FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

    توحید اور شرک کی حقیقت

 قرآن و حدیث کی روشنی میں

 

 

 

                   حافظ صلاح الدین یوسف

 

 

 

 

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

باب اول: “لا الہ الا اللہ” معنی و مطلب اور مقام و فضیلت

 

لا الہ میں لا لائے نفی جنس ہے اور الہ اس کا اسم ہے اور خبر محذوف ہے ، یعنی لا الہ حق (نہیں ہے کوئی معبود برحق)الا اللہ(مگر اللہ)یہ خبر (حق)سے استثناء ہے۔الہ کے معنی ہیں، وہ ذات جس کی عبادت میں دل وارفتہ ہو۔یعنی اس کی طرف دل مائل ہوں اور حصول نفع یا دفع ضر کے لئے اسی کی طرف رجوع اور رغبت کریں۔یہ کلمہ اثبات اور نفی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔تمام مخلوقات سے الوہیت کی نفی اور اللہ کے لئے الوہیت کا اثبات۔یعنی اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا، مشرکین نے جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں سب باطل ہیں۔

    ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلْبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ﴿62﴾

ترجمہ: یہ اس لیے کہ حق الله ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور بے شک الله ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے (سورہ الحج، آیت 62)

یہ ترکیب جس میں پہلے نفی ہے پھر اثبات، مثبت ترکیب اللہ الہ (اللہ معبود ہے )سے زیادہ بلیغ، موثر اور مفہوم کو زیادہ واضح کرنے والی ہے۔اس لئے کہ مثبت ترکیب اللہ کی الوہیت کا اثبات تو کرتی ہے لیکن ماسوا اللہ کی الوہیت کی نفی نہیں کرتی، جبکہ لا الہ الا اللہ کی ترکیب، الوہیت کو صرف اللہ کے لئے خاص اور دوسروں کی الوہیت کی نفی کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ کی عبادت کا حکم ہے تو بالعموم ساتھ ہی غیروں کی عبادت کی نفی بھی ہے۔جیسے فرمایا:

    وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا﴿36﴾

ترجمہ: : اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (سورہ النساء، آیت 36)

    لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿256﴾

ترجمہ: : دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے (سورہ البقرہ، آیت 256)

    وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ﴿36﴾

ترجمہ: : اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا (سورہ النحل، آیت 36)

طاغوت کیا ہے جس سے بچنے کا حکم ہے ؟اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت یا اطاعت کی جائے ، وہ طاغوت ہے۔یہ ضروری ہے کہ اللہ کی عبادت اور اطاعت کے ساتھ طاغوت کی عبادت سے انکار اور اجتناب کیا جائے۔اور حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جس نے کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا اس نے انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہو گیا۔”(صحیح مسلم)

اور ہر پیغمبر نے بھی اپنی قوم کو یہی پیغام دیا:

    لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿59﴾

ترجمہ: : بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (سورہ الاعراف، آیت 59)

اور یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے کہا کہ “لا الہ الا اللہ” کا اقرار کر لو، تو انہوں نے کہا:

    أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌۭ ﴿٥﴾

ترجمہ: : کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنایا ہے بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے (سورہ ص، آیت 5)

اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ اس کلمے کے اقرار کا مطلب ایک اللہ کی عبادت اور تمام بتوں کی عبادت کی نفی ہے۔اور یہ بات ان کو پسند نہیں تھی۔اس لیے اس کے اقرار سے انہوں نے گریز کیا۔

 

 

               “لا الہ الا اللہ” کا تقاضا

 

بہرحال “لا الہ الا اللہ” کا معنی و مطلب کا تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور دوسرے تمام خودساختہ معبودوں کی نفی کی جائے۔چاہے وہ بتوں کی شکل میں ہوں یا شمس و قمر ہوں۔احجار و اشجار ہوں یا قبوں اور مزاروں کی شکل میں ڈھلی ہوئی قبریں ہوں۔الہ واحد کی عبادت تب ہی متحقق ہو گی جب ان سب کی نفی ہو گی۔اس نفی اور انکار و تردید ہی میں توحید کا اثبات ہے۔اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہو جاتی ہے جو کہتے ہیں، کسی کی تردید نہ کرو، صرف مثبت انداز میں اپنا موقف و مسلک اور نقطہ نظر بیان کر دو۔کلمہ “لا الہ الا اللہ” ہمیں سبق دیتا ہے کہ صرف حق کا اثبات ہی کافی نہیں ہے بلکہ باطل کی تردید و تغلیط بھی ضروری ہے ، اس کے بغیر حق نمایاں اور نکھر کر سامنے نہیں آتا۔جیسے سورج کی روشنی تب ہی واضح ہوتی ہے جب رات کی تاریکی اپنا دامن سمیٹ لیتی ہے۔رات کی تاریکی میں سورج اپنی تابناکیاں بکھیرنے سے قاصر رہتا ہے۔

 

               ” لا الہ الا اللہ” کا مقام و مرتبہ

 

اس کلمہ طیبہ کے مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہوئے امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :”یہی کلمہ ہے جس کی وجہ سے آمان اور زمین قائم ہیں، تمام مخلوق اسی کی وجہ سے پیدا کی گئی ہے ، یہی پیغام دے کر اللہ نے اپنے تمام رسول بھیجے ، اپنی کتابیں نازل اور اپنی شریعتیں مقرر فرمائیں۔اس لیے قیام کے دن ترازو نصب ہوں گی۔اور رجسٹر (اعمال نامے )رکھے جائیں گے ، اس کلمے کا نتیجہ جنت و دوزخ کا وجود ہے۔اسی کی وجہ سے مخلوق مومن اور کافر دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ، یہی خلق و امر الہ اور ثواب و عقاب کا منشا ہے ، اسی کی بابت سوال اور حساب ہو گا اور اسی پر سوال و عتاب ہو گا، اسی کی بنیاد پر قبلہ مقرر کیا گیا اور ملت کی تاسیس عمل میں آئی۔اسی کی خاطر میدان جہاد میں تلواریں میانوں سے باہر آئیں۔یہی تمام بندوں پر اللہ کا حق ہے ، یہی کلمہ اسلام اور کلید دارالسلام(جنت) ہے۔اسی کی بابت اول و آخر تمام انسانوں سے باز پرس ہو گی۔اور کسی کو اللہ کے سامنے سے جنبش کرنے کی ہمت نہیں ہو گی جب تک دو باتوں کی باز پرس اس سے نہیں کر لی جائے گی۔

(۱)تم عبادت کس کی کرتے رہے ؟

(۲)اور پیغمبروں کو تم نے کیا جواب دیا؟

پہلے سوال ا جواب “لا الہ الا اللہ” کا اقرار و اعتراف اور اسی کے مطابق صرف اسی کی عبادت اور اطاعت و انقیاد ہے اور دوسرے سوال کا جواب “محمد رسول اللہ”کی معرفت اس کا اقرار اور اس کے مطابق عمل ہے۔(زادالمعاد، 1/34)

یہی کلمہ کفر اور اسلام کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔جو ” لا الہ الا اللہ” کا اقرار و اعتراف کر لیتا ہے ، وہ مسلمان اور جو اس کا اقرار نہیں کرتا ہ کافر ہے ، اور جو مسلمان ہے اس کی جان و مال قابل احترام ہے ، اور جو کافر ہے اس کی جان و مال باطل ہے یعنی لڑائی کے موقعے پر مسلمانوں کے لیے اس کی دونوں چیزیں حلال ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس کلمے کی خاطر انسانوں اور جنوں کو پیدا فرمایا۔جیسے قرآن میں ہے :

    وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿56﴾

ترجمہ: : اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے (سورہ الذاریات، آیت 56)

اور “لا الہ الا اللہ” اسی مقصد تخلیق کا سرنامہ اور عنوان ہے۔تمام رسولوں کی بعثت کا مقصد اور غایت اولیٰ بھی یہی کلمہ طیبہ ہے۔

    وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِىٓ إِلَيْهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدُونِ ﴿25﴾

ترجمہ: : اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سومیری ہی عبادت کرو (سورہ الانبیاء، آیت 25)

اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ دین میں اور حیات انسانی میں اس کلمے کی کتنی اہمیت ہے۔یہی بندوں کے ذمے پہلا فرض ہے ، اسی لیے یہی وہ بنیاد ہے جس پر تمام اعمال کی عمارت استوار ہے۔

 

               “لا الہ الا اللہ “کی فضیلت

 

اس کلمے کی فضیلت حسب ذیل احادیث سے واضح ہے۔ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

افضل ذکر “لا الہ الا اللہ” ہے اور افضل دعا “الحمدللہ” ہے۔(جامع الترمذی)

ایک دوسری حدیث میں ہے :

بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور بہترین بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے پیغمبروں نے کہی وہ “لا الہ الا اللہ” ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (جامع الترمذی)

تیسری حدیث جس کا تعلق قیامت کے دن حساب کتاب سے ہے اس سے بھی اس کلمہ طیبہ کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میرے ایک امتی کو برسر خلائق نجات عطا فرمائے گا۔اللہ ننانوے رجسٹر کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا ہر رجسٹر کا طول و عرض حد نگاہ تک ہو گا۔پھر اللہ تعالیٰ کہے گا!کیا تو اس میں درج باتوں میں سے کسی کا انکار کرتا ہے ؟یا تیرے خیال میں میرے لکھنے والے محافظین نے تجھ پر ظلم کیا ہے ؟وہ امتی کہے گا!نہیں، اے میرے رب!اللہ فرمائے گا :کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟وہ کہے گا:نہیں، اے میرے رب!اللہ تعالیٰ فرمائے گا :کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے بلاشبہ آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔پھر کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر یہ درج ہو گا۔میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔اللہ کہے گا:دونوں کا وزن کیا جاتا ہے ، تو دیکھ!امتی کہے گا:اے میرے رب!اس ٹکڑے کی ان رجسٹروں کے سامنے کیا حیثیت ہے ؟اللہ فرمائے گا!تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔پس سارے رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور کلمہ شہادت والا کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔لیکن قطعہ کاغذ والا پلڑا بھاری اور رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہو جائے گا۔(اس لیے کہ )اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔(ترمذی)

ایک اور حدیث میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دو باتوں کی وصیت فرمائی، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں تجھے “لا الہ الا اللہ” کا حکم دیتا ہوں۔پھر اس کی درج ذیل فضیلت بیان فرمائی:

“ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اگر ایک پلڑے میں اور “لا الہ الا اللہ” دوسرے پلڑے میں رکھا جائے ، تو یہ دوسرا پلڑا اس کلمے کی وجہ سے بھاری ہو جائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند حلقہ ہوں تو “لا الہ الا اللہ” ان کو توڑ دے گا۔(مسند احمد 2/170و سلسلہ احادیث الصحیحۃ للبانی :1/259، ح134)

مذکورہ احادیث سے کلمہ “لا الہ الا اللہ” کی فضیلت واضح ہے۔

 

               “لا الہ الا اللہ”کے فائدہ مند ہونے کی شرائط

 

ہر عمل کے کچھ آداب و شرائط ہوتے ہیں، جب تک ان کو ملحوظ نہ رکھا جائے ، وہ عمل نتیجہ خیز اور ثمر آور نہیں ہوتا۔اسی طرح “لا الہ الا اللہ” کی بڑی فضیلت ہے ، لیکن دنیا و آخرت میں اس کے فائدہ مند ہونے کے لیے بھی کچھ شرطیں ہیں۔جب تک وہ شرطیں بھی پوری نہیں ہوں گی اس کے وہ فضائل و فوائد بھی حاصل نہیں ہوں گے جو قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔یہ شرائط حسب ذیل ہیں:

 

1)اس کا جو مطلب و معنی ہے اور اس کا جو مثبت اور منفی مفہوم ہے ، پڑھنے والے کو اس کا علم ہو تاکہ وہ اس کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔

2)پڑھنے والے کو یقین ہو، وہ شک میں مبتلا نہ ہو۔

3)وہ مخلص ہو، یعنی اس کو پڑھنے والا ہر کام اللہ ہی کی رضا کے لیے کرے ، اس میں کسی اور کو شریک نہ کرے۔

4)اس کے اقرار و اعتراف میں وہ سچا اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے والا ہو۔منافقین کی طرح محض زبان سے اظہار ہو نہ جہالت کی وجہ سے اس کے تقاضوں سے انحراف ہو۔

 

               “لا الہ الا اللہ”کے ثمرات و برکات

 

جب “لا الہ الا اللہ”کے سب قائلین اس کے معنی و مفہوم کو پورے طور پر سمجھتے ہوئے اس کے تقاضوں کو برائے کار لائیں گے ، تو وہ سب ایک ہی معبود کے پرستار اور ایک ہی مطاع کے اطاعت گزار ہوں گے۔عقیدہ و عمل کی یہ وحدانیت، توحید کا سب سے بڑا ثمرہ اور فائدہ ہے۔اس سے سب مسلمان ایک کلمے پر مجتمع، تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے اور دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کے دست و بازو اور معاون ہوں گے۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے :

    وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًۭا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءًۭ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦ إِخْوَٰنًۭا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍۢ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿103﴾

ترجمہ: : اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ (سورہ آل عمران، آیت 103)

عقیدہ توحید کو اپنائے بغیر قرآن کے اس حکم پر عمل ممکن نہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس عقیدے کو صحیح معنوں میں اپنایا تو وہ ایک ہو گئے ، جب کہ پہلے وہ جدا جدا تھے ، وہ بھائی بھائی بن گئے جب کہ پہلے وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے ، وہ ایک دوسرے پر رحم و کرم کرنے والے بن گئے ، جب کہ پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اس باہمی الفت و محبت کے بارے میں فرمایا:

    وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا مَّآ أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ﴿63﴾

ترجمہ: : اور ان کے دلو ں میں الفت ڈال دی جو کچھ زمین میں ہے اگر سارا تو خرچ کر دیتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتا لیکن الله نے ان میں الفت ڈال دی بے شک الله غالب حکمت والا ہے (سورہ الانفال، آیت 63)

اللہ نے یہ الفت کس طرح ڈالی ؟اس عقیدہ توحید کے ذریعے سے۔اس نے انہیں اس عقیدے کو اپنانے کی توفیق دیاور یہ کلمہ توحید ان کی وحدت اور باہمی الفت کا ذریعہ بن گیا۔قرآن کریم میں اللہ نے اپنے اس احسان اور حقیقت کا ذکر دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا:

    وَٱعْتَصِمُوا۟ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًۭا وَلَا تَفَرَّقُوا۟ ۚ وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَآءًۭ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِۦ إِخْوَٰنًۭا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍۢ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿103﴾

ترجمہ: : اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو تم کو اس سے بچا لیا اس طرح اللہ تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ (سورہ آل عمران، آیت 103)

اللہ نے ایک اور مقام پر ان کی باہمی الفت اور رحم دلی کی گواہی یوں دی:

    مُّحَمَّدٌۭ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًۭا سُجَّدًۭا يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًۭا ۖ سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْهُۥ فَازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةًۭ وَأَجْرًا عَظِيمًۢا ﴿29﴾

ترجمہ: : محمد الله کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کفار پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع و سجود کر رہے ہیں الله کا فضل اوراس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں ان کی شناخت ان کے چہرو ں میں سجدہ کا نشان ہے یہی وصف ان کا تو رات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف ہے مثل اس کھیتی کے جس نے اپنی سوئی نکالی پھر اسے قوی کر دیا پھر موٹی ہو گئی پھر اپنے تنہ پر کھڑی ہو گئی کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ الله ان کی وجہ سے کفار کو غصہ دلائے الله ان میں سے ایمان داروں اور نیک کام کرنے والوں کے لیے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے (سورہ الفتح، آیت 29)

آج مسلمانوں کے درمیان باہمی الفت و محبت کیوں نہیں؟اس کی سب سے بڑی وجہ “لا الہ الا اللہ”کے مقتضیات سے انحراف اور وحدت عقیدہ کا فقدان ہے۔حالانکہ اللہ نے اس تفریق کی سختی سے مذمت بیان فرمائی تھی۔اللہ نے اپنے پیغمبر سے خطاب کر کے فرمایا:

    إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴿159﴾

ترجمہ: : جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے ) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا (سورہ الانعام، آیت 159)

ایسے تفریق بازوں کے لیے اللہ نے فرمایا:

    فَتَقَطَّعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًۭا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿53﴾

ترجمہ: : پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پو جو ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں (سورہ المومنون، آیت 53)

یہ تفریق دین یا تفریق کلمہ، الہ واحد کی ربوبیت و الوہیت سے انحراف ہی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔چنانچہ اس آیت سے پہلے اللہ نے فرمایا:

    وَإِنَّ هَٰذِهِۦ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱتَّقُونِ ﴿52﴾

ترجمہ: : اور بے شک یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو (سورہ المومنون، آیت 52)

معلوم ہوا کہ وحدت امت کی بنیاد وحدت عقیدہ یعنی رب واحد ہی سے ڈرنا اور اسی کی عبادت و اطاعت کرنا ہے۔جب سب ایک ہی رب کے پجاری اور ایک ہی رب کے فرمانبردار ہوں گے تو عقیدے کی اس وحدت سے زندگی کے ہر شعبے میں وحدت کی جلوہ گری ہو گی۔ان کی عبادت کا طریقہ ایک ہو گا، ان کا اخلاق و کردار ایک ہو گا، ان کے حلال و حرام کے پیمانے ایک ہوں گے ، ان کا دشمن ایک ہو گا یعنی صرف وہ جو الہ واحد کی عبادت و اطاعت سے انکار کرنے والا اور دوسرے معبودوں کا پرستار ہو گا۔اس طرح عقیدہ توحید سے انسانی معاشرہ امن اخوت کی عطر بیز ہواؤں سے معمور اور باہم ظلم و عدوان سے مامون(پاک )ہو گا۔اس باہم اتفاق و اتحاد ہی سے دشمن بھی لرزاں و ترساں ہو گا اور یہ اجتماعی قوت ہی، جس کے ساتھ اللہ کی تائید اور نصرت بھی ہو، دنیا میں عزت و سرفرازی کی اور اختیار و اقتدار سے سے بہرہ ور ہونے کی بنیاد ہے۔جیسے اللہ نے فرمایا:

    وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ كَمَا ٱسْتَخْلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًۭا ۚ يَعْبُدُونَنِى لَا يُشْرِكُونَ بِى شَيْا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ ﴿٥٥﴾

ترجمہ: : الله نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جواس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے (سورہ النور، آیت 55)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ اسلام کے قرون اولیٰ میں پورا فرمایا۔کیونکہ اس دور کے مسلمانوں نے اس شرط کو پورا کر دکھایا، انہوں نے ایمان اور عمل صالح کی زندگی بھی اختیار کی اور صرف الہ واحد کی عبادت کا اہتمام بھی کیا، شرک کے تمام مظاہر کو انہوں نے اکھاڑ پھینکا۔اللہ نے ان کو اس کے بدلے میں دنیا و آخرت کی سعادتوں اور کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔آج مسلمان اپنے عہد رفتہ کی سی عظمت و کامرانی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے وہی نسخہ کیمیاء ہے جو صحابہ و تابعین نے استعمال کیا تھا۔ایمان اور عمل والی زندگی اور بے غبار عقیدہ توحید اور اس کے مقتضیات پر عمل۔اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق سے نوازے۔

 

                   محض زبان سے کلمہ پڑھنا کافی نہیں، اس کے تقاضوں پر عمل کرنا بھی ضروری ہے

 

گزشتہ مباحث سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ محض زبان سے “لا الہ الا اللہ”کہہ دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔جب تک کہنے والا اس کے معنی و مفہوم کو نہیں سمجھتا اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار نہیں لاتا۔اس وقت تک اس کا فائدہ دنیا میں حاصل ہوتا ہے نہ آخرت ہی میں اس کی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔لیکن بعض لوگوں کو بعض احادیث کے ظاہری الفاظ سے یہ مغالطہ لگتا ہے کہ زبان سے “لا الہ الا اللہ” پڑھ لینا ہی کافی ہے ، اس کے مقتضیات پر عمل ضروری نہیں۔جیسے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس کا مفہوم ہے کہ “ایک شخص کی حد نگاہ تک اس کی برائیوں کے رجسٹر ہی رجسٹر ہوں گے اور اس کے مقابلے میں ایک پرچی “لا الہ الا اللہ” کی گواہی کی ہو گی۔تو یہ پرچی تمام رجسٹروں پر بھاری رہے گی۔اس طرح بعض روایات میں ہے کہ “لا الہ الا اللہ”پڑھنے والے پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔یہ روایات اپنی جگہ صحیح ہیں، لیکن یہ روایات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو خلوص دل سے کفر و شرک سے تائب ہو جائیں، لیکن توبہ کے ساتھ ہی انہیں موت آ جائے ، عمل کا انہیں موقع ہی نہ ملے۔مگر چونکہ ان کی توبہ خالص تھی اللہ کی وحدانیت کو انہوں نے دل کی گہرائیوں سے قبول کرلیا تھا، اللہ کی محبت سے ان کا دل لبریز اور کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانیوں سے ان کا دل سخت متنفر ہو گیا تھا، تو ان کا یہ کمال یقین و اخلاص، محبت الہی اور ترک معصیت کا عزم بالجزم، عمل کے قائم مقام ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں اس کلمہ طیبہ کی بدولت جنت میں داخل فرما دے گا۔تاہم جن کو یہ کلمہ پڑھنے کے بعد یہ موقع ملے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعے سے اس سچائی کو واضح اور ثابت کریں، لیکن وہ اس کے مقتضیات پر عمل کر کے اپنی سچائی کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں گے ، تو ایسے لوگوں کا محض زبان سے “لا الہ الا اللہ”کہہ دینا عند اللہ کافی نہیں ہو گا۔چنانچہ دوسری روایات سے یہ بات بھی ثابت ہے۔جیسے حدیث میں ہے کہ ایک مرحلے پر جہنم سے ” لا الہ الا اللہ” کہنے والوں کو نکالا جائے گا۔اسی طرح یہ بھی حدیث میں ہے کہ “ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے سجدے والی جگہوں پر جہنم کی آگ حرام فرما دے گا “گویا ان کا سارا جسم جہنم میں جلے اور سڑے گا لیکن اعضائے سجود محفوظ رہیں گے۔اسی طرح دونوں قسم کی روایات میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے اور ان کے مابین منافات نہیں رہتی اور عقل بھی مذکورہ دونوں قسم کے افراد کے درمیان فرق کو تسلیم کرتی ہے۔گویا عقل اور نقل دونوں اعتبار سے یہ موقف صحیح ہے۔جس کی صراحت مذکورہ سطور میں کی گئی ہے۔

 

                   ایک اور شبہ اور اس کا ازالہ

 

ایک شبہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر جہاد کے لیے بھیجا، وہاں فتح یابی کے بعد ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ شکست خوردہ کافر قبیلے کا ایک شخص ان کو ملا، اس نے “لا الہ الا اللہ” پڑھا، لیکن حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ یہ شخص جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہا ہے چنانچہ انہوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور اسے قتل کر دیا۔جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور اسامہ سے فرمایا:”(اقتلتہ بعد ما قال لا الہ الا اللہ)”تو نے اسے ” لا الہ الا اللہ” پڑھنے کے بعد قتل کر دیا؟حضرت اسامہ نے کہا:اللہ کے رسول !اس نے جان بچانے کے لیے ہی کلمہ پڑھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم قالھا ام لا)”تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تجھے معلوم ہو جاتا کہ اس نے (دلی یقین کے ساتھ)کلمہ پڑھا ہے یا نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی الفاظ دہراتے رہے۔(صحیح مسلم)

اس کے پیش کرنے سے ان کا مقصد یہ کہنا ہوتا ہے کہ زبانی اقرار کی بھی بڑی اہمیت ہے اور جو شخص زبان سے “لا الہ الا اللہ”پڑھتا ہو، چاہے وہ اس کے مقتضیات پر عمل کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا سکتی، نہ اس کی تکفیر ہی کی جا سکتی ہے۔لیکن اس واقعے اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے اور کلمہ پڑھتا ہے تواس کے خلاف فوری کاروائی نہ کی جائے۔اس کلمے کے پڑھنے سے اس کی جان اور مال محفوظ ہو گیا ہے۔اس اکا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس طرح کا اظہار کرنے والے اپنے عمل سے مسلسل اس کے خلاف ثبوت پیش کر رہے ہیں تب بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے۔یا ان کا عقیدہ و عمل “لا الہ الا اللہ” کے معنی و مفہوم اور مقتضیات کے خلاف ہو، تب بھی ان کی تکفیر جائز نہ ہو۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا کہ:کیا تو نے اسے “لا الہ الا اللہ”کہنے کے بعد قتل کر دیا؟اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:

“مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگ جب تک “لا الہ الا اللہ”کا اقرار نہ کریں، میں ان سے قتال کروں۔”(صحیح بخاری)

اس کا مطلب یہ ہے کہ “لا الہ الا اللہ” کا اقرار کر لینے کے بعد کوئی کاروائی کرنی جائز نہیں۔لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجیوں کی بابت فرمایا کہ یہ ایک گروہ پیدا ہو گا، جو قرآن اور نماز پڑھے گا، ایمان کا اظہار کر گا، لیکن یہ تینوں چیزیں ان کے گلوں سے نہیں اتریں گی، وہ بڑے عبادت گزار ہوں گے ، ان کی نمازوں روزوں اور قرأت کے مقابلے میں تمہیں اپنی نمازیں، تلاوت وغیرہ حقیر معلوم ہوں گے۔لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بابت فرمایا :

“جہاں بھی تم انہیں ملو، انہیں قتل کر دو۔(سنن ابی داؤد)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:

“اللہ کی قسم!اگر میں نے انہیں پا لیا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا۔”

چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بعد میں اس پر عمل کیا اور ان سے قتال کیا۔

یہاں دیکھ لیجئے !خوارج کو “لا الہ الا اللہ”کہنے کا کوئی فائدہ حاصل ہوا نہ کثرت عبادت کا۔کیوں؟اس لئے کہ انہوں نے زبان سے تو “لا الہ الا اللہ”کہہ دیا، لیکن ان کا عمل اس کے خلاف تھا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے بھی اس نکتے کی وضاحت ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، باقی اسلام پر وہ عمل کر رہے تھے۔لیکن اس کے باوجود خلیفہ رسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کے عزم کا اظہار فرمایا، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا اور کہا آپ ان سے قتال کریں گے جو “لا الہ الا اللہ” کا اقرار کرتے ہیں؟جبکہ ایسے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

“اللہ کی قسم میں ان سے قتال ضرور کروں گاجو نماز زاور  زکوٰۃ کے درمیان فرق کر رہے ہیں۔اس لیے کہ (جیسے نماز اللہ کا حق ہے اسی طرح)زکوٰۃ مال کا حق ہے (جو اللہ نے بندوں کے مال میں رکھا ہے )اللہ کی قسم!اگر وہ ایک بکری کا بچہ بھی مجھے دینے سے انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زکوٰۃ میں)ادا کرتے تھے تو میں اس کے بھی روک لینے پران سے لڑوں گا۔”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اللہ کی قسم!(جب میں نے ابوبکر کے موقف پر غور کیا تو)میں نے یہی دیکھا کہ اللہ نے ان لوگوں سے قتال کے لیے ابوبکر کا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے بھی جان لیا کہ یہی بات حق ہے۔(صحیح بخاری)

اس سے معلوم ہوا کہ پہلے صحابہ کرام نے یہی سمجھا کہ جو زبان سے “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار کرتا ہے ، تو مجرد اقرار ہی اس کے لیے کافی ہے کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے ، اس لیے انہوں نے مانعین زکوٰۃ سے قتال میں توقف کیا۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نہیں۔محض زبان سے اقرار کر لینا کافی نہیں، بلکہ اس کلمے کے حقوق اور اس کے مقتضیات کی ادائیگی بھی ضروری ہے ، جب تک ایسا نہیں ہو گا مجرد اقرار سے کچھ نہیں ہو گا اور وہ قتال میں مانع نہیں۔ہمارے دور میں اس کی مثال مرزائی حضرات ہیں۔یہ لوگ بھی “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار کرتے ہیں۔لیکن چونکہ ان کا عقیدہ و عمل اس کلمے کے مقتضیات کے خلاف ہے۔اس لیے علمائے امت نے ان کے اس اقرار کو کوئی اہمیت نہیں دی اور انہیں بالاتفاق کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔

بالکل اسی طرح جو شخص “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اقرار تو کرتا ہے لیکن اس کا عقیدہ و عمل اس کے مقتضیات کے خلاف ہے یعنی مشرکانہ ہے یا اس کی عقیدت و محبت اور اطاعت کا محور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ہے تو وہ مسلمان کس طرح رہ سکتا ہے۔حضرت حسن بصری سے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، جس نے “لا الہ الا للہ” پڑھ لیا وہ جنتی ہے۔حضرت حسن بصری نے فرمایا:

“جس نے “لا الہ الا للہ” کہا پھر اس نے اس کا حق اور فرض بھی ادا کیا، تو وہ جنتی ہے۔”

حضرت وہب بن منبہ(تلمیذ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ)سے بھی کسی نے سوال کیا:

کیا “لا الہ الا اللہ” جنت کی چابی نہیں ہے ؟

تو انہوں نے فرمایا:

“کیوں نہیں۔(یقیناً یہ جنت کی چابی ہے )لیکن کوئی چابی دندانوں کے بغیر نہیں ہوتی، اگر تو دندانوں والی چابی لے کر آئے گا، تو تیرے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جائے گا، بصورت دیگر یہ دروازہ تیرے لیے نہیں کھولا جائے گا۔(محاضرات فی العقیدۃوالدعوۃ للشیخ صالح بن فوزان)

یہ دندانے کیا ہیں؟”لا الہ الا اللہ” کے تقاضوں پر پورا عمل۔اور اگر عمل اس کے تقاضوں کے خلاف ہوا تو اس کی مثال بغیر دندانوں والی چابی کی سی ہے جس سے تالا نہیں کھلتا۔جنت کا تالا بھی محض زبانی کلمہ کی چابی سے نہیں کھلے گا۔جب تک اس کے تقاضوں کے مطابق عمل بھی نہیں ہو گا۔
 

 

    باب دوم:     توحید کی حقیقت، قسمیں اور تقاضے

 

یہ بات تو محقق اور واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے اور عرش پر مستوی ہے ، اس بات پر سب مسلمانوں ک ایمان ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ حقیقیت ہے کہ ایمان باللہ کے تقاضوں سے مسلمانوں کی اکثریت ناآشنا ہے ، اس لیے وہ توحید کی حقیقت، اس کی قسموں اور تقاضوں سے غافل اور مشرکانہ عقیدوں میں مبتلا ہیں۔بنا بریں ضروری ہے کہ پہلے اللہ پر ایمان رکھنے کا مطلب اور اس کے تقاضوں کو سمجھا جائے ، تاکہ توحید کی صحیح حقیقت سمجھ میں آ جائے۔

اللہ کے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ ہر چیز کا رب اور مالک ہے ، وہی ہر چیز کا مالک اور اپنی مخلوق کا مدبر و منتظم ہے۔وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔نماز، روزہ، دعا و استغاثہ، خوف و  رجاء اور ذلت و عاجزی سب اسی کا حق ہے۔نہ کسی کے لیے نماز پڑھی جائے ، نہ روزہ رکھا جائے ، نہ کسی سے دعا و فریاد کی جائے ، نہ مافوق الاسباب طریقے سے کسی کا خوف رکھا جائے ، نہ امید کسی سے وابستہ کی جائے۔اسی کے سامنے ذلت و عاجزی کا اظہار کیا جائے۔اس کے علاوہ ایسی کوئی ذات نہیں کہ جس کے سامنے عبودیت وبندگی والی ذلت و عاجزی کا مظاہرہ کیا جائے۔وہ تمام صفات کمال سے متصف اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔

اس اعتبار سے اللہ کے ماننے میں توحید کی تین قسمیں آ جاتی ہیں۔

توحید ربوبیت

توحید الوہیت

توحید اسماء و صفات

اس کی مختصر تفصیل آئندہ صفحات میں درج ہے۔

 

                   توحید ربوبیت

 

اس کا مطلب اس عقیدے پر یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا رب ہے ، اس کے سوا کوئی رب نہیں۔رب کے لغوی معنی ہیں، مالک و مدبر(انتظام کرنے والا اور ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے والا)وہ اپنی مخلوقات کا مربی ہے ، کا مطلب ہو گا۔ان کو پیدا کرنے والا بھی وہی اکیلا ہے اور مالک بھی وہی ہے اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر بھی صرف اسی کے ہاتھ میں ہے۔پس توحید ربوبیت کے معنی ہوں گے کہ یہ اقرار کیا جائے کہ وہی مخلوق کا خالق و مالک ہے ، وہی ان کو زندگی عطا کرنے والا اور مارنے والا ہے ، وہی ان کا نافع اور ضار ہے ، اضطرار اور مصیبت کے وقت وہی دعاؤں کا سننے والا اور فریاد رسی کرنے والا ہے ، وہی دینے اور روکنے والا ہے ، ساری کائنات اسی کی مخلوق ہے اور اسی کا حکم اس میں نافذ ہے :

    إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ﴿٤٥﴾

ترجمہ: : بے شک تمہارا رب الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر قرار پکڑا رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اپنے حکم کے تابعدار بنا کر پیدا کیے اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا الله بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے (سورہ الاعراف، آیت54)

 

قرآن کریم میں مذکورہ تمام باتوں کو بڑی وضاحت اور تکرار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، کیونکہ یہ توحید ربوبیت ہی توحید کی دوسری قسموں کے لیے بنیاد و اسا س ہے۔جب یہ مسلم ہے کہ اللہ ہی کائنات کا خالق و مالک ہے اور کائنات کا نظم و تدبیر بھی تمام تر اسی کے اختیار میں ہے ، تو اس سے از کود یہ پہلو ثابت ہو جاتا ہے کہ عبادت کا مستحق بھی وہی ہے ، خشوع و خضوع کا اظہار بھی اسی کے سامنے کیا جانا چاہیے ، اسی کے لیے حمد و شکر کیا جانا چاہیے اور وہی دعا و استغاثہ کے لائق ہے۔اسی لیے کہ یہ سب باتیں اسی کے لیے زیبا ہیں جو خلق و امر کا مالک ہے۔بہ الفاط دیگر یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ خالق و مالک اور مدبر و متصرف ہی اس بات کے لائق ہے کہ وہ جلال و جمال اور کمال کی صفات سے متصف ہو، اس لیے کہ رب العالمین وہی ہو سکتا ہے جو ان صفات کا مالک ہو، ورنہ جو ہمیشہ زندہ رہنے والا نہ ہو، سمیع و بصیر نہ ہو، ہر طرح کی قدرت سے بہرہ ور نہ ہو، جو چاہے اُسے کرنے کا اختیار رکھنے والا نہ ہو اور اپنے اقوال و افعال میں حکیم نہ ہو تو وہ رب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ان صفات سے محروم رب اپنی مخلوقات کا علم نہیں رکھ سکتا اور جو اپنی مخلوقات سے باخبر نہ ہو وہ ان کی حفاظت کا فریضہ کس طرح انجام دے سکتا ہے ؟اور جو اپنی مخلوقات کی حفاظت نہ کر سکتا ہو وہ رب کیونکر ہو سکتا ہے ؟

بنا بریں جو لوگ اس بات کا تو اقرار کریں کہ کائنات کا خالق و رب اللہ ہی ہے (یعنی توحید ربوبیت کو تو مانیں)لیکن عبادت میں وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کریں(یعنی توحید الوہیت کو تسلیم نہ کریں)اسی طرح وہ اللہ کی صفات کی نفی کریں، یا ان کو مخلوقات کی صفات کے ساتھ تشبیہ دیں یا ان کی دور از کار توجیہہ اور فاسد تاویل کریں(یعنی توحید اسماء و صفات کا انکار کریں)تو اس کا واضح مطلب ہے کہ انہوں نے اس توحید کو نہیں مانا جو انہیں دائرہ کفر و شرک سے نکال کر دائرہ ایمان میں لے آئے۔چنانچہ یہ واقع ہے کہ مشرکین مکہ اقرار تو کرتے تھے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اس کے باوجود اللہ نے ان کو مشرک کہا، کیوں؟اس لیے کہ انہوں نے یہ تو مانا کہ رب ایک ہی ہے ، لیکن یہ نہیں مانا کہ الہ (بھی) ایک ہی ہے ، اور اس وجہ سے انہوں نے غیرو کو بھی عباد ت میں شریک کیا۔اس طرح انہوں نے اسماء صفات باری تعالیٰ میں بھی اللہ کو واحد نہیں مانا اور اس کی بعض صفات کا انکار کیایا ان جیسی صفات مخلوق میں بھی تسلیم کیں۔اس لیے اللہ نے ان کی بابت فرمایا:

    وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ ﴿٦۰١﴾

ترجمہ: : اوران میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جو الله کو مانتے بھی ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں (سورہ یوسف، آیت 106)

 

یعنی انہوں نے یہ تو مانا کہ خالق، رازق اور زندگی اور موت دینے والا اللہ ہے ، لیکن عبادت وہ غیروں کی بھی کرتے رہے ، یوں وہ اپنے ناقص ایمان کی وجہ سے ایمان باللہ کے با وجود مشرک ہی رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ توحید ربوبیت کے ساتھ، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات پر بھی ایمان رکھا جائے اس کے بغیر کوئی شخص بھی مومن اور مسلمان نہیں ہو سکتا۔

 

                   مشرکین اور توحید ربوبیت

 

گزشتہ تفصیل سے توحید ربوبیت کا مفہوم تو واضح ہو چکا ہے کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔توحید کی یہ قسم تمام مشرکین بھی مانتے ہیں اور مانتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

    وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ﴿87﴾

ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے الله نے پھر کہا ں بہکے جا رہے ہیں (سورہ الزخرف، آیت87)

    قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿31﴾

ترجمہ: کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دو کہ پھر (اللہ)سے کیوں نہیں ڈرتے (سورہ یونس، آیت31)

یہ ہے توحید ربوبیت، لیکن صرف یہ اقرار کرنے والا کہ ہر چیز کا خالق، مالک، رازق اور مدبر صرف اللہ ہے۔ضروری نہیں کہ وہ توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات کو بھی مانتا ہو۔اس لیے کہ انسانوں کی اکثریت توحید ربوبیت کو تسلیم کرتی ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ اس کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرتی ہے۔

 

                   توحید الوہیت

 

اس کا مطلب ہے ، یہ عقیدہ رکھا جائے کہ معبود بھی صرف وہی اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔عبادت کی تمام قسمیں صرف اسی کے ساتھ خاص ہیں۔عبادت کے لغوی معنی ہیں، سرفگندگی، ذلت و عاجزی اور خشوع وخضوع۔اور بعض علماء نے معنی کیے ہیں، کمال خضوع کے ساتھ کمال محبت۔اس اعتبار سے توحید الوہیت کے مفہوم میں یہ بات شامل ہو گی کہ عبادت میں اخلاص کامل ہو، یعنی اس کا کوئی حصہ بھی غیراللہ کے لیے نہ ہو۔پس ایک مومن اللہ کی عبادت کرتا ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، اس کی محبت بھی صرف اللہ کے ساتھ ہوتی ہے ، اس کے دل میں خوف بھی صرف اللہ کا ہوتا ہے ، اس کی امیدیں بھی اسی سے وابستہ ہوتی ہیں، اس کا اعتماد و توکل بھی اسی پر ہوتا ہے ، دعا و فریاد بھی اسی سے کرتا ہے ار اطاعت و فرمانبرداری بھی اسی کی۔نذر و نیاز بھی اسی کے نام کی دیتا ہے کسی اور کے نام پر نہیں، اپنی جبیں نیاز بھی اسی کے سامنے جھکاتا اور عاجزی و ذلت کا اظہار بھی اسی کے سامنے کرتا ہے ، غرض عبادت کی جتنی بھی شکلیں اور صورتیں ہیںوہ صرف اور صرف اللہ واحد کے لیے بجا لاتا ہے اس میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔توحید کی یہ قسم، توحید کی دوسری قسموں کو بھی اپے دامن میں سمیٹ لیتی ہے ، اس میں توحید ربوبیت بھی آ جاتی ہے اور توحید اسماء و صفات بھی، لیکن صرف توحید ربوبیت میں توحید کی دوسری قسمیں نہیں آتیں۔اس لیے کہ اللہ کو واحد رب ماننے والا ضروری نہیں کہ اس کو الوہیت میں بھی واحد مانے ، وہ اللہ کو رب مانتا ہے ، لیکن اللہ کی عبادت و اطاعت نہیں کرتا، یا صرف اسی ایک کی عبادت و اطاعت نہیں کرتا۔اسی طرح توحید اسماء و صفات بھی، توحید کی دوسری انواع کو اپنے اندر شامل نہیں کرتی۔لیکن توحید الوہیت کو ماننے والا جو یہ اقرار کرتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی مستحق عبادت ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کامستحق نہیں، وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ رب العالمین بھی وہی ہے ، علاوہ ازیں اس کے اسماء و حسنی اور صفات کاملہ ہیں، اس لیے اخلاص فی العبادات اسی کے لیے ہو سکتا ہے جو رب ہو نہ کہ کسی اور کے لیے بھی۔ اسی طرح وہ ہر عیب اور نقص سے پاک بھی ہو، نہ کہ اس کے لیے بھی جس میں نقص ہو۔اس کی عبادت کس طرح جائز ہو سکتی ہے جو کسی چیز کا خالق ہو نہ مدبر، بلکہ مخلوق ہو اور مدبر، اسی طرھ وہ بھی معبود نہیں ہو سکتا جو سوتا یا بیمار ہوتا اور موت سے ہمکنار ہوتا ہے ، کیونکہ یہ سب صفات نقص ہیں۔اور اللہ رب العالمین ان تمام نقائص سے پاک ہے۔

مسلمانوں کا کلمہ توحید شہادت “لا الہ الا اللہ”(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)توحید کی تین قسموں کو حاوی ہے اسی لیے اس کلمے کو ادا کرنے والامسلمان قرار پاتا ہے ، ورنہ توحید ربوبیت تو مشرکین بھی مانتے ہیں مگر وہ مسلمان نہیں۔دائرہ اسلام میں وہی داخل سمجھا جائے گا جو توحید کی تینوں قسموں پر ایمان رکھے گا، کیونکہ “لا الہ الا اللہ” میں تینوں قسمیں شامل ہیں۔اسی توحید الوہیت کے لیے اللہ نے انسانوں اور جنوں کو پیدا فرمایا ہے۔

    وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿56﴾

ترجمہ: اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے (سورۃ الذاریات، آیت56)

تمام انبیاء کی بعثت بھی اسی توحید الوہیت ہی کے لیے ہوئی۔

    وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ﴿36﴾

ترجمہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا (سورۃ النحل، آیت36)

“طاغوت” کیا ہے ؟ہر وہ چیز جس کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کی جائے ، “طاغوت”ہے۔

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِىٓ إِلَيْهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدُونِ ﴿25﴾

ترجمہ: اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سومیری ہی عبادت کرو (سورۃ الانبیاء، آیت25)

اور یہی کلمہ اسلام کے پانچ بنیادہ رکن بلکہ رکن اول ہے۔اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ حضرت نوح علیہ السلام، ھود علیہ السلام، صالح علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، ان تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔

    وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿65﴾

ترجمہ: اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں (سورۃ الاعراف، آیت65)

    وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًۭا ۚ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَٱسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَٱسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّى قَرِيبٌۭ مُّجِيبٌۭ ﴿61﴾

ترجمہ: اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تمہیں زمین سے بنایا اور تمہیں اس میں آباد کیا پس اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا (سورۃ ھود، آیت61)

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿23﴾

ترجمہ: اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کے پاس بھیجا پھر اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے (سورۃ المومنون، آیت23)

صرف ایک اللہ کی عبادت کے اقرار سے دوسرے معبودوں کی عبادت کی از خود نفی ہو جاتی ہے اور ایک الہ کے عقیدے سے دوسرے تمام معبود باطل قرار پاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کو “لا الہ الا اللہ”(اللہ کے سواکوئی الہ نہیں)کی دعوت دی، تو انہوں نے کہا:

    أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌۭ ﴿5﴾

ترجمہ: کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنایا ہے بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے (سورۃ ص، آیت5)

اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ جس نے کلمہ “لا الہ الا اللہ” کا اقرار کر لیا، تو اس کا مطلب ہر ماسوی اللہ کی عبادت کی نفی اور تمام معبودوں کا بطلان ہے ، کیونکہ الہ کے معنی ہی معبو د کے ہیں۔یعنی وہ ذات جس کی عبادت کی جائے اور عبادت کیا ہے ؟عبادت کا مطلب ہے صرف اسی ذات کی رضا کے لیے اس کے سامنے عجز و تذلل کا اظہار کرتے ہوئے ہر وہ کام کیا جائے جسے وہ پسند کرتا ہے۔مشرکین مکہ کو یہی پسند نہیں تھا کہ وہ صرف آسمان والے اللہ کو، جسے وہ رب تو تسلیم کرتے تھے ، اپنے تمام کاموں کا مقصود و منتہا بھی صرف اسی کو مان لیں، نماز پڑھیں تو اسی کے لئے پڑھیں، روزے رکھیں تو صرف اسی کے لیے رکھیں، نذر و نیاز دیں تو صرف اسی کے نام کی دیں، استغاثہ و استمداد کریں تو صرف اسی سے کریں اور ان تمام معبودوں کو نظر انداز کر دیں جن کو وہ اللہ کے ساتھ ساتھ مذکورہ کاموں میں شریک رکھتے تھے۔توحید الوہیت کے اسی تقاضے کو وہ سمجھتے تھے جسے آج کا مسلمان نہیں سمجھتا۔اسی لیے ضروری ہے کہ توحید الوہیت کے تقاضوں اور لوازم کو بھی سمجھا جائے۔

 

                   توحید الوہیت کے لوازم

 

توحید الوہیت کے تسلیم کرنے پر کن کن چیزوں پر اعتقاد و یقین رکھنا ضروری ہے۔اس کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے :

(1)اللہ کے ساتھ خالص محبت رکھی جائے ، اس کا مطلب ہے کسی کو اللہ کا شریک نہ بنایا جائے ، اور نہ اللہ کی محبت پر کسی اور کی محبت غالب آئے۔کیونکہ انسان کی فطرت میں کئی چیزوں کی محبت رکھی گئی ہے۔اسے ماں باپ، بیوی، بچوں سے ، بہن بھائیوں سے ، احباب و اقارب سے ، دنیا کے مال واسباب سے حتی کہ اپنے وطن سے مولد و مسکن سے بھی محبت ہوتی ہے ، یہ تمام محبتیں جائز ہیں، بشرطیکہ اپنی فطری حدود میں رہیں اور دائرہ شریعت سے تجاوز نہ کریں۔علاوہ ازیں جب محبتوں میں سے کسی محبت کا اللہ کی محبت سے تصادم ہو جائے ، تو وہاں اللہ کی محبت کے تقاضوں کو ترجیح دی جائے۔نہ کہ انسان اللہ کی محبت کو نظر انداز کر کے مذکورہ محبتوں کا اسیر ہو جائے۔اہل ایمان کی صفت ہے :

    وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَندَادًۭا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ ٱللَّهِ ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَشَدُّ حُبًّۭا لِّلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ إِذْ يَرَوْنَ ٱلْعَذَابَ أَنَّ ٱلْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًۭا وَأَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعَذَابِ ﴿165﴾

ترجمہ: اورایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے الله کے سوا اور شریک بنا رکھے ہیں جن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی کہ الله سے رکھنی چاہیئے اور ایمان والوں کو تو الله ہی سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور کاش دیکھتے وہ لوگ جو ظالم ہیں جب عذاب دیکھیں گے کہ سب قوت الله ہی کے لیے ہے اور الله سخت عذاب دینے والا ہے (سورۃ البقرہ، آیت165)

اللہ کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کا مطلب یہی ہے کہ وہ اللہ کے حکم اور رضاء کو دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔اس کی محبت پر سب محبتوں کو قربان کر دیتے ہیں۔

(2)دعا و فریاد اللہ ہی سے کی جائے ، اللہ پر بھروسہ کیا جائے اور جن چیزوں پر صرف اللہ ہی قادر ہے ، ان کی امید صرف اللہ ہی سے رکھی جائے ، ان میں کسی اور سے امید وابستہ نہ کی جائے۔

(3)خوف بھی صرف اللہ ہی کا ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اپنی مشیت اور قدرت سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ہاں اگر اللہ چاہے تو وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کا سبب بنا سکتا ہے۔ اس لئے ظاہری اسباب کے بغیر کسی سے خوف کھانا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کی مشیت اور اذن کے بغیر کوئی نفع نقصان پہنچانے پر قادر ہے ، مشرکانہ فعل اور عقیدہ ہے۔

جیسے کسی فوت شدہ شخص سے ڈرنا کہ وہ مجھے نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے ، یہ خوف عبادت ہے جو اللہ کا حق ہے ، فطری خوف نہیں جو جائز ہے۔اس طرح کسی زندہ شخص کی بابت یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کی مشیت ہو یا نہ ہو، یہ شخص مجھے اپنی مشیت سے نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے ، یہ بھی خوف عبادت ہے۔ہاں ظاہری اسباب کی حد تک وہ زندہ شخص نقصان پہنچا سکتا ہے ، مگر کب؟جب اللہ کی مشیت ہو گی۔اگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ہر طرح کے اسباب و وسائل سے بہرہ ور ہونے کے باوجود وہ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔بنا بریں ایک مسلح شخص یا دشمن سے یا کسی درندے اور خوفناک جانور سے ، ظاہری اسباب کی رو سے خوف محسوس کرنا، فطری خوف ہے جس پر کوئی گرفت نہیں۔لیکن اس میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ نقصان اسی وقت پہنچا سکیں گے جب اللہ کی مشیت ہو گی، محض اپنی مشیت سے یہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔اللہ کی مشیت نہیں ہو گی تو یہ اسباب و وسائل جو وہ نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کریں گے ، بے کار ثابت ہوں گے

(4)عبادات کی جتنی بھی قسمیں ہیں، وہ سب اللہ کے لیے خاص ہیں، بدنی عبادات ہوں، جیسے نماز روزہ، رکوع، سجود، طواف وغیرہ۔مالی عبادات ہوں جیسے زکوٰۃ، قربانی، نذر و نیاز وغیرہ۔قولی عبادات ہوں جیسے ذکر، استغفار، وغیرہ۔مالی و بدنی عبادات کا مجموعہ ہو جیسے حج۔ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کا حق ہے۔ان میں سے کوئی بھی عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہیں کی جا سکتی۔اگر کی جائے گی تو ایسا کرنا توحید الوہیت کے خلاف اور شرک ہو گا۔

 

                   توحید اسماء و صفات

 

توحید کی یہ تیسری قسم ہے۔اس کا مطلب یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات کمال سے متصف اوت تمام صفات نقص سے پاک ہے اور ان دونوں باتوں میں وہ یکتا و تنہا ہے۔اللہ کے سوا کائنات میں کوئی ہستی ایسی نہیں جو ہر قسم کے کمالات سے متصف اور ہر عیب اور نقص سے پاک ہو۔توحید کی یہ قسم تین بنیادوں پر قائم ہے۔

اول

اللہ ہر نقص سے پاک اور مخلوق کے مشابہ ہونے سے پاک ہے۔

دوم

اللہ کے جو اسماء و صفات، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ان پر ایمان رکھنا ہے ، بغیر اس کے کہ ان میں کوئی کمی کی جائے یا زیادتی یا تحریف کی جائے یا تعطیل (نفی)۔

سوم

اللہ کی صفات کی حقیقت، کنہ اور کیفیت کا ادراک کسی کے لیے ممکن نہیں۔

 

پہلی بنیاد کا مطلب ہے ، اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں، اس لیے وہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ اپنی کسی صفت میں مخلوق کی صفت کے مشابہ ہو:

    فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ أَزْوَٰجًۭا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌۭ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ﴿11﴾

ترجمہ: وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اسی نے تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے بنائے تمہیں زمین میں پھیلاتا ہے کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سورہ الشوری، آیت11)

    وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ ﴿4﴾

ترجمہ: اور اس کا کوئی ہمسر نہیں (سورۃ اخلاص، آیت4)

بعض علماء نے اس کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

“اس کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں، اس کے نام جیسا کوئی نام نہیں، اس کے کام جیسا کوئی کام نہیں، اس کی صفت جیسی کوئی صفت نہیں، سوائے لفظی موافقت کے۔وہ قدیم ذات اس سے کہیں بلند ہے کہ اس کے لیے کوئی حادث صفت ہو جیسے یہ ناممکن ہے کہ نو پیدا ذات کے لیے کوئی قدیم صفت ہو۔(تفسیر قرطبی، تحت آیت ” لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌۭ“16/8)

اس اعتبار سے اللہ کو ہر اس چیز سے پاک ماننا ضروری ہے جو اس کے اپنے یا رسول اللہﷺ کے بیان کردہ وصف کے خلاف ہو۔بنا بریں توحید صفات کا تقاضا ہے کہ اس کو بیوی سے ، اولاد سے ، شریک سے ، ہمسر اور مددگار سے ، اس کی اجازت کے بغیر کسی سفارشی سے ، ولی اور دوست سے ، عاجزی اور کمزوری سے پاک مانا جائے۔اس طرح یہ بھی اس کا تقاضا ہے کہ اسے نیند سے ، اونگھ سے ، تعب و تکان سے ، موت سے ، جہالت سے ، ظلم سے اور غفلت و بھول سے اور اس قسم کے دیگر نقائص سے پاک تسلیم کیا جائے۔

دوسری بنیاد کا تقاضا ہے کہ اللہ کے اسماء و صفات کو اس طرح مانا جائے جیسے وہ قرآن کریم یا احادیث میں وارد ہوئے ہیں، ان کا تمام تر مدار، سماع و نقل پر ہے ، رائے اور قیاس و عقل پر نہیں۔پس اللہ عزوجل کا وہی وصف بیان کیا جائے جو خود اس نے یا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے اسے پکارا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ ہی اپنی ذات کو اور اپنی صفات کو اور اسماء کو خوب جانتا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات بھی اس کی بابت اس لیے صحیح ہے کہوہ بھی صادق اور مصدوق اور وہی بات بتلاتے ہیں جس کی خبر ان کو وحی کے ذریعے سے دی جاتی ہے ، اس لیے الہ اور اس کے رسول ﷺ کے بیان کردہ اسماء و صفات سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔نعیم بن حماد کا قول ہے :

“جس نے اللہ کو مخلوق کے ساتھ تشبیہہ دی اس نے کفر کیا۔جس نے اس کے اس وصف کا انکار کیا جو خود اس نے یا اس کے رسول ﷺ نے بیان کیا اس نے بھی کفر کیا اور اللہ کے وہ اوصاف جو خود اس نے اپنے لیے یا اس کے رسول ﷺ نے اس کے لیے بیان کیے ہیں ان میں تشبیہہ اور تمثیل نہیں ہے۔”(الروضۃ الندیۃ، ص:22، بحوالہ کتاب الایمان، الدکتور محمد یاسین، دارالفرقان، عمان، اردن ص30)

یعنی اللہ کو کسی کے ساتھ تشبیہہ دینا یا اس کو کسی کی مثل بتلانا کفر ہے۔لیکن اللہ کی ثابت شدہ صفات کو جس طرح وہ وارد ہوئی ہیں، بیان کرنا، تشبیہہ و تمثیل کے ذیل میں نہیں آتا۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسماء و صفات باری تعالیٰ کو اسی طرح مانا جائے جس طرح وہ کتاب وسنت میں بیان ہوئی ہیں اور ان کو ان ہی ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے جو لغت عرب سے واضح اور ظاہر ہوں۔ان ظاہری معنوں کا انکار کر کے اللہ کی صفات کا انکار کیا جائے نہ ان کو ان کے ظاہری معنوں سے پھیرا جائے۔یعنی تعطیل کی جائے نہ تحریف و تاویل بلکہ ان کے ظاہری مفہوم پر بلا کیف و تشبیہہ ایمان رکھا جائے۔تیسری بنیاد کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بیان کر دہ اسماء و صفات پر ایمان رکھا جائے ، ان کی کیفیت پوچھی جائے نہ ان کی کنہ و حقیقت کی بحث و کرید میں پڑا جائے۔اس لیے کہ صفات اپنے موصوف کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں صفت کی کیفیت اس وقت تک واضح نہیں ہوتی جب تک کیفیت ذات کی شناخت نہ ہو اور جن اللہ کی ذات کی کنہ و حقیقت و کیفیت کا کسی کو علم ہے نہ اس کی بابت سوال کرنا ہی جائز ہے تواس کی صفات کی کیفیت کے بارے میں سوال کرنا بھی ناجائز ہے ، کیونکہ اس کی کیفیات صفات کا علم کسی کے پاس نہیں ہے۔اس لیے کسی سلف کا یہ قول مشہور ہے ، جب ان سے استوا ء علی العرش کی کیفیت پوچھی گئی تو انہوں نے جواب دیا:

“استواء معلوم ہے (یعنی قرآن میں اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کا ذکر ہے )لیکن اس کی کیفیت نا معلوم ہے ، تاہم اس پر ایمان رکھنا واجب ہے اور اس کی بابت سوال کرنا بدعت ہے۔”(الروضۃ الندیۃ، ص:29، بحوالہ الایمان، ص:31)

اس طرح اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کا معاملہ ہے ، وہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے لیکن کس طرح؟یہ کیفیت ہم بیان نہیں کر سکتے ، وہ سنتا ہے ، وہ دیکھتا ہے ، کلام فرماتا ہے ، لیکن کیسے ؟ہمیں ان کی کیفیات کا علم نہیں۔جب ہم کیفیت ذات سے ہی ناواقف اور بے خبر ہیں، تو صفات تو موصوف کی فرع اور اس کے تابع ہوتی ہے ، پھر ہم ان صفات کی کیفیات کو کس طرح جان سکتے ہیں؟اس لیے جب یہ بات متحقق ہے کہ نفس الامر میں اللہ تعالیٰ کا وجود ہے اور وہ تمام صفات کمال کو مستوجب ہے اور مخلوق میں سے کوئی اس کی مثل اور مشابہ نہیں تو اس کا سمع و بصر، کلام نزول اور استواء وغیرہ صفات بھی ثابت ہیں اور وہ جن صفات کمال سے متصف ہے ان میں وہ مخلوقات کے سمع و بصر، کلام و نزول اور استواء سے مشابہت نہیں رکھتا۔

 

                   توحید اسماء و صفات کے تقاضے

 

(1)مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے ساتھ تشبیہہ نہیں دی جا سکتی، جیسے عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو، یہودیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کو اور مشرکین نے اپنے بتوں کو اللہ کے مشابہ قرار دیا جیسے بعض لوگوں نے اللہ کے چہرے کو مخلوق کے چہرے کے ساتھ، اللہ کے ہاتھ کو مخلوق کے ہاتھ کے ساتھ، اللہ کے سننے کو مخلوق کے سننے کے ساتھ تشبیہہ دی۔

(2)تاویل کے ذریعے سے اللہ کے اسماء و صفات میں تحریف اور تغیر و تبدیلی جائز نہیں۔اس لیے قرآن و حدیث میں وارد صفات الہی (وجہ، ید، استواء، نزول، غضب و رضا، وغیرہ)کے معانی میں ایسی تاویل کرنا جن سے یہ صفات بے معنی، معطل اور باطل ہو جائیں یا ان میں سے کسی کا انکار لازم آئے ، منہج سلف کے خلاف ہے۔

(3)اللہ کی کسی صفت کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی اور نہ ان کی کنہ اور حقیقت کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔اس بارے میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بڑا جامع ہے ، ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ یہی کہے :

“میں ایمان لایا اللہ پر، اس پر جو اللہ کی طرف سے آیا، اللہ کی مراد کے مطابق اور ایمان لایا میں اللہ کے رسول پر اور اس پر جو اللہ کے رسول کی طرف سے آیا، رسول اللہ ﷺ کی مراد کے مطابق۔

اس بات کو ایک فارسی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے :

اے برتر از خیال و قیاس وگمان و وہم

وزہرچہ گفتہ اند، شنیدم و خواندہ ایم

منزل تمام گشت وبہ پایاں رسیدعمر

ماہم چناں در اول وصف تو ماندہ ایم

ایک اور شاعر نے کہا:

اے بروں از وہم وقال و قیل من

خاک بر فرق من و تمثیل من

 

                   توحید، بندوں پر اللہ کا سب سے بڑا حق ہے

 

مذکورہ طریقے سے اللہ کو ماننا اور اس کی عبادت کرنا، یہ اللہ کا وہ حق ہے جو بندوں پر فرض ہے۔جیسے ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

“کیا تو جانتا ہے اللہ کا بندوں پر اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے “؟

حضرت معاذ فرماتے ہیں۔میں نے کہا :اللہ و رسولہ اعلم

اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں

آپ ﷺ نے فرمایا:

“بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کے ذمے بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

یہ بندوں پر اللہ کا وہ حق ہے جو سب سے پہلے ہے ، اس حق پر کوئی حق مقدم نہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

    وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّۢ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًۭا كَرِيمًۭا ﴿23﴾

ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا (سورۃ الاسراء، آیت23)

دوسرے مقام پر فرمایا:

    قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿151﴾

ترجمہ: کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے ) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے ) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے ) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے ) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو (سورۃ الانعام، آیت 151)

تمام حقوق پر حق الہی کی اولیت و اولیت اور اس کے اساس دین ہونے کی وجہ ہی سے نبی ﷺ مکے کی تیرہ سالہ زندگی میں لوگوں کو صرف اسی توحید کی دعوت دیتے اور شرک سے لوگوں کو روکتے رہے۔گویا تیرہ سال تک منصب نبوت کی ادائیگی کا محور عقیدہ توحید کا اثبات اور معبودان باطل کا انکار ہے۔

علاوہ ازیں قرآن کریم میں بھی اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس میں مختلف اندازسے اسے واضح کیا اور نکھارا گیا ہے۔اس طرح ہر نماز میں، چاہے وہ فرض ہو یا نفل، نمازی اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کہ یہ اقرار و اعتراف کرتا ہے۔

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿5﴾

ترجمہ: (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں (سورۃ فاتحہ، آیت5)

یہ اقرار و اعتراف، توحید الوہیت یا توحید عبادت کا ہی اقرار ہے اور یہی توحید ہر انسان کی فطرت میں ودیعت رکھی گئی ہے۔یعنی ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے۔اس بات کو نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

“ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی نصرانی اور مجوسی (وغیرہ)بنا لیتے ہیں۔جیسے چوپائے کے بچے کو اس کی ماں صحیح سالم جنتی ہے۔کیا تم اس میں اس کا کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو؟

اس (حدیث کے راوی )پھر ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔

    فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًۭا ۚ فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿30﴾

ترجمہ: سو تو ایک طرف کا ہو کر دین پرسیدھا منہ کیے چلا جا الله کی دی ہوئی قابلیت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے الله کی بناوٹ میں ردو بدل نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے (سورۃ الروم، آیت30)

اس حدیث کی بنیاد پر ہی علماء کہتے ہیں کہ جہاں میں اصل چیز توحید ہے (کیونکہ یہ فطرت کی آواز ہے )اور شرک باہر سے مسلط چیز ہے جو شیطان کی مذموم کوششوں کے نتیجے میں انسان پر طاری ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

    كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّۦنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ ۚ وَمَا ٱخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لِمَا ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلْحَقِّ بِإِذْنِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍ ﴿213﴾

ترجمہ: سب لوگ ایک دین پر تھے پھر الله نے انبیاء خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل کیں تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کرے جس میں اختلاف کرتے تھے اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنھیں وہ (کتاب) دی گئی تھی اس کے بعد کہ ا ن کے پاس روشن دلیلیں آ چکی تھیں آپس کی ضد کی وجہ سے پھر الله نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے اور الله جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے (سورۃ البقرہ، آیت213)

دوسرے مقام پر فرمایا:

    وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿19﴾

ترجمہ: اور وہ لوگ ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہو گئے اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے نہ ہو چکی ہو تی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر تے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ہے (سورۃ یونس، آیت19)

لوگ کس چیز میں متحد تھے ؟اسی عقیدہ توحید میں۔بقول حضرت ابن عباس، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح علیہ السلام تک جو دس قرنوں پر محیط ہے اسی دین اسلام پر لوگ قائم رہے۔(تفسیر ابن کثیر)

سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں شرک پیدا ہوا، جس کا سبب نیک لوگوں کی محبت میں غلو اور اپنے پیغمبر کی دعوت سے اعراض تھا۔جب حضرت نوح علیہ السلام نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا:

    وَقَالُوا۟ لَا تَذَرُنَّ ءَالِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّۭا وَلَا سُوَاعًۭا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًۭا ﴿23﴾

ترجمہ: اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا (سورۃ نوح، آیت23)

حضرت ابن عباس ہی سے صحیح بخاری میں منقول ہے کہ مذکورہ پانچ بتوں، قوم نوح کے پانچ نیک لوگوں کے نام تھے۔جب یہ صالحین فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں میں یہ بات ڈالی کہ ان کے مجسمے بنا کر اپنی مجلسوں میں رکھ لیں جن میں وہ بیٹھا کرتے تھے اور ان مجلسوں کو ان مجسموں کو ان صالحین کے نام سے ہی موسوم کریں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن (یہ کام انہوں نے محض ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے کیا تھا)انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی۔البتہ جب ایک نسل ختم ہو گئی، تو پھر بعد میں آنے والوں نے ان مجسموں کی عبادت شروع کر دی۔

اس روایت میں یہ بھی ہے کہ قوم نوح کے یہ پانچوں بت عرب میں بھی پوجے جاتے رہے۔چنانچہ “ود”دومۃ الجندل میں قبیلہ کلب کا، سواع قبیلہ ہذیل کا، یغوث قبیلہ مراد پھر سبا کے نزدیک جرف میں بنو غطیف کا، یعوق قبیلہ ہمدان کا اور نسر آل ذوالکلاع کی شاخ حمیر کا معبود رہا۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ نوح، ح:4920)

حضرت ابن عباس کے اس اثر سے یہ واضح ہوا کہ قوم نوح میں شرک کا آغاز صالح لوگوں کی محبت میں غلو کرنے سے ہوا۔اس غلو محبت نے پہلے ان سے ان کی تصویریں اور ان کے مجسمے تیار کروائے ، پھر ان کو اپنی بیٹھکوں اور دیواروں پر نصب فرمایا۔یہی مجسمے پھر قابل تعظیم اور قابل عبادت قرار پائے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تصویروں اور مجسموں کو حرام اور ناجائز قرار دیا، کیونکہ یہ مجسمے ہی ہر دور میں شرک کا ذریعہ رہے ہیں۔آج بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ، جاہل عوام آج بھی پیروں، فقیروں اور حقیقی و مصنوعی بزرگوں حتی کہ ننگ دھڑنگ ملنگوں کی تصویروں کو گھروں اور دکانوں میں سجا کر رکھنے کو برکت کا باعث سمجھتے ہیں اور ان کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جیسے مشرکین اپنے معبودوں کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔یہ تعظیم بے جا اور غلو محبت ہی عوام کو بتدریج شرک کی طرف لے جاتا ہے اور پھر وہ ان فوت شدگان ہی کو حاجت روا، مشکل کشا اور نافع و ضار سمجھنے لگ جاتے ہیں۔فنعوذباللہ من ھذہ الغلو وفاس العقیدۃ۔

 

 

 

 

 

    باب سوم:    شرک کیا ہے اور مشرک کون ہے ؟

 

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

    إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا ﴿48﴾

ترجمہ: اللہ نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے اللہ کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا (سورۃ النساء، آیت 48)

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ﴿72﴾

ترجمہ: وہ لوگ بے شبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح اللہ ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ المائدہ، آیت 72)

اس قسم کی متعدد آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی مذمت کی ہے اسے ظلم عظیم قرار دیا ہے اور اس کی وجہ سے تمام اعمال کے باطل ہونے کی خبر دی ہے۔شرک کی اتنی مذمت کیوں کی گئی؟اس لیے کہ یہ نا قابل معافی جرم ہے ، اگر ایک مشرک نے دنیا ہی میں شرک سے توبہ نہ کی اور توحید کا راستہ نہ اپنایا اور شرک کرتے کرتے ہی فوت ہو گیا، تو اس کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں، ، اس کے لیے جہنم کی دائمی سزا ہے۔جیسے کافر، اللہ کو نہ ماننے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا، ایسے ہی اللہ کو ماننے کے باوجود شرک کرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا، ان دونوں کو جہنم کے عذاب سے کبھی نجات نہیں ملے گی۔یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے آ کر اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید ہی کا درس دیا۔اور اسے شرک سے روکا، جیسا کہ قرآن میں صراحت ہے۔

 

                   شرک کیا ہے ؟

 

جب شرک کی سزا دائمی جہنم ہے اور تمام انبیاء نے رد شرک ہی کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔تو ضروری ہے کہ ہم معلوم کریں کہ شرک کیا ہے ؟

                   دو خالقوں اور دو معبودوں کا عقیدہ

 

    شرک کی پہلی قسم

شرک کا ایک مطلب تو ہے ، ذات کے اعتبار سے مختلف الہ (معبود اور کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار رکھنے والے )تسلیم کرنا۔

یعنی یہ عقیدہ رکھا جائے کہ کائنات کا خالق و مالک اور اس کا مدبر و منتظم ایک معبود نہیں ہے ، بلکہ کئی معبود ہیں۔جیسے مجوسیوں (آتش پرستوں)کا عقیدہ تھا اور ہے کہ کائنات میں خالق دو ہیں، ایک شر کا خالق، دوسرا خیر کا۔ایک ظلمت کا خالق، دوسرا نور کا۔

اللہ تعالیٰ نے اس عقیدے کی نفی فرمائی اور فرمایا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر چیز کا خالق صرف ایک ہی ہے اور مدبر و منتظم بھی صرف وہی ایک۔کیونکہ اگر کائنات میں دو الہ (معبود) ہوتے اور اس میں دونوں کا تصرف اور ارادہ کارفرما ہوتا، تو یہ نظام عالم اس طرح کبھی درست نہ رہتا جیسے وہ ہزاروں سال سے ہے۔چاند سورج کا طلوع و غروب، رات اور دن کا آنا جانا، موسموں کا تغیر و تبدل، ، کبھی بہار، کبھی خزاں، سردی گومی، سردیوں میں دنوں کا چھوٹا اور راتوں کا لمبا ہو جانا اور گرمیوں میں اس کے برعکس دنوں کا لمبا اور راتوں کا چھوٹا ہو جانا۔یہ نظام عالم ہزاروں سال سے یونہی چلا آ رہا ہے ، اس میں کبھی تبدیلی آئی ہے نہ اس میں کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے اور نہ اس کے درمیان کوئی تصادم ہی ہوا ہے۔یہ یکسانیت، استحکام اور ہر چیز کی اُستواری، اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا بھی ایک ہے اور اس میں نظم و تصرف بھی اسی کا کار فرما ہے۔نہ اس کی تخلیق میں اور کی شرکت ہے نہ اس کی تدبیر و انتظام میں کسی اور کا حکم چلتا ہے۔کیونکہ خالق اگر ایک کی بجائے دو یا اس سے زیادہ ہوتے تو یہ استحکام اور استواری کبھی نہ ہوتی۔قرآن نے اس کو یوں بیان فرمایا:

    لَوْ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿22﴾

ترجمہ: اگر ان دونوں میں الله کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں خراب ہو جاتے سو الله عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں (سورۃ الانبیاء، آیت22)

یعنی اگر واقعی آسمان اور زمین میں دو یا اس سے زیادہ معبود ہوتے ، تو کائنات میں تصرف کرنے والی کئی ہستیاں ہوتیں، مختلف معبودوں کا ارادہ و شعور کار فرما ہوتا اور جب ایسا ہوتا یعنی کئی ہستیوں کا ارادہ اور فیصلہ کائنات میں چلتا، تو یہ نظم کائنات اس طرح قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا جو ابتدائے آفرینش سے بغیر کسی ادنی توقف کے قائم چلا آ رہا ہے۔کیونکہ ان کا ارادہ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔ان کی مرضی کا آپس میں تصادم ہوتا، ان کے اختیارات ایک دوسرے کی مخلاف سمت میں استعمال ہوتے جس کا نتیجہ ابتری اور فساد کی صورت میں رونما ہوتا اور اب تک ایسا نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کائنات میں صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا ارادہ و مشیت کارفرما ہے ، جو کچھ بھی ہوتا ہے ، صرف اور صرف اسی کے حکم پر ہوتا ہے ، اس کے دئے ہوئے کو کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے وہ اپنی رحمت روک لے ، اس کو کوئی دینے والا نہیں۔ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

    مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٍۢ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنْ إِلَٰهٍ ۚ إِذًۭا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۚ سُبْحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿91﴾

ترجمہ: الله نے کوئی بھی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہی ہے اگر ہوتا تو ہر الہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو الگ لے جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا الله پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں (سورۃ المومنون، آیت 91)

مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ جب نظم عالم میں آج تک کوئی اختلال وفساد رونما نہیں ہوا تو مان لینا چاہیے کہ کائنات کا خالق و مالک اور مدبر و منتظم ایک ہی اللہ ہے ، اس انکار بداہت اور روز روشن جیسی حقیقت کا انکار ہے۔

 

                   شرک کی دوسری اور عام قسم

 

شرک کی دوسری قسم جو عام ہے ، اللہ کی ذات میں تو نہیں اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرنا ہے ، جیسے عالم الغیب ہونا۔دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سن لینا، ماورائے اسباب طریقے سے نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہونا، وغیرہ۔یہ سب اللہ کی صفات ہیں، اللہ کے سوا کوئی بھی ان صفات کا حامل نہیں ہے ، نہ کوئی نبی، نہ کوئی ولی، نہ کوئی اور ہی۔اگر کوئی اللہ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھتا ہے ، ہر ایک کی فریاد سننے پر اور مافوق الاسباب طریقے سے نفع و نقصان پہنچانے پر قادر سمجھتا ہے ، تو گویا اس نے اللہ کی صفات دوسروں میں مان کر ان کو اللہ کا شریک قرار دے لیا۔

اسی طرح عبادت کا حق صرف ایک اللہ کا ہے ، عبادت کی تمام قسمیں اسی کے لیے ہیں، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، اس کے سامنے دست بستہ تعظیماً کھڑے ہونا، نذر و نیاز دینا، اس سے دعائیں کرنا، مافوق الاسباب طریقے سے اس کی گرفت سے ڈرنا اور اس سے امیدیں وابستہ کرنا وغیرہ۔یہ سب عبادت کی قسمیں ہیں جو صرف اللہ کے لیے خاص ہیں۔اس لیے نماز بھی صرف اللہ کے لیے پڑھی جا سکتی ہے۔نیاز بھی اسی کے نام کی دی جا سکتی ہے ، تعظیم کے طور پر دست بستہ قیام بھی اسی کا حق ہے ، دعائیں مانگنا اور استمداد و استغاثہ کرنا بھی اسی سے جائز ہے۔

ان میں سے کوئی کام بھی کسی اور کے لیے کیا جائے گا، تو وہ شرک ہو گا اور یہ شرک توحید الوہیت میں ہو گا۔شرک کی یہ دوسری قسم بہت عام رہی ہے۔مشرکین عرب کا شرک یہی تھا۔ہندو، مورتیوں کے پجاری ہیں، ان کا شرک بھی یہی ہے اور آج کل کے نام نہاد مسلمانوں کے اندر بھی اس شرک کے مظاہر عام ہیں۔اس شرک کے مرتکب توحید ربوبیت کے قائل رہے ہیں اور ہیں۔توحید ربوبیت کا مطلب ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اور سب کا پالنہار صرف ایک اللہ ہے۔چنانچہ قرآن میں صراحت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

    قُل لِّمَنِ ٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿84﴾سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ﴿85﴾قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبْعِ وَرَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ ﴿86﴾سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿87﴾قُلْ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿88﴾سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ ﴿89﴾

ترجمہ: ان سے پوچھو یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے اگر تم جانتے ہو وہ فوراً کہیں گے الله کاہے کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے وہ فوراً کہیں گے الله ہے کہہ دو کیا پھر تم الله سے نہیں ڈرتے ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو وہ فوراً کہیں گے الله ہی کے ہاتھ میں ہے کہہ دو پھر تم کیسے دیوانے ہو رہے ہو (سورۃ المومنون، آیت 84تا89)

    قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَمَن يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ ﴿31﴾

ترجمہ: کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دو کہ پھر (اللہ)سے کیوں نہیں ڈرتے (سورۃ یونس، آیت 31)

    وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۚ

ترجمہ: اور اگر آپ ان سے پوچھیں آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے الله نے (سورۃ الزمر، آیت38)

قرآن کریم کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین کا خالق اللہ ہے ، روزی رساں اللہ ہے ، کائنات کی تدبیر کرنے والا اللہ ہے ، زندگی دینے اور موت سے ہمکنار کرنے والا اللہ ہے اور ہر چیز کا اختیار اسی کے پا س ہے۔جب وہ یہ سب کچھ مانتے تھے تو پھر وہ مشرک کیوں قرار پائے ؟اس لیے کہ وہ صرف توحید ربوبیت کو مانتے تھے اور توحید الوہیت کے قائل نہیں تھے اور اللہ ئی اختیارات و اوصاف میں اور اس کے حق عبادت میں دوسروں کو شریک مانتے تھے ، اسی لیے اللہ نے ان کو مشرک قرار دیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ صرف توحید ربوبیت کو مان لینا کافی نہیں ہے ، اس کے قائل تو مشرکین عرب بھی تھے۔توحید ربوبیت کے ساتھ توحید الوہیت کا ماننا بھی ضروری ہے ، جب تک توحید الوہیت کو نہیں مانا جائے گا، توحید کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔یعنی یہ تسلیم کیا جائے گا کہ جس طرح وہ ذات کے اعتبار سے واحد ہے ، اسی طرح صفات کے اعتبار سے بھی یکتا ہے ، اس کی سی صفات کسی کے اندر نہیں پائی جاتیں۔اسی طرح عبادتوں کی تمام قسموں کا مستحق بھی صرف اور صرف وہی ہے جس طرح نماز اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نہیں پڑھی جا سکتی، روزہ اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں رکھا جا سکتا، اسی طرح نذر و نیاز بھی اللہ کے نام کے سوا کسی کے لیے نہیں دی جا سکتی کیونکہ نذر بھی عبادت ہے۔دعا بھی اللہ کے سوا کسی سے نہیں مانگی جا سکتی، کیونکہ دعا بھی عبادت ہے۔نبی ﷺ کا فرمان ہے : (الدعا ھو العبادۃ)طواف بھی بیت اللہ کے سوا، کسی اور جگہ کا نہیں کیا جا سکتا۔

افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت بھی مشرکین عرب کی طرح توحید ربوبیت کی تو قائل ہے ، لیکن توحید الوہیت کی منکر ہے ، اسی لیے وہ مافوق الاسباب طریقے سے غیر اللہ سے بھی اُمیدیں وابستہ کرتی ہے ، غیراللہ کے نام کی بھی نذر و نیاز دیتی ہے۔، غیر اللہ سے بھی استمداد و استغاثہ کرتی ہے۔قبروں کا طواف کرتی ہے ، بہت سے لوگ قبروں کو سجدہ تک کرتے ہیں۔کیونکہ وہ غیر اللہ میں بھی اللہ والی صفات تسلیم کرتے ہیں۔حالانکہ یہ شرک ہے۔

بتوں سے تجھ کو اُمیدیں اللہ سے نومیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے ؟

علامہ اقبال

 

                   کیا مسلمانوں کو ان کے مشرکانہ عقائد کی وجہ سے مشرک نہیں کہا جا سکتا؟ایک مغالطے کی وضاحت

 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو لوگ آستانوں اور قبروں پر جا کر استغاثہ واستمداد کرتے ، حتی کہ ان کی قبروں کو سجدے تک کرتے ہیں، انہیں مشرک نہیں کہا جا سکتا، یا انہیں مشرک نہیں کہنا چاہیے ، ان کا استدلال یہ ہے کہ قرآن نے مشرکین کی اصطلاح صرف اہل مکہ اور عرب کے دیگر مشرکین کے لیے استعمال کی ہے اور یہود و نصاریٰ کو اہل کتاب کہا ہے ، حالانکہ ان کے عقیدے بھی مشرکانہ ہی تھے ، لیکن ان کو قرآن مجید میں اللہ نے مشرک کے لفظ سے مخاطب نہیں فرمایا۔یہ استدلال علمی لحاظ سے اپنے اندر کوئی وزن نہیں رکھتا۔کیونکہ نزول قرآن کے وقت جو فرقے تھے ، وہ ویسے تو سارے ہی کافر اور مشرک تھے ، اللہ تعالیٰ سب کے لیے کفار و مشرکین کے الفاظ استعمال فرما سکتا تھا اور واقعات کے اعتبار سے یہ صحیح ہوتا۔لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔کیوں؟کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود و نصاریٰ عقیدے کے لحاظ سے مشرک نہیں تھے ؟اور صرف بتوں کے پجاری عرب ہی مشرکانہ عقیدوں کے حامل تھے ؟یقیناً یہ وجہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ کے مشرکانہ عقیدوں کی وضاحت خود قرآن نے کی ہے۔کیا حضرت عیسی (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت مریم کو الہ (معبود) ماننا مشرکانہ عقیدہ نہیں ہے ؟کیا اللہ کی بابت یہ کہنا کہ وہ “تین ( اللہ ؤں) میں سے تیسرا ہے “مشرکانہ عقیدہ نہیں ہے ؟حضرت عزیر اور حضرت مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دینا مشرکانہ عقیدہ نہیں ہے ؟ اور کیا قرآن نے ان کے ان عقیدوں کو لفظ کفر سے تعبیر نہیں کیا ہے ؟ اگر ان باتوں کا جواب اثبات میں ہے (اور یقیناً اثبات میں ہے ، کیونکہ یہ سب قرآن میں مذکور ہے ) تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کے مذکورہ عقیدوں کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کو مشرک اور کافر کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ کافر کا لفظ تو ان کے لیے صراحۃً قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے۔گویا اصل سوال رہ گیا، انہیں مشرک کہا جا سکتاہے یا نہیں؟

ہمارا جواب یہ ہے کہ مذکورہ عقیدے مشرکانہ ہیں، اس لیے ان عقیدوں کے حاملین بھی یقیناً اسی طرح مشرک ہیں، جیسے لات و عزی کے پجاری مشرک تھے۔اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہہ پھر قرآن نے ان کو صراحت کے ساتھ مشرک کیوں نہیں کہا؟اور انہیں مشرکین عرب کے مقابلے میں اہل کتاب کے الفاظ سے کیوں مخاطب کیا؟ کیا ہمارے ناقص فہم کے مطابق اس کی اصل وجہ تمام موجود فرقوں کا امتیاز اور تشخص تھا، اگر سب کے لیے ایک ہی لفظ “مشرک” استعمال کیا جاتا، تو کسی بھی فرقے کا امتیاز باقی نہ رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ان کے امتیاز کو باقی رکھنا تھا۔یہود و نصاریٰ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ اللہ اور رسولوں کے ماننے والے تھے ، انہیں آسمانی کتابوں سے بھی نوازا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ عمل و اعتقاد کی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔انہیں بار بار اہل کتاب کے لفظ سے خطاب کرنے میں یہی حکمت تھی کہ انہیں ان کے جرم اور معصیت و طغیان کی شناعت و قباحت کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کر کے دکھلایا جاتا اور وہ اسی طرح ہو سکتا تھا کہ انہیں یاد دلایا جاتا کہ تم لوگوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود یہ یہ کیا اور اس اس قسم کے عقیدے گھڑ لیے ، جو صریحاً کفر ہیں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان کے اندر شرک نہیں پایا جاتا تھا اور اس اعتبار سے وہ مشرک نہیں تھے۔یقیناً جس طرح وہ کافر تھے ، مشرک بھی تھے۔انہیں اہل کتاب صرف عربوں سے ممتاز کرنے کے لیے کہا گیا، جیسے عربوں کو قرآن نے اُمی بھی کہا، کیونکہ ان کی اکثریت ان پڑھ تھی، جب کہ اہل کتاب میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ قائم تھا، اس لیے انہیں اُمی نہیں کہا گیا، اس کی وہ اس معاملے میں دونوں کا اپنا اپنا امتیاز تھا، عرب بالعموم ان پڑھ تھے اور اہل کتاب کی اکثریت پڑھی لکھی۔اس لیے ایک کو اہل کتاب اور دوسرے کو اُمی کہا گیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ عربوں میں کوئی بھی پڑھا لکھا نہ تھا یا اہل کتاب میں کوئی ان پڑھ نہ تھا، یہ عمومی اعتبار سے ان کا ایک تشخص تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک حکمت و مصلحت کے تحت باقی رکھا۔اس سے قطعاً یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اہل کتاب کو مشرک نہیں کہا جا سکتا۔اس کو ایک اور مثال سے یوں سمجھا جس سکتا ہے۔قرآن میں ہے :

    إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلْمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ ﴿17﴾

ترجمہ: بے شک الله مسلمانوں اور یہودیوں اور صابیوں اور عیسائیوں اورمجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بے شک ہر چیز الله کے سامنے ہے (سورۃ الحج، آیت 17)

یہاں اللہ تعالیٰ نے ان تمام گروہوں کا الگ الگ نام لیا، جو نزول قرآن کے وقت عرب یا اس کے قرب و جوار میں تھے اور امتیازی ناموں سے معروف تھے ، ان میں اہل ایمان اور اور یہود و نصاریٰ کے علاوہ صابئین اور مجوس کا نام بھی ہے ، صابئین، فرشتوں اور ستاروں کے پجاری تھے۔مجوس، سورج پرست اور آتش پرست تھے ، بلکہ مجوس دو خالق مانتے تھے ، ایک نور اور خیر کا خالق اور دوسرا ظلمت اور شر کا خالق اور یہ دنیا کا واحد فرقہ ہے جو ذات کے اعتبار سے تعدد الہ کا قائل ہے۔ورنہ دیگر تمام مشرکین ذات کے اعتبار سے ایک ہی الہ کے قائل رہے ہیں، وہ صرف صفات کے اعتبار سے دوسروں کو اللہ ئی اختیارات کا حامل سمجھتے تھے ، جیسے آج کل کے قبر پرست ہیں۔گویا دنیا میں اصل اور سب سے بڑے مشرک مجوس تھے اور ہیں، لیکن قرآن نے ان کا ذکر مشرکوں کے ساتھ نہیں کیا، بلکہ ان کے امتیازی نام سے ان کا ذکر کیا، صابئین کا بھی ان کے امتیازی نام سے ذکر کیا اور ان سب کا نام لینے کے بعد فرمایا (وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟) “اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا” یعنی بُتوں کے پجاریوں کو الگ مشرکین کے لفظ سے یاد کیا، جب کہ صابئین بھی ستارہ پرست اور مجوس بھی سورج پرست و آتش پرست تھے اور اس اعتبار ے سے یقینا یہ بھی پکے مشرک تھے۔لیکن اس کے باوجود قرآن نے ان کا ذکر مشرکین سے الگ کیا۔کیا اس سے یہ استدلال صحیح ہو گا کہ صابئین اور مجوس مشرک نہیں ہیں یا انہیں مشرک نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ قرآن نے ان کے لیے مشرکین کی اصطلاح استعمال نہیں کی؟

اگر صابئین اور مجوس اپنے عقیدوں کے اعتبار سے مشرک ہیں اور انہیں مشرک کہا جا سکتا ہے ، حالانکہ قرآن نے انہیں مشرک نہیں کہا، بلکہ مشرکین سے الگ ان کا ذکر کیا ہے۔تو یقیناً یہود و نصاریٰ کو بھی ان کے عقیدوں کی بنا پر مشرک کہا جا سکتا ہے ، گو قرآن نے ان کا ذکر مشرکین سے الگ کیا ہے۔کیونکہ امتیاز کے لیے الگ الگ نام لینا ضروری تھا۔اسی طرح جو نام نہاد مسلمان مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہیں، وہ مسلمانوں میں شمار ہونے کے باوجود مشرک کیوں نہیں ہو سکتے۔؟یا نہیں مشرک کیوں نہیں کہا جا سکتا؟

یہ ساری گفتگو ہم نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کی ہے کہ قرآن نے یہود و نصاریٰ کو مشرک نہیں کہا ہے۔لیکن ہمارے خیال میں یہ دعوی بھی مکمل طور پر صحیح نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ صراحتاً انہیں مشرک نہیں کہا گیا، لیکن قرآن نے ان کے مشرک ہونے کی طرف واضح اشارہ ضرور کیا ہے۔دیکھئے قرآن نے کہا:

    لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ﴿72﴾

ترجمہ: وہ لوگ بے شبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح اللہ ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ المائدہ، آیت72)

قرآن کریم کی اس آیت کا سیاق واضح کر رہا ہے کہ مسیحوں کا عقیدہ ابنیت میسح جیسے کفر ہے ، وہ شرک بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ کفر کے لیے صریح لفظ استعمال کیا گیا ہے جب کہ شرک کے لیے تعریض و کنایہ کا انداز اپنایا گیا ہے۔اگر ابنیت مسیح کا عقیدہ شرک نہ ہوتا یا کم از کم یہ کہ جائے کہ قرآن نے اسے شرک سے تعبیر نہیں کیا ہے ، تو یہاں (مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ) کہنے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہتا۔یہ عقیدہ شرک ہے ، تب ہی تو اللہ نے اس عقیدے کو کفر سے تعبیر کر کے شرک کی سزا بیان فرمائی ہے ، ورنہ یہ کہا جاتا (ومن یکفر باللہ) کی جگہ (مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ) کہہ کر واضح کر دیا گیا کہ کسی کا امتیازی نام کچھ بھی ہو، لیکن اگر اس کے عقیدہ و عمل میں شرک کی آمیزش پائی جائے تو اس کے عقیدے کو شرک اور خود اس ک مشرک کہا جس سکتاہے ، اسی لیے قرآن نے اس کو ظالم سے بھی تعبیر کیا ہے جو یہاں یقینا مشرک ہی کے معنی میں ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی دوسری آیت ہے :

    ٱتَّخَذُوٓا۟ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَٰنَهُمْ أَرْبَابًۭا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوٓا۟ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًۭا ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴿31﴾

ترجمہ: انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا رب بنا لیا ہے اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے (سورۃ التوبہ، آیت 31)

یہاں بھی قرآن کے سیاق سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا اپنے علماء کو رب بنا لینا اور (عیسائیوں) کا مسیح بن مریم کو رب بنا لینا شرک ہے ، اس شرک سے اللہ تعالیٰ پاک ہے اور جب ان کا یہ عقیدہ شرک ہے جس سے اللہ تعالیٰ براءت کا اظہار فرما رہا ہے تو یہود و نصاریٰ یقیناً مشرک ہوئے۔اس لیے جب بھی ان کے فاسد عقیدہ کی بات ہو گی تو ان کے فاسد عقیدے کو شرک اور خود ان کو مشرک کہا جائے گا، گو اصطلاح یا امتیاز کے طور پر انہیں بالعموم اہل کتاب ہی کے الفاظ سے موسوم کیا جائے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بدکاری کے مرتکب کو زانی، چوری کرنے والے کو چور، ڈاکہ مارنے والے کو ڈاکو کہا جاتا ہے اور کہا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہو، دنیا کے کسی بھی مذہب سے اس کا تعلق ہو۔اسی طرح جو بھی مشرکانہ عقیدہ و عمل کا حامل اور مرتکب ہو گا، اس کے عقیدہ و عمل کو شرک اور خود اسے مشرک کہا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی مذہب سے اس کا تعلق ہو۔

باقی رہا مسئلہ کہ جہالت یا نا سمجھی کی وجہ سے اسے کچھ رعایت مل سکتی ہے یا نہیں؟ اس کی بابت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ، یہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے ، جس کا فیصلہ وہ روز قیامت ہی فرمائے گا۔علماء کی ذمہ داری بلاغ مبین (کھول کر بیان کر دینا) ہے اور اس بلاغ مبین میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو عقیدہ یا عمل جیسا ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں، اس پر تاویلات کا پردہ نہ ڈالیں اور نہ مصلحت کا نقاب۔وہ حلال ہے یا حرام، سنت ہے یا بدعت، شرک ہے یا توحید؟ہر عمل کی وضاحت علماء کا منصبی فریضہ ہے ، تاکہ لوگ حلال کو اختیار کریں، حرام سے بچیں، سنت پر عمل کریں۔بدعت سے گریز کریں اور شرک سے بچیں اور توحید کا راستہ اپنائیں۔

 

                   کیا اُمت مسلمہ شرک کا ارتکاب نہیں کرے گی؟۔۔    ایک اور مغالطے کی وضاحت

 

ایک اور بات یہ کہی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ” مجھے تم سے یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ، البتہ یہ اندیشہ ضرور ہے کہ تم دنیا میں ایک دوسرے کے مقابلے پر رغبت کرو گے۔”(مفہوم حدیث)

جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (جس کا مفہوم ہے ) میرے بعد میری اُمت کے شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ مسلمان مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہی نہیں ہوں گے ، پھر انہیں مشرک کیوں کر کہا جا سکتا ہے ؟

جہاں تک اس فرمان رسول کا تعلق ہے ، بلاشبہ صحیح ہے۔اس حدیث کی صحت میں کوئی شک نہیں۔لیکن اس حدیث کا مطلب یہ قطعاً ہرگز نہیں ہے کہ امت محمدیہ کا کوئی فرد بھی کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کرے گا۔کیونکہ دوسری متعدد احادیث میں آپ نے اپنی امت کے افراد کے بھی شرک میں ملوث ہونے کی پیشن گوئی فرمائی ہے ، سند کے لحاظ سے یہ روایات بھی صحیح ہیں۔اب یا تو ان دونوں روایات میں تعارض تسلیم کیا جائے ؟ یا پھر ان کا مطلب ایسا لیا جائے کہ ان کے مابین تعارض نظر نہ آئے۔ہمارے نزدیک یہ دوسرا نقطہ نظر ہی صحیح ہے ، کیونکہ دو صحیح حدیثوں میں حقیقی تعارض ہو ہی نہیں سکتا، جو ظاہری تعارض نظر آتا ہے ، وہ اپنی ہی کم فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے ، حقیقت میں تعارض نہیں ہوتا اور محدثین ان میں ایسی تطبیق دے لیتے ہیں کہ دونوں روایات اپنے اپنے محل میں ٹھیک بیٹھ جاتی ہیں۔

اول الذکر حدیث کی بابت بھی محدثین نے وضاحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان صحابہ کرام کے متعلق ہے ، یہ آپ نے اپنی ساری اُمت کی بابت نہیں بلکہ صرف صحابہ کی بابت فرمایا ہے کہ مجھے ان سے شرک کا اندیشہ نہیں۔ضمیر خطاب میں خطاب صحابہ سے ہے ، ساری امت سے نہیں اور اگر اسے ساری امت سے متعلق مانا جائے تو مطلب ہو گا کہ ساری امت شرک میں مبتلا نہیں ہو گی، بلکہ اگر کچھ لوگ شرک کریں گے تو ایک گروہ ضرور توحید پر قائم رہے گا اور اس کی طرف دعوت دے گا۔چنانچہ اہل توحید و اہل سنت کا ایک گروہ ایسا چلا آ رہا ہے اور اب بھی ہے کہ وہ مشرکانہ عقائد و اعمال سے پاک اور توحید و سنت پر قائم ہے۔

 

                   دیگر ارشادات رسول کی روشنی میں زیر بحث نکتے کی وضاحت

 

علاوہ ازیں سدباب کے طور پر نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو بہت سی ایسی تنبیہات فرمائی ہیں جن کا مقصد امت کو شرک سے بچانا اور توحید کی حفاظت کرنا ہے۔اگر امت مسلمہ کو شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہی نہ ہوتا تو ان تنبیہات اور انسدادی احکام کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔نبی کریمﷺ کے ان تنبیہی احکامات سے بھی اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ انسانی کمزوریوں اور سابقہ امتوں کے طرز عمل کے پیش نظر یقیناً آپ کے سامنے یہ اندیشہ رہا کہ آپ کی امت بھی شرک کی دلدل میں پھنس سکتی ہے۔چنانچہ اس سے بچنے کے لیے آپ نے حسب ذیل باتوں کی خاص تاکید فرمائی۔

1:آپ نے اپنی شان اور مدحت و تعریف میں غلو کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ چیز عقیدت مندوں کو ممدوح کی عبادت کرنے تک پہنچا دیتی ہے ، جیسے عیسائیوں کے ہاں ہوا انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کی شان میں غلو کیا، اس کا نتیجہ ہوا کہ یہ دونوں عبد سے معبود بن گئے۔اس لیے نبی کریمﷺ نے فرمایا:

    ((لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ))(صحیح البخاری، الاحادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالیٰ”واذکر فی الکتاب مریم”، ح:3445)

”تم مجھے میری حد سے اس طرح نہ بڑھانا جیسے عیسائیوں نے ابن مریم(حضرت عیسیٰ) کو بڑھا دیا، پس میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، تو تم مجھے اللہ کا بندہ اوراس کا رسول ہی کہنا”

2:     نبی کریمﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر عمارتیں بنانے وغیرہ سے منع فرمایا:

        ((أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ))(صحیح مسلم، الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر۔۔۔۔، ح:970)

”رسول اللہﷺ نے قبروں کو چونہ گچ(پختہ ) کرنے سے ، ان پر بیٹھنے سے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے ”

 

اسی طرح قبر پر نام لکھنے سے بھی آپ نے منع فرمایا ہے۔ان چیزوں سے منع کرنے میں یہی حکمت ہے کہ لوگ شرک سے دور رہیں۔کیونکہ قبروں کو پختہ کرنا یا ان پر قبے وغیرہ بنانا یا ان کے ناموں کی تختی لگانا یہ صالحین کی یا ان کی قبروں کی تعظیم میں غلو کرنے ہی کا نتیجہ ہے ، جو مفضی الیٰ الشرک ہے۔

3: قبروں پر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے

        ((لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ، وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا)) (صحیح مسلم، الجنائز، باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاۃ علیہ، ح:971)

”تم قبروں کی طرف نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو”

قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے میں بھی اندیشہ شرک پایا جاتا ہے ، اسی طرح اگر بیٹھنے سے مراد مجاور بن کر بیٹھنا مراد لی لیا جائے (کیونکہ یہ بھی بیٹھنے میں آ جا تا ہے ) تو یہ تعظیم قبر میں غلو کی شکل ہے ، جو نہایت خطرناک ہے۔

 

4:پچھلی امتوں(یہود و نصاریٰ) نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کے ساتھ یہی غلو کیا اور انہوں نے قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا، جس پر وہ لعنت کے مستحق قرار پائے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا:

    لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

”اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے ، انہوں نے اپنی انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا”

اس کی راویہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حدیث مذکور بیان کر کے فرماتی ہیں:

    لَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَوْ خُشِيَ أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا(صحیح البخاری، الجنائز، باب ماجا فی القبر النبیﷺ وابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما، ح؛1390))

”اگر مذکورہ اندیشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر مبارک ظاہر کر دی جاتی(یعنی اسی کسی کھلی جگہ پر بنایا جاتا)مگر آپ نے اندیشہ محسوس کیا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے ”

٭٭٭

ٹائپنگ: محمد ارسلان ، عکرمہ

ماخذ:

http://forum.mohaddis.com/threads/%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%B1%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86-%D9%88-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA.1465/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید