FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

               1۔کتاب  پیدائش

 

 

 

               جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

کتاب پیدائش

 

 

 

 

 

 

باب:   1

 

 

1 ابتداء میں خدا نے  آسمان و زمین کو پیدا فرمایا۔

2 زمین پوری طرح خالی اور ویران تھی۔ اور زمین پر کوئی چیز نہ تھی۔ سمندر کے  اُوپر اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ خدا کی روح پانی کے  اوپر متحرک تھی۔

3 تب خدا نے  کہا “روشنی ہو جا”تو روشنی ہو گئی۔

4 خدا نے  روشنی کو دیکھا خدا کو روشنی بڑی بھلی معلوم ہوئی۔ تب خدا نے  اندھیرے  کو روشنی سے  علیٰحدہ کر دیا۔

5 خدا نے  روشنی کو “دِن” اور اندھیرے  کو “رات” کا نام دِیا۔ شام ہوئی اور پھر صبح ہوئی۔ یہ پہلا دن تھا۔

6 تب خدا نے  کہا”پانی کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے  کیلئے  ذخیرۂ آب کے  درمیان ہوا پیدا ہونی چاہئے ۔ ”

7 اِس طرح خدا نے  فضا پیدا کر کے  پانی کو علیٰحدہ کر دیا۔ پانی کا کچھ حصّہ ہوا کے  اوپر تھا اور کچھ حصّہ ہوا کے  نیچے  تھا۔

8 خدا نے  اُس ہوا کو “آسمان ” کا نام دیا۔ اِس طرح شام اور صبح ہوئی اور یہ دُوسرا دِن تھا۔

9 تب خدا نے  کہا”آسمان کے  نیچے  پایا جانے  والا پانی ایک جگہ جمع ہو کر خشک زمین نظر آئے ۔ ” تو ایسا ہی ہوا۔

10 خدا نے  سوکھی زمین کو “خشکی “اور ایک جگہ جمع ہوئے  ذخیرۂ آب کو “سمندر ” کا نام دیا۔ اور خدا نے  دیکھا یہ سب اچھا ہے ۔

11 پھر خدا نے  کہا “زمین گھاس اور دانوں کو پیدا کرنے  والے  پودے  اور میوے  کے  درخت اُگائے  اور میوے  کے  درخت بیج والا پھل پیدا کرے ۔ اور ہر ایک درخت اپنی ہی نسل کا بیج پیدا کرے ۔ “اور ایسا ہی ہوا۔

12 زمین نے   گھاس اور اناج پیدا کرنے  والے  پودوں کو اُگایا اور بیج والے  پھل کے  درختوں کو اگایا اور ہر ایک درختنے  اپنی ہی نسل کا بیج پیدا کیا۔ خدا نے  دیکھا کہ یہ سب اچھا ہے ۔

13 اسی طرح شام سے  صبح ہو کر تیسرا دن بنا۔

14 تب خدا نے  کہا”آسمان میں روشنی پیدا ہو۔ اور یہ روشنی دن سے  رات کو الگ کرے ۔ اور یہ روشنی خاص قسم کی نشانی قرار پائے ۔ اور یہ خاص اوقات، دنوں اور سالوں کو ظاہر کرے ۔

15 اور کہا کہ یہ روشنی (نور) آسمان ہی میں رہ کر زمین پر اپنے  اُجالے  کو پھیلائے ۔ “اور ایسا ہی ہوا۔

16 اِس لئے  خدا نے  دو بڑی روشنیاں پیدا کیں۔ دِن پر حکمرانی کرنے    کیلئے  خدا نے  بڑی روشنی کو پیدا کیا۔ ٹھیک اسی طرح رات پر حکمرانی کرنے    کیلئے  اس سے  قدرے  چھوٹی روشنی پیدا کی۔ اِس کے  علاوہ خدا نے  ستاروں کو بھی پیدا کیا۔

17 زمین کو روشن کرنے    کیلئے  خدا نے  اِن روشنیوں کو آسمان میں قائم کیا۔

18 رات اور دن پر حکو مت کرنے   کیلئے  اس نے  ان روشنیوں کو آسمان میں قائم کیا۔ روشنی کو اندھیرے  سے  الگ کیا۔ خدا نے  دیکھا یہ اچھا ہے ۔

19 اِس طرح شام سے  صبح ہو کر چوتھا دِن بنا۔

20 پھر خدا نے  کہا، “پانی میں آبی جانور بھر جائیں ، زمین پر فضاء میں پرندے  اُڑتے  پھریں۔ ”

21 پھر اسی طرح خدا نے  سمندر میں بڑی جسامت و حجم رکھنے  والے  جانوروں کو پیدا کیا۔ سمندر میں تیرنے  والے  ہر قسم کے  جانداروں کو اور بازو و پرَ رکھنے  والے  ہر قسم کے  پرندوں کو خدا نے  پیدا کیا۔ اور خدا کو یہ ساری (مخلوق) بھلی لگی۔

22 خدا نے  انہیں برکت دی اور کہا، ” پھُولو پھَلو اور اپنی نسلوں کو بڑھاؤ اور سمندروں کو بھر دو۔ اور زمین پر بہت سے  پرندے  ہو جائیں۔ ”

23 اس طرح شام سے  صبح ہو کر پانچواں دن بنا۔

24 تب خدا نے  کہا”زمین مختلف قسم کے  جانداروں کو اُن کی ذات کی مناسبت سے  پیدا کرے ۔ ہر قسم کی بڑی جسامت والے  جانور اور رینگنے  والے  چھوٹے  جا نور پیدا ہو کر ان میں اِضافہ ہو۔ “اور ایسا ہی ہوا۔

25 اِسی طرح خدا نے  ہر قسم کے  جانور پیدا کئے ۔ خدا نے  وحشی جانوروں اور پالتو جانوروں اور رینگنے  والے  جانوروں کو پیدا فرما یا۔ اور خدا نے  دیکھا کہ یہ اچھا ہے ۔

26 تب خدا نے  کہا”اب ہم انسان کو ٹھیک اپنی مُشابہت پر پیدا کریں گے ۔ اور انسان ہم جیسا ہی رہے  اور انسان سمندر میں پائی جانے  وا لی تمام مچھلیوں پر، اور فضاء میں اُڑنے  والے  تمام جانوروں پر، بڑے  جانوروں پر اور چھوٹے  جانوروں پر اپنی مرضی چلائے ۔ ”

27 اِس لئے  خدا نے  انسان کو اپنی ہی صورت پر پیدا کیا۔ اور خدا نے  اپنی ہی مُشابہت پر انسان کو پیدا کیا۔ اور خدا نے  ان کو مرد اور عورت کی شکل و صورت بخشی۔

28 خدا نے  ان کو خیر و برکت دی۔ اور خدا نے  ان سے  کہا، “تم اپنی افزائشِ نسل کرو اور زمین میں پھیل جاؤ اور اُس کو اپنی تحویل میں لے  لو۔ اور کہا کہ سمندر میں پائی جانے  وا لی مچھلیوں پر اور فضا ء میں اُڑنے  والے  پرندوں پر اور زمین پر چلنے  پھِرنے  والے  ہر ایک جاندار پر اپنا حکم چلاؤ۔ ”

29 اِس کے  علا وہ خدا نے  ان سے  کہا، “اناج اُگانے  والے  تمام پو دے  اور بیج سے  پیدا ہونے  والے  تمام میوؤں کے  درخت تم کو بطور غذا دیتا ہو ں۔

30 اور ہری بھری گھاس کے  انبار جانوروں کو بطور غذا دیتا ہوں۔ اور کہا کہ زمین پر بسنے  والے  ہر ایک چو پایہ  اور آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے  و الا  ہر ایک پرندہ  اور زمین پر متحرک ہر ایک اس کو بطور غذا کھائے  گا۔ “اور ایسا ہی ہوا۔

31 خدا نے  ان تمام چیزوں کو جن کو اس نے  پیدا فرما یا تھا دیکھا تو وہ سب اُس کو بہت ہی بھلی لگیں۔ اِس طرح شام سے  صبح ہو کر چھٹا دِن ہوا۔

 

 

 

 

 

باب:   2

 

 

1 اِس طرح زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز تکمیل پا ئی۔

2 خدا نے  اپنی تخلیق کے  کام کو پو را کر دیا۔ اس لئے  اس نے  ساتویں دن آرام کیا۔

3 خدا نے  ساتویں دن کو برکت دی اور اُس کو مقدس دن قرار دیا۔ اس نے  اپنی تخلیق کے  کام کو پُورا کر کے  اسی دن آرام کیا اس لئے  خدا نے  اس دن کو ایک خاص دن بنا یا۔

4 یہ زمین و آسمان کی تاریخ ہے ۔ خداوند خدا نے  زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اُس وقت جو حالات پیش آئے  وہی اس کی تاریخ ہے ۔

5 یہ اُس وقت کی بات ہے  جب زمین پر کوئی درخت یا پودا نہیں اُگتا تھا۔ یہ اس لئے  تھا کیونکہ خداوند خدا نے  زمین پر پانی نہیں برسایا تھا۔ اور کھیتی باڑی کرنے    کیلئے زمین پر کوئی انسان بھی نہ تھا۔

6 زمین سے  پانی کا چشمہ اُبل پڑا اور ساری زمین کو سیراب کیا۔

7 ایسی صورت میں خداوند خدا نے  زمین سے  مٹی لی اور انسان کو بنا یا اور ناک میں زندگی کی سانس پھونک دی تب انسان ایک ذی روح بن گیا۔

8 خداوند نے  مشرقی سمت میں ایک باغ لگا یا جو کہ عدن میں ہے ۔ اور اپنے  بنائے  ہوئے  اِنسان کو اس باغ میں رکّھا۔

9 خداوند خدا نے  اس باغ میں ہر قسم کے  خوش نُما درخت اور بطور غذا ہر قسم کے  ثمر آور درخت بھی لگا ئے ۔ اس کے  علا وہ باغ کے  بیچوں بیچ زندگی دینے  وا لا درخت بھی اُگا یا۔ اور اچھے  اور بُرے  (نیکی و بدی) کا شعور پیدا کرنے  وا لا درخت بھی لگوا یا۔

10 عدن سے  ایک ندی بہتی اور باغ کے  درختوں کو سیراب کر تی۔ پھر وہی ندی شا خوں میں منقسم ہو کر چار بڑی  ندیوں کا منبع بن گئی۔

11 پہلی ندی کا نام فیسون ہوا۔ اور سارے  حویلہ ملک میں یہی ندی بہتی ہے ۔ اس ملک میں سونا تھا۔

12 حویلہ کا سو نا کافی اچھا ہے ۔ اِس کے  علا وہ وہاں پر موتی، سنگِ سلیمانی بھی تھا۔

13 دوسری ندی کا نام جیحون تھا۔ ملک ایتھو پیا کے  ہر حصّہ میں بہنے  وا لی یہی ندی ہے ۔

14 اور تیسری ندی کا نام دجلہ تھا۔ جنوبی اسُور کے  ملک میں بہنے  وا لی یہی ندی ہے ۔ اور چوتھی ندی کا نام فرات تھا۔

15 خداوند خدا نے  اس آدم کو عدن باغ میں کھیتی باڑی کرنے  اور اس کی دیکھ بھال کیلئے  لے  گیا اور اس کو عدن باغ ہی میں ٹھہرا یا۔

16 خداوند خدا نے  آدم سے  کہا، “تو باغ کے  کسی بھی درخت کا میوہ کھا سکتا ہے ۔

17 لیکن نیکی اور بدی کی معلومات دینے  والے  درخت کے  پھل کو تو ہر گز نہ کھا نا۔ اور یہ بھی بتلایاکہ اگر تو کسی بھی وجہ سے  درخت کا پھل کھائے  گا تو تُو مر جائے  گا۔ ”

18 تب خداوند خدا نے  کہا” آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہ ہو گا اور اس لئے  میں اسی کی مانند اس کا ایک مددگار بناؤں گا۔”

19 خداوند خدا نے  زمین کی مٹی سے  سطح زمین پر بسنے  والے  ہر جانور اور آسمان میں اُڑنے  والے  ہر پرندے  کو بنا یا۔ اور خداوند خدا  ان سب کو آدم کے  پاس لا یا یہ دیکھنے   کیلئے  کہ آدم ان کا کیا نام دے  گا۔ آدم نے  اِن میں سے  ہر ایک کونام دیا۔

20 سطح زمین پر رہنے  والے  تمام جانوروں اور آسمان کی بُلندی میں اُڑنے  والے  تمام پرندوں اور جنگل میں رہنے  والے  تمام جنگلی جانوروں کا نام آدم نے  رکھا۔ آدم نے  بے  شُمار جانوروں اور پرندوں کو دیکھا۔ لیکن ان تمام میں سے  اس نے  کسی کو بھی اپنے  لئے  لائق مددگار نہ پا یا۔

21 اِس وجہ سے  خداوند خدا نے  آدم کو گہری نیند میں سُلا دیا اور اس کے  جسم کی ایک پسلی کو نکال لیا اور پسلی کی  اس خالی جگہ کو گوشت سے  پُر کر دیا۔

22 اس نے  آدم کی اس پسلی سے  عورت کو پیدا کیا اور اس کو آدم کے  پاس بلا یا۔

23 تب انہوں نے  اس عورت کو دیکھ کر کہا”اب ٹھیک ہے ، یہ تو بس میری ہی مانند ہے ۔ اور اس کی ہڈیاں تو میری ہی ہڈیوں سے  بنی ہیں۔ اور اس کا جسم میرے  ہی جسم سے  آیا ہے ۔ اوراس کو میں عورت کا نام دیتا ہوں۔ کہ یہ مرد سے  پیدا ہوئی ہے ۔ ”

24 اِس لئے  مرد اپنے  ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کا ہو جاتا ہے ۔ اور وہ دونوں ایک ہی جسم بن جاتے  ہیں۔

25 وہ دونوں برہنہ تھے  لیکن وہ شرمندہ نہیں ہوئے ۔

 

 

 

 

 

باب: 3

 

 

1 خداوند خدا نے  جن تمام حیوانات کو پیدا کیا اور ان میں سے  سانپ ہی چا لاک اور عیار رینگنے  وا لا ہے ۔ سانپ نے  اس عورت سے  پو چھا “کیا یہ صحیح ہے  کہ خدا نے  تجھے  باغ کے  کسی بھی درخت کا میوہ کھانے  سے  منع کیا ہے ؟ ”

2 عورت نے  کہا، نہیں ” ہم لوگ باغ کے  کسی بھی درخت سے  پھل کھا سکتے  ہیں۔

3 لیکن ایک ایسا درخت ہے  جس کا پھل ہم لوگوں کو نہیں کھانا چاہئے ۔ خدا نے  ہم سے  کہا ہے  “باغ کے  بیچ والے  درخت کا پھل تمہیں نہیں کھا نا چاہئے ! تمہیں اس د رخت کو چھونا بھی نہیں چاہئے  ورنہ تم مر جاؤ گے ۔

4 اِس بات پر سانپ نے  عورت سے  کہا ” تم نہیں مرو گی۔

5 خدا جانتا ہے  کہ اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گی تو تم میں خدا کی طرح اچھے  اور بُرے  کی تمیز کا شعور پیدا ہو جائے  گا۔ ”

6 عورت کو وہ درخت بڑا ہی خوشنما معلوم ہوا۔ اور اس نے  دیکھا کہ اس درخت کا پھل کھانے  کے  لئے  بہت ہی مو زوں و مُناسب ہے ۔ اس نے  سوچا کہ اگر وہ اس درخت کا پھل کھا تی ہے  تو وہ عقلمند ہو جائے  گی۔ اس لئے  اس نے  اس درخت کا  پھل توڑ کر کھا یا۔ اور اس کا تھوڑا حصّہ اپنے  شوہر کو بھی دیا اور اس نے  بھی اسے  کھا یا۔

7 ان کی آنکھیں کھل گئیں ان لوگوں نے  محسوس کیا کہ وہ برہنہ تھے ۔ انہوں نے  کچھ انجیر کے  پتے  لئے  انہیں  ایک دوسرے  سے  جوڑ کر اپنے  اپنے  جسموں کو ڈھک لیا۔

8 اس دن شام کو ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں، خداوند خدا باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ جب آدم ا ور اس کی عورت نے  اس کی چہل قدمی کی آوا ز سُنی تو باغ کے  درختوں کی آڑ میں چھپ گئے ۔

9 خداوند خدا نے  پکار کر آدم سے  پو چھا” تو کہاں ہے ؟ ”

10 اس بات پر آدم نے  جواب دیا” باغ میں تیری چہل قدمی کی آواز تو میں نے  سُنی۔ لیکن چونکہ میں برہنہ تھا اس لئے  مارے  خوف کے  چھُپ گیا۔ ”

11 خداوند خدا نے  آدم سے  کہا ” تجھ سے  یہ کس نے  کہا کہ تو ننگا ہے ؟ اور کیا تو نے  اس ممنوعہ درخت کا پھل کھا یا جس درخت کا پھل کھانے  سے  میں نے  منع کیا تھا؟۔ ”

12 اس پر آدم نے  جواب دیا” تو نے  میرے  لئے  جس عورت کو بنا یا اسی عورت نے  اس درخت کا پھل مجھے  دیا اس وجہ سے  میں نے  اس پھل کو کھا یا۔

13 تب خداوند خدا نے  عورت سے  پو چھا ” تو نے  کیا کیا؟ “اس عورت نے  جواب دیا “سانپ نے  مجھ سے  مکر و فریب کیا اور میں نے  وہ پھل کھا لیا۔

14 اس وقت خداوند خدا نے  سانپ سے  کہا”تو نے  یہ بہت ہی بُرا کام کیا ہے ۔ اس لئے  تیرے واسطے  بڑی خرابی ہو گی۔ دیگر حیوانات کے  مقابلے  تیری حالت گھٹیا اور کمتر ہو گی۔ تجھے  اپنے  ہی پیٹ کے  بل رینگتے  ہوئے  زندگی بھر مٹی ہی کھانی ہو گی۔

15 میں تجھے  اور اس عورت کو ایک دوسرے  کا دُشمن بناؤں گا۔ تیرے  بچے  اور اس کے  بچے  آپس میں دُشمن بنیں گے ۔ اس کا بیٹا تیرے  سر کو کچلے  گا، اور تو اس کے  پیر میں کاٹے  گا۔ ”

16 تب خداوند خدا نے  عورت سے  کہا، ” جب تو حاملہ ہو گی تو بہت تکلیف اٹھائے  گی۔ اور تجھے  وضع حمل کے  وقت دردِزہ ہو گا۔ اور تو مرد سے  بہت محبت کرے  گی۔ لیکن وہ تجھ پر حکمرانی کرے  گا۔ ”

17 تب خداوند خدا نے  آدم سے  کہا” میں نے  تجھے  حکم دیا تھا کہ اُس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھا نا۔ لیکن تو نے  اپنی بیوی کی بات سُن کر اس درخت کے  پھل کو کھا یا۔ تیری وجہ سے  میں زمین پر لعنت کرتا ہو ں۔ زمین سے  اناج اُگانے  کیلئے  تجھے  زندگی بھر محنت و مشقت سے  کام کرنا ہو گا۔

18 اور زمین تیرے  لئے  کانٹے  اور گھاس پھوس اُگائے  گی۔ اور کھیت میں اُگنے  وا لی اسی گھاس پھوس کو تو کھائے  گا۔

19 اور تو غذا  کیلئے  اس وقت تک تکلیف اٹھا کر محنت کرے  گا جب تک تیرے  چہرے  سے  پسینہ نہ بہے ۔ اور تو مرتے  دم تک تکلیف اٹھا کر کام کرتا رہے  گا۔ اس کے  بعد تو مٹی بن جائے  گا۔ اس لئے  کہ میں نے  تیری تخلیق میں مٹی ہی کا استعمال کیا ہے ۔ اور جب تو مرے  گا تو مٹی ہی بنے  گا۔ ”

20 آدم نے  اپنی بیوی کا نام حوّا رکھا۔ آدم کا اس کا نام حوّا رکھنے  کی وجہ یہ ہے  کہ اس دنیا میں پیدا ہونے  والے  ہر ایک کیلئے  وہی ماں ہے ۔

21 خداوند خدا نے  حیوان کے  چمڑے  سے  پو شاک بنا کر آدم کو اور اس کی بیوی کو پہنا یا۔

22 خداوند خدا نے  کہا”وہ ہم جیسا ہو گیا ہے  وہ اچھائی اور بُرائی کے  بارے  میں جانتا ہے ۔ اب ہو سکتا ہے  کہ وہ اس درخت حیات کا پھل کھا لے ۔ اگر وہ اس درخت کا پھل کھا لیتا ہے  تو ہمیشہ جیتا رہے  گا۔ ”

23 اس لئے  خداوند خدا نے  آدم کو عدن کے  باغ سے  نکال دیا اور اسے  اس زمین پر جس سے  کہ اسے  بنا یا گیا تھا کھیتی باڑی کرنے   کیلئے  مجبور کیا گیا۔

24 خداوند خدا نے  آدم کو عدن کا باغ چھوڑنے   کیلئے  مجبور کیا اور اس نے  ایک خاص فرشتے  کو باغ کے  مشرقی حصّہ میں مقرر کیا اس کے  علا وہ اس نے  آ گ کی تلوار کو وہاں رکھا۔ یہ تلوار درخت ِ حیات کی طرف والے  راستہ کی حفاظت کرنے    کیلئے  ہر طرف آگے  پیچھے  شعلہ زن ہو ئی۔

 

 

 

 

 

باب:   4

 

 

1 آدم اور حوّا کا ملا پ ہوا۔ جس سے  حوّا کا ایک بچہ پیدا ہوا۔ حوّا نے  کہا”میں نے  خداوند کی عنایت اور نظر کرم سے  ایک نرینہ اولاد پائی ہے  اور اس نے  اس کا نام قابیل رکھا۔ ”

2 اس کے  بعد حوّا کا ایک اور بچہ پیدا ہوا۔ یہی بچّہ قابیل کا چھوٹا بھائی ہا بیل تھا۔ ہا بیل چروا ہا بنا۔ اور قابیل کِسان بنا۔

3 فصل کی کٹائی کے  وقت قابیل  خداوند کیلئے  نذرانہ لا یا۔ قابیل اپنے  کھیت میں اُگائے  ہوئے  اناج کی چند چیزیں لا یا۔

4 اور ہا بیل اپنی بھیڑ بکریوں کے  ریوڑ سے  پہلو ٹھی اور فربہ بھیڑوں اور اُن میں سے  اچھے  حصّے لا یا۔ خداوند نے  ہا بیل کے  نذرانہ کو قبول کیا۔

5 مگر خداوند نے  قابیل کے  نذرانہ کو قبول نہ کیا۔ اس بات پر قابیل ا َ فسردہ خاطر ہوا اور غیض و غضب سے  بھر گیا۔

6 خداوند نے  قابیل سے  پو چھا “تو کیوں غضبناک ہے ؟ اور تیرا چہرہ مایوس کیوں نظر آ رہا ہے ؟

7 اگر تو خیر و بھلائی کے  کام کرے  گا تو میری نظر کے  سامنے  ہمیشہ رہے  گا۔ تب تو میں تجھے  قبول کر لوں گا۔ اور اگر تو نے  بُرے  کام و بد افعال کئے  تو وہ گناہ تیرے  ہی سر ہو گا۔ اور تیرا گناہ یہ چاہتا ہے  کہ تجھے  اپنی گرفت میں رکھے  اور کہا کہ تو اس گناہ کو اپنی گرفت میں رکھ۔ ”

8 قابیل نے  اپنے  بھائی ہا بیل سے  کہا”ہمیں کھیت کو جانا چاہئے ۔ “اس لئے  قابیل اور ہا بیل کھیت کو چلے  گئے ۔ اور وہاں پر قابیل نے  اپنے  بھائی ہا بیل پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا۔

9 پھر بعد میں خداوند نے  قابیل سے  پو چھا”تیرا بھائی ہا بیل کہاں ہے ؟ اِس پر قابیل نے  کہا کہ مجھے  تو معلوم نہیں اور کہا کہ کیا میرے  بھائی کی نگرانی اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری میری ہے ؟ ”

10 اِس پر خداوند نے  کہا”آخر تو نے  کیا کیا ہے ؟ اور تو ہی اپنے  بھائی کا قا تل ہے ! اس کا خون زمین سے  پکار کر مجھ سے  کہہ ر ہا ہے ۔

11 تم نے  ہی اپنے  بھائی کا قتل کیا ہے ۔ تیرے  ہاتھ سے  بہائے ہوئے اس کے  خون کو پینے  کیلئے  زمین نے اپنا منہ کھو لا ہے  جس کی وجہ سے  تو اب لعنتی ہو گیا ہے ۔

12 گذرے  ہوئے  دِنوں میں جب تو نے  پو دے  لگائے  تھے  تو وہ پو دے  اچھی طرح پھولے  پھلے ۔ لیکن اگر اب تو پو دے لگائے  گا بھی تو زمین اچھی فصل نہ دے  گی۔ اور تیرے  لئے  زمین پر رہنے    کیلئے  کوئی گھر تک بھی نہ ہو گا۔ اور کہا کہ خانہ بدوش کی طرح تو ایک جگہ سے  دوسری جگہ گھومتا رہے  گا۔ ”

13 اِس پر قابیل نے  خداوند سے  کہا، “میں تو اس سزا کو برداشت کرنے  کے  قابل نہیں ہوں۔

14 اگر تو مجھے  اس زمین سے  دور بھیج دے  گا تو میں تیرا چہرہ کبھی نہیں دیکھوں گا۔ میرا گھر بھی نہیں ہے !اور مجھے  زمین پر ایک جگہ سے  دوسری جگہ زبردستی نقل مکانی کرنا ہو گا۔ اور جو لوگ بھی مجھے  پائیں گے  مار ڈالیں گے ۔ ”

15 اس پر خداوند نے  قابیل سے  کہا “میں ایسا ہونے  نہ دوں گا!اے  قابیل اگر کسی نے  تجھے  قتل بھی کیا تو میں اس کو اس سے  سات گنا زیادہ سزا دوں گا۔ “پھر اس کے  بعد خداوند نے  قابیل پر ایک علامتی شناخت رکھی تا کہ کوئی اسے  پا کر اس کا قتل نہ کرے ۔

16 قابیل خداوند کے  حضور سے  کافی دور چلا گیا اور عدن کے  مشرق میں نود نام کے  ملک میں رہا۔

17 قابیل اور اس کی بیوی کی ایک نرینہ اولاد پیدا ہو ئی۔ اور انہوں نے  اس بچے  کا نام حَنوک رکھا۔ اور قابیل نے  ایک گاؤں  بسایا۔ اور اس گاؤں کو اس نے  اپنے  بیٹے  ہی کا نام دیا۔

18 حنوک کا عیراد نام کا ایک بیٹا ہوا۔ اور عیراد نے  محو یا ئیل نام کا بیٹا پا یا۔ اور محویائیل سے  متوسا ئیل پیدا ہوا۔ اور متوسا ئیل سے  لمک پیدا ہوا۔

19 اور لِمک نے  دو عورتوں سے  شادی کی۔ پہلی بیوی کا نام عدہ تھا اور دوسری بیوی کا نام ضلّہ تھا۔

20 عدہ کایا بل نام کا لڑ کا پیدا ہوا۔ خیموں میں رہتے  ہوئے  اور جانوروں کو پالتے  ہوئے  زندگی گذار نے  والے  لوگوں کیلئے  یا بل ہی جدِّ اعلیٰ قرار پا یا۔

21 عدہ کا ایک اور بچہ پیدا ہوا۔ وہی یوبل تھا۔ اور یوبل ہی بینڈ باجا اور بانسری بجانے  وا لی قوم کا جدِّ اعلیٰ تھا۔

22 ضلّہ کو تو بلقائن نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔ لو ہے  اور کانسی  سے  ساز و سامان بنانے  والے  لوگوں کا تو بلقائن ہی جدّ اعلیٰ تھا۔ اور نعمہ تو بلقائن کی بہن تھی۔

23 لِمک نے  اپنی بیویوں سے  یوں کہا “عدہ، ضلّہ میری باتیں سنو! اے  لِمک کی بیویو! میری بات سُنو۔ ایک نے  مجھے  زخمی کر دیا۔ اس وجہ سے  میں نے  اسے  قتل کر دیا۔ ایک نوجوان نے  مجھے  پیٹا اس وجہ سے  میں نے  اسے  قتل کر دیا۔

24 قابیل کے  قاتل کو سات گنا زیادہ سزا ہو گی!اس وجہ سے  مجھے  قتل کرنے  وا لوں کو ستّر گنا زیادہ سزا ہو گی۔ ”

25 آدم اور حوّا سے  ایک اور لڑکا پیدا ہوا۔ حوّا نے  کہا”خدا نے  مجھے  ایک اور بیٹا دیا ہے ۔ قابیل نے  ہا بیل کو قتل کیا تو اس کے  عوض خدا نے  مجھے  ایک بیٹا دیا ہے ۔ اور اس نے  اس کا نام شیت رکھا۔ ”

26 شیت نے  ایک بیٹا پایا۔ اس بچے  کا نام انوش رکھا۔ اس دور میں لوگ خداوند کے  اوپر یقین رکھنے  لگے  تھے ۔

 

 

 

 

 

باب:   5

 

1 یہ آدم کے  خاندان کی تاریخ ہے ۔ خدا نے  انسان کو ٹھیک اپنی صورت پر پیدا کیا ہے ۔

2 خدا نے  اُن میں نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے ۔ اور اسی دن جس دن اس نے  ان کو پیدا کیا، ان کو دُعا کے  ساتھ برکت دی اور ان کو ” آدم ” کا نام دیا۔

3 جب آدم ایک سو تیس سال کے  ہوئے  تو  ایک اور لڑکا پیدا ہو ا۔ اور وہ لڑکا شکل و صورت میں بالکل آدم جیسا تھا۔ اور آدم نے  اس کا نام شیت رکھا۔

4 شیت پیدا ہونے  کے  بعد آدم آٹھ سو سال زندہ رہے ۔ اس دوران ان سے  دوسرے  بیٹے  اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

5 اس طرح آدم کُل نو سو تیس برس زندہ رہ کر موت کے  حوالے  ہوئے ۔

6 شیت جب ایک سو پانچ برس کا ہوا تو انوش نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

7 انوش جب پیدا ہوا تو شیت آٹھ سو سات سال زندہ رہا۔ اس مدت میں شیت کو کچھ لڑکے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

8 اِس طرح شیت کُل نو سو بارہ سال زندہ رہنے  کے  بعد مرے ۔

9 انوش جب نوّے  برس کا ہوا تو اسے  قینان نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

10 قینان پیدا ہونے  کے  بعد انوش آٹھ سو پندرہ برس زندہ رہا۔ اس مدت میں اسے  دیگر لڑکے  اور لڑکیاں بھی پیدا ہوئیں۔

11 اس طرح انوش کل نو سو پانچ برس زندہ رہنے  کے  بعد مرے ۔

12 قینان جب ستّر برس کا ہوا تو اسے  محلل ایل نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔

13 محلل ایل کی باب:   کے  بعد قینان آٹھ سو چالیس برس زندہ رہا۔ اُس مدت میں قینان کو دُوسرے  لڑکے  اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں۔

14 اِس طرح قینان کُل نو سو دس سال زندہ رہنے  کے  بعد مر گئے ۔

15 محلل ایل جب پینسٹھ برس کا ہوا تو اس کو یارد نام کا لڑ کا پیدا ہوا۔

16 یارد کی باب:   کے  بعد محلل ایل آٹھ سو تیس برس زندہ رہا۔ اور اس مدت میں اس کو چند لڑ کے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

17 اس طرح محلل ایل کل آٹھ سو پچانوے  برس زندہ رہنے  کے  بعد مر گئے ۔

18 یارد جب ایک سو باسٹھ برس کا ہوا تو اس نے  حنوک نام کے  ایک بیٹے  کو جنم دیا۔

19 حنوک پیدا ہونے  کے  بعد یارد آٹھ سو برس زندہ رہا۔ اور اس مدت میں اس سے  دیگر لڑکے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

20 اس طرح یارد نو سو باسٹھ برس جینے   کے  بعد مر گئے ۔

21 حنوک جب پینسٹھ برس کا ہوا تو اسے  متوسلح نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔

22 متوسلح کی باب:   کے  بعد حنوک خدا کی سر پرستی میں خدا کے  ساتھ تین سو سال اور رہا۔ اِس دوران اسے  دوسرے  بیٹے  اور بیٹیاں پیدا ہوئے ۔

23 اس طرح حنوک کل تین سو پینسٹھ سال زندہ رہا۔

24 حنوک جب خدا کی سر پرستی میں رہ رہا تھا تو خدا نے  اسے  اپنے  پاس بلا یا۔ اس دن سے  وہ زمین پر اور نہیں رہا۔

25 متوسلح جو ایک سو ستاسی برس کا تھا تو اسے  لمک نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔

26 لمک کے  پیدا ہونے  کے  بعد متوسلح سات سو بیاسی برس تک زندہ رہا اس مدت میں اُسے  دوسرے  لڑکے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

27 اِس طرح متوسلح کل نو سو اُنہتّر برس زندہ رہنے  کے  بعد مر گئے ۔

28 اور لمک جب ایک سو بیاسی برس کا ہوا تو اس کو ایک لڑکا پیدا ہوا۔

29 لمک نے  کہا، “ہم کسان بن کر سخت محنت و مشقت سے  کام کرتے  ہیں۔ کیونکہ خدا نے  زمین پر لعنت فرمائی ہے ۔ لیکن وہ بیٹا ہے  جو کہ ہم کو سکون و آرام پہنچائے  گا۔ “یہ کہتے  ہوئے  اس نے  اُس لڑ کے  کا نام نوح رکھا۔

30 نوح کی باب:   کے  بعد، لمک پانچ سو پچانوے  برس زندہ رہا۔ اس مدت میں اس کو دوسرے  لڑکے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

31 اس طرح لمک کل ۷۷۷ برس زندہ رہنے  کے  بعد مر گیا۔

32 جب نوح کی عمر پانچ سو برس ہوئی تو سام، حام، اور یافث تین لڑ کے  پیدا ہوئے ۔

 

 

 

 

باب:   6

 

 

1 سطح زمین پر انسانی آبادی بڑھ رہی تھی۔ انسان کو لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں۔

2 خدا کے  بیٹوں نے  دیکھا کہ لڑکیاں خوبصورت ہیں اس لئے  ان لوگوں نے  لڑکیوں کو چُنا اور ان سے  شادی کر لی۔ ان عورتوں سے  بچے  پیدا ہوئے ۔ اس وقت کے  دوران اور اس کے  بعد نفیلم اس علاقے  میں آباد تھے ۔ اور وہ بہت مشہور بھی تھے ۔ اور قدیم زمانے  سے  یہ بہادُر سمجھے  جاتے  تھے ۔ تب خداوند نے  سمجھا، ” لوگ تو صرف انسان ہی ہیں اور میری رُوح اُن میں ہمیشہ نہ رہے  گی اور وہ ایک سو بیس برس تک زندہ رہیں گے ۔ ”

3  4  5 زمین پر بسنے  والے  ظالم لوگوں کے  بُرے  منصوبے  کو خدا نے  دیکھا۔

6 خداوند کو بہت افسوس ہوا کہ اس نے  لوگوں کو زمین پر پیدا کیا تھا۔ اس کی وجہ سے  اس کے  دِل میں بہت دُکھ ہوا۔

7 خداوند نے  کہا، ” میں نے  جن تمام انسانوں کو اس کرۂ ارض پر پیدا کیا ہے  اُن سب کو مٹا دوں گا ہر ایک انسان، ہر ایک حیوان، اور زمین پر رینگنے  والے  ہر ایک جانور کو پھر آسمان میں اُڑنے  والے  ہر ایک پرندوں کو ملیا میٹ کر دوں گا۔ اس لئے  کہ ان سب کو پیدا کر کے  مجھے  افسوس ہوا۔ ”

8 لیکن خداوند کے  حکم کے  مطابق زندگی گذار نے  وا لا ایک آدمی  تھا۔ وہی نوح کہلاتا ہے ۔

9 یہ نوح کے  خاندان کی تاریخ ہے  : نوح نے  زندگی بھر راست گوئی، حق پرستی اور اچھّی زندگی گذاری۔ نوح نے  ہمیشہ خدا کی مرضی کو مقدم رکھا۔

10 نوح کی تین نرینہ اولاد سم، حام، اور یافت تھی۔

11 جب خدا نے  زمین پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگوں نے  اسے  تباہ و بر باد کر دی ہے ۔ زمین ظلم و زیادتی اور تشدُّد سے  بھر گئی تھی۔ لوگ ظالم و جابر ہو کر اپنی زندگیوں کو بگاڑ لئے  تھے ۔

12 13 اِس وجہ سے  خدا نے  نوح سے  کہا، ” میں تمام لوگوں کا خاتمہ کر نا چاہتا ہوں۔ کیونکہ وہ غصّہ، جبر و تشدُّد سے  زمین کو بھر دئیے  ہیں۔ اس لئے  میں تمام جانداروں کو تباہ کرنے  والا ہوں۔

14 تو اپنے  لئے  سرو کی لکڑی سے  کشتی بنا۔ اور اس کشتی میں الگ الگ کمرے  بنا۔ اور کشتی کے  اندرونی و بیرونی حصّوں میں رال( ایک قسم کا گوند) لگانا۔

15 ” یہ کشتی کی جسامت ہے  : اس کی لمبائی 450 فٹ، چوڑائی 75فٹ اور او نچائی 45 فیٹ ہونی چاہئے ۔

16 کھڑکی چھت سے 18انچ نیچے  رہے ۔ کشتی کے  پہلو میں دروازے  رہے ۔ اور کشتی میں نچلی درمیانی اور اوپری تین منزل بنانا۔

17 ” میں تجھ سے  جو کچھ کہہ رہا ہوں تو اسے  سمجھ لے ۔ میں زمین پر ایک زبردست طوفان لانے  والا ہوں۔ اور آسمان کے  نیچے  بسنے  والے  تمام جانداروں کو میں تباہ کرنے  والا ہوں۔ اور زمین پر رہنے  والے  ہر ایک فنا ہو جائے  گا۔

18 ” میں تیرے  ساتھ ایک خاص قسم کا معاہدہ کروں گا۔ وہ یہ کہ تجھے  اور تیری بیوی تیرے  بیٹے  اور ان کی بیویوں کو کشتی میں جانا ہو گا۔

19 اس کے  علا وہ زمین پر رہنے  والے  ہر ایک جاندار کا ایک نر اور ایک مادہ کشتی میں ساتھ لینا۔ اور اپنے  ساتھ ان کی بھی جانوں کی حفاظت کر نا۔

20 زمین پر رہنے  والے  ہر قسم کے  پرندوں کا ایک جوڑا اور ہر قسم کے  جانوروں کا ایک جوڑا اور رینگنے  والے  جانوروں کا ایک جوڑا تلاش کر لینا۔ زمین پر رہنے  والے  ہر قسم کے  جانوروں کے  نر اور مادہ تمہارے  ساتھ رہیں گے ۔ کشتی میں انہیں زندہ رکھنا۔

21 اور کہا کہ زمین پر میسر آنے  والا ہر قسم کا اناج اپنے  لئے  اور ان تمام حیوانات کے  لئے  کشتی میں فراہم کر لینا۔”

22 خدا کے  حکم کے  مطابق نوح نے  ہر کچھ ایسا ہی کیا۔

 

 

 

 

 

باب:   7

 

 

 

1 پھر خداوند نے  نوح سے  کہا، “اس زمانے  کے  لوگوں میں تُو تنہا راست باز ہے ۔ اس وجہ سے  تو اپنے  تمام اہل خاندان کو ساتھ لے  کر کشتی میں سوار ہو جا۔

2 ہر قسم کے  تمام پاک جانوروں میں سے  سات جوڑے  یعنی سات نر و سات مادہ کولے  لے ۔ اور زمین پر کے  دوسرے  حیوانات میں سے  ایک ایک جوڑا لے  لے ۔

3 ہر قسم کے  پرندوں میں سات سات جوڑے  لے  لے ۔ بقایا تمام حیوانات کے  تباہ ہو جانے  کے  بعد یہ جوڑے  اپنی اپنی نسل کی افزائش کریں گے ۔

4 سات دن گزرنے  کے  بعد میں موسلا دھار بارش زمین پر بر سانے  والا ہوں۔ اور یہ بارش چالیس دن اور چالیس رات مسلسل بر سے  گی۔ اور کہا کہ میں نے  ان تمام جانداروں کو جنہیں میں نے  اس زمین پر پیدا کیا ہے  ان سب کو مٹا دوں گا۔ ”

5 خداوند کے  دیئے  گئے  حکم کے  مطابق نوح نے  ویسا ہی کیا۔

6 جب طوفان آیا تو اس وقت نوح کی عمر چھ سو برس تھی۔

7 پانی کے  طوفان سے  نجات پانے  کے  لئے  نوح اپنی بیوی اپنے  بیٹوں اور ان کی بیویوں کے  ساتھ چلے  گئے ۔

8 تمام پاک حیوانات اور زمین پر بسنے  والے  دوسرے  تمام جانور اور پرندے  اور زمین پر رینگنے  والے  تمام جاندار،

9 دو دو کر کے ، ایک نر ایک مادہ آئے  اور نوح کے  ساتھ کشتی میں سوار ہوئے  جیسا کہ خدا نے  اسے  حکم دیا تھا۔

10 سات دنوں بعد پانی کا طوفان شروع ہوا۔ اور زمین پر بارش برسنے  لگی۔

11 نوح کی عمر کے  چھ سوویں سال کے  دوسرے  مہینے  کے  سترہویں دن زمین کے  اندر سے  سبھی سوتے  پھوٹ پڑے  جو کہ سمندر سے  نیچے  تھے ۔ اور زمین پر موسلا دھار بارش برسنے  لگی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آسمانی طوفان کا پھاٹک کھل گیا ہے ۔ اور چالیس دن اور چالیس رات مسلسل بارش برستی رہی۔ اس دن نوح اور اس کی بیوی اور اس کی نرینہ اولاد میں سام، حام اور یافث اور ان کی بیویاں سب کشتی میں سوار ہو گئے ۔ تب نوح چھ سو سال کا بوڑھا تھا۔

12  13 14 وہ لوگ اور زمین پر بسنے  والے  ہر قسم کے  چوپائے  بھی کشتی میں تھے ۔ ہر قسم کے  جانور اور زمین پر رینگنے  والے  جانور اور ہر قسم کے  پرندے  کشتی میں سوار تھے ۔

15 یہ سب چوپائے  نوح کے  ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ سانس لینے  والے  ہر قسم کے  جانور سے  دو دو جوڑی آ گئے ۔

16 ” خدا کے  حکم کے  مطابق ہر قسم کے  جانوروں کے  نر اور مادہ کشتی میں سوار ہو گئے ۔ تب خداوند نے  کشتی کا دروازہ بند کر دیا۔

17 پانی کا یہ طوفان زمین پر چالیس دن تک رہا۔ پانی چڑھتا گیا اور وہ کشتی کو اوپر اٹھا لیا اور وہ پانی پر تیرنے  لگی۔ ”

18 پانی اور اوپر چڑھنے  لگا کشتی زمین سے  بہت اوپر تیرنے  لگی۔

19 پانی کی سطح غیر معمولی بڑھنے  کی وجہ سے  بلند ترین پہاڑ بھی پانی سے  ڈھک گئے ۔

20 پہاڑوں کے  اوپر بھی پانی بڑھنے  لگا۔ اونچے  اونچے  پہاڑوں سے  بھی بیس فُٹ زیادہ اور اونچا ہو کر ان کو گھیر لیا۔

21 زمین پر بسنے  والے  سب جاندار مر گئے  اور تمام مرد و عورتیں بھی مر گئیں۔ تمام پرندے ، چو پائے ، جاندار اور ہر قسم کے  رینگنے  والے  جانور بھی مر گئے ۔

22  23 اس طرح خدا نے  زمین پر رہنے  والے  ہر ایک جاندار کو تباہ کر دیا اور ہر ایک انسان بھی بر باد ہو گیا۔ ہر ایک چو پا یہ اور رینگنے  والا اور ہر ایک پرندہ بھی تباہ ہو گیا۔ اب جو جاندار باقی رہ گئے  تھے  وہ نوح اور وہ سب جو اس کے  ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔

24 اور ایک سو پچاس دنوں تک پانی زمین کو گھیرے  ہوئے  تھا۔

 

 

 

 

باب:   8

 

 

1 خدا نے  نوح کو اور جو کشتی میں سوار تھے  اُن سب جانداروں کو یاد کیا۔ اور خدا نے  زمین پر ہوا کو چلایا۔ اور پانی اترنے  کا سلسلہ شروع ہوا۔

2 آسمان سے  مسلسل برسنے  والی بارش تھم گئی۔ اور زمین کے  جھرنوں سے  ابلنے  والا پانی بھی رک گیا۔

3 زمین کو گھیرے  ہوئے  پانی ایک سو پچاس دن گزرنے  کے  بعد دھیرے  دھیرے  کم ہونے  لگا۔ ساتویں مہینے  کے  سترہویں دن کشتی اَراراتپہاڑی پر ٹک گئی۔

4  5 پانی کی سطح اترنے  کی وجہ سے  دسویں مہینہ کے  پہلے  دن میں پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آنے  لگیں۔

6 چالیس دن گزرنے  پر نوح نے  کشتی میں اپنی بنائی ہوئی کھڑ کی کو کھول کر دیکھا۔

7 نوح نے  ایک کوّے  کو باہر چھوڑ دیا۔ زمین کا پانی خشک ہونے  تک وہ کوّا ایک جگہ سے  دوسری جگہ پر اُڑتا تھا۔

8 زمین کی  خشکی یا نمی کے  بارے  میں جاننے  کے  لئے  نوح نے  ایک کبوتر کو بھی باہر اُڑا یا۔

9 پانی ابھی تک رہنے  کی وجہ سے  وہ کبوتر لوٹ کر آ گیا۔ نوح نے  اپنا ہاتھ آگے  بڑھا کر اُس کو پکڑ لیا اور اُس کو کشتی میں ساتھ لے  لیا۔

10 نوح سات دنوں تک انتظار کرنے  کے  بعد پھر دوبارہ کبوتر کو باہر چھوڑا۔

11 اُسی شام کبوتر لوٹ کر نوح کے  پاس آ گیا۔ اس وقت اس کی چونچ میں زیتون کے  درخت کی ایک تازہ پتی تھی۔ اس سے  نوح کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ زمین میں خشکی آ گئی ہے ۔

12 سات دنوں کے  بعد نوح نے  پھر کبوتر کو باہر چھوڑے ۔ لیکن اس مرتبہ وہ واپس لوٹ کر نہ آیا۔

13 اس وجہ سے  نوح نے  کشتی کا دروازہ کھول دیئے ۔ اور نوح اطراف و اکناف دیکھنے  لگے  کہ زمین سوکھ گئی ہے ۔ اُس دن پہلے  سال کا پہلا مہینہ اور پہلا دن تھا۔ تب نوح چھ سو ایک سال کے  ہو گئے  تھے ۔

14 دُوسرے  مہینے  کے  ستائیسویں دن زمین پوری طرح سوکھ گئی۔

15 پھر اس کے  بعد خدا نے  نوح سے  کہا،

16 ” تُو اور تیری بیوی اور تیری نرینہ اولاد اور اُن کی بیویوں کو لے  کر کشتی سے  باہر آؤ۔

17 اور کہا کہ تمہارے  ساتھ وہ سب کے  سب جو کشتی میں سوار ہیں یعنی تمام پرندے  چو پائے  اور زمین پر رینگنے  والے  جانور باہر آ جائیں۔ اور ان کی نسل خوب بڑھے  اور ساری زمین میں پھیلے ۔ اور روئے  زمین پر وہ بھر جائیں۔ ”

18 اس وجہ سے  نوح اپنی بیوی اپنے  بیٹوں اور اپنی بہوؤں سمیت کشتی سے  باہر آئے ۔

19 تمام حیوانات، پرندے  اور رینگنے  والے  جاندار سب کشتی سے  باہر آ گئے ۔

20 پھر اس کے  بعد نوح نے  خداوند کے  لئے  ایک قربان گاہ بنائی اور پاک و حلال چند جانوروں اور پرندوں کولے  لیا اور اُن کو قربان گاہ پرلے  جا کر قربان کر دیا۔

21 ان قربانیوں کی خوشبو خداوند کو بہت پسند آئی۔ تب خداوند اپنے  آپ  سے  کہا، ” زمین کو لعنت دیکر لوگوں کو اور کبھی سزا نہ دوں گا۔ لوگ بچپن ہی سے  بُرے  ہیں۔ اِس وجہ سے  میں زمین پر رہنے  والے  ہر ایک جاندار کو تباہ نہ کروں گا۔ پھر کبھی میں ایسا نہ کروں گا۔

22 زمین جب تک رہے  گی تخم ریزی اور فصل کاٹنے  کا زمانہ ہو گا، سردی، گرمی، موسمِ گر ما اور موسمِ سر ما، رات اور دن تو ہمیشہ ہی ہوتے  رہے  گا۔ ”

 

 

 

 

باب:   9

 

 

 

1 خدا نے  نوح اور اُس کے  بیٹوں پر فضل عطا کیا۔ اور کہا کہ کثیر اولاد ہو کر زمین پر پھیل جاؤ۔

2 زمین پر بسنے  والے  تمام حیوانات تم سے  خوفزدہ ہوں گے ۔ اور آسمان کی فضاء میں اُڑنے  والے  تمام پرندے  بھی تم سے  خوفزدہ رہیں گے ۔ زمین پر رینگنے  والے  تمام جانور اور سمندر میں رہنے  والی تمام مچھلیاں بھی تم سے  ڈریں گی۔ کیونکہ ان سب کے  اوپر تم قوّت رکھّو گے ۔

3 پہلے  پہل تمہاری غذا کے  لئے  میں نے  سبزی و نباتات کو دیا ہے ۔ اور تمہارے  لئے  تمام جانور کو بطور غذا دیا ہے ۔ بلکہ روئے  زمین کی ہر چیز کو میں نے  تمہاری خاطر ہی بنا یا ہے ۔

4 لیکن میں نے  تمہیں جس بات کا حکم دیا ہے  وہ یہ کہ تم وہ گوشت مت کھا نا جس میں جان (خون) اب تک موجود ہی ہو۔

5 اگر کوئی تمہارا قتل کرے  تو میں اُس سے  قتل کا بدلہ لوں گا۔ اور اگر کوئی حیوان انسان کو مار ڈالے  تو میں اُس حیوان کی جان نکال لوں گا۔

6 ” اِس لئے  کہ خدا نے  انسان کو اپنی مُشابہت پر پیدا کیا ہے ۔ اس لئے  جو کوئی بھی کسی شخص کا خون بہاتا ہے  تو دوسرا شخص اس کا خون بہائے  گا۔

7 ” اور کہا کہ اے  نوح تیری اور تیری اولاد کا سلسلہ کثرت سے  بڑھے  اور پوری زمین میں پھیل جائے ۔ ”

8 ” پھر بعد میں خدا نے  نوح اور اس کی اولاد سے  کہا،

9 ” میں تم سے  اور تمہارے  بعد پیدا ہونے  والے  لوگوں سے  معاہدہ کرتا ہوں۔ ”

10 کشتی سے  باہر آنے  والے  پرندوں اور تمام حیوانات سے  چو پا یوں سے  بھی میں معاہدہ کرتا ہوں اور زمین پر بسنے  والے  ہر جاندار سے  میں معاہدہ کرتا ہوں۔

11 میں تم سے  جس بات کا معاہدہ کر نا چاہتا ہوں وہ یہ ہے  کہ زمین پر جتنے  جاندار تھے  وہ سب پانی کے  طوفان سے  تباہ ہو گئے ۔ لیکن اس کے  بعد ایسا پھر کبھی نہ ہو گا اور کہا کہ اب اس کے  بعد زمین پر رہنے  والے  کسی جاندار کو پانی کا طوفان کبھی تباہ نہ کرے  گا۔ ”

12 اس کے  علا وہ خدا نے  کہا، ” میں اپنے  معاہدہ کے  ثبوت کے  لئے  تمہیں ایک نشانی دوں گا۔ یہ نشانی معاہدے  کو ثا بت کرے  گی جو کہ میرے  اور تمہارے  بیچ اور اس زمین پر رہنے  والے  ہر جاندار کے  بیچ ہوا ہے ۔ اور یہ معاہدہ ہمیشہ کے  لئے  رہے  گا۔

13 میں نے  بادلوں میں جس قوس و قزح کو رکھا ہے  وہ میرے  اور زمین کے  درمیان ہوئے  معاہدہ کے  لئے  علا مت ہے ۔

14 جب بادل آسمان پر چھا جائیں گے  تو بادلوں میں تم قوس و قزح کو دیکھو گے ۔

15 جب میں اس قوس و قزح کو دیکھتا ہوں تو مجھے  تم سے  اور زمین کے  اوپر بسنے  والے  تمام جانداروں سے  جو معاہدہ ہوا ہے  اس کو یاد کر لیتا ہوں۔ اب اس کے  بعد پانی کا طوفان زمین پر بسنے  والے  تمام جانداروں کو تباہ نہ کرنے  کا یہی معاہدہ ہے ۔

16 میں بادلوں میں جب قوس و قزح کو دیکھتا ہوں تو قائم و دائم ہوئے  اس معاہدہ کو یاد کر لیتا ہوں اور کہا کہ مجھ میں اور زمین کے  اوپر رہنے  والے  تمام جانداروں میں ہوئے  معاہدہ کو یاد کر لیتا ہوں۔ ”

17 اور خداوند نے  نوح سے  کہا کہ زمین پر رہنے  والے  تمام جاندار اور میرے  بیچ جو معاہدہ ہوا ہے ۔ اس کے  لئے  یہ قوس و قزح بطور نشانی ہے ۔

18 نوح کے  بیٹے  نوح کی کشتی سے  باہر نکلے ۔ اور ان کے  نام یہ ہیں :سام، حام اور یافث۔ حام، کنعان کا باپ تھا۔

19 نوح کے  صرف تین بیٹے  تھے ۔ اور زمین پر بسنے  والے  تمام لوگوں کے  لئے  یہ تین ہی جدّ اعلیٰ تھے ۔

20 نوح کسان بنا۔ اور اس نے  ایک انگور کا باغ لگایا۔

21 ایک مرتبہ اس نے  مئے  پی لی۔ اور اس کو نشہ ہوا جس کی وجہ سے  وہ اپنے  خیموں میں برہنہ ہو کر سو گئے ۔

22 کنعان کا باپ حام نے  جب اپنے  باپ کو عریاں سوئے  دیکھا تو خیمہ کے  باہر آ کر اپنے  بھا ئیوں سے  اس بات کا ذکر کیا۔

23 تب سام اور یافث دونوں ایک کمبل اپنی پیٹھوں پر ڈالے  ہوئے  پیٹھ کی طرف الٹے  چلنے  لگے  اور خیمہ میں آ کر اپنے  باپ کو اوڑھا دیا۔ اور باپ کی برہنگی کو نہ دیکھا۔

24 پھر بعد جب نوح نیند سے  اٹھا  اور چھوٹے بیٹے حام نے  جو کیا تھا اس کو معلوم ہوا۔

25 اس لئے  نوح نے  کہا، ” کنعان پر لعنت ہو! وہ اپنے  بھا ئیوں کا نوکر ہو۔ ”

26 اس کے  علا وہ نوح نے  کہا، “سام کے  خداوند خدا کی حمد و تعریف ہو۔ کنعان سام کا ایک نوکر بن کر رہے ۔

27 خدا یافث کو بہت ساری زمین کے  حصہ کا مالک بنائے ۔ سام کے  خیموں میں خدا کا قیام ہو۔ اور کہا کہ کنعان اُن کا نوکر بن کر رہے ۔ ”

28 پانی کے  طوفان کے  بعد نوح تین سو پچاس برس زندہ رہے ۔

29 نوح کل نو سو پچاس برس زندہ رہنے  کے  بعد وفات پا گئے ۔

 

 

 

 

باب: 10

 

 

1 نوح کے  بیٹے  سام، حام اور یافث تھے ۔ پانی کے  طوفان کے  بعد ان تینوں آدمیوں سے  کئی بیٹے  پیدا ہوئے ۔

2 یافث کے  بیٹے  جُمر، ماجوج، مادی، یا وان، توبل، مسک اور تیراس۔

3 جُمر کے  بیٹے ، اَ شکناز، ریفت اور تجرمہ۔

4 یا وان کے  بیٹے ۔ الیشہ، ترسیس، گتّی اور دودانی۔

5 ساحلی علاقوں کے  تمام لوگ یافث کے  بچوں کی نسل میں شُمار ہوتے  ہیں۔ اس کے  ہر بیٹے  کے  لئے  خاص زمین تھی۔ اُن سب کے  قبیلے  ترقی کر کے  الگ الگ قومیں بنیں۔ ہر ایک قوم کی الگ الگ زبان تھی۔

6 حام کے  بیٹے  کوش، مصرا ئیم، فوط، اور کنعان۔

7 کوش کے  بیٹے  سبا، حویلہ، سبتہ، رعماہ اور سبتیکہ۔ رعماہ کے  بیٹے  سبا اور ددان۔

8 کوش کا ایک نمرود نام کا لڑکا تھا۔ نمرود اس دُنیا میں بہت بڑا طاقتور تھا۔

9 خداوند کے  سامنے  وہ ایک بڑا چالاک شکاری تھا۔ اِس وجہ سے  لوگ دوسروں کو اُس سے  موازنہ کر کے  کہتے  تھے  کہ وہ نمرود جیسا ہے ۔ اور خداوند کے  سامنے  چالاک شکاری کا نام دیتے ۔

10 نمرود کی حکومت ملک سنعار کے  بابل میں اور اِرک میں اور اکاّد میں اور کلنہ نام کے  شہروں سے  شروع ہو ئی۔

11 نمرود اسور گیا۔ اور اسور میں نینواہ اور رحو بوت، عیر، قلح اور رسن نام کے  شہر تعمیر کر وائے ۔ رسن ایک بڑا شہر تھا نینوں اور کلح کے  درمیان تھا۔

12 13 مصر ایم لودی، عنامی، لہابی، نفتوحی اور فتروسی، کسلوحی، کفتوری کا باپ تھا (اور کسلوحی فلسطینیوں کا باپ تھا )۔

14 15 کنعان صیدون کا باپ تھا۔ صیدون اس کا پہلو ٹھا بیٹا تھا۔ کنعان حت کا بھی باپ تھا۔

16 کنعان، یبوسیوں، عموریوں، جرجاسیوں، حوِّیوں، عرقیوں، سینیوں، اَروادیوں، صماریوں حمایتوں کا باپ تھا۔ کنعان کے  خاندان پھیل گئے  تھے ۔

17 18 19 کنعان کی حدود شمال میں صیدا سے  لے  کر جنوب میں جرار تک، غزّہ سے  لے  کر مشرقی سدوم اور عمورہ کے  شہروں تک، ادمہ اور ضبیاں سے  لے  کر لسع تک پھیلی ہوئی تھی۔

20 وہ سب حام کی نسل والے  تھے ۔ وہ تمام قبائل کے  لوگ اپنی خاص زبانیں اور اپنے  خاص علا قے  پائے  تھے ۔ اور وہ سب الگ الگ قومیں قرار پائیں۔

21 سام یافث کا بڑا بھائی تھا۔ عبر سام کی نسل میں ایک تھا۔ عبر عبرانی لوگوں کا جدّ اعلیٰ تھا۔

22 سام کے  بیٹے  عیلام، اسور، ارفکسد لُود اور ارام تھے ۔

23 ارام کے  بیٹے  عوج، حول، جتر، اور مَش تھے ۔

24 ارفکسد سلح کا باپ تھا۔ اور سلح عبر کا باپ تھا۔

25 عبر کے  دو بیٹے  تھے ۔ پہلا بیٹا جب پیدا ہوا تھا تو اس زمانے  میں زمین پر بسنے  والی قو میں منقسم تھیں جس کی وجہ سے  اسے  فلج کا نام رکھا گیا۔ اور اس کے  دوسرے  بھائی کا نام یقطان تھا۔

26 یقطان کے  بیٹے  یہ ہیں الموداد، سلف، حصارمادت، اِراخ،

27 ہدورام، اُوزال، دِقلہ،

28 عوبِل، ابی مائیل، سبا،

29 اُوفیر، حویلہ اور یُوباب۔

30 یہ سب میسا اور سفار کی طرف جاتے  ہوئے  مشرقی پہاڑی ملک کے  درمیان کے  علا قے  میں بس گئے ۔

31 یہ سب کے  سب سام خاندان سے  ہیں۔ انہیں اپنے  اپنے  خاندانوں کے  اعتبار سے ، ملکوں کے  اعتبار سے  اور قوموں کے  اعتبار سے  ترتیب دیا  گیا  تھا۔

32 یہ نوح کے  بیٹوں سے  چلنے  والی نسل کے  سلسلے  کی فہرست ہے ۔ وہ اپنی قوم کا اعتبار کرتے  ہوئے  پھیل گئے  تھے ۔ پانی کے  طوفان کے  بعد ساری زمین پر آباد ہونے  والے  انہی قبائل کے  لوگ تھے ۔

 

 

 

 

 

باب: 11

 

 

 

1 پانی کے  طوفان کے  بعد تمام دُنیا کے  لوگ ایک ہی زبان بولتے  تھے ۔ اور تمام لوگ ایک ہی زبان کے  الفاظ کو استعمال کرتے  تھے ۔

2 لوگ مشرقی سمت سے  سفر کرتے  ہوئے  ملک سنعار کی ایک کھلی جگہ میں آئے ۔ وہ وہیں آباد ہوئے ۔

3 انہوں نے  آپس میں ایک دوسرے  سے  باتیں کرتے  ہوئے  اِس بات کا فیصلہ کیا کہ اچھی جلی ہوئی اینٹ بنائیں گے ۔ وہ اپنے  گھروں کی تعمیر کے  لئے  پتھروں کے  بجائے  اِینٹ اور گارے  کے  بجائے  کولتار کا استعمال کرتے ۔

4 تب اُنہوں نے  کہا، “ہم لوگ اپنے  لئے  ایک شہر تعمیر کریں، اور آسمان کو چھو تی ہوئی ایک لمبی مینار بنائیں۔ جس کی وجہ سے  ہم شہرت پا جائیں گے ۔ اور تب ہمارے  لئے  زمین میں پھیل جانے  کے  بجائے  ایک ہی جگہ قیام پذیر ہو نا ممکن ہو سکے  گا۔ ”

5 خداوند شہر کو اور مینار کو جسے  کہ یہ لوگ بنا رہے  تھے  دیکھنے  کے  لئے  نیچے  اتر آئے ۔

6 خداوند نے  کہا، “یہ سب لوگ ایک ہی زبان بولتے  ہیں۔ “اور کہا، “اگر یہ لوگ ابتداء ہی میں ایسے  کار نامے  کر سکتے  ہیں تو مستقبل میں جسے  وہ کر نا چاہتے  ہیں ان کے  لئے  کچھ بھی نا ممکن نہ ہو گا۔

7 اِس وجہ سے  ہم نیچے  جا کر اُن کی زبان میں ہیر پھیر اور اختلاف پیدا کریں اور کہا کہ اگر ہم ایسا کریں تو وہ ایک دوسرے  کی بات کو سمجھ نہ سکیں گے ۔ ”

8 اسی طرح خداوند نے  زمین پر رہنے  والے  لوگوں کو مُنتشر کر دیا۔ اِس لئے  شہر کی مکمل تعمیر کرنا اُن سے  ممکن نہ ہو سکا۔

9 خداوند نے  دُنیا کی تمام زبانوں کو جس جگہ ہیر پھیر کیا یہ وہی جگہ ہے ۔ اِس وجہ سے  اُس جگہ کا نام بابل ہوا اس طرح خداوند نے  اُس جگہ سے  لو گوں کو ساری زمین پر منتشر کر دیا۔

10 یہ سام کے  خاندان کی تاریخ ہے ۔ طوفان کے  دو سال بعد جب سام سو سال کا ہوا تھا تُو اُسے  اَرفکسد نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔

11 اُس کے  بعد سام پانچ سو سال زندہ رہا۔ اور پھر اُسے  دوسرے  کئی لڑ کے  اور لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

12 اَرفکسد جب پینتیس برس کا ہوا تو اُسے  سِلح نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

13 سلح پیدا ہونے  کے  بعد اَرفِکسد چار سو تین برس زندہ رہا۔ اُس مدت میں اسے  اور دوسرے  کئی لڑکے  اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں۔

14 سَلح جب تیس برس کا ہوا تو اُسے  عبر نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

15 عبر جب پیدا ہوا تو اُس کے  بعد سلح چار سو تین برس زندہ رہا۔ اس دوران اس کو مزید لڑکے  اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں۔

16 عبر جب چونتیس برس کا ہوا تو فَلج نام کا بیٹا پیدا ہوا۔

17 فلج پیدا ہونے  کے  بعد چار سو تیس برس سے  بھی زیادہ مدّت تک زندہ رہا۔ اور اس دور میں اس کو دوسرے  بیٹے  اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

18 فلج جب تیس برس کا ہوا تو اسے  رعو نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

19 رعو پیدا ہونے  کے  بعد فلج دو سو نو برس زندہ رہا۔ اس مدت میں اسے  اور دیگر لڑ کے  اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں۔

20 جب رعو بتیس برس کا ہوا تو اسے  سروج نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

21 سروج پیدا ہونے  کے  بعد رعو دو سو سات برس زندہ رہا۔ اس مدت میں اس سے  اور بھی دیگر لڑکے  اور لڑ کیاں پیدا ہوئیں۔

22 سروج جب تیس برس کا ہوا تو اسے  نحور نام کا ایک لڑ کا پیدا ہوا۔

23 نحور کی باب:   کے  بعد سروج دوسو برس زندہ رہا اور اس دوران اس کو مزید لڑ کے  پیدا ہوئے ۔

24 نحور جب انتیس برس کا ہوا تو اس سے  تارح پیدا ہوا۔

25 تارح پیدا ہونے  کے  بعد نحور ایک سو انیس برس زندہ رہا۔ اس دوران اس کے دیگر لڑ کے  اور لڑ کیاں بھی ہوئے ۔

26 تارح جب ستّر برس کا ہوا تو اسے  ابرام نحور اور حاران نام کے  لڑ کے  پیدا ہوئے ۔

27 یہ تارح کے  خاندان کی تاریخ ہے ۔ تارح ابرام نحور اور حاران کا باپ ہے ۔ اور حاران لوط کا باپ ہے ۔

28 حاران بابل کے  علا قے  میں اپنے  خاص گاؤں اُور میں مرا۔ اور حاران جب مرا  تو اس کا باپ اس وقت تک زندہ تھا۔

29 ابرام اور نحوردونوں نے  شادیاں کرلیں۔ ابرام کی بیوی کا نام سارا ئی۔ اور نحور کی بیوی کا نام ملکہ تھا۔ اور یہ حاران کی بیٹی تھی۔ اور حاران ملکہ اور اس کا باپ تھا۔

30 سارائی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ کیونکہ وہ بانجھ تھی۔

31 تارح اپنے  خاندان کو ساتھ لے  کر بابل کے  اپنے  خاص گاؤں اُور سے  نکل کر کنعان کی طرف عازم سفر ہوا۔ تارح اپنے  بیٹے  ابرام کو اور اپنے  پوتے  لوط کو (حاران کا بیٹا ) اور اپنی بہو سارائی کو ساتھ لے  کر حاران شہر کو نکلا اور وہیں پر سکونت اختیار کرنے  کا فیصلہ کر لیا۔

32 تارح دوسو پانچ برس زندہ رہ کر حاران میں فوت ہوا۔

 

 

 

 

باب:   12

 

 

 

1 خداوند نے  ابرام سے  کہا، “تو اپنے  ملک اور اپنے  لوگوں کو چھوڑ کر چلا جا۔ تو اپنے  باپ کے  خاندان کو چھوڑ کر اس ملک کو چلا جا جسے  میں دکھاؤں گا۔

2 میں تجھے  خیر و برکت عطا کروں گا۔ اور تجھے  ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ پھر تیرے  نام کو خوب شہرت دوں گا۔ لوگ تیرے  نام کا استعمال دوسرے  لوگوں کو دُعا دینے  کے  لئے  کریں گے ۔

3 اور کہا کہ تیرے  ساتھ بھلائی کرنے  وا لوں کے  لئے  میں برکت دوں گا۔ اور وہ جو تیری بُرائی چاہنے  والے  ہیں میں اُن کو سزا دوں گا۔ تیری معرفت سے  اہل دُنیا بر کت پائیں گے ۔ ”

4 ابرام نے  ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے  اسے  کہا۔ اور وہ شہر حاران کو چھوڑ کر چلے  گئے ۔ اور اُس کے  ساتھ لوط بھی چلے  گئے ۔ اس وقت ابرام کی عُمر پچھتّر سال تھی۔

5 ابرام اپنی بیوی سارائی اور اپنے  بھتیجہ لوط کو اپنے  ساتھ لے  گئے ۔ جب وہ حاران شہر چھوڑ رہے  تھے  اپنی ذاتی جائیداد کو  اپنے  ساتھ لے  گئے ۔ ابرام کے  حاران شہر میں جو غلام تھے  وہ بھی اُس کے  ساتھ چلے  گئے ۔ ابرام اور اُس کے  ساتھی حاران کے  شہر کو چھوڑ کرسر زمین کنعان چلے  گئے ۔

6 ابرام نے  ملک کنعان سے  اپنے  سفر کو آگے  بڑھا یا۔ اور وہ سکم قصبہ کو پہنچ گئے  اور پھر وہاں سے  مورہ کے  شاہ بلوط درختوں تک پہنچے ۔ اُس زمانے  میں کنعانی لوگ وہاں آباد تھے ۔

7 خداوند ابرام کو نظر آیا اور اُس سے  کہا، ” میں تیری نسل کو یہی ملک دوں گا۔ ” اُس جگہ اَبرام نے  خداوند کو دیکھا تھا۔ اس لیے  ابرام نے  خداوند کی عبادت کرنے  کے  لئے  وہاں پر ایک قربان گاہ بنا ئی۔

8 اس کے بعد ابرام نے اُس جگہ سے  نکل کر بیت ایل کے  مشرق میں پہاڑی علاقوں کا سفر کیا۔ اور وہاں ابرام نے  اپنے  خیمے  کو نصب کیا۔ مغربی جانب بیت ایل تھا۔ اور مشرق کی سمت میں عی شہر تھا۔ اُس جگہ پر اس نے  خداوند کے  لئے  ایک قربان گاہ بنا ئی۔ وہاں پر اس نے  خداوند کی عبادت کی۔

9 پھر اُس کے  بعد اُس نے  اپنے  سفر کو جاری رکھا، اور نیگے  مقام کی طرف چلے  گئے ۔

10 اِس زمانے  میں زمین سوکھ گئی تھی۔ اور بارش نہ تھی۔ اور وہاں اناج ا ُ گانا ممکن نہ تھا۔ اِس لیے ابرام سکونت اختیار کرنے  کے  لئے  مصر کو چلے  گئے ۔

11 اَبرام کو یہ بات معلوم تھی کہ اُس کی بیوی سارائی حسین و جمیل ہے ۔ اِس لئے  مصر کو جانے  سے  پہلے  اَبرام نے  سارائی سے  کہا کہ تیرا خوبصورت ہو نا مجھے  معلوم ہے ۔

12 مصر کے  مَرد تجھے  دیکھ کر کہیں گے  ‘ یہ اِس کی بیوی ہے  ‘۔ یہ سمجھ کر تجھے  حاصل کرنے  کے  لئے  وہ مجھے  قتل کریں گے  اور تجھے  زندہ چھوڑیں گے ۔

13 اس لئے  تو لوگوں سے  کہہ کہ تو میری بہن ہے ۔ تب وہ مجھے  تیرا بھائی سمجھ کر اور مجھے  قتل کرنے  کے  بجائے  میرے  ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں گے ۔ اور کہا کہ اِس طرح تو میری جان بچانے  کا ذریعہ بنے  گی۔

14 اُس کے  فوراً بعد اَبرام مصر کو آئے ۔ مصر کے  لوگوں نے  دیکھا کہ سارائی بہت خوبصورت ہے ۔

15 مصر کے  چند معزز قائدین نے  اس کو دیکھا۔ اور انہوں نے  فرعون کے  پاس جا کر اُس کے  غیر معمولی حسن و جمال کے  با رے  میں تفصیلاتسنائیں۔ پھر وہ قائدین سارائی کو فر عون کے  پاس بلا لے  گئے ۔

16 اَبرام کو سارائی کا بھائی سمجھ کر فرعون اَبرام سے  ہمدردی جتانے  لگا۔ اور فرعون نے  اَبرام کو جانور بکریاں اور گدھے  بھی دئیے  اور اِس کے  علا وہ نوکر اور لونڈیوں کے  ساتھ اُونٹ بھی دیئے ۔

17 فرعون نے چونکہ اَبرام کی بیوی کو اپنے  قبضہ میں لے  لیا تھا جس کی وجہ سے  خداوند  نے فرعون کو اور اس کے  گھر وا لوں کو خوف ناک قسم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیا۔

18 تب فرعون نے  اَبرام کو بلا کر کہا کہ تو نے  تو میرے  حق میں بہت ہی بُرا کیا ہے ۔ اور تو نے  یہ بات مجھ سے  کیوں چھپائی کہ سارائی تیری بیوی ہے ؟

19 اور مجھ سے  تو نے  یہ کیوں کہا، ‘ یہ میری بہن ہے ؟ ‘تمہارے  ایسا کہنے  کی وجہ سے  میں نے  اُس کو اپنی بیوی بنا لیا۔ لیکن اب تو میں تیری بیوی کو پھر سے  تیرے  ہی حوالے  کرتا ہوں۔ اور کہا کہ تُو اُس کو ساتھ لے  کر چلا جا۔

20 پھر اُس کے  بعد فرعون نے  اپنے  لوگوں کو حکم دیا کہ اَبرام کو مصر سے  باہر نکال دیا جائے ۔ جس کی وجہ سے  اَبرام اور اس کی بیوی اُس جگہ سے  نکل گئے ۔ اور وہ اپنے  ساتھ ساری چیزوں کولے  کر چلے  گئے  جو اُن کے  پاس تھیں۔

 

 

 

 

 

باب:   13

 

 

 

1 اَبرام نے  مصر چھوڑا۔ ا َبرام اپنی بیوی اور اپنی ساری چیزوں کولے  کر بَراستہ نیگیو اپنا سفر کیا۔ اورلوط بھی اُس کے  ہمراہ تھا۔

2 اور اُس وقت اَبرام مالدار ہو گئے  تھے  اُس کے  پاس کئی جانور اور بہت سارا سونا اور چاندی تھی۔

3 اَبرام اپنے  سفر کو آگے  بڑھاتے  ہوئے  نیگیوں سے  آگے  بیت ایل کو وا پس لوٹ گئے ۔ اور وہ بیت ایل شہر سے  عی شہر کے  درمیانی مقام کو چلے  گئے ۔ اَبرام اور اُس کے  خاندان والے  جس جگہ اُترے  تھے  وہ یہی مقام تھا۔

4 یہی وہ جگہ ہے  جہاں اَبرام نے  پہلے  ایک قربان گاہ بنائی تھی۔ اور وہاں اُس جگہ پر اَبرام نے  خداوند کی عبادت کی تھی۔

5 اِس زمانے  میں لو ط بھی اَبرام کے  ساتھ سفر کرتے  تھے ۔ لوط کے  پاس بھی بکریوں کا ریوڑ اور جانوروں کا گلّہ اور ڈیرے  وغیرہ بھی تھے ۔

6 اَبرام اور لوط کے  پاس کثرت سے  جانور تھے  جس کی وجہ سے  اُن کی دیکھ بھال کے  لئے  وہ جگہ نا کافی تھی۔

7 اَبرام اور لوط کے  چروا ہے  تکرار کرنے  لگے ۔ اُس زمانے  میں کنعانی اور فرزّی بھی اسی جگہ زندگی گزارتے  تھے ۔

8 اس وجہ سے  ابرام نے  لوط سے  کہا کہ تجھ میں اور مجھ میں کسی بھی قسم کی بحث اور اَن بن نہ ہو، اور تیرے  اور میرے  لوگوں میں کسی بھی قسم کی رنجش نہ ہو، کیونکہ ہم سب آپس میں بھائی ہیں۔

9 اس لئے  ہم جدا ہو جائیں اپنی پسند کی جگہ کا تو انتخاب کر لے ۔ اگر تو بائیں طرف جانا چاہتا ہے  تو میں داہنی طرف چلا جاؤں گا اور اگر تو داہنی طرف جانا چاہتا ہے  تو میں بائیں طرف چلا جاؤں گا۔

10 جو لوط نے  آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اسے  یردن کی گھاٹی نظر آئی۔ اور اس نے  وہاں ضرورت سے  زیادہ پانی کو دیکھا ( یہ اس وقت کی بات ہے  جب خداوند نے سدوم اور عمورہ شہروں کو بر باد نہ کیا تھا۔ اس زمانے  میں یردن کی گھاٹی ضُغر تک خداوند کے  چمن کی طرح تھی۔ اور زمین مصر کی زمین کی طرح زر خیز بھی تھی۔ )

11 اس وجہ سے  لوط نے  یردن کی ساری گھاٹی اپنے  لئے  منتخب کر لی۔ اور دونوں ایک دوسرے  سے  جدا ہوئے ۔ اور لوط نے  مشرق کی طرف سفر کیا۔

12 اور ابرام ملک کنعان میں ہی رہ گئے ۔ اور لوط نے  گھاٹی میں پائے  جانے  والے  شہروں کے  درمیان سکونت اختیار کی۔ وہ اپنے  خیمہ کو آگے  بڑھاتے  رہے  جب تک کہ اس نے  سدوم کے  نزدیک خیمہ نہ لگا لیا۔

13 سدوم کی رعایا بہت بُری تھی۔ اور وہ ہمیشہ خداوند کے  حکم کے  خلاف گناہوں کے  کام کیا کر تی تھی۔

14 لوط کے  جانے  کے  بعد خداوند نے  ابرام سے  کہا، “چاروں طرف نظر دوڑا شمال اور جنوب کی طرف، اور مشرق و مغرب کی طرف دیکھ۔

15 تو جس ملک کو دیکھ رہا ہے ، اسے  تجھے  اور تیرے  بعد آنے  والی تیری نسل کو عطا کروں گا۔ اور یہ ہمیشہ کے  لئے  تیرا ہی ہو گا۔

16 میں تیرے  لوگوں کو مٹی کے  ذرّوں کی مانند بڑھاؤں گا۔ اگر کسی کے  لئے  مٹی کے  ذرّوں کو گننا ممکن ہے  تو ٹھیک اسی طرح تیری نسل کے  لوگوں کو بھی گننا ممکن ہو گا۔

17 اس وجہ سے  تو چلا جا اور اپنی ساری زمین میں گھوم پھر۔ اور اس کے  طول و عرض میں چل پھر۔ اور اس کی لمبائی اور چوڑائی میں پھر لے ، کیونکہ میں یہ  تجھے  دے  رہا ہوں۔ ”

18 اس لئے  ابرام نے  اپنے  خیموں کو اٹھا لیا۔ اور شاہ بلوط کے  مَمرہ مقام کے  قریب سکو نت اختیار کی۔ اور یہ حبرون شہر کے  قریب تھا۔ اس جگہ ابرام نے  خداوند کی عبادت کے  لئے  ایک قربان گاہ بنائی۔

 

 

 

 

 

باب:   14

 

 

 

1 امرافل سنعار کا بادشاہ تھا، اور اَریوک الاسر کا بادشاہ تھا، اور کدر لاعمر عیلام کا بادشاہ تھا اور تِد عال جو ئیم کا بادشاہ تھا۔

2 ان تمام بادشاہوں نے  سدوم کے  بادشاہ برع،عمورہ کے  بادشاہ برشع، ادمہ کے  بادشاہ سُنیاب، ضبو ئیم کے  بادشاہ شمیبر اور بالع کے  بادشاہ سے  جنگ لڑیں۔ ( بالع کو ضغر بھی کہا جاتا ہے ۔ )

3 ان تمام بادشاہوں نے  سِدّیم گھاٹی میں اپنی فوجوں کو اکٹھا کیا۔ (سدّیم گھاٹی اب کھارا سمندر ہے ۔ )

4 یہ تمام بادشاہ بارہ برس تک کدرلاعمر

5 اس لئے  چودھویں برس میں بادشاہ کدر لا عمر اور اس کے  حامی بادشاہوں نے  رفائیم کے  لوگوں کو عستارات قرنیم میں اور زوزیوں کو ہام میں اور ایمیم کو سویقریتیم میںشکست دی۔

6 اس کے  علا وہ حوریوں کو پہاڑی سرحد سے  یل فاران تک پسپا کیا۔ (ایل فاران ریگستان کے  قریب میں ہے ۔ )

7 پھر اس کے  بعد کدر لا عمر بادشاہ شمالی علا قے  میں واپس لوٹا اور عین مصفات کو قادس پہنچ کر تمام عما لیقیوں کو شکست دی۔ اِس کے  علا وہ حصیصون تمر میں رہنے  والے  عموریوں کو بھی شکست دی۔

8 اُس زمانے  میں سدوم کا بادشاہ، عمورہ کا بادشاہ،ادمہ کا باد شاہ، ضبو ئیم کا بادشاہ اور با لع کا بادشاہ( جو ضغر بھی کہلاتا ہے ۔ ) سب ایک ساتھ جمع ہو کر اپنے  دُشمن کے  خلا ف لڑنے  کے  لئے  سدوم کی گھاٹی میں گئے ۔

9 انہوں نے  عیلام کے  بادشاہ کدر لا عمر اور جو ئیم کے  بادشاہ تد عال اور سنعار کے  بادشاہ امرا فل اور الا سر کے  بادشاہ اریوک کے  خلا ف جنگ کی۔ اِس طرح اِن چار بادشاہوں نے  پانچ بادشاہوں کے  خلاف جنگ کی۔

10 سدّیم گھاٹی کولتار کے  گڑھوں  سے  بھری  ہوئی  تھی۔ سدوم اور عمورہ کے  بادشاہ اور ان کی فوج بھاگ گئے  اور بھاگتے  ہوئے  ان گڑھوں میں گِر گئے ، اور جو زندہ رہے  وہ پہاڑوں میں بھا گ گئے ۔

11 جو فتحیاب ہوئے  ان لوگوں نے  سدوم اور عمورہ کے  لوگوں سے  ان کے  تمام اناج اور کپڑے  سمیت سبھی چیزوں کو حاصل کر لیا۔

12 اَبرام کے  بھائی کا بیٹا لوط سدوم میں قیام پذیر تھا۔ دُشمنوں نے  اسے  قید کر لیا۔ اور اُس کی تمام اشیاء کو بھی چھین لے  گئے ۔

13 اُن میں ایک جو بھاگنے  میں بچ نکلا تھا، اَبرام عبرانی کے  پاس گیا اور پیش آئے  ہوئے  اُن تمام واقعات کو اُسے  سُنا یا۔ اَبرام عموری کے  ممرے  کے  درختوں سے  قریب رہتا تھا۔ ممرے ، اس کال اور عانیر ایک دُوسرے  کی مدد کرنے  کے  لئے  آپس میں ایک معاہدہ کیا۔ ان لوگوں نے  اَبرام کی مدد کرنے  کے  لئے  بھی ایک معاہدہ کیا۔

14 اَبرام کو لوط کے  قید میں رہنے  کی بات معلوم ہو ئی۔ اِس وجہ سے  اَبرام نے  اپنے  گھر میں پیدا ہونے  والے  نو جوانوں کو جمع کیا۔ اُن میں تین سو اٹھا رہ تربیت یافتہ فوجی تھے ۔ اَبرام نے  اُن کو ساتھ لے  کر دُشمنوں پر حملہ کرتے  ہوئے  دان کے  گاؤں تک پیچھے  دھکیل دیا۔

15 اُس رات و اوراُس کے  نوکروں نے  اچانک دُشمنوں پر حملہ کر کے  اُن کو شکست دی۔ پھر دمشق کے  شمال میں واقع خوبہ تک پیچھے  دھکیل دیا۔

16 اُس کے  بعد وہ تمام چیزیں جو دُشمنوں نے  چھینی تھیں اور لوط کے  سارے  اَ ثاثہ کو بھی اَبرام  حاصل کر کے  لوط کے  ساتھ وا پس آیا۔ اس کے  علا وہ وہ عورتیں جو کہ قیدی بنا لی گئیں تھیں اور دیگر لوگوں کو بھی ساتھ لے  کر واپس آ گیا۔

17 اَبرام کدر لا عمر کو اور اُس کے  حامی بادشاہوں کو شکست دینے  کے  بعد اپنے  گھر کو واپس لوٹے ۔ تب سدوم کا بادشاہ اَبرام سے  ملاقات کرنے  کے  لئے  سوی گھاٹی تک گیا۔ ( اب اس کو بادشاہ کی گھاٹی کے  نام سے  پُکارتے  ہیں۔)

18 سا لم کا بادشاہ ملک صدق بھی اَبرام سے  ملنے  کے  لئے  چلا گیا۔ جو خدائے  تعالیٰ کے  کاہن تھے  وہ روٹی اور مئے  لئے  ہوئے  آئے ۔

19 اور ابرام کو اس طرح دعا دی، ” اے  اَبرام خدائے  تعالیٰ تجھے  برکت دے ۔ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے  وا لا و ہی ہے ۔

20 اَبرام، ہم لوگ خدائے  تعالیٰ کی حمد کرتے  ہیں جو کہ تیرے  دُشمنوں کو شکست دینے  کے  لئے  تیرا مددگار ہے ۔ ” اَبرام جو کچھ بھی جنگ سے  لے  آیا اس کا دسواں حصّہ ملک صدق کو دیا۔

21 تب سدوم کے بادشاہ اَبرام سے  کہا کہ اِن تمام چیزوں کو تم ہی رکھ لینا۔ اور میرے  اُن لوگوں کو جن کو دُشمنوں نے  اپنے  قبضہ میں کر لیا ہے  صرف وہ مجھے  دے  دے ۔

22 لیکن اَبرام نے  اُس سے  کہا، “میں خداوند، خدائے  تعالیٰ کے  نام پر وعدہ کرتا ہوں جس نے  آسمان و زمین بنایا۔

23 تیری جو بھی چیزیں ہیں میں اُن کو اپنے  لئے  نہ رکھوں گا۔ اگر چہ وہ ایک دھا گہ ہو یا کسی جوتی کا تسمہ ہو۔ میں اپنے  پاس نہ رکھوں گا۔ اس طرح سے  تم یہ کہنے  کے  لائق نہیں ہو گے ، میں نے  اَبرام کوا میر بنایا۔

24 میرے  نوجوانوں نے  جو غذا کھائی ہے  اُس کے  سِوا میں کسی اور چیز کو قبول نہیں کروں گا۔ لیکن آپ  دوسرے  لوگوں کو اُن کا حصّہ دے  دیجئے ۔ عانیر، اسکال اور ممرے  نے  مجھے  جنگ میں مدد کی۔ ان کو اپنا حصّہ لینے  دو۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   15

 

 

 

1 اِن واقعات کے  پیش آنے  کے  بعد خواب میں اَبرام کو خدا کا پیغام آیا۔ خدا نے  ان سے  کہا کہ اے  اَبرام، تو خوفزدہ نہ ہو، میں تیرا ڈھال ہوں اور میں ہی تجھے  عظیم اجر و بدلہ دوں گا۔

2 اُس پر اَبرام نے  کہا کہ اے  خداوند خدا تو مجھے  کُچھ بھی دے  لیکن مجھے  سکون و چین نہ ملے  گا۔ کیونکہ میرا  کوئی بیٹا ہی نہیں ہے ۔ اور کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری تمام جائیداد میرے  نوکر دمشق کے  اِلیعزر کے  حوالے  ہو گی۔

3 پھر اَبرام نے  کہا کہ تُو نے  تو مجھے  بیٹا ہی نہیں دیا ہے ۔ اِس وجہ سے  وہ نوکر جو میرے  گھر میں پیدا ہوا ہے  وہی میری تمام چیزوں کا مالک ہو گا۔

4 تب خداوند نے  اَبرام سے  کہا کہ تیری ساری جائیدادو ملکیت کا مالک ہونے  وا لا تیرا نوکر نہیں ہے ۔ اِس لئے  تُو ہی بیٹے  کو پائے  گا۔ اور کہا کہ تیرا بیٹا ہی تیری ساری مِلکیت کا مالک ہو گا۔

5 تب خدا نے  اَبرام کو باہر بُلا یا اور اُس سے  کہا کہ آسمان کی طرف نظر اُٹھا کر سِتاروں کو دیکھ۔ اِ تنے تا رے  ہیں کہ تُو گنتی نہ کر سکے  گا۔ اور کہا کہ آنے  والے  زمانے  میں تیرا قبیلہ بھی اُسی طرح ہو گا۔

6 اَبرام نے  خدا پر یقین کیا۔ خدا نے  اُس ایمان کی بنیاد پر اَبرام کو نیک و راستبازوں میں شُمار کیا۔

7 خدا نے  اَبرام سے  کہا کہ میں نے  تجھے  کلدِیوں کے  اُور شہر سے  بُلوا یا ہے ۔ تجھے  یہ شہر دینے  کے  لئے  اور اِس شہر کو پا  لینے  کے  لئے  ہی تو میں نے  تجھے  بُلا یا ہے ۔

8 اِس بات پر اَبرام نے  خداوند سے  پو چھا کہ اے  میرے  مالک، مجھے  یہ ملک یقینی طور پر ملنے  کی بات کیسے  جانوں؟۔

9 خداوند نے  اَبرام سے  کہا کہ ہم آپس میں ایک معاہدہ کر لیں گے ۔ وہ یہ کہ تین سال کی ایک گائے ، اور تین سال کی ایک بکری اور تین برس کا ایک مینڈھا، لیتے  ہوئے  آنا اور کہا کہ اِس کے  علا وہ ایک فاختہ اور ایک کبوتر بھی ساتھ لیتے  ہوئے  آنا۔

10 اَبرام خدا کے  لئے  اُن تمام کو لیتے  آئے ۔ اَبرام نے اُن سب کو قربان کیا  اور ہر ایک کے  دو دو ٹکڑے  کر ڈالے  اس کے  بعد اَبرام نے  ایک آدھے  ٹکڑے  کو دوسرے  آدھے  ٹکڑے  کے  مدّ مقابل رکھا۔ البتہ اَبرام نے  پرندوں کے  دو ٹکڑے  نہ کئے ۔

11 کچھ وقت گذرنے  کے  بعد بڑے  پرندے  ان جانوروں کا گوشت کھانے  کے  لئے  اُڑ کر آئے ۔ لیکن اَبرام نے  ان پرندوں کو اُڑا دیا۔

12 شام ہو گئی، سورج غُروب ہونے  لگا۔ اور اِدھر اَبرام کو گہری نیند آئی۔ جب وہ سو گئے  تو ہولناک اندھیرا چھا گیا۔

13 تب خداوند نے  اَبرام سے  کہا کہ تجھے  یہ تمام باتیں معلوم ہونی چاہئے ۔ تیری نسل کے  لوگ جائیں گے  اور غیروں کے  ملک میں سکونت اختیار کریں گے ۔ اور وہاں کے  لوگ انہیں غلام بنا لیں گے ۔ اور وہ وہاں چار سو برس تک تکالیف اٹھائیں گے ۔

14 لیکن چار سو برس گذرنے  کے  بعد اُن پر حکومت کرنے  والے  اُس ملک کو میں سزا دوں گا۔ اور تیری قوم اُس ملک کو چھوڑ کر چلی جائے  گی۔ تیرے  لوگ جب اُس ملک کو چھوڑنے  لگیں گے  تو اپنے  سرما یہ و پونجی کو ساتھ لیتے  جائیں گے ۔

15 ” تو بہت ہی بوڑھا و ضعیف ہونے  تک زندہ رہے  گا اور پھر بعد میں بہت ہی اطمینان و سکون سے  مَرے  گا۔ اور تم اپنے  خاندان وا لوں کے  پاس ہی دفنائے  جاؤ گے ۔

16 پھر چار پُشتوں کے  گذرنے  کے  بعد تیرے  لوگ اِس ملک کو وا پس لو ٹیں گے ۔ لیکن اب تک عموریوں کے  گناہ پو رے  نہیں ہوئے  ہیں۔ ”

17 جوں ہی سورج غروب ہوا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا۔ جانوروں کے کٹے ہوئے  دو دو ٹکڑے  ابھی زمین پر ہی تھے  کہ اُسی وقت آ گ اور دھُوئیں سے  پُر مشعلیں اُن ٹکڑوں کے  درمیان سے  ہو کر گذر گئیں۔

18 اِس وجہ سے  اُس دِن خداوند نے  ایک وعدہ کر کے  اَبرام سے  ایک معاہدہ کر لیا۔ اور خداوند نے  اُس سے  کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک دوں گا۔ میں اُن کو دریائے  مصر سے  دریائے  فرات تک کے  علاقے  دوں گا۔

19 یہ فینیوں کا، قینزیوں کا، قدمو نیوں کا،

20 اور حِیتیوں کا، فِریّزیوں کا، رفا ئیم کا،

21 عموریوں کا، کنعانیوں کا، جِرجاسیوں کا، اور یبوسیوں کا ملک ہے ۔

 

 

 

باب:    16

 

 

 

1 سارائی اَبرام کی بیوی تھی۔ اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ سارائی کی ایک مصری خادمہ تھی۔ اُس کا نام ہاجرہ تھا۔

2 سارائی نے  اَبرام سے  کہا، ” خداوند نے  مجھے  اولاد ہونے  کا موقع ہی نہ دیا۔ اس لئے  میری لونڈی ہاجرہ کے  پاس جا۔ اور اُس سے  جو بچہ پیدا ہو گا میں اسے  اپنے  ہی بچے  کی مانند قبول کر لوں گی۔ ” تب اَبرام نے  اپنی بیوی سارائی کا شکریہ ادا کیا۔

3 اَبرام کے کنعان میں دس برس رہنے  کے  بعد یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اَبرام کی بیوی سارائی نے  ہا جرہ کو، اَبرام کو اس کی بیوی بننے  کے  لئے  دیا۔ ( ہا جرہ مصر کی لونڈی تھی۔ )

4 اَبرام نے  ہاجرہ سے  جسمانی تعلقات قائم کیے اور وہ حاملہ ہو ئی۔ اس کے  بعد ہا جرہ اپنی مالکہ کو حقارت کی نظر سے  دیکھنے  لگی۔

5 تب سارائی نے  اَبرام سے  کہا کہ اس کے  نتیجہ میں جو بھی ناساز گار حالات پیدا ہوئے  ہیں۔ اُس کی تمام تر ذمّہ داری تیرے  سر ہے ۔ میں نے  اسے تیرے  حوالے  کر دیا ہے ۔ اور وہ اب حاملہ ہے ۔ اور مجھے  حقیر جان کر دھُتکار دیتی ہے ۔ اور سوچتی ہے  کہ وہ مجھ سے  بہتر ہے ۔ اب خداوند ہی فیصلہ کرے  گا کہ ہم میں کون صحیح ہے ۔

6 اِس بات پر اَبرام نے  سارائی سے  کہا، ” تُو تو ہاجرہ کی مالکہ ہے ۔ تو جو چاہے  اُس کے  ساتھ کر سکتی ہے ۔ ” اِس لئے  سارائی نے  ہاجرہ کو ذلیل کیا۔ اور وہ بھاگ گئی۔

7 خداوند کا فرشتہ ہا جرہ کو ریگستان میں چشمہ کے  پاس نظر آیا۔ اور وہ چشمہ شور کی طرف جانے  والے  راستے  کے  کنا رے  تھا۔

8 فرشتے  نے  اُس سے  کہا کہ اے  ہاجرہ تو سارائی کی لونڈی ہونے  کے  باوجود یہاں کیوں ہے ؟ اور پو چھا کہ تُو کہاں جا رہی ہے ؟ ہاجرہ نے  کہا کہ میں مالکہ سارائی کے  پاس سے  بھا گ رہی ہوں۔

9 خداوند کا فرشتہ ہاجرہ سے  کہا کہ سارائی تو تیری مالکہ ہے ۔ تُو اُس کے  پاس لوٹ کر جا اور اُس کی بات مان۔

10 اِس کے  علاوہ خداوند کے  فرشتے نے  ہاجرہ سے  کہا، ” میں تیری نسل کے  سلسلہ کو بہت بڑھاؤں گا۔ وہ اتنی ہوں گی کہ گِنی نہیں جائیں گی۔ ”

11 مزید فرشتے  نے  اُس سے  کہا، ” اے  ہاجرہ اب تُو حاملہ ہو گئی ہے ۔ اور تجھے  ایک بیٹا پیدا ہو گا۔ تو اس کا نام اِسمٰعیل رکھنا۔ اِس لئے  کہ خداوند نے  تیری تکالیف کو سُنا ہے ۔ اور وہ تیری مدد کرے  گا۔

12 ” اِسمٰعیل جنگلی گدھے  کی طرح مضبوط اور آ زاد ہو گا۔ اور وہ ہر ایک کا مخالف ہو گا اور ہر ایک اُس کا مخالف ہو گا۔ وہ اپنے  بھا ئیوں کے  قریب خیمہ زن ہو گا۔ ”

13 خداوند نے  خود ہاجرہ کے  ساتھ باتیں کیں۔ اس وجہ سے  ہاجرہ نے  کہا، ” اِس جگہ بھی خدا مجھے  دیکھ کر میرے  بارے  میں فِکر مند ہوتا ہے ۔ ” اس لئے  اس نے  اس کو نیا نام دیا، ” خدا مجھے  دیکھتا ہے  ” ہاجرہ نے  کہا، ” میں نے  خدا کو یہاں دیکھا ہے  لیکن میں اب تک زندہ ہوں! اس لئے  انہوں نے  خدا کو نیا نام دیا، ” خدا جو مجھے  دیکھتا ہے ۔ ”

14 اِس وجہ سے  اُس کنواں کام نام بیر لحی روئی ہو گیا۔ وہ کنواں قادِس اور بِرد کے  درمیان ہے ۔

15 ہا جرہ نے  اَبرام کے  بیٹے  کو جنم دیا۔ اور اَبرام نے  اُس بیٹے  کا نام اِسمٰعیل رکھا۔

16 اَبرام جب چھیاسی برس کے  ہوئے  تو ہاجرہ سے  اِسمٰعیل پیدا ہوئے ۔

 

 

 

 

باب:   17

 

 

 

1 جب اَبرام کی عمر ننانوے  برس کی ہوئی تو خداوند اُس پر ظاہر ہوا اور اُس سے  کہا، ” میں خدا قادر مطلق ہوں۔ میرے  سامنے  صحیح راستے  پر چلو۔

2 میں تجھ سے  ایک معاہدہ کرتا ہوں اور کہا کہ میں تجھے  ایک بڑی قوم بنانے  کا وعدہ کرتا ہوں۔ ”

3 اُس کے  فوراً بعد اَبرام نے  خدا کو سجدہ کیا۔

4 تب خدا نے  اُس سے  کہا، ” میں تجھ سے  جو وعدہ کیا ہوں وہ یہ ہے  : تو بہت ساری قوموں کا باپ ہو گا۔

5 تیرا نام اَبرام کے  بجائے  ابراہیم رکھتا ہوں۔ اب اِس کے  بعد تجھے  اِبراہیم ہی پُکاریں گے ۔ اس لئے  کہ اِس کے  بعد کئی نسلوں کے  لئے  تیری حیثیت جدِّ اعلیٰ کی ہو گی۔

6 میں تمہیں بہت ساری نسلیں دوں گا۔ پوری قوم اور تمام بادشاہ تم ہی میں سے  آئیں گے ۔

7 تیرے  ساتھ ایک معاہدہ کروں گا۔ اور یہ معاہدہ تیری تمام نسلوں کے  لئے  ہو گا۔ یہ معاہدہ ہمیشہ کے  لئے  رہے  گا۔ میں تیرا اور تیری نسلوں کا خدا ہوں گا۔

8 تُو جس کنعان کی طرف سفر کر رہا ہے  وہ تجھے  تیری ساری نسلوں کو ہمیشہ کے  لئے  دُوں گا۔ اور کہا کہ میں ہی تمہارا خدا ہوں۔ ”

9 اِس کے  علا وہ خدا نے  ابراہیم سے  کہا، ” ہما رے  معاہدے  کے  مُطابق تمہیں اور تمہاری نسل کو ہمارے  تمام معاہدے  کا شکر گذار ہو نا چاہئے ۔

10 تو اور تیری نسل اس معاہدے  کی ضرور پاسداری  کرے  کہ ہر ایک مَرد کا ختنہ ضرور کیا جانا چاہئے ۔

11 تم اپنے  چمڑے  کو کاٹ ڈالو گے  یہ دکھانے  کے  لئے  کہ تم معاہدہ کی پاسداری کرتے  ہو۔

12 آج کے  بعد سے  تمہارے  پاس پیدا ہونے  والے  ہر نرینہ بچے  کو باب:   کے  آٹھ دِن بعد ختنہ کروانا ہو گا۔ یہ قاعدہ و قانون تمہارے  گھر میں پیدا ہونے  والے  خادِموں کے  لئے  اور غیر ممالک سے  خرید کر لائے  گئے  نوکروں کے  لئے  بھی لا زمی ہو گا۔ میرے  اور تیرے  درمیان ہوئے  معاہدہ کے  لئے  یہ بطور نشانی ہو گا۔

13 اس طرح ہر ایک لڑکے کا ختنہ کیا جانا چاہئے ۔ تمہارے  گھر میں پیدا ہونے  والے  ہر ایک لڑکے  یا پھر خریدے  گئے  ہر ایک لڑکے  کے  ساتھ یہی کیا جانا چاہئے ۔ جو معاہدہ میں نے  تیرے  ساتھ کیا ہے  ہمیشہ کے  لئے  رہے  گا۔

14 کوئی بھی نرینہ اولاد جس کا ختنہ نہ کیا گیا ہو اسے  اپنے  لوگوں سے  کاٹ دیا جائے  گا۔ کیونکہ اس طرح کی اولاد میرے  معاہدہ کی نا فرمانی کر رہی ہے ۔ ”

15 خدا نے  ابراہیم سے  کہا کہ تیری بیوی سارائی کو میں ایک نام دیتا ہوں۔ اور اب اُس کا نیا نام سارہ ہو گا۔

16 اُس کے  حق میں برکت دوں گا اور اُس کو ایک بیٹا عطا کروں گا۔ اور تُو ہی اُس کا باپ ہو گا۔ اور کہا کہ بہت سی قوموں کے  لئے  اور بہت سے  بادشاہوں کے  لئے  وہی اصل ماں ہو گی۔

17 ابراہیم اپنا چہرہ نیچے  کر کے  زمین پر گِرے  اور ہنسے  اور بولے ، ” میں سو سال کا ہو گیا ہوں۔ اِس لئے  مجھے  اولاد ہو نا ممکن نہیں۔ سارہ کی عمر نوّے  برس ہو گئی ہے  جس کی وجہ سے  اُس کے  لئے  بھی ممکن نہیں ہے  کہ اولاد ہو۔

18 تب ابراہیم نے  خدا سے  کہا ” برائے  مہر بانی اپنی ہمدردی اسمٰعیل پر دکھا۔ ”

19 اِس پر خدا نے  اُس سے  کہا کہ نہیں بلکہ تیری بیوی سارہ کو بھی ایک بچّہ ہو گا۔ اور تُو اُس کا نام اسحاق رکھنا میں اُس سے  ایک معاہدہ کروں گا۔ اور وہ معاہدہ ہی اُس کی نسل میں قائم و دائم رہے  گا۔

20 “تُو نے  اسمٰعیل کے  حق میں جو معروضہ کیا اس کو میں نے  سُن لیا ہے ۔ اور میں اس کو برکت دوں گا اور وہ کئی بچّوں کا  باپ ہو گا۔ اور وہ بارہ بڑے  بڑے  سرداروں کا باپ ہو گا۔ اور اُس کی نسل ایک عظیم قوم بن کر ابھرے  گی۔

21 لیکن میں اپنا معاہدہ اسحاق سے  کروں گا اور سارہ سے  پیدا ہونے  والا بچّہ ہی اِسحاق ہو گا۔ اور کہا کہ اگلے  برس اِسی وقت اسحاق پیدا ہو گا۔ ”

22 خدا ابراہیم سے  بات کرنے  کے  بعد آسمانی دنیا میں چلا گیا۔

23 اسی دن ابراہیم نے  اسمٰعیل کا، اہل خانہ کے  تمام نرینہ کا، چا ہے  وہ ان کے  گھر پیدا ہوئے  نوکر ہوں یا زر خرید غلام ہو، خدا کے  حکم کے  مطابق ختنہ کر وایا۔

24 ابراہیم کا جب ختنہ ہوا تو وہ ننانوے  برس کے  تھے ۔

25 اور جب اسمٰعیل کا ختنہ ہوا تو وہ تیرہ برس کے  تھے ۔

26 ابراہیم کا اور اس کے  بیٹے  اسمٰعیل کا ختنہ ایک ہی دن ہوا۔

27 ابراہیم کے  اہل خانہ کے  تمام نرینہ چاہے  وہ اس کے  گھر میں پیدا ہونے  والے  نوکر ہوں یا غلام ہوں سب کا ختنہ کر وا دیا گیا۔

 

 

 

 

باب:    18

 

 

 

1 ابراہیم ممرے  کے  شاہ بلوط کے  درختوں کے  نزدیک جب رہتے  تھے  تو خداوند اُسے  دکھائی دیا۔ ایک مر تبہ دھوپ کی شدّت کی وجہ سے  ابراہیم اپنے  خیمے  کے  دروازے  کے  پاس بیٹھے  ہوئے  تھے ۔

2 جب ابراہیم نے  غور سے  دیکھا تو اپنے  سامنے  تین آدمیوں کو کھڑے  ہوئے  پایا۔ جب ابراہیم نے  ان آدمیوں کو دیکھا تو ان لوگوں کے  پاس دوڑ کر گئے  اور ان لوگوں کو سجدہ کیا۔

3 ابراہیم نے  کہا، “اے  حضور، اپنے  خادم کے  ساتھ کچھ دیر ٹھہر یئے ۔

4 آپ  کے  پیروں کو دھو دینے  کے  لئے  میں پانی لا دیتا ہوں۔ اور آپ  درخت کے  نیچے  تھوڑی دیر آرام کر لیں۔

5 اور کہا کہ میں آپ  کو کھا نا لا دوں گا۔ اور آپ  سیر ہو کر کھا نا کھانے  کے  بعد اپنے  سفر کو جاری رکھ سکتے  ہیں۔ “اُن تینوں آدمیوں نے  کہا کہ تب تو ٹھیک ہے  اور تُو جو کہتا ہے  سو کر۔

6 ابراہیم جلدی سے  خیمہ میں گئے  اور سارہ سے  کہنے  لگے  کہ۔ ۲۰ کوارٹ آٹا لو اور روٹی بناؤ۔

7 پھر وہ اپنے  جانوروں کے  رہنے  کی جگہ گیا اور ایک عمدہ قسم کا کم عمر بچھڑا لا یا اور نو کر کو دیکر کہا  کہ جلدی سے  بچھڑے  کو ذبح کر اور کھا نا تیار کر۔

8 ابراہیم نے  ان تینوں کے  لئے  کھانے  کا دستر خوان چُنا۔ بچھڑے  کا گوشت پیش کیا، مکھن اور دودھ بھی رکھا۔ جب وہ کھا نا کھا رہے  تھے  تو ابراہیم ان کے  پاس ایک درخت کے  نیچے  کھڑے  تھے ۔

9 اُن لوگوں نے  ابراہیم سے  پو چھا کہ تیری بیوی سارہ کہاں ہے ؟ ابراہیم نے  اُن کو جواب دیا کہ وہ تُو اس خیمہ میں ہے ۔

10 تب خداوند نے  اس سے  کہا کہ میں پھر موسمِ بہار میں آؤں گا۔ اور اس وقت تیری بیوی سارہ کا  ایک بچہ ہو  گا۔ اور سارہ اس وقت خیمہ میں رہ کر ہی ان تمام باتوں کو سُن رہی تھی۔

11 ابراہیم اور سارہ دونوں بہت ہی ضعیف ہو گئے  تھے ۔ اور سارہ کے  لئے  بچے  پیدا ہونے  کی عمر نہ رہی تھی۔

12 اس لئے  سارہ ہنسی ا ور اپنے  دل میں کہنے  لگی، ” کیا سچ مُچ میری اتنی عمر ہونے  کے  بعد بھی یہ ہو سکتا ہے  اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہو چکا ہے ؟ “۔

13 تب خداوند نے  ابراہیم سے  کہا کہ سارہ یہ کہہ کر کیوں ہنسی کہ وہ اتنی بوڑھی ہو گئی ہے  اسے  بچہ نہیں ہو گا۔

14 کیا خداوند کے  لئے  بھی کوئی چیز نا ممکن ہو تی ہے ؟ میں تو موسمِ بہار میں پھر آؤں گا اور کہا کہ تب تیری بیوی سارہ کو ایک بچہ ہو گا۔

15 لیکن سارہ نے  کہا کہ میں تو ہنسی نہیں۔ اس پر خداوند نے  کہا کہ نہیں بلکہ تو جو ہنسی وہ تو سچ ہے ۔

16 تب وہ لوگ جانے  کے  لئے  اٹھ کھڑے  ہوئے ۔ اور انہوں نے  سدوم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔ اور اسی سمت میں جانا شروع کر دیا۔ ان کو وداع کرنے  کے  لئے  ابراہیم ان کے  ساتھ تھوڑی دور تک چلے  گئے ۔

17 خداوند اپنے  آپ  میں یوں سوچنے  لگا کہ مجھے  اب جس کام کو کر نا ہے  کیا وہ ابراہیم پر ظاہر کروں؟

18 ابراہیم سے  ایک بڑی زبردست قوم پیدا ہو گی۔ اس کی معرفت سے  اس دنیا کے  تمام لوگ بر کت پائیں گے ۔

19 میں نے  اس کے  ساتھ ایک خاص قسم کا معاہدہ کر لیا ہے ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ اپنی اولادوں اور اپنی نسلوں کو حکم دے  گا کہ اس راستہ پر قائم رہے  جسے  خداوند چاہتا ہے ۔ وہ راستبازی اور عدل کے  راستے  پر چلیں گے تا کہ خداوند ابراہیم کے  لئے  وہ ساری چیزیں کریں گے  جس کا کہ اس نے  اس سے  وعدہ کیا ہے ۔

20 تب خداوند نے  کہا، ” سدوم اور عمورہ سے  زبردست چیخ و پکار کی آواز آ رہی ہے ۔ ضرور ان لوگوں کا گناہ بہت برا ہے ۔

21 اس وجہ سے  میں وہاں جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ جس بات کو میں نے  سُنا ہے  اگر صحیح ہے  تب میں جان جاؤں گا کہ یہ صحیح ہے  یا غلط۔ ”

22 اس وجہ سے  ان لوگوں نے  سدوم کی طرف جانا شروع کر دیا۔ لیکن ابراہیم خداوند کے  سامنے  کھڑے  ہو گئے ۔

23 ابراہیم نے  خداوند کے  قریب آ کر کہا، ” اے  خداوند جب تو بُروں کو تباہ کرتا ہے  تو کیا نیک و راستبازوں کو بھی بر باد کرتا ہے ؟۔

24 اگر کسی وجہ سے  ایک شہر میں پچاس آدمی  راستباز ہوں تو تُو کیا کرے  گا؟ کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ ایسا ہر گز نہ ہو گا۔ وہاں کے  پچاس زندہ نیک و راستبازوں کے  لئے  کیا تو اس شہر کو بچا کر اس کی حفاظت کرے  گا۔

25 یقیناً توبرے  لوگوں کے  ساتھ اچھے  لوگوں کو مار نے  کے  لئے  ایسا نہیں کرے  گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے  تو یہ ظاہر کرتا ہے  کہ اچھے  اور برے  دونوں برابر ہیں۔ اور تو پوری دُنیا کا حاکم ہے  اور تجھے  وہی کر نا چاہئے  جو صحیح ہے ۔ ”

26 تب خداوند نے  کہا کہ میں سدوم میں اگر پچاس نیک لوگوں کو دیکھ لوں تو میں پو رے  شہر ہی کو بچا کر اس کی حفاظت کروں گا۔

27 تب ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ اگر تجھ میں اور مجھ میں مماثلت پیدا کی جائے  تو میں تو صرف دھول و گرد اور راکھ کے  برابر ہوں گا۔ اور مجھے  موقع دے  کہ میں اس سوال کو پوچھوں۔

28 اور پوچھا کہ اگر کسی وجہ سے  ان میں سے  پانچ آدمی  کم ہو کر صرف پینتالیس آدمی  راستباز ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ اس پر خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں پینتالیس نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا۔

29 پھر ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ اگر تو صرف چالیس نیک لوگوں کو دیکھے  تو کیا تو اس شہر کو تباہ کر دے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں چالیس نیک آدمیوں کو دیکھوں تو اس شہر کو تباہ نہ کروں گا۔

30 تب ابراہیم نے  خداوند سے  کہا کہ مجھ پر غصہ نہ ہو۔ اور میں اس سوال کو پوچھوں گا۔ اگر کسی شہر میں صرف تیس نیک آدمی  ہوں تو کیا تو اس شہر کو تباہ کرے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر وہاں تیس آدمی  بھی نیک ہوں تو میں ان کو تباہ نہ کروں گا۔

31 پھر ابراہیم نے  کہا کہ میرا خداوند کچھ بھی کیوں نہ سمجھے ۔ لیکن میں تو ایک اور سوال ضرور کروں گا۔ پوچھا کہ اگر بیس آدمی  راستباز ہوں تو کیا کرے  گا؟ خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر میں وہاں بھی بیس نیک آدمیوں کو پاؤں تو اس کو تباہ نہ کروں گا۔

32 پھر ابراہیم نے  خداوند سے  کہا، ” برائے  مہر بانی مجھ پر غصہ نہ کر۔ صرف ایک مرتبہ اور سوال پوچھوں گا۔ اگر تو صرف میں دس نیک آدمی  دیکھے ، تو تُو کیا کرے  گا؟ ” خداوند نے  اس سے  کہا کہ اگر اس شہر میں صرف دس نیک آدمیوں کو پاؤں تو میں اس کو تباہ نہ کروں گا۔

33 خداوند نے  جب ابراہیم سے  باتیں کر نا ختم کیں تو وہاں سے  چلا گیا۔ اور ابراہیم بھی خود وہاں سے  اپنے  گھر کو واپس چلے  گئے ۔

 

 

 

 

 

باب:    19

 

 

 

1 اُس روز شام کو دونوں فرشتے  سدوم شہر کو آئے ۔ شہر کے  دروازوں کے  قریب بیٹھے ہوئے لوط نے  فرشتوں کو دیکھا اور سوچا کہ یہ لوگ شہر سے  گذر رہے  ہیں۔ اُن کے  قریب جا کر اُن کو سلام کیا۔

2 لوط نے  اُن سے  کہا، ” اے  جناب مہربانی فرما کر میرے  گھر تشریف لائیں اور میں آپ  کی خاطر تواضع کروں گا۔ آپ  اپنے  ہاتھ پیر دھو کر ہما رے  گھر میں مہمان ہو جاؤ۔ اور پھر کل صبح آپ  اپنے  سفر پر نکل سکتے  ہیں۔ ” فرشتوں نے  جواب دیا کہ اِس چوراہا میں ہم رات گذار دیں گے ۔

3 لیکن لوط نے  اُن سے  اصرار کیا کہ وہ اُس کے  گھر چلیں تو وہ اُس کے  گھر گئے ۔ لوط نے  اُن کے  لئے  کھانا تیار کروا یا۔ اور روٹیاں پکوائیں۔ فرشتوں نے  کھانا کھایا۔

4 اُس رات سونے  سے  قبل سدوم کے  جوان اور بوڑھے  مَرد آئے  اور لوط کے  گھر کے  اطراف محاصرہ کر کے  لوط سے  پو چھا،

5 تیرے  گھر آئے  ہوئے  وہ دو آدمی (فرشتے  ) کہاں ہیں؟ اُن کو باہر بھیجو تا کہ ہم لوگ صحبت کر سکیں۔

6 لوط با ہر آیا، اور دروازے  کو بند کر دیا۔

7 اُن مردوں سے  کہا کہ اے  میرے  بھا ئیو! میں تم سے  گذارش کر رہا ہوں کہ یہ بُرا فعل نہ کرو۔

8 دیکھو! میری دو بیٹیاں ہیں۔ وہ اِس سے  قبل کسی مرد کے  ساتھ نہیں سوئیں۔ تم اُن سے  جو چاہو سو کرو لیکن مہربانی کر کے  اِن مردوں کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ یہ میرے  مہمان ہیں۔ اور کہا کہ ان کی پوری حفاظت میری ذمّہ داری ہے ۔

9 گھر کو گھیرے  ہوئے  مردوں نے  اُس سے  کہا، ” تم یہاں آؤ!” وہ زوردار آواز میں پکا رے ۔ تب اُس کے  بعد وہ آپس میں کہنے  لگے  کہ یہ لوط ہما رے  شہر کو ایک مسافر کی طرح آیا تھا اور ہم کو ہی نصیحت کی باتیں سکھا رہا ہے  کہ کیسے  زندگی گذارنا چاہئے ۔ اُس کے  بعد اُنہوں نے  لو ط سے  کہا کہ اُن مردوں سے  بڑھ کر ہم تیرے  ساتھ بُرا سلوک کریں گے ۔ اِس طرح کہتے  ہوئے  لو ط کے  قریب آئے  اور دروازہ توڑ ڈالنے  پر تُل گئے ۔

10 لیکن گھر میں جو آدمی  تھے  اُنہوں نے  دروازہ کھو لا اور لو ط کو گھر میں کھینچ لے  گئے  اور دروازہ بند کر لیا۔

11 اُن دو آدمیوں نے  ان تمام مردوں کو جو گھر کے  باہر کھڑے  تھے  جوان سے  بوڑھا بنا دیا اور اندھا بنا دیا گیا۔ جس کی وجہ سے  وہ گھر کی تمیز نہ کر سکے ۔

12 ان دونوں آدمیوں نے  لوط سے  کہا کہ کیا تیرے  خاندان کے  دیگر لوگ اس شہر میں ہیں؟ تیرے  کوئی داماد یا کوئی لڑ کے  یا کوئی بیٹیاں یہاں رہتے  ہیں؟ اگر تیرے  خاندان کے  کوئی افراد اس شہر میں ہیں تو ان سے  کہہ دینا کہ فوراً یہاں سے  چلے  جائیں۔

13 ہم اس شہر کو نیست و نابود کر دیں گے ۔ اس لئے  کہ اس شہر کی بُرائی کو خداوند نے  دیکھا ہے ۔ اس وجہ سے  اس شہر کو نیست و نابود کرنے  کے  لئے  اسی نے  ہم لوگوں کو بھیجا ہے ۔

14 اس لئے  لوط باہر گئے  اور اپنے  دامادوں سے  جنہوں نے  ان کی بیٹیوں سے  شادی کی تھی بولے ، ” فوراً اس شہر کو چھوڑ کر چلے  جاؤ، اس لئے  کہ خداوند اس شہر کو تباہ کرنے  والا ہے ۔ ” لوط کی یہ بات ان کے  لئے  صرف مذاق معلوم ہو ئی۔

15 طلوع آفتاب سے  پہلے  فرشتوں نے  لوط کو شہر چھوڑنے  پر اصرار کیا اور کہا یہ شہر اب تباہ ہو رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے  تو اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے  کر اس جگہ سے  بھاگ جا تب تو تُو ان شہر والوں کے  ساتھ تباہ ہونے  سے  بچ جائے  گا۔

16 لیکن لوط شہر کو چھوڑنے  میں دیر کی تو ان دونوں آدمیوں نے  لوط، اس کی بیوی اور اس کی دونوں بیٹیوں کو پکڑ کر محفوظ طریقے  سے  شہر کے  باہر لا چھوڑا۔ اس طرح خداوند  لوط پر اور اس کے  خاندان والوں پر مہربان ہوا۔

17 جب وہ شہر کے  باہر آئے  تو ان دو آدمیوں میں سے  ایک نے  کہا کہ اب بھاگ جاؤ اور اپنی جان بچا کر اس کی حفاظت کرو۔ اور شہر کی طرف مُڑ کر بھی نہ دیکھو۔ اور گھاٹی کی کسی جگہ بھی نہ ٹھہر نا۔ وہاں سے  چھٹکارہ پا کر پہاڑوں میں بھاگ جاؤ۔ اور کہا کہ اگر ایسا نہ کرو گے  تو تم بھی شہر والوں کے  ساتھ تباہ ہو جاؤ گے ۔

18 لیکن لوط نے  اُن لوگوں سے  کہا، ” اے  آقاؤ و رہنماؤ! مہر بانی کر کے  دور بھا گ  جانے  کیلئے ہم پر جبر نہ کرو۔

19 تو نے  مجھ پر رحم کیا ہے ۔ میں تیرا خادم ہوں تو نے  میری حفاظت کی ہے  لیکن میں پہاڑوں تک اتنا دور دوڑ کر نہیں جا سکتا۔ اگر میں کافی دھیرے  جاؤں تو مصیبت مجھ پر آئے  گی اور میں مر جاؤں گا۔

20 وہ دیکھو! وہاں پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے  جو اتنا نزدیک ہے  کہ بھاگ کر جا سکتا ہوں۔ مجھے  وہاں پر بھاگ کر جانے  کی اجازت دو۔ اگر میں وہاں بھاگ کر جاؤں تو میں محفوظ ہو جاؤں گا۔ ”

21 فرشتوں نے  لوط سے  کہا کہ ٹھیک ہے  تجھے  اس بات کی اجازت ہے ۔ اور میں اس گاؤں کو تباہ نہیں کروں گا۔

22 لیکن تو وہاں جلدی سے  بھا گ جا۔ اور کہا کہ تمہارے  اس مقام کو خیریت سے  پہنچنے  تک سدوم کو تباہ نہ کیا جائے  گا۔ (اس گاؤں کو صغر کے  نام سے  پکارا گیا کیونکہ وہ ایک چھوٹا گاؤں تھا۔ )

23 سورج  طلوع ہوتے  وقت لوط صغر میں داخل  ہو رہے  تھے ۔

24 تب خداوند نے  سُدوم اور عمورہ شہروں پر آسمان سے  گندھک اور آ گ کی بارش بر سائی۔

25 اس طرح خداوند نے  ان دونوں شہروں کو تباہ کر دیا۔ مکمل گھاٹی اور اس کی ہری بھری فصلوں اور شہروں میں بسنے  والے  تمام لوگوں کو تباہ و تاراج کر دیا۔

26 جب وہ بھا گ رہے  تھے  تو لوط کی بیوی  نے شہر کی طرف مڑ کر دیکھا تو فوراً ہی وہ نمک کا ڈھیر بن گئی۔

27 اس دن صبح ابراہیم اٹھ کر اسی جگہ گیا جہاں وہ خداوند کے  سامنے  پہلے  کھڑے  تھے ۔

28 ابراہیم نے  سُدوم اور عمورہ شہروں کی طرف، اور گھاٹی والے  علا قے  کی طرف دیکھا تو ان علاقوں سے  دھواں بلندی کی طرف اٹھ رہا تھا۔ یہ بھٹی سے  اٹھتے  ہوئے  دھوئیں کی مانند تھا۔

29 خدا نے  ان حدود میں پڑنے  والے  شہروں کو تباہ کرنے  کے  بعد بھی ابراہیم کو یاد کر کے  لوط کی جان بچائی۔ لیکن وہ شہر کہ جس میں لوط رہتے  تھے  اس کو تباہ کر دیا۔

30 صغر میں سکونت اختیار کئے  ہوئے  رہنے  پر لوط کو خوف ہونے  لگا۔ جس کی وجہ سے  وہ اور اس کی بیٹیاں پہاڑوں میں جا کر ایک غار میں رہنے  لگے ۔

31 ایک دن بڑی بہن چھوٹی بہن سے  کہنے  لگی کہ یہاں پر کوئی بھی مرد بچا ہوا نہیں ہے  جو ہمیں دُنیا کے  دستور کے  مطابق بچہ دے  سکے ۔ اور ہمارا باپ بھی بوڑھا ہو چکا ہے ۔

32 لیکن ہم تو اولاد کو باپ سے  ہی پالیں گے ۔ تب نسل محفوظ ہو جائے  گی۔ آؤ ہم اپنے  باپ کو نشہ میں چور کر کے  اس کے  ساتھ ہم بستری کریں۔

33 اسی رات انہوں  نے اپنے  باپ کو مئے  پلا کر نشہ میں مد ہوش کیا۔ تب بڑی بیٹی اپنے  باپ کے  بستر پر گئی۔ اور اس کے  ساتھ ہم بستر ہو ئی۔ چونکہ لوط نشہ میں مست تھا جس کی وجہ سے  وہ اس کے  ساتھ ہم بستر ہونے  کو محسوس نہ کر سکا۔

34 دوسرے  دن بڑی لڑکی اپنی چھوٹی بہن سے  کہنے  لگی، “گزری رات میں اپنے  باپ کے  ساتھ ہم بستر ہو ئی۔ آج کی رات بھی اس کو مئے  پلا کر نشہ میں لاؤں گی۔ تب تو بھی اس کے  ساتھ ہم بستر ہو سکے  گی۔ اور اس طرح ہماری نسل محفوظ ہو جائے  گی۔ ”

35 اس رات بھی انہوں نے  اپنے  باپ کو مئے  پلا کر نشہ میں مدہوش کیا۔ تب اس کی چھوٹی بیٹی اس کے  ساتھ ہم بستر ہو ئی۔ اس کے  سونے  کی خبر لوط کو نہ ہو ئی۔

36 اس طرح لوط کی دونوں بیٹیاں باپ ہی سے  حاملہ ہوئیں۔

37 پہلو ٹھی بیٹی سے  ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے  اس کا نام موآب رکھا۔ اب تمام موآبیوں کے  لئے  موآب ہی جدّ اعلیٰ ہے ۔

38 چھوٹی بیٹی سے  بھی ایک لڑ کا پیدا ہوا۔ اس نے  اپنے  لڑ کے  کا نام بن عمّی رکھا اب جو بنی عمّون ہیں ان کے  لئے  بن عمّی ہی جدّ اعلیٰ ہے ۔

 

 

 

 

باب:   20

 

 

 

1 ابراہیم وہاں سے  نکلا  اور نیگیو کے  لئے  سفر شروع کیا۔ قادس اور شور کے  درمیان واقع جِرار میں سکونت اختیار کی۔

2 ابراہیم جب جِرار میں مقیم تھا  تو وہاں سارہ کو اپنی بہن بتاتا تھا۔ جِرار کا بادشاہ ابی ملک اِس بات کو سُن کر کچھ نوکروں کو سارہ کو لینے  کے  لئے  بھیجا۔

3 لیکن اُس رات خدا نے  ابی ملک کے  ساتھ خواب میں باتیں کیں اور کہا کہ تو مر جائے  گا۔ اور تو نے  جس عورت کو اپنے  قبضہ میں لے  لیا ہے  وہ تو شادی شدہ عورت ہے ۔

4 ابی ملک اب تک سارہ کے  ساتھ ہم بستر نہ ہوا تھا۔ اِس وجہ سے  ابی ملک نے  خداوند سے  کہا کہ میں مجرم ہوں۔ اور کہا کہ کیا تو ایک بے  گناہ کو قتل کرے  گا؟۔

5 خود ابراہیم نے  کہا ہے  کہ یہ میری بہن ہے ۔ میں تو معصوم اور بے  گناہ ہوں اور کہا کہ میرا نا کر دہ گناہ مجھے  سمجھ میں نہیں  آیا۔

6 تب خدا نے  ابی ملک سے  خواب میں کہا کہ ہاں مجھے  اچھی طرح معلوم ہے  کہ تو بے  گناہ ہے ۔ اور تیرے  نا کردہ گناہ کا تجھے  احساس نہ ہونے  کی بات کا بھی مجھے  علم ہے ۔ یہی وجہ ہے  کہ میں نے  تیری حفاظت کی ہے ۔ میری مرضی کے  خلاف تجھے  گناہ کرنے  کا میں نے  موقع ہی نہ دیا۔

7 اس وجہ سے  ابراہیم کی بیوی اس کے  حوالے  کر دے ۔ ابراہیم چونکہ نبی ہیں اور وہ تیرے  لئے  دُعا کریں گے  اور تو زندہ رہے  گا۔ اور اگر تو نے  سارہ کو ابراہیم کے  حوالے  نہ کیا تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تُو اور تیرا سارا خاندان ہلاک ہو جائیں گے ۔

8 اس وجہ سے  دُوسرے  دن صبح ابی ملک نے  اپنے  تمام نوکروں کو بلا کر ان سے  اپنا خواب سُنایا۔ اور ان سب کو بہت خوف آیا۔

9 تب ابی ملک نے  ابراہیم کو بلایا اور کہا کہ تُو نے  ہمارے  ساتھ ایسا کیوں کیا؟ اور میں نے  تیرے  خلاف کیا کیا ہے ؟ اور تو نے  اس سے  بہن ہونے  کا جھوٹا رشتہ کیوں بتا یا؟ اور تُو نے  میری حکومت کے  لئے  مصیبت کو دعوت دی ہے ۔ اور تجھے  ایسا نہیں  کر نا چاہئے  تھا۔

10 تو کس لئے  خوف زدہ ہوا؟ اور پوچھا کہ تُو نے  مجھ سے  ایسا کیوں کیا؟

11 ابراہیم نے  اس سے  کہا کہ مجھے  خوف دامن گیر ہوا۔ اور میں سمجھاکہ اس جگہ کسی کو بھی خدا کا خوف نہیں ہے ۔ اور میں نے  یہ بھی سوچا کہ کوئی بھی قتل کر کے  سارہ کو حاصل کر لے  گا۔

12 یہ بات سچ ہے  کہ وہ میری بیوی تو ہے ، لیکن اس کے  با وجود وہ میری بہن بھی تو ہے ۔ اور وہ میرے  باپ کی بیٹی ہے ۔ لیکن میری ماں کی بیٹی نہیں۔

13 خدا نے  مجھے  میرے  باپ کے  گھر سے  نکال دیا ہے ، اور دوسرے  مقامات کا دورہ کرنے  والا بنایا ہے  جس کی وجہ سے  میں نے  سارہ سے  کہا کہ تیری جانب سے  مجھ پر ایک احسان ہو۔ وہ یہ کہ تم جہاں کہیں بھی جاؤ لوگوں سے  کہنا کہ میں ان کی بہن ہوں۔

14 تب ابی ملک نے  ان سارے  واقعات کو جو پیش ہوئے  تھے  سمجھ لیا اور سارہ کو ابراہیم کے  حوالے  کر دیا۔ اس کے  علاوہ اسے  بکریاں ، جانور، نوکر اور لونڈیاں  دیں۔

15 ابی ملک نے  ابراہیم سے  کہا کہ دیکھو یہ میرا ملک ہے ۔ اس میں تیرا جی جہاں چاہے  سکونت اختیار کر۔

16 ابی ملک نے  سارہ سے  کہا میں تیرے  بھائی ابراہیم کو ایک ہزار چاندی کے  سکّے  دوں گا۔ پیش آئے  ہوئے  ان واقعات کے  لئے  یہ بطور فدیہ ہو گا۔ اور کہا کہ تیرا بے  عیب ہو نا ہر ایک کے  لئے  گواہ بنے ۔

17 خداوند نے  ابی ملک کے  خاندان میں پائی جانے  والی تمام عورتوں کو بانجھ بنا دیا۔ خدا نے  ایسا کیا کیونکہ ابی ملک نے  سارہ کولے  لیا تھا۔ جب ابراہیم نے  خدا سے  دُعا کی تو خدا نے  ابی ملک کو، اس کی بیوی کو اور اس کی خادمہ لڑ کیوں کو شفاء بخشی۔

 

 

 

 

باب:   21

 

 

 

1 خداوند نے  سارہ سے  جو وعدہ کیا تھا اُس کو با قاعدہ پورا کیا۔

2 سارہ عمر رسیدہ ابراہیم سے  حاملہ ہوئی اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ یہ سب کچھ ٹھیک اسی وقت ہوا جس کے  بارے  میں خدا نے  کہا تھا کہ ہو گا۔

3 سارہ نے  ایک بیٹے  کو جنم دیا۔ ابراہیم نے  اس کا نام اسحاق رکّھا۔

4 جب اِسحاق کو پیدا ہوئے  آٹھ دِن ہوئے  تھے ، خدا کے  حکم کے  مُطابق ابراہیم نے  اس کا ختنہ کر وایا۔

5 جب  ان کا بیٹا اِسحاق پیدا ہوا  تو ابراہیم کی عمر سو سال تھی۔

6 سارہ نے  کہا، “خدا نے  مجھے  خوشی بخشی ہے  اور جو کوئی اس کے  با رے  میں سنے گا  وہ مجھ سے  خوش ہوگا۔

7 کوئی سوچ بھی  نہیں سکتا تھا کہ ابراہیم کو سارہ سے  کوئی بیٹا ہو گا۔ اور اُس نے  کہا کہ ابراہیم کے  ضعیف ہونے  کے  با وجود اب میں نے اُس کو ایک بیٹا دیا۔ ”

8 جب اِسحاق بڑا ہوا اور کھا نا کھانے  کی عمر کو پہنچا۔ تب ابراہیم نے  ایک بڑی ضیافت کر وا ئی۔

9 پہلے  پہل مصر کی لونڈی ہا جرہ کے  یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا۔ اور ابراہیم اُس کا باپ تھا۔ سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ کا بیٹا کھیل رہا ہے ۔

10 سارہ نے  ابراہیم سے  کہا کہ اُس لونڈی کو اور اُس کے  بچے  کو کہیں دُور بھیج دے ۔ تا کہ جب ہم دونوں مر جائیں تو ہماری تمام تر جائیداد کا وارث صرف اِسحاق ہی ہو۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتی ہوں کہ لونڈی کا بیٹا اِسحاق کے  ساتھ وراثت میں حصّے  دار ہو۔

11 ابراہیم کو بہت دُکھ ہو ا۔ اور اپنے  بیٹے  کے  بارے  میں فکر مند ہوا۔

12 لیکن خدا نے  ابراہیم سے  کہا، ” تو اس بچے  یا اُس لونڈی کے  بارے  میں پریشان نہ ہو اور سارہ کی مرضی کے  مُطابق ہی کر۔ اِسحاق ہی تیرے  خاندانی سلسلہ کو جاری رکھے  گا۔

13 لیکن میں تیری لونڈی کے  بیٹے  کے  خاندان سے  ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ کیونکہ وہ تمہارا بیٹا ہے ۔ ”

14 دُوسرے  دِن صبح ابراہیم نے  تھوڑا سا اناج اور تھوڑا سا پانی لیا اور ہاجرہ کو دے  دیا۔ اور اُسے  دُور بھیج دیا۔ ہاجرہ نے  وہ جگہ  چھوڑ دی اور بیرسبع کے  ریگستان میں بھٹکنے  لگی۔

15 تھوڑی دیر بعد پانی بھی ختم ہو گیا اور پینے  کے  لئے  کچھ باقی نہ رہا۔ اِس وجہ سے  ہاجرہ نے  اپنے  بیٹے  کو جھاڑی میں سُلا دیا۔

16 ہاجرہ تھوڑی سی دُور، لگ بھگ ایک تیر کی دُور ی یعنی جتنی دُور جا کر وہ گرتا ہے  جا کر  بیٹھ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ اُس نے  کہا، ” میں اپنے  بیٹا کو مرا ہوا دیکھنا نہیں چاہتی۔ ”

17 لڑکے  کی آواز خدا کو سُنائی دی۔ تب جنت کے  فرشتے نے  اُسے  آواز دی۔ اور کہا کہ اے  ہاجرہ تجھے  کیا ہوا ہے ؟ تو گھبرا مت،  اس لئے  کہ لڑکے  کی آوا ز کو خداوند نے  سُن لیا ہے ۔

18 اٹھو، لڑکے  کو لو اور اُس کے  ہاتھ کو کس کر پکڑو۔ میں اُس کو وہ کروں گا جس سے  ایک بڑی قوم کا سلسلہ جاری ہو گا۔

19 اُس کے  بعد خدا نے  ہاجرہ کو پانی کے  ایک کنویں  کی طرف رہنمائی کی۔ تو ہاجرہ پانی کے  اُس کنویں  پر گئی اور مشکیزہ کو پانی سے  بھر لیا اور لڑکے  کو پانی دیا۔

20 خدا اُس بچے  کے  ساتھ تھا اور وہ بچہ بڑا ہوا۔ بیابان میں زندگی گذار نے  کی وجہ سے  وہ بہترین تیر انداز ہو گیا تھا۔

21 اُس کی ماں  اُس کے  لئے  مصر سے  ایک لڑکی لائی اور اُس سے  شادی کر وا ئی۔ اور اُس نے  فاران کے  ریگستان میں اپنی سکونت کو جاری رکھا۔

22 تب ابی ملک اور فیکل نے  ابراہیم سے  گفتگو کی۔ فیکل ابی ملک کا سپہ سالار تھا۔ ابی ملک نے  ابراہیم سے  کہا کہ تُو جو کام بھی کرتا ہے  اُس میں خدا تیرے  ساتھ ہے ۔

23 جس کی وجہ سے  تو میرے  ساتھ اور میرے  بچوں کے  ساتھ ایمان داری سے  رہنے  پر خدا کی قسم کھا۔ اور اِس بات کی بھی قسم کھا کہ تو میرے  ملک کا جہاں کہ تو رہتا ہے  وفادار ہو گا۔ اور اس بات کی بھی قسم کھا کہ جس طرح میں نے  تیرے  ساتھ عنایت کی ہے  اُسی طرح تُو بھی میرے  ساتھ محبت کرے  گا۔

24 اُس پر ابراہیم نے  کہا، ” میں وعدہ کرتا ہوں۔ ”

25 تب ابراہیم نے  ابی ملک سے  شکایت کی کہ تیرے  نوکروں نے  تو پانی کے  ایک چشمہ پر اپنا قبضہ جما لیا ہے ۔

26 اس پر ابی ملک نے  کہا کہ وہ کام کس نے  کیا ہے  اُس بات کا علم نہیں ہے ۔ اور نہ ہی تُو  آج تک اِس بات کو میرے  علم میں لا یا۔

27 تب ابراہیم اور ابی ملک نے  ایک معاہدہ کیا۔ ابراہیم نے  اس کو چند بکریاں اور جانور معاہدہ کی علا مت کے  طور پر دے  دیئے ۔

28 اس کے  علا وہ ابراہیم نے  غول سے  سات مادہ بکری کے  بچوں کو الگ کر دیا۔

29 ابی ملک نے  ابراہیم سے  پو چھا، ” تم نے یہ سات مادہ میمنے اپنے  پاس کیوں رکھے  ہیں  ؟ ”

30 ابراہیم نے  جواب دیا کہ جبتم بکریوں کے  ان بچوں کو قبول کرو گے  تو یہ اس بات کی گواہی ہو گی کہ اس چشمہ کو کھدوانے  والا میں ہی ہوں۔

31 اس جگہ پر معاہدہ کرنے  کی وجہ سے  اُس چشمہ کا نام “بیر سبع “ہوا۔

32 بیر سبع میں معاہدہ ہونے  کے  بعد ابی ملک اور اس کی   فوج کا سپہ سالار فیکل فلسطینیوں کے  ملک میں واپس چلا گیا۔

33 ابراہیم نے  بیر سبع میں ایک خاص قسم کا درخت لگا یا۔ اور اُسی جگہ پر ہمیشہ رہنے  والے  خداوند خدا سے  دُعا کی۔

34 اور وہ ایک عرصۂ دراز تک فلسطینیوں کے  ملک میں قیام پذیر تھا۔

 

 

 

 

باب:    22

 

 

 

1 ان تمام باتوں کے  بعد خدا نے  ابراہیم کو آزمایا۔ خدا نے  آواز دی ” ابراہیم! ” ابراہیم نے  جواب دیا، ” میں یہاں ہوں۔ ”

2 تب خدا نے  اس سے  کہا کہ تیرا بیٹا یعنی تیرا اکلوتا بیٹا اسحاق کو جسے  تو پیار کرتا ہے  موریاہ علاقے  میں لے  جا۔ میں تجھے  جس پہاڑ پر جانے  کی نشاندہی کروں وہاں جا کر اپنے  بیٹے  کو قربان کر دینا۔

3 صبح ابراہیم اٹھا اور اپنے  گدھے  پر زین کسا۔ اسحاق کے  ساتھ مزید دو نوکروں کو لیا۔ اور قربانی پیش کرنے  کے  لئے  لکڑی جمع کی اور خدا کی بتلائی ہوئی جگہ کے  لئے  روانہ ہو گئے ۔

4 اس نے  تین دن تک مسلسل سفر کیا۔ ابراہیم نے  جب غور سے  دیکھا تو مطلوبہ جگہ ان کو دور سے  دِکھائی دی۔

5 اس کے  بعد ابراہیم نے  اپنے  نوکروں سے  کہا کہ یہیں پر گدھے  کے  ساتھ رُکو۔ میں اور میرا بیٹا دونوں جا کر اس جگہ پر عبادت کریں گے ۔ پھر اس کے  بعد ہم واپس لوٹ کر تمہارے  پاس آئیں گے ۔

6 ابراہیم  نے قربانی کے  لئے  لکڑیاں جمع کر کے  اپنے  بیٹے  کے  کندھوں پر لادیں۔ ابراہیم خاص قسم کی چھُری اور انگارہ ساتھ لئے  دونوںآگے  چلے  گئے ۔

7 اِسحاق  نے اپنے  باپ ابراہیم کو کہا، “ابّا” ابراہیم نے  جواب دیا اور پوچھا، “کیا بات ہے  بیٹے  “اِسحاق نے  کہا، “لکڑیاں اور آ گ تو مجھے  نظر آ رہی ہے ۔ لیکن قربانی کے  لئے  میمنہ (بھیڑ کا بچّہ) کہاں ہیں؟ ”

8 ابراہیم نے  کہا کہ بیٹے ! قربانی کے  لئے  مطلوب میمنہ خدا ہی فراہم کرتا ہے ۔

9 خدا کی رہنمائی کردہ جگہ پر آئے  وہاں پر ابراہیم نے  ایک قربان گاہ بنائی۔ اوپر لکڑیوں کو ترتیب دیا۔ اس کے  بعد اپنے  بیٹے  اسحاق کے  ہاتھ پیر جکڑ کر قربان گاہ کے  اوپر جو لکڑیاں ترتیب دی گئی تھیں ان کے   اوپر لِٹا دیا۔

10 تب اس نے  اپنے  بیٹے  کو قربان کرنے  کیلئے  چھُری اوپر اٹھا ئی۔

11 خداوند کا فرشتہ جنت سے  پکارا، ” ابراہیم، ابراہیم! ” ابراہیم نے  جواب دیا، “میں یہاں ہوں۔ ”

12 خدا کے  فرشتے  نے  کہا کہ تُو اپنے  بیٹے  کو قربان نہ کر اور نہ ہی اسے  کسی قسم کی تکلیف دے ۔ اب میں جانتا ہوں کہ تم خدا سے  ڈرتے  ہو، کیونکہ تم نے  اپنے  اکلوتے  بیٹے  کو قربان کرنے  میں پس و پیش نہیں کیا۔ ”

13 جب ابراہیم نے  آنکھ اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک مینڈھا نظر آیا۔ اُس مینڈھے  کا سینگ ایک جھاڑی میں پھنس گیا تھا۔ وہ فوراً وہاں گیا۔ اور اُس مینڈھے  کو پکڑا اور اپنے  بیٹے  کی جگہ اُس مینڈھے  کو قربان کر دیا۔

14 جس کی وجہ سے  اُس جگہ کا نام ” یہوہ یری ” ہوا۔ آج بھی لوگ کہتے  ہیں، ” اس پہاڑ پر خداوند کی رویا دیکھی جا سکتی ہے ۔ ”

15 خداوند کا فرشتہ ابراہیم کو آسمان سے  دوسری مرتبہ آ کر پکارا۔

16 اور کہا ” خدا یہ کہتا ہے  :۔ کیونکہ تم یہ کرنے  کے  لئے  تیار تھے ۔ میں بھی یقین کے  ساتھ وعدہ کروں گا۔ کیونکہ تم نے  اپنے  اکلوتے  بیٹے  کو مجھ سے  نہیں رو کا۔

17 میں یقینی طور پر تجھے  بر کت دوں گا۔ تیری نسل کے  سلسلے  کو بھی بڑھاؤں گا۔ تیری قوم اور نسل آسمان میں تاروں کی طرح اور سمندر کے  ساحل پر ریت کے  ذرّوں کی طرح لا تعداد ہوں گی۔ اور وہ اپنے  دُشمنوں کے  شہروں کو اپنے  قابو میں کر لیں گے ۔

18 اور کہا “کیونکہ تو نے  میری فرماں برداری کی۔ اور ساری قوم تیری نسل کے  وسیلے  سے  برکت پائے  گی۔ ”

19 پھر اس کے  بعد ابراہیم اپنے  نوکروں کے  پاس گیا۔ اور وہ سب واپس بیر سبع کو لوٹ گئے ۔ اور پھر ابراہیم وہیں پر مقیم ہوئے ۔

20 یہ تمام واقعات  پیش آنے  کے  بعد ابراہیم کو ایک پیغام ملا۔ اور وہ پیغام یوں ہے  کہ تیرے  بھائی نحور اور اس کی بیوی مِلکاہ صاحبِ اولاد ہو گئے  ہیں۔

21 پہلوٹھے  بیٹے  کا نام عُوض تھا۔ اور دوسرے  بیٹے  کا نام بُوز تھا۔ اور تیسرے  بیٹے  کا نام قموئیل تھا۔ اور یہ ارام کا باپ تھا۔

22 اِن کے  علا وہ کسد، حزو، ُفلداس، اور اِدلاف، بیتوئیل، وغیرہ بھی ہیں۔

23 اور بیتو ئیل، رِبقہ کا باپ تھا۔ اور ملکاہ اِن آٹھ بچّوں کی ماں تھی۔ اور نحور اُن کا باپ تھا۔ اور نحور ابراہیم کا بھائی تھا۔

24 ان کے  علا وہ نحور کو اُس کی خادمہ عورت رَومہ سے  چار لڑکے  تھے ۔ وہ لڑکے  کون تھے ۔ طبخ، جاحم، تخص اور معکہ۔

 

 

 

 

 

باب:    23

 

 

 

1 سارہ ایک سو ستائیں برس زندہ رہی۔

2 وہ ملک کنعان کے  قریب اربع(حِبرون) میں وفات پا ئی۔ ابراہیم اُس کے  لئے  وہاں بہت روئے ۔

3 تب وہ اُس کی میت کے  پاس سے  اُٹھ کر حِیتیوں کے  پاس گئے ۔

4 ” اُن سے  کہا کہ میں اس خطہ کا رہنے  وا لا نہیں ہوں۔ اور میں یہاں صرف بحیثیتِ مسافر ہوں۔ اور کہا کہ میری بیوی کی قبر کے  لئے  تھوڑی سی جگہ چاہئے ۔ ”

5 حِیتیوں نے  ابراہیم سے  کہا،

6 ” اے  آقا آپ  ہما رے  درمیان زبردست قائد ہیں۔ آپ مرحومہ بیوی کی قبر کے  لئے  ہمارے  قبرستانوں میں سب سے  اچھّی جگہ کا انتخاب کر لیں۔ اور ایسا کرنے  کے  لئے  ہم میں سے  کوئی نہیں روکے  گا۔ ”

7 ابراہیم اُٹھے  اور لوگوں کو سلام کیا۔

8 اور اُن سے  کہا، ” میری مرحومہ بیوی کی تدفین کے  لئے  اگر حقیقی معنوں میں آپ  لو گ میری مدد کرنا چاہتے  ہیں تو صحر کے  بیٹے  عِفرون سے  میری خاطر سفارشی بات چیت کیجئے ۔

9 مکفیلہ کے  غار کو خریدنے  کی میری آرزو ہے ۔ اور وہ عفرون کی ہے ۔ اور وہ اُس کی زمین سے  متصل ہے ۔ اور اُس کی جو قیمت ہو سکتی ہے  وہ میں پوری ادا کر دوں گا۔ اور کہا کہ میں نے  اُس کو قبرستان کی جگہ کے  لئے  خریدا ہے  اس بات پر تم سب گواہ رہنا۔ ”

10 عفرون شہر کے  صدر دروازے  کے  نزدیک حیتیوں کے  ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے  ابراہیم سے  اونچی آواز میں بات کیتا کہ ہر کوئی جو وہاں حاضر ہے  اس کی آواز سُن سکے ۔ اس نے  کہا،

11 ” اے  میرے  آقا! میں اُس جگہ کو اور اُس غار کو اپنے  لو گوں کی موجود گی میں تجھے  دے دوں گا۔ اور کہا کہ اُس جگہ پر تو اپنی مرحومہ بیوی کو دفن کر نا۔ ”

12 تب ابراہیم نے  حیتیوں کے  سامنے  اپنا سر جھکا کر اُن کو سلام کیا۔

13 ابراہیم تمام لوگوں کے  سامنے  عفرون سے  کہاتا کہ ہر کوئی سُن سکے   ” میں اُس زمین کی پوری قیمت تجھے  دیتا ہوں۔ اگر تو رقم لے  لے  گا تب ہی میں اپنی مرحومہ بیوی کو وہاں دفن کروں گا۔

14 عفرون نے  ابراہیم سے  کہا،

15 ” اے  میرے  آقا، میری بات تو سُن۔ اُس جگہ کی قیمت تو صرف چارسو مثقال چاندی ہے ۔ اس رقم کی میرے  لئے  ہو یا تیرے  لئے  کچھ بھی حیثیت نہیں ہے ۔ لیکن پہلے  جگہ کو حاصل کر لے  اور اپنی مرحومہ بیوی کو دفن کر دے ۔ ”

16 تب ابراہیم نے  اُس جگہ کے  لئے  چار سو چاندی کے  سکّے  عفرون کو گِن کر دئیے ۔ ”

17 یہ زمین ممرے  کے  نزدیک مکفیلہ میں تھی۔ ابراہیم اُس زمین اور اس کے  غار کا، اور اُس زمین میں پائے  جانے  تمام درختوں کا مالک ہو گیا۔ جب عفرون اور ابراہیم کے  بیچ معاہدہ ہوا تھا تو تمام اہلیان شہر گواہ بن گئے  تھے ۔

18  19 تب ابراہیم نے  اپنی مرحومہ بیوی سارہ کو ملک کنعان کے  ممرے  (حبرون ) کے  قریب مکفیلہ میں واقع کھیت کے  غار میں دفن کیا۔

20 ابراہیم نے وہ  زمین اور اُس میں پائے  جانے  والے  غار کو حیتیوں سے  خرید لیا۔ اور وہ اُس کی جائیداد قرار پا ئی۔ اور وہ اُس کو قبرستان کے  طور پر استعمال کرنے  لگے ۔

 

 

 

 

باب:    24

 

 

 

1 جب ابراہیم بہت ضعیف ہوئے ۔ خداوند نے  ابراہیم کے  ہر کام میں برکت دی۔

2 ابراہیم کی تمام جائیداد کی نگرانی کے  لئے  ایک نوکر مقرر تھا۔ ابراہیم نے  اُس نوکر کو بُلا کر کہا، ” میری ران کے  نیچے  تُو اپنا ہاتھ رکھ کر مجھ سے  وعدہ کر۔

3 دیکھو ملک کنعان کے  جہاں کہ میں اب رہ رہا  ہوں کسی لڑکی سے  میرے  بیٹے  کی شادی نہیں ہونی چاہئے ۔

4 میرے  ملک میں میرے  لوگوں کے  پاس جا کر میرے  بیٹے  اِسحاق کے  لئے  ایک لڑکی ڈھونڈ کر لاؤ۔ زمین و آسمان کے  خداوند کے  سامنے  وعدہ کر کہ تم یہ کرو گے ۔ ”

5 نوکر نے  اُس سے  کہا اگر وہ دوشیزہ میرے  ساتھ اِس ملک میں آنے  کے  لئے  راضی نہ ہو تو کیا میں آ پ کے  بیٹے  کو اپنے  ملک میں بلا لے  جاؤں۔ ؟

6 ابراہیم نے  اُس سے  کہا کہ میرے  بیٹے  کو اُس ملک میں ساتھ نہ لے  جانا۔

7 آسمانی خداوند خدا نے  مجھے  اپنے  ملک میں اِس جگہ پر بلا لایا ہے ۔ جبکہ وہ ملک میرے  باپ اور میرے  خاندان وا لوں سے  ملا ہوا ہے ۔ لیکن خداوند نے  اِس ملک کو میرے  خاندان کے  حق میں دینے  کا وعدہ کیا ہے ۔ میرے  بیٹے  کے  لئے  دوشیزہ ڈھونڈ  کر ساتھ لانے  کو ممکن بنانے  کے  لئے  خداوند اپنے  فرشتے  کو تیرے  لئے  رہنما بنائے ۔

8 اور اگر وہ دوشیزہ ساتھ آنا پسند نہ کرے  تو اِس وعدے  سے  تجھے  چھٹکا را ملے  گا۔ لیکن تو میرے  بیٹے  کو میرے  اپنے  ملک میں ساتھ نہ لے  جانا۔

9 تب اُس نوکر نے  اپنے  مالک ابراہیم کی ران کے  نیچے  ہاتھ رکھ کر قسم کھا ئی۔

10 اُس نوکر نے  ابراہیم کے  دس اُونٹوں کو تیار کیا، نوکر نے  سب سے  اچھے  قسم کا تحفہ لا یا۔ وہ میسو پٹا میہ گیا اس شہر میں جہاں نحور رہتا تھا۔

11 اُس نے  گاؤں کے  باہر ایک کنویں کے  قریب اُونٹوں کو بٹھا دیا۔ ہر روز شام کو عورتیں پانی لینے  کے  لئے  اُس کنویں  پر آیا کر تی تھیں۔

12 اُس نو کرنے  کہا کہ اے  ہمارے  خداوند تُو میرے  مالک ابراہیم کا خدا ہے ۔ برائے  مہر بانی آج تو میرے  مشن کو کامیاب بنا۔ میرے  مالک ابراہیم کی خا طر سے  یہ ایک احسان کر۔

13 میں اس کنویں کے  قریب کھڑا رہوں گا۔ اِس گاؤں کی لڑکیاں پانی لینے  کے  لئے  یہاں آئیں گی۔

14 اسحاق کے  لئے  مناسب و موزوں لڑ کی دیکھنے  کے  لئے  میں ایک سے  کہوں گا کہ مہر بانی کر کے  تو اپنا پانی کا گھڑا نیچے  اُتار اور پینے  کے  لئے  تھوڑا سا پانی دے ، تو شاید وہ مجھ سے  کہے  گی تُو پی لے ۔ اور میں تیرے  اونٹوں کو بھی پانی دوں گی۔ وہی تیری منتخب کر دہ لڑ کی ہو گی۔ اور میں یہ سمجھوں گا کہ تُو نے  اپنے  خادم اِسحاق کے  لئے  مہر بانی کی۔

15 نو کر کا دُعا کر کے  فارغ ہونے  سے  پہلے  ہی رِبقہ نام کی ایک حسینہ کنویں کے  پاس آئی۔ اور یہ رِبقہ، بیتو ئیل کی بیٹی تھی۔ اور بیتو ئیل، مِلکاہ اور نحور کا بیٹا تھا۔ اور نحور، ابراہیم کا بھائی تھا۔ رِبقہ اپنے  کندھے  پر پانی کا گھڑا لئے  ہوئے کنویں کے  پاس آئی۔

16 وہ بہت ہی حسین و جمیل تھی۔ وہ ایک کنواری تھی۔ اس نے  کنویں کے  نزدیک جا کر اپنا گھڑا پانی سے  بھر لیا۔

17 تب وہ نوکر بھاگ کر اُس کے  پاس گیا، اور اُس سے  کہا کہ مہر بانی کر کے  پینے  کے  لئے  اپنے  گھڑے  میں سے  تھوڑا سا پانی دے  دے ۔

18 رِبقہ  نے  فوراً اپنے  گھڑے  کو کندھے  سے  اُتارا اور اُس کو پینے  کے  لئے  پانی دیتے  ہوئے  کہا، ” جناب پانی پی لو۔”

19 جب اس نے  پانی پی لیا تو کہنے  لگی، ” میں تیرے  اونٹوں کے  لئے  بھی پانی لاؤں گی اس وقت تک جب تک کہ وہ پی نہ لیں۔ ”

20 اس نے  تمام تر پانی کو حوض میں اُنڈیل دیا اور مزید پانی لانے  کے  لئے  تیز چلتی ہوئی کنویں کے  پاس چلی گئی۔ اور اِس طرح اس کے  تمام اُونٹوں کو پانی پلا یا۔

21 نو کر  نے خاموشی سے  بغور اس لڑ کی کو دیکھا اور تعجب کیا کہ خدا نے  اس کی دعا کا جواب دیا یا نہیں۔

22 اونٹ جب پانی پی چکے تو اُس نے  رِبقہ کو آدھ  تولے  سونے  کی انگوٹھی دی۔ اور اِس کے  علا وہ اُس نے  اُس کو چار تولے  سونے  کے  دو کنگن بھی دیئے ۔

23 اُس نو کرنے  پو چھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ اور کیا ہم لوگوں کے  لئے  تیرے  باپ کے  گھر میں قیام کے  لئے  جگہ ہے ؟

24 رِبقہ نے  اُس سے  کہا کہ، میرے  باپ کا نام بیتو ئیل ہے  اور وہ ملکاہ اور نحور کا بیٹا ہے ۔

25 اور  کہا کہ ہاں، تیرے  اونٹوں کے  لئے  گھاس پات ہمارے  پاس ہے  اور تمہارے  قیام اور ٹھہرنے  کے  لئے  جگہ بھی ہے ۔

26 تب اُس نو کرنے  اپنے  سر کو جھکا یا اور خداوند کی عبادت کی۔

27 پھر اُس نے  اُس سے  کہا کہ میرے  مالک ابراہیم کے  خداوند خدا کا فضل و کرم ہو۔ وہ تو میرے  مالک کا بڑا ہی مہر بان اور بھروسے  کے  قا بل ہے ۔ اس نے  میرے  مالک کے  بھائی کے  گھر تک جانے  میں میری رہنمائی کی۔

28 تب رِبقہ نے  تیزی سے  جا کر اِن تمام واقعات کو اپنی ماں اور  اہل خانہ کو  سنایا۔

29 رِبقہ کا ایک بھائی تھا۔ اور اس کا نام لا بن تھا۔ پیش آئے  ہوئے  تمام واقعات رِبقہ نے  اپنے  بھائی کو سنائے ۔ جب لابن نے  انگو ٹھی اور کنگن دیکھے اور اس آدمی نے  جو کچھ رِبقہ سے  کہا تھا سنا تو وہ دوڑ کر کنویںکے  پاس گیا۔ کنویںکے  نزدیک نو کر اپنے  اپنے  اونٹوں کے  ساتھ کھڑے  تھے ۔

30

31 لابن نے  اُس سے  کہا کہ اے  خدا کی بر کت پانے  والے ، اندر آ جا۔ تجھے  باہر ٹھہرنے  کی ضرورت نہیں۔ اور کہا کہ تیرے  رہنے  کے  لئے  کمرے  اور تیرے اونٹوں کے  لئے  جگہ کا انتظام کر دیتا ہوں۔

32 اِس طرح  ابراہیم کا نوکر لابن کے  گھر گیا۔ اور اونٹوں پر لدا ہوا بوجھ اُتار نے  کے  لئے  لابن نے  اُس کی مدد کی۔ اور او نٹوں کے  رہنے  کے  لئے  جگہ بنا دی اور اُن کو گھاس ڈالی گئی۔ اس کے  بعد اس کے  نوکر اور اس کے  ساتھیوں کو، پیر دھونے  کے  لئے  پانی دیا۔

33 پھر اس کے  بعد لابن نے  اس کو کھا نا کھانے  دیا۔ لیکن نو کر  نے کھا نا کھانے  سے  انکار کر دیا اور ان سے  کہا، ” میں جس مقصد سے  آیا ہوں وہ بتائے  بغیر کھا نا نہ کھاؤں گا۔ “اُس پر لابن نے  کہا کہ ٹھیک ہے  جو کہنا ہو وہ کہو۔

34 اُس نوکر نے  کہا کہ میں ابراہیم کا نوکر ہوں۔

35 خداوند نے  میرے  مالک کو ہر معاملہ میں برکت سے  نوازا ہے ۔ میرا مالک ایک غیر معمولی اور عظیم الشان آدمی  ہے ۔ خداوند نے  ابراہیم کو بھیڑوں کا گلّہ اور مویشیوں کا ریوڑ وغیرہ دیا ہے ۔ اور ابراہیم کے  پاس ضرورت سے  زیادہ سونا چاندی بھی ہے ۔ اور کئی نوکر چاکر ہیں۔ اور بہت سارے  اونٹ اور گدھے  بھی ہیں۔

36 سارہ میرے  مالک کی بیوی ہے ۔ وہ کافی بوڑھی ہو گئی تھی اس کے  با وجود بھی اُس نے  ایک بچے  کو جنم دیا۔ اور میرے  مالک نے  اپنی تمام تر جائیداد کو اپنے  بیٹے  کو دے  دیا۔

37 میرے  مالک نے  مجھ سے  کہا کہ میں اُس کے  ساتھ وعدہ کروں۔ اور کہا، ‘ دیکھو میرے  بیٹے  کی شادی کسی بھی کنعانی لڑ کی جن لوگوں کے  درمیان ہم لوگ رہتے  ہیں نہیں ہونی چاہئے ۔

38 اور کہا کہ تم میرے  ہی ملک کو جا کر میرے  اپنے  ہی لوگوں میں سے  میرے  بیٹے  کے  لئے  ایک دوشیزہ کا اِنتخاب کرلاؤ۔ ‘

39 میں نے  اپنے  مالک سے  کہا کہ اگر وہ لڑکی میرے  ساتھ اس ملک میں آنے  کے  لئے  راضی نہ ہوئی تو کیا کرنا چاہئے ۔

40 لیکن میرے  مالک نے  کہا، ” خداوند جس کی میں خدمت کرتا ہوں اپنے  ایک فرشتے  کو وہاں رہنے والے  میرے  باپ کے  خاندان سے  میرے  بیٹے  کے  لئے  ایک لڑکی کھوجنے  میں تمہاری مدد کرنے  کے  لئے  بھیجے  گا۔

41 اور کہا کہ جب تُو میرے  باپ کے  ملک کو جائے  گا اور اگر وہ میرے  بیٹے  کے  لئے  کوئی لڑکی دینے  سے  انکار کرے  تو تُو اُس وعدہ کے  مطابق چھٹکارا پائے  گا۔

42 ” آج جب کہ میں اِس کنواں کے  پاس آیا اور کہا کہ اے  میرے  مالک ابراہیم کے خداوند خدا اپنے  کرم سے  میرے  سفر کو کامیاب کر۔

43 میں کنویں کے  قریب کھڑا ہو کر پانی لینے  کے  لئے  آنے  وا لی ایک دوشیزہ کے  انتظار میں رہوں گا۔ تب میں اُس سے  کہوں گا کہ مہربانی کر کے  پینے  کے  لئے  اپنے  گھڑے  سے  پانی دے ۔

44 وہ مجھ سے  کہے  گی کہ تو پانی پی لے  ، اور تیرے  اُونٹوں کے  لئے  بھی پانی لا دیتی ہوں، اگر وہ ایسا کہے  گی تو میں سمجھوں گا کہ میرے  مالک کے  بیٹے  کے  لئے  خداوند نے  جس دوشیزہ کو چُن لیا ہے  وہ لڑ کی یہی ہے  اور اِس بات کی دُعا میں کر رہا تھا۔

45 ” میں دُعا کو ختم کر ہی رہا تھا کہ رِبقہ پانی کے  لئے  کنویں پر آئی۔ اور وہ اپنے  کندھے  پر گھڑا اُٹھائے ہوئے تھی۔ اور وہ کنویں سے جا کر پانی بھر نے لگی۔ تب میں نے  اُس سے  کہا کہ مہربانی کر کے  تھوڑا سا پانی دے  دے ۔

46 اُس نے   فوراً گھڑے  کو اپنے  کندھے  سے  نیچے  اُتارا اور مجھے  پانی دیا اور کہا کہ پانی پی لے ۔ اور تیرے  اُونٹوں کو بھی پانی لا کر دوں گی۔ میں جب پانی پینے  سے  فارغ ہوا تواس نے  میرے  اونٹوں کو بھی پانی پلا دیا۔

47 پھر میں نے  اس سے  پو چھا، ‘ تیرا باپ کون ہے ؟ ‘ اس نے  جواب دیا کہ میرے  باپ کا نام بیتو ئیل ہے ۔ اور کہا کہ وہ مِلکاہ اور نحور کا بیٹا ہے ۔ تب میں نے  اس کو انگوٹھی اور ہاتھ کے  کنگن دیئے ۔

48 اس وقت میں نے  اپنے  سر کو جھکا کر خداوند کا شکر ادا کیا۔ اور میرے  مالک ابراہیم کے  خداوند خدا کی تعریف بیان کی۔ اور میں نے  یہ جانا کہ سچ مُچ میں خداوند نے  میرے  مالک کے  بھائی کی بیٹی کو اُس کے  بیٹے  کی بیوی ہونے  میں میری رہنمائی کی۔

49 اب آپ  اپنا اظہارِ خیال کیجئے ۔ اب اگر آپ  میرے  مالک کے  لئے  مہر بانی اور وفاداری دکھاؤ تو مجھے  کہو اور اگر نہیں تو بھی مجھے  کہوتا کہ میں آپ  کے  جواب کے  مطابق اگلے  کام کے  بارے  میں غور کروں گا۔ ”

50 اس پر لابن اور بیتو ئیل نے  کہا کہ تجھے  خداوند ہی نے  بھیجا ہے ۔ اور اب جو کچھ بھی چل رہا ہے  اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے ۔

51 یہ رہی رِبقہ اسے  اپنے  ساتھ لے  جاؤ اور خداوند کی مرضی کے  مطابق اپنے  مالک کے  بیٹے  سے  اس کی شادی کرا دے ۔

52 ابراہیم کا نوکر ان باتوں کو سن کر خداوند کے  سامنے  زمین پر سر جھکا کر سجدۂ شکر بجا لا یا۔

53 پھر اس کے  بعد وہ نوکر اپنے  ساتھ جوتحفے لا یا تھا وہ   رِبقہ کو دے  دئیے ۔ اور اس نے  رِبقہ کو سونے  چا ندی کے  زیورات اور اعلیٰ درجہ کے  ملبوسات بھی دے  دیئے ۔ اس کے  علا وہ اس نے  قیمتی تحفے  اس  کے بھائی کو اور اس کی ماں کو دیئے ۔

54 نو کر اور اس کے  ساتھیوں نے  وہاں پر ان کے  ساتھ کھا نا کھایا پیا اور وہیں پر رات گزا ری۔ پھر وہ دوسرے  دن صبح اٹھے  اور بولے  کہ اب ہم لوگوں کو ہمارے  مالک کے  پاس جانا چاہئے ۔

55 رِبقہ کی ماں اور اس کے  بھائی نے  ان سے  کہا کہ رِبقہ کو چند دنوں کے  لئے  کم سے  کم دس دنوں تک کے  لئے  ہمارے  ساتھ رہنے  دے ۔ اور پھر اس کے  بعد اسے  لے  جا سکتے  ہو۔

56 لیکن نوکر نے  جواب دیا، ” مجھے  مت رو کو اس لئے  کہ خداوند نے  میرے  سفر کو کامیاب کیا ہے ۔ اب مجھے  میرے  مالک کے  پاس بھیج دو۔

57 رِبقہ کے بھائی اور اس کی ماں نے  اس سے  کہا کہ ہم رِبقہ کو بلا کر اس کی مرضی دریافت کریں گے ۔

58 انہوں نے  رِبقہ کو بلا یا، اور پوچھا کہ کیا تجھے  اسی وقت اس آدمی  کے  ساتھ جانا پسند ہے ؟  رِبقہ نے  کہا، ” ہاں میں جاؤں گی۔ ”

59 اس وجہ سے  انہوں نے  ربقہ کو ابراہیم کے  نوکر کے  اور اس کے  ساتھیوں کے  ساتھ بھیج دیا۔ اور رِبقہ کی خادمہ بھی اس کے  ساتھ چلی گئی۔

60 رِبقہ کے  خاندان والوں نے  اسے  دُعائیں دیں اور کہا، ” اے  ہماری بہن، تو لاکھوں لوگوں کی ماں بنے ۔ تیری خاندان اور نسلوں کے  لوگ دشمنوں کو شکست دیں اور ان کے  شہروں کو اپنے  قبضہ میں لے  لیں۔ ”

61 پھر اس کے  بعد رِبقہ اور اس کی خادمائیں اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اس نوکر اور اس کے  ساتھیوں کے  پیچھے  ہو لیں۔ اس طرح وہ نو کر رِبقہ کو ساتھ لے  کر گھر کے  لئے  سفر پر نکلا۔

62 اس وقت اسحاق بیرلحی روئی سے  جا کر آیا تھا۔ کیونکہ وہ نیگیو میں مقیم تھا۔

63 بوقت شام اِسحاق کھیت کی طرف چلا گیا۔ جب اسحاق نے  نظر اُٹھائی تو دور سے  آتے  ہوئے  اونٹوں کو دیکھا۔

64 جب رِبقہ نے  چاروں طرف نگاہکی تو اِسحاق پر نظر پڑی تو فوراً اونٹ سے  نیچے  اُتر آئی۔

65 اس نے  اس نوکر سے  پو چھا، ” وہ نو جوان کون ہے  جو کھیت میں ہم لوگوں سے  ملنے  آ رہا ہے ؟ “اس نوکر نے  جواب دیا، “میرے  مالک کا بیٹا ہے ۔ ” اس کے  فوراً بعد رِبقہ نے  اپنے  چہرے  پر نقاب ڈال لیا۔

66 اس نو کرنے  پیش آئے  ہوئے  سارے  واقعات اسحاق کے  علم میں لا ئے ۔

67 تب اسحاق  اس کو ساتھ لے  کر اپنی ماں کے  خیمے  میں آیا۔ اس دن ربقہ اسحاق کی بیوی بنی۔ اور اسحاق  نے اس سے  بہت محبت کی۔ ماں کی موت کے  وقت اسحاق بہت ہی غمزدہ تھا لیکن اب اس میں کمی ہوئی اور اسے  اطمینان و تسلّی ملی۔

 

 

 

 

باب:    25

 

 

 

1 ابراہیم نے  دوبارہ شادی کی۔ اُس کی نئی بیوی کا نام قطورہ تھا۔

2 قطورہ سے  زُمران، یُقسان، مدیان، مدان، اِسباق، اور سوخ پیدا ہوئے ۔

3 یُقسان، سِبا اور ددان کا باپ تھا۔ اور ددان کی نسل سے  یہ ہیں۔ اَسوری، لطوسی، اور لُومی تھے ۔

4 مدیان کے  بیٹے  عیفاہ، عفر، حُنوک، ابیداع اور الدوعا تھے  اور یہ سب قطورہ کی نسل سے  تھے ۔

5 ابراہیم اپنی موت سے  قبل اپنی خادمہ عورت کی نرینہ اولاد کو چند تحفے  اور نذرانے  دیکر اسے  مشرقی ملکوں میں اسحاق سے  دور بھیج دیا پھر اس کے  بعد اپنی تمام تر جائیداد کا مالک اسحاق کو بنا دیا۔

6

7 ابراہیم ایک سو پچھترسال زندہ رہے ۔

8 وہ لمبی عمر کے  بعد بوڑھے ہو کر فوت ہوئے   اور اپنے  خاندان کے  لوگوں کے  ساتھ دفن ہوئے ۔

9 اُس کے  بیٹے  اِسحاق اور اسمٰعیل نے  ممرے  کے  نزدیک مکفیلہ کے  غار میں اُس کی قبر بنائی۔ یہ غار حتی صحر کے  بیٹے  عِفرون کے  کھیت میں ہے ۔

10 ابراہیم کی حیتیوں سے  خریدی ہوئی اِس جگہ میں ابراہیم کو اُس کی بیوی سارہ کے  پاس دفن کر دیا گیا۔

11 ابراہیم کے  انتقال کے  بعد، خدا نے  اسحاق کو بر کت دی۔ اور اِسحاق بیر لحی روئی میں اپنی زندگی کے  دن گزار نے  لگے ۔

12 یہ اسمٰعیل کا سلسلۂ نسب ہے ۔ اسمٰعیل، ابراہیم اور ہاجرہ کا بیٹا تھا۔ (مصر کی ہاجرہ، سارہ کی خادمہ تھی۔ )

13 اِسمٰعیل کی نرینہ اولاد کے  نام یہ ہیں۔ پہلا بیٹا نبایوت تھا۔ اس کے  بعد پیدا ہونے  والے  یہ ہیں :۔ قیدار، ادبیئل، مِبسام،

14 مِشماع، دومہ اور مسّا،

15 حدد، تیما، یطور، نفیس اور قدمہ۔

16 ہر ایک نے  اپنا خاندان بنا لیا۔ اور آگے  وہی خاندان چھوٹے  شہر بن گئے ۔ یہ بارہ لڑکے  ہی اپنے  اپنے  لوگوں کے  لئے  خاندان کے  سرپرست اعلیٰ کی حیثیت رکھتے   تھے ۔

17 اِسمٰعیل ایک سو سینتیس برس زندہ رہے ۔ اُس کے  مرنے  کے  بعد اُس کو اُس کے  آبائی قبرستان میں دفنایا گیا۔

18 اسمٰعیل کی نسلیں ریگستانی علاقے  میں خیمہ زن تھیں۔ یہ علاقہ حویلہ سے  مصر سے  قریب شور تک تھا اور پھر شور سے  شروع ہو کر اسُور تک تھا۔ اسمٰعیل کی نسلیں ایک دوسرے  کے  قریب خیمہ زن ہوئیں۔

19 یہ اِسحاق کی تاریخ ہے ۔ اِسحاق ابراہیم کا بیٹا تھا۔

20 اِسحاق جب چالیس برس کے  ہوئے  تو رِبقہ سے  شادی کی۔ رِبقہ، فدّام ارام کی رہنے  وا لی تھی۔ اور وہ بیتو ئیل کی بیٹی اور آرامی لابن کی بہن تھی۔

21 اِسحاق کی بیوی اولاد سے  محروم تھی۔ اِس لئے  اِسحاق اپنی بیوی کے  لئے  خداوند سے  دُعا کرنے  لگا۔ خداوند نے  اِسحاق کی دُعا کو سُنی اور رِبقہ حاملہ ہو ئی۔

22 رِبقہ جب حاملہ تھی تو اُس کے  پیٹ میں بچے  ایک دوسرے  کے  ساتھ دھّکا دھکّی کرتے  تھے ۔ جس کی وجہ سے  اُسے  بڑی تکلیف اٹھانی پڑتی تھی۔ ربقہ نے  خداوند سے  دعا کی اور پو چھا، ” اے  خدا ایسا مجھے  کیوں ہوتا ہے ؟ ”

23 خداوند نے  اُس سے  کہا، ” تیرے  پیٹ میں دو قومیں ہیں۔ دو خاندانوں پر حکومت کرنے  والے  تیرے  پیٹ سے  پیدا ہوں گے ۔ اور وہ منقسم ہوں گے ۔ ایک بیٹا دوسرے  بیٹے  سے  زیادہ طاقتور ہو گا۔ اور بڑا بیٹا چھوٹے  بیٹے  کی خدمت کرے  گا۔ ”

24 دِن پورے  ہونے  پر رِبقہ سے  جُڑواں بچے  پیدا ہوئے ۔

25 پہلا بچہ سُرخ تھا۔ اور اُس کی جِلد بالوں سے  بھرے چغہ کی طرح تھی۔ اِس وجہ سے  اُس کا نام عیساؤ رکھا گیا۔

26 جب دوسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ عیساؤ کی ایڑی کو مضبوطی سے  پکڑے ہوئے تھا۔ جس کی وجہ سے  اُس بچے  کا نام ” یعقوب ” رکھا گیا۔ یعقوب اور عیساؤ جب پیدا ہوئے  تو اِسحاق کی عُمر ساٹھ سال کی تھی۔

27 وہ دونوں بچے  بڑے  ہوئے ۔ عیساؤ ایک بہترین شکاری بنا اور کھیتوں میں رہنا اُسے  پسند آیا۔ اور یعقوب سنجیدہ مزاج کا آدمی  تھا۔ اور وہ اپنے  خیمہ میں زندگی بسر کرنے  لگا۔

28 اِسحاق، عیساؤ سے  بہت محبت کرتا تھا۔ عیساؤ شکار کھیلتا تھا اور شِکار کا گوشت اِسحاق کو بہت پسند تھا۔ لیکن رِبقہ، یعقوب کو چاہتی تھی۔

29 ایک مرتبہ عیساؤ جب شِکار سے  واپس لوٹا تو بھوک سے  نڈھال تھا اور کمزور ہو گیا تھا۔ جبکہ یعقوب ایک برتن میں سالن اُبال رہے  تھے ۔

30 تب عیساؤ  نے  یعقوب سے  کہا کہ بھوک سے  میں نِڈھال ہوں اِس لئے  پو چھا کہ مجھے  تھوڑی لال دال دے ۔ ( اِس وجہ سے  لوگ اُسے  ایدوم بھی کہتے  ہیں۔ )

31 لیکن یعقوب نے  کہا، ” پہلے  تو مجھے  اپنا پہلوٹھے  پن کا حق بیچ دے ۔ ”

32 عیساؤ نے  کہا کہ میں تو بھوک سے  مرنے  کے  قریب ہوں۔ اور اگر میں مر جاؤں تو میرے  باپ کی دولت میرے  کوئی کام کی نہ رہے  گی۔

33 تب یعقوب نے  کہا، ” مجھے  تو اپنا پیدائشی حق دینے  کا وعدہ کر۔ ” اِس وجہ سے  عیساؤ نے  یعقوب کو اپنا حصّہ دینے  کا وعدہ کیا۔ اِس طرح عیساؤ نے  اپنا پہلوٹھے  پن کا حق یعقوب کو بیچ دیا۔

34 تو یعقوب نے  عیساؤ کو روٹی کے  ساتھ اُبلی  ہوئی دال کی پھلی دی۔ پھر عیساؤ وہاں سے  کھا پی کر چلا گیا۔ عیساؤ  نے اپنے  پہلوٹھے  پن کے  حق کے  بارے  میں کتنا کم خیال کیا۔

 

 

 

 

 

باب:    26

 

 

 

1 جس طرح ابراہیم کے  زمانے  میں قحط سالی پھیلی ہوئی تھی اِسی طرح کنعان میں بھی ایک قحط سالی ہو ئی۔ جس کی وجہ سے  اِسحاق  فلسطینیوں کے  بادشاہ ابی ملک کے  پاس گیا۔ ابی ملک جرار شہر میں رہتا تھا۔

2 خداوند اِسحاق پر ظاہر ہوا اور کہا، “تو مصر کو نہ جا۔ میں تجھے  جس ملک میں رہنے  کا حکم دیتا ہوں وہیں قیام کر۔

3 میں تیرے  ساتھ رہوں گا، اور تجھے  برکت دوں گا پھر تجھے  اور تیرے  قبیلے  کو یہ سارا علاقہ عطا کروں گا۔ اور میں نے  تیرے  باپ ابراہیم سے  جو وعدہ کیا تھا اُس کو پو را کروں گا۔

4 میں تیری نسل کو آسمان کے  تاروں کی طرح بڑھاؤں گا اور اُن کو یہ تمام علاقہ دوں گا۔ اور زمین پر بسنے  وا لی تمام نسلیں تیری نسل سے  برکت پائیں گی۔

5 میں ہی اِس کو پو را کروں گا۔ کیونکہ تیرا باپ ابراہیم میری ان باتوں پر فرمانبردار تھا اور کہا کہ میرے  کہنے  کے  مُطابق کرتا تھا، میری شریعت، احکامات، اور اُصولوں کی پابندی کرتا تھا۔ ”

6 اِس وجہ سے  اِسحاق جرار میں آ کر مقیم ہو گئے ۔

7 اِسحاق کی بیوی رِبقہ بہت ہی حسین و جمیل تھی۔ وہاں کے  مقامی لوگوں نے  رِبقہ کے  بارے  میں اِسحاق سے  پو چھا، تو اِسحاق نے  اُن سے  کہا کہ وہ تو میری بہن ہے ۔ اگر اُن کو یہ معلوم ہو جائے  کہ رِبقہ اُس کی بیوی ہے  تو وہ اُس سے  اُس کو چھین لیں گے  اور خود کو قتل کرنے  کے  خوف سے  اِسحاق نے  ایسا کہا ہے ۔

8 اِسحاق کو وہاں رہتے  ہوئے  ایک لمبی مدّت گذر چکی تھی۔ ایک مرتبہ فلسطینیوں کا بادشاہ ابی ملک اپنی کھڑ کی سے  دیکھ رہا تھا کہ اِسحاق اور اُس کی بیوی خوشی سے  ہنس کھیل رہے  تھے ۔

9 ابی ملک نے  اِسحاق کو بُلا کر کہا کہ یہ عورت تو تیری بیوی ہے ۔ لیکن تُو نے  ہم سے  یہ کیوں کہا کہ یہ تیری بہن ہے ۔ اِسحاق نے  اُس سے  کہا کہ ہو سکتا ہے  کہ تُو اُس کو حاصل کرنے  کے  لئے  مجھے  قتل کر دے  اِس خوف سے  میں نے  ایسا کیا ہے ۔

10 ابی ملک نے  اُس سے  کہا کہ تُو نے  ہمارے  ساتھ بُرائی کی ہے ۔ ہما رے  پاس رہنے  والے  کسی بھی آدمی  کے  لئے  تیری بیوی کے  ساتھ ہم بستر ہونے  کے  لئے  تُو نے  ہی موقع فراہم کیا۔ اگر ایسی کوئی بات پیش آئی ہو تی تو وہ بہت بڑا گناہ ہوتا۔

11 تب ابی ملک نے  اپنی رعایا سے  کہا، “اگر کوئی بھی اِسحاق کو یا اُس کی بیوی کو نقصان پہنچائے  گا تو اس شخص کو قتل کر دیا جائے  گا۔ ”

12 اِسحاق نے  اُس علاقے  میں تخم ریزی کی۔ اُسی سال اُسے  سو فیصد فصل ہوئی۔ اِس لئے  کہ خداوند نے  اُسے  بہت زیادہ خیر و برکت دی تھی۔

13 اُس کی دولت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ اور وہ بہت دولت مند ہو گئے ۔

14 اُن کے  پاس کئی جانوروں، بکریوں کے  غول، اور چو پائے  بھی تھے ۔ اس کے  علا وہ اُن کے  پاس کئی نو کر چاکر بھی تھے ۔ اِن تمام باتوں کو دیکھ کر فلسطینی لوگ اُس سے  حسد کرنے  لگے ۔

15 اِس وجہ سے  کئی سال قبل ابراہیم اور اُس کے  نوکروں نے  جن کنوؤں کو کھودا تھا اُن کو فلسطینیوں نے  مٹی ڈال کر بند کر دیا۔

16 ابی ملک نے  اسحاق سے  کہا کہ ہمارے  ملک کو چھوڑ کر چلا جا۔ کیونکہ تو ہم سے  زیادہ قوّت والا اور زور آور ہے ۔

17 اِس لئے  اسحاق اُس جگہ سے  نکل کر جرار کی چھوٹی ندی کے  پاس قیام پذیر ہوئے ۔ اور وہیں سکو نت اختیار کر لی۔

18 اِس سے  ایک عرصہ پہلے  ابراہیم نے بھی کئی کنوئیں کھو دے  تھے ۔ ابراہیم جب وفات پاگئے  تو فلسطینیوں نے  اُن کنوؤں کو مٹی ڈال کر بند کر دیا۔ اسحاق نے  ان کنوؤں کو دوبارہ کھودا اور اُن کو پھر وہی نام دیا جو اُن کے  باپ  نے  دیا تھا۔

19 اسحاق کے  نوکروں نے  چھوٹی ندی کے  قریب ایک کنواں کھودا اُس کنوئیں میں پانی کا ایک سوتا ملا۔

20 لیکن جرار میں رہنے  والے  چرواہوں نے  اسحاق کے  لوگوں کے  ساتھ بحث و تکرار کی اور کہا کہ یہ پانی تو ہمارا ہے ۔ اِس وجہ سے  اسحاق نے  اُس کنوئیں کا نام “عسق ” رکھا۔ کیونکہ ان لوگوں نے  پانی کے  لئے  بحث کی تھی۔

21 پھر اس کے  بعد اسحاق کے  خادموں نے  ایک اور کنواں کھودا۔ وہاں کے  مقامی لوگ اُس کنویں کے  بارے  میں تکرار کرنے  لگے ۔ اِس لئے  اِسحاق نے  اس کنویں کا نام “ستنہ” رکھا۔

22 اِسحاق نے  وہاں سے  نکل کر ایک اور کنواں کھودا۔ اُس کنویں سے  متعلق تکرار کرنے  کے  لئے  کوئی نہ آیا۔ اِس وجہ سے  اسحاق نے  کہا، “اب تو خداوند نے  ہمارے  لئے  یہاں کمرہ (جگہ )بنا دیا ہے ۔ “اِس جگہ میں ہم ترقی پائیں گے  اس طرح سے  اس نے  اِس کنویں کا نام “رحوبوت ” رکھا۔

23 اِسحاق اس جگہ سے  بیر سبع کو گئے ۔

24 اُس رات خداوند اِسحاق پر ظاہر ہوا اور کہا کہ میں تیرے  باپ ابراہیم کا خدا ہوں۔ تو خوف نہ کھا میں تیرے  ساتھ ہوں۔ اور میں نے  تیرے  لئے  خیر و بر کت دے  رکھی ہے ۔ اور میں تیرے  خاندان کو ترقی پر پہنچاؤں گا اور کہا کہ میں اپنے  بندے  ابراہیم کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہوں۔

25 اس لئے  اس جگہ پر اسحاق نے  قربان گاہ بنائی اور خداوند کی عبادت کی۔ اور اسحاق اس جگہ پر سکو نت پذیر ہوئے ۔ اور اُس کے  نوکروں نے  اُس جگہ پر ایک کنواں کھودا۔

26 ابی ملک، اسحاق کو دیکھنے  کے  لئے  جرار سے  آ یا۔ اور اپنے  ساتھ اپنے  مشیر اَخوزت اور اپنے  سپہ سالار فیکل کو بھی ساتھ لے  کر آیا۔

27 اِسحاق نے  کہا کہ تو مجھے  کیوں ملنے  آیا ہے ؟ جبکہ تو میرے  ساتھ دوستی و ہمدردی کے  ساتھ نہ رہا۔ اور کہا کہ تُو نے  مجھ پر اِس بات سے  جبر کیا کہ میں تیرا ملک چھوڑ کر چلا جاؤں۔

28 انہوں نے  اس سے  کہا، ” اب ہم کو معلوم ہوا کہ خداوند تیرے  ساتھ ہے ۔ اور ہمارا خیال ہے  کہ تمہارے  ساتھ ایک معاہدہ کریں اور تجھے  بھی ہمارے  ساتھ وعدہ کر نا چاہئے ۔

29 اور ہم نے  تیری کوئی برائی نہیں چاہی۔ ٹھیک اسی طرح تُو بھی ہماری کسی قسم کی بُرائی نہ کرنے  کا وعدہ کر۔ اگر چہ کہ ہم نے  تجھے  دُور ضرور بھیجا ہے ۔ لیکن بہت ہی سکون و اطمینان سے  بھیجا ہے ۔ اور کہا کہ خداوند نے  تیرے  حق میں جو خیر و برکت لکھ دی ہے  وہ اب ظاہر ہو چکی ہے ۔ ”

30 اِس لئے  اِسحاق نے  ان کے  لئے  ایک ضیافت کا اہتمام کیا۔ اور وہ سب کے  سب سیر ہو کر کھا نا کھائے ۔

31 دُوسرے  دن صبح، وہ سب آپس میں ایک دُوسرے  سے  وعدے  اور قسمیں لے  کر اطمینان سے  چلے  گئے ۔

32 اُس دن اِسحاق کے  نوکر آئے  اور اپنے  کھو دے  ہوئے  کنویں کے  بارے  میں کہا کہ کنویں میں ہم کو پانی کا ایک سوتا ملا ہے ۔

33 جس کی وجہ سے  اِسحاق نے  اُس کا نام سبع رکھا۔ آج بھی اس شہر کو بیر سبع کے  نام سے  یاد کرتے  ہیں۔

34 عیساؤ کی عمر جب چالیس سال کی ہوئی تھی تو اُس نے  حیتیوں کی دو عورتوں سے  بیاہ کیا۔ ایک تو بیری کی بیٹی یہودتھ، اور دوسری اِیلون کی بیٹی بشامتھ تھی۔

35 اِن شادیوں سے  اِسحاق اور ربقہ کو بہت دُکھ اور افسوس ہوا۔

 

 

 

 

باب:    27

 

 

1 جب اِسحاق ضعیف ہوئے  تو آنکھیں اتنی کمزور ہو گئیں کہ وہ ٹھیک سے  دیکھ نہیں سکتے  تھے ۔ ایک دِن وہ اپنے  پہلوٹھے  بیٹے  عیساؤ کو اپنے  پاس بُلا کر کہا :۔ اے  بیٹے ! عیساؤ نے  جواب دیا کہ میں حاضر ہوں۔

2 اِسحاق نے  اُس سے  کہا، ” میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اِس لئے  میں نہیں جانتا کہ میں کب مر جاؤں۔

3 اس لئے  مناسب ہے  کہ تو اپنی تیر کمان لے  کر شکار کو جا اور میرے  لئے  ایک جانور کا شکار کر کے  لا۔

4 اور میرے  لئے  میری پسند کا لذیذ کھانا تیار کر کے  لاؤ تا کہ میں اُس کو کھاؤں۔ اور کہا کہ میں مرنے  سے  پہلے  ہی تجھے  دعاء خیر و برکت دوں۔ ”

5 اِس وجہ سے  عیساؤ شکار کے  لئے  چلا گیا۔

6 رِبقہ اپنے  بیٹے  یعقوب سے  کہنے  لگی کہ سُن! تیرے  باپ نے  تیرے  بھائی عیساؤ کے  ساتھ جو باتیں کیں میں نے  وہ سُن لیں۔

7 تیرے  باپ نے  اُس سے  کہا کہ میرے  لئے  ایک جانور کا شکار کر کے  لا اور اُس سے  میری پسند کا ایک لذیذ کھانا تیار کر کے  لا دے ۔ اور کہا کہ میں مرنے  سے  پہلے  ہی تجھے  دعاء خیر و برکت دوں گا۔

8 اِس وجہ سے  اے  میرے  بیٹے  میری بات مان اور میں جو کہوں سو کر گذر۔

9 ہماری بکریوں کے  جھنڈ میں جا، اور بکریوں کے  دو بچوں کو اٹھا لا۔ اور میں تیرے  باپ کے  لئے  اُس کی پسند کا لذیذ کھانا اُس سے  تیار کروں گی۔

10 اور وہ لذیذ کھانا اپنے  باپ کے  لئے  اٹھا لے  جا۔ وہ اسے  کھائیں گے  اور مرنے  سے  پہلے  تجھے  دعاء خیر دیں گے ۔

11 اُس بات پر یعقوب نے  اپنی ماں رِبقہ سے  کہا میرے  بھائی عیساؤ کا سارا جسم بالوں سے  بھرا ہوا ہے ۔ لیکن میرا جسم اُس کے  جیسا بالوں سے  بھرا ہوا نہیں ہے ۔

12 اگر میرا باپ مجھے  چھُو لے  تو اُسے  یہ آسانی سے  معلوم ہو جائے  گا کہ میں عیساؤ نہیں ہوں۔ تب تو وہ مجھے  برکت بھی نہ دیں گے ۔ اور میری اس  دھوکہ دینے  کی کو شش کی وجہ سے  وہ مجھ پر لعنت بھی کریں گے ۔

13 اِس بات پر رِبقہ نے  اُس سے  کہا کہ اگر وہ تجھ پر لعنت کرے  تو وہ لعنت مجھ پر پڑے  گی۔ اِس لئے  میں تجھ سے  جو کہوں سو کر۔ اور کہا کے  میرے  لئے  بکریوں کو لا۔

14 اِس وجہ سے  یعقوب دو بکریوں کو ساتھ لا یا۔ تب اُس نے  اِسحاق کی پسند کی لذیذ غذا اُس کے  گوشت سے  تیار کی۔

15 پھر رِبقہ نے  اپنے  پہلوٹھے  بیٹے  عیساؤ کے  لئے  عمدہ لباس جو کہ گھر میں تھا اُسے  لے  لیا۔ اور رِبقہ نے  اُس عمدہ لباس کو اپنے  چھوٹے  بیٹے  یعقوب کو پہنایا۔

16 اور بکریوں کے  چمڑے  کو یعقوب کے  ہاتھوں اور اُس کے  گلے  سے  لپیٹ دیا۔

17 تب اپنا  تیار کیا  ہوا  لذیذ کھانا اور کچھ روٹی یعقوب کو دے  دی۔

18 یعقوب اپنے  باپ کے  پاس گیا اور پُکارا کہ اے  ابّا جان، اُس کے  باپ نے  پو چھا کہ کیا بیٹے  اور تو کون ہے ؟

19 یعقوب نے  اپنے  باپ سے  کہا، ” میں عیساؤ تیرا پہلو ٹھا بیٹا۔ تیرے  کہنے  کے  مُطابق میں ویسا ہی کر لا یا ہے ۔ میں تیرے  لئے  شکار کے  جانور کا گوشت لا یا ہوں بیٹھ کر کھا لیجئے ۔ اور کہا کہ اُس کے  بعد آپ  مجھے  خیر و برکت سے  نواز سکتے  ہیں۔ ”

20 تب اِسحاق نے  اپنے  بیٹے  سے  پوچھا کیا تُو اتنی جلدی شکار کر کے  واپس لو ٹ آیا۔ اِس پر یعقوب نے  جواب دیا، ” کیونکہ خداوند تیرے  خدا نے  جانور کو جلدی پانے  میں میری مدد کی۔ ”

21 پھر یعقوب نے  اِسحاق سے  کہا، “میرے  نزدیک آ جاتا کہ میں تجھے  چھُو سکوں میرے  بیٹے ، اور تجھے  چھُونے  کے  بعد میں آسانی سے  معلوم کر سکتا ہوں کہ تو میرا بیٹا عیساؤ ہے  یا نہیں۔ ”

22 اِس لئے  یعقوب اپنے  باپ اِسحاق کے  پاس گیا۔ اِسحاق اُس کو چھُوا اور کہا کہ تیری آواز تو یعقوب کی آواز جیسی ہے ۔ مگر تیرے  ہاتھ تو عیساؤ کے  ہاتھ کے  جیسے  بالوں سے  پُر ہیں۔

23 وہ یعقوب کو پہچان نہ سکا کیونکہ اُس کے  ہاتھ عیساؤ کے  ہاتھوں جیسے  بالوں سے  پُر تھے ۔ اِس وجہ اُس نے  یعقوب کو دعا ء خیر سے  نوا ز۔

24 اِسحاق نے  اُس سے  پوچھا کہ تُو کیا حقیقت میں میرا بیٹا عیساؤ ہے ؟ تب یعقوب نے  جواب دیا کہ ہاں میں ہی ہوں۔

25 تب اسحاق نے  کہا کہ تو کھا نا لا۔ میں کھا نا کھانے  کے  بعد تجھے  دعاء خیر سے  نوازوں گا۔ اس لئے  یعقوب کھا نا لا کر دیا تو اُس نے  کھا نا کھا لیا۔ اور مئے  بھی پی لی۔

26 پھر اسحاق نے  اپنے  بیٹے  سے  کہا کہ میرے  نزدیک آ اور مجھے  پیار سے  چوم لے ۔

27 اُس کے  کہنے  کے  مطابق یعقوب اپنے  باپ کے  پاس گیا اور اُسے  پیار سے  چو ما۔ جب اِسحاق نے  یعقوب کے  کپڑوں کی خوشبو سونگھا، تو اُس کو یہ کہتے  ہوئے  دعاء خیر سے  نوازا۔ “میرے  بیٹے  کی خوشبو اسی کھیت کی طرح ہے  جسے  خداوند نے  خیر و برکت سے  سرفراز کیا۔

28 خداوند تیرے  لئے  ضرورت سے  زیادہ بارش برسائے ۔ تجھے  فصلوں سے  ڈھیروں ڈھیر انا ج اور انگوری مئے  بھی ملے ۔

29 سب لوگ تیری خدمت کرے ۔ قومیں تیرے  سامنے  اپنے  سروں کو جھکائے  اور تو اپنے  بھائیوں پر حکمرانی کرے ۔ تیری ماں کے  بیٹے  تیرے  سامنے  سر جھکا کر تیری فرمانبرداری کریں۔ تجھ پر لعنت کرنے  والا خود لعنتی ہو گا۔ اور ہر ایک جو تیرے  لئے  مہر بانی دکھائے  اور تجھے  دعاء دے  اور وہ دعاء اور مہربانی حاصل کرے  گا۔

30 اِسحاق نے  یعقوب کو خیر و برکت کی دعاء سے  نوازا اس کے  بعد یعقوب اپنے  باپ اِسحاق کے  پاس سے  نکلنے  ہی کو تھا کہ عیساؤ شکار سے  واپس لو ٹا۔

31 عیساؤ بھی اپنے  باپ کی پسند کی مطابق خاص قسم کا کھا نا تیار کر وا کر اپنے  باپ کے  پاس لا کر حاضر کیا اُس نے  اپنے  باپ سے  کہا، ابّا جان! اُٹھئے ، اور آپ کیلئے آپ کا  بیٹا  شکار کے  جانور کا گوشت پکا کر لا یا ہے  اُس کو کھا لیجئے ۔ اور کہا کہ پھر اُس کے  بعد مجھے  دعاء خیر و برکت کے  کلمات سے  نوازئیے ۔

32 اِسحاق نے  اس سے  پو چھا کہ تو کون ہے ؟ اُس نے  جواب دیا کہ میں تیرا بیٹا عیساؤ ہوں۔

33 تب اسحاق کو بہت غصّہ آیا اور کہا کہ تیرے  آنے  سے  پہلے  کھا نا تیّار کر کے  مجھے  لا کر دینے  والا کون تھا؟ میں نے  وہ سب کُچھ کھانے  کے  بعد اُس کو دعاء خیر و برکت سے  نوازا۔ اور کہا کہ اب میں نے اس کے  لئے    جو خیر و برکت کی دُعا کی ہے  وہ واپس نہیں لی جا سکتی۔

34 عیساؤ اپنے  باپ کی باتیں سُن کر غصّہ ہوا۔ اور بے  چین ہوتے  ہوئے  فکر مند ہوا۔ اور چیخ وپکار کرنے  لگا۔ اور اُس نے  اپنے  باپ سے  کہا کہ اگر ایسی ہی بات ہے  تو اے  ابا جان مجھے  خیر و برکت کی دُعا دو۔

35 اِسحاق نے  کہا کہ تیرے  بھائی نے  تو مجھے  فریب دیا ہے ۔ وہ آیا اور تیرے  حق کی خیر و برکت کولے  لیا۔

36 عیساؤ نے  کہا کہ اس کا نام یعقوب (“دھوکہ باز “)ہے ۔ اور وہی اُس کے  لئے  مناسب و موزوں نام ہے ۔ اس نے  میرے  ساتھ دو مرتبہ دھو کہ کیا ہے ۔ اور میرے  پہلوٹھے  پن کا حق بھی لے  لیا ہے ۔ اور کہا کہ میرا خیر و برکت بھی لے  لیا ہے ۔ پھر عیساؤ نے  پوچھا کہ کیا میرے  لئے  خیر و برکت سے  کوئی حق باقی ہے ؟

37 اِسحاق نے  کہا”نہیں، میں نے  تجھ پر حکو مت کرنے  کا حق تو یعقوب کو دیا ہے ۔ اور اُس کے  تمام بھائی اُس کے  خادم ہوں گے  میں نے  یہ بات اسے  بتا دی ہے ۔ اور میں نے  اُس کے  لئے  زیادہ سے  زیادہ اناج، دال دانہ، اور انگوری مئے  کو پانے  کی دُعا کی ہے ۔ تب اُس نے  کہا اے  میرے  بیٹے  میں تجھے  کیا دے  سکتا ہوں؟ ”

38 لیکن عیساؤ نے  اپنے  باپ سے  عاجزی کر نا جاری رکھا، ” کیا آپ  کے  پاس صرف ایک ہی دعا ہے ؟ عیساؤ نے  رو نا شروع کر دیا اور کہنے  لگا کہ ابّا جان! میرے  لئے  بھی دُعاء خیر کیجئے ۔ ”

39 تب اِسحاق اس سے  کہنے  لگے ، ” تو اچھّے  علا قے  میں زندگی گزار نہ سکے  گا۔ اور تیرے  لئے  ضرورت کے  مطابق بارش میسر نہ ہو گی۔

40 تو تلوار کی بدولت زندہ رہے  گا۔ اور تُو اپنے  بھائی کا خادم بن کر رہے  گا۔ لیکن جب تم تیاّر رہو گے  تو تم اپنے  آپ  کو اس کی گرفت سے  آزاد کر لو گے ۔ ”

41 اُس دن عیساؤ، یعقوب سے  بحث کرنے  لگا “میرا باپ تو بہت جلد ہی مر جائے  گا۔ اور جب ماتم پر سی کا دن گزر جائے  گا تو اس کے  بعد میں یعقوب کو قتل کر دوں گا۔ ”

42 عیساؤ کی یعقوب کو قتل کرنے  کی بات جب رِبقہ کو معلوم ہو ئی۔ تو اُس نے  یعقوب کو بلا یا اور اُس سے  کہا کہ سن لے  تیرا بڑا بھائی عیساؤ تجھے  قتل کرنا چاہتا ہے ۔

43 اِس وجہ سے  اے  میرے  بیٹے ، تو میرے  کہنے  کے  مطابق کر۔ میرا بھائی لابن، حاران کے  مقام پر سکو نت پذیر ہے ۔ اُس کے  پاس جا کر چھپ جا۔

44 اور اُس کے  پاس ایک مختصر مدت قیام کر۔ اور اپنے  بڑے  بھائی کا غصہ ٹھنڈا ہونے  تک تو اسی کے  پاس رہ۔

45 کچھ وقت گزرنے  پر تیری غلطی کو تیرا بھائی بھُلا دے  گا۔ تب میں وہاں تجھے  بُلانے  کے  لئے  ایک نوکر کو بھیجوں گی۔ اور کہا کہ ایک ہی دن میں تم دونوں کو کھو نا نہیں چاہتی ہوں۔

46 تب ربقہ نے  اسحاق سے  کہا، “میں حتّی عورتوں کے  بیچ رہنے  سے  نفرت کر تی ہوں۔ اگر یعقوب بھی ایسی عورتوں میں سے  کسی سے  شادی کرے  تو میرے  لئے  زندہ رہنے  سے  میرا مرنا ہی بہتر ہو گا۔ ”

 

 

 

 باب:   28

 

 

 

1 اِسحاق نے  یعقوب کو بُلا کر اُس کے  لئے  دُعا دی اور اُس سے  کہا کہ تو کسی کنعانی عورت سے  ہر گز شادی نہ کر نا۔

2 اِس وجہ سے  اِس جگہ کو چھوڑ کر فدّان ارام کو چلا جا وہاں سے  اپنی ماں کے   میکے بیتو ئیل کے  گھر کو چلا جا۔ اور تیری ماں کا بڑا بھائی لابن وہاں پر رہتا ہے ۔ اور وہاں پر اُس کی بیٹیوں میں سے  کسی ایک سے  شادی کر لے ۔

3 خدا قادر مطلق تیرے  حق میں خیر و برکت دے ۔ اور تیری بہت سی اولاد ہو گی اور میں تیرے  لئے  بہت بڑی قوم  کا مُورث اعلیٰ بننے  کی دُعا کروں گا۔

4 جس طرح خدا نے  ابراہیم کے  حق میں خیر و برکت دی تھی ٹھیک اُسی طرح میں  نے بھی تیرے  اور تیری اولاد کے  لئے  دُعا کی اور تیری اِقامت وا لی زمین پر خاص زمین کو حاصل کرنے  کے  لئے  بھی میں دُعا کروں گا۔ خدا نے  ابراہیم کو جو زمین دی ہے  وہ وہی ہے ۔

5 اُسی طرح یعقوب، فدّان ارام پر رِبقہ کے  بڑے  بھائی لابن کے  پاس گئے ۔ جبکہ بیتو ئیل، لابن اور رِبقہ کا باپ ہے ۔ اور رِبقہ، یعقوب اور عیساؤ کی ماں ہے ۔

6 ان کے  باپ اِسحاق نے  یعقوب کو جو دُعا دی، اور شادی کے  لئے  فدّان ارام کو بھیجا اور کنعان کی کسی عورت سے  یعقوب کو شادی نہ کرنے  کا جو حکم دیا یہ سب کچھ عیساؤ کو معلوم ہوا۔

7 اِس کے  علاوہ یعقوب کی  اپنے  ماں باپ کا فرمانبردار ہو کر فدّان ارام کو جانے  کی بات عیساؤ کو معلوم ہو ئی۔

8 عیساؤ کو یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بیٹوں کا کنعانی عورتوں سے  شادیاں رچانا اس کے  باپ کو پسند نہیں۔

9 جبکہ عیساؤ کی فی الوقت دو بیویاں تو تھیں ہی۔ اِسکے  باوجود وہ اِسمٰعیل کے  پاس جا کر اس کی بیٹی مہلت سے  شادی کر لی۔ جبکہ اِسمٰعیل، ابراہیم کا بیٹا ہے ۔ اور مہلت، نبایوت کی بہن ہے ۔

10 یعقوب، بیر سبع کو ترک کر کے  حاران کو چلے  گئے ۔

11 جب یعقوب سفر کر رہے  تھے  تو سورج غروب ہو گیا۔ اِس وجہ سے  یعقوب رات گذار نے  کے  لئے  کسی نا معلوم جگہ چلے  گئے ۔ یعقوب نے  اُس جگہ سے  ایک پتھر لیا اور اُس پر سر رکھ کر سو گئے ۔

12 یعقوب کو ایک خواب نظر آیا۔ اُس خواب میں اُس نے  دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے ۔ اور وہ آسمان کو چھو رہی ہے ۔ اور یعقوب نے  یہ دیکھا کہ خدا کے  فرشتے  اُس سے  اُوپر چڑھتے  اور نیچے  اُترتے  ہیں۔

13 یعقوب نے  خداوند کو سیڑھی کے  ایک سِرے  پر کھڑے  ہوئے  دیکھا اور خداوند نے  اُس سے  کہا، ” میں تیرے دادا ابراہیم کا خداوند خدا ہوں۔ میں اِسحاق کا بھی خدا ہوں۔ اب تو جس خطۂ ارض پر سویا ہوا ہے ۔ وہ ملک میں تجھے  عطا کروں گا۔ میں یہ ملک تجھے  اور تیری اولاد کو دے  رہا ہوں۔

14 زمین پر پائے  جانے  والے  ریت کے  ذرّوں کی طرح تیری بے  شُمار نسل ہو گی۔ اور وہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیل جائے  گی۔ تیری معرفت اور تیری ذریّت و نسل کے  توسط سے  زمین پر بسنے  وا لی تمام قومیں اور ذاتیں فیض و برکت پائیں گی۔

15 ” میں تیرے  ساتھ رہوں گا، اور جہاں کہیں بھی تُو جائے  گا میں تیری حفاظت کروں گا۔ اِس جگہ پر تجھے  پھر دوبارہ لاؤں گا۔ اور کہا کہ میں اُس وقت تک تجھے  چھوڑ کر نہ جاؤں گا جب تک کہ میرا کیا ہوا وعدہ پو را نہ ہو۔ ”

16 تب یعقوب نیند سے  بیدار ہوئے  اور کہا کہ یقیناً اِس جگہ پر خداوند ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ بات مجھے  معلوم نہ تھی۔

17 کہ یعقوب کو ڈر محسوس ہوا تھا۔ اور اُس نے  کہا کہ یہ تو بہت ہی اہم جگہ ہے ۔ اور یہ خدا کا گھر ہے ۔ اور کہا کہ یہ تو جنت کا دروازہ ہے ۔

18 دوسرے  دِن یعقوب صبح سویرے  جلد اٹھے  اور جس پتھر پر تکیہ لگا کر سوئے  ہوئے  تھے  اُس کو اٹھا کر زمین پر ایک کھمبے  کی طرح کھڑا کر دیا۔ پھر اس پتھر پر تیل اُنڈیل دیا۔

19 اُس جگہ کا نام لُوز تھا۔ لیکن یعقوب نے  اُس کا نام بیت ایل رکھا۔

20 تب یعقوب نے  یہ وعدہ کیا کہ خدا میرے  ساتھ رہے  گا، اور میں جہاں جاؤں وہ میری حفاظت کرے  گا اور کھانے  کے  لئے  غذا کا اور پہننے  کے  لئے  کپڑوں کا انتظام کرے  گا۔

21 میں سکون و اطمینان سے  اپنے  باپ کے  گھر کو لوٹ کر واپس آؤں تو خداوند ہی میرا خدا ہو گا۔

22 میں نے  جس پتھر کو کھمبے  کی طرح کھڑا کیا ہے  وہ خدا کا گھر ہو گا۔ اور اِس کے  علا وہ خدا مجھے  جو کچھ بھی عطا کرے  گا، تو اُس کا دسواں حصّہ میں خدا کو دے  دوں گا۔

 

 

 

 

باب:    29

 

 

1 تب پھر یعقوب نے  اپنے  سفر کو جاری رکھا۔ وہ مشرقی سمت میں پائے  جانے  والے  ملک کو چلے  گئے ۔

2 جب یعقوب نے  غور سے  دیکھا تو کھیت میں اُسے  ایک کنواں نظر آیا۔ کنوئیں کے  قریب میں بھیڑوں کے  تین ریوڑ سوئے  ہوئے  تھے ۔ اور اُن بھیڑوں کو اُسی کنوئیں کا پانی پلاتے  تھے ۔ کنوئیں کے  اُوپر بڑا سا چوڑا پتھر رکھا گیا تھا۔

3 بھیڑوں کے  تمام ریوڑ جب جمع ہوتے  تو چرواہے  کنوئیں کے  منھ پر رکھے اُس پتھّر کو لڑھکا دیتے  تھے ۔ تب تمام ریوڑ کنویں کا پانی پیتے  تھے ۔ بھیڑیں جب پانی پی لیتی تھیں تو چرواہے  پھر سے  پتھر کو کنوئیں کے  منھ پر رکھ دیتے ۔

4 یعقوب نے  وہاں پر موجود چرواہوں سے  پو چھا کہ اے  بھائی!تم کہاں کے  رہنے  والے  ہو؟ انہوں نے  جواب دیا کہ ہم حاران کے  رہنے  والے  ہیں۔

5 تب یعقوب نے  ان سے  پو چھا کہ کیا تم نحور کے  بیٹے  لا بن کو جانتے  ہو؟ چرواہوں نے  جواب دیا کہ ہم واقف ہیں۔

6 یعقوب نے  اُن سے  پو چھا کہ کیا وہ خیر و عافیت سے  ہے ؟ اُنہوں نے  جواب دیا کہ ہاں وہ خیریت سے  ہے ۔ وہ دیکھو!اُن بھیڑوں کے  ساتھ آنے  والی اُس کی بیٹی راخل ہی ہے ۔

7 یعقوب نے  اُن سے  کہا کہ دیکھو ابھی دن ہی ہے  رات کے  لئے  بھیڑوں کو ایک جگہ جمع کرنے  کا وقت نہیں ہوا ہے  پانی پلاؤ اور ان کو چراؤ۔

8 ان چرواہوں نے  کہا کہ جب تک بھیڑوں کے  ریوڑ جمع نہ ہوں گے  تب تک ہم کنویں کے  منھ سے  پتھّر کو ہٹا کر ان بھیڑوں کو پانی پِلا نہ سکیں گے ۔ اور کہا  کہ وہ ایک ساتھ جمع ہو کر آئیں تو ہم ان کو پانی پلائیں گے ۔

9 یعقوب جب چرواہوں سے  باتیں کر رہا تھا تو، اپنے  باپ کے  بھیڑوں کے  ساتھ آئی۔ (جبکہ بھیڑوں کی دیکھ بھال و نگرانی راخل کی ذمہ داری تھی )۔

10 راخل، لا بن کی بیٹی تھی اور لابن، یعقوب کی ماں رِبقہ کا بڑا بھائی تھا۔ جب یعقوب نے  راخل کو لا بن کی  بھیڑوں کے  جھنڈ کے  ساتھ دیکھا تو کنوئیں کے  منھ پر سے  پتھر کو ہٹا یا اور لا بن کی بھیڑوں کو پانی پلا یا۔

11 تب یعقوب نے  راخل کو چو ما اور رونے  لگا۔

12 یعقوب نے  راخل سے  کہا کہ وہ اُس کے  باپ کے  خاندان والا اور رِبقہ کا بیٹا ہے ۔ پھر راخل گھر کو دوڑتی ہوئی گئی اپنے  باپ سے  یہ سارا ماجرا کہہ دیا۔

13 لا بن نے  جب اپنی بہن کے  بیٹے  یعقوب کے  بارے  میں سُنا تو ملاقات کے  لئے  دوڑتے  ہوئے  آیا۔ لابن نے  اُس کو گلے  لگایا، پیار کیا اور اسے  گھر کو بلا یا۔ تب یعقوب نے  پیش آئے  ہوئے  تمام واقعات لابن کوسنائے ۔

14 پھر لابن نے  کہا کہ یہ تو بڑے  ہی تعجب کی بات ہے  کہ تو میرے  خاص خاندان کا آدمی  ہے  اِس لئے  یعقوب لابن کے  ساتھ ایک مہینہ کی مدّت تک رہا۔

15 ایک دن لابن نے  یعقوب سے  کہا کہ تو میرے  پاس تنخواہ لئے  بغیر جو کام کرتا ہے  وہ مناسب نہیں ہے ۔ اس لئے  کہ تو میرا عزیز و رشتہ دار ہے  نہ کہ نو کر۔ اور پوچھا کہ میں تجھے  کتنی تنخواہ دوں۔

16 لا بن کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی کا نام لیاہ اور چھوٹی کا نام راخل تھا۔

17 راخل بڑی خوبصورت تھی۔ اور لیاہ کی آنکھیں سنجیدہ اور نرم و نازک تھیں۔

18 یعقوب، راخل سے  محبت کرنے  لگا۔ اور یعقوب نے  لا بن سے  کہا کہ اپنی چھوٹی بیٹی راخل کی شادی اگر مجھ سے  کرا دے  گا تو میں تیرے  پاس سات برس تک نوکری کروں گا۔

19 لابن نے  کہا کہ کسی دوسرے  شخص کا اُس سے  شادی کرنے  سے  پہلے  ہی تیرا اس سے  شادی کر نا اس کے  حق میں بھلا ہو گا۔ اور کہا کہ اس وجہ سے  تو میرے  ساتھ رہ جا۔

20 اس لئے  یعقوب اس کے  ساتھ رہا اور سات برس تک لا بن کی خدمت کی۔ کیونکہ وہ راخل سے  بہت زیادہ محبت کرتا تھا، اس لئے  وہ مدت اس کو بہت کم معلوم ہوئی۔

21 سات برس گزرنے  پر یعقوب نے  لا بن سے  کہا کہ میری  راخل سے  شادی کرا دے ۔ کیونکہ میری مدت ملازمت پوری ہو گئی ہے ۔

22 اس لئے  لابن نے  اس جگہ پر مقامی لوگوں کے  لئے  ایک کھانے  کی ضیافت کا اہتمام کیا۔

23 اس رات لا بن  نے اپنی بیٹی لیاہ کو یعقوب کے  پاس بھیج دیا۔ اور یعقوب اس سے  ہم بستر ہوئے ۔

24 (لابن نے  اپنی خادمہ زلفہ کو اپنی بیٹی کے  لئے  بطور خادمہ عطا کیا )

25 صبح جب یعقوب نے اٹھ کر دیکھا تو اس کے  ساتھ لیاہ تھی۔ یعقوب نے  لا بن سے  کہا، ” تو نے  مجھے  دھو کہ دیا ہے ۔ جبکہ میں نے  راخل سے  شادی کرنے  کے  لئے  بڑی محنت و مشقّت سے  خدمت کی تھی۔ لیکن تو نے  مجھے  کیوں دھو کہ دیا؟ ”

26 لابن نے  کہا، ” ہمارے  ملک میں یہ رواج ہے  کہ بڑی بیٹی کی شادی ہوئے  بغیر چھوٹی بیٹی کی شادی نہیں کی جاتی۔

27 لیکن اس شادی کو ایک  ہفتہ آگے  بڑھا دے  تو میں تیری راخل سے  بھی شادی کر دوں گا۔ بشرط یہ کہ اگر تو مزید سات برس تک میری خدمت کرے ۔ ”

28 یعقوب نے  یوں ہی ایک ہفتہ گزارا۔ تب لابن نے  اپنی بیٹی راخل کے  ساتھ اس کی شادی کر دی۔

29 (لابن نے  اپنی خادمہ بلہاہ کو اپنی بیٹی راخل کے  لئے  بطور خادمہ دے  دیا۔ )

30 یعقوب راخل سے  بھی ہم بستر ہوئے  اور اس نے  راخل سے  محبت کی۔ جس کی وجہ سے  وہ مزید سات برس تک لا بن کی خدمت کرنے  لگے ۔

31 خداوند نے  دیکھا کہ لیاہ سے  نفرت کی گئی۔ اس لئے  خداوند نے  لیاہ کی گود اولاد والی بنا دی لیکن راخل کو بانجھ بنا دیا۔

32 لیاہ نے  ایک بچے  کو جنم دیا۔ اور اس نے  اپنے  آپ  میں کہا کہ خداوند نے  میرے  دکھ درد کو محسوس کیا۔ اور میرا شوہر مجھ سے  محبت نہیں کرتا ہے ۔ کم سے  کم اب وہ مجھ سے  محبت کرے  گا۔ یہ کہتے  ہوئے  اس نے  اپنے  بیٹے  کا ” رو بن ” نام رکھا۔

33 لیاہ پھر حاملہ ہوئی اور مزید ایک بچے کو جنم دیا۔ اس نے  کہا، “خداوند نے  یہ سمجھا کہ مجھ سے  نفرت کی جا رہی ہے  اس لئے  اس نے  مجھے  ایک اور بیٹا دیا ہے  اور اس کا نام اس نے  ” شمعون ” رکھا۔ ”

34 لیاہ پھر سے  حاملہ ہوئی اور ایک بیٹا جنم دیا۔ اور وہ اپنے  آپ  میں کہنے  لگی، ” یقیناً اب میرا شو ہر مجھ سے  محبت کرے  گا۔ کیونکہ میں نے  اس کو تین بیٹے  دئیے ہیں۔ اس لئے  اس نے  اس کا نام “لا وی ” رکھا۔ ”

35 پھر لیاہ  نے ایک اور بیٹے  کو جنم دیا۔ لیاہ نے  اپنے  آپ  میں کہا کہ اب تو میں خداوند کی تمجید بیان کروں گی۔ یہ کہتے  ہوئے  اس نے  اس بچہ کا نام ” یہوداہ” رکھا۔ پھر اس کے  بعد لیاہ کو بچہ ہونے  کا سلسلہ بند ہو گیا۔

 

 

 

 

 

باب:    30

 

 

 

1 جب راخل  نے  دیکھا کہ وہ یعقوب کے  لئے  بچہ پیدا نہ کر سکی تو اپنی بڑی بہن لیاہ سے  حسد کرنے  لگی۔ اس لئے  اس نے  یعقوب سے  کہا، ” مجھے  اولاد دے  ور نہ میں مر جاؤں گی۔ ”

2 یعقوب کو راخل پر غصّہ آیا۔ اس نے  اس سے  کہا کہ میں تو خدا نہیں ہوں۔ وہ تو خدا ہی ہے جس نے  تجھے  اولاد سے  محروم رکھا ہے ۔

3 تب راخل نے  کہا کہ تو میری خاد مہ بلہاہ کولے  لے ۔ اور اُس کے  ساتھ ہم بستر ہو۔ اور وہ میرے  لئے  ایک بچہ جنے  گی۔ تب میں اُس کے  ذریعے  ماں بن جاؤں گی۔

4 اس  کہنے  کے  مطابق راخل نے  بلہاہ کو اپنے  شوہر یعقوب کے  حوالے  کیا۔ اور یعقوب بلہاہ سے  ہم بستر ہوئے ۔

5 بِلہاہ حاملہ ہوئی اور یعقوب کے  لئے  ایک بیٹے  کو جنم دیا۔

6 راخل نے  کہا کہ خدا نے  میری دُعا کو قبول کر کے  مجھے  ایک بیٹا دینے  کا فیصلہ کیا ہے ۔ اور اُس نے  اُس بچے  کا نام دان رکھا۔

7 بِلہاہ دوبارہ حاملہ ہو ئی اور  یعقوب کو دوسرا بچہ دیا۔

8 راخل نے  کہا “میں نے  اپنی بڑی بہن کے  ساتھ جد و جہد کی تھی اور میں جیت گئی تھی”اس لئے  اس بچے  کا نام “نفتالی “رکھا۔

9 لیاہ نے  دیکھا کہ اب وہ اور بچہ نہیں جن سکتی اس لئے  اُس نے  اپنی  خادمہ زِلفہ کو یعقوب کی خدمت میں پیش کر دیا۔

10 زِلفہ سے  ایک بچہ پیدا ہوا۔

11 لیاہ نے  اپنے  آپ  کو بہت خوش نصیب سمجھ کر اس بچے  کا نام جاد رکھا۔

12 زلفہ نے  ایک اور بچے کو جنم دیا، تو لیاہ نے  کہا کہ میں قابل مبارک باد ہوں۔

13 لیاہ بولی، ” میں بہت خوش ہوں۔ ” یہ کہتے  ہوئے  اس نے  اس بچہ کا نام آشر رکھا۔

14 گیہوں کی فصل کی کٹائی کے  زمانے  میں رو بن جب کھیت کو گیا تو ایک خاص قسم کا پودا مُردم گیاہ دیکھا۔ روبن وہ مُردم گیاہ اپنی ماں لیاہ کیلئے  لا یا۔ راخل نے  لیاہ سے  کہا کہ برائے  مہربانی اپنے بیٹے   کے  لائے  ہوئے  مُردم گیاہ میں سے  کچھ مُردم گیاہ مجھے  بھی دے  دے ۔

15 لیاہ نے  کہا، “تو نے  تو میرے  شوہر کو اپنے  قابو میں کر لیا ہے ۔ اور اِن مُردم گیاہ کو بھی نکالنے  کی کو شش کر رہی ہو جو کہ میرے  بچے  لائے  ہیں۔ راخل نے  کہا کہ تیرا بچہ جو مُردم گیاہ لایا ہے  اگر وہ مجھے  دے  دے  تو آج کی رات تو یعقوب کے  ساتھ سو سکتی ہے ۔

16 اس رات یعقوب کھیت سے  آ گئے ۔ اس کو دیکھتے  ہی لیاہ اس سے  ملنے  کے  لئے  دوڑی۔ اس نے  کہا، “آج کی رات تو میرے  ساتھ ہم بستر ہو گا۔ اور میرابیٹا  جو مُردم گیاہ لا یا تھا ان کو میں نے  تیرے  لئے  دے  دیا ہے ۔ “جس کی وجہ سے  اس رات یعقوب لیاہ کے  ساتھ ہم بستر ہوئے ۔

17 خدا کا یہ فضل ہوا کہ لیاہ پھر دوبارہ حاملہ ہو ئی۔ اور اپنے  پانچویں بیٹے  کو جنم دیا۔

18 لیاہ نے  کہا کہ خدا نے  مجھے  ایک انعام دیا ہے ۔ کیونکہ میں نے  اپنی لونڈی کو اپنے  شوہر کے  حوالے  کیا ہے ۔ اس لئے  اس نے  اس بچہ کا نام اشکار رکھا۔

19 لیاہ پھر حاملہ ہوئی اور چھٹے بچے  کو جنم دیا۔

20 لیاہ نے  کہا کہ خدا نے  مجھے  ایک بہت ہی عمدہ قسم کا انعام دیا ہے ۔ ایسی صورت میں تو یعقوب یقیناً مجھے  قبول کرے  گا۔ اس لئے  کہ میں نے  چھ بیٹوں کو اس کی گود میں ڈال دیا ہے ۔ یہ کہتے  ہوئے  اس نے  اس کا نام ” زبولون” رکھا

21 تب پھر لیاہ نے  ایک لڑ کی کو جنم دیا۔ اور اس نے  اپنی لڑکی کا نام دینہ رکھا۔

22 پھر خدا نے  راخل کی بھی دعا کو قبول کرتے  ہوئے  اس پر ماں بننے  کا فضل کیا۔

23 راخل نے حاملہ ہو کر ایک بیٹے  کو جنم دیا۔ پھر راخل نے  کہا کہ خدا نے  میرے  نصیب میں جو ذلّت و رسوائی رکھی تھی اس کو دور کر دیا ہے ۔ اور مجھے  امید ہے  کہ خداوند مجھے  دوسرا بیٹا دے  گا۔ “اس لئے  اس نے  اس بچے  کا نام “یوسف ” رکھا۔

24 25 یوسف جب پیدا ہوئے  تو یعقوب نے  لا بن سے  کہا کہ اب مجھے  میرے  خاص گھر کو جانے  کی اجازت دے

26 میری بیویوں اور میرے  بچوں کو مجھے  دے  دے ۔ میں نے  تمہارا کام کر کے  ان کو کما لیا ہے ۔ اور کہا کہ میں نے  تیری بہت اچھی طرح خدمت کی ہے  جس کو تو اچھی طرح جانتا ہے ۔

27 لابن نے  اس سے  کہا کہ میں جو کہتا ہوں وہ سُن لے ۔ تیری خاطر اپنے  اوپر خداوند کے  فضل و کرم کو میں خوب جانتا ہوں۔

28 بتاؤ کہ میں تجھے  کیا معاوضہ دوں؟ اور کہا کہ تو جو کہے  گا وہ میں تجھے  ادا کروں گا۔

29 یعقوب نے  کہا کہ میں   نے جس محنت و مشقت سے  کام کیا ہے وہ تجھے  اچھی طرح معلوم ہے ۔ اور یہ کہ میں نے  تیری بھیڑوں کے  ریوڑ کی نگہداشت کی ہے  جس کی وجہ سے  ان میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔

30 میں جب آیا تھا تو تیرے  پاس تھوڑا تھا۔ اور اب تیرے  پاس بہت زیادہ ہے ۔ اور میں نے  تیرے  لئے  جو مشقّت اٹھائی ہے  خداوند نے  اس میں برکت دی۔ اب وقت آ گیا ہے  کہ میں اپنے  خاندان کے  لئے  کام کروں۔ اور کہا کہ یہ وقت میرے  اپنے  گھر بنانے  کا ہے ۔

31 لابن نے  پوچھا کہ اگر یہی بات ہے  تو پھر میں تجھے  کیا دوں؟ یعقوب نے  جواب دیا کہ تجھ سے  میں کچھ نہیں مانگتا (میں نے  جو مشقّت اٹھائی ہے  اس کا تو معاوضہ دے  دے  تو کافی ہے  ) بس ایک کام کر دے  میں واپس جا کر تیری بھیڑوں  کی نگرانی کروں گا۔

32 میں تیرے  بھیڑوں کے  جھنڈ میں جاؤں گا ہر ایک بھیڑ یا بکری جو داغدار یا دھبّہ دار ہو، اور ہر وہ ایک میمنہ جو کا لے  رنگ کا ہو میں انہیں لے  لوں گا۔ یہی میری اجرت ہو گی۔

33 آنے  والے  دِنوں میں جب تو آ کر آزمائے  گا کہ میں سچا ہوں یا نہیں، تو اس بات کو بخوبی جان لے  گا۔ اور کہا کہ اگر میرے  پاس کوئی بکری داغدار نہیں ہو گی یا کوئی کا لی نہیں ہو گی تو مجھے  چُرا لینے والوں   میں شُمار کر۔

34 لابن نے  یہ بات تسلیم کر لی۔ اور کہا کہ تیرے  کہنے  کے  مُطابق ہم کریں گے ۔

35 اُس دِن لابن نے  تمام داغدار اور دھاری والے  بھیڑوں اور بکریوں کو الگ کیا۔ اور اپنے  بیٹوں کو کہا کہ اُن بھیڑوں کا خیال رکھو۔

36 اِس وجہ سے  اُن کے  لڑ کے  اُن داغدار بھیڑوں کولے  کر دوسری جگہ مُنتقل ہو گئے ۔ اور وہ مسلسل تین دن تک سفر کرتے  رہے ۔ اور یعقوب وہیں پر رہ کر بچی ہوئی تمام بھیڑوں کی نگرانی کرنے  لگا۔

37 یعقوب نے  بادام اور چِنار کے  درختوں سے  ہری شاخیں کاٹ لی۔ اور اُن پر سے  چھلکا چھیل دیا۔ اس لئے  ان چھڑیوں ( شاخوں ) پر سفید دھاریاں نظر آنے  لگی۔

38 یعقوب نے  اُن چھڑ یوں کو ریوڑ کے  سامنے  پانی پینے  کی جگہ رکھ دیا۔ جب جانور پانی پینے  کے  لئے  اُس جگہ پر آتے  تھے  اور اپنی جنسی بھوک کو پورا کرتے  تھے ۔

39 جب بکریاں اُن چھڑیوں کے  سامنے  ایک دوسرے  سے  اپنی جنسی بھوک کو مٹاتیں تو اُن سے  پیدا ہونے  والے  تمام بچے  داغدار، دھاری دار یا دھبے  دار ہوتے  تھے ۔

40 یعقوب نے  داغ دھبوں والے  اور کالے  بھیڑ بکریوں کو ریوڑ کے  دیگر بھیڑ بکریوں سے  الگ کر دیا۔

41 طاقتور بھیڑ بکریوں میں جب جنسی ملاپ ہوتا تو یعقوب اُن چھڑیوں کو ان کی نظروں کے  سامنے  رکھ دیتا تھا۔ اور وہ اُن چھڑیوں سے  قریب جنسی ملاپ کرتے  تھے ۔

42 لیکن جب کمزور قسم کے  آپس میں جنسی ملاپ کرتے  تو یعقوب اُن چھڑیوں کو وہاں پر نہ رکھتا تھا۔ تاکہ اُن کمزور جانوروں سے  پیدا ہونے  والے  بچے  لابن کے  لئے  ہوں گے ۔ اور طاقتور بھیڑ بکریوں سے  پیدا ہونے  والے  بچے  یعقوب کے  لئے  ہوں گے ۔

43 اس طرح یعقوب بہت ہی ا میر اور دولتمند ہوا۔ اور اُس کے  پاس بڑے  بڑے  ریوڑ، کئی نوکر اور اس کے  علاوہ اُونٹ اور گدھے  بھی تھے ۔

 

 

 

 

 

باب:    31

 

 

 

1 ایک مرتبہ لابن کے  لڑکوں کی گفتگو  یعقوب نے  سُن لی۔ اور انہوں نے  کہا کہ ہمارے  باپ کی ہر چیز کو یعقوب لے  کر دولتمند بن گیا ہے ۔ اور وہ یہ کہہ رہے  تھے  کہ اس نے ہمارے  باپ کی ساری دولت کو نکال لیا ہے ۔

2 لابن کے پہلے  کی طرح محبت و دوستی کے  ساتھ نہ رہنے  کی وجہ پر بھی یعقوب غور کرنے  لگا۔

3 خداوند نے  یعقوب سے  کہا، ” تو اپنے  اُس وطن کو جس میں تیرے  آبا ء و اجداد رہتے  تھے  چلا جا۔ اور میں تیرے  ہی ساتھ رہوں گا۔ ”

4 اس وجہ سے  یعقوب نے  راخل اور لیاہ سے  کہا کہ اپنی بھیڑ بکریاں جس کھیت میں چرتی ہیں وہاں آ کر مجھ سے  ملاقات کریں۔

5 یعقوب نے  راخل اور لیاہ سے  کہا کہ تمہارے  باپ کی مجھ سے  ناراض رہنے  کی بات کو میں نے  محسوس کیا ہے ۔ پہلے  تو وہ میرے  ساتھ دوستی و محبت سے  تھا۔ لیکن اب اُس کے  پاس دوستی باقی نہ رہی۔ پھر بھی میرے  باپ کا خدا تو ضرور میرے  ساتھ ہے ۔

6 تم دونوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے  کہ میں نے  تمہارے  باپ کے  لئے  ممکنہ کوشش اور محنت کی ہے ۔

7 لیکن تمہارے  باپ نے  میرے  ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ اور تمہارے  باپ نے  تو میری تنخواہ کو دس مرتبہ بدل دیا ہے ۔ لیکن اُن تمام موقعوں پر خدا نے  لابن کے  تمام مکر و فریب سے  مجھے  بچا لیا ہے ۔

8 ” اگر لابن نے  کہا کہ میری اجرت داغدار جانور ہی ہو گا تب تمام جانور داغدار ہی پیدا ہونے  لگے ۔ اگر لابن نے  کہا کہ میری اجرت دھاری والے  جانور ہوں گے  تو سارے  جانور دھاری والے  ہی پیدا ہوئے ۔

9 اِس طرح خدا نے  تمہارے  باپ سے  بھیڑ بکریوں کو نکال کر وہ سب مجھے  دے  دیا۔

10 ” جانور جب آپس میں ایک دوسرے  سے  مل رہے  تھے  تو مجھے  ایک خواب آیا۔ جس میں میں نے  دیکھا کہ بکرے  صرف داغدار اور دھاری والے  بکریوں سے  مل رہے  تھے ۔

11 فرشتہ خواب میں میرے  ساتھ بات کرتے  ہوئے  پکار ا کہ اے  یعقوب! میں نے  جواب دیا، “میں حاضر ہوں۔ ”

12 فرشتے  نے  مجھ سے  کہا ” دیکھ، داغدار اور دھاری والے  بھیڑ بکریاں ہی آپس میں ایک دوسرے  سے  مل رہے  ہیں۔ اور اُن کو ایسا کرنے  کا میں نے  ہی انتظام کیا ہے ۔ اور لابن کے تجھ سے  کئے  جانے  والے  سارے  معاملے  کو میں دیکھ چکا ہوں۔

13 بیت ایل میں تیرے  پاس جو خدا آیا تھا وہ میں ہی ہوں۔ اُس جگہ پر تو نے  ایک پتھر کا کھمبا کھڑا کیا تھا۔ تو نے  اس پتھر پر زیتون کا تیل اُنڈیل کر مجھ سے  ایک وعدہ کیا تھا۔ اور اب تو اپنے  پیدائشی وطن کو واپس جاؤ جہاں پر تم پیدا ہوئے  تھے ۔ ”

14 راخل اور لیاہ نے  یعقوب سے  کہا کہ ہمارے  باپ کے  جب مرنے  کا وقت آیا تو ہم لوگوں کو دینے  کے  لئے  اُس کے  پاس کچھ نہ رہا۔ اس نے  ہم لوگوں کے  ساتھ ایسا بر تاؤ کیا جیسا کہ تیرے  پاس لوگ اجنبی ہیں اس نے  ہمیں تجھ کو بیچ دیا ہے ۔

15 اور وہ  ساری دولت کو صرف اپنے  استعمال میں لا یا ہے ۔

16 اور خدا نے  ساری دولت کو ہمارے  باپ سے  چھین لیا ہے ۔ اب وہ ہمارے  اور ہماری اولاد کے  حق میں ہوئی ہے ۔ اس لئے  انہوں نے  کہا کہ خدا نے  تجھے  جیسا کہا ہے  ویسا ہی کر۔

17 جس کی وجہ سے  یعقوب نے  اپنے  سفر کی تیاری کی اُس نے  اپنی نرینہ اولاد اور اپنی بیویوں کو  اُونٹوں پر بٹھا یا۔

18 تب پھر وہ سب کے  سب، یعقوب کے  باپ کی قیام پذیر جگہ کنعان کی جانب سفر کرنے لگے ۔ اور یعقوب نے  جن بھیڑ بکریوں کے  ریوڑ کو پا یا تھا وہ سب اُن کے  سامنے  چلنے  لگے ۔ جب وہ فدّان ارام میں جن جن چیزوں کا مالک تھا اُن سب کو وہ لے  گئے ۔

19 اس وقت لا بن اپنی بھیڑوں کا اون کترنے  کے  لئے  گیا تھا۔ جب وہ موجود نہ تھا تو راخل اس کے  گھر میں داخل ہوئی اور اپنے  باپ کے  اہل خانہ کے  خداؤں کے  مجسمے  کو چرا لیا۔

20 ارامی لا بن کو یعقوب نے  دھو کہ دیا۔ اور اپنے  جانے  کی بات یعقوب نے  اسے  نہ بتا ئی۔

21 یعقوب نے  اپنے  سارے  گھرانے  کو ساتھ لیا، اور اپنی جائیداد میں سے  ہر چیز کو لیا، اور وہاں سے  جلد ہی روانہ ہوئے ۔ ان  لوگوں نے  یوفریتس ندی کو پار کیا  اور پہاڑی حدود سے  جِلعاد ملک کی سمت میں سفر جاری رکھا۔

22 یعقوب کے  وہاں سے  بھاگ جانے  کی بات لا بن کو تیس دن کے  بعد معلوم ہو ئی۔

23 اس وجہ سے  لابن نے  اپنے  لوگوں کو ساتھ لے  کر یعقوب کا تعاقب کیا۔ سات دن گزرنے  کے  بعد لابن نے  یعقوب کو جلعاد کے  پہاڑی ملک میں پکڑا۔

24 اُس رات خدا لا بن کو خواب میں یہ کہتے  ہوئے  دکھائی دیا، ” تم جو کچھ کہو اس میں ہوشیاری بر تو۔ ”

25 دوسرے  دن صبح لا بن یعقوب سے  ملا۔ اور یعقوب نے  پہاڑ کے  اوپر اپنا خیمہ لگا رکھا تھا۔ لا بن اور اُس کے  تمام لوگوں نے  بھی جلعاد کے  پہاڑی ملک میں اپنے  خیمے  لگائے ۔

26 لابن نے  یعقوب سے  کہا کہ تو نے  مجھے  کیوں دھو کہ دیا؟ اور جنگ میں عورتوں کو قید کئے  جانے  کی طرح تُو نے  میری لڑکیوں کو کیوں بُلا یا؟

27 تُو مجھ سے  کہے  بغیر کیوں بھاگ آ یا؟ اگر تم نے مجھ سے  پو چھا ہوتا تو میں تیرے  لئے  ایک ضیافت کا اِنتظام کر تا۔ اور جہاں پر گانا، ناچ، اور ساز و باجا کی محفل سجی ہو تی۔

28 میرے  نواسوں سے  پیار کرنے ، اور بیٹیوں کو وداع کرنے  کا  تُو نے  مجھے  موقع ہی نہ دیا۔ اور اپنی نادانی کی وجہ سے  تو نے  ایسا کیا ہے ۔

29 تجھے  بر باد کرنے  کے  لئے  میرے  پاس حوصلہ اور طاقت ہے ۔ لیکن گزشتہ رات تیرے  باپ کا خدا مجھے  خواب میں نظر آیا اور مجھے  کہا کہ میں تجھے  جو کچھ بھی کہوں اس میں ہوشیاری بر تو ں۔

30 تیری اپنے   گھر واپس لوٹ جانے  کی خواہش کو میں جانتا ہوں۔ اِس وجہ سے  تو لوٹ آیا ہے ۔ لیکن تو  میرے  خداؤں کو کیوں چُرا لایا ہے ؟

31 یعقوب نے  کہا کہ میں تجھ سے  کہے  بغیر ہی لوٹ کر آیا ہوں۔ کیونکہ مجھے  خوف لا حق ہوا۔ میں نے  سوچا کہ تو اپنی بیٹیوں کو مجھ سے  چھین لے  گا۔

32 لیکن میں نے  تو تیرے  خداؤں کو نہیں چُرایا ہے ۔ کوئی بھی شخص جس نے  اُسے  چرایا ہے ، اور اگر وہ یہاں ہے  تو اس کو قتل کر دیا جائے  گا۔ اور تیرے  لوگ ہی میرے  گواہ کے  لئے  کافی ہے ۔ اور تیرے  متعلق کوئی ایسی بات ہے  تو تُو ہی غور کر۔ اگر تیرا کوئی سامان ہے  تو خود ہی دیکھ لے ۔ لا بن کے  خداؤں کیمورتیاں راخل نے  چُرائی تھیںلیکن یعقوب کو اس بات کا بالکل  علم نہ تھا۔

33 جس کی وجہ سے  لابن نے  یعقوب اور لیاہ کے  خیمے  میں تلاش کیا۔ پھر اُس خیمے  میں جس میں دونوں خادمہ تھیں ڈھونڈنے  لگا، وہاں پر بھی اُس کو مورتیاں نہ ملیں۔ وہاں سے  راخل کے  خیمے  کو چلا گیا۔

34 راخل اُن مورتیوں کو اپنی اُونٹ کی زین میں رکھ کر اُس پر بیٹھ گئی۔ لیکن خیمے  کو پوری طرح تلاش کرنے  کے  با وجود بھی لا بن اپنے  خداؤں کی مورتیوں کو نہ پا سکا۔

35 تب راخل نے  اپنے  باپ سے  کہا کہ اے  میرے  باپ مجھ پر غصّہ نہ ہو۔ تیرے  سامنے  میرا اٹھ کھڑا ہو نا ممکن نہیں اور کہا کہ میں اِن دنوں حیض سے  ہوں۔ چونکہ لابن پوری تلاشی کے  باوجود اپنے  مورتیوں کو پانے  سے  قاصر رہا۔

36 تب یعقوب غضب آلود ہوا اور کہا کہ مجھ سے  کیا غلطی سرزد ہوئی ہے ، اور کس قانون کی میں نے  خلاف ورزی کی ہے ، اور میرا پیچھا کرتے  ہوئے  آ کر تجھے  روکنے  کا کیا اختیار ہے ؟

37 میرے  پاس کی ہر چیز کو تلاش کرنے  کے  با وجود تجھے  تیری مطلوبہ کوئی چیز نہیں ملی۔ اگر تجھے  کوئی ایسی چیز ملی ہے  تو بتا دے ۔ اور اگر ہو تو اس کو ایسی جگہ رکھ کہ میرے  تمام لوگ دیکھیں۔ اور ہم میں سے  کون صحیح ہیں اس بات کا فیصلہ تو ہمارے  لوگ ہی کریں گے ۔

38 میں تو تیرے  لئے  بیس سال محنت کرتا رہا۔ اس دوران کوئی بھیڑ بکری کا بچہ بوقت باب:   نہیں مرا۔ اور تیرے  ریوڑ کے  کسی مینڈھے  کو میں نے  نہیں کھا یا۔

39 جب کبھی کوئی درندہ کسی بکری کو پھاڑ ڈالتا تھا تو اس کے  بدلے  میں اپنی بکری تجھے  دیتا تھا۔ مرے  ہوئے  چو پائے  کو تیرے  سامنے  لا کر میں نے  تجھ سے  یہ نہ کہا کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے ۔ چوری رات میں ہو کہ دن میں چُرائے  گئے  چوپائے  کے  عوض تو نے  مجھ سے  اس کا جرمانہ وصول کیا۔

40 دن میں سورج کی تمازت سے  میں نے  اپنی قوت کو کمزور کیا۔ اور رات میں جاڑوں کی وجہ سے  میری نیند بھی نہ پوری ہو تی تھی۔

41 میں نے  بیس سال تک بحیثیت نوکر تیری خدمت کی ہے ۔ ابتدائی چودہ بر سوں میں تیری دونوں بیٹیوں کو پانے  کے  لئے  محنت کی ہے ۔ اور آخری چھ بر سوں میں تیری بھیڑ بکریوں کو پانے  کی خاطر محنت کی ہے ۔ اور اس دوران تو میرے  معاوضہ کو دس مرتبہ بدلتا رہا۔

42 لیکن میرے  آباء و  اجداد کے  خدا، ابراہیم کا خدا، وہ خدا جس سے  اسحاق ڈرتا ہے ، جو میرے  ساتھ تھا۔ اگر خدا میرے  ساتھ نہ ہوتا تو تُو مجھے  خالی ہاتھ ہی لوٹا دیتا۔ لیکن میری تکالیف کو اور میرے  کاموں کو خدا نے  دیکھ لیا۔ اور کہا کہ گزشتہ رات خدا نے  تجھے  بتا دیا ہے  کہ میں خطا کار نہیں ہوں۔

43 لابن نے  یعقوب سے  کہا کہ یہ عورتیں میری بیٹیاں ہیں اور یہ سب بچے  میرے  ہیں۔ اور یہ چوپائے  میرے  ہیں۔ اور تو یہاں جن تمام چیزوں کو دیکھتا ہے  وہ سب میری ہیں۔ لیکن اب یہاں کوئی ایسی چیز نہیں کہ میں اپنی بیٹیوں اور ان کے  بچے  کے  لئے  کچھ کر سکوں۔ ۔

44 اس لئے  میں تیرے  ساتھ ایک معاہدہ کرنے  کو تیار ہوں اور ہم لوگوں کو اس معاہدے  کے  لئے  گواہ کی ضرورت ہے ۔

45 ٹھیک اُسی طرح یعقوب نے  ایک بڑا سا پتھّر لا یا اور اسے  ایک کھمبا کی طرح کھڑا کر دیا۔

46 اس نے  اپنے  لوگوں کو مزید پتھر لا کر اس کا ڈھیر لگانے  کے  لئے  کہہ دیا۔ تب انہوں نے  پتھروں کی اس ڈھیر کے  پاس کھا نا کھا یا۔

47 لا بن نے  اس جگہ کا نام یحبرشاہ دوت رکھا۔ لیکن یعقوب نے  اس جگہ کو جلعید کا نام دیا۔

48 لابن نے  یعقوب سے  کہا کہ یہ پتھروں کے  ڈھیر ہم دونوں کو ہمارا معاہدہ یاد دلائیں گے ۔ جس کی وجہ سے  یعقوب نے  اس جگہ کو جلعید کا نام دیا۔

49 لابن نے  کہا کہ اگر ہم آپس میں ایک دوسرے  سے  الگ ہو جائیں تو خداوند ہی ہم لوگوں پرنگاہ رکھے ۔ اس وجہ سے  اس جگہ کا نام مِصفاہ رکھا گیا۔

50 تب لابن نے  کہا کہ اگر تو میری بیٹیوں کو تکلیف دے  گا تو تُو یاد رکھ کہ خدا تجھے  سزا دے  گا۔ اور اگر تو غیر عورتوں سے  شادی کرے  گا تو یاد رکھ خدا تجھے  دیکھ رہا ہے ۔

51 اپنے  درمیان میں نے  جن پتھروں کو رکھا ہے  وہ یہاں ہیں۔ ہم لوگوں نے  جو معاہدہ کیا ہے  اس بات کی نشاندہی کرنے  والا خصوصی پتھر یہاں ہے ۔

52 یہ پتھروں کا ڈھیر اور یہ خصوصی پتھر ہمارے  معاہدہ کو یاد دلانے  کے  لئے  ہم دونوں کی مدد کرتا ہے ۔ میں تیرے  خلاف لڑنے  کے  لئے  ان پتھروں کو عبور کر کے  نہ آؤں گا۔ اور تو میرے  خلاف ان پتھروں کو پار کر کے  مجھ تک نہ آنا۔

53 اگر ہم نے  اِس معاہدہ کو توڑ ڈالا تو ابراہیم کا خدا، نحور کا خدا، اور ان کی نسلوں کا خدا قصور وار کا انصاف کرے ۔ اسی طرح یعقوب نے  بھی اس خدا کے  نام پر وعدہ کیا جس سے  اسحاق ڈر گیا تھا۔

54 تب یعقوب نے  ایک جانور کو ذبح کیا اور  اس پہاڑ پر قربانی کی نذر کی۔ اور اپنے  لوگوں کو دعوت میں مدعو کیا۔ وہ کھا نا کھانے  کے  بعد اس رات کو وہیں پر قیام کیا۔

55 دوسرے  دن صبح لابن نے  اپنے  نواسوں اور بیٹیوں کو بوسہ دیا اور ان کو  دعا دیتے  ہوئے  الوداع کہا اور اپنے  گھر کو واپس چلا گیا۔

 

 

 

 

 

باب:    32

 

 

 

1 یعقوب جب وہاں سے  نکل کر سفر کر رہا تھا تو اُس نے  فرشتوں کو دیکھا۔

2 اس لئے  اُس نے  کہا کہ یہ خدا کی چوکی ہے  اور اُس نے  اُس کا نام محنایم رکھا۔

3 یعقوب کا بڑا بھائی عیساؤ شعیر نام کے  مقام پر سکونت پذیر تھا۔ اور یہ جگہ ادوم نام کے  ملک میں تھی۔ یعقوب نے  اپنا پیغام رساں کو اپنے  آگے  عیساؤ کے  پاس بھیجا۔

4 اس نے  ان کو حکم دیا کہ عیساؤ کو کہنا، ” تمہارا نوکر یعقوب کہتا ہے ، “میں لابن کے  ساتھ رہ چکا ہوں۔ ‘

5 میرے  پاس بہت سے  چوپائے ، گدھے ، بھیڑ بکریاں اور نو کر چاکر اور خادمہ ہیں۔ اور کہا کہ اے  میرے  آقا تم کو ہمیں قبول کرنا ہی ہو گا اور میں اِس بات کی منت کر رہا ہوں۔

6 قاصد یعقوب کے  پاس لوٹ کر آئے ، اور کہے  کہ ہم تیرے  بڑے  بھائی عیساؤ کے  پاس گئے ۔ اور وہ تجھ سے  ملاقات کے  لئے  آ رہا ہے ۔ اور کہا کہ اُس کے  سا تھ چارسو آدمی  ہیں۔

7 یعقوب کو خوف ہوا۔ اُس نے  اپنے  ساتھ جو لوگ تھے  اُن کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا۔

8 اس کی یہ تدبیر تھی کہ اگر کسی وجہ سے  عیساؤ آ کر ایک گروہ کو تباہ کر دے  تو دوسرا گروہ بھاگ کر اپنے  آپ  کو بچا لے  گا۔

9 یعقوب نے  کہا کہ میرے  باپ ابراہیم کے  خدا میرے  باپ اِسحاق کے  خدا اے  خداوند تو نے  مجھے  اور میرے  خاندان سے  کہا تھا کہ اپنا وطن واپس جاؤ۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ تو میرے  ساتھ بھلائی کرو گے ۔

10 تُو نے  تو مجھے  بہت وفاداری دکھائی ہے ۔ اور تُو نے  میرے  ساتھ بہت سے  بھلائی کے  کام کئے  ہیں۔ حالانکہ میں اس لائق نہیں ہوں۔ پہلی مرتبہ میں  جب یردن ندی کے  پار سفر کر رہا تھا تو میرے  ساتھ صرف میری لا ٹھی کے  سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن میرے  پاس اب اتنا زیادہ ہے  کہ میں دو گروہ بنا سکتا ہوں۔

11 میں تجھ سے  منت کرتا ہوں کہ تُو مجھے میرے  بھائی عیساؤ سے  بچا لے ۔ ہمیں ڈر ہے  کہ وہ شا ید ہم سب کو یہاں تک کہ ماؤں کو ان کے  بچے  سمیت مار ڈالے ۔

12 تو نے مجھ سے  وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے  ساتھ بھلائی کروں گا۔ میں تیرے  قبیلہ کو بڑھاؤں گا اور تیری اولاد کی تعداد کو سمندر کی ریت کی مانند اضافہ کروں گا۔ اور ان کی تعداد اتنی ہو گی کہ حساب و گنتی نا ممکن ہو گی۔

13 یعقوب نے  اُس رات وہیں پر قیام کیا اور عیساؤ کو تحفے  میں چند چیزیں دینے  کے  لئے  تیاری کرنے  لگا۔

14 یعقوب نے  دو سو بکریاں، بیس بکرے ، دو سو بھیڑیں اور بیس مینڈھے    لیے ۔

15 یعقوب تیس اُونٹنیاں، ان کے  بچے ، چالیس گائیں اور دس بیل،  بیس گدھیاں، اور دس گدھے  ساتھ لیے ۔

16 یعقوب نے  جانوروں کے  ہر ایک ریوڑ کو اپنے  نوکروں کی تحویل میں دیا۔ تب یعقوب نے  نوکروں سے  کہا کہ جانوروں کو گروہوں میں الگ الگ کرو اور میرے  آگے چلتے   جاؤ، اور کہا کہ ہر ایک گروہ کے  درمیان کچھ فاصلہ رہے ۔

17 یعقوب نے  اُن کو ہر ایک کی ذمّہ داری سے  وا قف کرایا۔ یعقوب نے  جانوروں کے  پہلے  گروہ کے  نوکر سے  کہا کہ میرا بھائی عیساؤ تیرے  پاس آئے  گا اور پوچھے  گا کہ یہ کس کے  جانور ہیں؟ اور تو کہاں جا رہا ہے ؟ اور تو کس کا نو کر ہے ؟

18 اُس نے  پھر کہا، ‘ تب تو کہنا کہ جانور تو تیرے  خادم یعقوب کے  ہیں۔ ‘ اے  میرے  مالک و آقا عیساؤ! یعقوب نے  یہ تیرے  لئے  بطور تحفہ بھیجے  ہیں۔ اور وہ بھی خود ہمارے  پیچھے  ہی آ رہے  ہیں۔

19 یعقوب نے  اپنے  دوسرے  نوکر سے  بھی ایسا ہی کرنے  کو کہا، اور تیسرے  نوکر سے  بھی، اور باقی سب نوکروں کو بھی یہی حکم دیا۔ اُس نے  اُن سے  کہا کہ جب تم عیساؤ سے  ملو تو ایسا ہی کرنا۔

20 تم اس سے  کہنا کہ یہ سب تیرے  لئے  بھیجے  گئے  تحفے  ہیں۔ اِس کے  علاوہ تمہارا خادم یعقوب ہمارے  پیچھے  ہی آ رہا  ہے ۔ یعقوب کی تدبیر یہ تھی کہ اگر میں اُن لوگوں کو تحفوں کے  ساتھ آگے  روانہ کروں گا تو کسی وجہ سے  عیساؤ مجھے  معاف کردے  گا اور مجھ کو قبول کر لے  گا۔

21 یعقوب نے  عیساؤ کو تحفے  بھیج کر اس رات خیمے  ہی میں قیام کیا۔

22 اُس رات یعقوب اُٹھے  اور اپنی دونوں بیویوں کو اور اپنی دونوں خادماؤں کو اور اپنے  گیارہ بچوں کولے  کر نکلے ۔ اور یبوق ندی کے  عبور کرنے  کی جگہ پر پہنچے ۔

23 یعقوب نے  اپنے  خاندان وا لوں کو اور اپنے  پاس کی ہر چیز دریا کے  اُس پار بھیج دیا۔

24 اس لئے  یعقوب اکیلا رہ گیا تھا، اور ایک آدمی  آیا اور اس کے  ساتھ سورج طلوع ہونے  تک کُشتی لڑتا رہا۔

25 اُس آدمی نے  یہ محسوس کیا کہ میرا یعقوب کو شکست دینا نا ممکن ہے  تو اُس آدمی نے  یعقوب کی ران کو چھُو لیا۔ تو یعقوب کے  پیر کا جوڑ چھوٹ گیا۔

26 اُس آدمی نے  یعقوب سے  کہا، ” مجھے  جانے  دے ، سورج طلوع ہو گیا ہے ۔ ” لیکن یعقوب نے  کہا کہ جب تک تو میرے  حق میں دعا نہ دے  دے  میں تجھے  نہیں چھوڑوں گا۔

27 اُس آدمی نے  اُس سے  پو چھا، ” تیرا نام کیا ہے ؟ ” اُس پر یعقوب نے  جواب دیا کہ میرا نام یعقوب ہے ۔

28 تب اُس آدمی نے  کہا کہ اِس کے  بعد تیرا نام یعقوب نہ رہے  گا بلکہ اِسرائیل ہو گا۔ اور میں نے  تجھے  یہ نام دیا ہے ، کیونکہ تو خدا سے  اور آدمیوں سے  لڑا ہے ۔ اور غالب ہوا۔

29 یعقوب نے  اُس سے  پو چھا کہ برائے  مہربانی تو اپنا نام تو بتا۔ اُس پر اُس آدمی نے  جواب دیا کہ میرا نام پوچھنے  کی کیا وجہ ہے  یہ کہتے  ہوئے  یعقوب کو دعا دی۔

30 اِس وجہ سے  یعقوب نے  کہا کہ اِس جگہ پر میں خدا کو آمنے  سامنے  دیکھا ہے  اِس کے  با وجود بھی میری جان بچی یہ کہتے  ہوئے  اُس نے  اُس جگہ کا نام ” فنی ایل ” رکھا۔

31 اس کے  بعد جب وہ فنی ایل سے  نکل رہا تھا تو سورج طلوع ہوا۔ تب یعقوب اپنے  جوڑوں کے  درد سے  لنگڑاتے  ہوئے  چلے  گئے ۔

32 گوشت کے  اس لو تھڑے  میں یعقوب کو تکلیف ہونے  کی وجہ سے  آج تک بنی اسرائیل ران کی جوڑ کے  اوپر کمر کا گوشت نہیں کھا تے ۔

 

 

 

 

 

باب:    33

 

 

1 جب یعقوب نے  نظر اُٹھا کر دیکھا تو عیساؤ چار سو لوگوں کے  ساتھ آتے  ہوئے  نظر آیا۔ تب یعقوب نے  اپنے  خاندان کو چار گروہ میں منقسم کیا۔ لیاہ اور اس کے  بچّے  ایک گروہ میں تھے ۔ راخل اور یوسف دوسرے  گروہ میں تھے ۔ دونوں خادمہ اور ان کے  بچے  دو دو گروہ میں تھے ۔

2 یعقوب خادماؤں کو اور ان کے  بچوں کو اگلے  حصّہ میں، لیاہ کو اور اس کے  بچوں کو ان کے  پچھلے  حصہ میں، راخل اور یوسف کو آخری حصہ میں متعین کر دیا۔

3 یعقوب خود آگے  ہوئے  اور عیساؤ کے  پاس جاتے  ہوئے  سات مرتبہ جھک کر فرشی سلام بجا لائے ۔

4 عیساؤ نے  جب یعقوب کو دیکھا تو دوڑ کر آیا اسے  گلے  لگا یا اور اس کے  گلے  میں بوسہ دیا۔ اور دونوں روئے ۔

5 عیساؤ عورتوں اور بچوں کو آنکھ اُٹھا کر دیکھا اور پو چھا کہ تیرے  ساتھ جو لوگ ہیں وہ کون ہیں؟ یعقوب نے  جواب دیا کہ خدا نے  مجھے  بچے  دیئے  ہیں۔ وہ یہی ہیں۔ اور کہا کہ خدا مجھ پر بڑا ہی مہر بان ہے ۔

6 تب پھر وہ دونوں خادمہ اور ان کے  ساتھ جو بچے  تھے ان  سب نے  عیساؤ کے  قریب جا کر اس کے  سامنے  سر جھکا کر سلام کئے ۔

7 پھر لیاہ اور اس کے  ساتھ جو بچّے  تھے  وہ سب عیساؤ کے  پاس گئے ،  سر جھکائے  اور سلام کئے  پھر راخل اور یوسف عیساؤ کے  پاس گئے سر جھکائے  اور سلام کیا۔

8 عیساؤ نے  پو چھا کہ جب میں آ رہا تھا تو نظر آنے  والے  وہ سب لوگ کون تھے ؟ اور وہ سب چو پائے  کیوں؟ یعقوب نے  جواب دیا کہ تو مجھے  قبول کر لے  اس لئے  اُن تمام کو بطور تحفہ بھیجا ہے ۔

9 لیکن عیساؤ نے  جواب دیا کہ اے  میرے  بھائی مجھے  کسی بھی قسم کے  تحفے  وغیرہ دینے  کی ضرورت نہیں۔ اس لئے  کہ میرے  پاس سب کچھ ہے ۔

10 یعقوب نے  کہا، ” نہیں! میں تو تجھ سے  منّت کرتا ہوں۔ اگر حقیقت میں تو مجھے  قبول کرتا ہے  تو برائے  مہر بانی میری طرف سے  یہ تحفے  بھی قبول کر لے ۔ تیرے  چہرے  کی طرف دیکھ کر مجھے  ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ میں خدا کا چہرا دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ تومجھے  قبول کرتا ہے ۔

11 اور میں تجھ سے  منت کرتا ہوں کہمیری طرف سے  دیئے  جانے  والے  یہ تحفے  تو قبول کر لے ۔ ” اس لئے  کہ خدا مجھ پر بڑا مہر بان ہے ۔ اور کہا کہ میرے  پاس ہر چیز ضرورت سے  زیادہ ہے ۔ اس طرح یعقوب نے  عیساؤ کو تحفے  لینے  کے  لئے  منت کی۔ اس وجہ سے  عیساؤ نے  ان تحفوں کو قبول کیا۔

12 تب عیساؤ نے  کہا کہ اب تُو اپنے  سفر جاری رکھ سکتا ہے ۔ اور میں بھی تیرے  ساتھ چلوں گا۔

13 لیکن یعقوب نے  اس سے  کہا، ” میرے  آقا تُو جانتا ہے  کہ میرے  بچے  کمزور ہیں۔ میں اپنے  جانوروں اور ان کے  بچّوں پر بڑی ہوشیاری سے  نظر رکھتا ہوں۔ اگر میں ایک دن میں لمبا سفر کروں تو میرے  جانور مر جائیں گے ۔

14 اس وجہ سے  تُو آگے  چلتا رہ۔ اور میں آہستہ سے  تیرے  پیچھے  چلتا رہوں گا۔ اور کہا کہ جانور اور دوسرے  چو پائے  محفوظرہیں  اور میرے  بچے  نہ تھکیں اس لئے  میں بہت آہستہ آؤں گا۔ اور تجھ سے  شعیر میں ملاقات کروں گا۔ ”

15 اس بات پر عیساؤ نے  کہا کہ اگر ایسی ہی بات ہے  تو اپنے  لوگوں میں سے  چند کو تیری سہولت اور مدد کے  لئے  چھوڑ جاؤں گا۔ یعقوب نے  کہا وہ تو تیری مہر بانی ہو گی۔ لیکن اس کے  بعد بھی ایسی کوئی ضرورت تو نہیں ہے ۔

16 اس لئے  اُسی دن عیساؤ شعیر کو واپس لو ٹا۔

17 لیکن یعقوب سکّات کو گیا۔ اس جگہ پر اپنے  لئے  ایک گھر اور اپنے  جانوروں کے  لئے  چھوٹا سا سائبان بنوایا۔ جس کی وجہ سے  اُس جگہ کو “سکّات ” کا نام دیا گیا۔

18 تب یعقوب ملک کنعان کے  سکّم شہر کو امن کے  ساتھ واپس گیا۔ یہ اس کے  فدّان ارام سے  آنے  کے  بعد ہوا۔

19 یعقوب نے  سو چاندی کے  سکّے  دیکر سکّم کے بانی حمور کے  خاندان سے  وہ کھیت خرید لیا جہاں اس نے اپنا خیمہ لگا یا تھا۔

20 خدا کی عبادت کرنے  کے  لئے  ایک قربان گاہ کی تعمیر کر کے  اس قربان گاہ کا نام ” اسرائیل کا خدا ایل ” رکھا۔

 

 

 

 

باب:    34

 

 

 

1 دینہ، لیاہ اور یعقوب کی بیٹی تھی۔ دینہ ایک دن اُس ملک کی عورتوں سے  ملنے  کے  لئے  با ہر چلی گئی۔

2 اس ملک کا بادشاہ حمور تھا۔ اس کا بیٹا سِکم تھا۔ اس نے  دینہ کو دیکھا اس کو اغوا کیا اور اس کے  ساتھ جسمانی تعلقات قائم کر کے  اس کی بے  حرمتی کی۔

3 سکم کو دینہ سے  محبت ہو گئی۔ اور اُس کے  ساتھ محبتانہ سلوک کیا۔

4 سکم نے  اپنے  باپ سے  کہا کہ میری خواہش ہے  کہ اس لڑکی سے  میری شادی کرا دو۔

5 یعقوب کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اس کی بیٹی کی بے  حرمتی کی گئی ہے ۔ لیکن اُس کے  تمام بیٹے  بھیڑ بکریوں کے  ساتھ کھیت میں تھے ۔ جس کی وجہ سے  اس نے ان لوگوں کے  گھر وا پس لوٹنے  تک کچھ نہ کیا۔

6 اس دوران سکم کا باپ حمور، یعقوب سے  بات کرنے  کے  لئے  اس کے  پاس گیا۔

7 اس وقت یعقوب کے  بیٹے  کھیت ہی میں تھے  کہ گذرے  ہوئے  ان واقعات کو سنا اور انہیں بہت غصّہ آیا۔ انہیں  معلوم ہواکہ سکم نے یعقوب کی بیٹی کے  ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے جو کہ اِسرائیل کے  لئے  شرمندگی کی بات تھی۔ انہوں نے  سوچا ایسا نہیں ہونا چاہئے  تھا اس لئے  تمام بڑے  بھائی کھیت سے  وا پس آئے ۔

8 لیکن حمور نے  دینہ کے  بڑے  بھا ئیوں سے  گفتگو کی۔ اور اُس نے  اُن سے  کہا کہ میرا بیٹاسِکّم، دینہ کو بہت چاہتا ہے ، برائے  مہر بانی اس کو اس سے  شادی کرنے  کا موقع فراہم کرو۔

9 اور یہ شادی ہمارے آپس کے  ایک خاص معاہدہ کی نشاندہی کرے  گی۔ وہ یہ کہ ہمارے  مرد تمہاری عورتوں سے  شادیاں رچا سکتے  ہیں۔ اور تمہارے  مرد ہماری عورتوں سے  شادیاں رچا سکتے  ہیں۔

10 تم ہمارے  ساتھ ایک ہی ملک میں زندگی بسر کر سکتے  ہو۔ اور کہا کہ تمہارے  لئے  زمین کی خرید و فروخت اور کارو بار و تجارت کرنے  پر پوری آزادی رہے  گی۔

11 خود سکم  نے بھی یعقوب اور دینہ کے  بڑے  بھا ئیوں کے  ساتھ گفتگو کی۔ سکّم نے  ان سے  کہا، ” برائے  مہر بانی مجھے  قبول کرو۔ اور تم جو کچھ بھی مانگو گے  میں دوں گا۔ ”

12 آپ  جو چاہو میں دے دوں گا۔ لیکن مجھے  دینہ سے  شادی کرنے  دو۔

13 یعقوب کے  بیٹوں نے  سکم اور اس کے  باپ حمور سے  جھو ٹ بولنے  کا فیصلہ کر لیا۔ کیونکہ سکم نے  دینہ کی بے  حرمتی کی تھی۔

14 اس وجہ سے  اس کے  بھائی  نے اس سے  کہا کہ اپنی بہن سے  شادی کرنے  کی   تجھے  ہم اجازت نہیں دیں گے ۔ اس لئے  کہ اب تک تیرا ختنہ نہیں ہوا ہے ۔ اور ایسی صورت میں ہماری بہن کا تجھ سے  شادی ہو نا غلط ٹھہرتا ہے ۔

15 لیکن تُو اور تیرے  شہر میں رہنے  والا  ہر آدمی  اگر ہماری طرح ختنہ کرواتا ہے  تو تیرا اس سے  شادی کر نا ممکن ہو سکے  گا۔

16 اس کے  بعد تمہارے  مرد ہماری عورتوں سے  شادیاں کر سکیں گے ۔ اور ہمارے  مرد تمہاری عورتوں سے ۔ تب ہم سب ایک ہی قوم کہلائیں گے ۔

17 اور اگر تم نے  ختنہ نہ کر وایا تو ہم دینہ کو ساتھ لے  کر چلے  جائیں گے ۔

18 اُن کا کہنا حمور اور سکم کو بھلا معلوم ہوا۔

19 دینہ کے  بڑے  بھا ئیوں نے  جو کہا سکم فوراً ہی کرنے  کی کو شش کی، کیونکہ اس نے  اس سے  محبت کی تھی۔ سکم اپنے  خاندان میں سب سے  معزز تھا۔

20 حمور اور سکم اپنے  شہر کے  عبادت خانہ کو گئے ۔ اور شہر کے  تمام مر دوں سے  گفتگو کی۔

21 ” اور کہا کہ اِن اسرائیلیوں کو ہم سے  دوستی پر خوشی ہے ۔ اور اِن کا ہمارے  ملک میں رہتے  ہوئے  اطمینان و خوشی سے  جینا ہمیں بھی پسند ہے ۔ ہمارے پاس ضرورت کے  مطابق زمین بھی ہے ۔ ہم ان کی عورتوں سے  شادی کرنے  کے  لئے  اور ہماری عورتوں کی ان سے  شادی کرنے  میں  خوشی محسوس کرتے  ہیں۔

22 ہم کو صرف اور صرف ایک ہی کام کر نا ہے  وہ یہ کہ اسرائیلیوں کی طرح ہمارے  سارے  مرد بھی ختنہ کروا لیں۔

23 اگر ہم ایسا کریں تو اُن کے  تمام چو پائے ، اور جانوروں سے  ہم مالدار بن جائیں گے ۔ اور کہا کہ اگر ہم یہ معاہدہ ان سے  کر لیں تو وہ ہمارے  پاس یہیں رہ جائیں گے ۔ ”

24 جلسہ گاہ کے  تمام موجودہ مر دوں نے  حمور اور سکم کی باتوں کو قبول کر لیا۔ اور پھر تمام مر دوں نے  ختنہ کروا لیا۔

25 تین دن گزر گئے ۔ وہ لوگ جو کہ ختنہ کروا چکے تھے  وہ اب تک ختنہ درد میں مبتلا تھے ۔ اس دوران دینہ کے دو بھائی شمعون اور لا وی اپنی اپنی تلوار لے کر شہر میں چلے  گئے ۔ اور جتنے  بھی لوگ وہاں پر موجود تھے  سب کو مار دیئے ۔

26 دینہ کے  بھائی شمعون اور لا وی نے  حمور کو اور اس کے  بیٹے  سکم کو قتل کر دیا اور دینہ کو سکم کے  گھر سے  بُلا لائے ۔

27 یعقوب کے  بیٹے  شہر میں گئے  اور وہاں سے  جہاں ان کی بہن کی بے  حرمتی کی گئی تھی ہر چیز کو لوٹ لیا۔ ”

28 اس طرح دینہ کے  بھائیوں نے  اُن کے  جانوروں، بکریوں، گدھوں اور شہر میں اور کھیت میں پائی جانے  والی جائیداد کو حاصل کر لیا۔

29 اُن کی بیویوں، بچوں کو قید کر دیا  اور گھر میں جو کچھ سرمایہ تھا وہ چھین لیا۔

30 لیکن یعقوب نے  شمعون اور لا وی سے  کہا کہ تم نے  تو میرے  لئے  مصیبت کھڑی کر دی ہے ۔ اس ملک میں رہنے  والے  تمام کنعانی اور فرزّیوں نے  میری مخالفت کی اور میرے  خلاف ہو گئے ۔ اور ہمارے  ساتھ رہنے  والے  لوگ تھوڑے  ہی ہیں۔ اور کہا کہ اس ملک کے  شہری اگر متحد ہو کر ہمارے  خلاف لڑیں تو میں اور میرے  لوگ سب تباہ ہو جائیں گے ۔

31 لیکن دینہ کے  بھائیوں نے  کہا، ” اُن لوگوں کو ہماری بہن سے  طوائف جیسا سلوک نہیں کر نا چاہئے  تھا۔ ”

 

 

 

 

باب:    35

 

 

1 خدا نے  یعقوب سے  کہا، ” تو بیت ایل شہر کو جا اور وہیں پر قیام کر۔ اور خدا کی عبادت کے  لئے  ایک قربان گاہ بنا جو کہ تم پر وہاں ظاہر ہوا تھا جب تم اپنے  بھائی عیساؤ کے  پاس بھاگ رہے  تھے ۔ ”

2 اس وجہ سے  یعقوب نے  اپنے  تمام اہل خاندان اور اپنے  نوکروں سے  کہا، ” تمام غیر ملکی خداؤں کو جوکہ تم اپنے  ساتھ لائے  ہو تباہ کر دو۔ اپنے  آپ  کو پاک کرو اور صاف کپڑا پہنو۔

3 ہم یہاں سے  نکل کر بیت ایل جائیں گے ۔ جس خدا نے  میرے  مصیبت کے  دنوں میں میری مدد کی تھی۔ اس کے  لئے  ایک قربان گاہ بناؤں گا اور میں جہاں کہیں بھی جاتا تھا وہ خدا میرے  ساتھ موجود تھا۔ ”

4 اس وجہ سے  لوگوں نے  اپنے  پاس کے  تمام خداؤں کو اور اپنے  کانوں کی با لیوں کو نکال کر یعقوب کو دے دیا۔ اور یعقوب نے  اُن تمام کو سکم شہر کے  قریب بلوط درخت کے  نیچے  دفن کر دیا۔

5 یعقوب اور اُس کے  بیٹے  اُس جگہ سے  چلے  گئے  اور خدا نے  نزدیک کے  لوگوں کو ان سے  خوف زدہ کر دیاتا کہ وہ یعقوب کا پیچھا نہ کریں۔

6 یعقوب اور اُس کے  لوگ لُوز کو گئے ۔ اور اب لُوز کو بیت ایل کے  نام سے  پکارتے  ہیں۔ اور وہ ملک کنعان میں ہے ۔

7 یعقوب نے  وہاں پر ایک قربان گاہ تعمیر کر وا ئی۔ یعقوب جب اپنے  بڑے  بھائی سے بھاگ رہا تھا سب سے  پہلے  خدا اسی جگہ پر اُس کو دکھائی دیا اس وجہ سے  یعقوب نے  اُس جگہ کو” بیت ایل” کا نام دیا۔

8 رِبقہ کی خادمہ دبورہ وہاں مر گئی۔ اس وجہ سے  اُنہوں نے  اُس کو بیت ایل کے  قریب و اقع بلوط کے  درخت کے  نیچے  دفن کر کے  قبر بنا دی۔ اور اُس جگہ کو ائّون بکوت کا نام دیا گیا۔

9 جب یعقوب فدّان ارام سے  وا پس آئے  تو اس نے  پھر خدا کو دیکھا۔ خدا نے  یعقوب کو خیر و برکت عطا کیا۔

10 خدا نے  یعقوب سے  کہا کہ تیرا نام یعقوب ہے ۔ لیکن میں تو اُس نام کو بدل دوں گا۔ اب آئندہ سے  تو یعقوب نہ کہلائے  گا۔ اور تیرا نیا نام ” اِسرائیل ” ہو گا۔ اس لئے  خدا نے  اس کو نام “اِسرائیل ” دیا۔

11 خدا نے  اُس سے  کہا، ” میں ہی قادر مطلق خدا ہوں۔ تمہاری  بہت اولاد ہو گی۔ اور بہت بڑی قوم بن کر پھیلے  گی۔ کئی قومیں اور بادشاہ تجھ سے  نکلیں گے ۔

12 میں نے  ابراہیم کو اور اِسحاق کو مخصوص ملک دیا ہے ۔ اور اب میں وہ ملک تجھے  عطا کروں گا۔ اور کہا کہ میں اُس ملک کو تیری آئندہ آنے  وا لی نسل کو عطا کروں گا۔ ”

13 پھر خدا اُس جگہ سے  چلا گیا۔

14 یعقوب نے  اُس جگہ پر ایک یادگار پتھر کھڑا کیا اور اُس کے  اوپر مئے  اور تیل اُنڈیلا۔ یہ ایک مخصوص جگہ تھی۔ اس لئے  خدا نے  اُس جگہ پر یعقوب سے  گفتگو کی تھی۔ اور اُس نے  اُس جگہ کا نام ” بیت ایل ” رکھا۔

15

16 یعقوب اور اُس کے  لوگ جو کہ اس کے  ساتھ تھے  بیت ایل سے ا فرات ( بیت اللحم) گئے ۔ اس سے  پہلے  کہ وہ لوگ افرات پہنچتے  راخل کی وضع حمل کا وقت آ گیا تھا۔

17 لیکن راخل کو وضع حمل میں بہت تکلیف اٹھانی پڑی تھی۔ اور وہ بہت زیادہ مُصیبت اور تکلیف میں مبتلا تھی۔ راخل کی دایہ نے  جب اِس حالت کو دیکھا تو اُس نے  کہا، ” اے  راخل تُو گھبرا مت، اِس لئے  کہ تو ایک اور بیٹے  کو جنم دے  گی۔ ”

18 راخل وضع حمل کے  وقت ہی مر گئی۔ مرنے  سے  قبل ہی راخل نے  اس بچہ کا نام بنونی رکھا۔ لیکن یعقوب نے  اُس کا نام ” بن یمین”( بنیامین) رکھا۔

19 راخل مر گئی اور اسے  افرات کے  راستہ میں ہی دفنا دیا گیا ( وہ بیت اللحم ہے  )۔

20 یعقوب نے  را خل کے  لئے  بطور عظمت اُس کی قبر پر ایک خاص قسم کا پتھر رکھا۔ آج بھی وہ خاص قسم کا پتھر وہاں موجود ہے ۔

21 اُس کے  بعد اِسرائیل (یعقوب )نے  اپنے  سفر کو جاری رکھا۔ اس نے  اپنا خیمہ عدر برج کے  آگے  نصب کیا۔

22 اِسرائیل  نے کچھ دیر کے  لئے  وہاں قیام کیا۔ جب وہ وہاں قیام پذیر تھا تو روبن نے  اِسرائیل کی خادمہ بِلہاہ سے  مُباشرت کی۔ اسرائیل نے  اس بات کے  بارے  میں سنا۔

23 لیاہ کی نرینہ اولا د، یعقوب (اسرائیل ) کے بیٹے  روبن، شمعون، لا وی، یہوداہ،اشکار، اور زبولون تھے ۔

24 راخل کی نرینہ اولا د۔ یوسف اور بنیمین تھے ۔

25 بِلہاہ، راخل کی خادمہ تھی۔ بِلہاہ کے  بیٹے  دان اور نفتالی تھے ۔

26 زلفہ، لیاہ کی خادمہ تھی۔ اور زلفہ کے  بیٹے  جاد اور آ شر تھے ۔ یہ سب یعقوب (اسرائیل ) سے  فدان ارام میں پیدا ہوئی اولاد تھی۔

27 یعقوب (اسرائیل ) اپنے  باپ اِسحاق کے  پاس قربت اربع میں (حبرون ) ممرے  کو آیا۔ ابراہیم اور اِسحاق وہیں پر مقیم تھے ۔

28 اِسحاق ایک سو اسّی برس زندہ رہا۔

29 پھر اِسحاق کافی عمر رسیدہ ہو کر موت کی آغوش میں سو گئے ۔ اُس کے  بیٹے  عیساؤ اور یعقوب نے  اپنے  دادا کے  قبرستان کی جگہ ہی میں اپنے  باپ کو بھی دفن کیا۔

 

 

 

 

 

باب:    36

 

 

1 عیساؤ( ایدوم ) کے  خاندان کی تاریخ۔

2 عیساؤ نے  ملک کنعان کی ایک عورت سے  شادی کی۔ عیساؤ کی بیویاں اِس طرح تھیں :حِتی ایلون کی بیٹی عدّہ، عنہ کی بیٹی اہلیبامہ جو کہ عنہ حوّی صبعون کی بیٹی تھیں۔

3 اسمٰعیل کی بیٹی اور نبایوت کی بہن بشامہ۔

4 عیساؤ اور عدّہ سے  اِلیفز نام کا ایک بیٹا تھا۔ اور بشامہ سے  رعوایل پیدا ہوا۔

5 اُہلیبا مہ کے  یہ بیٹے  تھے  : یعوس، یعلام اور قورح۔ عیساؤ کے  یہ سب بیٹے  ملک کنعان میں پیدا ہوئے ۔

6 یعقوب اور عیساؤ کے  قبیلے  بہت وسیع اور پھیلے  ہوئے  ہونے  کی وجہ سے  ملک کنعان ان کے  لئے  نا کافی ہونے  لگا۔ جس کی وجہ سے  عیساؤ اپنے  بھائی یعقوب سے  دُور چلا گیا۔ عیساؤ اپنی بیویوں، بیٹوں اور بیٹیوں تمام نوکر چاکر اور تمام چوپا ئیوں اور دیگر حیوانات، اور کنعان سے  ہر قسم کی جائیداد کولے  کر کوہ شعیر کے  کے  دامن میں چلا گیا ( عیساؤ کا دوسرا نام ایدوم ہے ۔ ملک شعیر کا دوسرا نام ایدوم بھی ہے  )۔

7 8  9 عیساؤ ایدوم کی کی قوم کا جد اعلیٰ ہے ۔ ملک شعیر میں قیام پذیر عیساؤ کے  قبائل کے  نام یہ ہیں۔

10 عیساؤ کے  بیٹوں میں الیفز، جو عیساؤ کی بیوی عدّہ کے  بطن سے  پیدا ہوا۔ رعو ایل، جو عیساؤ کی بیوی بشامہ کے  بطن سے  پیدا ہوا۔

11 الیفز کے  یہ سب بیٹے  تھے  : تیمان، اُومر، صفو، جعتام اور قنز۔

12 الیفزکی تمنع نام کی ایک خادمہ عورت بھی تھی۔ تمنِع اور الیفز سے  عمالیق نام کا ایک بیٹا پیدا ہوا تھا۔ یہ سب عیساؤ کی بیوی عدّہ کی نسل سے  تھے ۔

13 رعوایل کے  بیٹے  یہ تھے  : نحت، زارح، سمّہ، اور مِزہ، یہ سب عیساؤ کی بیوی بشامہ کی نسل سے  تھے ۔

14 عیساؤ کی دوسری بیوی عنہ کی بیٹی اہلیبا مہ ( عنہ صبعون کی بیٹی تھی ) عیساؤ اور اہلیبامہ کی اولاد تھی :یعوس، یعلام، اور قورح۔

15 یہ لوگ عیساؤ کے  خاندان کے  قبیلے  کے  تھے ۔ عیساؤ کا پہلوٹھا بیٹا الیفز تھا۔ الیفز کی اولاد، تیمان، اُومر، صفو، قنز،

16 قورح، جعتام، اور عمالیق۔ یہ تمام خاندانایدوم کی سرزمین میں عیساؤ کی بیوی عدّہ کی نسل سے  ہیں۔

17 عیساؤ کا بیٹا رعوایل ایدوم کی سر زمین میں ان خاندانوں کا جدّ اعلیٰ تھا : نحت، زارح، سمّہ اور مِزہ۔ یہ تمام خاندان عیساؤ کی بیوی بشامہ کی نسل سے  ہیں۔

18 عنہ کی بیٹی عیساؤ کی بیوی اُہلیبامہ سے  یہ سب پیدا ہوئے  : یعوس، یعلام، اور قورح۔ یہ تینوں اپنے  اپنے  قبائل کے  سردار تھے ۔

19 اِن تمام خاندان کے  لئے  عیساؤ ہی جدّ اعلیٰ تھا عیساؤ ایدوم بھی کہلاتا تھا۔

20 عیساؤ سے  قبل حوری قوم سے  شعیر نام کا ایک آدمی  ایدوم میں مقیم تھا۔ شعیر کی نرینہ اولاد یہ ہیں : لو طان، سو بل، صبعون اور عنہ۔

21 دیسون، ایصر اور دیسان، یہ سب بیٹے ایدوم کے  سر زمین میں شعیر کی نسل سے  حوری قبیلہ کے  قائد تھے ۔

22 لو طان، حوری اور ہیمام کا باپ تھا۔ اور ( تمِنع، لو طان کی بہن تھی۔ )

23 سوبل، علوان، مانحت، غیبال، سفو اور اونام کا باپ تھا۔

24 صبعون کے  بیٹے  تھے  : آیہ اور عنہ۔ ( جب عنہ اپنے  با پ کے  گدھے  چرا رہا تھا تو اسی نے  گرم پانی کے  چشمے  کو دیکھا۔ )

25 عنہ دیسون اور اہلابامہ کا باپ تھا۔

26 حمدان، اشبان، ایتران، اور کران یہ دیسون کے  بیٹے  تھے ۔

27 بلہان، زعورن، اور عقان، یہ ایصر کے  بیٹے  تھے ۔

28 عوض اوراران دیسان کے  بیٹے  تھے ۔

29 حوری خاندانوں کے  قائدوں کے  نام اِس طرح ہیں : لو طان، سوبل، صبعون اور عنہ،

30 شعیر میں حوری خاندان کے  قائد دیسون ایصر اور دیسان تھے ۔

31 اسرائیل میں بادشاہ ہونے  سے  بہت پہلے  ہی ایدوم میں بادشاہ تھے ۔

32 بعور کا بیٹا بلع، ایدوم کا بادشاہ تھا۔ اور وہ دِنہابا شہر پر حکو مت کرتا تھا۔

33 بلع کی وفات کے  بعد یُو باب بادشاہ بنا۔ اور یُوباب بُصر کے  زارح کا بیٹا تھا۔

34 یُوباب کی وفات کے  بعدحشیم حکمران ہوا۔ اور حشیم، تیمان ملک کا باشندہ تھا۔

35 حشیم کا جب انتقال ہوا تو ہدد اُس ملک کا حکمران بنا۔ اور ہدد، بدد کا بیٹا تھا( اور مو آب کے  رہنے  وا لوں مِدیانیوں کے  ملک میں جس نے  شکست دی تھی وہ ہدد ہی تھا ) اور ہدد عویت شہر کا باشندہ تھا۔

36 ہدد کی وفات کے  بعد، شملہ نے اُس کے  ملک پر حکمرانی کی۔ اور شملہ مُسروقہ کا باشندہ تھا۔

37 شملہ کی موت کے  بعد ساؤل اُس ملک کا بادشاہ بنا۔ یو فریتس دریا کے  کنا رے  رحوبوت کا باشندہ تھا۔

38 ساؤل کی وفات کے  بعد اس ملک پر بعلحنان حکومت کیا۔ بعلحنان عکبور کا بیٹا تھا۔

39 بعلحنان کی موت کے  بعد اُس ملک پر حدر حکومت کی۔ اور حدر پاؤ شہر کا رہنے  وا لا تھا۔ اور حدر کی بیوی کا نام مہیطب ایل تھا۔ اور مہیطب ایل، مطرد کی بیٹی تھی( اور مطرد میضاباب کی بیٹی تھی۔ )

40 عیساؤ، ایدوم وا لوں کے  لئے  جدّ اعلیٰ تھا۔ یہ قبیلے  تھے  : جس علاقے  میں یہ قبیلے  رہتے  تھے  یہ اسی قبیلے  کے  نام سے  جانے  جاتے  تھے ۔ تمِنع، علوہ، یتیت، اُہلیبامہ، ایلہ، فینون، قنز، تیمان، مِبصار، مجد ایل، اور عِرام۔

 

 

 

 

 

باب:    37

 

 

 

1 یعقوب ملک کنعان میں سکونت پذیر ہوا۔ اُس کا باپ بھی اُسی ملک میں رہتا تھا۔

2 یعقوب کی خاندانی تاریخ درج ذیل ہے ۔ یوسف سترہ سال کا کڑیل جوان تھا۔ بھیڑ بکریاں پالنا اُس کا پیشہ تھا۔ اپنے  بھا ئیوں یعنی بلہاہ اور زلفہ کے  بیٹوں کے  ساتھ بھیڑ بکریاں چراتا تھا۔ یوسف نے اپنے  باپ کو اپنے  بھا ئیوں کی بُری حرکتوں کے  با رے  میں کہہ دیا۔

3 اسرائیل ( یعقوب ) چونکہ بہت زیادہ عمر کو پہنچا تھا کہ یوسف پیدا ہوئے  جس کی وجہ سے  اسرائیل اپنے  دوسرے  بیٹوں کی بہ نسبت یوسف سے  زیادہ محبت کرتا تھا۔ یعقوب نے  اپنے  اس بیٹے  کے  لئے  ایک بہت ہی خوبصورت قسم کا عبا بنوا یا۔

4 یوسف کے  بھا ئیوں نے  یہ محسوس کیا کہ ہما رابا پ ہم لوگوں سے  زیادہ یوسف سے  محبت کرتا ہے  اس لئے  وہ لوگ اس سے  نفرت کرنے  لگے ۔ وہ لوگ کبھی یوسف کو اچھی باتیں نہیں کہتے ۔

5 ایک دن یوسف نے  ایک خاص قسم کا خواب دیکھا۔ جب یوسف نے  اُس خواب کو اپنے  بھا ئیوں سے  بیان کیا تو، اُنہوں نے  اُس سے  اور بھی زیادہ جلنا حسد کرنا شروع کیا۔

6 یوسف نے  اُن سے  کہا کہ مجھے  ایک خواب دکھائی دیا ہے ۔

7 کہ ہم سب کے  سب کھیت میں گیہوں کے  پلندے  باندھ رہے  تھے ۔ تب میرا پُلندا اُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر میرے  پُلندے  کے  اطراف تمہارے  پُلندے نے  گھیرا بنا یا اور میرے  پلندے  کے  سامنے  سب جھک کر سجدہ ریز ہوئے ۔

8 اُس کے  بھا ئیوں نے  کہا کہ تیرا یہ خیال ہے  کہ تو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت چلائے  گا۔ کیا یہی مطلب ہے  تمہارا؟ ان لوگوں نے  اس کے  خواب اور وہ جو کہا اس کی وجہ سے  اور بھی زیادہ نفرت کرنے  لگے ۔

9 اُس کے  بعد یوسف کو ایک اور خواب نظر آیا۔ یوسف نے  اُس خواب کے  با رے  میں بھی اپنے  بھائیوں سے  بیان کیا۔ یوسف نے  اُن سے  کہا کہ مجھے  ایک اور خواب نظر آیا ہے ۔ جس میں ایک سورج، چاند اور گیارہ ستارے  میرے  سامنے  جھک کر مجھے  سجدہ کرتے  ہیں۔

10 یوسف اپنے  باپ کو اس خواب کے  با رے  میں معلوم کرایا۔ لیکن اُس کے  باپ نے  اُسے  ڈانٹ دیا اور کہا کہ یہ کیسا خواب ہے ؟ اور پو چھا کہ میرا، اور تیری ماں اور تیرے  بھا ئیوں کا تیرے  سامنے  جھک کر سجدہ کرنے  کی بات پر کیا تو یقین رکھتا ہے ؟

11 یوسف کے  بھا ئیوں کو اُس سے  حسد ہو گیا۔ لیکن یوسف کا باپ ان خوابوں کے  بارے  میں گہرائی سے  غور و فکر کرنے  لگا۔

12 ایک دن یوسف کے  بھائی اپنے  باپ کی بھیڑ بکریاں چَرانے  کے  لئے  سکم کو گئے ۔

13 اسرائیل (یعقوب )نے  یوسف سے  کہا کہ سکم کو چلا جا، کیونکہ وہاں تیرے  بھائی میری بھیڑ بکریوں کو چرا رہے  ہیں۔ یوسف نے  جواب دیا کہ ٹھیک ہے  میں جا رہا ہوں۔

14 اسرائیل نے  کہا کہ تیرے  بھا ئیوں اور بھیڑ بکریوں کی خیریت دریافت کر کے  آ اور مجھے  سُنا، اِس طرح اُس نے  اُس کو حبرون کی وا دی سے  سکم کو بھیج دیا۔ سکم میں یوسُف کو راستہ بھٹکتے  کھیتوں میں گھومتے  پھرتے  ہوئے  کسی نے  دیکھ لیا، اور پو چھا کہ کیا ڈھونڈ رہا ہے ؟

15 16 یوسف نے  کہا کہ میں اپنے  بھا ئیوں کی تلاش میں ہوں۔ اور اُس سے  پو چھا کہ وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو کہاں چرا رہے  ہیں؟

17 اِس پر اُس نے  اُس کو جواب دیا کہ وہ یہاں سے  چلے  گئے  ہیں۔ اور میں نے  اُن کو یہ کہتے  سُنا ہے  کہ چلو ہم دوتان کو چلیں گے ۔ جس کی وجہ سے  یوسف اُن کو ڈھونڈتے  ہوئے  دوتان کو گیا اور وہاں پر اُن کو دیکھا۔

18 یوسف کے  بھا ئیوں نے  یوسف کو دور سے  آتے  ہوئے  دیکھا۔ اور پھر اُن لو گوں نے  اُس کو قتل کرنے  کی ایک تدبیر سوچی۔

19 وہ آپس میں کہنے  لگے  کہ وہ دیکھو خوابوں کا دیکھنے  وا لا یوسف آ رہا ہے ۔

20 اُنہوں نے آپس میں طے کیا کہ اُس کو قتل کرنے  کا یہی ایک مناسب و موزوں وقت ہے ۔ اُس کو قتل کر کے  ایک خشک کنویں میں دھکیل دیں گے ۔ اور ہم اپنے  باپ سے  یہ کہہ دیں گے  کہ ایک خونخوار درندہ  اُس کو پھاڑ کر کھا گیا۔ اور آپس میں یہ کہنے  لگے  کہ ہم دیکھیں گے  کہ کس طرح اُس کے  سارے  خواب پو رے  ہوں گے ۔

21 لیکن روبن اس کی مدد کرنا چاہی اس لئے  اس نے  ان لوگوں سے  کہا، ” اُس کو قتل نہ کرو۔

22 اور اُن سے  کہا، اس کا خون مت بہاؤ۔ اسے  خشک کنویں میں دھکیل دو، لیکن اُسے  تکلیف نہ دو۔ ” اس نے  ارادہ کیا کہ یوسف کو کنویں سے  نکال کر اسے  اس کے  باپ کے  حوالے  کر دے  گا۔

23 جب یوسف آیا تو اُس کے  بھا ئیوں نے  اس کو پکڑ لیا اور اُس کے  عبا کو پھاڑ ڈالا۔

24 اور سوکھے  ہوئے  کنویں میں اُس کو دھکیل دیا۔

25 جب یوسف کنویں میں تھا تو، اُس کے  بھائی کھانا کھانے  بیٹھ گئے ۔ جب انہوں آنکھ اُٹھا کر دیکھاتو جلعاد سے  مصر کو اسمٰعیلی تاجروں کا ایک قافلہ جا رہاتھا۔ اُن کے  اُونٹ مختلف قسم کے  خوشبودار مصالحے  اور قیمتی اشیاء سے  لدے  جا رہے  تھے ۔

26 تب یہوداہ نے  اپنے  بھا ئیوں سے  کہا کہ اگر ہم اپنے  بھائی کو قتل کر کے  اُس کی موت کو چھپائیں تو ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟ اگر ہم ان اسمٰعیلی تاجروں کے  ہاتھوں اُسے  بیچ دیں تو ہمیں کچھ زیادہ ہی فائدہ ہو گا۔ اور کہا کہ ہمارے  بھائی کے  قتل کے  الزام کا گناہ بھی ہمارے  سر نہ ہو گا۔ چونکہ وہ ہما را بھائی ہے ۔ تمام بھا ئیوں نے یہ بات   مان لی۔

27 28 جب مدیان کے  کچھ تاجر وہاں قریب پہنچے  تو بھا ئیوں نے  یوسف کو کنویں سے  نکالا اور اسے  اسمٰعیلی تاجروں کو بیس چاندی کے  سکّوں میں بیچ دیا۔ تب تاجر لوگ یوسف کومصر لے  گئے ۔

29 جب روبن کنویں کے  پاس واپس لوٹ کر آیا تو یوسف کو وہاں نہ پایا تو  افسوس کرتے  ہوئے  اپنے  کپڑے  پھاڑ لئے ۔

30 روبن نے  اپنے  بھا ئیوں کے  پاس جا کر کہا کہ لڑ کا کنویں میں نہیں ہے ۔ اور اب ہم کیا کریں؟

31 تب اُنہوں نے  ایک بکری کو ذبح کیا اور بکری کے  خون کو یوسف کے  خوبصورت جبّہ پر ڈال دیا۔

32 پھر اُنہوں نے  اُس جُبّہ کو اپنے  باپ کے  پاس ایک پیغام کے  ساتھ بھیج دیا کہ انہوں نے  یہ جُبّہ پا یا ہے  اور دریافت کیا کہ کیایہ یوسف کا ہی  جُبّہ ہے ؟

33 باپ نے  وہ جُبّہ کو دیکھ کر اُس کی شناخت کر لی اور کہا، “ہاں یہ یوسف کا ہی  ہے ۔ ” کوئی جنگلی جانور اُس کو کھا گیا ہے ۔

34 مارے  غم کے  اپنے  کپڑوں کو پھاڑ لیا اورٹا ٹ اوڑھ لیا اور بہت دنوں تک غم میں ڈوبا رہا۔

35 یعقوب کے  بیٹے  اور بیٹیوں  نے   تسّلی دینے  کی کو شش کی لیکن اسے  تسّلی نہ ہو ئی۔ یعقوب نے  کہا، ” مجھے  اپنے  بیٹے  کا میری موت تک افسوس رہے  گا۔ ” اس لئے  اس نے  ماتم کرنا جاری رکھا۔

36 مدیان کے  تاجروں نے  یوسف کو مصر میں بیچ دیا۔ ان لوگوں نے  اسے فرعون کے  محافظین کے  سردار فوطیفار کو فروخت کر دیا۔

 

 

 

 

باب:    38

 

 

1 اُس زمانے  میں یہوداہ اپنے  بھا ئیوں کو چھوڑ کر حیرہ کے  پاس زندگی گذار نے  کے  لئے  چلا گیا۔ اور حیرہ عد لام گاؤں کا تھا۔

2 یہوداہ نے  وہاں پر کنعان کی ایک لڑکی کو دیکھ کر اُس سے  شادی کی۔ اور اُس لڑکی کے  باپ کا نام سُوع تھا۔

3اس نے ایک بچہ جنم دیا۔ اُنہوں نے  اُس کو عیر کا نام دیا۔

4 اُس کے  بعد اُس نے  پھر ایک اور بچہ جنم دیا۔ اُنہوں نے  اُس بچہ کا نام اونان رکھا۔

5 جب اُس کو تیسرا بچہ پیدا ہوا تو اُس کا نام سیلہ رکھا۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو یعقوب، کزیب میں سکونت پذیر تھا۔

6 یہوداہ نے  اپنے  پہلوٹھے  بیٹے  عیر کے  لئے  ایک دوشیزہ کا انتخاب کر لیا جس کا نام تمر تھا۔

7 لیکن عیر کے بہت سی بدکاریوں میں مبتلا ہونے  کی وجہ سے  خداوند نے  اُس کو مار دیا۔

8 تب یہوداہ نے  عیر کے  بھائی اونان سے  کہا کہ جا، اور تیری بیوہ بھا بھی کے  لئے  تو بحیثیت شوہر بن۔ مزید کہا کہ تجھ سے  اُس کو پیدا ہونے  وا لی اولاد تیرے  بھائی عیر کی اولاد کہلائے  گی۔

9 تمر سے  پیدا ہونے  وا لی اپنی اولاد، اپنی نہ ہونے  کی بات اُونان کو معلوم تھی جس کی وجہ سے  وہ اُس سے  ہم بستر ہونے  کے  با وجود بھی نطفہ کو (رحم میں داخل ہوئے  بغیر) با ہر زمین پر گراتا تھا۔

10 یہ بات خداوند کی نظر میں بُری تھی، جس کی وجہ سے  اُس نے  اونان کو بھی مار دیا۔

11 تب یہوداہ نے  اپنی بہو تمر سے  کہا، ” تو اپنے  میکے  جا اور وہیں پر رہ۔ ” لیکن یہ بھی کہا کہ میرے  بیٹے  سیلہ کے  با لغ ہونے  تک کسی سے  شادی نہ کرنا اور یہوداہ اس بات کو سوچ کر ڈرا ہوا تھا کہ سیلہ بھی اپنے  بڑے  بھائی کی طرح مر جائے  گا۔ جس کی وجہ سے  تمر اپنے  میکے  چلی گئی۔

12 ایک عرصہ بعد یہوداہ کی بیوی، سُوع کی بیٹی فوت ہو گئی۔ یہوداہ ماتم کے  دن گذر جانے  کے  بعد، اپنے  عدلامی دوست حیرہ کے  ساتھ اپنی بھیڑوں کے  بال کتروانے  کے  لئے  تِمنا گاؤں کو گیا۔

13 کسی شخص نے  تمر کو کہا کہ اس کا خسر اپنی  بھیڑوں کا اُون کاٹنے  کے  لئے  تمنا چلا گیا ہے ۔

14 تمر ہمیشہ بیوگی کے  کپڑے  ہی پہنا کر تی تھی۔ لیکن اب وہ دوسرے کپڑے  پہن کر اور اپنے  چہرے  پر نقاب ڈال کر تِمنا کے  قریب واقع عینیم کے  راستے  پر بیٹھ گئی۔ تب تک یہوداہ کے  بیٹے  سیلہ کے  جوان ہونے  کا علم تمر کو ہو چکا تھا۔ لیکن یہوداہ اس کی شادی اپنے  بیٹے  سے  کروانے  پر غور نہیں کر رہا تھا۔

15 یہوداہ جب اس راستے  پر سفر کر رہا تھا تو اُس کو دیکھا اور سمجھا کہ کوئی فاحشہ عورت ہے ۔ ( کیونکہ وہ فاحشہ عورت کی طرح اپنے  مُنہ پر نقاب ڈالے ہوئے تھی )

16 جس کی وجہ سے  یہوداہ  نے اُس کے  قریب جا کر اُس سے  کہا “برائے  مہربانی مجھے  اپنے  ساتھ مباشرت کرنے  دے ۔ “( یہوداہ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ اس کی بہو تمر ہے  ) اُس نے  اِس سے  پو چھا، ” تُو مجھے  کیا دے  گا؟ ”

17 یہوداہ نے  جواب دیا، ” میں تجھے  اپنے  ریوڑ سے  ایک بھیڑ کے  بچے  کو بھیج دوں گا۔ اُس نے  کہا، ” ٹھیک ہے  لیکن پہلے  تو بکری کا بچہ بھیجنے  تک مجھے  کچھ رکھنے  کے  لئے  دے ۔

18 تب یہوداہ نے  پوچھا، ” تو کیا چاہتی ہے  کہ میں تجھے  دوں؟ ” تمر نے  جواب دیا، ” تیری وہ مُہر جو تو خطوط پر لگاتا ہے  اور اُس کا دھا گہ اور اپنی لا ٹھی بھی دے  دے ۔ یہوداہ نے  اُن تمام چیزوں کو اُسے  دے  دیا۔ یہوداہ اُس سے  مباشرت کیا۔ اور وہ حاملہ ہو ئی۔

19 تمر گھر گئی اور چہرے  سے  نقاب اٹھایا اور پھر بیوگی کے  کپڑے  پہن لیے ۔

20 یہوداہ نے  ایک بھیڑ کا بچہ اپنے  دوست حیرہ کے  ذریعے  عینیم کو بھیج دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ مُہر اور لا ٹھی بھی اس سے  واپس لا نا۔ لیکن وہ اسے  نہ پا سکا۔

21 اس نے  عینیم گاؤں کے  چند لوگوں پو چھا، ” وہ ہیکل وا لی فاحشہ عورت کہاں ہے  جو راستے  کے  کنا رے  بیٹھی تھی۔ اِس پر انہوں نے  جواب دیا کہ یہاں کوئی ایسی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی ہے ۔ ”

22 اِس وجہ سے  وہ یہوداہ کے  پاس واپس آیا اور  کہا کہ مجھے  اُس فاحشہ عورت کا سُراغ نہ ملا۔ اور اس نے  یہ بھی بتا یا، ” وہاں کے  مردوں نے  مجھ سے  کہا کہ یہاں کوئی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی۔ ”

23 اُس بات پر یہوداہ نے  کہا، ” وہ اُن چیزوں کو اپنے  پاس ہی رکھ لے ۔ اور لوگوں کا ہم کو دیکھ کر ہنسنا مجھے  پسند نہیں حالانکہ میں نے  اُس کو بھیڑ دینے  کی کوشش کی تھی۔

24 تین ماہ گذرنے  کے  بعد کسی نے  یہوداہ کو بتایا کہ تیری بہو تمر حرام کاری کے  ذریعے  حاملہ ہوئی ہے ۔ تب یہوداہ نے  کہا کہ اُس کو گھسیٹ کر لے  جاؤ اور جلا دو۔

25 وہ سارے  مرد تمر کو قتل کرنے  کے  لئے  اُس کے  پاس گئے ۔ لیکن اُس نے  خسر سے  یہ پیغام کہہ کر بھیجا، ” ان چیزوں کو دیکھو اور مجھے  بتا ؤکہ یہ سب چیزیں کس کی ہیں؟ یہ مُہر اور یہ دھا گہ اور یہ لاٹھی۔ ان ساری چیزوں کا مالک جو ہے  اس نے  ہی مجھے  حاملہ کیا ہے ۔ کس کا ہے ؟ ”

26 یہوداہ نے  اُن اشیاء کی شناخت کر لی۔ اور وہ جو کچھ کہہ رہی ہے  صحیح ہے  لیکن میں نے  ہی غلطی کی ہے ۔ اور کہا کہ میرے  وعدے  کے  مطابق میرا بیٹا سیلہ اس کو دینا چاہئے  تھا۔ لیکن یہوداہ اُس کے  بعد پھر اُس کے  ساتھ ہم بستر نہ ہوا۔

27 تمر کے  لئے  وضع حمل کے  دن قریب ہوئے ۔ اور دایہ نے  یہ محسوس کیا کہ اُس کے  دو بچے  ہونے  والے  ہیں۔

28 جب اُسے  وضع حمل ہو رہا تھا تو ایک بچے  نے  اپنا ہاتھ آگے  باہر بڑھا یا تو دایہ نے  اُس بچے  کے  ہاتھ کو سُرخ دھا گہ باندھا اور کہا کہ یہ پہلا ہے ۔

29 لیکن اُس بچے  نے  اپنا ہاتھ پیچھے  کی طرف کھینچ لیا۔ تب پھر دوسرا بچہ پہلے  پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے  دائی نے  کہا، ” تُو نے  با ہر آنے  کے  لئے  اپنے  آپ  کے  لئے  جگہ بنا ئی۔ ” جس کی وجہ سے  انہوں نے  اُس بچے  کا نام” فارص ” رکھا۔

30 پھر اُس کے  بعد دوسرا بچہ دنیا میں آیا۔ اس بچے  کے  ہاتھ میں سُرخ دھا گہ تھا۔ جس کی وجہ انہوں نے  اُسے  ” زراح” کا نام دیا۔

 

 

 

باب:    39

 

 

1 یوسف کو خریدنے  والے  اسمٰعیلی اُس کو مصر میں لائے  اور اُس کو فرعون کے  محافظین کے  سردار فوطیفار کو بیچ دیا۔

2 لیکن خداوند کی مدد اور نصرت سے  یوسف ترقی کرتا گیا۔ اپنے  مصری مالک فوطیفار کے  گھر قیام کیا۔

3 خداوند کا یوسف کے  ساتھ رہ کر اُس کو ہر کام میں کامیابی کے  ساتھ سر انجام دلانے  کی تائید کو فوطیفار نے  محسوس کیا۔

4 فوطیفار، یوسف کے  بارے  میں بہت مطمئن تھا اور اُس کو ایک خاص خادم کی حیثیت دے  دی۔ اور گھر کے  سارے  مسائل و ضروریات کے  حل کے  لئے  اُس کو مختار کا درجہ دیا۔ اور اپنی ساری جائیداد کی نگرانی کے  لئے  اُس کو مختار اعلیٰ بنا لیا۔

5 فوطیفار نے  جب یوسف کو گھر کا مختار اور جائیداد کا ایک ذمّہ دار بنایا تو خداوند نے  فوطیفار کے  گھر بار،  اُس کی فصلوں اور اُس کی جائیداد میں خیر و بر کت ڈال دی۔

6 اس لئے  فوطیفار نے  ہر قسم کی ذمّہ داری یوسف کو سونپ دی اور سوائے  اپنے  کھانے  پینے  کے  کسی اور چیز سے  تعلق نہ رکھا۔ یوسف بہت خوبصورت اور دیکھنے  میں بہت اچھا تھا۔

7 ان باتوں کے  بعد یوں ہوا کہ یوسف کے  مالک کی بیوی نے  یوسف پر نگاہ ڈالی اور کہا ” آؤ اور میرے  ساتھ ہم بستری کرو۔ ”

8 لیکن یوسف نے  اس بات سے  انکار کیا۔ اور اس نے  ان سے  کہا کہ میرا مالک تو گھر کی ساری ذمّے  داریاں میرے  سپرد کر خُود بے  فکر ہو گئے  ہیں۔

9 میرے مالک نے تو اپنے  گھر کی تمام تر ذمّے  داریاں مجھے  سونپ دینے  کے  با وجود بھی اپنی عزیز اور چہیتی بیوی  کو میرے  حوالے  نہیں کیا ہے ۔ اور پھر جواب دیا کہ ایسی صورت میں ایسا بڑا گناہ کر کے  میں خدا کو کیسے  ناراض کروں۔

10 وہ عورت روزانہ اسے  تنگ کرنے  لگی۔ لیکن یوسف اس سے  ہم بستری کرنے  سے  انکار کرتا رہا۔

11 ایک دن یوسف اپنے  کسی کام سے  گھر میں چلا گیا۔ اس وقت اس گھر میں صرف وہی اکیلا آدمی  تھا۔

12 اُس کے  مالک کی بیوی  نے اُس کے  جبّہ کو پکڑ لیا اور کہنے  لگی کہ آ جا اور میرے  ساتھ ہم بستری کر۔ فوراً یوسف اپنے  جبّہ کو وہیں پر چھوڑ کر بھاگ گئے ۔

13 جب اس عورت نے  دیکھا کہ یوسف اپنا جبّہ اس کے  ہاتھ میں چھوڑ کر گھر سے  باہر بھاگ گئے ۔

14 تو اس نے  گھر کے  باہر جو نو کر تھے  اُن کو بلوایا، اور کہا” دیکھو ہمیں ذلیل و رُسوا کرنے  کے  لئے  اِس عبرانی غلام کو یہاں لا یا گیا تھا۔ وہ میرے  پاس مجھ سے  ہم بستری کرنے  آیا تھا لیکن میں نے  زور زور سے  چیخ و پکار کی۔

15 میری چیخ و پکار سے  خوف زدہ ہو کر وہ اپنے  جبّہ کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔

16 اُس نے  اُس جبّہ کو اپنے  شوہر اور یوسف کے مالک فوطیفار کے  آنے  تک رکھا۔

17 جب اُس کا شو ہر آیا تو، اس طرح کہنے  لگی کہ تو نے  جس عبرانی نو کر کو اپنے  پاس رکھا ہے ، اُس نے  تو مجھ پر جبراً عزت لوٹنے  کے  لئے  حملہ کیا۔

18 اُس نے  کہا کہ جیسے  ہی میں زور زور سے  چلّانے  لگی تو وہ اپنے  جبّہ کو چھوڑ کر بھا گ گیا۔

19 یوسف کا مالک اپنی بیوی کی باتیں سُن کر بہت غضب ناک ہوا۔

20 بادشاہ کے  دُشمنوں کی سزا کے  لئے  ایک قید خانہ بنایا گیا تھا۔ اور فوطیفار نے  یوسف کو اُسی قید خانے  میں ڈلوا دیا۔ اُس دن سے  یوسف وہیں پر رہا۔

21 لیکن خداوند نے  یوسف کے  ساتھ رہ کر اُس کے  ساتھ کرم و عنایت کی۔ چند دن گزرنے  کے  بعد جیل کا داروغہ یوسف کو چاہنے  لگا۔

22 اُس نے  تمام قیدیوں کو یوسف کی تحویل میں دے  دیا۔ وہاں پر جو کُچھ بھی کر نا ہوتا یوسف ہی اُس کو کرواتا۔

23 محافظوں کے  سردار نے ، یوسف  نے جو کیا تھا اس پر کچھ بھی دھیان نہ دیا۔ خداوند یوسف کے  ساتھ اور اس کے  سارے  کاموں کو کامیابی سے  کر وا رہا تھا۔

 

 

 

 

 

باب:    40

 

 

1 اس کے  بعد فر عون کے  دو نو کر فرعون سے  کسی معاملہ میں مجرم ٹھہرے ۔ ان دونوں میں سے  ایک نانبائی تھا اور دُوسرا ساقی تھا۔

2 فرعون اپنے  سردار نانبائی اور سردار ساقی دونوں پر ناراض ہوا۔

3 اس لئے  اُن دونوں کو بھی اسی قید خانہ میں بھیج دیا جہاں یوسف تھا۔ محافظوں کا سردار فوطیفار قید خانہ کا نگراں کار تھا۔

4 قید خانہ کے داروغہ نے  ان دونوں مجرموں کو یوسف کے  حوالے  کیا تھا۔ چند دنوں کے  لئے  وہ دونوں بھی قید خانے  میں تھے ۔

5 ایک رات اُن دونوں قیدیوں کو یعنی سردار نانبائی کو اور سردار ساقی کو ایک ایک خواب آیا۔ اور اُن دونوں کے  خواب کی الگ الگ تعبیر تھی۔

6 دُوسرے  دن صبح یوسف ان کے  پاس گیا۔ تو ان دونوں کو فکر مند پا یا۔

7 یوسف نے  پوچھا ” کیا بات ہے  کہ آج تم دونوں ہی بہت فکر مند معلوم ہو رہے  ہو؟ ”

8 اُن دونوں نے  کہا کہ ہم  نے گزشتہ رات ایک ایک خواب دیکھا ہے ۔ لیکن ہم نے  جو خواب دیکھا ہے  اس کے  معنیٰ ہمسمجھنے  سے  قاصر ہیں۔ اور ہم سے  کہا گیا کہ خواب کے  معنیٰ بتانے  والے  یا خواب کی تعبیر بیان کرنے  والا کوئی نہیں ہے ۔ یوسف نے  ان سے  کہا، ” خدا ہی ایک ہے  کہ جو خوابوں کے  معنیٰ جانتا ہے  یا خوابوں کی تعبیر بیان کرتا ہے ۔ اور کہا کہ برائے  مہر بانی تم اپنے  خواب مجھ سے  بیان کرو۔ ”

9 تب سردار ساقی نے  یوسف سے  کہا، ” میں نے  اپنے  خواب میں انگور کی بیل دیکھی ہے ۔

10 اور اُس بیل پر تین شاخیں تھیں۔ ان شاخوں میں پھول نکلے ۔ اور وہ پھول میوہ بنے ۔

11 اور میں فرعون کا پیالہ ہاتھ میں پکڑے  ہوئے  تھا اس طرح انگور لیا اور پیالے  میں رس نچوڑ کر پیا لہ فرعون کو دیا۔ ”

12 اس پر یوسف نے  کہا، ” میں خواب کی تعبیر تجھے  بتاؤں گا۔ ان تینوں شاخوں سے  مراد تیندنہیں۔

13 تین دنوں کے  اندر فرعون تجھے  معاف کرتے  ہوئے  پھر تجھے  کام پرلے  گا۔ اور تو پہلے  کی طرح اس کا سردار ساقی بنا رہے  گا۔

14 لیکن (دیکھ ) کہ جب تو اطمینان سے  رہے  تو مجھے  یاد کر لینا اور میرے  بارے  میں فرعون سے  ذکر کر نا اور میرے  لئے  قید سے  چھٹکارے  کی راہ نکالنا۔

15 میں عبرانیوں کے  ملک کا رہنے  والا ہوں مجھے  بعض لوگ اغوا کر کے  لا ئے ہیں۔ لیکن یہاں پر بھی میں نے  کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔ جس کی وجہ سے  مجھے  قید خانہ میں نہیں رہنا چاہئے ۔ ”

16 سردار ساقی کے  خواب کی تعبیر اچھی ہونے  کی وجہ سے  سردار نانبائی نے  یوسف سے  کہا کہ مجھے  بھی ایک خواب ہوا ہے ۔ میرے  خواب میں میرے  سر پر تین ٹوکریاں تھیں۔

17 سب سے  اوپر کی ٹوکری میں بادشاہ کے  لئے  ہر قسم کے  کھانے  تھے ، لیکن پرندے  اُس غذا کو ٹوکری سے  کھا رہے  تھے ۔

18 یوسف نے  کہا، ” خواب کی تعبیر میں تجھے  بتاؤں گا۔ تین ٹوکریوں کے  معنی تین دن ہوں گے ۔

19 تین دنوں کے  اندر بادشاہ تجھے  قید سے  چھڑوا کر تیرے  سر کو تن سے  جُدا کر وا دے  گا۔ اور تیرے  جسم کو کھمبے  سے  لٹکا دے  گا اور کہا کہ تیرے  جسم کو پرندے  نوچ نوچ کر کھائیں گے ۔ ”

20 تیسرا دن آیا۔ اور وہ فرعون کی سالگرہ کا دن تھا۔ اور فرعون نے  اپنے  تمام نوکروں کے  لئے  ضیافت کا اہتمام کیا۔ ضیافت میں فرعون نے  سردار نانبائی کو اور سردار ساقی کو قید سے  رہا کر دیا۔

21 فرعون نے  سردار ساقی کو دوبارہ اُسی کام کے  لئے  مُنتخب کیا۔ اور وہ شراب کے  پیالے  کو فرعون کے  ہاتھ میں دینے  وا لا بن گیا۔

22 اور فرعون نے  سردار نانبائی کو پھانسی پر لٹکوا دیا۔ یوسف کے  کہنے  کے  مُطابق ہر بات سچ ہو ئی۔

23 لیکن ساقی یوسف کی مدد کرنا بھول گیا اور یوسف کے  بارے  میں فرعون سے  کچھ نہ کہا۔

 

 

 

 

 

باب:    41

 

 

1  دو سال گذر جانے  کے  بعد فرعون کو ایک خواب آیا۔ فرعون خواب میں دریائے  نیل کے  کنارے  پر کھڑا ہے ۔

2 تب فربہ اور اچھی قسم کی سات گائیں دریا میں سے  نکل کر گھاس چر رہی تھیں۔

3 پھر دبلی، بدصورت ا و ربھدّی سات گائیں دریا میں سے  نکل کر اُن سات اچھی گایوں کے  بغل میں کھڑی ہو گئیں۔

4 وہ سات جو بد صورت بھدّی گائیں تھیں دوسری سات اچھی و فربہ گایوں کو کھا گئیں۔ تب فرعون نیند سے  بیدار ہوا۔

5 فرعون پھر دوبارہ سو گیا۔ تب اسے  پھر دوسرا خواب آیا۔ اس نے  ایک ہی پو دے  پر اناج کی سات بالیاں دیکھیں۔ اناج کی وہ بالیاں عمدہ اور دانہ سے  بھری ہوئی  تھیں۔

6 پھر اس نے  اسی پو دے  پر اناج کی سات اور بالیاں نکلتے  ہوئے  دیکھیں۔ وہ بالیاں خشک ہوا کی وجہ سے  پتلی اور سوکھی ہوئی تھی۔

7 وہ جو سوکھی ہوئی بالیاں تھیں وہ تازہ و طاقتور بالیوں کو کھا گئیں۔ جب فرعون نیند سے  بیدار ہوا تو سمجھ گیا کہ یہ تو صرف ایک خواب ہی ہے ۔

8 دوسرے  دن صبح ان خوابوں کے  بارے  میں بہت ہی فکر مندی کے  ساتھ تمام جادو گروں اور سب عقلمندوں و عالموں کو بُلوایا اور اُن کو  خواب سُنایا۔ مگر اُن میں سے  کسی کے  لئے  خواب کی تعبیر بیان کر نا ممکن نہ ہو سکا۔

9 تب سردار ساقی فرعون سے  کہا کہ جو بات میرے  ساتھ پیش آئی تھی وہ مجھے  یاد آتی ہے ۔

10 آپ نے   مجھے اور سردار نانبائی کو ناراض ہو کر قید خانہ میں ڈلوا  دیا  تھا۔

11 ایک رات ہم دونوں کو خواب آیاتھا۔ اور اُن خوابوں کی الگ الگ تعبیر تھی۔

12 ہمارے  ساتھ ایک عبرانی نو جوان تھا۔ وہ محافظین کے  نگراں کار کا نوکر تھا۔ ہم نے  اُسے  اپنے  خواب سُنائے ۔ اُس نے  وضاحت کر کے  ہمارے  خوابوں کی تعبیر بتا ئی۔

13 اُس کے  بتائے  ہوئے  معنوں کے  مطابق مجھ پر وہ بات صادق آئی۔ پہلے  کا منصب بھی ملا۔ اور کہا کہ سردار نانبائی کے  بارے  میں اس کے  کہنے  کے  مُطابق اسے  موت کی سزا ہو ئی۔

14 تب فرعون نے  یوسف کو قید خانہ سے  بلوایا۔ یوسف نے  حجامت بنوا کر صاف ستھرے  کپڑے  پہنے  اور فرعون کے  سامنے  جا کر حاضر ہوا۔

15 فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ مجھے  ایک خواب آیا ہے ۔ لیکن یہاں اُس کی تعبیر بتانے  والا کوئی نہیں ہے ۔ میں نے  تیرے  بارے  میں یہ بات سُنی ہے کہ تو خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہے ۔

16 یوسف نے  کہا، ” میں نہیں، لیکن ہاں خدا تمہارے  سوال کا جواب دے  سکتا ہے ۔ ”

17 تب فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ میرے  خواب میں، میں دریائے  نیل کے  کنارے  کھڑا ہوں۔

18 فربہ اور موٹی سات گائے  دریا سے  باہر آ کر گھاس چر رہی تھیں۔

19 تب دبلی اور بھدّی سات گائے  دریا میں سے  آ کر کھڑی ہو گئیں۔ ویسی دبلی گایوں کو میں نے  مصر میں کبھی نہیں دیکھا۔

20 وہ دُبلی گائیں پہلے  آئی ہوئی سات اچھّی گایوں کو کھا گئیں۔

21 وہ سات گایوں کو کھانے  کے  با وجود بھی ایسا لگتا ہے  کہ جیسے  کچھ بھی نہیں کھایا ہے ۔ وہ پہلے  کی طرح ہی دُبلی اور بھدی تھیں۔ تب میں نیند سے  بیدار ہوا۔

22 “اور میرا دوسرا خواب اس طرح ہے  کہ ایک ہی پو دے  کے  ایک ہی ڈنٹھل میں اچھی اور موٹی سات بالیاں نکلیں۔

23 تب اُسی پو دے  میں اُوپر سے  گرم ہوا چلنے  پر سوکھی ہوئی سات بالیاں نکلیں۔

24 سوکھی ہوئی بالیاں اُن اچھی بھر ی ہوئی موٹی سات بالیوں کو کھا گئیں۔ “میں نے  یہ خواب جادو گروں اور دانشمندوں کو سُنائے ۔ لیکن اُن میں سے  کسی سے  اِن خوابوں کی تعبیر بتانا ممکن نہ ہو سکا۔ ”

25 تب یوسف نے  فرعون سے  کہا کہ اُن دونوں خوابوں کی تعبیر ایک ہی ہے ۔ خدا تم سے  کہہ رہا ہے  کہ وہ کیا کرنے  وا لا ہے ۔

26 اچھی سات گائیں سات اچھے  سال ہیں۔ اور اچھی سات بالیوں سے  مراد بھی سات اچھے  سال ہیں۔ اور دونوں خوابوں کی ایک ہی تعبیر ہے ۔

27 دُبلی اور بھدّی سات گائیں اور سوکھی پتلی دانوں کی سات بالیاں ملک کو آئندہ پیش آنے  وا لی سات سال کی قحط سالی ہے ۔ یہ سات سال کی قحط سالی سات اچھے  اور خوشحال سالوں کے  بعد آئے  گی۔

28 اب خدا نے  تجھے  دکھا دیا ہے  کہ خدا کیا کرنے  وا لا ہے ۔ میرے  کہنے  کے  مطابق یہی بات پیش آئے  گی۔

29 تمہیں سات سال تک پیداوار سے  بہترین فصل ملتی رہے  گی۔ شہر مصر کو کھانے  کے  لئے  ضرورت سے  زیادہ غذا فراہم ہو گی۔

30 لیکن وہ سات سال گزر نے  کے  بعد پھر شہر میں سات سال تک قحط سالی ہو گی۔ تب مصر کے  باشندے  پہلے  اُگائے  ہوئے  سارے  اناج کو بھول جائیں گے ۔ اور یہ قحط سالی ملک کو تباہ و برباد کر دے  گی۔

31 اور قحط سالی اتنی بھیانک ہو گی کہ لوگ سات خوشحال سالوں کو بھول جائیں گے ۔

32 ” تم نے  ایک خواب دو بار دیکھا تھا۔ یقیناً خدا نے  اسے  کرنے  کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

33 اِس وجہ سے  آپ  ایک بہت ہی دانا اور عقلمند آدمی  کو منتخب کر کے  ملک مصر پر اس کو ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے  مقرر کریں۔

34 اِس کے  علا وہ آپ  لوگوں سے  اناج کا ذخیرہ کرنے  کے  لئے  ذخیرہ اندوزوں کو مقرر کر کے  اچھے  سات سال میں ہر ایک کسان سے  پیداوار کا پانچواں حصّہ بشکل مال گذاری وصول کریں۔

35 ان آدمیوں کو اناج گوداموں میں ہوشیاری سے  جمع کر لینا چاہئے ۔ ”

36 اور کہا کہ ذخیروں میں وافر مقدار میں اناج ہونے  کی وجہ سے  مصر کے  باشندوں کو قحط سا لی کے  سات سال میں بھی بھو کے  مرنے  کی نو بت نہ آئے  گی۔ ”

37 یہ بات فرعون کو اور اُس کے  نو کروں کو بھلی معلوم ہو ئی۔

38 فرعون نے  اپنے  نو کروں سے  کہا کہ کیا اس ذمّہ داری کو یوسف سے  بڑھ کر کوئی نباہ سکتا ہے ؟ اور خدا کی روح بھی اس کے  ساتھ ہے ۔

39 فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ خدا نے  تجھے  یہ ساری باتیں بتا ئی ہیں ، چونکہ تجھ سے  بڑھ کر کوئی دوسرا عقلمند اور دانا ہے  ہی نہیں۔

40 جس کی وجہ سے  میں تجھے  ملک کا حاکم اعلیٰ مقرر کرتا ہوں اور کہا کہ لوگ تیرے  احکامات کی تابعداری کریں گے ۔ اور اس ملک میں تیرے  لئے  میں تنہا مختار کُل رہوں گا۔

41 فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ میں تجھے  ملک مصر کے  لئے  حاکم اعلیٰ کی حیثیت سے  نامزد کرتا ہوں۔ یہ کہتے  ہوئے ۔

42 اس نے اپنی مہر کی انگوٹھی انگلی سے  نکالی اوریوسف کو پہنا دی۔ اور اسے  بہترین کتانی جبّہ بھی پہننے کیلئے  دیا اور اس کے  گلے  میں سونے  کا ہار ڈالا۔

43 اور فرعون نے  یوسف کو دوسری شاہی سواری سفر کرنے  کے  لئے  دے  دی۔ خصوصی محافظین اس کی رتھ کے  سامنے  چلتے  ہوئے  یہ اعلان کر رہے  تھے  کہ اے  لوگو! اپنی جبین نیاز کو جھکاؤ اور یوسف کو سلام بجا لاؤ۔ اس طرح یوسف تمام ملک مصر کے  لئے  حاکم اعلیٰ بن گیا۔

44 فرعون نے  اس سے  کہا”میں بادشاہ فرعون ہوں۔ اس لئے  میں وہی کروں گا جو مجھے  پسند ہے ۔ لیکن تیری اجازت کے  بغیر مصر کا کوئی بھی آدمی  اپنی خواہش کے  مطابق کچھ نہیں کر سکتا ہے  اور نہ ہی ایک قدم آگے  بڑھا سکتا ہے ۔ ”

45 فرعون نے  یوسف کو صفنات فعنیح کا نام دیا۔ اس کے  علا وہ فرعون نے  یوسف کی آسِناتھ کے  ساتھ شادی کر وادی۔ اور وہ اَون شہر کے  کاہن فوطیفرع کی بیٹی تھی۔ تب پھر یوسف پو رے  ملک مصر کا دو رہ کرنے  لگا۔

46 یوسف جب مصر کے  بادشاہ کے  پاس خدمت پر مامور تھا تو وہ تیس برس کی عمر کا تھا۔ اور یوسف پو رے  ملک مصر میں دورے  کرنے  لگا۔

47 خوشحالی کے  سات سالوں میں ملک میں فصل کی پیدا وار وغیرہ بہت اچھی ہونے  لگی۔

48 سر زمین مصر میں یوسف ان سات سالوں کے  دوران اناج جمع کیا اور گوداموں میں رکھوا دیا۔ ہر شہر میں اس نے  سارے  کھیتوں سے  اناج جمع کیا اور یہ اناج ان شہروں میں رکھوایا۔

49 یوسف نے  بہت سارا اناج جمع کر لیا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے  سمندر کے  کنارے  ریت کا ڈھیر ہو۔ اس نے  اتنا اناج جمع کیا تھا کہ اسے  ناپنا مشکل تھا۔

50 یوسف کی بیوی آسناتھ تھی۔ اور وہ شہر اَون کے  کاہن فوطیفرع کی بیٹی تھی۔ اور قحط سا لی کا پہلا سال آنے  سے  پہلے  ہی یوسف کے (اس کی بیوی آسناتھ) سے  دو بیٹے  پیدا ہوئے ۔

51 جب پہلا بچّہ پیدا ہوا تو یوسف نے  کہا کہ خدا نے  میری ایسی مدد کی کہ میں ساری تکالیف کو اور اپنے  ماں باپ کے  گھر والوں کو بھول گیا۔ یہ کہہ کر یوسف نے  اس بچّہ کا نام ” منسّی ” رکھا۔

52 جب دوسرا بیٹا پیدا ہوا تو یوسف نے  کہا کہ خدا نے  مجھے  اس ملک میں کامیاب کیا جس ملک میں میں بہت تکلیف اور پریشانی میں گھرا ہوا تھا۔ اس لئے  اس نے  اس لڑ کے  کا نام ” افرائیم”رکھا۔

53 مصر میں خوشحالی کے  سات سال گزرنے  کے  بعد۔

54 یوسف کے  کہنے  کے  مطابق قحط سا لی کے  سات سال کا آغاز ہوا۔ قحط سالی اطراف و اکناف کے  تمام علاقوں میں پھیل گئی۔ البتہ صرف مصر میں غلّہ فراہم تھا۔

55 جب قحط سا لی کا آغاز ہوا تو لوگ غلّہ کے  لئے  فرعون سے  منّت کرنے  لگے ۔ فرعون نے  مصر کے  شہریوں سے  کہا کہ یوسف سے  پو چھو۔ اور اس کی ہدایت کے  مطابق کام کرو۔

56 اب قحط سالی ساری زمین میں پھیل گئی تھی اس لئے  یوسف نے  گوداموں کو کھلوایا اور مصریوں کو اناج فروخت کیا۔ مصر کی سر زمین میں قحط سالی بہت سخت تھی۔

57 دُنیا بھر میں سختقحط سالی پھیلی ہوئی تھی۔ اس لئے  تمام ممالک کے  لوگ اناج خریدنے  کے  لئے  مصر آئے ۔

 

 

 

 

باب:    42

 

 

1 مصر میں اناج اور دال دانہ کی وافر مقدار میں موجودگی کے  بارے  میں کنعان میں یعقوب نے  جان لیا۔ اس لئے  یعقوب نے  اپنے  بیٹوں سے  کہا کہ ہم یہاں کچھ کئے  بغیر چُپ کیوں بیٹھے  رہیں؟

2 میں نے  سُنا ہے  کہ مصر میں اناج موجود ہے ۔ وہاں جاؤ اور ہم لوگوں کے  لئے  کچھ اناج خرید لو۔ تبھی ہم مرنے  سے  بچ جائیں گے ۔

3 جس کی وجہ سے  یوسف کے  دس بھائی اناج کی خریدی کے  لئے  مصر چلے  گئے ۔

4 یعقوب نے  بنیمین کو نہیں بھیجا ( بنیمین یوسف کا بھائی تھا ) بنیمین کے  لئے  کسی بھی قسم کے  ضرر اور خطرہ کا یعقوب کو ڈر تھا۔

5 کنعان میں خوفناک قسم کی قحط سالی پھیلی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے  کئی لوگ اناج خریدنے  کے  لئے  کنعان سے  مصر کو چلے  گئے ۔ اسرائیل کے  دیگر بیٹے  بھی ان کے  ساتھ چلے  گئے ۔

6 چونکہ یوسف مصر کا صوبہ دار تھا اس وجہ سے  اس کی اجازت کے  بغیر کسی کے  لئے  اناج کا خرید نا ممکن نہ تھا۔ یوسف کے  بھائی اس کے  سامنے  آ کر جھک گئے ۔

7 یوسف نے  اپنے  بھا ئیوں کو دیکھا اور انہیں پہچان لیا۔ اور ان سے سختلہجہ میں بات کی۔ اس نے  ان لوگوں سے  پو چھا، ” تم سب کہاں سے  آ رہے  ہو؟ اور ان لوگوں نے  جواب دیا، ” ہم اناج خریدنے  کے  لئے  سر زمین کنعان سے  آئے  ہیں۔ ”

8 یوسف نے  اپنے  بھا ئیوں کو پہچان لیا لیکن اس کے  بھا ئیوں نے  یوسف کو نہ پہچا نا۔

9 تب یوسف نے  اپنے  بڑے  بھا ئیوں کے  بارے  میں دیکھے  ہوئے  خوابوں کو یاد کر کے  ان سے  کہا، ” تم جاسوس ہو۔ تم ہمارے  ملک کے  اندرونی کمزوریوں کو جاننے  کیلئے  آئے  ہو۔ ”

10 بھا ئیوں نے  کہا” نہیں ہمارے  آقا آپ  کے  خادم اناج خریدنے  کے  لئے  یہاں آئے  ہیں۔

11 ہم سب بھائی ہیں اور ہم سب کا ایک باپ ہے ۔ ہم لوگ ایمان دار آدمی  ہیں۔ اور ہم جاسوس نہیں ہیں۔ ”

12 یوسف نے  ان سے  کہا کہ نہیں بلکہ ہماری اندر کی کمزوریوں سے  واقف ہونے  کے  لئے  تم آئے  ہو۔

13 اس پر انہوں نے  کہا، ” نہیں! بلکہ ہم سب آپس میں بھائی ہیں۔ اور ہمارے  خاندان میں ہم لوگ بارہ بھائی ہیں۔ اور ہم سب کا ایک ہی باپ ہے ۔ اور ہمارا چھوٹا بھائی تو ہمارے  باپ کے  ساتھ گھر پر ہی ہے ۔ اور ہم بھائیوں میں سے  ایک مر گیا ہے ۔ ہم تو آپ  کے  خادم ہیں اور کنعان ملک سے  آئے  ہیں۔ ”

14 یوسف نے  ان سے  کہا کہ نہیں بلکہ میرے  اندازے  کے  مطابق تم لوگ جاسوس ہو۔

15 اگر تمہارا کہنا سچ ہے  تو تمہارے  چھوٹے  بھائی کو چاہئے  کہ وہ یہاں آئے ۔ ور نہ فرعون کی جان کی قسم تب تک تم یہاں سے  جا نہیں سکتے ۔

16 اس لئے  تم میں سے  ایک کو واپس جا کر تمہارے  چھوٹے  بھائی کو یہاں بُلا نا ہو گا۔ تب تک باقی سب کو یہاں پر قید میں رہنا ہو گا۔ تمہارا کہنا سچ ہے  یا جھوٹ اس وقت مجھے  معلوم ہو جائے  گا۔ اور کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تم تو جاسوس ہی ہو۔

17 پھر یوسف نے  ان سب کو تین دن کے  لئے  قید خانے  میں ڈلوا دیا۔

18 تین دن گزر جانے  کے  بعد یوسف نے  ان سے  کہا، ” میں خدا سے  خوف کھاتا ہوں۔ اگر تم اسے  کرو گے  تو میں تمہیں جینے   دوں گا۔

19 اگر سیدھے  سادے  اور بھولے  بھالے  ہو تو میں تم میں سے  ایک بھائی کو قید خانے  میں رکھتا ہوں اور باقی سب اپنے  لوگوں کے  لئے  اناج لے  جا سکتے  ہو۔

20 اور کہا کہ اگر تم  اپنے  چھوٹے  بھائی کو میرے  پاس لا ئے تو میں سمجھوں گا کہ، تم جو کہتے  ہو وہ سچ ہے ۔ ” بھائیوں نے  اس بات کو منظور کر لیا۔

21 وہ آپس میں ایک دوسرے  سے  کہنے  لگے  کہ ہم نے  اپنے  بھائی یوسف کے  ساتھ جو بد سلوکی کی اس کی سزا ہم بھُگت رہے  ہیں۔ اپنی جان کے  خطرے  میں وہ مبتلا تھا اور اس نے  خود کو بچانے  کے  لئے  ہم سے  منت کی تھی تب بھی ہم نے  اس کی اس گزارش کو ردّ کر دی تھی۔ اور یہ کہنے  لگے  کہ اسی وجہ سے  اب ہم بھی اپنی جان کے  خطرے  سے  دو چار ہیں۔

22 تب روبن نے  ان سے  کہا کہ میں نے  تم سے  کہا تھا کہ تم اس بچّے  کو ضرر نہ پہنچاؤ لیکن میری اس بات کو تم نے  نہ سنی تھی اور کہا کہ اسی وجہ سے  اب ہم اس کی موت پر مناسب سزا پا رہے  ہیں۔

23 یوسف اپنے  بھا ئیوں کے  ساتھ بیچ میں ایک ترجمان کے  ذریعے باتیں کر رہا تھا۔ جس کی وجہ سے  وہ تمام بھائی یہ نہیں جان سکے  کہ ہم لوگ جو کہہ رہے  ہیں وہ سمجھ سکتا ہے ۔

24 اس لئے  وہ ان لوگوں کے  پاس تھوڑا اور آگے  گیا اور رویا۔ تب وہ واپس آیا اور ان کی نظروں کے  سامنے  شمعون کو قیدی بنایا۔

25 تب یوسف نے  اپنے  نوکروں سے  کہا کہ ان کے  تھیلوں کو اناج سے  بھر دو۔ اس اناج کے  لئے  بھا ئیوں نے  یوسف کو پیسے  دیئے  اس کے  با وجود بھی یوسف نے  اس قیمت کو قبول نہ کیا۔ اور اس نے  اس رقم کو ان کے  اناج کے  تھیلوں ہی میں رکھوا دیا۔ اور سفر کے  لئے  ان کو حسب ِ ضرورت اشیاء بھی فراہم کیا۔

26 بھائیوں نے  اناج گدھوں پر لادا اورچل دیئے ۔

27 اس رات بھا ئیوں نے  ایک انجان جگہ پر قیام کیا۔ بھا ئیوں میں سے  ایک نے  گدھے  کے  لئے  تھوڑا اناج نکالنے  کے  لئے  اپنے  تھیلے  کو کھو لا تو یہ پا یا کہ اناج کی ادا کی ہوئی رقم تھیلے میں ہے ۔

28 اس نے  اپنے  دیگر بھا ئیوں سے  کہا کہ دیکھو! میں نے  اناج کی جو قیمت ادا کی تھی وہ یہیں پر ہے ۔ اور کہا کہ کسی نے  اس رقم کو پھر دو بارہ میرے  تھیلے  ہی میں رکھ دیا ہے ۔ بھا ئیوں کو بہت خوف محسوس ہوا۔ اور وہ آپس میں ایک دوسرے  سے  کہنے  لگے  کہ آخر خدا ہم سے  کیا کر رہا ہے ؟

29 تمام بھائی کنعان میں مقیم اپنے  باپ یعقوب کے  پاس آئے ۔ پیش آئے  ہوئے  سارے  واقعات کو یعقوب سے  کہے ۔

30 اس ملک کے حاکم اعلیٰ  نے ہمیں جاسوس سمجھ کر ہم لوگوں سے  سخت لہجہ میں بات کی۔

31 ہم نے  اس سے  کہا کہ ہم سیدھے  سادھے  اور صاف گو ہیں اور ہم جاسوس نہیں ہیں۔

32 ہم لوگ آپس میں بارہ بھائی ہیں۔ اور ہم سب کا ایک ہی باپ ہے  یہ بات ہم نے  اسے  بتا ئی۔ اور ہم نے  ا سے یہ بھی بتا یا تھا کہ ہمارا ایک بھائی پہلے  ہی مر گیا ہے ۔ اور ہمارا چھوٹا بھائی ملک کنعان میں ہمارے  گھر میں ہے ۔

33 ” تب اس ملک کے  حاکم اعلیٰ نے  ہم سے  کہا کہ اگر تم اپنے  آپ  کو سیدھے  سادے  ثابت کر نا چاہتے  ہو تو اپنے  بھا ئیوں میں سے  ایک کو یہاں میرے  پاس چھوڑ دو اور تم اپنے  خاندان والوں کے  لئے  اناج لے  جاؤ۔

34 اس کے  بعد تم اپنے  چھوٹے  بھائی کو میرے  پاس بلا لاؤ۔ تب یہ معلوم ہو گا کہ تم بھولے  بھالے  ہو یا جاسوس اگر تم نے  سچ کہا تو تمہارا بھائی تمہارے  حوالے  کروں گا۔ اور کہا کہ ہمارے  ملک میں تمہارے  اناج خریدنے  کے  لئے  کسی بھی قسم کی رکاوٹ و پا بندی نہ ہو گی۔ ”

35 جب تمام بھائی اپنے  خیموں سے  اناج نکالنے  کے  لئے  گئے  تو ہر بھائی کے  تھیلے  میں اپنی وہ رقم جسے  اناج خریدنے  کے  لئے  جمع کر وایا تھا موجود دیکھ کر بہت ہی حیران و پریشان ہوئے ۔

36 یعقوب نے  ان سے  کہا کہ کیا تمہاری یہ تمنّا و خواہش ہے  کہ میں اپنے  تمام بچّوں کو کھو بیٹھوں؟ یوسف تو رہا نہیں۔ اور شمعون بھی نہ رہا۔ اور کہا کہ اب بنیمیں کو بھی لے  جانا چاہتے  ہو۔

37 روبن نے  اپنے  باپ سے  کہا کہ ” ابّا ” اگر میں بنیمین کو واپس نہ لے  آؤں تو تُو میرے  بیٹوں کو مار دینا اور میری بات پر بھرو سہ کر اور یقین جان کہ میں بنیمین کو آپ  کے  پاس واپس لاؤں گا۔

38 یعقوب نے  کہا، ” میں تو بنیمین کو تمہارے  ساتھ نہ بھیجوں گا۔ اس کا ایک بھائی تو پہلے  ہی مر گیا ہے ۔ اور صرف یہی ایک رہ گیا ہے ۔ اور کہا اگر اس کے  ساتھ مصر کے  سفر کے  دوران کسی قسم کا حادثہ پیش آیا تو مجھ جیسے  عمر رسیدہ آدمی  کو جیتے  جی ہی غم سے  قبر میں جانا ہو گا۔ ”

 

 

 

 

 

 

باب:   43

 

 

1 قحط سالی ملک میں شدت سے  پھیلی ہوئی تھی۔

2 وہ مصر سے  جو اناج لائے  تھے  وہ کھا چکے ۔ جب اناج ختم ہوا تو یعقوب نے  اپنے  بیٹوں سے  کہا کہ مصر کو دوبارہ جاؤ اور ہمارے  کھانے  کے  لئے  اناج خرید لاؤ۔

3 یہوداہ نے  یعقوب سے  کہا کہ اُس ملک کے  حاکم اعلیٰ نے  ہمیں تا کید کی ہے ۔ اور کہا ہے   ‘ اگر تماپنے  بھائی کو میرے  پاس نہ لائے تو تمہیں مجھ سے  ملنے  کی اجازت نہ ہو گی۔ ‘

4 اگر آپ  نے  ہما رے  ساتھ بنیمین کو بھیجا تو ( ایسی صورت میں ) ہم اناج خرید کر لائیں گے ۔

5 اگر آ پ نے  بنیمین کو ہما رے  ساتھ نہ بھیجا تو ہم بھی نہ جائیں گے ۔ اور کہا کہ اُس شخص نے  ہمیں ہدایت دی ہے  کہ تم بنیمین کے  بغیر نہ آنا۔

6 اِسرائیل نے  کہا کہ تم نے  اُس شخص کو یہ کیوں بتایا کہ ہما را ایک اور بھی بھائی ہے ۔ تم نے  میرے  ساتھ اِس قسم کی بد دیانتی کیوں کی۔

7 بھا ئیوں نے  کہا کہ اُس شخص نے  ہما رے  بارے  میں اور ہمارے  خاندان کے  با رے  میں جاننے  کے  لئے  بہت ہی باریک سوا لات کیے ہیں۔ اُس نے  ہم سے  یہ دریافت کیا کہ کیا تمہارا باپ ابھی زندہ ہے ؟ کیا تمہارے  گھر میں تمہارا ایک اور بھی بھائی ہے ؟ ہم نے  تو صرف اُس کے  سوا لات کے  جواب دیئے ۔ ہم کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ ہم ے  یہ کہے  گا کہ تم اپنے  چھوٹے  بھائی کو میرے  پاس بُلا لاؤ۔

8 تب یہوداہ نے  اپنے  باپ اِسرائیل سے  کہا کہ میرے  ساتھ بنیمین کو بھیج دیجئے  اور میں اُس کی پوری نگرانی کروں گا۔ چونکہ مجھے  مصر جا کر اناج لا نا ہے ۔ ورنہ ہم بھو کے  مر جائیں گے ۔ اور ہمارے  بچے  بھی مر جائیں گے ۔

9 اور میں اُس کی ہر قسم کا ذمّہ دار ہوں گا۔ اگر میں اُس کو آپ  کے  پاس دو بارہ واپس نہ لاؤں تو مجھ پر ہمیشہ ملا مت کر نا۔

10 اور کہا کہ اگر آپ  پہلے  ہی ہم کو بھیجتے    تو اب تک ہمیں دوبارہ اناج مل چکا ہو تا۔

11 اِس بات پر اُن کے  باپ یعقوب نے  کہا کہ اگر حقیقت میں یہ سچ ہے  تو، تُو اپنے  ساتھ بنیمین کولے  جا۔ اور حاکم اعلیٰ کے  لئے  ہمارے  پاس سے  کچھ عمدہ قسم کے  تحفے  جو ہمارے  ملک کی پیداوار ہیں لیتے  جانا جن میں شہد، اخروٹ، بادام اور دودھ کی چیز، اور خوشبودار گوند وغیرہ۔

12 اِس مرتبہ دو گنا رقم تم اپنے  ساتھ لے  جانا۔ پچھلی مر تبہ جو رقم واپس لوٹا دی گئی تھی اُس کو بھی ساتھ لے  جانا۔ ہو سکتا ہے  حاکم اعلیٰ سے  اُس سلسلے  میں غلطی ہوئی ہو۔

13 بنیمین کو ساتھ لیتے  ہوئے  اُس شخص کے  پاس پھر دوبارہ جاؤ۔

14 جب تم حاکم اعلیٰ کے  پاس کھڑے  رہو گے  تو خدا قادر مطلق سے  تمہاری مدد کرنے  کے  لئے  میں دعا کروں گا۔ بنیمین کو اور شمعون کو واپس کرنے  کے  لئے اور تم سب کے بحفاظت واپس لوٹنے  کے  لئے  میں خدا سے  دُعا کروں گا۔ اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اپنے  بیٹے  کو کھو کر دوبارہ رنج و غم میں ڈوب جاؤں گا۔

15 اس لئے  بھا ئیوں نے  حاکم اعلیٰ کو تحفے  دینے  کے  لئے  وہ سب کچھ جمع کر لیا۔ پہلی مرتبہ وہ جتنی رقم لے  گئے  تھے  اُس سے  دوگنا رقم پھر دو بارہ لی۔ اور بنیمین کو بھی ساتھ لیا اور مصر کو چلے  گئے ۔ جب وہ وہاں پہنچے  تو وہ یوسف سے  ملے ۔

16 بنیمین کو بھا ئیوں کے  ساتھ دیکھ کر یوسف نے  اپنے  نوکروں سے  کہا کہ ان لوگوں کو میرے  گھر لے  جاؤ۔ اور ایک جانور ذبح کرو اور اسے  پکاؤ۔ یہ لوگ دوپہر میں میرے  ساتھ کھانا کھائیں گے ۔

17 جیسے اس نے  کہا نو کر ان کے  بھا ئیوں کو گھر میں بُلا لے  گیا۔

18 تب بھا ئیوں کو خوف لا حق ہوا۔ وہ آپس میں باتیں کرنے  لگے  کہ پچھلی دفعہ ہمارے  تھیلوں میں ڈالے  گئے  پیسوں کے  بارے  میں اُنہوں نے  ہمیں یہاں بُلا یا ہے ۔ اور ہمیں خطا کار سمجھ کر ہما رے  گدھوں کو پکڑ لیں گے ۔ اور ہمیں ادنیٰ قسم کا نوکر چاکر بنا لیں گے ۔

19 اِس وجہ سے  بھا ئیوں نے  یوسف کے  گھر کے  منتظم نوکر کے  پاس جا کر گھر کے  صدر دروازے  کے  نزدیک اُس سے  بات چیت کی۔

20 اُنہوں نے  کہا کہ اے  ہما رے  آقا! پچھلی  مر تبہ ہم اناج خریدنے  کے  لئے  آئے  تھے ۔

21 جب ہم نے  گھر جاتے  ہوئے  اپنے  تھیلے  کو کھو لا تو ہر تھیلہ میں اناج کی ادا کر دہ رقم پائی گئی۔ وہ رقم وہاں کیسے  آئی ہمیں معلوم نہ ہو سکا۔ اُس رقم کو ہم آپ  کے  حوالے  کرنے  کے  لئے  ساتھ لائے  ہیں۔ اور کہا کہ اِس مرتبہ ہم جس اناج کو خریدنا چاہتے  ہیں اُس کو ادا کرنے  کے  لئے  زیادہ  رقم لائے  ہیں۔

22

23 اُس بات پر نوکر نے  کہا کہ نہ تم خوفزدہ ہو اور نہ ہی فکرمند۔ اس لئے  کہ تمہارا اور تمہارے  باپ کے خدا  نے تمہاری رقم کو بطور تحفہ تمہارے  تھیلوں میں رکھ دیا ہو گا۔ اور یہ بھی کہا کہ پچھلی مر تبہ تم نے  اناج کی خریداریپر جو رقم ادا کی تھی وہ مجھے  یاد ہے ۔ تب پھر وہ نوکر شمعون کو قید خانے  سے  چھڑا لا یا۔

24 نو کر اُن کو یوسف کے  گھر میں بُلا لے  گیا۔ اور اُن کو پانی دیا۔ اور وہ اپنے  پاؤں دھو لئے ۔ پھر اُس کے  بعد اُس نے  اُن کے  گدھوں کو بھی کھا نا دیا۔

25 تمام بھا ئیوں کو یوسف کے  ساتھ کھانا کھانے  کی بات معلوم ہو ئی۔ جس کی وجہ انہوں نے  اُسے  پیش کرنے  کے  سارے  تحفے  دو پہر تک تیار کر لئے ۔

26 جب یوسف گھر کو آ گیا تو بھا ئیوں نے  جو تحفے  اُس کے  لئے  لائے  تھے  اُس کو پیش کر دئیے ۔ تب انہوں نے  زمین تک جھک کر فرشی سلام کیا۔

27 یوسف نے  ان کی خیریت معلوم کی۔ یوسف نے  پھر اُن سے  پو چھا کہ تم نے  مجھ سے  کہا تھا کہ تمہارا ایک ضعیف اور عمر رسیدہ باپ ہے  کیا وہ بخیر ہیں؟ اور کیا وہ ابھی زندہ ہیں؟

28 بھائیوں نے  ان کو جواب دیا، ” ہاں آقا، ہما را باپ تو خیرو عافیت سے  ہے ۔ ” اور وہ ابھی زندہ ہے ۔ پھر وہ یہ کہتے  ہوئے  یوسف کے  سامنے  جھک گئے ۔

29 تب یوسف نے  اپنے  بھائی بنیمین کو دیکھ لیا ( بنیمین اور یوسف ایک ہی ماں کے  بیٹے  تھے  ) یوسف نے  اُن سے  پو چھا کیا تمہارا سب سے  چھوٹا بھائی یہی ہے  جس کے  بارے  میں تم لوگوں نے  کہا تھا؟ تب یوسف نے  بنیمین سے  کہا کہ بیٹے  خدا تیرا بھلا کرے !

30 یوسف چونکہ اپنے  بھائی بنیمین کو بہت زیادہ چاہتا تھا جس کی وجہ سے  اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے  اور وہ کمرے  میں جا کر آنکھوں سے  آنسو بہانے  لگا۔ ( زار و قطار رونے  لگا۔ )

31 پھر یوسف اپنا چہرہ دھو لیا۔ اور اپنے  دِل کو تھام کر آیا اور حکم دیا کہ دستر خوان پر کھا نا چُنو۔

32 یوسف تنہا آیا اور تنہا میز پر کھا نا کھا یا۔ اُس کے  بھائی دوسری  میز پر ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔ مصر کے  باشندے  بھی الگ سے  ایک میز پر کھانے کیلئے بیٹھے ۔ مصری لوگوں نے  عبرانی لوگوں کے  ساتھ کھا نا کھا نا رسوائی سمجھا۔

33 یوسف کے  سب بھائی اس کے  سامنے  والے  میز پر ترتیب وار عمر کے  لحاظ سے  ایک کے  بعد دوسرا یعنی بڑا سے  چھوٹا کے  مطابق بیٹھے  تھے ۔ سب بھائی ایک دوسرے  کو حیران ہو کر دیکھ رہے  تھے ۔

34 خادم، یوسف کی میز سے  کھا نا اُٹھا کر اُن کو پہنچا رہے  تھے ۔ لیکن خادموں نے  بنیمین کو دوسروں کے  مقابلے  میں پانچ گنا زیادہ دیا۔ تمام بھائیوں نے اِطمینان سے  کھا نا کھایا۔

 

 

 

 

باب:    44

 

 

1 پھر یوسف نے  اپنے  نو کر کو حکم دیا کہ یہ لوگ جتنا اناج لے  جا نا چاہیں اِن کی تھیلوں میں بھر دو اور ہر ایک کی رقم بھی اُن ہی کے  تھیلوں میں رکھ دی جائے ۔

2 چھوٹے  بھائی کے  تھیلے  میں بھی رقم رکھ دو۔ مزید حکم دیا کہ میرا جو مخصوص چاندی کا پیالہ ہے  اُس کو بھی اُس کے  تھیلے  میں رکھ دو۔ نوکر نے  ہدایت کے  مطابق ہی کیا۔

3 دوسرے  دن صبح اپنے  بھائیوں اور اُن کے  گدھوں کو اُن کے  ملک کو وا پس بھیج دیا۔

4 ابھی وہ لوگ شہر کے  نزدیک ہی تھے  کہ یوسف نے  اپنے  نوکر کو حکم دیا کہ جا اور اُن لوگوں کا تعاقب کر۔ اُن کو روک دینا اور کہنا کہ ہم تو تمہارے  ہمدرد ٹھہرے ۔ لیکن تم نے  ہمارے  ساتھ دغا کیوں کیا؟ اور تم نے  میرے  مالک کے  چاندی کے  پیالے  کو کیوں چُرا لیا؟

5 اس پیالے  میں تو میرا مالک پیتا ہے ۔ اور خدا سے  سوالات پوچھنے  کے  لئے  وہ اس پیالے  ہی کو استعمال کرتا ہے ۔ تم نے  اُن کا پیالہ چُرا کر بڑی غلطی کی۔

6 ان کے  کہنے  کے  مطابق نو کرنے  ان کے  بھا ئیوں کا پیچھا کیا اور ان کو  روک دیا۔ نو کرنے  ان لوگوں سے  وہ کہا جو یوسف نے  اسے  کہنے  کے  لئے  کہا تھا۔

7 تب ان کے  بھا ئیوں نے  نو کر سے  کہا کہ حاکم اعلیٰ اس طرح کیوں کہتے  ہیں؟ جبکہ ہم لوگوں نے  تو ایسی کوئی حر کت نہیں کی ہے ۔

8 پہلے  ہماری تھیلیوں میں جو رقم ملی تھی وہ  رقم کو ہم لوگ ملک کنعان سے  دو بارہلا کر دے چکے ہیں۔ اس طرح سے  ہم نے  ہر گز تیرے  مالک کا چاندی یا سو نا نہیں چُرایا ہے ۔

9 اگر تو چاندی کے  اس پیالے  کو ہم میں سے  جس کسی کے  بھی تھیلہ میں پائے  گا تو تُو اس تھیلہ کے  مالک کو مار سکتا ہے  اور ہم سارے  تمہارے  غلام ہو جائیں گے ۔

10 نو کرنے  کہا کہ ٹھیک ہے  ایسا ہی ہو گا۔ لیکن یہ کہ میں اُس کو قتل تو نہ کروں گا البتہ جس کسی کے  پاس وہ پیالہ مل جائے ، تو اُس کو چاہئے  کہ وہ میرا نو کر بن کر رہے ۔ اور کہا کہ دوسرے  سب جا سکتے  ہیں۔

11 تب وہ فوراً اپنی تھیلیوں کو زمین پر رکھکر کھول دیا۔

12 نو کرنے  اُن کی تھیلیوں کی جانچ بڑے  بھائی کے  تھیلہ سے  شروع کی اور چھوٹے  بھائی پر جا کر ختم کی۔ اس نے  بنیمین کے  تھیلہ میں پیالہ کو پا یا۔

13 بھائیوں نے  بہت ہی افسوس کے  ساتھ اپنے  کپڑوں کو پھاڑ لیا، اور پھر اپنی تھیلیوں کو گدھوں پر رکھا اور سوار کر کے  شہر کو روانہ ہوئے ۔

14 یہوداہ اور اُس کے  بھائی جب یوسف کے  گھر کو واپس لوٹے  تو یوسف تب تک وہیں پر تھا۔ تمام بھائی زمین کی طرف اپنے  سروں کو جھکا کر آداب بجا لائے ۔

15 یوسف نے  اُن سے  کہا کہ تم نے  ایسا کیوں کیا ہے ؟ کیا تم کو یہ معلوم نہیں ہے  کہ میں فال دیکھ کر چھپی باتوں کو جان لیتا ہوں۔

16 یہوداہ نے  کہا کہ اے  آقا ہمیں تو کُچھ کہنا نہیں ہے ۔ اور وضاحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اور ہمارے  بے  قصور ہونے  کو ثابت کرنے  کے  لئے  کوئی راہ بھی نہیں ہے ۔ ہم نے  کوئی اور کام کیا ہے  جس کی وجہ سے  خدا نے  ہم کو خطا کار ٹھہرا یا ہے ۔ اور اُس نے  کہا کہ یہی وجہ ہے  کہ ہم سب اور بنیمین تیرے  نو کر چاکر بن کر رہیں گے ۔

17 تب یوسف نے  کہا کہ میں تم سب کو نوکر کی حیثیت سے  نہ رکھوں گا۔ بلکہ وہی صرف خادم کی حیثیت سے  رہے  گا جس نے  میرا پیالہ چُرا یا ہے ۔ اور کہا کہ باقی تمام اپنے  باپ کے  پاس سکون و اطمینان سے  جا سکتے  ہو۔

18 پھر یہوداہ یوسف کے  پاس جا کر منت کرنے  لگا کہ میرے  آقا مجھے  برائے  مہربانی وقت دیں کہ میں آپ  کے  ساتھ کھلے  دل سے  بات چیت کروں۔ اور اس بات کی بھی گزارش ہے  کہ مجھ پر غصّہ نہ ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ  فرعون کی مانند ہی ہیں۔

19 جب ہم پہلی مرتبہ آئے  تھے  تو آپ  نے  ہم سے  پو چھا تھا کہ کیا تمہارا کوئی باپ یا بھائی ہے ؟

20 ہم نے  آپ  سے  کہا تھا کہ ہمارا باپ ہے  لیکن وہ بھی ضعیف و کمزور ہے ۔ ہمارا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے ۔ وہ جب پیدا ہوا تو میرا باپ بوڑھا تھا۔ اور سب سے  چھوٹے  بیٹے  کا بھائی مر گیا ہے ۔ اور اس ماں سے  پیدا ہونے  والوں میں صرف یہ تنہا زندہ ہے ۔ اور ہمارا باپ اس سے  بے  حد محبت کرتا ہے ۔

21 تب آپ  نے  ہم سے  کہا تھا کہ اگر ایسا ہی ہے  تو تم اس بھائی کو میرے  پاس بُلا لاؤ میں اُس کو دیکھوں گا۔

22 ہم نے  آپ  سے  کہا تھا کہ وہ چھوٹا بچّہ آ نہیں سکتا، اس لئے  کہ وہ اپنے  باپ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ اور ہم نے  یہ بھی کہا کہ اگر وہ اپنے  باپ کی نظروں سے  دور ہوا تو وہ اس کی جدائی کے  غم میں مر جائے  گا۔

23 لیکن آپ  نے  ہمیں تاکید کی تھی کہ تُم اس چھوٹے  بھائی کو ضرور ساتھ لیتے  آنا۔ ور نہ میں تمہارے  پاس پھر دوبارہ اناج نہیں بیچوں گا۔

24 جس کی وجہ سے  ہم اپنے  باپ کے  پاس واپس لوٹ گئے  اور وہ تمام باتیں اُن سے  سُنائیں جو آپ  نے  بتائی تھی۔

25 ” اس کے  بعد! ہمارے  باپ نے  ہم سے  کہا کہ دو بارہ جا کر ہمارے  لئے  تھوڑا اناج خرید کر لاؤ۔

26 لیکن ہم نے  آپ  سے  کہا تھا کہ ہم ہمارے  چھوٹے  بھائی کے  بغیر نہیں جا سکتے ۔ اِس لئے  کہ حاکم اعلیٰ نے  ہم سے  کہا ہے  کہ جب تک وہ ہمارے  چھوٹے  بھائی کو دیکھ نہ لے  اناج نہیں بیچے  گا۔

27 تب ہمارے  باپ نے  ہم سے  کہا تھا کہ میری بیوی راخل نے  مجھے  دو بیٹے  دیئے  ہیں۔

28 جب میں نے  ایک بیٹے  کو بھیجا تھا تو، وہ ایک درندے  کے  ذریعہ ہلاک ہوا تھا۔ اور میں آج تک اسے  دیکھ نہ سکا۔

29 اُس نے  ہم سے  کہا کہ اگر تم میرے  پاس سے  دوسرے  بیٹے  کولے  گئے  اور اِتفاق سے  اُس کے  ساتھ کوئی بُری بات پیش آئی تو میں غم کو سہ نہ سکوں گا اور میں غم سے  مر جاؤں گا۔

30 ہما رے  باپ کو تو اِس سے  محبت ہے ۔ اگر ہم کسی وجہ سے  اس چھوٹے  بھائی کے  بغیر ہی چلے  جائیں۔

31 تو ہما را باپ فوراً اُسی وقت مر جائے گا۔ اور ہمارے  باپ کے  رنج و غم سے  مرنے  کی وجہ ہم بنیں گے ۔

32 ” میں نے  اس چھوٹے  بیٹے  کی ذمّہ داری کو اپنے  سر لیا ہے ۔ میں نے  اپنے  باپ سے  یہ بھی کہا ہے  کہ اگر میں اس کو ساتھ وا پس نہ لاؤں تو تُو زندگی بھر مجھے  قصوروار ٹھہرا نا۔

33 جس کی وجہ سے  میں آپ  سے  اِس بات کی منت کرتا ہوں کہ یہ نوجوان میرے  دوسرے  بھا ئیوں کے  ساتھ واپس لو ٹ کر جائے ۔ اور میں اس کی جگہ آپ  کے  پاس نوکر کی حیثیت سے  رہ جاؤں گا۔

34 میرے  ساتھ اگر یہ لڑکا نہ رہا تو میں اپنے  با پ کے  سامنے  واپس نہ جاؤں گا۔ میں اس بات سے  بہت خوفزدہ ہوں کہ میرے  باپ پر کیا گذرے   گی۔ ”

 

 

 

 

باب:   45

 

 

1 یوسف اور برداشت نہ کر سکا اور حکم دیا کہ یہاں پر موجود سب لوگوں کو باہر بھیج دیا جائے ۔ وہاں کے  سب لوگ ( اُسی وقت) باہر چلے  گئے ۔ صرف تمام بھائی یوسف کے  ساتھ رہے ۔

2 تب یوسف( درد بھرے  انداز سے  ) چلّا کر رونے  لگے ۔ فرعون کے  گھر میں موجود مصر کے  تمام باشندوں نے سنا۔

3 یوسف نے  اپنے  بھا ئیوں سے  کہا کہ میں تمہارا چھوٹا بھائی یوسف ہوں۔ اور پوچھا کہ کیا میرے والد بخیر و عافیت ہیں؟ لیکن بھا ئیوں نے  اُن کو کوئی جواب نہ دیا۔ اس لئے  کہ وہ خوفزدہ ہو کر ہکا بکا ہو گئے  تھے ۔

4 یوسف پھر اپنے  بھا ئیوں سے  منت کرنے  لگا اور کہا، ” میرے  قریب آ جاؤ، ” اس لئے  تمام بھائی یوسف سے  قریب ہوئے ۔ یوسف نے  اُن سے  کہا، ” میں تمہارا بھائی یوسف ہوں جس کو تم نے  اہل مصر کے  ہاتھوں بحیثیت غلام بیچ دیا تھا۔ وہ میں ہی ہوں۔

5 اب تم فکر مت کرو۔ تم نے  جو کچھ کیا ہے  اُس پر افسوس نہ کرو۔ اِس لئے  کہ میرا یہاں آنا یہ تو خدا کا منشاء اور اُس کی تدبیر تھی۔ میں تمہاری حفاظت کے  لئے  یہاں آیا ہوں۔

6 اِس خوفناک قحط سالی کے  تو صرف دو سال ہی ہوئے  ہیں۔ مزید پانچ سال تک تو کوئی تخم ریزی بھی نہ ہو گی۔ اور نہ کوئی فصل کٹائی ہو گی۔

7 اس لئے  اس ملک میں اپنے  بندوں کی دیکھ بھال کے  لئے  خدا نے  تم سے  پہلے  ہی مجھے  بھیج دیا ہے ۔

8 مجھے  جو یہاں بھیجا گیا ہے  اُس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے ۔ وہ تو خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے  مجھے  فرعون کا انتہائی اعلیٰ درجہ کا حاکم بنا یا ہے ۔ اور کہا کہ میں تو اُس گھر کا اور مصر کا حاکم اعلیٰ بنا یا گیا ہوں۔ ”

9 تب یوسف نے  کہا کہ میرے  باپ کے  پاس جلدی جاؤ اور اُن سے  کہو کہ تیرا بیٹا یوسف نے  اس پیغام کو بھیجا ہے  خدا نے  مجھے  تمام ملک مصر کے  لئے  حاکم اعلیٰ بنا یا ہے ۔ بِلا کسی تا خیر کے  میرے  پاس آ جائیں۔

10 آپ  جشن کے  علا قے  میں میرے  ساتھ قیام کر سکتے  ہیں۔ آپ  اپنے  بچے  اپنے  پوتے  اور تمام چوپایوں کے  ساتھ یہ اس پر سکونت اختیار کریں۔

11 اگلے  پانچ سال تک قحط سالی کے  زمانے  میں میں آپ کی رکھوا لی و پاسبانی کروں گا۔ تب نہ آپ  کو اور نہ ہی آپ  کے  خاندان والوں کو غُربت و اِفلاس کا احساس ہو گا۔

12 یوسف نے  اپنے  بھا ئیوں سے  بات کے  سلسلے  کو آگے  بڑھا یا اور کہنے  لگا کہ اب آپ  اور بنیمین بھی یقین کر سکتے  ہیں کہ سچ مچ میں میں ہی یوسف ہوں۔

13 اس لئے  میری شان و شوکت میرا مرتبہ جو کہ مجھے  مصر میں حاصل ہے  اور وہ تمام چیزیں جن کو تم نے  یہاں دیکھا ہے  اس کا ذکر میرے  باپ سے  کرنا۔ یہ ساری باتیں میرے  باپ سے  کہنا اور اس کو جتنا جلدی ممکن ہو سکے  یہاں لانا۔

14 تب یوسف اپنے  بھائی بنیمین سے  بغل گیر ہوا اور رونے  لگا۔ اور ساتھ ہی بنیمین بھی رو پڑا۔

15 پھر یوسف اپنے  تمام بھا ئیوں کو پیار سے  چو مااور رونے  لگا۔ اِس کے  بعد اُن بھا ئیوں نے  اُس کے  ساتھ باتوں میں مشغول ہوئے ۔

16 یوسف کے  بھا ئیوں کا ان کے  پاس آنے  کی بات فرعون اور اُس کے  اہل خاندان کو جب معلوم ہوئی تو سب کو بہت خوشی و مسرت ہو ئی۔

17 جس کی وجہ سے  فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ تجھے  جتنا اناج چاہئے  اٹھا لے  اور ملک کنعان کو وا پس لوٹ جا۔

18 اپنے  باپ اور اہل خاندان کو میرے  پاس لے  آؤ۔ اور وہ یہاں کے  کسی بھی علا قے  میں سکونت اختیار کر سکتے  ہیں۔

19 وہ ہماری گاڑی کولے  کر ملک کنعان جائے  اور اپنے  با پ اور تمام عورتیں اور بچوں کو ساتھ لائے ۔

20 اور ان کی جائیداد کے  بارے  میں کسی قسم کی فکر نہ کریں۔ اور کہا کہ مصر میں ہمیں جو اعلیٰ درجہ کی چیزیں میسر ہیں اُن کو دیں گے ۔

21 اسرائیل کے  بچوں نے  ویسا ہی کیا۔ فرعون کے  کہنے  کے  مطابق یوسف نے  ان کو گاڑی اور سفر کے  لئے  کھانے  بھی دیئے ۔

22 یوسف نے  اپنے  تمام بھائیوں کو ایک ایک جوڑا عمدہ قسم کے  کپڑے  دئیے ۔ لیکن بنیمین کوعمدہ قسم کے  پانچ جوڑے  کپڑے  اور تین سو چاندی کے  سکّے  دئیے ۔

23 یوسف نے  اپنے  باپ کو مصر سے  سب سے  عمدہ قسم کی چیزیں دس گدھوں پر لاد کر بھیجیں۔ اور اپنے  باپ کی وا پسی کے  سفر کے  لئے  بہت سارا اناج اور دوسرے  کھانے  کی چیزیں دس گدھیوں پر لاد کر بھیجیں۔

24 جب وہ نکل رہے  تھے  تو یوسف نے  اُن سے  کہا کہ سیدھے  گھر جاؤ، اور راستے  میں مت جھگڑو۔

25 اس لئے  تمام بھائی مصر کو چھوڑ کر اپنے  باپ کی سکونت پذیر جگہ کنعان کو چلے  گئے ۔

26 بھا ئیوں نے  اپنے  با پ سے  کہا کہ ابّا جان یوسف اب تک زندہ ہے ۔ اور کہا کہ وہ سارے  ملک مصر کا حاکم اعلیٰ ہے ۔ اُن کے  باپ کو حیرت ہو ئی۔ انہوں نے  اُن کی اس بات پر یقین نہ کیا۔

27 لیکن یوسف نے  اُن سے  جو کچھ کہا تھا بھا ئیوں نے  وہ سب کچھ اپنے  باپ سے  کہہ دیا۔ یوسف کی طرف سے  یعقوب کو مصر آنے  کے  لئے  جو سواریاں بھیجی گئی تھیں جب یعقوب نے  دیکھا تو خو شی سے  پھولے  نہ سمائے ۔

28 اِسرائیل نے  کہا، ” میں اب تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں۔ میرا بیٹا یوسف ابھی تک زندہ ہے ۔ اور یہ بھی کہا کہ میں اپنی موت سے  پہلے  اُسے  دیکھ لوں گا۔ ”

 

 

 

 

 

 

 

 

باب:    46

 

 

1 اِس وجہ سے  اِسرائیل اور اس کے  اہل خاندان مصر کے  سفر پر روانہ ہوئے ۔ اور وہ وہاں سے  بیر سبع کو گئے ۔ اور اپنے  باپ اِسحاق کے  خدا کی عبادت کی اور قربانیاں پیش کی۔

2 اُس رات خواب میں خدا نے  اُس سے  باتیں کیں۔ خدا نے  اُس سے  کہا کہ اے  یعقوب، اے  یعقوب، اُس پر اسرائیل نے  جواب دیا میں یہاں ہو ں۔

3 خدا نے  اُس سے  کہا کہ میں ہی خدا ہوں۔ اور میں تیرے  باپ کا خدا ہوں۔ تو مصر کو جانے  کے  لئے  نہ گھبرا۔ اِس لئے  کہ میں مصر میں تجھے  ایک بڑی قوم بناؤں گا۔

4 میں بھی تیرے  ساتھ مصر کو آؤں گا۔ تب میں خود ہی تجھے  مصر بُلا کر لاؤں گا۔ اگر تو مصر میں مر بھی جائے  تو یوسف تیرے  ساتھ ہی ہو گا۔ اور کہا کہ جب تو مرے  گا تو وہ اپنے  ہاتھوں سے  تیری آنکھیں بند کرے  گا۔

5 پھر اس کے  بعد یعقوب نے  بیر سبع سے  مصر کا سفر کیا۔ اسرائیل کے  بیٹے  اپنے  باپ اور اپنی بیویوں اور اپنے  تمام بچّوں کو ساتھ لے  کر چلے  گئے ۔ فرعون کی بھیجی ہوئی سواریوں میں وہ سفر کئے ۔

6 اِس کے  علا وہ وہ اپنے  جانوروں اور ہر اُس چیز جس کے  وہ ملک کنعان میں مالک تھے  اس کو ساتھ لے  لئے ۔ اور اِس طرح اسرائیل اپنے  تمام بچّوں اور اپنے  تمام خاندان کے  ساتھ مصر کو چلے  گئے ۔

7 اُس کے  ساتھ اُس کے  بیٹے  بیٹیاں، پوتے  اور نواسیاں تھیں۔ اُس کے  اہل خاندان اس کے  ساتھ مصر کو گئے ۔

8 اسرائیل (یعقوب ) کے  بیٹے  اور خاندان جو کہ اس کے  ساتھ مصر کو گئے  ان کے  نام درج ذیل ہیں :

9 روبن کے  بچّے  : حنوک، فلو، حصرون اور کر می۔

10 شمعون کے  بچے  :یموایل، یمین، اُہلہ، یکین، صُحر اور ساؤل(ساؤل کنعان کی عورت سے  پیدا ہوا تھا )۔

11 لاوی کے  بچّے  :جیرسون، قہات، اور مراری۔

12 بنی یہوداہ:عِیر، اُونان، سیلہ، فارص۔ اور زارح(عیر اور اُنان کنعان میں سکونت پذیری کے  دور ہی میں مر گئے  تھے  )۔ بنی فارص:حصرون اور حمول۔

13 اشکار کے  بچّے  :تو لع، فووّاہ، یوب اور سمرون۔

14 بنی زبولون:سرد، ایلون اور یمی ایل۔

15 روبن، شمعون، لا وی، یہوداہ، اشکار اور زبولون۔ یہ سب یعقوب کی بیوی لیاہ کے  بچّے  تھے ۔ لیاہ نے  اُن بچّوں کو فدان ارام میں جنم دیا۔ جہاں اُس کی بیٹی دینہ بھی پیدا ہو ئی۔ اِس خاندان میں کل ۳۳ افراد تھے ۔

16 بنی جاد :صفیان، حجّی، سونی، اصبان، عیری، ارودی اور اریلی ہیں۔

17 بنی آشر: یمنہ، اِسواہ، اِسوی، بریعاہ، اور ان کی بہن سِرہ ہیں۔ بنی بریعاہ :حِبر اور ملکیل

18 لا بن اپنی بیٹی لیاہ کے  ساتھ زلفہ نام کی خادمہ کو بھی دیا۔ جبکہ لیاہ نے  زلفہ کو یعقوب کے  لئے  دے  دیا۔ اِس طرح زلفہ کے  خاندان میں کل سولہ افراد تھے ۔

19 یعقوب اور راخل کے  بیٹے  یوسف اور بنیمین تھے ۔

20 مصر میں یوسف کو دو بیٹے  تھے ۔ جو یہ ہیں۔ مُنسی، افرائیم (یوسف کی بیوی اسِناتھ تھی۔ اور اَدن شہر کے  کاہن فوطیفرع کی بیٹی تھی۔ )

21 بنیمین کے  بیٹے  : بالع، بکر، اشبیل، جیرا، نعمان، اخی روش، مُفیّم حقّیم اور ارد تھے ۔

22 یہ تمام یعقوب کی بیوی راخل کے  اہل خاندان سے  ہیں۔ اور اِس خاندان میں کل چودہ افراد تھے ۔

23 بنی دان :حَشیم۔

24 بنی نفتاتی:یحی ایل، جونی، یصر اور سلیم تھے ۔

25 یہ سب بلہا کے  خاندان سے  ہیں۔ ( لابن نے  اپنی بیٹی راخل کے  لئے  جس خادمہ کو دیا تھا وہی بلہاہ تھی۔ راخل نے  یہ خادمہ یعقوب کو دی تھی ) اس خاندان میں کل سات افراد تھے ۔

26 یعقوب کی نسل سے  پیدا ہونے  والے  چھیاسٹھ افراد مصر کو چلے  گئے ۔ ( یعقوب کے  بچّوں کی بیویوں کو یہاں شا مل نہیں کیا گیا ہے  )۔

27 وہاں یوسف کے  دو بیٹے  بھی تھے ۔ اور وہ مصر ہی میں پیدا ہوئے  تھے ۔ اس وجہ سے  یعقوب کے  اہل خاندان میں جو مصر کو آئے  کل افراد ستّر تھے ۔

28 یعقوب نے  اپنے  سے  پہلے  یہوداہ کو یوسف کے  پاس بھیجا۔ جشن کے  علاقے  میں یہوداہ، یوسف کے  پاس گیا۔ اُس کے  بعد یعقوب اور اس کے  بچے  اس علا قے  میں آئے ۔

29 اس لئے  اس نے  اپنے  باپ اسرائیل سے  جشن میں ملاقات کے  لئے  اپنے  رتھ کو تیار کیا اور روانہ ہو گئے ۔ جب یوسف کی نظر اپنے  باپ پر پڑی تو وہ اسے  گلے  سے  لگا لیا اور بہت دیر تک روتے  رہے ۔

30 تب اسرائیل نے  یوسف سے  کہا کہ میں نے  تیرے  چہرے  کو اپنی آنکھوں سے  دیکھ لیا ہے  اور اس بات کا یقین ہو گیا کہ تو ابھی تک زندہ ہے ۔ اور کہا کہ میں تو اب تسلّی و اطمینان سے  مروں گا۔

31 یوسف نے  اپنے  بھائیوں اور اپنے  باپ کے  خاندان والوں سے  کہا کہ میں فرعون کے  پاس جا کر کہوں گا کہ میرے  بھائی اور میرے  باپ کے  خاندان والے  ملک کنعان کو چھوڑ کر میرے  پاس آ گئے  ہیں۔

32 یہ خاندان بکریاں چرانے  والوں کا خاندان ہے ۔ کیونکہ یہ ہمیشہ جانوروں اور بھیڑ بکریوں کے  ریوڑ پالتے  ہیں۔ وہ اپنے  تمام جانوروں اور اپنی تمام اشیاء کو ( جن کے  وہ مالک ہیں ) اپنے  ساتھ لائے  ہیں۔

33 فرعون تم کو بلائے  گا اور پو چھے  گا کہ تمہارا کیا پیشہ ہے ؟

34 تم اس سے  کہنا کہ ہم چرواہے  ہیں۔ ہماری پوری زندگی جانوروں کو پالنے  میں گزری۔ اور اِس سے  پہلے  ہمارے  آباء و  اجداد بھی اسی طرح زندگی گزاری۔  تبھی وہ جشن علا قے  میں تمہارے  لئے  زندگی گزار نے  کے  اسباب پیدا کر دے  گا۔ اس لئے  کہ مصر کے  لوگ چرواہوں کو پسند نہیں کرتے  ہیں۔ اور کہا کہ ( اِن وجوہات کی بناء پر ) تمہارا جشن میں قیام کر نا مناسب ہو گا۔

 

 

 

 

 

باب:     47

 

 

1 یوسف فرعون کے  پاس گیا اور اُس سے  کہا کہ میرے  باپ اور میرے  بھائی اور اُن کے  اہل خاندان یہاں آ گئے  ہیں۔ وہ اپنے  تمام جانور اور کنعان کے  اپنی تمام چیزوں کے  ساتھ یہاں آئے  ہیں۔ اور اب وہ جشن کے  علاقے  میں مقیم ہیں۔

2 یوسف نے  اپنے  بھا ئیوں میں سے  پانچ کا انتخاب کیا اور اُن کو فرعون کے  پاس بُلا لے  گیا۔

3 فرعون نے  (یوسف کے  ) بھا ئیوں سے  پو چھا کہ تمہارا کیا پیشہ ہے ؟  بھا ئیوں نے  فرعون سے  کہا کہ ہمارے  آقا، ہم تو چرواہے  ہیں۔ اور ہمارے  آباء و اجداد تو ہم سے  پہلے ہی   چرواہے تھے ۔

4 انہوں نے  فرعون سے  کہا کہ کنعان میں قحط سالی اپنے  پو رے  شباب پر ہے ۔ کسی بھی کھیت میں ہمارے  جانوروں کیلئے  کوئی گھاس وغیرہ نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے  ہم اِس ملک میں زندگی گذار نے  کیلئے یہاں آئے  ہیں۔ اور انہوں نے  کہا کہ ہم جشن کے  علاقے  میں رہنا چاہتے  ہیں اور منت کرتے  ہیں کہ ہمارے  لئے  موقع فراہم کرے ۔

5 تب فرعون نے  یوسف سے  کہا کہ تیرے  باپ اور تیرے  بھائی تیرے  پاس آئے  ہیں۔

6 مصر میں اُن کے  قیام کے  لئے  کسی بھی قسم کی پسند کی جگہ کا انتخاب کیا جا سکتا ہے ۔ اور اپنے  باپ اور بھا ئیوں کے  رہنے  کے  لئے  اچھی جگہ کو چُن لے ۔ اور وہ جشن کے  علاقے  میں قیام کریں۔ اِس لئے  کہ وہ ایک تجربہ کار چروا ہے  ہیں۔ اور کہا کہ ( ضرورت پڑنے  پر) وہ میرے  جانوروں کی بھی دیکھ بھال کریں۔

7 تب یوسف نے  اپنے  باپ کو فرعون کی خدمت میں بُلا یا۔ اور یعقوب نے  فرعون کو دُعا دی۔

8 تب فرعون نے  یعقوب سے  پوچھا کہ اب آپ  کی کیا عمر ہے ؟

9 یعقوب نے  فرعون سے  کہا کہ مجھے  اپنی مختصر سی زندگی میں بہت سی تکالیف اور مصائب کا تجربہ ہوا ہے ۔ اور اب میری ایک سو تیس برس کی عمر ہے  اور کہا کہ میرے  باپ اور اُن کے  پیش رو مجھ سے  زیادہ عمر پائے  ہیں۔

10 یعقوب، فرعون کو دُعائیں دینے  کے  بعد فرعون کے  پاس سے  چلے  گئے ۔

11 فرعون کی ہدایت کے  مطابق یوسف نے  عمل کیا۔ اُس نے  اپنے  باپ کو اور اپنے  بھا ئیوں کو مصر میں سکونت کے  لئے  بہت مناسب و عمدہ قسم کی جگہ دی۔ اور وہ ر عمِسَیس شہر کے  قریب تھی۔

12 یوسف نے  اپنے  باپ اور اپنے  بھا ئیوں اور وہاں کے  رہنے  وا لوں کو ان کی ضرورت کا تمام اناج فراہم کیا۔

13 قحط سالی اپنی شدید ترین حالت کو پہنچ چکی تھی۔ ملک میں کسی جگہ اناج نہ رہا۔ مصر اور کنعان اس بُرے  وقت کی وجہ سے  غریب ملک ہو گئے ۔

14 مصر اور کنعان کے  لوگوں نے  اناج خرید لئے ۔ یوسف نے  کفایت شعاری سے  رقم بچا کر فرعون کے  خزانے  میں داخل کرادی۔

15 کچھ وقت گذرنے  کے  بعد، مصر اور کنعان کے  باشندوں کے  پاس روپیہ پیسہ نہ رہا۔ جس کی وجہ سے  مصر کے  لوگ یوسف کے  پاس جا کر کہنے  لگے  کہ برائے  مہربانی ہمارے  لئے  اناج فراہم کریں۔ کیونکہ ہمارے  پاس اب کوئی پیسہ باقی نہ رہا۔ اور کہنے  لگے  کہ اگر ہمیں کھانا نہ ملا تو ہم تیرے  سامنے  ہی مر جائیں گے ۔

16 اُن کی اُس بات پر یوسف نے  جواب دیا کہ اگر تم نے  اپنے  جانوروں کو مجھے  دے  دیا تو میں تمہیں اناج دوں گا۔

17 جس کی وجہ سے  لوگوں نے  اپنے  گھوڑے ، بھیڑوں کے  جھنڈ، مویشی اور گدھے  دئیے  اور اناج حاصل کیا۔ اُس سال یوسف نے  اُن کو اناج دیا اور اُن سے  ان کے  جانوروں کولے  لیا۔

18 لیکن اگلے  سال اناج خریدنے  کے  لئے  لوگوں کے  پاس نہ جانور رہے  اور نہ ہی کوئی چیز۔ جس کی وجہ سے  لوگ یوسف کے  پاس گئے  اور کہا، ” تو جانتا ہے  کہ ہمارے  پاس روپیہ پیسہ نہیں ہے  اور ہمارے  سبھی جانور بھی تیری تحویل میں ہیں۔ اس کے  علا وہ اب ہمارے  پاس کچھ باقی نہ رہا سوائے  ہما رے  جسموں اور زمین کے ۔

19 یقیناً ہم تیری نظروں کے  سامنے  ہی مر جائیں گے ۔ اگر تو نے  ہمیں اناج نہ دیا تو ہم فرعون کو اپنی زمین دے  دیں گے  اور اُس کے  خادم بن کر رہیں گے ۔ بونے  کے  لئے  ہمیں بیج بھی دے  دے  تو تب ہم زندہ رہ سکیں گے  ہم مریں گے  نہیں۔ اور انہوں نے  کہا، ” اس طرح زمین بھی ویران نہیں ہو گی۔ ”

20 جس کی وجہ سے  یوسف نے  مصر کی ساری زمین فرعون کے  لئے  خرید لی۔ مصر کے  سارے  لوگوں نے  بھکمری اور اِفلاس سے  اپنی تمام زمین یوسف کو بیچ دی۔

21 مصر کے  تمام لوگ فرعون کے  اطاعت گذار ہو گئے ۔

22 یوسف نے  صرف کاہنوں کی زمینوں کو نہیں خریدا تھا۔ کیونکہ کاہنوں کو زمین فروخت کرنے  کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو ئی۔ کیونکہ فرعون نے  اس کے  کام کے  لئے  تنخواہ کے  طور پر کافی کچھ کھانے  کے  لئے  دیا تھا۔

23 یوسف نے  لوگوں سے  کہا کہ میں نے  اب تمہیں اور تمہاری زمینات فرعون کے  حق میں خرید لیا ہے ۔ جس کی وجہ سے  اب میں تمہیں بیج دوں گا۔ اور اب تم اپنی اپنی زمینوں میں تخم ریزی کر نا۔

24 جب فصل کاٹنے  کا زمانہ آئے  گا تو کٹی فصل کا پانچواں حصّہ فرعون کا ہو گا۔ اور اُس سے  بچے  ہوئے  چار حصے  تم اپنے  لئے  رکھ لینا۔ اور بطور غذا اپنے  پاس رکھے  جانے  والے  بیج کو تم اگلے  سال بغرض تخم ریزی بھی استعمال کر سکتے  ہو۔ اور کہا کہ اِس طرح تم اپنے  اہل خاندان اور اپنے  بچوں کی پرورش بھی کر سکتے  ہو۔

25 تب لوگوں نے ا ُس سے  کہا کہ آپ  نے  تو ہماری زندگی بچائی ہے ۔ (ایسی صورت میں ) ہم بخوشی فرعون کے  اطاعت گذار بنے  رہیں گے ۔

26 یہی وجہ ہے  کہ یوسف نے  ایک قانون بنا یا۔ اور وہ آج بھی رواج میں ہے  اُس قانون کی روشنی میں کہ زمین کی پیداوار سے  پانچواں حصّہ فرعون کا ہو گا۔ ( اِس کا یہ مطلب ہو گا کہ ) فرعون ہی ساری زمینات کا حقیقی مالک ہو گا۔ البتہ صرف کاہنوں کی زمین اُس (قانون )سے  مستثنیٰ ہو گی۔

27 اسرائیل مصر کے  جشن کے  علاقے  میں سکونت پذیر تھا۔ اس کا خاندان تیزی سے  پھیل گیا۔ اس نے  مصر میں زمین حاصل کی۔

28 یعقوب مصر میں سترہ سال زندہ رہے ۔ تب یعقوب کی کل عمر ایک سو سینتالیس برس ہو ئی۔

29 اسرائیل کی موت کا وقت قریب آن پہنچا۔ جب اُن کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ میں اب مرنے  وا لا ہوں تو اُنہوں نے  اپنے  بیٹے  یوسف کو بُلا یا اور کہا کہ، اگر تُو مجھ سے  محبت کرتا ہے  تو میری ران کے  نیچے  اپنا ہاتھ رکھ کر قسم کھا کہ میرے  کہنے  کے  مطابق عمل کرنا اور مجھے  قابل بھروسہ تسلیم کرتے  ہوئے  حلف لے ۔ اور جب میں مر جاؤں تو مصر میں مجھے  دفن نہ کرنا۔

30 میرے  آباء اجداد کی قبروں کی جگہ میری بھی قبر بنا نا۔ کہا کہ اور مجھے  مصر سے  اٹھا لے  جا نا اور ہما رے  قبیلہ کے  قبرستان ہی میں مجھے  دفن کر نا۔ یوسف نے  وعدہ کیا کہ ہاں آپ  کے  کہنے  کے  مطابق ہی عمل کروں گا۔

31 کیونکہ یعقوب نے  کہا، ” مجھ سے  وعدہ کر۔ ” جس کی وجہ سے  یوسف نے  اُس سے  وعدہ کیا کہ وہ ویسا ہی کرے  گا۔ تب اسرائیل اپنے  بستر پر پھر سے  اپنا سر جھُکا کر خدا کا فرمانبردار ہوا۔

 

 

 

 

 

باب:    48

 

 

1 کچھ عرصہ گزرنے  کے  بعد، یوسف کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اُن کا باپ علیل ہے ۔ اس وجہ سے  وہ اپنے  دونوں بیٹوں منسّی اور افرائیم کو ساتھ لے  کر اپنے  باپ کے  پاس آیا۔

2 جب یوسف آیا تو کسی نے  اِسرائیل سے  کہا کہ تیرا بیٹا یوسف تجھ سے  ملنے  آیا ہے ۔ تب وہ بہت کمزور ہونے  کے  باوجود زحمت گوارہ کرتے  ہوئے  بستر پر بیٹھ گئے ۔

3 تب یعقوب نے  یوسف سے  کہا کہ خدا قادر مطلق مجھے  ملک کنعان کے  مقام لُوز پر دکھائی دیا تھا۔ خدا نے  مجھے  خیر و برکت عطا کی۔

4 خدا نے  مجھ سے  کہا کہ میں تجھے  بہت سی اولاد دوں گا۔ اور تیری نسل کے  لوگ کئی قوموں میں بٹ جائیں گے ۔ اور کہا کہ میں تیری نسل کو یہ ملک مستقل اور دائمی طور پر دوں گا۔

5 اب تو تیرے  صرف دو بیٹے  ہیں۔ میرے  مصر میں آمد سے  پہلے  ہی وہ یہاں پیدا ہوئے  تیرے  دو بیٹے  منسّی اور افرائیم میرے  بچّوں ہی کی طرح ہیں۔ وہ میرے  لئے  تو روبن اور شمعون کی مانند ہیں۔

6 اس لئے  یہ دونوں بچّے  میرے  لئے  بیٹوں کی طرح ہوں گے ۔ وہ بھی اپنے  اپنے  بھا ئیوں کے  ساتھ وراثت پائیں گے ۔ اگر تیرے  کوئی اور دوسرے  بیٹے  ہیں تو وہ افرائیم اور منسّی

7 فدان ارام سے  واپس لوٹتے  ہوئے  کنعان کے  ملک میں راخل کی موت اس وقت واقع ہوئی جب ہم افرات شہر کی طرف سفر کر رہے  تھے ۔ تو میں نے  اسے  راستہ ہی میں دفن کر دیا۔ ( افرات کے  معنیٰ بیت اللحم ہیں )

8 تب اسرائیل نے  یوسف کے  بچوں کو دیکھ کر پو چھا کہ یہ بچے  کون ہیں؟

9 یوسف نے  اپنے  باپ سے  کہا، ” یہ تو میرے  بچّے  ہیں۔ خدا نے  مجھے  جو لڑ کے  دیئے  ہیں وہ یہی ہیں۔ “اسرائیل نے  اس سے  کہا، “اُن کو میرے  قریب لاؤتا کہ میں اُن کو دعا دوں۔ ”

10 اسرائیل بہت بوڑھا اور کمزور ہو گیا تھا۔ اسے  ٹھیک سے  نظر بھی نہ آتا تھا۔ اس لئے  یوسف نے  بچوں کو اپنے  باپ کے  سامنے  بلا یا۔ تب اسرائیل نے  بچّوں کو گلے  لگایا اور پیار سے  بوسہ دیا۔

11 پھر اسرائیل نے  یوسف سے  کہا کہ میں نے  یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ دوبارہ تیری صورت دیکھوں گا۔ لیکن خدا نے  مجھ پر مہر بانی کی اس لئے  میں تجھے  اور تیرے  بچوں کو دیکھ سکا۔

12 تب یوسف نے  اسرائیل کی گود سے  اپنے  بچّوں کو اُٹھا لیا۔ تب وہ اسرائیل کے  سامنے  جھک کر آداب بجا لائے ۔

13 یوسف نے  افرائیم کو اپنی داہنی جانب اور منسّی کو اپنی بائیں جانب بٹھا یا۔ ( جس کی وجہ سے  افرائیم اسرائیل کی بائیں جانب اور منسّی دائیں جانب ہوئے ۔ )

14 لیکن اسرائیل نے  اپنا داہنا ہاتھ چھوٹے  لڑ کے  افرائیم کے  سر پر رکھا اور اپنا بایاں ہاتھ بڑے  لڑ کے  منسّی کے  سر پر رکھا۔ منسّی بڑا بیٹا ہونے  کے  با وجود اسرائیل نے  اس کے  سر پر بایاں ہاتھ ہی رکھا۔

15 تب اسرائیل نے  یوسف کو دُعا دی اور کہا، “میرے  آباء و  اجداد ابراہیم اور اسحاق نے  ہمارے  خدا کی عبادت کی خدا نے  میری زندگی بھر رہنمائی کی۔

16 میری تمام تکالیف سے  میری حفاظت کرنے  والا فرشتہ وہی ہے ۔ اِن بچّوں کو دعائے  خیر دینے  کے  لئے  میں اس کی ( خدمت میں ) دعا کرتا ہوں۔ آج سے  یہ بچّے  میرا نام روشن کریں گے ۔ میرے  آباء و  اجداد ابراہیم و اسحاق کا نام پیدا کریں گے ۔ اور زمین پر پھیل کر ایک بڑا قبیلہ ہونے  اور ایک بڑی قوم بننے  کے  لئے  میں دعا کروں گا۔ ”

17 اسرائیل کا اپنا داہنا ہاتھ افرائیم کے  سر پر رکھنے  کی وجہ سے  یہ بات یوسف کو نا گوار گزری اور اس نے  اپنے  باپ کے  ہاتھ کو پکڑ لیا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اپنے  باپ کے  ہاتھ کو افرائیم کے  سر پر سے  اٹھا کر منسّی کے  سر پر رکھے ۔

18 یوسف نے  کہا، ” نہیں ابّا جان! منسی پہلو ٹھا بیٹا ہے ۔ اپنا داہنا ہاتھ اس کے  سر پر رکھیے ۔ ”

19 اُس پر اُس کے  باپ نے  کہا کہ مجھے  معلوم ہے  بیٹے ، مجھے  معلوم ہے  کہ منسی ہی پہلے  پیدا ہوا (پہلو ٹھا ) ہے ۔ اور وہ ایک عظیم شخص بنے  گا۔ اور وہ بہت سے  لوگوں کا باپ بنے  گا۔ لیکن چھوٹا بھائی بڑے  بھائی سے  بھی عظیم تر شخصیت کا مالک ہو گا۔ اور کہا کہ اُس کا قبیلہ بھی پھیل کر بہت بڑا ہو گا۔

20 اس دن اسرائیل نے  ان کو دعائے  خیر سے  نوازا اور کہا، ” بنی اسرائیل یہ کہہ کر دوسروں کو دعا دے  گا، ‘ خدا تجھے  افرائیم اور منسّی کی مانند بنائے ۔ “اس طرح اسرائیل نے  افرائیم کو منسّی سے  بڑا بنا دیا۔

21 تب اسرائیل نے  یوسف سے  کہا کہ دیکھ میری موت کا وقت قریب آن پہنچا ہے ۔ لیکن اب بھی خدا تیرے  ساتھ ہے ۔ وہ تجھے  تیرے  آباء و  اجداد کے  ملک کو واپس لوٹائے  گا۔

22 میں نے  تیرے  بھائی کو جو حصہ دیا ہے ، اس سے  کہیں بڑھ کر کوئی دوسری چیز میں نے  تجھے  دی ہے ۔ اور میں نے  عموریوں سے  جس پہاڑ کو جیتا ہے  وہ تجھے  دیتا ہوں۔ اور کہا کہ میں نے  اس پہاڑ کو ان سے  تلواروں اور تیروں سے  لڑتے  ہوئے  اپنے  قبضہ میں لیا ہے ۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   49

 

 

1 پھر یعقوب نے  اپنے  بیٹوں کو اپنے  پاس بُلا یا اور ان سے  کہا کہ اے  میرے  تمام بیٹو! میرے  پاس آؤ۔ اور میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں گا جو پیش آنے  وا لی ہیں۔

2 ” اے  یعقوب کے  بیٹو، سب ایک ساتھ آ کر بیٹھو۔ اور کہا کہ اپنے  باپ اسرائیل کا کہنا سُنو۔ ”

3 ” اے  روبن تو میرا پہلو ٹھا بیٹا ہے ۔ تو ہی میرا پہلا بچہ ہے ۔ اس لئے  تو میرے  تمام بیٹوں سے  طاقتور اور قابل عزت ہے ۔

4 لیکن تو کناروں سے  اوپر بہتے  ہوئے  پانی کی طرح بے  قابو ہے ۔ اس لئے  تمہیں پہلی جگہ نہیں ملے  گی۔ جس عورت کی شادی تیرے  باپ سے  ہوئی تھی اس عورت کے  ساتھ تو ہم بستر ہوا۔ تو اپنے  باپ کی عزت کو بحال نہ رکھا۔ ”

5 ” شمعون اور لا وی دونوں بھائی ہیں۔ وہ دونوں تلواروں سے  لڑنے  کو پسند کرتے  ہیں۔

6 وہ دونوں خفیہ طور پر بُرے  کاموں کو کرنے  کے  منصوبہ بنائے ۔ ان کی پوشیدہ محفلوں کو میری جان قبول نہیں کر تی۔ جب وہ غصّہ ہوئے  تو آدمیوں کو قتل کر ڈالا۔ بغیر کسی وجہ کے  جانوروں کو مار ڈالا۔

7 اُن کا غصّہ ہی اُن کے  لئے  لعنت بنا کیونکہ اُن کا غصّہ بہت سخت ہے ۔ وہ یعقوب کی زمین میں بٹ جائیں گے  اور اسرائیل میں پھیل جائیں گے ۔ ”

8 ” اے  یہوداہ تیرے  بھائی تیری تعریف کریں گے ۔ تو اپنے  دُشمنوں کو شکست دے  گا۔ اور تیرے  بھائی تیرے  لئے  جھک جائیں گے ۔

9 یہوداہ ایک شیر کی طرح ہے ۔ اے  میرے  بیٹے  تو اس شیر کی طرح ہے  کہ جس نے  ایک جانور کو مار دیا۔ اے  میرے  بیٹے  تو ایک شیر کی طرح شکار کے  لئے  گھات میں بیٹھا ہوا ہے ۔ یہوداہ شیر کی مانند ہے ۔ وہ سو کر آرام کرتا ہے  اور اُسے  چھیڑنے  کی کسی میں ہمت نہیں۔

10 وہ شاہی قوت کو اپنے  ہاتھ میں رکھے  گا جب تک کہ وہ آ نہیں جاتا جو اس کا جانشیں ہو گا۔ دوسری قوموں کے  لو گ ان کی فرمانبردار ی کریں گے ۔

11 وہ اپنے  گدھے  کو انگور کی بیل سے  باندھے  گا۔ اور اپنے  گدھے  کے  بچے  کو عمدہ قسم کی انگور کی بیل سے  باندھے  گا وہ اعلیٰ درجہ کی انگوری مئے  سے  اپنے  کپڑے  دھوئے  گا۔

12 اس کی آنکھ مئے  کی طرح سُرخ ہو گی۔ اور اس کا دانت دودھ کے  مانند سفید ہو گا۔ ”

13 ” زبولون سمندری ساحل پر سکونت پذیر ہو گا۔ سمندر کا کنارہ اُس کے  جہازوں کے  لئے  ایک محفوظ جگہ ہے  اس کا ملک صیدا تک پھیلے  گا۔ ”

14 ” اِشکار بہت سخت محنت کرنے  والے  گدھے  کی مانند ہو گا۔ وہ بہت بھاری اور وزنی بوجھ اٹھانے  کی وجہ سے  سو کر آرام کرے  گا۔

15 وہ اپنے  مکمل آرام کے  لئے  سہولت بخش اور پُر امن و پُر سکون مقام کا انتخاب کرے  گا۔ وہ وزنی بوجھ اُٹھانے  کے  لئے  اور ایک نوکر کی طرح کام کرنے  کے  لئے  ذمّہ داری کو قبول کرے  گا۔ ”

16 “اِسرائیل کے  دوسرے  خاندانوں کی طرح دان بھی اپنے  خاص لوگوں کے  لئے  فیصلہ دے  گا۔

17 دان راستے  کے  کنا رے  پر پڑا ہوا سانپ کی مانند ہو گا۔ وہ اس سانپ کی مانند ہے  جو کہ گھوڑے کے  پیر پر کاٹتا ہے  اور سوار گر جاتا ہے ۔

18 ” اے  خداوند میں تیری نجات کا منتظر ہوں۔ ”

19 ” لٹیروں کی ایک ٹولی جاد کے  اُوپر حملہ آور ہو گی۔ لیکن جاد اُن کا پیچھا کر کے  اُن کو بھگا دے  گا۔ ”

20 ” آشرکی زمین عمدہ قسم کا اناج اُگائے  گی۔ بادشاہ کی حسب ضرو رت عمدہ اناج اُس کے  پاس ہو گا۔ ”

21 ” نفتالی آزادانہ دوڑنے  وا لی ہرنی کی مانند ہے ۔ وہ اس ہرنی کی مانند ہے  جو خوبصورت بچہ کو جنم دیتی ہے ۔ ”

22 ” یوسف بہت کامیاب ہے ۔ اور یوسف زیادہ میوہ دینے  وا لی انگور کی بیل کی مانند ہے ۔ وہ موسم بہار میں ہونے  وا لی انگور کی بیل کی مانند ہے ۔ وہ دیوار پر پھیلی ہوئی انگور ی بیل کی مانند ہے ۔

23 کئی لوگوں نے  اُس کے  خلاف ہو کر اُس سے  لڑائی جھگڑا کیا ہے ۔ تیر انداز اُس کے  دُشمن ہو گئے ۔

24 لیکن انہوں نے  اپنے  منجھے  ہوئے  بازوؤں کی بنا پر جو یہ جانتا ہے  کہ کمان کے  ساتھ لڑائی کیسے  کی جا تی ہے  لڑائی جیت لی۔ وہ طاقت کو یعقوب کی جواں مردی سے  اور اسرائیل کی چٹان اور چروا ہے  سے ،

25 اور اپنے  باپ کے  خدا سے  حاصل کرے  گا۔ خدا تیرے  لئے  خیر و برکت دے  گا۔ خدا قادر مطلق تیرے  لئے  خیر و برکت دے ۔ وہ بلند و بالا آسمان سے  تیرے  لئے  خیر و برکت دے ۔ اور وہ نیچے  گہرے  سمندر سے  تیرے  لئے  خیر و برکت دے ۔ ” وہ تجھے  چھا تیوں اور رحم سے  خیر و برکت عطا کرے ۔

26 میں تمہیں دُعا دوں گا جو کہ ہمیشہ رہنے  والی پہاڑیوں سے  زیادہ مضبوط اور ہمیشہ رہنے  والی پہاڑی سے  زیادہ فراوانی بخش ہو گی۔

27 ” بنیمین بھو کے  بھیڑیئے  کی مانند ہے ۔ وہ صبح کے  وقت میں پھاڑ کھائے  گا اور شام کو بچا  ہوابانٹ دے  گا۔ ”

28 یہ اسرائیل کے  بارہ قبیلے  ہیں۔ اِن تمام باتوں کو اُن کے  باپ اسرائیل نے  ان سے  بیان کیا۔ اس نے  اپنے  ہر بیٹے  کو مناسب و موزوں دعائیں دیں۔

29 اس کے  بعد اسرائیل نے  ان کو یہ حکم دیا اور کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میں اپنے  آباء و  اجداد کے  پڑوس میں رہنے  کو پسند کروں گا۔ مجھے  وہاں دفناؤ جہاں میرے  آباء و  اجداد کی غار عفرون حتّی کے  کھیت میں ہے ۔

30 وہ غار ملک کنعان میں ممرے  کے  نزدیک مکفیلہ کے  کھیت میں ہے ۔ ابراہیم نے وہ جگہ قبرستان کے  لئے  عفرون حتّی سے  خرید لی تھی۔

31 ابراہیم اور اس کی بیوی سارہ کی اسی گھاٹی میں قبر بنائی گئی ہے ۔ اسحاق اور ربقہ بھی اسی جگہ مدفون ہیں۔ میں نے  اپنی بیوی لیاہ کو وہیں دفن کیا ہے ۔

32 اور کہا کہ اس غار اور غار والے  کھیت کو حیتیوں سے  خریدا گیا ہے ۔

33 یعقوب اپنے  بیٹوں سے  بات کرنے  کے  بعد اپنے  بستر پر اپنے  پیروں کو سمیٹتے  ہوئے  وفات پا گئے ۔

 

 

 

 

 

باب:   50

 

 

1 اسرائیل کی جب وفات ہوئی تو یوسف بہت غمگین ہوا۔ وہ اپنے  باپ سے  لپٹ گیا اور رو رو کر اس کے  چہرے  کو چُوما۔

2 یوسف نے  ان طبیبوں کو جو کہ ان کی خدمت انجام دیا کرتے  تھے  اپنے  باپ کی میت کو تیّار کرنے  کا حکم دیا۔ ان طبیبوں نے  اسرائیل کی میت کو دفن کے  لئے  تیار کیا۔

3 اہل مصر نے  اس میت کو خاص طریقہ (ادویات و خوشبو) سے  چالیس دن میں تیّار کیا۔ تب مصر والے  یعقوب کی موت پر ستّر دن تک ماتم کرتے رہے ۔

4 ستّر دن گزرنے  کے  بعد یوسف نے  فرعون کے  عہدے  داروں سے  کہا کہ برائے  مہربانی یہ بات فرعون کو بتاؤ۔

5 میں نے  اپنے  باپ سے  ان کے  مرتے  وقت ان سے  ایک وعدہ کیا تھا وہ یہ کہ میں اس کو کنعان کی سر زمین کے  ایک غار میں دفناؤں گا جس کو انہوں نے  اپنے  لئے  تیّار کیا تھا۔ اس لئے  میں جاؤں گا اور اپنے  باپ کی تدفین کروں گا، اور کہا کہ پھر اس کے  بعد لوٹ کر آپ  کے  پاس آ جاؤں گا۔

6 فرعون نے  جواب دیا کہ ( ہاں ٹھیک ہے  ) تو اپنے  وعدے  کو پو را کر۔ اور جا کر اپنے  باپ کو دفن کر۔

7 تب یوسف اپنے  باپ کو دفنانے  کے  لئے  چلا۔ اور فرعون کے  تمام عہدیدار بھی یوسف کے  ساتھ چلے ۔ فرعون کے  سردار اور مصر کے  معزّز ین رؤساء بھی یوسف کے  ساتھ چلے ۔

8 یوسف کے  خاندان کے  لوگ اور اس کے  بھائی اس کے  ساتھ چلے ۔ اور اس کے  باپ کے  خاندان والے  بھی یوسف کے  ساتھ چلے ۔ صرف بچّے  اور جانور ہی جشن کے  علا قے  میں رہ گئے ۔

9 گھوڑ سوار اور رتھ بھی یوسف کے  ساتھ گئے  یہ ایک بہت بڑا مجمع تھا۔

10 اور وہ گورین آتد مقام پر آئے  اور وہ یردن ندی کے  مشرق میں تھا۔ اس مقام پر وہ بہت دیر تک ماتم کرتے  رہے ۔ اور اس ماتم کا سلسلہ سات دنوں تک چلتا رہا۔

11 کنعان کے  لوگ گورین آتد میں ماتم ہوتا ہوا دیکھ کر کہنے  لگے  کہ مصر کے  لوگ دل کو بہت دکھانے  والا ماتم کرتے  ہوئے  تدفین کرتے ہیں

12 اس طرح یعقوب کے  بیٹوں نے  اپنے  باپ کی وصیّت کے  مطابق ہی کیا۔

13 وہ اس کی لاش کو ملک کنعان میں لے  گئے ، اور وہاں ممرے  کے  نزدیک مکفیلہ کے  غار میں اس کو دفن کیا۔ اور اس غار کی جگہ کو ابراہیم نے  حتّی عفرون سے  قبرستان کی جگہ کے  لئے  خریدا تھا۔

14 باپ کو دفنانے  کے  بعد یوسف اور اس کے  بھائی اور وہ سب لوگ جو اس کے  ساتھ گئے  ہوئے  تھے  مصر واپس آ گئے ۔

15 یعقوب کی وفات کے  بعد یوسف کے  بھائی ( خوف سے  )بے  چین ہوئے ۔ اور آپس میں باتیں کرنے  لگے  کہ ہم نے  یوسف کے  ساتھ جو ظالمانہ سلوک کیا تھا اس کے  بدلے  میں شاید وہ ہمارے  ساتھ دشمنی کرے  گا۔

16 جس کی وجہ سے  بھا ئیوں نے  یوسف کو یہ پیغام بھیجا:تمہارے باپ  نے مرنے  سے  پہلے  ہمیں تم کو ایک پیغام بھیجنے  کا حکم دیا تھا۔

17 اس نے  کہا تھا تم یوسف کو یہ پیغام پہنچا دینا۔ ‘برائے  مہر بانی تم اپنے  بھائیوں کو ان کے  بُرے  کاموں کے  لئے  جو کہ انہوں نے  تیرے  لئے  کیا ہے  معاف کر دے ۔ وہ لوگ تیرے  باپ کے  خدا کے خادم ہیں۔ ان تمام واقعات کو وہ سُن کر وہ بہت افسردہ ہو گیا اور رو پڑا۔

18 یوسف کے  بھائی اس کے  سامنے  جا کر جھک گئے ، اور کہنے  لگے  کہ ہم تیرے  خادم و فر ماں بردار ہیں۔

19 تب یوسف نے  اُن سے  کہا کہ گھبراؤ مت۔ میں تو خدا نہیں ہوں۔

20 تم نے  میری بُرائی کرتے  ہوئے  مجھے  نقصان پہنچانے  کا سوچا  تھا۔ لیکن خدا نے  بھلا ہی کیا ہے ۔ بہت سے  لوگوں کی جان بچانے  کے  لئے  مجھے  ذریعہ بنانا خدا کا منشاء ہے ۔

21 اس لئے  تم گھبراؤ مت۔ میں تمہاری اور تمہارے  بچوں کی بھی پرورش کروں گا۔ یوسف نے  جو کہا اس سے  ان لوگوں کو تسّلی ملی۔

22 یوسف اپنے  باپ کے  سارے  کنبہ کے  ساتھ مصر ہی میں سکونت پذیر ہوا۔ اور یوسف نے  ایک سو دس برس کی عمر میں وفات پا ئی۔

23 یوسف کے  بیٹے  منسّی کو مکیر نام کا ایک بیٹا تھا۔ یوسف اتنا عرصہ زندہ رہا کہ افرائیم کے  بچوں اور پوتوں اور مکیر کے  بھی بچوں کو دیکھ لیا۔

24 یوسف کی موت کا وقت جب قریب آن پہنچا تو اُس نے  اپنے  رشتہ داروں سے  کہا، ” میری موت کا وقت قریب ہے ۔ لیکن تمہیں اس بات کا یقین رہے  کہ خدا تمہارا خیال رکھے  گا۔ وہ تمہیں اس ملک سے  باہر لے  جائے  گا۔ تمہیں وہ ملک دے  گا جس کا ابراہیم، اِسحاق اور یعقوب سے  وعدہ کیا تھا۔ ”

25 تب یوسف نے  اُن سے  کہا، ” خدا جب تمہیں اِس ملک سے  باہر لے  جائے  گا تو تم مجھ سے  اِس بات کا وعدہ کرو کہ تم اُس وقت اپنے  ساتھ میری ہڈیاں بھی لے  جانا۔ ”

26 یوسف جب ایک سو دس برس کا ہوا تب وفات پا ئی۔ مصر میں اطباء اور حکماء نے  اُس کی تدفین کے  لئے  اُس کے  بدن کو ادویات و خوشبو سے  تیار کیا۔ اور میت کو تابوت میں اُتارا گیا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید