FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

علم کی فضیلت

مختلف تعلیمی مضامین

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

علم کی فضیلت :قرآن و حدیث کی روشنی میں

               محمد جہان یعقوب

علم کے ذریعے آدمی ایمان و یقین کی دنیا آباد کرتا ہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے، بروں کو اچھا بناتا ہے، دشمن کو دوست بناتا ہے، بے گانوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں امن و امان کی فضا پیدا کرتا ہے۔ علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دلآویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم و تربیت، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لاینفک ہے، کلام پاک کے تقریباً اٹھتر ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو پروردگار عالم جل شانہ نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ اِقرَاء ہے، یعنی پڑھ، اور قرآن پاک کی چھ ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو پانچ آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، ارشاد ہے:

 (۱) ترجمہ: پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔(سورة القلم آیت 4،5)

گویا وحی الٰہی کے آغاز ہی میں جس چیز کی طرف سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوعِ بشر کو توجہ دلائی گئی،وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم و تربیت کے جواہر و زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کرنا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت کے منصب عظیم سے نوازا گیا،اس وقت جزیرة العرب کی کیا حالت تھی؟ قتل و غارت گری، چوری، ڈکیتی،قتل اولاد، زنا،بت پرستی کون سی ایسی برائی تھی جو ان میں پائی نہ جاتی ہو۔ بعضے وقت بڑے فخریہ انداز میں اسے انجام دیا جاتا تھا۔ اللہ کے رسول نے ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول بتائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت یکسر بدل گئی اور تہذیبی قدروں سے آشنا ہو گئے۔ جہاں اور جدھر دیکھیے لوگ تعلیم و تعلم سے جڑ گئے اور قرآن و حدیث کی افہام و تفہیم میں مشغول ہو گئے۔

 (۲) ترجمہ :اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کر دے گا جو ایمان لائے، اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔(سورة المجادلہ آیت 11)

(۳) دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:”(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کیا علم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(سورةالزمر آیت 9،سورةالرعد:آیت 16)

(۴) ایک اور آیت میں تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے،چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:”کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا؟”۔(سورةالفاطر آیت 19،20)

اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔ مولانا محمد صدیق میمنی لکھتے ہیں: “عالم کہتے ہی ہیں پڑھے لکھے لوگوں کو،چاہے اس نے قرآن کی تعلیم حاصل کی ہو یا حدیث کی، فقہ کی کی ہو یا کلام و منطق کی۔ سائنس کی ڈگری لی ہو یا میڈیکل سائنس کی۔ نیچرل سائنس پڑھا ہو یاآرٹس کے مضامین۔ سارے کے سارے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار کیے جائیں گے۔ یہ ایسی چیز ہے جو انسان کو ہمیشہ کام آئے گی، مقصد نیک ہو اور اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو اس کی بدولت وہ دین و دنیا کی ساری نعمت اور دولت حاصل کر سکتا ہے”۔ (دینی علوم کی عظمت اور فضیلت، اسلامی تعلیمات کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں)

علم کی فضیلت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب کے حوالے سے کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں،جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (۱) علم والوں کو دسروں کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے،جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر۔ یقیناً اللہ عزوجل،اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔(ریاض الصالحین) (۲) ایک دوسری حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں،وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن رسول اللہ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد (نبوی) میں داخل ہوے،وہاں دو حلقے بیٹھے ہوے تھے،ایک حلقہ قرآن کی تلاوت کر رہا تھا اور اللہ سے دعاء  کر رہا تھا،دوسرا تعلیم و تعلم کا کام سرانجام دے رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: دونوں بھلائی پر ہیں۔ یہ حلقہ قرآن پڑھ رہا ہے اور اللہ سے دعاء کر رہا ہے۔ اللہ چاہے تو اس کی دعاء قبول فرمائے، یا نہ فرمائے۔دوسرا حلقہ تعلیم و تعلم میں مشغول ہے (یہ زیادہ بہتر ہے) اور میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پھر یہیں بیٹھ گئے۔(مشکوٰة شریف)

اہل علم کا صرف یہی مقام و مرتبہ نہیں ہے کہ انہیں دنیا کی تمام چیزوں پر فضیلت دی گئی ہے اور اس کام میں وہ جب تک مصروف ہیں، اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے،بلکہ ان کا مقام و مرتبہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انبیاء کا وارث اور جانشین قرار دیا ہے : (۳) جو کوئی حصول علم کی غرض سے راستہ طے کرے،اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے جنت کی ایک راہ چلاتا ہے۔ فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور یقیناً عالم کے لیے آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں،یہاں تک کہ وہ مچھلیاں بھی جو پانی میں ہیں۔ عابد پر عالم کو ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو تمام تاروں پر۔بلاشبہ علماء ہی پیغمبروں کے وارث ہیں۔پیغمبروں نے ترکہ میں نہ دینار چھوڑا ہے اور نہ درہم۔ انہوں نے تو صرف علم کو اپنے ترکہ میں چھوڑا۔ پس جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے ہی حصہ کامل پایا۔(منتخب احادیث) (۴) طلب کرنا علم کا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔(مشکوٰة شریف)

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علم کاسیکھنا ہر مومن پر فرض ہے اس سے مراد روزہ، نماز، حلال و حرام اور حدود و احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے۔حسن بن الربیعؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے پوچھا کہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم “علم کا سیکھناہر مسلمان پر فرض ہے”اس کا مطلب کیا ہے؟تو حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے جواب دیا کہ اس سے وہ دنیوی علوم مراد نہیں جو تم حاصل کرتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی دینی معاملہ میں مبتلا ہو تو اس کے بارے میں پہلے جانکار لوگوں سے علم حاصل کر لے۔(آداب المتعلمین) (۵) حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص علم کی طلب میں نکلا وہ گویا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔(ریاض الصالحین،مشکوٰة شریف)

(۶) ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک عالم کی برتری ایک عبادت گذار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر، اور پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور زمین وآسمان کی ہر شے حتیٰ کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کے لئے دعائے خیر کر رہی ہیں۔(ایضاً) (۷) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے بلیغ انداز میں فرمایا ہے: حکمت کو ایک گم شدہ لال سمجھو جہاں پاو اپنا اسے مال سمجھو۔(بخاری،مسلم،ترمذی) (۸) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلاشبہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(بحوالہ:الرسول المعلم صلی اللہ علیہ وسلم)

(۹) آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو زندہ کرے گا اور اس میں علماء کو ممتاز کرے گا اور فرمائے گا اے پڑھے لکھے لوگو!میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا کہ میں تمہیں عذاب دوں،جاو تم سب کی مغفرت کر دی۔(بحوالہ:دینی علوم کی عظمت اور فضیلت، اسلامی تعلیمات کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں،از: مولانا حافظ محمد صدیق المیمنی) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز میں دین اسلام کی تبلیغ فرمائی وہ نہ صرف یہ کہ انتہائی کامیاب و موثر ہے ۔بلکہ اس میں تعلیم و تربیت کے ایسے اوصاف بھی نمایاں ہیں جو متعلمین و مربیین دونوں کے لئے روشن مثال کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی درسگاہ اور اصحاب صفہ پر مشتمل طالب علموں کی پہلی جماعت کے عمل نے جلد ہی اتنی وسعت اختیار کر لی جسکی مثال دینے سے دنیا قاصر ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خود تعلیم و تربیت دی۔ پھر دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے کے لئے کامل افراد کا انتخاب فرما دیا،چنانچہ تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتخب کردہ، ان تربیت یافتہ معلمین نے درس و تدریس میں جس مہارت کا ثبوت دیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ گیر تربیت ہی کا نتیجہ ہوسکتا تھا جس کے اثرات تا دیر محسوس کیے جاتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ علم و حکمت اور صنعت و حرفت کے وہ ذخائر جن کے مالک آج اہل یورپ بنے بیٹھے ہیں ان کے حقیقی وارث تو ہم لوگ ہیں، لیکن اپنی غفلت و جہالت اور اضمحلال و تعطل کے سبب ہم اپنی خصوصیات کے ساتھ اپنے تمام حقوق بھی کھو بیٹھے۔

 ان تفصیلات سے واضح ہوا کہ دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو علم حاصل کرنے سے نہیں روکا،بلکہ اس کی فضیلتیں بیان کر کے ہمیں اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے،البتہ اسلام یہ حکم ضرور دیتا ہے کہ اپنے آپ کو ضرر رساں نہیں بلکہ نفع بخش بنا و۔ایک انسان کے قول و عمل سے دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ اچھی اور بھلی باتوں کا تمیز وہی انسان کر سکتا ہے جس کے اندر شعور وفراست ہو گی اور یہ خوبی بغیر علم کے پیدا نہیں ہوسکتی۔عقل و شعور تو جاہل کے پا س بھی ہے۔مگر جو فراست ایک پڑھے لکھے کو حاصل ہو گی وہ جاہل کو ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی۔اس کے دن رات کے عمل میں،اس کی گفتگو میں،اس کے معاملات میں، اس کے فیصلہ لینے میں ایسی بات کا صادر ہونا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ جائے کوئی بعید نہیں ہے۔ اگر اسے اس کا ادراک ہو جائے تو وہ جاہل ہی کیوں رہے گا۔ اللہ کے رسول کی حدیث سے بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جو علم نفع بخش نہ ہو اس کی مثال اس خزانے جیسی ہے جس میں سے خدا کی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی وہ ہے جو سب سے زیادہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا ہے۔۔(بحوالہ:منبہات)

علم نافع اور رزق وسیع کے لیے اللہ کے حضور یہ دعا بھی کرتے تھے:”اے اللہ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور پاک رزق کی درخواست کرتا ہوں”۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عالم بد عمل کے متعلق فرماتے ہیں :عالم بے عمل کی مثال ایسی ہے جیسے اندھے نے چراغ اٹھایا ہو کہ لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور وہ خود محروم رہتا ہے۔حضرت عثمان غنی فرماتے ہیں کہ علم بغیر عمل کے نفع دیتا ہے اور عمل بغیر علم کے فائدہ نہیں بخشتا۔حضرت عبد اللہ ابن عباس کا مقولہ ہے کہ اگر اہل علم اپنے علم کی قدر کرتے اور اپنا عمل اس کے مطابق رکھتے تو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور صالحین اُن سے محبت کرتے اور تمام مخلوق پر اُن کا رعب ہوتا ۔ لیکن انہوں نے اپنے علم کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اُن سے ناراض ہو گیا اور وہ مخلوق میں بھی بے وقعت ہو گئے۔حضرت عبد اللہ ابن مبارکؒ فرماتے ہیں: علم کے لیے پہلے حسن نیت پھر فہم پھر عمل پھر حفظ اور اس کے بعد اس کی اشاعت اور ترویج کی ضرورت ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:دین کی اصل عقل،عقل کی اصل علم اور علم کی اصل صبر ہے۔(بحوالہ:منبہات)

اسلام یا قرآن ہم کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتا نہیں، بلکہ تعلیم کو ہمارے لئے فرض قرار دیتا ہے، وہ تعلیم کے ذریعے ہم کو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کے درجہ پر پہنچانا چاہتا ہے، وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی علم ثابت کرتا ہے، اور اس کو بنی نوع انسان کی حقیقی صلاح و فلاح اور کامیابی و بہبودی کا ضامن بتاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ قرآن حقیقی علم ہے، اور دوسرے تمام علوم  و فنون معلومات کے درجہ میں ہیں، ان تمام معلومات کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

٭٭٭

 

انٹرنیٹ اور ابلاغ

               عبداللہ اسلام            

 انٹر نیٹ کی سہولت 1960ء کی دہائی میں منظر عام پر آئی، اور اب ہم اس کے بغیر ادھورے سے لگتے ہیں، بلکہ اب تو انٹرنیٹ انسانی حیات کا جزو بن گیا ہے۔ نیٹ کے بغیر کمپیوٹر استعمال کرنا پسند ہی نہیں کرتے۔ نیٹ صارفین ابتداً ہاٹ میل کے نام سے مستفید ہوتے رہے۔ بعد میں یاہو نے اپنی پہچان بنانا شروع کی حتیٰ کہ خاصا معروف ہوا۔ آج کل زبان زد عام میں گوگل کو زیادہ ترقی سے ہمکنار ہونے والی کمپنی کہا جا تا ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب 17 کروڑ ہے۔ جس میں سے 2 ارب 41 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ ہے جس میں سے 3 کروڑ انٹرنیٹ اور 12 کروڑ موبائل استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد اس وقت پوری دنیا میں 75 کروڑ ہے اور پاکستان میں 90 لاکھ سے زیادہ افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ جن میں 64 لاکھ مرد اور 27 لاکھ خواتین ہیں۔ پاکستانیوں کا فیس بک پر روزانہ تقریباً ساڑھے چھ ہزار کے حساب سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والے 70 فیصد صارفین کی عمر 30 سال یا اس سے کم ہے۔ اسی طرح آن لائن انسائیکلو پیڈیا ویب سائٹ وکی پیڈیا کا آغاز 1990ء میں ہوا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اگر وکی پیڈیا کو ایک کتاب کی شکل دی جائے تو 50 ہزار صفحات کی ایک کتاب بن سکتی ہے، جس کو پڑھنے کے لیے 125سال کی عمر درکار ہے۔

 یہ ساری معلومات بہم پہنچانے کا مقصد انٹرنیٹ کی اہمیت اور اس کے استعمال سے آگاہ کرنا ہے۔ ہم جو انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، چنداں دنیاوی سہولیات و معلومات کو معمولاتِ زیست سمجھ بیٹھے ہیں۔ جس میں ہمارے لیل و نہار ضائع ہو رہے ہیں۔ مثلاً فیس بک اور موبائل کا بے مقصد استعمال، کرکٹ، اسٹک آف سنوکر، پلے کارڈز، موویز، ڈرامے وغیرہ۔ یہ ساری”سہولیات” یا “فضولیات” ایسی ہیں جو نوجوانوں میں زیادہ ہیں۔

 مقصد یہ نہیں کہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنا چھوڑ دیں اور خلوت اختیار کر کے اللہ اللہ کرتے رہیں اور موجودہ جدید سہولیات سے منحرف ہو جائیں، نہیں بلکہ! ہم مثبت سوچ کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہو کر انٹرنیٹ کا مفید اور درست استعمال کریں، مگر کیسے۔۔۔۔؟ آپ اپنے ذوق کے مطابق انٹرنیٹ سے آن لائن، مسلم اُمہ اور اپنے ملک کی عزت و توقیر بڑھانا چاہیں گے؟ یقیناً انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان اثبات میں سر ہلائیں گے، تو قارئین کرام یہ نہایت آسان ہے۔ آپ نے فیس بک میں اپنا اکاؤنٹ تو بنایا ہوا ہے اور دنیا میں کوئی بھی بریکنگ نیوز ہو، کوئی بھی ایشو زبان زد عام ہو آپ لاتعداد واقف، نا واقف افراد سے ویڈیو شئیر کرتے ہیں۔ جس میں اکثر کسی کی ہتک کے عنوان والی ویڈیو ہوتی ہے، برائے مہربانی ایسا نہ کریں۔ آپ کوئی بھی ایسا ویڈیو کلپ جو کسی مسلمان کی بہتری اور رہنمائی کے متعلق ہو کوئی معلوماتی ہو، دلچسپی والا ہو اسے شئیر کیوں نہیں کرتے؟ اس طرح کے ویڈیو کلپ شئیر کریں گے تو ناظرین کے تاثرات برے نہیں ملیں گے، بلکہ آپ خود شئیر کیے ہوئے ویڈیو کلپ کے متعلق رائے جاننے کے لیے لکھیں کہ آپ کو ہماری پسند کیسی لگی ہمیں ضرور بتایے گا۔ آپ یقین جانیے بہت ہی دلچسپ رائے ملے گی جو آپ کے حق میں اور آپ کی مخالفت میں بھی ہو گی۔ جس سے آپ کی صلاحیت مزید نکھرے گی اور آپ کو روحانی شادمانی ہو گی۔

 آپ کو اللہ تعالیٰ نے فہم و فراست دی ہے اور بھرپور صلاحیتیوں کا مالک بنایا ہے جسے گھنٹوں انٹر نیٹ پر بیٹھ کر ضائع کر رہے ہو۔ آپ ذرا گوگل پر آن لائن نیوز پیپرز لکھ کر انٹر کر کے تو دیکھیں، آپ ایسی ویب سائٹ بلاگ کیوں نہیں بنا، یا بنوا سکتے پھر ان ویب سائٹس یا بلاگس میں سے غلطیاں نکالیں جو کہ آپ بے شمار نکال لیں گے اور اس ویب سائٹ کی خوبیاں ایک طرف درج کریں۔ بھلا ایسی کیا چیز مانع ہے کہ آپ کی ویب سائٹ اچھی ویب سائٹوں میں شمار نہ کی جائے۔ یقیناَ آپ بھی اچھے لوگوں میں شمار کیے جائیں گے جس سے آپ کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ مگر یہ ذہن نشین کر لیں کہ منفی پیغام دینے سے آپ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں گے۔ ہم لوگ تو اسے بھی ایک مذہبی ذہن رکھنے والا اچھا مسلمان سمجھنے لگ جاتے ہیں جو کسی اچھی بات کے اختتام پر کسی صحابیؓ کا نام لگا ٹیکسٹ میسج کر دیتا ہے جو کہ اکثر پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتے، اور اسے بھی عالم دین گردانتے ہیں جس کا اس طرح کا میسج آ جائے کہ اتنے لوگوں کو میسج بھیجو تو آج رات اتنی خوشیاں ملیں گی وغیرہ۔ اسی طرح ہی رسالوں کے متعلق مثبت سوچ رکھیں اگر آپ کوشش کریں تو مختلف موضوعات پر کئی صفحات لکھ لیں گے، جسے اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے ذریعے ساری دنیا تک پہنچائیں مگر ان مضامین میں جان پیدا کرنا ہو گی جس سے لکھاری اور قاری کا رشتہ عمیق ہو سکے ورنہ آپ کی محنت رائیگاں جائے گی۔

 محترم قارئین! میں نے شروع میں انٹرنیٹ کے متعلق جو معلومات بہم پہنچانے کی جسارت کی ہے اسے آج کے سائنسدانوں کا کمال نہ سمجھ بیٹھنا کیونکہ یہ تو فرمان رسولﷺ ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: زمانہ باہم قریب ہو جائے گا۔ (صحیح بخاری و مسلم) یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ آپ ہی دیکھ لیں دنیا کو گلوبل ولیج بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ ایک چھوٹے گاؤں میں کوئی اہم خبر ہو تو گاؤں میں موجود سب افراد کو جھٹ پٹ اس کا علم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آج فرمان رسولﷺ سو فیصد سچ ثابت ہوا کہ دنیا میں کوئی بھی منظر نامہ پیش ہو فوراً بریکنگ نیوز کی صورت میں ہمیں بھی معلوم ہو جاتا ہے جس طرح ایک گاؤں والے فرد کو خبر مل جاتی ہے یہ سب انٹرنیٹ کی وجہ سے ممکن ہوا یعنی کہ زمانہ آپس میں قریب ہو گیا۔

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی

 جو دیکھیں ان کو یورپ میں، تو دل ہوتا ہے سیپارا

٭٭٭

 

انگریزی ذریعہ تعلیم

               مظفر اعجاز               

ہوسکتا ہے ہماری تحریر کہیں کسی صوبے میں، کسی قومی یا صوبائی اسمبلی کے حلقے میں، یا کسی آنے والے انتخاب میں مفاہمت کی سیاست کو نقصان پہنچا دے۔ لیکن ہمارا کام ہے کسی بھی آنے والے خطرے کی بو سونگھ لینے کے بعد قوم کو اس سے آگاہ کرنا۔ جب عمران خان پاکستان آئے تھے تو صرف شوکت خانم اسپتال بنانا چاہتے تھے، لیکن جمائما سے شادی کے بعد یہ خوف دامن گیر تھا کہ گولڈ اسمتھ کی دولت اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال ہو گی۔ لیکن دو بیٹوں کے بعد عمران اور جمائما کی علیحدگی ہو گئی، اور یوں بظاہر یہ خطرہ بھی ٹل گیا کہ عمران کے ذریعے وہ ایجنڈا پاکستان پر مسلط کیا جا سکے گا جس کو انگریز کا ایجنڈا کہا جاتا ہے۔ پھر الیکشن در الیکشن عمران خان نے ناکامیوں کا منہ دیکھا اور یہ خیال گزرا کہ وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں میں نہیں جا سکیں گے، لیکن اچانک انہیں کوئی “شجاع” مل گیا جس نے ان کا اقبال بہت ہی بلند کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سونامی اب آیا کہ تب۔ لیکن اِس مرتبہ بھی وہ بالکل اس طرح نیچے آئے جس طرح الیکشن سے دو روز قبل لفٹر سے نیچے آئے تھے۔ لفٹر حادثہ تھا، لیکن سونامی کا التوا کسی “شجاع” کی سرپرستی نہ ہونے کے سبب ہوا۔ مولانا فضل الرحمن کا عمران خان کے بارے میں کچھ بھی خیال ہو، لیکن عمران خان کو بھی کچھ زیادہ ہی جلدی ہے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو سچ ثابت کرنے کی۔ چنانچہ جب انہیں یہودی ایجنٹ کہا گیا تو عمران خان اور ان کی ٹیم نے میڈیا کی مدد سے خوب کھنچائی کی۔ جب امریکی مفادات کا نگہبان کہا گیا تو بھی وہ میڈیا کی مدد سے چڑھ دوڑے۔ اور جب یہ کہا گیا کہ مغرب کا پروردہ مغرب کا ایجنڈا لایا ہے تو بھی وہ ناراض ہوئے۔ لیکن یہ کیا کہ ان کی جماعت کے نمبر ون نہیں تو کم از کم صفِ اوّل کے رہنما جاوید ہاشمی یہ مطالبہ کرنے لگے کہ توہینِ رسالت کا قانون تبدیل کیا جائے۔ کیوں؟ اس لیے کہ چرچ میں دھماکا ہو گیا ہے! وجہ تو نہیں پتا انہوں نے کیوں یہ کہا؟ لیکن چرچ میں دھماکے کے بعد ہی انہوں نے یہ مطالبہ کیا ہے۔ اس طرح کے دھماکے میں میٹرک تک انگریزی ذریعہ تعلیم کا فیصلہ بھی ہے۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اس طرح پورے صوبے میں سب کا معیارِ تعلیم یکساں ہو جائے گا، ورنہ انگلش میڈیم اسکول انگریزی میں تعلیم دیں گے اور دوسرے اسکول والے پیچھے رہ جائیں گے۔ گویا پیٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

ان دو باتوں کے علاوہ دوسری تو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کو شاید قابلِ ذکر نہ سمجھا جائے، لیکن ہم ان کا سرسری تذکرہ کرتے ہیں۔ ان دو باتوں پر تفصیل سے بات کریں گے۔ ایک بات یہ نوٹ کی گئی ہے کہ عمران خان نے جو ٹیم بنائی ہے اس میں اکثریت اسلام پسندوں کی ہے۔ جماعت اسلامی کے بہت سے لوگوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، بہت سے مسلم لیگی ان کی پارٹی میں شامل ہیں، لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ فیصلہ کن حیثیت کسی ایسے فرد کو حاصل نہیں جس کا ماضی اسلام پسند ہو، یا حالیہ خیالات اسلام کے حق میں ہوں۔ بہت سے ایسے افراد ہیں جن کا عوام میں یا سیاست میں کوئی دخل یا کوئی تجربہ نہیں۔ ایک خاتون جن کے بارے میں عمران خان کے لفٹر سے گرنے کے موقع پر کہا جا رہا تھا کہ انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا، وہ اب بھی تحریک انصاف میں نہایت اہم پوزیشن پر ہیں۔ ان کے خیالات دین، مولوی اور دینی شعائر کے بارے میں بہت واضح ہیں، حلیہ بھی اپنا تعارف آپ ہے۔ اسی طرح پارٹی میں تمام فیصلہ ساز اور فیصلہ کن مرد اسلام سے الرجک یا اسلام سے بیزار ہیں۔

جہاں تک انگریزی ذریعہ تعلیم کا معاملہ ہے، یہ بہت اہم ہے۔ اسے بہت آسانی سے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے تاریخ کا جائزہ ضرور لینا ہو گا اور حال کا بھی۔ حال میں26 ملکوں کے اتحادی فوجیوں کو جس خطے کے لوگوں نے شکست سے دوچار کیا وہ ہمیشہ فرنگی نظریات اور فرنگیوں کی ہر چیز سے نفرت کرتے ہیں۔ اس وجہ سے جب یہ زمین پر اترے تو ان کا بھرپور “استقبال” کیا گیا۔ یعنی شدید ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا سبب بھی یہی تھا کہ یہ لوگ دین سے قریب اور فرنگیت سے دور تھے۔ اس بات کو اب یوں سمجھیں کہ جب انگریز نے مسلمانوں کو اسپین سے نکالنے کی ٹھانی تو بڑے بڑے اسکول کھولے تھے۔ ان اسکولوں میں وہی تعلیم دی جاتی تھی جو مسلمانوں کے اسکولوں میں دی جاتی تھی، بس پرنسپل پادری ہوتے تھے اور نصاب میں کچھ کتابیں انگلستان کی ہوتی تھیں۔ لیکن یہ بس نہیں ہے۔ انگلستان کی کتابوں نے انگلستان سے تعلق قائم کیا اور پادری کے پرنسپل بننے سے اس کا احترام مسلمانوں میں آگیا۔ پہلے اسے کافروں کا مذہبی پیشوا سمجھا جاتا تھا، اب اسے استاد کا محترم درجہ مل گیا۔ بس پھر ایک نسل گزرنے کی بات تھی۔ اب نسلوں سے وہاں اسلام کے نام لیوا نہیں ہیں۔ اب خیبر پختون خوا میں انگریزی ذریعہ تعلیم سے بھی بس یہی ہو گا۔ انگریزی کا احترام پیدا ہو گا اور انگریزوں کا بھی۔ کچھ آکسفورڈ کی کتب بھی آئیں گی۔ بس ایک نسل گزرنے کی دیر ہے، پھر شاید یہ مسلمانوں کو اس خطے میں زیر کر سکیں۔ دیکھتے ہیں ہوتا کیا ہے! گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی ہے۔ ہمارا کام تو بس یہی تھا کہ ہوشیار کر دیں۔ شاید اس پر ہمیںدقیانوسی کا خطاب مل جائے، لیکن ہمیں ایسی دقیانوسیت قبول ہے۔

٭٭٭

 

عزت نفس کا تحفظ اور ابلاغی ادارے

               اعظم طارق کوہستانی

دو ٹوک اور صاف کہا جائے تو آزادی اظہار رائے کا یہی مفہوم نکلتا ہے کہ “دنیا کے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار لکھ کر یا بول کر ببانگ دل کر سکتا ہے۔” اس کے جزئیات میں جائے بغیر اگر ہم سرسری سا اس پر غور کریں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص کو حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے کا اختیار ہے۔ آغاز میں آزادی اظہار رائے کی تحریک دراصل حکومت سے مخاصمت کا ہی نتیجہ تھی، حکومتیں اپنے معاملات کو ہمیشہ پوشیدہ رکھنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن اخبارات اکثر حکومتوں کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا کرتے تھے۔ پریس کی مقبولیت کی وجہ سے حکومتیں اکثر دباؤ میں رہتی تھیں، اسی کے پیش نظر 1966ء میں ایک قانون امریکا کو منظور کرنا پڑا، جس کے تحت عوام الناس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی ادارے سے کسی بھی نوعیت کی معلومات حاصل کر سکتا ہے تاہم اس قانون میں چند چیزوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ یہ وہ اطلاعات ہے جو حکومت ملک کے تحفظ کی خاطر خفیہ رکھ سکتی ہے۔ یعنی قومی سلامتی، ادارے کے اندرونی قواعد، اطلاعات جو وفاقی قوانین کے تحت مستثنیٰ ہیں، کاروباری راز، ذاتی خلوت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریکارڈ، بنک کی رپورٹس، تیل اور گیس کے کنوؤں کے نقشے۔

لیکن موجودہ دور میں آزادی اظہار رائے کے نام پر کچھ لوگوں نے دنیا کو جہنم بنا دیا ہے۔ بلیک میلنگ کا گھناؤنا کھیل بھی اس کے بعد شروع ہوا۔ صحافت کو مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس شعبے میں ایسے لوگ کثیر تعداد میں جمع ہو گئے، جنہوں نے خلوت اور جلوت جیسے الفاظوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آزادی اظہار رائے کا بہت غلط استعمال ہوا۔ جس نے معاشرے میں پاکیزگی جیسے الفاظوں کو مجروح کیا۔ جن مقاصد کے لیے آزادی اظہار رائے کی جنگ لڑی گئی وہ پس پشت ڈال کر میڈیا نے اپنے اہداف تبدیل کر ڈالے۔ ان معاملات میں حکومتوں کا رویہ بھی متضاد رہا۔ حکومت کو صرف اس چیز سے غرض تھی کہ اس کے معاملات منظر عام پر نہ آئے۔ حکومت سے لوگ برگشتہ نہ ہو۔ پریس نے حکومت کی ان خواہشوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے کہ الامان والحفیظ۔

صحافت میں اگر آزادی اظہار پر قدغن لگا دی جائے تو صحافت کا عظیم مقصد فوت ہو جائے گا۔ جھوٹ اور افتراء پردازی معاشرے کو حقیقت آشکارا ہونے پر انارکی کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ معاشرے کے طاقتور طبقوں کے خلاف زبان نہ کھولنا آزادی اظہار رائے کو کند چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ خیر گزرے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا خصوصاً پاکستان کے میڈیا کو بالغ نظروں سے اپنے اصل اہداف کی طرف نظر رکھنی ہو گی۔

امریکا میں کسی شخص کی توہین اور اس کو نقصان پہنچانے والے معاملات پر گرفت کے لیے ہتک عزت کا قانون بنایا گیا ہے۔ یہ فرد کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔ میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ایک عام آدمی اپنی ذاتی زندگی میں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا تھا۔ اس کی نجی زندگی پر ضرب پڑ رہی تھی۔ اس مسئلے کے تدارک کے لیے ہتک عزت کا قانون بنایا گیا ہے۔

ہتک عزت کی عموماً دو اقسام ہوتی ہے۔ زبانی اہانت اور تحریری اہانت۔ زبان سے کسی فرد کے متعلق ایسی بات کہی جائے جو اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائے تو یہ ہتک عزت میں شامل ہے۔ لیکن زبان کا پیغام کم افراد تک اپنی بات پہنچاتا تھا اس لیے اس کی سزا زیادہ سنگین نہیں ہوتی تھی۔ لیکن تحریری اہانت سے فرد کی ساکھ اس کی عزت کو نقصان پہنچنے کی صورت میں فرد کے خلاف زیادہ جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان قوانین کا اطلاق ہوتا ہے لیکن میڈیا اب اس قدر منہ زور ہو چکا ہے کہ وہ ہتک عزت کے ان قوانین کو اہمیت نہیں دیتا۔ خصوصاً پاکستان میں صورت حال کافی سنگین ہے، ہتک عزت کے قانون کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔ الیکٹرانک میڈیا کو آزادی ملنے کے بعد کچھ مرحلے تک میڈیا درست مسائل کی جانب نشاندہی کر دیا کر تا تھا۔ مگر اب ریٹنگ کے چکر میں کسی بھی شخص، سیاستدان کی عزت کو سرعام اچھالا جاتا ہے۔ اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو آزادی اظہار رائے پر پابندی کے حامیوں کا لیبل چسپاں کر کے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

٭٭٭

 

تعلیم کیوں ضروری

               رفیق اللہ پراچہ           

 کسی بھی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے،جس ملک و قوم میں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے وہ ہمیشہ زندگی میں لوگوں پر اور ان کے دلوں پہ راج کیا کرتے ہیں۔اسلام میں بھی علم کو بہت اہمیت دی گئی ہے،کیونکہ علم کے کمالات میں سے ایک کمال یہ کہ انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگاہی کی روشنی میں لاتا ہے اور بنی آدم کو شعور و فہم بخشتا ہے، اور انسان کو جب یہ تمیز ہو جاتی ہے تو دیوانہ وار کامیابیوں کی طرف لپکتا ہے۔انتہائی افسوس سے خونِ دل میں قلم ڈبو کر لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج ترقی کہ اس دور میں ہماری پیچیدگی کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم سے غفلت برتی جا رہی ہے۔چاہے وہ قومی سطح پر ہو یا سرکاری سطح پر،اس جدید دور میں اپنے ملک کے پیچیدہ نظامِ تعلیم کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

میں جب دیگر ممالک میں رائج نظام تعلیم کو دیکھتا ہوں اور اس کا موازنہ پاکستان کی تعلیمی نظام سے کرتا ہوں تو اس لمحے بڑے بے تکلفی کی سی انداز میں دیوانہ وار ایک جملہ زبان پر آتا ہے،میرے خدایا آج ہمارے ملک میں بھی تعلیم کو اہمیت دی جاتی۔۔ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہاں سب سے زیادہ تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ آج پاکستا ن کی آدھی سے زائد آبادی ان پڑھ ہیں۔بحیثیت ایک طالب علم مجھے اپنے تعلیمی نظام پر انتہائی تشویش ہے۔ہم سرکاری سطح پر تو تعلیمی طور پر معذور ہو ہی چکے ہیں،مگر نجی سطح پر بھی کسی بہتری کی امید نہیں ہے کیونکہ نجی سطح پر تعلیم کو ذریعہ معاش سمجھا جانے لگا ہے،تعلیم کی قدر و اہمیت کاروبار سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج لوگ معیاری تعلیم سے پوری طرح محروم ہو چکے ہیں،آج ہمارے ہاں ایک معیاری تعلیم کا حصول مڈل کلاس کے لوگوں کی دسترس سے کوسوں دور ہے۔آج ترقی کے اس دور میں ہماری پیچیدگی کی باعث تعلیم سے راہ فراری کے نتیجے میں سامنے آ رہا ہے۔

تعلیمی نظام میں سب سے بڑا امتحان میٹرک کا ہوتا ہے،یہاں سے طلباء اگلے مرحلے میں پری میڈیکل،پری انجینئرنگ،کمپیوٹر سائنس،علوم تجارت اور علوم فنون کے اداروں میں داخل ہوتے ہیں ۔گو کہ میٹرک کے لیول تک دوسرے ممالک میں طلباء کو تجربات کے لئے تیار کیا جاتا ہے، اور ان کے لیول کے مطابق کام لیا جاتا ہے،ان پر قدرے نگاہ رکھی جاتی ہے اور پرکھا جاتا ہے،اس لیے وہاں ٹیلینٹ ابھر کر سامنے آتا ہے،افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں غفلت برتنے کا یہ عالم کہ ہمیں تجربات سے دور رکھا جاتا ہے،اسے آپ سازش بھی کہہ سکتے ہیں۔بے حسی کا یہ عالم ہے اکثر اسکولوں اور کالجوں میں عملی امتحان لیے بغیر ہی نمبر دیے جاتے ہیں،مجھے اس کے دو وجوہات نظر آتے ہیں،اول ہمارے لیبارٹریوں کا حالت زار اور تجرباتی آلات کی عدمدستیابی ہے اور دوم عملے کا ذمہ داری سے غفلت برتنا ہے،ہمیں سازش کے طور پر تجربات کے میدان میں آگے بڑھنے نہیں دیا جا رہا جس کا اندازہ ہمیں پریکٹیکل کو کم اہمیت دینے کی صورت میں لگانا قطعاً مشکل نہیں ہیں۔تین سال قبل عملی امتحان 25 نمبر سے کم کر کے 15نمبر کیے گئے ہیں۔ اور اب یہ بات زیر گردش ہے کہ عملی امتحانات کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔خدانخواستہ اگر اس طرح کیا گیا تو یہ عمل مستقبل قریب میں ہماری ناکامی کا باعث بن سکتا ہے،کیونکہ انسان جب تک تجرباتی عمل سے نہیں گزرتا سیکھ نہیں پاتا،دنیا میں جو قومیں تجربات کو اہمیت نہیں دیتی ان کو ہمیشہ غلامی کی زندگی جینا پڑتا ہے۔شاعر کیا خوب کہے ہیں

  مسجد سے آئی گوشِ اکبر میں یہ صدا

  مذہب جو مٹا تو زورِ ملت معدوم

  جب علم گیا شوقِ عزت  معدوم

  دولت رخصت تو ذوقِ زینت  معدوم

 ہمارا المیہ یہ بھی ہے ہمارے ہاں بہت سارے چھوٹے بڑے نام نہاد انگلش میڈیم اسکولز اور کالجز موجود ہیں،اسے ہماری بدقسمتی ہی کہہ لیجیے کہ یہ ادارے نہ تو مکمل طور پر انگلش میڈیم بنتے ہیں اور نہ ہی اردو میڈیم بن پاتے ہیں اور عجیب افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔ ان اداروں سے جو طالب علم نکلتے ہیں اول تو وہ نوکری کے لئے مارے مارے پھرتا ہے،نوکری نہیں ملتی اور اگر قسمت مہربان ہو بھی جاتی ہے تو کسی ادارے میں کلرک کی نوکری مل جاتی ہے۔ہمارے پیچیدہ نظام تعلیم کا بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس شعبے میں آج کرپشن عروج پر ہے،چند روپوں کے عوض بچوں کے مستقبل سے کھیلا جاتا ہے اور حق تلفی کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے اعلیٰ بیوروکریٹس جنہوں نے کبھی اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے قریب بھی آنے نہیں دیا ہو گا،ان کی بے حسی دیکھئے اور قوم سے بے وفائی کا یہ عالم کہ تعلیم جیسے اہم سرگرمی کو سرکاری سرپرستی سے نکال کر گلی،کوچوں اور مکانوں تک پہنچایا ہے اور یوں انہوں نے تعلیم کو کاروبار کا لبادہ پہنایا۔جس سے تعلیم کا وہ توازن برقرار نہیں رکھا جا سکا جو دوسرے ممالک میں ہے۔ہم اپنے حکمرانوں کے کس کس کام پر ماتم کنا ں رہیں گے،ہم کب تک سر پیٹتے رہین گے؟۔بہر کیف یہ بات تو ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ تعلیم سے دوری کی صورت پر ہم پر مصائب،ناتمام مسائل اور پریشانیوں کے وہ پہاڑ ٹھوٹ پڑیں گے کہ جس کا تصور شاید کبھی زندگی میں ہم نے نہیں کیا ہو گا،ان مشکلات سے باہر نکلنے میں خدانخواستہ ہمارا صفحۂ ہستی نہ مٹ جائے۔ان برے اثرات سے جو ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں،ہم اسی صورت بچ سکتے ہیں کہ ہم تعلیم سے رفاقت کا رشتہ مضبوط کریں گے۔ہمارے حکمرانوں کو اب ہوش کے ناخن لینے ہونگے، ملک بھر میں چاہے وہ دیہاتی علاقے ہو یا شہری ہر جگہ معیاری تعلیم فراہم کریں،تاکہ برسوں کا یہ روایت ختم ہو جائے جو صرف امراء کے لئے ہیں،صرف امیروں اور دولتمندوں کی رسائی حصول تعلیم تک ہیں،عام اور غریب لوگوں کی دسترس نہیں پہنچتی۔عاشق کیرانوی نے کیا خوب کہا ہے

  سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر

  نہیں ہے کوئی رفیق کتاب سے بہتر

تعلیم سے دوری کی وجہ سے آج ہماری نوجوان نسل برے افعال کا شکار ہو رہی ہے،اخلاقی طور پر ہم بہت بے حس ہو چکے ہیں۔آج یہ نوجوان نسل احساس کمتری کے شکار دکھائی دیتی ہے،گویا غلامانہ زندگی کو اپنی تقدیر کا لکھا سمجھتے ہیں،اسی وجہ سے آج ہمارے ملک کی آدھی سے زائد آبادی غربت کے لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے،اس لیے اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے بعض اوقات غلط راہ اختیار کرتے ہیں،مثلاً لوگوں سے انکا حق چھین لینا،کسی کو چند پیسوں کے خاطر اغواء کر لینا اور رقم نہ ملنے کی صورت میں بربریت پہ اتر آنا اور قتل کرنا وغیرہ۔

حکومت کا فرض یہ بنتا ہے کہ ملک میں تعلیم کو سرکاری سطح پر معیاری بنائے اور اس کو گھروں اور دوکانوں سے نکال کر سرکاری اداروں تک محدود کریں،تاکہ غریب طبقہ بھی حصول علم سے فیضیاب ہوسکے، تب جا کر ملک سے مصائب اور پریشانی کے بادل چھٹیں گے۔ اور عنقریب وہ وقت بہت جلد آئیگا کہ با شعور اور پڑھی لکھی نسل آگے آ کر ملک کو بحرانوں سے نکالیں گی، اور پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا۔یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ملکی سلامتی،خوشحالی اور عوامی مسائل کے بارے میں سوچ لیں گے۔تعلیم چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی،حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔میں اپنی تحریر کا اختتام سرکارِدوعالمﷺ کے حدیث مبارک سے کرونگا، فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

٭٭٭

 

ناقص روایتی تعلیم

               محمد فرقان              

 وحی رسول ﷺ کا آغاز ہی “پڑھ” سے ہوا اور قرآن پاک ا ور احادیث میں جگہ جگہ ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یوں ہماری کائنات کی تخلیق سے ہی تعلیم کی اہمیت انسانی زندگی کے لیے اہم رہی ہے۔ تعلیم کی اہمیت سے انسانی زندگی میں کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تعلیم ہی ہے جس نے انسانوں کو جنگل سے نکال کر شہروں سے گاؤں اور گاؤں سے شہروں تک پہنچایا۔ پوری دنیا کے ترقی پذیر ممالک نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اپنے شہریوں میں تعلیم کو فروغ دے کر ترقی کی بلندیوں کو چھوا۔

مجھے حیرت ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے صرف اسی حکم پر ہی ہمیشہ عمل کیا ہے اور اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر جسے بھی اعلیٰ تعلیم چاہئے اسے چین‘ مغربی ممالک یا انڈیا بھیج دیا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں تعلیم کے شعبے میں خرابی کی جڑ جاگیردار اور سیاستدان ہی ہیں۔جنہوں نے اپنے بچوں کو تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھیج دیا یا پاکستان میں ہی بڑے بڑے تعلیم اداروں میں داخلہ دلوا دیا جہاں او لیول اور اے لیول کی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ عام شہری کے بچے انہی گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں میں پرانا نصاب پڑھنے پر مجبور ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے کیونکہ موجودہ دور میں غریب کے بیٹے کے لیے نظام تعلیم اور ہے جو گورنمنٹ سکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے جبکہ امیر لوگوں کی اولادیں ملک کے بڑے بڑے نجی سکولوں میں انٹرنیشنل ڈگریاں حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔

دنیا بھر میں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے ٹیکنیکل تعلیم بھی لازمی قرار دی جا رہی ہے اور انہی سکولوں میں 6th کلاس سے 8th تک لازمی ٹیکنیکل تعلیم رائج کر کے ہی ہنرمند اور تعلیم یافتہ قوم بنائی جا سکتی ہے جس کے لئے میرے خیال میں موجودہ تعلیمی بجٹ سے ہی اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔ جو بچہ انگریزی یا ریاضی کی وجہ سے روایتی تعلیم میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا وہ کم از کم ایک ہنرمند نوجوان تو بن جائے گا۔ پرائمری کے بعد تمام سکولوں میں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر ایئرکنڈیشنڈ ریفریجریشن، مکینیکل، پلمبنگ، سول، الیکٹریکل، الیکٹرونکس، ٹیکسٹائل وغیرہ پڑھائے جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ والدین کا یہ رویہ بتدریج ختم ہو جائے گا کہ وہ مڈل میں فیل ہونے والوں کوتعلیم سے بالکل دور کر دیں۔ اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ ہمارے ملک کا ہر نوجوان ہنر مند بن جائے گا۔اسوقت ہمارے ملک میں بھی ہنرمند افراد کی کمی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مختلف تکنیکی شعبوں میں دنیا بھرمیں ملازمتوں کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور محکمہ تعلیم کو ہنگامی بنیادوں پر بتدریج تمام سکولوں میں ٹیکنیکل تعلیم کے شعبے قائم کر کے پرائمری کے بعد 3 سال کے لئے ٹیکنیکل تعلیم کو لازمی قرار دینا چاہئے۔ہمارے دیہی علاقوںمیںسکولوں کی حالت زار تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور آئے روز اس بارے میں رپورٹیں سامنے آتی ہیں کہ فلاں سکول میں جانور بندھے ہوئے تھے یا فلاں سکول کو کسی جاگیردار نے اپنی اوطاق بنا رکھا ہے۔ کراچی شہر میں بھی کئی سکول ایسے ہیں جہاں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں اور عملہ گھر بیٹھے تنخواہیں بٹور رہا ہے۔ گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کے لئے باقاعدہ طریقہ کار رائج ہے جس میں متعلقہ محکمہ تعلیم کے عملے اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو تنخواہ کا معقول حصہ باقاعدگی سے بطور رشوت دینا پڑتا ہے اور یہ طریقہ قیام پاکستان سے اب تک رائج ہے۔

اسی وقت 25لاکھ سے زیادہ ایسے بچے ہیں جنہوں نے پرائمری سکول جانے سے گریز کیا ہوا ہے اور چائلڈ لیبر کی نذر ہو رہے ہیں ۔آج کل حکومت ایک پالیسی بنا رہی ہے جس کے ذریعے ہر بچے پر لازم ہو گا کہ وہ تعلیمی ادارے میں داخلہ لے اور اس پالیسی کا اصل مقصد ہر بچے کو سکول کی چاردیواری تک پہنچانا ہے جس سے پاکستان کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو گا۔

ہمارے ہاں ایک اور المیہ زبان کا ہے مادری زبان،قومی زبان اور، نصابی زبان کے ساتھ ساتھ بچے کو انگریزی زبان بھی سیکھنی پڑتی ہے۔ میٹرک تک سرکاری اسکولوں میں کورس اردو میں پڑھایا جاتا ہے انٹر میں کورس ایک دم تبدیل ہو کر انگریزی میں ہو جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم صرف ایک زبان میں ہونی چاہیے تا کہ بچے با آسانی سیکھ اور سمجھ سکیں۔

اکثر اسکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والے اسٹاف اور کلاس رومز کی کمی کی وجہ سے ایک ایک کلاس میں80 سے110 طلباء کو بٹھایا اور پڑھایا جاتا ہے اتنی کثیر تعداد کو ایک جگہ بڑھانا انھیں پڑھانا سمجھانا اور کنٹرول کرنا ایک استاد کے بس میں نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی پڑھائی شدید متاثر ہوتی ہے اور فطری بات ہے کہ جب بچے نہیں سمجھتے تو استاد بھی دلچسپی نہیں لیتا اس لیے ضروری ہے کہ ہر کلاس روم میں طلباء کی مناسب تعداد ہونی چاہیے اور یہ تعداد 20 سے25 کے درمیان ہونی چاہیے تاکہ استاد بھی پڑھا اور سمجھا سکے اور طلباء بھی سمجھ سکیں۔

تمام سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں سال بھر میں8 یا 9 مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ سال کے آخر میں ان تمام مضامین کا امتحان10 سے 15 دنوں میں لیا جاتا ہے ایک طالب علم خواہ سال بھر ان تمام مضامین میں کتنا ہی قابل کیوں نہ رہا ہو لیکن امتحان کے دنوں میں اگر وہ کسی وجہ سے ایک پیپر میں حاضر نہ ہو تو اسے فیل قرار دے کر پورا سال ضائع ہو جاتا ہے امتحان کا طریقہ کار تبدیل کر کے سمسٹر وائز کر دیا جائے اور ہر مہینے کے بعد مضامین کے صرف اس حصے کا امتحان لیا جائے جو پڑھایا جا چکا ہے اس سے مثبت تبدیلی آئے گی اس کے علاوہ مضامین میں ممکن ہو ان کا امتحانی پیپر Objective کر دیا جائے۔ اگر ان تمام مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جائے تو پاکستان میں تعلیمی نظام میں ایک واضح بہتری نظر آئے گی۔

٭٭٭

 

آدم

               حفیظ خٹک             

 کرہ ارض پر پہلا انسان آدم، بنی نوع انسانوں کا باپ آدم، وہ آدم کہ جسے خالق کائنات نے خود بنایا اور وہ آدم کہ جسے بنانے کے بعد اللہ رب العزت نے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ آدم کو سبھی فرشتوں نے سجدہ کیا ماسوائے ابلیس کے، جسے گھمنڈ تھا کہ وہ اس آدم سے بہتر ہے۔ آدم سے اعلیٰ ہے۔ آدم و ابلیس کی جنگ جبھی شروع ہو گئی تھی۔ ابلیس تب ہی سے آدم اور نسل آدم کو گمراہ کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس آدم کو خالق کائنات نے اس کی حدود سے خوب واقف کرایا تاہم ابلیس کے بہکاوے میں آ کر وہ آدم بھٹک گیا اور پھر جنت سے نکال دیا گیا۔ آدم زمین پر رہائش پذیر ہوا۔ اس کی نسل بڑھنے لگی زمین کے خالی حصے انسانوں سے بھرنے لگیں۔ دوسری جانب ابلیس نے بھی سکھ کا سانس نہیں لیا بلکہ وہ آدم اور ابن آدم کو راہ راست سے ہٹانے کے لیے کمر بستہ رہا۔ اس نے انسانوں کو انسانوں سے لڑانے کے لیے زن، زر و زمین کے مسائل کھڑے کیے۔ انسانوں کو انسانوں کے ہاتھوں ختم کرنے کی ٹھان لی۔ جو بعد ازاں آج بھی جاری و ساری ہے۔ اس کے ساتھ انسانوں کو اپنے خالق سے متنفر کرنے کے لیے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا بلکہ مواقع بھی از خود ہی تیار کر لیتا۔ یوں معصوم انسان، ابلیس کی چالوں میں آتے رہے اور تباہی و بربادی کے نہ ختم ہونے والے سلسلے بھی جاری رہے۔ اللہ انسان سے بے پناہ انسیت و محبت رکھتا ہے وہ ذات عظیم جب انسانوں کو شیطان کی چالوں میں گھرا ہوا دیکھتی تو ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انہیں راہ راست پر لانے کے لیے اپنے انبیاء بھیجتا رہا۔ اپنی کتابیں بھیجتا رہا۔ وہ انسانوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا رہا اور جب انسان پلٹ کر اس کی جانب جائے تو وہ ذات عظیم انہیں نوازتا ہے۔

 انسان آج اربوں کی تعداد میں موجود ہیں ان اربوں آدموں میں آج جس آدم کی بات کرنے جا  رہے ہیں وہ آدم بن طاہر ہے۔ ابن آدم کو خالق کائنات نے توازن کے ساتھ ایک بار زندگی کو گزارنے کے احکامات دیے یہ توازن اللہ نے کائنات کی ہر شے میں قائم رکھا۔ جہاں بھی توازن غیر متوازن میں تبدیل ہوا تو معاملہ بگڑ گیا۔ نبیﷺ نے مسلمانوں کو جاتے جاتے اللہ کا کتاب اور سنت رسولﷺ پر توازن کے ساتھ قائم رہنے کی تاکید کی۔ تاریخ شاہد ہے جب بھی مسلمان ان دونوں نقاط پر عمل پیرا رہے وہ دنیا پر غالب رہے تاہم جب انہوں نے توازن کو برقرار نہ رکھا وہ زیردست آتے چلے گئے۔۔۔۔ لہذا آدم کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو توازن کے ساتھ گزارے کسی نے بہت خوب لکھا کہ آدم کی زندگی کا سفر ہے۔ یہ دورانیہ مخصوص مدت پر مشتمل ہے اب یہ سفر ہر آدم کو کرنا ہے۔ کوئی یہ سفر تیز رفتار دوڑ کے ساتھ کر رہا ہے، کوئی چل کر کوئی رینگ کر کوئی چاہتے ہوئے دل سے اور کوئی تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس زندگی کے سفر میں ایسے آدم بھی ہیں جو خاص آدم کہلاتے ہیں۔ وہ خاص آدم ذہنی، جسمانی یا روحانی طور پر کچھ معذور ہوتے ہیں تاہم عام و خاص آدم کو بہر حال اپنا سفر کرنا ہے۔ قابل و ادیب وہ ہیں کہ جو اپنے سفر میں اوروں کو ساتھ لے کر چلے۔ کسی کا ہاتھ تھام کر نہیں بلکہ کسی کو اپنا ہاتھ تھما کر عزم کےساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے آدم سینکڑوں ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں میں چند ہوتے ہیں جو اپنی چاندی سے پورے ماحول کو منور کرتے ہیں۔ اندھیرے میں ایسے جگنو کی مانند ہوتے ہیں جن کی روشنی سے بے شمار بھٹکے ہوئے آدم اپنی راہوں کو سدھارتے ہیں۔ ایسے خاص آدموں پر اس کائنات کا خالق اپنی خاص رحمت و شفقت کرتا ہے۔ انکی ہمت واستقامت کو وہ برقرار رکھتا ہے اور انہیں دوسروں کے لیے مشعل و مثال بناتا ہے۔ ایسے آدم، جو اپنی خاصیت کو بھلا کر دوسرے خاص آدموں کے گرتے ہاتھوں، کمزور جسموں اور بہتے آنسوؤں کو سنبھالتے، سہارا دیتے او ر پونچھتے ہیں۔ ایسے ہی آدم پر اللہ اور اس کی وہ مخلوق جو ہمیں نظر نہیں آتی وہ سبھی رشک کرتے ہیں۔

 آدم بن طاہر ایسا نوجوان جو ذہنی و جسمانی کمزوریوں کے باوجود بے پناہ خداداد صلاحیتوں کا مالک ہے گو کہ وہ نوجوان اپنی عمر کے مطابق لکھ پڑھ نہیں سکتا تاہم اس کے باوجود وہ ہمہ وقت زبردست مقرر بھی ہے۔ آدم خاصیتوں کے ساتھ ایک اور خاص بیماری مرگی سے بھی دوچار ہے لیکن یہی آدم ایک بہترین ادا کاری کی صورت مختلف ادویات کی کمپنیوں کے کمرشل میں اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آتے ہیں۔ آدم اپنی انہی خداداد صلاحیتیوں سے بے شمار جگہوں پر نوازے جا چکے ہیں۔ اسے کراچی چیمبر آف کامرس انڈسٹریز نے فیڈریشن کی اسپیشل ایجوکیشن کمیٹی کا ممبر بنا رکھا ہے۔ جہاں وہ اپنے فرائض احسن انداز میں نبھا رہے ہیں اس آدم کی خاصیتیں کچھ یوں ہے کہ جب ا ن کی پیدائش ہوئی تو وہ عام نہیں بلکہ خاص تھی یعنی وہ متعین وقت سے پہلے دنیا میں آئے جسے ہم عرف عام میں میچور کہتے ہیں۔ ڈاکٹر نے والدین کو بتا دیا کہ یہ عام بچوں سے تھوڑا لیٹ ہو گیا جبکہ عملی زندگی میں وہ تو مسیحوں کو مات دے گیا۔ البتہ اسی رپورٹ کے مطابق آدم کے بائیں جانب دماغ کا حصہ متاثر ہوا جس کے سبب جسم کا پورا بایاں حصہ متاثر ہو گیا۔ آدم کے والد نے بچے کی اس کمزوری کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے اس کا تدارک کرنے کے جتن شروع کئے جس میں انہیں کامیابی ہوئی۔ آدم کے والدین کی کاوشوں اور اس کے نتیجے میں آدم کو ملنے والی کامیابیوں کا سہرا انسٹی ٹیوٹ آف کلینکل سائیکالوجی کو قرار دیا۔ آدم کی آرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ وہ حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے پر چیز کو جلدی پک کر لیتا ہے اس کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے ہر لمحے تیار رہتا ہے۔

 آدم آج زندگی کے سفر میں ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں اسے کئی ہمسفر دیکھ کر جیتے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ آدم یہ سمجھتا ہے کہ زندگی کا سفر خاص آدموں کے لیے کچھ کٹھن ضرور ہے مگر ذرا اہمیت اور حوصلہ افزائی سے یہ سفر نہایت خوشگوار ہو سکتا ہے۔ آج آدم، آدم علیہ السلام کے آغاز سفر سے انجام سفر کی جانب بڑھنے والا وہ درخشاں ستارہ ہے کہ جو الفت و محبت کا پیغام دنیا کے تمام آدموں کو دیتا ہے۔ اس کی بابت، اس کے اقدامات اس کی خواہشات و ترجیحات کسی بھی طرح نسل آدم عام فرد سے مختلف نہیں بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ اپنے حلقہ احباب، گرد و پیش میں موجود اگر کوئی خاص آدم ہے تو انہیں لازماً اس خاص آدم سے ضرور ملوائیے۔ انہیں ان خاص آدم کے متعلق ضرور بتایئے تاکہ آدم کو ایسے ساتھی ملیں جو اپنے لیے نہیں اوروں کے لیے کچھ نہیں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں تاکہ اللہ کے فرشتے ایک بار پھر ابلیس کو کہہ دیں کہ اس کا آدم کو سجدہ نہ کرنے کا فیصلہ صریحاً غلط ہے۔

٭٭٭

 

نظام تعلیم کی تباہ کاریاں

               عتیق الرحمن

 قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ اس کے نوجوانوں کے دم قدم سے ہے اور نوجوانوں کی نشو نما فکری، اخلاقی ا ور نظریاتی تعلیم و تربیت سے مربوط ہے۔اگر معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر دیانت داری، نیک نیتی اور خلوص دل کے ساتھ محنت کی جائے تو اس معاشرے کے نوجوان اپنے معاشرے کی روشن و مثالی تقدیر کے ضامن ہوتے ہیں اور اس کے بر عکس اگر کسی معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو ثانوی حیثیت دی جائے اور ان کی اخلاقی، فکری اور نظریاتی تربیت میں سستی و کاہلی سے کام لیا جائے تو ایسے نوجوان اپنے ہی معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتے ہیں۔عالم اسلام میں جتنے بھی ایسے مسائل پنپ رہے ہیں جن کی وجہ سے ملت اسلامیہ دن بدن تنزلی میں گرتی چلی جا رہی ہے ان میں جو بنیادی عنصر غالب ہے وہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے عدم توجہی اور غفلت ہے۔ تمام مسلم ممالک کی قیادت نے اپنی نوجوان نسل کو بے لگام چھوڑ دیا ہے جس طرف ان کا جی کرتا ہے وہ جانوروں کے منتشر ریوڑ کی طرح چلے جاتے ہیں۔ اس میں ان نوجوانوں کا جرم نہیں بلکہ ان مسلم ممالک کے قائدین ان اسباب اور ان کے نتائج کے اصل مجرم ہیں، کیوں کہ انہوں نے اپنی سلطنت و حکومت کی طوالت عمری،عیش و عشرت میں محو ہونے اور اقوام مغرب کی اندھی تقلید میں گم ہونے کے سبب اپنی ملت کی نوجوان نسل (جو کہ قوم کا مستقبل ہوا کرتے ہیں) کی خبر گیری سے عمداً آنکھیں چرا لی ہیں۔

پاکستان کے نصاب و نظام تعلیم میں بھی وہ سب خامیاں بدرجہا اتم موجود ہیں جن کے سبب ملک کی نئی نسل کا دیوالیہ نکل جائے، بلکہ اب دن بدن ملک میں رائج نصاب تعلیم میں سے جو پہلے ہی ناکافی تھا ایک مسلم ریاست کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اس میں سے کچھ کو تو حذف کر دیا گیا ہے اور باقی ماندہ کی بھی خبر نہیں کہ……..میں پاکستان میں رائج نصاب و نظام تعلیم کی تباہ کاریوں کی جانب مختصراً گذارشات ارباب اختیار کی نظر کرنا چاہتا ہوں کہ اگر نصاب میں تبدیلی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس ملک اور اس کی ملت کو تباہی و بربادی کی کھائیوں میں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ماسوائے اللہ تعالیٰ….پاکستان کے موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی کثیر تعداد بے راہ روی کی شکار ہے ۔کسی معاشرے کی تباہی و بربادی میں جس قدر برائیوں اور خرابیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ آج کے پاکستانی معاشرے میں پوری ہو چکی ہیں۔یعنی پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوان چوری،شراب نوشی،ڈاکہ زنی،غنڈہ گردی،بدمعاشی من جملہ تمام خرافات و برائیوں میں لت پت ہو چکے ہیں۔والدین سے بد سلوکی،اپنے بڑوں کی بے ادبی،اساتذہ کی توہین،اسلامی شعائر کا تفاخر کے ساتھ مذاق اڑانا موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فارغ ہونے والوں کا طرہ امتیاز ہے۔

چند دن قبل میری بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی دوران گفتگو اس نے بتایا کہ ایک طالب علم جو کسی امیرو سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ کلاس میں اکثر غیر حاضر رہتا ہے اس نے چند دن قبل اپنے استاد کے کمرہ میں جا کر گالم گلوچ کے ساتھ بد اخلاقی و بد تہذیبی کے انتہائی درجہ تک پیش آیا اور اس طالب علم نے اپنے استاد کو اپنے سیاسی اثرو رسوخ سے ڈرانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں رزلٹ اس کے حق میں نہ آنے کی صورت میں ۔یہ واقعہ بطور مثال درج کیا ہے ورنہ اس طرح کی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں موجود ہیں اور یہ واقعہ اسلام کے نام پر بننے والی ایک یونیورسٹی میں پیش آیا ہے تو آپ اس پس منظر میں باقی اداروں میں پیش آمدہ صورتحال کا اندازہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔بہر حال اس طرح کی سرکشی و عیاری و بدمعاشی کو دیکھ کر ایک صحیح مسلم نہیں بلکہ ایک سچے انسان کا سر ندامت و تاسف کے باعث جھک جاتا ہے۔ آج کے نوجوان لڑکیوں کے نا جائز عشق میں مبتلا ہو کر اپنے والدین کے ساتھ بڑھ چڑھ کر بد تمیزی و بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔یہ عنصر بالخصوص ان نوجوانوں میں زیادہ پایا جاتا ہے جو اے لیول،او لیول اور انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔میرے مشاہدے میں کئی ایسی لڑکے اور لڑکیوں مثالیں ہیں کہ جنہوں نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی دہلیز میں قدم رکھنے کے سبب ان کو اپنے گھروں سے نکال کر اولڈ ہاوسس میں منتقل کر دیا ہے اس طرح کی مثالوں پر کبھی پھر تفصیلی روشنی ڈالوں گا…….. اور یہ سب کے سب نوجوان ملک میں موجودہ رائج نصاب و نظام تعلیم سے فارغ ہونے والے ہیں ۔

    اب اصل بات یہ سوچنے کی ہے کہ موجودہ نصاب و نظام تعلیم سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اس طرح کے موذی جراثیم کہا ں سے اور کیسے داخل ہوئے ۔تو میرے نزدیک ان جراثیم کے پنپنے کے دو بنیادی سبب ہیں ایک نصاب سے متعلق اور دوسرا نظام سے متعلق ہے۔اول یہ کہ ہمارے ہاں جو نصاب رائج ہے اس میں لارڈ میکالے اور سر سید احمد خان کے افکار و نظریات کی ترجمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے یعنی کہ لارڈ میکالے نے جو یہ کہا تھا 1835میں کہ “میں پورے برصغیر کا دورہ کر چکا ہوں یہاں مجھے کسی طرح کی واضح کمزوری ہاتھ نہیں آسکی کہ جس کے سبب ہم ان کو یرغمال بنا سکیں البتہ دوراستے ہیں ان کے ذریعے سے ممکن ہے کہ یہ شکل و صورت کے لحاظ سے تو ہندوستانی باقی رہ جائیں گے مگر افکار و نظریات میں یہ انگریز کے ترجمان ہوں گے، اور وہ یہ ہے کہ ان کے نصاب تعلیم کو بدل دیں اور دوسرا انگریزی تہذیب و ثقافت کو یہاں نافذ کر دیا جائے”لارڈ میکالے کی تمام تر سازشوں کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں سے اسلام کے امتیازات و  افتخارات سے دور ہو جائیں۔

 سر سید احمد خان نے انگریزوں کی سازشوں سے مرعوب ہو کر اندھی تقلید کرتے ہوئے انگریز کے نصاب و نظام تعلیم کو من و عن مسلمانوں میں فروغ دینے کی مکمل کوشش کی ۔اسی کے سبب آج ملک پاک کے نصاب تعلیم میں انگریزی کو صرف بطور سبق نہیں پڑھایا جاتا بلکہ مکمل طور پر اس کے ساتھ ہی انگریز و مغرب کے تہذیب و ثقافت کی تقلید بھی کرائی جاتی ہے۔دوسری جانب یہ ارض پاک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اس کے حصول میں جدوجہد کرنے والے تمامی افراد اس امید پر آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے کہ اس ملک میں اسلامی نظام کو نافذ کیا جائے گا اور دوسرا اس ملک کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے ۔ستم در ستم یہ ہے کہ اس ملک میں اسلامی شریعت کا عملاً نفاذ اور دو قومی نظریہ کی پاسداری کرنا تو درکنار بلکہ اس ملک کے نصاب تعلیم میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو ثانوی حیثیت سے شامل نصاب کیا گیا ہے ۔اسلامیات اور مطالعہ پاکستا ن جو کہ اس ملک کی اساس و جان ہیں کو خانہ پری تک محدود کر دیا گیا ہے اور اب تو اس سے بھی بات آگے بڑھ چکی ہے ملک کے نصاب سے یونیسیکوکے تعاون سے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو اس ثانوی حیثیت سے بھی خارج کر دیا گیا ہے اور پنجاب کی نئی کتابوں نے بھی رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔

دوسرا عنصر جس کے سبب ارض پاک کے نوجوانوں کی اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے وہ مروجہ نظام تعلیم ہے ۔یعنی کہ تعلیم کے شعبہ میں جس طرح نصاب کی اہمیت مسلم ہے اسی قدر نظام تعلیم کی اہمیت بھی مسلم ہے کیوں کہ صرف کتابیں پڑھ لینے سے انسان کی ذات کامل اکمل اور مکمل نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ اس کو جس ماحول میں تعلیم دی جا رہی ہے وہ ماحول پاکیزہ اور صاف نہ ہو۔نظام تعلیم میں ادارے کا اندرونی ماحول اور اساتذہ کے اخلاق حسنہ،حسن معاملہ،مشفقانہ و ہمدردانہ رویہ اور اس کے ساتھ ہی طلبہ کو عملی طور پر اسلام کے روشن اور مثالی تعلیمات اور اکابر اسلاف کی سیرتوں سے نہ صرف روشناس کرانا بلکہ ان کی سیرتوں اور صورتوں کے مطابق طلبہ کے اندر یہ جذبہ بیدار کرنا کہ وہ اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھال لیں۔مگر افسوس ہمارے ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا تقرر سفارش،رشوت یا بھاری بھر کم اسناد کو دیکھ کر کیا جاتا ہے ۔استاد کا تقرر کرتے وقت اس بات کو صرف نظر کر دیا جاتا ہے کہ ہم جس کو استاد کے منصب کے لیے مقرر کر رہے ہیں اس کے ہاتھ میں ہم اپنے ملک کی قیمتی فصل دے رہے ہیں اگر اس فصل پر کام کرنے والا فرد نیک اور دیانت دار ہو گا تو فصل اتنی اچھی اور بہتر ہو گی بصورت دیگر اس فصل کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ اور اسی صورتحال کا آج ہر عقل و فہم کا درست ادراک کرنے والا کر رہا ہے۔

اب بات حل کی ہے تو اس سلسلے میں چند ممکنہ حل تجویز کیے دیتا ہوں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہائر ا یجوکیشن کمیشن،وفاقی وزارت تعلیم،صوبائی وزارت تعلیم اور یونیورسٹیز کے صدور تمام کالجز اور سکولز کے پرنسپل صاحبان سمیت تمام احباب ان مسائل کو سنجیدہ لیتے ہوئے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ دوسرا یہ کہ انگریزی زبان جو کہ آج کے وقت کی ضرورت ہے اس لیے اس کو نصاب سے خارج کرنے کی بات کوئی عقل سے عاری فرد کر سکتا ہے البتہ میری تجویز ہے کہ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو انگریزی زبان میں مرتب و مدون کروایا جائے اس امر سے دو فائدے حاصل ہوں گے انگریزی زبان بھی داخل نصاب رہے گی اور اسلامی تاریخ و مطالعہ پاکستان سے بھی نئی نسل متعارف ہو جائے گی اور یہ اصلاح پہلی جماعت سے ہی شروع کروائی جائے۔تیسری بات یہ ہے کہ چونکہ یہ ملک اسلامی ملک ہے اس لیے ہمارے نصاب تعلیم میں پانچویں کلاس سے عربی زبان کی تعلیم دی جائے کیوں کہ عربی قرآن و سنت کی زبان ہے اگر بچہ ابتدا ہی سے عربی سے متعارف ہو جائے تو اس کو قرآن و سنت کی حقیقی روح سمجھنے میں آسانی ہو گی۔چوتھی بات یہ کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کا تقرر سفارش،رشوت اور بھاری بھر کم اسناد کی بجائے ان کی علمی و اخلاقی،فکری و نظریاتی استعداد اور مہارت فن کو دیکھ کر تقرر کیا جائے ۔

٭٭٭

 

علم کیا ہے؟

               شکیل احمد

اس وقت اگر ہم دنیا میں نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں کئی قسم کے علوم نظر آتے ہیں۔ سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، بینکنگ، بائیو، کیمسٹری، فزکس، ہوم اکنامکس، وغیرہ الغرض کہ ہر شعبہ کے حوالے سے ماہرین ملتے ہیں۔ اور ان کی کتب بھی سستے داموں دکانوں اور ٹھیلوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لوگوں کا ایک جم غفیر ان علوم پر اپنا تن من دھن لٹانے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ اگر ان تمام علوم کے نتیجہ پر غور کریں تو ان سب علوم کا ماحصل صرف اور صرف دنیاوی زندگی کی جاہ و حشمت ہے۔

محترم قارئین! جس چیز کا تعلق صرف اور صرف دنیاوی زندگی کے ساتھ ہو تو اسے علوم کے بجائے فنون کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اب آپ خود غور کیجئے ہمارے نبی نے فرمایا تھا: “طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم” علم کی طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ہم نے تو حصول فن پر ہی اپنی زندگیاں خرچ کر دیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمیں دنیا میں بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنسدان تو نظر آتے ہیں لیکن محدث، مفسر، عالم نظر نہیں آتے۔ یہ امت کے لیے بڑی محرومی کی بات ہے۔ نتیجتاََ امت مسلمہ کی حالت زار آپ کے سامنے ہے کہ جہاں بھی مسلمان نظر آتے ہیں ظلم وسربریت کی چکی میں پستے نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ علم کا فقدان ہے۔

خدارا! اگر آج اپنی کھوئی ہوئی بلندیاں واپس لوٹانا چاہتے ہو تو حقیقی علم کی طرف واپس لوٹنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ دنیاوی فنون سے بہرہ ور فرما دے گا اور اخروی کامیابی بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ اس بات پر تاریخ شاہد ہے جن لوگوں نے اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف کر دیں وہ دنیا کے امام بنے اور آخرت کی کامیابی کا سرٹیفیکیٹ بھی “رضی اللہ عنہم و رضواعنہ” صورت میں جاری ہوئے۔ اس بات سے علم ہوا کہ دین اسلام دنیاوی فنون کے حصول کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ ان کو دین کے تابع رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ آج امت مسلمہ اسی نقطہ پر دھوکے کا شکار ہوئی ہے کہ امت مسلمہ کا ایک طبقہ دنیا میں ایسا مگن ہوا کہ وہ دین سے بالکل فارغ رہا اور ایک گروہ دین میں ایسا گھسا کہ دنیاوی سیادت و قیادت سے نا آشنا۔ امت افراط و تفریط کا شکار ہو گئی جبکہ علم دین اس چیز کا قطعاً حکم نہیں دیتا بلکہ اس علم کے ذریعے تو دنیا و آخرت دونوں میں بلندیاں نصیب ہوتی ہیں۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے: “ان اللہ یرفع بھذالکتاب اقواما و یضع بہ آخرین” بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے قوموں کو بلندیاں عطاء فرماتا ہے اور اس کو ترک کرنے کہ وجہ سے ان کو رسواکرتا ہے اور اس کی کئی مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں۔

زمانہ جاہلیت کے عرب ادیبوں کو دیکھو۔ وہ علم لغت میں اپنے آپ کو وقت کا امام کہتے تھے اور باقی لوگوں کو عجم گونگے کہا کرتے تھے مگر ان کے اس علم نے ان کو صرف اور صرف عرب کے چند قبائل تک محدود رکھا اور آخر کار وہ سرداری بھی کھو بیٹھے۔ ان میں سے جنہوں نے علم دین کی طرف رخ کیا وہ دنیا کے حکمران بن گئے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پیارے نبی جناب محمد ﷺ کہ زمانہ کی بات ہے، جب آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو اس وقت شہر مکہ میں چند پڑھے لکھے لوگ تھے۔ ان میں عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب بھی شامل تھے۔ عمرو بن ہشام نے علم دین کو ٹھکرایا تو وہ ابو جہل بن گیا اور اپنی چھوٹی سی سر داری بھی کھو بیٹھا جب کہ عمر بن خطاب تھے۔ انہوں نے اپنے اس علم کے ساتھ دینی علم کو بھی سینے سے لگایا تو فاروق اعظم بن گئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ مسلمانوں کے حکمران بن گئے۔ ایسے حکمران کہ جن کے نام سے عالم کفر بھی کانپتا تھا۔ ہزاروں میل دور بیٹھے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں لرزا طاری رہتا تھا۔ تو یہ ساری عزت علم دین کو اپنا نے کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ انہی دور کی بات ہے کہ انہوں نے کسی علاقے پر ایک گورنر مقرر کیا ایک دن باہر نکلے تو سر راہ اسی گورنر سے ملاقات ہوئی تو اس سے پوچھا اپنی جگہ کس کو امیر بنا کے آئے ہو؟ جواب ملا: ابن ابزیٰ کو تو امیرالمومنین ناراض ہوئے اور کہنے لگے تو نے آزادوں پر غلام کو امیر مقرر کر دیا ہے۔ تو گورنر نے عرض کی: “اے امیر المومنین! وہ غلام تو ضرور ہے مگر دین کا عالم ہے۔ امیرالمومنین کا غصہ کافور ہوا اور وہ یہ حدیث بار بار پڑھنے لگے۔

“ان اللہ یرفع بھذالکتاب اقواما و یضع بہ آخرین” اسی طرح خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور کی بات ہے کہ ایک بچہ جس کا رنگ کالا سیاہ، ناک چپٹی، آنکھوں سے اندھا، کانوں سے بہرہ (جب تھوڑا بڑا ہوا تو سماعت درست ہو گئی تھی) الغرض کہ ظاہری حسن و خوبی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی نفرت کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ اس کو کسی خیر خواہ نے مشورہ دیا اور اس کے ذہن میں خیال آیا کہ میں اللہ کی کتاب کا علم حاصل کر لوں۔ شاید کہ یہ رسوائیاں چھٹ جائیں۔ پھر اسی سوچ کے ساتھ وہ حصول علم دین میں جُت گیا۔ اور کچھ عرصہ کے بعد ہی وہ دین کا بہت بڑا عالم بن کر ابھرا۔ اور وہ شہر مکہ کا قاضی و مفتی مقرر ہوا۔ ایک دفعہ خلیفہ عبدالملک بن مروان حج کے ارادے سے مکہ میں تشریف لائے اور ان جو چند سوالات کے جوابات مطلوب تھے۔ تو یہ مسجد میں آئے دیکھا کہ مفتی صاحب نماز میں مصروف ہیں۔ اب خلیفہ وقت اپنے بیٹوں سمیت مفتی صاحب کے پیچھے انتظار میں بیٹھ گئے اور مفتی صاحب نماز پڑھتے رہے۔ یہ منظر میرے اللہ نے علم دین کی برکت سے دکھا یا۔

جب مفتی صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو خلیفہ وقت نے اپنے سوالات کے جواب لیے اور اپنے بیٹوں سمیت مسجد سے نکلنے لگے تو ایک آواز لگانے والے نے اعلان کیا کہ …. آج کے بعد مکہ میں کوئی قاضی یا مفتی عطاء ابن ابی رباح کی اجازت کے بغیر فتویٰ نہیں دے گا تو شہزادوں نے اپنے والد عبدالملک بن مروان سے پوچھا کہ یہ کس شخص کے بارے میں اعلان ہو رہا ہے؟ تو عبدالملک بن مروان نے جواب دیا، اے میرے بیٹو! یہ وہ شخص ہے جس کو دنیا میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا انتہائی حقیر سمجھا جاتا تھا۔ اس نے علم دین کو سیکھا تو اس کو یہ مقام ملا مکہ معظمہ کا قاضی و مفتی مقرر ہوا۔ اگر تم بھی دنیا و آخرت میں عزت چاہتے ہو تو علم دین کو سیکھو اور معزز بن جاؤ۔

٭٭٭

 

کیا تعلیم مسئلے کا حل ہے؟

               پروفیسر ڈاکٹر سید مجیب ظفر انوار حمیدی

ہمارے ہاں کہنے کو تو جمہوریت ہے اور ہم حکمرانوں پر تنقید بھی کر سکتے ہیں مگر بے اصولی، ہوس پرستی، لالچ اور خود غرضی کی انتہاء ہو گئی ہے۔ ہمارے سیاستدان عام آدمی کے اخلاقی معیار سے بھی گر چکے ہیں۔ سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں تبدیل کر لینا تو اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ ہماری قوم معصوم اور ناسمجھ ہے۔ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ان لوگوں کو ملکی سلامتی کی ذمہ داری پر براجمان کر دیتے ہیں جو عام شخص کی دیانتداری اور اصول پسندی سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ کجا یہ کہ ہم شاندار قرآنی اور نبوی تعلیمات کو اپنے سامنے رکھ کر قیادت کا انتخاب کرے تاکہ اس نظریاتی مملکت کے اعلیٰ مقاصد کا حصول ممکن ہوتا۔ ہم نے جمہوریت اور آمریت کا کھیل شروع کر دیا۔ تعلیم، اہلیت اور شعور کے بغیر ہم محض انتخابات کے عمل کو جمہوریت سمجھتے ہیں۔ شعور مقصدیت کے بغیر کوئی کام بھی نتائج نہیں دے سکتا۔ لہذا ہم بھی مقاصد کے تعین کے بغیر جمہوری تماشے کا حصہ بنتے چلے آرہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مخصوص خاندان جماعتوں کا نام بدل بدل کر ملک لوٹنے کے لئے منتخب ہو کر قانون ساز اداروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ ملک دن بدن کمزور ہوتا گیا مگر یہ کرپٹ قیادتیں ملک اور بیرون ملک میں اپنے اثاثے بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان حکمرانوں کی بزدلی عاقبت نا اندیشی اور کرپشن کو دیکھتے ہوئے ملک دشمن استعماری قوتوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا اور وطن عزیز کا چپہ چپہ غیر ملکی ایجنسیوں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ فاٹا سے بلوچستان اور کراچی سے سوات تک ہر روز بے گناہ لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ خصوصاً ان حالات میں تو ہمیں عقل و خرد سے کام ضرور لینا چاہئے جب ملک کی سلامتی انہی جھوٹے کرپٹ اور بد دیانت حکمرانوں کے ہاتھوں رسک پر ہے۔

انبیائے کرام مذہب اور سیاست دونوں کے مصلح بن کر آتے رہے اور انفرادی بگاڑ سے لے کر معاشرتی بگاڑ کو درست کرتے رہے۔ اس سلسلے کی آخری کڑی محسن انسانیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی ہے جو ایک خوبصورت نظام مذہب و سیاست لے کر مبعوث فرمائے گئے۔ خالق کائنات نے آپ کو انسان اور معاشرے کی دنیوی اور اخروی ضرورتوں کی تکمیل کا ابدی حتمی اور غیر متغیر دستور قرآن کی صورت میں عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت طیبہ کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس پر خود عمل نہ فرمایا ہو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاست کو بھی نئے اسلوب اور اصول دیئے اور ان پر عمل بھی کر کے دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا کو جس انقلاب سے نوازا وہ بیک وقت روحانی اور سیاسی انقلاب تھا۔ یعنی اس میں انسان کی باطنی اصلاح سے لے کر معاشرے اور ریاست کی اصلاح مضمر ہے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس معاشرے میں غلاموں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق کی آواز بلند فرمائی جہاں ان طبقات سے بے رحمانہ سلوک روزمرہ کا معمول تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست قائم کر کے جن حالات میں ایک فلاحی مملکت کا تصور اجاگر کیا، ان حالات میں قیصر و کسریٰ کے استبداد کا سکہ رائج الوقت تھا۔ اسی طرح پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مطلق العنان بادشاہت سے انسان کو نجات دلائی اور ایک شورائی نظام حکومت و ریاست کی بنیاد رکھی۔ حکمران کو عوام کے سامنے جواب دہی کا پابند بنایا جس کی مثالیں خلفائے راشدین نے عملاً پیش کیں۔ اسی طرح حاکم کو رعایا کا خادم بنا دیا جس کا تصور بھی اس سے قبل محال تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاست کو خدمت خلق میں تبدیل کر دیا اور اس کے بہترین نمونے ابوبکر و عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم نے پیش کئے اور اسلامی معاشرہ کئی صدیوں تک مساوات محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نمونہ پیش کرتا رہا۔

اسلامیان ہند نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جو طویل اور صبر آزما جدوجہد کی اس کا مقصد بھی ریاست مدینہ کی طرح ایک آزاد، خودمختار اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لاکھوں لوگوں نے اس کے لئے جان و مال اور عزت آبرو کی قربانیاں دیں۔ بالآخر قائد اعظم محمد علی جناح کی با کردار قیادت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم اسلامی مملکت عطا فرمائی۔ شومیِ قسمت کہ پاکستان کے بانی قائدین کی آنکھیں بند ہونے کی دیر تھی کہ طالع آزما حکمرانوں کا ایک طبقہ اس پر مسلط ہو گیا جس نے اس خداداد مملکت کو حرص و ہوس کا دستر خوان بنا دیا۔

ہر قوم میں اچھے برے لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ پاکستان کے خمیر میں جانثاری، قربانی اور دین پروری کی خصوصیات موجود ہیں مگر ان خوبیوں کے حامل افراد دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یہ دھڑے سیاسی بھی ہیں اور مذہبی بھی۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں محب وطن اور اہل اخلاص لوگوں کی کمی نہیں لیکن ان جماعتوں کے مجموعی نتائج پاکستان کو اس لئے خوشحالی نہیں دے سکتے کہ مقتدر لوگوں کی اکثریت خود پسندی اور ہوس اقتدار اور حب جاہ سے لتھڑی ہوئی ہے۔ خدمت اور ترقی کے لئے اقتدار میں آنا اور بات ہے جبکہ لوٹ مار اور کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے کے لئے اقتدار سنبھالنا بالکل دوسری بات ہے۔ ان دونوں خواہشات کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان کی موجودہ مایوس کن سیاسی، معاشی اور متصادم مذہبی صورت حال کو دیکھتے ہوئے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ہمارے ہاں وہ کونسی رکاوٹیں ہیں جو اس ملک کی خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ہیں؟

ہم نے بطور قوم، برصغیر میں اسلامی تشخص قائم کرنے کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت سے گزرے، لاکھوں کلمہ گو معصوم لوگوں نے اپنے خون سے شہادتوں کی فصل بو کر پاکستان کا خطہ حاصل کیا مگر وہ نظریہ، وہ نعرہ، وہ جذبہ اور وہ خواب پس پشت ڈال دیئے گئے۔ شہیدوں کے خون سے غداری کے مرتکب ہو چکے ہیں حتی کہ ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کئے ہوئے وعدے بھی بھلا دیئے۔ پاکستان کو ہم نے خود توڑا اور بقیہ خطہ زمین کو اسلام کی دھرتی بنانے کی بجائے ہم نے استعماری طاقتوں کا میدان جنگ بنا لیا۔ آج ہر صوبہ کئی کئی حصوں میں بٹنے کے لئے تو تیار ہے مگر قوم متحد نہیں ہوسکی۔ ملٹری رجیم اور سیاسی شعبدے بازوں نے عوام کو اپنے مسائل میں اس طرح الجھا دیا ہے کہ حصول پاکستان کے مقاصد ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے عوام لمحہ بہ لمحہ غربت اور بے روزگاری کی سونامی میں غرق ہو رہے ہیں لیکن اتنے ظلم ستم نا  انصافیاں اور تلخیاں بھی اس قوم کو کسی واضح اور مثبت تبدیلی کی طرف متوجہ نہیں کر پا رہیں تو مقام تعجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس قوم میں صبر بہت زیادہ ہے کہ ہر ستم کو وہ آخری ستم سمجھ کر سہہ رہے ہیں لیکن خود کشیوں کی روز افزوں تعداد صبر و تحمل کی علامت تو نہیں۔ البتہ ہم بطور قوم بے شعور، بے جہت اور بے ضمیر ہو چکے ہیں، شاید ہمارے اندر باقی اقوام کی طرح کا احساس زیاں موجود نہیں ورنہ اس نام نہاد جمہوریت کے ہاتھوں جس قدر مسائل جنم لے چکے ہیں اور ان مسائل نے ہماری انفرادی اور قومی زندگی کو جتنا مشکل بنا دیا ہے یہ حالات کسی بھی قوم کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہوتے ہیں اور ہر قوم ان سے گلو خلاصی کے لئے مناسب جدوجہد کرتی ہے۔

پاکستان کی غریب عوام پر بیرونی قرضوں کا بوجھ کئی گنا ہو چکا ہے۔ قومی اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور ملک تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس تباہی کے بڑے ذمہ دار اب پھر اگلی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ نئے سرے سے قوم کو بے وقوف بنانے کے لئے نئے نعرے گھڑ رہے ہیں۔ تو کیا ہم اس مرتبہ پھر ان سیاسی بازی گروں کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لئے تیار ہیں؟ کیا یہ سب کچھ اب بھی ہمیں احساس دلانے میں ناکام رہا ہے۔۔۔؟ اگر ایسا ہے تو سوچنا پڑے گا کہ ہم بحیثیت قوم کب بیدار ہوں گے۔۔۔؟

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنے مذہب کے ساتھ، اپنے ملک کے ساتھ اپنی آئندہ نسل کے ساتھ حتیٰ کہ اپنے رب کریم کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہیں اور اسی کو منافقت کہتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ منافقت کفر کے قریب بلکہ بعض اوقات اس سے بدتر ہو جاتی ہے۔ وطن عزیز کے دیہی علاقوں میں جس جاگیردارانہ نظام کی جڑیں مستحکم ہیں اس کے ہوتے ہوئے بڑی سے بڑی جمہوریت بھی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتی۔ یہاں نسل درنسل غلامانہ ذہنیت اور وڈیرہ پن منتقل ہو رہا ہے۔ یہی تمیز بندہ و آقا ہمارے ملک میں فساد آدمیت کا باعث بن رہا ہے۔ اس دیرینہ مرض کا علاج تعلیم اور شعور سے ہی ممکن ہے جس کی رفتار ہمارے ہاں اس برق رفتار زمانے میں بھی بہت سست ہے۔ لوگ اگر پڑھ لکھ بھی جائیں مگر ضمیر زندہ و بیدار نہ ہوں تو تعلیم بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ان کی معاشی مجبوریاں بھی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کے استاد، پٹواری اور پولیس والے انہی وڈیروں کے اشاروں پر پتلی کی طرح ناچتے ہیں۔ ان کی نہ اپنی سوچ ہے نہ کوئی پروگرام۔ وہ کل بھی اپنے سردار، مخدوم اور سائیں کے غلام تھے آج بھی ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جس وقت تک اس ابلیسی جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا جاتا۔ ظاہر ہے اسے ختم کرنا اتنا آسان نہیں خصوصاً موجودہ نظام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی یکے بعد دیگرے حکومتوں کی موجودگی میں تو یہ خواب ہی لگتا ہے۔ اس لئے کہ ہمارا بیورو کریٹ، ہمارا سرمایہ دار اور ہمارا حاکم سب اسی ظالمانہ نظام کی پیداوار ہیں۔

قوم ہوش مندی کا مظاہرہ کرے مخلص اور کرپٹ قیادت کے درمیان فرق کو سامنے رکھے تو ہم بھی سب کچھ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں! یہ خوشحالی باہر سے لا کر کسی نے تحفے میں نہیں دینی اور نہ آسمان سے ٹپکنی ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ اس کے ذمہ دار اس قوم کے افراد ہیں ہم اپنے ساتھ وفادار اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مخلص بن جائیں تو چند سالوں میں ہم بھی دنیا کے نقشے پر غیرت مند خوشحال قوم کے طور پر ابھر سکتے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

نظام انتخاب کے خلاف بغاوت کیوں؟

وطن عزیز میں ان تمام حالات کو اس سطح تک پہنچانے میں عوام بھی برابر کی شریک ہے۔ یہ عوام چند جاہل اور موقع پرست لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے کر سمجھتے ہیں ہم نے جمہوریت کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ پھر جب قانون سازی کرنے والے ہمارے یہی نمائندے بولیوں پر بکتے اور قومی مفادات کا کاروبار کرتے ہیں تو ہم انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ ایک طرف کی غفلت کی وجہ سے نہیں بلکہ حالات کو اس نہج پر لانے کے خود عوام بھی ذمہ دار ہیں۔ جمہوریت تو کہتے ہی اس کو ہیں کہ عوام اپنی مرضی سے حکومت بناتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں عوام کو محض استعمال کیا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ عوام مسلسل چھ دہائیوں سے کیوں استعمال ہو رہی ہے؟ دنیا میں جہاں جہاں بھی مثبت تبدیلیاں اور انقلابات آتے ہیں وہاں عوام نے خود بنیادی رول ادا کیا ہے۔ ہمارے سامنے ملائیشیا، بنگلہ دیش، ایران، انڈونیشیا اور ترکی جیسے مسلمان ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ وہاں ہم سے بھی برے حال تھے مگر عوام بیدار ہوئے تو ماحول تبدیل ہو گیا۔ میں نے ترکی میں تبدیلی کے محرکات پر قارئین کے گوش گزار کیا تھا کہ طیب اردگان نے اگر گذشتہ دس سال میں قوم کی تقدیر تبدیل کر دی ہے تو اس میں کریڈٹ ترکی قوم کو بھی جاتا ہے۔ صرف اور صرف عوام کے صحیح انتخاب اور قیادت کے اخلاص عمل کے سبب ہی قدرت مہربان ہوا کرتی ہے۔

٭٭٭

 

بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟

               شاہنواز فاروقی

ہمارے زمانے میں اکثر بڑے اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے کہنے کے باوجود مطالعہ نہیں کرتے۔ لیکن عام طور پر یہ شکایت 15، 20 سال کے “بچوں” کے بارے میں کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ بننا ہوتا ہے 8، 10 سال کی عمر تک بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بچپن کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو 4، 5 سال کی عمر سے پڑھنے والا بنانا ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 4، 5 سال کی عمر کے بچوں کو پڑھنے والا کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس مسئلے کا تمام روایتی تہذیبوں باالخصوص اسلامی تہذیب نے ایک زبردست حل تلاش کیا ہوا تھا اور وہ یہ کہ پڑھنے والوں کو پہلے “سننے والا” بناؤ۔ یعنی Reader کو پہلے Listener کے “مرتبے” پر فائز کرو۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ہند اسلامی تہذیب نے اس کی ابتدائی صورت یہ پیدا کی تھی کہ بچوں کو شیر خوارگی کی عمر سے طرح طرح کی “لوریاں” سنائی جائیں۔ مثلاً ایک لوری تھی۔

حسبی ربیّ جل اللہ

مافی قلبی غیر اللہ

نور محمد صل اللہ

لا الہٰ الا اللہ

غور کیا جائے تو چار مصرعوں کی اس لوری میں پوری توحید اور رسالت موجود ہے۔ اس میں جامعیت بھی ہے اور اختصار بھی۔ اس لوری میں صوتی حُسن بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ جو بچے اس لوری کو سنتے تھے وہ اسلام کی بنیاد سے بھی آگاہ ہوتے تھے ان کے مزاج میں ایک شاعرانہ آہنگ بھی پیدا ہو جاتا تھا اور زبان کا ایک سانچہ بھی انہیں فراہم ہو جاتا تھا۔ ایک بچہ تین، چار سال کی عمر تک یہ لوری ہزاروں بار سنتا تھا اور یہ لوری اس کے شعور میں راسخ ہو کر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی تھی۔ لیکن لوریوں کی دنیا صرف اس لوری تک محدود نہ تھی۔ ایک لوری جو ہم نے ہزاروں بار سنی یہ تھی۔

آری نندیا آ جا

“فلاں” کو سلا جا

فلاں کی آنکھوں میں گھل مل کے

فلاں کا سوہنا نام بتا جا

آتی ہوں بھئی آتی ہوں

فلاں کو سلاتی ہوں

فلاں کی آنکھوں میں گھل مل کے

فلاں کا سونا نام بتاتی ہوں

آ گئی لو آ گئی

فلاں کو سلا گئی

فلاں کی آنکھوں میں گھ ل مل کے

فلاں کا سوہنا نام بتا گئی

لاؤ جی لاؤ میری مزدوری دو

لو جی لو تم لڈو لو

لڈو میں سے نکلی مکھی

فلاں کی جان اللہ نے رکھی

اس لوری میں لوری سننے والے کا نام بدلتا رہتا تھا مگر مگر لوری یہی رہتی تھی۔ کہنے کو یہ لوری مذہبی نہیں ہے مگر اس لوری میں مذہب سطح پر موجود ہونے کے بجائے اس کی “ساخت” اور اس کی معنوی ب ±نت میں موجود ہے۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ یہ لوریاں بچوں میں مذہبی شعور، شاعرانہ مزاج اور زبان و بیان کی عمدہ اہلیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ بچے 4، 5 سال کی عمر کے ہوتے تھے تو ان پر کہانیوں کی دنیا کا در کھل جاتا تھا۔ کہانیاں سنانے والے گھر کے لوگ ہوتے تھے۔ بظاہر دیکھا جائے تو کہانی پڑھنے اور سننے میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کہانی پڑھنے او رسننے کے اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کہانی سننے کے عمل میں کہانی سنانے والے کی شخصیت سے منسلک ہو جاتی ہے اور اس میں ایک “انسانی عنصر” در آتا ہے جو کہانی کو حقیقی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کہانی کی سماعت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کہانی سنتے ہوئے سامع کا تخیل پوری طرح آزاد ہوتا ہے اور وہ کہانی کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ کہانی سنانے والی کی آواز کا اتار چڑھاؤ کہانی میں ڈرامائیت پیدا کر دیتا ہے جس سے کہانی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر کہانی سنانے والا کہانی سناتے ہوئے ہاتھوں کی مخصوص حرکت اور چہرے کے تاثرات کو بھی کہانی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ جس سے ایک جانب کہانی کی فضا اور ماحول پیدا ہوتا ہے اور دوسری جانب کہانی کو برجستگی کا لمس فراہم ہوتا ہے۔ کہانی پڑھنے کے اپنے فوائد ہیں مگر کہانی کی سماعت کا اپنا لطف اور اپنا اثر ہے اور بچپن میں کہانی کی سماعت کہانی کو پڑھنے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔

بچپن میں یہ بات کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کہانی سنانے والے رات ہی کو کیوں کہانی سناتے ہیں۔ دن میں کہانی کیوں نہیں سناتے۔ بلکہ ہم ان سے دن میں کہانی سنانے کی ضد کرتے تھے تو وہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے دن میں کہانی نہیں سنتے ورنہ ماموں راستہ بھول جاتے ہیں اور ہم ماموں کو راستے پر گم ہونے سے بچانے کے لیے کہانی سننے کی ضد ترک کر دیتے تھے۔ لیکن اب اس عمر میں تھوڑا بہت پڑھنے اور غور کرنے سے معلوم ہوا کہ کہانی اور رات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دن میں کہانی کا اثر گھٹ کر آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات اسرار کا سمندر ہے اور رات کا لمس عام کہانی کو بھی پراسرار بنا دیتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو رات کی کہانی میں جہاں عمودی جہت یا Vertical Dimension پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب وہ کہانی میں وہی کردار ادا کرتی ہے جو فلم یا ٹیلی ڈرامے میں سیٹ اور روشنیاں پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ کہانی کی سماعت بچوں کو مطالعے پر مائل نہیں “مجبور” کر دیتی ہے۔ اس لیے کہ سماعت شاعری اور کہانی کو سامع کی شخصیت کا جز بنا دیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے بچوں کو پڑھنے والا بنانا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ بچوں کو ابتداء ہی سے ادب کی مختلف ہستیوں یا Forms کا سامع بنائیں۔ سماعت مطالعے کو صرف شوق نہیں بناتی ذوق بھی بناتی ہے۔ آج سے 30، 40 سال پہلے عام اسکولوں کے طلبہ بھی 10، 12 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک ڈیڑھ درجن نظموں کے “حافظ” ہو جاتے تھے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حافظہ انہیں “مشاعروں” تک لے جاتا تھا اور مشاعرے انہیں “شعری مجموعوں” کے مطالعے پر مجبور کر دیتے تھے۔ لیکن ہماری معاشرتی زندگی سے ادب کی سماعت کا پورا منظر نامہ غائب ہو چکا ہے۔ اب نہ کہیں لوریاں ہیں۔ نہ کہانیاں۔ پہیلیاں ہیں نہ نظموں کا حافظ ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ جس بچے نے دس، پندرہ سال تک شاعری یا کہانی کے ذیل میں کچھ بھی نہیں سنا وہ اچانک ادب پڑھنے والا بن جائے۔ یہ دیوار میں در بنانے کی خواہش ہے۔ اس کے برعکس بچپن سے فراہم ہونے والی شعر و ادب کی “سماعت” شخصیت کو ایک ایسی عمارت بنا دیتی ہے جس میں دروازے اور کھڑکیاں فطری طور پر عمارت کے نقشے کے حصے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔

بچوں کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں موجود بڑوں کی نقل کرتے ہیں چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی معاشرے میں بڑے کتاب نہ پڑھ رہے ہوں اور بچوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کتاب پڑھیں۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بنیادی ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو کتاب پڑھتے ہوئے اور کتاب کی اہمیت پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو بچوں میں مطالعے کا رجحان شوق بنے گا اور شوق ذوق میں تبدیل ہو گا۔ کتاب کے سلسلے میں بچوں ہی کو نہیں بڑوں کو بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کتاب بیک وقت دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے سستی چیز ہے۔ کتاب دنیا کی مہنگی ترین چیز اس لیے ہے کہ ایک کھرب ڈالر صرف کر کے بھی ایک شیکسپیئر ایک میر تقی میر اور ایک مولانا مودودی پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ کتاب دنیا کی سستی ترین چیز اس لیے ہے کہ جو کلیات میر ایک کھرب ڈالر خرچ کر کے بھی تخلیق نہیں کی جا سکتی وہ ہمیں بازار سے 5سو روپے میں مل جاتی ہے۔

٭٭٭

 

تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟

               عمر راشد         

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے تعلیم کے شعبے کو بہتر نہ کر لے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ صرف وہی اقوام دنیا میں اپنا وجود بر قرار رکھ سکی ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اپنی نئی نسل کو اس زیور سے آراستہ کیا ہے۔ کسی بھی فلاحی مملکت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو بہترین تعلیمی سہولت فراہم کرے…. بد قسمتی سے آج پاکستان تعلیم کے شعبے میں دنیا کے دیگر ممالک سے بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ ملک میں نظام تعلیم انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور اس وقت بھی وطن عزیز میں انگریزوں کا قائم کردہ وہی تعلیمی اسٹرکچر نافذ ہے۔ جس کے ذریعے سے ہم صرف کلرک ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی ڈھانچے کی اسی خرابی کے نتیجے میں آج ہم سائنس اور تحقیق کے شعبے میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ پاکستان میں آج بھی طبقاتی نظام تعلیم موجود ہے ایک طرف او لیول اور کیمرج سسٹم کے اسکولز ہیں جن سے صرف دولت مند طبقے کے بچے ہی فیضیاب ہوسکتے ہیں۔ تو دوسری طرف سرکاری اسکول ہیں جو غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کی پہنچ میں تو ہیں مگر ان سرکاری اسکولوں کی حالت زار سے تمام لوگ بخوبی واقف ہوں گے۔

 اکثر سرکاری اسکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حالی کا شکار ہوتی ہیں یا پھر ان میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے میز اور کرسیاں تک موجود نہیں ہوتیں اور بہت سر کاری اسکول تو اساتذہ تک سے محروم ہوتے ہیں۔ سہولیات کے فقدان اور ناقص معیار تعلیم کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں امیر اور غریب کے تعلیمی معیار کے اسی فرق کے نتیجے میں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا طالبعلم آگے نہیںآپاتا اور پورے ملک پر یہی امیر طبقہ راج کرتا رہتا ہے۔ جسے نہ تو غریب عوام کے مسائل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک میں اس وقت تعلیم کو کاروبار کا ذریعہ بھی بنایا جا رہا ہے اور بے شمار پرائیوٹ یونیورسٹیز، کالجز، اسکول اور کوچنگ سینٹرز بھی بڑی تعداد میں قائم ہیں جو بھاری فیس طلباء سے وصول کرتے ہیں۔ جنہیں والدین کی لیے فراہم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ شہر کے گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے پرائیوٹ اسکولز کی بھر مار نظر آتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں ناقص معیار تعلیم کی وجہ سے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم دلوائیں۔ مگر ان پرائیوٹ اسکولوں کی حالت زار بھی کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں ہوتی۔ ان نجی اسکولز کے مالکان اساتذہ کی قابلیت پر کوئی خاصی توجہ نہیں دیتے اور زیادہ منافع کمانے کی خاطر کم قابلیت والے اساتذہ کو انتہائی قلیل تنخواہ پر رکھ لیتے ہیں اور یہ اساتذہ ان اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب طلبہ کو سمجھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

 پاکستان کی آبادی کی ایک تہائی اکثریت غربت کی لکیر س نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جہاں دو وقت کی روٹی کھانا ہی انتہائی مشکل ہو تو ایسے میں والدین اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے بھاری فیسوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ جس کے باعث غریب طبقے کے طلبا ء اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری نہیں رکھ پاتے اور معاش کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ ملک میں ایسی قانون سازی کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو اپنی من مانی اور بھاری فیسیس وصول کرنے سے روکا جا سکے اور وہ سرکاری طور پر طے شدہ فیس ہی طلباء سے وصول کر سکیں۔ پاکستان کے ہر صوبے میں طلباء کو الگ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ گلی اور محلوں میں جو بے شمار نجی اسکولز قائم ہیں ان میں بھی ہر اسکول کا اپنا ایک الگ ٹیکسٹ بورڈ قائم ہیں اور ہر صوبے کا الگ الگ نصاب ہونے کی وجہ سے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستان کو دنیا میں ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں فوری طور پر اصلاحات کرنا ہوں گی نصاب کو بہتر بنانا ہو گا اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ کرنا ہو گا۔

 ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کریں تاکہ طبقاتی فرق کو ختم کیا جا سکے اور تمام جگہ طلباء کو ایک ہی طرح کا نصاب پڑھائیں۔ تاکہ منتشر قوم کو یکجا کیا جا سکے…. تمام سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی بہتر طور پر تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکیں…. حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر بلکہ ہنگامی بنیادوں پر ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں اور تعلیمی ماہرین کی مشاورت سے ایک ایک ایساتعلیمی نظام وضع کریں جس کے ذریعے سے پاکستان بھی سائنس اور تحقیق کے میدان میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی برابری کر سکے۔ دنیا کی جو قومیں اپنے تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرتی ہیں۔ ان کا دنیا میں دیر تک اپنا وجود برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ تعلیمی نظام میں بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

٭٭٭

 

تبدیلی اور تعلیمی نظام

               شازیہ فاطمہ

آج تک دنیا میں جتنے بھی انقلاب برپا ہوئے،ان سب کے پیچھے کتاب،اہل کتاب اور اہل قلم ہی کا ہاتھ تھا ۔جن کا براہ راست تعلق تعلیم سے بنتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو موجودہ دور میں تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت بلکہ اس سے بڑھ کر کسی بھی قوم کی بقاء اور وجود کا سبب بھی بن چکی ہے ۔ تعلیم کو انسان کی بنیادی ضرورت اور اس کا لازمی حق تصور کر لیا گیا ہے اور جوں جوں انسان آگے بڑھ رہا ہے تعلیم کی ضرورت اور اس کا دائرہ کا روسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی تعلیم کے ذریعے ترقی کا فلسفہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور کوئی بھی قوم اب دنیا کے قدم بقدم چلنے کے لئے تعلیم کی ضرورت سے صرف نظر نہیں کر سکتی ۔ مملکت خداداد پاکستان جسے عالم اسلام کا قلعہ اور ایک نظریاتی، اسلامی، فلاحی ریاست ہونے کا شرف اور فخر حاصل ہے، بد قسمتی سے تعلیم کے شعبے میں اپنے پیش رو تو کیا چند عشرے قبل آزادی حاصل کرنے والی بعض ریاستوں سے بھی نہایت پیچھے رہ چکا ہے ۔ ملک میں تعلیم کی موجودہ صورتحال بانیان پاکستان کے ایک نئی اسلامی ریاست کے حوالے سے سوچے گئے خوابوں اور تصورات سے کوسوں دور ہے ۔ پاکستان پر قابض اشرافیہ، جاگیر داروں، وڈیروں اور نام نہاد سیاست دانوں اور بدعنوان افسران نے ملک میں تعلیم کے حقیقی پھیلاؤ اور نچلے طبقات تک اعلیٰ تعلیم کی سہولت کے کسی پروگرام کو پنپنے نہیں دیا۔ اس وقت بھی ملک کے دو کروڑ سے زائد بچوں کو بنیادی تعلیم کی سہولت میسر نہیں ہے جبکہ ہزاروں گھوسٹ اسکول محض کاغذات کی حد تک موجود ہیں جن کے نام پر افسران اور با اثر طبقات نا جائز رقوم خود وصول کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تعلیم کے لیے مجموعی قومی بجٹ کا 5فیصد حصہ بھی مختص نہیں کیا جاتا، ایسا لگتا ہے یہاں تعلیم ریاست کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کی 60فیصد سے زائد آبادی ناخواندہ ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کی پست ترین شرح خواندگی والے ممالک میں ہوتا ہے ۔ حالیہ کچھ عرصے میں ملک میں تعلیم کا خاص غلغلہ ضرور رہا ہے لیکن اس کا اصل مقصد قوم کے نونہالوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا اور ملک میں غریب عوام کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کے اذہان کو ایک خاص فکری سانچے میں ڈھالنا ہے ۔ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف حکومت نے امریکی امداد کے بل بوتے پر ملک میں جو نام نہاد روشن خیال انقلاب برپا کرنے کی لاحاصل کوششیں کی تھیں، تعلیم اس کا خصوصی ہدف تھا پاکستان کے نظام اور نصاب تعلیم میں مغربی تہذیب و ثقافت کے عناصر کو شامل کر کے پرویز مشرف نے مغرب سے وفاداری کا حق ادا کرنے کی جو کاوشیں کیں، سابقہ دور حکومت میں ان کا تسلسل کسی نہ کسی حوالے سے جاری رہا۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک کی امداد اور تعاون کے بل بوتے پر پاکستان کے اسلامی معاشرے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو جو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، اس کا نصاب اور نظام بتدریج مغربی ثقافت اور تہذیب کو اپنے مضمرات سمیت ہمارے بچوں میں منتقل کر رہا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں بڑی تیزی سے ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو جدت پسندی کی اصطلاح پر تو پورا اتر سکتی ہیں لیکن قوم کی ترقی، اس کے استحکام، اس کی عزت و وقار اور افتخار میں اضافے اور قومی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں۔

اسلام جدید تعلیم کے حصول سے ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ وہ تمام تر علوم جن کی مسلم معاشرے کو ضرورت ہو اور جن سے ناواقفیت مسلم معاشرے کو دوسروں کا محتاج بنا دے، ان کی تحصیل مسلمالوں کے لیے فرض کفایہ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس مقصد کا حصول تبھی ممکن ہے جب ملک کا تعلیمی نظام اس کے اپنے ایجنڈے، اپنے وسائل اور اپنے لائحہ عمل کے تحت ہو۔ غیروں کی امداد سے بنایا جانے والا تعلیمی نظام غیروں کے مفادات کے تحت ہی کام کرے گا۔ تعلیم اسلامی تہذیب کا بنیادی حصہ ہے لیکن کس قدر افسوس ناک امر ہے کہ آج ہم اپنے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں بھی دوسروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک اور معاشرے میں حقیقی معنوں میں صالح تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں اسلامی اقدار اور جدید تقاضوں کے امتزاج پر مبنی ایک صالح نظام تعلیم تشکیل دینا ہو گا۔ بلاشبہ باز ادارے اس حوالے سے اپنے دائرہ کار کے اندر نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ یہ بنیادی طور پر رریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے کی دینی و عصری ضروریات کو سامنے رکھ کر ایک متوازن تعلیمی نظام و نصاب ترتیب دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی نئی حکومت کو ملک کے نظام تعلیم کی اصلاح کو بھی اپنی اولین ترجیحات میں رکھنا چاہیے اور ملک میں یکساں اور متوازن نظام تعلیم رائج کرنا چاہیے۔ تاکہ یکساں اور متوازن نظام تعلیم کے ذریعے ہمارا ملک ترقی و استحکام کی منزل کو پا سکے۔

٭٭٭

 

کیا تبدیلی تعلیم سے ممکن ہے؟

               شاہد اقبال شامی

انسان اور اقوام عالم نے طاقت تین طرح سے حاصل کی،سب سے پہلے جسمانی طاقت تھی جس نے وقت کے ساتھ اسلحے کی طاقت اور ایٹمی طاقت کا انداز اختیار کیا،دوسری دولت کی طاقت جس کے بل پر سب کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا،تیسری علم کی طاقت جس کے بل پر کبھی ایک تہذیب نے عروج حاصل کیا اور کبھی دوسری نے ….آج مغربی تہذیب کا بول بالا ہے اور مسلمانوں پر زوال آگیا ہے۔اسلام نے علم حاصل کرنے کی جتنی تلقین کی،اتنی کسی اور مذہب نے نہیں کی،اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی وحی کا جو نزول ہوتا ہے اس کی پہلی پانچ آیات کا تعلق لکھنے پڑھنے سے ہے۔

اس کے علاوہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد اپنے پیچھے جائیداد،روپیہ پیسہ اور زمینیں نہیں چھوڑی،بلکہ علم کو چھوڑا اور فرمایا!” انبیاء کے وارث علماء ہیں”آپ نے وارث اپنے عزیز و اقارب اور اولاد کو نہ بنا یا بلکہ علم والوں کو بنایا،آپ کے بعد آپ کے اصحابؓ نے بھی علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا اور خلفاء کے قریب وہی زیادہ عزت و مرتبہ کے قابل سمجھا جاتا جس کے پاس علم کی دولت ہوتی۔

 مسلمانوں نے جب تک علم سے دوستی رکھی،دنیا کے تخت و تاج اس کے قدموں تلے رہے اور جب مسلمانوں نے علم کو  چھوڑا تو دنیا کے سامنے رسوا ہو گئے۔ہماری پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ! ہم نے اپنے آباء سے جو علم کی میراث پائی تھی وہ ہم نے کھو دی،جب تک ہم اس میراث کے امین تھے،تو ہمارے ہاں بو علی سینا،ابوبکر رازی،البیرونی،محمد موسیٰ الخوارزمی اور جابر بن حیان جیسی عظیم ہستیاں جنم لیتی رہیں،یورپ اور مغرب کے طلباء ہماری درس گاہوں میں آ کر فیض پاتے رہے۔

جس وقت دنیا بھر میں جہالت کی تاریکی چھائی ہوئی تھی،اس وقت صرف مسلمان علم و آگہی کا نور پھیلاتے رہے،آج بھی اگر کسی بھی علم کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو اس کے آغاز سے پھوٹتی تحقیق پر مسلمان کاہی نام نظر آئے گا،ابن الہیثم کی ریاضی سے لے کر بو علی سینا کی طب تک کوئی ایسا میدان نظر نہیں آتا جس میں مسلمانوں نے اپنی کار کردگی نہ دکھائی ہو،حتیٰ کہ روشنی کی رفتار سے لے کرانعکاس اور انعطاف نور تک،نظریہ دوران خون،انسانی اعضاء کے آپریشن،آلات جراحی تک،آنکھ کی ساخت سے لے کر طبعی ترازو تک،کثافت اشیاء سے چشموں کے بہنے اور قطب نما سے لے کر موسیقی کی سروں تک،عمل تقطیر،عمل کشید،شورے کا تیزاب،گندھک کا تیزاب،نمک کا تیزاب،دھاتوں کے بننے کا نظریہ،سونے اور چاندی کا محلول،ریاضی میں اکائی کا قاعدہ،جذر،الجبرا،جیومیٹری،مساوات،طریقہ کار،جمع،تفریق،ضرب،تقسیم اور اس کے علاوہ کیلنڈر بھی ایک مسلمان عمر خیام نے بنایا۔

 یہ سب کچھ مسلمانوں نے ایجاد کیا،جس سے آج دنیا مستفید ہو رہی ہے، اور دوسری قوموں پر حکمرانی کر رہی ہے،تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بنانے والی قوم اس وقت کیوں کسمپرسی کی زندگی کیوں گزار رہی ہے؟پوری دنیا میں صرف اس ہی پر کیوں مشکلات آئی ہوئی ہیں؟ اگر دنیا کے ابتدا سے لے کر اب تک کی تاریخ میں نظر دوڑائی جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ آج تک جس بھی قوم نے علم کو اپنا زیور سمجھا وہ ترقی کی اوج ثریا پر جا بیٹھی اور باقی دنیا اس کے قدموں تلے آ گئی۔

ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں،جہاں ہر طرف انانیت،دھوکہ دہی کا دور دورہ ہے،ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہے اور حکومت غیر قوموں کے در پر ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے،صرف اپنی فکر میں مگن ہے،ملکی وسائل اور ذرائع ابلاغ فحاشی وعریانی اور مغربیت کے پرچار میں مصروف ہیں۔ان حالات میں نسل نو خصوصی توجہ کی مستحق ہے،وہ نوجوان جن پر ہمارے ملک کا انحصار ہے،ہماری امیدوں،امنگوں اور تمناؤں کا مرکز ہیں اگر یونہی بے سہارا چھوڑ دیے گئے تو مبادا ساراتابناک مستقبل تاریک نہ ہو جائے،نسل نو کی اصل تربیت گاہ تعلیمی ادارے ہوا کرتے ہیں لیکن ان اداروں سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں،جہاں تعلیمی نصاب فرسودہ،بے مقصد اور مغربی نظریات کا آئینہ دار ہو،نظام تعلیم میں جدت پسندی کے نام پر لامقصدیت کی تاریک راہوں پر گامزن ہو؟ہر ملک و قوم کی ترقی کا دارومدار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے،اگر اس کی قوم تعلیم یافتہ ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی ترقی کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی،ترقی یافتہ ممالک میں جو بنیادی بات دیکھنے میں آئی ہے،وہ ڈسپلن اور قانون کی حکمرانی ہے، جو کہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔

 جنوبی ایشیاء میں برطانوی تعلیمی پالیسی کا بانی چارلز گرانٹ تھا،وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ملازم تھا اور اپنے فرائض کی بجا آوری کے لئے بڑا نیک نام رکھتا تھا،بنگال میں اس کی زندگی کا اسلوب پہلے تو بڑا عیاشیانہ تھا لیکن بعد میں وہ عیسائی مبلغ بن گیا اور اس نے پورے ہندوستان کو عیسائی بنانے کی منصوبہ بندی کی،اس سلسلے میں اس نے برطانوی پارلیمنٹ میں1813ء کو مغربی علوم کے علاوہ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی قرار دار منظور کرا لی۔ہم آج تک اس کی غلامی سے آزاد نہ ہوسکے ۔پاکستان کی ناکامی کی اصل وجہ اس کا گھسا پٹا نظام تعلیم ہے،آج63سال گزر جانے کے باوجود بھی پاکستان میں نظام تعلیم کے حوالے سے کوئی موثر پالیسی نہیں بنائی گئی،بلکہ آج بھی اس کے تعلیمی اداروں میں لارڈ میکالے کا نافذ کردہ تعلیمی نظام چل رہا ہے،جس وقت پاکستان بنا تھا اس وقت اس کی شرح خواندگی16%تھی اور آج63برس گزرنے کے باوجود بھی اس کی شرح خواندگی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔

درحقیقت یہ وقت انقلاب کا ہے اور انقلاب آ سکتا ہے تو صرف اور صرف تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعے انقلاب کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے،دنیا کی تمام ترقی یافتہ قومیں تعلیم ہی سے اپنے اہم ترین مقاصد حاصل کر رہی ہیں،اگر ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو تعلیم کے شعبے پر بھر پور توجہ دینا ہو گی۔دنیا کے ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے،بلا شبہ پاکستان کا نظام تعلیم بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں،جس کا کوئی حل نہ ہو،اس کا واحد حل نظام کی تبدیلی ہے،پاکستان کے نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے،یہ اقدامات ناممکن اور مشکل ہر گز نہیں ہیں،مختصر سی کوششوں سے اس نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے پاکستان میں طبقاتی سسٹم کو ختم کر نا ہو گا،پورے ملک میں صرف ایک نصاب تعلیم ترتیب دینا ہو گا،اس وقت پورے ملک میں 4بڑے نظام ہائے تعلیم کام کر رہے ہیں،ان4بڑے نظام ہائے تعلیم سے مزید20نظام ہائے تعلیم برآمد ہو رہے ہیں اس طرح قوم ایک اور نظام ہائے تعلیم24ہیں،اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ہم ایک ملک اور ایک قوم میں26قومیں تیار کر رہے ہیں۔دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی قومی زبان سے ہٹ کراگرکسی دوسری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا تو وہ کامیاب نہیں ہوئی یاد رکھیں ذہانت اور تخلیق کے سرچشمے صر ف قومی زبان میں ہی پھوٹتے ہیں۔

٭٭٭

 

پڑھو گے لکھو گے بنو گے….؟

               سائرہ غفار

“عبدالحئی آپ کلاس سے باہر تشریف لے جائیے۔” میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو میں نے عبد الحئی کو کلاس سے باہر جانے کے لئے کہہ دیا وہ مستقل اپنی ایک ہم جماعت کبریٰ کو دیکھ کر سیٹیاں بجا رہا تھا۔کلاس پنجم کا وہ چھوٹا سا لڑکا اتنا بگڑا ہوا تھا کہ میں نے غصے میں اسے کلاس سے باہر نکال دیا۔اتنے میں سر سہتو کلاس میں تشریف لائے۔عبد الحئی ان کے پسندیدہ بچوں میں شمار ہوتا تھا۔ سر نے مجھ سے اسے باہر کھڑا کرنے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا:”سر یہ بچہ بہت بگڑا ہوا ہے۔ کلاس کی لڑکیوں کو دیکھ کر سیٹیاں بجاتا ہے۔ابھی صرف پنجم کلاس میں ہے تو یہ حال ہی،سیکنڈری سیکشن میں جائے گا تو نہ جانے کیا گل کھلائے گا۔”

میری بات ختم ہوتے ہی سر سہتو نے گویا میری سماعتوں پر بم پھوڑ ڈالا:”اس بچے نے تو صرف سیٹی بجائی ہے آپ کو ابھی معلوم نہیں ہے کہ کچھ گورنمنٹ اسکول ایسے ہیں جہاں ایک ایسا مضمون پڑھایا جا رہا ہے جو اخلاقیات کے زمرے میں ہی نہیں آتا۔یعنی کہ اساتذہ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں سے بچوں کو بے شرم بنا دو اور خراب کر دو۔” میں نے پوچھا:”کیا مطلب سر؟ایسا کونسا مضمون پڑھایا جاتا ہے بچوں کو آخر؟” سر سہتو نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا:”جنسی تعلیم پر مبنی ایک مضمون کئی سارے گورنمنٹ اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے اور اس کے لئے باقاعدہ اساتذہ کو ٹریننگ دی گئی ہے۔اس ٹریننگ میں شرکت کرنے والے اکثر اساتذہ خواتین ہیں اور وہ بھی غیر شادی شدہ اور ان کو جو کتب اور مواد پڑھایا جاتا ہے وہ انتہائی غیر اخلاقی اور بچوں کو خراب کر دینے والا مواد ہے۔ہم تو اپنے بچوں کو کیبل کے اثرات سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں مگر اب تو بچوں کو اسکولوں سے بھی دور رکھنا پڑے گا ورنہ یہ مقولہ سولہ آنے سچ ثابت ہو جائے گا کہ: پڑھو گے لکھو گے بنو گے خراب۔”

میں نے پھر پوچھا:”لیکن سر ایسا مضمون بچوں کو پڑھانے کا کیا مقصد؟”

سر سہتو نے بتایا:”یہ سب یورپین ممالک کی چالبازیاں ہیں تاکہ ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات کو بھلا کر مغربی رنگ ڈھنگ پوری طرح سے اپنا لے۔” تھوڑے توقف کے بعد سر دوبارہ بولے:”جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ سن ستانوی کی بات ہے جب ہم لوگوں کا نیا نیا اپائیٹمنٹ ہوا تھا اور نوشہرہ میں ہماری پوسٹنگ ہوئی تھی، ہم لوگوں کو مخلوط ٹرینینگ کے لئے بھیجا گیا تھا اور ہم لوگوں کو یہ بات بہت عجیب لگی تھی کیونکہ اس زمانے میں نوشہرہ کا ماحول ایسا نہیں تھا کہ خواتین اور مرد ایک ساتھ پڑھیں یا کسی ٹرینینگ پر جائیں۔اس ٹریننگ کے لئے جو بات سب سے زیادہ معنیٰ رکھتی تھی وہ روزانہ ملنے والا الاؤنس تھا جو کہ سات سو روپے تھا اور روز کے حساب سے ملنے والی یہ رقم ان دنوں معمولی نہیں سمجھی جاتی بلکہ کافی اچھی رقم خیال کی جاتی تھی۔”سر سہتو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میری معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

“ہم لوگوں کو پہلے ہی دن حکم دیا گیا کہ ہم سب مرد اور خواتین آپس میں جوڑیاں بنا لیں اور ہر کوئی اپنے جوڑی دار کے ساتھ بیٹھے گا۔پھر کوئی عنوان دے دیا جاتا کہ اس پر آپ اپنے جوڑی دار کے ساتھ سیر بحث حاصل کریں۔ٹریننگ کے آخر میں ہمیں ایک عدد امتحان سے گزرنا تھا۔ اور ہمیں لگتا تھا کہ جن عنوانات پر ہم سے ایک دوسرے سے ڈسکشن کرنے کو کہا جاتا ہے وہی سب کچھ ہم سے امتحان میں پوچھا جائے گا مگر جب پیپر ہمارے سامنے آیا تو ہم سب حیران اور اس سے بھی زیادہ پریشان ہو گئے کیونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ نوشہرہ کا ماحول اتنا بھی کھلا ڈلا نہیں تھا کہ ہر چیز ٹھیک لگے۔”

میں نے تجسس کے مارے پوچھا:”کیا پوچھا گیا تھا آپ سے پیپر میں؟”

سر سہتو بولے:”ہم سے بہت ہی غیر معیوب سوالات کئے گئے تھے اور سارے سوالات اپنے جوڑی دار کے متعلق۔سوالات کچھ اس قسم کے تھے:

سوال نمبر1:آپ کے جوڑی دار کا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟

سوال نمبر2:آپ کے جوڑی دار کا پیار کا نام کیا ہے؟

سوال نمبر3:آپ نے اپنے جوڑی دار کا کیا نام رکھا ہے ؟ اور کیوں؟

سوال نمبر4:اپنے جوڑی دار کی تین بری اور تین اچھی عادتیں لکھیں؟

سوال نمبر5:آپ کے جوڑی دار سے آپ کو محبت ہوئی ہے یا نہیں؟اگر ہاں تو کیوں؟ اور نہیں تو کیوں نہیں؟

 اور اس طرح کے کئی اور سوالات تھے۔بہرحال اس پیپر کے اختتام کے ساتھ ہی ہمارے ٹریننگ کا ایک دور ختم ہوا مگر پھر یہ ٹریننگ سرے سے ہی ختم کر دی گئی۔”

میں نے پھر سوال کیا:”لیکن سر اس طرح کی ٹریننگ کا بچوں کو پڑھانے سے کیا تعلق؟”

سر سہتو بولے:”یہ تو ہمارے حکمران بہتر جانتے ہیں یا پھر ہماری وزارتِ تعلیم کہ اس طرح کی اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں سکھا کر وہ لوگ اساتذہ میں کون سی مہارتیں پیدا کرنا چاہتے ہیں جوان کے خیال میں بچوں کے لئے بے انتہا ضروری ہیں۔” سر سہتومزید بولے:”میری ایک دوست ایک گورنمنٹ اسکول کے ہیڈماسٹر ہیں،ان کے اسکول میں بھی یہ کتاب پڑھائی جا رہی تھی، کل میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا جو کتاب بچوں کو پڑھائی جا رہی تھی وہ انتہائی غیر اخلاقی ہونے کی وجہ سے پڑھانا بند کر دی ہے۔انہوں نے مجھے کتاب دکھائی تو واقعی میں حیران رہ گیا کہ یہ کتاب تو بس شادی شدہ افراد کے کام کی ہے۔اس کا بچوں سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں پھر نجانے کیوں معصوم ذہنوں کو خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔”

سر سہتو اپنی بات کہہ کر اپنی کلاس میں چلے گئے اور میں عبد الحئی کی طرف دیکھنے لگی جو بہت معصوم ضرور ہی مگر اگر اسے اور باقی تمام معصوم بچوں کو ایسی کتب پڑھائی گئیں تو نہ جانے اس قوم کا کیا حال ہو گا۔اللہ کرے کہ وہ وقت کبھی نہ آئے کہ جب معصوم فرشتوں جیسے بچے اپنے روحانی والدین سے کوئی غیر اخلاقی بات سیکھیں یا سنیں۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ وقت رہتے اس بات کا نوٹس لے اور اس طرح کی کتب اور غیر اخلاقی مواد پڑھائے جانے کوسختی سے ممنوعہ قرار دے کر ایسی تمام کتب کو واپس منگوا لے۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ اگر کسی اسکول میں اسلام سے متعلق معلومات پر مبنی ایسی کوئی کتاب پڑھائی جاتی تو لوگ اٹھ کھڑے ہوتے کہ ہمارے بچوں کو شدت پسند بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں خاموش ہیں۔سچ ہی کہتے ہیں کہ جیسا حکمران ویسی ہی عوام۔اب تو یہ مقولہ جو ہم اکثر بچپن میں اپنے ساتھیوں کو چڑانے کے لئے استعمال میں لایا کرتے تھے سو فیصد سچ ثابت ہو رہا ہے:

پڑھو گے لکھو گے بنو گے خراب

٭٭٭

ماخذ:

http://karachiupdates.com/v3/taleemi-mazameen.html

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید