FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

   عقیدہ کے بارے میں شکوک و شبہات کا ازالہ

 

                محمد بن عبدالوہاب تمیمی

(رحمہ اللہ علیہ)

 

                   ترجمانی:أبوالمکرّم عبد الجلیل/:: نظر ثانی: مشتاق احمد کریمی

 

 

 

   انبیاء کی بعثت کا بڑا مقصد ​

 

ایک اللہ کی عبادت کرنے اور کسی کو اس عبادت میں شریک نہ کرنے کا نام توحید ہے۔ یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے، جس کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو اپنے بندوں کے پاس بھیجا۔

سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام ہیں۔ ان کی قوم نے وَد، سواع، یغوث، یعوق اور نسر جیسے صالحین کے بارے میں جب غلو کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے نوع علیہ السلام کو ان کی ہدایت کے لئے بھیجا اور سب سے آخری رسول محمدﷺ ہیں، جنہوں نے مذکورہ بزرگوں کے مجسموں کا خاتمہ فرمایا۔ آپ جس قوم کی طرف بھیجے گئے وہ لوگ اللہ کی عبادت اور بندگی اور اس کا ذکر کرتے تھے۔ حج اور صدقات و خیرات بھی کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان بزرگوں اور بعض مخلوق مثلاً ملائکہ،عیسیٰ ، مریم یا دوسرے نیک لوگوں کو واسطہ بناتے اور یہ کہتے تھے کہ ان کے ذریعے ہم اللہ کا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے یہاں ان بزرگوں کی شفاعت کے امیدوار ہیں۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ آپ ابراہیم علیہ السلام کے دین کی تجدید فرمائیں اور لوگوں پر یہ واضح کر دیں کہ یہ تقرب اور اعتقاد صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ کسی اور کا ذکر ہی کیا کسی مقرب فرشتہ یا رسول کے بارے میں بھی یہ عقیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔

 

   توحید ربوبیت اور مشرکین کا عقیدہ​

 

مشرکین مکہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ ہی خالق اور رازق ہے۔ وہی مارتا اور جلاتا ہے۔ وہی کائنات کا مالک و متصرف ہے۔ آسمان و زمین اور ان میں بسنے والے سب اس کے بندے اور اس کی ماتحت ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرمایا ہے:

قُلْ مَن یرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن یمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن یخْرِجُ الْحَی مِنَ الْمَیتِ وَیخْرِجُ الْمَیتَ مِنَ الْحَی وَمَن یدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَیقُولُونَ اللَّہ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ​

(یونس:31)

پوچھو تو سہی، تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے اور کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور مردے سے زندہ اور زندے سے مردہ کون نکالتا ہے، اور دنیا کے کاموں کو کون چلاتا ہے تو اس کے جواب میں یہ مشرک ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ پھر تم پوچھو کہ پھر شرک سے کیوں نہیں بچتے ۔​

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِیہا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ،سَیقُولُونَ لِلَّہ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ،قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ،سَیقُولُونَ لِلَّہ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ،قُلْ مَن بِیدِہ مَلَكُوتُ كُلِّ شَیءٍ وَہوَ یجِیرُ وَلَا یجَارُ عَلَیہ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ،سَیقُولُونَ لِلَّہ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ

(المؤمنون:84 تا89)

ان سے پوچھو زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کس کی ہے، اگر تم جانتے ہو۔ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ کی ہے۔ کہو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ۔ ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں کا مالک کون ہے۔ اور بڑے تخت(عرش عظیم) کا مالک کون ہے۔ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ۔ کہو پھر تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔ ان سے پوچھو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ کس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ، پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔​

مشرکین ان تمام چیزوں کا اقرار کرتے تھے اور رات دن اللہ کو پکارتے بھی تھے، مگر جو توحید رسول اللہﷺ لے کر آئے تھے یعنی توحید الوہیت ، اور جسے ہمارے دور کے مشرکین” اعتقاد” کہتے ہیں اس کا انہوں نے انکار کیا، اس لئے وہ اللہ کی عبادت سے انکار کرنے والے شمار ہوئے۔

بعض مشرکین ایسے بھی تھے جو فرشتوں کو پکارتے تاکہ یہ فرشتے اللہ کے مقرب ہونے کے ناطے ان کی شفاعت کر دیں، یا کسی بزرگ انسان مثلاً لات یا کسی نبی مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کو پکارتے تھے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اس شرک پر ان مشرکین سے قتال کیا اور انہیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا ، جیسا کہ قرآن کریم ناطق ہے:

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّہ أَحَدًا

(الجن:18)

مسجدیں اللہ ہی کی عبادت کے لئے ہیں، تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔​

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

لَہ دَعْوَۃ الْحَقِّ وَالَّذِینَ یدْعُونَ مِن دُونِہ لَا یسْتَجِیبُونَ لَہم بِشَیءٍ

(الرعد:14)

اللہ ہی کی پکار سچی پکار ہے اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا کچھ نہیں نکال سکتے۔​

رسول اللہﷺ نے مشرکین سے اس بات پر قتال کیا کہ پکارنا، ذبح کرنا، نذر و نیاز ، مدد طلب کرنا اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، صرف توحید ربوبیت کا اقرار انہیں شرک سے نکال کر اسلام میں نہیں داخل کرسکا ملائکہ اور اولیاء کو پکارنے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں سفارشی سمجھنے کی وجہ سے ان کے جان و مال کی حفاظت اسلام نے اپنے ذمہ نہ لی۔

 

   کلمہ توحید کا مفہوم​

 

مذکورہ تفصیل کے بعد اس توحید کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے، جس کی دعوت انبیاء ورسل نے دی اور کلمہ” لاالہ الااللہ ” کا مطلب بھی یہی ہے، جس کا انکار مشرکین نے کیا ۔

مشرکین “الہ” سے خالق و رازق اور مدبر مراد نہیں لیتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خالق و رازق اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے بلکہ” الہ” ان کے نزدیک وہ ذات ہوتی تھی جسے وہ اللہ کا قریبی یا اللہ کے یہاں سفارشی یا اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ سمجھ کر اس کی طرف رجوع کرتے ، خواہ وہ فرشتہ ہو یا نبی، ولی ہو یا درخت ، قبر ہو یا کوئی جنّ۔

اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں کلمہ توحید” لاالہ الااللہ” کی دعوت دی۔ اس کلمہ کا مطلب صرف الفاظ کا اقرار نہیں بلکہ اس کا معنی و مطلب مراد تھا۔ جاہل کافر جانتے تھے کہ اس کلمہ سے رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ صرف اللہ کی ذات سے تعلق رکھا جائے ، اس کے علاوہ پوجا کی جانے والی تمام چیزوں کا انکار ان سے براءت کا اعلان کر دیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جب ان سے “لاالہ الااللہ” کہنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے جواب دیا:

أَجَعَلَ الْآلِہۃ إِلَٰہا وَاحِدًا ۖ إِنَّ ہٰذَا لَشَیءٌ عُجَابٌ

(ص:5)

کیا اس نے سب معبودوں کو ایک معبود کر دیا، یہ تو بڑی انوکھی بات ہے۔​

یہ جاننے کے بعد کہ اَن پڑھ کافر بھی اس کلمہ کا مطلب جانتے تھے ، ان لوگوں پر بڑا تعجب ہوتا ہے جو اسلام کے دعوے دار ہیں اور کلمہ طیبہ کا اتنا بھی مطلب نہیں جانتے جتنا جاہل کفار جانتے تھے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ معنی و مفہوم کا دل میں عقیدہ رکھے بغیر صرف الفاظ کا ادا کر لینا ہی کافی ہے۔ ان میں جو زیادہ سمجھ دار عقل مند مانے جاتے ہیں وہ اس کلمہ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ خالق و رازق اور کائنات کا انتظام کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہوسکتی ہے، جس سے زیادہ جاہل کفار”لاالہ الااللہ” کا مطلب جانتے تھے۔

جب آپ نے مذکورہ تفصیلات سمجھ لیں اور اس شرک کو جان لیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللَّہ لَا یغْفِرُ أَن یشْرَكَ بِہ وَیغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن یشَاءُ ۚ

(النساء:48)

اللہ تعالیٰ شرک کو بخشنے والا نہیں، البتہ شرک کے سوا جو گناہ ہیں انہیں جس کے لئے چاہے بخش دے۔​

 

 

   توحید کے فوائد​

 

یہ جان لینے کے بعد تمام انبیاء کرام کا دین کون سا ہے، جس کے علاوہ کوئی بھی دین اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں اور یہ کہ آج لوگوں کی اکثریت اس دین سے کس قدر غافل اور جاہل ہے، دو اہم فائدے آپ کو حاصل ہوں گے:

 

                1۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی

 

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللَّہ وَبِرَحْمَتِہ فَبِذَٰلِكَ فَلْیفْرَحُوا ہوَ خَیرٌ مِّمَّا یجْمَعُون​

(یونس:58)

اے پیغمبر! کہہ دو، اللہ کے فضل و رحمت پر وہ خوش ہوں، ان ہی دو چیزوں پر خوش ہونا چاہئے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ سمیٹے ہیں۔​

 

                2۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر

 

اللہ تعالیٰ کا خوف اس وقت اور زیادہ ہوگا نیز راہ نجات کی جستجو مزید ہو جائے گی جب آپ یہ جان لیں کہ بسااوقات انسان کے منہ سے نکلا ہوا ایک لفظ اسے کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کبھی تو اس کے منہ سے نادانی و جہالت میں یہ لفظ نکل جاتا اور وہ جہالت کی وجہ سے معذور نہیں سمجھا جائے گا اور کبھی یہ سمجھ کر وہ ایسی بات بول جاتا ہے کہ یہ چیز اسے اللہ سے قریب کر دے گی، جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔

اس سلسلہ میں خاص طور پر موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا واقعہ سامنے رکھیں کہ انہوں نے علم و فضل اور صلاح و تقویٰ کے باوجود موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا:

اجْعَل لَّنَا إِلَٰہا كَمَا لَہمْ آلِہۃ

(الاعراف:138)

اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے پاس معبود ہیں ایسا ہی ایک معبود ہمارے لئے بھی بنا دو۔​

 

   انبیاء کے دشمن​

 

یہ بات بھی مدِ نظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت رہی ہے کہ اس نے توحید کی دعوت دے کر جتنے بھی نبی ورسول بھیجے، ان انبیاء ورسل کے دشمن بھی پیدا فرمائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِی عَدُوًّا شَیاطِینَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ یوحِی بَعْضُہمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ​

(الانعام:112)

ہم نے اسی طرح شریر آدمیوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنایا، اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کو ملمع دار باتیں فریب کے لئے سکھائیں۔​

یہ دشمنان توحید علوم و معارف اور دلائل و کتب سے مسلح بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَلَمَّا جَاءَتْہمْ رُسُلُہم بِالْبَینَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَہم مِّنَ الْعِلْمِ

(غافر:83)

جب ان کے پیغمبر ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے تو وہ اپنے علم و لیاقت پر پھولنے لگے۔​

 

   دینِ اسلام جاننا ضروری ہے​

 

جب آپ نے یہ جان لیا کہ اللہ کی راہ میں دین کے دشمن بیٹھے ہوئے ہیں جو علم و فصاحت اور دلیل و برہان سے مسلح بھی ہیں تو آپ کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ دین کا اتنا علم تو ضرور حاصل کریں جو دشمنان دین سے لڑنے کے لئے کافی ہوسکے، جن کے پیر ابلیس نے اللہ عزوجل سے کہا تھا:

لَأَقْعُدَنَّ لَہمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیمَ،ثُمَّ لَآتِینَّہم مِّن بَینِ أَیدِیہمْ وَمِنْ خَلْفِہمْ وَعَنْ أَیمَانِہمْ وَعَن شَمَائِلِہمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَہمْ شَاكِرِینَ​

(الاعراف:16 تا 17)

میں بھی تیری سیدھی راہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا، پھر ان کے پاس ان کے آگے اور ان کے پیچھے سے آؤں گا اور ان کی داہنی طرف سے اور ان کی بائیں طرف سے ، اور تو اکثر آدمیوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔​

لیکن اگر آپ اللہ تعالیٰ سے لو لگائیں اور اس کی آیات بینات پر کان دھریں تو آپ کو کوئی خوف و غم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ:

 

إِنَّ كَیدَ الشَّیطَانِ كَانَ ضَعِیفًا

(النساء:76)

بیشک شیطان کا مکرو فریب بودا ہے۔​

ایک عام موحد مشرکین کے ہزار علماء پر بھاری ہوتا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

وَإِنَّ جُندَنَا لَہمُ الْغَالِبُونَ

(الصافات:173)

بیشک ہمارا ہی لشکر غالب ہوگا۔​

لہٰذا اللہ کا لشکر ہی دعوت دین اور جہاد کے ذریعہ غالب ہوتا ہے ، البتہ خطرہ اس موحد کو ہے ہتھیار کے بغیر راہ حق میں نکل پڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسی کتاب عطا فرمائی ہے جو ہر چیز کو بیان کرنے والی نیز مومنوں کے لئے سراپا ہدایت و رحمت اور خوشخبری ہے۔ اہل باطل جو بھی دلیل لے کر آتے ہیں، یہ کتاب اس دلیل کو توڑتی ہے اور اس کا بطلان واضح کر دیتی ہے، جیسا کہ قرآن کریم کا اعلان ہے:

وَلَا یأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِیرًا

(الفرقان:33)

کافر جب کوئی نیا اعتراض قرآن پر تیرے پاس لاتے ہیں تو ہم اس کا سچا جواب دیتے ہیں اور اسی طرح مطلب کھولتے ہیں۔​

بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت ہر اس دلیل کے لئے عام ہے جسے اہل باطل قیامت تک پیش کریں گے۔

 

   شبہات کا جواب​

 

ہمارے زمانے کے مشرکین ہمارے خلاف جو دلیلیں پیش کرتے ہیں ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر جو باتیں بیان فرمائیں ہیں، ان میں سے بعض باتیں ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

اہل باطل کو جواب دو طریقے سے دیا جا سکتا ہے۔ ایک مجمل اور دوسرا مفصل جواب۔

مجمل جواب سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے لئے بڑا ہی گرانقدر اور فائدہ مند ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ہوَ الَّذِی أَنزَلَ عَلَیكَ الْكِتَابَ مِنْہ آیاتٌ مُّحْكَمَاتٌ ہنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہمْ زَیغٌ فَیتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَۃ وَابْتِغَاءَ تَأْوِیلِہ ۗ وَمَا یعْلَمُ تَأْوِیلَہ إِلَّا اللَّہ​

(آل عمران:7)

اس نے تم پر کتاب اتاری۔ اس میں سے بعض آیتیں محکم ہیں جو قرآن کی اصل ہیں اور بعض آیتیں متشابہ ہیں تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور اصل حقیقت دریافت کرنے کی نیت سے متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔​

نیز رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

” إِذَا رَأَیتُمُ الَّذِینَ یتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہ مِنْہ ، فَأُولَئِكَ الَّذِینَ سَمَّى اللَّہ فَاحْذَرُوہمْ “[1]

جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے ہوں تو سمجھ لو کہ وہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے قرآن میں نام لیا ہے۔ پھر ان سے بچتے رہو۔​

اب اگر کوئی مشرک آپ سے کہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَلَا إِنَّ أَوْلِیاءَ اللَّہ لَا خَوْفٌ عَلَیہمْ وَلَا ہمْ یحْزَنُونَ

(یونس:62)

سن رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ان کو ڈر ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ​

یا یہ کہے کہ شفاعت برحق ہے یا یہ کہے کہ اللہ کے یہاں انبیاء علیہم السلام کا بڑا مقام و مرتبہ ہے یا اپنے باطل عقیدہ پر رسول اللہﷺ کی کسی حدیث سے استدلال کرے اور آپ کو اس حدیث کا معنی و مطلب معلوم نہ ہو تو ان تمام صورتوں میں آپ اسے سیدھا سا جواب دے دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ محکم آیتوں کو چھوڑ کر متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ نیز گزشتہ صفحات میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ مشرکین توحید ربوبیت کا اقرار کرتے تھے لیکن اس وجہ سے وہ کافر قرار پائے کہ انہوں نے ملائکہ، انبیاء اور اولیاء سے لَو لگائی اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا کہ :

ہٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّہ

(یونس:18)

یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔​

مذکورہ باتیں بالکل واضح اور امر محکم کی حیثیت رکھتی ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس میں کوئی تغیر و تبدل کرسکے۔

لیکن آپ نے جو قرآنی آیات یا رسول اللہﷺ کی حدیث بیان کی ہے، میں اس کی وضاحت پوری طرح تو نہیں کرسکتا تاہم یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے کلام میں کوئی تعارض نہیں، اور نہ رسول اللہﷺ کلام الٰہی کے خلاف کوئی بات کہہ سکتے ہیں۔

یہ ایک عمدہ جواب ہے۔ اسے معمولی نہ جانیں، لیکن اس جواب کی قدر و قیمت وہی سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو۔ اس کی حقیقت وہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَمَا یلَقَّاہا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یلَقَّاہا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ

(فصلت:35)

یہ بات انہی کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور انہی کو اس کی توفیق ہوتی ہے جو نصیب والے ہیں۔​

مفصل جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے دین پر دشمنان توحید کو بے شمار اعتراضات ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے بلکہ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ خالق و رازق اور نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور یہ کہ محمدﷺ بھی اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں چہ جائیکہ عبد القادر یا دوسرے بزرگ ہوں۔ لیکن چونکہ ہم گنہگار ہیں اور بزرگوں کا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقام و مرتبہ ہے، اس لئے ان کے واسطے سے ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں۔

اس دلیل کا آپ یہ جواب دیں کہ رسول اللہﷺ نے جب لوگوں سے قتال کیا وہ بھی ان باتوں کا اقرار کرتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ ان کے پاس نفع و نقصان کا اختیار تو نہیں لیکن ہم ان کے واسطے سے جاہ مرتبہ اور شفاعت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی آپ نے انہیں قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں اور ان کی وضاحت کریں۔

اس پر اگر وہ اعتراض کریں کہ یہ آیتیں تو ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ آپ انبیاء و صالحین کو بتوں جیسا کیوں بناتے ہیں؟ تو اس اعتراض کا بھی آپ وہی جواب دیں کیونکہ جب انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ کفار اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرتے تھے اور اللہ کے علاوہ جن صلحاء و ملائکہ کا وہ قصد کرتے تھے، ان سے صرف شفاعت کی امید رکھتے تھے۔ اس کے باوجود ان کو مشرک قرار دیا گیا واضح ہے کہ شفاعت کنندہ ان کے نزدیک بھی اللہ کے کچھ نیک بندے ہی ہوتے تھے نہ کہ اصنام ۔ گویا اس دور میں بھی جن کی پرستش کی جاتی تھی وہ محض پھتر کی مورتیاں ہی نہیں تھیں بلکہ وہ صالحین ہی تھے جن کے انہوں نے بت تراش لئے تھے، تو اب انہیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ فوت شدہ صالحین کو اختیار ات کا حامل سمجھ کر ان سے استغاثہ و استمداد کرنا ہی شرک ہے جس کا ارتکاب زمانہ جاہلیت میں مشرکین کیا کرتے تھے۔

لیکن معترضین اگر اپنے اور کفار کے افعال میں فرق کرنا چاہیں تو آپ انہیں بتائیں کہ کفار میں کچھ تو ایسے تھے جو بتوں کو پکارتے تھے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو اولیاء کو پکارتے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أُولَٰئِكَ الَّذِینَ یدْعُونَ یبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّہمُ الْوَسِیلَۃ أَیہمْ أَقْرَبُ

(االاسراء:57)

جن لوگوں کو یہ مشرک پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف ذریعہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔​

اسی طرح وہ عیسیٰ اور مریم علیہما السلام کو بھی پکارتے تھے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَّا الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہ الرُّسُلُ وَأُمُّہ صِدِّیقَۃ ۖ كَانَا یأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ كَیفَ نُبَینُ لَہمُ الْآیاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّىٰ یؤْفَكُونَ ،قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہ مَا لَا یمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّہ ہوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ

(المائدہ:75تا76)

مریم کے بیٹے مسیح فقط ایک پیغمبر تھے اور ان کی ماں صدیقہ (ولیہ) تھیں۔ دونوں کھانے کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے لئے دلیلیں بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھو وہ کیسے پھرے جاتے ہیں۔ اے پیغمبر کہہ دو تم اللہ کو چھوڑ کر ایسے کو پوجتے ہو جو نہ تمہارے برے کا مالک ہے، نہ بھلے کا، اور اللہ ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔​

آپ ان کے سامنے یہ آیتیں بھی پیش کریں:

وَیوْمَ یحْشُرُہمْ جَمِیعًا ثُمَّ یقُولُ لِلْمَلَائِكَۃ أَہٰؤُلَاءِ إِیاكُمْ كَانُوا یعْبُدُونَ ،قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِینَا مِن دُونِہم ۖ بَلْ كَانُوا یعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُہم بِہم مُّؤْمِنُونَ

(سباء:40تا41)

جس دن اللہ ان سب مشرکوں کو اکھٹا کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہی لوگ تم کو پوجتے تھے، وہ کہیں گے، الٰہی! تو ہر عیب سے پاک ہے۔ان سے ہمیں کیا کام ۔ تو ہمارا مالک(یہ ہم کو نہیں ) بلکہ شیطان کو پوجتے تھے۔ ان میں اکثر لوگ شیطانوں کو ہی مانتے تھے۔​

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ان کے سامنے پیش کریں:

وَإِذْ قَالَ اللَّہ یا عِیسَى ابْنَ مَرْیمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَأُمِّی إِلَٰہینِ مِن دُونِ اللَّہ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا یكُونُ لِی أَنْ أَقُولَ مَا لَیسَ لِی بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُہ فَقَدْ عَلِمْتَہ ۚ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلَا أَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُیوبِ

(المائدہ:116)

یاد کرو جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے مریم کے بیٹے عیسی کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو۔ وہ کہیں گے، تو پاک ہے، مجھ سے کہیں ہوسکتا ہے کہ میں وہ بات کہوں جو ناحق ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو ضرور تجھے معلوم ہوگی۔ تو میرے دل کی بات جانتا ہے۔ البتہ میں تیرے دل کی بات نہیں جانتا۔ بیشک تو ہی غیب کی باتیں جانے والا ہے۔​

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]: صحیح مسلم » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب النَّہی عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِہ الْقُرْآنِ … رقم الحدیث: 4824

 

   غیر اللہ سے استغاثہ کفر ہے​

 

اس کی تفصیل کے بعد آپ معترضین سے کہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی کافر قرار دیا جو بتوں سے استغٖاثہ کرتے تھے، اور ان کو بھی جو اس غرض سے اولیاء و صلحاء کی طرف رجوع کرتے تھے اور انہی لوگوں سے رسول اللہﷺ نے قتال کیا۔

اس پر اگر وہ یہ کہیں کہ کفار بتوں کی پوجا کرتے تھے اور ان سے مانگتے تھے جب کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ نفع و نقصان کا مالک اور کائنات کا مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہم اسی سے مانگتے ہیں ، اولیاء و صالحین کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ لیکن ہم اس لئے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اللہ کے یہاں وہ ہمارے سفارش کر دیں۔

اس اعتراف پر آپ انہیں یہی جواب دیں کہ آپ کی اس بات میں اور کفار کے قول میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ کر سنائیں:

وَالَّذِینَ اتَّخَذُوا مِن دُونِہ أَوْلِیاءَ مَا نَعْبُدُہمْ إِلَّا لِیقَرِّبُونَا إِلَى اللَّہ زُلْفَىٰ​

(الزمر:3)

جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو دوست بنایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ان کو بس اسی لئے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کے نزدیک کر دیں۔ ​

نیز قرآن پاک کا یہ فرمان بھی ہے:

وَیقُولُونَ ہٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّہ

(یونس:18)

مشرک کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہوں گے۔​

مشرکین کے یہ تین بڑے بڑے شبہات ہیں ۔ جب آپ نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر بڑی وضاحت کے ساتھ ان شبہات کو بیان فرمایا ہے اور پھر آپ نے اچھی طرح ان کو سمجھ لیا تو ان کے علاوہ جو بھی شبہات ہوں گے، ان کا جواب کہیں زیادہ آسان ہوگا۔

 

   پکارنا بھی عبادت ہے​

 

کوئی معترض اگر کہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، رہا اولیاء وغیرہ کو پکارنا اور ان کی طرف رجوع کرنا تو یہ ان کی عبادت تو نہیں!

آپ اس سے کہیں کہ تم جانتے ہو، اللہ نے اخلاص عبادت تم پر فرض کیا ہے؟

بیان کرو۔ ظاہر بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے اس پہلو سے واقف نہیں ہوگا۔ اس لئے آپ خود اسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھ کر سمجھائیں:

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیۃ ۚ إِنَّہ لَا یحِبُّ الْمُعْتَدِینَ​

(الاعراف:55)

اپنے رب کو گڑ گڑا کر چپکے چپکے پکارو کیوں کہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔​

اس کے بعد اس سے پوچھیں کہ پکارنا عبادت ہے یا نہیں ؟ وہ ضرور کہے گا کہ ہاں۔ کیونکہ دعا اور پکارنا عبادت ہے اور اللہ سے ڈر کر اور اس سے امید لگا کر دن رات تم اسے پکارتے بھی ہو، پھر اس کے ساتھ ہی کسی حاجت میں نبی، ولی وغیرہ کو بھی پکارا، تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسرے کو شریک ٹھہرایا کہ نہیں؟ وہ ضرور کہے گا کہ ہاں!

 

   قربانی کرنا بھی عبادت ہے​

 

اس کے بعد اس سے کہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ​

(الکوثر:2)

اپنے مالک کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔​

یہ جاننے کے بعد جب تم نے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے لئے قربانی پیش کی تو یہ عبادت ہوئی یا نہیں؟ وہ ضرور کہے گا کہ ہاں یہ عبادت ہوئی۔ اب اس سے پوچھیں کہ یہی قربانی جب تم نے کسی نبی، جن یا کسی بھی مخلوق کے لئے کی تو اس عبادت میں اللہ کے ساتھ غیر کو شریک ٹھہرایا کہ نہیں؟ وہ ضرور اس کا اقرار کرے گا اور کہے گا ، ہاں!

ساتھ ہی آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ وہ مشرکین جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا، کیا وہ ملائکہ، صلحاء اور لات وغیرہ کی پرستش کرتے تھے؟ وہ ضرور کہے گا، ہاں۔ پھر آپ اسے بتائیں کہ ان کی پرستش یہی تھی کہ وہ انہیں پکارتے تھے، ان کے لئے جانور ذبح کرتے تھے اور ان کی طرف پناہ لیتے تھے، ورنہ وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے ماتحت ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی امور کائنات کا انتظام کار ہے لیکن اس اقرار کے باوجود انہوں نے ملائکہ اور صالحین کے جاہ مرتبہ اور شفاعت کے پیش نظر انہیں پکارا اور ان کی طرف پناہ لی۔

 

   شفاعت برحق ہے​

 

معترض اگر آپ سے یہ کہے کہ تم رسول اللہﷺ کی شفاعت کا انکار اور اس سے بیزاری ظاہر کرتے ہو! تو آپ اس سے کہیں کہ میں شفاعت رسول ﷺ کا نہ تو منکر ہوں نہ اس سے بیزار ہوسکتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ آپﷺ شافع و مشفع ہیں اور آپ کی شفاعت کا امیدوار بھی ہوں لیکن شفاعت اللہ کے اختیار میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قُل لِّلَّہ الشَّفَاعَۃ جَمِیعًا​

(الزمر:44)

کہہ دو کہ شفاعت تو ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔​

اور یہ شفاعت اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہوگی، جیساکہ فرمایا:

مَن ذَا الَّذِی یشْفَعُ عِندَہ إِلَّا بِإِذْنِہ

(البقرہ:255)

اس کے حکم کے بغیر کون اس کے پاس شفاعت کرسکتا ہے۔​

نیز رسول اللہﷺ کسی کے بارے میں اس وقت تک شفاعت نہیں کریں گے جب تک اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں شفاعت کی اجازت نہ دے دیں، جیسا کہ فرمایا :

وَلَا یشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ

(الانبیاء:28)

وہ فرشتے کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے مگر جس کیلئے اللہ کی مرضی ہو۔​

اور اللہ تعالیٰ صرف توحید کو پسند کرتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:

وَمَن یبْتَغِ غَیرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَن یقْبَلَ مِنْہ

(آل عمران:85)

جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔​

گویا شفاعت کی اجازت بھی صرف اہل توحید کے لئے ہوگی۔

شفاعت قبول کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے:

جب ساری کی ساری شفاعت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور شفاعت اللہ کی اجازت کے بعد ہوگی اور رسول اللہﷺ بھی کسی کے بارے میں اس وقت تک شفاعت نہیں کریں گے جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت نہ دے دے۔ اور اللہ تعالیٰ صرف اہلِ توحید کے لئے شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائے گا تو اس کی تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ شفاعت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لہٰذا میں اللہ سے شفاعت کا طلبگار ہوں اور یہ دعا کرتا ہوں کہ الٰہی! میرے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کی شفاعت کی اجازت مرحمت فرما!

معترض اگر یہ کہے کہ رسول اللہﷺ کو شفاعت عطا کر دی گئی ہے اور میں اس عطا کی گئی چیز کا آپ سے سوال کرتا ہوں۔

آپ ا سے کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو شفاعت ضرور عطا فرمائی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ سے براہ راست شفاعت کا سوال کرنے سے منع بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّہ أَحَدً

(الجن:18)

اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔​

جب تم اللہ سے دعا کرتے ہو کہ وہ اپنے نبی کو تمہارے بارے میں شفاعت کرنے کی اجازت دے دے تو مذکورہ بالا آیت میں بھی اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

دوسری بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے علاوہ دوسروں کو بھی شفاعت کا حق دیا گیا ہے، چنانچہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ملائکہ ، اولیاء اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی شفاعت کریں گے، سوال یہ ہے کہ کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کہ چونکہ اللہ نے انہیں شفاعت عطا کی ہے اس لئے میں ان سے شفاعت طلب کروں گا؟ اگر کہتے ہو کہ ہاں، تو یہی تو صالحین کی عبادت کرنا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر تذکرہ فرمایا ہے اور اگر کہتے ہو نہیں تو تمہارا یہ قول بھی اپنے آپ باطل ہو جاتا ہے کہ اللہ نے رسول اللہﷺ کو شفاعت عطا کی ہے۔ اس لئے میں اس عطا کی گئی چیز کا آپ سے سوال کرتا ہوں۔

 

   صالحین کی پناہ ڈھونڈنا شرک ہے​

 

معترض اگر یہ کہے کہ میں حاشا وکلا اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا لیکن سمجھتا ہوں کہ صالحین کی پناہ ڈھونڈنا شرک نہیں ہے۔

آپ ا س سے کہیں کہ تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو زنا سے بھی بڑھ کر حرام قرار دیا ہے اور اس کا بھی اقرار کرتے ہو کہ اللہ مشرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا تو شرک آخر وہ کون سا جرم ہے جو اس درجہ حرام ہے اور جسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرسکتا؟

اس سوال کا یقیناً اس کے پاس جواب نہیں ہوگا، لہٰذا آپ اس سے کہیں کہ تم شرک سے اپنے آپ کو کیسےمبرا سمجھتے ہو، جب تم خود شرک کا مطلب بھی نہیں جانتے۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز حرام قرار دے اور یہ کہے کہ میں اسے کبھی معاف نہیں کرسکتا اور تم اس چیز کے بارے میں نہ جانو اور نہ دریافت کرو، کیا یہ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بس حرام قرار دے کر چھوڑ دیا اور اس کو بیان نہیں فرمایا؟

لیکن اگر وہ یہ کہے کہ” شرک ” بتوں کی عبادت کا نام ہے، اور ہم بتوں کی عبادت تو نہیں کرتے، تو آپ ا س سے پوچھیں کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مشرکین پوجا کی جانے والی لکڑیوں اور پتھروں کو خالق و رازق اور مدبر مانتے تھے؟ اگر ایسا سمجھتے ہو تو یہ غلط ہے، قرآن کریم اس کی تردید کرتا ہے۔

اور اگر وہ کہے” شرک” یہ ہے کہ انسان لکڑیوں، پتھروں ، قبروں، پر بنی ہوئی عمارتوں وغیرہ کا رخ کرے، انہیں پکارے، ان کے لئے جانور ذبح کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ اپنی برکت سے ہماری پریشانیاں دور کر دیتے ہیں اور ہماری مرادیں پوری کر دیتے ہیں تو آپ اس کے جواب کی تائید کریں اور یہ بتا دیں کہ پھتروں اور مزاروں پر جا کر جو کام تم لوگ انجام دیتے ہو وہ بھی یہی ہے۔ اس طرح گویا اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اس کا فعل ہی بتوں کی عبادت ہے۔

اس سے آپ یہ بھی پوچھیں کہ تم نے جو یہ کہا کہ” شرک” بتوں کی عبادت کا نام ہے اس سے تمہاری مراد کیا ہے؟ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ شرک بتوں کے ساتھ خاص ہے ، بزرگوں کو پکارنا اور ان پر بھروسہ کرنا شرک میں داخل نہیں تو یہ غلط ہے۔ قرآن مجید نے ہر اس شخص کو کافر قرار دیا ہے جو فرشتوں یا عیسیٰ علیہ السلام یا بزرگوں سے لو لگائے یا ان کے ساتھ ایسا تعلق رکھے۔

 

   شرک کیا ہے؟​

 

اب یہ شخص لازمی طور پر اس بات کا اقرار کرے گا کہ اللہ کی عبادت میں کسی بھی نیک شخص کو شامل کرنا ہی شرک ہے جس کا قرآن کریم میں تذکرہ ہے۔

اس مسئلہ کا راز یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا تو آپ ا سے کہیں کہ شرک کی وضاحت کرو، اگر کہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، تو کہیں کہ ایک اللہ کی عبادت کا کیا مطلب ہے، بیان کرو؟

اس نے اگر قرآن مجید کے مطابق ایک اللہ کی عبادت کا مطلب بیان کر دیا تو یہی مطلوب و مقصود ہے۔ لیکن اگر کہے کہ میں نہیں جانتا تو اس سے پوچھیں کہ تم اس چیز کا دعویٰ کیسے کرتے ہو جس کا مطلب ہی نہیں جانتے؟ اور اگر اس نے غلط مطلب بیان کیا تو شرک باللہ اور عبادت اصنام کے سلسلہ میں وارد قرآنی آیتیں پڑھ کر اسے سنائیں اور یہ بتائیں کہ یہ بعینہ وہی چیز یں ہیں جو ہمارے زمانے میں لوگ کر رہے ہیں اور ایک اللہ کی عبادت ہی وہ “جرم” ہے جس کی لوگ ہمیں سزا دے رہے ہیں اور ہمارے خلاف اپنے سابقہ مشرک بھائیوں کی طرح چیختے چلاتے ہیں کہ:

أَجَعَلَ الْآلِہۃ إِلَٰہا وَاحِدًا ۖ إِنَّ ہٰذَا لَشَیءٌ عُجَابٌ​

(ص:5)

کیا اس نے سب معبودوں کو ایک معبود کر دیا، یہ تو بڑی انوکھی بات ہے۔​

 

   ربوبیت کا اقرار ار الوہیت کا انکار​

 

یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ ہمارے دور کے مشرکین جسے” اعتقاد” کہتے ہیں، یہ وہی شرک ہے جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا اور رسول اللہﷺ نے لوگوں سے جس پر قتال کیا، یہ بھی جانتے چلیں کہ پہلے لوگوں کا شرک ہمارے دور کے لوگوں کے شرک سے دو وجوہ سے کمتر تھا۔

1۔ پہلے دور کے مشرک صرف راحت و آرام کی حالت میں ملائکہ ، اولیاء یا بتوں کو پکارتے اور انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے، سختی اور پریشانی کے وقت سب کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے تھے، جیسا کہ مندرجہ ذیل آیتوں میں بیان کیا گیا:

وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِیاہ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ الْإِنسَانُ كَفُورًا​

(الاسراء:67)

جب سمندر میں تم آگ میں گرفتار ہوتے ہو تو اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے تھے سب بھول جاتے ہو پھر جب تم کو خشکی میں بچا لاتا ہے تو اللہ سے پھر بیٹھتے ہو، اور آدمی بڑا ناشکرا ہے۔

قُلْ أَرَأَیتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّہ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَۃ أَغَیرَ اللَّہ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِینَ،بَلْ إِیاہ تَدْعُونَ فَیكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیہ إِن شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ

(الانعام:40 تا 41)

(اے پیغمبر) ان کافروں سے کہو بھلا بتلاؤ تو سہی اگر تم پر اللہ کا عذاب آ جائے یا تم پر قیامت آن کھڑی ہو تو کیا اس وقت اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے اگر تم سچے ہو؟ بلکہ خاص اللہ ہی کو پکارو گے، پھر اگر وہ چاہے گا تو اس مصیبت کو جس کے لئے پکارتے ہو دور کرے گا، اور جن کو تم نے اس کا شریک بنایا تھا، ان سب کو بھول جاؤ گے۔

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہ مُنِیبًا إِلَیہ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَہ نِعْمَۃ مِّنْہ نَسِی مَا كَانَ یدْعُو إِلَیہ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّہ أَندَادًا لِّیضِلَّ عَن سَبِیلِہ

(الزمر:8)

جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو دل سے اپنے مالک کی طرف رجوع کر کے اس کو پکارتا ہے، پھر جب وہ اپنی طرف سے اس کو کوئی نعمت دیتا ہے تو اس کو بھول جاتا ہے جس کو اس سے پہلے پکارتا تھا اور دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے تاکہ وہ اس کی راہ سے گمراہ کر دے۔

وَإِذَا غَشِیہم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّہ مُخْلِصِینَ لَہ الدِّینَ

(لقمان:32)

یعنی جب سائبانوں کی طرح ان کو موج ڈھانک لیتی ہے تو اس وقت سچے دل سے اللہ ہی کی بندگی کرکے اسی کو پکارتے ہیں۔​

جو شخص یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لے کہ جن مشرکین سے رسول اللہﷺ نے قتال کیا وہ صرف راحت و آرام کی حالت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکارتے تھے لیکن سختی و پریشانی کے وقت وہ سب کو چھوڑ کر صرف اللہ و حدہ کو پکارتے اور اپنے سادات کو بھول جاتے تھے تو یہ سمجھنے کے بعد اس کے لئے پہلے دور کے مشرک اور ہمارے زمانے کے مشرکین کے شرک کے درمیان فرق واضح ہو جائے گا، لیکن افسوس ! کہاں ہیں وہ دل جو اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔

2۔ ہمارے زمانے کے مشرکین کے مقابلے میں پہلے زمانے کے مشرکین کے شرک کے کمتر ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پہلے لوگ اللہ کے ساتھ انہی لوگوں کو پکارتے تھے جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے تھے جیسے انبیاء، اولیاء یا ملائکہ وغیرہ۔ یا پھر پتھروں اور درختوں کو پکارتے تھے جو اللہ کے فرمانبردار ہیں، نافرمان نہیں۔

لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین اللہ کے ساتھ جن جن کو پکارتے ہیں وہ انتہائی فاسق و فاجر بدترین قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ مشرکین خود ان ک فاسق و فاجر ہونے، زنا کاری، چوری چکاری میں ملوث ہونے اور بے نمازی ہونے کی داستانیں بیان کرتے رہتے ہیں۔

ظاہر بات ہے کہ جو شخص کسی نیک و صالح شخص کے بارے میں کوئی عقیدہ رکھے یا لکڑی اور پتھر جیسی چیزوں کے بارے میں عقیدہ رکھے جو اللہ کے نافرمان نہیں ہیں ، ایسے شخص کا شرک اس آدمی کے شرک سے کہیں ہلکا ہوگا جو وہ عقیدہ کسی فاسق و فاجر شخص کے بارے میں رکھے اور خود اس کے فسق و فجور کی گواہی بھی دے۔

جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ رسول اللہﷺ نے جن لوگوں سے قتال کیا وہ ہمارے زمانے کے مشرکین سے زیادہ عقل مند اور ان سے کمتر مشرک تھے تو آپ یہ بھی جانتے چلیں کہ ان کا ایک اور شبہ ہے جسے وہ ہمارے مذکورہ بالا دلائل کے خلاف پیش کرتے ہیں اور یہ ایک بڑا شبہ ہے، لہٰذا غور سے اس کا جواب سنیں۔

 

   کفر کیا ہے؟​

 

وہ کہتے ہیں کہ جن مشرکین کے بارے میں قرآن نازل ہوا وہ “لاالہ الااللہ” کی گواہی نہیں دیتے تھے، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرتے تھے ، آخرت کا انکار کرتے تھے، قرآن کو جھٹلاتے اور اسے جادو کہتے تھے، لیکن ہم” لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ” کی گواہی دیتے ہیں۔ قرآن کی تصدیق کرتے ہیں۔ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں۔ روزہ رکھتے ہیں۔ پھر ہمیں ان مشرکین کے برابر کیوں قرار دیتے ہو؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص تمام باتوں میں رسول اللہﷺ کی تصدیق کرے اور صر ف ایک بات میں آپ کو جھٹلا دے، وہ کافر ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو قرآن کے بعض حصہ پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے، وہ بھی کافر ہے، جیسے کوئی شخص توحید کا اقرار کرے اور نماز کا انکار ۔ یا تو توحید اور نماز دونوں کا اقرار کرے اور زکوٰۃ کا انکار یا ان سب فرائض کا اقرار کرے اور حج کا انکار، یا مذکورہ پانچوں فرائض کا اقرار کرے مگر یوم آخرت کا انکار ۔ تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہے اور اس کی جان و مال مباح ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِینَ یكْفُرُونَ بِاللَّہ وَرُسُلِہ وَیرِیدُونَ أَن یفَرِّقُوا بَینَ اللَّہ وَرُسُلِہ وَیقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَیرِیدُونَ أَن یتَّخِذُوا بَینَ ذَٰلِكَ سَبِیلًا ،أُولَٰئِكَ ہمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ

(النساء:150تا151)

جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کو نہیں مانتے اور اللہ اور اس کے پیغمبروں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پیغمبروں کو مانیں گے اور بعض کو نہیں مانیں گے اور کفر و ایمان کے درمیان ایک راستہ بنانا چاہتے ہیں، یہی لوگ تو پکے کافر ہیں۔​

اللہ تعالیٰ نے جب پوری صراحت کے ساتھ یہ بیان فرما دیا کہ جو شخص بعض حصوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کرے وہ پکا کافر ہے تو مشرکین کا پیش کردہ مذکورہ شبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

مذکورہ شبہ کے جواب میں معترض سے یہ بھی کہا جائے گا کہ جب تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ جو شخص تمام امور میں رسول اللہﷺ کی تصدیق کرے اور صرف نماز کا انکار کر دے تو وہ بالا اجماع کافر ہے اور اس کی جان و مال مباح ہے یا اسی طرح جو شخص تمام فرائض کا اقرار کرے اور صرف یوم آخرت کا انکار کر دے یا تمام چیزوں کا اقرار کرے مگر رمضان کے روزے کی فرضیت کا انکار کر دے، وہ بالا اجماع کافر ہے۔ کسی بھی مذہب کا اس میں اختلاف نہیں اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ” توحید” رسول اللہﷺ کا لایا ہوا سب سے اہم فریضہ ہے اور اس کی حیثیت نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج سے بھی بڑھ کر ہے۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر مکمل عمل کے باوجود کوئی شخص اگر ایک بات کا بھی انکار کر دے تو وہ کافر ہو جائے اور کوئی توحید کا جو تمام انبیاء کا دین ہے، انکار کر کے بھی مسلمان بنا بیٹھا رہے؟

معترض سے جواب میں یہ بھی کہا جائے گا کہ صحابہ کرام نے بنو حنیفہ سے قتال کیا۔ حالانکہ بنو حنیفہ کے لوگ رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے اور “لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار کرتے تھے۔ اذان دیتے تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے۔ اس پر اگر وہ یہ کہے کہ صحابہ کرام نے بنو حنیفہ سے اس لئے قتال کیا کہ وہ مسلیمہ کو نبی کہنے لگے تھے، اس پر آپ جواب دیں کہ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں۔ بنو حنیفہ نے جب ایک شخص کو نبوت کے درجہ تک پہنچا دیا تو ان کا شہادتیں کی گواہی دینا، نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا کچھ کام نہ آ سکا اور وہ کافر اور مباح الدم قرار پائے تو جو شخص” شمسان” یا “یوسف” یا کسی صحابی کو الوہیت کے درجہ تک پہنچا دے ، وہ کیوں کر مسلمان باقی رہے گا؟

معترض کو یہ جواب بھی دیا جائے گا کہ علی رضی اللہ عنہ نے جن لوگوں کو آگ میں جلایا تھا وہ سب کے سب اسلام کے دعویدار اور خود علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور صحابہ کرام سے انہوں نے علم سیکھا تھا لیکن جب انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں الوہیت کا عقیدہ ظاہر کیا ، جیسا عقیدہ لوگ” یوسف” اور “شمسان” کے بارے میں رکھتے ہیں تو تمام صحابہ کرام نے متفقہ طور پر انہیں کافر قرار دے دیا اور ان کو قتل کیا۔ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلمانوں کو کافر قرار دیں گے؟ یا یہ کہ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنا تو کفر ہے لیکن” تاج” “یوسف” اور “شمسان” وغیرہ کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ؟

 

   شریعت کی مخالفت کا نتیجہ​

 

جواباً یہ بھی کہا جائے گا کہ بنو عبید القداح جو عہد عباسیہ میں مصر اور ٘ مغرب پر حکومت کر رہے تھے، وہ سب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتے تھے، اسلام کے دعویدار تھے اور جمعہ و جماعت کا بھی اہتمام کرتے تھے لیکن جب انہوں نے بعض چھوٹے چھوٹے امور میں جو شرک کے مسئلہ سے کہیں کمتر تھے، شریعت کی مخالفت ظاہر کی تو علمائے اسلام نے متفقہ طور پر ان کے کفر اور ان سے قتال کرنے کا فتویٰ دیا، ان کے شہروں کو دار الحرب قرار دیا اور مسلمانوں سے لڑائی کر کے وہ تمام اسلامی شہر آزاد کرا لئے جو ان کے زیر اقتدار تھے۔

آپ یہ جواب بھی دے سکتے ہیں کہ پہلے لوگ اگر اسی وجہ سے کافر قرار دیئے گئے تو انہوں نے شرک، رسول کی تکذیب، قرآن کی تکذیب اور قیامت کا انکار سب کچھ اکھٹا کر لیا تھا تو اس باب کا کیا مطلب ہے جو ہر مذہب کے علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ مثلاً باب حکم المرتد(مرتد کے حکم کا بیان) اور مرتد وہ شخص ہے جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے۔ اس کے بعد علماء نے مرتد کی بہت سی اقسام بیان کی ہیں اور ہر قسم میں انسان کافر اور مباح الدم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ فقہاء نے وہ چھوٹے چھوٹے امور بھی بیان فرمائے ہیں جن سے انسان مرتد ہو جاتا ہے، جیسے دل سے اعتقاد رکھے بغیر زبان سے کوئی بات کہہ دینا یا ہنسی مذاق کے طور پر منہ سے کوئی جملہ نکال دینا۔

یہ جواب بھی دیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یحْلِفُونَ بِاللَّہ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَۃ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِہمْ

(التوبۃ:74)

منافق اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، حالانکہ وہ بلاشبہ کفر کی بات کہہ چکے اور اسلام لانے اور اس کا اظہار کرنے کے بعد وہ پھر کافر بن گئے۔​

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کا ذکر کیا ہے، صرف ایک بات کی وجہ سے انہیں کافر قرار دے دیا حالانکہ وہ لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں تھے، آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے، نماز پڑھتے، زکوٰۃ دیتے، حج کرتے اور اللہ کی وحدانیت کی گواہی دیتے تھے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ أَبِاللَّہ وَآیاتِہ وَرَسُولِہ كُنتُمْ تَسْتَہزِئُونَ ،لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِیمَانِكُمْ

(التوبۃ:65 تا 66)

اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کیا تم اللہ تعالیٰ اور اس کے آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی ٹھٹھا کرتے ہو؟ بہانے مت بناؤ، تم ایمان لا کر ، ایمان کا دعویٰ کر کے پھر کافر ہو گئے۔​

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کا ذکر کیا ہے اور جن کے بارے میں یہ صراحت فرمائی ہے کہ وہ ایمان کے بعد کافر ہو گئے، وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اور ان کی زبان سے ایک بات نکل گئی تھی جس کے بارے میں وہ خود اقرار کرتے تھے کہ ہم نے اسے بطور مذاق کہا تھا۔

آپ مشرکین کے اس شبہ پر پھر سے غور کریں، جو یہ کہتے ہیں کہ تم ان مسلمانوں کو کیسے کافر گردانتے ہو جو “لاالہ الا اللہ” کی گواہی دیتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں؟ اور اس کے بعد اس شبہ کا مذکورہ جواب دھیان سے پڑھیں ، یہ بڑا ہی مفید اور گرانقدر جواب ہے۔

مذکورہ جواب کی ایک دلیل وہ واقعہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ انہوں نے اسلام لانے اور علم و تقویٰ کے باوجود موسیٰ علیہ السلام سے یہ مطالبہ کیا کہ:

اجْعَل لَّنَا إِلَٰہا كَمَا لَہمْ آلِہۃ

(الاعراف:138)

اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے پاس معبود ہیں ایسا ہی ایک معبود ہمارے لئے بھی بنا دو۔​

نیز بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمارے لئے بھی ایک “ذات انواط” بنا دیجئے ۔ اس پر آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کہنا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایک معبود بنا دو۔

لیکن اس موقع پر مشرکین ایک شبہ اور پیش کرتے ہیں، وہ یہ کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے جس بات کا مطالبہ کیا ، اس پر وہ کافر نہیں قرار دیئے گئے ، اسی طرح رسول اللہﷺ نے بھی اپنے ان اصحاب کو کافر نہیں گردانا، جنہوں نے آپ سے”ذات انواط” بنانے کو کہا تھا۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے معبود بنانے کا صرف مطالبہ کیا تھا۔ معبود بنایا نہیں تھا۔ اسی طرح بعض صحابہ نے رسول اللہﷺ سے”ذات انواط” بنانے کی صرف درخواست کی تھی اور اس بات پر کسی کا اختلاف نہیں کہ بنو اسرائیل نے جس چیز کا مطالبہ کیا تھا اگر وہ کر گزرے ہوتے یا صحابہ کرام نے رسول اللہﷺ کی بات نہ مانی ہوتی اور منع کرنے کے باوجود”ذات انواط” بنا لیا ہوتا تو وہ کافر قرار پاتے۔

 

   فہم دین ضروری ہے​

 

مذکورہ واقعہ ایک دوسرے پہلو سے اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ ایک مسلمان بلکہ پڑھا لکھا شخص بھی غیر شعوری طور پر شرک میں مبتلا ہوسکتا ہے لہٰذا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی ضروری ہے اور یہ جاننا بھی لازم ہے کہ عوام الناس کا یہ کہنا کہ” ہم نے توحید کو سمجھ لیا ہے” شیطانی دھوکہ اور بڑی نادانی کی بات ہے۔

مذکورہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان مجتہد اگر لاعلمی میں کوئی کفر یہ بات کہہ دے اور تنبیہ کے بعد فوراً بعد اس سے توبہ کر لے تو وہ کافر نہیں ہوگا۔

اس واقعہ سے ایک اہم مسئلہ اور بھی سامنے آتا ہے ، وہ یہ کہ ایسا شخص اگرچہ کافر نہیں ہوتا لیکن بڑے ہی سخت الفاظ میں اس کی تنبیہ ہونی چاہیئے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اصحاب کو فرمائی تھی۔

مشرکین کو ایک اور شبہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جب “لا الہ الا اللہ” کہنے والے شخص کو قتل کر دیا تو رسول اللہﷺ نے اس پر ناراضگی ظاہر کی اور فرمایا :

“أَقَتَلْتَہ بَعْدَ مَا قَالَ : لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ ؟”[1]

کیا لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا۔​

رسول اللہﷺ کی حدیث ہے:

“أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى یقُولُوا : لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ[2]”

مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں۔​

یہ نادان مشرک ان احادیث کا مطلب یہ نکالتے ہیں کہ ” لاالہ الااللہ” کا اقرار کر لینے کے بعد آدمی جو بھی چاہے کرے، اسے کافر کہہ سکتے ہیں نہ قتل کرسکتے ہیں۔

ان نادانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہود بھی لاالہ الا اللہ پڑھتے تھے لیکن رسول اللہﷺ نے ان سے قتال کیا اور انہیں قیدی بنایا۔ بنو حنیفہ کے لوگ بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور اسلام کا دعویٰ بھی کرتے تھے ، لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے قتال کیا، اسی طرح وہ لوگ بھی توحید کا اقرار کرتے تھے جنہیں علی رضی اللہ عنہ نے آگ سے جلایا۔

یہ جاہل اس بات کو تو مانتے ہیں کہ آخرت کا منکر یا اسلام کے کسی رکن کا منکر اگرچہ لاالہ الااللہ کا اقرار کرتا ہو، کافر اور مباح الدم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے کسی رکن کا انکار کرنے والے کو جب کلمہ” لاالہ الا اللہ” کا اقرار کفر سے نہیں بچا سکتا تو” توحید” جو تمام انبیاء کے دین کی جڑ ہے، کا انکار کرنے والے کو کیونکر بچا سکتا ہے۔

اسامہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے مشرکین دلیل پکڑتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اسامہ نے ایک شخص کو اس کے اسلام کا دعویٰ کرنے کے بعد بھی یہ سمجھ کر قتل کر دیا کہ اس نے اپنی جان و مال کو بچانے کیلئے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ آدمی جب اپنے اسلام کا اظہار کر دے تو اس سے ہاتھ روک لینا ضروری ہے، یہاں تک کہ اس کے خلاف کوئی بات ثابت ہو جائے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

یا أَیہا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہ فَتَبَینُوا

(النساء:94)

اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں (جہاد) میں نکلو تو تحقیق کر لیا کرو۔​

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اسلام کا اظہار کر دے اس سے ہاتھ روک لینا اور اس کے بارے میں تحقیق کرنا ضروری ہے۔ تحقیق کے بعد اگر اس سے کوئی ایسی بات ثابت ہو جو اسلام کے خلاف ہے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس آیت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسلام ظاہر کرنے یا کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے بعد آدمی کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اگر یہی مطلب ہوتا تو اس آیت میں تحقیق کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا کوئی معنی ہی نہیں رہ جاتا۔

اسی طرح اس موضوع کی دیگر احادیث کا مطلب بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ یعنی جو شخص اسلام یا توحید کا اظہار کر دے اس سے ہاتھ روک لیا جائے گا اور تحقیق کے بعد اگر اس کے اندر اسلام کے خلاف کوئی بات ثابت ہو تو قتل کر دیا جائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جیسے رسول ﷺ نے اسامہ سے یہ کہا تھا کہ” کیا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا”؟ اور جس رسول ﷺ کی یہ حدیث ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ ” لاالہ الا اللہ” کا اقرار نہ کر لیں اسی رسول اللہﷺ نے خوارج کے سلسلہ میں یہ حکم ارشاد فرمایا ہے:

“أینما لقیتموہم فاقتلوہم لئن أدركتہم لأقتلنہم قتل عاد”[3]

انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو، اگر میں نے ان کو پالیا تو قوم عاد کی طرح انہیں قتل کروں گا۔​

سبھی جانتے ہیں کہ خوارج بہت زیادہ عبادت گزار اور اللہ کی تکبیر و تہلیل کرنے والے ۔ حتیٰ کہ بعض صحابہ ان کے سامنے اپنی نمازوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ ان خوارج نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم بھی حاصل کیا تھا لیکن جب ان کی جانب سے شریعت کی خلاف ورزی سامنے آئی تو” لاالہ الا اللہ” کا اقرار ، کثرت عبادت اور اسلام کا دعویٰ کچھ بھی تو ان کے کام نہ آ سکا۔

گزشتہ صفحات میں رسول اللہ ﷺ کے یہود سے قتال کرنے کا واقعہ نیز صحابہ کرام کے بنو حنیفہ سے قتال کرنے کی مثال گزر چکی ہے، یہ واقعات بھی اوپر بیان کئے گئے مسئلہ کی تائید کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]:صحیح البخاری » كِتَاب الْحَجِّ » أَبْوَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّیدِ۔۔رقم الحدیث: 3962

[2]: صحیح البخاری » كِتَاب تَفْسِیرِ الْقُرْآنِ » سُورَۃ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔۔۔رقم الحدیث: 6443

[3]: صحیح البخاری » كتاب التوحید » باب قول اللہ تعالى تعرج الملائكۃ والروح إلیہ،رقم الحدیث: 6995 ، مسلم، الزکاۃ:(1064) ، النسائی، الزکاۃ:(2578) ،أبوداؤد، السنۃ: (4764) ، مسند احمد: (3/73)

 

 

 

   خبر کی تحقیق ضروری ہے​

 

ساتھ ہی اس واقعہ پر بھی غور کرتے چلیں کہ رسول اللہﷺ کو جب اس بات کی اطلاع ملی کہ بنو مصطلق کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے تو آپ نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ فرمایا۔

اس پریہ آیت نازل ہوئی:

یا أَیہا الَّذِینَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَینُوا أَن تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہالَۃ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ​

(الحجرات:6)

اے مومنو! کوئی فاسق شخص اگر کوئی خبر تمہارے پاس لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ ایسا نہ ہو، جانے بوجھے بغیر کسی قوم پر چڑھ دوڑو، پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔​

بعد میں ظاہر ہوا کہ بنو مصطلق کے متعلق اطلاع دینے والا شخص جھوٹا تھا۔ بہر حال یہ تمام واقعات اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ مشرکین نے جن احادیث سے دلیل پکڑی ہے ان کا صحیح مطلب وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔

 

   استغاثہ کا مفہوم ​

 

مشرکین کو ایک شبہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے۔ قیامت کے دن لوگ آدم علیہ السلام کے پاس استغاثہ کے لئے جائیں گے، پھر نوح علیہ السلام کے پاس ، پھر ابراہیم علیہ السلام کے پاس پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس، پھر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس استغاثہ کے لئے جائیں گے اور سب کے سب معذرت پیش کر دیں گے۔ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے پاس معاملہ لے کر پہنچیں گے۔ مشرکین کہتے ہیں کہ گویا غیر اللہ سے استغاثہ کرنا شرک نہیں۔

اس کا جواب ہے کہ مخلوق سے اس کام میں استغاثہ کے منکر نہیں جو اس کے بس میں ہو، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاسْتَغَاثَہ الَّذِی مِن شِیعَتِہ عَلَى الَّذِی مِنْ عَدُوِّہ​

(قصص:15)

جو موسیٰ کا ہم قوم تھا اس نے اس شخص کے مقابلہ میں جو موسیٰ کے دشمن گروہ میں تھا، موسیٰ سے مدد چاہی​   ۔

یا جس طرح انسان جنگ وغیرہ میں اپنے ساتھیوں سے ان امور میں استغاثہ کرتا اور مدد چاہتا ہے جن پر انسان قادر ہوتا ہے، ہم تو اس استغاثہ کا انکار کرتے ہیں جو بزرگوں کی قبروں پر جا کر عبادت کی شکل میں کیا جاتا ہے یا غائبانہ طور پر ان سے ان چیزوں کا سوال کیا جاتا ہے جو اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔

اس تفصیل کے بعد مذکورہ حدیث کی طرف آئیں جسے مشرکین بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ اس حدیث سے انبیاء سے استغاثہ کی تفصیل یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ انبیاء علیہم السلام کے پاس آ کر یہ درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ جلد حساب و کتاب شروع ہو، تاکہ جنتی حضرات میدان حشر کی سختیوں سے نجات پائیں۔

ظاہر بات ہے کہ اس قسم کا استغاثہ دنیا میں بھی جائز ہے اور آخرت میں بھی، کہ آپ کسی نیک اور زندہ شخص کے پاس جائیں جو آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سنے اور اس سے یہ درخواست کریں کہ میرے لئے اللہ سے دعا کر دیجئے۔ جیسا کہ صحابہ کرام رسول اللہﷺ کی زندگی میں آپ کے پاس آتے اور دعا کی درخواست کرتے تھے لیکن آپ کی وفات کے بعد حاشا و کلا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی قبر کے پاس آ کر آپ سے دعا کی درخواست کی ہو بلکہ سلف صالحین رسول اللہﷺ کی قبر کے پاس اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے سے بھی منع فرماتے تھے، چہ جائیکہ خود آپ ﷺ سے دعا کی درخواست کی جائے۔

مشرکین کا ایک شبہ ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جانے لگا تو جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور یہ پیشکش کی کہ اگر کوئی ضرورت ہو تو بتائیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ سے تو مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس واقعہ کو لے کر مشرکین یہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام سے استغاثہ (مدد چاہنا) شرک ہوتا تو خود جبرئیل علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام سے یہ پیشکش نہ کی ہوتی۔

یہ شبہ درحقیقت پہلے شبہ جیسا ہے اور اس کا جواب بھی وہی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اسی چیز کی پیشکش ا براہیم علیہ السلام سے کی تھی جس پر وہ قادر تھے۔ جبرائیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے(شدید القویٰ) (سخت قوتوں والا) کہا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اگر جبرائیل علیہ السلام کو اس بات کی اجازت دے دیتا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ اور اس کے ارد گرد جو زمین اور پہاڑ تھے ان سب کو اٹھا کر مشرق یا مغرب میں پھینک دیں یا ابراہیم علیہ السلام کو کسی دور مقام پر چھوڑ آئیں یا اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیں تو یقیناً وہ یہ سب کچھ کرسکتے تھے جیسے کوئی مالدار شخص کسی ضرورت مند کو دیکھ کر قرض دینے کی پیشکش کرے یا یونہی کچھ دینا چاہے جس سے وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے، ار یہ ضرورت مند شخص لینے سے انکار کر دے اور صبر کرنے کو ہی ترجیح دے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود اس کی روزی کا انتظام کر دے جس میں کسی اور کا کوئی احسان شامل نہ ہو۔

 

   توحید کی عملی تطبیق​

 

اس رسالہ کے خاتمہ پر ہم ایک تنہائی اہم مسئلہ کا ذکر کر دینا چاہتے ہیں۔ سابقہ گفتگو کے دوران اس مسئلہ کی طرف اشارہ آ چکا ہے لیکن چونکہ یہ مسئلہ انتہائی نازک ہے اور لوگ بکثرت اس میں غلطی کر بیٹھتے ہیں اس لئے علیحدہ طور پر اس کا بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ” توحید” کا دل ، زبان اور عمل تینوں سے بیک وقت تعلق ہونا ضروری ہے۔ ان میں سے اگر کسی ایک چیز کے اندر بھی خلل واقع ہو تو آدمی مسلمان نہیں رہتا۔ کوئی شخص اگر توحید کو سمجھتا ہے مگر اس کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ فرعون اور ابلیس وغیرہ کی طرح سرکش کافر ہے۔

اس بارے میں بہت سے لوگ غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ فلاں بات حق ہے۔ ہم اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس پر عمل نہیں کرسکتے۔ اپنے علاقہ کے لوگوں کی مخالفت کر کے گزارہ کرنا ہمارے لئے مشکل ہے۔ اسی طرح کے دیگر عذر بھی وہ پیش کرتے ہیں۔ شاید نہیں جانتے کہ کافروں کے بڑے بڑے سردار بھی حق کو پہچانتے تھے اور اسی طرح کے حیلے بہانے میں پڑ کر ہی وہ حق کو چھوڑے ہوئے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اشْتَرَوْا بِآیاتِ اللَّہ ثَمَنًا قَلِیلًا​

(التوبۃ:9)

انہوں نے اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا۔​

نیز فرمایا:

یعْرِفُونَہ كَمَا یعْرِفُونَ أَبْنَاءَہمْ

(البقرہ:146)

وہ محمدﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو۔​

لیکن اگر کوئی شخص توحید کو سمجھے بغیر، یا دل میں ایمان رکھے بغیر صرف ظاہر میں توحید پر عمل کرتا ہے تو وہ منافق ہے جو کافر سے بھی بدتر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ

(النساء:145)

بے شک منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں رہیں گے۔​

یہ مسئلہ انتہائی اہم اور طویل ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ آپ کو اس وقت ہوگا جب اس سلسلہ میں لوگوں کی باتوں پر غور کریں گے۔ چنانچہ بعض لوگ تو آپ کو ایسے ملیں گے جو حق کو پہچانتے تو ہیں لیکن دنیاوی جاہ و منصب اور جان و مال کے کم ہو جانے کے ڈر سے اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ توحید کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ تو اس کا کوئی علم ان کے پاس نہیں ہوتا۔

لہٰذا ایسی صورت میں قرآن کریم کی دو آیتیں خاص طور سے آپ پیش نظر رکھیں ۔ پہلی آیت یہ ہے:

لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِیمَانِكُمْ

(التوبۃ:66)

بہانے مت بناؤ، تم ایمان لا کر، ایمان کا دعویٰ کر کے، پھر کافر ہو گئے۔​

اس آیت میں رسول اللہﷺ کے ساتھ رومیوں سے غزوہ کرنے والے بعض صحابہ کو جب اس وجہ سے کافر کہہ دیا گیا کہ انہوں نے ہنسی مذاق کے طور پر ایک کفریہ بات اپنی زبان سے نکال دی تھی تو پھر سوچیں کہ اس شخص کا کیا حال ہوگا جو کسی کی دل جوئی کے لئے یا مال و منصب کے کم ہو جانے کے ڈر سے کفر کی باتیں کہتا یا اس پر عمل کرتا ہو؟

اس سلسلہ کی دوسری آیت، اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

مَن كَفَرَ بِاللَّہ مِن بَعْدِ إِیمَانِہ إِلَّا مَنْ أُكْرِہ وَقَلْبُہ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیمَانِ

(النحل:106)

جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے، وہ نہیں جو کفر پر مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔​

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف اس شخص کو قابل معافی بتایا ہے جسے کفر پر مجبور کر دیا گیا ہو مگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ اس کے علاوہ باقی سارے لوگ کافر ہیں۔ خواہ انہوں نے ڈر کی وجہ سے کفر کا کلمہ اپنی زبان سے نکالا ہو یا کسی کی دلجوئی کے لئے، وطن یا اہل و عیال اور مال و متاع کی محبت میں کفر یہ بات کہی ہو یا مذاق کے طور پر یا کسی اور مقصد کے تحت، بہر حال وہ کافر شمار ہوں گے، جیسا کہ مذکورہ بالا آیت اس مسئلہ پر درج ذیل پہلوؤں سے دلالت کرتی ہے:

1: (اِلَّا مَن اُکرِہَ) (وہ شخص جسے کفر پر مجبور کر دیا گیا ہو) کے جملے سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صر ف مجبور کئے گئے شخص کو کفر سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ انسان کو صر ف زبان یا عمل پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ دلی اعتقاد پر کوئی بھی شخص کسی کو مجبور نہیں کرسکتا۔

2: مذکورہ آیت کی دلالت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ذَٰلِكَ بِأَنَّہمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیاۃ الدُّنْیا عَلَى الْآخِرَۃ

(النحل:107)

یہ اس لئے ہوگا کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کیا۔​

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ صراحت فرما دی ہے کہ یہ کفر اور عذاب، اعتقاد یا جہالت یا دین سے نفرت یا کفر کی محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ اس کے اندر انہیں دنیا کی لذت نظر آئی جس کو انہوں نے آخرت پر ترجیح دی۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اأعلم۔۔۔۔۔۔ والحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین، آمین۔

٭٭٭

کمپوزنگ: أبوبکرالسلفی

ماخذ: اردو مجلس

http://www.urdumajlis.net/threads/%DA%A9%D8%B4%D9%81-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%AA%D8%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%88%DB%81%D8%A7%D8%A8-%D8%AA%D9%85%DB%8C%D9%85%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81.18695/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید