FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

توحید اور ہم

 

 

  بشیر احمد لودھی

 

1۔ مقدمہ

    چند سال پہلے میں نے نذیر احمد بھٹی کو ایک خط لکھا جسے “انجمن اصلاح معاشرہ سیالکوٹ” نے کتاب کی شکل میں بعنوان “توحید اور ہم” اپنے خرچ پر چھپوا کر تقسیم کیا۔ الحمد للہ! قارئین کی اکثریت نے اسے پسند فرمایا۔ اب احباب کے بار بار مطالبے پر اپنے خیالات کو ایک بار پھر پیش کر رہا ہوں۔ میں فرقہ بندی کو گناہ سمجھتا ہوں اور اور دعائے خیر کی تمنّا کے سوا میری کوئی غرض نہیں ہے۔ مجھے اپنی بے بضاعتی کا شدت سے احساس ہے۔ بایں ہمہ میں آپ سے مخاطب ہونے کی جسارت کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ میں آپ کو اپنا ہم خیال نہ بنا سکوں اور میری تحقیق آپ کے عقائد سے متصادم ہو، مگر درست سے غلط کو اور حق سے باطل کو الگ کرنے کی کوئی نہ کوئی کسوٹی ہوتی ہے۔

    مسلمان کے لیے جو اصول اور معیار قرآن اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مقرر کیا ہے اس سے بہتر کوئی کسوٹی نہیں ہو سکتی۔

    یہ بات آپ بھی ذہن میں رکھیں اور تعصب کو حق کی ارہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ گالم گلوچ کرنا اور غصے میں آ کر کتاب جلا دینا دیوانوں کا کام ہے۔ اسے کھلے دل سے پڑھیں اور پھر قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھیں۔ بات کھری ہو تو میرے لیے دعا فرمائیں، غلط خیال کریں تو خط لکھ کر میری راہنمائی اور اصلاح فرما دیں۔ خلوص نیت سے دعا فرمائیں کے اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو وہ راہ دکھائے جو اس کے حبیب محمد عربی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی راہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو۔ آئے مل کر دعا کریں۔

    اس بات کا اعتراف کرنا بھی نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں کوئی عالم فاضل، کوئی مولوی و پیر، کوئی صوفی و درویش یا زاہدِ شب بیدار نہیں ہوں کہ اپنی کسی خوبی پر فخر کر سکوں۔

    بلکہ بقول اقبال ؂

    ہندی ہونے پر ناز جسے تھا آج حجازی بن بیٹھا

    اس محفل کا یہ رند پرانا آج نمازی بن بیٹھا

    کے مصداق میں وہ سیاہ رُو اور سیاہ کار ہوں جس کی زندگی کا بہترین زمانہ جہالت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھاتے گزرا۔ ابتدائی تعلیم مندر میں واقع پرائمری سکول میں ہونے کی وجہ سے بچپن میں بتوں اور مندروں سے نہ صرف خاصی عقیدت تھی بلکہ ہندو مذہب میں رغبت کی وجہ سے میرے والدین خاصے پریشان تھے۔ یہ صرف میرے رب کا فضل ہے جو اس بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے آیا۔ الحمد اللہ! آج فرقہ بندی کی لعنت سے بالا تر اور جذبہ ہمدردی سے سرشار ہو کر میں اپنے عزیزوں سے اس لیے مخاطب ہوں کہ میری یہ تحریر کسی گم کردہ راہ کے لیے بانگ درا و مشعل راہ بنے اور میرے لیے سرمایہ نجات ہو۔ شاید میری یہ حقیر کاوش مقبولِ بارگاہ ہو اور وہ غفور و رحیم میری روسیاہی کو دھو ڈالے تاکہ قیامت کے دن میں بھی منہ دکھانے کے قابل ہو جاؤں۔ میں کوئی شاعر و ادیب نہیں کہ پیچ دار زبان پیش کر سکوں بلکہ میری تحریر میں زبان و بیان کی کچھ غلطیاں بھی ہوں گی، لہٰذا آپ زبان کی تمام خامیوں کو نظر انداز کر کے میرے اصل مقصد پر توجہ فرمائیں۔

    میں نے صرف زیر بحث موضوع کو ذہن نشین کروانے کے لیے طوالت سے دامن بچاتے ہوئے اختصار سے کام لیا ہے۔ اگر آپ پیش کردہ آیات کو سیاق و سباق کے ساتھ قرآن سے پڑھیں تو زیادہ اچھا ہو گا۔

    بشیر احمد لودھی (فتح گڑھ۔ سیالکوٹ)

 

    2-اللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہبِ باطلہ کا تصور

    2.1ہندو اور اللہ کا تصور

    یہ کہنا غلط ہے کہ ہندو اللہ کے منکر ہیں۔ ہندو صرف ایک اللہ کو مانتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اللہ کو کسی دوسرے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مثلاً ان کی مشہور مذہبی کتاب ’بھگوَت گیتا‘ میں اللہ تعالیٰ کو ’وِشنو ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کو تمام عیوب سے پاک، ہر شے کا خالق، نگران اور فنا کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔ اسی کو مظلوموں کی پناہ گاہ اور حق کے متلاشیوں کی منزلِ مقصود قرار دیا گیا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وشنو، او تاروں کی صورت میں زمین پر ظاہر ہوتا ہے۔ بقول ان کے، نرسنگھ اس کے چوتھے، رام چندر جی ساتویں اور کرشن جی مہاراج آٹھویں اوتار ہیں۔ بقول ان کے، وشنو مختلف وقتوں پر مختلف صورتوں میں زمین پر ظاہر ہوتا ہے۔ عین اسی طرح جس طرح آج مسلمان بھی کہنے لگے ہیں!

    وہی جو مستویٴ عرش تھا خدا ہو کر

    اتر پڑا مدینے میں مصطفی ہو کر

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاچڑ وانگ مدینہ ڈِسے تے کوٹ مٹھن بیت اللہ

    ظاہر وِچ پیر فریدن تے باطن وچ اللہ

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مٹی دا بت بنا کے آپے وِچ بہہ گیا

    جگاں نوں بنان والا کیہڑی کھیڈے پے گیا

    (استغفراللہ، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)

    ہندو عقائد کے مطابق ان بزرگوں کی عبادت فی الحقیقت ’وشنو‘ کی ہی عبادت ہے۔ اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ان دیوتاؤں کو خوش کرنا لازم اور ضروری ہے۔ ورنہ کہاں اللہ اور کہاں یہ آدمِ خاکی۔ غور فرمائیں کہ آج کے مسلمانوں کا عقیدہ اس سے کسی مقام پر مختلف ہے۔ یا یہی ہے؟

    جنگِ عظیم دوم کے شعلوں نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مجھے بھی فوجی ملازمت کے سلسلہ میں مشرقِ بعید (برما وغیرہ) میں گھومنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں عوامُ النّاس کا مذہب بُدھ َمت ہے۔ ان کے گھروں اور عبادت خانوں میں جانے کا اکثر اتفاق ہوا۔ گوتم بدھ کے بت دیکھے۔ ان کا عقیدہ بھی ہندو سے ملتا جلتا ہے، صرف ناموں کا فرق ہے۔

    2.2بتوں کے پجاری

    یہ کہنا غلط ہے کہ بُت پرست لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ لوگ بھی پتھر کو پتھر ہی جانتے ہیں۔ اگر پتھروں کی پوجا مقصود ہوتی تو وہ پہاڑوں کی پوجا کرتے۔ جہاں بڑے بڑے پتھر ہوتے ہیں اور وہ سڑکوں پر پتھر استعمال کر کے پتھر کی بے حرمتی کبھی نہ کرتے۔ مگر پتھر کو جب کسی قابل احترام بزرگ شخصیت سے منسوب کر کے لایا جاتا ہے تو پھر اس پتھر کا احترام کرنا اور اس کی پوجا کرنا وہ فرض جانتے ہیں۔ وہ دراصل اُ ن بزرگوں کی پوجا کرتے ہیں جن سے وہ پتھر یا لکڑی کا بت منسوب ہوتا ہے۔ مقصود بُت نہیں بلکہ بزرگ کی ذات ہوتی ہے۔ بت کا پجاری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ پوجا بزرگ کی مقصود ہوتی ہے۔

    2.3 انقلابات زمانہ

    جاپان کے شہر ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم (بڑا لڑکا اور چھوٹا لڑکا) نامی گرائے گئے۔ جاپان ختم ہو گیا۔ جاپان کی شکست کے ساتھ ہی جرمن فوجیں بھی منتشر ہو گئیں اور جنگِ عظیم دوم ختم ہو گئی۔ پھر پاکستان بن گیا۔ الحمدللہ۔ ہندو دوست بھارت چلے گئے، مسلمان دوست میسر آئے۔ وہ وقت بھی عجیب تھا کہ جذبۂ اسلام سب میں شدت سے پایا جاتا تھا۔ سب کے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ صبح اور دوپہر کو تلاوتِ قرآن باقاعدگی سے کرتے تھے۔

    میرے کانوں نے قرآن کی تلاوت نہایت ہی میٹھی پرکشش آواز میں پہلی بار 14 اگست 1947ء کو رات بارہ بجے ریڈیو پر سنی۔ ’صحبت صالح ترا، صالح کند‘ کے مصداق مجھے بھی زندگی میں پہلی بار قرآن پاک پڑھنے کا شوق ہوا۔ میرے باپ کی دعاؤں نے اپنا اثر دکھایا اور میں عملاً مسلمان ہو گیا۔ مندر کے بجائے مسجد جانے لگا۔ میں بھی آہستہ آہستہ قرآن پاک پڑھتا تھا۔ مگر میرے دل میں ایک بات راسخ ہو چکی تھی کہ بغیر ترجمہ کے قرآن پڑھنا دوسری زندگی میں تو مفید ہو گا مگر اس زندگی میں ہر گز مفید نہیں ہے۔

    اس لیے میں قرآن کے عربی الفاظ کے ساتھ اردو ترجمہ پر زیادہ غور کرتا تھا۔ میں نے ایک چھوٹا سا قرآن پاک خریدا۔ جو تاج کمپنی کا شائع کردہ تھا اور نیچے لفظی ترجمہ لکھا ہوا تھا۔ وہ آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ میں ایک روز میں چند ہی آیات پڑھتا تھا اور ان کا ترجمہ ذہن میں رکھتا۔ آیات کو ملا کر نتائج اخذ کرتا رہتا تھا۔ اس طرزِ عمل پر میرا اختلاف بھی کچھ دوستوں سے ہوا۔

    میں نے قرآن پاک میں پڑھا تھا:

    کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْا اٰیٰتِہ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوالْاَالْبَاب (صٰٓ : 29 )

    ’یہ بابرکت کتاب ہم نے تمہاری طرف اس لیے نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ فہم نصیحت حاصل کریں۔‘ ‘

    اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا (محمد24)

    ’توکیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟‘

    میں نے سوچا کہ ؂

    کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں؟

    فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غم دوش رہوں!

    (شکوۂ اقبال)

    2.4-علماء سے اختلاف

    مسلمانوں کی ہم نشینی کی وجہ سے کچھ علماء کرام کو سننے کا بھی اتفاق ہوا۔ میں نے مندر میں تعلیم پائی تھی اور بت پرستوں میں زندگی کا ایک حصہ گذار چکا تھا۔ اس لیے میں نے اُن علماء کرام کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ مکہ کے کافر و مشرک اللہ کے منکر تھے اور پتھر کے بتوں کو خدا مان کر پوجا کرتے تھے۔یہ سوال ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے قرآن کریم سے اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی۔میں نے قرآن سے پڑھ لیا کہ کُفّارِ مکہ بھی صرف ایک اللہ کو ہی اللہ، خالقِ کُل، مالکِ کُل، حاجت رَوا اور مشکل کُشا مانتے تھے۔ آپ کو اس بات سے حیرت ضرور ہو گی مگر قرآن پاک سے میرے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔

    2.5-کفارِ مکہ اور اللہ کا تصور

    نبی اکرم ا کے بتائے ہوئے طریقے پر کفارِ مکہ نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے حکم فرمایا کہ ان سے اللہ کے بارے میں چند سوال پوچھو۔ جو جواب ان سے متوقع تھا وہ بھی نقل فرما دیا۔ فرمایا:

    وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْن اَللهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ وَیَقْدِرُ لَہٗ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ علیم وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیٰ بِہِ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللهُ قُلِ الْحَمْدُِ للهِ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ (العنکبوت:63-61)

    ’اور اگر آپ اُن سے پوچھیں کہ کون ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے۔ پھر(یہ لوگ) کدھر اُلٹے چلے جا رہے ہیں؟ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہے روزی فراخ کر دیتا ہے۔ اور جس کیلئے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اللہ ہی سب چیزوں کے احوال سے واقف ہے۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے اور اُس سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے۔ تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ بھی اللہ ہی ہے۔ آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں مگر ان میں سے اکثر سمجھتے بھی نہیں۔ ‘

    غور فرمائیں! میں بھی اکثر سوچتا تھا کہ اللہ کو سب کچھ مانتے بھی ہیں۔ جس کی گواہی خود اللہ پاک دے رہے ہیں تو پھر وہ بے عقل اور گُم کردہ راہ (بھٹکے ہوئے )کیوں قرار پائے تھے؟ پھر میں نے اور بھی پڑھا:

    قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰہُ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ

    ’آپ کہیے کہ تم کو آسمان اور زمین سے رزق کون بہم پہنچاتا ہے؟ قوتِ سماعت و بصارت کا مالک کون ہے؟اور جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندارسے کون نکالتا ہے؟اور کون ہے جو(تمام) کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ پس یہ فوراً کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ ‘(یونس:31)

    میں حیران اس بات پر تھا کہ اس طرح اللہ کو ماننے میں کیا نقص ہے۔!! ہم بھی تو اسی طرح مانتے ہیں مگر اس طرح ماننے والوں کو ’نہ ڈرنے والے‘ فرمایا گیا ہے۔ آخر کیوں؟

    پھر ارشاد ہوا:

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ قُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (لقمان:25)

    ’اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ آپ کہیے کہ تمام تعریفوں کے لائق تو اللہ ہی کی ذات ہے۔ مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ ‘

    میں ان آیات کو دل میں جذبۂ جستجو دبائے ہوئے یکجا کرتا چلا گیا۔ حیران تھا کہ آخر نقص کیا ہے کہ ہماری طرح اللہ کو ماننے کے باوجود اِن لوگوں کو ’نہ جاننے والے‘ قرار دیا گیا۔ پھر میں نے ارشادِ ربّانی پڑھا۔

    قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھَآ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ قُلْاَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ سَیَقُوْلُوْنَِ للهِ قُلْاَفَلَا تَتَّقُوْنَ قُلْ مَنْم بِیَدِہ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَیَقُوْلُوْنَِ للهِ قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ (المؤمنون:89-84)

    ’ان کو فرمائیں کہ اگر تم کو کچھ علم ہے تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کے لیے ہیں تو یہ فوراً کہیں گے کہ اللہ ہی کے لیے۔ ان کو فرمائیں کیا تم کچھ نصیحت نہیں لیتے ہو؟ ان کو فرمائیں کہ سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پروردگار کون ہے؟ تو فوراً کہیں گے کہ اللہ۔ ان کو فرمائیں کہ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ ان سے پوچھیے کہ اگر تم کو کچھ علم ہے تو بتاؤ کہ کس کے دست قدرت میں ہر چیز کی بادشاہی ہے؟ وہ پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ فوراً کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ ان کو فرمائیں کہ تم پر جادو کہاں سے چل گیا ہے ؟ ‘

    جب میں نے یہ آیات پڑھیں تو دوسری باتوں کے علاوہ مجھے اس شعر کی صحت پر بھی سخت اختلاف ہوا :

    خدا کا پکڑا چھڑا لے محمد صلی اللہ علیہ وسلم

    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا

    آخر کیوں اور کس طرح؟ جب کہ اللہ کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ اگر آپ غور فرمائیں تو مندرجہ بالا آیات کو پڑھنے سے یہ بات صاف صاف سمجھ میں آتی ہے کہ کُفّارِ مکہ آسمان و زمین کا خالق، شمس و قمر کا پابندِ ضابطہ کرنے والا، رزق دینے کے علاوہ اس میں کمی و بیشی کرنے والا، ہر چیز کا کامل اور مکمل علم رکھنے والا، آسمانوں سے پانی نازل فرمانے والا، اس سے مردہ زمین کو جِلا بخشنے والا، مالکِ قوتِ سماعت و بصارت، مردہ چیز سے زندہ اور زندہ سے مردہ کا خالق، اس نا پیدا کنار کائنات کی منصوبہ بندی کرنے والا، زمین اور اس کے اندر کی ہر چیز کا مالک، سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا پروردگار جس کے دست قدرت میں ہر چیز ہے۔ ہر کسی کو پناہ دینے والا اور وہ جس سے کوئی بھی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ اللہ ہی کو مانتے تھے۔ اسی طرح جس طرح آج میں اور آپ مانتے ہیں۔ بلکہ میں قرآن میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا تھا کہ کفارِ مکہ دعائیں بھی اسی ایک اللہ سے مانگتے تھے۔ جس سے میں اور آپ مانگتے ہیں۔ لیجیے آپ بھی پڑھیے۔

    وَاِذْقَالُوا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْعَلَیْنَا حِجَارَۃ مِّنَ السَّمَآءِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (الأنفال: 32)

    ’اور جب انہوں نے کہا کہ اے ہمارے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا،یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ ‘

    یہ اس وقت کی بات ہے جب کفارِ مکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کے بڑھتے ہوئے اثر کو روک نہ سکے تو تھک ہار کر ابوجہل نے خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے اس کے غلاف کو پکڑ کر یہ دعا مانگی تھی۔ مگر آپ اس بحث میں نہ پڑیں کہ یہ کون تھا اور اس نے کس وقت کس حالت میں دعا مانگی تھی۔ آیت صاف بتا رہی ہے کہ کوئی منکرِ قرآن ہی تھا۔ پھر میں نے پڑھا :

    وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ (صٰٓ:16)

    ’اور(یہ لوگ )کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارا حصہ یومِ حساب سے قبل ہم کو دے ڈال۔ ‘

    میں جوں جوں یہ آیات پڑھتا گیا۔ میری حیرت بڑھتی گئی۔ یہ بات بھی عجب ہے کہ ایک قوم ہر چیز کا مالک و خالق بھی ہماری طرح اللہ ہی کو مانے اور ہر مشکل وقت پر دستِ  دعا بھی اسی کے سامنے دراز کرے۔ جس کے سامنے ہم کرتے ہیں۔ پھر بھی ہمیں تو اتنا دعوائے مسلمانی ہو، اور وہ کافر قرار پائے۔ اسے بات بات پر فرمایا جائے: ’تم کہاں گھوم رہے ہو ؟ ‘… ’ان میں سے اکثر بے عقل ہیں‘ … ’کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟‘ … ’ان میں سے اکثر بے علم ہیں‘ … ’کیا تم نصیحت نہیں لیتے ہو ؟ ‘ … ’تم کہاں سے سحرزدہ ہو گئے ہو ؟ ‘… وغیرہ وغیرہ۔ اس الجھن کو بھی قرآن کریم نے دور فرما دیا۔

    2.6-کافر کیوں؟ ․․․․․․․․․․․․․․

    میں کفارِ مکہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ دریافت کرنے کے لیے بے قرار ہو گیا۔ یہ کتابِ مقدس جو کہ:

ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ (البقرة:185)

    ’یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے،اور ہدایت کو بیان فرما کر حق و باطل میں فرق کو نمایاں کرنے والی کتاب ہے۔ ‘

    اس میں، میں نے ایک آیت پڑھی۔ لیجئے،آپ بھی پڑھیں اور اپنی پریشانی میری طرح دور کر لیں۔

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ مَالَایَضُرُّھُمْ وَلَایَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللهِ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُون (یونس:18)

    ’اور یہ اللہ کے سوا ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں۔ جو،اِن کونہ نقصا ن پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے حضور ہماری سفارش کرتے ہیں۔ ان کو فرما دیں کہ کیا تم اللہ کو آسمان اور زمین کی ان چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کا اس کو علم نہیں ہے؟تمہارے شرک سے اللہ پاک اور بلند و بالا ہے۔ ‘

    غور فرمائیں!کہ اس آیت میں ان لوگوں کا اصل قصور بتایا گیا ہے۔ اور اللہ پاک کے ہاں کسی فوت شدہ بزرگ کی روح کو پکارنا کہ وہ سفارش کرے، اسی کو اللہ پاک نے شرک قرار دیا ہے۔ پھر اسی قرآن ہی میں لکھا ہوا میں نے پڑھا۔ لیجیے آپ بھی پڑھیں:

وَالَّذِ یْنَ ا تَّخَذُ وْمِنْ دُوْنِہٓ اَوْلِیَآءَ مَا نَعْبُدُ ھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللهِ زُلْفٰی (الزُّمر:3)

    ’جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو ولی بنا رکھا ہے(ان کی بابت وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی بندگی اس غرض کے لیے ہی کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ کے قریب کر دیں۔ ‘

2.7-خلاصۂ کلام

    قرآن پاک کے پڑھنے سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ کفارِ مکہ بھی ہندو کی طرح ایک اللہ کے منکر نہ تھے۔ جبکہ وہ اسی سے دعائیں مانگتے تھے مگر اس کے ساتھ بزرگوں کی عبادت بھی کرتے تھے۔ یعنی ان اولیاء کی نذر و نیاز اور چڑھاوے بھی دیتے تھے۔ ان کے نام کے وظیفے بھی کرتے تھے کہ ان کی روحوں کو خوش کر لیا جائے تو یہ ہماری سفارش کرتے ہیں اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ ورنہ کہاں اللہ اور کہاں یہ آدمِ خاکی۔ بس یہ تھا فرق اور یہ تھا جھگڑا۔ ذرا غور کرنے پر میری روح لرز گئی کہ ہمارے مسلمان بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں۔ اگر آپ بھی ایسا کرتے ہیں تو آج ہی توبہ کر لیں۔ آئیے اب سفارش کی حقیقت پر غور کریں۔

 

3-سفارش کی حقیقت

        دنیا میں سفارش کے بل بوتے پر قدرت کا یہ شاہکار انسان وہ فعل کر گزرتا ہے کہ ’الامان‘۔ یہ قتل و غارت میں مصروف ہے۔ سفارش کے بل بوتے پر صاف بچ بھی جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کی محتاجی محسوس کرتا ہے۔ سفارش ماننی پڑتی ہے چاہے غلط ہو یا درست۔ مگر اللہ قادرِ مطلق پر یہ مثال صادق نہیں آتی۔ کیونکہ اللہ پر کسی کا دباؤ نہیں۔ اللہ نے ایک سوال پوچھا ہے:

    ضَرَبَ لَکُمْ مَّثلَاً مِّنْ اَنْفُسِکُمْ ھَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّامَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَارَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَھُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن (الروم:28)

        ’تمہارے لیے ہم تمہاری ہی جانوں سے ایک مثال پیش کرتے ہیں(وہ یہ کہ) کیا تمہارے غلام تمہاری اس دولت میں برابر کے شریک ہو سکتے ہیں۔ جو تم کو ہم نے دی ہوئی ہے؟ کیا تم ان سے اسی طرح ڈرنے لگتے ہو۔ جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے یا اپنے آپ سے ڈرتے ہو؟ اسی طرح ہم صاحبِ  عقل لوگوں کے لیے آیات بیان کرتے ہیں۔‘

        غور فرمائیں ! کہ آپ اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات میں،جو آپ کے اپنے بھی نہیں ہیں کسی کی مداخلت گوارا نہیں کرتے،تو اللہ کے لیے اس طرح کا تصور کیوں رکھتے ہیں؟ اللہ تو کسی کی سفارش مان لینے پر مجبور نہیں ہے۔ بلکہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں کوئی سفارش کر ہی نہیں سکے گا۔

        نبی اور ولی سب مجبور ہیں واں

        3.1-اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش

        ارشادِ ربانی دیکھئے۔

    لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّابِاِذْنِہ یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (البقرة255)

        ’آسمان و زمین کی ہر چیز صرف اسی کی ملکیت ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے؟ وہ تو ان کے سامنے اور پیچھے کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ‘

        گویا سفارش تو اس کے سامنے ہوتی ہے جو خود کمزور ہو اور اس کو ڈر ہو کہ اگر میں نے سفارش نہ مانی تو یہ سفارش کرنے والا ناراض ہو جائے گا اور میرا کوئی نقصان کرے گا، یا جب مجھے اس کی ضرورت ہو گی تو یہ میرے کام نہیں آئے گا۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ جس کے سامنے سفارش کی جاتی ہے اس کی معلومات محدود ہوتی ہیں۔ اس کو بتانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ جو آپ کے علم میں نہیں آیا وہ میں جانتا ہوں۔ اگر آپ میری بات پر یقین نہ کریں گے تو آپ ظلم کر بیٹھیں گے، بے انصافی ہو گی۔ اس کو بھی سفارش کرنے والے پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ شاید یہ سفارش کرنے والا درست ہی کہہ رہا ہو۔ مگر اللہ کے ذمہ آپ کوئی کمزوری منسوب کر ہی نہیں سکتے۔ پھر سفارش کی حقیقت کیا ہے؟

        سوچئے۔ ارشاد ہوا ہے:

    اَمِ اتَّخَذُوْامِنْ دُوْنِ اللهِ شُفَعَآءَ قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لَا یَمْلِکُوْنَ شَیْئاً وَّ لَا یَعْقِلُون قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃ جَمِیْعاً (الزمر:44-43)

        ’کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا سفارشی پکڑ رکھے ہیں؟ ان کو فرما دیں کہ چاہے ان کے پاس نہ سمجھ ہو اور نہ اختیار؟ فرما دیں کہ سفارش کا حق مکمل اللہ ہی کے لئے ہے۔ ‘

 

        3.2-اعلانِ عام!

        پھر دیکھئے:

    قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللهِ لَایَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَافِی الْاَرْضِ وَمَا لَھُمْ فِیْھِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْھُمْ مِّنْ ظَھِیر وَلَاتَنْفَعُ الشَّفَاعَۃ عِنْدَہٗ اِلَّالِمَنْ اَذِنَ لَہٗ (سبا:23-22)

        ’ان کو فرما دیں کہ اللہ کے سوا تم کو جن پر گمان ہے ان کو پکار کر دیکھ لو۔ ان کو تو آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر بھی اختیار نہیں ہے۔ ان کو کسی چیز میں دخل تک کی ہمت نہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار بھی نہیں۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کسی سفارش کا کوئی فائدہ نہیں۔ ‘

        پھر اعلانِ عام دیکھئے:

    مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِاِذْنِہ ذٰلِکُمُ اللهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اَفَلَا تَذَکَّرُون (یونس:3)

        ’اس کے اِذن کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے۔ یہ ہے اللہ،جو تمہارا پروردگار ہے۔ پس تم اس کی عبادت کرو۔ کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ؟ ‘

        اِذن کیا ہے؟

        اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ اِذن کیا ہے؟ جب میں نے بار بار پڑھا کہ اللہ پر کسی کا دباؤ نہیں۔ کوئی اس کے کام میں دخل دینے کا مجاز نہیں اور کوئی سفارش اس کے اِذن کے بغیر سود مند نہیں۔ تو میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ یہ اِذن کیا ہے؟ یہ کس طرح حاصل ہوتا ہے؟ اللہ تک رسائی کے لیے کیا ذریعہ ہونا چاہیئے؟

        ان سوالات کا جواب مجھے قرآن کریم نے جو دیا ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ مگر اس سے پہلے آپ ان لوگوں کے بارے میں پڑھ لیں جنہوں نے اللہ سے اِذن لیے بغیر سفارش کر دی تھی اور ان کی سفارش کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی تھی۔

        3.3-نوح علیہ السلام کا قصہ

        نوح علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ ان کی قوم میں وہی شرک کی بیماری پھیلی ہوئی تھی جس میں اہلِ مکہ مبتلا تھے۔ ان کی اصلاح سیدنا نوح علیہ السلام کے سپرد کی گئی۔

    اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحاً اِلٰی قَوْمِہٓ اَنْ اَنْذِرْقَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّأْتِیَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْم (نوح:1)

        ’ہم نے نوح علیہ السلام کواس کی قوم کی طرف بھیجا تا کہ اپنی قوم کو دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ڈرا لے۔ ‘

    فَلَبِثَ فِیْھِمْ اَلْفَ سَنَۃ اِلَّاخَمْسِیْنَ عَاماً (العنکبوت:14)

        ’پس وہ ان میں پچاس کم ہزار برس (۹۵۰ برس) رہے۔ ‘

        اس ساڑھے نو سو برس میں سے قبل از بعثت چالیس برس کا عرصہ نکال بھی دیں۔ پھر بھی سیدنا نوح ں نو سو دس برس اس قوم میں فرائضِ منصبی ادا فرماتے رہے۔ مگر اس قوم کے سرداروں نے ڈھنڈورا پیٹ دیا:

    وَقَالُوْالَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدّاً وَّلَا سُوَاعاً وَّلَایَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْراً (نوح:23)

        ’انہوں نے کہا تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑو۔ تم وَد کو، سُواع کو، یغوث کو، یعوق کو اور نسر کو مت چھوڑو۔ ‘

        یہ پانچوں، قومِ نوح علیہ السلام کے صالح لوگ تھے۔ جن کو موت کے بعد لوگوں نے اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ نوح علیہ السلام عرصۂ دراز تک قوم کی سختیاں برداشت فرماتے رہے۔ اپنے بس میں نہ تھا کہ قوم کو سیدھی راہ پر ڈال دیں یا ان کا کچھ بگاڑ لیں۔ گستاخیاں برداشت کرتے کرتے پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور نوح علیہ السلام اللہ کے سامنے فریاد کناں ہوئے:

    فَدَعَا رَبَّہٗ  اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِر (القمر:10)

        ’پس اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں، میری نصرت فرما۔ ‘

        پھر اپنی زندگی بھر کی روداد بیان کرتے ہوئے اللہ کی عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔

        آخر میں یوں عرض کی:

    رَبِّ لَا تَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارا اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِراً کَفَّاراً رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِناً وَّلِلْمُؤْمِنِ یْنَ وَالْمُؤْمَنٰتِ وَلَاتَزِدِالظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارا (نوح:28-26)

        ’اے میرے پروردگار،رُوئے زمین پر کفار کا کوئی گھر نہ چھوڑ۔ اگر تو نے چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان سے جو بھی جنم لے گا بدکار اور کافر ہی ہو گا۔ اے میرے پروردگار مجھے، میرے والدین کو، اور جو میرے گھر میں مؤمن ہو کر داخل ہوں، ان تمام مؤمن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کو بربادی و ہلاکت ہی میں زیادہ کر۔ ‘

        چنانچہ حکم ہوا:

    وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَظَلَمُوْٓا اِنَّھُمْ مُغْرَقُوْنَ (ھود :37)

        ’ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق تو کشتی بنا۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے مخاطب نہ ہونا،وہ غرق کر دیئے جائیں گے۔ ‘

        پھر اس قوم کے لیے وہ دن آگیا:

    فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآءٍ بِمَآءِِ مُّنْھَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْناً فَالْتَقَی الْمَآءُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْقُدِرَ (القمر:12-11)

        ’پس ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے ساتھ کھول دیئے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا۔ یہ پانی مل کر اس کام پر لگ گیا جو اُن کا مقدر بنایا جا چکا تھا۔ ‘

    حَتّٰی اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ قُلْنَا احْمِلْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَھْلَکَ اِلَّامَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗ  اِلَّاقَلِیْلٌ (ھود :40)

        ’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور نے (پانی کا) جوش مارا۔ ہم نے حکم دیا کہ اس میں ہر قسم کے دو دو جوڑے معہ اپنے اہل کے سوار کر لو۔ ان لوگوں کو چھوڑ دو جن کے لیے (عذاب کا ) فیصلہ ہو چکا ہے۔ اہلِ ایمان کو بھی سوار کر لو۔ اس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے ہوئے تھے۔ ‘

        غور فرمائیں۔اللہ نے چاہا تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔کہ ’اہل‘ کو سوار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا تھا کہ اُن کو سوار نہ کرنا جن کے لیے عذاب مقدر ہو چکا ہے۔ پھر فرما دیا کہ ظالموں کے بارے میں مجھ سے مخاطب نہ ہونا۔ آپ حیران ہونگے کہ ان بد نصیبوں میں نوح ں کا اپنا بیٹا بھی تھا۔ جسے خطرہ میں دیکھ کر شفقتِ پدری نے جوش مارا کہ اللہ کی طرف سے عائد کی ہوئی پابندی بھول گئی۔

    وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلَا تَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ قَالَ سَاٰوِیْٓ اِلٰی جَبَلِِ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَ کِ وَیٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُوَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدً ا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (ھود 44-42)

        ’ اور نوحؑ نے اپنے بیٹے کو پکارا جو کہ علیحدہ ایک کنارے پر تھا،کہ اے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ مت ہو۔ وہ کہنے لگا کہ میں اس پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو کہ مجھ کو پانی سے بچا لے گا۔ فرمایا کہ آج اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ سوائے اس کے جس پر اللہ خود ہی رحم فرمائے۔ اور ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ غرق کر دیئے گئے لوگوں میں سے ہو گیا۔ اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہو گیا اور معاملہ نمٹا دیا گیا۔ اور کشتی، کوہِ جودی پر جا ٹھہری۔اور کہہ دیا گیا کہ ظالموں کے لئے دُوری ہو۔ ‘

        مگر شفقتِ  پدری پھر بھی باز نہ آئی تو اللہ کے حضور یوں فریاد کناں ہوئے:

    وَنَادٰی نُوحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مَنْ اَھْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ اِنِّیْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہ عِلْمٌ وَاِلَّا تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (ھود :47-45)

        ’نوحؑ نے اپنے پروردگار کو پکارتے ہوئے کہا اے میرے پروردگار! بے شک میرا بیٹا بھی تو میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ بھی حق ہے اور تو حاکموں کا حاکم ہے۔ جواب آیا کہ اے نوح ں وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے عمل غیر صالح ہیں۔ پس جس بات کا تم کو علم نہ ہو اس کے بارے میں مجھ سے سوال مت کرو۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں۔ تاکہ تم جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! میں اُس بات سے متعلق سوال کرنے سے، جس کا مجھے علم نہ ہو، تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اگر تو نے میری مغفرت فرما کر مجھ پر رحمت نہ فرمائی تو میں زیاں کاروں میں سے ہو جاؤں گا۔‘

        دیکھ لیا آپ نے کہ نظامِ الٰہی میں سب بے بس ہیں۔ کفار کو سزا دینا بس میں ہے نہ گرفتار شدہ بیٹے کو چھڑانا بس میں۔ وہ تھی بغیر اِذن کے سفارش اور یہ تھا اس کا حشر۔ اس مقام پر میرا یہ عقیدہ تار تار ہو گیا کہ یاروں کو یاروں کی ماننی ہی پڑتی ہے۔ یہ بات اللہ کے بارے میں غلط ہے۔ بلکہ اللہ کے بارے میں ’یار‘ کا لفظ استعمال کرنا بھی موزوں نہیں۔ اس کو مجبور کوئی نہیں کر سکتا۔ ادھر ہم ہیں کہ ہر مفت خورے ملنگ اور پیر فقیر سے امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ کبھی سوچنا چاہیے کہ ساڑھے نو سو برس تبلیغ کرنے والے نبی ں اپنے جگر گوشے کے لیے اللہ سے اپنی بات نہ منوا سکے تو ’کیاپِدّی اور کیا پِدّی کا شوربا۔‘ اُن لوگوں سے کیا امید ہو سکتی ہے جو اپنے لیے بھی صفر ہیں اور دوسروں کے لیے بھی صفر۔ براہ کرم انصاف فرمائیں اور اگر غلط عرض کر رہا ہوں تو مجھے حق سے آگاہ فرمائیں۔ فرقہ پرستی گناہ ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر قرآن پر غور فرمایئے۔ تعصب سے رب کی پناہ مانگئے۔

        ایک غلط فہمی اور بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ دوسرے انبیاء کرام علیہم السّلام کو تو اختیارات نہیں،مگر ہمارے نبی ا اِمام الانبیاء ہیں۔ اُن کو تو مختارِ کُل بنایا گیا ہے۔ ان کی روح کو پکار کر اپنی حاجات پیش کرنا جائز ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کی اس آیت پر غور فرمائیے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے کہلوا رہا ہے تاکہ امت کے دماغوں کی اصلاح ہو جائے۔

    قُلْ لَّا اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَّلَاضَرّاً اِلَّا مَاشَآءَ اللهُ (الاعراف:188)

        ’فرما دیں کہ میں تو اللہ کی مشیت (مرضی )کے بغیر اپنی جان کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ‘

        یہی حکم پارہ 11 سورۃ یونس رکوع 5 میں بھی دیکھئے۔

        پھر سردارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور فرمائیں تو ان آیات کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ابو یوسف کے ہاں گیا جو کہ نبی اکرم ا کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی دایہ کے خاوند تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا۔ بوسہ لیا اور سونگھا۔یعنی اپنی ناک اور منہ کو ان کے منہ پر اس طرح رکھا جس طرح کوئی سونگھتا ہے۔ اس کے کچھ دن بعد پھر ابو یوسف کے ہاں گئے۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ اُس وقت حالتِ نزع میں تھے۔ رسول اللہ ا کی آنکھیں ان کو دیکھ کر بہنے لگیں۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’یا رسول اللہ ا ! آپ بھی روتے ہیں؟‘ آپ نے فرمایا: ’اے ابنِ عوف (رضی اللہ عنہ)! یہ آنسو رحمت ہیں۔‘ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ یَحْزُنُ، وَلَا نَقُوْلُ اِلَّا مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّابِفَراقِکَ یَا اِبْرَاھِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ  (صحیح البخاری،الجنائز، باب قول النبیا، انابک لمحزونون،ح:1303)

        ’آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دِل غمگین ہے۔اور ہم اپنی زبان سے صرف وہی بات کہتے ہیں جس پر ہمارا پروردگار راضی ہو۔ اے ابراہیم! بے شک میں تیری جدائی سے غمگین ہوں۔ ‘

        یہ ہے اللہ۔ اور یہ ہے بندہ جو کہ اس کی مشیت کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ میں ایک عرصہ تک اسی سوچ میں غرق رہا کہ آخر کسی مکان کی چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی ہونی چاہیے۔ کسی عظیم المرتبت شخصیت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے Proper Channels (مناسب واسطے) ہوتے ہیں۔ آخر اللہ تک پہنچنے کے لیے بھی تو یہ بزرگ Proper Channel ہی ہیں نا۔ اُس کا اِذن حاصل کرنے کے لیے بھی تو کوئی وسیلہ چاہیئے۔ وہ وسیلہ بھی آپ کو ضرور بتاؤں گا، مگر اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کچھ واقعات مختصراً پڑھ لیں۔

        1۔ جنگِ احد میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیق چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے۔ اس دکھ کو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ بھلا سکے۔ ان کا قاتل’ وحشی‘ مسلمان ہو گیا،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی میری آنکھوں کے سامنے نہ آؤ۔ کیونکہ مجھے چچا یاد آئیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک بھی شہید ہوئے اور ضربیں بھی آئیں۔ یہ سب اللہ کی مشیت تھی۔ ورنہ کون صدمے اٹھانے کا شوق رکھتا ہے؟

        2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تبلیغ کی غرض سے تشریف لے گئے۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔سردارانِ طائف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ بلکہ غنڈوں کو آپ ا کے پیچھے لگا دیا۔ جو گستاخیاں کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت پر پتھر برساتے رہے۔ جسمِ مبارک زخمی ہو گیا۔ خون بہہ کر جوتی بھی پاؤں کے ساتھ جم گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جی گھبرانے لگا۔ مگر لونڈے آپ کو بیٹھنے بھی نہ دیتے تھے۔ پتھر مار کر چلنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ یہ تھی اللہ کی مشیت اور وہ تھی اُسکے بندے کی، اُس کی مشیت کے سامنے مجبوری و بے بسی۔ علاوہ ازیں بہت سے واقعات ان آیات کی تصدیق کرتے ہیں، مگر اختصار کی خاطر ان کو چھوڑ رہا ہوں۔

        3.4-ایک اور غلط فہمی کا اِزالہ

        ایک کرم فرما نے میرے ذہن کو ایک عجیب ہی چکر میں ڈال دیا تھا۔ آپ اس سے بچ جائیں۔ وہ یہ کہ وہ تو نبی ہیں۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے۔ ان کے لیے تو صرف اللہ ہی جو کرے سو کرے۔ کیونکہ ان کی سفارش تو وہی کرے جو اُن سے بڑا ہو۔ ہمارے لیے تو وہی سفارش کر سکتے ہیں۔ وہ ہمارے لیے وسیلہ ہیں۔ میری غلط فہمی کو قرآن پاک نے یوں رفع فرما دیا :

    قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَّلَا رَشَداً (الجن:21)

        ’فرما دیں کہ میں تمہارے لیے کسی بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ‘

        اس کی تصدیق مجھے یوں ملی کہ رئیس المنافقین منافق عبداللہ بن ابی مر گیا۔ اس نے زندگی میں بظاہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کی کوشش کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنا کُرتہ بھی پہنایا۔ اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی اور دعائے مغفرت بھی فرمائی مگر چونکہ اللہ کا اِذن نہیں تھا۔ اس لیے رحمتِ  دو جہاں ا کو اللہ کی طرف سے جواب آگیا:

    اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْلَاتَسْتَغْفِرْلَھُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃ فَلَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ (التوبہ:80)

        ’آپ ا اُن کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں۔ بلکہ اگر آپ ا اُن کے لیے ستر بار بھی بخشش مانگیں تب بھی اللہ ان کو معاف نہیں فرمائے گا۔ ‘

        بلکہ آئندہ کے لیے ایک قانون بنا دیا:

    مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (التوبہ:113)

        ’نبی اور اہلِ ایمان کے لائق ہی نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اگرچہ وہ ان کے قریبی بھی ہوں۔ جب کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ اہلِ جہنم ہیں۔ ‘

        پھر فرمایا:

        وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَداً وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہ (التوبہ:84)

        ’اگر ان میں سے کوئی مر جائے تو اس پر نماز(جنازہ) بھی نہ پڑھیں بلکہ اس کی قبر پر بھی کھڑے نہ ہوں۔ ‘

        3.5- دوسرا رخ

        یہ تو تھا بھلائی کا ارادہ بغیر اِذن کے جو پورا نہ ہوا۔ اب دوسرا رخ لیجئے۔

        بحوالہ بخاری و مسلم،مشکوٰۃ شریف میں یہ حدیث درج ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کی درخواست پر ان کو تعلیم دینے کے لیے ستر قاریوں کو ان کے ساتھ روانہ فرمایا۔ اس قوم کی طرف سے یہ ایک فریب تھا۔ قاریوں کو شہید کر دیا گیا۔ اس ظلم کی خبر مجسمۂ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو سخت دکھ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ لگا تار نمازِ فجر میں قنوتِ نازلہ کے ساتھ ان قاتلوں کے لیے بددعا فرمائی اور شہدا کے لیے دعائے رحمت فرمائی۔ الفاظ یہ تھے:

        ’اے اللہ! ولید بن ولید کو، سلمہ بن ہشام کو اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اور اے اللہ! قومِ مضر پر تو اپنا سخت عذاب نازل فرما اور اس عذاب کو قحط کی صورت میں نمودار فرما۔ ایسا قحط جو یوسفں کے قحط کی مانند ہو(یعنی سات برس)۔‘

        آپ اندازہ فرما لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر رنج تھا کہ یہ بد دعا آپ ا بلند آواز سے کرتے تھے:

         اَلَلَّھُمَّ الْعَنْ فُلَاناً وَّفُلَاناً  (صحیح البخاري، المغازي، باب لیس لک من الامر․․․․، ح: 4049، و صحیح مسلم، المساجد، باب استحباب القنوت فيجمیع الصلوات․․․․،ح:679 )

        ’اے میرے اللہ! تو فلاں فلاں پر لعنت فرما۔ ‘

        یعنی آپ ا اُن عرب قبائل کا نام لیتے تھے جو قاتل تھے۔ بد دعا جاری رہی یہاں تک کہ حکم آگیا:

    لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْءٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْیُعَذِّ بَھُمْ فَاِنَّھُمْظٰلِمُوْنَ وِللهِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ یَغْفِرُلِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْیَّشَآءُ وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اٰل عمران:129-128)

        ’اس میں آپ کا کوئی دخل نہیں ہے کہ اللہ ان لوگوں کو معاف کر دے یا ان کو عذاب دے۔ بس وہ ظالم ہیں۔ آسمان و زمین میں ہر چیز اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘

        اس آیت سے

        خدا کا پکڑا چھڑا لے محمد صلی اللہ علیہ وسلم

        محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا

        کی حقیقت بھی مجھ پر کھل گئی کہ یہ جھوٹ ہے۔ کیونکہ چھڑانا چاہا تو چھڑا نہ سکے اور پکڑنا چاہا تو پکڑ نہ سکے۔ اللہ کا مقام وہ ہے اور بندے کا مقام یہ ہے:

        خِرَدْ اور اِدراک رنجور ہیں واں

        مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں

        جہاندار مغلوب و مقہور ہیں واں

        نبی اور صدیق مجبور ہیں واں

        نہ پُرسش ہے رہبان و احبار کی

        نہ پروا ہے ابرار و احرار کی

        یہ بات بتانے سے پہلے کہ اللہ کا اِذن کیا ہے اور کس طرح ہو سکتا ہے۔ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو ایک اور اُلجھن سے نکالنے کی کوشش کروں۔ کہ صاحبِ  قبر، صاحبِ  بت یا صاحبِ جگہ و مکان جو اس مادی زندگی کی قیود سے آزاد ہو کر اللہ کے مہمان ہو چکے ہیں،وہ ہماری دعاؤں، پکاروں اور مناجات سے بے نیاز اور بے خبر ہیں۔ البتہ وہ ہماری پر خلوص دعاؤں کے ضرورت مند ہیں۔ اسی لیے تو ہم نمازِ جنازہ میں اُن کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

    3.6-موت کے بعد سفارش

        قرآن کریم کی دو آیات کو اکثر علماء کرام یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں کہ شہید زندہ ہیں۔ اس لیے اُن سے مدد طلب کرنا اور ان کو سفارش کے لیے کہنا جائز ہے۔ اختصار کی خاطر میں ان آیات پر بحث کرنا نہیں چاہتا،مگر یہ ضرور عرض کرتا ہوں کہ زندوں کی سفارش بغیر اللہ کے اِذن کے کیا ہوئی؟ اس کو آپ نے دیکھ لیا۔ اب ذیل میں چند واقعات پیش کرتا ہوں تاکہ غلط فہمی دور ہو جائے اور موت کے بعد کی زندگی کا کچھ تصور آپ کے ذہن میں قائم ہو جائے۔

 

    3.7-قصۂ اصحابِ کہف

        یہ ان زندہ اولیاء اللہ کا قصہ ہے جو زندگی میں نیند کی حالت میں زمین کی سطح پر تین سو نو برس سوتے رہے اور تھک جانے پر پہلو بھی بدلتے رہے۔مگر جب اللہ نے ان کو نیند سے بیدار کیا تو زمانے کے حالات سے بالکل بے خبر تھے۔ لیجئے، اب قرآن کی زبانی پڑھئے:

    اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَاعَجَباً (الکھف:9)

        ’کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہمارے عجب نشانات میں سے ہیں۔ ‘

    نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ اِنَّھُمْ فِتْیَۃ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنٰھُمْ ھُدًی وَّرَبَطْنَاعَلٰی قُلُوْبِھِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَارَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَ مِنْ دُوْنِہٓ اِلٰھاً لَّقَدْ قُلْنَآ اِذََا شَطَطاً ھٰٓؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْامِنْ دُوْنِہٓ اٰلِھَۃ لَّوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطَانٍم بَیِّنٍ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللهِ کَذِباً (الکھف:15-13)

        ’ہم ان کا قصہ آپ پر سچا بیان کرتے ہیں۔ وہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت بخشی۔ جب وہ(جابر حاکمِ وقت کے دربار میں) کھڑے ہوئے تو ہم نے ان کے دلوں پر گرہ باندھ دی(یعنی دلوں کو مضبوط کر دیا)۔پس انہوں نے کہا ہمارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔ ہم اس کے علاوہ کسی معبود کو نہیں پکاریں گے۔ (اگر ہم نے ایسا کیا) تو یہ عقل سے بعید بات ہو گی۔ ہماری یہ قوم ہے کہ اس نے اس کے علاوہ معبود بنا رکھے ہیں۔ وہ اس کے لیے مکمل دلیل کیوں نہیں لاتے۔ بھلا اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ ‘

        یہ گفتگو وہ اولیاء اللہ اُس کافر و جابر بادشاہ کے دربار میں کھڑے ہو کر، کر رہے تھے جس کا نام ’دقیانوس‘ بتایا جاتا ہے۔ اس کے سامنے ان کو توحید اختیار کرنے کے جرم میں پیش کیا گیا تھا۔ اللہ نے ان کے حوصلے بلند رکھنے کے علاوہ ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی :

    وَاِذِاعْتَزَلْتُمُوْھُمْ وَمَا یَعْبُدُ وْنَ اِلَّا اللهَ فَاْوُوْٓا اِلَی الْکَھْفِ یَنْشُرْلَکُمْ رَبُّکُمْ مِنْ رَّحْمَتِہ  وَیُھَیِّءْ لَکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَقاً (الکھف:18-16)

        ’جب تم ان لوگوں اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے فارغ ہو جاؤ تو غار میں پناہ لے لو۔ تاکہ تمہارا پروردگار تمہارے لیے دامنِ رحمت وسیع فرما دے اور تمہارے لیے اس سے آرام کا سامان پیدا کر دے۔ ‘

        کہتے ہیں کہ بادشاہ نے کسی مصلحت کے تحت اور اپنی مصروفیت کے باعث اس کام کو کسی وقت پر ملتوی کر دیا۔ یہ اولیاء اللہ فارغ ہوتے ہی اس غار کی طرف چلے گئے۔ جس کے لیے اللہ نے ان کے دلوں میں وحی فرما دی تھی۔ ان کا ایک وفا دار کتا بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ یہ غار میں داخل ہو گئے اور اطمینان کا سانس لینے کے ساتھ ہی دعا مانگی:

    اِذْاَوَی الْفِتْیَۃ اِلَی الْکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃ وَّھَیِّءْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَداً (الکھف:10)

        ’جب وہ نوجوان اس غار میں جا بیٹھے تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار، ہم کو اپنی طرف سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس اقدام سے ہمارے لیے بھلائی کے سامان پیدا فرما۔ ‘

        گھبراہٹ اور تھکاوٹ کی وجہ سے لیٹ گئے اور سو گئے۔ اللہ نے ان کی کیفیت یوں بیان فرمائی:

    فَضَرَبْنَا عَلٰٓی اٰذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ سِنِیْنَ عَدَداً (الکھف:11)

        ’ تو ہم نے کئی برسوں کے لئے اُن کے کانوں کو تھپک دیا(یعنی انہیں سُلا دیا)۔‘

    وَ تَرَی الشَّمْسَ اِذَاطَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ کَھْفِھِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَھُمْ فِیْ فَجْوَۃ مِّنہُ ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللهِ مِنْ یَّھْدِ اللهُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ وَلِیّاً مُّرْشِداً وَتَحْسَبُھُمْ اَیْقَاظاً وَّھُمْ رُقُوْدٌ وَّ نُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ وَکَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ لَوِاطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَاراً وَّلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْباً (الکھف:18-17)

        ’تو دیکھے گا کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو بچ کر ان کی غار کے داہنے طرف سے نکل جاتا ہے۔ جب غروب ہوتا ہے تو بائیں طرف سے بچ کر نکل جاتا ہے۔وہ میدان میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ کے نشانات میں سے ہے۔ہدایت یافتہ وہی ہو سکتا ہے جس کو اللہ ہدایت دے۔ جس کو وہ گمراہ فرما دے اس کو کوئی دوست اور رہنما نہیں مل سکتا۔ تم سمجھو گے کہ وہ جاگ رہے ہیں مگر وہ محوِ خواب ہیں۔ ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹیں بدلواتے ہیں۔ ان کے کتے نے غار کی چوکھٹ پر بازو پھیلا رکھے ہیں۔ اگر تم ان کو کبھی جھانک کر دیکھ لو تم ان سے پشت پھیر کر بھاگ جاؤ اور ان کا خوف تم پر چھا جائے۔ ‘

        یوں وہ اطمینان سے سوتے رہے یہاں تک کہ:

    ولَبِثُوْافِیْ کَھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَۃ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعاً (الکھف:25)

        ’وہ اپنے غار میں تین سو نو برس سے زیادہ عرصہ تک پڑے رہے۔ ‘

        پھر:

    وَکَذٰلِکَ بَعَثْنٰھُمْ لِیَتَسَآءَ لُوْابَیْنَھُمْ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ کَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوْ لَبِثْنَا یَوْماً اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوْٓا اَحَدَکُمْ بِوَرَقِکُمْ ھٰذِہ ٓ اِلَی الْمَدِیْنَۃ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَاماً فَلْیَاْتِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ وَلَا یُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَداً اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوْکُمْ اَوْیُعِیْدُوْکُمْ فِی مِلَّتِھِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذََا اَبَداً (الکھف :20-19)

        ’اس طرح ہم نے ان کو بیدار کر دیا تاکہ وہ آپس میں سوال کریں۔ ان میں سے ایک نے کہا:’کتنی دیر سوئے رہے؟‘ جواب دیا:’ ایک یوم یا اس کا کچھ حصہ۔‘ پھر کہا:’ تمہارا پروردگار جانے کہ تم کتنا عرصہ سوئے رہے۔ پس تم سے ایک یہ رقم لے کر شہر کی طرف جائے۔ دیکھے کہ کون سا کھانا پاکیزہ ہے پس اس میں سے لے آئے۔ جو جائے اس کو چاہیئے کہ نرم گفتگو کرے۔ تمہارا پتہ بھی نہ ظاہر کرے۔ وہ لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر تم پر غالب آ گئے تو تم کو پتھر مار کر ہلاک کر دیں گے۔ یا تم کو دوبارہ اپنے مذہب میں لے جائیں گے۔ تب تم کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔‘

        غور فرمائیں! کہ تین سو نو برس سے زیادہ محوِ خواب رہے۔ زمین کے اوپرسانس بھی لیتے رہے، پہلو بھی بدلتے رہے، مگر دنیا و مافیہا سے بے تعلقی کا یہ عالم کہ ان کو احساس ہی نہیں کہ کتنی بہاریں ان پر سے گذر کر خزاں ہو گئیں اور کتنے تاجدار پیوندِ خاک ہو چکے۔ وہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں،مگر ان کو معلوم ہی نہیں کہ جس سے بھاگے تھے، وہ دنیا سے مدت ہوئی کوچ کر چکے ہیں۔اور باقی جو ہیں وہ ان کے قدر شناس اور ہمدرد ہیں۔ یہ حال ہے زمین کے اوپر محوِ خواب اولیاء کرام کا۔ پھر کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ زمین کے اندر قبر میں کئی من مٹی، اینٹوں اور سیمنٹ کے نیچے پڑا ہوا اللہ کا دوست، جو اللہ کا مہمانِ خصوصی ہے،آپ کے حالات اور آپ کی آہ و فغان سے واقف اور خبر دار ہے؟ اللہ ہمیں قرآن مجید کے نظریۂ توحید سے آشنا فرمائے۔ آمین۔

    3.8-قصۂ عُزیر علیہ السلام

        دھوکے میں ڈالنے والا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے کہ یہ تو نیند ہے مگر موت کے بعد بندہ اللہ سے جا ملتا ہے۔ وہ ہمارے حالات سے آگاہ ہوتا ہے اور ہماری سفارش کرتا ہے وغیرہ۔

        لیجئے ایک نبی ؑ کا قصہ سنئے جو ایک گدھے پر سوار ایک سفر پر رواں دواں تھے کہ موت نے آ لیا۔ ایک سو برس موت کی حالت میں پڑے رہے اور پھر زندہ کئے گئے، مگر زمانے کے تغیرات سے وہ بے خبر ہی تھے۔

    اَوْکَا لَّذِیْ مَرَّعلٰی قَرْیَۃ وَّھِیَ خَاوِیَۃ عَلٰی عُرُوْشِھَا قَالَ اَنّٰی یُحْی ھٰذِہِ اللهُ بَعْدَ مَوْتِھَا فَاَمَاتَہُ اللهُ مِائَۃ عَامٍ ثُمَ بَعَثَہٗ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْماً اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَۃ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرٰبِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃ لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَ نَکْسُوْھَا لَحْماً

        ’ یا اس شخص کی مانند جس کا گذر ایک ویران بستی سے ہوا۔ اس نے کہا کہ اللہ کس طرح اِس (مُردہ بستی) کو موت کے بعد زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے اس کو بھی موت کی نیند سلا دیا اور وہ سو برس مرا پڑا رہا۔ پھر اس کو زندہ کیا۔ اس سے پوچھاکہ تم اس حال میں کتنی مدت رہے؟ عرض ہوا کہ ایک یوم یا اس کا کچھ حصہ۔ ارشاد ہوا کہ تم تو سو برس اس حال میں رہے ہو۔ پس اب تم اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو،وہ باسی نہیں ہوئیں۔ اور اپنے گدھے کی طرف دیکھو۔ ہم تمھیں ان لوگوں کے لیے نشانی بناتے ہیں۔ ان ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ ہم کس طرح ان کو جوڑ کر گوشت پوست پہناتے ہیں۔ ‘(البقرة:259)

        ان واقعات پر اگر آپ بھی غور فرمائیں تو سمجھ میں بات آتی ہے کہ موت وارِد ہونے کے بعد کسی نبی یا بزرگ کا اس مادی دنیا کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رہتا۔ وہ ہماری آہ و فُغاں سن بھی نہیں سکتے، فریاد پوری کرنا تو دور کی بات ہے۔!

        برا نہ مانیں بلکہ سوچیں اور قرآن پڑھیں۔ اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔ غصہ میں آنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ لیجئے اور پڑھیئے:

    وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃ وَھُمْ عَنْ دُعَآئِھِمْ غٰفِلُوْنَ وَاِذَا حُشِرَالنَّاسُ کَانُوْا لَھُمْ اَعْدَآءً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِھِمْ کٰفِرِیْنَ (الأحقاف:6-5)

        ’ اس شخص سے بڑھ کر گم کردہ راہ کون ہو گا جو اللہ کے سوا اُس کو پکارتا ہے جو روزِ قیامت تک اُس کی پکار قبول نہ کر سکے اور اس کی چیخ و پکار سے بھی بے خبر ہو۔ پھر جس روز لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو وہ ان پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔ ‘

        غور فرمائیں! صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس سے مراد محض بت نہیں بلکہ وہ ہستیاں مراد ہیں جن سے کوئی بُت یا قبر منسوب ہوتی ہے۔ اور جن کو لوگ عقیدت سے پکارتے ہیں۔ اگر یقین نہیں آیا تو قرآن پاک کا یہ مقام پڑھیں۔ارشاد ہوا ہے:

    اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًَا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَسْتَطِیْوْنَ لَھُمْ نَصْراً وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (الأعراف:192-191)

        ’کیا یہ لوگ ان کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جو کچھ پیدا تو نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ ان کی مدد کی قوت بھی نہیں رکھتے اور اپنے لیے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ ‘

    اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْ ھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَآ اَمْ لَھُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (الأعراف:195-194)

        ’بیشک جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ وہ تمہاری طرح کے بندے ہیہیں پس تم ان کو پکار دیکھو، اگر تم سچے ہو تو وہ تمہاری پکار کو قبول کریں۔ کیا ان کے پاؤں ہیں؟ جن سے وہ چل سکیں۔ کیا ان کے ہاتھ ہیں؟ جن سے وہ پکڑ سکیں۔ کیا ان کی آنکھیں ہیں؟ جن سے وہ دیکھ سکیں۔ کیا ان کے کان ہیں؟ جن سے وہ سن سکیں۔ ‘

        سوچئے! کہ اس شخص سے بڑھ کر کون قابلِ رحم ہو سکتا ہے۔ جو اللہ قادرِ مطلق کو چھوڑ کر بزرگوں کو پکارتا ہے۔ جو ہماری طرح کے بندے تو ہیں مگر اُن کے اعضاء کام نہیں کرتے۔ یہ بُت نہیں بلکہ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (تمہاری طرح کے بندے) ہیں۔۔۔

        پھر فرمایا:

    وَالَّذِینَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئاً وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَیْرُُاَحْیَآءٍ وَّمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ (النحل:21-20)

        ’ اور اللہ کے علاوہ جن لوگوں کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے۔بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ وہ تویہ بھی نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ‘

        بتوں کو اٹھائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بزرگ ہی ہیں۔ ان کو معلوم تک نہیں کہ انکو پکارا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن وہ انکار کر دیں گے بلکہ جھگڑیں گے:

    وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ فَزَیَّلْنَابَیْنَھُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُ ھُمْ مَّاکُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْداً مْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ (یونس:29-28)

        ’اُس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر شریک بنانے والوں کو کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو۔ پھر ہم ان کو الگ الگ کر دیں گے۔ جن کو وہ اللہ کا شریک بناتے رہے ہوں گے وہ کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے کہ تم ہماری عبادت ہر گز نہیں کرتے تھے۔ ہم تو تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔ ‘

        اللہ کرے کہ اب آپ سمجھ گئے ہوں کہ یہ جھگڑنے والے بُت نہیں، بلکہ بزرگ ہیں۔ کیونکہ اللہ نے ان سے بھی جواب طلبی فرمائی ہے اور وہ اپنا دامن صاف کرنے کے لئے جھگڑ رہے ہیں:

    وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مَنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤُلَآءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ قَالُوْاسُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَآءَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْماً م بُوْراً فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ بِمَاتَقُوْلُوْنَ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفاً وَّلَا نَصْراً (الفرقان:19-17)

        ’ جس دن اللہ کے سوا عابد و معبودوں کو اکٹھا کیا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی گم کردہ راہ ہو گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات تو پاک ہے۔ ہم کو تو خود یہ بات زیب نہیں دیتی تھی کہ تیرے سوا کسی کو کارساز بنا لیں مگر تو خود ہی ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو فائدے دیتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ تیرا ذکر بُھلا کر ایک ہلاک ہونے والی قوم ہو گئے۔ (اے مشرکو !) جو دعویٰ تم آج کر رہے ہو، اس میں وہ تم کو جھوٹا قرار دیں گے۔ تم اللہ کے عذاب کا رُخ نہ پھیر سکو گے اور تمہارا کوئی حامی و ناصر نہ ہو گا۔ ‘

        میرے بھائیو! کیا اب بھی آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ بُت ہی ہیں،بزرگ نہیں ہیں۔ لیجئے،ایک بزرگ ہی کا نام لے کر آپ کی غلط فہمی رفع کر دیتا ہوں۔

        ارشاد ہے:

    وَاِذْ قَالَ اللهُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِی وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٓ اَنِ اعْبُدُواللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ (المآئدة: 117-116)

        ’جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابنِ مریم (علیہ السلام)! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ کارساز بنا لینا؟ وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات تو پاک ہے۔ مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں وہ بات کہوں جو کہنے کا مجھے حق نہ پہنچتا ہو۔ اگر میں نے کہا بھی ہوتا تو تجھ کو علم ہوتا کیونکہ تو میرے دل کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے دل کی بات نہیں جان سکتا۔ بے شک تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔ میں نے اس کے سوا انہیں کچھ نہیں کہا تھا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم فرمایا تھا۔ اور وہ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو،جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان کو دیکھتا رہا۔ لیکن جب تو نے مجھ کو دنیا سے اٹھا لیا تو ان کا نگہبان تو ہی تھا۔ بے شک ہر چیز کو دیکھنے والا تو ہی ہے۔ ‘

        جو اَب بھی نہ سمجھے اس کا کیا علاج؟ میں نے کہا تھا کہ بُت پرست دنیا میں کوئی نہیں۔ بُت کی پوجا سے مراد دراصل بزرگ کی پوجا ہے۔ موت کے بعد کوئی بزرگ ہمارے حالات سے آگاہ نہیں۔ یہ بزرگ ہماری عبادت کا انکار کر کے اپنا دامن صاف کرنے کے لئے جھگڑیں گے، جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔

        مسلمان بھائیو! سوچو! ہم کیا کر رہے ہیں؟

        کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر

        جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

        گِرے آگ پر بہرِ سجدہ تو کافر

        کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

        مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

        پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

        نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں

        اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

        مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں

        شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

        نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

        نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

    3.9-مشرک کی مثال

        مندرجہ بالا آیات پر غور فرمائیں تو یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ شرک کیا ہے اور توحید کیا ہے۔ مشرک کا عقیدہ کسی ٹھوس بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ من گھڑت اور بے بنیاد ہوتا ہے۔ مگر مشرک ایسی ہی خود ساختہ باتوں کو اپنی معراج خیال کرتا ہے اور ایسی ہی مشرکانہ باتوں میں زندگی بسر کر دیتا ہے اور اسے آخر تک ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ مشرک کی مثال اللہ نے یوں بیان فرمائی ہے:

    مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْامِنْ دُوْنِ اللهِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اتَّخَذَتْ بَیْتاً وَّاِنَّ اَوْھَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (العنکبوت:41)

        ’جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ حمایتی پکڑے ہیں ان کی مثال تو مکڑے کی سی ہے جو گھر بنا لیتا ہے۔اور کمزور ترین گھر مکڑے کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ جان لیں۔ ‘

        غور فرمائیں! کہ کس طرح مکڑا اپنے ہی اندر سے لیس دار لعاب نکال کر جالا بنا تا ہے۔ اسی طرح مشرک بھی اپنے اندر ہی سے خیالات کا تانا بانا بنا کر ایک عقیدہ گھڑ لیتا ہے۔ جس طرح مکڑا اس کمزور ترین گھر میں بیٹھ کر سمجھتا ہے کہ وہ ایک مضبوط ترین قلعے میں رہ رہا ہے۔ اسی طرح ایک مشرک بھی اپنے من گھڑت خداؤں کے تانے بانے میں بیٹھ کر سمجھتا ہے کہ مضبوط قلعے کی دیواروں کی طرح وہ اس کے پشت پناہ ہیں۔ جس طرح مکڑے کا جالا ایک معمولی سے جھٹکے سے نیست و نابود ہو جاتا ہے اسی طرح اہلِ توحید کا ایک ہی جھٹکا آنے سے مشرک کے من گھڑت عقائد کا یہ قلعہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔ سوچئے کہ شرک کیا ہے اور اس کا انجام کس قدر مایوس کن ہے۔مشرک کی مثال بیان کرتے ہوئے اللہ کریم نے عوام النّاس کو مخاطب کر کے فرمایا ہے:

    یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗٓ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَاباً وَّلَوِا جْتَمَعُوْا لَہٗ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئاً لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٓ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (الحج:74-73)

        ’ اے لوگو! تمہارے لیے ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ اسے غور سے سنو! اللہ کے علاوہ جن جن کو تم پکارتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اگرچہ وہ سارے بھی اس کام کے لیے جمع ہو جائیں۔ (بلکہ وہ تو اس قدر بے بس ہیں کہ) اگر ان سے مکھی کچھ چھین کر لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ مانگنے والا کمزور اور جس سے مانگا جا رہا ہے وہ بھی کمزور و بے بس ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ ان مشرکین نے اللہ کی قدر ہی نہیں جانی۔ وہ بڑا صاحبِ قدرت اور ہر چیز پر غالب ہے۔‘

        ان کو بہت سوچنا چاہیئے اور فوراً توبہ کرنی چاہیئے جو یا علی مدد، یا علی مشکل کشا، یا شیخ عبد القادر شیئاً لله اور یارسول اللّٰہ مدد وغیرہ کے نعرے لگاتے ہیں۔ مشرک تو نہایت ہی قابلِ رحم مخلوق ہے کہ دَر دَر کی خاک چھانتے اس کی زندگی گزر جاتی ہے مگر ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اسکی مثال یوں بیان فرماتا ہے:

    لَہٗ دَعْوَۃ الْحَقِّ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَ بِبَالِغِہ وَمَا دُعَآءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ (الرعد:15)

        ’ اسی کو پکارنا ہی حق ہے۔ مشرک جن کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی کوئی دعا قبول نہیں کر سکتے۔ (ان کی مثال اس پیاسے کی سی ہے) جو اپنے ہاتھ پانی کی طرف پھیلا رکھے۔ تاکہ وہ اس کے منہ تک آ پہنچے۔ مگر وہ کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح کافروں کی دعا بے کار چلی جاتی ہے۔ ‘

        یہی نکتہ یوسفؑ نے اپنے قیدی ساتھیوں کو سمجھانے کے لیے بیان فرمایا تھا:

    یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٓ اِلَّا ٓاَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّاِ للهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا ٓاِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (یوسف:40-39)

        ’اے میرے قید کے ساتھیو! کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اکیلا اور زبردست اللہ بہتر ہے؟ تم اللہ کے سوا جن جن کو پُوجتے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ کچھ نام ہیں جوتم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ جن کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے فرما دیا ہے کہ میرے سوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ یہی پختہ دین ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ‘

 

        4-وسیلہ کی حقیقت اور اس کا طریقہ

        یہ ایک ایسا ’سائن بورڈ‘ ہے جس کے نیچے بہت سے لوگوں نے شرک و بدعت کی ’دکانیں‘ سجا رکھی ہیں۔ لٹیرے ہمارے خون پسینے کی کمائی چاٹ جاتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم پر احسانِ عظیم کر رہے ہیں۔ اسی آڑ میں کتنے ہی لوگوں کی عزتیں لٹ گئی ہیں اور کتنے ہی لوگوں کے ایمان لٹ گئے ہیں۔ اور یہ سلسلہ بڑے عیارانہ طریقے سے جاری ہے۔

        آئیے دیکھیں! کہ یہ وسیلہ کیا ہے۔ سب سے پہلے یہ آیت پڑھیں:

    یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (الفاطر:15)

        ’ اے لوگو! تم سب اللہ کے دَرکے فقیر ہو اور اللہ غنی اور تعریف کیا گیا ہے۔ ‘

        تمام مخلوق محتاج اور صرف وہی غنی ہے۔ وہ اس بات کا بھی محتاج نہیں کہ اس کی کوئی تعریف کرے۔ اس کی تعریف کوئی کرے یا نہ کرے وہ ہمہ صفت موصوف ہے۔

        آئیے! ہم کچھ فقیروں کے حالات پڑھیں اور دیکھیں کہ انہوں نے ضرورت کے وقت کس طرح اللہ تک رَسائی حاصل کی تاکہ ہم بھی وہی وسیلہ اختیار کریں۔

        سیدنا نوح علیہ السلام کا قصہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔پھر غور سے پڑھ لیں کہ انہوں نے اللہ سے مدد کس طرح طلب کی تھی۔

        سیدنا آدم علیہ السلام کی مثال: اگر غلطی ہو جائے تو ابلیس کی طرح دلیر نہیں ہو جانا چاہیے۔ بلکہ آدم ں کی طرح فوراَمعافی مانگ لینی چاہیے۔ توبہ کرنے والوں کو اللہ بہت پسند کرتا ہے۔ دیکھئے سیدنا آدم علیہ السلام نے کیا وسیلہ اختیارکیا :

        اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور بڑے فخر سے اپنی خلافت عطا فرمانے کا اعلان فرمایا۔ فرشتوں سے سجدہ کروایا اور سجدہ نہ کرنے والے کو راندۂ درگاہ قرار دیا۔ آدم و حوا علیہما السلام کو جنت میں رہنے کا حکم دیا اور ایک درخت کے پھل کے سوا باقی پھل کھانے کی اجازت دی۔ مگر شیطان جو اس کا ازلی دشمن تھا، اس نے اس کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ اس نے آدم ں کو وہی پھل کھانے پر آمادہ کر لیا، جس سے منع کیا گیا تھا۔ اس پر آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا گیا۔ آدم علیہ السلام اللہ کی اس ناراضگی کو برداشت نہ کر سکے اور تڑپ گئے۔ معافی مانگنی چاہی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ (البقرة:37)

        ’آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے۔ پس وہ اس پر متوجہ ہوا۔‘

        یہ طریقہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ یہ اس نے آدم علیہ السلام کو خود سکھایا تھا۔

    قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا و َترْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (الأعراف:23)

        ’ (آدم و حوا) دونوں نے عرض کیا، اے ہمارے پروردگار! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں۔ اگر تو نے ہم کو معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم زیاں کاروں میں سے ہو جائیں گے‘۔

        میرا مشورہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے مندرجہ بالا حوالہ جات کا پورا متن پڑھیں۔یعنی آیات بمعہ ترجمہ پڑھیں۔

    4.1-سیدنا یونس علیہ السلام کی مثال

        سیدنا یونس علیہ السلام اللہ کے نبی تھے۔ جن بستیوں کی طرف آپ کو مبعوث فرمایا گیا تھا انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ یہ کشمکش ایک عرصہ جاری رہی۔ آخرِ  کاریونس علیہ السلام نے بے بس ہو کر اللہ کے سامنے شکایت کر دی۔ قوم کو آخری نوٹس دینے کا حکم ہوا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو تین دن کے بعد گرفتارِ عذاب ہو جائیں گے۔ یہ اعلان کر کے آپ بستی سے نکل گئے۔ لوگوں نے عذاب کے آثار دیکھے تو بستی سے نکل کر رونے اور معافی مانگنے لگے۔ استغفار تقدیر کا رخ بدل دیتی ہے۔ اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور عذاب ٹل گیا۔ لوگ یونس علیہ السلام کی تلاش میں دوڑے۔ یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر کسی دوسری جگہ چلے جانے کے لیے روانہ ہو گئے تھے کہ عذاب نہیں آیا، وہ قوم کو کیا منہ دکھلائیں گے۔ جو قوم پہلے ہی مذاق اُڑاتی ہے وہ اب کیا حال کرے گی۔ راہ میں دریا پڑا۔ عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ کشتی طوفان کی لپیٹ میں آ گئی۔ فیصلہ ہوا کہ کوئی غلام مالک سے بھاگا ہوا ہے جو اس کشتی میں سوار ہے۔ اگر اس کو پانی میں پھینک دیا جائے تو کشتی طوفان سے نکل آئے گی۔ قرعہ اندازی ہوئی۔ قرعہ بار بار یونس علیہ السلام کے نام نکلا۔ لوگوں نے یونس علیہ السلام کو پانی میں پھینک دیا۔ یہ قصہ قرآن مجید میں یوں مذکور ہے:

    وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِذْاَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ فَسَاھَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَھُوَ مُلِیْمٌ (الصافّات:142-137)

        ’بے شک یونس ؑ پیغمبروں میں سے تھا۔ جب وہ لدی ہوئی کشتی کی طرف بھاگ گیا تو انہوں نے قرعہ ڈالا اور اسے دریا میں دھکیل دیا گیا۔ پھر اس کو مچھلی نگل گئی اور وہ پشیمان ہو گیا۔‘

    فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا ٓاَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (الأنبیآء:87)

        ’پس اس نے اندھیروں میں پڑے ہوئے پکارا کہ تیرے سوا کوئی قابلِ عبادت نہیں۔ تو پاک ہے۔بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔‘

    فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (الصافّات:144-143)

        ’ اگر وہ اس طرح تسبیح نہ کرتا تو قیامت تک اسی (مچھلی) کے پیٹ میں رکھا جاتا۔ ‘

        غور فرمائیں: اللہ کا نبی علیہ السلام قوم کو پکڑوانا چاہتا ہے مگر اللہ قوم کو معاف کرنا چاہتا ہے۔حشر کیا ہوا؟ اور کون غالب آیا؟ سب کچھ صاف صاف واضح طور پر سامنے موجود ہے۔ کون کہتا ہے کہ ’یار کو یار کی ماننی پڑتی ہے؟‘ معافی مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی گرفتارِ مصیبت ہو جائے اور جب غلطی ہو جائے تو دل سے توبہ و استغفار کرے۔ معافی مل جائے گی۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔

    4.2-سیدنا ابراہیم علیہِ السّلا م کی مثال

        یہ اللہ کے نبی علیہ السلام تھے۔ اللہ کی راہ میں آزمائش پہ آزمائش برداشت کی۔ بڑھاپا آ گیا۔ بیٹے کی ضرورت محسوس کی۔ تو دعا کی:

    رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (الصافّات:100)

        ’ اے میرے پروردگار مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔ ‘

    4.3-سیدنا زکریا علیہ السلام کی مثال

        یہ اللہ کے نبی علیہ السلام تھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کے خالو تھے۔ مریم علیہا السلام کی کفالت و پرورش اللہ کے حکم سے ان کے سپرد ہوئی تھی۔ ان کی اپنی اولاد نہ تھی۔ بڑھاپا غالب آگیا۔ بیوی بانجھ پن کے علاوہ ضعیفہ ہو گئی۔ مریم علیہا السلام کو اکثر مصروفِ عبادت چھوڑ کر حجرہ میں بند کر کے چلے جاتے۔ جب لوٹتے تو مریم علیہا السلام کے پاس تازہ کھانے اور میوے دیکھتے۔ ایک دفعہ پوچھا کہ یہ تمہارے لیے کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے بے حد و حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ سیدنا زکریا علیہ السلام کا ذہن فوراً اِس طرف گیا کہ میں بھی اللہ سے بیٹا مانگ لوں۔ چنانچہ عرض کرنے لگے:

    قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْباً وَّلَمْ اَکُنْم بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیّاً وَاِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِ یْ وَکَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِراً فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیّاً (مریم:5-4)

        ’اے میرے پروردگار! بڑھاپے کی وجہ سے میری ہڈیاں کمزور اور سر کے بال سفید ہو گئے ہیں اور میں تجھ سے مانگ کر کبھی بے نصیب نہیں رہا۔ مجھے اپنے بعد وارثوں (کے نہ ہونے) کا ڈر ہے، میری بیوی بھی بانجھ ہے۔مگر تو مجھ کو اپنے پاس سے ایک بیٹا عطا فرما دے۔ ‘

        غور فرماتے جائیں کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے وسیلہ کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں دعا ہی وسیلہ ہے۔ اللہ ہی ہے کہ اولاد عطا فرمائے۔ ورنہ ان کے پہلے بھی تو بزرگ تھے۔ وہ ان کا وسیلہ بھی تو پکڑ سکتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعائیں وہی سنتا ہے۔ اور بغیر کسی واسطے کے براہِ راست سنتا ہے۔ آپ بھی اس سے مانگیں۔ آپ کی بھی سنتا ہے۔ اولاد اس کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ قرآن مجید میں ایک جگہ خود ہی ارشاد فرمایا:

    لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَخْلُقُ مَایَشَآءُ یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثاً وَّیَھَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّکُوْرَ اَوْیُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَاناً وَّاِنَاثاً وَّیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْماً اِنَّہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ (الشورٰی :50-49)

        ’آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہے بیٹیاں اور جس کو چاہے بیٹے عطا فرماتا ہے۔ یا بیٹے اور بیٹیاں ملا کر دیتا ہے۔ اور جس کو چاہے بانجھ کر دیتا ہے۔ہر چیز اس کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ‘

        اگر آپ کو بھی اولاد چاہیے تو اس طرح مانگ لیں۔ دَر دَر کی خاک نہ چاٹیں۔ زکریا علیہ السلام کی یہ دعا میں نے اپنے اوپر آزمائی ہے۔ نہایت مجرب ہے:

    رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃ طَیِّبَۃ اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ (اٰل عمران :38)

        ’ اے میرے رب مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔ بیشک تو دعا سننے والا ہے۔ ‘

    4.4-سیدنا ایوب علیہ السلام کی مثال

        اب ایک مریض کا قصہ سنئے! یہ اللہ کے نبی علیہ السلام تھے۔ آزمائش آ گئی، بیمار پڑ گئے۔ مرض انتہا کو پہنچ گیا۔ اولاد لقمۂ اَجل ہو گئی۔ دولتِ دنیا ختم ہو گئی۔ نوکر چاکر ساتھ چھوڑ گئے۔ ایک کے سوا تمام بیویاں بے وفائی کر گئیں۔ صحت کے لیے وسیلہ چاہیے مگر بظاہر وسیلہ ناپید ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کیا:

    وَ اَ یُّوْبَ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (الأنبیآء:83)

        ’اور جب ایوب علیہ السلام نے اپنے رب سے فریاد کی کہ مجھ کو بہت تکلیف ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔‘

        میری تو دعا ہے کہ ’ساری دنیا کے مریضوں کو شفاء دے یارب۔‘ لیکن اگر آپ بیمار ہیں تو دَر دَر کی خاک چاٹنے کی بجائے اللہ مالک المُلک سے مخاطب ہو جائیں اور اسی طرح مخاطب ہوں جس طرح یہ مریض مخاطب ہوا۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ یہ دعا ہی وسیلہ ہے۔ آپ کی نیت اور آپ کا خلوص و یقین ہی وسیلہ ہے۔

    4.5-سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی مثال

        آئیے! اب ایک مسافر کا وسیلہ دیکھیں کہ وہ کس وسیلہ سے سہارا طلب کرتا ہے۔ یہ اللہ کے نبی علیہ السلام ہیں۔ فرعون کی پابندیوں کے باوجود خالقِ کُل نے ان کو پیدا فرمایا۔ بلکہ فرعون ہی کی گود میں پرورش پا رہے تھے۔ ایک روز دو لڑنے والوں میں سے ایک نے موسیٰ علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی۔ باز نہ آنے والے کو جو مکا مارا تو وہ وہیں مر گیا۔ جس آدمی کو چھڑایا تھا دوسرے دن آپ کا جو گذر ہوا تو دیکھا کہ وہ آج کسی دوسرے سے لڑ رہا ہے۔ اُس شخص نے جو موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو اُنہیں پھر مدد کے لئے پکارا۔ موسیٰ علیہ السلام یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے کہ تو روز ہی لڑتا ہے۔ وہ سمجھا کہ کل کی طرح اب یہ مجھے مار دیں گے۔ بول اٹھا کہ تو مجھے بھی قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل تو نے قتل کیا تھا۔ اس طرح قتل کا راز فاش ہو گیا۔ بات فرعون کے دربار میں پہنچی۔ موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا حکم جاری ہو گیا۔ درباریوں میں ایک،موسی علیہ السلام کا خیر خواہ تھا۔ بھاگا اور صورت حال سے موسیٰ علیہ السلام کو آگاہ کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ مصر کے باہر ہی سے کہیں بھاگ جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام بھاگ گئے۔ خوف بھی تھا اور راستہ نا معلوم۔ دور دراز کا سفر طے کر کے بے سہارا بھوکے پیاسے ایک شہر کے پاس کنویں کے قریب درخت کی چھاؤں میں جا بیٹھے۔ لوگ پانی بھر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دو نوجوان لڑکیوں کو دیکھا۔ جو بِھیڑکی وجہ سے اپنی بکریوں کو روک روک کر رکھ رہی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ گیا۔ ان سے وجہ پوچھی۔ تو اُنہوں نے اپنی مجبوری بتائی۔ آپ نے نیک سیرت جواں مردوں کا سا کام کیا۔ لوگوں کو پیچھے ہٹا کر ان لڑکیوں کو آگے بلا یا اور ان کی بکریوں کو پانی پلا کر فوراً فارغ کر دیا۔ ارشادِ قرآنی ہے:

    فَسَقٰی لَھُمَا ثُمَّ تَوَلّٰیٓ اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص :24)

        ’پس موسیٰ علیہ السلام نے ان کے لیے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے میں لوٹ گیا۔ پس کہا! اے میرے پروردگار تو بھلائی میں سے جو کچھ بھی میرے لیے نازل فرما دے میں اس کے لیے فقیر ہوں۔ ‘

        غور فرمائیں وسیلے کی طرف۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ دعا ہی وسیلہ ہے۔ نہ صرف ٹھکانہ ملابلکہ بیوی بھی مل گئی۔ بزرگانہ شفقت نصیب ہوئی اور سکون ملا۔

    4.6سیدنا لوط علیہ السلام کی مثال

        آئیے! ایک ایسے فقیر کا قصہ پڑھیں جس کی عزت خطرے میں ہے۔ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ اللہ کے نبی لوط علیہ السلام ہیں۔ جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے بھی ہیں۔ انہوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت فرمائی تھی۔ آپ ’سدوم‘ کی بستیوں کی اصلاح کے لیے مقرر ہوئے تھے۔ جن میں بے حیائی کی انتہا ہو چکی تھی کہ مرد، مردوں سے فعلِ بد کرتے تھے اور فخر کرتے تھے۔

        سیدنا لوط علیہ السلام نے ایک عرصۂ دراز تک قوم کی نافرمانیاں برداشت کیں اور اُن کی اِصلاح کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔ آخرِ کار اللہ کی طرف سے گرفت آئی۔ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل اختیار کر کے قوم میں آ گئے۔ سیدنا لوط علیہ السلام ان لڑکوں کو دیکھ کر سخت گھبرائے۔ گھر میں مہمانوں کو جگہ دی تو قوم چڑھ آئی۔ شدت سے مطالبہ ہونے لگا کہ مہمان ان کے حوالہ کر دئیے جائیں۔ لوط علیہ السلام منت سماجت کرتے رہے کہ مجھے مہمانوں کے سامنے ذلیل نہ کرو۔ مگر ان کا مطالبہ شدت پکڑتا گیا۔

        سیدنا لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں یا ان کی بیویوں کی طرف اشارہ کیا مگر بے سود۔ مایوس ہو کر لوط علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم میں کوئی بھی سنجیدہ اور سمجھ دار نہیں جو میری بات پر غور کرے؟ آپ آہ بھر کر بولے۔ کاش! میرے لیے کوئی مضبوط قلعہ ہوتا جہاں میں پناہ لے لیتا۔ آخرِ کار رات ہو گئی۔ یہ لوگ صحن کی دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گئے اور دروازے توڑنے لگے۔ سیدنا لوط علیہ السلام نے اللہ سے مدد چاہی۔ اب قرآن سنو:

    قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ (العنکبوت:30)

        ’ اے میرے پروردگار اس قومِ مفسدین کے خلاف میری نصرت فرما‘۔

    وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہ فَطَمَسْنَآ اَعْیُنَھُمْ (القمر:37)

        ’ اس کے مہمان اس سے چھننے لگے تو ہم نے اُن (ظالم حملہ آوروں )کی آنکھیں ہی اندھی کر دیں۔ ‘

        غور فرمائیں! کہ کس قدر بے بسی ہے؟ مگر قوم کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ آخر فریاد اللہ کے پاس کر دی۔ پھر وسیلہ کیا ہوا؟ دعا —! دعا وسیلہ ہے، زبردست وسیلہ— !بات بہت لمبی ہو رہی ہے۔فی الحال میں دوسری مثالیں رہنے دیتا ہوں۔ اب رسولِ بحر و بر صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتا ہوں۔

    4.7-سردارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم

        حالات یہ ہیں کہ قریش نے مکہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا۔ مدینہ پر حملہ آور ہوئے کہ پیر و مرشد کو مریدوں سمیت ختم کر دیں گے۔ بدر کے میدان میں مقابلہ ہو گیا۔ توازن دیکھئے کہ ایک طرف مسلح ایک ہزار جنگ آزمودہ مگر دوسری طرف؟

        تھے اُن کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ شمشیریں

        پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں

        یہ تہی دست تین سو تیرہ مسلمان ہر دیکھنے والی آنکھ کو حیرت میں ڈالے ہوئے تھے کہ جان بوجھ کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ سردارِ دو جہاں ا خیمہ میں رات بھر رو رو کر اللہ سے دعائیں مانگتے رہے۔ آنسو بہتے رہے۔

        دعا کے الفاظ یہ تھے:

        اَلَّھُمَّ اَنْجِزْ لِيْ مَا وَعَدْتَّنِيْ، اَللَّھُمَّ اٰتِ مَا وَعَدْتَّنِيْ، اَللّٰھُمَّ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃ مِنْ اَھْلِ الاِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِيْ الاَرْضِ  (صحیح مسلم، الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فِی غزوۃ بدر و اباحۃ الغنائم، ح: 1763)

        ’ اے میرے اللہ! وہ وعدہ پورا فرما۔ جو تو نے میرے ساتھ کیا، اے میرے اللہ مجھے وہ چیز عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر اہلِ اسلام میں سے یہ چند جوان ہلاک ہو گئے تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔‘

        الٰہی اب وہ عہدِ شب معراج پورا کر

        محمد سے جو وعدہ تھا وہ آج پورا کر

        اگر اغیار نے ان کو جہاں سے محو کر ڈالا

        نہ ہو گا اس جہاں میں کوئی تیرا چاہنے والا

        اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ مشکل کشا کون ہے؟ پھر دیکھیں کہ اللہ سے مانگنے کے لیے کیا وسیلہ ہونا چاہیے؟

    4.8-سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا

        اب ایک عورت کی بات سنیں۔ یہ خاتون مدینہ کے قبیلہ بنی خزرج کی عورت تھی۔ خاوند نے غصہ میں آ کر ماں کہہ دیا۔ مروجہ دستور کے مطابق یہ ایسی طلاق تھی کہ واپسی نا ممکن تھی۔ یہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام رواج کے مطابق فرما دیا کہ اس کو طلاق ہے۔ کائنات میں سب سے افضل انسان سے مایوس ہو کر وہ خاتون وہیں بیٹھی اللہ کے سامنے فریادیں کرتی گئی۔

        اس وقت تک اٹھنے کا نام نہیں لیا جب تک کہ مروّجہ دستور منسوخ نہیں ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حالتِ وحی طاری ہو گئی۔ اور یہ آیات نازل ہوئیں:

    قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا وَتَشْتَکِیْٓ اِلَی اللهِ وَاللهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَآ اِنَّ اللهُ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّاھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا الّٰئِیْ وَلَدْنَھُمْ وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَراً مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْراً وَّاِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ (المجادلة:2-1)

        ’ اللہ نے سن لی ہے اس عورت کی بات جو تیرے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی ہے۔ اللہ کے سامنے فریاد کرتی جا رہی ہے۔ اللہ تم دونوں کے سوال و جواب سن رہا ہے۔ بے شک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیں وہ ان کی مائیں نہیں ہو سکتیں۔ مائیں وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا۔ وہ زبان سے نا پسندیدہ بات اور جھوٹ کہتے ہیں۔ اور اللہ معاف کرنے والا صاحب بخشش ہے۔ ‘

        سوچئے! کہ کس قدر نادان ہیں وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ ان کی نہیں سنتا۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو اللہ کو غضب ناک کرتا ہے۔ اللہ سنتا ہے،مگر کوئی پکارنے والا تو ہو۔

        ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

        راہ دکھلائیں کسے؟ رَہروِ منزل ہی نہیں

        تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں

        جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں

        کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں!

        ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں!

        ہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں

        امتی باعثِ رسوائیِ پیغمبر ہیں

        بت شکن اٹھ گئے، باقی جو ہیں بت گر ہیں

        تھا ابراہیم پدر، اور پسر آزر ہیں

        بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے!

        حرمِ کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئے!

        اللہ کا دروازہ مت چھوڑئیے۔ ایسے فقیر بن کر اس کی چوکھٹ تھام لیجئے۔ کہ اپنے آپ کو صرف اس کا بندہ اور محتاج ہونے کا یقین ہو جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        اُدْعُوا اللهَ وَاَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالاِْجَابَةِ، وَاعْلَمُوْٓا أَنَّ اللهَ لَایَسْتَجِیْبُ دُعَآءً مِّنْ قَلْبِِ غَافِلٍ لَاہٍ  (جامع الترمذي، الدعوات، باب : 65، ح: 3479)

        ’اس یقین کے ساتھ اللہ سے دعا مانگو کہ وہ ضرور قبول ہو گی۔ جان رکھو کہ اللہ، غافل، کھیلنے والے دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔ ‘

        گویا دعا اس طرح نہ مانگو کہ عہدِ وفا کسی مزار سے بھی باندھ رکھا ہو اور دعا رسمی طور پر اللہ سے بھی مانگ رہے ہوں۔ یقین جان لو کہ اللہ کو تو اپنے بندوں کے ساتھ انتہائی محبت ہے۔ نبی کریم انے فرمایا:

         اِنَّ رَبَّکُمْ حَیٌّ کَرِیْمٌ یَّسْتَحْی مِنْ عَبْدِہٓ اِذَا رَفَعَ یَدَیْہِ اِلَیْہِ، اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْراً  (سنن ابي داوٗد، الوتر، باب الدعاء، ح: 1488)

        ’بیشک تمہارا رب حیا دار کریم ہے۔وہ اپنے بندے سے حیا کرتا ہے کہ جب وہ ہاتھ بلند کرے تو وہ اسکے ہاتھوں کو اس کی طرف خالی لوٹا دے۔ ‘

        اس طرح پکارنا سیکھو جس طرح مائی خولہ رضی اللہ عنہ نے پکارا کہ اللہ تعالیٰ نے فوراً وحی نازل فرما دی۔ یہ ہے اللہ۔ اتنا باریک بین اور اس قدر قریب ترین کہ اس نے فوراً قانون ہی منسوخ کر دیا۔ اور آئندہ ایسا کرنے والوں کے لیے سزا مقرر کر دی۔ سورۃ مجادلہ پڑھئے۔

        مگر ایک دلچسپ بات آپ کو بتا دوں کہ یہ خاتون اس واقعہ کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی کہ اس نے ایسی فریاد کی کہ عرش والا فوراً اس پر مہربان ہو گیا۔

        ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کچھ صحابہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستہ میں یہ خاتون ملی۔ اس نے سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو روک لیا۔ بہت دیر تک سر جھکا کر اس کی باتیں سنتے رہے۔ ایک صاحب نے کہا: ’امیرالمومنین آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کی خاطر اتنی دیر روکے رکھا۔ ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہے۔ یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی تھی۔ الله کی قسم! اگر مجھے یہ رات تک بھی کھڑا رکھتی تو میں کھڑا رہتا۔ بس نماز کے اوقات میں معذرت کرتا۔‘

        ایک بار یہ خاتون سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو راستہ میں ملیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر کہنے لگیں: ’اے عمر(رضی اللہ عنہ)! ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازارِ عکاظ میں دیکھا تھا۔ تم اس وقت عمیر کہلاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔ پھر کچھ دیر نہ گذری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہے جانے لگے۔ ذرا رعیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ یاد رکھو جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے۔ اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ جو موت سے ڈرتا ہے اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اس چیز کو کھو دے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔ ‘ ‘جارود عبدی رضی اللہ عنہ،جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے،بولے:’ اے عورت تو نے امیرالمومنین کے ساتھ زبان درازی کی ہے۔ ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ’جانتے ہو یہ کون ہے؟ انکی بات تو سات آسمانوں پر سنی گئی تھی۔ عمر کو بہت ہی دھیان سے سننی چاہئے۔ ‘

        غور فرمائیے! کہ اس عورت کو اللہ کے رسول ا جواب دے چکے ہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ  تَشْتَکِیْٓ اِلَی اللّٰہِ یعنی ’وہ اللہ سے فریاد کرتی ہے۔ ‘ گویا اللہ کے دربار میں اس کی فریاد اور دعا ہی اس کا وسیلہ تھی۔

        دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔

        عملِ صالح اور دعا سے بڑھ کر کوئی وسیلہ نہیں

        فرمانِ الٰہی ہے:

    وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ (المؤمن:60)

        ’ تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ تم دعا مجھ ہی سے مانگو۔ میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں ان کو عنقریب ذلیل کر کے جہنم میں داخل کروں گا۔ ‘

        آیت صاف بتا رہی ہے کہ دعا عبادت ہے۔ جو اللہ ہی کا حق ہے۔ دعا نہ مانگنا تکبر ہے اور ٹھکانا جہنم ہے۔

        اب ایک دلچسپ قصہ بیان کر کے بات ختم کر رہا ہوں۔ یہ قصہ بخاری شریف جلد دوم پارہ چودہ میں اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ ہی لکھ رہا ہوں:

        اسمٰعیل، علی بن مسہر، اور عبداللہ رضی اللہ عنہم، سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        ’تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی چلے جا رہے تھے کہ یکایک ان پر بارش ہونے لگی۔ وہ ایک غار میں پناہ گزین ہوئے(اوپر سے ایک بڑا پتھر گرا) غار کا منہ بند ہو گیا۔ پس ایک نے دوسروں سے کہا کہ صاحبو! اللہ کی قسم! سچائی کے سوا تم کو کوئی چیز نجات نہ دے گی۔ لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اس چیز کے وسیلہ سے دعا مانگے۔ جس کی نسبت وہ جانتا ہو کہ اس نے اس عمل میں سچائی کی ہے۔

        پہلے شخص کا وسیلہ

        ایک نے کہا! اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میرا ایک مزدور تھا۔ جس نے ایک’ فرق‘ (تقریباً سات سیر) چاول کے بدلے میرا کام کر دیا تھا۔ وہ چلا گیا اور مزدوری چھوڑ گیا۔ میں نے اس ’فرق‘ کو لے کر زراعت کی۔ اس کی پیدا وار سے جانور خرید لیے۔ پھر وہ مزدور میرے پاس مزدوری لینے آیا تو میں نے اس سے کہا کہ ان جانوروں کو ہانک کر لے جا۔ اس نے کہا۔ مذاق نہ کرو۔ میرے تو تمہارے ذمہ صرف ایک فرق چاول تھے۔ میں نے کہا کہ ان کو ہانک کر لے جا۔ کیونکہ یہ جانور اس فرق چاول کی پیدا وار میں سے ہی خریدے ہیں۔ پس وہ ان کو ہانک کر لے گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے صرف تیرے خوف سے کیا تھا۔ اب تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔

        دوسرے کا وسیلہ

        پھر دوسرے نے کہا! اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے۔ میں روزانہ رات کو ان کے لیے اپنی بکریوں کا دودھ دوہ کر لے جاتا تھا۔ ایک رات اتفاق سے ان کے پاس اتنی دیر سے پہنچا کہ وہ سو چکے تھے۔ میرے بال بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ میں نے اپنے تڑپتے ہوئے بچوں کو ماں باپ سے پہلے اس لیے دودھ نہ پلایا تھا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ان کو چھوڑنا گوارا ہوا کہ وہ اس کے نہ پینے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں گے۔ لہٰذا میں رات بھر برابر انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ سویرا ہو گیا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میں نے صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو اب ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا ہٹ گیا۔ اور اتنا ہٹ گیا کہ انہوں نے آسمان کو دیکھا۔

        تیسرے کا وسیلہ

        اس کے بعد تیسرے نے کہا! اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میرے چچا کی بیٹی تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے (ناجائز کام کی) خواہش کی۔ وہ سو اشرفیاں لینے کے بغیر رضا مند نہ ہوئی۔ میں نے مطلوبہ اشرفیاں حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کی۔ جب وہ مجھے مل گئیں تو میں نے وہ اشرفیاں اس کو دے دیں۔ اس نے اپنے آپ کو میرے قابو میں دے دیا۔ جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈر جا اور مُہرِ بکارت کو نا حق (بغیر نکاح کے) نہ توڑ۔ پس میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ سو اشرفیاں بھی چھوڑ دیں۔ اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تجھ سے ڈر کر یہ کام چھوڑ دیا تھا تو اب ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر پوری طرح سے ہٹا دیا۔ اور وہ تینوں باہر نکل گئے۔ ‘

        غور فرمائیے! کہ عملِ صالح جو صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے۔ وہ عمل اور پُر خلوص دعا ہی سب سے بڑا وسیلہ ہے۔ بندے کا کام ہے، بس مالک کی چوکھٹ نہ چھوڑے اور اُسی کی غلامی میں لگا رہے۔ حالی نے کیا خوب کہا ہے ؂

        ہے ذاتِ واحد عبادت کے لائق

        زبان اور دل کی شہادت کے لائق!

        اُسی کے ہیں فرمان اطاعت کے لائق

        اُسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق!

        لگاؤ تو لو اپنی اس سے لگاؤ

        جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ

        اُسی پر ہمیشہ بھروسہ کرو تم!

        اُسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم

        اُسی کے غضب سے ڈرو، گر ڈرو تم!

        اُسی کی طلب میں مرو، جب مرو تم

        مُبَرَّا ہے شرکت سے اس کی خدائی

        نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی

        خِرَد اور ادراک رنْجُور ہیں واں

        مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں

        جہاندار مغلوب و مقہور ہیں واں

        نبی اور صدیق مجبور ہیں واں

        نہ پُرسش ہے رہبان و احبار کی

        نہ پروا ہے ابرار و احرار کی

        زندہ بزرگوں سے دعا کروانا

        دعا دوسرے سے کروانی بھی اسی صورت میں مفید ہو سکتی ہے جب آپ خود بھی دعا کریں اور اللہ کا اذن ہو جائے۔ جو بزرگ فوت ہو جائیں ان کے لیے تو ہم زندوں کو دعا کرنی چاہیے۔ خود دعا کرنے اور زندہ بزرگ سے دعا کروانے کا عقیدہ درست ہے۔ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی تھا۔

        سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب قحط پڑتا، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور کہتے:

         اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتَسْقِیْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیَّنَا فَاسْقِنَا، قَالَ: فَیُسْقَوْنَ  (صحیح البخاري، الأستسقاء، باب سوال الناس الأمام الأستسقاء اذا قحطوا، ح: 1010)

        ’ اے ہمارے اللہ! ہم تیری طرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ اختیار کرتے تھے(یعنی اُن کی زند گی میں اُن سے دعا کرواتے تھے)۔ اور تو ہمیں سیراب کرتا تھا۔ اب (آپ اکی وفات کے بعد) تیری طرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں(یعنی اُن سے دعا کرواتے ہیں) پس تو ہم کو پانی پلا۔‘انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’ پس وہ سیراب کیے جاتے تھے۔ ‘

        ورنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر وہاں موجود تھی۔ ان کی قبر پر ان کے وسیلہ سے دعا مانگنے کا عقیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اگر ہوتا تو قبر پر حاضر ہو جاتے۔ عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ تکلیف دے کر جنگل میں لے جانے کا       کو ئی مقصد ہی نہ تھا۔

        سیدناحسین رضی اللہ عنہ ایک مقصد لے کر اٹھے تھے۔ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کوفہ کی طرف چل پڑے۔ راستے ہی میں کربلا کے مقام پر المناک حادثہ پیش آگیا۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ فوت شدہ صاحبِ قبر کے طفیل اور واسطہ سے دعا مانگنے کا عقیدہ ہمارے رہبر و رہنما پیرِ کامل امامِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دیا ہی نہیں۔ ورنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے گھرانے کی دنیا کو یوں داؤ پر نہ لگاتے۔ بلکہ مدینہ میں اس قبر سے چمٹے رہتے جس میں ان کے نانا بزرگ، امام الانبیاء، فخرِ بنی آدم، سردارِ دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔

        قبر پرستی کی بیماری مسلمانوں میں وبا کی طرح پھیل گئی ہے۔ میں نے ایک شخص کو ایک مزار سے نکلتے ہوئے دیکھا جو بار بار کہتا جا رہا تھا:’اچھا پیرا جو تیری مرضی۔ ‘ میں نے پوچھا کہ پیر نے کیا کر دیا ہے۔ جواب ملا: ’ مجھے اتنا عرصہ ہو گیا حاضری دیتے ہوئے مگر میری مراد پوری نہیں کرتا۔ ‘ میں نے کہا :’میاں! اللہ کو پکارو۔‘ کہنے لگا: ’یہ بھی اللہ ہی ہیں۔ ‘ اِنَّاِ للهِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ ان نادانوں کو ہدایت دے۔

        اللہ کا اِذن کس طرح حاصل ہو سکتا ہے؟

        وہی عملِ صالح اللہ کے ہاں قابلِ قبول ہے جو خاص اللہ کی خوشنودی کے لیے اللہ کے خوف سے نبی اکرم ا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کیا جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

    قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللهُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اٰل عمران:31)

        ’(اے میرے پیغمبر ا ) ان کو فرما دیں کہ اگر تم اللہ سے محبت چاہتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘

        گویا پیغمبر ا کی پیروی ایک وسیلہ ہے۔ اسی سے اللہ کا اِذن حاصل ہو سکتا ہے۔

        کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں

    4.9-دعا کی اہمیت

        دعا ایک مکمل اور پختہ وسیلہ ہے۔ ویسے تو ہر مخلوق اور ہر اِنسان کا ایک ایک سانس اور دنیا کی ایک ایک نعمت اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت و عنایت کی بدولت ہے۔مگر مشکل اور پریشانی میں اللہ کی توجہ اور رحمتِ خاص دعا سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

        1۔ ترمذی شریف میں لکھا ہے:سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تقدیر کو دعا کے بغیر کوئی چیز نہیں پھیر سکتی اور عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز زیادہ نہیں کر سکتی۔

        2۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ا نے فرمایا ہے:

         اَلدُّعَآءُ مُخُّ الْعِبَادَۃ  (جامع الترمذی، الدعوات، باب الدعاء مخ العبادة، ح:3371)

        ’دعا عبادت کا مغز ہے۔ ‘

        3۔ جناب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

        ’جو شخص اللہ سے دعا نہ مانگے، اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔‘

        4۔ ’تمہارا پروردگار فرماتا ہے کہ تم دعا مجھ سے مانگو۔ میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں ان کو عنقریب ذلیل کر کے جہنم میں داخل کروں گا۔ ‘(مومن:6) یہ آیت وسیلہ کے موضوع میں لکھی جا چکی ہے۔

        5۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    اَلَیْسَ اللهُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ (الزمر:36)

        ’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟‘

        یہ سوال ان لوگوں کی عقل کو دعوتِ فکر دیتا ہے۔ جو اللہ کا دروازہ چھوڑ کر اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ یا، اللہ تک اپنی بات پہنچانے کے لئے دوسروں کا واسطہ تلاش کرتے ہیں۔

        6۔ اور فرمایا:

    وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْ مِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ 186)

        ’جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال پوچھیں (تو کہہ دے کہ) میں قریب ہوں۔ جب دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں۔ پس ان کو بھی چاہیئے کہ یہ میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ ہی پر یقین رکھیں تاکہ بھلائی پائیں۔ ‘

 

    4.10-بعض دعائیں مستجاب کیوں نہیں ہوتیں؟

    یہ ایک اہم اور دلچسپ سوال ہے۔ اس کی وجوہات تو کئی ہو سکتی ہیں۔ مگر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خلوصِ دعا میں کمی ہوتی ہے۔ اگر انسان کو بھروسہ کسی دوسری قوت پر، اپنی طاقت و ذہانت پر، کوشش پر، سفارش پر، رشوت اور دیگر ذرائع پر ہو تو اللہ پر بھروسہ کم ہو جائے گا۔ اللہ سے رسمی دعا مانگے گا۔ اللہ بھی اس کو ان ذرائع کے حوالے کر د ے گا۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ان جائز ذرائع کو بھی انسان چھوڑ ڈالے۔ نہیں، بلکہ کوشش لازم جانے۔ مگر اس کی بار آوری اور دارومدار اللہ پر جانے۔اور کسی چیز پر توکُّل نہ کرے سوائے اللہ کے۔

    دوسری وجہ مصلحت: ماں انسان کے لیے سب سے بڑھ کر شفیق ہوتی ہے۔ ماں جب محسوس کرتی ہے کہ اس کا بچہ کسی ایسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھا رہا ہے۔ جو اُس کے لیے ضرر رَساں (نقصان دِہ )ہے تو اس کی خواہش کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ بچہ اگر ضرر رساں چیز کو ہاتھ میں لے بھی لے تو زبردستی چھین لیتی ہے۔خواہ بچہ چیخ چیخ کر احتجاج کرے۔ بلکہ اگر کھانے کی مضر چیز کو منہ میں بھی ڈال لے تو اس کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال پھینکتی ہے۔ اگرچہ بچہ اس کو اپنے اوپر ظلم ہی تصور کرے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بندے پر ماں سے بھی بڑھ کر شفیق ہے۔ جب اس سے بندہ دعا کرتا ہے اور وہ بندے کے لیے مفید نہ ہو تو اس عطا ء کو روک دیتا ہے۔ بلکہ جو نعمت بندے کے لیے ضرر رساں ہو وہ دے کر بھی چھین لیتا ہے۔ یہ بھی اس کی شفقت ہی کی علامت ہے۔ جس طرح بچہ ہر حال میں ماں کے دامن کو نہیں چھوڑتا بلکہ اس کی آغوش میں سکون محسوس کرتا ہے۔ اس کو اپنے لیے مجسمۂ رحمت جانتا ہے۔ اسی طرح انسان کو بھی چاہیے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔ وہ تو ماں سے بھی زیادہ شفیق ہے۔ جائز چیز کے حصول کی کوشش جاری رکھے اور دعا مانگنے میں کبھی سُستی نہ کرے۔ اس کے لیے مفید چیز اللہ عطا کر دے گا۔

    ورنہ نعم البدل عطا کرے گا یا اس کی دعا کو قیامت کے لیے ذخیرہ کر دے گا۔ بہرحال بندے اور اللہ کا تعلق ہمیشہ قائم رہنا چاہیے، جس میں کسی قسم کی ملاوٹ اور کھوٹ نہ ہو۔ تمام کوششوں کی بار آوری اس کی رحمت پر ہے۔ جائز کوشش کے باوجود نگاہ اسی کے درِ رحمت پر جمی رہے۔ اسی میں سکون اور عافیت ہے۔

وَلَقَدْخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (قٓ:16)

    ’ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے دل میں کیا کیا خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اور ہم اُس سے اُس کی شاہ رگ سے بھی قریب ہیں۔ ‘

    افسوس ان بے شعور انسانوں کی نا سمجھی پر کہ شاہ رگ سے قریب اور دل کے خیالات کو جاننے والے کو بھلا کر ان لوگوں کی طرف مائل ہیں جن کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے کہ وہ زندگی میں بے بس، وفات کے بعد بے خبر اور قیامت کے دن انکار کر دیں گے۔ لوگو! اللہ سے مخاطب ہونا سیکھو۔ وہ صاحبِ اقتدار ہے۔ مجبور نہیں۔ وہ شاہ رگ سے قریب ہے، دور نہیں۔ اس کا علم مکمل ہے۔ دوسروں کی طرح نامکمل اور ادھورا نہیں۔ اس کو زوال، کمزوری اور موت نہیں۔ بلکہ:

ھُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (المؤمن:65)

    ’وہ زندہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی قابلِ عبادت نہیں۔ پس اس کو خالص کر کے پکارو اور اسی کی عبادت کرو۔ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ ‘

    بتوں سے تجھ کو اُمیدیں خدا سے نو میدی

    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟

4.11-فرمانِ علی ہجویری

    یہ وہ بزرگ ہیں جو غزنی،افغانستان سے بسلسلۂ تبلیغ لاہور تشریف لائے تھے۔ لاہور ہی میں دفن ہوئے۔ ان کے مزار پر لوگ کئی زیادتیاں کرتے ہیں اور ان سے کئی امیدیں باندھتے ہیں۔ وہ اپنی مشہور کتاب ’کشف المحجوب‘ میں اپنے آپ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:

    ’اے علی! لوگ تجھ کو گنج بخش کہتے ہیں۔ مگر تیرے پاس کسی کو دینے کے لیے کوڑی بھی نہیں۔ تو اس پر فخر نہ کر کیونکہ گنج بخش (خزانہ بخشنے والا) اور رنج بخش صرف اللہ کی ذات ہے۔ ‘

    مگر اس قوم کا کیا ہو گا جو اصل داتا اور گنج بخش کو چھوڑ کر ان بزرگوں کو’ داتا‘ اور ’گنج بخش‘ کہہ کر ان کی روحوں کو دُکھ دیتے ہیں۔ یقیناً قیامت کے روز اللہ ان سے جواب طلبی کرے گا۔ایک کاروبار کی خاطر یہ سلسلہ چلا دیا گیا ہے۔ علامہ اقبال کھری کھری بات کہنے کے عادی تھے اور کیا کھری بات کہہ گئے ہیں:

    جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو

    نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو!

    بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خر من تم ہو

    بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو!

    ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کے

    کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟

4.12-دعا کا طریقہ

    قرآن کریم میں اللہ کریم نے بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کی دعائیں نقل فرما دی ہیں۔ جو انہوں نے مختلف حا لات میں مانگی تھیں۔ تاکہ مسلمان ویسے حا لات میں اسی طرح مانگیں۔ ان میں سے چند ایک کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ کتبِ  احادیث میں بھی بہت سی دعائیں درج ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانگتے رہے۔ افضل یہی ہے کہ وہ دعائیں یاد کی جائیں اور اسی لب و لہجہ میں مانگی جائیں جو قرآن و حدیث میں درج ہے۔ لیکن اگر معذوری ہو کہ ان دعاؤں کو یاد نہیں کر سکتے تو دعا مانگنا مت چھوڑ دیں۔ اللہ ہر زبان سمجھتا ہے۔ دل کی کیفیت جانتا ہے۔ خلوصِ دل سے اپنی ہی زبان میں مانگ لیں۔ کسی دعا میں کسی کا وسیلہ یا واسطہ ڈال کر نہیں بتایا گیا۔۔ دعا کا مفہوم و مقصد سمجھ کر مانگیں تاکہ زبان کے ساتھ آپ کا دل و دماغ بھی شاملِ دعا ہو۔

    دعا سے پہلے اور بعد نبی رحمتا پر درود پڑھنا نہ بھولیں۔ ورنہ دعا قبول نہ ہو گی۔ آخر میں آمین بھی ضرور کہہ دیں۔ دل ہر قسم کے شرک سے پاک صرف اللہ ہی کے لیے خالص ہو۔

    ورنہ بقول اقبال

    جو میں سر بہ سجدہ کبھی ہوا تو زمین سے آنے لگی صدا

    تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں؟

4.13-درود شریف کی اہمیت و فضیلت

    درود شریف کی اہمیت یوں سمجھ لیں کہ درود کے بغیر کوئی نماز، نماز نہیں۔ اور کوئی دعا، دعا نہیں۔ البتہ درود، مسنون (یعنی سنت سے ثابت شدہ) ہونا چاہیئے۔ مگر مسلمانوں نے اپنی مرضی سے بہت سے درود بنا لیے ہیں اور ان کے نام خود رکھ لیے ہیں۔ جن کا کوئی ذکر کتبِ  احادیث میں نہیں ہے۔ ایسے درود،اگر آپ خلوص نیت سے پڑھتے بھی رہیں گے جس پر میرے اور آپکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نہ ہو تو آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس کھوٹے سکے کو مارکیٹ میں کون قبول کرے گا۔ گویا خلافِ سُنّت خلوص بھی بیکار ہے۔

    ہمیشہ وہ مستند درود شریف پڑھیں جو کتب احادیث میں درج ہیں۔ ان میں سے ایک تو وہ ہے جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں۔میرا مشورہ ہے کہ آپ زیادہ الجھن میں نہ پڑیں اور صرف یہی درود شریف پڑھ لیا کریں۔ کم از کم دل کو یقین تو ہو گا کہ اس پر مہرِ مدینہ ہے۔

    قرآن مجید میں درود شریف کے لیے یوں حکم آیا ہے:

اِنَّ اللهَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً (الاحزاب:56)

    ’ اللہ اور اس کے فرشتے نبی ا پر درود شریف بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو۔ ‘

    بخاری و مسلم میں یہ حدیث درج ہے:

    جناب عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے ملاقات کی اور کہا کہ میں تجھ کو وہ چیز ہدیہ نہ دوں؟ جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میں نے کہا ہاں ہم کو وہ ہدیہ ضرور دیجئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی ا سے دریافت کیا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر اور اہلِ بیت پر ہم کس طرح درود شریف بھیجیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    اس طرح کہو:

     اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

    ’ اے ہمارے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت بھیج۔ جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت بھیجی تھی۔ بے شک تو تعریف کیا گیا پاک ہے۔ اے ہمارے اللہ! محمد اور آلِ محمدپر برکتیں بھیج۔ جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں بھیجی تھیں۔ بے شک تو تعریف کیا گیا پاک ہے۔ ‘

4.14-درود کا مقام

    مسلم شریف میں یہ حدیث جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’ مجھ پر جو شخص ایک مرتبہ درود بھیجے گا۔ اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرمائے گا۔ ‘

    آپ ہی فیصلہ کریں کریں کہ ہم من گھڑت درود پڑھ کر اپنا وقت اور ثواب کیوں ضائع کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ جس درود کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچتی وہ باطل ہے۔ رہا اصل درود شریف! تو وہ ہمیشہ پڑھتے رہنا چاہئے۔ جس جملے کے شروع میں اَ للّٰھُمَّ یا رَبَّنَاکا لفظ آئے وہ دعا ہے۔لہٰذا درود شریف بھی دعا ہے۔

4.15-دعا کا وقت

    اگرچہ دعا ہر وقت مانگتے رہنا چاہیئے مگر کچھ مواقع کتبِ  احادیث میں ملتے ہیں۔ جن میں سے صرف ایک کا ذکر میں یہاں کر دیتا ہوں۔

    ترمذی شریف میں لکھا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ: ’ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میں نماز کے بعد بیٹھا تو اللہ کی تعریف کی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا۔ اپنے لیے دعا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ’جو مانگنا ہے مانگ، دیا جائے گا۔ مانگ، دیا جائے گا۔ ‘

    گویا نماز دعا کے لیے بہترین وقت ہے۔ نماز مؤمن کی معراج ہے۔ اس وقت مؤمن یک سُو ہو کر اللہ سے براہ راست باتیں کرتا ہے۔ کوئی وسیلہ درکار نہیں ہے۔

    واسطہ نہ طفیل: ایسے ہی دعائیں مانگنے والے لوگوں کے لیے اللہ نے فرمایا ہے:

اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْھُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجٰوَزُعَنْ سَیِّاٰتِھِمْ فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃ (الأحقاف:16)

    ’یہی لوگ ہیں۔ جن کے اعمال میں سے اچھے ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے ہم در گذر کرتے ہیں اور وہ صاحبِ بہشت ہیں۔ ‘

    دعا عبادت ہے اور صرف اللہ ہی کا حق ہے۔ دعا نہ مانگنے پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ دعا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے بڑھ کر کوئی وسیلہ نہیں۔ اس کے علاوہ باقی ہر خود ساختہ فعل مشرکانہ ہے اور شرک ظلم ہے۔

    چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِہ وَھُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللهِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمان:13)

    ’ اور جب لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ بیشک شرک سب ظلموں سے بڑا ظلم ہے۔ ‘

    اسی مقام پر اللہ کریم نے والدین کا حق بیان کرتے ہوئے ماں کا حق بیان فرمایا ہے۔ لیکن بے حد و حساب، احسان کرنے والی ماں بھی اگر شرک کے لیے کہے،تو ’اللہ نے حکم دیا ہے‘ کہ اس کی فرمانبرداری مت کرو۔ البتہ دنیا کے کاموں میں اس کی خدمت ضرور کرتے رہو۔

4.16-شرک نیک اعمال کو کھا جاتا ہے

    دونوں جہانوں میں سردارِ انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخصیت ہمارے نزدیک نہیں ہے۔ مگر شرک کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو فرمانِ باری تعالیٰ نازل ہوا ہے۔ اسے دیکھ لیں:

وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (الزمر:65)

    ’تیری طرف اور تجھ سے پہلے لوگوں کی طرف ہم نے وحی کی کہ اگر تم نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو تمہارے سارے اعمال ضائع کر دوں گا اور تم زیاں کاروں میں سے ہو جاؤ گے۔ ‘

    ایک بات ذہن نشین فرما لیں کہ اللہ کو کسی قوم یا شخص سے محبت نہیں ہے بلکہ اللہ کو اپنے قانون سے محبت ہے۔ جو اس کے قانون کو مانے وہ اس کو محبوب اور جو نہ مانے وہ مردود ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم، اسحاق، یعقوب، نوح، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، الیاس، اسماعیل، یونس اور لوط علیہم السلام جیسے برگزیدہ انبیاء کا ذکر فرما کر فرمایا کہ ان کو دوسرے لوگوں پر فضیلت بخشی گئی تھی۔ مگر ان کی بابت بھی فرمایا گیا:

وَمِنْ اٰبَآئِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ وَاِخْوٰنِھِمْ وَاجْتَبَیْنٰھُمْ وَھَدَیْنٰھُمْ اِلٰیصِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ  وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (الانعام:88-87)

    ’ ان کے آباء و اجداد، بیٹوں اور بھائیوں میں سے ہم نے پسند کیے تھے اور ان کو صراطِ مستقیم کی ہدایت کی تھی۔ یہ ہدایت اللہ ہی کی طرف سے ہے، جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے ہدایت فرماتا ہے۔ اگر یہ شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال کھوئے جاتے۔ ‘

    اس واضح اور صریح آیتِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ شرک اعمال صالحہ کو کھا جاتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو شرک سے بچنا چاہئے۔

 

4.17-شرک پر مرنے والے کی معافی نہیں

    فرمانِ الٰہی ہے:

اِنَّ اللهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بَہ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْماً عَظِیْماً (النسآء:48)

    ’ بیشک اللہ اس بات کو کبھی معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے۔ علاوہ ازیں دوسرے گناہ جو وہ چاہے گا معاف فرما دے گا۔ جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا۔ اس نے گناہ عظیم باندھ لیا۔ ‘

    پھر فرمایا:

اِنَّ اللهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً م بَعِیْداً (النساء:116)

    ’بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے۔ اس کے علاوہ دوسرے گناہ جو وہ چاہے گا، معاف فرما دے گا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا وہ دُور گمراہی میں جا گرا۔ ‘

    شرک اس قدر خطرناک گناہ ہے کہ اس کے علاوہ باقی کا فیصلہ وقت آنے پر ہو گا۔ مگر شرک کا فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ اس کی معافی نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ باقی گناہ کرنے والے سے امید کی جا سکتی ہے کہ کسی وقت توبہ کر لے گا۔ کیونکہ گناہ کو ہر شخص گناہ ہی کہتا ہے۔ مگر مشرک اور بدعتی تمام عمر اس خوش فہمی میں رہتا ہے کہ وہ نیکی کر رہا ہے وہ شرک و بدعت کو گناہ سمجھتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے تا دمِ واپسی اسے توبہ کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ اپنے آپ کو مکڑے کی طرح خیالات کا تانا بانا بنا کر مضبوط قلعے میں محفوظ سمجھتا ہے۔ مگر حقیقت کا ایک ہی جھٹکا سب تانا بانا بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔

 

4.18-شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے

    مشرک کا یہ عقیدہ پختہ ہوتا ہے کہ اللہ سے بات منوانے کے لیے سفارش کام کر سکتی ہے۔ وہ تمام عمر اسی غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ فوت شدہ بزرگ سفارش کر کے اسے نجات دلا سکتے ہیں اور اس کی بگڑی بنا سکتے ہیں۔ وہ اپنے خیال کے مطابق بزرگوں کی روحوں کو اپنے حق میں راضی رکھنے کے لیے ان کے نام کی نذر و نیاز اور عرس بھنڈارے پر حاضری کو کافی سمجھتے ہوئے عمر کھپا دیتا ہے۔ باقی گناہوں سے وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے۔ گویا شرک تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ مثلاً ایک بازاری عورت اپنے گناہ کی معافی کے لیے مسجد میں کبھی نہیں جاتی۔ بلکہ وہ پیر کے مزار پر چڑھاوا دینا کافی خیال کرتی ہے۔ اسی غلط فہمی بلکہ خوش فہمی میں وہ عمر گزار دیتی ہے۔ اخبارات میں اغوا اور لٹ جانے کی خبریں اکثر دیکھی جاتی ہیں۔ یہ سب شرک ہی کا نتیجہ ہے۔

    شرک کیوں؟

    یہ ہر گز نہ بھولیے کہ شیطان ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے۔ اس کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ انسان اس کا شکار ہوں۔ جو انسان ذرا اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے اس پر شیطان قبضہ کر لیتا ہے۔

وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰناً فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ وَّاِنَّھُمْ لَیَصُدُّوْنَھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُھْتَدُوْنَ حَتّٰی اِذَا جَآءَ نَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ بُعْدَالْمَشْرِقَیْنَ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ (الزخرف:38-38)

    ’اور جو شخص اللہ کی نصیحت (یعنی قرآن ) سے اندھا بن جائے ہم اس پر شیطان کو مسلط کر دیتے ہیں۔ جو کہ اس کا ہم نشین بن جاتا ہے۔ پھر وہ (شیاطین) اس کو سیدھی راہ سے روکتے ہیں اور وہ سمجھتا رہتا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس آ جاتا ہے۔ تو(وہ شیطان سے) کہتا ہے ’اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق تا مغرب جتنی دوری ہوتی۔ تُو تو بد ترین ہم نشین ہے۔ ‘

    ادھر اللہ نے تلاشِ حق کا جذبہ ہر دل میں رکھ دیا ہے۔ انسان ہمیشہ حق کا متلاشی رہا ہے۔ شیطان انسان کے اس جذبہ سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی کوشش انسان کو بے علم رکھنے پر صرف کرتا ہے۔ تاکہ وہ حق و باطل میں تمیز نہ کر سکے اور پھر مندرجہ بالا آیت کے مطابق باطل کو اس کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ انسان اسی کو حق سمجھ کر اس پر سرمایۂ حیات کھپا دیتا ہے اور اسے کبھی توبہ نصیب نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ موت کا جھٹکا آتے ہی حقیقت اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔ وہ دن آ جاتا ہے کہ:

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَ تُھُمْ وَلَھُمُ اللَّعْنَۃ وَلَھُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ (المؤمن:52)

    ’جس دن ظالموں کی معذرت ان کو نفع نہ دے گی اور ان کے لیے لعنت ہے۔ اور ان کے لیے بُرا گھر ہے۔ ‘

    شیطان خوب جانتا ہے کہ شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ شرک کی معافی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرک میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی بہت سی فوج اس کی مدد کے لیے کمر بستہ ہے۔ وہ علماء، پیر اور درویش کا روپ دھار کر انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

    اللہ نے ہم کو اس طرح آگاہ فرمایا ہے:

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ وَاِنَّ فَرِیْقاً مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ (البقرة:146)

    ’جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ اسکویوں پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ اور ان میں ایک ایسا گروہ بھی ہے جو حق کو جان بوجھ کر چھپاتا ہے۔ ‘

    یہ ہیں گندم نما جَو فروش مولوی، پیر اور درویش جن کے آستانوں کی رونق اور ان کی قوت کا سرچشمہ بھی ہم ہی ہیں۔اس حق کو چھپانے کے لیے وہ معاوضہ بھی ہم ہی سے وصول کرتے ہیں۔

    فرمانِ الٰہی پڑھئے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْراً مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللهِ (التوبة:34)

    ’اے ایمان والو! بے شک تمہارے عالموں اور پیروں میں سے اکثر ایسے ہیں جو لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ ‘

    ہم جاہل اتنے ہیں کہ اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اس زعمِ باطل میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ ہم پر احسانِ عظیم فرما رہے ہیں۔ یہ لوگ ہمارا ہی خون چوس کر ہم پر ہی فوقیت جتاتے ہیں۔ ہمیں اس قدر فریب زدہ کر دیتے ہیں کہ ہم ان کے لیے لڑنے مرنے پر تیار رہتے ہیں

    خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

    کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ یَکَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا (الحج:72)

    ’جب اُن کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو آپ ان منکرین کے چہروں پر ناخوشی کے آثار دیکھیں گے۔ قریب ہے کہ ہماری آیات پڑھ کر سنانے والوں پر حملہ کر دیں۔ ‘

    قارئین کرام! آپ نے اکثر ایسے تصادم دیکھے بھی ہوں گے۔ یہ سب ان دھوکہ بازوں کا کیا دھرا ہوتا ہے۔ عوام ان پر فریفتہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ آسان مذہب اور معافی کا پرچار کرتے ہیں۔ جو لوگوں کو پسند ہوتا ہے۔ وہ اسی کو حق سمجھ کر اسی پر سرمایۂ حیات کھپا دیتے ہیں اور پھر:

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئاً وَّلَا یَھْتَدُوْنَ (البقرة:170)

    ’جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آبا ء و اَجداد کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے آباء و اَجداد بے سمجھ اور راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہوں؟‘ (پھر بھی یہ انہی کی پیروی کریں گے؟؟)

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئاً وَّلَا یَھْتَدُوْنَ (المائدة:104)

    ’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی نازل کی ہوئی چیز(قرآن) اور اس کے رسول ا کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ جس (چیز) پر ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا ہمارے لیے وہی کافی ہے۔ کیا اگرچہ ان کے آباء واَجداد جاہل ہوں اور ان کو ہدایت بھی نصیب نہ ہوئی ہو ؟ ‘

    قارئین کرام! ذہن نشین رکھیں کہ یہ دھوکے دینے والا شیطان اور اس کے نائب، ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات اور اولیائے کرام کی کرامات کا حوالہ دے کر یہ باور کرا تے ہیں کہ اس کائنات میں اللہ والے یوں بھی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اللہ نے ان کو اختیار دے رکھا ہے۔ جبکہ یہ نرا دھوکہ ہے۔

    آئیے! ہم معجزہ اور کرامات کی حقیقت پر قرآن کریم کی روشنی میں غور کر لیں۔

 

5-معجزہ و کرامت

    ہمیں فریب دینے کے لیے جو معجزات و کرامات سنائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی تو من گھڑت اور ہوائی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ’سچ ‘ بھی ہوں تو آپ بس ایک بات یاد رکھیں کہ معجزہ نبی ا کا اور کرامت ولی کا اپنا فعل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ مکمل طور پر اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ اس کے اظہار میں بزرگ بے بس ہوتا ہے۔

    جہان دار مغلوب و مقہور ہیں واں

    نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صدیق مجبور ہیں واں

    مثلاً : دیکھئے کہ کفار نے بار بار معجزات کا مطالبہ کیا اور پیش نہ کرنے کی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا۔ ان کا جواب اللہ کریم نے یوں ارشاد فرمایا:

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجاً وَّذُرِّیَّۃ وَّمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰ یَۃ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ (الرعد:38 )

    ’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ہم نے رسول بھیجے تھے۔ ان کی بیویاں اور اولادیں بھی تھیں۔ کسی نبی کے بس میں کبھی یہ نہ ہوا کہ بغیر اللہ کے اِذن کے کوئی نشانی(معجزہ) لے آئے۔ بلکہ ہر کام کے لیے ایک لکھی ہوئی (مقررہ) معیاد ہوتی ہے۔ ‘

    پھر واضح فرمایا کہ یہ کوئی نیا اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ قومِ نوح ؑ، عاد و ثمود کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہوں نے بھی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام پر یہ اعتراض جڑا تھا :

قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌمِّثْلُنَا تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُاٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَابَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (ابراہیم:11-10)

    ’انہوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح کے بشر ہی ہو۔ تمہارا تو یہ ارادہ ہے کہ تم ہم کو ان کی عبادت کرنے سے روکو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔ پس ہمارے پاس کوئی صاف صاف دلیل لاؤ۔ ان کے انبیاء کرام نے فرمایا کہ ہم تمہاری مانند بشر ہی ہیں۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرما دیتا ہے۔ ہمارے بس کی بات نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی دلیل(معجزہ) لے آئیں۔ ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ پر ہی توکل کریں۔

    اگر آپ اب بھی بات نہیں سمجھے تو لیجئے آپ کے سامنے صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں:

    موسیٰ علیہ السلام کی مثال: مصر سے نکلنے اور مدین پہنچنے کا قصہ مختصراً پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔ وہ قصہ یہاں ختم ہوا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے مدد چاہی تھی۔ پس ان دونوں جوان لڑکیوں نے پانی پلانے کا قصہ باپ سے بیان کیا۔ مشورہ دیا کہ اس کو ملازم رکھ لیا جائے کہ ہمارا بھائی کوئی نہیں۔ ان میں سے ایک کو باپ نے روانہ فرمایا۔ یہ باپ بھی اللہ کے نبی سیدنا شعیب علیہ السلام تھے۔ جو کہ کمزور، اور بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔

    موسٰی اور شعیب علیہما السلام کے مابین معاہدہ ہوا۔ شعیب علیہ السلام نے ایک بیٹی کو ان سے بیاہ دیا۔ معاہدہ کی مدت ختم ہونے پر موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی کو لے کر اپنے وطن مصر کی طرف روانہ ہوئے۔

    جنگل راہ میں اور سردی کا موسم تھا۔ رات کا وقت اور راستہ نامعلوم۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ پہاڑ پر مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں تاکہ کوئی انگارہ لاؤں۔ جسے آپ تاپ سکیں۔ شاید وہاں مجھ کو کوئی راستہ بتانے والا بھی مل جائے۔ جب وہاں پہنچے تو آواز آئی:

یٰمُوْسٰٓی اِنِّیْٓ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَزُّ کَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِراً وَّلَمْ یُعَقِّبْ یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ (القصص:31-30)

    ’اے موسیٰ ؑ! میں اللہ، جہانوں کا پروردگار ہوں۔ تو اپنی لاٹھی کو رکھ دے۔ موسیٰ ؑ نے جب اس (لاٹھی)کو بڑے اژدھا کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ نے پکار کر فرمایا۔ اے موسیٰ ؑ! آگے آ اور مت ڈر۔ تجھ کو امان دی گئی ہے۔ ‘

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ڈنڈا ایک عرصۂ دراز سے موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھا۔ ڈالنے کا حکم دینے سے پہلے اللہ کریم نے ڈنڈے کی کیفیت کا یقین دلانے کے لیے اور دل سے ڈر نکلوانے کے لیے پوچھا تھا:

وَمَا تِلْکَ بِیَمِیْنِکَ یٰمُوْسٰی قَالَ ھِیَ عَصَایَ اَتَوَکَّؤُا عَلَیْھَا وَاَھُشُّ بِھَا عَلٰی غَنَمِیْ وَلِیَ فِیْھَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی قَالَ اَلْقِھَا یٰمُوْسٰی (طہ :19-17)

    ’اے موسیٰ ؑ! تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا کہ یہ میری لاٹھی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں۔ علاوہ ازیں میں کئی فوائد اس سے حاصل کرتا ہوں۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ اس کو زمین پر ڈال دے۔ ‘

    قرآن کی عبارت بتا رہی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس لاٹھی کی صورت و سیرت یوں بھی بدل سکتی ہے۔ اگر ان کے دل میں ایسا کوئی تصور پہلے سے موجود ہوتا تو وہ کبھی بھی نہ ڈرتے۔ اور نہ یوں بھاگ اٹھتے۔ پھر دیکھئے کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں اللہ کا پیغام سنانے کے لیے جا کھڑے ہوئے۔ اسی لاٹھی سے جب اللہ نے چاہا تو کئی بار معجزہ ظاہر ہوا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسے جادو قرار دیا۔ مقابلے کے لیے جادوگر اکٹھے کر لیے۔ مقررہ وقت پر جادوگر آئے اور جادوگری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی رسیوں اور لکڑیوں سے سانپ بنا کر دکھائے۔

    جس کا ذکر قرآن نے یوں فرمایا ہے:

فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہ خِیْفَۃ مُّوْسٰی قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا (طٰہٰ:69-66)

    ’پس جب جادوگروں کی لاٹھیاں او ررسیاں ان کے جادو کی وجہ سے دوڑتی ہوئی دکھائی دینے لگیں تو موسیٰ ؑ اپنے دل ہی دل میں ڈر گئے پس ہم نے کہا۔ اے موسیٰؑ! مت ڈرو تم ہی غالب رہو گے۔ جو (عصا) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے، اسے ڈال دو۔ یہ ان چیزوں کو نگل جائے گا جو انہوں نے بنائی ہیں۔ ‘

    غور فرمائیں! موسیٰ علیہ السلام بھی وہی، لاٹھی بھی وہی، جس کا تجربہ کئی بار پہلے کرایا جا چکا ہے۔ مگر ہر بار اس کو سانپ میں تبدیل کر دینا اپنے بس میں نہیں اور نہ ہی یہ یقین ہے کہ میرے ڈالنے سے یہ سانپ بن سکتا ہے۔ ورنہ ڈرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اور نہ آسمان سے وحی آنے کی ضرورت تھی۔ بلکہ چپکے سے ڈال دیا ہوتا اور یہ سب کچھ نگل گیا ہوتا۔ مگر یہ کام اللہ کاہے۔ ورنہ موسیٰ علیہ السلام تو دل میں خوف محسوس کر رہے تھے۔

    اب ایک مثال اور لیجئے۔ یہ ہیں سردارِ دو جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔

    کفار کے مطالبات دیکھئے اور آپ کا جواب دیکھئے۔ کفار معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں:

وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفْجُرَلَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْبُوْعاً اَوْتَکُوْنَ لَکَ جَنَّۃ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْھٰرَ خِلٰلَھَا تَفْجِیْراً اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃ قَبِیْلاً اَوْ یَکُوْنَ لَکَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰباً نَّقْرَؤُہٗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَراً رَّسُوْلاً (بني اسرآئیل:93-90)

    ’انہوں نے کہا کہ ہم آپ ا پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ ا ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ نہ جاری کر دیں۔ یا آپ ا کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو۔ اُس کے درمیان سے نہریں جاری کر دیں یا آپ آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرا دیں جیسا کہ آپ کا گمان ہے (کہ قیامت کو ایسا ہو گا) یا آپ، اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے کر آئیں یا آپ ا کے لیے سونے کا ایک گھر ہو۔ یا آپ ا آسمان پر چڑھ جائیں۔ مگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چڑھ جانے کو ہی نہ مانیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایک کتاب نہ نازل کرا دیں کہ اس کو ہم پڑھ لیں۔ (اللہ نے فرمایا) آپ ان کو فرما دیں کہ میرا رب پاک ہے اور میں تو بس ایک انسان ہوں۔ جو رسول بنایا گیا ہوں۔ ‘

    معجزہ خالص اللہ کا فعل ہے۔ جب اللہ کا اِذن ہوا تو معجزات میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر بھی ہوئے۔ بدر کے میدان میں آپ ا نے ایک مٹھی بھر کر ریت فضا میں بکھیر دی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔ اس کے برعکس وہ وقت بھی یاد رکھئے جب طائف کے لونڈوں نے میرے آقا ا کو گستاخانہ طور پر ستایا، زخمی کر دیا اور جب آپ ا تھک کر بیٹھنا چاہتے تو وہ پتھر مار کر آگے چلنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بس میں ہوتا تو ایک مٹھی ریت فضا میں بکھیر دینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ مگر اپنے ارادے اور اختیار سے کوئی معجزاتی کام سرانجام دینا کبھی بھی انبیاء علیہم السلام کے بس میں نہیں رہا بلکہ ہر ایسے کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر تھا۔ جب اللہ کا اِذن ہو جاتا تو وہ معجزہ بھی نبی سے ظاہر ہو جاتا۔ غرض معجزہ خالص اللہ کا فعل ہے۔ جناب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی ایک کتاب ’تحفۃ الموحدین‘ میں رقم طراز ہیں:

    ’باید دانست کہ کرامت اولیاء حق است و منکر آں از ایمان حلاوتے ندارد۔ خرق عادتیکہ از انبیاء ظاہر شود آنرادر عرف شرع معجزہ مے خووانندواگر از دیگر بزرگان پدیر اید کرامتش مے نامندو منشا ہر دو یکے است۔ یعنی قرب بارگاہ الہٰی۔ اما ظہور معجزہ کرامت باختیار بزرگان نیست بلکہ باختیار و قدرت خدائے عزوجل است و بزرگان بذات خود قوت کردن آں نمے دارند۔ ‘

    ’جاننا چاہیے کہ اولیاء کی کرامت برحق ہے۔ اُس کا منکر ایمانی حلاوت سے محروم ہے۔ جو بات خارقِ عادت (عام عادات کے برعکس) انبیاء سے ظاہر ہوتی ہے۔ اسے شرع کے عرف میں معجزہ کہتے ہیں اور اگر دوسرے بزرگوں سے ظاہر ہو تو اس کا نام کرامت رکھتے ہیں۔ مگر منشا (مقصد) دونوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی بارگاہِ الٰہی کا قُرب۔ لیکن یاد رہے کہ معجزے اور کرامت کا ظاہر کرنا بزرگوں کے اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ اللہ عزوجل کے اختیار و قدرت میں ہے۔ بزرگ اپنی ذات میں اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ‘

    اختصار کی خاطر اسی پر بس کرتا ہوں۔ مقصد یہ ذہن نشین کروانا ہے کہ فریب دینے والا آپ کو فریب نہ دے جائے۔

        5.1-اپنا جواب خود دینا ہو گا

        اس غلط فہمی میں کوئی نہ رہے کہ کوئی کسی کا بوجھ اٹھا لے گا یا کوئی ذمہ داری لے کر چھڑا لے گا۔

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (المائدة:105)

        ’اے ایمان والو! اپنی جانوں کی ذمہ داری تم پر ہی ہے۔ اگر تم ہدایت پاؤ تو کسی کا گمراہ ہونا تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ‘

    فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِباً اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہ اُولٰٓئِکَ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ حَتّٰی اِذَا جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ قَالُوْٓا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَشَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِ کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا حَتّٰی اِذَا ادَّا رَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعاً قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ وَقَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰھُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ (الأعراف:39-37)

        ’اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اُس کی آیات کو جھٹلائے۔ ان لوگوں کو نصیبوں کا لکھا ہوا تو ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کو فوت کرنے کے لیے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں۔ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارا کرتے تھے۔ جواب دیں گے کہ وہ سب ساتھ چھوڑ گئے۔ اس طرح وہ اپنی ہی جانوں کے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کفر کرتے رہے تھے۔ حکم ہو گا کہ تم بھی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ واصلِ جہنم ہو جاؤ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں۔ جب ایک جماعت داخلِ جہنم ہو گی تو وہ اپنی جیسی دوسری جماعت پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ اس میں سب کے سب اکٹھے ہو جائیں گے۔ بعد میں ہونے والے لوگ پہلے گذرے ہوئے لوگوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ان کو آگ کا دوگنا عذاب دے۔حکم ہو گا کہ سب کے لیے عذاب دوگنا ہی ہے۔ مگر تم جانتے نہیں ہو۔ پھر پہلے گذرے ہوئے لوگ بعد میں ہونے والے لوگوں کو کہیں گے کہ تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں تھی۔ (تم خود گمراہ ہونا چاہتے تھے۔ تب ہی ہم نے تم کو کیا) آج اپنے کمائے ہوئے کا مزہ چکھو۔ ‘

        غور فرمائیں کہ کوئی بہانہ کارآمد نہ ہو گا۔ گمراہ کرنے والا تو گرفتارِ عذاب ہو گا ہی۔ مگر اس کا فرمانبردار کسی حیلے بہانے سے بچ نہ سکے گا۔ کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہو گا۔ پیری و مریدی کے یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

    اِذْ تَبَرَّاَلَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِھِمُ الْاَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃ فَنَتَبَرَّاَ مِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّءُ وْا مِنَّا کَذٰلِکَ یُرِیْھِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْھِمْ وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ (البقرة:167-166)

        ’ جب فرمانبرداری کروانے والے لوگ اپنے فرمانبرداروں سے بیزار ہوں گے۔ عذاب سامنے دکھائی دے رہا ہو گا اور آپس کے تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔ فرمانبردار کہیں گے کہ ہائے افسوس! اگر ایک بار ہمیں پھر دنیا میں جانے دیا جائے تو ہم ان لوگوں سے یوں ہی بیزار ہوں گے جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ہیں۔ اس طرح اُن کو اُن کے کرتوت دکھا دیئے جائیں گے اور ان کے دلوں میں حسرت رہے گی۔ مگر وہ آگ سے کسی طور بھی نکل نہ سکیں گے۔ ‘

        آج ان لوگوں کی دکانوں کو چمکانے والے لوگ جو اِن جھوٹے دعویداروں کی تائید میں زندہ باد کے نعرے لگاتے پھر رہے ہیں۔ خبر دار رہیں کہ وہ دن بہت ہی سخت ہو گا:

    وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْفُلَاناً خَلِیْلاً لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْجَآءَ نِیْ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلاً وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْاھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْراً (الفرقان:30-27)

        ’جس دن ظالم فرطِ غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا۔ کہے گا کہ اے کاش! میں رسول الله ا کے نقش قدم پر چلتا۔ اے کاش! فلاں شخص کو ہم نشین نہ بناتا۔ اس کے بعد کہ میرے پاس ذِکر(قرآن) بھی آ گیا تھا اس نے مجھے گمراہ کر دیا تھا۔ شیطان تو انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔ پھر رسول الله ا فرمائیں گے کہ میرے پروردگار! بیشک میری اس قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ ‘

        فرمانِ الٰہی اور احکامِ نبوی ا کو پس پشت ڈال کر اندھی تقلید کے پرستار، مُلَمَّع سازوں کے اشاروں پر جان نچھاور کرنے والے آج ہی اپنے انجام پر نگاہ ڈال لیں۔ ورنہ:

        ’پھر پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘

        قرآن پاک نے اس خوفناک وقت کی تصویر یوں کھینچی ہے:

        ’کاش! کہ تو مجرموں کو اس حالت میں دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے روبرو سر جھکائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے دیکھ سن لیا ہے۔ بس اب ایک بار ہم کو دنیا میں لوٹا دے کہ ہم اعمال صالح کر لیں۔ بیشک ہم کو یقین آ گیا ہے۔ ‘

        نہ بھولیے کہ اس دنیا میں صرف ایک ہی بار آنا ہے۔ میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا ترجمہ حالی نے اپنی مشہور کتاب ’مسدَّسِ حالی‘ میں یوں لکھا ہے :

        غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے

        فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے

        اقامت مسافر کی رحلت سے پہلے

        جوانی بڑھاپے کی زحمت سے پہلے

        فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت

        جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت

        ورنہ مایوسی میں غم و غصہ کسی کام نہ آ سکے گا

       ۔

    وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِنَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ (حٰمٓ السجدة:29)

        ’ کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے وہ دکھا دے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تاکہ ہم ان کو پاؤں تلے روند ڈالیں اور وہ ذلیل ہو جائیں۔ ‘

    یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا وَ قَالُوْ رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَ تَنَا وَکُبَرَآءَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْناً کَبِیْراً (الأحزاب:68-66)

        ’ اس دن ان کے چہرے آگ میں پھیرے جائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے کاش! ہم اللہ کے رسول ا کی فرمانبرداری کرتے۔اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے سیدوں اور اپنے بڑوں کی فرمانبرداری کی تھی۔ انہوں نے ہم کو راہِ راست سے گمراہ کر دیا۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت فرما۔ ‘

    وَلَوْ تَرٰٓی اِذِالظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّھِمْ یَرْجِعُ بَعْضُھُمْ اِلٰٰی بَعْضِنِالْقَوْلَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْھُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآءَ کُمْ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَاداً وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ (سبأ:33-31)

        ’کاش! کہ تو ان ظالموں کو اس وقت دیکھے۔ جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوں گے۔ کمزور اور دبے ہوئے لوگ زورآور اور متکبر لوگوں کو کہیں گے کہ تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے یہ جابر اور مغرور لوگ ان کو جواب دیں گے کہ کیا جب ہدایت تمہارے پاس آ گئی تھی تو ہم نے تم کو اس سے روکا تھا؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ پھر کمزور اور دبے ہوئے لوگ مغرور لوگوں کو کہیں گے کہ تم ہی تو تھے جو شب و روز ہمارے ساتھ مکاریاں کرتے تھے۔ ہم کو اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور شرک کرنے کا حکم دیتے تھے۔ یہ دونوں فریق جب عذاب دیکھیں گے تو اپنی شرمندگی چھپائیں گے۔ ‘

        میرے دوستو!

        ہے یاں سے یہ قافلہ جانے والا

        ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا

        اس دن وہ نفسانفسی کا عالم ہو گا کہ کوئی کسی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔ آج ہم جن جھوٹے دعویداروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں وہ ہم سے بیزار ہو جائیں گے۔ حکم ہو گا:

    اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ فَاھْدُوْھُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ وَقِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ مَالَکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ بَلْ ھُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآءَ لُوْنَ قَالُوْٓا اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ بَلْ کُنْتُمْ قَوْماً طٰغِیْنَ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ فَاَغْوَیْنٰکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ (الصافّات:23-22)

        ’ظلم کرنے والوں، ان کے ساتھیوں اور ان کو جن کو یہ اللہ کے علاوہ پوجتے تھے، اکٹھا کرو۔ ان کو دوزخ کی راہ دکھاؤ۔ ذرا روکو ان کو! میں نے ان سے سوال پوچھنا ہے۔ تم کو کیا ہو گیا ہے؟ اب مدد کیوں نہیں کرتے۔ بلکہ اس روز تو وہ نہایت ہی فرمانبردار بن جائیں گے۔ پھر وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے سوال پوچھیں گے۔ تم ہی تو ہو جو ہم پر زور دکھاتے ہوئے چڑھے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ تم تو خود ہی بے ایمان تھے۔ ہمیں تم پر کیا غلبہ ہو سکتا تھا۔ تم تو خود ہی باغی تھے۔ آج ہمارے پروردگار کا فرمان ہم پر حق ہو گیا ہے۔ ہم مبتلائے عذاب ہیں۔ ہم نے تم کو گمراہ کیا۔ کیونکہ ہم خود گم کردہ راہ تھے۔ ‘

        یہ گندم نما جو فروش پیشواؤں کا حال ہے۔ جو ’روحانیت‘ کا ڈھول بجا کر لوگوں کو لُوٹ لُوٹ کر کھا رہے ہیں اور ان فرمانبردار مریدوں کا حال یہ ہے کہ ان پیروں اور مرشدوں کی روحانیت کے گن گاتے ہیں اور اپنی خون پسینے کی کمائی بلکہ عزت و آبرو لُٹا کر بھی سمجھتے ہیں کہ یہ پیر ہم پر احسانِ عظیم کر رہے ہیں۔ آیت صاف بتا رہی ہے کہ یہ لوگ خود کسی ایسے مذہب کے متلاشی تھے۔ جو ان پیشواؤں نے ان کو گھڑ کر دے دیا۔ یہ برابر کے مجرم ہیں۔

    وَبَرَزُوْالِلّٰہِ جَمِیْعاً فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعاً فَھَلْ اَنْتُمْ مُغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ قَالُوْا لَوْ ھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰکُمْ سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُاِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَالْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا ٓاَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْ مُوْنِیْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْ مَآ اَنَا بِمُصْرِ خِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِ خِیَّ اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ابراہیم:22-21)

        ’سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کمزور لوگ مغروروں کو کہیں گے کہ ہم تمہارے فرمانبردار تھے۔ کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے ٹال سکتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم بھی تم کو ہدایت کرتے۔ آج ہم صبر کریں یا اظہارِ بے قراری سب یکساں ہے۔ ہمارے بھاگ نکلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا۔ میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر میں نے وعدہ خلافی کی ہے۔ مجھے تم پر کوئی غلبہ حاصل نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ میں نے تم کو دعوت دی اور تم نے قبول کر لی تھی۔ آج تم مجھ کو ملامت نہ کرو۔ بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو۔ آج میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری۔ جو مجھ کو تم شریک ٹھہراتے رہے ہو اس سے انکار کرتا ہوں۔ بے شک ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ‘

        یہ تکرار جاری رہے گی۔ مگر کوئی ذمہ داری قبول کرے گا۔نہ ہی عذاب چھوٹ سکے گا۔

    وَاِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعاً فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْباً مِّنَ النَّارِ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُلٌّ فِیْھَآ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَکَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃ جَھَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْماً مِّنَ الْعَذَابِ قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا بَلٰی قَالُوْا فَادْعُوْا وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ (المؤمن:50-47)

        ’اور جب وہ آگ میں جھگڑیں گے۔ کمزور لوگ مغرور لوگوں کو کہیں گے کہ ہم تمہارے فرمانبردار تھے۔ کیا تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو؟ مغرور جواب دیں گے کہ ہم سب ہی اس میں ہیں اور اللہ نے بندوں کا فیصلہ ہی کر دیا ہے۔اہلِ دوزخ جہنّم کے چوکیداروں سے کہیں گے کہ تم اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ہمارا عذاب ایک لمحہ کے لیے ہی کم کر دے۔ وہ جواب دینگے کہ کیا تمہارے رسول ا تمہارے پاس صاف صاف دلائل لے کر نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے کہ آئے تھے۔ پھر وہ جواب دینگے اب تم خود ہی دعا کر لو۔ مگر ظالموں کی دعائیں اکارت ہی جاتی ہیں۔ ‘

        غور فرمائیں مشرک کے انجام پر۔ خود پروردگار سے یہ ہمیشہ مایوس ہی رہتا ہے۔ دوسروں سے دعائیں کروانے کی عادت وہاں بھی ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔ اس نے نہ اللہ کو پروردگار جانا اور نہ اس سے خود دعا مانگنے کی ضرورت محسوس کی۔ وہاں بھی کہیں گے کہ تم اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ یہ یوں ہی در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرے۔ ایک دروازہ سے مایوس ہوئے تو دوسرے کی چوکھٹ تھام لی اور وہاں سے مراد بر نہ آئی تو آگے چل دئیے۔ شیطان مشرک پر یوں سوار ہو جاتا ہے کہ اسے شرک ہی عین توحید دکھائی دینے لگتی ہے۔

        نہ بھولیے کہ اللہ ہی صرف ایک ذات ہے جو اپنے بندے سے شرم کرتا ہے۔ کہ اس کا بندہ جو اس سے مانگ رہا ہے خالی ہاتھ نہ لوٹے۔ آج بھی وقت ہے کہ اگر آپ نے تمام عمر شرک کی غلاظت میں کاٹ دی ہے تو اب بھی توبہ کر کے واپس آ جائیں۔ اللہ کو آپ غفور و رحیم پائیں گے۔

        رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہوں

        دیکھئے! اللہ کریم اپنے حبیبؐ کو ارشاد فرما رہا ہے کہ میرے بندوں کو خوشخبری سنا دو:

    قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃ اللهِ اِنَّ اللهَ یَغْفِرُا لذُّنُوْبَ جَمِیْعاً اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃ وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُّ فِی جَنْبِ اللّٰہِ وَاِنْ کُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَ اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدٰنِیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ اَوْتَقُوْلَ حِیْنَ تَرَی الْعَذَابَ لَوْاَنَّ لِیْ کَرَّۃ فَاَکُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (الزمر:58-53)

        ’ان کو فرما دیں کہ اے میرے بندو جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہو! اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو جاؤ۔ اللہ تو سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ بے شک وہ صاحبِ بخشش مہربان ہے۔ اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کے مطیعِ فرمان ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم عذاب کی لپیٹ میں آ جاؤ۔(ورنہ) پھر تمہارا کوئی یار و مددگار نہ ہو گا۔ جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے اس کی اچھے انداز سے پیروی کرو، قبل اس کے کہ تم کو عذاب اچانک ہی آ گھیرے اور تم کو وہم و گمان تک نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی پچھتائے اور کہے: ’ ہائے افسوس! میں نے اللہ کے بارے میں قصور کیا۔ میں ہنستا ہی رہ گیا۔‘ یا پھر کہے کہ:’ اگر اللہ مجھے ہدایت فرماتا تو میں پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔‘یا جب تم میں سے کوئی عذاب دیکھے تو کہے کہ:’ ہائے افسوس !اگر مجھے ایک بار پھر واپس جانے کا موقع مل جائے تو میں نیکی کرنے والوں میں سے ہو جاؤں۔ ‘

        دل سے یہ غلط فہمی نکال دیں کہ اللہ کی فرمانبرداری میں آپ کو کوئی نقصان ہو گا۔ قرآن پاک میں اپنے فرمانبرداروں کی دنیا بھی سنوارنے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ لیجئے صرف ایک مثال دیکھ لیجئے:

    وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰھُمْ بِمَا کَانُوْ یَکْسِبُوْنَ (الأعراف:96)

        ’ اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن یہ جھٹلاتے ہیں اور ہم ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انکی گرفت کرتے ہیں۔ ‘

        دنیامیںآ ج دولت کی ریل پیل کے باوجود سکونِ قلب ناپید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے الله نے برکتوں کے دروازے بند کر لیے۔ جس کام سے اللہ برکت اٹھا لے اس میں سکون اور اطمینان کہاں سے ہو سکتا ہے۔ اس فرمانبرداری کے ثمرات آپ دنیا میں بھی دیکھ لیں گے۔اور قیامت کا حال پڑھیں۔ جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا اور اپنے اعمالِ صالح کے نور کے سوا کوئی روشنی نہ ہو گی :

    یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ بُشْرٰکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ذٰلِکَ ھُوَالْفُوْزُالْعَظِیْمٌ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِ کُمْ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْراً فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ یُنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمْرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِا اللّٰہِ الْغَرُوْرُ فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَۃ وَّلَا مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَاْوٰکُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلٰکُمْ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمْ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ (الحدید:16-12)

        ’ اس دن تم مؤمن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور دائیں بائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تمہارے لیے آج خوشخبری ہے۔ ان بہشتوں کی جن کے اندر سے نہریں جاری ہیں۔ تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی مُراد پانا ہے۔ اُس دن منافق مرد اور عورتیں صاحبِ ایمان لوگوں کو کہیں گے کہ ہماری طرف ایک نظر تو دیکھو تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم پیچھے لوٹ جاؤ اور نور لاؤ۔ اس دوران ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہو گی اور اس کے باہر عذاب ہو گا۔ وہ نور سے محروم ان خوش نصیبوں کو پکار کر کہیں گے: ’کیا ہم تمہارے ساتھ نہ رہتے تھے‘ وہ جواب دیں گے کہ:’ کیوں نہیں۔ لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنے میں ڈال لیا تھا۔ تم انتظار کرتے رہے اور مصلحت کوشی میں لگے رہے۔ تم کو جھوٹی امیدوں نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا۔ تم کو اللہ کے بارے میں فریب دینے والے نے دھوکے میں ہی ڈالے رکھا۔ آج تم سے اور کافروں سے کوئی فدیہ قبول نہ کیا جائے گا۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہے(تم نے اللہ کو تو کبھی مولا مانا ہی نہیں) یہی دوزخ ہی آج تمہارا مولا) پناہ گاہ )ہے۔ اور ٹھہرائے جانے کے لیے یہ بد ترین جگہ ہے۔‘ کیا ان ایمان کا دعوٰی کرنے والوں پر ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذِکر سے اور اس چیز سے جو اس نے حق کے ساتھ نازل کی ہے، پگھل جائیں۔؟ اُن لوگوں کی طرح تم مت ہو جاؤ جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ جوں جوں وقت گذرتا گیا۔ ان کے دل سخت ہوتے گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہو گئے۔ ‘

 

    6-انسان کا اپنے رب سے عہد و پیمان اور اسکے تقاضے

        اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے ان کی تخلیق سے پہلے ایک عہد لیا تھا اور وہ عہد یہ تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے :

    اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ

        ’ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟‘

        اس وقت سب نے یہ کہا کہ: ’کیوں نہیں، (اے ہمارے ربّ)ہم گواہ ہیں۔‘

        گویا اللہ تعالیٰ کی ربوبیّت کا اعتراف و اقرار انسانوں کی فطرت میں داخل اور ان کے وجدان میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس ربوبیّت کا مطلب اور تقاضا کیا ہے؟

        یہی کہ انسان، خود رو پودے کی طرح، از خود پیدا نہیں ہو گیا، بلکہ اسے خالق کائنات نے پیدا کیا ہے اور اس نے اسے محض کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ ایک مقصد کے تحت اسے وجود بخشا ہے اور وہ مقصد ہے اللہ کی عبادت و اطاعت۔

        اب اس ربوبیّت کا مطلب اور تقاضا یہ ہے کہ انسان عبادت بھی صرف اسی کی کرے اور اطاعت بھی اسی کی کرے۔ عبادت بھی اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں اور اطاعت کا حق دار بھی صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔

 

    6.1-اللہ تعالیٰ کا سوال

        اللہ تعالیٰ نے آپ سے ایک سوال پوچھا ہے۔

    اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافِِ عَبْدَہٗ (الزمر:36)

        ’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟‘

        آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ اپنی زندگی پر نظر ڈالیے۔ رحمانیت کے تحت وہ آپ کو کتنی نعمتیں دے رہا ہے۔ اعلان کرتا ہے کہ مجھ سے مانگنے والوں کے لیے میری رحیمیت مخصوص ہے۔

    وَاٰتَکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ (ابراہیم:34)

        ’اور جو کچھ تم نے مانگا وہ سب تم کو دیا۔اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو ہرگز نہ کر سکو گے۔یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور نا شکرا ہے۔ ‘

        یہ بدگمانی کیوں؟ یہ طفیل اور صدقے اور واسطے کیسے!

        وما علینا الا البلاغ

٭٭٭

ٹائپنگ:    ابو طلحہ السلفی

ماخذ:

http://www.siratulhuda.com/forums/showthread.php/130

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید