FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

سنت کی آئینی حیثیت

 

حصہ اول

 

                   سید ابوالاعلیٰ مودودی

 

ٹائپنگ:     قسیم حیدر، فہد کیہر، خاور بلال، ماوراء، محمد شمشاد خاں، محب علوی

تصحیح:       جویریہ مسعود، اعجاز عبید

 

 

 

دیباچہ

 

انکارِ سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سبسے پہلے دوسری صدی ہجری میں اٹھا تھا اور اس کے اٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلاناچاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھیجس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضورؐ کے وہارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔اس بنا پر انہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کیدو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اوریونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد او ر اصول و احکام کے بارےمیں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، انہیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہکسی نہ کسی طرح انہیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصلنہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ انہوں نے ہراس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلامکی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کےمطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے انہوں نے بھیخوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔

 

اندونوں فتنوں کی غرض اور ان کی تکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کےلانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے اور اس نظامِ فکر و عمل سے جو خدا کےپیغمبر نے اپنی راہنمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سےلے لیا جائے اور پھر اس کی من مانی تاویلات کر کے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جسپر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو تکنیک انہوں نے اختیار کی، اس کے دوحربے تھے۔ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الواقعحضورؐ کی ہیں بھی یا نہیں۔ دوسرے، یہ اصولی سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعلحضورؐ کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت و اتباع کے پابند کب ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئےتھے، سو انہوں نے وہ پہنچا دیا۔ اس کے بعد محمدؐ بن عبد اللہ ویسے ہی ایک انسان تھےجیسے ہم ہیں۔ انہوں نے جو کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے ہو سکتا ہے۔

 

یہدونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تکاسلامی دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت انفتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:

 

۱۔ محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جسنے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم کی سنت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہنہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیےبہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔

 

۲۔ قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نےعام لوگوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم کی وہ حیثیت ہر گز نہیں ہے جو منکرین حدیث حضورؐ کو دینا چاہتے ہیں۔ آپﷺ قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ بر مقرر نہیں کیے گئے تھے  بلکہ آپﷺ کو خدا نے معلم، رہنما، مفسرِ قرآن، شارعِ قانون اور قاضی و حاکم بھی مقررکیا تھا۔ لہٰذا خود قرآن ہی کی رو سے آپﷺ کی اطاعت و پیروی ہم پر فرض ہے اور اس سےآزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیںہے۔

 

۳۔ منکرین سنت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انہوں نے عاممسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سنت رسول اللہؐ سے جب کتابُ اللہکا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بری طرح بگڑتا ہے، خدا کی کتاب کے ساتھکیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونےسامنے آتے ہیں۔

 

۴۔ امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیےتیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسولؐ کی اطاعت و پیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔  چندسرپھرے انسان تو ہر زمانے میں اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تکی باتوں ہیمیں وزن محسوس کرتے ہوں مگر پوری امت کا سرپھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوںکے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسولؐ کی رسالتپر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایکسیدھا سادا مسلمان جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملاً نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتاہے، لیکن یہ عقیدہ اختیار کبھی نہیں کر سکتا کہ جس رسول پر وہ ایمان لایا ہے اس کیاطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخرکارمنکرینِ سنت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑیبدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظامِ زندگی کو، اس کےتمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت، رد کر دیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدیناور فقہائے امت کی رہنمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقاء کرتا چلا آ رہاتھا اور اسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جودنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اسلام کا ایک جدید ایڈیشن نکالناچاہتے ہوں۔

 

اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکارِ سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنیشمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہپھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا۔ اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندوستان میںلیا۔ یہاں اس کی ابتداء کرنے والے سر سید احمد خاں اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھرمولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ اسے کے بعد مولوی احمد الدین امرتسرینے اس کا بیڑا اٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخرکاراس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہاتک پہنچا دیا ہے۔

 

اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلیمرتبہ اس کی پیدائش کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اسلامی تہذیبوں سےسابقہ پیش آنے پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا اور تنقید کیے بغیر باہر کیان ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوششکرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرھویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقتمسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی و سیاسی غلبہ حاصل تھا اور جن فلسفوں سے انہیں سابقہپیش آیا تھا، وہ مفتوح و مغلوب قوموں کے فلسفے تھے۔اس وجہ سے ان کے ذہن پر انفلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔اس کے برعکس تیرھویںصدی میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدارکی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ان کومعاشی حیثیت سے بری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کانظامِ تعلیم درہم برہم کر دیا گیاتھا اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اوراپنے اجتماعی و سیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میںجب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوںسے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوبذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سےجو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصولِ تہذیب و تمدن اور جو قوانینِ حیات آ رہےہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اسلام کے نقطۂ نظر سے تنقید کر کے حق و باطل کافیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کوکسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔

 

اس غرض سے جب انہوں نے اسلام کی مرمتکرنی چاہی تو انہیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے کے معتزلہ کو پیش آئی تھی۔انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے نظامِ حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میںقائم کیا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے۔ اسی سنت نے قرآن کیہدایات کا مقصد و منشا متعین کر کے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے۔ اوراسی نے ہر شعبۂ زندگی میں اسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیادوں پر تعمیر کر دیے ہیں۔لہٰذا اسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سنت سے پیچھا چھڑا لیاجائے۔ اس کے بعد صرف قرآن کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہوگا، نہ کوئی مستند تعبیر و تشریح ہو گی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوںگی۔ ان کو تاویلات کا تختۂ مشق بنانا آسان ہو گا اور اس طرح اسلام بالکل ایک موم کاگولہ بن کر رہ جائے گا جسے دنیا کے ہر چلتے ہوئے فلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئیصورت دی جا سکے گی۔

 

اِس مقصد کے لیے انہوں نے پھر وہی تکنیک، انہی دو حربوں کےساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحتمیں شک ڈالا جائے جن سے سنت ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف سنت کو بجائے خود حجت وسند ہونے سے انکار کر دیا جائے۔ لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس ٹیکنیک اور اس کےحربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنےکا عَلم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتےتھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے۔ اور ان کو سابقہ بھی اسمسلمان پبلک سے تھا جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیاربہت بلند تھا، جس میں علومِ دینی کے ماہرین بہت بری تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھےاور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزیہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہتسنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کےلیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سر سید کے زمانہ سے لے کر آج تک درجہ بدرجہایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہےجس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے اور”تعلیم یافتہ” اس شخص کا نام ہے جو دنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پربہت مہربانی کرے تو کبھی اس کو ترجموں۔۔۔ اور وہ بھی انگریزی ترجموں۔۔۔ کیمدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات۔۔۔ اور وہبھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات۔۔۔ پر اکتفا کرے، اسلامی روایات پر زیادہسے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ کچھ بوسیدہہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے، پھر اس ذخیرۂ علمِ دینکے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کنرائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزالکی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے۔ظاہر ہے۔ یہاں علم کماور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔

 

اب جو ٹیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیےاستعمال کیا جا رہا ہے، اس کے اہم اجزاء یہ ہیں:

 

۱۔ حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیےمغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں ان پر ایمان لانا اور اپنی طرف سےحواشی کا اضافہ کر کے انہیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تا کہ ناواقف لوگ اس غلطفہمی میں مبتلا جائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن کے سوا کوئی چیزبھی امت کو قابلِ اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے۔

 

۲۔ احادیث کے مجموعوں کو عیبچینی کی غرض سے کھنگالنا۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نےکبھی قرآن کو کھنگالا تھا اور ایسی چیزیں نکال نکال کر بلکہ بنا بنا کر عوام کےسامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جا سکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرمناک یا مضحکہخیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اسلام کورسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفترِ بے معنی کو غرق کر دو۔

 

۳۔ رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم کے منصبِ رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اسقدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔

 

۴۔ صرف قرآن کو اسلامی قانون کا مآخذ قراردینا اور سنتِ رسولؐ کو اسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا۔

 

۵۔ امت کے تمامفقہاء، محدثین، مفسرین اور ائمۂ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تا کہ مسلمان قرآنمجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑجائیں کہ ان سب نے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردے ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھیتھی۔

 

۶۔ خود ایک نئی لغت تصنیف کر کے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنااور آیاتِ قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دنیا کے کسی عربی دان آدمیکو قرآن میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ ہے کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کے سامنے اگرقرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ دی جائیں تو وہ انہیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔لیکن ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے اس لیے اگر ان کے بیانکردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہیکا ہے)۔

 

اس تخریبی کام کے ساتھ ساتھ ایک نئے اسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کےبنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:

 

اس کاپہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کر کے ایک مرکزی حکومت کے تصرف میں دےدیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیمِ رزق کی مختارِ کُل ہو۔ اس کا نام ہے “نظامِ ربوبیت” اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا۔ مگرپچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرتِ مارکساور ان کے خلیفۂ خاص حضرتِ اینجلز قرآن کے اس مقصدِ اصل کو پا سکے۔

 

اس کا دوسرااصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعاً کوئیجماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تا کہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجوداگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کی مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہکر سکیں۔

 

اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس “اللہ اور رسول” پر ایمان لانے اور جس کی اطاعت بجا لانے اور جسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سےمراد ہے “مرکزِ ملت”۔ یہ مرکزِ ملت چونکہ خود “اللہ اور رسولؐ” ہے۔ اس لیے قرآن کوجو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوالسرے سے اٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ و ہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حراماور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔ اس کا فرمان شریعت ہے اور عبادات سے لے کر معاملاتتک جس چیز کی جو شکل بھی وہ تجویز کر ے، اس کا ماننا فرض بلکہ شرطِ اسلام ہے۔ جس طرح”بادشاہ” غلطی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح “مرکزِ ملت” بھی سبوح و قدوس ہے۔ لوگوں کا کام اسکے سامنے بس سر جھکا دینا ہے۔ “اللہ اور رسول” نہ تنقید کے ہدف بن سکتے ہیں، نہ انکے خطاکار ہونے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ ان کو بدلا ہی جا سکتا ہے۔

 

اسنئے اسلام کے “نظامِ ربوبیت” پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقیتمام تعمیری اور تخریبی اجزاء چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ ہمارےحکمرانوں کے لیے اس کا تصور “مرکزِ ملت” بہت اپیل کرنے والا ہے۔ اس لازمی شرط کےساتھ کہ مرکزِ ملت وہ خود ہوں اور یہ خیال بھی انہیں بہت پسند آتا ہے کہ تمام ذرائعان کے تصرف میں ہوں اور قوم پوری طرح غیر منظم ہو کر ان کی مٹھی میں آ جائے۔ ہمارےججوں اور قانون پیشہ لوگوں کا ایک عنصر اسے اس لیے پسند کرتا ہے کہ انگریزی حکومتکے دور میں جس قانونی نظام کی تعلیم و تربیت انہوں نے پائی ہے، اس کے اصولوں اوربنیادی تصورات و نظریات اور جزئی و فروعی احکام سے اسلام کا معروف قانونی نظام قدمقدم پر ٹکراتا ہے  اور اس کے مآخذ تک بھی ان کی دسترس نہیں ہے، اس بنا پر وہ اسخیال کو بہت پسند کرتے ہیں کہ سنت اور فقہ کے جھنجھٹ سے انہیں نجات مل جائے اور صرفقرآن باقی رہ جائے جس کی تاویل کرنا جدید لغت کی مدد سے اب اور بھی زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیوںکہ اسلام سے نکل کر مسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلالاور “ملا کے اسلام” میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلالکرنے والوں کے ہاتھ میں ہو۔

 

میں پچھلے پچیس چھبیس سال میں اس فتنے کی تردیدکے لیے بہت سے مضامین لکھ چکا ہوں جو میری متعدد کتابوں میں درج ہیں۔ اس وقت جنمضامین کا مجموعہ شائع کیا جا رہا ہے، وہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں وہپوری مراسلت یکجا درج کر دی گئی ہے جو سنت کی آئینی حیثیت کے بارے میں میرے اورڈاکٹر عبدالودود صاحب کے درمیان ہوئی تھی۔ دوسرے حصے میں مغربی پاکستان ہائی کورٹکے ۲۱ جولائی ۱۹۶۰ کے مقدمہ رشیدہ بیگم بنام شہاب الدین وغیرہ میں صادر فرمایا ہے اور میں نے اس پر مفصل تنقید کی ہے۔ ان دونوں حصوں میں ناظرین ایک طرف منکرین سنتکے تمام مسائل اور دلائل ان کی اپنی زبان میں ملاحظہ فرما لیں گے اور دوسری طرفانہیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دین کے نظام میں سنت کی اصل حیثیت کیا ہے۔ اس کےبعد یہ رائے قائم کرنا ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ کس مسلک کو قبول کرتا ہے۔

 

جنحضرات تک یہ مجموعہ پہنچے ان سے میں ایک خاص گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بحث دین کےایک نہایت اہم بنیادی مسئلے سے تعلق رکھتی ہے۔ جس میں کسی ایک پہلو کو ترک اوردوسرے کو اختیار کرنے کے نتائج بڑے دور رس ہیں۔ بد قسمتی سے دین کی اساس کے متعلق یبحث ہمارے ملک میں نہ صرف چھڑ چکی ہے بلکہ ایک نازک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہمارےاربابِ اقتدار کا ایک معتد بِہ عنصر انکارِ سنت کے مسلک سے متاثر ہو رہا ہے۔ ہماریاعلیٰ عدالتوں کے جج اس کا اثر قبول کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہائی کورٹ سے ایک فیصلہکلیۃً انکارِ سنت کی بنیاد پر صادر ہو چکا ہے جو آگے نہ معلوم اور کن کن مقدمات میںنظیر کا کام دے۔ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں اور خصوصاً سرکاری دفتروں میں یہتحریک منظم طریقے سے چل رہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن حضرات تک بھی یہ مجموعہپہنچے وہ نہ صرف خود گہری نظر سے اس کا مطالعہ فرمائیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اسکے مطالعہ کی طرف توجہ دلائیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ سنت کے قائل ہوں یا منکر۔ رائےجو شخص جیسی بھی چاہے قائم کرے، مگر کسی پڑھے لکھے آدمی کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہےکہ محض یک رخے مطالعہ پر اپنا ایک ذہن بنا لے اور دوسرا رخ دیکھنے سے انکار کر دے۔اس مجموعہ میں چونکہ دونوں رخ پوری وضاحت کے ساتھ آ گئے ہیں اس لیے امید ہے کہ یہقائلینِ سنت اور منکرینِ سنت، دونوں کو ایک متوازن رائے قائم کرنے میں مدد دےگا۔

 

خاکسار ابوالاعلیٰ

لاہور، ۳۰ جولائی ۱۹۶۱

 

 

 

ایکاہم مراسلت

 

 

ذیل میں وہ مراسلت درج کی جا رہی ہے جو”بزمِ طلوع اسلام” کے ایک نمایاں فرد جناب ڈاکٹر عبدالودود صاحب اور مصنف کے درمیانسنت کو اسلام کے آئین کی بنیاد ماننے کے مسئلے پر ہوئی تھے۔

 

                   ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط

 

مخدوم و محترم مولانا! دامظلکم

السلام علیکم۔ دستوری تدوین کے اس فیصلہ کن مرحلے پر ہر سچے مسلمان کی دینیامنگوں کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کا آئین اسلام کی مستقل اقدار کی اساس پرترتیب و تکمیل پائے۔ اس سلسلے میں آئین کمیشن کی سوالنامہ کے جواب میں آپ اور دیگرحضرات کا یہ متفقہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ آئینِ پاکستان کی بنیاد “کتاب و سنت”پر ہونی چاہیے۔ مجھے نہ تو “سنت” کی حقیقی اہمیت سے مجالِ انکار ہے اور نہ اس کی اساہمیت کو ختم کرنا مقصود لیکن جب اسلامی آئین کی اساس کے طور پر سنت کا ذکر کیا جاتاہے تو ایک اشکال ذہن میں لازماً پیدا ہوتا ہے اور اس سے جو سوال ابھرتے ہیں، میںانہیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اولین فرصت میں اساشکال کا حل تحریر فرمائیں گے۔ سوالات حسبِ ذیل ہیں:

 

۱۔ آپ کے نزدیک “سنت” سےکیا مراد ہے؟ یعنی جس طرح “کتاب” سے مراد قرآن مجید ہے اسی طرح سنت (یعنی سنت رسولاللہؐ) سے کیا مرا د ہے؟

 

۲۔ کیا (قرآن کی طرح) ہمارے ہاں ایسی کوئی کتاب موجودہے جس میں سنتِ رسول اللہؐ مرتب شکل میں موجود ہو؟ یعنی قرآن کی طرح اس کی کوئیجامع و مانع کتاب ہے؟

 

۳۔ کیا سنت رسول اللہ کی اس کتاب کا متن تمام مسلمانوں کےنزدیک اسی طرح متفق علیہ ہے اور شک و تنقید سے بالا تر ہے جس طرح قرآن کامتن؟

 

۴۔ اگر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں تو پھر جس طرح یہ بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فلاں فقرہ قرآنِ مجید کی آیت ہے اسی طرح یہ کیونکر معلوم کیا جائے گا کہفلاں بات سنت رسول اللہؐ ہے یا نہیں؟

 

۵۔میں آپ کو یقین دلا دوں کہ جہاں تکاسلامی آئین کی ضرورت کا تعلق ہے میں قلب و نظر کی پوری ہم آہنگی سے اسے ایک مسلمانکی زندگی کا نصب العین قرار دیتا ہوں۔ میری ان مخلصانہ گزارشات کا مقصد یہ ہے کہاسلامی آئین کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام پسند ذہنوں میں اس کا ایک واضح متفق علیہاور ممکن العمل تصور موجود ہو، تاکہ ملک کا لادینی ذہن جو پوری شدت سے اسلامی آئینکے خلاف مصروفِ کار ہے، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام پسند عناصر میں انتشار کیصورت پیدا نہ کر سکے۔ چونکہ آئین کے سلسلے میں عام لوگوں کے ذہن میں ایک پریشانی سیپائی جاتی ہے۔ اس لیے اگر عوام کی آگاہی کے لیے آپ کے موصولہ جواب کو شائع کر دیاجائے تو مجھے امید ہے کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

نیاز آگیں

عبدالودود

 

                   جواب

 

مکرمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عنایت نامہ مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۶۰ وصول ہوا۔ آپ نے جو سوالات کیے ہیں۔ وہآج پہلی مرتبہ آپ نے پیش نہیں کیے ہیں۔ اس سے پہلے یہی سوالات دوسرے گوشوں سے آ چکےہیں اور ان کا جواب بھی واضح طور پر میں دے چکا ہوں۔ ایک ہی طرح کے سوالات کا مختلفگوشوں سے بار بار دہرایا جانا اور پہلے کے دیے ہوئے جوابات کو ہمیشہ نظر انداز کردینا کوئی صحیح بات نہیں ہے۔ اگر بالفرض آپ کے علم میں میرے وہ جوابات نہیں ہیں جومیں اب سے بہت پہلے دے چکا ہوں۔ تو میں اب آپ کو ان کا حوالہ دیئے دیتا ہوں (ملاحظہہو، ترجمان القرآن، جنوری ۵۸ ء، صفحہ ۲۰۹ تا ۲۲۰، دسمبر ۵۸ ء، صفحہ ۱۶۰ تا ۱۷۰)۔آپ انہیں پڑھ کر مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ آپ کے سوالات میں سے کس سوال کا جوابان میں نہیں ہے۔ اور جن سوالات کا جواب موجود ہے، اس پر آپ کو کیا اعتراضہے۔

 

اگر آپ اپنے اس عنایت نامے کے ساتھ میرے اس جواب کو شائع کرنے کا کوئی ارادہرکھتے ہوں تو براہِ کرم میرے مذکورہ بالا دونوں مضامین بھی بجنسہٖ شائع فرما دیں۔کیونکہ دراصل وہی میری طرف سے آپ کے ان سوالات کا جواب ہیں۔ اس لیے آپ یہ نہیں کہہسکتے کہ میں نے آپ کو جواب دینے میں پہلو تہی کیہے۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

 

                   ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط

 

مولانائے محترم! زید مجدکم

السلام علیکم۔ گرامی نامہ ملا۔ جس کے لیے میں آپ کا شکر گذار ہوں۔ مجھے اس کاعلم ہے کہ اس قسم کے سوالات اس سے پہلے بھی کئی گوشوں سے کیے گئے ہیں لیکن مجھے خاصطور پر استفسار کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ میری نظر سے ان سوالات کے ایسے جواباتآج تک نہیں گزرے جو متعین اور واضح ہوں۔

 

آپ نے اپنے جن مضامین کی نشاندہی فرمائیہے، میں نے انہیں دیکھا ہے لیکن مجھے بڑے افسوس سے یہ عرض کرنے دیجئے کہ ان سے بھیمیرے سوالات کا متعین جواب نہیں مل سکا بلکہ ان سے میری الجھن بڑھ گئی ہے۔

 

اسلیے کہ ان میں کئی باتیں ایسی ہیں جو آپ کی دوسری تحریروں سے مختلف ہیں۔ بہرحالچونکہ میرا مقصد مناظرہ بازی نہیں (اور نہ آپ کے احترام کے پیش نظر میں ایسی جرأتکر سکتا ہوں) بلکہ محض بات کا سمجھنا ہے اس لیے جو کچھ میں آپ کے مضامین سے سمجھسکا ہوں، اسے نیچے لکھتا ہوں۔ اگر میں نے مفہوم کو صحیح سمجھتا ہے تو توثیق فرمادیجئے اور اگر غلط سمجھا ہے تو براہِ کرم اس کی تصریح کر دیجئے۔ اس کے لیے میں آپ کاشکر گذار ہوں گا۔

 

۱۔ آپ نے فرمایا ہے کہ نبی ا کرم (ﷺ) نے ۲۳ برس کی پیغمبرانہزندگی میں قرآن مجید کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا یا عملاً کیا اسے سنتِ رسولاللہ کہتے ہیں۔ اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں:

 

(الف) رسول اللہ (ﷺ) نے اس ۲۳سالہ زندگی میں جو باتیں اپنی شخصی حیثیت سے ارشاد فرمائیں یا عملاً کیں وہ سنت میںداخل ہیں۔

 

(ب) سنت، قرآنی احکام و اصول کی تشریح ہے۔ قرآن کے علاوہ دین کے اصولیا احکامتجویز نہیں کرتی اور نہ ہی سنت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کرتی ہے۔

 

۲۔آپ نے فرمایا ہے کہ کوئی کتاب ایسی نہیں کہ جس میں سنتِ رسول اللہ بہ تمام و کمالدرج ہو اور جس کا متن قرآن کے متن کی طرح تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہو۔

 

۳۔آپ نے فرمایا ہے کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے صحیح احادیث کو الگ کیاجائے گا۔ اس کے لیے روایات کو جانچنے کے جو اصول پہلے سے مقرر ہیں وہ حرف آخر نہیں۔اصولِ روایات کے علاوہ درایت سے بھی کام لیا جائے گا اور درایت انہی لوگوں کی معتبرہو گی جن میں علومِ اسلامی کے مطالعہ سے ایک تجربہ کار جوہری کی بصیرت پیدا ہو چکیہو۔

 

۴۔  احادیث کے اس طرح پرکھنے کے بعد بھی یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ یہ اسیطرح کلامِ رسول (ﷺ) ہیں جس طرح قرآن کی آیات،  اللہ کا کلام۔

 

مجھے آپ کے جواب کاانتظار رہے گا۔ والسلام

 

نیاز آگیں

عبد الودود

 

                   جواب

 

محترمی و مکرمی، السلام علیکم و رحمۃ اللہ

آپ کاعنایت نامہ مورخہ ۲۴ مئی ۶۰ء ڈاک سے مل چکا تھا۔ اس کے بعد آپ نے دوبارہ ۲۸مئی کودستی بھی اس کی ایک نقل مجھے ارسال فرما دی لیکن میں مسلسل مصروفیت کے باعث اب تکجواب نہ دے سکا جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

 

مجھے مسرت ہے کہ آپ نے اس عنایت نامہمیں یقین دلایا ہے کہ آپ کا مقصد اس مراسلت سے کوئی مناظرہ بازی نہیں ہے بلکہ آپبات سمجھنا چاہتے ہیں۔ میں آپ جیسے شخص سے اسی چیز کا متوقع بھی تھا لیکن جو طریقہآپ نے اپنی مراسلت میں بات سمجھنے کے لیے اختیار فرمایا ہے وہ اس یقین دہانی کےساتھ کچھ مطابقت رکھتا ہوا کم از کم مجھے تو محسوس نہیں ہوتا۔ آپ ذرا اپنا ۲۱ مئیکا خط نکال کر ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں آپ نے ۴ متعین سوالات میرے سامنے پیش کر کےان کا جواب مانگا تھا۔ میں نے اسی تاریخ کو اس خط کے جواب میں آپ کو لکھا کہ آپجنوری ۵۸ء اور دسمبر ۵۸ء کے ترجمان القرآن میں میرے فلاں فلاں مضامین ملاحظہ فرماکر “مجھے تفصیل کے ساتھ بتائیں کہ آپ کے سوالات میں سے کس سوال کا جواب ان میں نہیں ہے اورجن سوالات کا جواب موجود ہے اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے”۔ لیکن آپ نے ان مضامین کوملاحظہ فرما کر اپنے ابتدائی سوالات کی روشنی میں ان پر کوئی کلام کرنے کے بجائےکچھ اور سوالات ان پر قائم کر دیے اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں ان کا جواب دوں۔ کیاواقعی یہی کسی بات کو سمجھنے کا طریقہ ہے کہ ایک بحث کو طے کرنے سے پہلے دوسری بحثچھیڑ دی جائے اور بلا نہایت اسی طرح بات میں سے بات نکالنے کا سلسلہ چلتارہے؟

 

آپ کے نئے سوالات پر گفتگو کرنے سے پہلے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنےابتدائی سوالات کی طرف پلٹیں اور خود دیکھیں کہ ان میں سے ایک ایک کا میرے انمضامین میں کیا جواب آپ کو ملا تھا اور آپ نے اس سے کس طرح گریز کیا ہے۔

 

سنتکیا چیز ہے؟

 

آپ نے چار سوالات اس بناء پر اٹھائے تھے کہ ہم نے آئین کمیشنکے سوالات کا جواب دیتے ہوئے “اسلامی آئین کی اساس کے طور پر سنت کا ذکر کیا ہے”۔دوسرے الفاظ میں آپ کے یہ سوالات سنت کی قانونی حیثیت سے متعلق تھے۔ اس سلسلے میںآپ کا پہلا سوال یہ تھا:

 

“آپ کے نزدیک سنت سے کیا مراد ہے؟ یعنی جس طرح “کتاب” سے مراد قرآن ہے اسی طرح سنت (یعنی سنت رسول اللہ) سے کیا مراد ہے؟”

 

اس کے جوجوابات میرے مذکورہ بالا مضامین میں آپ کے سامنے آئے وہ یہ ہیں:

 

یہی محمدی تعلیموہ بالاتر قانون (Supreme Law) ہے جو حاکمِ اعلیٰ (یعنی اللہ تعالیٰ) کی مرضی کینمائندگی کرتا ہے۔ یہ قانون محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے ہم کو دو شکلوں میں ملا ہے۔ایک قرآن، جو لفظ بلفظ خداوندِ عالم کے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے۔ دوسرے محمد صلیاللہ علیہ و سلم کا اسوۂ حسنہ، یا آپﷺ کی سنت، جو قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کرتیہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینےکے سوا ان کا کوئی کام نہ ہوتا۔ وہ اس کے مقرر کیے ہوئے رہنما، حاکم اور معلم بھیتھے۔ انﷺ کا کام یہ تھا کہ اپنے قول اور عمل سے قانون الٰہی کی تشریح کریں، اس کاصحیح منشا سمجھائیں، اس کے منشا کے مطابق افراد کی تربیت کریں، پھر تربیت یافتہافراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دے کر معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد کریں، پھر اصلاحشدہ معاشرے کو ایک صالح و مصلح ریاست کی صورت دے کر یہ دکھا دیں کہ اسلام کے اصولوںپر ایک مکمل تہذیب کا نظام کس طرح قائم ہوتا ہے۔ آنحضرت کا یہ پورا کام، جو ۲۳ سالہپیغمبرانہ زندگی میں آپ نے انجام دیا، وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰکے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے اور اسی قانون برتر کا نام اسلامی اصطلاحمیں شریعت ہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۵۸ء، صفحہ ۲۱۰-۲۱۱)

 

“یہ ایک ناقابل انکارتاریخی حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہتعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ ایک ہمہ گیرتحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیانظامِ تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہقرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے یہ آخر کسحیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کینمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنا دینے کے بعدختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپ عام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان رہ جاتے تھے۔ جسکا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا؟ پہلی بات تسلیمکی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ملنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔

 

جہاں تک قرآنکا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف نامہ برنہیں تھے بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر، حاکم اور معلم بھی تھے جن کیپیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہل ایمان کے لیےنمونہ قرار دیا گیا تھا، جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محضایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغاز اسلام سے آج تکبالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نمونۂ واجبالاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی غیر مسلمعالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت کی یہیحیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرامآخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا کہ کوئی شخص سنت کی اس قانونیحیثیت کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہو سلم صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیتِنبوی ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہو گا کہ یہمرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے حضورﷺ کو یہیمرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورتمیں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہو گا”۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۵۸ء، صفحہ ۲۱۶۔ ۲۱۷)

 

اب آپ فرمائیں کہ آپ کو اپنے اس سوال کا جواب ملا یا نہیں کہ “سنت سے کیا مراد ہے؟” اور آپ کو یہ معلوم ہوا یا نہیں کہ اسلامی آئین کی اساس کےطور پر جس سنت کا ذکر کیا جاتا ہے وہ کیا چیز ہے؟ دوسرے سوالات چھیڑنے سے پہلے آپکو یہ بات صاف کرنی چاہیے تھی کہ آیا آپ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نےقرآن پڑھ کر سنا دینے کے سوا دنیا میں اور کوئی کام کیا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہے تووہ کس حیثیت میں تھا؟ اگر آپ کی رائے میں یہ کام کر دینے کے بعد آنحضرت صلی اللہعلیہ و سلم صرف ایک مسلمان تھے عام مسلمانوں کی طرح اور ان زائد از تلاوتِ قرآناقوال و افعال میں آنحضرت کی حیثیت ایک نبی کی نہ تھی تو صاف صاف یہ بات کہیے اوریہ بھی بتائیے کہ آپ کی اس رائے کا مآخذ کیا ہے؟ یہ آپ کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے یاقرآن سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟ اور اگر آپ یہ بات مانتے ہیں کہ خدا کے مقرر کردہہادی، حاکم، قاضی، معلم، مربی کی حیثیت سے آنحضورﷺ نے ایک مسلم معاشرہ تیار کرنے اورایک ریاست کا نظام بنا کر اور چلا کر دکھانے کا جو کارنامہ انجام دیا اس میں آپ کیحیثیت ایک نبی کی تھی۔ یہ وہی سنت ہے یا نہیں جسے اسلام میں آئین کی اساس کامرتبہ حاصل ہونا چاہیے؟ یہ بحث بعد کی ہے کہ اس سنت کا اطلاق کن چیزوں پر ہوتا ہےاور کن پر نہیں ہوتا۔ پہلے تو آپ یہ بات صاف کریں کہ قرآن کے علاوہ سنتِ رسول خودکوئی چیز ہے یا نہیں؟ اور اس کو آپ قرآن کے ساتھ مآخذ قانون مانتے ہیں یا نہیں؟ اورنہیں مانتے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ یہ بنیادی بات جب تک صاف نہ ہو لے، ان ضمنیسوالات پر جو آپ نے اپنے دوسرے عنایت نامے میں چھیڑے ہیں، بحث کرنے کا آخر فائدہکیا ہے؟

 

سنت کس شکل میں موجود ہے؟

 

آپ کا دوسرا سوال یہ تھا:

“کیاقرآن کی طرح ہمارے ہاں ایسی کوئی کتاب موجود ہے جس میں سنت رسول اللہ مرتب شکل میںموجود ہو، یعنی قرآن کی طرح اس کی کوئی جامع و مانع کتاب ہے؟”

 

اس سوال کا جوجواب میرے محولہ بالا مضامین میں موجود ہے اور اگر آپ نے ان کو بغور پڑھا ہے تو آپکے سامنے بھی وہ آیا ہو گا، اسے میں پھر یہاں نقل کیے دیتا ہوں تاکہ جب نہیں تو ابآپ اسے ملاحظہ فرما لیں:

 

“سنت کو بجائے خود مآخذ قانون تسلیم کرنے کے بعدیہسوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے معلوم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ میں اس کے جواب میں عرضکروں گا کہ آج پونے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس سوال کا سابقہپیش نہیں آ گیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سنتچھوڑی ہے۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابل انکار ہیں:

 

ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اورمحمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہواتھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے، اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقعنہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمامدنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرزِ فکر، اخلاق اور اقدار (Values)، عبادات اورمعاملات، نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جسمیں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو ان کو تمام روئےزمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے، یہیامر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سنت پر قائم کیا گیاتھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیںہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔

 

دوسری تاریخیحقیقت، جو اتنی ہی روشن ہے، یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے ہر زمانےمیں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے اور کیانئی چیز ان کے نظامِ حیات میں کسی جعلی طریقہ سے داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ سنت ان کےلیے قانون کی حیثیت رکھتی تھی، اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کےگھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے، اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروااور لا ابالی نہیں ہو سکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کواسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلاً بعد نسلاً میراث میں ملے ہیں اور بلاانقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔

 

ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی اچھی طرحسمجھ لے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہشبہ لاحق نہیں ہو سکتا کہ یہ کوئی لا ینحل معمہ ہے جس سے وہ آج یکایک دوچار ہو گیاہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۵۸ء، صفحہ ۲۱۹)

 

اس مسئلے پر دوبارہ روشنی ڈالتےہوئے میں نے اپنے دوسرے مضمون میں، جس کا حوالہ بھی میں پہلے آپ کو دے چکا ہوں، یہلکھا تھا کہ:

 

“نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محضایک پیر و مرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد، رہنما، حاکم، قاضی، شارع، مربی، معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمامگوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپ ہی کے بتائے، سکھائے اور مقرر کیے ہوئےطریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لیے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپ نے نماز، روزے اور مناسک حج کیجو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پا گئی ہو اور باقی باتیں محض وعظ وارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرحآپ کی سکھائی ہوئی نماز فوراً مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائمہونے لگیں، اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین آپ صلی اللہعلیہ و سلم نے مقرر کیے انہی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہو گیا، لین دین کے جوضابطے آپ نے مقرر کیے، انہی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا، مقدمات کے جو فیصلے آپ صلیاللہ علیہ و سلم نے کیے وہی ملک کا قانون قرار پائے، لڑائیوں میں جو معاملات آپ صلیاللہ علیہ و سلم نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پا کر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے، وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظامِ حیاتاپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ انہی سنتوں پر قائم ہوا جو آپ نے خود رائج کیں یا جنہیںپہلے کے مروج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپ نے سنت اسلام کا جز بنالیا۔

 

یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھی جن پر مسجد سے لے کر خاندان، منڈی، عدالت، ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام اداراتنے حضورﷺ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی ہی میں عمل درآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میںخلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دور حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کے تسلسل میں ایکدن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے توصرف حکومت و عدالت اور پبلک لا (law)کے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے سے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ان (سنتوں) کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کامتواتر عمل، دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۵۸ء، صفحہ ۱۶۷)

 

پھر اسی سلسلے میں آگے چل کر مزید تشریح کرتے ہوئے میں نے یہ بھیلکھا تھا:

 

“ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنہیںحضورﷺ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں شہرت اور رواج عام حاصل نہ ہوا تھا، جو مختلفاوقات میں حضورﷺ صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی فیصلے، ارشاد، امر و نہی، تقریر[1]، اجازت، یا عمل کو دیکھ کر یا سن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھی اور عام لوگ ان سےواقف نہ ہو سکے تھے۔

 

ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امتنے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروعکر دیا۔ کیونکہ خلفاء، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیشآنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنےسے پہلے یہ معلوم کر لینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہو سلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروعہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علمتھا، خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغازہے اور ۱۱ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہاہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریبسب ناکام بنا دی گئیں کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حل ثابت یا ساقط ہوتا تھا، جن کی بناپر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جس سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزمبری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارےمیں حکومتیں اور عدالتیں اور افتاء کی مسندیں اتنی بے پرواہ نہیں ہو سکتی تھیں کہیونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیتا۔ اسی لیے جو سنتیںاحکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سےان کو چھانا گیا۔ روایت کے اصولوں پر بھی انہیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پربھی اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا، جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا ردکر دی گئی ہے، تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائمکر سکے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۵۸ء، صفحہ ۱۶۸۔۱۶۹)

 

اس جواب کو بغور ملاحظہفرما لینے کے بعد اب آپ فرمائیے کہ آپ کو اپنے دوسرے سوال کا جواب ملا یا نہیں۔ممکن ہے کہ آپ اس پر یہ کہیں کہ تم نے “قرآن کی طرح ایک جامع و مانع کتاب” کا نامتو لیا ہی نہیں جس میں “سنت رسول اللہ مرتب شکل میں موجود ہو”۔ مگر میں عرض کروں گاکہ میرے اس جواب پر یہ اعتراض ایک کج بحثی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ ایک پڑھے لکھےذی ہوش آدمی ہیں۔ کیا آپ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ایک معاشرے اور ریاستکا پورا نظام صرف ایک مدون کتاب آئین (Code) ہی پر نہیں چلا کرتا ہے بلکہ اس کتابکے ساتھ رواجات  (Conventions)، روایات  (Traditions)، نظائر  (Precedents)، عدالتیفیصلوں، انتظامی احکام، اخلاقی روایات وغیرہ کا ایک وسیع سلسلہ بھی ہوتا ہے جو کتابآئین پر عملاً ایک نظام زندگی چلنے کا لازمی نتیجہ ہے۔ یہ چیز ایک قوم کے نظام حیاتکی جان ہوتی ہے جس سے الگ کر کے محض اس کی کتاب آئین نہ تو اس کے نظام حیات کی پوریتصویر ہی پیش کرتی ہے، نہ وہ ٹھیک طور پر سمجھی ہی جا سکتی ہے اور یہ چیز دنیا میںکہیں بھی کسی “ایک جامع و مانع کتاب” کی شکل میں مرتب نہیں ہوتی، نہ ہو سکتی ہے، نہایسی کسی “ایک کتاب” کا فقدان یہ معنی رکھتا ہے کہ اس قوم کے پاس اس کی کتاب آئینکے سوا کوئی ضابطہ و قانون موجود نہیں ہے۔ آپ انگلستان، امریکہ، یا دنیا کی کسی اورقوم کے سامنے یہ بات ذرا کہہ کر دیکھیں کہ تمہارے پاس تمہارے مدون قانون (Conified Law) کے سوا جو کچھ بھی ہے سب ساقط الاعتبار ہے اور تمہاری تمام روایات وغیرہ کویا تو “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب ہونا چاہیے، ورنہ انہیں آئینی حیثیت سے بالکلناقابل لحاظ قرار دیا جانا چاہیے، پھر آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا یہارشاد کتنے وزن کا مستحق قرار پاتا ہے۔

 

کسی کا کہنا کہ عہدِ نبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو “ایک کتاب” کی شکلمیں مرتب شدہ ملنا چاہیے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرز فکر ہے اور وہی شخص یہبات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت کو چھوڑکر تھوڑی دیر کے لیے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجیے جب کہ احوال و وقائع کوریکارڈ کرنے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس زمانے میں کوئیلیڈر ایسا موجود ہے جو ۲۳ سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریکبرپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لےکر ایک پورے ملک کی فکری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اسمعاشرے میں اس کی ذات ہر وقت ایک مستقل نمونۂ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگاس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے۔ ہرطرح کے لوگ شب و روز اس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت واخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اصولی ہدایات بھی دیتا ہے اورجزئی احکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہسالار بھی تنہا وہی ہے اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اصولوںپر قائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میںبھی یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب ہوسکتا ہے؟ کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کیمشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پرپورے معاشرے کی ہیئت اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہینہیں ہے۔ جس کا اعتبار کیا جا سکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریریںسننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار اشخاص کیرپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ “ایک کتاب” کیشکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے، اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونیفرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوںمیں موجود ہے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، کیونکہ وہ “ایک جامع و مانع کتاب” کیشکل میں تو ہے ہی نہیں؟

 

ان امور پر اگر بحث کی نیت سے نہیں بلکہ بات سمجھنے کینیت سے غور کیا جائے تو ایک ذی فہم آدمی خود محسوس کر لے گا کہ یہ “ایک کتاب” کامطالبہ کتنا مہمل ہے۔ اس طرح کی باتیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند نیم خواندہ اورفریب خوردہ عقیدت مندوں کے سامنے کر لی جائیں تو مضائقہ نہیں، مگر کھلے میدان میںپڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ان کو چیلنج کے انداز میں پیش کرنا بڑی جسارت ہے۔

 

کیا سنت متفق علیہ ہے؟ اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟

 

آپ کا تیسراسوال یہ تھا: “کیا سنت رسول اللہ کی اس کتاب کا متن تمام مسلمانوں کے نزدیک اسی طرحمتفق علیہ اور شک و تنقید سے بالاتر ہے جس طرح قرآن کا متن؟”

اور چوتھا سوال یہکہ:

“اگر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں تو پھر جس طرح یہ بآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فلاں فقرہ قرآن مجید کی آیت ہے اسی طرح یہ کیوں کر معلوم کیا جائے گا کہفلاں بات سنت رسول اللہ ہے یا نہیں؟

 

ان سوالات کے جواب، اپنے جن مضامین کی طرفمیں نے آپ کو توجہ دلائی تھی، ان کو اگر آپ نے پڑھا ہے، تو ان کے اندر یہ عبارتیںضرور آپ کی نظر سے گزری ہوں گی:

 

“بلاشبہ سنت کی تحقیق اور اس کے تعین میں بہتسے اختلافات ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایسے ہی اختلافات قرآن کےبہت سے احکام و اشارات کے معنی متعین کرنے میں بھی ہوئے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ ایسےاختلافات اگر قرآن کو چھوڑ دینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتے تو سنت کو چھوڑ دینے کےلیے انہیں کیسے دلیل بنایا جا سکتا ہے؟ یہ اصول پہلے بھی مانا گیا ہے اور آج بھیاسے ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ جو شخص بھی کسی چیز کے حکمِ قرآن یا حکمِ سنت ہونےکا دعویٰ کرے وہ اپنے قول کی دلیل دے۔ اس کا قول اگر وزنی ہو گا تو امت کے اہلِ علمسے، یا کم از کم ان کے کسی بڑے گروہ سے اپنا سکہ منوا لے گا اور جو بات دلیل کےاعتبار سے بے وزن ہو گی وہ بہرحال نہ چل سکے گی۔ یہی اصول ہے جس کی بنا پر دنیا کےمختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہوئے ہیں اور ان کی بڑیبڑی آبادیوں نے احکام قرآنی کی کسی تفسیر و تعبیر اور سننِ ثابتہ کے کسی مجموعہ پراپنی اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کیا ہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری ۵۸ء، صفحہ ۲۱۹)

 

“اگر مختلف فیہ، سنت کا بجائے خود مرجع و سند (Authority) ہونا نہیں ہے بلکہاختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میںجس چیز کے سنت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ فی الوقت سنتِ ثابتہ ہے یا نہیں، تو ایساہی اختلاف قرآن کی آیات کا مفہوم و منشا متعین کرنے میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحبِعلم یہ بحث اٹھا سکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میں قرآن سے نکالا جا رہا ہے وہ درحقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں۔ فاضل مکتوب نگار (جسٹس ایس اے رحمٰن) نے خود قرآنمجید میں اختلافِ تفسیر و تعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کےباوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع و سند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگمسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت و تحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہ “سنت” کو مرجع و سند تسلیم کرنے میں انہیں کیوں تامل ہے۔

 

یہ بات ایک ایسے فاضلقانون دان سے جیسے کہ محترم مکتوب نگار ہیں، مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکمکی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروفعلمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اسکے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی حکمِ خدا ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہحقیقت میں بھی وہی حکمِ خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمالکر لے۔ کسی مسئلے میں جو سنت بھی ایک فقیہ، یا لیجسلیچر، یا عدالت کے نزدیک ثابت ہوجائے وہی اس کے لیے حکمِ رسول ہے۔ اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقتمیں رسول کا حکم وہی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہمیرے نزدیک خدا یا رسول کا حکم کیا ہے اور آپ کے نزدیک کیا، لیکن جب تک میں اور آپخدا اور رسول کو آخری سند (Final Authority) مان رہے ہیں، ہمارے درمیان یہ امرمختلف فیہ نہیں ہو سکتا کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم بجائے خودہمارے لیے قانونِ واجب الاتباع ہے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر۵۸، صفحہ ۱۶۲)

 

“سنتوں کا معتدبِہ حصہ فقہاء اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے اور ایک حصےمیں اختلافات ہیں، بعض لوگوں نے کسی چیز کو سنت مانا ہے اور بعض نے اسے نہیں مانا۔مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہل علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اورنہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلالمبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحبِ علم کے لیے بھی یہ مشکلنہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق خود تحقیق سے رائے قائم کرسکے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سنت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لیے بھی کوئیمعقول وجہ ہو سکتی ہے۔ البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقفنہیں ہے۔ اور جنہیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہوگئی ہے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر ۵۸ء، صفحہ ۱۶۹)

 

میں نے آپ کے مذکورہ بالا دونوںسوالوں کے جواب میں ان عبارات کے مطالعہ کا مشورہ اس امید پر دیا تھا کہ ایک تعلیمیافتہ ذی ہوش آدمی جو بات کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو، انہیں پڑھ کر اپنی اسبنیادی غلطی کو خود سمجھ لے گا جو اس کے سوالات میں موجود ہے اور اس کی سمجھ میںآپ سے آپ یہ بات آ جائے گی کہ سنت کی تحقیق میں اختلاف، اس کو آئین کی بنیاد بنانےمیں اسی طرح مانع نہیں ہو سکتا جس طرح قرآن کی تعبیر میں اختلاف رائے آئین کی بنیادقرار دینے میں مانع نہیں ہے لیکن آپ نے نہ اس غلطی کو محسوس کیا نہ بات سمجھنے کیکوشش فرمائی اور الٹے مزید کچھ سوالات چھیڑ دیئے۔ میں آپ کے چھیڑے ہوئے ان سوالاتسے تو بعد میں تعرض کروں گا۔ پہلے آپ یہ بات صاف کریں کہ اگر آپ کے نزدیک صرف وہیچیز آئین کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو اس آسمان کے نیچےدنیا میں وہ کیا چیز ایسی ہے جو انسانی زندگی کے معاملات و مسائل سے بحث کرتی ہواور اس میں انسانی ذہن اختلاف کی گنجائش نہ پا سکیں؟ آپ قرآن کے متعلق اس سے زیادہکوئی دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اس کا متن متفق علیہ ہے اور اس امر میں کوئی اختلافنہیں ہے کہ فلاں فقرہ قرآن کی آیت ہے۔ لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ آیات قرآنی کامنشا سمجھنے اور ان سے احکام اخذ کرنے میں بے شمار اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہوئےہیں؟ اگر ایک آئین کی اصل غرض الفاظ بیان کرنا نہیں بلکہ احکام بیان کرنا ہے تو اسغرض کے لحاظ سے الفاظ میں اتفاق کا کیا فائدہ ہوا جبکہ احکام اخذ کرنے میں اختلافہے، رہا ہے اور ہمیشہ ہو سکتا ہے؟ اس لیے یا تو آپ کو اپنے اس نقطۂ نظر میں تبدیلیکرنی ہو گی کہ “آئین کی بنیاد صرف وہی چیز بن سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو سکے”۔ یاپھر قرآن کو بھی اساس آئین ماننے سے انکار کرنا ہو گا۔ درَحقیقت اس شرط کے ساتھ تودنیا میں سرے سے کوئی آئین ہو ہی نہیں سکتا۔ جن سلطنتوں کا کوئی مکتوب آئین سرے سےہے ہی نہیں (مثلاً برطانیہ) ان کے نظام کا تو خیر خدا ہی حافظ ہے، مگر جن کے ہاںایک مکتوب آئین موجود ہے، ان کے ہاں بھی صرف آئین کی عبارات ہی متفق علیہ ہیں۔تعبیرات ان میں سے کسی کی متفق علیہ ہوں تو براہِ کرم اس کی نشاندہیفرمائیں۔

 

چار بنیادی حقیقتیں

 

اس کے علاوہ میری مذکورہ بالا عباراتمیں چند امور اور بھی ہیں جن سے آپ نے صرف نظر کر کے اصل مسائل سے پیچھا چھڑانے کےلیے دوسرے سوالات چھیڑ دیئے ہیں۔ لیکن میں اس راہِ گریز کی طرف آپ کو نہ جانے دوں گاجب تک ان امور کے متعلق آپ کوئی متعین بات صاف صاف نہ کہیں۔ یا تو آپ ان کو سیدھیطرح تسلیم کیجئے اور اپنا موقف بدلیے۔ یا پھر محض دعووں سے نہیں بلکہ علمی دلیل سےان کا انکار کیجئے وہ امور یہ ہیں:

 

(۱) ” سنتوں کا بہت بڑا حصہ امت میں متفق علیہہے”۔ اسلامی نظام حیات کا بنیادی ڈھانچہ جن سنتوں سے بنتا ہے وہ تو قریب قریب سب ہیمتفق علیہ ہیں۔ ان کے علاوہ اصول اور کلیات شریعت جن سنتوں پر مبنی ہیں، ان میں بھیزیادہ تر اتفاق ہے۔ اختلاف اکثر و بیشتر ان سنتوں میں ہے جن سے جزئی احکام نکلتےہیں اور وہ بھی سب مختلف فیہ نہیں ہیں بلکہ ان کا بھی ایک اچھا خاصہ حصہ ایسا ہےجن پر علمائے امت کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے۔ صرف یہ بات کہ ان اختلافی مسائل کوبحثوں اور مناظروں میں زیادہ اچھالا گیا ہے، یہ فیصلہ کر دینے کے لیے کافی نہیں ہےکہ “سنت” پوری کی پوری مختلف فیہ ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی سنتوں کے بڑے حصے کو متفقعلیہ قرار دینے میں مانع نہیں ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے خبطی اور زیادہ تر بے علمگروہوں نے کبھی کہیں اور کبھی کہیں اٹھ کر متفق علیہ چیزوں کو بھی اختلافی بنانے کیکوشش کی ہے۔ ایسے گروہوں نے ایک سنت ہی پر ہاتھ صاف نہیں کیا ہے بلکہ ان میں سے بعضتحریف قرآن تک کے مدعی ہوئے ہیں۔ مگر اس قسم کے چند سرپھرے اور کم سواد لوگوں کاوجود امت مسلمہ کے بحیثیت مجموعی اتفاق کو باطل نہیں کر سکتا۔ ایسے دو چار سو یا دوچار ہزار آدمیوں کو آخر یہ اجازت کیوں دی جائے کہ پورے ملک کے لیے جو آئین بن رہاہو اس میں سے ایک ایسی چیز کو خارج کر دینے کے لیے کھڑے ہو جائیں جسے قرآن کے بعدساری امت اسلامی قانون کی دوسری بنیاد مانتی ہے اور ہمیشہ سے مانتی رہیہے۔

 

(۲) جزئی احکام سے متعلق جن سنتوں میں اختلاف ہے ان کی نوعیت بھی یہ نہیںہے کہ فرد فرد ان میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتا ہو بلکہ “دنیا کے مختلف حصوں میںکروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہو گئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نےاحکام قرآنی کی کسی ایک تعبیر و تفسیر اور سننِ ثابتہ کے کسی ایک مجموعہ پر اپنیاجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کر لیا ہے”۔ مثال کے طور پر اپنے اسی ملک، پاکستان کولے لیجیے جس کے آئین کا مسئلہ زیرِ بحث ہے۔ قانون کے معاملہ میں اس ملک کی پوریمسلم آبادی صرف تین بڑے بڑے گروہوں پر مشتمل ہے۔ ایک حنفی، دوسرے شیعہ، تیسرے اہلِحدیث۔ ان میں سے ہر ایک گروہ احکام قرآن کی ایک تعبیر اور سنن ثابتہ کے ایک مجموعہکو مانتا ہے۔ کیا جمہوری اصول پر ہم آئین کے مسئلے کو اس طرح با آسانی حل نہیںکر سکتے کہ شخصی قانون (پرسنل لاء) کی حد تک ہر ایک گروہ کے لیے احکامِ قرآن کی وہیتعبیر اور سنن ثابتہ کا وہی مجموعہ معتبر ہو، جسے وہ مانتا ہے اور ملکی قانون (پبلکلاء) اس تعبیرِ قرآن اور ان سننِ ثابتہ کے مطابق ہو جس پر اکثریت اتفاقکرے؟

 

(۳)  بجائے خود بھی یہ سوال کہ “یہ کیونکر معلوم کیا جائے گا کہ فلاںسنتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے یا نہیں”۔ درحقیقت کوئی لاینحل سوال نہیں ہے۔ جنسنتوں کے بارے میں یہ اختلاف پیدا ہوا ہے کہ وہ ثابت ہیں یا نہیں، ان پر “صدیوںاہلِ علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کااستدلال اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میںموجود ہے۔ آج کسی صاحب علم کے لیے بھی یہ مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یانہ ہونے کے متعلق خود تحقیق سے کوئی رائے قائم کر سکے”۔

 

(۴)   پھر آئین اورقانون کی اغراض کے لیے اس مسئلے کا آخری حل یہ ہے کہ “قرآن کی مختلف ممکن تعبیراتمیں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنےکے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اور دائرۂ کارکی حد تک وہی حکمِ خدا ہے، اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہیحکمِ خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کر کے کسی مسئلے میںجو سنت بھی ایک فقیہ، للجسیلچر یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے وہی اس کے لیے حکمِرسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میںرسول صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم وہی ہے۔

 

اب آپ خود ایمانداری کے ساتھ اپنےضمیر سے پوچھیں کہ یہ امور جو میری محولہ بالا عبارات میں آپ کے سامنے آئے تھے، انمیں آپ کو اپنے تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب مل گیا تھا یا نہیں؟ اور ان کا سامناکر کے ان کے متعلق ایک واضح بات کہنے کے بجائے آپ نے دوسرے سوالات چھیڑنے کی جو کوششفرمائی ہے، اس کی معقول وجہ، جس پر آپ کا ضمیر مطمئن ہو، کیا ہے؟

 

                   دوسرے خط کا جواب

 

 

اس کے بعد آپ کے دوسرے عنایت نامے کولیتا ہوں۔ اس میں آپ شکایت فرماتے ہیں کہ آپ کے پہلے خط کے جواب میں جن مضامین کینشاندہی میں نے کی تھی ان سے آپ کو اپنے سوالات کا متعین جواب نہیں مل سکا بلکہ آپکی الجھن اور بڑھ گئی۔ لیکن اب آپ کے ان سوالات کے متعلق جو تفصیلی گزارشات میں نےپیش کی ہیں انہیں پڑھ کر آپ خود فیصلہ کریں کہ ان میں آپ کو ہر سوال کا ایک متعینجواب ملا ہے یا نہیں۔ اور ان سے آپ کی الجھن بڑھنے کا اصل سبب آیا ان مضامین میں ہےیا آپ کے اپنے ذہن میں۔

 

پھر آپ فرماتے ہیں کہ ان میں کئی باتیں ایسی ہیں جوتمہاری دوسری تحریروں سے مختلف ہیں۔ اس کے جواب میں اگر میں یہ عرض کروں کہ براہِکرم میری ان تحریروں کا حوالہ دیجیے اور یہ بتایئے کہ ان میں کیا چیزیں ان مضامینسے مختلف ہیں، تو مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو گریز کا ایک اور میدان مل جائے گا۔ اسلیے بحث کے دائرے کو زیرِ بحث مسائل پر مرکوز رکھنے کی خاطر، یہ جواب دینے کے بجائےمیں آپ سے عرض کروں گا کہ میری دوسری تحریروں کو چھوڑیے اب جو باتیں میں آپ کےسامنے پیش کر رہا ہوں ان کے متعلق فرمایئے کہ انہیں آپ قبول کرتے ہیں یا رد اور اگررد کرتے ہیں تو اس کے لیے دلیلِ معقول کیا ہے؟

 

چار نکات

 

اس کے بعدآپ مجھے یہ یقین دلا کر کہ اس مراسلت سے آپ کا مقصد مناظر بازی نہیں بلکہ بات کاسمجھنا ہے، میرے ان مضامین کا عطر چار نکات کی صورت میں نکال کر میرے سامنے پیشفرماتے ہیں اور مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یا تو میں اس بات کی توثیق کر دوں کہ میرےان مضامین کا عطر یہی کچھ ہے، یا یہ تصریح کر دوں کہ آپ نے ان مضامین کا مطلب غلطسمجھا ہے۔

 

وہ نکات جو آپ نے عطر کے طور پر ان مضامین سے کشید کیے ہیں، ان پرتو میں ابھی ابھی نمبر وار بحث کرتا ہوں، لیکن اس بحث سے پہلے میں آپ سے گزارش کروںگا کہ اپنے مضامین سے جو نکات میں نے اوپر نکال کر پیش کیے ہیں ان کے مقابلہ میںاپنے اخذ کردہ ان نکات کو رکھ کر آپ خود دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ جو ذہن ان نکاتکے بجائے ان نکات کی طرف ملتفت ہوا ہے وہ بات سمجھنے کا خواہش مند ہے یا مناظرہبازی کا مریض۔

 

نکتۂ اولیٰ

 

آپ کا اخذ کردہ پہلا نکتہ یہہے:

“آپ نے یہ فرمایا ہے کہ نبی ا کرمﷺ نے ۲۳ برس کی پیغمبرانہ زندگی میںقرآن مجید کی تشریح کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا یا عملاً کیا اسے سنتِ رسول اللہﷺ کہتے ہیں۔ اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں:

 

(الف) رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس تئیسسالہ زندگی میں جو باتیں اپنی شخصی حیثیت سے ارشاد فرمائیں یا عملاً کیں وہ سنت میںداخل نہیں ہیں۔

 

(ب)سنت، قرآنی احکام و اصول کی تشریح ہے۔ قرآن کے علاوہ دین کےاصول یا احکام تجویز نہیں کرتی اور نہ ہی سنت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتیہے”۔

 

یہ خلاصہ جو آپ نے میرے کلام سے نکالا ہے اس کا پہلا جز ہی غلط ہے۔میرے ان مضامین میں، جن سے آپ یہ خلاصہ نکال رہے ہیں، یہ بات کہاں لکھی ہے کہ ” نبیا کرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تئیس برس کی پیغمبرانہ زندگی میں قرآن کی تشریح کرتےہوئے جو کچھ فرمایا یا عملاً کیا، اسے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہتے ہیں”۔میں نے تو اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ حضورﷺ کی پیغمبرانہ زندگی کا وہ پورا کام جو آپصلی اللہ علیہ و سلم نے تئیس سال میں انجام دیا، قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح ہے اور یہ سنت قرآن کے ساتھ مل کر حاکمِ اعلیٰ (یعنی اللہ تعالیٰ) کے قانونِ برتر کیتشکیل و تکمیل کرتی ہے اور یہ سارا کام چونکہ آنحضورﷺ نے نبی کی حیثیت سے کیاتھا لہٰذا اس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن۔ اگرآپ دوسروں کی عبارتوں میں خود اپنے خیالات پڑھنے کے عادی نہیں ہیں تو آپ کے سوالنمبر ایک کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا ہے اسے پڑھ کر خود دیکھ لیں کہ میں نے کیاکہا تھا اور آپ نے اسے کیا بنا دیا۔

 

پھر اس سے جو دو نتیجے آپ نے نکالے ہیں، وہ دونوں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے میری ان عبارتوں میں اپنے سوال کا جوابڈھونڈنے کے بجائے ایک نئی بحث کا راستہ تلاش کیا ہے، کیونکہ نہ آپ کا پہلا سوال انمسائل سے متعلق تھا، نہ میں نے اپنے ان مخصوص مضامین کا حوالہ آپ کو اس لیے دیا تھاکہ آپ ان مسائل کا جواب ان میں تلاش کریں۔ تاہم میں آپ کو یہ کہنے کا موقع نہیںدینا چاہتا کہ آپ کے چھیڑے ہوئے سوالات کا جواب دینے سے میں نے گریز کیا ہے، اس لیےان دونوں نتیجوں کے متعلق مختصراً عرض کرتا ہوں۔

 

حضور صلی اللہ علیہ و سلمکی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق

 

(الف) یہ بات مسلماتِ شریعت میںہے کہ سنت واجب الاتباع صرف وہی اقوال و افعال رسول ہیں جو حضورﷺ نے رسول کیحیثیت سے کیے ہیں۔ شخصی حیثیت سے جو کچھ آپ نے فرمایا یا عملاً کیا ہے وہ واجبالاحترام تو ضرور ہے مگر واجب الاتباع نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہمیں باب بیان اقسام علوم النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عنوان سے اس پر مختصر مگربڑی جامع بحث کی ہے۔ صحیح مسلم میں امام مسلم نے ایک پورا باب ہی اس اصول کی وضاحتمیں مرتب کیا ہے اور اس کا عنوان یہ رکھا ہے: باب وجوب امتثال ما قالہ شرعاً دونما ذکر صلی اللہ علیہ و سلم من معاش الدنیا علیٰ سبیل الرای (یعنی باب اس بیان میں کہواجب صرف ان ارشادات کی پیروی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شرعی حیثیت سےفرمائے ہیں نہ کہ ان باتوں کی جو دنیا کے معاملات میں آنحضورﷺ نے اپنی رائے کے طورپر بیان فرمائی ہیں) لیکن سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شخصی حیثیت اورپیغمبرانہ حیثیت میں فرق کر کے یہ فیصلہ آخر کون کرے گا اور کیسے کرے گا کہ آپ کےافعال و اقوال میں سے سنت واجب الاتباع کیا چیز ہے اور محض ذاتی و شخصی کیا چیز؟ظاہر ہے کہ ہم بطور خود یہ تفریق و تحدید کر لینے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ فرق دو ہیطریقوں سے ہو سکتا ہے۔ یا تو حضورﷺ نے اپنے کسی قول و فعل کے متعلقخود تصریح فرما دیہو کہ وہ ذاتی و شخصی حیثیت میں ہے یا پھر جو اصولِ شریعت آنحضور صلی اللہ علیہو سلم کی دی ہوئی تعلیمات سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی روشنی میں محتاط اہلِ علم یہتحقیق کریں کہ آپ کے افعال و اقوال میں سے کس نوعیت کے افعال و اقوال آپ کیپیغمبرانہ حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور کس نوعیت کی باتوں اور کاموں کو شخصی و ذاتیقرار دیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے پر زیادہ تفصیلی بحث میں اپنے ایک مضمون میں کر چکاہوں جس کا عنوان ہے “رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حیثیتِ شخصی اور حیثیتِ نبوی”۔(ترجمان القرآن، دسمبر ۱۹۵۸)

 

قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہممعنی نہیں ہے

 

(ب) یہ نتیجہ آپ نے بالکل غلط نکالا ہے کہ سنت قرآنی احکام واصول کی شارح اس معنی میں ہے کہ “وہ قرآن کے علاوہ دین کے اصول یا احکام تجویز نہیںکرتی”۔ اگر آپ اس کے بجائے “قرآن کے خلاف” لفظ استعمال کرتے تو نہ صرف میں آپ سےاتفاق کرتا بلکہ تمام فقہاء و محدثین اس سے متفق ہوتے ہیں۔ لیکن آپ “قرآن کے علاوہ” کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جس کے معنی قرآن سے زائد ہی کے ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ “زائد” ہونے اور “خلاف” ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سنت اگر قرآن سے زائدکوئی چیز نہ بتائے تو آپ خود سوچیں کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ اس کی ضرورت تو اسی لیےہے کہ وہ قرآن کا وہ منشا واضح کرتی ہے جو خود قرآن میں صراحتاً مذکور نہیں ہوتا۔مثلاً قرآن “اقامت صلوٰۃ کا حکم دے کر رہ جاتا ہے۔ یہ بات قرآن نہیں بتاتا بلکہ سنتبتاتی ہے کہ صلوٰۃ سے کیا مراد ہے اور اس کی اقامت کا مطلب کیا ہے۔ اس غرض کے لیےسنت ہی نے مساجد کی تعمیر، پنج وقتہ اذان اور نماز با جماعت کا طریقہ، نماز کےاوقات، نماز کی ہئیت، اس کی رکعتیں اور جمعہ و عیدین کی مخصوص نمازیں اور ان کی عملیصورت اور دوسری بہت سی تفصیلات ہم کو بتائی ہیں۔ یہ سب کچھ قرآن سے زائد ہے۔ مگر اسکے خلاف نہیں ہے۔ اسی طرح تمام شعبہ ہائے زندگی میں سنت نے قرآن کے منشا کے مطابقانسانی سیرت و کردار اور اسلامی تہذیب و تمدن و ریاست کی جو صورت گری کی ہے وہ قرآنسے اس قدر زائد ہے کہ قرآنی احکام کے دائرے سے سنت کی ہدایات کا دائرہ بدرجہا زیادہوسیع ہو گیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی چیز قرآن کے خلاف نہیں ہے اور جو چیز بھی واقعیقرآن کے خلاف ہو، اسے فقہاء و محدثین میں سے کوئی بھی سنتِ رسول الہ صلی اللہ علیہو سلم نہیں مانتا۔

 

کیا سنت قرآن کے کسی حکم کو منسوخ کر سکتیہے؟

 

اسی سلسلے میں آپ نے ایک اور نتیجہ یہ نکالا ہے کہ “نہ سنت قرآن کے کسیحکم کو منسوخ کر سکتی ہے”۔ یہ بات آپ نے ایک غلط فہمی کے تحت لکھی ہے جسے صاف کرناضروری ہے۔ فقہائے حنفیہ جس چیز کو “نسخ الکتاب بالسنۃ” کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیںاس سے مراد دراصل قرآن کے کسی حکم عام کو مخصوص (qualify)  کرنا اور اس کے کسی ایسے مدعا کوبیان  (Explain) کرنا ہے جو اس کے الفاظ سے ظاہر نہ ہوتا ہو۔ مثلاً سورۂ بقرہ میں والدین اوراقربین کے لیے وصیت کا حکم دیا گیا تھا (آیت ۱۸۰)۔ پھر سورۂ نساء میں تقسیمِ میراثکے احکام نازل ہوئے اور فرمایا گیا کہ یہ حصے متوفی کی وصیت پوری کرنے کے بعد نکالےجائیں (آیات۱۲-۱۱) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی وضاحت یہ فرما دی کہ لاوصیۃلوارث، یعنی اب وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کے حصے میں کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرما دئے ہیں۔ ان حصوں میںاگر کوئی شخص وصیت کے ذریعہ سے کمی بیشی کرے گا تو قرآن کی خلاف ورزی کرے گا۔ اسطرح اس سنت نے وصیت کی اجازت عام کو، جو بظاہر قرآن کی ان آیتوں سے مترشح ہوتی تھی، غیر وارث مستحقین کے لیے خاص کر دیا اور یہ بتا دیا کہ شرعاً جو حصے وارثوں کے لیےمقرر کر دیئے گئے ہیں ان میں کمی بیشی کرنے کے لیے وصیت کی اس اجازتِ عام سے فائدہنہیں اٹھایا جا سکتا۔ اسی طرح قرآن کی آیتِ وضو (المائدہ۲) میں پاؤں دھونے کا حکم دیاگیا تھا جس میں کسی حالت کی تخصیص نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسح علیالخفین پر عمل کر کے اور اس کی اجازت دے کر واضح فرما دیا کہ یہ حکم اس حالت کے لیےہے جبکہ آدمی موزے پہنے ہوئے نہ ہو اور موزے پہننے کی صورت میں پاؤں دھونے کےبجائے مسح کرنے سے حکم کا منشا پورا ہو جاتا ہے۔ اس چیز کو خواہ نسخ کہا جائے، یاتخصیص، یا بیان۔ اس سے مراد یہی ہے اور یہ اپنی جگہ بالکل صحیح اور معقول چیز ہے۔اس پر اعتراض کرنے کا آخر ان لوگوں کا کیا حق پہنچتا ہے جو غیر نبی ہونے کے باوجودقرآن کے بعض صریح احکام کو محض اپنے ذاتی نظریات کی بنیاد پر “عبوری دور کے احکام” قرار دیتے ہیں، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ عبوری دور جب ان کی رائے مبارک میں گزرجائے گا تو قرآن کے وہ احکام منسوخ ہو جائیں گے۔

 

نکتہ دوم

 

دوسرانکتہ جو آپ نے میرے ان مضامین سے اخذ کیا ہے وہ یہ ہے : “آپ نے فرمایا ہے کہ کوئیکتاب ایسی نہیں کہ جس میں سنت نبی صلی اللہ علیہ و سلم بہ تمام و کمال درج ہو اور جسکا متن قرآن کے متن کی طرح تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ہو”۔

 

یہ خلاصہجو آپ نے میرے مضامین سے نکالا ہے، اس کے متعلق میں بس اتنا ہی عرض کروں گا کہ اپنےخیالات میں مگن رہنے والے اور معقول بات سمجھنے سے انکار کرنے والے لوگ دوسروں کےکلام سے ایسے ہی خلاصے نکالا کرتے ہیں۔ ابھی ابھی آپ کے پہلے عنایت نامہ پر بحثکرتے ہوئے سوال نمبر ۲ پر جو کچھ میں لکھ چکا ہوں اسے پلٹ کر پھر پڑھ لیجیے۔ آپ کوخود معلوم ہو جائے گا کہ میں نے کیا کہا ہے اور آپ نے اس کا کیا خلاصہ نکالا ہے۔

 

نکتہ سوم

 

آپ کا اخذ کردہ تیسرا نکتہ یہ ہے:

“آپ نے فرمایا ہےکہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے صحیح احادیث کو الگ کیا جائے گا۔ اس کے لیے روایاتکو جانچنے کے جو اصول پہلے سے مقرر ہیں وہ حرفِ آخر نہیں۔ اصول روایات کے علاوہدرایت سے بھی کام لیا جائے گا اور درایت انہی لوگوں کی معتبر ہو گی جن میں علوماسلامی کے مطالعہ سے ایک تجربہ کار جوہری کی بصیرت پیدا ہو چکی ہو۔”

 

احادیثکو پرکھنے میں روایت و درایت کا استعمال

 

یہ جن عبارتوں کا عجیب اور انتہائیمسخ شدہ خلاصہ آپ نے نکالا ہے انہیں میں لفظ بہ لفظ یہاں نقل کیے دیتا ہوں تاکہ جوکچھ میں نے کہا ہے، وہی اصل صورت میں سامنے آ جائے اور اس کے من مانے خلاصوں کی حاجتنہ رہے۔

 

“فن حدیث اسی تنقید (یعنی تاریخی تنقید) ہی کا دوسرا نام ہے۔ پہلیصدی سے آج تک اس فن میں یہی تنقید ہوتی رہی ہے اور کوئی فقیہ یا محدث اس بات کاقائل نہیں رہا ہے کہ عبادات ہوں یا معاملات، کسی مسئلے کے متعلق بھی رسول صلی اللہعلیہ و سلم سے نسبت دی جانے والی کسی روایت کو تاریخی تنقید کے بغیر حجت کے طور پرتسلیم کر لیا جائے۔ یہ فن حقیقت میں اس تنقید کا بہترین نمونہ ہے اور جدید زمانے کیبہتر سے بہتر تاریخی تنقید کو بھی مشکل ہی سے اس پر اضافہ و ترقی کہا جا سکتا ہے۔بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ محدثین کے اصول تنقید اپنے اندر ایسی نزاکتیں اورباریکیاں رکھتے ہیں جن تک موجودہ دور کے ناقدین تاریخ کا ذہن بھی ابھی تک نہیںپہنچا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر میں بلا خوف تردید یہ کہوں گا کہ دنیا میں صرفمحمد رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و سیرت اور ان کے دور کی تاریخ کا ریکارڈ ہیایسا ہے جو اس کڑی تنقید کے معیاروں پر کسا جانا برداشت کر سکتا تھا جو محدثین نےاختیار کی ہے،  ورنہ آج تک دنیا کے کسی انسان اور کسی دور کی تاریخ بھی ایسے ذرائع سےمحفوظ نہیں رہی ہے کہ ان سخت معیاروں کے آگے ٹھہر سکے اور اس کو قابلِ تسلیم تاریخیریکارڈ مانا جا سکے۔ تاہم میں یہ کہوں گا کہ مزید اصلاح و ترقی کا دروازہ بند نہیںہے۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ روایات کو پرکھنے اور جانچنے کے جو اصولمحدثین نے اختیار کیے ہیں وہ حرف آخر ہیں۔ آج اگر کوئی ان کے اصولوں سے اچھی طرحواقفیت پیدا کرنے کے بعد ان میں کسی خامی یا کمی کی نشاندہی کرے اور زیادہ اطمینانبخش تنقید کے لیے کچھ اصول معقول دلائل کے ساتھ سامنے لائے تو یقیناً اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ہم میں سے آخر کون نہ چاہے گا کہ کسی چیز کو رسول صلی اللہ علیہو سلم کی سنت قرار دینے سے پہلے اس کے نستِ ثابتہ ہونے کا یقین حاصل کر لیا جائے اورکوئی کچی پکی بات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب نہ ہونے پائے۔

 

احادیث کے پرکھنے میں روایت کے ساتھ درایت کا استعمال بھی، جس کا ذکر فاضلمکتوب نگار (جسٹس ایس اے رحمٰن) نے کیا ہے، ایک متفق علیہ چیز ہے۔ البتہ اس سلسلےمیں جو بات پیشِ نظر رہنی چاہیئے اور مجھے امید ہے کہ فاضل مکتوب نگار کو بھی اسسے اختلاف نہ ہو گا، وہ یہ ہے کہ درایت صرف انہی لوگوں کی معتبر ہو سکتی ہے جو قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی کے مطالعہ و تحقیق میں اپنی عمر کا کافی حصہ صرف کر چکے ہوں، جنمیں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کر دی ہو اور خاصطور پر جن کی عقل اسلامی نظام فکرو عمل کے حدود اربعہ سے باہر کے نظریات، اصول اوراقدار لے کر اسلامی روایات کو ان کے معیار پر پرکھنے کا رجحان نہ رکھتی ہو۔ بلاشبہعقل کے استعمال پر ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکتے، نہ کسی کہنے والے کی زبان پکڑسکتے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ امر یقینی ہے کہ اسلامی علوم سے کورے لوگ اناڑی پن کےساتھ کسی حدیث کو خوش آئند پا کر قبول اور کسی کو اپنی مرضی کے خلاف پا کر رد کرنےلگیں، یا اسلام، سے مختلف کسی دوسرے نظام فکرو عمل میں پرورش پائے ہوئے حضرات یکایکاٹھ کر اجنبی معیاروں کے لحاظ سے احادیث کے رد و قبول کا کاروبار پھیلا دیں، تو مسلمملت میں نہ ان کی درایت مقبول ہو سکتی ہے اور نہ اس ملت کا اجتماعی ضمیر ایسے بے تکےعقلی فیصلوںپر کبھی مطمئن ہو سکتا ہے۔ اسلامی حدود میں تو اسلام ہی کی تربیت پائیہوئی عقل اور اسلام کے مزاج سے ہم آہنگی رکھنے والی عقل ہی ٹھیک کام کر سکتی ہے۔اجنبی رنگ و مزاج کی عقل، یا غیر تربیت یافتہ عقل بجز اس کے کہ انتشار پھیلائے، کوئی تعمیری خدمت اس دائرے میں انجام نہیں دے سکتی۔” (ترجمان القرآن، دسمبر ۵۸ء، صفحہ ۱۶۶-۱۶۴)

 

ان عبارات سے آپ خود ہی اپنے نکالے ہوئے خلاصے کا تقابلفرما لیں۔ آپ پر واضح ہو جائے گا کہ بات سمجھنے کی خواہش کا کتنا اچھا نمونہ آپ نےپیش فرمایا ہے۔

 

نکتہ چہارم

 

چوتھا نکتہ جو آپ نے خلاصے کے طور پرمیرے مضامین سے نکالا ہے، یہ ہے: “احادیث کے اس طرح پرکھنے کے بعد بھی یہ نہیں کہاجا سکے گا کہ یہ اسی طرح کلام رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہیں جس طرح قرآن کی آیات اللہکا کلام”۔

 

یہ ایک اور بے نظیر نمونہ ہے جو مناظرہ بازی کے بجائے بات سمجھنےکی خواہش کا آپ نے پیش فرمایا ہے۔ جس عبارت کا یہ خلاصہ آپ نے نکالا ہے، اس کے اصلالفاظ یہ ہیں:

 

“قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص یا ادارےیا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جستعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی حکمِخدا ہے، اگر چہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکمِ خدا ہے۔ بالکلاسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کر کے کسی مسئلے میں جو سنت بھی ایکفقیہ، یا لیجسیلچر، یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے، وہی اس کے لئے حکم رسول ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میں رسول کا حکم وہی ہے”۔

 

یہعبارت اگرچہ میں پہلے نقل کر چکا ہوں، لیکن تکرار کی قباحت کے باوجود میں نے اسے پھرنقل کیا ہے تاکہ آپ خود بھی اپنے جوہر نکالنے کے فن کی داد دے سکیں اور اس اخلاقیجسارت کی داد میں اپنی طرف سے آپ کو دیتا ہوں کہ میری عبارت کو میرے ہی سامنے توڑمروڑ کر پیش کر کے آپ نے واقعی کمال کر دکھایا ہے۔ میں شخصی طور پر آپ کی بڑی قدرکرتا ہوں اور ایسی باتوں کی آپ جیسے معقول انسان سے توقع نہ رکھتا تھا، مگر شایدیہ بزم طلوع اسلام کا فیض ہے کہ اس نے آپ کو بھی یہاں تک پہنچادیا۔

 

اشاعت کا مطالبہ

 

آخری بات مجھے یہ عرض کرنی ہے کہ اپنے پہلےعنایت نامے کو آپ نے اس فقرے پر ختم فرمایا تھا:

“چونکہ آئین کے سلسلے میں عاملوگوں کے ذہن میں ایک پریشانی سی پائی جاتی ہے اس لیے اگر عوام کی آگاہی کے لیے آپکے موصولہ جواب کو شائع کر دیا جائے تو مجھے امید ہے کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراضنہیں ہو گا”۔

 

میں اس کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اعتراض ہونا تو درکنارمیری دلی خواہش یہ ہے کہ آپ اس مراسلت کو جوں کا توں شائع فرما دیں۔ میں خود اسے “ترجمان القرآن” میں شائع کر رہا ہوں۔ آپ بھی اس کو “طلوع اسلام” کی کسی قریبی اشاعتمیں درج کرنے کا انتظام فرمائیں تاکہ دونوں طرف کے عوام اس سے آگاہ ہو کر پریشانی سےنجات پا سکیں۔

 

خاکسار۔ ابوالاعلیٰ

(ترجمان القرآن۔ جولائی ۱۹۶۰ ء)

 

 

 

منصبِ نبوت

 

 

صحیح اور غلط تصور کا فرق

 

(صفحاتِگذشتہ میں سنت کی آئینی حیثیت کے متعلق ڈاکٹر عبدالودود صاحب اور مصنف کی جو مراسلتناظرین کے ملاحظہ سے گزری ہے، اس کے سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب کا ایک اور خط وصول ہوا، جسے ذیل میں مصنف کے جواب کے ساتھ درج کیا جا رہا ہے)

 

                   ڈاکٹر صاحب کا خط

 

مولانائے محترم ! السلام علیکم

آپ کا خط مورخہ ۸ اگست ملا۔ مجھے امید ہےکہ اس کے بعد بات ذرا اطمینان سے ہو سکے گی۔ آپ نے اپنے خط مورخہ ۲۶جون میں میرےپہلے سوال کے جواب کے اختتام پر فرمایا تھا:

 

“دوسرے سوالات چھیڑنے سے پہلے آپکو یہ بات صاف کرنی چاہئے تھی کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن پڑھ کرسنا دینے کے سوا دنیا میں کوئی اور کام کیا تھا یا نہیں  اور اگر کیا تھا تو کسحیثیت میں ؟”

 

نیز یہ بھی کہ :

“پہلے آپ یہ بات صاف کریں کہ آیا سنت رسولاللہ صلی اللہ علیہ و سلم بجائے خود کوئی چیز ہے یا نہیں ؟ اور اس کو آپ قرآن کےساتھ مآخذ قانون مانتے ہیں یا نہیں  اور نہیں مانتے تو اس کی دلیل کیا ہے؟”

 

چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنے موجودہ خط میں مسئلۂ زیر بحث کےصرف اسی حصہ پر گفتگو کروں اور اس کے باقی اجزاء آئندہ کے لیے ملتوی کر دوں۔ آپکو یاد ہو گا کہ میں نے اپنے اولین خط مورخہ ۲۱مئی میں صاف طور پر یہ عرض کیا تھاکہ:

 

“مجھے نہ تو سنت کی حقیقی اہمیت سے مجال انکار ہے اور نہ اس کی اہمیت کوختم کرنا مقصود “۔

 

چنانچہ آپ کا یہ سوال کہ میرے نزدیک سنت رسول اللہ بجائےخود کوئی چیز ہے یا نہیں ؟ غیر ضروری سوال ہے۔ البتہ میرے نزدیک سنت کا مفہوم آپ سےمختلف ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ آیا میں سنت کو قرآن کے ساتھ مآخذ قانون مانتا ہوںیا نہیں ؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی دلیل کیا ہے ؟ اجازت دیجیےکہ میں پہلے اس بات کو صاف کر لوں کہ آیا رسول اللہ نے قرآن سنا دینے کے سوا دنیامیں کوئی کام کیا تھا یا نہیں؟ اور اگر کیا تھا تو کس حیثیت میں ؟ جب اس کا جوابسامنے آ جائے گا تو دلیل خود بخود سامنے آ جائے گی۔

 

مجھے آپ سے سو فیصد اتفاقہے کہ حضورﷺ معلم بھی تھے، قاضی بھی تھے، سپہ سالار بھی تھے۔ آپﷺ نے افراد کیتربیت کی اور تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دی۔ اور پھرایک ریاستقائم کی وغیرہ وغیرہ ! لیکن اس بات پر آپ سے اتفاق نہیں کہ “۲۳ سالہ پیغمبرانہزندگی میں حضورﷺ نے جو کچھ کیا تھا یہ وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کےقانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے “۔

 

بے شک حضور کے حاکم اعلیٰ کے قانون کےمطابق معاشرہ کی تشکیل تو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللہ کا قانون (نعوذ باللہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضورﷺ نے عملاً کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی، میرے لیےناقابل فہم ہے، میرے نزدیک وحی پانے کا سلسلہ نبی ا کرمﷺ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بندہو گیا لیکن رسالت کے فرائض جو حضورﷺ نے سرانجام دیے ان کا مقصد یہ تھا کہ حضورﷺ کےبعد بھی انہی خطوط پر معاشرے کا مقام عمل میں لایا جا سکے اور یہ تسلسل قائم رہے۔اگر حضورﷺ نے ما انزل اللہ کو دوسروں تک پہنچایا تو امت کا بھی فریضہ ہے کہ ما انزلاللہ کو دوسروں تک پہنچائے۔ اگر حضورﷺ نے ما انزل اللہ کے مطابق جماعت بنائی، ریاست قائم کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کیا تو امت کا بھیفریضہ ہے کہ انہی خطوط پر عمل کرے۔ اگر حضورﷺ نے ما انزل اللہ کے مطابق معاملات کےفیصلے کیے تو امت بھی ما انزل اللہ کے مطابق فیصلے کرے۔ اگر حضورﷺ نے ” شاورھم فیالامر ” کے مطابق امور سلطنت میں مشاورت سے کام لیا تو امت بھی ایسا ہی کرے۔ اگرحضورﷺ نے نبوت کے ۲۳سالہ غزوات میں گھوڑے کی پیٹھ پر گزارے تو امت بھی انہی اصولوںکو پیش نظر رکھ کر جنگ کرے۔ چنانچہ ما انزل اللہ کے مطابق تربیت، جماعت بندی، ریاست کا قیام، مشاورت، قضا، غزوات، یہ سارے کام امت کرے تو یہ سنت رسول اللہہی کی پیروی ہے۔ حضورﷺ نے بھی اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق ما انزل اللہ پر عملکرتے ہوئے معاشرے کی تشکیل کی اور سنت رسول اللہ کی پیروی یہ ہے کہ ہر زمانے کی امتزمانے کے تقاضوں کے مطابق ما انزل اللہ پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کی تشکیل کرے۔موجود وقت میں ہم جو بھی طرز حکومت، حالات اور موجودہ تقاضوں کے مطابق مناسبسمجھیں عمل میں لائیں لیکن ما انزل اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر یہی سنترسول اللہ پر عمل ہو گا۔ اگر ہم ان مقاصد کو پیش نظر رکھ کر جو ما انزل اللہ نےمتعین کیے ہیں جنگیں لڑیں تو یہی سنت رسول اللہ پر عمل ہو گا لیکن اگر جیسا کہ ایکمقامی اخبار میں ایک مولوی صاحب نے گذشتہ ہفتہ لکھا تھا کہ حضرت عمر کی فوج کو ایکقلعہ فتح کرنے میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ فوج نے کئی دن مسواک نہیں کی تھی یا یہ کہآج کے ایٹمی دور میں جنگ کے اندر تیروں کا استعمال ہی ضروری ہے کیونکہ حضورﷺ نےجنگوں میں تیر استعمال کیے تھے تو اس سے بڑھ کر سنت رسول اللہ سے مذاق کیا ہو سکتاہے۔ ان تمام اعمال میں جو حضورﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ میں کیے وہ اسی ما انزل اللہکا جو کتاب اللہ میں موجود ہے، اتباع کرتے تھے اور امت کو بھی یہی حکم ملا کہ اسیکا اتباع کرے۔ جہاںاتبعوا ما انزل اللہ الیک من ربکم (۳: ۷) کہہ کر امت کےافراد کو تلقین کی، وہاں یہ بھی اعلان ہوا کہ حضورﷺ بھی اسی کا اتباع کرتے ہیں۔ قلاتبع ما یو حٰی الی من ربی (۷: ۲۳)۔ نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بنا پر کتاب اللہکے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے تو یہ تصور بھی جسم میں کپکپیپیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی آیت پیش فرمائیں گے ؟ جس سے معلومہو کہ قرآن کا قانون نا مکمل ہے۔ اللہ تعالی نے تو انسانوں کی رہنمائی کے لیے صرفایک ضابطۂ قوانین کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو شک و شبہ سے بالاتر ہے، بلکہ اس کیابتدا ہی ان الفاظ سے کی ہے ذالک الکتب لا ریب فیہ۔ اور پھر معاملات زندگی میںفیصلوں کے لیے اس ضابطۂ حیات کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا  اور یہ بھی واضح طور پراعلان کر دیا کہ یہ ضابطۂ قانون مفصل ہے۔ افغیر اللہ ابتغی حکماً و ھو الذی انزلالیکم الکتب مفصلا (۶: ۱۱۵)  بلکہ مومن اور کافر کے درمیان تمیز یہ رکھ دی کہ ومنلم یحکم بما انزل اللہ فاولئِک ھم الکافرون (۵:۴۴) کیا قرآن کریم کو کتاب عزیز(ایک غالب کتاب) کہہ کر نہیں پکارا گیا۔ تمت کلمۃ ربک صدقاً و عدلا (۶: ۱۱۶) کااعلان یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ قانونِ خداوندی مکمل ہو چکا ہے اور جو کچھباقی رہتا تھا  وہ پورا ہو گیا۔ کافر بھی تو اس کتاب کے علاوہ کوئی چیز اپنی تسلیکے لیے چاہتے تھے۔ جب اللہ تعالی نے فرمایا کہ کیا یہ کتاب ان کے لیے کافی نہیں ؟اولم یکفیھم[2] انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیھم (۲۹: ۵۱)

 

مجھے اس بات کا شدتسے احساس ہے کہ چونکہ دین کا تقاضا یہ تھا کہ کتاب پر عمل اجتماعی شکل میں ہو اوریہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص قرآن پر اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرے اور دوسرا اپنیسمجھ کے مطابق، اس لیے نظام کو قائم رکھنے کے لیے ایک زندہ شخصیت کی ضرورت ہے اورمجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ جہاں اجتماعی نظام کے قیام کا سوال ہو وہاں پہنچانےوالے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے۔ کیونکہ پیغام اس نے اس لیے پہنچایا کہ وحی اس کے سوااور کسی کو ملتی نہیں چنانچہ قرآن نے اسی  لیے واضح کر دیا کہ من یطع الرسول فقد اطاعاللہ۔ چنانچہ حضورﷺ مرکز ملت بھی تھے اور سنت رسول اللہ پر عمل یہی ہے کہ حضورﷺ کے بعداسی طرح مرکزیت کو قائم رکھا جائے۔ چنانچہ اسی نکتہ کو قرآن کریم نے ان الفاظ میںواضح کر دیا کہ و ما محمد الا رسول، قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتمعلی اعقابکم (۳: ۱۴۳)۔ ظاہر ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سلسلہ  (اگر اس کا مقصد وعظ و نصیحت نہیں)، اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ سنت رسول اللہپر عمل کرتے ہوئے مرکز ملت کے قیام کو مسلسل عمل میں لایا جائے۔ لیکن اس کا مطلب یہنہیں کہ جس ضابطۂ قانون پر چلانا حضورﷺ کا مقصد تھا اور آئندہ مرکز ملت کا مقصد رہےگا، اس ضابطہ قانون کو نامکمل قرار دے دیا جائے۔

 

آپ کا اگلا سوال یہ ہے کہ جوکام حضورﷺ نے۲۳سالہ پیغمبرانہ زندگی میں سر انجام دیے، ان میں آنحضرتﷺ کی پوزیشن کیاتھی ؟ میرا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ نے جو کچھ کر کے دکھایا، وہ ایک بشر کی حیثیت سے لیکنما انزل اللہ کے مطابق کر کے دکھایا۔ میرا یہ جواب کہ حضورﷺ کے فرائض رسالت کیسرانجام دہی ایک بشر کی حیثیت سے تھی، میرے اپنے ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ خود کتاباللہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ حضورﷺ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ انا بشر مثلکم۔قرآن کی آیت سے واضح ہے کہ حضورﷺ نظام مملکت کی انجام دہی میں ایک بشر کی حیثیترکھتے تھے اور کبھی کبھی آنحضرتﷺ سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ قل ان ضللتفانما اضل علی نفسی وان اھتدیت فیما یوحی الی ربی انہ سمیع قریب (۳۰ : ۵۰) . اگریہ اجتہادی غلطیاں ایسی ہوتیں جن کا اثر دین کے اہم گوشے پر پڑتا تو خدا کی طرف سےاس کی تادیب بھی آ جاتی جیسے کہ ایک جنگ کے موقع پر بعض لوگوں نے پیچھے رہنے کیاجازت چاہی اور حضورﷺ نے دے دی۔ اس پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی۔عفااللہ عنک لما اذنت لھم حتی یتبین لک الذین صدقو او تعلم الکذبین (۸۰ : ۱۱-۱۰)اسی طرح سورۂ عبس میں ہے: عبس وتولیٰ ان جاء ہُ الاعمیٰ وما یدریک لعلہ یزکیٰ او یذکر فتفعہ الذکر اما من استغنیٰ فانت لہٗ  تصدٰی وما علیک الا یتزکٰی و ما من جاءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھیٰ (۸۰: ۱۰-۱۱)[3]

 

مندرجہ بالا تصریحات سے ظاہر ہے کہ وحی کی روشنی میں امور سلطنت کی سرانجام دہی میں جزئی معاملات میں حضورﷺ سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں اور یہ اسصورت میں ہو سکتا تھا کہ حضورﷺ ان امور کو ایک بشر کی حیثیت سے سر انجام دیتے تھےاور اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کے دو نتائج لازماً پیدا ہوتے۔ اولاً یہ تصور کہ چونکہحضورﷺ نے جو کچھ کیا وہ ایک نبی کی حیثیت سے کیا اس لیے عام انسان اس کو نہیں کرسکتے۔ چنانچہ آج بھی مایوسی کے عالم میں بعض جگہ یہ تصور پایا جاتا ہے کہ حضورﷺ نےجو معاشرہ قائم کیا تھا وہ عام انسانوں کے بس کا روگ نہیں اور وہ دوبارہ قائم نہیںکیا جا سکتا۔ یہ تصور بجائے خود سنت رسول کی پیروی کی نفی ہے۔ دوسرا نتیجہ اس کا یہتصور ہو سکتا ہے کہ اس لیے حضورﷺ کے بعد نبیوں کے آنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پھر سے اسقسم کا معاشرہ قائم کر سکیں (چونکہ عام انسان ایسا نہیں کر سکتے) آپ خود سوچئے کہیہ دونوں نتائج کس قدر خطرناک ہیں جو اس تصور کے نتیجہ کے طور پر ابھر کر سامنے آتےہیں کہ حضورﷺ نے جو کچھ بھی کیا ایک نبی کی حیثیت سے کیا۔ ختم نبوت انسانیت کے سفرزندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے شخصیتوں کا دور ختم ہوتا ہے اوراصول و اقدار کا دور شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ تصور کہ حضورﷺ نے جو کچھ کیا ایک نبیکی حیثیت سے کیا، ختم نبوت کے اصول کی تردید کے مترادف ہے۔

وما محمداًالا رسول[4] ۔۔۔۔۔۔۔ (۳ : ۱۴۳) جیسی واضح آیات کے بعد یہ کہنا کہ رسول اللہ جو کچھکرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے (اور وحی کا سلسلہ حضورﷺ کی ذات کے ساتھ ختم ہوگیا)، اس بات کا اعلان ہے کہ حضورﷺ کی وفات کے بعد دین کا سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا۔حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی ” الکتٰب ” کے اندر محفوظ ہے اور اسکے بعد حضورﷺ جو کچھ کرتے تھے باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضورﷺ کی وفات کے بعدنظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضے بڑھتے گئے اسلیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیہ کے لیے اگر کوئی پہلا فیصلہ ملجاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتے تھے۔ اگر اس میںتبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگر نئے فیصلے کیضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنی میںہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا اور اسی کو حضورﷺ کے جانشینوں نے قائم رکھا، اسی کا نام اتباع سنت رسول اللہ تھا۔

 

اگر فرض کر لیا جائے کہ جیسا کہ آپ فرماتےہیں کہ حضورﷺ جو کچھ کرتے تھے وحی کی رو سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہو کہ خدا کواپنیطرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذ باللہ) تسلی نہ ہوئی چنانچہ دوسریقسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دو رنگیِ وحی آخر کیوں ؟ پہلے آنے والے نبیوں پرجب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزول قرآن کی طرف اشارہ تھا تو کیا اس اللہ کے لیے، جوچیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کی وحی جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اسکا قرآن میں اشارہ کر دیا۔ مجھے تو قرآن میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔ اگر آپ آیت کی طرفاشارہ فرما سکیں، مشکور ہوں گا۔ والسلام

 

مخلص۔۔۔ عبدالودود

 

                   جواب

 

محترمیو مکرمی، السلام علیکم و رحمۃ اللہ! عنایت نامہ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۶۰ء ملا۔ اس تازہعنایت نامے میں آپ نے اپنے پیش کردہ ابتدائی چار سوالات میں سے پہلے سوال پر بحثرکھتے ہوئے نبوت اور سنت کے متعلق اپنے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے، ان سے یہ باتواضح ہو جاتی ہے کہ آپ کا تصورِ نبوت ہی بنیادی طور پر غلط ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بنیادہی میں غلطی موجود ہو تو بعد کے ان سوالات پر جو اسی بنیاد سے اٹھتے ہیں، بحث کر کےہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ آپ میرے جوابپر مزید سوالات اٹھانے کے بجائے ان اصل مسائل پر گفتگو فرمائیں جو میں نے اپنے جوابمیں بیان کیے ہیں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری اس گزارش کو قبول کر کےاولین بنیادی سوال پر اپنے خیالات ظاہر فرمائے ہیں۔ اب میں آپ کی اور ان دوسرےلوگوں کی جو اس غلط فہمی میں گرفتار ہیں، کچھ خدمت انجام دے سکوں گا۔

 

نبوتاور سنت کا جو تصور آپ نے بیان کیا ہے وہ قرآن مجید کے نہایت ناقص مطالعہ کا نتیجہہے اور غضب یہ ہے کہ آپ نے اس ناقص مطالعہ پر اتنا اعتماد کر لیا کہ پہلی صدی سے آجتک اس بارے میں ساری امت کے علماء اور عوام کا بالاتفاق جو عقیدہ اور عمل رہا ہےاسے آپ غلط سمجھ بیٹھے ہیں اور اپنے نزدیک یہ خیال کر لیا ہے کہ پونے چودہ سو سال کیطویل مدت میں تمام مسلمان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منصب کو سمجھنے میں ٹھوکر کھاگئے ہیں، ان کے تمام علمائے قانون نے سنت کو مآخذ قانون مانے میں غلطی کی ہے اوران کی تمام سلطنتیں اپنا قانونی نظام اس بنیاد پر قائم کرنے میں غلط فہمی کا شکارہو گئی ہیں۔ آپ کے ان خیالات پر تفصیلی گفتگو تو میں آگے کی سطور میں کروں گا، لیکناس گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ ٹھنڈے دل سے اپنے دینی علمکی مقدار کا خود جائزہ لیں اور خود ہی سوچیں کہ وہ علم جو آپ نے اس بارے میں حاصلکیا ہے کیا وہ اتنے بڑے زعم کے لیے کافی ہے؟ قرآن تنہا آپ ہی نے تو نہیں پڑھا ہے، کروڑوں مسلمان ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر حصے میں اس کو پڑھتے رہے ہیں۔ اور بےشمار ایسے لوگ بھی اسلامی تاریخ میں گزرے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں جن کے لیےقرآن کا مطالعہ ان کے بہت سے مشاغل میں سے ایک ضمنی مشغلہ نہیں رہا ہے بلکہ انہوںنےاپنی عمریں اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات سمجھنے اور ان سےنتائج اخذ کرنے میں صرف کر دی ہیں۔ آخر آپ کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو گئی کہ نبوتجیسے بنیادی مسئلے میں یہ سب لوگ قرآن کا منشا بالکل الٹا سمجھ بیٹھے ہیں اور صحیحمنشا صرف آپ پر اور آپ جیسے چند اصحاب پر اب منکشف ہوا ہے۔ پوری تاریخِ اسلام میں آپکسی ایک قابل ذکر عالم کا بھی نام نہیں لے سکتے جس نے قرآن سے منصبِ نبوت کا وہ تصوراخذ کیا ہو جو آپ بیان کر رہے ہیں اور سنت کی وہ حیثیت قرار دی ہو جو آپ قرار دے رہےہیں۔ اگر ایسے کسی عالم کا حوالہ آپ دے سکتے ہیں تو براہ کرم اس کا ناملیجیے۔

 

۱۔ منصب نبوت اور اس کے فرائض

 

آپ کی عقل و ضمیر سے یہمخلصانہ اپیل کرنے کے بعد اب میں آپ کے پیش کردہ خیالات کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔آپ کی ساری بحث دس نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں سے پہلا نکتہ خود آپ کے الفاظ میں یہہے:

“مجھے آپ سے سو فیصدی اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم معلم بھی تھے، حاکم بھی تھے، قاضی بھی تھے، سپہ سالار بھی۔ آپ نے افراد کی تربیت کی اور تربیتیافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دی اور پھر ایک ریاست قائم کی”۔

 

یہ سوفیصدی اتفاق جس کا آپ ذکر فرما رہے ہیں، دراصل ایک فی صدی بلکہ ۱/۱۰۰۰ فی صدی بھینہیں ہے، اس لیے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو محض معلم، حاکم، قاضی وغیرہمانا ہے، مامور من اللہ کی لازمی صفت کے ساتھ نہیں مانا ہے۔ حالانکہ سارا فرق اسیصفت کے ماننے اور نہ ماننے سے واقع ہوتا ہے۔ آگے چل کر آپ نے خود یہ بات واضح کر دیہے کہ آپ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ سارے کام رسول کی حیثیت میں نہیںبلکہ ایک عام انسان کی حیثیت میں تھے اور اسی وجہ سے اس حیثیت میں حضور صلی اللہعلیہ و سلم نے جو کام کیا ہے اسے آپ وہ سنت نہیں مانتے جو مآخذ قانون ہو۔ دوسرےالفاظ میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے نزدیک ایک معلم تھے مگر خدا کے مقررکردہ نہیں بلکہ جیسے دنیا میں اور استاد ہوتے ہیں ویسے ہی ایک حضور صلی اللہ علیہو سلم بھی تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم قاضی تھے مگر خدا نے آپ کو اپنی طرفسے قاضی مقرر نہیں کیا تھا بلکہ دنیا کے عام ججوں اور میجسٹریٹوں کی طرح ایک جج یامیجسٹریٹ آپ (ﷺ) بھی تھے۔ یہی پوزیشن حاکم اور مزکی اور قائد و رہنما کے معاملےمیں بھی آپ نے اختیار کی ہے کہ ان میں سے کوئی منصب بھی آپ کے خیال میں نبی صلیاللہ علیہ و سلم کو مامور من اللہ ہونے کی حیثیت سے حاصل نہ تھا۔

 

پہلا سوالیہ ہے کہ پھر یہ مناصب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو کیسے حاصل ہوئے۔ کیا مکہ میںاسلام قبول کرنے والوں نے باختیار خود آپ کو اپنا لیڈر منتخب کیا تھا اور اس قیادتکے منصب سے وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہٹا دینے کے بھی مجاز تھے؟ کیا مدینہ پہنچکر جب اسلامی ریاست کی بنا ڈالی گئی۔ اس وقت انصار و مہاجرین نے کوئی مجلس مشاورتمنعقد کر کے یہ طے کیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہماری اس ریاست کے صدر اورقاضی اور افواج کے قائد اعلیٰ ہوں گے؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی موجود گی میںکوئی دوسرا مسلمان بھی ان مناصب کے لیے منتخب ہو سکتا تھا؟ اور کیا مسلمان اس کےمجاز تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سب مناصب، یا ان میں سےکوئی منصب واپس لےکر باہمی مشورے سے کسی اور کو سونپ دیتے؟ پھر کیا یہ بھی واقعہ ہے کہ مدینے کی اسریاست کے لیے قرآن کے تحت تفصیلی قوانین اور ضابطے بنانے کی غرض سے کوئی لیجسلیچرحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں قائم کی گئی تھی جس میں آپ (ﷺ) صحابہ کےمشورے سے قرآن کا منشا معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہوں اور اس مجلس کی رائے سے قرآن کاجو مفہوم متعین ہوتا ہو، اس کے مطابق ملکی قوانین بنائے جاتے ہوں؟ اگر ان سوالات کاجواب اثبات میں ہے تو براہِ کرم اس کا کوئی تاریخی ثبوت ارشاد فرمائیں۔ اور اگر نفیمیں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہو سلم خود رہنما، فرمانروا، قاضی، شارع اور قائد اعلیٰ بن بیٹھے تھے؟

 

دوسراسوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جو حیثیت آپ قرار دے رہے ہیں کیا قرآن بھیآپ کی وہ حیثیت قرار دیتا ہے؟ اس سلسلہ میں ذرا قرآن کھول کر دیکھیے کہ وہ کیا کہتاہے۔

 

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت معلم و مربی

 

اس کتابِ پاک میںچار مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منصبِ رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئیہے:

 

“اور یاد کرو جبکہ ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہےتھے (انہوں نے دعا کی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ہمارے پروردگار، ان لوگوں میں خود انہی کے اندر سے ایکرسول مبعوث فرما، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کیتعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے (البقرہ:۱۲۹)”۔

 

“جس طرح ہم نے تمہارے اندرخود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہاراتزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتاہے جو تم نہیں جانتے تھے (البقرہ:۱۵۱)”۔

 

“اللہ نے ایمان لانے والوں پراحسان فرمایا جبکہ ان کے اندر خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انہیں اس کیآیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتاہے (آل عمران:۱۶۴)”۔

 

“وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انہی میں سے ایکرسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اوران کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (الجمعہ:۲)”۔

 

ان آیات میں بار بار جسبات کو بتاکید دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو صرف آیاتقرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھیتھے۔

 

ایک یہ کہ آپ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔

دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشاکے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔

اور تیسرے یہ کہ آپ افراد کا بھی اور ان کیاجتماعی ہئیت کا بھی تزکیہ کریں، یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعیخرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کونشو و نما دیں۔

 

ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنادینےسے زائد ہی کوئی چیز تھی ورنہ اس کا الگ ذکر کرنا بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اورمعاشرے کی تربیت کے لیے آپ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے، وہ بھی قرآن کے الفاظپڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں، ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کےکوئی معنی نہ تھے۔ اب فرمایئے کہ قرآن پہنچانے کے علاوہ یہ معلم اور مربی کے مناصبجو حضور ا کرم صلی اللہ علیہ و سلم کو حاصل تھے، ان پر آپ خود فائز ہو بیٹھے تھے یااللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر مامور فرمایا تھا؟ کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحاتکے بعد اسی کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ یہدونوں مناصب رسالت کے اجزاء نہ تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ان مناصب کےفرائض اور خدمات بحیثیت رسول نہیں بلکہ اپنی پرائیویٹ حیثیت میں انجام دیتے تھے؟اگر نہیں کہہ سکتا تو بتایئے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضور صلیاللہ علیہ و سلم نے تعلیم کتاب و حکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول و عمل سےافراد اور معاشرہ کی جو تربیت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کی اسے من جانب اللہماننے اور سند تسلیم سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟

 

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارح کتاب اللہ

 

سورۂ النحل میںاللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اور (اے نبی) یہ ذکر ہم نے تمہاری طرف اس لیے نازلکیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئیہے”۔

 

اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد یہ خدمت کیگئی تھی کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو احکام و ہدایات دے، ان کی آپ صلی اللہ علیہو سلم توضیح و تشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات توسمجھ سکتا ہے کہ کسی کتاب کی توضیح و تشریح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سےنہیں ہو جاتی بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والاکتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سےمتعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ کر کے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب و مدعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہیسنا دینا کسی طفل مکتب کے نزدیک بھی تشریح و توضیح قرار نہیں پا سکتا۔ اب فرمایئے کہاس آیت کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قرآن کے شارح اپنی ذاتی حیثیت میں تھے یاخدا نے آپ کو شارح مقرر کیا تھا؟ یہاں تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر کتاب نازل کرنےکا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے۔ پھرکس طرح یہ ممکن ہے کہ شارح قرآن کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منصب کورسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپصلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و تفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکارخود رسالت کا انکار نہ ہو گا۔

 

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت پیشوا ونمونہ تقلید

 

سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

” (اے نبی) کہو کہاگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ کہو کہاطاعت کرو اللہ اور رسول کی، پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ کافروں کو پسند نہیںکرتا”۔

 

اور سورۂ احزاب میں فرماتا ہے:

“تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایکتقلید ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو”۔

 

ان دونوںآیتوں میں خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو پیشوا مقرر کر رہا ہے، ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے، ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے اور صاففرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، میری محبت اس کےبغیر تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔ اب فرمایئے کہ حضور صلیاللہ علیہ و سلم رہنما اور لیڈر خود بن بیٹھے تھے؟ یا مسلمانوں نے آپ کو منتخب کیاتھا؟ یا اللہ تعالیٰ نے اس منصب پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مامور کیا تھا؟ اگرقرآن کے یہ الفاظ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے آنحضورﷺ کو مامور من اللہ رہنما و پیشواقرار دے رہے ہیں۔ تو پھر آپ کی پیروی اور آپ کے نمونہ زندگی کی تقلید سے انکار کیسےکیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیرویہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فاتبعو القرآن فرمایا جاتا نہ کہ فاتبعونی۔ اور اس صورتمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو اسوۂ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہینہ تھے۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارع

 

سورۂ اعراف میں اللہتعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

“وہ ان کو معروف کاحکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہےاور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتاہے، جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔

 

اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہاللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو تشریعی اختیارات (Legislative Powers) عطا کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر و نہیاور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے بلکہ جو کچھ نبی صلیاللہ علیہ و سلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یاجس سے منع کیا ہے، وہ بھی اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات سے ہے، اس لیے وہ بھی قانونِخداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورۂ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئیہے:

 

“جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کر دے، اس سے رک جاؤ اور اللہسے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔

 

ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویلنہیں کی جا سکتی کہ ان میں قرآن کے امر و نہی اور قرآن کی تحلیل و تحریم کا ذکر ہے۔ یہتاویل نہیں بلکہ اللہ کے کلام میں ترمیم ہو گی۔ اللہ نے تو یہاں امر و نہی اور تحلیلو تحریم کو رسول کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔ پھر کیا کوئی شخص اللہ میاں سےیہ کہنا چاہتا ہے کہ آپ سے بیان میں غلطی ہو گئی۔ آپ بھولے سے قرآن کے بجائے رسول کانام لے گئے۔

 

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت قاضی

 

قرآن میں ایکجگہ نہیں، بکثرت مقامات پر اللہ تعالیٰ اس امر کی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبی صلیاللہ علیہ و سلم کو قاضی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:

“(اےنبی) ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کیدکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو (النساء:۱۰۵)”۔

 

“اور (اے نبی) کہو کہ میںایمان لایا ہوں اس کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہتمہارے درمیان عدل کروں (الشوریٰ: ۱۵)”۔

 

“ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہےکہ جب وہ بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کرےتو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا (النور:۵۱)

 

“اور جب ان کو کہا جاتا ہےکہ آؤ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی طرف تو تم دیکھتے ہو منافقوں کو کہ وہ تم سے کنیکتراتے ہیں (النساء:۶۱)

 

“پس (اے نبی) تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گےجب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرےاس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسرو چشم قبول کر لیں(النساء:۶۵)

 

یہ تمام آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہو سلم خود ساختہ یا مسلمانوں کے مقرر کیے ہوئے جج نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیےہوئے جج تھے۔ تیسری آیت یہ بتا رہی ہے کہ آپ کی جج ہونے کی حیثیت رسالت کی حیثیت سےالگ نہیں تھی بلکہ رسول ہی کی حیثیت میں آپ جج بھی تھے اور ایک مومن کا ایمانبالرسالت اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کی اس حیثیت کے آگے بھی سمع وطاعت کا رویہ نہ اختیار کر لے۔ چوتھی آیت میں ما انزل اللہ (قرآن) اور رسول دونوں کاالگ الگ ذکر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دو مستقلمرجع ہیں، ایک قرآن قانون کی حیثیت سے، دوسرے رسول صلی اللہ علیہ و سلم جج کی حیثیتسے اور ان دونوں سے منہ موڑنا منافق کا کام ہے، نہ کہ مومن کا۔ آخری آیت میں بالکلبے لاگ طریقے سے کہہ دیا گیا ہے کہ رسولﷺ کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیںکرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر رسولﷺ کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخصاپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ کیا قرآن کی انتصریحات کے بعد بھی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنحضورﷺ رسول کی حیثیت سے قاضی نہتھے بلکہ دنیا کے عام ججوں اور میجسٹریٹوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم بھی ایک ججیا میجسٹریٹ تھے، اس لیے ان کے فیصلوں کی طرح حضورﷺ کے فیصلے بھی مآخذ قانوننہیں بن سکتے؟ کیا دنیا کے کسی جج کی یہ حیثیت ہو سکتی ہے کہ اس کا فیصلہ اگر کوئینہ مانے یا اس پر تنقید کرے یا اپنے دل میں بھی اسے غلط سمجھے تو اس کا ایمان سلبہو جائے گا؟

 

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت حاکم و فرمانروا

 

قرآنمجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبیﷺ ، اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم و فرمانروا تھے اور آپ کو یہ منصب بھی رسول ہیکی حیثیت سے عطا ہوا تھا:

 

“ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس لیے کہ اس کیاطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے۔ (النساء ۶۴)”۔

جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہکی اطاعت کی (النساء ۸۰)”۔

” (اے نبی) یقیناً جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں (الفتح ۱۰)”۔

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کر لو (محمد ۳۳)”۔

“اورکسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ اللہ اوراس کا رسول کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملہ میں خود کوئی فیصلہ کر لینے کااختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلیگمراہی میں پڑ گیا (الاحزاب ۳۶)”۔

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کیاور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں، پھر اگرتمہارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم ایمانرکھتے ہو، اللہ اور روز آخر پر (النساء ۵۹)

 

یہ آیت صاف بتا رہی ہیں کہ رسولکوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو خود اپنی قائم کردہ ریاست کا سربراہ بن بیٹھا ہو، یا جسےلوگوں نے منتخب کر کے سربراہ بنایا ہو بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیا ہوافرمانروا ہے۔ اس کی فرمانروائی اس کے منصب رسالت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اسکا رسول ہونا ہی اللہ کی طرف سے اس کا حاکمِ مطاع ہونا ہے۔ اس کی اطاعت عین اللہ کیاطاعت ہے۔ اس سے بیعت در اصل اللہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللہ کینافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبولنہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو (جن میں ظاہر ہے کہ پوری امت اور اس کےحکمراں اور اس کے “مرکز ملت” سب شامل ہیں) قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملہکا فیصلہ وہ کر چکا ہو، اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔

 

ان تمام تصریحات سےبڑھ کر صاف اور قطعی تصریح آخری آیت کرتی ہے جس میں یکے بعد دیگرے تین اطاعتوں کاحکم دیا گیا ہے:

 

سب سے پہلے اللہ کی اطاعت۔

اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہو سلم کی اطاعت۔

پھر تیسرے درجے میں اولی الامر (یعنی آپ کے”مرکزِ ملت”) کیاطاعت۔

 

اس سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوئی کہ رسول اولی الامر میں شامل نہیںہے بلکہ ان سے الگ اور بالاتر ہے۔ اور اس کا درجہ خدا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوئی وہ یہ کہ اولی الامر سے نزاع ہو سکتی ہے مگر رسولسے نزاع نہیں ہو سکتی۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نزاعات میں فیصلے کے لیے مرجع صرفاللہ ہوتا تو صراحت کے ساتھ رسول کا الگ ذکر محض بے معنی ہو جاتا۔ پھر جبکہ اللہ کیطرف رجوع کرنے سے مراد کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو رسولکی طرف رجوع کرنے کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ عہد رسالت میں خود ذاترسول کی طرف اور اس عہد کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف رجوع کیاجائے[5]۔

 

سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع

 

آپ اگر واقعی قرآنکو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنےہوئے نہیں ہیں تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظمیں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کی طرف سے مقر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، رہنما، شارحِ کلام اللہ، شارع (Law Giver)، قاضی اور حاکم و فرمانروا قرار دے رہا ہے۔ اور حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصبِ رسالت کے اجزائےلاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور سے لیکرآج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میںحضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا مآخذ قانون (Source of Law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائیبر خود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ تمام دنیا کے مسلمان اور ہرزمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیکمطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضورﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسول صلیاللہ علیہ و سلم تھے۔ اور اس کے بعد آپ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کےہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آ گئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نےسمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا؟

 

۲۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعیاختیارات

 

دوسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:

“لیکن اس بات پر آپ سےاتفاق نہیں ہے کہ ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھکیا تھا، یہ وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل وتکمیل کرتی ہے۔ بے شک حضورﷺ نے حاکم اعلیٰ کے قانون کے مطابق معاشرہ کی تشکیلتو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللہ کا قانون (نعوذ باللہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضورﷺ نے عملاً کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی، میرے لیے ناقابل فہم ہے”۔

 

اسیسلسلے میں آگے چل کر آپ پھر فرماتے ہیں:

“نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بنا پر کتاباللہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے لیے تو یہ تصور بھی جسم میںکپکپی پیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی پیش (مثال[6]) فرمائیں گے جس سے معلومہو کہ قرآن کا قانون نامکمل ہے”۔

 

ان فقروں میں جو کچھ آپ نے فرمایا ہے، یہ ایکبڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحقہوئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰجس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر یا ایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طےکر کے اپنے ماتحت کسی شخص یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد و ضوابط مرتبکرنے کے اختیارات تفویض کر دے تو اس کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط قانون سے الگ کوئیجز نہیں ہوتے بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتاہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد  بنا کر اس پرعمل درآمد کا طریقہ مقرر کر دیا جائے، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کی مطابق مفصلقوانین بنائے جائیں اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میںواضح کر دیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص یا اشخاص یا اداروں کوقواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانونکے ساتھ مل کر اس کی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانونساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا اور کسی دوسرے نے آ کر اس کا نقص دور کیا بلکہاس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اورتفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوئے ایک شخص یا ادارےکے ذریعے سے مرتبکرا دیا۔

 

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی کام کی نوعیت

 

اللہتعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجملاحکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کر کے، یا اپنی پسندو ناپسند کا اظہارکر کے یہ کام اپنے رسولﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کیتفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملاً اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھا دیں۔یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجودہے۔

“اور (اے نبی) ہم نے یہ ذکر تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کےلیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔(النمل:۴۴)

 

اس صریح فرمانِتفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قولی اورعملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کےقانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂتفویض جو چیلنج کرنے کے ہیں۔

 

اس تشریعی کام کی چند مثالیں

 

یہاگرچہ آپ کے نکتے کا پورا جواب ہے، لیکن میں مزید تفہیم کی خاطر چند مثالیں دیتاہوں جن سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و بیان کےدرمیان کس قسم کا تعلق ہے۔

 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہپاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ واللہ یحب المطھرین (التوبہ:۱۰)اور نبی صلی اللہعلیہ و سلم کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وثیابک فطھر (المدثر:۴) حضورﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم و لباس کے متعلق مفصلہدایات دیں اور ان پر خود عمل کر کے بتایا۔

 

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاکہ اگر تم کو جنابت لاحق ہو گئی تو پاک ہوئے بغیر نماز نہ پڑھو (النساء:۴۳، المائدہ:۶)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مرادہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاکہونے کا طریقہ کیا ہے۔

 

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کےلیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولو، سر پر مسح کرو اور پاؤں دھوؤ، یا انپر مسح کرو (المائدہ:۶) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میںکلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ انپر بھی مسح کرنا چاہئیے۔ پاؤں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو انکو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میںٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔

 

قرآن میں اللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالاتاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس سے مرادتاریکیِ شب کے مقابلہ میں سپید ۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔

 

قرآن میں اللہتعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیاء کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کیتصریح کرنے کے بعد باقی اشیاء کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمہارے لیے پاکچیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں (المائدہ:۴) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نےاپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنہیں ہم کھا سکتے ہیںاور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔

 

قرآن میں اللہ تعالیٰنے وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو اورایک لڑکی ہو تو وہ نصف ترکہ پائے گی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کادو تہائی حصہ ملے گا (النساء:۱۱)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دو لڑکیاں ہوں تووہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھیاتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔

 

قرآن میں اللہتعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء:۲۳)۔ نبیصلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھیاسی حکم میں داخل ہے۔

 

قرآن مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو، تین تین، چارچار عورتوں سے نکاح کر لیں (النساء:۳) یہ الفاظ اس معاملہ میں قطعاً واضح نہیں ہیںکہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشاء کی وضاحتنبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زائد بیویاں تھیںان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔

 

قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران:۹۷)۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کر کے آدمی فریضۂ حج سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔

 

قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۳۴ کے الفاظ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں جنہوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کر دے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔

 

ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کر کے قرآن کے احکام و ہدایات اور اشارات و مضمرات کی کس طرح شرح و تفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چونکہ خود قرآن میں دئیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

 

۳۔سنت اور اتباع سنت کا مفہوم

 

تیسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اتباع یہ ہے کہ جو کام حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا، وہی ہم کریں، نہ یہ کہ جس طرح حضورﷺ نے کیا اسی طرح ہم بھی کریں۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ما انزل اللہ کو دوسروں تک پہنچایا تو امت کا بھی فریضہ ہے کہ ما انزل اللہ کو دوسروں تک پہنچائے۔۔۔”

 

سنت اور اس کے اتباع کا یہ مفہوم جو آپ نے متعین کیا ہے، اس کے متعلق میں صرف اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ یہ خود اس ما انزل اللہ  کے مطابق نہیں ہے جس کے اتباع کو آپ واجب مانتے ہیں۔ ما انزل اللہ  کی رو سے تو سنت کا اتباع یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے مقرر کیے ہوئے معلم، مربی، شارع، قاضی، حکام و فرمانروا اور شارحِ قرآن ہونے کی حیثیت سے جو کچھ فرمایا اور عمل کر کے دکھایا ہے، اسے آپ سنتِ رسول مانیں اور اس کا اتباع کریں۔ اس کے دلائل میں اوپر بیان کر چکا ہوں، اس لیے انہیں دہرانے کی حاجت نہیں ہے۔

 

اس سلسلے میں آپ نے مسواک والی بات جو لکھی ہے اس کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ سنجیدہ علمی مباحث میں اس قسم کی مہمل باتوں کو بطور نظیر لا کر کسی مسئلے کا تصفیہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر نقطۂ نظر کے حامیوں میں کچھ نہ کچھ لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنی غیر معقول باتوں سے اپنے نقطۂ نظر کو مضحکہ انگیز بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے استدلال کر کے بجائے خود اس نقطۂ نظر کی تردید کرنے کی کوشش اگر آپ کریں گے تو اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہ ہوں گے کہ وزنی دلائل کا مقابلہ کرنے سے پہلو تہی کر کے آپ صرف کمزور باتیں زور آزمائی کے لیے تلاش کرتے ہیں۔

 

اسی طرح آپ کی یہ دلیل بھی بہت کمزور ہے کہ اتباع سنت کے معنی آج کے ایٹمی دور میں تیروں سے لڑنے کے ہیں۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں تیروں ہی سے جنگ کی جاتی تھی۔ آخر آپ سے کس نے کہا ہے کہ اتباع سنت کے معنی یہ ہیں؟ اتباع سنت کے یہ معنی اہل علم نے کبھی نہیں لیے ہیں کہ ہم جہاد میں وہی اسلحے استعمال کریں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں استعمال ہوتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ اس کے معنی یہی سمجھے گئے ہیں کہ ہم جنگ میں ان مقاصد، ان اخلاقی اصولوں اور ان شرعی ضابطوں کو ملحوظ رکھیں جن کی ہدایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے دی ہے اور ان اغراض کے لیے لڑنے اور وہ کاروائیاں کرنے سے باز رہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے۔

 

رسول پاک صلعم کس وحی کے اتباع پر مامور تھے اور ہمکس کے اتباع پر مامور ہیں؟

 

آپ کا چوتھا نکتہ آپ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ:

“ان تمام اعمال میں جو حضورﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کیے۔ وہ اسی ما انزل اللہ  کا، جو کتاب اللہ میں موجود ہے، اتباع کرتے تھے اور امت کو بھی یہی حکم ملا کہ اسی کا اتباع کرے۔ جہاں اتبعوا ما انزل للہ الیکم من ربکم (۲۰۳:۷) کہہ کر امت کے افراد کو تلقین کی وہاں یہ بھی اعلان ہوا کہ حضورﷺ بھی اسی کا اتباع کرتے ہیں۔ قل انما اتبع ما یوحٰی الیّ من ربی(۲۰۳:۷)۔

 

اس عبارت میں آپ نے دو آیتیں نقل کی ہیں اور دونوں نہ صرف یہ کہ غلط نقل کی ہیں بلکہ نقل میں بھی ایسی غلطیاں کی ہیں جو عربی زبان کی شدبد کا علم رکھنے والا بھی نہیں کر سکتا۔ پہلی آیت دراصل یہ اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم “یعنی پیروی کرو اس کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے”۔ آپ کے نقل کردہ الفاظ کا ترجمہ یہ ہو گا کہ “پیروی کرو اس کی جو اللہ نے تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا ہے”۔ دوسری آیت کے اصل الفاظ قرآن مجید میں یہ ہیں قل انما اتباع مایوحیٰ الی من ربی(۲۰۳:۷) “کہو کہ میں تو اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی جانب سے بھیجی جاتی ہے”۔ آپ نے جو الفاظ نقل کیے ہیں ان کا ترجمہ یہ ہے: “کہو کہ پیروی کر اس وحی کی جو میری طرف میرے رب کی جانب سے بھیجی جاتی ہے”۔ میں نے ان غلطیوں پر آپ کو صرف اس لیے متنبہ کیا ہے کہ آپ کسی وقت ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ ایک طرف قرآن سے آپ کی واقفیت کا یہ حال ہے اور دوسری طرف آپ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ساری امت کے اہل علم و تحقیقِ  قرآن کو غلط سمجھے ہیں اور آپ نے اس کو صحیح سمجھا ہے۔

 

اب رہا اصل مسئلہ، تو اس میں آپ نے دو باتیں کہی ہیں اور دونوں غلط ہیں۔ ایک بات آپ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صرف وہی وحی آتی تھی جو قرآن میں موجود ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف اسی کی پیروی کا حکم تھا۔ حالانکہ خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے احکام نازل ہوتے تھے اور آپ ان دونوں قسم کی وحیوں کا اتباع کرنے پر مامور تھے۔ دوسری بات آپ یہ فرماتے ہیں کہ امت کو صرف قرآن کی پیروی کا حکم ہے حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ امت کو رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کا حکم بھی ہے:

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:۳۱)

“اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا (آل عمران:۳۱)”۔

ورحمتی وسعت کل شئ فساکتبھاللذین یتقون ویؤتون الزکوٰۃ والذین ہم باٰیتنا یؤمنون الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجودنہ مکتوباً عندھم فی التوراۃ االانجیل (الاعراف : ۱۵۶-۱۵۷)

“میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اس رحمت کو میں ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو پیروی کرتے ہیں اس رسولِ نبیِ اُمی کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (الاعراف:ً۱۵۶-۱۵۷)”۔

وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا الا لتعلم من یتبع الرسول ممن علیٰ عقیبہ (البقرۃ: ۱۴۳)

“اور ہم نے وہ قبلہ جس پر اب تک تم تھے اسی لیے مقرر کیا تھا تاکہ یہ دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے (البقرۃ:۱۴۳)”۔

 

ان آیات میں رسول کی پیروی کرنے کے حکم کو تاویل کے خراد پر چڑھا کر یہ معنی نہیں پہنائے جا سکتے کہ اس سے مراد دراصل قرآن کی پیروی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، اگر واقعی مقصود یہی ہوتا کہ لوگ رسول کی نہیں بلکہ قرآن کی پیروی کریں تو آخر کیا وجہ ہے کہ آیت نمبر ۱ میں اللہ تعالیٰ نے فاتبعوا کتاب اللہ کہنے کے بجائے فاتبعونی کے الفاظ استعمال فرمائے؟ کیا آپ کی رائے میں یہاں اللہ میاں سے چوک ہو گئی ہے؟

 

پھر آیت نمبر۲میں تو اس تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس میں آیات خداوندی پر ایمان لانے کا ذکر الگ ہے اور نبی امی صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع کا ذکر الگ۔

 

ان سب سے زیادہ کھلی ہوئی آیت نمبر۳ ہے جو ایسی ہر تاویل کی جڑ کاٹ دیتی ہے اور ساتھ ساتھ آپ کے اس مفروضے کا بھی قلع قمع کر دیتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے سوا اور کسی صورت میں وحی نہیں آتی تھی۔ مسجد حرام کو قبلہ قرار دینے سے پہلے مسلمانوں کا جو قبلہ تھا، اسے قبلہ بنانے کا کوئی حکم قرآن میں نہیں آیا ہے۔ اگر آیا ہو تو آپ اس کا حوالہ دے دیں۔ یہ واقعہ ناقابل انکار ہے کہ وہ قبلہ آغاز اسلام میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مقرر کیا تھا اور تقریباً ۱۴ سال تک اسی کی طرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نماز ادا کرتے رہے۔ ۱۴ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی اس آیت میں حضورﷺ کے اس فعل کی توثیق فرمائی اور یہ اعلان فرمایا کہ یہ قبلہ ہمارا مقرر کیا ہوا تھا اور اسے ہم نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے سے اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے منہ موڑتا ہے۔ یہ ایک طرف اس امر کا صریح ثبوت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے احکام نازل ہوتے تھے۔ اور دوسری طرف یہی آیت پوری صراحت کے ساتھ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ان احکام کا اتباع کرنے پر بھی مامور ہیں جو قرآن میں مذکور نہ ہوں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلمانوں کے ایمان بالرسالت کی آزمائش ہی اس طریقہ سے ہوتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے جو حکم دیا جائے، اسے وہ مانتے ہیں یا نہیں؟ اب آپ اور آپ کے ہم خیال حضرات خود سوچ لیں کہ اپنے آپ کو کس خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں واقعی خدا کا اتنا خوف ہے کہ کی ہدایت کے خلاف طرز عمل کا تصور کرنے سے بھی آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے تو میری گزارش ہے کہ بحث و مناظرہ کے جذبے سے اپنے ذہن کو پاک کر کے اوپر کی چند سطروں کو مکرر پڑھیں۔ خدا کرے کہ آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہو اور آپ اس گمراہی سے بچ نکلیں جس میں محض اپنے ناقص مطالعے کی وجہ سے پڑ گئے ہیں۔

 

۵۔ مرکز ملت

 

پانچواں نکتہ آپ یہ ارشادفرماتے ہیں:

“چونکہ دین کا تقاضا یہ تھا کہ کتاب پر عمل اجتماعی شکل میں ہو اوریہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص قرآن پر اپنی سمجھ کے مطابق عمل کرے اور دوسرا اپنیسمجھ کے مطابق، اس لیے نظام کو قائم رکھنے کے لیے ایک زندہ شخصیت کی ضرورت ہے اورمجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ جہاں اجتماعی نظام کے قیام کا سوال ہو، وہاںپہنچانے والے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے، کیونکہ پیغام اس نے اس لیے پہنچایا کہ وحیاس کے سوا کسی اور کو نہیں ملتی، چنانچہ قرآن نے اسی لیے واضح کر دیا کہ من یطعالرسول فقد اطاع اللہ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مرکز ملت بھی تھے اور سنترسول اللہ پر عمل یہی ہے کہ حضورﷺ کے بعد بھی اسی طرح مرکزیت کو قائم رکھاجائے، چنانچہ اسی نکتہ کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں واضح کر دیا کہ: وما محمداًالا رسول قد خلت من قبلہٖ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم(۱۴۳:۳”

 

اس نکتہ کو آپ نے اچھی طرح کھول کر بیان نہیں فرمایا ہے۔ آپ کےمجموعی اشارات کی مدد سے آپ کا جو مدعا سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم محض اجتماعی نظام قائم کرنے کی خاطر اپنے زمانے میں رسول کے علاوہ “مرکز ملت” بھی بنائے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رسول ہونے کی حیثیت تودائمی تھی، مگر “مرکز ملت” ہونے کی حیثیت صرف اس وقت تک تھی جب تک آپ صلی اللہ علیہو سلم کی زندہ شخصیت نظام جماعت چلا رہی تھی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو آپﷺ کےبعد جس زندہ شخصیت کو نظام قائم رکھنے کے لیے سربراہ بنایا گیا اور اب بنایا جائے وہاپنے زمانے کے لیے ویسا ہی “مرکز ملت” تھا اور ہو گا جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلماپنے زمانے کے لیے تھے۔ اب سنت رسول کی پیروی بس یہی ہے کہ ہم نظام قائم رکھنے کےلے یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ “مرکز ملت” قائم کرتے رہیں۔ اس معاملہ میں بعد کےمرکزان ملت پر اگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی فوقیت ہے تو صرف یہ کہ قرآنپہنچانے والے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام بہت آگے ہے۔

 

چنداصولی سوالات

 

آپ کے کلام کی یہ تفسیر جو میں نے کی ہے، یہ اگر صحیح نہیں ہے تو آپ تصحیح فرما دیں۔ صاحب کلام ہونے کی حیثیت سے آپ کی اپنی تفسیر صحیح ہو گی۔ لیکن اگر میں نے آپ کا مطلب ٹھیک سمجھا ہے، تو اس پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:

 

اول یہ کہ “مرکز ملت” سے آپ کی مراد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے فرائض رسالت کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ اللہ کی کتاب پہچانے والے ہیں۔ اس کتاب کی تشریح و توضیع کرنے والے ہیں، اس کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھانے والے ہیں، افراد اور جماعت کا تزکیہ کرنے والے ہیں، مسلمانوں کے لیے نمونۂ تقلید ہیں، وہ رہنما ہیں جس کی پیروی خدا کے حکم سے واجب ہے، امر و نہی اور تحلیل و تحریم کے اختیارات رکھنے والے شارع (Law Giver)  ہیں، قاضی ہیں اور حاکم مطاع ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تمام مناصب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول ہونے کی حیثیت سے حاصل تھے اور منصب رسالت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مامور ہونے کا مطلب ہی یہ تھا کہ آپ ان مناصب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے۔ اس باب میں قرآن کے واضح ارشادات میں پہلے نقل کر چکا ہوں جنہیں دہرانے کی حاجت نہیں۔ اب چونکہ “مرکز ملت” قرآن کی نہیں بلکہ آپ لوگوں کی اپنی بنائی ہوئی اصطلاح ہے، اس لیے براہ کرم آپ یہ بتائیں کہ “مرکز ملت” کا منصب ان مناصب کے ماسوا کچھ ہے؟ یا انہی مناصب کا مجموعہ ہے؟ یا ان میں سے بعض مناصب اس میں شامل ہیں اور بعض نہیں ہیں؟ اگر وہ ان کے ماسوا کچھ ہے تو وہ کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس منصب کا علم آپ کو کس ذریعہ سے حاصل ہوا ہے؟ اگر وہ انہی مناصب کا مجموعہ ہے تو آپ اس کو رسالت سے الگ کیسے قرار دیتے ہیں؟ اور اگر ان میں سے بعض مناصب “مرکز ملت” کے ہیں اور بعض منصب رسالت کے تو وہ کون کون سے مناصب ہیں جو مرکز ملت کے منصب میں شامل ہیں اور ان کو کس دلیل سے آپ منصب رسالت سے الگ کرتے ہیں؟

 

دوسرا سوال “مرکز ملت” کے تقرر کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تقرر کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے مرکز ملت مقرر کرے۔ دوسری یہ کہ مسلمان اپنی مرضی سے اس کو منتخب کریں۔ تیسری یہ کہ وہ طاقت سے مسلط ہو کر زبردستی مرکز ملت بن جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ “مرکز ملت” سے خواہ کچھ بھی مراد ہو، اس منصب پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا تقرر ان تینوں صورتوں میں سے آخر کس صورت پر ہوا تھا؟ کیا یہ تقرر اللہ نے کیا تھا؟ یا مسلمانوں نے آپ کو اس منصب کے لیے منتخب کیا تھا؟ یا حضورﷺ خود “مرکز ملت” بن گئے تھے؟ ان میں سے جو شق بھی آپ اختیار کرتے ہیں اس کی تصریح ہونی چاہیے۔ اور اسی طرح یہ تصریح بھی ہونی چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جو بھی “مرکز ملت” بنے گا وہ خداوند عالم کی طرف سے نامزد اور مامور کیا ہوا ہو گا؟ یا مسلمان اس کو مرکز بنائیں گے؟ یا وہ خود اپنے زور سے مرکز بن جائے گا؟ اگر دونوں کے طریق تقرر میں آپ کے نزدیک کوئی فرق نہیں ہے تو صاف صاف یہ بات کہہ دیجئے تاکہ آپ کا موقف مبہم نہ رہے۔ اور اگر فرق ہے تو بتائیے کہ وہ کیا فرق ہے اور اس فرق سے دونوں قسم کے مرکزوں کی حیثیت اور اختیارات میں بھی کوئی بنیادی فرق واقع ہوتا ہے یا نہیں؟

 

تیسرا سوال یہ ہے کہ “پہنچانے والے کا مقام بہت آگے ہوتا ہے” فرما کر آپ نے از راہ کرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دوسرے “مرکزان ملت” پر جو فوقیت عطا فرمائ ہے یہ محض درجے اور مرتبے کی فوقیت ہے یا آپ کے نزدیک دونوں کے منصبوں کی نوعیت میں بھی کوئی فرق ہے؟ زیادہ واضح الفاظ میں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا آپ کے خیال میں وہ سب اختیارات جو رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو “مرکز ملت” کی حیثیت سے حاصل تھے، آپ کے بعد “مرکز ملت” بننے والے کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں؟ اور کیا باعتبار اختیارات دونوں مساوی حیثیت رکھتے ہیں؟ اور کیا دوسروں پر حضورﷺ کی فوقیت بس اتنی ہی ہے کہ آپ بعد والے مرکز کی بہ نسبت کچھ زیادہ احترام کے مستحق ہیں کیونکہ آپﷺ نے قرآن پہنچایا ہے؟

 

اگر یہ آپ کا خیال ہے تو بتائیے کہ حضورﷺ کے بعد بننے والے یا بنائے جانے والے مرکز کی حیثیت بھی کیا یہی ہے کہ اس فیصلے سے سرتابی کرنا تو درکنار، اس کے خلاف دل میں تنگی محسوس کرنے سے بھی آدمی کا ایمان سلب ہو جائے؟ کیا اس کی حیثیت بھی یہی ہے کہ جب وہ کسی معاملہ میں اپنا فیصلہ دے دے تو مسلمانوں کو اس سے مختلف کوئی رائے رکھنے کا حق باقی نہ رہے؟ کیا اس کا مقام بھی یہی ہے کہ اس کے ساتھ مسلمان کوئی نزاع نہیں کر سکتے اور اس کے فرمان کو بے چون و چرا تسلیم کر لینے کے سوا امت کے لیے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، اگر وہ مومن رہنا چاہتی ہو؟ کیا وہ زندہ شخصیت یا شخصیتیں جو “مرکز ملت” بنیں یا بنائی جائیں، اسوۂ حسنہ بھی ہیں کہ مسلمان ان کی زندگیوں کو دیکھیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو بھی ان کے مطابق ڈھالتے چلے جائیں؟ کیا وہ بھی ہمارے تزکیے اور تعلیم کتاب و حکمت اور تشریح ما انزل اللہ کے لیے “مبعوث” ہوئے ہیں کہ مستند ہو ان کا فرمایا ہوا؟”

 

کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ان سوالات پر ذرا تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالیں تاکہ اس “مرکز ملت” کی ٹھیک ٹھیک پوزیشن سب کے سامنے آ جائے جس کا ہم بہت دنوں سے چرچا سن رہے ہیں۔

 

۶۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف قرآن پہنچانے کی حد تکنبی تھے؟

 

آپ کا چھٹا نکتہ آپ کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:

“آپ کا اگلا سوال یہ ہے کہ جو کام حضورﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں سرانجام دیے ان میں آنحضرتﷺ کی پوزیشن کیا تھی؟ میرا جواب یہ ہے کہ حضورﷺ نے جو کچھ کر کے دکھایا، وہ ایک بشر کی حیثیت سے لیکن ما انزل اللہ کے مطابق کر کے دکھایا۔ میرا یہ جواب کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرائض رسالت کی سر انجام دہی ایک بشر کی حیثیت سے تھی، میرے اپنے ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ خود کتاب اللہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ “انابشر مثلکم“۔

 

اس عبارت میں آپ نے میرے جس سوال کا جواب دیا ہے وہ دراصل یہ تھا کہ اس پیغمبرانہ زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن پہنچانے کے سوا دوسرے جو کام کیے تھے وہ آیا نبی ہونے کی حیثیت میں کیے تھے جن میں آپ قرآن مجید کی طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے، یا ان کاموں میں آپ کی حیثیت محض ایک عام مسلمان کی سی تھی؟ اس کا جواب آپ یہ دیتے ہیں کہ یہ کام حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بشر کی حیثیت سے کیے تھے لیکن ما انزل اللہ کے مطابق کیے تھے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف قرآن پہنچا دینے کی حد تک نبی تھے، اس کے بعد ایک قائد و رہنما، ایک معلم، ایک مربی، ایک مقنن، ایک جج اور ایک فرمانروا ہونے کی حیثیت میں آپ نے جو کچھ بھی کیا اس میں آپ کا مقام ایک نبی کا نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کا تھا جو قرآن کے مطابق عمل کرتا۔ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہی حیثیت بیان کی ہے لیکن اس سے پہلے قرآن کی جو صریح آیات میں نے نقل کی ہیں ان کو پڑھنے کے بعد کوئ ذی فہم آدمی یہ نہیں مان سکتا کہ قرآن نے واقعی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ حیثیت دی ہے۔

 

آپ قرآن سے یہ ادھوری بات نقل کر رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بار بار انابشرکم مثلکم فرماتے تھے۔ پوری بات جو قرآن نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم ایک ایسے بشر ہیں جسے رسول بنایا گیا ہے۔ (قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولا) اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ایک ایسے بشر ہیں جس پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے (قل انما انا بشر مثلکم یوحٰی الی) کیا آپ ایک عام بشر اور رسالت و وحی پانے والے بشر کی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں سمجھتے؟ جو بشر خدا کا رسول ہو وہ تو لامحالہ خدا کا نمائندہ ہے اور جس بشر کے پاس وحی آتی ہو وہ خدا کی براہ راست ہدایت کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کی حیثیت اور ایک عام بشر کی حیثیت یکساں کیسے ہو سکتی ہے۔

آپ جب یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ما انزل اللہ کے مطابق کام کرتے تھے تو آپ کا مطلب ما انزل اللہ سے صرف قرآن ہوتا ہے۔ اس لیے آپ لفظاً ایک حق بات مگر معناً ایک باطل بات کہتے ہیں۔ بلاشبہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ما انزل اللہ کے مطابق کام کرتے تھے، مگر آپ کے اوپر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں پائی جاتی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی آپ کو وحی کے ذریعہ سے احکام ملتے تھے۔ اس کا ایک ثبوت میں آپ کے چوتھے نکتے کا جواب دیتے ہوئے پیش کر چکا ہوں۔ مزید ثبوت انشاء اللہ آپ کے دسویں نکتے کی بحث میں دوں گا۔

 

۷۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اجتہادی لغزشوں سے غلطاستدلال

 

ساتواں نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:

“قرآن کی آیات سے واضح ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نظام مملکت کی سرانجام دہی میں ایک بشر کی حیثیت رکھتےتھے اور کبھی کبھی آنحضرتﷺ سے اجتہادی غلطیاں بھی ہو جاتی تھیں۔ قل ان ضللتفانما اضل علیٰ نفسی وان اھتدیت فیما یوحٰی[7]الی ربی انہ سمیع قریب[8] (۵۰:۳۰) اگر یہاجتہادی غلطیاں ایسی ہوتیں جن کا اثر دین کے اہم گوشے پر پڑتا تو خدا کی طرف سے اسکی تادیب بھی آ جاتی جیسے کہ ایک جنگ کے موقع پر بعض لوگوں نے پیچھے رہنے کی اجازتچاہی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دے دی۔ اس پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی۔عفااللہ عنک لمااذنتلھم حتی یتبین لک الذین صدقوا وتعلم الکاذبین[9] (۴۳:۹)

 

اسی طرح سورۂ تحریم میں تادیب آ گئی: یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک(۸۱:۶۶) اسی طرح سورۂ عبس میں ہے: عبس وتولی ان جاءہُالاعمٰی۔ وما یدریک لعلہ یزکی۔ او یذکر فتنفعہ الذکر۔ اما من استغنیٰ فانت لہ تصدی۔وماعلیک الا یتزکیٰ[10]۔ واما من جاءک یسعٰی وھو یخشٰی فانت عنہ تلھی(۸-۱۱:۱۰)

 

یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے کہ کس قدر سرسری مطالعہ کی بنا پر لوگ کتنے بڑے اور نازک مسائل کے متعلق رائے قائم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک رسول بھی بھیجا اور پھر خود ہی اس کا اعتبار کھونے اور اسے غلط کار و گمراہ ثابت کرنے کے لیے یہ آیات بھی قرآن میں نازل کر دیں تاکہ کہیں لوگ اطمینان کے ساتھ اس کی پیروی نہ کرنے لگیں؟ کاش آپ نے قرآن کا آپریشن کرنے سے پہلے ان آیات پر اتنا ہی غور کر لیا ہوتا جتنا اپنے کسی مریض کی ایکسرے رپورٹ پر غور کرتے ہیں۔

 

پہلی آیت قل ان ضللت سے آپ یہ استدلال کرنا چاہتے ہیں کہ خود قرآن کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھی گمراہ بھی ہو جاتے تھے اور آپ کی زندگی دراصل ضلالت و ہدایت کا مجموعہ تھی (معاذاللہ)۔ یہ استدلال کرتے وقت آپ نے کچھ نہ دیکھا کہ یہ آیت کس سیاق و سباق میں آئی ہے۔ سورۂ سبا میں اللہ تعالیٰ پہلے کفار مکہ کا یہ الزام نقل فرماتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق کہتے تھے: افتریٰ علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (آیت: ۸)ص “یہ شخص یا تو اللہ پر جان بوجھ کر بہتان گڑھتا ہے، یا یہ مجنون ہے”۔ پھر اس کا جواب دیتے ہوئے آیات ۳۶ تا ۵۰ میں الزام نمبر۲ کے متعلق فرماتا ہے کہ تم لوگ فرداً فرداً بھی اور اجتماعی طور پر بھی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر خالصتاً للہ غور کرو، تمہارا دل خود گواہی دے گا کہ یہ شخص جو تمہیں اسلام کی تعلیم دے رہا ہے، اس[11] میں جنون کی کوئ بات نہیں۔ اس کے بعد ان کے پہلے الزام (یعنی “یہ شخص اللہ پر جان بوجھ کر بہتان گھڑتا ہے”) کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ: اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے کہو، ان ربی یقذف باالحق در حقیقت یہ سچا کلام میرا رب القا فرما رہا ہے۔ ان ضللت فانما اضل علیٰ نفسی اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں (جیسا کہ تم الزام لگا رہے ہو) تو میری اس گمراہی کا وبال مجھ پر ہے۔ و ان اھتدیت فبما یوحی الیربی۔ اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو اس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب مجھ پر نازل کرتا ہے۔ “انہ[12] سمیع قریب” وہ سب کچھ سننے والا اور قریب ہے۔ یعنی اس سے پوشیدہ نہیں ہے کہ میں گمراہ ہوں یا اس کی طرف سے ہدایت یافتہ۔ اس سیاق وسباق میں جو بات کہی گئی ہے اس کا آپ یہ مطلب لے رہے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے سامنے اپنے رسول سے یہ اعتراف کروا دیا کہ واقعی میں کبھی گمراہ بھی ہو جاتا ہوں، مگر کبھی سیدھے راستے پر بھی چل لیتا ہوں۔ سبحان اللہ، کیا خوب قرآن فہمی ہے۔

 

دوسری آیات جو آپ نے پیش فرمائی ہیں ان سے آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے فیصلوں میں بہت سی غلطیاں کی تھیں جن میں سے اللہ میاں نے بطور نمونہ یہ دوچار غلطیاں پکڑ کر بتا دیں تاکہ لوگ ہوشیار ہو جائیں۔ حالانکہ دراصل ان سے نتیجہ بالکل برعکس نکلتا ہے۔ ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ سے اپنی پوری پیغمبرانہ زندگی میں بس وہی لغزشیں ہوئی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے فوراً اصلاح فرما دی اور اب ہم پورے اطمینان کے ساتھ اس پوری سنت کی پیروی کر سکتے ہیں جو آپ سے ثابت ہے، کیونکہ اگر اس میں کوئی اور لغزش ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی برقرار نہ رہنے دیتا جس طرح ان لغزشوں کو اس نے برقرار نہیں رہنے دیا۔

 

پھر آپ نے کچھ تو سوچا ہوتا کہ وہ لغزشیں ہیں کیا جن پر اللہ نے ان آیات میں اپنے نبی کو ٹوکا ہے۔ جنگ میں فوجی خدمت سے استثناء کی درخواست پر کسی کو مستثنٰی کر دینا، کسی حلال چیز کو نہ کھانے کا عہد کر لینا، ایک صحبت میں چند اہم شخصیتوں کو دین کی دعوت دیتے ہوئے بظاہر ایک غیر اہم شخصیت کی طرف توجہ نہ کرنا، کیا یہ ایسے ہی بڑے معاملات ہیں جن کا دین کے اہم گوشوں پر اثر پڑتا ہے؟ کون سا ایسا لیڈر، یا فرمانروا، یا آپ کی اصطلاح خاص میں “مرکز ملت”ہے جس کی زندگی میں بار ہا اس طرح کے بلکہ اس سے بہت زیادہ بڑے معاملات نہ پیش آتے ہوں؟ پھر کیا ان لغزشوں کی تصحیح کے لیے ہمیشہ آسمان ہی سے وحی اترا کرتی ہے؟ آخر وہ کیا خاص وجہ ہے کہ اتنی معمولی لغزشیں جب رسول پاک سے صادر ہوئیں تو فوراً ان کی اصلاح کے لیے وحی آ گئی اور اسے کتاب میں ثبت کر دیا گیا؟ آپ اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ رسالت کے منصب کو سمجھنے میں آپ نے کتنی بڑی ٹھوکر کھائی ہے۔ کوئی رئیس، یا لیڈر یا مرکز ملت اللہ تعالیٰ کا نمائندہ نہیں ہوتا، اس کا مقرر کیا ہوا شارح اور اس کا مامور کیا ہوا نمونۂ تقلید نہیں، اس لیے اس کی کوئی بڑی سے بڑی غلطی بھی قانون اسلامی پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس سے خدا کی شریعت کے اصول نہیں بدل سکتے۔ لیکن رسول پاکﷺ چونکہ خدا کے اپنے اعلان کی رو سے دنیا کے سامنے مرضات الٰہی کی نمائندگی کرتے تھے اور خدا نے خود اہل ایمان کو حکم دیا تھا کہ تم ان کی اطاعت اور ان کا اتباع کرو، جو کچھ یہ حلال کہیں اسے حلال مانو اور جو کچھ یہ حرام قرار دے دیں، اسے حرام مان لو، اس لیے ان کے قول و عمل میں یہ چھوٹی لغزشیں بھی بہت بڑی تھیں، کیونکہ وہ ایک معمولی بشر کی لغزشیں نہ تھیں بلکہ اس شارع مجاز کی لغزشیں تھیں جس کی ایک ایک حرکت اور سکون سے قانون بن رہا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے لے لی تھی کہ اپنے رسول کو ٹھیک راستے پر قائم رکھے گا، ان کو غلطیوں سے محفوظ کر دے گا اور ان سے ذرا سی چوک بھی ہو جائے تو وحی کے ذریعہ سے اس کی اصلاح فرما دے گا۔

 

۸۔ موہوم خطرات

 

آٹھویں نکتے میں آپ فرماتے ہیں کہاگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سارا کام بشر (یعنی ایک عام غیر معصوم بشر)کی حیثیت سے نہیں بلکہ نبی کی حیثیت سے کیا ہوتا تو اس سے لازماً دو نتائج پیداہوتے۔ ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اس کام کو جاری رکھنا غیرممکن تصور کیا جاتا اور لوگ سمجھتے کہ جو نظام زندگی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے قائم کر کے چلا دیا اسے قائم کرنا اور چلانا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔دوسرا نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ اس کام کو چلانے کے لیے لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہو سلم کے بعد بھی نبیوں کے آنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ ان دونوں خطرات سے بچنے کی واحدصورت آپ کے نزدیک یہ ہے کہ تبلیغ قرآن کے ماسوا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کےباقی پورے کارنامۂ زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نہیں بلکہ ایکغیر نبی انسان کا کارنامہ مانا جائے۔ اسی سلسلے میں آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہاسے رسول کا کارنامہ سمجھنا ختم نبوت کے عقیدے کی بھی نفی کرتا ہے کیونکہ اگر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سارا کام وحی کی رہنمائی میں کیا تو پھر ویسا ہی کامکرنے کے لیے ہمیشہ وحی آنے کی ضرورت رہے گی، ورنہ دین قائم نہ ہو گا۔

 

یہ آپنے جو کچھ فرمایا ہے، قرآن اور اس کے نزول کی تاریخ سے آنکھیں بند کر کے اپنے ہیمفروضات کی دنیا میں گھوم پھر کر سوچا اور فرما دیا ہے۔ آپ کی ان باتوں سے مجھے شبہہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ سے قرآن کی بس وہی آیتیں گزری ہیں جو مخالفینِ سنت نے اپنےلٹریچر میں ایک مخصوص نظریہ ثابت کرنے کے لیے نقل کی ہیں اور انہی کو ایک خاص ترتیبسےے جوڑ جاڑ کر ان لوگوں نے جو نتائج نکال لیے ہیں، ان پر آپ ایمان لے آئے ہیں۔ اگریہ بات نہ ہوتی اور آپ نے ایک مرتبہ بھی پورا قرآن سمجھ کر پڑھا ہوتا تو آپ کومعلوم ہو جاتا کہ جو خطرات آپ کے نزدیک سیرت پاک کو سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہو سلم ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، وہی سب خطرات قرآن کو وحیِ الٰہی ماننے سے بھیپیدا ہوتے ہیں۔ قرآن خود اس بات پر شاہد ہے کہ یہ پوری کتاب ایک ہی وقت میں بطورایک کتاب آئین کے نازل نہیں ہو گئی تھی بلکہ یہ ان وحیوں کا مجموعہ ہے جو ایک تحریککی رہنمائی کے لیے ٢٣ سال تک تحریک کے ہر مرحلے میں ہر اہم موقع پر اللہ تعالیٰ کیطرف سے نازل ہوتی رہی ہیں۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سےایک برگزیدہ انسان اسلامی تحریک کی قیادت کے لیےمبعوث ہوا ہے اور قدم قدم پر خداکی وحی اس کی رہنمائی کر رہی ہے۔ مخالفین اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں اورجواب اس کا آسمان سے آتا ہے۔ طرح طرح کی مزاحمتیں راستے میں حائل ہوتی ہیں اورتدبیر اوپر سے بتائی جاتی ہے کہ یہ مزاحمت اس طرح سے دور کرو اور اس مخالفت کا یوںمقابلہ کرو۔ پیروؤں کو طرح طرح کی مشکلات سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان کا حل اوپر سےبتایا جاتا ہے کہ تمھاری فلاں مشکل یوں دور ہو سکتی ہے اور فلاں مشکل یوں رفع ہوسکتی ہے۔ پھر یہ تحریک جب ترقی کرتے ہوئے ایک ریاست کے مرحلے میں داخلے ہوتی ہے توجدید معاشرے کی تشکیل اور ریاست کی تعمیر کے مسائل سے لے کر منافقین اور یہود اورکفار عرب سے کشمکش تک جتنے معاملات بھی دس سال کی مدت میں پیش آتے ہیں، ان سب میںوحی اس معاشرے کے معمار اور اس ریاست کے فرمانروا اور اس فوج کے سپہ سالار کیرہنمائی کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس تعمیر اور کشمکش کے ہر مرحلے میں جو مسائل پیشآتے ہیں ان کو حل کرنے کے لیے آسمان سے ہدایات آتی ہیں بلکہ کوئی جنگ پیش آتی ہے تواس پر لوگوں کو ابھارنے کے لیے سپہ سالار کو خطبہ آسمان سے ملتا ہے۔ تحریک کے کارکنکہیں کمزوری دکھاتے ہیں تو ان کی فہمائش کے لیے تقریر آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ نبیکی بیوی پر دشمن تہمت رکھتے ہیں تو اس کی صفائی آسمان سے آتی ہے۔ منافقین مسجد ضراربناتے ہیں تو اس کے توڑنے کا حکم وحی کے ذریعہ سے دیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جنگ پر جانےسے جی چراتے ہیں تو ان کے معاملہ کا فیصلہ براہ راست اللہ تعالیٰ کر کے بھیجتا ہے۔کوئی شخص دشمن کو جاسوسی کا خط لکھ کر بھیجتا ہے۔ تو اس سے نمٹنے کے لیے بھی اللہمیاں خود توجہ فرماتا ہے۔ اگر واقعی آپ کے نزدیک یہ بات مایوس کن ہے کہ دین کو قائمکرنے کے لیے جو اولین تحریک اٹھے اس کی رہنمائی وحی کے ذریعہ سے ہو تو یہ مایوسی کاسبب تو خود قرآن میں موجود ہے۔ ایک شخص آپ کا نقطۂ نظر اختیار کرنے کے بعد تو کہہسکتا ہے کہ جس دین کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے پہلے قدم سے لے کر کامیابی کیآخری منزل تک ہر ضرورت اور ہر نازک موقع پر قائد تحریک کی رہنمائی کے لیے خدا کیآیات اترتی رہی ہوں اسے اب کیسے قائم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک کہ اسی طرح نظام دین کےقیام کے لیے سعی و جہد کرنے والے “مرکز ملت” کی مدد کے لیے بھی آیات الٰہی نازلہونے کا سلسلہ نہ شروع ہو۔ اس نقطۂ نظر سے تو اللہ میاں کے لیے صحیح طریق کار یہتھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تقرر کی پہلی تاریخ کو ایک مکمل کتاب آئین آپ کےہاتھ میں دے دی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کے مسائل کے متعلق اپنیتمام ہدایات بیک وقت آپ کو دے دیتا۔ پھر ختم نبوت کا اعلان کر کے فوراً ہی حضورﷺ کیاپنی نبوت بھی ختم کر دی جاتی۔ اس کے بعد یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کانہیں بلکہ محمد بن عبد اللہ کا کام تھا کہ غیر نبی ہونے کی حیثیت سے اس کتاب آئینکو لے کر جد و جہد کرتے اور ما انزل اللہ کے مطابق ایک معاشرہ اور ریاست قائم کردکھاتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ میاں کو بروقت صحیح مشورہ نہ مل سکا اور وہ اپنانامناسب طریقہ اختیار کر گئے جو مستقبل میں قیام دین کے امکان سے ہمیشہ کے لیےمایوس کر دینے والا تھا! غضب تو یہ ہے کہ وہ اس مصلحت کو اس وقت بھی نہ سمجھے جبانہوں نے ختم نبوت کا اعلان فرمایا۔ یہ اعلان سورۂ احزاب میں کیا گیا ہے جو اسزمانہ سے متصل نازل ہوئی ہے جبکہ حضرت زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر انکی مطلقہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بحکم الٰہی نکاح کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعدکئی سال تک حضورﷺ “مرکز ملت” رہے اور ختم نبوت کا اعلان ہو جانے کے باوجود نہ حضورﷺ کی نبوت ختم کی گئی اور نہ وحی کے ذریعہ سے آپ کی رہنمائی کرنے کا سلسلہ بند کیاگیا!

 

آپ کو اللہ میاں کی اسکیم سے اتفاق ہو یا اختلاف، بہرحال قرآن ہمیںبتاتا ہے کہ ان کی اسکیم ابتدا ہی سے یہ نہیں تھی کہ نوع انسانی کے ہاتھ میں ایککتاب تھما دی جائے اور اس سے کہا جائے کہ اس کو دیکھ دیکھ کر اسلامی نظامِ زندگی خودبنا لے۔ اگر یہی ان کی اسکیم ہوتی تو ایک بشر کا انتخاب کر کے چپکے سے کتاب اس کےحوالہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس کے لیے تو اچھا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک کتاب چھاپ کراللہ میاں تمام انسانوں تک براہ راست بھیج دیتے اور دیباچہ میں یہ ہدایت لکھ دیتےکہ میری اس کتاب کو پڑھو اور نظام حق برپا کر لو لیکن انہوں نے یہ طریقہ پسند نہیںکیا۔ اس کے بجائے جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا وہ یہ تھا کہ ایک بشر کو رسول بناکر اٹھایا اور اس کے ذریعہ سے اصلاح و انقلاب کی ایک تحریک اٹھوائی۔

 

استحریک میں اصل عامل کتاب نہ تھی بلکہ وہ زندہ انسان تھا جسے تحریک کی قیادت پرمامور کیا گیا تھا۔ اس انسان کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نگرانی و ہدایت میںایک مکمل نظام فکر و اخلاق، نظام تہذیب و تمدن، نظام عدل و قانون اور نظام معیشت وسیاست بنوا کر اور چلوا کر ہمیشہ کے لیے ایک روشن نمونہ (اسوۂ حسنہ) دنیا کے سامنےقائم کر دیا تاکہ جو انسان بھی اپنی فلاح چاہتے ہوں وہ اس نمونے کو دیکھ کر اس کےمطابق اپنا نظام زندگی بنانے کی کوشش کریں۔ نمونے کا ناقص رہ جانا لازماً ہدایت کےنقص کو مستلزم ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نمونے کی چیز براہ راست اپنی ہدایاتکے تحت بنوائی۔ اس کے معمار کو نقشۂ تعمیر بھی دیا اور اس کا مطلب بھی خود سمجھایا۔اس کی تعمیر کی حکمت بھی سکھائی اور عمارت کا ایک ایک گوشہ بناتے وقت اس کی نگرانیبھی کی۔ تعمیر کے دوران میں وحیِ جلی کے ذریعہ سے بھی اس کو رہنمائی دی اور وحیِ خفیکے ذریعہ سے بھی۔ کہیں کوئی اینٹ رکھنے میں اس سے ذرا سی چوک بھی ہو گئی تو فوراٹوک کر اس کی اصلاح کر دی تا کہ جس عمارت کو ہمیشہ کے لیے نمونہ بننا ہے اس میںکوئی ادنیٰ سی خامی بھی نہ رہ جائے۔ پھر جب اس معمار نے اپنے آقا کی ٹھیک ٹھیک مرضیکے مطابق یہ کارِ تعمیر پورا کر دیا تب دنیا میں اعلان کیا گیا کہ: الیوم اکملت لکمدینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔

 

تاریخ اسلام گواہ ہے کہاس طریق کار نے حقیقتاً امت میں کوئی مایوسی پیدا نہیں کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم کے بعد جب وحیِ الٰہی کا دروازہ بند ہو گیا تو کیا خلفائے راشدین نے پے درپے اٹھ کر وحی کے بغیر اس نمونے کی عمارت کر قائم رکھنے اور آگے اسی نمونے پر وسعتدینے کی کوشش نہیں کی؟ کیا عمر بن عبد العزیز نے اسے انہی بنیادوں پر ازسر نو تازہکرنے کی کوشش نہیں کی؟ کیا وقتاً فوقتاً صالح فرماں روا اور مصلحین امت بھی اس نمونےکی پیروی کرنے کے لیے دنیا کے مختلف گوشوں میں نہیں اٹھتے رہے؟ ان میں سے آخر کس نےیہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو وحی کی رہنمائی میں یہ کام کر گئے، ابیہ ہمارے بس کا روگ نہیں ہے؟ حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نےتاریخ انسانی میں اپنے رسول کے عملی کارنامے سے روشنی کا ایک مینار کھڑا کر دیا ہے، جو صدیوں سے انسان کو صحیح نظام زندگی کا نقشہ دکھا رہا ہے اور قیامت تک دکھاتا رہےگا۔ آپ کا جی چاہے تو اس کے شکر گزار ہوں اور جی چاہے تو اس کی روشنی سے آنکھیںبند کر لیں۔

 

۹۔  خلفائے راشدین پر بہتان

 

آپ کا نکتہ نمبر۹ یہہے:

“حضرات خلفائے کرام اچھی طرح سمجھتے تھے کہ وحی الکتاب کے اندر محفوظہے اور اس کے بعد حضورﷺ جو کچھ کرتے تھے، باہمی مشاورت سے کرتے تھے۔ اس لیے حضورﷺ کیوفات کے بعد نظام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ سلطنت کی وسعت کے ساتھ تقاضےبڑھتے گئے اس لیے آئے دن نئے نئے امور سامنے آتے تھے جن کے تصفیہ کے لیے اگر کوئیپہلا فیصلہ مل جاتا جس میں تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتی تو اسے علیٰ حالہٖ قائم رکھتےتھے۔ اگر اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے تبدیلی کر لیتے اور اگرنئے فیصلہ کی ضرورت ہوتی تو باہمی مشاورت سے نیا فیصلہ کر لیتے۔ یہ سب کچھ قرآن کی روشنیمیں ہوتا تھا۔ یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا اور اسی کو حضورﷺ کے جانشینوں نے قائمرکھا۔ اسی کا نام اتباع رسول تھا”۔

 

اس عبارت میں آپ نے پے در پے متعدد غلطباتیں فرمائی ہیں۔ آپ کی پہلی غلط بیانی یہ ہے کہ رسول اللہ جو کچھ کرتے تھے، باہمیمشاورت سے کرتے تھے، حالانکہ مشاورت حضورﷺ نے صرف تدابیر کے معاملے میں کی ہے اور وہبھی ان تدابیر کے معاملے میں جن کے اختیار کرنے کا حکم آپ کو وحی سے نہیں ملا ہے۔قرآن کی تعبیر و تفسیر اور اس کے کسی لفظ یا فقرے کا منشا مُشخّص کرنے میں حضورﷺ نےکبھی کسی سے مشورہ نہیں لیا۔ اس معاملہ میں آپ کی اپنی ہی شرح قطعی ناطق تھی۔ اسطرح آپ کے پورے عہد رسالت میں کبھی یہ طے کرنے کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی کہلوگوں کے لیے کس چیز کر فرض و واجب کس چیز کو حلال و جائز اور کس چیز کو ممنوع وحرام ٹھہرایا جائے اور معاشرے میں کیا قاعدے اور ضابطے مقرر کیئے جائیں۔ حضورﷺ کیحیات طیبہ میں تنہا آپ کی زبان اور آپ کی عملی زندگی ہی لیجسلیچر تھی۔ کوئی مومن یہسوچ بھی نہ سکتا تھا کہ ان معاملات میں وہ حضورﷺ کے سامنے زبان کھولنے کا مجاز ہے۔کیا آپ کوئی مثال ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں قرآن کے کسی حکم کی تعبیرمشورے سے کی گئی ہو، یا کوئی قانون مشورے سے بنایا گیا ہو؟ بہت سی نہیں صرف ایکمثال ہی آپ پیش فرما دیں۔

 

دوسری خلاف واقعہ بات آپ یہ فرما رہے ہیں کہخلفائے راشدین صرف قرآن کو منبع ہدایت سمجھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلمکے قول و عمل کو واجب الاتباع مآخذ قانون نہیں سمجھتے تھے۔ یہ ان بزرگوں پر آپ کاسخت بہتان ہے جس کے ثبوت میں نہ آپ ان کا کوئی قول پیش کر سکتے ہیں نہ عمل، اگر اسکا کوئی ثبوت آپ کے پاس ہے تو وہ سامنے لائے۔ ان کے طرز عمل کی جو شہادتیں ان کےزمانےسے متصل لوگوں نے دی ہیں وہ تو یہ ہیں:

 

ابن سیرین (۳۳ھ –۱۱۰ھ) کہتےہیں کہ “ابوبکر کے سامنے جب کوئی معاملہ پیش ہوتا اور وہ نہ کتاب اللہ میں سے اس کےلیے کوئی حکم پاتے، نہ سنت میں اس کی کوئی نظیر ملتی تب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہکرتے اور فرماتے یہ میری رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللہ کا فضل ہے۔” (ابن القیم، اعلام الموقعین، جلد ۱، ص ۵۴)۔

 

میمون بن مہران (۲۷ھ –۷۱ھ) کہتے ہیں: “ابوبکر صدیق کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی معاملہ کا فیصلہ انہیں کرنا ہوتا تو پہلےکتاب اللہ میں دیکھتے، اگر وہاں اس کا حکم نہ ملتا تو سنت رسول اللہ میں تلاش کرتے۔اگر وہاں حکم مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے۔ اور اگر انہیں اس مسئلے میں سنتکا علم نہ ہوتا تو لوگوں سے پوچھتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ اس طرحکے کسی معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی فیصلہ فرمایا ہے۔” (کتابمذکور، صفحہ ۶۲)۔

 

علامہ ابن قیم نے پوری تحقیق کے بعد اپنا نتیجۂ تحقیق یہبیان کیا ہے کہ لا یحفظ للصدیق خلاف نص واحد ابدا۔ ابوبکر صدیق کی زندگی میں نص کیخلاف ورزی کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔” (کتاب مذکور، ج۴، ص ۱۲۰)۔

 

مشہور واقعہہے کہ ایک دادی اپنے پوتے کی میراث کا مطالبہ لے کر آئی جس کی ماں مر چکی تھی۔ حضرتابوبکر صدیق نے کہا میں کتاب اللہ میں کوئی حکم نہیں پاتا جس کی رو سے تجھ کو ماں کاحصہ پہنچتا ہو۔ پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تواس معاملہ میں کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ اس پر مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ نے اٹھکر شہادت دی کہ حضورﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ (یعنی حصۂ مادری) دلوایا ہے۔ چنانچہ حضرتابوبکر نے اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ (بخاری و مسلم)

 

موطا میں یہ واقعہمذکور ہے کہ حضرت ابوبکر نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کو اپنی زندگی میں کچھ مالدینے کے لیے کہا تھا، مگر انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ مال ان کے حوالہ کر دیا گیاتھا یا نہیں۔ وفات کے وقت آپ نے اس سے فرمایا کہ اگر وہ مال تم لے چکی ہو، تب تو وہتمہارے پاس رہے گا (کیونکہ وہ ہبہ ہو گیا)، لیکن اگر ابھی تک تم نے اسے قبضہ میںنہیں لیا ہے تو اب وہ میرے سب وارثوں میں تقسیم ہو گا (کیونکہ اس کی حیثیت ہبہ کینہیں بلکہ وصیت کی ہے اور حدیث لا وصیۃ لوارث کی رو سے وارث کے حق میں کوئی وصیتمیت کے ترکے میں نافذ نہیں ہو سکتی تھی) اس طرح کی بکثرت مثالیں خلیفۂ اول کی زندگیمیں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے سےبال برابر ہٹنا بھی جائز نہ رکھتے تھے۔

 

کون نہیں جانتا کہ خلیفہ ہونے کے بعدحضرت ابوبکر کا اولین اعلان یہ تھا کہ اطیعونی ما اطعت اللہ و رسولہ فان عصیت اللہو رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم ” میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کیاطاعت کرتا رہوں۔[13]  لیکن اگر میں اللہ اور اس کے رسول کینافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔” کس کو معلوم نہیں کہ انہوں نےحضورﷺ کی وفات کے بعد جیش اسامہ کو صرف اس لیے بھیجنے پر اصرار کیا کہ جس کام کافیصلہ حضورﷺ اپنی زندگی میں کر چکے تھے، اسے بدلدینے کا وہ اپنے آپ کو مجاز نہ سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام نے جب ان خطرات کی طرف توجہدلائی جن کا طوفان عرب میں اٹھتا نظر آ رہا تھا اور اس حالت میں شام کی طرف فوجبھیج دینے کو نامناسب قرار دیا، تو حضرت ابو بکرؓ کا جواب یہ تھا کہ

لو خطفتنیالکلاب و الذئاب لم ارد قضاء بہ رسول اللہ۔

“اگر کتے اور بھیڑیے بھی مجھے ا چک لےجائیں تو میں اس فیصلہ کو نہ بدلوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کر دیاتھا”۔ حضرت عمرؓ نے خواہش ظاہر کی کہ کَم از کم اسامہؓ ہی کو اس لشکر کی قیادت سےہٹا دیں کیونکہ بڑے بڑے صحابہ اس نوجوان لڑکے کی ماتحتی میں رہنے سے خوش نہیں ہیں، تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کی داڑھی پکڑ کر فرمایا:

ثکلتک امک و عدمتک یا ابن الخطاب، استعملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و تامرنی ان انزعہ۔

“خطاب کے بیٹے، تیریماں تجھے روئے اور تجھے کھو دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو مقرر کیااور تو مجھ سے کہتا ہے کہ میں اسے ہٹا دوں”۔ اس موقع پر لشکر کو روانہ کرتے ہوئے جوتقریر انہوں نے کی اس میں فرمایا:

انما انا متبع لست بمبتدع

“میں تو پیرویکرنے والا ہوں۔ نیا راستہ نکالنے والا نہیں ہوں”۔

 

پھر کس سے یہ واقعہ پوشیدہ ہےکہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباس کے مطالبۂ میراث کو ابوبکر صدیقؓ نے حدیث رسول اللہہی کی بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اس “قصور” پر وہ آج تک گالیاں کھارہے ہیں۔ مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جب وہ جہاد کا فیصلہ کر رہے تھے تو حضرت عمرؓ جیسےشخص کو اس کی صحت میں اس لیے تامل تھا کہ جو لوگ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے قائل ہیںان کے خلاف تلوار کیسے اٹھائی جا سکتی ہے۔ مگر اس کا جو جواب انہوں نے دیا، وہ یہتھا کہ

واللہ لو منعونی عقالا کانوا یودونہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلملقاتلھم علی منعہ

“خدا کی قسم، اگر وہ اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی اس زکوٰۃ میںسے روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں دیتے تھے تو میں اسپر ان سے لڑوں گا”۔ یہ قول اور یہ عمل تھا اس شخص کا جس نے حضورؐ کے بعد سب سے پہلےزمامِ کار سنبھالی تھی اور آپ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین اپنے آپ کو رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم کے فیصلے بدلنے کا مجاز سمجھتے تھے۔

 

حضرت ابو بکرؓ کے بعد حضرتعمر کا مسلک اس معاملے میں جو کچھ تھا، اسے وہ خود قاضی شریح کے نام اپنے خط میں اسطرح بیان فرماتے ہیں:

“اگر تم کوئی حکم کتاب اللہ میں پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہکر دو اور اس کی موجودگی میں کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہ کرو اور اگر کوئی ایسامعاملہ آئے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتمیں جو حکم ملے اس پر فیصلہ کرو اور اگر معاملہ ایسا ہو جس کا حکم نہ کتاب اللہمیں ہو اور نہ سنت رسول اللہ میں تو اس کا فیصلہ اس قانون کے مطابق کرو جس پر اجماعہو چکا ہو لیکن اگر کسی معاملہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ دونوں خاموش ہوںاور تم سے پہلے اس کے متعلق کوئی اجماعی فیصلہ بھی نہ ہوا ہو تو تمہیں اختیار ہے کہیا تو پیش قدمی کر کے اپنی اجتہادی رائے سے فیصلہ کر دو، یا پھر ٹھہر کر انتظار کرواور میرے نزدیک تمہارا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے”۔ (اعلام المعوقین، جلد۱، ص ۶۱۔۶۲)

 

یہ حضرت عمرؓ کا اپنا لکھا ہوا سرکاری ہدایت نامہ ہے، جو انہوں نے خلیفۂ وقتکی حیثیت سے ضابطۂ عدالت کے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔ اس کے بعدکسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ان کے مسلک کی کوئی دوسری ترجمانی کرے۔

 

حضرت عمرؓ کےبعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ ہیں۔ بیعت کے بعد اولین خطبہ جو انہوں نے دیا، اس میںعلی الاعلان تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“خبردار رہو، میںپیروی کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں ہوں۔ میرے اوپر کتاب اللہ اور سنتنبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پابندی کے بعد تمہارے تین حق ہیں جن کی میں ذمہ داریلیتا ہوں۔ ایک یہ کہ میرے پیش رو خلیفہ کے زمانے میں تمہارے اتفاق و اجتماع سے جوفیصلے اور طریقے طے ہو چکے ہیں، ان کی پیروی کروں گا۔ دوسرے یہ کہ جو امور اب اہلخیر کے اجتماع و اتفاق سے طے ہوں گے ان پر عمل درآمد کروں گا۔ تیسرے یہ کہ تمہارےاوپر دست درازی کرنے سے باز رہوں گا۔ جب تک تم از روئے قانون مواخذہ کے مستوجب نہ ہوجاؤ”۔ (تاریخ طبری، جلد ۳، ص ۴۴۶)

 

چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں۔ انہوں نے خلیفہہونے کے بعد اہل مصر سے بیعت لینے کے لیے اپنے گورنر حضرت قیس بن سعدہ بن عبادہ کےہاتھ جو سرکاری فرمان بھیجا تھا اس میں وہ فرماتے ہیں:

“خبردار رہو، ہمارے اوپرتمہارا یہ حق ہے کہ ہم اللہ عز و جل کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق عملکریں اور تم پر وہ حق قائم کریں جو کتاب و سنت کی رو سے حق ہو اور رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم کی سنت کو جاری کریں اور تمہاری بے خبری میں بھی تمہارے ساتھ خیرخواہی کرتے رہیں”۔ (تاریخ طبری، جلد۳، ص ۵۵۰)

 

یہ چاروں خلفائے راشدین کے اپنےبیانات ہیں۔ آپ کن “حضرات خلفائے کرام” کا ذکر فرما رہے ہیں جو اپنے آپ کو سنتِرسولؐ اللہ کی پابندی سے آزاد سمجھتے تھے؟ اور ان کا یہ مسلک آپ کو کن ذرائع سےمعلوم ہوا ہے؟

 

آپ کا یہ خیال بھی محض ایک دعویِ بلا ثبوت ہے کہ خلفائے راشدینقرآن مجید کے احکام کو تو قطعی واجب الاطاعت فرماتے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم کے فیصلوں میں جن کو وہ باقی رکھنا مناسب سمجھتے تھے، انہیں باقی رکھتےتھے اور جنہیں بدلنے کی ضرورت سمجھتے تھے انہیں بدل کر باہمی مشاورت سے نئے فیصلےکر لیتے تھے۔ آپ اس کی کوئی نظیر پیش فرمائیں کہ خلافت راشدہ کے پورے دور میں نبیصلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی فیصلہ بدلا گیا ہو، یا کسی خلیفہ یا صحابی نے یہ خیالظاہر کیا ہو کہ ہم حضورؐ کے فیصلے حسب ضرورت بدل لینے کے مجاز ہیں۔

 

۱۰۔ کیا حضورﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟

 

اب صرفآپ کا آخری نکتہ باقی ہے جسے آپ ان الفاظ میں پیش فرماتے ہیں:

“اگر فرض کر لیاجائے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ حضورؐ جو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے تواس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو اپنی طرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذباللہ) تسلی نہ ہوئی، چنانچہ دوسری قسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دو رنگی آخرکیوں؟ پہلے آنے والے نبیوں پر جب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزول قرآن کی طرف اشارہتھا۔ تو کیا اس اللہ کے لیے جو ہر چیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کیوحی، جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اس کا قرآن میں اشارہ کر دیتا۔ مجھے تو قرآن میں کوئیایسی چیز نظر نہیں آتی۔ اگر آپ کسی آیت کی طرف اشارہ فرما سکیں تو مشکور ہوںگا”۔

 

یہ تسلی کی بات بھی خوب ہے۔ گویا آپ کی رائے میں اللہ میاں بندوں کی ہدایتکے لیے نہیں بلکہ اپنی تسلی کے وحی نازل فرماتے تھے اور ان کی تسلی کے لیے بس ایکقسم کی وحی کافی ہونی چاہیے تھی۔

 

آپ تو “دو رنگیِ وحی” پر ہی حیران ہیں، مگرآنکھیں کھول کر آپ نے قرآن پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ کتاب “سہ رنگی” کاذکر کرتی ہے جن میں سے صرف ایک “رنگ” کی وحی قرآن میں جمع کی گئی ہے۔

 

وَمَاكَانَ لِبَشَرٍ أَن یكَلِّمَه اللَّهُ إِلَّا وَحْیا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍأَوْ یرْسِلَ رَسُولاً فَیوحِی بِإِذْنِهِ مَا یشَاء إِنَّهُ عَلِی حَكِیمٌ(الشورٰی:۵۱)

“کسی بشر کے لیے یہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے گفتگو کرے، مگر وحی کےطریقہ پر، یا پردے کے پیچھے سے، یا اس طرح کہ ایک پیغام بر بھیجے اور وہ اللہ کےاذن سے وحی کرے جو کچھ اللہ چاہتا ہو۔ وہ برتر اور حکیم ہے”

 

یہاں اللہ تعالیٰ کیطرف سے کسی بشر پر احکام و ہدایات نازل ہونے کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایکبراہِ راست وحی (یعنی القاء و الہام) دوسرے پردے کے پیچھے سے کلام، تیسرے اللہ کےپیغام بر (فرشتے) کے ذریعہ سے وحی۔ قرآن مجید میں جو وحیاں جمع کی گئی ہیں وہ انمیں سے صرف تیسری قسم کی ہیں۔ اس کی تصریح اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیہے۔

قُلْ مَن كَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَبِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَینَ یدَیهِ وَهُدًى وَبُشْرَىلِلْمُؤْمِنِینَ (البقرۃ:۹۷-۹۸)

“(اے نبیؐ) کہو جو کوئی دشمن ہو جبریل کا اس بناپر کہ اس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تیرے قلب پر اللہ کے اذن سے، تصدیق کرتا ہوا انکتابوں کی جو اس کے آگے آئی ہوئی ہیں اور ہدایت و بشارت دیتا ہوا اہلِ ایمان کو۔۔۔ تو اللہ دشمن ہے ایسے کافروں کا”

وَإِنَّهُ لَتَنزِیلُ رَبِّالْعَالَمِینَ۔نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ۔عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَالْمُنذِرِینَ (الشعراء ۱۹۲-۱۹۴)

“اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اسےلے کر روح الامین اترا ہے۔ تیرے قلب پر تا کہ تو متنبہ کرنے والوں میں سے ہو”

 

اسسے معلوم ہو گیا کہ قرآن صرف ایک قسم کی وحیوں پر مشتمل ہے۔ رسول کو ہدایات ملنے کیباقی دو صورتیں جن کا ذکر سورۂ الشورٰی والی آیت میں کیا گیا ہے وہ ان کے علاوہہیں۔ اب خود قرآن ہی ہمیں بتاتا ہے کہ ان صورتوں سے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہو سلم کو ہدایات ملتی تھیں۔

 

(۱)  جیسا کہ میں آپ کے چوتھے نکتے پر بحث کرتے ہوئےبتا چکا ہوں، سورہ بقرۃ کی آیات ۱۴۳۔۱۴۴ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسجد حرام کے قبلہبنائے جانے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمان کسی اور قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کا حکم دیتے ہوئے اس بات کی توثیقفرمائی کہ وہ پہلا قبلہ جس کی طرف رخ کیا جاتا تھا، وہ بھی ہمارا ہی مقرر کیا ہواتھا لیکن قرآن میں وہ آیت کہیں نہیں ملتی جس میں اس قبلے کی طرف رخ کرنے کا ابتدائیحکم ارشاد فرمایا گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضورؐ پر قرآن کے علاوہ اور کوئی وحینہیں آتی تھی تو وہ حکم حضورؐ کو کس ذریعہ سے ملا؟ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیںہے کہ حضورؐ کو ایسے احکام بھی ملتے تھے جو قرآن میں درج نہیں ہیں؟

 

(۲)  رسولاللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ میں خواب دیکھتے ہیں کہ آپؐ مکہ معظمہ میں داخل ہوئےہیں اور بیت اللہ کا طواف کیا ہے۔ آپ اس کی خبر صحابہ کرام کو دیتے ہیں اور ۱۴۰۰صحابیوں کو لے کر عمرہ ادا کرنے کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ کفار مکہ آپ کو حدیبیہکے مقام پر روک لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں صلح حدیبیہ واقع ہوتی ہے۔ بعض صحابیاس پر خلجان میں پڑ جاتے ہیں اور حضرت عمرؓ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہیا رسول اللہ، کیا آپ نے ہمیں خبر نہ دی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے اور طوافکریں گے؟ آپؐ نے فرمایا “کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سفر میں ایسا ہو گا؟” اس پراللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْیابِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاء اللَّهُ آمِنِینَمُحَلِّقِینَ رُؤُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِینَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْتَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَلِكَ فَتْحاً قَرِیباً (الفتح۔۲۷)

“اللہ نےاپنے رسول کو یقیناً سچا خواب دکھایا تھا۔ تم ضرور مسجد حرام میں ان شاء اللہ داخلہو گے۔ امن کے ساتھ سر مونڈتے ہوئے اور بال تراشتے ہوئے، بغیر اس کے کہ تمہیں کسیقسم کا خوف ہو۔ اللہ کو علم تھا اس بات کا جسے تم نہ جانتے تھے۔ اس لیے اس سے پہلےاس نے یہ قریب کی فتح (یعنی صلح حدیبیہ) عطا کر دی”

 

اس سے معلوم ہوا کہ حضورؐ کوخواب کے ذریعہ سے مکہ میں داخل ہونے کا یہ طریقہ بتایا گیا تھا کہ آپ اپنے ساتھیوںکو لے کر مکہ کی طرف جائیں، کفار روکیں گے، آخرکار صلح ہو گی جس کے ذریعہ سے دوسرےسال عمرہ کا موقع بھی ملے گا اور آئندہ کی فتوحات کا راستہ بھی کھل جائے گا۔ کیا یہقرآن کے علاوہ دوسرے طریقوں سے ہدایات ملنے کا کھلا ثبوت نہیں ہے؟

 

(۳)  نبی صلیاللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کو راز میں ایک بات بتاتے ہیں۔وہ اس کا ذکر دوسروں سے کر دیتی ہیں۔ حضورؐ اس پر باز پرس کرتے ہیں تو وہ پوچھتیہیں کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں نے یہ بات دوسروں سے کہہ دی ہے۔ حضورؐجواب دیتے ہیں کہ مجھے علیم و خبیر نے خبر دی ہے۔

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیإِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِیثاً فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُعَلَیهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْمَنْ أَنبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِی الْعَلِیمُ الْخَبِیرُ (التحریم۔۳)

“اورجب کہ نبیؐ نے اپنی ایک بیوی سے راز میں ایک بات کہی اور اس بیوی نے اس کی (دوسروںکو) خبر دے دی اور اللہ نے نبی کو اس پر مطلع کر دیا تو نبی نے اس بیوی کو اس کےقصور کا ایک حصہ تو جتا دیا اور دوسرے حصہ سے درگزر کیا۔ پس جب نبی نے اس بیوی کواس کا قصور جتا دیا تو اس نے پوچھا” آپ کو کس نے اس کی خبر دی؟” نبیؐ نے کہا “مجھےعلیم و خبیر خدا نے بتایا”۔”

 

فرمائیے کہ قرآن میں وہ آیت کہاں ہے جس کے ذریعہ سےاللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطلاع دی تھی کہ تمہاری بیوی نےتمہاری راز کی بات دوسروں سے کہہ دی ہے؟ اگر نہیں ہے تو ثابت ہوا یا نہیں کہ اللہتعالیٰ قرآن کے علاوہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس پیغامات بھیجتاتھا؟

 

(۴)  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ اپنی بیوی کوطلاق دیتے ہیں اور اس کے بعد حضورؐ ان کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر لیتے ہیں اس پرمنافقین اور مخالفین حضورؐ کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک شدید طوفان کھڑا کرتے ہیں اوراعتراضات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ان اعتراضات کا جواب اللہ تعالیٰ سورۂ احزاب کےپورے ایک رکوع میں دیتا ہے اور اس سلسلے میں لوگوں کو بتاتا ہے کہ ہمارے نبی نے یہنکاح خود نہیں کیا ہے بلکہ ہمارے حکم سے کیا ہے۔

فَلَمَّا قَضَى زَیدٌ مِّنْهَاوَطَراً زَوَّجْنَاكَهَا لِكَی لَا یكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ حَرَجٌ فِیأَزْوَاجِ أَدْعِیائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَراً (آیت:۳۷)

“پھر جبزید کا اس سے جی بھر گیا تو ہم نے اس (خاتون) کا نکاح تم سے کر دیا تاکہ اہل ایمانکے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جبکہ وہ انسے جی بھر چکے ہوں (یعنی انہیں طلاق دے چکے ہوں)”

 

یہ آیت تو گزرے ہوئے واقعہ کابیان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہو سلم کو جو حکم دیا گیا تھا کہ تم زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کر لو وہ قرآن میں کسجگہ ہے؟

 

(۵)  نبی صلی اللہ علیہ و سلم بنی نضیر کی مسلسل بد عہدیوں سے تنگ آ کرمدینہ سے متصل ان کے بستیوں پر چڑھائی کر دیتے ہیں اور دورانِ محاصرہ اسلامیفوج گرد و پیش کے باغات کے بہت سے درخت کاٹ ڈالتی ہے تاکہ حملہ کرنے کے لیے راستہ صافہو۔ اس پر مخالفین شور مچاتے ہیں کہ باغوں کو اجاڑ کر اور ہرے بھرے ثمر دار درختوںکو کاٹ کر مسلمانوں نے فساد فی الارض برپا کیا ہے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّینَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىأُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ (الحشر)

“کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے اور جو کھڑےرہنے دیئے، یہ دونوں کام اللہ کی اجازت سے تھے”

 

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اجازتقرآن مجید کی کس آیت میں نازل ہوئی تھی؟

 

(۶)  جنگِ بدر کے خاتمے پر جب مال غنیمتکی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت سورۂ انفال نازل ہوتی ہے اور پوری جنگ پرتبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس تبصرے کا آغاز اللہ تعالیٰ اس وقت سے کرتا ہے جبکہ نبی صلیاللہ علیہ و سلم جنگ کے لیے گھر سے نکلے تھے اور اس سلسلے میں مسلمانوں کو خطابکرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَإِذْ یعِدُكُمُ اللّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتِینِأَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْوَیرِیدُ اللّهُ أَن یحِقَّ الحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَیقْطَعَ دَابِرَالْكَافِرِینَ (آیت:۷)

“اور جبکہ اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ فرما رہا تھا کہ دوگروہوں (یعنی تجارتی قافلے اور قریش کے لشکر) میں سے ایک تمہارے ہاتھ آئے گا اورتم چاہتے تھے کہ بے زور گروہ (یعنی تجارتی قافلہ) تمہیں ملے حالانکہ اللہ چاہتا تھاکہ اپنے کلمات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی کمر توڑ دے”

 

اب کیا آپ پورےقرآن میں کسی آیت کی نشاندہی فرما سکتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نازل ہواہو کہ اے لوگو، جو مدینہ سے بدر کی طرف جا رہے ہو، ہم دو گروہوں میں سے ایک پرتمہیں قابو عطا فرما دیں گے؟

 

(۷)  اسی جنگ بدر پر تبصرے کے سلسلے میں آگے چل کرارشاد ہوتا ہے:

إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّیمُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلآئِكَةِ مُرْدِفِینَ (الانفال:۹)

“جبکہ تم اپنےرب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد کے جواب میں فرمایا میں تمہاری مددکے لیے لگاتار ایک ہزار فرشتے بھیجنے والا ہوں”

 

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اللہتعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی فریاد کا یہ جواب قرآن مجید کی کس آیت میں نازل ہواتھا؟

 

آپ صرف ایک مثال چاہتے تھے۔ میں نے آپ کے سامنے قرآن مجید سے سات مثالیںپیش کر دی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورؐ کے پاس قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔اس کے بعد آگے کسی بحث کا سلسلہ چلنے سے پہلے میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ حق کےآگے جھکنے کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔

 

خاکسار۔۔۔ ابوالاعلیٰ

(ترجمانالقرآن، اکتوبر و نومبر ۱۹۶۰)

 

 

 

سنت کے متعلقچند مزید سوالات

 

(صفحاتِ گذشتہ میں ڈاکٹر عبد الودود صاحباور مصنف کی جو مراسلت ناظرین کے سامنے آ چکی ہے، اس کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کاایک اور خط وصول ہوا جسے مصنف کے جواب سمیت ذیل میں درج کیا جا رہاہے)۔

 

                   ڈاکٹر صاحب کا خط

 

محترم مولاناالسلام علیکم!

میرے خط مورخہ ۱۷ اگست کا جواب آپ کی طرف سے ترجمان القرآن ماہاکتوبر و نومبر کی اشاعتوں میں آ چکا ہے۔ اکتوبر کے ترجمان میں شائع شدہ جواب کابقیہ حصہ بھی بذریعہ ڈاک موصول ہو گیا تھا۔ اس جواب کے آخر میں آپ نے فرمایا ہے کہآگے کسی بحث کا سلسلہ چلنے سے پہلے آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا میں حق کے آگےجھکنے کے لیے تیار بھی ہوں یا نہیں۔

 

محترم! ایک سچے مسلمان کی طرح میں ہر وقت حقکے آگے جھکنے پر تیار ہوں۔لیکن جہاں حق موجود ہی نہ ہو بلکہ کسی بت کے آگے جھکنامقصود ہو تو کم از کم میں ایسا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ شخصیت پرستی میرا مسلک نہیں۔میں بارہا آپ کو تکلیف اس لیے دیتا ہوں کہ مسئلۂ زیر بحث صاف ہو جائے اور ایک ہیملک میں بسنے والے اور ایک ہی منزل مقصود کی طرف بڑھنے والے الگ الگ راستے اختیارنہ کریں۔ اور آپ ہیں کہ لفاظی اور جذبات کا مرکب پیش کرنے میں سارا زورِ قلم اس لیےصَرف کر رہے ہیں کہ میں جھک جاؤں۔ آپ نے اتنا طویل جواب لکھنے میں یقیناً بڑی زحمتاٹھائی۔ لیکن میری بد نصیبی ملاحظہ فرمائیے کہ اس سےا ور الجھنیں پیدا ہوگئیں۔

 

آپ نے یہ درست فرمایا کہ میرے لیے قرآن کا مطالعہ میرے بہت سے مشاغل میںسے ایک ہے اور آپ نے اپنی عمر اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات کوسمجھنے میں صرف کی ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ آپ کی یہ عمر بھر کیمحبت اپنی ذات کے لیے ہو تو ہو لیکن عام مسلمانوں کے لیے کچھ مفید ثابت نہیں ہوسکی۔ آپ کے خط میں بہت سے ابہامات ہیں۔ کئی باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔ کئی باتیں ایسیہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ قرآن کا مطلب صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ ان کے لیے بڑاتفصیلی جواب درکار ہے جسے میں انشاء اللہ العزیز اولین فراغت میں مکمل کر سکوں گا۔لیکن اس سلسلے میں دو ایک باتیں ایسی ہیں جب کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔ اس وقت میںصرف انہیں کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔

 

میں سمجھتا ہوں کہ ساری بحث سمٹ سمٹا کر یہاںآ جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جو وحی خدا کی طرف سے نازل ہوئی وہسب کچھ قرآن کے اندر ہے یا باہر کہیں اور بھی۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ وحی کا ایک حصہقرآن کے علاوہ اور بھی ہے۔ اس ضمن میں حسب ذیل امور وضاحت طلب ہیں:

 

(۱)  جہاں تکایمان لانے اور اطاعت کرنے کا تعلق ہے کیا وحی کے دونوں حصے یکساں حیثیت رکھتےہیں؟

 

(۲)  قرآن نے جہاں ما انزل الیک کہا ہے کیا اس سے مراد صرف قرآن ہے یا وحیکا مذکورہ صدر حصہ بھی؟

 

(۳)  وحی کا یہ دوسرا حصہ کہاں ہے؟ کیا قرآن کی طرح اس کیحفاظت کے ذمہ داری بھی خدا نے لے ہوئی ہے؟

 

(۴)  قرآن کے ایک لفظ کی جگہ عربی کادوسرا لفظ جو اس کے مترادف المعنی ہو، رکھ دیا جائے تو کیا اس لفظ کو “وحی منزل مناللہ” سمجھ لیا جائے گا؟ کیا وحی کے مذکورہ بالا دوسرے حصے کی بھی یہی کیفیتہے؟

 

(۵)  بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت پانے کے بعداپنی زندگی کے آخری سانس تک جو کچھ کیا وہ خدا کی طرف سے وحی تھا۔ کیا آپ ان کےہمنوا ہیں؟ اگر نہیں تو اس باب میں آپ کا عقیدہ کیا ہے؟

 

(۶) اگر آپ سمجھتے ہیں کہحضورؐ کے بعض ارشادات وحیِ الٰہی تھے اور بعض وحی نہیں تھے تو کیا آپ فرمائیں گے کہحضورؐ کے جو ارشادات وحی تھے، ان کا مجموعہ کہاں ہے؟ نیز آپ کے جو ارشادات وحی نہیںتھے، مسلمانوں کے لیے ایمان و اطاعت کے اعتبار سے ان کی حیثیت کیا ہے؟

 

(۷)  اگرکوئی شخص قرآن کریم کی کسی آیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ وہ “منزل من اللہ” نہیں ہے توآپ اس سے متفق ہوں گے کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص احادیثکے موجودہ مجموعوں میں سے کسی حدیث کے متعلق یہ کہے کہ وہ خدا کی وحی نہیں تو کیاوہ بھی اسی طرح دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا؟

 

(۸)  رسول اللہ (ﷺ) نے دین کےاحکام کی بجا آوری کے لیے جو صورتیں تجویز فرمائی ہیں کیا کسی زمانے کی مصلحتوں کےلحاظ سے ان کی جزئیات میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیا اس قسم کا رد و بدلقرآن کے احکام کی جزئیات میں بھی کیا جا سکتا ہے؟

 

والسلام۔۔۔ مخلص: عبدالودود

 

                   جواب

 

محترمی و مکرمی، السلام علیکم و رحمۃاللہ،

عنایت نامہ مورخہ ۵ نومبر ۱۹۶۰ کو ملا۔ کچھ خرابیِ صحت اور کچھ مصروفیات کےباعث جواب ذرا تاخیر سے دے رہا ہوں اور اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

 

آپ نے حسبسابق پھر وہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک بحث کو صاف کرنے سے پہلو بچا کر آگے کچھنئے سوالات چھیڑ دیئے۔ حالانکہ آپ کو نئے مسائل سامنے لانے سے پہلے یہ بتانا چاہیےتھا کہ پچھلے خط میں آپ کے دس نکات پر جو بحث میں نے کی تھی اس میں سے کیا چیز آپمانتے ہیں اور کیا نہیں مانتے اور جس چیز کو نہیں مانتے اسے رد کرنے میں آپ کے پاسکیا دلیل ہے۔ اسی طرح آپ کو میرے ان واضح اور متعین سوالات کا بھی کوئی جواب دیناچاہیے تھا جو میں نے اس خط میں آپ سے کیے تھے۔ لیکن ان سوالات کا سامنا کرنے سےگریز کر کے اب آپ کچھ اور سوالات لے آئے ہیں اور مجھ سے چاہتے ہیں کہ میں ان کاجواب دوں یہ آخر کیا طرزِ بحث ہے؟

 

میرے پچھلے خط پر آپ کا تبصرہ کچھ عجیب ہی ساہے۔ تمام اہم نکات جو اس میں زیرِ بحث آئے تھے اور بنیادی سوالات جن پر اس میںروشنی ڈالی گئی تھی، ان سب کو چھوڑ کر سب سے پہلے آپ کی نظر میرے آخری فقرے پر پڑتیہے اور اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ ” میں حق کے آگے تو جھکنے پر تیار ہوں لیکنبت کے آگے میں نہیں جھک سکتا اور شخصیت پرستی میرا مسلک نہیں ہے”۔ سوال یہ ہے کہآخر وہ کون سا “بت” ہے جس کے آگے جھکنے کے لیے آپ سے کہا گیا تھا؟ اور کس “شخصیتپرستی”کی آپ کو دعوت دی گئی تھی؟ میں نے تو صریح آیاتِ قرآنی سے یہ ثابت کیا تھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حاکم، شارع، قاضی اورمعلم و رہنما ہیں اور اللہ ہی کے حکم کی بنا پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع ایکمومن پر واجب ہے۔ اسی حق کے مقابلہ میں جھکنے کے لیے میں نے آپ سے عرض کیا تھا۔ اسپر آپ کا مذکورہ بالا ارشاد یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ شاید محمد صلی اللہ علیہ و سلمکی اطاعت اور پیروی ہی وہ “بت” ہے جس کے آگے جھکنے سے آپ کو انکار ہے اور یہی وہ”شخصیت پرستی” ہے جس سے آپ گریزاں ہیں۔ اگر میرا یہ شبہ صحیح ہے تو میں عرض کروں گاکہ دراصل آپ شخصیت پرستی سے نہیں خدا پرستی سے انکار کر رہے ہیں، ا ور ایک بہت بڑابت آپ کے اپنے نفس میں چھپا ہوا ہے جس کے آگے آپ سجدہ ریز ہیں، جہاں سرِ اطاعت خمکرنے کا خدا نے حکم دیا ہو، وہاں جھک جانا بت کے آگے جھکنا نہیں، خدا کے آگے جھکناہے، ا ور یہ شخصیت پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہے۔ البتہ اس سے جو شخص انکار کرتا ہےوہ دراصل حکمِ خدا کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے بتِ نفس کے آگے جھکتاہے۔

پھر آپ میرے سارے دلائل کو اس طرح چٹکیوں میںاڑانے کی کوشش فرماتے ہیں کہ تم نے “لفاظی اور جذبات کا مرکب پیش کرنے میں سارازورِ قلم صرف کیا ہے”۔ یہ رائے آپ چاہیں تو بخوشی رکھ سکتے ہیں، لیکن اس کا فیصلہاب وہ ہزاروں ناظرین کریں گے جن کی نظر سے یہ مراسلت گزر رہی ہے۔ میں نے دلائل پیشکیے ہیں یا محض لفاظی کی ہے اور آپ ہٹ دھرمی کا اظہار فرما رہے ہیں یا حق پرستیکا۔

 

پھر آپ اپنی اس بد نصیبی پر افسوس کرتے ہیں کہ میرے جوابات سے آپ کیالجھنیں اور بڑھ گئی ہیں۔ مجھے بھی اس کا افسوس ہے مگر ان الجھنوں کا منبع کہیںباہر نہیں، آپ کے اندر ہی موجود ہے۔ آپ نے یہ مراسلت واقعی “بات سمجھنے کے لیے” کیہوتی تو سیدھی بات سیدھی طرح آپ کی سمجھ میں آ جاتی لیکن آپ کی تو اسکیم ہی کچھ اورتھی۔ آپ نے اپنے ابتدائی سوالات میرے پاس بھیجنے کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے علماء کےپاس بھی اس امید پر بھیجے[14]  تھے کہ انسے مختلف جوابات حاصل ہوں گے اور پھر ان کا ایک مجموعہ شائع کر کے یہ پروپیگنڈا کیاجا سکے گا کہ علماء سنت سنت تو کرتے ہیں مگر دو عالم بھی سنت کے بارے میں ایک متفقہرائے نہیں رکھتے۔ وہ ٹیکنیک جس کا ایک شاہکار ہمیں منیر رپورٹ میں ملتا ہے۔ اب میرےجوابات سے آپ کی یہ اسکیم آپ ہی پر الٹی پڑی ہے اس لیے آپ کو سمجھانے کی جتنی کوششبھی میں کرتا جاتا ہوں آپ کی الجھن بڑھتی جاتی ہے۔ اس نوعیت کی الجھن کا آخر میںکیا علاج کر سکتا ہوں۔ اس کا علاج تو آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ حق بات سمجھنے اورماننے کی مخلصانہ خواہش اپنے اندر پیدا کیجیئے اور ایک مسلک خاص کے حق میں پروپیگنڈاکرنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کی فکر چھوڑ دیجیئے۔ اس کے بعد انشاء اللہ ہر معقولبات باآسانی آپ کی سمجھ میں آنے لگے گی۔

 

پھر آپ میری طرف یہ غلط دعویٰ منسوبکرتے ہیں کہ “میں نے اپنی عمر قرآن کے ایک ایک لفظ پر غور کرنے اور اس کے مضمرات کوسمجھنے میں صرف کی ہے”۔ حالانکہ میں نے اپنے متعلق یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ میں نےتو اپنے پچھلے خط میں جو کچھ کہا تھا وہ یہ تھا کہ اسلامی تاریخ میں بے شمار ایسےلوگ گزرے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی عمریں اس کام میں صرف کر دیہیں۔ اس سے یہ نتیجہ آپ نے کیسے نکال لیا کہ میں اپنے حق میں یہ دعویٰ کر رہاہوں۔

 

اتنی غیر متعلق باتیں کر چکنے کے بعد آپ میرے خط کے اصل مبحث کے متعلقصرف اتنی مختصر سی بات ارشاد فرمانے پر اکتفا کرتے ہیں کہ: “آپ کے خط میں بہت سےابہامات ہیں۔ کئی باتیں قرآن کے خلاف ہیں۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہآپ قرآن کا مطلب صحیح طور پر نہیں سمجھتے”۔ سوال یہ ہے کہ اس سے زیادہ مبہم بات بھیکوئی ہو سکتی ہے؟ آخر آپ نے کچھ تو بتایا ہوتا کہ میرے اس خط میں کیا ابہامات تھے، کیا چیزیں قرآن کے خلاف تھیں اور قرآن کی کن آیات کا مطلب میں ٹھیک نہیں سمجھا۔ انساری باتوں کو تو آئندہ کسی فرصت کے لیے آپ نے اٹھا کر رکھ دیا اور اپنا آج کا وقتکچھ نئے سوالات تصنیف کرنے میں صرف فرما دیا حالانکہ یہ وقت پچھلے سوالات پر گفتگوکرنے میں استعمال ہونا چاہیئے تھا۔

 

اگر اس مراسلت سے میرے پیش نظر صرف آپ کو”بات سمجھانا” ہوتا تو آپ کی طرف سے “بات سمجھنے کی کوشش” کا یہ نمونہ دیکھ کر میںآئندہ کے لیے معذرت ہی کر دیتا۔ لیکن دراصل میں آپ کے ذریعہ سے دوسرے بہت سے مریضوںکے علاج کی فکر کر رہا ہوں جن کے ذہن اسی طرح کے سوالات چھیڑ چھیڑ کر پراگندہ کیےجا رہے ہیں، اس لیے میں انشاء اللہ آپ کے ان تازہ سوالات کا جواب بھی دوں گا اورایسے ہی سوالات آپ اور چھیڑیں گے تو ان کا جواب بھی دوں گا، تاکہ جن لوگوں کے اندراس گمراہی کے لیے ابھی تک ضد پیدا نہیں ہوئی ہے، وہ سنت کے مسئلے کا ہر پہلو اچھیطرح سمجھ لیں اور ان کو گمراہ کرنا آسان نہ رہے۔

 

وحی پر ایمان کیوجہ

 

آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ: “جہاں تک ایمان لانے اور اطاعت کرنے کا تعلقہے کیا وحی کے دونوں حصے یکساں حیثیت رکھتے ہیں”۔

 

اس سوال کا صحیح جواب آدمیکی سمجھ میں اچھی طرح نہیں آ سکتا جب تک کہ وہ پہلے یہ نہ سمجھ لے کہ وحی پر ایمانلانے اور اس کی اطاعت کرنے کی اصل بنیاد کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ وحی خواہ وہ کسینوعیت کی بھی ہو، براہ راست ہمارے پاس نہیں آئی ہے کہ ہم بجائے خود اس کے منزل مناللہ ہونے کو جانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ وہ تو ہمیں رسولؐ کے ذریعہ سے ملی ہے اوررسولؐ ہی نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ ہدایت میرے پاس خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قبل اس کےکہ ہم وحی پر (یعنی اس کے من جانب اللہ ہونے پر) ایمان لائیں، ہم رسولؐ پر ایمانلاتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کا سچا نمائندہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہی یہنوبت آ سکتی ہے کہ ہم رسولؐ کے بیان پر اعتماد کر کے اس وحی کو خدا کی بھیجی ہوئیوحی مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ پس اصل چیز وحی پر ایمان نہیں بلکہ رسولؐ پر ایماناور اس کی تصدیق ہے۔ اور اسی کی تصدیق کا نتیجہ ہے کہ ہم نے وحی کو وحیِ خداوندیمانا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیئے کہ رسولؐ کی رسالت پر ہمارے ایمانکی وجہ قرآن نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس قرآن پر ہمارے ایمان کی وجہ رسولؐ کی رسالتپر ایمان ہے۔ واقعات کی ترتیب یہ نہیں ہے کہ پہلے قرآن ہمارے پاس آیا اور اس نےمحمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) سے ہمارا تعارف کرایا ہو اور اس کے بیان کوصحیح جان کر ہم نے حضورؐ کو خدا کا رسول تسلیم کیا ہو۔ بلکہ صحیح ترتیبِ واقعات یہہے کہ پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے آ کر رسالت کا دعویٰ پیش کیا، پھر جس نےبھی ان کو رسولِ برحق مانا اس نے ان کی اس بات کو بھی برحق مان لیا کہ یہ قرآن جووہ پیش فرما رہے ہیں، یہ کلامِ محمدؐ نہیں بلکہ کلامُ اللہ ہے۔

 

یہ ایک ایسیبدیہی پوزیشن ہے جس سے کوئی معقول آدمی انکار نہیں کر سکتا۔ اس پوزیشن کو اگر آپمانتے ہیں تو اپنی جگہ خود غور کیجیئے کہ جس رسولؐ کے اعتماد پر ہم نے قرآن کو وحیمانا ہے وہی رسولؐ اگر ہم سے یہ کہے کہ مجھے قرآن کے علاوہ بھی خدا کی طرف سےہدایات اور احکام بذریعۂ وحی ملتے ہیں، تو اس کی تصدیق نہ کرنے کی آخر کیا وجہ ہے؟اور آخر رسولؐ کے ذریعہ سے آنے والی ایک وحی اور دوسری وحی میں فرق کیوں ہو؟ جبایمان بالرسالت ہی وحی پر ایمان کی اصل بنیاد ہے تو اطاعت کرنے والے کے لیے اس سےکیا فرق واقع ہوتا ہے کہ رسولؐ نے خدا کا ایک حکم قرآن کی کسی آیت کی شکل میں ہمیںپہنچایا ہے یا اسے اپنے کسی فرمان یا عمل کی شکل میں؟ مثال کے طور پر پانچ وقت کینماز بہرحال ہم پر فرض ہے اور امت اس کو فرض مانتی ہے باوجودیکہ قرآن کی کسی آیتمیں یہ حکم نہیں آیا کہ “اے مسلمانو! تم پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے”۔ سوالیہ ہے کہ اگر قرآن میں بھی یہ حکم آ جاتا تو اس کی فرضیت اور اس کی تاکید میں کیااضافہ ہو جاتا؟ اس وقت بھی یہ ویسی ہی فرض ہوتی جیسی اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے فرض ہے۔

 

ما انزل اللہ سے کیا مراد ہے؟

 

آپ کا دوسراسوال یہ ہے کہ:

 

“قرآن نے جہاں ما انزل الیک کہا ہے کیا اس سے مراد صرف قرآنہے یا وحی کا مذکورہ صدر حصہ بھی؟”

 

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں”نازل کرنے” کے ساتھ “کتاب” یا “ذکر” یا “فرقان” وغیرہ کی تصریح کی گئی ہے۔ صرف اسیجگہ ما انزل اللہ سے مراد قرآن ہے۔ رہے وہ مقامات جہاں کوئی قرینہ ان الفاظ کو قرآنکے لیے مخصوص نہ کر رہا ہو، وہاں یہ الفاظ ان تمام ہدایات و تعلیمات پر حاوی ہیں جونبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہم کو ملی ہیں، خواہ وہ آیات قرآنی کی صورت میں ہوں، یاکسی اور صورت میں۔ اس کی دلیل خود قرآن مجید ہی میں موجود ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہےکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر صرف قرآن ہی نازل نہیں ہوا ہےبلکہ کچھ اور چیزیں بھی نازل ہوئی ہیں۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہوا ہے:

 

و انزلاللہ علیک الکتاب والحکمۃ و علّمک ما لم تکن تعلم (آیت: ۱۱۳)

 

“اور اللہ نےتیرے اوپر نازل کی کتاب اور حکمت اور تجھے سکھایا وہ کچھ جو تو نہ جانتاتھا”

 

یہی مضمون سورۂ بقرۃ میں بھی ہے:؂

 

واذکروا نعمۃ اللہ علیکم و ماانزل علیکم من الکتاب والحکمۃ یعظکم بہ (آیت:۲۳۱)

 

“اور یاد رکھو اپنے اوپراللہ کے احسان کو اور اس کتاب اور حکمت کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے۔ اللہ تمہیںاس کا پاس رکھنے کی نصیحت فرماتا ہے”

 

اسی بات کو سورۂ احزاب میں دہرایا گیاہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر کی خواتین کو نصیحت فرمائی گئی ہےکہ:

 

واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من ایٰت اللہ والحکمۃ (آیت:۳۴)

 

اس سےمعلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر کتاب کے علاوہ ایک چیز “حکمت” بھی نازل کیگئی تھی جس کی تعلیم آپ لوگوں کو دیتے تھے۔ اس کا مطلب آخر اس کے سوا کیا ہے کہ جسدانائی کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم قرآن مجید کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانےکے لیے کام کرتے اور قیادت و رہنمائی کے فرائض انجام دیتے تھے، وہ محض آپ کیآزادانہ ذاتی قوتِ فیصلہ (Private Judgment) نہ تھی بلکہ یہ چیز بھی اللہ نے آپ پرنازل کی تھی۔ نیز یہ کوئی ایسی چیز تھی جسے آپ خود ہی استعمال نہ کرتے تھے بلکہلوگوں کو سکھاتے بھی تھے (یعلمکم الکتاب و الحکمۃ)۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سکھانے کاعمل یا تو قول کی صورت میں ہو سکتا تھا یا فعل کی صورت میں۔ اس لیے امت کو آنحضرتؐکے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وہ دو چیزیں ملی تھیں۔ ایک کتاب۔ دوسری حکمت، حضورؐ کے اقوال میں بھی اور افعال کی صورت میں بھی۔

 

پھر قرآن مجید ایکاور چیز کا ذکر بھی کرتا ہے جو اللہ نے کتاب کے ساتھ نازل کی ہے:

 

اللَّهُالَّذِی أَنزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِیزَانَ (الشورٰی:۱۷)

 

“اللہ ہیہے جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ اور میزان”

 

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَابِالْبَینَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیقُومَالنَّاسُ بِالْقِسْطِ (الحدید:۲۵)

 

“ہم نے اپنے رسولوں کو روشن نشانیوں کےساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائمہوں”

 

یہ “میزان” جو کتاب کے ساتھ نازل کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ وہ ترازو تونہیں ہے جو ہر بنیے کی دوکان پر رکھی ہوئی مل جاتی ہے بلکہ اس سے مراد کوئی ایسیچیز ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق انسانی زندگی میں توازن قائم کرتی ہے، اس کے بگاڑ کو درست کرتی ہے اور افراط و تفریط کو دور کر کے انسانی اخلاق و معاملاتکو عدل پر لاتی ہے۔ کتاب کے ساتھ اس چیز کو انبیاء پر “نازل” کرنے کے صاف معنی یہہیں کہ انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اپنے پاس سے وہ رہنمائی کی صلاحیت عطافرمائی تھی جس سے انہوں نے کتاب اللہ کے منشا کے مطابق افراد اور معاشرے اور ریاستمیں نظام عدل قائم کیا۔ یہ کام ان کی ذاتی قوت اجتہاد اور رائے پر منحصر نہ تھا بلکہ اللہ کی نازل کردہ میزان سے تول تول کر وہ فیصلہ کرتے تھے کہ حیات انسانی کےمرکب میں کس جز کا کیا وزن ہونا چاہیے۔

 

پھر قرآن ایک تیسری چیز کی بھی خبردیتا ہے جو کتاب کے علاوہ نازل کی گئی تھی:

 

فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِوَالنُّورِ الَّذِی أَنزَلْنَا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیرٌ(التغابن:۸)

 

“پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولؐ پر اور اس نور پر جو ہم نےنازل کیا ہے”

 

فَالَّذِینَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُوَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِی أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَئِكَ  هُمُ الْمُفْلِحُونَ(الاعراف:۱۵۷)

 

“پس جو لوگ ایمان لائیں اس رسولؐ پر اور اس کی تعظیم و تکریمکریں اوراس کی مدد کریں اور اس نور کے پیچھے چلیں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہےوہی فلاح پانے والے ہیں”

 

قَدْ جَاءكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌمُّبِینٌ یهْدِی بِهِ اللّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ(المائدۃ:۱۵۔۱۶)

 

“تمہارے پاس آ گیا ہے اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین جس کے ذریعہ سےاللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو جو اس کی مرضی کی پیروی کرنے والا ہے، سلامتی کی راہدکھاتا ہے”

 

ان آیات میں جس “نور” کا ذکر کیا گیا ہے وہ کتاب سے الگ ایک چیزتھا، جیسا کہ تیسری آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں۔ اور یہ نور بھی اللہ تعالیٰ کیطرف سے اس کے رسول پر نازل کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ علم و دانش اوروہ بصیرت و فراست ہی ہو سکتی ہے جو اللہ نے حضورﷺ کو عطا فرمائی تھی۔ جس سے آپؐ نےزندگی کی راہوں میں صحیح اور غلط کا فرق واضح فرمایا، جس کی مدد سے زندگی کے مسائلحل کیے اور جس کی روشنی میں کام کر کے آپ نے اخلاق و روحانیت، تہذیب و تمدن، معیشتو معاشرت اور قانون و سیاست کی دنیا میں انقلاب عظیم برپا کر دیا۔ یہ کسی پرائیویٹآدمی کا کام نہ تھا، جس نے بس خدا کی کتاب پڑھ پڑھ کر اپنی سمجھ بوجھ کے مطابقجدوجہد کر ڈالی ہو۔ بلکہ یہ خدا کے اس نمائندے کا کام تھا جس نے کتاب کے ساتھ براہراست خدا ہی سے علم اور بصیرت کی روشنی بھی پائی تھی۔

 

ان تصریحات کے بعد یہبات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جب ہمیں دوسری سب چیزوں کو چھوڑ کر صرف ما انزلاللہ کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے مراد محض قرآن ہی کی پیروی نہیں ہوتی بلکہ اس حکمت اور نور اور اس میزان کی پیروی بھی ہوتی ہے جو قرآن کے ساتھ نبی صلیاللہ علیہ و سلم پر نازل کی گئی تھی اور جس کا ظہور لا محالہ حضورؐ کی سیرت و کرداراور حضورؐ کے اقوال و افعال ہی میں ہو سکتا تھا۔ اسی لیے قرآن کہیں یہ کہتا ہے کہما انزل اللہ کی پیروی کرو (مثلاً آیت ۳۰۷ میں) اور کہیں یہ ہدایت کرتا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرو (مثلاً آیات ۳۱:۳۔ ۳۳، ۲۱ اور ۱۵۶:۷ میں)۔ اگر یہدو مختلف چیزیں ہوتیں تو ظاہر ہے کہ قرآن کی ہدایات متضاد ہو جاتیں۔

 

سنتکہاں ہے

 

آپ کا تیسرا سوال یہ ہے:

 

“وحی کا یہ دوسرا حصہ کہاں ہے؟ کیاقرآن کی طرح اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خدا نے لی ہوئی ہے؟”

 

اس سوال کے دوحصے الگ الگ ہیں۔ پہلا حصہ یہ ہے کہ “وحی کا یہ دوسرا حصہ کہاں ہے؟” بعینہ یہ سوالآپ پہلے مجھ سے کر چکے ہیں اور میں اس کا مفصل جواب دے چکا ہوں۔ مگر آپ اسے پھر اسطرح دوہرا رہے ہیں کہ گویا آپ کو سرے سے کوئی جواب ملا ہی نہیں۔ براہ کرم اپنااولین خط اٹھا کر دیکھیے جس میں سوال نمبر ۲ کا مضمون وہی تھا جو آپ کے اس تازہسوال کا ہے۔ اس کے بعد میرا دوسرا خط ملاحظہ فرمائیے جس میں، مَیں نے آپ کو اس سوالکا تفصیلی جواب دیا ہے[15]۔  اب آپ کااسی سوال کو پھر پیش کرنا اور میرے پہلے جواب کو بالکل نظر انداز کر دینا یہ معنیرکھتا ہے کہ یا تو آپ اپنے ہی خیالات میں گم رہتے ہیں اور دوسرے کی کوئی بات آپ کےذہن تک پہنچنے کا راستہ ہی نہیں پاتی، یا پھر آپ یہ بحث برائے بحث فرما رہےہیں۔

 

کیا سنت کی حفاظت بھی خدا نے کی ہے؟

 

رہا آپ کے سوال کا دوسراحصہ تو اس کا جواب سننے سے پہلے ذرا اس بات پر غور کر لیجیے کہ قرآن کی حفاظت کیذمہ داریاں جو اللہ میاں نے لے لی تھی، اس کو انہوں نے براہ راست عملی جامہ پہنایا، یا انسانوں کے ذریعہ سے اس کو عملی جامہ پہنوایا؟ ظاہر ہے آپ اس کا کوئی جواب اس کےسوا نہیں دے سکتے کہ اس حفاظت کے لیے انسان ہی ذریعہ بنائے گئے۔ اور عملاً یہ حفاظتاس طرح ہوئی کہ حضورؐ سے جو قرآن لوگوں کو ملا تھا اس کو اسی زمانہ میں ہزاروںآدمیوں نے لفظ بلفظ یاد کر لیا، پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں اس کونسلاً بعد نسل لیتے اور یاد کرتے چلے گئے، حتی کہ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں رہا کہقرآن کا کوئی لفظ دنیا سے محو ہو جائے، یا اس میں کسی وقت کوئی رد و بدل ہو اور وہفوراً نوٹس میں نہ آ جائے، یہ حفاظت کا غیر معمولی انتظام آج تک دنیا کی کسی دوسریکتاب کے لیے نہیں ہو سکا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کیاہوا انتظام ہے۔

 

اچھا، اب ملاحظہ فرمائیے کہ جس رسولؐ کو ہمیشہ کے لیے اورتمام دنیا کے لے رسول بنایا گیا تھا اور جس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دینے کابھی اعلان کر دیا گیا تھا، اس کے کارنامۂ حیات کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا محفوظفرمایا کہ آج تک تاریخ انسانی میں گزرے ہوئے کسی نبی، کسی پیشوا، کسی لیڈر اوررہنما اور کسی بادشاہ یا فاتح کا کارنامہ اس طرح محفوظ نہیں رہا ہے اور یہ حفاظتبھی انہیں ذرائع سے ہوئی ہے جن ذرائع سے قرآن کی حفاظت ہوئی ہے، ختم نبوت کا اعلانبجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کیے ہوئے آخری رسولؐ کیرہنمائی اور اس کے نقوش قدم کو قیامت تک زندہ رکھنے کی ذمہ داری لے لی ہے تاکہ اسکی زندگی ہمیشہ انسان کی رہنمائی کرتی رہے اور اس کے بعد کسی نئے رسول کے آنے کیضرورت باقی نہ رہے۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے فی الواقع جریدۂ عالم پران نقوش کو کیسا ثبت کیا ہے کہ آج تک کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی۔ کیا آپ کو نظرنہیں آتا کہ یہ وضو، یہ پنچ وقتہ نماز، یہ اذان، یہ مساجد کی با جماعت نماز، یہعیدین کی نماز، یہ حج کے مناسک، یہ بقر عید کی قربانی، یہ زکوٰۃ کی شرحیں، یہ ختنہ، یہ نکاح و طلاق و وراثت کے قاعدے، یہ حرام و حلال کے ضابطے اور اسلامی تہذیب و تمدنکے دوسرے بہت سے اصول اور طور طریقے جس روز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شروع کیےاسی روز سے وہ مسلم معاشرے میں ٹھیک اسی طرح رائج ہو گئے جس طرح قرآن کی آیتیںزبانوں پر چڑھ گئیں اور پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں مسلمان دنیا کےہر گوشے میں نسلاً بعد نسل ان کی اسی طرح پیروی کرتے چلے آ رہے ہیں جس طرح ان کیایک نسل سے دوسری نسل قرآن لیتی چلی آ رہی ہے۔ ہماری تہذیب کا بنیادی ڈھانچہ رسولپاک کی جن سنتوں پر قائم ہے، ان کے صحیح ہونے کا ثبوت بعینہٖ وہی ہے جو قرآن پاک کےمحفوظ ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کو جو شخص چیلنج کرتا ہے وہ دراصل قرآن کی صحت کو چیلنجکرنے کا راستہ اسلام کے دشمنوں کو دکھاتا ہے۔

 

پھر دیکھیے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ و سلم کی زندگی اور آپ کے عہد کی سوسائٹی کا کیسا مفصل نقشہ، کیسی جزئیتفصیلات کے ساتھ، کیسے مستند ریکارڈ کی صورت میں آج ہم کو مل رہا ہے۔ ایک ایک واقعہاور ایک ایک قول و فعل کی سند موجود ہے، جس کو جانچ کر ہر وقت معلوم کیا جا سکتا ہےکہ روایت کہاں تک قابل اعتماد ہے۔ صرف ایک انسان کے حالات معلوم کرنے کی خاطر اسدَور کے کم و بیش ۶ لاکھ انسانوں کے حالات مرتب کر دیئے گئے تاکہ ہر وہ شخص جس نےکوئی روایت اس انسان عظیمؐ کا نام لے کر بیان کی ہے اس کی شخصیت کو پرکھ کر رائےقائم کی جا سکے کہ ہم اس کے بیان پر کہاں تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ تاریخی تنقید کاایک وسیع علم انتہائی باریک بینی کے ساتھ صرف اس مقصد کے لیے مدون ہو گیا کہ اس ایکفرد فرید کی طرف جو بات بھی منسوب ہو،  اسے ہر پہلو سے جانچ پڑتال کر کے صحت کااطمینان کر لیا جائے۔ کیا دنیا کی پوری تاریخ میں کوئی اور مثال بھی ایسی ملتی ہےکسی ایک شخص کے حالات محفوظ کرنے کے لیے انسانی ہاتھوں سے یہ اہتمام عمل میں آیاہو؟ اگر نہیں ملتی اور نہیں مل سکتی، تو کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اساہتمام کے پیچھے بھی وہی خدائی تدبیر کارفرما ہے جو قرآن کی حفاظت میں کارفرما رہیہے؟

 

وحی سے مراد کیا چیز ہے؟

 

آپ کا چوتھا سوال یہ ہے:

 

“قرآنکے ایک لفظ کی جگہ عربی کا دوسرا لفظ جو اس کے مترادف المعنی ہو، رکھ دیا جائے توکیا اس لفظ کو “وحی منزل من اللہ” سمجھ لیا جائے گا؟ کیا وحی کے مذکورہ بالا دوسرےحصے کی بھی یہی کیفیت ہے؟”

 

یہ ایسا مہمل سوال آپ نے کیا ہے کہ میں کسی پڑھےلکھے آدمی سے اس کی توقع نہ رکھتا تھا۔ آخر یہ کس نے آپ سے کہہ دیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم قرآن کے شارح اس معنی میں ہیں کہ آپ نے تفسیر بیضاوی یا جلالینکی طرح کی کوئی تفسیر لکھی تھی جس میں قرآن کے عربی الفاظ کی تشریح میں کچھ دوسرےمترادف عربی الفاظ درج کر دیئے تھے اور ان تفسیری فقروں کو اب کوئی شخص “وحی منزلمن اللہ” کہہ رہا ہے۔ جو بات آپ سے بار بار کہی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیغمبرانہ حیثیت سےجو کچھ بھی کیا اور کہا ہے وہ بربنائے وحی ہے۔ آپ کا پورا پیغمبرانہ کارنامہ اپنیپرائیویٹ حیثیت میں نہ تھا بلکہ خدا کے نمائندۂ مجاز ہونے کی حیثیت میں تھا۔ اسحیثیت میں آپ کوئی کام بھی خدا کی مرضی کے خلاف یا اس کے بغیر نہ کر سکتے تھے۔ ایکمعلم، ایک مربی، ایک مصلح اخلاق، ایک حکمران ہونے کی حیثیت میں آپ نے جتنا کام بھیکیا وہ سب دراصل خدا کے رسول ہونے کی حیثیت میں آپﷺ کا کام تھا۔ اس میں خدا کی وحیآپ کی رہنمائی اور نگرانی کرتی تھی اور کہیں ذرا سی چوک بھی ہو جاتی تو خدا کی وحیبروقت اس کی اصلاح کر دیتی تھی۔ اس وحی کو اگر آپ اس معنی میں لیتے ہیں کہ قرآن کےالفاظ کی تشریح میں کچھ عربی زبان کے مترادف الفاظ نازل ہو جاتے تھے تو میں سوائےاس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ “بریں عقل و دانش بباید گریست”۔ آپ کو معلوم ہوناچاہیے کہ وحی لازماً الفاظ کی صورت ہی میں نہیں ہوتی۔ وہ ایک خیال کی شکل میں بھیہو سکتی ہے جو دل میں ڈالا جائے۔ وہ ذہن و فکر کے لیے ایک رہنمائی بھی ہو سکتی ہے۔وہ ایک معاملہ کا صحیح فہم بخشنے اور ایک مسئلے کا ٹھیک حل یا ایک موقع کے لیےمناسب تدبیر سجھانے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ وہ محض ایک روشنی بھی ہو سکتی ہےجس میں آدمی اپنا راستہ صاف دیکھ لے۔ وہ ایک سچا خواب بھی ہو سکتی ہے اور وہ پردےکے پیچھے سے ایک آواز یا فرشتے کے ذریعہ سے آیا ہوا ایک پیغام بھی ہو سکتی ہے۔ عربیزبان میں وحی کے لفظی معنی “اشارۂ لطیف” کے ہیں۔ انگریزی میں اس سے قریب تر لفظ (Inspiration)  ہے۔ اگر آپ عربی نہیں جانتے تو انگریزی زبان ہی کی کسی لغت میں اسلفظ کی تشریح دیکھ لیں۔ اس کے بعد آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ لفظ کےمقابلہ میںلفظ رکھنے کا یہ عجیب و غریب تصور، جسے آپ وحی کے معنی میں لے رہے ہیں، کیسا طفلانہہے۔

 

آپ کا پانچواں سوال یہ ہے:

“بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ا کرم (صلی اللہ علیہو سلم) نے نبوت پانے کے بعد اپنی زندگی کے آخری سانس تک جو کچھ کیا وہ خدا کی طرفسے وحی تھا۔ کیا آپ ان کے ہمنوا ہیں؟ اگر نہیں تو اس باب میں آپ کا عقیدہ کیاہے؟”

اس سوال کا جواب سوال نمبر ۴ میں آ گیا ہے اور جو عقیدہ میں نے اوپر بیانکیا ہے وہ “بعض لوگوں” کا نہیں بلکہ آغاز اسلام سے آج تک تمام مسلمانوں کا متفقہعقیدہ ہے۔

 

محض تکرار سوال

 

آپ کا چھٹا سوال یہ ہے:

“اگر آپ سمجھتے ہیں کہحضورؐ کے بعض ارشادات وحیِ الٰہی تھے اور بعضوحی نہ تھے تو آپ فرمائیں گے کہ حضورؐکے جو ارشادات وحی تھے، ان کا مجموعہ کہاں ہے؟ نیز آپ کے جو ارشادات وحی نہ تھے، مسلمانوں کے لیے ایمان و اطاعت کے اعتبار سے ان کی حیثیت کیا ہے؟”

 

اس سوال کےپہلے حصے میں آپ نے اپنے سوال نمبر ۳ کو پھر دہرا دیا ہے۔ اور اس کا جواب وہی ہے جواوپر اسی سوال کا دیا جا چکا ہے۔ دوسرے حصے میں آپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے جو اسسے پہلے اپنے خط نمبر ۲ میں آپ بیان فرما چکے ہیں اور میں اس کا جواب عرض کر چکاہوں۔ شبہ ہوتا ہے کہ آپ میرے جوابات کو غور سے پڑھتے بھی نہیں ہیں اور ایک ہی طرحکے سوالات کو دہراتے چلے جاتے ہیں۔

 

ایمان و کفر کا مدار

 

آپ کا ساتواں سوال یہہے:

“اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی آیت کے متعلق یہ کہہ دے کہ وہ “منزل مناللہ” نہیں ہے تو آپ اس سے متفق ہوں گے کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگرکوئی شخص احادیث کے موجودہ مجموعوں میں سے کسی حدیث کے متعلق یہ کہے کہ وہ خدا کیوحی نہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا؟”

 

اس کا جواب یہہے کہ احادیث کے موجودہ مجموعوں سے جن سنتوں کی شہادت ملتی ہے ان کی دو بڑی قسمیںہیں۔ ایک قسم کی سنتیں وہ ہیں جن کے سنت ہونے پر امت شروع سے آج تک متفق رہی ہے، یعنی بالفاظ دیگر وہ متواتر سنتیں ہیں اور امت کا ان پر اجماع ہے۔ ان میں سے کسی کوماننے سے جو شخص بھی انکار کرے گا وہ اسی طرح دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا جسطرح قرآن کی کسی آیت کا انکار کرنے والا خارج از اسلام ہو گا۔ دوسری قسم کی سنتیںوہ ہیں جن کے ثبوت میں اختلاف ہے یا ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی سنتوں میں سے اگر کسی کےمتعلق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میری تحقیق میں فلاں سنت ثابت نہیں ہے اس لیے میں اسےقبول نہیں کرتا تو اس قول سے اس کے ایمان پر قطعاً کوئی آنچ نہ آئے گا۔ یہ الگ بات ہےکہ ہم علمی حیثیت سے اس کی رائے کو صحیح سمجھیں یا غلط۔ لیکن اگر وہ یہ کہے کہ یہواقعی سنت رسولؐ ہو بھی تو میں اس کی اطاعت کا پابند نہیں ہوں تو اس کے خارج ازاسلام ہونے میں قطعاً کوئی شبہ نہیں، کیونکہ وہ رسولؐ کی حیثیتِ حکمرانی (Authority) کو چیلنج کرتا ہے جس کی کوئی گنجائش دائرۂ اسلام میں نہیں ہے۔

 

کیااحکام سنت میں رد و بدل ہو سکتا ہے؟

 

آپ کا آٹھواں سوال یہ ہے:

“رسول اللہ(ﷺ) نے دین کے احکام کی بجاآوری کے لیے جو صورتیں تجویز فرمائی ہیں کیا کسیزمانے کی مصلحتوں کے لحاظ سے ان کی جزئیات میں رد وبدل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کیااس قسم کا رد وبدل قرآن کی جزئیات میں بھی کیا جا سکتا ہے؟”

 

اس کا جواب یہ ہے کہقرآنی احکام کے جزئیات ہوں یا ثابت شدہ سنت رسولؐ کے کسی حکم کی جزئیات، دونوں کےاندر صرف اسی صورت میں اور اسی حد تک رد و بدل ہو سکتا ہے جب اور جس حد تک حکم کےالفاظ کسی رد و بدل کی اجازت دیتے ہوں، یا کوئی دوسری نص ایسی ملتی ہو جس کسی مخصوصحالت کے لیے کسی خاص قسم کے احکام میں رد و بدل کی اجازت دیتی ہو۔ اس کے ماسوا کوئیمومن اپنے آپ کو کسی حال میں بھی خدا اور رسولؐ کے احکام میں رد و بدل کر لینے کامختار و مجاز تصور نہیں کر سکتا۔ البتہ ان لوگوں کا معاملہ دوسرا ہے جو اسلام سےنکل کر مسلمان رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا طریق کار یہی ہے کہ پہلے رسول کو آئین و قانونسے بے دخل کر کے “قرآن بلا محمد” کی پیروی کا نرالا مسلک ایجاد کریں، پھر قرآنسے پیچھا چھڑانے کے لیے اس کی ایسی من مانی تاویلات شروع کر دیں جنہیں دیکھ کر شیطانبھی اعتراف کمال پر مجبور ہو جائے۔

 

خاکسار۔۔۔۔۔ ابو الاعلیٰ

 

                   اعتراضات اورجوابات

 

(پچھلی مراسلت کے بعد ڈاکٹر عبد الودود صاحب کا جو طویل خط موصول ہواتھا، اسے رسالہ ترجمان القرآن کے منصب رسالت نمبر میں شائع کیا جا چکا ہے۔ اب یہبالکل غیر ضروری ہے کہ اس لمبی چوڑی بحث کو، جو بکثرت فضولیات سے بھری ہوئی ہے، یہاں نقل کیا جائے۔ اس لیے فائدۂ عام کی خاطر موصوف کی غیر متعلق باتوں کو چھوڑ کرصرف ان کے اصل اعتراضات کو یہاں خلاصۃً درج کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ہر اعتراضکا جواب بھی دیا جا رہا ہے تاکہ ناظرین پوری طرح منکرین حدیث کے حربوں سے آگاہ ہوجائیں اور انہیں معلوم ہو جائے کہ یہ حربے کس قدر کمزور ہیں)۔

٭٭٭

ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

 

حواشی

 

[1] شرعی اصطلاح میں تقریر سے مراد یہ ہے کہ حضورﷺ نے اپنے سامنے کوئی کام ہوتے ہوئے دیکھا ہو یا کوئی طریقہ رائج پایا ہو اور اسے منع نہ کیا ہو۔ دوسرے الفاظ میں تقریر کے معنی ہیں کسی چیز کو برقرار رکھنا۔

[2] صحیح عبارت “او لم یکفھم انا انزلنا علیک” ہے (مودودی)

[3] ڈاکٹر عبد الودود نے سورۂ عبس کے ان  آیات نقل کرنے میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ میں نے ان غلطیوں کی پروف ریڈنگ میں اس لیے درستگی نہیں کہ بعد کے سطور میں مودودی صاحب نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور ڈاکٹر صاحب کی قرآن فہمی پر چوٹ کی ہے۔ (جویریہ مسعود)

[4] محمداً نہیں بلکہ محمد صحیح ہے (مودودی)

[5] بلکہ اگر غائر نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خود عہد رسالت میں بھی بہت بڑی حد تک سنتِ رسول ہی مرجع تھی۔ اس لیے  کہ نبیﷺ کے آخر زمانے میں اسلامی حکومت پورے جزیرۂ عرب پر پھیلی ہوئی تھی۔ دس بارہ لاکھ مربع میل کے اس وسیع و عریض ملک میں یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہر معاملہ کا فیصلہ براہ راست نبیﷺ سے کرایا جائے۔ لامحالہ اس زمانے میں بھی اسلامی حکومت کے گورنروں، قاضیوں اور دوسرے حکام کو معاملات کے فیصلے کرنے میں قرآن کے بعد جس دوسرے مآخذ قانون کی طرف رجوع کرنا ہوتا تھا وہ سنت رسولﷺ ہی تھی۔

[6] کتاب کے متن میں لفظ “مثال ” غلطی سے رہ گیا ہے۔ (جویریہ مسعود)

[7] صحیح لفظ یوحِی ہے نہ کہ یوحٰی (موددودی)

[8] حوالہ غلط ہے۔ یہ سورۂ روم کی نہیں بلکہ سورۂ سبا کی آیت ہے جس کا نمبر ۳۴ ہے (مودودی)

[9] یہ الفاظ بھی غلط نقل کیے گئے ہیں۔ صحیح لم اذنت لھم ہے (مودودی)

[10] قرآن میں یزکٰی ہے نہ کہ یتزکٰی (مودودی)

[11] اصل کتاب میں صفحہ نمبر ۹۵ لفظ “اس” پر ختم ہوتا ہے اور اگلے صفحہ  “آپ جب یہ کہتے ہیں۔۔” پر شروع ہوتا ہے۔ اصل مطبوعہ کتاب میں صفحوں کے نمبر غلط درج ہونے کی وجہ سے  یہ مشکل پیش آئی یہاں درستگی کی گئی ہے۔ (جویریہ مسعود)

[12] کتاب کے اصل متن میں “انا” درج ہے جو کہ غلط ہے اصل آیت میں “انہ” ہے۔  (جویریہ مسعود)

[13] منکرین حدیث کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ اور رسول کےالفاظ آئے ہیں ان سے مراد “مرکز ملت” ہے۔ لیکن یہ نقطہ حضرت ابوبکر کی سمجھ میں نہآیا۔ وہ بیچارے یہی سمجھتے رہے کہ میں ” مرکز ملت ” ہونے کی حیثیت سے اللہ اور اسکے رسول کا تابع فرمان ہوں۔ اگر کہیں خلفۂ اول کی بیعت کے وقت “طلوع اسلام” رونماہو چکا ہوتا تو وہ ان سے کہتا کہ اے مرکز ملت “اللہ اور رسول تو تم خود ہو” تم کساللہ اور رسول کی اطاعت کرنے چلے ہو۔ (مودودی)

“یہ بات مجھے بعدمیں مولانا داؤد غزنوی اور مفتی سیاح الدین صاحب کاکاخیل اور بعض دوسرے حضرات سےمعلوم ہوئی کہ بعینہٖ یہی سوالات آپ کی طرف سے ان کو بھی بھیجے گئے تھے” (مودودی)

[15] ملاحظہ ہو کتاب ہذا، صفحہ نمبر ۳۵، ۳۷ (مودودی)