FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

               کتاب۲۲۔ غزل الغزلات

 

               جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

کتاب۲۲۔ غزل الغزلات

 

 

 

 

 

باب : 1

 

1 سلیمان کی سب سے  تعجب خیز غزل الغزلات

2 تو مجھ کو اپنے  منھ کے  چوموں  سے  چوم لو کیوں  کہ تیری محبت مئے  سے  بھی بہتر ہے۔

3 تیری خوشبو حیرت انگیز ہے۔ تیرا نام عطر انڈیل نے  جیسا ہے  اس لئے  کنواری لڑکیاں  تجھ سے  محبت کرتی ہیں۔

4 اے  میرے  بادشاہ! تو مجھے  اپنے  ساتھ لے  لے  اور ہم کہیں  دور بھاگ چلیں۔ بادشاہ مجھے  اپنے  کمرے  میں  لے  گیا۔

5 اے  یروشلم کی بیٹیو! میں  سیاہ اور حسین ہوں۔ میں  قیدار کے  خیموں  اور سلیمان کے  پردوں  جیسی سیاہ ہوں۔

6 مجھے  مت تاکو کہ میں  کتنی سیاہ ہوں۔ سورج نے   مجھے  کتنا سیاہ کر دیا ہے۔ میرے  بھائی مجھ سے  ناراض تھے  اس لئے  انہوں  نے  مجھ سے  تاکستانوں  میں  کام کرائے  اس لئے  میں  اپنا خیال نہیں  رکھ سکی۔

7 میں  تجھے  اپنے  دل و جان سے  محبت کر تی ہوں۔ اے  میری جان مجھے  بتا! تو اپنے  ریوڑ کو کہاں  چراتا ہے ؟ دو پہر میں  انہیں  کہاں  بٹھا یا کرتا ہے ؟ میں  ایک ایسی لڑکی ہونا چاہتی ہوں  جو کہ گھونگھٹ کو اپنے  چہرے  کے  اوپر کھینچتی ہے۔ جب وہ تیرے  دوستوں  کے  ریوڑ کے  پاس ہو تی ہے۔

8 اے  عورتوں  میں  سب سے  جمیلہ! اگر تو نہیں  جانتی ہے  تو ریوڑ کے  نقشِ قدم پر چلی جا اور اپنی بکری کے  بچوں  کو چرواہوں  کے  خیموں  کے  پاس چرا۔

9 اے  میری پیاری! میں  تیرا موازنہ اس گھوڑی سے  کرتا ہوں  جو دوسرے  گھوڑوں  کے  بیچ فرعون کی رتھ کو کھینچا کر تی ہے۔

10 تیرے  لئے  ہم نے  سونے  کے  طوق بنائے  ہیں  جن میں  چاندی کے  پھول جڑے  ہیں۔ تیرے  گالوں  کے  اوپر لٹکتی زلف خوشنما ہیں۔ تیری حسین گردن موتیوں  سے  سجی ہے۔

11

12 میرے  عطر کی خوشبو پلنگ پر لیٹے  ہوئے  بادشاہ تک پھیلتی ہے۔

13 میرا محبوب میرے  لئے  لو بان کا تھیلا ہے۔ وہ میری چھاتیوں  کے  درمیان ساری رات سوئے  گا۔

14 میرا محبوب عین جدی کے  انگورستان کے  قریب مہندی کے  پھو لوں  کا گچھا جیسا ہے۔

15 اے  میری پیاری دیکھ تو خوبرو ہے  دیکھ تو خوبصورت ہے  تیری آنکھیں  دو کبوتر کی طرح ہیں۔

16 اے  میرے  محبوب تو کتنا خوبصورت ہے  ہاں ! تو دل کو موہ لیتا ہے۔ ہمارا پلنگ بھی تازگی بخش اور خوشگوار ہے۔

17 ہمارے  گھر کے  شہتیر دیودار کے   اور ہماری کڑیاں  صنوبر کی ہیں۔

 

 

 

باب : 2

 

1 میں  شارون کی پھول ہو۔میں  وادیوں  کی سوسن ( لی لی ) ہو ں۔

2 اے  میری پیاری دیگر کنواری لڑکیوں  کے  درمیان تم ویسی ہو جیسے  خاروں  کے  بیچ سو سن ( لی لی )۔

3 جیسا سیب کا درخت جنگل کے  درختوں  میں  ویسا ہی میرا محبوب نو جوانوں  میں  ہے۔

4 میرا محبوب مجھ کو مئے  خانہ میں  لے  آیا اور اس کی محبت کا جھنڈا میرے  اوپر تھا۔

5 میں  محبت سے  کمزور ہوں  اس لئے  کشمش کا کیک مجھے  کھلاؤ اور سیبوں  سے  مجھے  تازہ دم کرو۔

6 میرے  سر کے  نیچے  میرے  محبوب کا بایاں  ہاتھ ہے  اور اس کا داہنا ہاتھ مجھے  گلے  لگاتا ہے۔

7 اے  یروشلم کی عورتو! میں  تم کو غزالوں  اور میدان کی ہرنیوں  کی قسم دیتی ہوں  محبت کو مت جگاؤ محبت کو مت اکساؤ جب تک میں  تیار نہ ہو جاؤں۔

8 میں  اپنے  محبوب کی آواز سنتی ہوں۔ وہ یہاں  آ رہا ہے۔ پہاڑوں  پر سے  کو دتا اور ٹیلوں  پر سے  پھاندتا ہوا چلا آ رہا ہے۔

9 میرا محبوب غَزَ ال یا جوان ہرن کی مانند ہے۔ دیکھو وہ ہماری دیوار کے  پیچھے  کھڑا ہے۔ وہ جھنجھری سے  دیکھتے  ہوئے  کھڑ کیوں  سے  تاک رہا ہے۔

10 میرے  محبوب نے  مجھ سے  باتیں  کیں  اور کہا ” اٹھو میری پیاری اے  میری ناز نین آؤ کہیں  دور چلیں۔

11 دیکھو جاڑا گذر گیا مینہ برس چکا اور نکل گیا۔

12 زمین پر پھو لوں  کی بہار ہے۔ چڑیوں  کے  گانے  کا وقت آ گیا ہے  اور ہماری سرزمین پر فاختاؤں  کی آواز سنا دیتی ہے۔

13 انجیر کے  درختوں  پر انجیر پکنے  لگے  ہیں  اور تاکیں  پھولنے  لگی ہیں  اور ان کی مہک پھیل رہی ہے۔ میری پیاری اٹھ! اے  میری جمیلہ آؤ کہیں  دور چلیں۔”

14 اے  میری کبوتری جو چٹانوں  کی دراڑوں  میں  اور چھپنے  کی اونچے  آڑ میں  چھپی ہو! مجھے  اپنا چہرہ دکھا مجھے  اپنی آواز سنا کیوں  کہ تیرا چہرہ خوبصورت ہے  اور تیری آواز بہت شیریں  ہے۔

15 ہمارے  لئے  لومڑیوں  کو پکڑو ان ننھے  لو مڑیوں  کو جو تاکستان خراب کرتے  ہیں۔ کیوں  کہ انگور کے  بیلوں  میں  پھول لگے  ہیں۔

16 میرا محبوب میرا ہے  اور میں  اس کی ہوں۔ وہ سوسنوں  کے  درمیان ہے  اپنی بھیڑ بکریوں  کو چراتا ہے۔

17 سورج ڈوبنے  اور گھنے  اندھیرا چھانے  سے  پہلے  لوٹ آ! اے  میرے  محبوب! تو غزال یا جوان ہرن کی طرح جو کہ نا ہموار پہاڑی پر رہتا ہے  لوٹ آ۔

 

 

 

باب : 3

 

 

1 رات کو اپنے  پلنگ پر میں  اسے  ڈھونڈتی ہو اس کو جس سے  میری روح پیار کرتی ہے۔ وہ میرا محبوب ہے۔ میں  نے  اسے  ڈھونڈا لیکن میں  اسے  نہیں  پا سکی۔

2 اب میں  اٹھوں  گی میں  شہر کی گلیوں  بازاروں  میں  جاؤں  گی میں  اسے  ڈھونڈوں  گی جس سے  میں  محبت کر تی ہوں۔میں  نے  اسے  ڈھونڈا پر وہ مجھے  نہیں  ملا۔

3 مجھے  شہر کے  پہریدار ملے  میں  نے  ان سے  پو چھا ” کیا تو نے  اس شخص کو دیکھا جس سے  میں  محبت کرتی ہوں۔”

4 پہرے  داروں  سے  میں  ابھی تھوڑی ہی دور گئی کہ مجھ کو میرا محبوب مل گیا میں  نے  اسے  پکڑ لیا اور تب تک جانے  نہیں  دیا جب تک میں  اپنی ماں  کے  گھر نہ لے  آئی اور اپنی والدہ کے  خلوت خانہ میں  نہ لے  گئی۔

5 اے  یروشلم کی عورتو! تم غزا لوں  اور میدان کی ہرنیوں  کی قسم کھا کر مجھ سے  وعدہ کرو محبت کو مت جگا۔ محبت کو مت اکساؤ جب تک میں  تیار نہ ہو جاؤں۔

6 یہ عورت کون ہے  جو بیابان سے  آ رہی ہے ؟ ان کے  پیچھے  دھول ایسی اٹھ رہی ہے  جیسے  کوئی دھوئیں  کا بادل ہو۔ وہ جو مُر اور لوبان کی خوشبوؤں  سے  اور طرح طرح کے  عطروں  سے  معطر ہے۔

7 سلیمان کی پالکی کو دیکھو! اس کی پالکی اس کو اسرائیل کے  بہادر سپاہیوں  میں  سے  ساٹھ سپاہی گھیرے  ہوئے  ہیں۔

8 وہ سب کے  سب شمشیر زن اور جنگ میں  ماہر ہیں۔رات کے  خطرہ کے  سبب سے  ہر ایک کی تلوار اس کی ران پر لٹک رہی ہے۔

9 سلیمان بادشاہ نے  لبنان کی لکڑیوں  سے  اپنے  لئے  ایک پالکی بنوائی ہے۔

10 اس نے  پالکی کے  ڈنڈوں  کو چاندی سے  بنوا یا اور اس کی نشست سونے  سے  بنائی گئی۔ اور اسے  ارغوانی کپڑے  سے  ڈھانکا گیا اور اس کے  اندر کا فرش یروشلم کی بیٹیوں  نے  محبت سے  مرصّع کیا۔

11 اے  صیّون کی عورتو! با ہر آ کر سلیمان بادشاہ کو اس کے  تاج کے  ساتھ دیکھو۔ جو اس کو اس کی ماں  نے  اس دن پہنا یا تھا جس دن وہ بیاہ کر آیا تھا اس دن وہ بہت مسرور تھا۔

 

 

 

باب : 4

 

1 اے  میری پیاری! تو بہت خوبصورت ہے۔ دیکھ تو بہت خوبصورت ہے۔ تیری دو آنکھیں  نقاب کے  اندر کبوتر جیسی ہیں۔تیرے  بال لمبے  اور ایسے  لہراتے  ہیں  جیسے  بکریوں  کے  بچے  جلعاد کے  پہاڑ کے  اوپر سے  ناچتے  ہوئے  اترتے  ہوں۔

2 تیرے  دانت ان بھیڑوں  جیسے  سفید ہیں  جو ابھی ابھی نہا کر نکلی ہوں  وہ سبھی جڑواں  بچوں  کو جنم دیا کر تی ہیں  اور ان کے  بچے  نہیں  مرے  ہیں۔

3 تیرے  ہونٹ سرخ ریشم کے  دھاگے  کی طرح ہیں۔ تیرا منہ پر کشش ہے۔ تیرے  رخسار تیرے  نقاب کے  اندر انار کے  کٹے  ہوئے  ٹکڑوں  کی مانند ہیں۔

4 تیری گردن داؤد کا برج ہے  جو اسلحہ خانے  کے  لئے  بنا جس پر ہزار سپریں  لٹکائی گئی ہیں  وہ سب کے  سب پہلوانوں  کی سپریں  ہیں۔

5 تیری دونوں  چھاتیاں  ہرن کے  جڑواں  بچے  کی طرح ہے   غزال کے  جڑواں  بچے  کی طرح ہے۔ جو سوسنوں  ( لی لی ) میں  چرتے  ہیں۔

6 جب تک دن ڈھلے  اور سایہ بڑھے  میں  مُر کی پہاڑی اور لو بان کی پہاڑی پر جاتا رہوں  گا۔

7 اے  میری پیاری تو سراپا جمال ہے  تجھ میں  کوئی عیب نہیں۔۸

8 اے  میری دلہن لبنان سے  آ! میرے  ساتھ آ جا لبنان سے  میرے  ساتھ آ جا۔امانہ کی چوٹی سے  سنیر کی اونچائی سے   شیروں  کی ماندوں  سے  اور چیتوں  کے  پہاڑوں  سے  آ جا۔

9 اے  میری بہن! میری دلہن! تم نے  اپنی آنکھوں  کی ایک جھلک اور اپنے  ہار کے  صرف ایک ہی نگ سے  میرا دل چرا لیا ہے۔

10 اے  میری بہن! میری دلہن! تمہاری محبت اتنی اچھی اور لطف اندوز ہے۔ وہ مئے  سے  زیادہ لذیذ ہے۔ تیری خوشبو کسی بھی خوشبو سے  بہتر ہے۔

11 اے  میری دلہن تیرے  ہونٹوں  سے  شہد ٹپکتا ہے۔ شہد اور دودھ تیری زبان تلے  ہے۔ تیری پوشاک کی پیاری خوشبو لبنان کی عطر سے  بہتر ہے۔

12 اے  میری پیاری بہن! میری دلہن! تو ایسی ہے  جیسے  تالا لگا ہوا باغیچہ۔ تو اتنا ہی دلکش جتنا مہر بند کیا ہوا پانی کا جھرنا۔

13 تمہارے  بازو لذیذ پھلوں  اناروں  مہندی سالہ جٹاماس اور زعفران کے  با غوں  کی طرح ہیں۔

14 جس میں  بید مشک دار چینی اور لوبان کے  تمام درخت مُر اور مصبّر ہر طرح کی خاص خوشبو بھی ہے۔

15 تم باغوں  کے  جھرنا کی طرح تازہ پانی کے  کنوئیں  کی طرح اور لبنان کے  جھرنے  کی طرح ہو۔

16 اے  ‘ شمال کی ہوا جاگ! آ اے  جنوب کی ہوا میرے  باغ سے  گذر جس سے  اس کی میٹھی خوشبو چاروں  جانب پھیل جائے۔ میرا محبوب میرے  باغ میں داخل ہوا اور وہ اس کا لذیذ میوہ کھائے۔

 

 

 

باب : 5

 

1 اے  میری بہن! میری دلہن! میں  اپنے  باغ میں  آیا ہوں۔ میں  نے  اپنا لوبان مسالہ سمیت جمع کر لیا میں  نے  شہد چھتے  سمیت کھا لیا۔ میں  نے  اپنیئے  دودھ سمیت پی لی۔

2 میں  سو تی ہوں  لیکن میرا دل جاگتا ہے  میرے  محبوب کی آوا ز ہے  جو کھٹکھٹاتا اور کہتا ہے۔ “میرے  لئے  دروازہ کھول میری محبوبہ مری معشوقہ! میری پیاری کبوتری! میری پاکیزہ! کیوں  کہ میرا سر شبنم سے  تر ہے۔ اور میری زلفیں  رات کی بوندوں  سے  بھری ہیں۔ ”

3 “میں  نے  اپنے  کپڑے  اتار دیئے  ہیں  میں  اسے  پھر سے  پہننا نہیں  چاہتی ہوں  میں  اپنے  پاؤں  دھو چکی ہوں  پھر سے  اسے  میلا کرنا نہیں  چاہتی ہو ں۔”

4 میرے  محبوب نے  اپنا ہاتھ سوراخ سے  اندر کیا ہے  اور میرے  دل و جگر میں  اس کے  لئے  جنبش ہو ئی۔

5 میں  اپنے  محبوب کے  لئے  دروازہ کھولنے  کے  لئے  اٹھ جا تی ہوں  اور میرے  ہاتھوں  سے  مُر ٹپکا اور میری انگلیوں  سے  رقیق مُر ٹپکا اور تالا کی دستوں  پر پڑا۔

6 اپنے  محبوب کے  لئے  میں  نے  دروازہ کھول دیا لیکن میرا محبوب تب تک جا چکا تھا! جب وہ چلا گیا تو جیسے  میری جان ہی نکل گئی۔ میں  اسے  ڈھونڈ تی پھری لیکن میں  نے  اسے  نہیں  پایا میں  اسے  پکارتی پھری لیکن اس نے  مجھے  جواب نہیں  دیا۔

7 شہر کی دیواروں  کے  پہرے  داروں  نے  مجھے  پکڑا۔ انہوں  نے  مجھے  مارا اور گھائل کیا۔ شہر پناہ کے  محافظوں  نے  میری چادر مجھ سے  چھین لئے۔

8 اے  یروشلم کی بیٹیو! میری تم سے  التجا ہے  کہ اگر تم میرے  محبوب کو پا جاؤ تو اس کو بتا دینا کہ میں  اس کی محبت کی بھو کی ہوں۔

9 کیا تیرا محبوب دوسرے  محبوب سے  افضل ہے ؟ اے  عورتوں  میں  سب سے  جمیلہ! کیا تیرا عاشق دوسرے  عاشقوں  سے  افضل ہے ؟ کیا اس لئے  تو ہم سے  ایسی قسم لیتی ہے ؟

10 میرا محبوب سرخ وسفید ہے۔ وہ دس ہزار میں  ممتاز ہے۔

11 اس کا ماتھا خالص سونے  جیسا اس کے  گھنگھریالے  بال کوّے  سے  کالے  اور بہت خوبصورت ہیں۔

12 اس کی آنکھیں  ان کبوتروں  کی مانند ہیں  جو دودھ کے تالاب میں  نہائی ہو اس کی آنکھ جڑے  ہوئے  نگ کی مانند ہے۔

13 اس کے  رخسار مسالوں  کے  باغ اور عطر بنانے  کے  پھو لوں  کے  بستر کی طرح ہیں۔ اس کے  ہونٹ سوسن ( لی لی ) کی جیسی ہے۔ جن سے  رقیق لوبان ٹپکتا ہے۔

14 اس کے  باز و پکھراج اور قیمتی پتھروں  سے  بھرے  ہوئے  سونے  کے  چھڑوں  کی طرح ہے۔ اس کا جسم چمکائے  ہوئے  ہاتھی دانت کی طرح ہے  جن میں  نیلم جڑا ہوا ہو۔

15 اس کی ٹانگیں  سونے  کے  صحن پر سنگ مر مر کے  ستون ہیں۔ وہ دیکھنے  میں  لبنان اور خوبی میں  رشک سرو ہے۔

16 ہاں ! اے  یروشلم کی عورتو! اس کا منہ تمام سے  شیریں  انگیز ہے۔ وہ میرا محبوب ہے   وہ میری پیاری ہے۔

 

 

 

باب : 6

 

 

1 اے  عورتوں  میں  سب سے  جمیلہ! بتا تیرا محبوب کہاں  چلا گیا؟ کس راہ سے  تیرا محبوب چلا گیا ہے۔ ہمیں  بتاتا کہ ہم تیرے  ساتھ اس کو ڈھونڈ سکیں۔

2 میرا محبوب اپنے  بوستان میں  بلسان کی کیاریوں  کی طرف گیا ہے  تاکہ باغوں  میں  چرائے  اور سوسن جمع کرے۔

3 میں  ہوں  اپنے  محبوب کی اور وہ ہے  میرا محبوب۔ وہ سوسن میں  چراتا ہے۔

4 اے  میری پیاری! تو ترضہ کی مانند خوبصورت ہے  تو یروشلم کی مانند خوش منظر اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے۔

5 میرے  اوپر سے  تو آنکھیں  پھیر لے ! تیری آنکھیں  مجھے  چندھیا دیتی ہے  تیرے  بال لمبے  ہیں  اور ایسے  لہراتے  ہیں  جیسے  جلعاد کی پہاڑیوں  سے  بکریوں  کا غول اچھلتا ہوا اتر رہا ہو۔

6 تیرے  دانت بھیڑوں  کی ریوڑ کی مانند ہیں  جن کو غسل دیا گیا ہو جن میں  سے  ہر ایک نے  دو بچے  دیئے  ہوں  اور ان میں  سے  ایک بھی بانجھ نہ ہو۔

7 تیرے  رخسار تیرے  نقاب کے  نیچے  انار کے  کاٹے  ہوئے  ٹکڑوں  کی مانند ہیں۔

8 وہاں  ساٹھ رانی اسی داشتہ بیشمار کنواریاں  بھی ہیں۔

9 لیکن میری کبوتری میری پاکیزہ بے  مثال ہے  وہ اپنی ماں  کی من پسند ہے۔ اپنی ماں  کی لاڈلی ہے۔ کنواریوں  نے  اسے  دیکھی اور اسے  سراہا ہاں  رانیوں  نے  اور داشتہ نے  بھی اس کو دیکھ کر اس کی ستائش کی تھی۔

10 وہ بیٹیاں  کون ہیں ؟ جن کا ظہور صبح کی مانند ہے  اور وہ حسن میں  مہتاب ہے   وہ اتنی حسین ہے  جیسے  آفتاب اور علمدار لشکر کی مانند مہیب ہے۔

11 میں  اخروٹ کے  باغ میں  گئی کہ وادی کی نباتات پر نظر کروں  اور دیکھوں  کہ انگور کی کلی اور اناروں  کے  پھول کھلے  ہیں  یا کہ نہیں۔

12 اس سے  پہلے  کہ میں  یہ جان پاتی میرے  دلنے  مجھے  بادشاہ کے  امراء کے  رتھ میں  پہنچا دیا۔

13 واپس آ واپس آ اے  شوملیت! لوٹ آ لوٹ آتا کہ ہم تجھے  دیکھ سکیں۔ تم شوملیت پر کیوں  نظر کر رہی ہو جیسے  وہ محنیسم کی رقص کی رقص ہو؟

 

 

 

باب : 7

 

1 اے  امیر زادی! تیرے  پاؤں  جوتیوں  میں  کیسے  خوبصورت ہیں۔ تیری رانوں  کی گولائی ان زیوروں  کی مانند ہے  جن کو کسی استاد کاریگر نے  بنا یا ہو۔

2 تیری ناف گول پیالہ ہے  جس میں  ملائی ہوئی مئے  کی کمی نہیں۔ تیرا پیٹ گیہوں  کا انبار ہے  جس کے  ارد گرد سوسن ہوں۔

3 تیری چھاتیاں  ایسی ہیں  جیسے  کسی ہرن اور غزال کے  جڑواں  بچے  ہوں۔

4 تیری گردن ایسی ہے  جیسے  کسی ہاتھی دانت کا برج ہو۔ تیری آنکھیں  بیت ربیم کے  پھاٹک کے  پاس حسینوں  کے  چشمے  ہیں۔ تیری ناک لبنان کے  برج کی مثال ہے  جو دمشق کے  رخ بنا ہے۔

5 تیرا سر ایسا ہے  جیسے  کوہ کرمل اور تیرے  سر کے  بال ریشم کے  جیسے  ہیں۔ تیر ی لمبی زلفیں  کسی بادشاہ تک کو اسیر کر لیتے  ہیں۔

6 تو کیسی جمیلہ اور دلکش ہے   اے  میری پیاری مسرت بخش کنواری لڑ کی! تو مجھے  کتنی شادمانی بخشتی ہے۔

7 تیرا قامت کھجور کے  درخت کی مانند ہے  اور تیری چھاتیاں  ایسی ہیں  جیسے  کھجور کے  گچھے۔

8 میں  کھجور کے  درخت پر چڑھوں  گا میں  اس کی شاخوں  کو پکڑوں  گا۔ تو اپنی چھا تیوں  کو انگور کے  گچھے  سا بننے  دے  تیری سانس کی خوشبو سیب کی طرح ہے۔

9 تیرا منھ بہترین مئے  کی مانند ہو جو میرے  ہونٹوں  اور دانتوں  کے  اوپر آہستہ آہستہ بہے۔

10 میں  اپنے  محبوب کی ہوں  اور وہ مجھے  چاہتا ہے۔

11 آ میرے  محبوب آ! ہم کھیتوں  میں  نکل چلیں  ہم گاؤں  میں  رات گزاریں۔

12 ہم بہت جلد اٹھیں  اور تاکستانوں  میں  نکل جائیں  اور دیکھیں  کیا کلیاں  کھلی ہیں  یا نہیں۔آؤ ہم چلیں  اور دیکھیں  کہ کیا کھلا ہے  یا نہیں۔ چلو انار کی کلیوں  کے  بھڑ کیلے  رنگوں  کو دیکھیں۔ میں  اپنی محبت وہاں  ظاہر کروں  گا۔

13 میٹھی خوشبو والی مردم گیاِہ کی خوشبو پھیل رہی ہے  اور ہمارے  دروازوں  پر کئی قسم کے  تر و خشک میوے  ہیں  جو میں  نے  تیرے  لئے  جمع کر رکھے  ہیں  اے  میرے  محبوب۔

 

 

 

باب : 8

 

1 کاش! تم میرے  چھوٹے  بھائی ہوتے  جس نے  میری ماں  کی چھا تیوں  سے  دودھ پیا۔ اگر میں  تجھ سے  وہیں  باہر مل جاتی تو میں  تمہارا بوسہ لے  لیتی اور کوئی شخص مجھے  حقیر نہ جانتا۔

2 میں  تجھ کو اپنی ماں  کے  گھر میں  لے  جاتی اس ماں  کے  پاس جس نے  مجھے  تعلیم دی۔ میں  مسالے  دار مئے  اور اپنے  اناروں  کا رس تم کو پینے  کے  لئے  دیتی

3 میرے  سر کے  نیچے  میرے  محبوب کا بایاں  ہاتھ ہے   اور اس کا داہنا ہاتھ مجھے  گلے  سے  لگاتا ہے۔

4 اے  یروشلم کی بیٹیو! مجھ کو قسم دو محبت کو مت جگاؤ محبت کو مت اکساؤ جب تک میں  تیار نہ ہو جاؤں۔

5 یہ عورت کون ہے  جو بیابان سے  اپنے  محبوب پر جھکی ہوئی آ رہی ہے ؟

6 مہر کی مانند مجھے  اپنے  دل پر اور مُہر کی مانند اپنے  بازو پر لگا کر رکھ کیوں  کہ محنت اتنی ہی زبردست ہے  جتنی موت اور جذبہ اتنا سخت ہے  جتنی کہ قبر۔ اس کے  شعلے  آ گ کے  شعلوں  کی طرح ہیں  ایک زبردست آ گ کی طرح ہے۔

7 محبت کی آ گ کو پانی نہیں  بجھا سکتا محبت کو سیلاب ڈوبا نہیں  سکتا اگر آدمی  محبت کے  لئے  اپنا سب کچھ دے  ڈالے  تو کیا اسے  ایسا کرنے  کے  لئے  حقیر سمجھا جائے  گا۔

8 ہماری ایک چھوٹی بہن ہے  جس کی چھاتیاں  ابھی ابھری نہیں  ہیں  جس دن اس کی سگائی ہو ہم کو کیا کرنا چاہئے ؟

9 اگر وہ دیوار ہو تو ہم اس پر چاندی کا برج بنائیں  گے  اور اگر وہ دروازہ ہو تو ہم اس پر دیودار کے  تختے  لگائیں  گے۔

10 میں  دیوار ہوں  اور میری چھاتیاں  مینار جیسی ہیں  اور اس طرح میں  ان کی آنکھوں  میں  ان کی مانند ہو گئی جو کہ امن اور صبر لاتی ہے۔

11 بعل ہامون میں  سلیمان کا تاکستان تھا۔ اس نے  اپنے  تاکستان کو باغبان کو سپرد کیا۔ ہر باغبان اس کے  پھلوں  کے  بدلے  میں  چاندی کے  ایک ہزار مثقال لاتا تھا۔

12 لیکن سلیمان! میرا اپنا تاکستان میرے  لئے  ہے۔ اے  سلیمان! میرے  چاندی کے  ایک ہزار مثقال سب تو ہی رکھ لے  اور یہ دو سو مثقال ان لوگوں  کے  لئے  ہیں۔ جو پھلوں  کی نگہبانی کرتے  ہیں۔

13 تو اے  بوستان میں  رہنے  والی تیری آواز میرے  دوست سن رہے  ہیں۔ مجھے  اس کو سننے  دے۔

14 اے  میرے  محبوب! تو اب جلدی کر اور تم خود ایک غزال یا ہرن کے  بچّہ کی مانند ہو جو خوشبودار پہاڑوں  پر ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.wordproject.org/index.htm

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید