FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

سبعہ اور عشرہ اختلاف قرأت اور قراء حضرات

 

 

                   جامع العلوم، محدث  العصر علامہ تمنا  عمادی پھلواری

حصہ اول

 

 

 

تقدیم

از مفتی محمد طاہر مکی

راقم نے قرأت عشرہ (شاطیبہ اور  طیبہ دونوں کے طرق سے ) دار العلوم نانک واڑہ میں حضرت مولانا قاری فتح محمد صاحب پانی پتی سے پڑھیں۔ اگر ان کے لئے یہ کہا جائے تو یہ شاگردانہ مدح سرائی نہیں بلکہ حقیقت کا کھلا اعتراف ہو گا کہ وہ عشرہ قرأت میں نہ صرف اپنے عصر میں بلکہ غالباً   امام جزری کے بعد سے آج تک بے مثل، یکتا اور منفرد تھے۔

جامع خیر المدارس ملتان کے شعبہ قرأت  کے صدر مولانا قاری رحیم بخش صاحب مرحوم نے  جو ہمارے حضرت قاری صاحب کے نا صرف قابل فخر شاگرد تھے بلکہ اس مصرعہ کے مکمل مصداق تھے۔

وہ شاگرد رشید  ایسا  کہ استاد زماں نکلا

اپنے استاد کے متعلق جو سوانحی کتابچہ لکھا تھا  اس میں مدینہ منورہ کے شیخ القراء شیخ حسن الشاعر کا یہ اعتراف نقل کیا ہے کہ مدینہ منورہ کی مرکزیت کی وجہ سے مجھے تمام عالم اسلام کے اہم علماء و  قراء سے رابطہ کا موقع ملتا رہتا ہے مگر اس فن میں نہ صرف  حفظ کا بلکہ علم و تحقیق کا جو حال حضرت قاری صاحب کا میں نے پایا وہ کسی میں نہیں پایا۔

حضرت قاری صاحب سے یہ علم اگرچہ راقم نے کم عمری میں حاصل کیا (قاری صاحب کی تدریس کا یہ آخری دور تھا) میرے ساتھی بھی صرف ایک تھے قاری بشیر احمد صاحب تونسوی جو اس زمانے میں قاری شریف احمد صاحب کے ہاں تدریس کا کام کرتے تھے (بعد میں مولانا سلیم اللہ خان صاحب انھیں  دار العلوم کورنگی میں شعبہ قرأت  کے صدر کی حیثیت سے لے گئے تھے، پھر وہ مدینہ منورہ چلے گئے اور اب تک وہیں ہیں)۔ مگر اس فن کو میں نے جتنی محنت اور ذوق و شوق سے حاصل کیا تھا  اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب قاری رحیم بخش صاحب نے امام جزری کی طیبہ کا اردو ترجمہ کرنا شروع کیا تو حضرت قاری صاحب نے مجھے خط لکھا  کہ پڑھنے کے زمانہ میں تم نے طیبہ کے جو  امالی مجھ سے لکھے تھے وہ مجھے بجھوا دو تاکہ قاری رحیم بخش صاحب ترجمہ و تشریح کرنے میں اس سے مدد لے سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ استاد محترم کی طرف سے میری محنت پر اعتماد کا اظہار تھا۔ (میں نے اس حکم کی تعمیل کر دی تھی)۔

یہ تمام تمہید جس بات کے لئے باندھی تھی وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی  اور بعد میں بھی  عربی کے ہم درس رفقاء سے جب کبھی اختلاف پر بات چل نکلتی تو میں نے دیکھا کہ کئی ذہین ساتھی اور بعض اساتذہ بھی اختلاف قرأت کے متواتر ہونے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ان کے دلائل کیا تھے ؟ یہ تو اب یاد نہیں ہیں لیکن ان کا  یہ تاثر اب تک ذہن میں اچھی طرح محفوظ ہے۔

دوران تعلیم یا اس کے بعد  حضرت قاری صاحب سے اور والد محترم حضرت مولانا قاری [i]عبدالرحیم صاحب سے تو اس موضوع پر گفتگو کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا اور اگر ملتا تو بھی شاید  اس عنوان پر تفصیلی گفتگو کی جرأت نہ ہوتی۔ البتہ کچھ دوسرے بزرگ  اہل علم سے جب کبھی بات کرنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ اکثریت  تو اس فن سے شناسا ہی نہیں ہے۔ جو شناسا ہیں ان کی کیفیت وہی ہے  جو ہر صاحب فن کو  اپنے فن میں غلو کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے طالب تحقیق کا مزاج اس سے مطمئن نہیں ہو سکتا البتہ کچھ ایسے صاحب فن بھی ملے جو صرف قاری نہیں بلکہ فن قرأت  کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم پر بھی حاوی تھے۔ ان کا عمومی رجحان قرآن کے عدم تواتر کی طرف تھا۔

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کے بڑے داماد، مولانا طاسین صاحب  اگرچہ اکثر علماء کی طرح فن قرأت کے ماہر نہیں تھے مگر مجلس علمی جیسی منتخب لائبریری کے نگراں اور مہتمم ہونے کے حوالہ سے بہت  وسیع النظر  عالم تھے، ان کا نقطہ نظر بھی یہی تھا۔

جناب مولانا حکیم نیاز احمد صاحب مولف تحقیق عمر عائشہ صدیقہؓ جو میرے استاد  حضرت قاری صاحب کے ہم وطن بلکہ ہم محلہ تھے اور عربی میں ان کے استاد  اور قرأت میں ان کے شاگرد تھے، پھر دیو بند  میں دونوں نے حضرت  مولانا حسین احمد مدنی سے دورہ حدیث کیا تھا، نہ صرف  قرأت  کے عدم تواتر  کے قائل تھے بلکہ اس عنوان پر لکھنا بھی چاہتے تھے۔  یہی نقطہ نظر  علامہ انور شاہ کے شاگرد، دار العلوم دیو بند کی مجلس شوریٰ کے رکن، ماہنامہ برہان کے مدیر مولانا سعید اکبر آبادی صدر شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا تھا۔

تین ندوی اہل علم مولانا عبدالقدوس ہاشمی ڈائریکٹر موتمر عالم اسلامی، اما م الصوفیاء مولانا جعفر  شاہ ندوی پھلواری اور امام اہلسنت  مولانا محمد اسحاق صدیقی سندیلوی ندوی سابق مفتی و مہتمم و شیخ الحدیث  دار العلوم ندوہ لکھنو کا نظریہ بھی یہی تھا۔ ان میں سے دو  موخر الذکر  حضرات سبعہ کے باقاعدہ سند یافتہ قاری بھی تھے۔ مولانا سندیلوی اس عنوان پر کچھ لکھ بھی چکے تھے  جو غالباً مسودہ کی صورت میں ان کے چھوٹے بھائی صاحب کے پاس موجود بھی ہے۔ اس سلسلہ میں مولانا نے مجھ سے امام جزری کی النشر  قرأت  العشر (دو جلد)   کا نسخہ طلب فرمایا تھا اور استفادے  کے بعد واپس کر دیا تھا، اس کے حاشیوں پر مولانا کے تنقیدی نوٹ دیکھ کر بھی ان کے اس نقطہ نظر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

راقم بھی عرصہ دراز سے  تاریخ و رجال پر  تحقیقی کام کے ساتھ  قرأت پر بھی کام کر رہا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ  سب کام سات آٹھ مجلدات کی شکل میں منظر عام پر آئے گا اور بات نسبتاً  زیادہ واضح ہو سکے گی۔

اس وقت تو علامہ تمنا عمادی کی پیش نظر تحقیقات کے متعلق صرف یہی گزارش کرنی ہے کہ اس کا مطالعہ کھلے دل و دماغ  کے ساتھ کیا جائے۔ نہ ہر بات کی تائید  ضروری ہے، نہ تردید ضروری ہے۔ بلکہ اس ارشاد قرآنی کے مطابق عمل کیا جائے

فبشر عبادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم اولوالالباب

(سورہ زمرد نمبر 39 آیت نمبر 17-18)

مفہوم: کامیابی کی بشارت دے دو  میرے ان بندوں کو  جو کسی تحقیق کے سننے سے انکار نہیں کرتے  البتہ  اس میں جو کارآمد حصہ ہے اسی کو قبول کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت عطا کی اور یہی عقل و دماغ والے ہیں۔

محمد طاہر

مفتی و مہتمم مدینۃ العلوم ٹرسٹ

صدر قرآنی مرکز

جنرل سیکریٹری ادارہ فکر اسلامی

سرپرست جمعیت  تدریس  القرآن

سرپرست بزم خاتم  المعصومینؐ

سرپرست سیرت مرکز

 

تاثرات بر وفات

علامہ تمنا عمادی مجیبی

مولانا ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی، ایم اے، پی ایچ ڈی،  استاد فلسفہ و لسانیات، ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ،

 مشیر امور اقلیات رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ،  حال نظم تعلیمات ندوۃ العلما لکھنو

برصغیر پاک و ہند کے ایک  مقتدر عالم دین، وسیع النظر محقق اور اردو  و فارسی کے بلند پایہ ادیب و شاعر  مولانا محی الدین تمنا 87 سال کی عمر میں گزشتہ ماہ وفات پائی۔

وہ صوبہ بہار کے ایک مردم خیز قصبہ پھلواری کے رہنے والے تھے، اور ایک ایسے علمی و دینی خاندان کے رکن تھے جہاں کچھ اوپر دو سو سال سے علم و مشیخت کا سلسلہ قائم ہے۔ ان کو فارسی اور فن عروض  میں ماہرانہ دستگاہ حاصل تھی۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے ایک مقالہ میں صوبہ بہار کی با کمال شخصیتوں کا تعارف کرایا ہے، اس میں مولانا عمادی مجیبی کا تذکرہ اسی حیثیت سے کیا ہے، یہ مقالہ سید صاحب کے مجموعہ مقالات  نقوش سلیمانی میں موجود ہے۔ مولانا عمادی مجیبی بہت ہی ذہین، اعلیٰ درجہ کے طباع  اور بکتہ سنج تھے۔ انھوں نے درس نظامی کی تکمیل اپنے والد  اور خاندان کے دوسرے بزرگوں مولانا حکیم علی نعمت اور مولانا منظور احمد سے کی تھی اور کچھ عرصہ تک متوسطات کتابوں کا درس[ii] بھی دیا تھا۔ ان کے والد مولانا شاہ نذیر الحق  فائز ایک وسیع الاستعداد عالم تھے۔ فارسی میں فکر سخن کرتے تھے۔ ان کے کلام  کا مجموعہ پروفیسر ڈاکٹر افضل امام صاحب نے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔مولانا عمادی کا ابتدائی تعارف بھی ایک شاعر  کی حیثیت سے ہوا ۔ ان کی شاعری زیادہ تر بلکہ تمام تر  نعت نبوی پر مشتمل تھی۔ وہ فارسی اور اردو  میں پر جوش  اور پر کیف نعتیں کہتے تھے۔ نعتوں کے ضمن میں اصلاح و موعظت  کے مضمون بھی بڑی خوبی سے نظم کرتے، ان کے شیخ طریقت  اور استاد شاہ رشید  الحق عمادی سجادہ نشین خانقاہ عمادیہ پٹنی، جو ان کے آبائی رشتے سے چچا بھی تھے، مولانا تمنا عمادی کو  “حسان الہند” کہا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی نظموں کے ابتدائی مجموعے “حسان الہند  علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواری” کے نام سے شائع ہوا کرتے تھے۔ افسوس کے ان سطور کی تحریر کے وقت  ان کے اشعار کا  کوئی مجموعہ نہیں ہے جو  نمونہ کے طور پر  پیش کیا جا سکے۔ البتہ چند متفرق اشعار جو  حافظے کے گوشوں میں پراگندہ پڑے ہوئے ہیں ان کا یہاں درج کرنا نا مناسب نہ ہو گا۔

حضرت جابر بن سمرہؓ کی ایک روایت شمائل ترمذی میں ہے کہ وہ ایک مرتبہ چاندنی رات میں حضور  انورؐ  کو یمنی چادروں میں ملبوس دیکھ رہے کبھی وہ چاند کو  دیکھتے اور  کبھی حضور انور کو ! اور کہتے کہ مجھ کو  حضور انور چاند سے زیادہ خوبصورت نظر آ رہے تھے۔ اس واقعہ کو مولانا تمنا عمادی  نے نظم کیا تھا۔ اس نظم کا ایک شعر یہ ہے۔

رات بھر کیوں نہ تجھے چاند، میں دیکھا ہی کروں

ان کی صورت سے  بہت ملتی ہے صورت تیری

شاعری ان کے فن عروض میں ماہرانہ دستگاہ  کا نتیجہ تھی۔ مگر پھر  اکثر اشعار سلیس اور رواں  ہوتے تھے۔ مثلاً ایک نظم کا پہلا شعر یہ ہے

شیوہ احباب [iii]جدا، شکوہ اغیار جدا

میرے افسانے کے ہیں دو باب،  ہر ایک باب جدا

ان کی شاعری کا اصلی رنگ فارسی میں کھلتا تھا۔ ایک مشہور  زمین میں ان کے دو شعر سنئیے۔

حاشا کہ دل از ناوک جاناں گلہ دارد  –   برباد سرائے کہ ز مہماں گلہ دارد

دیوانہ بکار است  چہ داد ندز دستش  –   داماں گلہ دارد کہ گریباں دارد

مولانا تمنا عمادی کے شاگردوں کی تعداد خاصی تھی جن میں بعض بہت کامیاب شعراء بھی رہے ہیں جیسے نجم، ارمان اور شفیع تمنائی پھلواری۔ ان کے علاوہ خاندان کے اکثر  و بیشتر نوجوان  جن کے اندر شاعری کی امنگ پیدا ہوئی مولانا سے ہی رجوع کرتے تھے مگر شعر و ادب  سے دلچسپی جوانی ہی کی عمر میں کم ہو گئی تھی۔ علمی و تحقیقی مصروفیات  نے اس ذوق پر غلبہ حاصل کر لیا تھا لیکن شعر و ادب سے وہ کلیتہً  مستعفی نہیں ہوئے تھے، اپنے وسیع اور عالیشان مکان کا نام انھوں نے دار الادب یہ رکھا تھا جو ان کی ہجرت پاکستان کے بعد دوسروں کے قبضے میں آیا۔ مگر اس کے دروازوں کا کتبہ اب بھی باقی ہے۔

وہ خاندانی صوفی تھے۔ تصوف کی گودوں میں پلے بڑھے تھے، ان کی جد امجد (چھٹی پشت کے دادا) حضرت تاج العارفین شاہ محمد  مجیب تھے جن کے اخلاف کی دو خانقاہیں پھلواری اور پٹنہ میں موجود ہیں۔ ان کی خانقاہوں کے رسوم و آداب نہ خالص دیو بندی طرز کے ہیں نہ بریلوی انداز کے۔ ان دونوں کے درمیان ایک متوسط  انداز کی رسمیں وہاں رائج ہیں جن میں رسم سماع  بھی شامل  ہے۔ مولانا تمنا عمادی  ان مروجہ مراسم  تصوف  سے گہرا تعلق  رکھتے تھے۔ ذکر، شغل، مراقبہ قبور سے لے کر  حال قال میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ لیکن کچھ عرصہ  کے بعد  ان مراسم سے دلبرداشتہ  ہو گئے  بلکہ  ان کے سخت مخالف  ہو گئے۔  اس تبدیلی  کا سبب خواہ  کتاب و سنت  کے مطالعہ  کا خاص انداز  ہو یا کوئی دوسرا نفسیاتی سبب اس کا تعین دشوار ہے [iv]۔ بہرحال یہ باتیں راقم الحروف کے وجود سے پہلے کی ہیں۔ اس لئے ان پر رائے زنی آسان نہیں ہے کہ تصوف  سے انحراف  و انکار کا باعث کیا تھا۔ البتہ جو  چیز ہوش سنبھالنے کے بعد دیکھی اور سنی  وہ یہ تھی کہ مولانا تمنا عمادی تصوف،  خانقاہ اور خانقاہیت کے شدید منکر تھے۔  وہ اپنے گھر پر ہر جمعہ کو درس قرآن  کا جلسہ کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم سے ان کو شغف تھا، عربی لغت و نحو پر ان کو عبور  کامل تھا تفسیروں پر نظر تھی۔ تصوف پر جب وہ نکیر کرتے تو کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ الزام نہیں دیا جا سکتا کہ ۔[v] لذت ایں بادہ ندانی بخدا تانہ چشی

تصوف کے انکار سے  ان کے اندر ایک  ذہنی انقلاب  پیدا ہوا۔انھوں نے اپنی عمر میں بار بار رائے نہیں بدلی۔یہی ایک تبدیلی تھی جو اول و آخر ہوئی مگر اس کے نتائج بہت دوررس او ر بعد میں تکلیف دہ حد تک غلو کی شکل میں نمایاں ہوئے۔ پہلا نتیجہ تو یہ نکلا  کہ وہ تحقیق میں وہ تقلید سے آزاد ہو گئے، وہ مسائل میں تحقیق کے وقت  براہ راست قرآن و احادیث اور زیادہ تر قرآن حکیم سے استشہاد کرتے۔ ائمہ مجتہدین اور ان کے پیرو بزرگوں کے اقوال ان کے لئے دلیل کا درجہ نہیں رکھتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے مقالات میں حوالے کبھی ثانوی[vi]  ماخذ  (Secondary Sources) کے نہیں دیتے تھے۔ انکار تصوف کا دوسرا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ تصوف کے “سلسلتہ الذہب” سے ان کے اندر ایک کد پیدا ہو  گئی اور  مناظرانہ جوش میں وہ حضرت سیدنا کرم علی وجہ اور خاندان رسالت کے افراد پر  اس طرح تنقید کرتے جس طرح شیعہ سنی مناظرہ کرنے والے بعض اہل سنت علماء کرتے ہیں بلکہ ان سے بھی دو قدم آگے ۔ غالباً یہی رگ تھی جس نے ان کے قلم سے محمود عباسی کے ان خرافات کی بھی تائید کرا دی جن پر تحقیق کا لیبل علم پر ایک بدترین تہمت[vii]  ہے جس میں کھلا دجل،  عبارتوں کی قطع و برید، غلط انتساب، سب کچھ ہے۔

وہ حدیث کے منکر نہیں تھے۔ یہ ان پر اتہام ہے۔وہ نام نہاد اہل قرآن کی طرح حدیث سے کورے نہیں تھے۔ بلکہ رجال احادیث پر ان کا اتنا بڑا کام ہے جس کی نظیر  بہت سے شیخ الحدیثوں کے یہاں نہیں مل سکتی، وہ صرف  یہ کہا کرتے تھے کہ حدیثیں قرآن کی ناسخ نہیں ہو سکتیں اور جو حدیثیں نص قرآن سے متعارض ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیثیں نہیں ہو سکتیں۔ مگر ہند و پاک کے اس گروہ نے جو اپنے آپ کو اہل قرآن کہتا ہے، مولانا کی تحریروں سے خوب خوب فائدہ اٹھایا ہے۔  احادیث کے متون اور  رجال سند کی بحثیں جن کا جائزہ لینا ان کے بس میں نہ تھا۔ اس کام کو مولانا عمادی انجام دیا کرتے تھے، اس میں ان کی تائید کے پہلو مل جاتے، اس کو اجاگر کر کے پیش کرتے، اس طبقے کے اس طرز عمل نے مولانا کو کوئی نقصان پہنچائے۔ ایک طرف تو مدارس کے علماء نے ان کو بھی پرویز جیسا مدعی علم سمجھ لیا اس لئے  ان کی باتوں کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور کبھی ان کا نام بھی لیا تو  اسی انداز سے جس طرح  پرویز صاحب کا نام  تحقیر و  استخفاف کے ساتھ علمی و دینی حلقوں میں لیا جاتا ہے۔

دوسری طرف ان  محمود عباسیوں،پرویزیوں  اور اہل قرآن نے مولانا تمنا عمادی کی مکمل بات سامنے نہیں آنے دی۔ چند ماہ پہلے ماہنامہ فاران میں مولانا تمنا کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے اس مظلومیت کا اظہار کیا تھا۔

علم با عمل

بہرحال اپنے موتی کا ذکر خیر کرنا چاہیے، ان کی خاص بات جس کی شہادت ان کے انتقال کے بعد دی جا سکتی ہے اور جس شہادت  میں صرف  اللہ کی رضا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ وہ مخلص اور سچے مسلمان تھے انھوں نے جو کچھ لکھا اور کہا وہ ان کے ضمیر کی آواز تھی اور ان کی تحقیق کا نتیجہ تھا۔ انھوں نے اپنے نظریہ کے تحت(کسی یافت کے لئے نہیں) اپنا جما جمایا گھر، نیک نامی اور عزت کی زندگی، خوشحالی اور فارغ البالی کی معیشت کو چھوڑ کر، مشرقی پاکستان میں ہجرت کی، اپنے اعزہ اور خاندان کے افراد جن کی بے پناہ محبت ان کے دل میں تھی  اور جن کے نازک سے نازک جذبات  کا وہ احترام کرتے تھے ان سب کی بے رخی مول لی۔ ان اخلاص و صداقت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی ایسے خاندان میں کر دی جس کو بہار کی  ہندوانہ معاشرت  سے متاثر  مسلم معاشرہ نسبی اعتبار سے پست سمجھتا تھا  اور خاص طور پر “پھلواری” کے  مشائخ کا خاندان جو اس کو “ناک کٹانے ” کے مترادف سمجھتا تھا، وہاں انھوں نے کسی تنقید کی پروا نہ کی، یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ اقدام وہی کر سکتا تھا  جس کو اپنے عقائد  پر اطمینان کامل ہو، یوں وعظ کہنا  اور مضمون لکھ دینا  آسان ہے مگر عملی اقدام وہی کر سکتے ہیں جو اولوالعزم ہوں !

ان کا دوسرا وصف یہ تھا کہ وہ عمر بھر  ایک نہ تھکنے والے محنتی طالب علم رہے۔ اپنے ہوش  سنبھالنے سے لے کر بستر مرگ تک  جبکہ ان کو اپنی موت صاف نظر آ رہی تھی علمی تحقیق  و جستجو میں مصروف رہے، راقم الحروف  کے پاس ان کا آخری خط  نومبر کی کسی تاریخ کا ہے انتقال سے دس پندرہ روز پہلے لکھا تھا۔ اس کی ابتدا اس طرح کی تھی کہ یہ خط اپنے بستر مرگ سے لکھ رہا ہوں اس خط میں بھی قرآن کریم کے چند الفاظ  اور ان کی تعبیر یہ تحقیقات  مفصل تھا۔ ان کے اس خط کو پڑھ کر  مجھے ایک بزرگ عالم کا واقع یاد آیا کہ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی سے فرائض کے ایک مسئلہ کو دریافت کیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ آپ کا آخری وقت ہے اس وقت آپ یہ معلوم کر کے کیا کریں گے انھوں نے جواب دیا  کہ کسی شے سے واقف ہو کر مرنا زیادہ بہتر بہ نسبت اس کے کہ جاہل رہ کر مروں۔

مولانا تمنا  عمادی مجیبی1305 ہجری میں ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوئے اور 1392 ہجری میں کراچی میں مسافرانہ بیکسی کی حالت میں فوت ہوئے۔ حق تعالیٰ کی شان رحمت  جو مغفرت کے لئے بہانہ ڈھونڈتی ہے ان کو بخش دے۔ آمین

ماہنامہ فاران کراچی۔ مارچ 1973

 

دیگر اہل علم کے تاثرات

2۔ مولانا اسد القادری

گل کہوں، بلبل کہوں، گلشن کہوں، یا باغباں

تو سبھی کچھ ہے  کہوں میں کیا  تجھے اے جان جاں

مفسر، محدث،  فقیہ، ادیب و شاعر، جامع  العلوم وحید العصر، مولانا تمنا عمادی مجیبی کی شخصیت  اس قدر جامع الکمالات، جامع الحیثیات اور جامع الجہات ہے کہ فی الحقیقت اپنی مثال نہیں رکھتی۔

چودہ سال تک بخاری و مسلم، بیضاوی و کشاف  اور  حماسہ و متنبی جیسی کتابیں پڑھاتے رہے، میر زاہد، ملا جلال اور صدرا وغیرہ فلسفہ و منطق  کی معرکۂ الآراء کتابوں پر اس قدر بلند پایہ حواشی و شروح لکھیں  کہ اکابر علماء نے قدر کی نگاہوں سے دیکھا، دیوان امراء القیس و مقامات      کی شرح لکھی،  عربی صرف و نحو پر محققانہ کتاب لکھی، اردو، فارسی اور عربی گرامر پر ایسا عبور  شاید ہی کسی کو حاصل ہو۔ علم عروض  و قوافی میں امام وقت  تفسیر  و تنقید احادیث میں وسیع النظر  ماہر۔ قرآن مجید  کے مشہور مفسر، پھر عربی، فارسی،  اور شاعری  میں استادانہ مہارت رکھنے والا  اگر صرف ایک آدمی ڈھونڈیں تو حضرت استاد ممدوح کے سوا اور کوئی ہندو پاک کی وسیع آبادی میں آپ کو نہ ملے گا۔ شاعر کے الفاظ میں

آپ بے بہرہ ہیں جو معتقد میر نہیں

3۔ فراہی مکتب  فکر کے مولانا جاوید الغامدی (مدیر ماہنامہ اشراق لاہور)

علامہ تمنا عمادی کی تحقیقات سے میں نے بہت استفادہ کیا ہے۔

4۔ مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی

فن اسماء الرجال پر علامہ تمنا  کو جو عبور  ہے اس کے پیش نظر  ان کے سامنے میں خود کو طفل مکتب سمجھتا ہوں۔

5۔ مولانا افتخار احمد بلخی

مصنف “فتنہ انکار حدیث کا پس منظر و پیش منظر” جسے جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد نے اپنے مکتب چراغ راہ کراچی سے شائع کیا ہے۔ بلخیٰ صاحب علامہ مرحوم کے شاگرد تھے۔ انھوں نے اپنی  اس کتاب کے حصہ سوم میں جگہ جگہ علامہ تمنا کے بحر علمی اور حجیت حدیث  کے قائل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

6۔ مولانا جعفر شاہ پھلواری

جو حضرت شاہ سلیمان پھلواری  کے چھوٹے صاحبزادے ہیں، کپور تھلہ کی جامع مسجد کے خطیب تھے جہاں سر سلطان محمد  آغاخان نے بھی ان کے پیچھے نماز ادا کی۔ جماعت اسلامی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد  ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور کے مقبول ترین مصنف تھے۔ مولانا جعفر شاہ پھلواری نے علامہ تمنا سے بہت استفادہ کیا ہے۔ علامہ کے سوانح نگار جناب انیس الرحمن ایڈوکیٹ نے مولانا جعفر شاہ کو علامہ مرحوم کے شاگردوں میں شمار کیا ہے۔

مولانا جعفر کہا کرتے تھے کہ مجھے پیر بر سنی اور اکابر پرستی کی دلدل سے نکال کر  سبیل المومنین (راہ صحابہؓ) پر ڈالنے والے علامہ تمنا ہیں۔ ان جیسا جامع العلوم شخص میری نظر سے نہیں گزرا۔

7۔ مبلغ اسلام پروفیسر  یوسف سلیم چشتی کا  اعتراف

شارح اقبال اور علامہ اقبال کے قائم کردہ تبلیغی کالج لاہو ر  کے پرنسپل (جہاں سے قاضی مظہر حسین وغیرہ فضلاء دیو بند نے تبلیغ کی تربیت حاصل کی) کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور قدیم فلسفہ پر علامہ کو جو عبور حاصل ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ فلسفہ کی قدیم کتابوں اور  شیخ اکبر ابن عربی کی فتوحات مکیہ و نصوص  الحکم پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ان کے صفحوں کے صفحے زبانی سناتے چلے جاتے ہیں۔

8۔ مولانا ابو الا علیٰ  مودودی

علامہ تمنا کے بڑے صاحبزادے مولانا امام الدین فائق، جماعت اسلامی کے تاسیسی رکن تھے۔ مودودی صاحب نے ان سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ آپ کے والد  اپنے مجتہدانہ ذوق اور علمی تبحر کے اعتبار سے برصغیر کے امام ابن حزم ہیں۔

9۔ مولانا اسد الرحمن قدسی بھوپالی

جو عالم ہونے کے ساتھ  مرشد طریقت بھی تھے۔کہا کرتے تھے کہ تصوف پر جس قدر  فنی عبور علامہ تمنا کو حاصل ہے اتنا ان کے کسی ہمعصر کو  حاصل نہیں ہے۔ میں تصوف کا مسند نشین ہونے کے باوجود ان کی تصوف پر تنقیدات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

10۔ حکیم الامت علامہ اقبال

کی فرمائش پر  جب علامہ تمنا عمادی نے انتظار مسیح و مہدی کی روایات پر فن اسماء الرجال کی رو سے تنقید کی تو علامہ اقبال بہت متاثر ہوئے اور قادیانیت کے خلاف اپنے انگریزی مضامین میں انتظار مہدی و مسیح کے عقیدے کو غیر اسلامی اور مجوسی تصور قرار دیا۔ مولانا عرشی امرتسری سے (جن کی وساطت سے علامہ اقبال نے ان روایات  پر تبصرے کی علامہ تمنا سے فرمائش کی تھی) اپنے تاثر  کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا کہ میرا خیال ہے  علامہ ابن حجر عسقلانی کے بعد سے (جس کو عرصہ چھ سو سال کا ہوتا ہے ) اتنا بڑا  ماہر  فن اسماء الرجال کوئی عالم نہیں ہوا جیسا کہ علامہ تمنا عمادی ہیں۔

11۔ حضرت شاہ سلیمان پھلواری

جن کا احترام سر سید اور  علامہ اقبال بھی کرتے تھے۔ سر سید نے اپنے رسالہ “تہذیب الاخلاق”میں ان کی تقریریں شائع کیں ہیں اور علامہ اقبال نے استفادہ کے لئے شاہ صاحب کو جو خط لکھا تھا وہ شاہ صاحب کے مجموعہ مکاتیب میں شائع ہو چکا ہے۔ شاہ صاحب علامہ تمنا عمادی کے رشتے دار تھے اور ان سے مختلف  مباحث پر  تحریری و تقریری مذاکرے بھی ہوتے رہتے تھے۔ مولانا شاہ جعفر کی روایت کے مطابق  ان کے والد محترم  نے علامہ تمنا عمادی کی مہارت  حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا  کہ اگر دس شیوخ حدیث کی مہارت فن یکجا کی جائے تو ایک مولانا تمنا بنتے ہیں۔

12۔ خواجہ احمد امرتسری

(علامہ اقبال کے وہ ممدوح جن کی وفات پر  علامہ نے فرمایا تھا  کہ ” ایسے عالم باعمل روز روز پیدا نہیں ہوتے ” اور صوفی تبسم کے نام خطوط میں علامہ نے فقہ کی جدید تدوین کی فرمائش بھی انھی سے کی تھی)۔ خواجہ صاحب نے ایک مرتبہ علامہ تمنا سے یہ سوال کیا کہ دو سجدوں کا قرآن مجید میں کہیں ذکر ہے ؟ تو علامہ تمنا نے جواب دیا کہ  جی ہاں ایک تو سجدہ عبودیت  کا حکم ہے (فاسجدواللہ و اعبدوا۔ سورہ نجم 53/62) اور دوسرے سجدہ قربت کا ( واسجدو  واقترب۔ سورہ علق 19/96)۔ خواجہ صاحب یہ استدلال سن کر جھوم گئے اور فرمایا  بلاشبہ جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا، واقعی اللہ نے آپ کو بے نظیر  ذہانت سے نوازا ہے۔

13۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی

علامہ تمنا عمادی کی مثنوی “مذہب و عقل”  ہر تقریظ لکھتے ہوئے سید صاحب لکھتے ہیں

محب گرامی مولانا تمنا عمادی کی مثنوی “مذہب و عقل” پوری پڑھی۔ یہ مثنوی اپنی زبان کی شیرینی، نظم کی لطافت، طریق ادا کی دلکشی، معانی کی بلندی اور خیالات  کی صحت کے لحاظ سے بے حد قابل داد ہے۔ “مذہب و عقل” کی معرکہ آرائیوں کے انسداد کے لئے شاعر کے قلم نے مصالحت  کی جو دفعات  مرتب کی ہیں ہر دیندار ذی عقل کو ان سے حرف حرف اتفاق ہو گا۔ فبای حدیث بعدہ یومنون۔

14۔ حضرت علامہ آزاد سبحانی

حسان الہند  جناب مولانا تمنا عمادی پھلواری مدظلہ کی یہ کتاب خود ان زبانی پوری پوری، پورے  غور خوص سے سنی اور اس رائے پر پہنچا کہ یہ کتاب اپنے موضوع، اپنے مسائل، اپنے دلائل، اپنی زبان، اپنے طرز بیان، ان تمام اعتبارات سے اور سب سے زیادہ اپنی روح  حقیقت کے لحاظ سے ایک نادر  کرشمہ فکر  اور بہترین افادہ عقل ہے۔

اس سے اہل دین اور اہل عقل دونوں کافی فائدہ اٹھائیں گے، نیز  مناظرہ بین الدین و العقل کا ایک بہترین قول فیصل جمہور کے ہاتھ آ جائے گا۔ مگر افسوس  کہ اس کا آفادہ فارسی داں طبقے تک محدود رہے گا  کیا اچھا ہو اگر یہ روح حقیقت  اردو قالب میں بھی جلوہ گر ہو  کہ  اردو دانوںکی وسیع  دنیا بھی اس کی جلوہ آرائیوں سے مستفیذ  ہو سکے۔ میری مخلصانہ دعا یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی شایان شان مقبولیت حاصل کرے۔ آمین


 

حفاظت قرآن کریم کے خلاف ایک اہم محاذ – محاذ قرأت

1۔ نقطوں اور  حرکات کی ایجاد  کے نام پر  فتنہ پردازی

کئی سال پہلے مودودی صاحب سے کسی نے پوچھا تھا کہ دجال  کے متعلق  مختلف و متضاد  روایتیں ہیں۔ کسی میں ہے کہ دجال فلاں جگہ سے خروج کرے گا  کسی میں دوسری جگہ کا ذکر ہے۔ وغیر ذالک۔  مودودی صاحب نے اس کا جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف اس کی خبر دی گئی تھی کہ دجال آئے گا۔ اس لئے دجال کا آنا صحیح ہے۔ اسی لئے ہر روایت میں دجال کا خروج قدرِ مشترک ہے۔ باقی رہا کہاں سے خروج کرے گا۔ یہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا نہیں گیا تھا۔ شروع شروع میں آپ کا خیال تھا کہ شاید فلاں جگہ سے خروج کرے تو آپ نے ایک وقت میں اپنے گمان غالب کی بنا پر  اس جگہ کا ذکر فرمایا۔ کچھ دن کے بعد آپ کا خیال بدل گیا اور آپ کا قیاس ایک دوسری جگہ کی طرف گیا اب کی بار آپ نے دوسری جگہ کا نام  بتا دیا۔ اس طرح خیال بدلتا گیا اور قیاس بھی بدلتا گیا۔ اس کے مطابق آپ نے جگہ کا نام بھی بدل بدل کر بتایا۔ اسی لئے صرف مقام خروج میں اختلاف ہوتا گیا۔

میں نے اس کے متعلق اسی زمانے میں رسالہ “البیان” امرتسر میں شائع کرا دیا تھا کہ مودودی صاحب نے یہ اچھا کیا۔ محدثین پر الزام دیتے، راویان حدیث  کے متعلق کچھ کہتے تو سارے روایت پرست بگڑ جاتے۔اگر سرے سے دجال کے خروج کا ہی انکار کر دیتے اور ان اختلاف کی بنا پر ان سب حدیثوں کو موضوع کہہ دیتے  تو مقلد و غیر مقلد سب اہل کرم مل کر کفر کا فتویٰ صادر کر دیتے۔ اس لئے میرے دوست نے سارا الزام رسول اللہ پر رکھ دیا  کہ امت کو اختلاف کی کشمکش  میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وطسلم نے ڈالا۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ حالانکہ یہ صفت  تو کفار و مشرکین کی بیان کی گئی ہے کہ (یتبعون الا الظن و ان ھم  الایخر صون : 66:10) یعنی یہ لوگ صرف گمان ہی کے پیچھے چلتے ہیں اور صرف اٹکل ہی لگایا کرتے ہیں۔ آپ کو تو حکم ملا تھا  (لا  تقف ما لیس لک بہ علم: 23)  جس بات کا تم کو علم نہ ہو  اس کے پیچھے نہ پڑو۔ جب مقام خروج  آپ کو بتایا ہی نہیں گیا  تو آپ کو اس کے متعلق کوئی علم ہی نہیں تھا کیونکہ آپ کے پاس علم کا ذریعہ صرف وحی تھا۔تو جب کوئی وحی اس کے متعلق  نہیں آئی یہاں تک کہ القاء کے ذریعے، خواب کے ذریعے بھی نہیں بتایا گیا  تو آپ کیوں محض  اٹکل اور قیاس  سے ایک ایسی بات  دینی عقیدے کے متعلق بیان کرتے جس کے متعلق  آپ کے پاس معلومات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔

ابھی کسی صاحب نے مودودی صاحب  کے ترجمان القرآن جلد 52 عدد 3 (بابت جون 1959) کے چند اوراق میرے پاس بھیج کر  مجھ سے اس  سوال و جواب کے متعلق میری رائے پوچھی ہے جو ان اوراق میں درج ہیں۔سائل کا نام سوال کے اوپر یا نیچے درج نہیں۔ مگر جواب ضرور مودودی صاحب کی طرف سے ہے۔ کیونکہ فہرست مضامین میں مجیب کا نام سید ابو الاعلی مودودی دیا ہوا ہے۔ سوال کا خلاصہ یہ ہے :

                   قرآن مجید میں قرأتوں کا اختلاف

قرآن مجید کے متعلق ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بعینہ اسی صورت میں موجود ہے جس صورت میں حضور اکرمؐ پر اترا تھا۔ ایک شوشے ایک نقطے کا بھی فرق نہیں۔ دوسری طرف معتبر کتابوں میں نقطوں،  اعرابوں، لفظوں اور جملوں تک کی کمی بیشی  نظر آتی ہے جو روایت کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ ان روایتوں سے جو اختلاف قرأت کے نام سے مشہور ہیں، الفاظ ہی میں نہیں معانی میں بھی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ یقیناً منزل من اللہ تو ایک ہی قرأت  ہو گی باقی قرأتیں ضرور غلط ہوں گی۔ سب کو کس طرح صحیح مان لیا جائے۔ وغیر ذالک۔ غرض سائل کے سوال کا  یہی ما حاصل ہے۔

آخر میں سائل نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ “منکرین حدیث” کی طرف میرا ذرہ برابر بھی میلان نہیں ہے۔

تمنا عرض کرتا ہے کہ

یہ حقیر ناقد بھی منکر  حدیث نبوی نہیں۔ جو محدثین کے متفقہ اصول کے مطابق  صحیح ثابت ہو  اس حدیث کو  میں واجب الاتباع سمجھتا ہوں۔ البتہ جامعین احادیث رحمہ اللہ کی مجلدات میں جتنی حدیثیں مسطور ہیں سب کو قرآن مجید کے ساتھ  مثلہ، معہ، نہیں مانتا نہ راویوں کو جبریل سمجھتا ہوں اور نہ روایات کو  آیات منزل من اللہ۔ اور میرے دین میں تقیہ و  کتمان جائز نہیں ہے اس لئے میں اپنا عقیدہ کبھی نہیں چھپاتا۔ اور (ان المنافقین  فی الدرک الاسفل من النار:4:145) پر میرا ایمان ہے۔ اتنا گزارش کر کے تنقید شروع کرتا ہوں

مودودی صاحب فرماتے ہیں:

“یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ قرآن  مجید آج ٹھیک اسی صورت میں موجود ہے جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا تھا اور اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے “

اس اعتراف کے بعد ارشاد ہوتا ہے :

“لیکن یہ بات بھی  اس کے ساتھ قطعی صحیح ہے کہ قرآن میں قرأتوں کا اختلاف تھا اور ہے۔ جن لوگوں نے اس مسئلہ کا باقاعدہ علمی طریقہ پر مطالعہ نہیں کیا  ہے وہ محض  سطحی نظر سے دیکھ کر  بے تکلف فیصلہ کر دیتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں باہم متضاد ہیں اور ان میں لازماً  کوئی ایک بات ہی صحیح ہے “

معلوم نہیں کہ “باقاعدہ علمی طریقہ” کون سا ہے جس کا مطالعہ کرنے سے دو متضاد چیزیں باہم متفق بلکہ متحد نظر آتی ہیں۔ وہ “باقاعدہ علمی طریقہ” تو مجھ کو معلوم نہیں۔ باقی رہی سطحی نظر یا گہری نظر تو  اس کا فیصلہ میری تنقید  کو دیکھ کر اہل علم و اہل دیانت  و انصاف خود فیصلہ فرما لیں گے کہ مودودی صاحب کا  جواب محض سطحی مقلدانہ غیر محققانہ ہے یا میری تنقید ؟  کچھ آگے چل کر فرمایا جاتا ہے :

“حالانکہ فیصلہ صادر کرنے سے پہلے یہ لوگ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں تو خود بھی غلط فہمی سے بچ جائیں اور دوسروں کو بھی غلط فہمیوں میں مبتلا  کرنے کا وبال بھی اپنے سر نہ لیں”

بے شک اس وقت حسب الحکم علم ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے بعد فیصلہ خود نہیں کروں گا  ایماندار ناظرین پر فیصلہ چھوڑ دوں گا۔

ارشاد فرمایا گیا ہے

 “یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس رسم الخط میں ابتداء نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وحی کی کتابت  کرائی تھی اور جس میں حضرت ابوبکرؓ نے پہلا مصحف مرتب کرایا تھا  اور حضرت عثمان نے جس کی نقل بعد میں شائع کرائی اس کے اندر نہ صرف یہ کہ اعراب نہ تھے بلکہ نقطے بھی نہ تھے۔ کیونکہ اس وقت تک یہ علامت ایجاد نہ ہوئی تھی۔  اس رسم الخط  میں پورے قرآن کی عبارت یوں لکھی گئی تھی۔  کاب احکم امہ یصلب مں لدں  حکتم حبر (اس جملے کو بغیر نقطوں کے سمجھا جائے)۔ اس طرز تحریر کی عبارتوں کو  اہل زبان اٹکل سے پڑھ لیتے تھے اور بہرحال بامعنیٰ بنا کر ہی پڑھا کرتے تھے۔ لیکن جہاں مفہوم کے اعتبار سے متشابہ لفظ آ جاتے یا زبان کے قواعد و محاورہ کی رو سے ایک لفظ  کے کئی تلفظ  یا اعراب  ممکن ہوتے وہاں خود اہل زبان کر بکثرت التباسات پیش آ جاتے تھے۔ اور یہ تعین کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ لکھنے والے کا  اصل منشاء کیا ہے۔ مثلاً ایک  فقرہ یوں لکھا گیا ہو کہ   رینا لبعد بین اسفارنا (اس جملے کو بغیر نقطوں کے پڑھا جائے 🙂  کو ربنا باعدبین اسفارنا بھی پڑھا جا سکتا تھا  اور ربنا بعد بین اسفارنا بھی”۔ (اسی طرح کی اور دوسری مثال بھی دی ہے اس کے بعد لکھتے ہیں)

“یہ اختلاف تو اس رسم الخط کے پڑھنے میں اہل زبان کے درمیان ہو سکتے تھے لیکن ایک عربی تحریر اگر  اسی رسم الخط میں غیر اہل زبان کو پڑھنی پڑ جاتی  تو وہ اس میں ایسی سخت غلطیاں کر جاتے جو قائل کے منشا کے بالکل برعکس  معنی دیتی تھیں”۔ (جس کی ایک مثال دی ہے اس کے بعد مودودی صاحب تحریر فرماتے ہیں)

“پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن میں اعراب لگانے کی ضرورت سب سے پہلے بصرے کے گورنر زیاد نے محسوس کی جو 45 ہجری سے 53 ہجری تک وہاں کا گورنر رہا تھا۔ اس نے ابو الاسود ولی[viii] سے فرمائش کی کہ وہ اعراب کے لئے علامات تجویز کریں اور انھوں نے یہ تجویز کیا کہ مفتوح حرف کے اوپر مکسور حرف کے نیچے اور مضموم حرف کے بیچ میں ایک ایک نقطہ لگا دیا جائے۔

اس کے بعد عبدالملک بن  مروان (65 سے 86 ہجری)  کے عہد حکومت میں حجاج بن یوسف  والی عراق نے دو علماء [ix]کو اس کام پر مامور کیا کہ وہ قرآن کے متشابہ حروف  میں تمیز کرنے کی کوئی صورت تجویز کریں۔

چنانچہ انھوں نے پہلی مرتبہ عربی زبان کے حروف میں بعض کو منقوط  بعض کو غیر منقوط  کر کے اور منقوط  کے اوپر یا نیچے ایک سے لے کر تین تک نقطے لگا کر فرق پیدا کیا  اور ابو الاسود کے طریقے کو بدل کر  اعراب کے لئے نقطوں کے بجائے، زیر زبر، پیش  کی وہ حرکات تجویز کیں جو آج مستعمل ہیں”۔

مودودی صاحب نے “باقاعدہ علمی طریقے ” پر  یہ “عالمانہ تحقیقی”  جواب دیا ہے اور اس کے بعد  ہی ان دو  تاریخی حقیقتوں کو نگاہ میں رکھ کر  دیکھنے کی فرمائش کی ہے مگر  مودودی صاحب یا  ان ہی قسم کے اگلے مصنفین کے صرف  اپنی کتابوں میں لکھ دینے سے تو کوئی خلاف عقل بات  “تاریخی حقیقت”  نہیں بن سکتی جو بات  سراسر بے حقیقت ہو  وہ “تاریخی حقیقت” کس طرح بن سکتی ہے۔ جو چیز آنکھوں میں کھٹکنے لگے وہ نگاہوں میں  کس طرح رکھ لی جائے ؟  مودودی صاحب اور ان “تاریخی حقیقتوں” کے اپنی کتابوں میں درج کرنے والوں کو کچھ تو  سوچنا تھا  کہ “یہ حقیقتیں” واقعی کچھ حقیقت بھی رکھتی ہیں یا نہیں ؟ کیا روایت پرستی عقل کو اس طرح اندھا کر دیتی ہے کہ بدیہی بات بھی روایت پرستوں کو نہیں سوجھتی ہے ؟ ہر صاحب عقل و ایمان سے میری التجا ہے کہ اللہ کی رضا  کے لئے ذرا غور کیجئے۔ ب۔ ت۔  ث۔  ج۔  خ۔  د۔  ذ۔  ر۔  ز۔  س۔  ش۔  ص۔  ض۔  ط۔  ظ۔  ع۔  غ۔  ف۔  ق۔  ن۔  ی۔ عربی زبان کے 28 حروف تہجی میں سے یہ بائیس حروف تہجی ایسے ہیں جن  میں امتیاز نقطوں ہی کے ہونے نہ ہونے  یا اوپر نیچے ہونے یا کم و بیش ہونے کی وجہ سے ممکن ہے واضع  حروف  نے جس دن ان حرفوں کو وضع کیا تھا۔

اگر اسی دن اسی وقت نقطے بھی ایجاد نہیں  کئے تھے  اور نقطوں  ہی ذریعے ان میں امتیاز  نہیں رکھا تھا  اس نے یہ بائیس  ہمشکل حروف  وضع ہی کیوں کئے تھے ؟  کیا وہ مختلف نقوش ایجاد نہیں کر سکتا تھا ؟ “با” کو دیکھئے کہ اس کو  با، تا، ثا، نا اور یا صرف نقطوں ہی کے فرق سے پانچ طریقے سے پڑھ سکتے ہیں۔ “حا ” کو  جا، حا، خا تین طریقے سے۔ باقی چودہ حروف کو دو دو طریقے سے۔اگر نقطوں کا فرق  واضع نے وضع کے وقت  ہی نہیں رکھا تھا  تو یقیناً وہ واضع  ہی دیوانہ تھا۔فقط واضع ہی نہیں ساری قوم دیوانی تھی کہ کبھی کسی نے زبان کی اس تحریری گمراہ کن خامی کی توجہ نہ کی۔ اور اپنی رسم خط کی اس بدترین خرابی کو دور  کرنے کی ضرورت  کسی شخص نے کبھی محسوس نہ کی۔ خدا جانے شعرائے جاہلیت  جو اپنے قصائد  سو سو  اور ڈیڑھ ڈیڑھ سو شعروں کے لکھ لکھ کر  خانہ کعبہ میں لٹکا دیا کرتے تھے ان کے پڑھنے والے ان کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ امراء القیس  کا شہرہ آفاق  قصیدہ جو سبعہ معلقہ کا پہلا معلقہ ہے اس کا یہ شعر

وقد اغتدی والمطیرنی وکناتھا

بمنجرد  قید  الا  و ابد  ھیکل

میں صبح کرتا ہوں ایسی ساعت میں کہ  پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں۔ اپنے اونچے گھوڑے کے ساتھ  جو وحشی جانوروں کو گھیر کر قید میں رکھ لیتا ہے۔

 کیا کسی نے اس کو  وقد  اغتذی بھی پڑھا تھا؟ یعنی میں اس وقت غذا کرتا ہوں جب پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں اپنے گھوڑے کے ساتھ، الخ۔یعنی خود بھی اسی وقت کھاتا ہوں اور اپنے گھوڑے کو بھی اسی وقت کھلاتا ہوں۔

تسلت عمایات  الرجال عن  الصبا

ولیس  نوادی عن  ھواک بمنسل

لوگوں کے شوق و محبت  کی گمراہیاں سرد پڑ گئیں

اور میرا دل تیری محبت سے کنارہ کش ہونے والا نہیں

کیا اس کو کبھی کسی نے یوں پڑھا تھا؟

یسلت غمایات  الرجال عن  الصبا

ولیس  نوادی عن  ھواک بمنسل

میں نے ان لوگوں کو ان کی بے خودیوں پر جو غایت شوق میں پیدا ہوئیں ملامت کی

حالانکہ خود میرا دل  تیری محبت سے کنارا کش ہونے والا نہیں

تجاوزت  احراساً  علی و مشراً

علی حراصاً  لو یسرون مقتلی

میں اس کے نگہبانوں اور اس کے لوگوں سے کترا کر نکل گیا

ایسے نگہبان اور ایسے لوگ  جو میری تاک میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح چھپ کر  مجھ کو قتل کر سکیں

کیا اس کو کبھی کسی نے یوں پڑھا تھا؟

تحاورت  احراساً  علی و مشراً

علی حراصاً  لو یسرون مقتلی

میں اس کے نگہبانوں اور اس کے لوگوں  کے ساتھ (دوبدو) باتیں کیں (دلیری کے ساتھ)

جبکہ اس مفہوم میں اصل شعر کے مفہوم سے زیادہ بہادری کا اظہار ہے باوجود اس کے کہ کسی نے کبھی تجاوزت کو  تحاورت نہیں پڑھا۔

غور فرمائیے کیا کبھی کسی نے اس قسم کی روایت کی ہے کہ معلقات سبعہ میں نقاط و اعراب نہ ہونے کی وجہ سے کوئی کس پڑھتا تھا۔ کوئی کسی اور  طرح، تمام عربی لٹریچر چھان مارئیے کبھی کسی نے سبعہ معلقات یا دوسرے قدیم اشعار  کے لئے اس قسم کی بات نہیں کی۔  پھر آخر کیا بات ہے کہ یہ باتیں صرف قرآن مجید ہی کے لئے کہی جاتی ہیں۔ کیا یہ سارے اختلاف  قرأت قرآن ہی کے لئے تھے ؟  معلقات شعرائے جاہلیت کو کبھی ان سے سابقہ نہیں پڑا۔ کیوں پڑتا ؟ نہ اس وقت کوفہ تھا، نہ کوفہ کے مفسدین ملاحدہ تھے۔ نہ کسی کو خواہ مخواہ ان میں اس طرح کے اختلافات پیدا کرنے کی اس وقت ضرورت تھی۔ قرآن مجید میں تو قصداً یہ اختلافات پیدا کئے گئے ہیں اور اسی غرض سے یہ مشہور کیا گیا ہے کہ عربی رسم الخط  میں نقطے نہ تھے۔ سو برس کے بعد نقطے لگائے گئے اور اعراب بھی نہ تھے۔

خیر زمانہ جاہلیت کی باتیں جانے دیجئے۔ جب وحی آنا شروع ہوئی اور رسول اللہ  نے قرآن مجید کی آیتیں اور سورتیں لکھوانا شروع کر دیں تو آپ کو تو اس کا خیال ہوتا  کہ بے نقطوں کی تحریر اتنے باہم متشابہ حروف  والی رسم خط میں کس طرح صحیح طور پر پڑھی جائے گی۔ کاتبین وحی سے آپ فرماتے  کہ نقطے دے کر لکھا کرو۔ کیونکہ واضع  حروف  نے ضرور  حروف  پر نقطے لگائے تھے اور اگر  واضع حروف  پاگل تھا  اور عہد جاہلیت کے سب پڑھے لکھے دیوانے تھے کہ ایسی گمراہ کن  رسم خط کو گلے لگائے ہوئے تھے تو آپ خود نقطے لگانے کی ترکیب بتا دیتے۔ فراست نبویہ عبدالملک و حجاج کی عقل سے تو یقیناً بڑھی ہوئی تھی اور اگر  یہ کہا جائے کہ چونکہ آپ خود پڑھے لکھے  نہ تھے اس لئے آپ کو اس کا احساس ہی نہ ہوا کہ حروف پر نقطے نہ ہونے سے کیا خرابی واقع ہو گی تو کم سے کم کاتبین وحی تو متعدد تھے۔ خلفائے راشدینؓ جیسے برگزیدہ اور دور اندیش  لوگ وحی لکھتے تھے، وہ لوگ  یا ان میں سے کوئی تو محسوس کرتا کہ جس  رسم خط میں اس قدر تشابہ حروف ہیں ان کے پڑھنے میں آئندہ لوگوں کو کس قدر دشواری ہو گی۔ اگر ان لوگوں نے بھی محسوس نہیں کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو بلسان عربی مبین اتارا تھا۔ اور ابانتہ [x](مبین ہونا)  دو ہی طرح کسی قول کی ممکن ہے۔ زبانؔ سے یا قلم سے۔ مگر  زبان سے ابانت  پائیدار نہیں رہ سکتی۔ آواز ہوا میں غائب ہو جاتی ہے۔ کتاب ہی پائیدار ابانت کا ذریعہ ہے اور عربی رسم الخط کا  حال اللہ عالم الغیب الشہادۃ کو معلوم ہی تھا  کہ اس میں اٹھائیس حروف ہیں جن میں بائیس حروف ایسے ہیں جنھیں ایک پاگل واضع حروف نے باہم متشابہ وضع کیا ہے اور  کوئی ایسی علامت نہیں رکھی ہے جس کے ذریعے سے ایک دوسرے سے تمیز کیا جا سکے۔ ایسی گمراہ کن رسم خط میں جو بھی عبارت لکھی جائے گی بذات خود  وہ ہزار  مبین ہو مگر پڑھنے والے کے لئے اس کی بینیت  کی نوعیت  اس ہرے بھرے انواع و اقسام کے پھولوں اور پھلوں والے باغ کی طرح ہوگی جو کسی ایسے پردہ ظلمات میں واقع ہو  جہاں کسی کو کچھ نظر نہیں آتا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مطلع کر دیا ہوتا  کہ تمھاری زبان کی رسم خط سخت گمراہ کن ہے۔ اس کے فلاں فلاں حروف پر  اس طرح نقطے دلوا کر متشابہ حروف میں باہم امتیاز  پیدا کرنے کے لئے اپنے کاتبوں سے کہو۔ جس دشواری کو  آغاز نزول قرآن کے بعد سے کم بیش  سو برس تک  نہ عام صحابہ نے نہ کاتبین وحی نے نہ رسول اللہ نے نہ حضرت جبریل نے نہ خود اللہ نے محسوس فرمایا اس کو سو برس  کے بعد محسوس کیا تو اس شخص نے جو صرف اموی ہونے کی وجہ سے باوجود  خلیفہ اور امیر المومنین ہونے کے بعض حلقوں میں بدنام ہے اور اس نے بھی یہ کام اس شخص  سے لیا جس پر روایت پرست  حلقوں میں  آج تک سب و شتم کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے بلکہ جس پر کتنے لوگوں نے کفر کا فتویٰ تک دے دیا تھا۔ یعنی حجاج بن یوسف  الشقفی جس  کے متعلق ابن حجر تہذیب التہذیب جلد 2 ص 211 میں لکھتے ہیں کہ

”  قال زاذان کان مفلسا من دینا  و قال  طاؤس  عجبت  لمن یسمیہ  مومنا وکفرہ جماعۃ منھم سعید  بن جبیرہ و النخعی و مجاہد و عاصم بن ابی النجود  و الشعبی و غیر ھم۔۔۔  و قال  القاسم بن مخمیرہ کا الحجاج ینقبص  عری الاسلام عروۃ عروۃ”[xi]

بعد قرآنی رسم خط  کی اصلاح کا کام سپرد  بھی کیا تو ایک کافر کو۔ اسلام کی اتنی بڑی خدمت اس کے ہاتھ سے انجام پائی جس نے بقول قاسم بن مضمیرہ اسلام کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں تھیں۔

رہ گئے سب یونہی شیوخ حرم

کام کا ایک رند ہی نکلا

ایک تعجب خیز تاریخی حقیقت مودودی صاحب نے  “دو تاریخی حقیقتیں” بیان فرمائی ہیں۔ ایک کا تعلق  اعراب یعنی زبر، زیر، پیش  کی ایجاد سے ہے اور دوسری “حقیقت” کا تعلق نقطوں کے “پہلے پہل” اختراع سے ہے۔مودودی صاحب کے بیان کے مطابق  پہلے زیاد کو  اعراب کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔ 45 ہجری سے 53 ہجری تک اس آٹھ  سال کے اندر  زیاد نے ابو الاسود  دولی سے قرآن مجید  کے حروف  پر اعراب لگوائے۔مگر اس وقت بھی نہ زیاد کو  نقطوں کے لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی نہ ابو الاسود دولی کو۔ حالانکہ ہر موٹی سے موٹی عقل والا بھی اس کو سمجھ سکتا ہے کہ ایسی متشابہ حروف  والی رسم الخط  کے لئے اعراب سے زیادہ نقطے ضروری ہیں۔ آپ اردو ہی رسم الخط کو دیکھئے۔

  بغیر زیر زبر پیش کے ہر شخص لکھتا اور پڑھتا ہے۔ کوئی بھی کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ لیکن فقط ایک صفحہ بغیر نقطوں کے لکھ دیا جائے تو پڑھنے والے کو ضرور دشواری محسوس ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ مودودی صاحب ہی کی عبارت  سے نقطے حذف کر کے لکھئے تو ان کی “تاریخی حقیقتوں” کو “نارنجی حقیقتیں” پڑھ دے اور” مشرکین” کو ” “مسڑکین” سمجھ لے اور “بعض” کو “بغض” اور “بیٹھے ” کو  “پیٹھے ” بتا دے تو کیا یہ نا ممکن ہے ؟

اس لئے مجھکو یقین ہے کہ  ان “تاریخی حقیقتوں”  پر تاریخ روایت کا  رنگ چڑھانے والے بھی کچھ اسی قسم کا دماغ رکھنے والے تھے جیسا دماغ عربی حروف تہجی وضع کرنے والے کا تھا جس نے اٹھائیس حروف  تو وضع کئے مگر  ان میں بائیس  حرف کو  اس طرح وضع کیا کہ ان میں سے ایک کو دوسرے کے مشابہ ہی نہیں بلکہ عین رکھا۔ پتا نہیں ملتا  کہ “ح” لکھنے کے بعد وہ  اس کو کیا کہتا ہو گا؟ جیم یا حے یا خے ؟ غرض واضع حروف نے متشابہ حروف  میں جس طرح مابہ الامتیاز کوئی علامت  ہر حرف کے ساتھ  رکھنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ عہد جاہلیت  نہ عہد  اسلام کے کسی شخص  نے 65 ہجری سے پہلے  اس کو محسوس  کیا۔ اسی طرح زیاد اور ابو الاسود دولی بھی بازار سے آٹا  دال تو لائے نہیں مگر کھانا پکانے کے لئے پہلے ہی لگے چولہا پھونکنے۔ لفظوں کے بغیر  تو حروف  کی شناخت  ہی ممکن نہیں۔

عذر گناہ  درحقیقت  حروف کی تخلیق  تو نقطے  لگانے کے بعد ہی مکمل ہو تی ہے۔ اعراب تو عارضی چیز ہے۔ ان روایتوں کے بنانے والے اگر کچھ بھی عقل سے کام لیتے  تو نقطوں  کے وضع کرنے کا سہرا زیاد اور ابو الاسود کے سر باندھتے اور اعراب کی پگڑٰ  عبدالملک اور حجاج کے سر پر رکھتے۔ مگر میں نے اپنے متعدد مضامین میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ وضاعین ارو کذابین کی عقلوں پر وضع روایت  کے وقت کچھ ایسا  پردہ سفاہت ڈال دیتا ہے کہ کچھ نہ کچھ بات ان کی مرویات یا اسناد میں ایسی رہ جاتی ہے جس کی گرفت  ایک نقاد  بادنیٰ تامل کر لیتا ہے۔ بشرطیکہ روایت پرستی اس پر مسلط نہ ہو۔ ورنہ بڑے بڑے ائمہ فن رجال اور اساتذہ تنقید روایات جن کی تصنیفوں سے آج ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں ایسی ایسی خلاف عقل و مخالف قرآن مرویات پر  ایمان رکھتے ہیں کہ تعجب ہوتا ہے۔ مخالفت روایت  و معاندت آیت ان کو بھی معلوم ہوتی ہے تو بعید از قیاس اس کی تاویل کر کے اپنے دل کو زبردستی مطمئن کر لیتے ہیں اور دوسروں پر  بھی زور دیتے ہیں کہ بس  اس تاویل کو مان لو اور روایت کو صحیح تسلیم کر لو۔ چاہے تمھارا دل مطمئن ہو یا نہ ہو۔ اور “عذر گناہ بد تر از گناہ” کی مثل کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ گناہ تو وضاعین اور کذابین کر گئے۔ عذر گناہ یہ روایت پرست کرتے رہتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی رسم الخط  کے واضع  نے جب اٹھائیس  حرفوں میں سے بائیس  حروف  اس قدر باہم متشابہ رکھے تھے کہ بغیر نقطہ لگائے لکھنے والا نہ یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ میں نے فلاں حرف لکھا تھا  اور نہ پڑھنے والا یہ یقین کر سکتا تھا  یہ فلاں حرف لکھا گیا۔ مثلاً  “ح، د، س، ص، ا، ع”یہ شکلیں مفرد ہوں یا مرکب کسی حالت میں بھی متعین نہیں ہو سکتیں کہ یہ کون سے حروف ہیں۔ صرف اس لئے کہ ہر شکل  ایک سے زیادہ حرفوں کے نام سے موسوم ہے۔  لفظوں سے قطع نظر کرنے کے بعد کوئی بتائے۔ کم از کم (ب) کی شکل کو ہی بتا دے کہ یہ کون سا حرف ہے اور بحالت ترکیب “با” کی شکل کو بتائے اور “ما” کو بھی۔ آخر پڑھنے والا کیا پڑھے گا  اور لکھنے والا بھی ضرور سمجھ سکتا ہے  کہ پڑھنے والا حرف کا نام متعین نہیں کر سکے گا  پھر عربی رسم الخط کا واضع  کس طرح ان متشابہ حرفوں کو  بغیر نقطوں کے وضع کر سکتا تھا۔

یہ عقلی دلیل  تو اتنی قوی ہے کہ واضع  نے عربی حروف  تہجی  پر ضرور نقطے لگائے ہوں گے اور جو صورتیں نقطوں کی اس وقت ان  حروف پر ہیں یہ واضع  حروف کی وضع کردہ ہیں۔ ہرگز ہرگز کسی نے بعد کو وضع نہیں کیا۔ جو یہ مانتا ہے کہ کئی سو  برس کے بعد نقطے لگائے گئے وہ ضرور عقل سے معذور ہے اور ان روایتوں پر ایمان رکھنے والے اس شخص  کی طرح ہے جس کے پاس مخبر نے آ کر خبر دی تھی کہ تمھاری بیوی بیوہ ہو گئی ہے اور وہ یہ سن کر زار و قطار رونے لگا۔ بعد کو  لوگوں نے سمجھایا  کہ تم تو زندہ ہو  تو تمھاری بیوی بیوہ کس طرح ہو جائے گی، یہ خبر غلط ہے۔ اس نے کہا بات تو ٹھیک ہے مگر  جس نے خبر دی  تھی وہ نہایت سچا اور معتبر آدمی ہے۔ اس کو ہم جھوٹا نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے ضرور بیوہ ہو گئی ہے۔  یہ کہہ کر پھر منہ پیٹنے لگا۔

اس کے بعد کسی دلیل نقلی کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر مالایدرک کلہ لا یتوک کلہ لیجئے کچھ نقلی دلیلیں بھی  حاضر ہیں۔ ابن جنی[xii] نے بھی اپنے امالی (ص 22) میں اس کا دعویٰ کیا ہے کہ عربی حروف پر نقطے ابتدائے روز   سے وضع چلے آ رہے ہیں اور یہ روایت کہ زمانہ اسلام میں نقطے لگائے گئے جھوٹی روایت ہے۔ انھوں نے جاہلیت کے دو شعر  بھی ثبوت میں دئیے ہیں۔

رمتٰنی بسھم  نقّطت  منہ جفنتی

و ازنقطت  عــینٗ ُ تذرفُ کالغــین

محبوبہ نے مجھ کو ایک تیر مارا  جس سے میرے  پپوٹے پر  نقطے جیسا زخم پہنچ گیا  اور جب  کسی آنکھ پر نقط جیسا زخم لگا ہو تو وہ ضرور ابر کی طرح آنسو بہانے لگے۔

نقطہ، عین غین کے الفاظ سے جو استعارہ اس شعر میں ہے اس کو ملاحظہ فرمائیے۔ یہ اس زمانے کا شعر ہے جس زمانے میں بقول راویان “حقائق تاریخی”  حروف تہجی پر  نقطے کا کوئی وجود ہی نہیں تھا  نہ کوئی حرفوں کے لئے نقطوں کو جانتا تھا۔

اھی النجوم تعــرضت فی سقــفـــھا

ام اعــجمو  الوحاً بغـــیر حــــروف

کیا آسمان کی چھت پر ستارے چھٹکے ہوئے ہیں۔ یا حروف کے بغیر  کسی نے صفحہ ورق  پر خالی بہت سے نقطے لگا دئیے ہیں۔

اعجام حروف  پر نقطے  لگانے کو بھی کہتے ہیں اور اعراب لگانے کو بھی۔ اسی لئے نقطے دار حروف کو معجمہ کہتے ہیں۔

ابن ندیم [xiii]اپنی شہرہ آفاق کتاب  الفہرست  کے صفحہ 6- 7  میں لکھتے ہیں

قال ابن عباس اول من کتب  العربیۃ ثلاثہ رجال من بولان وھی قبیلۃ سکنو  الانبار  و انھم اجتمعوا و وضعوا حروفا  مقطعۃ و موصولۃ و ھم  مرامر بن مرۃ و اسلم بن سدرۃ و عامر بن جدرۃ و یقال مروۃ و جدلۃ۔فامرامر  نوضع  الصبور  و اما اسلم فضل و وصل  واما عامر  نوضع  الا عجام

یعنی حضرت  عبداللہ ابن عباس   رضی اللہ نے فرمایا  کہ سب سے پہلے جس نے عربی  رسم خط  میں لکھا وہ تین مرد تھے قبیلہ بولان کے جو انبار کے رہنے والے تھے۔ وہ سب یکجا ہوئے اور الگ الگ اور جڑے ہوئے حروف وضع کرنے لگے اور وہ تینوں مرامر مرہ کے بیٹے، اسلم سدرہ کے بیٹے،  اور عامر جدرہ کے بیٹے تھے اور بعضوں نے مرہ کے عوض  مروی اور جدرہ کی جگہ جدلہ بھی کہا ہے۔ تو مرامر نے حروف کی صورتیں مقرر کیں، اور اسلم نے اس کی جوڑ پیوند  اور الگ رہنے  کی ہیات قائم کیں اور عامر نے ان پر نقطے لگائے۔

صفحہ 9  پر حمیری حروف تہجی کی تصویر  بھی دی  اس میں بھی نقطے موجود ہیں۔ جہاں نقطے نہیں  ہیں کوئی دوسری علامت  ایسی موجود ہے جو ایک دوسرے  ہمشکل حرف سے ممتاز کر دے۔ اس مختصر  سے مضمون میں اس سے زیادہ گنجائش نہیں جس قدر لکھ گیا ہوں ایک دیانتدار عاقل  کے لئے اسی قدر بہت کافی ہے۔

درخانہ اگر کس است حرفے بس است

ورنہ روایت پرستی کی ہٹ دھرمی  جن کا شیوہ ہے ان کے سامنے تو جتنی بھی دلیلیں پیش کیجئے وہ کبھی ماننے کے نہیں۔

اب مودودی صاحب کروٹ بدلتے ہیں مگر آہستہ آہستہ۔ سنئے ارشاد فرماتے ہیں

“اگر قرآن کی اشاعت کا دارومدار صرف تحریر پر ہوتا  تو جس  رسم الخط  میں امت کو یہ کتاب ملی تھی اس کو پڑھنے میں تلفظ  اور اعراب ہی کے نہیں، متشابہ حروف کے بھی کتنے بے شمار اختلاف ہو گئے ہوتے[xiv]۔  محض زبان اور قواعد  کی بناء پر  خود اہل زبان بھی اگر  نقطے اور اعراب لگانے بیٹھتے تو  قرآن  کی سطر میں بیسیوں اختلافات کی گنجائش نکل سکتی تھی  اور کسی ذریعے سے یہ فیصلہ نہ کیا جا سکتا تھا اصل  عبارت جو  نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوئی تھی وہ کیا تھی [xv] ؟ اس کا اندازہ آپ خود اس طرح کر سکتے ہیں کہ اردو زبان کی کوئی عبارت بے نقط لکھ کر دس  بیس زبان داں اصحاب کے سامنے  رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے کسی کی قرأت  بھی کسی دوسرے کے مطابق نہ ہو گی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن میں نقطے اور اعراب لگانے  کا کام محض لغت اور قواعد  زبان کی مہارت پر نہیں کیا جا سکتا  تھا کیونکہ اس طرح  ایک مصحف نہیں بے شمار مصحف[xvi] تیار ہو جاتے جن میں الفاظ  اور اعرابوں کے ان گنت  اختلافات ہوتے اور کسی نسخے کے متعلق  بھی یہ دعوی نہ کیا جا سکتا  کہ ٹھیک اسی تنزیل کے مطابق ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوئی تھی”

اب مودودی صاحب گریز کر کے راہ پر آتے ہیں، دیکھئے کیا فرماتے ہیں :

“اب وہ کیا چیز  ہے جس کی بدولت  آج دنیا بھر  میں ہم قرآن کا ایک ہی متفق علیہ متن پا رہے ہیں اور جس کی بدولت  قرأتوں کے اختلافات امکانی وسعتوں تک پھیلنے کی بجائے صرف چند[xvii]إمتواتر یا  مشہور اختلافات تک محدود  رہ گئے۔ یہ اسی نعمت کا صدقہ ہے جس کی قدر گھٹانے اور جس پر اعتماد  اٹھانے کے لئے منکرین حدیث ایڑی چوٹی کا  زور لگا رہے ہیں۔ یعنی روایت۔ “

مودودی صاحب راہ پر آتے آتے پھر بھٹک  گئے  اور اپنی اسی روایت پرستی والی دلدل میں پھنس گئے۔ کوئی بتائے کہ روایت  والی نعمت  جو ان روایت پرستوں کو ملی ہے  اس کے صدقے میں ان کو اس  موقع پر کیا ملا ؟ اس کا ذکر چھیڑ دیا۔ انھی روایتوں کی بناء پر  تو اختلاف قرأت  کا ایک  دریائے ناپیدا کنار موجیں مار رہا ہے۔ اگر یہ سبعہ احراف والی حدیث موضوع نہ ہوتی  اور اس کی بنیاد پر  اختلاف قرأت  کی روایتوں کی اینٹیں نہ چنی جاتیں تو یہ اختلاف  فی القرآن  کی سر بفلک  عمارتیں (اتحاف فضلاء  البشر فی القرآن اربعۃ عشر  اور النشر  فی الا قرأت  العشر) جیسی ضخیم ضخیم کتابوں کے ذریعے کہاں کھڑی ہوتیں اور آج ایک  سائل  متحیر کو مودودی  صاحب سے اختلاف  قرأت  کے متعلق  اپنی تشفی  چاہنے کی کیا ضرورت پڑتی ؟ یہ واقعہ ہے کہ اگر  روایتیں نہ ہوتیں تو مودودی صاحب  اور ہمارے علماء کرام کو اختلاف کثیرہ فی القرآن کی نعمت عظمیٰ کہاں سے ملتی؟ یہ نعمت عظمیٰ تو انھیں روایتوں کے صدقے میں ملی ہے۔

قراء سبعہ کا تھوڑا سا حال انشاء اللہ اس مضمون میں بیان کروں گا  تاکہ “قیاس  کن زگلستان من بہار مرا”کے مطابق  قرأتوں کے جو سات اسکول مشہور ہیں اور جن کی قرآن قرأتوں کو محض جھوٹ متواتر مشہور کر رکھا ہے عام مسلمانوں کو ان کا حال معلوم ہو جائے کہ ان کی روایات  اختلافات  قرأت واقعی مسلمانوں کے لئے نعمت  ہیں۔ یا نقمت۔ اور یہ حقیقت  بھی واضح ہو جائے کہ خود ائمہ رجال کے نزدیک ان کا کیا درجہ ہے۔ اسی نعمت  عظمیٰ کا ذکر  کر کے مودودی صاحب مزید ارشاد فرماتے ہیں۔

“اوپر جن دو تاریخی حقیقتوں کا ذکر کیا گیا ہے (جن کی  حقیقت ناظرین کو معلوم ہو چکی ہے۔ تمنا) ان کے علاوہ ایک تیسری اہم ترین تاریخی حقیقت بھی ہے اور وہ یہ کہ قرآن کی اشاعت ابتداءً تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ زبانی تلقین کی صورت میں ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کی عبارت کو کاتبین وحی سے لکھوا کر محفوظ تو ضرور کر دیا تھا  لیکن عوام میں ان کے پھیلنے کا اصل ذریعہ یہ تھا کہ یہ لوگ براہ راست حضور کی زبان سے سن  کر قرآن یاد کرتے تھے۔اور پھر حضور سے سیکھنے والے  آگے دوسروں کو سکھلاتے تھے اور حفظ کراتے تھے۔ اس طرح قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب جو تنزیل کے مطابق  تھا ہزار ہا آدمیوں کو حضور سے معلوم ہوا اور پھر لاکھوں آدمیوں کو  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے شاگردوں کی زبانی تعلیم سے حاصل ہوا۔صحابہ کرام میں ایک معتد بہ گروہ ایسے اصحاب کا تھا  جنہوں نے پورا قرآن لفظ بلفظ حضور سے سنا تھا  اور یاد کیا تھا۔ ہزار ہا صحابہ ایسے تھے جو قرآن کے مختلف  اجزاء  حضور سے سن کر یاد کر چکے تھے۔ اور ایک بہت بڑی تعداد ان صحابیوں کی تھی جنھوں حضور کی حیات طیبہ میں آپ سے صرف  بعض اجزائے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ مگر آپ کے بعد  پورے قرآن کی قرأت لفظ بلفظ  ان اصحاب سے سیکھی جو حضور سے اس کو سیکھ چکے تھے۔ یہی اصحاب  وہ اصل ذریعہ تھے جن  کی طرف  بعد  کی نسل نے قرآن کی صحیح قرأت (Readings) معلوم کرنے کے لئے رجوع کیا۔ اس قرأت کا  حصول محض لکھے مصحف  سے ممکن نہ تھا۔ یہ چیز صرف  اسی طرح حاصل ہو سکتی تھی کہ مصحف  مکتوب کو ان جیتے جاگتے مصاحف سے پڑھ کر  اس کی اصل عبارت تک رسائی حاصل کی جائے “

مودودی صاحب اس نعمت عظمی کا ذکر فرما کر  جو راویان روایات  اختلافات قرأت سے انھیں ملی ہے جب فریضہ تحدیث نعمت سے سبکدوش ہو چکے تو پھر  ان دو تاریخی حقیقتوں کو انھوں نے یاد دلایا ہے جن کو  نگاہ میں رکھ کر  دیکھنے کا وہ پہلے حکم دے چکے ہیں اور جن پر ہم تبصرہ کر چکے ہیں۔ یعنی

1۔ 65 ھ تک قرآن کے حروف بلکہ پورے اہل عرب ہی عام حروف عربی کے لئے اعراب کے نام  سے آشنا نہ تھے۔ ابو الاسود دولی نے زیاد کے حکم سے پہلے پہل  نقطوں کی شکل میں حروف اوپر نیچے اور بیچ میں ایک ایک نقطہ رکھ کر زیر زبر اور پیش سے مسلم اہل عرب کو 45  ھ سے  53ھ کے اندر کسی دن آشنا کیا۔

2۔ اہل عرب حروف کے لئے نقطے بھی ہونے چاہییں اس کو کبھی محسوس نہ کر سکے تھے بلکہ (ابتدائی)  اسلامی عہد  میں بھی صحابہ، رسول، جبریل یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بھی نقطوں کی ضرورت عربی حروف تہجی کے لئے محسوس نہ کی۔ پہلی مرتبہ عبداملک مروان کے حکم سے حجاج نے دو گمنام عالموں کے ذریعے یہ بے ضرورت ایجاد کر کے دنیائے عرب کو  اس کی ضرورت سے آشنا کر دیا۔ بس اسی وقت سے  عربی حروف کے لئے نقطوں کی ضرورت  دنیا کو محسوس ہو نے لگی۔ لیکن اس سے پہلے یہ بالکل بے ضرورت ہی تھے۔ ورنہ اگلوں میں سے  کسی کو  تو اس کی فکر ہوتی۔ مگر ان دونوں حقیقتوں کی حقیقت آپ پر پوری طرح روشن ہو چکی ہے۔

اس کے بعد  تیسری حقیقت کی طرف  مودودی صاحب نے سائل اور ناظرین ترجمان القرآن کو متوجہ فرمایا ہے کہ ابتداء  صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہر وحی کو لکھوا لیا کرتے تھے اور کوئی بھی قرآن کی کوئی سورت یا آیت لکھ کر اپنے پاس نہیں رکھتا تھا۔ صرف زبانی تعلیم کا رواج تھا۔ صحابہ رسول اللہ سے زبانی قرآن سن سن کر سیکھ سیکھ کر یاد کرتے تھے۔ اس لئے ہر صحابی کو قرآن کی تعلیم  زبانی ہی خود رسول اللہ نے ہی دی یا رسول اللہ سے سیکھے ہوئے کسی صحابی سے ہوا کرتی تھی۔ اس لئے ہر صحابی کو قرآن اس طرح یاد ہوا  جس طرح  قرآن اترا تھا۔

غرض مودودی صاحب نے سائل کے سوال کے دونوں ٹکڑوں کا تشفی جواب دے دیا کہ اختلاف قرأت  کی وجہ تو یہ ہے کہ پہلے نہ حرفوں پر نقطے تھے نہ اعراب لگانے کا دستور۔ اس لئے بے نقطہ و اعراب عبارت کو کسی نے کسی طرح پڑھا  اور کسی نے کسی طرح پڑھا۔ اختلافات ہونے کی وجہ سے نقطوں اور اعراب کا  نہ ہونا  تھا یہ تو ما حاصل تھا۔ پہلی دونوں تاریخی حقیقتوں کا  جس سے اختلاف قرأت پیدا ہونے کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی اور کافی روشنی پڑ گئی۔

تیسری حقیقت کا فرما کر آپ نے اس کا باعث بتا دیا  کہ ساری دنیا میں جو ایک ہی قرآن پونے چودہ سو برس سے  علی سبیل التواتر  ہر زمانے میں ہر شہر  میں بلکہ ہر  مسلم گھر میں چلا  آ رہا ہے جس میں ایک شوشے، ایک نقطے میں بھی اختلاف نہیں۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ عہد نبوی میں  بلکہ جمع  صدیقیؓ کے قبل تک خلافت  صدیقیؓ میں بھی  قرآن مجید کی کتابت  کوئی نہیں کرتا تھا۔ سب دوسروں سے زبانی سیکھتے اور یاد کرتے تھے بلکہ صدیق  اکبر  نے بھی جو ایک نسخہ مصحف  زید بن ثابت  سے لکھوایا۔ اس کو  بھی انھوں نے اپنے پاس  مقفل ہی رکھا۔ کبھی کسی کو دکھایا تک نہیں، کوئی اس میں پڑھتا کیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے بعد بھی حضرت فاروق اعظمؓ  کے پاس جو وہ  مصحف  صدیقیؓ پہنچا  تو وہ اس  کو اسی طرح کتاب مکنون سمجھ کر چھپائے رکھے رہے۔ ان کے بعد  اسی طرح وہ مصحف حضرت عثمانؓ کو  ملنا چاہیے تھا مگر  ان کو نہ ملا  برخلاف قیاس  اللہ جانے کیوں ام المومنین حفصہؓ کے پاس پہنچ گیا۔ اور وہاں بھی اسی طرح  مقفل ہی رہا۔

جب حضرت عثمانؓ نے 30ھ[xviii] میں  حضرت حفصہ کے یہاں سے وہ مصحف یا صحف صدیقیؓ  بقول ابن شہاب زہری منگوا کر  اس کی نقلیں کرائیں جب کہیں قرآن کی کتابی صورت  لوگوں کی نظروں کے سامنے آئی۔ غرض مودودی صاحب  کے فحوائے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 30ھ تک قرآن کتابی صورت میں نہیں آیا تھا بحز مصحف صدیقیؓ کے جو برابر کتاب مکنون ہی رہا۔ کسی نے کبھی اس کی زیارت  کی خواہش ظاہر کرنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی یا ہمت نہیں پڑی۔

سوال تو جب عہد عثمانیؓ نہیں،  عہد فاروقیؓ تاک یا  عہد صدیقی تک، یا عہد نبویؐ ہی تک سہی صرف زبانی تعلیم قرآن کا ہی دستور تھا۔ کوئی شخص لکھتا ہی نہ تھا  کہ لکھی کتاب میں نقطے اور اعراب نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے والا  گھبراتا کہ کیا پڑھیں  اور ایک سے زیادہ پڑھنے والے اختلاف کرتے تو  پھر یہ اختلاف  قرأت کہاں سے آ گیا ؟

مودودی صاحب کی تیسری حقیقت نے تو ان کی بیان کردہ پہلی دونوں تاریخی حقیقتوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔

یقیناً آپ کہیں گے  کہ حضرت عثمان کے وقت  میں مسلمانوں کے پاس مصاحف  تھے جبھی  تو حضرت عثمانؓ نے جہاں جہاں مصحف بھیجا وہاں وہاں کہلا بھیجا  کہ ہر شخص اپنے مصحف کو  اسی کے مطابق  کر لے اور جس نسخے میں  زیادہ اختلاف ہو  اس کو جلا دے۔ اس لئے اس تاریخی حقیقت  سے کس طرح انکار کیا جائے گا۔ پھر بخاری کی روایت  ہے کہ چار انصاری صحابیوں نے عہد نبوی میں ہی مکمل قرآن کتابی صورت میں لکھ لیا تھا  بلکہ آغاز نبوت ہی میں  صحابہ اپنے پاس نازل شدہ آیات و سورہ  لکھ لکھ کر رکھتے تھے۔  حضرت عمرؓ اپنی بہن کے یہاں مصحف دیکھ کر متعدد  سورتوں کی مختلف  آیتوں سے متاثر ہوئے تھے اور ایمان لائے تھے۔ وہ مصحف حضرت حبیب ؓکا تھا جو  وہاں لے کر وہ گئے تھے۔  اسی لئے عہد نبوی میں قرآن لکھنے کا اور لکھ کر اپنے پاس رکھنے اور اس  میں سے تلاوت کرنے کا بہت  کافی دستور تھا۔ ہر پڑھا لکھا صحابی اپنے پاس مصحف رکھتا تھا۔ امہات المومنین میں سے ہر ایک کے پاس مصحف تھا۔ کتاب دیکھ کر پڑھنے کی ترغیب کیوں دی جاتی؟  اور آپ صحابہ کو  قرآن ساتھ لے کر سفر کرنے سے کیوں منع فرماتے تھے ؟ ان تمام باتوں سے تو صاف ثابت ہو رہا ہے کہ عہد نبوی میں قرآن کی کتابت  کا عام دستور تھا۔ اور پڑھا لکھا صحابی اپنے پاس قرآن رکھتا تھا  اور ترغیب نبوی کے مطابق کتاب دیکھ دیکھ کر پڑھتا تھا۔ تو وہ مودودی صاحب کی یہ تیسری حقیقت بھی تو  ان دونوں پہلی حقیقتوں کی طرح سراب ہی نکلی۔ تو پھر اصل حقیقت کیا ہے ؟

میں اس کا جواب آپ کو آخر میں دوں گا۔ ابھی مودودی صاحب کی گہر افشانیوں کی سیر تو ختم کر لیجئے۔ مگر اپنے اس سوال کو  اور میرے وعدے کو یاد رکھئے۔ میں “اصل حقیقت” ہی کر سرخی کے ماتح انشاء اللہ آپ کو تشفی بخش جواب دوں گا۔

مودودی صاحب اس کے بعد چوتھی تاریخی حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ

” یہ بات  تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت  عثمانؓ نے قرآن کے جو مستند نسخے لکھوا کر مملکت کے مختلف مراکز میں رکھوائے تھے ان کے ساتھ ایک ایک ماہر قرأت[xix] کو بھی مقرر کر دیا تھا تاکہ وہ ان نسخوں کو ٹھیک طریقے سے لوگوں کو پڑھنا سکھائے۔ مدینہ میں زید بن ثابتؓ  اس خدمت پر مقرر تھے۔ مکہ میں عبداللہ بن السائب کو خاص طور پر اسی کام کے لئے بھیجا گیا تھا۔شام میں مغیرہ بن شہاب، کوفہ میں ابو عبدالرحمن السلمی، اور بصرہ میں عامر بن عبدالقیس اس منصب پر مامور کئے گئے تھے۔ ان کے علاوہ جہاں جو صحابی بھی  حضور سے براہ راست یا  آپ کے بعد  قراء صحابہ سے قرآن کی پوری قرأت سیکھے ہوئے تھے  ان کی طرف ہزار ہا آدمی اس مقصد کے لئے رجوع  کرتے تھے کہ قرآن کا صحیح تلفظ اور صحیح اعراب لفظ بلفظ  ان سے سیکھیں”۔

 معلوم نہیں مودودی صاحب نے  اس چوتھی بات  کو جو  ان کے اور بہت سے معتقدین و متاخرین کے نزدیک تاریخ سے ثابت ہے اس کو “چوتھی تاریخی حقیقت” کہہ کر کیوں پیش نہیں فرمایا ؟مگر جب تاریخ سے ثابت ہے تو یقیناً  ان کے نزدیک یہ ضرور “چوتھی تاریخی حقیقت” ہے تو  اس چوتھی تاریخی حقیقت کی حقیقت اگر آپ کو  معلوم کرنا ہو تو میری کتاب “جمع القرآن” کے بغور مطالعہ کی زحمت گوارا کر لیجئے۔ آپ کو اس  چوتھی حقیقت کی حقیقت بھی معلوم ہو جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ نقل مصاحف  بعہد عثمانؓ والی  حدیث ہو یا  جمع صدیقیؓ والی، بخاری  میں یا ترمذی  میں یا نسائی وغیرہ میں۔ بالکل موضوع اور  منافقین کی من گھڑت ہے جو صحیح بخاری و ترمذی و نسائی میں داخل کر دی گئی ہے۔ ان جامعین حدیث کی وفات کے بعد۔  جس پر مکمل بحث میری کتاب “جمع القرآن” میں موجو د ہے۔ میرے اعتراضوں کا جواب میرے دلائل کی تردید آج تک کسی سے نہ ہو سکی۔ اور انشاء اللہ المستعان قیامت تک نہ ہو سکے گی۔

تاریخ نے نام پر افسانہ طرازی مودودی صاحب نے خود یا  جس کتاب سے انھوں نے نقل مصاحف عثمانی کا واقع نقل کیا ہے اس کے مصنف نے یہ واقعہ تصنیف کیا ہے کہ حضرت  عثمانؓ  نے جو مملکت اسلامیہ کے مراکز میں مصاحف  بھیجے تھے ہر جگہ اس مصحف کے ساتھ ایک قاری معلم کو بھی بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو  صحیح تلفظ  اور صحیح اعراب بتائے حالانکہ صحیح بخاری وغیرہ کتب احادیث معتبرہ میں کہیں قاریوں کے بھیجنے کا ذکر نہیں۔ صرف مصحف بھیجنے کا ذکر ہے اور ہر جگہ کے لوگوں کو یہ کہا گیا  تھا  کہ تم اسی نسخہ مصحف  کے مطابق  اپنے اپنے مصاحف کو بنا لو اور جو مصحف اس کے خلاف ہو  اس کو جلا دو۔ ہر جگہ کے لوگوں نے خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل کی بجز اہل کوفہ کے۔ اس لئے کہ حسب روایت ابن خلدون وغیرہ حضرت  عبداللہ بن مسعود نے اپنے مصحف کو نہیں بدلا اور اپنے شاگردوں کو بھی تاکید کی کہ  تم لوگ  اپنے مصحف نہ بدلو۔ ہر شخص اپنے مصحف پر قائم رہے۔ حالانکہ یہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پر ایک اتہام ہے وہ تو 29ھ  بلکہ اس سے کچھ پہلے ہی کوفہ سے مدینہ چلے آئے تھے۔ 30ھ میں انھوں نے حضرت عثمان ؓ کے ساتھ  حج کیا تھا اور نقل مصاحف کا جو واقعہ کہا جاتا ہے وہ صحیح حساب سے 30ھ کا ہے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کوفہ میں موجود ہی نہ تھے جو اپنے شاگردوں کو کہتے کہ اپنے مصاحف  کو ان کے حال پر رہنے دو۔ مصحف  عثمانی کے مطابق نہ بناؤ۔  باقی رہا ابن حجر کا روایت  کاذبہ کی حمایت  میں یہ کہنا کہ نقل مصاحف  کا واقعہ 25 ہجری کا ہے 30ھ کا نہیں تاکہ جو اقوال حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی طرف سے منسوب کئے گئے ہیں وہ صحیح ثابت ہوں بالکل غلط ہے جس کو ہم  “جمع القرآن” میں لکھ چکے ہیں۔

انتخاب معلمین بقول مودودی صاحب مدینہ کے لئے معلم قرآن حضرت عثمان نے زید بن ثابتؓ کو مقرر کیا۔ اور مکہ کے لئے عبداللہ بن سائب کو۔ اگرچہ زید بن ثابت  سے زیادہ با اثر اور اعلم بالقرآن قریشی لب و لہجہ سے واقف صحابہ مدینہ میں موجود تھے ان کے ہوتے ہوئے زید بن ثابت کا انتخاب ہرگز مناسب نہ تھا۔ مگر چونکہ  یہ کاتب وحی و کاتب مصحف صدیقی و ناقل مصاحف بعہد عثمانیؓ قرار دئیے گئے ہیں ان کی اس صحیح یا غلط شہرت کی بنا پر ان کا انتخاب غلط نہیں کہا جا سکتا۔ اور عبداللہ بن سائبؓ مخزومی تھے تو  مکی مگر قریشی غالباً نہ تھے۔ اس لئے کہ دو قبیلے مخزومی کہے جاتے ہیں جن میں سے ایک قریشی تھے سمعانی نے انساب میں ان کا ذکر کیا ہے اور متاخرین کے نام بھی گنے ہیں۔ یہ تو صحابی تھے اور پھر مکہ کے قاری تھے ضرور ان کا نام بھی وہ ا س ضمن میں لکھتے۔ اس کے علاوہ جو شخص مخزومی قریشی ہو اس کے نام کے ساتھ مخزومی قریشی تمیز کے لئے ضرور لکھتے ہیں۔ لیکن ان کا  ان کے والد کا  ان کے خاندان کے متعدد افراد  کا ذکر “تہذیب التہذیب” میں ہے لیکن کسی جگہ کسی کو بھی قریشی  نہیں لکھا ہے۔ اس لئے قرنیہ غالب یہی ہے کہ یہ غیر قریشی تھے۔بہرحال چونکہ اہل کوفہ نے جو قاریوں کا جال ہر جگہ بچھایا تھا  اس کے مطابق  ان کو بھی مکہ کا قاری مشہور کیا گیا تھا۔  اور مجاہد  جو انھیں کے والد کے آزاد کردہ غلام تھے اور مکہ معظمہ میں کوفیوں کے ایجنٹ بھی تھے انھی مجاہد کو  عبداللہ بن السائب کا شاگرد قرار دے کر ان کی طرف  بھی کچھ اختلاف قرأت کی نسبت کی گئی ہے۔ اس لئے صنادید قرأت ہی نے حضرت عبداللہ بن السائب کو مکے کا قاری مشہور کیا ہے۔ مودودی صاحب نے اس کو غنیمت  سمجھ کر یہ لکھ دیا  کہ حضرت عثمانؓ نے ان کو اپنے مصحف کے مطابق تعلیم قرآن کے لئے مکے کا قاری مقرر کیا تھا۔ اگر واقعی زید  بن ثابتؓ مدینہ کے اور عبداللہ بن السائبؓ مکہ کے قاری حضرت عثمانؓ کے مقرر کئے ہوتے اور دونوں کو مصحف عثمانی ہی کے مطابق تعلیم قرآن کا حکم ہوتا تو  اہل مکہ و مدینہ کی قرأتوں میں کوئی اختلاف نہ ہوتا۔باقی رہے ابو عبدالرحمن السلمی، یہ کوفی تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں میں سے تھے، زیادہ سے زیادہ ایک تابعی تھے۔کیا حضرت عثمان کو اس وقت کوئی صحابی نہ ملتا تھا کہ ایک غیر قریشی تابعی کو  تعلیم قرآن کی اہم خدمت  پورے علاقے کے لئے سپرد  کی ؟ اور وہ بھی ایک کوفی ہو کو ؟ یہی کوفی عبداللہ بن مسعود کے “شاگرد ان رشید” ہی تو  اختلافات پیدا کر رہے تھے۔ یہاں تو مدینہ سے کسی خاص  قریشی صحابی کو تعلیم قرآن کے لئے بھیجنا  تھا تاکہ وہ اختلافات مٹائے۔ اصل یہ ہے کہ ان کو بھی کوفی ملاحدہ نے اختلاف قرأت کے لئے استعمال کیا ہے۔اور ان کا نام بھی اپنے دفتر میں ٹانک لیا  اور کوفے کا امام القراء بنا کر  مشہور کیا ہے اسی لئے مودودی صاحب نے بھی ان کو حضرت عثمان کا مقرر کیا ہوا قاری بنا دیا۔

باقی رہ گئے دو آدمی، مغیرہ بن شہاب جو شام کے لئے مقرر کئے گئے تھے اور عامر بن عبدالقیس جو بصرے کے لئے حضرت عثمان کی طرف سے بقول مودودی صاحب مقرر کئے گئے تھے۔یہ دونوں سرے سے صحابی ہی نہیں ہیں۔ کوئی مشہور و معروف  تابعی بھی نہیں ہیں۔ نہ امام ذہبی ان کا ذکر کہیں  کرتے ہیں نہ ابن حجر۔ یہ دونوں کوفے کے قاریوں کے ساختہ و پرداختہ امام القراء ہیں۔قاریوں کے زمرے میں ان دونوں کا نام دیکھ کر  ان دونوں کو بھی حضرت عثمانؓ کا مقرر کردہ قاری بنا دیا۔ اس وقت تو سینکڑوں صحابہؓ موجود تھے جنھوں نے خود رسول اللہ سے قرآن پڑھا تھا۔ ایسے گمنام غیر معروفوں کا تقرر ضرور قابل لحاظ ہے۔

اس کے بعد مودودی صاحب تحریر فرماتے ہیں۔

“ان عام معلمین قرآن کے علاوہ تابعین و تبع تابعین کے عہد  میں ایک گروہ ایسے بزرگوں کا بھی پیدا ہو گیا تھا جنھوں نے  خصوصیت کے ساتھ  قرأت قرآن میں اختصاص  پیدا کیا۔ یہ لوگ  ایک ایک لفظ  کے تلفظ طریق ادا  اور اعراب کو معلوم کرنے کے لئے سفر  کر کر کے ایسے اساتذہ کے پاس پہنچے جو رسول اللہ سے قریب تر نسبت تلمذ رکھتے تھے اور ہر ہر  لفظ کی قرأت  کے متعلق نوٹ کیا کہ اسے انھوں نے کس سے سیکھا۔ اور ان کے استاد نے کس سے سیکھا ؟ اسی مرحلہ میں یہ بات تحقیق ہوئی کہ مختلف  صحابیوں اور ان کے شاگردوں کی قرأت میں کہاں کہاں اور کیا کیا اختلافات ہیں۔ ان میں سے کون سے اختلافات شاذ ہیں، کون سے مشہور ہیں، کون سے متواتر ہیں،۔ اور ہر ایک کی سند کیا ہے ؟ ( مگر یہ اختلاف پیدا کیوں ہوئے ؟ اس کی وجہ ان بزرگوں سے کسی نے نہیں پوچھی؟۔ تمنا)پہلی صدی کے دور آخر سے لے کر  دوسری صدی تک اس طرح کے ماہرین قرأت کا  ایک گروہ کثیر دنیائے اسلام میں موجود تھا۔ مگر ان میں سے خاص  طور پر جن لوگوں کا کمال علم تمام امت  میں تسلیم کیا گیا  ہے وہ حسب ذیل سات اصحاب ہیں جو قراء سبعہ کے نام سے مشہور ہیں۔

1۔ نافع بن  عبدالرحمن المتوفی 169ھ اپنے وقت میں مدینہ کے رئیس القراء مانے جاتے تھے۔ ان کا سب سے زیادہ معتبر سلسلہ تلمذ یہ تھا کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے پورا قرآن پڑھا تھا۔ انھوں نے ابی بن کعبؓ سے اور انھوں نے رسول اللہ سے۔

واقعہ یہ ہے کہ سارے اختلافات  قرأت کوفے کی ٹکسالوں میں گھڑے جاتے تھے اور پھر اپنے مراکز ان ملاحدہ کوفیوں نے بنا رکھے تھے اور ہر مرکز میں اپنے ایجنٹ مقرر کر دئیے تھے پوری طرح سوچ بچار کر کہ کس اختلاف کو  کس کی طرف منسوب کیا جائے اور اس کے لئے کون کون سے سلاسل  اسناد جوڑے جائیں۔ جب آپس میں بات طے کر لیتے تھے تو اس  کے مطابق  ان خود ساختہ اختلافات قرأت کو خودساختہ اسناد کے ساتھ مراکز میں بھیج دیتے تھے۔ سب سے پہلے “انزل القرآن علی سبعۃ احرف ” قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے۔ یہ حدیث گھڑی جا چکی تھی۔ لیکن یہ سب بہت بعد  کو کم و بیش تیسری صدی میں ہوا۔ اس سے پہلے اختلاف  قرأت کا مطلق وجود نہ تھا صرف سازشی مصنفین اپنی کتابوں میں کہیں کہیں بعض اختلافات کا ذکر کر جاتے تھے مگر سبعۃ احراف والی حدیث کا پرچار  البتہ پہلی صدی کے اواخر یا دوسری صدی کے آغاز سے شروع ہو گیا تھا۔ تو اب  ہم ان کے قراء سبعہ جو تمام ائمہ قرأت میں سب سے زیادہ ممتاز رہے اور ہیں، کی حقیقت ناظرین پر واضح کرتے ہیں۔ نافع بن عبدالرحمن جو ان لوگوں کے نزدیک مدینہ طیبہ کے امام القراء اور سب سے بڑے قاری تھے ان کا نام اوپر آ چکا ہے اس لئے پہلے انھیں کا تذکرہ ہو جائے۔

 

قراء سبعہ کا تعارف

 

1۔ نافع بن عبدالرحمن بن ابی نعیم

یہ قبیلہ بنی لیث میں سے کسی شخص کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اور بعضوں نے قبیلہ جفویہ کا غلام لکھا ہے۔ اصفہانی تھے۔ ان کے والد  ابو نعیم اور  ان کے دادا کا نام عبدالرحمن تھا۔ ان کے والد  اور ان کے دادا نے ساتھ ساتھ ہی اسلام قبول کیا تھا، اس وقت یہ کمسن تھے۔ ان کی خود کنیت ابو رویم بھی ہے اور ابو عبدالرحمن بھی۔ ان کے دادا کا اسلامی نام نعمان رکھا گیا تھا اور ابو نعیم کنیت۔ مگر کنیت ہی سے وہ زیادہ مشہور ہوئے۔ نافع کی نسبت کبھی باپ کی طرف کبھی دادا کی طرف کی جاتی ہے اس لئے نافع  بن عبدالرحمن بھی کہے جاتے ہیں اور نافع بن ابی نعیم بھی۔ حدیثیں تو یہ متعدد  تابعین سے روایت کرتے ہیں مگر قرأت میں یہ اصل شاگرد ہیں عبدالرحمن بن ہرمز کے۔ اس لئے عبدالرحمن بن ہرمز کو بھی پہچان لیجئے۔ یہ لنگ کھاتے تھے اس لئے احرج مشہور ہیں۔ ابو داؤد ان کی کنیت تھی ربیعہ بن الحارث بن عبدالمطلب  الہاشمی کے غلام، آزاد کردہ تھے۔ بعضوں نے محمد بن ربیعہ کا غلام لکھا ہے۔ ان کا مفصل تذکرہ “تہذیب التہذیب” جلد 2، صفحہ 290-291 تک ہے۔ تذکرہ المصآحف میں ہے کہ یہ کاتب المصاحف  بھی تھے۔ قرآن مجید لکھا کرتے تھے۔ 117ھ  میں وفات پائی۔ ابو  عمر الدانی جو مشہور امام قرأت ہیں ان کا قول تہذیب التہذیب میں نقل کیا ہے کہ انھیں سے نافع  بن ابی نعیم نے قرآن کی قرأت زبانی سن کر حاصل کی تھی۔ عبدالرحمن بن ہرمز کے والد کا نام اسلام قبول کرنے کے بعد کیسان رکھا گیا تھا۔ اس لئے لوگ ان کو کہیں کہیں  عبدالرحمن بن کیسان بھی کہتے ہیں۔ بعضوں نے ان کی وفات کا سال 110ھ لکھا ہے۔ غرض  یہ بھی موالی میں ہی سے تھے۔یہ متعدد صحابہ سے حدیثیں روایت کرتے ہیں اور ان سے متعدد محدثین  حدیثیں لیتے ہیں مگر اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا کہ نافع  بن عبدالرحمن بن ابی نعیم کے سوا کیا اور بھی کسی نے ان سے قرآن پڑھا تھا ؟ اگر اور بھی کسی ان سے قرآن پڑھا تھا تو وہ کون صاحب ہیں۔

ابو حمہ محمد بن یوسف جو تقریبا  ایک مجہول الحال شخص ہیں وہ ابو قرۃ موسیٰ بن طارق سے روایت کرتے ہیں کہ نافع بن ابی نعیم کہتے تھے کہ میں نے ستر تابعین سے قرآن کی قرأت اخذ کی ہے۔ کاش ان ستر میں سے صرف سات کے نام ہی وہ بتا دیتے۔ اس لئے کہ ان کی قرأت کی روایتیں جتنی ہیں تقریبا سب انھیں ابن ہرمز ایک آزاد کردہ غلام ہی سے ہیں۔ حدیثیں البتہ وہ اوروں سے روایت کرتے تھے۔ ابن حجر  احادیث  میں ان کے شیوخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں  ولنافع  عن الاعرج نفسہ ماثۃ حدیث اخری و عنہ اخذ القراءۃ۔ اور نافع کے پاس (عبدالرحمن بن ہرمز)اعرج سے خاص ان سے سو حدیثیں دوسری تھیں (یعنی جو اور شیوخ سے ان کو نہ ملی تھیں) اور انھیں سے نافع  نے قراۃ حاصل کی تھی۔ عنہ کے لفظ کا  جملے سے پہلے آنا مفہوم حصر پیدا کرتا ہے۔ اس کو ادب عربی کے ابتدائی درجوں کے طلبہ بھی جانتے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ  نافع کو قرأت کے اختلاف کی واقفیت  صرف عبدالرحمن بن ہرمز اعرج ہی سے حاصل ہوئی تھی اور نافع نے قرآن کی قرأتوں کو صرف انھیں سے پڑھا تھا۔ دیکھئے تہذیب التہذیب جلد 10 ص 7-8، 40۔ مگر اس حصر کے  معنی یہ نہیں کہ اور کسی سے انھوں نے قرأت کا فن حاصل ہی نہیں کیا۔  یہ حصر  ان کے ان شیوخ کے مقابلے میں ہے جن کا ذکر ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں ان کے ترجمے میں پہلے کیا۔ جو صحابہ کی اولاد یا  اکابر تابعین تھے جن سے صرف حدیثیں انھوں نے لی تھیں۔ وہ لوگ  بے چارے اختلافات  قرأت سے کیا واقف جو ان سے قرأت کا فن سیکھتے۔ اس کے ماہرین تو صرف عجمی لوگ تھے جو عرب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ جن کا اصل مرکز کوفہ تھا۔ مدینہ کے قدیم باشندے جو عہد نبوی سے  مدینہ میں رہے یا  صحابہ کی اولاد میں سے جو مدینہ ہی میں پیدا ہوئے یا وہ موالی جو سچے مخلص مسلمان تھے اور جس خاندان سے متعلق ہوئے ان کے ہو کے رہے۔ ان غریبوں کو تو اختلاف قرأت کا کچھ علم تھا  ہی نہیں۔ اسلئے ابن حجر نے جن کا ذکر پہلے کیا ہے یہ حصر صرف انہی لوگوں کے مقابل ہے۔ ورنہ بعض دوسرے آزاد کردہ غلاموں سے بھی نافع  نے قرأت کا علم حاصل کیا تھا  جیسا کہ ابن حجر تہذیب التہذیب جلد 11 ص 325 یزید بن روماں الاسدی ابو روح المدنی آل زبیر  کے غلام آزاد کردہ کے ترجمے کے آخر میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن عباس  بن ابی ربیعہ سے قرآن پڑھا تھا  اور ان سے نافع بن ابی نعیم نے قرآن کا علم حاصل کیا تھا مگر یہ عبداللہ بن عباس بن ابی اربعہ کون تھے ؟ اس کا پتہ نہ ملا کیونکہ حضرت عبداللہؓ بن عباس  بن عبدالمطلب تو ہو نہیں سکتے اور ابن ابی ربیعہ کا پتا کہیں نہیں ملتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ “ابن ربیعہ” کا لفظ غلط ہے غلطی سے اتنا اضافہ طباعت میں ہو گیا ہے، مراد حضرت عبداللہ بن عباس ہی ہیں تو یقیناً ان سے صرف قرآن ہی نہ پڑھتے وہ تو حدیثوں کے بحر ذخار تھے جس طرح اوروں سے حدیثیں سنی تھیں اسی طرح ان سے حدیثوں کے سننے کا  ذکر کرنے کے بعد  لکھا جاتا  کہ اقراء علیہ القرآن یعنی اور ان سے قرآن بھی پڑھا تھا۔ جب ایسا نہیں ہے ان سے صرف قرآن ہی پڑھا تھا  تو یقیناً یہ عبداللہ بن عباس بن ابی ربیعہ  کوئی غیر معروف مجہول الحال شخص ہیں جن سے ائمہ رجال بالکل بے خبر  ہیں اور موالی ہی قسم کے ہیں جو کوفیوں کی طرف سے صرف اختلافات قرأت کے ایجنٹ تھے۔ کوفہ کے مرکز سے نافع بن ابی نعیم کے پاس بھیجے گئے تھے۔ واللہ اعلم۔

 بہرحال نافع کے یہ استاد  یزید بن رومان بھی آل زبیر کے غلام آزاد کردہ ہی تھے۔ اور انھوں نے خود بھی قرآن  ایک مجہول الحال ہی شخص  عباس بن ربیعہ کے بیٹے عبداللہ سے پڑھا تھا۔ اور ان سے صرف نافع صاحب نے قرآن کی قرأت کا علم حاصل کیا۔

“مودودی صاحب کی علمی و تاریخی تحقیق”

مودودی صاحب اپنے اس زیر تنقید  مضمون شائع شدہ ترجمان القرآن جلد 52،  عدد 3 کے صفحہ 177 میں نافع بن ابی نعیم کے متعلق خود تحریر فرماتے ہیں “متوفی 169ھ” پھر لکھتے ہیں

“ان کا سب سے معتبر سلسلہ تلمذ یہ تھا کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس  اور حضرت ابو ہریرہ سے پورا قرآن پڑھا”الخ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی وفات 69 ھ میں اور حضرت ابو ہریرہؓ کی وفات 57ھ میں ہوئی تھی۔ نافع اور حضرت ابن عباسؓ کی وفات کے درمیان پورے سو برس  کا فاصلہ اور نافع اور حضرت ابو ہریرہؓ کی وفات کے درمیان ایک سو سے بھی زائد برس فاضل کا فاصلہ تھا۔نافع کی عمر اگر کوئی غیر معمولی لمبی ہوئی تو ائمہ رجال ضرور اس کو لکھ دیتے۔ جیسا کہ عموماً معمر راویان احادیث کی عمریں لکھ دیا کرتے ہیں۔ صحیح طور سے تعین نہیں کر سکتے جب بھی اتنا ضرور لکھ دیتے ہیں کہ انھوں نے سو سے زیادہ عمر پائی تھی یا  اس کے نام کے ساتھ “معمر” کا لفظ لکھ دیتے ہیں جس طرح نافع ہی کے شاگرد  کے شاگرد  کے شاگرد مسطوعی کو  “معمر” لکھا ہے۔اور ان کی عمر ایک سو دو برس بتائی ہے۔ نافع صاحب کی عمر کم از کم 125 برس  کی ہو جب کہیں یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ نافع نے ان دونوں بزرگوں سے قرآن مجید پڑھا۔ مگر نافع  کی اتنی بڑٰ غیر معمولی عمر ثابت کرنا ناممکن ہے۔

لیکن آج مودودی صاحب یہ دعوی کر  رہے ہیں کہ نافع بن عبدالرحمن نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ و حضرت ابو ہریرہؓ سے پورا قرآن پڑھا تھا۔ مودودی صاحب کے سوا کسی شخص نے بھی اس کا دعوی نہیں کیا۔ ائمہ رجال اپنی کتابوں میں نافع کا ترجمہ لکھتے ہیں مگر کسی نے بھی تونہیں لکھا ہے جو مودودی صاحب فرما رہے ہیں۔ تو کیا علمی و تاریخی تحقیق کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ کوئی بات جی سے گھڑ کر  لکھ دی جائے ؟ غرض  یہ ثابت ہو گیا  کہ مدینہ میں نافع بن عبدالرحمن کوفیوں کے ایک ایجنٹ تھے جو چپ چاپ وہاں بٹھا دئیے گئے تھے کہ اکابرین تابعین کے سامنے بیٹھ کر ان سے صرف  حدیثیں سنا کرتے تھے تاکہ ان کے آگے اپنا رسوخ قائم رہے۔قرآن انھوں نے ان اکابرین تابعین سے کبھی نہیں حاصل کیا۔ قرأت کے متعلق  جو کچھ ذخیرہ ان کو ملا وہ اپنے جیسے آزاد کردہ غلاموں سے ملا یعنی اعرج (عبدالرحمن بن ہرمز) سے یا یزید بن رومان الاسدی سے۔ یہ خود بھی ایک آزاد کردہ غلام تھے اور ان کے دونوں استاد بھی آزاد کردہ غلام ہی تھے اور یہ تینوں عجمی الاصل تھے۔ اور اختلاف قرأت  کی سازشی انجمن کے ارکان اولی و خصوصی تھے۔ جو مدینہ میں تو خاموش تھے مگر باہر  ان کو مدینہ کا قاری مشہور کیا گیا تھا۔ ورنہ مدینہ میں جس کو قرآن پڑھنا تھا  وہ صحابہ کی اولاد اور اکابر تابعین کو چھوڑ کر  ان عجمی غلاموں سے قرآن کیوں پڑھتا؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ صحابہ کی اولاد ہا اصاغر تابعین ہی میں سے جو عجمی الاصل نہ تھے ان میں سے کتنے لوگوں نے نافع صاحب اور ان کے دونوں استادوں سے قرآن پڑھا تھا ؟ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔

باقی ابو حمہ کا ابو یمانی سے یہ روایت کرنا کہ ابو قرۃ سے نافع بن عبدالرحمن نے کہا تھا  کہ میں نے ستر تابعیوں کے سامنے قرآن پڑھا ہے معلوم نہیں کہاں تک صحیح ہے۔ ابو حمہ محمد بن یوسف الیمانی صرف ابو قرۃ موسیٰ ابن طارق الیمانی ہی حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ قاری نہ وہ ہیں نہ یہ ہیں۔ ابو قرۃ نے بھی قرآن نہیں پڑھا تھا۔ اور نہ ابن حجر  تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ 349 میں ابو قرۃ کا ترجمہ لکھتے ہوئے جہاں روی عن فلاں فلاں کے ساتھ  “نافع بن ابی نعیم” لکھا ہے وہاں ان کے بعد “و قراء علیہ القرآن” بھی ضرور لکھتے جس طرح نافع  کے ترجمے میں روی عن فلاں فلاں کے ساتھ اعرج کا ذکر کیا ہے تو چند ہی سطروں کے بعد  واخذ عنہ القرآن کہہ کر تصریح کر دی ہے۔ اس لئے کہ روی عن فلاں سے صرف روایت  حدیث ہی سمجھی جائے گی۔ قرأت قرآن اس سے کوئی جاہل بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ نافع نے ایک یمنی کے سامنے تنہائی میں یہ دعوی کر دیا ہو گا کہ وہ تسلیم کر لے گا۔ کسی مدنی کے سامنے بھی اگر ایسا کہتے تو معلوم ہوتا۔ یا کسی مجمع میں کہتے۔

اور ابن وہب کی یہ روایت  کہ لیث بن سعد  کہتے تھے کہ ادرکمت  اھل المدینۃ و ھم یقولون قراءۃ نافع  سنۃ یعنی لیث بن سعد کہتے تھے کہ “میں نے اہل مدینہ کو یہ کہتے پایا کہ نافع کی قرأت سنت ہے “

یعنی عہد نبوی سے اس وقت تک  برابر سارے صحابہ و تابعین اسی کے مطابق پڑھتے آئے۔ مگر ایسا ہو تو بھی کہنا یہ تھا کہ نافع  کی قرأت وہی ہے جو قرأت مسنونہ ہے۔ کیونکہ نافع  نے سو سے کچھ زیادہ بھی بالفرض عمر  پائی ہو تو  انھوں نے عہد خلفائے راشدینؓ بھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر اس وقت وہی قرأت  پڑھی جاتی تھی جس کو نافع نے اختیار کیا تھا تو کیا اس وقت کے لوگ  اس کو “نافع کی قرأت” ہی کہہ کر  پڑھتے اور سمجھتے تھے ؟ جو قرأت نافع کی پیدائش  کے قبل سے جاری ہو اس کو نافع  کی طرف منسوب کرنا تو اس  قرأت کی توہین کرنا ہے مگر واقعہ اس کے خلاف ہے اس لئے کہ نافع کی پیدائش کے قبل لکھے ہوئے مصاحف اس وقت بھی موجود ہیں۔ حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور بعض  دوسرے صحابہ یا اکابر تابعین کے مخطوطات، مگر ان میں سے ایک بھی نافع  کی قرأت کے مطابق نہیں ہے۔ اس لئے یہ خلاف واقعہ بات  ابن وہب ( عبد اللہ بن وہب المصری) نے لیث بن سعد  المصری کی طرف منسوب کر کے کیوں کہی ؟ اور اگر واقعی لیث ہی نے ایسی بات جو بالکل خلاف واقعہ تھی ابن وہب سے کہی تھی تو کیوں کہی تھی؟ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ عبداللہ بن وہب بھی قریش کے موالی میں سے تھے اور لیث بن سعد بھی۔ یہ دونوں قریش کے آزاد کردہ غلام تھے اور نافع بھی غلام تھے۔ اور نافع کے دونوں استاد بھی غلام تھے اور یہ سب عجمی تھے۔ اور اختلاف  قرأت کی تحریک ان غلاموں کی چلائی ہوئی تھی۔ عبداللہ بن وہب کی پیدائش 125ھ کی تھی اور وفات  ا197 ھ میں،  اور لیث  بن سعد  کی پیدائش 94ھ میں اور وفات  175ھ میں۔ دونوں ہی اصفہانی الاصل تھے اور نافع بھی اصفہانی الاصل تھے۔ ابن وہب نے نافع کی قرأت کو  رواج دینے کے لئے لیث کی طرف منسوب کر کے اس کی کوشش کی کہ مصر میں نافع کی قرأت جاری ہو اور مصر والے جو قرأت متواترہ مسنونہ پڑھ رہے ہیں اس کو  حفص بن سلیمان الکوفی کی قرأت سمجھ کر چھوڑ دیں۔ مگر قرآن کی حفاظت کا وعدہ الٰہی ایسا نہیں کہ قرآن کے کسی ایک نقطے یا اعراب کو کو بھی ادھر ادھر ہونے دے۔ اس لئے باوجود  اتنے پراپگینڈے اتنی جدو جہد اور ایسی گہری سازش کے بھی نہ مصر میں نافع کی قرأت چل سکی نہ مدینہ میں اور نہ دنیا کے کسی اور حصے میں۔

واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (12:21)

اسی طرح بعض اکابر امت  کی طرف جو نافع  کی قرأت  کی تعریف منسوب کی گئی ہے وہ یقیناً غلط منسوب ہے اور کسی کی طرف  اگر نسبت صحیح کی گئی ہے تو  اس کا قائل ضرور اسی طبقے کا ہوگا۔ البتہ متاخرین چونکہ فریب خوردہ تھے اور وہ اختلاف قرأت کے دام تزویر میں پھنس چکے تھے اس لئے متاخرین جو کچھ بھی اختلاف قرأت یا  کسی خاص  قاری کی تعریف کریں وہ قابل اعتبار  و استناد نہیں۔

قالون نافع بن عبدالرحمن کے تلامذہ جن کے ذریعے وہ قرأتیں بعد والوں کو ملی ہیں جو نافع  کی طرف منسوب کی جاتی ہیں وہ صرف دو ہی ہیں جیسے ان کے استاد  قرآن صرف دو تھے۔ باوجود اس کے کہ حدیثوں کے شیوخ خود نافع کے بھی دس بارہ سے زیادہ ہی ہیں اور ان کے ان دونوں تلامذہ کے شیوخ بھی نافع کے سوا  بہت ہیں جن سے وہ دونوں حدیثیں روایت کرتے تھے۔ غرض قرآن اور اس کی قرأتوں کی روایت کرنے والے دو ہی آدمی ان کو ملے۔(کیونکہ سازش کی راز داری اور من مانی خود ساختہ قرأتوں کی راز دارانہ اشاعت  کی پوری ذمہ داری لینے والوں کو ہی وہ اپنا شریک کار بنا سکتے تھے ) ایک تو عیسیٰ بن مینار  جن کا لقب قالون ہے۔ تہذیب التہذیب جو صحاح کے روایوں کی کتاب ہے اس میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ لسان المیزان جو خاص کر  کے ضعیف  و مجروح راویوں کی کتاب ہے اس میں ابن حجر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ تو نہیں مگر ان کے والد مسور بن  مخرمہؓ کے غلام آزاد کردہ تھے۔ احمد بن صالح المصری سے کسی نے پوچھا کہ ان کی حدیثیں کیسی ہیں ؟ تو وہ ہنسے اور کہنے لگے کہ تم ہر کس و ناکس سے حدیث لے لیا کرتے ہو۔ مگر چونکہ بخاری میں ان کی حدیث موجود ہے اس لئے ان سے متعلق اس سے زیادہ ابن حجر نہیں لکھ سکے بلکہ توثیق کی کوشش کی ہے۔

 

ورش دوسرے راوی قرأت جو نافع کو ملے وہ ورش  کے لقب سے مشہور ہیں جن کا ذکر ابن حجر نے کہیں نہیں کیا۔ ان کا پورا نام ابو سعید عثمان بن سعید ہے۔ یہ قطبی تھے مگر قریشیوں کے آزاد کردہ غلام تھے اس لئے قریشی کہے جاتے ہیں۔ 197ھ میں وفات پائی۔ تو نافع  بن عبدالرحمن بن ابی نعیم صاحب جو مدینہ کے امام القراء قرار دئیے گئے ہیں دونوں غلام۔ یہ خود غلام۔ ان کے دونوں شاگرد غلام اور اس وقت کے اکابر بلکہ اصاغر مدینہ میں سے بھی کسی ایک شخص نے بھی ان سے قرأت حاصل نہیں کی۔یہ صرف مدینہ میں بیٹھے رہتے تھے اور کوفہ والے ان کا پراپگینڈا کرتے رہتے تھے کہ یہ مدینہ کے قاری ہیں۔ بلکہ یہ پراپگینڈا ان کی وفات کے بعد شروع ہوا اور ان کو مدینہ کا قاری اور امام القراء ان کے مرنے کے بعد مشہور کیا گیا اور وہ بھی ڈیڑھ سو برس کے بعد بلکہ کچھ اور مدت  کے بعد،  نافع بے چارے تو  مدینہ کے معمولی لوگوں میں سے تھے ان کی کوئی اہمیت وہاں نہ تھی ورنہ مدینہ میں کتنے تاریخی واقعات ہوئے ان کا یا ان کے والد ماجد  کا کسی موقع پر بھی کوئی ذکر تاریخی کتابوں میں ضرور آتا۔نافع غریب کی وفات کے کم سے کم سو  برس کے بعد ان کے سر پر مدینہ کے امام القراء ہونے کی پگڑی باندھی گئی ہے اور  قالون اور ورش جیسے گمناموں کو ان کا جانشین بنایا گیا ہے۔ اور غالباً  یہ دونوں بھی اپنے مرنے کے بعد ہی نافع کے جانشین بنے ہوں گے۔ اس لئے کہ اختلاف قرأت  کا بازار لگایا گیا ہے چوتھی صدی کے اواخر میں، اس سے پہلے یہ بازار نہیں لگایا گیا تھا۔ کوفہ میں بیٹھے یاران طریقت بازار کا نقشہ بنا رہے تھے اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پر جو یہ تہمت رکھی گئی تھی کہ جب حضرت عثمان کا بھیجا ہوا قرآن کوفہ پہنچا تو  انھوں نے اپنے شاگردوں کو اس کے قبول کرنے سے منع کیا اور اختلافات کو باقی رکھنے کی تاکید کی۔ اس لئے مختلف مصحف عبداللہ بن مسعود، مصحف ابی ابن کعب مصحف سعد بن ابی وقاص وغیرہ سب کوفہ ہی میں ان لوگوں کے نام سے بنا لئے گئے تھے۔ ابن جریر طبری کی وفات 310ھ میں ہوئی اور ان کی زندگی تک اختلاف  قرأت کا وجود نہ تھا اس وقت عجمیوں اور موالی قسم کے لوگوں نے صرف انزل القرآن علی سبعتہ احراف کا ڈھول پیٹنا کافی سمجھا تھا اور چھ قرأتوں کے غائب ہو جانے کی وجہ یہ بتاتے تھے کہ حضرت عثمانؓ نے امت کو قرآن میں اختلاف  سے بچانے کے لئے چھ قرأتوں کو ترک کر ا دیا تھا اور ضائع کرا دیا تھا اور صرف  ایک قریش کی قرأت کو باقی رکھا تھا۔اس لئے  حضرت عثمان کے حکم سے چھ قرأتیں مٹا دی گئیں اور ایک ہی قرأت  باقی  رہی تو  اب ان چھ قرأتوں کو تلاش کرنا  غلط ہے۔  چنانچہ ابن جریر طبری اپنی تفسیر  کے مقدمہ میں صفحہ 25 پر لکھتے ہیں۔

“اگر کوئی پوچھے کہ تم کس کتاب اللہ میں ایسے حروف  واحدہ و مفرد پاؤ گے جو سات  مختلف  لغات سے پڑھے جاتے ہوں مگر معنیٰ میں متفق ہوں تو ہم تمہارے اس سوال کی صحت  کو تسلیم کرتے ہیں اور  اس کا جواب یوں دیتے ہیں کہ ہم نے یہ دعویٰ[xx] کب کیا کہ وہ آج موجود ہیں۔ ہمیں تو صرف خبر دی گئی تھی کہ رسول اللہؐ نے جو یہ فرمایا تھا انزل القرآن علی سبعۃ احرف اس کے کیا معنیٰ ہیں جو اخبار میں وارد ہیں جس کا ذکر[xxi] ہم نے پہلے کیا۔ نہ وہ جو  ہمارے مخالفین  اس کے بارے میں کہتے ہیں۔

 ان[xxii] وجوہات کی بنا پر  جس کو ہم نے پہلے بیان کیا  تو اگر کہا جائے کہ پھر  وہ چھ حروف جو اترے تھے ان کی عدم موجودگی میں ان کا کیا حال ہوگا۔ تم نے خود ان کی حدیثیں پیش کیں، رسول اللہ نے خود ان کو پڑھا تھا اپنے صحابہ کو پڑھایا تھا۔ ان کو ان قرأتوں کے مطابق پڑھنے کا  حکم فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب قرأتوں کو اپنے نبی پر اتارا تھا۔ کیا وہ چھ قرأتیں منسوخ ہو گئیں یا اٹھ گئیں۔ تو ان کے منسوخ  یا مرفوع  ہو جانے کی کیا دلیل ہے ؟ یا امت ان کو بھول گئی۔ اگر ایسا ہے تو ایک نامور یہ چیز کا ضائع کر دینا ہے۔ جس کی حفاظت کا  حکم تھا آخر اس مسئلے میں کون سا قول فیصل سمجھا جائے ؟

تو اس کا جواب  یہ دیا جائے گا  کہ وہ  نہ چھ  قرأتیں منسوخ ہوئیں نہ مرفوع ہوئیں اور نہ امت کو بھولیں۔ باوجود اس کے کہ وہ ان کے حفظ پر مامور تھی۔ اصل یہ ہے کہ امت حفظ قرآن پر مامور تھی اور اس کو یہ آزادی دی گئی تھی کہ ان سات قرأتوں میں سے جس قرأت  پر بھی چاہے پڑھے، حفظ کرے۔ جس طرح  کوئی شخص قسم کھا کر توڑ دے تو اس  کو یہ اختیار ہے کہ تین کفاروں میں سے جس کفارے کو چاہے ادا کرے، چاہے غلام آزاد کرے، چاہے دس مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا کپڑے پہنا دے۔ تو ان تین کفاروں میں سے جس کفارے کو بھی وہ ادا کرے گا اللہ کے حق سے اس بارے میں سبکدوش ہو جائے گا۔ اسی طرح امت کو  یہ اختیار دیا گیا تھا  کہ وہ ان سات  حرفوں میں سے جس حرف پر بھی چاہے قرآن کو پڑھے اور یاد کرے۔ امت پر واجب تھا  کہ سات حرفوں میں سے کسی ایک حرف پر بھی ثبات رکھے تو جب ایک حرف  کے مطابق امت  پڑھنے لگی تو باقی حروف خود بخود ترک ہو گئے۔ تو اگر پوچھا جائے کہ وہ کونسا باعث تھا  کہ امت ایک حرف پر ثابت ہو گئی اور دوسرے چھ حروف  ساری امت سے بالکل ترک ہو گئے، تو اس کی وجہ یہ ہے “۔

اس کے بعد ابن جریر نے جمع القرآن بعہد صدیقیؓ کی روایت پھر نقل مصاحف  بعہد عثمانیؓ کی روایت نقل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ جب حضرت عثمانؓ نے بتقاضائے مصلحت صحابہؓ کے مشورے سے اختلاف فی القرآن کی کثرت دیکھی تو  صرف لغت  قریش پر  قرآن کو باقی رکھا اور باقی حروف  کی چھ قرأتوں سے امت کو روک دیا اور ایسے مصاحف  کو جو دوسری قرأتوں کے مطابق  لکھے ہوئے تھے ضائع کرا دیا۔اس لئے چھ قرأتیں دنیا سے ناپید ہو گئیں اور ہر جگہ صرف ایک ہی قرأت  کا مصحف ہمیں ملتا ہے۔

ابن جریر کی اس تصریح سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے وقت تک  اختلافات قرأت کے سات اسکول قائم نہیں ہوئے تھے اور قرأتوں کا بازار نہیں لگا تھا۔ صرف کوفہ کے متعدد گھروں میں چپکے چپکے افسانہ اختلافات  کی کھچڑی پک رہی تھی اور دسترخوان پر صرف موالی قسم کے ایسے لوگ  جو ان کے دام میں آ چکے تھے یا آ سکتے تھے وہی بٹھائے جاتے تھے۔ مگر اسکول کا نقشہ کاغذ پر ضرور بن گیا تھا اور اپنا ایک آدمی ہر  اسکول میں رکھ دیا گیا تھا۔ مگر جہاں وہ اسکول بنا تھا وہاں کے لوگ مدت  تک اس  اسکول سے کچھ واقف نہ ہوتے اور جو ہیڈ ماسٹر اسکول کا ہوتا  وہ ایک طالب علم کی حیثیت سے وہاں کے محدثین کے پاس جا کر  صرف حدیثیں سنا کرتا تھا۔ اس کا اسکول کوفہ کے دارالندوہ میں ایک کاغذ پر ہوتا تھا۔ یہاں کچھ دن رہ کر  ہر ہیڈ ماسٹر کو چپکے چپکے رازدارانہ اسکول چلانے کا طریقہ معلوم کر لینا پڑتا تھا۔

مختصر یہ کہ نافع  صاحب کو ہمراز صرف دو شاگرد  اختلاف قرأت  کے ملے ایک تو قالون عیسیٰ بن مینا جو بالکل نپٹ بہرے تھے، پڑھنے والوں کے لبوں کی حرکت سے تلفظ  کا اندازہ لگا کر تعلیم دیتے تھے۔ جیسا کہ ابن حجر  نے لکھا ہے۔ دوسرے ورش  ابو سعید عثمان بن سعید۔ قالون کے بھی دو شاگرد قرار دئیے گئے۔ ابو نشیط  اور حلوانی۔ اسی طرح ورش کے بھی دو شاگرد ازرق اور اصبہانی۔ ٌھر ابو نشید کا ایک شاگرد  ابوبکر مگر اس کے دو شاگرد  ابن بویان اور قراز اور حلوانی کے دو شاگرد  ابن مہران اور جعفر بن محمد اور ازرق کے دو شاگرد  اسماعیل الخاس  اور ابن سیف اور اصبہانی کے بھی دو شاگرد  ابن جعفر اور مطوعی۔ تو خیال فرمائیے تین دن مسہل سے پہلے اور  تین دن مسہل کے بعد، تین مسہل تین تبریدیں۔ یہ سب کے دن ہوئے ؟ نافع  کے دو استاد  پھر نافع  کے دو شاگرد تک تو آپ ایک حد تک جان گئے۔ اب ہر شاگرد کے دو شاگرد  اور پھر ہر شاگرد کے دو شاگرد۔ ان اٹھارہ آدمیوں کے حالات پر بحث آسان نہیں۔ خصوصاً جب ان میں سے   بہترین مجہول الحال ہیں۔ دنیائے رجال میں جن کا کوئی ذکر نہیں اور جہاں ذکر ہے وہاں اس سلسلے اسناد کے خلاف مذکور ہے۔ مثلاً حلوانی کو یہاں قالون کا شاگرد بتایا گیا ہے مگر لسان المیزان جلد 1 صفحہ 227 میں ان کے استاد قرأت کا کہیں ذکر نہیں۔ ان کے صرف ایک شاگرد  قرأت کا ذکر ہے وہ ان دو  میں سے کوئی بھی نہیں جن کو اس  سلسلے میں ان کا شاگرد بتایا گیا ہے بلکہ ایک تیسرے شخص ابو الکرم شہزداری کو لکھا ہے۔ ان کا سال وفات  507ھ ہے۔ اسی طرح اصبہانی کو ورش کا شاگرد  بتایا گیا ہے۔ مگر لسان المیزان جلد 4  صفحہ 470  میں ان کو  کیسائی کا شاگرد لکھا ہے۔ ورش کا ذکر تک نہیں۔ اسی طرح مطوعی حسن بن سعید بن جعفر المعمر نے ایک سو دو برس عمر پائی تھی۔ انھوں نے ابن مجاہد اور اسحاق بن احمد الخزاعی سے قرآن پڑھا تھا۔ کسی اصبہانی کا شاگرد  ان کو نہیں لکھا ہے۔ یہ لوگ بغیر ناموں کی تصریح کے قصداً حقیقت حال کو چھپانے کے لئے صرف کنیت یا لقب وغیرہ لکھ کر اشخاص کو نقاب پوش بنا دیتے ہیں تاکہ ان کی شخصیت معلوم نہ ہو۔ انشاء اللہ آئندہ ان اشخاص پر روشنی ڈالی جائے گی مگر سردست نافع، ان کے دونوں شیخ اور ان کے دونوں شاگردوں کا حال ہی حقیقت حال کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

قیاس کن زگلستان من بہار  مرا

 

2۔ عبداللہ ابن کثیر   قاری مکہ

عبداللہ بن کثیر  الداری المکی ابو سعید القاری مولی عمرو بن علقمۃ الکنانی۔ مکہ مکرمہ میں یہ عطر فروشی کرتے تھے۔ اہل مکہ عطر فروش کو   الداری کہتے تھے۔ بعضوں نے لکھا ہے کہ نہیں۔ بلکہ وہ تمیم کی ایک شاخ داری بن ہانی کی اولاد میں سے تھے۔ اس لئے ان  کو الداری کہتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ علقمۃ الکنانی کے بیٹے عمرو کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ابو الزبیر  المکی سے حدیث روایت کرتے تھے اور مجاہد بن جبیر سے بھی اور انھیں سے قرآن بھی پڑھا تھا  اور ابو النہال عبدالرحمن بن مطعم سے اور عکرمہ حضرت  ابن عباس کے آزاد کردہ غلام سے بھی حدیثیں روایت کرتے تھے۔

صرف عمر وا لدوانی نے  کہا ہے کہ انھوں نے قرأت حاصل کی تھی۔ عبداللہ بن السائب المخزومی سے مگر مشہور  یہ ہے کہ انھوں نے مجاہد  بن جبیر سے قرأت سیکھی تھی۔ امام بخاری نے بھی یہی لکھا ہے کہ عبداللہ بن کثیر المکی نے قرأت مجاہد سے حاصل کی تھی۔

ایک صاحب عبداللہ بن کثیر بن المطلب بن  وداعۃ السہمی بھی تھے اور دونوں ہمعصر تھے مگر سہمی فقط محدث تھے اور داری مکہ مکرمہ کے قاری مقرر کئے گئے تھے۔  ائمہ رجال نے دونوں کے بعض  حالات میں غلط ملط کر دیا ہے۔ ابن ابی مریم ابن معین کا قول روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن کثیر الداری القاری ثقۃ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ عجمی الاصل  ملک رے کے رہنے والے تھے۔ 120ھ میں وفات پائی۔ غرض  صرف ابو عمرو الدوانی متوفی 444ھ  کے سوا کوئی اور  متقدمین میں سے ان کو  مجاہد کے سوا  اور کسی دوسرے کا شاگرد قرأت نہیں بتاتا۔ بلکہ “یتسیر” میں ابو عمرو الدوانی نے حضرت ابن عباسؓ کے   ایک آزاد کردہ غلام مرد اس کو بھی ان کا استاد قرأت بتایا ہے۔ لیکن “مرداس” نام کا  کوئی شخص  جو حضرت ابن عباس  کا غلام آزاد کردہ ہو دنیائے رجال میں نظر نہیں آتا۔ بالفرض اگر ہو  اور کسی گوشہ گمنامی میں پڑا خراٹے لے رہا ہو تو  وہ بھی ایک  غلام آزاد کردہ ہی ٹھہرا۔ اور جو ایسا مجہول الحال ہو جس کا نام تک ائمہ رجال کی زبان پر نہیں آتا، اس کا ذکر کیا ؟

حقیقت یہ ہے کہ مجاہد سائب بن ابی السائب کے غلام آزاد کردہ تھے۔ اسلئے مجاہد نے اپنے آقا سائب کے صاحبزادے عبداللہ سے قرآن پڑھ لیا ہو، یہ ممکن ہے۔ سائب اور عبداللہ بن سائب دونوں باپ بیٹے صحابی تھے۔ عبداللہ بن السائب کی وفات  65ھ میں ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس  نے ان کے جنازے کی نماز پڑھائی تھی۔ عبداللہ بن کثیر  عبداللہ بن سائب  کی وفات کے وقت بہت کمسن تھے۔ اسلئے ابن کثیر کا ابن سائب سے قرآن پڑھنا، قرأت حاصل کرنا صحیح نہیں۔ ابن کثیر نے صرف  اور صرف مجاہد بن جبیر سے قرأت کا فن حاصل کیا جیسا کہ امام بخاری اور سارے ائمہ رجال لکھتے ہیں۔ ابو عمرو الدوانی جو ابن کثیر سے دو سو برس زیادہ بعد کے آدمی ہیں ابن کثیر سے کے اساتذہ کے حال سے اتنا واقف نہیں ہو سکتے جتنا امام بخاری اور دوسرے ان سے متقدم ائمہ رجال واقف ہو سکتے ہیں۔

دانی اور ان کی کتاب “تیسیر”  ابو عمرو  الدوانی کی تصنیف  ہے ہی نہیں بلکہ یاران طریقت  نے ایک کتاب تصنیف کر کے ان کے نام سے ان  کی  وفات کے بعد منسوب  کر کے اس کی متعدد نقلیں کر کے پھیلائیں ہیں جس کا پتہ خود کتاب “تیسیر” کی ورق گردانی سے با آسانی مل سکتا ہے۔ بیسیوں جگہ آپ قال ابو عمرو الدوانی اور قال ابو عمرو کے الفاظ دیکھیں گے اگر اس کتاب کے مصنف خود ابو عمرو الوانی ہوتے تو وہ خود اپنے متعلق ہی قال ابو عمرو الدوانی کیوں لکھتے ؟ ہاں اگر دو شخصوں کا مکالمے کا ذکر ہوتا  اس طرح کہ “قال فلاں و قال عمرو الدوانی” تو ممکن تھا کہ مصنف نے خود اپنا قول اپنے نام کی طرف منسوب کر کے لکھا ہو۔مگر یہاں تو مکالمہ و مقادلہ کی صورت کہیں نہیں ہے۔ مسائل کتاب لکھنے میں قال  ابو عمرو لکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب یہ قال ابو عمرو اور قال ابو عمرو الدوانی لکھنے والے کون صاحب ہیں جب تک ان کا صحیح نام و نشان نہ ملے اس وقت تک ان اقوال کی نسبت  جو ابو عمرو الدوانی کی طرف کی گئی ہے اس کی صحت و عدم صحت کا فیصلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے ؟ مگر بہرحال ایسی کتاب قابل وثوق نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ عبداللہ ابن کثیر کے اساتذہ قرأت میں خلاف جمہور ائمہ رجال حضرت عبد اللہ بن السائبؓ کا نام اس میں لکھ دیا گیا  اور  ایک مجہول نام “مرداس” حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کا نام بھی تعدد شیوخ ثابت کرنے کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ بہرحال ابو عمرو الدوانی بھی قرطبی تھے اور خاندان بنی امیہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اتنا یاد رکھئے کہ متقدمین ائمہ قرأت میں آپ تقریبا 95 فیصدی موالی یعنی آزاد کردہ غلام پائیں گے۔ اختلاف قرأت کا فتنہ ان غلاموں کا ہی پیدا کردہ تھا اور انھوں نے ایک زبردست  سازش کے تحت یہ تحریک چلائی۔

کتاب “تیسیر” اور اس کے مصنف  ابو عمرو الدوانی کا ذکر تو ضمناً  آ گیا۔ اب آپ عبداللہ بن کثیر  کے اصل اور اکلوتے استاد مجاہد بن جبیر کا حال سنئیے کہ مکہ مکرمہ کے مرکزی اسکول کے ہیڈ ماسٹر یہی مجاہد بن جبیر ہی تھے۔ عبداللہ بن کثیر تو ان کے شاگرد تھے جن کے سر  پر قرأت کی پگڑی باندھ دی گئی۔

مجاہد بن جبیر  یہ سائب بن ابی سائب کے غلام آزاد  کردہ تھے۔ ان کی پیدائش  21ھ میں زمانہ خلافت فاروق اعظمؓ ہوئی۔83 برس کی عمر میں 103ھ میں وفات پائی۔ تفسیر کے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس  کے سامنے تیس بار قرآن پڑھا۔ اعمش کوفی جو شیعہ بھی تھے اور ان کے شاگرد رشید بھی کہتے تھے کہ مجاہد کہتے تھے کہ “اگر ہم عبداللہ بن مسعود کی قرأت کے مطابق پڑھتے تو  ہمیں اس کی حاجت نہ پڑتی کہ اکثر جگہ ابن عباس  سے معنی مطلب پوچھ لیتے “

اگر اعمش کی یہ روایت  صحیح ہے اور واقعی مجاہد نے ایسا کہا ہے تو تعجب اور سخت تعجب ہے کہ مجاہد نے اپنے کوفی اساتذہ و تلامذہ سے عبداللہ بن مسعود والا مصحف کیوں نہیں مانگ لیا تھا؟ [xxiii]ترمذی جلد  دوم صفحہ 138 مطبوعہ مجتبائی دہلی میں نقل مصاحف  بعد حضرت ذوالنورینؓ والی روایت  جو بخاریؓ میں امام زہری سے ہی مروی ہے یہاں بھی انھیں زہری سے روایت کی گئی ہے مگر متعدد مضامین کے اضافے کے ساتھ جن سے بے چارے بخاری کو بے خبر ہی رکھنا مناسب سمجھا گیا تھا۔ بہرحال ترمذی میں یہ موجود ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے عراقی تلامذہ کو منع کر دیا تھا  کہ آپ مصاحف کو مصحف عثمانیؓ کے مطابق کر کے ضائع نہ کرو بلکہ اپنے حال پر باقی رکھو اور مصحف عثمانی کے طرف داروں سے اپنے مصحف کو چھپائے رکھو۔ محفوظ رکھو کہ کہیں وہ چھین کر ضائع نہ کریں۔ اس لئے عبداللہ بن مسعودؓ کے سینکڑوں تلامذہ جو عراق میں تھے سب کے پاس  حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف ضرور ہوگا۔ کوفہ تو عراق کا مرکز فتنہ و فساد تھا  اور اسی تلقین و تاکید ابن مسعودؓ کا حیلہ قائم کر کے تو کوفہ ہی سے اختلاف قرأت کا طوفان امڈا۔ مجاہد بن جبیر کے کوفی اساتذہ میں سے عبداللہ بن  سنجرہ الازوی الکوفی۔ عبدالرحمن بن  ابی لیلیٰ الکوفی اور پھر خود  عبداللہ بن مسعودؓ کے صاحبزادے ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن مسعود الکوفی وغیرہ۔ جن میں سے ہر ایک حضرت عبداللہ بن مسعود کا کاص شاگرد تھا سب سے نہیں تو ان کے صاحبزادے عامر سے تو ان کو عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف مل سکتا تھا۔ پھر ان کے خاص عقیدت کیش شاگردوں میں تو نوے فیصد کوفی ہی تھے۔ عطاء ابن السائب الکوفی، فطر بن خلیفۃ الکوفی، حاکم بن عتیبہ الکوفی، زبید الیامی الکوفی، سلمہ بن سہیل اکوفی، سلیمان الاعمش الکوفی،  منصور بن المعتمر الکوفی، مسلم بن عمران البطس الکوفی، حبیب بن ثابت  مولیٰ بن اسد الکوفی، حسن بن عمرو الفقیمی الکوفی، ابو جعفر عثمان بن مغیرۃ الکوفی اور عمرو بن ذر الکوفی وغیرہ۔ اتنے کوفیوں کے جھرمٹ میں رہنے والا مجاہد بن جبیر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مصحف کے لئے ترستا رہے ؟ ان میں سے تو ہر ایک کے پاس عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف موجود ہوگا۔ اگر یہ کسی سے بھی مانگتے تو متعدد نسخے اس مصحف کے ان کے پاس موجود ہو جاتے مانگنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔ صرف جو اعمش سے کہا تھا وہی کسی اور کوفی سے کہتے تو ان کو گوہر مقصود مل جاتا۔ اعمش چونکہ شیعہ تھے اس لئے انھوں نے ایک سنی سے اغماض نہ کیا ورنہ ان کے پاس بھی ضرور ہو گا۔

 

عبداللہ بن مسعودؓ  نہ ترمذی کی وہ روایت صحیح ہے کہ صرف اس غصے پر کہ ان کو جمع قرآن یا نقل مصاحف کے وقت کیوں نہ پوچھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے امیر المومنین کے حکم ہی کو نہیں بلکہ سارے صحابہؓ کے خالف اپنی ڈیڑھ اینٹ  کی مسجد ضرار الگ بنا کر  قرآن مجید میں اختلاف کو قائم رکھنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سامان مہیا کر دیا۔ اور اس غصے میں اپنے ساتھ ساتھ شاگردوں کو بھی گمراہ کیا ؟ نعوذ باللہ من ذالک۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی شان اس قسم کی کینہ پروری اور بغض و عناد سے بہت  پاک و بالاتر تھی۔ یہ ساری باتیں ان پر بہتان ہیں۔ بلکہ جمع قرآن بعہد صدیقی ؓ و  نقل مصاحف بعہد عثمانیؓ کی روایتیں ہی سرے سے موضوع اور منافقین کی سازشوں کے ماتحت گھڑٰ گئی اور صحیح بخاری و ترمذی و نسائی و مسند احمد وغیرہ میں داخل کر دی گئی ہیں۔ خود امام بخاری و امام ابو عیسیٰ الترمذی و امام نسائی و امام احمد بن حنبل کا دامن تقدس ان روایتوں کی آلودگیوں سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یقننا پاک ہے۔ اور عجب کیا ہے  کہ مجاہد نے بھی ایسا نہ کہا ہو۔ یہ سلیمان الاعمش شیعہ کوفی نے غریب مجاہد پر بہتان باندھا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال اتنی تصریح سے یہ فائدہ ہوا کہ اہل مکہ کے لئے جو قرأت  کا اسکول بنایا گیا تھا اور اس  کا ہیڈ ماسٹر مجاہد بن جبیر کو بنایا گیا تھا اس کا پتہ مل گیا کہ وہ کوفیوں کا ہی ساختہ پرداختہ تھا۔ مجاہد  کے اصل استاد جو طریق کار سکھاتے تھے وہ بھی کوفی ہی تھے اور ان کے شاگرد رشید بھی سب کوفی ہی تھے۔ مجاہد مکہ میں رہتے تھے مگر ان سے قرآن کا فن کوفیوں کی جماعت سیکھتی تھی۔ اہل مکہ میں جو لوگ صحابہ کرام کی اولاد میں تھے یا اکابر تابعین تھے اور  ان کو کونسی ایسی ضرورت پڑی تھی کہ ایک غلام آزاد کردہ سے وہ قرأت سیکھتے۔ اسی لئے آپ اہل مکہ میں ان کے تلامذہ ڈھونڈے گے بھی تو ان میں بھی زیادہ تر  موالی (آزاد کردہ غلام) یا کچھ دیہاتی عوام کو ہی پائیں گے۔ جیسے ابو الزبیر محمد بن مسلم المکی جو بنی سعد کے آزاد کردہ غلام تھے اور کوفہ میں بنی اسد کا  ایک مستقل محلہ تھا جن میں اکثریت شیعوں کی ہی تھی اور یہی محلہ وہاں سازش گاہ تھا۔ اور عبید اللہ بن ابی یزید المکی جو آل قارض بن شیبہ کے آزاد کردہ غلام تھے اور سیف بن سلیمان جو مخزومیوں کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اور عبداللہ بن کثیر الداری القاری جو مجاہد کے خاص شاگرد اور  قرأتی اسکول کے اسسٹنٹ ہیڈ ماسٹر مکہ میں ہیں،  مجاہد [xxiv]کے ساتھ بنے اور مجاہد کے بعد قرأت کی پگڑی انھی کے سر پر باندھ کر  مکی اسکول کا  مستقل ہیڈ ماسٹر  انھیں کو بنا دیا گیا۔ یہ بھی عمرو  بن عقلمۃ الکنانی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اس تفصیل سے آپ  عبداللہ بن کثیر قاری مکہ سے تو پوری طرح واقف ہو گئے۔ اب ان کے شاگرد رشید کا حال بھی سن لیجئے۔

قنبل ان کے تلامذہ حدیث میں تو متعدد ہیں  جن میں بعض ثقہ بھی ہیں۔ مگر قرأت  میں ان کے دو شاگرد قرأت والوں کے نزدیک مشہور ہیں جن میں سے ایک قنبل ہیں۔ ان کا پورا نام و نسب یہ ہے۔ محمد بن عبدالرحمن بن محمد بن خالد بن سعید بن خرجتہ المخزومی المکی مخزومیوں میں سے کسی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ قنبل ان کا لقب تھا۔195  ہجری میں پیدا ہوئے۔ قرأت کا فن  ابوالحسن القواس  وغیرہ سے سیکھا۔ مگر عبداللہ بن کثیر سے ان کا قرآن پڑھنا یا قرأت کا فن حاصل کرنا ائمہ رجال نہیں لکھتے۔ “تیسیر” میں ابو عمرو الدوانی ان کا سال وفات 280ھ  لکھتے ہیں۔ 291ھ ابن حجر نے لسان المیزان میں لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہ اپنی وفات  سے سات برس پہلے کچھ مختل الحواس ہو گئے تھے اس زمانہ اختلال میں ان سے لوگ  قرآن مجید نہیں پڑھتے تھے۔ بہرحال ان کو     ائمہ رجال عبداللہ بن کثیر کا شاگرد نہیں لکھتے۔ ان کے ترجمے میں بھی ابن حجر لکھتے ہیں کہ انھوں نے قرأت کا فن احمد بن محمد بن عون القواس (کمان ساز) النبال ابو الحسن المقری سے حاصل کیا تھا اور قواس  کے ترجمے میں بھی لکھتے ہیں کہ ان سے قنبل نے قرأت حاصل کی تھی مگر قواس صاحب ممدوح نے قرأت کا فن ایک گمنام مجہول الحال شخص ابو الاخریط وہب بن واضح سے حاصل کیا۔ یہ نہ معلوم ہو سکا کہ ان ابو الاخریط  صاحب نے کس سے  قرأت کا فن سیکھا تھا نہ یہ پتہ ملتا ہے کہ یہ کس قبیلے کے رہنے والے تھے۔ لیکن ائمہ قرأت نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر قاری کے دو شاگرد کسی نہ کسی طرح پیش کر دئیے جائیں۔ کیونکہ دو سے زیادہ قرأت کے شاگرد کسی کے بھی مہیا ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ عبداللہ بن کثیر کے دو شاگرد مل نہیں رہے تھے صرف ایک شاگرد رشید ان کے تھے وہ بھی بالواسطہ جن کا نام نامی ابھی آپ کے سامنے آتا ہے۔ اس لئے زبردستی قنبل غریب کو جس نے کبھی آیت  بھی غالبا عبداللہ بن کثیر کو نہیں سنائی ہو گی بلکہ ایک دوسرے کے شاگرد تھے۔ اپنی کتابوں میں ان کو عبداللہ بن کثیر کا شاگرد لکھ دیا، لیکن یہ بھی مخزومیوں کے غلام آزاد کردہ  ہی تھے اور مکہ ہی میں رہتے تھے۔

 

بزی یعنی احمد بن  محمد بن عبداللہ بن  القسم بن البزہ بن نافع بن ابی بزہ۔  جو مکہ معظمہ میں موذن تھے۔ یہ بھی مخزومیوں کے آزاد کردہ غلام تھے ان کا مفصل ترجمہ ابن حجر نے لسان المیزان جلد 1، صفحہ 284 میں لکھا ہے۔ یہ منکر الحدیث، غیر ثقہ، من گھڑت حدیثیں روایت کرنے والے تھے۔ جس کا برتاؤ کے ساتھ یہ ہو کہ جھوٹی باتیں آپؐ کی طرف منسوب کرے وہ قرآن مجیدکا احترام کہاں تک باقی رکھے گا۔ ہر صاحب عقل سلیم سمجھ سکتا ہے۔ انھی من گھڑت روایتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں  نے عکرمہ بن سلیمان سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے اسماعیل بن عبداللہ  بن قسطنطین کے سامنے قرآن مجید پڑھا تو  جب والضحیٰ پر میں پہنچا تو  انھوں نے کہا کہ اللہ اکبر کہو، یہاں سے ہر سورہ کے خاتمہ پر۔ میں نے بھی عبداللہ بن کثیر  کے سامنے قرآن پڑھا تھا تو انھوں نے مجھ سے کہا تھا جب میں والضحیٰ پر پہنچا  کہ تکبیر کہوں یہاں سے ہر سورہ کے اختتام پر۔ اور عبداللہ بن  کثیر نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے مجاہد بن جبیر  کے سامنے جب قرآن پڑھا تھا تو اسی بات کا انھوں نے ان کو حکم دیا تھا اور خبر دی تھی کہ جب انھوں نے یعنی مجاہد نے ابن عباس  کے سامنے  قرآن پڑھا تھا تو انھوں نے بھی مجاہد سے یہی کہا تھا  اور حضرت ابن عباس نے مجاہد سے کہا کہ مجھ کو ابی ابن کعب نے اس کی خبر دی تھی اور ابی ابن کعبؓ نے ابن عباس  سے کہا کہ مجھے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ا س کا حکم فرمایا تھا۔

ابن حجر لکھتے ہیں کہ یہ حدیث غریب اور محدثین نے “بزی” کی اس حدیث سے انکار کیا ہے۔ ابو حاتم نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔ غرض یہ حدیث محدثین اور نقادان حدیث کے نزدیک محض موضوع اور بزی صاحب کی من گھڑت ہے۔ ان کے سوا کوئی بھی اس  کی روایت نہیں کرتا۔ مگر قرأت والوں کے ہاں یہ حدیث معتبر سمجھی جاتی ہے۔ اور اس کو مسنون بلکہ بعضے سنت موکدہ قرار دے کر اس کی پابندی کرتے ہیں خصوصا جو لوگ عبداللہ بن کثیر کی اسناد کے پابند ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔ اور اس کی پابندی یا اس کی حمایت کذب علی الرسول اللہ کی حمایت اور سراسر گمراہی ہے۔ لیکن اس روایت سے یہ بات تو ضرور ثابت ہو گئی کہ یہ بزی صاحب بھی عبداللہ بن کثیر کے بلاواسطہ شاگرد  نہ تھے بلکہ یہ شاگرد تھے اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین کے اور وہ شاگرد تھے عبد اللہ بن کثیر کے۔ مگر یہ اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین کون ہیں اس کا پتہ نہیں مل سکا۔ ابن حجر، امام ذہبی، کسی نے ان کا کچھ بھی ذکر کسی کتاب میں نہیں کیا۔ یہ ابن قسطنطین بھی ابو الاخریط قنبل کے استاد الاستاد کی طرح بالکل مجہول الحال ہیں۔ اسی لئے یاران طریقت  نے قنبل و بزی دونوں کو بالاواسطہ عبداللہ بن کثیر کا شاگرد لکھ دیا کہ جو دیکھے گا صحیح ہی سمجھ لے گا۔ کسی کو کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ کرید کرے گا مگر کسی کو کیا خبر تھی کہ ایک ہزار  برس کے بعد  اللہ اپنے ایک بندے تمنا عمادی کو اس کی توفیق دے گا کہ وہ اس فتنہ موالی کا پردہ چاک کر کے آفتاب قرآن کے چہرہ تاباں سے غبار اختلافات دور کرے۔ وقد قال اللہ عزو جل ان الذین یلحدون فی ایاتنا لا یخفون علینا (41:40)

تو یہ معلوم ہو گیا کہ عبداللہ بن کثیر بھی آزاد کردہ غلام تھے۔ان کے استاد مجاہد بھی مخزومیوں کے غلام تھے     اور ان  کے دونوں شاگرد بھی مخزومیوں کے غلام تھے۔ مکہ ومدینہ زاد ہما اللہ شرفاً دونوں کے عز و شرف کے باوجود دونوں کی قسمت دیکھئے کہ ان دونوں کو امام قرأت ملے  تو موالی (آزاد کردہ غلام) ہی ملے۔ اولاد صحابہ و اکابر تابعین میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جو حرمین شریفین کی امامت قرأت کے منصب کا اہل ہوتا۔ عجمی الاصل یا افاقی غیر قریشی مکہ مدینہ میں رہ کر  ہزار قریشی لب و لہجہ سیکھیں مگر خود قریشیوں کا جو  فطری لب و لہجہ تھا  وہ ان کو  کہاں میسر آ سکتا تھا۔ پھر جو لوگ  بچپن سے بیسیوں بلکہ سینکڑوں صحابہ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنتے آئے تھے اور خود پڑھتے رہے  یہ موالی کبھی ان کو پا سکتے تھے ؟ حاشا و کلا کبھی نہیں۔مگر یہاں تو موالیوں ہی کی سازش کے ماتحت اختلافات قرأت کی تحریک چلائی گئی تھی اس میں اولاد صحابہ و اکابر تابعین کو کس طرح شریک کیا جا سکتا تھا۔ مدینہ میں نافع  اور مکہ میں مجاہد  کوفیوں کے دو ایجنٹ بٹھا دئیے گئے تھے کہ چپ چاپ اپنے پر تکلف  زہد و  ورع کے ذریعے ان جگہوں کے اکابر و اصاغر کے دلوں میں اپنا رسوخ قائم کئے رہیں۔ اکابر سے حدیثیں سنیں اور اصاغر سے صرف حدیثیں بیان کریں۔ قرآن مجید نہ لوگوں سے پڑھیں، نہ ان میں سے کسی کو پڑھائیں۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم اپنے حلقے سے باہر نہ ہو، کیونکہ جو اختلافات پھیلانا ہیں اگر ان کی راز داری آغاز میں نہ کی گئی اور اکابر تابعین و اولادصحابہ پر سازش کا راز کہیں کھل گیا تو  پھر یہ سازش اور اس کے ماتحت  اختلاف قرأت کی تحریک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔

حرمین شریفین کے دونوں سکول قرأت اور ان کے ہیڈ ماسٹر اور اسٹوڈنٹوں کا حال تو آپ کو پوری طرح معلوم ہو گیا اب دوسرے مقامات کے اسکولوں کا بھی معائنہ کر لیجئے۔

 

3۔ابو عمرو بن العلا البصری التمیمی۔ ولادت 68ھ  وفات 154 ھ۔ عمر 86 سال

مودودی صاحب نے سال وفات 155ھ لکھا ہے جو صحیح نہیں ہے اور  بعضوں نے 157ھ لکھ دیا  ہے وہ بھی غلط ہے۔ بہرحال یہ ابو عمرو بن العلاء بن عماد التمیمی بصرے کے رہنے والے تھے۔ ائمہ رجال ان کی توثیق  کرتے ہیں۔ حسب تصریح ابن حجر (تہذیب التہذیب جلد 12 صفحہ 178) انھوں نے حمید بن قیس الاعرج یحیٰ بن یعمر، مجاہد بن جبیر، سعید بن جبیر،  عکرمتہ البریری اور عبداللہ بن کثیر سے قرآن پڑھا تھا  اور ان سے عبدالوارث بن سعید، حماد بن زید، معاذ بن  معاذ، ہارون الاعور، یونس بن حبیب النحوی، یحیٰ بن مبارک الیزیدی، ابو بحر البکراری، خارجہ بن مصعب اور عبدالوہاب بن عطا وغیرہ نے قرآن پڑھا تھا۔ تو اب پہلے ان کے شیوخ  سے تعارف حاصل کیجئے اس کے بعد  ان کے تلامذہ سے بھی مصاحفہ کر لیجئے گا۔

حمید بن قیس الاعرج ابو صفوان المکی الاسدی۔ یہ اسدیوں میں سے کسی کے آزاد کردہ غلام تھے۔ مجاہد سے حدیث  روایت کرتے ہیں۔ مگر ان سے قرآن پڑھنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ کوئی بھی یہ نہیں بتاتا کہ انھوں فن قرأت کس سے سیکھا۔ ان کے ترجمے میں ان کو قاری و مقری بھی نہیں لکھا ہے۔ یہ بھی مذکور  نہیں کہ ان سے ابو عمرو بن العلاء نے قرآن پڑھا تھا۔ ابو بکر عمرو بن العلاء سے 24 برس پہلے 130ھ میں وفات پائی۔

 

یحیٰ بن یعمر  المروزی البصری۔  مرد کے رہنے والے تھے۔ بصرے میں آبسے تھے۔ پھر مرد میں قاضی بھی مقرر ہوئے تھے۔ شراب  منصف پیتے تھے۔ اس لئے معزول کر دئیے گئے تھے۔ بڑے ادیب ماہر عربیت  عالم لغت اور مشہور نحوی تھے۔ حسین بن الولید، ہارون بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ قرآن مجید  پر سب سے پہلے  نقطے[xxv] انھوں نے لگائے۔ نحو میں ابو الاسود الدولی کے شاگرد تھے۔ ان کے سال وفات  میں اختلاف ہے۔ کسی نے 129ھ کسی نے 121ھ کے لگ بھگ لکھا ہے۔ مگر صحیح قول یہ ہے کہ ان کی وفات  89 ھ میں عمرو بن العلاء سے 65 سال پہلے ہوئی تھی اس لئے ان سے عمرو بن العلاء کا پڑھنا ذرا مشکوک ہے۔ خلاصۃ التہذیب صفحہ 429 میں لکھا ہے کہ 90ھ سے پہلے خراسان میں وفات پائی۔ اس لئے 89ھ ہی میں وفات  کی روایت ہی صحیح ہے۔

مجاہد بن جبیر سے تو آپ پوری طرح واقف ہو ہی چکے ہیں کہ وہ مخزومیوں کے آزاد کردہ غلام تھے اور کوفیوں کے ایجنٹ بن کر  مکہ میں اختلاف قرأت کی کچھڑی چپکے چپکے پکا رہے تھے۔ ان کے بعض حالات میں نے وہاں نہیں لکھے تھے وہ کمی یہاں پوری  کر دوں۔ تو بہتر ہے۔ سنئے۔ ان کی تفسیر تو بہت مشہور ہے مگر  ابن حجر تہذیب التہذیب جلد 8، صفحہ 310 میں لکھتے ہیں کہ “مجاہد  سے ان کی تفسیر  قاسم بن ابی بزہ کے سوا  اور کسی نے نہیں سنی تھی۔ جس نے بھی مجاہد کی تفسیر پائی ہے وہ قاسم بن ابی بزہ کی کتاب سے ” اس لئے  بروایت احاد ہی ان کی تفسیر  دوسروں کو ملی ہے۔ اور جلد 10، صفحہ 43 ترجمہ مجاہد میں لکھتے ہیں کہ “ابوبکر  بن عیاش نے اعمش سے پوچھا کہ لوگ مجاہد کی تفسیر سے کیوں پر ہیز کرتے ہیں؟ تو  اعمش نے جواب دیا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اہل کتاب سے پوچھ پوچھ کر تفسیر لکھی ہے۔ مجاہد نے ایک موقع پر کہا تھا  کہ خرج علینا علی یعنی حضرت علیؓ ہم لوگوں کے سامنے آئے۔” یحیٰ بن معین مشہور محدث فرماتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بے اصل بات  ہے  مجاہد  کی روایتیں حضرت علی سے مرسل ہیں۔ مجاہد  حضرت سعدؓ، حضرت معاویہؓ، حضرت کعب بن عجرہؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بھی جو روایت کرتے ہیں وہ مرسل ہیں۔ اسی طرح ابو سعید خدری اور رافع بن خدیج سے بھی بلاواسطہ ان کی روایتیں صحیح نہیں ہیں۔ اور  سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیشاب کر کے پاکی نہیں لیتے تھے۔ ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان مدلس ہونا معلوم ہے اس لئے اگر عن فلاں عن فلاں کر کے بھی کسی حدیث کی روایت کریں تو ان کے سلسلہ اسناد کا  فی الواقع ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ تدلیس سے کام لیا ہو۔ اب وہاں کی اور یہاں کی سب باتیں ملا کر مجاہد کے حالات پر غور فرما لیجئے۔

سعید بن جبیر  بن ہشام الاسدی جو اسدیوں کے آزاد کردہ غلام تھے، کوفی تھے۔ ابن الاشعث کے ساتھ خلیفہ وقت عبدالملک  بن مروان کے خلاف باغیانہ خروج کیا تھا۔ ابن الاشعث کو جب شکست ہوئی تو یہ بھاگ نکلے اور ادھر ادھر چھپتے پھرے۔ بالآخر ایک مدت بعد  مکہ معظمہ میں گرفتار ہوئے۔ حجاج بن یوسف والیِ عراق کے پاس لائے گئے۔ حجاج نے پہلے وہ احسانات جتائے جو ان کے ساتھ کئے تھے۔ انھوں نے قبول کیا کہ بے شک مجھ پر احسانات ہیں، تو خروج کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم بیعت کر چکے تھے اس لئے مجبور ہو گئے۔ حجاج نے کہا امیر المومنین کی بیعت کا حق پورا کرنا مقدم تھا یا باغی کی بیعت کا حق پورا کرنا؟ ان کے پاس کچھ جواب نہ تھا۔ آخر 95ھ میں 49 برس کی عمر  میں مارے گئے۔ مگر بڑے محدث اور ثقہ سمجھے جاتے ہیں مگر تھے یہ بھی بنی اسد کے آزاد کردہ غلام اور کوفی۔ یہ بھی ایک بات سمجھنے کی ہے کہ جن جن لوگوں کو بغاوت یا فتنہ و فساد  کے سبب حجاج نے قتل کیا تھا  ان لوگوں کو اہل کوفہ نے بہت بڑھایا ہے کہ ایسے تھے ویسے تھے۔ پھر بھی ان کے علم و فضل کا کچھ لحاظ نہ کیا اور حجاج نے انھیں قتل کر دیا۔ اور پھر باہر والوں نے بھی اہل کوفہ کی ہاں میں ہاں ملائی۔ حقیقت یہ ہے کہ الفتنہ اشد من القتل۔ عراق فتنہ پردازوں سے بھرا ہوا تھا اور کوفہ ان کا اصل مرکز تھا۔ یہ موقع اس کا نہیں کہ ہم کوفہ کی سازشوں اور وہاں کے فتنوں پر بحث کریں انشاء اللہ کبھی موقع ملا تو  اس پر مستقل طور سے قلم اٹھاؤں گا۔ اس وقت تو ہمیں فقط یہ دکھانا ہے کہ اختلاف قرأت  کی تحریک سازش کا نتیجہ تھی اور عجمی الاصل غلاموں ہی نے  یہ تحریک اٹھائی اور انھیں کے ہاتھوں پروان چڑھی۔ اور کوفہ میں اس تحریک کا  خاص مرکز تھا۔ سعید بن جبیر چاہے محدثین کے نزدیک کتنے ہی بڑے محدث اور ثقہ ہوں مگر تھے عجمی الاصل ایک آزاد کردہ غلام۔ اور پھر کوفی بھی۔ مگر ان کے ترجمے میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ قاری  یا مقری تھے۔ مگر اصطلاحی قاری نہ سہی لغوی حیثیت سے ہر محدث کو  قاری و مقری ہونا چاہیے اور عام اصطلاح کے اعتبار سے تو قاری حافظ قرآن کو کہتے تھے۔ اور ہر محدث حافظ قرآن ضرور ہوتا تھا۔ جس کو قرآن یاد نہ ہو وہ حدیث کیا یاد کرے گا۔ مگر کسی نے یہ بھی نہیں لکھا کہ ابو عمرو بن العلاء نے یا کسی اور نے ان سے قرآن پڑھا تھا یا قرأت کا فن سیکھا تھا۔ اور نہ قرین قیاس  ہے کہ ابو عمرو بن العلاء کو ان سے قرآن پڑھنے کا وقت ملا ہو کیونکہ عبدالرحمن بن الاشعث نے 14 جمادی الاخر 83 ھ کو شکست کھائی تھی۔ 83 ھ سے یہ برابر  روپوش رہے اور 95 ھ میں مارے گئے۔ ابو عمرو العلاء کی پیدائش 68ھ کی ہے۔ ابن الاشعث کی شکست کے وقت  ابو عمرو پندرہ برس کے تھے۔ بلکہ حجاج بن یوسف نے سیستان کی مہم پر عبداللہ بن ابی بکرہ کی مدد کے لئے 72ھ میں بیس ہزار بصریوں کی فوج اور بیس ہزار کوفیوں کی فوج لے کر عبدالرحمن بن الاشعث کو  سیستان کی طرف بھیجا تھا۔ کوفیوں کی اسی فوج میں سعید بن جبیر بھی تھے۔ اس مہم سے واپسی سے قبل ہی اسی سال عراقیوں نے ابن الاشعث کی سرکردگی میں خلافت سے بغاوت کی اور عبدالرحمن بن الاشعث کو  خلیفہ تسلیم کر کے ابن الاشعث کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس بیعت میں سعید بن جبیر بھی شریک تھے۔ اسی بیعت کا ذکر سعید بن جبیر نے اپنے قتل کے دن حجاج کے سامنے کیا تھا۔ غرض سعید بن  جبیر 72 ھ سے پہلے بڑے محدث ہوں گے مجھ کو اس سے انکار نہیں مگر وہ 72ھ سے سرگرم سیاست اور مرد میدان بغاوت رہے۔72ھ میں ابو عمرو بن العلاء چار برس کے تھے۔ اور 72ھ سے 95 ھ تک یعنی آغاز جہاد  پھر ابتدائے بغاوت، پھر شکست، پھر روپوشی، پھر قتل تک 23 برس کی مدت میں کچھ حدیثوں کی روایت کا  موقع مل سکتا تھا۔ مگر اس کا موقع ملنا ممکن نہ تھا کہ وہ کسی کو پورا قرآن فن قرأت کے ماتحت ایک جگہ بیٹھ کر پڑھاتے۔ اسلئے سعید بن جبیر سے ابو عمرو بن العلاء کا قرآن پڑھنا اور فن قرأت  سیکھنا بالکل ناممکن ہے۔

عکرمۃ البربری یہ عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے اور مشہور محدث و مفسر تھے۔ حضرت ابن عباس کے شاگرد تھے۔ مگر یحیٰ بن سعید الانصاری عکرمہ کو کذاب کہتے تھے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر اپنے غلام نافع سے کہتے تھے کہ جس طرح عکرمہ جھوٹی باتیں ابن عباس کی طرف منسوب کیا کرتا ہے اسی طرح تم بھی مجھ پر جھوٹی باتیں نہ لگایا کرو۔امام مالک عکرمہ کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ آخر میں خوارج کا مسلک عکرمہ نے اختیار کر لیا تھا۔ پہلے ریاضیہ بنے جو خوارج کا کسی قدر معتدل فرقہ تھا۔ اس کے بعد صفریہ بنے جو غالی و متعصب فرقہ تھا۔ ایک بار کچھ لوگوں میں عکرمہ نے کہا کہ ” ایک دن ابن عباس  نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی لم تعظون قوما اللہ مھلکم او معذ بھم عذاباً شدیدا (سورہ اعراف) اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ قوم ہلاک ہو گئی یا اس کو نجات بخشی گئی۔ (عکرمہ کہتے ہیں کہ) میں ان کو سمجھاتا رہا یہاں تک کہ وہ سمجھ گئے کہ اس قوم نے نجات پائی۔ تو ابن عباس نے (خوش ہو کر) مجھ کو پوشاک پہنائی۔ (تہذیب التہذیب جلد 7 صفحہ 265)۔ یہ سراسر افتراء اور بہتان ہے ابن عباس پر  اور اس روایت سے حضرت شعبہ کے اس قول کی بھی تصدیق ہوتی ہے جو انھوں نے سفیان ثوری سے کہا تھا کہ کلما تقدمتم فی الحدیث تاخر تم عن القرآن جہاں تک تم حدیث میں آگے بڑھو گے وہاں تک قرآن سے پیچھے ہٹتے جاؤ گے۔یعنی جن لوگوں کے سامنے عکرمہ نے یہ کہا تھا ان میں سے کسی کو بھی قرآن مجید یا کم سے کم سورہ اعراف کا  اکیسواں رکوع یاد نہ تھا کہ وہ عکرمہ کو جھٹلاتا۔ اور نہ راوی کو یہ توفیق ہوئی کہ عکرمہ سے حکایت نقل کرنے سے پہلے قرآن مجید میں یہ آیت دیکھ لیتا۔ یہاں تک کہ حافظ ابن حجر نے بھی اپنی کتاب میں یہ روایت نقل کرتے وقت قرآن مجید کی پوری آیت  پر  غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔ سورہ اعراف کا اکیسواں رکوع اسکی کی ایک سو تریسٹھویں آیت سے شروع ہوتا ہے اور ایک سو چھیاسٹھویں آیت پر بنی اسرائیل کی تین جماعتوں کے حالات ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ چار آیتیں معہ ترجمہ حسب ذیل ہیں۔

و سئلھم عن القریۃ التی کانت  حاضرۃ البحر اذ یعدون فی السبت ا ذ تاتیھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔کونوا قردۃ خاسئین۔

اور تم بنی اسرائیل سے اس بستی کا حال پوچھ لو جو سمندر کے کنارے آباد تھی۔ جب سنیچر(کے دن مچھلیوں کے شکار سے ممانعت کے بارے ) میں زیادتیاں کر رہے تھے کہ جب ان ان کے سنیچر کے دن مچھلیاں ان کے سامنے تیرتی جمع ہو جاتی تھیں اور جب سنیچر کا دن نہیں ہوتا تھا تو مچھلیاں نہیں آتیں۔ ہم ان کو ان کی بدکرداری کی وجہ سے آزماتے رہے اور جب ان میں سے ایک جماعت نے (ان کی دوسری جماعت کو) کہا کہ تم لوگ  ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا کسی سخت عذاب میں مبتلا کر دینے والا ہے تو ان نصیحت کرنے والوں نے کہا کہ ان کے رب کے آگے عذر کرنے کے لئے اور شاید یہ لوگ  اللہ سے ڈریں۔ تو جب وہ نصیحتیں جو ان کو کی گئی تھیں وہ لوگ بھول گئے تو جو لوگ انھیں برائی سے روکتے تھے ہم نے ان کو بچا لیا۔ اور ظالموں کو ہم نے ان کی بدکرادری کے سبب سے ایک خوفناک عذاب میں مبتلا کر دیا۔ تو جب سرکشی کی انھوں نے اور نہ مانی وہ بات جس سے منع کئے گئے تھے تو ہم نے کہا کہ ہو جاؤ ذلیل و رسوا بندر۔

حضرت داؤد علیہ سلام کے زمانے میں بنی اسرائیل تین جماعتوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک جماعت سرکش اور نافرمان تھی اور دو جماعتیں مومنین تھیں۔ مگر مومنین کی دو جماعتوں میں سے ایک جماعت نے سرکشوں سے ترک موالات کر کے بالکل علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایک جماعت ان سرکشوں کے ساتھ رہتی تو تھی لیکن ان کو واعظ و نصیحت کرتی رہتی تھی۔ بنی اسرائیل کو سنیچر کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا گیا تھا۔ ان  کی بستی سمندر کے کنارے پر واقع تھی۔ مچھلی کے شکار کے یہ عادی تھے۔ ان کی آزمائش کے لئے سنیچر کے دن ان کو ہر طرف مچھلیاں ہی مچھلیاں ملتی تھیں اور سنیچر گزرا اور ایک مچھلی پر بھی نظر نہیں پڑتی تھی۔ ان لوگوں نے حیلہ سازی کی کہ سنیچر کے دن سمندر کے قریب ایک گڑھا کھود کر پانی بھر کر مچھلیوں کو ان میں ہنکا  کر جمع کر لیتے اور اتوار کو خوب کھاتے۔ جو مومنین ان کے ساتھ رہتے تھے تو وہ مومنین جو ترک موالات کر چکے تھے وہ ان وعظ و نصیحت کرنے والی جماعت مومنین سے کہتے تھے کہ تم لوگ ایسی قوم کو کیا نصیحت کرتے ہو؟ جو اللہ کے عذاب میں پڑنے والے یا ہلاک ہونے والے ہیں۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم ان کے ساتھ کیوں ہیں اس لئے کہ ان کے رب کے آگے عذر پیش کرنے کے لئے کہ ہمارا مقصد ان کے ساتھ اسی قدر تھا کہ ان کو واعظ و نصیحت کرتے رہنے کا موقع ملے اور ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں اور پھر یہ امید کرتے ہیں کہ یہ سب نہیں تو ان میں سے کچھ ہی سہی اللہ سے ڈریں اور اپنی بد کرداریوں سے توبہ کریں۔

مگر جب باوجود وعظ و نصیحت  اور احکام خداوندی کی یاددہانی، عذاب الٰہی و باز پرس آخرت سے تحویف کے وہ سرکش اپنی بدکرداری سے باز نہ آئے تو اللہ نے ان نصیحت کرنے والے مومنین کو اس عذاب سے بچا لیا اور وہی لوگ اس عذاب میں پڑے جو اپنی جانوں پر آپ  ظلم کر رہے تھے۔ وہ کون سا خوفناک عذاب تھا اس کو بھی بتا دیا  کہ وہ بندروں کی فطرت میں مسخ کر دئیے گئے۔

ان تین جماعتوں میں سے جو مومنین ان ظلاموں سے ترک موالات کر کے الگ ہو چکے تھے ان کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی کہ وہ بھی عذاب سے محفوظ رہے۔ وہ کیوں عذاب میں مبتلا ہوتے ؟ نہ ان میں بدکرداری تھی نہ وہ بد کرداروں کے ساتھ تھے۔

البتہ جماعت مومنین مخلصین میں سے وہ لوگ  جو ان بد کرداروں کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے مگر ان کی بد کراداری میں شریک نہ تھے بلکہ ان کو بد کرداریوں سے روکتے تھے، منع کرتے اور سمجھاتے تھے۔ خطرہ اگر تھا تو ان کے متعلق کہ ایسا نہ ہو کہ عذاب آئے تو بد کرداروں کے ساتھ نیک کردار لوگ بھی اس میں مبتلا ہو جائیں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ تو بتا دیا گیا کہ ایسا نہیں ہوا، ہم نے ان نصیحت کرنے والے مومنین کو بچا لیا۔عذاب الٰہی یعنی  بندر کی فطرت میں مسخ ہونے  میں وہی لوگ مبتلا ہوئے جو بد کردار تھے۔

کس قدر صاف اور واضح چار مسلسل آیتیں ہیں۔ تینوں جماعتوں کا حال روز روشن کی طرح واضح ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کو کس جماعت کے متعلق یہ خیال ہوا کہ “معلوم نہیں ان کا کیا حشر ہوا، وہ عذاب میں پڑے یا ان کو نجات ملی؟” یہ سوال ان کے ذہن میں کس جماعت کے متعلق پیدا ہوا ہو گا۔ فاسقین کا بائیکاٹ کرنے والے مومنین کے متعلق تو نہیں ہو سکتا تھا۔ یقیناً فاسقین کے متعلق پیدا ہوا ہو گا یا ان مومنین کے متعلق جو فاسقین کے ساتھ رہ کر ان  کو وعظ و نصیحت کرتے رہتے تھے۔ تو دونوں کے متعلق صاف اعلان ہے کہ وعظ و نصیحت  کرنے والے مومنین کو بچا لیا گیا  اور ظالموں کو مسخ کر دیا گیا۔ پھر یہ سوال کیسا؟ اصل یہ ہے کہ عکرمہ صاحب کو قرآن مجید حفظ تو تھا نہیں۔ نہ قرآن مجید کی تلاوت کا معمول رکھتے تھے۔ درمیان آیت کا ایک ٹکڑا ذہن میں آ گیا۔ مجمع تھا عوام کا، اس کے متعلق  ایک بات بنا کر  عوام کے سامنے  کہہ دی جس سے اپنی بڑائی ظاہر ہو۔ مگر تعجب ہے کہ حافظ ابن حجر نے ان روایات کو  ان آیات سے ملا کر کیوں غور نہیں کیا اور اس روایت کی تکذیب کیوں نہ کی۔ اس کا سبب وہی روایت پرستی ہے، اس کی مثال اور بھی ملتی ہے اور مجھے یاد ہے کہ محدثین بعض اوقات روایت لکھ لیتے ہیں مگر قرآن مجید کی آیت سے ملا کر غور نہیں کرتے۔ باوجودیکہ خود رسول اللہ کا حکم تھا  کہ جو حدیث ہم سے روایت کی جائے اس کو قرآن کے سامنے پیش کرو۔ قرآن کے مطابق ہو تو قبول کرو ورنہ رد کر دو۔تو جب اقوال منسوب برسول کو بغیر قرآنی کسوٹی پر کَسے قبول کرنا جائز نہیں تو آثار و صحابہ  کو بغیر قرآنی کسوٹی پر کسے کس طرح محدثین و مفسرین قبول کرتے رہے۔ تعجب ہی تعجب ہے۔

ان حالات میں جن لوگوں نے عکرمہ بربری جو حضرت ابن عباسؓ کے غلام تھے، جن کو حضرت ابن عباسؓ نے اپنی زندگی میں آزاد بھی نہیں کیا تھا  اگر ان کو یحیٰ بن سعید الانصاری بعض ائمہ رجال نے کذاب لکھا اور  امام مالک ان سے بیزار رہتے تھے تو کیا غلط تھا؟

اور عکرمہ کو کسی نے بھی قاری و مقری نہیں لکھا۔ نہ ان کے ترجمے میں کہیں مذکور ہے کہ ان سے ابو عمرو بن العلاء یا کسی نے بھی قرآن پڑھا تھا۔ اس لئے ان سے بھی ابو عمرو بن العلاء کا فن قرأت  سیکھنا  صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ عکرمہ کی وفات  کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ خود ان کی بیٹی کی روایت 100ھ کی ہے ورنہ کسی نے 105ھ کسی نے 106ھ کسی نے 107ھ اور کسی نے 110ھ کہا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

عبداللہ بن کثیر یہ ضرور قاری  و مقری تھے اور کوفیوں ہی کے قائم کردہ اسکول قرأت  جو مکہ معظمہ کے کسی گوشے میں تھا  اس کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ممکن ہے کہ ابو عمرو ابن العلاء نے انھیں سے قرأت کا فن حاصل کیا ہو اور بصرے کے قاریوں نے ان کے اساتذہ کی ایک فہرست بنا رکھی ہو جس کے مطابق  ابن حجر  نے ان کے ترجمے سے اپنی کتاب میں وہ فہرست  درج کر لی۔ ان کو کیا پڑی تھی کہ خوامخواہ اس کی کرید کرتے کہ یہ فہرست صحیح ہے یا نہیں۔ قاریوں میں سے ان کے متقدمین نے اپنے یا اپنے شیوخ کے متعلق جو کچھ ائمہ رجال سے بیان کیا انھوں نے اس کو لکھ لیا کہ”اہل بیت  ادری بما فیۃ” قرأت کے اسکول کا حال یہ قراء ہی ہم سے زیادہ جانتے ہیں جو ان اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر یا یا کسی درجے کے ٹیچر یا  اسٹوڈنٹ ہیں یا رہ چکے ہیں۔ اسلئے اپنے متعلق یا اپنے متقدمین کے متعلق جو کچھ قاریوں نے بتایا ائمہ رجال نے لکھا۔ ابن حجر  کا اس بناء پر کوئی قصور نہیں ہے کہ انھوں نے ابو عمرو بن العلاء کے شیوخ میں ایسے لوگوں کے نام کیوں لکھ دئیے جن سے ان کا قرآن پڑھنا مستبعد ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب عبداللہ بن کثیر  کے خاص شاگرد  بلاواسطہ ابو عمرو بن العلاء تھے تو پھر  عبداللہ بن کثیر کے جانشین اور ان کی قرأت کے راوی دوسری جگہ سے مستعار کیوں لئے گئے ؟ ابو عمرو بن العلاء ہی نہیں بلکہ مکہ کے رہنے والے شبل بن عباد المکی بھی عبداللہ بن کثیر  کے شاگرد تھے اور شجاع بن ابی النصر البلخی ابو النعیم المقری نے بھی قرأت  کا فن عبداللہ بن کثیر سے سیکھا تھا۔ لیکن شجاع اور  شبل یہ دونوں کسی کے آزاد کردہ غلام نہیں تھے۔ قرآن پڑھنے کے لئے آئے سیدھا سا قرآن، جس طرح سب مسلمان پڑھتے تھے پڑھا دیا گیا۔ ان کو وہ اختلافات کا گُر نہیں بتا سکتے تھے۔ اور ان آزادوں پر اتنا اعتماد بھی نہ تھا کہ یہ دونوں سازش میں شریک ہوں گے اس لئے جانشینی کے قابل نہ تھے۔ اور ابو عمرو بن العلاء خود بصرے کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر بنائے گئے تھے۔ وہاں سے لا کر مکہ کے ا سکول میں ان کو بٹھا دیا جاتا  تو پھر  بصرے  کے لئے کسی کارآمد دوسرے آزاد کردہ غلام کی تلاش کرنا پڑی اور سازش میں شریک ہونے والے قابل اعتماد  لوگوں کا زیادہ ملنا کچھ آسان نہ تھا۔ اس لئے مستعار ہی سہی۔ کام چلانے کے لئے ایک شاگرد کے شاگرد کو پکڑ لیا گیا اور  ایک دوسرے شاگرد کو  مستعار لے لیا گیا۔ اور اس طرح مکہ و بصرہ دونوں جگہ کے اسکول چالو بنا لئے گئے۔

٭٭٭

ٹائپنگ: ظہیر اشرف

پروف ریڈنگ، ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


[i] والد صاحب اور قاری صاحب کے باہم  گہرے روابط اور ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا، انڈیا کے زمانہ سے ہی تھا۔ یہی وہ قدیم تعلق تھا جس کی وجہ سے حضرت قاری صاحب نے اپنی دوسری اہلیہ محترمہ کو قرآن کی تصحیح کے لئے والدہ محترمہ (اطال اللہ بقائہا) کے پاس مکی مسجد بھیجنا شروع کیا۔

حضرت قاری صاحب کے استاد قاری محی الاسلام صاحب اور  والد محترم کے استاد  قاری عبداللہ صاحب  ایک ہی استاد قاری عبد الرحمن صاحب کے شاگرد تھے بلکہ کچھ عرصہ قاری محی الاسلام صاحب نے قاری  عبداللہ صاحب سے بھی پڑھا تھا۔ ان حضرات کے استاد قاری عبدالرحمن صاحب، قاری عبدالرحمن صاحب محدث پانی پتی کے شاگرد تھے۔ والد صاحب نے درس نظامی کی فراغت  خیر آبادی سلسلہ کے مولانا معین الدین اجمیری سے کرنے کے بعد  قرأت کی تکمیل دہلی میں کی۔ والد صاحب کی سند قرأت جو  پمفلٹ کی شکل میں مطبوعہ ہے اور حادثات زمانہ سے بچ گئی ہے اس پر قاری محی الاسلام صاحب اور کئی شیوخ ازہر کے جو اس  زمانہ میں  دہلی آئے ہوئے تھے، دستخط ہیں۔

[ii] خود علامہ تمنا کے ارشاد کے مطابق  اور علامہ کے شاگرد  مولانا اسد القادری کی تحریر کے مطابق  درس و تدریس کا زمانہ چودہ پندرہ سال پر محیط ہے۔ اور اس دوران  ابتدائی  کتابوں سے انتہائی کتابوں تک سب کا درس دیا۔ (طاہرؔ)

[iii] یہ مصرعہ مضمون نگار کے سہو قلم نے کچھ سے کچھ بنا دیا ہے۔ شاید اصلی مصرعہ یوں ہو “شکوہ غیر جدا، شکوہ احباب جدا”

[iv] خود علامہ تمنا کے ارشاد کے مطابق  (جیسا کہ مولانا ظفر احمد عثمانی کے نام خط  میں انھوں نے تحریر کیا ہے )  تصوف اور  اس کی رسوم سے علامہ کے بُعد کی وجہ کتب سیرت رسول  اور سیرت اصحاب رسول کا غیر جانبدار مطالعہ تھا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ایک خاندانی پیر گھرانے کے فرد کے لئے صوفیانہ رسوم سے فائدے ہی فائدے تھے۔ (طاہرؔ)

[v] یہ نتیجہ تو بہت مبارک تھا  اسے تکلیف دہ حد تک غلو کہنا بڑی زیادتی ہے۔ تحقیق حق میں اگر کوئی شخص اپنے خاندانی یا علمی اکابرین یا فرقہ کی تقلید سے آزاد نہ ہو تو  وہ تحقیق کر ہی نہیں سکتا۔

[vi] علامہ تمنا خود محترم مقالہ نگار کے ارشاد کے مطابق  حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے یعنی ہندی محاورے کے مطابق سید تھے۔ لہذا حضرت علی  اور حضرت حسین ان کے جد امجد تھے۔ پھر صحابی تھے۔ اور علامہ کا مسلک تو اول تا آخر اسوہ صحابہ کی تعمیل تھا جسے وہ قرآنی اصطلاح میں سبیل المومنین کہا کرتے تھے اور اس عنوان پر انھوں نے باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی۔ لہذا اگر وہ صحابہ کرام کی اکثریت کے مقابلے میں اپنے اجداد کی ایک آدھ خطا اجتہادی کا اعتراف کرتے تھے تو  یہ ان کی حق شناسی کا بہت بڑا ثبوت ہے نہ کہ تکلیف دہ حد تک غلو کا ۔ اگر ام المومنین سیدہ عائشہؓ  ، حواری رسول سیدنا  زبیرؓ  اور  سیدنا معاویہؓ  اور سیدنا عمرو بن العاصؓ  کی خطا اجتہادی پر زور دینا اور اس کا پراپگینڈا کرنا  بلکہ اسے عقیدہ بنا لینا جرم نہیں ہے تو  سیدنا علیؓ و حسینؓ کی کسی خطا اجتہادی  کا بننا کیوں جرم ہو ؟ کیا ام المومنین سیدہ عائشہ اور حواری رسول سیدنا زبیر کی خطائے اجتہادی کا تذکرہ کرنے والے بھی “تکلیف دہ حد تک غلو” کے مرتکب کہلائیں گے یا ان کے خطاء اجتہادی کا ذکر کرنا جرم نہیں ہے ؟ حضرت !  اگر اصول ہو تو سب  کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ ورنہ صحابہ کرام میں سے کچھ کے لئے معیار جدا ہو  اور کچھ دوسروں کے لئے جدا معیار ہو یہ طرز عمل اصول اور عدل کے خلاف ہے اور فی الحقیقت “تکلیف دہ حد تک غلو”  یہ طرز عمل ہے ناکہ علامہ تمنا  کی اصول پسندی جس کی وجہ سے تمام صحابہ کرام کو ایک نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ (طاہر)

[vii] محترم مقالہ نگار کا یہ فیصلہ بھی انتہا پسندانہ ہے۔  عباسی مرحوم کی یہ کتاب  نہ اس قدر بری ہے جیسا کہ مقالہ نگار کا ارشاد ہے نہ ایسی غیر معمولی جیسا کہ اس کتاب کے معتقدین سمجھتے ہیں۔ اگر محترم مقالہ نگار اس کتاب کو اس حد تک بدترین سمجھتے ہیں تو انھیں کسی مختصر مقالہ میں ہی سہی اس کتاب کی علمی تنقید کرنا چاہیے تھی۔  جذباتی انداز کے الزامات نامناسب ہیں۔

[viii] ابوالاسود  نے اپنی سمجھ  اور اپنی واقفیت کے مطابق  بغیر کسی معتمد علیہ جماعت  کے مشورے اور استصواب کے اعراب لگا دئیے۔ یہ بصرہ کے رہنے والے اور یہاں کے قاضی بھی تھے اور شیعہ تھے۔ ابن حجر نے تہذیب التہذیب جلد 12 ص 10 میں ان کا ذکر کیا ہے مگر یہ نہیں لکھا کہ انھوں نے قرآن مجید پر اعراب لگائے تھے یہ بھی لکھا  ہے کہ استعیاب میں ان کا ذکر ہے مگر استعیاب مطبوعہ حیدر آباد دکن میں ان کا کہیں ذکر نہیں۔ ان کا نام “ظالم” تھا جیسا کہ ابن حجر نے لکھا ہے۔

[ix][ix] وہ دو علماء کون تھے ؟  کچھ معلوم نہیں۔ اتنا بڑا اہم کام جو پہلے پہل کیا جائے اور ایسے گمناموں کے سپرد کیا گیا  جن کو کوئی جانتا ہی نہیں کہ وہ کون تھے ؟ ادھر تنہا ابو الاسود  اعراب لگائیں اور ادھر دو گمنام عالم پہلے پہل قرآن پر نقطے لگائیں۔ اپنے زمانے کے اکابر  علماء اور مشاہیر  ائمہ دین سے کوئی صلاح مشورہ نہ ابوالاسود نے لیا نہ ان دونوں نے لیا۔ دکھلانے کے لئے تو ان روایتوں سے بظاہر  (قرآن مجید کی اہمیت  اور صحت ثابت کی گئی ہے مگر بباطن غور کرنے والے کو قرآن مجید کی صحت  کی طرف  سے پوری طرح مشتبہ ہو جانے کا سامان کر دیا۔ واقعی ان تاریخی حقیقتوں کے گھڑنے والے اپنے فن میں بڑے ماہر تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ  کوفہ اور بصرہ  حضرت فاروق اعظمؓ کے  وقت ہی سے مفسدوں کا مرکز تھے، خصوصاً کوفہ۔  یہ موقعہ اس کی تفصیل کا نہیں ہے۔ بڑے ہٹ دھرم، بڑے شورہ پست لوگ  یہاں تھے جو تابعین و تبع تابعین کا لبادہ اوڑھے رہتے تھے۔ تنگ آ کر خلیفہ وقت نے وہاں ان کی سرکوبی کے لئے حجاج کو بھیج دیا۔ حجاج نے وہاں ہر مشتبہ شخص  کو سزائیں دینا شروع کیں، کسی کو قتل کیا، کسی کو کوڑے مارے،  کسی کو قید کیا۔ اس لئے کوفی اور بصری دونوں ان سے خفا رہے۔ بصریوں نے اشعث کی سرکردگی میں اس پر خروج بھی کیا تھا  مگر شکست کھائی۔ باغیوں میں قاریوں کی خاص جماعت تھی۔ سعید بن جبیر بھی انھی باغیوں میں تھے اگرچہ یہ کوفی تھے۔ اشعث کی شکست کے آثار دیکھ کر بھاگ نکلے اور مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ وہاں چھپے رہے۔کچھ مدت بعد وہاں کے والی خالد بن عبداللہ القشری نے ان کو پا لیا اور گرفتار کر کے حجاج کے پاس بھیج دیا۔ حجاج نے پوچھا تمھیں بغاوت پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ انھوں نے کہا میں بعیت کر چکا تھا (یعنی اشعث کے ہاتھ پر)  حجاج نے کہا کہ امیر المومنین کی بیعت  وفاداری کی زیادہ مستحق تھی یا باغیوں جمعیت ؟  اس کے بعد قتل کا حکم دے دیا۔ غرض کوفیوں نے ہی بصرے میں بغاوت کی سازش کی تھی اور بصرے والوں کو خروج پر آمادہ کیا تھا  اس لئے سعید بن جبیر  جو بنی اسد کے آزاد کردہ غلام تھے اور متعدد  کوفی بصریوں کے ساتھ  اس بغاوت  میں شریک ہوئے۔ کوفہ میں بنی اسد کا ایک محلہ تھا جس میں ننانوے فیصد شیعہ تھے اور زاذان ابو عبداللہ کندیوں کے آزاد کردہ غلام تھے اور کوفی تھے۔ طاؤس بحیر بن  ریسان کے غلام تھے جو ہمدانیوں کی غلامی میں آ کر آزاد ہوئے۔ آزادی سے قبل کوفے میں تھے۔ آزاد ہو کر بصرہ چلے آئے تھے۔ ابراہیم نخعی بھی کوفی ہی تھے۔ مجاہد بن جبیر  سائب بن ابی السائب کے غلام، آزاد کردہ تھے مکہ معظمہ میں عطر فروشی کرتے تھے اور کوفیوں کے مستقل ایجنٹ تھے۔ ان کے یاران طریقت نوے فیصد کوفی ہی تھے۔ ان کا ذکر قاریوں کے سلسلہ میں آئے گا۔ عاصم بن ابی النجود  کوفی تھے اور قاریوں کے استاد اختلاف قرأت کے بڑے بڑے کارخانے کھول رکھے تھے۔ عامر بن  شراحیل الکوفی ان کا لقب شعبی مشہور ہے۔کوفہ کے بڑے مشہور محدث تھے۔ حضرت علی طرف  فرائض کے بہت  سے مسائل بنا بنا کر  منسوب کیا  کرتے تھے حالانکہ ان سے کچھ سنا بھی نہ تھا ۔ بہت سے صحابہ سے روایت کرتے تھے مگر ان میں سے کتنے ایسے تھے جن سے کبھی کچھ سنا نہ تھا  لیکن محدثین کے نقطہ نظر  سے بہت بڑے عالم  اور اپنے وقت کے عبداللہ بن عباس تھے۔ بہرحال رحمہ اللہ تعالیٰ۔  لیکن یہ معلوم ہو گیا کہ حجاج پر کفر کا فتوی دینے والے سب کے سب کوفی تھے یا  کوفیوں سے تعلقات رکھنے والے اور ان میں بہت بڑی اکثریت  غلاموں کی تھی اس وقت حجاج کی صفائی میرا مقصود نہیں ہے، صرف صورتحال میں نے پیش کر دی ہے تاکہ اہل انصاف کو غور کرنے کا موقع ملے۔ (تمنا)

[x] مبین کا اصل مفہوم تو یہی ہے کہ آیات قرآنی کے الفاظ،  اس کے جملے، اسکی عبارتیں اپنے مفہوم کو واضح طور سے ظاہر کرتی ہیں مگر وہ الفاظ وہ جملے اور وہ عبارتیں اس کے لئے مبین ہوتے ہیں جس کے پاس پہنچتی ہیں نہ کہ خود اپنے لئے۔ تو دوسروں تک دو ہی ذریعے سے پہنچ  سکتے ہیں۔ زبان کے ذریعے قولاً یا قلم کے ذریعے کتابتاً، قولاً نا پائیدار ذریعہ ہے۔ اور کتابتاً پائیدار ذریعہ ہے۔ اسی لئے آنحضرت  نازل شدہ آیات و سورۃ کی صرف زبانی تعلیم نہیں فرماتے تھے بلکہ لکھوا دیا کرتے تھے اور صحابہؓ اس کی نقلیں اپنے پاس بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ آگے اس کی بحث کی گئی ہے۔ (تمنا)

[xi] ترجمہ:حجاج کے متعلق زاذان نے کہا ہے کہ  دینی حیثیت سے یہ شخص  مفلس تھا  طاؤس نے کہا  جو اس کو مومن کہتا ہے مجھ کو اس پر تعجب ہوتا ہے اور ایک جماعت نے اس کو  کافر قرار دیا جن میں سعید بن جبیر نخعی، مجاہد، عاصم بن ابی نجود اور شعبی وغیرہ تھے۔ قاسم بن مخمیرہ نے کہا  کہ حجاج نے تو اسلام کی دھجیاں  اڑا کر رکھ دیں تھیں۔

[xii] ابو الفتح عثمان بن حبنی النحوی الموصلی المتوفی 392ھ۔ (مراۃ الجنان) تمنا۔

[xiii] ابو الفرج محمد بن اسحاق الندیم مصنف کتاب “الفہرست” المتوفی 385ھ  مگر یہ غالی شیعہ تھے۔ تمنا۔

[xiv] ہو گئے ہوتے کی ایک ہی کہی۔ کیا اس وقت  اختلاف قرأت کا  شمار کسی نے لیا ہے۔اتحاف فضلاء  البشر فی القرآن اربعۃ عشر  اور النشر  فی الا قرأت  العشر کو پڑھ جانئے اور اختلافات قرآن کو گن سکتے ہوں تو گن کر دکھائیے۔ اور یہ تو وہ اختلافات ہیں جن کو قاریوں نے اصح یا صحیح قرار دے کر قبول کیا ہے ان سے دس گنا تو اختلاف رد کر دئیے گئے۔ وہ بھی تو آخر روایات کے ذریعے ہی پیش کئے گئے تھے مگر رد کرنا بھی ضروری تھا  سب کو قبول کر لیتے تو ہر شخص کو شبہ ہوتا، اس لئے دس لاکھ اختلاف بنائے گئے اور  ایک لاکھ رکھ کر  نو لاکھ رد کر دئیے تو اس سے ہر خاص و عام  میں ایک اعتماد پیدا ہو گیا۔ ورنہ قابل رد تو دراصل سب تھے۔

[xv] اس کا علاج تو آسان تھا  جس طرح انزل القرآن علی سبعۃ  احرف کی حدیث بنائی گئی۔ اسی طرح  انزل  القرآن علی احرف  کثیرۃ لا تحصیٰ کی بھی ایک  حدیث گھڑ لی جاتی  بلکہ اس کی جگہ یہی حدیث رہتی۔ پھر جس کا جس طرح جی چاہتا  اور جو مطلب  چاہتا نکالتا۔

[xvi] اس کی کوشش تو بہت کی گئی۔ سات قاریوں کے سات اسکول قائم کئے گئے۔ مصحف ابی بن کعب اور مصحف عبداللہ بن مسعود اور مصحف علی بن ابی طالب کے نام سے مصاحف  مشہور  کر کے ترتیب سورہ میں الٹ پلٹ تو کی ہی گئی۔ آیات کے الفاظ میں کمی و بیشی اور الفاظ کے نقاط و اعراب میں بھی فرق قائم کیا گیا۔ مگر ان کے پاس نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون کا کوئی علاج نہ تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے خود ساختہ سارے اختلافات کو  ان کی تصنیف کردہ کتابوں اور روایات کے دفاتر تک ہی رہنے دیا۔ کسی ایک اختلاف  کو بھی قرآن مجید میں داخل نہ ہونے دیا۔ اس نے خود فرمایا ہے ان الذین یاحدون فی اباتنا لایخفون علینا جو لوگ ہماری آیتوں میں ٹیڑھ کی لیں گے وہ ہم سے کچھ چھپے نہیں رہیں گے۔(حم سجدہ آیت 4)

[xvii] “چند” آپ کہہ رہے ہیں ؟ کم سے کم دس ہزار اختلافات آج قرأت کی بڑی بڑی کتابوں میں موجود ہیں جن کو قاریوں نے قبول کر لیا ہے۔ قرأت مردودہ سے قطع نظر  کر کے متواتر  تو قرآن مجید سے باہر ایک قرأت نہیں۔ متواتر تو یہی ہے جس کو ساری دنیا پڑھ رہی ہے اس کے علاوہ ایک لفظ  کے متعلق کوئی دوسری قرأت متواتر نہیں دکھائی جا سکتی۔ ھاتوا بر ھانکم ان کنتم صادقین۔ اگر تم لو سچے ہو اپنی دلیلیں پیش کرو۔

[xviii] حسب حساب صحیح اور بقول ابن حجر  25 ھ میں۔ (تمنا)

[xix] معلوم نہیں یہ کہاں کی روایت ہے صحاح ستہ میں تو  کہیں نہیں۔ مسند احمد میں بھی نہیں۔ اور بقول ائمہ حدیث جو روایت مسند احمد  میں نہیں تو اس کو ضرور جھوٹی روایت سمجھنا چاہیے۔ غالبا :جمع القرآن” والی میری کتاب میں میرا اعتراض  دیکھ کر مودودی صاحب نے اپنی طرف سے یہ بات بڑھائی ہے جس کا ثبوت  وہ کسی روایت سے نہیں دے سکتے۔ حتیٰ کہ القان میں بھی اس کا کہیں ذکر نہیں۔ میرا اعتراض میری کتاب “جمع القرآن” میں دیکھئے۔

[xx] اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو ایک قرأت  مخصوصہ ابن جریر کی طرف سے بھی منسوب کی جاتی ہے وہ بھی ابن جریر کی طرف ان کی وفات  کے بعد بنا کر منسوب کی گئی ہے۔ ابن جریر خود اس کے ذمہ دار نہیں۔ ابن جریر نے اس مقدمہ تفسیر میں اکیاون طریق سے اس حدیث موضوع انزل القرآن علی سبعۃ احرف کی روایت اور اس کے معانی بھی اسی ضمن میں جو مروی ہیں لکھے ہیں۔ میں نے ان کی بھی تنقید کی ہے مگر طوالت کے خوف سے اس کو اعجاز القرآن کی دوسری جلد کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔

[xxi] ابن جریر کے مخالفین کون لوگ تھے جن کے نزدیک اختلافات  موجود تھے۔ یہ وہی کوفے والے تھے جن سے ابن جریر کو اتفاق نہ تھا، ورنہ اور کون ہو سکتا ہے جن کو ابن جریر اختلاف قرأت  کے متعلق اپنا مخالف کہیں۔ ابن جریر کے نزدیک سبعہ احرف میں سے چھ حروف باقی نہ رہے اور مخالفین کے نزدیک وہ سب باقی ہیں۔ ابن جریر نے انھیں کی تردید کی ہے اور وجوہات تردید اس سے پہلے بیان کر دی گئیں ہیں۔

[xxii] معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کے یہ ملاحدہ ابن جریر کے پاس پہنچے تھے یہ سمجھ کر  کہ یہ بھی عجمی اور شیعہ ہیں یہ ضرور ہمارے ساتھ ہو جائیں گے۔ مختلف مصاحف  انھوں نے تیار کر رکھے تھے وہ دکھائے تھے یا ان کا ذکر کیا تھا اور عبداللہ بن مسعودؓ  کے منع کرنے کا بھی ذکر کیا ہے کہ انھوں نے مصحف عثمانیؓ کی اتباع کرنے سے منع کیا ہے اور ہم لوگوں کو اپنے اپنے مصحف پر  قائم رہنے کی تاکید کی،  مگر ابن جریر ہزار شیعہ  سہی، عجمی سہی،  مگر موالی میں سے نہ تھے اور نہ ان ملاحدہ کی طرح ملحد تھے۔ اس لئے ان کے دام میں نہ آئے۔ ابن جریر نے ان کو اپنا یعنی مسلمانوں کا مخالف قرار دے کر ان کا ذکر کیا ہے۔

[xxiii]  نقل مصاحف بعہد عثمانی کی روایت امام بخاری موسیٰ بن اسماعیل سے وہ ابراہیم بن سعد سے اور وہ زہری سے روایت کرتے ہیں اور ترمذی محمد بن بغار سے وہ عبدالرحمن بن مہدی سے وہ ابراہیم بن سعد سے اور وہ زہری سے روایت کرتے ہیں۔ مگر ابراہیم بن سعد  موسیٰ بن اسماعیل سے وہ سب باتیں نہیں کہتے جو باتیں وہ عبدالرحمن بن مہدی سے کہتے ہیں۔ شاید اسی لئے مو سی بن اسماعیل سے نہ کہا کہ وہ منقریوں کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اور بعض لوگوں نے ان کے متعلق کچھ کلام بھی کیا ہے یا زہری نے ان سے بھی کہا ہو  مگر ان کی ہمت  نہ پڑی کہ امام بخاری سے یہ سب  لغوباتیں کہہ دیں۔ بہرحال ترمذی کی روایت میں اصل روایت کے بعد  تابوت اور تابوہ کا اختلاف بھی زید بن ثابت  سے مروی ہے اور پھر عبداللہ بن مسعود کی خفگی کا ذکر بھی ہے کہ انھوں نے اہل کوفہ کو پکار  کر کہا کہ اے لوگو ! ذرا انصاف کرو، یہ چھوکرا (زید بن ثابت) کہ جب میں ایمان لایا تھا، اس وقت یہ اپنے کافر باپ کی پیٹھ میں تھا۔ یہ تو جمع یا کتابت قرآن کے لئے بلایا جائے اور مجھے نظر انداز کیا جائے۔ اس کے بعد ترمذی کی روایت کی عبارت یہ ہے ولذالک قال عبداللہ بن مسعود اور اسی غصے کی وجہ سے  کہ جمع و نقل مصاحف  کے وقت ان کو نظر انداز کیوں کیا گیا۔ عبداللہ بن مسعودؓ نے پکار کر کہا اے اہل عراق!  اکتموا المصاحف البنی عندکم تم اپنے مصاحف کو چھپائے رکھو و غلو ھا اور اس کے ساتھ خیانت کرو۔یعنی حضرت عثمان جب اپنا مصحف بھیجیں کہ اپنے  اپنے مصاحف کو اس کے مطابق بنا لو  اور جس مصحف  میں اس سے اختلاف ہو  اس کو دھو ڈالو یا جلا ڈالو تو تم لوگ  اس حکم کو نہ ماننا۔ اپنے اپنے مصاحف  کو ان کے اعمال سے چھپائے رکھو اور امیر المومنین کے حکم کی نافرمانی کرو اور اس طرح قرآن کے ساتھ خیانت کرو۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ قرآن میں ہے کہ جو شخص خیانت کرے گا  تو جس چیز کی خیانت کی ہے اس کو لے کر قیامت کے دن بارگاہ الہیٰ میں حاضر ہو گا۔ تم لوگ اپنے اپنے مصاحف کے ساتھ اللہ سے قیامت کے دن ملو۔ اس روایت سے یہ معلوم ہو گیا  کہ کوفہ و عراق میں عبداللہ بن مسعودؓ کے تلامذہ کے پاس وہ سب قرآن عبداللہ بن مسعودؓ والا، ابی کعب والا اور جو کچھ بھی تھا  سب موجود تھا۔ اور سب موجود رہا۔

[xxiv] مودودی صاحب نے عبداللہ بن کثیر کو صرف  حضرت عبداللہ بن السائبؓ کا شاگرد لکھ کر  بڑٰ خیانت کی ہے۔ مجاہد بن جبیر جو ابن کثیر  کے متفق علیہ اور مشہور استاد تھے ان کا ذکر تک نہ کیا۔اور ابو عمر الدوانی نے بلا دلیل خلاف جمہور اور خلاف قیاس بات لکھ دی۔ اسی کو لکھ دیا۔ کیا علمی تحقیق اسی کا نام ہے ؟ کہ غلط اور کمزور اور خالف قیاس ایک شخص کا بلا دلیل قول تو نقل کیا جائے اور جمہو ائمہ رجال کا متفق علیہ قول ترک کر دیا جائے۔

[xxv] قرآن مجید پر نقطے لگانا اور بات ہے اور عربی رسم الخط  میں نقطوں کا ایجاد کرنا اور بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کے بعد بے نقطوں کے قرآن لکھنا شروع کیا اور مشہور کیا کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا تھا کہ قرآن میں نقطے نہ دیا کرو۔ جس کی وجہ سے بصرہ و کوفہ وغیرہ میں غیر منقوط قرآن مروج ہو گیا۔ لوگوں کو اس کا موقعہ مل گیا  کہ یعلمون کو لعلمون پڑھیں۔ اس خرابی کو محسوس کر کے بصرہ والوں میں سب سے پہلے یحیٰ بن یعمر نے اپنے مصحف پر نقطے لگائے پھر ان کے سمجھانے سے دوسروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ یہ سمجھنا کہ یحیٰ بن یعمر بھی عربی رسم خط میں حروف پر نقطے لگانے کے موجد تھے غلط ہے۔ جس کی مفصل بحث  میں اس مضمون کے آغاز میں کر چکا ہوں اور دلائل قطعیہ سے ثابت کر چکا ہوں کہ عربی رسم خط  کے حروف  جس نے وضع کئے تھے یہ ناممکن ہے کہ اس نے پہلے صرف حروف وضع کئے ہوں اور نقطے بعد  والوں نے ایجاد کر کے لگائے ہوں۔