FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

تفہیم القرآن

 

 

 

۱۶۔سورۂ قٓ تا سورۂ  رحمٰن

 

                   ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

 

 

 

 

 

(۵۰) سورہ قٰ

 

 

نام

 

آغاز ہی کے حرف ’’ق‘‘ سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورۃ جس کا افتتاح حرف ق سے ہوتا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

کسی معتبر روایت سے یہ پتہ چلتا کہ یہ ٹھیک کس زمانہ میں نازل ہوئی ہے، مگر مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکہ معظمہ کا دوسرا دور ہے جو نبوت کے تیسرے سال سے شروع ہو کر پانچویں سال تک رہا۔ اس سورہ کی خصوصیات ہم سورہ انعام کے دیباچہ میں بیان کر چکے ہیں۔ ان خصوصیات کے لحاظ سے اندازاً یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ سورہ پانچویں سال میں نازل ہوئی ہو گی جب کہ کفار کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی، مگر ابھی ظلم و ستم کا آغاز  نہیں ہوا تھا۔

 

موضوع اور مباحث

 

معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اکثر عیدین کی نمازوں میں اس سورۃ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک خاتون ام ہشام بن حارثہ، جو حضورؐ کی پڑوسن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ مجھے سورہ ق یاد ہی اسطرح ہوئی کہ میں جمعہ کے خطبوں میں اکثر آپ کی زبان مبارک سے اس کو سنتی تھی۔ بعض اور روایت میں آیا ہے کہ فجر کی نماز میں بھی آ پ بکثرت اس کو پڑھا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ حضورؐ کی نگاہ میں یہ ایک بڑی اہم سورۃ تھی۔ اس لیے آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بار بار اس کے مضامین پہنچانے کا اہتمام فرماتے تھے۔

اس اہمیت کی وجہ سورۃ کو بغور پڑھنے سے بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ پوری سورۃ کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے جب مکہ معظمہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو سب سے زیادہ اچنبھا آپ کی جس بات پر ہوا وہ یہ تھی کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ لوگ کہتے تھے یہ یہ تو بالکل انہونی بات ہے۔ عقل باور نہیں کرتی کہ ایسا ہو سکتا ہے،آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہمارا ذرہ ذرہ زین میں منتشر ہو چکا ہو تو ان پراگندہ  اجزاء کو ہزارہا برس گزرنے کے بعد پھر اکٹھا کر کے ہمارا یہی جسم از سر نو بنا دیا جائے اور ہم زندہ ہو کر اٹھ گھڑے ہوں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تقریر نازل ہوئی۔ اس میں بڑے مختصر طریقے سے چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک طرف آخرت کے امکان اور اس کے وقوع پر دلائل دیے گئے ہیں، اور دوسری طرف لوگوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ تم خواہ تعجب کرو، یا بعید از عقل سمجھو، یا جھٹلاؤ، بہرحال اس سے حقیقت نہیں بدل سکتی حقیقت اور قطعی اٹل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے جسم کا ایک ایک ذرہ جو زمین میں منتشر ہوتا ہے، اس کے متعلق اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں گیا ہے اور کس حال میں کس جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس کے لیے کافی ہے کہ یہ تمام منتشر ذرات پھر جمع ہو جائیں اور تم کو اسی طرح دوبارہ بنا کھڑا کیا جائے جیسے پہلے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ خیال کہ تم یہاں شتر بے کہار بنا کر چھوڑ دیے گئے ہو اور کسی کے سامنے تمہیں جواب دہی نہیں کرنی ہے، ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست خود بھی تمہارے ہر قول و فعل سے، بلکہ تمہارے دل میں گزرنے والے خیالات تک سے واقف ہے، اور اس کے فرشتے بھی تم میں سے ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے تمام حرکات و  سکنات کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں۔ جب وقت آئے گا تو ایک پکار پر تم بالکل اسی طرح نکل کھڑے ہو گے جس طرح بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی زمین سے نباتات کی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اس وقت یہ غفلت کا پردہ جو آج تمہاری عقل پر پڑا ہوا ہے، تمہارے سامنے سے ہٹ جائے گا اور تم اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لو گے جس کا آج انکار کر رہے ہو۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تم دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں تھے بلکہ ذمہ دار اور جواب دہ تھے۔ جزا و سزا، عذاب و ثواب اور جنت و دوزخ جنہیں آج فسانہ عجائب سمجھ رہے ہو، اس وقت یہ ساری چیزیں تمہاری مشہود حقیقتیں  ہوں گی۔ حق سے عناد کی پاداش میں اسی جہنم کے اندر پھینکے جاؤ گے جسے آج عقل سے بعید سمجھتے ہو، اور خدائے رحمان سے ڈر کر راہ راست کی طرف پلٹنے والے تمہاری آنکھوں کے سامنے اسی جنت میں جائیں گے جس کا ذکر سن کر آج تمہیں تعجب ہو رہا ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی (۱)۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آ گیا(۲)۔ پھر منکرین کہنے لگے ’’ یہ تو عجیب بات ہے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے )؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے ‘‘(۳)۔ (حالانکہ) زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے (۴)۔

بلکہ ان لوگوں نے تو جس وقت حق ان کے پاس آیا اسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا۔ اسی وجہ سے یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں (۵)۔

اچھا(۶)، تو کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا (۷)، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے (۸)۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں (۹)۔ یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لیے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو۔ اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کر دیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بر تہ لگتے ہیں۔ یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا۔ اس پانی سے ہم ایک مردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (۱۰) (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے ) نکلنا بھی اسی طرح ہو گا(۱۱)۔

ان سے پہلے نوحؐ کی قوم، اور اصحاب الرَّس (۱۲)، اور ثمود، اور عاد، اور فرعون(۱۳)،اور لوط کے بھائی، اور ایکہ والے، اور تبع کی قوم(۱۴) کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں (۱۵)۔ ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا(۱۶)، اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہو گئی  (۱۷)۔

کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں (۱۸)۔ ع

 

تفسیر

 

۱۔ ’’مجید‘‘ کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، بلند مرتبہ، با عظمت، بزرگ اور صاحب عزت و شرف۔ دوسرے، کریم، کثیرالعطاء، بہت نفع پہنچانے والا۔ قرآن کے لیے یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے۔ قرآن اس لحاظ سے عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب اس کے مقابلے میں نہیں لائی جا سکتی۔ اپنی زبان اور ادب کے لحاظ سے بھی وہ معجزہ ہے اور اپنی تعلیم اور حکمت کے لحاظ سے بھی معجزہ۔ جس وقت وہ نازل ہوا تھا اس وقت بھی انسان اس کے مانند کلام بنا کر لانے سے عاجز تھے اور آج بھی عاجز ہیں۔ اس کی کوئی بات کبھی کسی زمانے میں غلط ثابت نہیں کی جا سکی ہے نہ کی جا سکتی۔ باطل نہ سامنے سے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ پیچھے سے حملہ آور ہو کر اسے شکست دے سکتا ہے۔ اور اس لحاظ سے وہ کریم ہے کہ انسان جس قدر زیادہ اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اسی قدر زیادہ وہ اس کو رہنمائی دیتا ہے اور تنی زیادہ اس کی پیروی کرے اتنی ہی زیادہ اسے دنیا اور  آخرت کی بھلائیں حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے فوائد و منافع کی کوئی حد نہیں ہے جہاں جا کر انسان اس سے بے نیاز ہو سکتا ہو، یا جہاں پہنچ کر اس نفع بخشی ختم ہو جاتی ہو۔

۲۔ یہ فقرہ بلاغت کا بہترین نمونہ ہے جس میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر الفاظ میں سمو دیا گیا ہے۔ قرآن کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا۔ اس کا ذکر کرنے کے بجائے بیچ میں ایک لطیف خلا چھوڑ کر آگے کی بات ’’ بلکہ‘‘ سے شروع کر دی گئی ہے۔ آدمی ذرا غور کرے اور اس پس منظر کو بھی نگاہ میں رکھے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ قَسم اور بلکہ کے درمیان جو خلا چھوڑ دیا گیا ہے اس کا مضمون کیا ہے۔ اس میں در اصل قسم جس بات پر کھائی گئی  ہے وہ یہ ہے کہ ’’اہل مکہ نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو ماننے سے کسی معقول بنیاد پر انکار نہیں کیا ہے، بلکہ اس سراسر غیر معقول بنیاد پر کیا ہے کہ ان کی اپنی جنس کے ایک بشر، اور ان کی اپنی ہی قوم کے ایک فرد کا خدا اپنے بندوں کی بھلائی اور برائی سے بے پروا ہو کر انہیں خبردار کرنے کا کوئی انتظام نہ کرتا، یا انسانوں کو خبر دار کرنے کے لیے کیس غیر انسان کو بھیجتا، یا عربوں کو خبر دار کرنے کے لیے کسی چینی کو بھیج دیتا۔ اس لیے انکار کی یہ بنیاد تو قطعی نا معقول ہے اور ایک صاحب عقل سلیم یقیناً یہ ماننے پر مجبور ہے کہ خدا کی طرف سے بندوں کو خبردار کرنے کا انتظام ضرور ہونا چاہیے اور اسی شکل میں ہونا چاہیے یہ خبر دار کرنے والا خود انہی لوگوں میں سے کوئی شخص ہو جن کے درمیان وہ بھیجا گیا ہو‘‘۔ اب رہ جاتا ہے کہ سوال کہ آیا محمد صلی اللہ عدلیہ و سلم ہی وہ شخص ہیں جنہیں خدا نے ا س کام کے لیے بھجا ہے، تو اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی اور شہادت کی حاجت نہیں، یہ عظیم و کریم قرآن، جسے وہ پیش کر رہے ہیں، اس بات کا ثبوت دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔

اس تشریح سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں قرآن کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر کفار کا تعجب بے جا ہے۔ اور قرآن کے ’’مجید‘‘ ہونے کو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔

۳۔ یہ ان لوگوں کو دوسرے تعجب تھا۔ پہلا اور اصل تعجب زندگی بعد موت پر نہ تھا بلکہ اس پر تھی کہ انہی کی جنس اور قسم کے ایک فرد نے اٹھ کر دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں خبر دار کنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد مزید تعجب انہیں اس پر ہوا کہ وہ شخص انہیں جس چیز پر خبردار کر رہا تھا وہ یہ تھی کہ تمام انسان مرنے کے بعد از سر نو زندہ کیے جائیں گے، اور ان سب کو اکٹھا کر کے اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور وہاں ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بعد جزا اور سزا دی جائے گی۔

۴۔ یعنی یہ بات اگر ان لوگوں کی عقل میں نہیں سماتی تو یہ ان کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ اس سے یہ  تو لازم نہیں آتا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت بھی تنگ ہو جائے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بے شمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں بکھر چکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہر جُز جس شکل میں جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ براہ راست اس کو جانتا ہے، اور مزید براں اس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفتر میں محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھُٹا ہوا نہیں ہے۔ جس وقت اللہ کا حکم ہو گا اسی وقت آناً فاناً اس کے فرشتے اس ریکارڈ سے رجوع کر کے ایک ایک ذرے کو نکال لائیں گے اور تمام انسانوں کے وہ جسم پھر بنا دیں گے جن میں رہ کر انہوں نے دنیا کی زندگی میں کام کیا تھا۔

یہ آیت بھی من جملہ ان آیات کے ہے جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی نہ صرف یہ کہ ویسی ہی جسمانی زندگی ہو گی جیسی اس دنیا میں ہے، بلکہ جسم  بھی ہر شخص کا وہی ہو گا جو اس دنیا میں تھا اگر یہ حقیقت یہ نہ ہوتی تو کفار کی بات کے جواب میں یہ کہنا بالکل بے معنی تھا کہ زمین تمہارے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم ہے۔ اور ذرے ذرے کا ریکارڈ موجود ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، تفسیر سورہ حٰم السجدہ، حاشیہ ۲۵)۔

۵۔ اس مختصر سے فقرے میں بھی ایک بہت بڑا مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے صرف تعجب کرنے اور بعید از عقل ٹھیرانے پر ہی اکتفا نہ کیا، بلکہ جس وقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی دعوت حق پیش کی اسی وقت بلا تامل اسے قطعی جھوٹ قرار دے دیا۔ اس کا نتیجہ لازماً یہ ہونا تھا اور یہی ہوا کہ انہیں اس دعوت اور اس کے پیش کرنے والے رسول کے معاملہ میں کسی ایک موقف پر قرار نہیں ہے۔ کبھی اس کو شاعر کہتے ہیں تو کبھی کاہن اور کبھی مجنون۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ کسی نے  اس پر جادو کر دیا ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ یہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے خود یہ چیز بنا لایا ہے، اور کبھی یہ الزام تراشتے ہیں کہ اس کے پس پشت کچھ دوسرے لوگ ہیں جو یہ کلام گھڑ گھڑ کر اسے دیتے ہیں۔ یہ متضاد باتیں خود ظاہر کرتی ہیں کہ یہ لوگ اپنے موقف میں بالکل الجھ کر رہ گئے ہیں۔ اس الجھن میں یہ ہر گز نہ پڑتے اگر جلد بازی کر کے نبی کو پہلے ہی قدم پر جھٹلا نہ دیتے اور بلا فکر و تامل ایک پیشگی فیصلہ صادر کر دینے سے پہلے سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے کہ یہ دعوت کون پیش کر رہا ہے، کیا بات کہہ رہا ہے اور اس کے لیے دلیل کیا دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ شخص ان کے لیے اجنبی نہ تھا۔ کہیں سے اچانک ان کے درمیان نہ آ کھڑا ہوا تھا۔ ان کی اپنی ہی قوم کا فرد تھا۔ ان کا اپنا دیکھا بھالا آدمی تھا۔ یہ اس کی سیرت و کردار اور اس کی قابلیت سے نا واقف نہ تھے۔ ایسے آدمی کی طرف سے جب ایک بات پیش کی گئی تھی تو چاہے اسے فوراً قبول نہ کر لیا جاتا، مگر وہ اس کی مستحق بھی تو نہ تھی کہ سنتے ہی اسے رد کر دیا جاتا۔ پھر وہ بات بے دلیل بھی نہ تھی۔ وہ اس کے لیے دلائل پیش کر رہا تھا۔ چاہیے تھا کہ اس کے دلائل کھلے کانوں سے سنے جاتے اور تعصب کے بغیر ان کو جانچ کر دیکھا جاتا کہ وہ کہاں گم معقول ہیں۔ لیکن یہ روش اختیار کرنے کے بجائے جب ان لوگوں نے ضد میں آ کر ابتدا ہی میں اسے جھٹلا دیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک حقیقت تک پہنچنے کا دروازہ تو انہوں نے اپنے لیے خود بند کر لیا اور ہر طرف بھٹکتے پھرنے کے بہت سے راستے کھول لیے۔ اب یہ اپنی ابتدائی غلطی کو نباہنے کے لیے دس متضاد باتیں تو بنا سکتے ہیں مگر اس ایک بات کو سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں کہ نبی سچا بھی ہو سکتا ہے اور اس کی پیش کردہ بات حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔

۶۔ اوپر کی پانچ آیتوں میں کفار  مکہ کے موقف کی نا معقولیت واضح کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ آخرت کی جو خبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے اس کی صحت کے دلائل کیا ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کفار جن دو باتوں پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے ان میں سے ایک، یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے بر حق ہونے کی دو دلیلیں ابتدا ہی میں دی جاچکی ہیں۔ اول یہ کہ وہ تمہارے سامنے قرآن مجید پیش کر رہے ہیں جو ان کے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ دوم یہ کہ وہ تمہاری اپنی  ہی جنس اور قوم اور برادری کے آدمی ہیں۔ اچانک آسمان سے یا کسی دوسری سر زمین سے نہیں  آ گئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کی زندگی اور سیرت و کردار کو جانچ کر یہ تحقیق کرنا مشکل ہو کہ وہ قابل اعتماد آدمی ہیں یا نہیں اور یہ قرآن ان کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہو بھی سکتا ہے یا نہیں، اس لیے ان کے دعوائے نبوت پر تمہارا تعجب بے جا ہے۔ یہ استدلال تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے دو مختصر اشاروں کی شکل میں بیان کیا گیا ہے، کیونکہ جس زمانے میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم خود مکہ میں کھڑے ہو کر ان لوگوں کو قرآن سنا ہے تھے جو بچپن سے جوانی اور ادھیڑ عمر تک آپ کی ساری زندگی دیکھے ہوئے تھے، اس وقت ان اشاروں کی پوری تفصیل ماحول کے ہر شخص پر آپ ہی واضح تھی۔ اس لیے اس کو چھوڑ کر اب تفصیلی استدلال اس دوسری بات کی صداقت پر کیا جا رہا ہے جس کو وہ لوگ عجیب اور عقل سے بعید کہہ رہے تھے۔

۷۔ یہاں آسمان سے مراد پورا علام بالا ہے جسے انسان شب و روز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے۔ جس میں دن کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بے حد و حساب تارے روشن نظر آتے ہیں۔ جسے آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہو جاتی ہے، لیکن اگر دوربین لگا لے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو نا پیدا کنار ہے، کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنے بڑے عظیم الشان سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم ۳ ارب دوسرے تارے (ثوابت) موجود ہیں، اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی ایسی دس لاکھ کہکشانوں کا پتہ دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشانوں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ ۸۶ ہزار فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور اس کے مشاہدہ میں آئی ہے۔ خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے، اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کار گاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا، تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہو جائے گی!

۸۔ یعنی اپنی اس حیرت انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظام کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں ہے اور اس کا تسلسل کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید زمانے کے ریڈیائی ہیئت  دانوں نے ایک کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ منبع ۳ ج  ۲۹۵(Source ۳c,۲۹۵) کے نام  سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعاعیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ ۴ ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہوں گی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر کے در اصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشان دہی بھی نہیں کر سکتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور کہاں سے تمہارے دماغ میں آ گیا کہ تمہاری مہلت امتحان ختم ہو جانے کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمہیں پھر زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کر سکوں گا۔

یہ صرف امکان آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے چار ارب سال نوری(Light Years) کی مسافت سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا، اور یہاں انسان کے بنائے ہوئے آلات کی گرفت میں آنا صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کہکشاں سے لے کر زمین تک کی پوری دنیا مسلسل ایک ہی مادے سے بنی ہوئی ہے، ایک ہی طرح کی قوتیں اس میں کار فرما ہیں، اور کسی فرق و تفاوت کے بغیر وہ سب ایک ہی طرح کے قوانین پر کام کر رہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ شعاعیں نہ یہاں تک پہنچ سکتی تھیں اور نہ ان آلات کی گرفت میں آسکتی تھیں جو انسان نے زمین اور اس کے ماحول میں کام کرنے والے قوانین کا فہم حاصل کر کے بنائے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق و مالک اور حاکم و مدبر ہے۔

۹۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، النحل، حواشی ۱۲۔۱۳۔۱۴۔ جلد سوم، النمل، حواشی ۷۳۔۷۴۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ ۷۔

۱۰۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی ۷۳۔۷۴۔۸۱۔الروم، حواشی ۲۵۔۳۳۔۳۵۔جلد چہارم،یٰس، حاشیہ ۲۹۔

۱۱۔ استدلال یہ ہے کہ جس خدا نے زمین کے اس کرے کو زندہ مخلوقات کی سکونت کے لیے موزوں مقام بنا یا، اور جس نے زمین کی بے جان مٹی کو آسمان کے بے جان پانی کے ساتھ ملا کر اتنی اعلیٰ درجے کی نباتی زندگی پیدا کر دی جسے تم اپنے باغوں اور کھیتوں کی شکل میں لہلہاتے دیک رہے ہو، اور جس نے اس نباتات کو انسان و حیوان سب کے لیے رزق کا ذریعہ بنا دیا، اس کے متعلق تمہارا یہ گمان کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دو بارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، سراسر بے عقلی کا گمان ہے۔ تم اپنی آنکھوں سے آئے دن دیکھتے ہو کہ ایک علاقہ بالکل خشک اور بے جان پڑا ہوا ہے۔ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے اندر یکایک زندگی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، مدتوں کی مری ہوئی جڑیں یک لخت جی اٹھتی ہیں، اور طرح طرح کے  حشرات الارض زمین کی تہوں سے نکل کر اچھل کود شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی نا ممکن نہیں ہے۔ اپنے اس صریح مشاہدے کو جب تم نہیں جھٹلا سکتے تو اس بات کو کیسے جھٹلاتے ہو کہ جب خدا چاہے گا تم خود بھی اسی طرح زمین سے نکل آؤ گے جس طرح نباتات کی کونپلیں نکل آتی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب کی سر زمین میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں بسا اوقات پانچ پانچ برس بارش نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ مدت گزر جاتی ہے اور آسمان سے ایک خطرہ تک نہیں ٹپکتا۔ اتنے طویل زمانے تک تپتے ہوئے ریگستانوں میں گھاس کی جڑوں اور حشرات الارض کا زندہ رہنا قابل تصور نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب وہاں کسی وقت تھوڑی سی بارش بھی ہو جاتی ہے تو گھاس نکل آتی ہے اور حشرات الارض جی اٹھتے ہیں۔ اس لیے عرب کے لوگ اس استدلال کو ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جنہیں اتنی طویل خشک سالی کا تجربہ نہیں ہوتا۔

۱۲۔ اس سے پہلے سورہ فرقان، آیت ۲۸ میں اصحاب الرس کا ذکر گزر چکا ہے، اور دوسری مرتبہ اب یہاں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ مگر دونوں جگہ انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے سلسلے میں صرف ان کا نام ہی لیا گیا ہے، کوئی تفصیل ان کے قصے کی بیان نہیں کی گئی ہے۔ عرب کی روایات میں الرس کے نام سے دو مقام معروف ہیں، ایک نجد میں، دوسرا شمالی حجاز میں۔ ان میں نجد کا الرس زیادہ مشہور ہے اور اشعار جاہلیت میں زیادہ تر اسی کا ذکر سنا ہے۔ اب یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اصحاب الرس ان دونوں میں سے کس جگہ کے رہنے والے تھے۔ ان کے قصے کی بھی کوئی قابل اعتماد تفصیل کسی روایت میں نہیں ملتی۔ زیادہ سے زیادہ بس اتنی بات صحت کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ کوئی ایسی قوم تھی جس نے اپنے نبی کو کنوئیں میں پھینک دیا تھا۔ لیکن قرآن مجید میں جس طرح ان کی طرف محض ایک اشارہ کر کے چھوڑ دیا گیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں اہل عرب بالعموم اس قوم اور اس کے قصے سے واقف تھے اور بعد میں یہ روایات تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکیں۔

۱۳، قوم فرعون کے بجائے صرف فرعون کا نام لیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی قوم پر اس طرح مسلط تھا کہ اس کے مقابلے میں قوم کی کوئی آزادانہ  رائے اور عزیمت باقی نہیں رہی تھی۔ جس گمراہی کی طرف سے جاتا تھا، قوم اس کے پیچھے گھسٹتی چلی جاتی تھی۔ اس بنا پر پوری قوم کی گمراہی کا ذمہ دار تنہا اس شخص کو قرار دیا گیا۔ جہاں قوم کے لیے رائے اور عمل کی آزادی موجود ہو وہاں اپنے اعمال کا بوجھ وہ خود اٹھاتی ہے۔ اور جہاں ایک آدمی کی آمریت نے قوم کے بے بس کر ریکھا ہو، وہاں وہی ایک آدمی پوری قوم کے گناہوں کا بار اپنے سر لے لیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرد واحد پر یہ بوجھ لَد جانے کے بعد قوم سبکدوش ہو جاتی ہے۔نہیں، قوم پر اس صورت میں اس اخلاقی کمزوری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس نے کیوں اپنے اوپر ایک آدمی کو اس طرح مسلط ہونے دیا۔ اسی چیز کی طرف سورۂ زخرف، آیت ۵۴ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ : فَاَسْتَخَفَّ قَوْمَہٗ فَاَطَاعُوْہُ اِنَّہُمْ کَانُوْ اقَوْ ماً فَا سِقِیْنَ۔ ’’فرعون نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ‘‘۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ زخرف، حاشیہ ۵۰)۔

۱۴۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم  القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ ۳۷۔ سورہ دخان، حاشیہ ۳۲۔

۱۵۔ یعنی ان سے نے اپنے رسولوں کی رسالت کو بھی جھٹلایا اور ان کی دی ہوئی اس خبر کو بھی جھٹلایا کہ تم مرنے کے بعد پھر اٹھائے جاؤ گے۔

۱۶۔ اگر چہ ہر قوم نے صرف اس رسول کو جھٹلایا جواس کے پاس بھیجا گیا تھا، مگر چونکہ وہ اس خبر کو جھٹلا رہی تھی جو تمام رسول بالاتفاق پیش کرتے رہے ہیں، اس لیے ایک رسول کو جھٹلانا در حقیقت تمام رسولوں کو جھٹلا دینا تھا۔ علاوہ بریں ان قوموں میں سے ہر ایک نے محض اپنے ہاں آنے والے رسول ہی کی رسالت کا انکار نہ کیا تھا بلکہ وہ سرے سے یہی بات ماننے کے لیے تیار نہ تھیں کہ انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آ سکتا ہے، اس لیے نفس رسالت کی منکر تھیں اور ان میں سے کسی کا جرم بھی صرف ایک رسول کی تکذیب تک محدود نہ تھا۔

۱۷۔ یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ اس سے پہلے کی ۶ آیتوں میں امکان آخرت کے دلائل دیے گئے تھے، اور اب ان آیات میں عرب اور اس کے گرد و پیش کی قوموں کے تاریخی انجام کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء علیہم السلام پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو کر رہی اور آخر کار خدا کے عذاب نے آ کر اس کے وجود سے دنیا کو پاک کیا۔ آخرت کے انکار اور اخلاق کے بگاڑ کا یہ لزوم، جو تاریخ کے دوران میں مسلسل نظر آ رہا ہے، اس امر کا صریح ثبوت ہے کہ انسان فی الواقع اس دنیا میں غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ اسے لازماً اپنی مہلت عمل ختم ہونے کے بعد اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اسی لیے تو جب کبھی وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر دنیا میں کام کرتا ہے، اس کی پوری زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ کسی کام سے اگر پے در پے غلط نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں تو یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ وہ کام حقیقت سے متصادم ہو رہا ہے۔

۱۸۔ یہ آخرت کے حق میں عقلی استدلال ہے۔ جو شخص خدا کا منکر نہ ہو اور حماقت کی اس حد تک نہ پہنچ گیا ہو کہ اس منظم کائنات اور اس کے اندر انسان کی پیدائش کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے لگے،اس کے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں ہے کہ خدا ہی نے ہمیں اور اس پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اب یہ امر واقعہ کہ ہم اس دنیا میں زندہ موجود ہیں اور زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، آپ ہی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ خدا ہمیں اور اس کائنات کو پیدا کرنے سے عاجز نہ تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قیامت برپا کرنے کے بعد وہی خدا ایک دوسرا نظام عالم نہ بنا سکے گا، اور موت کے بعد وہ ہمیں دوبارہ پیدا نہ کر سکے گا، تو وہ محض ایک خلاف عقل بات کہتا ہے۔ خدا عاجز ہوتا تو پہلے ہی پیدا نہ کر سکتا۔ جب وہ پہلے پیدا کر چکا ہے اور اسی تخلیق کی  بدولت ہم خود وجود میں آئے بیٹھے ہیں، تو یہ فرض کر لینے کے لیے آخر کیا معقول بنیاد ہو سکتی ہے کہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کو توڑ کر پھر بنا دینے سے وہ عاجز ہو جائے گا؟

 

ترجمہ

 

(۱۹) ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں (۲۰)، (اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں۔ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو (۲۱)۔ پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی(۲۲)، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تا(۲۳)۔ اور پھر صور پھونکا  گیا (۲۴)، یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آ گیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا(۲۵)۔ اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے (۲۶)۔ اس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جو میری سپردگی میں تھا حاجر ہے (۲۷)۔ حکم دیا گیا ’’ پھینک دو جہنم (۲۸)میں ہر گٹّے کافر(۲۹)  کو جو حق سے عناد رکھتا تھا، خیر کو روکنے والا (۳۰) اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا(۳۱)، شک میں پڑا ہوا تھا (۳۲) اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔ ڈال دو اسے سخت عذاب میں (۳۳)‘‘۔ اس کے ساتھی نے عرض کیا ’’خداوندا، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا(۳۴) ‘‘۔ جواب میں ارشاد ہوا ’’ میرے حضور جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کر چکا تھا(۳۵)۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی(۳۶) اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں (۳۷)‘‘۔ع

 

تفسیر

 

۲۰۔ یعنی ہماری قدرت اور ہمارے علم نے انسان کا اندر اور باہر سے اس طرح گھیر رکھا ہے کہ اس کی رگ گردن بھی اس سے اتنی قریب نہیں ہے جتنا ہمارا علم اور ہماری قدرت اس سے قریب ہے۔ اس کی بات سننے کے لیے ہمیں کہیں سے چل کر نہیں آنا پڑتا، اس کے دل میں آنے والے خیالات تک کو ہم براہ راست جانتے ہیں۔ اسی طرح اگر اسے پکڑنا ہو گا تو ہم کہیں سے آ کر اس کو نہیں پکڑیں گے، وہ جہاں بھی ہے ہر وقت ہماری گرفت میں ہے، جب چاہیں گے اسے دھر لیں گے۔

۲۱۔ یعنی ایک طرف تو ہم خود براہ راست انسان کی حرکات و سکنات اور اس کے خیالات کو جانتے ہیں، دوسری طرف ہر انسان پر دو فرشتے مامور ہیں جو اس کی ایک ایک بات کو نوٹ کر رہے ہیں اور اس کا کوئی قول و فعل ان کے ریکارڈ سے نہیں چھوٹتا۔ اس کی معنی یہ ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی پیشی ہو گی اس وقت اللہ کو خود بھی معلوم ہو گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے، اور اس پر شہادت دینے کے لیے دو گواہ بھی موجود ہوں گے جو اس کے اعمال کا دستاویزی ثبوت لا کر سامنے رکھ دیں گے۔ یہ دستاویزی ثبوت کس نوعیت کا ہو گا، اس کا ٹھیک ٹھیک تصور کرنا تو ہمارے لیے مشکل ہے۔ مگر جو حقائق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے۔ کہ جس فضا میں انسان رہتا اور کام کرتا ہے اس میں ہر طرف اس کی آوازیں، اس کی تصویریں اور اس کی حرکات و سکنات کے نقوش ذرے ذرے پر ثبت ہو رہے ہیں اور ان میں سے ہر چیز کو بعینہٖ ان ہی شکلوں اور آوازوں میں دوبارہ اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے کہ اصل اور نقل میں ذرہ برابر فرق نہ ہو۔ انسان یہ کام نہایت ہی محدود پیمانے پر آلات کی مدد سے کر رہا ہے۔ لیکن خدا کے فرشتے نہ ان آلات کے محتاج ہیں نہ ان قیود سے مقید۔ انسان کا اپنا جسم اور اس کے گردو پیش کی ہر چیز ان کی ٹیپ اور ان کی فِلم ہے جس پر وہ ہر آواز اور ہر تصویر کو اس کی نازک ترین تفصیلات کے ساتھ جوں کی توں ثبت کر سکتے ہیں اور قیامت کے روز آدمی کو اس کے اپنے کانوں سے اس کی اپنی آواز میں اس کی ہو باتیں سنوا سکتے ہیں جو وہ دنیا میں کرتا تھا، اور اس کی اپنی آنکھوں سے اس کے اپنے تمام کر توتوں کی چلتی پھرتی تصویریں دکھا سکتے ہیں جن کی صحت سے انکار کرنا اس کے لیے ممکن نہ رہے۔

اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی عدالت میں کسی شخص کو محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر سزا نہ دے دیگا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کر کے اس کو سزا دے گا۔ اسی لیے دنیا میں ہر شخص کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرایا جا رہا ہے تاکہ اس کی کار گزاریوں کو پورا ثبت ناقابل انکار شہادتوں سے فراہم ہو جائے۔

۲۲۔ حق لے کر آ پہنچے سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلُنی شروع ہو جاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا  عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علیہم السلام نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہو جاتا  ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہو جاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا  ہے یا  بد بخت کی حیثیت سے۔

۲۳۔ یعنی یہ وہی حقیقت ہے جس کو ماننے سے تو کنّی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔ اسی لیے آخرت کے تصور سے تو دور بھا کتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے۔ اب دیکھ لے، یہ وہی دوسرا علم تیرے سامنے آ رہا ہے۔

۲۴۔ اس سے مراد وہ نفخ صور ہے جس کے ساتھ ہی تمام مرے ہوئے لوگ دو بارہ حیات جسمانی پا کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، اندام، حاشیہ ۴۷۔ جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ ۵۷۔ جلد سوم، طہٰ، حاشیہ ۷۸۔ الحج، حاشیہ۔۱۔ جلد چہارم، یٰس، حواشی ۴۶۔۴۷۔ الزُّمر، حاشیہ ۷۹۔

۲۵۔ اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی دو فرشتے ہیں جو دنیا میں اس شخص کے قول و عمل کا ریکارڈ مرتب کر نے کے لیے مامور رہے تھے۔ قیامت کے روز جب صور کی آواز بلند ہوتے ہی ہر انسان اپنے مرقد سے اٹھے گا تو فوراً وہ دونوں فرشتے آ کر اسے اپنے چارج میں لے لیں گے۔ ایک اسے عدالت گاہ خداوندی کی طرف ہانکتا ہو لے چلے گا اور دوسرا اس کا نامۂ اعمال ساتھ لیے ہوئے ہو گا۔

۲۶۔ یعنی اب تو تجھے خوب نظر آ رہا ہے کہ وہ سب کچھ یہاں موجود ہے جس کی خبر خدا کے نبی تجھے دیتے تھے۔

۲۷۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’ ساتھی‘‘ سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے آیت نمبر ۲۱ میں ’’گواہی دینے والا‘‘ فرمایا گیا ہے۔ وہ کہے گا کہ یہ اس شخص کا نامۂ عمال میرے پاس تیار ہے۔ کچھ دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ ’’ساتھی ‘‘ سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ وہ عرض کرے گا کہ یہ شخص جو کو میں نے اپنے قابو میں کر کے جہنم کے لیے تیار کیا تھا ب آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ مگر سیاق و سباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر وہ ہے جو قتادہ اور ابن زید سے منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ساتھی سے مراد ہانک کر لانے والا فرشتہ ہے اور وہی عدالت الٰہی میں پہنچ کر عرض کرے گا کہ یہ شخص جو میری سپردگی میں تھا سر کار کی پیشی میں حاضر ہے۔

۲۸۔ اصل الفاظ میں اَلْقِیَا فَیْ جَھَنَّمَ، ’’ پھینک دو جہنم میں تم دونوں ‘‘۔ سلسلہ کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ حکم ان دونوں فرشتوں کو دیا جائے گا جنہوں نے مرقد سے اٹھتے ہی مجرم کو گرفتار کیا تھا اور لا کر عدالت میں حاضر کر دیا تھا۔

۲۹۔ اصل میں لفظ ’’کَفَّار‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک، سخت نا شکرا۔ دوسرے سخت منکر حق۔

۳۰۔ خیر کا لفظ عربی زبان میں مال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بھلائی کے لیے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں سے کسی کا حق ادا نہ کرتا تھا۔ نہ خدا کا نہ بندوں کا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ وہ بھلائی کے راستے سے خود ہی رک جانے پر اکتفا نہ کرتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا تھا۔ دنیا میں خیر  کے لیے سدِّ راہ بنا ہوا تھا۔ اپنی ساری قوتیں اس کام میں صرف کر رہا تھا کہ نیکی کسی طرح پھیلنے نہ پائے۔

۳۱۔ یعنی اپنے ہر کام میں اخلاق کی حدیں توڑ دینے والا تھا۔ اپنے مفاد اور اپنی اغراض اور خواہشات کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار تھا۔ حرام طریقوں سے مال سمیٹتا اور حرام راستوں میں صرف کرتا تھا۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا تھا۔ نہ اس کی زبان کسی حد کی پا بند تھی نہ اس کے ہاتھ کسی ظلم اور زیادتی سے رکتے تھے۔ بھلائی کے راستے میں صرف رکاوٹیں ڈالنے ہی پر بو نہ کرتا تھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھلائی اختیار کرنے والوں کو ستاتا تھا اور بھلائی کے لیے کام کرنے والوں پر ستم ڈھاتا تھا۔

۳۲۔ اصل میں لفظ’’مُرِیْب‘‘ استعمال ہوا ہے جس مے دو معنی ہیں۔ ایک، شک کرنے والا۔ دوسرے، شک میں ڈالنے والا۔ اور دونوں ہی معنی یہاں مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود شک میں پڑا ہوا تھا اور دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالتا تھا۔ اس کے نزدیک اللہ اور آخرت اور ملائکہ اور رسالت اور وحی، غرض دین کی سب صداقتیں مشکوک تھیں۔ حق کی جو بات بھی انبیاء کی طرف سے پیش کی جاتی تھی اس کے خیال میں ہو قابل یقین نہ تھی۔ اور یہی بیماری وہ الہ کے دوسرے بندوں کو لگاتا پھرتا تھا۔ جس شخص سے بھی اس کو سابقہ پیش آتا اس کے دل میں وہ کوئی نہ کوئی شک اور کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتا۔

۳۳۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات گِن کر بتا دی ہیں جو انسان کو جہنم کا مستحق بنانے والی ہیں، (۱) انکار حق، (۲) خدا کی ناشکری،(۳) حق اور اہل حق سے عناد، (۴) بھلائی کے راستے میں سدِّ راہ بننا، (۵) اپنے مال سے خدا اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنا، (۶) اپنے معاملات میں حدود سے تجاوز کرنا، (۷) لوگوں پر ظلم اور زیادتیاں کرنا، (۸) دین کی صداقتوں پر شک کرنا، (۹)دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالنا، اور (۱۰) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدائی میں شریک ٹھیرانا۔

۳۴۔ یہاں فحوائے کلام خود بتا رہا ہے کہ ’’ساتھی‘‘ سے مراد وہ شیطان ہے جو دنیا میں اس شخص کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی انداز بیان ہی سے مترشح ہوتی ہے کہ وہ شخص اور اس کا شیطان، دونوں خدا کی عدالت میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حضور، یہ ظالم میرے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اسی نے آخر کار مجھے گمراہ کر کے چھوڑا، اس لیے سزا اس کو ملنی چاہیے۔ اور شیطان جواب میں کہتا ہے کہ سردار، میرا اس پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ یہ سرکش نہ بننا چاہتا ہو اور میں نے زبردستی اس کو سرکش بنا دیا ہو۔ یہ کم بخت تو خود نیکی سے نفور اور بدی پر فریفتہ تھا۔ اسی لیے انبیاء کی کوئی بات اسے پسند نہ آئی اور میری ترغیبات پر پھسلتا چلا گیا۔

۳۵۔ یعنی تم دونوں ہی کو میں نے متنبہ کر دیا تھا کہ تم میں سے جو بہکائے گا وہ کیا سزا پائے گا اور جو بہکے گا اسے کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ میری اس تنبیہ کے باوجود جب تم دونوں اپنے اپنے حصے کا جرم کرنے سے باز نہ آئے تو اب جھگڑا کرنے سے حاصل کیا ہے۔ بہلنے والے کو بہکنے کی اور بہکانے والے کو بہکانے کی سزا تو اب لازماً ملنی ہی ہے۔

۳۶۔ یعنی فیصلے بدلنے کا دستور میرے ہاں نہیں ہے۔تم کو جہنم میں پھینک دینے کا جو حکم میں دے چکا ہوں اب واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اور نہ اس قانون ہی کو بدلا جا سکتا ہے جو کا اعلام میں نے دنیا میں کر دیا تھا کہ گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے کی کیا سزا آخرت میں دی جائے گی۔

۳۷۔ اصل میں لفظ ’’ظَلَّام ‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی بہت بڑے ظالم کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے بندوں کے حق میں ظالم تو ہوں مگر بہت بڑا ظالم نہیں ہوں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں خالق اور رب ہو کر اپنی ہی پروردہ مخلوق پر ظلم کروں تو بہت بڑا ظالم ہوں گا۔ اس لیے میں سے سے کوئی ظلم بھی اپنے بندوں پر نہیں کرتا۔ یہ سزا جو میں تم کو دے رہا ہوں یہ ٹھیک ٹھیک وہی سزا ہے جس کا مستحق تم نے اپنے آپ کو خود بنایا ہے۔ تمہارے استحقاق سے رتّی بھر بھی زیادہ سزا تمہیں نہیں دی جا رہی ہے۔ میری عدالت بے لاگ انصاف کی عدالت ہے۔ یہاں کوئی شخص کوئی ایسی سزا نہیں پا سکتا جس کا وہ فی الحقیقت مستحق نہ ہو اور جس کے لیے اس کا استحقاق بالکل یقینی شہادتوں سے ثابت نہ کر دیا گیا ہو۔

 

ترجمہ

 

وہ دن جب کہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے (۳۸)؟ اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہو گی(۳۹)۔ ارشاد ہو گا ’’ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے (۴۰) والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا(۴۱)، جو بے دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا(۴۲)، اور جو دلِ گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے (۴۳)۔داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ(۴۴)‘‘۔  وہ دن حیات ابدی کا دن ہو گا۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لیے ہے (۴۵)۔

ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا (۴۶)۔پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے (۴۷)؟ اس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے (۴۸)۔

ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا(۴۹) اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی۔ پس اے نبی، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو(۵۰)، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی(۵۱)۔

اور سنو، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے ) قریب ہی سے پکارے گا، (۵۲)، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے (۵۳)، وہ زمین سے مردوں کے نکلنے کا دن ہو گا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے (۵۴)۔

اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں (۵۵)، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔(۵۶)۔ع

 

تفسیر

 

۳۸۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ’’ میرے اندر اب مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ دوسرے یہ کہ ’’اور فتنے مجرم بھی ہیں انہیں لے آیئے ‘‘ پہلا مطلب لیا جائے تو اس ارشاد سے تصور یہ سامنے آتا ہے کہ مجرموں کو جہنم میں اس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے اس میں ایک سوئی کی بھی گنجائش نہیں رہی، حتیٰ کہ جب اس سے پوچھا گیا کی کیا تو بھر گئی تو وہ گھبرا کر چیخ اٹھی کہ کیا ابھی اور آدمی بھی آنے باقی ہیں؟ دوسرا مطلب لیا جائے تو یہ تصور ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جہنم کا غیظ اس وقت مجرموں پر کچھ اس بڑی طرح بھڑکا ہوا ہے کہ وہ ہل من مزید کا مطالبہ کیے جاتی ہے اور چاہتی ہے کہ آج کوئی مجرم اس سے چھوٹنے نہ پائے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہنم سے اللہ تعالیٰ کے اس خطاب اور اس کے جواب کی نوعیت کیا ہے۔؟ کیا یہ محض مجازی کلام ہے؟ یا فی الواقع جہنم کوئی ذی روح اور ناطق چیز ہے جسے مخاطب کیا جا سکتا ہو اور سہ بات کا جواب دے سکتی ہو؟ اس معاملہ میں درحقیقت کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مجازی کلام ہو اور محض صورت حال کا نقشہ کھینچنے  کے لیے جہنم کی کیفیت کو سوال و جوا کی شکل میں بیان کیا گیا ہو، جیسے کوئی شخص یوں کہے کہ میں نے موٹر سے پوچھا تو چلتی کیوں نہیں، اس جے جواب دیا، میرے اندر پٹرول نہیں ہے۔ لیکن یہ بات بھی بالکل ممکن ہے کہ یہ کلام مبنی بر حقیقت ہو۔ اس لیے کہ دنیا کی جو چیزیں ہمارے لیے جامد و صامت ہیں ان کے متعلق ہمارا یہ گمان کرنا درست نہیں ہو سکتا کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کے لیے بی ویسی ہی جامدو صامت ہوں گی۔ خالق اپنی ہر مخلوق سے کلام کر سکتا ہے اور اس کی ہر مخلوق اس کے کلام کو جواب دے سکتی ہے خواہ ہمارے لیے اس کی زبان کتنی ہی ناقابل فہم ہو۔

۳۹۔ یعنی جوں ہی کسی شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ کی عدالت سے یہ فیصلہ ہو گا کہ وہ متقی اور جنت کا مستحق ہے، فی الفور وہ جنت کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے اسے کوئی مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی کہ پاؤں سے فل کر یا کسی سواری میں بیٹھ  کر سفر کرتا ہو وہاں جائے اور فیصلے کے وقت اور دخول جنت کے درمیان کوئی وقفہ ہو۔ بلکہ ادھر فیصلہ ہوا اور ادھر متقی جنت میں داخل ہو گیا۔ گویا وہ جنت میں پہنچایا نہیں گیا ہ بلکہ خود جنت ہی اٹھا کر اس کے پاس لے آئی گئی ہے۔ اس سے کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے تصورات ہماری اس دنیا کے تصورات سے کس قدر مختلف ہوں گے۔ جلدی اور دیر اور دوری اور نزدیکی کے وہ سارے مفہومات وہاں بے معنی ہوں گے جن سے ہم اس دنیا میں واقف ہیں۔

۴۰ َ اصل میں لفظ اَوّاب استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے نافرمانی اور خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ چھوڑ کر طاعت اور اللہ کی رضا جوئی کا راستہ اختیار کر لیا ہو، جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہے، اور ہر اس چیز کا اختیار کر لے جو اللہ کو پسند ہے، جو راہ بندگی سے ذرا قدم ہٹتے ہی گھبرا اٹھے اور توبہ کر کے بندگی کی راہ پر پلٹ آئے، جو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔

۴۱۔ اصل میں لفظ ’’ حفیظ‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ’’ حفاظت کرنے والا‘‘۔ اس سے مراد ایس شخص ہے جو اللہ کے حدود اور اسے کے فرائض اور اس کی حرمتوں اور ا کی سپرد کی  ہوئی امانتوں کی حفاظت کرے، جو ان حقوق کی نگہداشت کرے جو اللہ کی طرف اس پر عائد ہوتے ہیں، جو اس عہد و پیمان کی نگہداشت کرے جو ایمان لا کر اس نے اپنے رب سے کیا ہے، جو اپنے اوقات  اور اپنی قوتوں اور محنتوں اور کوششوں کی پاسبانی کرے کہ ان میں سے کوئی چیز غل کاموں میں ضائع نہ ہو، جو توبہ کر کے اس کی حفاظت کرے اور اسے پھر نہ ٹوٹنے دے، جو ہر وقت اپنا جائز ہ لے کر دیکھتا رہے کہ کہیں میں اپنے قول یا فعل میں اپنے قول یا فعل میں اپنے رب کی نافرمانی تو نہیں کر رہا ہوں۔

۴۲۔ یعنی باوجود اس کے کہ رحمان اس کو کہیں نظر نہ آتا تھا، اور اپنے حواس سے کسی طرح بھی وہ اس کو محسوس نہ کر سکتا تھا، پھر بھی وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ڈرتا تھا۔ اس کے دل پر دوسری محسوس طاقتوں اور علانیہ نظر آنے والی زور آور ہستیوں کے خوف کی بہ نسبت اس اَن دیکھے رحمان کا خوف زیادہ غالب تھا۔ اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ رحمٰن ہے، اس کی رحمت کے بھروسے پر وہ گناہ گار نہیں بنا بلکہ ہمیشہ اس کی ناراضی سے ڈرتا ہی رہا۔ اس طرح یہ آیت مومن کی دو اہم اور بنیادی خوبیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ایک یہ کہ وہ محسوس نہ ہونے اور نظر نہ آنے کے باوجود خدا سے ڈرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خدا کی صفت رحمت سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود گناہوں پر جَری نہیں ہوتا۔ یہی دو خوبیاں اسے اللہ کے ہاں قدر کا مستحق بناتی ہیں۔اس کے علاوہ اس میں ایک اور لطیف نکتہ بھی ہے جسے امام رازی نے بیان کیا ہے۔ وہ یہ کہ عربی زبان میں ڈر کے لیے خوف اور خَشِیَّت، دو لفظ استعمال ہوتے ہیں جن کے مفہوم میں ایک باریک فرق کے دل ہے خوف کا لفظ بالعموم اس ڈر کے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی طاقت کے مقالہ میں اپنی کمزوری کے احساس کی بنا پر آدمی کے دل میں پیدا ہو۔ اور خشیت اس ہیبت کے لیے بولتے ہیں جو کسی کی عظمت کے تصور سے آدمی کے دل پر طاری ہو۔ یہاں خوف کے بجائے خشیت کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مومن کے دل میں اللہ کا ڈر محض اس کی سزا کے  خو ف ہی سے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے بھی پڑھ کر اللہ کی عظمت و بزرگی کا احساس اس پر ہر وقت ایک ہیبت طاری کیے رکھتا ہے۔

۴۳۔ اصل الفاظ ہیں ’’ قلبِ مُنِیب‘‘ لے کر آیا ہے۔ مُنیب انابت سے ہے جس کے معنی ایک طرف رخ کرنے اور بار بار اسی کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ جیسے قطب نما کی ہوئی ہمیشہ قطب ہی کی طرف رخ کیے رہتی ہے اور آپ خواہ کتنا ہی بلائیں جُلائیں، وہ ہِر پھر کر قطب ہی کی طرف مڑ گیا اور پھر زندگی بھر جو احوال بھی اس پر گزری ان میں وہ بار بار اسی کی طرف پلٹتا رہا۔ اسی مفہوم کو ہم نے دل گردہ کے الفاظ سے ادا کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ہاں اصلی قدر اس شخص کی ہے جو محض زبان سے نہیں بلکہ پورے خلوص کے ساتھ سچے دل سے اسی کا ہو کر رہ جائے۔

۴۴۔ اصل الفاظ ہیں اُدْخُلُوْ ھَا بِسَلامٍ۔ سلام کو اگر سلامتی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے رنج اور غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اور اگر اسے سلام ہی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ آؤ اس جنت میں للہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم کو سلام ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتا دی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے، اور وہ ہیں (۱) تقویٰ،(۲) رجوع الی اللہ،(۳) اللہ سے اپنے تعلق کی نگہداشت۔(۴) اللہ کو دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا، اور (۵) قلبِ منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا، یعنی کرتے دم تک ِانابَت کی روش پر قائم رہنا۔

۴۵۔ یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ تو ان کے ملے گا ہی، مگر اس پر مزید ہم انہیں وہ کچھ بھی دیں گے جس کا کوئی تصور تک ان کے ذہن میں نہیں آیا ہے کہ وہ اس کے حاصل کرنے کی خواہش کریں۔

۴۶۔ یعنی صرف اپنے ملک ہی میں وہ زور آور نہ تھیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی وہ جا گھسی تھیں اور ان کی تاخت(طاقت) کا سلسلہ روئے زمیں پر دور دور تک پہنچا ہوا تھا۔

۴۷۔ یعنی جب خدا کی طرف سے ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کیا ان کی وہ طاقت ان کو بچادسکی؟ اور کیا دنیا میں پھر کہیں ان کو پناہ مل سکی؟ اب آخر تم کس بھروسے پر یہ امید رکھتے ہو کہ خدا کے مقابلے میں بغاوت کر کے تمہیں کہیں پناہ مل جائے گی؟

۴۸۔ بالفاظ دیگر جو یا تو خود اپنی گرہ کی اتنی عقل رکھتا ہو کہ صحیح بات سوچے، یا نہیں تو غفلت اور تعصب سے اتنا پاک ہو کہ جب دوسرا کوئی شخص اسے حقیقت سمجھائے وہ کھلے کانوں سے اس کی بات سنے۔ یہ نہ ہو کہ سمجھانے والے کی آواز کان کے پردے پر سے گزر رہی ہے اور سننے والے کا دماغ کسی اور طرف مشغول ہے۔

۴۹۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ حٰم السجدہ، حواشی نمبر ۱۱ تا ۱۵۔

۵۰۔ یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات ہم نے چھ دن میں بنا ڈالی ہے اس کو بنا کر تھی نہیں گئے ہیں کہ اس کی تعمیر تو کرنا ہمارے بس میں نہ رہا ہو۔ اب اگر یہ نادان لوگ تم سے زندگی بعد موت کی خبر سن کو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہیں دیوانہ قرار دیتے ہیں تو اس پر صبر کرو۔ ٹھنڈے دل سے ان کی ہر بیہودہ بات کو سنو اور جس حقیقت کے بیان کرنے پر تم مامور کیے گئے ہو اسے بیان کرتے چلے جاؤ۔

اس آیت میں ضمناً ایک لطیف طنز یہود و نصاریٰ پر بھی ہے جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا کو ’’فارغ ہوا‘‘ سے بدل دیا ہے۔ مگر کنگ جیمز کی مستند انگریزی بائیبل میں (And He rested on the seventh day) کے الفاظ صاف موجود ہیں۔ اور یہی الفاظ اس ترجمے میں بھی پائے جاتے ہیں جو ۱۹۵۴ ء میں یہودیوں نے فلیڈلفیا سے شائع کیا ہے۔ عربی ترجمہ میں بھی فاستراح فی الیوم السَّا بع کے الفاظ ہیں۔

۵۱۔ یہ ہے وہ ذریعہ جس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں اسے خواہ کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے، اور اس کی کوششوں کا خواہ کوئی ثمرہ بھی حاصل ہوتا نظر نہ آئے، پھر بھی وہ پورے عزم کے ساتھ زندگی بھر کلمۂ حق بلند کرنے ور دنیا کو خیر کی طرف بلانے کی سعی جاری رکھے۔ رب کی حمد اور اس کی تسبیح سے مراد یہاں نماز ہے اور جس مقام پر بھی قرآن میں حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ ’’ طلوع آفتاب سے پہلے۔‘‘ فجر کی نماز ہے ‘‘غروب آفتاب سے پہلے ‘’ دو نمازیں ہیں، ایک ظہر، دوسری عصر ‘‘۔ رات کے وقت۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور تیسری تہجد بھی رات کی تسبیح میں شامل ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، بنی اسرائیل، حواشی ۹۱ تا ۹۷۔ جلد سوم، طہٰ، حاشیہ ۱۱۱۔ الروم، حواشی ۲۳۔۲۴)۔  رہی وہ تسبیح جو ’’سجدے فارغ ہونے کے بعد ‘‘ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، تو اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ بھی ہو سکتا ہے اور فرض کے بعد نفل ادا کرنا بھی۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت حسن بن علی، حضرات ابوہریرہ، ان عباس، شُیبی، مجاہد، عکرمہ، حسن بصری، قتادہ، ابراہیم نخَعی اور اَوزاعی اس سے مراد نماز مغرب  کے بعد کی دو رکعتیں لیے ہیں۔ حضرت عبداللہ ن عَمرو بن العاص اور ایک روایت کے بموجب حضرت عبداللہ بن عباس کا بھی یہ خیال ہے کہ اس سے مراد ذکر بعد الصلوٰۃ ہے۔ اور ابن زید کہتے ہیں کہ اس ارشاد کا مقصود یہ ہے کہ فرائض کے بعد بھی نوافل ادا کے جائیں۔

صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’ کیا ہوا‘‘؟۔ انہوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، مگر وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز بتاؤں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جاؤ گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے؟ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳۔۳۳ مرتبہ سبحان اللہ، الحمد لِلہ، اللہ اکبر کہا کرو‘‘۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مال دار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی ہے اور وہ بھی یہی عمل کرنے لگے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا  ذٰلک فضل اللہ یؤنیہ من یشآء۔ ایک روایت میں ان کلمات کی تعداد ۳۳۔ ۳۳ کے بجائے دس دس بھی منقول ہوئی ہے۔

حضرت زید بن ثابت کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو ہدایت فرمائی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد ۳۳۔ ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ اور الحمد لِلہ کہا کریں اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔ بعد میں ایک انصاری نے عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی کہتا  ہے اگر تم ۲۵۔۲۵ مرتبہ یہ تین کلمے کہو اور پھر ۲۵ مرتبہ لا اِلٰہ الا اللہ کہو تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا اسی طرح کیا کرو۔(احمد۔نسائی۔ دارمی)۔

حضرت ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز سے فارغ ہو کر جب پلٹتے تھے تو میں نے آپ کو یہ الفاظ کہتے سنا ہے :سُبْحَا نَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزِّۃِ عَمَّایَصِفُوْنَ o وَسَلَامٌ عَلَالْمُرْسَلِیْنَ o وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o(احکام القرآن للجصاص)۔

اس کے علاوہ بھی ذکر بعد الصلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہوئی ہیں۔ جو حضرات قرآن مجید کی اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیں وہ مشکوٰۃ، باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں سے کوئی ذکر جو ان کے دل کو سب سے زیادہ لگے، چھانٹ کر یاد کر لیں اور اس کا التزام کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اپنے بتائے ہوئے ذکر سے بہتر اور کونسا ذکر ہو سکتا ہے۔ مگر یہ خیال رکھیں کہ ذکر سے اصل مقصود چند مخصوص الفاظ کو زبان سے گزار دینا نہیں ہے بلکہ ان معافی کو ذہن میں تازہ اور مستحکم کرنا ہے جو ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس لیے جو ذکر بھی کیا جائے اس کے معنی اچھی طرح سمجھ لینے چاہییں اور پھر معنی کے استحضار کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے۔

۵۲۔ یعنی جو شخص جہاں مرا پڑا ہو گا، یا جہاں بھی دنیا میں اس کی موت واقع ہوئی تھی، وہیں خدا کے منادی کی آواز اس کو پہنچے گی کہ اٹھو اور چلو اپنے رب کی طرف اپنا حساب دینے کے لیے۔ یہ آواز کچھ اس طرح کی ہو گی روئے زمین کے چپے چپے پر جو شخص بھی زندہ ہو کر اٹھے گا وہ محسوس کرے گا کہ پکارنے والے نے کہیں قریب ہی سے اس کو پکارا ہے۔ ایک مکان کے اعتبارات ہماری موجودہ دنیا کی بہ نسبت کس قدر بدلے ہوئے ہوں گے اور کیسی قوتیں کس طرح کے قوانین کے مطابق وہاں کا کر فرما ہوں گی۔

۵۳۔ اصل الفاظ ہیں یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب لوگ امِر حق کی پکار کو سن رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آواز حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ لوگ اسی امر حق کی پکار کو اپنے کانوں سے سن رہے  ہوں گے جس کو دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، جس سے انکار کرنے پر انہیں اصرار تھا، اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر یہ آوازہ حشر سنیں گے، انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے بلکہ واقعی یہ آوازہ حشر ہی ہے، کوئی دبہ انہیں اس امر میں نہ رہے گا کہ جس حشر کی انہیں خبر دی گئی تھی وہ آ گیا ہے اور یہ اسی کی پکار بلند ہو رہی ہے۔

۵۴۔ یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر ۳ میں نقل کی گئی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا کہ جب ہم مر کر خاک ہو چکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے، یہ واپسی تو بعید از عقل و امکان ہے۔ ان کی اسی بات کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ یہ حشر، یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کر لینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے۔ ہمارے لیے یہ معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے ہمیں یہ جاننے میں بھی کوئی وقت نہیں پیش آئے گی کہ ان بکھرے ہوئے ذرات میں سے زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے۔ ان سب کو الگ الگ سمیٹ کر ایک ایک آدمی کا جسم پھر سے بنا دینا، اور اس جسم میں اسی شخصیت کو از سر نو پیدا کر دینا جو پہلے اس میں رہ چکی تھی، ہمارے لیے کوئی بڑا محنت طلب کام نہیں ہے، بلکہ ہمارے ایک اشارے سے یہ سب کچھ آناً فاناً ہو سکتا ہے۔ وہ تمام انسان جو آدم کے وقت سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہیں ہمارے ایک حکم پر بڑی آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں۔ تمہارا چھوٹا سا دماغ اسے بعید سمجھتا ہو تو سمجھا کرے۔ خالق کائنات کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے۔

۵۵۔ اس فقرے میں رسول اللہ صلی اللہ و سلم کے لیے تسلی بھی ہے اور کفار کے لیے دھمکی بھی۔ حضورؐ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر جو باتیں یہ لوگ بنا ہے ہیں ان کی قطعاً پروانہ کرو، ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ان نمٹنا ہمارا کام ہے۔ کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر جو فقرے تم کس رہے ہو وہ تمہیں بہت مہنگے پڑیں گے۔ ہم خود ایک ایک بات سن رہے ہیں اور اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔

۵۶۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جبراً لوگوں سے اپنی بات منوانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ بلکہ در اصل یہ بات حضورؐ کو مخاطب کر کے کفار کو سنائی جا رہی ہے۔ گویا ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارا نبی تم پر جبار بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔اس کا کام زبردستی تمہیں مومن بنانا نہیں کہ تم نہ ماننا چاہو اور وہ جبراً تم سے منوائے۔ اس کی ذمہ داری تو بس اتنی ہے کہ جو متنبہ کرنے سے ہوش میں آ جائے اسے قرآن سنا کر حقیقت سمجھا دے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو نبی تم سے نہیں نمٹے گا بلکہ ہم تم سے نمٹیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۵۱) سورہ الذاریٰت

 

 

نام

 

پہلے ہی لفظ وَالذّٰرِیَات سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس کی ابتدا لفظ الذاریات سے ہوتی ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین اور انداز بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کا مقابلہ تکذیب و استہزاء اور جھوٹے الزامات تو بڑے زور شور کے ساتھ ہو رہا تھا، مگر ابھی ظلم و تشدد کی چکی چلنی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ بھی اسی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے جس میں سورہ ’’ق‘‘ نازل ہوئی ہے۔

 

موضوع اور مباحث

 

اس کا بڑا حصہ آخرت کے موضوع پر ہے، اور آخر میں توحید کی دعوت پیش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بات نہ ماننا اور اپنے جاہلانہ تصورات پر اصرار کرنا خود انہی قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جنہوں نے یہ روش اختیار کی ہے۔

آخرت کے متعلق جو بات اس سورہ کے چھوٹے چھوٹے مگر نہایت پُر معنی فقروں میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی مآل و انجام کے بارے میں لوگوں کے مختلف اور متضاد عقیدے خود اس بات کا صریح ثبت ہیں کہ ان میں سے کوئی عقیدہ بھی علم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے قیاسات دوڑا کر اپنی جگہ جو نظریہ قائم کر لیا اسی کو وہ اپنا عقیدہ بنا کر بیٹھ گیا۔ کسی نے سمجھا کہ زندگی بعد موت نہیں ہو گی۔ کسی نے اس کو مانا تو تناسخ کی شکل میں مانا۔ کسی نے حیات بڑے اور اہم ترین بنیادی مسئلے پر، جس کے بارے میں آدمی کی رائے کا غلط ہو جانا اس کی پوری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے مستقبل کو برباد کر ڈالتا ہے، علم کے بغیر محض قیاسات کی بنا پر کوئی عقیدہ بنا لینا ایک تباہ کن حماقت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا رہ کر ساری عمر جاہلانہ غفلت میں گزار دے اور مرنے کے بعد اچانک ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہو جس کے لیے اس نے قطعاً کوئی تیاری نہ کی تھی۔ ایسے مسئلے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کا بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان کا آخرت کے متعلق جو علم خدا کی طرف سے اس کا نبی دے رہا ہے اس پر وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرے اور زمین و آسمان کے نظام اور خود اپنے وجود پر نگاہ ڈال کر کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ کیا اس علم کے صحیح ہونے کی شہادت ہر طرف موجود نہیں ہے؟ اس سلسلے میں ہوا اور بارش کے انتظام کو، زمین کی ساخت اور اس کی مخلوقات کو، انسان کے اپنے نفس کو، آسمان کی تخلیق کو، اور دنیا کی تمام اشیاء کے جوڑوں کی شکل میں بنائے جانے کو آخرت کی شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح ایک قانون مکافات کا  مقتضی نظر آ رہا ہے۔

اس کے بعد بڑے مختصر انداز میں توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے خالق نے تم کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ وہ تمہارے بناوٹی معبودوں کی طرح نہیں ہے جو تم رزق لیتے ہیں اور تمہاری مدد کے بغیر جن کی خدائی نہیں چل سکتی۔وہ ایسا معبود ہے جو سب کا رزاق ہے، کسی سے رزق لینے کا محتاج نہیں، اور جس کی خدائی خود اس کے اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ جب بھی کیا گیا ہے کسی معقول بنیاد پر نہیں بلکہ اسی ضد اور ہٹ دھرمی اور جاہلانہ غرور کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ برتی جا رہی ہے۔ اور اس کی محرک بجز سر کشی کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان سرکشوں کی طرف التفات نہ کریں اور اپنی دعوت و تذکیر کا کام کیے جائیں، کیونکہ وہ ان لوگوں کے لیے چاہے نافع نہ ہو، مگر ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔ رہے وہ ظالم جو اپنی سرکشی پر مصر رہیں، تو ان سے پہلے اسی روش پر چلنے والے اپنے حصے کا عذاب پا چکے ہیں اور ان کے حصے کا عذاب تیار ہے۔


 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

قسم ہے ان ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں، پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں(۱)، پھر سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں، پھر ایک بڑے کام (بارش ) کی تقسیم کرنے والی ہیں (۲)، حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے (۳) وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے (۴)۔

قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی(۵)، (آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے (۶)۔ اس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے (۷)۔  مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے (۸)، جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں(۹)۔ پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟ وہ اس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے (۱۰)۔ (ان سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے گا(۱۱)۔ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے (۱۲)۔ البتہ متقی لوگ (۱۳) اس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے، جو کچھ ان کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے (۱۴)۔ وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے، راتوں کو کم ہی سوتے تھے (۱۵)۔ پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے (۱۶)، اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے (۱۷)۔

زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے (۱۸)، اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں(۱۹)۔ کیا تم کو سوجھتا نہیں؟ آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے (۲۰)۔پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو۔ع

 

تفسیر

 

۱۔ اس امر پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ الذاریات سے مراد پراگندہ کرنے والی اور گردو غبار اڑانے والی ہوئیں ہیں، اور اَلْحٰمِلٰتِ وِقْراً، (بھاری بوجھ اٹھانے والیوں) سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو سمندروں سے لاکھوں کروڑوں گیلن پانی کے بخارات بادلوں کی شکل میں اٹھا لیتی ہیں۔ یہی تفسیر حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بصری، قتادہ اور سدی وغیرہ حضرات سے منقول ہے۔

۲۔ الجَارِیَا تِ یُسْراً  اور المُقَسِّمٰتِ اَمْراً کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے، یا یہ مفہوم لینا جائز رکھا ہے کہ ان دونوں سے مراد بھی ہوائیں ہی ہیں، یعنی یہی ہوائیں پھر بادلوں کو لے کر چلتی ہیں اور پھر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، جہاں جتنا حکم ہوتا ہے، پانی تقسیم کرتی ہیں۔ دوسرے گروہ نے الجَارِیَاتِ یُسْراً سے مراد سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی کشتیاں لی ہیں اور المُقَسِّمٰتِ اَمْراً سے مراد وہ فرشتے لیے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی مخلوقات کے نصیب کی چیزیں ان میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک روایت کی تو سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں فقروں کا یہ مطلب بیان کر کے فرمایا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہ سنا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا۔ اسی بنا پر علامۂ آلوسی اس خیال کا اظہار کتے ہیں کہ اس کے سوا ان فقروں کا کوئی اور مطلب لینا جائز نہیں ہے اور جن لوگوں نے کوئی دوسرا مفہوم لیا ہے انہوں نے بے جا جسارت کی ہے۔ لیکن حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اس کی بنیاد پر قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فی الواقع حضورؐ ہی نے ان فقروں کی یہ تفسیر فرمائی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ صحابہ و تابعین کی ایک معتد بہ جماعت سے یہی دوسری تفسیر منقول ہے، لیکن مفسرین کی ایک اچھی خاصی جماعت نے پہلی تفسیر بھی بیان کی ہے اور سلسلہ کلام سے وہ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ شاہ رفیع الدین صاحب، شاہ عبدالقادر صاحب اور مولانا محمود الحسن صاحب جے بھی اپنے ترجموں میں پہلا مفہوم ہی لیا ہے۔

۳۔ اصل میں لفظ تُوْعَدُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اگر  وَعْد سے ہو تو اس کا مطلب ہو گا ’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘‘۔ اور وَعید سے ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ ’’ جس چیز کا تم کو ڈراوا دیا جا رہا ہے ‘‘۔ زبان کے لحاظ سے دونوں مطلب یکساں درست ہیں۔ لیکن موقع و محل کے ساتھ دوسرا مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک اور فسق و فجور میں غرق تھے اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کبھی ان کو محاسبے اور جزائے اعمال سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اسی لیے ہم نے تُوْعَدُوْنَ کو وعدے کے بجائے وعید کے معنی میں لیا ہے۔

۴۔ یہ ہے وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس بے نظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اور جو حکمت اور مصلحتیں اس میں صریح طور پر کار فرما نظر آتی ہیں، وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں کہ یہ دنیا کوئی بے مقصد اور بے معنی گھروندا نہیں ہے جس لاگوں کروڑوں برس سے ایک بہت بڑا کھیل بس یوں ہی الل ٹپ ہوئے جا رہا ہو، بلکہ  یہ در حقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔ اس نظام میں یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ یہاں انسان جیسی ایک مخلوق کو عقل، شعور، تمیز اور تصرف کے اختیارات سے کر، اس میں نیکی و بدی کی اخلاقی جس پیدا کر کے، او اسے ہر طرح کے اچھے اور برے، صحیح اور غلط کاموں کے مواقع دے کر، زمین میں تُرکتازیاں کرنے کے لیے محض فضول اور لایعنی طریقے سے چھوڑ دیا جائے، اور اس سے کبھی یہ باز پرس نہ ہو کہ دل و دماغ اور جسم کی جو قوتیں اس کی دی گئی تھیں، دنیا میں کام کرنے کے لیے جو وسیع ذرائع اس کے حوالے کیے گئے تھے، اور خدا کی بے شمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات اسے دیے گئے تھے،ان کو اس نے کس طرح استعمال کیا۔ جس نظام کائنات میں سب کچھ با مقصد ہے، اس میں صرف انسان جیسی عظیم مخلوق کی تخلیق کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے ! جس نظام میں ہر چیز مبنی بر حکمت ہے اس میں تنہا ایک انسان ہی کی تخلیق کیسے فضول اور عبث ہو سکتی ہے؟ مخلوقات کی جو اقسام عقل و شعور نہیں رکھتیں ان کی  تخلیق کی مصلحت تواسی عالم طبعی میں پوری ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر وہ اپنی مدت عمر ختم ہونے کے بعد ضائع کر دی جائیں تو یہ عین معقول بات ہے، کیونکہ انہیں کوئی اختیارات دیے ہی نہیں گئے ہیں  کہ ان سے محاسبے کا کوئی سوال پیدا ہو۔ مگر عقل و شعور اور اختیارات رکھنے والی مخلوق، جس کے افعال محض عالم طبیعت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اخلاقی نوعیت بھی رکھتے ہیں، اور جس کے اخلاقی نتائج پیدا کرنے والے اعمال کا سلسلہ محض زندگی کی آخری ساعت تک ہی نہیں چلتا بلکہ مرنے کے بعد بھی اس پر اخلاقی نتائج مترتب ہوتے رہتے ہیں، اسے صرف اس کا طبعی کام ختم ہو جانے کے بعد نباتات و حیوانات کی طرح کیسے ضائع کیا جا سکتا ہے؟ اس نے تو اپنے اختیار و ارادہ سے جو نیکی یا بدی بھی کی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک  بمعنی و انصاف جزاء اس کو لازماً ملنی ہی چاہیے، کیونکہ یہ اس مصلحت کا بنیادی تقاضا ہے جس کے تحت دوسری مخلوقات کے برعکس اس کو ایک ذی اختیار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس سے محاسبہ نہ ہو، اس کے اخلاقی اعمال پر جزاء و سزانہ ہو، اور اس کو بھی بے اختیار مخلوقات کی طرح عمر طبعی ختم ہونے پر ضائع کر دیا جائے، تو لامحالہ اس کی تخلیق سراسر عبث ہو گی، اور ایک حکیم سے فعل عبث کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اس کے علاوہ آخرت اور  جزاء و سزا کے وقوع پر ان چار مظاہر کائنات کی قسم کھانے کی ایک اور وجہہ بھی ہے۔ منکرین آخرت زندگی بعد موت کو جس بنا پر غیر ممکن سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جب مر کر خاک میں رل مل جائیں گے اور ہمارا ذرہ ذرہ جب زمین میں منتشر ہو جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ سارے منتشر اجزائے جسم پھر اکٹھے ہو جائیں اور ہمیں دو بارہ بنا کر کھڑا کیا جائے۔ اس شبہ کی غلطی ان چاروں مظاہر کائنات پر غور کرنے سے خود بخود رفع ہو جاتی ہے جنہیں آخرت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورج کی شعاعیں روئے زمین کے ان تمام ذخائر آپ پر اثر انداز ہوتی ہیں جن گی ان کی حرارت پہنچتی ہے۔ اس عمل سے پانی کے بے حد و حساب قطرے اڑ جاتے ہیں اور اپنے مخزن میں باقی نہیں رہتے۔ مگر وہ فنا نہیں  ہو جاتے بلکہ بھاپ بنکر ایک ایک قطرہ ہوا میں محفوظ رہتا ہے۔ پھر جب خدا کا حکم ہوتا ہے تو یہ ہوا ان قطروں کی بھاپ کو سمیٹ لاتی ہے،اس کو کثیف بادلوں کی شکل میں جمع کرتی ہے، ان بادلوں کے لے کر روئے زمین کے مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے، اور خدا کی طرف سے جو وقت مقرر ہے ٹھیک اسی وقت ایک ایک قطرے کو اسی شکل میں جس میں وہ پہلے تھا، زمین پر واپس پہنچا دیتی ہے۔ یہ منظر جو آئے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے، اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ مرے ہوئے انسانوں کے اجزائے جسم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر جمع ہو سکتے ہیں اور ان انسانوں کو اسی شکل میں پھر اُٹھا کھڑا کیا جا سکتا ہے جس میں وہ پہلے موجود تھے۔ یہ اجزا خواہ مٹی میں ہوں، یا پانی میں، یا ہوا میں، بہر حال رہتے اسی زمین اور اس کے ماحول ہی میں ہیں۔ جو خدا پانی کے بخارات کو ہوا میں منتشر ہو جانے کے بعد پھر اسی ہوا کے ذریعہ سے سمیٹ لاتا ہے اور انہیں پھر پانی کی شکل میں برسا دیتا ہے، اس کے لیے انسانی جسموں کے بکھرے ہوئے اجزاء کو ہوا، پانی اور مٹی میں سے سمیٹ لاتا اور پھر سابق شکلوں میں جمع کر دینا آخر کیوں مشکل ہو؟

۵۔ اصل میں لفظ ذاتِالْحُبُکِ استعمال ہوا ہے۔ حبُک راستوں کو بھی کہتے ہیں۔ ان لہروں کو بھی کہتے ہیں جو ہوا چلنے ریگستان کی ریت اور ٹھیرے ہوئے پانی میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور گھونگھر والے بالوں میں جو لٹیں سی بن جاتی ہیں ان کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں آسمان کو حُبک والا یا تو اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ آسمان پر اکثر طرح طرح کی شکلوں والے بادل چھائے رہتے ہیں جن میں ہوا کے اثر سے بار بار تغیر ہوتا ہے اور کبھی کوئی شکل نہ خود قائم رہتی ہے، نہ کسی دوسری شکل سے مشابہ ہوتی ہے۔ یا اس بنا پر فرمایا گیا ہے کہ رات کے وقت آسمان پر جب تارے بکھرے ہوتے ہیں تو آدمی دیکھتا ہے کہ ان کی بہت سے مختلف شکلیں ہیں اور کوئی شکل دوسری شکل سے نہیں ملتی۔

۶۔ اس اقوال پر متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یعنی جس طرح آسمان کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت  بھانت کی بولیاں بول رہے ہو اور ہر ایک بات دوسرے سے مختلف ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ دنیا ازلی و ابدی ہے اور کوئی قیامت برپا نہیں ہو سکتی۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ نظام حادث ہے اور ایک وقت میں یہ جا کر ختم بھی ہو سکتا ہے، مگر انسان سمیت جو چیز بھی فنا ہو گئی، پھر اس کا اعادہ ممکن نہیں ہے۔ کوئی اعادے کو ممکن مانتا ہے، مگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے اچھے اور برے نتائج بھگتنے کے لیے بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔ کوئی جنت اور جہنم کا بھی قائل ہے، مگر اس کے ساتھ تناسُخ کو بھی ملاتا رہتا ہے، یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ گناہ گار جہنم میں بھی جا کر سزا بھگتتا ہے اور پھر اس دنیا میں بھی سزا پانے کے لیے جنم لیتا رہتا ہے۔ کوئی کہاتا ہے کہ دنیا کی زندگی خود ایک عذاب ہے جب تک انسان کے نفس کو مادی زندگی سے لگاؤ باقی رہتا ہے اس وقت تک وہ اس دنیا میں مر مر کر پھر جنم لیتا رہتا ہے، اور اس کی حقیقی نجات (نِروان) یہ ہے کہ وہ بالکل فنا ہو جائے۔ کوئی آخرت اور جنت و جہنم کا قائل ہے، مگر کہتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو صلیب پر موت دے کر انسان کے ازلی گناہ کا کفارہ ادا کر دیا ہے، اور اس بیٹے پر ایمان لا کر آدمی اپنے اعمال بد کے برے نتائج سے بچ جائے گا۔ کچھ دوسرے لوگ آخرت اور جزا و سزا، ہر چیز کو مان کر بعض سیسے بزرگوں کو شفیع تجویز کر لیتے ہیں جو اللہ کے ایسے پیارے ہیں، یا اللہ کے ہاں ایسا زور رکھتے ہیں کہ جو ان کا دامن گرفتہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر کے بھی سزا سے جچ سکتا ہے۔ ان بزرگ ہستیوں کے بارے میں بھی اس عقیدے کے ماننے والوں میں اتفاق نہیں ہے،بلکہ ہر ایک گروہ نے اپنے الگ الگ شفیع بنا رکھے ہیں۔ یہ اختلاف اقوال خود ہی اس امر کا ثبوت ہے وحی و رسالت سے بے نیاز ہو کر انسان نے اپنے اور اس دنیا کے انجام پر جب بھی کوئی رائے قائم کی ہے،علم کے بغیر قائم کی ہے۔ ورنہ اگر انسان کے پاس اس معاملہ میں فی الواقع براہ راست علم کا کوئی ذریعہ ہوتا تو اتنے مختلف اور متضاد عقیدے پیدا نہ ہوتے۔

۷۔ اصل الفاظ ہیں یُؤْفَکْ عَنْہُ مَنْاُفِکَ اس فقرے میں عَنْہُ کی ضمیر کے دو مرجع ہو سکتے ہیں۔ ایک جزائے اعمال۔ دوسرے قول مختلف۔پہلی صورت میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ’’ جزائے اعمال کو تو ضرور پیش آنا ہے، تم لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کے مختلف عقیدے رکھتے ہو، مگر اس کو ماننے سے وہی شخص برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے۔’’ دوسرے صورت میں مطلب یہ ہے کہ ’’ ان مختلف اقوال سے وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جو دراصل حق سے برگشیہ ہے ‘‘

۸۔ ان الفاظ میں قرآن مجید ایک اہم حقیقت پر انسان کو متنبہ کر رہی ہے۔ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی اندازہ کرنا یا تخمینہ لگانا، دنیوی زندگی کے چھوٹے چھوٹے  معاملات میں تو کسی حد تک چل سکتا ہے، اگر چہ علم کا قائم مقام پھر بھی نہیں ہو سکتا، لیکن اتنا بڑا بنیادی مسئلہ کہ ہم اپنی پوری زندگی کے اعمال کے لیے کسی کے سامنے ذمہ دار و جواب دہ ہیں یا نہیں، اور ہیں تو کس کے سامنے، کب اور کیا جوابدہی ہمیں کرنی ہو گی، اور اس جوابدہی میں کامیابی و ناکامی کے نتائج کیا ہوں گے، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے متعلق آدمی محض اپنے قیاس و گمان کے مطابق ایک اندازہ قائم کر لے اور پھر اسی جوئے کے داؤں پر اپنا تمام سرمایہ حیات لگا دے۔ اس لیے کہ یہ اندازہ اگر غلط نکلے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آدمی نے اپنے کو بالکل تباہ و برباد کر لیا۔ مزید براں یہ مسئلہ سرے سے ان مسائل میں سے ہے ہی نہیں جن کے بارے میں آدمی محض قیاس اور ظن و تخمین سے کوئی صحیح رائے قائم کر سکتا ہو۔کیونکہ قیاس ان امور میں چل سکتا ہے جو انسان کے دائرہ محسوسات میں شامل ہوں، اور یہ مسئلہ ایسا ہے جس کا کائی پہلو بھی محسوسات کے دائرے میں نہیں آتا۔لہٰذا یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قیاسی اندازہ صحیح ہو سکے۔ اب رہا یہ سوال کہ بھی آدمی کے لیے ان ماورائے حس و ادراک مسائل کے بارے میں رائے قائم کرنے کی صحیح صورت کیا ہے، تو اس کا جواب قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ دیا گیا ہے، اور خود اس سورہ سے بھی یہی جواب مترشح ہوتا ہے کہ(۱) انسان براہ راست خود حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، (۲) حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی ذریعہ سے دیتا ہے، اور (۳) اس علم کی صحت کے متعلق آدمی اپنا اطمینان اس طریقہ سے کر سکتا ہے کہ زمین اور آسمان اور خود اس کے اپنے نفس میں جو بے شمار نشانیاں موجود ہیں ان پر غائر نگاہ ڈال کر دیکھے اور پھر بے لاگ طرز پر سوچے کہ یہ نشانیاں آیا اس حقیقت کی شہادت دے رہی ہیں جو نبی بیان کر رہا ہے، یا ان مختلف نظریات کی تائید کرتی ہیں جو دوسرے لوگوں نے اس کے بارے میں پیش کیے ہیں؟ خدا اور آخرت کے متعلق علمی تحقیق کا یہی ایک طریقہ ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اس سے ہٹ کر جو بھی اپنے قیاسی اندازوں پر چلا وہ مارا گیا۔

۹۔ یعنی انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ اپنے ان غلط اندازوں کی وجہ سے وہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ان اندازوں کی بنا پر جو راستہ بھی کسی نے اختیار کیا ہے وہ سیدھا تباہی کی طرف جاتا ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہے وہ سرے سے کسی جوابدہی کی تیاری ہی نہیں کر رہا ہے اور اس خیال میں مگن ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسرے زندگی نہیں ہو گی، حالانکہ اچانک وہ وقت آ جائے گا جب اس کی توقعات کے بالکل خلاف دوسری زندگی میں اس کی آنکھیں کھلیں گی، اور اسے معلوم ہو گا کہ یہاں اس کو اپنے ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ جو شخص اس خیال میں ساری عمر کھپا رہا ہے کہ مر کر پھر اسی دنیا میں واپس آؤں گا اسے مرتے معلوم ہو جائے گا کہ اس واپسی کے سارے دروازے بند ہیں، کسی نئے عمل سے پچھلی زندگی کے اعمال کی تلافی کا اب کوئی موقع نہیں،اور آگے ایک اور زندگی ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسے اپنی دنیوی زندگی کے نتائج دیکھنے اور بھگتنے ہیں۔ جو شخص اس امید میں اپنے آپ کو ہلاک کیے ڈالتا ہے کہ نفس اور اس کی خواہشات کو جب پوری طرح مار دوں گا تو فنائے محض کی شکل میں مجھے عذاب ہستی سے نجات مل جائے گی، وہ موت کے دروازے سے گزرتے ہی دیکھ لے گا کہ آگے فنا نہیں بلکہ بقا ہے اور اسے اب اس امر کی جوابدہی کرنی ہے کہ کیا تجھے وجود کی نعمت اسی لیے دی گئی تھی کہ تو اسے بنانے اور سنوارنے کے بجائے مٹانے میں اپنی ساری محنتیں صرف کر دیتا؟ اسی طرح جو شخص کسی ابن اللہ کے کفارہ بن جانے یا کسی بزرگ ہستی کے شفیع بن جانے پر بھروسہ کر کے عمر پھر خدا کی نا فرمانیاں کرتا رہا اسے خدا کے سامنے پہنچتے ہی پتہ چل جائے گا کہ یہاں نہ کوئی کسی کا کفارہ ادا کرنے والا ہے اور نہ کسی میں یہ طاقت ہے کہ اپنے زور سے یا اپنی محبوبیت کے صدقے میں کسی کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ پس یہ تمام قیاسی عقیدے در حقیقت ایک افیون ہیں جس کی پینگ میں یہ لوگ بے سدھ پڑے ہوئے ہیں اور انہیں کچھ خبر نہیں ہے کہ خدا اور نبیاء کے دیے ہوئے صحیح علم کو نظر انداز کر کے اپنی جس جہالت پر یہ مگن ہیں وہ انہیں کدھر لیے جا رہی ہے۔

۱۰۔ کفارہ کا یہ سوال کہ روز جزاء کب آئے گا، علم حاصل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ طعن اور استہزاء کے طور پر تھا، اس لیے ان کو جواب اس اندازے سے دیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی شخص کو بد کرداریوں سے باز نہ آنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہیں کہ ایک روز ان حرکات کا را نتیجہ دیکھو گے، اور وہ اس پر ایک ٹھٹھا مار کر آپ سے پوچھے کہ حضرت، آخر وہ دن کب آئے گا؟ ظاہر ہے کہ اس کا یہ سوال اس بُرے انجام کی تاریخ معلوم کرنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی نصیحتوں کا مذاق اڑانے کے لیے ہو گا۔ اس لیے اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ وہ اس روز آئے گا جب تمہاری شامت آئے گی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آخرت کے مسئلے پر اگر کوئی منکر آخرت سنجیدگی کے ساتھ بحث کر رہا ہو تو وہ اس کے موافق و مخالف دلائل پر تو بات کر سکتا ہے، مگر جب تک اس کا دماغ بالکل ہی خراب نہ ہو چکا ہو، یہ سوال وہ کبھی نہیں کر سکتا بتاؤ، وہ آخرت کس تاریخ کو آئے گی۔اس کی طرف سے یہ سوال جب بھی ہو گا طنز اور تمسخر کے طور پر ہی ہو گا۔ اس لیے کہ آخرت کے آنے کی تاریخ بیان کرنے اور نہ کرنے کا کوئی اثر بھی اصل بحث پر نہیں پڑتا۔ کوئی شخص نہ اس بنا پر آخرت کا انکار کرتا ہے کہ اس کی آمد کا سال، مہینہ اور دن نہیں بتایا گیا ہے، اور نہ یہ سن کر اس کی آمد کو مان سکتا ہے کہ وہ فلاں سال فلاں مہینے کی  فلاں تاریخ کو آئے گی۔ تاریخ کا تعین سے کوئی دلیل ہی نہیں ہے کہ وہ کسی منکر کو اقرار پر آمادہ کر دے، کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پلے آخر کیسے یہ یقین کر لیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہو جائے گی۔

۱۱۔ فتنے کا لفظ یہاں دو معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اپنے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دوسرے معنی یہ کہ اپنے اس فتنے کا مزہ چکھو جو تم نے دنیا میں بر پا کر رکھا تھا۔ عربی زبان میں اس لفظ کے ان دونوں مفہوموں کی یکساں گنجائش ہے۔

۱۲۔ کفار کا یہ پوچھنا کہ ’’آخر وہ روز جزا کب آئے گا‘‘ اپنے اندر خود یہ مفہوم رکھتا تھا کہ اس کے آنے میں دیر کیوں لگ رہی ہے؟ جب ہم اس کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے جھٹلانے کی سزا ہمارے لیے لازم ہو چکی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتا؟ اسی لیے جہنم کی آگ میں جب وہ تپ رہے ہوں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ اس فقرے سے یہ مفہوم آپ سے آپ نکلتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ مہر بانی تھی کہ اس نے تم سے نافرمانی کا ظہور ہوتے ہی تمہیں  فوراً نہ پکڑ لیا اور سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے وہ تم کو ایک لمبی مہلت دیتا رہا۔ مگر تم ایسے احمق تھے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا یہ مطالبہ کرتے رہے کہ یہ وقت تم پر جلدی لے آیا جائے۔ اب دیکھ لو کہ وہ کیا چیز تھی جس کے جلدی آ جا نے کا مطالبہ تم کر رہے تھے۔

۱۳۔ اس سیاق و سباق میں لفظ متقی صاف طور پر یہ معنی دے رہا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی دی ہوئی خبر پر یقین لا کر آخرت کو مان لیا، اور وہ رویہ اختیار کر لیا جو حیات اخروی کی کامیابی کے لیے انہیں  بتایا گیا تھا، اور اس روش سے اجتناب کیا جس کے متعلق انہیں بتا دیا گیا تھا کہ یہ خدا کے عذاب میں مبتلا کرنے والی ہے۔

۱۴۔ اگر چہ اصل الفاظ ہیں اٰخِذِیْنَ مَآاٰتٰہُمْ رَبّھُُمْ، اور ان کا لفظی ترجمہ  صرف یہ ہے کہ ’’ لے رہے ہوں گے جو کچھ ان کے رب نے ان کو دیا ہو گا‘‘، لیکن موقع و محل کی مناسبت سے اس جگہ ’’لینے ‘‘ کا مطلب محض ’’لینا‘‘ نہیں بلکہ خوشی خوشی لینا ہے، جیسے کچھ لوگوں کو ایک سخی داتا مٹھیاں بھر بھر کر انعام دے رہا ہو اور وہ لپک لپک اسے لے رہے ہوں۔ جب کسی شخص کو اس کی پسند کی چیز دی جائے تو اس لینے میں آپ سے آپ بخوشی قبول کرنے کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ اَلَمْ یَعْلَموٓا اَنَّ اللہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عَبَا دِہٖ سَیَأ خُذُ الصَّدَقَاتِ۔ (التوبہ۔۱۰۴)۔ ’’ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے۔‘‘ اس جگہ صدقات لینے سے مراد محض ان کو وصول کرنا نہیں بلکہ پسندیدگی کے ساتھ ان کو قبول کرنا ہے۔

۱۵۔ مفسرین کے ایک گروہ  نے اس آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ وہ رات بھر سو کر گزار دیں اور اس کا کچھ نہ کچھ حصہ، کم یا زیادہ، ابتدائے شب میں یا وسط شب میں یا آخر شب میں، جاگ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف نہ کریں۔ یہ تفسیر تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ حضرات ابن عباس، انس بن مالک، محمد الباقر، مطرف بن عبداللہ، ابولعالیہ، مجاہد، قتادہ، ربیع بن انس وغیرہم سے منقول ہے۔ دوسرے گروہ نے اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ وہ اپنی راتوں کا زیادہ حصہ اللہ جل شانہ کی عبادت میں گزارتے تھے اور کم سوتے تھے۔ یہ قول حضرات حسن بصری، اَحنف بن قیس، اور ابن شِہاب زُہری کا ہے، اور بعد کے مفسرین و مترجمین نے اسی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ اور موقع و محل کے لحاظ سے یہی تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی نظر آتی ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمے میں یہی معنی اختیار کیے ہیں۔

۱۶۔ یعنی وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو اپنی راتیں فوق و فجور اور فواحش میں گزارتے رہے اور پھر بھی کسی استغفار کا خیال تک انہیں نہ آیا۔ اس کے برعکس ان کا حال یہ تھا کہ رات کا اچھا خاصا حصہ عبادت الٰہی میں صرف کر دیتے تھے اور پھر بھی پچھلے پہروں میں اپنے رب کے حضور معافی مانگتے تھے کہ آپ کی بندگی کا جو حق ہم پر تھا، اس کے ادا کرنے میں ہم سے تقصیر ہوئی۔ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کے الفاظ میں ایک اشارہ اس بات کی طرف بھی نکلتا ہے کہ یہ پرسش انہی کو زیبا تھی۔ وہی اس شان عبودیت کے اہل تھے کہ اپنے رب کی بندگی میں جان بھی لڑائیں اور پھر اس پر پھولنے اور اپنی نیکی پر فخر کرنے کے بجائے گڑ گڑا کر اپنی کوتاہیوں کی معافی بھی مانگیں۔ یہ ان بے شرم گناہ گاروں کا رویہ نہ ہو سکتا تھا جو گناہ بھی کرتے تھے۔اور اوپر سے اکڑتے بھی تھے۔

۱۷۔ بالفاظِ دیگر، ایک طرف اپنے رب کا حق وہ اس طرح پہچانتے اور ادا کرتے تھے، دوسری طرف بندوں کے ساتھ ان کا معاملہ یہ تھا۔ جو کچھ بھی اللہ نے ان کو دیا تھا، خواہ تھوڑا یا بہت، اس میں وہ صرف اپنا اور اپنے بال بچوں ہی کا حق نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کو یہ احساس تھا کہ ہمارے اس مال میں ہر اس بندہ خدا کا حق ہے جو ہماری مدد کا محتاج ہو۔ وہ بندوں کی مدد خیرات کے طور پر نہیں کرتے تھے کہ اس پر ان سے شکریہ کے طالب ہوتے اور ان کو اپنا زیر بار احسان ٹھیراتے، بلکہ وہ اسے ان کا حق سمجھتے تھے اور اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ پھر ان کی یہ خدمت خلق صرف انہی لوگوں تک محدود نہ تھی جو خود سائل بن کر ان کے پاس مدد مانگنے کے لیے آتے، بلکہ جس کے متعلق بھی ان کے علم میں یہ بات آ جاتی تھی کہ وہ اپنی روزی پانے سے محروم رہ گیا ہے اس کی مدد کے لیے وہ خود بے چین ہو جاتے تھے۔ کوئی یتیم بچہ جو بے سہارا رہ گیا ہو، کوئی بیوہ جس کا کوئی سر دھرا نہ ہو، کوئی معذور جو اپنی روی کے لیے ہاتھ پاؤں نہ مار سکتا ہو، کوئی شخص جس کا روز گار چھوٹ گیا ہو یا جس کی کمائی اس کی ضروریات کے لیے کافی نہ ہو رہی ہو، کوئی شخص جو کسی آفت کا شاکر ہو گیا ہو اور اپنے نقصان کی تلافی خود نہ کر سکتا ہو، غرض کوئی حاجت مند ایسا نہ تھا جس کی حالت ان کے علم میں آئی ہو اور وہ اس کی دستگیری کر سکتے ہوں، اور پھر بھی انہوں نے اس کا حق مان کر اس کی مدد کرنے سے دریغ کیا ہو۔

یہ تین صفات ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو متقی اور محسن قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہی صفات نے ان کو جنت کا مستحق بنایا ہے۔ ایک یہ کہ آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے ہر اس روش سے پرہیز کیا جسے اللہ اور اس کے رسول نے اُخروی زندگی کے لیے تباہ کن بتایا تھا۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق اپنی جان لڑا کر ادا کیا اور اس پر فخر کرنے کے بجائے استغفار ہی کرتے رہے۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے اللہ کے بندوں کی خدمت ان پر احسان سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض اور ان کا حق سمجھ کر کی۔

اس مقام پر یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ اہل ایمان کے اموال میں سائل اور محروم کے جس حق  کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد زکوٰۃ نہیں ہے جسے شرعاً ان پر فرض کر دیا گیا ہے، بلکہ یہ وہ حق ہے جو زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی ایک صاحب استطاعت مومن اپنے مال میں کود محسوس کرتا ہے اور اپنے دل کی رغبت سے اس کو ادا کرتا ہے بغیر اس کے کہ شریعت نے اسے لازم کیا ہو۔ ابن عباس، مجاہد اور زید بن اسلم وغیرہ بزرگوں نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے۔ در حقیقت اس ارشاد الٰہی کی اصل روح یہ ہے کہ ایک متقی و محسن انسان کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتا کہ خدا اور اس کے بندوں کا جو حق میرے مال میں تھا، زکوٰۃ ادا کر کے میں اس سے بالکل سبکدوش ہو چکا ہوں، اب میں نے اس بات کا کوئی ٹھیکہ نہیں لے لیا ہے کہ ہر ننگے، بھوکے، مصیبت زدہ آدمی کی مدد کرتا پھروں۔ اس کے بر عکس جو اللہ کا بندہ واقعی متقی و محسن ہوتا ہے وہ ہر وقت ہر اس بھلائی کے لیے جو اس کے بس میں ہو، دل و جان سے تیار رہتا ہے اور جو موقع بھی اسے دنیا میں کوئی نیک کام کرنے کے لیے ملے اسے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس کے سوچنے کا یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ جو نیکی مجھ پر فرض کی گئی تھی وہ میں کر چکا ہوں، اب مزید نیکی کیوں کروں؟ نیکی کی قدر جو شخص پہچان چکا ہو وہ اسے بار سمجھ کر برداشت نہیں کرتا بلکہ اپنے ہی نفع کا سودا سمجھ کر زیادہ سے زیادہ کمانے کا حریص ہو اتا ہے۔

۱۸۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو آخرت کے امکان اور اس کے وجوب و لزوم کی شہادت دے رہی ہیں۔ زمین کا اپنا وجود اور اس کی ساخت، اس کا سورج سے ایک خاص فاصلے پر اور ایک خاص زاویے پر رکھا جانا، اس پر حرارت اور روشنی کا انتظام، اس پر مختلف موسموں کی آمد و رفت، اس کے اوپر ہوا اور پانی کی فراہمی، اس کے پیٹ میں طرح طرح کے بے شمار خزانوں کا مہیا کیا جانا، اس کی سطح پر ایک زر خیز چھلکا چڑھایا جانا، اس میں قسم قسم کی بے حد و حساب نباتات کا اگایا جانا، اس کے اندر خشکی اور تری اور ہوا کے جانوروں کی بے شمار نسلیں جاری کرنا، اس میں ہر نوع کی زندگی کے لیے مناسب حالات اور موزوں خوراک کا انتظام کرنا، اس پر انسان کو وجود میں لانے سے پہلے وہ تمام ذرائع و وسائل فراہم کر دینا جو تاریخ کے ہر مرحلے میں اس کی روز افزوں ضروریات ہی کا نہیں بلکہ اس کی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا ساتھ بھی دیتے چلے جائیں، یہ اور دوسری ان گنت نشانیاں ایسی ہیں کہ دیدۂ بینا رکھنے والا جس طرف بھی زمین اور اس کے ماحول میں نگاہ ڈالے وہ اس کا دامن دل کھینچ لیتی ہیں۔ جو شخص یقین کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کر چکا ہو اس کی بات تو دوسری ہے۔ وہ ان میں اور سب کچھ دیکھ لے گا، بس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے والی کوئی نشانی ہی نہ دیکھے گا۔ مگر جس کا دل تعصب سے پاک اور سچائی کے لیے کھلا ہوا ہے وہ ان چیزوں کو دیکھ کر ہر گز یہ تصور قائم نہ کرے گا کہ یہ سب کچھ کسی اتفاقی دھماکے کے کا نتیجہ ے جو کئی ارب سال پہلے کائنات میں اچانک برپا ہوا تھا، بلکہ اسے یقین آ جائے گا کہ یہ کمال درجے کی حکیمانہ صنعت ضرور ایک قادر مطلق اور دانا و بینا خدا کی تخلیق ہے، اور وہ خدا جس نے یہ زمین بنائی ہے نہ اس بات سے عاجز ہو سکتا ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کر دے، اور نہ ایسا نادان ہو سکتا ہے کہ اپنی زمین میں عقل و شعور رکھنے والی ایک مخلوق کو اختیارات دے کر بے نتھے بیل کی طرح چھوڑ دے۔ اختیارات کا دیا جانا آپ سے آپ محاسبے کا تقاضا کرتا ہے، جو اگر نہ ہو تو حکمت اور انصاف کے خلاف ہو گا۔ اور قدرت مطلقہ کا پایا جانا خود بخود اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں نوع انسانی کا کام ختم ہونے کے بعد اس کا خالق جب چاہے محاسبے کے لیے اس کے تمام افراد کو زمین کے ہر گوشے سے، جہاں بھی وہ مرے پڑے ہوں، اٹھا کر لا سکتا ہے۔

۱۹۔ یعنی باہر دیکھنے کی بھی حاجت نہیں، خود اپنے اندر دیکھو تو تمہیں اسی حقیقت پر گواہی دینے والی بے شمار نشانیاں مل جائیں گی۔ کس طرح ایک خورد بینی کیڑے اور ایسے ہی ایک خورد بینی انڈے کو ملا کر ماں کے ایک گوشۂ جسم میں تمہاری تخلیق کی بنا ڈالی گئی۔ کس طرح تمہیں اس تاریک گوشے میں پرورش کر کے بتدریج بڑھایا گیا۔ کس طرح تمہیں ایک بے نظیر ساخت کس جسم اور حیرت انگیز قوتوں سے مالا مال نفس عطا کیا گیا۔ کس طرح تمہاری بناوٹ کی تکمیل ہوتے ہی شکم مادر کی تنگ و تاریک دنیا سے نکال کر تمہیں اس وسیع و عریض دنیا میں اس شان کے ساتھ لایا گیا کہ ایک زبردست خود کار  مشین تمہارے اندر نصب ہے جو روز پیدائش سے جوانی اور بڑھاپے تک سانس لینے، غذا ہضم کرنے، خون بنانے اور رگ رگ میں اس کو دوڑانے، فضلات خارج کرنے، تحلیل شدہ اجزائے جسم کی جگہ دوسرے اجزاء تیار کرنے، اور اندر سے پیدا ہونے والی یا باہر سے آنے والی آفات کا مقابلہ کرنے اور نقصانات کی تلافی کرنے، حتیٰ کہ تھکاوٹ کے بعد تمہیں آرام کے لیے سلا دینے کا تک کا کام خود بخود کیے جاتی ہے بغیر اس کے کہ تمہاری توجہات اور کوششوں کا کوئی حصہ زندگی کی ان بنیادی ضروریات پر صرف ہو۔ ایک عجیب دماغ تمہارے کاسۂ سر میں رکھ دیا گیا ہے جس کی پیچیدہ تہوں میں عقل، فکر، تخیُّل، شعور، تمیز، ارادہ، حافظہ، خواہش، احساسات و جذبات، میلانات و رجحانات، اور دوسری ذہنی قوتوں کی ایک انمول دولت بھری پڑی ہے۔ بہت سے ذرائع علم تم کو دیے گئے ہیں جو آنکھ، ناک،کان اور پورے جسم کی کھال سے تم کو ہر نوعیت کی اطلاعات بہم پہنچاتے ہیں۔ زبان اور گویائی کی طاقت تم کو دے دی گئی ہے جس کے ذریعہ سے تم اپنے ما فی  الضمیر کا اظہار کر سکتے ہو۔ اور پھر تمہارے وجود کی اس پوری سلطنت پر تمہاری اَنا کو ایک رئیس بنا کر بٹھا دیا گیا ہے کہ ان تمام قوتوں سے کام لے کر رائیں قائم کرو اور یہ فیصلہ کرو کہ تمہیں کن راہوں میں اپنے اوقات،محنتوں اور کوششوں کو صرف کرنا ہے، کیا چیز رد کرنی ہے اور کیا قبول کرنی ہے، کس چیز کو اپنا مقصود بنانا ہے اور کس کو نہیں بنانا۔

یہ ہستی بنا کر جب تمہیں دنیا میں لایا گیا تو ذرا دیکھو کہ یہاں آتے ہی کتنا سرو سامان تمہاری پرورش، نشو نما، اور ترقی و تکمیل ذات کے لیے تیار تھا جس کی بدولت تم زندگی کے ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر اپنے ان اختیارات کو استعمال کرنے کے قابل ہو گئے۔

ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے زمین میں تم کو ذرائع دیے گئے۔ مواقع فراہم کیے گئے۔ بہت سی چیزوں پر تم کو تصرف کی طاقت دی گئی۔ بہت سے انسانوں کے ساتھ تم نے طرح طرح کے معاملات کیے۔ تمہارے سامنے کفر و ایمان، فسق و طاعت، ظلم و انصاف، نیکی و بدی، ح و باطل کی تمام راہیں کھلی ہوئی تھیں، اور ان راہوں میں سے ہر ایک کی طرف بلانے والے اور ہر ایک کی طرف لے جانے والے اسباب موجود تھے۔ تم میں سے جس نے جس راہ کو بھی انتخاب کی اپنی ذمہ داری پر گیا، کیوں کہ فیصلہ و انتخاب کی طاقت اس کے اندر ودیعت تھی۔ ہر ایک کے اپنے ہی انتخاب کے مطابق اس کی نیتوں اور ارادوں کو عمل میں لانے کے جو مواقع اس کو حاصل ہوئے ان سے فائدہ اٹھا کر کوئی بیک بنا اور کوئی بد، کسی نے ایمان کی راہ اختیار کی اور کسی نے کفر و شرک یا دہریت کی راہ لی، کسی نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا اور کوئی بندگی نفس میں سب کچھ کر گزرا، کسی نے ظلم کیا اور کسی نے ظلم سہا، کسی نے حقوق ادا کیے اور کسی نے حقوق مارے، کسی نے مرتے دم تک دنیا میں بھلائی کی اور کوئی زندگی کی آخری ساعت تک بُرائیاں کرتا رہا، کسی نے حق کا بول بالا کرنے کے لیے جان لڑائی، اور کوئی باطل کو سر بلند کرنے کے لیے اہل حق پر دست درازیاں کرتا رہا۔

اب کیا کوئی شخص جس کی ھیے کی آنکھیں بالکل ہی پھوٹ نہ گئی ہوں، یہ کہہ سکتا ہے کہ اس طرح کی ایک ہستی زمین پر اتفاقاً وجود میں آ گئی ہے؟ کوئی حکمت اور کوئی منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما نہیں ہے؟ زمین پر اس کے ہاتھوں یہ سارے ہنگامے جو بر پا ہو رہے ہیں سب بے مقصد ہیں اور بے نتیجہ ہی ختم ہو جانے والے ہیں؟ کسی بھلائی کا کوئی ثمرہ اور کسی بدی کا کوئی پھل نہیں؟ کسی ظلم کی کوئی داد اور کسی ظالم کی کوئی باز پرس نہیں؟ اس طرح کی باتیں ایک عقل کا اندھا تو کہ سکتا ہے، یا پھر وہ شخص کہہ سکتا ہے جو پہلے سے قسم کھائے بیٹھا ہے کہ تخلیق انسان کے پیچھے کسی حکیم کی حکمت کو نہیں ماننا ہے۔ مگر ایک غیر متعصب صاحب عقل آدمی یہ مانے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انسان کو جس طرح، جن قوتوں اور قابلیتوں کے ساتھ اس دنیا میں پیدا کیا گیا ہے اور جو حیثیت اس کو یہاں دی گئی ہے وہ یقیناً ایک بہت بڑا حکیمانہ منصوبہ ہے، اور جس خدا کا یہ منصوبہ ہے اس کی حکمت لازماً یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس ہو، اور اس کی قدرت کے بارے میں یہ گمان کرنا درست نہیں ہو سکتا کہ جس انسان کو وہ ایک خورد بینی خلیے سے شروع کر کے اس مرتبے تک پہنچا چکا ہے اسے پھر وجود میں نہ لا سکے گا۔

۲۰۔ آسمان سے مراد یہاں علام بالا ہے۔ رزق سے مراد وہ سب کچھ جو دنیا میں انسان کو جینے اور کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور مَاتُوْعَدُوْنَ  سے مراد قیامت، حشر و نشر، محاسبہ و باز پرس، جزا و سزا، اور جنت و دوزخ ہیں جن کے رونما رہنے کا وعدہ تمام کتب آسمانی میں اور اس قرآن میں کیا جاتا رہا ہے۔ ارشاد الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا ہی سے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ تم میں سے کس کو کیا کچھ دنیا میں دیا جائے، اور وہیں سے یہ فیصلہ بھی ہونا ہے کہ تمہیں باز پرس اور جزائے اعمال کے لیے کب بلایا جائے۔

 

ترجمہ

 

اے نبیؐ(۲۱)، ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے (۲۲)؟ جب وہ اس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے۔ اس نے کہا ’’ آپ لوگوں کو بھی سلام ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ ناآشنا سے لوگ ہیں(۲۳)‘‘۔ پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا(۲۴)، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا (۲۵) لا کر مہمانوں کے آگے پیش کیا۔ اس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟ پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا(۲۶)۔ انہوں نے کہا ڈریے نہیں، اور اسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا(۲۷)۔ یہ سن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی،’’بوڑھی، بانجھ! (۲۸)‘‘ انہوں نے کہا ’’یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔‘‘(۲۹)

ابراہیم نے کہا ’’ اے فرسادگان الہٰی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے (۳۰)؟ انہوں نے کہا’’ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (۳۱) تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہاں حد  سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں ‘‘(۳۲)۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر (۳۳) ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو ابستی میں مومن تھے، اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا(۳۴)۔ اس کے بعد ہم نے وہاں نس ایک نشانی ان لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں(۳۵)۔

اور )تمہارے لیے نشانی ہے ) موسیٰ کے قصے میں۔ جب ہم نے اسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا(۳۶) تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے (۳۷)۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا (۳۸)۔

اور (تمہارے لیے نشانی ہے ) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی کہ سن چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا(۳۹)۔

اور (تمہارے لیے نشانی ہے )ثمود میں، جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو(۴۰) مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب (۴۱) نے  ان کو آ لیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے (۴۲)۔  اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔ع

 

تفسیر

 

۲۲۔ یہ قصہ قرآن مجید میں تین مقامات پر پلے گزر چکا ہے۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص ۳۵۳ تا ۳۵۵، ۵۰۹ تا ۵۱۱۔ جلد سوم، ص ۶۹۶۔

۲۳۔ سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود ان مہمانوں سے فرمایا کہ آپ حضرات سے کبھی پہلے شرف نیاز حاصل نہیں ہوا، آپ شاید اس علاقے میں نئے نئے تشریف لائے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان کے سلام کا جواب دے کر حضرت ابراہیم نے اپنے دل میں کہا، یا گھر میں ضیافت کا انتظام کرنے کے لیے جاتے ہوئے اپنے خادموں سے فرمایا کہ یہ کچھ اجنبی سے لوگ ہیں، پہلے کبھی اس علاقے میں اس شان اور وضع قطع کے لوگ دیکھنے میں نہیں آئے۔

۲۴۔ یعنی اپنے مہمانوں سے یہ نہیں کہا کہ میں آپ کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہوں بلکہ انہیں بٹھا کر خاموشی سے ضیافت کا انتظام کرنے چلے گئے، تاکہ مہمان تکلفاً یہ نہ کہیں کہ اس تکلیف کی کیا حاجت ہے۔

۲۵۔ سورہ ہود میں عِجْلٍ حَنِیْذٍ (بھنے ہوئے بچھڑے ) کے الفاظ ہیں۔ یہاں بتایا گیا کہ آپ نے خوب چھانٹ کر موٹا تازہ بچھڑا بھنوایا تھا۔

۲۶۔ یعنی جب ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھے تو حضرت ابراہیمؑ کے دل میں خوف پیدا ہوا۔ اس خوف کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اجنبی مسافروں کا کسی کے گھر جا کر کھانے سے پرہیز کرنا، قبائلی زندگی میں اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ہو کسی برے ارادے سے آئے ہیں۔ لیکن اغلب یہ ہے کہ ان کے اس اجتناب ہی سے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں، اور چونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا بڑے  غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے اس لیے آپ کو خوف لا حق ہوا کہ کوئی خوفناک معاملہ در پیش ہے جس کے لیے یہ حضرات اس شان سے تشریف لائے ہیں۔

۲۷۔ سورہ ہود میں تصریح ہے کہ یہ حضرت اسحاق سے ان کو حضرت یعقوب علیہ السلام جیسا پوتا نصیب ہو گا۔

۲۸۔ یعنی ایک تو میں بوڑھی، اوپر سے بانجھ۔ اب میرے ہاں بچہ ہو گا؟ بائیبل کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیمؑ کی عمر سو سال، اور حضرت سارہ کی عمر ۹۰ سل تھی (پیدائش،۱۸:۱۷ )۔

۲۹۔ اس قصے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس بندے نے اپنے رب کی بندگی کا حق دنیا میں ٹھیک ٹھیک ادا کیا تھا، اس کے ساتھ عقبیٰ میں تو جو معاملہ ہو گا سو ہو گا، اسی دنیا میں اس کے یہ انعام دیا گیا کہ عام قوانین طبیعت کی رو سے جس عمر میں اس کے ہاں اولاد پیدا نہ ہو سکتی تھی، او ر اسے کی سن رسیدہ بیوی تمام عمر بے اولاد رہ کر اس طرف سے قطعی مایوس ہو چکی تھی، اس وقت اللہ نے اسے نہ صرف اولاد دی بلکہ ایسی بے نظیر اولاد دی و آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا انسان ایسا نہیں ہے جس کی نسل میں مسلسل چار انبیاء پیدا ہوئے ہوں۔ وہ صرف حضرت ابراہیم ہی تھے جن کے ہاں تین پشت تک نبوت چلتی رہی اور حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام جیسے جلیل القدر نبی ان کے گھرانے سے اٹھے۔

۳۰۔ چونکہ فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا کسی بڑے اہم کام کے لیے ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی آمد کا مقصد پوچھنے کے لیے خطب کا لفظ استعمال فرمایا۔ خَطْب عربی زبان میں کسی معمولی کام کے لیے نہیں بلکہ کسی امر عظیم کے لیے بولا جاتا ہے۔

۳۱۔ مراد ہے قوم لوط۔ اس کے جرائم اس قدر بڑھ چکے تھے کہ صرف ’’مجرم قوم‘‘ کا لفظ ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اس سے مراد کون سی قوم ہے۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر اس کا ذکر گزر چکا ہے : تفہیم القرآن، جلد دوم، ص ۵۱ تا ۵۳۔ ۳۵۵ تا ۳۵۹۔ ۵۱۰ تا ۵۱۵۔ جلد سوم، ص، ۱۷۰۔ ۵۲۶ تا ۵۳۰۔ ۵۸۶۔ ۵۸۷۔۵۹۴ تا ۵۹۸۔ جلد چہارم، الصافات، ص ۳۰۶۔

۳۲۔ یعنی ایک ایک پتھر پر آپ کے رب کی طرف سے نشان لگا دیا گیا ہے کہ اسے کس مجرم کی سرکوبی کرنی ہے۔ سورہ ہود اور الحجر میں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ شدید زلزلے کے اثر  سے پورا علاقہ الٹ دیا گیا، اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے ان کو آتش فشاں مادے کے پتھروں کی بارش نے ختم کر دیا۔

۳۳۔ بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے یہ فرشتے کس طرح حضرت لوط کے ہاں پہنچے اور وہاں ان کے اور قوم لوط کے درمیان کیا کچھ پیش آیا۔ یہ تفصیلات سورہ ہود، الحجر اور العنکبوت میں گزر چکی ہیں۔ یہاں صرف اس آخری وقت کا ذکر کیا جا رہا ہے جب اس قوم پر عذاب نازل ہونے والا تھا۔

۳۴۔ یعنی پوری قوم میں، اور اس کے پورے علاقے میں صرف ایک گھر تھا جس میں ایمان و اسلام کی روشنی پائی جاتی تھی، اور وہ تنہا حضرت لوط علیہ السلام کا گھر تھا۔ باقی پوری قوم فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی تھی، اور اس کا سارا ملک گندگی سے لبریز ہو چکا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ایک گھر کے لوگوں کو بچا کر نکال لیا اور اس کے بعد اس ملک پر وہ تباہی نازل کی جس سے اس بد کار قوم کا کوئی فرد بچ کر نہ جا سکا۔

اس آیت میں تین اہم مضامین بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا قانون مکافات اس وقت تک کسی قوم کی کامل تباہی کا فیصلہ نہیں کرتا جب تک اس میں کچھ قابل لحاظ بھلائی موجود رہے۔ برے لوگوں کی اکثریت کے مقابلے میں اگر ایک قلیل عنصر بھی ایسا پایا جاتا ہو جو بدی کو روکنے اور نیکی کے راستے کی طرف بلانے کے لیے کوشاں ہو تو اللہ تعالیٰ اسے کام کرنے کا موقع دیتا ہے اور اس قوم کی مہلت میں اضافہ کرتا رہتا ہے جو ابھی خیر سے بالکل خالی نہیں ہوئی ہے۔ مگر جب حالت یہ ہو جائے کہ کسی قوم کے اندر آٹے میں نمک کے برابر بھی خیر باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو دو چار نیک انسان اس کی بستیوں میں بُرائی کے خلاف لڑتے لڑتے تھک کر عاجز آ چکے ہوں انہیں وہ اپنی قدرت سے کسی نہ کسی طرح بچا کر نکال دیتا ہے اور باقی لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو ہر ہوش مند مالک اپنے سڑے ہوئے پھلوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

دوسرے یہ کہ ’’مسلمان‘‘ صرف اسی امت کا نام نہیں ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیرو ہے، بلکہ آپ سے پہلے کے تمام انبیاء اور ان کے پیرو بھی مسلمان ہی تھے۔ ان کے ادیان الگ الگ نہ تھی کہ کوئی دین ابراہیمی ہو اور کوئی موسوی اور کوئی عیسوی۔ بلکہ وہ سب مسلم تھے اور ان کا دین یہی اسلام تھا۔ قرآن مجید میں یہ حقیقت جگہ جگہ اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے مثال کے طور پر حسب ذیل آیات ملاحظہ ہوں: البقرہ، ۱۲۸، ۱۳۱،۱۳۳،۔ آل عمران، ۶۷۔ المائدہ،۴۴،۱۱۱۔ یونس، ۷۲،۸۴،۔یوسف، ۱۰۱۔الاعراف، ۱۲۸۔ انمل ۳۱،۴۲،۴۴۔

تیسرے یہ کہ ’’مومن‘‘ اور ’’مسلم‘‘ کے الفاظ اس آیت میں بالکل ہم معنی استعمال ہوئے ہیں۔ اس آیت کو اگر سورہ حجرات کی آیت ۱۴ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو ان لوگوں کے خیال کی غلطی پوری طرح واضح ہو جاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ’’مومن‘‘ اور ’’مسلم‘‘ قرآن مجید کی دو ایسی مستقل اصطلاحیں ہیں جو ہر جگہ ایک ہی مفہوم کے لیے استعمال ہوئی ہیں اور ’’مسلم‘‘ لازماً اُسی شخص کو کہتے ہیں جو ایمان کے بغیر محض بظاہر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ حجرات، حاشیہ ۷۳۱۔

۳۵۔ اس نشانی سے مراد بحیرۂ مُردار(Dead Sea) ہے جس کا جنوبی علاقہ آج بھی ایک عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ قوم لوط کے بڑے شہر غالباً شدید زلزلے سے زمین کے اندر دھنس گئے تھے اور ان کے اوپر بحیرۂ مُردار کا پانی پھیل گیا تھا، کیونکہ اس بحیرے کا وہ حصہ جو ’’للِّسان‘‘ نامی چھوٹے سے جزیرہ نما کے جنوب میں واقع ہے، صاف طور پر بعد کی پیداوار معلوم ہوتا ہے اور قدیم بحیرۂ مُردار کے جو آثار اس جزیرہ نما کے شمال تک نظر آتے ہیں وہ جنوب میں پائے جانے والے آثار سے بہت مختلف ہیں۔ اس سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ جنوب کا حصہ پہلے اس بحیرے کی سطح سے بلند تھا، بعد میں کسی وقت دھنس کر اس کے نیچے چلا گیا۔ اس کے دھنسنے کا زمانہ بھی دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ معلوم ہوتا ہے، اور یہی تاریخی طور پر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوط کا زمانہ ہے۔ ۱۹۶۵ ء میں آثار قدیمہ کی تلاش کرنے والی ایک امریکی جماعت کو للسان پر ایک بہت بڑا قبرستان ملا ہے جس میں ۲۰ ہزار سے زیادہ قبریں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قریب میں کوئی بڑا شہر ضرور آباد ہو گا۔ مگر کسی ایسے شہر کے آثار آس پاس کہیں موجود نہیں ہیں جس سے متصل اتنا بڑا قبرستان بن سکتا ہو۔ اس سے بھی یہ شبہ تقویت پاتا ہے کہ جس شہر کا یہ قبرستان تھا وہ بحیرے میں غرق ہو چکا ہے۔ بحیرے کے جنوب میں جو علاقہ ہے اس میں اب بھی ہر طرف تباہی کے آثار موجود ہیں اور زمین میں گندھک، رال، کول تار اور قدرتی گیس کے اتنے ذخائر پائے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ کسی وقت بجلیوں کے گرنے سے یا زلزلے کا لاوا نکلنے سے یہاں ایک جہنم پھٹ پڑی ہو گی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، حاشیہ ۱۱۴)۔

۳۶۔ یعنی ایسے صریح معجزات اور ایسی کھلی کھلی علامات کے ساتھ بھیجا جن سے یہ امر مشتبہ نہ رہا تھا کہ آپ خالق ارض و سما کی طرف سے مامور ہو کر  آئے ہیں۔

۳۷۔ یعنی کبھی اس نے آپؑ کو ساحر قرار دیا، اور کبھی کہا کہ یہ شخص مجنون ہے۔

۳۸۔ اس چھوٹے سے فقرے میں تاریخ کی ایک پوری داستان سمیٹ دی گئی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ذرا چشم تصور کے سامنے یہ نقشہ لے آئیے کہ فرعون اس وقت دنیا کے سب سے بڑے مرکز تہزیب و تمدن کا عظیم فرما نروا تھا جس کی شوکت و سطوت سے گرد و پیش کی ساری قومیں خوف زدہ تھیں۔ ظاہر بات ہے کہ وہ جب اپنے لشکروں سمیت اچانک ایک روز غرقاب ہوا ہو گا تو صرف مصر ہی میں نہیں، آس پاس کی تمام قوموں میں اس واقعہ کی دھوم مچ گئی ہو گی۔ مگر اس پر بجز ان لوگوں کے جن کے اپنے قریبی رشتہ دار غرق ہوئے تھے، باقی کوئی نہ تھا جوان کے اپنے ملک میں، یا دنیا کی دوسری قوموں میں ماتم کرتا یا ان کا مثیہ کہتا، یا کم از کم یہی کہنے والا ہوتا کہ افسوس، کیسے اچھے لوگ تھے جو اس حادثہ کے شکار ہو گئے۔ اس کے بجائے، چونکہ دنیا ان کے ظلم سے تنگ آئی ہوئی تھی، اس لیے ان کے عبرتناک انجام پر ہو شخص نے اطمینان کا سانس لیا، ہر زبان نے ان پر ملامت کی پھٹکار برسائی، اور جس نے بھی اس خبر کو سنا وہ پکار اٹھا کہ یہ ظالم اسی انجام کے مستحق تھے۔ سورہ دخان میں اسی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآءُ وَا لْاَرْضُ، ’’پھر نہ آسمان ان پر رویا نہ زمین ‘‘۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ دخان، حاشیہ ۲۵ )۔

۳۹۔ اس ہوا کے لیے لفظ عقیم استعمال ہوا ہے جو بانجھ عورت کے لیے بولا جاتا ہے، اور لغت میں اس کے اصل معنی یا بِس (خشک) کے ہیں۔ اگر اسے لغوی معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ لوگا یہ وہ ایسی سخت گرم و خشک ہو تھی کہ جس چیز پر سے وہ گزر گئی اسے سکھا کر رکھ دیا۔ اور اگر اسے محاورے کے مفہوم میں لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بانجھ عورت کی طرح وہ ایسی ہوا تھی جو اپنے اندر کوئی نفع نہ رکھتی تھی۔ نہ خوشگوار تھی، نہ بارش لانے والی، نہ درختوں کو بار آور کرنے والی، اور نہ ان فائدوں میں سے کوئی فائدہ اس میں تھا جن کے لیے ہوا کا چلنا مطلوب ہوتا ہے۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ صرف بے خیر اور خشک ہی نہ تھی بلکہ نہایت شدید آندھی کی شکل میں آئی تھی جس نے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا، اور یہ مسلسل آٹھ دن اور سات راتوں تک چلتی رہی، یہاں تک کہ قوم عاد کے پورے علاقے کو اس نے تہس نہس کر کے رکھ دیا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ حٰم السجدہ، حواشی نمبر ۲۰۔۲۱۔ الاحقاف، حواشی نمبر ۲۵ تا ۲۸)۔

۴۰۔ مفسرین میں اس امر پر اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون سی مہلت ہے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ یہ اشارہ سورہ ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے جب حضرت صالح کی اونٹنی کو ہلاک کر دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خردار کر دیا گیا کہ تین دن تک مزے کر لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال ہے کہ یہ بات حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے فرمائی تھی اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ و ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہو سکے گی اور اس کے بعد تمہاری شامت آ جائے گی۔ ان دونوں تفسیروں میں سے دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بعد کی آیت فَعَتَوْ ا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ (پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی)یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے وہ سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہ کے بعد کی۔اس کے برعکس سورہ ہود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہو جانے کے بعد دی گئی تھی۔

۴۱۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں اسے رَجْرہ (دہلا دینے والی اور ہلا مارنے والی آفت) کہا گیا ہے۔ کہیں اس کی صیحہ (دھماکے اور کڑکے ) سے تعبیر کیا گیا ہے۔کہیں اس کے لیے طاغیہ (انتہائی شدید آفت) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں اسی کو صاعقہ کہا گیا ہے جس کے معنی بجلی کی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کے بھی ہیں اور سخت کڑک کے بھی۔ غالباً یہ عذاب ایک ایسے زلزلے کی شکل میں آیا تھا جس کے ساتھ خوفناک آواز بھی تھی۔

۴۲۔ اصل الفاظ ہیں مَاکَا نُوْا مُنْتَصِرِیْنَ۔ انتصار کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے حملہ سے بچانا۔ اور دوسرے معنی ہیں حملہ کرنے والے سے بدلہ لینا۔

 

ترجمہ

 

(۴۳) آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنا یا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں(۴۴)۔ زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں (۴۵)۔ اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں(۴۶) شاید کہ تم اس سے سبق لو(۴۷)۔ پو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبر دار کرنے والا ہوں۔ اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں(۴۸)

یونہی ہوتا رہا ہے، ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون(۴۹)۔ کیا نا سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے۔؟ نہیں، بکہ ی سب سرکش لوگ ہیں(۵۰)۔ پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو،تم پر کچھ ملامت نہیں (۵۱)۔ البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع(۵۲)۔

میں نے جِن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں(۵۳)۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور ہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں (۵۴)۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست(۵۵)۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے (۵۶) ان کے حصہ کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے۔ جیسا انہی جسے لوگوں کو ان کے حصے کامل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے۔ع

 

تفسیر

 

۴۳۔ آخرت کے حق میں تاریخی دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر اسی کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔

۴۴۔ اصل الفاظ ہیں وَاِنَّا لَمُوْ سِعُوْنَ۔ موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں اور وسیع کرنے والے کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ آسمان ہم نے کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے زور سے بنایا ہے اور اس کی تخلیق ہماری مقدرت سے باہر نہ تھی۔ پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آ گیا کہ ہم تمہیں دو بارہ پیدا نہ کر سیکیں گے؟ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔ ایسی زبردست خلاق ہستی کو آخر تم نے اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے؟

۴۵۔ اس کی تشریح حاشیہ ۱۸ میں گزر چکی ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حاشیہ ۷۴۔ جلد چہارم، تفسیر سورہ یٰس،حاشیہ ۲۹۔ الزخْرف، حواشی ۷ تا ۱۰۔

۴۶۔ یعنی دنیا کی تمام اشیاء تزویج کے اصول کے اصول پر بنائی گئی ہیں۔ یہ سارا کارخانہ علام اس قاعدے پر چل رہا ہے کہ بعض چیزوں کا بعض چیزوں سے جوڑا لگتا ہے اور پھر ان کا جوڑ لگنے ہی سے طرح طرح کی ترکیبات وجود میں آتی ہیں۔ یہاں کوئی شے بھی ایسی منفرد نہیں ہے کہ دوسری کوئی شے اس کا جوڑ نہ ہو، بلکہ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ (مزید تشریح  کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس، حاشیہ ۳۱۔ الزخرف، حاشیہ ۱۲)۔

۴۷۔ مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات کا تزویج کے اصول پر بنا یا جانا، اور دنیا کی تمام اشیاء کا زَوج زَوج ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو آخرت کے وجوب پر صریح شہادت دے رہی ہے۔ اگر تم غور کرو تو اس سے خود تمہاری عقل یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز کا ایک جوڑا ہے، اور کوئی چیز اپنے جوڑے سے ملے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتی، تو دنیا کی یہ زندی کیسے بے جوڑ ہو سکتی ہے؟ اس کا جوڑا لازماً آخرت ہے۔ وہ نہ ہو تو یہ قطعاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔

آگے مضمون کو سمجھنے کے لیے اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر چہ یہاں تک ساری بحث آخرت کے موضوع پر چلی آ رہی ہے، لیکن اسی بحث اور انہی دلائل سے توحید کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ بارش کا انتظام، زمین کی ساخت، آسمان کی تخلیق، انسان کا اپنا وجود، کائنات میں قانون تزویج کی حیرت انگیز کار فرمائی، یہ ساری چیزیں جس طرح آخرت کے امکان و وجوب پر گواہ ہیں اسی طرح یہی اس بات کی شہادت بھی دے رہی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ ایک خدائے حکیم و قادر مطلق ہی اس کا خالق اور مالک اور مدبر ہے۔ اس لیے آگے انہی دلائل کی بنیاد پر توحید کی دعوت پیش کی جا رہی ہے۔ علاوہ بریں آخرت کو ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا سے بغاوت کا رویہ چھوڑ کر اطاعت و بندگی کی راہ اختیار کرے۔ وہ خدا سے اسی وقت تک پِھرا رہتا ہے جب گی ہو اس غفلت میں مبتلا رہتا ہے کہ میں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں اور اپنی دنیوی زندگی کے اعمال کا کوئی حساب مجھے کسی کو دینا نہیں ہے۔ یہ غلط فہمی جس وقت بھی رفع ہو جائے، اس کے ساتھ ہی فوراً آدمی کے ضمیر میں یہ احساس ابھر آتا ہے کہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر وہ بڑی باری غلطی کر رہا تھا اور یہ احساس اسے خدا کی طرف پلٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اسی بنا پر آخرت کے دلائل ختم کرتے ہی معاً بعد یہ فرمایا گیا ’’پس دوڑو اللہ کی طرف‘‘۔

۴۸۔ یہ فقرے اگرچہ اللہ ہی کا کلام ہیں مگر ان میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ گویا بات در اصل یوں ہے کہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کہلوا رہا ہے کہ دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہیں اس کی طرف سے خبردار کرتا ہوں۔ اس طرز کلام کی مثال قرآن کی اولین سورۃ، یعنی سورہ فاتحہ میں موجود جس میں کلام تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے مگر متکلم کی حیثیت سے بندے عرض کرتے ہیں: اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّا کَ نَسْتَعِیْنُ، اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ جس طرح وہاں یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ ’’ اے اہل ایمان تم اپنے رب سے یوں دعا مانگو‘‘، مگر فَحوائے کلام سے خود بخود یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ ایک دعا ہے جو اللہ اپنے بندوں کو سکھا رہا ہے، اسی طرح یہاں بھی یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ ’’ اے نبی تم ان لوگوں سے کہو‘‘، مگر فحوائے کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ توحید کی ایک دعوت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و سلم پیش کر رہے ہیں۔ سورہ فاتحہ کے علاوہ اس طرز کلام کی اور بھی متعدد نظیریں قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں کلام تو اللہ ہی کا ہوتا ہے مگر متکلم کہیں فرشتے ہوتے ہیں اور کہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم،اور اس امر کی تصریح کے بغیر کہ یہاں متکلم کون ہے، سیاق عبارت سے خود بخود یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ اللہ اپنا یہ کلام کس کی زبان سے ادا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ مریم ۶۴۔ ۶۵۔ الصافات ۱۵۹ تا ۱۶۷۔ الشوریٰ ۱۰۔

۴۹۔ یعنی آج پہلی مرتبہ ہی یہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کی زبان سے آخرت کی خبر اور توحید کی دعوت سن کر لوگ اسے ساحر اور مجنون کہہ رہے ہیں۔ رسالت کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ جب سے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے رسول آنے شروع ہوئے ہیں، آج تک جاہل لوگ اسی ایک حماقت کا پوری یکسانی کے ساتھ اعادہ کیے چلے جا رہے ہیں۔ جس رسول نے بھی آ کر خبر دار کیا کہ تم بہت سے خداؤں کے بندے نہیں ہو بلکہ صرف ایک ہی خدا تمہارا خالق و معبود اور تمہاری قسمتوں کا مالک و مختار ہے، جاہلوں نے شور مچا دیا کہ یہ جادوگر ہے جو اپنے افسوں سے ہماری عقلوں کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ جس رسول نے بھی آ کر خبر دار کیا کہ تم غیر ذمہ دار بنا کر دنیا میں نہیں چھوڑ دیے گئے ہو بلکہ اپنا کارنامۂ حیات ختم کرنے کے بعد تمہیں اپنے خالق و مالک کے سامنے حاضر ہو کر اپنا حساب دینا ہے اور اس حساب کے نتیجہ میں اپنے اعمال کی جزا و سزا پائی ہے، نادان لوگ چیخ اٹھے کہ یہ پاگل ہے، اس کی عقل ماری گئی ہے، بھلا مرنے کے بعد ہم کہیں دوبارہ بھی زندہ ہو سکتے ہیں؟

۵۰۔ یعنی یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہزارہا برس تک ہر زمانے میں مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگوں کا دعوت انبیاء کے مقابلے میں ایک ہی رویہ اختیار کرنا، اور ایک ہی طرح کی باتیں ان کے خلاف بنانا کچھ اس بنا پر تو نہ ہو سکتا تھا کہ ایک کانفرنس کر کے ان سب اگلی اور پچھلی نسلوں نے آپس میں یہ طے کر لیا ہو کہ جب کوئی نبی آ کر یہ دعوت پیش کرے تو اس کا یہ جواب دیا جائے۔ پھر ان کے رویے کی یہ یکسانی اور ایک ہی طرز جواب کی یہ مسلسل تکرار کیوں ہے؟ اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ طغیان و سرکشی ان سب کا مشترک وصف ہے۔ چونکہ ہر زمانے کے جاہل لوگ خدا کی بندگی سے آزاد اور اس کے محاسبہ سے بے خوف ہو کر دنیا میں شُتر بے مہار کی طرح جینے کے خواہاں رہے ہیں، اس لیے اور صرف اسی لیے جس نے بھی ان کو خدا کی بندگی اور خدا ترسانہ زندگی کی طرف بلایا اس کو وہ ایک ہی لگا بندھا جواب دیتے رہے۔

اس ارشاد سے ایک اور اہم حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ضلالت اور ہدایت، نیکی اور بدی ظلم اور عدل اور ایسے ہی دوسرے اعمال کے جو محرکات نفسِ انسانی میں بالطبع موجود ہیں ان کا ظہور ہمیشہ ہر زمانے میں اور زمین کے ہر گوشے میں ایک ہی طرح ہوتا ہے، خواہ ذرائع و وسائل کی ترقی سے اس کی شکلیں بظاہر کتنی ہی مختلف نظر آتی ہوں۔ آج کا انسان خواہ ٹینکوں اور ہوائی جہازوں اور ہائیڈروجن بموں کے ذریعہ سے لڑے اور قدیم زمانے کا انسان چاہے پتھروں اور لاٹھیوں سے لڑتا ہو، مگر انسانوں کے درمیان جنگ کے بنیادی محرکات میں سر مُو فرق نہیں آیا ہے۔ اسی طرح آج کا ملحد اپنے الحاد کے لیے دلائل کے خواہ کتنے ہی انبار لگاتا رہے، اس کے اس راہ پر جانے کے محرکات بعینہٖ وہی ہیں جو آج سے ۶ ہزار برس پہلے کے کسی ملحد کو اس طرف لے گئے تھے، اور بنیادی طور پر وہ اپنے استدلال میں بھی اپنے سابق پیشواؤں سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

۵۱۔ اس آیت میں دین کی تبلیغ کا ایک قاعدہ بیان فرمایا گیا ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ایک داعی حق جب کسی شخص کے سامنے معقول دلائل کے ساتھ اپنی دعوت صاف صاف پیش کر دے اور اس کے شبہات و اعتراضات اور دلائل کا جواب بھی دے دے تو حق واضح کرنے کا جو فرض اس کے ذمے تھا اس سے وہ سبکدوش ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ شخص اپنے عقیدہ و خیال پر جما رہے تو اس کی کوئی ذمہ داری داعی حق پر عائد نہیں ہوتی۔ اب کچھ ضرور نہیں کہ وہ اسی شخص کے پیچھے پڑا رہے، اسی سے بحث میں اپنی عمر کھپائے چلا جائے، اور اس کا کام بس یہ رہ جائے کہ اس ایک آدمی کو کسی نہ کسی طرح اپنا ہم خیال بنانا ہے۔ داعی اپنا فرض ادا کر چکا۔وہ نہیں مانتا تو نہ مانے۔ اس کی طرف التفات نہ کرنے پر داعی کو یہ الزام نہیں دیا جا سکتا کہ تم نے ایک آدمی کو گمراہی میں مبتلا رہنے دیا، کیونکہ اب اپنی گمراہی کا وہ شخص خود ذمہ دار ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے یہ قاعدہ اس لیے بیان نہیں کیا گیا ہے کہ معاذ اللہ آپ اپنی تبلیغ میں بیجا طریقے سے لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے روکنا چاہتا تھا۔ در اصل اس کے بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک داعی حق جب کچھ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معقول طریقے سے سمجھانے کا حق ادا کر چکتا ہے اور ان کے اندر ضد اور جھگڑالو  پن کے آثار دیکھ کر ان سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے اور اس پر الزام رکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ واہ صاحب، آپ اچھے دعوت حق کی علمبردار ہیں،ہم آپ سے بات سمجھنے کے لیے بحث کرنا چاہتے ہیں، اور آپ ہماری طرف التفات نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کا مقصد بات کو سمجھنا نہیں ہے بلکہ اپنی بحثا بحثی میں داعی کو الجھانا اور محض اس کی تضیع اوقات کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام پاک میں بالفاظ صریح یہ فرما دیا کہ ’’ ایسے لوگوں کی طرف التفات نہ کرو، ان سے بے التفاتی کرنے پر تمہیں کوئی ملامت نہیں کی جا سکتی‘‘۔ اس کے بعد کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ الزام نہیں دے سکتا تھا کہ جو کتاب آپ لے کر آئے ہیں اس کی رو سے تو آپ ہم کو اپنا دین سمجھانے پر مامور ہیں، پھر آپ ہماری باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے۔

۵۲۔ اس آیت میں تبلیغ کا دوسرا کا دوسرا قاعدہ بیان کیا گیا ہے۔ دعوت حق کا اصل مقصد ان سعید روحوں تک ایمان کی نعمت پہنچانا ہے جو اس نعمت کی قدر شناس ہوں اور اسے خود حاصل کرنا چاہیں۔ مگر داعی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسانی معاشرے کے ہزاروں لاکھوں افراد میں وہ سعید روحیں کہاں ہیں۔ اس لیے اس کا کام یہ ہے کہ اپنی دعوت عام کا سلسلہ برابر جاری رکھے تا کہ جہاں جہاں بھی ایمان قبول کرنے والے افراد موجود ہوں وہاں اس کی آواز پہنچ جائے۔ یہی لوگ اس کی اصل دولت ہیں۔ انہی کی تلاش اس کا اصل کام ہے۔ اور انہی کو سمیٹ سمیٹ کر خدا کے راستے پر لا کھڑا کرنا اس کے پیش نظر ہونا چاہیے۔ بیچ میں اولاد آدم کا جو فضول عنصر اس کو ملے اس کی طرف بس اسی وقت تک داعی کو توجہ کرنی چاہیے جب تک اسے تجربے سے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ جنس کا سد ہے۔ اس کے کساد و فساد کا تجربہ ہو جانے کے بعد اسے پھر اپنا قیمتی وقت اس جنس کے لوگوں پر ضائع نہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اس کی تذکیر سے نفع اٹھانے والے ہیں۔

۵۳۔ یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ میری بندگی تو ان کو اس لیے کرنی چاہیے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اس کی بندگی کریں، اور ان کے لیے یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ بندگی کرتے پھریں دوسروں کی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف جنوں اور انسانوں ہی کا خالق تو نہیں ہے۔ بلکہ سارے جہان اور اس کی ہر چیز کا خالق ہے، پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے ان کو اپنے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے؟ حالانکہ مخلوقات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی کی بندگی کے لیے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین پر صرف جن اور انسان ایسی مخلوق ہیں جن کو یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا چاہیں تو کریں، درد وہ بندگی سے منہ بھی کوڑ سکتے ہیں، اور اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی بھی کر سکتے ہیں۔ دوسری جتنی مخلوقات بھی اس دنیا میں ہیں وہ اس نوعیت کی کوئی آزادی نہیں رکھتیں۔ ان کے لیے سرے سے کوئی دائرہ اختیار ہے ہی نہیں کہ وہ اس میں اللہ کی بندگی نہ کریں یا کسی اور کی بندگی کر سکیں۔ اس لیے یہاں صرف جنوں اور انسانوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیار کے حدود میں اپنے خالق کی اطاعت و عبودیت سے منہ موڑ کر، اور خالق کے سوا دوسروں کی بندگی کر کے خود اپنی فطرت سے لڑ رہے ہیں، ان کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ خالق کے سوا کسی کی بندگی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں اور ان کے لیے سیدھی راہ یہ ہے کہ جو آزادی انہیں بخشی گئی ہے اسے غلط استعمال نہ کریں بلکہ اس آزادی کے حدود میں بھی خود پنی مرضی سے اسی طرح خدا کی بندگی کریں جس طرح ان کے جسم کا رونگٹا رونگٹا ان کی زندگی کے غیر اختیاری حدود میں اس کی بندگی کر رہا ہے۔

عبادت کا لفظ اس آیت میں محض نماز روزے اور اسی نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لے لے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور تسبیح و تہلیل کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ مفہوم بھی اگر چہ اس میں شامل ہے، مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ سوا کسیاور کی پرستش،اطاعت، فرمانبرداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں۔ ان کا کام کسی اور کے سامنے جھکنا، کسی اور کے احکام بجا لانا، کسی اور سے تقویٰ کرنا، کسی اور کے بنائے ہوئے دین کی پیروی کرنا، کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا، اور کسی دوسری ہوتی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ ۶۳۔ الزمر، حاشیہ ۲۔ الجاثیہ، حاشیہ ۳۰۔

ایک اور بات جو ضمنی طور پر اس آیت سے صاف ظاہر ہوتی ہے  وہ یہ ہے کہ جن انسانوں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بالکل واضح ہو جاتی ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انسانوں ہی میں سے کچھ لوگوں کو قرآن میں جن کہا گیا ہے۔ اسی حقیقت پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات بھی ناقابل انکار شہادت بہم پہنچاتی ہیں (الانعام،۱۰۰،۱۲۸۔ الاعراف ۳۸، ۱۷۹، ہود ، ۱۱۹، الفجر ، ۲۷ تا ۳۳۔ بنی اسرائیل،،۸۸۔ الکہف، ۵۰۔ السجدہ، ۱۳۔سبا، ۴۱۔ صٓ، ۷۵،۷۷۔ حٰم السجدہ، ۲۵۔ الاحقاف، ۱۸۔ الرحمٰن، ۱۵،۳۹،۵۶۔(اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد،سوم، الانبیاء، حاشیہ ۲۱۔ النمل، حاشیہ ۲۳، ۴۵۔ جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ ۲۴)۔

۵۴۔ یعنی میری کوئی غرض جِنوں اور انسانوں سے اٹکی ہوئی نہیں ہے کہ یہ میری عبادت کریں گے تو میری خدائی چلے گی اور یہ میری بندگی سے منہ موڑ لیں گے تو میں خدا نہ رہوں گا۔ میں ان کی عبادت کا محتاج نہیں ہو بلکہ میری عبادت کرنا خود ان کی اپنی فطرت کا تقاضا ہے، اسی کے لیے یہ پیدا کیے گئے ہیں، اور اپنی فطرت سے لڑنے میں ان کا اپنا نقصان ہے۔

اور یہ جو فرمایا کہ ’’ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں‘‘، اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ خدا سے برگشتہ لوگ دنیا میں جن جن کی بندگی بجا لا رہے ہیں، وہ سب در حقیقت اپنے ان بندوں کے محتاج ہیں۔ یہ ان کی خدائی نہ چلائیں تو ایک دن بھی وہ نہ چلے۔ وہ ان کے رازق نہیں بلکہ الٹے یہ ان کو رزق پہنچاتے ہیں۔ وہاں ان کو نہیں کھلاتے بلکہ الٹے یہ ان کو کھلاتے ہیں۔ وہ ان کی جان کی محافظ نہیں بلکہ الٹے یہ ان کی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے لشکر یہ ہیں جن کے بل پر ان کی خدائی چلتی ہے۔ جہاں بھی ان جھوٹے خداؤں کی حمایت کرنے والے بندے نہ رہے، یا بندوں نے ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا وہاں ان کے سب ٹھاٹھ پڑے رہ گئے اور دنیا کی آنکھوں نے ان کی کسمپرسی کا حال دیکھ لیا۔ سارے معبودوں میں اکیلا ایک اللہ جل شانہ ہی وہ حقیقت معبود ہے جس کی خدائی اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے، جو اپنے بندوں سے کچھ لیتا نہیں بلکہ وہی اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے۔

۵۵۔ اصل میں لفظ ’’متین‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں مضبوط اور غیر متزلزل، جسے کوئی ہلا نہ سکتا ہو۔

۵۶۔ ظلم سے مراد یہاں حقیقت اور، صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ سیاق و سبا خود بتا رہا ہے کہ یہاں ظلم کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداوند عالم کے سوا دوسروں کی بندگی کر رہے ہیں، جو آخرت کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو دنیا میں غیر ذمہ دار سمجھ رہے ہیں، اور ان انبیاء کو جھٹلا رہے ہیں جنہوں نے ان کو حقیقت سے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے۔

۵۷۔ یہ جواب ہے کفار کے اس مطالبہ کا کہ وہ یوم الجزا کہاں آتے آتے رہ گیا ہے، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۵۲) سورہ الطور

 

نام

 

پہلے ہی لفظ ’’وَالطُّوْرِ ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین کی اندرونی شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ معظمہ کے اسی دور میں نازل ہوئی ہے جس میں سورہ ذاریات نازل ہوئی تھی۔ اس کی پڑھتے ہوئے یہ تو ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی، مگر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ظلم و ستم کی چکی زور شور سے چلنی شروع ہو گئی تھی۔

 

موضوع اور مباحث

 

اس کے پہلے رکوع کا موضوع آخرت ہے ۔ سورہ ذاریات میں اس کے امکان اور وجوب اور وقوع کے دلائل دیے جا چکے تھے ، اس لیے یہاں ان کا اعادہ نہیں کیا گیا ہے ، البتہ آخرت کی شہادت دینے والے چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے ساتھ یہ فر مایا گیا ہے کہ وہ یقیناً واقع ہو کر رہے گی اور کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اسے برپا ہونے سے روک دے ۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آئے گی تو اس کے جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہو گا، اور اسے مان کر تقویٰ کی روش اختیار کر لینے والے کس طرح اللہ کے انعامات سے سرفراز ہوں گے۔

اس کے بعد دوسرے رکوع میں سرداران قریش کے اس رویے پر تنقید کی گئی ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے ۔ وہ آپ کو کبھی کاہن، کبھی مجنون اور کبھی شاعر قرار دے کر عوام الناس کو آپ کے خلاف بہکاتے تھے تاکہ لوگ آپ کے لائے ہوئے پیغام کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ کریں ۔ وہ آپ کی ذات کو اپنے حق میں ایک بلائے ناگہانی سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ کوئی آفت ان پر نازل ہو جائے تو ہمارا ان سے پیچھا چھوٹے ۔ وہ آپ پر الزام لگاتے تھے کہ یہ قرآن آپ خود گھڑ گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کر رہے ہیں اور یہ معاذاللہ ایک فریب ہے جو آپ نے بنا رکھا ہے ۔ وہ بار بار طنز کرتے تھے کہ خدا کو نبوت کے لیے ملے بھی تو بس یہ صاحب ملے ۔ وہ آپ کی دعوت و تبلیغ سے ایسی بیزاری کا اظہار کرتے تھے جیسے آپ کچھ مانگنے کے لیے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے آپ سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ وہ آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچتے تھے کہ آپ کے خلاف کیا چال ایسی چلی جائے جس سے آپ کی اس دعوت کا خاتمہ ہو جائے۔ اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں اس امر کا کوئی احساس نہ تھا کہ وہ کیسے جاہلانہ عقائد میں مبتلا ہیں جن کی تاریکی سے لوگوں کو نکالنے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و سلم بالکل بے غرضانہ اپنی جان کھپا رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی رویے پر تنقید کرتے ہوئے پے در پے کچھ سوالات کیے ہیں جن میں سے ہر سوال یا تو ان کے کسی اعتراض کا جواب ہے یا ان کی کسی جہالت پر تبصرہ۔ پھر فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت کا قائل کرنے کے لیے کوئی معجزہ دکھانا قطعی لا حاصل ہے ، کیونکہ یہ ایسے ہٹ دھرم لوگ ہیں انہیں خواہ کچھ بھی دکھا دیا جائے، یہ اس کی کوئی تاویل کر کے ایمان لانے سے گریز کر جائیں گے ۔

اس رکوع کے آغاز میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان مخالفین و معاندین کے الزامات و اعتراضات کی پروا کیے بغیر اپنی دعوت و تذکیر کا کام مسلسل جاری رکھیں ، اور آخر میں بھی آپ کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ صبر کے ساتھ ان مزاحمتوں کا مقابلہ کیے چلے جائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آ جائے۔ اس کے ساتھ آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو دشمنان حق کے مقابلے میں اٹھا کر اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ برابر آپ کی نگہبانی کر رہا ہے ۔ جب تک اس کے فیصلے کی گھڑی آئے، آپ سب کچھ برداشت کرتے رہیں اور اپنے رب کی حمد و تسبیح سے وہ قوت حاصل کرتے رہیں جو ایسے حالات میں اللہ کا کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے ۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے طور کی(۱)، اور ایک ایسی کھلی کتاب کی جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے (۲)، اور آباد گھر کی(۳)، اور اونچی چھت کی (۴)، اور موجزن سمندر (۵) کی، کہ تیرے رب کا عذاب ضرور  واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں (۶)۔ وہ اس روز واقع ہو گا جب آسمان بری طرح ڈگمگا نے گا(۷) اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے ۔ تباہی ہے اس روز ان جھٹلانے والوں کے لیے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں (۹)۔ جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف ہے چال جائے گا اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ ’’ یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ، اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے (۱۰)ٍ؟ جاؤ اب جھلسو اس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے ، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے ۔

متقی لوگ (۱۱) وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ، لطف لے رہے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا، اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا(۱۲)۔ (ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو اور پیو مزے سے (۱۳) اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان سے بیاہ دیں گے (۱۴)۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی (جنت میں ) ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ۔  ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے (۱۶)۔ ہم ان کے ہر طرح کے پھل اور گوشت (۱۷)، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے ۔ وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یا وہ گوئی ہو گی نہ بد کرداری(۱۸)۔ اور ان کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے (۱۹)، ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے ) حالات پوچھیں گے ۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے (۲۰)، آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا(۲۱) کے عذاب سے بچا لیا۔ ہم پچھلی زندگی میں اسی سے دعائیں مانگتے تھے ، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے ۔ ع

 

تفسیر

 

ا۔ طُور کے اصل معنی پہاڑ کے ہیں ۔ اور الطور سے مراد وہ خاص پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔

۲۔ قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا ہوتا تھا انہیں کاغذ کے بجائے ہرن کی کھال پر لکھا جاتا تھا۔ یہ کھال خاص طور پر لکھنے ہی کے لیے رقیق جلد یا جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی اور اصطلاح میں اسے رَقّ کہا جاتا تھا۔ اہل کتاب بالعموم توراۃ،زَبور، انجیل اور صُحُف انبیاء کو اسی رَقّ پر لکھا کرتے تھے تاکہ طویل مدت تک محفوظ رہ سکیں ۔ یہاں کھلی کتاب سے مراد یہی مجموعہ کتب مقدسہ ہے جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھا۔ اسے ’’کھلی کتاب‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ نایاب نہ تھا، پڑھا جاتا تھا، اور بآسانی معلوم کیا جا سکتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔

۳۔ ’’ آباد گھر‘‘ سے مراد حضرت حسن بصری کے نزدیک بیت اللہ، یعنی خانہ کعبہ ہے جو کبھی حج اور عمرہ اور طواف و زیارت کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا۔ اور حضرت علی، ابن عباس، عِکرِمہ، مجاہد، قَتَادہ، ضحّاک، ابن زَید اور دوسرے مفسرین اس سے مراد وہ بیتِ معمور لیتے ہیں جس کا ذکر معراج کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے ، جس کی دیوار سے آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ٹک لگائے دیکھا تھا۔ مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ جس طرح خانہ کعبہ اہل زمین کے لیے خدا پرستوں کا مرکز  و مرجع ہے ، اسی طرح ہر آسمان میں اس کے باشندوں کے لیے ایسا ہی ایک کعبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے ایسی ہی مرکزیت رکھتا ہے ۔ ان ہی میں سے ایک کعبہ وہ تھا جس کی دیوار سے ٹیک لگائے حضرت ابراہیم علیہ السلام معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نظر آئے تھے ، اور اس سے حضرت ابراہیمؑ کی مناسبت فطری تھی کیونکہ آپ ہی زمین والے کعبہ کے بانی ہیں ۔ اس تشریح کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ دوسری تفسیر حضرت حسن بصری کی تفسیر کے خلاف نہیں پڑتی، بلکہ دونوں کو ملا کر ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں قَسم صرف زمین ہی کے کعبہ کی نہیں کھائی گئی ہے بلکہ اس میں ان تمام کعبوں کی قَسم بھی شامل ہے جو ساری کائنات میں موجود ہیں ۔

۴۔ اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جو زمین پر ایک قُبّے کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور یہاں یہ لفظ پورے عالم بالا کے لیے استعمال ہوا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ ’’قٓ‘‘، حاشیہ نمبر ۷)۔

۵۔ اصل میں لفظ اَلْبَحْرِالْمَسجُوْر استعمال ہوا ہے ۔ اس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں ۔ بعض مفسرین نے اس کو ’’ آگ سے بھرے ہوئے‘‘ کے معنی میں لیا ہے ۔ بعض اس کو فارغ اور خالی کے معنی میں لیتے ہیں جس کا پانی زمین میں اتر کر غائب ہو گیا ہو، بعض اسے محبوس کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ سمندر کو روک کر رکھا گیا ہے تاکہ اس کا پانی زمین میں اتر کر غائب بھی نہ ہو جائے اور خشکی پر چھا بھی نہ جائے کہ زمین کے سب باشندے اس میں غرق ہو جائیں ۔ بعض اسے مخلوط کے معنی میں لیتے ہیں جس کے اندر میٹھا اور کھاری، گرم اور سرد ہر طرح کا پانی آ کر مل جاتا ہے ۔ اور بعض اس کو لبریز اور موجزن کے معنی میں لیتے ہیں ۔ ان میں سے پہلے دو معنی تو موقع و محل سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے ۔ سمندر کی یہ دونوں کیفیات کہ اس کی تہ پھٹ کر اس کا پانی زمین کے اندر اتر جائے اور وہ آگ سے بھر جائے، قیامت کے وقت ظاہر ہوں گی، جیسا کہ سورہ تکویر آیت ۶، اور سورہ انفطار آیت ۳ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ آئندہ رونما ہونے والی کیفیات اس وقت موجود نہیں ہیں کہ ان کی قسم کھا کر آج کے لوگوں کو آخرت کے وقوع کا یقین دلایا جائے۔ اس لیے ان دو معنوں کو ساقط کر کے یہاں البحر المسجور کو محبوس، مخلوط، اور لبریز د موجزن کے معنی ہی میں لیا جا سکتا ہے ۔

۶۔ یہ ہے وہ حقیقت جس پر ان پانچ چیزوں کی قَسم کھائی گئی ہے ۔ رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے ۔ چونکہ یہاں اس پر ایمان لانے والے مخاطب نہیں ہیں بلکہ اس کا انکار کرنے والے مخاطب ہیں ، اور ان کے حق میں اس کا آنا عذاب ہی ہے ، اس لیے اس کو قیامت یا آخرت یا روز جزا کہنے کے بجائے’’ رب کا عذاب‘‘ کہا گیا ہے ۔اب غور کیجیے کہ اس کے وقوع پر وہ پانچ چیزیں کس طرح دلالت کرتی ہیں جن کی قَسم کھائی گئی ہے ۔

طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب و قاہر قوم کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا، اور یہ فیصلہ قانونِ طبیعی (Physical Law) کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اخلاقی(Moral Law ) اور قانون مکافات  (Law of Retribution) کی بنیاد پر تھا۔ اس لیے آخرت کے حق میں تاریخی استدلال کے طَور پر طُور کو بطور ایک علامت کے پیش کیا گیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل جیسی ایک بے بس قوم کا اٹھایا جانا اور فرعون جیسے ایک زبردست فرمانروا کا اپنے لشکروں سمیت غرق کر دیا جاتا، جس کا فیصلہ ایک سنسان رات میں دہ طُور پر کیا گیا تھا، انسانی تاریخ میں اس امر کی ایک نمایاں ترین مثال ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح انسان جیسی ایک ذی عقل و ذی اختیار مخلوق کے معاملہ میں اخلاقی محاسبے اور جزائے اعمال کا تقاضا کرتا ہے ، اور اس تقاضے کی تکمیل کے لیے ایک ایسا یوم الحساب ضروری ہے جس میں پوری نوع انسانی کو اکٹھا کر کے اس کا محاسبہ کیا جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ ذاریات، حاشیہ ۲۱)۔

کُتُب مُقدَّسہ کے مجموعے کی قَسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ خداوند عالم کی طرف سے دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے اور جو کتابیں بھی وہ لائے، ان سب نے ہر زمانے میں وہی ایک خبر دی ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم دے رہے ہیں ، یعنی یہ کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو ایک دن از سر تو زندہ ہو کر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا پانی ہے ۔ کوئی کتاب آسمانی کبھی ایسی نہیں آئی ہے جو اس خبر سے خالی ہو، یا جس نے انسان کو الٹی یہ اطلاع دی ہو کہ زندگی جو کچھ بھی ہے نس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اور انسان بس مر کر مٹی ہو جانے والا ہے جس کے بعد نہ کوئی حساب ہے کہ کتاب۔

بیت المعمور کی قَسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ خاص طور پر اہل عرب کے لیے اس زمانے میں خانہ کعبہ کی عمارت ایک ایسی کھلی نشانی تھی جو اللہ کے پیغمبروں کی صداقت پر اور اس حقیقت پر کہ اللہ جل شانہ کی حکمت بالغہ و قدرت قاہر ان کی پشت پر ہے ، صریح شہادت دے رہی تھی۔ ان آیات کے نزول سے ڈھائی ہزار برس پہلے بے آب و گیاہ اور خیر آباد پہاڑوں میں ایک شخص کسی لاؤ لشکر اور سر و سامان کے بغیر آتا ہے اور اپنی ایک بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو بالکل بے سہارا چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ پھر کچھ مدت بعد وہی شخص آ کر اس سنسان جگہ پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بناتا ہے اور پکار دیتا ہے کہ لوگو، آؤ اس گھر کا حج کرو۔ اس تعمیر اور اس پکار کو یہ حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ وہی گھر تمام اہل عرب کا مرکز بن جاتا ہے ، اس پکار پر عرب کے ہر گوشے سے لوگ لبیک لبیک کہتے ہوئے کھچے چلے آتے ہیں ، ڈھائی ہزار برس تک یہ گھر ایسا امن کا گہوارہ بنا رہتا ہے کہ اس کے گرد و پیش سارے ملک میں کشت و خون کا بازار گرم ہوتا ہے مگر اس کے حدود میں آ کر کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی، اور اسی گھر کی بدولت عرب کو ہر سال چار مہینے ایسے امن کے میسر آ جاتے ہیں جن میں قافلے اطمینان سے سفر کرتے ہیں ، تجارت چمکتی ہے اور بازار لگتے ہیں ۔ پھر اس گھر کا یہ دبدبہ تھا کہ اس پوری مدت میں کوئی بڑے سے بڑا جبار بھی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکا، اور جس نے یہ جرأت کی وہ اللہ کے غضب کا ایسا شکار ہوا کہ عبرت بن کر رہ گیا۔یہ کرشمہ ان آیات کے نزول سے صرف ۴۵ ہی برس پہلے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے اور اس کے دیکھنے والے بہت سے آدمی اس وقت مکہ معظمہ میں زندہ موجود تھے جب یہ آیات اہل مکہ کو سنائی جا رہی تھیں ۔ اس سے بڑھ کر کیا چیز اس بات کی دلیل ہو سکتی تھی کہ خدا کے پیغمبر ہوائی باتیں نہیں کیا کرتے ۔ اس کی آنکھیں وہ کچھ دیکھتی ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتیں ۔ ان کی زبان پر وہ حقائق جاری ہوتے ہیں جن تک دوسروں کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ وہ بظاہر ایسے کام کرتے ہیں جن کو ایک وقت کے لوگ دیکھیں تو دیوانگی سمجھیں اور صدیوں بعد کے لوگ ان ہی کو دیکھ کر ان کی بصیرت پر دنگ رہ جائیں ۔ اس شان کے لوگ جب بالاتفاق ہر زمانے میں یہ خبر دیتے رہے ہیں کہ قیامت آئے گی اور حشر و نشر ہو گا تو اسے دیوانوں کی بڑ سمجھنا خود دیوانگی ہے ۔

اُونچی چھت (آسمان) اور موجزن سمندر کی قَسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں اس اسی حکمت و قدرت سے آخرت کا امکان بھی ثابت ہوتا ہے اور اس کا وقوع و وجوب بھی۔ آسمان کی دلالت پر ہم اس سے پہلے تفسیر سورۃ ’’ق‘‘ حاشیہ نمبر ۷ میں کلام کر چکے ہیں ۔ رہا سمندر، تو جو شخص بھی انکار کا پیشگی فیصلہ کیے بغیر اس کو نگاہ غور سے دیکھے گا اس کا دل یہ گواہی دے گا کہ زمین پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کا فراہم ہو جانا بجائے خود ایک ایسی کاریگری ہے جو کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے ساتھ اتنی بے شمار حکمتیں وابستہ ہیں کہ اتفاقاً ایسا حکیمانہ نظام قائم ہو جانا ممکن نہیں ہے ۔ اس میں بے حد و حساب حیوانات پیدا کیے گئے ہیں جن میں سے ہر نوع کا نظام جسمانی ٹھیک اس گہرائی کے لیے موزوں بنایا گیا ہے جس کے اندر اسے رہنا ہے ۔ اس کے  پانی کو تمکین بنا دیا گیا ہے تاکہ روزانہ کروڑوں جانور جو اس میں مرتے ہیں ان کی لاشیں سڑ نہ جائیں ۔ اس کے پانی کو ایک خاص حد پر اس طرح روک رکھا گیا ہے کہ نہ تو وہ زمین کے شگافوں سے گزر کر اس کے پیٹ میں اتر جاتا ہے اور نہ خشکی پر چڑھ کر اسے غرق در دیتا ہے ، بلکہ لاکھوں کروڑوں برس سے وہ اسی حد پر رُکا ہوا ہے ۔اسی عظیم ذخیرہ آب کے موجود اور برقرار رہنے سے زمین کے خشک حصوں پر بارش کا انتظام ہوتا ہے جس میں سورج کی گرمی اور ہواؤں کی گردش اس کے ساتھ پوری باقاعدگی کے ساتھ تعاون کرتی ہے ۔ اسی کے غیر آباد نہ ہونے اور طرح طرح کی مخلوقات اس میں پیدا ہونے سے یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ انسان اس سے اپنی غزا اور اپنی ضرورت کی بہت سی چیزیں کثیر مقدار میں حاصل کر رہا ہے ۔ اسی کے ایک حد پر رکے رہنے سے وہ بر اعظم اور جزیرے قائم ہیں جن پر انسان بس رہا ہے اور اسی کے چن اٹل قواعد کی پابندی کرنے سے یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان اس میں جہاز رانی کر سکے ۔ ایک حکیم کی حکمت اور ایک قادر مطلق کی زبردست قدرت کے بغیر اس انتظام کا تصور نہیں کیا گا سکتا اور نہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انسان اور زمین کی دوسرے مخلوقات کے مفاد سے سمندر کے اس انتظام کا یہ گہرا تعلق بس الل ٹپ ہی قائم ہو گیا ہے ۔ اب اگر فی الواقع یہ اس امر کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ ایک خدائے حکیم و قادر نے انسان کو زمین پر آباد کرنے کے لیے دوسرے بے شمار انتظامات کے ساتھ یہ بحر شور بھی اس شان کا پیدا کیا ہے تو وہ شخص سخت احمق ہو گا جو اس حکیم سے اس نادانی کی توقع رکھے کہ وہ اس سمندر سے انسان کی کھیتیاں سیراب کرنے اور اس کے ذریعہ سے انسان کو رزق دینے کا انتظام تو کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ نہ پوچھے گا کہ تو نے میرا رزق کھا کر اس کا حق کیسے ادا کیا، اور وہ اس سمندر کے سینے پر اپنے جہاز دوڑانے کی قدرت تو انسان کو عطا کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ نہ پوچھے گا کہ یہ جہاز تو نے حق اور راستی کے ساتھ دوڑائے تھے یا ان کے ذریعے سے دنیا میں ڈاکے مارتا پھرتا تھا۔ اسی طرح یہ تصور کرنا بھی ایک بہت بڑی کند ذہنی ہے کہ جس قادر مطلق کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ اس عظیم الشان سمندر کی تخلیق ہے ، جس نے فضا میں گھومنے والے اس معلق کُرّے پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کو تھام رکھا ہے ، جس نے نمک کی اتنی بڑی مقدار اس میں گھول دی ہے ، جس نے طرح طرح کی ان گنت مخلوقات اس میں پیدا کی ہیں اور ان سب کی رزق رسانی کا انتظام اسی کے اندر کر دیا ہے ، جو ہر سال اربوں ٹن پانی اس میں سے اٹھا کر ہوا کے دوش پر لے جاتا ہے اور کروڑوں مربع میل کے خشک علاقہ پر اسے بڑی باقاعدگی کے ساتھ برساتا رہتا ہے ، وہ انسان کا ایک دفعہ پیدا کر دینے کے بعد ایسا عاجز ہو جاتا ہے کہ پھر اسے پیدا کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا۔

۷۔ اصل الفاظ ہیں تَمُوْرُ السَّمَآءُ مُوْراً۔ مَور عربی زبان میں گھومنے ، اَونٹنے ، پھڑکنے ، جھوم جھوم کر چلنے ، چکر کھانے اور بار بار آگے پیچھے حرکت کرنے کے لیے بولا جاتا ہے ۔ قیامت کے دن آسمان کی جو حالت ہو گی اسے ان الفاظ میں بیان کر کے یہ تصور دلایا گیا ہے کہ اس روز عالم بالا کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور دیکھنے والا جب آسمان کی رف سیکھے گا تو اسے یوں محسوس ہو گا کہ وہ جما جمایا نقشہ جو ہمیشہ ایک ہی شان  سے نظر آتا تھا، بگڑ چکا ہے اور ہر طرف ایک اضطراب برپا ہے ۔

۸۔ دوسرے الفاظ میں زمین کی وہ گرفت جس نے پہاڑوں کو جما رکھا ہے ، ڈھیلی پڑ جائے گی اور وہ اپنی جڑوں سے اکھڑ کر فضا میں اس طرح اڑنے لگیں گے جیسے بادل اڑے پھرتے ہیں ۔

۹۔ مطلب یہ ہے کہ بی سے قیامت اور آخرت اور جنت و دوزخ کی خبریں سن کر انہیں مذاق کا موضوع بنا رہے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرنے کے بجائے محض تفریحاً ان پر باتیں چھانٹ رہے ہیں ۔آخرت پر ان کی بحثوں کا مقصود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں ہے ، بلکہ ایک کھیل ہے جس سے یہ دل بہلاتے ہیں اور انہیں کچھ ہوش نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔

۱۰۔ یعنی دنیا میں جب رسول تمہیں اس جہنم کے عذاب سے ڈراتے تھے تو تم کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔ اب بولو، یہ جہنم جو تمہارے سامنے ہے یہ اسی جادو کا کرشمہ ہے یا اب بھی تمہیں نہ سوجھا کہ واقعی اسی جہنم سے تمہارا پالا پڑ گیا ہے جس کی خبر تمہیں دی جا رہی تھی؟

۱۱۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی دی ہوئی خبر پر ایمان لا کر دنیا ہی میں اپنا بچاؤ کر لیا اور ان افکار و اعمال سے پرہیز کیا جن سے انسان جہنم کا مستحق بنتا ہے ۔

۱۲۔ کسی شخص کے داخل جنت ہونے کا ذکر کر دینے کے بعد پھر دوزخ سے اس کے بچائے جانے کا ذکر کرنے کی بظاہر کوئی حاجت نہیں رہتی۔ مگر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ دونوں باتیں الگ الگ اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جانا بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اور یہ ارشاد کہ ’’ اللہ نے ان کو عذاب دوزخ سے بچا لیا‘‘ در اصل اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جاتا اللہ کے فضل و کرم ہی سے ممکن ہے ، ورنہ بشری کمزوریاں ہر شخص کے عمل میں ایسی ایسی خامیاں پیدا کر دیتی ہیں کہ اگر اللہ اپنی فیاضی سے ان کو نظر انداز نہ فرمائے اور سخت محاسبے پر اتر آئے تو کوئی بھی گرفت سے نہیں چھوٹ سکتا۔ اسی لیے جنت میں داخل ہونا اللہ کی جتنی بڑی نعمت ہے اس سے کچھ کم نعمت یہ نہیں ہے کہ آدمی دوزخ سے بچا لیا جائے۔

۱۳۔ یہاں ’’ مزے سے ‘‘ کے الفاظ اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتے ہیں ۔ جنت میں انسان کو جو کچھ ملے گا کسی مشقت اور محنت کے بغیر ملے گا۔ اس کے ختم ہو جانے یا اس کے اندر کمی واقع ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔ اس کے لیے انسان کو کچھ خرچ کرنا نہیں پڑے گا۔وہ عین اس کی خواہش اور اس کے دل کی پسند کے مطابق ہو گا۔ جتنا چاہے گا اور جب چاہے گا حاضر کر دیا جائے گا۔ مہمان کے طور پر وہ وہاں مقیم نہ ہو گا کہ کچھ طلب کرتے ہوئے شرمائے بلکہ سب کچھ اس کے  اپنے گذشتہ اعمال کا صلہ اور اس کی اپنی پچھلی کمائی کا ثمرہ ہو گا۔اس کے کھانے اور پینے سے کسی مرض کا خطرہ بھی نہ ہو گا۔ وہ بھوک مٹانے اور زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ صرف لذت حاصل کرنے کے لیے ہو گا اور آدمی جتنی لذت بھی اس سے اٹھانا چاہے ، اٹھا  سکے گا بغیر اس کے کہ اس سے کوئی سوء ہضم لاحق ہو اور وہ غذا کسی قسم کی غلاظت پیدا کرنے والی بھی نہ ہو گی۔اس لیے دنیا میں ’’ مزے سے ‘‘ کھانے پینے کا جو مفہوم ہے ، جنت میں مزے سے کھانے پینے کا مفہوم اس سے بدر جہا زیادہ اور وسیع اور اعلیٰ و ارفع ہے ۔

۱۴۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ الصافات حواشی  ۲۶۔ ۲۹۔ الدخان حاشیہ ۴۲۔

۱۵۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورہ رعد  آیت  ۲۳، اور سورہ مومن آیت ۸ میں بھی گزر چکا ہے ، مگر یہاں ان دونوں مقامات سے بھی زیادہ ایک بڑی خوش خبری سنائی گئی ہے ۔ سورہ رعد والی آیت میں صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ اہل جنت کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں میں سے جو جو افراد بھی صالح ہوں گے وہ سب ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے ۔ اور سورہ مومن میں ارشاد ہوا تھا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد اور ازواج اور آباء میں سے جو صالح ہوں نہیں بھی جنت میں ان سے ملا دے ۔ یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو، تو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کا ان کے بہتر ایمان و عمل کی بنا پر حاصل ہو گا، پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے گی۔ اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہو گا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی سے جا کر ملاقات کر لیا کرے ، بلکہ اس کے لیے اَلْحَقْنا بِھِمْ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے معنی یہ ہیں کہ وہ جنت میں ان کے ساتھ ہی رکھے جائیں گے ۔ اس پر مزید یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ اولاد سے ملانے کے لیے آباء کا درجہ گھٹا کر انہیں نیچے نہیں اتارا جائے گا، بلکہ آباء سے ملانے کے  لیے اولاد کا درجہ بڑھا کر انہیں اوپر پہنچا دیا جائے گا۔

اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ارشاد اس بالغ اولاد کے بارے میں ہے جس نے سنِ رُشد کو پہنچ کر اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان لانے کا فیصلہ کیا ہو اور جو اپنی مرضی سے اپنے صالح بزرگوں کے نقش قدم پر چلی ہو۔ رہی ایک مومن کی وہ اولاد جو سن رشد کو پہنچنے سے پہلے ہی مر گئی ہو تو اس کے معاملہ میں کفر و ایمان اور طاعت و معصیت کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسے تو ویسے ہی جنت میں جانا ہے اور اس کے آباء کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان ہی کے ساتھ رکھا جانا ہے ۔

۱۶۔ یہاں ’’ رہن‘‘ کا استعارہ بہت معنی خیز ہے ۔ ایک شخص اگر کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی ادائیگی کے لیے ضمانت کے طور پر اس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے تو جب تک وہ قرض ادا نہ کر دے اس وقت تک فکِّ رہن نہیں ہو سکتا،اور اگر مدت مقررہ گزر جانے پر بھی وہ فکِّ رہن نہ کرائے تو شئے مر ہو نہ ضبط ہو جاتی ہے ۔ انسان اور خدا کے درمیان معاملہ کی نوعیت کو یہاں اسی صورت معاملہ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ خدا نے انسان کو جو سرو سامان، جو طاقتیں اور صلاحیتیں اور جو اختیارات دنیا میں عطا کیے ہیں وہ گویا ایک قرض ہے جو مالک نے اپنے بندے کو دیا ہے ، اور اس قرض کی ضمانت کے طور پر بندے کا نفس خدا کے پاس رہن ہے ۔ بندہ اس سرو سامان اور ان قوتوں اور اختیارات کو صحیح طریقے سے استعمال کر کے اگر وہ نیکیاں کمائے جن سے یہ قرض ادا ہو سکتا ہو تو وہ شئے مرہونہ، یعنی اپنے نفس کو چھڑا لے گا، ورنہ اسے ضبط کر لیا جائے گا۔ پچھلی آیت کے معاً بعد یہ بات اس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے کہ مومنین صالحین خواہ بجائے خود کتنے ہی بڑے مرتبے کے لوگ ہوں ، ان کی اولاد کا فکِّ  رہن اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ وہ خود اپنے کسب سے اپنے نفس کو چھڑائے۔ باپ دادا کی کمائی اولاد کو نہیں چھڑا سکتی. البتہ اولاد اگر کسی درجے کے بھی ایمان اور اتباع صالحین سے اپنے آپ کو چھڑا لے جائے تو پھر یہ اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے کہ جنت میں وہ اس کو نیچے کے مرتبوں سے اٹھا کر اونچے مراتب میں باپ دادا کے ساتھ لے جا کر ملا دے ۔ باپ دادا کی نیکیوں کا یہ فائدہ تو اولاد کو مل سکتا ہے ، لیکن اگر وہ اپنے کسب سے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ باپ دادا کی خاطر اسے جنت میں پہنچا دیا جائے۔اس کے ساتھ یہ بات بھی اس آیت سے نکلتی ہے کہ کم درجے کی نیک اولاد کا بڑے درجے کے نیک آباء سے لے جا کر ملا دیا جانا دراصل اس اولاد کے کسب کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان آباء کے کسب کا نتیجہ ہے ۔ وہ اپنے عمل سے اس فضل کے مستحق ہوں گے کہ ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان کی اولاد کو ان سے لا ملایا جائے۔ اسی وجہ سے اللہ ان کے درجے گھٹا کر انہیں اولاد کے پاس نہیں لے جائے گا بلکہ اولاد کے درجے بڑھا کر ان کے پاس لے جائے گا، تاکہ ان پر خدا کی نعمتوں کے اتمام میں یہ کسر باقی نہ رہ جائے کہ اپنی اولاد سے دوری ان کے لیے باعث اذیت ہو۔

۱۷۔ اس آیت میں اہل جنت کو مطلقاً ہر قسم کا گوشت دیے جانے کا ذکر ہے ، اور سورہ واقعہ آیت ۲۱ میں فرمایا گیا ہے کہ پرندوں کے گوشت سے ان کی تواضع کی جائے گی۔ اس گوشت کی نوعیت ہمیں ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہے ۔ مگر جس طرح قرآن کی بعض تصریحات اور بعض احادیث میں جنت کے دودھ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہ ہو گا،اور جنت کے شہد کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ مکھیوں کا بنایا ہوا نہ ہو گا، اور جنت کی شراب کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ پھلوں کو سڑا کر کشید کی ہوئی نہ ہو گی، بلکہ اللہ کی قدرت سے یہ چیزیں چشموں سے نکلیں گی اور نہروں میں بہیں گی، اس سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جنت کا گوشت بھی جانوروں کا ذبیحہ نہ ہو گا بلکہ یہ بھی قدرتی طور پر پیدا ہو گا۔ جو خدا زمین کے مادوں سے براہ راست دودھ اور شہد اور شراب پیدا کر سکتا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ ان ہی مادوں سے ہر طرح کا لذیذ ترین گوشت پیدا کر دے جو جانوروں کے گوشت سے بھی اپنی لذت میں بڑھ کو ہو (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ صافات، حاشیہ ۲۵۔ جلد پنجم، تفسیر سورہ محمد حواشی ۲۱ تا ۲۳۔

۱۸۔ یعنی وہ شراب نشہ پیدا کرنے والی نہ ہو گی کہ اسے پی کر وہ بد مست ہوں اور بیہودہ بکواس کرنے لگیں ، یا گالم گلوچ اور دَھول دھپے پر اُتر آئیں ، یا اس طرح کی فحش حرکات کرنے لگیں جیسی دنیا کی شراب پینے والے کرتے ہیں ۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ صافات، حاشیہ ۲۷)۔

۱۹۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ غُلْمَا نھُُمْ نہیں فرمایا بلکہ غِلْمَا نٌ لَّہُمْ فرمایا ہے ۔ اگر غِلْمَا نُہُمْ فرمایا جاتا تو اس کے یہ گمان ہو سکتا تھا کہ دنیا میں ان کے جو خادم تھے وہی جنت میں بھی ان کے خادم بنا دیے جائیں گے ، حالانکہ دنیا کا جو شخص بھی جنت میں جائے گا اپنے استحقاق کی بنا پر جائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ جنت میں پہنچ کر وہ اپنے اسی آقا کا خادم بنا دیا جائے جس کی خدمت وہ دنیا میں کرتا رہا تھا۔ بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی خادم اپنے عمل کی وجہ سے اپنے مخدوم کی بہ نسبت زیادہ بلند مرتبہ جنت میں پائے۔ اس لیے غِلْمَانٌ لَّھُمْ فرما کر اس گمان کی گنجائش باقی نہیں دہنے دی گئی۔ یہ لفظ اس بات کی وضاحت کر دیتا ہے کہ یہ وہ لڑکے ہوں گے جو جنت میں ان کی خدمت کے لیے مخصوص کر دیے جائیں گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ صافات، حاشیہ ۲۶)۔

۲۰۔ یعنی ہم وہاں عیش میں منہمک اور اپنی دنیا میں مگن ہو کر غفلت کی زندگی نہیں گزار رہے تھے ، بلکہ ہر وقت ہمیں یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جس پر خدا کے ہاں ہماری پکڑ ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں کے درمیان ڈرتے ہوئے زندگی بس کرنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ آدمی سب  سے زیادہ جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہے ۔ اسی کے لیے وہ حرام کماتا ہے ، دوسروں کے حقوق پر ڈاکے ڈالتا ہے ، اور طرح طرح کی نا جائز تدبیریں کرتا ہے ۔ اسی بنا پر اہل جنت آپس میں کہیں گے کہ خاص طور پر جس چیز نے ہمیں عاقبت کی خرابی سے بچایا وہ یہ تھی کہ اپنے بال بچوں میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ان کو عیش کرانے اور ان کا مستقبل شاندار بنانے کی اتنی فکر نہ تھی جتنی اس بات کی تھی کہ ہم ان کی خاطر وہ طریقے نہ اختیار کر بیٹھیں جن سے ہماری آخرت برباد ہو جائے، اور اپنی اولاد کو بھی ایسے راستے پر نہ ڈال جائیں جو ان کو عذاب الٰہی کا مستحق بنا دے ۔

۲۱۔ اصل میں لفظ سَمُوم استعمال ہوا ہے جس کے معنی سخت گرم ہوا کے ہیں ۔ اس سے مراد لُو کی وہ لپیٹیں ہیں جو دوزخ سے اٹھ رہی ہوں گی۔

 

ترجمہ

 

پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون(۲۲)۔

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں (۲۳)ٍ؟ ان سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں (۲۴)۔ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتے ہیں ؟ یا در حقیقت یہ  عناد میں حد  سے گزرے ہوئے لوگ ہیں (۲۵)ٍ؟

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے (۲۶)۔ اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں (۲۷)۔

کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں ؟ یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ٍ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے (۲۸)۔

کیا یہ تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں ؟ یا ان پر انہی کا حکم چلتا ہے (۲۹)۔

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں ؟ ان میں سے جس نے سن گن لی ہو لائے کوئی کھلی دلیل۔ کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے ؟(۳۰)۔

کیا تم ان سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹّی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں ؟ (۳۱)۔

کیا ان کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں ؟(۳۲)۔

کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟(۳۳) (اگر یہ بات ہے ) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی۔ (۳۴)

کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں ؟ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں (۳۵)

یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں (۳۶)۔ پس اے نبی، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو  یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے ، جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا۔ اور اس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے ، مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں (۳۷)۔

اے نبی، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو(۳۸)، تم ہماری نگاہ میں ہو(۳۹)۔ تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو(۴۰)، رات کو بھی اس کی کیا کرو(۴۱) اور ستارے جب پلٹتے ہیں اس وقت بھی (۴۲)۔ ع

 

 

تفسیر

 

۲۲۔ اوپر آخرت کی تصویر پیش کرنے کے بعد اب تقریر کا رخ کفار مکہ کی ان ہٹ دھرمیوں کی طرف پھر رہا ہے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ یہاں خطاب بظاہر تو آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے مگر دراصل آپ کے واسطے سے یہ باتیں کفار مکہ کو سنائی مقصود ہیں ۔ ان کے سامنے جب آپ قیامت، اور حش و نشر، اور حساب و کتاب، اور جزا و سزاء اور جنت و جہنم کی باتیں کرتے تھے ، اور ان مضامین پر مشتمل قرآن مجید کی آیات اس دعوے کے ساتھ ان کو سناتے تھے کہ یہ خبریں اللہ کی طرف سے میرے پاس آئی ہیں اور یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر وحی کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے ، تو ان کے سردار اور مذہبی پیشوا اور اَوباش لوگ آپ کی ان باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ نہ خود غور کرتے تھے ، نہ یہ چاہتے تھے کہ عوام ان کی طرف توجہ کریں ۔ اس لیے وہ آپ کے اوپر کبھی یہ فقرہ کستے تھے کہ آپ کاہن ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ مجنون ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ شاعر ہیں ، اور کبھی یہ کہ آپ خود اپنے دل سے یہ نرالی باتیں گھڑتے ہیں اور محض اپنا رنگ جمانے کے لیے انہیں خدا کی نازل کردہ وحی کہہ کر پیش کرتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس طرح کے فقرے کس کر وہ لوگوں کو آپ کی طرف سے بدگمان کر دیں گے اور آپ کی ساری باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی، واقعی حقیقت تو وہی کچھ ہے جو سورۃ کے آغاز سے یہاں تک بیان کی گئی ہے ۔ اب اگر یہ لوگ ان باتوں پر تمہیں کاہن اور مجنون کہتے ہیں تو پروا نہ کرو اور بندگان خدا کو غفلت سے چونکانے اور حقیقت سے خبردار کرنے کا کام کرتے چلے جاؤ، کیونکہ خدا کے فضل سے نہ تم کاہن ہو نہ مجنون۔

’’کاہن‘‘ عربی زبان میں جوتشی، غیب گو اور سیانے کے معنی میں بولا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا۔ کاہنوں کا دعویٰ تھا، اس ان کے بارے میں ضعیف الاعتقاد لوگ بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ ستارہ شناس ہیں ، یا ارواح اور شیاطین اور جنوں سے ان کا خاص تعلق ہے جس کی بدولت وہ غیب کی خبریں معلوم کر سکتے ہیں ۔کوئی چیز کھوئی جائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کہاں پڑی ہوئی ہے ۔ کسی کے ہاں چوری ہو جائے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ چور کون ہے ۔ کوئی اپنی قسمت پوچھے تو وہ بتا سکتے ہیں کہ اس کی قسمت میں کیا لکھا ہے ۔ انہی اغراض کے لیے لوگ ان کے پاس جاتے تھے ۔اور وہ کچھ نذر نیاز لے کر انہیں غیب کی باتیں بتایا کرتے تھے ۔ وہ خود بھی بسا اوقات بستیوں میں آواز لگاتے پھرتے تھے تاکہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں ان کی ایک خاص وضع قطع ہوتی تھی جس سے وہ الگ پہچانے جاتے تھے ۔ ان کی زبان بھی عام بول چال سے مختلف ہوتی تھی وہ مقفّیٰ اور مسجّع فقرے خاص لہجے میں ذرا ترنم کے ساتھ بولتے تھے اور بالعموم ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن سے ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے ۔ قریش کے سرداروں نے عوام کو فریب دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کاہن ہونے کا الزام صرف اس بنا پر لگا دیا کہ آپ ان حقائق کی خبر دے رہے تھے جو لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں ، اور آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ خدا کی طرف سے ایک فرشتہ آ کر آپ پر وحی نازل کرتا ہے ، اور خدا کا جو کلام آپ پیش کر رہے تھے وہ بھی مقفّیٰ تھا۔ لیکن عرب میں کوئی شخص بھی ان کے اس الزام سے دھوکا نہ کھا سکتا تھا۔ اس لیے کہ کاہنوں کے پیشے اور ان کی وضع قطع اور ان کی زبان اور ان کے کاروبار سے کوئی بھی نا واقف نہ تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ، اور کن مضامین پر وہ مشتمل ہوتے ہیں ۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی کاہن کا سرے سے یہ کام ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ قوم کے رائج الوقت عقائد کے خلاف ایک عقیدہ لے کر اٹھتا اور شب و روز اس کی تبلیغ میں اپنی جان کھپاتا اور اس کی خاطر سری قوم کی دشمنی مول لیتا۔ اس لیے رسل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کہانت کا یہ الزام برائے نام بھی کوئی مناسبت نہ رکھتا تھا کہ یہ پھبتی آپ پر چسپاں ہو سکتی اور عرب کا کوئی کند ذہن سے کند ذہن آدمی بھی اس سے دھوکا کھا جاتا۔

اسی طرح آپ پر جنون کا الزام بھی کفار مکہ محض اپنے دل کی تسلی کے لیے لگاتے تھے جیسے موجودہ زمانے کے بعض بے شرم مغربی مصنفین اسلام کے خلاف اپنے بغض کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے یہ دعوے کرتے ہیں کہ معاذ اللہ حضور پر صرع (Epilepsy) کے دورے پڑتے تھے اور انہی دوروں کی حالت میں جو کچھ آپ کی زبان سے نکلتا تھا اسے لوگ وحی سمجھتے تھے ۔ ایسے بیہودہ الزامات کو کسی صاحب عقل آدمی نے نہ اس زمانے میں قابل اعتنا سمجھا تھا، نہ آج کوئی شخص قرآن کو پڑھ کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قیادت و رہنمائی کے حیرت انگیز کارنامے دیکھ کر یہ باور کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ صرع کے دوروں کا کرشمہ ہے ۔

۲۳۔ یعنی ہم منتظر ہیں کہ اس شخص پر کوئی آفت آئے اور کسی طرح اس سے ہمارا پیچھا چھوٹے ۔ غالباً ان کا خیال یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ ہمارے معبودوں کی مخالفت اور ان کی کرامات کا انکار کرتے ہیں ، اس لیے یا تو  معاذ اللہ، ان پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑے گی، یا کوئی دل چلا اِن کی یہ باتیں سن کر آپے سے باہر ہو جائے گا اور انہیں قتل کر دے گا۔

۲۴۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ میں بھی دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ آرزو پوری ہوتی ہے یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ میں بھی منتظر ہوں کہ شامت میری آتی ہے یا تمہاری۔

۲۵۔ ان دو فقروں میں مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہو نکال کر انہیں بالکل بے نقاب کر دیا گیا ہے ۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے سردار اور مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں ، مگر کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو، جسے ساری قوم ایک دانا آدمی کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو، اور جس شخص کا کہانت سے کوئی دور دراز کا تعلق بھی نہیں ہے اسے خواہ مخواہ کاہن قرار دو۔ پھر اگر عقل کی بنا پریہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے ۔ بہت سے متضاد حکم تو ایک ساتھ نہیں لگا سکتے تھے ۔ ایک شخص آخر بیک وقت شاعر ہے تو کاہن نہیں ہو سکتا، کیونکہ شعر کی زبان اور  اس کے موضوعات بحث الگ ہوتے ہیں اور کہانت کی زبان اور اس کے مضامین الگ۔ ایک ہی کلام کو بیک وقت شعر بھی کہنا اور کہانت بھی قرار دینا کسی ایسے آدمی کا کام نہیں ہو سکتا جو شعر اور کہانت کا فرق جانتا ہو۔ پس یہ بالکل کھلی ہوئی بات ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت میں یہ متضاد باتیں عقل سے نہیں بلکہ سراسر ضد اور ہٹ دھرمی سے کی جا رہی ہیں ، اور قوم کے یہ بڑے بڑے سردار عناد کے جوش میں اندھے ہو کر محض بے سر و پا الزامات لگا رہے ہیں نہیں کوئی سنجیدہ انسان قابل اعتنا نہیں سمجھ سکتا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۱۰۴، یونس، حاشیہ ۳۔ بنی اسرائیل، حواشی ۵۳۔ ۵۴۔ جلد سوم، الشعراء، حواشی ۱۳۰،۱۳۱، ۱۴۰،۱۴۲،۱۴۳۔۱۴۴۔ )

۲۶۔ دوسرے الفاظ میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے جو لوگ قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا تصنیف کردہ کلام کہتے ہیں خود ان کا دل یہ جانتا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں ہو سکتا، اور دوسرے وہ لوگ بھی جو اہل زبان ہیں نہ صرف یہ کہ اسے سن کر صاف محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ انسانی کلام سے بہت اعلیٰ و ارفع ہے بلکہ ان میں سے جو شخص بھی محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے واقف ہے وہ کبھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ یہ واقعی آپ ہی کا کلام ہے ۔ پس صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ قرآن کو آپ کی تصنیف قرار دینے والے در اصل ایمان نہیں لانا چاہتے اسلیے وہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے گھڑ رہے ہیں جن میں سے ایک بہانہ یہ بھی ہے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ ۲۱۔ جلد سوم، الفرقان، حاشیہ ۱۲۔ القصص، حاشیہ ۶۴۔ العنکبوت، حاشیہ ۸۸۔ ۸۹۔ جلد چہارم، السجدہ حاشیہ ۱ تا ۴۔ حٰم السجدہ، حاشیہ۔ ۵۴۔ الاحقاف، حاشیہ ۸ تا ۱۰)۔

۲۷۔ یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام نہیں ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے انسانی کلام ہی نہیں ہے اور یہ بات انسان کی قدرت سے باہر ہے کہ ایسا کلام تصنیف کر سکے ۔ اگر تم سے انسانی کلام کہتے ہو تو اس پائے کا کوئی کلام لا کر دکھاؤ جسے کسی انسان نے تصنیف کیا ہو۔ یہ چیلنج نہ صرف قریش کو، بلکہ تمام دنیا کے منکرین کو سب سے پہلے اس آیت میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تین مرتبہ مکہ معظمہ میں اور پھر آخری بار مدینہ منورہ میں اسے دہرایا گیا(ملاحظہ ہو یونس، آیت ۳۸۔ ہود، ۱۳، بنی اسرائیل، ۸۸۔ البقرہ،۲۳)۔ مگر کوئی اس کا جواب دینے کینہ اس وقت ہمت کر سکا نہ اس کے بعد آج تک کسی کی یہ جرأت ہوئی کہ قرآن کے مقابلہ میں کسی انسانی تصنیف کو لے آئے۔

بعض لوگ اس چیلنج کی حقیقی نوعیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ ایک قرآن ہی کیا، کسی شخص کے اسٹائل میں بھی دوسرا کوئی شخص نثر یا نظم لکھنے پر قادر نہیں ہوتا۔ ہومر، رومی، شکسپیئر، گوئٹے ، غالب، ٹیگور، اقبال، سب ہی اس لحاظ سے بے مثل ہیں کہ ان کی نقل اتار کر انہی جیسا کلام بنا لانا کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ قرآن کے چیلنج کا یہ جواب دینے والے در اصل اس غلط فہمی میں ہیں کہ فَلْیَأ تَوْبِحَدِیْثٍ مِّثْلِہٖ کا مطلب قرآن کے اسٹائل میں اس جیسی کوئی کتاب لکھ دینا ہے ۔ حالانکہ اس سے مراد سٹائل میں مماثلت نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اس پائے اور اس شان اور اس مرتبے کی کوئی کتاب لے آؤ جو صرف عربی ہی میں نہیں ، دنیا کی کسی زبان میں ان خصوصیات کے لحاظ سے قرآن پہلے بھی معجزہ تھا اور آج بھی معجزہ ہے ۔

(۱)۔ جس زبان میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس کے ادب کا وہ بلند ترین اور مکمل ترین نمونہ ہے ۔ پوری کتاب میں ایک لفظ اور ایک جملہ بھی معیار سے گرا ہوا نہیں ہے ۔ جس مضمون کو بھی ادا کیا گیا ہے موزوں ترین الفاظ اور مناسب ترین انداز بیان میں ادا کیا گیا ہے ۔ ایک ہی مضمون بار بار بیان ہوا ہے اور ہر مرتبہ پیرایہ بیان نیا ہے جس سے تکرار کی بد نمائی کہیں پیدا نہیں ہوتی۔ اول سے لے کر آخر تک ساری کتاب میں الفاظ کی نشست ایسی ہے جیسے نگینے تراش تراش کر جڑے گئے ہوں ۔ کلام اتنا مؤثر ہے کہ کوئی زبان داں آدمی اسے سن کر سر دھنے بغیر نہیں رہ سکتا، حتیٰ کہ منکر اور مخالف کی روح بھی وجد کرنے لگتی ہے ۔ ۱۴ سو برس گزرنے کے بعد بھی آج تک یہ کتاب اپنی زبان کے ادب کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے جس کے برابر تو درکنار، جس کے قریب بھی عربی زبان کی کوئی کتاب اپنی ادبی قدر و قیمت میں نہیں پہنچتی۔ یہی نہیں ، بلکہ یہ کتاب عربی زبان کو اس طرح پکڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ ۱۴ صدیاں گزر جانے پر بھی اس زبان کا معیار فصاحت وہی ہے جو اس کتاب نے قائم کر دیا تھا، حالانکہ اتنی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ  ہو جاتی ہیں ۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو اتنی طویل مدت تک املاء، انشاء، محاورے ، قواعد زبان اور استعمال الفاظ میں ایک ہی شان پر باقی رہ گئی ہو۔لیکن یہ قرآن کی طاقت ہے جس نے عربی زبان کو اپنے مقام سے ہلنے نہ دیا۔ اس کا ایک لفظ بھی آج تک متروک نہیں ہوا ہے ۔ اس کا ہر محاورہ آج تک عربی ادب میں مستعمل ہے ۔اس کا ادب آج بھی عربی کا معیاری ادب ہے ، اور تقریر و تحریر میں آج بھی فصیح زبان وہی مانی جاتی ہے جو ۱۴ سو برس پہلے قرآن میں استعمال ہوئی تھی۔ کیا دنیا کی کسی زبان میں کوئی انسانی تصنیف اس شان کی ہے ؟

(۲ )۔ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس نے نوع انسانی کے افکار، اخلاق، تہذیب اور طرز زندگی پر اتنی وسعت، اتنی گہرائی اور اتنی ہمہ گیری کے ساتھ اثر ڈالا ہے کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پہلے اس کی تاثیر نے ایک قوم کو بدلا اور پھر اس قوم نے اٹھ کر دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کو بدل ڈالا۔ کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے جو اس قدر انقلاب انگیز ثابت ہوئی ہو۔ یہ کتاب صرف کاغذ کے صفحات پر لکھی نہیں رہ گئی ہے بلکہ عمل کی دنیا میں اس کے ایک ایک لفظ نے خیالات کی تشکیل اور ایک مستقل تہذیب کی تعمیر کی ہے ، ۱۴ سو برس سے اس کے ان اثرات کا سلسلہ جاری ہے ، اور روز بروز اس کے یہ اثرات پھیلتے چلے جا رہے ہیں ۔

(۳)۔ جو موضوع سے یہ کتاب بحث کرتی ہے وہ ایک وسیع ترین موضوع ہے جس کا دائرہ ازل سے ابد تک پوری کائنات پر حاوی ہے ۔ وہ کائنات کی حقیقت اور اس کے آغاز و انجام اور اس کے نظم و آئین پر کلام کرتی ہے ۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق اور ناظم و مدبر کون ہے ،کیا اس کی صفات ہیں ، کیا اس کے اختیارات ہیں ، اور وہ حقیقت نفس الامری کیا ہے جس پر اس نے یہ پورا نظام عالم قائم کیا ہے ۔ وہ اس جہان میں انسان کی حیثیت اور اس کا مقام ٹھیک ٹھیک  مشخّص کر کے بتاتی ہے کہ یہ اس کا فطری مقام اور یہ اس کی پیدائشی حیثیت ہے جسے بدل دینے پر وہ قادر نہیں  ہے ۔ وہ بتاتی ہے کہ اس مقام اور اس حیثیت کے لحاظ سے انسان کے لیے فکر و عمل کا صحیح راستہ کیا ہے جو حقیقت سے پوری مطابقت رکھتا ہے اور غلط راستے کیا ہیں جو حقیقت سے متصادم ہوتے ہیں ۔ صحیح راستے کے صحیح ہونے اور غلط راستوں کے غلط ہونے پر وہ زمین و آسمان کی ایک ایک چیز سے ، نظام کائنات کے ایک ایک گوشے سے ، انسان کے اپنے نفس اور اس کے وجود سے اور انسان کی اپنی تاریخ سے بے شمار دلائل پیش کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان غلط راستوں پر کیسے اور کن اسباب سے پڑتا رہا ہے ، اور صحیح راستہ،جو ہمیشہ سے ایک ہی تھا اور ایک ہی رہے گا،کس ذریعہ سے اس کو معلوم ہو سکتا ہے اور کس طرح ہر زمانے میں اس کو بتایا جاتا رہا ہے ۔ وہ صحیح راستے کی صرف نشان وہی کر کے نہیں رہ جاتی بلکہ اس راستے پو چلنے کے لیے ایک پورے نظام زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے جس میں عقائد، اخلاق،تزکیہ نفس، عبادات، معاشرت، تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت قانون، غرض حیات انسانی کے ہر پہلو سے متعلق ایک نہایت مربوط ضابطہ بیان کر دیا گیا ہے ۔ مزید براں وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتاتی ہے کہ اس صحیح راستے کی پیروی کرنے اور ان غلط راستوں پر چلنے کے کیا نتائج اس دنیا میں ہیں اور کیا نتائج دنیا کا موجودہ نظام ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے عالم میں رونما ہونے والے ہیں ۔ وہ اس دنیا کے ختم ہونے اور دوسرا عالم برپا ہونے کی نہایت مفصل کیفیت بیان کرتی ہے ، اس تغیر کے تمام مراحل ایک ایک کر کے بتاتی ہے ، دوسرے عالم کا پورا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھینچ دیتی ہے ، اور پھر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ وہاں انسان کیسے ایک دوسری زندگی پائے گا، کس طرح اس کی دنیوی زندگی کے اعمال کا محاسبہ ہو گا، کن امور کی اس سے باز پرس ہو گی، کیسی ناقابل انکار صورت میں اس کا پورا امہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا، کیسی زبردست شہادتیں اس کے ثبوت میں پیش کی جائیں گی، جزا اور سزا پانے والے کیوں جزا اور سزا پائیں گے ، جزا پا نے والوں کو کیسے انعامات ملیں گے اور سزا پانے والے کس کس شکل میں اپنے اعمال کے نتائج بھگتیں گے ۔ اس وسیع مضمون پر جو کلام اس کتاب میں کیا گیا ہے وہ اس حیثیت سے نہیں ہے کہ اس کا مصنف کچھ صغریٰ کبریٰ جوڑ کر چند قیاسات کی ایک عمارت تعمیر کر رہا ہے ، بلکہ اس حیثیت سے ہے کہ اس کا مصنف حقیقت کا براہ راست علم رکھتا ہے ، اس کی نگاہ ازل سے ابد تک سب کچھ دیکھ رہی ہے ، تمام حقائق اس پر عیاں ہیں ، کائنات پوری کی پوری اس کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ، نوع انسانی کے آغاز سے اس کے خاتمہ تک ہی نہیں بلکہ خاتمہ کے بعد اس کی دوسری زندگی تک بھی وہ اس کو بیک نظر دیکھ رہا ہے ، اور قیاس و گمان کی بنا پر نہیں بلکہ علم کی بنیاد پر انسان کی رہنمائی کر رہا ہے ۔ جن حقائق کو علم کی حیثیت سے وہ پیش کرتا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی آج تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکا ہے ۔ جو تصور کائنات و انسان وہ پیش کرتا ہے وہ تمام مظاہر اور واقعات کی مکمل توجیہ کرتا ہے اور ہر شعبہ علم میں تحقیق کی بنیاد بن سکتا ہے ۔ فلسفہ و سائنس اور علوم عمران کے تمام آخری مسائل کے جوابات اس کے کلام میں موجود ہیں اور ان سب کے درمیان ایسا منطقی ربط ہے کہ ان پر ایک مکمل، مربوط اور جامع نظام فکر قائم ہوتا ہے ۔ پھر عملی حیثیت سے جو رہنمائی اس نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق انسان کو دی ہے وہ صرف انتہائی معقول اور انتہائی پاکیزہ ہی نہیں ہے بلکہ ۱۴ سو سال سے روئے زمین کے مختلف گوشوں میں بے شمار انسان بالفعل اس کی پیروی کر رہے ہیں اور تجربے بے اس کو بہترین ثابت کیا ہے ۔ کیا اس شان کی کوئی انسانی تصنیف دنیا میں موجود ہے یا کبھی موجود رہی ہے جسے اس کتاب کے مقابلے میں لایا جا سکتا ہو؟

(۴)۔ یہ کتاب پوری کی پوری بیک وقت لکھ کر دنیا کے سامنے پیش نہیں کر دی گئی تھی بلکہ چند ابتدا ابتدائی ہدایات کے ساتھ ایک تحریک اصلاح کا آغاز کیا گیا تھا اور اس کے بعد ۲۳ سال تک وہ تحریک جن جن مرحلوں سے گزرتی رہی ان کے حالات اور ان کی ضروریات کے مطابق اس کے اجزاء اس تحریک کے رہنما کی زبان سے کبھی طویل خطبوں اور کبھی مختصر جملوں کی شکل میں ادا ہوتے رہے ۔ پھر اس مشن کی تکمیل پر مختلف اوقات میں صادر ہونے والے یہ اجزاء اس مکمل کتاب کی صورت میں مرتب ہو کر دنیا کے سامنے رکھ دیے گئے جسے ’’قرآن‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ تحریک کے رہنما کا بیان ہے کہ یہ خطبے اور جملے اس کے طبعزاد نہیں ہیں بلکہ خدا وند علام کی طرف سے اس پر نازل ہوئے ہیں ۔ اگر کوئی شخص انہیں خود اس رہنما کے طبعزاد قرار دیتا ہے تو وہ دنیا کی پوری تاریخ سے کوئی نظیر ایسی پیش کرے کہ کسی انسان نے سالہا سال تک مسلسل ایک زبردست اجتماعی تحریک کی بطور خود رہنمائی کرتے ہوئے کبھی ایک واعظ اور معلم اخلاق کی حیثیت سے ، کبھی ایک مظلوم جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ، کبھی ایک مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے ، کبھی ایک برسر جنگ فوج کے قائد کی حیثیت سے ، کبھی ایک فاتح کی حیثیت سے ، کبھی ایک شارع اور مقنن کی حیثیت سے اغراض بکثرت مختلف حالات اور اوقات میں بہت سے مختلف حیثیت سے ، غرض بکثرت مختلف حالات اور اوقات میں بہت سی مختلف حیثیتوں سے جو مختلف تقریریں کی ہوں یا باتیں کہی ہوں وہ جمع ہو کر ایک  مکمل، مربوط اور جامع نظام فکر و عمل بنا دیں ، ان  میں کہیں کوئی تناقُص اور تضاد نہ پایا جائے، ان میں ابتدا سے انتہا تک اسی بنیاد پر وہ عقائد و اعمال کا ایک ہی مرکزی تخیل اور سلسلہ فکر کار فرما نظر آئے، اس نے اول روز سے اپنی دعوت کی جو بنیاد بیان کی ہو آخری دن تک اسی بنیاد پر وہ عقائد و اعمال کا ایک ایسا ہمہ گیر نظام بناتا چلا جائے جس کا ہر جز دوسرے اجزاء سے کامل مطابقت رکھتا ہے ، اور اس مجموعہ کو پڑھنے والا کوئی صاحب بصیرت آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے کہ تحریک کا آغاز کرتے وقت اس کے متحرک کے سامنے آخری مرحلے تک کو پورا نقشہ موجود تھا اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بیچ کے کسی مقام پر اس کے ذہن میں کوئی ایسا خیال آیا ہو جو پہلے اس پر منکشف نہ تھا یا جسے بعد میں اس کو بدلنا پڑا۔ اس شان کا کوئی انسان اگر کبھی گزرا ہو جس نے اپنے ذہن کی خلاقی کا یہ کمال دکھایا ہو تو اس کی نشان دہی کی جائے۔

(۵)۔ جس رہنما کی زبان پر یہ خطبے اور جملے جاری ہوئے تھے وہ یکایک کسی گوشے سے نکل کر صرف ان کو سنانے کے لیے نہیں آ جاتا تھا اور انہیں سنانے کے بعد کہیں چال نہیں جاتا تھا۔ سہ اس تحریک کے آغاز سے پہلے بھی انسانی معاشرے میں زندگی بسر کر چکا تھا اور اس کے بعد بھی وہ زندگی کی آخری ساعت تک ہر وقت اسی معاشرے میں رہتا تھا۔ اس کی گفتگو اور تقریروں کی زبان اور طرز بیان سے لوگ بخوبی آشنا تھے ۔ احادیث میں ان کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے جسے بعد کے عربی داں لوگ پڑھ کر خود بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ اس رہنما کا اپنا طرز کلام کیا تھا۔اس کے ہم زبان لوگ اس وقت بھی صاف محسوس کرتے تھے اور آج بھی عربی زبان کے جاننے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کتاب کی زبان اور اس کا اسٹائل اس رہنما کی زبان اور اس کے اسٹائل سے بہت مختلف ہے ، حتّیٰ کہ جہاں اس کے کسی خطبے کے بیچ میں اس کتاب کی کوئی عبارت آ جاتی ہے وہاں دونوں کی زبان کا فرق بالکل نمایاں نظر آتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی انسان کبھی اس بات پر قادر ہوا ہے یا ہو سکتا ہے کہ سالہا سال تک دو قطعی مختلف اسٹائلوں میں کلام کرنے کا تکلف نباہتا چلا جائے اور کبھی یہ راز فاش نہ ہو سکے کہ یہ دو الگ اسٹائل در اصل ایک ہی شخص کے ہیں ؟ عارضی اور وقتی طور پر اس قسم کے تصنع میں کامیاب ہو جانا تو ممکن ہے ۔ لیکن مسلسل ۲۳ سال تک ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص جب خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے طور پر کلام کرے تو اس کی زبان اور اسٹائل کچھ ہو، اور جب خود اپنی طرف سے گفتگو یا تقریر کر لے تو اس کی زبان اور اس کا اسٹائل بالکل ہی کچھ اور ہو۔

(۶)۔ وہ رہنما اس تحریک کی قیادت کے دوران میں مختلف حالات سے دو چار ہوتا رہا۔ کبھی برسوں وہ اپنے ہم وطنوں اور اپنے قبیلے والوں کی تضحیک، توہین  اور سخت ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہا یہ کبھی اس کے ساتھیوں پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ ملک چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔ کبھی دشمنوں نے اس کے قتل کی سازشیں کیں ۔ کبھی خود اسے اپنے وطن سے ہجرت کرنی پڑی۔ کبھی اس کو انتہائی حسرت اور فاقہ کسی کی زندگی گزارنی پڑی۔ کبھی اسے پیہم لڑائیوں سے سابقہ پیش آیا جن میں شکست اور فتح، دونوں ہی ہوتی رہیں ۔ کبھی وہ دشمنوں پر غالب آیا اور وہی دشمن جنہوں نے اس پر ظلم توڑے تھے ، اس کے سامنے سرنگوں نظر آئے۔ کبھی اسے وہ اقتدار نصیب  ہوا جو کم ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے ۔ ان تمام حالات میں انسان کے جذبات ظاہر ہے کہ یکساں نہیں رہ سکتے ۔ اس رہنما نے ان مختلف مواقع پر خود اپنی ذاتی حیثیت میں جب کبھی کلام کیا، اس میں ان جذبات کا اثر نمایاں نظر آتا ہے جو ایسے مواقع پر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ لیکن خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے طور پر ان مختلف حالات میں جو کلام اس کی زبان سے سنا گیا وہ انسانی جذبات سے بالکل خالی ہے ۔ کسی ایک مقام پر بھی کوئی بڑے سے بڑا نقاد انگلی رکھ کر یہ نہیں بتا سکتا کہ یہاں انسانی جذبات کار فرما نظر آتے ہیں ۔

(۷)۔ جو وسیع اور جامع علم اس کتاب میں پایا جاتا ہے وہ اس زمانے کے اہل عرب اور اہل روم و یونان و ایران تو در کنار اس بیسویں صدی کے اکابر اہل علم میں سے بھی کسی کے پاس نہیں ہے ۔ آّج حالت یہ ہے کہ فلسفہ و سائنس اور علوم عمران کی کسی ایک شاخ کے مطالعہ میں اپنی عمر کھپا دینے کے بعد آدمی کو پتا چلتا ہے کہ اس شعبہ علم کے آخری مسائل کیا ہیں ، اور پھر جب وہ غائر نگاہ سے قرآن کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں ان مسائل کا ایک واضح جواب موجود ہے ۔ یہ معاملہ کسی ایک علم تک محدود نہیں ہے بلکہ ان تمام علوم کے باب میں صحیح ہے جو کائنات اور انسان سے کوئی تعلق رکھتے ہیں ۔ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ۱۴  سو برس پہلے ریگستان عرب میں ایک عمی کو علم کے ہر گوشے پر اتنی وسیع نظر حاصل تھی اور اس نے ہر بنیادی مسئلے پو غور و خوض کر کے اس کا یک صاف اور قطعی جواب سوچ لیا تھا؟

اعجاز قرآن کے اگر چہ اور بھی متعدد وجوہ ہیں ، لیکن صرف ان چند وجوہ ہی پر اگر آدمی غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قرآن کا معجزہ ہونا جتنا نزول قرآن کے زمانے میں واضح تھا اس سے بدر جہا زیادہ آج واضح ہے اور انشاءاللہ قیامت تک یہ واضح تر ہوتا چلا جائے گا۔

۲۸۔ اس سے پہلے جو سوالات چھڑے گئے تھے وہ کفار مکہ کو یہ احساس دلانے کے لیے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دعوائے رسالت کو جھٹلانے کے لیے جو باتیں وہ بنا رہے ہیں وہ کس قدر غیر معقول ہیں ۔ اب اس آیت میں ان کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ جو دعوت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیش کر رہے ہیں آخر اس میں وہ بات کیا ہے جو پر تم لوگ اس قدر بگڑ رہے ہو۔ وہ یہی تو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تمہارا خلق ہے اور اسی کی تم کو بند گی کرنی چاہیے ۔ اس پر تمہارے بگڑنے کی آخر کیا معقول وجہ ہے ؟ کیا تم خود بن گئے ہو، کسی بنانے والے نے تمہیں نہیں بنایا؟ یا اپنے بنانے والے تم خود ہو؟ یا یہ وسیع کائنات تمہاری بنانی ہونی ہے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے اور تم خود مانتے ہو کہ تمہارا خالق بھی اللہ ہی ہے اور اس کائنات کا خلاق بھی وہی ہے ، تو اس شخص پر تمہیں غصہ کیوں آتا ہے جو تم سے کہاتا ہے کہ وہی اللہ تمہاری بندگی و پرستش کا مستحق ہے ؟ غصے کے لائق بات یہ ہے یا یہ کہ جو خالق نہیں ہیں ان کی بندگی کی جائے اور جو خالق ہے اس کی بندگی نہ کی جائے؟ تم زبان سے یہ اقرار تو ضرور کرتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا اور کائنات کا خالق ہے ، لیکن اگر تمہیں واقعی اس بات کا یقین ہوتا تو اس کی بندگی کی طرف بالنے والے کے پیچھے اس طرح ہاتھ دھو کر نہ پڑ جاتے ۔

یہ ایسا زبردست چبھتا ہوا سوال تھا کہ اس نے مشرکین کے عقیدے کی چولیں ہلا دیں ۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ جبیر بن مطعم جنگ بدر کے بعد قریش کے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کرنے کے لیے کفار مکہ کی طرف سے مدینہ آئے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور اس میں سورہ طور زیر تلاوت تھی۔ ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ جب حضور اس مقام پر  پہنچے تو میرا دل سینے سے اڑا جاتا تھا۔ بعد میں ان کے مسلمان ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس روز یہ آیات سن کر اسلام ان کے دل میں جڑ پکڑ چکا تھا۔

۲۹۔ یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ(صلی اللہ علیہ و سلم) ہی کیوں رسول بنائے گئے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنانے اور کس کو نہ بنائے؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں ، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے ۔

۳۰۔ ان مختصر فقروں  میں ایک بڑے مفصل استدلال کو سمو دیا گیا ہے ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر تمہیں رسول کی بات ماننے سے انکار ہے تو تمہارے پاس خود حقیقت کو جاننے کا آخر ذریعہ کیا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی شخص عالم بالا میں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ،یا اس کے فرشتوں سے اس نے براہ راست یہ معلوم کر لیا ہے کہ وہ عقائد بالکل حقیقت کے مطابق ہیں جن پر تم لوگ اپنے دین کی بنا رکھے ہوئے ہو؟ یہ دعویٰ اگر کسی کو ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے کہ اسے کب اور کیسے عالم بالا تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور کیا علم وہ وہاں سے لے کر آیا ہے ۔ اور اگر یہ دعویٰ تم نہیں رکھتے تو پھر خود ہی غور کرو کہ اس سے زیادہ مضحکہ انگیز عقیدہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ تم اللہ رب العالمین کے لیے اولاد تجویز کرتے ہو، اور اولاد بھی لڑکیاں ، جنہیں تم خود اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے ہو؟ علم کے بغیر اس قِسم کی صریح جہالتوں کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہو، اور خدا کی طرف سے جو شخص علم کی روشنی تمہارے سامنے پیش کرتا ہے اس کی جان کے دشمن ہوئے جاتے ہو۔

۳۱۔ سوال کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تم سے کوئی غرض رکھتا اور اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے یہ ساری دوڑ دھوپ کر رہا ہوتا تو اس سے تمہارے بھاگنے کی کم از کم ایک معقول وجہ ہوتی۔ مگر تم خود جانتے ہو کہ وہ اپنی اس دعوت میں بالکل بے غرض ہے اور محض تمہاری بھلائی کے لیے اپنی جان کھپا رہا ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ٹھنڈے دل سے اس کی بات سننے تک کے روادار نہیں ہو؟ اس سوال میں ایک لطیف تعریض بھی ہے ۔ ساری دنیا کے بناوٹی پیشوا اور مذہبی آستانوں کے مجاوروں کی طرح عرب میں بھی مشرکین کے پیشوا اور پنڈت اور پروہت کھلا کھلا مذہبی کاروبار چلا رہے تھے ۔ اس پر یہ سوال ان کے سامنے رکھ دیا گیا کہ ایک طرف یہ مذہب کے تاجر ہیں جو علانیہ تم سے نذریں ، نیازیں ، اور ہر مذہبی خدمت کی اجرتیں وصول کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف ایک شخص کامل بے غرضی کے ساتھ، بلکہ اپنے تجارتی کاروبار کو برباد کر کے تمہیں نہایت معقول دلائل سے دین کا سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اب یہ صریح بے عقلی نہیں تو اور کیا ہے کہ تم اس سے بھاگتے اور ان کی طرف دوڑتے ہو۔

۳۲۔ یعنی رسول تمہارے سامنے جو حقائق پیش کر رہا ہے ان کو جھٹلانے کے لیے آخر تمہارے پاس وہ کون سا علم ہے جسے تم اس دعوے کے ساتھ پیش کر سکو کہ پردۂ ظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقتوں کو تم براہ راست جانتے ہو؟ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ خدا ایک نہیں ہے بلکہ وہ سب بھی خدائی صفات و اختیارات رکھتے ہیں جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے ٍ؟ کیا واقعی تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں اور نعوذ باللہ، خدا کے ہاں پیدا ہوئی ہیں ؟ کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ کوئی وحی نہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئی ہے نہ خدا کی طرف سے کسی بندے کے پاس آسکتی ہے ٍ؟ کیا واقعی تمہیں اس بات کا علم ہے کہ کوئی قیامت برپا نہیں ہونی ہے اور مرنے کے بعد کوئی دوسرے زندگی نہیں ہو گی اور کوئی عالم آخرت قائم نہ ہو گا جس میں انسان کا محاسبہ ہو اور اسے جزا و سزا دی  جائے؟ اگر اس طرح کے کسی علم کا تمہیں  دعویٰ غیب کے پیچھے جھانک کر تم نے یہ دیکھ لیا ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو رسول بیان کر رہا ہے ٍ؟ اس مقام پر ایک شخص یہ شبہ ظاہر کر سکتا ہے کہ اس کے جواب میں اگر وہ لوگ ہٹ دھرمی کی بنا پر وہ لکھ بھی دیتے تو جس معاشرے میں یہ چیلنج برسر عام پیش کیا گیا تھا اس کے عام لوگ اندھے تو نہ تھے ۔ ہر شخص جان لیتا کہ یہ لکھا سراسر ہٹ دھرمی کے ساتھ دیا گیا ہے اور در حقیقت رسول کے بیانات کو جھٹلانے کی بنیاد یہ ہر گز نہیں ہے کہ کسی کو ان کے خلاف واقعہ ہوتے کا علم حاصل ہے ۔

۳۳۔ اشارہ ہے ان تدبیروں کی طرف جو کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو زک دینے اور آپ کو ہلاک کرنے کے لیے آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچا کرتے تھے ۔

۳۴۔ یہ قرآن کی صریح پیشن گوئیوں میں سے ایک ہے ۔ مکی دور کے ابتدائی زمانے میں ، جب مٹھی بھر بے سر و سامان مسلمانوں کے سوا بظاہر کوئی طاقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نہ تھی، اور پوری قوم آپ کے خلاف برسر پیکار تھی، اسلام اور کفر کا مقابلہ ہر دیکھنے والے کو انتہائی نا مساوی مقبلہ نظر آ رہا تھا۔ کوئی شخص بھی اس وقت یہ اندازہ نہ کر سکتا تھا کہ چند سال کے بعد یہاں کفر کی بساط بالکل الٹ جانے والی ہے ۔ بلکہ ظاہر میں نگاہ تو یہ دیکھ رہی تھی کہ قریش اور سارے عرب کی مخالفت آخر کار اس دعوت کا خاتمہ کر کے چھوڑے گی۔ مگر اس حالت میں پوری تحدی کے ساتھ کفار سے یہ صاف صاف کہہ دیا گیا کہ اس دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیریں بھی تم کرنا چاہو کر کے سیکھ لو۔ وہ سب الٹی تمہارے ہی خلاف پڑیں گی اور تم اسے شکست دینے میں ہر گز کامیاب نہ ہو سکو گے ۔

۳۵۔ یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ کن کو انہوں نے اِلٰہ بنا رکھا ہے و حقیقت میں اِلٰہ نہیں ہیں اور شرک سراسر ایک بے اصل چیز ہے ۔ اس لیے جو شخص توحید کی دعوت لے کر اٹھا ہے اس کے ساتھ سچائی کی طاقت ہے اور جو لوگ شرک کی حمایت کر رہے ہیں وہ ایک بے حقیقت چیز کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ اس لڑائی میں شرک آخر کیسے جیت جائے گا؟

۳۶۔ اس ارشاد سے مقصود ایک طرف سرداران قریش کی ہٹ دھرمی کے بے نقاب کرنا، اور دوسرے طرف سول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے ۔ حضورؐ اور صحابہ کرام کے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معجزہ ایس دکھا دیا جائے جس سے ان کو نبوت محمدیہ کی صداقت معلوم ہو جائے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ یہ خواہ کوئی معجزہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ، بہر حال یہ اس کی تاویل کر کے کسی نہ کسی طرح اپنے کفر پر جمے رہنے کا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے ، کیونکہ ان کے دل ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی ان کی اس ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ مثلاً سورہ انعام میں فرمایا’’ اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر  کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ماننے والے نہ تھے ‘‘۔ (آیت ۱۱۱)۔ اور سورہ حجر میں فرمایا’’ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے اور یہ دن دہاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے ، پھر بھی یہ لوگ یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں دھوکا کھا رہی ہیں ، بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے ‘‘ (آیت۔ ۱۵ )۔

۳۷۔ یہ اسی مضمون کا اعادہ ہے جو سورہ السجدہ، آیت ۲۱ میں گزر چکا ہے کہ ’’ اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آ جائیں ‘‘۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کر کے ہم انہیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر بالا تر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے اور کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مگر جو لوگ جہالت میں مبتلا ہیں انہوں نے نہ پہلے کبھی ان واقعات سے سبق لیا ہے نہ آئندہ کبھی لیں گے ۔وہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کے معنی نہیں سمجھتے ، اس لیے ان کی ہر وہ تاویل کرتے ہیں جو حقیقت کے فہم سے ان کو اور زیادہ دور لے جانے والی ہو، اور کسی ایسی تاویل کی طرف ان کا ذہن کبھی مائل نہیں ہوتا جس سے اپنی دہریت یا اپنے شرک کی غلطی ان پر واضح ہو جائے۔ یہی بات ہے جو ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمائی ہے کہ : ان المنافق اذا مرض تم اعفی کان کالبعیر عقل اھلہ تم ارسلوہ فَلَمْ یدرلِمَ عقلوہ ولم ید ر لِمَ ارسلوO (ابو داؤد، کتاب الجنائز) یعنی ’’ منافق جب بیمار پڑتا ہے اور پھر اچھا ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے مالکوں نے باندھا تو اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں باندھا ہے اور جب کھول دیا تو وہ کچھ نہ سمجھا کہ کیوں کھول دیا ہے ۔’’ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ ۴۵۔ انمل، حاشیہ ۶۶،۔ العنکبوت، حاشیہ ۷۲۔۷۳)۔

۳۸۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے رب کے  حکم کی تعمیل پر ڈٹے رہو۔

۳۹۔ یعنی ہم تمہاری نگہبانی کر رہے ہیں ۔ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے ۔

۴۰۔ اس ارشاد کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں ، اور بعید نہیں کہ وہ سب ہی مراد ہوں

ایک مفہوم یہ ہے کہ جب بھی تم کسی مجلس سے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح کر کے اٹھو۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی اس پر عمل فرماتے تھے ، اور آپ نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی مجلس سے اٹھتے وقت اللہ کی حمد و تسبیح کر لیا کریں ، اس سے ان تمام اتوں کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے جو اس مجلس میں ہوئی ہوں ۔ ابوداؤد، ترمذی نسائی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے حضورؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور اس میں خوب قیلو قال ہوئی ہو، وہ اگر اٹھنے سے پہلے یہ الفاظ کہے تو اللہ ان باتوں کو معاف کر دیتا ہے جو وہاں ہوں : سبحانک اللہم و بحمدک، اشھد ان لا اِلٰہ الا انت، استغفرک و اتوب الیک۔‘‘ خداوندا، میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘

دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نیند سے بیدار ہو کر اپنے بستی سے اٹھو تو اپنے تب کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرو۔ اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود عمل فرماتے تھے اور اپنے اصحاب کو آپ نے یہ تعلیم دی تھی کہ نیند سے جب بیدار ہوں تو یہ الفاظ کہا کریں : لاالہ الااللہ وحدہ لا شریک لہٗ لہٗ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیءٍ قدیر۔ سبحان اللہ والحمد لِلہ ولا اِلہ الااللہ، واللہ اکبر، ولاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ (مسند احمد، بخاری بروایت عبادہ بن الصامت)

تیسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔اسی حکم کی تعمیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہدایت فرمائی کہ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ کے بعد ان الفاظ سے کی جائے سبحانک اللہم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الٰہ غیرک۔

چوتھا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مستقل معمول تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے خطبوں کا آغاز حمد و ثنا سے فرمایا کرتے تھے ۔

مفسر ابن ضریر نے اس کا ایک اور مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جب تم دوپہر کو قیلولہ کر کے اٹھو تو نماز پڑھو، اور اس سے مراد نماز ظہر ہے ۔

۴۱۔ اس سے مراد مغرب و عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہیں ، اور تلاوت قرآن بھی، اور اللہ کا ذکر بھی۔

۴۲۔ ستاروں کے پلٹنے سے مراد رات کے آخری حصہ میں ان کا غروب ہونا اور سپیدیِ صبح کے نمودار ہونے پر ان کی روشنی کا ماند پڑ جانا ہے ۔ یہ نماز فجر کا وقت ہے ۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۵۳) سورہ النجم

 

 

نام

 

پہلے ہی لفظ ہی وَالنجم سے ماخوذ ہے ۔ یہ بھی مضمون کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اَوَّلُ سَوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ فِیھا سجدۃٌ النجم (پہلی سورۃ جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے )۔  اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید، ابواسحاق، اور زُہَیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورۃ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے ایک مجمع عام میں ( اور ابن مردوؤیہ کی روایت کے مطابق حَرَم میں)سنایا تھا۔ مجمع میں کافر  اور مومن سب موجود تھے ۔آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک، جو مخالفت میں پیش پیش تھے سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں سے سرف ایک شخص امیہ بن خَلَف کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے ۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔

اس واقعہ دے دوسرے عینی شاہد حضرت مُطلب بن ابی وَداعَہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ۔ نسائی اور مُسند احمد میں ان کا اپنی بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضورؐ نے سورہ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورے کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا۔

ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب ۵ نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش میں طرف ہجرت کر چکی تھی۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے مجمع عام میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال ۵ نبوی میں مکہ واپس آ گئے۔مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی، آخر کار دوسرے ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ سورۃ رمضان ۵ نبوی میں نازل ہوئی ہے ۔

 

تاریخی پس منظر

 

زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے ۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقع نہ مل سکا تھا، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں کس کمال کی کشش، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے ۔اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود نہیں نہ کسی کو سننے دیں، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریق کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے ۔

ان حالات میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حرم پاک میں جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا، یکایک تقریر کرنے کھڑے ہو گئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورہ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔اس کلام کی شدت تاثیر کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور  مچانے کا ہوش ہی نہ رہا، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سرد ہو گئی، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے ، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سجدہ بھی کر گزرے ۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے تو : اَفَرْءَیْتُمُ اللّٰتَ وَا لْعزّیٰ۔ وَمَنٰوۃَ الثَّا لِثَۃَ الْقُخْریٰ کے بعد محمدؐ کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العُلیٰ، وان شفا گتھنا لتر جیٰ (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے )، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمدؐ ہمارے طریقے پر واپس آ  گئے  ہیں۔ حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورۃ کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم،الحج، حواشی ۹۶ تا ۱۰۱ )۔

 

موضوع اور مضمون

 

تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے ۔

کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پر رہے ہو، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے ، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے ۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے اپنے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعہ سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے ۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے ۔وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے ۔

اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں:

اوّلاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے ۔ تم نے لات اور منات اور عزّیٰ جیسی چند دیویوں کے معبود بنا رکھا ہے ، حالانکہ اُلوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے ،حالانکہ خود اپنے لی تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کر لیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالیٰ سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں، حالانکہ تمام ملائکہ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے ۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو۔ اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہو جائے۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے ۔ وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھیراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے ۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ، بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے ۔ اس لیے نہ تمہیں حقیقت کو کوئی طلب  ہے ،نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں۔

ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے ۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہوتا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو، بلکہ فیصلہ اس  اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ در گزر فرمائے گا۔

ثالثاً، دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآن مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں بیان ہو چکے تھے ، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں، بلکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ یہ وہ اصلی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ان ہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔

یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے ۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کے خبردار کیا گیا تھا۔اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے ؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ باز آ جاؤ اپنی اس روش سے جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اسی کی بندگی کرو۔

یہی وہ مؤثر خاتمہ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے تارے (۱)  کی جبکہ وہ غروب  ہوا، تمہارا رفیق (۲) نہ بھٹکا ہے یہ بہکا ہے (۳)۔

وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی (۴)ہے ۔ اسے زبر دست قوت والے نے تعلیم دی (۵) ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے ۔ (۶) وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق (۷) پر تھا، پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا (۸)۔  تب اس نے اللہ کے بندے کے وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی (۹)۔ نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا (۱۰)۔ اب کیا  تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ؟

اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اس کو دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے (۱۱)۔

اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا (۱۲)۔ نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی(۱۳) اور اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں (۱۴)۔

اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اس لات، اور اس عزی، اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟ (۱۵) کیا بیٹے تمہارے لیئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیئے (۱۶)؟ یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی !

دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیئے ہیں۔ ! اللہ نے ان کے لیئے کوئی سند نازل نہیں (۱۷) کی۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں(۱۸)۔حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی (۱۹)ہے ۔ کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیئے وحی حق ہے (۲۰)۔ دینا، اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔ ع

 

تفسیر

 

۱۔اصل میں لفظ  ’’النّجم‘‘ استعمال ہوا ہے ۔ ابن عباس، مجاہد اور سُفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس سے مراد ثریا(Pleiades) ہے ۔ ابن جریر اور زمخشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے ، کیونکہ عربی زبان میں جب مطلقاً النجم کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً اس سے ثریا ہی مراد لیا جاتا ہے ۔ سدی کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ (Venus) ہے ۔ اور ابو عبیدہ نجوی کا قول ہے کہ یہاں النجم بول کر جنس نجوم مراد لی گئی ہے ، یعنی مطلب یہ ہے جب صبح ہوئی اور سب ستارے غروب ہو گئے۔ موقع و محل کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ آخری قول زیادہ قابل ترجیح ہے ۔

۲۔ مراد ہیں رسول اللہ ﷺ اور مخاطب ہیں قریش کے لوگ۔ اصل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ صَاحِبُکُمْ (تمہارا صاحب)۔ ’’صاحب ‘‘ عربی زبان میں دوست، رفیق، ساتھی، پاس رہنے والے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کو ہوتے ہیں۔ اس مقام پر آپؐ کا نام لینے یا ’’ہمارا رسولؐ‘‘ کہنے کے بجائے ’’’’تمہارا صاحب ‘‘ کہہ کر آپؐ کا ذکر کرنے میں بڑی گہری معنویت ہے ۔ اس سے قریش کے لوگوں کو یہ حساس دلانا مقصود ہے کہ جس شخص کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ تمہارے ہاں بہر سے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی نہیں ہے اس سے تمہاری پہلے کی کوئی جان پہچان نہ ہو۔ تمہاری اپنی قوم کا آدمی ہے ۔ تمہارے ساتھ ہی رہتا بستا ہے ۔ تمہارا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کون ہے ، کیا ہے ، کس سیرت و کردار کا انسان ہے ، کیسے اس کے معاملات ہیں، کیسے اس کی عادات و خصائل ہیں، اور آج تک تمہارے درمیان اس کی زندگی کیسی رہی ہے ۔ اسے بارے میں منہ پھاڑ کر کوئی کچھ کہہ دے تو تمہارے اندر ہزاروں آدمی اس کے جاننے والے موجود ہیں جو خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بات اس شخص پر چسپاں ہوتی بھی ہے یا نہیں۔

۳۔ یہ ہے وہ اصل بات جس پر غروب ہونے والے تارے یا تاروں کی قَسم کھائی گئی ہے ۔ بھٹکنے سے مراد ہے کسی شخص کا راستہ نہ جاننے کی وجہ سے کسی غلط راستے پر چل پڑنا اور بہکنے سے مراد ہے کسی شخص کا جان بوجھ کر غلط راستہ اختیار کر لینا۔ ارشاد الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جو تمہارے جانے پہچانے آدمی ہیں، ان پر تم لوگوں کا یہ الزام بالکل غلط ہے کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گئے ہیں۔ در حقیقت وہ نہ بھٹکے ہیں بہکے ہیں۔ اس بات پر تاروں کے غروب ہونے کی قَسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ لے کہ رات کی تاریکی میں جب تارے نکلے ہوئے ہوں، ایک شخص اپنے گردو پیش کی اشیاء کو صاف نہیں دیکھ سکتا اور مختلف اشیاء کی دھندلی شکلیں دیکھ کر ان کے بارے میں غلط اندازے کر سکتا ہے ۔ مثلاً اندھیرے میں دور سے کسی درخت کو دیکھ اسے بھوت سمجھ سکتا ہے ۔ کوئی رسی پڑی دیکھ کر اسے سانپ سمجھ سکتا ہے ۔ ریت سے کوئی چٹان ابھری دیکھ کر یہ خیال کر سکتا ہے کہ کوئی درندہ بیٹھا ہے ۔ لیکن جب تارے ڈوب جائیں اور صبح روشن نمودار ہو جائے تو ہر چیز اپنی اصلی شکل میں آدمی کے سامنے آؔ جاتی ہے ۔ اس وقت کسی چیز کی اصلیت کے بارے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔ ایسا ہی معاملہ تمہارے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی ہے کہ ان کی زندگی اور شخصیت تاریکی میں چھپی ہوئی نہیں ہے بلکہ صبح روشن کی طرح عیاں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ تمہارا یہ ’’صاحب‘‘ ایم نہایت سلیم الطبع اور دانا و فرزانہ آدمی ہے ۔ اس کے بارے میں قریش کے کسی شخص کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی ہے کہ وہ گمراہ ہو گیا ہے ۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہ کمال درجہ کا نیک نیت اور راستباز انسان ہے ۔ اس کے متعلق تم میں سے کوئی شخص کیسے یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر نہ صرف خود ٹیڑھی راہ اختیار کر بیٹھا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اسی ٹیڑھے راستے کی طرف دعوت دینے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے ۔

۴۔ مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گیا ہے ، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے ، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعوائے نبوت کر دیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا  تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزائے اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے ، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے ۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے ، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ’’ آپؐ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپؐ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپؐ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟ آیا اس کا اطلاق ان سارے باتوں پر ہوتا ہے جو آپ بولتے تھے ، یا بعض باتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض باتوں پر نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اس پر تو اس ارشاد کا اطلاق بدرجہ  اَولیٰ ہوتا ہے ۔ رہیں وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔

ایک قِسم کی باتیں وہ جو آپ تبلیغ دین اور دعوت الیٰ اللہ کے لیے کرتے تھے ، یا قرآن مجید کے مضامین اس کی تعلیمات اور اس کے احکام و ہدایات کی تشریح کے طور پر کرتے تھے ، یا قرآن ہی کے مقصد و مدعا کو پورا کرنے کے لیے وعظ و نصیحت فرماتے اور لوگوں کو تعلیم دیتے تھے ۔ ان کے متعلق ظاہر ہے کہ یہ شبہ کرنے کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ باتیں معاذاللہ، آپ اپنے دل سے گھڑتے تھے ۔ ان امور میں تو آپ کی حیثیت در حقیقت قرآن کے سرکاری ترجمان، اور اللہ تعالیٰ کے نمائندہ مناز کی تھی۔ یہ باتیں اگرچہ اس طرح لفظاً لفظاً آپؐ پر نازل نہیں کی جاتی تھیں جس طرح قرآن آپ پر نازل کیا جاتا تھا، مگر یہ لازماً تھیں اسی علم پر مبنی جو وحی کے ذریعہ سے آپ کو دیا گیا تھا ان میں اور قرآن میں فرق صرف یہ تھا کہ قرآن کے الفاظ اور معانی سب کچھ اللہ کی طرف سے تھے ، اور ان دوسری باتوں میں معانی و مطالب وہ تھی جو اللہ نے آپ کو سکھائے تھے اور ان کو ادا آپؐ اپنے الفاظ میں کرتے تھے ۔ اسی فرق کی بنا پر قرآن کو وحی جَلی، اور آپؐ کے ان دوستے ارشادات کو وحی خَفِی کہا جاتا ہے ۔

دوسری قِسم کی باتیں وہ تھیں جو آپ اعلائے کلمۃ اللہ کی جد جہد اور اقامت دین کی خدمات کے سلسلے میں کرتے تھے ۔ اس کام میں آپؐ کو مسلمانوں کی جماعت کے قائد و رہنما کی حیثیت سے مختلف نوعیت کے بے شمار فرائض انجام دینے ہوتے تھے جن میں بسا اوقات آپؐ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ بھی لیا ہے ، اپنی رائے چھوڑ کر ان کی رائے بھی مانی ہے ، ان کے دریافت کرنے پر کبھی کبھی یہ صراحت بھی فرمائی ہے کہ یہ بات میں خدا کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی رائے کے طور پر کہہ رہا ہوں، اور متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ آپؐ  نے اپنے اجتہاد سے کوئی بات کی ہے اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے خلاف ہدایت آ گئی ہے ۔ اس نوعیت کی جتنی باتیں بھی آپؐ نے کی ہیں، ان میں سے بھی کوئی ایسی نہ تھی اور قطعاً نہ ہو سکتی تھی جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ رہا یہ سوال کہ کیا وہ وحی پر مبنی تھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بجز ان باتوں کے جن میں آپؐ نے خود تصریح فرمائی ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے نہیں ہیں، یا جن میں آپؐ نے صحابہؓ سے مشورہ طلب فرمایا ہے اور ان کی رائے قبول فرمائی ہے ، یا جن میں آپؐ سے کوئی قول و فعل صادر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف ہدایت نازل فرما دی ہے ، باقی تمام باتیں اسی طرح وحی خفی پر پر مبنی تھیں جس طرح پہلی نوعیت کی باتیں۔ اس لیے کہ دعوت اسلامی کے قائد و رہنما اور جماعت مومنین کے سردار اور حکومت اسلامی کے فرمانروا کا جو منصب آپؐ کو حاصل تھا وہ آپؐ  کا خود ساختہ یا لوگوں کا عطا کردہ نہ تھا بلکہ اس پر آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے تھے ، اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی میں آپؐ جو کچھ کہتے اور کرتے تھے اس میں آپؐ کی حیثیت مرضی الٰہی کے نمائندے کی تھی۔ اس معاملے میں آپ نے جو باتیں اپنے اجتہاد سے کی ہیں ان میں بھی آپؐ کا اجتہاد اللہ کو پسند تھا اور علم کی اس روشنی سے ماخوذ تھا جو اللہ نے آپؐ  کو دی تھی۔ اسی لیے جہاں آپؐ کا اجتہاد ذرا بھی اللہ کی پسند سے ہٹا ہے وہاں فوراً وحی جلی سے اس کی اصلاح کر دی گئی ہے ۔ آپؐ کے بعض اجتہادات کی یہ اصلاح بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے باقی تمام اجتہادات عین مرضی الٰہی کے مطابق تھے ۔

تیسری قِسم کی باتیں وہ تھیں جو آپؐ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے زندگی کے عام معاملات میں کرتے تھے ، جن کا تعلق فرائض نبوت سے نہ تھا، جو آپؐ نبی ہونے سے پہلے بھی کرتے تھے اور نبی ہونے کے بعد بھی کرتے رہے ۔ اس نوعیت کی باتوں کے متعلق سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے بارے میں کفار سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔ کفار نے ان کی بنا پر آپؐ کو گمراہ اور بد راہ نہیں کہا تھا بلکہ پہلی دو قِسم کی باتوں پر وہ یہ الزام لگاتے تھے ۔ اس لیے وہ سرے سے زیر بحث ہی نہ تھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں یہ آیت ارشاد فرماتا۔ لیکن اس مقام پر ان کے خارج از بحث ہونے کے باوجود یہ امر واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے کوئی بات اپنی زندگی کے اس نجی پہلو میں بھی کبھی خلاف حق نہیں نکلتی تھی، بلکہ ہر وقت ہر حال میں آپ کے اقوال و افعال ان حدود کے اندر محدود رہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبرانہ اور متقیانہ زندگی کے لیے آپؐ کو بتا دی تھیں۔ اس لیے در حقیقت وحی کا نور ان میں بھی کار فرما تھا۔ یہی بات ہے جو بعض صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہوئی ہے ۔ مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضورؐ نے فرمایا لا اقول اِلّا حقّاً، ’’ میں کبھی حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا‘‘۔ کسی صحابی نے عرض کیا فانّک تُداعبُنا یا رسول اللہ،’’ یا رسول اللہ، کبھی کبھی آپ ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کر لیتے ہیں‘‘۔ فرمایا انی لا اقول الا حقّا، ’’ فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا‘‘۔ مسند احمد اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے سنتا تھا وہ لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے محفوظ کر لوں۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے تم ہر بات لکھتے چلے جاتے ہو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، کبھی غصے میں بھی کوئی بات فرما دیتے ہیں۔ اس پر میں نے لکنا چھوڑ دیا۔ بعد میں اس بات کا ذکر میں نے حضورؐ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا :اکتب فو الذی نفسی بیدہ ما خرج منّی الّا الحق، تم لکھے جاؤ، اس ذات کی قَسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلی ہے ‘‘۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب تفہیمات، حصہ اوّل، مضمون ’’رسالت اور اس کے احکام‘‘)۔

۵۔ یعنی کوئی انسان اس کو سکھانے والا نہیں ہے ، جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، بلکہ یہ علم اس کو ایک فوق البشر ذریعہ سے حاصل ہو رہا ہے ۔’’زبردست قوت والے ‘‘ سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عائشہؓ حضرت ابو ہریرہؓ، قتادہ، مجاہد، اور ربیع بن انس جریر، ابن کثیر، رازی اور آلوسی وغیرہ حضرات نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور مولانا اشرف علی صاحب نے بھی اپنے ترجموں میں اسی کی پیروی کی ہے ۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ خود قرآن مجید کی دوسرے تصریحات سے بھی یہی ثابت ہے ۔ سورۃ تکویر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اِنَّہۂ لَقَولُ رَسُوْلٍ کَرِیمٍ، ذِیْقُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ،مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمیْنٍ، وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ،وَلَقَدْرَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِo (آیت ۱۹۔۲۳)۔ ’’در حقیقت یہ ایک بزرگ فرشتے کا بیان ہے جو زبردست قوت والا ہے ، مالک عرش کے ہاں بڑا درجہ رکھتا ہے ، اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہاں وہ معتبر ہے ۔ تمہارا رفیق کچھ دیوانہ نہیں ہے ، وہ اس فرشتے کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھ چکا ہے ‘‘۔ پھر سورہ بقرہ کی آیت ۹۷ میں اس فرشتے کا نام بھی بیان کر دیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے یہ تعلیم حضورؐ کے قلب پر نازل کی گئی تھی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّ الِّجِبْرِیْلَ فَاِنّہٗ نَزَّلَہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ ان تمام آیات کو اگر سورہ نجم کی اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ یہاں زبردست قوت والے معلم سے مراد جبریل امین ہی ہیں نہ کہ اللہ تعالیٰ۔ اس مسئلے پر مفصل بحث آ گئے آ رہی ہے ۔

اس مقام پر بعض حضرات جبریل امین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معلم کیسے قرار دیا جا سکتا ہے ، اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ وہ استاد ہیں اور حضورؐ شاگرد، اور اس سے حضورؐ پر جبریل کی فضیلت لازم آئے گی لیکن یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ جبریل اپنے کسی ذاتی علم سے حضورؐ کو تعلیم نہیں دیتے تھے جس سے آپ پر ان کی فضیلت لازم آئے، بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آپؐ تک علم پہنچانے کا ذریعہ بنایا تھا اور وہ محض واسطہ تعلیم ہونے کی حیثیت سے مجازاً آپ کے معلم تھے ۔ اس سے ان کی افضلیت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پانچ وقت نمازیں فرض ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز کے صحیح اوقات بتانے کے لیے جبریل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیجا اور انہوں نے دو روز تک پانچوں وقت کی نمازیں آپ کو پڑھائیں۔ یہ قصہ بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور مُؤطا وغیرہ کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ مقتدی تھے اور جبریل نے امام بن کر آپ کو نماز پڑھائی تھی۔ لیکن اس طرح محض تعلیم کی غرض سے ان کا امام بنایا جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ آپ سے افضل تھے ۔

۶۔ اصل میں لفظ ذُوْمِرَّۃٍ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ ابن عباس اور قتادہ اس کو خوبصورت اور شاندار کے معنی میں لیتے ہیں۔ مجاہد، حسن بصری، ابن زید اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے معنی طاقت ور کے ہیں۔ سعید بن  مُسَیَّب کے نزدیک اس سے مراد صاحب حکمت ہے ۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا رشاد ہے : لاتھل الصدقۃ لغنی ولا الذی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ۔ اس ارشاد میں ذومرہ کو آپ نے تندرست اور صحیح القویٰ کے معنی میں استعمال فرمایا ہے ۔ عربی محاورے میں یہ لفظ نہایت صائب الرائے اور عاقل و دانا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جبریل علیہ السلام کے لیے یہ جامع لفظ اسی لیے منتخب فرمایا ہے کہ ان میں عقلی اور جسمانی، دونوں طرح کی قوتوں کا کمال لیا جاتا ہے ۔ اردو زبان میں کوئی لفظ ان تمام معنوں کا جامع نہیں ہے ۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمے میں اس کے صرف ایک معنی کو اختیار کیا ہے ، کیونکہ جسمانی قوتوں کے کمال کا ذکر اس سے پہلے کے فقرے میں آ چکا ہے ۔

۷۔ اُفق سے مراد ہے آسمان کا مشرقی کنارا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے ۔ اسی کو سورۃ تکویر کی آیت ۲۳ میں اُفق مبین کہا گیا ہے ۔ دونوں آیتیں  صراحت کرتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جبریل علیہ السلام جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نظر آئے اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے ۔ اور متعدد و معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ آ گئے چل کر ہم وہ تمام روایات نقل کریں گے جن میں یہ بات بیان کی گئی ہے ۔

۸۔ یعنی آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہونے کے بعد جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ علیہ و سلم کی طرف آ گئے بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ آپؐ کے اوپر آ کر فضا میں معلق ہو گئے۔ پھر وہ آپؐ کی طرف جھکے اور اس قدر قریب ہو گئے کہ آپؐ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ عام طور پر مفسرین نے قَابَ قَوْسَیْن کے معنی ’’ بقدر دو قوس‘‘ ہی بیان کیے ہیں، لیکن حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے قوس کو ذراع(ہاتھ)کے معنی میں لیا ہے اور کَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

اور یہ جو فرمایا کہ فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ فاصلے کی مقدار کے تعین میں اللہ تعالیٰ کو کوئی شک لاحق ہو گیا ہے ۔ در اصل یہ طرز بیان اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ تمام کمانیں لازماً ایک ہی ناپ کی نہیں ہوتیں اور ان کے حساب سے کسی فاصلے کو جب بیان کیا جائے گا تو مقدار فاصلہ میں ضرور کمی بیشی ہو گی۔

۹۔ اصل الفاظ ہیں فَاَوْ حٰٓی اِلیٰ عَبْدِہٖ مَاً اَوْحیٰ۔ اس فقرے کے دو ترجمے ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ’’ اس نے وحی کی اس کے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ اور دوسرا یہ کہ ’’ اس نے وحی کی اپنے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ پہلا ترجمہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جبریلؑ نے وحی کی اللہ کے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کی اپنے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ دوسرا  ترجمہ کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ اللہ نے وحی کی جبریل کے واسطہ سے اپنے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کرنی تھی۔ مفسرین نے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں۔ مگر سیاق و سباق کے ساتھ زیادہ مناسبت پہلا مفہوم ہی رکھتا ہے اور وہی حضرت حسن بصری اور ابن زید سے منقول ہے ۔اس پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ عبدہٖ کی ضمیر اوحیٰ کے فاعل کی طرف پھرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے پھر سکتی ہے جب کہ آغاز سورۃ سے یہاں تک اللہ کا نام سے سے آیا ہی نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں ضمیر کا مرجع کسی خاص شخص کی طرف سیاق کلام سے صاف ظاہر ہو رہا ہو وہاں ضمیر آپ سے آپ اسی کی طرف پھرتی ہے خواہ اس کا ذکر پہلے نہ آیا ہو۔ اس کی متعدد نظیریں خود قرآن مجید میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّآ اَنْزَ لْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ ’’ ہم نے اس کو شب قدر میں نازل کیا ہے ‘‘۔ یہاں قرآن کا سے سے کہیں ذکر نہیں آیا ہے ۔ مگر سیاق کلام خود بتا رہا ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن ہے ۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے وَلَوْ یُؤَ اخِذُ اللہُ النَّاسَ بَمَا کَسَبُوْ ا مَا تَرَکَ عَلیٰ ظَھْرِ ھَا مِنْ ھَآ بَّۃٍ۔ ’’ اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑنے لگے تو اس کی بیٹھ پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘‘۔ یہاں آ گئے پیچھے زمین کا ذکر کہیں نہیں آیا ہے ۔ مگر سیاق کلام سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ ’’ اس کی پیٹھ‘‘ سے مراد زمیں کی پیٹھ ہے ۔ سورہ یٰس میں فرمایا گیا ہے وَمَآ عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْلَہٗ۔ ‘‘ہم نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور نہ شاعری اس کو زیب دیتی ہے ۔‘‘۔ یہاں پہلے یا بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی ذکر نہیں آیا ہے مگر سیاق کلام بتا رہا ہے کہ ضمیروں کے مرجع آپؐ ہی ہیں۔ سورہ رحمٰن میں فرمایا کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ، ’’ وہ سب کچھ جو اس پر ہے فانی ہے ‘‘۔ آ گئے پیچھے کوئی ذکر زمین کا نہیں ہے ۔ مگر عبارت کا انداز ظاہر کر رہا ہے کہ علیہا کی ضمیر اسی کی طرف پھرتی ہے ۔ سورہ واقعہ میں ارشاد ہوا اِنَّآ اَنْشَأْ نَا ھُنَّ اِنْشَآ ءً، ’’ ہم نے ان کو خاص طور پر پیدا کیا ہو گا‘‘۔ آس پاس کوئی چیز نہیں جس کی طرف ھُنَّ کی ضمیر پھرتی نظر آتی ہو۔ یہ فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ  مراد خواتین جنت ہیں۔ پس چونکہ اَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ کا یہ مطلب بہر حال نہیں ہو سکتا کہ جبریلؑ نے اپنے بندے پر وحی کی، اس لیے لازماً اس کے معنی یہی لیے جائیں گے کہ جبریلؑ نے اللہ کے بندے پر وحی کی، یا پھر یہ کہ اللہ نے جبریل کے واسطہ سے اپنے بندے پر وحی کی۔

۱۰۔ یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوا۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے ، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے ، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آ گئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے ۔

اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسے عجیب اور غیر معمولی مشاہدے کے بارے میں قطعاً کوئی شک لاحق نہ ہوا اور آپ نے پورے یقین کے ساتھ جان لیا کہ آپ کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں وہ واقعہ حقیقت ہے ، کوئی خیالی ہیولیٰ نہیں ہے اور کوئی جن یا شیطان بھی نہیں ہے ؟ اس سوال پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس کے پانچ وجوہ ہماری سمجھ میں آتے ہیں:

ایک یہ کہ وہ خارجی حالات جن میں مشاہدہ ہوا تھا، اس کی صحت کا یقین دلانے والے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ مشاہدہ اندھیرے میں، یا مراقبے کی حالت میں، یا خواب میں، یا نیم بیداری کی حالت میں نہیں ہوا تھا، بلکہ صبح روشن طلوع ہو چکی تھی، آپ پوری طرح بیدار تھے ، کھلی فضا میں اور دن کی پوری روشنی میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر ٹھیک اسی طرح دیکھ رہے تھے جس طرح کوئی شخص دنیا کے دوسرے مناظر دیکھتا ہے ۔ اس میں اگر شک کی گنجائش ہو تو ہم دن کے وقت دریا، پہاڑ، آدمی، مکان، غرض جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ سب بھی پھر مشکوک اور محض نظر کا دھوکا ہی ہو سکتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ آپ کی اپنی داخلی حالت بھی اس کی صحت کا یقین دلانے والی تھی۔ آپ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں تھے ۔پہلے سے آپؐ کے ذہن میں اس طرح کا سرے سے کوئی خیال نہ تھا کہ آپ کو ایسا کوئی مشاہدہ ہونا چاہیے یا ہونے والا ہے ۔ ذہن اس فکر سے اور اس کی تلاش سے بالکل خالی تھا۔ اور اس حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آیا۔ اس پر یہ شک کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ آنکھیں کسی حقیقی نظر کو نہیں دیکھ رہی ہیں بلکہ ایک خیالی ہیولیٰ سامنے آ گئیا ہے ۔

تیسرے یہ کہ جو ہستی ان حالات میں آپ کے سامنے آئی تھی وہ ایسی عظیم، ایسی شاندار، ایسی حسین اور اس قدر منور تھی کہ نہ آپؐ کے وہم و خیال میں کبھی اس سے پہلے ایسی ہستی کا تصور آیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو یہ گمان ہوتا کہ وہ آپؐ کے اپنے خیال کی آفریدہ ہے ، اور نہ کوئی جن یا شیطان اس شان کا ہو سکتا ہے کہ آپ اسے فرشتے کے سوا اور کچھ سمجھتے ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، میں نے جبریل کو اس صورت میں دیکھ کہ ان کے چھ سو بازو تھے (مسند احمد)۔ ایک دوسری روایت میں ابن مسعودؓ مزید تشریح کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کا ایک ایک بازو اتنا عظیم تھا کہ افق پر چھایا ہوا نظر آتا تھا (مسند احمد)۔ اللہ تعالیٰ کو اور ان کی شان کو شَدِیْدُالْقُویٰ اور ذُوْمِرَّۃٍ کے الفاظ میں بیان فرما رہا ہے ۔

چوتھے یہ کہ جو تعلیم وہ  ہستی دے رہی تھی وہ بھی اس مشاہدے کی صحت کا اطمینان دلانے والی تھی۔ اس کے ذریعہ سے اچانک جو علم، اور تمام کائنات کے حقائق پر حاوی علم آپ کو ملا اس کا کوئی تصور پہلے سے آپؐ کے ذہن میں نہ تھا کہ آپؐ اس پر یہ شبہ کرتے کہ یہ میرے اپنے ہی خیالات ہیں جو مرتب ہو کر میرے سامنے آ گئے ہیں۔ اسی طرح اس علم پر یہ شک کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہ تھی کہ شیطان اس شکل میں آ کر آپ کو دھوکا دے رہا ہے ۔ کیونکہ شیطان کا یہ کام آخر کب ہو سکتا ہے اور کب اس نے یہ کام کیا ہے کہ انسان کو شرک و بُت پرستی کے خلاف توحید خالص کی تعلیم دے ؟ آخرت کی باز پرس سے خبردار کرے ؟ جاہلیت اور اس کے طور طریقوں سے بیزار کرے ؟ فضائل اخلاق کی طرف دعوت دے ؟ اور ایک شخص سے یہ کہے کہ نہ صرف تو خود اس تعلیم کو قبول کر بلکہ ساری دنیا سے شرک اور ظلم اور فسق و فجور کو مٹانے اور ان برائیوں کی جگہ توحید اور عدل اور تقویٰ کی بھلائیاں قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو؟

پانچویں اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو اپنی نبوت کے لیے چن لیتا ہے تو اس کے دل کو شکوک و شبہات اور وساوس سے پاک کر کے یقین و اذعان سے بھر دیتا ہے ۔ اس حالت میں اس کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں اور اس کے کان جو کچھ سنتے ہیں، اس کی صحت کے متعلق کوئی ادنیٰ سا تردد بھی اس کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ ہر اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر منکشف کی جاتی ہے ، خواہ  وہ کسی مشاہدے کی شکل میں ہو جو اسے آنکھوں سے دکھایا جائے، یا الہامی علم کی شکل میں ہو جو اس کے دل میں ڈالا جائے، یا پیغام وحی کی شکل میں ہو جو اس کو لفظ بلفظ سنایا جائے۔ ان تمام صورتوں میں پیغمبر کو اس امر کا پورا شعور ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی شیطانی مداخلت سے قطعی محفوظ و مامون ہے اور جو کچھ بھی اس تک کسی شکل میں پہنچ رہا ہے وہ ٹھیک ٹھیک اس کے رب کی طرف سے ہے ۔ تمام خدا داد احساسات کی طرح پیغمبر کا یہ شعور و احساس بھی ایک ایسی یقینی چیز ہے جس میں غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں۔ جس طرح مچھلی کو اپنے تیراک ہونے کا، پرندے کو اپنے پرندہ ہونے کا اور انسان کو اپنے انسان ہونے کا احساس بالکل خدا داد ہوتا ہے اور اس میں غلط فہمی کا کوئی شائبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پیغمبر کو اپنے پیغمبر ہونے کا احساس بھی خدا داد ہوتا ہے ، اس کے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ وسوسہ نہیں آتا کہ شاید اسے پیغمبر ہونے کی غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے ۔

۱۱۔ یہ جبریل علیہ السلام سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دوسری ملاقات کا ذکر ہے جس میں وہ آپ کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے۔ اس ملاقات کا مقام ’’سدرۃ المنتہیٰ ‘‘بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے قریب ’’جنت الماویٰ‘‘ واقع ہے ۔

سدرہ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے  ہیں، اور منتہیٰ کے معنی ہیں آخری سرا۔’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کے لغوی معنی ہیں‘‘ وہ بیری کا درخت جو آخری یا انتہائی سرے پر واقع ہے ‘‘۔ علامہ آلوسیؒ نے روح المعانی میں اس کی تشریح یہ کی ہے کہ: الیھا ینتہی علم کل عالم وما وراء حا لا یعلمہٗ الا اللہ۔ ’’ اس پر ہر عالم کا علم ختم ہو جاتا ہے ، آ گئے جو کچھ ہے اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔ قریب قریب یہی تشریح ابن جریر نے اپنی تفسیر میں، اور ابن اَثیر نے النِّہا یہ فی غریب الحدیث والاثر میں کی ہے ۔ ہمارے لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ اس عالم مأویٰ کی آخری سرحد پر وہ بیری کا درخت کیسا ہے اور اس کی حقیقی نوعیت و کیفیت کیا ہے ۔ یہ کائنات خداوندی کے وہ اسرار ہیں جن تک ہمارے فہم کی رسائی نہیں ہے ۔ بہر حال وہ کوئی ایسی ہی چیز ہے جس کے لیے انسانی زبان کے الفاظ میں ’’سدرہ‘‘ سے زیادہ موزوں لفظ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور کوئی نہ تھا۔

’’جنتُ الماویٰ‘‘ کے لغوی معنی ہیں ’’ وہ جنت جو قیام گاہ بنے ‘‘۔ حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ یہ وہی جنت ہے جو آخرت میں اہل ایمان و تقویٰ کو ملنے والی ہے ، اور اسی آیت ے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ جنت آسمان میں ہے ۔ قَتادہؒ کہتے ہیں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں، اس سے مراد وہ جنت نہیں ہے جو آخرت میں ملنے والی ہے ۔ ابن عباسؓ بھی یہی کہتے ہیں اور اس پر وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ آخرت جو جنت اہل ایمان کو دی جائے گی وہ آسمان میں نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ یہی زمین ہے ۔

۱۲۔ یعنی اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر ہے ۔ وہ ایسی تجلیات تھیں کہ نہ انسان ان کا تصور کر سکتا ہے اور نہ کوئی انسانی زبان اس کے وصف کی  متحمل ہے ۔

۱۳۔ یعنی ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ کی نگاہ میں کوئی چکا چوند پیدا نہ ہوئی اور آپ پورے سکون کے ساتھ ان کو دیکھتے رہے ۔ دوسری طرف آپ کے ضبط اور یکسوئی کا کمال یہ تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ نے ایک تماشائی کی طرح ہر طرف نگاہیں دوڑانی نہ شروع کر دیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو ایک عظیم و جلیل بادشاہ کے دربار میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور وہاں وہ کچھ شان و شوکت اس کے سامنے آتی ہے جو اس کی چشم تصور نے بھی نہ دیکھی تھی۔ اب اگر وہ شخص کم ظرف ہو تو وہاں پہنچ کر بھونچکا رہ جائے گا، اور اگر آداب حضوری سے ناآشنا ہو تو مقام شاہی سے غافل ہو کر دربار کی سجاوٹ کا نظارہ کرنے کے لیے ہر طرف مڑ مڑ کر دیکھنے لگے گا۔ لیکن ایک عالی ظرف، ادب آشنا اور فرض شناس آدمی نہ تو وہاں پہنچ کر مبہوت ہو گا اور نہ دربار کا تماشا دیکھنے میں مشغول ہو جائے گا، بلکہ وہ پورے وقار کے ساتھ حاضر ہو گا اور اپنی ساری توجہ اس مقصد پر مرتکز  رکھے گا جس کے لیے دربار شاہی میں اس کو طلب کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہی خوبی ہے جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے ۔

۱۴۔ یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق و سباق کی رو سے یہ دوسری ملا لات (ملاقات) بھی اسی ہستی سے ہوئی تھی جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اس کی تصریح کر دی جاتی حضرت موسیٰ کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تھی اور انہیں جواب دیا گیا تھا لَنْ تَرَانِیْ، ’’تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ‘‘ (المائدہ:۱۴۳)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ شرف، جو حضرت موسیٰ کو  عطا نہیں کیا گیا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا کر دیا  جاتا تو اس کی اہمیت خود ایسی تھی کہ اسے صاف الفاظ میں بیان کر دیا جاتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ حضورؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا، بلکہ واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے سورہ بنی اسرائیل میں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے کہ ’’ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘۔ (لِنُرِیَہٗ مِنْ ایَٰاتِنَا)، اور یہاں سدرۃ المنتہیٰ پر حاضری کے سلسلے میں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’ اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں’’(لَقَدْرَایٰ مِنْ ایٰٰتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ)۔

ان وجوہ سے بظاہر اس بحث کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں مواقع پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا جبریل علیہ السلام کو؟ لیکن جس وجہ سے یہ بحث پیدا ہوئی وہ یہ ہے کہ اس مسئلے پر احادیث کی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ذیل میں ہم ترتیب وار ان احادیث کو درج کرتے ہیں جو اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرام سے منقول ہوئی ہیں۔

(۱)۔ حضرت عائشہؓ کی روایات:

بخاری، کتاب التفسیر میں حضرت مَسْروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا، ’’ اماں جان، کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟’’ انہوں نے جواب دیا ’’ تمہاری اس بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تم یہ کیسے بھول گئے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کا اگر کوئی شخص دعویٰ کرے تو جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ ‘‘ (ان میں سے پہلی بات حضرت عائشہؓ نے یہ فرمائی کہ ) ’’ جو شخص تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹ کہتا ہے ‘‘۔ پھر حضرت عائشہؓ نے یہ آیتیں پڑھیں: لا تُدْرِکُوْالْاَبْصَا رُ (نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں)، اور مَا کَانَ لَبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّاوَحْیاً اَوْمِنْ وَّرَائٍ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَرَسُوْلاً فَیُوْحِیْ بَاِذْنِہٖ مَا یَشآءُ (کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یا تو وحی کے طور پر، یا پردے کے پیچھے سے ، یا یہ کہ ایک فرشتہ بھیجے اور وہ اس پر اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ وہ چاہے )۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا’’ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا تھا‘‘

اس حدیث کا ایک حصہ بخاری، کتاب التوحید، باب ۴ میں بھی ہے ۔ اور کتاب بدءالخلق میں مسروق کی جو روایت امام بخاری نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کی یہ بات سن کر عرض کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہو گا ثُمَّ دَنیٰ فَتَدَلّیٰ، فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ؟ اس پر انہوں نے فرمایا’’ اس سے مراد جبریلؑ ہیں۔ وہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے انسانی شکل میں آیا کرتے تھے ، مگر اس موقع پر وہ اپنی اصلی شکل میں آپ کے پاس آئے اور سارا افق ان سے بھر گیا۔‘‘

مُسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہیٰ میں حضرت عائشہؓ سے مسروق کی یہ گفتگو زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہے : حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے ‘‘۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ یہ بات سن کر میں اٹھ بیٹھا اور میں نے عرض کیا، ام المومنین جلدی نہ فرماییئے۔ کیا للہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ وَلَقَدْ رَاٰہُ با لْاُ فُقِ الْمْبِیْنِ؟ اور لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃًاُخْریٰ؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس معاملے کو دریافت کیا تھا۔ حضور نے فرمایا انماھو جبریل علیہ السلام،لم ارہٗ علیٰ سورتہ التی خلق علیھا غیر ھا تین المرتین، رایتہٗ منھبطامن السمآء سادّا عظم خلقہ مابین السماء والارض۔‘‘وہ تو جبریل علیہ السلام تھے ۔ میں نے ان کو ان کی اس اصلی صورت میں جس پر اللہ نے ان کو پیدا  کیا ہے ، ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی‘‘۔

ابن مَرْدُوْیہ نے مسروق کی اس روایت کو جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں : ’’ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : ’’ سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضور نے جواب دیا نہیں، میں نے تو جبریلؑ کو آسمان سے اترتے دیکھا تھا‘‘۔

(۲) حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایات:

بخاری، کتاب التفیسر، مسلم کتاب الایمان اور ترمذی ابواب التفسیر میں زِرّ بن حُبَیش کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ کی تفسیر یہ بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے ۔

مسلم کی دوسری روایات میں مَا کَذَبَ الْفُؤَ ا دُ مَا رَایٰ اور لَقَدْرَایٰ مِنْ ایَٰاتِرَبِّہَالْکُبْریٰ کی بھی یہی تفسیر زرین حُبیش نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کی ہے ۔

مسند احمد میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر زرّ بن حبیش کے علاوہ عبد الرحمٰن بن یزید اور ابووائل کے واسطہ سے بھی منقول ہوئی ہے اور مزید برآں مسند احمد میں زِرّ بن حبیش کی دو روایتیں اور نقل ہوئی ہیں جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْلَۃً اُخریٰ، عِنْدَ سِدْ رَۃِ الْمُنْتَہیٰ  کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رأیت جبریل عند سدرۃالمنتہیٰ علیہ ستمائۃ جناح۔ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے جبریلؑ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو بازو تھے ’’۔ اسی مضمون کی روایت امام احمدؒ نے شقیق بن سلَمہ سے بھی نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زبان سے یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود یہ فرمایا تھا کہ میں نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں سدرۃ المنتہیٰ پر دیکھا تھا۔

(۳)۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے عطاء بن ابی رباح نے آیت لَقَدْ رَاٰہُ نَزْ لَۃً اُخریٰ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رایٰ جبریل علیہ السلام۔’’ حضورؐ نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا‘‘۔ (مسل، کتاب الایمان)۔

(۴) حضرت ابو صر غفاری سے عبداللہ بن شقیق کی دو روایتیں امام مسلم نے کتاب الایمان میں نقل کی ہیں۔ ایک روایت میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضورؐ نے جواب دیا : نورٌ اَنّیٰ اراہ۔ اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپؐ نے یہ دیا کہ رأیتُ نوراً۔ حضورؐ کے پہلے ارشاد کا مطلب ابن القیم نے زادالمعاد میں یہ بیان کیا ہے کہ ’’ میرے اور رؤیت رب کے درمیان نور حائل تھا ‘‘۔ اور دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا‘‘۔

نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوذرؓ کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دل سے دیکھا تھا، آنکھوں سے نہیں دیکھا ‘‘۔

(۵) حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے امام مسلم کتاب الایمان میں یہ روایت لائے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ما انتھیٰ الیہ بصر من خلقہ۔’’اللہ تعالیٰ تک س کی مخلوق میں سے کسی کی نگاہ نہیں پہنچی‘‘۔

(۶) حضرت عبداللہ بن عباس کی روایات:

مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے  مَا کَذَبَ الْفُؤادُمَا رأی، وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْ لَۃً اُخْریٰ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی ہے ۔

ابن مردُویہ نے عطاء بن ابی رَباح کے حوالہ سے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھا تھا۔

نسائی میں عکرمہ کی روایت ہے کہ ابن عباس نے فرمایا اتعجبون ان تکون الخلۃ لابراہیم والکلام لموسیٰ والرؤیۃُ المحمد؟۔’’ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلام سے سر فراز کیا اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رؤیت کا شرف بخشا‘‘۔ حاکم نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

ترمذی میں شعبی کی روایت ہے کہ ابن عباس نے ایک مجلس میں فرمایا’’ اللہ نے اپنی رؤیت اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دو مرتبہ اس کو دیکھا‘‘۔ ابن عباس کی اسی گفتگو کو سن کر مسروق حضرت عائشہؓ کے پاس گے تھے اور ان سے پوچھا تھا ’’ کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’تم نے وہ بات کہی ہے جسے سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے‘‘۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ اور مسروق کے درمیان وہ گفتگو ہوئی جسے ہم اوپر حضرت عائشہؓ کی روایات میں نقل کر آئے ہیں۔

ترمذی ہی میں دوسری روایات جو ابن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں ان میں سے ایک میں وہ فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ دوسری میں فرماتے ہیں دو مرتبہ دیکھا تھا۔ اور تیسری میں ان کا ارشاد یہ ہے کہ آپ نے اللہ کو دل سے دیکھا تھا۔

مسند احمد میں ابن عباس کی ایک روایت یہ ہے کہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ربی تبارک و تعالیٰ۔ ’’میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا‘‘۔ دوسری روایت میں وہ کہتے ہیں ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال اتانی ربی اللیلۃ فی احسن صورۃ، احسبہ یعنی فی النوم۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا آج رات میرا تب بہترین صورت میں میرے پاس آیا۔میں سمجھتا ہوں کہ حضورؐ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ خواب میں آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا’’۔

طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس سے ایک روایت یہ  بھی نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ آنکھوں سے اور دوسرے مرتبہ دل سے ۔

(۷)۔ محمد بن کعب القرظی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بعض صحابہ نہ پوچھا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ حضور نے جواب دیا’’ میں نے اس کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا‘‘ (ابن ابی حاتم)۔ اس روایت کو ابن جریر نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ میں نے اس کو آنکھ سے نہیں بلکہ دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے ‘‘۔

(۸)۔ حضرت انسؓ بن مالک کی ایک روایت جو قصہ معراج کے سلسلے میں شریک بن عبداللہ کے حوالہ سے امام بخاریؒ نے کتاب التوحید میں نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ آتے ہیں: حتّیٰ جَاءَسِدْرَۃَ الْمُنْتَھیٰ و دَنَا لجبار رب العزۃ فتدلّیٰ حتّیٰ کَان منہ قاب قوسین او ادنیٰ فاوحی اللہ فیما اوحیٰ الیہ خمسین صلوٰۃ۔ یعنی ’’ جب آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو اللہ رب العزۃ آپ کے قریب آیا اور آپ کے اوپر معلّق ہو گیا یہاں تک کہ آپ کے اور اس کے درمیان بقدر دو کمان یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا، پھر اللہ نے آپؐ پر جو امور وحی فرمائے ان میں سے ایک ۵۰ نمازوں کا حکم تھا‘‘۔ لیکن علاوہ اُن اعتراضات کے جو اس روایت کی سند اور مضمون پر امام خطابی، حافظ ابن حَجر، ابن حَزم اور حافظ عبدالحق صاحبُ الجمع بین الصحیحین نے کیے ہیں، سب سے بڑا اعتراض اس پر یہ وارد ہوتا ہے کہ یہ صریح قرآن کے خلاف پڑتی ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید دو الگ الگ رؤیتوں کا ذکر کرتا ہے جن میں سے ایک ابتداءًاُفُقِ اعلیٰ پر ہوئی تھی اور پھر اس میں دَنَا فَتَدَ لّیٰ فَکَا نَقَاب َ قَوْسَیْنِاَوْاَدْنیٰ کا معاملہ پیش آیا تھا، اور دوسری سدرۃ المنتہیٰ کے پاس واقع ہوئی تھی۔ لیکن یہ روایت ان دونوں رؤیتوں کو خلط ملط کر کے ایک رؤیت بنا دیتی ہے ۔اس لیے قرآن مجید سے متعارض ہونے کی بنا پر اس کو تو کسی طرح قبول ہی نہیں کیا جا سکتا۔

اب رہیں وہ دوسری روایات جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں، تو ان میں سب سے زیادہ وزنی روایتیں وہ ہیں جو حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہوئی ہیں، کیونکہ ان دونوں نے بالاتفاق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ان دونوں مواقع پر آپ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا، اور یہ روایات قرآن مجید کی تصریحات اور اشارات سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ مزید براں ان کی تائید حضورؐ کے ان ارشادات سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے آپ سے نقل کیے ہیں، اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن عباس سے جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے ۔ کسی میں وہ دونوں رؤیتوں کو عینی کہتے ہیں، کسی میں دونوں کو قلبی قرار دیتے ہیں، کسی میں ایک کو عینی اور دوسری کو قلبی بتاتے ہیں، اور کسی میں عینی رؤیت کی صاف صاف نفی کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں ہے جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا کوئی ارشاد نقل کر رہے ہوں۔ اور جہاں انہوں نے خود حضورؐ کا ارشاد نقل کیا ہے ، وہاں اول تو قرآن مجید کی بیان کردہ ان دونوں رؤیتوں میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں ہے ، اور مزید برآں ان کی ایک روایت کی تشریح دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضورؐ نے کسی وقت بحالت بیداری نہیں بلکہ خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ اس لیے حقیقت ان آیات کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح محمد بن کعب القرظی کی روایات بھی، اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک ارشاد نقل کرتی ہیں، لیکن ان میں ان صحابہ کرام کے ناموں کی کوئی تصریح نہیں ہے جنہوں نے حضورؐ سے یہ بات سنی۔ نیز ان میں سے ایک میں بتایا گیا ہے کہ حضورؐ نے عینی رویت کی صاف صاف نفی فرما دی تھی۔

۱۵۔ مطلب یہ ہے کہ جو تعلیم محمد صلی اللہ علیہ و سلم تم کو دے رہے ہیں اس کو تو تم لوگ گمرہی اور بد راہی قرار دیتے ہو، حالانکہ یہ علم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور اللہ ان کو آنکھوں سے وہ حقائق دکھا چکا ہے جن کی شہادت وہ تمہارے سامنے دے رہے ہیں۔ اب ذرا تم خود دیکھو کہ جن عقائد کی پیروی پر تم اصرار کیے چلے جا رہے ہو وہ کس قدر غیر معقول ہیں، اور ان کی مقابلے میں جو شخص تمہیں سیدھا راستہ بتا رہا ہے اس کی مخالفت کر کے آخر تم کس کا نقصان کر رہے ہو۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ان تین دیویوں کو بطور مثال لیا گیا ہے جن کو مکہ، طائف، مدینہ، اور نواحی حجاز کے لوگ سب سے زیادہ پوجتے تھے ۔ ان کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ کبھی تم نے عقل سے کام لے کر سوچا بھی کہ زمین و آسمان کی خدائی کے معاملات میں ان کا کوئی ادنیٰ سا دخل بھی ہو سکتا ہے ؟ یا خداوند عالم سے واقعی ان کا کوئی رشتہ ہو سکتا ہے ؟

لات کا استھان طائف میں تھا اور بنی ثقیبف اس کے اس حد تک معتقد تھے کہ جب ابرہہ ہاتھیوں کی فوج لے کر خانہ کعبہ کو توڑنے کے لیے مکہ پر چڑھائی کرنے جا رہا تھا اس وقت ان لوگوں نے محض اپنے اِس معبود کے آستانے کو بچانے کی خاطر اس ظالم کو مکے کا راستہ بتانے کے لیے بَدْرَقے فراہم کیے تا کہ وہ لات کو ہاتھ نہ لگائے۔ حالانکہ تمام اہل عرب کی طرح ثقیف کے لوگ بھی یہ مانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے ۔ لات کے معنی میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے ۔ ابن جریر طبری کی تحقیق یہ ہے کہ یہ اللہ کی تانیث ہے ، یعنی اصل میں یہ لفظ اللّٰلہۃٌ تھا جسے اللّٰات کر دیا گیا۔ زَمخشری کے نزدیک یہ لَویٰیَلْوی سے مشتق ہے ، جس کے معنی مڑنے اور کسی کی طرف جھکنے کے ہیں۔ چونکہ مشرکین عبادت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کے آ گئے جھکتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے اس کو لات کہا جانے لگا۔ ابن عباسؓ اس کو لات بتشدید  تاء پڑھتے ہیں اور اسے لَت یلتُّ سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی متھنے اور لتھیڑنے کے ہیں۔ ان کا اور مجاہد کا بیان ہے کہ یہ دراصل ایک شخص تھا جو طائف کے قریب ایک چٹان پر رہتا تھا اور حج کے لیے جانے والوں کو سَتُّو پلاتا اور کھانے کھلاتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اسی چٹان پر اس کا استھان بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے ۔ مگر لات کی یہ تشریح ابن عباس اور مجاہد جیسے بزرگوں سے مروی ہونے کے باوجود  دو وجوہ سے قابل قبول نہیں ہے ۔ ایک یہ کہ قرآن میں اسے لات کہا گیا ہے نہ کہ لاتّ۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید ان تینوں کو دیویاں بتا رہا ہے ، اور اس روایت کی رو سے لات مرد تھا نہ عورت۔

عزیٰ عزت سے ہے اور اس کے معنی عزت والی کے ہیں۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادیِ نخلہ میں حُراض کے مقام پر واقع تھا (نخلہ کی جائے وقوع کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحقاف، حاشیہ ۲۳)۔ بنی ہاشم کے حلیف قبیلہ بنی شیبان کے لوگ اس کے مجاور تھے ۔ قریش اور دوسرے قبائل کے لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر نذریں چڑھاتے اور اس کے لیے قربانیاں کرتے تھے ۔ کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی بدی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔ ابن ہشام کی روایت ہے کہ ابو اُحیحہ جب مرنے لگا تو ابولہب اس کی عیادت کے لیے گیا۔ دیکھا کہ وہ رو رہا ہے ۔ ابولہب نے کہا کیوں روتے ہو ابو اُلحیحہ؟ کیا موت سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ وہ سب ہی کو آنی ہے ۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں موت سے ڈر کر نہیں توتا، بلکہ مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میرے بعد عزیٰ کی پوجا کیسے ہو گی۔ابو لہب بولا۔ اس کی پوجا نہ تمہاری زندگی میں تمہاری خاطر ہوتی تھی اور نہ تمہارے بعد اسے چھوڑا جائے گا۔ ابو الُحیحہ نے کہا اب مجھے اطمینان ہو گیا کہ میرے بعد کوئی میری جگہ سنبھالنے والا ہے ۔

مَناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر تھا اور خاص طور پر خزاعہ اور اوس اور خزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے ۔ اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور اس پر نذر کی قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہو جاتے تو وہیں سے مناۃ کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند کر دی جاتیں اور جو لوگ اس دوسرے ’’حج‘‘ کی نیت کر لیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے ۔

۱۶۔ یعنی ان دیویوں کو تم نے اللہ رب العالمین کی بیٹیاں قرار دے لیا اور یہ بیہودہ عقیدہ ایجاد کرتے وقت تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اپنے لیے تو تم بیٹی کی پیدائش کو ذلت سمجھتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہیں اولاد نرینہ ملے ۔ مگر اللہ کے لیے تم  اولاد بھی تجویز کرتے ہو تو بیٹیاں !

۱۷۔ یعنی تم جن کو دیوی اور دیوتا کہتے ہو وہ نہ دیویاں ہیں اور نہ دیوتا، نہ ان کے اندر اُلوہیت کی کوئی صفت پائی جاتی ہے ، نہ خدائی کے اختیارات کا کوئی ادنیٰ سا حصہ انہیں حاصل ہے ۔تم نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور معبود اور خدائی میں شریک ٹھیرا لیا ہے ۔ خدا کی طرف سے کوئی سند ایسی نہیں آئی ہے جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کر سکو۔

۱۸۔ بالفاظ دیگر ان کی گمراہی کے بنیادی وجوہ دو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی چیز کو اپنا عقیدہ اور دین بنانے کے لیے علم حقیقت کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ محض قیاس و گمان سے ایک بات فرض کر لیتے ہیں اور پھر اس پر اس طرح ایمان لے آتے ہیں کہ گویا وہی حقیقت ہے ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے یہ رویہ دراصل اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اختیار کیا ہے ۔ ان کا دل یہ چاہتا ہے کہ کوئی ایس معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام تو بناتا رہے اور آخرت اگر پیش آنے والی ہی ہو تو وہاں انہیں بخشوانے کا ذمہ بھی لے لے ، مگر حرام و حلال کی کوئی پابندی ان پر نہ لگائے اور اخلاق کے کسی ضابطے میں ان کو نہ کسے ۔اسی لیے وہ انبیاء کے لائے ہوئے طریقے پر خدائے واحد کی بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ان خود ساختہ معبودوں اور معبودنیوں کی عبادت ہی ان کو پسند آتی ہے ۔

۱۹۔ یعنی ہر زمانے میں انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گمراہ لوگوں کو حقیقت بتاتے رہے ہیں اور اب محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے آ کر ان کو بتا دیا ہے کہ کائنات میں  در اصل خدائی کس کی ہے ۔

۲۰۔ اس آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا انسان کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہے معبود بنا لے ؟ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ کیا انسان ان معبودوں سے اپنی مرادیں پا لینے کی جو تمنا رکھتا ہے وہ کبھی پوری ہو سکتی ہے ؟

 

ترجمہ

 

آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لیئے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے (۲۱) مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسم کرتے ہیں (۲۲)۔ حالانکہ اس معاملہ کا علم انہیں حاصل نہیں ہے ، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے (۲۳) ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔

پس اے نبی ﷺ جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیر تا ہے (۲۴)، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے ، اسے اس کے حال  پر چھوڑ دو (۲۵)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  (۲۶)ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے ۔(۲۷) یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے ، اور زمین اور آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے (۲۸)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ (۲۹) اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نواز ے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے ، جو بڑے بڑے گناہوں(۳۰) اور کھلے کھلے قبیح افعال (۳۱) سے پرہیز کرتے ہیں،  الا یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد (۳۲) ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے (۳۳)۔ وہ تمھیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمھیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹیوں میں ابھی جنین ہی تھے ۔

پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے ۔

 

تفسیر

 

۲۱۔ یعنی تمام فرشتے مل کر بھی اگر کسی کی شفاعت کریں تو وہ اس کے حق میں نافع نہیں ہو سکتی، کجا کہ تمہارے ان بناوٹی معبودوں کی شفاعت کسی کی بگڑی بنا سکے ۔ خدائی کے اختیارات سارے کے سارے بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ فرشتے بھی اس کے حضور کسی کی سفارش کرنے کی اس وقت تک جسارت نہیں کر سکتے جب تک وہ انہیں اس کی اجازت نہ دے اور کسی کے حق   میں ان کی سفارش سننے پر راضی نہ ہو۔

۲۲۔ یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ ان بے اختیار فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ سے سفارش تک کرنے کا یارا نہیں رکھتے انہوں نے معبود بنا لیا ہے ۔ اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورتیں سمجھتے ہیں اور ان کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کو نہیں مانتے ۔ اگر وہ آخرت کے ماننے والے ہوتے تو کبھی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کر سکتے تھے ۔ انکار آخرت نے انہیں انجام سے بے فکر بنا دیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو ماننے یا نہ ماننے ، یا ہزاروں خدا مان بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں سے کسی عقیدے کا بھی کوئی اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نکلتا نظر نہیں آتا۔ منکرین خدا ہوں یا مشرکین یا موحدین، سب کی کھیتیاں پکتی بھی ہیں اور جلتی بھی ہیں۔ سب بیمار بھی ہوتے ہیں اور تندرست بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ہر طرح کے اچھے اور برے حالات سب پر گزرتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ معاملہ نہیں ہے کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے ،یا جتنے اور جیسے چاہے معبود بنا لے ۔ حق اور باطل کا فیصلہ جب ان کے نزدیک اسی دنیا میں ہونا ہے ، اور اس کا مدار اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج پر ہے ، تو ظاہر ہے کہ یہاں کے نتائج نہ کسی عقیدے کے حق ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں نہ کسی دوسرے عقیدے کے باطل ہونے کا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے لیے ایک عقیدے کو اختیار کرنا اور دوسرے عقیدے کو رد کر دینا محض ایک من کی موج کا معاملہ ہے ۔

۲۳۔ یعنی ملائکہ کے متعلق یہ عقیدہ انہوں نے کچھ اس بنا پر اختیار نہیں کیا ے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہو گیا ہے کہو عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کر لی ہے اور اس پر یہ آستانے بنائے بیٹھے ہیں جن سے مرادیں مانگی جا رہی ہیں اور نذریں اور نیازیں ان پر چڑھائی جا رہی ہیں۔

۲۴۔ ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے ، محض نصیحت بھی مراد ہو سکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے ۔

۲۵۔ یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ کیوں کہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اور جس میں  اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں۔

۲۶۔ یہ جملہ معترضہ  ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر پچھلی بات کی تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔

۲۷۔ یعنی یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آ گئے نہ کچھ جانتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں، اس لیے ان پر محنت صرف کرنا لا حاصل ہے ۔

۲۸۔ بالفاظ دیگر کسی آدمی کے گمراہ یا بر سر ہدایت ہونے کا فیصلہ نہ اس دنیا میں ہونا ہے نہ اس کا فیصلہ دنیا کے لوگوں کی رائے پر چھوڑ گیا ہے ۔ اس کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی زمین و آسمان کا مالک ہے ، اور اسی کو یہ معلوم ہے کہ دنیا کے لوگ جن مختلف راہوں پر چل رہے ہیں ان میں سے ہدایت کی راہ کون سی ہے اور ضلالت کی راہ کون سی۔ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروا نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ تم کو بہکا اور بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق اور ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ یہ اگر اپنے اسی زعم باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو انہیں مگن رہنے دو۔ ان سے بحث و تکرار میں وقت ضائع کرنے اور سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

۲۹۔ یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہو جاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔ گویا جملہ معترضہ کو چھوڑ کر سلسلہ عبارت یوں ہے : ’’اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے ‘‘۔

۳۰۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ ۵۳۔

۳۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ ۱۳۰ جلد دوم، النحل حاشیہ ۸۹۔

۳۲۔ اصل الفاظ ہیں اِلَّا اللّٰمَمَ۔ عربی زبان میں لَمَم کا لفظ کسی چیز کی توڑی سی مقدار، یا اس کے خفیف سے اثر، یا اس کے محض قرب، یا اس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً کہتے ہیں اَلَمَّ بَالْمَکَانِ، وہ شخص فلاں جگہ تھوڑی  دیر ہی ٹھیرا، یا تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں گیا۔ اَلَمَّ بِا لظَّعَامِ، اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ بِہٖ لَمَمٌم اس جا۔۔۔ ذرا سا کھسکا ہوا ہے ، یا اس میں کچھ جنون کی لٹک ہے ۔ یہ لفظ اس معنی میں بولتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک فعل کا ارتکاب کے ریب تک پہنچ گیا۔ فَرّاء کا قول ہے کہ میں نے عربوں کو اس طرح کے فقرے بولتے سنا ہے ضربہ مالمم القتل، فلاں شخص نے اسے اتنا مارا کہ بس مار ڈالنے کی کسر رہ گئی۔ اور اَلَمّ یفعل، قریب تھا کہ فلاں شخص یہ فعل کر گزرتا۔ شاعر کہاتا ہے اَلَمت فحیّت ثم قَا مت فودعت، ‘‘ وہ بس ذرا کی ذرا آئی سلام کیا، اٹھی اور رخصت ہو گئی‘‘۔

ان استعمالات کی بن پر اہل تفسیر میں بعض نے لمم سے مراد چھوٹے گناہ لیے ہیں۔ بعض جے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آدمی عملاً کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے ۔ بعض اسے کچھ دیر کے لیے گناہ میں مبتلا ہونے اور پھر اس سے باز آ جانے کے معنی میں لیتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی گناہ کا خیال، یا اس کی خواہش، یا اس کا ارادہ تو کرے مگر عملاً کوئی اقدام نہ کرے ۔ اس سلسلے میں صحابہ و تابعین کے اقوال حسب ذیل ہیں :

زید بن اسلم اور ابن زید کہتے ہیں، اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معاصی ہیں جن کا ارتکاب اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں لوگ کر چکے تھے ، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔

ابن عباسؓ کا دوسرا قول یہ ہے ، اور یہی حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللہؓ بن عمرو بن عاص، مجاہدؒ، حسن بصریؒ اور ابوصالحؒ کا قول بھی ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ یا کسی فحش فعل میں کچھ دیر کے لیے ، یا احیاناً مبتلا ہو جانا اور پھر اسے چھوڑ دینا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود اور مسروق اور شعبی فرمانے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی معتبر روایات میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جانا اور اس کے ابتدائی مدارج تک طے کر گزرنا مگر آخری مرحلے پر پہنچ کر رک جاتا ہے ۔ مثلاً کوئی شخص چوری کے لیے جائے، مگر چرانے سے باز رہے ۔ یا اجنبیہ سے اختلاط کرے ، مگر زنا کا اقدام نہ کرے ۔

حضرت عبداللہ بن زبیر، عِکرمہ، قتادہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن کے لیے دنیا میں بھی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور آخرت میں بھی جن پر عذاب دینے کی کوئی وعید نہیں فرمائی گئی ہے ۔

سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے گناہ کا خیال دل میں آنا مگر عملاً اس کا ارتکاب نہ کرنا۔

یہ حضرات صحابہ و تابعین کی مختلف تفسیریں ہیں جو روایات میں منقول ہوئی ہیں۔ بعد کے مفسرین اور ائمہ و فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ یہ آیت اور سورہ نساء کی آیت ۳۱ صاف طور پر گناہوں کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتی ہیں، ایک کبائر، دوسرے صغائر۔ اور یہ دونوں آیتیں انسان کو امید دلاتی ہیں کہ اگر وہ کبائر اور فواحش سے پرہیز کرے تو اللہ تعالیٰ صغائر سے   در گزر فرمائے گا۔ اگر چہ بعض اکابر علماء نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ کوئی معصیت چھوٹی نہیں ہے بلکہ خدا کی معصیت بجائے خود کبیرہ ہے ۔ لیکن جیسا کہ امام غزالیؒ نے فرمایا ہے ، کبائر اور صغائر کا فرق ایک ایسی چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جن ذرائع معلومات سے احکام شریعت کا علم حاصل ہوتا ہے وہ سب اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس قسم کے گناہ صغیرہ اور کس قسم کے کبیرہ ہیں، تو اس معاملہ میں جس بات پر ہمارا اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ ’’ ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصّ صریح نے حرام قرار دیا ہو، یا اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی گئی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو، یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو‘‘۔ اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوا جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں نا پسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ کی محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں بلکہ صغیرہ ہے ۔ حتیٰ کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کر جانا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کر گزرے ۔ البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہو جاتا ہے جبکہ وہ دین کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں استکبار  کے جذبہ سے کیا جائے، اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتناء  کے لائق نہ سمجھے جس نے اسے ایک برائی قرار دیا ہے ۔

۳۳۔ یعنی صغائر کے مرتکب کا معاف کر دیا جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ صغیرہ گناہ، گناہ نہیں ہے ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ نظری اور خوردہ گیری کا معاملہ نہیں فرماتا۔ بندے اگر نیکی اختیار کریں اور کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹ چھوٹی باتوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اپنی رحمت بے پایاں کی وجہ سے ان کو ویسے ہی معاف کر دے گا۔

 

ترجمہ

 

پھر اسے نبی ﷺ تم نے اس شخص کو بھی جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا۔ (۳۴) کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے  کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا (۳۵) ہے ؟ کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسی کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر(۳۶) دیا؟

“یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ئے گا(۳۷)، اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے (۳۸)، اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی (۳۹) اور اس کی پوری جزا سے دی جائے گی، اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے ،

اور یہ کہ اسی نے ہنسا یا اور اسی نے رلایا، (۴۰)،

اور یہ کہ اسی نے موت دی اور اسی نے زندگی بخشی،

اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکا ئی جاتی ہے ، (۴۱)

اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اسی کے ذمہ  ہے (۴۲)،

اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور جائداد بخشی، (۴۳)

اور یہ کہ وہی شغری کا رب ہے (۴۴)

اور یہ کہ اسی نے عاد اولیٰ (۴۵) کو ہلاک کیا، اور ثمود کو ایسا مٹا یا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سر کش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا، پھر چھا دیا ان پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ )کیا چھا دیا۔ (۴۶)۔

پس (۴۷) اے مخاطب، اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرے (۴۸) گا؟

یہ ایک تبنیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے (۴۹)۔ آنے والی گھڑی قریب آ لگی (۵۰) ہے ، اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹا نے والا نہیں (۵۱)۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو (۵۲)؟ ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو (۵۳)؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے (۵۴) ہو؟ جھک جاؤ اللہ کے آ گئے اور بندگی۔  بجا لاؤ(۵۵)۔

 

تفسیر

 

۳۴۔ اشارہ ہے وَلید بن مغیرہ کی طرف جو قریش کے بڑے سرداروں میں ے ایک تھا۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ یہ شخص پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ مگر جب اس کے ایک مشرک دوست کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ تم دین آبائی کو نہ چھوڑو، اگر تمہیں عذاب آخرت کا خطرہ ہے تو مجھے اِتنی رقم دے دو، میں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہارے بدلے وہاں کا عذاب میں بھکت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا، مگر جو رقم اس نے اپنے مشرک دوست کو دینی طے کی تھی وہ بھی جس تھوڑی سے دی اور باقی روک لی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا تھا کہ آخرت سے بے فکری اور دین کی حقیقت سے بے خبری نے ان کو کیسی جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

۳۵۔ یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے ۔؟

۳۶۔ آ گئے ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیمؑ کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں۔ حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد توراۃ ہے ۔ رہے حضرت ابراہیمؑ کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں، اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ صرف قرآن ہی وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صُحُفِ ابراہیمؑ کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کیے گئے ہیں، ایک یہ مقام، دوسرے سورہ الاعلیٰ کی آخری آیات۔

۳۷۔ اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمی داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی الا یہ کہ اس فعل کے صُدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے ۔

۳۸۔ اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پا سکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔

ان تین اصولوں کو بعض لوگ دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کر کے ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی(Earned Income) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ بات قرآن مجید ہی کے دیے ہوئے متعدد قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے ۔ مثلاً قانون وراثت، جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں اور اس کے جائز وارث قرار پاتے ہیں در آں حال یہ کہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک شیر خوار بچے کے متعلق تو کسی کھینچ تان سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں اس کی محنت کا بھی کوئی حصہ تھا۔ اسی طرح احکام زکوٰۃ و صدقات، جن کی رو سے ایک آدمی کا مال دوسروں کو محض ان کے شرعی و اخلاقی استحقاق کی بنا پر ملتا ہے اور وہ اس کے جائز مالک ہوتے ہیں، حالانکہ اس مال کے پیدا کرنے میں ان کی محنت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن کی کسی ایک آیت کو ہے کر اس سے ایسے نتائج نکالنا جو خود قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوتے ہوں، قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہے ۔

بعض دوسرے لوگ ان اصولوں کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اصولوں کی رو سے ایک شخص کا عمل دوسرے شخص کے لیے کسی صورت میں بھی نافع ہو سکتا ہے ؟ اور کیا ایک شخص اگر دوسرے شخص کے لیے یا اس کے بدلے کوئی عمل کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جا سکتا ہے ؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کر سکے ؟ ان سوالات کا جواب اگر نفی میں ہو تو ایصال ثواب اور حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہو جاتے ہیں، بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار بھی بے معنی ہو جاتی ہے ، کیونکہ یہ دعا بھی اس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جائے۔ مگر یہ انتہائی نقطہ نظر معتزِلہ کے سوا اہل اسلام میں سے کسی نے اختیار نہیں کیا ہے ۔ صرف وہ اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ایک شخص کی سعی دوسرے کے لیے کسی حال میں بھی نافع نہیں ہو سکتی۔ بخلاف اس کے اہل سنت ایک شخص کے لیے دوسرے کی دعا کے نافع ہونے کو تو بالاتفاق مانتے ہیں کیونکہ وہ قرآن سے ثابت ہے ، البتہ ایصال ثواب اور نیابۃً دوسرے کی طرف سے کسی نیک کام کے نافع ہونے میں ان کے درمیان اصولاً نہیں بلکہ صرف تفصیلات میں اختلاف ہے ۔

(۱)۔ ایصالِ ثواب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی نیک عمل کر کے اللہ سے دعا کرے کہ اس کا اجر و ثواب کسی دوسرے شخص کو عطا فرما دیا جائے۔ اس مسئلے میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ خالص بدنی عبادات، مثلاً نماز، روزہ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا، البتہ مالی عبادات، مثلاً صدقہ، یا مالی و بدنی مرکب عبادات، مثلاً حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے ، کیونکہ اصل یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے کے لیے نافع نہ ہو، مگر چونکہ احادیث صحیحہ کی رو سے صدقہ کا ثواب پہنچایا جا سکتا ہے اور حج بدل بھی کیا جا سکتا ہے ، اس لیے ہم اسی نوعیت کی عبادات تک ایصال ثواب کی صحت تسلیم کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے خواہ وہ نماز ہو یا روزہ یا تلاوت قرآن یا ذکر یا صدقہ یا حج و عمرہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آدمی جس طرح مزدوری کر کے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میرے بجائے فلاں شخص کو دے دی جائے، اسی طرح وہ کوئی بیک عمل کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کر سکتا ہے کہ اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کر دیا جائے۔ اس میں بعض اقسام کی نیکیوں کو مستثنیٰ کرنے اور بعض دوسری اقسام کی نیکیوں تک اسے محدود رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ یہی بات بکثرت احادیث سے بھی ثابت ہے :

بخاری، مسلم، مسند احمد،ابن ماجہ، طبرانی (فی الاوسط) مستدرک اور ابن ابی تیبہ میں حضرت، عائشہ، حضرت ابو ہریرہ حضرت جابر بن عباد اللہ، حضرت ابورافع، حضرت ابو طلحہ انصاری، اور حذیفہ بن اُسید الغفاری کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو مینڈھے لے کر ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربان کیا اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے ۔

مسلم، بخاری، مسند احمد، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کو موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لیے کہتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لیے ہے ؟ فرمایا ہاں۔

مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ہے کہ ان کے داد ا عاص بن وأمِل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی۔ ان کے چچا ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیے ۔ حضرت عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ میں کیا کروں۔ حضورؐ نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کر لیا تھا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھو یا صدقہ کرو، وہ ان کے لیے نافع ہو گا۔

مسند احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت حسن بصری کی روایت ہے کہ حضرت سعدؓبن عبادہ نے رسول اللہ صلی الیہ و سلم سے پوچھا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اسی مضمون کی متعدد دورے روایات بھی حضرت عائشہؓ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت بن عباسؓ سے بخاری، مسلم مسند احمد، نسائی ترمذی، ابوداؤد او ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے اور اسے میت کے لیے نافع بتایا ہے ۔

دار قطنی میں ہے کہ ایک شخص نے حضور سے عرض کیا میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا ہوں، ان کے مرنے کے بعد کیسے کروں؟ فرمایا’’ یہ بھی ان کی خدمت ہی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لیے بھی روزے رکھ‘‘۔ ایک دوسری روایت دارقطنی میں حضرت علیؓ سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کا قبرستان پر گزر ہو اور وہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کراس کا اجر مرنے والوں کو بخش دے تو جتنے مردے ہیں اتنا ہی اجر عطا کر دیا جائے گا۔

یہ کثیر روایات جو ایک دوسری کی تائید کر رہی ہیں، اس امر کی تصریح کرتی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے ، بلکہ ہر طرح کی عبادت اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ہو سکتا ہے اور اس میں کسی خاص نوعیت کے اعمال کی تخصیص نہیں ہے ۔مگر اس سلسلے میں چار باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں:

ایک یہ کہ ایصال اسی عمل کے ثواب کا ہو سکتا ہے جو خالصۃً اللہ کے لیے اور قواعد شریعت کے مطابق کیا گیا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کے لیے یا شریعت کے خلاف جو عمل کیا جائے اس پر خود عمل کرنے والے ہی کو کسی قسم کا ثواب نہیں مل سکتا، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی طرف منتقل ہو سکے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں صالحین کی حیثیت سے مہمان ہیں ان کو تو ثواب کا ہدیہ یقیناً پہنچے گا مگر جو وہاں مجرم کی حیثیت سے حوالات میں بند ہیں انہیں کوئی ثواب پہنچنا متوقع نہیں ہے ۔ اللہ کے مہمانوں کو ہدیہ تو پہنچ سکتا ہے ، مگر امید نہیں کہ اللہ کے مجرم کو تحفہ پہنچ سکے ۔اس کے لیے اگر کوئی شخص کسی غلط فہمی کی بنا پر ایصال ثواب کرے گا تو اس کا ثواب ضائع نہ ہو گا بلکہ مجرم کو پہنچنے کے بجائے اصل عامل ہی کی طرف پلٹ آئے گا۔ جیس مرنی آرڈر اگر مُرسل الیہ کو نہ پہنچے تو مرسل کو واپس مل جاتا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ ایصال ثواب تو ممکن ہے مگر ایصال عذاب ممکن نہیں ہے ۔ یعنی یہ تو ہو سکتا ہے کہ آدمی نیکی کر کے کسی دوسرے کے لیے اجر بخش دے اور وہ اس کو پہنچ جائے، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آدمی گناہ کر کے اس کا عذاب کسی کو بخشے اور وہ اسے پہنچ جائے۔

اور چوتھی بات یہ ہے کہ نیک عمل کے دو فائدے ہیں۔ ایک اس کے وہ نتائج جو عمل کرنے والے کی اپنی روح اور اس کے اخلاق پر مترتب ہوتے ہیں اور جن کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں بھی جزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ دوسرے اس کا وہ اجر جو اللہ تعالیٰ بطور انعام اسے دیتا ہے ۔ ایصال ثواب کا تعلق پہلی چیز سے نہیں ہے بلکہ صرف دوسری چیز سے ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جسے ایک شخص ورزش کر کے کشتی کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سے جو طاقت اور مہارت اس میں پیدا ہوتی ہے وہ بہر حال اس کی ذات ہی کے لیے مخصوص ہے ۔ دوسرے کی طرف وہ منتقل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر وہ کسی دربار کا ملازم ہے اور پہلوان کی حیثیت سے اس کے لیے ایک تنخواہ مقرر ہے تو وہ بھی اسی کو ملے گی، کسی اور کو نہ سے دی جائے گی۔ البتہ جو انعامات اس کی کار کردگی پر خوش ہو کر اس کا سرپرست اسے دے اس کے حق میں وہ درخواست کر سکتا ہے کہ وہ اس کے استاد، یا ماں باپ، یا دوسرے محسنوں کو اس کی طرف سے دے دیے جائیں۔ ایسی ہی معاملہ عمال حسنہ کا ہے کہ ان کے روحانی فوائد قابل انتقال نہیں ہیں، اور ان کی  جزا بھی کسی کو منتقل نہیں ہو سکتی، مگر ان کے اجر و ثواب کے متعلق وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتا ہے کہ وہ اس کے کسی عزیز قریب یا اس کے کسی محسن کو عطا کر دیا جائے۔ اسی لیے اس کو ایصال جزا نہیں بلکہ ایصال ثواب کہا جاتا ہے ۔

(۲)۔ ایک شخص کی سعی کے کسی اور شخص کے لیے نافع ہونے کی دوسری شکل یہ ہے کہ آدمی یا تو دوسرے کی خواہش اور ایماء کی بنا پر اس کے لیے کوئی نیک عمل کرے ، یا اس کی خواہش اور ایماء کے بغیر اس کی طرف سے کوئی ایسا عمل کرے جو در اصل واجب تو اس کے ذمہ تھا مگر وہ خود اسے ادا نہ کر سکا۔ اس کے بارے میں فقہاء حنفیہ کہتے ہیں ک عبادات کی تین قسمیں ہیں۔ ایک خالص بدنی، جیسے نماز۔دوسری خلص مالی، جیسے زکوٰۃ۔ اور تیسری مالی و بدنی مرکب، جیسے حج۔ ان میں سے پہلی قسم میں نیابت نہیں چل سکتی، مثلاً ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص نیابۃً نماز نہیں پڑھ سکتا۔ دوسری قسم میں نیابت ہو سکتی ہے ، مثلاً بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر دے سکتا ہے ۔ تیسری قسم میں نیابت صرف اس حالت میں ہو سکتی ہے جب کہ اصل شخص جس کی طرف سے کوئی فعل کیا جا رہا ہے ، اپنا فریضہ خود ادا کرنے سے عارضی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر عاجز ہو، مثلاً حج بدل ایسے شخص کی طرف سے ہو سکتا ہے جو خود حج کے لیے جانے پر قادر نہ ہو اور نہ یہ امید ہو کہ وہ کبھی اس کے قابل ہو سکے گا۔ مالکہ اور شافیہ بھی اس کے قائل ہیں۔ البتہ امام مالک حج بدل کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ اگر باپ نے وصیت کی ہو کہ اس کا بیٹا اس کے بعد اس کی طرف سے حج کرے تو وہ حج بدل کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔ مگر احادیث اس معاملہ میں بالکل صاف ہیں کہ باپ کا ایما یا وصیت ہو یا نہ ہو، بیٹا اس کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے ۔

ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ خُثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عرض کیا کہ میرے باپ کو فریضہ حج کا حکم ایسی حالت میں پہنچا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے ، اونٹ کی بیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا فحُجّی عنہ، ’’تو اس کی طرف سے تو حج کر لے ‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی،)۔ قریب قریب اسی مضمون کی روایت حضرت علیؓ نے بھی بیان کی ہے (احمد، ترمذی)۔

حضرت عبداللہؓ بن زبیر قبیلہ خثعم ہی کے ایک مرد کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے بھی اپنے بوڑھے باپ کے متعلق یہی سوال کیا تھا۔ حضورؐ نے پوچھا کیا تو اس کا سب سے بڑا لڑکا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا :ارایت لو کان علیٰ ابیک دین فقضیتہ عنہ اکان یھزی ذٰلک عنہ؟ ’’ تیرا کیا خیال ہے ، اگر تیرے باپ پر قرض ہو اور تو اس کو ادا کر دے تو وہ اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟‘‘ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا: فَاحْجُجْ عنہ۔ ’’بس اسی طرح تو اس کی طرف سے حج بھی کر لے ‘‘۔ (احمد۔ نسائی)۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ اس سے پہلے ہی مر گئی، اب کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا’’ تیری ماں پر اگر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہ کر سکتی تھی؟ اسی طرح تم لوگ اللہ کا حق بھی ادا کرو، اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ کیے ہوئے عہد پورے کیے جائیں‘‘ (بخاری۔ نسائی)۔ بخاری اور مسند احمد میں ایک دوسری روایت یہ ہے کہ ایک مرد نے آ کر اپنی بہن کے بارے میں وہی سوال کیا جو اوپر مذکور ہوا ہے اور حضورؐ نے اس کو بھی یہی جواب دیا۔

ان روایات سے مالی و بدنی مرکب عبادات میں نیابت کا واضح ثبوت ملتا ہے ۔ رہیں خالص بدنی عبادات تو بعض احادیث ایسی ہیں جن سے اس نوعیت کی عبادات میں بھی نیابت کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔ مثلاً ابن عباسؓ کی یہ روایت کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے حضورؐ سے پوچھا ’’ میری ماں نے روزے کی نذر مانی تھی اور وہ پوری کیے بغیر مر گئی، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’ اس کی طرف سے روزہ رکھ لے ‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، نسائی۔ابوداؤد)۔ اور حضرت بریدہؓ کی یہ روایت کہ ایک عورت نے اپنی ماں کے متعلق پوچھا کہ اس کے ذمہ ایک مہینے (یا دوسری روایت کے مطابق دو مہینے ) کے روزے تھے ، کیا میں یہ روزے ادا کر دوں؟ آپ نے اس کو بھی اس کی اجازت دے دی (مسلم، احمد، ترمذی، ابوداؤد)۔ اور حضرت عائشہؓ کی روایت کہ حضورؐ نے فرمایا من مات و علیہ صیام صام عنہ ولیہ، ’’ جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی وہ روزے رکھ لے ‘‘(بخاری، مسلم،احمد۔ بذار کی روایت میں حضورؐ کے الفاظ یہ ہیں کہ فلیصم عنہ ولیہ ان شاء۔ یعنی اس کا علی اگر چاہے تو اس کی طرف سے یہ روزے رکھ لے )۔ انہی احادیث کی بنا پر اصحاب الحدیث اور امام اَوزاعی اور ظاہریہ اس کے قائل ہیں کہ بدنی عبادات میں بھی نیابت جائز ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام شافعی اور امام زید بن علی کا فتویٰ یہ ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہیں رکھا جا سکتا ہے جب کہ مرنے والے نے اس کی نذر مانی ہو اور وہ اسے پورا نہ کر سکا ہو۔ مانعین کا استدلال یہ ہے کہ جن احادیث سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے ان کے راویوں نے خود اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے ۔ ابن عباس کا فتویٰ نسائی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ لا یصل احدعن احدٍ، ’’ کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے ‘‘۔ اور حضرت عائشہ کا فتویٰ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ لا تصو موا عن موتٰکم و اطعمو ا عنہم،‘‘ اپنے مردوں کی طرف سے روزہ نہ رکھو بلکہ کھانا کھلاؤ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بھی عبدالرزاق نے یہی بات نقل کی ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہ رکھا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءً بدنی عبادات میں نیابت کی اجازت تھی، مگر آخری حکم یہی قرار پایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے ۔ ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ احادیث نقل کی ہیں وہ خود ان کے خلاف فتویٰ دیتے ۔

اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نیابۃً کسی فریضہ کی ادائیگی صرف ان ہی لوگوں کے حق میں مفید ہو سکتی ہے جو خود ادائے فرض کے خواہش مند ہوں اور معذوری کی وجہ سے قصر رہ گئے ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود قصداً حج سے مجتنب رہا اور اس کے دل میں اس فرض کا احساس تک نہ تھا، اس کے لیے خواہ کتنے ہی حج بدل کیے جائیں، وہ اس کے حق میں مفید نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص نے کسی کا قرض جان بوجھ کر مار کھایا اور مرتے دم تک اس کا کوئی ارادہ قرض ادا کرنے کا نہ تھا۔ اس کی طرف سے خواہ بعد میں پائی پائی ادا کر دی جائے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ قرض مارنے والا ہی شمار ہو گا۔ دوسرے کے ادا کرنے سے سبکدوش صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنی زندگی میں ادائے قرض کا خواہش مند ہو اور کسی مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر سکا ہو۔

۳۹۔ یعنی آخرت میں لوگوں کے عمال کی جانچ پڑتا ل ہو گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے ۔ یہ فقرہ چونکہ پہلے فقرے کے معاً بعد ارشاد ہوا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ پہلے فقرے کا تعلق آخرت کی جزا و سزا ہی سے ہے اور ان لوگوں کی بات صحیح نہیں ہے جو اسے اس دنیا کے لیے ایک معاشی اصول بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہیں ہو سکتا جو سیاق و سباق کے بھی خلاف ہو، اور قرآن کی دوسری تصریحات سے بھی متصادم ہو۔

۴۰۔ یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف  سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے ۔اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے ۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

۴۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الروم، حواشی ۲۷تا ۳۰۔ جلد چہارم،الشوریٰ، حاشیہ ۷۷۔

۴۲۔ اوپر کی دونوں آیتوں کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کلام سے خودبخود حیات بعد الموت کی دلیل بھی برآمد ہو رہی ہے ۔ جو خدا موت دینے اور زندگی بخشنے پر قدرت رکھتا ہے ۔اور جو خدا نطفے کی حقیر سی بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے ، بلکہ ایک ہی مادہ تخلیق و طریق پیدائش عورت اور مرد کی دو الگ صنفیں پیدا کر دکھاتا ہے ، اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار  نہیں ہے ۔

۴۳۔ اصل میں لفظ اَقْنیٰ  استعمال ہوا ہے جس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کے ء معنی اَرْضیٰ (راضی کر دیا) بتائے ہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس سے اس کے عنی قَنَّعَ (مطمئن کر دیا ) نقل کیے ہیں۔امام رازی کہتے ہیں کہ آدمی کی حاجت سے زیادہ جو کچھ بھی اس کو دیا جائے وہ اِقناء ہے ۔ ابو عبیدہ اور دوسرے متعدد اہل لغت کو قول ہے کہ اَقْنیٰ قُنْیَۃٌ سے مشتق  ہے جس کے معنی ہیں باقی اور محفوظ رہنے والا مال، جیسے مکان، اراضی، باغات، مواشی وغیرہ۔ ان سب سے الگ مفہوم ابن زید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اَقْنیٰ یہاں اَفْقَرَ (فقیر کر دیا) کے معنی میں ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جس کو چاہا غنی کیا اور جسے چاہا فقیر کر دیا۔

۴۴۔ شَعْیٰ آسمان کا روشن ترین تارا ہے جسے مِرْزم الجرزاء، الکلب الاکبر، الکلب الجبار، الشعری العبور وغیرہ ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ انگریزی میں اس کو Sirius اور   Dog Star  اورCanis Majoris  کہتے ہیں۔ یہ سورج سے ۲۳ گنا زیادہ روشن ہے ، مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے اس لیے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے ۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے ،کیونکہ اس کے طلوع کے زمانے میں نیل کا فَیضان شروع ہوتا تھا، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسی کے طلوع کا فَیضان ہے ۔ جاہلیت میں اہل عرب کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ یہ ستارہ لوگوں کی قسمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر یہ عرب کے معبودوں میں شامل تھا، اور خاص طور پر قریش کا ہمسایہ قبیلہ خُزَاعَہ اس کی پرستش کے لیے مشہور تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشا کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری قسمتیں شعریٰ نہیں بناتا بلکہ اس کا رب بناتا ہے ۔

۴۵۔ عاد اُولیٰ سے مراد ہے قدیم قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے ۔ یہ قوم جب حضرت ہودؑ کو جھٹلانے کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے ۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اُخریٰ کا عاد ثانیہ کہتے ہیں۔

۴۶۔ اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور ’’ چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا‘‘ سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے ۔

۴۷۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ فقرہ بھی صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ کی عبادت کا ایک حصہ ہے ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ فَغَشّٰھَا مَا غَشّیٰ پر وہ عبارت ختم ہو گئی، یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے ۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے پہلا قول ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ بعد کی یہ عبارت کہ ’’ یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ‘‘، اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہاس سے پہلے کی تمام عبارت پچھلی تنبیہات میں سے ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے صحیفوں میں ارشاد ہوئی تھیں۔

۴۸۔ اصل میں لفظ تَتَمَاریٰ استعمال ہوا ہے جس کے معنی شک کرنے کے بھی ہیں اور جھگڑنے کے بھی خطاب ہر سامع سے ہے ۔ جو شخص بھی اس کلام کو سن  رہا ہو اس کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں پیغمبروں سے جھگڑا کرنے کا جو انجام انسانی تاریخ میں ہو چکا ہے ، کیا اس کے بعد بھی تو اسی حماقت کا ارتکاب کرے گا؟ پچھلی قوموں نے یہی تو شک کیا تھا کہ جن نعمتوں سے ہم اس دنیا میں مستفید ہو رہے ہیں یہ خدائے واحد کی نعمتیں ہیں، یا کوئی اور بھی ان کے مہیا کرنے میں شریک ہے ، یا یہ کسی کی فراہم کی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ فراہم ہو گئی ہیں۔ اسی شک کی بنا پر انہوں نے انبیاء علیہم السلام سے جھگڑا کیا تھا۔ انبیاء ان سے کہتے تھے کہ یہ ساری نعمتیں تمہیں خدا نے ، اور اکیلے ایک ہی خدا نے عطا کی ہیں، اس لیے اسی کا تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اسی کی تم کو بندگی بجا لانی چاہیے ۔ مگر وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تھے اور اسی بات پر انبیاء سے جھگڑتے تھے ۔ اب کیا تجھے تاریخ میں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ قومیں اپنے اس شک اور اس جھگڑے کا کیا انجام دیکھ چکی ہیں؟ کیا تو بھی وہی شک اور وہی جھگڑا کرے گا جو دوسروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو چکا ہے ؟

اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح کے لوگ حضرت ابراہیمؑ سے پہلے گزر چکے تھے اور قوم لوط خود حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں مبتلائے عذاب ہوئی تھی۔ اس لیے اس عبرت کے صحف ابراہیم کا ایک حصہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

۴۹۔ اصل الفاظ ہیں ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِالْاُوْلیٰ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ نذیر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس سے مراد قرآن ہے ۔ تیسرے یہ کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کا انجام ہے جس کا مال اوپر کی آیات میں بیان  فرمایا گیا ہے ۔ سیاق کلام کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ تیسری تفسیر قابل ترجیح ہے ۔

۵۰۔ عینی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا  تاخیر فیصلہ کر ڈالیں۔ نہیں، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے ۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے ، ار قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے ۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے۔

۵۱۔ یعنی فیصلے کی گھڑی جب آ جائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے ۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے ، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے ۔

۵۲۔ اصل میں لفظ ھٰذَالْحَدِیْث  استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا  کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟

۵۳۔ یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ۔

۵۴۔ اصل میں لفظ سَا مِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْ طَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا، کانو ایمرون علی النبی صلی اللہ علیہ و سلم غضابا مبرطمین۔ یعنی سُمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں، کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے جب گزر تے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں، اور اسی معنی کے لحاظ سے سایدُون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے مہرضون بیان کیا ہے ۔

۵۵۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے ۔ امام مالک اگر چہ خود اس کی تلاوت کر کے سجدے کا التزام فرماتے تھے (جیسا کہ قاضی ابو بکر ابن العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے ) مگر ان کا مسلک یہ تھا کہ یہاں سجدہ کرنا لازم نہیں ہے ۔ ان کی اس رائے کی بنا حضرت زید بن ثابت کی یہ روایت ہے کہ ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے سورہ نجم پڑھی اور حضور نے سجدہ نہ کیا‘‘(بخاری، مسلم، احمد، ترمذی،ابوداؤد،نسائی، )۔ لیکن یہ حدیث اس آیت پر سجدہ لازم ہونے کی نفی نہیں کرتے ، کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ حجور نے اس وقت کسی وجہ سے سجدہ نہ فرمایا ہو اور بعد میں  کر لیا ہو۔ دوسری روایات اس بابا میں صریح ہیں کہ اس آیت پر التزاماً سجدہ کیا گیا ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،ابن عباسؓ اور مطلبؓ بن ابی وداعہ کی متفق علیہ روایات یہ ہیں کہ حضورؐ نے جب پہلی مرتبہ حرم میں یہ سورت تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلم و کافر سب سجدے میں گر گئے(بخاری، احمد، نسائی، ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ حجور نے نماز میں سورہ نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور دیر تک سجدے میں پڑے رہے (بیہقی، ابن مردویہ) سبرۃ الجہنی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فجر کی نماز میں سورہ نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور پھر اٹھ کر سورہ زلزال پڑھی اور رکوع کیا (سعید بن منصور)۔ خود امام مالک نے بھی مؤطا، باب ماجاء فی سجود القرآن میں حضرت عمر کا یہ  فعل نقل کیا ہے ۔

٭٭٭

 

 

(۵۴) سورہ القمر

 

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے فقرہ وَا نْشَقَّ الْقَمَر  سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ  وہ سورۃ جس میں لفظ القمر آیا ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

اس میں شقّ القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے جس سے اس کا زمانہ نزول متعین ہو جاتا ہے ۔ محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس میں کفار  مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے رہے تھے ، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے ، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے ۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی فور چلے گئے تھے  کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے ۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے ۔ وہ درہم برہم ہو سکتا ہے ۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں ۔ بکھر سکتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں ۔ اور وہ سب کچھ ہو سکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی  دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہو گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس واقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار یا اور اپنے انکار پر جمے رہے ۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورہ میں انہیں ملامت کی گئی ہے ۔

کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں ۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہو جائے گی اور قبروں سے نکل کو یہ داورِ محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے ۔

اس کے بعد ان کے سامنے قوم نوح، عاد،قوم لوط ،اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں ، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ راست پر آ جائے تو ان  عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی جو ان قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی اسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔

اس طرح پچھلی قوموں کی تاریخ سے عبرتناک مثالیں دینے کے بعد کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جس طرزِ عمل پر دوسری قومیں سزا پا چکی ہیں وہی طرز عمل اگر تم اختیار کرو تو آخر تم کیوں نہ سزا پاؤ گے ؟ کیا تمہارے کچھ سُرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ تمہارے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ کیا جائے ؟ یا کوئی خاص معافی نامہ تمہارے پاس لکھا ہوا آ گیا ہے کہ جس جرم پر دوسرے پکڑے گئے ہیں وہی تم کرو گے تو تمہیں نہ پکڑا جائے گا؟ اور اگر تم اپنی جمیعت پر پھولے ہوئے ہو تو عنقریب تمہاری یہ جمیعت شکست کھا کر بھاگتی نظر آئے گی، اور اس سے زیادہ سخت معاملہ تمہارے ساتھ قیامت کے روز ہو گا۔ آخر میں کفار کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت لانے کے لیے کیس بڑی تیاری کی حاجت نہیں ہے ۔ اس کا بس ایک حکم ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی۔ مگر ہر چیز کی طرح نظام عالم اور نوع انسانی کی بھی ایک تقدیر ہے ۔ اس تقدیر کے لحاظ سے جو وقت اس کام کے لیے مقرر ہے اسی وقت پر وہ لوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جب کوئی چیلنج کرے اس کو قائل کرنے کے لیے قیامت لا کھڑی کی جائے ۔ اس کو آتے نہ دیکھ کر تم سرکشی اختیار کرو گے تو اپنی شامت اعمال کا نتیجہ بھگتو گے ۔ تمہارا کچّا چٹھا خدا کے ہاں تیار ہو رہا ہے جس میں تمہاری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ثبت ہونے سے رہ نہیں گئی ہے ۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا ۔ مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے (۲)۔ انہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی (۳) ۔ ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے (۴)۔

ان لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے ) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بہ درجہ اتم پورا کرتے ہے ۔ مگر تنبیہات ان پر کار گر نہیں ہوتیں ۔ پس اے نبیؐ ، ان سے رخ پھیر لو(۵)۔ جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار (۶)چیز کی طرف پکارے گا، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ(۷) اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے ) اس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے ۔

ان سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے (۹) ۔ انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے ، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا(۱۰) ۔ آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ ’’ میں مغلوب ہو چکا ، اب تو ان سے انتقام لے ‘‘۔ تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا(۱۱)، اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا، اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں (۱۲) والی پر سوار کر دیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی ۔ یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی(۱۳)۔ اس کشتی کو ہن نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا(۱۴) ، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا ؟ دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات ۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے (۱۵) ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

عاد نے جھٹلایا ، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات ۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن(۱۶) سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھیڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں ۔ پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت  قبول کرنے والا؟۔ع

 

تفسیر

 

۱ ۔ یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی ، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے ، قریب آ لگی ہے اور نظام علام کی درہم برہم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے ۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کُرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا ، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کی جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے ، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے ۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے ۔

بعض لوگوں نے اس فقرے کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’ چاند پھٹ جائے گا‘‘۔ لیکن عربی زبان کے لحاظ سے چاہے یہ مطلب لینا ممکن ہو ، عبارت کا سیاق و سباق اس معنی کو قبول کرتے سے صاف انکار کرتا ہے ۔ اول تو یہ مطلب لینے سے پہلا فقرہ ہی بے معنی ہو جاتا ہے ۔ چاند اگر اس کلام کے نزول کے وقت پھٹا نہیں تھا، بلکہ وہ آئندہ کبھی پھٹنے والا ہے تو اس کی بنا پر یہ کہنا بالکل مہمل بات ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ گئی ہے ۔ آخر مستقبل میں پیش آنے والا کوئی واقعہ اس کے قرب کی علامت کیسے قرار پا سکتا ہے کہ اسے شہادت کے طور پر پیش کرنا ایک معقول طرز استدلال ہو۔ دوسرے ، یہ مطلب لینے کے بعد جب ہم آگے کی عبارت پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی ۔ آگے کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ لوگوں نے اس وقت کوئی نشانی دیکھی تھی جو امکان قیامت کی صریح علامت تھی مگر انہوں نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دے کر جھٹلا دیا اور اپنے اس خیال پر جمے رہے کہ قیامت کا آنا ممکن نہیں ہے ۔اس سیاق و سباق میں اِنْشَقَّ الْقَمَرُ کے الفاظ اسی صورت میں ٹھیک بیٹھ سکتے ہیں جب کہ ان کا مطلب ’’ چاند پھٹ گیا ‘‘ ہو ۔’’ پھٹ جائے گا‘‘ کے معنی میں ان کو لے لیا جائے تو بعد کی ساری بات نے جوڑ ہو جاتی ہے ۔ سلسلہ کلام میں اس  فقرے کو رکھ کر دیکھ لیجیے ، آپ کو خود محسوس ہو جائے گا کہ اس کی وجہ سے ساری عبارت بے معنی ہو گئی ہے :

’’قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ  جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ۔ انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی‘‘۔

پس حقیقت یہ ہے کہ شق القمر  کا واقعہ قرآن کے صریح الفاظ سے ثابت ہے اور حدیث کی روایات  پر اس کا انحصار نہیں ہے ۔ البتہ روایات سے اس کی تفصیلات معلوم ہوتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ یہ کب اور کیسے پیش آیا تھا۔ یہ روایات بخاری، مسلم ، ترمذی، احمد، ابو عوانہ، ابو داؤد طیالسی، عبدالرزاق، ابن جریر ، بیہقی، طبرانی،ل ابن مردویہ اور ابو نعیم اصفہانی نے بکثرت سندوں کے ساتھ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت حذیفہ ، حضرت انس بن مالک اور حضرت جبیر بن مطعم سے نقل کی ہیں ۔ ان میں سے تین بزرگ، عینی حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ اور حضرت جبیر بن مطعم تصریح کرتے ہیں کہ وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں ۔ اور دو بزرگ ایسے ہیں جو اس کے عینی شاہد نہیں ہو سکتے ، کیونکہ یہ ان میں سے ایک (یعنی عبداللہ بن عباس) کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے ، اور دوسرے (یعنی انس بن مالک) اس وقت بچے تھے ۔ لیکن چونکہ یہ دونوں حضرات صحابی ہیں اس لیے ظاہر ہے کہ انہوں نے ایسے سن رسیدہ صحابیوں سے سن کر ہی اسے روایت کیا ہو گا جو اس واقعہ کا براہ راست علم رکھتے تھے ۔

تمام روایات کو جمع کرنے سے اس کی جو تفصیلات معلوم ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے ۔ قمری مہینے کی چودھویں شب تھی۔ چاند ابھی ابھی طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ پھٹا اور اس کا ایک ٹکڑا سامنے  کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ یہ کیفیت نس ایک ہی لحظہ رہی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم جڑ گئے۔ نبی صلی الہ علیہ و سلم اس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا دیکھو اور گواہ رہو۔ کفار  نے کہا محمد (صلی الہ علیہ و سلم( نے ہم پر جادو کر دیا تھا اس لیے ہماری آنکھوں نے دھوکا کھایا۔ دوسرے لوگ بولے کہ محمدؐ ہم پر جادو کر سکتے تھے ، تمام لوگوں پر تو نہیں کر سکتے تھے ۔ باہر کے لوگوں کو آنے دو۔ ان سے پوچھیں گے کہ یہ واقعہ انہوں نے بھی دیکھا ہے یا نہیں ۔ باہر سے جب کچھ لوگ آئے تو انہوں نے شہادت دی کہ وہ بھی یہ منظر دیکھ چکے ہیں ۔

بعض روایات جو حضرت انس سے مروی ہیں ان کی بنا پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شق القمر کا واقعہ ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ پیش آیا تھا ۔ لیکن اول تو صحابہ میں سے کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی ہے ۔ دوسرے خود حضرت انس کی بھی بعض روایات میں مرتین(دو مرتبہ) کے الفاظ ہیں اور بعض میں  فِرقیتن اور شقیتن (دو ٹکڑے ) کے الفاظ ۔ تیسرے یہ کہ قرآن مجید صرف ایک ہی انشقاق کا ذکر کرتا ہے ۔ اس بنا پر صحیح بات یہی ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا تھا۔ رہے وہ قصے جو عوام میں مشہور ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور وہ دو ٹکڑے  ہو گیا اور یہ کہ چاند کا ایک ٹکڑا حضورؐ کے گریبان میں داخل ہو کر آپ کی آستین سے نکل گیا، تو یہ بالکل ہی بے اصل ہیں ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ ایک معجزہ تھا جو کفار مکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا ؟ یا یہ ایک حادثہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو اس کی طرف توجہ صرف اس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکان قیامت اور قرب قیامت کی ایک نشانی ہے ؟علماء اسلام کا ایک بڑا  گروہ اسے حضورؐ کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبہ پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا۔ لیکن اس رائے کا مدار صر ف بعض ان روایات پر ہے جو حضرت انس سے مروی ہیں ۔ ان کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے ۔ فتح الباری میں ابن حجر کہتے ہیں کہ ’’ یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے ان میں سے کسی میں بھی حضرت انس کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر  کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔ ‘‘ (باب انشقاق القمر)۔ ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے دلائل لنبوۃ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اس مضمون کی نقل کی ہے ، مگر اس کی سند ضعیف ہے ، اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتب حدیث میں ابن عباس سے منقول ہوئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے ۔ علاوہ بریں حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن عباس، دونوں اس واقعہ  کے ہم عصر نہیں ہیں ۔ بخلاف اس کے جو صحابہ اس زمانے میں موجود تھے ، حضرت عبداللہ بنؓ مسعود ،حضرت حذیفہؓ ، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت علیؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اس پر شق القمر کا یہ معجزہ ان کو دکھایا گیا ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن مجید خود بھی اس واقعہ کو رسالت محمدی کی نہیں بلکہ قرب قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے ۔ البتہ یہ اس لحاظ سے حضور کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں ، یہ واقعہ ان کی تصدیق کر رہا تھا۔

معترضین اس پر دو طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ۔اول تو ان کے نزدیک ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے کہ چاند جیسے عظیم کرّے کے دو ٹکڑے پھٹ کر الگ ہو جائیں اور سینکڑوں میل کے  فاصلے تک ایک دوسرے سے دور جانے کے بعد پھر باہم جڑ جائیں ۔ دوسرے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ واقعہ دنیا بھر  میں مشہور ہو جاتا، تاریخوں میں اس کا ذکر آتا ، اور علم نجوم کی کتابوں میں اسے بیان کیا جاتا۔ لیکن در حقیقت یہ دونوں اعتراضات بے وزن ہیں ۔ جہاں تک اس کے امکان کی بحث ہے ، قدیم زمانے میں تو شاید وہ چل بھی سکتی تھی، لیکن موجودہ دور میں سیاروں کی ساخت کے متعلق انسان کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کی بنا پر یہ بات بالکل ممکن ہے کہ ایک کرّہ اپنے اندر کی آتش فشانی کے باعث پھٹ جائے اور اس زبردست انفجار سے اس کے دو ٹکڑے دور تک چلے جائیں ، اور پھر اپنے مرکز کی مقناطیسی وقت کے سبب سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ آ ملیں ۔ رہا دوسرا اعتراض تو وہ اس لیے بے وزن ہے کہ یہ واقعہ اچانک بس ایک لحظہ کے لیے پیش آیا تھا۔ ضروری نہیں تھا کہ اس خاص لمحے میں دنیا بھر کی نگاہیں چاند کی طرف لگی ہوئی ہوں ۔ اس سے کوئی دھماکا نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف منعطف ہوتی ۔ پہلے سے کوئی اطلاع اس کی نہ تھی کہ لوگ اس کے منتظر ہو کر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوتے ۔ پوری روئے زمین پر اسے دیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا، بلکہ صرف عرب اور اس کے مشرقی جانب کے ممالک ہی میں اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔ تاریخ نگاری کا ذوق اور فن بھی اس وقت تک اتنا ترقی یافتہ نہ تھا کہ مشرقی ممالک میں جن لگوں نے اسے دیکھا ہوتا وہ اسے ثبت کر لیتے اور کسی مؤرخ کے پاس یہ شہادتیں جمع ہوتیں اور وہ تاریخ کی کسی کتاب میں ان کو درج کر لیتا۔ تا ہم مالابار  کی تاریخوں میں یہ ذکر آیا ہے کہ اس رات وہاں کے ایک راجہ نے یہ منظر دیکھا تھا۔ رہیں علم نجوم کی کتابیں اور جنتریاں ، تو ان میں اس کا ذکر آنا صرف اس حالت میں ضروری تھا جبکہ چاند کی رفتار، اور اس کی گردش کے راستے ، اور اس کے طلوع و غروب کے اوقات میں اس سے کوئی فرق واقع ہوا ہوتا۔ یہ صورت چونکہ پیش نہیں آئی اس لیے قدیم زمانے کے اہل تنجیم کی توجہ اس کی طرف منعطف نہیں ہوئی۔ اس زمانے میں رصد گاہیں اس حد تک ترقی یافتہ نہ تھیں کہ افلاک میں پیش آنے والے ہر واقعہ کا نوٹس لیتیں اور اس کو ریکارڈ پر محفوظ کر لیتیں ۔

۲ ۔ اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ معاذاللہ ، شب و روز کی جادوگری کا جو سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے چلا رکھا ہے ، یہ جادو بھی اسی میں سے ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ پکا جادو ہے ، بڑی مہارت سے  دکھا یا گیا ہے ۔ تیسرے یہ کہ جس طرح اور جادو گزر گئے ہیں ، یہ بھی گزر جائے گا، اس کا کوئی دیر پا اثر رہنے والا نہیں ہے ۔

۳ ۔ یعنی جو فیصلہ انہوں نے قیامت کو نہ ماننے کا کر رکھا ہے ، اس نشانی کو دیکھ کر بھی یہ اسی پر جمے رہے ۔ قیامت کو مان لینا چونکہ ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھا اس لیے صریح مشاہدے کے بعد بھی یہ اسے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔

۴ ۔ مطلب یہ ہ کہ یہ سلسلہ بلا نہایت نہیں چل سکتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں ، اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو، اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ، اسی طرح تمہاری اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اس کشمکش کا بھی لا محالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی۔ ایک وقت لازماً ایسا آنا ہے جب علی الاعلان یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حق پر تھے اور تم سراسر باطل کی پیروی کر رہے تھے ۔ اسی طرح حق پرست اپنی حق پرستی کا، اور باطل پرست اپنی باطل پرستی کا نتیجہ بھی ایک دن ضرور دیکھ کر رہیں گے ۔

۵ ۔ بالفاظ دیگر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جب انہیں زیادہ سے زیادہ معقول طریقہ سے سمجھایا جا چکا ہے ، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بھی بتا دیا گیا ہے کہ انکار آخرت کے نتائج کیا ہیں اور رسولوں کی بات نہ ماننے کا کیا عبرتناک انجام دوسری قومیں دیکھ چکی ہیں ، پھر بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے ، تو انہیں اسی حماقت میں پڑا رہنے دو۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے  جب مرنے کے بعد قبروں سے نکل کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ وہ قیامت واقعی برپا ہو گئی جسسے قبل از وقت خبردار کر کے راہ راست اختیار کر لینے کا مشورہ انہیں دیا جا رہا تھا۔

۶۔ دوسرا مطلب انجانی چیز بھی ہو سکتا ہے ۔ یعنی ایسی چیز جو کبھی ان کے سان گمان میں بھی نہ تھی ، جس کا کوئی نقشہ اور کوئی تصور ان کے ذہن میں نہ تھا، جس کا کوئی اندازہ ہی وہ نہ کر سکتے تھے کہ یہ کچھ  بھی کبھی پیش آ سکتا ہے۔

۷۔ اصل الفاظ ہیں خُشَّعاً اَبصَا رھُُمْ، یعنی ان کی نگاہیں خشوع کی حالت میں ہوں گی۔ اس کے کؑی مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان پر خوف زدگی طاری ہو گی۔ دوسرے یہ کہ ذلت اور ندامت ان سے جھلک رہی ہو گی کیونکہ قبروں سے نکلتے ہیں انہیں محسوس ہو جائے گا کہ یہ وہی دوسری زندگی ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے ، جس کے لیے کوئی تیاری کر کے ہم نہیں آئے ہیں ، جس میں اب مجرم کی حیثیت سے ہمیں اپنے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ تیسرے یہ کہ وہ گھبرائے ہوئے اس ہولناک منظر کو دیکھ رہے ہوں گے جو ان کے سامنے ہو گا،اس سے نظر ہٹانے کا انہیں ہوش نہ ہو گا۔

۸ ۔ قبروں سے مراد وہی قبریں نہیں ہیں جن میں کسی شخص کو زمین کھود کر باقاعدہ دفن کیا گیا ہو۔ بلکہ جس ، جگہ بھی کوئی شخص مرا تھا، یا جہاں بھی اس کی خاک پڑی ہوئی تھی، وہیں سے وہ محشر کی طرف پکارنے والے کی ایک آواز پر اٹھ کھڑا ہو گا ۔

۹ ۔ یعنی اس خبر کو جھٹلا چکی ہے کہ آخرت برپا ہونی ہے جس میں انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا، اس نبی کی نبوت کو جھٹلا چکی ہے جو اپنی قوم کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا، اور نبی کی اس تعلیم کو جھٹلا چکی ہے جو یہ بتاتی تھی کہ آخرت کی باز پرس میں کامیاب ہونے  کے لیے لوگوں کو کیا عقیدہ اور کیا عمل اختیار کرنا چاہیے اور کس چیز سے بچنا چاہیے ۔

۱۰ ۔ یعنی ان لوگوں نے محض نبی کی تکذیب ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ الٹا اسے دیوانہ قرار دیا ، اس کو دھمکیاں دیں ، اس پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ کی، اسے ڈانٹ ڈپٹ کر صداقت کی تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی، اور اس کا جینا دوبھر کر دیا۔

۱۱ ۔ یعنی اللہ کے حکم سے زمین اس طرح پھوٹ بہی کہ گویا وہ زمین نہ تھی بلکہ بس چشمے ہی چشمے تھے ۔

۱۲ ۔ مراد ہے وہ کشتی جو طوفان کی آمد سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق حضرت نوح نے بنا لی تھی۔

۱۳ ۔ اصل الفاظ ہیں جَزَاءً لِّمَنْکَانَ کُفِرَ  ، یعنی ’’ یہ سب کچھ اس شخص کی خاطر بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کا کفر کیا گیا تھا۔ ‘‘ کفر اگر انکار کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ ’’ نس کی بات ماننے سے انکار کیا گیا تھا‘‘ اور اگر اسے کفرانِ نعمت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’’ جس کا وجود ایک نعمت تھا مگر اس کی ناقدری کی گئی تھی‘‘۔

۱۴ ۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا ۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنا دیا گیا ۔ ایک بلند و بالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا سینکڑوں ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا اور انہیں یاد دلاتا رہا کہ اس سرزمین پر خدا کی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی شامت آئی تھی اور ایمان لانے والوں کو کس طرح اس سے بچایا گیا تھا۔ امام بخاری ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتح عراق و الجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر (اور ایک روایت کے مطابق ابقِردیٰ نامی بستی کے قریب) موجود تھی اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اس کو دیکھا تھا۔ موجودہ زمانے میں بھی ہوائی جہازوں سے پرواز کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اس علاقے کی ایک چوٹی پر ایک کشتی نما چیز پڑی دیکھی ہے جس پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ سفینہ نوح ہے ، اور اسی بنا پر وقتاً فوقتاً اس کی تلاش کے لیے مہمات جاتی رہی ہیں ۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۴۷، ہود، حاشیہ ۴۶۔ جلد سوم، العنکبوت، حاشیہ ۲۵)۔

۱۵ ۔ بعض لوگوں نے یَسَّرْنَا الْقُراٰنَ  کے الفاظ سے یہ غلط مطلب نکال لیا ہے کہ قرآن ایک آسان کتاب ہے ، اسے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں ، حتیٰ کہ عربی زبان تک سے واقفیت کے بغیر جو شخص چاہے اس کی تفسیر کر سکتا ہے اور حدیث و فقہ سے بے نیاز ہو کر اس کی آیات سے جو احکام چاہے مستنبط کر سکتا ہے ۔ حالانکہ جس سیاق و سباق میں یہ الفاظ آئے ہیں اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو ہیں وہ عبرتناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتا رہا ہے ۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا یہ ذریعہ زیادہ آسان ہے ۔ پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور عذاب ہی دیکھنے پر اصرار کیے جاتے ہو؟ یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اپنے نبی کے ذریعہ سے یہ کتاب بھیج کر وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ جن راہوں پر تم لوگ جا رہے ہو وہ کس تباہی کی طرف جاتی ہیں اور تمہاری خیر کسی راہ میں ہے ۔ نصیحت کا یہ طریقہ اسی لیے تو اختیار کیا گیا ہے کہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے تمہیں اس سے بچا لیا جائے۔اب اس سے زیادہ نادان اور کون ہو گا جو سیدھی طرح سمجھانے سے نہ مانے اور گڑھے میں گر کر ہی یہ تسلیم کرے کہ واقعی یہ گڑھا تھا۔

۱۶ ۔ یعنی ایک ایسے دن جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی ۔ سورہ حٰم لسجدہ، آیت ۱۶ میں فِیْ اَیَّا مٍ نَّحِسَتٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور سورہ الحاقہ آیت  ۷ میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا ۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے ۔ بعض نہایت ضعیف احادیث بھی اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں جن سے اس دن کی نحوست کا عقیدہ عوام کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے ۔ مثلاً اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخراربداء فی الشھر یوم نحس مستمر (مہینے کا آخری بدھ منحوس ہے جس کی نحوست مسلسل جاری رہتی ہے )۔ ابن ضوزی اسے موضوع کہتے ہیں ۔ ابن رجب نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔ حافظ سخاوی کہتے ہیں کہ جتنے طریقوں سے یہ منقول ہوئی ہے وہ سب واہی ہیں ۔اسی طرح طبرانی کی اس روایت کو بھی محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے کہ یوم الاربعاء یوم نحس مسقر (بدھ کا دن پیہم نحوست کا دن ہے ۔) بعض اور روایات میں یہ باتیں بھی مروی ہیں کہ بدھ کو سفر نہ کیا جائے، لین دین نہ کیا جائے، ناخن نہ کٹوائے جائیں ، مریض کی عیادت نہ کی جائے، اور یہ کہ جذام اور برص اسی روز شروع ہوتے ہیں ۔مگر یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان پر کسی عقیدے بنا نہیں رکھی جا سکتی۔ محقق مناوِی کہتے ہیں : تو قی الا ر بعاء علی جھۃ الطیرۃ و ظن اعتقاد المنجمین حرام شدید التحریم، اذا الایام کلھا لِلہ تعالیٰ ، لا تنفع ولا تضر بذاتھا، ’’ بد فالی کے خیال سے بدھ کے دن کو منحوس سمجھ کر چھوڑ نا اور نجومیوں کے سے اعتقادات اس باب میں رکھنا حرام، سخت حرام ہے ، کیونکہ سارے دن اللہ کے ہیں ، کوئی دن بذاتِ خود نہ نفع پہنچانے والا ہے نہ نقصان‘‘ علامہ آلوسی کہتے ہیں ’’ سارے دن یکساں ہیں ، بدھ کی کوئی تخصیص نہیں ۔ رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہے جو کسی کے لیے اچھی اور کسی دوسرے کے لیے بری نہ ہو۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کسی کے لیے موافق اور کسی کے لیے نا موافق حالات پیدا کرتا رہتا ہے ‘‘۔

 

ترجمہ

 

ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا اور کہنے لگے ’’ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کا اب ہم اس کے پیچھے چلیں (۱۷)؟ اس کا تباع ہم قبول کر لیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گیے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے ۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں ، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے ‘‘(۱۸) ۔ (ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا)’’کل ہی انہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے ۔ ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں ۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ ان کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ ان کو جتا دے کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا‘‘(۱۹) ۔ آخر کار ان لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا (۲۰)۔ پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات ۔ ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی رَوندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گیے (۲۱)۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بن دیا ہے ، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

لوط کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی ۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے ۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے ۔ لوط نے اپنی قوم کے لوگوں ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اُڑاتے رہے ۔ پھر انہوں نے اسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے ان کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا (۲۲)۔ صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیا ۔ چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بن دیا ہے ، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ ع

 

تفسیر

 

۱۷ ۔ بالفاظ دیگر، حضرت صالح کی پیروی سے ان کا انکار تین وجوہ سے تھا۔ ایک یہ کہ وہ بشر ہیں ، انسانیت سے بالاتر نہیں ہیں کہ ہم ان کی بڑائی مان لیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں ۔ ہم پر ان کی فضیلت کی کوئی وجہ نہیں ۔ تیسرے یہ کہ اکیلے ہیں ، ہمارے عام آدمیوں میں سے ایک آدمی ہیں ، کوئی بڑے سردار نہیں ہیں جس کے ساتھ کوئی بڑا جتھا ہو، لاؤ لشکر ہو، خَدَم و حشم ہوں ،اور اس بنا پر ہم ان کی بڑائی تسلیم کر لیں ۔ وہ چاہتے تھے کہ نبی یا تو کوئی فوق البشر ہستی ہو، یا اگر وہ انسان ہی ہو تو ہمارے اپنے ملک اور قوم میں پیدا نہ ہوا ہو، بلکہ کہیں اوپر سے اتر کر آئے یا باہر سے بھیجا جائے،اور اگر یہبھی نہیں تو کم از کم اسے کوئی رئیس ہونا چاہیے جس کی غیر معمولی شان و شوکت کی وجہ سے یہ مان لیا جائے کہ رہنمائی کے لیے خدا کی نظر انتخاب اس پر پڑی ہے ۔ یہی وہ جہالت تھی جس میں کفار مکہ مبتلا تھے ۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت ماننے سے ان کا ناکار بھیہ اسی بنیاد پر تھا کہ آپ بشر ہیں عم آدمیوں کی طرح بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ، کل ہمارے ہی درمیان پیدا ہوئے اور آج یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجھے خدا نے نبی بنایا ہے ۔

۱۸ ۔ اصل میں لفظ اَشِر استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ایسا خود پسند اور بر خود غلط شخص جس کے دماغ میں اپنی بڑائی کا سودا سما گیا ہو اور اس بنا  پر وہ ڈینگیں مارتا ہو۔

۱۹ ۔ یہ تشریح ہے اس ارشاد کی کہ ’’ ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں ‘‘۔ وہ فتنہ یہ تھا کہ یکایک ایک اونٹنی لا کر ان کے سامنے کھڑی کر دی گئی اور ان سے کہہ دیا گیا کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پیے گی اور دوسرے دن تم سب لوگ اپنے لیے اور اپنے جانوروں کے لیے پانی لے سکو گے ۔ اس کی باری کے دن تم میں سے کوئی شخص کسی چشمے اور کنوئیں پر نہ خود پانی لینے کے لیے آئے ، نہ اپنے جانوروں کو پلانے  کے لیے لائے۔ یہ چیلنج اس شخص کی طرف سے دیا گیا تھا جس کے متعلق وہ خود کہتے تھے کہ یہ کوئی لاؤ لشکر نہیں رکھتا، نہ کوئی بڑا جتھا اس کی پشت پر ہے ۔

۲۰ ۔ ان الفاظ ان الفاظ سے خود بخود یہ صورت حال مترشح ہوتی ہے کہ وہاونٹنی ایک مدت تک ان کی بستیوں  میں دندناتی پھری ۔ اس کی باری کے دن کسی کو پانی پر آنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ آخر کار اپنی قوم کے ایک من چلے سردار کو انہوں پکارا کہ تو بڑا جری اور بیباک آدمی ہے ۔ بات بات پر آستینیں چڑھا کر مارنے اور مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ، ذرا ہمت کر کے اس اونٹنی کا قصہ بھی پاک کر دیکھا۔ ان کے بڑھاوے چڑھاوے دینے پر اس نے یہ مہم سر کرنے کا بیڑا اٹھا لیا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ اس اونٹنی سے صخٹ مرعوب تھے ، ان کا یہ احساس تھا کہ اس کی پشت پر کوئی غیر معمولی طاقت ہے ، اس پر ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ ڈرتے تھے ، اور اسی بنا پر  محض ایک اونٹنی کا مار ڈالنا، ایسی حالت میں بھی جب کہ اس کے پیش کرنے والے پیغمبر  کے پاس کوئی فوج نہ تھی جس کا انہیں ڈر ہوتا، ان کے لیے ایک بڑی مہم سر کرنے کا ہم معنی تھا۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف  حاشیہ ۵۸۔ جلد سوم، الشعراء، حاشیہ ۱۰۴ ۔ ۱۰۵)۔

۲۱ ۔ جو لوگ مویشی پالتے ہیں وہ اپنے جانوروں کے باڑے کو محفوظ کرنے کے لیے لکڑیوں اور جھاڑیوں کی ایک باڑھ بنا دیتے ہیں ۔ اس باڑھ کی جھاڑیاں رفتہ رفتہ سوکھ کر جھڑ جاتی ہیں اور جانوروں کی آمد و رفت سے پامال ہو کر ان کا برادہ بن جاتا ہے ۔ قوم ثمود کی کچلی ہوئی بوسیدہ لاشوں کو اسی برادے سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

۲۲۔ اس قصے کی تفصیلات سورہ ہود (آیات ۷۷ تا ۸۳ ) اور سورہ حجر(آیات ۶۱ تا ۷۴) میں گزر چکی ہیں ۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں تو  وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بد کاری کے لیے ان کے حوالہ کر دیں ۔ حضرت لوط نے ان کی بے انتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں ۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبر درستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس آخری مرحلے پر یکایک ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں ۔ پھر فرشتوں حضرت لوط سے کہا کہ وہ اور ان کے گھر والے صبح ہونے سے پہلے اس بستی سے نکل جائیں ، اور ان کے نکلتے ہی اس قوم پر ایک ہولناک عذاب نازل ہو گیا۔ بائیبل میں بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : ’’ تب وہ اس مرد یعنی لوط پر پل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کواڑ توڑ ڈالیں ۔  لیکن ان مردوں (یعنی فرشتوں ) نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لوط کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا اور ان مردوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے ، کیا چھوٹے کیا بڑے ، اندھا کر دیا، سو وہ دروازہ ڈھونڈھتے ڈھونڈتے تھک گئے‘‘ (پیدائش ، ۱۹:۹۔۱۱)۔

 

ترجمہ

 

اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں ، مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا ۔ آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے ۔

کیا تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں (۲۳)؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ؟ یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، اپنا بچاؤ کر لیں گے ؟عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے (۲۴)۔ بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے ۔ یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے ۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔

ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے (۲۵) ، اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکتے وہ عمل میں آ جاتا ہے (۲۶)۔ تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں (۲۷)، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے (۲۸)۔

نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناً باغوں اور نہروں میں ہوں گے ، سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ع

 

تفسیر

 

۲۳ ۔ خطاب ہے قریش کے لوگوں سے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں آخر کیا خوبی ہے ، کون سے لعل تمہارے لٹکے ہوئے ہیں کہ جس کفر اور تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر دوسری قوموں کی سزا دی جا چکی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے ؟

۲۴ ۔ یہ صریح پیش گوئی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کر دی گئی تھی کہ قریش کی جمعیت ، جس کی طاقت کا انہیں بڑا زعم تھا، عنقریب مسلمانوں سے شکست کھا جائے گی۔ اس وقت کوئی شخص یہ تصور تک نہ کر سکتا تھا کہ مستقبل قریب میں یہ انقلاب کیسے ہو گا۔ مسلمانوں کی بے بسی کا حال یہ تھا کہ ان میں سے ایک گروہ ملک چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں ہو چکا تھا ، اور باقی ماندہ اہل ایمان شعب، ابی طالب میں محصور تھے جنہیں قریش کے مقاطعہ اور محاصرہ نے بھوکوں مار دیا تھا۔ اس حالت میں کون یہ سمجھ سکتا تھا کہ سات ہی برس کے اندر نقشہ بدل جانے والا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ، جب سورہ قمر کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں حیران تھا کہ آخر یہ کونسی جمعیت ہے جو شکست کھائے گی ؟ مگر جب جنگ بدر میں کفار شکست کھا کر بھاگ رہے تھے اس وقت میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زرہ پہنے ہوئے آگے کی طرف جھپٹ رہے ہیں اور آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہیں کہ سَیھُْزَمُ الْجَمْعُوَیُوَلُّوْ ناَ الدُّ بُرَ ،تب میری سمجھ میں آیا کہ یہ تھی وہ ہزیمت جس کی خبر دی گئی تھی (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم)۔

۲۵ ۔ یعنی دنیا کی کوئی چیز بھی اَلَل ٹپ نہیں پیدا کر دی گئی ہے ، بلکہ ہر چیز کی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق وہ ایک مقرر وقت پر بنتی ہے ، ایک خاص شکل اختیار کرتی ہے ، ایک خاص حد تک نشو نما پاتی ہے ، ایک خاص مدت تک باقی رہتی ہے ، اور ایک خاص وقت پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسی عالمگیر ضابطہ کے مطابق خود اس دنیا کی بھی ایک تقدیر ہے جس کے مطابق ایک وقت خاص تک یہ چل رہی ہے اور ایک وقت خاص ہی پر اسے ختم ہونا ہے ۔ جو وقت اس کے خاتمہ کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے نہ اس سے ایک گھڑی پہلے یہ ختم ہو گی، نہ اس کے ایک گھڑی بعد یہ باقی رہے گی۔ یہ نہ ازلی و ابدی ہے کہ ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ قائم رہے ۔ اور نہ کسی بچے کا کھلونا ہے کہ جب تم کہو اسی وقت وہ اسے توڑ پھوڑ کر دکھا دے ۔

۲۶ ۔ یعنی قیامت برپا کرنے کے لیے ہمیں کوئی بڑی تیاری نہیں کرنی ہو گی اور نہ اسے لانے میں کوئی بڑی مدت صرف ہو گی۔ ہماری طرف سے بس ایک حکم صادر ہونے کی دیر ہے ۔ اس کے صادر ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہو جائے گی۔

۲۷ ۔ یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ کسی خدائے حکیم و عادل کی خدائی نہیں بلکہ کسی اندھے راجہ کی چوپٹ نگری ہے جس میں آدمیوں کچھ چاہے کرتا پھرے کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں ہے ، تو تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے انسانی تاریخ موجود ہے جس میں اسی روش پر چلنے والی قومیں پے در پے تباہ کی جاتی رہی ہیں ۔

۲۸ ۔ یعنی یہ لوگ اس غلط فہمی میں بھی نہ رہیں کہ ان کا کیا دھرا کہیں غیب ہو گیا ہے ۔ نہیں ، ہر شخص ، ہر گروہ اور ہر قوم کا پورا ریکارڈ محفوظ ہے اور اپنے وقت پر وہ سامنے آ جائے گا۔

٭٭٭

 

 

(۵۵) سورہ الرحمٰن

 

نام

 

پہلے ہی لفظ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورۃ ہے جو لفظ الرحمٰن سے شروع ہوتی ہے۔ تاہم اس نام کو سورۃ کے مضمون سے بھی گہری مناسبت ہے، کیونکہ اس میں شروع سے آخر تک اللہ تعالیٰ کی سفت رحمت کے مظاہر و ثمرات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

علمائے تفسیر بالعموم اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں۔ اگر چہ بعض روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس اور عکرمہ اور قتادہ سے یہ قول منقول ہے کہ یہ سورۃ مدنی ہے، لیکن اول تو انہی بزرگوں سے بعض روایات اس کے خلاف بھی منقول ہوئی ہیں، دوسرے اس کا مضمون مدنی سورتوں کی بہ نسبت مکی سورتوں سے زیادہ مشابہ ہے، بلکہ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ مکہ کے بھی ابتدائی دور کی معلوم ہوتی ہے۔ اور مزید براں متعدد معتبر روایات سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ ہی میں ہجرت سے کئی سال قبل نازل ہوئی تھی۔

مسند احمد میں حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ ’‘میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو حرم میں خانہ کعبہ کے اس گوشے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے دیکھا جس میں حجر اسود نصب ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے ب کہ ابھی فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرْ (جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے ہان کے پکارے کہہ دو) کا فرمان الٰہی نازل نہیں ہوا تھا۔ کہ مشرکین اس نماز میں آپ کی زبان سے فَبِاَئِ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّ بٰنِ کے الفاظ سن رہے تھے ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سورۃ سورہ الحجر سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔

البزار، ابن جریر،ابن المنذ،ر، دار قظنی (فیالفراد)، ابن مردویہ، اور الخطیب(فی التاریخ) نے حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سورہ رحمٰن خود تلاوت فرمائی، یا آپ کے سامنے یہ سورۃ پڑھی گئی۔ پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تم سے ویسا اچھا جواب نہیں سن رہا ہوں جیسا جِنوں نے اپنے رب کو دیا تھا‘‘؟ لوگوں نے عرض کیا وہ کیا جواب تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ’’ جب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد فَبِاَیِّ اٰلَآ ءِرَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ  پڑھتا تو جن اس کے جواب میں کہتے جاتے تھے کہ لَآبِشَیءٍمِّنْ نِعْمَۃِرَبِّنَا نُکَذِّبُ، ’’رب کی کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے ‘‘۔

اسی سے ملتا جلتا مضمون ترمذی، حاکم اور حافظ ابوبکر بزار نے حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے۔ ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب لوگ سورہ رحمٰن کو سن کر خموش رہے تو حضورؐ نے فرمایا لقد قرأ تھا ایلی الجن الیلۃ الجن فکا نو ا ا حسن مر دو داً من کم، کنت کلما اتیت علیٰ تولہ فَبِقَیِّ اٰلَآءِرَبِّکُمَا تُکَذِّ بَانِ قالو لا بِشَیْ ءٍ مِنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نکذب فلا الحمد۔ یعنی ’’ میں نے یہ سورۃ جِنوں کو سنائی تھی جس میں وہ قرآن سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔وہ اس کا جواب تم سے بہتر دے رہے تھے۔ جب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر پہنچتا تھا کہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، تو وہ اس کے جواب میں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم تیری کسی  نعمت کو نہیں جھٹلاتے، حمد تیرے ہی لیے ہے۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورہ احقاف (آیات ۲۹۔ ۳۲) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اس موقع پر حضورؐ نماز میں سورہ رحمٰن تلاوت فرما رہے تھے۔ یہ ۱۰ نبوی کا واقعہ ہے جب آپ سفر طائف سے واپسی پر نخلہ میں کچھ مدت ٹھیرے تھے۔ اگر چہ بعض دوسری روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس موقع پر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ معلوم نہ تھا کہ جن آپ سے قرآن سن رہے ہیں بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ وہ آپ کی تلاوت سن رہے تھے، لیکن یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو جِنوں کی سماعت قرآن پر مطلع فرمایا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو یہ اطلاع بھی دے دی ہو کہ سورہ رحمٰن سنتے وقت وہ اس کا کیا جواب دیتے جا رہے تھے۔

ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ رحمٰن سور حجر اور سورہ احقاف سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابہ کرام نے آپس میں کہا کہ قریش نے کبھی کسی کو علانیہ بآواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے، ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو یہ کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں۔ صحابہ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے یہ کا کر ڈالنے دو، معرا محافظ اللہ ہے۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جبکہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عبداللہ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورہ رحمٰن کی تلاوت شروع کر دی۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر جب انہیں پتہ چلا کہ  یہ وہ کلام ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو  وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے۔ مگر حضرت عبداللہ نے پروانہ کی۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔ جب تک ان کے دم میں دم رہا قرآن سنائے چلے گئے۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر انہیں قرآن سناؤں۔ سب نے کہا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انہیں سنا دیا (سیرۃ ابن ہشام، جلد اول، ص ۳۳۶)۔

 

موضوع اور مضمون

 

قرآن مجید کی یہ ایک ہی سورۃ ہے جس میں انسان کے ساتھ زمین کی دوسری با اختیار مخلوق، جنوں کو بھی براہ راست خطاب کیا گیا ہے، اور دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمالات، اس کے بے حد و حساب احسانات، اس کے مقابلہ کہ ان کی عاجزی و بے بسی اور اس کے حضور ان کی جوابدہی کا احساس دلا کر اس کی نافرمانی کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے اور فرمانبرداری کے بہترین نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے۔اگر چہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایسی تصریحات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح جن بھی ایک ذی اختیار اور جواب دہ مخلوق ہیں جنہیں کفر و ایمان اور طاعت و عصیان کی آزادی مخشی گئی ہے، اور ان میں بھی انسانوں ہی کی طرح کافر و مومن اور مطیع و سرکش پائے جاتے ہیں، اور ان کے اندر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو انبیاء علیہم السلام اور کتب آسمانی پر ایمان لائے ہیں، لیکن یہ سورۃ اس امر کی قطعی صراحت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن مجید کی دعوت جن اور انس دونوں کے لیے ہے اور حضورؐ کی رسالت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے۔

سورۃ کے آغاز میں تو خطاب کا رخ انسانوں کی طرف ہی ہے، کیونکہ زمین کی خلافت ان ہی کو حاصل ہے، خدا کے رسول ان ہی میں سے آئے ہیں، اور خدا کی کتابیں ان ہی زبانوں میں نازل کی گئی ہیں، لیکن آگے چل کر آیت ۱۳ سے انسان اور جن دونوں کی یکساں مخاطب کیا گیا ہے، اور ایک ہی دعوت دونوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

سورۃ کے مضامین چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک خاص ترتیب سے ارشاد ہوئے ہیں :

آیت ۱ سے ۴ تک یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ اس قرآن کی تعلیم سے نوع انسانی کی ہدایت کا سامان کرے، کیونکہ انسان کو ایک ذی عقل و شعور مخلوق کی حیثیت سے اسی نے پیدا کیا ہے۔

آیت ۵۔۶ میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کا سرا نظام  اللہ تعالیٰ کی فرمانروائی میں چل رہا ہے اور زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تابع فرمان ہے۔ یہاں کوئی دوسرا نہیں ہے جس کی خدائی چل رہی ہو۔

آیت ۷۔۹ میں ایک دوسری اہم حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو ٹھیک ٹھیک تَوازن کے ساتھ عدل پر قائم کیا ہے اور اس نظام کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں رہنے والے اپنے حدود اختیار میں بھی عدل ہی پر قائم ہوں اور تَوازن نہ بگاڑیں۔

آیت ۱۰ سے ۲۵ تک اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب و کمالات بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ان نعمتوں کی طرف اشارے گئے ہیں جن سے انسان اور جن متمتع ہو رہے ہیں۔

آیت ۲۶ سے ۳۰ تک انسان اور جن دونوں کو یہ حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی غیر فانی اور لازوال نہیں، اور چھوٹے سے بڑے تک کوئی موجود ایسا نہیں جو اپنے وجود اور ضروریات وجود کے لیے خدا  کا محتاج نہ ہو۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک شب و روز جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسی کی کار فرمائی سے ہو رہا ہے۔

آیت ۳۱ سے ۳۶ تک ان دونوں گروہوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تم سے باز پرس کی جائے  گی۔ اس باز پرس سے بچ کر تم کہیں نہیں جا سکتے۔  خدا کی خدائی تمہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔اس سے نکل کر بھاگ جانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اگر تم اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ اس سے  بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔

آیات ۳۷۔۳۸ میں بتا گیا ہے کہ یہ باز پرس قیامت کے روز ہونے والی ہے۔

آیت ۳۹ سے ۴۵ تک ان مجرم انسانوں اور جنوں کا انجام بتایا گیا ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے رہے ہیں۔

اور آیت ۴۶ سے آخرت سورت تک تفصیل کے ساتھ وہ انعامات بیان کیے گئے ہیں جو آخرت میں ان نیک انسانوں اور جنوں کو عطا کیے جائیں گے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کی زندگی بسر کی ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کام کیا ہے کہ ہمیں ایک روز اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

یہ پوری تقریر خطابت کی زبان میں ہے۔ ایک پر جوش اور نہایت بلیغ خطبہ ہے جس کے  دوران میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایک ایک عجوبے، اور اس کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک ایک نعمت، اور اس کی سلطانی و قہاری کے مظاہر میں سے ایک ایک مظہر، اور اس کی جزاء و سزا کی تفصیلات میں سے ایک ایک چیز کو بیان کر کے بار بار جب و انس سے سوال کیا گیا ہے کہ فَبِاَیِّ اٰلَآ ءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّ بَا نِ۔ آگے چل کر ہم اس کی وضاحت کریں گے کہ آلاء ایک سویع المعنی لفظ ہے جس کو اس خطبے میں مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، اور جن و انس سے یہ سوال ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اپنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

رحمٰن نے اِس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ ۱ اُسی نے انسان کو پیدا کیا ۲ اور اسے بولنا سکھایا۔ ۳ سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں ۴ اور تارے ۵ اور درخت سب سجدہ ریز ہیں۔ ۶ آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ ۷ اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔ ۸

۹ زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا۔ ۱۰ اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں۔ کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلّے ہیں جن میں بھُوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی۔ ۱۱ پس اے جِنّ وانس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں ۱۲ کو جھٹلاؤ گے؟ ۱۳

انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سُوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا ۱۴ اور جِن کو آگ کی لَپٹ سے پیدا کیا۔ ۱۵ پس اے جِنّ و اِنس ، تم اپنے رب کی  کن کن عجائبِ قدرت ۱۶ کو جھٹلاؤ گے؟

دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے۔ ۱۷ پس اے جِنّ و اِنس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں ۱۸   کو جھٹلاؤ گے؟

دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں، پھر بھی ان کے درمیا ن ایک پر دہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ ۱۹ پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کی قدرت کے  کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

اِن سمندروں سے موتی اور مونگے ۲۰ نکلتے ہیں۔ ۲۱ پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کی قدرت کے  کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ ۲۲

اور یہ جہاز اُسی کے ہیں ۲۳ جو سمندر میں پہاڑوں  کی طرح اونچے اُٹھے ہوئے ہیں ۔ پس اے جِنّ و اِنس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟ ۲۴ ؏۱

 

تفسیر

 

۱۔ یعنی اس قرآن کی تعلیم کسی انسان کی طبعزاد نہیں ہے بلکہ اس کا معلم خود خدائے  رحمان ہے۔ اس مقام پر یہ بات بیان کرنے کی حاجت نہیں تھی کہ اللہ نے قرآن کی یہ تعلیم کس کو دی ہے، کیوں کہ لوگ اس کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے سن رہے تھے، اس لیے مقتضائے حال سے کلام کا یہ مدعا آپ سے آپ ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ تعلیم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دی گئی ہے۔

آغاز اس فقرے سے کرنے کا پہلا مقصد تو یہی بتانا ہے کہ حضور خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ اس تعلیم کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مزید برآں دوسرا ایک مقصد ور بھی ہے جس کی طرف لفظ رحمان اشارہ کر رہا ہے۔ اگر بات صرف اتنی ہی کہنی ہوتی کہ یہ تعلیم اللہ کی طرف سے ہے،نبی کی طبعزاد نہیں ہے تو اللہ کا اہم ذات چھوڑ کر کوئی اسم صفت استعمال کرنے کی حاجت نہ تھی، اور اسم صفت  ہی استعمال کرنا ہوتا تو محض اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے اسمائے الٰہیہ میں سے کوئی اسم بھی اختیار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب ی کہنے کے بجائے کہ اللہ نے، یا خالق نے، یا رزاق نے یہ تعلیم دی ہے، فرمایا یہ گیا کہ اس قرآن کی تعلیم رحمٰن نے دی ہے، تو س سے خود بخود یہ مضمون نکل آیا کہ بندوں کی ہدایت کے لیے قرآن مجید کا نازل کیا جانا سراسر اللہ کی رحمت ہے۔ وہ چونکہ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے، اس لیے اس نے یہ گورا نہ کیا کہ تمہیں تریکی میں بھٹکتا چھوڑ دے، اور اس کی رحمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن بھیج کر تمہیں وہ علم عطا فرمائے جس پر دنیا میں تمہاری راست روی اور آخرت میں تمہاری فلاح کا انحصار ہے۔

۲۔ با لفاظ دیگر، چونکہ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق ہے، اور خالق ہی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی مخلوق کی رہنمائی کرے اور اسے وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنا مقصد وجود پورا کر سکے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کی اس تعلیم کا نازل ہونا محض اس کی رحمانیت ہی کا تقاضا نہیں ہے، بلکہ اس کے خالق ہونے کا بھی لازمی اور فطری تقاضا ہے۔ خالق اپنی مخلوق کی رہنمائی نہ کرے گا تو اور کون کرے گا؟ اور خالق ہی رہنمائی نہ کرے تو اور کون کر سکتا ہے؟ اور خالق کے لیے اس سے بڑا عیب اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو وہ وجود میں لائے اسے اپنے وجود کا مقصد پورا کرنے کا طریقہ نہ سکھائے؟ پس در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی تعلیم کا انتظام ہونا عجیب بات نہیں ہے، بلکہ  یہ انتظام اگر اس کی طرف سے نہ ہوتا تو قابل تعجب  ہوتا پوری کائنات میں جو چیز بھی اس نے بنائی ہے اس کو محض پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ اس کو وہ موزوں ترین ساخت دی ہے جس سے وہ نظام فطرت میں اپنے حصے کا کام کرنے کے قابل ہو سکے، اور اس کام کو انجام دینے کا طریقہ اسے سکھایا ہے، خود انسان کے اپنے جسم کا ایک ایک  رونگٹا اور ایک ایک خلیہ (Cell) وہ کام سیکھ کر پیدا ہوا ہے جو اسے انسانی جسم میں انجام دینا ہے۔ پھر آخر انسان بجائے خود اپنے خالق کی تعلیم و رہنمائی سے بے نیاز یا محروم کیسے ہو سکتا تھا؟ قرآن مجید میں اس مضمون کو مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے سمجھایا گیا ہے۔ سورہ لَیل (آیت ۱۲) میں فرمایا  اِنَّ عَلَیْنَا  لَلْھُدیٰ۔ ’’رہنمائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ’’سورہ نحل (آیت ۹)میں ارشاد ہوا  اَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیلِ وَمِنْھَا  جَآ ئِرٌ۔ یہ اللہ کے ذمہ ہے کہ سیدھا راستہ بتائے اور ٹیڑھے راستے بہت سے ہیں ‘‘۔ سورہ طٰہٰ (آیات ۴۷۔ ۵۰ ) میں ذکر آتا ہے کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کی زبان سے پیغام رسالت سن کر حیرت سے پوچھا کہ آخر وہ تمہارا رب کونسا ہے جو میرے پس رسول بھیجتا ہے، تو حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدیٰ۔ ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی اور پھر اس کی رہنمائی،‘‘ یعنی وہ طریقہ سکھایا جس سے وہ نظام وجود میں اپنے حصے کا کام کر سکے۔ یہی وہ دلیل ہے جس سے ایک غیر متعصب ذہن اس بات پر مطمئن ہو جاتا ہے کہ انسان کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں اور کتابوں کا آنا عین تقاضائے فطرت ہے۔

۳۔ اصل میں لفظ بیان استعمال ہو ا ہے۔ اس کے ایک معنی تو اظہار ما فی  الضمیر کے ہیں، یعنی بولنا اور اپنا مطلب و مدعا بیان کرنا۔ اور دوسرے معنی ہیں فرق و امتیاز کی وضاحت، جس سے مراد اس مقام پر خیر و شر اور بھلائی اور برائی کا امتیاز ہے۔ ان دونوں معنوں کے لحاظ سے یہ چھوٹا سا فقرہ اوپر کے استدلال کو مکمل کر دیتا ہے۔ بولنا وہ امتیازی وصف ہے جو انسان کو حیوانات اور دوسرے ارضی مخلوقات سے ممیز کرتا ہے۔یہ محض قوت ناطقہ کام نہیں کر سکتی۔ اس لیے بولنا در اصل انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔اور یہ ہو سکتی جو بے شعور اور بے اختیار مخلوق کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے۔ اسی طرح انسان کا دوسرا اہم ترین امتیازی وصف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک اخلاقی حِس(Moral Sense) رکھ دی ہے جس کی وجہ سے وہ فطری طور پر نیکی اور بدی، حق اور ناحق، ظلم اور انصاف، بجا اور بے جا کے درمیان فرق کرتا ہے، اور یہ وِجدان اور احساس انتہائی گمراہی و جہالت کی حالت میں بھی اس کی اندر سے نہیں نکلتا۔ ان دونوں امتیازی خصوصیات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی شعوری و اختیاری زندگی کے لیے تعلیم کا طریقہ اس پیدائشی طریق تعلیم سے مختلف ہو جس کے تحت مچھلی کو  تیرنا اور پرندے کو اُڑنا، اور خود انسانی جسم کے اندر پلک کو جھپکنا، آنکھ کو دیکھنا، کان کو سننا، اور معدے کو ہضم کرنا سکھایا گیا ہے۔ انسان خود اپنی زندگی کے اس شعبے میں استاد اور کتاب اور مدرسے اور تبلیغ و تلقین اور تحریر و تقریر اور بحظ و استدلال جیسے ذرائع ہی کو وسیلہ تعلیم مانتا ہے اور پیدائشی علم و شعور  کو کافی نہیں سمجھتا۔ پھر یہ بات آخر کیوں عجیب ہو کہ انسان کے خالق پر اس کی رہنمائی کی جو ذمی داری عائد ہوتی ہے اسے ادا کرنے کے لیے اس نے رسول اور کتاب کو تعلیم کا ذریعہ بنایا ہے؟ جیسی مخلوق ویسی ہی اس کی تعلیم۔ یہ سراسر ایک معقول بات ہے ’’بیان‘‘ جس مخلوق کو سکھایا گیا ہو اس کے لیے قرآن ‘‘ ہی ذریعہ تعلیم ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی ایسا ذریعہ جو ان مخلوقات کے لیے موزوں ہے جنہیں بیان نہیں سکھایا گیا ہے۔

۴۔ یعنی ایک زبردست قانون اور ایک اٹل ضابطہ ہے جس سے یہ عظیم الشان سیارے بندھے ہوئے ہیں۔ انسان وقت اور دن اور تاریخوں اور فصلوں اور موسموں کا حساب اسی وجہ سے کر رہا ہے کہ سورج کے طلوع و غروب اور مختلف منزلوں سے اس کے گزرنے کا جو قاعدہ مقرر کر دیا گیا ہے اس میں کوئی تغیر رونما نہیں ہوتا۔ زمین پر بے حد و حساب مخلوق زندہ ہی اس وجہ سے ہے کہ سورج اور چاند کو ٹھیک ٹھیک حساب کر کے زمین سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے اور اس فاصلے میں کمی و بیشی صحیح ناپ تول سے ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتی ہے۔ ورنہ زمین سے ان کا فاصلہ کسی حساب  کے بغیر بڑھ یا گھٹ جائے تو یہاں کسی کا جینا ہی ممکن نہ رہے۔ اسی طرح زمین کے گرد چاند اور سورج کے درمیان حرکات میں ایسا مکمل تناسب قائم کیا گیا ہے کہ چاند ایک عالمگیر جنتری بن کر رہ گیا ہے جو پوری باقاعدگی کے ساتھ ہر رات ساری دنیا کو قمری تاریخ بتا دیتی ہے۔

۵۔ صل میں لفظ النجم استعمال ہوا ہے جس کے معروف اور متبادر  معنی تارے کے ہیں۔ لیکن لغت عرب میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا، مثلاً ترکاریاں، خربوزے، تربوز  وغیرہ۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ یہاں یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ابن عباس سعید بن جبیر، سدی اور سفیان ثوری اس کو بے تنے والی نباتات کے معنی میں لیتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد لفظ الشجر (درخت) استعمال فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہی معنی زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ بخلاف اس کے مجاہد، قتادہ اور حسن بصری کہتے ہیں کہ نجم سے مراد یہا بھی زمین کے بوٹے نہیں بلکہ آسمان کے تارے ہی ہیں، کیوں کہ یہی اس کے معروف معنی ہیں، اس لفظ کو سن کر سب سے پہلے آدمی کا ذہن اسی معنی کی طرف جاتا ہے، اور شمس و قمر کے بعد تاروں کا ذکر بالکل فطری مناسبت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مفسرین و مترجمین کی اکثریت نے اگر چہ پہلے معنی کو ترجیح دی ہے، اور اس کو بھی غلط نہیں کہا جا سکتا، لیکن ہمارے نزدیک حافظ ابن کثیر کی رائے صحیح ہے کہ زبان اور مضمون دونوں کے لحاظ سے دوسرا مفہوم زیادہ قابل ترجیح نظر آتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر بھی نجوم اور شجر کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر آیا ہے۔ اور وہاں نجوم کو تاروں کے سوا اور کسی معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں اَلَمْ تَرَاَنَّ اللہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ و الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَا بُّ وَ کَثِیْرٌ مِّنَالنَّاسِ …………… (الحج۔۱۸)۔ یہاں نجوم کا ذکر شمس و قمر کے ساتھ ہے اور شجر کا ذکر پہاڑوں اور جانوروں کے ساتھ، اور فرمایا گیا ہے کہ یہ سب اللہ کے آگے سجدہ ریز ہیں۔

۶۔ یعنی آسمان کے تارے اور زمین کے درخت، اس اللہ  تعالیٰ کے مطیع فرمان اور اس کے قانون کے پابند ہیں، جو ضابطہ ان کے لیے بنا دیا گیا ہے اس سے یَک سَرِ مُو تجاوز نہیں کر سکتے۔

ان دونوں آیتوں میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ کا آفریدہ ہے اور اسی کی اطاعت میں چل رہا ہے۔ زمین سے لے کر آسمانوں تک نہ کوئی خود مختار ہے، نہ کسی اور کی خدائی اس جہان میں چل رہی ہے، نہ خدا کی خدائی میں کسی کا کوئی دخل ہے، اور نہ کسی کا یہ مقام ہے کہ اسے معبود بنا یا جائے۔ سب بندے اور غلام ہیں، آقا تنہا ایک رب قدیر ہے۔ لہٰذا توحیدی حق ہے جس کی تعلیم یہ قرآن دے رہا ہے۔ اس کو چھوڑ کر جو شخص بھی شرک یا کفر کر رہا ہے وہ در اصل کائنات کے پورے نظام سے بر سر پیکار ہے۔

۷۔ قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے مراد عدل لیا ہے، اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بے حد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس علام میں کام کر رہی ہیں، اور یہ لا تعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہاں میں پائی جاتی ہیں، ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کار گاہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجیے۔ ان کی زندگی اسی لیے تو بر قرار ہے کہ ان کے اسباب حیات میں پورا پورا عدل اور توازن پایا جاتا ہے، ورنہ ان اسباب میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی پیدا ہو جائے تو یہاں زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔

۸۔ یعنی چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم کیا گیا ہے، اس لیے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے۔ جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میں اگر تم بے انصافی کرو گے، اور جن حق داروں کے حقوق تمہارے ہاتھ  میں دیے گئے ہیں اگر تم ان کے حق مارو گے تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہو گی۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بے انصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں ایک بڑا ظلم تو درکنار،ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصہ کی ایک تولہ بھر چیز بھی مار لیتا ہے تو میزان ِ عالم میں خلل برپا کر دیتا ہے۔ یہ قرآن کی تعلیم کا دوسرا اہم حصہ ہے جو ان تین آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی تعلیم ہے توحید اور دوسری تعلیم ہے عدل۔ اس طرح چند مختصر فقروں میں لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی رہنمائی کے لیے خدائے رحمان نے جو قرآن بھیجا ہے وہ کیا تعلیم لے کر آیا ہے۔

۹۔ اب یہاں سے آیت ۲۵ تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں اور اس کے ان احسانات اور اس کی قدرت کے ان کرشموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے انسان اور جن دونوں متمتع ہو رہے ہیں اور جن کا فطری اور اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ کفرو ایمان کا اختیار رکھنے کے باوجود خود اپنی مرضی سے بَطوعَ  و رغبت اپنے رب کی بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کریں۔

۱۰۔ اصل الفاظ ہیں زمین کو”اَنام” کے لیے وضع کیا۔ وضع کرنے سے مراد ہے تالیف کرنا، بنانا، تیار کرنا، رکھنا، ثبت کرنا۔ اور اَنام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور دوسری سب سے زندہ مخلوقات شامل ہیں۔ ابن عبا کہتے ہیں کل شی ءفیہ الروح، اَنام میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کے اندر روح ہے۔ مجاہد اس کے معنی بیان کرتے ہیں خلائق۔ قتادہ ابن زید اور شعبی کہتے ہیں کہ سب جاندار انام ہے ں۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ اِنس و جِن دونوں اِس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ یہ معنی تمام اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ  جو لوگ اس آیت سے زمین کو ریاست کی ملکیت بنانے کا حکم نکالتے ہیں وہ ایک فضول بات کہتے ہیں۔ یہ باہر کے نظریات لا کر قرآن میں زبردست ٹھونسنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے جس کا ساتھ نہ آیت کے الفاظ دیتے ہیں نہ سیاق و سباق۔ اَنام صرف انسانی معاشرے کو نہیں کہتے بلکہ زمین کی دوسری مخلوقات بھی اس میں شامل ہیں۔ اور زمین کو اَنام کے لیے وضع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے وہ سب کی مشترک ملکیت ہو۔ اور سیاقِ عبارت بھی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ کلام کا مدعا اس جگہ کوئی معاشی ضابطہ بیان کرنا ہے۔ یہاں تو مقصود در اصل یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو اس طرح بنایا اور تیار کر دیا کہ یہ قسم قسم کی زندہ مخلوقات کے لیے رہنے بسنے اور زندگی بسر کرنے کے قابل ہو گئی۔ یہ آپ سے آپ ایسی نہیں ہو گئی ہے۔ خالق کے بنانے سے ایسی بنی ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے اس کو ایسی جگہ رکھا اور ایسے حالات اس میں پیدا کیے جن سے یہاں زندہ انواع کا رہنا ممکن ہوا۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو  تفہیم القرآن، جد سوم النمل حواشی ۷۲۔۷۴ جلد چہارم، یسین، حواشی ۲۹۔۳۲۔المومن حواشی ۹۰۔۹۱، حم السجدہ، حواشی ۱۱ تا ۱۳۔ الزخرف، حواشی ۶ تا ۱۰ الجاثیہ، حاشیہ ۷)

۱۱۔یعنی آدمیوں کے لیے دانہ اور جانوروں کے لیے چارہ۔

۱۲۔ اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جسے آگے کی آیتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے اور ہم نے مختلف مقامات پر اس کا مفہوم مختلف الفاظ میں ادا کیا ہے۔ اس لیے آغاز ہی میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس لفظ میں معنی کی کتنی وسعت ہے اور اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں۔

آلاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم “نعمتوں ” کے بیان کیے ہیں۔ تمام مترجمین نے بھی یہی اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور یہی معنی ابن عباس، قتادہ اور حسن بصری سے منقول ہیں۔ سب سے بڑی دلیل اس معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ وہ اس آیت کو سن کر بار بار  لابشی ء من نعمک ربنانکذب کہتے تھے۔ لہذا زمانۂ حال کے بعض محققین کی اس رائے سے ہمیں اتاق نہیں ہے کہ آلاء نعمتوں کے معنی میں سرے سے استعمال ہی نہیں ہوتا۔

دوسرے معنی اس لفظ کے قدرت اور عجائب قدرت یا کمالاتِ قدرت ہیں۔ ابن جریر طبری نے ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ فبای الاء ربکما کے معنی ہیں بای قدرۃ اللہ۔ ابن جریر نے خود بھی آیات ۳۷۔۳۸ کی تفسیر میں آلاء کو قدرت کے معنی میں لیا ہے۔ امام رازی نے بھی آیات ۱۴۔۱۵۔۱۶ کی تفسیر میں لکھا ہے۔”ان آیات بیان نعمت کے لیے نہیں بلکہ بیان قدرت کے لیے ہیں۔ اور آیات ۲۲۔۲۳ کی تفسیر میں وہ فرماتے ہیں “یہ اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت کے بیان میں ہے نہ کہ نعمتوں کے بیان میں۔”

اس کے تیسرے معنی ہیں خوبیاں،اوصافِ حمیدہ اور کمالات و فضائل۔ ا معنی کو اہل لغت اور تفسیر نے بیان نہیں کیا ہے، مگر اشعار ِ عرب میں یہ لفظ کثرت سے اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نابغہ کہتا ہے :

ھم الملوک وابنء الملوک لھم

فضل علی الناس فی الالاء والنعم

وہ بادشاہ اور شاہزادے ہیں ان کو     لوگوں پر اپنی خوبیوں ور نعمتوں میں فضیلت حاصل ہے

مہلہل اپنے بھائی کلیب کے مرثیہ میں کہتا ہے :

الحزم والعزم کانامن طبائعہ

ماکل اٰلائہ یا قوم احصیھا

حزم اور عزم اس کے اوصاف میں سے تھے۔  لوگوں میں اس کی ساری خوبیاں  شمار نہیں کر رہا ہوں

فضالہ بن زید المعدو انی غریبی کی برائیاں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ غریب اچھا کام بھی کرے تو برا بنتا ہے اور

وتحمداٰلاء البخیل المدرھم

مالدار بخیل کے کمالات کی تعریف کی جاتی ہے

اجدع ہمدانی اپنے گھوڑے کمیت کی تعریف میں کہتا ہے

ورضیت اٰلاء الکمیت فمن یبع

فرسا فلیس جوادنابمباع

مجھے کُمیت کے عمدہ اوصاف پسند ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی گھوڑے بیچتا ہے بیچے، ہمارا گھوڑا بکنے والا نہیں ہے۔

حماسہ کا ایک شاعر جس کا نام ابو تمام نے نہیں لیا ہے، اپنے ممدوح ولید بن ادھم کے اقتدار کا مرثیہ کہتا ہے :

اذا ما امرو اثنی بالاء میت

فلایبعد اللہ الولید بن ادھما

جب بھی کوئی شخص کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کرے تو خدا نہ کرے کہ ولید بن ادھم اس موقع پر فراموش ہو۔

فماکان مفراحا اذا الخیر مسہ

ولاکان منانا اذاھوا نعما

اس پر اچھے حالات آتے تو پھولتا نہ تھا    اور کسی پر احسان کرتا تو جتاتا نہ تھا

طرفہ ایک شخص کی تعریف میں کہتا ہے

کامل یجمع اٰلاء الفتیٰ

نبہ سید سادات خضم

وہ کامل اور جوانمردی کے اوصاف کا جامع ہے۔ شریف ہے، سرداروں کا سردار، دریا دل

ان شواہد و نظائر کو نگاہ میں رکھ کر ہم نے لفظ آلاء کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور ہر جگہ موقع و محل کے لحاظ سے اس کے جو معنی مناسب تر نظر آئے ہیں وہی ترجمے میں درج کر دیے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر ایک ہی جگہ آلاء کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، اور ترجمے کی مجبوریوں سے ہم کو اس کے ایک ہی معنی اختیار کرنے پڑے ہیں، کیونکہ اردو زبان میں کوئی لفظ اتنا جامع نہیں ہے کہ ان سارے مفہومات کو بیک وقت ادا کر سکے۔  مثلاً اس آیت میں زمین کی تخلیق اور اس میں مخلوقات کی رزق سانی کے بہترین انتظامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے رب کے کن کن “آلاء” کو جھٹلاؤ گے۔ اس موقع پر آلاء صرف نعمتوں کے معنی ہی میں نہیں ہے، بلکہ اللہ جل شانہ کی قدرت کے کمالات اور اس کی صفات حمیدہ کے معنی میں بھی ہے۔ یہ اس کی قدرت کا کمال ے کہ اس نے اس کرۂ خاکی کو اس عجیب طریقے سے بنایا کہ اس میں بے شمار اقسام کی زندہ مخلوقات رہتی ہیں اور طرح طرح کے پھل اور غلے اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ اس کی صفات حمیدہ ہی ہیں کہ اس نے ان مخلوقات کو پیدا کرنے کے سات ساتھ یہاں ان کی پرورش اور رزق رسانی کا بھی انتظام کیا، اور انتظام بھی اس شان کا کہ ان کی خوراک میں نری غذائیت ہی نہیں ہے بلکہ لذت ِ کام و دہن اور  ذوق فطرت کی بھی ان گنت  رعایتیں ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی کاریگری کے صرف ایک کمال کی طرف بطور نمونہ اشارہ کیا گیا ہے کہ کھجور کے درختوں  میں پھل کس طرح غلافوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے۔ اس ایک مال کو نگاہ میں رکھ کر ذرا دیکھیے کہ کیلے، انار، سنترے، ناریل اور دوسرے پھلوں کے پیکنگ میں آرٹ کے کیسے کیسے کمالات دکھائے گیے ہیں، اور یہ طرح طرح  کے غلے اور دالیں اور حبوب، جو ہم بے فکر کے ساتھ پکا پکا کر کھاتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو کیسی کیسی نفیس بالوں اور خوشوں کی شکل میں پیک کر کے اور نازک چھلکوں میں لپیٹ کر پیدا کیا جاتا ہے۔

۱۳۔جھٹلانے سے مراد وہ متعدد رویے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی قدرت کے کرشموں اور اس کی صفات ِ حمیدہ کے معاملہ میں لوگ اختیار کرتے ہیں، مثلاً :

بعض لوگ سرے سے یہی نہیں مانتے کہ ان ساری چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض مادے کے اتفاقی ہیجان کا نتیجہ ہے، یا ایک حادثہ ہے جس میں کسی حکمت اور صناعی کا کوئی دخل نہیں۔ یہ کھلی کھلی تکذیب ہے۔

بعض دوسرے لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے مگر اس کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے یں، اس کی نعمتوں کا شکریہ دوسروں کو ادا کرتے ہیں، اور اس کا رزق کھا کر دوسروں کے گن گاتے ہیں۔ یہ تکذیب کی ایک اور شکل ہے۔ ایک آدمی جب تسلیم کرے کہ آپ نے اس پر فلاں احسان کیا ہے اور پھر اسی وقت آپ کے سامنے کسی ایسے شخص کا شکریہ ادا کرنے لگے جس نے در حقیقت اس پر وہ احسان کیا نہیں کیا ہے تو آپ خود کہہ دیں گے کہ اس نے بدترین احسان فراموشی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ اس کی یہ حرکت اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ وہ آپ کو نہیں بلکہ اس شخص کو اپنا محسن مان رہا ہے جس کا وہ شکریہ ادا کر رہا ہے۔

کچھ اور لوگ ہیں جو ساری چیزوں کا خالق اور تمام نعمتوں کا دینے والا  اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں، مگر اس بات کو نہیں مانتے کہ انہیں اپنے خالق و پروردگار کے احکام کی اطاعت اور اس کی ہدایات کی پیروی کرنی چاہئے۔ یہ احسان فراموشی اور انکار نعمت کی یاک اور صورت ہے، کیونکہ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ نعمت کو ماننے کے باوجود نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتا ہے،۔

کچھ اور لوگ زبان سے نہ نعمت کا انکار کرتے ہیں نہ نعمت دینے والے کے حق کو جھٹلاتے ہیں، مگر عملاً ان کی زندگی اور ایک منکر و مکذب کی زندگی میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں ہوتا۔ یہ تکذیب بالقول نہیں بلکہ تکذیب بالفعل ہے۔

۱۴۔ تخلیق انسانی کے ابتدائی مراتب جو قرآن مجید میں بیان کیے گیے ہیں ان کی سلسلہ وار ترتیب مختلف مقامات کی تصریحات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے : (۱) تراب، یعنی مٹی یا خاک (۲) طین، یعنی گارا جو مٹی میں پانی ملا کر بنایا  جاتا ہے (۳) طینِ لازِب، لیس دار گارا، یعنی وہ گارا جس کے اندر کافی دیر تک پڑے رہنے کے باعث لیس پیدا ہو جائے۔(۴) حَمَأٍ   مَسْنون، وہ گارا جس کے اندر بو پیدا ہو جائے (۵) صلصال من حمامسنون کالفخار، یعنی وہ سڑا ہوا گارا جو سوکھنے کے بعد پکی ہوئی مٹی کے ٹھیکرے جیسا ہو جائے (۶) بشر جو مٹی کی اس آخری صورت سے بنایا گیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونکی، جس کو فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا، اور جس کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا گیا۔ (۷) ٹُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَآءٍ مَّھِیْنِ۔ پھر آگے اس کی نسل ایک حقیر پانی جیسے ست سے چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

ان مدارج کے لیے قرآن مجید کی حسب ذیل آیات کو ترتیب وار ملاحظہ کیجیے : کَمَثَلِ اٰدَمَ  خَلْقَہٗ مِنْ تُرَابٍ (آل عمران۔۵۹)۔ بَدَأَ خَلْقَ الْاِنْسَانِمِنْ طِیْنٍ۔ (السجدہ۔۷)۔ اِنَّا  خَلَقْنٰھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّا زِبٍ (الصافّات۔ ۱۱) چوتھا اور پانچواں مرتبہ آیت زیر تفسیر میں بیان ہو چکا ہے۔ اور اس کے بعد کے مراتب ان آیات زیر تفسیر میں بیان ہو چکا ہے۔ اور اس کے بعد کے مراتب ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں : اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِّنْ طِیْنٍ o  فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سَا جِدِیْنَ (ص۔۷۱۔۷۲ ) خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالً کَثِیْراً وَّ نِسَآءً (النساء۔ ۱) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَہٗ مِنْ مَآءٍ مَّھِیْنٍ (السجدہ۔۸)۔ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ (الحج۔۵)۔

۱۵۔ اصل لافاظ ہیں مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ۔ نار سے مراد ایک خاص نوعیت کی آگ ہے نہ کہ وہ آگ  جو لکڑی یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس مارج کے معنی ہیں خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلا انسان مٹی سے بنایا گیا، پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کا لبد خاکی نے گوشت پوست کے زندہ بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفہ سے چلی، اسی طرح پہلا جِن خالص آگ کے شعلے، یا آگ کی لَپَٹ سے پیدا کیا گیا، اور بعد میں اس کی ذریت سے جِنوں کی نسل پیدا ہوئی۔ اس پہلے جِن کی حیثیت جِنوں کے معاملہ میں وہی ہے جو آدم علیہ السلام کی حیثیت انسانوں کے معاملہ میں ہے۔ زندہ بشر بن جانے کے بعد حضرت آدم اور ان کی نسل سے پیدا ہونے والے انسانوں کے جسم کو اس مٹی سے کوئی مناسبت باقی نہ رہی جس سے ان کو پیدا کیا گیا تھا۔ اگر چہ اب بھی ہمارا جسم پورا کا پورا زمین ہی کے اجزاء سے مرکب ہے، لیکن ان اجزاء نے گوشت پوست اور خون کی شکل اختیار کر لی ہے اور جان پڑنے کے بعد وہ تو وہ خاک کی بہ نسبت ایک بالکل ہی مختلف چیز بن گیا ہے۔ ایسا ہی معاملہ جنوں کا بھی ہے۔ ان کا وجود بھی اصلاً ایک  آتشیں وجود ہی ہے، لیکن جس طرح ہم محض تودہ خاک نہیں ہیں اسی طرح وہ بھی محض شعلہ آتش نہیں ہیں۔

اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن مجّرد روح نہیں ہیں بلکہ ایک خاص نوعیت کے مادی اجسام ہی ہیں، مگر چونکہ وہ خالص آتشیں اجزاء سے مرکب ہیں اس لیے وہ خاکی اجزاء سے بن ہوئے انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اسی چیز کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِنَّہٗ یَرٰ کُمْ ھُوَ وَقَبِیْلُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْ نَھُمْ۔ ’’شیطان اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں تم اس کو نہیں دیکھتے ‘‘۔ (الاعراف۔۲۷)۔ اسی طرح جِنوں کا سریع الحرکت ہو نا، ان کا بہ آسانی مختلف شکلیں اختیار کر لینا، اس ان مقامات پر غیر محسوس طریقے سے نفوذ کر جانا جہاں خاکی اجزاء سے بنی ہوئی  چیزیں جہاں خاکی اجزا ءسے بنی ہوئی چیزیں نفوذ نہیں کر سکتیں، یا نفوذ کرتی ہیں تو ان کا نفوذ محسوس ہو جاتا ہے، یہ سب امور بھی اسی وجہ سے ممکن اور قابل فہم ہیں کہ وہ فی الاصل آتشیں مخلوق ہیں۔

دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ جن نہ صرف یہ کہ انسان سے بالکل الگ نوعیت کی مخلوق ہیں، بلکہ ان کا مادہ تخلیق ہی انسان، حیوان، نباتات اور جمادات سے قطعی مختلف ہے یہ صریح الفاظ میں ان لوگوں کے خیال کی غلطی ثابت کر رہی ہے جو جنوں کو انسانوں ہی کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔ وہ اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ مٹی سے انسان کو اور آگ سے جِن کو پیدا کرنے کا مطلب در اصل دو قسم کے لوگوں کی مزاجی کیفیت کا فرق بیان کرنا ہے، ایک قسم کے انسان منکسر المزاج ہوتے ہیں جنہیں آدمی کے بجائے شیطان کہنا زیادہ صحیح ہوتا ہے۔ لیکن یہ قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ تحریف ہے۔ اوپر حاشیہ نمبر ۱۴ میں ہم نے تفصیل کے ساتھ یہ دکھایا ہے کہ قرآن مجید مڑی سے انسان کے پیدا کیے جانے کا مطلب کتنی وضاحت کے ساتھ خود بیان کرتا ہے۔ کیا ان ساری تفصیلات کو پڑھ کر کوئی معقول آدمی یہ معنی لے سکتا ہے کہ ان ساری باتوں کا مقصد محض اچھے انسانوں کے منکسر المزاج ہونے کی تعریف بیان کرنا ہے؟ پھر آخر یہ بات کسی صحیح العقل آدمی کے ذہن میں کیسے آسکتی ہے کہ انسان کی تخلیق سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے کرنے،اور جن کی تخلیق خالص آگ کے شعلے سے کرنے کا مطلب ایک ہی نوع انسان کے دو مختلف المزاج افراد دی گرہوں کی جدا گانہ اخلاقی خصوصیات کا فرق ہے؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ ذاریات، حاشیہ ۵۳)۔

۱۶۔ یہاں موقع کی مناسبت سے آلاء کے معنی ’’عجائب قدرت‘‘ زیادہ موزوں ہیں، لیکن اس میں نعمت کا پہلو بھی موجود ہے۔ مٹی سے انسان جیسی، اور آگ کے شعلہ سے جن جیسی حیرت انگیز مخلوقات کو وجود میں لے آنا جس طرح خدا کی قدرت کا ایک عجیب کرشمہ ہے، اسی طرح ان دونوں مخلوقوں کے لیے یہ بات ایک عظیم نعمت بھی  ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ صرف وجود بخشا بلکہ ہر ایک کی ساخت ایسی رکھی اور ہر ایک کے اندر ایسی قوتیں اور صلاحیتیں ودیعت فرما دیں جن سے یہ دنیا میں بڑے بڑے کام کرنے کے قابل ہو گئے۔ اگر چہ جنوں کے متعلق ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں، مگر انسان تو ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کو انسانی دماغ دینے کے ساتھ مچھلی یا پرندے یا بندر کا جسم دے دیا جاتا تو کیا س جسم کے ساتھ وہ اس دماغ کی صلاحیتوں سے کوئی کام لے سکتا تھا؟ پھر کیا یہ اللہ کی نعمت عظمیٰ نہیں ہے کہ جن قوتوں سے اس نے انسان کے دماغ کو سرفراز فرمایا تھا ان سے کام لینے کے لیے موزوں ترین جسم بھی عطا فرمایا؟ یہ ہاتھ، یہ پاؤں، یہ آنکھیں یہ کان، یہ زبان، اور یہ قامت راست ایک طرف، اور یہ عقل و شعور، یہ فکر و خیال، یہ قوت ایجاد و قوت استدلال، اور یہ صناعی و کاریگری کی صلاحیتیں دوسری طرف، ان دونوں کو ایک دوسرے کے بالمقابل رکھ کر دیکھیے تو محسوس ہو گا کہ بنانے والے نے ان کے درمیان غایت درجے کی مناسبت رکھی ہے جو اگر نہ ہوتی تو دنیا میں انسان کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا۔ پھر یہی چیز اللہ تعالیٰ کی صفات حمیدہ پر بھی دلالت کرتی ہے۔ آخر علم، حکمت، رحمت اور کمال درجہ کی قوت تخلیق کے بغیر اس شان کے انسان اور جن کیسے پیدا ہو سکتے تھے؟ اتفاقی حوادث اور خود بخود کام کرنے والے اندھے بہرے قوانین فطرت تخلیق کے یہ معجزے کیسے دکھا سکتے ہیں؟

۱۷۔ دو مشرقوں اور دو مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے چن کے مشرق و مغرب بھی ہو سکتے ہیں، اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے، اور اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ہر روز اس کا مطلع اور مغرب مختلف ہوتا رہتا ہے جس کے لیے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں رَبُّ الْمشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ (المعارج۔ ۴۰) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح زمین کے ایک نصف کرے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت دوسرے نصف کرے میں وہ غروب ہوتا ہے۔ یوں بھی زمین کے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان دونوں مشرقوں اور مغربوں کا رب کہتے کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ اسی کے حکم سے سورج کے طلوع و غروب اور سال کے دوران میں ان کے مسلسل بدلتے رہنے کا یہ نظام قائم ہے۔ دوسرے یہ کہ زمین اور سورج کا مال و فرمانروا وہی ہے، ورنہ ان دونوں کے رب الگ الگ ہوتے تو زمین پر سورج کے طلوع و غروب کی یہ باقاعدہ نظام کیسے قائم ہو سکتا تھا ور دائماً کیسے قائم رہ سکتا تھا۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک و پروردگار وہی ہے، ان کے درمیان رہنے والی مخلوقات اسی کی ملک ہیں، وہی ان کو پال رہا ہے،اور اسی پرورش کے لیے اس نے زمین پر سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا یہ حکیمانہ نظام قائم کیا ہے۔

۱۸۔ یہاں بھی اگر چہ موقع و محل کے لحاظ سے آلاء کا مفہوم ’’ قدرت ‘‘ زیادہ نمایا ں محسوس ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی ’’نعمت ‘‘ اور صفاتِ حمیدہ‘‘ کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔ یہ بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع و غروب کا یہ قاعدہ مقرر کیا، کیونکہ اس کی بدولت فصلوں اور موسموں کے وہ تغیرات باقاعدگی سے رونما ہوتے جن سے انسان و حیوان اور نباتات سب کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت اور حکمت ہی تو ہے کہ اس نے جن مخلوقات کو زمین پر پیدا کیا تھا ان کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر اپنی قدرت سے یہ انتظامات کر دیے۔

۱۹۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، سورہ فرقان حاشیہ ۶۸۔

۲۰۔ اصل میں لفظ مرجان استعمال ہوا ہے۔ ابن عباس، ابن زید اور ضحاک رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھوٹے موتی ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعوؓد فرماتے ہیں کہ یہ لفظ عربی میں مونگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

۲۱۔ اصل الفاظ ہیں یَخْرُجُ مِنْھُمَا، ’’ ان دونوں سمندروں سے نکلتے ہیں ‘‘۔ معترضین اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ موتی اور مونگے تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے یہ چیزیں نکلتی ہیں؟ اس کو جواب یہ ہے کہ سمندروں میں میٹھا اور کھاری دونوں طرح کا پانی جمع ہو جاتا ہے، اس لیے خواہ یہ کہا جائے کہ دونوں کے مجموعہ سے یہ چیزیں نکلتی ہیں، یا یہ کہا جائے کہ وہ دونوں پانیوں سے نکلتی ہیں، بات ایک ہی رہتی ہے اور کچھ عجب نہیں کہ مزید تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ ان چیزوں کی پیدائش سمندر میں اس جگہ ہوتی ہے جہاں اس کی تہ سے میٹھے پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں، اور ان کی پیدائش و پرورش میں دونوں طرح پانیوں کے اجتماع کا کچھ دخل ہے۔ بحرین میں جہاں قدیم ترین زمانے سے موتی نکالے جا رہے ہیں، وہاں تو یہ بات ثابت ہے کہ خلیج کی تہہ میں میٹھے پانی کے چشمے موجود ہیں۔

۲۲۔ یہاں بھی اگر چہ ’’آلاء‘‘ میں قدرت کا پہلو نمایاں ہے، لیکن نعمت اور اوصاف حمیدہ کا پہلو بھی مخفی نہیں ہے۔ یہ خدا کی نعمت ہے کہ سمندر سے یہ قیمتی چیزیں برآمد ہوتی ہیں، اور یہ اس کی شان ربوبیت ہے کہ جس مخلوق کو اس نے ذوق جمال اور شوق زینت بخشا تھا اس کے ذوق و شوق کی تسکین کے لیے طرح طرح کی حسین چیزیں اس نے اپنی دنیا میں پیدا کر دیں۔

۲۳۔ یعنی اس کی قدرت سے بنے ہیں۔ اسی نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ سمندروں کو پار کرنے کے لیے جہاز بنائے۔ اسی نے زمین پر وہ سامان پیدا کیا جس سے جہاز بن سکتے ہیں۔اور اسی نے پانی کو ان قواعد کا پابند گیا جن کی بدولت غضبناک سمندروں کے سینے پر پہاڑ جیسے جہازوں کا چلنا ممکن ہوا۔

۲۴۔ یہاں ’’ آلاء‘‘ میں نعمت و احسان کا پہلو نمایاں ہے، مگر اوپر کی تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قدرت اور صفات حسنہ کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔

 

ترجمہ

 

۲۵ ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کے  کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ ۲۶ زمین اور آسمانوں میں جو  بھی ہیں سب اپنی حا جتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔ ۲۷ پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کی کن کن صفاتِ حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟ ۲۸

اے زمین کے بوجھو، ۲۹ عنقریب ہم تم سے باز پُرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں، ۳۰ پھر دیکھ لیں گے کہ ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ ۳۱ اے  گروہ جِنّ و اِنس، اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل  کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لیے بڑا زور چاہیے۔ ۳۲ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں ۳۳ چھوڑ دیا جائیگا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے۔ اے جِنّ و اِنس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟

پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سُرخ ہو جائے گا؟ ۳۴ اے جِنّ و اِنس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن  قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ۳۵

اُس روز کسی انسان اور  کسی جِن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو گی، ۳۶ پھر(دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ ۳۷ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے با ل اور پاؤں کے  پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ اسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان  وہ گردش کرتے رہیں گے۔ ۳۸ پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟ ۳۹ ؏۲

 

تفسیر

 

۲۵۔ یہاں سے آیت ۳۰ تک جن و انس کو دو حقیقتوں سے آگاہ کیا گیا ہے :

ایک یہ کہ نہ تم خود لافانی ہو اور نہ وہ سر و سامان لازوال ہے جس سے تم اس دنیا میں متمتع ہو رہے ہو۔ لافانی اور لازوال تو صرف اس خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہے جس کی عظمت پر یہ کائنات گواہی دے رہی ہے اور جس کے کرم سے تم کو یہ کچھ نعمتیں نصیب ہوئی ہیں۔ اب اگر تم میں سے کوئی شخص ہم چو من دیگرے نیست کے گھمنڈ میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ محض اس کی کم ظرفی ہے۔اپنے ذرا سے دائرہ اختیار میں کوئی بے وقوف کبریائی کے ڈنکے بجا لے، یا چند بندے جو اس کے ہتھے چڑھیں، ان کا خدا بن بیٹھے، تو یہ دھوکے کی ٹٹی کتنی دیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں جن زمین کی حیثیت ایک مٹر کے دانے برابر بھی نہیں ہے، اس کے ایک کونے میں دس بیس یا پچاس ساٹھ برس جو خدائی اور کبریائی ملے اور پھر قصہ ماضی بن کر رہ جائے، وہ آخر کیا خدائی اور کیا کبریائی ہے جس پر کوئی پھولے۔

دوسری اہم حقیقت جس پر ان دونوں مخلوقوں کو متنبہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے سوا دوسری جن ہستیوں کو بھی تم معبود و مشکل کشا اور حاجت رسا بناتے ہو، خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء و اولیاء، یا چاند اور سورج،یا اور کسی قسم  کی مخلوق، ان میں سے کوئی تمہاری کسی حاجت کو پورا نہیں کر سکتا۔ وہ بیچارے تو خود اپنی حاجات و ضروریات کے لیے اللہ کے محتاج ہیں۔ اس کے ہاتھ تو خود اس کے آگے پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی اپنے بل بوتے پر نہیں کر سکتے تو تمہاری مشکل کشائی کیا کریں گے۔ زمین سے آسمانوں تک اس نا پیدا کنار کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، تنہا ایک خدا  کے حکم سے ہو رہا ہے۔ کار فرمائی میں کسی کا کوئی دخل نہیں ہے کہ وہ کسی معاملہ میں کسی بندے کی قسمت پر اثر انداز ہو سکے۔

۲۶۔ یہاں موقع و محل خود بتا رہا ہے۔ کہ آلاء کا لفظ کمالات کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فانی مخلوقات میں سے جو کوئی بھی کبریائی کے زعم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور اپنی جھوٹی خدائی کو لازوال سمجھ کر اَینٹھتا اور اکڑتا ہے وہ اگر زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور رب العالمین کی عظمت و جلالت کو جھٹلاتا ہے۔اس کا غرور بجائے خود اگر زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور رب العالمیں کی عظمت و جلالت کو جھٹلاتا ہے۔ اس کا غرور بجائے خود اللہ کی کبریائی کی تکذیب ہے۔ جو دعویٰ بھی وہ کسی کمال کا اپنی زبان سے کرتا ہے یا جس کا ادعا اپنے نفس میں رکھتا ہے، وہ اصل صاحب کمال کے مقام و منصب کا انکار ہے۔

۲۷۔ یعنی ہر وقت اس کار گاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے، کسی کو مار رہا ہے اور کسی کو جلا رہا ہے۔ کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے۔ کسی کو شفا دے رہا ہے اور کسی کو بیماری میں مبتلا کر رہا ہے۔ کسی ڈوبتے کو بچا رہا ہے اور کسی تیرتے کو ڈبو رہا ہے۔ بے شمار مخلوقات کو طرح طرح سے رزق دے رہا ہے۔ بے حد و حساب چیزیں نئی سے نئی وضع اور شکل اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس کا خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔

۲۸۔ یہاں آلاء کا مفہوم اوصاف ہی زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ ہر شخص جو کسی نوعیت کا شرک کرتا ہے، در اصل وہ الہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی تکذیب کرتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں حضرت نے میری بیماری دور کر دی، اصل میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ شافی نہیں ہے بلکہ و حضرت شافی ہیں۔ کسی کا کہنا کہ فلاں بزرگ کی عنایت سے مجھے روز گار مل گیا، حقیقت میں یہ کہنا ہے کہ رازق اللہ نہیں ہے بلکہ وہ بزرگ رازق ہیں۔ کسی کا یہ کہنا کہ فلاں آستانے سے میری مراد بر آئی، گویا در اصل یہ کہنا ہے کہ دنیا میں حکم اللہ کا نہیں بلکہ اس آستانے کا چل رہا ہے۔ غرض ہر مشرکانہ عقیدہ اور مشرکانہ قول آخری تجزیہ میں صفات الٰہی کی تکذیب ہی پر منتہی ہوتا ہے۔ شرک کے معنی ہی یہ یں کہ آدمی دوسروں کو سمیع و بصیر عالم الغیب، فاعل مختار، قادر و متصرف، اور الوہیت کے دوسرے اوصاف سے متصف ارادے رہا ہے اور اس بات کا انکار کر رہا ہے کہ اکیلا اللہ ہی ان صفات کا مالک ہے۔

۲۹۔ اصل میں لفظ ثَقَلَان استعمال کیا ہوا ہے جس کا مدہ ثقل ہے۔ ثقل کے معنی بوجھ کے ہیں، اور ثَقَل اس بار کو کہتے ہیں جو سواری پر لدا ہوا ہو۔ ثَقَلین کا لفظی ترجمہ ہو گا ’’ دو لدے ہوئے بوجھ‘‘۔ اس جگہ یہ لفظ جن و انس کے لیے استعمال کیا گیا ہے کیوں کہ یہ دوجوں زمین پر لدے ہوئے ہیں، اور چونکہ اوپر سے خطاب ان انسانوں اور جنوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے جو اپنے رب کی طاعت و بندگی سے منحرف ہیں، اور آگے بھی آیت ۴۵ تک وہی مخاطب ہیں، اس لیے ان کو اَیّھَُا الثَّقَلَانِ کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے، گویا خالق اپنی مخلوق کے ان دونوں نالائق گروہوں سے فرما رہا ہے کہ اے وہ لوگوں جو میری زمین پر بار بنے ہوئے ہو، عنقریب میں تمہاری خبر لینے کے لیے فارغ ہوا جاتا ہوں۔

۳۰۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسا مشغول ہے کہ اسے ان نا فرمانوں سے باز پرس کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔ بلکہ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اوقات نامہ مقرر کر رکھا ہے جس کے مطابق پہلے وہ ایک معین مدت تک اس دنیا میں انسانوں اور جنوں کی نسلوں پر نسلیں پیدا کرتا رہے گا اور انہیں دنیا کی اس امتحان گاہ میں لا کر کام کرنے کا موقع دے گا۔ پھر ایک مخصوص ساعت میں امتحان کا یہ سلسلہ یک لخت بند کر دیا جائے گا اور تمام جن و انس جو اس وقت موجود ہوں گے بیک وقت ہلاک کر دیے جائیں گے پھر ایک اور ساعت نوع انسانی اور نوع جِن، دونوں سے باز پرس کرنے کے لیے اس کے ہاں گے شدہ ہے جب ان کے اولین و آخرین کو از سر نو زندہ کر کے بیک وقت جمع کیا جائے گا۔ اس اوقات نامہ کے لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ ابھی ہم پہلے دور کا کام کر رہے ہیں اور دوسرے دور کا وقت بھی نہیں آیا ہے، کجا کہ تیسرے دور کا کام اس وقت شروع کر دیا جائے مگر تم گھبراؤ نہیں، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب ہم تمہاری خبر لینے کے لیے فارغ ہو جائیں گے۔ یہ عدم فراغت اس معنی میں نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایک کام نے ایسا مشغول کر رکھا ہے کہ دوسرے کام کی فرصت وہ نہیں پا رہا ہے۔ بلکہ اس کی نوعیت ایسی ہے جیسے ایک شخص نے مختلف کاموں کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنا رکھا ہو اور اس کی رو سے جس کام کا وقت ابھی نہیں آیا ہے اس کے بارے میں وہ کہے کہ میں سر دست اس کے لیے فارغ نہیں ہوں۔

۳۱۔ یہاں آلاء کو قدرتوں کے معنی میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ سلسلہ کلام کو نگاہ میں رکھ جائے تو یہ دونوں معنی ایک ایک لحاظ سے مناسب نظر آتے ہیں۔ ایک معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ آج تم ہماری نعمتوں کی ناشکریاں کر رہے ہو اور کفر، شرک، دہریت، فسق اور نافرمانی کے مختلف رویے اختیار کر کے طرح طرح کی نمک حرامیاں کیے چلے جاتے ہو، مگر کل جب باز پرس کا وقت آئے گا اس وقت ہم دیکھیں کہ ہماری کس کس نعمت کو تم اتفاقی حادثہ، یا اپنی قابلیت کا ثمرہ، یا کسی دیوی دیوتا یا بزرگ ہستی کی مہر بانی کا کرشمہ ثابت کرتے ہو۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہو گا کہ آج تم قیامت اور حشرو نشر اور حساب و کتا ب اور جنت و دوزخ کا مذاق اڑاتے ہو اور اپنے نزدیک اس خیال خام میں مبتلا ہو کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر جب ہم باز پرس کے لیے تم کو گھیر لائیں گے اور وہ سب کچھ تمہارے سامنے آ جائے گا جس کا آج تم انکار کر رہے ہو اس وقت ہم دیکھیں گے کہ ہماری کس کس قدرت کو تم جھٹلاتے ہو۔

۳۲۔ زمین اور آسمانوں سے مراد ہے کائنات، یا بالفاظ دیگر خدا کی خدائی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ جس باز پرس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے اس کا وقت آنے پر تم خواہ کسی جگہ بھہ ہو، بہر حال پکڑ لائے جاؤ گے۔ اس سے بچنے کے لیے تمہیں خدا کی خدائی سے بھاگ نکلنا ہو گا اور اس کا بل بوتا تم میں نہیں ہے۔اگر ایسا گھمنڈ تم اپنے دل میں رکھتے ہو تو اپنا زور لگا کر دیکھ لو۔

۳۳۔ اصل میں شُواظ اور نُحاس کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ شواظ اس خالص شعلے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ دھواں نہ ہو۔ اور نُحاس اور خالص دھویئں کو کہتے ہیں جس میں شعلہ نہ ہو۔ یہ دونوں چیزیں یکے بعد دیگرے انسانوں اور جِنوں پر اس حالت میں چھوڑی جائیں گی جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی باز پرسی سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کریں۔

۳۴۔ یہ روز قیامت کا ذکر ہے۔ آسمان کے پھٹنے سے مراد ہے بندش افلاک کا کھل جانا، اجرامِ سماوی کا منتشر ہو جانا، عالم بالا کے نظم کا درہم برہم ہو جانا۔ اور یہ جو فرمایا کہ آسمان اس لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ہنگامہ عظیم کے وقت جو شخص زمین سے آسمان کی طرف دیکھے گا اسے یوں محسوس ہو گا کہ جیسے سارے عالم بالا پر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔

۳۵۔ یعنی آج تم قیامت کو ناممکن قرار دیتے ہو جس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ اس کے برپا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ مگر جب و برپا ہو جائے گی اور اپنی آنکھوں سے تم وہ سب کچھ دیکھ لو گے جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے، اس وقت تم اللہ کی کس کس قدرت کا انکار کرو گے؟

۳۶۔ اس کی تشریح آگے کا یہ فقرہ کر رہا ہے کہ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے ‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تمام اولین و آخرین اکٹھے ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت  نہ ہو گی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں۔ نہ کسی انسان یا جن سے یہ دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ وہ مجرم ہے یا نہیں۔ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ان کی خوف زدہ آنکھیں اور ان کی گھبرائی ہوئی صورتیں اور ان کے چھوٹتے ہوئے پسینے خود ہی یہ راز فاش کر دینے کے لیے کافی ہوں گے کہ وہ مجرم ہیں۔ پولس کے گھیرے میں اگر ایک ایسا مجمع آ جائے جس میں بے گناہ اور مجرم، دونوں قسم کے لوگ ہوں، تو بے گناہوں کے چہرے کا اطمینان اور مجرموں کے چہروں کا اضطراب بیک نظر بتا دیتا ہے کہ اس مجمع میں مجرم کو ن ہے اور بے گناہ کون۔ دنیا میں یہ کلیہ بسا اوقات اس لیے غلط ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی پولیس کے لیے لاگ انصاف پسند ہونے پر لوگوں کو بھروسا نہیں ہوتا، بلکہ با رہا اس کے ہاتھوں مجرموں کی بہ نسبت شریف لوگ زیادہ پریشان ہوتے ہیں، اس لیے یہاں یہ ممکن ہے کہ اس پولیس کے گھیرے میں آ  کر شریف لوگ مجرموں سے بھی زیادہ خوف زدہ ہو جائیں۔ مگر آخرت میں، جہاں ہر شریف آدمی کو اللہ تعالیٰ کے انصاف پر کامل اعتماد ہو گا، یہ گھبراہٹ صرف ایک ان ہی لوگوں پر طاری ہو گی جن کے ضمیر خود اپنے مجرم ہونے سے آگاہ ہوں گے  اور جنہیں میدان حشر میں پہنچتے ہی یقین ہو جائے گا کہ اب ان کی وہ شامت آ گئی ہے جسے ناممکن یا مشتبہ سمجھ کر وہ دنیا میں جرائم کرتے رہے تھے۔

۳۷۔ جرم کی حقیقی بنیاد قرآن کی  نگاہ میں یہ ہے کہ بندہ جو اپنے رب کی نعمتوں سے متمتع ہو رہا ہے،اپنے نزدیک یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ نعمتیں کسی کی دی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ اسے مل گئی ہیں، یا یہ کہ یہ نعمتیں خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت یا خوش نصیبی کا ثمرہ ہیں، یا یہ کہ یہ ہیں تو خدا کا عطیہ مگر اس خدا کا اپنے بندے پر کوئی حق نہیں ہے۔ یا یہ کہ خدا نے خود یہ مہربانیاں اس پر نہیں کی ہیں بلکہ یہ کسی دوسری ہستی نے اس سے کروا دی ہیں۔ یہی وہ غلط تصورات ہیں جن کی بنا پر آدمی خدا سے بے نیاز اور اس کی اطاعت و بندگی سے آزاد ہو کر دنیا میں وہ افعال کرتا ہے جن سے خدا نے منع کیا ہے اور وہ افعال نہیں کرتا جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ اس لحاظ سے ہر جرم اور ہر گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی تکذیب ہے قطع نظر اس سے کہ کوئی شخص زبان سے ان کا انکار کرتا ہو یا اقرار۔ مگر جو شخص فی الواقع تکذیب کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس کے ذہن کی  گہرائیوں میں تصدیق موجود ہوتی ہے، وہ احیاناً کسی بشری کمزوری سے کوئی قصور کر بیٹھے تو اس پر استغفار کرتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز اسے مکذبین میں شامل ہونے سے بچا لیتی ہے۔ اس کے سوا باقی تمام مجرم در حقیقت اللہ کی نعمتوں کے مکذب  اور اس کے احسانات کے منکر ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ جب تم لوگ مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو جاؤ گے اس وقت ہم دیکھیں گے کہ تم ہمارے کس کس احسان کا انکار کرتے ہو۔ سورہ تکاثر میں یہی بات اس طرح فرمائی گئی ہے کہ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ، اس روز ضرور تم سے ان نعمتوں کے بارے میں باز پرس کی جائے گی جو تمہیں دی گئی تھیں۔ یعنی پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں ہم نے تمہیں دی تھیں یا نہیں؟ اور انہیں پا کر تم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا؟ اور اس کی نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا؟

۳۸۔ یعنی جہنم میں بار بار پیاس کے مارے ان کا برا حال ہو گا، بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے، مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا جس کے پینے سے کوئی پیاس نہ بجھے گی۔ اس طرح جہنم اور ان چشموں کے درمیان گردش کرنے ہی میں ان کی عمریں بیت جائیں گی۔

۳۹۔ یعنی یا اس وقت بھی تم اس کا انکار کر سکو گے کہ خدا قیامت لا سکتا ہے، تمہیں موت کے بعد دوسری زندگی دے سکتا ہے،تم سے باز پرس بھی کر سکتا ہے، اور یہ جہنم بھی بنا سکتا ہے جس میں آج تم سزا پا رہے ہو؟

 

ترجمہ

 

اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، ۴۰ دو باغ ہیں۔ ۴۱ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟۴۲ ہری بھری ڈالیوں سےبھر پور۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ۔ ۴۳ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ جنّتی  لوگ ایسے فرشو ں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے اَستر دبیز ریشم کے ہوں گے، ۴۴ اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں  سے جھکی پڑ رہی ہوں گی۔ اپنے رب  کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ اِن نعمتوں  کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی ۴۵ جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جِن نے چھُوا نہ ہو گا۔۴۶ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ ۴۷ پھر اے جِنّ و اِنس۔ اپنے رب کے کن کن اوصافِ حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟ ۴۸

اور ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے ۔ ۴۹ اپنے رب  کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ گھَنے سرسبز و شاداب باغ۔ ۵۰ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں  میں دو چشمے فواروں کی طرح اُبلتے ہوئے۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حُوریں۔ ۵۱ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جِن نے اُن کو نہ چھوا ہو گا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟وہ جنّتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں۵۲ پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ بڑی برکت والا ہے تیرے ربِّ جلیل و کریم کا نام۔ ؏۳

 

تفسیر

 

۴۰۔ یعنی جس نے دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی ہو، جسے ہمیشہ یہ احساس رہا ہو کہ میں دنیا میں شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہوں، بلکہ ایک روز مجھے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو نا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ عقیدہ جس شخص کا ہو وہ لامحالہ خواہشات نفس کی بندگی سے بچے گا اندھا دھند ہر راستے پر نہ چل کھڑا ہو گا۔ حق و باطل، ظلم و انصاف،  پاک و ناپاک اور حلال و حرام میں تمیز کرے گا۔ اور جان بوجھ کر خدا کے احکام کی پیروی سے منہ نہ موڑے گا۔ یہی اس اصل علّت ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے۔

۴۱۔ جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں تو اس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیا ہے، گویا کہ وہ پورا کا پورا ایک باغ ہے۔ اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات ہوں کے۔ اور یہاں تعین کے ساتھ ارشاد ہو ہے کہ ہر نیک شخص کو اس بڑی جنت میں دو دو جنتیں دی جائیں گی جو اسی کے لیے مخصوص ہوں گی، جن میں اس کے اپنے قصر ہوں گے، جن میں وہ اپنے متعلقین اور خدام کے ساتھ شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہے گا، جن میں اس کے لیے وہ کچھ سرو سامان فراہم ہو گا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

۴۲۔ یہاں سے آخر تک آلاء کا لفظ  نعمتوں کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی۔ اور ایک پہلو اس میں صفات حمیدہ کا بھی ہے۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو اس سلسلہ باین میں اس فقرے کا بار بار دہرانے کا مطلب یہ ہو گا کہ توم جھٹلانا چاہتے ہو تو جھٹلا تے رہو، خدا ترس لوگوں کو تو ان کے رب کی طرف سے یہ نعمتیں ضرور مل کر رہیں گی۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا جنت بنانے پر قادر ہونا اور اس میں یہ نعمتیں اپنے نیک بندوں کو عطا کرنا غیر ممکن ہے تو ہوتا رہے، اللہ یقیناً اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ یہ کام کر کے رہے گا۔ تیسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تم نیکی اور بدی کی تمیز سے عاری سمجھتے ہو۔ تمہارے نزدیک وہ اتنی بڑی دنیا تو بنا بیٹھا ہے مگر اس میں خواہ کوئی ظلم کرے یا انصاف، حق کے لیے کام کرے یا باطل کے لیے، شر پھیلائے یا خیر، اسے اس کی کوئی پروا نہیں۔ وہ نہ ظالم کو سزا دینے والا ہے، نہ مظلوم کی داد رسی کرنے والا۔ نہ خیر کا قدر شناس ہے نہ شر سے نفور۔ پھر وہ تمہارے خیال میں عاجز بھی ہے۔ زمین و آسمان تو وہ بنا لیتا ہے، مگر ظالموں کی سزا کے لیے جہنم اور حق کی پیروی کرنے والوں کو اجر دینے کے لیے جنت بنا دینے پر وہ قادر نہیں ہے۔ اس کے اوصاف حمیدہ کی یہ تکذیب آج تم جتنی چاہو کر لو۔ کل جب وہ ظالموں کو جہنم میں جھونک دے گا اور حق پرستوں کو جنت میں یہ کچھ نعمتیں دے گا، کیا اس وقت بھی تم اس کے ان اوصاف کو جھٹلا سکو گے؟

۴۳۔ اس کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں باغوں کے پھلوں کی شان نرالی ہو گی۔ ایک باغ میں جائے گا تو ایک شان کے پھل اس کی ڈالیوں میں لدے ہوئے ہوں گے۔ دوسرے باغ میں جائے گا تو اس کے پھلوں کی شان کچھ اور ہی ہو گی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں سے ہر باغ میں ایک قسم کے پھر معروف ہوں گے جن سے وہ دنیا میں بھی آشنا تھا، خواہ مزے میں وہ دنیا کے پھلوں سے کتنے ہی فائق ہوں، اور دوسری قسم کے پھر نادر ہوں گے  جو دنیا میں کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئے تھے۔

۴۴۔ یعنی جب ان کے استر اس شان کے ہوں گے تو اندازہ کر لو کہ ابرے کس شان کے ہو ں گے۔

۴۵۔ یہ عورت کی اصل خوبی ہے کہ وہ شرم اور بیباک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے درمیان عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ان کے حسن و جمال کی نہیں بلکہ ان کی حیا داری اور عفت مآبی کی تعریف فرمائی ہے۔ حسین عورتیں تو مخلوط کلبوں اور فلمی نگار خانوں میں بھی جمع ہو جاتی ہیں، اور حسن کے مقابلوں میں تو چھانٹ چھانٹ کر ایک سے ایک حسین عورت لائی جاتی ہے، مگر صرف ایک بد ذوق اور بد قوِارہ آدمی ہی ان سے دلچسپی لے سکتا ہے۔ کسی شریف آدمی کو وہ حسن اپیل نہیں کر سکتا جو ہر بد نظر کو دعوت نظارہ دے اور ہر آغوش کی زینت بننے لیے تیار ہو۔

۴۶۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں خواہ کوئی عورت کنواری مر گئی ہو یا کسی کی بیوی رہ چکی ہو، جو ان مری ہو یا بوڑھی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئی ہو، آخرت میں جب یہ سب نیک خواتین جنت میں داخل ہوں گی تو جوان اور کنواری بنا دی جائیں گی، اور وہاں ان میں سے جس خاتون کو بھی کسی نیک مرد کی رفیقہ حیات بنایا جائے گا وہ جنت میں اپنے اس شوہر سے پہلے کسی کے تصرف میں آئی ہوئی نہ ہو گی۔

اس آیت سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ جنت میں نیک انسانوں کی طرح نیک جن بھی داخل ہوں گے، اور وہاں جس طرح انسان مردوں کے لیے انسان عورتیں ہوں گی اسی طرح جن مردوں کے لیے جن عورتیں ہوں گی۔ دونوں کی رفاقت کے لیے انہی کے ہم جنس جوڑے ہوں گے۔ ایسا نہ ہو گا کہ ان کا جوڑ کسی نا جنس مخلوق سے لگا دیا جائے جس سے وہ فطرتاً مانوس نہیں ہو سکتے۔ آیت کے یہ لفاظ کہ ’’ ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہو گا،‘‘ اس معنی میں نہیں ہیں کہ وہاں عورتیں صرف انسان ہوں گی اور ان کو ان کے شوہروں سے پہلے کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہو گا، بلکہ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ وہاں جن اور انسان، دونوں جنسوں کی عورتیں ہوں گی،سب حیا دار اور اچھوتی ہوں گی، نہ کسی جن عورت کو اس کے جنّتی شوہر پلے کسی جن مرد نے ہاتھ لگایا ہو گا اور نہ کسی انسان عورت کو اس کے جنتی شورہ سے پہلے کسی انسان مرد نے ملوث کا ہو گا

۴۷۔ یعنی آخرت یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر دنیا میں عمر بھر اپنے نفس پر پابندیاں لگائے رہے ہوں، حرام سے بچتے اور حلال پر اکتفا کرتے رہے ہوں، فرض بجا  لا تے رہے ہوں، حق کو حق مان کر تمام حق داروں کے حقوق ادا کرتے ہرے ہوں، اور شر کے مقابلے میں ہر طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کر کے خیر کی حمایت کرتے رہے ہوں، اللہ ان کی یہ ساری قربانیاں ضائع کر دے اور انہیں کبھی ان کا اجر نہ دے؟

۴۸۔ظاہر بات ہے کہ جو شخص جنت اور اس کے اجر و ثواب کا منکر ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات حسنہ کا انکار کرتا ہے۔ وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو اس کے متعلق بہت بری رائے رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک وہ ایک چوپٹ راجہ ہے جس کی اندھیر نگری میں نیکی کرنا گویا اسے دریا میں ڈال دینا ہے۔ وہ یا تو اسے اندھا اور بہرا سمجھتا ہے جسے کچھ خبر ہی نہیں کہ اس کی خدائی میں کون اس کی رضا کی خاطر جان، مال، نفس اور محنتوں کی قربانیاں دے رہا ہے۔ یا اس کے نزدیک وہ بے حس اور نا قدر شناس ہے جسے بھلے اور برے کی کچھ تمیز نہیں۔ یا پھر اس کے خیال ناقص میں وہ عاجز و در ماندہ ہے جس کی نگاہ میں نیکی کی قدر چاہے کتنی ہی ہو، مگر اس کا اجر دینا اس کے بس ہی میں نہیں ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جب آخرت میں نیکی کا نیک بدلہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دے دیا جائے گا، کیا اس وقت بھی تم اپنے رب کے اوصاف حمیدہ کا انکار کر سکو گے؟

۴۹۔ اصل الفاظ ہیں مِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتٰن۔ دُوْن کا لفظ عربی زبان میں تین مختلف معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، کسی اونچی چیز کے مقابلے میں نیچے ہونا۔ دوسرے، کسی افضل و اشرف چیز کے مقابلے میں کم تر ہونا۔ تیسرے، کسی چیز کے ماسوا یا اس کے علاوہ ہونا۔ اس اختلاف معنی کی بنا پر ان الفاظ میں ایک احتمال یہ ہے کہ ہر جنَّتی کو پہلے کے دو باغوں کے علاوہ یہ دو باغ اور دیے جائیں گے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ دو باغ اوپر کے دونوں باغوں کی بہ نسبت مقام یا مرتبے میں فر و تر ہوں گے یعنی پہلے دو باغ یا تو بلندی پر ہوں گے اور یہ ان سے نیچے واقع ہوں گے، یا پہلے دو باغ بہت اعلیٰ درجہ کے ہوں گے اور یہ ان کے مقابلے میں کم تر  درجہ کے ہوں گے۔ اگر پہلے احتمال کو اختیار کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دو مزید باغ بھی ان ہی جنتیوں کے لیے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اور دوسرے احتمال کو اختیار کرنے کی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ پہلے دو باغ مقربین کے لیے ہیں۔ اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لیے۔ اس دوسرے احتمال کو جو چیز تقویت پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ سورہ واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک سابقین، جن کو مقربین بھی کہا گیا ہے، دوسرے اصحاب الیمین، جن کو اصحاب المیمنہ کے نا سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے لیے دو جنتوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ مزید براں اس احتمال کردہ حدیث بھی تقویت پہنچاتی ہے جو حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ان کے صاحبزادے ابوبکر نے روایت کی ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا، دو جنتیں سابقین، یا مقربین کے لیے ہوں گی جن کے برتن اور آرائش کی ہر چیز سونے کی ہو گی، اور دو جنتیں تابعین، یا اصحاب الیمین کے لیے ہوں گی جن کی ہر چیز چاندی کی ہو گی(فتح الباری، کتاب التفسیر، تفسیر سورہ رحمٰن)۔

۵۰۔ ان باغوں کی تعریف میں لفظ مُدْ ھَامَّتَان  استعمال فرمایا گیا ہے۔ مُدْ ھَا مَّۃ ایسی گھنی سر سبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے باعث سیاہی مائل ہو گئی ہو۔

۵۱۔ حور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ صافات، حاشیہ ۲۸۔۲۹۔ اور تفسیر سورہ دخان حاشیہ ۴۲۔ خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء و رؤساء کے لیے سیر گاہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ ان کے قصروں میں رہیں گی اور ان کی سیر گاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہو گے جن میں حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گی۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ پہلے خوب سیرت اور خوب صورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب حوروں کا ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔ اس قیاس کو مزید تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جو حضرت ام سلمہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ، دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟  حضورؐ نے جواب دیا، دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابر ے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔‘‘ (طبرانی)۔ اس سے معلوم ہو ا کہ اہل جنت کی بیویاں تو وہ خواتین ہوں گی جو دنیا میں ایمان لائیں، اور اعمال صالحہ کرتی ہوئی دنیا    سے رخصت ہوئیں۔ یہ اپنے ایمانو حسن عمل کے نتیجے میں داخل جنت ہوں گی اور بذات خود جنت کی نعمتوں کی مستحق ہوں گی۔ یہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یا تو اپنے سابق شوہروں کی بیویاں بنیں گی اگر وہ بھی جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انہیں بھی اہل جنت کے لیے ایک نعمت کے طور پر جوان اور حسین و جمیل عورتوں کو شکل دے کر جنتیوں کو عطا کر دے گا  تا کہ وہ ان کی صحبت نا جنس سے مانوس نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی حالت میں فوت ہو گئیں اور ان کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذریت کی حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔

۵۲۔ اصل میں لفظ عَبْقَرِی استعمال ہوا ہے۔ عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عَبْقَر تھا جسے ہم اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ اسی کی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس و نادر چیز کی عَبْقَری کہتے تھے، گویا وہ پرستان کی چیز ہے جس کا مقابلہ اس دنیا کی عام چیزیں نہیں کر سکتیں۔ حتیٰ کہ ان کے محاورے میں ایسے آدمی کو بھی عبقری کہا جاتا تھا جو غیر معمولی قابلیتوں کا مالک ہو، جس سے عجیب و غریب کارنامے صادر ہوں۔ انگریزی میں لفظ (Genius) بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے،اور وہ بھی Genii سے ماخوذ ہے جو جن کا ہم معنی ہے۔ اسی لیے یہاں اہل عرب کو جنت کے سر و سامان کی غیر معمولی نفاست و خوبی کا تصور دلانے کے لیے عبقری کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

٭٭٭

 

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید،  مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین۔ کلیم محی الدین

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید