FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

سسی پنوں

 

مکمل کہانی

 

                   الماس ایم اے

 

 

 

 

 

وہ پیدائشی اندھا نہ تھا۔

پانچ سال پہلے اس کی آنکھوں میں موتیا اترا اور ہمیشہ کے لئے نابینا ہو گیا۔ وہ ذات کا برہمن تھا، ہندو مذہب میں یہ سب سے اونچی اور قابل احترام ذات کہی جاتی ہے۔ وہ مذہبی تعلیم کا بڑا ماہر تھا۔ اگرچہ جوان تھا لیکن دور دور سے بڑے بڑے پنڈت اس سے گیتا کے نکتے سمجھنے آتے تھے۔ اس گیان دھیان اور اپنی بے پناہ دولت کی وجہ سے وہ زمین پر قدم نہ رکھتا تھا۔ بھمبور کے علاوہ ارد گرد کے بہت سے مندروں کا وہ گرو پنڈت تھا۔ ان مندروں میں جو نذرانے چڑھتے ان میں آدھا حصہ سورداس کا ہوتا تھا۔

یہ واقعہ اس کی عمر کے پچیسویں سال(25) کا ہے۔ اس وقت تک اس نے شادی نہ کی تھی۔ اور نہ اس کا کوئی ارادہ تھا لیکن نہ جانے اچانک اسے کیا ہوا کہ ایک دن صبح کے وقت جب کہ مندر میں پجاریوں کا ہجوم تھا، اس نے مسکراتے ہوئے اعلان کیا:

“میں بہت جلد شادی کر رہا ہوں ”

“کس سے ؟” اس کے ایک ساتھی پنڈت نے پوچھا۔

“بس دیکھ لینا، پہلے سے نہیں بتاؤں گا۔ ” سور داس ٹال گیا۔

“کوئی بھی ہو مگر اس کی قسمت کھل جائے گی۔ سونے میں پیلی ہو جائے گی” ایک اور ساتھی نے تبصرہ کیا شام ہوتے ہوتے یہ بات پورے بھمبور میں پھیل گئی کہ بڑا پنڈت شادی کر رہا ہے۔ کس سے کر رہا ہے اس کا علم کسی کو نہ تھا۔ مگر اس بارے میں ابھی ابھی گفتگو ضرور ہو رہی تھی۔ لوگوں کو یہ تو معلوم تھا کہ سور داس آج کل مندر آنے والی ایک خوبصورت عورت سے خوب ہنس ہنس کے باتیں کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی سے شادی کر رہا ہو۔ مگر یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی تھی۔

پھر ایک دن سور داس نے اپنی ہونے والی جیون ساتھی کا نام ظاہر کر دیا۔ لوگ جس کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ یہ وہی عورت تھی۔ اسے عورت تو نہیں کہہ سکتے کہ ابھی تک اس کی شادی نہ ہوئی تھی مگر بیس سال کی یہ دوشیزہ اس قدر سمجھ دار تھی کہ لوگ نہ صرف اس کی تعریف کرتے بلکہ عزت بھی کرتے تھے، وہ بھمبور کے بڑے مندر میں جہاں کا سورداس بڑا پنڈت تھا، نہ صرف روز آتی بلکہ وہاں گھنٹوں عبادت میں مصروف رہتی۔ اس کے بارے میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ اس نے اپنی زندگی عبادت اور مندر کے لیے تج دی ہے اور یہ کہ وہ کبھی شادی نہ کرے گی۔

دوشیزہ بھی ایک پنڈت کی بیٹی تھی۔ اس کا نام تو کسی کو معلوم نہ تھا مگر اپنی عبادت کی وجہ سے وہ لوگوں میں “دیوی” کے نام سے مشہور ہو گئی تھی۔ دیوی اور سورداس کو مندر میں آنے جانے والوں نے اکثر باتیں کرتے دیکھا تھا لیکن وہ ان پر شبہ نہ کرتے تھے بلکہ اسے بھی مذہبی گفتگو کا نام دیتے تھے۔ پھر جب سورداس نے دیوی سے شادی کرنے کا اعلان کیا تو لوگوں کو کچھ زیادہ تعجب نہ ہوا بلکہ انہوں نے اسے سراہا۔

سورداس کی صحت قابل رشک تھی۔ وہ گوری رنگت، مضبوط ہاتھ پیر اور دراز قامت جوان تھا۔ یہ ضرور تھا کہ اس کے چہرے پر نرمی یا مسکراہٹ کے بجائے ایک طرح کی سختی اور کرختگی رہتی تھی۔ لوگ اسے مغرور سمجھتے مگر عزت بھی کرتے تھے۔ غرور کی وجہ شاید یہ ہو کہ وہ لوگوں سے الگ تھلک رہنے کا عادی تھا مگر مذہبی فرائض کی ادائیگی میں بہت پکا تھا اس کی عزت کی یہی وجہ تھی۔

سور داس کی شادی کا اعلان ہو گیا۔ وہ خود کافی مالدار تھا، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہ تھی، لیکن بھمبور کے ہندو معززین اور مندر کے ساتھیوں نے اس کی شادی کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ سورداس نے اس پر کوئی تبصرہ نہ کیا اور تیاریاں شروع ہو گئیں۔ انتہائی مغرور اور خودسر ہونے کے باوجود لوگ سورداس کی علمیت کی وجہ سے اس کی قدر کرتے تھے اور اسے خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔

مگر یہ سورداس کی قسمت تھی یا بد قسمتی کہ شادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے اس کی دونوں آنکھوں میں “موتیا” کا ایک ساتھ حملہ ہوا اور تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ سور داس کی آنکھیں جاتی رہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہو گیا۔ لوگ کہتے تھے۔ یہ سیاہ موتیا کا حملہ تھا جس کا علاج اس دور میں قطعی ناممکن تھا۔ سورداس کے ساتھ ہی حسین دوشیزہ”دیوی” کی دنیا بھی اندھیر ہو گئی۔ شادی کی تاریخ یوں گزر گئی جیسے کسی کو کچھ پتہ ہی نہ تھا۔ اس کے تمام ساتھی اور مندر والے حکیموں کے پاس بھاگ رہے تھے۔ ایسے عالم میں کہاں کی شادی اور کس کی شادی مگر دیوی واقعی”دیوی” نکلی۔ اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی کسی کو توقع نہ تھی۔ جب سب لوگ سور داس کی آنکھوں کی طرف سے مایوس ہو گئے اور معالجوں نے صاف جواب دے دیا تو ایک دن “دیوی” سور داس کے پس پہنچی۔ اس وقت اور بہت سے لوگ سورداس کی ہمدردی اور مزاج پرسی کے لیے آئے ہوئے تھے۔

ایسے موقع اور اس بھری محفل میں “دیوی” نے واضح الفاظ میں کہا:

“میں آپ سب کے سامنے کہہ رہی ہوں کہ عورت صرف ایک بار شادی کرتی ہے۔ میں نے بھگوان داس سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ اگرچہ ان کی آنکھیں نہ رہیں مگر میرا وعدہ اپنی جگہ قائم ہے۔ میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ اگر بھگوان داس انکار کریں گے تو میں عمر بھر شادی نہ کروں گی اور ایک ودھوا(بیوہ) کی طرح زندگی گزار دوں گی۔ ”

تمام حاضرین نے “دیوی” کے فیصلے پر پہلے تو تعجب کیا پھر اسے سراہا۔

“دیوی” واقعی دیوی ہے۔ ہم بھگوان داس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دیوی کے فیصلہ کو عملی جامعہ پہنائیں۔ ”

بھگوان داس کو کیا عذر ہو سکتا تھا۔ ان کے ارمانوں پر تو اوس پڑ گئی تھی۔ دیوی کے اس فیصلے سے ان کے خزاں رسیدہ چمن میں جیسے بہار آ گئی۔ پھر دوسرے ہی دن “دیوی “بھگوان داس سے شادی کر کے اندھے بھگوان داس کی لاٹھی بن گئی۔ بھگوان کا اصل نام یہی تھا مگر آنکھوں کے ضائع ہو جانے کی وجہ سے وہ “سور داس”پکارے جانے لگے تھے۔ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد “دیوی” اور “سورداس” کی زندگی بہت اچھی گزرنے لگی تھی۔ جو دیکھتا تھا حیران رہ جاتا تھا۔ “دیوی” اپنے شوہر کو اس کے اندھے پن کا احساس نہ ہونے دیتی تھی۔ وہ سایہ کی طرح سور داس کے ساتھ رہتی تھی۔ “دیوی ” خود بھی پڑھی لکھی تھی۔ اس لیے وہ سور داس کو کتابیں پڑھ کے سناتی تھی تاکہ سور داس کو لوگوں کے سوالات کے جواب دینے میں دقت نہ ہو۔

سورداس اور دیوی کے تین سال ہنسی خوشی گزرے پھر چوتھے سال ایک بڑی خوشی حاصل ہوئی۔ دیوی کا پاؤں بھاری ہوا اور ٹھیک نو ماہ بعد اس نے ایک چاند سی بچی کو جنم دیا۔ تمام مندوں میں خوشی منائی گئی، دیوی اور سورداس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ہندوؤں کے براہمن گھرانے میں پیدا ہونے والی بچی یا بچے کی جنم پتری بنانے کا عام رواج تھا۔ راجہ مہاراجہ کے یہاں تو اس پر سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔

سورداس کوئی راجہ نہ تھا مگر اسے اپنے حلقوں میں راجہ جیسی عزت حاصل تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی بچی کی جنم پتری بنانے کی خواہش کی۔ بچی کی پیدائش کے چھٹے دن بھمبور اور قرب و جوار کے تمام جوتشی سور داس کی بیٹی کی جنم پتری تیار کرنے کے لیے سرجوڑ کے بیٹھے۔

اس دن پورا مندر لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ سور داس اور دیوی کی سب لوگ عزت کرتے تھے۔ اس لیے انہیں ان کی نومولود بچی کی جنم پتری سے بھی دلچسپی تھی۔ وہ بھی معلوم کرنا چاہتے تھے کہ اس بچی کو آئندہ زندگی میں کیا کیا واقعات پیش آئیں گے۔ یہی دیکھنے اور سننے کے لیے وہ آج مندر میں جمع ہوئے تھے۔

تمام جوتشی الگ الگ اپنے انداز اور طریقے سے جنم پتری تیار کر رہے تھے۔ وہ ستاروں کی چالوں سے حساب لگا رہے تھے اور ہر دن اور ہر ماہ وسال کے نتیجے کو زائچے کے خانوں میں لکھتے جا رہے تھے۔ بڑا گھمبیر ماحول تھا۔ ہر شخص زائچہ کا نتیجہ سننے کے لیے دم بخود تھا۔ اور ہر ایک کی نظر زائچہ بنانے والے جوتشیوں پر لگی تھی۔

اس وقت ایک جوتشی گھبرا کر چیخ پڑا۔

“ارے یہ کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” اور اس نے بو کھلا کے دوسرے جوتشیوں کودیکھا۔ سب جوتشی اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔

“کیا ہوا کوئی خاص بات معلوم ہوئی ہے تمہیں ؟” ایک جوتشی نے اس سے پوچھا۔

“ہاں ہاں ایک بات۔ ایک بری خبر”جوتشی کہتے کہتے چپ ہو گیا۔

بری خبر کی آواز سورداس کے کانوں تک بھی پہنچی۔ اس کی دیوی نے سنا مگر خاموش رہی۔ سورداس بے چین ہو گیا۔ اس نے چیخ کے پوچھا:

“کیا بری خبر ہے میری بیٹی کے بارے میں ؟”

پہلے جوتشی نے کچھ بتانے کے بجائے آہستہ سے کہا۔

“مہاراج سورداس جلدی نہ کیجئے ہمیں پورا حساب لگانے دیجیے ”

اس طرح وہ سور داس کو خاموش کرا کے دوسرے جوتشیوں سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا۔ پھر اس نے اپنا حساب لگایا کاغذ دوسرے جوتشیوں کو دکھایا۔ ان لوگوں نے اپنے تیار کئے ہوئے زائچے اور حساب دیکھے اور بڑے بحث و مباحثہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ پہلے جوتشی کی تیار کی ہوئی”جنم پتری” درست ہے۔ اور اس کے حساب و کتاب میں کوئی گڑ بڑ نہیں۔ اس زائچہ کے مطابق سب نے اپنے اپنے زائچہ درست کئے پھر پہلے جوتشی سے کہا کہ وہ نومولود بچی کے اس واقعہ کو بیان کر دے جس نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔

“سنئے سور داس اور دیوی جی!” پہلے جوتشی نے واضح الفاظ اور آواز میں کہا۔ “اس نوزائیدہ بچی کی جنم پتری جس پر ہم سب جوتشیوں نے اتفاق کیا ہے وہ صاف صاف بتاتی ہے کہ برہمن ذات کی یہ ہندو بچی جوان ہونے پر ایک مسلمان سے شادی کرے گی۔ ”

اور اس کی آواز میں دوسری آوازیں ملتی چلی گئیں۔

“ہندو لڑکی کی مسلمان سے کیسے شادی ہو سکتی ہے۔ ”

“یہ ناممکن ہے ”

اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ”

“یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے بڑے برہمن اور ایسی پاک باز دیوی کی شادی غیر ذات اور غیر مذہب میں ہو”

“اس سے ہمارا مذہب بھسم ہو جائے گا۔ ”

“ایسی لڑکی کو فوراً ختم کر دینا چاہیے۔ ”

“ہاں اس کا گلہ دبا دیا جائے۔ ”

“اسے دھرم پر قربان کر دینا چاہیے۔ ”

یہ آواز تیز اور شور بڑھتا ہی گیا اور اس میں اس قدر تیزی آ گئی کہ کوئی آواز صاف سنائی نہ دیتی تھی۔ سور داس اور نومولود بچی کی ماں “دیوی” بالکل خاموش تھے حالانکہ ان کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ سورداس کی آنکھیں تو خشک تھیں لیکن”دیوی” کی آنکھوں میں آنسو گرنے کے لیے بے چین نظر آتے تھے۔

آخر سور داس کی گرجدار آواز بلند ہوئی اور ہر طرف سناٹا چھا گیا:

“جوتشی نے جو کہا وہ سب جوتشیوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔ اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اس لیے کہ ہمارے جوتشی آسمانی دیوتاؤں کے ہم نشیں بلکہ ہمارے لیے دیوتاؤں کے مانند ہیں۔ یہ وہی کہتے ہیں جو بھگوان انہیں بتاتا ہے۔ ان کی زبان بھگوان کی زبان ہے۔ جوتشیوں نے جنم پتری سے یہ بات نکالی ہے کہ جوان ہونے پر یہ بچی جس نے ایک برہمن کے گھر میں جنم لیا۔ اور ایک برہمن پارسادیوی کے شکم سے پیدا ہوئی۔ وہ کسی مسلمان سے شادی کرے گی۔ یہ خبر نہ صرف میرے لیے بلکہ تمام ہندو قوم کے لیے باعث شرم ہے۔ دھرم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اور یہ بچی دین دھرم کے لیے منحوس ہے۔ ”

سور داس کے ٹھہر کے سانس لی پھر بولنا شروع کیا:

“اس خبر کے سننے کے ساتھ ہی مجھے اس لڑکی سے جو محبت بحیثیت ایک باپ کے پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہو گئی ہے۔ اور اس کی جگہ نفرت نے لے لی ہے مجھے یقین ہے کہ یہی کیفیت میری بیوی “دیوی” کی بھی ہو گی۔ ”

لوگوں کی تمام نظریں سمٹ کر فوراً دیوی پر جم گئیں۔ دیوی نے جو خود کو لوگوں کی نظروں کے گرداب میں پایا تو اشکبار آنکھوں کے ساتھ سرہلا کر اپنے شوہر کی بات کی تصدیق کی۔

اس وقت لوگوں کی آوازوں کا غلغلہ اٹھا :

“دیوی سور داس کی بات کی تصدیق کر رہی ہیں۔ ”

سور داس نے فوراً بات اگے بڑھائی:

“یہ تو طے ہے کہ اس لڑکی کی پرورش میرے گھر میں نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ ایک منحوس لڑکی سے زندہ رہنے کا حق چھین لینا چاہیے۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمارا راجہ بادشاہ آدم جان ہے جو ایک مسلمان ہے۔ اگر ہم نے بچی کا گلہ دبا کر یا کسی اور طرح مار ڈالا اور بات کھل گئی تو ہم سب کی شامت آ جائے گی۔ اس لیے اس سلسلے میں ایسی تدبیر کی جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ”

ایک اور گیانی(دانشور) نے کچھ معقول مشورہ دیا۔ اس نے کہا:

“یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچی کو ایک لکڑی کے صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیا جائے۔ اب یہ اس کی قسمت کہ زندہ بچے یا ڈوب جائے۔ بہر حال یہ نحوست اور کلنک اس گھر سے نکل جائے گا۔ ”

اس مشورہ کو سب نے پسند کیا ممتا کی ماری “دیوی” کی سسکیاں بھی اک دم رک گئیں شاید اس خیال سے کہ بچی کو صندوق میں ڈالنے کے بہانے سے اس کے زندہ بچ جانے کی ایک امید موہوم کا پہلو نکلتا تھا۔ دیوی کی ممتا کو اس دم کچھ تسلی ہی ہو گئی تھی۔

پس اس مشورہ پر عمل شروع ہوا۔ ہلکی لکڑی کا ایک صندوق بنایا گیا۔ یہ احتیاط کی گئی کہ اس کے اندر پانی نہ جا سکے۔ یہ ذمہ داری سورداس اور دیوی پر ڈالی گئی کہ اس صندوق کو وہ اپنے ہاتھوں سے دریا کہ لہروں کے سپرد کر دیں گے۔

وہ شام بڑی بھیانک تھی جب سور داس اور دیوی بچی اور صندوق کو لیے ہوئے دریا کے کنارے پہنچے۔ آسمان پر خون رنگ شفق بڑے بھیانک انداز سے پھیلی ہوئی تھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان سے خون کی بارش ہو رہی ہو۔

سورداس نے کرخت لہجے میں حکم دیا:

“دیوی جلدی سے بچی کو صندوق میں لٹا کر لہروں کے حوالے کر دو۔ ”

اس حکم میں کس قدر بے رحمی تھی۔ فضائیں چیخ چیخ کے پوچھ رہی تھیں کہ کیا ایک باپ بھی اس قدر ظالم ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بچی کو خود اپنے ہاتھ سے موت کے سپرد کر دے۔ اسے دریا میں ڈبو دے۔

یہ سوال فضاؤں نے دنیا والوں سے کیا تھا لیکن وہاں صرف دو دنیا والے سور داس اور دیوی موجود تھے جو مل کے بچی کی زندگی کا خاتمہ کر رہے تھے۔ وہ اس سوال کا کیا جواب دیتے لیکن فضاؤں کے سوال کا جواب فضاؤں ہی کی طرف سے آیا۔

فضاؤں میں سرگوشیاں ہوئیں اور یوں محسوس ہوا جیسے کوئی کہہ رہا ہے :

“ہاں ایک باپ کا بیٹی کے بارے میں ظالم ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے بھی باپ اپنی بیٹیوں پر ایسے ظلم ڈھاتے رہے ہیں۔ طلوع اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عربوں باپ میں دستور تھا کہ ان کے گھر میں کوئی بیٹی پیدا ہوتی تو وہ اسے زمین میں زندہ گاڑ دیا کرتے تھے تاکہ وہ کسی کو اپنا داماد نہ بناسکیں۔ داماد بنانا ان کے لیے سب سے بڑی گالی تھی، ذلت تھی۔ ”

سور داس نے بھی یہی عمل دہرایا تھا۔ عرب اپنی جھوٹی عزت، وقار اور خود داری کو برقرار رکھنے کے لیے بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔ سور داس اپنی کمینگی اور اپنے مذہبی تعصب کی بنا پر بیٹی کا خاتمہ کر رہا تھا۔ اس کے لیے بیٹی کا کسی مسلمان سے شادی کرنا اس قدر نفرت انگیز اور باعث ذلت تھا کہ وہ اس ذلت سے بچنے کے لیے بیٹی کو دریا میں غرق کرنے پر تیار ہو گیا تھا۔

سور داس کی آواز سن کے دیوی جیسے خواب سے چونکی اور اس کے ساتھ ہی اس کی ایک ممتا بھری سسکی نکل گئی سور داس نے گرفت کی:

“دیوی تم سور داس کی پتنی ہو۔ ہم بچی کو موت کی نیند سلا دیں گے مگر اس پر ایک مسلمان کا سایہ نہ پڑنے دیں گے۔ ”

ممتا کی سسکی ٹوٹ گئی۔ دیوی نے جلدی سے بچی کو لکڑی کے صندوق میں لٹیا۔ اور صندوق کو دریا کی لہروں میں بہا دیا۔ بچی کی ذرا سی آواز بھی نہ نکلی۔ دیوی اسے دن بھر سینے سے لگائے دودھ پلاتی رہی تھی۔ اس لیے بچی بے خبر سو رہی تھی اور لکڑی کا صندوق ہچکولے کھاتا آگے ہی آگے بڑھتا رہا تھا۔

سور داس اور دیوی صندوق کی لہروں کے سپرد کر کے جا چکے تھے۔ سور داس بڑا مطمئن تھا۔ اس نے اپنے خیال میں اپنے دھرم کا بڑا پالن کیا تھا اور اس نے ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کے گھر بیا ہے جانے سے بچا لیا تھا اور اس کوشش میں لڑکی دریا کے سپرد ہو گئی تھی۔

سور داس چین کی نیند سورہا تھا مگر دیوی بے چین تھی۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ دل میں ایک کسک تھی۔ ایک ہوک سی اٹھ رہی تھی، اس کا دل بار بار بے چین کر رہا تھا کہ وہ یہاں سے اٹھ کے دریا پر جائے اور دیکھے کے صندوق کہاں ہے۔ کیا عجب کہ صندوق پھر وہیں واپس آ گیا ہو۔ اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہو رہے تھے۔ وہ شوہر سے مختلف تھی۔ اس نے شوہر کا فیصلہ دل سے قبول نہ کیا تھا یا اس نے کسی تعصب کی بنا پر بچی کو لہروں کے سپرد کرنے پر رضامندی ظاہر نہ کی تھی۔ اس نے جو کچھ بھی کیا تھا صرف اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس کا حکم مانا تھا اور نہ وہ سور داس کو اپنی بیٹی کا قاتل سمجھتی تھی اور اسے یہی ایک ٹیس چین نہ لینے دیتی تھی۔

دوسری طرف صندوق بچی کو اپنے سینے میں چھپائے لہروں پر چل رہا تھا۔ پھر لہروں نے صندوق کو کنارے کی طرف دھکیل دیا تھا۔ اس کی رفتار کم ہو گئی تھی۔ صندوق تمام رات لہروں پر ڈولتا رہا یہاں تک کہ صبح کا دھند لگا نمودار ہوا۔ شبنم آلود خنک ہوا کے جھونکے چلنے لگے۔

کسان اپنے ہل سنبھال کر کھیتوں کی طرف رواں ہوئے اور دھوبیوں نے دریا کا رخ کیا۔ دھوبی گھاٹ پر پہنچ کے وہ اپنے اپنے ٹھکانوں پر کپڑے دھونے لگے۔ کپڑے دھونے کی آواز میں ایک تسلسل سا ہوتا ہے اور اس تسلسل میں ایک نامعلوم قسم کی نغمگی پیدا ہو جاتی ہے جو سننے میں بھلی معلوم ہوتی ہے۔

اس وقت ان دھوبیوں میں سے ایک زور سے چلایا:

“کیا مل گیا کیوں چیخ رہا ہے ؟”

اس نے جواب نہیں دیا تو دو چار دھوبی ہاتھ روک کے اس کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ چلانے والا دھوبی لکڑی کا ایک چھوٹا سا صندوق پکڑے کھڑا ہے۔

“صندوق کے اندر کیا ہے ؟” ان میں سے ایک نے پوچھا۔

“پتہ نہیں کیا ہے، میں نے ابھی کھول کے نہیں دیکھا۔ ”

اس وقت صندوق کے اندر سے کسی بچے کی آواز ابھری۔

“ارے اس میں تو کوئی بچہ ہے۔ ”

“یونہی اسے لے چلو چودھری کے پاس، وہیں کھولنا اسے۔ ”

مشورہ معقول تھا چار پانچ دھوبی اس چھوٹے سے صندوق کے ساتھ چودھری کے پاس پہنچے، دھوبیوں کے چودھری کا نام محمد تھا۔ وہ ادھیڑ عمر کا ایک تنو مند دھوبی تھا۔ نہایت شیریں گفتار اور ملنسار محمد کو اللہ نے سب کچھ دیا تھا مگر وہ اولاد کی دولت سے محروم تھا۔ رات دن میاں بیوی بچے کی دعائیں مانگتے تھے مگر اب تک ان پر اللہ کی نظر نہ ہوئی تھی۔

“کیا ہے اس میں ؟” محمد نے صندوق کو دیکھ کر تعجب سے پوچھا۔

“خود کھول کے دیکھ لو چودھری ہمیں تو پانی میں بہتا ملا ہے۔ “صندوق پانے والے نے جواب دیا۔

محمد چودھری نے صندوق زمین پر رکھ کر اس کا ڈھکنا کھولا تو حیرانی سے چونک پڑا۔

“ارے اس میں تو ایک پیارا سا بچہ ہے۔ ” اس کے منہ سے بیساختہ نکلا۔ پھر اس نے جھٹ سے کپڑے میں لپٹی بچی کو اٹھا لیا۔

“سبحان اللہ کیسی خوبصورت بچی ہے۔ ”

چودھری نے بچی کو ایک کپڑا بچھا کر اس پر لٹا دیا۔

بچی ننھے ننھے ہاتھ پیر مارنے لگی۔ اس کے منہ سے غوں غوں کی آواز نکل رہی تھی۔

چودھری نے ٹھنڈی سانس لے کر تبصرہ کیا۔

“نہ جانے ماں باپ پر کیا مصیبت پڑی کہ اس معصوم کو اپنے سے جدا کر کے دریا کے حوالے کر دیا۔ ”

“مگر اب اس کا بنے گا کیا چودھری! اس کے ماں باپ کو ہم کہاں ڈھونڈیں گے ؟”

صندوق پانے والے نے چودھری سے پوچھا۔

“واہ بنے گا کیا؟” محمد چودھری بڑی حسرت سے بولا۔ یہ اللہ کی دین ہے اس نے مجھے بچی دی ہے اب یہ میری بیٹی ہے اس کی میں پرورش کروں گا۔ ”

محمد چودھری نے اس کا نام رکھا”سسی” یعنی چاند۔ وہ ہنستی کھیلتی بچی واقعی چاند کا ٹکڑا تھی۔ اس طرح محمد چودھری کے گھر سسی پل کر جوان ہوئی۔ اس جگہ ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ اگرچہ اس داستان “سسی پنوں ” کا تعلق وادی مہران یعنی”سندھ” سے ہے مگر پورے پنجاب میں یہ داستان اس قدر مقبول ہے کہ اسے الگ الگ کئی شعراء نے منظوم کیا ہے۔ مگر اس داستان کو شاعر نے پنجابی زبان میں نظم کیا ہے۔ ان تمام نظموں میں ایک ہی داستان ہے اور سب کی زبان پنجابی کی زبان ہے مگر جناب شیخ ایاز کا سسی پنوں کا متن اور اس پر لکھا گیا تنقیدی مضمون پنجابی میں لکھی جانے والی”سسی پنوں ” کی داستان سے مختلف ہے یہاں تک کہ شیخ ایاز کے کردار اور واقعات بھی مختلف ہیں۔

اس اختلاف پر بحث کرنا یا تنقیدی نظر ڈالنا ایک کہانی نویس کا کام نہیں اس لیے اس بحث سے الگ رہتے ہوئے صرف یہ کہوں گا کہ مجھے شیخ ایاز کے بیان کردہ کردار، واقعات اور دیگر چیزیں حقیقت سے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔ اسی لیے میں نے اس کہانی کی بنیاد شیخ ایاز کے متن پر رکھی ہے۔ ان اختلافات پر اگر نظر ڈالی جائے تو حقیقت کا فوراً پتہ چل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سسی پنوں کی پنجابی داسان میں “سسی” کو بھمبور کے بادشاہ آدم جان کی بیٹی بتایا گیا ہے اور جوتشیوں کے بچی کو منحوس کہنے پر آدم جان نے اسے دریا کی لہروں کے سپرد کرایا تھا۔ یہ بات زیادہ دل کو نہیں لگتی۔ اس لیے کہ ایک مسلمان بادشاہ جوتشیوں پراس قدر اعتبار نہیں کرتا کہ وہ اپنی معصوم بیٹی کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دے۔ کوئی مسلمان خواہ وہ فقیر ہو یا بادشاہ اپنی اولاد کو دریا سپرد نہیں کر سکتا۔ یہ بات اسلام کے بھی خلاف ہے اور شفقت پدری سے بھی بعید ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے لیکن یہ بات عربوں کے دور جاہلیت کی ہے۔ اسلام پھیلتے ہی اس کی سختی سے منادی کرا دی گئی تھی جس پر آج تک عمل ہوتا ہے۔ قتل کسی کا بھی ہو قتل بہر حال قتل ہے۔ کسی کو گولی مارکر، خنجر بھونک کر یا کسی صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دینا۔ یہ سب قتل کی مختلف صورتیں ہیں۔ بھمبور کا بادشاہ آدم جام مسلمان تھا۔ اس سے اس قسم کی حرکت عقل سے بعید معلوم ہوتی ہے۔

اس کے برعکس شیخ ایاز نے “سسی ” کا باپ ایک نابینا برہمن(ہندو) بیان کیا ہے اور سسی کو دریا کے سپرد کرنے کا فیصلہ نابینا برہمن نے اس لیے کیا تھا کہ جنم پتری کے مطابق سسی جوان ہو کر ایک مسلمان سے شادی کرے گی۔ ہندو برہمن مسلمان سے تعصب کی بنا پر یہ بات برداشت نہ کر سکا اور اس نے بچی کو دریا سپرد کرا دیا۔ راقم الحروف نے اس کو بنیاد بنا کر کہانی مرتب کی ہے۔

اسی طرح دونوں “متنوں ” میں کچھ اختلافات ہیں۔ “سسی” نے جس دھوبی کے گھر پرورش پائی اس کا نام”اتا گاذر” پنجابی منظوم داستان میں لکھا گیا ہے۔ جب کہ شیخ ایاز نے اس کا نام محمد چودھری بیان کیا ہے داستان کے آخری حصے میں بھی کچھ اختلافات موجود ہیں۔

“سسی” محمد چودھری کے گھر پل کر جوان ہوئی تو اس کے حسن کا چرچا دور دور تک پھیلا۔ پورا بھمبور اس گلاب کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ محمد چودھری بڑے بڑے سرداروں کے کپڑے دھوتا تھا۔ اس کی معقول آمدنی تھی۔ وہ سخی اور دریا دل تھا مہمان نواز ایسا کہ جب تک کوئی مہمان نہ آ جائے چودھری نوالہ نہ توڑتا تھا۔

بھمبور کا شہر تجارتی راستے پر واقع تھا۔ روز کوئی نہ کوئی قافلہ وہاں سے گزرتا اور محمد اس قافلہ سردار کو اپنا مہمان ضرور بناتا تھا۔ اس لیے سسی کے حسن اور لیاقت کی خبر قافلوں کے ذریعہ دور دور تک پہنچتی تھی۔

روایت ہے کہ ایک دن کچ مکران کے راجہ کا چھوٹا شہزادہ “پنوں ” اپنے دوستوں میں بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا کہ کسی دوست نے بھمبور کے چاند کے حسن کا تذکرہ چھیڑا تو نوعمر شہزادے نے “سسی” میں دلچسپی ظاہر کی اور ذکر کرنے والے سے کرید کرید کے “سسی ” کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

دنیائے عشق میں نادیدہ عاشق ہونے کی ایک روایت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ شہزادے نے سسی کے حسن کا ایک پیکر اپنے تصور میں تراشا اور اس پر سوجان سے عاشق ہو گیا۔ اب اس نادیدہ عاشق نے سسی کے فراق میں بے چین ہونا اور تڑپنا شروع کر دیا پھر جب یہ بے چینی زیادہ بڑھتی تو شہزادے نے محبوبہ دلنواز سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ سوال یہ تھا کہ بھمبور کیسے جایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اسے اپنا شہر چھوڑنا پڑے گا۔ باپ سے بھی اجازت لینا ہو گی۔ پتہ نہیں وہ اجازت دیں کہ نہ دیں۔

شہزادہ پنوں کے کچھ دن اسی تذبذب میں گزرے۔ ایک دل کہتا پنوں تو کیوں دیوانہ ہوا ہے، پردیس کا معاملہ ہے۔ وہاں نہ کوئی جان نہ پہچان، سسی کی طبیعت کا حال بھی نہیں معلوم کہ وہ کرے گی بھی نہ نہیں۔ دوسرا دل کہتا کہ عشق کے فیصلے دماغ نہیں کرتا عشق تو دیوانگی کا نام ہے اس سمندر میں آنکھیں بند کر کے چھلانگ لگانا پڑتی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے :

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشا بلب بام ابھی

محبوبہ کا خیالی پیکر ہر وقت پنوں کی آنکھوں میں گھومتا رہتا۔ آخر عشق خانہ خراب نے اسے کچھ ایسا بے چین کیا ایک شب بغیر کسی کو بتائے۔ پنوں ایک قافلہ کے ساتھ بھمبور روانہ ہو گیا۔ اسے پیسے کوڑی کی کمی نہ تھی اس لیے حسب ضرورت رقم ساتھ لی اور ایک سوداگر کا بھیس بدل کے قافلے میں شامل ہو گیا۔

عشق نے پنوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ لیکن اپنے کام میں وہ بہت ہوشیار تھا، اسے اندازہ تھا کہ ہر مقام پر پردیسیوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے اس نے چلنے سے پہلے مشک وغیرہ کافی وزن میں خرید لیا تھا۔ سالار قافلہ سے اس نے یہی کہا تھا کہ وہ خوشبویات کا تاجر ہے اور اپنے ملک میں کافی مشہور ہے۔ پس اس نے بھمبور پہنچتے ہی خبر پھیل گئی کہ دور دیس سے ایک مشک وغیرہ کا تاجر آیا ہے۔ اس کی آمد کی پوری بستی میں خبر پھیل گئی۔ سسی کی اٹھتی جوانی تھی جوان لڑکیوں میں خوشبویات کا عام رواج ہوتا ہے سسی کو خوشبو سے جیسے عشق تھا، وہ اس خبر سے بہت مسرور ہوئی۔

مشہور ہے کہ:

مشک گوئد نہ کہ عطار گوئد

یعنی مشک خود بولتا ہے، عطار کو اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس پنوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ دور دیس سے ایک مشک وغیرہ کا سوراگر آیا ہے۔ اس کے آنے سے پوری بستی مہک اٹھی ہے۔ سسی بھرپور جوان تھی، جوان ہوتی لڑکیوں کو خوشبو لگانے کا شوق ہوتا ہے پس وہ اس خبر سے بہت مسرور ہوئیں۔

ملک چین میں “ختن” کا علاقہ مشک کے لیے بہت مشہور ہے۔ اس علاقے میں سیاہ رنگ کا ہرن پایا جاتا ہے۔ اس کا نافہ(توندی) میں سرخی مائل سیاہ رنگ کی تھیلی ہوتی ہے۔ مشک ختن دنیا کی سب سے زیادہ اور اعلیٰ خوشبو ہوتی ہے سسی نے بھی اس کا نام سنا تھا اور بے چین ہو گئی تھی۔

“کیوں ری تو نے کبھی مشک دیکھا ہے ؟” سسی نے ایک سہیلی سے پوچھا۔

“دیکھا تو نہیں مگر اس کی خوشبو کی تعریف سنی ہے، کہتے ہیں کہ اس کے نام ہی سے طبعیت مہک جاتی ہے سنا ہے کہ پنوں نام کا ایک سودارگر آیا ہے وہ مشک وغیرہ بیچتا ہے۔

“وہی مشک وغیرہ سسی خوش ہو گئی پھر اسے ضرور دیکھنا چاہیے “سسی نے دلچسپی سے کہا:

“کسے مشک وغیرہ والے کو یا پنوں کو” اور سہیلی کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

“بس رہنے بھی دے۔ تجھے توہر وقت شوخی سوجھتی ہے “سسی نے مصنوعی غصہ دکھایا۔

سہیلی نے ادھر ادھر دیکھ کر راز دارانہ انداز اختیار کیا:

اری میں نے سنا ہے کہ مشک کا سوداگر ایسا خوبصورت ہے کہ دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔

“مجھے اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں مشک ضرور دیکھنا چاہتی ہوں۔ ” سسی نے پوری دلچسپی سے کہا۔

“اس میں مشکل ہی کیا ہے۔ سہیلی چھیڑ خانی کے انداز میں بولی۔ توبی۔ تم میرے ساتھ چلو مشک بھی دیکھ لینا اور مشک والے پنوں کو بھی۔ ”

“چل ٹھیک ہے میں چلوں گی تیرے ساتھ۔ “سسی رضامند ہو گئی۔ “مگر یہ سن لے کہ میں مشک دیکھنے نہییں بلکہ خریدنے جاؤں گی۔ ”

“ہاں بھئی تم مشک خرید سکتی ہو تمہیں اللہ نے پیسہ دیا ہے۔ سہیلی نے افسردگی سے کہا:

سنا ہے کہ مشک بہت قیمتی ہوتی ہے۔ اللہ مجھے پیسہ دے تو میں بھی تھوڑی سی خرید لوں۔ ”

“دل نہ چھوٹا کر دلاری۔ سسی نے اسے تسلی دی۔ میں جتنی مشک خریدوں گی اس میں آدھی مشک تم لے لینا۔ اب تو خوش ہو جاؤ۔ ”

دلاری صرف خوش ہی نہیں بلکہ اس سے سسی کو بڑی محبت سے گلے لگا لیا۔

سسی کو واقعی روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ محمد چودھری جو کچھ کماتا تھا اس میں سے کچھ مہمان نوازی پر خرچ کرتا باقی سسی کے حوالے کر دیتا۔ اسے سے سسی کا ہاتھ خوب کھلا ہوا تھا، وہ خوب اللے تللے کرتے تھی، محمد چودھری اس کا ہاتھ کبھی نہ روکتا بلکہ حوصلہ افزائی کرتا تھا اس کے آگے پیچھے اور تھا ہی کون، ایک بوڑھی عورت تھی جس نے اپنا خون دے کر ننھی سی جان کو جوانی تک پالا تھا۔

دلاری دوسرے ہی دن مشک وغیرہ کے مسافر کا پتہ ٹھکانہ معلوم کر کے آ گئی۔

“چل سسی میں سب کچھ معلوم کر آئی ہوں۔ ” دلاری نے آتے ہی کہا۔

سسی نے اسے حیران نظروں سے دیکھا۔ “کہاں چلوں کیا معلوم کر کے آئی ہے تو؟”

“اری کل بات نہیں ہوئی تھی”دلاری بے تکلفی سے بولی۔ وہ سوداگر سرائے میں ٹھہرا ہوا ہے پوری سرائے میں خوشبو کے جھونکے چل رہے ہیں۔

اچھا وہ مشک و منبر کا سوداگر پنوں۔ سسی نے دلچسپی ظاہر کی۔ “کیسا ہے وہ؟ دلاری تنک کر بولی

کان کھول کے سن لے سسی۔ میری شادی ہونے والی ہے میرا مرد لاکھوں میں ایک ہے میں کیوں دیکھوں کون کیسا ہے ؟

پھر ذرا رک کے بولی:

“اگر تجھے پسند آ جائے تو کچھ بات چلاؤں ”

“خدا غارت کرے تجھے کیوں مجھے بدنام کر دے گی۔ ” سسی بگڑ گئی۔ “کسی نے سن لیا تو آفت آ جائے گی۔ ”

ہوں آفت آ جائے گی تجھے شادی نہیں کرنا ہے کیا؟” دلاری نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

دلاری نے کوئی جواب نہ دیا۔

“چپ کیوں ہے جواب کیوں نہیں دیتی؟”

“کا ہے کا جواب دوں، کیا جواب دوں ؟”

“یہی کہ کیا تجھے شادی نہیں کرنی ہے۔ ”

“کرنی ہے مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟”

“اگر شادی کرنی ہے تو پھر اگر مگر۔ پنوں اچھا جوان ہے اگر تجھے پسند ہو تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟”

پھر دلاری نے خود ہی تعارف کرایا

“میرا نام دلاری ہے “دلاری نے بے تکلف بتایا۔

پنوں نے چونک کے نظریں اوپر اٹھائیں۔

دلاری نے پھر بولنا شروع کیا:

“میرا نام دلاری ہے اور یہ میری سہیلی، اس کا نام سسی ہے۔ ”

سسی کے نام پر پنوں اپنی جگہ اٹھ کے کھڑا ہو گیا۔

“یہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سسی ہیں۔ محمد چودھری کی بیٹی؟” پنوں نے ہکلاتے ہوئے کہا اور اس کی نظریں سسی کے سراپا پر اٹک کے رہ گئیں۔ ” یہ شاید محمد چودھری کی بیٹی ہیں ؟”

دوسری طرف دلاری اور سسی کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔ دلاری نے قدرے سخت لہجے میں کہ:

“ہم جانتے ہیں کہ تم پنوں ہو۔ مشک بیچنے والے مگر تم مشک بیچتے ہو کہ دوسرں کے باپ دادا کا نام پوچھنے والے ہو؟”

پنوں نے لاپروائی سے دلاری کو دیکھا پھر اس کی نظریں سسی پر اٹک کے رہ گئیں۔ دلاری کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے گھور کے “سسی” کو دیکھا مگر وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں کیونکہ سسی کی نظریں اک دم پنوں کے چہرے پر اٹک کے رہ گئیں تھیں۔

دلاری نے سسی کو تو اس کے حال پر چھوڑا اور پنوں پر برس پڑی:

“او سوداگر زادے تم مشک بیچتے ہو کہ کنواری لڑکیوں کو تاکتے پھرتے ہو؟”

دلاری کا لہجہ اس قدر کرخت تھا کہ “پنوں “سہم گیا۔ اس نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر اس نے دیکھا کہ خود سسی کی نظریں “پنوں ” کے سراپا کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا بہانہ کرے۔ آخر اسے کہنا ہی پڑا:

“سسی ہوش میں آؤ کہاں کھو گئی ہو؟”

دلاری نے پنوں کو چھوڑ کے سسی کی ٹانگ لی۔ اسے سسی پر سخت غصہ آ رہا تھا۔

دلاری کی ڈانٹ پر سسی گھبرا گئی اور بھیگی بلی بن کے بولی۔

“مجھے معاف کر دو دلاری”سسی نے بھی معذرت پیش کی۔

دلاری کو ہنسی آنے لگی۔

“چلو واپس چلیں دلاری۔ “سسی دھیمی آواز میں بولی۔

“آئیں کس لیے تھیں۔ مشک نہیں لینا ہے دلاری کی ہنسی نکل گئی۔ “اگر اجازت ہو تو یہاں سوداگر کی کچھ مزاج پرسی کروں ؟”

“انہوں نے کیا کیا ہے ؟”

سسی نے فوراً پنوں کی حمایت کی۔

“کچھ کہا ہی نہیں انہوں نے میں پوچھتی ہوں کہ تمہارا اور تمہارے باپ کا نام کس نے بتایا انہیں ؟” دلاری نے سسی سے سوال کیا۔

“میں بتاتا ہوں میں نے کہاں سنا ہے “دلاری پنوں کے سر ہو گئی۔

“میں بتاؤں تو برا تو نہیں مانو گی دلاری؟” پنوں نے آئندہ کے فتنے سے بچنے کے لیے پیش بندی کی کوشش کی۔

“اچھا تو تمہیں میرا نام بھی معلوم ہو گیا” دلاری آپے سے باہر ہو گئی۔ ” تم مشک بیچتے ہو کہ لڑکیوں کے نام پوچھتے پھرتے ہو؟”

“بگڑ کیوں رہی ہو دلاری؟” پنوں نے سنبھل کے کہا۔ “ابھی تم نے خود ہی بتایا ہے اپنا نام مجھے اب پوچھ رہی ہو کہاں سے معلوم ہوا؟”

سسی نے پنوں کی حمایت کی۔ “ہاں دلاری تم نے ابھی تو بتایا تھا نام۔ ”

“اچھا تو تم بھی حمایت کرنے لگیں سوداگر کی کب سے جانتی ہواسے۔ ” دلاری سسی پر پلٹ پڑی پنوں کو سسی کی طرف سے شہ ملی تو فوراً بولا:

“دیکھو دلاری تمہارا نام تو مجھے ابھی معلوم ہوا ہے یعنی تم نے خود مجھے اپنا نام بتایا ہے۔ ”

دلاری نے بات کاٹی۔

“میں پوچھتی ہوں تمہیں سسی اور اس کے باپ کا نام کہاں سے معلوم ہوا؟”

“وہی تو میں بتا رہا ہوں تمہیں “پنوں سنبھل کے بولا۔ “سسی کا نام مجھے کسی نے نہیں بتایا بلکہ یہ تو پورے سندھ میں مشہور ہے۔ محمد چودھری کو کون نہیں جانتا۔ وہ بھمبور کے سب سے بڑے مہمان نواز ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے قافلوں کے قافلے سرداران کے مہمان ہوتے ہیں اور یہی سردار جب اپنی بستیوں میں پہنچتے ہیں تو محمد چودھری کی مہمان نوازی اور ان کی چاند جیسی بیٹی “سسی ” کی ضرور تعریف کرتے ہیں۔ سسی کی باتیں ہر جگہ ہوتی ہیں اور باتیں سننے والا سسی کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ ”

“تو کیا تم بھی سسی کا نام سن کے بے چین ہو گئے تھے ؟”دلاری نے منہ پھاڑ کے دریافت کیا۔ پنوں نے چور نظروں سے سسی کو دیکھا پھرسر جھکا کر بولا:

“سچ پوچھو دلاری بات اصل میں یہی ہے۔ میں نے جس دن سسی کے حسن کا چرچا سنا اسی دن فیصلہ کر لیا۔ کہ میں بھمبور ضرور جاؤں گا اور وہاں کے چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا۔ ”

“اچھا تو یہ بات ہے “اور دلاری نے ایک قدم بڑھا کے سسی کا ہاتھ پکڑ لیا۔ چل سسی چلیں۔ سوداگر مسافر ہوتے ہیں، پردیسی ہوتے ہیں اور پردیسیوں سے ملنا اپنے دل کو روگ لگانا ہے۔ ”

اور دلاری، سسی کا ہاتھ کھنچتی ہوئی واپس ہوئی۔

پنوں نے آواز لگائی۔

“پھر کس وقت آنا دلاری میں تمہارا انتظار کروں گا۔ ”

“تجھے کیا ہوا تو چپ کیوں ہو گئی؟”دلاری نے واپس ہوتے ہوئے پوچھا۔

سسی نے کوئی معقول جواب نہ دیا بس ہاں ہوں کر کے رہ گئی۔ ٹال گئی۔

دوسرے دن دلاری، سسی کے پاس گئی تو اس کا حال ہی بگڑا ہوا تھا۔ سر جھاڑ منہ پہاڑ، آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے رات بھر جاگی ہو۔

“تجھے کیا ہوا سسی؟” دلاری گھبرا گئی۔

“کچھ بھی نہیں ” سسی نے ٹالا۔ “بس یونہی سر میں درد ہو گیا تھا۔ ”

“تو چاچا کو بتایا ہوتا کوئی دوا منگائی تو نے ؟” دلاری نے محبت سے پوچھا:

“دوا کا ہے کی کوئی مرض بھی تو ہو؟”

“اری بھولی تیرا چہرہ فق ہے۔ منہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں اور کہتی ہے کہ کوئی مرض ہی نہیں۔ ”

سسی نے کچھ جواب نہ دیا یا پھر وہ کیا جواب دیتی۔

دلاری نے مشورہ دیا:

“تو مرض بڑھا لے گی۔ میں جا کے چاچا سے بات کرتی ہوں۔ ”

“وہ گھر نہیں ہیں دریا پر گئے ہیں “سسی نے بتایا۔

پھر سسی کی چارپائی پر دلاری بیٹھ گئی اور پیار سے بولی:

“لا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تیرا سر دبا دوں، کیا رات بھر جاگی تھی؟” اور دلاری نے اسے محبت سے اپنی طرف کھینچا۔

“ہاں نیند نہیں آئی تھی رات بھر۔ “سسی نے ٹھنڈی سانس بھری۔

“اب تو وہاں نہیں جائے گی۔ ” دلاری نے قدرے سخت مگر محبت بھرے لیجے میں کہا۔

“کہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کدھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کس کے پاس؟”

“وہاں سوداگر کے پاس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سودارگر مشک” اور پھر خود ہی شرما گئی۔

“ہوں تیرا دل پھر وہاں چلنے کو کہہ رہا ہے۔ ”

“کل کچھ خریدا ہی نہ تھا میں نے۔ ”

“تو کہے تو میں بھی ساتھ چلوں۔ ایک سے دو بھلے ہوتے ہیں دلاری کا دل بھی جانے کو کر رہا تھا”

اس طرح دونوں ہنستی بولتی اور ادھر ادھر کی باتیں کرتی “پنوں ” کے پاس پہنچ گئیں۔

پنوں برآمدے میں کھڑا تھا جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔

دلاری نے چھیڑا:

“دیکھ وہ تیرا انتظار کر رہا ہے۔ ”

اور سسی واقعی شرما گئی اور شرم سے دہری ہو گئی۔

اور پنوں بڑھ کے ان کے قریب پہنچ گیا۔

“ہم بن بلائے آ گئے ہیں۔ آپ کو ناگوار گزرا؟”

ایک تو مہربانی پھر معذرت، اور پنوں کا جیسے گلا خشک ہونے لگا۔

“اگر آپ یہ کہتے کہ میں آپ کا انتظار کر رہا تھا تو شاید زیادہ موزوں ہوتا۔ دلاری نے پنوں کو چھیڑا۔

پنوں کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔ وہ گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا:

“آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ میں صبح سے انتظار کر رہا تھا۔ ”

اور پھر وہ ان دونوں کو اپنے حجرے میں لے گیا۔

“دیکھو میاں سوداگر! میں بات کھری کہتی ہوں چاہے تمہیں برا کیوں نہ لگے۔ “دلاری نے پنوں کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔

“میں برا بالکل نہیں مانوں گا۔ جو تمہارے دل میں آئے کہہ ڈالو” پنوں اس کی بات سے بے اختیار ہو گیا۔

“پہلے تم اپنے دل کی بات کہو۔ میرا مطلب ہے کہ تم کون ہو۔ کہاں سے ائے ہو، اور کیا چاہتے ہو”دلاری نے ایک ساتھ تمام سوالات کر ڈالے۔

پنوں کے جذبات امڈے آ رہے تھے۔ دلاری کی شہ ملی تو اس نے چاہا کہ دل کا حال کھول کے رکھ دے مگر ڈرا کہ کہیں مصیبت میں نہ پھنس جائے۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا جواب دے کہ بات کھل بھی جائے اور سسی کو برا بھی نہ لگے۔

پنوں کو جواب دینے میں دیر لگی تو دلاری نے بگڑ کے کہا:

“پردیسی ابھی خیر ہے۔ چپ چاپ واپس چلے جاؤ یہ بڑے جوکھوں کا کام ہے اس میں جان بھی جا سکتی ہے ”

“مجھے جان کی پروا نہیں “پنوں کے عشق نے زور مارا۔

تو پھر صاف صاف بتاؤ، یہ سوداگر کا بھیس کیوں بدلا ہے ؟” دلاری نے اسے گھیر لیا۔

پنوں نے سر جھکا کے اقبال کیا:

“سچ پوچھو تو میں نے یہ سب کچھ سسی کے لیے کیا ہے۔ اب میری جان اور عزت تمہارے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرو۔ ”

دلاری کو پہلے ہی شبہ تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ پنوں سے بات کرنے کے بعد اس کا شبہ یقین میں بدل گیا گھر آ کر اس نے سسی سے پوچھا:

“اب بتا تو کیا کہتی ہے ؟”

سسی کے رگ و پے میں پنوں کی محبت سما گئی تھی۔ محبت تو اسے پہلے ہی دن سے ہو گئی تھی اور اب تو یہ عشق میں ڈھلتی جا رہی تھی۔ دلاری کے سوال پر سسی رونے لگی پھر بھرائی آواز میں بولی:

“پیاری سکھی! جیسے بھی ہو پنوں سے ملاپ کی کوئی صورت نکالو ورنہ میں یونہی رو رو کے جان دے دوں گی۔ ”

دلاری نے اسے تسلی دی۔ “دل کو سنبھال سسی! اگر زیادہ بے چین ہوئی تو بات کھل جائے گی اور پنوں کبھی نہ مل سکے گا۔ ”

“پھر میں کیا کروں دلاری تم ہی کچھ بتاؤ؟”

اور سسی کی رو رو کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

“اس کی صورت صرف یہی ہو سکتی ہے کہ تیرا اور پنوں کا بیاہ کر دیا جائے ” دلاری نے مشورہ دیا پنوں کیوں مانے گا۔ وہ اتنا بڑا سوداگر اور میں ایک دھوبی کی بیٹی۔ نہ معلوم پنوں کی کیا ذات برادری ہے ؟”

“یہ تو مجھ پر چھوڑ دے سسی” دلاری نے تسلی دی۔ میں نے پنوں کی آنکھوں میں محبت دوڑتی دیکھی ہے وہ انکار نہیں کرے گا۔ اب مسئلہ تو تیرے گھر والوں کا ہے پتہ نہیں تیرے باپ ماں اس رشتہ کو پسند بھی کریں گے کہ نہیں ؟”

“ماں کو تو میں راضی کر لوں گی: سسی نے بڑے اعتماد سے کہا:”رہا بابا کا معاملہ تو ان سے بات کرنا پنوں میں کونسا عیب ہے۔ بابا کیوں انکار کریں گے ؟

“ایک بات یاد رکھ سسی”دلاری نے اسے سمجھایا۔ “ہماری ذات دھوبیوں کی ہے اور ہمارے یہاں لڑکیاں اپنی برادری میں بیاہی جاتی ہیں۔ پتہ نہیں پنوں کس ذات کا ہے ؟”

“پھر کیا ہو گا دلاری؟” سسی کا دل ڈولنے لگا۔ “میں پنوں کے بنا مر جاؤں گی دلاری۔ ”

“اپنے آپ کو سنبھال کے رکھ سسی ورنہ بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔ تو ماں کو راضی کر میں بابا کے لیے کوئی ترکیب سوچتی ہوں۔ ”

دلاری، سسی کو تسلی دے کر پنوں کے پاس گئی اور اس سے تفصیلی گفتگو کی۔

دلاری نے اس سے پوچھا:

“اب بتاؤ میاں سوداگر تم کس کے بیٹے ہو اور تمہاری ذات برادری کیا ہے ؟”

“دیکھو دلاری! میں ذات برادری کے معاملے میں بہت آزاد خیال ہوں پھر محبت اور عشق میں ذات برادری نہیں پوچھی جاتی۔ ”

“یہ تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو” دلاری نے کہا۔ “لیکن سسی کے معاملے میں ذات برادری کا سوال ضرور اٹھے گا۔ میں نے تم دونوں کے ملاپ کی صورت یہ سوچی ہے کہ تمہارا اور سسی کا بیاہ کر دیا جائے۔ ”

“میں بالکل تیار ہوں دلاری آج ہی بیاہ کر دو” پنوں خوش ہو گیا۔

“شادی بیاہ کی بات تو بعد میں چلے گی۔ پہلے تم اپنی ذات برادری تو بتاؤ؟” دلاری نے زور دے کر کہا: تم جانتے ہو کہ ہم لوگ دھوبی ہیں اور ہماری لڑکیاں اپنی ہی برادری میں بیاہی جاتی ہیں۔ ”

اب پنوں مشکل میں پھنس گیا۔ دلاری نے صاف کہہ دیا تھا کہ دھوبیوں کی لڑکیاں اپنی ہی برادری میں بیاہی جاتی ہیں۔ وہ خاموش بھی نہیں رہ سکتا تھا۔ دلاری اس معاملہ میں بڑے خلوص سے حصہ لے رہی تھی۔ پنوں اس سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔

آخر پنوں کو صاف الفاظ میں کہا:

“دلاری میں تمہیں دھوکہ نہیں دے سکتا۔ دراصل میں شاہ کچ مکران کا شہزادہ پنوں ہوں۔ ایک محفل میں سسی کے حسن کی تعریف سن کر اس پر عاشق ہو گیا اور جب دل کی بیکلی بہت بڑھی تو میں نے مشک وغیرہ کا سوداگر کا روپ دھارا اور سسی سے ملنے نکل کھڑا ہوا۔ ”

تو تم شہزادے ہو کچ مکران کے ؟” دلاری نے اسے حیران نظروں سے دیکھا۔ “مگر یہ تو بڑی مشکل ہو گئی۔ سسی کے بابا محمد چودھری کسی دوسری ذات والے کو بیٹی دینے سے صاف انکار کر دیں گے۔ ”

یہ سن کے شہزادہ پریشان ہو گیا۔

“اب کیا ہو گا دلاری؟ میری زندگی سسی کے بغیر ادھوری ہے۔ میں بھمبورسے واپس نہیں جاؤں گا۔ ”

دلاری بہت ذہین اور سمجھدار تھی۔ وہ ایک دم چونک کے بولی:

“ایک ترکیب ہو سکتی ہے۔ ”

“کیا ترکیب؟” شہزادہ بے چین ہو گیا۔

“چودھری بابا سے کہہ دینا کہ تمہاری ذات دھوبی ہے ” دلاری نے فیصلہ کن انداز میں کہا:

“میں تیار ہوں مگر کیا چودھری بابا یقین کر لیں گے ” پنوں نے کہا۔

“یہ اس وقت دیکھا جائے گا جب وہ یقین نہ کریں گے۔ ” اور دلاری پنوں سے یہ قول لے کر چلی گئی۔ ادھر سسی نے ماں کو پنوں سے شادی کے لیے آمادہ کر لیا۔ اس نے ماں سے پنوں کی اس قدر تعریفیں کیں کہ وہ سسی کی بات مان گئی۔

سسی گھر میں خوش خوش بیٹھی تھی کہ دلاری آ گئی۔

“میں نے ماں کو راضی کر لیا ہے دلاری۔ “سسی نے دلاری کو خوش خبری سنائی۔

“چلو یہ تو ہو گیا مگر پنوں کا معاملہ الجھتا معلوم ہو رہا ہے۔ ”

سسی کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

“کیا پنوں نے انکار کر دیا۔ ” سسی نے گھبرا کے پوچھا۔

“یہ بات نہیں ہے سسی۔ وہ تو تیرے لیے سب کچھ کرنے کو آمادہ ہے “دلاری نے بتایا۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ پنوں کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ کچ مکران کا شہزادہ ہے۔ اس نے سوداگر کا روپ تجھ تک پہنچنے کے لیے دھارا ہے۔ ”

سسی کا منہ حیرت سے کھل گیا”میرا پنوں شہزادہ ہے۔ ”

“اس میں تعجب کی کیا بات ہے “دلاری لہک کے بولی۔ تو بھی تو کسی شہزادی سے کم نہیں ہے سسی”سسی شرما گئی۔

دلاری نے بتایا:

“میں نے پنوں کو سمجھا دیا ہے کہ اگر چاچا محمد چودھری اس سے ذات پوچھیں تو بے دھڑک کہہ دے کہ وہ ذات کا دھوبی ہے کپڑے دھوتا اور رنگتا ہے۔ ”

“پھر پنوں نے کیا کہا؟” سسی نے گھبرا کے پوچھا۔

“پنوں فوراً مان گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں سسی کے لیے جان تک قربان کر سکتا ہوں۔ ”

دلاری نے اس طرف سے تو سسی کو مطمئن کر دیا۔

اب دلاری نے محمد چودھری کو اس شادی کے لیے رضامند کرنا تھا۔ یہ کام بہت مشکل تھا مگر دلاری نے ہمت نہ ہاری۔ وہ واقعی سسی کی مخلص سہیلی تھی۔ دو ہی دن بعد وہ چودھری کے پاس پہنچ گئی۔ اس نے پہلے ادھر ادھر کی باتیں کیں پھر مطلب کی بات کا آغاز کیا۔

اس نے کہا:

“چودھری چاچا تم جانتے ہو کہ سسی میری سب سے زیادہ پیاری سکھی سہیلی ہے ؟”

“ہاں ہاں ! اس میں کیا شک ہے۔ سسی بھی تیری ہر وقت تعریف کرتی رہتی ہے۔ ”

چودھری نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

“تو اگر میں کوئی بات سسی کے لیے کہوں گی تو وہ اس کے بھلے ہی کے لیے ہو گی۔ ”

دلاری نے چودھری کو پکا کرنا شروع کیا۔

“اس میں شک کی کیا بات ہے تو جو سوچے گی اس کے بھلے ہی کے لیے سوچے گی۔ ”

چودھری نے تصدیق کر دی

دلاری جی کڑا کر کے بولی۔

“تو چاچا میں کہتی ہوں کہ تو سسی کی شادی کر دے۔ ” یہ کہتے ہوئے دلاری کا دل زور زور سے اچھل رہا تھا۔

محمد چودھری نے قدرے حیران نظروں سے دلاری کو دیکھا۔

“کروں گا شادی” چودھری بولا۔ “ابھی جلدی بھی کیا ہے کوئی اچھا لڑکا تو ہاتھ لگے نظر آئے عمر بھر تو سسی کو بٹھائے نہیں رکھنا۔ ”

دلاری نے صرف اپنے مطلب کی بات سنی فوراً بولی۔

میں نے لڑکا دیکھ لیا ہے سسی کے لیے۔

“کیا کہا تو نے ؟” محمد چودھری چونکے۔ “کہاں دیکھا ہے لڑکا تو نے، کیا کرتا ہے ؟” لڑکے کو سب جانتے ہیں ” دلاری نے زور دے کے کہا”مشک وغیرہ کا سوداگر ہے کارواں سرائے میں ٹھہرا ہوا ہے آج کل بڑا مالدار ہے وہ، سسی سونے میں پیلی ہو جائے گی”

“وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ پنوں سوداگر۔ ” محمد چودھری نے سوچتے ہوئے کہا:”وہ تو بڑا امیر آدمی ہے ہم غریبوں میں کیوں کرنے لگا وہ شادی؟”

“چودھری چاچا تم ہاں تو کرو میں راضی کر لوں گی اسے۔ “دلاری نے بڑے یقین سے کہا۔

محمد چودھری سوچ میں پڑ گیا۔ دلاری اکتاتے ہوئے بولی۔

“چاچا کس سوچ میں پڑ گئے ؟ اس سے اچھا رشتہ نہیں ملے گا سسی کے لیے۔ ”

“یہ تو ٹھیک ہے مگر کچھ ذات برادری پوچھی ہے اس کی میں دھوبی ہوں اور اپنی ذات برادری میں سسی بیٹی کا بیاہ کروں گا۔ ” محمد چودھری نے بھی بڑے استقلال سے جواب دیا۔

“چودھری چاچا کیا میں نہیں جانتی “دلاری نے جواب میں کہا۔ “پنوں بھی اپنی برادری کا ہے کپڑے کی رنگائی دھلائی کا کام کرتا تھا اب

“اللہ نے پیسہ دیا تو مشک وغیرہ کی سوداگری کرنے لگا۔ ”

“دلاری تو ٹھیک کہہ رہی ہے کہ مجھے خوش کرنے کو کہہ دیا ہے۔ ” محمد چودھری نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

“نہیں چاچا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں تم اپنا اطمینان کر سکتے ہو۔ ” دلاری نے بے دھڑک کہہ دیا۔

“چلو فیصلہ ہو گیا اگر پنوں اپنی برادری کا ہے تو سسی کی شادی اس سے کر دوں گا۔ یہ میرا وعدہ رہا مگر میں پنوں کو آزماؤں گا” ضرور محمد چودھری نے فیصلہ کر دیا۔

“تم اچھی طرح اطمینان کر لو” دلاری نے بڑے حوصلے سے کہا:

چودھری کے قریب ہی چند میلے کپڑے رکھے تھے۔ اس نے کپڑے سمیٹ کے دلاری کو دیئے اور کہا: یہ چار کپڑے گلو بنئے کے ہیں۔ پنوں سے کہو انہیں دھو کے لے آئے بس اطمینان ہو جائے گا۔

دلاری نے کپڑے اٹھائے پنوں کے پاس پہنچی۔

“پنوں اب بات تیرے اوپر آ گئی ہے۔ ” دلاری نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا:

“چودھری تیرا امتحان لے رہا ہے۔ اور دلاری نے کپڑوں کی پوٹلی پنوں کی طرف بڑھا دی۔ “یہ اس کے میلے کپڑے ہیں۔ یہ دھو کے لے آؤ تو بس سمجھوں کہ سسی تمہاری ہو گئی۔ ”

“سچ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا سچ کہہ رہی ہو؟” پنوں پھولے نہ سما رہا تھا۔

پنوں کپڑے لے کر خوشی خوشی گھاٹ پر پہنچا۔ اور پوٹلی کھول کے کپڑے دھونے کے لیے نکالے اور دھونے بیٹھا۔ اس نے آج تک رو مال بھی نہ دھویا تھا پھر کپڑے اس سے کیا دھلتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کپڑے دھوتے ہوئے اس کے ہاتھ چھل گئے اور کپڑے بھی جگہ جگہ سے مسک گئے پنوں بہت پریشان ہوا اور سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ اب کیا کرے۔

جب دوپہر ہوئی اور پنوں کپڑے دھو کر دلاری کے پاس نہیں پہنچا تو اسے فکر ہوئی۔ وہ فوراً گھاٹ پر پہنچی اور دیکھا کہ پنوں سر جھکائے غمگین بیٹھا ہے۔

دلاری کو دیکھ کر پنوں کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔ اس نے دلاری کے پوچھنے سے پہلے ہی بتایا:

“دلاری میں بڑا بدبخت ہوں سسی کے لیے میں نے گھر بار چھوڑا۔ باپ بھائیوں سے الگ ہوا۔ سوداگر کا بھیس بدل کر یہاں تک پہنچا۔ تم نے بھی کوشش کر کے سسی کا حصول میرے لیے آسان بنا دیا مگر سسی شاید میری تقدیر میں نہیں ہے۔ کپڑے دھونے تو الگ رہے میرے ہاتھ بھی چھل گئے اور کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ گئے ہیں اب کیا ہو گا دلاری؟”

دلاری نے پنوں کو تسلی دی۔ “گھبراؤ نہیں پنوں جب تم کیچ مکران سے یہاں تک پہنچ گئے تو پھر سسی اب تم سے زیادہ دور نہیں۔ میں نے اپنی سہیلی کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ میں اسے پورا کر کے رہوں گی اب میں جو کہوں تم اس پر عمل کرو۔ اللہ نے چاہا تو مشکل آسان ہو جائے گی۔ ”

پنوں کو کچھ اطمینان ہوا۔ “کہو دلاری مجھے کیا کرنا ہے۔ تمہارا احسان میں زندگی بھی نہیں بھول سکتا۔ ”

“تم یوں کرو” دلاری نے پنوں کو سمجھانا شروع کیا۔ “یہ چار کپڑے ہیں ان کی پوٹلی باندھو پھر پوٹلی کے اوپر ایک کپڑے میں گرہ لگا کر اس میں چار اشرفیاں باندھ دو اس کے بعد تم سیدھے گلو بنئے کی دکان پر جاؤ اور اس سے خوشامد کر کے کہو کہ تم نئے کام پر لگے ہو۔ اس لیے کپڑے دھونے میں پھٹ گئے ہیں کپڑوں کی قیمت یعنی اشرفیاں تم نے کپڑے میں باندھ دی ہیں۔ یہ تم لے لو اور اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ تمہیں کپڑے کی دھلائی میں ملے ہیں بس سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ”

پنوں کی سمجھ میں بات آ گئی۔ اس نے کپڑے سمینٹے چار اشرفیاں باندھ کر گرہ لگائی اور گلو بنئے کی دکان پر پہنچا۔ وہاں پنوں نے اشرفیاں کھول کے بنئے کے سامنے رکھ دیں۔ اس نے ایسا ہی کیا اور اشرفیاں دیکھ کر بنئے کی آنکھیں چمکنے لگیں۔

پنوں نے کہا:

چاچا میں نے کپڑے دھونے کا کام نیا نیا شروع کیا ہے۔ کپڑے دھونے میں پھٹ گئے ہیں۔ یہ چار اشرفیاں تمہارے کپڑوں کی قیمت ہے تم یہ اشرفیاں لے لو اور اگر کوئی کپڑوں کے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ پنوں کپڑے دھو کر تمہیں دے گیا ہے۔

گلو تو اشرفیاں دیکھ کر پھول گیا تھا۔ اس نے اشرفیاں اٹھا کر جلدی سے جیب میں رکھیں اور بولا:

“فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پوچھنے والے کو میں جواب دے دوں گا۔ ”

پنوں نے دلاری کے پاس جا کر تمام حال بیان کر دیا۔ دلاری اس وقت محمد چودھری کے پاس گئی۔

“چاچا اب اپنا وعدہ پورا کرو۔ پنوں نے کپڑے دھو دیئے۔ ”

“کپڑے کہاں ہیں ؟” محمد چودھری نے ہنس کر پوچھا۔

“کپڑے تو پنوں، گلو کی دکان پر پہنچا بھی آیا” دلاری نے بڑے اعتماد سے کہا۔

“اچھا اچھا! یہ تو بہت اچھا ہوا۔ ”

محمد چودھری خوش ہو گیا۔

اس شام محمد چودھری نے دھوبیوں کی برادری جمع کی اور سسی اور پنوں کا نکاح پڑھا دیا۔ دلاری نے پنوں کے لیے ایک مکان کا بندوبست پہلے ہی کر دیا تھا۔ پنوں اپنی دلہن لے کر وہاں پہنچ گیا اس طرح سسی اور پنوں کی امیدیں بر آئیں اور وہ ہنی مون سے سرفراز ہوئے۔

شہزادہ پنوں کو کچ مکران سے نکلے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا تھا۔ شاہ مکران نے پہلے یہی سمجھا کہ شہزادہ دوست احباب کے ساتھ کہیں سیر سپاٹے کو نکل گیا ہے مگر جب پنوں کو غائب ہوئے کئی ہفتے ہو گئے تو شاہ کو فکر ہوئی اور اس نے پنوں کی تلاش میں ہر طرف آدمی دوڑائے۔

ادھر تو پنوں کا باپ کچ مکران پریشان تھا۔ اور ادھر پنوں کے ساتھ آنے والے کیچ مکران کے آدمی اور یار دوست بھمبور میں رہتے رہتے پریشان ہو گئے تھے۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ پنوں سسی کے عشق میں گرفتار ہے اور اس کی تلاش ہی میں بھمبور آیا ہے۔ شہزادے کو پریشان دیکھ کے ہی وہ لوگ شہزادے کچ مکران سے بھمبور آئے تھے۔

مگر اب صورت حال تبدیل ہو گئی تھی۔ شہزادے کا بھمبور آنے کا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اسے سسی مل گئی تھی اور اب وہ شہزادے کی بیاہتا بیوی تھی پھر شہزادے کا بھمبور میں قیام کرنے کا کیا مقصد تھا؟ اسے خود ہی سسی کو ساتھ لے کر کچ مکران جانا چاہیے تھا۔ مگر شہزادے نے تو جیسے دنیا ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ رات دن سسی کے پاس بیٹھا رہتا اور میاں بیوی دنیا سے بے پرواہ ہو کر وصل کے مزے لوٹتے تھے۔

آخر جب پنوں کے آدمی بہت پریشان ہوئے انہوں نے پنوں سے ملنے کی کوشش کی تاکہ اسے سمجھا بجھا کر کیچ مکران واپس لے جانے کی کوشش کریں۔ مگر کئی روز تک شہزادے پنوں نے انہیں کوئی خبر تک نہ بھیجی۔ وہ شہزادے سے ملنے کی کوشش میں لگے رہے۔ آخر ایک دن جب پنوں اور سسی دلاری کی منگنی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تو پنوں کے ساتھیوں نے اسے گھیر لیا۔

ایک ساتھی نے شہزادے سے آخر تلخ لہجے میں کہہ دیا:

“شہزادے یہ کیا بات ہوئی۔ آپ نے ہم لوگوں سے ملنا ہی چھوڑ دیا۔ ”

شہزادے کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس لیے وہ صرف کھسیانہ ہو کر رہ گیا۔

دوسرے ساتھی نے ذرا سختی سے کہا:

“شہزادے بہادر! آپ کی مراد پوری ہوئی۔ آپ کا گھر بس گیا اب دلہن لے کر کیچ مکران واپس چلئے۔ ”

شہزادے پر تو سسی کے عشق کا نشہ چڑھا ہوا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے اس جائز مطالبہ پر چراغ پا ہوا اور انہیں جھڑک دیا۔

“مجھے اب کچ مکران نہیں جانا ہے۔ میں بھمبور میں مستقل قیام کروں گا۔ تم لوگوں کو واپس جانا ہے تو چلے جاؤ اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ ”

پنوں کے ساتھ اس کا یہ سخت جواب سن کے دنگ رہ گئے۔ انہوں نے سمجھ لیا پنوں سے بات کرنا بیکار ہے۔ پھر تمام ساتھی سر جوڑ کے بیٹھے اور یہ طے پایا کہ دو آدمی فوراً کچ مکران جائیں اور بادشاہ کو تمام حالات سے آگاہ کریں۔

پس شاہ کچ مکران کو اس کی اطلاع دی گئی۔ بادشاہ چاہتا تو فوج بھیج کر پنوں کو اور تمام دھوبیوں کو پکڑ بلواتا مگر شاہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے تینوں بیٹوں کو بھمبور اس تاکید کے ساتھ روانہ کیا وہ پنوں کو بغیر کوئی سختی کئے اس کے پاس واپس لے آئیں۔

پنوں کے تینوں بڑے بھائی جن کے نام چزے، ہوتی اور فوتی تھے۔ وہ کچ مکران سے بھمبور پہنچے۔ شہزادے پنوں کو بھائیوں کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے بھائیوں سے سسی کو ملوایا۔ شہزادوں نے بھی اس پر مسرت کا اظہار کیا لیکن جب انہوں نے پنوں کو واپس چلنے کے لیے کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔

شہزادے خالی ہاتھ واپس نہیں جا سکتے تھے۔ چنانچہ وہ بھی بھمبور میں ٹھہر گئے اور کسی موقع کا انتظار کرنے لگے۔ روایت کے مطابق پنوں نے انہیں یہ موقع خود فراہم کیا۔ بھائیوں کے آنے کی خوشی میں پنوں نے ایک ناچ رنگ کی زبردست محفل برپا کی۔ ناچ کے ساتھ شراب و کباب کا بھی اہتمام کیا گیا۔

یہ محفل اندر باہر یعنی زنان خانے اور مردانے دونوں جگہ برپا ہوئی سب رنگین محفل کی دلبستگی اور رنگینی میں مست تھے۔ زنانی محفل نصف شب تک جاری رہی پھر وہیں تمام سہیلیاں کسی نہ کسی طور فرش ہی پر لیٹ کے سو گئیں۔

مردانی محفل زیادہ پر جوش تھی۔ پنوں کے پاس روپے پیسے کی کمی نہ تھی۔ اس نے بھمبور کی مشہور گانے والی کا انتظام کیا تھا۔ وہ بھی خوب لہک لہک کے گا رہی تھی پھر جب رنگ پر محفل آئی مغنیہ نے ایک سندھی دوہا گانا شروع کیا:۔

ندیا سوکھ جانے کے بعد پنچھی اڑ جائیں۔

تو کوئی مضائقہ نہیں

لیکن یہ لڑکے پنچھی کو تالیاں بجا بجا کر

کیوں اڑاتے ہیں

پنوں یہ دوہاسن کے بے چین ہو گیا۔ یہ دوہا بالکل اس کے حسب حال تھا۔ اس کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی اور خیال گزرا کہ وہ بھی ایک پنچھی ہے جسے لڑکے تالیاں بجا کر اڑا رہے ہیں۔ اسی کرب کے عالم میں شراب کے کئی دور چلے اور جام پر جام چڑھائے گئے۔ اور اس قدر نشہ ہو گیا کہ اسے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔ ایک بیان یہ بھی ہے کہ پنوں کے بھائیوں نے شراب پلا کر مد ہوش کر دیا اور جب وہ بے سدھ ہو گیا تو اسے اونٹ پر لاد کر کیچ مکران کی طرف واپس ہوئے۔

سسی جب صبح کو بیدار ہوئی تو اس نے پہلے پنوں کے بارے میں پوچھا۔ سب نے بتایا کہ مردانہ محفل دیر تک جاری رہی تھی۔ پنوں اپنے بھائیوں کے ساتھ باہر ہی سوگیا تھا مگر سسی کو معلوم ہو گیا کہ اس کے بھائی اسے مدہوش کر کے اور اونٹ پر لاد کے لے اڑے ہیں۔

یہ بات سن کے سسی تڑپ اٹھی۔ اس نے بال نوچنا اور کپڑے پھاڑنا شروع کر دیئے۔ محمد چودھری بیٹی کا یہ حال دیکھ کر نیم مردہ ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے سسی کی چیخ و پکار کسی طرح کم نہ ہوئی تھی۔ آخر دن کسی نہ کسی طرح کٹا۔ جب رات ہوئی تو سسی چپکے سے گھر سے نکلی اور اس نے کیچ مکران کا رخ کیا اس وقت اس کی زبان پر یہ اشعار تھے :

میرے سجن مہار تھام لو اونٹ کو روکو

اس کنیز کی چوکھٹ کو اپنے قدموں سے نواز دو

اے دوست میں نے تمہارے بغیر ہر پل میں

قیامت کا سماں دیکھا

اے کاش اس کی اونٹوں کو دھوپ نہ لگے

اے کاش اسے راستے میں پیاس نہ لگے

سسی تمام رات اسی طرح سرگرداں صحرا میں چلتی رہی۔ وہ ریت پر چل رہی تھی۔ اوپر آسمان پر ستارے چمک رہے تھے، سسی ستاروں کو آواز دے کر اپنے محبوب کا پتہ پوچھتی تھی وہ واسطے دیتی۔ دہائیاں کرتی ایک طرف بڑھتی جا رہی تھی ایک نامعلوم منزل کی طرف نہ بھوک نہ پیاس، زبان پر صرف پنوں پنوں کی صدا تھی۔

رات گزری۔ دن چڑھا مگر سسی کا سفر جاری تھا۔ وہ بے نشان اور بے منزل صحرا میں بھٹک رہی تھی۔ اس کے گرد آلود پیر زخمی ہو گئے۔ بالوں میں ریت بھر گئی تھی۔ پیاس سے گلے میں کانٹے پڑ گئے تھے۔ مگر اسے ہوش ہی کب تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ گوشت پوست کی نہیں بلکہ ایک واہمہ ہے۔ ایک ہیولہ ہے۔ سسی کا دن بھی اسی سفر اور آہ و زاری میں گزر گیا۔

پھر شام کو دھند لکے میں سسی کو صحرا میں ایک جھونپڑا نظر آیا۔ اس نے جھونپڑے پر دستک دی۔ جھوپڑے سے ایک پنوار نکلا۔ سسی کے پیر اور چہرہ اگرچہ گرد آلود تھا مگر اس کا حسن اس میں بھی جگمگا رہا تھا۔

سسی نے اس سے سوال کیا:

“تم نے میرا پنوں دیکھا؟”

سسی کو دیکھ کر پنوار کی نیت بدل گئی۔

اس نے کہا “تم کس پنوں کو پوچھتی ہو؟ یہاں تو ہزاروں پنوں ہیں۔ ”

یہ کہہ کر پنوار نے سسی کا بازو پکڑ لیا۔ سسی کو اس دیوانگی میں بھی اپنی عصمت کا خیال تھا۔ اس نے مدافعت کی کمزور عورت کا کیا بس چلتا۔

اس وقت سسی نے دھرتی ماتا سے مدد مانگی۔

اے دھرتی ماں مجھے اپنے دامن میں چھپالے۔

پھر اس وطن کی سرزمین کا سینہ شق ہو گیا۔ سسی اس میں سما گئی۔ زمین سسی کو سینے میں چھپا کر پھر برابر ہو گئی۔ اسی طرح جیسے پہلے تھی۔ صرف سسی کا دوپٹہ(چادر کا پلو) نشان کے طور پر باہر رہ گیا۔

سسی نے عشق کیا وہ وصل میں بھی کامیاب ہوئی مگر ظالم دنیا والوں نے اسے چین نہ لینے دیا۔

ادھر جب پنوں کو ہوش آیا تو اس نے خود کو بھائیوں کے ساتھ اونٹ پر سوار پایا۔

اس نے پوچھا:

“اے بھائیو!مجھ پر کیا گزری تم مجھے کہاں لئیے جا رہے ہو؟”

بھائیوں نے اسے اس کے اغواء کا پورا قصہ سنا دیا۔ پنوں نے “ہائے سسی” کا ایک نعرہ مارا اور اونٹ سے کود کر ایک طرف بھاگنے لگا۔ وہ صحرا میں بھاگ رہا تھا اور “سسی سسی” کے نعرے لگا رہا تھا۔ پنوں تمام دن یونہی صحرا میں بھاگتا رہا پھر جب شام ہوئی تو اسے ایک طرف آگ جلتی نظر آئی۔ پنوں ادھر گیا ایک جھونپڑے کے سامنے اسے ایک پنوار نظر آیا۔

“تم نے میری سسی کو دیکھا؟” پنوں نے اسے جھنجھوڑ کے پوچھا۔

پنوار رونے لگا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اس جگہ لے گیا جہاں سسی زمین میں سما گئی تھی۔

پھر اس نے سسی پر جو گزری تھی وہ کہہ سنائی اور پنوں کو سسی کا زمین سے باہر نکلا ہوا پلو دکھایا۔

پنوں چیخ مار کر پلو پر گرا اور آواز دی:

سسی تو کہاں ہے ؟”

اس وقت زمین سے آواز آئی:

“پنوں میں یہاں ہوں۔ ”

پھر زمین کا سینہ دوبارہ شق ہوا اور پنوں بھی اس میں سما گیا۔ وہ اپنی سسی سے مل گیا۔ اب ان دونوں کو کوئی جدا نہ کر سکتا تھا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://kahaany.com/%d8%b3%d8%b3%db%8c-%d9%be%d9%86%d9%88%da%ba-%db%94%db%94%db%94%db%94-%d9%85%da%a9%d9%85%d9%84-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید