FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فی ظلال القرآن

قرآن کے سائے میں

 

سورۃ الفاتحہ وسورۃ البقرۃ کی مکمل تفسیر

حصہ سوم

 

                شہید اسلام سید قطب رحمہ اللہ

ترجمہ:سید معروف شاہ شیرازی

الموحدین ویب سائٹ کی پیشکش

 

 

 

 

درس ۱۱ ایک نظر میں

 

اس سبق میں مدینہ طیبہ کے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ کے بعض اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ بعض عبادات جیسے فرض عبادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں یہ دونوں چیزیں اس سورت میں ایک ہی ٹکڑے میں باہم ضم کر دی گئی ہیں۔ دونوں قسم کی تعلیمات کے درمیان رابطہ تقویٰ اور خوف خدا کو بنایا گیا ہے، جہان اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کے آخر میں بار بار تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے وہاں عبادات مفروضہ کے آخر میں بھی تقویٰ، شکر اور خشیت اللہ پر زور دیا گیا ہے، اور پھر اس سبق کو آیات بر کے بعد لایا گیا ہے، جو ایمانی تصورات زندگی، ایمانی طرز عمل اور اسلامی طریق کار پر مشتمل ہے۔ اور جس میں نیکی اور تقویٰ کا اعلیٰ معیار بیان ہوا ہے۔

اس سبق میں، مقتولین کے قصاص کے احکام بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی گئی ہے۔ موت کے وقت وصیت کے احکام، روزے کی فرضیت کے احکام اور دعا و اعتکاف کے احکام بیان ہوئے ہیں اور آخر میں مالی واجبات کی ادائیگی کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔

احکام قصاص کے بیان کے بعد خاتمہ کلام تقویٰ پر کہا گیا :وَلَکُم فِی القِصَاصِ حَیٰوۃٌ یَّاُولی الاَلبَابِ لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ “عقل و خرد رکھنے والو!تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔ “اسی طرح جب وصیت کے احکام بیان ہوئے تو یہ بات پھر تقویٰ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ کُتِبَ عَلَیکُم اِذَ حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوتَ اِن تَرَکَ خَیرًا الوَصِیَّۃ لِلوَالِدَینِ وَالاَقرَبِینَ بِالمَعرُوفِ حَقًّا عَلَی المُتَّقِینَ”تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ ”

اب روزے کی فرضیت کے حکم کا مطالعہ کریں۔ اس کے آخر میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فرض ہی اس لئے ہوا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو جائے۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

احکام روزہ کے آخر میں اعتکاف کے احکام ہیں اور ان کے بعد بھی آخری نتیجہ تقویٰ ہی ہے۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں۔ ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَقْرَبُوہَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ آيَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَّقُونَ

اس کے علاوہ اس سبق میں اختتام مضمون پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی تقویٰ اور دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور جلالت شان کا شعور پیدا کرنے کے مضامین سے خالی نہیں۔ مثلاً ایک جگہ کہا گیا اور جس ہدایت پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنووَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّہَ عَلَى مَا ہَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ دوسری جگہ ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّہُمْ يَرْشُدُونَ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ”بے شک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌرَّحِیمٌ”بے شک بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

غرض اس پورے متن میں تسلسل کے ساتھ تقویٰ کا ذکر ہے جس سے ایک نظر میں دین کی حقیقت تک رسائی ہو جاتی ہے اور اندازہ ہو جاتا ہے کہ دین ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ اس کا اجتماعی نظام، اس کے قانونی اصول، اس کی رسوم عبادت، سب کی سب صرف ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظریہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔ یہ سب شعبے صرف ایک ہی تصور حیات سے نکلتے ہیں اور یہ تصور حیات نظریۂ اسلام سے ابھرتا ہے۔ یہ سب شعبے ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کا آخری نقطہ ارتکاز اللہ ہے۔ سب کی غرض وغایت ایک ہی ہے، یعنی بندگی۔ صرف خدائے واحد کی، جس نے پیدا کیا، جس نے رزق دیا، جس نے انسان کو اس زمین میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ مگر یہ جانشین اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لائے، وہ صرف خدائے واحد کی بندگی کرے اور وہ اپنا تصور حیات اپنے اجتماعی نظم کو اپنے قوانین کا ماخذ صرف اللہ ہی کو قرار دے، صرف اللہ کو!

غرض یہ پورا سبق اور اس کے مضامین اور پھر مضامین کے آخر میں بیان کردہ تبصروں اور نتائج کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء باہمی مربوط ہیں اور ربط کیا ہے ؟تقویٰ، بندگی اور ایمان باللہ !

٭٭٭

 

 

 

درس نمبر ۱۱ تشریح آیات (۱۷۹ تا ۱۸۸)

 

“اے ایمان والو!تمہارے لئے قتل کے مقدمات میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو، تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو، تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔ ہاں کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لئے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ وہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے۔ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ عقل رکھنے والو!تمہارے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔ “( ١٧٨۔١٧٩)

 

یہ پکار صرف اہل ایمان کے لئے ہے۔ صفت ایمان کو خطاب میں کیا گیا، اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ قصاص کے معاملے میں ہدایت صرف اللہ ہی سے حاصل کی جائے، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ پکار کر اطلاع دیتا ہے کہ تم پر مقتولین کے معاملے میں قصاص فرض کر دیا گیا۔ پہلی آیت قانون سازی کے ضمن میں ہے اور دوسرے میں اس قانون کی حکمت بیان کی گئی ہے۔ اہل ایمان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں، اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خدا خوفی کا احساس پیدا کیا گیا ہے۔ غرض قتل اور سزا قتل کے معاملے میں اسلام کا نظام قصاص سیفٹی وال (Safety Valve)کی حیثیت رکھتا ہے۔

منقولہ بالا آیت میں جو قانون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کے معاملے میں قصاص یوں ہو گا کہ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام نے قتل کیا ہو تو غلام ہی سے بدلہ لیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی رعایت کا ذکر کر دیا گیا جو انسانی تمدن کی استواری کے لئے ضروری ہے۔

فَمَنْ عُفِيَ لَہُ مِنْ أَخِيہِ شَيْء ٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاء ٌ إِلَيْہِ بِإِحْسَانٍ”ہاں اگر قاتل کے ساتھ اس کا بھائی (مقتول کا وارث)نرمی کے لئے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے۔ ”

نرمی اور معافی کی صورت یہ ہے کہ مجرم کو قصاص میں قتل کرنے کے عوض مقتول کے ورثا دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں۔ جب وہ دیت لینے پر راضی ہوں تو انہیں چاہئے کہ وہ باہمی رضامندی اور معروف اصولوں کے مطابق دیت کی رقم طے کر لیں۔ اور قاتل اور اس کے اولیاء کا فرض ہے کہ وہ راستی اور حسن وخوبی کے ساتھ دیت ادا کریں، تاکہ ان کے دلوں میں کدورت دور ہو جائے۔ تلخی ختم ہو جائے اور مقتول کے خاندان کے جو لوگ زندہ رہ گئے ہیں، ان کے پھر سے برادرانہ تعلقات قائم ہوسکیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین معاملے میں دیت کی گنجائش رکھ کر مسلمانوں پر تخفیف اور رحمت کی ہے۔ اسی لئے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اسے اللہ کا ایک عظیم احسان سمجھیں۔

ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَۃٌ”یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ “یہ گنجائش تورات کے قانون قصاص میں نہ تھی۔ یہ امت مسلمہ کے ساتھ ایک رعایت ہے۔ جو محض اس لئے کی گئی کہ اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہو جائے اور دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہو جائیں تو اس صورت میں نہ صرف رنجشیں مٹ جائیں بلکہ ایک شخص کی زندگی بھی بچ جائے۔ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِيمٌ”اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ ”

آخرت میں جو سزا ہو گی وہ تو ہو گی، اس دنیا میں سزا یہ ہو گی کہ اگر قتل ثابت ہو جائے تو اس کا قتل لازمی ہو گا۔ اور اس سے دیت قبول نہ کی جائے گی، کیونکہ باہمی رضامندی اور مصالحت کو بے کار بنانا ہے۔ دلوں کی صفائی کے بعد دشمنی پیدا کرنا ہے۔ اسی طرح اگر وارث نے دیت قبول کر لی ہے تو پھر اس کے لئے دوبارہ انتقام لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، ہ ناروا زیادتی ہے۔

قصاص اور دیت کے نظام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر وسیع نقطۂ نظر کا حامل ہے اور قانون سازی کے وقت نفس انسانی کے محرکات پر اس کی پوری نظر ہے۔

خدائے برتر نے انسان کی فطرت میں جو رجحانات ودیعت کئے ہیں ن ان کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ خون دیکھ کر خون فطرتاً کھول اٹھتا ہے۔ اسلام نے اس کا تقاضا قانون قصاص کے ذریعہ پورا کر دیا۔ صحیح انصاف یہ ہے کہ دلوں کو ٹھنڈا کر دے۔ دلوں کے اندر انتقام کی جو گھٹن پائی جاتی ہے اسے دور کر دے۔ یہاں تک کہ مجرم کے خیالات بھی درست کر دے۔ ان سب تدابیر کے باوجود اسلام اس بات کو پسند کرتا ہے کہ غلطی معاف کر دی جائے۔ اس لئے وہ عفو و درگزر کی راہ ہموار کرتا ہے۔

قانون قصاص کی فرضیت کے بعد عفو ودرگزر کی دعوت دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی اس معافی سے یہ بلند مرتبہ حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ لیکن یہ عفو و درگزر فرض نہیں ہے۔ یہ اس لئے کہ انسان کے فطری تقاضے دب نہ جائیں۔ اور اس پر اس قدر بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ اسے سہار نہ سکے۔

بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کو سورت مائدہ کی اس آیت نے منسوخ کر دیا ہے جو اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ وَکَتَبنَا عَلَیہِم فِیھَا اَنَّ النَّفسَ بِالنّفسِ

علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :”ان آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ابن ابی حاتم کی روایت بیان کی جاتی ہے۔ ابوزرعہ، یحییٰ بند عبداللہ بکیر، عبداللہ بن لہیعۃ، عطاء ابن دنیار، سعید بن جبیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ اس آیت کے بارے میں يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى یعنی اگر قتل عمد ہو، تو اس میں آزاد کو آزاد ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ اس کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے کچھ پہلے ہی، دور جاہلیت میں قبائل آپس میں لڑ پڑے۔ بہت لوگ قتل ہوئے بے شمار زخمی ہوئے۔ یہاں تک کہ غلام اور عورتیں بھی ماری گئیں۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے سے ابھی کچھ نہ لیا تھا کہ اسلامی نظام آ گیا۔ اور وہ مسلمان ہو گئے۔ ایک قبیلہ دوسرے پر مال و تعداد میں بے انصافی کرنے لگا۔ انہوں نے قسم اٹھا لی کہ وہ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ “لیکن یہ آیت منسوخ ہے اور اس آیت النفس بالنفس نے منسوخ کر دیا ہے اس طرح ابو مالک سے روایت ہے کہ اس آیت کو آیت النفس بالنفس نے منسوخ کر دیا ہے۔ ”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا مقام و محل اور مائدہ کی آیات النفس بالنفس کا موقع و محل ہی الگ ہے۔ النفس بالنفس کا اطلاق انفرادی قتل پر ہے یعنی کوئی متعین شخص کسی متعین شخص یا اشخاص کو قتل کرے۔ اگر قتل عمد ہو تو مجرم سزا یاب ہو گا۔ لیکن زیر بحث آیت کا محل ہی الگ ہے۔ اس میں اجتماعی قتل کی صورت کا حکم بیان کیا ہے۔ جہاں خاندان دوسرے خاندان پر ہاتھ اٹھائے، قبیلہ قبیلے کے خلاف لڑے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر حملہ آور ہو، جیسا کہ مذکورہ بالا قبائل کا معاملہ تھا۔ جس سے آزاد، غلام اور عورتیں ماری گئی تھیں۔ ایسے مواقع پر جب قصاص طے ہو گا تو آزاد کے بدلے آزاد، ایک قبیلے کے غلام کے بدلے دوسرے قبیلے کا غلام اور ایک عورت کے بدلے دوسرے کی عورت قتل ہو گی۔ اگر یہ محل نہ ہو گا تو پھر بتایا جائے کہ جب کسی تنازعے میں دونوں طرف سے بڑے بڑے گروہ باہم برسرپیکار ہوں تو اس صورت میں قصاص کی کیا صورت ہو گی؟

اگر اس نقطہ نظر کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ آیت منسوخ تصور نہ ہو گی اور قصاص کی آیات میں کوئی تعارض نہ ہو گا۔

اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتا کر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاۃٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

“عقل و خرد رکھنے والو!تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے۔ “امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔ ”

ضرور انتقام ہی لیا جائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلند و برتر مقاصد کا حامل ہے۔ یہ زندگی کے لئے، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔

ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی۔ یوں نظام قصاص سے دو زندگیاں بچ جاتی ہیں۔

ارتکاب قتل کی صور ت میں قاتل کو سزا ہو جاتی ہے۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہو جاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دور ہو جاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حد پر، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

“قصاص میں زندگی ہے۔ “اپنے عمومی مفہوم میں۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے، کسی خاندان کی نہیں، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے۔

اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور و فکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے )تَتّقُونَ”امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔ ”

یہ ہے وہ اصل بندھن، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے۔ یہ کیا ہے ؟خدا خوفی، تقویٰ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس۔ اللہ کے قہر و غضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضا جوئی کی کشش۔

اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہوسکتا، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہوسکتا۔

حضرت محمدﷺ کے دور اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ و نادر ہی رہا ہے۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا۔ اس کا راز یہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا۔ لوگوں کے دل و دماغ میں، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات و انصرام تھا۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی۔ ایک طرف شریعت وقانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی۔ کیوں ؟اس لئے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کر دی تھی۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آ گئی اور غلطی کا صدور ہو گیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کے لئے نفس لوامہ بن گیا۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہو گیا۔ اور گناہ کرنے والے کوتب آرام نصیب ہواکہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کر لیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے پیش کر دیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر۔ یہ ہے تقویٰ، یہ ہے خدا خوفی۔

اب موت کے وقت وصیت کے مسائل کا بیان ہوتا ہے۔ آیات قصاص کی فضا اور ان آیات کی فضا(یعنی موت اور زندگی کا اختتام )کے درمیان مناسبت بالکل ظاہر ہے۔

كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّۃُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ(١٨٠)فَمَنْ بَدَّلَہُ بَعْدَمَا سَمِعَہُ فَإِنَّمَا إِثْمُہُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَہُ إِنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (١٨١)فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَہُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْہِ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ(١٨٢)

“تم پر فرض کیا گیا کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑر ہاہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا، تو اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

وصیت بھی فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ والدین اور اقرباء کے لئے بشرطیکہ مرنے والا اپنے پیچھے دولت چھوڑ رہا ہو۔ خیر سے مراد دولت ہے۔ کتنی مقدار پر وصیت فرض ہے ؟اس میں اختلاف رائے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ مقدار کا ر عین مختلف مواقع کے لئے، عرف کے مطابق، مختلف ہوسکتا ہے۔ بعض فقہاء نے کہا کہ ۶۰ درہم سے کم تر ہو تو سمجھا جائے کہ کوئی ترکہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس حد کو ۸۰ دینار اور بعض نے ۴۰دینار اور بعض نے ۱۰۰۰تک بڑھا دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں، اور مختلف خاندانوں کے لئے ظوف و احوال کے مطابق مقدار میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔

وصیت کی ان آیات کے بعد میراث کی آیات نازل ہوئیں جن میں ورثاء کے لئے حصص متعین ہو گئے۔ اور وراثت کی ہر صورت میں والدین کو حق دار قرا ر دیا گیا، لہٰذا اب والدین کے لئے وصیت نہ ہو گی کیونکہ وارث بہرحال وصیت سے محروم ہیں۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :”اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کر دیا ہے، لہٰذا اب وارث کے لئے کوئی وصیت مؤثر نہ ہو گی۔ “رہے اقرباء تو ان کے لئے یہ حکم اب بھی اپنے عموم پر باقی ہے۔ لہٰذا اب جو شخص قانون میراث کے مطابق حصہ پالے، وہ وصیت سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا اور جو قانون میراث میں حق دار نہیں ہے آیت وصیت اس لئے موجود ہے (Operative)ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں، بعض صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات اس طرف گئے ہیں۔ ہم بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

قانون میراث کی دفعات کی رو سے بعض اوقات قریبی رشتہ دار محروم ہو جاتے ہیں۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے، ایسے حالات میں وصیت کے ان احکام کی حکمت خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے۔ قانون وصیت درحقیقت قانون کے وراثت کے دائرے سے باہر خاندان کے باہمی تکافل اور معاشی ذمہ داریوں کا ایک رنگ ہے۔ اس لئے حکم ہوا کہ حق وصیت کا استعمال معروف اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں خدا خوفی کے اصل الاصول کو پیش نظر ہونا چاہئے۔

بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ”معروف طریقے سے، یہ متعین پر حق ہے۔ ”

اس حق کے استعمال سے ورثا پر ظلم نہ ہو، غیر وارث محروم رہیں، اعتدال و انصاف کے ساتھ، خدا خوفی کو پیش نظر رکھتے ہوئے، احسان اور نیکی کی خاطر اس حق کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں اس حق پر پابندی لگائی گئی اور ۱/۳حصہ حد مقرر کر دی گئی اور افضل یہ ہے کہ اس حق کو ۱/۴حصہ تک محدود رکھا جائے۔ تاکہ اس غیر وارث کی وجہ سے اصل وارث کو زیادہ نقصان نہ ہو۔ اس معاملے کا فیصلہ، بیک وقت قانون اور تقویٰ دونوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور یہی روح ہے اس اجتماعی نظام کی جسے قرآن مجید قائم کرنا چاہتا ہے۔

جو شخص بھی وصیت سنے اس کا فرض ہے کہ وہ بے کم وکاست فریقین تک پہنچا دے۔ اگر وہ اس میں تبدیلی کرے گا، تو اسے سخت گناہ ہو گا اور اگر سننے والے اپنی طرف سے تبدیلی کریں گے تو متوفیٰ بری الذمہ ہو گا۔ فَمَنْ بَدَّلَہُ بَعْدَمَا سَمِعَہُ فَإِنَّمَا إِثْمُہُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَہُ إِنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ”

اس شخص نے جو سنا اور جس کا اسے علم ہے اس خود اللہ گواہ ہے۔ وصیت کنندہ کے لئے بھی اللہ گواہ ہے۔ لہٰذا میت پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا اور چونکہ تبدیل کنندہ کے خلاف بھی اللہ گواہ ہے، لہٰذا ناجائز تغیر و تبدل پر اس سے مواخذہ ہو گا۔

ایک حالت ایسی ہے جو وصی کو اختیار ہے کہ وہ وصیت کرنے والے کی وصیت میں کچھ رد و بدل کرے، لیکن یہ اس وقت ہو گا جب اس بات کا علم ہو جائے کہ وصیت کرنے والے نے کسی کی ناحق طرفداری کی ہے یا ناجائز طور پر وارث کی حق تلفی کی ہے۔ اس صورت میں جو شخص وصیت نافذ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس حد تک اس میں تبدیلی کرے کہ ناجائز حق تلفی نہ رہے نہ ہی کسی کی طرف داری رہے۔ معاملہ عدل وانصاف کے مطابق ہو جائے فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَہُمْ فَلا إِثْمَ عَلَيْہِ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

“البتہ جس کو اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے اور پھر معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان، وہ اصلاح کرے، اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

تمام معاملات میں، معاملہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت خصوصی کے سپرد ہے۔ ہر حال میں اللہ کا کرم اور اس کی نگہبانی ہمارے حالات کی شیرازہ بند ہے۔ اور یہی عدل و انصاف کے حصول کی آخری ضمانت ہے۔ قانون قصاص اور قانون وصیت دونوں کو ایک ہی رسی میں باندھ دیا گیا ہے۔ یعنی خدا خوفی بلکہ اسلامی نظام زندگی کے تمام شعبے اور اسلامی معاشرے کا ہر مسئلہ اس میں باندھا ہوا ہوتا ہے۔

یہ امت پوری انسانیت پر گواہ ٹھہرائی گئی ہے وہ انسانیت کی نگران اعلیٰ ہے۔ اور اسے کرۂ ارض پر اسلامی نظام زندگی قائم کرنا ہے اور اس سلسلے میں اس جہاد فی سبیل اللہ فرض ہو چکا ہے۔ لہٰذا اب یہ قدرتی امر ہے کہ اس پر روزہ بھی فرض کر دیا جائے۔ روزہ سے ارادہ قوی اور عزم صمیم ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعے انسان اطاعت و انقیاد کے ساتھ اپنے رب سے ملتا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے انسان جسم کی تمام ضروریات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے دباؤ اور ان کے بوجھ کو برداشت کرتا ہے۔ محض رضائے الٰہی کے حصول اور اجر اخروی کے طمع میں۔

یہ سب تدابیر اس لئے ہیں کہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کی راہ میں جو دشواریاں اور جو مشکلات ہیں، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اور جو کانٹے بچھے ہیں، ان کو برداشت کے لئے نفس انسانی تیار ہو جائے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ اس کی دشواریوں کے علاوہ اس کے دونوں طرف مرغوب اور پسندیدہ چیزیں بکھری پڑی ہیں۔ ہزاروں ایسی چیزیں اس راستے میں پڑی ہیں، جو قدم قدم پر اسے فریب دینے کے لئے تیار ہیں۔

اب دور حاضر کے انکشافات سامنے آتے ہیں۔ حکما کہتے ہیں کہ روزہ انسان کے جسم پر بھی اچھے اثرات پڑتے ہیں۔ اگرچہ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ روزے یا دوسری عبادات کے ایسے دنیاوی فوائد بیان کئے جائیں جو طبعی زندگی سے متعلق ہوں اور حس و نظر تک محدود ہوں۔ اس لئے کہ عبادات کی اصل غرض و غایت یہ ہے کہ انسان کو اس فرض کی ادائیگی کے لئے تیار کیا جائے جو اسے کرۂ ارض پر ادا کرنا ہے۔ دوسری طرف اسے اس کامیابی اور اس کمال کے لئے جدوجہد کرنی ہے، جو اسے دار آخرت میں حاصل ہو گا لیکن اس کے باوجود میں اس کے خلاف بھی نہیں کہ سائنس اور تجربہ سے عبادات کے سلسلے میں ن جو فوائد ثابت ہوتے ہیں ان کا بالکل انکار کر دیا جائے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وجود انسانی کے لئے فرائض و عبادات کے تعین میں جو عمومی تدابیر اختیار کی ہیں۔ ان سے جو حکمت واضح طور ملحوظ و مفہوم نظر آتی ہے، اس پر اعتماد ضروری ہے۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ سائنس اور تجربات سے ظاہر ہونے والی ان حکمتوں اور فوائد کو احکام و تکالیف شرعیہ کا اصل سبب اصل علت نہیں قرار دینا چاہئے۔ اس لئے کہ سائنس کا دائرہ بہت ہی محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حیوانیت کو توڑ کر جس طرح اس کی تربیت کرنا چاہتا ہے اور اس میں جو حکمتیں ہیں وہاں تک انسانی علم ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ خود اس پوری کائنات کی بے قابو قوتوں کو اللہ تعالیٰ جس طرح سدھانا چاہتا ہے، سائنس کی وہاں تک رسائی کب ہے۔

 

“اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے۔ ا س سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی، چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں کوئی بیمار ہو، یاسفر پر ہو، تو دوسرے دنوں میں اتنی تعداد پوری کر لے اور جو روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہیں (پھر بھی نہ رکھیں )تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے، تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ ”

رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے اس کے پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد کو پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی چاہتا ہے، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد کو پورا کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ ” آیت ١٨٣۔١٨٥)

 

اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ فرائض اور تکلیفات پر عمل کرنے کے لئے انسان کے نفس کوبڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں انسان اللہ کی خصوصی امداد کا محتاج ہے۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ ان احکامات پر عمل کرنے کے لئے ان میں اسپرٹ پیدا کی جائے۔ ان کی روح ان احکامات کی طرف مائل ہو جائے تاکہ وہ مطمئن ہو جائے اور عمل پر راضی ہو جائے۔ حالانکہ ان احکام پر عمل کرنے میں خود اس کا مفاد مضمر ہے۔ چنانچہ اسی خاطر بہت ہی پیاری آواز میں پکار ا گیا۔ “اے لوگو!جو ایمان لائے ہو “غور کیجئے، یہ آواز انہیں ان کی اصل حقیقت یاد دلاتی ہے۔ پھر روزہ فرض ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے اور یہ تو پہلی امتوں پر بھی فرض ہوتا رہا ہے۔ کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔

اس کا مقصد اہل ایمان کے دلوں کو صاف کرنا ہے۔ انہیں خوف خدا کے لئے تیار کرنا ہے اور ان میں اللہ کی مشیت کا احساس و شعور بیدار کرنا ہے۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔ ”

اس آیت میں روزے کی اصلی غرض و غایت ظاہر ہو جاتی ہے، یعنی تقویٰ جب ایک مومن اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ کا شعور اجاگر ہو جاتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی ہے جو دلوں کا نگہبان ہے اور جو انسان کو روزے کے احکام کی خلاف ورزی سے بچاتا ہے۔ اگرچہ وہ ایسی معصیت سے بھی انسان کو بچاتا ہے، جو کسی حد تک محض وسوسہ ہو۔ قرآن کریم کے اول مخاطب صحابہ کرام ا س کے معنی سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ کے ہاں تقویٰ کس قدر وزنی ہے۔ اس لئے تقویٰ ہی ان کا نصب العین تھا۔ وہ برابر اس کی طرف بڑھتے جاتے تھے اور روزہ ذرائع حصول تقویٰ میں سے چونکہ ایک ذریعہ ہے اس لئے یہ فرض کیا گیا۔ دراصل روزہ وہ راہ ہے جس کی آخری منزل تقویٰ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں قرآن مجید، ایک بلند مقام پر، بالکل سامنے تقویٰ کا ایک روشن نشان رکھ دیتا ہے اور اہل ایمان کی آنکھیں اس نشانہ پر جم جاتی ہیں اور وہ روزہ کے واسطے اور روزے کی امداد سے وہاں تک پہنچنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”تاکہ تم ڈرو۔ ”

بات کا دوسرا رخ دیکھئے، کہا جاتا ہے !یہ تو چند دن ہیں پوری عمر کے روزے تو فرض نہیں کئے گئے۔ تمام زمانے کے لئے تو فرض نہیں ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ کہ بیمار اس وقت تک مستثنیٰ جب تک وہ صحت یاب نہ ہو جائیں۔ مسافروں پر اس وقت تک لازم نہیں جب تک گھر نہ لوٹ آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور سہولت اور تخفیف خاص رعایت دی گئی ہے۔

أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ”چند مقرر دنوں کے روزے ہیں، اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرے۔ ”

سفر اور مرض کے اعتبار سے آیت کا مفہوم عمومیت کا حامل ہے۔ اسے محدود نہ کیا جائے۔ بیماری کی نوعیت کیسی بھی ہو، جس قسم کا سفر درپیش ہو روزہ قضا کرنا جائز ہے۔ لیکن سفر ختم ہونے کے بعد اور بیماری دور ہونے کے بعد چھوڑے ہوئے روزے رکھنے ضروری ہیں۔ آیت میں بیماری کی شدت اور سفر کی مشکلات کو اس رخصت کا سبب نہیں بنایا گیا۔ صرف “مرض “اور “سفر”کا علی العموم ذکر کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے مشکلات پیدا نہ ہوں اور سہولت رہے۔ اب اس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف مرض اور صرف سفر کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ کوئی قید نہیں لگائی ؟یہ صرف اللہ جانتا ہے، ہوسکتا ہے کہ بیماری اور سفر میں کچھ ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہوں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ ہوسکتا ہے کہ سفر اور بیماری میں کچھ ایسی مشکلات ہوں جن کا احساس ہمیں نہ ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حکم کی اصل علامت کو ظاہری نہیں سمجھا تو ہمیں اس بارے میں تاویلات کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال ہمیں ان کی حکمت معلوم ہو یا نہ ہو۔ یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی حکمت و مصلحت ضرور ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ رخصت مرض وسفر کی اس تعبیر سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی جو ہر وقت دین میں رخصت وسہولت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کیا کسی ادنیٰ سبب بلاوجہ ہم فرض عبادات کو ترک کر دیں ؟یہی تو وجہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے سختی کر کے اس رخصت سے استفادہ پر قیود و شروط عائد کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ استدلال ایک ضعیف استدلال ہے۔ محض اس کی وجہ سے اور صرف اس استدلال کی بنا پر ایک مطلق آیت کو مقید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لوگوں کو زنجیروں میں باندھ کر ان کو عبادات پر مجبور کرنا ا اسلام کی مستقل پالیسی نہیں۔ اسلام تقویٰ کے ذریعہ عبادات میں کشش پیدا کرنا مناسب سمجھتا ہے۔ روزہ تو ہے ہی وہ عبادت جس کا مقصد صرف تقویٰ ہے۔

جس شخص کی حالت یہ ہے کہ وہ رخصتیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر عبادات سے پیچھا چھڑاتا ہے، وہ تو پہلے ہی بھلائی سے محروم ہے۔ وہ اگر روزہ رکھ بھی لے تو وہ مقصد پورا نہ ہو گا جو فرضیت صیام کا اصل مطالبہ ہے۔

پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دین لوگوں کا ہے یا اللہ تعالیٰ کا ؟دین اللہ کاہے اور وہ رخصت اور نرمی اور عزیمت و تشدد کے مقامات کو خوب جانتا ہے۔ بعض اوقات رخصت سے ایسے مقاصد کا حصول پیش نظر ہوتا ہے جو رخصت کے بغیر کسی طرح حاصل نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو رعایتیں دی ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ ان سے استفادہ کریں۔ خصوصاً ایسے دور میں جب مسلمانوں کی اخلاقی اور دینی حالت تباہ و برباد ہو چکی ہو تو ایسے حالات میں احکام میں تشدد، اصلاح احوال کے لئے مفید نہیں ہوتا، ضرورت اس بات کی ہے کہ نرمی اور آسانی سے لوگوں کو اخلاقی تربیت دی جائے، اور ان کے دلوں اور ان کی روح میں خوف خدا کو نئے سرے سے زندہ کیا جائے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر میں کہوں گا کہ امت کے عمومی فساد کے وقت احکام میں تشدد کرنا غیر موثر علاج ہے۔ اس سے ذرائع اصلاح بند ہو جاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عبادات کے فرائض اور معاملات کے احکام میں بہت بڑا فرق ہے۔ عبادات میں معاملہ صرف بندے اور اس کے رب کا ہوتا ہے۔ اس میں عوام الناس کا براہ راست فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا۔ جبکہ معاملات میں شریعت معاملے کے ظاہری پہلو پر نظر رکھتی ہے۔ رہی عبادات تو ان کی ظاہری صورت اس وقت تک مفید نہیں ہوتی جب تک ان کی تہہ میں تقویٰ نہ ہو۔ اگر دل میں تقویٰ ہو تو کوئی شخص ادھر ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔ اور ایک متقی شخص صرف اس رخصت سے فائدہ اٹھائے گا جس پر اس کا دل مطمئن ہو گا کہ رخصت سے فائدہ اٹھانے ہی میں اللہ کی رضا اور اطاعت ہے۔

عبادات کے احکام میں سختی کرنا یا تنگی پیدا کرنے کی سعی کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے جن احکام کو عام چھوڑا ہے، ان پر قیود کا اضافہ کرنا، بعض اوقات عوام کے لئے سخت مشکلات تو پیدا کر دیتا ہے لیکن اس سختی کے نتیجے میں کج رو افراد میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اس لئے ہر حال میں بہتر رویہ یہ ہے کہ ہم معاملات کو اس طرح لیں جس طرح اس دین میں اللہ تعالیٰ نے طے کر دیئے ہیں۔ رخصتوں اور عزائم میں جو حکمتیں ہیں ان کے متعلق ہم سے اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس نکتے پر جو کچھ کہہ دیا گیا وہ کافی و شافی ہے۔

اب ہم چاہتے ہیں کہ حالات سفر کے بارے میں جو متعدد احادیث مروی ہیں، وہ سب یہاں نقل کر دیں۔ ان میں سے بعض ایسی ہیں جن میں افطار کی طرف میلان جاتا ہے۔ بعض ایسی ہیں جن میں روزہ توڑنے سے منع نہیں کیا گیا۔ ان سب روایات پر غور کرنے سے وہ نقشہ ذہن نشین ہو جاتا ہے، جس پر صحابہ کرام کا تعامل تھا۔ متاثرین فقہاء نے جو سختیاں کی ہیں ان سے پہلے اس معاملے میں سلف صالحین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طرز عمل بمقابلہ متاخرین فقہاء اور ان کے فقہی بحوث کے، دین اسلام کی روح اور اس کے مزاج کے زیادہ قریب تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں اور ان کے طرز عمل کے مطالعہ سے اسلامی نظریۂ حیات اور اس کی خصوصیات کا ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔

۔ ۱        حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہﷺ فتح مکہ کے سال، ماہ رمضان میں، جانب مکہ نکلے۔ آپﷺ نے روزہ رکھا۔ جب آپﷺ”کراع الغمیم تک پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ اس پر آپﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے اتنا اٹھا یا کہ لوگ دیکھ لیں۔ اس کے بعد اسے نوش فرمایا۔ آپﷺسے عرض کیا گیا کہ “بعض لوگ تو روزے سے ہیں۔ “آپ نے فرمایا!”یہ لوگ نافرمان ہیں، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ ” (مسلم۔ ترمذی)

۔ ۲       حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :”ہم نبیﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ سخت گرم دن تھا۔ ہم ایک جگہ ڈیرہ ڈالا۔ سب سے زیادہ سایہ اس کا تھا جس کے پاس چادر تھی۔ ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ وہ ہاتھ کا سایہ کر کے اپنے آپ کو سورج کی تپش سے بچاتے تھے۔ روزہ دار تو گر پڑے اور جن کا روزہ نہ تھا وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے خیمے لگائے، جانوروں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا:آج تو افطار کرنے والوں نے ثواب لوٹ لیا۔ ” (بخاری۔ مسلم۔ نسائی)

۔ ۳       حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں :رسولﷺ سفر میں تھے۔ آپﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص کے پاس لوگ جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا”اسے کیا ہو گیا ہے ؟”لوگوں نے بتایا”یہ ایک روزہ دار ہے۔ “اس پر رسولﷺ نے فرمایا “سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ ” (امام مالک، امام بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد۔ نسائی)

۔ ۴       عمرو بن امیہ ضمری رضی عنہ سے روایت ہے۔ میں ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:”ابو امیہ کھانے کا انتظار کرو۔ “میں نے عرض کیا :اللہ کے رسول میں تو روزے سے ہوں۔ “آپ نے فرمایا تو پھر سنئے مسافر سے متعلق:”اللہ تعالیٰ نے اس کا روزہ معاف فرمایا ہے اور نصف نماز معاف فرم ادی ہے۔ ” (نسائی)

۔ ۵       انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے نماز کا ایک حصہ مسافر کے لئے معاف فرما دیا ہے۔ سفر میں اس کے لئے افطار کی رخصت ہے۔ دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لئے بھی یہی رخصت ہے، اگر بچے کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو۔ ” (روایت سنن)

۔ ۶ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں :”حمزہ بن عمر اسلمی رسول اللہﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا۔ یہ صاحب بہت روزے رکھتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا!”چاہو تو روزہ رکھو چاہو تو افطار کرو۔ ”

۔ ۷       حضرت انس رضی اللہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں :”ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض نے افطار کیا تھا۔ نہ روزہ دار افطار کرنے والے پر نکتہ چینی کرتا اور نہ افطار کرنے والا رواہ رکھنے والے کے طرز عمل کو معیوب سمجھتا۔ ” (روایت مالک، مسلم، بخاری، ابوداؤد)

۔ ۸       حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے فرماتے ہیں :”ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ماہ رمضان میں شدید گرمی میں نکلے۔ گرمی کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ہم تپش سے بچنے کے لئے سر پر ہاتھ رکھ دیتے۔ ہم سب میں صرف رسول اللہﷺ اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ “(بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد)

۔ ۹        حضرت محمد بن کعب سے روایت ہے فرماتے ہیں :”میں رمضان میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ سفر پر نکلنے والے تھے۔ سواری تیار تھی۔ آپ نے سفر کا لباس پہن رکھا تھا۔ آپ نے کھانا منگوایا اور کھایا۔ سب نے کہا :کیا یہ سنت ہے ؟”آپ نے فرمایا”ہاں !”اس کے بعد سوار ہو گئے۔ ” (ترمذی)

۔ ۱۰      عبید رضی اللہ عنہ بن حبیرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :”میں رسول اکرمﷺ کے ایک صحابی ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کشتی میں تھا، ماہ رمضان میں کشتی کو پانی میں ڈال دیا گیا اور کھانا ان کے قریب لایا گیا۔ انہوں نے فرمایا:”قریب ہو جایئے۔ “میں نے عرض کیا :”آپ نہیں دیکھ رہے کہ مکانات ابھی نظر آتے ہیں ؟”انہوں نے کہا”کیا تم رسول اللہﷺ کی سنت سے منہ پھیرتے ہو؟”چنانچہ انہوں نے بھی کھانا کھایا اور میں نے بھی کھایا۔ “(ابوداؤد)

۔ ۱۱      منصور مکی سے روایت ہے کہ حضرت دحیہ ابن خلیفہ رضی اللہ عنہ اپنے نواح دمشق کے ایک گاؤں سے ماہ رمضان میں سفر پر نکلے۔ سفر اس قدر تھا جس طرح فساط گاؤں سے عقبہ گاؤں ہے اور یہ فاصلہ بقدر تین میل ہے۔ آپ نے افطار کیا۔ آپ کے ساتھ بے شمار لوگوں نے افطار کر لیا، لیکن بعض دوسرے لوگوں نے روزہ افطار کرنے میں کراہت محسوس کی۔ جب وہ اپنے گاؤں لوٹے تو فرمایا:”اللہ کی قسم میں نے آج وہ بات دیکھی ہے جو کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ لوگوں کے ایک گروہ نے رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی سنت سے منہ پھیر لیا ہے۔ اے اللہ مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔ ” (روایت ابوداؤد)

ان تمام احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوشگوار اور آرام دہ سفر میں بھی رخصت افطار کو قبلیت حاصل ہوئی ہے بلکہ افطار کو ترجیح دی گئی ہے۔ اور رخصت پر عمل کرنے کے لئے سفر کی مشقت یا دشواری کو ضروری شرط نہیں قرار دیا گیا جیسا کہ آخری دو احادیث میں سے خاص طور پر معلوم ہوتا ہے۔ آٹھویں حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ اور عبید اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سواکسی اور کا روزہ نہ تھا۔ لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات میں آپﷺ کی لئے بعض خصوصیات ایسی تھیں جو امت کے لئے نہ تھیں۔ مثلاً”لگاتار روزہ”رکھنے سے آپﷺ نے منع فرمایا حالانکہ آپ کبھی کبھی “لگاتار”روزے رکھتے تھے۔ (“لگاتار”کا مطلب یہ ہے ایک دن کا روزہ دوسرے دن سے بلا افطار مل جائے )صحابہ کرام نے اس سلسلے میں آپﷺ سے بات کی تو آپﷺ نے فرمایا!”میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے میرا رب ہر وقت کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ “(بخاری۔ مسلم)پھر پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آپﷺ نے افطار فرمایا اور جنہوں نے افطار نہ کیا تھا ان کے بارے میں فرمایا!”یہ لوگ نافرمان ہیں، یہ لوگ نافرمان ہیں۔ “پھر یہ حدیث بھی سب احادیث سے متاخر کیونکہ یہ فتح مکہ کے سال کا واقعہ ہے، چنانچہ اس میں جو حکم ہے وہ سب سے آخر میں ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسندیدہ عمل طرز عمل کیا ہے۔

ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پردۂ احساس جو تصویر ابھرتی ہے، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسولﷺ کے وقت کچھ مخصوص واقعات تھے، جن میں ایک متعین حکم دینا ضروری تھا۔ رسولﷺملت اسلامیہ کی تربیت فرما رہے تھے۔ آپ کو ایک زندہ اور متحرک صورت حال سے واسطہ تھا۔ محض جامد اور غیر متحرک بتوں سے واسطہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک عام موضوع کے متعلق جو احادیث وارد ہوتی ہیں ان میں احکام و ہدایات میں تنوع ہوتا ہے۔ اس لئے کہ احکام موقع و محل کے مطابق دیئے جاتے ہیں۔

تمام حالات و احادیث کو پیش نظر رکھ کر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں روزے کے مقابلے میں افطار زیادہ افضل ہے اور اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ عملاً مشقت موجود ہے یا نہیں۔

رہی بیماری، تو اس کے بارے میں قوال فقہاء کے علاوہ مجھے کچھ نہیں ملا۔ بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اس سے مراد ہر وہ حالت ہے جس پر مرض اور بیماری کا اطلاق ہوسکتا ہو۔ اس کی نوعیت، اس کی مقدار اور اس کی شدت وغیرہ کی کوئی قید نہیں ہے۔ صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ بیماری اور سفر میں دن کے بدلے قضا کرنی ہو گی اور قضا لوٹانے میں بھی راجح مذہب یہ ہے کہ دنوں کی تعداد پوری کرنی ہے۔ ضروری نہیں کہ روزے مسلسل ہوں۔

ان تفصیلات کا ذکر میں نے اس غرض سے نہیں کیا کہ میں فقہی اختلافات میں کوئی خاص دلچسپی رکھتا ہوں۔ میر مقصد صرف اس بنیادی اصول کی وضاحت ہے جس کے مطابق اسلامی عبادات کو دیکھنا چاہئے۔

سوال یہ ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟کیا یہ کہ انسان کے ذہن میں ایک ایسی شعوری حالت پیدا ہو جائے، جو انسان کے طرز عمل پر اثر انداز ہو۔ یہی وہ حالت ہے جس کا اثر انسان کے طرز عمل پر ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ عبادات میں خشوع کا مطلب ہے دل کا اللہ کی طرف پوری طرح متوجہ اور گداختہ ہو جانا اور پوری زندگی میں حسن وسلوک اور بہتر طرز عمل صرف اسی شعوری حالت کے نتیجے میں پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ تو ایک پہلو ہے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم اس دین کو اسی طرح قبول کریں جس طرح وہ ہے۔ پورے فرائض و تکالیف کے ساتھ۔ اطاعت و خشیت کے ساتھ۔ اس کی عزیمتوں پر عمل کریں اور رخصتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ پوری ہم آہنگی سے، اطمینان قلب کے ساتھ، اس کی حکمتوں پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ خوفی کا پورا پورا احساس کرتے ہوئے۔

اس بحث کے بعد اب پھر سیاق کلام کو لیجیئے !

وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَہُ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَ خَيْرٌ لَہُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ

“اور جو لوگ مشکل سے روز ہرکھ سکتے ہوں تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لئے بہتر ہے۔ لیکن تم اگر سمجھو۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ ”

روزہ سنہ ۲ ہجری میں جہاد کی فرضیت سے کچھ پہلے فرض ہوا۔ پہلے پہل روزہ کی تکلیف مسلمانوں کے لئے بہت ہی شاق تھیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے کھلی چھوٹ دے دی، جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے تھے، (یطیقونہ کے معنی ہیں جو مشکل سے روزہ رکھ سکتے ہوں۔ الاطاقہ کے معنی عربی میں مشکل اٹھانے کے ہوتے ہیں۔ رخصت یہ دے دی کہ ایسے لوگ افطار کر لیں مگر انہیں ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔ اس کے بعد انہیں ترغیب دی کہ وہ مساکین کے ساتھ مزید بھلائی کریں مثلاً یہ کہ بغیر فدیے کی مقرر حد سے زیادہ مساکین کو کھانا کھلائیں۔ مثلاً رمضان شریف کے ایک روزے کے بدلے اگر تین، چار یا اس سے بھی زیادہ افراد کو کھانا دیں فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَ خَيْرٌ لَہُ”اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے تویہ اس کے حق میں اچھا ہے۔ ” وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ”لیکن اگر تم سمجھو تو تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ رکھو۔ “کیونکہ ایسے حالات میں روزہ رکھنا بہت بڑی بھلائی ہے۔ ایسے حالات میں روزہ رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزہ دار پختہ ارادے کا مالک ہے۔ اس کے اندر قوت برداشت موجود ہے اور وہ اپنے آرام کو اللہ کی بندگی کے لئے قربان کرسکتا ہے۔ اور یہ تمام امور جو اسلام کی نظام تربیت کے مقاصد اولیہ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے علاوہ دوسرے لوگ اگر جبر و مشقت کے ساتھ روزے رکھیں تو اس میں ان کے لئے جسمانی فائدہ بھی ہے۔

بہرحال یہ آیت ایک تمہید تھی۔ اور جیسا کہ دوسری آیت میں ذکر ہوا، اصل مقصد یہ تھا کہ تندرست اور مقیم پر بتدریج روزے کو علی الاطلاق فرض کر دیا جائے۔ ہاں البتہ یہ حکم ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لئے اب بھی باقی ہے جن کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہو اور امید بھی نہ ہو کہ وہ پھر سے تندرست ہو کر روزہ رکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کافی بوڑھے ہو گئے تھے اور ان میں روزہ رکھنے کی قدرت ہی نہ تھی۔ اس لئے ان کی جانب سے فدیہ دیا جاتا تھا۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ یہ اس بوڑھے مرد اور اس بوڑھی عورت کے لئے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ ان پر فرض ہو گا کہ وہ ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں :میں رمضان شریف میں عطاء کے پاس گیا۔ دیکھتا ہوں کہ کھانا کھا رہے ہیں۔ اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا !ابن عباس فرماتے ہیں (شھر رمضان)یہ آیت نازل ہوئی۔ سابقہ منسوخ ہو گی۔ البتہ نہایت بوڑھے شخص کے لئے اب بھی یہ رخصت ہے کہ وہ اگر چاہے تو ایک روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا کر افطار کرے۔ غرض اگلی آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ تندرست اور گھر میں مقیم شخص سے یہ رخصت اٹھا لی گئی ہے۔ اور آنے والی آیت فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ”تم میں سے جو بھی اس مہینے کو پائے اس کے پورے روزے رکھے۔ “نے اس آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔

تندرست اور مقیم شخص کو اب دوبارہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ضرور روزے رکھے۔ یہ رمضان شریف کے روزے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے۔ جس میں قرآن عظیم نازل ہوا ہے۔ رمضان میں قرآن کا آغاز ہوا یایہ کہ اس کا زیادہ حصہ رمضان شریف میں نازل ہوا۔ قرآن اس امت کے لئے دائمی کتاب ہے۔ قرآن ہی نے تو اس امت کو گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی بخشی اور اسے اس عظیم الشان عروج تک پہنچایا۔ خوف کے بدلے اسے چین نصیب ہوا۔ اسے اس کرۂ ارض پر تمکنت بخشی۔ اسے ایسے مقومات اور ایسے عناصر دیئے جن کی بنیاد پر وہ ایک امت قرار پائی۔ حالانکہ قرآن سے پہلے وہ کیا تھی؟کچھ نہ تھی اور اب بھی اس قرآن کے بغیر اس کرۂ ارض پر، اس امت کا مقام ہی کیا رہتا ہے ؟اس کے بغیر تو وہ امت ہی نہیں رہتی۔ نہ زمین پر اس کا کوئی مقام ہو گا نہ آسمان میں اس کا کوئی ذکر ہو گا۔ لہٰذا انعامات کاکم از کم شکریہ ہے کہ مسلمان شہر رمضان میں روسے سے ہوں، جس میں یہ قرآن نازل ہوا۔

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيہِ الْقُرْآنُ ہُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْہُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ ”

یہ آیت روزے کو مطلقاً فرض کر دیتی ہے اور تندرست اور مقیم سے افطار کی رخصت واپس لے لی جاتی ہے۔ اب وہ فدیہ دے کر افطار نہیں کرسکتے۔ ماسوائے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے، جس طرح کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں۔ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ”لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ “یعنی جو اس مہینے کو پائے اور مسافر نہ ہو۔ ۔ جو شخص ماہ رمضان کا چاند دیکھ لے۔ اگر کسی کو چاند ہونے کا یقین ہو جائے چاہے جس ذریعہ سے بھی، تو اسپر بھی روزہ اس طرح فرض ہے جو طرح چاند دیکھنے والے پر فرض ہے۔

چونکہ یہ آیت بھی عمومیت کی حامل ہے، اس لئے یہاں مریض اور مسافر کے لئے دوبارہ استثنائی دفعہ تجویز کی گئی۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ”اور جو مریض ہو یا سفر پر وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ ”

اب تیسری مرتبہ پھر اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ روزے کی فرضیت بھی ایک رحمت ہے اور افطار کے لئے رخصت بھی ایک رحمت يُرِيدُ اللَّہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ”اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی نہیں کرنا چاہتا۔ “غرض اسلامی نظریۂ حیات میں تمام عبادات و فرائض کا اصل الاصول یہ ہے کہ معاملات میں نرمی ہو اور ضرورت سے زیادہ سختی نہ ہو۔ یہ عبادات ایسی ہیں کہ جس دل میں صحیح ذوق پیدا ہو جائے، اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ پوری زندگی کے معاملات میں نرم رویہ اختیار کرے سختی نہ کرے۔ ان کے نتیجے میں ایک مسلمان میں سادگی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی زندگی پاک ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف نہیں ہوتا، اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہوتی۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی فرائض و واجبات کی ادائیگی، عملی زندگی کے پورے معاملات میں، ایک سیل رواں کی طرح جاری وساری ہیں۔ اس کی زندگی اس طرح غیر محسوس طور پر، اطمینان، یقین اور تسلیم و رضا کے ساتھ ترقی کر رہی ہوتی ہے جس طرح ایک درخت بڑھتا رہتا ہے اور یہ شعور ہر جگہ مومن کے ساتھ ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کے لئے اجر عبادت سے محروم ہی نہ ہو جائے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّہَ عَلَى مَا ہَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ”اور جس ہدایت سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ ”

اس فریضہ کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے دلوں میں اس ہدایت و راہنمائی کی قدر و قیمت کا صحیح شعور پیدا ہو جائے، جو اللہ تعالیٰ نے انتہائی سہولت اور فراوانی سے انہیں فراہم کر دی ہے اور ان کی حالت یہ ہو جائے کہ دوسرے ایام کے مقابلے میں ماہ صیام میں، ان کے دلوں میں دین کا شعور زیادہ پختہ ہو۔ ان کے دل معصیت اور گناہ کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں۔ ان کے اعضاء معصیت کے ارتکاب کے لئے تیار ہی نہ ہوں۔ وہ اس طرح لگیں کہ اللہ کی ہدایت کو محسوس کر رہے ہیں، بلکہ اسے چھو رہے ہیں۔ ان کے دل اس اطاعت و بندگی کے ساتھ اللہ کی طرف مائل ہوں جیسا کہ رمضان شریف کی بحث کے آغاز میں کہا گیا۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”اس امید پر کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ ”

روزہ جو بادی النظر میں جسم و بدن کے لئے شاق و دشوار نظر آتا ہے دراصل اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے تربیتی مقاصد کیا ہیں۔ اور یہ کہ اس تربیت کے ذریعے ایک مومن کو اس عظیم کردار کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جس کے لئے اس امت کو برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ نہایت ہی خدا خوفی سے، اللہ کی نگرانی اور ایک زندہ ضمیر کے ساتھ اس فرض کو ادا کرے۔

اس سے پہلے کہ روزے کے تفصیلی احکام بیان ہوں، یعنی کس وقت سے کس وقت تک روزہ ہو اور اس میں کیا جائز ہے اور کیا منع ہے، ہم روزے کی برکات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ روزے کی مشقتوں کے عوض اللہ ہمیں پورا پورا معاوضہ عطا کرتا ہے۔ یہ معاوضہ اور صلہ کیا ہے ؟اللہ کا قرب اور دعاؤں کی قبولیت۔ ذرا قرآن کے الفاظ کو دیکھئے۔

 

“میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار کو سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ ” (آیت ١٨٦)

 

“میں قریب ہوں۔ “پکارنے والا جب بھی مجھے پکارے میں اس کی پکار سنتا ہوں۔ کیا نرمی ہے ؟ذرا نظر کرم ملاحظہ ہو؟الفاظ و معانی کی صفائی دیکھو !انس و محبت دیکھو!روزے کی تکالیف کیا۔ بلکہ تمام عبادات کی تکالیف مشقتیں اس قریب و محبت کے مقابلے میں کہاں رہتی ہیں ؟اس انس اور محبت کے ٹھنڈے سایے میں احساس مشقت کہاں باقی رہتا ہے ؟

اس آیت کے لفظ لفظ پر انس و محبت کی تازہ شبنم ہے۔ “میرے بندے !اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دیجئے کہ میں تو ان سے قریب ہوں پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں اس کی پکارسنتاہوں اور جواب دیتا ہوں۔ ” أُجِيبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ

عجیب آیت ہے یہ ! دل مومن کو میٹھی تازگی، خوشگوار محبت، پرسکوں و رضا مندی اور یقین محکم سے بھر دیتی ہے۔ مومن تسلیم و رضا کی جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ اسے پر شفقت وصال نصیب ہوتا ہے۔ و ہ پرامن پناہ گاہ اور پرسکون آرام گاہ میں پہنچ جاتا ہے انس و محبت کی اس فضا میں پر جوش باریابی کے اس ماحول میں اور الہامی قبولیت کے اس پس و پیش میں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایمان اور یہ اطاعت انہیں راہ ہدایت اور راہ مستقیم پر پہنچا دے۔ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّہُمْ يَرْشُدُونَ

“لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لے آئیں شاید وہ راست پالیں۔ ”

تسلیم و رضا اور ایمان باللہ کا آخری فائدہ بھی بندوں کا ہے یعنی ہدایت و راہنمائی اور اصلاح حال۔ خود اللہ کو ایمان اور بندگی سے کیا فائدہ۔ وہ تو دونوں جہانوں سے مستغنی ہے۔

غرض ہدایت وہی ہے جو اللہ پر ایمان اور اللہ کی اطاعت پر مبنی ہو۔

صرف اسلامی نظام ہی انسان کو راہ ہدایت دے سکتا ہے اور اسلامی نظام ہی صحیح راہ ہے۔ اس کے علاوہ تمام نظام عین جاہلیت ہیں۔ عین حماقت ہیں۔ کوئی حق پسند ان پر راضی نہیں ہوسکتا۔ نہ ان نظاموں کے ذریعے انسان راہ ہدایت پا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری بھی تب ہی ممکن ہے کہ جب لبیک کہنے والا راہ ہدایت پر ہو۔ متلاشیان راہ حق کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکاریں، لیکن قبولیت دعا میں جلدی نہ کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکیمانہ مصلحتوں کے مطابق اور ہر پکار کا جواب اپنے وقت اور مناسب انداز میں دیتے ہیں۔

ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ نے ابن میمون کی حدیث اپنی سند کے ساتھ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ کے سامنے اگر کوئی ہاتھ پھیلائے اور اللہ سے خیر کا طلب گار ہو تو اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو نامراد لوٹانے سے بہت حیاء کرتے ہیں۔ ”

ترمذی نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کے ذریعہ سے ابن ثوبان کی حدیث اپنی سند سے اور اسی حدیث کو عبداللہ بن امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبادہ ابن الصامت سے روایت کیا ہے۔ دونوں نے کہا کہ رسولﷺ نے فرمایا:”اس روئے زمین پرجو شخص بھی اللہ کو پکارے اور کوئی خیر طلب کرے، اللہ تعالیٰ یا تو اس کو وہ چیز عطا کر دیتا ہے یا اس مطلوب کے مطابق اس سے کوئی درپیش آنے والی مصیبت کو دور کر دیتا ہے بشرطیکہ وہ کسی بری چیز یا قطع صلہ رحمی کا طالب نہ ہو۔ ”

بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :تمہاری دعا قبول نہ ہو گی بشرطیکہ تم نے جلد بازی نہ کی۔ مثلاً کوئی کہے :”میں نے تو اللہ کو بہت پکارا مگر میری دعا قبول نہ کی گئی۔ ”

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:”بندے کی دعا ضرور قبول ہو گی بشرطیکہ وہ گناہ قطع رحمی کا طلب گار نہ ہو اور جلد بازی نہ کرے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا رسول اللہ!جلد بازی کیسے ہوتی ہے ؟آپﷺ نے فرمایا:”یہ کہے کہ میں نے بار بار اللہ کو پکارا، مجھے یقین نہیں ہے کہ میری دعا قبول ہو گی۔ یوں وہ دعا چھوڑ کر خسارے میں پڑ جائے۔ ”

روزہ دار تو ہوتا ہی مستجاب الدعوات ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ اپنی مسند میں، اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا:میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ “افطار کے وقت ہر روزہ دار ایک دعا کی قبولیت کا حق دار ہوتا ہے۔ “چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی افطار کرتے تو اہل خاندان کو بلاتے اور دعا کرتے۔

ابن ماجہ نے اپنے سنن میں اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ سے روایت کی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:”ہر روز ہ دار کے لئے افطار کے وقت ایک دعا کی قبولیت کا حق ہے۔ ”

مسند احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:”تین افراد ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی۔ امام عادل، روزہ دار یہاں تک کہ افطار کرے اور مظلوم کی پکار۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بادلوں کے اوپر اٹھائے گا اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا :”میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری امداد کروں گا اگرچہ قدرے دیر سے۔ ” یہی وجہ ہے کہ ذکر صیام میں دعا کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔

اب اہل ایمان کے لئے روزے کے ضروری احکام بیان کر دیئے جاتے ہیں۔ روزہ دار کو اس بات کی اجازت مل جاتی ہے کہ ماہ رمضان میں مغرب سے لے کر طلوع فجر تک اپنی بیویوں کے پاس جا سکتے ہیں، اسی طرح اس عرصہ میں کھانا بھی کھا سکتے ہیں۔ روزے کا وقت بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے۔ اسی طرح مدت اعتکاف کے دوران بیویوں کے پاس جانے کا حکم بھی دے دیا جاتا ہے۔

 

“تمہارے لیے روزوں کے مہینے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز قرار دیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے مگر میں نے تمہارے قصور معاف کر دیئے اور تم سے درگز رفرمایا۔ اب تم راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے۔ تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کرو، اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو، بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا، اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے۔” (آیت ١٨٧)

 

ابتداءً یہ حکم تھا کہ اگر روزہ دار افطار کے بعد سوجائے تو اس پر کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانا حرام ہے۔ اگر کسی کی آنکھ لگ جاتی اور پھر وہ اٹھتا تو اگرچہ طلوع فجر سے پہلے اٹھتا۔ اس کے لئے بیوی کے پاس جانا اور کھانا پینا حرام ہوتا۔ بارہا ایسا ہوتا کہ ای ک صحابی پر افطار کے وقت نیند کا غلبہ ہو گیا اور آنکھ لگ گئی۔ اب اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا کہ وہ مسلسل دوسرے دن روزہ رکھے۔ ایک صاحب کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ دوسرے دن اس نے بڑی مشکل سے روزہ پورا کیا۔ بات نبی کریمﷺ تک پہنچی۔ اس طرح ایسے واقعات بھی ہوئے کہ افطار کے بعد ایک صاحب سوگئے، بیوی بھی سوگئی۔ جب جاگے تو ہم بستری کی اور رسولﷺ تک بات پہنچ گئی۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر یہ حکم بھاری ہو رہا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مشکل حکم کو منسوخ کر دیا اور معاملہ آسان ہو گیا۔ چونکہ روزے کے ان احکام میں مشکلات کا سامنا وہ کر چکے تھے۔ تجربہ ان کے ذہن میں تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انہوں نے خوب محسوس کیا۔ آیت نازل ہوئی اور ان کے لئے مغرب اور طلوع فجر کے درمیان کھنا پینا اور بیوی کے پاس جانا جائز قرار دیا گیا۔

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَۃَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ”تمہارے لئے روزوں کے مہینے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے جانا جائز قرار دیا گیا ہے۔ “الرفث”کا مفہوم مباشرت کا آغاز ہے یا عین مباشرت۔ یہاں دونوں کا جواز مقصود ہے۔ دونوں جائز ہیں لیکن دوران بیان، قرآن مجید پر ایک نظر پھیرتا ہوا خوشگوار تاثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔ میاں بیوی کے اس تعلق کے اندر ابریشم کی ملائمت، تازگی اور شیشے کی سی صفائی پیدا کی جاتی ہے۔ نیز اس کو حیوانی درشتگی اور حیوانی نقائص سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ ”

ہُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ”وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ “لباس پردہ پوشی کرتا ہے۔ گرمی سردی سے بچاتا ہے، اسی میاں بیوی کا باہمی تعلق دونوں کا پردہ پوش ہے۔ ان کا محافظ ہے۔ اسلام مخلوق انسانی کو اس کی حقیقت واقعیہ کے لحاظ سے دیکھتا ہے۔ اور حقیقت واقعیہ کے لحاظ سے اس کے فطری تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے اور اس طرح یہ نظام انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے اس کا نظریۂ حیات۔ وہ گوشت وپوست کے فطری تقاضے پورے کرتا ہے اور پورے بھی کرتا ہے خوشگوار اور لطیف فضا میں، پاکیزگی کے لطیف پردوں میں۔

اللہ علیم و خبیر ہے۔ وہ بتا دیتا ہے کہ تمہارے خفیہ جذبات کیا ہیں ؟اور پھر دکھاتا ہے کہ وہ تمہارے فطری دواعی پورنے کرنے کے لئے تمہاری حاجات کو پوری کرتا ہے۔

عَلِمَ اللَّہُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ”اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ “یہ خیانت کیا تھی ؟ان کے دلوں میں دبی ہوئی خواہشات تھیں۔ خفیہ جذبات تھے جو ارتکاب جرم کا تقاضا کر رہے تھے۔ یا مراد یہ ہے کہ تم چوری چھپے اس حکم کو توڑ رہے تھے۔ جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض حضرات سے اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب ہوا لیکن دونوں قسم کے حضرات کو اللہ تعالی نے معاف کر دیا۔ چونکہ ان کی کمزوری اور ناتوانی ظاہر ہو گئی تھی، اللہ تعالیٰ جانتے تھے چنانچہ ان کی حاجت روائی کر دی گئی فَالآنَ بَاشِرُوہُنَّ”اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو۔ ”

لیکن اس کا جواز بھی رضائے باری سے جوڑ دیا گیا۔ حکم دیا گیا کہ اس میں بھی تم اللہ کی طرف متوجہ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّہُ لَكُمْ”اور جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اسے حاصل کرو۔ “یعنی عورتوں سے جو لطف اندوزی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز کر دی ہے، اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے نتیجے میں آنے والی اولاد سے بھی بہر مند بنو۔ دونوں چیزیں حکم خداوندی میں شامل ہیں۔ دونوں وہ سامان ہیں جن کا حاصل کرنا اور جن سے لطف اندوز ہونا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز قرار دے دیا ہے لیکن اس لطف اندوزی کے پس منظر میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ ایک با مقصد فریضہ ہے۔ یہ جسمانی طلب اور مجرد حیوانی تلذذ ہی نہیں ہے جس کا تعلق محض جس سے ہو۔ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلق ایک بلند مقصد سے مربوط ہو کر فریضۂ فطرت قرار پاتا ہے۔ وہ لطف و لذت کے مختصر لمحے کے بجائے انسانیت کے افق پر ایک با مقصد قرار پاتا ہے۔ اسلامی نظام حیات اور اسلام کی طرز زندگی کے اندر اس قسم کے اشارات و ارشادات دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اندر کیا انقلاب لانا چاہتا ہے اور اسے کن خطوط پر ترقی دینا ہے یہ تمام کام وہ انسان کے حدود میں، اس کی قوت برداشت کے اندر اور اس کی پیدائشی مزاج کے مطابق سر انجام دیتا ہے۔ یہ ہے تربیت، سربلندی اور ترقی کا اسلامی نظام۔ جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، جو اسے مخلوقات کے حالات سے خوب خبردار ہے۔ جو باریک بین اور لطیف و خبیر ہے۔

ان اوقات میں جس طرح بیوی کے پاس جانے کی اجازت دی گئی اسی طرح ان اوقات میں کھانے پینے کی اجازت بھی مل گئی۔ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ”راتوں کو کھاؤ یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نظر آ جائے۔ “یعنی اس وقت تک افق اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر روشنی پھیل جائے۔ اس سے مراد افق پر سفید دھاری کا محض “ظہور”نہیں ہے۔ اس کو فجر کاذب کہتے ہیں۔ روزہ بند کرنے کے سلسلے میں جو روایات وارد ہیں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ وقت طلوع الشمس سے تھوڑا پہلے ہے۔ آج کل ہمارے علاقے میں عام طور پر جو اوقات مقرر ہیں ہم انہی کے مطابق روزہ رکھتے ہیں۔ یہ اوقات شرعی وقت سے قدرے پہلے ہی ہیں اور مزید احتیاط کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے اپنی سند سے، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں رسولﷺ نے فرمایا:”تمہیں بلال کی اذان اور “مستطیل صبح “کہیں تمہیں سحری سے نہ روک دے۔

اس سے مراد وہ صبح ہے جو افق میں پھیل جائے (المستطیر)اور طلوع آفتاب سے قدرے پہلے صبح پھیلتی ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ حضرت بلال سوئے ہوئے لوگوں کو سحری سے آگاہ کرنے کے لئے بہت سویرے اذان دیتے تھے اور ابن مکتوم آخر میں روزہ بند کرنے کے لئے اذان دیتے تھے۔ اس لئے کہا گیا کہ تم اذان بلال سے دھوکہ نہ کھا جاؤ۔

اس کے بعد مساجد میں اعتکاف کے دوران مباشرت کے حکم کا بیان ہوتا ہے۔ اعتکاف کے معنی ہیں مسجد میں علیحدہ ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور سوائے حاجات ضروریہ کے مسجد سے نہ نکلنا۔ مثلاً کھانا پینا قضائے حاجت وغیرہ۔ یہ مستحب ہے اور رمضان شریف کے آخری عشرے میں کیا جاتا ہے۔ رمضان شریف کے آخری عشرے میں رسول اللہﷺ اس پر عمل پیرا ہوتے تھے، اعتکاف کا عرصہ عام معمولات زندگی سے الگ ہو کر صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا عرصہ ہوتا ہے۔ اس لئے تجرد اور علیحدگی کو مکمل کرنے کے لئے حکم دیا گیا کہ اس عرصے میں بیویوں کے پاس جانے سے بھی اجتناب ہونا چاہئے۔ تاکہ نفس انسانی تمام آلائشوں سے علیحدہ ہو جائے اور دل تمام مشغولیات سے پاک ہو جائے۔

وَلا تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ “اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ “چاہے روزہ کا وقت ہو یعنی دن یا افطار کا وقت ہو یعنی رات۔

سب سے آخر میں تمام معاملے کو ذات باری کے ساتھ مربوط کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہر انضباطی حکم اور ہدایت کے معاملے میں قرآن مجید کا مستقل انداز بیان ہے۔ یعنی ہر امر میں، ہر نہی میں ہر حرکت میں اور ہر سکون میں۔

تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَقْرَبُوہَا”یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ ”

یہاں اس شدت سے روکا گیا ہے کہ قریب ہی مت جاؤ، تاکہ انسان اور ممنوعات کے درمیان امن کا ایک لازمی علاقہ موجود ہو۔ جو چرندہ چراگاہ کے اردگرد گھومتا ہے آخر کار اس میں داخل ہو جاتا ہے اور ہر وقت انسان بھی اپنے نفس کی نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لئے اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی ممنوعات کے قریب گھومتا رہے جو مرغوب ہوں اور پھر اس اعتماد پر کہ وہ جب چاہے گا اپنے نفس پر قابو پالے گا۔ کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایسے خطرناک امتحان میں ڈالے، چنانچہ یہ امت ایسے ہی معاملے سے وابستہ ہے جو پرلطف ہے اور مرغوبات میں سے ہے۔ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ قریب ہی مت جاؤ۔ حالانکہ مقصد صرف یہ ہے کہ ان ممنوعات کے اندر مبتلا ہونے سے بچو کہ قریب جانے کی ممانعت نہیں ہے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ احتیاط اور خدا خوفی سے کام لینا چاہئے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ آيَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَّقُونَاس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے۔ “بتایا جاتا ہے کہ نزول قرآن اور تبلیغ آیات کا آخری مقصد خدا خوفی کا حصول ہے۔ یہ وہ قیمتی اور عظیم مقصد ہے جس کی اہمیت اور قدر و قیمت صرف ان لوگوں کے ہاں ہے جو ایمان لانے والے ہیں اور جو ہر دور میں قرآن کے طالب ہیں۔

روزہ کے بیان کی مناسبت سے، کھانے کی ایک اور قسم کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ اور وہ ہے لوگوں کا مال ناجائز طور پر کھانا، انہیں مقدمات میں ملوث کرنا۔ چالاکی سے انہیں پھنسانا اور ان کے خلاف حکام کے سامنے شواہد اور قرائن فراہم کرنا اور چالاکی اور چرب زبانی سے ان کے خلاف ڈگری حاصل کر لینا۔ یہ سخت ممنوع ہے۔ کیونکہ حاکم تو مقدمہ کے ظاہری حالات اور شہادت و دلائل کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔ اور اگر جھوئی شہادتیں پیش کر دی جائیں تو یہ فیصلہ خلاف موقع ہو گا اس لئے یہ ممانعت اللہ کے مدد کے ذکر کے بعد خدا خوفی اور خدا ترسی کی مسلسل دعوت کے بعد کی گئی ہے تاکہ نہی کا یہ اہم حکم خدا خوفی کے ایسے ماحول میں وارد ہو جو انسان کو ارتکاب ممنوعات باز رکھے۔

 

“اور تم لوگ نہ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لئے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقع مل جائے گا۔ ” (آیت ١٨٨)

 

ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے َعلی ابن ابوطلحہ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :”یہ اس شخص کے بارے میں ہے کہ اس پر دوسرے کا قرضہ ہو۔ اور اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہو۔ وہ انکار کر دے اور مقدمہ حکام کے پاس جائے۔ وہ جانتا ہو کہ اس پر حق موجود ہے اور اسے خوب علم ہو کہ وہ گناہ گار اور حرام خور ہے۔ “مجاہد رحمہ اللہ، سعیدبن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ، حسن، قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، مقاتل رحمہ اللہ بن حیان اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت ہے۔ ان سب نے کہا !”اگر تمہیں معلوم ہو کہ تم ظلم کر رہے ہو تو ہرگز مقدمہ دائر نہ کرو۔ “بخاری ومسلم میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا!بہرحال میں ایک انسان ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لاؤ اور میں تم میں سے ایک شخص دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کروں۔ یادرکھو کہ جس کے حق میں، میں کسی دوسرے کی کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کے حق میں دوزخ کا ایک ٹکڑا ہو گا۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے اٹھاتا ہے یا اسے چھوڑ دیتا ہے یوں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا معاملہ خود ان کے سپرد کر دیتا ہے جو اپنے دعویٰ کی حقیقت سے باخبر ہوں۔ جج کے فیصلے سے حرام حلال نہیں ہو جاتا، نہ حلال حرام ہو جاتا ہے۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہوتی ہے کہ بظاہر وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے۔ اور گناہ دھوکہ باز کے ذمہ ہوتا ہے۔

حکم قصاص، حکم وصیت اور احکام صیام کی طرح مقدمہ بازی Letigationاور مالی معاملات میں بھی معاملہ خدا خوفی اور تقویٰ کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب احکام دراصل اسلامی نظام کے جسم اجتماعی کے مختلف اجزاء ہیں اور سب کی روح تقویٰ ہے۔ یہ تمام اجزاء تقویٰ کی مضبوط رسی میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات ایک وحدت ہے۔ یہ جز لا یتجزی ہے۔ ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزاء علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ اگر ہم اس کے بعض اجزا پر عمل کریں اور بعض کو ترک کر دیں تو یہ بعض کتاب پر عمل ہو گا اور ایک حصے کا انکار ہو گا جو آخر کار کفر پر منتج ہو گا۔ نعوذ باللہ

٭٭٭

 

 

 

 

درس ۱۲ایک نظر میں

 

سابقہ اسباق کی طرح اس سبق میں امت کو بعض فرائض کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسلامی نظام زندگی کے بعض قومی اور بعض بین الاقوامی معاملات پر قانون سازی کی گئی ہے۔

اس سبق میں چاند کی بڑھتی گھٹتی صورتوں کا بیان ہے۔ گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہونے کا بیان ہے، جاہلیت میں بعض اوقات لوگ اس رسم کی پابندی کرتے تھے۔ احکام قتال، حرام مہینوں میں مسجد حرام کے پاس جنگ اور حج و عمرہ کے اصلاح شدہ احکام ہیں۔ ترتیب کے ساتھ اور مناسب ترامیم کے ساتھ۔ ان تمام معاملات سے وہ اجزاء نکال دیئے گئے ہیں جن کا ربط دور جاہلیت سے تھا۔

سابقہ درس کی طرح اس میں بھی بعض احکام، عقائد و نظریات سے متعلق ہیں اور بعض کا تعلق رسومات و عبادات سے ہے جبکہ بعض احکام کا تعلق جنگ سے ہے۔ ان سب کو ایک ہی نظم میں پرو دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر اور اس کا ڈر یعنی تقویٰ۔

جہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم گھروں میں پیچھے کی طرف سے نہ داخل ہو، سیدھے آؤ۔ اس کے ساتھ ہی نیکی کے مفہوم اور تصور کو درست کر دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حرکات وسکنات کی ظاہری اشکال کا نام نیکی نہیں ہے۔ بلکہ بر خدا خوفی کا نام ہے۔

 

“یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے ہو۔ نیکی تو اصل یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔ ” (آیت ١٨٩)

 

حکم دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ ظلم اور زیادتی سے بچو۔ لیکن اس سے بچنے کا محرک بھی اللہ سے لگاؤ اور اس کا خوف ہونا چاہئے۔ إِنَّ اللَّہَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَاللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ مسجد حرام کے قریب جنگ کے حکم میں بھی کہا جاتا ہے۔ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ مَعَ الْمُتَّقِينَ”اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ”

اب مواقیت حج کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس کے دوران میں شہوانی افعال، بد فعلی اور لڑائی جھگڑے کی ممانعت ہوتی ہے اور نتیجہ وہی تقویٰ ہے۔ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ”سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیز گاری ہے۔ پس اے ہوشمندو!میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ ”

انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا جاتا ہے اور اس میں آخری نتیجہ تقویٰ اور احسان ہے۔ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ” وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ”اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ”

حج کے بعد لوگوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کی یاد میں مشغول ہو جاؤ۔ لیکن آخری نصیحت پھر تقویٰوَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْہِ تُحْشَرُونَ”اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ ”

صاف نظر آ جاتا ہے کہ یہ تمام اور مختلف النوع احکام ایک مضبوط رسی میں نہایت مضبوطی سے باندھے ہوئے ہیں۔ یہ رسی اور یہ رابطہ اس دین کے مجموعی مزاج سے وجود میں آتا ہے۔ اس دین کا مزاج یہ ہے کہ اس میں عبادات شعور سے جدا نہیں ہوتیں اور عبادات سے قوانین عامہ اور دنیاوی قواعد و ضوابط جدا نہیں ہوتے۔ یہ دین اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک دنیاوی امور اور آخرت کے امور کو ساتھ نہ بٹھایا جائے۔ نظریۂ حیات اور قلب ونظر کی دنیا کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی معاملات کو وابستہ نہ کر دیا جائے اور جب تک اس دین کو انسان کی پوری زندگی میں جاری وساری اور غالب نہ کر دیا جائے اور حالت یہ نہ ہو جائے کہ پوری زندگی مکمل طور پر تصور وحدت کے مطابق چل رہی ہے، ایک ہی ہم آہنگ نظام اس پر حاوی ہے ایک ہی اور کامل نظام ہے جو اس میں نافذ ہے اور یہ ایسا نظام ہے جو اللہ کی شریعت پر قائم ہے۔ ایک اکائی ہے اور زندگی کے پورے ب معاملات کو اپنی حدود میں لئے ہوئے ہے۔

سورت کے اس حصے کے آغاز ہی میں ہمارے سامنے ایک منظر آتا ہے۔ اس منظر میں مسلمان زندگی کے مختلف شکلوں کے بارے میں اپنے پیارے نبی کے اسوۂ حسنہ کی طرف نظر کرتے ہیں۔ ایسے حالات کے بارے میں پوچھتے ہیں جو آئے دن زندگی میں انہیں پیش آتے رہتے ہیں۔ وہ یہ جاننے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں کہ وہ ان معاملات میں، اپنے جدید تصور حیات کے مطابق کیا طرز عمل اختیار کریں۔ جوان کے جدید نظام زندگی کے مطابق ہو۔ وہ سب سے پہلے جس چیز کی طرف توجہ مبذول کرتے ہیں وہ مظاہر فطرت ہیں وہ چاند کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے ؟وہ ہلال نظر آتا ہے۔ پھر وہ بتدریج مکمل ہو جاتا ہے اور پھر گھٹنے لگتا ہے۔ پھر ہلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ غائب ہو جاتا ہے اور پھر نئے سرے سے ہلال ہو کر نکلتا ہے۔ پھر وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟مال کی کون سی قسم خرچ کریں ؟وہ کس قدر خرچ کریں ؟خرچ کس نسبت سے ہو؟

پھر وہ سوچتے ہیں کہ مسجد حرام کے نزدیک جنگ کرنا کیسا ہے ؟پھر حرام مہینوں میں جنگ کرنے کا کیا حکم ہے ؟پھر وہ جوئے اور قمار بازی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ نئے نظام میں کیا حکم ہے ؟کچھ ہی عرصہ تو پہلے وہ تو سب شراب خور تھے اور جوئے بازی کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہ تھا۔

پھر اچانک عورتوں کے ایام کے سلسلے میں پوچھتے ہیں کیا ان ایام میں تعلقات زن و شوئی جائز ہیں ؟پھر وہ اپنی بیویوں کے خصوصی تعلقات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسے سوالات خود بیویوں نے بھی کئے۔ غرض پورے نظام زندگی کے بارے میں نہ صرف ان کی سوچ بدل جاتی ہے بلکہ طرز عمل بھی بدل جاتا ہے۔ وہ طہارت اور پاکیزگی میں معراج کمال پر نظر آتے ہیں۔

یہ سوالات نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان سے بے شمار حقائق کا اظہار ہوتا ہے مثلاً:

اولاً یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت اجتماعی زندگی کی جو اشکال تھیں اور ان کے درمیان جو ربط ضبط تھا وہ زندہ، ترقی پذیر اور وسعت پذیر تھا۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل جدید ہو رہی تھی، تشخص قائم ہو رہا تھا اور نئی نئی صورتیں پیش کی جا رہی تھیں۔ افراد معاشرہ اپنی اجتماعی زندگی پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ وہ اب بکھرے ہوئے افراد اور متفرق قبائل نہ تھے۔ اب وہ ایک امت بن چکے تھے، جس کا الگ وجود تھا۔ اپنا نظام تھا۔ اس کی اپنی وضع قطع تھی اور سب افراد اس نظام کے ساتھ پختہ طور پر وابستہ تھے۔ ہر فرد کے لئے یہ بات اہم تھی کہ وہ زندگی کے پاکیزہ خطوط سے پوری طرح باخبر ہو، باہمی تعلقات و رابطہ کی نوعیت کے بارے میں خبردار ہو۔ یہ نئی صورت حال دراصل نئے نظریۂ حیات، نئے نظام زندگی اور نئی قیادت کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔ اور ان کی انسانیت، ان کا شعور اور ان کی فکر غرض پوری سوسائٹی ہمہ جہت ترقی کر رہی تھی۔

اس ہمہ جہت تجسس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی دینی حس کس قدر تیز تھی۔ اسلامی نظریۂ حیات ان کے دلوں میں کس قدر اتر چکا تھا۔ یہ نظریہ ان کی زندگیوں پر یوں چھا گیا تھا کہ وہ روز مرہ کا کوئی کام بھی اس وقت تک نہ کرتے جب تک اس جدید نظریۂ حیات کی روشنی میں یہ یقین نہ کر لیتے کہ وہ درست ہے۔ اس لئے کہ ان سابقہ زندگی کی کوئی بات برقرار نہ تھی۔ انہوں نے دور جاہلیت کی تمام رسموں اور عادتوں کا جوا گردن سے اتار پھینکا تھا۔ اب انہیں قدیم رسومات پر کوئی اعتماد نہ تھا اور زندگی کے ہر کام اور ہر موڑ پر ایک جدید تعلیم کے منتظر تھے۔ وہ ہر وقت بیدار اور با شعور رہتے تھے اور ان کی یہ شعوری حالت سچائی پر پختہ عقیدے کی وجہ سے تھی۔ ان کے نفوس تمام جاہلی عادات اور طور طریقوں سے پاک ہو گئے تھے۔ وہ جاہلیت کی ہر بات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیتے تھے اور اسے ترک کر دیتے تھے۔ جدید نظریۂ حیات سے ہدایات لینے کے لئے وہ ہر وقت تیار رہتے تھے۔ وہ اپنی نئی زندگی کو خالصتاً اس نئے نظریہ حیات کے مطابق جلد از جلد استوار کرنے کا عزم کر چکے تھے۔ یہ جدید نظریہ حیات ان کی زندگی کو نئے سانچوں میں ڈھال رہا تھا۔ قدیم عہد کی جن باتوں کو بدرجہ مجبوری باقی رکھا گیا تھا انہیں بھی وہ جدید رنگ اور تربیت کے ساتھ لیتے تھے۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر آنے والا نظام قدیم نظام کی جزئیات تک کو ترک کر دے۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ جدید نظام کی بعض مصالح جزئیات کو منتخب کر کے انہیں جدید نظام میں سمو دیتا ہے۔ وہ اس جدید نظام کا جزو ہو جاتی ہیں۔ مثلاً حج کے اکثرمناسک ایسے ہیں جنہیں اسلام نے باقی رکھا ہے۔ اور وہ یوں ہو گئے کہ گویا وہ اسلامی نظام زندگی کے سرچشمے سے پھوٹے ہیں۔

تیسری بات اس دور کی تاریخ سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں مشرکین مکہ اور یہود مدینہ بار بار، اسلامی اقدار کے سلسلے میں، مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسلام نے جاہلیت کے رسوم عبادت میں جو ترمیمات کی تھیں یا اس دور میں جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے یہ عناصر کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے اور اسلام کے خلاف ہر وقت گمراہ کن پروپیگنڈے میں لگے رہتے تھے۔ مثلاً مشرکین عبداللہ بن حجش کے سریہ کے سلسلے میں سخت اعتراض کرتے تھے۔ انہوں نے حرام مہینوں میں مشرکین پر حملہ کر دیا تھا۔ اور اس کی وجہ سے بے شمار سوالات پیدا ہو گئے تھے جن کا جواب ضروری تھا۔ اندرونی طور پر قرآن کریم جاہلی تصورات، جاہلی رسومات اور جاہلی نظام کا ابطال کر رہا تھا تو ظاہری طور پر اسلام اور مسلمانوں کے ان دشمنوں کے خلاف اس نے اعلان جنگ کر دیا تھا۔ یہ اندرونی اور بیرونی جنگ مسلمانوں کے لئے اب بھی بپا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسانی نفس اور انسانی ذہن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اسلام کے وہی دشمن آج بھی تیغ بکف ہیں اور قرآن کریم اس وقت جو جواب دے رہا تھا آج بھی وہی جواب دے رہا ہے اور یہ امت آج بھی، اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کرسکتی جب تک حق و باطل کی اس جنگ میں قرآن عظیم کو اپنا رہنما نہیں بناتی۔ یقیناً قرآن کریم آج بھی وہ کارہائے نمایاں دکھائے گا جو اس نے سینکڑوں سال پہلے دکھائے تھے۔ جب تک مسلمان اس حقیقت کا یقین اور تسلیم نہ کریں گے اور اس پر عمل نہ کریں گے، ان کے لئے کوئی نجات نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس دنیا میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

اس حقیقت پر غور کرنے کا ادنیٰ نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ انسان اس تصور اور ادراک کے ساتھ، اس کتاب کو قبول کرے۔ وہ اس کی طرف اس طرح متوجہ ہو کہ اس کی تعلیمات متحرک صورت میں نظر آئیں، وہ میدان عمل میں ہو اور ذہن کو ایک جدید تصور حیات دے رہا ہو۔ جاہلیت کے تصورات کا مقابلہ کر رہا ہو، اس امت کو لغزشوں سے بچا رہا ہو اور اس کی مدافعت کر رہا ہو، اس حال میں متوجہ نہ ہو، جس طرح آج ہم اس کی طرف رخ کرتے ہیں۔ میٹھے نغمے کی طرح ایک اچھے کلام کی صورت میں جو ترتیل سے پڑھا جا رہا ہے اور بس ……..

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تو قرآن مجید کو ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کے لئے اتارا تھا۔ اسے اس لئے اتارا تھا کہ وہ اس کرۂ ارض پر ایک پاکیزہ اور مکمل زندگی تخلیق کرے۔ اسے حرکت دے۔ راستے کی مصیبتوں، لغزشوں اور کانٹوں کے درمیان سے انسان کی راہنمائی کر کے اسے پرامن منزل تک پہنچائے۔

٭٭٭

 

 

 

درس نمبر ۱۲ تشریح آیات (۱۸۹تا     ۲۰۳)

 

 

“اے نبی، لوگ تم سے چاند کی گھٹنی بڑھنی کے متعلق پوچھتے ہیں، کہو یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں، نیز ان سے کہو کہ یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو۔ نیکی تو اصل یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔ ” (آیت ١٨٩)

 

بعض روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ سے یہ سوال کیا گیا تھا، جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں، یعنی چاند کا ظہور اس کا گھٹنا بڑھنا کیونکر ہوتا ہے ؟بعض روایات میں آتا ہے کہ سوال اس طرح تھا کہ رسولﷺ چاند کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟سوال کا یہ انداز جواب سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ ا س لئے رسولﷺ سے کہا گیا کہ اے نبی تم یہ جواب دو: قُلْ ہِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ”یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کے تعین اور حج کی علامتیں ہیں۔ “یعنی حج کا احرام باندھنے کا وقت، حج سے باہر آنے کا وقت، روزہ بند کرنے کا وقت، روزہ کھولنے کا وقت۔ نکاح، طلاق اور عدت کا وقت۔ معاملات تجارت اور قرضوں کی ادائیگی کے اوقات وغیرہ۔ تمام دینی امور میں اور تمام دنیاوی امور میں وقت کاحساب ضروری ہے اور اس لئے چاند کا حساب رکھنا تمام امور میں لابدی ٹھہرا۔

چاہے یہ پہلے سوال کا جواب ہو یا دوسرے کا، تعلق اس کا بہرحال مسلمانوں کی عملی زندگی کے ایک حقیقی مسئلے سے ہے۔ محض سائنسی اور علمی مسئلے کا حل یہاں مقصود نہیں ہے۔

قرآن کریم نے بھی انہیں چاند کے دو فائدے گنوا دئیے جو ان کی عملی زندگی میں رات دن انہیں نظر بھی آتے تھے لیکن قرآن نے انہیں زمین کی گردش یا چاند کی گردش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، حالانکہ سوال کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟سوال یہ تھا:چاند ہلال بند جاتا ہے کیسے ؟پھر اسی طرح قرآن کریم نے انہیں یہ بھی نہیں بتایا کہ نظام شمسی میں چاند کا کام (Function)کیا ہے یا اجرام سماوی کی گردش میں چاند کا مدار کیا ہے ؟یہ بات بھی یقیناً سائل کے سوال میں شامل تھی۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عملی جواب دیا تھا اس کا راز کیا ہے۔ قرآن کریم نے سائنسی معلومات کے بجائے محض عملی فوائد کیوں گنوائے ؟

دراصل قرآن کریم کا مقصد نزول یہ تھا کہ انسان کو ایک خاص نظریہ حیات دے۔ ایک خاص مقام زندگی عطا کرے۔ اس کے نتیجے میں ایک مخصوص معاشرہ وجود میں آئے۔ قرآن کریم کے پیش نظر اس کرۂ ارض پرایک امت کی تشکیل تھا، جس نے زمین پر پوری انسانیت کی قیادت کا اہم فریضہ ادا کرنا تھا۔ اس کو تاریخ انسانیت کے اندر ایک ایسے معاشرے کی تخلیق کرنی تھی جو تمام گزشتہ انسانی معاشروں میں سبب سے زیادہ بلند ہو۔ اس کو انسانی زندگی کا ایک ایسا نمونہ پیش کرنا تھا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ اس کو طرز زندگی کے بنیادی اصول وضع کرنا تھے اور لوگوں کو ان کی طرف دعوت دینی تھی۔

قرآن کی زبان میں کیا اللہ تعالیٰ اس سوال کا علمی جواب دیتے ہیں۔ ظاہر ہے قرآن ان احکام کا مجموعہ ہے جوانسانی زندگی کو پاکیزہ بنانے اور اللہ پرستی تک لے جانے والے ہیں۔ یہ علم فلکیات کی کتاب نہیں ہے۔ اس لئے کوئی علمی جواب تلاش کرنا قرآن کے مزاج اور موضوع سے بے خبری کی دلیل ہو گا۔ یوں بھی یہ علوم ایک نہج پر نہیں۔ نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ ان نظریات کو انسانی فہم و ادراک تک لانے کے لئے بے شمار معلومات و نظریات کی ضرورت ہوتی رہی ہے۔ اور اس وقت پوری انسانیت کو جو منبع علم تھا اس کے مطابق یہ علمی جواب ایک معمہ ہی نظر آتا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن نے علمی جواب کو چھوڑ دیا۔ قرآن کریم اپنے مقصد نزول کو اولیت دیتا ہے اور اس فہم میں علم فلکیات کے انداز میں جواب موزوں ہی نہ ہوتا اور اگر یہ علمی جواب ضروری بھی ہوتا تو بھی قرآن کریم جیسی کتاب اس کے لئے موزوں نہ تھی جس کا موضوع سائنس نہیں ہے کیونکہ قرآن بلند تر مقاصد کے لئے نازل ہوا ہے۔ قرآن مجید کے بعض نادان دوست اس میں علوم جدیدہ تلاش کرتے ہیں جو قرآن کا موضوع ہی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں کینہ پرور دشمنوں کا خیال یہ ہے کہ قرآن مجید طبیعی علوم کا مخالف ہے۔ یہ بھی خام خیالی ہے۔ گو قرآن موضوع مادی علوم نہیں، لیکن اس کا اعجاز یہ بھی ہے کہ ان علوم کے سرچشمے اس میں تلاش کئے جا سکتے ہیں۔

یہ دونوں طرف کے خیالات اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ان کے حامل حضرات نے اس کتاب مقدس کے مزاج کو نہیں سمجھا۔ اس کے مقاصد اور اس کے دائرہ کار ہی کو یہ حضرات متعین نہیں کرسکے۔ قرآن کا دائرہ کار بالیقین نفس انسانی اور حیات انسانی کا تزکیہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کائنات اور ان موجودات کے سلسلے میں انسان کو ایک ایسا تصور دیا جائے جس کے ذریعے یہ اپنے خالق سے پیوستہ ہو جائیں اور پھر اس تصور کی اساس پر زندگی کا ایک پورا نظام تعمیر کیا جائے جس میں انسان آزادی کے ساتھ اپنی پوری قوتوں کو کام میں لائے۔ ظاہر ہے کہ انسانی قوتوں میں، ایک قوت، قوت عقل وا دراک بھی ہے اور یہ قوت صحیح طرح کام تب ہی کرسکتی ہے جب اس کرۂ ارض پر ایک صالح نظام قائم ہو جائے اور وقت عقلی کو آزادانہ طور پر تحقیقات علمیہ کا موقع دیا جائے اور علمی وسائنسی نتائج اخذ کرنے میں آزادانہ طور ترقی و کمال کے جس مقام تک پہنچنا چاہے پہنچ جائے۔ لیکن انسان اپنی اس محدود قوت ادراک کے ذریعے میں جس مقام پر بھی پہنچے وہ آخری مقام نہ ہو گا جیسا کہ تجربات سے ظاہر ہے۔

قرآن کا موضوع “انسان”ہے۔ انسان کا تصور و نظریہ، اس کا فہم اور شعور، اس کا طرز عمل اور کردار، اس کے تعلقات و باہمی روابط ہے۔ رہے طبیعی علوم، انواع واقسام کی مادی ایجادات، تو وہ قرآن کے موضوع بحث نہیں۔ بلکہ یہ عقل انسانی کے لئے موضوع بحث اور مرکز عمل ہیں۔ یہ عقل انسانی کا کام ہے کہ وہ اس میدان میں نظریات قائم کرے اور نئے نئے انکشافات کرے۔ کیونکہ عقل انسانی کا فہم و ادراک ہی وہ امتیاز ہے جس کی وجہ سے خلیفۃ اللہ فی الارض کا مقام حاصل ہوا ہے۔ اور یہ خصوصیت انسان کو اس کی تخلیق کے وقت سے دی گئی ہے۔ رہا قرآن مجید تو وہ صرف فطرت انسانی کا رہنما و نگہبان ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ انسان کی فطرت میں فساد واقعہ نہ ہو، اس نظم میں خلل نہ پڑے جس کے مطابق زندگی بسر کر کے یہ اپنی فطری طاقتوں کو کام میں لائے گا۔ قرآن کریم انسان کو اس کائنات کے بارے میں ایک جامع علم دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کا تعلق اس کے خالق کے ساتھ کیا ہے ؟اس کے مختلف اجزاء کا (جن میں سے ایک خود انسان بھی ہے )باہمی تعلق کیا ہے ؟اس کے بعد قرآن نے انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے کہ وہ جزئیات کا ادراک خود کرے اور اپنے منصب خلافت کی کارکردگی میں ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہیں۔ قرآن کریم ان جزئیات کی تفصیل مہیا نہیں کرتا تو یہ انسان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

مجھے تو قرآن مجید میں ان نام نہاد حامیوں کی سادہ لوحی پر بے اختیار ہنسی آتی ہے، جو قرآن مجید کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت کرتے ہیں جو اس کا حصہ نہیں اور نہ وہ اس کے مقاصد میں شامل ہیں۔ یہ لوگ قرآن مجید سے علم طب، علم کیمیا اور علم فلکیات کی جزئیات ثابت کرتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کے نزدیک قرآن مجید کی عظمت ثابت کرنے کے لئے یہی بات رہ گئی ہے ؟

اپنے موضوع کے اعتبار سے بالیقین قرآن کریم ایک عظیم و کامل کتاب ہے اور ان تمام علوم کے مقابلے میں قرآن کا موضوع ایک عظیم الشان موضوع ہے۔ کیونکہ اس کا موضوع خود انسان ہے۔ ادراک (جس سے یہ علوم عبارت ہیں )کا سرچشمہ انسان کی قوت مدرکہ ہے جو انکشافات کرتی ہے اور دنیا میں انسان ان سے جو فائدہ اٹھاتا ہے۔ تحقیقات و تجربات اور ان سے نتائج کا اخذ کرنا عقل کے خواص ہیں اور عقل خود انسان کا ایک جزء ہے اس کے مقابلے میں قرآن مجید کا موضوع خود انسان کی تشکیل و تکوین ہے۔ اس کی شخصیت کی تعمیر، اس کے ضمیر، اس کی عقل اور اس کی فکر کی تعمیر ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید ایک صالح انسانی معاشرہ کی تعمیر سے بحث کرتا ہے جس میں انسان ان قوتوں کو کام میں لائے جو اللہ تعالیٰ نے نفس انسان میں ودیعت کی ہیں۔ جب ایک سلیم الطبع انسان صحیح تصور حیات، صحیح فکر، پختہ شعور پا لیتا ہے اور ایک ایسا اسلامی معاشرہ اسے مل جاتا ہے جس میں وہ آزادی سے کام کرتا ہے تو پھر قرآن مجید اسے آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں وہ تحقیقات اور تجربے کرے۔ قرآن صرف صحیح فکر، صحیح شعور اور صحیح تصور حیات کے معیار مقرر کر دیتا ہے اور بس۔

قرآن کریم بعض اوقات اس کائنات کے وجود کے بارے میں اور اس کے اجرام کے باہمی ربط اور پھر کائنات اور اس کے خالق کے درمیان ربط کے بارے میں صحیح فکر دینے کے لئے کچھ آخری حقائق بیان کرتا ہے۔ یہ وہ حقائق ہوتے ہیں جن پر علم طبیعات جا کر ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا ان حقائق کے ساتھ ہمیں عقل انسانی کے ان مفروضات کو نہیں ملانا چاہئے جو انسانی نظریات ہیں اور جنہیں عوام سائنسی حقائق کہتے ہیں۔ اور جن تک انسان ان تجربات کے نتیجے میں پہنچا ہے اور جنہیں وہ قطعی اور آخری حقائق سمجھتا ہے، اس لئے قرآن کریم جن حقائق کا ذکر کرتا ہے وہ قطعی اور انتہائی ہیں۔ لیکن وہ حقائق جن تک انسان بذریعہ عقل و تجربہ پہنچتا ہے۔ وہ آخری اور قطعی ہرگز نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے تجربات، میسر آلات کے ذریعہ سے حاصل ہوتے ہیں اور آلات کی قوت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، لہٰذا یہ حقائق فہم انسانی اور اس کو میسر آلات کی قوت کی حد تک ہی ہوسکتے ہیں۔ خود انسانی تحقیقات اور تجربات کے جو مسلم اصول ہیں ان کے مطابق بھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کے انسان کی دریافت کردہ حقائق، قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق کے مقابلے میں معیار صحت ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ حقائق علم بشری کے حدود تک ہیں۔ (اور قرآنی حقائق علم بشری سے ماوریٰ ہیں )

یہ تو تھی بات سائنسی تجربات کی۔ رہے وہ نظریات یا مفروضات جنہیں سائنسی اور علمی کہا جاتا ہے۔ مثلاً فلکیات کے بارے میں نظریات، انسان کی تخلیق اور ترقی کے بارے میں نظریات، انسان کی نفسیات اور اس کے طرز عمل کے بارے میں نظریات، انسانی معاشرے اور اس کی ترقی کے بارے میں نظریات، یہ سب نظریات معروضی ہیں اور انسانی قیاس اور گمان پر مبنی ہیں۔ انہیں کسی مفہوم میں بھی سائنسی حقائق نہیں کہا جا سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نظریات، اس کائنات کے مظاہر، انسانی زندگی، انسانی نفسیات اور انسانی معاشرے کی تفسیر و تشریح ہیں اور ان کی اصلیت یہ ہے کہ ایک نظریے کی جگہ دوسرا نظریہ لیتا چلا آ رہا ہے۔ ان کا اعتبار اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دوسرا نظریہ اس کی جگہ نہیں لے لیتا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ مفروضات اور یہ نظریات ہمیشہ تغیر اور تبدل کے قابل ہوتے ہیں اور ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ بعض اوقات تو وہ یکلخت الٹ ہو جاتے ہیں، اس لئے کہ بعض اوقات انسان تجربات اور ملاحظہ کا کوئی جدید اور زیادہ طاقتور آلہ دریافت کر لیتا ہے۔ یا بعض اوقات جب انسان ان تمام مشاہدات کو اکٹھا کرتا ہے اور ان پر مجموعی حیثیت سے غور کرتا ہے تو وہ ایک جدید نظریہ اور مفروضہ قائم کر لیتا ہے۔

وہ کوشش اور تفسیر، جو ان عام قرآنی اشارات کو سائنس کے متغیر و متبدل نظریات سے وابستہ کرتی ہے، یا ان سائنسی حقائق سے وابستہ کرتی ہے جو بذات خود آخری اور قطعی نہیں ہیں توایسا نتیجہ مرتب نہیں ہوتا جسے قطعی کہا جا سکے۔ یہ کوشش ایک تو خود سائنس کے منہاج بحث و تحقیق کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسی کسی کوشش کے فوائد و مقاصد صرف تین ہوسکتے ہیں اور تینوں ایسے ہیں جو قرآن مجید کے شان جلالت اور علو مرتبت کے منافی ہیں۔

۱۔         یہ ایک قسم کی اندرونی اور ذہنی شکست خوردگی ہے جو لوگ اس ذہنی مرعوبیت کا شکار ہوتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید سائنس قرآن مجید پر غالب ہے اور اس سے برتر درجہ رکھتی ہے۔ یہ قرآن مجید کی تفسیر و تشریح میں سائنس کے اکتشافات بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید خود اپنے موضوع پر ایک مکمل کتاب ہے۔ اور اس نے جو حقائق بیان کئے ہیں وہ آخری حقائق ہیں، جبکہ سائنس کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے موضوع کے ہر دائرے میں ناقص ہے۔ وہ آج جس حقیقت کو ثابت کر رہی ہے، کل خود اس کی تردید کر دیتی ہے۔ سائنس کی رسائی جہاں تک بھی ہو، وہ آخری اور مطلق نہیں کہلا سکتی۔ سائنس کی ہر دریافت، انسانی قوات، اس کے عقلی ادراکات اور اس کے آلات معاونہ کے حدود و قیود کے ساتھ مقید ہوتی ہے اور یہ سب ادوات و آلات ایسے ہیں جو اپنے مزاج وساخت کے اعتبار سے کوئی ایک آخری اور مطلق حقیقت کو گرفت میں نہیں لا سکتے۔

۲۔        دوسرا سبب یہ ہے کہ ایسے حضرات نے سرے سے قرآن مجید کے مزاج اور اس کے مقاصد ہی کو نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید آخری اور مطلق حقائق کا مجموعہ ہے اور وہ انسان کی تعمیر و تربیت بعینہ ایسے انداز میں کرنا چاہتا ہے جو نوامیس فطرت اور ا س کائنات کے مزاج کے خلاف نہ ہو اور جہاں تک انسانی مزاج اس کا متحمل ہو۔ یہ اس لئے کہ انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان کوئی تصادم نہ ہو، بلکہ انسان اس کائنات کے راز معلوم کرے، قوانین فطرت دریافت کرے اور انہیں اپنے منصب خلافت فی الارض کے فرائض سر انجام دینے میں استعمال کرے۔ ان قوانین فطرت کو جو مکمل فکر و نظر، تحقیق و تطبیق اور عمل و تجربہ کے نتیجے میں خود اس نے حاصل کئے ہوں۔ یہ نہ ہو کہ اسے کوئی تیار علوم دے دے اور وہ انہیں من و عن تسلیم کر لے۔

۳۔        تیسری قباحت یہ ہے کہ ان حضرات کو بڑے ہی تکلف اور چالاکی کے ساتھ، آیا ت قرآنی میں مسلسل تاویل کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ حضرات ان آیات کو اٹھائے ہوئے، بے آبروئی کے ساتھ ان سائنسی نظریات اور مفروضات کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں، جنہیں کوئی ثبات و قرار حاصل نہیں ہے۔ ان نظریات کے شب و روز میں تو ہر شب تاریک تر ہوتی جا رہی ہے اور ہر دن ایک نیا نظریہ لے کر آتا ہے جو سابق نظریہ کو باطل کر دیتا ہے۔ کیا ہم بھی سابق تفاسیر کو باطل کرتے چلے جائیں ؟

جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں، یہ انداز فکر، نہ صرف یہ ہے کہ قرآن عظیم کی شان و عظمت و جلالت کے خلاف ہے، بلکہ خود سائنس کے منہاج تحقیق و تجربہ کے بھی خلاف ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ سائنس نے اس کائنات، نسل انسانی اور زندگی کے بارے میں جو حقائق و نظریات پیش کئے ہیں یا مسلسل دریافت ہو رہے ہیں، ہم قرآن مجید کے فہم و ادراک میں ان سے کام نہ لیں اور انہیں بالکل نظر انداز کر دیں۔ ہرگز نہیں۔ ہماری مراد یہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں خود فرماتے ہیں :

سَنُرِيہِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِہِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّہُ عَلَى كُلِّ شَيْء ٍ شَہِيدٌ(٥٣)”عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ ”

اس آیت کا مقتضا یہ ہے کہ ہم نفس انسانی اور آفاق کے متعلق سائنس کی فراہم کردہ تازہ بتازہ معلومات پر مسلسل غور و فکر کرتے رہیں اور اپنی اس محدود قوت مدرکہ اور دائرہ تصور میں، قرآنی مدلولات و مفاہیم کا دائرہ وسیع کرتے چلے جائیں۔

یہ کیسے ؟اور پھر بغیر اس قباحت کے قرآن مجید کے مطلق اور آخری مطالب کو ان سائنسی اکتشافات سے وابستہ بھی نہ کریں جو آخری نہیں ہیں جو مطلق نہیں ہیں، اضافی ہیں۔ یہاں ایک مثال مفید طلب ہے :

قرآن کریم میں ہے وَخَلَقَ کُلَّ شَئٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیرًا “اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پورے پورے اندازے سے۔ ”

جب سائنس نے ترقی کی تو معلوم ہوا کہ اس کرۂ ارض پر بعض نہایت ہی پنہاں سہولتیں ہیں، بعض نہایت ہی دقیق ہم آہنگیاں ہیں۔ یہ کرۂ ارض، اپنی اس مخصوص ہیئت کے ساتھ، سورج سے اس مخصوص فاصلے پر، چاند سے ایک متعین بعد پر، سورج اور چاند کے مقابلے میں ایک حساس حجم لئے ہوئے، اس قدر تیزی سے رواں دواں، اپنے محور کے گرد ایک خاص انداز میں جھکا ہوا، اس موجودہ پانی اور سطح کے ساتھ اور ان کے علاوہ اپنی ہزاروں دوسری خصوصیات کے ساتھ، صرف یہ کرۂ ارض ہی اس قابل ہے کہ یہاں زندگی اور زندگی کے دوسرے ملحقات قائم رہ سکتے ہیں۔ ان حقائق میں سے کوئی بھی عارضی انتظام نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کام بغیر کسی منصوبے کے یوں اتفاقاً ہو رہا ہے۔ ان حقائق کا سائنٹیفک مطالعہ قرآن مجید کی اس آیت میں کس قدر وسعت پیدا کر دیتا ہے :وَخَلَقَ کُلَّ شَئٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیرًا

ذرا سوچئے اکتشافات جدیدہ نے اس آیت کے مفہوم کو کیا وسعت دے دی ہے۔ پوری سائنس آیت کی تفسیر ہو گئی، لہٰذا قدرت کی مزید کاریگری معلوم کیجئے اور یوں آیت کے مفہوم کو وسیع سے وسیع تر کرتے چلے جائیے۔

قرآن کریم میں ہے خَلَقَ الاِنسَانَ مِن سُلٰلَۃٍ مِّن طِینٍ “اس نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا۔ “صدیوں بعد والاس اور ڈارون نظریہ ارتقا پیش کرتے ہیں۔ وہ فرض کرتے ہیں کہ زندگی کا آغاز ایک خلیہ سے ہوا۔ اس خلیہ نے پانی میں نشوونما پائی۔ وہ خلیہ ارتقا کی منزلیں طے کرتے کرتے موجودہ انسان پر منتج ہوا۔ ضرورت تھی کہ اس نظریئے کو علمی معیار پر پرکھا جاتا، لیکن ہم دوڑے قرآن مجید کو اٹھاتے ہوئے، نہایت بے آبروئی کے ساتھ اس نظریہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا بلکہ اسے قرآن کی تفسیر بنا دیا۔

اول تو یہ نظریہ کوئی آخری نظریہ نہیں ہے۔ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری کہ اس میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہو گئیں۔ قریب ہے کہ سرے سے پورا نظریہ ہی ختم ہو جائے۔ کیونکہ یہ ناقص معلومات پر مبنی تھا اور اس کی کمزوریاں ظاہر بھی ہو چکی ہیں۔ مثلاً حیوانات کے ہر نوع کے کچھ موروثی خصائص ہوتے ہیں اور ہر نوع کی ومروثی اکائیان ان کا تحفظ کرتی ہیں۔ یہ ایک نوع کو دوسرے نوع کی طرف منتقل ہونے ہی نہیں دیتیں۔ یہ ایک ایسا نقص ہے جس کے ذریعہ سرے سے یہ نظریہ ہی ختم ہوسکتا ہے اور آج نہیں تو کل یہ نظریہ ختم ہو گا۔ جبکہ قرآن مجید آخری حقائق پر مشتمل ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ قرآن مجید کا مفہوم یہی ہو جو نظریۂ ارتقا ء نے پیش کیا۔ قرآن نے تو صرف انسانی کی اصلی تخلیق کا تذکرہ کیا ہے، انسان کی نشوونما کی تفصیلات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اصل تحقیق ایک آخری حقیقت ہے۔ وہ آخری نقطہ جہاں سے وجود انسان کا آغاز ہوا بس یہی آیت کا مفہوم ہے۔ اس کی مزید تفصیلات کیا تھیں ان کا ذکر یہاں نہیں ہے۔

قرآن مجید نے کہا وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا(یٰس:٣٨)”اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ “اس آیت میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ سورج چلتا ہے۔ سائنس کی دریافت ہے کہ سورج اپنے اردگرد کے تاروں کی نسبت سے تو ۱۲میل کی سیکنڈ کی رفتار سے چلتا ہے۔ لیکن وہ اپنی کہکشاں کو لئے ہوئے، جس کا وہ خود بھی ایک ستارہ ہے، ۱۷۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا جا رہا ہے، لیکن سائنس کی یہ معلومات بھی قرآن مجید کی اس کا آیت عین مدلول نہیں ہیں۔ کیونکہ سائنس نے ابھی تک جو کچھ دریافت کیا ہے وہ نسبتی ہے۔ آخری علم یا حقیقت نہیں۔ اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ رہی آیت تو اس میں اس آخری حقیقت کا اظہار ہوا ہے کہ سورج چلا جا رہا ہے۔ بس ہم اس رفتار کو کسی سائنسی رفتار سے وابستہ نہیں کرسکتے جو بذات خود متبدل ہے۔

ایک دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :اَوَلَم یَرَ الَّذِینَ کَفَرُوا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ کَانَتَا رَتقًا فَفَتَقنَاھُمَا”کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے )انکار کر دیا غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا۔ “سائنس ایک نظریہ پیش کرتی ہے۔ “یہ کہ کرۂ ارض سورج کا ایک حصہ تھا، جو اس سے جدا ہو”اور ہم بھاگے، سانس پھولا ہوا، زبان نکلی ہوئی۔ ہم نے کوشش کی کہ اس نظریہ کو اٹھا لیں اور قرآن مجید کی آیت کو لے جا کر اس سے ملا دیا۔ اور کہنے لگے بس یہی تو ہے جس کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے۔

ہرگز نہیں، یہ ہمارا مقصد کبھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ سائنس کا یہ تو کوئی آخری نظریہ نہیں ہے۔ زمین کی طبیعاتی تشکیل کے لئے کئی سائنسی نظریات موجود ہیں۔ کئی ہوسکتے ہیں رہا قرآن مجید تو اس نے فقط یہ کہا ہے اور جو آخری حقیقت ہے کہ زمین آسمان سے جدا ہوئی ہے اور بس۔ وہ کیسے جدا ہوئی ؟آسمانوں کے کس حصے سے جدا ہوئی ؟ان تفصیلات کا ذکر آیت نے نہیں کیا ہے، لہٰذا اس موضوع پر سائنس جو نظریہ پیش کرے، جس مفروضے پر چاہے بحث کرے، ہم یہ نہیں کرسکتے کہ آیت کا مفہوم سائنس کے موجودہ نظریئے کے مطابق ہے اور یہی آخری ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کی مناسبت سے یہاں یہ تفصیل کافی ہے۔ یہاں ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ سائنس کے انکشافات کو آیت کے فہم اور آیات کے مفہوم میں وسعت اور عمق پیدا کرنے کے لئے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے ؟بغیر اس قباحت کے کہ ہم کس آیت کو سائنس کے کسی نظریہ کے ساتھ وابستہ کر دیں اور وہ بھی اس طرح کہ دونوں کو ایک سمجھ لیا جائے، دونوں کو ایک دوسرے کا مصداق گردانا جائے۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ ان دونوں صورتوں میں فرق کر لیا جائے۔ اب ہم قرآن کی اصل عبارت کی طرف لوٹتے ہیں : وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُہُورِہَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِہَا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”نیز ان سے کہو !یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو۔ نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضگی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔ ”

آیت کے دونوں حصوں کے درمیان ربط یہ ہے کہ پہلے حصے میں بیان کیا گیا کہ چاند کی بڑھتی گھٹتی شکلیں اوقات مناسک حج کے تعین کی خاطر ہیں اور دوسرے حصے میں دور جاہلیت کی اس رسم کی اصلاح کر دی گئی جو ایام حج سے وابستہ تھی۔ (بخاری ومسلم میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں :انصار کا رواج یہ تھا کہ جب وہ حج کرنے جاتے تو واپسی کے وقت گھروں میں دروازوں کی جانب سے داخل نہ ہوتے۔ ایک بار ان کا ایک آدمی آیا وہ سیدھا دروازے کی طرف سے داخل ہو گیا۔ لوگوں نے اسے ملامت کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، “یہ کوئی نیکی کاکام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہو، نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی، اللہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے میں سے آیا کرو۔ ”

ابوداؤد نے شعبہ بن اسحاق رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ :”انصار جب کسی بھی سفر سے لوٹتے تو دروازے کی جانب سے داخل نہ ہوتے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ”

یہ رسم چاہے ہر سفر کے موقع پر ہو یا صرف حج میں ہو(سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حج میں تھی)بہرحال ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ نیکی کا کوئی کام ہے۔ ایمان کا جزء ہے۔ قرآن کریم نے اس باطل تصور کو ختم کر دیا کیونکہ یہ ایک فضول حرکت تھی۔ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہ تھی۔ نہ اس میں کوئی دنیاوی فائدہ تھا۔ قرآن کریم نے نیکی کا صحیح تصور دے دیا کہ نیکی خدا خوفی کا نام ہے۔ ظاہر و باطن میں اللہ کی نگرانی اور اس کے وجود کا پختہ شعور ہی نیکی ہے۔ وہ کسی ایسی ظاہری شکل کا نام نہیں ہے، جس کے پس منظر میں کوئی ایمانی شعور کارفرما نہ ہو، بلکہ محض ایک رسم جاہلیت ہی ہو۔

حکم دیا گیا کہ دور جہالت کی رسم و رواج ترک کر کے گھروں میں دروازے سے داخل ہوا کرو اور پھر اشارہ کیا کہ تقویٰ ہی راہ نجات ہے۔ وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِہَا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔ ”

یوں دلوں کو اصلی ایمانی حقیقت سے مربوط کر دیا گیا۔ یعنی تقویٰ کو، دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود سے جوڑیا گیا۔ اور جاہلیت کی اس رسم کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا جس کے پس منظر میں کوئی ایمانی جذبہ نہ تھا اور مومنین کو متوجہ کر دیا گیا کہ اللہ کی اس نعمت کو سمجھنے کی کوشش کریں جو اللہ نے چاند کی شکل میں، ان کے اوقات اور مناسک حج کے تعین کے لئے فراہم کی گئی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آیت میں ایسے اہم مضامین بیان فرما دیئے۔

اب جنگ کی عمومی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر مخصوص طور پر مسجدحرام کے ساتھ، ، حرم اور ممنوعہ مہینوں میں جنگ کے بارے میں احکام آتے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت بھی دی جاتی ہے جو جہاد و قتال کے ساتھ گہرا ربط رکھتا ہے۔ فرمایا:

 

“اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ تم ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں۔ ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہو گا لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ جو ا س کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ ” (آیات ١٩٠۔١٩٥)

 

بعض روایات میں آتا ہے کہ قانون جنگ کے سلسلے میں قرآن کریم کا یہ پہلا حکم ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کو جن کے ساتھ کفار برسر پیکار تھے صرف جنگ کی اجازت دی تھی۔ اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں۔ مسلمانوں نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ اذن فرضیت جہاد کے لئے ایک تمہید ہے اور اللہ تعالیٰ اب اس زمین پر مسلمانوں کو تمکنت عطا کرنے والا ہے، چنانچہ سورۂ حج (آیت ۳۹ تا ۴۱) میں فرمایا:

“اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے۔ صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے “ہمارا رب اللہ ہے “اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور مندر اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “وہ اس اذن کے معنی خود سمجھ گئے کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے، لہٰذا وہ ظلم کا بدلہ لے سکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ ظلم کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے۔ وہاں انہیں حکم دیا گیا تھا:کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ”ہاتھ روکے رکھو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ ”

مکہ میں ہاتھ اٹھانے کی ممانعت بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی۔ اس حکمت کے بعض اہم پہلو ہم یہاں بیان کرتے ہیں :

۱۔         جنگ اور مدافعت سے روکنے کا پہلا سبب یہ تھا کہ عرب مسلمانوں کے اندر ڈسپلن پیدا کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ اطاعت امیر کے عادی ہو جائیں، اپنی قیادت کے مطیع و فرماں ہو اور مدافعت اور قتال کے حکم کا انتظار کریں۔ جاہلیت میں تو وہ سخت جنگجو تھے۔ پہلی آواز پر آپے سے باہر ہو جاتے تھے اور کسی خوشگوار بات کو دیکھ کر ان میں صبر کرنے کا مادہ تو تھا ہی نہیں۔ انسانی تاریخ میں امت مسلمہ نے جو کردار ادا کرنا تھا اس کا تقاضا یہ تھا کہ اس امت کی ایسی تربیت ہو اور اس کی سیرت کی تعمیر ایسی ہو کہ اس کی یہ تمام کمزوریاں ضبط و نظم میں ڈھل جائیں، وہ ایک مقتدر و مدبر قیادت کے تابع فرمان بن جائیں۔ اس حد تک تابع کہ وہ دور جاہلیت کی تمام عصبیتوں اور ناجائز عصبیتوں اور ناجائز طرفداروں کو چھوڑ دیں، جن کی حمایت میں وہ جنگ و جدل کے لئے کسی پکارنے والے کی پہلی پکار پر اٹھ کھڑے ہو جاتے تھے۔

یہی تعمیر سیرت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ جیسے پر جوش شخص اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ان جیسے نڈر اشخاص امت مسلمہ کو سخت مصائب و شدائد میں دیکھتے اور اف تک نہ کرتے۔ اس لئے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ رسولﷺ کی ہدایت کے مطابق اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھیں۔ اپنی ہائی کمان کی پوری اطاعت کریں اور قیادت عالیہ کا حکم تھا۔

کُفُّوا اَیدِیکُم وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوالزَّکٰوۃَ”ہاتھ روکے رکھو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ ”

اس کانتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اندر پائی جانے والی تیزی سے کود پڑنے اور سوچنے سمجھنے، جلد بازی اور تدبر اور حمیت اور اطاعت امر جیسی متضاد صفات کے درمیان توازن قائم ہو گیا اور پھر عرب جیسی بے حد، پر جوش اور جنگجو قوم میں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں میں اس قسم کی تربیت کا کامیاب ہونا اور ان کے اندر ڈسپلن کا پیدا ہونا ہی ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے۔

۲۔        دوسرا اہم سبب جس کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو قتال سے روکا گیا تھا وہ یہ تھی کہ عرب معاشرہ ایک بہادر اور شریف معاشرہ تھا۔ لوگ خود دار اور عزت نفس کے مالک تھے۔ مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے تھے لیکن اس کے باوجود جب وہ مظالم پر صبر کرتے، کئی شرفاء کی عزت نفس اور شرافت میں جوش آ جاتا اور ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہو جاتے۔

اس کا اظہار عملاً اس وقت ہوا جب قریش نے بنی ہاشم کے ساتھ بائیکاٹ کیا اور وہ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے۔ قریش کا مطالبہ یہ تھا کہ بنی ہاشم حمایت رسول سے دستبردار ہو جائیں۔ جب بنی ہاشم پر مصائب ناقابل برداشت ہو گئے تو بعض غیور اور شرفاء کی بہادری اور غیرت جوش میں آ گئی۔ انہوں نے اس دستاویز کو پھاڑ ڈالا، جس کے مطابق انہوں نے بائیکاٹ کا معاہدہ کیا تھا۔ اور محض اس جذبہ شرافت کی وجہ سے یہ محاصرہ ختم ہو گیا۔ جنگ اور مدافعت سے ہاتھ روکنے کی مکی پالیسی میں رسول بر حقﷺ نے عربوں کے ان جذبات کو پیش نظر رکھا تھا۔ اگر رسولﷺ کی سیرت کا مطالعہ بحیثیت قائد تحریک کیا جائے تب ان حکمتوں کا اظہار ہر جگہ ہوتا ہے۔

داعی اسلامﷺ کا یہ منشاء ہی نہ تھا کہ اسلام کی وجہ سے گھر گھر میں خونریزی شروع ہو جائے کیونکہ ہر خاندان میں سے کوئی نہ کوئی مسلمان تھا اور مسلمانوں کو ایذا رسانی میں، اور انہیں دین اسلام سے روکنے میں، خود مسلمانوں کے اپنے خاندان پیش پیش تھے۔ وہاں کوئی منظم حکومت نہ تھی جو مسلمانوں پر تشدد کر رہی تھی۔ اگر اس مرحلے میں مسلمانوں کو یہ اجازت دے دی جاتی کہ وہ اپنی مدافعت میں جنگ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا کہ گھر گھر میں فساد رونما ہوتا اور خاندان سے خاندان ٹکراتا اور خانہ جنگی شروع ہو جاتی۔ ایسی صورت رونما ہوتی تو لازمی طور پر یہ تاثر قائم ہو جاتا کہ اسلام نے گھر گھر اور خاندان میں فتنہ وفساد کے شعلے بھڑکا دئیے ہیں۔

ہجرت کے بعد صورتحال بالکل جدا ہو گئی، اب جماعت اسلامی مدینہ طیبہ میں ایک مستقل اور منظم وحدت تھی اور اس کا مقابلہ مکہ مکرمہ کی ایک منظم برادری سے تھا جس میں افواج کی تنظیم ہو رہی تھی اور وہ فوج تحریک اسلامی کے خلاف حملہ آور ہو رہی تھی۔ یہ صورتحال مکہ مکرمہ کی صورتحال سے بالکل مختلف تھی۔ گویا واضح طور پر اپنی حفاظت کا مسئلہ سامنے تھا اور یہ حفاظت افراد کے بجائے پوری ملت تھی۔ یہ ہیں وہ اسباب جو ایک انسان اپنے محدود ذہن کے ساتھ، اس بارے مین سوچ سکتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو تشدد و بربریت کا جواب دینے سے کیوں روکا گیا تھا۔

ان اسباب کے علاوہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت مسلمان تعداد کے اعتبار سے بہت ہی کم تھے، پھر وہ مکہ مکرمہ میں محصور تھے، اگر وہ مقابلہ شروع کر دیتے تو ان کے خلاف فوراً مقاتلہ شروع ہو جاتا اور ان کا مقاتلہ ایسے لوگوں سے ہوتا جو ہر لحاظ سے ان کے مقابلے میں طاقتور اور بارسوخ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے اور وہ اپنے مستقل دارالحکومت میں علیحدہ ہو کر مجتمع ہو جائیں۔ جب یہ کام ہو گئے تو انہیں جہاد و قتال کی اجازت دے دی گئی۔

بہرحال اس کے بعد، تدریج کے ساتھ، جزیرۃ العرب اور عرب سے باہر کے علاقوں میں، حسب ضرورت مسلمانوں کو جنگ کے احکام دئیے جاتے رہے۔

زیر بحث آیات اس سلسلے کی ابتدائی آیات ہیں اور ان میں قتال کے بعض ایسے احکام دئیے گئے ہیں جو اس وقت کے بنیادی متحارب کیمپوں میں، اسلامی کیمپ اور مشرکین کے کیمپ کے درمیان محاذ آرائی کے لئے مناسب اور ضروری تھے۔ جبکہ بعض احکام ایسے بھی ہیں جو اصولی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر جنگ میں عموماً ایسے حالات پیش آسکتے ہیں۔ ان احکام میں معمولی رد و بدل سورت برأت کے احکام کے ذریعہ ہوا ہے۔

یہاں، تفسیر آیات قتال سے پہلے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کے موضوع پر ایک مختصر نوٹ دے دیا جائے تاکہ آیات قتال اور دوسری آیات کی تفسیر کے لئے اساس کا کام دے۔

اسلامی نظریۂ حیات اپنی آخری شکل و صورت میں یعنی دین اسلام کی صورت میں رونما ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ اب سے یہ تمام انسانیت کی زندگی کا اصول بن جائے۔ تمام انسانیت کا نظام زندگی قرار پائے اس نظام اور اس منہاج کو لے کر امت مسلمہ اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے پوری انسانیت کی قیادت کرے۔ یہ نظام زندگی ایک ایسا نظام ہے کہ یہ اس کائنات کے وسیع تر تصور پر مبنی ہے۔ وجود انسانی کے اصل اور حقیقی مقاصد کی اساس پر تعمیر شدہ ہے اور اس کی توضیح و تشریح ایک کتاب میں کر دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ خالق کائنات کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ نیز اس امت نے راہنمائی بھی ایک خالص بھلائی اور خیر محض کی طرف کرنی ہے، جو کسی دوسرے جاہلی نظام میں نہیں ہے اور انسانیت کو ایک ایسے مقام بلند تک پہنچایا جہاں تک وہ اسلامی نظام زندگی کے سوا، کسی اور نظام کے ذریعے نہیں سکتی۔ اسے ایسی نعمت سے سرفراز کرنا ہے جس کے مقابلے میں کوئی نعمت نہیں ہے۔ اسلام یقیناً وہ نظام زندگی ہے کہ اگر اس سے انسانیت محروم ہو جائے تو پھر اس کے لئے نجات و فلاح نہیں ہے۔ اگر انسانیت کو اس نیکی سے محروم کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ اسے جس بلندی، جس پاکیزگی اور جس سعادت و کمال تک پہنچانا چاہتا ہے، اسے اس سے روک دیا جائے تو انسانیت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور اس سے بری زیادتی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

یوں انسانیت کا یہ حق ہو جاتا ہے کہ اسلام کے اس مکمل نظام زندگی کی دعوت پوری انسانیت تک آزادی کے ساتھ پہنچ سکے۔ اور اس کی راہ میں یعنی دعوت اسلامی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اور کوئی حکومت بھی کسی صورت میں سدراہ نہ بن سکے۔

ادھر انسانیت پر یہ لازم تھا کہ جب لوگوں تک دعوت اسلامی پہنچے تو وہ اس کے رد و قبول میں بالکل آزاد ہوں۔ دین قبول کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ کوئی حکومت سد راہ بنی ہوئی نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اسلامی نظام کو قبول کرتا ہے تو حکومت رکاوٹ نہ ڈالے، نیز اسے اختیار نہ ہو کہ دعوت اسلامی کو اپنی منزل تک بڑھنے سے روکے۔ علاوہ ازیں انسانیت کا یہ بھی فرض تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں کو اطمینان اور آزادی کی ضمانت دے اور تبلیغ دین کے سلسلے میں تحریک اسلامی کی راہ میں جو مشکلات درپیش آ رہی ہیں وہ انہیں دور کر دے۔ اس سلسلے میں کارکنان دعوت اسلامی پر کوئی زیادتی نہ ہونے پائے۔

اگر اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت نصیب فرمائے اور وہ دعوت اسلامی کو قبول کر لیں تو ان کا یہ بنیادی حق ہے کہ ان پر کسی قسم کا ظلم اور زیادتی نہ ہو۔ ان پر تشدد نہ ہو اور ان کے خلاف اشتعال نہ ہو۔ ان کی راہ میں اس قسم کی رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں جن کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام سے روکنے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔

تحریک اسلامی کے کارکنان کے فرائض میں یہ بات داخل تھی کہ وہ قوت کے ساتھ تشدد اور اشتعال کا مقابلہ کریں تاکہ دنیا میں آزادی رائے جیسے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جا سکے اور وہ لوگ امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں جنہوں نے اس دین کو اپنانا ہے تاکہ زندگی میں اسلامی نظام رائج ہو اور انسانیت اس بھلائی اور نیکی سے محروم نہ ہو۔ ان بنیادی حقوق کے قیام کے نتیجے میں جماعت مسلمہ پر ایک اور ذمہ داری یہ عائد ہو جاتی ہے کہ وہ ہر اس قوت کو پاش پاش کر دے جو دعوت اسلامی اور اس کی تبلیغ کے آڑے آئے۔ یا وہ حق آزادی رائے کو چیلنج کرے یا وہ ایسے لوگوں پر تشدد کرے جنہوں نے دین و نظریہ کے معاملے میں آزادی سے کوئی نظریہ قبول کر لیا ہے۔ امت مسلمہ کا یہ فرض اس وقت تک ہے جب تک اسلامی نظام قبول کرنے والوں کے لئے کوئی تشدد باقی رہتا ہے اور نظام زندگی صرف اللہ ہی کا رائج نہیں ہو جاتا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگوں کو اسلامی نظام زندگی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر دیا جاتا۔ مقصد صرف یہ ہے کہ اس کرۂ ارض پر اسلامی نظام غالب ہونا چاہئے یوں کہ جو شخص بھی دین اسلام میں داخل ہونا چاہے اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو، دنیا میں کوئی ایسی قوت نہ ہو جو کسی کو دین اسلام قبول کرنے سے روکے، یا اس کی تبلیغ کرنے سے روکے، یا اس دین پر قائم رہنے سے روکے۔ دنیا میں کوئی ایسانظام نہ ہو جو اللہ کی ہدایت اور اس روشنی کو چھپا رہا ہو اور اس کے تحت رہنے والوں تک یہ ہدایت و روشنی پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہو، یا عوام کو اللہ کے اس راہ سے گمراہ کیا جا رہا ہو، چاہے اس رکاوٹ کی نوعیت جو بھی ہو۔

یہ تھے وہ بنیادی مقاصد جن کے لئے اسلام نے جہاد فی سبیل اللہ کو فرض کیا ہے۔ یہ جہاد صرف انہی مقاصد عالیہ کے لئے تھا، ان کے علاوہ اسلام کے پیش نظر اور کچھ نہ تھا۔ نہ کوئی اور مقصد نہ کوئی اور رنگ۔

یہ جہاد اسلامی نظریۂ حیات کے لئے تھا، کافرانہ نظریاتی پھیلاؤ کا محاصرہ توڑنے کے لئے تھا، نظریۂ تشدد کے خلاف تھا، اور زندگی میں اسلامی نظام کے بچاؤ اور اسلامی شریعت کے قیام کے لئے تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کرۂ ارض پر اسلامی جھنڈے بلند کر دئیے جائیں، اس طرح کہ اسلامی نظریۂ حیات کے مخالفین دہشت زدہ ہو جائیں اور ہر وہ شخص جواسلامی نظام زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ اس میں داخل ہو جائے اور اسے دنیا کی کسی قوت کی جانب سے یہ خوف نہ ہو کہ اسے روکا جائے گا۔ اس پر تشدد ہو گا۔

یہ ہے اور صرف یہی ہے وہ جہاد جس کا اسلام نے حکم دیا تھا اور یہ ابھی تک برقرار ہے اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے جو لوگ اس میں کام آئیں اسلام کی نظر میں شہید ہوتے ہیں اور جو لوگ جہاد کے مصائب برداشت کرتے ہیں وہ غازی اور اولیاء اللہ کہلاتے ہیں۔

یہ تھی وہ صورتحال جس سے مدینہ طیبہ میں جماعت مسلمہ دوچار تھی اور جس کے بارے میں سورۂ بقرہ کے اس سبق کی یہ آیات نازل ہوئیں، مشرکین قریش نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا تھا۔ انہیں محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنایاجا رہا تھا کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں۔ ان کو صرف یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے آزادانہ طور پر کیوں ایک نظریۂ حیات قبول کر لیا ہے۔ ان حالات میں خصوصی ہدایت کے ساتھ ساتھ یہ آیات اسلام کے نظریہ کے لئے قاعدہ کلیہ بھی بیان کر دیتی ہیں جو یوں ہے کہ مسلمانو! تم ان لوگوں ن سے جنگ کرو جنہوں نے تم سے ناحق جنگ کی اور ابھی تک برسر جنگ ہیں اور آئندہ بھی تمہارے لئے یہی ہدایت ہے کہ جو تم سے لڑے اس سے لڑو۔ مگر زیادتی نہ کرو۔ ارشاد ہوا! وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّہَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ”اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ”

آیات قتال میں سے یہ پہلی آیت ہے اور پہلی آیت ہی میں قتال کے مقاصد کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دیا گیا اور واضح طور پر بتا دیا گیا کہ وہ کون سا علم ہے جس کے تحت مسلمانوں کو معرکہ جہاد سرکرنا ہے۔ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ

“اور اللہ کی راہ میں، ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں۔ ”

یہ جہاد، یہ قتال صرف اللہ کے لئے ہے اور انسان نے طویل انسانی تاریخ میں، جن معروف مقاصد کے لئے زبردست جنگیں لڑیں ان میں سے کوئی مقصد بھی اسلامی جہاد کو مطلوب نہیں ہے۔ نہ خاندانی شرف کے لئے، نہ علو فی الارض اور برتری کے لئے، نہ دولت وغنیمت کے لئے، منڈیوں اور خام اشیاء پر قبضے کے لئے، نہ کسی طبقے پر دوسرے کی سیادت کے قیام کے لئے اور نہ کسی نسل پر کسی نسل کی حکومت کے لئے۔ اسلامی جہاد صرف ان مقاصد کے لئے ہے جن کی تحدید اسلام نے کر دی ہے۔ دنیا میں اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لئے، اسلامی نظام زندگی کے نفاذ کے لئے، مسلمانوں کو ظلم و تشدد سے بچانے کے لئے، مسلمانوں کو گمراہی اور ضلالت سے بچانے کے لئے۔ غرض یہ ہیں اسلامی مقاصد، ان کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لئے جو جنگیں لڑی جائیں وہ اسلامی جہاد کہلانے کی مستحق نہیں ہیں اور جو شخص بھی ایسی جنگوں میں حصہ لے گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہے۔ نہ ہی اللہ کے ہاں اس کا کوئی مقام ہے۔

جنگ کے مقاصد کے تعین کے ساتھ ساتھ، اس کی مقدار اور حد بھی مقرر کر دی گئی :

وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّہَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ”مگر زیادتی نہ کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ”

زیادتی یوں ہو گی کہ جنگ لڑنے والے سپاہیوں کے علاوہ پرامن شہریوں کو بھی تکلیف دی جائے، جو دعوت اسلامی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں، نہ ہی ان سے اسلامی جماعت کو کوئی خطرہ ہے۔ مثلاً عورتیں، بچے، بوڑھے اور جو لوگ اللہ کی عبادت کے لئے الگ ہو گئے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب و ملت سے متعلق ہوں حکم دیا گیا کہ جنگ میں ان حدود و قیود کو پامال نہ کیا جائے، جو اسلام نے جنگ کے لئے مقرر کئے ہیں۔ ۔ اسلام نے سب سے پہلے، ان قباحتوں پر پابندی عائد کی جو جاہلیت میں عام طور پر معروف تھیں۔ خواہ یہ جاہلیت قدیم ہو یا جدید۔ یہ قباحتیں ہیں جن سے اسلامی نظام متصادم ہے۔ جن سے اسلام کی روح ابا کرتی ہے۔

اس سلسلے میں رسولﷺ کی چند احادیث کا مطالعہ کیجئے۔ آپﷺ کے ساتھیوں کی ہدایات پڑھیے، ان سے ان آداب کا مزاج آپ پالیں گے۔ یہ وہ آداب جنگ ہیں، جن سے انسانیت کا تعارف سب سے پہلے اسلام کے نظام جنگ کے مطالعہ کے بعد ہوا:

۱۔         حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں :”رسولﷺ کے مغازی میں سے ایک موقعہ پر ایک عورت پائی گئی جسے قتل کر دیا گیا تھا، اس پر رسولﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل سے منع فرمایا۔ “(مالک، شیخین، ابوداؤد اور ترمذی)

۲۔        حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں :رسول اللہﷺ نے فرمایا!”جب تم جنگ کر رہے ہو، تو اس وقت چہرے پر مارنے سے اجتناب کرو۔ ”

۳۔        حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں !”ہمیں رسول اللہﷺ نے جنگ کے لئے بھیجا۔ اس موقع پر فرمایا:”اگر تم فلاں فلاں (قریش کے دو افراد)کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلاؤ۔ “جب ہم تیار ہو کر نکلنے لگے تو آپ نے فرمایا!”میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ میں ڈالو!لیکن آگ کے ساتھ اذیت دینا، صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے، لہٰذا حکم یہ ہے کہ اگر تم انہیں پاؤ تو دونوں کو قتل کر دو۔ ” (بخاری، ابوداؤد اور ترمذی)

۴۔        حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں :رسول اللہﷺ نے فرمایا!”جنگ میں سب سے زیادہ عفو و درگزر کرنے والے صرف اہل ایمان ہیں۔ “(ابوداؤد)

۵۔        عبدبن یزید انصاری سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں :رسول اللہﷺ نے مال غنیمت میں چوری اور قتل میں مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔

۶۔        حضرت ابویعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں ہم عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی قیادت میں شریک جنگ ہوئے۔ دشمن کے چار آدمی لائے گئے۔ حکم دیا گیا کہ انہیں نیزے کے چپٹے حصے کی طرف سے قتل کیا جائے اور انہیں اس طرح قتل کیا گیا۔ اس کی اطلاع حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا:میں نے رسولﷺ کو اذیت دے کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔ اللہ کی قسم اگر مرغی ہوتی تو بھی میں اسے اذیت دے کر قتل نہ کرتا۔ جب اس کا علم عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو ہوا تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے۔ (ابوداؤد)

۷۔        حارث نے مسلم ا ابن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا۔ جب ہم حملہ کی جگہ پہنچے تو میں نے گھوڑی کو ایڑ دی۔ وہ میرے ساتھیوں سے آگے جا نکلی۔ میں نے دیکھا کہ آبادی کے لوگ (خوف کے مارے )چیخ و پکار کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا جلدی سے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لو اور اپنے آپ کو بچا لو، انہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ میرے ساتھیوں نے مجھے سخت ملامت کی اور کہنے لگے، تم نے ہمیں مال غنیمت سے محروم کر دیا۔ ہم رسول اللہﷺ کے واپس آئے۔ لوگوں نے رسول اللہﷺ کو میری حرکت سے آگاہ کیا۔ آپ نے میری تعریف کی۔ اس کے بعد مجھ سے کہا :”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہر آدمی کے بدلے تمہارے لئے یہ یہ اجر لکھ دیا ہے۔ ” (ابوداؤد)

۸۔        حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں رسول اللہﷺ جب بھی کسی کو مجاہدوں کے دستے کا سردار مقرر کرتے یا کوئی سریہ بھیجتے تو انہیں سب سے پہلے خدا خوفی کی وصیت فرماتے۔ پھر فرماتے کہ اپنے ساتھیوں سے حسن سلوک رکھو اور پھر فرماتے “اللہ کے نام کے ساتھ لڑو، اللہ کی راہ میں، ان لوگوں سے لڑو جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ لڑو لیکن غداری نہ کرو۔ مقتول کا مثلہ نہ کرو اور بچے کو نہ قتل کرو۔ “(مسلم، ابوداؤداور ترمذی)

۹۔         مالک نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کو وصیت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے یہ فرمایا”تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو اللہ کا کر دیا انہیں ان کی حالت عزلت ہی میں چھوڑ دو۔ عورت کو قتل نہ کرنا۔ بچے اور بہت زیادہ بوڑھے کو بھی قتل نہ کرنا۔ ”

یہ ہے وہ جنگ جو اسلام فرض کرتا ہے اور یہ ہیں اسلام کے آداب جنگ۔ وہ مقاصد جن کے لئے اسلام معرکہ جنگ برپا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور ان سب کا منبع قرآن مجید کا یہ حکم ہے “اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو، جو تمہارے ساتھ لڑیں اور زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ”

قرون اول کے مسلمان اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ محض اپنی تعداد کے بل بوتے پر فتح حاصل نہیں کرسکتے۔ ان کی تعداد تو بہت قلیل ہے۔ وہ اپنی تعداد اور سازوسامان کی بدولت فتح مند نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان کا سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی قلیل ہے۔ وہ جانتے تھے کہ فتح صرف ایمان، بندگی اور اللہ کی نصرت کے نتیجے میں حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی ہدایات کو ترک کیا تو وہ فتح و نصرت سے محروم ہو جائیں گے جو ان کا اصل سہارا ہے۔ اس لئے وہ اپنی جنگوں میں ان آداب جنگ کو سختی سے ملحوظ رکھتے تھے۔ ۔ یہاں تک کہ یہ آداب انہوں نے اپنے ان ازلی دشمنوں کے ساتھ بھی ملحوظ رکھے جنہوں نے انہیں سخت سے سخت اذیتیں دی تھیں۔ اور ان کے شہداء کی لاشوں کا مثلہ کیا تھا۔ ایک موقعہ پر رسول اللہﷺ کا غضب جوش میں تھا، آپ نے بعض لوگوں کے جلا دینے کے احکامات صادر فرما دیئے، لیکن تھوڑی دیر بعد ہی آپ نے اپنے احکامات واپس لے لئے اور جلانے سے منع فرمایا۔ اس لئے کہ آگ کے ساتھ سزا صرف خاصۂ خدا ہے۔

مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں، مارے جائیں، جہاں بھی ہوں مارے جائیں۔ ماسوائے مسجد حرام کے، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کر دیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہو گا، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوہُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلا تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيہِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوہُمْ كَذَلِكَ جَزَاء ُ الْكَافِرِينَ (١٩١)فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

“اور ان سے لڑو جہاں بھی ان سے تمہارا مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے، اس لئے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو۔ مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ”

محض دین، مذہب یا نظریہ کے اختلاف کی وجہ سے تشدد کرنا دراصل، حیات انسانی کی مقدس قدر (Value)پر دست درازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اسے قتل سے بھی زیادہ برا قرار دیا ہے۔ اسے جان لینے اور زندگی ختم کر دینے سے بھی زیادہ گھناؤنا جرم قرار دیا ہے۔ یہ فتنہ جو قتل سے بھی شدید تر ہے کیا ہے ؟محض ہراساں کرنا بھی اس میں آتا ہے۔ عملاً تشدد بھی اس میں شامل ہے۔ ایسے حالات پیدا کر دینا بھی فتنہ ہے، جن میں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہو، انہیں اللہ کے مقرر کردہ نظام زندگی سے دور کرنا بھی فتنہ ہے۔ مسلمانوں کے لئے کفر کو مرغوب بنانا اور اسلام سے انہیں دور کرنا، ان کے اخلاق کو خراب کرنا یہ سب فتنے کی تعریف میں داخل ہیں۔ اس فتنے کی واضح ترین مثال اشتراکی نظام ہے۔ جہاں دینی تعلیم ممنوع اور الحاد کی تعلیم لازمی ہوتی ہے۔ ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو زنا، شراب جیسے محرمات کو جائز قرار دیتے ہیں اور نشر و اشاعت کے مختلف ذرائع سے ان چیزوں کو انسانوں کے لئے مرغوب بناتے ہیں۔ جب کہ اسلامی نظام زندگی کی ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں۔ اسے مسخ کرتے ہیں اور جو اجتماعی حالات میں یہ نظام پیدا کر دیتا ہے ان کا اتباع وہاں کے عوام الناس کے لئے ایک حتمی فریضہ قرار پاتا ہے۔

آزادی رائے کے بارے میں یہ نقطۂ نظر انسانی زندگی میں آزادی رائے کایہ مقام بلند اسی نظام کے عین مطابق ہے۔ وجود کائنات کی جو غرض و غایت اسلام نے پیش کی ہے۔ نہ نقطۂ نظر اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اسلام کے مطابق تخلیق کائنات کی غرض و غایت بندگی ہے۔ بندگی ہر اس اچھے کام کو کہا جاتا ہے جس میں کرنے والے کے پیش نظر اللہ کی رضامندی ہو، اور اللہ کی بندگی تب ہی ممکن ہے جب انسان تمام دوسری بندگیوں سے آزاد ہو، یہی وجہ ہے کہ انسان کی بلند ترین قدر(Value)اس کی آزادی ہے۔ بالخصوص آزادی رائے۔ اب جو شخص کسی کی آزادی چھین لیتا ہے، محض نظریہ کی وجہ سے تشدد کرتا ہے، براہ راست یا بالواسطہ، وہ شخص اس شخص کے قتل سے بھی اس پر زیادہ ظلم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کے مقابلہ میں مدافعت ہر طرح جائز ہے، اگرچہ اس کے لئے جنگ کرنی پڑے۔ قرآن کریم نے (فاقتلوھم)جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ (واقتلوھم)انہیں قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔ وَاقْتُلُوہُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ”اور جہاں بھی ایسے لوگ پائے جائیں انہیں قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔ جہاں بھی پائے جائیں۔ جس حال میں بھی وہ ہوں۔ جس ذریعے سے بھی تم نے ایسے لوگوں کو مار سکو، ہاں اس سلسلے میں تم صرف اسلامی آداب جنگ کا لحاظ رکھنا ہو گا، کسی کو مثلہ نہ کرنا کسی کو آگ میں جلانا۔

مسجد حرام دار الامن ہے۔ اس لئے اس کے قریب نہ لڑو۔ اس کے بارے میں اللہ نے اپنے دوست ابراہیم کی دعا قبول کی تھی۔ اسے مرکز عوام قرار دیا گیا تھا۔ اسے دارالامان گردانا گیا تھا۔ لہٰذا حکم ہوا مسجد حرام کے قریب کسی کے ساتھ نہ لڑو، الا یہ کہ کفار کا کوئی گروہ یہاں تمہارے ساتھ لڑنے لگے، لیکن جنگ کا آغاز تم نہ کرو۔ اگر وہ آغاز کر دیں اور مسجد حرام کا پاس نہ رکھیں تو پھر تمہارے ہاتھ بھی بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ لوگ عوام کو ان کے دین کی وجہ سے ستاتے ہیں۔ مسجدحرام کا احترام نہیں، لہٰذا یہی ان کے لئے مناسب سزا ہے۔ ارشاد ہوا!

فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ”پھر اگر وہ باز آ جائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “صرف باز آنا ہی کافی نہیں۔ مسلمانوں پر تشدد سے باز آ جائیں۔ جنگ سے باز آ جائیں، کفر سے بھی باز آ جائیں تب وہ معافی اور مہربانی کے مستحق ہوں گے۔ صرف جنگ سے باز آنے کے لئے تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان حالت امن کا اعلان کر دیں۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کفار اللہ کی مغفرت اور رحمت کے بھی مستحق ہو جائیں۔ ہاں یہاں مغفرت اور رحمت کی طرف اشارے سے مراد یہ ہے کہ کفار کو ایمان کی ترغیب دی جائے تاکہ کفر اور تشدد کے چھوڑ دینے کے بعد وہ اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے مستحق بھی ہو جائیں۔

اسلام کی شان عظمت اور شان کریمی تو دیکھئے۔ کفار اور ظالموں کو بھی اشارہ کیا جاتا ہے، کہ آؤ مغفرت ورحمت کی بارش ہو رہی ہے۔ آؤ تمہارے سابقہ گناہ معاف، تشدد اور ظلم کا قصاص معاف، دیت معاف، اسلامی صفوں میں مؤمنانہ شان سے داخل ہو جاؤ، تو سب کچھ معاف۔ تم نے قتل کیا تم نے تشدد کیا، تم نے کیا کچھ نہ کیا، مگر سب معاف اور مغفرت و رحمت کی بارش۔

اسلام میں جنگ کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ لوگوں کے تشدد کے ذریعے، دین اسلام سے نہ روکا جائے۔ قوت کے ذریعے، یا قوت سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار یعنی معاشرتی حالات کے ذریعے عوام کو اسلام سے نہ پھیرا جائے۔ ان کے اخلاق کو خراب کرنے والے، انہیں گمراہ کرنے والے اور انہیں فریب دینے والے ذرائع استعمال نہ کئے جائیں۔ نیز یہ کہ اسلامی نظام کو وقعت حاصل ہوا اور اس کا پلڑا بھاری ہو، اس کے دشمن ہیبت زدہ ہوں۔ ان کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ اہل ایمان پر تشدد کریں یا انہیں اذیت دیں۔ نیز عام لوگوں کے لئے اب کوئی خوف محسوس نہ ہو کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان پر تشدد ہو گا یا انہیں کوئی اذیت دی جائے گی۔ ایک اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ اس وقت تک برسرپیکار ہے جب تک ظالمانہ اور جابرانہ قوتیں ختم نہیں ہو جاتیں۔ اور جب تک وقار اور غلبہ صرف اسلام کو حاصل نہیں ہو جاتا۔ اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے۔ وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَۃٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ”تم ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو پھر سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی جائز نہیں ہے۔ ”

ایک وقت تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو روئے سخن جزیرۃ العرب میں مشرکین مکہ کی طرف تھا، کیونکہ اس وقت مشرکین مکہ ہی تشدد پر اترے ہوئے تھے۔ جو یہ نہ مانتے تھے کہ نظام زندگی کا سرچشمہ صرف اللہ ہی ہے۔ آیت کا مفہوم عام ہے۔ ہر وقت نافذ ہے اور ہمارے لئے بھی راہ ہدایت ہے، اس لئے کہ جہاد امت مسلمہ کے لئے قیامت تک ایک فریضہ رہے گا، کیونکہ ہر دور میں ایسی قوتیں موجود رہتی ہیں جو لوگوں کو دین سے روکتی ہیں۔ وہ ان کے کانوں تک دعوت اسلامی کی پہنچنے کے تمام ذرائع مسدود کرتی ہیں اور پھر بھی اگر کوئی کسی طرح دعوت اسلامی پر مطمئن ہو جائے تو یہ قوتیں عوام کو روکتی ہیں کہ وہ اسلام کو قبول کریں اور اسلام پر امن و امان کی حالت میں عمل پیرا ہوں چنانچہ ہر وقت اسلامی جماعت کا یہ مستقل فریضہ ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کو پاش پاش کر دے اور لوگوں کو ان کے جبر و تشدد سے آزاد کرائے۔ وہ آزادی سے سنیں چاہے قبول کریں یا نہ کریں۔ تشدد اور فتنے کو قتل سے بھی برا قرار دینے کے بعد، بار بار اس کا تکرار بھی خالی از حکمت نہیں ہے۔ یہ تکرار اس لئے جاری ہے کہ اس معاملے کو اسلام میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں اسلام ایک عظیم اصول کی بنیاد رکھ رہا ہے، انسان بدل رہا ہے۔ یہ انسان کے لئے درحقیقت ایک نیا جنم ہے۔ یہ نئی زندگی انسان کو اسلامی نظام سے مل رہی ہے۔ اب انسان کی قدر و قیمت اس کی حیوانیت اور اس کی جسمانی زندگی سے نہیں۔ بلکہ اس کی قدر و قیمت کا تعین اس کے عقیدے اور نظریہ سے ہو رہا ہے۔ ایک طرف انسان کی زندگی ہے، دوسری طرف انسان کا نظریہ اور اس کا عقیدہ ہے۔ عقیدے کا پلڑا بھاری قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انسانیت کے دشمن صرف وہ لوگ ہیں جو دوسرے انسانوں پر محض اختلاف عقیدہ، اختلاف نظریہ کی وجہ سے ظلم و تشدد کریں۔ وہ لوگ جو ایک مسلمان پر محض اس لئے ظلم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے۔ وہ اسے تشدد کے ذریعہ اسلام سے، پھیرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ انسانیت کو ایک ایسے تصور سے محروم کرتے ہیں جو خیر ہی خیر ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے عطا کردہ نظام زندگی کی طرف آنے نہیں دیتے۔ اس لئے ان کے ساتھ جنگ کرتے رہنا اسلامی جماعت کا فرض اولین ہے۔ اس کا فرض ہے کہ ایسے لوگ جہان بھی ملیں انہیں ختم کر دے تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہو جائے۔

یہ عظیم اصول، جسے اسلام نے اپنے ابتدائی ایام میں وضع کیا تھا۔ اب بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اب اسلامی نظریۂ حیات اور اس کے حاملین پر قسم قسم کے تشدد ہو رہے ہیں۔ حاملین اسلام کو، فرداً فرداً بھی اور بحیثیت جماعت بھی ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور جو لوگ بھی ظلم و تشدد کا محض اس لئے شکار بنائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک نظریۂ حیات کو اپنا لیا ہے یا انہوں نے ایک پسندیدہ نظام زندگی کو اپنا رکھا ہے، چاہے جس قسم کا تشدد بھی ہو، ان لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، ان کے ساتھ لڑیں۔ ماریں یا مارے جائیں اور ہر حال میں اس علم کو بلند رکھیں۔ آزادی رائے کے علم کو جسے سب سے پہلے اسلام نے بلند کیا جس کے ذریعے بالکل ایک نیا اور آزاد انسان وجود میں آیا۔

جب بھی ظالم اپنے ظلم سے باز آ جائیں۔ وہ انسان اور اس کے خدا کے درمیان مداخلت چھوڑ دیں تو ان پر کوئی زیادتی یعنی ان کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہو گی۔ کیونکہ جہاد ہمیشہ صرف ظلم اور ظالم کے خلاف ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا پھر اگر وہ باز آ جائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا کسی اور کے خلاف کوئی مدافعت نہ ہو گی۔ فَإِنِ انْتَہَوْا فَلا عُدْوَانَ إِلا عَلَى الظَّالِمِينَ

یہاں ظالموں کے خلاف مدافعت اور ان کے مقابلے کی تعبیر لفظ عدوان سے کی گئی ہے۔ محض لفظی مشکلات کی بناپر ورنہ ظالموں کے خلاف جو کاروائی ہے، وہ عدل ہے۔ انصاف ہے اور مظلوموں کو ظلم سے بچانا ہے، ظلم کو روکنا ہے، کوئی زیادتی نہیں ہے۔

مسجد حرام کے قریب لنے کے احکام بیان کرنے کے بعد اب حرام مہینوں میں جنگ کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ مَعَ الْمُتَّقِينَ”ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے۔ اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہو گا، لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ”

جو شخص محرم کے مہینے کی حرمت کا کوئی پاس نہیں رکھتا اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ پابندیوں سے اٹھائے جو ان حرام مہینوں کے اندر عائد ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام معاملات میں صرف ایک مقام مسجد حرام کو دار الامن قرار دیا ہے اور زمانوں میں سے حرام مہینوں کو زمانہ امن قرار دیا ہے۔ اس مکان اور اس زمان میں کسی کا خون بہایا نہیں جا سکتا۔ ہر کسی کی جان ومال محفوظ ہوں گے۔ کسی بھی زندہ چیز کو دکھ نہ دیا جائے گا۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ خود تو امن کے اس شاداب باغیچے میں عیش کرے اور مسلمانوں کو اس سے محروم کر دے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ خود اسے بھی اس سے محروم کر دیا جائے۔ جو دوسروں کی آبروریزی کرتا ہے۔ خود اس کی آبرو محفوظ نہ ہو گی کیونکہ الحرمات قصاص تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کا ہو گا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو تنبیہ کر دی گئی کہ ظلم کا مقابلہ کرنے اور ظلم کا بدلہ لینے میں، وہ اپنے حدود سے آگے نہ بڑھیں۔ کیونکہ ان کے مقدس مقامات اور ان مقدس ومحرم مہینوں کے اندر محض ضرورت کے تحت تمہیں جنگ کی اجازت دیجا رہی ہے۔

فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ”لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ “لیکن اس معاملہ میں غلو اور زیادتی سے کام نہ لو۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے قدر انتقام مقرر نہیں کی۔ مقدار ان کی خدا خوفی پر چھوڑ دی گئی ہے۔ جب کہ اوپر ہم کہہ آئے ہیں کہ مسلمان اس بات سے خوب واقف تھے کہ ان کی نصرت اور امداد صرف اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ اس لئے انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں۔ یہی وہ حد ہے جس پر انہیں رکنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ہی امن کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

جہاد میں افراد کی طرح مال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاد سے پہلے ایک مجاہد کو سامان جنگ کی ضرورت ہو گی، مثلاً سواری، اور دوسرا سامان جنگ، رسولﷺکے دور میں فوجیوں اور افسروں کی تنخواہیں مقرر نہیں تھیں۔ وہ لوگ اسلام کے لئے جس طرح جان قربان کرتے تھے، اس طرح اپنی دولت بھی راہ اللہ میں خرچ کرتے تھے۔ اگر اجتماعی نظم، نظریۂ حیات پر استوار کیا جائے تو یہی صورت ہوتی ہے۔ اگر حکومت کی بنیاد نظریہ پر ہو تو پھر اپنے بچاؤ یا اپنے عوام کے بچاؤ کے لئے، یا دشمنوں کے مقابلے میں کسی جنگ کے لئے اسے دولت خرچ کر کے تنخواہ دار ملازمین رکھنے کی ضرورت سرے سے پیش ہی نہیں آتی، فوج خود آگے بڑھتی ہے، لیڈر خود آگے بڑھتے ہیں، جان بھی دیتے ہیں اور مال بھی۔

ضرورت اس بات پر غور کرنے کی تھی کہ بے شمار غریب مسلمان ایسے تھے، جو جذبہ جہاد سے تو سرشار تھے، وہ اسلامی نظریۂ حیات اور اسلامی زندگی کے لئے لڑنے مرنے کے لئے تیار تھے لیکن صورتحال یہ تھی کہ ان کے پاس سامان جنگ تھا نہ کوئی زاد راہ تھا۔ میدان جنگ تک جانے کے لئے کوئی سواری نہ تھی، ایسے لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آتے اور التجائیں کرتے کہ آپ انہیں دور دراز میدان جنگ تک لے جائیں۔ کیونکہ میدان جنگ بعض اوقات اتنا دور ہوتا تھا کہ وہاں تک پیدل جانا ممکن نہ تھا اور جب رسولﷺ معذرت کا اظہار فرماتے تو وہ مایوس لوٹتے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں ہے۔

تَوَلَّوا وَّاَعیُنُھُم تَفِیضُ مِنِ الدَّمعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوا یُنفِقُونَ (وہ لوٹتے، مگر اس حال میں کہ ان کی آنکھیں اشک بار ہوتیں، اس دکھ کی وجہ سے کہ ان کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جسے وہ اس موقعہ پر خرچ کریں )قرآن مجید کی بے شمار آیات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ خصوصاً غازیوں کے سازوسامان کے لئے۔ قرآن مجید میں بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں دعوت و جہاد کے ساتھ ساتھ دعوت انفاق بھی دی گئی ہے اور یہاں تو انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کرنے کو ہلاکت اور بربادی سے تعبیر کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس سے بچووَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّہْلُكَۃِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (١٩٥)”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے وہ بخیل ہوتے ہیں اور بخل کی وجہ سے نفس انسانی مردہ ہو جاتا ہے۔ بخیل جس جماعت کا فرد ہے وہ اپنی ضعیفی کی وجہ سے مرگ مفاجات میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ بالخصوص ایسے نظام زندگی میں جو قائم ہی رضا کاری پر ہو، جیسے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں نظر آتا ہے۔

بطور تاکید مزید کہا جاتا ہے کہ انفاق سے بھی آگے بڑھو۔ درجہ احسان تک جاپہنچو وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”احسان کا معاملہ اختیار کرو، بے شک اللہ تعالیٰ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔ ”

اسلام میں جو مراتب ہیں، احسان ان میں بلند ترین مرتبہ ہے۔ احسان کی تعریف خود رسول اللہﷺ نے فرمائی ہے۔ “تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور جو انسان اس مقام بلند تک جا پہنچے، اس کے لئے تمام دوسری عبادات ادا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تمام معاصی خود بخود چھوٹ جاتے ہیں اور ایسا شخص چھوٹے بڑے گناہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈرتا ہے۔ تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ اللہ کا خوف اس کے پیش نظر رہتا ہے۔

یہ وہ آخری نتیجہ ہے جس پر آیات جہاد کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور جہاد کے معاملہ میں نفس انسانی کو احسان کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جو ایمان کا بلند ترین درجہ ہے۔

اب یہاں سے حج، عمرہ اور ان کے مناسک کا بیان شروع ہوتا ہے۔ سلسلہ کلام میں خود بخود ربط قائم ہو جاتا ہے۔ پہلے بات چاند کے سول سے چلی تھی جواب دیا گیا کہ وہ لوگوں کے لئے اور حج کے دوران اوقات کے تعین کے لئے ہے۔ پھر حج کے حرام مہینوں میں جنگ، مسجد حرام کے قریب جنگ کی بات چلی اور اس کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان ہوتے ہیں جو مسجد حرام میں میں سرانجام پاتے ہیں۔

 

“اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو، تو اسے پورا کرو اور اگر کہیں جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ دے یا قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدفعلی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کرو گے وہ اللہ کے علم میں ہو گا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو، میری نافرمانی سے پرہیز کرو اور حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو۔ اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم بھٹکے ہوئے تھے۔ پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں، وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ پھر جب اپنے رب کے احکام ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ ا س سے بھی بڑھ کر (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے )ان میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے، ایسے شخص کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اور کوئی کہتا ہے، اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ)حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کر کے دوہی دن میں واپس ہو گیا ہو تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز ا س کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ ” (آیت ١٩٦۔٢٠٣)

ہمارے پاس آیات حج کی تاریخ نزول کا کوئی صحیح علم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں آیا ہے کہ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ”اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر ہو۔ “۶ ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی، لہٰذا اسلام میں حج کب فرض ہوا اس کی صحیح تاریخ بھی ہمیں معلوم نہیں، اس میں اختلاف رائے ہے کہ حج فرض کس آیت سے ہوا، اس آیت سے یعنی وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ”اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو یا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا”جن لوگوں کے پاس زاد راہ کی استطاعت ہو ان پر اللہ کی جانب سے حج بیت اللہ فرض ہے۔ بہرحال ان دونوں آیات کے نزول کے بارے میں تاریخ کا تعین کرنے والی کوئی روایت، منقول نہیں ہے۔

امام ابن قیم جوزی اپنی کتاب زادالمعاد میں لکھتے ہیں کہ حج ۹ ھ یا ۱۰ھ میں فرض ہوا ہے۔ انہوں نے یہ سن اس قیاس میں متعین کیا ہے کہ رسولﷺ نے دس ہجری کو حج فرمایا۔ ظاہر ہے کہ لازماً آپﷺ نے یہ فریضہ فرض ہونے کے بعد ادا کیا ہو گا جو ۹ھ یا۱۰ھ میں ہوسکتا ہے، لیکن صرف یہ بات صحیح دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حج پہلے سے فرض ہو۔ مگر بعض مجبوریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے رسولﷺ نے اسے ۱۰ھ تک مؤخر فرما دیاہو۔ جبکہ ۹ھ میں رسولﷺنے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج مقرر فرما کر بھیجا۔ روایات میں یہ بات آ چکی ہے کہ رسولﷺ جب غزوۂ تبوک سے واپس ہوئے تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس کے بعد جب آپﷺ نے یہ خیال کیا کہ مشرکین حسب عادت حج کے موسم میں مکہ مکرمہ آتے ہیں اور ان میں سے بعض لوگ بالکل ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں۔ آپﷺ نے ان لوگوں میں خلط ہونے کو پسند نہ فرمایا۔ اس کے بعد سورت برأت نازل ہوئی۔ رسولﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارسال فرمایا تاکہ وہ سورت برأت کا ابتدائی حصہ لوگوں کو سنائیں، جن مشرکین کے ساتھ جو معاہدے تھے انہیں ختم کر دیں اور جب لوگ منیٰ میں قربانی کے وقت جمع ہوں تو اعلان کر دیں یاد رکھو!کوئی کافر جنت میں داخل نہ ہو گا، اس سال کے بعد کو ئی مشرک طواف نہ کرسکے گا۔ کوئی ننگا شخص طواف نہ کرسکے گا۔ جن لوگوں نے رسولﷺکے ساتھ کوئی معاہدہ کر رکھا ہے، تو وہ اپنی معیاد تک ہی رہے گا۔ یہی وجہ تھی کہ خود رسولﷺنے حج نہ فرمایا اور انتظار کیا کہ بیت اللہ پاک ہو جائے۔ مشرکین اور برہنہ ہو کر طواف کرنے والوں سے۔

یہاں یہ بات دل کو لگتی ہے کہ اسلام نے فریضۂ حج اور مناسک حج اکثر و بیشتر برقرار رکھے تھے۔ اور ان تاریخوں سے بہت پہلے ایسی روایات موجود ہیں کہ ہجرت سے پہلے ہی مکہ مکرمہ میں حج فرض ہو چکا تھا لیکن ان روایات کی سند قوی نہیں ہے۔ سورت حج، جو ارحج قول کے مطابق سورت ہے۔ اس میں حج کے اکثر و بیشتر مناسک کا ذکر ہوا ہے۔ یوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان مناسک کا حکم دیا تھا۔ سورت حج کی یہ آیات ملاحظہ فرمائیں :

(یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم علیہ السلام کے لئے اس (خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی (جو اس ہدایت کے ساتھ )کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام و رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھو اور لوگوں کو حج کے لئے اذن عام دے دو کہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں، جو یہاں ان کے لئے رکھے گئے ہیں۔ اور چند مقررہ دنوں میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ خود بھی کھائیں اور تنگ دست اور محتاج کو بھی دیں۔ پھر اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کر لیں اور اس قدیم گھر کا طواف۔ یہ ہے اصل معاملہ (اے سمجھ والو)اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ تمہیں ایک مقرر وقت تک ان (ہدی کے جانوروں )سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے، پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔

اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے ایک شعائر اللہ میں شامل کیا ہے۔ تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو اور جب (قربانی کے بعد)ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کئے بیٹھے ہیں اور ان کو جو اپنی حاجت پیش کریں ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خوں، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت سے تم اس کی تکبیر کرو اور اے نبی بشارت دے نیکو کاروں کو۔ ”

ان آیات میں اکثر مناسک کا ذکر ہوا ہے یا اشارہ ملتا ہے، مثلاً ہدی، نحر، طواف، احلال، احرام اور تسمیہ، یہی مناسک حج کے اساسی شعائر ہیں۔ خطاب ابراہیم علیہ السلام کے تاریخی واقعہ کی شکل میں، مسلمانوں سے ہو رہا ہے، ان آیات میں واضح طور پر یہ اشارہ کیا جاتا ہے کہ حج کافی ابتدائی دور میں فرض ہو گیا تھا۔ کیونکہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شعار تھا، جن سے مسلمانوں کی نسبت تھی۔ چونکہ مشرکین مکہ خانہ کعبہ کے مجاور تھے، کلید بردار تھے، اور ایک عرصہ تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان سخت کشمکش برپا تھی، ہوسکتا ہے کہ فریضہ حج کی ادائیگی کو مناسب وقت تک مؤخر کر دیا گیا ہو۔ لیکن یہ تاخیر تو الگ بات ہے۔ تو اس پارے کی ابتدائی آیات میں ہم اس رائے کو ترجیح دے چکے ہیں کہ بعض مسلمان، بہت پہلے سے فریضہ حج ادا کرتے تھے۔ یعنی دو ہجری میں تحویل قبلہ کے بعد۔

بہرحال حج کی تاریخ کے سلسلے میں بحث کافی ہے، اب ہم تشریح آیات، شعائر حج کے بیان اور ان ہدایات کی تشریح کریں گے جو ان کے اثناء میں دی گئی ہیں۔

وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُء ُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْہَدْيُ مَحِلَّہُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِہِ أَذًى مِنْ رَأْسِہِ فَفِدْيَۃٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَۃِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَۃٌ كَامِلَۃٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَہْلُہُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ

“اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو تو اسے پورا کرو، اور کہیں گھر جاؤ جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سرنہ مونڈو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سرمنڈوالے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ)تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حب مقدور قربانی دے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ”

ان آیات میں، سب سے پہلے وہ حسن الفاظ اور حسن تعبیر قابل دید ہے جسے اس قانون سازی کے لئے اختیار کیا گیا ہے، فقروں کی تقسیم، با مقصد اور بہترین طرز ادا، ہر فقرے میں الگ بیان اور الفاظ و فقرات مختصر، جن میں کوئی لفظ بھی زیادہ نہیں۔ ہر حکم کے ساتھ شرائط تحدید اور سب احکام کو خوف اللہ اور تقویٰ کے ساتھ مربوط کرتے چلے جانا۔

پہلے فقرے میں کہا گیا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرچکنے کے بعد، مطلقاً تکمیل لازمی ہے۔ جب حاجی حج کا آغاز کر دے، عمرہ کرنے والا عمرے کا آغاز کر دے، نیت باندھ لے خواہ علیحدہ علیحدہ یا دونوں کے ساتھ اور اس کی توجہ کا مرکز خالص اللہ کی رضا جوئی ہو، توانہیں حکم ہے وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلَّہِ”اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اسے پورا کرو۔ ”

بعض مفسرین کا خیال ہے کہ لفظ “پورا کرو”کے ذریعہ ہی سب سے پہلے حج فرض ہوا ہے۔ لیکن بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جب تم شروع کرو تو پھر پورا کرو۔ مکمل کرو۔ یہ مفہوم زیادہ ظاہر ہے۔ اس لئے کہ یہاں یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ حج بھی فرض ہو گیا اور عمرہ بھی فرض ہو گیا۔ کیونکہ بعض علماء عمرے کو فرض نہیں سمجھتے، لہٰذا یہاں مقصد یہی ہو گا کہ حج و عمرہ شروع کرنے کے بعد واجب ہو جاتے ہیں۔ اتمام لازمی ہے ابتداءً عمرہ واجب نہیں ہوتا لیکن جب اس کی نیت کر کے احرام باندھ لیا جائے تو پھر پورا کرو۔ اب اتمام واجب ہو گا اور عمرہ تمام مناسک میں حج ہی کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرے میں، میدان عرفات میں وقوف نہیں ہوتا۔ نیز عمرے کے لئے مقررہ اوقات بھی نہیں۔ پورے سال میں کسی وقت بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ حج کی طرح معلوم مہینوں کے اندر ہی اس کی ادائیگی لازمی نہیں ہے۔

اتمام حج و عمرہ کے اس عام حکم سے حالت احصار کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا ہے۔ احصار کسی جانی دشمن کی وجہ سے ہو (اس پر سب مذاہب کا اتفاق ہے )یا بیماری یا بیماری کی طرح کوئی اور رکاوٹ ہو۔ جس کی وجہ سے حج اور عمرے کی تکمیل ممکن ہو، فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار جائز ہے یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ بیماری کی وجہ سے احصار معتبر ہے۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ”اور اگر کہیں گھر جاؤ، تو ہدی جو بھی میسر ہو، جناب باری میں پیش کرو۔ “اس حالت میں حاجی یا عمرے کی نیت کرنے والا وسعت وسہولت کے مطابق جو قربانی کرسکے کرے اور احرام توڑ دے۔ وہیں جہان حالت احصار پیش آئی۔ اگرچہ وہ مسجد حرام تک نہ پہنچ سکے۔ میقات سے احرام باندھنے کے سوا، مناسک حج ادا نہ کرسکے۔ مناسک عمرہ ادا نہ کرسکے (میقات وہ مقام ہے جہاں حاجی اور عمرہ کرنے والا احرام باندھتا ہے، پھر اس کے سلے ہوئے کپڑے پہننا حرام ہو جاتا ہے، بال چھوٹے کرنا، منڈوانا، ناخن چھوٹے کرنا منع ہو جاتا ہے۔ نیز اس پر خشکی کا شکار کھیلنا اور اس کا کھانا منع ہو جاتا ہے۔

۶ھ ہجری میں بھی یہی پیش آیا، جب رسولﷺ اور آپ کے ساتھی حدیبیہ پہنچے تو مشرکین نے آپ کو مسجد حرام آنے سے روک دیا۔ اس مذاکرات ہوئے اور معاہدہ صلح حدیبیہ طے ہوا۔ اس کے مطابق طے ہوا کہ رسول اللہﷺ اگلے سال عمرہ ادا کریں۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور رسولﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جہاں تک پہنچے ہیں وہیں رک جائیں، قربانی کریں اور عمرہ کی نیت ختم کر کے احرام سے باہر آ جائیں۔ مسلمان تعمیل امر سے ہچکچانے لگے۔ ان پر یہ بات گراں گزر رہی تھی کہ وہ کیونکر ہر ہدی کو اس کے مقام نحر سے پہلے ہی قربانی کر دیں، حالانکہ عادہً وہ منیٰ میں ایسا کرتے ہیں۔ ان کی ہچکچاہٹ دیکھ کر رسولﷺ آگے بڑھے اور اپنی قربانی ذبح کر کے احرام سے باہر نکل آئے۔ اس پر سب نے تعمیل کی۔

فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِسے مراد وہ ہے جو میسر آ جائے۔ ہدی میں جن مویشیوں سے ہو گی وہ یہ ہیں، اونٹ، گائے، بھینس اور بھیڑ بکری۔ صرف اونٹ، بھینس اور گائے میں سات افراد تک شریک ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر سات افراد ایک اونٹنی میں شریک ہوئے تھے۔ یہ ہے تیسیر۔ ہاں بھیڑ بکری صرف ایک آدمی کے لئے ہدی ہو گی۔

حالت احصار، جیسا کہ حدیبیہ میں پیش آیا، یا بیماری کی وجہ سے گھر جانے کے حالات کو اصل حکم سے اس لئے مستثنیٰ کیا گیا کہ مسلمانوں پر تنگی نہ ہو، اس کی حکمت صرف مسلمانوں کے لئے سہولت کی گنجائش رکھنا ہے۔ مناسک حج کی غرض و غایت یہی ہے کہ انسان اللہ کے نزدیک ہو جائے اور اس کے دل میں اللہ کاخوف پیدا ہو جائے۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض سرانجام دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ جب اس نے نیت کر لی، احرام باندھ لیا اور دشمن اس کی راہ میں حائل ہو گیا یا بیماری اور یا اسی طرح کا کوئی اور عذر لاحق ہو گیا تو حاجی یا عمرہ کی نیت کرنے والا حج یا عمرے کے ثواب سے کیوں محروم ہو۔ اس حالت کا حکم ایسا ہی ہو گا جیسے حج مکمل ہو گیا، عمرہ ادا ہو گیا، چنانچہ ایسا شخص وہیں قربانی کر کے احرام سے نکل آئے گا۔ یہ سہولت ایسی ہے جو اسلام کی روح، اسلامی عبادات کے مقاصد اور شعائر حج و عمرہ کی اصل غرض و غایت کے عین مطابق ہے۔

پہلے حکم کی اس استثناء کے بعد، اب روئے سخن ایک دوسرے حکم، عام حکم، حج کے لئے بھی عمرے کے لئے بھی اس کی طرف پھرتا ہے۔ وَلا تَحْلِقُوا رُء ُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْہَدْيُ مَحِلَّہُ”اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ “یہ حکم اس حالت کے لئے ہے کہ جہاں حج و عمرہ مکمل ہو رہے ہیں اور احصار نہ ہو، حج، عمرے یا دونوں کی نیت کی صور ت میں آدمی اس وقت تک حالت احرام میں رہتا ہے اور اسے سرمونڈوانے کی اجازت نہیں ہوتی جب تک قربانی اپنی جگہ پہنچ کر ذبح نہ ہو جائے۔ یعنی میدان عرفات میں وقوف کر کے، مزدلفہ آنے کے بعد بمقام منیٰ، ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو۔ اس قربانی کے بعد حاجی احرام سے نکلتا ہے۔ اس سے پہلے اس کے لئے سرمونڈوانا، بال چھوٹے کرنا یا دوسرے کام جو محرم کے لئے جائز نہیں ان کا ارتکاب کرنا منع ہے۔ اب اس عام حکم میں بھی استثنا(Proviso)ہے۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِہِ أَذًى مِنْ رَأْسِہِ فَفِدْيَۃٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُكٍمگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے تو اسے چاہئے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے !

اگر ایسی بیماری لاحق ہو جائے جس میں سرمنڈوانا ضروری ہو یا سر میں جوئیں وغیرہ پڑ جائیں اور دیر تک ان میں کنگھی نہ کی گئی اور جوئیں وغیرہ پڑ گئیں تو اس وقت تک ہدی کے محل تک پہنچنے سے پہلے بھی سرمنڈوانا جائز ہے۔ کیونکہ اسلام سہولت کا دین ہے، لہٰذا تکمیل حج سے پہلے بھی سرمنڈوا سکتا ہے۔ البتہ اس صورت میں ایسے شخص کو فدیہ دینا پڑے گا یا تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو کھانا یا ایک بکری ذبح کر کے صدقہ کرنا، فدیہ کی یہ تحدید رسولﷺ کی احادیث میں کی گئی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ کعب بن عجرہ سے روایت کی ہے، فرماتے ہیں :مجھے رسولﷺ کے پاس لے جایا گیا، میری حالت یہ تھی کہ میرے بالوں سے میری چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا میرا یہ خیال نہ تھا کہ تم اس قدر مصیبت میں پڑ گئے ہو۔ کہا تمہارے پاس بکری ہے ؟میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا:تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ اور کھانے کی مقدار یہ ہو کہ مساکین کو نصف صاع غلہ ملے، اور اپنے سر کو منڈوا لو۔

اب حج کا ایک دوسرا، عام حکم سنیں فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ”پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے تو جو شخص تم سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے۔ وہ حسب مقدور قربانی دے۔ “مطلب یہ ہے کہ جب احصار کی صورت درپیش ہو اور تم فریضہ حج ادا کر رہے ہو، پس جو شخص ایام حج آنے سے پہلے عمرہ کرنا چاہتا ہو تو وہ حسب مقدور قربانی دے۔ اس حکم کی تعمیل یہ ہے کہ ایک شخص عمرہ کے لئے نکلے، میقات پر احرام باندھے، عمرہ ادا کر لے، یعنی طواف اور سعی بین صفا مروہ سے فارغ ہو جائے، پھر وہ حج کی نیت کر لے اور ایام حج کا انتظار کرے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ ایک شخص یہ عمرہ حج کے مہینوں میں کر رہا ہو، حج کے مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں، حج سے عمرہ کرنے کی یہ ایک صورت ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد حج کے ایام کا انتظار کرے۔ یہ تمتع کی دوسری صورت ہے۔ ان دونوں صورتوں میں تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے۔ یہ قربانی عمرہ کے بعد ہو گی تاکہ وہ احرام سے نکل آئے۔ یہ شخص ادائے عمرہ اور آغاز حج کے درمیانی عرصہ میں حلال رہے گا۔ حسب مقدور قربانی اونٹ، گائے، بھیڑ بکری کی ہو گی۔

اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَۃِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَۃٌ كَامِلَۃٌ”اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور ساتھ گھر پہنچ کر اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ “اس سلسلے میں اولیٰ یہ ہے کہ حج کے تین روزے ذوالحجہ کو عرفات پر وقوف سے پہلے ہی رکھ لے اور باقی سات دن گھر لوٹ کر رکھ لے۔ اس طرح پورے دس روزے رکھ لے، مزید تاکید کے لئے کہا گیا ہے ہدی اور روزے کی حکمت صرف یہ ہے کہ حاجی کا تعلق اللہ کے ساتھ مسلسل قائم رہے، یعنی عمرہ اور حج کے درمیانی عرصے میں جب وہ احرام سے باہر آ جاتے تو اس کا یہ شعور ختم نہ ہو جائے کہ وہ ایام حج کی فضا میں ہے۔ اسے برائیوں سے خاص طور پر بچنا چاہئے اور یہ کہ اللہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ شعور اور جذبہ بالعموم ایام حج میں زندہ ہوتا ہے۔

رہے وہ لوگ جو مسجد الحرام کے رہنے والے ہیں تو ان کے لئے ایام حج میں عمرہ جائز نہیں ہے۔ وہ صرف حج کریں گے۔ وہ عمرے اور حج کے درمیان قربانی کر کے احرام سے نہیں نکل سکتے۔ اس لئے ان پر فدیہ، قربانی یا روزہ لازم نہیں ہے۔ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَہْلُہُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ”یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے، جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ “جو احکام یہاں تک بیان ہو چکے ہیں ان کے آخر میں اب قرآن مجید ایک زوردار تعقیب اور نتیجہ پیش کرتا ہے اور حجاج کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی جانب موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ”اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ خوب سزا دینے والاہے۔ “تقویٰ ہی امتثال امر کی گارنٹی ہے۔ اللہ کا خوف اور اللہ کی سزا کا خوف ہی تعمیل احکام کا ضامن ہے۔ احرام میں تو ایک وقت کے لئے پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ قانونی پابندی لیکن اگر احرام کی حالت ختم ہو جائے تو پھر تقویٰ اور اللہ خوفی وہ واحد نگرانی ہے جو انسان پر اچھا اثر ڈال سکتی ہے اور ایک مومن کی نگہبان ہوسکتی ہے۔ اب حج کے خصوصی احکام بیان ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ حج کے آداب کیا ہیں ؟اوقات کیا ہیں ؟سابق پیراگرافوں کی طرح اس مقطع کا اختتام بھی اسی تلقین اللہ خوفی اور اتقاء پر ہوتا ہے۔ الْحَجُّ أَشْہُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيہِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْہُ اللَّہُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ”حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو، اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا۔ سفر حج کے لئے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو، میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ ”

اس آیت کی ظاہری عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ اوقات معلوم ہیں۔ وہ شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ لہٰذا صرف ان اوقات کے اندر ہی حج کی نیت درست ہو گی۔ اس سے پہلے کہ اگر کوئی نیت کرے تو صحیح نہ ہو گی۔ اگرچہ بعض مذاہب نے سنت رسولﷺ کی بنیاد پر اسے جائز قرار دیا ہے اور وہ اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہیں کہ حج کے جو معلوم اوقات ہیں وہ مناسک حج کی ادائیگی کے لئے ہیں۔ نہت پہلے بھی درست ہے۔ یہ رائے امام مالک رحمہ اللہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے۔ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ، ثوری رحمہ اللہ اور لیث بن سعد بھی اسی طرف گئے ہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے پہلی رائے اختیار کی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، عطاء رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ چانچہ یہی رائے زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔

اب ان معلوم ایام میں اگر کوئی اپنے اوپر حج فرض کر لے یعنی وہ یہ پختہ ارادہ کر لے کہ وہ حج ادا کرے گا اور احرام باندھ لے تو اسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں کوئی رفث کوئی بد فعلی کوئی جھگڑے لڑائی کی بات نہ سرزد ہو۔ رفث سے مراد یہاں جماع اور دواعی جماع کا تذکرہ ہے۔ عورتوں کے سامنے یا عام محفلوں میں جدال سے مراد لڑائی جھگڑا جس سے فریق دوم غصہ ہو جائے اور فسوق سے مراد تمام بد فعلیاں ہیں چھوٹی ہوں یا بڑی۔ ان افعال کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کاموں سے دوران حج بچنا چاہئے جو تحرج و احتیاط اور اللہ کی جانب تنہائی اور یکسوئی کی فضا کے خلاف ہوں، کیونکہ حج کے دوران انسان تمام دنیاوی معاملات ترک کر دیتا ہے، اور یہ پورا عرصہ تعلق باللہ کے قیام کی روحانی مشقوں کا عرصہ ہوتا ہے۔ ایام حج وہ پیریڈ ہے جس میں انسان اپنے داعی لباس سے بھی علیحدہ ہو کر اللہ کے گھر میں چلا جاتا ہے۔ لہٰذا یہاں اسے چاہئے کہ اس گھر کے شایان شان احترام اور ادب کو ملحوظ رکھے۔

برے افعال روکنے کے بعد اب کہا جاتا ہے کہ تم اچھے کام کثرت سے کرو وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْہُ اللَّہُ”اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا۔ “کیا مومن کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ اس کا آقا اس کے ہر اچھے کام کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے۔ اللہ دیکھ رہا ہے یہ احساس جگالو، تمہارا آقا دیکھتا ہے۔ بڑھتے چلے جاؤ، زیادہ سے زیادہ بھلائی جمع کر لو۔ یہ ہوتا ہے مومن کا احساس۔ یقیناً اخروی جزاء سے پہلے ہی ایک عظیم انعام ہے۔

اس کے بعد یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ سفر حج کے دوران مقدور زاد راہ کا انتظام کرو۔ ہر قسم کا زاد راہ۔ روح کے لئے بھی اور جسم کے لئے بھی۔ احادیث میں آتا ہے کہ یمنیوں میں کچھ لوگ حج کے لئے ایسے حال میں چل پڑتے تھے کہ پاس کچھ بھی نہیں۔ وہ کہتے ہم تو اللہ کے گھر کی زیارت کو جائیں گے اور وہ ہمیں روٹی بھی نہ دے۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرے وہ مکمل تیاری سے کرے۔ پوری تیاری کے ساتھ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرے اور پھر اعتماد اور بھروسہ مکمل اسی پر ہو۔ ان لوگوں کی یہ بات نہ صرف اسلام کے مزاج کے خلاف تھی بلکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات چیت میں ایک قسم کی بے باکی کا اظہار بھی ہوتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ حج کرنے کو ذات باری پر ایک قسم کا احسان سمجھتے تھے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حج کرتے ہیں لہٰذا وہ زاد راہ کا ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زاد راہ کی دونوں اقسام، جسمانی زاد راہ اور اللہ خوفی اور تقویٰ کا زاد راہ کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ اور کہا کہ اللہ کے جناب میں بے باکی اختیار نہ کرو۔ تعبیر ایسی ہے کہ ہر وقت ہر لمحہ تقویٰ ہی تمہارا زاد راہ ہو، زاد حیات ہو وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ”سفر حج کے دوران زاد راہ ساتھ لے جاؤ۔ بہترین زاد راہ پرہیزگاری اور اللہ خوفی ہے۔ ”

تقویٰ روح اور قلب کی خوراک ہے۔ اس سے روح کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ تقویٰ اور اللہ خوفی سے روح طاقتور ہوتی ہے۔ پھڑپھڑاتی لہلہاتی ہے۔ روح اس سے جلاپاتی ہے اور روشن ہو جاتی ہے۔ تقویٰ ہی مدار نجات ہے۔ وہی لوگ ہوشمند ہیں جو تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ لیں اور ہر کام میں اسے کام میں لا کر خیر و برکت حاصل کریں۔

مزید احکام حج بیان ہوتے ہیں، کیا تجارت جائز ہے۔ کیا دوران حج حاجی مزدوری کرسکتا ہے ؟وقوف کہاں ہو اور کہاں سے واپسی جائز ہے ؟ذکر واستغفار کا کیا طریقہ ہے، یہ مسائل سنئے !

 

“اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر جب عرفات سے چلو۔ تو مشعر حرام (مزدلفہ)کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے نہیں کی ہے، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو، اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ ” (آیت ۱۹۸، ۱۹۹)

 

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، فرماتے ہیں عکاظ مجنہ اور ذوالمجاز دور جاہلیت کے مشہور تجارتی میلے ہوا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے خیال کیا کہ شاید دور اسلام میں ان میلوں میں تجارت کرنا اب جائز نہیں ہے۔ اس پر حکم آیا کہ موسم حج میں “اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”

ابوداؤد نے، اپنی سند کے ساتھ ایک دوسرے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں :مسلمان ایام حج اور اس کے بعد تجارتی موسم میں خرید و فروخت سے پرہیز کرتے تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ تو اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا، اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ابو امامہ تیمی کی ایک روایت میں ہے، کہتے ہیں میں حضرت ابن عمر سے پوچھا ہم بار برداری کا کام کرتے ہیں۔ کیا ہمارا بھی حج ہو گا ؟انہوں نے فرمایا کیا تم طواف نہیں کرتے، نیکی کے کام نہیں کرتے، جمرے نہیں مارتے، پھر سر نہیں منڈواتے ؟کہتے ہیں ہم نے جواب دیا ہاں، ابن عمر نے فرمایا ایک صاحب رسول اللہﷺ کے پاس آئے اس نے آپﷺ سے یہی سوال دریافت کیا جو آپ لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے اس وقت تک کوئی جواب نہ دیا جب تک جبریل یہ آیت لے کر آ نہیں پہنچے۔ اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے ابو صالح، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا اس نے سوال کیا امیر المومنین کیا تم حج میں تجارت کیا کرتے تھے ؟انہوں نے فرمایا بھائی ہمارے لوگوں کی معیشت کا دارومدار ہی حج پر تھا۔

تجارت کے بارے میں اوپر کی پہلی دو روایات سے اہل اسلام کی جس احتیاط کا اظہار ہوتا ہے پھر وہ دوسری روایت میں بار برداری اور مزدوری کے بارے میں جس احتیاط اور پرہیز کا ذکر ہے، یہ اسی احتیاط اور پرہیز گاری کا ایک حصہ ہے جو اسلام نے مسلمانوں کے اندر دور جاہلیت کے ہر فعل و ہر رسم کے خلاف پیدا کر دی تھی۔ مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ دور جاہلیت کے کسی فعل یا کسی رسم کا ارتکاب اس وقت تک نہ کرتے تھے جب تک اس کے بارے میں اسلام کوئی فیصلہ نہ سنادیتا۔ اس پارے کی ابتداء میں ہم اس پر بحث کر چکے ہیں، یعنی صفا و مروہ کے درمیان سعی کے بیان کے ضمن میں۔ ایام حج کے دوران بیع و شراء بار برداری و مزدوری کی اجازت قرآن نے دے دی مگر اس کی تعبیر یوں ہے کہ یہ اللہ کا فضل ہے۔

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ”تم اگر اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “حلال کمائی کی تعبیر فضل الٰہی سے کی گئی ہے۔ تاکہ تجارت کرنے والے، مزدوری کرنے والے یا دوسرا کوئی نفع اور کام کرنے والے، یہ سمجھیں کہ وہ محض دولت نہیں کماتے بلکہ یہ اللہ کا فضل بھی ہے۔ یہ کام صرف مادی جسم کا سروساماں ہی نہیں ہے بلکہ اسے تقدس حاصل ہے اور فضل اللہ ہے۔ اور اللہ اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔ اس لئے تجارت کی اس نوعیت یعنی فضل خداوندی کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ فضل خداوندی اسے تب ہی مل سکتا ہے جب وہ لین دین کرے اور ان اسباب کے ذریعے ہی اسے تلاش کرے جو اللہ تعالیٰ نے نظام رزق کے لئے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ جب قلب مومن میں یہ احساس جاگزیں ہو جاتا ہے اور پھر وہ طلب رزق میں نکلتا ہے تو وہ اس سعی میں بھی دراصل عبادت کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ سرگرمی حالت حج کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ حج بھی اللہ کے لئے ہے اور یہ تجارت بھی فضل الٰہی ہے۔ اسلام سب سے پہلے قلب مومن میں ایسے جذبات اور ایسے تصورات بٹھا دیتا ہے اور پھر اسے میدان میں عمل اتار دیتا ہے اور کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے کام کرے۔ اس نقطہ نظر سے اس کا ہر فعل، اس کی ہر حرکت اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ طلب رزق، تجارت کے حکم کو بھی احکام حج کے عین وسط میں بیان کر دیا اور تلاش فضل کے ساتھ ہی شہر حرام کے پاس ذکر اور عرفات سے واپسی کے مسائل بیان ہوئے۔

فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوہُ كَمَا ہَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الضَّالِّينَ”پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعر الحرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ ”

عرفات پر وقوف (کھڑا ہونا)افعال حج کا مرکزی ستون ہے۔ اصحاب سنن نے ویلمی کی روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں :میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے سنا:حج عرفات ہے (تین مرتبہ فرمایا)کوئی شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات تک جاپہنچے تو گویا اس نے حج پالیا۔ منیٰ میں قیام کے تین دن ہیں۔ لیکن اگر کوئی دو دن گزار کر چلا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اور کوئی تاخیر کرے تو بھی گناہ گار نہیں۔

عرفات کے میدان میں کھڑے ہونے کا وقت یوم عرفہ کے زوال کے بعد شروع ہو جاتا ہے یعنی ۸ ذوالحجہ کے دن ظہر سے۔ اور یہ وقت دوسرے دن، یعنی یوم النحر، قربانی کے دن کے طلوع فجر تک۔ امام احمد کا قول یہ ہے کہ وقوف عرفہ کا وقت دن کے شروع ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ وہ ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو انہوں نے روایت کی ہے۔ دوسرے اصحاب سنن کے علاوہ امام ترمذی نے روایت کر کے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ شعبی عروہ بن مضرس ابن حارثہ ابن لام الطائی سے روایت کرتے ہیں۔ میں رسولﷺ کے پاس مقام مزدلفہ میں آیا، جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے، میں نے کہا اللہ کے رسولﷺ میں طے پہاڑ سے آیا ہوں۔ میری سواری بھی تھک گئی ہے اور میں بھی چور چور ہو گیا۔ اللہ کی قسم میں ہر پہاڑ پر کھڑا ہوا ہوں۔ کیا میرا حج مکمل ہو گیا؟اس پر رسولﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری اس نماز میں پہنچ جائے اور ہمارے ساتھ یہاں توقف کرے یہاں تک کہ ہم یہاں سے چل پڑیں۔ بشرطیکہ وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت میدان عرفات میں کھڑا ہو چکا ہو۔ تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس کی تکلیف دور ہو گئی۔

درج بالا دو اقوال کے مطابق، رسولﷺ نے عرفات پر وقوف کے وقت کو قدرے بڑھایا یا اسے یوم النحر کی صبح تک بڑھا دیا، یعنی ذوالحجہ کی دسویں تک، یہ کیوں ؟ا س لئے کہ مسلمانوں کا طرز عمل مشرکین کے طرز عمل سے قدرے مختلف ہو جائے۔ ابن مردویہ اور حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے۔ دونوں نے عبدالرحمٰن بن مبارک سے حضرت مسور ابن مخرمہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ہمیں عرفات میں خطبہ دیا۔ حمد و ثناء کے بعد آپﷺ نے فرمایا(امابعد)آج کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ مشرکین اور بت پرست غروب شمس سے پہلے ہی چلنا شروع کر دیتے تھے۔ جب سورج ابھی پہاڑیوں کے سروں پر ہوتا اور سورج کے سامنے پہاڑیاں یوں نظر آئیں گویا کہ آدمیوں کے عمامے ہیں اور ہم ان کے طرز عمل کے خلاف دوسرے دن طلوع الشمس سے پہلے پہلے یہاں سے چلیں گے۔

رسولﷺ کی یہ روایت کہ آپ یوم عرفہ کے دن، غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوئے۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ بن عبداللہ کی روایت میں ہے۔ آپ یوں عرفات میں کھڑے رہے، سورج غروب ہو گیا، زردی تھوڑی تھوڑی واضح ہو گئی۔ اور سورج کی ٹکیہ صاف غائب ہو گئی۔ اسامہ آپ کے پیچھے آپ کی سواری پر بیٹھ گئے۔ رسولﷺ اب آگے بڑھے۔ اونٹنی کی لگام خوب کھینچ لی۔ یہاں تک کہ اس کا سر ہودج کے اگلے حصے سے لگنے لگا۔ آپﷺ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ فرماتے رہے :لوگو!آرام سے، رک رک کر چلو جب راستے میں پہاڑی آ جاتی اور سواری کو اوپر چڑھنا ہوتا تو آپ مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ سہولت سے چڑھ جائے۔ جب آپﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپﷺ نے مغرب و عشاء کی دونوں نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھائیں۔ دونوں نمازوں کے درمیان تسبیح کچھ نہ تھی۔ اس کے بعد آپﷺ نے آرام فرمایا۔ صبح طلوع ہونے کے بعد جب روشنی خوب پھیل گئی تو آپﷺ نے صبح کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی۔ آپﷺ پھر اونٹنی پر سوار ہو گئے اور مشعر الحرام تک آئے اور قبلہ رو ہو کر وہاں دعا فرمائی۔ تکبیر و تہلیل فرمائی۔ یہاں آپﷺ کھڑے ہی رہے، یہاں تک کہ زردی پھیل گئی۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے ہی آپ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ یہ ہے وہ فریضہ جو ادا کیا اور رسولﷺ نے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوہُ كَمَا ہَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الضَّالِّين”پھر جب تم عرفات سے چلو، تو مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو۔ اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ ”

مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے۔ قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ عرفات سے واپسی پر یہاں آ کر اللہ کو یاد کرو، یاد دلایا جاتا ہے کہ اس ذکر کی بھی اس نے انہیں ہدایت کی ہے۔ اس کی ہدایات میں سے یہ ہدایت ہے اور یہ ذکر گویا ان کی جانب سے ایک شکر یہ ہے کہ جو وہ اللہ تعالیٰ کا ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ وہی ہے جس نے انہیں ہدایت دی ورنہ اس ہدایت سے پہلے تو ان کی حالت یہ تھی وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الضَّالِّين”ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ ”

پہلی جماعت مسلمہ، صحابہ کرام اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کا گہرا احساس اپنے اندر پاتے تھے۔ عرب گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے، انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ عقائد خراب، بتوں، جنوں اور ملائکہ کے پجاری، فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھنے والے، جنوں کو اللہ تعالیٰ کا رشتہ دار سمجھنے والے، غرض یہ اور اس قسم کے بے شمار نظریاتی اور عملی گمراہیوں میں یہ لوگ ڈوبے ہوئے تھے۔ ان غلط تصورات اور باطل عقائد کی اساس پر ان لوگوں نے اپنے لئے ایک نظام عبادت اور نظام زندگی وضع کر لیا تھا۔ بعض جانوروں کی پشت کا گوشت اور یا پورا گوشت بغیر کسی معقول جواز کے انہوں نے حرام قرار دے دیا تھا، جواز یہ پیش کرتے تھے کہ ان جانوروں کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے۔ وہ اپنی اولاد کو اللہ کے لئے نذر کرتے اور جنات کو اس میں شریک کرتے۔ اور اس کے علاوہ بے شمار جاہلی عبادات ورسومات تھے جن کا کوئی جواز نہ تھا، صرف ان بے بنیاد اور غلط عقائد کا نتیجہ تھے۔ نیز ان عقائد کی وجہ سے ان کا اجتماعی نظام فاسد ہو چکا تھا اور وہ بحیثیت قوم اخلاق باختہ تھے۔ ان کے اندر طبقاتی امتیازات گھر کر چکے تھے مثلاً ایک یہ کہ وہ عرفات تک نہ جاتے اور جس کی اصلاح اس آیت سے کی گئی ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ”پھر جہاں سے اور لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو۔ “اور قرآن مجید نے ان تمام فسادات اور رسومات کو ختم کر کے رکھ دیا۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان مسلسل خاندانی رقابتیں اور قبائلی جنگیں جاری رہتی تھیں اور وہ اجتماعی طور پر کسی بھی وقت ایک قوم نہ بن سکتے تھے تاکہ اقوام کی برادری میں ان کی کچھ وقعت ہوتی۔ ان کا خاندانی نظام برباد ہو چکا تھا اور جنسی تعلقات میں سخت بے راہ روی پائی جاتی تھی اور وہ اس جنسی بے راہ روی پر فخر کرتے تھے۔ ان کے زبردست لوگ ضعفاء کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے تھے اور اس سلسلے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے سوا ان کے معاشرے میں کوئی میزان عدالت نہ تھی۔ غرض اس وقت کے عرب معاشرے کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو وہ انسان کی فکری اور عملی گمراہی اور فساد کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔

اور یہ صرف اسلام تھا، جس نے اس معاشرے کو بلند کیا اور اسے فکری اور عملی ضلالت سے نجات دی۔ اور جب وہ قرآن مجید کی یہ آواز سنتے وَاذْكُرُوہُ كَمَا ہَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الضَّالِّين”اللہ کو اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ “تو ان کے حافظہ کے اسکرین پر ان کے تخیلات کے نگار خانہ میں، ان کے شعور کے نہاں خانہ سے یکلخت و تصاویر۔ ان کی زندگی کی بھدی تصاویر، ان کی زندگی کے گرے ہوئے بدنما نقشے سامنے آ جاتے ہوں گے۔ ان کی تاریخ تو ان بدنما مناظر سے بھری پڑی تھی۔ خیال وشعور کی اسکرین پر اپنی یہ تصاویر دیکھ کر جب وہ پھر اپنی موجودہ پاکیزہ زندگی اور اپنے اس بلند مقام پر نگاہ ڈالتے ہوں گے جو اسلام نے انہیں عطا کیا، جہاں تک اسلام نے انہیں بلند کیا۔ تو وہ اس سچائی کی گہرائیوں تک جاپہنچے ہوں گے۔ وہ بغیر کسی مبحث کے یہ سمجھ جاتے ہوں گے کہ ان کی زندگی میں اسلام کا اساسی رول کیا ہے ؟

عربوں کے علاوہ بھی ہر قوم، ہر نسل کے مسلمانوں کے سلسلے میں یہ بات اب بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ اسلام کے بغیر ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ؟اس نظریۂ حیات کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو ان کا وزن کیا رہ جاتا ہے ؟جب لوگ اسلام کی روشنی پالیتے ہیں، اور جب ان کی پوری زندگی میں اسلامی نظام حیات نافذ ہو جاتا ہے اور ایک حقیقت بن جاتا ہے۔ تو وہ گراوٹ سے رفعت، چھٹ پنے کے مقابلے میں عظمت، گمراہی کے بدلے ہدایت اور پریشان خیالی کے مقابلے میں فکر مستقیم پا جاتے ہیں۔ ان کی زندگی میں یہ تبدیلی اس وقت رونما نہیں ہوتی جب تک وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں بن جاتے۔ اور جب تک وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں کر لیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری انسانیت ایک اندھی جاہلیت میں سرگرداں ہے۔ اور اس وقت تک یوں ہی رہے گی جب تک وہ اسلام کے حظیرہ ہدایت میں داخل نہیں ہو جاتی۔ اس راز کو تو صرف وہی شخص کماحقہ پا سکتا ہے، جس نے جاہلیت میں کچھ دن گزارے ہوں، جس میں آج کل پوری انسانیت مبتلاہے اور جس نے پوری دنیا کو بدی سے مالا مال کر دیا ہے، جس کا ہر جگہ دور دورہ ہے، پھر ایسا شخص اسلامی تصور حیات کو پالے اور پھر اس کے مطابق زندگی بسر کر کے دیکھ لے اور تجربہ کر کے معلوم کرے کہ اسلامی نظام زندگی کس قدر اعلیٰ و ارفع نظام ہے اور اس کے علاوہ اس کے ماحول میں جو نظام ہیں وہ ناپاکی، غلاظت اور گندگی کے ڈھیر ہی ڈھیر ہیں۔

جب انسان اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کی بلند ترین چوٹی پر چڑھ جاتا ہے وہاں سے پوری انسانیت کے تمام تصورات زندگی، تمام مروجہ اجتماعی نظام اور زندگی ے تمام طور و طریقوں پر نظر ڈالتا ہے، ان تمام بڑے بڑے فلسفیوں کے تصورات پر، تمام جدید و قدیم مفکرین کے افکار پر، تمام جدید و قدیم نظام ہائے زندگی پر انسان ا س بلندی اور اسلامی نظام حیات کی بلند چوٹی سے جب نظر ڈالتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ پوری انسانیت کس مصیبت، کس بدبختی میں مبتلا ہے۔ ان فضولیات اور ان بدبختوں نے اس کس قدر ذلیل و لاغر کر دیا ہے۔ وہ ایسی ژولیدہ فکری اور علمی افراتفری میں مبتلا ہے کہ کوئی عقلمند آدمی اس میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ اور پھر وہ بزعم خود غلط انسان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسے اللہ کے بھیجے ہوئے نظام زندگی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ ہے وہ حقیقت جس کی یاد دہانی اللہ تعالیٰ یہاں کرا رہے ہیں اور جس کا احسان مومنین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم کرم ہے کہ اس نے تمہیں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیا وَاذْكُرُوہُ كَمَا ہَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہِ لَمِنَ الضَّالِّينَ”اور اسے اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے۔ اگرچہ اس سے قبل تم گم کردہ راہ تھے۔ ”

حج مسلمانوں کا ایک عظیم سالانہ اجتماع ہے۔ اس میں وہ باہم ملتے ہیں، اسلام کے اس آسرے کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا، اسلامی نشانات کے سوا سب نشانات مٹ جاتے ہیں۔ بدن پر غیر سلے دوکپڑے، باقی ہر چیز سے عاری۔ ضروری ستر کے علاوہ سرپاؤں ننگے، فرد اور فرد کے درمیان کوئی جدائی نہیں۔ قبیلے اور قبیلے کے درمیان کوئی اختیار نہیں، قوم اور قوم کے درمیان کوئی جدائی نہیں، اسلامی نظریۂ حیات ہی سب کا عقیدہ ہے، اسلامی نسب میں سب کا نسب ہے۔ اسلامی رنگ ہی سب کا رنگ ہے۔ قریش دور جاہلیت میں اپنے آپ کو “حمس”بہادر و غیور رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے لئے ایسے امتیازات اختیار کئے ہوئے تھے جو انہیں تمام عربوں سے الگ کر دیتے تھے، ان امتیازات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ عام عربوں کی طرح عرفات پر “وقوف عرفہ”پر “وقوف”نہ کیا کرتے تھے۔ نہ وہ قیام (عرفات)سے لوٹتے تھے جہاں سے تمام لوگ واپس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احکام حج میں خصوصی طور پر ان کے لئے حکم نازل ہوا، اور امتیاز ختم کر کے انہیں اس مساوات کے دائرے کے اندر لے آیا گیا، جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا، چنانچہ تمام مصنوعی امتیازات کو ختم کر کے ذی امتیاز قبیلہ قریش کو امت مسلمہ کے اندر ضم کر دیا گیا۔ حکم دیا گیا ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ”اور پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے پلٹو، اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ ”

امام بخاری نے ہشام، اس کے باپ کے واسطہ سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث روایت کی ہے۔ فرماتی ہیں !”قریش اور ان کے دین کے پیروکار نہ صرف وہاں رک جاتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو “حمس”کہتے تھے جبکہ تمام عرب اقوام عرفات میں “وقوف”کرتیں۔ جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ عرفات پر جائیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور پھر وہاں سے پلٹیں۔ یہ ہے مراد اس آیت سے حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ”جہاں سے لوگ پلٹیں۔ ”

جہاں اور لوگ ٹھہریں وہاں تم بھی ٹھہرو، جہاں سے اور لوگ پلٹیں وہیں سے تم بھی پلٹو، اسلام کی نظر میں انساب اور طبقات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تمام لوگ ایک ہی امت کے فرد ہیں۔ بالکل برابر، ہوں جس طرح کنگھی کے دندانے۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں۔ سوائے تقویٰ اور خدا خوفی کے۔ اسلام نے تو حکم دیا ہے کہ وہ عام طور پر رنگارنگ لباس پہنتے ہیں اسے اتار پھینکیں۔ اللہ کے گھر میں بھائیوں کی طرح سادہ شکل اور عام حیثیت میں آئیں۔ بھائی بھائی سے برابری کے ساتھ ملے۔ جب رنگا رنگ کپڑے تک اتروا لئے گئے تو قوم ونسب پر فخر کے کیا معنی؟چھوڑ دو، چھوڑ دو جاہلیت کے تمام تعصبات کو۔ یہ تو ناپاک ہیں۔ اسلامی رنگ میں رنگ جاؤ۔ اللہ سے مغفرت کے طلب گار بنو۔ جو دوران حج تمہارے دلوں میں کھٹکے۔ جن کا تم سے ارتکاب ہو گیا۔ جو غصے میں تمہاری زبان پر آ گئیں۔ اگرچہ معمولی ہوں کیونکہ ان سے تمہیں روکا گیا تھا، حکم تھا کسہ شہوانی فعل کو سوچوبھی مت۔ کسی بد فعلی ارتکاب نہ ہو اور کسی سے غصے کی بات نہ کرو۔

یوں اسلام، دوران حج مسلمانوں کے سلوک اور طرز عمل کو درست کر دیتا ہے۔ ایک امت اور ایک ملت کی تصور پر، جس میں کوئی طبقاتی امتیاز نہ ہو۔ جس میں کسی قوم اور قوم کے درمیان کوئی فرق نہ ہو، جس میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کے درمیان امتیازات نہ ہوں۔ جس میں وطن کی بنیاد پر قوم، قوم سے جدا نہ ہو جاتی ہو۔ غرض مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہر چیز سے استغفار پڑھیں جو انہیں اس بلند اور پاکیزہ تصور زندگی سے دور پھینک دیتی ہو۔

 

“اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ (مگر اللہ کے یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے )ان میں کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں ہی سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اور کوئی کہتا ہے اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ)حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ” (٢٠٠ ۔۲۰۱)

 

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، اختتام حج کے بعد عرب سوق عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازاروں کو جاتے۔ یہ بازار صرف خرید و فروخت ہی کے بازار نہ تھے۔ بلکہ ان میں تقریروں، اشعار اور آباء اجداد کی نفرتوں کا بھی مقابلہ ہوتا۔ ان بازاروں میں ہر شخص اپنا نسب نامہ بیان کرتا۔ اس وقت عربوں کی حالت یہ تھی کہ ان نفرتوں اور کارہائے نمایاں کے بیان و اظہار کے علاوہ عربوں کے پاس کوئی پروگرام ہی نہ تھا۔ ان کے پاس کوئی انسانی مشن نہ تھا، جس کی راہ میں وہ اپنی عظیم قوت گویائی اور بلاغت اور عظیم عملی قوتوں کو کام میں لاتے۔

عربوں کو بلند ترانسانی مشن تو صرف اسلام نے دیا ہے۔ اسلام سے پہلے ان کی حالت یہ تھی کہ نہ زمین پر ان کا کوئی پروگرام ہے اور نہ آسمانوں پر ان کا کوئی ذکر یا مقام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر لوگ ان میلوں اور بازاروں میں اپنے قیمتی اوقات اور اپنی قیمتی طاقتوں کو ان لغو اور بے کار باتوں میں صرف کرتے۔ اپنے حسب ونسب بیان کرتے، اپنے آ باؤ اجداد کے کارنامے یاد کرتے۔ اور فخر و مباہات کے ساتھ ……..لیکن جب اسلام آیا اور انہیں ایک عظیم نصب العین دیا گیا، انہیں زندگی کا ایک جدید تصور دیا گیا، بلکہ انہیں ایک نیا جنم دیا گیا تو وہ با مقصد اور با مراد قوم بن گئے۔ قرآن کریم انہیں صرف وہ تعلیم دیتا ہے جس میں ان کی بھلائی ہے۔

مناسک حج ادا کر چکنے کے بعد، اب اسلامی تعلیم پرکھئے کہ آباء و اجداد کے تذکروں کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّہَ كَذِكْرِكُمْ آبَاء َكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا”پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو۔ تو جس طرح پہلے اپنے آباء اجداد کا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ “……..”جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے۔ “ان الفاظ سے معلوم ہوتا نہیں کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ اب بھی آباء واجداد کا تذکرہ جائز ہے۔ اس تمثیل میں تنقیدی پہلو ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس کام سے بہتر کام میں اپنے اوقات صرف کرو یعنی جس طرح تم پہلے اپنے آباء اجداد کا تذکرہ کرتے تھے جو ایک فضول حرکت تھی۔ جو کوئی جائز یا مستحسن کا م نہیں تھا، اس کو بدل دو۔ اب اللہ کو یاد کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو بالخصوص موسم حج میں جبکہ تم نے عام لباس بھی اتار کر ایک خاص لباس پہن لیا ہے۔ اسی طرح آباء اجداد پر تکابر و تخافر کے لباس کو اتار پھینکو۔ صرف اللہ کے ذکر ہی سے انسان کا رتبہ بلند ہوتا ہے۔ آباء اجداد کے جائز و ناجائز تفاخر کے ذریعے نہیں۔ اب زندگی کی جدید قدروں کا میزان و معیار تقویٰ ہے۔ اللہ کا خوف ہے اور تعلق باللہ ہے۔ اس کا ذکر اور اس کی خشیت ہے۔

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کر کے دکھاتا ہے :

 

“ان میں سے کوئی تو ایسا ہے، جو کہتا ہے اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ)حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ”

لوگوں میں دو نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے۔ اسے حصول دنیا کا بے حد شوق ہوتا ہے۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :”اللہ !اس سال کو بارش کا سال بنائیے، تر و تازگی کا سال بنائیے، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کر دیتا ہے۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو، ان کے مقدر میں ہو، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں۔

دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَفِي الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ ”

یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں۔

اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کاحصہ انہیں ضرور ملے گا۔ اس میں دیر نہ ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں۔

ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو، اپنے تمام امور اس کو سپرد کر دے، اللہ کو اپنا اختیار دے دے، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہو گی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیا ہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھو بیٹھا۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک دنیا اختیار کر لیں۔ کیونکہ انہیں خلافت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور منصب خلافت انہوں نے اس کرۂ ارض پر سنبھالنا ہے۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے دنیاوی ا مور میں بھی اللہ کی طرف متوجہ رہیں۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو اس قدر محدود نہ کریں کہ وہ خود دنیا کے محدود دائرے کے اندر محدود ہو کر رہ جائیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کو اس کی محدود دنیا کی چار دیواری سے آزاد کر دے۔ یوں کہ وہ اس دنیا میں بھی کام کرے، اس سے کام بھی لے۔ مگر اس کے اندر نہ گھر جائے۔ اس کے پنجے سے آزاد بھی رہے۔ وہ یہاں منصب خلافت کے تمام فرائض سرانجام۔ لیکن اس کی نظریں افق اعلیٰ پر ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام اہتمامات، وہ تمام سرگرمیاں جن کے فوائد اس دنیا تک محدود ہوں۔ ان پر اگر ایک انسان۔ ایک مومن انسان اسلامی تصور حیات کے مقام بلند سے ایک حقارت آمیز نظر ڈالے تو وہ سب کچھ اسے حقیر و ذلیل اور بے وقعت نظر آئے گا بشرطیکہ وہ اسلامی تصور حیات کی بلند چوٹی پر پہنچا ہوا ہو۔

وَاذْكُرُوا اللَّہَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْہِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْہِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْہِ تُحْشَرُونَ”یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کرے دوہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ ”

راحج بات یہ ہے کہ ایام ذکر یوم عرفہ، یوم نحر اور پھر ایام تشریق ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ معدود دنوں میں ذکر سے مراد تکبیریں ہیں جو ایام تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ پہلے ہم عبدالرحمن بن معمر دیلمی کی حدیث نقل کر آئے ہیں کہ “منیٰ کے دن تین ہیں۔ اب اگر کوئی دوہی دنوں میں شتاب واپس ہو گیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور اگر کوئی تاخیر کر کے پورے وقت کے بعد آئے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ غرض عرفہ، حج اور ایام تشریق سب میں مناسب ہے کہ اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ ہو، چاہے ان میں پہلے دونوں کو منتخب کیا جائے یا دوسرے دو دنوں کو، لیکن ہر معاملے میں اللہ خوفی اور پرہیز گاری پیش نظر رہے۔ “بشرطیکہ یہ دن تقویٰ کے ساتھ بسر کئے۔ ” لِمَنِ اتَّقَى۔

حج کی گہماگہمی کی مناسبت سے، اب یہاں یوم حشر کا ذکر کیا گیا جہاں تمام مخلوق حساب و کتاب کے لئے جمع ہو گی۔ وہاں ایک خوفناک منظر ہو گا لہٰذا اس مقام کی تیاری کرو اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرو وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْہِ تُحْشَرُونَ”اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ ”

ان آیات کے مطالعے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عربوں کے مروجہ حج کو کس طرح ایک اسلامی فریضہ قرار دیا۔ اس کا ربط جاہلیت کے پس منظر سے ٹوٹ گیا۔ اب وہ اسلامی زندگی کا ایک جزو بن گیا۔ اسے بد اخلاقیوں اور گندگیوں سے پاک کر دیا۔ اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے، جس رسم، جس عبادت کو بھی باقی رکھا ہے اسے جاہلیت کے شوائب سے پاک کر کے رکھا ہے۔ اس کی وہ شکل بدل گئی ہے جو ایام جاہلیت میں ہوا کرتی تھی۔ یوں نظر آتا ہے جیسا کہ جدید لباس میں ایک موزوں ٹکڑا۔ اب حج معروف معنوں میں اہل عرب کا ایک عادی اور رسمی فعل نہ رہا بلکہ اب وہ ایک اسلامی عبادت قرار دے دی گئی ہے کیونکہ اب اسلام ہی معیار ہے۔ اسلام کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی مفید رسم کو باقی رکھے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.box.com/s/8dax98x4ps69rae6c7ym

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید