FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

جدید ادب

www.jadeedadab.com

                 شمارہ 19:(جولائی تا دسمبر 2012ء)

 

میرا جی نمبر، حصہ اول

 

                مدیر : حیدر قریشی

نوٹ: اس انتخاب میں محض مضامین شامل ہیں، میرا جی کا انتخاب، تراجم، نذرِ میرا جی اور کچھ  مضامین علاحدہ ای بکس کے طور پر شائع کئے جا رہے ہیں۔ انگریزی مضامین بھی شامل نہیں ہیں۔

 

 

 

 

 

گفتگو!

 

میرا جی ۲۵ مئی ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے اور۳ نومبر۱۹۴۹ء میں وفات پا گئے۔ تقریباً ساڑھے سینتیس برس کی زندگی میں انہوں نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا۔ جدید نظم میں اپنے سب سے زیادہ اہم تخلیقی کردار کے ساتھ انہوں نے غزل اور گیت کی شعری دنیا پر بھی اپنے گہرے نقش ثبت کیے۔ شاعری کے کچھ ہلکے پھلکے دوسرے نمونے بھی پیش کیے۔ جو بظاہر ہلکے پھلکے لگتے ہیں لیکن اردو شاعری پر ان کے بھی نمایاں نقش موجود ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں کے اہم شاعروں کی شاعری کے منظوم ترجمے، نثری ترجمے، تنقیدی و تعارفی مضامین۔ ایسے ایسے انوکھے کام کیے کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی ان کی تقلید کرتے دکھائی دیں۔ میرا جی اپنی طبیعت کے لا اُبالی پن کے باعث اپنی بہت ساری شاعری کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ جتنا سرمایہ جمع ہو سکا، اس میں میرا جی کی ذاتی کوشش سے کہیں زیادہ ان کے قریبی احباب اور بعض ناقدین و محققین کی نہایت مخلصانہ کاوشوں کو دخل رہا ہے۔

میرا جی سے بہت سارے لکھنے والوں نے کسی نہ کسی رنگ میں اکتساب کیا، فیض اُٹھایا لیکن عمومی طور پر غالباً ان کی عوامی مقبولیت نہ ہونے کی وجہ سے، ان کے اعتراف میں بخل سے کام لیا۔ یہ کوئی الزام تراشی نہیں ہے، بس ادبی دنیا کے طور طریقوں کا ہلکا سا گلہ ہے۔۔ صرف یہ احساس دلانے کے لیے کہ اگر کچھ فیض اُٹھایا ہے تو میرا جی کا تھوڑا سا اعتراف کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اگر کہیں سے کچھ سیکھنے کو مل جائے، کوئی رہنما نکتہ مل جائے، کوئی تحریک مل جائے اور اس ذریعہ کا فراخدلانہ اعتراف کر لیا جائے تو ایسا اعتراف نہ صرف قلبی خوشی اور ذہنی اطمینان کا موجب بنتا ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں ادبی زندگی کے با برکت ہو جانے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

یہاں میرا جی کے ساتھ ان کے دو ہم عصر شعراء کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ فیض احمد فیض پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک ناپسندیدہ ہونے کے باوجود عوامی سطح پر مقبول شاعر تھے۔ اگرچہ ساحر لدھیانوی بھی ان سے کچھ کم نہیں ہیں لیکن بعض امتیازی اوصاف کی بنا پر انہیں بجا طور پر ترقی پسند تحریک کی سب سے بڑی عطا کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ برس فیض صدی کا سرکاری طور پر اہتمام کیا گیا تو خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی۔ فیض احمد فیض کو شایانِ شان پذیرائی ملنے پر خوشی ہوئی اور اس بات پر حیرانی ہوئی کہ کیا اب وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابلِ قبول ہو گئے ہیں ؟

کل تک ہم اس بات پر نازاں ہوا کرتے تھے کہ فلاں فلاں شاعروں اور ادیبوں کو سرکاری سطح پر ناپسند کیا جاتا ہے، یہ بات تخلیق کار کے حق میں جاتی تھی۔ اب فیض بھی سرکاری دانشوروں اور سرکاری صوفیوں میں شمار ہونے لگے ہیں تو کچھ عجیب سا ضرور لگ رہا ہے۔ تاہم تشویش کی کوئی بات نہیں،  جلد ہی ہم اس کے عادی ہو جائیں گے۔

یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ اندرونِ خانہ وجہ کچھ بھی رہی ہو فیض احمد فیض کی پذیرائی ان کا پرانا حق تھا(جو تاخیر سے ادا ہوا)اور یہ فیض کے لیے بھی اور اردو ادب کے لیے بھی نیک فال ہے۔

میرا جی کے ہم عصر اور ایک حد تک ادبی ہم مسلک ن م راشد کو بھی ایک عرصہ تک زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کی وفات پر ان کی میت جلائے جانے کے واقعہ کے بعد تو ادبی دنیا پر ایک عرصہ تک خاموشی چھائی رہی۔

ادب پر معتقدات غالب آ رہے تھے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے راشد فہمی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع ہو رہا ہے۔ یہ ادبی لحاظ سے نہایت خوشی کی بات ہے۔ فیض (۲۰۱۱ء)سے پہلے ۲۰۱۰ء میں راشد کی صد سالہ پذیرائی کا خوش کن سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ لیکن یہاں ایک افسوس ناک خرابی کی نشان دہی کرنا ضروری ہے۔ راشد کی حالیہ پذیرائی سے پہلے بڑے منظم طریقہ سے یہ بات راسخ کی گئی کہ راشد کی میت جلانے کے لیے ان کی کوئی وصیت نہیں تھی۔ یہ ان کی دوسری بیوی کی سازش تھی۔ وہ نہ صرف بڑے اعلیٰ درجہ کے مسلمان تھے بلکہ عالمِ اسلام کے لیے ان کے دل میں بڑا درد تھا۔ قطع نظر اس سے کہ راشد کی طرح بعض اور ادیبوں، فنکاروں نے بھی اپنی میت جلائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا(بعض کی میتوں کو جلایا بھی گیا)۔ اگر راشد نے وصیت نہیں کی تھی تو انہیں دنوں میں اس کی وضاحت آ جانی چاہیے تھی۔ سیدھی سی ادبی بات صرف یہ ہے کہ اگر راشد اچھے شاعر ہیں تو بے شک انہوں نے میت جلانے کی وصیت کی ہو، تب بھی وہ اچھے شاعر رہیں گے۔ اگر وہ اچھے شاعر نہیں ہیں تو بے شک انہوں نے اپنی میت جلانے کی وصیت نہ کی ہو، بے شک وہ اعلیٰ پائے کے مسلمان ہوں، وہ اچھے شاعر نہیں ہیں۔ سو ان کے مقام کے تعین کی غرض سے تیس پینتیس برس کے بعد ان کی میت سوزی والی وصیت کی صفائی دینا مناسب نہیں ہے۔ یہ خود تخلیق کار راشد کے ساتھ زیادتی ہے۔

کسی شاعر اور ادیب کے مقام کا تعین اس کی تخلیقات اور نگارشات کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔ اگر اس میں مذہبی و مسلکی معاملات کو بنیاد بنا کرکسی تخلیق کار کا مقام طے کرنے کے منفی رویہ کو فروغ دیا جانے لگا تو اس سے اردو ادب میں طالبانی رویہ فروغ پائے گا جو ادب کے لیے کسی زہر سے کم نہیں ہے۔

یہاں میرا جی کے ساتھ فیض احمد فیض اور ن م راشد کا بطور خاص ذکر کرنے کی وجہ ہے۔ یہ تینوں شاعر ایک ایک سال کے فرق کے ساتھ ہم عصر تھے۔ ان میں سے فیض اور راشد دونوں شاعر اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے اور اعلیٰ سماجی رتبہ کے حامل بھی رہے۔ دونوں عملی زندگی میں نہایت ذمہ دار رہے۔ دونوں نے میرا جی کے مقابلہ میں زیادہ عمر پائی۔ فیض احمد فیض ۷۳ برس کی عمر میں اور راشد۶۵ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان کے بالمقابل میرا جی ساڑھے سینتیس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان دونوں کے برعکس میرا جی میٹرک بھی پاس نہ کر سکے، کوئی سماجی رتبہ انہیں نصیب نہ ہو سکا، وہ ذاتی زندگی میں بھی بڑی حد تک غیر ذمہ دار رہے اور دونوں دوسرے شاعروں کے مقابلہ میں عمر بھی بہت کم پائی۔ اس کے باوجود ان تینوں کے مجموعی ادبی کام کو یک جا کیا گیا ہے تو میرا جی کا کام اپنے دونوں ہم عصر بڑے شاعروں سے کہیں زیادہ ہے۔ بات صرف مقدار کی نہیں، معیار میں بھی میرا جی کسی سے ہیٹے نہیں ہیں۔ جو لوگ میرا جی کے کلام کی تفہیم میں مشکل یا الجھن کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سے عوامی طرز کے اور ترقی پسند ادیبوں کے اعتراض کو تو ان کے فکری پس منظر کے باعث کسی حد تک مانا جا سکتا ہے، لیکن جو لوگ راشد فہمی میں کوئی الجھن محسوس نہیں کرتے اور میرا جی کی تفہیم میں انہیں الجھن پیش آتی ہے تو پھر یہ میرا جی کے کلام کی ژولیدگی نہیں بلکہ یار لوگوں کے تعصبات ہیں۔ میرا جی کے ساتھ ہماری ادبی دنیا کے عمومی سلوک کو زیرِ بحث لاتے وقت اس نکتہ کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے تعصبات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

میرا جی کو نظر انداز کیے جانے میں ہمارے معاشرے کی مروّج اور دہرے معیار کی حامل اخلاقیات کا بھی بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ مغربی دنیا میں کسی بھی شاعر اور ادیب کی زندگی کے بارے میں جملہ کوائف صرف ریکارڈ کی حد تک بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں اس قسم کی ساری باتیں بھی آ جاتی ہیں جو ہمارے ہاں ظاہری سطح پر بہت بری سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن مغربی دنیا اس ریکارڈ کو اس کی ذاتی زندگی کی حد تک ایک نظر دیکھتی ہے، پھر اس سے آگے بڑھ کر تخلیق کار کی تخلیقات کے ذریعے اس کوسمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ذاتی زندگی کا کوئی خاص حوالہ اگر موضوع بنایا بھی جاتا ہے تو صرف اس حد تک کہ اس سے فن پارے کے پس منظر کو سمجھنے کی وجہ سے اس کی تفہیم میں مدد مل رہی ہوتی ہے۔ ذاتی زندگی کے ایسے کسی حوالے کو نہ رعائتی نمبر دینے کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی قارئین کو فنکار سے متنفر کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم لوگ اپنے معاشرے کے دوہرے معیار کے عین مطابق ظاہری اخلاقیات کے تحت آنے والے کسی عیب پر رک کر رہ جاتے ہیں، اور پھر اس تخلیق کار کا سارا ادبی کام پس پشت چلا جاتا ہے۔

میرا جی بڑی حد تک اسی منفی رویے کا شکار ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسر ان کے ان دوستوں اور’’ کرم فرماؤں ‘‘ نے پوری کر دی جنہوں نے میرا جی کے فن پر توجہ دینے کی بجائے ان کی شخصیت کو مزید افسانوی بنا دیا۔ بے شک ان کی شخصیت میں ایک انوکھی سِحِر انگیزی تھی، یاروں کی افسانہ طرازی نے میرا جی کے گرد ایسا ہالہ(جالا) بُن دیا کہ قاری ان کی تخلیقات سے بالکل غافل ہو گیا۔ میرا جی کے دوستوں نے اس معاملہ میں نادان دوستی کا اور’’ کرم فرماؤں ‘‘ نے دشمنی کا کردار نبھایا۔

ایسا بھی نہیں کہ میرا جی کو یک سر فراموش کر دیا گیا ہو۔ ان کے بارے میں منفی عمل کے ساتھ تھوڑا بہت مثبت کام بھی ہوتا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں تحقیقی مقالات لکھے گئے، ان کی کلیات مرتب کرنے پر بہت خاص توجہ دی گئی، دوسرے ایڈیشن میں مزید اضافے سامنے لائے گئے۔ انڈیا اور پاکستان سے ان پر تصنیف کردہ اور مرتب کردہ کتابیں شائع کی گئیں، ایک دو رسالوں نے ان کے نمبر یا گوشے بھی شائع کیے۔ اس سال کہ میرا جی کی پیدائش کے سو سال پورے ہو گئے ہیں، پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو نے میرا جی سیمینار کا انعقاد کیا ہے۔ اور اب جدید ادب کا یہ شمارہ صد سالہ سال گرہ نمبر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

جدید ادب کے اس میرا جی نمبر میں ان کی شخصیت سے زیادہ ان کے فن کی مختلف جہات کو موضوع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں بعض ایسے مطبوعہ مضامین کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے جو میرا جی کے فن کی تفہیم اور ادب میں ان کے مقام و مرتبہ کے تعین میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نئے مضامین کے حصول کے سلسلہ میں ایک خوش کن پہلو یہ سامنے آیا کہ نئے لکھنے والوں نے اس میں گہری دلچسپی لی۔ جو مضامین موصول ہوئے ان میں سے بعض کمزور مضامین کو بھی تھوڑا بہت ایڈٹ کر کے شامل کر لیا گیا، مقصد یہ تھا کہ نئے لکھنے والے میرا جی کے

مطالعہ میں دلچسپی لیں اور جس حد تک ان کی سوجھ بوجھ ہے اس سے کام لے کر انہیں سمجھنے کی کوشش تو کریں۔ تاہم چند مضامین اتنے کمزور تھے کہ ایڈیٹنگ کے لیے بہت زیادہ وقت مانگتے تھے، انہیں شامل کرنے کی شدید خواہش کے باوجود میں انہیں شامل نہیں کر پایا۔ میں ان تمام مضمون نگار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مضامین لکھے اور ان کے مضامین کو شامل نہ کر پانے پر ان سب سے معذرت کا طلب گار ہوں۔ ان مضامین کو کچھ ایڈٹ کر کے اور مضمون نگار دوستوں سے مشورہ کر کے بعد میں انہیں کہیں اور چھاپنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

میرا جی نمبر کی تیاری کے لیے بہت سارے دوستوں نے خصوصی توجہ سے کام لے کر تعاون کیا۔ کہیں مواد کی فراہمی کو ممکن بنایا گیا تو کہیں کمپوزنگ کی سہولت دی گئی۔ تیکنیکی معاونت کی وجہ سے میری بہت ساری درپیش مشکلات دور ہوئیں۔ تعاون کرنے والے احباب میں انڈیا سے ڈاکٹر انجم ضیاء الدین تاجی، معید رشیدی اور نوجوان صحافی مطیع الرحمن عزیز، پاکستان سے ڈاکٹر نذر خلیق، ارشد خالد، طارق حبیب، ڈاکٹر عابد سیال اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ اٹلی سے ماسیمو بون نے میرا جی کی نظموں کے دوسری زبانوں میں تراجم کی راہ سجھائی، روس سے ڈاکٹر لدمیلا، جرمنی سے ڈاکٹر کرسٹینا اور ترکی سے ڈاکٹر خلیل طوق أر نے روسی، جرمن اور ترکی زبانوں میں تراجم کر کے دئیے،  مصر سے ھانی السعید نے، کینیڈا سے عبداللہ جاوید نے اور پاکستان سے ایوب خاور نے کئی مفید مشوروں سے نوازا۔ اور ہر ممکن تعاون کیا۔ سو ان تمام احباب کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں جن کے مضامین جدید ادب کے میرا جی نمبر میں شامل ہیں۔

جزاکم اللہ تعالی واحسن الجزاء!

میرا جی کی پیدائش کے سو سال پورے ہونے پر میری طرف سے یہ ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔ امید کرتا ہوں کہ اس نمبر کی اشاعت کے بعد میرا جی کے مطالعہ کا رجحان بڑھے گا۔ جیسے جیسے میرا جی کو زیادہ پڑھا جائے گا ویسے ویسے ان کی تفہیم کے امکانات کھل کر سامنے آتے جائیں گے۔ انشاء اللہ۔

 

 

کوائفِ میرا جی

                مرتب کردہ: ڈاکٹر جمیل جالبی

 

نام: محمد ثنا اللہ ثانی ڈار

والد کا نام:منشی محمد مہتاب الدین

والدہ کا نام: زینب بیگم عرف سردار بیگم

ولادت میرا جی:۲۵ ؍ مئی ۱۹۱۲ء

تخلص: پہلے ’’ساحری‘‘ اور پھر ’’میرا جی‘‘۔ ہزلیہ شاعری میں تخلص ’’لندھور‘‘ آیا ہے۔

قلمی و فرضی نام:’’بسنت سہائے ‘‘ کے نام سے سیاسی مضامین ’’ادبی دنیا ‘‘لاہور میں لکھے۔

’’بشیر چند‘‘ میرا سین کے نام خطوط میں ملتا ہے۔

وشو نندن کے نام ایک خط مورخہ ۲۰؍اگست ۱۹۴۶ء میں ’’میرا جی المعروف بندے حسن‘‘ بھی لکھا ہے۔

تعلیم:میٹرک پاس نہ کر سکے۔

لقب:ادبی گاندھی(یہ نام ن۔ م۔ راشد نے دیا تھا)

کام: نائب مدیر ادبی دنیا لاہور۔ (۱۹۳۸ء تا ۱۹۴۱ء)

آل انڈیا ریڈیو، دہلی۔ (۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۵ء)

’’باتیں ‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’ساقی‘‘دہلی میں ادبی کالم لکھے۔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۴۵ء)

مدیر ’’خیال‘‘ بمبئی۔ (۱۹۴۸ء تا ۱۹۴۹ء)

آخری بار لاہور گئے :اوائل ۱۹۴۶ء

دہلی سے بمبئی روانگی:۵؍ جون ۱۹۴۶ء

بمبئی میں آمد:۷؍ جون ۱۹۴۶ء

وفات:۳؍ نومبر ۱۹۴۹ء (کنگ ایڈورڈاسپتال، بمبئی)

مدفن: میرن لائن قبرستان، بمبئی

تصانیف:

شاعری:

میرا جی کے گیت مکتبہ اردو لاہور۱۹۴۳ء

میرا جی کی نظمیں ساقی بک ڈپو دہلی۱۹۴۴ء

گیت ہی گیتساقی بک ڈپو دہلی۱۹۴۴ء

پابند نظمیں کتاب نما، راولپنڈی ۱۹۶۸ء

تین رنگ کتاب نما، راولپنڈی ۱۹۶۸ء

سہ آتشہ بمبئی۱۹۹۲ء

کلیاتِ میرا جی۔ مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی اردو مرکز لندن ۱۹۸۸ء

کلیاتِ میرا جی۔ مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی، نیا ایڈیشن۔ لاہور ۱۹۹۴ء

تنقید:

مشرق و مغرب کے نغمے :(تنقید و  تراجمِ شاعری)

اکادمی پنجاب (ٹرسٹ)لاہور۱۹۵۸ء

اس نظم میں :ساقی بک ڈپو۔ دہلی ۱۹۴۴ء

تراجم:

نگار خانہ : (سنسکرت شاعر دامودر گپت کی کتاب ’’نٹنی مَتَم‘‘ کا نثری ترجمہ)۔ پہلے ماہنامہ خیال بمبئی میں شائع ہوا۔ جنوری ۱۹۴۹ء۔ اور پھر  کتابی صورت میں مکتبۂ جدید لاہور سے نومبر۱۹۵۰ء میں شائع ہوا۔

خیمے کے آس پاس:(عمر خیام کی رباعیات کا ترجمہ)۔ مکتبۂ جدید لاہور۔ ۱۹۶۴ء

مرتب شدہ: ۱۲؍ مئی ۱۹۸۸ء

 

 

 

میراجی کے بارے میں   تحقیقی، تنقیدی اور تخلیقی کام

 

                ہانی السعید(مصر)

 

ا. تحقیقی مقالے :

 

ا. پی ایچ۔ ڈی:

1- میراجی: شخصیت اور فن، رشید امجد، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، ۱۹۹۲ء نگران مقالہ : ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا

 

۲۔ ایم فل:

1- مشرق و مغرب کے نغمے : حواشی و تعلیقات،  تقدیس زہرا، پنجاب یونیورسٹی،  لاہور، ۲۰۰۳ء

2- فرہنگ کلیاتِ میراجی، قدیر انجم، جی سی یونیورسٹی، لاہور، ۲۰۰۵ء  نگران مقالہ: ڈاکٹر سہیل احمد خان صدر شعبۂ اردو

3- جدید اُردو نظم میں تمثال آفرینی خصوصی مطالعہ میراجی، محمد عمران ازفر،  اسلامیہ یونی ورسٹی آف بہاول پور، 2006ء نگران مقالہ: ڈاکٹر لیاقت علی

4- میرا جی کے تراجم، سعدیہ جاوید، جی سی یونیورسٹی، لاہور، ۲۰۰۷ء

 

۳۔ . ایم۔ اے :

1- میراجی: شخصیت اور فن، انوار انجم، پنجاب یونیورسٹی، لاہور۱۹۶۳ء

2- میراجی اور ن م راشد کے تنقیدی نظریات،  شاہد رفیق، پنجاب یونیورسٹی، لاہور۱۹۷۵ء

3- میراجی کی نثر، ممتاز بیگم، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، ۱۹۸۸ء

€4۔ میرا جی کی نظم میں اساطیری عناصر، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، ۲۰۰۸ء

 

۴۔ عربی مقالہ:

* حرکۃ التجدید فی الشعر الاردی الحدیث عند میراجی(جدید اردو شاعری میں جدت پسندی کی تحریک میراجی کے آئینے میں )، ھانی السعید, رسالۃ مقدمۃ الی قسم اللغۃ الاردیۃ بکلیۃ اللغات والترجمۃ لنیل درجۃ الماجستیر فی اللغۃ الاردیۃ وآدابھا، جامعۃ الازہر, القاھرۃ, مصر، 2011م.

 

ب. کتب:

 

مرتب کردہ کتب:

1- میراجی: شخصیت اور فن،  مُرتب کمار پاشی، موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، بارِ اول، جون ۱۹۸۱ء

2- میراجی: ایک مطالعہ، مُرتب ڈاکٹر جمیل جالبی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۰ء ایضاً ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۹۲ء

3۔ میرا جی:مرتبین ڈاکٹر رشید امجد، ڈاکٹر عابد سیال۔ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، اپریل ۲۰۱۰ء

 

تصنیف شدہ

1-میرا جی : شخصیت اور فن،  مغربی پاکستان اکیڈمی، لاہور، ۱۹۹۵ء؛، نقش گر پبلی کیشنز،

راولپنڈی، پاکستان، جنوری ۲۰۰۶ء 2-میراجی: ایک بھٹکا ہوا شاعر، انیس ناگی، پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساؤنڈز، لاہور، بارِ اول، ۱۹۹۱

3- میراجی، شافع قدوائی، ہندستانی ادب کے معمار، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی، پہلا ایڈیشن، ۲۰۰۱ء

 

ج. انگریزی کتب:

1.Geeta Patel, Lyrical Movements, Historical Hauntings: On Gender, Colonialism, and Desire, Meera Ji’s Urdu Poetry, Stanford University Press, California, 2001

Reprinted by Manohar publishers & Distributors, New Delhi, 2005.

 

د۔ . ناول:

1- میراجی (ناول)، خان فضل الرحمن، مکتبہ میری لائبریری، شاد سنٹر پریس، لاہور، بار اول، ۱۹۸۹ء

Š2۔ میرا جی، ژولیاں (ژولیاں ایک فرانسیسی نوجوان ہیں )، آج، کراچی،  ۲۰۱۲ء

رسائل (میراجی نمبر، مطالعۂ خاص):

1- شعر و حکمت، حیدرآباد، مُرتّب مغنی تبسم، حیدر آباد، دکن،  دورِ دوم، کتابِ اول، ستمبر ۱۹۸۷ء

2۔ عکاس انٹرنیشنل اسلام آباد، مرتب ارشد خالد، مطالعۂ خاص۔ کتاب نمبر ۱۴، ستمبر ۲۰۱۱ء

3۔ جدید ادب جرمنی۔ مدیر حیدر قریشی۔ شمارہ ہذا، جولائی تا جون ۲۰۱۲ء

میرا جی سیمینار:شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی، لاہور، منعقدہ ۱۰ مئی ۲۰۱۲ء

 

 

 

ن م راشد کا خط میرا جی کے نام

 

                ن۔ م راشد

 

مکرمی سلام مسنون

آپ سے نیاز حاصل نہیں لیکن آپ کی نظمیں رسالوں میں اکثر نظر سے گزرتی رہی ہیں۔  حال ہی میں ساقی کے مارچ کے شمارے میں آپ کا مضمون ‘آمیزہ ادب و سیاست’ پڑھا- اس مضمون میں آپ نے ماورا کی ایک نظم کا حوالہ بھی دیا ہے ا…ور اس سے یہ استنباط کیا ہے کہ ایسی نظمیں لکھنا مغرب کی نقالی کا نتیجہ ہے۔  آپ کے علم و فضل اور ذوق سلیم کے بارے میں جو رائے آپ کے کلام نے پیدا کی تھی- اسے اس استنباط سے بہت صدمہ پہنچا مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ آپ نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کسی قدر تعجیل سے کام لیا ہے۔  اس لئے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ بعض باتوں کی وضاحت کر دوں۔  میرے نزدیک فطرت انسانی جو دنیا کے ہر حصّے میں شعر و ادب کا سر چشمہ ہے غیر منقسم اور یکساں ہے۔  میرے نزدیک انسانی فطرت، جغرافیائی فاصلوں سے بہت کم بدلتی ہے۔  اگر بدلتی ہے تو اس حد تک جس قدر ایک انسان دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے لیکن اسے فطرت کہنا مشکل ہو گا، جس لحاظ سے ہندوستانی فرنگی سے مختلف ہے وہ محض بعض ظاہری باتوں کا فرق ہے یا زیادہ سے زیادہ ماحول کا جس نے زندگی کے بارے میں دونوں کو مختلف نقاط نظر بخشے ہیں۔  یوں تو پنجابی اور حیدرآبادی میں بھی ایک فرق ہے،  بلکہ حیدرآباد کے ایک گاؤں کا آدمی دوسرے گاؤں کے آدمی سے انداز نظر میں کئی لحاظ سے مختلف ہو گا لیکن وہ فطرت ہر جگہ یکساں ہے جو شعر و ادب کی تخلیق کرتی ہے۔  بیشک شاعر اکثر و بیشتر اپنے قریب ترین ماحول کے بارے میں شعر کہتے ہیں،  جیسے آپ نے فردوسی کی مثال دے کر واضح کیا ہے،  لیکن اس سے شاید یہ ثابت نہیں ہوتا کہ شاعر کو ایسی باتوں کا ذکر کرنے کی ممانعت ہے جو عام فطرت انسانی سے زیادہ تعلق رکھتی ہوں اور اس کی مخصوص ”جغرافیائی چار دیواری ” سے کم- دوسری بات یہ ہے کہ میں نے آج تک کبھی مغربی ادب کی عمداً نقالی نہیں کی ہے اور مجھے اس بات پر حیرت بھی ہے کہ آپ نے اس نظم کو ایسی نقالی کا نتیجہ کیونکر سمجھ لیا- جہاں تک ہیئت کا تعلق ہے ہمارے ہاں پہلے سے بے قافیہ و ردیف کی شاعری کی مثالیں موجود ہیں اور مختلف نام لے کر عروض و بیان کے ایرانی ماہرین نے اسے تسلیم کیا ہے۔  اور اس بارے میں ایرانی ماہرین ہی اردو شاعروں کے رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔  جہاں تک فکر کا تعلق ہے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسا فکر صرف ایک فرنگی کا ہی ہو سکتا ہے ایک ایشیائی یا ہندوستانی کیوں جذبات کی شدت کے ایک لمحے کی تصویر کھینچنے کے لئے اس قسم کی تشبیہیں اور استعارے نہیں لا سکتا- تیسری بات یہ ہے کہ اگر اس نظم میں آپ کو مغرب کے اثرات کی جھلک دکھائی دیتی ہے تو ان عرب مسلمانوں کو کیا کہئے گا جنہوں نے نے یونان کے (اور یونان یقیناً نقشے پر یورپ میں واقع ہوا ہے ) علوم و فنون سے اکتساب کرنے میں انتہاء درجے کی جدیدیت کا اظہار کیا تھا- میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ہم میں سے اکثر جن کی تعلیم صرف عربی اور فارسی کے ذریعے ہوتی ہے۔ -”ذہنی تزکیے ” سے ہمیشہ کے لئے محروم رہتے۔  عرب مسلمانوں کا بڑا احسان ہے کہ انھوں نے ”لا لل المشرق و مغرب” کی تفسیر یوں کی کہ مشرق و مغرب کے ذہنی فاصلوں کو عملا مٹا دیا- گو آج ہم بھی یہی کر رہے ہیں لیکن اس کا اعتراف کرنا توہین کا باعث سمجھتے ہیں۔  مجھے یقین ہے کہ آپ نے مغربی زبانوں میں سے کم از کم انگریزی زبان اور اس کے ادب کا مطالعہ ضرور کیا ہے اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ آپ نے یہ مطالعہ بیکار چیز سمجھ کر نہیں کیا، جب آپ نے اسے بے کار چیز نہیں سمجھا تو آپ کے ذہن نے اس سے یقیناً کچھ نہ کچھ استفادہ بھی کیا ہو گا- مجھ میں اور آپ میں یہ فرق ہو سکتا ہے کہ آپ اس ذہنی تربیت کا ”کفران” کرنا پسند کرتے ہیں۔  میں اس کی ترجمانی کر کے اس کا ”شکر” ادا کر رہا ہوں۔  آپ ریل گاڑی میں سوار ہونے کے عادی ہیں،  لیکن یہ اگر کوئی ہوائی جہاز میں سوار ہونا چاہے تو اسے یقیناً یہ طعنہ دیں گے کہ وہ ہندوستان میں یورپ قائم کر رہا ہے۔  میں حال ہی میں ایران عراق، فلسطین اور مصر میں سوا دو سال کے قیام کے بعد ہندوستان واپس آیا ہوں۔  اگر آپ کو ان ”اسلامی ” ملکوں کی زیارت نصیب ہو تو شاید اپنی مشرق پرستی پر ناز کرنا ترک کر دیں۔  مجھے ان ملکوں میں کہیں مشرق نظر نہیں آیا- جن مشرقی اداؤں سے ہم اپنے آپ کو وابستہ رکھ کر خوش ہوتے ہیں وہ تیزی سے فنا ہوتی جا رہی ہیں،  اور مجھے ہمیشہ یہ اندیشہ محسوس ہوا ہے کہ یا ہمیں دنیا کو پھر کنورٹ کرنا پڑے گا یا ہم دنیا کی برادری میں اچھوت بن کر رہ جائیں گے۔  یہ نہ سمجھیے کہ ان ملکوں میں مغرب کی ملوکیت پرستی کے خلاف جذبہ ہم سے کسی حد تک بھی شدت میں کمتر ہے۔  لیکن ان ملکوں نے روزانہ زندگی کا راز ہم سے بہتر پا لیا ہے۔  ہمیں نے اکثر لوگوں سے کہا کہ تم مغربی تہذیب کی رو میں کیوں بہتے چلے جا رہے ہو- لیکن جواب ملا کہ نقشہ پر لکیر کھینچ کر بتا دو کہ کہاں مغرب ختم ہوتا ہے اور مشرق شروع۔ اگر آپ اس بات پر کبھی غور فرمائیں تو آپ کو بھی وہی مشکل درپیش ہو گی جو مجھے یہ جواب سن کر ہوتی تھی- چوتھی اور آخری گزارش یہ ہے کہ مجھے میرے اور آپ کے وطن نے سنسکرت ہندی اور اردو کی تعلیم سے زیادہ انگریزی کی تعلیم دی ہے۔  میں عربی اور فارسی کو اس میں شامل نہیں کرتا کیوں کہ خارجی زبان ہونے کے اعتبار سے وہ انگریزی سے کمتر نہیں اور جہاں تک میری ہندوستانی فطرت کا تعلق ہے وہ بھی میرے لئے اسی قدر مضر ہونی چاہیے جس قدر انگریزی، فرانسیسی یا روسی _____اگر میری تعلیم میں سنسکرت اور ہندی اور اردو کا عنصر کماحقہ شامل ہوتا تو میں بھی شاید شیکسپیئر، کیٹس اور بائرن کے جنازوں کو کندھا دینے میں آپ کا شریک ہو جاتا لیکن اب تو میں نے ان کا مطالعہ کیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ حکمت و فن صرف کالی داس، سعدی اور حافظ کی اجارہ داری نہ تھے۔  امید ہے آپ مع الخیر ہوں گے

والسلام نیاز مند

ن م راشد

(مطبوعہ سہ ماہی شعر و حکمت حیدرآباد، ????، گوشہ میرا جی، صفحہ نمبر ??-??)

 

 

 

میرا جی کے بارے میں ایک خط

 

                اختر الایمان

 

عزیزم رشید امجد!

سلام بن رزاق نے آپ کا خط پہنچا دیا تھا، انہیں دنوں مجھے آنکھ کا آپریشن کرانا پڑا اور لکھنا پڑھنا کچھ دنوں کے لئے معطل ہو گیا۔ میرا جی کی شخصیت اور فن پر لکھنا تو لمبا کام ہے، کبھی کراچی یا اسلام آباد آیا تو ملئے، اس موضوع پر باتیں کر لیں گے۔ وہ پارسی لڑکی جس کے بارے میں آپ جاننا چاہتے ہیں اس کا نام منی رباڈی ہی تھا۔ اس لڑکی سے میرا جی کے عشق کو بہت اہمیت نہ دیجئے۔ ایسی اور بہت لڑکیاں ہیں۔ دو ایک دلی ریڈیو اسٹیشن میں تھیں۔ مجھے ان کے نام یاد نہیں۔

میرا جی بمبئی آنے کے بعد کچھ دن چار بنگلے میں بھی رہے تھے۔ یہ ایک بہت بڑی کوٹھی نما عمارت تھی۔ کس کی تھی؟ مجھے نہیں معلوم۔ اکثر ادیبوں اور شاعروں کو یہاں رہنے کا ٹھکانا مل جاتا تھا۔ کرشن چندر، ساحر لدھیانوی، وشوا متر عادل اور کئی ادیب اور شاعر بمبئی آنے کے بعد وہیں رہے تھے۔ میرا جی بھی کچھ دن وہاں رہے۔ کچھ دن دادرا میں مہندر ناتھ کے پاس رہے۔ اس کے بعد موہن سہگل کے پاس ما لنگا منتقل ہو گئے تھے۔ موہن سہگل، وشوا متر عادل، منی رباڈی، اس کی بہن نرگس جو فلموں میں شمیؔ کے نام سے معروف ہوئی اور ان کے ساتھ اور بہت سے لڑکے، لڑکیاں انڈین پیپلز تھیٹر سے وابستہ تھے۔ منی رباڈی، موہن سہگل کی دوست تھیں وہ آج کل فلموں میں ڈریس ڈیزائنر کا کام کرتی ہیں۔

میں ان دنوں شالیمار پکچرس سے وابستہ تھا جو پونے میں تھی۔ جوش ملیح آبادی اور کرشن چندر بھی وہیں تھے۔ تقسیم ہند کے بعد کمپنی کے مالک ڈبلیو  زیڈ احمد لاہور چلے گئے۔ کمپنی بند ہو گئی، میں بمبئی آ گیا۔ میرا جی سے میری پہلی ملاقات ۴۰ء یا۴۱ء میں آل انڈیا ریڈیو پر ہوئی تھی۔ کچھ دن میں نے بھی وہاں کام کیا تھا۔ شام کو اکثر ہم دونوں کا ساتھ رہتا تھا۔ دلی میں لال قلعہ کے سامنے جو بازار ہے وہاں ایک ریستوران تھا وہاں بیٹھ کر ڈرافٹ بیر پیا کرتے تھے۔ چھے آنے کا گلاس ملا کرتا تھا۔

میں دلی سے میرٹھ چلا گیا۔ کچھ دن سپلائی کے محکمے میں کام کیا پھر ایم اے کے لیے علی گڈھ یونیورسٹی چلا گیا۔ علی گڈھ سے پونے گیا تھا۔ میرا جی بھی تلاشِ معاش میں بمبئی آئے وہاں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ملا تو میرے پاس پونے آ گئے اور میرے پونا چھوڑنے تک وہیں میرے پاس ہی رہے۔ کام وہاں بھی انہیں نہیں مل سکا۔ ۴۷ء میں جب بمبئی آیا تو میرا جی بھی آ گئے۔ موہن سہگل فلم ڈائریکٹر بن گئے اور وہ مکان چھوڑ گئے۔ وشوا متر عادل مدراس کی ایک فلم کمپنی سے متعلق ہو کر مدراس چلے گئے۔ مہا جی نام کے ایک فلم جرنلسٹ میرے دوست تھے۔ لاہور جاتے وقت وہ اپنا فلیٹ مجھے دے گئے۔ وہ فلیٹ میں نے مدھو سودن اور میرا جی کو دے دیا۔

کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد میرا جی بیمار ہو گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا ان کی آنتوں میں زخم ہو گئے ہیں۔ یہ کثرت سے دیسی کچی شراب پینے کا نتیجہ تھا۔ مجھے باندرہ میں ایک مکان مل گیا تھا، میں انہیں اپنے پاس لے آیا۔ دو ڈاکٹر ان کا علاج کرتے رہے۔ ان میں ایک ہومیو پیتھ تھا۔ میرا جی کا اصرار تھا انہیں ضرور بلایا جائے۔ اس کے باوجود بھی کہ علاج برابر جاری رہا انہیں افاقہ نہیں ہوا اور ان کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ حوائج ضروری کے لئے پلنگ سے اُٹھ کر پا خانے تک جاتے جاتے کپڑے خراب ہو جاتے تھے۔ فرش تک گندہ ہو جاتا تھا۔ مہترانی نے کچھ دن کام کرنے کے بعد انکار کر دیا۔ وہ کام میری بیوی کو کرنا پڑا۔

میری شادی انہیں دنوں ہوئی تھی، میری بیوی کم عمر بھی تھیں، سولہ سترہ کے قریب ان کی عمر تھی۔ میری اور ان کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا۔ میرے گھر کے قریب بھابا اسپتال تھا۔ اس کے انچارج ڈاکٹر طوے میرے دوست تھے۔ میرا جی کی یہ حالت دیکھ کر انہوں نے مشورہ دیا میں انہیں اسپتال میں منتقل کر دوں۔ کھانا گھر سے بھجوا دیا کروں، اس لئے کہ ساگودانہ یا اسی طرح کا بہت ہلکا کھانا ڈاکٹر نے ان کے لئے تجویز کیا تھا، چنانچہ انہیں بھابا اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ ایک دو بار میں اسپتال جاتا تھا، ڈاکٹر بھی آتے رہتے تھے۔

ایک بار ڈاکٹر طوے نے آ کر شکایت کی کہ میرا جی پرہیز نہیں کرتے۔ برابر کے مریضوں سے مانگ کر دال چاول کھا لیتے ہیں۔ میں نے اسپتال جا کر انہیں بہت سمجھایا مگر میری بات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور نہایت ڈھٹائی سے کہنے لگے :’’میں تو گھر میں رات کو باورچی خانے میں جا کر کھانا کھا لیتا تھا‘‘۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اتنے علاج کے باوجود بھی وہ ٹھیک کیوں نہیں ہوئے۔ میں نے انہیں لالچ بھی دیا کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے تو والدہ کے پاس لاہور بھجوا دوں گا مگر اُن کی حالت گرتی ہی چلی گئی۔ اور ایک روز ڈاکٹر نے مجھے بتایا ان کی ذہنی حالت بگڑ گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو گیا ہے۔ مجھے بڑا افسوس ہوا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ آتشک کے مریضوں کے ساتھ ایک عمر میں یہ ہو جانا ممکن ہے۔ ان کی عمر اس وقت سینتیس کے قریب تھی مگر بال سب سفید ہو گئے تھے۔ انجان لوگ کبھی کبھی پوچھ بیٹھتے تھے ’’یہ آپ کے والد ہیں ؟‘‘۔

اُس روز انہیں بھابا اسپتال سے کے ای ایم(KEM )اسپتال میں منتقل کیا۔ ڈاکٹر نے کہا انہیں بجلی کے جھٹکے دینے پڑیں گے۔ میرا جی یہ سن کر بہت افسردہ ہوئے۔

’’اختر میں یہ نہیں چاہتا‘‘

’’آپ اچھے ہو جائیں گے ‘‘

’’میرے۔۔۔۔ دور ہو گئے تو لکھوں گا کیسے ؟‘‘انہوں نے افسردہ ہو کر کہا

میں ہنسنے لگا ’’لکھنا تو آپ کے دماغ کا کمال ہے۔۔۔۔ کا نہیں۔ ‘‘

ایک نوجوان ڈاکٹر جو لاہور سے آیا تھا مجھ سے پوچھنے لگا میرا جی وہ شاعر تو نہیں جو لاہور میں تھے ؟

میں نے کہا یہ وہی ہیں۔ اس نے ان کے علاج میں بہت دلچسپی لی۔ میں اور سلطانہ، میری بیوی روز انہیں دیکھنے جاتے تھے۔ ایک روز جو گئے تو معلوم ہوا، انہوں نے ایک نرس کی کلائی میں کاٹ لیا۔ میں نے کہا ’’میرا جی اتنی خوبصورت نرس کی کلائی میں کاٹ لیا آپ نے ‘‘

بگڑ کر کہنے لگے ’’ پھر اس نے مجھے انڈہ کیوں نہیں دیا کھانے کو۔ ‘‘

ایک دو روز بعد ریل گاڑیوں کی ہڑتال ہو گئی اور میں شام کو اسپتال جا نہیں پایا۔ رات کو کھانا کھا رہا تھا کہ اسپتال کا تار ملا کہ میرا جی گزر گئے۔ میرے پڑوس میں نجم الحسن نقوی رہتے تھے، مشہور فلم ڈائریکٹر تھے۔ میں نے ان سے ذکر کیا اور ہم دونوں اسی وقت ایڈورڈ میموریل اسپتال پہنچے اور اگلے روز لاش پہنچانے کی بات کر کے انہیں۔۔۔۔ میں رکھوا دیا۔

میرا جی اپنے زمانے کا بڑا نام تھا، میں نے بمبئی کے تمام ادیبوں کو اطلاع بھجوائی، اخبار میں بھی چھپوایا مگر کوئی ادیب نہیں آیا۔ جنازے کے ساتھ صرف پانچ آدمی تھے۔ میں، مدھو سودن، مہندر ناتھ، نجم نقوی اور میرے ہم زلف آنند بھوشن۔ میرن لائنز کے قبرستان میں تجہیز و تکفین کے فرائض انجام دئیے اور انہیں سپردِ خاک کر کے چلے آئے۔ وفات کی تاریخ ۳؍ نومبر ۱۹۴۹ء پیدائش ۲۵مئی ۱۹۱۲ء۔ دن سنیچر

بھرتری ہری کا ترجمہ اتنا ہی جتنا چھپا ہے، البتہ خیامؔ کی رباعیوں کا کچھ ترجمہ میرے پاس ہے۔ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی دو کتابوں کے مسودے ’’تین رنگ‘‘ اور ’’سہ آتشہ‘‘ میرے پاس ہیں۔ کئی سال ادھر کی بات ہے میں بیمار ہو گیا تھا۔ احتیاطاً میں نے اکثر نظمیں نقل کر کے جمیل جالبی اور سب کو بھجوا دی تھیں، وہیں نظمیں اکٹھی کر کے ان کا مجموعہ چھاپا گیا ہے۔ چونکہ باہر نظمیں چھپ گئی تھیں اس لئے میں نے کتاب نہیں چھاپی۔ اب ارادہ کر رہا ہوں، شاید کچھ نظمیں رہ گئیں۔

انہوں نے آپ بیتی لکھنے کی نیت کئی بار کی تھی مگر کبھی ایک صفحہ، کبھی ڈیڑھ صفحہ لکھا اور چھوڑ دیا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ میرا جی سے متعلق تاثرات جاننے کے لئے یا تو آپ کبھی بمبئی آئیے یا کبھی میں اُدھر آیا تو ملئے۔

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

اختر الایمان ۲۷اکتوبر ۹۱ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ سوغات بنگلور۔ شمارہ:۵)

 

 

 

 

 

میر اجی اور نئے لکھنے والے

 

                پروفیسر جیلانی کامران

 

 

نئے لکھنے والوں کے نام گنوانے سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان لکھنے والوں کے حوالے سے صرف وہ رجحانات مراد ہیں جن کی نشاندہی کے لیے میں نے اس مضمون کا انتخاب کیا ہے۔ ان ناموں کے پیچھے فکری تبدیلیوں کی وہ دنیا دکھائی دیتی ہے جس کے ٹکراؤ اور سمجھوتے سے ہمارے دور کی ذہنی تصویر پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ ذہنی تصویر صرف میری اور آپ کی زندگی کے کیلنڈر ہی تک جی سکتی،  اور کسی آنے والے زمانے کی جانب اس تصویر کا رخ نہ ہوتا، تو میں ان کا ذکر ہی نہ کرتا لیکن جس طریقے سے یہ ذہنی تصویر برآمد ہو کر حال اور مستقبل کے درمیان رابطہ پیدا کر رہی ہے اس طریقے سے تذکرہ کرنا ضروری دکھائی دیتا ہے۔ یہ طریقہ منطق اور جدید ایجادات کی روشنی میں انسان کی پہچان اور شناخت کا طریقہ ہے۔

اس بات سے بہت کم اختلاف ہو گا کہ منطق اور ایجادات کی روشنی میں انسان کی پہچان ایک ایسی شے ہے جو انسان کو ماضی اور حال میں تقسیم کر دیتی ہے جو انسان جدید ایجادات کا ساتھ نہیں دیتا اور جس کا دل اور ذہن جدید ایجادات کو قبول نہیں کرتا وہ اس پیمائش کے ذریعے ماضی کا حصہ بن جاتا ہے اور جن کی وفاداریاں نئی قدروں کا ساتھ دیتی ہیں ان کے حصے میں زمانہ حال آ جاتا ہے یہ صورت حال جہاں ایک شخص کو ماضی کا حصہ بناتی ہے وہیں اسے مستقبل میں شامل ہونے سے روک دیتی ہے کیونکہ مستقبل کا براہ راست تعلق ان کے ساتھ ہوتا ہے جو زمانہ حال اور نئی قدروں کاساتھ دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ طریقہ جس کا ذکر کر رہا ہوں قدروں کا نیا تعین کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے قدروں کو پرانی اور نئی اقدار میں بانٹ دیتا ہے۔

انسان کو نئے اور پرانے میں تقسیم کرنے سے پرانے کی مذمت محض ثانوی اور بعض حالتوں میں اشتہاری نوعیت کی ہوتی ہے یعنی  پرانے انسان کی مذمت سے اس اشتہار کا موضوع اخذ کیا جاتا ہے جس کا کام نئے انسان کی آمد کے خیر مقدم کا ہوتا ہے۔ سارا اصرار اس خیر مقدم پر ہوتا ہے۔ مذمت کی حیثیت سرسری ہوتی ہے تاہم یہ کہنا کہ پرانے انسان اور پرانی اقدار( یا پرانے علم الکلام یاسیرت کی کلاسیکی تفصیلات) کے بارے میں عدم تعاون کا رویہ نتائج سے بے تعلق ہوتا ہے غلط ہو گا کیونکہ نئے انسان کی نقاب کشائی اس عدم تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ نئے اور پرانے کی تقسیم ماضی اور زمانہ حال کے درمیان چناؤ ہی کو پیدا نہیں کرتی بلکہ جدید ہونے کے ایک ایسے تصور کو بھی پیدا کرتی ہے جو ایک خاص تہذیب کے حلقہ اقتدار میں ر دو قبول کے ایک مضبوط سلسلے کو پیدا کرتا ہے جس کے باعث وہ خاص تہذیب،  جدید تصور کی روشنی میں باقاعدہ طور پر متروک اور بے کار شکل اختیار کرنے لگتی ہے، اور اس کا اپنا اقتدار پامال ہوتے ہوئے بالآخر اس جدید تصور کی حکمرانی کے لیے راستہ صاف کر دیتا ہے جس نے اسے ابتدا میں پرانا کہہ کر اجتماعی تاریخ سے الگ کر دیا تھا۔

حالات کی شکل و شباہت کچھ اس طرز کی تھی جب میں نئے لکھنے والوں سے پہلی بار متعارف ہوا تھا۔

نئے ہونے کے جس تصور سے ہمارے لکھنے والے آشنا ہوئے ہیں اس کی تہذیبی وفا داریاں جس انسان کو پیدا کرتی ہیں وہ انسان ہماری اجتماعی تاریخ سے کوئی گہرا رشتہ اور تعلق نہیں رکھتا۔ اس انسان کے جسم و ذہن کے ٹکڑے یورپ کی ہر بندرگاہ اور ائر پورٹ پر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، مگر جو شہر اس فکری سیاست میں نظر نہیں آتے وہ ان کے اپنے شہر اور مضافات ہیں۔ یہ بات کہہ کر میں جس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا شہر،  بین الاقوامی شہروں کے بڑے بڑے سایوں کے نیچے چھپ چکا ہے۔ نئے لکھنے والوں کے نزدیک ہمارے شہر،  مسائل، ٹاؤن پلاننگ اور ٹریفک کے حجم کے باعث دنیا کے دوسرے شہروں کا مزاج اور حلیہ اختیار کر رہے ہیں، اور جس سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں یہ ہے کہ فاصلے مٹ رہے ہیں ملکوں کی مسافت محو ہو رہی ہے،  اور زمین پر کوئی بھی نقطہ ایسا نہیں ہے جو بین الاقوامی نہ ہو، شاہراہوں سے ایک زمانے میں ابن بطوطہ اور فرشتہ گزرتے تھے انھی راستوں پر کارل موب مین، ولیم انڈرسن جونیئر اور پی چیانگ بھی گزرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی سوفیصد تعداد اپنے ذہن کی آبیاری غیر عجمی علوم سے کرتی ہے،  اور سب سے بڑی حقیقت جو ظاہر ہوئی ہے یہ ہے کہ عجم مٹ چکا ہے،  اور اس کی جگہ عراق،  ترکی،  ایران،  افغانستان،  بھارت اور پاکستان نے لے لی ہے۔ اس حادثے کے ساتھ جو دوسرا حادثہ رونما ہوا ہے یہ ہے کہ اس بر عظیم میں ایک ہزار برس کی علمی برتری کی قیادت مسلمانوں سے چھن کر یورپ اور امریکہ کے عالموں کے ہاتھ آ چکی ہے۔ وہ سچائی جو عجمی تہذیب کے زمانہ میں موجود تھی باقی نہیں ہے، اور جب ’میں ‘ باقی نہیں ہوں تو میرا شہر بھی باقی نہیں ہے۔ زمین پر ایک ہی رنگ پھر چکا ہے جس میں کوئی شخص بھی ’ میں ‘ نہیں ہے۔ سب انسان ہیں۔

نئے لکھنے والوں کی انسانیات میں اس مفردضے کی حیثیت مرکزی ہے۔

جس انسانیات کا میں نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے ایک ایسے مفروضے پر قائم ہے جو ’میں ‘ کو منہا کر کے اپنے آپ کو غیر جغرافیائی اور غیر تاریخی رشتوں میں جذب کرنا چاہتی ہے،  اور جس سفر نامے کو مرتب کرتی ہے،  اس کا مرکزی کردار مٹتے ہوئے عجم سے باہر نکل کر نہر سویز کے دوسری طرف کسی ہو شربا اکائی میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ مٹتے ہوئے عجم کا ملبہ اس کے لیے ناقابل قبول ہے،  کیونکہ وہ تہذیب جس نے اس کی پرورش کی تھی،  نئی اقدار کے سامنے اپنے آپ کو درست اور صحیح ثابت نہیں کر سکتی، نئی اقدار،  انسان کی عظمت اور بہادری کی علم بردار ہیں، اور جس انسانیات کی پیروی کرتی ہیں اس کا خالق انسان خود ہے، لیکن وہ تہذیب جسے عجمی اسلامی تہذیب کا نام دیا جاتا ہے ایسی انسانیات کی مخالف ہے کیوں کہ عجمی تہذیب کی انسانیات میں انسان کا کام زمین پر خدا کی نمائندگی کا ہے۔ نئے لکھنے والے زمین پر انسان کی خلافت کی بجائے زمین پر انسان کی عظمت اور حکمرانی کے قائل ہیں،  اور ایک ایسا نقشہ جس پر،  انسان کی ایسی بالا شخصیت نظر نہیں آتی ان کے نزدیک پرانا اور بے کار نقشہ ہے۔

اردو ادب اور شاعری کا ایک ایسا طالب علم جو ادب کو قوموں کی اجتماعی تاریخ سے الگ کرنے کا قائل نہ ہو اس کے لیے اس انسانیات سے سمجھوتہ کرنا بہت دشوار ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں پچھلے تیس چالیس برس کے اثرات کو قبول کر کے مسقبل کا نقشہ ان چالیس برسوں کی روشنی میں مرتب کر سکتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تیس چالیس برسوں کے اثرات اتنے مضبوط اور پختہ ہیں تو ان ایک ہزار برسوں کو کیا ہوا جن کی رہبری میں آج تک فکرو نظر کے راستے کھلتے ہیں۔ یہ مسئلہ غالباً اس زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ بات اپنی جگہ بڑی دشوار ہے کیونکہ نئے لکھنے والے اپنے آپ کو جس روایت سے وابستہ کر چکے ہیں وہ ایک ہزار برس کی بجائے پچھلے تیس چالیس برسوں سے تعلق رکھتی ہے۔ لاہو میں اس روایت کی سالگرہ یوم میراجی کے موقع پر منائی جاتی ہے۔

میرا جی کا ذکر کرنے سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ افتخار جالب، احمد ہمیش، اختر احسن،  سلیم الرحمن، کی باتیں میرا جی سے ملتی جلتی ہیں۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ جو مسئلہ میرا جی پیدا کرتا ہے دہی مسئلہ افتخار جالب اور دوسرے لکھنے والے بھی پیدا کرتے ہیں تاہم اردو شاعری میں میراجی کے مقام کا تعین بڑا ضروری ہے۔ اور خاص طور پر یوم میرا جی کا تذکرہ لازمی ہے کیونکہ اس تذکرے کے بغیر نئے لکھنے والوں کے مسائل واضح نہیں ہوسکتے۔

حلقہ ارباب ذوق اور یوم میرا جی کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ یوم میرا جی صرف یہی ادبی انجمن مناتی ہے اور غالباً اسی ادبی جماعت ہی کے ذمے میرا جی کے شعری مقام کو واضح کرنا بھی ہے۔ میراجی کا تعلق ایک ایسے زمانے اور ادبی ماحول سے تھا جب شاعر کے لیے اجتماعی مسائل پر لکھنا ضروری تھا،  اور اس کی اس بر عظیم کی سیاسی تقدیر میں شمولیت ضروری تھی۔ مولانا حالی سے لے کر اختر شیرانی تک کوئی بھی شاعر ایسا نہ تھا جس نے اس بر عظیم کی سیاسی تقدیر میں لکھ کر شمولیت نہیں کی۔ میرا جی نے اس بر عظیم کی سیاسی تقدیر سے پرے اور ہٹ کر دریافتِ ہندوستان کو اپنا موضوع بنایا۔ یہ دریافت ثقافتی تھی،  اور اس کا تعلق پراچین بھارت کے کئی ایک ملے جلے نکتہ ہائے نظر سے تھا۔ یوم میرا جی کا تعلق اس پہلو سے بہت کم ہے۔ حلقہ ارباب ذوق جب میرا جی کا یادگار دن مناتا ہے تو وہ ایک منفرد شخصیت کا یادگاری دن ہے ؛ ایک ایسے شخص کا جس نے شاعری کو والہانہ طور پر چاہا اور اسے اپنی زندگی کا مقصد اور معاوضہ سمجھا۔ یہ معاوضہ مادی انعامات کا معاوضہ نہ تھا، اور نہ میرا جی کا شاعری سے دنیاوی بہتری کا کوئی خیال وابستہ تھا۔ میرا جی ایک ایسے شاعر کی طرح آیا، ٹھہرا اور جدا ہو گیا، جس نے زندگی بھر اپنی آواز کو لفظوں میں جذب کر کے زندگی کے ایک ایسے بنیادی مسئلے کی خبر دی، جس کی طرف اس زمانے کے شاعروں کی توجہ بہت کم تھی۔

یہ مسئلہ زندگی کے عمل اور سلسلے میں انسان کی جنسی حیات کا مسئلہ ہے جس میں عورت کا مقام مرکزی ہے۔ میراجی کے نزدیک عورت کا مقام نمائشی یا تمجیدی نہیں ہے،  خالصتاً جنسی ہے ؛جس میں مرد اور عورت، دونوں ایک اکائی بن کر ایک دوسری اور شاید بہتر اکائی کو پیدا کرتے ہیں۔ میرا جی کی شاعری میں یہ دونوں اکائیاں بہت کم یکجا ہوتی ہیں۔ عام طور پر نر اور ناری ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں۔ ناری کو نر کا بے تاب جذبہ جسم کی کہانی کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس طرح جس کیفیت کو پیدا کرتا ہے اسے ہم ’ناری پوجا‘ کہہ سکتے ہیں۔ میرا جی کی کہانی ناری سے نر کی علیحدگی کی کہا نی ہے جو جدائی کی داستان بننے کی بجائے اسی جنسی رشتے کی داستان بن جاتی ہے جسے ’ناری‘ کا جسم ہی تسکین دے سکتا ہے۔ زندگی کے ہو شر با عمل میں ’ نر ‘ کی جنسی علیحدگی میرا جی کے شعری فکر کا بنیادی سوال ہے۔

لیکن ’نر‘ کی علیحدگی کا مسئلہ ہی میرا جی کے شعری فکر کی پوری طرح وضاحت نہیں کرتا۔ میرا جی ’ناری ‘ کواپنی نظموں میں مرکزی جگہ دیتا ہے۔ ’ ناری ‘ نظموں کے جغرافیے سے حذف نہیں ہوتی بلکہ اپنی جنسی صحت مندی کے ساتھ نرکی علیحدگی کے سوال کو نظموں کے احاطے میں پوری طرح پھیلاتی ہے۔ یہ کام کچھ اس کامیابی سے کیا گیا ہے کہ ناری اور نر دونوں علامتی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ میرا جی کے نزدیک عورت صرف جنسی عمل اور ممکنات کے ذریعے ایک ایسا وجود اختیار کرتی ہے جو پیدائش کے ساتھ مل کر ایک لازوال صورت میں بدل جاتا ہے اور ناری عورت نہیں رہتی بلکہ ولادت انسان کی علامت بن جاتی ہے جس کی پوجا کے لیے جنسی عمل ہی ایک موثر طریقہ ہے کیونکہ یہ عبادت کسی دوسرے طریقے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

ان باتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ میرا جی نے جنسی رشتے کو مرکز بنا کر لذت کو مقصد قرار دیا ہے۔ اگر میرا جی کا کام صرف اتنا ہوتا تو یوم میرا جی کے منانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا جی جس خوبی سے لب جو ئبارے،  پجاری،  اور سمندر کا بلاوا میں اپنے شعری فلسفے کو استعمال کرتا ہے اس میں ’لذت‘ کی بجائے تحیر ہمیشگی کا احساس،  اور شاعر کا اس عورت ( یا تصور) میں محو ہو جانے کا جذبہ دکھائی دیتا ہے جس کی موجودگی میرا جی کو تخلیق کے حیران کن سلسلے سے آشنا کرتی ہے۔ میرا جی کی شعری قامت اس حیرت نامے سے پیدا ہوتی ہے جسے وہ ناری پوجا،  نرکی جنسی علیحدگی،  اور جنسی رشتے کے دائمی عمل سے مرتب کرتا ہے۔

اس ضمن میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ میرا جی کا شعری فلسفہ دراصل علامتی نقطہ نظر سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ شو اور پاربتی کا رشتہ نہیں ہے اور نہ زمین اور آسمان کے باہمی جذب ہونے کی کہانی ہے۔ یہ کہانی وہ کہانی بھی نہیں ہے جسے اٹھارہ برس کے اردگرد ہر صحت مند نوجوان محسوس کرتا ہے۔ اور نہ اس سے دلہن پیدا ہوتی ہے۔ ماں اور بچوں کے تصور کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا جی کا شعری فلسفہ دراصل نئے ہندوستان کی ولادت کا فلسفہ ہے۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ ’ ناری ‘ ہندوستان کی سرزمین کی علامت ہے۔ اور ’نر‘ وہ مختلف تحریکات ہیں جو اس سرزمین کے ساتھ جنسی رشتے میں شامل ہو کر ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ میرا جی کے شعری فلسفے اور نظموں کا ما فی الضمیر تحریک آزادی کے حوالے کے بغیر واضح نہیں ہوسکتا، اور چونکہ آج تک میرا جی کو اس زاویے سے پڑھنے کی کوشش نہیں کی گئی، اس لیے اسے پچھلی نسل کے شاعروں میں سب سے زیادہ مبہم شاعر کیا گیا ہے۔

میرا جی کا علامتی نقطہ نظر ’جنسی رشتہ ‘ ناری پوجا اور نر،  ایک ایسا طریق کار ہے جس کی مدد سے میرا جی سیاسی تحریکات کے عین پیچھے ایک نئے دور کی ولادت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس کی علامتیں مربوط ہو کر نئے دور کی ولادت کا کوئی واضح چرچا نہیں کرتیں۔ اگریوں ہوتا میرا جی میں اور اس کے ہم عصروں میں کوئی بھی وجہ امتیاز نہ ہوتی۔ میرا جی ان علامتوں کی مدد سے درحقیقت اس عمل اور سلسلے کو پہچانتا ہے جو انیس سوتیس کے بعد ہندوستان میں رونما ہو رہا تھا۔ میرا جی کی نظموں میں نیا دور ظاہر نہیں ہوتا۔ لیکن نیا ہندوستان پنڈت نہرو کی کتاب ’دریافت ہند‘ میں بھی وضاحت کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا،  میرا جی کا جنسی فلسفہ دراصل ہندوستان کے سیاسی عمل کی کہانی ہے۔ اس امر کی روشنی میں نئے ہندوستان کی تاریخ میں مہاتما گا ندھی اور پنڈت نہرو کے ساتھ میرا جی کا مقام ہے۔ کیونکہ میرا جی کے سوا ایسا کوئی بھی شاعر نہیں ہے جس نے نئے ہندوستان کی رونمائی کا خالص آریائی علامتوں سے ایسا نقشہ تیار کیا جو تاریخی اور شعری طور پر بندے ماترم کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

میرا جی نے جس شعور اور احساس کو اپنی نظموں میں پیش کیا وہ اس بر عظیم کی سیاسی کشمش کے صرف ایک حصے اور جزو کا احساس اور شعور تھا۔ اس کا ایسا چناؤ دانستہ تھا۔ مشرق و مغرب کے نغمے،  میں عرب شاعر اور اسلامی ہند کے صوفی شاعر فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ میراجی کو قدیم ہندوستانی بھاٹ اور کوی دکھائی دیے ہیں لیکن اس کی آنکھوں نے پیٹرایبی لار کے زمانے میں ابن عربی کی ترجمان الا شواق کو پہچاننے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس سارے کام کے پیچھے واضح ر دو قبول دکھائی دیتا ہے، اور بسا اوقات یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اگر میرا جی ابھی زندہ ہوتا تو اس کے شعری کشف کی کیا صورت ہوتی۔ تاہم اگر زمانے کے نظام قضا و قدر کو مصلحت سمجھا جائے تو قیام پاکستان کے بعد میرا جی کی وفات ایک ایسا واقعہ ہے جو میرا جی کے تخلیق مشن کے خاتمے کا اعلان کرتا ہے۔ میرا جی کا کام ’’نئے ہندوستان‘‘ اور آریہ ورت کی ظاہر ہوتی ہوئی دیوی کے انگ کو محسوس کرنے کا کام تھا۔

یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کی موجودگی میں میرا جی کا مقام واضح ہوتا ہے لیکن یہ مقام کئی ایک غلط فہمیوں کو پیدا بھی کرتا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق یوم میرا جی کو جدید اردو شاعری کے آغاز اور ایک نئے احساس کے تعارف کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ میرا جی کے ساتھ جدید اردو شاعری اپنے نئے رنگوں کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے،  نئے لکھنے والے (احمد ہمیش، انیس ناگی، اختر احسن،  سلیم الرحمن) جدید اردو شاعری کی تاریخ میں میرا جی کو مرکزی مقام دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ شعری حقائق کا سلسلہ میرا جی سے شروع ہوتا ہے، اور جو راستہ میرا جی نے دریافت کیا اسی راستے پر نئی شاعری کا مستقبل ہے۔ میراجی نیا ہے اور اقبال پرانا ہے۔ جو شاعر اقبال کے زمانے کے ساتھ اپنا الحاق کرتے ہیں وہ پرانے راستے پر سفر طے کرتے ہیں،  اور جن کا رہبر میرا جی ہے وہ نئے دور کا ساتھ دیتے ہیں۔

اگر نئے لکھنے والوں کا مسئلہ صرف فارم اور طرز اظہار ہی کا ہوتا تو ایک حد تک میرا جی اقبال کے مقابلے میں ’’جدید ‘‘ دکھائی دیتا، کیونکہ اقبال کا عجمی کلاسیکی طرز اظہار ہے،  اور میرا جی جس طرز اظہار کو پیش کرتا ہے اس کی سندعجمی اسالیب میں نہیں ملتی لیکن مسئلہ طرز اظہار کا نہیں،  طرز فکر کا ہے۔ ایسی حالت میں اقبال اور میرا جی کے درمیان چناؤ تاریخی اہمیت حاصل کر لیتا ہے اور جو بات ظاہر ہوتی ہے یہ ہے کہ ’’ جدید‘‘ کا تصور عجمی اسلامی روایات کی نفی سے پیدا ہوتا ہے اور ہر وہ شے نئی ہے جس میں مسلمانوں کی تاریخی روایات سے علیحدگی دکھائی دے۔

سوچ کا ایسا طریقہ نئے لکھنے والوں کے مزاج کا پتہ دیتا ہے۔ ان کے نزدیک بدھ مت، آریائی،  یا کسی قدیم ہندوستانی تہذیبی سرمائے سے موضوع کا اخذ کرنا برا نہیں ہے۔ اس لیے احمد ہمیش سنسکرت اور ہندی کے الفاظ کی مدد سے جو دنیا تخلیق کرتا ہے اس کی شکل و صورت ٹیگور کی شعری دنیا سے ملتی جلتی ہے،  اختر احسن اپنے فکر کے اظہار کے لیے پراچین دیومالا کو علامتی طور پر استعمال کرتا ہے۔ مبارک احمد میرا جی کے جنسی نقطہ نظر کو قبول کر کے انسان کے نچلے جسم کی کہانی کو پیش کرتا ہے۔ افتخار جالب کی نظموں میں یہ صورت نظر نہیں آتی،  لیکن وہ بھی نظریاتی طور پر انھی دوستوں کا ساتھ دیتا ہے۔ سلیم الرحمن نے اس راستے پر سفر نہیں کیا،  تاہم اس کی نظمیں بھی’’ جدید ‘‘ ہونے کی اس حد تک دعویدار ہیں جن حد تک میراجی کا اجتہاد جدید اور نیا ہے۔ انیس ناگی کا نقطہ نظر بھی اسی طرح کا ہے۔ اس سلسلے میں جو قابل غور بات یہ ہے کہ سارے دوست ایک دوسرے سے مختلف ضرور ہیں لیکن اس پر متفق ہیں کہ ’’جدید‘‘ کا مطلب مسلمانوں کی تاریخی روایت کو منہا کر نے سے پیدا کرتا ہے۔

’’جدید‘‘ کا ایک دوسرا تصور جو ان شاعروں میں نظر آتا ہے کہ وہ یورپی شاعری کا انداز فکر ہے، جسے وہ مختلف مغربی شاعروں کے مطالعے سے حاصل کرتے ہیں۔ ’’جدید‘‘ کے اس تصور کو قبول کرنے والوں میں کراچی کے لکھنے والے لاہور کے لکھنے والوں سے آگے ہیں۔ اس تصور کو قبول کرتے ہوئے نئے لکھنے والے قوموں اور تہذیبوں کے باہمی فرق اور مزاج کے فراموش کر دیتے ہیں۔ مثلاً دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی یورپ کا مزاج انسان کے بارے میں کوئی اچھا نظریہ قائم نہیں کرتا۔ اپنی تہذیب کے ساتھ ان قوموں کا تعلق کھچا کھچا سا ہے۔ انکار اور اقرار کے کار آمد ہونے پر شک و شبہات ان قوموں کی شاعری کا واضح مضمون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی یورپ کی شاعر اپنے لیے کسی مستقبل کا ذکر نہیں کرتی اینگری ینگ مین اور بی ٹنک نسلیں صرف ایک معاشرے اور تہذیب میں پیدا ہوسکتی ہیں جو احساس مستقبل سے محروم ہوں۔ نئے لکھنے والوں میں ’’جدید ‘‘ کے تصور کو اینگری ینگ مین اور بی ٹنک نسل کی لکھی ہوئی شاعری پیدا کرتی ہے لیکن یہ صرف اس بڑی صورت حال کا حصہ ہے جس کے زیر اثر نئی اردو شاعری لکھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہری زندگی کو نظم میں داخل کرنے کا کام بھی ’’جدید ‘‘ ہونے کی ایک بڑی نشانی قرار پایا ہے اور ایک ایسے شاعر کو جو سڑکوں،  بلڈنگوں،  رکشوں،  اور ٹیکسیوں یا کالج کی لڑکیوں کا ذکر نہیں کرتا بہت کم ’جدید ‘سمجھا جاتا ہے۔

نئی اردو شاعری کا سب سے بڑا مسئلہ اپنی تہذیب کی دریافت کا مسئلہ ہے اور نئے لکھنے والے (افتخار جالب، سلیم الرحمٰن، اختراحسن) اس مسئلے کو اپنے شعری فلسفے میں مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک نئی اردو شاعری کسی قائم بالذت تہذیب سے سردست آشنا نہیں کرتی۔ زاہد ڈار کا خیال ہے کہ وہ تہذیب جو اقبال کے زمانے میں مسلمانوں کی تہذیب کہلاتی تھی باقی نہیں ہے اور اس کی جگہ یورپی، آریائی اور قدیم زمانے کی دراوڑی تہذیب نے مسلمانوں کی تہذیب کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ فاصلے مٹ رہے ہیں اور انسان انسانوں کے قریب تر آ رہے ہیں اس لیے ’’مسلمانوں کی تہذیب ‘‘ کی اصطلاح میں سوچنا محض ایک لوکل اور مقامی سی بات ہے۔ مسلمانوں کی تہذیب پر اصرار کر کے ہم انسانوں کو باٹنے کا جرم سرزد کرتے ہیں اور اس طرح عالمگیر انسانیت کو برپا کرنے میں دشواریاں حائل کرتے ہیں۔

اب یہ سوال کہ کیا عجم مٹ چکا ہے ؟عجمی اسلامی تہذیب تحریک خلافت کے ساتھ رخصت ہو چکی ہے اور مسلمانوں کی تہذیب کا تذکرہ فرقہ دارانہ سی بات ہے،  ایک بہت بڑا اور کھلا سوال ہے۔ تاہم جو امر غور طلب ہے یہ ہے کہ العرب للعرب زندہ ہے اور ہر چند کہ مختلف عرب قومیں مغرب سے فیض یاب ہو رہی ہیں پھر بھی ان کا عربوں کی کلاسیکی روایت سے اس نوع کا رشتہ منقطع نہیں ہوا جس طرح کے حادثے سے ہم دو چار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فاصلے بھی کم نہیں ہوئے رفتار بڑھ گئی ہے۔ لندن آج بھی لاہور سے اتنا ہی دور ہے جتنا سرطامس روکے زمانے میں تھا جب وہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوا تھا۔ دنیا کے نقشے پر ملکوں کی سرحدیں حذف نہیں ہوئیں،  افریقہ امریکہ میں تبدیل نہیں ہوا اور نہ یورپ کے لوگ مسلمانوں کا مزاج سمجھنے کے قابل ہوئے ہیں۔ دنیا کا شہری صرف ایک موہوم تصور ہے۔ ہر شہری بین الاقوامی طور پر اپنے ملک کے پاسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔ کسٹم کلیرنس، ایمگرنٹس ایکٹ، نسلی امتیاز، برلن کی دیوار اور ناگا قبیلوں کی سیاسی تحریک، ایسی حقیقتیں ہیں جو نہ تو فاصلوں کے مٹ جانے کی تائید کرتی ہیں اور نہ انسان کے ایک ہو جانے کی حمایت میں شامل ہیں۔

ان باتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ میں ایک عظیم نصب العین (کہ انسان ایک ہے ) کی مذمت کر کے انسانوں کے اختلافی وجود کی حمایت کرتا ہوں۔ بات یوں نہیں ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا عالم گیر تصور ملکی جغرافیائی اور تاریخی سرحدوں کے حذف ہونے سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ قومیتوں کے باہمی تعاون سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان کے ایک ہو جانے کی کوشش میں قومیتیں محو نہیں ہوتیں، بلکہ واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ اس حقیقت کی پوری طرح تائید کرتا ہے۔ اس بات کے پیشِ نظر کو ئی بھی انسانیات قومی حوالے کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتی اور جب تک نئے لکھنے والے اپنی تہذیب کی دریافت نہیں کرتے، انسانیات کا چرچا بھی کار آمد ثابت نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کتاب نئی شاعری مرتب کردہ افتخار جالب میں شامل مضمون کا میرا جی سے متعلق ایک حصہ)

٭٭٭

 

 

 

 

 

 ہمارے میرا جی صاحب

 

                ساقی فاروقی

 

ترقی پسندوں تک ہماری نظم بہت سست رفتار رہی ہے۔ یہ لوگ اس کی باگ پکڑ کر اسے گھسیٹنا چاہتے تھے لیکن وہ قربانی کے اڑیل بکرے کی طرح زمین پکڑ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ اس پر یہ حقیقت منکشف ہو چلی تھی کہ آگے چکوے چھری پجا رہے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ مٹی مٹی میں اور پانی پانی میں مل جائے گا۔ وقت کٹھن تھا مگر متوازی افق پر ایک اور طرح کی نظم طلوع ہو رہی تھی۔ خوابناک آنکھوں والے میرا جی سامنے آئے اور اس شاطر اژدہے کی دیوار نما پیٹھ کے نیچے یوں خاموشی سے بیٹھ گئے جیسے وہ مدت سے سایۂ دیوار ہی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ وہ بھوکے آدمی تھے، پیٹ کی بھوک ہو کہ پیڑو کی، اظہار سے وہ کہیں ہچکچاتے نہیں۔ ناممکن تھا کہ وہ اس قیام کو بغیر طعام کے طول دیتے۔ ان کے دماغ میں مختلف جنسی، نیم جنسی، حیوانی، نیم حیوانی، سدھائے ہوئے جذبات اور اعلیٰ انسانی اقدار کی کھچڑی سی پک رہی تھی۔ انہوں نے وہ ہنڈیا اتار کر اس دیوار سے لگا دی اور آگ روشن کر دی۔ آگ تیز ہوتی گئی اور اژدہا درد سے بلبلانے لگا۔ ادھر راشدؔ بھی کسی کے پہل کرنے کے انتظار ہی میں تھے۔ انہوں نے بھی بن بجھے چونے کی ایک بوری اس کے منہ میں انڈیل دی۔ وہ اژدہا باہر سے تو جل ہی رہا تھا اب اندر سے بھی گلنے لگا۔

میرا جی اور راشد۔۔۔ فیضؔ سے بہت مختلف ہیں، فیض کی تربیت میں غزل کا بڑا حصہ ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ان کا خمیر غزل ہی سے اٹھا تھا۔ ان کے مصرعوں کی کتر بیونت، ساخت، جامعیت، انہیں نظم سے زیادہ غزل کے قریب رکھتی ہے (یاد رہے کہ نظم گو کی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک خصوصیت مصرع کہنے کا ڈھنگ بھی ہے )ہمیں بزرگوں سے اسلوب کی جو روایات ملی تھیں ان سے انہوں نے اتنا انحراف ضرور کیا کہ کہیں صوت اور آہنگ کے تجربے کر لئے اور کہیں سیدھے سادے قطعے کا سا انداز اختیار کر لیا لیکن ان کی نظمیں اپنے اندر غزل کی سی قطعیت اور کاٹ بھی رکھتی ہیں، جبکہ میرا جی اور راشد دونوں اسے بد ظنی کی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ راشد کی شاعری میں غزل کے رول سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ دونوں شاعر جذبے اور خیال کو جوں کا توں اس کی عریاں حالت میں بیان کر دینے کے حامیوں میں ہیں۔ اسی لیے اسلوب ہو کہ خیال یا جذبہ ہر تین صورتوں میں یہ لوگ نظم اور خاص کر جدید نظم سے قریب تر اور روایت کے باغیوں میں سے ہیں اور فیض سے نسبتاً نئے بھی۔

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ادب کا کام تزکیہ ہے۔ انسان کے کسی نہ کسی نا ملائم جذبے کا تزکیہ۔ جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ لکھنے والا اپنے کسی خیال یا جذبے کو محسوسات کے دائرے میں لانے کے بعد جمالیاتی سطح پر الفاظ کی شکل دے دے۔ اس عمل سے یہی نہیں کہ اس کے کسی کھردرے جذبے کا تزکیہ ہو گا بلکہ اس کے پڑھنے اور سننے والے پر بھی یہی اثر ہونا چاہیے اور اگر اس پر یہ عمل نہیں ہوا تو جان لینا چاہیے کہ لکھنے والے نے کہیں نہ کہیں اس میں کھوٹ شامل کر دیا ہے۔ اور اس کھوٹ کی موجودگی اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ لکھنے والا کسی سچائی کو شعور کے احاطے میں لاتے ہوئے ڈرتا یا جھجکتا رہا ہے یا کلیشے میں لکھ رہا ہے۔ یعنی اگر کسی کا تزکیہ مارٹن لوتھر کنگ کی تقریرI have a dream سے ہو گیا تو ن۔ م۔ راشد کے ’’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘‘سے اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اپنی تمام خوش فہمیوں کے باوجود شاعر تن تنہا نہ تو قوم کی تقدیر بدلتا ہے نہ انقلاب وغیرہ لاتا ہے۔ صرف فرد کی تطہیر کرتا ہے اور اسی سے معاشرے میں تھوڑے بہت خیر کے جذبات راہ پا جاتے ہیں۔

میرا جی اور راشد نے کرم خوردہ اخلاق کی جھوٹی قدروں والی بے نیو دیواروں کو ڈھانا اور نظم والے حالیؔ کے سائے میں چلی ہوئی پود کے چہرے سے چھلکا اتارنا شروع کیا۔ یہی کام نثر میں عصمت اور منٹو کر رہے تھے۔ ان تمام لوگوں نے اپنے آئینے سورج کے سامنے کر دئیے تھے اور ہاتھوں کی جنبش سے ان کی چکا چوند کر دینے والی روشنیاں خشک ہونٹوں، اندھی آنکھوں اور روشنی کے لیے ترسے ہوئے جسموں پر پھینکنی شروع کیں۔

یہ سچ تھا اس لئے اس کی طاقت بھی بڑی تھی اور جو لوگ اس طاقت کے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہرنے کی جسارت اپنے اندرنہیں پاتے تھے یا اس روشنی سے اپنے دلوں کے اندھیرے چھپائے رکھنا چاہتے تھے، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے چھپا لئے اور اپنے جلے ہوئے برقعوں سے اپنی ستر پوشی کرنے لگے۔ میرا جی اور راشد ناکام رہتے اگر وہ زیرک اور چالاک نہ ہوتے۔ وہ ان آئینوں سے X-Ray کا کام لینا بھی جانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ان کے رُخ اپنی شخصیتوں کی طرف پھیر لئے اور یوں ان کی شخصیت کے سارے کوڑھ اور ناسور اور آدمی کی ازلی محرومی روشنی میں آ گئی جس کی طرف ہمارے نظم نگاروں کی توجہ نہ ہونے کے برابر تھی۔

میرا جی نے آدمی کے ان دُکھتے ہوئے زخموں اور زنگ خوردہ جنسی جذبوں کی تطہیر کا فرض ادا کیا جنہیں ہمارے دوسرے شاعروں نے دانستہ نظر انداز کر رکھا تھا اور یوں ہماری نظموں میں کہیں کبھی کو ئی شخصیت پوری طرح اجاگر نہ ہو پائی تھی۔ یہ جذبے اپنے اندر امکانات کا ایک بیش بہا خزانہ رکھتے تھے اور ضروری تھا کہ اس طرف بھی توجہ کی جائے کہ یہ بھی بہر حال انسان کی بنیادی جبلتوں، احساسات، معاشیات اور سماجی بندشوں سے معرضِ وجود میں آتے ہیں :

ہاتھ آلودہ ہے، نمدار ہے، دھندلی ہے نظر

ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے

اس پر ناک بھوں چڑھانا اور بات ہے لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ اسے اخلاق کا مسئلہ بنائے بغیر صرف ادب کا مسئلہ بنا کر دیکھیں کہ آیا یہ نظم آدمی کو استمنا بالید کی تلقین کرتی ہے یا اس کے کسی وحشیانہ جذبے کا تزکیہ کرتی ہے۔

پھر یورپ اور امریکہ کے جنس دانوں، ماسٹرس اور جانسن اور روبی وغیرہم کی ریسرچ یہ ہے کہ خود لذتی ایک فطری عمل ہے اور ایک صحت مند مرد یا عورت کی نشانی ہے۔ (راقم الحروف نے خود لذتی کے لئے خود وصلی کی ترکیب ایجاد کی ہے، تاکہ احساسِ جرم کی زنجیر کی آواز سنائی نہ دے )، اگر میرا جی ان لمحوں سے گزرنے کے بعد، انہیں شعور سے جھٹک کر جسم کے کسی نہاں خانے میں ڈال دیتے اور کہتے یہ کہ آؤ ببر کی چال، آ جاؤ افریقہ۔۔۔ تو ہم کفِ افسوس ملنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے تھے۔ سچ کہئے آپ کی رگیں ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے، سے جھنجھنا رہی ہیں یا آؤ ببر کی چال، آ جاؤ افریقہ۔۔۔ سے۔ اور اگر پہلا مصرعہ دل سے سرگوشیاں کر رہا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ میرا جی کی آواز سچی ہے۔ نیز وہ اپنے اندر بڑی شاعری کے امکانات بھی رکھتے تھے۔ بہیمانہ جذبات کو شعری قالب میں ڈھال دینا آسان نہیں۔ یہیں شاعر کی چابکدستی کام آتی ہے۔ ورنہ تباہی کے راستے تو بہر حال سب کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔

علامت، شعر کے حسن کے اضافے کے لئے ایک اہم چیز ہے، ہمارے نظم نگاروں میں میرا جی پہلے آدمی ہیں جنہوں نے فرانسیسی علامت نگاروں کی زبان سمجھی اور علامت کو پورے سلیقے سے برتا۔۔۔ جنسی مسائل اگر جوں کے توں بیان کر دئیے جائیں تو یہ اپنی اعلیٰ اور جمالیاتی قدروں کے ساتھ شعر میں نہیں کھپ سکتے۔ چونکہ میرا جی بیشتر اسی جنسی داشتہ کے گرد گھومتے رہے ہیں اس لئے علامت کا سہارا اشد ضروری بھی تھا۔ انہیں علامتوں کی زبان آتی تھی بلکہ وہ علامتوں ہی کے شاعر تھے، اسی لیے اکثر وہ دقت پسندی کی طرف بھی نکل گئے ہیں اور جہاں جہاں وہ خود واضح نہیں تھے، ان کی نظمیں بھی گنجلک اور گاہے گاہے بے معنی ہو گئی ہیں۔ ’’تن آسانی‘‘ اور’’ترقی پسند ادب‘‘ وغیرہ بے جان، غیر واضح اور نادار نظمیں اسی لئے ہیں کہ وہ شاعر کے احساسات، جذبات یا شخصیت کے کسی گوشے کا حصہ نہ بن سکی تھیں۔

وقت گزر رہا ہے، وقت گزر جائے گا۔ اسی لئے میرا جی ہر لمحے کی خوشبو اپنے مشامِ جاں میں اتار لینا چاہتے تھے۔ خواہ وہ دکھی لمحہ ہو یا خوف زدہ، حسین یا کریہہ، خوابناک یا خوش آئند:

کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی

لیکن ایک بات خاص طور سے یاد رکھنی چاہیے کہ وہ انہی لمحوں کی داد دیا کرتے تھے جو ان کے تمام جذبات کو یا کسی ایک جذبے کو کسی نئے تجربے سے دوچار کریں۔ اور جہاں کسی دہرائے ہوئے جذبے کا دوبارہ اظہار ملتا ہے، اس کی وجہ پہلے اظہار کی نا پختگی یا تشنگی ہے۔ یوں بھی ہوا ہے کہ میر تقی میر کی طرح دوسری کوشش، پہلی کے مقابلہ میں زیادہ ناکام رہی ہے۔ یہ غفلت اور چوک جانے کا نتیجہ ہے جو فنی گرفت کی ڈھیل پر دلالت کرتا ہے، اس میں دانستگی کو دخل نہیں۔ جیسا کہ میں نے فیضؔ کے بیان میں کہا تھا کہ وہاں خیال کی رٹ شعوری ہے اور اپنے ایک مضمون میں مجازؔ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کے یہاں مشاہدے اور علم کی کمی کھٹکتی ہے۔

میرا جی سے پہلے تک ذہنوں میں ایک کوبڑ اور تھا اور ہر چند کہ اس کی موجودگی ایک مفروضے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی، تاہم یہ خیال عام تھا کہ غزل داخلیت اور نظم خارجیت کے بیان کا نام ہے۔ پھر یہ ہوا کہ کسی نہ کسی خیال پر نظم کی اساس ضروری سمجھی گئی۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس صورت میں سہرا ان علوم کے سر جاتا ہے جہاں سے یہ خیال اخذ کیا گیا ہے، خواہ وہ دینیات ہو یا سیاسیات، معاشیات ہو یا طبیعات۔ شعر میں اس کی حیثیت ہمیشہ ثانوی رہے گی۔

اب دیکھئے تو یہ تمام علوم لچک دار ہیں اور حالات، مشاہدات اور تجربات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ کہ جس خیال پر نظم کا مدار ہمارے نظم نگاروں نے رکھا تھا وہ تو اپنی شکلیں بدلتا رہا لیکن یہ حضرات شمہ برابر بھی ادھر ادھر نہ ہوئے اور اپنی نمو پذیر شخصیت، برف کی تہ در تہ سل کے نیچے دبائے رہے اور ذہن کے تمام دریچے بند کر لئے کہ مبادا صبح کی روشنی اور بہار کی تازہ ہوا سے کوئی نیا اکھوا پھوٹ جائے۔ حالانکہ ایک اچھے فنکار کا فرض ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے بدلتے ہوئے رُخوں کو شعور میں لا کر ان کی کڑی نگرانی کرے، مانا وہ کچھ دیر اجنبی لگیں گے لیکن آخر وہ بھی تو اس کی شخصیت کا پرتو ہوں گے، دل میں اتنی گنجائش ضرور ہونی چاہئے کہ وہ انہیں اپنا لے۔ ہر دلعزیز شاعری کو بالائے طاق رکھ کر نئی شعری لسانیات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے، اور کمنگس کے الفاظ میں (۱):

Its no use trying to pretend that “mostpeople” and ourselves are alike.

میرا جی پر جو کچھ بیتی، بے کم و کاست ان نظموں میں آ گئی۔ اس کے لئے انہیں خیال کے اس کوبڑ کو بھی چیرنا پڑا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس میں سوکھے ہوئے مواد کے علاوہ کچھ نہ تھا، جس کی تیزابی ہماری نظم پر اپنی جڑوں کے مہلک ریشے پھیلا رہی تھی۔ بہر حال میرا جی نے سوچنے کا ایک ایسا طریقہ بخشا جس نے شخصیت کے داخلی امکانات روشن تر کر دئیے اور جس سے آنے والے نظم نگار دیر تک بھٹکنے سے بچ گئے۔ مگر میرا جی کی سادیّت ان کے لیے بڑی ضرر رساں ثابت ہوئی کیونکہ جب تک لہو کے فوارے نہ چھوٹ رہے ہوں، جسم میں خنجر نہ اتر چلے ہوں وہ ادھر متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے۔

مری نگاہوں کے دائرے میں

رگوں سے خوں کی ابلتی دھاریں

نکل نکل کر پھسل رہی ہوں

پھسلتی جائیں

(خون کا بیان لازماً رومانیت کی نشانی نہیں ہے )

اس زاویہ نگاہ کے باعث میرا جی کا احاطہ نظر مسدود اور محدود ہوتا چلا گیا۔ جب ساحل بہنے لگے تو اہلِ ساحل صرف نظارے کے سزاوار نہیں رہ سکتے کہ ساحل کو بچانے کی فکر کچھ کم ضروری نہیں۔ میرا جی نئی نظم کو خام مواد اور امکانات کا ایک نیا ذخیرہ دے گئے۔ یہ کام بہت اہم سہی لیکن یہی تو سب کچھ نہیں۔ وہ اچھے شاعر نہیں مگر ایک اہم شاعر ہیں۔ بڑے شاعر بھی نہیں، حالانکہ اس کے امکانات ان میں ضرور تھے۔ اس کا پہلا سبب بیان کا الجھاوا ہے جو نظم میں طولِ کلام کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ایک چابک دست نظم نگار اپنی نظم ایک خاص Climax کی طرف لے جاتا ہے اور اگر اپنی منزل تک پہنچنے میں اس کی سانس ٹوٹ گئی تو نظم میں جھول آ جاتا ہے۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ پچھلے سرے کو اگلے سرے سے جوڑنے کے لئے وہ کچھ ایسے خارجی عوامل کا سہارا لیتا ہے جن کا اس نظم کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور وہ جوڑ ہمیشہ اپنی بد نمائی اور بد ہئیتی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟اس کا بس ایک جواب ہے، زبان پر کمزور گرفت اور روایت سے سوتیلی آشنائی!! اِلیٹ نے پونڈ کی نظموں کا دیباچہ لکھتے ہوئے جو بنیادی بات روایت اور جدیدیت کے بارے میں کی ہے وہ دل کو لگتی ہے۔ ’’جدیدیت بغیر روایت کے ایک بے معنی لفظ ہے اور اگر کہیں کوئی ایسا ادب موجود ہے جو جدید تو ہے لیکن روایت سے اس کا کوئی علاقہ نہیں، تو میں اسے منسوخ کرتا ہوں ‘‘۔ اگر لکھنے والے کی جڑیں اپنی روایت کے چاروں طرف پھیلی ہوئی نہیں ہیں تو وہ گھورے پر اُگا ہوا ایک ایسا ککر مُتّا ہے جس کی چھتری ہوا کا ایک جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی شخص اردو میں لکھ رہا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب تک خیال اور احساس اور زبان نے کہاں تک سفر کیا ہے۔ لکھنے والے کا پڑھنا بھی ضروری ہے اور پڑھ کر بھول جانا بھی کہ وہ کہیں کلیشے میں نہ گم ہو جائے۔

میرا جی روایت سے نا آشنا اتنے تو نہیں ہوں گے جتنے وہ اپنی نظموں میں لگتے ہیں مگر وہ اردو شاعری کی مصنوعی زبان کو توڑنے کی دُ ھن میں پُل بنانا بھول گئے۔ اسی لئے ایک خلا کا احساس ہوتا ہے۔ پھر ان کی زبان اردو ہوتے ہوئے بھی گاہے گاہے الگ تھلگ نظر آتی ہے، اس کی وجہ ان کی حد سے بڑھی ہندیت ہے۔ میں ہندی الفاظ کا خود بہت قائل ہوں کہ اردو میں ان کا بڑا عمل دخل ہے مگر اردو کا ایک اپنا آہنگ، ایک اپنا مزاج ہے جو کئی زبانوں کے میل جول سے پیدا ہوا ہے۔ ’’دکھ‘‘ ہندی ہے میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا (غالبؔ )

اب کہئے کیا ’’دکھ‘‘ اب بھی ہندی ہے۔ پتا چلا کہ ایک چیز ’اردوانا‘ بھی ہوتی ہے۔ میرا جی اس سے کم کم آگاہ تھے۔

میں ان کا ذکر یہیں ختم کرنا چاہتا ہوں اس لئے آئیے اپنی آسانی کے لئے دو جملے میں یہ کہتا چلوں کہ موضوعات اور نئے مواد کی فراہمی میں میرا جی، فیض سے بڑے شاعر ہیں لیکن فیضؔ کی نغمگی اور شعریت جو اچھی شاعری اور بڑی شاعری دونوں کے لئے بے حد ضروری ہے، اس سے ان کا دامن تہی نہ سہی اتنا وسیع ہر گز نہیں ہے کہ ان چیزوں کے لئے پوری گنجائش نکال سکے۔ اگر یہ کمی ان کے یہاں نہ ہوتی تو وہ زیادہ قابلِ قدر نظم نگار ہوتے، اہم تو بہر حال ہیں، بڑا بننے کے لئے ضروری ہے کہ شاعر کی پوری شخصیت اپنی تمام برائیوں،  اچھائیوں،  نیرنگیوں، محرومیوں اور آسودگیوں کے ساتھ شعر میں ڈھل جائے کیونکہ نہ زندگی جوئے کم آب ہے نے آدمی کسی جوئے کم آب کا کشتی راں۔ یہ دونوں ہمہ گیر، رنگا رنگ اور بے شمار زوایا کی وسعتیں اور گنجائشیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔ کوئی صرف ایک جذبے یا زندگی کے ایک رُخ کو کہاں تک بلو سکتا ہے۔

میرا جی جیسا صوفی شاعر ہمارے ہاں شاید دوبارہ پیدا نہیں ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱):پیارے حیدر، یہاں “mostpeople”ایک لفظ ہے۔ کمنگس نے ایسے ہی لکھا ہے۔ ساقی

٭٭٭

 

 

 

میرا جی: شخصیت کے ابعاد اور فن کی جہات

 

                مظفر حنفی

 

میرؔ ، مجازؔ ، منٹو وغیرہ کی طرح میرا جی کی شخصیت بھی بہت سی مصدقہ و غیر مصدقہ روایتوں کے پر اسرار دھندلکے میں ملفوف ہے۔ اپنے فن کی طرح غیر واضح اور مبہم۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ فن اپنے فنکار کا آئینہ ہوتا ہے۔ کیا یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ یہ چاروں فنکار اپنے جذبات کی فراوانی کے ہاتھوں جنون میں مبتلا ہوئے۔ میرؔ اور میراؔ جی کے ذکر پر جانے کیوں میراؔ بائی کی یاد آ گئی۔ ہر چند کہ وہ اردو نہیں، راجستھانی زبان کی شاعرہ تھی۔ شاید اس لیے کہ اُس بی بی کو بھی اپنے پریم دیوانی ہونے پر ناز تھا اور یہ بھی ہے کہ میراؔ جی کو ہندو مائتھالوجی، کرشن، رادھا، برندا بن وغیرہ سے عمر بھر لگاؤ رہا۔

میرا جی کے فن اور شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے مختصراً ان کے سوانح حیات کا آموختہ کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ منشی مہتاب الدین اور زینب بیگم نے اس فرزندِ اکبر کا نام تو ثناء اللہ ثانی رکھا تھا جو مختلف اوقات میں بسنت سہائے، بشیر چند، بندے حسن وغیرہ کے روپ میں سامنے آیا۔ شاعری میں پہلے ساحری تخلص کرتا رہا پھر میرا جی ہو گیا۔ ہزلیہ شاعری میں لندھور تھا اور ن۔ م۔ راشد اسے ادبی گاندھی کہتے تھے۔ تاریخ پیدائش ۲۵ مئی ۱۹۱۲ء ہے۔

بچپن کا بیشتر حصہ انہوں نے کاٹھیاواڑ(گجرات) میں گزارا، جہاں ان کے والد ریلوے میں ملازم تھے۔ اسکول وغیرہ سے رغبت نہ تھی اس لیے میٹرک بھی پاس نہیں کر سکے، لیکن اپنے طور پر مشرق و مغرب کی ادبیات کا گہرا مطالعہ کیاجس کے برگ و بار ان کی تصنیفات، تالیفات اور تراجم وغیرہ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ روایت ہے کہ عنفوانِ شباب میں میرا جی کو ایک سانولی سلونی بنگالی دوشیزہ سے عشق ہو گیا۔ یہ حسینہ لاہور کے مشن کالج میں پڑھتی تھی۔ یہ محبت یک طرفہ تھی۔ کیونکہ ایک دن جب میرا جی نے اظہارِ عشق کے لیے اُس حسینہ کو راستے میں مخاطب کرنا چاہا تو وہ ان سے بات کیے بغیر بے نیازانہ آگے بڑھ گئی۔ اس وقت تک ثناء اللہ ثانی، میرا جی نہیں ہوئے تھے۔ اس قتالۂ عالم کا نام میرا سین تھا۔ اس لیے وفور شوق میں یہ میرا جی ہو گئے۔ گلے میں بڑے بڑے منکوں کی مالا پہنتے، اکثر لمبے سے گندے کوٹ اور میلے لباس میں بسر کرتے۔ کہتے ہیں کہ پتلون میں (۱)استر نہیں رکھتے تھے تاکہ خود لذتی میں آڑے نہ آئے۔ اکثر ان کے ہاتھوں میں پرنی میں لپٹے ہوئے تین گولے نظر آتے۔ غبار آلود بالوں کا گھونسلہ۔ سستی شراب پی پی کر صحت تباہ کر لی۔ زیادہ وحشت ہوتی تو مالا اتار کر میراؔ کا جاپ کرتے۔ عمر بھر کسی اور لڑکی کی طرف نہیں جھکے۔ شادی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کہتے ہیں اس لائق نہیں رہ گئے تھے۔ اپنی کج روی، بلا نوشی اور بے اعتدالیوں کے ذریعے میرا جی نے زندگی کو بہت مختصر کر لیا۔ خود کو تماشا بنا کر رسوائیوں کو سینے سے لگائے انہوں نے عمرِ عزیز کے چند برس لاہور میں، تین چار سال دہلی میں اور آخری تین چار برس بمبئی میں خواری اور بد حالی کے عالم میں بسر کئے۔ زندگی بھر وہ ایک جنسی اور نفسیاتی مریض رہے جن کی بد قماشیوں اور بدکاریوں کی داستانیں منٹو، اخلاق احمد، قیوم نظر، سلیم احمد اور خود میرا جی نے مزے لے لے کر بیان کی ہیں، اور دردمندی کے ساتھ ان کی آخری عمر کے دوست اختر الایمان نے بھی۔ غلاظتوں میں لتھڑی ہوئی ان کی داستانِ حیات ۳؍نومبر۱۹۴۹ء کو بمبئی کے کنگ ایڈورڈ ہسپتال میں اختتام پذیر ہوئی، اور اختر الایمان کی اعانت سے انہیں میرین لائن قبرستان میں دفن کیا گیا۔

مزاج کے اعتبار سے نیوراتی اورسا دیت پسند اس بد نصیب فنکار کو محض سینتیس برس، پانچ مہینے، نو دن زندہ رہنے کی مہلت ملی۔ ان میں سے سترہ برس بچپن اور لڑکپن کے منہا کر دیں تو لے دے کربیس برس کی مختصر سی مدت اس ظالم نے تخلیقی کاموں میں بسر کی ہو گی۔ اس میں دیوی میراسین کے نام کی مالا جپنے اور مختلف نشوں میں دھت رہنے کے اعمال بھی شامل ہیں۔ اب اُس کی اتنی چھوٹی سی زندگی کے ادبی و علمی کاموں پر نگاہ کیجیے۔

۱۔ ۱۱اکتوبر۱۹۳۳ء سے پہلے نظمیں کہنی شروع کیں۔ ’’کلیات میرا جی‘‘(مرتبہ: جمیل جالبی)میں ان کی قدیم ترین نظم ’پران دان کی پہیلی‘ پر یہی تاریخ درج ہے۔ (ص۴۰۵ تا ۴۰۸)اور اگلے سولہ برسوں میں ۲۲۳ نظمیں،

۱۳۶ گیت، ۱۷ غزلیں (۱۲ متفرق اشعار)، ۲۳ مختلف زبانوں کے ممتاز شعراء کی تقریباً ۲۲۵ نظموں کے منظوم ترجمے، ۵ ہزلیں اور۷ موضوعاتی نظمیں (سہرا، مبارکبادیاں وغیرہ) کہہ ڈالیں۔

۲۔ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۱ء تک مولانا صلاح الدین احمد کے مشہور ادبی رسالے ’’ادبی دنیا‘‘(لاہور) کے نائب مدیر رہے، جس کا شعری حصہ وہی ترتیب دیتے تھے۔ اور اسی ماہنامے میں میرا جی نے غالباً اردو تنقید میں پہلی مرتبہ نظموں کے تنقیدی تجزیے کا سلسلہ شروع کیا۔ بعد ازاں ان تنقیدی تجزیوں کامجموعہ’’اس نظم میں ‘‘کتابی شکل میں ساقی بک ڈپو (دہلی )سے منظرِ عام پر آیا۔

۳۔ ۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۵ء ریڈیواسٹیشن دہلی سے منسلک رہے۔ وہاں اَن گنت فیچر، غنائیے اور ڈرامے لکھے ہوں گے جو اَب دستیاب نہیں ہیں۔ ۴۵۔ ۱۹۴۴ء میں ماہنامہ ساقی(دہلی، مدیر شاہد احمد دہلوی)میں ’’باتیں ‘‘ کے عنوان سے ادبی کالم لکھے۔ اسی پرچے میں ’کتابِ پریشاں ‘ کے مستقل عنوان سے بھی اُن کی کچھ نثری تحریریں نظر آتی ہیں۔

۴۔ ۱۹۴۶ ء سے ۱۹۴۹ء تک بمبئی میں رہے اور آخری دو برسوں میں ماہنامہ ’’خیال‘‘ کی ادارت کا فریضہ انجام دیا۔

۵۔ مختلف اوقات میں مشرقی و مغربی شعری ادب کے بارے میں تنقیدی مضامین بھی لکھے جو ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘کے عنوان سے تراجم شعری کے ساتھ کتابی شکل میں منظرِ عام پر آئے۔

یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میرا جی کی زندگی میں ان کے گیتوں کا ایک مجموعہ ’’میرا جی کے گیت ‘‘مکتبہ اردو لاہور سے، اور دوسرا’’گیت ہی گیت‘‘ساقی بکڈپو دہلی سے چھپا تھا۔ نیز شعری مجموعہ ’’میرا جی کی نظمیں ‘‘بھی ساقی بکڈپو ہی نے شائع کیا تھا اور تجزیاتی مضامین کا متذکرہ بالا مجموعہ’اس نظم میں ‘اسی ادارے کے وسیلے سے منظرِ عام پر آیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد مندرجہ ذیل کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئیں۔ ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ یہ ۱۹۵۸ء میں چھپا تھا۔ ’’پابند نظمیں ‘‘اور ’’تین رنگ‘‘۱۹۶۸ء میں کتاب نما راولپنڈی نے شائع کیں۔ سنسکرت شاعر دامودر  گپت کی کتاب کا نثری ترجمہ ’’نگار خانہ‘‘ کے نام سے مکتبۂ جدید لاہور نے ۱۹۵۰ء میں چھاپا تھا۔ بعد ازاں عمر خیال کی رباعیات کا ترجمہ ’’خیمے کے آس پاس‘‘مکتبۂ جدید لاہورسے ۱۹۶۴ء سے منظرِ عام پر آیا۔ اور پھر ڈاکٹر جمیل جالبی کا مرتبہ ’’کلیاتِ میرا جی‘‘۱۹۸۸ء میں اردو مرکز (لندن) نے شائع کیا، جس کا ہندوستانی ایڈیشن فرید بکڈپو(دہلی)کے وسیلے سے منصہ شہود پر آیا۔

یہ سوچ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ اس نرالے فنکار کے تخلیقی سر چشمے کیسے لبا لب اور باطنی آگ کتنی تیز ہو گی جس نے بد مستی و خود فراموشی کے عالم میں رہتے ہوئے اتنی قلیل مدت میں اردو ادب کا دامن معیار و مقدار دونوں اعتبار سے وقیع، نو بہ نو تخلیقات سے لبریز کر دیا جبکہ اس مدت میں نہ تو اس کا کوئی معقول اور مستقل ذریعۂ معاش تھا، نہ ہی قیام کا کوئی مناسب بندوبست۔ میرا جی کی تخلیقات میں سب سے زیادہ تعداد نظموں کی ہے جو ۲۲۳ تک پہنچی(۲)، انہوں نے تقریباً۲۲۵ منظوم ترجمے بھی کیے۔ ان کے ۱۳۶ گیت اس پر مستزادہیں، چنانچہ ان کی بنیادی حیثیت نظم نگار ہی کی ہے۔ ہر چند کہ ایک جگہ انہوں نے کہا ہے :

میرؔ ملے تھے میرا جی سے،  باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے، حفظ ان کا بھی دیوان کریں

لیکن بقول کسے۔۔۔ اتنا آسان نہیں صاحبِ دیواں ہونا۔ میرا جی کے وسیع شعری سرمائے میں غزلیں لے دے کر کل سترہ ہیں۔ اور بارہ متفرق اشعار۔ البتہ میرؔ کا فیضان ان تک اس صورت میں ضرور پہنچا کہ ان کی غزلیں اکثر ان طویل بحروں میں ہیں جو میرؔ کوپسند تھیں۔ میرا جی کی بغاوت پسند طبیعت کو غزل کی ہئیتی پابندی راس نہیں آئی۔ ہر چند کہ ان کی تھوڑی سی غزلوں میں بھی اُن کی بندش ڈھیلی ڈھالی ہے اور حروف جا و بے جا گرتے پڑتے اور دبتے دباتے ہیں، پھر باتوں میں بھی وہ جدت نظر نہیں آتی جو میرا جی کا خاصہ ہے۔ یہ روایتی غزلیں ان کی ادبی قامت میں کوئی اضافہ نہیں کرتیں۔ جانے کیسے شمیم حنفی فیصلہ کر گئے کہ ’’میرا جی نے بہت وجد آفریں غزلیں کہیں ‘‘ (غزل کا نیا منظر نامہ، ص ۱۸)۔ یہ ضرور ہے کہ ان میں وہ نرمی، لطافت اور سوزوگداز بھی موجود ہے جس سے غزل پہچانی جاتی ہے۔ ان کا یہ مطلع مجھے بہر حال اچھا لگا۔

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں

لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں

آل احمد سرور نے غلط نہیں کہا غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی۔ میرا جی کے متفرق اشعار پڑھتے ہوئے مجھے

بے ساختہ ظفر اقبال یاد آ گئے۔ تین چار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :

ملائیں چار میں گر دو تو بن جائیں گے چھ پل میں

نکل جائیں جو چھ سے دو تو باقی چار رہتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا پوچھتے ہو ہم سے یہ ہے حالتِ جگر

پی اس قدر کہ کٹ ہی گیا آلتِ جگر

۔۔۔۔۔۔۔۔

چہرے کا رنگ زرد، مئے ناب کا بھی زرد

یہ رنگ ہیں کہ رنگ ہے پیشاب کا بھی زرد

۔۔۔۔۔۔۔۔

دن میں وظیفہ اس کا کئی بار کیجیے

اپنے جگر کے فعل کو بیدار کیجیے

یعنی زبان کی توڑ پھوڑ اور مضامین کی اکھاڑ پچھاڑ کا جو کام ظفر اقبال آج کر رہے ہیں، اُس کا آغاز میرا جی نے ۷۰۔ ۸۰ برس پہلے کر دیا تھا۔ دیکھیں وہ میرا جی کے اس فیضان کا اعتراف کب کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ غزل کا ذکر اس کی اوقات سے زیادہ ہو گیا۔ ہمیں میرا جی کی نظموں اور گیتوں کا جائزہ لینا چاہیے جو اُن کا اصل میدان ہے۔ میرا جی کی بیشتر نظمیں اور گیت ابہام کے دبیز کہرے میں آنکھیں ہی جھپکاتے ہیں۔ بظاہر نیم خوابیدہ اور اپنے آپ میں گم لیکن رمز و اشارے اور علامت و تجرید کی پرتوں کے نیچے جنسی تشنگی اور نا آسودہ جذبات کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔ میرا جی کی بیشتر نظمیں اپنے عمیق خیالات،  وفورِ جذبات اور ہئیت کے انوکھے پن کی وجہ سے انفرادیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے مغربی نظم سے اخذ کردہ ہئیتوں کو ایسی ہنر مندی کے ساتھ استعمال کیا کہ ان کی نظمیں نئے اسالیبِ بیانی اختیار کرنے والوں کے لیے نمونہ بن گئیں۔ پھر ان کی نظمیں اتنے معنیاتی ابعاد رکھتی ہیں جس کی مثالیں اردو کے دیگر علامت پسند شاعروں میں کم کم نظر آتی ہیں۔ میرا جی الفاظ کو تمثال، استعارے اور علامت کے درجے تک پہنچانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اکثر نظموں میں بصری تمثالیں،  سمعی پیکر اور سیال امیجری کے ایسے پیچ در پیچ جلوے دکھاتے ہیں کہ جذبہ سرشار ہو جائے اور آنکھیں حیران رہ جائیں۔ کمال یہ کہ پیش کردہ پیکر یا تمثال آرائشی نہیں بنتیں، بلکہ نظم میں پیش کردہ بنیادی تجربے سے مربوط رہتی ہیں۔ ہرن کی خوبصورت آنکھوں اور مست خرامی سے محظوظ ہونے کے لیے چوکڑی بھرتے غزال کو دیکھنا ہو گا۔ اگر اُس کی آنکھیں اور ٹانگیں طشت میں سجا کرپیش کی جائیں تو ذوقِ جمال لہولہان ہو جائے گا۔ میرا جی کی نظم بھی اقتباس میں بانٹنے کی نہیں، اول تا آخر پڑھنے کی چیز ہے۔ میرا جی اپنی نظموں میں عورت اور مرد کی محبت کا جنسی پہلو نمایاں کرتے ہیں۔ انہیں افلاطونی عشق اور اس میں طہارت و پاکیزگی کے بیان سے قطعی دلچسپی نہیں، چنانچہ اپنے عہد کی اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی پرواہ کیے بغیرجنسی اختلاط اور اور اس کی جزئیات نظم کرنے میں انہیں کوئی تکلف نہیں ہوتا۔ یہ تمام باتیں وہ علامتوں کے پیرائے میں اور ابہام کے ملبوس میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جنس کا کھلا ڈلا بیان نہ رہ کر نظم ایک فن پارہ بن جاتی ہے۔ ایک جگہ رقمطراز ہیں :

’’جنسی فعل اور اس کے متعلقات کو میں قدرت کی بڑی نعمت اور زندگی کی سب سے بڑی راحت اور برکت سمجھتا ہوں، اور جنس کے گرد جو آلودگی تہذیب و تمدن نے جمع کر رکھی ہے وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے، اس لیے ردِ عمل کے طور پر دنیا کی ہر بات کو جنس کے اس تصور کے آئینے میں دیکھتا ہوں جو فطرت کے عین مطابق ہو‘‘

(میرا جی کی نظمیں۔ ص ۳۵)

اس تناظر میں میرا جی کی نظموں کو دیکھیے تو خواہ وہ پابند ہوں، معریٰ ہوں یا آزاد ہوں، ہر جگہ جنسی رجحان غالب نظر آئے گا۔ اپنے وسیع مطالعے اور مغربی ادب پر گہری نظر کے طفیل انہیں یہ شعور حاصل تھا کہ فرائڈ کے نظریات اور تحلیلِ نفسی کے طریقِ کار کو شعری اظہار کے لیے استعمال کر سکیں۔ ان کی نظم’’سمندر کا بلاوا ہو‘‘ یا ’دھوکا‘،  ’’اونچا مکان‘‘ ہو یا ’’رات کی طوائف‘‘، ’’چل چلاؤ‘‘ ہو یا ’’دور کنارا‘‘، ’’سنجوگ ‘‘ہو یا ’’حرامی‘‘ الغرض اپنی بیش از بیش تخلیقات میں انہوں نے جنسی زندگی کی لاشعوری اہمیت کو اجاگر کیا اور نئی علامات، نئی لفظیات، نئی پیکر تراشی، نئے تلازمات اورانسلاکات برت کر اردو شاعری میں ایک جہانِ تازہ کی بنیاد رکھی۔ ہر چند ان میں سے کئی نظموں میں عریاں حقیقت نگاری اور تلذذ پسندی نے فن پارے کے حسن کو مجروح بھی کیا ہے۔ ساقی فاروقی نے سچ کہا ہے :

’’میرا جی اردو کے وہ پہلے تخلیق کار ہیں، جنہوں نے فرانسیسی علامت نگاری کو پورے سلیقے کے ساتھ برتا ہے ‘‘

(میرا جی ایک مطالعہ۔ ص ۳۴۹)

اس البیلے شاعر نے حواسِ خمسہ کو بڑی چابک دستی سے اپنی شاعری میں پرویا ہے۔ ان کی نظمیں پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ ثناء اللہ نے اپنی محبوبہ سے پہلا اور آخری جملہ کہا تھا:’’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ‘‘

اور وہ ان کی بات سنے بغیر آگے بڑھ گئی تھی۔ میرا سین کی اس بے اعتنائی کے ردِ عمل میں انہوں نے میرا جی کا روپ دھارا، زندگی بھر کسی دوسری عورت سے واسطہ نہیں رکھا، اور تا زندگی اپنی نظموں کی سیج پر میرا سین سے اختلاط کی باتیں کرتے رہے۔ اردو ادب نے اپنی اخلاق پرستی اور اقدار پروری کے با وصف جنس اور مردو زن کے اختلاط کو سرے سے شجرِ ممنوعہ کبھی نہیں سمجھا۔ ثبوت کے لیے ملاحظہ فرمائیں مثنویوں اور داستانوں نیز نظیر اکبر آبادی کی منظومات میں بیاناتِ وصل اور شب ہائے زفاف کے مناظر۔

میرا جی کو عشق میں جس طرح کے تلخ تجربے ہوئے وہ انہیں سماجی اخلاقیات سے متنفر کرنے میں معاون ہوئے پھر ان کی شاعری نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں، وہ بھی ادب میں جنس نگاری کا میدان ہموار کر رہا تھا۔

’’انگارے ‘‘کی بے باک نگارشات اور منٹو کے بدنام افسانے اسی عہد کے پروردہ ہیں۔ ایسے میں میرا کا اپنی جنسی نا آسودگی، اور باطنی تشنگی کو سیراب کرنے کے لیے جنس نگاری کی طرف مائل ہونا فطری تھا۔ اپنی باطنی اور نفسیاتی پیچیدگیوں اور لاشعوری الجھنوں کو شعری پیکروں میں ڈھال دیناآسان کام نہیں ہے۔ انتہائی منفرد طرزِ اظہار، علاماتی اسلوب اور پرتیلے ابہام کے وسیلے سے میرا جی نے جس تخلیقی سرمائے تک رسائی حاصل کی اُس کی حقیقی قدروقیمت، صحیح معنوں میں اب تک متعین نہیں کی جا سکی۔ میں تو اُن کی نظموں کی کثیر تعداد اور ان کے قطعی منفرد معیار کے پیشِ نظر اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر میرا جی کے دامن میں صرف نظمیں ہی ہوتیں تب بھی انہیں نئی نظم کے دربار میں اتنے ہی بلند مقام پر فائز کرنا چاہیے جو افسانے کے میدان میں منٹو کو حاصل ہے۔

پھر میرا جی کے وہ گیت ہیں جو تعداد میں بھی کم نہیں اور جن میں نری جنسیت ہی نہیں ہے بلکہ قدیم ہندوستانی روایات، اساطیر، تہذیب، ہندی کا رَس، حَس اور ارضیت کے ساتھ متصوفانہ رجحان اور فلسفیانہ تصورات بھی موجود ہیں۔ اُن کی ترجمہ کردہ تقریباً سوا دو سو نظمیں جن میں چند نثری ہیں اور کچھ معریٰ اور بیشتر آزاد۔ اُن میں سنسکرت، بنگالی، چینی، جاپانی، یونانی، رومن، لاطینی، روسی، فارسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی زبانوں کے شعری فن پار ے اصل زبان کی خوبیوں کو برقرار رکھتے ہوئے جس تخلیقی ہنر مندی کے ساتھ اردو میں منتقل ہوئے ہیں،  اسے بھی ملحوظ رکھنا ہو گا۔ یہ نظمیں اردو شاعری میں آزاد نظم کو مستحکم بنانے میں پیش پیش رہی ہیں۔ میرا جی نے اپنے تنقید مضامین کے وسیلے سے اردو تنقید کو جدید مغربی افکار و رجحانات سے روشناس کیا اور تنقیدی منظر نامے کو وسعت بخشی۔ شعری فن پاروں کے تجزیاتی مطالعات کی بنا ڈالی، اور بقول اختر الایمان:’’حلقۂ اربابِ ذوق کی بنیاد رکھی بلکہ اس کی روحِ رواں بھی رہے ‘‘(اس آباد خرابے میں۔ ص۱۰۴)

میرا جی کی ان عظیم خدمات کا قرض اردو کے ناقدین جانے کب ادا کریں گے !

(مولانا آزاد کالج کلکتہ کے سیمینار میں خطبۂ صدارت)

٭٭٭

 

 

 

میراجی۔۔ جس کا ہنوز انتظار ہے

 

                عبداللہ جاوید

 

مولانا شبلی نعمانی عطیہ فیضی رحیمن کو فارسی پڑھانے ممبئی آئے۔ چو پاٹی( عوام کا ساحل ) کی سیر کی۔ جو ہو (امیروں کا سا حل ) کا کنارہ دیکھا اور فارسی شعر

بدہ ساقی مئے باقی کہ درجنت نمی یابم کنارِ آبِ رکنا باد و گلگشتِ مصلے ٰ را

میں ترمیم کی۔

بدہ ساقی مئے باقی کہ در جنت نمی یابم کنارِ آ بِ چو پا ٹی و گلگشتِ جوہو را

میرا جی ممبئی آئے چوپا ٹی کے دہی بڑے اور آ لو چھو لے کھائے،  جو ہو کا کنارا دیکھا۔ ، جگر گنوایا۔ اختر الایمان کی کوششوں سے کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال ممبئی میں بطور مریض بھرتی کروائے گئے۔ جگر کے ساتھ جب ذہن بھی کام کرنے سے منکر ہوا تومسیحاؤں نے بجلی کے جھٹکوں کا ایک نصاب ( کورس ) تجویز کیا۔ میراجیؔ نے تمام عمر جھٹکے ہی کھائے تھے۔ دو بڑے،  ایک لاہور میں تو دوسرا آل انڈیا ریڈیو دہلی کے دفتر میں۔ لیکن بجلی کے جھٹکوں سے وہ بے حدخائف تھے۔ ان کو تسموں سے باندھے جانا اور بجلی سے جھٹکا کھا کر، ماہئی بے آب کی مانند تڑپناقبول نہ تھا۔ وہ فرار کے عادی رہے تھے۔ گھر، خاندان اور رشتے داروں سے بھاگ کر لاہور گئے۔ لاہورسے،  میراسین سے میراجی کے نام کی سوغات لے کر دہلی،  دہلی سے کسی کا نام اور ساتھ ہی اپنا نام بچا کر ممبئی پہنچے۔ یہاں کاش کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے کاش ایسا نہ ہو تا۔۔۔۔ کاش دہلی میں دونوں نام گڈ مڈ ہو جا تے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے جہاں ان کے بالوں کی طوالت کم ہو ئی وہاں ان کی قلمی عمر کی طوالت بڑھ جا تی۔ وہ اردو شعرو ادب کو وہ سب کچھ دے پا تے جس کے وہ اہل تھے۔ ان کی ادبی زندگی ایک بند گلی میں نہ اتمام کو پہنچتی۔ دہلی ریڈیو والی اپنی پسند کے معیار میں قد رے لچک پیدا کر سکتیں۔ کاش۔۔ ان کو سمیٹ کر زندگی کی شاہراہ پر اور ان کے قلم کو نئی توانا ئیوں کے ساتھ اوراقِ قرطاس پر رواں کر دیتیں۔ کاش۔۔۔ کاش۔۔۔۔۔۔ کاش۔

ممبئی میں ایک لڑکے سے پکوڑے منگوانے میں کامیاب ہو کر زندگی ہی سے فرار ہو گئے۔ سہہ پہر چار بجے بتاریخ ۴ نومبر ۱۹۴۹ء۔

سہہ پہر ۴بجے بتاریخ ۶دسمبر ۱۹۴۹ء میرا جہاز ممبئی سے کراچی کے ساحل کیماڑی میں لنگر انداز ہوا

قریب شورِ ساحل خمیدہ ہے ؍ ہر ایک موج یوں رمیدہ ؍ کہ جیسے آبدیدہ ہے ؍ دور افق پر کشتیاں نہیں ہیں ؍ کوئی روح پارہ پارہ غم گزیدہ ہے ؍۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک اک گھٹا اٹھی ؍اچانک اس کے پار آ فتاب چھپ گیا۔ (جوہو کے کنا رے۔ میرا جی)

فنکس( ققنس) وہ فرضی پرندہ ہے جو مر نے سے پہلے دیپک راگ الاپتا ہے۔ اس وقت تک جب تک اس کی منقار سے آگ کی چنگاریاں نکلنے لگیں،  ان ہی چنگاریوں میں جل کر بھسم ہو جا تا ہے۔ اس کی خاکستر سے ایک اور فنکس ابھر کر باہر آتا ہے۔ وہ بہ یک وقت حیات و ممات اور اجل و ابد کو ہم کنار لاتا ہے۔ فنا و بقا کو گڈ مڈ کر تا ہے۔ ہو نے اور نہ ہونے کے درمیان ہی کہیں وہ اپنے وجود کی تکرار سے دوام کی ایک صورت نکال لیتا ہے۔

میراجی کو بھی شعرو ادب کا فنکس خیال کر نے لگا ہوں۔ اپنی وفات ۴نومبر ۱۹۴۹ء سے آج تک میرا جیؔ اپنے خاکستر کا ہو نہ سکا۔ ۶دسمبر ۱۹۴۹ کی سہہ پہر میں پاکستان پہنچا،  میں نے میراجیؔ کی وفات کو ممبئی میں اپنے وجود کے گوشے گوشے میں محسوس کیا۔ وہاں اس حال میں قریباً ایک ماہ کی مدت بھی گزاری تھی لیکن کراچی پہنچ کر مجھے ایک لحظے کے لئے بھی ایسا نہیں لگا کہ میراجی ؔ کے جسدِ بے جان کو بہت پیچھے ممبئی میں چھوڑ آیا ہوں۔ وہ مجھے کراچی میں جگہ جگہ اپنے ہونے کا احساس ہی نہیں ایقان دلاتا رہا۔ حلقۂ اربابِ ذوق کی ایک آدھ نشست میں بھی اسے دیکھا۔ ضیاء جالندھری کے لب گویا کی روانی سے چپ چاپ لطف اندوز ہو تے ہوئے بھی۔ جب الطاف گوہر اس کے بارے میں گوہر افشانی کرتا تو میراجیؔ کے قد و خال واضح تر ہو جا تے۔ ریڈیو والے اس کا گیت

انجانے نگر من مانے تھے من مانے نگر انجانے رہے

آن ایر کرتے تو میں جہاں بھی ہو تا میرے آس پاس کی ہوا، اسے مو جود کر دیتی۔ میں نے یہ جان کر ہمیشہ بڑی طمانیت محسوس کی کہ آہستہ آہستہ لوگ باگ انجانے نگروں اور من مانے نگروں کے مفاہیم سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس کا گیت ’ناگ راج ساگر میں بیٹھے سر پر پہنے تاج ‘ میرے اندر ہی اندر گونجتا تومیں اس کے بر عکس سوچنے لگتا۔ یوں نہیں کہ میراجی کو لوگ باگ کی قطعی پرواہ نہ تھی۔ اس نے تو عالمی ادب سے ان ہی لوگ باگ کو شناسا کیا تھا۔ وہ محبت بھرے دل و دماغ کا آدمی تھا۔ ہر کسی سے پیار کرتا تھا لیکن تخلیق ادب کے معاملے میں وہ تخلیق سے کام رکھتا تھا۔ اسنے شاید کبھی بھی یہ نہ سوچا ہو گا کہ اس کا لکھا اور اسکاکہا ابلاغ پا بھی رہا ہے یا نہیں۔ نئی آوازیں بے شمار کانوں میں کسی قسم کا ارتعاش پیدا کئے بنا ہی ہوا کی نذر ہو جا یا کر تی ہیں۔ یہی حال ان سنی،  ان پڑھی باتوں اور خیالوں کا ہو تا ہے۔ اکثر اوقات وہ سروں کے اوپر سے گزر جا تی ہیں۔ لیکن کسی کسی کو کبھی چونکا کر اور کبھی بنا چونکائے اپنی جا نب مائل بھی کر لیتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تا تو شعر و ادب اور فکشن اپنے اپنے جھولوں میں پڑے غوں غاں کر تے رہتے۔

اب بات میرا جیؔ کی شاعری کی طرف نکل آئی ہے تو سب سے پہلے اس غزل کو لیتے ہیں جس کی ردیف ’ بھول گیا ‘ ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی تسلیم کر نا ضرو ری ہے کہ میرا جیؔ کے عصر میں،  یاد کرنا اور بھولنا کچھ زیادہ ہی عام ہو گیا تھا۔ اس صورتِ حال میں میرا جیؔ کے بھولنے کو رواجی سمجھنے کے بجائے حقیقی ثابت کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ پھر بھی یہ حرکت بلا جواز ہی سہی کر دیکھتے ہیں۔ میراجی نے بھولا ہے : ۱۔ گھر کا رستہ۲۔ اپنا پرایا، ۳۔ پہلے پیار کا لمحہ، ۴۔ سندر سپنا ۵۔ چہرا، ۶۔ بھید یہ نیا را،  ۷۔ اک پل بیتا، ۸۔ ساگر گہرا، ۹۔ گھاؤ کا رسنا،  ۱۰۔ رونا دھونا،  ۱۱۔ ہم کو زمانہ بھول گیا، ۱۲۔ کہہ دو جو کچھ جی میں ہے۔

میراجی کہہ کر پچھتا یا اور پھر کہنا بھول گیا۔ اس غزل کو جب بھی پڑھا، یا سنا،  میراجیؔ آ کھڑے ہوئے،  جٹے دھاری سا دھو نہیں تو بڑے بڑے بالوں والے (دہلی میں بال چھوٹے کروا لئے تھے ) بیراگی کے روپ میں۔ بالا ئی جسم ننگا۔ (Top Less )، آنکھوں میں مستی، کانوں میں بالے،  خنجر مونچھیں،  گلے میں موٹے دانوں کی ما لا،  کبھی سر پر رنگ دار کپڑے کا شملہ بھی اوڑھ لیتے،  ہاتھوں میں ایک سے تین لوہے کے گولے،  نچلے جسم پر اکثر و بیشتر پونا پینٹ جس میں استر نہ ہو تا لیکن کم از کم ایک جانب جیب ضرور ہو تا۔ (محض خلا) ہندو بیراگیوں،  سنیاسیوں،  سادھوؤں،  سنتوں،  اور مسلمان تارکِ دنیا درویشوں اور فقیروں میں ان کے ظاہری روپ سے فرق کرنا مشکل ہو تا تھا۔ بیشتر فقرا ہندو مسلم اپنا ما تھا صاف رکھتے تھے۔ کسی کسی اہلِ قلم نے میرا جیؔ کو ملامتی صوفی ثابت کر نے کی کوشش کی لیکن ان کی شاعری نے ان کے ملا متی صوفی ہو نے کی شہادت بہت کم دی ہے۔۔ یہ کہنا بھی مبالغہ ہو گا کہ وہ وشنو متی تھے۔۔ میرا جیؔ نے اپنے آ پ کو آریائی لکھا ہے۔

ایک مرتبہ پھر ’’ نگری نگری پھرا مسافر،  گھر کا رستہ بھول گیا ‘‘ کی جانب لوٹتے ہیں۔ میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ میراجی کی یہ غزل ان کے وقت کی رواجی ’’ یاد کر نے اور بھول جانے ‘‘ والی غزل نہیں ہے۔ اس غزل کا مزاج اور بیانیہ سر گزشتانہ ہی نہیں بڑی حد تک خود نوشتانہ ہے۔ میرا جیؔ کی شاعری یوں بھی ان ہی عنا صر سے مملو اور داخلی ہے۔

میراجیؔ کے والد محکمہ ریلوے میں انجینیئر تھے، اس ملاز مت کے دوران وہ شہر شہر تبادلے کی زد میں آتے رہے اور یہ خاندان نگری نگری مسافرت کرتا رہا۔ اس غزل کے مطلعے کا مصرع اولیٰ میراجیؔ کے پورے خاندان کے نگر نگر سفر اور اس سبب سے پیدا ہو نے والی بے گھری پر صادق آتا ہے۔ ماسوائے اس حقیقت کے کہ ’مسافر ‘ کو صیغۂ واحد میں رکھا گیا لیکن شاعری میں جز و سے کل مراد لینے کو بھی روا رکھا گیا، سو مسافر فرد سے مسافر خاندان مراد لیا جا سکتا ہے لیکن مصرع ثانی کا دوسرا جز ہر قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے مسافر پر فرد واحد ہو نے کی مہر ثبت کر دیتا ہے۔ مصرع ثانی کے پہلے جز میں ’’ کیا ہے تیرا،  کیا ہے میرا ‘‘ کا بھولنا بھی فردِ واحد کے خاندان میں ضم ہو جانے کی دلالت کرتا ہے۔ البتہ دوسرے جُز میں ’ اپنا پرایا ‘ بھول جانا خاندان سے وسیع تر ہو جا تا ہے۔ اس صورت حالات میں قاری کے لئے میراجیؔ کی ذاتی زندگی کے اس واقعے کا علم ضروری ہو جاتا ہے کہ میراجیؔ نے اپنے گھرانے کی خوشحالی کے با وجود گھر سے بھاگ کر آوارگی شعار کی تھی۔ ایسا کر نے میں لازمی طور پر رشتے نا طے توڑنے پڑے ہوں گے۔ گھر اور گھر کی آسائشوں کو ترک ہی نہیں،  فراموش کرنا پڑا ہو گا۔ ہمت جٹانی پڑی ہو گی کہ گھر اور گھر کے رستے ہی کو ہمیشہ کے لئے بھول جائیں۔ جب تک گھر میں قیام تھا بے شمار اشیا ان کی اپنی تھیں اور بے شمار چیزیں دوسروں کی تھیں۔ وہ کسی سے کہہ سکتے تھے ’’یہ تیرا ہے،  یہ میرا ہے ‘‘ اور خود اپنے طور پر سوچ سکتے تھے۔ ’’ یہ اپنا ہے،  یہ پرایا ہے۔ ‘‘ خاندانی رشتوں کی بنیاد پر بھی کچھ لوگ ان کے اپنے تھے اور باقی پرائے۔ میرا جیؔ کا یہ ترک،  ترکِ دنیا تو نہ تھا کیونکہ وہ دنیا سے کنارہ کش نہیں ہوئے تھے۔ شعر و ادب کی دنیا سے وہ جڑے ہوئے تھے۔ شعر و ادب کا دیا ہوا روکھا سوکھا کھاتے رہے تھے۔ خاندان سے اور گھرسے رشتے توڑنے کے بعد وہ اپنا خاندان تشکیل نہ دے سکے اور نہ ہی گھر بنا سکے۔ عورت ان کی زند گی میں نہ آ سکی۔

میرا جیؔ کی صرف ایک غزل کے مطالعے پر اکتفا کرنا مناسب نہیں لگتا ہے اور وہ بھی رواجی سی غزل۔۔۔ دو ایک غزلیں مزید دیکھ لیتے ہیں۔ ذرا اس غزل کا مطلع ملاحظہ فرمائیں

گناہوں سے نشو و نما پا گیا دل

در پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل

پہلے مصرعے میں ’ نشو و نما ‘ کو صحیح تلفظ سے ادا نہ کیا جائے تو بے وزن ہو جا تا ہے۔ ’ پہ پہنچا ‘ میراجیؔ کے مرتبے کے شاعر سے قبول کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ تنا فر صوتی خاصا واضح ہو رہا ہے۔ ’در پختہ کاری ‘ کی ترکیب عجیب لگتی ہے۔ پختہ کاری مثبت اور منفی دونوں مفاہیم سے لدی پھندی ہے۔ پہلے مصرعے میں گناہوں سے نشو و نما پانے سے مربوط کرنا پڑتا ہے۔ میراجی ؔ کی ذاتی زندگی سے متعلق ہو کر یہ شعر صرف ان کا ہو جاتا ہے،  پڑھنے والوں کا نہیں رہتا۔ یہ بات تغزل کے منافی ہے۔ جہاں تک موضوع کی جدت کا معاملہ ہے اس میں شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ د ل کا گناہوں سے نشو نما پانا ایک حقیقت ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں خواہ کسی کو بری لگے یا بھلی لگے۔ اس مضمون کو غزل کے شعر کا روپ دینا اور وہ بھی مطلع بنا نا۔ میراجیؔ جیسے ’بہادر ‘ کا کام ہو سکتا ہے۔ دس اشعار کی اس غزل میں مشکل سے ایک آدھ شعر میں تغزل کی سرشاری کی کیفیت ملے گی۔ میراجی ؔ کچھ کہنے کے لئے شعر کہتے تھے اور ہر شعر میں کچھ نیا کہنا چاہتے تھے۔ خواہ جذ بے کی سطح پر،  خواہ فکری سطح پر۔ اس غزل میں مندرجہ ذیل شعر بھی ملتا ہے جو نہ ملتا تو منا سب ہو تا

نہ تھا کوئی معبود پر رفتہ رفتہ

خود اپنا ہی معبود بنتا گیا دل

درج بالا شعر کے مصرع اول کے نصف میں جو کچھ کہا گیا ہے اسکی معنوی قطعیت بہت بھونڈی اور پھوہڑ لگتی ہے۔ مقطع اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ میراجی ؔ کے ہاں تخلیق کے مرحلے پر بات کیا سے کیا ہو جاتی ہے۔ بلکہ پلٹ جاتی ہے اور پڑھنے والے کو بات کے اصل مفہوم تک پہنچنے کے لئے اسکا خیال کرنا پڑے گا

کہی بات جب کام کی میراجی ؔ نے

وہیں بات کو جھٹ سے پلٹا گیا دل

یوں بھی نہیں کہ میراجیؔ کی غزلیات،  غزلیات ہوتی ہی نہیں۔ ان کی غز لیں

’’جیسی ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی ‘‘

’’ نہیں سنتا دلِ نا شاد میری ‘‘

’’ زندگی کشمکشِ حاصل و نا حاصل ہے ‘‘

’’ لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا مہ خانہ ہے ‘‘

’’ چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں ‘‘

غزلیں ہی تو ہیں،  ان غزلوں میں ان کے عصر کی غزل کا ذائقہ ملے گا اور لفظیات بھی،  تراکیب اور فقرہ جات بھی۔ مثال کے طور پر:

گیسوئے عکسِ شبِ فرقت،  بسر ہو نا،  سحر ہو نا،  انتظارِ منزل،  عنایت کی نظر،  ساحلِ امید، آئینۂ مدو جزر، دید کے مشتاق،  دلِ ناشاد،  صیاد،  بصد شوق،  دلِ محروم،  کشتی،  سوختنی،  تیرگی،  شوقِ وصال،  وحشت،  فریاد،  میخانہ،  پیمانہ، دیدۂ اشکبار،  دلِ بے قرار،  رشکِ صحرا،  رنگ بہار،  چشمِ گریاں،  چاک داماں،  غم گسار،  غریب الدیار

اور تو اور ان کی غزلیات میں پا مال مضامین بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن وہ نئے مضامین دینے میں بیشتر غزل گو شعرا سے بہت آ گے ہیں۔ درج ذیل اشعار دیکھئے

گناہوں سے نشو و نما پا گیا دل

درِ پختہ کاری پہ پہنچا گیا دل

پریشاں رہا آپ تو فکر کیا ہے

ملا جس سے بھی اس کو بہلا گیا دل

کئی راز پنہاں ہیں لیکن کھلیں گے

اگر حشر کے روز پکڑا گیا دل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوچتا رہتا ہے دل یہ سا حلِ امید پر

جستجوآئینۂ مدو جزر ہو جائے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سانس کے آغوش میں،  ہر سانس کا نغمہ یہ ہے

ایک دن امید ہے ان کو خبر ہو جائے گی

پہلا مصرع غزلیہ شاعری کے گھسے پٹے مضمون کو نیا بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔

زندگی کشمکشِ حاصل و نا حا صل ہے

ما سوا اس کے ہر اک نقشِ جہاں باطل ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیز ہے وقت کی رفتار بہت

اور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے

اب نہیں دل میں مرے شوقِ وصال

اب ہر اک شے سے فراغت ہے مجھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں

لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں

عمر ہے فانی،  عمر ہے باقی اسکی کچھ پرواہ نہیں

تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لذتِ شام،  شبِ ہجر خدا داد نہیں

اس سے بڑھ کر ہمیں راز غمِ دل یاد نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔

داورِ حشر سے یہ کہہ دیں گے

ہم جہاں میں گناہ کر تے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھ سے تو بہجت آسودہ کا حاصل مت پوچھ

فکر ہر رنگ میں لذت کے لئے قا تل ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

لبِ میگوں سے جو محرومی ہے تسلیم ہمیں

لذ تِ تشنہ لبی اس میں مگر شامل ہے

(درج بالا مصرعے میں ’’ میں مگر ‘‘ صوتی اکراہ کا باعث بن رہا ہے۔ )

ایک اور مضمون نیا ہو رہا ہے

یک ہمہ حسنِ طلب،  یک ہمہ جانِ نغمہ

تم جو بیداد نہیں ہم بھی تو فریاد نہیں

زندگی سیل تن آساں کی فراوانی نہیں

زندگی نقش گرِ خاطر نا شاد نہیں

میں نے خاصِ شعر پیش کر دیئے ہیں جن میں جدتِ فکر ہی نہیں جدتِ احساس بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اور بھی پیش کر سکتا تھا۔ ان اشعار سے یہ خیال نہ لے بیٹھئے کہ میراجیؔ اشعار کہہ سکتے تھے۔ انہوں نے غزلیں نہیں چھوڑیں۔ بیشتر غزل کے نقّادوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اچھی سے اچھی غزل میں دو سے تین ہی اشعار قابلِ ذکر ملتے ہیں۔ میراجیؔ کی غزلوں میں ایسے اشعار کی تعداد تین سے اوپر چلی جاتی ہے انہوں نے کئی بھر پور غزلیں چھوڑی ہیں۔ یہ اور بات کسی کو ان کی غزل کا انفرادی رنگ نہ بھائے۔ انفرادیت کا دوسرا نام میرا جیؔ ہے۔ میراجی ؔ غزلوں کے علاوہ گیتوں میں بھی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہیں۔ ان کے گیتوں کو کسی بھی فلمی گیت لکھنے والے یا غیر فلمی گیت لکھنے والے شاعر کے گیتوں کے مقابل رکھ کر دیکھ لیجئے۔ ان کے کہے ہوئے گیتوں کو آ پ کسی خانے میں نہیں رکھ سکتے۔ کیا میراجیؔ کو کسی خانے میں رکھا جا سکتا ہے۔ کیا ان پر یا ان کی تخلیقات پر کوئی لیبل چسپاں کیا جانا ممکن ہے۔۔ ؟ ان کے گیتوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جن پر فکر اور حسّیت حاوی ہے، دوسرا وہ جن پر ہندووت اور ہندیت کی چھاپ ہے۔ ان گیتوں کو گا یا جا سکتا ہے اور یہی کسی گیت کی پہچان ہے۔ ان گیتوں کی انفرادیت ان کو ادبی اور تخلیقی اعتبارسے نوازتی ہے۔

میرا جیؔ کی نظمیہ شاعری اس قدر متنوع ہے کہ اس پر اظہارِ رائے مشکل ہو رہا ہے۔ ان نظموں کے مطالعے سے جو مجموعی تا ثر تشکیل پا تا ہے وہ میری حد تک یہ ہے کہ شا عر میرا جیؔ جدید نظم کے امکانات کو سامنے لانے کی کوشش میں لگا ہونے کے با وجود،  وہ سب کچھ کہنے میں کامیاب بھی ہو رہا ہے جو وہ کہنا چاہتا ہے۔ اس کی نظموں میں علامتی شاعری بھی ملتی ہے جو اس کے بعد، بہت بعد میں ( زیادہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ) اردو شاعری کا مقبول وسیلۂ ابلاغ ٹھہری۔ یہاں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ علامتی شاعری جو ایک تحریکی سیلاب کی ما نند دنیا بھر کی شاعری اور فکشن کو لے ڈوبی، میراجیؔ کی شاعری کا اس شاعری سے کوئی سمبندھ تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ میراجیؔ کی شاعری علامتی اسلوبی ابلاغ کی دھج رکھتی ہے۔ کوئی پڑھ کر دیکھے۔ میراجیؔ کی نظموں میں سطروں کی تکرار پر غور کر کے دیکھئے۔ چودہ سطروں کی نظم ’ دورو نزدیک ‘ میں ’ دور دور ‘ کی تکرار والی چار سطریں ملتی ہیں۔ اس نظم میں ’ چاہت کا جذبہ ‘،  ’ یہ وحشی سا نغمہ ‘ باہم مبدّل ہیں۔ اسی طرح نظم ’آمد صبح ‘ میں ’ دوپٹہ شب کا ڈھلکے گا ‘ تین مر تبہ اور ’ مگر چنچل ہے رانی رات کی بے حد ‘ تین مرتبہ پڑھنے میں آ تا ہے۔ تکرار سے محض کیا محض یہی مراد لی جانی چاہئے کہ میراجی کسی بات پر زور دینا چا ہتے ہیں اور بس۔۔۔۔۔۔ میراجیؔ کی نظموں میں ’ نغمہ ‘ کے لفظ کی بھی تکرار ملتی ہے۔ کیا اس پر غور کرنا مناسب نہ ہو گا۔۔ ؟میراجیؔ کی نظم ’ پاس کی دوری ‘ میں ’ نغمہ ‘ یوں آ تا ہے

جسم کے ساز میں سب تار کھچے اور پھیلے

نغمہ بیدار ہوا۔۔۔۔۔۔۔ نغمہ بیدار ہوا

نغمہ بیدار ہوا

پتلیاں پھیل گئیں سانس تھی گہری گہری

آہ رقصاں ہو ئی

نگہت گل کی

اک تڑپ ایک تھرکتی ہوئی نازک پتی

ہلکی ہلکی سی صدا،  چیخ کی دھیمی لہریں

خلوتِ شب کی فضا میں ہوئیں سر گرمِ خرام ‘‘

نظم میں ’’ نغمے ‘‘کی علامتی نوعیت اور منفرد معنویت بڑی حد تک واضح ہے۔ اس نظم میں شاعر نے ’ آدم و حوا ‘ شجرِ ممنوعہ کے ثمرات، سیب،  انجیر،  گندم،  سے لے کر اپنے جنسی تجربے تک کو مو زوں علامات اور اشارات میں بیان کیا ہے۔ اس نغمے کا اس نغمۂ سرمدی،  صوت سرمدی،  سے نہ تو کوئی رشتہ ہے اور نہ تعلق،  جس سے ہم اور آپ واقف ہیں۔ مغربی ادب میں نغمۂ کائنات،  کا تصور ملتا ہے۔ نظم ’ دور و نزدیک ‘ کا نغمہ دیکھئے یا سنئے

’’ مگر تیری چاہت کا جذبہ ؍ یہ وحشی سا نغمہ ؍ رہے گا ہمیشہ ؍ مرے دل کے اندر ؍ مرے پاس پاس۔ ‘‘

یہ نغمہ بھی گھوم پھر کر جنس کے موضوع سے جُڑ جاتا ہے۔ ’آمدِ صبح ‘ میں ’ نغمہ‘ رات کی دلہن کے دوپٹے سے مربوط ہے

’’ دوپٹہ شب کا ڈھلکا ‘ ہاں وہ ڈھلکا جس طرح نغمہ؍ کسی راگی کے دل سے اٹھ کے اک دم بیٹھ جاتا ہے۔ ‘‘

’ سنگِ آستاں ‘ کا آغاز ان سطروں سے ہو تا ہے

’’ سکھا نغمہ محبت کا مجھے محسوس کر نے دے ؍ جوانی کو ؍ ہے نغمہ جن میں خوابیدہ انہیں تاروں کی حر کت سے ؍ میں لے آ ؤں گا ہستی کو مجسم شکل کی صورت ؍ انہیں تاروں کو خواب سے جگانے دے مجھے ؍ اے رات کے ساقی ! ‘‘

میراجیؔ کے ہاں بعض نظموں میں ’ نغمہ ‘ کسی علامتی نوعیت کے بنا بھی مل جا تا ہے۔ نغمے پر اتنی توجہ دے کر میں نے پڑھنے والوں کو خبر دار کر نے کی کو شش کی ہے کہ میرا جیؔ اپنی لفظیات کو اپنے ڈھب سے برتنے کا عا دی ہے۔ غالب نے اپنی لفظیات کے بارے میں اور جانے کس کس کی لفظیات کے بارے میں بہت خوب کہا ہے

گنجینۂ معنی کا طلسماس کو سمجھیے جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آئے

میراجیؔ کا عصر در حقیقت ترقی پسند تحریک کا عصر ہے۔ لیکن میراجیؔ نے اپنی آواز کو اس تحریک کے غو  غا سے الگ رکھا اور حیران کن حد تک رجعت پسندی سے بھی دامن بچا لیا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک جدید شاعر تھے اور رہے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب صلاح الدین احمد کے موقر جریدے ادبی دنیا لاہور میں ایک پو رے ورق پر موٹے حرفوں میں یہ فقرہ چھپا ہوا ملتا تھا ’’ ایک دروازے سے مقصد داخل ہو تا ہے تو دوسرے دروازے سے ادب رخصت ہو جا تا ہے۔ ‘‘ میراجیؔ شعر و ادب کی مقصد اساسی تفہیم کومسترد کر تے تھے۔ اور نہ ہی انہوں نے اپنے آپ کو ترقی پسند تحریک کے سیلِ تند رو کے سپرد کیا تھا۔ حلقۂ اربابِ ذوق سے میراجیؔ کا مستحکم رشتہ ضرور تھا لیکن حلقے نے کسی مرحلے پر بھی ادبی تحریک کا روپ اختیار نہیں کیا۔

میراجیؔ کی نظموں میں بلا کا تنوع ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری، علا متی شاعری بھی کہلا ئی جا سکتی ہے،  ان کی شاعری میں ’ ابو ا لہول کا مجسمہ،  رات،  چاند،  سورج،  تارے،  مظا ہرِ قدرت،  تعمیرات و تخلیقات آدم،  پستیاں،  بلندیاں،  جنگل،  پہاڑ،  دھوبی گھاٹ،  دھوبی،  مندر،  پروہت،  پجاری،  جوئبار،  دوری اور نزدیکی،  ارتقا،  ترقی، محبت،  عشق،  عاشق،  محبوبہ،  غم،  خوشی،  خوف،  خواب،  جذبہ،  فنا،  بقا،  ازل،  ابد،  علامات کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی بیشتر نظمیں محبت اور جنس کے موضوع پر ہیں۔ وقت،  زمانہ،  آج،  کل،  ماضی،  حال،  مستقبل،  ازل،  ابد،  عدم بھی ا ن کی نظموں کے موضوعات میں ہیں۔ ان کے ہاں ’ خوف ‘ بھی بطور موضوع ملتا ہے۔ وہ انسان کی تر قی کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بناتے ہیں۔ اس کو لوہے اور فولاد سے جوڑتے ہیں۔ لیکن اپنی کسی نظم میں اس کو ’ ہیچ ‘ بھی قرار دیتے ہیں۔

بلندیاں :’’ دیکھ انسانوں کی طاقت کا ظہور ؍ اک سکونِ آہنیں ہمدم ہے میرا اور میں ؍ روزنِ دیوار سے ؍ دیکھتا ہوں کو چہ و با زار ؍ میں آ رہے ہیں،  جا رہے ہیں لوگ ہر سو۔۔۔ گرم رو ؍ تیز آنکھوں نرم قدموں کو لئے ؍ محو گہرے نشۂ رفتار میں ؍ اور یہ اونچا مکاں ؍ جس پہ استادہ ہوں میں ؍ جذبۂ تعمیر کا اظہار ہے ؍ سرخرو،  دل میں اولو العزمی لئے ؍ رات کی تاریکیاں ہر شے پہ ہیں چھائی ہو ئی ؍ لیکن ان تاریکیوں میں ہیں درخشاں چشم ہائے دیو تہذیب جدید ؍ اک سکونِ آہنیں ہمدم ہے میرا اور میں ؍ سوچتا ہوں عرصۂ انجم کے باشندے تمام ؍ دل میں کہتے ہوں گے۔۔ ہیچ ‘‘

میراجیؔ اردو شعر و ادب کی تاریخ میں ایک ایسا قلم کار تھا جو ہمہ جہت تو تھا ہی لیکن شعر و ادب میں نئے امکانات اور جہات کا دیوانگی کی حد تک جویا اور متلاشی بھی تھا کہ اس کی عمرِ مختصر ایک والہانہ غیر اختیاری جستجواور تگ و دو میں بسر ہو گئی۔ وہ پارے کی بوند کی مانند شعر و ادب کے تختۂ شفاف پر اپنے اکناف میں پھیلتا رہ گیا۔ وقت نے اس کو موقع ہی نہیں دیا کہ وہ اپنے آپ کو سمیٹتا،  اپنی اور شعر و ادب کی جہتوں کی تعئین کرتا۔ کیا ہے،  کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں ہے کے مرحلے پر چندے توقف کرتا،  سوچتا اور اپنے پڑھنے والوں کو سمجھاتا، سجھا تا،  سوچواتا۔ وہ جب اپنی گرفت میں نہ آ سکا تو پڑھنے والوں اور ناقدوں کی گرفت میں کیسے آتا۔ وہ آسمانی بجلی جیسا تھا،  پلک جھپکتے میں چمکا،  اپنے اکناف کو چمکایا،  اور اپنے آپ پر گرا اور بجھ گیا۔ اس کا ذہن تخلیق کرنے،  سوچنے اور اس کا قلم اپنی زندگی کا سارا ماحا صل کاغذ پر ڈالنے کی لگن میں تھا کہ خرابیِ صحت نے اسے دبوچ لیا۔ اور وقت نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ نتیجہ وہ اردو شعر و ادب کو بہت کچھ دینے سے رہ گیا اور اردو شعر و ادب اس سے بہت کچھ لینے سے رہ گیا۔

اللہ کا شکرہے کہ میراجیؔ کا لکھا بہت کچھ مطبوعہ حالت میں ہماری پہنچ میں ہے۔ الطاف گوہر کا کوئی اور ادبی کام کم از کم میرے علم میں نہیں بجز ’ کلیات میراجی ؔ ‘ کے جس کو جمیل جالبیؔ نے شائع کر کے اردو شعر و ادب کو ایک دائمی سوغات سے سرفراز کیا۔ میرا جیؔ کا وہ کلام جو کسی سبب سے ’ کلیات میراجی ‘ مرّتبہ الطاف گوہر میں نہ جگہ پا سکا تھا۔ شیما  مجیدؔ نے ’’ با قیات میراجیؔ ‘‘ میں شامل کر کے اس تحفے کا تکملہ کر دکھا یا۔ خالد حسنؔ لکھتے ہیں کہ شاہد احمد دہلویؔ نے میراجیؔ کی زندگی میں،  ان کی شاعری کے چار مجموعے شائع کئے تھے۔ ایک مکتبۂ اردو،  لاہور نے چھاپا تھا۔ ان کی کتاب ’’ اس نظم میں ‘‘ بھی میراجی کی زندگی میں منظرِ عام پرآ ئی تھی۔ میرے علم کے مطابق میر اجی کی اور میراجیؔ پر جو کتا بیں ہمارے درمیان موجود ہیں۔

۱۔ میراجی کے گیت ۲۔ میراجیؔ کی نظمیں ۳۔ تین رنگ نظمیں ۴۔ اس نظم میں ۵۔ کلیاتِ میراجیؔ ۶۔ باقیاتِ میراجیؔ ۷۔ انتخابِ کلام۔

میں نہیں جانتا آ یا ڈاکٹر رشید امجد کا تھیسس ’’ میراجیؔ شخصیت اور فن‘‘،  کتابی صورت میں ہنوز آیا کہ نہ آ سکا۔ ان کتابوں کے با وجود میراجیؔ کی ادبی قدر کا تعین کرنا ایک امرِ دشوار ہے۔ یہ فیصلہ بھی ممکن نظر نہیں آ تا کہ میراجیؔ کو ادب اور ادیبوں کی الماری میں کس جگہ رکھا جائے۔ کسی نے لکھا ہے میراجیؔ نے ایڈ گر ایلان پوؔ کے لئے جو کچھ لکھا ہے، وہ خود میراجیؔ پر صادق آ تا ہے، اس طرح کے فقرے اردو ادب میں وارد ہو گئے ہیں۔ مجھے امریکی قلم کار پو اور میراجیؔ میں ہلکی سی مماثلت نظر آ ئی۔ اس کو بھی میراجیؔ کی مانند کام کرنے کا وقت کم ملا۔ لیکن اس کے کام کو وقت کی سند ملی۔ میراجی کو ابھی تک منوایا ہی جا رہا ہے۔ جہاں تک ذاتی اور خانگی زندگی کا تعلق ہے۔ پوؔ اپنی تیرہ سالہ کزن سے شادی کر کے رُسوا ہوا۔ لوگوں نے اس شادی کے خلاف انگلیاں اٹھائیں لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ وہ تیرہ برس کی لڑکی ٹی۔ بی جیسے مرض میں مبتلا تھی۔ اس زمانے میں ٹیو بر کلوسس مرض الموت مانا جا تا تھا۔ ٹی۔ بی کے مریض کو کوئی پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا تھا۔ وہ لڑکی بھی تنہا پڑ گئی تھی۔ اید گر ایلان پوؔ نے اس کو سہارا دینے کے لئے شا دی کر لی ہو۔ نہ کے عیّاشی کے لئے۔ میراجیؔ نے دو محبتیں کیں لاہور کی بنگالن سے قطعی یک طر فہ ( جانے نہ جانے گل ہی نہ جا نے ) اور دہلی میں قیام پذیر خاتون سے اظہار اور انکار وا لی،  اور ساری عمر برہم چاری رہے۔ میں نے میراجیؔ اور ایڈگر ایلان پوؔ میں کوئی خاص مماثلت نہیں پائی۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میراجی اپنی ذات میں ایکو ایک بندہ تھا۔ کیا ذاتی زندگی میں،  کیا ادب میں۔ ہر اردو شعر و ادب پر سوچنے اور لکھنے والا اپنا الگ میراجیَؔ رکھتا ہے۔ میرا میرا جی اؔ مکانات سے معمور قلم کار ہے جسکا مجھے ہنوز انتظار ہے۔ اس میراجیؔ کے علا وہ جو سب کے سامنے ہے

٭٭٭

 

 

 

 

میراجی اور معاصر نظم گو شعراء: تقابلی مطالعہ

 

                مختار ظفر

 

اردو شعرو ادب کی تاریخ میں ایسے بہت کم تخلیق نگار ہیں جنھیں غیر معمولی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ انھی میں ایک میرا جی ہیں۔۔۔۔۔ ایک عہد ساز شاعر۔۔ بہت بڑا نقاد۔۔ تغیر کا داعی۔۔ روایتی شعری اسالیب سے منحرف۔۔ نئی شعری روایت کا پیش رو۔۔ زندگی اور زمانے کی مروجہ اخلاقی اقدار اور معاشرتی اوضاع سے باغی۔۔ شخصی سطح پر غلیظ، ہوس پرست، خود لذتی اور نرگسیت کا اسیر۔۔ وضع قطع اور ملبوسات میں عجیب و غریب روپ کا مظہر۔۔ طرزِ فکر میں منفرد۔۔ کج رو اور نامردانہ طرزِ زیست کا مستقل مزاج راہی مگر اردو ادب کا وہ آزاد منش اور ناقابل شکست کردار جس نے اردو شاعری کو ایک نیا شعور بخشا۔ اس لیے ساغر صدیقی کی زبان میں وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں

ہم تخیل کے مجدد، ہم تصور کے امام

ن۔ م۔ راشد ان کے ہم عصر اور مقابل کے شاعر نے۔۔۔ ان کی عظمت کا تذکرہ یہ کہہ کر کیا ہے کہ ’’میراجی ہمارے زمانے کے سب سے زیادہ قابلِ ذکر شاعر ہیں۔۔۔۔ سب سے زیادہ جدت پرست، سب سے زیادہ زرخیز ذہن کے مالک، سب سے زیادہ منفرد اور سب سے زیادہ بدنام‘‘(۱)۔۔۔۔۔ جناب آصف فرخی نے انھیں ’’تازہ کار اور جدت پسند شاعر‘‘ (۲) کہا ہے۔

میرا جی کی شعری و ادبی سرگرمیوں کا آغاز اقبال کے دورِ آخر میں ہوا۔ اس نے ۱۹۳۳ء کے قریب آزاد نظمیں لکھنا شروع کی تھیں۔ تب ترقی پسند تحریک نے آنکھ بھی نہیں کھولی تھی اور اس دور پر اقبال کے اثرات حاوی تھے۔ اقبال کی شاعری دو تخلیقی دھاروں کا حسن آمیز آمیختہ ہے۔۔۔۔ کلاسیکیت اور رومانویت۔ رومانویت میں داخلیت کا رجحان بھی تھا اور اقبال کی عطا یہ ہے کہ اس نے خارجیت اور داخلیت دونوں کو توانا کیا۔۔۔۔ اس لیے یہ

اقبال کے بعد اردو نظم کی دو سطحیں وجود میں آئیں۔۔۔ پہلی سطح اقبال کے شعری انداز شعری لہجے اور فکری اپروچ سے متاثر ہوئی۔ جوش، حفیظ، ان کے معاصرین اور ترقی پسند شعراء، نظریاتی تصادم کے باوجود اقبال کے اسلوب اور لہجے سے متاثر ہوئے۔ دوسری سطح جو داخلیت کے رجحان کی غماز تھی۔۔۔۔ میں بھی دو لہریں شامل تھیں۔۔۔۔ پہلی لہر کی نمائندگی میرا جی اور اس کے معاصرین بالخصوص تصدق حسین خالد اور ن۔ م۔ راشد کی تخلیقی فعالیتیں کرتی ہیں جب کہ دوسری لہر میں بھی بڑے نامور شعراء شامل ہیں مثلاً مجید امجد، قیوم نظر، ظہور نظر، یوسف ظفر، اختر الایمان، مختار صدیقی، ضیاء جالندھری اور منیر نیازی(۳)۔ انھوں نے بھی جدت طرازی کے مختلف اوضاع و وسائل اختیار کیے اور بڑا نام کمایا مگر میرا جی کا تقابلی مطالعہ ان شعراء کی نسبت صرف ایسے شعراء سے کیا جائے گا جن کی ہیئت اور جہت دونوں میں مماثلتیں بھی ہیں اور انفرادیت کے گہرے رنگ بھی۔۔۔۔۔ یعنی تصدق حسین خالد اور ن۔ م۔ راشد۔۔۔۔ اس لیے کہ ان تینوں نے قدیم شعری اسالیب سے انحراف کیا اور نظریاتی اور عملی طور پر معریٰ اور آزاد نظم کو رائج کرنے کی کاوش کی اور اس طرح دیگر شعراء کو ایک نئے شعری اسلوب سے روشناس کر کے نئے تخلیقی امکانات فراہم کیے۔

نظم معریٰ (Blank Verse) سے مراد نظم کی وہ Form ہے جس کے مصرعے ردیف و قافیہ کی پابندی سے مبّرا ہوتے ہیں مگر آپس میں برابر ہوتے ہیں۔ مروجہ عروض سے انحراف کے باوجود اس سے انقطاع نہیں ہوتا بلکہ اس کی نئی صورت گری ہوتی ہے جو روایتی عروض سے واقفیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اردو میں نظم معریٰ کے موجد کے بارے میں ڈاکٹر حنیف کیفی نے مختلف تحقیقی آرا کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا محمد حسین آزاد کو بانی قرار دیا ہے (۴) اور شعر الہند (حصہ اول ص ۴۳۹) میں مولانا عبدالسلام ندوی کے اشارے کو اس کی بنیاد بنایا ہے۔ نظم معریٰ میں اظہار کے سلسلے میں کئی نام لیے جاتے ہیں مثلاً مولانا حالی، عبدالحلیم شرر، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی وغیرہ۔

آزاد نظم (Free Verse/  Verse Libre)کی بنیاد وزن پر نہیں آہنگ پر ہوتی ہے اس اندرونی آہنگ میں ایک مصرعے کے لفظوں کا باہمی تعلق اور ربط ترنم اور نغمے کے اصولوں پر مطلوب ہے ورنہ مصرعے ہم آہنگ ضرور ہوں گے مگر مصرعوں کے لفظوں میں اندرونی آہنگ نہیں ہو گا۔ (۵) یہ آہنگ جذبہ و خیال کی روش و رفتار سے بدلتا رہتا ہے۔ اس کی اکائی رکن یا مصرعہ نہیں ہوتی بلکہ اسٹرافی (Strophe)ہوتی ہے۔ یونانی زبان کے اس لفظ کے لغوی معنی موڑ (Turn) کے ہیں مگر شعری اصطلاح میں اس سے مراد عموماً غیر مساوی مصرعوں کا مجموعہ لیا جاتا ہے۔ یہ اسٹرافی پوری نظم بھی ہوسکتی ہے اس کا کوئی حصہ بھی اور ایک مصرعہ بھی جب کہ آہنگ (Rhythm) سے مراد وزن (Metre) نہیں ہے تاہم وزن میں آہنگ بہرصورت موجود ہوتا ہے لیکن آہنگ وزن کے تابع نہیں ہوتا۔ اسٹرافی آہنگ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مصرعے یا سطریں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہیں جس کی وجہ سے الگ الگ مصرعوں کا آہنگ مختلف ہونے کے باوجود پوری نظم کا ایک مجموعی آہنگ بھی ترنم ریز ہوتا ہے اس ضمن میں ڈاکٹر منیب الرحمن کا کہنا ہے کہ:

’’اردو میں نظمِ آزاد کا ایک ہیئتی Patternہوتا ہے جس کا عروض سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا دوسرے اسالیب کا۔ فرق صرف یہ ہے کہ روایتی اسالیب میں شروع سے آخر تک ایک ہی بحر ہوتی ہے۔ لیکن آزاد نظم کا Pattern ایک مخصوص بحر کے ارکان کے گھٹانے بڑھانے سے تشکیل پاتا ہے۔ ‘‘(۶)

میراجی، تصدق حسین خالد اور ن۔ م۔ راشد نے اپنے افکار و خیالات کے لیے ایک تو نظمِ آزاد کے ہیئتی Pattern کو ذریعہ بنایا۔ دوسرے داخلیت کے اس رجحان کو اپنایا جس سے نظمِ جدید اپنے اصل مزاج سے ہم کنار ہوئی۔۔۔۔ داخلیت کیا ہے ؟۔۔۔۔ خارج کی دنیا کو باطن کی دنیا سے منسلک کرنے کا عمل۔۔۔۔ وہ یوں کہ خارجی زندگی سے جو تجربات حاصل کیے جاتے ہیں، انھیں باطن کی بھٹی میں یوں صیقل کیا جاتا ہے کہ باطن کی دنیا غالب نظر آتی ہے۔ (۷) نظم نے اپنے تدریجی ارتقاء میں قوس کا انداز اختیار کیا ہے۔ اس قوس کا ابتدائی حصہ تحرک گونج اور ایک حد تک شعوری یلغار کی غمازی کرے گا اور دوسرا حصہ (اور اصل حصہ) بے بسی، کسک، مدافعت اور دھیمی لَے پر دال ہے۔ ) اردو نظم میں میرا جی کی داخلیت پسندی اسی دوسرے مقام پر نظر آتی ہے۔ پہلا حصہ امید اور رجائیت پر مبنی ہے جب کہ دوسرے حصے میں یاس کی کیفیت اور موت کی آمد کا احساس ابھرتا ہے۔۔۔۔ میرا جی کی نظم کے مزاج کا رخ موت کی طرف ہے لیکن میرا جی موت کے آگے سپر انداز نہیں ہوا بلکہ اس نے مزاحمت کی ہے اور اپنی ذات کے تحفظ کے لیے توانائیاں صرف کی ہیں۔ حیات و موت کی اسی کشمکش سے میرا جی کی نظم کا استحکام عبارت ہے۔ (۸)

خارجیت سے داخلیت کے اس سفر میں بہت سے جدید شعراء کی کاوشوں کا حصہ ہے مگر میراجی کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ تاہم اس کی ابتداء علامہ اقبال سے ہوئی تھی اس لیے کہ انھوں نے نظم کو خارجی زندگی کے بیان کے ساتھ داخلی زندگی کی عکاسی کے لیے استعمال کیا۔ داخلیت کی طرف اقبال کے اسی رجحان نے انھیں جدید اردو نظم کا اولین معمار قرار دیا۔ اقبال کی اس تحریک نے مستقبل کے جس شعری ادب پر گہرے اثرات مرتب کئے ان میں ترقی پسند تحریک رومانی اور داخلی تحریکیں شامل ہیں۔

میراجی کی شاعری کا تقابلی مطالعہ معاصر شعراء سے کئی حوالوں سے کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً نظمِ آزاد میں ان کی تخلیقی عطا تہذیبی لاشعور شعری روایت اور روایتی اقدارِ حیات سے بغاوت جنسی نفسیات اور ابہام و اشاریت وغیرہ۔

اردو میں آزاد نظم کو باضابطہ طور پر پیش کرنے والے اولین شعراء تصدق حسین خالد ن۔ م۔ راشد، میرا جی اور حفیظ ہوشیار پوری ہیں۔ میراجی نے اولیت کا دعویٰ نہیں کیا حالانکہ ان کی نظموں کے مجموعے ’’میراجی کی نظمیں ‘‘ میں ۱۹۳۲ء سے آزاد نظم پائی جاتی ہے لیکن ’’میری بہترین نظم‘‘ مرتبہ محمد حسن عسکری(۹) میں خالد نے یہ کہہ کر ’’نظم آزاد کو اردو شاعری میں سب سے پہلے فروغ میں نے دیا‘‘ اور ن۔ م۔ راشد نے یہ بیان دے کر کہ:

’’۱۹۳۲ء کے بعد اپنے انفرادی رنگ میں اردو میں آزاد نظم غالباً سب سے پہلے میں نے لکھی‘‘ اولیت کے دعوے کیے ہیں مگر کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا۔ تاہم ڈاکٹر سید عبداللہ، خالد کی فضیلت کے داعی ہیں (۱۰) لیکن یہاں اولیت کے دعاوی کی سچائی کی پرکھ مطلوب نہیں بلکہ شعری موازنہ درکار ہے۔

تصدق حسین خالد(۱۹۰۹۔ ۱۹۷۲) رومانوی شاعر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتداء میں غالب اور اقبال کی تخلیقات کا مطالعہ رہا اس لیے ان کا رنگ غالب رہا۔ شاید انھیں اس طرزِ شعر میں نئے امکانات نظر نہ آئے۔ اس لیے قدیم اسالیب میں فنکارانہ مہارت کے باوجود اس روش سے انحراف کیا اور ایک واضح مقصد کے تحت آزاد نظم کو ذریعہ اظہار بنایا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ۳۳۔ ۱۹۲۳ میں جب وہ انگلستان گئے تو وہاں آزاد نظم کی شاداب فضا کے سحر نے انھیں فرانسیسی اور انگریزی کی آزاد نظم سے استفادے کی طرف مائل کیا۔ ان کی نظموں کی تعمیر اور آہنگ کا انگریزی نظموں کا انداز اسی بنا پر ہے۔

خالد کی نظموں میں آہنگ اور اسلوب (Rhythm & Style) کا تنوع بھی خوب ہے۔ اس نے کم و بیش پندرہ بحریں استعمال کی ہیں اور اس خصوصیت میں کوئی ان کا ہم پلہ نہیں سوائے میراجی کے۔ خالد کی ان بحروں میں مانوس و غیر مانوس رواں اور بوجھل ہر نوعیت کی بحریں شامل ہیں لیکن زیادہ تر اس نے اردو کی مروجہ بحروں کو ذریعہ اظہار بنایا۔ البتہ مصرعے مختصر قامت کے ہیں اس سے ان کی نظموں میں رمزیت و ایمائیت اور ایجاز و اختصار کی ایسی خصوصیات پیدا ہو گئی ہیں جنھوں نے ان کی اکثر نظموں کو پہلو دار (۱۱)بنا دیا ہے۔ پھر مغربی شعراء کے رومانوی شعری اسلوب کی وجہ سے خالد کی نظمِ آزاد کی شاعری میں رومانویت کے اثرات اور مستحکم ہو گئے۔

ڈ اکٹر سید عبداللہ کے مطابق اپنی شاعری کے مختلف ادوار میں خالد کی انفرادیت دو خصوصیات کی حامل ہے۔۔۔۔ ایک ان کا وفورِ احساس اور جذبے کی شادابی اور دوسری ہیئت کی ایجاد۔ خالد محبت کو ایک ایسا نورِ جاوداں سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے اس کارگہِ حیات میں صداقت درد اور معصومیت کی کرنیں بکھری ہوئی ہیں

صداقت، درد اور معصومیت کی دل نشیں حوریں

محبت کے حریمِ قدس میں اک رقص کرتی ہیں

حسیں فطرت کی زیبائی میں سو سو رنگ بھرتی ہیں

نوائے دل کی اک راگنی منظوم ہوتی ہے

جہاں میں زندگی ہی زندگی معلوم ہوتی ہے ………… (شمعِ ناتواں )

خالد کا دعویٰ ہے کہ میری بعض نظموں میں Impressionism اور Sur-realism کا اثر موجود ہے اور جواز یہ پیش کیا ہے کہ ان نظموں میں جابجا تنہا کلامی اور مکالمے کا استعمال کیا گیا ہے (۱۲) لیکن ڈاکٹر سید عبداللہ کے نزدیک یہ دعویٰ محلِ نظر ہے۔ (۱۳) البتہ یہ دعویٰ درست ہے کہ مغرب کی علاماتی (Symbolist) اور تمثالی (Imagist) شاعری کے نمونے پائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ان تمام اجتہادات کے باوجود ’’ان کی شاعری میں نہ فکر کی وہ گہرائی ہے جو ذہنوں کو مسخر کر لے اور نہ بیان کی وہ شان جو نگاہوں کو خیرہ کر دے (۱۴)۔۔۔۔۔۔ ان کے اسلوب پر اقبال، غالب، اختر شیرانی اور مغرب کے رومانی شعراء کے جو ملے جلے اثرات ہیں، ان کی وجہ سے ان کی انفرادیت ابھرنے نہیں پائی۔ سید وقار عظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خالد کی شاعری میں نہ کوئی مرکزِ خیال ہے اور نہ ہی اس کے محسوسات پر زندگی کی کشاکشوں کا کوئی نمایاں اثر ہے۔۔۔۔ اور سلمیٰ تصدق حسین نے بھی یہ کہہ کر اسی بات کی تصویب کی ہے کہ وہ کسی نظریے کسی فلسفے یا کسی مسئلے کے شاعر نہیں وہ ہر جہتی اور ہر سُو خرام ہیں (۱۵) لیکن اس میں بھی کلام نہیں کہ وہ سرور و انبساط اور ترویح و نشاط کا شاعر ہے۔۔۔۔۔ نہ زندگی سے فرار کے رویے ہیں اور نہ اخلاقی اقدار سے بغاوت کے تصورات۔۔۔۔۔ پھر ایک نمایاں فرق یہ بھی ہے کہ اپنے ہم عصر جدید نظم گو شعراء کی طرح خالد کے ہاں فرائیڈ کی جنسیات کا ردِ عمل بھی کم از کم ہے۔ تاہم اس کی شاعری کے کچھ نقوش ن۔ م۔ راشد اختر الایمان اور فیض تک کی شاعری میں پائے جاتے ہیں۔ بایں ہمہ ان کی نظم خارجی مشاہدات کو بیان کرنے تک محدود رہی اور اپنی ذات کی غواصی کا رجحان بہت کم رہا۔ یوں نظم میں نہ شاعر کی اپنی ذات Involveہوسکی اور نہ وہ باطن کی دنیا کو اجاگر کر سکا۔

جدید اردو نظم میں ہیئت اسلوب اور Content کے حوالے سے میراجی کا جس شاعر سے تقابل بنتا ہے، وہ ن۔ م۔ راشد (۱۹۱۰۔ ۱۹۷۵ء) ہیں۔۔۔۔ اردو شعر و ادب کے ایک بلند مقام تخلیق نگار اور بلند آہنگ آواز۔۔۔۔ ’’زندگی کے کہنہ آہنگِ مسلسل سے ‘‘ بے زار لیکن جولاں گاہِ تازہ کا متلاشی۔۔۔۔ محبت کے مشرقی تصور سے باغی۔۔۔۔ سامراجیت کا شدت پسند مخالف۔۔۔۔ جدید طرزِ احساس اور جدید پیرایہ¿ ہائے اظہار دونوں حوالوں سے قابلِ ذکر اور قابلِ قدر۔۔۔۔ میرا جی کی طرح انھیں بھی قدیم روایاتِ شعری کا باغی کہا جاتا ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق، ’’بغاوت کی ایک مثال‘‘، دیگر متعدد نقادانِ ادب مثلاً کرشن چندر، پطرس بخاری اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے حوالے سے بھی باغی۔۔۔۔ خود راشد کے بقول ’’قدیم اسالیبِ بیان کا ادنیٰ باغی‘‘(۱۶)۔۔۔۔ ذیل میں ن۔ م۔ راشد کی شاعری کے تناظر میں ان آراء کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

راشد نے پابند شعری پیمانوں میں بھی شاعری کی ہے لیکن ان کی شناخت نظمِ آزاد کے حوالے سے ہے۔ راشد کو اس شعری ہیئت کی ابتدا میں مقامِ اول تو نہیں ملا لیکن اس کا فروغ و ارتقاء اور مقبولیت بہت حد تک راشد کی خدمات کی رہینِ ہیں۔۔۔۔ سید جابر علی جابر نے اپنے مضمون ’’آزاد نظم کا ارتقاء‘‘ میں درست کہا:

’’اسے آزاد نظم کی خوش قسمتی سمجھنا چاہیے کہ اسے راشد ایسا ذہین اور طباع قافلہ سالار ملا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ راشد کی شخصیت کے بغیر آزاد نظم کی ترقی ایک خوابِ پریشاں ہو کر رہ جاتی۔ ‘‘(۱۷)

راشد کے بارے میں جہاں متعدد نقادانِ ادب کا یہ تاثر ہے کہ اس کے ہاں قدیم اسالیبِ بیان سے انحراف ہی نہیں، بغاوت پائی جاتی ہے۔۔۔۔ داخلی اور خارجی ہر سطح پر بغاوت۔۔۔۔ اس لیے فنی طور پر وہ ایک باغی شاعر ہیں۔ اس نوعیت کی رائے دینے والے نقادانِ ادب بھی کوئی کم گراں مایہ نہیں مثلاً نیاز فتح پوری، ناظر کاکوروی اور عندلیب شادابی، مسعود حسن رضوی ادیب، افسر میرٹھی علی عباس حسینی اختر علی تلہری، خواجہ محمد شفیع(۱۸)۔ انھوں نے راشد کے مجموعہ کلام ’’ماورا‘‘ کے حوالے سے نئی شاعری کو بے معنی قرار دیا ہے۔ البتہ حسن عسکری نے اپنے دو قسطی طویل مضمون (مطبوعہ ساقی دہلی شمارہ اپریل، مئی ۱۹۴۴ء) میں نئی شاعری کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔ دراصل نقاد جتنا بڑا بھی ہو، اس کا ایک نفسیاتی مسئلہ ضرور ہوتا ہے، اسے جس شعری تناظر میں ادراک ہوتا ہے، اس سے ہٹ کر کسی نئی بات اور مختلف انداز کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔ راشد کی شعری آواز ہی نئی نہیں تھی پیرایہ¿ ہائے اظہار بھی مختلف تھے اور خیالات کے ساتھ اقدار بھی معاشرتی اور اخلاقی مسلمات سے ہٹ کر تھیں۔ اس لیے وہ سخت گیر تنقیدی گرفت کا ہدف بنے۔ البتہ بعض نقادوں نے مختلف اور مو¿ید آراء دی ہیں مثلاً سید وقار عظیم کا کہنا ہے کہ راشد کی شاعری پرانی طرز سے بغاوت نہیں بلکہ نئے اور پرانے طرز میں ایک خوشگوار سمجھوتا ہے۔ ڈاکٹر حنیف کیفی نے اسی کی تائید میں کہا ہے کہ راشد کی شاعری کا نیا پن اس لیے قابل قبول ہے کہ اس نے پرانی شاعری کے وہ تمام انداز و اطوار اپنے اندر سمولئے ہیں جو اس کی دلکشی و رعنائی کا سبب بنے۔ (۱۹)۔۔۔۔ آراء نہ تو پرانے اسالیب سے راشد کے مکمل انقطاع پر دال ہیں اور نہ ہی کسی بغاوت کی ترجمان بلکہ قدیم و جدید اسالیب کے ارتباط کی داعی ہیں۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ راشد کے ہاں کیا پرانا ہے اور کیا نیا؟ اس ضمن میں پہلے یہ جائزہ لینا ہے کہ راشد کی آزاد نظم کی فنی صورتیں کیا ہیں۔۔۔۔

جدید نظم کا حسن اس کی داخلیت اور شاعر کی فی نفسہ Involvement میں مضمر ہے۔ راشد کی عطا یہ ہے کہ اس نے نظم کی داخلیت پسندی کے رجحان کو تحریک ضرور دی مگر اس کے شعری کردار نے خارجی مسائل کے مقابلے میں داخلی واردات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ تاہم اس میں ایک کراہتے اور تڑپتے ہوئے فرد کے وجود کا احساس ابھرتا ہے (۲۰) مگر اس کی وہ Involvement نہیں جو میرا جی کا امتیاز ہے۔۔۔۔ رہی بات داخلی آہنگ اور اس میں تجرباتِ نو کی تو اس میں بھی انھوں نے روایت سے انقطاع نہیں کیا۔ ’’ماورا‘‘ کی نظموں کے حوالے سے سید وقار عظیم ہی کا کہنا ہے کہ راشد نے جس نئے قالب اور نئی ہیئت کو اپنانے کی کوشش کی، اس میں بھی انھوں نے اردو شاعری کے روایتی ترنم اور اس کی موسیقی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا(۱۰) اور اس کی یہ وجہ ہے کہ انھوں نے اردو کی دو حد سے زیادہ مروج بحروں میں دو کے ذریعے اس آہنگ کا اہتمام کیا اور یہ دو آہنگ بحر رمل محذوف/ مقصور اور بحر رمل مخنون مقطوع ہیں۔ ان میں پہلی بحر آہستہ رو اور سکون اور ٹھہراؤ کی حامل ہے جب کہ دوسری میں حرکت اور بہاؤ(Flow)ہے۔۔۔۔ راشد کا فنی کمال یہ ہے کہ اس نے نظموں کی داخلی کیفیات کے تقاضے کے مطابق بحروں کا انتخاب کیا ہے۔۔۔۔ اس کے نتیجے میں نظم کے آہنگ اور داخلی کیفیات میں حسنِ ارتباط پیدا ہو گیا ہے۔ سید عابد علی عابد نے اس کی تحسین کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظم کے اندرونی آہنگ کا سب سے دل فریب اظہار ن۔ م۔ راشد کی منظومات میں ملتا ہے، اس لئے کہ انھیں ترنم، نغمے، توافق لفظی اور توافق معنی کا بہت گہرا اور اچھا شعور ہے۔ (۲۰) شمس الرحمن فاروقی نے اپنے مقالہ ’’ن م راشد۔۔۔ صوت و معنی کی کشاکش‘‘ میں ان کے شعری آہنگ کی تحسین کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بیشتر نظموں کی کامیابی ان کے شعری آہنگ کے کمال ہی سے ممکن ہے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ لفظوں کی مخفی قوت سے کس طرح داخلی اور خارجی آہنگ کا طلسم تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ (۲۱)

ہیئت کے حوالے سے بھی راشد روایات کی پابندی سے آزاد نہیں اس لئے کہ اپنی شناخت کے اعتبار سے ان کی آزاد نظمیں اپنی پابند اور معرا نظموں سے بہت زیادہ مختلف نہیں کیونکہ ان میں عموماً چہار رکنی اور سہ رکنی مصرعوں کا التزام محسوس ہوتا ہے اور یہ ان کی منظومات کو مثمن اور مسدس بحروں کے تحت لے آتا ہے۔

ان کی نظموں کا آہنگ بھی پابند شاعری والا ہے اور فن کی سطح پر بھی ان پر روایت کی جو گہری چھاپ ہے وہ مصرعوں کے تکرار اور قافیوں کے التزام میں نظر آتی ہے۔ مصرعی تکرار کا یہ انداز ’’ماورا‘‘ کی بیشتر نظموں میں پایا جاتا ہے۔ (۲۲)

زبان بھی مفرس ہے اس ضمن میں وہ میرا جی سے بہت مختلف ہیں۔ اس لئے کہ شروع سے ہی راشد کی Diction پر فارسی روایت کے گہرے اثرات تھے۔ ایران میں ان کے قیام کے دوران میں زمینی رشتے اور جدید فارسی کے گہرے مطالعہ نے اس کے اثرات میں اور اضافہ کر دیا۔ اس حوالے سے نظم ’’سباویراں ‘‘ سے ایک بند

سلیماں سربزانو، ترش رو، غمگیں، پریشاں مو

جہاں گیری، جہاں بانی، فقط طرارۂ آہو

محبت شعلہ پراں، ہوسِ بوئے گل بے بو

زراز دہر کمتر گو!

اس سے راشد کے ایرانی تہذیب، شعری روایت اور زبانِ فارسی سے عشق کا انداز کہا جا سکتا ہے۔ راشد کو اپنی اس زبانِ مفرس کا احساس تھا۔ اسے وہ اس تعلیم و تربیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں جو بزرگوں کی غلطی سے انھیں حاصل ہوئی۔

تاہم Style is the man himself کے مطابق اسلوب شاعر کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کی ڈکشن اس کے مطالعے اور یادداشت کی رہینِ منت ہوتی ہے۔ ن م راشد کے اسلوب میں جو علائم و رموز اور تلازمات ذریعہ¿ِ اظہار بنے ہیں وہ عجمی، عربی اور وسط ایشیا کے تہذیبی پس منظر کا سراغ دیتے ہیں اور اس پس منظر میں فارسی زبان اور تہذیب کا اہم کردار ہے۔ اس سے راشد کی مفرس زبان کا جواز ملتا ہے۔

راشد کے شعری اسلوب پر اقبال کے اثرات بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی نے اپنے مضمون (راشد کا ذہنی ارتقاء) میں تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ راشد کی شاعری اقبال کی شعری شخصیت کا تسلسل یا اس کی تشکیلِ نو ہے۔ اگرچہ یہ دونوں شاعر متضاد رویوں کے حامل ہیں اس لیے کہ اقبال کا اپنی عظمتِ رفتہ سے جذباتی تعلق تھا اور عرب و عجم اور وسطِ ایشیا کی ہزار سالہ تہذیب ان کا Source of Inspiration رہی اور اس کے مظاہر ان کے لیے زندہ استعارے تھے مگر راشد کے لیے یہ استعارے شطرنج کے مہرے تھے جن کو انھوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے استعمال کیا جب کہ ان کی باطنی دنیا سے ان کا کوئی رشتہ نہیں۔ اس لیے وہ میرا جی کی طرح ماضی کی طرف مراجعت نہیں کرتے۔ اگرچہ ان کا تہذیبی شعور قرونِ وسطیٰ کا ایسا منظر نامہ پیش کرتا ہے جس میں کھو کر ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ماضی کی طرف مراجعت کر رہے ہیں لیکن یہ منظر نامہ تو محض خارجی مظاہر پہ مبنی ہے۔۔۔۔ انفعالیت کے حامل، زندگی اور اس کی حرارتوں سے خالی مظاہر۔۔۔۔ اس لیے ماضی کے تذکرے کے باوجود، وہ ماضی کی نفی کرتے ہیں اور اسے حال اور مستقبل کے لیے قبول نہیں کرتے (۲۳) یوں میراجی کے مقابلے میں ان کی شعری سمت مختلف ہو جاتی ہے۔

راشد کی شاعری کے بارے میں یہ بھی تاثر ہے کہ اس میں زندگی سے لگاؤ کا نہیں، فرار کا رویہ ملتا ہے مثلاً

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنے مضمون ’’ن م راشد: بغاوت کی ایک مثال‘‘ مطبوعہ ’’نظمِ جدید کی کروٹیں ‘‘ میں راشد کی بغاوت کے یہ تین پہلو پیش کیے ہیں۔۔۔۔ سوسائٹی کی مروجہ اقدار و روایاتِ زندگی سے۔۔۔۔ افلاطونی تصورِ محبت سے۔۔۔۔ اور زندگی اور اجنبی حکومت سے۔ ان کے ان باغیانہ تصورات میں تلخی اور برہمی نہیں انتقام کا رویہ ملتا ہے لیکن وزیر آغا کا یہ تجزیہ ’’ماورا‘‘ کی نظموں کے حوالے سے ہے۔ ’’لا=انسان‘‘ کے حوالے سے ان کے نقطۂ نظر کی تبدیلی نے راشد کو ’’تمنا کی سیال کیفیت کا شاعر‘‘ قرار دیا ہے۔۔۔۔ اصل میں یہ بغاوت معاشرے کی کھوکھلی اقدار اور بے روح نظامِ زندگی کے خلاف ردِ عمل پر مشتمل ہے ورنہ وہ زندگی کے رجائی پہلو کو پیش نگاہ رکھتا ہے اور سہانے خواب بھی دیکھتا ہے۔ یہی خواب اس کی رجائیت اور امید کا سرچشمہ ہیں بشرطیکہ زندگی کو اس کی بنیادی قدریں مل جائیں۔ (۲۴) راشد کے ان خوابوں کی تہیں کئی درجاتی ہیں۔ ’’ایران میں اجنبی‘‘ تک یہ خواب بالعموم ایشیا کے حوالے سے آتے ہیں لیکن ’’لا = انسان‘‘ سے ان خوابوں کا دائرہ آفاقی ہو جاتا ہے جن میں دنیا بھر کے محکوم اور محروم خطوں کے انسانوں کی بہبود شامل ہو جاتی ہے۔۔۔۔ راشد کے ان خوابوں میں بعض اوقات رجائیت کی ایسی سرشار کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ قاری بھی ان کے اس تجزیے میں انہماکِ شوق کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔ (۲۵)

میرا جی(۱۹۱۲۔ ۱۹۴۹)  نفسیاتی طور پر Abnormalمگر عہد ساز شاعر اور فطین نقاد تھا حالانکہ نہ تو اس کی ساری شاعری اعلیٰ معیار کی تھی اور نہ ہی جدید۔۔۔۔ اس نے روایتی شاعر میں بھی جوہر دکھائے مگر جس کمالِ فن کی بنا پر اس کی شہرت ہوئی وہ اس کا آزاد نظم میں اجتہاد تھا جس میں اس نے نئے شعری تجربات کی بنیاد رکھی اور اظہار کی نئی راہ دکھائی۔ تخلیقی سطح پر اپنے آپ کو عجمی شعری روایت سے منقطع کر کے ایک طرف ہندی شعری روایت سے رشتہ جوڑا اور دوسری طرف مغربی شعریات سے استفادہ کر کے اردو زبان میں ایک غیر معمولی اسلوبِ شاعری وضع کیا(۲۶) لہٰذا پرانی شعری روایت اور طرزِ تنقید سے جس تخلیق نگار کو صحیح باغی کہا جا سکتا ہے وہ صرف میرا جی ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر حنیف کیفی کی رائے بڑی معنی خیز ہے کہ میرا جی کی شاعری کا وہ حصہ جس کی بدولت میراجی ’’میراجی‘‘ بنے اور ان کا نام ’’بدنام‘‘ ہوا، اردو شاعری کی پہلی باغی آواز ہے (۲۷)۔۔۔۔ اگرچہ ڈاکٹر سلامت اللہ خاں نے راشد اور میرا جی کے ساتھ سلام مچھلی شہری کو بھی باغی شعراء میں شامل کیا ہے مگر ان کی شاعری میں تجربات کی بوقلمونی ضرور ہے، بغاوت نہیں۔ خالد کے ہاں ایک خاص حد تک بغاوت کے تجربے نے انگڑائیاں ضرور لی ہیں مگر وہ بھی روایت شکن شعراء کے زمرے میں نہ آسکے۔ البتہ راشد کے ہاں بغاوت کے رنگ ضرور موجود ہیں بالخصوص جنس اور اس کے متعلقات کے سلسلے میں نیز شانِ خداوندی میں گستاخانہ طرزِ اظہار کے حوالے سے اور اس میں ان کے اسلوبِ خاص کا کردار ہے لیکن بغاوت کا رویہ جس شاعر کی شخصیت اور تخلیقات میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے وہ صرف اور صرف میراجی ہیں۔۔۔۔ ان کی بغاوت کئی رنگوں کی مظہر ہے مثلاً میرا سین کے تصور میں رہنے کے لیے ثناء اللہ کا اپنی ذات سے بغاوت۔۔۔۔ پھر معاشرتی شخصی روپ سے۔۔۔۔ مروجہ سماجی اخلاقیات اور سوشل مسلمات سے۔۔۔۔ فکری و شعری موضوعات سے۔۔۔۔ اور ہیئت اور اسلوب میں بھی اور یہ بغاوت شعوری ہی نہ تھی احساسِ تفاخر کی حامل بھی تھی جس کا اظہار وہ اپنی تخلیق ’’میرا جی کی نظمیں ‘‘ کے دیباچے میں یوں کرتے ہیں :

’’میری یہ نظمیں اپنی ہستی کا عریاں اظہار ہیں یعنی اپنی شخصیت اور انفرادی ذہانت کا اجالا ہی اجالا ہے جس کے لیے کسی فالتو اجالے کی ضرورت نہیں۔

اپنی شخصیت اور انفرادی ذہانت کی توضیح اور اختصاص میں اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اکثریت کی نظمیں الگ ہیں میری نظمیں الگ ہیں۔۔۔۔ یوں سمجھ لیجئے کہ میری نظمیں بھی انھی لوگوں کے لیے ہیں جو انھیں سمجھنے کے اہل ہوں یا سمجھنا چاہتے ہوں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہوں۔ ‘‘(۲۸)

دراصل جس طرح میرا جی کے ظاہری اطوار عام سماجی روایات سے ہٹ کر تھے، اسی طرح اس کا تہذیبی شعور اور لاشعور بھی مختلف تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ میرے آباء و اجداد جو آریہ نسل کے انسان تھے ایشیا سے چل کر جنوب کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔ انھی کی ذہانت، انھی کا حافظہ، انھی کی طبیعت نسل در نسل مجھ تک پہنچی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرا ذہنی سفر بھی پنجاب سے جنوب کی طرف چلا ہے۔ (۲۹) اس پس منظر میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ میراجی کا ہندوستان کے جنوب مشرق اور وسطی حصے سے گہرا جذباتی تعلق کیوں رہا؟ یہاں کی آب و ہوا، جنگل، پھل پھول، بہار اور ندیاں اور مناظر، اس کے لیے جمالیاتی منظر نامے کیوں تھے ؟۔۔۔۔۔ اس کے برعکس راشد کا ذہنی سفر شمال اور مغرب کی طرف رہا اور وہ وسطِ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے شعری تقاضوں کی طرف سفر کرتے رہے۔ (۳۰)

میرا جی پیدا پنجاب میں ہوئے، بچپن کاٹھیاواڑ میں گزرا۔ یہیں دوارکا کے اثرات مرتب ہوئے۔ یہ دوارکا کرشن مہاراج کی جنم بھومی ہے جہاں کی ساری فضا قدیم آریائی فضا سے مماثل ہے۔ مشرقی ہندوستان (بنگال) کی ایک عشرت انگیز لڑکی میراسین سے اس کا عشق اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عشق میں ناکامی کے احساس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے میرا ذہن مجھے پرانے ہندوستان کی طرف لے جاتا ہے۔ مجھے کرشن کنھیا اور برندابن کی گوپیوں کی ایک جھلک دکھا کر وشنو مت کا پجاری بنا دیتا ہے۔ (۳۱) یہ وہ محرک ہے جو میرا جی کو قدیم ہندوستان کی تہذیبی روایت سے جوڑے ہوئے ہے۔

ماضی کی یہ تہذیبی روایت میرا جی کے تخلیقی اُبال کے سرچشمے کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے خود اس کے مطابق ’’ماضی کے رنگ محل کی کنجی ہماری ذات کے بہت سے مسائل کو سلجھا دیتی ہے۔ (۳۲) جب کہ راشد کا کہنا ہے کہ مجھے ماضی سے کوئی دلچسپی نہیں خواہ وہ کسی رنگ میں نمودار ہو۔ (۳۳)

کرشن کے لغوی معنی ’’کالے ‘‘ کے ہیں۔ وشنو کا یہ اوتار اسی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور یہ وشنو ہندومت کے تین دیوتاؤں میں ایک ہے اور دوسرے دو ’’برہما‘‘ اور ’’شو‘‘ ہیں۔۔۔۔ وشنو اور شو دونوں دراوڑی تہذیب کے براہ راست نمائندے ہیں۔ اس تہذیب میں جسم، زمین اور عورت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ موت سے خوف اور جسم اور اس کی لذتوں سے لگاؤ اور تعیش اس کا مزاجی خاصا تھا۔ (۳۴)

میرا جی کی شاعری میں وشنو مت کے دو پہلو نمایاں ہیں۔۔۔۔ ایک کرشن اور رادھا کی محبت۔۔۔۔ سنجوگ سے زیادہ فراق پر مبنی اور دوسرا پہلو جنسی نمائندوں کالی اور شو کے تذکرے پہ مشتمل جو جنسی علامتوں کی صورت میں اس کی شاعری میں پایا جاتا ہے۔ اس کی متعدد نظموں میں ناجائز تعلق اور جنسی تلذذ کی جو بازگشت سنائی دیتی ہے وہ انھی اثرات کا نتیجہ ہے۔ مثلاً ان کی نظمیں ’’حرامی‘‘، ’’اخلاق‘‘، ’’لبِ جوئے بار ے ‘‘، ’’جاتری‘‘، ’’دکھ دل کا دارو‘‘، ’’اونچا مکان‘‘ وغیرہ۔ ان میں جنسی تعلق کے کئی رنگ ہیں۔۔۔۔ مثلاً پل بھر کا سکھ اور پھر مفارقت اور دوری۔۔۔۔ رادھا اور کرشن کے ملاپ کی طرح لمحاتی

ہاں جیت میں نشہ کوئی نہیں ؍ نشہ ہے جیت سے دوری میں

جو راہ رسیلی چلتا ہوں اس راہ پر چلتا رہنے دو

میرا جی کا جنسی عمل اور اس کا شعری اظہار شعوری بھی ہے اور جرأت آمیز بھی۔ اس پر جب ناقابلِ برداشت جنسی تقاضے کا بھوت سوار ہو جاتا تو نہ وہ اخلاقی ضابطوں کو خاطر میں لاتا اور نہ ہی ضمیر کی کوئی آواز سدِ راہ ہوتی اور پھر وہ عورت کے تصور میں بڑی ڈھٹائی سے جلق زنی کرتا۔ اس نے اس مکروہ فعل اور کریہہ صورتِ حال کو استعاراتی زبان اور حرکی بصری اور سماعی پیکروں کی وساطت سے ایسا شعری درجہ دے دیا اورجنسی ملاپ سے پیدا شدہ تصورات اور کیفیات کو ایسے محاکات کے ذریعے پیش کیا ہے کہ تخلیے کا یہ عمل پوری جزئیات کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ ان جزئیات میں عورت اور مرد کے اعضائے مخصوصہ کی وہ فطری حرکات بھی سامنے آ جاتی ہیں جو اس عمل کے دوران میں رونما ہوتی ہیں۔ (۳۵) مثلاً:

جل پری آئے کہاں سے ؟ وہ اسی بستر پر

میں نے دیکھا، ابھی آسودہ ہوئی، لیٹ گئی

لیکن افسوس کہ میں اب بھی کھڑا ہوں تنہا

ہاتھ آلودہ ہے، نم دار ہے، دھندلی ہے نظر

ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے ! ………… (لبِ جوئبارے )

جنسیت کے اس فعل و تصور نے ان کے شعری وزن میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اسی لیے میراجی کہتے ہیں کہ ’’میں دنیا کی ہر بات جنس کے اس تصور کے آئینہ میں دیکھتا ہوں جو فطرت کے عین مطابق ہے۔ ‘‘(۳۶) اس سلسلے میں میراجی کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں۔ پھر بھی وہ اپنے اوپر فحاشی کے الزامات کو ڈھٹائی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ زندگی کا محض جنسی پہلو ہی میری توجہ کا واحد مرکز ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ جنسی فعل اور اس کے متعلقات کو میں قدرت کی بہت بڑی نعمت اور زندگی کی سب سے بڑی راحت اور برکت سمجھتا ہوں۔ (۳۷)

میرا جی کے بر عکس ن م راشد کا عشق عجمی ہے۔۔۔۔ جسمانی تلذذ کا طالب اور گناہ کو محبت پر ترجیح دینے والا۔۔۔ تاہم راشد بھی اپنے اور میرا جی پر فحاشی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری شاعری میں جنس یا جسم کا تذکرہ ضمنی ہے۔ البتہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کی یہ رائے معنی خیز ہے کہ میرا جی اور راشد درحقیقت جنس کو زندگی کی کلیت کا ایسا لازمی حصہ سمجھتے تھے جو انسانی شخصیت کی نشوونما اور اس کی تہذیب و تکمیل میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ (۳۸) میراجی کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے جنسی تجربے میں تشنہ کام رہے اور راشد نے اس کے جنسی متعلقات کو جو ’’جنسی تصوف‘‘ کا نام دیا تھا وہ اسے سکون آشنا نہ کر سکا، اس لئے کہ اس کے آدرشی تصور اور جنسی تجربے میں ہم آہنگی نہ ہوسکی۔۔۔۔ البتہ راشد کے ہاں یہ سماجی تجربے کا ایک حصہ ہے۔۔۔۔ یہ فرق اس لیے بھی ہے کہ میرا جی باطنی صداقتوں پر یقین رکھتے ہیں اور ویشنو مت کے عقائد اس روحانی تجربے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ لہٰذا ان کا عشق باطنی تجربہ بن جاتا ہے جب کہ راشد کے عشق کی تہذیبی سطح اور اس کی علامتیں تہذیبی کلچر سے بنتی ہیں۔ (۳۹)

میرا جی نے اخلاقی قدروں اور معاشرتی معیاروں کی نفی میں جس گمراہی کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا وہ انھیں فرانسیسی زوال پسند علامتی شعراء کے قریب لے جاتی ہے۔۔۔۔۔ شخصیت میں بوالعجبی، مے نوشی، جوا، طوائفوں سے دوستیاں اور بے کاری پھر خود اذیتی اور خود تلفی وغیرہ ان شعراء کے مشاغل اور خصائل تھے۔ اردو ادب میں اس قسم کی Bohemianism کا آغاز ۱۹۳۶ء کے بعد ہوا۔ میرا جی، منٹو، اختر شیرانی، مجاز لکھنوی اور عدم وغیرہ سبھی اسی قبیل کے شاعر تھے مگر میراجی ان سب سے زیادہ باخبر اور اپنے طور پر بودلیٹر اور ایڈگرایلن کے حالات سے متاثر تھا۔ (۴۰)

میرا جی کی جن شعری خصوصیات کو نقادانِ ادب نے ہدفِ تنقید بنایا وہی ان کے امتیازی اوصاف ہیں۔۔۔۔ طرزِ زیست اور غیر فطری جنسی تلذذ کے علاوہ ان کے شعری ابہام اور آزاد نظم کا انفرادی اسلوب میں اختصاص نے انھیں ایک امتیازی مقام عطا کیا ہے۔ ابہام کے ذریعے قاری اور شاعر کے مابین ایسی خلیج حائل ہو جاتی ہے کہ تفہیم و افہام کے لیے قاری کے تخیل کو بھی زقند لگانا پڑتی ہے۔ اس کے ذریعے کلام پیچیدہ اور گنجلک بن جاتا ہے لیکن اس میں ترسیل معنی کے قرینے رکھ دیئے جائیں تو تفہیم میں آسانی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔ ابہام کی کئی صورتیں ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ تجربہ کو ایک ایسی زبان اور ہیئت میں تبدیل کیا جاتا ہے کہ معانی کے تہہ در تہہ گوشے کھلتے ہیں اور قاری کو تحیر اور خوش گوار تاثر سے دوچار کرتے ہیں۔ اس کے لیے علامتوں (Symbols) کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔

ایہام و ابہام کوئی نیا اندازِ شعری نہیں۔ اردو غزل گوئی میں اس نے عرصہ تک رمز و ایمائیت کے چراغ جلائے ہیں لیکن میراجی کا ابہام غزلیہ روایت کی اس خصوصیت سے اس قدر مختلف ہے کہ اسے بھی روایت سے بغاوت کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ میرا جی نے ابہام کا وسیلہ اپنے جنسی تصورات و افکار کے فنکارانہ اظہار کے لیے آزاد نظم میں اختیار کیا۔ اس نے ان کی بے باک عریاں نگاری کے لیے لطیف پردے کا کام دیا۔ (۴۱) میرا جی نے یہ ابہام علامتوں اور تلازماتی عمل کے ذریعے اپنی آزاد ہیئتی نظموں میں پیدا کیا۔ فیض احمد فیض کے مطابق علامت سے مراد ایسے استعارے ہیں جنھیں شاعر اپنے بنیادی تصورات کے اظہار کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس ضمن میں شاعر بعض لفظوں کو اصطلاحات کا درجہ دے دیتا ہے جو شاعر کے تجربات کا خاص ابلاغ کر سکیں۔ (۴۲) اردو میں علامتوں کے استعمال میں میرا جی کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس نے اس نسلی ورثہ جو مذہب کے بجائے کلچر سے وابستہ تھا کے اظہار کے لیے نیز ذات کی تہہ در تہہ کیفیات کی عکاسی کی خاطر علامتوں کی شاعری کی اور اردو نظم میں علامت پسندی کی نئی روایت قائم کی۔ اگرچہ ’’علامتیں ‘‘ میراجی سے پہلے بھی اردو نظم میں موجود تھیں، مثلاً اقبال کے ہاں شاہین، عقاب، گلِ لالہ،  کارواں اور خیمہ کی علامتیں ابھری تھیں اور اقبال نے انھیں بڑی نفاست سے استعمال کیا لیکن میرا جی نے پہلی بار ایسی علامتیں پیش کیں جن کا ملکی کلچر سے گہرا تعلق تھا۔ (۴۳) جبکہ جیلانی کامران نے یہ کہہ کر اس سے آگے کی بات کی ہے کہ میراجی کا جنسی نقطہ نظر (جنسی رشتہ، ناری، پوجا، نر) ایک ایسا طریقِ کار ہے جس کی مدد سے وہ سیاسی تحریکات کے عین پیچھے ایک نئے دور کی ولادت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ (۴۴) بعض نقادوں نے ان کے اس ابہام کو فرانسیسی شعراء ملارمے اور بودلیئر کے مماثل قرار دیا لیکن ملارمے کا ابہام زیادہ پیچیدہ، گنجلک اور تفہیم سے دور ہے جبکہ میراجی نے جو نئی علامتیں استعمال کی ہیں ان کی تفہیم میراجی کے شخصی اور ذہنی پس منظر کے حوالے سے ممکن ہو جاتی ہے۔

میرا جی نے اپنی نظموں میں جنسی کج روی کی طرح اس الزام کی بھی نفی کی ہے اور ان کی تفہیمی مشکلات کا ذمہ دار نئی شاعری میں قاری و نقاد کی محدود ذہنی استعداد اور ابہام کی مختلف سطحوں کو ٹھہرایا ہے۔ اس نے ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘ میں میلارمے پر اپنے مضمون میں کہا ہے کہ ’’جو لوگ غالب کی مشکل پسندی، اس کا اختصار اور ابہام کی وہ شاعری جو ایک عہد کی پیداوار ہے، کی شکایت کرتے ہیں، تنقید کے اصولوں سے واقف نہیں۔ بیدل یا غالب نے ایک بات کو محسوس کیا،  ایک بات پر غور کیا اور اپنے تاثر کو اس کا قیدی بنا دیا۔ ان لفظوں کو سیکھنے والا ایک غیر معمولی ذہانت کا مالک تھا۔ اس لئے اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے بھی ہمدردانہ اور ارتقائی ذہن کی ضرورت ہے۔

جدید شاعری اور مغربی تعلیم و تہذیب کے اثرات سے شاعری میں ابہام کے جو نئے پہلو نکل آئے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم بھی شاعر کے نقطۂ خیال سے اپنے ذہن کو متحرک کریں ورنہ ہمیں اس کی تخلیق میں ابہام اور جھول نظر آئے گا۔ اس لئے کہ تخلیقِ فن میں شاعر کی ذہنی اور نفسی حرکات کا دخل بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ‘‘

میراجی کا یہ ابہام نہ صرف ان کی گنجلک شخصیت کی پیچیدگی سے ہم آہنگ تھا بلکہ تخلیقی توانائی اور فنکارانہ حسن کا حامل بھی تھا۔ اس لئے کہ انھوں نے اس کو فن اور موضوع کے عین تقاضوں کے تحت استعمال کیا مگر خرابی یہ ہوئی کہ اس کی علامتیں اور تمثالیں اس قدر غیر مانوس اور دور از کار تھیں کہ کلاسیکی ادب کے پروردہ قارئین کے لئے ان کی تفہیم مشکل ہو گئی۔ ایک مثال فیض احمد فیض نے بھی میراجی کے اس مصرعے کے حوالے سے دی ہے

چل بڑا آیا کہیں کا کالا کلوٹا کوّا

اس کا قصہ یہ ہے کہ شاعر کی محبوبہ سورہی ہے۔ سونے میں کاجل رخسار تک بہہ گیا ہے اور اس ڈھلکے ہوئے کاجل کی صورت کچھ کوّے کی سی ہو گئی ہے چنانچہ شاعر نے کوے سے یہ کاجل مراد لیا ہے۔ (۴۵)

میراجی دور بین شاعر تھے اور باہر کی دنیا کو بھی چشمِ دوربیں سے دیکھتے تھے۔ اس لئے ان کی علامتیں بھی داخلی اور ذاتی ہیں جب کہ راشد نسبتاً بروں بیں مزاج رکھتے تھے اس لئے ان کی شعری علامتیں تہذیبی کلچر کی پیداوار ہیں اور میراجی کی طرح ذاتی رنگ نہیں رکھتیں۔ (۴۶)

راشد کی نظموں ’’اے سمندر‘‘ اور ’’سمندر کی تہہ میں ‘‘ میں ’’سمندر‘‘ لاشعور کی علامت ہے۔ ’’اے سمندر‘‘ میں راشد لاشعور کو مخاطب کرتے ہوئے ماضی، حال اور مستقبل کی کچھ وارداتوں کا ذکر چھیڑتا ہے۔ ’’حال‘‘ موت کی گرفت میں ہے جس کی وہ تجدید کرنا چاہتا ہے اور مستقبل ایک رجائی خیال کے ساتھ نمودار ہوتا ہے (۴۷) جب کہ میراجی کی نظم ’’سمندر کا بلاوا‘‘ جبلتِ حیات اور جبلتِ مرگ کی کشمکش سے عبارت ہے۔ یہ علامت پیدائش، مرگ اور ولادتِ نو کے تصورات سے وابستہ ہے۔ البتہ ’’روزن‘‘ کی علامت جس طرح میراجی کی ذات کے مشاہدات کا ذریعہ اور تصورات کی علامت ہے راشد کے ہاں بھی اس کی قریباً یہی صورت ہے۔ (۴۸)

تصدق حسین خالد نے بھی ایک حد تک داخلیت کے رجحان کو اپنایا ہے۔ ان کی نظمیں ’’ایک کتبہ‘‘ اور ’’حسنِ قبول‘‘ میں کتبے اور پیڑ کی علامتیں فرد کی بے اطمینانی اور نا آسودگی کو پیش کرتی ہیں جب کہ راشد کے ہاں بے اطمینانی کی شدید لہر پائی جاتی ہے۔

میرا جی نے ابہام کو بھی جنسیت کی طرح اپنے باغیانہ خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے اور یہ ابہام ان کی شخصیت کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ اور ان کے اسلوب میں ’’انتہا درجے کی ذاتی علامات‘‘ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی شخصیت اور اس کے سوانحی اور نفسیاتی پس منظر سے واقفیت کے بغیر ان کی نظموں کی تفہیم ممکن نہیں۔ اس نے ابہام کا استعمال بالعموم جنسی موضوعات کے سلسلے میں کیا ہے۔ اس ابہام کی توجیہہ میں وقار عظیم کہتے ہیں کہ میراجی کے ابہام کی کئی وجہیں ہیں، ایک کا تعلق خود میراجی کی شاعرانہ اور ذہین فطرت سے ہے۔ میرا جی ہر چیز میں کوئی نئی بات پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس لئے نئی چیزوں کی تلاش میں ان کی نظر بعض اوقات ایسی دور از کار چیزوں پر پڑ جاتی ہے جو ان کے ذہن میں تو صاف اور واضح ہوتی ہے لیکن پڑھنے والے کے لیے چیستان اور معمہ بن جاتی ہے۔ (۴۹)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ میرا جی نے جو شعری اسلوب ایجاد کرنے کی کوشش کی اس سے اس کے عہد کی ذہانت واقف نہ تھی، اس عہد میں کلاسیکی ادب کے اثرات مدھم پڑھ گئے تھے۔ ترقی پسند تحریک فرائیڈین نظریات کے اثرات، مختصر افسانے کا فروغ، نظمِ آزاد کی ابتدا اور غیر ملکی ادب کے تراجم سے اردو ادب میں ایک نیا عہد آنکھیں کھول رہا تھا۔ اس دورِ نفریں میں میرا جی کی شاعری ایک تو اخلاقی معیاروں کی نفی کرتی تھی اور دوسری طرف یہ ترقی پسندانہ نظریہ¿ ادب کی نقیض تھی۔ پھر حلقہ¿ِ اربابِ ذوق سے اس کا تعلق تھا۔ اس لئے ترقی پسند ادیبوں نے ان کی شاعری اور ابہام کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا تھا۔ (۵۰)

میراجی سے اردو نظم کی ایک نئی جہت کا آغاز ہوتا ہے جسے داخلیت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ جہت باہر سے اندر (ذات، لاشعور، اجتماعی لاشعور) کی طرف ہے اور یہی اس کا اصل مزاج ہے۔ اقبال کے بعد نظم کی جو دو سطحیں وجود میں آئیں، ان میں ایک یہی ہے۔ دوسری سطح جس نے اقبال کے لہجے اور جہت کو چھوڑ کر نیا راستہ اختیار کیا، وہ میراجی کا راستہ یعنی جہت ہے جو جبلتِ مرگ کی مظہر ہے۔ فرائیڈ نے جبلتِ حیات اور جبلتِ مرگ میں فرق قائم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جبلتِ حیات باہر کی طرف لپکنے کا نام ہے اور جبلتِ مرگ ان کو موت کے قریب کر دیتی ہے۔ موت سے مدافعت کے لیے جو داخلی قوت درکار ہے اس کے لیے باطن کی دنیا کو خارج سے منسلک کرنا پڑتا ہے اور خارجی زندگی سے مشاہدات و تجربات لے کر باطن کی بھٹی میں جانا ہوتا ہے اس کے لیے فن کار اپنی ذات میں اترتا ہے۔ ذات میں اترنے سے مراد سے مراد اس کا لاشعور یا اجتماعی لاشعور (Collective Consciousness) جس میں ماضی کی روایات کے سارے خدوخال موجود ہوتے ہیں میں غوطہ لگانا ہے۔ اسی غواصی میں وہ حکمت کے موتی چنتا ہے اور انھیں اپنے شعری پیرائے میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ (۵۱)

میرا جی کی نظم نہ کسی روشن مستقبل کی نوید ہے، نہ کسی تصوراتی آدرش کی علمبردار بلکہ زوال پذیر سورج کی کہانی ہے جس میں تحفظِ ذات کے لیے جبلتِ مرگ سے متصادم ہونا پڑتا ہے۔ یہی آویزش میراجی کی نظم کا وصفِ خاص ہے۔ اس تصادم کی کہانی ان کی معروف نظم ’’سمندر کا بلاوا‘‘ میں خوب سنائی دیتی ہے۔ اس میں شاعر کو ایک طرف سمندر اپنی طرف بلا رہا ہے جو گویا موت یا فنا کی دعوت ہے اور دوسری طرف خود شاعر بھی اس دعوت پر لبیک کہنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ذیل میں اس کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے جو صحرا کے منظر سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے لہلہاتے گلستان اور مرجھاتے پھولوں کا تذکرہ ہے،  پھر خاموش پربت کا جہاں سے کوئی چشمہ بھی ابلتا ہے۔ اس کے دامن میں واقع رواں ندی میں بہتی ہوئی ناؤ اس آئینے کی طرح ہے جس میں ایک پل کے لیے اک شکل نکھرتی ہے اور مٹ جاتی ہے۔ نظم کے یہ نقوش آرزوئے حیات پر دال ہیں۔

یہ صحرا ہے، پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرا

بگولے یہاں تند بھوتوں کا عکسِ مجسم بنے ہیں

مگر میں تو دور ایک پیڑوں کے جھرمٹ پر اپنی نگاہیں سمائے ہوئے ہوں

نہ اب کوئی صحرا، نہ پربت نہ کوئی گلستاں

اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوری

فقط اک انوکھی ادا کہہ رہی ہے کہ تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ گہری

تھکن چھا رہی ہے

بلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے،  نہ شاید تھکے گا

تو پھر یہ ندا آئینہ ہے، فقط میں تھکا ہوں کسی کو بلاتے بلاتے

ن م راشد بھی اپنی شاعری کے آخر دور میں داخلیت اور دروں بینی کے تجربات سے گزرنے لگے تھے اور ایک حد تک اپنی ذات کے ’’سیاہ غار‘‘ میں داخل ہو کر خارجی زندگی سے دست کش ہونے لگے تھے۔ ان کی نظم ’’شہرِ وجود اور مزار‘‘ میں ہستی و نیستی اور وجود و موت کی کشاکشِ مسلسل نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر تبسم کاشمیری کہتے ہیں :

’’معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’’لا= انسان‘‘ ہی سے باطنی غواصی کی طرف مائل ہو گئے اور ایک لمبے سفر کے بعد ’’گمان کا ممکن‘‘ میں وہ بصیرت کی دنیا میں داخل ہوئے۔۔۔۔۔ وجہ چاہے کچھ بھی ہو باطن کی گہری غواصی سے انھوں نے شعری عرفان کی متاعِ بے بہا پائی۔ ‘‘(۵۲)

میراجی کی ’’داخلیت کی جہت‘‘ نے جدید اردو نظم پر جو گہرے اثرات مرتب کیے اس کے تین پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ میراجی کے بعد نظم میں ذات میں اترنے کا رجحان قوی ہوا اور اس کے ساتھ ذات میں کشمکش و تصادم کی کیفیات بھی منظرِ عام پر آئیں لیکن اس کا ارتقاء تدریجی ہوا جس کے نتیجے میں جدید اردو نظم میں داخلیت کی جہت خوب اجاگر ہوئی تاہم ذات میں اترنے اور غواصی کے تجربے سے گزرنے کا دائرہ عمل شاعر کی اپنی افتادِ طبع کے مطابق رہا۔ اس سلسلے میں درجنوں شعراء کی کاوشیں شامل ہیں۔ مثلاً ظہور نظر، یوسف ظفر، قیوم نظر، مجید امجد،  اختر الایمان، ضیا جالندھری، مختار صدیقی، منیر نیازی و دیگر۔ (۵۳) تیسرا یہ کہ برصغیر کی دیومالا سے بھی اس کی جڑت ہوئی اور یوں نظم میں اپنی دھرتی کے باسیوں کے احساسات اور جذبات منعکس ہوئے۔ چنانچہ وطنِ عزیز میں اردو کی جدید نظم دیومالائی اور اساطیری اوصاف سے مالامال نظر آتی ہے۔ تمام جدتوں کے باوجود خود میرا جی کی شاعری میں دیومالا کی رنگارنگی نظر آتی ہے اس ضمن میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے کہا کہ میراجی نے ہندو اصنامیات کا احیاء کر کے دھرتی کے مادی کوائف کو،  دھرتی کی اصنامی تعریف سے وابستہ کیا اور محبت کو عقیدت سے ملا کر، ماتر بھومی کو سجدہ گاہ اور قبلۂ اول بنانے کی کوشش کی۔ (۵۴)

میراجی کی بغاوت کا ایک نمایاں مظہر اور ان کی نظم نگاری کا خصوصی وصف آزاد نظم کی ہیئت کا استعمال ہے۔ ان کی یہ ہیئت اور دوسری خصوصیات مثلاً جنسیت اور ابہام ایک دوسرے سے اس طرح منسلک ہیں

شاخِ گل میں جس طرح بادِ سحر گاہی کا نم

مگر کریڈٹ ان کی نظمِ آزاد کو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دوسرے شعری اوصاف بلندیوں کو چھونے لگے۔ ان کی آزاد نظم روایت کے خمیر سے اٹھی، روایتی عروض کو ہی بنیاد بنایا گیا۔ عروضی ارکان کے مروجہ طریقِ کار کو ہی استعمال کیا گیا لیکن ارکان کی ترتیبِ نو سے جو قالب تیار کیا وہ روایتی سانچوں سے مختلف اور منفرد تھا۔ بالآخر اپنے ارتقائی سفر میں وہ اس مقام پر پہنچ گئی جہاں وہ مکمل شکل میں وجودِ نو کا احساس دلانے لگی۔ ڈاکٹر حنیف کیفی لکھتے ہیں کہ ۱۹۴۰ء تک میراجی کی آزاد نظموں پر پابند نظم کی تکنیک کے اثرات نظر آتے ہیں مثلاً مصرعوں کی تکرار بھی ہے اور قوافی کا التزام بھی لیکن ۱۹۴۱ء کے بعد چند استثنا کے ساتھ ان کی نظم اپنے پیروں پر کھڑی ہونے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ ان کی آزاد نظم تنوعات پر محیط ہونے لگتی ہے۔ خیال کے متناسب چھوٹے بڑے مصرعے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور ایک دوسرے میں پیوست ہوتے چلے جاتے ہیں اور میراجی بھی تصدق حسین خالد کی طرح اسٹرافی کا آہنگ پسند کرتے ہیں۔ (۵۵)

اسی بنا پر ن م راشد نے کہا ہے :

تصدق حسین خالد اور میراجی۔۔۔۔۔ دونوں مصرعوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتے چلے جاتے ہیں تاکہ ایک مصرعے کی معنوی تصویریں دوسرے مصرعے کی معنی تصویروں سے مل کر گھلتی جائیں اور آخر تک پہنچنے پہنچتے ایک ہم آہنگی محسوس ہونے لگے۔۔۔۔۔ اس کے خلاف میری نظموں میں اس حد تک وحدت نہیں۔ (۵۶)

میراجی کی شاعری میں بعض اوقات مصرعوں کے باہمی ربط اور ان کی طوالت سے نظم و نثر کے سات آٹھ ارکان کے مصرعوں کی تعداد تو عام سی بات ہے، بیس پچیس ارکان پر مشتمل مصرعے بھی موجود ہیں مثلاً نظم ’’دھوکا‘‘ (۹۔ ارکان)، ’’کروٹیں ‘‘ (۱۱۔ ارکان)، ’’محرومی‘‘ (۲۰۔ ارکان)۔ ان کی نظم ’’جاتری‘‘ تو الگ الگ مصرعوں کے بجائے نثری پیراگراف کے تسلسل میں لکھی گئی ہے اور میراجی کی فنی گرفت کا کمال یہ ہے کہ عروضی غلطیاں دم سادھ کے بیٹھی رہتی ہیں۔ ن م راشد نے میراجی کے نظمیہ تنوعات کے باوجود بھرپور تاثر کی کیفیت بیان کرنے کے لیے کہا ہے کہ ان کی نظموں کی مثال کپڑے کے تھان کی سی ہے جس سے ڈیزائن یا دھاریوں کے باوجود ایک ہی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ (۵۷) اور اس کی وجہ وہی ہے کہ ان کے چھوٹے بڑے مصرعے باہم مربوط ہو کر ایک نامیاتی وحدت (Organic whole) کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ میراجی کی اسی خصوصیت کو ضمیر علی نے اپنے مضمون ’’میراجی کے تجربے ‘‘ مطبوعہ نئی قدریں (شاعر نمبر) میں ناقابلِ تقسیم وحدت (Indivisible Unity) کہا ہے کیونکہ نظم کا ہر مصرعہ اس کے کل (Whole) میں جذب ہو جاتا ہے اور نظم کی معنویت رواں دواں رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مصرعے کا آہنگ فضا اور تاثر متنوع بھی ہے اور مجموعی تاثر بھی ایک ہے۔ (۵۸)

میراجی نے آزاد نظم کی ہیئت کا تجربہ شعوری طور پر کیا تھا کیونکہ اس کی نئی جہت کی سوچ کے اظہار کے لیے بھی نئے پیرائے مطلوب تھے۔ اُن کی ان آزاد نظموں کے موضوعات کے حوالے سے ضمیر علی کا کہناہے کہ میراجی کی آزاد نظموں میں موضوع کی منشوری تحتی تقسیم (Prismatic Subdivision of Idea) نظر آتی ہے۔ آئیڈیا سے ملارمے کی مراد نظم کا موضوع ہے۔ (۵۹) ملارمے کے نزدیک شاعری میں موضوع کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ شاعری اصلاً موسیقی ہے،  حقیقتوں کے پیچھے ایک پراسرار عالم اور ہے۔ شاعر کو چاہیے کہ اس عالم کی طلسمی کیفیتوں منکشف کرے۔ (۶۰)

میراجی کو نظم کی فضا بندی میں کمال حاصل ہے۔۔۔۔۔ کہیں خود کلامی اور مکالمے کے ذریعے ڈرامائیت۔۔۔۔۔ کہیں گزرے ہوئے واقعات کی افسانوی کیفیت۔۔۔۔۔ کہیں Images اور محاکات کے ذریعے منظر نامے۔۔۔۔۔ کبھی علاماتِ خاص کا طلسم۔۔۔۔۔ کہیں ہندی کی کومل لفظیات اور کہیں زبانِ فارسی کا شکوہ و جلال (۶۱) اور بحروں کا تنوع۔

میراجی کا کمالِ فن ان کی ہیئت اور پیرایۂ اظہار کی تکنیک اور آہنگ میں مضمر ہے۔ اس سلسلے میں نہ تصدق حسین خالد ان کو پہنچ سکا، نہ ن م راشد، نہ فیض احمد فیض یا کوئی دوسرا شاعر، مگر ان کے موضوعات کا کینوس محدود ہے،  تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے جو اسلوب ایجاد کیا وہ نئی شاعری کا رجحانِ عام قرار پایا اور متذکرہ مضمون میں ضمیر علی کا کہنا بھی صائب ہے کہ میرا جی فیض اور راشد کے مقابلہ میں تاریخی طور پر زیادہ اہم ہے۔ میراجی ادب کا سچا صوفی تھا جو مقامِ ’’لا‘‘ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ آخر میں ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے مضمون کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے :

میرا جی کی شاعری انسانی باطن کے تجربات کا طویل سلسلہ ہے۔ وہ انسان کی اندر کی دنیاؤں کے اندھیروں میں اترتے چلے جاتے ہیں اور جہاں جہاں کچھ روشنی نظر آتی ہے، نامعلوم دنیاؤں کے منظر ہمارے سامنے لاتے ہیں۔۔۔۔۔ میرا جی ادب کو ایک آفاقی معنویت میں دیکھتے ہیں۔ چنانچہ میراجی کا تخلیقی تجربہ ادب کے بنیادی اور عصری مطالبات کے امتزاج سے مرتب ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ میراجی کا شعری عرفان اسی تجربے کے امتزاج میں پوشیدہ ہے۔ (۶۲)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

۱۔ ن۔ م۔ راشد: لا انسان، ص ۲۶، المثال لاہور ۱۹۴۹ء آ۲۔ ’’نقاط‘‘۔ فیصل آباد، شمارہ ۵ دسمبر ۲۰۰۷، ص ۲۴

۳۔ ڈاکٹر وزیر آغا :اردو شاعری کا مزاج، ص ۳۵۵، مکتبہ عالیہ لاہور، ۱۹۸۴ء

۳۔ اردو شاعری کا مزاج : ص ۲۸۳

۴۔ ڈاکٹر حنیف کیفی: اردو میں نظم معریٰ اور آزاد نظم، صفحہ ۲۴۴

۵۔ سید عابد علی عابد :اصولِ انتقادِ ادبیات، ص ۶۹،  مجلس ترقیِِ ادب لاہور، ۱۹۶۶ء

۶۔ ڈاکٹر حنیف کیفی: اردو نظم میں معریٰ اور آزاد نظم،  ص ۱۷۷، ۱۹۸۔ الوقار پبلی کیشنز لاہور ۱۹۹۵ء

۷،۸،۹ اردو شاعری کا مزاج، ص ۳۵۶، ۳۸۳، ۳۸۶

۱۰۔ میری بہترین نظم، ۱۹۴۲، ص ۱۶۱

۱۱۔ ڈاکٹر سید عبداللہ :سخن ور (نئے اور پرانے ) حصہ اول، ص ۱۵۵، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی لاہور،  ۱۹۷۶

۱۲۔ اردو میں نظمِ معریٰ اور آزاد نظم، ص ۴۴۸ ۲۔ دیباچہ ’’سرودِ نو‘‘ از تصدق حسین خالد

۱۳۔ سخن ور (نئے اور پرانے )۔ حصہ اول، ص ۳۵، ۱۵۵، ۱۵۶

۱۴۔ وقار عظیم :’’نئے شاعروں پر ایک نظر‘‘ ساقی دہلی، سالنامہ، جرمنی ۱۹۴۵ء

۱۵۔ سخن ور (نئے اور پرانے ) حصہ اول۔ ص ۱۷۰

۱۶۔ ن م راشد : (دیباچہ) ماورا لاہور، ۱۹۴۱ء،

۱۷۔ ڈاکٹر حنیف کیفی :اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم، ص ۴۵۵ بحوالہ ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور، شمارہ ستمبر ۱۹۴۶ء

۱۸۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری: لا راشد، ص ۱۷۴، نگارشات، لاہور ۱۹۹۴ء

۱۹۔ ڈاکٹر وزیر آغا : نظمِ جدید کی کروٹیں، ص ۷۴

۲۰، ۲۱۔ اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم، ص ۴۵۹، بحوالہ ’’نئے شاعروں پر ایک سرسری نظر‘‘ ساقی دہلی، سالنامہ جنوری ۱۹۴۵ء

۲۲۔ سید عابد علی عابد:اصولِ انتقادِ ادبیات، ص ۶۹، مجلسِ ترقیِِ ادب لاہور ۱۹۶۶ء

۲۳۔ لا راشد، ص ۱۸۶، ۱۸۷

۲۴۔ اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم، ص ۴۶۳

۲۵۔ لا=راشد۔ ص ۱۷، ۱۹، ۱۸۷، ۳۹

۲۶۔ ۲۷ راشد۔ ص ۱۷، ۱۹، ۱۸۷، ۳۹

۲۸۔ ڈاکٹر انیس ناگی۔ میراجی ایک بھٹکا ہوا شاعر، ص ۱۰، ۲۳، پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساؤنڈز لاہور ۱۹۹۱ء

۲۹۔ اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم،  ص ۴۷۶

۳۰۔ ۳۱ ۔ میراجی۔ میرا جی کی نظمیں، ص ۱۱، دہلی، اشاعت اول،۔ ۳۔ لا راشد، ص ۶۲

۳۲، ۳۳۔ ’’دیباچہ‘‘،  میراجی کی نظمیں، ص ۱۰، ۱۱

۳۴۔ لا۔ راشد، ص ۲۷

۳۵۔ اردو شاعری کا مزاج،  ص ۸۵

۳۶۔ اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم،  ص ۴۸۸

۳۷، ۳۸، ۳۹۔ میراجی کی نظمیں،  ص ۱۴، ۱۵

۴۰۔ ۔ لا راشد، ص ۶۴، ۶۷ (بحوالہ سلیم احمد کا راشد کے نام خط) ۱۱۰

۴۱۔ میرا جی، ’’ایک بھٹکا ہوا شاعر‘‘، ص ۱۸،

۴۲۔ اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم،  ص ۴۹۸

۴۳۔ فیض احمد فیض۔ میزان، ص ۱۴۳، ناشرین پیسہ اخبار لاہور،  ۱۹۶۲ء

۴۴۔ ڈاکٹر وزیر آغا۔ ’’شاعری میں سمبلزم کی تحریک‘‘ ماہِ نو (جلدِ اول ) ص ۲۵۸، ادارہ مطبوعاتِ پاکستان لاہور ۱۹۸۷ء

۴۵۔ افتخار جالب۔ (مرتب) نئی شاعری …… ایک تنقیدی مطالعہ، ص ۱۳۰، نئی مطبوعات، لاہور،  اول ۱۹۶۶ء

۴۶۔ فیض احمد فیض۔ ’’میزان‘‘، ص ۱۴۵، ناشرین پیسہ اخبار لاہور، طبع اول ۱۹۶۲ء

۴۷۔ لا= راشد، ص ۷۹

۴۸۔ لا۔ راشد۔ ص ۷۹، ۱۱۲

۴۹۔ اردو شاعری کا مزاج،  ص ۳۸۳

۵۰۔ ماہنامہ نئی قدریں، حیدرآباد، شاعر نمبر ۱۹۶۷ء، ص ۱۱۰

۵۱۔ میراجی : ’’ایک بھٹکا ہوا شاعر‘‘ ص ۳۶

۵۲۔ اردو شاعری کا مزاج۔ ص ۳۱۰، ۳۸۶

۵۳۔ لا راشد،  ص ۲۰۹، ۲۱۰

۵۴۔ اردو شاعری کا مزاج۔ ص ۳۹۴، ۴۰۴

۵۵۔ اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم۔ ص ۵۰۵، ۵۰۹

۵۶۔ سید عبداللہ، ’’آزاد نظم‘‘، نئی شاعری۔۔۔ ایک تنقیدی مطالعہ،  ص ۳۱۵، نئی مطبوعات، لاہور

۵۷۔’’ہیئت کی تلاش‘‘۔ نیا دور، کراچی،  ’’ن۔ م۔ راشد نمبر، ص ۱۴۷

۵۸۔ اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم۔ ص ۵۱۰ ۳۔ ماہنامہ نئی قدریں (شاعر نمبر، حصہ اول) ص ۱۱۰، ۱۱۱

۵۹۔ ضمیر علی۔ ’’میراجی کے تجربے ‘‘، ماہنامہ نئی قدریں (شاعر نمبر) حصہ اول، حیدرآباد (پاک)

۶۰۔ اردو میں نظم معرا اور آزاد نظم، ص۵۱۴

۶۱۔ نئی شاعری ایک تنقیدی مطالعہ (مرتبہ افتخار جالب)، ص ۳۱۶

۶۲۔ لا۔ راشد، ص ۶۰، ۷۶

٭٭٭

 

 

 

میرا جی کی نظم : جدید اردو نظم کی نقشِ اول

 

                احمد ہمیش

 

اول یہ کہ میرا جی شاعروں کے شاعر تھے بلکہ وہ ہندو دیو مالا کے انرگت دیوتا تھے۔ جیسا کہ دنیا کی کئی بڑی زبانوں میں شاعروں کے شاعر پائے جاتے ہیں۔ اِسے یوں سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ جو شاعری عام سطح پر مقبولیت اختیار کرتی ہے، وہ اوّل درجہ کی نہیں ہوتی۔ مگر اس کے برعکس جو شاعری کسی بڑ ے شاعر کے توسط سے شاعروں کو متاثر کرتی ہے اُس کا مرتبہ اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے، اس کا اندازہ اس سے بھی بخوبی ہوتا ہے کہ میر اجی نے اپنی گراں قدر تصنیف ’’مشرق اور مغرب کے نغمے ‘‘میں کئی ایسے شاعر دریافت کیے جن کا ذکر اس طرح پہلے ہوا ہی نہیں تھا۔ اگر راست مشرق اور مغرب کے نغمے کا ہی بہ غور مطالعہ کر سجائے تو شاعری کی تفہیم کا حق ادا ہوسکتا ہے۔

البتہ میرا جی کی تفہیم کے لئے اگر ان کی صرف ایک نمائندہ نظم ’’بلاوا‘‘ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو اُن کی کیفیتِ شعری کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ میرا جی کواُن کی ما ں (سمندرکہنا زیادہ موضوع ہو گا) کا بلاوا۔۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہوئے حق بجانب ہوا جا سکتا ہے کہ میرا جی اور ان کی شاعری کو اُ ن کی ماں یاسمندر نے جنم دیا۔ سمندرکے باطن اور ماں میں دراصل کوئی فرق نہیں، گویا ایک وشال سلسلہ ہے جو براہ راست سمندر یا ماں سے چلا آتا ہے۔

سعادت حسن منٹو تو یہ دیکھ ہی نہیں سکے کہ میرا جی کے ہتھلس سے جو قطرے نکلتے تھے وہ راست سمندرمیں جا گرتے تھے، بس یہ کلپنا ہی کی جا سکتی ہے کہ میرا جی کی شاعر ی سمندر سے آئی تھی اور یہی اُس کا گیان تھا، اب یہ گیان کاغذ پر کیسے منتقل ہوا، اسے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا، ظاہر تو یہ ہوتا ہے کہ اِسے میرا جی کو پید ا کرنے والی ماں اور اُس کو پیدا کرنے والے خدا نے دیکھا تھا:

 

نہ اب کوئی صحرا

نہ پربت نہ کوئی گلستاں

اب آنکھوں میں جنبش

نہ چہرے پہ کوئی تبسم

نہ تیوری

فقط ایک انوکھی صدا کہہ رہی ہے

کہ تم کو بلاتے بلاتے میرے دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے

میراجی کے ساتھ ایک بدقسمتی یہ ہوئی اُن کی شاعری کی تفہیم تو ایک طرف رہی اور فروعی باتیں اتنی کی گئیں کہ خدا کی پناہ، حالانکہ میرا جی کچھ ایسے جینیس تھے کہہ انہوں نے تفہیمِ شاعری کی ایک علاحدہ بنیاد ڈالی خاص کر نظم کی صنف میں ہمارے یہاں جو قابلِ ذکر کام ہوا اُسکا سہرا میراجی کے سر جاتا ہے،  فیض کے ہم عصر میرا جی نے نظم کی شاعری میں نئی جہت کی بنیاد ڈالی، کہ اُن کے بعد آنے والے شعرا نے نظم کے روایتی انداز سے الگ ہوکے بے جھجک نظم نگاری میں کافی تجربے کیے۔ حلقہ اربابِ ذوق لاہور میں شاعری کی تفہیم اس طرح ہوتی تھی کہ لفظ کا دبستانی تصور اجاگر ہونے لگتا تھا اور نیا مباحثہ چھڑ جاتا تھا۔ ا ارد گرد کے گرد و غبار چھٹ جاتے تھے اور کیفیتِ شعری ہر ادا سے ظاہر ہونے لگتی تھی۔ لفظ کو کس سلیقہ سے استعمال کرنا چاہیے، اس کا اعزاز میرا جی کو حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ اُس کے ڈانڈے پریوگ وادی ہندی کویتا سے جا ملتے تھے۔

جبکہ میرا جی کی ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘میں فیض صاحب میرا جی کے فن کے سلسلے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر ان مضامین کے تنقیدی مسلک اور عقائد کی روشنی میں میرا جی کی شاعری کا مکرر مطالعہ کیا جائے تو شائد اس کے بعض پہلو رائج تصورات سے مختلف نظر آئیں۔ یہ تحریریں اہم علمی، تحقیقی اور تاریخی دستاویز ہی نہیں ایک گراں قدر تخلیقی کارنامہ بھی ہے ‘‘

دراصل اس طرح میرا جی نے مطالعہ کا جو دروازہ کھولا اُس میں وہی داخل ہوتا جو لفظ کے شعری اہتمام اور التزام کو بنیاد بناتا۔ مغرب میں اِ س کے ڈانڈے ایذرا پاؤنڈاور ٹی ایس الیٹ سے جا ملتے تھے اور ایک طرح سے اس امر کی بنیاد پڑی کہ شاعری مطالعہ کے لئے ہوتی ہے۔ لفظ کے جوہر مطالعہ سے ہی کھلتے ہیں۔ اس کو بقول ایک شاعر یوں بھی کہہ لیجئے

 

بہ قدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خود ی کا

اگر نہ ہوں یہ فریبِ پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

لفظ تو ایک دراصل ایک اضطراب ہے۔ جب تک معنی کاسراغ نہ ملے اہلِ مطالعہ کو بھٹکتے ہوئے پایا گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کہ گم اس میں ہیں آفاق۔۔۔ میرا جی کی رہائی کا مقدمہ

 

 

                توحید احمد

 

ہندوپاکستان کی آزادی کے دو سال بعد۳ نومبر ۱۹۴۹ء کی شام کو بمبئی کے کینگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال میں زیرِ علاج میرا جی کے مزاج درست کرنے کے لیے اس کے معالج ڈاکٹر گر ودر نے بجلی کے جھٹکے لگانے کا حکم دیا۔ نحیف میرا جی کو یہ اذیت قبول نہ تھی۔ اس نے انکار کر دیا۔ اپنے دوست اختر الایمان کے اصرار پر کہا:

’’ اختر دیکھو! یہ لوگ مجھ میں سے میرے complexesنکالنا چاہتے ہیں۔ مگر میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ نکل گئے تو میں کیسے لکھوں گا، کیا لکھوں گا۔ یہ complexesہی تو میری تحریریں ہیں۔ ‘‘

اس کی ایک نہ سنی گئی اور زبردستی بجلی لگائی گئی۔ پہلے ہی جھٹکے میں اس کے گلے سڑے جسم نے زور سے جھرجھری لی اور اس کی روح پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

۳۷ سال کی عمر میں میرا جی ابھی کنوارا ہی تھا۔ بھرے بمبئی میں صرف چار لوگوں نے مل کر اسے میرین لائنیز کے قبرستان کے مسلم گوشے کی ایک اندھی قبر میں دفنا دیا۔ اس قبر کا آج کوئی نشان بھی باقی نہیں ہے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا،  ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کہیں جنازہ اٹھتا، نہ کوئی مزار ہوتا

۱۹۴۹ء کا عرصہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہنگامہ خیز دور تھا۔ ہندو توا کے ایک پرچارک کے ہاتھوں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سے کانگریس حکومت اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کی سزاکے طور پر نوزائیدہ پاکستان کو سزا دینے کے لیے ہم پر تیر پر تیر برسا رہی تھی۔ تیروں کی اس بارش میں ابھرنے والی بھارتی ذہنیت نے میرا جی کو فراموش کر دیا۔

اِدھر پاکستان میں اس کے چند احباب نے میرا جی کی یاد کو کچھ دیر تازہ رکھا جن میں الطاف گوہر پیش پیش تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر جمیل جالبی سے ’’کلیاتِ میرا جی‘‘ مرتب کروائی۔ ۱۲۷۲ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی تاریخی اور علمی حیثیت مسلم ہے لیکن میرا جی کا کلام عام قاری اور طالب علم تک نہ پہنچ پایا۔ میر ا جی کی ذاتیات میں حد سے بڑھا ہوا انہماک رکھنے والے اساتذہ اور نقادوں نے میرا جی کے لیے عمر قید تجویز کی اور یوں اسے کوہِ ہندوکش کی برفانی وادیوں میں کہیں دھکیل دیا۔

لاہور میں نومبر ۱۹۹۱ میں حلقہ اربابِ ذوق کے ایک جلسہ میں اعجاز حسین بٹالوی نے ایک دلسوز مضمون بعنوان ’’ میرے پیارے لوگو ‘‘ پڑھا جس میں میرا جی کے ادبی قتل کے چند محرکات یوں بیان کیئے :

’’ پاکستان بن جانے کے بعد ہمارے معاشرے میں بعض بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے ساتھ علمی اور عقلی سطح پر ایک ہیبت ناک کنفیوژن نے ہمیں گھیر لیا جس کے سائے ابھی تک ہم پر منڈلا رہے ہیں۔ اپنے تشخص کی تلاش میں ہم گنگا جمنا تہذیب کی ان روایات کو نا قابلِ قبول گرداننے لگے جن سے متحدہ اسلامی کلچر کا سراغ ملتا تھا جن میں ہندو کلچر نمایاں دکھائی دیتا تھا۔ آخر قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جب ریڈیو پاکستان نے ’’ٹھمری ‘‘ اور ’’ دادر ا ‘‘ کو اپنے ہاں ممنوع قرار دے دیا تھا اور ’’ باجو بند کھل کھل جائے ‘‘ اور ’’ جمنا تٹ سے آئی تان ‘‘ جیسے بولوں پر پابندی لگائی تھی تو اس عمل کے پیچھے دل کا کوئی چور ضرور چھپا ہوا ہو گا۔ میرا جی کے طرزِاحساس اور طرزِ اظہار پر یہ پہلی زد تھی۔

’’ میرا جی کے ہاں دھرتی پوجا کا رجحان بھی ہے اور اس کے طرزِ احساس میں ہندو دیو مالا کے symbols کے علاوہ ہندوستان کی دھرتی،  اس کے ندی نالوں،  پھولوں، موسموں،  خوشبوؤں،  درختوں،  پربتوں اور جنگلوں کا وافر تذکرہ موجود ہے۔ ان کا طرزِ اظہار اور بالخصوص ان کے گیتوں میں ہندی زبان اور ہندی الفاظ کی گھلاوٹ ہے۔ برندابن کا رومان،  گوپیوں کا حسن،  جمنا تٹ کی تان،  شیام کی مُرلی اور رادھا کا روپ موجود ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے معاشرے میں جو ایک self-consciousnessکی کیفیت پیدا ہوئی اس میں یہ سب کچھ ناقابلِ قبول ٹھہرا۔ یہ تو وہ زمانہ تھا جب ہم تاج محل اور امیر خسرو سے بھی آنکھیں چرا رہے تھے،  میرا جی کی قدر کیسے کرتے ؟

’’ ۱۹۴۷ میں میرا جی ابھی زندہ تھے۔ وہ بمبئی میں ترقی پسندوں کے نعروں کے معتوب بنے ہوئے تھے۔ جو انہیں دروں بین اور جنسی ترغیبات کا شاعر سمجھ کر معتوب کر رہے تھے۔ پاکستان والے انہیں برندابن کا شاعر سمجھ کر خارج از دفتر کر رہے تھے۔ یہاں کے نئے سیاسی تعصبات میں میراجی کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ (مثلاً ۱۹۴۶ میں جب مسلمانانِ ہند اپنے لیے ایک نیشنل ہوم کی تیاری میں لگے ہوئے تھے ) میرا جی نے بمبئی سے لکھے گئے ایک خط میں لکھا کہ ’مسلمانوں کے بارے میں مجھے یہ معلوم ہے کہ ان کا خدا ہی حافظ ہے۔ ‘‘۔ خود مسلمانوں نے بھی میرا جی کو ایسا مایوس نہیں کیا۔ ۱۹۷۱ تک آتے آتے یحییٰ خان کی حکمرانی اور بنگلہ دیش کے المیہ نے ثابت کر دیا کہ میرا جی کی رائے کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی۔ لیکن جس صورتحال کا اظہار مقصود ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے نئے سیاسی،  سماجی اور ادبی تعصبات میں میرا جی کی مقبولیت کے امکانات کا کم ہو جانا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

’’ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حادثہ ہوا۔ ہمارا معاشرہ ملائیت اور جدیدیت کی ایک روح فرسا کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ ایک طرف کٹ مُلاّ ہے،  جو ہر تبدیلی کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف وہ نوجوان ہے جو مُلاّ کے ردِ عمل کے طور پر اسلام کی مبادیات سے بھی واقف نہیں ہونا چاہتا۔ اس کشمکش میں ہمارے قول و فعل میں مشرقین کی دوری آ گئی ہے۔ ایک طرف اخلاقیات کا درس بڑھ رہا ہے،  دوسری طرف بد اخلاقی کی مثالیں روز افزوں ہیں۔ مذہب کا نام اور اخلاص کا درس باہر کا حصہ ہے اور فحاشی، رشوت اور بد اخلاقی اندر کا حصہ ہیں۔ ایسے معاشروں میں اندر جھانکنے کے بجائے باہر کی لیپاپوتی پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں میراجی جیسا اندر جھانکنے اور کھل کر بات کرنے والا شاعر مردود ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ معاشرہ گو بیڈ روموں میں چھپ چھپ کر بلیو فلمیں دیکھتا ہے لیکن میرا جی کی نظموں کو بداخلاقی کا درس سمجھتا ہے۔ ‘‘

اعجاز بٹالوی کی اس تشخیص کو بیس سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ان کے بتائے ہوئے حالات وطنِ عزیز میں اب مزید گھمبیر ہو چکے ہیں۔ اخلاقی اور معاشرتی انحطاط میں ۱۹۹۱ کی نسبت ہمیں قدرے پستی کا سامناہے۔ میراجی کے کلام کو اس کی شخصیت کی کج رویوں پر قربان کر دیا گیا ہے۔

میراجی شاعر ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجے کے نقاد،  نثر نگار اور مترجم بھی تھے۔ وہ اردو میں تقابلی ادب کے امامِاول بھی ہیں۔ ان کی کتاب ’’ مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘ میں بنگال کے شاعر چنڈی داس، چین کے قدیم شاعر لی پو،  کوریا کی قدیم شاعری اور یورپ کے فرانسوا وی اوں،  ملارمے،  بودلیئر،  تین برونٹے بہنیں،  ڈی ایچ لارنس،  ٹامس مور، جان میسفیلڈ،  یونان کی قدیم شاعرہ سیفو، امریکہ کے والٹ وٹمین، ایڈگر ایلن پو اور روس کے پُشکن شامل ہیں۔ یہ مضامین ۱۹۳۶ سے لے کر ۱۹۴۱ تک ’’ادبی دنیا ‘‘ کے اوراق کی زینت مسلسل بنتے رہے۔ (جب میرا جی کی عمر صرف بائیس تیئس برس کی تھی)۔

اس کتاب کے دیباچہ میں فیض احمد فیض نے کہا کہ ’’ اس مجموعے کی اہمیت کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ اس کی اشاعت سے میرا جی کی ادبی شخصیت کی یہ ادھوری تصویر ایک حد تک مکمل ہو جائے گی۔ اس کی شخصیت کے بارے میں بعض محدود اور یک طرفہ تصورات کی تصحیح ہو سکے گی اور مرحوم کی تخلیقی کاوشوں اور صلاحیتوں کی وسعت اور تنوع کا بہترین اندازی ہو سکے گا ․․․․․․ یہ تحریریں اہم علمی، تحقیقی اور تاریخی دستاویز ہی نہیں ایک گراں قدر تخلیقی کار نامہ ہیں۔ ان کے توسط سے میراجی نے جس انداز سے ادبِ عالم کے حسین نمونے ہم تک پہنچائے وہ محض ترجمہ نہیں ایجاد ہے۔ ان کی تخلیق سے اردو ادب میں بدیسی ادب کی معروف اور غیر معروف شاہ پاروں ہی کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہمارے ہم عصروں کے فکر و اساس کی تربیت بھی ہوئی۔ ‘‘

۲۰۱۲ میرا جی کی صدی کا سال ہے۔ گذرنے والے سال میں فیض صاحب کی پیدائش کے سو سال کی تقریبات ملک کے اندر اور باہر خوب شوق سے منعقد ہوئیں۔ میرا جی کے لیے ایسے کسی شوق کے اظہار کی توقع نہیں ہے۔ اس کا تو کوئی ڈھنگ کا دیوان بھی دستیاب نہیں ہے۔ صرف ایک ۱۲۷۲ صفحہ کی کلیات بک رہی ہے جسے خریدنا، اٹھانا،  کھولنا اور پڑھنا محال ہے۔

حمید نسیم نے اپنی کتاب ’’ اردو کے پانچ جدید شعراء‘‘( فضلی سنز، کراچی ۱۹۹۴) میں ’’میرا جی : ہمارا جوگی شاعر‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں اس امید کا اظہار کیا کہ ’’ میرا جی اردو شاعری کی تاریخ میں مقامِ تکریم ایک بڑے شاعر کے طور پر ایک دن حاصل کر کے رہے گا۔ وقت کا منصف اس کے حق میں فیصلہ دے گا۔ ‘‘ آگے چل کے وہ تجویز کرتے ہیں : ’’ سو میں میرا جی کے ایک ادنیٰ مداح کی حیثیت سے یہ گذارش کروں گا کہ میر ا جی کے اردو کلام اور برتر نظموں کا جو پچاس سے کم نہ ہوں گی، اعلیٰ گیتوں کا بیس سے تیس تک ہوں گے اور تین چار غزلوں کا انتخاب چھاپ دیا جائے۔ یہ خدمت حلقہ ارباب ذوق انجام دے تو مناسب ہو گا۔ مجھے یقین ہے وہ انتخاب کلیات فیض اور کلیات راشد سے کم ضخیم نہیں ہو گا۔ ‘‘ تقریباً اٹھارہ سال قبل دی گئی اس تجویز پر تا حال عمل درآمد کی کوئی خبر نہیں ہے۔

وقت کے منصف کے میرا جی کے حق میں فیصلہ کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہمارے معاشرے میں انصاف کا بول بالا کب ہو گا؟ کب ملے گا میرا جی کو انصاف ؟ اسے کب رہائی ملے گی؟ وہ ہم سے آج بھی پوچھتا ہے :

اے پیارے لوگو

تم دور کیوں ہو ؟

تم پا س آؤ

کچھ پاس آؤ

٭٭٭

 

 

 

 

میرا جی کی تنقید

 

                سید وقار عظیم

 

میراجیؔ سے میری ملاقات پہلے پہل دہلی میں ہوئی تھی۔ شاید ۱۹۴۱ء میں بڑی سرسری ملاقات تھی۔ لیکن اس سرسری ملاقات کی یہ بات اب تک مجھے یاد ہے کہ میراجیؔ کی شخصیت مجھے قدرے پراسرار نظر آئی۔ پراسرار لیکن پرکشش۔ اس کے بعد کئی اور ملاقاتیں ہوئیں۔ سب پہلی ملاقات کی طرح سرسری۔ ان ملاقاتوں سے اور ان سے بھی زیادہ ان باتوں سے جو مختلف دوست احباب میراجی کی شخصی اور نجی زندگی کے متعلق بتاتے رہے۔ یہ اسرار کے پردے زیادہ بھاری اور زیادہ گہرے ہوتے رہے۔ مجھے ان پردوں کے اٹھانے،  اٹھ جانے کی کوئی خواہش بھی نہیں تھی کہ گاہ بگاہ کی سرسری ملاقاتیں اب بھی پہلے کی طرح پرکشش تھیں۔ پہلی ملاقات کے کوئی ڈیڑھ برس کے بعد ایک مختصر سی ادبی صحبت میں میراجی کو نسبتاً قریب سے زیادہ دیر تک دیکھنے اور ان کی باتیں زیادہ تفصیل سے سننے کا موقع ملا۔ اس صحبت میں ایک صاحب نے ایک مقالہ پڑھا تھا اور اس میں نئی شاعری پر عموماً اور ن۔ م۔ راشد کی شاعری پر خصوصاً بے حد جذباتی اور غیر منصفانہ انداز میں تبصرہ کیا گیا تھا۔ سامعین میں دونوں طرح کے لوگ تھے۔ ایسے بھی جو صاحبِ مقالہ کے ہم نوا تھے اور ایسے بھی جو نئی شاعری کی کوئی برائی سننے پر آمادہ نہ تھے۔ خاص کر اس لہجہ میں جو مقالہ نگار نے اختیار کیا تھا۔ مجلس کے صدر پرورفیسر مرزا محمد سعید کی حد درجہ سعی تعدیل کے باوجود گفتگو میں خاصی گرمی پیدا ہو گئی۔ یہاں تک کہ اس صحبت میں شریک ہونے والوں میں سے بعض کو خاصا تکدّر ہوا اور وہ بے چینی سے مجلس کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ میراجیؔ نے اب تک ساری باتیں خاموشی سے سنی تھیں۔ اب انھوں نے جنابِ صدر کی اجازت سے بحث میں شامل ہونا چاہا …… جو الفاظ اس موقع پر انھوں نے استعمال کیے تھے وہ مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ ان کا اعادہ آپ کے لیے بھی یقیناً دلچسپی کا باعث ہو گا۔ وہ الفاظ یہ ہیں :

’’جنابِ صدر! نئی شاعری سے میرا بھی تھوڑا سا ناجائز تعلق ہے اس لیے کچھ عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ ‘‘

اپنے اور نئی شاعری کے جس تعلق کو میراجیؔ نے ناجائز کہا تھا اس کی نوعیت سے میں بھی واقف تھا۔ اور مجھے معلوم تھا کہ اس تعلق نے میراجیؔ کے دامن میں بدنامی کے دھبوں کے سوا اور کچھ نہیں چھوڑا۔ لیکن اس تعلق کو ناجائز کہنے میں جو بات ہے وہ لطف سے بھی خالی نہیں اور نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی سے بھی۔ یہ نکتہ سنجی اس لحاظ سے اور بھی زیادہ قابلِ توجہ ہے کہ یہاں کہنے والے نے خود اپنے آپ کو ناقدانہ طنز کا نشانہ بنایا ہے۔

اس تمہید کے بعد میراجیؔ نے کیا کیا کہا اور کس کس طرح کہا۔ اس کے دہرانے کا یہ محل نہیں۔ اس واقعہ سے میراجیؔ کی شخصیت کے ناقدانہ پہلوؤں پر جو روشنی پڑتی ہے صرف اس کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ میراجیؔ نے جو تنقیدیں کی ہیں یا جو اس طرح کی چیزیں لکھی ہیں جنھیں تنقید کہا جا سکے ان کی نکتہ آفرینی ہے۔ صاف گوئی ہے،  شگفتگی ہے اور لطف مزاح کی جھلک ہے۔ ان تنقیدی تحریروں میں اس کے علاوہ بھی بہت سے چیزیں ہیں۔ لیکن ان بہت سی چیزوں کا ذکر کرنے سے پہلے شاید یہ دیکھنا ضروری ہے کہ میراجی کا تنقیدی سرمایہ کیا ہے۔

ایک تو میراجی کی وہ کتاب جو اس نظم میں،  کے نام سے چھپ چکی ہے اور دوسرے مشرق و مغرب کے شاعروں کی زندگی اور کلام پر ان کے وہ تفصیلی تبصرے جو ’’ادبی دنیا‘‘ میں چھپے تھے اور کتابی صورت میں مرتب نہیں ہو سکے۔ کچھ چھوٹی موٹی منتشر تحریریں اور بھی ہوں گی۔ لیکن میرا جائزہ صرف ان دو چیزوں تک محدود ہے اور ان دو چیزوں کو دیکھ کر ان کے ذاتی رجحانات کے متعلق کچھ نتیجے اخذ کیے ہیں۔ دو نتیجے جو بالکل بدیہی ہیں اور جن تک پہنچنے کے لیے مطالعہ اور چھان بین کی قطعی ضرورت نہیں یہ ہیں کہ میراجیؔ نے تنقید، تبصرہ یا تجزیہ کے لیے یا نظموں کا انتخاب کیا ہے،  یا شاعروں کا اور ان دونوں چیزوں کے انتخاب کے معاملہ میں ان کی نظر عموماً ایسی نظموں اور ایسے شاعروں پر ٹھہری ہے جن میں عام روش سے انحراف کے آثار ہیں۔ جنہوں نے جدت اور نئے پن کو اپنا مسلک بنایا ہے اور جن کی رگوں میں ادبی سماجی یا سیاسی ماحول سے بغاوت کا خون رواں دواں ہے۔

اور تبصروں کو پڑھنے کے بعد پڑھنے والا جو مجموعی تاثر قبول کرتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کسی نظم کے متعلق کچھ لکھیں یا شاعر کے،  ان کا انداز مبصرانہ یا تنقیدی ہونے کی بجائے تجزیاتی ہوتا جہاں نظموں کا تبصرہ مقصود ہے وہاں میراجی کی اچھائی یا برائی کو پرکھنے یا نظم نگاری کے اصول کو کسوٹی بنانے کے بجائے اپنی جدت پسند طبیعت اور اس طبیعت کی بدلتی ہوئی لہروں کا سہارا لے کر نظم کی کہانی یا (اگر کہانی کی بجائے ان کا پسندیدہ لفظ استعمال کیا جائے تو) قصہ سنانے کے سارے لوازم مہیا کر لیتے ہیں۔

نظم کا سیاسی، سماجی، معاشرتی یا اخلاقی ماحول ہے …… کہنے والے نے جو کچھ کہنا چاہا ہے اس سے پہلے اس کے ذہن نے کون کون سی راہیں طے کی ہیں،  کون سا لفظ اور کون سا مصرعہ اس کے تحت الشعور کے کس بھید کی غمازی کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔ شاعر نے ذہن سامع کے لیے کون کون سی کڑیاں چھوڑ دی ہیں اور ان چھٹی ہوئی کڑیوں کا رشتہ کیوں اور کس طرح جڑتا ہے۔ قصہ کے ان لوازم کے مہیا کرنے میں جہاں ایک طرف میراجی کی ندرت پسندی ان کی معاون ہے۔ ایک دوسری چیز ان کے یہ سوچنے اور سمجھنے کی عادت ہے کہ ہر نظم وضاحت تشریح اور تجزیہ کی محتاج اور ہر پڑھنے والا اس طرح کی وضاحت، تشریح اور تجزیہ کا خواہش مند ہے اور اس طرح تشریح و تجزیہ سے نہ صرف شاعر کی خدمت ہوتی ہے بلکہ نظم سمجھنے والے پر بھی ایک احسان ہوتا ہے اور ایک کی خدمت کرنے اور دوسرے کو ممنونِ احسان بنانے سے بلا ارادہ ایک مفید اور دلچسپ چیز کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ مفید اور دلچسپ چیز تنقید ہے۔

ہم عصر شاعروں کی بے شمار نظموں کی ایسی وضاحت میں ہمیں جا بجا نکتہ آفرینی کے موتی چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس نکتہ آفرینی میں جو حقیقت میں نکتہ سنجی کا لازمی نتیجہ ہے کہیں کہیں فکر کی گہرائی ہے اور جہاں کہیں یہ ہے بڑی خیال افزاء ہے۔ شاعرانہ تاویلوں کی دلکشی اور دل نشینی ہے اور ان ساری چیزوں کے ساتھ تنقید کے صحیح حق اور منصب کا احساس اور پاسداری بھی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ نہ صرف یہ کہ ہر جگہ نہیں بلکہ بہت کم جگہ ہے۔ میراجیؔ کو نئی بات کہنے اور اسے نئے انداز میں کہنے کا شوق بھی ہے اور عادت بھی اور یہ شوق اور یہ عادت توضیح تشریح اور تاویل کو تنقید کی منطقی حدوں میں نہیں رہنے دیتی۔ تنقید کی منطق میں جو زنجیریں وجۂ آرائش ہیں یہاں انھیں توڑ کر کسی ایسی راہ پر چلنے کا جذبہ غالب ہے جو اِن زنجیروں کی چھنکار سے ناآشنا ہو۔

نظم ہو یا غزل، شعر کی وضاحت اور اس سے تجزیہ کے کچھ مقاصد ہیں اور کچھ حدود۔ ان سارے مقاصد کا خلاصہ یہ ہے کہ وضاحت تشریح یا تجزیہ سے شعر کی لذت زیادہ ہو، وہ حسین سے حسین تر بنے،  لکھنے والے نے اس پر تشبیہوں،  استعاروں اور ذہنی مفروضات کے جو پردے ڈالے ہیں نقاد انھیں آہستہ آہستہ اٹھاتا جائے کہ حسن کی جھلک ہر نئے پردے کے اٹھنے کے بعد زیادہ دلکش ہو، یہاں تک کہ سارے پردے اٹھتے اٹھتے یہ دلکشی دل بری، دل ستانی بن جائے شعر کہنے والے نے شعر میں فکر و تخیل کے جو گوشے ارادۃً پوشیدہ رکھے ہیں ان تک پہنچنا اور سامعین کو ان کے رموز سے آشنا کرانا شارح کا منصب ہے،  ڈور کا جو سرا ڈھونڈنے والے کی نظر سے اوجھل ہو گیا ہے۔ شارح اپنی باریک بینی سے اسے ڈھونڈ نکالتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے پا جانے میں جو لذت ہے،  سامع کو اس میں پوری طرح شریک کرتا ہے۔ شعر کی تشریح و توضیح اس کے تجزیہ اور تاویل سے پیاسے کی پیاس بجھتی ہے اور یوں اپنی تشنگی کو آسودہ کرنے میں اس کے لیے جو سرور ہے اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ تشنگی تیز تر ہو کر آسودگی لذیذ تر بن سکے۔

جیسا کہ میں نے ابھی کہا میراجیؔ نے کبھی کبھی حسن کو یوں بے نقاب کیا ہے یوں ہی تشنگی کو آسودگی کا سرور بخشا ہے ا ور یوں ہی ڈور کے الجھے ہوئے سروں کو سلجھایا ہے۔ لیکن اکثر انھوں نے اپنے اس منصب کے حدود سے بے نیازی برتی ہے (یہاں مجھے شبہ ہے کہ یہ بے نیازی سچ مچ ارادی بھی ہے یا نہیں …… میراجیؔ کی وارفتہ طبعی اور آزاد منشی اور ہر فن کار سے ان کی والہانہ شیفتگی کا جواب تو یہی ہے کہ غالباً نہیں )۔ بہرحال یہ بے نیازی بڑی واضح ہے اور اس نے جدّت، ذہانت رفعتِ تخیل، تعمق فکر اور شاعرانہ لطافتوں کی کہیں کہیں چمک جانے والی بجلیوں کو اپنے پردے میں چھپا لیا ہے اور ان نظموں کے ان تجزیوں کو پڑھ کر آدمی یہ سوچتا ہے کہ کاش یہ تجزیہ اتنا زیادہ طویل نہ ہوتا۔ کاش اس میں نظم سے کم ابہام ہوتا اور کاش ڈور کا یہ سرا یوں اور نہ الجھ گیا ہوتا …… میراجیؔ نے نظموں کی جو وضاحت اور ان کا تجزیہ کیا ہے اس میں بعض جگہ تاویل قابلِ قبول نہیں معلوم ہوتی۔ بعض جگہ اس میں اور نظم میں کوئی ربط نہیں ہوتا اور کہیں کہیں شعر کے اس طرح مدرسہ پہنچ جانے پر شعر اور شاعر دونوں کی حالت قابلِ رحم بن جاتی ہے۔ یہ سب کچھ جدت طرازی کا کرشمہ ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بات لطف سے خالی نہیں اور وہ یہ کہ میراجیؔ کے بیان میں زور، روانی اور تسلسل بھی ہے اور لہجہ میں یقین بھی اور ساتھ ساتھ شگفتگی بھی۔ یہ ساری چیزیں نظم سے الگ کر کے دیکھی جائیں تو ان میں خاصی کشش ہے۔

میراجیؔ کی تنقید میں تجزیہ نے فن کار کی تخلیق کے حسن کو گھٹانے یا بڑھانے میں،  اس کی لطیف جمالیاتی تفہیم اور لذت اندوزی میں جو حصہ لیا ہے اس کا ذکر میں نے کچھ اس انداز سے کیا ہے کہ: ’’ان کی تنقید کا صحیح مقام متعین کرنے کی کوشش کرتے وقت یہ احساس ہو سکتا ہے کہ میراجیؔ کی تجزیاتی تنقید تجزیاتی ہونے کے باوجود تجزیہ کی معین منطقی راہوں پر نہیں چلتی۔ ‘‘ اس کی رہنمائی نقاد کے جدت طلب ذوق اور اس کی بے نیازانہ وارفتگی نے کی ہے۔ اس لیے اس میں کسی ناقدانہ نقطہ نظر کی جستجو بے معنی ہے۔ ایسا نہیں میراجیؔ نے نظموں کا تجزیہ اور شاعروں کا تعارف کراتے وقت جابجا اپنے تنقیدی مسلک اور اس کے اجزائے ترکیبی کا ذکر کیا ہے اور ان جستہ جستہ اشاروں سے اور مسلک کے ان اشاروں اور عملی تنقید کے مطابق سے جو نتیجے نکلتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ میراجیؔ کے نزدیک شاعر اور شاعری کا مطالعہ لازمی طور پر معاشرتی اور تمدنی پس منظر سے وابستہ ہونا چاہیے،  اس لیے کہ دونوں میں بڑا گہرا ربط اور بڑا قریبی رشتہ ہے۔

شاعری کی رگ و پے میں ماحول کا رنگ اس طرح جذب ہوتا ہے کہ اس رنگ کی نوعیت معلوم کیے بغیر نہ شاعری کے محرکات کا پتہ چل سکتا ہے اور نہ اس سے پورا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میراجیؔ کے نزدیک جس طرح ماحول کے مطالعہ کے بغیر ادب اورشاعری کو سمجھنا اور اس سے پورا لطف حاصل کرنا ممکن نہیں،  اسی طرح شاعر کی زندگی کے حالات جانے بغیر اس کے ذہن اور تخیل کی تخلیقات کی گہرائیوں میں ڈوب کر ان میں سرشار ہونا ناممکن ہے۔

ذاتی حالات کا یہ علم شعر پڑھنے اور سننے والے کو شاعر کے فنی رموز کا راز داں بھی بناتا ہے اور اس احساس جمال کی تسکین بھی کرتا ہے جس کا لطافت فن سے بہت گہرا اور ناگزیر رشتہ ہے۔ میراجیؔ نے ان دونوں باتوں کو اپنی تنقیدی تحریروں میں بار بار دہرایا ہے اور شاعروں کی فنی حیثیت کا جائزہ لیتے وقت اور ان کے کلام کے حسن خاص کو عام بنانے کی کوشش کرتے وقت انھیں پوری طرح برتا بھی ہے۔ اس لیے ان کی وہ تنقیدیں جو انھوں نے شاعروں کی مجموعی حیثیت کا جائزہ لینے کی غرض سے کی ہیں،  ایسے مصفیٰ اور شفاف آئینے ہیں جن میں شعر شاعر اور شاعر کے ماحول کی تصویریں بڑے نظر فریب انداز میں ہمارے سامنے آتی ہیں اور ہم پشکن، طامس مور، اور چنڈی داس کو اپنے دل کے گوشوں میں جگہ دیتے ہیں،  ان سے مصروف نیاز ہوتے ہیں،  ان کے رازداں بنتے اور ان کی ہم نوائی کی خلش محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اور یہ لیکن میراجیؔ کی اس فطرت کا عکس ہے جو منطق کو اپنانے کا دعویٰ کر کے بھی شاعری سے قریب رہنا چاہتی ہے۔ جسے زنجیریں،  خواہ وہ طلائی ہی کیوں نہ ہوں توڑنے پھوڑنے ہی میں مزا آتا ہے۔ جسے کسی بنی بنائی صراطِ مستقیم پر چلنے کی جگہ دشت نور دی اور باد یہ پیمائی کی خلش میں زیادہ لذت محسوس ہوتی ہے اور اس لیے پھولوں کی نکہت و رنگینی سے مسحور ہوتے ہوتے وہ کانٹوں سے کھیلنے اور انھیں اپنے سینے سے لگانے لگتا ہے اور اس لیے وہ ’’لیکن‘‘ جس سے میں نے ابھی جملہ ختم کیا تھا۔

میراجیؔ شاعری پر ماحول کی اثر انگیزی سے بھی واقف ہیں اور انھیں شاعر کی حیات اور اس کے کلام کے باہمی رشتہ کی اہمیت کا بھی پوری طرح احساس ہے لیکن کبھی کبھی ایسی باتیں بھی لکھ جاتے ہیں جو بدیہی طور پر اس اصول کی ضد ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’میر غالبؔ اور اقبالؔ ایسے عظیم شعراء کے مطالعہ کے لیے اس بات کی قطعی ضرورت نہیں کہ ہم ان شاعروں کے سوانح سے واقف ہوں …… کیونکہ ان کا کلام ہی ان کی شخصیت اور انفرادیت کا آئینہ دار ہے۔ لیکن انشاؔ اور داغؔ اور ایسے شاعروں کے کلام سے لطف اندوز ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ان کے واقعاتِ حیات کو پہلے جان لیں۔ ‘‘

ایک دوسری جگہ کہتے ہیں :

’’اپنے ماحول سے متاثر ہونا تو لازمی ہے لیکن بعض پہلوؤں سے دور کی باتیں نہایت گہرے اثرات کرتی ہیں۔ ‘‘

یہ تضاد میراجیؔ کی تنقید کی بہت بڑی خصوصیت ہے اور یہ بہت بڑی خصوصیت صرف ماحول اور شخصی حالات ہی کے منصب اور استعمال کے سلسلہ میں نہیں اور بھی جابجا ظاہر ہوئی ہے۔ مثلاً ہر اچھے نقاد کی طرح میراجی بھی اپنی تنقید میں غیر جانب دار ہیں اور حسن کی جستجو میں دوست، دشمن یگانے بیگانے کے آگے دامن پھیلانے سے گریز نہیں کرتے۔ انھیں تو حسن کی بھیک چاہیے کوئی دے۔ بھیک مل جاتی ہے تو بھیک پانے والا خوب جی بھر کے دعائیں دیتا ہے اور احسان مندی کا یہ جذبہ داتا کے معمولی سے حسن کو بھی بڑا حسن بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ اور یہی تنقید کی کمزوری ہے۔ حسن کی تلاش میں غیر جانبداری بجا۔ لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ اپنے مقصد کو پہنچنے والا (اور خصوصاً وہ پہنچنے والا جو شعر کا نقاد ہو) نہ صرف اچھائیوں کو اچھائیاں کہے،  بلکہ برائیوں کی جذباتی تاویل بھی شروع کر دے۔

میراجیؔ اکثر اپنی تنقید میں یہی کرتے ہیں فنی تخلیق کی محبت انھیں فن کار کا گرویدہ بنا دیتی ہے اور فن کار کی گرویدگی اس کی ہر تخلیق میں حسن تلاش کر لیتی ہے۔ یہاں تک کہ عیب حسن بن کے سامنے آتے ہیں اور نظموں کی ایسی تاویل شروع ہو جاتی ہے جو کوشش اور کاوش کے باوجود پڑھنے والے کو ان میں نہیں ملتی۔ ایک بات البتہ ہے۔ یہ تاویل بے حد حسین ہوتی ہے اور جی چاہتا ہے کہ جو حسن مفسر نے نظم میں دیکھے ہیں وہ شاعر کی نظر میں بھی ہوتے۔

تنقید، تفسیر اور تجزیہ میں میراجیؔ نے صرف ایک چیز کو اپنا مسلک بنایا ہے۔ وہ نظم کی تنقید، تفسیر اور تجزیہ اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے چھپے ڈھکے ہوئے حسن کوبے نقاب کریں۔ اس کی لفظی اور فنی اور اس سے بھی زیادہ اس کی معنوی خوبیوں سے خود نقاد کے دل پر حسن کے جذب و کشش کے جو نقوش بنے ہیں وہی نقش وہ دوسروں کے دلوں پر بھی کھینچنا چاہتا ہے۔ حسن کا مشاہدہ ایک ایسی دولت اور ایسا سرمایہ ہے جو کسی ایک کی ملکیت نہیں۔ ہر دیکھنے والا اپنی اپنی بساط اور توفیق کے مطابق مہر حسن سے کسب ضیا کرتا ہے اور اس ضیا کو اپنے نہاں خانہ کی زینت بناتا ہے۔ اس اکتسابِ ضیا میں ایک لذتِ سرمدی ہے جس کی نظر میں جتنی تیزی اور جتنی گہرائی کم یا زیادہ ہے لذت و مسرت کا یہ احساس بھی اس کے مطابق کم یا زیادہ ہے۔ نقاد اور مفسر کی نظر کا یہی امتیاز اسے دوسروں سے برتر بناتا ہے کہ فطرت نے اس میں حسن کے مشاہدہ اور اس مشاہدہ سے مسرت اندوزی کی صفات دوسروں سے زیادہ ودیعت کی ہیں۔ لیکن نقاد نقاد اور مفسر مفسر میں بھی فرق ہے،  فرق صرف اس لحاظ سے ہے کہ کس کی نظر حسن پر پڑے ہوئے بے شمار نقابوں میں سے کتنے کو چیر کر حسن کی حقیقت تک پہنچتی اور کس حد تک لطف و مسرت کے موتیوں سے اپنا دامن بھرتی ہے۔

میراجیؔ کو فطرت نے یہی امتیاز بخشا ہے اور یہی حسن شناس دل۔ یہ نظر اور یہ دل اور بھی بہت سوں کو ملتا ہے۔ میراجی میں اور دوسروں میں ایک فرق البتہ ہے وہ جب حسن کو بے نقاب دیکھ لیں اور اس بے حجابی کی تڑپ دل میں محسوس کریں تو ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہی جلوہ دوسروں کو دکھائیں اور یہی تڑپ دوسروں کے دل میں بھی پیدا کریں۔ اسی لیے ان کی تنقید نے شاعروں کی جستہ جستہ نظموں میں یا ان کے پورے سرمایہ شعر و سخن میں جو حسن دیکھا ہے (اور حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے عموماً حسن ہی کی جھلک دیکھی ہے ) اس حسن کے نور سے وہ ہر دل کو معمور کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح جیسے یہ ان کا مقدس فریضہ ہے اور اس لیے میراجیؔ کی تنقید کا جائزہ لینے کے بعد اگر کوئی شخص یہ نتیجہ نکالے کہ انھوں نے اپنی تنقید میں جن جن چیزوں کو اصول کی طرح برتا ہے ان میں کسی منطق کو دخل نہیں یا اس اصول میں کوئی ربط یا ہم آہنگی نہیں یا ان کا تجزیہ منطق کی دلیلوں کے بجائے پسند و ناپسندیدگی کی ہر آن بدلتی ہوئی جذباتی لہروں کی آغوش کا پروردہ ہے یا اس میں شاعروں کے ساتھ حد درجہ کی شیفتگی برتی گئی ہے تو جو چیز وہ اس سے بھی زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ تنقید حسن کی پرستار ہے اور خود حسن کی کیفیتوں میں سرشار ہو کر جو ساری دنیا کو اس کا پرستار بھی بنانا چاہتی ہے۔ اور حسن و جمال کی دولت ہر طرف بکھیرتی ہے،  سرور و انبساط ہر ایک کا سرمایہ بنتا ہے اور یہ منطق کی خدمت ہو یا نہ ہو زندگی کی خدمت ضرور ہے۔

میراجیؔ کی شخصیت کے لوچ، ان کی دردمندی، ان کی حسن پرستی، ان کی ذہانت اور ذکادت اور خود باغی اور جدت طراز ہو کر دوسروں کی بغاوت اور جدت طرازی کی قدردانی۔ یہ ساری صفات مل کر ان کی تنقید و تفسیر کو ایک ایسا رنگ دیتی ہیں جو تنقیدِ عالیہ کا رنگ تو ہرگز نہیں اسے تنقید کی تاریخ میں بھی شاید کوئی مقام نہ ملے۔ لیکن اس میں جا بجا فکر کی بلندی، تخیل کی رنگینی اور بیان کی لطافت کے ایسے جواہر پارے ملتے ہیں کہ پڑھنے والا خواہ ان کی عظمت تسلیم نہ کرے لیکن ان کی محبوبی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

میراجیؔ کی تنقید حسن محبوبی کا پیکر ہے۔ سخت گیری و درشتی کی جگہ چشم پوشی، شگفتہ طبعی اور شیریں دہنی اس کا اندازِ خاص ہے۔ تنقید کو یہ انداز عزیز نہ ہو نہ سہی۔ زندگی اور انسانیت کا فروغ اسی میں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

میرا جی کی تنقید

 

                ناصر عباس نیر

 

 

میرا جی جدید اردو نظم کے بنیاد گزار ہیں اور جدید شعری تنقید کی بنیادیں استوار کرنے میں بھی انھوں نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کی اوّل الذکر حیثیت کا اعتراف عام طور پر کیا گیا ہے مگر جدید نظم کی تنقید کے ضمن میں ان کی خدمات کا جائزہ لینے کی زحمت کم ہی کی گئی ہے۔ یوں تو میرا جی کی تنقیدی خدمات کے کئی زاویے ہیں : انھوں نے جدید اردو نظم کی اطلاقی تنقید کے اوّلین نمونے فراہم کیے ؛مشرق اور مغرب کے منتخب شعرا کا تعارف، تبصرہ اوران کے منتخب کلام کے تراجم پیش کیے ؛اردو میں مجلسی تنقید کی بنیاد رکھی، نیز جدید اردو نظم کی شعریات کو معاصر ترقی پسند نقادوں کے اعتراضات کے جواب میں واضح کیا، تاہم ان کی تنقید کی اصل اہمیت اس سیاق میں مضمر ہے جس میں اس نے ظہور کیا۔ میر ا جی کی تنقید جدید نظم کے سیاق میں اپنے خد و خال واضح کرتی ہے۔ ان کی تنقید کے بیش ترمسائل اور سوالات جدید نظم کی اس شعریات سے طلوع ہوتے ہیں، جسے انھوں نے جدید مغربی نظم سے اخذ کیا تھا۔ تاہم واضح رہے کہ ان کا مقصود اس شعریات کو جامعیت سے واضح کرنے سے زیادہ، اردو دنیا میں اس کی قبولیت کو ممکن بنانا تھا، اور اسی امر نے ان کی تنقید کو جہاں مخصوص رخ دیا وہیں اسے محدود بھی کیا۔ وہ جدید شعریات کے چند عناصر کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کی تنقید میں اس امر کا شدید احساس پایا جاتا ہے کہ جدید نظم کی شعریات نامانوس ہے، مگر انھیں اس بات پر پختہ یقین تھا کہ جدید نظم ہی معاصر عہد میں فکری، اقتصادی اور ثقافتی سطحوں پر ہونے والی تبدیلیوں کا ساتھ دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ وہ جدید نظم کو جدید عہد کی روح کا جمالیاتی ترجمان سمجھتے تھے۔ ہر چند ان کے یہاں جدید عہد کا گہرا فلسفیانہ اور وسیع ثقافتی تصور نہیں ملتا:وہ نئے مغربی سماجی علوم(خصوصاً نفسیات)، مغربی ادبیات اور ان کے زیر اثر نئی اخلاقیات اور نئی اقتصادی سائنسی تبدیلیوں ہی کو جدید عہد سمجھتے ہیں، تاہم وہ شدت سے محسوس کرتے تھے کہ ان سب چیزوں نے بر صغیر کے طرزِ فکر اور طرزِ احساس کو تبدیل کیا ہے۔ یہی احساس انھیں جدید نظم کی نامانوس شعریات کو مانوس بنانے اور شاعری میں معنی سازی کے ان اصولوں پر روشنی ڈالنے کی تحریک دیتا ہے جن سے ہماری کلا سیکی شعریات کا تعارف تھا نہ معاصر ترقی پسند تنقید کو جن سے اتفاق تھا۔

میرا جی کی تنقید کا سرچشمہ مغرب ہے،  تاہم مغربی اثرات کے حوالے سے انھوں نے ایک نئی جہت اردو تنقید کو دی۔ شارب رددلوی کے نزدیک یہ نئی جہت فرائڈ کے اصولِ تحلیلِ نفسی کا باقاعدہ طور پر استعمال ہے ۱۔ مغنی تبسم کے مطابق تحلیلِ نفسی کے علاوہ مغربی ادب کی تحریکات، علامت نگاری اور ماورائے حقیقت نگاری کو بھی میرا جی نے پہلی بار اردو میں متعارف کروایا۲۔ جب کہ ڈاکٹر وزیر آغا کے خیال میں ’’میرا جی کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے زمانے میں جب ادب کی پرکھ کے سلسلے میں سماجی محرکات کی تلاش کو مقدم جانا گیا تھا، ادب پارے کی بنت میں ثقافتی عوامل کی موجودگی کا احساس دلایا۔ ‘‘ ۳ گویا میرا جی، فرائڈ کی تحلیل نفسی کے بجائے ژنگ کے اجتماعی لاشعور کے نظریے سے متاثر تھے اور اس کو اپنی تنقید میں بروئے کار لائے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میرا جی کی تنقید کی نئی جہت تمام تر نہ تو فرائڈ کی تحلیل نفسی سے اور نہ ژنگ کے اجتماعی لاشعور سے عبارت ہے۔ میرا جی نے مغرب کے نفسیاتی نظریات کو نہیں،  مغربی تنقید کے نفسیاتی طریق کار کو اختیار کیا۔ یہ درست ہے کہ میرا جی نے اس نظم میں میں شامل تجزیوں میں کہیں کہیں فرائیڈ اور ژنگ کے نظریات سے استفادے کا ثبوت دیا ہے،  مگر ایک تو یہ استفادہ سرسری اور محدود ہے،  میرا جی نہ تو فرائڈ اور ژنگ کے جملہ نفسیاتی نظریات سے کامل آگاہی کا ثبوت اپنے تنقیدی مطالعات میں پیش کرتے ہیں نہ ان کے مرکزی نظریوں (جیسے فرائیڈ کی تحلیل نفسی، ایڈی پس تعقید، اصولِ حقیقت اور ژنگ کا اجتماعی لاشعور، آرکی ٹائپل اساطیری تمثالیں ) کی تمام جہات اور مضمرات پر توجہ کرتے ہیں۔ دوم، میرا جی نے اپنے ہر تجزیے کی بنیاد فرائڈ یا ژنگ کے نظریے پر نہیں رکھی۔ تاہم اپنے تمام تجزیوں میں وہ نفسیاتی طریق کار کو بروئے کار ضرور لائے ہیں۔

آئی۔ اے۔ رچرڈز نے ایک اچھے نقاد کی جن تین اہلیتوں کی نشان دہی کی ہے،  انھیں نفسیاتی طریق کار کے عناصر ترکیبی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ اہلیتیں یہ ہیں :

 

]سب سے پہلے [اسے ]نقاد[اس امر میں مشاق ہونا چاہیے کہ وہ سنکی ہوے بغیر اس فن پارے سے متعلق ذہنی کیفیت کا تجربہ کر سکے جس کا وہ محاکمہ کر رہا ہے۔ دوم، اسے تجربات میں امتیاز کرنے کے قابل ہو نا چاہیے جہاں تک ان کی کم سطحی خصوصیات کا تعلق ہے۔ سوم اسے اقدار کا معتبر منصف ہونا چاہیے۔ ۸۴

گویا نفسیاتی طریق کار میں اوّلیت نقاد کی ’دروں بینی‘ کے ترک کو حاصل ہے۔ دروں بینی یا اپنی ہی ذات کو اوّل و آخر سمجھنے کا رویّہ فن پارے کے باطن تک رسائی میں سدّ راہ بن جاتا ہے۔ اس دیوار کو عبور کرنے کے بعد ہی اُس ذہنی حالت کا تجربہ کیا جا سکتا ہے جو کسی فن پارے میں منکشف ہوتی ہے۔ نقاد ترکِ ذات سے اثباتِ فن کے قابل ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات، مختلف تجربات میں فرق کرنے کی اہلیت کا حامل ہونا ہے۔ تجربات میں فرق دو طرح کا ہو سکتاہے : نوع کا اور درجے کا، یعنی تخلیقی تجربے اور غیر تخلیقی تجربے کا فرق اور مختلف تخلیقی تجربات کے درجوں میں فرق۔ لہٰذا نفسیاتی طریق کار یہ جانچنے کی کوشش کرتا ہے کہ فن پارے میں جو ذہنی حالت منکشف ہے،  وہ غیر تخلیقی، عام ذہنی حالت سے کیوں کر مختلف ہے اور مختلف فن پاروں میں ظاہر ہونے والی ذہنی حالتوں میں درجے کے لحاظ سے کیا فرق ہے ؟ ظاہر ہے،  درجے کا تعلق جمالیات سے ہے،  اخلاقیات سے نہیں۔ اس درجے کا لحاظ نفسیاتی طریق کار کی تیسری اہم شرط ہے۔ غالب امکان ہے کہ میرا جی نے رچرڈز ہی سے طریقِ کار مستعار لیا۔ نظموں کے تجزیاتی مطالعات کا آغاز بھی رچرڈز نے کیا تھا۔ میرا جی کو نظموں کے تجزیوں کا خیال رچرڈز کے مطالعے ہی سے آیا ہو گا۔ یہ درست ہے کہ دونوں کے یہاں نظم فہمی کا طریقہ مختلف ہے۔ میرا جی نے رچرڈز کی طرح نظموں کو شعرا کے نام چھپا کر ادب کے طلبا یا صاحبانِ ذوق کو نہیں بھیجا اور ان پر رائے لے کر پھر اپنی رائے نہیں دی بلکہ خود ہی ہر نظم پر لکھا، مگر نظم کے بغور مطالعے کی راہ رچرڈز ہی نے سجھائی۔ جدید شعری تنقید میں یہ بات بھی رچرڈز ہی نے واضح کی کہ جدید نظم کے معانی کی دریافت معانی کے تصور کے بغیر ممکن نہیں۔ جدید نظم ان کلاسیکی شعری اصناف سے مختلف ہے جن کے معانی کا ابلاغ اس لیے آسانی سے ہو جایا کرتا تھا کہ اس کے قارئین ایک اجتماعی تصور معنی رکھتے تھے جب کہ جدید نظم اس نئے معنی کا انکشاف کرتی ہے جسے اس کا خالق اپنے انفرادی تجربے کے دوران میں تخلیق کرتا ہے۔ رچرڈز کے یہاں معانی کا چہار گانہ تصور تھا(فہم، احساس، لہجہ اور منشا)جب کہ میرا جی ایک نظم کے معانی کی وضاحت کرتے ہوے ان میں امتیاز نہیں کرتے تھے۔ بہ حیثیتِ مجموعی میرا جی نظم کے معانی کو ایک وحدت خیال کرتے تھے۔

میرا جی کی تنقید کے مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ وہ جدید نظم کی شعریات کو قابلِ فہم اور قابلِ قبول بنانے کی جو مساعی کر رہے تھے، ان کے لیے نفسیاتی طریق کار ہی موزوں تھا۔ یہ تنقیدی طریق کار جدید نظم کے قارئین اور معترضین پر زور دیتا تھا کہ وہ اپنی دروں بینی کی دیوار گرا کر نظم کے جمالیاتی منطقے میں قدم رکھیں۔ گویا ان کی شعر ی تنقید کے مخاطب ایک طرف کلاسیکی شاعری کے قارئین تھے اور دوسری طرف ترقی پسند شعرا اور نقاد۔

دیکھا جائے تو نفسیاتی طریق کار کا اطلاقی دائرہ وسیع ہے،  جب کہ نفسیاتی نظریات کا اطلاق مخصوص فن پاروں پر ہو سکتا ہے۔ تحلیل نفسی ان ادب پاروں کے لیے زیادہ موزوں ہے،  جن مصنّفین کے سوانحی حالات کسی بڑی نفسیاتی پیچیدگی کی خبر دیتے ہوں اور اس خبر کی کوئی پرچھائیں ادب پارے میں بھی محسوس ہوتی ہو۔ اسی طرح اساطیری علامتیں اور استعاروں سے مملو نظموں یا افسانوں کا تجزیہ ژنگ کے آرکی ٹائپ کی روشنی میں بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے،  لیکن نفسیاتی طریق کار ہر قسم کے ادب پارے کے لیے موزوں ہے۔ میرا جی اگر اپنی تنقید کی حتمی اساس نفسیاتی نظریات کو بناتے تو وہ مخصوص نظموں کا انتخاب کرتے،  خصوصاً ان نظموں کا جو خود ان کی اپنی نظموں کے مماثل ہوتیں۔ اسے میرا جی کی تنقید کا کمال کہنا چاہیے کہ وہ ان کی ’شاعرانہ انا‘ کی نفی پر استوار ہے۔ فیض احمد فیض کا یہ کہنا بجا ہے کہ ’’میرا جی کے ذہن کا جو عکس ان کی نثر میں ملتا ہے،  بعض اعتبار سے ان کی شاعرانہ شخصیت کی قریب قریب مکمل نفی ہے۔ ‘‘ ۵ ریاض احمد کی یہ رائے بھی صائب ہے کہ ’’ان مضمونوں میں وہ عام طور پر ان میلانات سے جو اس کی جنسی نظموں میں نظر آتے ہیں،  بچا رہا۔ ‘‘ ۶ یہ الگ بات ہے کہ میرا جی کی شاعری میں جنس کے علاوہ بہت کچھ ہے اور اسی میں ان کی شاعری کی اہمیت مضمر ہے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ میر ا جی نے اپنی تنقید کو اپنی شاعری کے دفاع کا وسیلہ یا اس کی شرح کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کی تنقید ان کی شاعری کے سلسلے میں اتنی ہی متعلق ہے جتنی ان کی معاصر جدید نظم کے ضمن میں متعلق تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی طریقِ کار ہی نے میرا جی سے نہ صرف ان نظموں کے تجزیے لکھواے،  جو اس کے اپنے شاعرانہ مسلک سے مختلف اور بعض صورتوں میں متصادم تھیں،  بلکہ نظموں کے تجزیے میں محض فرائڈ یا ژنگ کے نظریات پر انحصار سے بچایا۔ کہیں کہیں تو وہ انھیں مسترد بھی کرتے ہیں۔ میرا جی نے ایک طرف راشد، قیوم نظر، مختار صدیقی اور یوسف ظفر ایسے جدیدیت پسندوں کی نظموں کے مطالعات پیش کیے تو دوسری طرف جوش ملیح آبادی، احمد ندیم قاسمی، سلام مچھلی شہری، شریف کنجاہی ایسے ترقی پسندوں کی نظمیں تجزیے کے لیے منتخب کیں۔ علاوہ ازیں اختر شیرانی، شاد عارفی کی نظموں پر بھی لکھا۔ ان شعرا کی نظمیں موضوع ہیئت اور شعریات کی سطح پر مختلف ہیں۔ بعض نے اسے میرا جی کے تنقیدی موقف کی وسیع المشربی کہا اور میرا جی کو داد دی ہے،  مگر اصل یہ ہے کہ یہ تنقیدی موقف نہیں،  تنقیدی طریق کار ہے،  جو نظموں کے موضوعاتی، ہیئتی اور شعریاتی تنوع کو گرفت میں لینے کے لیے میرا جی کی رہبری کرتا ہے۔ بایں ہمہ میرا جی کے نزدیک یہ سب جدید نظمیں تھیں۔ انھیں دو باتیں جدید بناتی تھیں :وہ کلاسیکی شاعری کی شعریات سے منقطع تھیں اور معاصر عہد میں لکھی جا رہی تھیں، حالاں کہ ان میں ہیئت اور موضوع کی سطح پر خاصا تنوع تھا۔ کم از کم خود میرا جی نے جس نوع کی جدید نظم لکھی تھی، اس سے اس نظم میں کی اکثر نظمیں لگا نہیں کھاتی تھیں۔

نفسیاتی طریق کار اس وقت تک کارگر نہیں ہو سکتا، جب تک یہ ’اصولِ موضوعہ‘ تسلیم نہ کر لیا جائے کہ متن میں محض ذہنی حالت نہیں بلکہ کسی شخصیت کی ذہنی حالت منکشف ہوتی ہے۔ عمومی اور مجرد ذہنی حالت نہیں،  انفرادی اور ’’حقیقی‘‘ ذہنی حالت ظاہر ہوتی ہے۔ نفسیاتی تنقید اور نفسیاتی تنقیدی طریقِ کار دونوں میں اس حالت کو مصنف کی ذہنی حالت قرار دینے کا رجحان عام ہے۔ گویا بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ متن اور مصنف، ذہنی حالت کی سطح پر یک جا ہیں۔ نفسیاتی طریقِ کاراس اصول کو تسلیم کر لینے سے اپنے لیے کئی مشکلات پیدا کر لیتا ہے۔ مثلاً سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ جس ذہنی حالت پر بہ یک وقت مصنف اور متن کو مرتکز تصور کیا جا رہا ہے، اس کو سب سے پہلے کہاں دریافت کیا جائے ؟کیا مصنف کے یہاں یا متن میں ؟ اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے کہ ذہنی حالت کو پہلے کہاں دریافت کیا جائے۔ اگر پہلے مصنف کے یہاں (یعنی اس کی سوانح میں ) اسے تلاش کیا جائے تواس کی شاعری سے ہم کچھ دریافت نہیں کریں گے بلکہ محض ایک واقعے کی تصدیق کریں گے،  اور اگر پہلے متن سے ایک ذہنی حالت دریافت کریں اور پھر اس کے مصنف کی طرف توجہ کریں تو ہم مصنف کے واقعاتِ زندگی کی خاص تعبیر کریں گے۔ میرا جی نے اس ضمن میں کوئی ایک طریقہ اختیار نہیں کیا۔ کبھی وہ نظمیہ متن کی راہ سے شاعر کے ذہن تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اس کے برعکس۔

راشد کے سوچنے کا انداز مغربی ہے،  شاید اسی لیے اس کی نظموں کا انداز بھی عموماً مغربی ہوتا ہے۔ ۷

کیتھرین کے واقعے سے ]فرانسا[ ولاں کی ذہنیت ایک عجیب قسم کے اجتماع ضدین معلوم ہوتی ہے اور یہی دو رنگی اس کے کلام میں ہمیشہ موجود رہی ہے، بلکہ اس کی زندگی کے واقعات کا گوناگوں اندازاس کے کلام کو بھی بو قلموں بنا دیتا ہے۔ ۸

اس نظم کا شاعر ایک پُرسکون ماحول کی جستجو میں ہے اور یہ جستجو آخر میں جا کر اس قدر گہری ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے ہم دم کے ساتھ اپنے تخیل کی حد سے بھی پرے جا پہنچتا ہے۔ ۹

شاعر اپنی نظم کو بے حرکت ذہن کی تیرگی سے شروع کرتا ہے ․․․ اس مقام پر شاعر نے تحریک شعری کے وقفے کو لہروں کے تصور سے ظاہر کیا ہے اور

اب آگے چل کر واضح طور پر نور کے ذرّے سے بھی مختصر کہا ہے۔ ۱۰

اصل یہ کہ میرا جی کی تنقید متن اور مصنف کے رشتے کی باریکیوں کے سلسلے میں کچھ زیادہ حساس دکھائی نہیں دیتی۔ ہر چند ڈاکٹر رشید امجد کا خیال ہے کہ ’’وہ اردو کے پہلے نقاد ہیں،  جنھوں نے فن پارے کا تجزیہ کر کے فن کار اور فن پارے کے درمیانی رشتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘۱۱، گویا وہ متن کے تجزیے کی بنیاد پر مصنف اور متن کے درمیان رشتے تلاش کرتے ہیں اور اس طرح ایک نوع کا ہئیتی طریقِ کار اختیار کرتے ہیں، مگر میرا جی کی تنقید کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ متن اور مصنف کے رشتے کا کوئی ایک تصور نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً ایک طرف تو وہ مصنف کی سوانح اور اس کی تخلیق میں کئی مماثلتیں تلاش کر لیتے ہیں (جن کی مثالیں ابھی درج کی گئیں )؛ دونوں کو یکساں اہمیت دیتے ہیں اور دوسری طرف انھیں یہ کہنے میں بھی باک نہیں کہ ’’آیندہ نسلوں کو کسی فن کار کی ذاتی اور اخلاقی حیثیت سے اتنا تعلق نہیں ہوتا جتنا اس کی تخلیق سے ‘‘۱۲۔ اور اسی ضمن میں وہ فرانسیسی نقاد تھیو فائل گاٹیے کی یہ رائے بھی درج کرتے ہیں کہ ’’ اگر یوں ہوتا تو ممکن تھا کہ ہم ایک ایمان دار انسان کو حاصل کر لیتے لیکن ایک شاعر ہمارے ہاتھوں سے چلا جاتا اور اچھے شاعر اچھے آدمیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ نایاب ہیں۔ ‘‘ان آرا میں وہ بہ ظاہر ایک ہئیتی اندازِ نقد اختیار کرتے ہیں اور فن کار کی ذات اور اس کے فن کو ایک دوسرے سے علیٰحدہ کرتے ہیں،  مگر اس سے پہلے کہ ان کا قاری ان سے ہیئتی نقاد کی توقعات باندھے ؛ان کے مطالعات میں نظم کی خارجی اور داخلی ہیئت اور ان کے نتیجے میں معانی کی جلوہ آرائی تلاش کرے،  وہ ایک بار پھر مصنف اور متن کے رشتے کے بارے میں ایک نئی خیال آرائی کرتے ہیں۔ طامس مور پر لکھتے ہوے اس سوال کو چھیڑتے ہیں :

میر تقی میر، غالب اور اقبال ایسے عظیم شعرا کے مطالعے کے لیے اس بات کی قطعی ضرورت نہیں کہ ہم ان شعرا کی سوانح سے واقف ہوں اور اور ان کے حالاتِ زندگی سے ان کی شخصیت کے بارے میں تصور قائم کر سکیں کیوں کہ ان کا کلام ہی ان کی شخصیت اور انفرادیت کا آئنہ دار ہوتا ہے ؛لیکن انشا، داغ اور ایسے دوسرے شعرا کے کلام سے لطف اندوز ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم ان کے واقعاتِ حیات کو پہلے جان لیں۔ نہ صرف ان کے ذاتی حالات بلکہ ان کے زمانے کے حالات جاننا بھی ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کیوں کہ ان کا کلام ان کے ماحو ل اور ان کے حالاتِ زندگی کا آئنہ دار ہوتا ہے۔ ۱۳

گویا ایک تو وہ یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ عظیم اور معمول کی شاعری کے مطالعے کے اصول الگ الگ ہیں۔ دوسرا وہ اس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ عظیم شاعری اور معمول کی شاعری میں فرق کیوں کر پیدا ہوتا ہے ؟میرا جی کی نظر میں عظیم شاعر کا کلام اس کی شخصیت کا آئنہ دار ہوتا اور ایک عام شاعر کا کلام اس کے ماحول اور حالاتِ زندگی کا عکاس ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بڑے شاعر کے پاس شخصیت ہوتی اور چھوٹا شاعر اس سے محروم ہوتا ہے۔ وہ اپنی محرومی کا مداوا ماحول میں تلاش کرتا ہے۔ اس امتیاز میں ایک خیال انگیز نکتہ یقیناً ابھرا ہے۔ اگر ہم شخصیت سے مراد وہ وژن لیں جسے ایک تخلیق کار مطالعے،  مراقباتی تفکر اور اپنی غیر معمولی طور پر فعال متخیلہ کی مدد سے تشکیل دیتا ہے اور یہی وژن شخصیت کی طرح اس کی پہچان بن جاتا ہے تو ہم کَہ سکتے ہیں کہ یہی انفرادی وژن اس کی شاعری کو عظمت بہ کنار کرتا ہے۔ دوسری طرف ایک عام شاعر کے پاس کوئی وژن نہیں ہوتا؛ اس کے پاس ارد گرد کے پیہم متغیر حالات سے عبارت حافظہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا بڑی شاعری یا اس شاعری کو وجود میں لانے والی شخصیت، ماحول سے بیگانۂ محض یا ماوارا ہوتی ہے ؟ غور کریں تو یہاں میرا جی نے ایک بار پھر نفسیاتی طریقِ کار استعمال کیا ہے۔ وہ اس طریقِ کار کے عین مطابق اوّل یہ تسلیم کرتے ہیں کہ شاعری میں شاعر کی ذات کا انکشاف ہوتا ہے ( ذات چھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور بڑی بھی) ؛دوم وہ تخلیقی تجربات میں امتیاز کرتے ہیں ؛سوم وہ اسی امتیاز کی بنیاد پر محاکمہ کرتے ہیں۔

میرا جی کی تنقید کا بنیادی مدعا نظم میں منکشف ذہنی کیفیت تک رسائی کی کوشش ہے۔ وہ اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ نہ صرف ذہنی کیفیات کئی قسم کی ہیں بلکہ ایک ہی کیفیت کو مختلف شعرا، مختلف سطحوں پر محسوس کرتے ہیں : بعض گہرائی میں اور بعض سطح بینی تک محدود رہتے ہیں۔ وہ کیفیات کی نوع اور ان کے درجے میں فرق کی نسبت ہی سے تجزیاتی انداز اختیار کرتے ہیں۔ گویا اس دروں بینی کو ترک کرنے کا اقدام کرتے ہیں جس کے ہوتے ہوئے نقاد متن سے معانی دریافت نہیں،  متن پر معانی مسلط کرتا ہے۔ جن نظموں میں میرا جی کو جنسی کیفیات نظر آتی ہیں،  ان کے تجزیے میں انھوں نے فرائڈ سے مدد ضرور لی ہے،  مگر جہاں کیفیت مختلف ہے،  وہاں تحلیلِنفسی سے کام نہیں لیا۔ مثلاً خواجہ مسعود علی ذوقی کی نظم ’’جھیل کے کنارے ‘‘ کے مطالعے میں یہ لکھتے ہیں کہ ’’نئی نفسیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنسی تسکین کی غیر موجودگی انسان کو مناظر فطرت کی طرف مائل کر دیتی ہے …… اس خیال سے بھی یہ نظم قابل غور ہے …… مختصراً نظم سے ظاہر ہے کہ شاعر کا نفسِ شعوری نوعی لحاظ سے غیر مطمئن ہے اور اسی بے اطمینانی کی کیفیت کو شہری ماحول کے بے زار کن تاثر نے اور بھی بڑھا دیا ہے اور اسی لیے اس کا نفس غیر شعوری نفسیاتی اشاروں کی زبان میں آسودہ خواہشات کو پورا کرنے کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ ‘‘ ۱۴ مگر قیوم نظر کی نظم ’’حسن آوارہ ‘‘ کے تجزیے میں وہ دوسری قسم کا نفسیاتی نکتہ ابھارتے ہیں۔ ’’انسان میں آغاز ہی سے اپنے خیالات کو تشبیہ اور استعارے کی صورت میں ڈھالنے کا رجحان رہا ہے …… پھیلے ہوے کھیت کو دیکھ کر اسے بچھا ہوا بستر یاد آ سکتا ہے،  سوکھا ہوا پیڑ اس کے دل میں بڑھاپے کا خیال لا سکتا ہے …… چار بند کی اس چھوٹی سی نظم میں دنیا کے قدیم ترین پیشے کی ایک فن کار کی مکمل سوانح عمری ہمیں یہاں نظر آتی ہے،  جس کے بنیادی کردار ایک تیتری اور ایک بوڑھے کوے کی صورت میں موجود ہیں ایک فاحشہ عورت اور ایک عیاش مرد۔ دونوں انسان ہیں،  لیکن ان کے احساس و جذبات بے حد مختلف۔ دونوں خود غرض ہیں،  دونوں کو اپنی اپنی دھن ہے اور وہ یوں ’’ہم نوع‘‘ نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے استعارے میں دونوں کا بھیس نوعی لحاظ سے مختلف ہے۔ ‘‘ ۱۵ اس سے صاف ظاہر ہے کہ میرا جی متن میں منکشف ذہنی کیفیت کے مطابق نفسیاتی بصیرتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ میرا جی نے مکمل طور پر تحلیلِ نفسی سے کام نہیں لیا۔ تحلیل نفسی سب سے پہلے شاعر کے سوانحی کوائف جمع کرتی اور ان میں شاعر کے نفسیاتی تصادمات اور الجھنوں کا سراغ لگاتی اور پھر انھیں نظموں میں ارتفاعی صورت میں دریافت کرتی ہے۔ میرا جی نے بعض مقامات پر شاعر کی سوانح سے مدد ضرور لی ہے مگر سوانحی عناصر کی ارتفاعی صورتوں کی وضاحت عام طور پر نہیں کی۔ کہیں کہیں تو وہ فرائیڈ کے اس تصور کو سرے سے رد کرتے ہیں کہ جنسی ناکامی انسان کو مناظرِ قدرت کا متوالا بنا دیتی ہے۔ سلام مچھلی شہری کی نظم ’’ایسا کیوں ہوتا ہے ‘‘کے تجزیے میں رائے دیتے ہیں کہ جس طرح ماہرینِ نفسیات نے ورڈذورتھ کی زندگی کے حالات کا تجزیہ کر کے اس نظریے کو تقویت دی ہے کہ جنسی ناکامی، انسان کو فطرت کی محبت سے سرشار کر دیتی ہے،  اسی زاویے سے حالی کی نیچرل شاعری کا مطالعہ بھی کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد یہ شعر درج کرتے ہیں : کہتا ہوں نیچر میں کھو کر یہ نظارے میرے ہوتے /  کاش یہ کلیاں میری ہوتیں، کاش یہ تارے میرے ہوتے۔ اس کے فوراً بعد خود اپنی ہی تجویز کی یہ کَہ کر نفی کرتے ہیں کہ ان ستاروں میں کچھ نہیں، نہ ان کلیوں میں کوئی بات ہے۔ یہ تلازمِ خیال اور اندازِ نظر کا مسئلہ ہے۔ ۱۶ گویاستاروں اور کلیوں کا شاعر کو خیال اس لسانی ہیئت کی وجہ سے آتا ہے جس میں وہ شعر تخلیق کر رہا ہے نہ کہ اس کے کسی نفسیاتی وقوعے کی وجہ سے۔ میرا جی کی تنقید اس تنقیدی تصور کو بھی زیادہ آگے نہیں لے جاتی اور جلد ہی اس سے انحراف کرتی ہے۔ مذکورہ بالا نظم ہی کے ان دو مصرعوں :خونی پرچم کے نیچے مزدوروں کے جب آتا ہوں میں /  اپنی قوت سے خوش ہو کر باغی نغمے گاتا ہوں میں، کے تجزیے میں تلازمِ خیال کے لسانی و ہیئتی تصور کے بجائے نفسیاتی اندازِ نظر بروئے کار لاتے ہیں۔ ’’لیکن یہ خونی پرچم کیوں ہے ؟اس کی وضاحت اس مختصر جگہ میں نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات لمبی ہے، جس کا اختصار یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جس قدر انقلابی تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں، خواہ وہ پروپیگنڈہ کی ہوں خواہ شعرو ادب کی، ان کے تحت میں ایک ازلی اصول کارفرما ہے، یہ اصول اذیت پرستی کا ہے۔ مغرب کی موجودہ جنگ اذیت پرستی ہی کا مظاہرہ ہے اور انسان کے ہر عمل میں اس اصول کی کارفرمائی کی دلیل دی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر شاعری مقصود ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ مزدوروں کا پرچم اس نوجوان کے خونِ آرزو سے سرخ ہے ‘‘۔ کیا یہ آرزو اذیت پرستی ہی کی ہے ؟ میرا جی اس کا جواب نہیں دیتے۔

میرا جی اپنی تنقید میں اکثر اشارات پر اکتفا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تنقید میں کئی بنیادی تصوراتِ نقد کا ارتقا نہیں ہو سکا۔ مثلاً وہ تلازمِ خیال کا محض ذکر کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، حالاں کہ یہ شعر ی زبان کا بنیادی تصور ہے۔ میر ا جی کے معاصر رچرڈز نے زبان کے دو وظائف کا ذکر کیا تھا: حوالہ جاتی اور جذباتی۔ سائنسی زبان حوالہ جاتی ہے،  جب کہ شعر ی زبان جذباتی ہوتی ہے، جو دراصل کئی تلازمات کو تحریک دیتی ہے۔ تلازمات کی وجہ ہی سے شاعری میں معانی کی کثرت جنم لیتی ہے۔ معانی کی کثرت، میرا جی کی شعری تنقید کا مدعا نہ بن سکی۔

نفسیاتی طریق کار میں نظم کی نامیاتی وحدت کا تصور برابر کارفرما رہتا ہے،  یعنی مصنف کی ذہنی کیفیت،  متن کی ہیئت اور اسلوب ایک وحدت سمجھے جاتے ہیں۔ متن کے ہیئتی جزر و مد اور اسلوبی تحرک کو تخلیق کار کے ذہنی تجربے کے جزر و مد اور تحرک سے ’متحد‘ سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہیئت اور اسلوب کو روایتی اور آرایشی کے بجائے ایک نفسیاتی صداقت خیال کیا جاتا ہے یا متن کے تمام پہلوؤں کا سرچشمہ مصنف سمجھا جاتا ہے۔ میرا جی راشد کی نظم ’رقص‘ کے تجزیے میں لکھتے ہیں :

راشد کے اس ٹکڑے سے آزاد نظم کے فنی فوائد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس کی بحر سے رقص کا بہاؤ ظاہر ہے۔ بنیادی رکن فاعلاتن ہے ¾¾ جھٹکے دیتا ہوا اور ہر گردش کو پورا کرتا ہوا رکن ¾¾ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن۔ ’’فاعلا‘‘ میں بہاؤ ہے اور ’’تن‘‘ کا ٹکڑا اس بہاؤ کو روک کر گردش کے دوسرے آدھے دائرے میں لے جاتا ہے۔ متواتر جب یہ رکن دو یا تین یا چار بار چلتا ہے تو اس کے بہاؤ کا زور بڑھ جاتا ہے اور آخر میں فاعلن یا فاعلات کا چھوٹا رکن روک کر کام دیتا ہے۔ …… رقص کے جس بہاؤ کی اس نظم کے ’’ہیرو‘‘ کی ذہنی کیفیت کے لحاظ سے ضرورت تھی، فن کار نے بنیادی رکن فاعلاتن اس کے عین مطابق منتخب کیا ہے ………… نظم میں ایک جگہ شاعر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس رقص سے وہ یوں محسوس کر رہا ہے کہ گویا ایک مبہم سی چکی چل رہی ہے۔ اس بنیادی رکن کی گردش اور جھٹکوں میں کسی چکی کی گولائی ایسی کیفیت بھی موجود ہے۔ ۱۷

 

میرا جی نے نظم کی نامیاتی وحدت کا تصور غالباً کالرج سے لیا ہے۔ کالرج کے نزدیک ایک حقیقی نظم لازماً ایک وحدت ہے۔ اس کے اجزا ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور ایک دوسرے کی] موجودگی اور باہم تعلق کی[وضاحت کرتے ہیں۔ ۱۸ میرا جی بھی نظم کی ہیئت کی وضاحت نظم میں ظاہر ہونے والی کیفیت کی مدد سے کرتے ہیں۔ تاہم وہ نظم کے مواد کی توجیہات کے لیے زیادہ تر نفسیاتی، ثقافتی تصورات سے کام لیتے ہیں مگر متن کے ہیئتی اجزا کے تجزیے کے لیے بیش تر مشرقی تنقیدی پیمانوں سے مدد لیتے ہیں،  جن کی نوعیت نفسیاتی نہیں ہے مگر میرا جی کے لیے ہیئت بہ ہر حال ایک نفسیاتی مظہر ہے۔

ہر تنقیدی طریق کار کے امکانات، حدود اور مضمرات ہوتے ہیں۔ میرا جی کی تنقید کی کم زوری یہ ہے کہ وہ نفسیاتی طریق کار کے امکانات، حدود اور مضمرات کو نہیں کھنگالتی۔ ان کی تنقید، اپنے ہی عمل اور جہت سے بڑی حد تک عدم آگاہ ہے،  اس لییاس میں اس طریق کار کے بیش تر امکانات کو کام میں نہیں لایا گیا۔ مثلاً نفسیاتی طریق کار کے حدود میں یہ بات شامل ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ فن پارے میں جو ذہنی حالت منکشف ہے،  وہ فردی ہے یا نوعی؟ شاعر بہ طور شخص کی ہے یا شاعر بہ طور نوع کی یا بہ طور نوعِ انسان کی، ایک خاص ثقافت کی حامل انسان کی یا ثقافتی امتیازات سے ماورا آفاقی انسان کی ؟ میرا جی کی تنقید میں اس سوال پر توجہ نہیں ملتی۔ میرا جی اپنے تمام تجزیوں میں اس بات کو بہ طور اصول پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ نظم میں ظاہر ہونے والی کیفیت، احساس، تجربہ شاعر کا ذاتی تجربہ ہوتا ہے جس تک رسائی شاعر کی ذات کے وسیلے ہی سے ہو سکتی ہے۔ اس ذات کو خود نظم اور شاعر کی سوانح کی مدد سے معرضِ فہم میں لایا جا سکتا ہے۔ میرا جی کی نظم فہمی کو محدود کرنے والی سب سے اہم چیز یہی ہے۔ شاعری کو انکشافِ ذات قرار دینے کا تصور مغربی رومانویت کا پیدا کردہ ہے۔ میرا جی بھی اسے قبول کرتے ہیں۔ جدید مغربی تنقید ( بالخصوص ٹی ایس ایلیٹ اور ان کے بعد ہیئتی تنقید کے نقاد ڈبلیو کے ومساٹ نے )شعری تجربے کے انفرادی ہونے کے تصور کو تو قائم رکھا مگراسے شاعر کی ذات اور شخصیت کا ترجمان قرار نہیں دیا۔ ایلیٹ کے اس خیال سے تو اردو کا ہر طالب علم واقف ہے کہ شاعر کے پاس اظہار کے لیے شخصیت نہیں ہوتی، بلکہ وہ تو ایک وسیلہ ہے نہ کہ ایک شخصیت، جس میں تاثرات اور تجربات ایک مخصوص اور غیر متوقع انداز میں مجتمع ہوتے ہیں۔ ممکن ہے تجربات ایک آدمی کے لیے اہم ہوں مگر شاعری میں ان کا کوئی رتبہ نہ ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ بعض تاثرات آدمی/  شاعر بہ طور شخص کی نظر میں بے معنی ہوں لیکن شاعری کے لیے بے حد اہم ہوں۔ گویا شاعری کی دنیا عبارت تو جذبات اور تاثرات سے ہے مگر شاعری کے تاثرات چیزے دیگر ہیں۔ وہ شاعر کے شخصی تاثرات تک محدود نہیں ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جنھیں ہم شاعری کے جذبات کہتے ہیں وہ دراصل متن کی طرف قاری کا جذباتی رد عمل ہوتا ہے جسے شاعری ہی تحریک دیتی ہے۔ نفسیاتی تنقیدی طریق کار شاعری کے منفرد تاثرات تک پہنچنے کی کوشش ضرور کرتا ہے مگر اس کے لیے شاعر کی ذات کو سیڑھی نہیں بناتا۔

اسی طرح میرا جی کی تنقید میں اس سوال کا جواب بھی نہیں ملتا کہ کیا نظم میں مجسم ہونے والی کیفیت ہی واحد اور تمام کیفیت ہوتی ہے یا ایک خام کیفیت پہلے موجود ہوتی ہے،  جو نظم میں منقلب ہوتی ہے ؟ اگرثانی الذکر بات درستہے تو نظم سے باہر اور پہلے اور نظم میں ظاہر کیفیت میں کیا فرق و تعلق ہوتا ہے ؟ ڈاکٹر محمد اجمل کا کہنا ہے کہ ’’ہر فن کار اپنے فن کے ذریعے اپنی شخصیت میں ربط اور ہم آہنگی تلاش کرتا ہے۔ ربط اور ہم آہنگی یوں تو سبھی تلاش کرتے ہیں،  لیکن فن کار جذبات کے اظہار کے ذریعے خود آگاہی حاصل کرتا ہے اور خود آگاہی میں ایسا ربط تلاش کرتا ہے،  جس کا مرکز وہ خود ہوتا ہے۔ ‘‘ ۱۹یعنی فن کار پہلے سے موجودکسی کیفیت کی نقل نہیں کرتا، بلکہ ایک کیفیت کو منقلب کرتا ہے اور اس عمل کے نفسیاتی اثرات سے خود بھی فیض یاب ہوتا ہے۔

میرا جی کا نفسیاتی طریق کار متن اور مصنف کی وحدت کا تصور تو رکھتا ہے،  مگر یہ وحدت کیوں کر ممکن ہوتی ہے،  اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ اسی جواب کی غیر موجودگی کی وجہ سے میرا جی کی تنقید میں کئی کھانچے رہ جاتے ہیں۔ مصنف اور متن کے درمیان زبان اور صنف کی شعریات ہوتے ہیں،  جو مصنف سے الگ اپنی خود مختاریت رکھتے ہیں۔ وحدت اس وقت ممکن ہوتی ہے،  جب اس خود مختاریت کا خاتمہ ہو۔ آخر تخلیق کار کے پاس کون سی ایسی قوت ہے،  جو زبان کے نشانیاتی نظام کو، جو صدیوں کے اجتماعی و ثقافتی عمل کے تحت وجود میں آیا ہے،  ایک انفرادی نفسیاتی وقوعے میں بدل دے ؟ زبان اور صنف کی شعریات ’غیر انا‘ کی ملکیت ہیں انھیں اپنی انا کی مِلک کیوں کر بنایا جا سکتا ہے ؟ اگر یہ ممکن ہے تو کس عظیم نفسیاتی/  روحانی/  تخلیقی قوت کے تحت ہے ؟ اور اگر نہیں تو کیا مصنف اور متن کی وحدت محض ایک التباس ہے ؟

دراصل میرا جی نے نظم کی تفہیم کا جو طریقِ کار اختیار کیا، اس میں نظم ایک آئنے کی طرح ہے جو مصنف کی ذات یا اس کے ماحول کو منعکس کرتی ہے۔ میر اجی قطعیت سے کہتے ہیں :’’جب تک ہم کسی مصنف یا شاعر کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کے متعلق معلومات حاصل نہ کر لیں، ہم اس کی ادبی تخلیقات یا کلام کے بارے میں کچھ نہیں کَہ سکتے، کیوں کہ ہر مصنف یا شاعر کی تخلیقات، خواہ اس کا فنی اصول داخلی ہو یا خارجی،  اس کی اپنی شخصیت کا آئنہ ہوتی ہے۔ ‘‘ ۲۰ اگرچہ میرا جی نے مشرق و مغرب کے نغمے میں ہر شاعر کے سوانح اور شخصیت کو تفصیل سے پیش کیا ہے جب کہ اس نظم میں انھوں نے کہیں تو متعلقہ شاعر کی شخصیت کے بارے میں کچھ معلومات دی ہیں اور کہیں نظم میں پیش ہونے والے واقعے کوشاعر کی ذات میں تخیلی طور پر رونما ہونے والا واقعہ قرار دیا ہے، مگر وہ تخیلی واقعے کو بھی ایک شخصی واقعہ قرار دیتے اور اسے شاعر کی ذات سے جوڑتے ہیں۔ چناں چہ ان کے لیے شخصیت ہی وہ بنیادی اور بڑی حد تک حتمی کوڈ ہے جس سے نظم کے معانی کی گرہیں کھولی جا سکتی ہیں۔ وہ نظم کا تصور ایک ایسی ہیئت کے طور پر نہیں کرتے جوکسی پہلے سے موجود احساس، تجربے یا کیفیت کو منعکس نہیں کرتی بلکہ انھیں نظم کے اندر، نظم کی تخلیق کے دوران میں، نظم کی شعریات اور زبان کے تلازماتی / استعاراتی/ خطابتی کردار کے تحت تشکیل دیتی ہے۔ نظم کو تجربے کا اظہار اور تجربے کی تشکیل سمجھنے میں بہت فرق ہے۔ ادب کو

نقل قرار دینے والے تمام تنقیدی نظریات، ادب کو ذات کا اظہار سمجھتے ہیں اور ادب کو ایک ہیئت تسلیم کرنے والے نظریات،  ذات یا تجربے کو خود ادب کی وضع قرار دیتے ہیں۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں نظم کی تخلیق میں زبان اور نظم کی شعریات کی موجودگی کا ادراک تک نہیں تھا۔ دو ایک جگہوں پر انھوں نے نظم کی تخلیق میں زبان کے کردار کا احساس دلایا ہے۔ قیوم نظر کی نظم’ حسن آوارہ ‘کے مطالعے میں استعارے کو نظم کی تخلیق کا باعث قرار دیا ہے،  مگر وہاں بھی استعارے کو شاعر کے ان انفرادی مشاہدات کا نتیجہ کہا ہے جو اس کے ہاں نئے لسانی تلازمات کو جنم دیتے ہیں اور ان تلازمات کی حیثیت بھی ذاتی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ نظم کے اس مکمل ہیئتی تصور تک نہیں پہنچتے جس میں نظم لا شخصی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ نظم کا شخصی تصور انھیں نظم کی تفہیم اور تشریح تک محدود رکھتا ہے۔ ان کے تجزیے بھی دراصل نظم میں ظاہر ہونے والے اس شخصی تجربے کی تفہیم کا فریضہ انجام دیتے ہیں جس میں معنی کی وحدت ہوتی ہے۔ نظم واحد معنی میں مقید ہوتی ہے۔ نظم کے شخصی تصور میں معانی کی کثرت کی گنجائش ہی نہیں ہوتی اور اگر کہیں سے ایک سے زائد معانی جھلک دکھلاتے بھی ہیں تو انھیں واحد مرکزی معنی میں گوندھ دیا جاتا ہے اور اس ضمن میں شخصیت کو بہ طور گوند استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے نظم کے وجود کے نہایت اہم اسرار کا انکار ہوتا ہے،  ان اسرار کا جو نظم میں زبان کے استعاراتی کردار، شعریات اور روایت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے نظم شخصیت اور زمانے دونوں کو عبور کر جاتی ہے اور اس میں معانی کے بہاؤ کی ایک انوکھی صفت پیدا ہوتی ہے۔

نظم کی مختلف اور کثیر معنیاتی سطحوں کی دریافت، نظم کی تعبیر کے ذریعے ممکن ہے اور تعبیر نظم کے مکمل ہیئتی اور لاشخصی تصور کے بغیر نا ممکن ہے۔ نظم کا لا شخصی تصور اسے ان محدودات سے آزادی دلاتا ہے جو مصنف کی شخصیت یا اس کے ماحول کو بنیادی حوالہ بنانے کی وجہ سے نظم کو گھیرے ہوتی ہیں۔ لا شخصی تصور، نظم کو اس وسیع اور متنوع تناظر سے منسلک کرتا ہے جو ثقافت اور شعریات کے نام سے موسوم ہے۔

ممکن ہے یہ کہا جائے کہ میرا جی کی تنقید سے یہ توقعات مناسب نہیں۔ وہ اردو تنقید میں ایک نیا تنقیدی طریق کار متعارف کروا رہے تھے۔ کیا یہی کافی نہیں ؟ جی ہاں ! اپنی جگہ یہ میرا جی کی یہ بڑی خدمت ہے کہ انھوں نے نئے راستے کی نشان دہی کی۔ حلقہ ارباب ذوق کو شعر ی تنقید عطا کی؛اس عہد میں نظم فہمی کی مساعی کیں جب جدید نظم طرح طرح کی رکاوٹوں سے دوچار تھی اور اپنی بقا اور استحکام کے لیے کوشاں تھی؛اپنی جمالیات کو باور کرانے میں دشواری محسوس کر رہی تھی۔ بلاشبہ نئے راستے کی نشان دہی اہم ہے تاہم اسی راستے کی کچھ اور منزلوں اور ممکنات کی نشان دہی اہم تر ہے کہ زندگی ہو، شاعری یا شعر فہمی ایک مسلسل سفر ہے ! آگے کا سفر!!

بیسویں صدی کے پہلے نصف میں اردو کی شعری تنقید کی کم مائیگی کے پیش نظر میرا جی کی خدمات بے مثال ہیں،  مگر ایک تنقیدی طریق کار کے پیش نظر میرا جی کی خدمات بہ ہر حال محدود ہیں اور آج شعری تنقید جس منزل پر ہے،  میرا جی کی تنقیداس کا ایک پڑاؤ ہے۔

٭٭

حوالہ جات

۱۔ شارب ردولوی؛جدید اردو تنقید، اصول و نظریات، ص ۲۳۵

۲۔ مغنی تبسم؛’’اردو تنقید گزشتہ ربع صدی میں ‘‘، مشمولہ تحریک، دہلی، ص ۸۹

۳۔ ڈاکٹر وزیر آغا؛ تنقید اور جدید اردو تنقید، ص ۲۱۲

۴۔ رچرڈز کے اپنے الفاظ یہ ہیں :

“He must be an adept at experiencing, without eccentricities, the state of mind relevant to the work of art he is judging. Secondly, he must be able to distinguish experiences from one an other as regards their less superficial features. Thirdly he must be a sound judge of values.”(Principles of Literary Criticism, p 87)

۵۔ فیض احمد فیض؛میرا جی کا فن‘‘ مشمولہ، مشرق و مغرب کے نغمے،  ص ۱۰

۶۔ ریاض احمد؛’’نفسیاتی تنقید‘‘ مشمولہ سرسیّد پاکستانی ادب، تنقید، ص ۱۰۴-۱۰۵

۷۔ میرا جی؛اس نظم میں،  ص ۱۵۱ا-۱۵۲

۸۔ میرا جی، مشرق و مغرب کے نغمے،  ص ۷۴

۹۔ میرا جی؛اس نظم میں،  ص ۸۷

۱۰۔ ایضاً، ص ۸-۱۷۹

۱۱۔ ڈاکٹر رشید امجد؛میرا جی، شخصیت اور فن، ص ۱۹۷

۱۲۔ میرا جی، مشرق و مغرب کے نغمے،  ص ۷۶

۱۳۔ ایضاً، ص ۸۷

۱۴۔ میرا جی؛اس نظم میں،  ص ۸۷

۱۵۔ ایضاً، ص ۱۰۰۔ ۱۰۱

۱۶۔ ایضاً ص ۳۴

۱۷۔ ایضاً، ص ۸۵-۱۸۴

۱۸۔ کالرج کے اپنے الفاظ یہ ہیں :

But if the definition sought for be that of a legitimate poem , I answer , it must be one, theparts of which mutually support and explain each other.

[Biographia Literaria,English Critical Texts (Ed.D.J. Enright& Ernest De Chickera,Oxford ,2007(1962), P 19]]

۱۹۔ ڈاکٹر محمد اجمل ؛مقالاتِ اجمل، ص ۲۵۴

۲۰۔ میرا جی؛مشرق و مغرب کے نغمے،  ص ۱۳۷

٭٭٭

 

 

 

 

میرا جی بحیثیت نقاد

 

                ڈاکٹر نذر خلیق

 

تنقید اور تخلیق میں گہرا تعلق ہے کیونکہ ایک تخلیق کار جب تک تنقیدی اور تجزیاتی نظر نہیں رکھتا اس وقت تک اپنے باطن سے نئی تخلیق برآمد نہیں کر سکتا۔ تخلیق کار ہی تخلیق کو بہتر انداز سے سمجھ سکتا ہے اور سمجھا بھی سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی تخلیق کاروں نے تنقید کی طرف قدم رکھا، کامیاب ہوئے۔ میرا جی بھی اُن تخلیق کاروں میں ہیں جو تنقیدی نظر رکھتے تھے اور اپنے مغربی مطالعے اور مشرقی مشاہدے سے تخلیق کا نہ صرف فکری جائزہ لیتے تھے بلکہ فنی جائزہ بھی لیتے تھے۔ ان کی تنقید نفسیاتی دبستان سے تعلق رکھتی ہے۔ میرا جی سے پہلے تنقید محض تاثراتی اور تحسینی انداز لیے ہوئے تھی۔ میرا جی نے اپنی تنقید میں نہ صرف تخلیق کا شخصی جائزہ ضروری سمجھا بلکہ سماج اور سماج میں پھیلے ہوئے رویوں،  رجحانات اور تحاریک کا بھی جائزہ لیا۔ ان کے نزدیک جب تک تخلیق کار کا شخصی جائزہ نہ لیا جائے اس وقت تک تخلیق کے موضوعات تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی اور جب تک معاشرے میں پھیلے ہوئے غیر معمولی حالات و واقعات، فکری اور روحانی تحاریک کو نظر میں نہ رکھا جائے کسی بھی تخلیق کے محرکات اور عوامل و عناصر تک رسائی حاصل نہیں ہوسکتی۔

میرا جی کسی بھی تخلیق کے محض موضوعات کو بیان نہیں کرتے بلکہ وہ تخلیق کے فنی لوازمات اور شعری محسنات کو بھی بیان کرتے ہیں، عروضی اور اصنافی تقاضوں کو بھی مد نظر رکھتے ہیں تاہم وہ تخلیق کاری میں فنی تجربوں کے بھی قائل ہیں۔ وہ ایسا نہیں سمجھتے کہ تخلیق جامد اور ساکت فنی سانچوں میں ہی پیش کی جاتی رہے۔ ان کے نزدیک فن میں تجربے کرتے رہنا چاہیے بلکہ میرا جی تجربوں کو ہر تخلیق کار کا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اظہار جس طرح بھی ہو اس میں جمالیات کو ملحوظ رکھا جائے۔ میرا جی کی تنقید شاعری سے متعلق ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شاعری کو ہی اپنی تنقید کا موضوع بناتے ہیں۔ انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کی بحثوں کے ذریعے نظموں کے تنقیدی تجزیے اور مشرق و مغرب کے نامور شعراء کے تراجم کرتے ہوئے تنقیدی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ میرا جی سے پہلے حلقہ ارباب ذوق میں تاثراتی اور تحسینی تنقید کا رواج تھا۔ نقاد اپنے مکتبہ فکر کے شعراء پر اپنے تاثرات بیان کرتے یا پھر تعریف کے پل باندھتے رہتے۔ اس طرح تخلیق کی بازیافت نہیں ہو پاتی تھی اور ہی تجربے کے لیے کوئی نیا در وا ہوتا تھا گویا تنقید تحسین باہمی بن کر رہ گئی تھی۔

میرا جی نے حلقے میں تنقید کا نیا رجحان پیدا کیا یعنی تنقید میں تقابلی انداز متعارف کروایا۔ دو تخلیقات کا موازنہ کیا جاتا اور یوں ایک تیسری صورت پیدا کی جاتی۔ بقول ڈاکٹر رشید امجد:

’’ایک بار انہوں نے اور یوسف ظفر نے ایک ہی موضوع پر نظمیں لکھیں۔ میرا جی نے ان دونوں نظموں کا تقابلی مطالعہ کر کے یہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ یہ جانا جا سکے کہ یہ دونوں نظمیں کہاں اور کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں ‘‘ (1)

میرا جی عملی تنقید کے نقاد ہیں۔ انہوں نے نظموں کا بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے اور وہ جمالیاتی و فنی اقدار کو بھی تخلیق کا ضروری حصہ سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں :۔

’’ میرا جی نے تنقید کی کوئی باضابطہ کتاب نہیں لکھی تاہم ان کے نظریات عملی تنقید کے ان مضامین میں موجود ہیں جو مشرق اور مغرب کے نغمے کے نام سے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ میرا جی کا اساسی تجربہ ہے کہ

شعر و ادب زندگی کے ترجمان ہیں تاہم وہ زندگی کو جامد، یا یک رخا تصور نہیں کرتے اور ادب کو زندگی کا غلام قرار نہیں دیتے بلکہ انہوں نے ادب کے تغیر کو زندگی کے مماثل قرار دیا اور نئے زمانے کی برتری کو علم اور شعور کی نئی آگاہی کا نتیجہ شمار کیا‘‘(2)

ڈاکٹر انورسدید نے بجا کہا ہے کہ وہ عملی تنقید کے آدمی تھے اور ان کی کتاب ’’مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘ عملی تنقید کا ایک نمونہ ہے تاہم ’’اس نظم میں ‘‘ ان کی عملی تنقید کی زیادہ اہم کتاب ہے جس میں میرا جی نے اپنے تنقیدی شعور کا بھرپور اظہار کیا ہے۔

بلاشبہ شعر و ادب زندگی کا ترجمان ہے لیکن میرے نزدیک ادب تخلیق کار کا ذاتی معاملہ ہے وہ معاشرے سے متاثر ضرور ہوتا ہے اور معاشرے سے ہی اخذ و قبول کرتا ہے مگر وہ اپنی باطنی شخصیت کے حوالے سے ہی تخلیق پیش کرتا ہے۔ ہر تخلیق کا رکا باطن ایک الگ سماجی تصور رکھتا ہے۔ ہر تخلیق کار کا دل غیر معمولی جذبات و احساسات کا منبع ہوتا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ تخلیق کار معاشرتی مسائل کو بھی بیان کرے تاہم ضروری نہیں ہے کہ وہ معاشرے یا کسی فکری تحریک کے قواعد و ضوابط مد نظر رکھے۔ تخلیق کسی بھی طے شدہ لائحہ عمل کے تحت نہیں ہوتی۔

میراجی نے تاثراتی تنقید کو نفسیاتی اور جمالیاتی رنگ دیا۔ فرائڈ اور یونگ کے حوالے سے اپنی تنقید کی بنیادیں متعین کیں مگر میرا جی کی تنقید نفسیاتی کے ساتھ ساتھ تجزیاتی بھی ہے اور اس تجزیاتی تنقید میں فن پر زیادہ زور ہوتا ہے۔ مثلاً قیوم نظرؔ کی نظم ’’اس بازار میں ایک شام‘‘ کا فنی تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ہئیت کے لحاظ سے اس نظم پر غور کرنا چاہیے۔ اب تک جہاں کہیں میں نے بند کا ذکر کیا تو تین مصرعوں کا ایک بند سمجھتے ہوئے مثلث کا مفہوم اپنے ذہن میں قائم رکھا لیکن اس نظم کے بند حقیقت میں مثلث کے بند نہیں ہیں اگر

اور کیا اس میں دلکشی ہے نہ پوچھ

اور کیا شے قبول کی ہے نہ پوچھ

اور کیا ذوق زندگی ہے نہ پوچھ

ان تین مصرعوں کی ردیف اور قافیہ کو بھلا دیا جائے تو یہ ایک ایسی نظم معریٰ بن جائے گی جس کے تین بندبن جاتے ہیں۔ ‘‘ میرا جی نظموں کو وزن تکنیک اور دوسرے محسنات شعری سے جانچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ فن کے جتنے بھی تقاضے ہوتے ہیں وہ مد نظر رکھتے ہیں۔ مواد اور موضوع کی تفہیم میں جتنا زور لگاتے ہیں اتنا ہی فن کے تمام اجزاء کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔ میرا جی کا اپنا حال یہی ہے کہ وہ تنقید میں بھی کسی نظریے کے قائل نہیں ہیں وہ جس طرح مناسب سمجھتے ہیں نظم کو فکر اور فن پر دو سطح پر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

محمد حسن عسکر ی کے بہ قول:’’ ان تجزیوں میں جو بات سب سے نمایاں رہتی تھی وہ یہ کہ ایک نئی ادبی تحریک اور احساس کا ایک نیا انداز پیدا ہو رہا تھا۔ شاعروں کی تعریف میں تو میر اجی ضرور مبالغہ برتتے تھے لیکن اصل کوشش ان کی یہ رہتی تھی کہ نئے رجحانات اور اسالیب کو سمجھیں اور سمجھائیں ‘‘(4)

میرا جی کی تنقید اس اعتبار سے منفرد ہے کہ انہوں نے تاثراتی تنقید کو سماجی اور شخصی تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی۔ میرا جی کی تنقید غیر جانبدارانہ تجزیوں پر مشتمل ہے لیکن ان کی تنقید کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ تخلیق کی تفہیم تخلیق کار اور معاشرے کی تفہیم کے بعد ہی ممکن ہے۔ تنقید بھی ارتقائی مراحل طے کرتی رہتی ہے۔ میرا جی کے عہد تک تنقید کوئی زیادہ اہم منزل طے نہ کر سکتی تھی لیکن میرا جی نے اس میں وسعت پیدا کی۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے بہ قول:

’’ میرا جی جدید اردو تنقید نیز شاعری میں ایک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تنقید میں اس اعتبار سے کہ اس نے تخلیق کے تجزیاتی مطالعے کا آغاز کیا جو بعد ازاں حلقہ ارباب ذوق کی تحریک کی صورت میں مغرب کی متوازی نئی تنقید کا ایک دیسی روپ ثابت ہوا(5)

جہاں تک اس وقت میرا جی کا تنقید میں مقام کا معاملہ ہے تو وہ محل نظر ہے۔ تنقید اپنا ارتقائی سفر کرتے ہوئے ساختیات اور پس ساختیات کے نظریات تک پہنچ گئی ہے۔ آج تخلیق کار کی تحلیل نفسی سے بھی آگے کا سفر طے ہو چکا ہے۔ آج تخلیق کے اجزاء کو توڑ کر مفاہیم تک پہنچا جاتا ہے۔

آج قاری کی اہمیت ہے آج کی تنقید تخلیق کے فنی لوازم کا تجزیہ کر کے مواد اور موضوع تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ آج تخلیق محض تخلیق کار کا ذاتی معاملہ نہیں رہا بلکہ قاری کا معاملہ ہو گیا ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ تخلیق پہلے تخلیق کار کا ذاتی معاملہ ہے لیکن تخلیق کی پیشکش اس طرح ہونی چاہیے کہ وہ ہر قاری کے لیے اس کی ذات کا معاملہ بن جائے یعنی تخلیق میں خاص سے عمومیت اور انفرادیت سے اجتماعیت بہت ضروری ہے۔ میرا جی کی تنقید انفرادیت تک محدود رہی یعنی تخلیق کار کا تجزیہ کرتی رہی تاہم میر ا جی کی تنقید اپنے عہد میں ایک اضافہ اور نئی چیز تھی۔

٭٭

حوالہ جات

(1)رشید امجد، ڈاکٹر ’’ میرا جی شخصیت اور فن‘‘ نقش گر پبلی کیشنز راولپنڈی، 2006ء ص 210

(2)انورسدید، ڈاکٹر، حلقہ ارباب ذوق کی تنقید مشمولہ پاکستانی ادب جلد 5مقتدرہ قومی زبان ص377

(3)محمد زکریا، ڈاکٹر۔ ’’اس نظم میں ‘‘ مکتبہ علم و فن چوک اردو بازار لاہور1993ء ص 21

(4)محمد حسن عسکری، ’’ میرا جی مشمولہ میرا جی ایک مطالعہ مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی ص79

(5) وزیر آغا، ڈاکٹر۔ ’’ تنقید اور جدید اردو تنقید‘‘ انجمن ترقی اردو پاکستان کراچی۔ 1989ء ص 214

٭٭٭

 

 

 

نگار خانہ:ایک جائزہ

 

                ڈاکٹر رشید امجد

 

ترجمہ وہ دریچہ ہے جس سے دوسری قوموں کے احوال ہم پر منکشف ہوتے ہیں۔ گوئٹے کا کہنا ہے کہ ’’ترجمہ عالمی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت رکھتا ہے ۱ ‘‘کہ اس کے ذریعے صرف زبان کی سطح پر ہی انسانی علوم میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ ذہنی کشادگی کے توسط سے بعض اوقات معاشرے کے بنیادی مزاج اور رہن سہن میں بھی ایک تغیر پیدا ہوتا ہے،  اس لیے ترجمے کا دائرہ صرف ادب تک ہی محدود نہیں بلکہ تمام انسانی علوم اور دریافتیں اس میں شامل ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ علم یا دریافت کسی قوم کی میراث نہیں بلکہ پوری نسل انسانی اس سے استفادہ کرتی ہے تو اس کاوسیلہ دراصل ترجمہ ہی ہے جس کے ذریعے قومیں عالمی تناظر میں نہ صرف ایک دوسرے کے جذبات و احساسات میں شریک ہوتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کے علمی، تحقیقی اور ادبی کارناموں سے بھی فیض حاصل کرتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی زبان میں ترجمے کی اہمیت سے تو انکار کیا ہی نہیں جا سکتا اور اس بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں کہ ترجمہ کا فن اپنے عصر کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا عمل ہے۔ بقول مظفر علی سید ’’ترجمہ کسی معاشرتی روشن خیالی کا مظہر ہے ۲‘‘ جدید دور میں ترجمہ کا کام بہت پھیل گیا ہے اور کئی زبانوں سے اُردو میں کتابیں اور انفرادی فن پارے منتقل کیے گئے ہیں لیکن میراجی نے جس وقت ترجمہ کی اہمیت کو محسوس کیا، اس وقت اگرچہ بے شمار تراجم ہو چکے تھے لیکن ترجمہ کو زیادہ بہتر کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ آج ترجمے کو تخلیقی سطح کا کام سمجھا جاتا ہے لیکن اس زمانے میں ترجمہ ایک دوسرے درجے کا کام تھا جس میں شامل ہونا کئی ادیبوں کو پسند نہ تھا۔ یہ میرا جی کا ویژن تھا کہ انہوں نے اُردو اور اُردو کے حوالے سے ہندوستانی معاشرے کو دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں اور نئے رویوں سے آشنا کرانے کے لیے ترجمے کا کام شروع کیا۔ میرا جی کے زیادہ تراجم اگرچہ شعرو ادب تک ہی محدود ہیں لیکن ان کے ذریعے ہماری شاعری خصوصاً نظم میں ایک نئی معنوی اور فکری لہر پیدا ہوئی۔ میرا جی نے اپنے بہت سے مضامین میں جو سیاسی سماجی اور اقتصادی نوعیت کے ہیں ترجمے سے بہت استفادہ کیا ہے اور گلوب پر ہونے والی سیاسی سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں سے اپنے عہد کو آشنا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ میرا جی کی ذہنی اپج ہی نہیں ان کی فکری اور تنقیدی بصیرت تھی جس نے انہیں ترجمے کی طرف راغب کیا۔ ان کے وسیع مطالعے اور کتب بینی نے انہیں دوسری زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کی اہمیت اور اس کی فکر یا اساس کی انفرادیت کا احساس دلایا اور انہیں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس سرمائے کو اُردو زبان میں منتقل کریں۔ ترجمہ ایک مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ میرا جی نے اسے جس لگاؤ اور خلوص سے سرانجام دیا ہے وہ ادب سے ان کی گہری اور سچی وابستگی کی دلیل ہے۔ میرا جی کے تراجم صرف لفظی نہیں بلکہ انہوں نے مفہوم کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی ہیئت و مزاج برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ترجمہ نگار دونوں زبانوں پر نہ صرف یکساں قدرت رکھتا ہو بلکہ دونوں زبانوں کے ادبی سرمائے اور اس کی روایت سے بھی پوری طرح واقف ہو۔ میرا جی کے تراجم میں ان دونوں صلاحیتوں کا احساس ہوتا ہے۔ مولانا صلاح الدین احمد کہتے ہیں :

’’ترجمہ بجائے خود ایک بہت مشکل فن ہے۔ اس میں کامیابی کی جو دو تین شرائط ہیں ان میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ مترجم صاحب ذوق ہو اور دونوں زبانوں کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہو، پھر شعر کا ترجمہ شعر میں تو اور بھی دشوار ہے۔ یوں ترجمہ کرنے کو آپ جیسا چاہیں کریں لیکن ایک زبان کے فن کار کی روح کو دوسری زبان کے پتلے میں اس انداز سے داخل کرنا کہ پتلا بولنے لگ جائے اور ترجمے پر تصنیف کا گمان ہو بہت کم اہل قلم کو ارزانی ہوا ہے اور خود ہماری زبان میں یہ اہلیت جن چند لکھنے والوں کے حصے میں آئی ہے ان میں میرا جی بے شک و شبہ ایک امتیازی مقام رکھتے ہیں ‘‘۳۔

’’نگار خانہ‘‘ سنسکرت شاعر دامودر  گپت کی کتاب ’’نٹنی متم‘‘ کا نثری ترجمہ ہے جو پہلی بار ’’خیال‘‘ بمبئی شمارہ جنوری ۱۹۴۹ء میں شائع ہوا۔ دوسری بار کتابی صورت میں نومبر ۱۹۵۰ء میں اسے مکتبہ جدید، لاہور نے شائع کیا۔ اس کا دیباچہ سعادت حسن منٹو نے لکھا ہے۔ یہ ترجمہ بھی انگریزی سے کیا گیا ہے۔ یہ طویل نظم دوسری بہت سی مشرقی کہانیوں کے ساتھ ایک انگریزی انتھالوجی (Romances of the east) میں شامل تھی (اس پر مرتب کا نام درج نہیں ) یہ انتھالوجی ایک زمانے میں (۱۹۴۸ء تک) پنجاب پبلک لائبریری میں موجود تھی میرا جی نے اسے وہیں دیکھا اور ترجمے کے لیے منتخب کر لیا۔ اشفاق احمد کہتے ہیں :

’’یہ کہانیاں جاپان، ملائشیا، انڈونیشیا، بھارت، عرب، مصر، ایران وغیرہ کے ملکوں پر محیط تھیں۔ انہی میں سے جو مواد ہندوستان سے متعلق تھا اس کا ترجمہ میرا جی نے کر کے اسے ’نگار خانہ‘‘ کا نام دیا‘‘۴۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب مکمل ہے لیکن ایسا نہیں،  موجودہ کتاب نامکمل ہے اس کا بقیہ حصہ غیر مطبوعہ صورت میں اشفاق احمد کے پاس محفوظ ہے۔ وہ بتاتے ہیں :

’’جب اس کتاب کی ہر طرف پذیرائی ہونے لگی اور زبان و بیان اور موضوع کے چرچے گھر گھر ہونے لگے تو میں نے میرا جی کو ایک خط لکھا کہ حضرت صاحب اس ترجمے کو مکمل کیجیے تو انہوں نے اس کے اگلے باب کا ترجمہ کسی آدمی کے ذریعے مجھے بھجوا دیا۔ ’’نگار خانہ‘‘ کا اگلا حصہ میرا جی کی لکھائی میں میرے پاس محفوظ ہے ‘‘۵۔

یہ حصہ زبان و بیان اور ترجمہ کے حوالہ سے اصل کتاب سے منسلک ہے۔ غالباً ’’خیال‘‘ میں اس کے چند حصے ہی شائع ہوئے تھے۔ باقی ترجمہ میرا جی کے پاس محفوظ تھا کہ ’’خیال‘‘ بند ہو گیا۔ کتاب چونکہ ’’خیال‘‘ کی فائل سے مرتب کی گئی ہے اس لیے اس میں اتنا ہی مواد شامل ہو سکا جو پرچہ میں موجود تھا، ’’خیال‘‘ میں جو مواد چھپنے سے رہ گیا تھا وہ میرا جی نے اشفاق احمد کو بھجوا دیا جو ان کے پاس محفوظ ہے،  لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اشفاق احمد کے پاس جو مواد ہے اس سے اصل کتاب کی تکمیل ہو گئی ہے کیونکہ اب نہ (Romances of the East) کی کوئی جلد دسیتاب ہے اور نہ اصل سنسکرت مواد، اندازہ ہے کہ اصل نظم خاصی طویل ہو گی۔ دامودر گپت نے اس میں طوائفوں کے کاروبار کی بڑی تفصیل بیان کی ہے۔ سعادت حسن منٹو کہتے ہیں :

’’نٹنی متم‘‘ میں وہ سب ادائیں،  وہ سب نخرے،  وہ سب چلتر، وہ سب گر موجود ہیں جو آج سے سو سال پہلے آگرے اور دلی کے چکلوں میں رائج تھے۔ ’’نٹنی متم‘‘ میں وہ سب کچھ موجود ہے جو مرد نے عورت کو سکھایا‘‘۶۔

منٹو نے بھی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ میرا جی نے اسے سنسکرت کی بجائے انگریزی سے ترجمہ کیا، کہتے ہیں :

’’میراجی مرحوم میرا خیال ہے سنسکرت کے عالم نہیں تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ’’نٹنی متم‘‘ کا ترجمہ انہوں نے سنسکرت سے نہیں کیا۔ یہ کتاب ترجمہ در ترجمہ ہے ‘‘۷۔

’’نگار خانہ‘‘ (نٹنی متم) کی ہیروئن مالتی نو عمر طوائف ہے جسے ایک جہاں دیدہ طوائف و کرایہ اس پیشے کے سارے گر سکھاتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ ایک اچھی طوائف کو کس کس موقع پر کس کس طرح مرد کو یوں لبھانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس کی زلف کا اسیر بن کر رہ جائے۔

موضوع کے حوالے سے اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ منٹو کے خیال میں یہ ایک ایسا زندہ موضوع ہے جو ہر دور میں موجود رہے گا۔ میرا جی کا اسے ترجمہ کے لیے منتخب کرنا بھی یہی وجہ رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جنس کے مطالعے کا جو شوق ان کے یہاں پہلے ہی موجود ہے یہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔ میرا جی نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس ترجمے کا مقصد لذت کوشی نہیں بلکہ قدیم ہندوستان کے گھناؤنے چہرے کی نقاب کشائی ہے۔ ’’خیال‘‘ بمبئی کے جنوری ۱۹۴۹ء کے اداریے میں اس ترجمے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

’’موجودہ دور میں اس ترجمے کا یہ مقام ہے کہ اسے پڑھ کر قدیم ہندوستان کے گھناؤنے چہرے کی نقاب کشائی ہوتی ہے اور جاگیردارانہ نظام سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ دامودر  گپت کی پیروی میں آج ہم ایسی چیزیں ہرگز نہ لکھیں گے لیکن ایسی چیزی پڑھیں گے ضرور تاکہ ہماری دنیا میں وہ ماحول ہی نہ رہنے پائے جو محض لذت کو حیات بنا دیتا ہے ‘‘۸۔

یہ میرا جی کی نیک نیتی اور اپنے عہد کے ساتھ ایک سچی وابستگی ہے کہ وہ اپنے عہد کی زندگی کو محض لذت کوشی نہیں سمجھتے اس لیے یہ واضح ہے کہ اس ترجمے کا مقصد صرف ایک فن پارے کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا تھا، یوں یہ ترجمہ صرف میرا جی کی انفرادی پسند نہیں رہ جاتا بلکہ اس کا ایک اجتماعی اورسماجی جواز بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

’’نٹنی متم‘‘ ایک لحاظ سے روسی مصنف الیگزینڈر کیرن کی ’’یاما‘‘ سے مماثل ہے کہ دونوں کتابیں اپنے اپنے عہد کی سماجی زندگی کے ایک خاص رخ کی آئینہ دار ہیں جو جاگیردارانہ نظام کی انتہائی خرابیوں میں پیدا ہوا۔ اس ترجمہ سے جیسا کہ میرا جی نے خود کہا ہے جدید عہد کو ایک ایسی معاشرتی اور سماجی برائی سے آگاہ کرنا ہے جو صدیوں سے انسانی معاشرے کا ایک حصہ رہی ہے۔

اس ترجمے کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان ہے جس میں اردو اور ہندی الفاظ کی آمیزش کا ایک نیا تجربہ کیا گیا ہے۔ ’’خیال‘‘ بمبئی میں اس کتاب کا جو اشتہار میرا جی نے خود بنایا تھا وہ بھی اسی شعوری کوشش کا مظہر ہے۔

اشتہار یوں تھا:

’’اسے اس زبان میں ترجمہ کیا ہے جسے پڑھنے کے بعد کل ہند زبان کے تنازع کا امکان ہی باقی نہیں رہتا‘‘۹۔

اردو ہندی تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بڑے بحران کے بعد ۱۹۴۹ء میں اس طرح کا اعلان میرا جی کی ان شعوری کوششوں کا حصہ ہے جو وہ بمبئی سے اردو پرچہ نکال کر کر رہے تھے۔ اُردو ہندی کے ملاپ کو سیاسی رنگ سے جدا کر کے دیکھا جائے تو یہ زبان کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اس زبان کی دو مثالیں دیکھئے :

’’اور جب آنند کی گھڑی آئے تو تمہارے گلے سے طرح طرح کی آوازوں کا ایسا شور نکلے جیسے کوئی کوئل بول رہی ہے۔ کبھی بٹیر، کبھی راج ہنس اور اور کبھی فاختہ اور کبھی کبھی مادیان اور ان سب آوازوں  میں گھلی ملی تیری اپنی قدرتی آوازیں بھی ہونی چاہئیں،  اسے سریلی آواز والی سندری‘‘۱۰۔

’’پریم کا لوبھ بھنورے کے سمان ہے،  بن بن گھومتا ہے تاکہ پھول کا رس چکھ لے،  پر جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ بناوٹ کی اچھائی میں سب پھول ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں تو گھوم پھر کا مالتی ہی کے پاس لوٹ آتا ہے کیونکہ مالتی کا تو یہ حال ہے کہ جس پھول سے بھی چاہو ٹکر لے لو مالتی کو اس میں کوئی گھاٹا نہیں رہے گا‘‘۱۱۔

اصل مسودے میں طویل نظم کے درمیان کچھ گیت بھی تھے۔ میرا جی نے ان گیتوں کا ترجمہ گیت ہی کی ہیئت میں کیا ہے۔ ’’چھیڑ چھاڑ‘‘ کے باب میں مالتی کی ایک سکھی عاشق کے پاس پہنچ کر مالتی کی حالت زار کو بیان کرتی ہے کہ کس طرح غم فرقت میں اس کا برا حال ہے اور یہ حال اس لیے سنایا جاتا ہے تاکہ عاشق فوراً مالتی کے پاس پہنچے۔ گیت یوں ہے :

پل میں پہنچ پیتم کے دوار

ہے جو تجھے جیون سے پیار

پریم ہے دو دھاری تلوار

گہرا گھاؤ ہے،  کاری وار

پل میں ہے یہ دل کا وار

پل میں سوجھے آر نہ پار

ہے جو تجھے جیون سے پیار

پل میں پہنچ پیتم کے دوار۹۱۲اس گیت کے ترجمے میں گیت کی ہئیت اور مزاج کے ساتھ ساتھ متن کی مناسبت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ دوسرا گیت یہ ہے :

کاہے بیرن جوانی بھئی مدماتی،

سمت مایا جال بچھائے،

وقت گئے کوئی کام نہ آئے،

رات کی رات ہے روپ کہانی

کاہے بیرن جوانی بھئی مدماتی،

جانچ لے اب بھی اپنی شکتی،

کیسے پھنسے گا بھولا پنچھی،

جان لے گر جو بتائے گیانی

کاہے بیرن جوانی بھی مدماتی۱۳

موقع کے مناسب سے اس گیت کا انگ اور رنگ پہلے گیت سے مختلف ہے۔

سو صفحات کی یہ کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے۔ جن کے عنوان یہ ہیں :

۱- مالتی و کرالہ کے گھر جاتی ہے ۲-عاشق کا چناؤ۳-دوتی ۴- سر ملاپ

۵-لاگ لگاؤ ۶- نادانیاں ۷-چھیڑ چھاڑ۸- شکراب۹-دلداریاں

اور جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ یہ ترجمہ نامکمل ہے۔ اشفاق احمد کے پاس صرف ایک باب محفوظ ہے۔

اس ترجمے کی مجموعی خصوصیات وہی ہیں جو عموماً میرا جی کے تراجم میں موجود ہوتی ہیں یعنی اصل قصہ کے مکرر تخلیق اور زبان کی سادگی و سلاست۔ میراجی نے اس طویل نظم کو ایک مسلسل کہانی کی شکل دی ہے جس میں کردار اُبھرتے بنتے اور مکمل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلوب میں ایک ایسا بہا ہے کہ کتاب شروع کر کے بغیر ختم کیے جی نہیں بھرتا۔ ہندی الفاظ کی آمیزش اسلوب میں موجود ہے لیکن اس خوبصورتی کے ساتھ کہ وہ اصل جملے کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ ذیل کی مثالوں میں ہندی الفاظ کی یہ خوبصورت آمیزش ملاحظہ کیجیے :

’’آج تم نے مجھے اپنی چاہت کا یہ ذرا سا ثبوت دے کر میری جان بچائی۔ پتا نہیں تم نے کیوں ایسا کیا، ممکن ہے میری عمر کی وجہ سے،  ممکن ہے ذرا سی دیر کو میں تمہارے من کو بھا گئی ہوں،  ممکن ہے تم نے سوچا ہو کہ بھئی ذرا یہ سیر بھی دیکھیں،  یا تمہیں مجھ پر دیا آئی ہو‘‘۱۴۔

’’تم ایسے بلوان کے ساتھ ایک تربل عورت سنجوگ کے آنند کیسے سہہ سکتی ہے۔ یہ پریم کی شکتی ہے جو اسے اس جوگ بناتی ہے۔ سگندھ بھرا من موہن پھول جسے ابھی بھنورے نے چھوا تک نہ ہو چاہت کے کھلتے ہوئے درد کو کیسے جان سکتا ہے،  اس لیے میں ہاتھ جوڑ کر پرنام کرتی ہوں اور تمہارے چرن چھوتی ہوں کہ مجھے بھی آج سے اپنی داسیوں میں سے جانو‘‘۱۵۔

دوسرے اقتباس میں ہندی کے بہت سے مشکل الفاظ اسلوب کے بہاؤ میں رچ بس کر اس طرح اس کا حصہ بنے ہیں کہ جانے بغیر ہی ان کا مفہوم پڑھنے والے تک پہنچ جاتا ہے۔ اکرام قمر اسی خصوصیت کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ: ’’میرا جی نے اس کتاب کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ کہیں بھی ترجمے کا دھوکا نہیں ہوتا‘‘۱۶۔

نظم کو نثر میں ترجمہ کر کے اس میں کہانی کاسا مزہ پیدا کرنا اور مکالمے کو اس کے نیچرل انداز میں اس طرح اُبھارنا کہ کردار کا نفسیاتی چہرہ سامنے آ جائے میرا جی کا کمال ہے۔ ایک مثال ملاحظہ کیجیے :

’’اور کیوں جی، یہ کنت مالا کو اتنے مزے میں آ کر کیوں تک رہے تھے تم؟ کبھی تمہاری نظریں اس کے کندھوں پر جاتی تھیں،  کبھی چھاتیوں پر جاتی تھیں اور کبھی تم اس کے کولہوں کو تاکتے تھے اور اس موئی کو بھی تو دیکھ کیسی ڈھیٹ نرلاج ہے،  لہنگے کے جھول کو ایک طرف سے کس کر بھرے بازار میں کولہا اُبھار رکھا تھا‘‘۔

یہ مکالمہ بولنے والے کے کردار کی نفسیاتی گرہ کشائی تو کرتا ہے،  دوسرے کردار کی ہوس پرستی یعنی مرد کی لذت پرستی کے ساتھ ساتھ ایک تیسرے کردار یعنی کنت مالا کا جسمانی پیکر بھی تراش دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے پیشہ ورانہ رقابت اور طوائفوں کے طور طریقوں اور لبھانے کے گروں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

اپنے مزاج اور موضوع کے لحاظ سے یہ ترجمہ بھرتری ہری کے شتکوں کے تراجم سے بڑی مماثلت رکھتا ہے۔ اوپر والے اقتباس کو ہری کے اس شتک سے ملا کر پڑھیے :

’’یہ ہوا کیا؟ کیا اس کنول سے چہرے سے اس کے نچلے ہونٹ کا اُمڈا ہوا امرت کسی کے بوسے نے چوس لیا ہے ‘‘۔

ان دونوں ترجموں میں موضوع کی مماثلت کے ساتھ ساتھ لطف اندوزی کا ایک رویہ بھی ہے۔ میرا جی نے یہ دونوں تراجم بمبئی کے زمانہ میں ہی کیے ہیں۔ دونوں متراجم میں زبان کا ایک سا سلیقہ یعنی اردو ہندی کا خوبصورت امتزاج اور زبان کا ایک سا مزاج پایا جاتا ہے۔

میرا جی کے تراجم زبان کی سلامت و روانی اور مفہوم و فضا کے ابلاغ کی وجہ سے ترجمے محسوس نہیں ہوتے۔ یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اصل خیال کو مکرر تخلیق کیا ہے۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ترجمہ اُردو زبان کا نہ صرف ایک حصہ بن جائے بلکہ اس کے ثقافتی اور سماجی رویوں میں بھی اس طرح ڈھل جائے کہ اس میں کسی طرح اجنبی بوباس باقی نہ رہے۔ اس کے لیے وہ بعض اوقات ترمیم و اضافہ بھی کر لیتے تھے لیکن یہ ترمیم و اضافہ اصلی خیال کی شکل و صورت، معنوں اورمزاج کو تبدیل کرنا بلکہ کسی حد تک اس کی وضاحت کر کے اس کے معنوی و فکری حسن میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ ایک ترجمہ نگار کی حیثیت سے بھی میرا جی نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ ان کے ترجموں نے اُردو زبان و ادب ہی کو نئے دریچوں سے آشنا نہیں کیا، ان کے اپنے فن اور مختلف زبانوں پر ان کی گرفت کا لوہا منوایا ہے۔ یہ ترجمے آج بھی اپنی انفرادیت، فکری اساس اور زبانو بیان کے حوالے سے اپنی ایک الگ افا دیت اور مقام رکھتے ہیں۔

٭٭

 

حواشی

۱- گوئٹے بحوالہ مظفر علی سید، فن ترجمہ کے اصولی مباحث مشمولہ اردو زبان میں ترجمے کے مسائل مرتب ڈاکٹر اعجاز راہی ص ۳۱ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

۲- مظفر علی سید ایضاً ایضاً

۳-مولانا صلاح الدین احمد، میرا جی کے چند منظوم تراجم مشمولہ ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور شمارہ جنوری ۱۹۵۸ء ص ۳۴

۴- اشفاق احمد کا خط راقم کے نام بتاریخ ۲۸ نومبر ۱۹۹۰ء

۵-سعادت حسن منٹو، دیباچہ نگار خانہ ص ۹ مکتبہ جدید لاہور ۱۹۵۰ء

۶-ایضاً، ایضاً ص ۱۰ ایضاً

۷-میرا جی، اداریہ ’’خیال‘‘ بمبئی شمارہ جنوری ۱۹۴۹ء ص ۴

۸-’’خیال‘‘ بمبئی شمارہ فروری ۱۹۴۹ء ص ۷۷

۹-نگار خانہ ص ۳۹

۱۰-نگار خانہ ص ۹۶

۱۱-نگار خانہ ص ۶؂

۱۲-نگار خانہ ص ۱۳

۱۳-نگار خانہ ص ۴۱-۴۲

۱۴-نگار خانہ ص ۴۷

۱۵-اکرام قمر، میرا جی کی آخری تحریریں مشمولہ ’’ادبی دنیا‘‘ لاہور شمارہ مئی ۱۹۵۲ء ص ۸۵

۱۶-میرا جی، ذی شان اور ہراکو نمسکار مشمولہ ’’شعر و حکمت‘‘ حیدر آباد دور دوم، کتاب اول ۱۹۸۷ء ص ۷۲

٭٭٭

 

 

 

 

میرا جی کا نگار خانہ

 

                مبشر احمد میر

 

منٹو لگی لپٹی رکھے بغیر دوسروں کے بارے میں ہی رائے نہیں دیتے تھے بلکہ اپنی کوتاہیوں کا بھی کھل کر اعتراف کرتے تھے۔ انھوں نے میراجی کی وفات کے بعد شائع ہونے والے کٹنی متم (جسے ترجمے میں نٹنی متم لکھا گیا) کے ترجمے کا دیباچہ لکھتے ہوئے تسلیم کیا کہ ’’مجھے ضرور یہ اعتراف کرنا ہے کہ میں پوری طرح حق ادا نہیں کر سکا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شعر و شاعری کے بارے میں میرا علم محدود ہے۔ ‘‘ (۱) اسی دیباچہ میں منٹو محققین کو توجہ دلاتے ہوئے لکھا:

۱۔ ’’نٹنی متم کس نے لکھی؟ لکھنے والے شاعر کے معاصر کون تھے ؟ اس وقت شاعر کس دور میں تھی؟ اس کے متعلق محققین ہی کچھ کَہ سکتے ہیں۔ ‘‘ (۲)

۲۔ ’’میرا جی مرحوم میرا خیال ہے سنسکرت کے عالم نہیں تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ’نٹنی متم‘ کا خیال انھوں نے براہ راست سنسکرت زبان سے نہیں لیا۔ یہ کتاب ترجمہ در ترجمہ ہے۔ سنسکرت کی تمام مشہور کتابیں انگریزی میں منتقل ہو چکی ہیں۔ ’نٹنی متم‘ بھی یقیناً انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہو گی، جس سے میرا جی مرحوم نے استفادہ کیا۔ ‘‘ (۳)

ڈاکٹر رشید امجد نے ’’میرا جی (کی) شخصیت اور فن‘‘ پر اپنے تحقیقی مقالے میں ’’نگار خانہ‘‘ کو منٹو کی جانب سے ترجمہ در ترجمہ قرار دیئے جانے کے نظریے کی تائید میں کچھ شواہد پیش کرتے ہوئے لکھا:

یہ ترجمہ بھی انگریزی سے کیا گیا ہے۔ یہ طویل نظم دوسری بہت سی مشرقی کہانیوں کے ساتھ ایک انگریزی انتھالوجی Romances of the East میں شامل تھی۔ (اس پر مرتب کا نام درج نہیں ) یہ انتھالوجی ایک زمانے میں (۱۹۴۸ء تک) پنجاب پبلک لائیبریری میں موجود تھی۔ میرا جی نے اسے وہیں دیکھا اور ترجمے کے لیے منتخب کر لیا۔ ………… اب نہ Romances of the East کی کوئی جلد دستیاب ہے اور نہ اصل سنسکرت مواد۔ ‘‘ (۴)

کٹنی متم اور اس کے تخلیق کار کے بارے میں ساہتیہ اکیڈمی کا مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا آف انڈین لٹریچر بہت سے رازوں کو منکشف کرتا ہے۔ اس کے مقالہ نگار ستیش چندر بھٹاچاریہ کے مطابق Kuttnimata کا مصنف Damodoragupta بہت عرصہ تک گوشہ گمنامی میں پڑا رہا اور کچھ مبصرین تو اس کے اشعار کو دوسرے شاعروں کی طرف بھی منسوب کرتے رہے۔ اس کا اولین نسخہ ۱۸۸۳ء میں Peterson نے دریافت کیا جس کے اوراق کٹے پھٹے اور غیرمربوط تھے۔ ۱۸۸۶ء میں درگا پرشاد نے دو مزید نسخے دریافت کیے ؛ یہ نسخے بھی خستہ حال تھے۔ ایچ بی شاستری نے Kuttnimata کا بنگالی رسم الخط میں تحریر کیا ہوا مکمل نیپال سے ڈھونڈ نکالا۔ ستیش چندر بھٹا چاریہ نے اس نسخے کی دریافت کا سال تحریر نہیں کیا۔ ۱۹۰۳ء میں Johann Jakob Meyerنے Mores et Amores Indorum کے عنوان سے Kuttnimata اور Kashemendra کی کتاب Samayamtrika کا (جرمن زبان میں )ترجمہ شائع کیا۔ مقالہ نگار کے مطابق کچھ سکالرز نے مل کر ’کٹنی متم‘ کا Lessons of a Bawd کے عنوان سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ (۵) انھوں نے چند اور تراجم کا ذکر کیا ہے لیکن ان میں سے کوئی Romances of the East کے نام سے نہیں ہے۔

البتہ Google Books کے مطابق Edward Powys Mathers نے Eastern Love کے عنوان سے منتخب مشرقی شاعری کے ترجمے کیے تھے۔ جس کی تیسری جلد جو ۱۹۳۰ء میں Horace Liveright نے شائع کی میں دامودر گپت اور کشمندر کے تراجم شامل تھے۔ E P Mathers نے یہ ترجمہ غالباً Meyer کی Mores et Amores Indorum سے کیا ہو گا کیونکہ ہر دو تراجم کے شاعر مشترک ہیں۔

اندریں حالات ڈاکٹر رشید امجد کے مطابق پنجاب پبلک لائیبریری میں ۱۹۴۸ء تک موجود Romances of the East وہ نسخہ جس پر مرتب کا نام درج نہیں تھا اور جسے میرا جی نے ترجمے کے لیے منتخب کیا؛ ستیش چند بھٹا چاریہ کی بیان کردہ Lessons of a Bawd یا ای پی ماتھر کی Eastern Love میں سے کوئی سا ایک ترجمہ ہو گا۔ ہر دو صورتوں میں میرا جی کا یہ ترجمہ منٹو کے گمان ترجمہ در ترجمہ سے مزید آگے ترجمہ در ترجمہ کا ترجمہ ہے۔

Encyclopedic Dictionery of Sinskrit Literature کے مطابق کٹنی متم کا خالق دامودر گپت (۷۷۹ء۔ ۸۱۳ء) کشمیر کے جے پدھ کے دربار سے وابستہ سنسکرت زبان کا شاعر تھا۔ اگرچہ کٹنی متم ایک فرسودہ موضوع کی حامل نظم ہے تاہم سنسکرت ادب کے مختلف ناقدین نے اس کے خالق کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے۔

جیسا کا پہلے ذکر ہو چکا ہے کٹنی متم کی کہانی ایک فرسودہ موضوع یعنی طوائف کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی کے مطابق مالتی نامی ایک نوجوان اور خوبصورت طوائف گاہکوں کے پھانسنے میں ناکامی پر ایک تجربہ کار نائکہ وکرال سے اپنے پیشے کر گر سیکھنے کے لیے رجوع کرتی ہے۔ جو اسے خوشامد اور مکر و فریب کے ذریعے دولت مند نوجوانوں کو بے وقوف بنا کر لوٹنے کے طریقے بتاتے ہوئے اسے ہرالتا اور سدھرشنا نامی طوائفوں کے علاوہ منجری نامی رقاصہ کی کہانیاں سناتی ہے۔

Encyclopedic Dictionery of Sinskrit Literature کا مقالہ نگار دامودر گپت کے اسلوب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :

“The auther’s command over the language is commandabale, his diction melodious, style simple and effctive and poetic endowments of no mean order.”

(۶)

 

اگرچہ اوپر دیے گئے کٹنی متم کے خالق اور اس کا ترجمہ کرتے ہوئے میرا جی کو دستیاب ماخذ کے بارے میں سعادت حسن منٹو کے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات بذاتِ خود مزید تحقیق کے متقاضی ہیں لیکن چونکہ ان ماخذات تک محدود وقت میں رسائی ممکن نہیں اس لیے اٹھنے والے سوالات کو حقیقی محققین کے لیے چھوڑتے ہوئے ترجمے کے محرک کا جائزہ لیتے ہیں۔

٭٭٭

سعادت حسن منٹو،  میرا جی کے بارے پھیلائے گئے عمومی تاثر کے زیر اثر انھیں ’’جنس زدہ‘‘ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک کٹنی متم کا ’’موضوع (بھی) ٹھیٹ جنسیاتی ہے۔ ‘‘ (۷) اس طرح انھوں نے یہ تاثر دیا کہ طبعی مناسبت کی بنا پر میرا جی نے اپنے پسندیدہ موضوع پر مبنی اس Erotict کتاب کو ترجمے کے لیے منتخب کیا۔

اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے ’’نگار خانہ‘‘ کی اولین اشاعت کے موقع پر ’’خیال‘‘ بمبئی کے جنوری ۱۹۴۹ء کے اداریے میں لکھا:

’’موجودہ دور میں اس ترجمے کا یہ مقام ہے کہ اسے پڑھ کر قدیم ہندوستان کے گھناؤنے چہرے کی نقاب کشائی ہوتی ہے اور جاگیردارانہ نظام سے نفرت پیدا ہوتی ہے ………… دامودر گپت کی پیروی میں آج ہم ایسی چیزیں ہرگز نہ لکھیں گے لیکن ایسی چیزیں پڑھیں گے ضرور تاکہ ہماری دنیا میں وہ ماحول ہی نہ رہنے پائے جو محض لذت کو حیات بنا دیتا ہے۔ ‘‘ (۸)

بظاہر کٹنی متم ’’ہدایت نامہ طوئف ‘‘نوع کی کتاب دکھائی دیتی ہے۔ جس میں وکرالا نامی ’’منحوس صورت مکروہ بڑھیا (۹) حسین و جمیل نوجوان طوائف مالتی کو ’’پریمیوں کے چناؤ کی سوجھ بوجھ‘‘(۱۰) دیتی ہے کیونکہ کامیاب بیسوا کا مقصد ہی ’’دھن والوں کو اپنی طرف کھینچنا اور دوسرے کنگالوں کو دور دور رکھنا‘‘(۱۱) ہوا کرتا ہے۔ اس طرح وکرالا طوائف کے طریقِ کار کی عکاسی کرتے ہوئے معاشرے میں اس کے مقام کا تعین کرتے ہوئے طوائف کے حسن و جمال اور اس کی دلبرانہ اداؤں کے عقب میں گھناؤنے عزائم سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہی نہیں وکرالا اپنے بھاشن کے پردے میں جاگیردارانہ معاشرے کی اشرافیہ اور طوائف کے مابین تعلقات کو بھی عیاں کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں کچھ افراد منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں ؛ جب کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کر لیتے ہیں۔ معاشرے کے وسائلِ پیداور اور ان پیدا ہونی والی دولت پر انھی دو طبقات کا قبضہ ہوتا ہے۔ اس لیے دوسروں کی محنت کے کارن ان کی ساری زندگی عیش و عشرت میں بسر ہوتی ہے۔ سماج کی یہ ہیئت ترکیبی ظالمانہ ہونے کے باعث محنت کش کو اس کی محنت کا اجر دینے سے اجتناب کرتی ہے۔ مقتدر طبقات غمِ روزگار سے آزاد ہونے کے باعث عیش و عشرت اور دولت کی نمائش پر مائل ہوتا ہے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر خوشامدی مصاحب اپنے نان نفقے کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔ بیسوا یا طوائف کا شمار بھی انھی طبقات میں ہوتا ہے جو اپنے چلتروں سے اس عیاش طبقے کو لوٹتا ہے،  لیکن اس معاشرے کا اصل المیہ یہ ہے کہ اس کہ ہیئت کو بدلنے کی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ طوائف بھی اس کے اندر رہتے ہوئے اپنی حیات کا سامان فراہم کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ اس طرح ظلم و نا انصافی کا ختم نہ ہونے والا چکر چلتا چلا جاتا ہے اور ایک وقت اآتا ہے کہ معاشرہ کھوکھلا ہو کر انہدام کا شکار ہونے لگتا ہے۔

دامودر گپت نے کٹنی متم میں ہندوستان کے جاگیردارانہ سماج میں پائی جانے والی دھونس دھاندلی اور ہیرا پھیری کے ذریعے ذرائع پیداور ہتھیانے اور دوسروں کی محنت پر عیش کرنے والے طاقتور طبقات کی لذت پرستی اور خوشامد پسندی کو عیاں کیا۔ معاشرے میں پائی جانے والی کرپشن کا کوٹھے پر بیٹھنے والی طوائف کی ماں کی زبان سے کچھ اس طرح احوال بیان کرتا ہے :

’’اس آبکاری کے داروغہ کی طرف ہی دیکھو؛ راجہ کے خزانے میں سے وہ جتنا چاہے اِدھر اُدھر کر سکتا ہے۔ محکمہ مال کا ہزاروں لاکھوں روپیہ اُس کے ہاتھوں کے نیچے رہتا ہے اور اس کی حفاظت کا اسے کچھ خیال بھی نہیں ؛ ایمانداری سے وہ کوسوں دور ہے۔ ‘‘ (۱۲

ایک اور نودولتیے کا ذکر کچھ اس طرح سناتا ہے :

’’بیوپار کے مال پر جو چنگی کی جو آمدنی ہوتی ہے وہ ساری راجا کے خزانے تک تو پہنچتی ہی ہنہیں کیونکہ اس میں تو ’نرمدا‘ کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں اور یہ ساری مہربانی ’رام سین‘ کی ہے جو منڈیوں کا داروغہ ہے۔ ‘‘ (۱۳)

یہ وہ طبقہ ہے جسے اپنی ناجائز ذرایع سے کمائی گئی دولت کو ناجائز کاموں پر لٹانے میں کوئی عار نہیں۔ جب کہ منہ میں سونے کاچمچہ لے کر پیدا ہونے والوں کو بہ آسانی ناز و ادا اور چاپلوسی سے بے وقوف بنا کر معاشرے کے ڈھانچے کو بدلے بغیر اپنا مقام بنایا جا سکتا ہے۔ میرا جی نے بھی اس کتاب کی انھی خوبیوں کی بنا پر اس کا ترجمہ شروع کیا جو بوجوہ مکمل نہ ہو سکا۔

مارکیٹ میں میرا جی کے کیے گئے ترجمے کا پہلا حصہ ہی دستیاب ہے جس میں جہاندیدہ وکرال نامی نائکہ نوجوان و حسین طوائف مالتی کو شوقین مزاج خوشحال نوجوانوں کو اپنے ناز و ادا اور خوشامد سے رجھا کر لوٹنے کے طریق بتا رہی ہے۔ جب کہ کٹنی متم کے اصل مسودے کے مطابق ان طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ہرالتا، سدھرشنا اور مالتی کی کہانیوں کو بھی بیان کرتی ہے۔

٭٭٭

میرا جی کے اس ترجمے کو پڑھ کر سعادت حسن منٹو کو گمان گزرا کہ اس میں ’’وہ سب ادائیں،  وہ سب نخرے،  وہ سب چلتر، وہ سب گر موجود ہیں جو آج سے سو سال پہلے آگرے اور دلی کے چکلوں میں رائج تھے۔ ‘‘ (۱۴)

اگرچہ میرا جی نے یہ ترجمہ سنسکرت سے براہ راست نہیں کیا اور ترجمہ در ترجمہ کے عمل میں اصل متن کس حد تک بچ پایا لیکن ان سب مسائل ترجمہ کے باوجود ’’نگار خانہ‘‘ میں میرا جی کی ترجمہ کردہ دامودر گپت کے دور کی طوائف اور عصر حاضر کی طوائف کی مماثلت میں میرا جی کے کمال کا بھی گہرا عمل دخل ہے۔ جو من و تو کے قائل نہیں ہیں ؛ محبوب کو اپنا نہیں بنا سکے تو اپنے آپ کو اسی کے تصور میں گم کر دیا۔ میرا سین کے حقیقی یا تصوراتی عشق میں گرفتار ہوئے تو ’’رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھن ہوئی‘‘ کے مصداق ثنا اللہ ڈار سے میرا جی بن گئے۔ جب کہ ترجمہ کرتے ہوئے وہ متن کو کچھ اس طرح اپنا بنا لیتے ہیں کہ اجنبیت اور غیریت کا شائبہ تک نہیں گزرتا۔ اسے ان کے تراجم کی خوبی کے ساتھ ساتھ سب سے بڑی خامی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں جان منسفیلڈ کی ایک نظم کا ترجمہ بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ جس میں انگلستان کے اس شاعر کی محبوبہ کے ماتھے پر بندی لگا کر اسے مغربی حسینہ کی بجائے ہندوستانی ناری بناتے ہوئے کچھ اس طرح ترجمہ کرتے ہیں۔

میں نے دیکھے چاند ستارے،  میں نے دیکھا آکاس

لیکن اُس ماتھے کی بندی، اُس کا ڈھیلا ڈھالا لباس

ساون رُت کی بھیگی ہوا میں مَیں نے سونگھی بھینی باس

لیکن سانس کی خوشبو، کالے بال بجھائیں میری پیاس

ناچ بھی دیکھے پریوں والے اور سنے بنگالی گیت

لیکن اُس کی چال انوکھی اور اُس کی باتوں کی ریت

(۱۵)

 

جب کہ طامس مور کی ایک نظم کا ’’کسوٹی‘‘ کے نام سے ترجمہ کرتے سمے اصل نظم کے کرداروں کے اسما تک ’میرا‘ اور ’شاما‘ سے بدل دیے اور اس کا جواز بیان کرتے ہوئے لکھا کہ، ’’ترجمے میں اسمائے معروفہ کی تبدیلی ہندوستانی ذہن کے لیے رومان انگیزی کی بنا پر کی گئی ہے۔ (۱۶)میرا جی کا موقف سر آنکھوں پر؛ واقعی اس ترجمے سے ہندوستانی ذہن کو نظم میں پنہاں رومانوی فضا کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی لیکن اس ترجمے سے ہم مغربی شاعری کی روایت اور اس میں استعمال ہونے والے استعاروں سے بالکل بے بہرہ رہتے ہیں۔ اگر ترجمے کا مقصد کسی معاشرے کو سمجھنا ہے تو میرا جی کے تراجم قاری کی تشفی کرنے میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں۔

تاہم دامودر گپت کے دور کی طوائف اور انیسویں صدی میں آگرے اور دلی کی ڈیرے دار طوائفوں کے طریق کار میں پائی جانی والی یکسانیت کے بارے میں سعادت حسن منٹو کے مشاہدے سے اختلاف ممکن نہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ دامودر گپت کے دور سے انیسویں صدی تک کے ہندوستانی معاشرہ جمود کا شکار رہا۔ جس کے ڈھانچے میں حکمران بدلنے کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل فرنگیوں کی آمد سے شروع ہوا لیکن آج بھی ہمارا معاشرہ تبدیلی کے اس عمل کے خلاف تعصبات رکھتا اور اس کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔ ان حالات میں منٹو کو طوائف کا ادارہ ہزار سال پرانی ڈگر پر کامیابی سے چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔

٭٭٭

اگرچہ میراجی ترقی پسندوں کی مانند میں ادب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی ان کا سیاست سے کوئی تعلق تھا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے گردوپیش ہونے والی سماجی تبدیلیوں سے بھی بے بہرہ ہیں۔ ان کے اس سماجی شعور کا ثبوت کٹنی متم کا ترجمہ کرنے سے ملتا ہے۔ یہی نہیں ترجمہ کرتے ہوئے وہ جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ بھی ان کے اس سماجی شعور کا پتہ دیتی ہے۔ اپنے رویوں وہ بظاہر ابنارمل نظر آتے تھے لیکن اس کا سبب معاشرے میں پائے جانے والے ظلم، نا انصافی اور نفرت کے رویوں کے خلاف احتجاج بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں تک ان کے تراجم کا تعلق ہے تو انھوں نے مغرب اور مشرق کے مابین فرق کو مٹانے کی اپنی سی کوشش کی۔ اسی طرح وہ ہندوستان میں بڑھتے ہوئے مذہبی اور لسانی تعصبات کے خلاف اپنے انداز میں جہاد کیا اور ایک ایسا اسلوب اختیار کیا جو ہندی اور اردو کو ایک دوسرے کے قریب لانے والا ہے۔ وہ اپنے منظوم و منثور تراجم میں معرب و مفرس اردو سے گریز کرتے ہوئے شعوری سطح پر وہ زبان استعمال کرتے ہیں جس میں ہندوستان کی سوندھی بو باس پائی جاتی ہے۔ کٹنی متم کا ترجمہ کرتے ہوئے انھوں نے ہندی آمیز اردو کے استعمال کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھا:

اسے اس زبان میں ترجمہ کیا ہے جسے پڑھنے کے بعد کل ہند زبان کے تنازع کا امکان ہی باقی نہیں رہتا۔ ‘‘ (۱۷)

تعصبات اور نفرتوں کی لہروں میں بہتے ہوئے نام نہاد دانشوروں نے میراجی کی پکار پر کان دھرنے کی بجائے اردو سے مقامی اور ہندی سے ایرانی الفاظ کو چن چن کر نکالنا شروع کر دیا لیکن یہ غیر فطری عمل قبولِ عام حاصل نہ کر سکا اور آج بھی پاکستان کے عوام بالی وڈ کی ان فلموں کو جنھیں بھارت میں ہندی قرار دے کر ریلیز کیا جاتا ہے اردو سمجھ کر بڑی خوشی سے دیکھتے ہیں۔

٭٭٭

حوالہ جات

۱۔ سعادت حسن منٹو۔ ’’دیباچہ‘‘ مشمولہ ’’نگار خانہ‘‘ ترجمہ از میرا جی۔ بک ہوم، لاہور۔ اشاعت جنوری ۲۰۰۴ء۔ ص ۸

۲۔ سعادت حسن منٹو۔ ’’نگار خانہ‘‘۔ ص ۶

۳۔ سعادت حسن منٹو۔ ’’نگار خانہ‘‘۔ ص ۳۸۴۔ رشید امجد، ڈاکٹر۔ ’’میرا جی: شخصیت اور فن‘‘۔ لاہور۔ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی۔ ۱۹۹۵ء۔ اشاعت اول۔ ص ۲۳۶

۵۔ Abstract: “Encyclopaedia of Indian Literature”, Vol 03, Sahitya Akademi New Delhi 2003, P 2211.13

۶۔ Encyclopaediic Dictionary of Sinsikrit Literature; Vol 01, by J. N. Bhattacharya & Nilangana Sarkar, Global Vision Poblishing, Delhi, 2004, P. 323

۷۔ سعادت حسن منٹو۔ ’’نگار خانہ‘‘۔ ص ۶

۸۔ بحوالہ رشید امجد، ڈاکٹر۔ ’’میرا جی: شخصیت اور فن‘‘۔ ص۲۳۷

۹۔ دامودر گپت۔ ’’نگار خانہ‘‘ ترجہ از میرا جی۔ لاہور۔ بک ہوم۔ ۲۰۰۴ء۔ ص۱۲

۱۰۔ دامودر گپت۔ ’’نگار خانہ‘‘ ترجہ از میرا جی۔ ص۱۴

۱۱۔ دامودر گپت۔ ’’نگار خانہ‘‘ ترجہ از میرا جی۔ ص۱۴

۱۲۔ دامودر گپت۔ ’’نگار خانہ‘‘ ترجہ از میرا جی۔ ص۴۱۔ ۴۲

۱۳۔ دامودر گپت۔ ’’نگار خانہ‘‘ ترجہ از میرا جی۔ ص۴۳

۱۴۔ سعادت حسن منٹو۔ ’’دیباچہ‘‘ مشمولہ ’’نگار خانہ‘‘۔ ص۷

۱۵۔ میرا جی۔ ’’ مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘ اشاعت دوم۔ آج کی کتابیں۔ کراچی۔

۱۹۹۹ء۔ ص۱۲۹

۱۶۔ میرا جی۔ ’’ مشرق و مغرب کے نغمے ‘‘۔ ص۹۱

۱۷۔ بحوالہ رشید امجد، ڈاکٹر۔ ’’میرا جی: شخصیت اور فن‘‘۔ ص۲۳۸

٭٭٭

ماخذ: جدید ادب، جرمنی، میرا جی نمبر

تشکر: وقاص،پنجند لائبریری جنہوں نے جدید ادب، میرا جی نمبر کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید