حال یہ تھا اپنے رب سے، آپﷺ ہر وقت جڑے رہتے تھے، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے، جسے زاد راہ کی طلب ہو، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہو گئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔

اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے )اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہو جاتا ہے۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہو جاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا، متاع قلیل اور ایک حقیر چیز نظر آتی ہے۔ تب جا کر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔

جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غور و فکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کودی گئی تھیں، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں۔

چنانچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں۔

 

“اے بنی اسرائیل یاد کرو میری اس نعمت کو جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی، اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہو گی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی۔ ” (۴۷، ۴۸ )

 

بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیر لیا، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہو گئے۔

انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ان پر یہ فضل وکرم تھے اور وہ دنیا کی افضل ترین قوم تھے۔ یہ بات انہیں بطور ترغیب سنائیجا رہی ہے کہ اب پھر ان کے لئے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے مواقع ہیں۔ یوں کہ وہ اس نئے قافلۂ ایمان میں شامل ہو جائیں۔ دعوت اسلامی کا ساتھ دیں۔ اللہ کے عہد میں دوبارہ داخل ہو جائیں اور اللہ نے ان کے آباء اجداد کو جو فضیلت دی تھی اس کا شکر وہ بھی ادا کریں اور اب مومنین کو جو مقام عنایت ہو رہا ہے، اس میں وہ بھی شریک ہو جائیں۔

لیکن اس ترغیب کے ساتھ ساتھ فضل و کرم اور نعمت عمیمہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ آنے والے دن کی ترہیب و تخویف بھی آتی ہے جس میں لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا”کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا۔ ”

کیونکہ قیامت کے دن ہر شخص فرداً اپنے اعمال کا صلہ پائے گا۔ وہاں حساب انفرادی طور پر ہو گا، ہر کوئی صرف اپنے کئے کا جوابدہ ہو گا، کوئی شخص کسی کے کام نہ آسکے گا۔ یاد رہے کہ شخصی مسؤلیت، دنیا و آخرت میں اسلام کا ایک زریں اور عظیم اصول ہے، شخصی مسؤلیت کا یہ اصول، انسان کے آزاد ارادہ اور اختیار تمیزی پر قائم ہے۔ اور اس کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے عالمگیر عدل و انصاف ہو گا۔ یہی وہ اصول ہے، جو انسان کے اندر، اس کی ذی شرف ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے، اور اس سے اس کے دل میں دائمی بیداری کا جذبہ موجزن رہتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے بے حد مفید ہے۔ نیز ان سے ان انسانی قدروں میں اضافہ ہوتا ہے، جن کی بنا پر اسلام نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا ہے۔

وَلا يُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَلا يُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَلا ہُمْ يُنْصَرُونَ”نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہو گی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا۔ “اس دن جو شخص ایمان اور عمل صالح کا توشہ لے کر نہ آئے اس کے حق میں کوئی سفارش نہ ہو گی۔ کفر اور معصیت کی معافی کے لئے کوئی فدیہ نہ لیا جائے گا۔ وَلا ہُمْ يُنْصَرُونَ”اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی۔ “اس دن عذاب الٰہی سے انہیں نجات دینے کے لئے کوئی ناصر و یاور نہ ہو گا۔ کوئی نہ ہو گا کو انہیں اس کے عذاب سے نجات دلا سکے۔ اس آخری فقرے میں لفظ جمع سے سب کو یکجا بیان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ تمام لوگ جو ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے، اور جن کی سفارش ایک دوسرے کے بارے میں قبول نہ ہو گی، اور ایک دوسرے کے بارے میں ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا، ابتدائے آیت میں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا، لیکن آخر میں کلام کا اسلوب خطاب سے غائبین کی طرف چلا گیا، تاکہ یہ اصول عام ہو جائے اور وہ لوگ جن سے خطاب کیا جا رہا ہے وہ اور دوسرے سب لوگ اس میں شامل ہو جائیں۔

اس کے بعد قرآن کریم ایک ایک کر کے اللہ کے ان انعامات کا تذکرہ کرتا ہے جو ان پر ہوتے رہے ہیں اور یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ان انعامات کے مقابلے میں کیا طرز عمل اختیار کیا ؟کس طرح انہوں نے انکار کیا، کفر کیا اور راہ راست سے ہٹ گئے ؟فرعون کی غلامی اور اس کے دردناک مظالم سے انہیں نجات دینا ان احسانات میں سے چونکہ عظیم ترین احسان تھا، اس لئے یہاں سب سے پہلے اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

 

“یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی۔ انہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ ” (٤٩، ٥٠)

 

یہاں اس کربناک صورتحال کو ان کے پردہ ذہن پر دوبارہ اجاگر کیا جا رہا ہے، جس میں ان کے آباء و اجداد فرعون کے زمانے میں مبتلا تھے۔ کیونکہ یہ لوگ ان بنی اسرائیل کی اولاد تھے جو اس عذاب میں مبتلا ہوئے۔ تعذیب اور مظالم کی تصویر کشی کے بعد، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ منظر بھی پیش فرماتے ہیں، جس سے انہیں نجات دی گئی۔ انہیں کہا جاتا ہے ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی، جو تمہیں مسلسل عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے۔ يَسُومُونَ کے معنی ہیں “ہمیشہ تمہیں عذاب میں رکھتے تھے۔ “یہ لفاظ سام الماشیتہ “اس نے مویشیوں کو ہمیشہ چرنے والا (سائمہ)بنایا۔ “گویا فرعونیوں نے ان مظالم کو بنی اسرائیل کے لئے ایک قسم کی غذا بنا دیا تھا، جو انہیں مسلسل کھلائی جاتی تھی۔ اس کے بعد اس عذاب کی ایک خاص قسم کا ذکر کیا جا رہا ہے یعنی وہ مردوں کو ذبح کرتے تھے۔ اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کم ہو۔

اس سے پہلے کہ بنی اسرائیل کی نجات کے واقعے کی تفصیلات پیش ہوں انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے لئے ابتلا عظیم تھی۔ تاکہ ان کے احساس و شعور بلکہ ہر مسلمان کے احساس و شعور میں جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو، یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کے بندوں پر مصائب کا آنا دراصل ان کے لئے ابتلا و امتحان ہوتا ہے۔ انہیں آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ جو شخص ابتلا کی اس حقیقت کو سمجھتا ہے وہ سختی اور مصیبت سے فائدہ حاصل کرتا ہے، وہ اپنے اس شعور کی وجہ سے مصائب و شدائد سے کچھ حاصل ہی کر لیتا ہے۔ رنج والم میں مبتلا شخص اگر یہ جانتا ہے کہ اس کا امتحان لیا جا رہا ہے اور اس کے بعد ا س سختی سے، اسے کوئی فائدہ ہی پہنچنے والا ہے تو یہ رنج و الم اس کے لئے بے فائدہ نہیں ہوتے۔ جب آدمی اس تصور کے ساتھ مصیبت کی زندگی گزار رہا ہو تو اس کی مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ بالخصوص جبکہ ان دردناک تجربات کے دوران حاصل ہونے والے ثبات اور علم و معرفت کو پیش نظر رکھا جا رہا ہو۔

نیز جبکہ یہ احساس بھی ہو کہ اللہ کے ہاں اس مصیبت کا اجر محفوظ ہے اور اللہ کے سامنے سلسلہ عجز و نیاز بھی جاری ہو اور اس کی جانب سے نجات کی پوری امید بھی ہو اور اس کی رحمت و شفقت سے کسی قسم کی مایوسی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت بنی اسرائیل کے ذکر کے ساتھ ہی یہ فرما دیا

وَفِي ذَلِكُمْ بَلاء ٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ “اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ ”

اس کے بعد بنی اسرائیل کے قصۂ نجات کی تمہید شروع ہوتی ہے۔

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ”یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لئے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں گزار دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔ “اس نجات کی تفصیلات سورۂ بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بالتفصیل آ چکی تھی۔ یہاں ان لوگوں ب کو جو تفصیلات سے واقف تھے، محض یاددہانی کے طور پر بتایا جا رہا ہے۔ مخاطب اس قصے کی تفصیلات کو جانتے تھے، قرآن کریم سے یا اپنے محفوظ قصوں یا مذہبی کتابوں کی وساطت سے، یہاں ان کے سامنے دوبارہ اس نجات کی تصویر کشی کی جا رہی ہے تاکہ وہ اسے پردہ خیال پر لا کر اس سے متاثر ہوں۔ انداز بیان تو دیکھئے کہ گویا خود مخاطب دیکھ رہے ہیں کہ دریا پھٹ رہا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں دریا کو پار کر رہے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان، یعنی منظر کشی کے ذریعے مخاطب کو تاثر دینا، وہ خاص معجزانہ اسلوب بیان ہے جو قرآن کے لئے مخصوص ہے۔ اب گفتگو کا سلسلہ خروج بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ بنی اسرائیل مصر کی غلامی سے نجات پا چکے ہیں۔

 

“یاد کرو، جب موسیٰ کو ہم نے چالیس شبانہ روز کی قرار داد پر بلایا، تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے۔ اس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی، مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کیا کہ شاید اب تم شکرگزار بنو۔

یاد کرو کہ (ٹھیک اس وقت جب تم یہ ظلم کر رہے تھے )ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سیدھا راستہ پا سکو۔

یاد کرو، جب موسیٰ (یہ نعمت لئے ہوئے پلٹا تو اس )نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو!تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔ اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ” (۵۱ تا ۵۴)

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا، اور اس کی پوجا کرنا، جبکہ موسیٰ علیہ السلام چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے، سورۂ بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جا رہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ”اور تم ظالم تھے۔ “اس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا، جو اللہ کی بندگی ترک کر کے اپنے پیغمبر کی وصیت کو بھلا کر، ایک بچھڑے جیسے جسم کی پوجا شروع کر دے، حالانکہ اللہ ہی تھا، جس نے اسے ان لوگوں کی غلامی سے نجات دی جو گائے کے بچھڑے کو مقدس سمجھتے تھے۔

لیکن اس کے باوجود اللہ انہیں معاف کر دیتے ہیں۔ ان کے نبی کو کتاب ہدایت، تورات دیتے ہیں جس میں جو کچھ لکھا تھا وہ حق و باطل کے درمیان فرقان تھا، اس امید پر کہ شاید یہ لوگ گمراہی چھوڑ کر واضح حق کو قبول کر لیں۔

لیکن پھر بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ سنگدلی سے ان کی تطہیر کی جائے، کیونکہ ان کی بگڑی ہوئی فطرت کو صرف ننگی تلوار اور سخت ترین عذاب کے ذریعے ہی سیدھا کیا جا سکتا تھا۔ ان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ ان کے سزا بھی سخت ہو اور انوکھی بھی۔ چنانچہ حکم ہوا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِہِ يَا قَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ “یادکرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ لوگو!تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپرسخت ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔ “اپنے آپ کو قتل کرو تاکہ اسے بھی پاک کر دے اور خود اپنے آپ کو بھی پاک کر دے۔ تم میں سے فرمانبردار محترم قتل کرے۔ اس سخت عذاب اور شدید کفارہ کے بارے میں روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ بے شک یہ ایک جانگسل اور روح فرسا ذمہ داری تھی کہ بھائی بھائی کو قتل کرے۔ گویا وہ اپنے آپ کو قتل کرے۔ لیکن اس کے بگڑے ہوئے مزاج اور بزدلانہ طبیعت کی تربیت کے لئے یہ ضروری تھا، کیونکہ ان کا مزاج ہر شر پر مائل تھا، اور کسی ناپسندیدہ فعل کے کر گزرنے سے وہ نہ چوکتے تھے۔ اگر وہ ناپسندیدہ امور سے رکنے کی صلاحیت رکھتے تو نبی کے غیر حاضر ہوتے ہی وہ بچھڑے کی پوجا پر نہ پل پڑتے۔ ان کا علاج یہ تھا۔ کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے۔ ان کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ اس قسم کا بھاری بھرکم تاوان ادا کریں تاکہ انہیں کچھ نفع ہو، اور بگڑے ہوئے مزاج کی تربیت ہو۔

لیکن اس سزا کے بعد پھر اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ “اس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے وہ موٹا دماغ رکھنے والے دنیا پرست اور عالم غیب اور آخرت کی نظروں سے اوجھل اور مستور تھا۔ اس لئے انہیں صرف یہی سوجھتا کہ روئیت الٰہی کا مطالبہ کر دیں اور جنہوں نے یہ مطالبہ کیا وہ کوئی عام لوگ نہ تھے، بلکہ ان میں ستر مختار اور برگزیدہ لوگ تھے جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے ملاقات کے موقع پر پوری قوم سے چنا تھا اور ساتھ لے گئے تھے۔ جس کی پوری تفصیل، اس سے پہلے کی مکی آیات میں بیان ہو چکی ہے۔ غرض بنی اسرائیل نے علانیہ اللہ کو دیکھنے سے پہلے، ایمان لانے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ قرآن کریم یہاں بنی اسرائیل کے آباء و اجداد کی گستاخی کو نقل کر کے یہ بتانا چاہتا ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ قوم ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا چلی آ رہی ہے اور ان کی یہ قدیم ہٹ دھرمی اس ہٹ دھرمی کے بالکل مشابہ ہے جواس وقت یہ لوگ نبی آخر الزمانﷺ کے مقابلے میں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ خود بھی، اپنے آباء و اجداد کی طرح معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور سادہ دل مومنین کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی سعی کر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کی سچائی کو آزمانے کے لئے معجزات کا مطالبہ کریں۔

٭٭٭

 

“یاد کرو، جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتا)نہ دیکھ لیں، اس وقت تک تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقہ نے تم کو آ لیا۔ تم بے جان ہو کر گر چکے تھے۔ مگر پھر ہم نے تم کو جلا اٹھایا، شاید کہ تم احسان کے بعد شکرگزار بن جاؤ۔ ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا۔ من وسلویٰ کی غذا تمہارے لئے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، انہیں کھاؤ مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا، وہ ہم پر ظلم نہ تھا بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا” ( ٥٥ تا ٥٧)

 

اللہ کی بے شمار نشانیاں، اس کی نعمتیں بار بار کی عفو اور درگزر، ان سب چیزوں کا ان کی اس مادی فطرت اور مادہ پرست طبیعت کے سامنے بالکل بے اثر تھیں۔ ان سب نعمتوں کے باوجود یہ لوگ سخت جھگڑالو اور فریب کار تھے، اور کسی سخت عذاب اور انتقام کے بغیر، قبول حق کے لئے ہرگز تیار نہ تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون کی غلامی اور اس کے ظالمانہ نظام نے ان بیچاروں کی فطرت ہی کو بری طرح مسخ کر ڈالا تھا۔ یاد رہے کہ جب کوئی ظالمانہ اور جابرانہ نظام ایک طویل عرصے تک کسی قوم پر مسلط رہے گا تو وہ قوم اس کی فطرت سلیمہ کو بالکل مسخ کر دیتا ہے اور اس سے تمام انسانی فضائل اور اچھی عادات ایک ایک کر کے ختم ہو جاتی ہیں۔ غلامی سے انسانیت کے بنیادی فضائل اور اساسی عناصر ضائع ہو جاتے ہیں اور اقوام کے اندر غلاموں کی معروف اور گھٹیا صفات اور عادات پیدا ہو جاتی ہیں، ایسے لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ جب ان کے سروں پر ڈنڈا مسلط ہو، تو وہ رام ہو جاتے ہیں اور جونہی آزاد ہوتے اور آزادی کے سائے میں قوت اور آسائش پاتے تو آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ جنوں کی سی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یہی حالت تھی بنی اسرائیل کی جو آج تک اس پر قائم ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے کفریہ کلمات کہتے ہیں اور ذلت و گمراہی کے گہرے گڑھے میں جا پڑتے ہیں۔

وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّہَ جَہْرَۃً “یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے )نہ دیکھ لیں۔ ”

یہی وجہ ہے کہ ابھی وہ پہاڑ پر ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں، ان کے اس کافرانہ رویے کے بدلے یہ سزا دی۔ فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَۃُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ”اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے، ایک زبردست صاعقہ نے تم کو آ لیا۔ ”

چنانچہ اس کے بعد دوبارہ ان کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔ انہیں دوبارہ زندگی کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور رب العزت کا شکر ادا کریں۔

یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وہ نعمت یاد دلاتے ہیں ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ “مگر پھر ہم نے تم کو جلا اٹھایا، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ۔ ”

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں وہ مراعات اور احسانات یاد دلاتے ہیں، جو اس نے ان پر سینائی کے چٹیل میدان میں کئے، ان کو کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک دی گئی۔ جس کے لئے انہیں کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی تھی، بے کد و کاوش وہ انہیں مل جاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور تدبیر خاص سے انہیں صحرا کی تپش اور سورج کی جھلسادینے والی گرمی سے بچایا۔

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُونَ “ہم نے تم پر ابر کاسایہ کیا، من سلویٰ کی غذا تمہارے لئے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، انہیں کھاؤ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا، انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ ”

روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر قائم رکھا تاکہ وہ گرمی سے محفوظ رہیں۔ صحرا کا موسم ایسا ہوتا ہے کہ اگر بادل اور بارش نہ ہو تو وہ ایک کھولتی ہوئی جہنم کے مانند ہوتا ہے۔ اس سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر صحرا میں بارش ہو جائے اور مطلع ابرآلود ہو تو اس کا موسم تر و تازہ اور نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جس میں جسم و روح دونوں فرحت محسوس کرتے ہیں۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے من کا انتظام فرمایا، جو درختوں پر ہوتا تھا اور شہد کی طرح میٹھا ہوتا تھا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کی خوراک کے لئے سلویٰ پرندے کی وافر مقدار پیدا کر دی اور ان کے گھروں کے قریب بڑی مقدار میں پائے جاتے تھے۔ ان دو چیزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے ایسے لذیذ کھانے کا بندوبست کیا جس کی نظیر دنیا نہ تھی۔ رہائش کے لئے مقام کو خوشگوار بنایا اور ان پاکیزہ چیزوں کو ان کے حلال کیا۔ لیکن اب ذرا اس قوم کی روش تو دیکھئے !کیا اب بھی وہ شکر گزار بنتی ہے یا نہیں ؟ہدایت پاتی ہے یا نہیں ؟آیت کا آخری حصہ صاف صاف نشان دہی کر رہا ہے کہ انہوں نے ان تمام نعمتوں کا انکار کیا اور ظلم کا ارتکاب کیا لیکن یہ ظلم خود اپنے اوپر تھا۔

وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُونَ “تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا، انہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ ”

اس کے بعد بنی اسرائیل کے انحراف، انکار حق اور معصیت پر مسلسل اصرار کی یہ طویل داستان اور آگے بڑھتی ہے۔

“اور پھر یاد کرو، جب ہم نے کہا تھا کہ یہ بستی جو تمہارے سامنے ہے، اس میں داخل ہو جاؤ، اس کی پیداوار سج طرح چاہو، مزے سے کھاؤ، مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے داخل ہونا اور کہتے جانا حطۃ حطۃ ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر کریں گے اور نیکوکاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔ مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اسے بدل کر کچھ کر دیا۔ آخرکار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کر رہے تھے۔ ( ٥٨، ٥٩)

 

بعض روایات میں اس کی تصریح آتی ہے کہ اس گاؤں سے مراد بیت المقدس ہے۔ مصر سے خروج کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اس شہر میں داخل ہو جائیں۔ اس وقت اس میں عمالقہ آباد تھے۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ وہ ان لوگوں کو نکال دیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس سے انکار کر دیا اور کہا تھا “اے موسیٰ !اس شہر میں ایک جبار قوم آباد ہے۔ ہم تو اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے۔ اگر وہ نکل جاتے ہیں توہم داخل ہوں گے۔ “نیزاسی شہر کے بارے میں انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا”اے موسیٰ علیہ السلام ہم ہرگز اس شہر میں داخل نہ ہوں گے، جب تک کہ یہ لوگ اس شہر میں موجود ہیں، جائیں آپ اور آپ کا رب لڑیں ان سے، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ “چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی یہ سزا دی کہ وہ چالیس سال تک بھٹکتے پھرے۔ ان کی موجودہ نسل سب مر گئی، ایک جدید نسل تیار ہو گئی اور اس نے حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں اس شہر کو فتح کیا اور یہ لوگ شہر میں داخل ہوئے۔ لیکن اس طویل سز اکے بعد بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ خشوع و خضوع اور تواضع سے جھک کر شہر میں داخل ہوں اور حطۃ حطۃ پکاریں، انہوں نے ویسا نہ کیا۔ شہر میں داخلے کی جو صورت اللہ تعالیٰ نے تجویز کی تھی اس کے مطابق داخل نہ ہوئے، نیز وہ لفظ بھی ادانہ کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔

یہاں اللہ تعالیٰ، ان کی اس تاریخی نافرمانی کو نقل کر کے ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ نیز تاریخی لحاظ سے یہ واقعہ پیش بھی، موضوع زیرِ بحث میں یعنی خروج بنی اسرائیل کے متصلاً بعد آیا تھا۔ اس لئے یہاں اس کا بھی ذکر ہوا۔ قرآن کریم کا یہ انداز بتا رہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کو ایک اکائی تصور کرتا ہے جس کا آغاز، وسط اور انتہا بالکل یکساں ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی پوری تاریخ میں، مخالف حق، سرکش، نافرمان اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تاریخی طور پر یہ واقعہ جو بھی ہو اس کا کوئی یقینی علم ہمیں نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم ان کے سامنے جو واقعہ پیش کر رہا ہے۔ اس کا انہیں علم ہے۔ وہ اس بات کو جانتے ہیں جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی تھی اور وہ اس خاص شہر میں داخل ہوئے تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ خضوع اور خشوع کی حالت میں، اس شہر میں داخل ہوں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی ان غلطیوں کو معاف کرے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی غلطیوں کو معاف کر دے گا۔ اور نیکی کرنے والوں پر اپنا مزید فضل و کرم کرے گا۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہی کی فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَہُمْ “مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کر دیا”

یہاں اللہ تعالیٰ بالخصوص ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم و نصیحت کو بدل دیا تھا۔ یعنی الَّذِينَ ظَلَمُوا یا تو اس لئے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ نے یہ کام کیا تھا اور یا اس لئے کہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ بنی اسرائیل سب کے سب ظالم ہیں اور ان سب نے اس کریہہ فعل کا ارتکاب کیا۔

فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاء ِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ”آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی، جو وہ کر رہے تھے۔ ”

الرجز کے معنی ہیں عذاب اور فسق کے معنی ہیں حکم کی مخالفت اور دائرہ حق سے خروج۔ اور یہ دونوں صفات بنی اسرائیل کی منجملہ اور صفات کے ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

اللہ تعالیٰ نے، جس طرح صحرا کی تپش میں بنی اسرائیل کے لئے سائے کا انتظام کیا اور بے آب وگیا ہ چٹیل میدان میں ان کے طعام کا بندوبست کیا، اسی طرح ان کے پینے کے لئے پانی کا بھی خاص بندوبست کیا اور بندوبست بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تمام دوسرے معجزات کی طرح معجزانہ انداز میں کیا۔ اس واقعہ کو بھی قرآن کریم یہاں بطور احسان بیان کرتا ہے اور اس کے بعد بتاتا ہے کہ اس احسان اور انعام کا جو اب ان لوگوں نے کس شکل میں دیا۔

 

“اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی تمام قوم کے لئے پانی کی دعا کی، تو ہم نے کہاں فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔ چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کون سی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے۔ اس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو”( ٦٠)

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب فرمایا۔ اور انہوں نے یہ درخواست اپنے رب سے کی اور اس نے قبول فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ و ہ ایک متعین پتھر کو اپنے عصا سے ماریں۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ یہ بارہ چشمے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کی تعداد کے مطابق تھے۔ کیونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پوتوں کے بعد یہ لوگ بارہ قبیلوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ حضرت یعقوب کا نام اسرائیل تھا جس کی طرف یہ لوگ نسبت کرتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پوتے اسباط کے نام سے مشہور ہیں، جن کا ذکر بار بار قرآن کریم میں آیا ہے۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے سربراہ تھے۔ اور قبائلی نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ اور قبائلی نظام میں قبیلے کی نسبت اکثر اوقات مورث اعلیٰ کی طرف کر دی جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَہُمْ “ہر قبیلے نے جان لیا کہ کون سی جگہ ہے اس کے پانی لینے کی۔ ” یعنی وہ چشمہ جو بارہ چشموں سے ان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّہِ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ “اس وقت انہیں ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھر۔ ”

بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ خشک صحرا کی پتھریلی زمین میں تھے۔ آسمان اوپر سے آگ کے شعلے برسا رہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پتھروں سے پانی نکالا۔ آسمان سے من وسلویٰ، شہد و پرندوں کا انتظام فرمایا، لیکن ان کی فاسد اور گری ہوئی ذہنیت اور گری ہوئی فطرت اور عادات نے انہیں اس بلند مقام تک پہنچنے نہ دیا جس کے لئے انہیں مصر سے نکالا گیا تھا۔ اور اس بے آب و گیاہ صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے جس ذلت و خواری سے اس لئے نکالا تھا کہ ارض مقدس دوبارہ ان کے اقتدار میں آ جائے اور وہ اس ذلت اور خواری کی زندگی سے باہر نکل آئیں۔ ظاہر ہے کہ حریت و آزادی اور عزت و آبرو کے حصول کے لئے کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ جو امانت کبریٰ ان کے حوالے کی جا  رہی تھی اس کا کسی قدر شکرانہ بھی لینا مقصود تھا۔ لیکن بنی اسرائیل تو ایسے لوگ تھے جو اس کی کوئی قیمت ادا نہ کرنا چاہتے تھے۔ نہ وہ تکالیف اور آزمائشوں کو انگیز کرسکتے تھے۔ اس لئے وہ اس مقام رفیع کا کوئی شکرانہ دینے کے لئے بھی تیار نہ تھے۔ نہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مصر میں وہ جس طرح کی پر کیف اور پرآسائش زندگی بسر کر رہے تھے اسے چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ وہ اس بلند مرتبے کے لئے اپنے مالوف کھانوں اور پینے کی چیزوں کو بھی ترک نہ کرسکتے تھے اور کسی طرح بھی آمادہ نہ تھے کہ عزت و شرف اور حریت و آزادی کے حصول کے لئے، وہ اپنی زندگی کو کسی قدر نئے سانچے میں ڈھالیں۔ وہ تو وہی کھانے ے چاہتے ہیں جن کے وہ مصر میں عادی تھے۔ اور ساگ، ترکاری، گیہوں اور لہسن وغیرہ کے دلدادہ تھے۔ یہاں مدینہ میں قرآن کریم انہیں ان کے پارسائی کے ان طویل و عریض دعووں کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ ذرا اپنی تاریخ کے اوراق تو الٹیں اور دیکھیں کہ انہوں نے کیا کیا کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔

 

“یاد کرو، جب تم نے کہا تھا “اے موسیٰ !ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لئے زمین کی پیداوار ساگ، ترکاری، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے۔ “توموسیٰ نے کہا “کیا ایک بہتر چیز کی بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیز لینا چاہتے ہو ؟اچھا کسی شہری آبادی میں جا رہو۔ جو کچھ تم مانگتے ہو، وہاں مل جائے گا۔ “آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کا ناحق قتل کرنے لگے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدود شرع سے نکل جاتے تھے۔ ” (   ٦١)

 

حضرت موسیٰ، ان کی طفلانہ درخواست سن کر سخت رنجیدہ ہوئے۔

“کیا ایک بہتر چیز کے بجائے، تم ایک ادنیٰ درجے کی چیز لینا چاہتے ہو ؟”اللہ تعالیٰ تو تمہارے لئے بلند یاں پسند کرتا ہے اور تم ہوکہ گرے جا رہے ہو۔

“اچھا کسی شہری آبادی (یا مصر)میں جا رہو، جو کچھ مانگتے ہو، وہاں مل جائے گا۔ ”

اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ وہ طلب کر رہے ہیں وہ تو بالکل ایک معمولی چیز ہے۔ اس لئے کوئی لمبی چوڑی درخواست دینے اور دعا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کسی شہری آبادی میں چلے جائیں وہاں یہ چیزیں بڑی مقدار میں انہیں مل سکتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ تم دوبارہ لوٹ کر مصر چلے جاؤ، جہاں سے تمہیں نکالا گیا تھا۔ اپنی اس مالوف ذلت آمیز اور گھٹیا درجے کی غلامانہ زندگی کو دوبارہ اختیار کر لو۔ تمہیں کافی مقدار میں ساگ۔ ترکاریاں، گیہوں، اور لہسن پیاز وغیرہ سب دستیاب ہوں گے۔ اور اس بلند نصب العین کو چھوڑ ہی دو جس کے لئے تمہیں چن لیا گیا تھا۔ اگر یہ دوسرا مفہوم لیا جائے تو یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے ایک قسم کی تادیب اور توبیخ ہو گی اور انہیں شرم دلانا مقصود ہو گا۔

اگرچہ بعض مفسرین نے اس دوسرے معنی کو مستبعد سمجھا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے بعد آنے والے نتیجے پر غور کیا جائے تو یہی مفہوم زیادہ مناسب ہے۔ فرمایا جاتا ہے۔

“آخرکار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پرمسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔ ”

ان پر ذلت اور خواری کا ہمیشہ کے لئے مسلط ہونا، اور ان کا اللہ کے غضب میں گھر جانا، تاریخی لحاظ سے اس مرحلے میں واقع نہیں ہوا۔ یہ لوگ ذلیل و خوار زمانہ مابعد میں، اس وقت ہوئے جب کہ وہ بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو گئے اور جس کا ذکر اس آیت کے آخری حصے میں ہوا۔

“یہ نتیجہ تھا، اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ حدود شرع سے نکل جاتے تھے۔ ”

اور ان برائیوں کا صدور، ان سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے کئی نسلیں بعد ہوا۔ لیکن یہاں چونکہ انہوں نے ساگ ترکاریوں، گیہوں اور لہسن پیاز وغیرہ کا طالبہ کر دیا تھا، اس لئے، ان کے مکروہ موقف کی مناسبت سے یہاں ہی بتا دیا کہ منجملہ اور اسباب کے ان کی ذلت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ان چیزوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس لئے مناسب یہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ قول کہ “کسی شہر میں جا کر آباد ہو جاؤ۔ “اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ انہیں مصر کی غلامانہ زندگی یاد دلا رہے ہیں اور انہیں بتلاتے ہیں کہ وہ اس زندگی سے چھٹکارا پانے پر شکر ادا کریں۔ اور ان کی نفسانی ذلیل خواہشات کے پیچھے نہ بھاگیں، جن کے وہ مصر کی ذلیل و خوار زندگی میں خوگر ہو گئے تھے۔

راہ ہدایت کی طرف بلانے والے مصلحین اور پیغمبروں پر، بنی اسرائیل نے جو مظالم ڈھائے اور ان کے ساتھ وہ مسلسل جو وحشیانہ اور سنگدلانہ برتاؤ کرتے رہے، اس کی مثال کسی دوسری قوم کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کئی انبیاء و مصلحین کو ذبح کیا، قتل کیا بلکہ آرے سے چیر ڈالا کیا ہی بدترین اور وحشیانہ فعل ہے جو ان سے صادر ہوا ……..انہوں نے کفر اور حد سے گزر جانے کی بدترین مثالیں پیش کیں۔ ظلم و زیادتی کی وحشیانہ مثالوں میں وہ سب سے بازی لے گئے۔ اور سرکشی اور نافرمانی کا ایک ریکارڈ قائم کر دیا۔ غرض فسق و فجور کے ان سب میدانوں میں انہوں نے وہ وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو انہی کا حصہ تھے اور ہیں۔

لیکن اس کے باوجود، پھر بھی وہ طویل و عریض اور بڑے بڑے دعوے کرتے رہے۔ ان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ تھا کہ صرف وہی ہیں جو ہدایت یافتہ کہلا سکتے ہیں۔ صرف وہی اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں، وہی اللہ کی جانب سے اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔ اللہ کا فضل و کرم ان کے لئے مخصوص ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے۔ قرآن کریم یہاں ان کے دعاوی کی تردید کرتے ہوئے ایک قاعدہ بیان کر دیتا ہے اور یہ قاعدہ قرآن کریم کے تمام قصص کے درمیان بار بار دہرایا جاتا ہے۔ کبھی پہلے اور کبھی ان کے آخر میں۔ یعنی یہ کہ ایمان کی حقیقت ایک ہے۔ صحیح عقیدہ ایک ہی ہے، بشرطیکہ اس عقیدے کے نتیجے میں انسانی اللہ کے سامنے جھک جائے اور ایمان ایسا ہو کہ اس سے عمل صالح کے چشمے پھوٹ رہے ہوں اور یہ کہ اللہ کا فضل و کرم کوئی محدود چیز نہیں ہے نہ کسی نسل سے مخصوص ہے۔ وہ تمام مؤمنین کے لئے ہے۔ تمام لوگ، چاہے جس زمان و مکان سے بھی تعلق رکھتے ہوں، اللہ کے اس ازلی ابدی دین کے مطابق اس کے فضل و کرم کے مستحق رہے ہیں اور رہیں گے اور آخر میں آخری دین(محمدی)اور آخری نبوت کے مطابق مومنین کا انجام یہ ہو گا۔

 

“یقین جانو!کہ نبی عرب کے ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ ” (٦٢)

 

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا…….. یعنی مسلمان

وَالَّذِينَ ہَادُوا………… یعنی وہ جو اللہ کی طرف راہ پا گئے وہ جو “یہودا”کی اولاد ہیں۔

وَالنَّصَارَى…….. …….. یعنی عیسائی

وَالصَّابِئِينَ میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ صابئین سے مراد مشرکین کے وہ لوگ ہیں، جو بعثت سے قبل مشرکین کے موروثی شرکیہ دین سے برگشتہ ہو گئے تھے۔ انہیں بتوں کی پوجا کی معقولیت میں شک لاحق ہو گیا تھا۔ اس لئے انہوں نے خود اپنے غور و فکر سے اپنے لئے خود کوئی عقیدہ تجویز کرنے کی کوشش کی اور اس آزادانہ غور و فکر کے نتیجے میں وہ عقیدۂ توحید پر پہنچ گئے تھے۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ابتدائی دین حنیف پر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے بتوں کی پوجا ترک کر دی تھی، اگرچہ وہ اپنی قوم کو عقیدۂ توحید کی طرف دعوت نہ دیتے تھے۔ ان لوگوں کے بارے میں مشرکین کہتے ہیں تھے کہ یہ لوگ صابی ہو گئے ہیں۔ یعنی اپنے باپ دادا کا دین انہوں نے ترک کر دیا ہے جیسا کہ بعد میں یہی طعنہ مشرکین ان مسلمانوں کو بھی دیا کرتے تھے۔ یہ جو بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ یہ لوگ ستارہ پرست تھے۔ اس کے مقابلے میں یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے۔

آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان گروہوں میں سے جو بھی ایمان لائے، اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی کرے تو وہ اپنے رب کے نزدیک اجر کا مستحق ہو گا۔ اسے کسی قسم کا خوف اور حزن وم لال نہ ہو گا کیونکہ اسلام میں دارومدار نظریہ اور عقیدے پر ہے، کسی قوم اور نسل پر نہیں، لیکن عمل و جزاء کا یہ اصول بعث محمدیﷺ سے پہلے کے ادوار سے متعلق ہے۔ آپ کی بعث کے بعد ظاہر ہے کہ ایمان باللہ کی آخری شکل (اسلام کی صورت میں )متعین ہو گئی ہے۔

اس کے بعد مسلمانوں کو سناتے ہوئے اور یہود مدینہ کو سامنے رکھتے ہوئے بنی اسرائیل کے کچھ کارنامے بیان کئے جاتے ہیں۔

 

“یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پراٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا اور کہا تھا کہ “جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں، اسے مضبوطی سے تھامنا اور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ اسی ذریعے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ تم تقویٰ کی روش پر چلو۔ “مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے۔ اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے۔ ” (٦٣، ٦٤)

 

اس عہد کی تفصیل دوسری سورتوں اور خود اس سورۂ بقرہ میں بھی بعد میں مذکور ہے۔ یہاں مقصد صرف یہ ہے کہ اس منظر کو دوبارہ ان کی نظروں کے سامنے اجاگر کر دیا جائے، اور یہ بتایا جائے کہ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کرنا اور طاقت سے عہد لینا اور ان کو حکم دینا کہ وہ احکام تورات کو پوری قوت کے ساتھ تھام لیں، ان امور کے درمیان ایک نفسیاتی اور تعبیری ہم آہنگی موجود ہے۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے سلسلے میں عزیمت اختیار کریں۔ کیونکہ عقائد و نظریات میں کسی قسم کی نرمی اور مداہنت نہیں برداشت کی جا سکتی۔ نظریات کے باب میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ نہ اس بارے میں غیر سنجیدگی اور نرمی برداشت کی جا سکتی ہے نظریہ و عقیدہ اللہ اور مومنین کے درمیان ایک عہد ہے۔ ایک سنجیدہ اور برحق معاہدہ۔ لہٰذا اس میں باطل اور غیر سنجیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس راہ میں بے حد قربانیاں دینی پڑتی ہیں، کیونکہ عقائد و نظریات کا مزاج ہی یہ ہے۔ عقیدہ ایک عظیم چیز ہے۔ اس کائنات میں اس کی عظمت ہر چیز سے بڑھی ہوئی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ بڑی سنجیدگی سے، اچھی طرح سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہو۔ اور پوری دلجمعی اور عزم صمیم سے نظریہ کی راہ میں آنے والی مشکلات کو انگیز کرے۔ جو شخص بھی کسی عقیدے کو ان معنوں میں اپنائے، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب اس نے آرام وآسائش اور عیش و عشرت کو الوداع کہہ دیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو فریضۂ رسالت کی ادائیگی کے لئے پکارا تو آپ نے فرمایا “خدیجہ !اب آرام اور سونے کا زمانہ ختم ہو گیا۔ “نیز اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو متنبہ فرمایا کہسَنُلقِی عَلَیکَ قَولًا ثَقِیلَا “ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات نازل کریں گے۔ “اور جیسا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا “جو کتاب ہم تمہیں دینے والے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ “اسی ذریعے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

لیکن قوت، سنجیدگی، دلجمعی، اور عزم صمیم کے ساتھ عہد لینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عہد کرنے والے مسلمان اس عہد کی حقیقت کو بھی سمجھیں۔ انہیں اس عہد و پیمان کی نوعیت کا شعور اچھی طرح ہو، وہ اپنی زندگیوں کو اس عہد و پیمان کے رنگ میں رنگ دیں۔ تاکہ معاملہ محض جذبات، حمیت، طاقت اور جوش و خروش تک ہی محدود نہ رہے کیونکہ اللہ کے ساتھ ہمارا عہد درحقیقت یہ ہے کہ ہم پوری زندگی، اس پسندیدہ نظام حیات کے مطابق گزاریں گے۔ یہ نظام زندگی قلب و دماغ میں بطور حیات اور زندہ شعور کے رائج ہوتا ہے اور عملی زندگی میں نظامِ حیات اور طریقۂ زندگی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ معاشرت میں حسن خلق اور حسن سلوک کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اخروی، زندگی میں تقویٰ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے شعور احساس پر منتج ہوتا ہے۔

لیکن وائے ناکامی !بنی اسرائیل پھر بھی جوں کے توں رہتے ہیں۔ ان کی بری فطرت ان پر غالب آ جاتی ہے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ “مگر اس کے بعد تم پھر اپنے عہد سے پھر گئے۔ ”

اس کے بعد پھر اللہ کی رحمت و شفقت ان کا ساتھ دیتی ہے۔ اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال ہو جاتا ہے اور انہیں خسران اور تباہی سے نکال لیا جاتا ہے۔

فَلَوْلا فَضْلُ اللَّہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ “اس پر بھی اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے۔ ”

٭٭٭

 

اب دیکھئے ان کی رواداری، عہد شکنی اور حیلہ سازی کا ایک نیا منظر، جس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی عہد کی پابندی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں۔ وہ اس عہدو پیمان کی ذمہ داریاں ادا کر ہی نہیں سکتے، خواہشات نفس اور وقتی مفادات کو دیکھ کر وہ بے بس ہو جاتے ہیں۔

 

“پھر تمہیں اپنی قوم کے ان لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا۔ ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پڑے۔ اس طرح ہم نے ان کے انجام، اس زمانے کے لوگوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرانے والوں کے لئے نصیحت بنا کر چھوڑا۔ ” (٦٥، ٦٦)

 

دوسری جگہ قرآن کریم نے سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ “اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے، جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہاں کے لوگ سبت(ہفتہ)کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ “(۷۔ ۲۱۳)

بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کے آرام کے لئے ایک دن کو مقدس قرار دیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سبت کے دن کو مقدس قرار دیا اور اس دن دنیاوی معاش کے لئے کوئی کام کرنا حرام قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں اس آزمائش میں ڈالا کہ ہفتے کے دن تمام مچھلیاں بڑی کثرت سے دریا کی سطح پر نکل آتیں اور دسرے دنوں میں غائب ہوتیں۔ یہ ایسی آزمائش تھی، جس کے مقابلے میں یہود نہ ٹھہر سکے۔ ان کے لئے ثابت قدمی کیسے ممکن تھی۔ ایسا بہترین شکار بالکل قریب مل رہا تھا۔ انہیں اس کے سوا اور کیا چاہئے تھا۔ کیا محض عہد و پیمان کی خاطر وہ اس شکار کو جانے دیتے۔ یہودیوں سے بہرحال یہ کام نہیں ہونے کا۔ یہ تو ان کے مزاج کے خلاف ہے۔

فَقُلْنَا لَہُمْ كُونُوا قِرَدَۃً خَاسِئِينَ”ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے دھتکار پھٹکار تم پر پڑے۔ ”

اللہ کا عہد تور کر بہرحال وہ اس سزا کے مستحق بن چکے تھے۔ وہ اس بات کے مستحق تھے کہ حیوان بن جائیں کیونکہ انسان تو ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے اور وہ اس مقام سے نیچے گر گئے تھے۔

ظاہر ہے کوئی حیوان اپنے پیٹ سے بلند ہو کر سوچ نہیں سکتا۔ چنانچہ جونہی انہوں نے انسان کی خصوصیت اولیٰ یعنی ٹھوس اور بلند ارادہ اور خداوند کریم کے ساتھ کئے ہوئے عہد پر قائم رہنے کا عزم صمیم ……..کو ترک کیا تو وہ مقام انسایت سے گر کر بہیمت کے درجے میں آ گئے۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کے جسم بھی بندر کے جسموں میں تبدیل ہو گئے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ روح، فکر، شعور اور مزاج کے اعتبار سے وہ بندر بن گئے ہوں اور بندروں جیسی حرکتیں کرتے ہوں کیونکہ فکر کا پر تو ہمیشہ چہرے، شکل و ہیبت اور حرکات سکنات پر پڑتا ہے۔ انسان کی ظاہری حالت پر اس کی فکر کے گہرے اثرات پڑتے ہیں۔

یہ واقعہ اس دور میں اور اس کے متصلاً مابعد کے ادوار میں مخالفین حق کے لئے ایک نہایت ہی عبرت آموز واقعہ تھا اور مومنین کے لئے ہر دور میں یہ ایک بہترین نصیحت ہے فَجَعَلْنَاہَا نَكَالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْہَا وَمَا خَلْفَہَا وَمَوْعِظَۃً لِلْمُتَّقِينَ “اس طرح ہم نے ان کے انجام کو، اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بنا کر چھوڑا”

اس سبق کے آخر میں اب گائے ذبح کرنے کا مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ قصہ ایک کہانی کی شکل میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ اور اس سے قبل سورت میں بنی اسرائیل کے جو تاریخی واقعات بیان ہوئے ہیں، ان میں اجمال و اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ تمام واقعات سورہ بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بیان ہو چکے تھے لیکن یہ واقعہ کسی دوری جگہ بیان نہیں ہوا تھا۔ یہ قصہ بنی اسرائیل کی لجاجت، نافرمانی اور تعمیل حکم میں لیت و لعل اور عذر سازی کی واضح تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے، جس میں مدینہ کے یہودی ممتاز تھے۔

 

“پھر وہ واقعہ یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ بولے اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی تفصیل بتائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو، جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔ پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟موسیٰ علیہ السلام نے کہا !وہ فرماتا ہے، زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے۔ پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کے تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے، اللہ نے چاہا تو ہم کا پتہ پالیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا!اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی، نہ زمین جوتتی ہے، نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہے، اس پر وہ پکار اٹھے کے ہاں، اب تم نے ٹھیک بتایا ہے۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ”

اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی۔ پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے اور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے کھول کر رکھ دے گا، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “( ٦٧ تا ٧٣)

 

قرآن کریم نے یہ قصہ اس انداز میں بیان کیا ہے، اس کے کئی پہلو غور و فکر ہیں۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے قومی مزاج اور ان کی موروثی جبلت کو اچھی طرح اجاگر کر دیتا ہے۔ نیز اس سے موت و حیات کی حقیقت، موت کے بعد اٹھائے جانے کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت بے پایاں کا اظہار بھی ہوتا ہے، پھر اس قصے میں بیان اور طرز ادا کی فنی خوبیاں بھی قابل لحاظ ہیں۔ قصے کا آغاز، اس کی انتہا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی قابل غور ہیں۔

مختصراً یہ کہ بقرہ کے اس قصے میں بنی اسرائیل کے قومی خدوخال بڑی خوبی سے ظاہر کئے گئے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کہ اس صاف و شفاف سرچشمے وحی الٰہی اور ان کے دلوں کے رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔ ایمان بالغیب، اللہ پر توکل، اور اصولوں پر نازل شدہ ہدایت الٰہی کی تصدیق سے محروم ہو چکے ہیں۔ اللہ کے احکام و ہدایات کے قبول کرنے میں وہ ہر وقت متأمل ہیں اور پس و پیش کرتے ہیں۔ ہر وقت جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور بارہا اپنی چرب زبانی اور دل کی بے باکی کی وجہ سے وہ شعائر دین کے ساتھ مذاق کرنے پر اتر آتے ہیں۔

ان کے پیغمبر انہیں اللہ کا صاف صاف حکم سناتے ہیں۔ “اللہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم گائے ذبح کرو۔ “ظاہر ہے کہ یہ حکم اپنے الفاظ میں بالکل صاف اور واضح تھا اور اس پر عمل کیا جا سکتا تھا۔ حکم سناننے والے نبی ان کے وہ محبوب رہنما تھے، جن کی قیادت میں اللہ نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے نجات دی تھی اور نجات کا یہ کام اللہ کی خاص رحمت، نگرانی اور ہدایات کے مطابق ایک حیرت انگیز معجزانہ انداز میں اپنے انجام کو پہنچا تھا۔ ان کے نبی نے انہیں واضح طور پر بتا دیا کہ یہ کوئی ان کی ذاتی رائے یا ذاتی حکم نہیں ہے بلکہ یہ اس رب ذوالجلال کا حکم ہے جس کی ہدایات کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر چل رہے ہیں۔ اب ذرا غور کیجئے !یہ لوگ اس جلیل القدر نبی کو کیا جواب دیتے ہیں ؟نہایت گستاخی، حماقت اور بے حیائی سے وہ اپنے نبی سے کہتے ہیں کہ کیا وہ ان کے ساتھ مذاق کر رہا ہے۔ ا ن کی بے حیائی تو دیکھئے کہ ان کے نزدیک گویا الہ کی معرفت رکھنے والا ایک عام آدمی بھی نہیں، بلکہ اللہ کے جلیل القدر نبی اور کسی عام معاملے میں بھی نہیں، بلکہ کے اللہ کے نام پر اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں برسرعام اور لوگوں کے سامنے مذاق کرسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں أَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا کیا تم ہم سے مذاق کر رہے ہو۔ ”

اس احمقانہ اور سفیہانہ بہتان کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نعوذ با للہ پڑھنے کے سوا اور کر ہی کیا کرسکتے تھے، چنانچہ آپ بڑی نرمی کے ساتھ اشاروں اور کنایوں میں انہیں سمجھاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں کس قدر ادب و احترام لازم ہے۔ آپ انہیں سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے جو بہتان باندھا ہے اس کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جو بارگاہ قدس کے آداب و احترام سے واقف ہو۔ اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدر و منزلت ہو۔ چنانچہ آپ نے کہا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاہِلِينَ موسیٰ نے کہا، میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ ”

یہ ہے ہدایت و رہنمائی ان کے لئے کافی تھی کہ اب وہ ہوش میں آ جائیں، اپنے رب کی طرف لوٹیں اور اپنے نبی کے حکم کی تعمیل کریں لیکن بہرحال وہ بنی اسرائیل تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ حکم آئے اور وہ عمل پیرا ہو جائیں۔

ان کے لئے یہ ممکن تھا، جب کہ حکم بالکل آسان تھا، کہ وہ کسی گائے کو پکڑتے اور ذبح کر ڈالتے، اور اس طرح بسہولت وہ اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہو جاتے اور اپنے لیڈر اور اپنے نبی کا اشارہ ملتے ہی اسے نافذ کر دیتے۔ لیکن اس وقت ان کی فطرت حیلہ ساز جاگ اٹھتی ہے، اور اپنے موروثی مزاج سے مغلوب ہو کر وہ پوچھنے لگتے ہیں قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا ہِيَ “بولے !اچھا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ ” انہوں نے اپنا سوال جن الفاظ میں بیان کیا، وہ الفاظ ہی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں اب بھی اس بارے میں شک ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مذاق کر رہے ہیں۔ یہ سنجیدہ ہیں وہ پہلے تو کہتے ہیں کہ اپنے رب سے درخواست کرو گویا موسیٰ علیہ السلام کا رب صرف اسی کا ہے اور وہ ان کا رب نہیں ہے۔ یا گویا، اس سوال کا تعلق صرف موسیٰ ہی سے ہے، انہیں اس سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے رب کا معاملہ ہے۔ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے معلوم کر کے بتائے کہ وہ گائے “کیا ہے “یہاں مقصد تو یہ تھا کہ گائے کیسی ہو، لیکن بطور استہزا اور انکار پوچھتے ہیں کہ “گائے !گائے کیا چیز ہوتی ہے ؟”گویا وہ گائے کی ماہیت سے واقف نہیں۔ گائے کیسی ہو، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ گائے ذبح کریں تعمیل حکم کے لئے وہ کافی ہو گی۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے سوال کو نظرانداز کر کے انہیں صحیح جواب دیتے ہیں اور انہیں راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ان کے اصلی سوال کا جواب دے کر ان کے ساتھ گائے کی ماہیت پر فلسفیانہ بحث و مباحثہ نہیں شروع کرتے، بلکہ انہیں اس طرح جواب دیتے ہیں جس طرح ایک مصلح اور مربی، ایسے لوگوں کو دیا کرتا جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے احمقوں اور فاسقوں کو راہ ہدایت پر لانے کے مشکل کام میں لگا کر آزماتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں گائے کے بارے میں کہتے ہیں قَالَ إِنَّہُ يَقُولُ إِنَّہَا بَقَرَۃٌ لا فَارِضٌ وَلا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا ہو، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ “یعنی نہ بہت بوڑھی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ اقوسط درجے کی ہو، لیکن اس مجمل بیان کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر انہیں نصیحت کرتے ہیں اور بتاکید انہیں کہتے ہیں۔ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ ” بس جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی تعمیل کرو۔ ”

یہاں تک جو گفتگو ہوئی، اگر بنی اسرائیل حکم کی تعمیل چاہتے تو یہ کافی و شافی تھی۔ اس گفتگو سے انہیں تسلی ہو جانی چاہئے تھی، دو مرتبہ یہ جلیل القدر پیغمبر انہیں جادۂ مستقیم پر لا چکے اور بارگاہ اقدس میں سوال و جواب اور وہاں سے استفادہ کرنے کے آداب بھی انہیں سمجھا چکے، دوبارہ انہیں بتا چکے کہ بس آگے بڑھیں اور اپنی گایوں میں سے کسی اوسط درجے کی گائے ذبح کر ڈالیں۔ نہ بوڑھی ہو اور نہ ہی بہت چھوٹی، ادھیڑ عمر کی ہو، اس طرح وہ اس فرض کی ادائیگی سے جلد بری الذمہ ہو جائیں اور اسے ذبح کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر ڈالیں اور اپنے آپ کو مزید قیود و حدود اور تنگی و مشقت میں نہ ڈالیں ……..لیکن وائے ناکام ! بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے !

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُہَا “پھر کہنے لگے، اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟”یو ں سہ بارہ وہ کہتے ہیں۔ “اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو “اس لئے ان کے اصرار و تکرار کے نتیجے میں یہ ضروری ہو گیا کہ بالتفصیل انہیں جواب دیا جائے۔ چنانچہ جواب آیا قَالَ إِنَّہُ يَقُولُ إِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَاء ُ فَاقِعٌ لَوْنُہَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ “موسیٰ نے کہا”وہ فرماتے ہیں زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے۔”

یوں ان بدبختوں نے اپنا وسیع دائرہ اختیار کم کر دیا۔ اس سے پہلے اس حکم میں بڑی وسعت اور گنجائش تھی لیکن اب وہ صرف کوئی ایک گائے ذبح کرنے کے مکلف نہیں، بلکہ ایک ایسی گائے انہیں ذبح کرنی ہے جو ادھیڑ عمر کی ہو، نہ بوڑھی ہو اور نہ بچھیا ہو، پھر اس کا رنگ بھی زرد ہو اور اس میں بھی شوخ رنگ گائے ہو۔ پھر وہ دبلی پتلی اور بدصورت بھی نہ ہو بلکہ ایسی ہو کہ اسے دیکھ کر جی خوش ہو جائے اور ظاہر ہے کہ دیکھنے والے کا سرور تب ہی مکمل ہوسکتا ہے کہ جب مطلوبہ گائے خوب موٹی تازی، حیات و نشاط سے بھرپور، اچھلتی کودتی چمکدار ہو۔ کیونکہ مویشیوں میں یہ صفات لوگوں کے نزدیک پسندیدہ صفات ہیں اور لوگ بالعموم زندگی سے بھرپور اور متوسط عمر کے اور خوبصورت جانوروں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور دبلے پتلے، بدصورت جانوروں سے نفرت کرتے ہیں۔

غرض اب تک بنی اسرائیل نے لیت و لعل سے کام لیا۔ غالباً وہ کافی بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ تھا۔ لیکن وہ اب بھی بس نہیں کرتے۔ اپنی غلط روش میں آگے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، معاملے کو اور پیچیدہ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اپنے اوپر اور سختی کر رہے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کی روش کے مطابق اپنے حکم اور سخت کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس قدر تفصیلات آ چکنے کے بعد، وہ اچانک دوبارہ گائے کی ماہیت اور حقیقت کو پوچھنے لگتے ہیں۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا ہِيَ “پھر بولے، اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ، کیسی گائے مطلوب ہے ؟……..”اس سوال اور لیت و لعل کا عذر وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لئے موجب اشتباہ بن گیا اور گائے کے تعین میں بڑی مشکل پیش آ رہی ہے۔ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَہَ عَلَيْنَا “ہمیں اس گائے کے تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے “اب آ کر انہیں اپنی لجاجت اور جھگڑالو پنے کا قدرے احساس ہو جاتا ہے۔ اور بادل نخواستہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ وَإِنَّا إِنْ شَاء َ اللَّہُ لَمُہْتَدُونَ”اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ ”

غرض اس نہ ختم ہونے والی لجاجت اور مباحثے کے نتیجے میں اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اس حکم کو مزید پیچیدہ اور سخت کر دیا جائے اور انتخاب و اختیار کا وسیع دائرہ انہیں فراہم کیا گیا تھا، اسے ء مزید تنگ اور محصور کر دیا جائے اور مطلوبہ گائے کے اندر چند مزید اوصاف کا اضافہ کر دیا جائے، جبکہ پہلے ان اوصاف کی ضرورت نہ تھی اور حکم کی تعمیل کا دائرہ وسیع تر رکھا گیا تھا۔ قَالَ إِنَّہُ يَقُولُ إِنَّہَا بَقَرَۃٌ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الأرْضَ وَلا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَۃٌ لا شِيَۃَ فِيہَا “موسیٰ نے کہا!اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہیں لی جاتی ہو، نہ زمین جوتتی ہے، نہ پانی کھینچتی ہے صحیح سالم اور بے داغ ہے۔ ”

اب وہ گائے صرف شوخ اور دل کو لبھانے والے زرد رنگ کی متوسط عمر کی گائے ہی نہ رہی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسی گائے بن گئی جو کوئی محنت نہیں کرتی، ہل نہیں جوتتی، پانی نہیں کھنچتی اور ہے بھی خالص رنگ اس میں کوئی داغ نہیں ہے۔

یہاں آ کر اب ان کا دماغ درست ہوتا ہے۔ معاملے کو مشکل تر بنانے، زیادہ سے زیادہ شرائط عائد کرانے اور اپنے دائرہ عمل کو آخری حد تک تنگ کرانے کے بعد اب وہ پکار اٹھتے ہیں۔ قَالُوا الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ “اس پر وہ پکار اٹھے !ہاں اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا۔ ”

“اب”گویا اس سے پہلے جو کچھ آپ فرما رہے تھے وہ حق نہ تھا، گویا اس لمحہ ہی میں انہیں یہ یقین ہو رہا ہے کہ حضرت موسیٰ جو کچھ پیش فرمارہے ہیں وہ حق ہے۔

فَذَبَحُوہَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ “پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیاورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ ”

جب وہ حکم الٰہی پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں اور فریضہ الٰہی کو ادا کر دیتے ہیں، تو اب یہاں پوری کہانی کے آخر میں، اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس نے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا تھا۔

 

“اور تمہیں یاد ہے، وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، وہ اسے کھول کر رکھ دے گا، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ ” ( ٧٢، ٧۳)

 

یہاں آ کر ہم قصہ بقرۃ کے ایک دوسرے پہلو تک آ پہنچتے ہیں۔ یہ پہلو اللہ تعالیٰ کی قدرت بے پایاں کا اظہار کر رہا ہے۔ اس سے موت و حیات کی حقیقت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور یہاں اسلوب کلام، کہانی کے انداز کے بجائے خطاب کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کی حکمت کھول دیتے ہیں۔ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا، اور ہر آدمی اپنے آپ کو اس قتل کے الزام سے بری قرار دے کر دوسرے پر الزام لگاتا تھا اور کوئی گواہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نے چاہا کہ مقتول خود صداقت کو ظاہر کر دے اور اس شہادت حق سے پہلے گائے کا ذبح کیا جانا دراصل ادائیگی شہادت کا ایک ظاہری ذریعہ تھا۔ یوں کہ بقرہ کے گوشت اسے مارتے ہی ا س نے زندہ ہو جانا تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، انہوں نے اسے ذبح شدہ گائے کے ایک ٹکڑے سے مارا اور وہ زندہ ہو گیا۔ تاکہ وہ خود اپنے قاتل کی نشاندہی کر دے اور ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کر دے جو اس کے قتل کے مسئلے میں پھیلے ہوئے تھے، اور یوں صداقت محکم ترین دلائل کے ساتھ سامنے آ جائے۔ حق حق ہو جائے اور باطل باطل۔ دودھ، دودھ اور پانی، پانی۔

سوال یہ ہے کہ اس ظاہری وسیلہ اور سبب کیا ضرورت تھی ؟اللہ تعالیٰ تو اس کے بغیر بھی مردوں کو زندہ کرسکتا ہے، بغیر کسی وسیلے اور ذریعے کے بھی۔ سوال یہ ہے کہ

ذبح شدہ گائے اور زندہ کئے جانے والے مقتول کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟

بنی اسرائیل کی عادت کے مطابق، ان کے ہاں بطور قربانی اور تقرب الی اللہ گائے ذبح ہوا کرتی تھی، رہا یہ منظر کہ ایک بے جان قطعہ لحم ایک بے جان مقتول کے اندر بظاہر زندگی کے آثار پیدا کر دیتا ہے، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ گوشت کا ٹکڑا محض ظاہری سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ماہرہ کا اظہار کر رہا ہے، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ لوگ اس کا اثر اور نتیجہ تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ لیکن مردے کو جلانے کا یہ طریق کاران کے فہم سے باہر ہے۔ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّہُ الْمَوْتَى “وہ مردوں کو کیوں کر زندہ کرتا ہے ؟یوں جیسا کہ تم بچشم سر دیکھ رہے ہو، لیکن ا سکے باوجود اس کی حقیقت سے بے خبر ہو۔ نہیں جانتے کہ وہ کیوں کر زندہ ہوا؟مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی بے مشقت اور بڑی سہولت سے اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا۔

موت و حیات کی نوعیت کے درمیان کس قدر بعد ہے۔ اس فرق سے سر چکرا جاتے ہیں لیکن قدرت الٰہی کے مقابلے میں موت سے حیات اور حیات سے موت ایک معمولی اور آسان عمل ہوتا ہے، کیونکر؟بس یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کے ادراک سے وراء ہے۔ اسے کوئی نہیں پا سکتا۔ موت و حیات کے بھید کو پانا اور اصل اسرار الٰہیہ کو پانا ہے اور اس جہان لافانی میں اللہ کے اس راز تک رسائی پانا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ انسان اس بھید اور راز پر غور کر کے اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔

وَيُرِيكُمْ آيَاتِہِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ”اور اللہ تعالیٰ نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ ”

اب ہم حسن ادا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی پر آتے ہیں۔

یہ ایک مختصر قصہ ہے، جس کا آغاز بھی نہایت مجمل انداز میں ہوتا ہے۔ ابتداء میں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیتے ہیں ؟جیسا کہ خود بنی اسرائیل کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ انہیں یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے ؟یوں بنی اسرائیل کے جذبہ اطاعت اور جذبہ تسلیم و رضا کو آزمایا جاتا ہے۔

اس کے بعد اصل قصہ شروع ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے مابین گفتگو شروع ہوتی ہے ہے۔ یہ بات بڑھتی جاتی ہے اور دوسری جانب اللہ تعالیٰ بھی اس گفتگو میں برابر شریک ہیں لیکن معلوم نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟حالانکہ وہ ہر بار آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے پوچھ کر بتائیں اور آپ بھی پہلے اپنے رب سے پوچھتے اور پھر جواب انہیں سنادیتے۔ اگرچہ سیاق کلام میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے اللہ سے کیا پوچھا اور اللہ نے اس کا کیا جواب دیا، یہ سکوت اور یہ خاموشی اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری اور علو مرتبت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ بنی اسرائیل جس طریقہ سے گفتگو کرنے کے عادی تھے اور جس طرح گفتگو بالخصوص اس واقعہ میں وہ کر رہے تھے، ہرگزمناسب نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کے سوال و جواب کا بھی ا س میں ذکر کیا جائے۔

آخر میں اچانک ……..جیسا کہ اس وقت بنی اسرائیل کے لئے یہ بات بالکل خلاف توقع تھی۔ بنی اسرائیل کو حکم ہوتا ہے کہ وہ مذبوحہ بقرہ کے مردہ اور بے جان ٹکڑے کو مقتول پر ماریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح زندہ ہو جاتا ہے اور بات کرتا ہے۔ حالانکہ بقرہ کے گوشت میں نہ زندگی تھی اور نہ زندگی کا کوئی سامان تھا۔

غرض قرآن کریم کے دیگر مختصر بہترین قصوں کی طرح اس مختصر قصے میں حکیمانہ موضوع سخن کے عین مطابق، نہایت ہی حکیمانہ طرز ادا اختیار کی گئی ہے۔

قصے کے اس آخری منظر کے اختتام پر اور اس قصے سے پہلے کے عبرت انگیز مظاہر اور سبق آموز واقعات کے نتیجے کے طور پر اس بات کی توقع تھی کہ اب تو بنی اسرائیل کے دل پگھل جائیں گے اور ان کے دلوں میں خوف خدا اور تقویٰ کے جذبات امڈ آئیں گے۔ لیکن ہمارے تعجب کی انتہاء نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کا خاتمہ بالکل خلاف توقع ان الفاظ پر ہوتا ہے۔

 

“مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہو گئے، پتھروں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر بھی گر پڑتا ہے، اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔ ” (۷۴)

 

یہاں ان کے دلوں کو پتھروں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور جب ان کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کیا جاتا ہے تووہ ان سے بھی سخت اور خشک تر نکلتے ہیں۔ جیسے پتھروں سے یہاں انہیں تشبیہ دیجا رہی ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے علم میں ہے۔ اس سے قبل وہ یہ منظر دیکھ چکے تھے کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ……..وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ جب تجلیات الٰہی کا ایک پرتو پہاڑ پر پڑا تو ہو ریزہ ریزہ ہو گیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو کر گر پڑے تھے۔ لیکن ان کے دل اس قدر سخت ہیں کہ ان کے اندر کسی قسم کی کوئی نرمی یا تر و تازگی پیدا نہیں ہوتی۔ ان میں خوف خداسے دھڑکن نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ نہایت سخت، خشک، بنجر اور پتھر دل ہیں۔ اس لئے کہ انہیں ان الفاظ میں تنبیہ کی جاتی ہے۔ وَمَا اللَّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ”اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔ ”

ان الفاظ پر بنی اسرائیل پر تنقید اور ان کی طویل تاریخ ……..کفر، تکذیب انبیاء ، مکر و فریب۔ فسق و فجور، حکم عدولی وسرکشی، بے خوفی وسنگدلی اور لجاجت اور چالاکی سے بھرپور تاریخ پر بحث کا پہلا حصہ یہاں ختم ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.box.com/s/8dax98x4ps69rae6c7ym

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید