FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

تفہیم القرآن

 

            مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

۱۸۔ سورۂ  الجمعہ تا سورۂ   الحاقّہ

 

 

 

 

 

 

(۶۲) سورہ الْجُمُعَۃ

 

نام

 

آیت ۹ کے فقرے اِذَا نُوْدِیَ لِصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ سے ماخوذ ہے۔ اگر چہ اس سورہ میں نماز جمعہ کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں، لیکن ’’جمعہ‘‘ بحیثیت مجموعی اس کے مضامین کا عنوان نہیں، بلکہ دوسری سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام بھی علامت ہی کے طور پر ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

پہلے رکوع کا زمانہ نزول ۷ ھ سے ، اور غالباً یہ فتح خیبر کے موقع پر یا اس کے بعد قریبی زمانے میں نازل ہوا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نَسائی اور ابن جریر نے حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم حضورؐ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے جب یہ آیات نازل ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ صلح حُدَیْبیہ کے بعد اور فتح خیبر سے پہلے ایمان لائے تھے۔ اور خیبر کی فتح ابن ہشام کے بقول محرم، اور ابن سعد کے بقول جمادی الاُولیٰ ۷ ھ میں ہوئی ہے۔ پس قرین قیاس یہ ہے کہ یہودیوں کے اس آخری گڈھ کو فتح کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائی ہوں گی، یا پھر ان کا نزول اس وقت ہوا ہو گا جب خیبر کا انجام دیکھ کر شمالی حجاز کی تمام یہودی بستیاں اسلامی حکومت کی تابع فرمان بن گئی تھیں۔

دوسرا رکوع ہجرت کے بعد قریبی زمانے ہی میں نازل ہوا ہے۔ کیونکہ حضورؐ نے مدینہ طیبہ پہنچتے ہی پانچویں روز جمعہ قائم کر دیا تھا، اور اس رکوع کی آخری آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ صاف بتا رہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازماً کسی ایسے زمانے ہی میں پیش آیا ہو گا جب لوگوں کو دینی اجتماعات کے آداب کی پوری تربیت ابھی نہیں ملی تھی۔

 

موضوع اور مضامین

 

جیسا کہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں، اس سورہ کے دو رکوع دو الگ زمانوں میں نازل ہوئے ہیں۔ اسی لیے دونوں کے موضوع الگ ہیں اور مخاطب بھی الگ۔ اگر چہ ان کے درمیان ایک نوع کی مناسبت ہے جس کی بنا پر انہیں ایک سورہ میں جمع کیا گیا ہے ، لیکن مناسبت سمجھنے سے پہلے ہمیں دونوں کے موضوعات کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔

پہلا رکوع اس وقت نازل ہوا جب یہودیوں کی وہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں جو اسلام کی دعوت کا راستہ روکنے کے لیے پچھلے  چھ سال کے دوران میں انہوں نے کی تھیں۔ پہلے مدینہ میں ان کے تین تین طاقتور قبیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی تک کا زور لگاتے رہے اور نتیجہ یہ دیکھا کہ ایک قبیلہ پوری طرح تباہ ہو گیا اور دو قبیلوں کو جلا وطن ہونا پڑا۔ پھر وہ سازشیں کر کے  عرب کے بہت سے قبائل کو مدینے پر چڑھا لائے ، مگر غزوہ احزاب میں ان سب نے منہ کی کھائی۔ اس کے بعد ان کا سب سے بڑا گڈھ خیبر رہ گیا تھا جہاں مدینہ سے نکلے ہوئے یہودیوں کی بھی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ ان آیات کے نزول کے وقت وہ بھی بغیر کسی غیر معمولی زحمت کے فتح ہو گیا، اور یہودیوں نے خود درخواست کر کے وہاں مسلمانوں کے کاشتکاروں کی حیثیت سے رہنا قبول کر لیا۔ اس آخری شکست کے بعد عرب میں یہودی طاقت کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ وادی القریٰ، فَدَک، تَیما، تبوک، سب ایک ایک کر کے ہتھیار ڈالتے چلے گئے ، یہاں تک کہ عرب کے تمام یہودی اسی اسلام کی رعایا بن کر رہ گئے جس کے وجود کو برداشت کرنا تو درکنار، جس کا نام سننا تک انہیں گوارا نہ تھا۔ یہ موقع تھا جب اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں ایک مرتبہ پھر ان کو خطاب فرمایا، اور غالباً یہ آخری خطاب تھا جو قرآن مجید میں ان سے کیا گیا۔ اس میں انہیں مخاطب کر کے تین باتیں فرمائی گئی ہیں:

۱)۔ تم نے اس رسول کو اس لیے ماننے سے انکار کیا کہ یہ اس قوم میں مبعوث ہوا تھا جسے تم حقارت کے ساتھ ’’ اُمّی ‘‘ کہتے ہو۔ تمہارا زعم باطل یہ تھا کہ رسول لازماً تمہاری اپنی قوم ہی کا ہونا چاہیے۔ تم یہ فیصلہ کیے بیٹھے تھے کہ تمہاری قوم سے باہر کا جو شخص رسالت کا دعویٰ کرے وہ ضرور جھوٹا ہے ، کیونکہ یہ منصب تمہاری نسل کے لیے مختص ہو چکا ہے اور ’’ امیوں‘‘ میں کبھی کوئی رسول نہیں آ سکتا۔ لیکن اللہ نے انہی امیوں میں سے ایک رسول اٹھایا ہے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اس کی کتاب سنا رہا ہے ، نفوس کا تزکیہ کر رہا ہے ، اور ان لوگوں کو ہدایت دے رہا ہے جن کی گمراہی کا حال تم خود جانتے ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔ اس کے فضل پر تمہارا اجارہ نہیں ہے کہ جسے تم دلوانا چاہو اسی کو وہ دے اور جسے تم محروم رکھنا چاہو اسے وہ محروم رکھے۔

۲)۔ تم کو تَوراۃ کا حامل بنایا گیا تھا، مگر تم نے اس کی ذمہ داری نہ سمجھی، نہ ادا کی۔ تمہارا حال اس گدھے کا سا ہے جس کی پیٹھ پر  کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اسے کچھ نہیں معلوم کہ وہ کس چیز کا بار اٹھائے ہوئے ہے۔ بلکہ تمہاری حالت گدھے سے بھی بد تر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا، مگر تم سمجھ بوجھ رکھتے ہو اور پھر کتاب اللہ کے حامل ہونے کی ذمہ داری سے فرار ہی نہیں کرتے ، دانستہ اللہ  کی آیات کو جھٹلانے سے بھی باز نہیں رہتے۔ اور اس پر تمہارے نام لکھ دی گئی ہے۔ گویا تمہاری رائے یہ ہے کہ خواہ تم اللہ کے پیغام کا حق ادا کرو یا نہ کرو، بہر حال اللہ اس کا پابند ہے کہ وہ اپنے پیغام کا حامل تمہارے سوا کسی کو نہ بنائے !

۳)۔ تم اگر واقعی اللہ کے چہیتے ہوتے اور تمہیں اگر یقین ہوتا کہ اس کے ہاں تمہارے لیے بڑی عزت اور قدر و منزلت کا مقام محفوظ ہے تو تمہیں موت کا ایسا خوف نہ ہوتا کہ ذلت کی زندگی قبول ہے مگر موت کسی طرح قبول نہیں۔ یہی موت کا خوف ہی تو ہے جس کی بدولت پچھلے چند سالوں میں تم شکست پر شکست کھاتے چلے گئے ہو۔  تمہارا ضمیر خوب جانتا ہے کہ ان کرتوتوں کے ساتھ مرو گے تو اللہ کے ہاں اس سے زیادہ ذلیل و خوار ہو گے جتنے دنیا میں ہو رہے ہو۔

یہ ہے پہلے رکوع کا مضمون۔ اس کے بعد دوسرا رکوع، جو کئی سال پہلے نازل ہوا تھا، اس سورہ میں لا کر اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے سَبْت کے مقابلہ میں مسلمانوں کو جمعہ کے ساتھ وہ معاملہ نہ کریں جو یہودیوں نے سبت کے ساتھ کیا تھا۔ یہ رکوع اس وقت نازل ہوا تھا جب مدینے میں ایک روز عین نماز جمعہ کے وقت ایک تجارتی قاجلہ آیا اور اس کے ڈھول تاشوں کی آواز سن کر ۱۲ آدمیوں کے سوا تمام حاضرین مسجد نبوی سے قافلے کی طرف دوڑ گئے ، حالانکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اس پر یہ حکم دیا گیا کہ جمعہ کی اذان ہونے کے بعد ہر قسم کی خرید و فروخت اور ہر دوسری مصروفیت حرام ہے۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ اس وقت سب کام جھوڑ چھاڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑیں۔ البتہ جب نماز ختم ہو جائے تو انہیں حق ہے کہ اپنے کاروبار چلانے کے لیے زمین میں پھیل جائیں۔ احکام جمعہ کے بارے میں یہ رکوع ایک مستقل سورۃ بھی بنایا جایا سکتا تھا، اور کسی دوسری سورۃ میں بھی شامل کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے خاص طور  پر اسے یہاں ان آیات کے ساتھ لا کر  ملا گیا جن میں یہودیوں کو ان کے انجام بد کے اسباب پر متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کی حکمت ہمارے نزدیک وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کی ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

اللہ کی تسبیح کر ہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔

بادشاہ ہے ، قدوس ہے ، زبر دست اور حکیم ہے (۱)۔

وہی ہے جس نے امیوں (۲)کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا، جو انہیں اس کی آیات سنا تا ہے ان کی زندگی سنوار تا ہے ، اور ان کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے (۳)۔

حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے (۴)۔ اور (اس رسول کی بعثت ) ان دوسرے لوگوں کے لیئے بھی جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں (۵)۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے (۶)۔ یہ اس کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

جن لوگوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھا یا (۷)، ان کی مثال اس گدھے (۸) کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات جھٹلا دیا ہے (۹)۔ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ان سے کہو،” اے لوگوں جو یہودی ن گئے ہو، (۱۰) اگر تمھیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب  لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چیتے ہو (۱۱) تو موت کو تمنا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو (۱۲) “۔

لیکن یہ ہر گز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے کر تو توں کی وجہ سے کو یہ کر چکے ہیں، (۱۳) اور اللہ ان ظلاموں کو خوب جانتا ہے۔ ان سے کہو،” جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمھیں آ کر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے ، اور تمھیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ ع

 

تفسیر

 

۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ حدید، حواشی ۱،۲، الحشر، حواشی ۳۶، ۳۷،۴۱۔ آگے کے مضمون سے یہ تمہید بڑی گہری مناسبت رکھتی ہے۔ عرب کے یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات و صفات اور کارناموں میں رسالت کی صریح نشانیاں بہ چشم سر دیکھ لینے کے باوجود، اور اس کے باوجود کہ تَوراۃ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کے آنے کی صریح بشارت دی تھی جو آپ کے سوا کسی اور پر چسپاں نہیں ہوتی تھی، صرف اس بنا پر آپ کا انکار کر  رہے تھے کہ اپنی قوم اور نسل سے باہر کے کسی شخص کی رسالت مان لینا انہیں سخت ناگوار تھا۔ وہ صاف کہتے تھے کہ جو کچھ ہمارے ہاں آیا ہے ہم صرف اسی کو مانیں گے۔ دوسرے کسی تعلیم کو، جو کسی غیر اسرائیلی نبی کے ذریعہ سے آئے ، خواہ وہ خدا ہی کی طرف سے ہو، تسلیم کرنے کے لیے وہ قطعی تیار نہ تھے۔ آگے کی آیتوں میں اسی رویہ پر انہیں ملامت کی جا رہی ہے ، اس لیے کلام کا آغاز اس تمہیدی فقرے سے کیا گیا ہے۔ اس میں پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ یعنی یہ پوری کائنات اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جن کی بنا پر یہودیوں نے اپنی نسلی برتری کا تصور قائم کر رکھا ہے۔ وہ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔ جانب داری (Favouritism)  کا اس کے ہاں کوئی کام نہیں۔ اپنی ساری مخلوق کے ساتھ اس کا معاملہ یکساں عدل اور رحمت اور ربوبیت کا ہے۔ کوئی خاص نسل اور قوم اس کی چہیتی نہیں ہے کہ وہ خواہ کچھ کرے ، بہر حال اس کی نوازشیں اسی کے لیے مخصوص رہیں، اور کسی دوسری نسل یا قوم سے اس کو عداوت نہیں ہے کہ وہ اپنے اندر خوبیاں بھی رکھتی ہو تو وہ اس کی عنایات سے محروم رہے۔ پھر فرمایا گیا کہ وہ بادشاہ ہے ، یعنی دنیا کی کوئی طاقت اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی نہیں ہے۔ تم بندے اور رعیت ہو۔ تمہارا یہ منصب کب سے ہو گیا کہ تم یہ طے کرو کہ وہ تمہاری ہدایت کے لیے اپنا پیغمبر کسے بنائے اور کسے نہ بنائے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ وہ قدوس ہے۔ یعنی اس سے بدر جہا منزہ اور پاک ہے کہ اس کے فیصلے میں کسی خطا اور غلطی کا امکان ہو۔ غلطی تمہاری سمجھ بوجھ میں ہو سکتی ہے۔ اس کے فیصلے میں نہیں ہو سکتی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی دو مزید صفتیں بیان فرمائی گئیں۔ ایک یہ کہ وہ زبردست ہے ، یعنی اس سے لڑ کر کوئی جیت نہیں سکتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے ، یعنی جو کچھ کرتا ہے وہ عین مقتضائے دانش ہوتا ہے ، اور اس کی تدبیریں ایسی محکم ہوتی ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کا توڑ نہیں کر سکتا۔

۲۔ یہاں امی کا لفظ یہودی اصطلاح کے طور پر آیا ہے ، اور اس میں ایک لطیف طنز پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن کو یہودی حقارت کے ساتھ امی کہتے اور اپنے مقابلہ میں ذلیل سمجھتے ہیں، انہیں میں اللہ غالب و دانا نے ایک رسول اٹھایا ہے۔ وہ خود نہیں اٹھ کھڑا ہوا ہے بلکہ اس کا اٹھانے والا وہ ہے جو کائنات کا بادشاہ ہے ، زبردست اور حکیم ہے ، جس کی قوت سے لڑ کر یہ لوگ اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے ، اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید میں ’’اُمی‘‘ کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے اور سب جگہ اس کے معنی ایک ہی نہیں ہیں بلکہ مختلف مواقع پر وہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں وہ اہل کتاب کے مقابلہ میں ان لوگوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں ہے جس کی پیروی وہ کرتے ہوں۔ مثلاً فرمایا : قَلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتٰبَ وَا لْاُمِّیِّنَءَ اَسْلَمْتُمْ (آل عمران۔ ۲۰)۔ ’’ اہل کتاب اور امیوں سے پوچھو کیا تم نے اسلام قبول کیا؟’’ یہاں امیوں سے مراد مشرکین عرب ہیں، اور ان کو اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے الگ ایک گروہ قرار دیا گیا ہے۔ کسی جگہ یہ لفظ خود اہل کتاب کے اَن پڑھ اور کتاب اللہ سے نا واقف لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جیسے فرمایا : وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّا اَمَا نِیَّ (البقرہ۔ ۷۸)۔’’ اِن یہودیوں میں کچھ لوگ امی ہیں، کتاب کا کوئی علم نہیں رکھتے ، بس اپنی آرزوؤں ہی کو جانتے ہیں ‘‘۔ اور کسی جگہ یہ لفظ خالص یہودی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے جس سے مراد دنیا کے تمام غیر یہودی ہیں۔ مثلاً فرمایا: ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْ ا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ  (آل عمران۔ ۷۵ )۔ یعنی ’’ ان کے اندر یہ بد دیانتی پیدا ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں امیوں کا مال مار کھانے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے ’’۔ یہی تیسرے معنی ہیں جو آیت زیر بحث میں مراد لیے گئے ہیں۔ یہ لفظ عبرانی زبان کے لفظ گوئیم کا ہم معنی ہے ، جس کا ترجمہ انگریزی بائیبل میں Gentiles کیا گیا ہے ، اور اس سے مراد تمام غیر یہودی یا غیر اسرائیلی لوگ ہیں۔

لیکن اس یہودی اصطلاح کی اصل معنویت محض اس کی اس تشریح سے سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ در اصل عبرانی زبان کا لفظ گوئیم ابتداءً محض اقوام کے معنی میں بولا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہودیوں نے اسے پہلے تو اپنے سوا دوسری قوموں کے لیے مخصوص کر دیا، پھر اس کے اندر یہ معنی پیدا کر دیے کہ یہودیوں کے سوا باقی تمام اقوام نا شائستہ، بد مذہب، ناپاک اور ذلیل ہیں، حتیٰ کہ حقارت اور نفرت میں یہ لفظ یونانیوں کی اصطلاح Barbarian  سے بھی بازی لے گیا جسے وہ تمام غیر یونانیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ربیوں کے لٹریچر میں گوئیم اس قدر قابل نفرت لوگ ہیں کہ ان کو انسانی بھائی نہیں سمجھا جا سکتا، ان کے ساتھ سفر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان میں سے کوئی شخص ڈوب رہا ہو تو اسے بچانے کی کوشش بھی نہیں کی جا سکتی۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ آنے والا مسیح تمام گوئیم کو ہلاک کر دے گا اور جلا کر خاکستر کر ڈالے گا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حاشیہ ۶۴ )۔

۳۔ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ صفات چار مقامات پر بیان کی گئی ہیں، اور ہر جگہ ان کے بیان کی غرض مختلف ہے۔ البقرہ آیت ۱۲۹ میں ان کا ذکر اہل عرب کو یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ آنحضورؐ  کی بعثت، جسے وہ اپنے لیے زحمت و مصیبت سمجھ رہے تھے ، در حقیقت ایک بڑی نعمت ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام اپنی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کر تے تھے۔ البقرہ آیت ۱۵۱ میں انہیں اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان حضورؐ کی قدر پہچانیں اور اس نعمت سے پورا پورا فیض حاصل کریں جو حضورؐ کی بعثت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہے۔ آل عمران آیت ۱۶۴ میں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لیے ان کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ کتنا بڑا احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنا رسول بھیج کر کیا ہے اور یہ لوگ کتنے نادان ہیں کہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ اب چوتھی مرتبہ انہیں اس سورہ میں دہرایا گیا ہے جس سے مقصود یہودیوں کو یہ بتانا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم تمہاری آنکھوں کے سامنے جو کام کر رہے ہیں وہ صریحاً ایک رسول کا کام ہے۔ وہ اللہ کی آیات سنا رہے ہیں جن کی زبان، مضامین، انداز بیان، ہر چیز اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ فی الواقع وہ اللہ ہی کی آیات ہیں۔ وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہے ہیں، ان کے اخلاق اور عادات اور معاملات کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک کر رہے ہیں، اور ان کو اعلیٰ درجے کو اعلیٰ درجے کے اخلاقی فضائل سے آراستہ کر رہے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو اس سے پہلے تمام انبیاء کرتے رہے ہیں۔ پھر وہ صرف آیات ہی سنانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اپنے قول اور عمل سے اور اپنی زندگی کے نمونے سے لوگوں کو کتاب الٰہی منشا سمجھا رہے ہیں اور ان کو اس حکمت و دانائی کی تعلیم دے رہے ہیں جو انبیاء کے سوا آج تک کسی نے نہیں دی ہے۔ یہی سیرت اور کردار اور کام ہی تو انبیاء کا وہ نمایاں وصف ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ جس کا رسول بر حق ہونا اس کے کارناموں سے علانیہ ثابت ہو رہا ہے اس کو ماننے سے تم نے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ اللہ نے اسے تمہاری قوم کے بجائے اس قوم میں سے اٹھایا جسے تم امی کہتے ہو۔‘‘

۴۔ یہ حضورؐ کی رسالت کا ایک  اور ثبوت ہے جو یہودیوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے عرب کی سر زمین میں آباد تھے اور اہل عرب کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، اور تمدنی زندگی کا کوئی گوشہ ان سے چھپا ہوا نہ تھا۔ ان کی اس سابق حالت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ چند سال کے اندر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی قیادت و رہنمائی میں اس قوم کی جیسی کایا پلٹ گئی ہے اس کے تم عینی شاہد ہو۔ تمہارے سامنے وہ حالت بھی ہے جس میں یہ لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے مبتلا تھے۔ وہ حالت بھی ہے جو اسلام لانے کے بعد ان کی ہو گئی، اور اسی قوم کے ان لوگوں کی حالت بھی تم دیکھ رہے ہو جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا ہے۔ کیا یہ کھلا کھلا فرق، جسے ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے ، تمہیں یہ یقین دلانے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ ایک نبی کے سوا کسی کا کارنامہ نہیں ہو سکتا؟ بلکہ اس کے سامنے تو پچھلے انبیاء تک کے کارنامے ماند پڑ گئے ہیں۔

۵۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ ’’ دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ‘‘  اس میں لفظ منہم (ان میں سے ) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے ، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ماننے والے ہوں گے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے  ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات جہاں  اس مضمون کی صراحت کی گئی ہے ، حسب ذیل ہیں: الانعام، آیت ۱۹۔ الاعراف، ۱۵۸۔ الانبیاء، ۱۰۷۔ الفرقان، ۱۔ سبا، ۲۸ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ ۴۷)۔

۶۔ یعنی یہ اسی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ ایسی نا تراشیدہ امی قوم میں اس نے ایسا عظیم نبی بیدا کیا جس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے ، اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کی حامل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔ کوئی بناؤٹی انسان خواہ کتنی ہی کوشش کر لیتا، یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار، دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین سے ذہین  آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے ، اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کودے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر و ہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہو جائے۔ یہ ایک معجزہ ہے جو اللہ کی قدرت سے رونما ہوا ہے ، اور اللہ ہی نے اپنی حکمت کی بنا پر جس شخص، جس ملک، اور جس قوم کو چاہا ہے اس کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اس پر اگر کسی بے وقوف کا دل دکھتا ہے تو دکھتا رہے۔

۷۔ اس فقرے کے دو معنی ہیں۔ ایک عام اور دوسرا خاص۔ عام معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر توراۃ کے علم و علم، اور اس کے مطابق دنیا کی ہدایت کا بار رکھا گیا تھا، مگر نہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور نہ اس کا حق ادا کیا۔ خاص معنی یہ ہیں کہ حامل توراۃ گروہ ہونے کی حیثیت سے جن کا کام یہ تھا کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس رسول کا ساتھ دیتے جس کے آنے کی صاف صاف بشارت توراۃ میں دی گئی تھی، مگر انہوں نے سب سے بڑھ کر اس کی مخالف کی اور توراۃ کی تعلیم کے تقاضے کو پورا نہ کیا۔

۸۔ یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے ، اسی طرح یہ توراۃ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لیے آئی ہے اور ان سے کیا چاہتی ہے۔

۹۔ یعنی ان کا حال گدھے سے بھی بد تر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا اس لیے مغرور ہے۔ مگر یہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ توراۃ کو پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ اس کے معنی سے ناواقف نہیں ہیں۔ پھر  بھی یہ اس کی ہدایات سے دانستہ انحراف کر رہے ہیں، اور اس نبی کو ماننے سے قصداً  انکار  کر رہے ہیں جو توراۃ کی رو سے سراسر حق پر ہے۔ یہ نا فہمی کے قصور وار نہیں ہیں بلکہ جان بوجھ کر اللہ کی آیات کو جھٹلانے کے مجرم ہیں۔

۱۰۔ یہ نکتہ قابل توجہ ہے۔’’ اَے یہودیو‘‘ نہیں کہا ہے بلکہ ’’اَے وہ لوگو جو یہودی بن گئے ہو ’’ یا ’’ جنہوں نے یہودیت اختیار کر لی ہے ‘‘ فرمایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل دین جو موسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا۔ ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا، اور نہ ان کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔ یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیداوار ہے۔ یہ اس خاندان کی طرف منسوب ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چوتھے بیٹے یہوداہ کی نسل سے تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد جب سلطنت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی تو یہ خاندان اس ریاست کا مالک ہوا جو یہود یہ  کے نام سے موسوم ہوئی، اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کر لی جو سامِریہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ پھر اسیریا نے نہ صرف یہوداہ، اور اس کے ساتھ بن یامین کی نسل باقی رہ گئی جس پر یہوداہ کی نسل کے غلبے کی وجہ سے ’’ یہود‘‘ ہی کے لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ اس نسل کے اندر کاہنوں اور ربیوں اور احبار نے اپنے  اپنے خیالات و نظریات اور رجحانات کے مطابق عقائد اور رسوم اور مذہبی ضوابط کا جو ڈھانچہ صد ہا برس میں تیار کیا اس کا نام یہودیت ہے۔ یہ ڈھانچا چوتھی صدی قبل مسیح سے بننا شروع ہوا اور پانچویں صدی عیسوی تک بنتا رہا۔ اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی ربانی ہدایت کا بہت تھوڑا ہی عنصر اس میں شامل ہے۔ اور اس کا حلیہ بھی اچھا خاصا بگڑ چکا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں اکثر مقامات پر ان کو الَّذِیْنَ ھَادُوْ ا کہہ کر خطاب کیا گیا ہے ، یعنی ’’ اے وہ لوگو جو یہودی بن کر رہ گئے ہو ‘‘۔ ان میں سب کے سب اسرائیل ہی نہ تھے ، بلکہ وہ غیر اسرائیلی بھی تھے جنہوں نے یہودیت قبول کر لی تھی۔ قرآن میں جہاں بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا ہے  وہاں ’’اے نبی اسرائیل ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور جہاں مذہب یہود کے پیروؤں کو خطاب کیا گیا ہے وہاں ’’ اے بنی اسرائیل ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور جہاں مذہب یہود کے پیروؤں کو خطاب کیا گیا ہے وہاں اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

۱۱۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان کے اس دعوے کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا (البقرہ۔۱۱۱) ہمیں دوزخ کی آگ ہر گز نہ چھوئے گی، اگر ہم کو سزا ملے گی بھی تو بس چند روز (البقرہ۔ ۸۰، آل عمران۔ ۲۴)۔ ہم اللہ کے بیٹے  اور اس کے چہیتے ہیں(المائدہ۔۱۸ ) ایسے ہی کچھ دعوے خود یہودیوں کی اپنی کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔ کم از کم یہ بات تو ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی بر گزیدہ مخلوق  (Chosen People) کہتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ خدا کا ان کے ساتھ ایک خاص رشتہ ہے جو کسی دوسرے انسانی گروہ سے نہیں ہے۔

۱۲۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسری مرتبہ یہودیوں کو خطاب کر کے کہی گئی ہے۔ پہلے سورہ بقرہ میں فرمایا گیا تھا ’’ ان سے کہو، اگر آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے اللہ کے ہاں مخصوص ہے تو پھر تم موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو۔ لیکن یہ ہر گز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے اُن کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کر چکے ہیں، اور اللہ ظالموں کو خو جانتا ہے۔ بلکہ تم تمام انسانوں سے بڑھ کر، حتیٰ کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر ان کو کسی نہ کسی طرح جینے کا حریص پاؤ گے۔ ان میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ ہزار برس جیے ، حالانکہ وہ لمبی عمر پائے تب بھی اسے یہ چیز عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ ان کے سارے کرتوت اللہ کی نظر میں ہیں‘‘ (آیات ۹۴۔۹۶) اب اسی بات کو پھر یہاں دہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ محض تکرار نہیں ہے۔ سورہ بقرہ والی آیات میں یہ ات اس وقت کہی گئی تھی جب یہودیوں سے مسلمانوں کی کوئی جنگ نہ ہوئی تھی۔ اور اس سورۃ میں اس کا اعادہ اس وقت کیا گیا ہے جن ان کے ساتھ متعدد معرکے پیش آنے کے بعد عرب میں آخری اور قطعی طور پر ان کا زور توڑ دیا گیا۔ ان معرکوں نے ، اور ان کے اس انجام نے وہ بات تجربے اور مشاہدے سے ثابت کر دی جو پہلے سورہ بقرہ میں کہی گئی تھی۔ مدینے اور خیبر میں یہودی طاقت بلحاظ تعداد مسلمانوں سے کسی طرح کم نہ تھی، اور بلحاظ وسائل ان سے بہت زیادہ تھی۔ پھر عرب کے مشرکین اور مدینے کے منافقین بھی ان کی پشت پر تھے اور یہودیوں کو مغلوب کیا وہ یہ تھی کہ مسلمان راہ خدا میں مرنے سے خائف تو درکنار، تہ دل سے اس کے مشتاق تھے اور سر ہتھیلی پر لیے ہوئے میدان جنگ میں اترتے تھے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ خدا کی راہ میں لڑ رہے ہیں، اور وہ اس بات پر بھی کامل یقین رکھتے تھے کہ اس راہ میں شہید ہونے والے کے لیے جنت ہے۔ اس کے بر عکس یہودیوں کا حال یہ تھا کہ وہ کسی راہ میں بھی جان دینے کے لیے تیار نہ تھے ، نہ خدا کی راہ میں، نہ قوم کی راہ میں، نہ خود اپنی جان اور مال اور عزت  کی راہ میں۔ انہیں صرف زندگی درکار تھی، خواہ وہ کیسی ہی زندگی ہو۔ اسی چیز نے ان کو بزدل بنا دیا تھا۔

۱۳۔ بالفاظ دیگر ان کا موت سے یہ فرار بے سبب نہیں ہے۔ وہ زبان سے خواہ کیسے ہی لمبے چوڑے دعوے کریں، مگر ان کے ضمیر خوب جاتے ہیں کہ خدا اور اس کے دین کے ساتھ ان کا معاملہ کیا ہے ، اور آخرت میں ان حرکتوں کے کیا نتائج نکلے کی توقع کی جا سکتی ہے جو وہ دنیا میں کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا نفس خدا کی عدالت کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکار جائے نماز کے لیئے جمعہ کے دن (۱۴) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو (۱۵)، یہ تمہارے لیئے زیادہ بہتر ہے اگر تم  جانو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ  اور اللہ کا فضل تلاش کرو (۱۶)۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو (۱۷)۔ شاید کہ تمھیں فلاح نصیب (۱۸) ہو جائے۔ اور جب  انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمھیں کھڑا دیا (۱۹)۔ ان سے کہو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے (۲۰) اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (۲۱)۔ع

 

تفسیر

 

۱۴۔ اس فقرے میں تین باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ایک یہ کہ اس میں نماز کے لیے منادی کرنے کا ذکر ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی ایسی نماز کی منادی کا ذکر ہے جو خاص طور پر صرف جمعہ کے دن ہی پڑھی جانی چاہیے۔ تیسرے یہ کہ ان دونوں چیزوں کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا ہے کہ تم نماز کے لیے منادی کرو،اور جمعہ کے روز ایک خاص نماز پڑھا کرو، بلکہ انداز بیان اور سیاق و سباق صاف بتا رہا ہے کہ نماز کی منادی سن کر نماز کے لیے دوڑنے میں تساہُل برتتے تھے اور خرید و فروخت کرنے میں لگے رہتے تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت صرف اس غرض کے لیے نازل فرمائی کہ لوگ اس منادی اور اس خاص نماز کی اہمیت محسوس کریں اور فرض جان کر اس کی طرف دوڑیں۔ ان تینوں باتوں  پر اگر غور کیا جائے تو ان سے یہ اصولی حقیقت قطعی طور پر ثابت  ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کچھ ایسے احکام بھی دیتا تھا جو قرآن میں نازل ہوئے ، اور وہ احکام بھی اسی طرح واجب الاطاعت تھے جس طرح قرآن میں نازل ہونے والے احکام۔ نماز کی منادی وہی اذان ہے جو آج ساری دنیا میں ہر روز پانچ وقت ہر مسجد میں دی جا رہی ہے۔مگر قرآن میں کسی جگہ نہ اس کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں، نہ کہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز کے لیے لوگوں کو اس طرح پکارا کرو۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مقرر کردہ ہے۔ قرآن میں دو جگہ صرف اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک اس آیت میں، دوسرے سورہ مائدہ کی آیت ۸۵ میں۔ اسی طرح جمعہ کی یہ خاص نماز جو آج ساری دنیا کے مسلمان ادا کر رہے ہیں، اس کا بھی قرآن میں نہ حکم دیا گیا ہے نہ وقت اور طریق ادا بتایا گیا ہے۔ یہ طریقہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا جاری کردہ ہے ، اور قرآن کی یہ آیت صرف اس کی اہمیت اور اس کے وجوب کی شدت بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس صریح دلیل کے باوجود جو شخص یہ کہتا ہے کہ شرعی احکام صرف وہی ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ در اصل سنت کا نہیں، خود قرآن کا منکر ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے جمعہ کے بارے میں چند امور اور بھی جان لینے چاہییں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے ، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اسے یوم عَرُوْبَہ کہا کرتے تھے۔ اسلام میں جب اس کو مسلمانوں کے اجتماع کا دن قرار دیا گیا تو اس کا نام جمعہ رکھا گیا۔ اگر چہ مؤرخین کہتے ہیں کہ کعب بن لُؤَیّ، یا قُصَیّ بن کِلاب نے بھی اس دن کے لیے یہ نام استعمال کیا تھا، کیونکہ اس روز وہ قریش کے لوگوں کا اجتماع کیا کرتا تھا (فتح الباری)، لیکن اس کے اس فعل سے قدیم نام تبدیل نہیں ہوا، بلکہ عام اہل عرب اسے عروبہ ہی کہتے تھے۔ نام حقیقی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اسلام میں اس دن کا یہ نیا نام رکھا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔ اسلام سے پہلے  ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کرنے اور اس کو شعار ملت قرار دینے کا طریقہ اہل کتاب میں موجود تھا۔ یہودیوں کے ہاں اس غرض کے لیے سَبْت (ہفتہ) کا دن مقرر کیا گیا تھا، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی نجات دی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے ممیز کرنے کے لیے اپنا شعار ملت اتوار کا دن قرار دیا۔ اگر چہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ نے دیا تھا، نہ انجیل میں کہیں اس کا ذکر آیا ہے ، لیکن عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صلیب پر جان دینے کے بعد حضرت عیسیٰ اِسی روز قبر سے نکل کر آسمان کی طرف گئے تھے۔ اسی بنا پر بعد کے عیسائیوں نے اپنی عبادت کا دن قرار دے لیا اور پھر ۳۲۱ ء میں رومی سلطنت نے ایک حکم کے ذریعہ سے اس کو عام تعطیل کا دن مقرر کر دیا۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممیز کرنے کے لیے یہ دونوں دن چھوڑ کر جمعہ کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو مسعود انصاری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کا حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ہجرت سے کچھ مدت پہلے مکہ معظمہ ہی میں نازل ہو چکا تھا۔ لیکن اس وقت آپ اس پر عمل نہیں کر سکتے تھے۔ کیونکہ مکہ میں کوئی اجتماعی عبادت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے آپؐ ے ان لوگوں کو جو آپؐ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ چکے تھے ، یہ حکم لکھ بھیجا کہ وہاں جمعہ قائم کریں۔ چنانچہ ابتدائی مہاجرین کے سردار حضرت مُصعب بن عُمیر نے ۱۲ آدمیوں کے ساتھ مدینے میں پلا جمعہ پڑھا ( طبرانی۔ دارقطنی)۔ حضرت کعب بن مالک اور ابن سیرین کی روایت یہ ہے کہ اس سے بھی پہلے مدینہ کے انصار نے بطور خود (قبل اس کے کہ حضورؐ کا حُکم ان کو پہنچا ہوتا ) آپس میں یہ طے کیا تھا کہ ہفتہ میں ایک دن مل کر اجتماعی عبادت کریں گے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کو چھوڑ کر جمعہ کا دن انتخاب کیا اور پہلا جمعہ حضرت اسعد بن زُرارہ  نے بنی بَیاضہ کے علاقہ میں پڑھا جس میں ۴۰ آدمی شریک ہوئے (مسند احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ، ابن حِبان، عبد بن حُمید، عبدالرزاق، بیہقی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامی ذوق خود اس وقت یہ مطالبہ کر رہا تھا کہ ایسا ایک دن ہونا چاہیے جس میں زیادہ سے زیادہ مسلمان جمع ہو کر اجتماعی عبادت کریں، اور یہ بھی اسلامی ذوق ہی کا تقاضا تھا کہ وہ دن ہفتے اور اتوار سے الگ ہو تاکہ مسلمانوں کا شعار ملت یہود و نصاریٰ کے شعارِ ملت سے الگ رہے۔ یہ صحابہ کرامؓ کی اسلامی ذہنیت کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ بسا اوقات ایک حکم آنے سے پہلے ہی ان کا ذوق کہہ دیتا تھا کہ اسلام کی روح فلاں چیز کا تقاضا کر رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کے بعد جو اولین کام کیے ان میں سے ایک جمعہ کی اقامت بھی تھی۔ مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے آپ پیر کے روز قُبا پہنچے ، چارد وہاں قیام فرمایا، پانچویں روز جمعہ کے سن وہاں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، راستہ میں بنی سالم بن عوف کے مقام پر تھے کہ نماز جمعہ کا وقت آ گیا، اسی جگہ آپؐ نے پہلا جمعہ ادا فرمایا (ابن ہشام)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نماز کے لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زوال کے بعد کا وقت مقرر فرمایا تھا، یعنی وہی وقت جو ظہر کی نماز کا وقت ہے۔ ہجرت سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر کو جو تحریری حکم آپ نے بھیجا تھا اس میں آپؐ کا ارشاد یہ تھا کہ : فاذامال النھار عن شطرہ عندالزوال من یوم الجمعۃ فتقربوا الی اللہ تعالیٰ برکعتین (دارقُطنی)۔ ’’ جب جمعہ کے روز دن نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعہ سے اللہ کے حضور تقرب حاصل کرو ‘‘۔ یہ حکم ہجرت کے بعد آپ نے قولاً بھی دیا اور عملاً بھی اسی وقت پر آپ جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ حضرت اَنَسؓ، حضرت سلمہؓ بن اکوع، حضرت جابرؓ بن عبداللہ، حضرت زبیر بن لعوام، حضرت سہلؓ بن سعد، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عمار بن یا سر اور حضرت بلالؓ سے اس مضمون کی روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں کہ حضورؐ جمعہ نماز زوال کے بعد ادا فرمایا کرتے تھے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی، تِرمذی )۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ امر بھی آپ کے عمل سے ثابت ہے کہ اس روز آپ ظہر کی نماز کے بجائے جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے ، اس نماز کی صرف دو رکعتیں ہوتی تھیں، اور اس سے پہلے آپ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ یہ فرق جمعہ کی نماز اور عام دنوں کی نماز ظہر میں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں صلوٰۃ المسافر رکعتان، وصلوٰۃ الفجر رکعتان، و صلوٰۃ الجمعۃ رکعتان، تمام غیر قصرٍ علیٰ لسان نبیکم صلی اللہ علیہ و سلم و انما قصرت الجمعۃ لا جل الخطبۃ (احکام القرآن للجصاص)۔ ’’ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے  نکلے ہوئے حکم کی رو سے مسافر کی نماز دو رکعت ہے ، فجر کی نماز دو رکعت ہے ، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ یہ پوری نماز ہے ، قصر نہیں ہے۔ اور جمعہ کو خطبہ کی خاطر ہی مختصر کیا گیا ہے ‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اذان کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد وہ اذان ہے جو خطبہ سے پہلے دی جاتی ہے ، نہ کہ وہ اذان جو خطہ سے کافی دیر پہلے لوگوں کو یہ اطلاع دینے لیے دی جاتی ہے کہ جمعہ کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ حدیث میں حضرت سائبؓ بن یزید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں صرف ایک ہی اذان ہوتی تھے ، اور وہ امام کے منبر پر پیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی یہی عمل ہوتا رہا۔ پھر حضرت عثمانؓ کے دور میں جب آبادی بڑھ گئی تو انہوں نے پہلے ایک اور اذان دلوانی شروع کر دی جو مدینے کے بازار میں ان کے مکان زَوراء پر دی جاتی تھی (بخاری، ابو داؤد، نَسائی، طبرانی)۔

۱۵۔ اس حکم میں ذکر سے مراد خطبہ ہے ، کیونکہ اذان کے بعد پہلا عمل جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کرتے تھے وہ نماز نہیں بلکہ خطبہ تھا، اور نماز آپ ہمیشہ خطبہ کے بعد ادا فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جمعہ کے روز ملائکہ ہر آنے والے کا نام اس کی آمد کی ترتیب کے ساتھ لکھتے جاتے ہیں۔ پھر : اذا خرج الامام حضرت الملٰئکۃ یستمعون الذکر۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو وہ نام لکھنے بند کر دیتے ہیں اور ذکر (یعنی خطبہ) سننے میں لگ جاتے ہیں ‘‘(مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی )۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہو کہ ذکر سے مراد خطبہ ہے۔ خود قرآن کا بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ پہلے فرمایا : فَاسْعَوْا اِلیٰ ذِکْرِ اللہِ۔ ’’ خدا کے ذکر کی طرف دوڑو ‘‘۔ پھر آگے چل کر فرمایا : فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰۃُ فَانْتَشِرُوْ ا فِی الْارْضِ‘‘۔ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے روز عمل کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذکر اللہ اور پھر نماز مفسرین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ ذکر سے مراد یا تو خطبہ ہے یا پھر خطبہ اور نماز دونوں۔

خطبہ کے لیے ’’ ذکر اللہ‘‘ کا لفظ استعمال کرنا خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس میں وہ مضامین ہونے چاہییں جو اللہ کی یاد سے مناسبت رکھتے ہوں۔ مثلاً اللہ کی حمد و ثنا، اس کے رسولؐ پر درود صلوۃ، اس کے احکام اور اس کی شریعت کے مطابق عمل کی تعلیم و تلقین، اس ے ڈرنے والے بیک بندوں کی تعریف وغیرہ، اسی بنا پر زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ خطبہ میں ظالم حکم رانوں کی مدح و ثنا یا ان کا نام لینا اور ان کے لیے دعا کرنا، ذکر اللہ سے کوئی دور کی مناسبت بھی نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ تو ذکر الشیطان ہے۔

’’ اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو‘‘۔ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھاگتے ہوئے آؤ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ اردو زبان میں بھی ہم دوڑ دھوپ کرنا، بھاگ دوڑ  کرنا، سرگرم کوشش کے معنی میں بولتے ہیں، نہ کہ بھاگنے کے معنی میں، اسی طرح عربی میں بھی سعی کے معنی بھاگنے ہی کے نہیں ہیں۔ قرآن میں اکثر مقامات پر سعی کا لفظ کوشش اور جدو جہد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً : لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ۔ وَمَنْ اَرَا دَالْاٰخِرَۃَوَ سَعیٰ لَھَا سَعْیَھَا۔ فَلَمَّ بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ۔ وَاِذَ ا تَوَ لّیٰ سَعیٰ فِی ا لْاَرْضِ  لِیُفْسِدَ فِیْھَا۔ مفسرین نے بھی بالاتفاق اس کو اہتمام کے معنی میں لیا ہے ، ان کے نزدیک سعی یہ ہے کہ آدمی اذان کی آواز سن کر فوراً مسجد پہنچنے کی فکر میں لگ جائے۔اور معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ حدیث میں بھاگ کر نماز کے لیے آنے کی صاف ممانعت وارد ہوئی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔’’ جب نماز کھڑی ہو تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ بھاگتے ہوئے نہ آؤ، پھر جتنی نماز بھی مل جائے اس میں شامل ہو جاؤ، اور جتنی چھوٹ جائے اسے بعد میں پورا کر لو‘‘۔ (صحاح ستہ)۔ حضرت ابو قتادہ انصاریؓ فرماتے ہیں، ایک مرتبہ ہم حضورؐ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ یکایک لوگوں کے بھاگ بھاگ کر چلنے کی آواز آئی۔ نماز ختم کرنے کے بعد حضورؐ نے ان لوگوں سے پوچھا یہ کیسی آواز تھی؟ ان لوگوں نے عرض کیا۔ ہم نماز میں شامل ہونے کے لیے بھاگ کر آ رہے تھے۔ فرمایا ’’ ایسا نہ کیا کرو، نماز کے لیے جب بھی آؤ پورے سکون کے ساتھ آؤ۔ جتنی مل جائے اس کو امام کے ساتھ پڑھ لو، جتنی چھوٹ جائے وہ بعد میں پوری کر لو‘‘ (بخاری، مسلم)

’’ خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘ کا مطلب صرف خرید و فروخت ہی چھوڑنا نہیں ہے ، بلکہ نماز کے لیے جانے کی فکر اور اہتمام کے سوا ہر دوسری مصروفیت چھوڑ دینا ہے ، بیع کا ذکر خاص طور پر صرف اس لیے کیا گیا ہے کہ جمعہ کے رو تجارت خوب چمکتی تھی، آس پاس کی بستیوں کے لوگ سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے ، تاجر بھی اپنا مال لے لے کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ لوگ بھی اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں لگ جاتے تھے۔ لیکن ممانعت کا حکم صرف بیع تک محدود نہیں ہے ، بلکہ دوسرے تمام مشاغل بھی اس کے تحت آ جاتے ہیں، اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ان سے منع فرما دیا ہے ، اس لیے فقہاء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد بیع اور ہر قسم کا کاروبار حرام ہے۔

یہ حکم قطعی طور پر نماز جمعہ کے فرض ہونے پر دلا لت کرتا ہے۔ اول تو اذان سنتے ہیں اس کے لیے دوڑنے کی تاکید بجائے خود اس کی دلیل ہے۔ پھر بیع جیسی حلال چیز کا اس کی خاطر حرام ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ فرض ہے۔ مزید برآں ظہر کی فرض نماز کا جمعہ کے روز ساقط ہو جانا اور نماز جمعہ کا اس کی جگہ لے لینا بھی اس کی فرضیت کا صریح ثبوت ہے۔ کیونکہ ایک فرض اسی وقت ساقط ہو تا ہے جبکہ اس کی جگہ لینے والا فرض اس سے زیادہ اہم ہو۔ اسی کی تائید بکثرت احادیث کرتی ہیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جمعہ کی سخت ترین تاکید کی ہے اور اسے صاف الفاظ میں فرض قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ میرا جی چاہتا ہے  کہ کسی اور شخص کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دوں اور جا کر ان لوگوں کے گھر جلادوں جو جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے ‘‘۔(مسند احمد، بخاری)حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ہم نے جمعہ کے خطبہ میں حضورؐ کو یہ فرماتے سنا ہے : ’’ لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ چھوڑ نے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان  کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے گا اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے ‘‘۔ (مسند احمد، مسلم، نسائی) حضرت ابو الجعدؓ ضحْری، حضرت جابرؓ بن عبداللہ اور حضرت عبد اللہؓ بن ابی اَوْفیٰ کی روایات میں حضورؐ کے جو ارشادات منقول ہوئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی حقیقی ضرورت اور جائز عذر کے بغیر، محض بے پروائی کی بنا پر مسلسل تین جمعے چھوڑ دے ، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ‘‘۔ بلکہ ایک روایت میں تو الفاظ یہ ہیں کہ ’’ اللہ اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیتا ہے ‘‘ ( مسند احمد، ابو داؤد نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، حاکم، ابن حبان، بزاز، طبرانی فی الکبیر) حضرت جابر بن عبداللہ  کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ آج سے لے کر قیامت تک جمعہ تم لوگوں پر فرض ہے۔ جو شخص اسے ایک معمولی چیز سمجھ کر یا اس کا حق نہ مان کر اسے چھوڑے ، خدا اس کا حال درست نہ کرے ، نہ اسے برکت دے۔ خوب سن رکھو، اس کی نماز نماز نہیں، اس کی زکوٰۃ زکوٰۃ نہیں، اس کا حج حج نہیں، اس کا روزہ روزہ نہیں، اس کی کوئی نیکی نیکی نہیں جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لے اللہ  اسے معاف فرمانے والا ہے ‘‘۔ (ابن ماجہ، بزار ) اسی سے قریب المعنیٰ ایک روایت طبرانی نے اَوسط میں ابن عمرؓ سے نقل کی ہے۔ علاوہ بریں بکثرت روایات ہیں جن میں حضورؐ نے جمعہ کو بالفاظ صریح فرض اور حق واجب قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’ جمعہ ہر اس شخص پر فرض ہے جو اس کی اذان سنے ‘‘ (ابو داؤد، دارقطنی) جابرؓ بن عبداللہ اور ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے خطبہ میں فرمایا۔’’ جان لو کہ اللہ نے تم پر نماز جمعہ فرض کی ہے ‘‘۔(بیہقی) البتہ آپ نے عورت، بچے غلام، مریض اور مسافر کو اس فرضیت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ حضرت حفصہ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا۔’’ جمعہ کے لیے نکلنا ہر بالغ پر واجب ہے ‘‘ (نسائی)۔  حضرت طارق بن شہاب کی روایت میں آپ کا ارشاد یہ ہے کہ ’’ جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سوائے غلام، عورت، بچے ، اور مریض کے ‘‘ (ابو داؤد، حاکم) حضرت جابرؓ بن عبداللہ کی روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں: ’’ جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس پر جمعہ فرض ہے۔ الّا یہ کہ عورت ہو یا مسافر ہو، یا غلام ہو، یا مریض ہو‘‘ (دار قطنی، بیہقی) قرآن و حدیث کی ان ہی تصریحات کی وجہ سے جمعہ کی فرضیت پر پوری امت کا اجماع ہے۔

۱۶۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جمعہ کی نماز کے بعد زمین میں پھیل جانا اور تلاش رزق کی دوڑ دھوپ میں لگ جانا ضروری ہے۔ بلکہ یہ ارشاد اجازت کے معنی میں ہے۔ چونکہ جمعہ کی اذان سن کر سب کاروبار چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا تھا اس لیے فرمایا گیا کہ نماز ختم ہو جانے بعد تمہیں اجازت ہے کہ منتشر ہو جاؤ اور اپنے جو کاروبار بھی کرنا چاہو کرو، یہ ایسا ہی ہے جیسے حالت اِحرام میں شکار کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا : فَاِذَا حَلَلْتُمْ فَا صْطَا دُوْ (الماعدہ۔۲) ’’ جب احرام کھول چکو تو شکار کرو‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے بعد شکار پر کوئی پابندی باقی نہیں رہتی۔ چاہو تو شکار کر سکتے ہو۔ یا مثلاً سورہ نساء میں ایک سے زائد نکاح کی اجازت فَانْکِحُوْ امَا طَابَ لَکُمْ کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ یہاں اگر چہ فَانْکِحُوْا بصیغۂ امر ہے۔ مگر کسی نے بھی اس کو حکم کے معنی میں نہیں لیا ہے۔ اس سے یہ اصولی مسئلہ نکلتا ہے کہ صیغۂ امر ہمیشہ وجوب ہی کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ کبھی یہ اجازت اور کبھی استحباب کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بات قرائن سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں یہ حکم کے معنی میں ہے اور کہاں اجازت کے معنی میں اور کہاں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ کو ایسا کرنا پسند ہے لیکن یہ مراد نہیں ہوتی کہ یہ فعل فرض و واجب ہے۔ خود اسی فقرے کے بعد متصلاً دوسرے ہی فقرے میں ارشاد ہوا ہے وَاذْکُرُو ا اللہَ کَثِیْراً۔ ’’ اللہ کو کثرت سے یاد کرو‘‘۔ یہاں بھی صیغۂ امر موجود ہے ، مگر ظاہر ہے کہ یہ استحباب کے معنی میں ہے نہ کہ وجوب کے معنی میں۔

اس مقام پر  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ قرآن میں یہودیوں کے بست اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس امر سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعار ملت ہے جس طرح ہفتہ اور اتوار یہودیوں اور عیسائیوں کے شعار ملت ہیں۔ اور اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا ایک تمدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتے کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان (اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حِس موجود ہو) لازماً  اس غرض کے لیے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا، بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامّل نہ کیا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی یہودیوں نے جب فلسطین میں اپنی اسرائیلی ریاست قائم کی تو اولین کان جو انہوں نے کیا وہ یہ تھا  کہ اتوار کے بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔ قبل تقسیم کے ہندوستان میں برطانوی ہند اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی۔ البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی جس موجود نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کو سینے سے لگائے رہتے ہیں جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ اس سے زیادہ جب بے حسی طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کی چھٹی رائج کی جاتی ہے ، جیسا کہ مصطفیٰ کمال نے ٹرکی میں کیا۔

۱۷۔ یعنی اپنے کاروبار میں لک کر بھی اللہ کو بھولو نہیں، بلکہ ہر حال میں اس کو یاد رکھو اور اس کا ذکر کرتے رہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ احزاب، حاشیہ ۶۳)۔

۱۸۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ایک ہدایت یا ایک نصیحت یا ایک حکم دینے کے بعد لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْ نَ (شائد کہ تم فلاح پا جاؤ) اور لَعَلَّکُمْ تَرْ حَمُوْنَ (شاید کہ تم پر رحم کیا جائے ) کے الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر شاید کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کو معاذاللہ کوئی شک لا حق ہے ، بلکہ یہ دراصل شاہانہ انداز بیان ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مہربان آقا اپنے ملازم سے کہے کہ تم فلاں خدمت انجام دو، شاید کہ تمہیں ترقی مل جائے۔ اس میں ایک لطیف وعدہ پوشیدہ ہوتا ہے جس کی امید میں ملازم دل لگا کر بڑے شوق کے ساتھ وہ خدمت انجام دیتا ہے۔ کسی بادشاہ کی زبان سے کسی ملازم کے لیے یہ فقرہ نکل جائے تو اس کے گھر خوشی کے شادیانے بج جاتے ہیں۔

یہاں چونکہ جمعہ کے احکام ختم ہو گئے ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب اربعہ میں قرآن، حدیث، آثار صحابہ، اور اسلام کے اصول عامہ سے جو احکام جمعہ مرتب کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ دے دیا جائے۔

حنفیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔ نہ اس سے پہلے جمعہ ہو سکتا ہے ، نہ اس کے بعد۔ بیع کی حرمت پہلی اذان ہی سے شروع ہو جاتی ہے ، نہ کہ اس دوسری اذان سے جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے ، کیونکہ قرآن میں اِذَ نُوْ دِیَ لِلصَّلوٰۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ  کے الفاظ مطلقاً ارشاد ہوئے ہیں۔ اس لیے زوال کے بعد جب جمعہ کا وقت شروع ہو جائے اس وقت جو اذان بھی نماز جمعہ کے لیے دی جائے ، لوگوں کو اسے سن کر خرید و فروخت چھوڑ دینی چاہیے۔ لیکن اگر  کسی شخص نے اس وقت خرید و فروخت کر لی ہو تو وہ بیع فاسد یا فسخ نہ ہو جائے گی، بلکہ یہ صرف ایک گناہ ہو گا۔ جمعہ ہر بستی میں نہیں بلکہ صرف مصر جامع میں ہو سکتا ہے ، اور مصر جامع کی معتبر تعریف یہ کہ وہ شہر جس میں بازار ہوں، قیام امن کا انتظام موجود ہو، اور آبادی اتنی ہو کہ اگر اس کی بڑی سے بڑی مسجد میں بھی نماز جمعہ کے مکلف سب لوگ جمع ہو جائیں تو اس میں سما نہ سکیں۔ جو لوگ شہر سے باہ رہتے ہوں ان پر جمعہ اس صورت میں شہر آ کر پڑھنا فرض ہے جبکہ ان تک اذان کی آواز پہنچتی ہو، یا وہ زیادہ سے زیادہ شہر سے ۶ میل کے فاصلے پر ہوں۔ نماز کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ وہ کھلے میدان میں بھی ہو سکتی ہے اور ایسے میدان میں بھی ہو سکتی ہے جو شہر کے باہر ہو مگر اس کا یاک حصہ شمار ہوتا ہو، نماز جمعہ صرف اس جگہ ہو سکتی ہے جہاں ہر شخص کے لیے شریک ہونے کا  اذنِ عام ہو۔ کسی بند جگہ، جہاں ہر ایک کو آنے کی اجازت نہ ہو، خواہ کتنے ہی آدمی جمع ہو جائیں، جمعہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں کم از کم (بقول ابو حنیفہؒ) امام کے سوا تین آدمی، یا (بقول ابو یوسفؒ و محمدؒ ) امام سمیت دو  آدمی ایسے موجود ہوں جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر ایک شخص سے جمعہ ساقط ہو جاتا ہے وہ یہ ہیں : آدمی حالت سفر میں ہی، یا ایسا بیمار ہو کہ چل کر نہ آ  سکتا ہو، یا دونوں ٹانگوں سے معذور ہو، یا اندھا ہو (مگر امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک اندھے پر سے صرف اس وقت جمعہ کی فرضیت ساقط ہوتی ہے جبکہ وہ کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو جو اسے چلا کر لے جائے ) یا کسی ظالم سے اس کو جان اور آبرو کا، یا ناقابل برداشت مالی نقصان کا خطرہ ہو، یا سخت بارش اور کیچڑ  پانی ہو، یا آدمی قید کی حالت میں ہو۔ قیدیوں اور معذوروں کے لیے یہ بات مکروہ ہے کہ وہ جمعہ کے روز ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ جن لوگوں کا جمعہ چھوٹ گیا ہو ان کے لیے بھی ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ خطبہ صحت جمعہ کی شرائط میں سے ایک شرط ہے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی جمعہ کی نماز خطبہ کے بغیر نہیں پڑھی ہے ، اور وہ لازماً نماز سے پہلے ہونا چاہیے ، اور دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبہ کے لیے جب امام منبر کی طرف جائے ، اس وقت سے اختتام خطبہ تک ہر قسم کی بات چیت ممنوع ہے ، اور نماز بھی اس وقت نہیں پڑھنی چاہیے ، خواہ امام کی آواز اس مقام تک پہنچتی ہو یا نہ پہنچتی ہو  جہاں کوئی شخص بیٹھا ہو (ہدایہ، فتح القدیر، احکام القرآن للجصاص، الفقہ علی المذاہب الا ربعہ، عمدۃ القاری)۔

شافعیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب دوسری اذان ہو (یعنی وہ اذان جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی ہے )۔ تاہم اگر کوئی شخص اس وقت بیع کرے تو وہ فسخ نہیں ہوتی۔ جمعہ ہر اس بستی میں ہو سکتا ہے جس کے مستقل باشندوں میں ۴۰ ایسے آدمی موجود ہوں جن پر نماز جمعہ فرض ہے۔ بستی سے باہر کے ون لوگوں پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا لازم ہے جن تک اذان کی آواز پہنچ سکتی ہو۔ جمعہ لازماً بستی کے حدود میں ہونا چاہیے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ مسجد ہی میں پڑھا جائے۔ جو لوگ صحرا میں خیموں کے اندر رہتے ہوں ان پر جمعہ واجب نہیں ہے۔ صحت جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ جماعت میں امام سمیت کم از کم ۴۰ ایسے آدمی شریک ہوں جن پر جمعہ فرض ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہو جاتا ہے وہ یہ ہیں: سفر کی حالت میں ہو، یا کسی مقام پر چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو، بشرطیکہ سفر جائز نوعیت کا ہو۔ ایسا بوڑھا یا مریض ہو کہ سواری پر بھی جمعہ کے لیے نہ جا سکتا ہو۔ اندھا ہو اور کوئی ایسا آدمی نہ پاتا ہو جو اسے نماز کے لیے لے جائے۔ جان یا مال یا آبرو کا خوف لاحق ہو۔ قید کی حالت میں ہو، بشرطیکہ اس کی قید اس کے اپنے کسی قصور کی وجہ سے نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبے کے دوران میں خاموش رہنا مسنون ہے ، مگر بات کرنا حرام نہیں ہے۔ جو شخص امام سے اتنا قریب بیٹھا ہو کہ خطہ سن سکتا ہو اس کے لیے بولنا مکروہ ہے ، لیکن وہ سلام کا جواب دے سکتا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر سن کر بآواز بلند درود پڑھ سکتا ہے (مغنی المحتاج۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ )۔

مالکیہ کے نزدیک جمعہ کا وقت زوال سے شروع ہو کر مغرب سے اتنے پہلے تک ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے خطبہ اور نماز ختم ہو جائے۔ بیع کی حرمت اور سعی کا وجوب دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد اگر بیع واقع ہو تو وہ فاسد ہے اور فسخ ہو گی۔ جمعہ صرف ان بستیوں میں ہو سکتا ہے جن کے باشندے وہاں مستقل طور پر گھر بنا کر رہتے ہوں، اور جاڑے گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں، اور ان کی ضروریات اسی بستی میں فراہم ہوتی ہوں، اور اپنی تعداد کی بنا پر وہ اپنی حفاظت کر سکتے ہوں۔ عارضی قیام  گاہوں میں خواہ کتنے ہی لوگ ہوں اور خواہ وہ کتنی ہی مدت ٹھیریں، جمعہ قائم نہیںکیا جا سکتا۔ جس بستی میں معہ قائم کیا جاتا ہو اس سے تین میل کے فاصلے تک رہنے والے لوگوں پر جمعہ میں حاضر ہونا فرض ہے۔ نماز جمعہ صرف ایسی مسجد میں ہو سکتی ہے جو بستی کے اندر یا اس سے متصل ہو اور جس کی عمارت بستی کے عام باشندوں کے گھروں سے کم تر درجے کی نہ ہو۔ بعض مالکیوں نے یہ شرط بھی لگا ئی ہے کہ مسجد مسقف ہونی چاہیے اور اس میں پنجوقتہ نماز کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ لیکن مالکیہ کا راجح مسلک یہ ہے کہ کسی مسجد میں صحت جمعہ کے لیے اس کا مسقف ہونا شرط نہیں ہے ، اور ایسی مسجد میں بھی جمعہ ہو سکتا ہے جو صرف نماز جمعہ کے لیے بنائی گئی ہو اور پنجوقتہ نماز کا اس میں اہتمام نہ ہو۔ جمعہ کی نماز صحیح ہونے کے یے جماعت میں امام کے سوا کم از کم ۱۲ ایسے آدمیوں کا موجود ہونا ضروری ہے جن پر جمعہ فرض ہو۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہو جاتا ہے وہ یہ ہیں : سفر کی حالت میں ہو یا بحالت سفر کسی جگہ چار دن سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ مسجد آنا اس کے لیے دشوار ہو۔ اس کی ماں یا باپ یا بیوی یا بچہ بیمار ہو، یا وہ کسی ایسے اجنبی مریض کی تیمار داری کر رہا ہو جس کا اور کوئی تیمار دار نہ ہو، یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار سخت بیماری میں مبتلا ہو یا مرنے کے قریب ہو۔ اس کے ایسے مال کو جس کا نقصان قابل برداشت نہ ہو خطرہ لاحق ہو، یا اسے اپنی جان یا آبرو کا خطرہ ہو، یا وہ مار یا قید کے خوف سے چھپا ہوا ہو بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں مظلوم ہو۔ سخت بارش اور کیچڑ پانی یا سخت گرمی یا سردی مسجد تک پہنچنے میں مانع ہو۔ دو خطبے نماز سے پہلے لازم ہیں، حتیٰ کہ اگر نماز کے بعد خطبہ ہو تو نماز کا اعادہ ضروری ہے۔ اور یہ خطبے لازماً مسجد کے اندر ہونے چاہییں خطبے کے لیے جب امام منبر کی طرف آواز نہ سن رہا ہو۔ لیکن اگر خطیب اپنے خطبے میں ایسی لغو باتیں کرے جو نظام خطبہ سے خارج ہوں، یا کسی ایسے شخص کو گالیاں دے جو گالی کا مستحق نہ ہو، یا کسی ایسے شخص کی تعریفیں شروع کر دے جس کی تعریف جائز نہ ہو، یا خطبہ سے غیر متعلق کوئی چیز پڑھنے لگے ، تو لوگوں کو اس پر احتجاج کرنے کا حق ہے۔ نیز  خطبہ میں بادشاہ وقت کے لیے دعا مکروہ ہے الا یہ کہ خطیب کو اپنی جان کا خطرہ ہو۔ خطیب لازماً وہی شخص ہونا چاہیے جو نماز پڑھائے۔ اگر خطیب کے سوا کسی اور نے نماز پڑھائی ہو تو وہ باطل ہو گی (حاشیہ الدسوتی علی الشرح الکبیر۔ احکام القرآن ابن عربی۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ )۔

حنابلہ کے نزدیک جمعہ کی نماز کا وقت صبح کو سورج کے بقدر یک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے عصر کا وقت شروع ہونے تک ہے۔ لیکن زوال سے پہلے جمعہ صرف جائز ہے ، اور زوال کے بعد واجب اور افضل۔ بیع کی حرمت اور سعی کے وجوب کا وقت دوسری اذان سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو بیع ہو وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتی۔ جمعہ صرف اس جگہ ہو سکتا ہے کہاں ۴۰ ایسے آدمی جن پر جمعہ فرض ہو، مستقل طور پر گھروں میں (نہ کہ خیموں میں)  آباد ہوں، یعنی جاڑے اور گرمی میں منتقل نہ ہوتے ہوں۔ اس غرض کے لیے بستی کے گھروں اور محلوں کے باہم متصل یا متفرق  ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان سب کے مجموعہ کا نام ایک ہو تو وہ ایک ہی بستی ہے خواہ اس کے ٹکڑے ایک دوسرے سے میلوں کے فاصلے پر واقع ہوں۔ ایسی بستی سے جو لوگ تین میل کے اندر رہتے ہوں ان پر جمعہ کے لیے حاضر ہونا فرض ہے۔ جماعت میں امام سمیت ۴۰ آدمیوں کی شرکت ضروری ہے۔ نماز کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ مسجد ہی میں ہو۔ کھلے میدان میں بھی ہو سکتی ہے۔ جن عذرات کی بنا پر کسی شخص سے جمعہ کا فرض ساقط ہو جاتا ہے وہ یہ ہیں: مسافر ہو اور جمعہ کی بستی میں چار دن یا اس سے کم قیام کا ارادہ رکھتا ہو۔ ایسا مریض ہو کہ سواری پر آنا بھی اس کے لیے مشکل ہو۔ اندھا ہو، الا یہ کہ خود راستہ ٹٹول کر آ سکتا ہو۔ کسی دوسرے شخص کے سہارے آنا اندھے کے لیے واجب نہیں ہے۔ سخت سردی یا سخت گرمی یا سخت بارش اور کیچڑ نماز کی جگہ پہنچنے میں مانع ہو۔ کسی ظالم کی ظلم سے بچنے کے لیے چھپا ہوا ہو۔ جان یا آبرو کا خطرہ یا ایسے مالی نقصان کا خوف ہو جو قابل برداشت نہ ہو۔ نماز سے پہلے دو خطبے ہونے چاہییں۔ خطبے کے دوران میں اس شخص کے لیے بولنا حرام ہے جو خطیب سے اتنا قریب ہو کہ اس کی آواز سن سکتا ہو۔ البتہ دور کا آدمی جس تک خطیب کی آواز نہ پہنچتی ہو، بات کر سکتا ہے۔ خطیب خواہ عادل ہو یا غیر عادل، لوگوں کو خطبہ کے دوران میں چپ رہنا چاہیے۔ اگر جمعہ کے روز عید ہو جائے تو جو لوگ عید پڑھ چکے ہوں ان پر سے جمعہ کا فرض ساقط ہے۔ اس مسئلے میں حنابلہ کا مسلک ائمہ ثلاثہ کے مسلک سے مختلف ہے (غایتہ المنتہیٰ۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ)۔

اس امر میں تمام  فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس شخص پر جمعہ فرض نہیں ہے وہ اگر نماز جمعہ میں شریک ہو جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اس کے لیے پھر ظہر پڑھنا فرض نہیں رہتا۔

۱۹۔ یہ ہے وہ واقعہ جس کی وجہ سے اوپر کی آیات میں جمعہ کے احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں۔اس کا قصہ جو کتب حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو مالک، اور حضرات حسن نصری، ابن زید، قتادہ، اور مقاتل بن حیان سے منقول ہوا ہے ، یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اس نے ڈھول تاشے بجانے شروع کیے تاکہ بستی کے لوگوں کو اس کی آمد کی اطلاع ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں سن کر لوگ بے چین ہو گئے اور ۱۲ آدمیوں کے سوا باقی سب بقیع کی طرف دوڑ گئے جہاں قافلہ اترا ہوا تھا۔ اس قصے کی روایات میں سب سے زیادہ معتبر روایت حضرت جابر بن عبداللہ کی ہے جسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابو عوانہ، عبد بن حمید، ابویعلیٰ وغیر ہُم نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس میں اضطراب صرف یہ ہے کہ کسی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ نماز کی حالت میں پیش آیا تھا، اور کسی میں یہ ہے کہ یہ اس وقت پیش آیا جب حضور خطبہ دے رہے تھے۔ لیکن حضرت جابر اور دوسرے صحابہ و تابعین کی تمام روایات کو جمع کرنے سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ دوران خطبہ کا واقعہ ہے اور حضرت جابرؓ نے جہاں یہ کہا ہے کہ یہ نماز جمعہ کے دوران میں پیش آیا، وہاں در اصل انہوں نے خطبے اور نماز کے مجموعہ پر نماز جمعہ کا اطلاق کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں بین کیا گیا ہے کہ اس وقت ۱۲ مردوں کے ساتھ ایک عورت تھے (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم)۔ دارقطنی کی ایک روایت میں ۴۰ افراد اور عبد بن حمید کی روایت میں ۷ نفر بیان کیے گئے ہیں۔ اور فرّاء نے ۸ نفر لکھے ہیں۔ لیکن یہ سب ضعیف روایات ہیں۔ اور قتادہ کی یہ روایت بھی ضعیف ہے کہ اس طرح کا واقعہ تین مرتبہ پیش آیا تھا (ابن جریر)۔ معتبر روایت حضرت جابر بن عبداللہ کی ہے جس میں باقی رہ جانے والوں  کی تعداد ۱۲ بتائی گئی ہے۔ اور قتادہ کی ایک روایت کے سوا باقی تمام صحابہ و تابعین کی روایات اس پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا۔ باقی رہ جانے والوں کے متعلق مختلف روایت کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عمارؓ بن یاسر، حضرت سالمؓ مولیٰ حصیفہ، اور حضرت جابرؓ بن عبداللہ شامل تھے۔ حافظ ابو یعلیٰ نے حضرت جابر بن عبداللہ کی جو روایت نقل کی ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگ اس طرح نکل کر لے گئے اور صرف بارہ اصحاب باقی رہ گئے تو ان کو خطاب کر کے حجور نے فرمایا والذی نفسی بیدہٖ لتتا بعتم  حتی لم یبق منکم احد لسال بکم الوادی ناراً، اگر تم سب چلے جاتے اور ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بہ نکلتی ‘‘۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اور ابن جریر نے قتادہ سے نقل کیا ہے۔

شیعہ حضرات نے اس واقعہ کو بھی صحابہؓ پر طعن کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صحابہ کی اتنی بڑی تعداد کا خطبے اور نماز کو چھوڑ کر تجارت اور کھیل تماشے کی طرف دوڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے تھے۔ لیکن یہ ایک سخت بے جا اعتراض ہے جو صرف حقائق سے آنکھیں بند کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ در اصل یہ واقعہ ہجرت کے بعد قریبی زمانے ہی میں پیش آیا تھا۔ اس وقت ایک طرف تو صحابہ کی اجتماعی تربیت ابتدائی مراحل میں تھی۔ اور دوسری طرف کفار مکہ نے اپنے اثر سے مدینہ طیبہ کے باشندوں کی سخت معاشی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس کی وجہ سے مدینے میں اشیائے ضرورت کمیاب ہو گئی تھیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اس وقت مدینے میں لوگ بھوکوں مر رہے تھے اور قیمتیں بہت چڑھی ہوئی تھیں (ابن جریر )۔ اس حالت میں جب ایک تجارتی قافلہ آیا تو لوگ اس اندیشے سے کہ کہیں ہمارے نماز سے فارغ ہوتے ہوتے سامان فروخت نہ ہو جائے ، گھبرا کر اس کی طرف دوڑ گئے۔ یہ ایک ایسی کمزوری اور غلطی تھی جو اس وقت اچانک تربیت کی کمت اور حالات کی سختی کے باعث رو نما ہو گئی تھی۔ لیکن جو شخص بھی ان صحابہ کی وہ قربانیاں دیکھے گا جواس کے بعد انہوں نے اسلام کے لیے کیں، اور یہ دیکھے گا کہ عبادات اور معاملات میں ان کی زندگیاں کیسے زبردست تقویٰ کی شہادت دیتی ہیں، وہ ہر گز یہ الزام رکھنے کی جرأت نہ کر سکے گا کہ ان کے اندر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کا کوئی مرض پایا جاتا تھا، الّا یہ کہ اس کے اپنے دل میں صحابہ سے بغض کا مرض پایا جاتا ہو۔

تاہم یہ واقعہ جس طرح صحابہؓ کے معترضین کی تائید نہیں کرتا اسی طرح ان لوگوں کے خیالات کی تائید بھی نہیں کرتا جو صحابہ کی عقیدت میں غلو کر کے اس طرح کے دعوے کرتے ہیں کہ ان سے کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی، یا ہوئی بھی ہو تو اس کا ذکر نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ ان کی غلطی کا ذکر کرنا اور اسے غلطی کہنا ان کی توہین ہے ، اور اس سے ان کی عزت و  وقعت دلوں میں باقی نہیں رہتی، اور اس کا ذکر ان آیات و احادیث کے خلاف ہے جن میں صحابہ کے مغفور اور مقبول بار گاہ الٰہی ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ یہ ساری باتیں سراسر مبالغہ ہیں جن کے لیے قرآن و حدیث میں کوئی سند موجود نہیں ہے۔ یہاں ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس غلطی کا ذکر کیا ہے جو صحابہؓ کی ایک کثیر تعداد سے صادر ہوئی تھی۔ اس کتاب میں کیا ہے جسے قیامت تک ساری امت کو پڑھنا ہے۔ اور اسی کتاب میں کیا ہے جس میں ان کے مغفور اور مقبول بارگاہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ پھر حدیث و تفسیر کی تمام کتابوں میں صحابہ سے لے کر بعد کے اکابر اہل سنت تک نے اس غلطی کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر انہی صحابہ کی وقعت دلوں سے نکالنے کے لیے کیا ہے جن کی وقعت وہ خود دلوں میں قائم فرمانا چاہتا ہے ؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہؓ اور تابعین اور محدثین وہ مفسرین نے اس قصے کی ساری تفصیلات اس شرعی مسئلے سے ناواقفیت کی بنا پر بیان کر دی ہیں جو یہ خالی حضرات بیان کیا کرتے ہیں؟ اور کیا فی الواقع سورہ جمعہ پڑھنے والے اور اس کی تفسیر کا مطالعہ کرنے والے لوگوں کے دلوں سے صحابہ کی وقعت نکل گئی ہے ؟ اگر ان میں سے ہر سوال کا جواب نفی میں ہے ، اور یقیناً نفی میں ہے ، تو وہ سب بے جا اور مبالغہ آمیز باتیں غلط ہیں جو احترام صحابہ کے نام سے بعض لوگ کیا کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام کوئی آسمانی مخلوق نہ تھے بلکہ اسی زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں میں سے تھے۔ وہ جو کچھ بھی بنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تربیت سے بنے۔ یہ تربیت بتدریج سالہا سال تک ان کو دی گئی۔ اس کا جو طریقہ قرآن و حدیث میں ہم کو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جب کبھی ان کے اندر کسی کمزوری کا ظہور ہوا، اللہ اور اس کے رسولؐ نے بر وقت اس کی طرف توجہ فرمائی، اور فوراً اس خاص پہلو میں تعلیم و تربیت کا ایک پروگرام شروع ہو گیا جس میں وہ کمزوری پائی گئی تھی۔ اسی نماز جمعہ کے معاملہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب قافلہ تجارت والا واقعہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ کا یہ رکوع نازل فرما کر اس پر تنبیہ کی اور جمعہ کے آداب بتائے۔پھر اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلسل اپنے خطبات مبارکہ میں فرضیت جمعہ کی اہمیت لوگوں کے ذہن نشین فرمائی، جس کا ذکر ہم حاشیہ ۱۵ میں کر آئے ہیں، اور تفصیل کے ساتھ ان کو آداب جمعہ کی تعلیم دی۔ چنانچہ احادیث میں یہ ساری ہدایات ہم کو بڑی واضح صورت میں ملتی ہیں۔ حضرت ابو سعیدؓ  خدری کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ہر مسلمان کو جمعہ کے روز غسل کرنا چاہیے ، دانت صاف کرنے چاہییں، جو اچھے کپڑے اس کو میسر ہوں پہننے چاہییں، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگانی چاہیے (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی)۔ حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا جو مسلمان جمعہ کے روز غسل کرے اور حتی الامکان زیادہ اپنے آپ کو پاک صاف کرے ، سر میں تیل لگائے یا جو خوشبو گھر میں موجود ہو وہ لگائے ، پھر مسجد جائے اور دو آدمیوں کو ہٹا کر ان کے بیچ میں نہ گھسے ، پھر جتنی کچھ اللہ توفیق دے اتنی نماز (نفل) پڑھے ، پھر جب امام بولے تو خاموش رہے ، اس کے قصور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک معاف ہو جاتے ہیں (بخاری، مسند احمد )۔ قریب قریب اسی مضمون کی روایات حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت نُبَیْشَۃُ الْھَذلِیؓ نے بھی حضور سے نقل کی ہیں (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، طبرانی )۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا جب امام خطبہ دے رہا ہو اس وقت جو شخص بات کرے و اس گدھے کے مانند ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں، اور جو شخص اس سے کہے کہ چپ رہ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہوا (مسند احمد)۔ حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضورؐ نے فرمایا اگر تم نے جمعہ کے روز خطبہ کے دوران میں بات کرنے والے شخص سے کہا ’’ چپ رہ‘‘ تو تم نے بھی لغو حرکت کی (بخاری، مسلم، نسائی ترمذی، ابو داؤد )۔ اسی سے ملتی جلتی روایات امام احمد، ابو داؤد اور طبرانی نے حضرت علیؓ اور حضرت ابو الدرداءؓ سے نقل کی ہیں۔ا س کے ساتھ آپؐ نے خطیبوں کو بھی ہدایت فرمائی کہ لمبے لمبے خطبے دے کر لوگوں کو تنگ نہ کریں۔ آپ خود جمعہ کے روز مختصر خطبہ ارشاد فرماتے اور نماز بھی زیادہ لمبی نہ پڑھاتے تھے۔ حضرت جابرؓ بن سمرہ کہتے ہیں کہ حضور طویل خطبہ نہیں دیتے تھے۔ وہ بس چند مختصر کلمات ہوتے تھے (ابو داؤد)۔ حضرت عبداللہ بن ابی ادفیٰ کہتے ہیں کہ آپؐ کا خطبہ نماز کی بہ نسبت کم ہوتا تھا اور نماز اس سے زیادہ طویل ہوتی تھی (نسائی)۔ حضرت عمارؓ بن یاسر کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا آدمی کی نماز کا طویل ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ دین کی سمجھ رکھتا ہے (مسند احمد، مسلم)۔ تقریباً  یہی مضمون بزار نے حضرت عبد اللہؓ بن مسعود سے نقل کیا ہے۔ ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضورؐ نے کس طرح لوگوں کو جمعہ کے آداب سکھائے یہاں تک کہ اس نماز کی وہ شان قائم ہوئی جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم کی اجتماعی عبادت میں نہیں پائی جاتی۔

۲۰۔ یہ فقرہ کود بتا رہا ہے کہ صحابہ سے جو غلطی ہوئی تھی اس کی نوعیت کیا تھی۔اگر معاذ اللہ اس کی وجہ ایمان کی کمی اور آخرت پر دنیا کی دانستہ ترجیح ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے غضب اور زجر و توبیخ کا انداز کچھ اور ہوتا۔ لیکن چونکہ ایسی کوئی خرابی وہاں نہ تھی، بلکہ جو کچھ ہوا تھا تربیت کی کمی کے باعث ہوا تھا، اس لیے پہلے معلمانہ انداز میں جمعہ کے آداب بتائے گئے ، پھر اس غلطی پر گرفت کر رکے مربیانہ انداز میں سمجھایا گیا کہ جمعہ کا خطبہ سننے اور اس کی نماز ادا کرنے پر جو کچھ تمہیں خدا کے ہاں ملے گا وہ اس دنیا کی تجارت اور کھیل تماشوں سے بہتر ہے۔

۲۱۔ یعنی اس دنیا میں مجازاً جو بھی رزق رسانی کا ذریعہ بنتے ہیں ان سب سے بہتر رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ اس طرح کے فقرے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آئے ہیں۔ کہیں اللہ تعالیٰ کو احسن الخالقین کہا گیا ہے ، کہیں خیر الغافرین، کہیں خیر الحاکمین، کہیں خیر الراحمین، کہیں خیرالناصرین۔ ان سب مقامات پر مخلوق کی طرف رزق، تخلیق، مغفرت، رحم اور نصرت کی نسبت مجازی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف حقیقی۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بھی دنیا میں تم کو تنخواہ، اجرت یا روٹی دیتے نظر آتے ہیں، یا جو لوگ بھی اپنی صنعت و کاریگری سے کچھ بناتے نظر آتے ہیں، یا جو لوگ بھی دوسروں کے قصور معاف کرتے اور دوسروں پر رحم کھاتے اور دوسروں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں، اللہ ان سب سے بہتر رازق، خالق، رحیم، غفور اور مدد گار ہے۔

٭٭٭

 

 

 

(۶۳) سورہ المنافقون

 

نام

 

پہلی آیت کے فقرہ  اِذَاجَآءَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ سے ماخوذ ہے۔ یہ اس سورۃ کا نام بھی ہے اور اس کے مضمون کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں منافقین ہی کے طرز عمل پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

 

زمانہ نزول

 

جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے ، یہ سورۃ غزوہ بنی المُصطَلِق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی واپسی پر یا تو دوران سفر میں نازل ہوئی ہے ، یا حضورؐ کے مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد فوراً ہی اس کا نزول ہوا ہے۔ اور ہم سورہ نور کے دیباچے میں یہ بات بتحقیق بیان کر چکے ہیں کہ غزوہ بنی المصطلق شعبان ۶  ھجری میں واقع ہوا تھا۔ اس طرح اس کی تاریخ نزول ٹھیک ٹھیک متعین ہو جاتی ہے۔

 

تاریخی پس منظر

 

جس خاص واقعہ کے بارے میں یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مدینے کے منافقین کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے ، کیونکہ جو واقعہ اس موقع پر پیش آیا تھا وہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہ تھا  بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا سلسلۂ واقعات تھا جو بالآخر اس نوبت تک پہنچا۔

مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری سے پہلے اَوس اور خز رج کے قبیلے آپس کی خانہ جنگیوں سے تھک کر ایک شخص کی قیادت و سیادت پر قریب قریب متفق ہو چکے تھے اور اس بات کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اس کو اپنا بادشاہ بنا کر باقاعدہ اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کر دیں ، حتیٰ کہ اس کے لیے تاج بنا بھی لیا گیا تھا۔ یہ قبیلہ خز رج کا رئیس عبداللہ بن اُبی بن سَلول تھا۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ قبیلہ خز رج میں اس کی بزرگی بالکل متفق علیہ تھی،اور اَوس و خز رج اس سے پہلے کبھی ایک شخص کی قیادت پر جمع نہیں ہوئے تھے (ابن ہشام، ج ۲ ص ۲۳۴)۔

اس صورت حال میں اسلام کا چرچا مدینے پہنچا اور ان دونوں قبیلوں کے با اثر آدمی مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔ ہجرت سے پہلے بیعت عَقَبہ ثانیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی جا رہی تھی اس وقت حضرت عباس بن عبادہ بن نَضْلَۂ انصاری اس دعوت کو صرف اس مصلحت سے مؤخر کرنا چاہتے تھے کہ عبداللہ بن ابی بھی بیعت اور دعوت میں شریک ہو جائے ، تاکہ مدینہ بالاتفاق اسلام کا مرکز بن سکے۔ لیکن جو وفد بیعت کے لیے حاضر ہوا تھا اس نے اس مصلحت کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس کے تمام شرکاء جن میں دونوں قبیلوں کے ۷۵ آدمی شامل تھے ، ہر خطرہ مول لے کر حضورؐ کو دعوت دینے کے لیے تیار ہو گئے (ابن ہشام، ج ۲، ص ۸۹)۔ اس واقعہ کی تفصیلات ہم سورہ انفال کے دیباچے میں بیان کر چکے ہیں۔

اس کے بعد جب حضورؐ مدینے پہنچے تو انصار کے ہر گھرانے میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کہ عبداللہ بن ابی بے بس ہو گیا اور اس کو اپنی سرداری بچانے کی اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ خود بھی مسلمان ہو جائے۔ چنانچہ وہ اپنے ان بہت سے حامیوں کے ساتھ، جن میں دونوں قبیلوں کے شیوخ اور سردار شامل تھے ، داخل اسلام ہو گیا، حالانکہ دل ان سب کے جل رہے تھے ، اور خاص  طور پر ابن ابی کو اس بات کا سخت غم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی بادشاہی چھین لی ہے۔ کئی سال تک اس کا یہ منافقانہ ایمان اور اپنی ریاست چھن جانے کا یہ غم طرح طرح کے رنگ دکھاتا رہا۔ ایک طرف حال یہ تھا کہ ہر جمعہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے بیٹھتے تو عبداللہ بن ابی اٹھ کر کہتا کہ ’’ حضرت، یہ اللہ کے رسول آپ کے درمیان موجود ہیں جن کی ذات سے اللہ نے آپ کو عزت اور شرف بخشا ہے ، لہٰذا آپ ان کی تائید کریں اور جو کچھ یہ فرماتے ہیں اسے غور سے سنیں اور ان کی اطاعت کریں ‘‘ (ابن ہشام، ج ۳،ص ۱۱۱)۔ دوسری طرف کیفیت یہ تھی کہ روز بروز اس کی منافقت کا پردہ چاک ہوتا چلا جا رہا تھا اور مخلص مسلمانوں پر یہ بات کھلتی چلی جاتی تھی کہ وہ اس کے ساتھی اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور گروہ اہل ایمان سے سخت بغض رکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ حضورؐ کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ ابن ابی نے آپ کے ساتھ بد تمیزی کی۔ آپ نے حضرت سعد بن عبادہ سے اس کی شکایت فرائی تو انہوں نے عرض کیا، ’’ یا رسول اللہ، اس شخص کے ساتھ نرمی برتیے آپ کی تشریف آوری سے پہلے ہم اس کے لیے تاج شاہی تیار کر رہے تھے ، اب یہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس سے بادشاہی چھین لی ہے ‘‘ (ابن ہشام، ج۲، ص ۲۳۷۔ ۲۳۸ )۔

جنگ بدر کے بعد جب یہود نبی قینقاع کی صریح بد عہدی اور بلا اشتعال سرکشی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر چڑھائی کی تو یہ شخص ان کی حمایت پر اٹھ کھڑا ہوا اور حضورؐ کی زرہ پکڑ کر کہنے لگا کہ ’’یہ سات سو مردان جنگی، جو ہر دشمن کے مقابلے میں میرا ساتھ دیتے رہے ہیں ، آج ایک دن میں آپ انہیں ختم کر ڈالنا چاہتے ہیں ؟ خدا کی قَسم، میں آپ کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ میرے ان حلیفوں کو معاف نہ کر دیں گے ‘‘ (ابن ہشام، ج ۳، ص ۵۱۔۵۲)۔

جنگ احد کے موقع پر اس شخص نے صریح غداری کی اور عین وقت پر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے الٹا واپس آ گیا۔ جس نازک گھڑی میں اس نے یہ حرکت کی تھی اس کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ قریش کے لوگ تین ہزار کا لشکر لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کے مقابلے میں صرف ایک ہزار آدمی ساتھ لے کر مدافعت کے لیے نکلے تھے۔ ان ایک ہزار میں سے بھی یہ منافق تین سو آدمی توڑ لایا اور حضورﷺ کو صرف سات سو کی جمعیت کے ساتھ تین ہزار دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔

اس واقعہ کے بعد مدینے کے عام مسلمانوں کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو گیا کہ یہ شخص قطعی منافق ہے ، اور اس کے وہ ساتھی بھی پہچان لیے گئے جو منافقت میں اس کے شریک کار تھے۔ اسی بنا پر جنگ احد کے بعد جب پہلا جمعہ آیا اور یہ شخص حضورؐ کے خطبہ سے پہلے حسب معمول تقریر کرنے کے لیے اٹھا تو لوگوں نے اس کا دامن کھینچ کر کہا ’’ بیٹھ جاؤ، تم یہ باتیں کرنے کے اہل نہیں ہو‘‘۔ مدینے میں یہ پہلا موقع تھا کہ علانیہ اس شخص کی تذلیل کی گئی۔ اس پر برہم ہو کر وہ لوگوں کی گردنوں پر سے کودتا پھاندتا مسجد سے نکل گیا۔ مسجد کے دروازے پر بعض انصاریوں نے اس سے کہا ’’ یہ کیا حرکت کر رہے ہو، واپس چلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے استغفار کی درخواست کرو‘‘۔ اس نے بگڑ کر جواب دیا ’’ میں ان سے کوئی استغفار نہیں کرانا چاہتا‘‘(ابن ہشام، ج ۳، ص ۱۱۱)۔

پھر ۴ ہجری میں غزوہ بنی النضیر پیش آیا اور اس موقع پر اس شخص نے اور اس کے ساتھیوں نے اور بھی زیادہ کھل کر اسلام کے خلاف اعدائے اسلام کی حمایت کی۔ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ ان یہودی دشمنوں سے جنگ کی تیاری کر رہے تھے ، اور دوسری طرف یہ منافقین اندر ہی اندر یہودیوں کو پیغام بھیج رہے تھے کہ ڈٹے رہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں ، تم سے جنگ کی جائے گی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تم کو نکالا جائے گا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اس خفیہ ساز باز کا راز اللہ تعالیٰ نے خود کھول دیا، جیسا کہ سورہ حشر کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔

لیکن اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اتنی پردہ دری ہو جانے کے باوجود جس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے ساتھ در گزر کا معاملہ فرما رہے تھے وہ یہ تھی کہ منافقین کا ایک بڑا جتھا اس کے ساتھ تھا۔ اَوس اور خز رج دونوں قبیلوں کے بہت سے سردار اس کے حامی تھے۔ مدینے کی آبادی میں کم از کم ایک تہائی تعداد اس کے ساتھیوں کی موجود تھی، جیسا کہ غزوہ احد کے موقع پر ظاہر ہو چکا تھا۔ ایسی حالت میں یہ کسی طرح مناسب نہ تھا کہ باہر کے دشمنوں سے لڑائی کے ساتھ ساتھ اندر کے ان دشمنوں سے بھی جنگ مول لے لی جاتی۔ اسی بنا پر ان کی منافقت کا حال جانتے ہوئے بھی حضورؐ ایک مدت تک ان کے ساتھ ان کے ظاہری دعوائے ایمان کے لحاظ سے معاملہ فرماتے رہے۔ دوسری طرف یہ لوگ بھی نہ اتنی طاقت رکھتے تھے ، نہ ہمت کہ علانیہ کافر بن کر اہل ایمان سے لڑ لیتے ، یا کسی حملہ آور دشمن کے ساتھ کھلم کھلا مل کر میدان میں آ جاتے۔ بظاہر وہ اپنا ایک مضبوط جتھا بنائے ہوئے تھے مگر ان کے اندر وہ کمزور یاں موجود تھیں جن کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورہ حشر کی آیات ۱۲۔ ۱۴ میں صاف صاف کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے وہ مسلمان بنے رہنے میں ہی اپنی خیر سمجھتے تھے۔ مسجدوں میں آتے تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے۔ زکوٰۃ بھی دے ڈالتے تھے۔ زبان سے ایمان کے وہ لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے جن کے کرنے کی مخلص مسلمانوں کو کبھی ضرورت پیش نہ آ تی تھی۔ ان کے پاس اپنی ہر منافقانہ حرکت کے لیے ہزار جھوٹی توجہیں موجود تھیں جن سے وہ خاص طور پر اپنے ہم قبیلہ انصار کو یہ دھو کا دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان تدبیروں سے وہ اپنے آپ کو ان نقصانات سے بھی بچا رہے تھے جو انصار کی برادری سے الگ ہو جانے کی صورت میں ان کو پہنچ سکتے تھے ، اور فتنہ پروازی کے ان مواقع سے بھی فائدہ اٹھا رہے تھے جو اس برادری میں شامل رہ کر انہیں مل سکتے تھے۔

یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے عبداللہ بنا ابی اور اس کے ساتھی منافقین کو غزوہ بنی المصْطَلِق کی مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جانے کا موقع مل گیا، اور انہوں نے بیک وقت دو ایسے عظیم فتنے اٹھا دیے جو مسلمانوں کی جمعیت کو بالکل پارہ پارہ کر سکتے تھے۔ مگر قرآن پاک کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت سے اہل ایمان کو جو بہترین تربیت ملی تھی اس کی بدولت ان دونوں فتنوں کا بر وقت قلع قمع ہو گیا اور یہ منافقین الٹے خود ہی رسوا ہو کر رہ گئے۔ ان میں سے ایک فتنہ وہ تھا جس کا ذکر سورہ نور میں گزر چکا ہے۔ اور دوسرا فتنہ یہ ہے  کہ جس کا اس سورہ میں ذکر کیا گیا ہے۔

اس واقعہ کو بخاری، مسلم، احمد، نسائی، ترمذی، بیہقی، طبرانی، ابن مردویہ، عبدالرزاق، ابن جریر طبری، ابن سعد اور محمد بن اسحاق نے بکثرت سندوں سے نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں اس مہم کا نام نہیں لیا گیا ہے جس میں یہ پیش آیا تھا: اور بعض میں اسے غزوہ تبوک کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مگر مغازی اور سیر کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر پیش آیا تھا۔ صورت واقعہ تمام روایات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے :

بنی المصطلق کو شکست دینے کے بعد ابھی لشکر اسلام اس بستی میں ٹھیرا ہوا تھا جو مریسبع نامی کنویں پر آباد تھی کہ یکایک پانی پر دو صاحبوں کا جھگڑا ہو گیا۔ ان میں سے ایک کا نام جہجاہ بن مسعود غِفاری تھا جو حضرت عمرؓ کے ملازم تھے اور ان کا گھوڑا سنبھالنے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اور دوسرے صاحب سنان بن وَبَرالجہنی(دونوں اصحاب کے نام مختلف روایات میں مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ ہم نے یہ نام ابن ہشام کی روایت سے لیے ہیں ) تھے جن کا قبیلہ خز رج کے  ایک قبیلے کا حلیف تھا۔ زبانی ترش کلامی سے گزر کر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی اور جہجاہ نے سنان کے ایک لات رسید کر دی جسے اپنی قدیم یمنی روایات کی بنا پر انصار سخت توہین و تذلیل سمجھتے تھے۔ اس پر سنان نے انصار کو مدد کے لیے پکارا، اور جہجاہ نے مہاجرین کو آواز دی۔ ابن ابی نے اس جھگڑے  کی خبر سنتے ہیں اَوس اور خز رج کے لوگوں کو بھڑکانا اور چیخنا شروع کر دیا کہ دوڑو اور اپنے حلیف کی مدد کرو۔ ادھر سے کچھ مہاجرین بھی نکل آئے قریب تھا کہ بات بڑھ جاتی اور اسی جگہ انصار و مہاجرین آپس میں لڑ پڑتے جہاں ابھی ابھی وہ مل کر ایک دشمن قبیلے سے لڑے تھے اور اسے شکست دے کر ابھی اسی کے علاقے میں ٹھیرے ہوئے تھے۔ لیکن یہ شور سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نکل آئے اور آپ نے فرمایا : ما بالُ دعوی الجاھلیۃ؟  مالکم ولدعوۃ الجاھلیۃ؟ دعوھا نانھا مُنْتِنَۃ‘‘۔ یہ جاہلیت کی پکار کیسی؟ تم لوگ کہاں اور یہ جاہلیت کی پکار کہاں ؟ اسے چھوڑ دو، یہ بڑی گندی چیز ہے ‘‘۔ (یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو اس موقع پر حضورؐ نے ارشاد فرمائی۔ اسلام کی صحیح روح کو سمجھنے کے لیے اسے ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ضروری ہے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ دو آدمی اگر اپنے جھگڑے میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا چاہیں تو وہ کہیں ، مسلمانو، آؤ اور ہماری مدد کرو، یا یہ کہ لوگو ہماری مدد کے لیے پکارنا چاہیں تو وہ کہیں ، مسلمانو، آؤ اور ہماری مدد کرو، یا یہ کہ لوگو ہماری مدد کے لیے آؤ۔ لیکن اگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے ، یا برادری، یا نسل و رنگ، یا علاقے کے نام پر لوگوں کو پکارتا ہے تو یہ جاہلیت کی پکار ہے ، اور اس پکار پر لبیک کہہ کر آنے والے اگر یہ نہیں دیکھتے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون، اور حق و انصاف کی بنا پر مظلوم کی حمایت کرنے کے بجائے اپنے اپنے گروہ کے آدمی کی حمایت میں ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جاتے ہیں تو یہ جاہلیت کا فعل ہے جس سے دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے گندی اور گھناؤنی چیز قرار دیا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہارا اس جاہلیت کی پکار سے کیا واسطہ؟ تم اسلام کی بنیاد پر ایک ملت بنے تھے ، اب یہ انصار اور مہاجر کے نام پر تمہیں کیسے پکارا جا رہا ہے ، اور اس پکار پر تم کہاں دوڑے جا رہے ہو؟ علامہ سُہیلی نے روض الانف میں لکھا ہے کہ فقہائے اسلام نے کسی جھگڑے یا اختلاف میں جاہلیت کی پکار بلند کرنے کو ایک فوج داری جرم قرار دیا  ہے۔ ایک گروہ اس کی سزا پچاس ضرب تازیانہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا گروہ دس ضرب تجویز کرتا ہے ، اور تیسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کی سزا حالات کی مناسبت سے دی جانی چاہیے۔ بعض حالات میں صرف زجر و توبیخ کافی ہے ، بعض دوسرے حالات میں ایسی پکار بلند کرنے والے کو قید کرنا چاہیے ، اور اگر یہ زیادہ شر انگیز ہو تو اس کے مرتکب کو سزائے تازیانہ دینی چاہیے۔) اس پر دونوں طرف کے صالح لوگوں نے آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کا دیا اور سِنان نے جہجاہ کو معاف کر کے صلح کر لی۔

اس کے بعد ہر وہ شخص جس کے دل میں نفاق تھا عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچا اور ان لوگوں نے جمع ہو کر اس سے کہا کہ ’’اب تک تو تم سے امیدیں وابستہ تھیں اور تم مدافعت کر رہے تھے ، مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمارے مقابلے میں ان کنگلوں (مدینہ کے منافقین ان تمام لوگوں کو جز اسلام قبول کر کر کے مدینہ میں آ رہے تھے ، ’’جلابیب‘‘ کہا کرتے تھے۔ لغوی معنی تو اس لفظ کے گلیم پوش یا موٹے جھوٹے کپڑے پہننے والے کے ہیں ، مگر اصل مفہوم جس میں وہ لوگ غریب مہاجرین کی تذلیل کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے تھے ، کنگلے کے لفظ سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔ ) کے مدد گار بن گئے ہو ‘‘۔ ابن ابی پہلے ہی کھول رہا تھا۔ ان باتوں سے وہ اور بھی زیادہ بھڑک اٹھا کہنے لگا ’’ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی، ان پر اپنے مال تقسیم کیے ، یہاں تک کہ اب یہ پھل پھول کر خود ہمارے ہی حریف بن گئے۔ ہماری اور ان قریش کے کنگلوں (یا اصحاب محمدؐ ) کی حالت پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرتا کہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ تم لوگ ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں۔ خدا کی قسم، مدینے واپس پہنچ کر ہم میں سے جو عزت والا بنے وہ ذلیل کو نکال دے گا‘‘۔

مجلس میں اتفاق سے حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے۔ انہوں نے یہ باتیں سن کر اپنے چچا سے ان کا ذکر کی، اور ان کے چچا نے جو انصار کے رئیسوں میں سے تھے ، جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کر دیا۔ حضرت نے زید کو بلا کر دریافت کیا تو انہوں نے جو کچھ سنا تھا من و عن دہرا دیا۔ (فقہاء نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ ایک شخص کی بری بات دوسرے شخص تک پہنچانا اگر کسی دینی، اخلاقی یا ملی مصلحت کے لیے ہو تو یہ چغلی کی تعریف میں نہیں آتا۔ شریعت میں جس چغل خوری کو حرام کیا گیا ہے وہ فساد کی غرض سے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لیے چغلی کھانا ہے۔ )حضورؐ نے فرمایا شاید تم ابن ابی سے ناراض ہو۔ ممکن ہے تم سے سننے میں کچھ غلطی ہو گئی ہو۔ ممکن ہے تمہیں شبہ ہو گیا ہو کہ ابن ابی یہ کہہ رہا ہے۔ مگر زید نے عرض کیا نہیں حضور، خدا کی قسم میں نے اس کو یہ باتیں کہتے سنا ہے۔ اس پر حضورؐ نے ابن ابی کو بلا کر پوچھا تو وہ صاف مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہر گز نہیں کہیں۔ انصار کے لوگوں نے بھی کہا کہ حضورؐ، لڑکے کی بات ہے۔ شاید اسے وہم ہو گیا ہو۔ یہ ہمارا شیخ اور بزرگ ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک لڑکے کی بات کا اعتبار نہ فرمایئے۔ قبیلے کے بڑے بوڑھوں نے زید کو بھی ملامت کی اور وہ بیچارے رنجیدہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ رہے۔ مگر حضورؐ زید کو بھی جانتے تھے اور عبداللہ بن ابی کو بھی، اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اصل بات کیا ہے۔

حضرت عمرؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آ کر عرض کیا ’’ مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ یا اگر مجھے یہ اجازت دینا مناسب خیال نہیں فرماتے تو خود انصار ہی میں سے معاذ بن جبل، یا عبّاد بن بشر، یا سعد بن معاذ، یا محمد بن مسلمہ کو حکم دیجیے (مختلف روایات انصاری بزرگوں کے نام آئے ہیں جن کے متعلق حضرت عمرؓ نے عرض کیا تھا کہ آپ ان میں سے کسی شخص سے یہ خدمت لے لیں اگر مجھ سے اس لیے یہ کام لینا مناسب خیال نہیں فرماتے کہ میں مہاجر ہوں ، میرے ہاتھوں اس کے مارے جانے سے فتنے بھڑک اٹھنے کا امکان ہے )۔ کہ وہ اسے قتل کر دیں ‘‘۔ مگر حضورؐ نے فرمایا، ’’ ایسا نہ کرو، لوگ کہیں گے کہ محمدؐ کے معمول کے لحاظ سے وہ کوچ کا وقت نہ تھا۔ مسلسل ۳۰ گھنٹے چلتے رہے یہاں تک کہ لوگ تھک کر چور ہو گئے۔ پھر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اور تھکے ہوئے لوگ زمین پر کمر ٹکاتے ہی سو  گئے۔ یہ آپ نے اس لیے کیا کہ جو کچھ میسیع کے کنوئیں پر پیش آیا تھا اس کے اثرات لوگوں کے ذہن سے محو ہو جائیں۔ راستے میں انصار کے ایک سردار حضرت اُسید بن حضیر آپ سے ملے اور عرض کیا ’’ یا رسول اللہ، آج آپ نے ایسے وقت کوچ کا حکم دیا جو سفت کے لیے موزوں نہ تھا اور آپ کبھی ایسے وقت میں سفر کا آغاز نہیں فرمایا کرتے تھے ‘‘؟ حضورؐ  نے جواب دیا، ’’ تم نے سنا نہیں کہ تمہارے ان صاحب نے کیا گوہر افشانی کی ہے ؟’’ انہوں نے پوچھا کون صاحب؟ فرمایا عبداللہ بن ابی۔ انہوں نے پوچھا اس نے کیا کہا؟ فرمایا ’’ اس نے کہا ہے کہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال باہر کرے گا ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا، ’’ یا رسول اللہ، خدا کی قسم، عزت والے تو آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے ، آپ جب چاہیں اسے نکال سکتے ہیں‘‘۔

رفتہ رفتہ یہ بات تمام انصار میں پھیل گئی اور ان میں ابن ابی کے خلاف سخت غصہ پیدا ہو گیا۔ لوگوں نے ابن ابی سے کہا جا رک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے معافی مانگو۔مگر اس نے تڑخ کر جواب دیا ’’ تم نے کہا کہ ان پر ایمان لاؤ۔ میں ایمان لے آیا تم جے کہا کہ اپنے مال کی زکوٰۃ دو۔ میں نے زکوٰۃ بھی دے دی۔ اب بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ میں محمدؐ کو سجدہ کروں ‘‘۔ ان باتوں سے اس کے خلاف مومنین انصار کی ناراضی اور زیادہ بڑھ گئی اور ہر طرف سے اس پر پھٹکار پڑنے لگی۔ جب یہ قافلہ مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگا تو عبداللہ بن ابی کے صاحبزادے ، بن کا نام بھی عبداللہ ہی تھا، تلوار سونت کر باپ کے آگے کھڑے ہو گئے اور بولے ،’’ آپ نے کہا تھا کہ مدینہ واپس پہنچ کر عزت والا ذیل کو نکال دے گا، اب آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عزت آپ کی ہے یا اللہ اور اس کے رسولؐ کی۔ خدا کی قسم، آپ مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ کو اجازت نہ دیں ’’۔ اس پر ابن ابی چیخ اٹھا،’’ خز رج کے لوگو ! ذرا دیکھو، میرا بیٹا ہی مجھے مدینہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے ‘‘۔ لوگوں نے یہ خبر حضورؐ تک پہنچائی  اور آپ نے فرمایا ’’ عبداللہ سے کہو، اپنے باپ کو گھر آنے دے ‘‘۔ عبد اللہؓ نے  کہا ’’ ان کا حکم ہے تو اب آپ داخل ہو سکتے ہیں ‘‘۔ اس وقت حضورؐ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا، ’’ کیوں عم، اب تمہارا کیا خیال ہے ؟ جس وقت تم نے کہا تھا کہ مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت دیجیے اس وقت اگر تم اسے قتل کر دیتے تو بہت سی ناکیں اس پر پھڑ کنے لگتیں۔ آج اگر میں اس کے قتل کا حکم دوں تو اسے قتل تک کیا جا سکتا ہے ‘‘۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا، ’’ خدا کی قسم اب مجھے معلوم ہو گیا کہ اللہ کے رسول کی بات میری بات سے زیادہ مبنی بر حکمت تھی‘‘۔(اس سے دو اہم شرعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ جو طرز عمل ابن بی نے اختیار کیا تھا، اگر کوئی شخص مسلم ملت میں رہتے ہوئے اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو وہ قتل کا مستحق ہے۔ دوسرے یہ کہ محض قانوناً کسی شخص کے مستحق قتل ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرور اسے قتل ہی کر دیا جائے۔ ایسے کسی فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے  کہ آیا اس کا قتل کسی عظیم تر فتنے کا موجب تو نہ بن جائے گا۔ حالات سے آنکھیں بن کر  کے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض اوقات اس مقصد کے خلاف بالکل اُلٹا نتیجہ پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک منافق اور مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہو تو اسے سزا دے کر مزید فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس اصل سیاسی طاقت کا استیصال کر دیا جائے جس کے بل پر وہ شرارت کر رہا ہو۔ یہی مصلحت تھے جس کی بنا پر حضورؐ نے عبداللہ بنا بی کو اس وقت بھی سزا نہ دی جب آپ اسے سزا دینے پر قادر تھے ، بلکہ اس کے ساتھ برابر نرمی کا سلوک کرتے رہے ، یہاں تک کہ دو تین سال کے اندر مدینہ میں منافقین کا زور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔ )

یہ تھے وہ حالات جن میں یہ سورت، اغلب یہ ہے کہ حضورؐ کے مدینہ پہنچنے کے بعد نازل ہوئی۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

اے نبی ﷺ جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ” ہم گواہی دیتے ہیں کہ آ پ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔” ہاں ‘ اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں (۱)۔

انہوں نے اپنی قسمتوں کو ڈھال بنا رکھا (۲) ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں (۳)۔ کیسی بری حرکت ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے (۴)۔

انہیں دیکھو تو ان کے جتے تمھیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ (۵) رہ جاؤ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں (۶)۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں (۷)۔ یہ پکے دشمن ہیں (۸)، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر (۱۰)، کدھر الٹے پھر اے جا رہے ہیں (۱۱)۔

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیئے مغفرت کی دعا کرے ، تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں (۱۲)۔ اے نبی ﷺ، تم چاہے ان کے لیئے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لیئے یکساں ہے ، اللہ ہر گز انہیں معاف نہ کرے (۱۳) گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں (۱۴) دیتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ  یہ منتشر ہو جائیں۔ حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے ، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے (۱۵) گا۔ حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیئے (۱۶)ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔

 

تفسیر

 

۱۔ یعنی جو بات وہ زبان سے کہہ رہے ہیں وہ ہے تو بجائے خود سچی، لیکن چونکہ ان کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جسے وہ زبان  سے ظاہر کر رہے ہیں ،اس لیے اپنے اس قول میں وہ جھوٹے ہیں کہ وہ آپ کے رسول ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ شہادت دو چیزوں سے مرکب ہوتی ہے۔ ایک وہ اصل بات جس کی شہادت دی جائے۔ دوسرے اس بات کے متعلق شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اب اگر بات بجائے خود بھی سچی ہو، اور شہادت دینے والے کا عقیدہ بھی  وہی ہو جس کو وہ زبان سے بیان کر رہا ہو، تو ہر لحاظ سے وہ سچا ہو گا۔ اور اگر بات اپنی جگہ جھوٹی ہو، لیکن شہادت دینے والا اسی کے حق ہونے کا عقیدہ بیان کرنے میں صادق ہے ، اور ایک دوسرے لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے ، کیونکہ جس بات کی وہ شہادت دے رہا ہے وہ بجائے خود غلط ہے۔ اس کے برعکس اگر بات اپنی جگہ سچی ہو لیکن شہادت دینے والے کا اپنا عقیدہ اس کے خلاف ہو، تو ہم اس لحاظ سے اس کو سچا کہیں گے کہ وہ صحیح بات کی شہادت دے رہا ہے ، اور اس لحاظ سے اس کو جھوٹا کہیں گے کہ اس کا اپنا عقیدہ وہ نہیں ہے جس کا وہ زبان سے اظہار کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مومن اگر اسلام کو بر حق کہے تو وہ ہر لحاظ سچا ہے۔ لیکن ایک یہودی اپنی یہودیت پر قائم رہتے ہوئے اس دین کو اگر بر حق کہے تو بات اس کی سچی ہو گی مگر شہادت اس کی جھوٹی قرار دی جائے گی، کیونکہ وہ اپنے عقیدے کے خلاف شہادت دے رہا ہے۔ اور اگر وہ اس دین کو باطل کہے ، تو ہم کہیں گے کہ بات اس کی جھوٹی ہے ، مگر شہادت وہ اپنے عقیدے کے مطابق سچی دے رہا ہے۔

۲۔ یعنی اپنے مسلمان اور مومن ہونے کا یقین دلانے کے لیے جو قَسمیں وہ کھاتے ہیں ، ان سے وہ ڈھال کا کام لیتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے غصے سے بچے رہیں اور ان کے ساتھ مسلمان وہ برتاؤ نہ کر سکیں جو کھُلے کھُلے دشمنوں سے کیا جاتا ہے۔

ان قَسموں سے مراد وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو وہ بالعموم اپنے ایمان کا یقین دلانے کے لیے کھایا کرتے تھے ، اور وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو اپنی کسی منافقانہ حرکت کے پکڑے جانے پر وہ کھاتے تھے  تاکہ مسلمانوں کو یہ یقین دلائیں کہ وہ حرکت انہوں نے منافقت کی بنا پر نہیں کی تھی، اور وہ قَسمیں بھی ہو سکتی ہیں جو عبداللہ بن ابی نے حضرت زید بن اَرقم کی دی ہوئی خبر کو جھٹلانے کے لیے کھائی تھیں۔ ان سب احتمالات کے ساتھ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو قَسم قرار دیا ہو کہ ’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘‘۔ اس آخری احتمال کی بنا پر رقہاء کے درمیان یہ بحث پیدا ہوئی ہے کہ کوئی شخص ’’ میں شہادت دیتا ہوں ‘‘ کے الفاظ کہہ کر کوئی بات بیان کرے تو آیا اسے قَسم یا حلف (Oath) قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے اصحاب (امام زُفَر کے سوا) اور امام سفیان ثوری اور امام اَوزاعی اسے حلف (شرعی اصطلاح میں یمین ) قرار دیتے ہیں۔ امام زفر کہتے ہیں کہ یہ حلف نہیں ہے۔ امام مالک سے دو قول مروی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مطلقاً حلف ہے ، اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر اس نے ’’ شہادت دیتا ہوں ‘‘ کے الفاظ کہتے وقت بیت یہ کی ہو کہ ’’خدا کی قَسم میں شہادت دیتا ہوں ‘‘، یا ’’ خدا کو گواہ کر کے میں شہادت دیتا ہوں ‘‘ تو اس صورت میں یہ حلفیہ بیان ہو گا ورنہ نہیں۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اگر کہنے والا یہ الفاظ بھی کہے کہ میں ’’ خدا کو گواہ کر کے شہادت دیتا ہوں ‘‘ تب بھی اس کا یہ بیان حلفیہ بیان نہ ہو گا، الا یہ الفاظ اس نے حلف اٹھانے کی نیت سے کہے ہوں (احکام القرآن للجصاص۔ احکام القرآن لابن العربی)۔

۳۔ صد کا لفظ عربی زبان میں لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ اس لیے صَدُّ وْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اللہ کے راستے سے خود رُکتے ہیں ، اور یہ بھی کہ وہ اس راستے سے دوسروں کو روکتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی درج کر دیے ہیں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اپنی ان قَسموں کے ذریعہ سے مسلمانوں کے اندر اپنی جگہ محفوظ کر لینے کے بعد وہ اپنے لیے ایمان کے تقاضے پورے نہ کرنے اور خدا و  رسول کی اطاعت سے پہلو تہی کرنے کی آسانیاں پیدا کر لیتے ہیں۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اپنی ان جھوٹی قَسموں کی آڑ میں وہ شکار کھیلتے ہیں ، مسلمان بن کر مسلمانوں کی جماعت میں اندر سے رخنے ڈالتے ہیں ، مسلمانوں کے اسرار سے واقف ہو کر دشمنوں کو ان کی خبریں پہنچاتے ہیں ، اسلام سے غیر مسلموں  کو بد گمان کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کے دلوں میں شبہات اور وسوسے ڈالنے کے لیے وہ وہ حربے استعمال کرتے ہیں جو صرف ایک مسلمان بنا ہوا منافق ہی استعمال کر سکتا ہے ، کھلا کھلا دشمن اسلام ان سے کام نہیں لے سکتا۔

۴۔ اس آیت میں ایمان لانے سے مراد ایمان کا اقرار کر کے مسلمانوں میں شامل ہونا ہے۔ اور کفر کر نے سے مراد دل سے ایمان نہ لانا اور اسی کفر پر قائم رہنا ہے جس پر وہ اپنے ظاہری اقرار ایمان سے پہلے قائم تھے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ جب انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر سیدھے سیدھے  ایمان یا صاف صاف کفر کا طریقہ اختیار رکنے کے بجائے یہ منافقانہ روش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور ان سے یہ توفیق سلب کر لی گئی کہ وہ ایک سچے اور بے لاگ اور شریف انسان کا سا رویہ اختیار کریں۔ اب ان کی سمجھ بوجھ کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے۔ ان کی اخلاقی حس مر چکی ہے۔ انہیں اس راہ پر چلتے ہوئے کبھی یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ شب و روز کا جھوٹ اور یہ ہر وقت کا مکر و فریب اور یہ قول و فعل کا دائمی تضاد، کیسی ذلیل حالت ہے جس میں انہوں نے اپنے آپ کو مبتلا کر لیا ہے۔

یہ آیت من جملہ ان آیات کے ہے جن میں اللہ کی طرف سے کسی کے دل پر مہر لگانے کا مطلب بالکل واضح طریقہ سے بیان کر دیا گیا ہے۔ ان منافقین کی یہ حالت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تھی اس لیے ایمان ان کے اندر اتر ہی نہ سکا اور وہ مجبوراً منافق بن کر رہ گئے۔ بلکہ اس نے ان کے دلوں پر یہ مہر اس وقت لگائی جب انہوں نے اظہار ایمان کرنے کے باوجود کفر پر قائم رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ تب ان سے مخلصانہ ایمان اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی رویہ کی توفیق سلب کر لی گئی اور اس منافقت اور منافقانہ اخلاق ہی کی توفیق انہیں دے دی گئی جسے انہوں نے خود اپنے لیے پسند کیا تھا۔

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا، تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔اور یہی شان اس کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ یہ سب مدینہ کے رئیس لوگ تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں آتے تو دیواروں سے تکیے لگا کر بیٹھتے اور بڑی لچھے دار باتیں کرتے۔ ان کے جُثّے بشرے کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر  کوئی یہ گمان تک نہ کر سکتا تھا کہ بستی کے یہ معززین اپنے کردار کے لحاظ سے اتنے ذلیل ہوں گے۔

۶۔ یعنی یہ جو دیواروں کے ساتھ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں ، یہ انسان نہیں ہیں بلکہ لکڑی کے کندے ہیں۔ ان کو لکڑی سے تشبیہ دے کر یہ بتایا گیا  کہ یہ اخلاق کی روح سے خالی ہیں جو اصل جو ہر انسانیت ہے۔ پھر انہیں دیوار سے لگے ہوئے کندوں سے تشبیہ دے کر یہ بھی بتا دیا گیا کہ یہ بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب کہ وہ کسی چھت میں ، یا کسی دروازے میں یا کسی فرنیچر میں لگ کر استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں  جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ بھی نہیں دیتی۔

۷۔ اس مختصر سے فقرے میں ان کے مجرم ضمیر کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ چونکہ وہ اپنے دلوں میں خوب جانتے تھے کہ وہ ایمان کے ظاہر پردے کی آڑ میں منافقت کا کیا کھیل کھیل رہے ہیں ، اس لیے انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کب ان کے جرائم کا راز فاش ہو، یا ان کی حرکتوں پر اہل ایمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور ان کی خبر لے ڈالی جائے۔ بستی میں کسی طرف سے بھی کوئی زور کی آواز آتی یا کہیں کوئی شور بلند ہوتا تھا تو وہ سہم جاتے اور یہ خیال کرتے تھے کہ آ گئی ہماری شامت۔

۸۔ دوسرے الفاظ میں کھلے دشمنوں کی بہ نسبت یہ چھپے ہوئے دشمن زیادہ خطرناک ہیں۔

۹۔ یعنی ان کے ظاہر سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ہر وقت خیال رکھو کہ یہ کسی وقت بھی دغا دے سکتے ہیں۔

۱۰۔ یہ بد دعا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں اس فیصلے کا اعلان ہے کہ وہ اس کی مار کے مستحق ہو چکے ہیں ، ان پر اس کی مار پڑ کر رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے لُغوی معنی میں استعمال نہ فرمائے ہوں بلکہ عربی محاورے کے مطابق لعنت اور پھٹکار اور مصمت کے لیے استعمال کیے ہوں ، جیسے اردو میں ہم کسی کی برائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ستیاناس اس کا، کیسا خبیث آدمی ہے۔ اس لفظ ستیاناس سے مقصود ا س کی خیانت کی شدت ظاہر کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس کے حق میں بد دعا کرنا۔

۱۱۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ایمان سے نفاق کی طرف الٹا پھرانے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس اوندھی چال کا کوئی ایک محرک نہیں ہے بلکہ بہت سے محرکات اس میں کار فرما ہیں۔ شیطان ہے۔ برے دوست ہیں۔ ان کے اپنے نفس کی اغراض ہیں۔ کسی کی بیوی اس کی محرک ہے۔ کسی کے بچے اس کے محرک ہیں۔ کسی کی براری کے اشرار اس کے محرک ہیں۔ کسی کو حسد اور بغض اور تکبر نے اس راہ پر ہانک دیا ہے۔

۱۲۔ یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ رسول کے پاس استغفار کے لیے آئیں ، بلکہ یہ بات سن کر غرور  اور تمکنت کے ساتھ سر کو جھٹکا دیتے ہیں اور رسول کے پاس آنے اور معافی طلب کرنے کو اپنی توہین سمجھ کر اپنی جگہ جمے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ ان کے مومن نہ ہونے کی کھلی علامت ہے۔

۱۳۔ یہ بات سورہ توبہ میں (جو سورہ منافقون کے تین سال بعد نازل ہوئی ہے ) اور زیادہ تاکید کے ساتھ فرما دی گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے منافقین کے متعلق فرمایا کہ ’’ تم چاہے ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر(۷۰) مرتبہ بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کرو گے تو اللہ  ان کو ہر گز معاف نہ کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے ، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ’’ (التوبہ۔ آیت ۸۰)۔ آگے چل کر پھر فرمایا’’ اگر ان میں سے کوئی مر جائے  تو اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے اور یہ فاسق ہونے کی حالت میں مرے ہیں ‘‘(التوبہ۔ آیت ۸۴)۔

۱۴۔ اس آیت میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ دعائے مغفرت صرف ہدایت یافتہ لوگوں ہی کے حق میں مفید ہو سکتی ہے۔ جو شخص ہدایت سے پھر گیا ہو اور جس نے اطاعت کے بجائے فسق و نا فرمانی کی راہ اختیار کر لی ہو، اس کے لیے کوئی عام آدمی تو در کنار، خود اللہ کا رسول بھی مغفرت کی دعا کرے تو اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے یہ کہ ایسے لوگوں کو ہدایت بخشنا اللہ کا طریقہ نہیں ہے جو اس کی ہدایت کے طالب نہ ہوں۔اگر ایک بندہ خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے منہ موڑ رہا ہو، بلکہ ہدایت کی طرف اسے بلایا جائے تو سر جھٹک کر غرور کے ساتھ اس دعوت کو رد کر دے ، تو اللہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنی ہدایت لیے پھرے اور خوشامد کرے اسے راہ راست پر لائے۔

۱۵۔ حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن ابی کا یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچایا، اور اس نے آ کر صاف انکار کر دیا اور اس پر قَسم کھا گیا، تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے اور خود میرے اپنے چچا نے مجھے بہت ملامت کی، حتیٰ کہ مجھے یہ محسوس ہو ا کہ حضورؐ نے بھی مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا سمجھا ہے۔ اس چیز سے مجھے ایسا غم لاحق ہوا جو عمر بھی کبھی نہیں ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا لڑکے کا کان سچا تھا، اللہ نے اس کی خود تصدیق فرما دی (ابن جریر۔ترمذی میں بھی اس سے ملتی جلتی روایت موجود ہے )۔

۱۶۔ یعنی عزت اللہ کے لیے بالذات مخصوص ہے ، اور رسول کے لیے بر بنائے رسالت، اور مومنین کے لیے بر بنائے ایمان۔ رہے کفار و فُسّاق و منافقین، تو حقیقی عزت میں سرے سے ان کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔

 

ترجمہ

 

اے (۱۷) لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں (۱۸)۔ جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ جو رزق ہم نے تمھیں دیا ہے اس میں خرچ کر و قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے  اور اس وقت وہ کہے کہ ” اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا “۔ حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اس کو ہر گز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔ ؏

 

تفسیر

 

۱۷۔ اب تمام ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں ، قطع  نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار ایمان کرنے والے ، عام خطاب کر کے ایک کلمۂ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ بیان کر چکے ہیں کہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے ، اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں کیونکہ وہ زبانی اقرار ایمان کرنے والے ہوا کرتے ہیں ،اور کبھی ہر طرح کے مسلمان بالعموم اس سے مراد ہوتے ہیں۔ کلام کا موقع و محل یہ بتا دیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ ان الفاظ کی مخاطب ہے۔

۱۸۔ مال اور اولاد کا ذکر تو خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ انسان زیادہ تر انہی کے مفاد کی خاطر ایمان کے تقاضوں سے منہ موڑ کر منافقت، یا ضعف ایمان، یا فسق و نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے ، ورنہ در حقیقت مراد دنیا کی ہر وہ چیز ہے جو انسان کو اپنے اندر اتا مشغول کر لے کہ وہ خدا کی یاد سے غافل ہو جائے۔ یہ یاد خدا سے غفلت ہی ساری خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر انسان کو یہ یاد رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے ، اور وہ خدا اس کے تمام اعمال سے با خبر ہے ، اور اس کے سامنے جا کر ایک دن اسے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے ، تو وہ کبھی کسی گمراہی و بد عملی میں مبتلا نہ ہو، اور بشری کمزوری سے اس کا قدم اگر کسی وقت پھسل بھی جائے تو ہوش آتے ہی وہ فوراً سنبھل جائے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۴) سورہ التغابن

 

نام

 

آیت نمبر ۹ کے فقرے ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُن سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورۃ جس میں لفظ تغابن آیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مقاتل اور کَلْبی کہتے ہیں کہ اس کا کچھ حصہ مکی ہے اور کچھ مدنی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابتدا سے آیت ۱۳ تک مکی ہے اور آیت ۱۴ سے آخر سورۃ تک مدنی۔ مگر مفسرین کی اکثریت پوری سورۃ کو مدنی قرار دیتی ہے۔ اگر چہ اس میں کوئی اشارہ ایسا نہیں پایا جاتا جس سے اس کا زمانہ نزول متعین کیا جا سکتا ہو، لیکن مضمون کلام پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ اسی وجہ سے اس میں کچھ رنگ مکی سورتوں کا سا اور کچھ مدنی سورتوں کا سا پایا جاتا ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس سورہ کا موضوع ایمان و طاعت کی دعوت اور اخلاق حسنہ کی تعلیم ہے۔ کلام کی ترتیب یہ ہے کہ پہلی چار آیتوں کا خطاب تمام انسانوں سے ہے ، پھر آیت ۵ سے ۱۰ تک ان لوگوں سے خطاب کیا گیا ہے جو قرآن کی دعوت کو نہیں مانتے ، اور اس کے بعد نمبر ۱۱ سے آخر تک کی آیات کا روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس دعوت کو مانتے ہیں۔

تمام انسانوں کو خطاب کر کے چند مختصر فقروں میں انہیں چار بنیادی حقیقتوں سے آگاہ  کیا گیا ہے :

اول یہ کہ یہ کائنات، جس میں تم رہتے ہو، بے خدا نہیں ہے بلکہ اس کا خالق اور مالک اور فرمانروا ایک ایسا قادر مطلق خدا ہے جس کے کامل اور بے عیب ہونے کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز دے رہی ہے۔

دوسرے یہ کہ یہ کائنات بے مقصد اور بے حکمت نہیں ہے بلکہ اس کے خالق نے اسے سراسر بر حق پیدا کیا ہے۔ یہاں اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ ایک فضول تماشا ہے جو عبث ہی شروع ہوا اور عبث ہی ختم ہو جائے گا۔

تیسرے یہ کہ تمہیں جس بہترین صورت کے ساتھ خدا نے پیدا کیا ہے اور پھر جس طرح کفر و ایمان کا اختیار تم پر چھوڑ دیا ہے ، یہ کوئی لا حاصل اور لایعنی کام نہیں ہے کہ تم خواہ کفر اختیار کرو یا ایمان، دونوں صورتوں میں اس کا کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہو۔ در اصل خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ تم اپنے اس اختیار کوکس طرح استعمال کرتے ہو۔

چوتھے یہ کہ تم غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں ہو۔ آخر کار تمہیں اپنے خالق کی طرف پلٹ کر جانا ہے اور اس ہستی سے تمہیں سابقہ پیش آنا ہے جو کائنات کی ہر چیز سے واقف ہے ، جس سے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں ، جس پر دلوں کے چھپے ہوئے خیالات تک روشن ہیں۔

کائنات اور انسان کی حقیقت کے بارے میں یہ چار بنیادی باتیں بیان کرنے کے بعد کلام کا رخ ان لوگوں کی طرف مڑتا ہے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ، اور انہیں تاریخ کے اس منظر کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جو پوری انسانی تاریخ میں مسلسل نظر آتا ہے کہ قوموں پر قومیں اٹھتی ہیں اور بالآخر تباہی سے دوچار ہوتی ہیں۔ انسان اپنی عقل سے اس منظر کی ہزار توجہیں کرتا رہا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قوموں کی تباہی کے بنیادی اسباب صرف دو تھے :

ایک یہ کہ اس نے جن رسولوں کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا، ان کی بات ماننے سے انہوں نے انکار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ خود ہی اپنے فلسفے گھڑ گھڑ کر ایک گمراہی سے دوسری گمراہی میں بھٹکتی چلی گئیں۔

دوسرے یہ کہ انہوں نے آخرت کے عقیدے کو بھی رد کر دیا اور اپنے زعم میں یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ ہے جس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے جس میں ہی اپنے خدا کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہو۔ اس چیز نے ان کے پورے رویہ زندگی کو بگاڑ کر رکھ دیا اور ان کے اخلاق و کردار کی گندگی اس حد تک بڑھتی چلی گئی کہ آخر کار خدا کے عذاب ہی نے آ کر دنیا کو ان کے وجود سے پاک کیا۔

تاریخ انسانی کے یہ دو سبق آموز حقائق بیان کر کے منکرین حق کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہوش میں آئیں اور اگر پچھلی قوموں کا سا انجام نہیں دیکھنا چاہتے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور ہدایت پر ایمان لے آئیں جو اللہ نے قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آخر کار وہ دن آنے والا ہے جب تمام اولین و آخرین ایک جگہ جمع کیے جائیں گے اور تم میں سے ہر ایک کا غبن سب کے سامنے کھل جائے گا۔ پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمام انسانوں کی قسمت کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا کہ ایمان و عمل صالح کی راہ کس نے اختیار کی تھی، اور کفر و تکذیب کی رہ پر کون چلا تھا۔ پہلا گروہ ابدی جنت کا حق دار ہو گا اور دوسرے گروہ کے حصے میں دائمی جہنم آئے گی۔

اس کے بعد ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کو مخاطب کر کے چند اہم ہدایات انہیں دی جاتی ہیں :

ایک یہ کہ دنیا میں جو مصیبت بھی آتی ہے ، اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ ایسے حالات میں جو شخص ایمان پر ثابت قدم رہے ، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ، ورنہ گھبراہٹ یا جھنجلاہٹ میں مبتلا ہو کر جو آدمی ایمان کی راہ سے ہٹ جائے، اس کی مصیبت تو اللہ کے اذن کے بغیر دور نہیں ہو سکتی، البتہ وہ ایک اور مصیبت، جو سب سے بڑی مصیبت ہے ، مول لے لیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا دل اللہ کی ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ‘

دوسرے یہ کہ مومن کا کام صرف ایمان لے آنا ہی نہیں ہے بلکہ ایمان لانے کے بعد اسے عملاً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اطاعت سے اگر وہ رو گردانی اختیار کرے گا تو اپنے نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہو گا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حق پہنچا کر بری الذمہ ہو چکے ہیں۔

تیسرے یہ کہ مومن کا اعتماد اپنی طاقت یا دنیا کی کسی طاقت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔

چوتھے یہ کہ مومن کے لیے اس کا مال اور اس کے اہل و عیال ایک بہت بڑی آزمائش ہیں کیونکہ زیادہ تر انہی کی محبت انسان کو ایمان و طاعت کی راہ سے منحرف کرتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو اپنے اہل و عیال سے ہوشیار رہنا چاہیے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کے حق میں راہ خدا کے رہزن نہ بننے پائیں ، اور انہیں اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے تاکہ ان کا جنس زر پر ستی کے فتنوں سے محفوظ رہے۔

پانچویں یہ کہ ہر انسان اپنی استطاعت کی حد تک ہی مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرے۔ البتہ مومن کو جس بات کی کوشش کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اپنی حد تک خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے میں وہ کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور اس کی گفتار، کردار اور معاملات اس کی اپنی کوتاہی کے باعث حدود اللہ سے متجاوز نہ ہو جائیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے (۱)۔ اسی کی بادشاہی ہے (۲ّ) اور اسی کے لیے تعریف ہے (۳)  اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (۴)۔  وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن(۵)، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو(۶)۔ اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے ، اور اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے (۷)۔ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو(۸) سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے (۹)۔

کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے (۱۰)۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ ان کے پاس ان کی رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے (۱۱)، مگر انہوں نے کہا ’’ کیا انسان ہی میں ہدایت دیں گے ؟‘‘(۱۲) اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود(۱۳)۔

منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے (۱۴)۔ ان سے کہا’’ نہیں ، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے (۱۵)، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں ) کیا کچھ کیا ہے (۱۶)، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے (۱۷)‘‘

پس ایمان لاؤ اللہ پر، اور اس کے رسول پر، اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے (۱۸)۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ (اس کا پتا تمہیں اس روز چل جائے گا ) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا(۱۹)۔ وہ دن ہو گا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا۔ (۲۰) جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے (۲۱)، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے (۲۲) وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔ ؏۱

 

تفسیر

 

۱۔ تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ الحدید، حاشیہ ۱۔ بعد کے مضمون پر غور کرنے سے یہ بات خود سمجھ میں آ جاتی ہے کہ کلام کا آغاز  اس فقرے سے کیوں کیا گیا ہے۔ آگے کائنات بے مقصد اور بے حکمت نہیں بنائی ہے۔ اور انسان یہاں غیر ذمہ دار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے کہ جو کچھ چاہے کرتا پھرے ، کوئی اس سے باز پُرس کرنے والا نہ ہو۔ اور اس کائنات کا فرمانروا کوئی شہِ بے خبر نہیں ہے کہ اس کی سلطنت میں جو کچھ ہو رہا ہو اس کا کوئی علم اسے نہ ہو۔ اس مضمون کی بہترین تمہید وہی ہو سکتی تھی جو اس مختصر سے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ موقع و محل کے لحاظ سے اس تمہید کا مطلب یہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں کی انتہائی وسعتوں تک جدھر بھی تم نگاہ گے ، اگر تم عقل کے اندھے نہیں ہو تو تمہیں صاف محسوس ہو گا کہ ایک ذرے سے لے کر عظیم ترین کہکشانوں تک ہر چیز نہ صرف خدا کے وجود پر گواہ ہے بلکہ اس بات کی گواہی بھی دے رہی ہے کہ اس کا خدا ہر عیب اور نقص اور کمزوری اور غلطی سے پاک ہے۔ اس کی ذات و صفات، اور اس کے افعال و احکام میں کسی عیب و خطا، یا کسی کمزوری اور نقص کا ادنیٰ درجے میں بھی کوئی احتمال ہوتا تو یہ کمال درجہ حکیمانہ نظام وجود ہی میں  نہ آ سکتا تھا،کجا کہ ازل سے ابد تک ایسے اٹل طریقہ سے چل سکتا۔

۲۔ یعنی یہ پوری کائنات تنہا اسی کی سلطنت ہے۔ وہ صرف ا س کو بنا کر اور ایک دفعہ حرکت دے کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہی عملاً اس پر ہر آن حکومت کر رہا ہے۔ اس حکومت و فرمان روائی میں کسی دوسرے کا قطعاً کوئی دخل یا حصہ نہیں ہے۔ دوسروں کو اگر عارضی طور پر اور محدود پیمانے پر اس کائنات میں کسی جگہ تصرف یا ملکیت یا حکمرانی کے اختیارات حاصل ہیں تو وہ ان کے ذاتی اختیارات نہیں ہیں جو انہیں اپنے زور پر حاصل ہوئے ہوں ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ہیں ، جب تک اللہ چاہے وہ انہیں حاصل رہتے ہیں ، اور جب چاہے وہ انہیں سلب کر سکتا ہے۔

۳۔ با لفاظ دیگر وہی اکیلا تعریف کا مستحق ہے ، دوسری جس  ہستی میں بھی کوئی قابل تعریف خوبی پائی جاتی ہے وہ اسی کی عطا کی ہوئی ہے۔ اور اگر حمد کا شکر کے معنی میں لیا جائے تو شکر کا بھی اصل مستحق وہی ہے ، کیونکہ ساری نعمتیں اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ساری مخلوقات کا حقیقی محسن اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ دوسری کسی ہستی کے کسی احسان کا  ہم شکر یہ ادا کرتے ہیں تو اس بنا پر کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنی نعمت اس کے ہاتھوں ہم تک پہنچائی، ورنہ وہ خود نہ اس نعمت کا خالق ہے ، نہ اللہ کی توفیق کے بغیر وہ اس نعمت کو ہم تک پہنچا سکتا تھا۔

۴۔ یعنی وہ قادر مطلق ہے۔ جو کچھ کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ کوئی طاقت اس کی قدرت کو محدود کرنے والی نہیں ہے۔

۵۔ اس کے چار مفہوم ہیں اور چاروں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں :

ایک یہ کہ وہی تمہارا خالق ہے ، پھر  تم میں سے کوئی اس کے خالق ہونے کا انکار کرتا ہے اور کوئی اس حقیقت کو مانتا ہے۔ یہ مفہوم پہلے اور دوسرے فقرے کو ملا کر پڑھنے سے متبادر ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اسی نے تم کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ تم کفر اختیار  کرنا چاہو تو کر سکتے ہو، اور ایمان  لانا چاہو تو لا سکتے ہو۔ ایمان و کفر میں سے کسی کے اختیار کرنے پر بھی اس نے تمہیں مجبور نہیں کیا ہے۔ اس لیے اپنے ایمان و کفر، دونوں کے تم خود ذمہ دار ہو۔ اس مفہوم کی تائید بعد کا یہ فقرہ کرتا ہے کہ ’’ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو‘‘۔ یعنی اس نے یہ اختیار دے کر تمہیں امتحان میں ڈالا ہے اور سہ دیکھ رہا ہے کہ تم اپنے اس اختیار کو کس طرح استعمال کرتے ہو۔

تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اس نے تو تم کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا تھا جس کا تقاضا یہ تھا کہ تم سب ایمان کی راہ اختیار کرتے ، مگر اس صحیح فطرت پر پیدا ہونے کے بعد تم میں سے بعض لوگوں نے کفر اختیار کیا جو ان کی خلقت و  آفرینش کے خلاف تھا، اور بعض نے ایمان کی راہ اختیار کی جو ان کی فطرت کے مطابق تھی۔ یہ مضمون اس آیت کو سورہ روم کی آیت ۳۰ کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے سمجھ میں آتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ یک سُو ہو کر اپنا رخ اس دین پر جمدو، قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت نہ بدلی جائے، یہی بالکل راست اور درست دین ہے ‘‘۔ اور اسی مضمون پر وہ متعدد احادیث روشنی ڈالتی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بار بار یہ فرمایا ہے کہ ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور بعد میں خارج سے کفر و شرک اور گمراہی اس پر عارض ہوتی ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، تفسیر سورہ روم، حواشی ۴۲ تا ۴۷)۔ اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتب آسمانی نے بھی انسان کے پیدائشی گناہگار ہونے کا وہ تصور پیش نہیں کیا ہے جسے ڈیڑھ ہزار سال سے عیسائیت  نے اپنا بنیادی عقیدہ بنا رکھا ہے۔ آج خود کیتھولک علماء یہ کہنے لگے ہیں کہ بائیبل میں اس عقیدے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ چنانچہ بائیبل کا ایک مشہور جرمن عالم ریورینڈ ہر برٹ ہاگ (Haog ) اپنی تازہ کتاب Is Original  Sin In Scripture    میں لکھتا ہے کہ ابتدائی دور کے عیسائیوں میں کم از کم تیسری صدی تک یہ عقیدہ سرے سے موجود ہی نہ تھا کہ انسان پیدائشی گنہگار ہے ، اور جب یہ خیال لوگوں میں پھیلنے لگا تو دو صدیوں تک عیسائی اہل علم اس کی تردید کرتے رہے۔ مگر آخر کار پانچویں صدی میں سینٹ آگسٹائن نے اپنی منطق کے زور سے اس بات کو مسیحیت کے بنیادی عقائد میں شامل کر دیا کہ ’’ نوع انسانی نے آدم کے گناہ کا وبال وراثت میں پایا ہے اور مسیح کے کفارے کی بدولت نجات پانے کے سوا انسان کے لیے کوئی راہ نجات نہیں ہے۔‘‘

چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ہی تم کو عدم سے وجود میں لایا۔ تم نہ تھے اور پھر ہو گئے۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا کہ اگر تم اس پر سیدھے اور صاف طریقے سے غور و فکر کرتے اور یہ دیکھتے کہ وجود ہی وہ اصل نعمت ہے جس کی بدولت تم دنیا کی باقی دوسری نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہو، تو تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے خالق کے مقابلہ میں کفر و بغاوت کا رویہ اختیار  کیا جو فکر صحیح کا تقاضا تھا۔

۶۔ اس فقرے میں ’’ دیکھنے ‘‘ کا مطلب محض دیکھنا ہی نہیں ہے ، بلکہ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جیسے تمہارے اعمال ہیں ان کے مطابق تم کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی حاکم اگر کسی شخص کو اپنی ملازمت میں لے کر یہ کہے کہ ’’میں دیکھتا ہوں تم کس طرح کام کرتے ہو ‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹھیک طرح کام کرو گے تو تمہیں انعام اور ترقی سے نوازوں گا، ورنہ تم سے سخت مواخذہ کروں گا۔

۷۔ اس آیت میں تین باتیں علی الترتیب بیان کی گئی ہیں جن کے درمیان ایک بہت گہرا منطقی ربط ہے۔

پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ نے یہ کائنات بر حق پدا کی ہے۔ ’’برحق‘‘ کا لفظ جب خبر کے لیے بولا جاتا ہے تو مراد ہوتی ہے سچی خبر۔ حکم کے لیے بولا جاتا ہے تو مطلب ہوتا ہے مبنی بر عدل و انصاف حکم۔ قول کے لیے بولا جاتا ہے تو مقصود ہوتا ہے راست اور درست قول۔ اور جب کسی فعل کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو مراد ایسا فعل ہوتا ہے جو حکیمانہ اور معقول ہو نہ کہ لا یعنی اور فضول۔ اب یہ ظاہر ہے کہ خَلْق ایک فعل ہے ، اس لیے تخلیق کائنات کو بر حق کہنے کا مطلب لا محالہ یہ ہے کہ یہ کائنات کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی گئی ہے بلکہ یہ ایک خالق حکیم کا نہایت سنجیدہ کام ہے۔ اس کی ہر چیز اپنے پیچھے ایک معقول مقصد رکھتی ہے ، اور یہ مقصدیت اس میں اتنی نمایا ں ہے کہ اگر کوئی صاحب عقل انسان کسی چیز کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لے تو یہ جان لینا اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا کہ ایسی ایک چیز کے پیدا کرنے کا معقول اور مبنی بر حکمت مقصد کیا ہو سکتا ہے۔ دنیا میں انسان کی ساری سائنٹفک ترقی اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جس چیز کی نوعیت کو بھی انسان نے غور و فکر اور تحقیق و تجسس سے سمجھ لیا اس کے بارے میں یہ بات بھی اسے آخر کار معلوم ہو گئی کہ وہ کس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے ، اور اس مقصد کو سمجھ کر ہی انسان نے وہ بے شمار چیزیں ایجاد کر لیں جو آج انسانی تمدن میں استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ بات ہر گز ممکن نہ ہوتی اگر یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھلونا ہوتی جس میں کوئی حکمت اور مقصدیت کار فرما نہ ہوتی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، سورہ انعام، حاشیہ ۴۶۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ ۷۵۔ الروم، حاشیہ ۶۔ جلد چہارم، الدخان، حاشیہ ۳۴۔ الجاثیہ، حاشیہ ۲۸ )۔

دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا ہے۔ صورت سے مراد محض انسان کا چہرہ نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد اس کی پوری جسمانی ساخت ہے اور وہ قوتیں اور صلاحیتیں بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں جو اس دنیا میں کام کرنے کے لیے آدمی کو عطا کی گئی ہیں۔ ان دونوں حیثیتوں سے انسان کو زمین کی مخلوقات میں سب سے بہتر بنایا ہے ، اور اسی بنا پر وہ  اس قابل ہوا ہے کہ ان تمام موجودات پر حکمرانی کرے جو زمین اور اس کے گرد و پید میں پائی جاتی ہیں۔ اس کو کھڑا قد دیا گیا ہے۔ اس کو چلنے کے لیے مناسب ترین پاؤں دیے گئے ہیں۔اس کو کام کرنے کے لیے موزوں ترین ہاتھ دیئے گئے ہیں۔ اس کو ایسے حواس اور ایسے آلات علم دیے گئے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ ہر طرح کی معلومات حاصل کرتا ہے۔ اس کو سوچنے اور سمجھنے اور معلومات کو جمع کر کے ان سے نتائج اخذ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا ہے۔ اس کو ایک اخلاقی حِس اور قوت تمیز دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ بھلائی اور برائی اور صحیح اور غلط میں فرق کرتا ہے۔ اس کو ایک قوت فیصلہ دی گئی ہے جس سے کام  لے کر وہ اپنی راہ عمل کا خود انتخاب کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ اپنی کوششوں کو کس راستے پر لگائے اور کس پر نہ لگائے۔ اس کو یہاں تک آزادی دے دی گئی ہے کہ چاہے تو اپنے خالق کو مانے اور اس کی بندگی کرے ورنہ اس کا انکار کر دے ، یا جن جن کو چاہے اپنا خدا بنا بیٹھے ، یا جسے خدا مانتا ہو اس کے خلاف بھی بغاوت کرنا چاہے تو کر گزرے۔ ان ساری وقتوں اور ان سارے اختیارات کے ساتھ اسے خدا نے اپنی پیدا کردہ بے شمار مخلوقات پر تصرُّف کرنے کا اقتدار دیا ہے اور وہ عملاً اس اقتدار کو استعمال کر رہا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، المؤمن ، حاشیہ ۹۱)۔

ان دو باتوں سے جو اوپر بیان کی گئی ہیں بالکل ایک منطقی نتیجہ کے طور پر وہ تیسری بات خود بخود نکلتی ہے جو آیت کے تیسرے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے کہ ’’ اسی کی طرف آخر کار تمہیں پلٹنا ہے ‘‘۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایسے ایک حکیمانہ اور با مقصد نظام کائنات میں ایسی ایک با اختیار مخلوق پیدا کی گئی ہے تو حکمت کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسے یہاں شتر بے مہار کی طرح غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا جائے، بلکہ لازماً اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ مخلوق اس ہستی کے سامنے جواب دہ ہو جس نے اسے ان اختیارات کے ساتھ اپنی کائنات میں یہ مقام و مرتبہ عطا کیا ہے۔ ’’پلٹنے ‘‘ سے مراد اس آیت میں محض پلٹنا نہیں ہے بلکہ جواب دہی کے لیے پلٹنا ہے ، اور بعد کی آیات میں صراحت کر دی گئی ہے کہ یہ واپسی اس زندگی میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ہو گی، اور اس کا اصل وقت وہ ہو گا جب پوری نوع انسانی کو از سر نو زندہ کر کے بیک وقت محاسبہ کے لیے اکٹھا کیا جائے گا، اور اس محاسبے کے نتیجے میں جزا و سزا اس بنیاد پر ہو گی کہ آدمی نے خدا کے دیے ہوئے اختیارات کو صحیح طریقے سے استعمال کیا یا غلط طریقے سے۔ رہا یہ سوال کہ یہ جواب دہی دنیا کی موجودہ زندگی میں کیوں نہیں ہو سکتی ؟اور اس کا صحیح وقت مرنے کے بعد دوسری زندگی ہی کیوں ہے ؟ اور یہ کیوں ضروری ہے کہ یہ جواب دہی اس وقت ہو جب پوری نوع انسانی اس دنیا میں ختم ہو جائے اور تمام اولین و آخر ین کو بیک وقت دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے  ؟ آدمی ذرا بھی عقل سے کام لے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ بھی سراسر معقول ہے اور حکمت و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ محاسبہ دوسری زندگی ہی میں ہو اور سب انسانوں کا ایک ساتھ ہو۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے پورے کارنامہ حیات کے لیے جواب دہ ہے۔ اس لیے اس کی جواب دہی کا صحیح وقت لازماً وہی ہونا چاہیے جب اس کا کارنامہ حیات مکمل ہو چکا ہو۔ اور دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان ان تمام اثرات و نتائج کے لیے ذمہ دار ہے جو اس کے افعال سے دوسروں کی زندگی پر مترتب ہوئے ہوں ، اور وہ اثرات و نتائج اس کے مرنے کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے بعد مدت ہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا صحیح محاسبہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب پوری نوع انسانی کا کارنامہ حیات ختم ہو جائے اور تمام اولین و آخر ین بیک وقت جواب دہی کے لیے جمع کیے جائیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۳۰۔ یونس، حواشی ۱۰۔ ۱۱۔ ہود، حاشیہ ۱۰۵۔ النحل، حاشیہ ۳۵۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ ۹۔ النمل، حاشیہ ۲۷۔ الروم، حواشی ۵۔۶۔جلد چہارم، ص، حواشی ۲۸۔ ۳۰۔ المؤمن، حاشیہ ۸۰۔ الجاشیہ، حواشی ۲۷ تا ۲۹ )۔

۸۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ جو کچھ تم چھپ کر کرتے ہو اور جو کچھ تم علانیہ کرتے ہو‘‘۔

۹۔ یعنی وہ انسان کے صرف ان اعمال ہی سے واقف نہیں ہے جو لوگوں کے علم میں آ جاتے ہیں بلکہ ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو سب سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ مزید براں وہ محض اعمال کی ظاہر شکل ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کے ہر عمل کے پیچھے کیا ارادہ اور کیا مقصد کار فرما تھا اور جو کچھ اس نے کیا کس نیت سے کیا اور کیا سمجھتے ہوئے کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پر انسان غور کرے تو اسے اندازہ ہو سکتا ہے انصاف صرف آخرت ہی میں ہو سکتا ہے اور صرف خدا ہی کی عدالت میں صحیح انصاف ہونا ممکن ہے۔ انسان کی عقل خود یہ تقاضا کرتی ہے کہ آدمی کو اس کے ہر جرم کی سزا ملنی چاہیے ، لیکن آخر یہ بات کون نہیں جانتا کہ دنیا میں اکثر و بیشتر جرائم یا تو چھپے رہ جاتے ہیں یا ان کے لیے کافی شہادت بہم نہ پہنچنے کی وجہ سے مجرم چھوٹ جاتا ہے ، یا جرم کھل بھی جاتا ہے تو مجرم اتنا با اثر اور طاقتور ہوتا ہے کہ اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ پھر انسان کی عقل یہ بھی چاہتی ہے کہ آدمی کو محض اس بنا پر سزا نہیں ملنی چاہیے کہ اس کے فعل کی صورت ایک مجرمانہ فعل کی سی ہے ، بلکہ یہ تحقیق ہونا چاہیے کہ جو فعل اس نے کیا ہے بالارادہ سوچ سمجھ کر کیا ہے ، اس کے ارتکاب کے وقت وہ ایک ذمہ دار عامل کی حیثیت سے کام کر رہا تھا، اس کی نیت فی الواقع ارتکاب جرم ہی کی تھی، اور وہ جانتا تھا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہ جرم ہے۔ اسی لیے دنیا کی عدالتیں مقدمات کا فیصلہ کرنے میں ان امور کی تحقیق کرتی ہیں اور ان کی تحقیق کو اصول انصاف کا تقاضا مانا جاتا ہے۔ مگر کیا واقعی دنیا میں کوئی ذریعہ ایسا پایا جاتا ہے جس سے ان کی ٹھیک ٹھیک تحقیق ہو سکے جو ہر شبہ سے بالا تر ہو ؟ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے گہرا منطقی ربط رکھتی ہے کہ ’’ اس نے زمین اور آسمانوں کو بر حق پیدا کیا ہے ‘‘۔ بر حق پیدا کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات میں صحیح اور کامل عدل ہو۔ یہ عدل لازماً اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جبکہ عدل کرنے والے کی نگاہ سے انسان جیسی ذمہ دار مخلوق کا نہ صرف یہ کہ کوئی فعل چھپا نہ رہ جائے بلکہ وہ نیت بھی اس سے مخفی نہ رہے جس کے ساتھ کسی شخص نے کوئی فعل کیا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ خالق کائنات کے سوا کوئی دوسری ہستی ایسی نہیں ہو سکتی جو اس طرح کا عدل کر سکے۔ اب اگر کوئی شخص اللہ اور آخرت کا انکار کرتا ہے تو وہ گویا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم ایک ایسی کائنات میں رہتے ہیں جو فی الحقیقت انصاف سے خالی ہے ، بلکہ جس میں  سے انصاف کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ اس احمقانہ تخیل پر جس شخص کی عقل اور جس کا قلب و ضمیر مطمئن ہو وہ بڑا ہی بے شرم ہے اگر وہ اپنے آپ کو ترقی پسند یا عقلیت پسند سمجھتا ہو اور ان لوگوں کو تاریک خیال یا رجعت پسند سمجھے جو کائنات کے اس انتہائی معقول  (Rational) تصور کو قبول کرتے ہیں جسے قرآن پیش کر رہا ہے۔ ۱۰۔ یعنی دنیا میں انہوں نے شامت اعمال کا جو مزا چکھا وہ ان کے جرائم کی نہ اصل سزا تھی نہ پوری سزا۔ اصلی اور پوری سزا تو ابھی آخرت میں ان کو بھگتنی ہے۔ لیکن دنیا میں جو عذاب ان پر آیا اس سے لوگ یہ سبق لے سکتے ہیں کہ جن قوموں نے بھی اپنے رب کے مقابلے میں کفر کا رویہ اختیار کیا وہ کس طرح بگڑتی چلی گئیں اور آخر کس انجام سے دوچار ہوئیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۵۔۶۔ ہود، حاشیہ ۱۰۵)۔

۱۱۔ اصل میں لفظ بینات استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ بین عربی زبان میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بالکل ظاہر اور واضح ہو، انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ بینات لے کر آتے رہے ، یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک تو وہ ایسی صریح علامات اور نشانیاں لے کر آتے تھے جو ان کے مامور من اللہ ہونے کی کھلی کھلی شہادت دیتی تھیں۔ دوسرے ، وہ جو بات بھی پیش کرتے تھے نہایت معقول اور  روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کرتے تھے۔ تیسرے ، ان کی تعلیم میں کوئی ابہام نہ تھا، بلکہ وہ صاف صاف بتاتے تھے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جائز کیا ہے اور ناجائز کیا، کس راہ پر انسان کو چلنا چاہیے اور کس راہ پر نہ چلنا چاہیے۔

۱۲۔ یہ تھی ان کی تباہی کی اولین اور بنیادی وجہ۔ نوع انسانی کو دنیا میں صحیح راہ عمل اس کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کا خالق اسے صحیح علم دے ، اور خالق کی طرف سے علم دیے جانے کی عملی صورت اس کے سوا کچھ نہ ہو سکتی تھی کہ وہ انسانوں ہی میں سے بعض افراد کو علم عطا کر کے دوسروں تک اسے پہنچانے کی خدمت سپرد کرے۔ اس غرض کے لیے اس نے انبیاء کو بینات  کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگوں کے لیے ان کے بر حق ہونے میں شک کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ رہے۔مگر انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کر دیا کہ بشر خدا کا رسول ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ان کے لیے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہ رہی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورہ یٰس، حاشیہ  ۱۱ )۔ اس معاملہ میں گمراہ انسانوں کی جہالت و نادانی کا یہ عجیب کرشمہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ بشر کی رہنمائی قبول کرنے میں تو انہوں نے کبھی تامل نہیں کیا ہے ، حتیٰ کہ ان ہی کی رہنمائی میں لکڑی اور  پتھر کے بتوں تک کو معبود بنایا، خود انسانوں کو خدا اور خدا کا اوتار اور  خدا کا بیٹا تک مان لیا،اور گمراہ کن لیڈروں کی اندھی پیروی میں ایسے ایسے عجیب مسلک اختیار کر لیے جنہوں نے انسانی تہزیب و تمدن اور خلاق کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔ مگر جب خدا کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے اور انہوں نے ہر ذاتی غرض سے بالا تر ہو کر بے لاگ سچائی ان کے سامنے پیش کی تو انہوں نے کہا ’’ کیا با بشر ہیں ہدایت دیں گے ’’؟ اس کے معنی یہ تھے کہ نشر اگر گمراہ کرے تو سر آنکھوں پر، لیکن اگر وہ راہ راست دکھاتا ہے تو اس کی رہنمائی قابل قبول نہیں ہے۔

۱۳۔ یعنی جب انہوں نے اللہ  کی بھیجی ہوئی ہدایت سے استغنا برتا تو پھر اللہ کو بھی اس کی کچھ پروا نہ رہی کہ وہ کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں۔ اللہ کی کوئی غرض تو ان سے اٹکی ہوئی نہ تھی کہ وہ اسے خدا مانیں گے تو وہ خدا رہے گا ورنہ خدائی کا ٹکٹ اس سے چھن جائے گا۔ وہ نہ ان کی عبادت کا محتاج تھا، نہ ان کی حمد و ثنا کا۔ وہ تو ان کی اپنی بھلائی کے لیے انہیں راہ راست دکھانا چاہتا تھا مگر جب وہ اس سے منہ پھیر گئے تو اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا۔ پھر نہ ان کو ہدایت دی، نہ ان کی حفاظت اپنے ذمہ لی، نہ ان کو مہالک میں پڑنے سے بچایا اور نہ انہیں اپنے اوپر تباہی لانے سے روکا، کیونکہ وہ خود اس کی ہدایت اور  ولایت کے طالب نہ تھے۔

۱۴۔ یعنی ہر زمانے میں منکرین حق دوسری جس بنیادی گمراہی میں مبتلا رہے ہیں ، اور جو بالآخر ان کی تباہی کی موجب ہوئی، وہ یہ تھی۔ اگر چہ کسی منکر آخرت کے پاس نہ پہلے یہ جاننے کا کوئی ذریعہ تھا،نہ آج ہے ، نہ کبھی ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔ لیکن ان نادانوں نے ہمیشہ برے زور کے ساتھ یہی دعویٰ کیا ہے ، حالانکہ قطعیت کے ساتھ آخرت کا انکار کر دینے کے لیے نہ کوئی عقلی بنیاد موجود ہے نہ علمی بنیاد۔

۱۵۔ یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ سے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی قسم کھا کر لوگوں سے کہو کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔ پہلے سورہ یونس میں فرمایا : وَیَسْتَنْبِئُوْ نَکَ اَحَقٌّ ھُوَ، قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۔ ’’ وہ پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ حق ہے ؟ کہو، میرے رب کی قسم یہ یقیناً حق ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہور میں آنے سے روک دو‘‘(آیت ۵۳)۔ پھر سورہ سبا میں فرمایا : وَقَا لَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَأ تِیْنَا السَّاعَۃُ، قُلْ بَلیٰ وَرَبِّی لَتَأ تِیَنَّ کُمْ۔ ’’ منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہے ! کہو، قسم ہے میرے رب کی وہ تم پر آ کر رہے گی‘‘ (آیت ۳۰)۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک منکر آخرت کے لیے آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ اسے آخرت کے آنے کی خبر قسم کھا کر دیں یا قسم کھائے بغیر دیں ؟  وہ جب اس چیز کو نہیں مانتا تو محض اس بنا پر کیسے مان لے گا کہ آپ قسم کھا کر اس سے یہ بات کہہ رہے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مخاطب وہ لوگ تھے جو اپنے ذاتی علم اور تجربے کی بنا پر یہ بات خوب جانتے تھے کہ یہ شخص کبھی عمر بھر جھوٹ نہیں بولا ہے ، اس لیے چاہے زبان سے وہ آپ کے خلاف کیسے ہی بہتان گھڑتے رہے ہوں ، اپنے دلوں میں وہ یہ تصور تک نہ کر سکتے تھے کہ ایسا سچا انسان کبھی خدا کی قسم کھا کر وہ بات کہہ سکتا ہے جس کے بر حق ہونے کا اسے کامل یقین نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ آپؐ محض آخرت کا عقیدہ ہی بیان نہیں کرتے تھے ، بلکہ اس کے لیے نہایت معقول دلائل بھی پیش فرماتے تھے۔ مگر جو چیز نبی اور غیر نبی کے درمیان فرق کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک غیر نبی آخرت کے حق میں جو مضبوط سے مضبوط دلائل دے سکتا ہے ان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ نس یہی ہو سکتا ہے کہ آخرت کے نہ ہونے کی بہ نسبت اس کا ہونا معقول تر اور اغلب تسلیم کر لیا جائے۔ اس کے برعکس نبی کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالا تر ہے۔ اس کی اصل حیثیت یہ نہیں ہے کہ عقلی استدلال سے وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہو کہ آخرت ہونی چاہیے۔ بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ آخرت ہو گی اور یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ اس لیے ایک نبی ہی قسم کھا کر یہ بات کہہ سکتا ہے ، ایک فلسفی اس پر قسم نہیں کھا سکتا۔ اور آخرت پر ایمان ایک نبی کے بیان ہی سے پیدا ہو سکتا ہے ، فلوسفی کا استدلال اپنے اندر یہ وقت نہیں رکھتا کہ دوسرا شخص تو در کنار، فلسفی خود بھی اپنی دلیل کی بنا پر اپنا ایمانی عقیدہ بنا سکے۔ فلسفی اگر واقعی صحیح الفکر فلسفی ہو تو وہ ’’ ہونا چاہیے ‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ’’ ہے اور یقیناً ہے ‘‘ کہنا صرف ایک بی کا کام ہے۔

۱۶۔ یہ وہ مقصد ہے جس کے لیے بنی آدم کو مرنے کے بعد دو بارہ اٹھایا جائے گا،اور اسی میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ ایسا کرنے کی آخر ضرورت کیا ہے۔ اگر وہ بحث آدمی کی نگاہ میں ہو جو سورۃ کے آغاز سے آیت نمبر ۴ تک کی گئی ہے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس بر حق کائنات میں جس مخلوق کو کفر و ایمان میں سے کسی ایک راہ کے اختیار کرنے کی آزادی دی گئی ہو، اور جسے اس کائنات میں بہت سی چیزوں پر تصرف کا اقتدار بھی عطا کیا گیا ہو، اور جس نے کفر یا ایمان کی راہ اختیار کر رکے عمر بھر اپنے اس اقتدار کو صحیح یا غلط طریقے سے استعمال کر کے بہت سی بھلائیاں یا بہت سی برائیاں خود اپنی ذمہ داری پر کی ہوں ، اس کے بارے میں یہ تصور کرنا انتہائی غیر معقول ہے کہ یہ سب کچھ جب وہ کر چکے تو آخر کار بھلے کی بھلائی اور برے کی برائی، دونوں بے نتیجہ رہی اور سرے سے کوئی وقت ایسا آئے ہی نہیں جب اس مخلوق کے اعمال کی جانچ پڑتا ل ہو۔ جو شخص ایسی غیر معقول بات کہتا ہے وہ لا محالہ دو حماقتوں میں ے ایک حماقت کا ارتکاب کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ کائنات ہے تو مبنی بر حکمت، مگر یہاں انسان جیسی با اختیار مخلوق کو غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک الل ٹپ بنی ہوئی کائنات ہے جسے بنانے میں سرے سے کسی حکیم کی حکمت کار فرما نہیں ہے۔ پہلی صورت میں وہ ایک متناقض بات کہتا ہے کیونکہ مبنی بر حکمت کائنات میں ایک با اختیار مخلوق کا غیر ذمہ دار ہونا صریحاً خلاف عدل  و حکمت ہے۔اور دوسری صورت میں وہ اس بات کی کوئی معقول توجیہ نہیں کر سکتا کہ ایک الل ٹپ بنی ہوئی نے حکمت کائنات میں انسان جیسی ذی عقل مخلوق کا وجود میں آنا آخر ممکن کیسے ہوا اور اس کے ذہن میں عدل و انصاف کا تصور کہاں سے آ گیا؟ بے عقلی کی عقل کی پیدائش اور بے عدلی سے عدل کا تصور برآمد ہو جانا ایک ایسی بات ہے جس کا قائل یا تو ایک ہٹ دھرم آدمی ہو سکتا ہے ، یا پھر وہ جو بہت زیادہ فلسفہ بگھارتے بگھارتے دماغی مریض ہو چکا ہو۔

۱۷۔ یہ آخرت کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل آخرت کے ضروری ہونے کی تھی، اور یہ دلیل اس کے ممکن ہونے کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس خدا کے لیے کائنات کا اتنا بڑا نظام بنا دینا دشوار نہ تھا اور جس کے لیے اس دنیا میں انسانوں کو پیدا کرنا دشوار نہیں ہے ، اس کے لیے یہ بات آخر کیوں دشوار ہو گی کہ انسانوں کو دو بارہ پیدا کر کے اپنے سامنے حاضر کرے اور ان کا حساب لے۔

۱۸۔ یعنی جب یہ واقعہ ہے اور پوری انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ قوموں کی تباہی کا اصل موجب ان کا رسولوں کی بات نہ ماننا اور آخرت کا انکار کرنا تھا، تو اسی غلط روش پر چل کر اپنی شامت بلانے پر اصرار نہ کرو اور اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کی پیش کردہ ہدایت پر ایمان لے آلو۔ یہاں سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ روشنی سے مراد قرآن ہے۔ جس طرح روشنی خود نمایاں ہوتی ہے اور گردو پیش کی ان تمام چیزوں کو نمایاں کر دیتی ہے جو پہلے تاریکی میں چھپی ہوئی تھیں ، اسی طرح قرآن ایک ایسا چراغ ہے جس کا بر حق ہونا بجائے خود روشن ہے ، اور اس کی روشنی میں انسان ہر اس مسئلے کو سمجھ سکتا ہے جسے سمجھنے کے لیے اس کے اپنے ذرائع علم و عقل کافی نہیں۔ یہ چراغ جس شخص کے پاس ہو وہ فکر و عمل کی بے شمار پر پیچ راہوں کے درمیان حق کی سیدھی راہ صاف صاف دیکھ سکتا ہے اور عمر بھر صراط مستقیم پر اس طرح چل سکتا ہے کہ ہر قدم پر اسے یہ معلوم ہوتا رہے کہ گمراہیوں کی طرف لے جانے والی پگ ڈنڈیاں کدھر کدھر جا رہی ہیں اور ہلاکت کے گڑھے کہاں کہاں آ رہے ہیں اور سلامتی کی راہ ان کے درمیان کون سی ہے۔

۱۹۔ اجتماع کے دن سے مراد قیامت، اور سب کو اکٹھا کرنے سے مراد ہے تمام ان انسانوں کو بیک وقت زندہ کر کے جمع کرنا جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک دنیا میں پیدا ہوئے ہوں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں جگہ جگہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ ہود میں فرمایا ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْ عٌ  لَّہُ النَّاسْ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ، ’’ وہ ایک ایسا دن ہو گا جس میں سب انسان جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہو گا سب کی آنکھوں کے سامنے ہو گا‘‘(آیت ۱۰۳)۔ اور سورہ واقعہ میں فرمایا : قُلْ اِنَّ الْاَ وَّ لِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلیٰ مِیْقَا تِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ، ’’ ان سے کہو کہ تمام پہلے گزر ے ہوئے اور بعد میں آنے والے لوگ یقیناً  ایک مقرر دن کے وقت جمع کیے جانے والے ہیں ‘‘ (آیت ۵۰)۔

۲۰۔ اصل میں لفظ یَوْمُ التَّغابُنِ استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ اردو زبان تو کیا، کسی دوسرے زبان کے بھی ایک لفظ، بلکہ ایک فقرے میں اس کا مفہوم ادا نہیں کیا جا سکتا۔ خود قرآن مجید میں بھی قیامت کے جتنے نام آئے ہیں ، ان میں غالباً سب سے زیادہ پُر معنی نام یہی ہے۔ اس لیے اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تشریح ناگزیر ہے۔

تغابُن غبن سے ہے جس کا تلفظ غَبُن بھی ہے اور غَبَن بھی۔ غَبُن زیادہ تر خرید و فروخت اور لین دین کے معاملہ میں بولا جاتا ہے اور غَبَن رائے کے معاملہ میں۔ لیکن کبھی کبھی اس کے بر عکس بھی استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں : غَبَنُوا خَبَرالنَّاقَۃ، ’’ ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ ان کی اونٹنی کہاں گئی‘‘۔ غَبَنَ فُلَاناً فِی الْبَیْعِ، ’’ اس نے فلاں شخص کو خرید و فروخت میں دھوکا دے دیا’’۔ اس نے فلاں شخص کو گھاٹا دے دیا ‘‘۔ غَبِنْتُ مِنْ حَقِّ عِنْدِ فلانٍ، ’’ فلاں شخس سے اپنا حق وسول کرنے میں مجھ سے بھول ہو گئی ‘‘ غَبِیْن، ’’ وہ شخص جس میں ذہانت کی کمی ہو اور جس کی رائے کمزور ہو‘‘ مَغْبُوْن، ’’ وہ شخص جو دھوکا کھا جائے‘‘۔ لاغبن، الغفلۃ، النسیان، فوت الحظ، ان یبخس صاحبک فی معاملۃ بینک و بینہ لضرب من الاخفاء، ’’ غبن کے معنی ہیں غفلت، بھول،اپنے حصے سے محروم رہ جانا، ایک شخص کا کسی غیر محسوس طریقے سے کارو بار یا باہمی معاملہ میں دوسرے کو نقصان دینا‘‘۔ امام حسن بصریؒ نے دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو بیع میں دھوکا دے رہا ہے تو فرمایا ھٰذٰا یغبن عقلک ’’ یہ شخص تجھے بیوقوف بنا رہا ہے ‘‘۔

اس سے جب لفظ تغابُن بنایا جائے تو اس میں دو یا زائد آدمیوں کے درمیان غبن واقع ہونے کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ تَغَا بَنَ الْقَوْمُ کے معنی ہیں بعض لوگوں کا بعض لوگوں کے ساتھ غبن کا معاملہ کرنا۔ یا ایک شخص کا دوسرے کو نقصان پہنچانا اور دوسرے کا اس کے ہاتھوں نقصان اٹھا جانا۔ یا ایک کا حصہ دوسرے کو مل جانا اور اس کا اپنے حصے سے محروم رہ جاتا۔ یا تجارت میں ایک فریق کا خسارہ اٹھانا اور دوسرے فریق کا نفع اٹھا لے جانا۔ یا کچھ لوگوں کا کچھ دوسرے لوگوں کے مقالہ میں غافل یا ضعیف الرائے ثابت ہونا۔

اب اس بات پر غور کیجیے کہ آیت میں قیامت کے متعلق فرمایا گیا ہے ذٰلِکَ یَوْ مُ التَّغَابُنِ،’’وہ دن ہو گا تغابن کا ‘‘۔ ان الفاظ سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ دنیا میں تو شب و روز تغابن ہوتا ہی رہتا ہے ، لیکن یہ تغابن ظاہری اور نظر فریب ہے ، اصل اور حیقی تغابن نہیں ہے۔ اصل تغابن قیامت کے روز ہو گا۔ وہاں جا کر  پتہ چلے گا کہ اصل میں خسارہ کس نے اٹھایا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں کس کا حصہ کسے مل گیا اور کون اپنے حصے سے محروم رہ گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا اور کون ہوشیار نکلا۔اصل میں کس نے اپنا تمام سرمایۂ حیات ایک غلط کاروبار میں کھپا کر اپنا دیوالہ نکال دیا، اور کس نے اپنی قوتوں اور قابلیتوں اور مساعی اور اموال اور اوقات کو نفع کے سودے پر لگا کر وہ سارے فائدے لوٹ لیے جو پہلے شخص کو بھی حاصل ہو سکتے تھے اگر وہ دنیا کی حقیقت سمجھنے میں دھوکا نہ کھاتا۔

مفسرین نے یوم التغابن کی تفسیر کرتے ہوئے اس کے متعدد مطلب بیان کیے ہیں جو سب کے سب صحیح ہیں اور اس کے معنی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس روز اہل جنت اہل دوزخ جنتیوں کا وہ حصہ لوٹ لیں گے جو انہیں دوزخ میں ملتا اگر انہوں نے دنیا میں دوزخیوں کے سے کام کیے ہوتے۔ اس مضمون کی تائید بخاری کی وہ حدیث کرتی ہے جو انہوں نے کتاب الرِقاق میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’ جو شخص بھی جنت میں جائے گا اسے وہ مقام دیا جائے گا جو اسے دوزخ میں ملتا اگر وہ بُرا عمل کرتا، تاکہ وہ اور زیادہ شکر گزار ہو۔ اور جو شخص بھی دوزخ میں جائے گا اسے وہ مقام دکھا دیا جائے گا جو اسے جنت میں ملتا اگر اس نے نیک عمل کیا ہوتا، تاکہ اسے اور زیادہ حسرت ہو ‘‘

بعض اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس روز ظالم کی اتنی نیکیاں مظلوم لوٹ لے جائے گا جو اس کے ظلم کا بدلہ ہو سکیں ، یا مظلوم کے اتنے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے جو اس کے حق کے برابر وزن رکھتے ہوں۔ اس لیے کہ قیامت کے روز آدمی کے پاس کوئی مال و زر تو ہو گا نہیں کہ وہ مظلوم کا حق ادا کرنے کے لیے کوئی ہرجانہ یا تاوان دے سکے۔ وہاں تو بس آدمی کے اعمال ہی ایک زر مبادلہ ہوں گے۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا میں کسی پر ظلم کیا ہو وہ مظلوم کا حق اسی طرح ادا کر سکتے گا کہ اپنے پلے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتا ہو ان میں سے اس کا تاوان ادا کرے ، یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے کر اس کا جرمانہ بھگتے۔ یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہے۔ بخاری، کتاب الرقاق میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا، ’’ جس شخص کے ذمہ اپنے کسی بھائی پر کسی قسم کے ظلم کا بار ہو اسے چاہیے کہ یہیں اس سے سبکدوش ہولے ، کیونکہ آخرت میں دینار و درہم تو ہوں گے ہی نہیں۔ وہاں اس کی نیکیوں میں سے کچھ لے کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی، یا اگر اس کے پاس نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے ‘‘۔ اسی طرح مسند احمد میں حضرت جابر بن عبداللہ بن اُنیس کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ’’ کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں اس وقت تک نہ جا سکے گا جب تک کہ اس ظلم کا بدلہ نہ چکا دیا جائے جو اس نے کسی پر کیا ہو، حتیٰ کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی دینا ہو گا‘‘۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا جبکہ قیامت میں ہم ننگے بُچّے ہوں گے ؟ فرمایا ’’ اپنے اعمال کی نیکیوں اور بدیوں سے بدلہ چکانا ہو گا‘‘۔ مسلم اور مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں لوگوں سے پوچھا، ’’ جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے ؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا ہم میں سے مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال متاع کچھ نہ ہو۔ فرمایا ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز نماز اور روزہ اور زکوٰۃ ادا کر کے حاضر ہوا ہو، مگر اس حال میں آیا ہو کہ کسی کو اس نے گالی دی تھی اور کسی پر بہتان لگایا تھا اور کسی کا مال مار کھایا تھا اور کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا پیٹا تھا۔ پھر ان سب مظلوموں میں سے ہر ایک پر اس کی نیکیاں لے لے کر بانٹ دی گئیں۔  اور جب نیکیوں میں سے کچھ نہ بچا جس سے ان کا بدلہ چکا یا جا سکے تو ان میں سے ہر ایک کے کچھ کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیے گئے، اور وہ شخص دوزخ میں پھینک دیا گیا‘‘۔ ایک اور حدیث میں ، جسے مسلم اور ابو داؤد نے حضرت بُریدہ  سے نقل کیا ہے ، حضورؐ نے فرمایا کہ ’’ کسی مجاہد کے پیچھے اگر کسی شخص نے اس کی بیوی اور  اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خیانت کی تو قیامت کے روز وہ اس مجاہد کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا کہ اس کی نیکیوں میں سے جو کچھ تو چاہے لے لے ’’ پھر حضورؐ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’ پھر تمہارا کیا خیال ہے ‘‘؟ یعنی تم کیا اندازہ کرتے ہو کہ وہ اس کے پاس کیا چھوڑ دے گا؟

بعض اور مفسرین نے کہا ہے کہ تغابن کا لفظ  زیادہ تر تجارت کے معاملہ میں بولا جاتا ہے۔ اور قرآن مجید میں جگہ جگہ اس رویے کو جو کافر اور مومن اپنی دنیا کی زندگی میں اختیار کرتے ہیں ، تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مومن اگر نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اطاعت اختیار کرتا ہے اور اپنی جان، مال اور محنتیں خدا کے راستے میں کھپا دیتا ہے تو گویا وہ گھاٹے کا سودا چھوڑ کر ایک ایسی تجارت میں اپنا سرمایہ لگا رہا ہے جو آخر کار نفع دینے والی ہے۔ اور ایک کافر اگر اطاعت کی راہ چھوڑ کر خدا کی نا فرمانی اور بغاوت کی راہ میں اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے تو گویا وہ ایک ایسا تاجر ہے جس نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے اور آخر کار وہ اس کا خسارہ اٹھانے والا ہے۔ دونوں کا نفع اور نقصان قیامت کے روز ہی کھلے گا۔ دنیا میں یہ ہو سکتا ہے کہ مومن سراسر گھاٹے میں رہے اور کافر بڑے فائدے حاصل کرتا ہے۔ مگر آخرت میں جا کر معلوم ہو جائے گا کہ اصل میں نفع کا سودا کس نے کیا ہے اور نقصان کا سودا کس نے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں : البقرہ، آیات ۱۶۔ ۱۷۵۔ ۲۰۷۔ آل عمران ۷۷۔ ۱۷۷۔ النساء ۷۴۔ التوبہ  ۱۱۱۔ النحل ۹۵۔ فاطر ۲۹۔ الصف ۱۰۔

ایک اور سورت تغابن کی یہ بھی ہے کہ دنیا میں لوگ کفر و فسق اور ظلم و عصیان پر بڑے اطمینان سے آپس میں تعاون کرتے رہتے ہیں اور یہ اعتماد رکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان بڑی گہری محبت اور دوستی ہے۔ بد کردار خاندانوں کے افراد، ضلالت پھیلانے والے پیشوا اور ان کے پیرو، چوروں اور ڈاکوؤں کے جتھے ، رشوت خور اور ظالم افسروں اور ملازمین کے گٹھ جوڑ، بے ایمان تاجروں ، صنعت کاروں اور زمینداروں کے گروہ، گمراہی اور شرارت و خباثت برپا کرنے والی پارٹیاں اور بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں ظلم و فساد کی علمبردار حکومتیں اور قومیں ، سب کا باہمی ساز باز اسی اعتماد پر قائم ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ تعلق رکھنے والے افراد اس گمان میں ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے بڑے اچھے رفیق ہیں اور ہمارے درمیان بڑا کامیاب تعاون چل رہا ہے۔ مگر جب یہ لوگ آخرت میں پہنچیں گے تو ان پر یکایک یہ بات کھلے گی کہ ہم سب نے بہت بڑا دھوکا کھایا ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرے گا کہ جسے میں اپنا بہترین باپ بھائی، بیوی، شوہر، اولاد، دوست، رفیق، لیڈر، پیر، مرید، یا حامی و مدد گار سمجھ رہا تھا وہ در اصل میرا بد ترین دشمن تھا۔ ہر رشتہ داری اور دوستی اور عقیدت و محنت، عداوت میں تبدیل ہو جائے گی۔ سب ایک دوسرے کو گالیاں دین گے ، ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ، اور ہر ایک یہ چاہے گا کہ اپنے جرائم کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر اسے سخت سے سخت سزا دلوائے۔ یہ مضمون بھی قرآن  میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے جس کے چند مثالیں حسب ذیل آیات میں دیکھی جا سکتی ہیں : البقرہ ۱۶۷۔ الاعراف ۳۷ تا ۳۹۔ ابراہیم ۲۱۔ ۲۲۔ المومنون ۱۰۱۔ العنکبوت ۱۲۔۱۳۔۲۵۔ لقمٰن ۳۳۔ الاحزاب ۶۷۔۶۸۔سبا ۳۱ تا ۳۳۔ فاطر ۱۸۔ الصّٰفّٰت  ۲۷ تا ۳۳۔ صٓ۵۹ تا ۶۱۔حٰم السجدہ ۲۹۔ الزخرف ۶۷۔ الدخان ۴۱۔ المعارج ۱۰تا ۱۴۔عبس ۳۴ تا ۳۷۔

۲۱۔ اللہ پر ایمان لانے سے مراد محض یہ مان لینا نہیں ہے کہ اللہ موجود ہے ، بلکہ اس طریقے سے ایمان لانا مراد ہے جس طرح اللہ نے خود اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے بتایا ہے۔ اس ایمان میں ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتاب آپ سے آپ شامل ہے۔ اسی طرح نیک عمل سے مراد بھی ہر وہ عمل نہیں ہے جسے آدمی نے خود نیکی سمجھ کر یا انسانوں  کے کسی خود ساختہ معیار اخلاق کی پیروی کرتے ہوئے اختیار کر لیا ہو، بلکہ اس سے مراد وہ عمل صلح ہے جو خدا کے بھیجے ہوئے قانون کے مطابق ہو۔لہٰذا کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ رسول اور کتاب کے واسطے کے بغیر اللہ کو ماننے اور نیک عمل کرنے کے وہ نتائج ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ قرآن مجید کا جو شخص بھی سوچ سمجھ کر مطالعہ کرے گا اس سے یہ بات پوشیدہ نہ رہے گی کہ قرآن کی رو سے اس طرح کے کسی ایمان کا نام ایمان باللہ اور کسی عمل کا نام عمل صالح سرے سے ہے ہی نہیں۔

۲۲۔ یہ الفاظ خود کفر کے مفہوم کو واضح کر دیتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیا ت کو اللہ کی آیات نہ ماننا،اور ان حقائق کو تسلیم نہ کرنا جو ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں ، اور ان احکام کی پیروی سے انکار کر دینا جو ان میں ارشاد ہوئے ہیں ، یہی کفر ہے اور اس کے نتائج وہ ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔

 

ترجمہ

 

کوئی(۲۳) مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے (۲۴)۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے (۲۵)، اور اللہ کو ہر چیز کا علم (۲۶)۔ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی طاعت کرو۔ لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑ تے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے (۲۷)۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے (۲۸)۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ، ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم عفو و در گزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے (۲۹)۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں ، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے (۳۰)۔ لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو،(۳۱)، اور سنو اور اطاعت کرو، اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں (۳۲)۔ اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا(۳۳) اور تمہارے قصوروں سے در گزر فرمائے گا،اللہ بڑا قدر دان اور برد بار ہے (۳۴)، حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے۔ع

 

تفسیر

 

۲۳۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے۔ اس سلسلہ کلام کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ مسلمانوں کے لیے سخت مصائب کا زمانہ تھا۔ مکہ سے برسوں ظلم سہنے کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آ گئے تھے۔ اور مدینے میں جن حق پر ستوں نے ان کو پناہ دی تھی ان پر دہری مصیبت آ پڑی تھی۔ ایک طرف انہیں سینکڑوں مہاجرین کو سہارا دینا جو عرب کے مختلف حصوں سے ان کی طرف چلے آ رہے تھے ، اور دوسری طرف پورے عرب کے اعدائے اسلام ان کے درپے آزاد ہو گئے تھے۔

۲۴۔ یہ مضمون سورہ الحدید، آیات ۲۲۔ ۲۳ میں  بھی گزر چکا ہے اور وہاں حواشی نمبر ۳۹ تا ۴۲ میں ہم اس کی تشریح کر چکے ہیں۔ جن حالات میں اور جس مقصد کے لیے یہ بات وہاں فرمائی گئی تھی، اسی طرح کے حالات میں اسی مقصد کے لیے اسے یہاں دہرایا گیا ہے۔ جو حقیقت مسلمانوں کے ذہن نشین کرنی مقصود ہے وہ یہ ہے کہ نہ مصائب خود آ جاتے ہیں ، نہ دنیا میں کسی کی یہ طاقت ہے کہ اپنے اختیار سے جس پر جو مصیبت چاہے نازل کر دے۔ یہ تو سراسر اللہ کے اِذن پر موقوف ہے کہ کسی پر کوئی مصیبت نازل ہونے دے یا نہ ہونے دے۔ اور اللہ  کا اذن بہر حال کسی نہ کسی مصلحت کی بنا پر ہوتا ہے جسے انسان نہ جانتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔

۲۵۔ یعنی مصائب کے ہجوم میں جو چیز انسان کو راہ راست پر قائم رکھتی ہے اور کسی سخت سے سخت حالت میں بھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتی وہ صرف ایمان باللہ ہے۔ جس کے دل میں ایمان نہ ہو وہ آفات کو یا تو اتفاقات کا نتیجہ سمجھتا ہے ، یا دنیوی طاقتوں کو ان کے لانے اور روکنے میں مؤثر مانتا ہے ، یا انہیں ایسی خیالی طاقتوں کا عمل سمجھتا ہے جنہیں انسانی اوہام نے نفع و ضرر پہنچانے پر قادر فرض کر لیا ہے ، یا خدا کو فاعِل مختار مانتا تو ہے مگر صحیح ایمان کے ساتھ نہیں مانتا۔ ان تمام مختلف صورتوں میں آدمی کم ظرف ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک خاص حد تک تو وہ مصیبت سہہ لیتا ہے ، لیکن اس کے بعد وہ گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ ہر آستانے پر جھک جاتا ہے۔ ہر ذلت قبول کر لیتا ہے۔ ہر کمینہ حرکت کر سکتا ہے۔ ہر غلط کام کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ خدا کو گالیاں دینے سے بھی نہیں چوکتا۔ حتیٰ کہ خود کشی تک کر گزرتا ہے۔ اس کے بر عکس جو شخص یہ جانتا اور سچے دل سے مانتا ہو کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس کائنات کا مالک و فرمانروا ہے ، اور اسی کے اذن سے مصیبت آتی اور اسی کے حکم سے تل سکتی ہے ، اس کے دل کو اللہ صبر و تسلیم اور رضا بقضاء کی توفیق دیتا ہے ، اس کو عزم اور ہمت کے ساتھ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بخشتا ہے ، تاریک سے تاریک حالات میں بھی اس کے سامنے اللہ کے فضل کی امید کا چراغ روشن رہتا ہے ،اور کوئی بڑی سے بڑی آفت بھی اس کو اتنا پست ہمت نہیں ہونے دیتی کہ وہ راہ راست سے ہٹ جائے، یا باطل کے آگے سر جھکا دے ، یا اللہ کے سوا کسی اور کے در پر اپنے درد کا مداوا ڈھونڈنے لگے۔ اس طرح ہر مصیبت نہیں رہتی بلکہ نتیجے کے اعتبار سے سراسر رحمت بن جاتی ہے ، کیونکہ خواہ وہ اس کا شکار وہ کر رہ جائے یا اس سے بخیریت گزر جائے، دونوں صورتوں میں وہ اپنے رب کی ڈالی ہوئی آزمائش سے کامیاب ہو کر نکلتا ہے۔ اسی چیز کو ایک متفق علیہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے : عجباً للمؤمن، لا یقیضی اللہ لہ قضاءً الا کان خیراً الہٰ، ان اصا بتْہ ضَرّاء صؓر، فکان خیراً لہٗ، وان اصابَتہ سرّاء شکر، فکان خیراً الہ، ولیس ذالک لِاَ حدٍ الّا المؤمن۔ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اللہ اس کے حق میں جو فیصلہ بھی کرتا ہے وہ اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ مصیبت پڑے تو صبر کرتا ہے ، اور وہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ خوشحالی میسر آئے تو شکر کرتا ہے ، اور وہ بھی اس کے لیے اچھا ہی ہوتا ہے۔ یہ بات مومن کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوتی‘‘۔

۲۶۔ اس سلسلہ کلام میں اس ارشاد کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کو معلوم ہے کہ کون شخص واقعی ایمان رکھتا ہے اور کس شان کا ایمان رکھتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے علم کی بنا پر اسی قلب کو ہدایت بخشتا ہے جس میں ایمان ہو، اور اسی شان کی ہدایت بخشتا ہے جس شان کا ایمان اس میں ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے مومن بندوں کے حالات سے اللہ بے خبر نہیں ہے۔ اس نے ایمان کی دعوت دے کر، اور اس ایمان کے ساتھ دنیا کی شدید آزمائشوں میں ڈال کر انہیں ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس مومن پر دنیا میں کیا کچھ گزر رہی ہے اور وہ کن حالات میں اپنے ایمان کے تقاضے کس طرح پورے کر رہا ہے۔ اس لیے اطمینان رکھو کہ جو مصیبت بھی اللہ کے اذن سے تم پر نازل ہوتی ہے ، اللہ کے علم میں ضرور اس کی کوئی عظیم مصلحت ہوتی ہے اور اس کے اندر کو۴ی بڑی خیر پوشیدہ ہوتی ہے ، کیونکہ اللہ اپنے مومن بندوں کا خیر خواہ ہے ، بلا وجہ انہیں مصائب میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا۔

۲۷۔ سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اچھے حالات ہوں یا برے حالات، ہر حال میں اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہو۔  لیکن اگر مصائب کے ہجوم سے گھبرا کر تم اطاعت سے منہ موڑ گئے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔  ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری تھی کہ راہ راست تم کو ٹھیک ٹھیک بتا دے ، سو اس کا حق رسول نے ادا کر دیا ہے۔

۲۸۔ یعنی خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بنا سکے۔ اچھا وقت آ سکتا ہے تو اسی کے لائے  آ سکتا ہے ، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدائے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسا رکھے اور دنیا میں  ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا ہے چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہو گی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے ہو گی، کوئی دوسری طاقت مدد کرنے والی نہیں ہے۔ اور اس راہ میں اگر مشکلات و مصائب اور خطرات و مہالک سے سابقہ پیش آئے گا تو ان سے بھی وہی بچائے گا، کوئی دوسرا بچانے والا نہیں ہے۔

۲۹۔ اس آیت کے دو مفہوم ہیں۔ ایک مفہوم کے لحاظ سے اس کا اطلاق ان بہت سی مشکلات پر ہوتا ہے جو خدا کی راہ پر چلنے میں بکثرت اہل ایمان مردوں کو اپنی بیویوں سے اور عورتوں کو اپنے شوہروں سے اور والدین کو اپنی اولاد سے پیش آتی ہیں۔ دنیا میں کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرد کو ایسی بیوی اور ایک عورت کو ایسا شوہر ملے جو ایمان اور راست روی میں پوری طرح ایک دوسرے کے رفیق و مدد گار ہوں ، اور پھر دونوں کو اولاد بھی ایسی میسر ہو جو عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار کے اعتبار سے ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔ ورنہ بالعموم ہوتا یہ ہے کہ شوہر اگر  نیک اور ایماندار ہے تو بیوی اور اولاد اسے ایسی ملتی ہے جو اس کی دیانت و امانت اور راست بازی کو اپنے حق میں بد قسمتی سمجھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ شوہر اور باپ ان کی خاطر جہنم مول لے اور ان کے لیے حرام و حلال کی تمیز چھوڑ کر ہر طریقے سے عیش و طرب اور فسق و فجور کے سامان فراہم کرے۔ اور اس کے برعکس بسا اوقات ایک نیک مومن عورت کو ایسے شوہر سے سابقہ پیش آتا ہے جسے اس کی پابندی شریعت ایک آنکھ  نہیں بھاتی، اور اولاد بھی باپ کے نقش قدم پر چل کر اپنی گمراہی  اور بد کرداری سے ماں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے۔ پھر خصوصیت کے ساتھ جب کفر و دین کی کشمکش میں ایک انسان کے ایمان کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی خاطر نقصانات برداشت کرے ، طرح طرح کے خطرات مول لے ، ملک چھوڑ  کر ہجرت کر جائے، یا جہاد میں جا کر اپنی جان تک جوکھوں میں ڈال دے ، تو سب سے بڑھ کر اس کی راہ میں اس کے اہل و عیال ہی رکاوٹ بنتے ہیں۔

دوسرے مفہوم کا تعلق ان مخصوص حالات سے ہے جو ان آیات کے نزول کے زمانہ میں بکثرت مسلمانوں کو پید آ رہے تھے اور آج بھی ہر اس شخص کو پیش آتے ہیں جو کسی غیر مسلم معاشرے میں اسلام قبول کرتا ہے۔ اس وقت مکہ معظمہ میں اور عرب کے دوسرے حصوں میں عموماً یہ سورت پیش آتی تھی کہ ایک مرد ایمان لے آیا ہے ، مگر بیوی بچے نہ صرف اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ، بلکہ خود اس کو اسلام سے پھیر دیتے کے لیے کوشاں ہیں۔ اور ایسے ہی حالات سے ان خواتین کو سابقہ پیش آتا تھا جو اپنے خاندان میں اکیلی اسلام قبول کرتی تھیں۔

یہ دونوں قسم کے حالات جن اہل ایمان کو در پیش ہوں انہیں خطاب کرتے ہوئے تین باتیں فرمائی گئی ہیں :

سب سے پہلے انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیوی رشتے کے لحاظ سے اگر چہ یہ لوگ وہ ہیں جو انسان کو سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ، لیکن دین کے لحاظ سے یہ تمہارے ’’ دشمن‘‘ ہیں۔ یہ دشمنی خواہ اس حیثیت سے ہو کہ وہ تمہیں نیکی سے روکتے اور بدی کی طرف مائل کرتے ہوں یا اس حیثیت سے کہ وہ تمہیں ایمان سے روکتے اور کفر کی طرف کھینچتے ہوں ، یا اس حیثیت سے کہ ان کی ہمدردیاں کفار کے ساتھ ہوں اور تمہارے ذریعہ سے اگر کوئی بات بھی مسلمانوں کے جنگی رازوں کے متعلق ان کے علم میں آ جائے تو اسے اسلام کے دشمنوں تک پہنچا دیتے ہوں ، اس سے دشمنی کی نوعیت و کیفیت میں تو فرق ہو سکتا ہے ، لیکن بہر حال یہ ہے دشمنی ہی، اور اگر تمہیں ایمان عزیز ہو تو اس لحاظ سے تمہیں ان کو دشمن ہی سمجھنا چاہیے ، ان کی محبت میں گرفتار ہو کر کبھی اس بات کو نہ بھولنا چاہیے کہ تمہارے اور ان کے درمیان ایمان و کفر، یا طاعت و معصیت کی دیوار حائل ہے۔

اس کے بعد فرمایا گیا کہ ان سے ہوشیار رہی۔ یعنی ان کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت برباد نہ کر لو۔ ان کی محبت کو کبھی اپنے دل میں اس حد تک نہ بڑھنے دو کہ وہ اللہ و رسول کے ساتھ تمہارے تعلق اور اسلام کے ساتھ تمہاری وفاداری میں حائل ہو جائیں۔ ان پر کبھی اتنا اعتماد نہ کرو کہ تمہاری بے احتیاطی سے مسلمانوں کی جماعت کے اسرار انہیں معلوم ہو جائیں اور وہ دشمنوں تک پہنچیں۔ یہ وہی بات ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث میں مسلمانوں کو خبر دار کیا ہے کہ یُؤْ تیٰ برجلٍ یوم القیٰمۃ فیقالُ اکل عیالہ  حَسَنا تِہٖ۔’’ ایک شخص قیامت کے روز لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے بال بچے اس  کی ساری نیکیاں کھا گئے‘‘۔

آخر میں فرمایا گیا کہ ’’ اگر تم عفو و در گزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دشمنی سے تمہیں صرف اس لیے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم ان سے ہوشیار رہو اور اپنے دین کو ان سے بچنے کی فکر کرو۔ اس سے آگے بڑھ کر اس تنبیہ کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ بیوی بچوں کو مارنے پیٹنے لگو، یا ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ، یا ان کے ساتھ تعلقات میں ایسی بد مزگی پیدا کر لو کہ تمہاری اور ان کی گھریلو زندگی عذاب بن کر رہ جائے۔ یہ اس لیے کہ ایسا کرنے کے دو نقصانات بالکل واضح ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے بیوی بچوں کی اصلاح کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جانے کا خطرہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سے معاشرے میں اسلام کے خلاف الٹی بد گمانیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور گرد و پیش کے لوگوں کی نگاہ میں مسلمان کے اخلاق و کر دار کی یہ تصویر بنتی ہے کہ اسلام قبول کرتے ہی وہ خود اپنے گھر میں اپنے بال بچوں تک کے لیے سخت گیر اور بد مزاج بن جاتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائے اسلام میں جب لوگ نئے نئے مسلمان ہوتے تھے ، تو ان کو ایک مشکل اس وقت پیش آتی تھی جب ان کے والدین کافر ہوتے تھے اور وہ ان پر دباؤ ڈالتے تھے کہ اس نئے دین سے پھر جائیں۔ اور دوسری مشکل اس وقت پیش آتی جب ان کے بیوی بچے (یا عورتوں کے معاملہ میں ان کے شوہر اور بچے ) کفر پر قائم رہتے اور دین حق کی راہ سے انہیں پھیرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پہلی صورت کے متعلق سورہ عنکبوت(آیت ۸) اور سورہ لقمان(آیات ۱۴۔۱۵) میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ دین کے معاملہ میں والدین کی بات ہر گز نہ مانو، البتہ دنیا کے معاملات میں ان کے سا تھ حسن سلوک کرتے رہو۔ دوسری صورت کا حکم یہاں بیان کیا گیا ہے کہ اپنے دین کو تو اپنے بال بچوں سے بچانے کی فکر ضرور کرو، مگر ان کے ساتھ سخت گیری کا برتاؤ نہ کرو، بلکہ نرمی اور عفو و در گزر سے کام لو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، التوبہ، آیات ۲۳۔ ۲۴۔ جلد پنجم، المجادلہ، حاشیہ ۳۷۔ الممتحنہ، حواشی ۱ تا ۳۔ المنافقون، حاشیہ ۱۸)۔

۳۰۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الانفال، حاشیہ ۲۳۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جسے طبرانی نے حضرت ابو مالک اشعریؓ سے روایت کیا ہے کہ ’’ تیرا اصل دشمن وہ نہیں ہے جسے اگر تو قتل کر دے تو تیرے لیے کامیابی ہے اور وہ تجھے قتل کر دے تو تیرے لیے جنت ہے ، بلکہ تیرا اصل دشمن، ہو سکتا ہے کہ تیرا اپنا وہ بچہ ہو جو تیری ہی صُلب سے پیدا ہوا ہے ، پھر تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا وہ مال ہے جس کا تو مالک ہے ‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی اور سورہ انفال میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر تم مال اور اولاد کے فتنے سے اپنے آپ کو بچا لے جاؤ اور ان کی محبت پر اللہ کی محبت کا غالب رکھنے میں کامیاب رہو۔ تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔

۳۱۔ قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے : اِتَّقُو ا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ، ’’ اللہ سے ایسا ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ‘‘ (آل عمران ۱۰۲)۔ دوسری جگہ فرمایا لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْساً اِلَّا وُسْعَھَا، ’’ اللہ کسی متنفس کو اس کی استطاعت سے زیادہ کا مکلف قرار نہیں دیتا ‘‘ (البقرہ۔ ۲۸۶)۔ اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ’’جہاں تک تمہارے جس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو‘‘۔ ان تینوں آیتوں کو ملا کر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت وہ معیار ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے جس تک پہنچنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری آیت یہ اصولی بات ہمیں بتاتی ہے کہ کسی شخص سے بھی اس کی استطاعت سے زیادہ کام کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ اللہ کے دین میں آدمی بس اتنے ہی کا مکلف ہے جس کی وہ مقدرت رکھتا ہو۔ اور یہ آیت ہر مومن کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ اپنی حد تک تقویٰ کی کوشش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ جہاں تک بھی اس کے لیے ممکن ہو اسے اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے چاہییں اور اس کی نا فرمانی سے بچنا چاہیے۔ اس معاملہ میں اگر وہ خود تساہل سے کام لے گا تو مواخذہ سے نہ بچ سکے گا۔ البتہ جو چیز اس کی مقدرت سے باہر ہو گی (اور اس کا فیصلہ اللہ ہی بہتر کر سکتا ہے کہ کیا چیز کس کی مقدرت سے واقعی باہر تھی) اس کے معاملہ میں اس سے باز پرس نہ کی جائے گی۔

۳۲۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الحشر، حاشیہ ۱۹۔

۳۳۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ ۲۶۷۔ المائدہ، حاشیہ ۳۲۔ جلد پنجم، الحدید، حاشیہ ۱۶۔

۳۴۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، فاطر، حواشی ۵۲۔ ۵۹۔ الشوریٰ، حاشیہ ۴۲۔

٭٭٭

 

 

 

(۶۵) سورہ الطلاق

 

نام

 

اس سورہ کا نام ہی الطلاق نہیں ہے ، بلکہ یہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے ، کیونکہ اس طلاق ہی کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اسے سورۃ النسا ْ  القصری بھی کہا ہے ، یعنی جھوٹی سورہ نسا ْ۔

 

زمانۂ نزول

 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صراحت فرمائی ہے ، اور سورہ کے مضمون کی اندرونی شہادت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ اس کا نزول لازماً سورہ بقرہ کی ان آیات کے بعد ہوا ہے جن میں طلاق پہلی مرتبہ دیئے گئے تھے ۔ اگر چہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اس کا زمانہ نزول کیا ہے لیکن بہر حال روایات سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جب سورہ بقرہ کے احکام کو سمجھنے میں لوگ غلطیاں کرنے لگے ، اور عملاً بھی ان سے غلطیوں کا صدور ہونے لگا، تب اللہ تعالی نے ان کی اصلاح کے لیئے یہ ہدایت نازل فرمائیں۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس سورہ کے احکام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان ہدایات کو پھر سے ذہن میں تازہ کر لیا جائے جو طلاق اور عدت کے متعلق اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہو چکی ہیں:

اَطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ، فَاِمْسَکٌ  ؍بِمَعْرُوْ فٍ اَوْتَسْرِیْح؍ٌ بِاِحْسِانٍ (البقرہ۔ ۲۲۹) ’’طلاق دو بار ہے ، پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے  رخصت کر دیا جائے ‘‘

وَالْمُطَلَّقٰ تُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُ وْ ءٍ۔۔۔۔۔ وَبُعُوْلَتھُُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّ ھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْ ا اِصْلَا حاً (البقرہ۔ ۲۲۸ )۔ ’’ اور مطلقہ عورتیں (طلاق کے بعد ) تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو (اپنی زوجیت میں ) واپس لے لینے کے حق دار ہیں اگر وہ اصلاح پر آمادہ ہوں‘‘۔

فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ؍ بَعْدُ حَتٰی تَنْکِحَ زَوْ جاً  غَیْرَ ہٗ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (البقرہ۔ ۱۳۰)۔

’’پھر اگر وہ (تیسری بار) اس کو طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ اس عورت کا نکاح کسی اور سے ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔

اِذٰا نَکَحْتُمُ الْمُؤٰ مِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْ ھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْ ھُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْھِنَّ  مِنْ عِدَّ ۃٍ تَعْتَدُّ وْ نَھَا (الاحزاب۔ ۴۹)۔ ’’ جب تم مومن عورتوں سے نکا ح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو‘‘۔

وَالَّذِیْنَ یُتَوَ فَّوْ نَ مِنْکُمْ وَ یَذَ رُوْ نَ اَزْوَاجاً یَّتَبَّرَبَّصْنَ بِاَ نْفُسِھِنَّ اَرْ بَعَۃَ اَشْھُرِ وَّ عَشْراً (البقرہ۔۲۳۴)۔’’ اور تم میں سے جو لوگ مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں  چار مہینے دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں‘‘۔

ان آیات میں جو قواعد مقرر کیے گئے تھے وہ یہ تھے :

۱)۔ ایک مرد زیادہ سے زیادہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے سکتا ہے ۔

۲)۔ ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزر جانے کے بعد وہی مرد و عورت پھر نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، اس کے لیے تحلیل کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ لیکن اگر مرد تین طلاق دے دے تو عدت کے اندر رجوع کا حق ساقط ہو جاتا ہے ، اور دوبارہ نکاح بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہو جائے اور وہ کبھی اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے دے ۔

۳)۔ مدخولہ عورت، جس کو حیض آتا ہو، اس کی عدت یہ ہے کہ اسے طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض آ جائے ۔ ایک طلاق یا دو طلاق کی صورت میں اس عدت کے معنی یہ ہیں کہ عورت ابھی تک اس شخص کی زوجیت میں ہے اور وہ عدت کے اندر اس سے رجوع کر سکتا ہے ۔ لیکن اگر مرد تین طلاق دے چکا ہو تو یہ عدت رجوع کی گنجائش کے لیے نہیں  ہے بلکہ صرف اس لیے ہے کہ اس کے ختم ہونے سے پہلے عورت کسی اور شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔

۴)۔ غیر مدخولہ عورت، جسے ہاتھ  لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے ، اس کے لیے کوئی عدت نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو طلاق کے بعد فوراً نکاح کر سکتی ہے ۔

۵)۔ جس عورت کا شوہر مر جائے اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے ۔

اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سورہ طلاق ان قواعد میں سے کسی قاعدے کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے ، بلکہ دو مقاصد کے لیے نازل ہوئی ہے ۔

ایک یہ کہ مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اس استعمال کرنے کے ایسے حکیمانہ طریقے بتائے جائیں جن سے حتی الامکان علیٰحدگی کی نوبت نہ آنے پائے ، اور علیٰحدگی ہو تو بدرجہ آخر ایسی حالت میں ہو جبکہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہو چکے ہوں۔ کیونکہ خدا کی شریعت میں طلاق کی گنجائش صرف ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر رکھی گئی ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان جو ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو وہ پھر کبھی ٹوٹ جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ مَا احَلَ اللہ شیئاً ابغضَ الیہ من الطلاق۔’’ اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا ہے جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو‘‘(ابو داؤد)۔ اور  ابغض الحلال الی اللہ عزّ و جَل الطلاق۔ ’’ تمام حلال چیزوں میں اللہ کو سب سے زیادہ نا پسند طلاق ہے ‘‘۔ (ابو داؤد)۔

دوسرا مقصد یہ ہے کہ سورہ بقرہ کے احکام کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دے کر اسلام کے عائلی قانون کے اس شعبہ کی تکمیل کر دی جائے ۔ اس سلسلے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن مدخولہ عورتوں کو حیض آنا بند ہو گیا ہو، یا جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، طلاق کی صورت میں ان کی عدت کیا ہو گی۔ اور جو عورت حاملہ ہو اسے اگر طلاق دے دی جائے یا اس کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت کی مدت کیا ہے ۔ اور مختلف قسم کی مطلقہ عورتوں کے نفقہ اور سکونت کا انتظام کس طرح کیا جائے ۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

اے نبی ﷺ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت  کے لیئے طلاق دیا کرو (۱)۔ اور عدت کا زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو (۲)، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ۔ (زمانہ عدت میں ) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ خود نکلیں، (۳) الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں (۴)۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی )کوئی صورت پیدا کر دے (۵) پھر جب وہ اپنی (عدت کی ) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں ) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہو (۶) جاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل(۷) ہوں۔ اور (اے گواہ بنے والو ) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیئے ادا کرو۔

یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو(۸)۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر(۹) دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو(۱۰)۔ جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیئے وہ کافی ہے ۔ اللہ اپنا کام پورا کرے کے رہتا ہے (۱۱)۔ اللہ نے ہر چیز کے لیئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی  ہے ۔

اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے (۱۲)۔ اور یہی حکم ان کا ہے ۔ جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو (۱۳)۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہو (۱۴) جائے ۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ جو اللہ ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے (۱۵)گا۔

ان کو (زمانہ عدت میں ) اسی جگہ رکھو  جو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمھیں میسر ہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیئے ان کو نہ ستاؤ (۱۶)۔

اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے (۱۷)۔ اور پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو ) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو، بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو (۱۸)۔ لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں ) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے (۱۹) گی۔ خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے ، اور جس کو رزق  کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ  دستی بھی عطا فرما دے ۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱۔ یعنی تم لوگ طلاق دینے کے معاملہ میں یہ جلد بازی  نہ کیا کرو کہ جونہی میاں بیوی میں کوئی جھگڑا ہوا، فوراً ہی غصّے میں آکر طلاق دے ڈالی، اور نکاح کا جھٹکا اس طرح کیا کہ رجوع کی گنجائش بھی نہ چھوڑی۔ بلکہ جب تمہیں  بیویوں کو طلاق دینا ہو تو ان کی عدت کے لیے دیا کرو۔ عدت کے لیے طلاق دینے کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد بھی ہیں:

ایک مطلب اس کا یہ ہے کہ عدت کا آغاز  کرنے کے لیے طلاق دو، یا بالفاظ دیگر اس وقت طلاق دو جس ے ان کی عدت شروع ہوتی ہو۔ یہ بات سورہ بقرہ آیت ۲۲۸ میں بتائی جا چکی ہے کہ جس مدخولہ عورت کو حیض آتا ہو اس کی عدت طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض آنا ہے ۔ اس حکم کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو عدت کا آغاز کرنے کے لیے طلاق دینے کی صورت لازماً یہی ہو سکتی ہے کہ عورت کو حالت حیض میں طلاق نہ دی جائے ، کیوں کہ اس کی عدت اس حیض سسے شروع نہیں ہو سکتی جس میں اسے طلاق دی گئی ہو، اور اس حالت میں طلاق دینے کے معنی یہ ہو جاتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے خلاف عورت کی عدت تین حیض کے بجائے چار حیض بن جائے ۔ مزید براں اس حکم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ عورت کو اس طُہر میں طلاق نہ  دی جائے جس میں شوہر اس سے مباشرت کر چکا ہو، کیونکہ اس صورت میں طلاق دیتے وقت شوہر اور بیوی دونوں میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا مباشرت کے نتیجے میں کوئی حمل قرار پا گیا ہے یا نہیں،اس وجہ سے عدت کا آغاز نہ اس مفروضے پر کیا جا سکتا ہے کہ یہ عدت آئندہ حیضوں کے اعتبار سے ہو گی اور نہ اسی مفروضے پر کیا جا سکتا ہے کہ یہ حاملہ عورت کی عدت ہو گی۔ پس یہ حکم بیک وقت دو باتوں کا مقتضی ہے ۔ ایک یہ کہ حیض کی حالت میں طلاق نہ دی جائے ۔ دوسرے یہ کہ طلاق یا تو اس طُہر میں دی جائے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو، یا پھر اس حالت میں دی جائے جبکہ عورت کا حاملہ ہونا معلوم ہو۔ غور کیا جائے تو محسوس ہو گا کہ طلاق پر یہ قیدیں لگانے میں بہت بڑی مصلحتیں ہیں۔ حیض کی حالت میں طلاق نہ دینے کی مصلحت یہ ہے کہ یہ وہ حالت ہوتی ہے جس میں عورت اور مرد کے درمیان مباشرت ممنوع ہونے کی وجہ سے ایک طرح کا بُعد پیدا ہو جاتا ہے ، اور طبی حیثیت سے بھی یہ بات ثابت ہ کہ اس حالت میں عورت کا مزاج معمول پر نہیں رہتا۔ اس لیے اگر اس وقت دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہو جائے تو عورت اور مرد دونوں اسے رفع کرنے کے معاملہ میں ایک حد تک بے بس ہوتے ہیں، اور جھگڑے سے طلاق تک نوبت پہنچانے کے بجائے اگر عورت کے حیض سے فارغ ہونے تک انتظار کر لیا جائے تو اس امر کا کافی امکان ہوتا ہے کہ عورت کا مزاج بھی معمول پر آ جائے اور دونوں کے درمیان فطرت نے جو طبعی کشش رکھی ہے وہ بھی اپنا کام کر کے دونوں کو پھر سے جوڑ دے ۔ اسی طرح جس طہر میں مباشرت کی جا چکی ہو اس میں طلاق کے ممنوع ہونے کی مصلحت یہ ہے کہ اس زمانے میں اگر حمل قرار پا جائے تو مر اور عورت، دونوں میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے وہ وقت طلاق دینے کے لیے موزوں نہیں ہے ۔ حمل کا علم ہو جانے کی صرت میں تو مرد بھی دس مرتبہ سوچے گا کہ جس عورت کے پیٹ میں اس کا بچہ پرورش پا رہا ہے اسے طلاق دے یا نہ دے ، اور عورت بھی اپنے اور اپنے بچے کے مستقبل کا خیال کر کے شوہر کی ناراضی کے اسباب دور کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔ لیکن اندھیرے میں بے سوچے سمجھے تیر چلا بیٹھنے کے بعد اگر معلوم ہو کہ حمل قرار پا چکا تھا، تو دونوں کو پچھتانا پڑے گا۔

یہ تو ہے ’’ عدت کے لیے ‘‘ طلاق دینے پہلا مطلب، جس کا اطلاق صرف ان مدخولہ عورتوں پر ہوتا ہے جن کو حیض ٓآتا ہو اور جن کے حاملہ ہونے کا امکان ہو۔ اب رہا اس کا دوسرا مطلب، تو وہ یہ ہے کہ طلاق دینا ہو تو عدت تک کے لیے طلاق دو، یعنی بیک وقت تین طلاق دے کر ہمیشہ کی علیٰحدگی کے لیے طلاق نہ دے بیٹھو، بلکہ ایک، یا حد سے حد دو طلاقیں دے کر عدت تک انتظار کرو تا کہ اس مدت میں ہر وقت تمہارے لیے رجوع کی گنجائش باقی رہے ۔ اس مطلب کے لحاظ سے یہ حکم ان مدخولہ عورتوں کے معاملہ میں بھی مفید ہے جن کو حیض آتا ہو اور ان کے معاملہ میں بھی مفید ہے جن کو حیض آنا بند ہو گیا ہو، یا جنہیں ابھی حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، یا جن کا طلاق کے وقت حاملہ ہونا معلوم ہو، اس فرمان الہٰی کی پیروی کی جائے تو کسی شخص کو بھی طلاق دے کر پچھتانا نہ پڑے ، کیونکہ اس طرح طلاق دینے سے عدت کے اندر رجوع بھی ہو سکتا ہے ، اور عدت گزر جانے کے بعد بھی یہ ممکن رہتا ہے کہ سابق میاں بیوی پھر باہم رشتہ جوڑنا چاہیں تو از سر نو نکاح کر لیں۔

طَلِّقُوْ ھُنَّ لِعِدَّ تِھِنَّ کے یہی معنی اکابر مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ابن عباسؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ’’ طلاق حیض کی حالت میں نہ دے ، اور نہ اس طہر میں دے جس کے اندر شوہر مباشرت کر چکا ہو، بلکہ اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ حیض سے فارغ ہو کر وہ طاہر ہو جائے ۔ پھر اسے ایک طلاق دے دے ۔ اس صورت میں اگر وہ رجوع نہ بھی کرے اور عدت گزر جائے تو وہ صرف ایک ہی طلاق سے جدا ہو گی‘‘(ابن جریر)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ’’ عدت کے لیے طلاق یہ ہے کہ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دی جائے ‘‘۔ یہی تفسیر حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد، میمون بن مہران، مقاتِل بن حَیان، اور ضحاک رحمہم اللہ سے مروی ہے (ابن کثیر) عکرمہ اس کا مطلب بیان کرتے ہیں ’’ طلاق اس حالت میں دے کہ عورت کا حاملہ ہونا معلوم ہو، اور اس حالت میں نہ دے کہ وہ اس سے مباشرت کر چکا ہو اور کچھ پتہ نہ ہو کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے یا نہیں ‘‘ (ابن کثیر)۔ حضرت حسن بصری اور ابن سیرین، دونوں کہتے ہیں ’’ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دی جائے ، یا پھر اس حالت میں دی جائے جبکہ حمل ظاہر ہو چکا ہو‘‘ (ابن جریر)۔

اس آیت کے منشا کو بہترین طریقہ سے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موقع پر واضح فرمایا تھا جب حضرت عبداللہ بن عمر نے پنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ اس واقعہ کی تفصیلات قریب قریب حدیث کی تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، اور وہی در حقیقت اس معاملہ میں قانون کی ماخذ ہیں۔ قصہ اس کا یہ ہے کہ جب حضرت عبداللہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو حضرت عمرؓ نے جا کر حضورؐ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ سن کر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ’’ اس کو حکم دو کہ بیوی سے رجوع کر لے اور اسے اپنی زوجیت میں روکے رکھے یہاں تک کہ وہ طاہر ہو، پھر اسے حیض آئے  اور اس سے بھی فارغ ہو کر وہ پاک ہو جائے ، اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دے ۔ یہی وہ عدت ہے جس کے لیے طلاق دینے کا اللہ عزو جل نے حکم دیا ہے ‘‘۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ یا تو طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر طلاق دے ، یا پھر ایسی حالت میں دے جبکہ اس کا حمل ظاہر ہو چکا ہو‘‘

اس آیت کے منشا پر مزید روشنی چند اور احادیث بھی ڈالتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور اکابر صحابہ سے منقول ہیں۔ نسائی میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع  دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ حضورؐ یہ سن کر غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا’’  اَیُلْعَبُ بکتابِ اللہِ وَانَا بَیْنَ اظہر کم؟‘‘ کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جا رہا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟‘‘ اس حرکت پر حضورؐ کے غصے کی کیفیت دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ عبدالرزاق نے حضرت عبادہ بن الصامت کے متعلق روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے ڈالیں۔ انہوں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا : بانت منہ بثالث فی معصیۃ اللہ تعالیٰ، و بقی تسع مأ ۃ و سبع و تسعون ظُلْماً و عُدْو اناً، ان شاء اللہ عذَّبہ، وان شاء غفر لہٗ ’’ تین طلاقوں کے ذریعہ سے تو اللہ کی نافرمانی کے ساتھ وہ عورت اس سے جدا ہو گئی، اور ۹۹۷ ظلم اور عُدوان کے طور پر باقی رہ گئے جن پر اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے قصے کی جو تفصیل وار قطنی اور ابن ابی شیبہ میں روایت ہوئی ہے اس میں ایک بات یہ بھی ہے کہ حضورؐ نے جب حضرت عبداللہ بن عمر کو بیوی سے رجوع کرنے  کا حکم دیا تو انہوں نے پوچھا اگر میں اس کو تین طلاق دے دیتا تو کیا پھر بھی میں رجوع کر سکتا تھا؟ حضورؐ نے جواب دیا : لا، کانت تبین منک و کانت معصیۃً ’’ نہیں، وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور یہ فعل معصیت ہوتا ‘‘۔ ایک روایت میں آپ کے الفاظ یہ ہیں کہ : اذاً قد عصیت ربک و بانت منک امر أتک۔’’ اگر تم ایسا کرتے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جاتی‘‘۔

صحابہ کرام سے اس بارے میں جو فتاویٰ منقول ہیں وہ بھی حضورؐ کے انہی ارشادات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مُؤطّا میں ہے کہایک شخص نے آ کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا ’’ پھر اس پر تمہیں کیا فتویٰ دیا گیا؟‘‘ اس نے عرض کیا’’ مجھ سے کہا گیا ہے کہ عورت مجھ سے جدا ہو گئی‘‘۔ آپ نے فرمایا صد قوا، ھو مثل ما یقولون،’’ لوگوں نے سچ کہا،مسئلہ یہی ہے جو وہ بیان کرتے ہیں ‘‘۔ عبدالرزاق نے عَلْقَمہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے کہا میں نے اپنی بیوی کو ۹۹ طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ انہوں نے فرمایا ثلاث بینھا و سائرھن عدوان۔ ’’تین طلاقیں اسے جدا کرتی ہیں، باقی سب زیادتیاں ہیں‘‘۔ وَکیع بن الجراح نے اپنی سنن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ، دونوں کا یہی مسلک نقل کیا ہے ۔ حضرت عثمانؓ سے ایک شخص نے آ کر عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے بیٹھا ہوں۔ انہوں نے فرمایا بانت  منک بثلاث ‘‘۔ وہ تین طلاقوں سے تجھ سے جدا ہو گئی‘‘۔ ایسا ہی واقعہ حضرت علیؓ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے جواب دیا : بانت منک بثلاث و ا قسم سائرھن علی نسائک۔’’ تین طلاقوں سے تو وہ تجھ سے جدا ہو گئی، باقی طلاقوں کو اپنی دوسری عورتوں پر تقسیم کرتا پھر‘‘۔ ابو داؤد  اور ابن جریر نے تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ مجاہد کی روایت نقل کی ہے کہ وہ ابن عباسؓ کے پاس بیٹھے تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے بیٹھا ہوں۔ ابن عباس سن کر خاموش رہے ، حتی کہ میں نے خیال کیا شاید یہ اس کی بیوی کو اس کی طرف پلٹا دینے والے ہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا’’ تم میں سے ایک شخص پہلے طلاق دینے میں حماقت کا ارتکاب کر گزرتا ہے ، اس کے بعد آ کر کہتا ہے یا ابن عباس، یا ابن عباس۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا، اور تو نے اللہ سے تقویٰ نہیں کیا۔ اب میں تیرے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہو گئی‘‘۔ ایک اور روایت جسے مؤطاء اور تفسیر ابن جریر میں کچھ لفظی فرق کے ساتھ مجاہد ہی سے نقل کیا گیا ہے ،اس میں یہ ذکر ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، پھر ابن عباس سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے جواب  دیا ’’ تین طلاقوں سے تو وہ تجھ سے جدا ہو گئی، باقی ۹۷ سے تُو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہو گئی اور تُو نے اللہ کا خوف نہیں کیا کہ وہ تیرے لیے اس مشکل سے  نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کرتا ‘‘ امام طحاوِی نے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص ابن عباس کے پاس آیا اور اس نے کہا میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا : اِنَّ عمک عصی اللہ فَاَثِم و اطاع الشیطان فلم یجعل لہ مخرجاً۔ ’’ تیرے چچا نے اللہ کی نا فرمانی کی اور گناہ کا ارتکاب کیا اور شیطان کی پیروی کی۔ اللہ نے اس کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں رکھا ہے ۔‘‘ ابو داؤد اور مؤطاء میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو خلوت سے پہلے تین طلاقیں دے دیں، پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنا چاہا اور فتویٰ پوچھنے نکلا۔ حدیث کے راوی محمد بن بکیر کہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ابن عباس اور ابو ہریرہؓ کے پاس گیا دونوں کا جواب یہ تھا انک ارسلت من یدک ماکان من فضل۔ ’’ تیرے لیے جو گنجائش تھی تو نے اسے اپنے ہاتھ وے چھوڑ دیا‘‘۔ زمْخشری نے کشاف میں بیان کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس جو شخص بھی ایسا آتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں اسے وہ مارتے تھے اور اس کی طلاقوں کو نافذ کر دیتے تھے ۔ سعید بن منصور نے یہی بات صحیح سند کے ساتھ حضرت انس کی روایت سے نقل کی ہے ۔ اس معاملہ میں صحابہ کرام کی عام رائے ، جسے ابن ابی شیبہ اور امام محمد نے ابراہیم نخعیؒ سے نقل کیا ہے ، یہ تھی کہ ان الصحابۃ رضی اللہ عنہم کانو یستحبون ان یطلقھا واحد ۃ ثم یتر کھا حتی تحیض ثلاثۃ حیض۔ ’’ صحابہ رجی اللہ عنہیم اسبات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی بیوی کو صرف ایک طلاق دے دے اور اس کو چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اسے تین حیض آ جائیں‘‘۔ یہ ابن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں۔ اور امام محمد کے الفاظ یہ ہیں: کانو ایستحبون ان لا تزید و افی الطلاق علی واحدۃ حتی تنقضی العدّۃ۔ ’’ ان کو پسند یہ طریقہ تھا کہ طلاق کے معاملہ میں ایک سے زیادہ نہ بڑھیں یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے ‘‘

ان احادیث و آثار کی مدد سے قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیات کا منشا سمجھ کر فقہائے اسلام نے جو مفصل قانون مرتب کیا ہے اسے ہم صل میں نقل کرتے ہیں۔

۱)۔ حنفیہ طلاق کی تین قسمیں قرار دیتے ہیں: احسن،ح۔صَن اور بِدْعی۔ احسن طلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو ایسے طہر میں جس کے اندر اس نے مجامعت نہ کی ہو،صرف ایک صرف ایک طلاق دے کر عدت گزر جانے دے ۔ حَسَن یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک ایک طلاق دے ۔ اس صورت میں تین طہروں میں تین طلاق دینا بھی سنت کے خلاف نہیں ہے ،۔ اگر چہ بہتر یہی ہے کہ ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے ۔ اور طلاق بدعت یہ ہے کہ آدمی بیک وقت تین طلاق دے دے ، یا ایک ہی طہر کے اندر الگ الگ اوقات میں تین طلاق دے ، یا حیض کی حالت میں طلاق دے ، یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں وہ مباشرت کر چکا ہو۔ ان میں سے جو فعل بھی وہ کرے گا گناہگار ہو گا۔ یہ تو ہے حکم ایسی مدخولہ عورت کا جسے حیض آتا ہو۔ رہی غیر مدخولہ عورت تو اسے سنت کے مطابق طہر اور حیض دونوں حالتوں میں طلاق دی جا سکتی ہے ۔ اور اگر عورت ایسی مدخولہ ہو جسے حیض آنا بند ہو گیا ہو،یا ابھی آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، تو اسے مباشرت کے بعد بھی طلاق دی جا سکتی ہے ، کیونکہ اس کے حاملہ ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ اور عورت حاملہ ہو تو مباشرت کے بعد اسے بھی طلاق دی جا سکتی ہے ، کیونکہ اس کا حاملہ ہونا پہلے ہی معلوم ہے ۔ لیکن ان تینوں قسم کی عورتوں کو سنت کے مطابق طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک مہینہ بعد طلاق دی جائے ، اور احسن یہ ہے  کہ صرف ایک طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے ۔ (ہدایہ، فتح القدیر، احکام القرآن للجصاص، عمدۃ القاری)۔

امام مالکؒ کے نزدیک بھی طلاق کی تین قسمیں ہیں۔ سُنی، بدعی مکروہ، اور بدعی حرام۔ سنت کے مطابق طلاق یہ ہے کہ مدخولہ عورت کو جسے حیض آتا ہو، طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر ایک طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے ۔ بِدعی مکروہ یہ ہے کہ ایسے طہر کی حالت میں طلاق دی جائے جس میں آدمی مباشرت کر چکا ہو، یا مباشرت کیے بغیر ایک طہر میں ایک سے زیادہ طلاقیں دی جائیں، یا عدت کے اندر الگ الگ طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں،یا بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں۔ اور بِد عی حرام یہ ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دی جائے ۔ (حاشیہ الدسوقی علیٰ الشرح الکبیر۔ احکام القرآن لابن العربی)۔

امام احمد بن حنبلؒ کا معتبر مذہب یہ ہے جس پر جمہور حنابلہ کا اتفاق ہے : مدخولہ عورت جس کو حیض آتا ہو اسے سنت کے مطابق طلاق دینے کا طریقہ یہ ہے کہ طہر کی حالت میں مباشرت کیے بغیر اسے طلاق دی جائے ، پھر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ عدت گزر جائے ۔ لیکن اگر اسے تین طہروں میں تین الگ الگ طلاقیں دی جائیں، یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے دی جائیں، یا بیک وقت تین طلاقیں دے ڈالی جائیں، یا حیض کی حالت میں طلاق دی جائے ، یا ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں مباشرت کی گئی ہو اور عورت کا حاملہ ہونا ظاہر نہ ہو، تو یہ سب طلاق بدعت اور حرام ہیں۔ لیکن اگر عورت غیر مدخولہ ہو، یا ایسی مدخولہ ہو جسے حیض آنا بند ہو گیا ہو، یا ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، یا حاملہ ہو، تو اس کے معاملہ میں نہ وقت کے لحاظ سے سنت و بدعت کا کوئی فرق ہے نہ تعداد کے لحاظ سے ۔ (الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف علیٰ مذہب احمد بن حنبلؒ)۔

امام شافعیؒ کے نزدیک طلاق کے معاملہ میں سنت اور بدعت کا فر ق کے لحاظ سے ہے نہ کہ تعداد سے َ یعنی مد خو ل عورت جس کو حیض آتا ہو ‘ سے حیض کی حالت میں طلا ق دینا ‘ یا جو حاملہ ہو سکتی ہو اسے  ا یسے  طُہر میں طلا ق دینا جس میں مباشرت کی جا چکی ہو اور  عورت کا حاملہ ہونا ظا ہر نہ ہو‘ بدعت  اور حرام ہے ۔ رہی طلا قو ں کی تعداد، تو خواہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں، نے یا  ایک ہی طْہر میں دی جائیں،یا الگ الگ طُہروں میں دی جائیں، بہر حال یہ سنّت کے خلاف  نہیں ہے ۔ اور غیر مدخولہ عورت جسے حیض آنا بند ہو گیا ہو،یا حیض آیا ہی  نہ ہو،یا جس کا حاملہ ہونا ظاہر ہو،اس کے معاملہ میں سنّت اور بدعت کا کوئی فرق نہیں ہے ۔ (مغنی المحتاج)۔

(۲)کسی طلاق کے بدعت، مکروہ، حرام، یا گناہ ہونے کا مطلب ائمۂ اربعہ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ وہ واقع ہی نہ ہو۔ چاروں مذاہب میں طلاق، خواہ حیض کی حالت میں دی گئی ہو، یا بیک وقت تین طلاقیں دے دی گئی، یا ایسے طہر میں طلاق دی گئی ہو جس میں مباشرت کی جاچکی ہو اور عورت کا حاملہ ہونا ظاہر نہ ہوا ہو، یا کسی اور ایسے طریقے سے دی گئی ہو جسے کسی امام نے بدعت قرار دیا ہے ، بہر حال واقع ہو جاتی ہے ، اگر چہ آدمی گناہ گار ہوتا ہے ۔ لیکن بعض دوسرے مجتہدین نے اس مسئلے میں ائمۂ اربعہ سے اختلاف کیا ہے ۔

سعید بن المستیب اور بعض دوسرے تابعین کہتے ہیں کہ جو شخص سنت کے خلاف حیض کی  حالت میں طلاق دے دے اس کی طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی۔ یہی رائے امامیہ کی ہے ۔ اور اس رائے کی بنیاد یہ ہے کہ ایسا کرنا چونکہ ممنوع اور بدعت محرمہ ہے اس لیئے یہ غیر مؤثر ہے ۔ حالانکہ اپر جو احادیث ہم نقل کر آئے ہیں ان میں یہ بیان ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے جب بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضور نے انہیں رجوع کا حکم دیا۔ اگر یہ طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تھی تو رجوع کا حکم دینے کے کیا معنی؟ اور یہ بھی بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے اور اکابر صحابہ ؓ نے ایک سے زیادہ طلاق دینے والے کو اگر چہ گناہ گار قرار دیا ہے ، مگر اس کی طالق کو غیر مؤثر قرار نہیں دیا۔

طاؤس اور عکرمہ کہتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاقیں دی جائیں تو صرف ایک طالق واقع ہوتی ہے ، اور اسی رائے کو امام ابن تیمیہ ؒ نے اختیار کیا ہے ۔ ان کی اس رائے کا ماخذ یہ روایت ہے کہ ابو الصہباء نے ابن عباس سے پوچھا ” کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں اور حضرت عمر ؓ کے ابتدائی دور میں تین طاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا “؟ انہوں نے جواب دیا ہاں (بخاری و مسلم ) اور مسلم، ابو داؤد اور مسند احمد میں ابن عباس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے عہد، اور حضرت عمر ؓ کی خلافت کے ابتدائی دو سوالوں میں تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ  نے کہا کہ لوگ ایک ایسے معاملہ میں جلد بازی کرنے لگے ہیں جس میں ان کے لیئے سوچ سمجھ کر کام کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اب کیوں نہ ہم ان کے اس فعل کر نافذ کر دیں؟ چنانچہ انہوں نے اسے نافذ کر دیا ”

لیکن یہ رائے کئی و جوہ سے قابل قبول نہیں ہے ۔ اول تو متعدد روایات کے مطابق ابن عباس کا اپنا فتوی اس کے خلاف تھا جیسا کہ ہم اوپر نقل کر چکے ہیں۔ دوسرے یہ بات ان احادیث کے بھی خلاف پڑتی ہے جو نبی ﷺ اور اکابر صحابہ ؓ سے منقول ہوئی ہیں، جن میں بیک وقت تین طلاق دینے والے کے متعلق یہ فتوی دیا گیا ہے کہ اس کی تینوں طلاقیں نافذ ہو جاتی ہیں۔ یہ احادیث بھی ہم نے اوپر نقل کر دی ہیں۔ تیسرے ، خود ابن عباس ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے صحابہ ؓ کے مجمع میں تین طاقوں کو نافذ کرنے کا اعلان فرمایا تھا، لیکن نہ اس وقت، نہ اس کے بعد کبھی صحابہ میں سے کسی نے اس سے اختلاف کا اظہار کیا۔ اب کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر  ؓ سنت کے خلاف کسی کام کا فیصلہ کر سکتے تھے ؟ اور سارے صحابہ ؓ اس سکوت بھی پر اختیار کر سکتے تھے ؟ مزید براں رکا نہ بن عبید یز ید کے قصے میں ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، امام شافعی ؒ دارمی اور حاکم نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رکا نہ نے جب ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو رسول ﷺ نے ان کو حلف دے کر پوچھا کہ ان کی نیت ایک ہی طلاق دینے کی تھی؟ (یعنی باقی دو طلاقیں پہلی طلاق پر زور دینے کے لیئے ان کی زبان سے نکلی تھیں، تین طلاق دے کر ہمیشہ کے لیئے جدا کر دینا مقصود نہ تھا ) اور جب انہوں نے یہ حلفیہ  بیان دیا تو آپ  نے ان کو رجوع کا حق دے دیا۔ اس سے اس معاملہ کی اصل حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ ابتدائی دور میں کسی قسم کی طلاقوں کو ایک کے حکم میں رکھا جاتا تھا۔ اسی بنا پر شارحین حدیث نے ابن عباس کی روایت کا یہ مطلب لیا ہے کہ ابتدائی دور میں چونکہ لوگوں کے اندر دینی معاملات میں خیانت قریب مفقود تھی، اس لیئے تین طلاقیں محض پہلی طلاق پر زور دینے کے لیئے اس کی زبان سے نکلی تھیں۔ لیکن حضرت عمر ؓ نے جب دیکھا کہ لوگ پہلے جلد بازی کر کے تین تین طلاقیں دے ڈالتے ہیں اور پھر تاکید کا بہانہ کرتے ہیں تو انہوں نے اس بہانے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ امام نودی اور امام سیکی نے اسے ابن عباس والی روایت کی بہترین تاویل قرار دیا ہے ۔ آخری بات یہ ہے کہ خود ابو الصباء کی ان روایات میں اضطراب پا یا جاتا ہے  جو ابن عباس کے قول کے بارے میں ان سے مروی ہیں۔ مسلم اور ابو داؤد اور نسائی نے انہی ابو الصباء سے ایک روایت یہ نقل کی ہے کہ ان کے دریافت کرنے پر ان عباس نے فرمایا ” ایک شخص جب خلوت سے پہلے بیوی کو تین طلاقیں دیتا تھا تو رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ  کے عہد اور حضرت عمر ؓ کے ابتدائی دور میں اس کو ایک طلاق قرار دیا جا تا تھا ” اس طرح ایک ہی راوی نے ابن عباس سے دو مختلف مضمونوں کی روایتیں نقل کی ہیں اور یہ اختلاف دونوں روایتوں کو کمزور کر دیتا ہے ۔

(۳) حیض کی حالت میں طلاق دینے والے کو چونکہ رسول ﷺ نے رجوع کا حکم دیا تھا،اس لیئے فقہا ء کے درمیان یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ یہ حکم کس معنی ہے ۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد، امام اوزاعی، ابن ابی لیلی، اسحاق بن راہویہ اور ابو ثور کہتے ہیں کہ ایسے شخص کو رجوع کا حکم تو دیا  جائے گا مگر رجوع پر مجبور نہ کیا جائے گا (عمدۃ القاری)۔ ہدایہ ہیں حنفیہ کا مذہب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس صورت میں رجوع کرنا نہ صرف مستحب بلکہ واجب ہے ۔ مغنی المحتاج میں شافعیہ کا مسلک یہ بیان ہوا ہے کہ جس نے حیض میں طلاق دی ہو اور تین نہ دے ڈالی ہوں اس کے لیئے مسنون یہ ہے کہ وہ رجوع کرے ، اور اس کے بعد والے طہر میں طلاق نہ دے بلکہ اس کے گزر نے کے بعد جب دوسری مرتبہ عورت حیض سے فارغ ہو تب طلاق دینا چاہے تو دے ، تاکہ حیض میں دی ہوئی طلاق سے رجوع محض کھیل کے طور پر نہ ہو۔ الانصاف میں حنابلہ کا مسلک یہ بیان ہوا ہے کہ اس حالت میں طلاق دینے والے کے لیئے رجوع کرنا مستحب ہے ۔ لیکن امام مالک ؒ  اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا جرم قابل دست اندازیِ پولیس ہے ۔ عورت خواہ مطالبہ کرے یا نہ کرے ، بہر حال حاکم  کا یہ فرض ہے کہ جب کسی شخص کا یہ فعل اس کے علم میں آئے تو وہ اسے رجوع پر مجبور کر ے اور عدت کے آخری وقت تک اس پر دباؤ ڈلتا رہے ۔ اگر وہ انکار کرے تو اسے قید کر دے ۔ پھر بھی انکار کرے تو اسے مارے ۔ اس پر نہ مانے تو حاکم خود فیصلہ کر دے کہ “میں نے تیری بیوی تجھ پر واپس کر دی ” اور حاکم کا یہ فیصلہ رجوع ہو گا جس کے بعد مرد کے لیئے اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہو گا، خواہ اس کی نیت رجوع کی ہو یا نہ ہو، کیونکہ حاکم کی نیت کی قائم مقام ہے (حاشیہ الدسوتی) مالکیہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس شخص نے طوعاً و کرہاً حیض میں دی ہوئی رجوع کر لیا ہو وہ اگر طلاق ہی دینا چاہے تو اس کے لیئے مستحب طریقہ یہ ہے کہ جس حیض میں اس نے طلاق دی ہے اس کے بعد والے طہر میں  سے طلاق نہ دے بلکہ جب دوبارہ حیض آنے کے بعد وہ طاہر ہو اس وقت طلاق دے ۔ طلاق سے متصل والے طہر میں طلاق نہ دے نے کا حکم دراصل اس لیئے دیا گیا ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے والے کا رجوع صرف ز بانی کلامی نہ ہو بلکہ اسے طہر کے زمانے میں عورت سے مباشرت کرنی چاہیے پھر جس طہر میں مباشرت کی جاچکی ہو اس میں طلاق دینا چونکہ ممنوع ہے ، لہذا طلاق دینے کا صحیح وقت اس کے والا طہر ہی ہے (حاشیہ الدسوتی)۔

(۴) رجوعی طلاق دینے والے کے لیئے رجوع کا موقع کسی وقت تک ہے ؟ اس میں بھی فقہاء کے درمیان سے مراد تین حیض ہیں یا تین طہر؟ امام شافعی ؒ اور امام مالک ؒ کے نزدیک قرء سے مراد حیض ہے اور امام احمد بن حنبل کا معتبر مذہب بھی یہی ہے ۔یہ  رائے چاروں خلفاء راشدین، عبداللہ بن مسعود ؓ عبد اللہ بن عباس ؓ ابی بن کعب، معاز بن جبل، ابو الدردا، عبادہ بن صامت اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے منقول ہے ۔ امام محمد نے مؤطا میں شعبی کا قول نقل کیا ہے کہ وہ رسول ﷺ کے ۱۳ صحابیوں سے ملے ہیں، اور ان سب کی رائے یہی تھی۔ اور یہی بکثرت تابعین نے بھی اختیار کی ہے ۔

اس اختلاف کی بنا شافعیہ اور مالکیہ کے نزدیک تیسرے حیض میں داخل ہوتے ہی عورت کی عدت ختم ہو جاتی ہے ، اور مرد کا حق رجوع ساقط ہو جاتا ہے ۔ اور اگر طلاق حیض کی حالت میں دی گئی ہو، اس حیض کا شمار عدت میں نہ ہو گا، بلکہ چو تھے حیض میں داخل ہونے پر عدت ختم ہو گی (مضنی المحتاج أ حاشیہ الدستی) حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر تیسرے حیض میں دس دن گزر نے پر خون بند ہو تو عورت کی عدت ختم نہ ہو گی جب تک عورت غسل نہ کرے ، یا ایک نماز کا پورا وقت نہ گزر جائے ۔ پانی نہ ہونے کی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒ اور  امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک جب عورت تیمم کر کے نماز پڑ ھ لے اس وقت مرد کا حق رجوع ختم ہو گا، اور امام محمد کے نزدیک تیمم کرتے ہی حق رجوع ختم ہو جائے گا (ہدایہ ) امام احمد کا معتبر مذہب جس پر جمہور حنابلہ کا اتفاق ہے ، یہ ہے کہ جب تک عورت تیسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل نہ کر لے مرد کا حق رجوع باقی رہے گا (لانصاف )

(۵) رجوع کس طرح ہوتا ہے اور کس طرح نہیں ہوتا؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان یہ امر متفق علیہ ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو رجعی طلاق دی ہو وہ عدت ختم ہونے پہلے چاہے رجوع کر سکتا ہے ، خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ قرآن مجید (سورہ بقرہ، آیت ۲۲۸) میں فرما یا گیا ہے وَبُعُلَتھُُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ ان کے شوہر اس مدت کے اندر انہیں واپس لے لینے کے پوری طرح حق دار ہیں ” اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عدت گزر نے سے پہلے تک ان کی زوجیت بر قرار رہتی ہے اور وہ انہیں قطعی طور پر چھوڑ دینے سے پہلے واپس لے سکتے ہیں۔ با لفاظ دیگر رجوع کوئی تجدید نکاح نہیں ہے کہ اس کے لیئے عورت کی رضا ضروری ہو۔ شافعیہ کے نزدیک رجوع صرف قول ہی سے ہو سکتا ہے ، عمل سے نہیں ہو سکتا۔ اگر آدمی زبان سے یہ نہ کہے کہ میں نے رجوع کیا تو مباشرت یا اختلاط کا کوئی فعل خواہ رجوع کی نیت ہی سے کیا گیا ہو، رجوع قرار نہیں دیا جا ئے گا، بلکہ اس صورت میں عورت سے ہر قسم کا اتمتاع حرام ہے چاہے وہ بلا شہوت ہی ہو۔ لیکن مطلقہ رجعیہ سے مباشرت کرنے پر حد نہیں ہے ، کیونکہ علماء کا اس کے حرام ہونے پر اتفاق نہیں ہے ۔ البتہ جو اس کے حرام ہونے کا اعتقاد رکھتا ہوا سے تعزیر دی جائے گی۔ مزید براں آدمی رجوع بالقول کرے یا نہ کرے (مغنی المحتاج)۔

مالکیہ کہتے ہیں کہ رجوع قول اور فعل، دونوں سے ہو سکتا ہے ۔ اگر رجوع بالقول میں آدمی صریح الفاظ استعمال کرے تو خواہ اس کی نیت رجوع کی ہو یا نہ ہو، رجوع ہو جائے گا، بلکہ اگر وہ مذاق کے طور پر بھی رجوع قرار دیے جائیں گے جبکہ وہ رجوع کی یت سے کہے گئے ہوں۔ رہا رجوع بالفعل تو کوئی فعل خواہ وہ اختلاط ہو، یا مباشرت، اس وقت تک رجوع قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ رجوع کی نیت سے نہ کیا گیا ہو (حاشیتہ الدسوتی۔ احکام القرآن لابن العربی )

حنیفہ اور حنابلہ کا مسلک رجوع بالقول کے معاملہ میں وہی جو مالکیہ کا ہے ۔ ربا رجوع بالفعل، تو مالکیہ کے بر عکس ان دونوں مذاہب کا فتوی یہ ہے کہ شوہر اگر عدت کے اندر مطلقہ رجعیہ سے مباشرت کر لے تو وہ آپ سے آپ رجوع ہے ، خواہ وہ مباشرت سے کم کسی درجے کا ہو، اور حنابلہ محض اختلاط کو رجوع نہیں مانتے ( ہدایہ، فتح القدیر، عمدۃ القاری، الانصاف )

(۶)طلاق سنت اور طلاق بدعت کے نتائج کا فرق یہ ہے کہ ایک طلاق یا دو طلاق دینے کی صورت میں اگر عدت گزر بھی جائے تو مطلّقہ عورت اور اس کے سابق شوہر کے درمیان باہمی رضامندی سے پھر نکاح ہو سکتا ہے ۔لیکن اگر آدمی تین طلاق دے چکا ہو تو نہ عدّت کے اندر ر جوع ممکن ہے اور نہ عدّت گزر جانے کے بعد دو بارہ نکاح کیا جا سکتا ہے ۔الّا یہ کہ اُس عورت  کا نکاح کسی اور شخص  سے ہو، وہ نکاح صحیح نوعیت کاہو،دوسرا شوہر اُس عورت سے مباشرت بھی کر چکا ہو،پہر یا تو وہ اسے طلاق دے دے یا مر جائے ۔اس کے بعد اگر عورت اور اس کا سابق شوہر رضامندی کے ساتھ از سرِ نو نکاح کرنا چاہیں توکر سکتے ہیں۔احادیث کی اکثر کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا، اور اس دوسرے  شوہر کے ساتھ اس کی خلوت بھی ہوئی مگر مباشرت نہیں ہوئی، پھر اس نے اسے طلاق دے دی، اب کیا اس عورت کا اپنے ساق شوہر سے دوبارہ نکاح  ہو سکتا ہے ؟ حضورؐ نے جواب دیا: لا، حتّٰی یزوق الاٰخر من عسَیْلتھا ما ذاق الاول۔’’ نہیں، جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے اسی طرح لطف اندوز نہ ہو چکا ہو جس طرح پہلا شوہر ہوا تھا’’۔ رہ سازشی نکاح، جس میں پہلے سے یہ طے شدہ ہو کہ عورت کو سابق شوہر کے لیے حلال کرنے کی خاطر ایک آدمی اس سے نکاح کرے گا اور مباشرت کرنے کے بعد اسے طلاق دیدے گا، تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک یہ نکاح فاسد ہے ، اور امام ابو حنفیہؒ کے نزدیک اس سے تحلیل تو ہو جائے گی، مگر یہ فعل مگر وہ تحریمی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا لعن اللہ المحلل و المحلل لہ،’’اللہ نے تحلیل کرنے والے اور تحلیل کرانے والے ، دونوں پر لعنت فرمائی ہے ‘‘(ترمذی، نسائی)۔ حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا الا اخبر کم بالتیس المستعار؟ ’’ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ کرائے کا سانڈ کون ہوتا ہے ؟ ’’ صحابہؓ نے عرض کیا ضرور ارشاد فرمائیں۔ فرمایا حوالمحلل، لعن اللہ المحلل و المحلل لہ۔’’ وہ تحلیل کرنے والا ہے ۔ خدا کی لعنت ہے تحلیل کرنے والے پر بھی اور اس شخص پر بھی جس کے لیے تحلیل کی جائے ‘‘(ابن ماجہ۔ دارقطنی)۔

۲۔ اس حکم کا خطاب مروں سے بھی ہے اور عورتوں سے بھی اور ان کے  خاندان والوں سے بھی۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق کو کھیل نہ سمجھ بیٹھو کہ طلاق کا اہم معاملہ پیش آنے کے بعد یہ بھی یاد نہ رکھا جائے کہ کب طلاق دی گئی ہے ، کب عدت شروع ہوئی اور کب اس کو ختم ہونا ہے ۔ طلاق ایک نہایت نازک معاملہ ہے جس سے عورت اور مرد اور ان کی اولاد اور ان کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے جب طلاق دی جائے تو اس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے ، اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ کس حالت میں عورت کو طلاق دی گئی ہے ، اور حساب لگا کر دیکھا جائے کہ عدت کا آغاز کب ہوا ہے ، کب تک وہ باقی ہے ، اور کب وہ ختم ہو گئی۔ اسی حساب پر ان امور کا فیصلہ موقوف ہے کہ شوہر کوکب تک رجوع کا حق ہے ۔ کب تک اسے عورت کو گھر میں رکھنا ہے ، کب تک اس کا نفقہ دینا ہے ، کب تک وہ عورت کا وارث ہو گا اور عورت اس کی وارث ہو گی، کب عورت اس سے جدا ہو جائے گی اور اسے دوسرا نکاح کر لینے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ اور اگر یہ معاملہ کسی مقدمہ کی صورت اختیار کر جائے تو عدالت کو بھی صحیح فیصلہ کرنے کے لیے طلاق کی صحیح تاریخ اور وقت اور عورت کی حالت معلوم ہونے کی ضرورت ہو گی، کیونکہ اس کے بغیر وہ مدخولہ اور غیر مدخولہ، حاملہ اور غیر حاملہ، بے حیض اور با حیض، رجعیہ اور غیر رجعیہ عورتوں کے معاملہ میں طلاق سے پیدا  شدہ مسائل کا صحیح فیصلہ نہیں کر سکتی۔

۳۔ یعنی نہ مرد غصے میں آ کر عورت کو گھر سے نکال دے ، اور نہ عورت خود ہی بگڑ کر گھر چھوڑ دے ۔ عدت تک گھر اس کا ہے ۔ اسی گھر میں دونوں کو رہنا چاہیے ، تاکہ باہم موافقت کی کوئی صورت اگر نکل سکتی ہو تو اس ے فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ طلاق اگر رجعی ہو تو کیس وقت بھی شوہر کی طبیعت بیوی کی طرف مائل ہو سکتی ہے ، اور بیوی بھی اختلاف کے اسباب کو دور کر کے شوہر کو راضی کرنے کی کوشش کر سکتی ہے ۔ دونوں ایک گھر میں موجود رہیں گے تو تین مہینے تک، یا تین حیض آنے تک، یا حمل کی صورت میں وضع حمل تک اس کے مواقع بارہا پیش آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر مرد جلد بازی کر کے اسے نکال دے ، یا عورت نا سمجھی سے کام لے کر میکے جا بیٹھے تو اس صورت میں رجوع کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں اور بالعموم طلاق کا انجام آخر کار مستقل علیٰحدگی  ہو کر رہتا ہے ۔ اسی لیے فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ طلاق رجعی کی صورت میں جو عورت عدت گزار رہی ہو اسے بناؤ سنگھار کرنا چاہیے تاکہ شوہر اس کی طرف مائل ہو (ہدایہ۔ الانصاف)۔

فقہاء کے درمیان اس امر میں اتفاق ہے کہ مطلقہ  رجعیہ کو عدت کے زمانے میں سکونت اور نفقہ کا حق ہے ، اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے جائے ، اور مرد کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ اسے گھر سے نکالے ۔ اگر مرد اسے نکالے گا تو گناہ گار ہو گا،اور عورت اگر خود نکلے گی تو گناہ گار بھی ہو گی اور نفقہ و سکونت کے حق سے بھی محروم ہو جائے گی۔

۴۔ اس کے متعدد مطلب مختلف فقہاء نے بیان کیے ہیں۔ حضرت حسن بصری، عامر شعبی، زید بن اسلم، ضحاک، مجاہد، عکرمہ، ابن زید، حما د اور لیث کہتے ہیں کہ اس سے مراد بد کاری ہے ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس سے مراد بد زبانی ہے ، یعنی یہ کہ طلاق کے بعد بھی عورت کا مزاج درستی پر نہ آئے ، بلکہ وہ عدت کے زمانے میں شوہر اور اس کے خاندان والوں سے جھگڑتی اور بد زبانی کرتی رہے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نشوز ہے ، یعنی عورت کو نشوز کی بنا پر طلاق دی گئی ہو اور عدت کے زمانے میں بھی وہ شوہر کے مقابلے پر سرکشی کرنے سے باز نہ آئے ۔ عبد اللہؓ بن عمر، سدی، ابن السائب، اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورت کا گھر سے نکل جاتا ہے ، یعنی ان کی رائے میں طلاق کے بعد عدت کے زمانہ  میں عورت کا گھر چھوڑ کر نکل جانا بجائے خود فاحشۃ مبینۃ(صریح برائی کا ارتکاب)ہے ، اور یہ ارشاد کہ ’’ وہ نہ خود نکلیں الّا یہ کہ صریح برائی کی مرتکب ہوں‘‘ کچھ اس طرح کا کلام ہے جیسے کوئی کہے کہ ’’ تم کسی کو گالی نہ دو الّا یہ کہ بد تمیز بنو‘‘ ان چار اقوال میں سے پہلے تین قولوں کے مطابق ’’ الّا یہ‘‘ کا تعلق ’’ان کو گھروں سے نہ نکالو‘‘ کے ساتھ ہے اور اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ بد چلنی یا بد زبانی یا نشوز کی مرتکب ہوں تو انہیں نکال دینا جائز ہو گا۔ اور چوتھے قول کی رو سے اس کا تعلق’’ اور نہ وہ خود نکلیں‘‘ کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نکلیں گی تو صریح برائی کی مرتکب ہوں گی۔

۵۔ یہ دونوں فقرے ان لوگوں کے خیال کی بھی تردید کرتے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ حیض کی حالت میں طلاق دینے یا بیک وقت تین طلاق دے دینے سے کوئی طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی، اور ان لوگوں کی رائے کو بھی غلط ثابت کر دیتے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاق ایک ہی طلاق کے حکم میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بدعی طلاق واقع ہی نہیں ہوتی یا تین طلاق ایک ہی طلاق رجعی کے حکم میں ہیں، تو یہ کہنے کی آخر ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے کہ جو اللہ کی حدود، یعنی سنت کے بتائے ہوئے طریقے کی خلاف ورزی کرے گا وہ اپنے نفس پر ظلم کرے گا، اور تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ موافقت کی کوئی صورت پیدا کر دے ؟ یہ دونوں باتیں تو اسی صورت میں با معنی ہو سکتی ہیں جبکہ سنت کے خلاف طلاق دینے سے واقعی کوئی نقصان ہوتا ہو جس پر آدمی کو پچھتانا پڑے ، اور تین طلاق بیک وقت دے بیٹھنے سے رجوع کا کوئی امکان باقی نہ رہتا ہو۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جو طلاق واقع ہی نہ ہو اس سے حدود اللہ پر کوئی تعدی نہیں ہوتی جو اپنے نفس پر ظلم قرار پائے ، اور جو طلاق بہر حال رجعی ہی ہو اس کے بعد تو لازماً موافقت کی صورت باقی رہتی ہے ، پھر یہ کہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ شاید اس کے بعد اللہ موافقت کی کوئی صورت پیدا کر دے ۔

اس مقام پر ایک مرتبہ پھر سورہ بقرہ کی آیات ۲۲۸ تا ۲۳۰ اور سورہ طلاق کی زیر بحث آیات کے باہمی تعلق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ سورہ بقرہ میں طلاق کا نصاب تین کا نصاب تین بتایا گیا ہے ، جن میں سے دو کے بعد رجوع کا حق، اور عدت گزر جانے کے بعد بلا تحلیل دوبارہ نکاح کر لینے کا حق باقی رہتا ہے ، اور تیسری طلاق دے دینے سے یہ دونوں حق ساقط ہو جاتے ہیں۔ سور طلاق کی یہ آیات اس حکم میں کسی ترمیم و تنسیخ کے لیے نازل نہیں ہوئی ہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے نازل ہوئی ہیں کہ بیویوں کو طلاق دینے کے جو اختیارات مردوں کو دیے گئے ہیں ان کو استعمال کرنے کی دانشمندانہ صورت کیا ہے جس کی پیروی اگر کی جائے تو گھر بگڑنے سے بچ سکتے ہیں، طلاق دے کر پچھتانے کی نوبت پیش نہیں آسکتی، موافقت پیدا ہونے کے زیادہ سے زیادہ مواقع باقی رہتے ہیں، اور اگر بالآخر  علیٰحدگی ہو بھی جائے تو یہ آخری چارہ کار کھلا رہتا ہے کہ پھر مل جانا چاہیں تو دوبارہ نکاح کر لیں۔ لیکن اگر کوئی شخص نادانی کے ساتھ اپنے ان اختیارات کو غلط طریقے سے استعمال کر بیٹھے تو وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا اور تلافی کے تمام مواقع کھو بیٹھے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو تین سو روپے دے اور کہے کہ یہ تمہاری ملکیت ہیں، ان کو تم اپنی مرضی سے خرچ کرنے کے مختار ہو۔ پھر وہ اسے نصیحت کرے کہ اپنے اس مال کو جو میں نے تمہیں دے دیا ہے ، اس طرح احتیاط کے ساتھ بر محل اور بتدریج استعمال کرنا تاکہ تم اس سے صحیح فائدہ اٹھا سکو، ورنہ میری نصیحت کے خلاف تم بے احتیاطی کے ساتھ اسے بے موقع خرچ کرو گے یا ساری رقم بیک وقت خرچ کر بیٹھو گے تو نقصان اٹھاؤ گے اور پھر مزید کوئی رقم میں تمہیں برباد کرنے کے لیے نہیں دوں گا۔ یہ ساری نصیحت ایسی صورت میں بے معنی ہو جاتی ہے جب کہ باپ نے پوری رقم سرے سے اس کے ہاتھ میں  چھوڑی ہی نہ ہو، وہ بے موقع خرچ کرنا چاہے تو رقم اس کی جیب سے نکلے ہی نہیں، یا پورے تین سو خرچ کر ڈالنے پر بھی ایک سو ہی اس کے ہاتھ سے نکلیں اور دو سو بہر حال اس کی جیب میں پڑے رہیں۔ صورت معاملہ اگر یہی ہو تو اس نصیحت کی آخر حاجت کیا ہے ؟

۶۔ یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں  عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے فیصلہ کر لو کہ آیا عورت کو اپنی زوجیت میں رکھنا ہے یا نہیں۔ رکھنا ہو تو نباہنے کی غرض سے رکھو، اس غرض سے نہ رکھو کہ اس کو ستانے کے لیے رجوع کر لو  اور اپھر طلاق دے کر اس کی عدت لمبی کرتے رہو۔ اور اگر رخصت کرنا ہو تو شریف آدمیوں کی طرح کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر رخصت کرو، مہر یا اس کا کوئی حصہ باقی ہو تو ادا کر دو، اور حسب توفیق کچھ نہ کچھ متعہ طلاق کے طور پر دو، جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ۲۴۱ میں ارشاد ہوا ہے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ ۸۶)۔

۷۔ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد طلاق پربھی گواہ بنانا ہے اور رجوع پر بھی (ابن جریر)۔ حضرت عمران بن حصین سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس سے رجوع کر لیا، مگر نہ طلاق پر کسی کو گواہ بنایا نہ رجوع پر۔ انہوں نے جواب دیا’’ تم نے طلاق بھی سنت کے خلاف دی اور رجوع بھی سنت کے خلاف کیا۔ طلاق اور رجعت اور فرقت پر گواہ بنانا، ان افعال کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے کہ اگر گواہ نہ بنایا جائے تو نہ طلاق واقع ہو، نہ رجوع صحیح ہو اور نہ فرقت، بلکہ یہ حکم اس احتیاط کے لیے دیا گیا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی واقعہ کا انکار نہ کر سکے ، اور نزاع پیدا ہونے کی صورت میں بآسانی فیصلہ ہو سکے ، اور شکوک و شبہات کا دروازہ بھی بند ہو جائے ۔ یہ حکم بالکل ایسا ہی ہے جیسے فرمایا: وَاَشْھِدُوْآاِذَا تَبَا یَعْتُمْ، ’’ جب تم آپس میں بیع کا کوئی معاملہ طے کرو تو گواہ بنا لو‘‘(بقرہ۔ ۲۸۲)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیع پر گواہ بنانا فرض ہے اور اگر گواہ نہ بنایا جائے تو بیع صحیح نہ ہو گی، بلکہ یہ ایک حکیمانہ ہدایت ہے جو نزاعات کا سد باب کرنے کے لیے دی گئی ہے اور اس پر عمل کرنے ہی میں بہتری ہے ۔ اسی طرح طلاق اور رجوع کے معاملہ میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ ان میں سے ہر فعل گواہیوں کے بغیر بھی قانوناً درست ہو جاتا ہے ، لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جو فعل بھی کیا جائے ، اسی وقت یا اس کے بعد دو صاحب عدل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لیا جائے ۔

۸۔ یہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اوپر جو ہدایات دی گئی ہیں وہ نصیحت کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ قانون کی۔ آدمی سنت کے خلاف طلاق دے بیٹھے ، عدت کا شمار محفوظ نہ رکھے ، بیوی کو بلا عذر معقول گھر سے نکال دے ، عدت کے خاتمے پر رجوع کرے تو عورت کو ستانے کے لیے کرے اور رخصت کرے تو لڑائی جھگڑے کے ساتھ کرے ، اور طلاق، رجوع، مفارقت، کسی چیز پر بھی گواہ نہ بنائے ، تو اس سے طلاق اور رجوع اور مفارقت کے قانونی نتائج میں کوئی فرق واقع نہ ہ گا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ اس کے دل میں اللہ اور روز آخر پر صحیح ایمان موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو ایک سچے مومن کو اختیار نہ کرنا چاہیے ۔

۹۔ سیاق کلام  خود بتا رہا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا مطلب سنت کے مطابق طلاق دینا، عدت کا ٹھیک ٹھیک حساب رکھنا، بیوی کو گھر سے نہ نکالنا، عدت کے اختتام پر عورت کو روکنا ہو تو نباہ کرنے کی نیت سے رجوع کرنا اور علیحدگی ہی کرنی ہو تو بھلے آدمیوں کی طرح اس کو رخصت کر دینا، اور طلاق، رجوع یا مفارقت، جو بھی ہو، اس پر وہ عادل آدمیوں کو گواہ بنا لینا ہے ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اس طرح تقویٰ سے کام لے گا اس کے لیے ہم کوئی مخرج(یعنی مشکلات سے نکلنے کا راستہ) نکال دیں گے ۔ اس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص ان امور میں تقویٰ سے کام نہ لے گا وہ اپنے لیے خود ایسی الجھنیں اور مشکلات پیدا کر لے گا جن سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے نہ مل سکے گا۔

ان الفاظ پر غور کیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک طلاق بدعی سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی اور جو لوگ بیک وقت یا ایک ہی طہر میں دی ہوئیں تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیتے ہیں، ان کی رائے صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر طلاق بدعی واقع ہی نہ ہو تو سرے سے کوئی الجھن پیش نہیں آتی جس سے نکلنے کے لیے کسی مخرج کی ضرورت ہو۔ اور اگر تین طلاق اکٹھی دے بیٹھنے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہو، تب بھی مخرج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس صورت میں آخر وہ پیچیدگی کیا ہے جس سے نکلنے کے لیے کسی راستے کی حاجت پیش آئے ؟

۱۰۔ مراد یہ ہے کہ عدت کے دوران میں مطلقہ بیوی کو گھر میں رکھنا، اس کا خرچ برداشت کرنا، اور رخصت کرتے ہوئے اس کو مہر یا متعہ طلاق دے کر رخصت کرنا بلا شبہ آدمی پر مالی بار ڈالتا ہے ۔ جس عورت سے آدمی دل برداشتہ ہو کر تعلقات منقطع کر لینے پر آمادہ ہو چکا ہو، اس پر مال خرچ کرنا تو اسے ضرور ناگوار ہو گا۔ اور اگر آدمی تنگ دست بھی ہو تو یہ خرچ اسے اور زیادہ کھلے گا۔ لیکن اللہ سے ڈرنے والے آدمی کو یہ سب کچھ برداشت کرنا چاہیے ۔ تمہارا دل تنگ ہو تو ہو، اللہ کا ہاتھ رزق دینے کے لیے تنگ نہیں ہے ۔ اس کی ہدایت پر چل کر مال خرچ کرو گے تو وہ ایسے راستوں سے تمہیں رزق دے گا جدھر سے رزق ملنے کا تم گمان بھی نہیں کر سکتے ۔

۱۱۔ یعنی کوئی طاقت اللہ کے حکم کو نافذ ہونے سے روکنے والی نہیں ہے ۔

۱۲۔ یہ ان عورتوں کا حکم ہے جن کو حیض آنا قطعی بند ہو چکا ہو اور کبرسنی کی وجہ سے وہ سن ایاس میں داخل ہو چکی ہوں۔ ان کی عدت اس روز سے شمار ہو گی جس روز انہیں طلاق دی گئی ہو۔ اور تین مہینوں سے مراد تین قمری مہینے ہیںَ اگر قمری مہینے کے آغاز میں طلاق دی گئی ہو تو بالاتفاق رویت ہلال کے لحاظ سے عدت شمار ہو گی، اور اگر مہینے کے بیچ میں کسی وقت طلاق دی گئی ہو تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ۳۰ دن کا مہینہ قرار دے کر ۳ مہینے پورے کرنے ہوں گے (بدائع الصنائع)۔

رہیں وہ عورتیں جن کے حیض میں کسی نوع کی بے قاعدگی ہو، ان کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں۔

حضرت سعید بن السیب کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا جس عورت کو طلاق دی گئی ہو، پھر ایک دو مرتبہ حیض آنے کے بعد اس کا حیض بند ہو گیا ہو، وہ ۹ مہینے انتظار کرے ۔ اگر حمل ظاہر ہو جائے تو ٹھیک ہے ، ورنہ ۹ مہینے گزرنے کے بعد وہ مزید تین مہینے عدت گزارے ، پھر وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کے لیے حلال ہو گی۔

ابن عباس، قتادہ اور عکرمہ کہتے ہیں کہ جس عورت کو سال بھر حیض نہ آیا ہو اس کی عدت تین مہینے ہے ۔

طاؤس کہتے ہیں کہ جس عورت کو سال میں ایک مرتبہ حیض آئے اس کی عدت تین حیض ہے ۔ یہی رائے حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، اور حضرت زیدؓ بن ثابت سے مروی ہے ۔

امام مالک کی روایت ہے کہ ایک صاحب حبان نامی تھے جنہوں نے اپنی بیوی کو ایسے زمانے میں طلاق دی جبکہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی تھیں اور اس پر ایک سال گزر گیا مگر انہیں حیض نہ آیا۔ پھر وہ صاحب انتقال کر گئے ۔ مطلقہ بیوی نے وراثت کا دعویٰ کر دیا۔ حضرت عثمانؓ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابت سے مشورہ طلب کیا۔ دونوں بزرگوں کے مشورے سے حضرت عثمانؓ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت وارث ہے ۔ دلیل یہ تھی کہ نہ وہ ان عورتوں میں سے ہے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں اور نہ ان لڑکیوں میں سے ہے جن کو ابھی حیض نہیں آیا، لہٰذا وہ شوہر کے مرنے تک اپنے اس حیض پر تھی جو اسے پہلے آیا تھا اور اس کی عدت باقی تھی۔

حنفیہ کہتے ہیں کہ جس عورت کا حیض بند ہو گیا ہو، مگر اس کا بند ہونا سن ایام کی وجہ سے نہ ہو کہ آئندہ اس کے جاری ہونے کی امید نہ رہے ،اس کی عدت یا تو حیض ہی سے ہو گی اگر وہ آئندہ جاری ہو، یا پھر اس عمر کے لحاظ سے ہو گی جس میں عورتوں کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے اور اس عمر کو پہنچنے کے بعد وہ تین مہینے عدت گزار کر نکاح سے آزاد ہو گی۔ یہی قول امام شافعیؓ، امام ثوری اور امام لیث کا ہے ۔ اور یہی مذہب حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت زیدؓ بن ثابت کا ہے ۔

امام مالک نے حضرت عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کو اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت پہلے ۹ مہینے گزارے گی۔ اگر اس دوران میں حیض جاری نہ ہو تو پھر وہ تین مہینے اس عورت کی سی عدت گزارے گی جو حیض سے مایوس ہو چکی ہو۔ ابن القاسم نے امام مالک کے مسلک کی توضیح یہ کی ہے کہ ۹ مہینے اس روز سے شمار ہوں گے جب آخری مرتبہ اس کا حیض ختم ہوا تھا نہ کہ اس روز سے جب اسے طلاق دی گئی۔ (یہ تمام تفصیلات احکام القرآن للجصاص  اور بدائع الصنائع للکاسانی سے ماخوذ ہیں)۔

امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی عورت جس کی عدت حیض کے اعتبار سے شروع ہوئی تھی، عدت کے دوران میں آئسہ ہو جائے تو اسے حیض والی عورتوں کے بجائے آئسہ عورتوں والی عدت گزارنی ہو گی۔ اور اگر اس کو حیض آنا بند ہو جائے اور معلوم نہ ہو سکے کہ وہ کیوں بند ہو گیا ہے تو پہلے وہ حمل کے شبہ میں ۹ مہینے گزارے گی اور پھر اسے تین مہینے عدت کے پورے کرنے ہوں گے ۔ اور اگر یہ معلوم ہو کہ حیض کیوں بند ہوا ہے ، مثلاً کوئی بیماری ہو یا دودھ پلا رہی ہو یا ایسا ہی کوئی اور سبب ہو تو وہ اس وقت تک عدت میں رہے گی جب تک یا تو حیض آنا شروع نہ ہو جائے اور عدت حیضوں کے لحاظ سے شمار ہو سکے ، یا پھر وہ آئسہ ہو جائے اور آئسہ عورتوں کی سی عدت گزار سکے (الانصاف)۔

۱۳۔ حیض خواہ کم سنی کی وجہ سے نہ آیا ہو، یا اس وجہ سے کہ بعض عورتوں کو بہت دیر میں حیض آنا شروع ہوتا ہے ، اور شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی عورت کو عمر بھر نہیں آتا، بہر حال تمام صورتوں میں ایسی عورت کی عدت وہی ہے جو آئسہ عورت کی عدت ہے ، یعنی طلاق کے وقت سے تین مہینے ۔

اس جگہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ قرآن کی تصریح کے مطابق عدت کا سوال اس عورت کے معاملہ میں پیدا ہوتا ہے جس سے شوہر خلوت کر چکا ہو، کیونکہ خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں سرے سے کوئی عدت ہے ہی نہیں(الاحزاب، ۴۹)۔  اس لیے ایسی لڑکیوں کی عدت بیان کرنا جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کر دینا جائز ہے بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے ۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز کو قرآن نے جائز قرار دیا ہو اسے ممنوع قرار دینے کا کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا۔

جس لڑکی کو ایسی حالات میں طلاق دی گئی ہو کہ اسے ابھی حیض آنا شروع نہ ہوا ہو، اور پھر عدت کے دوران میں اس کو حیض آ جائے ، تو وہ پھر اسی حیض سے عدت شروع کرے گی اور اس کی عدت حائضہ عورتوں جیسی ہو گی۔

۱۴۔ اس امر پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے ۔ لیکن اس امر میں اختلاف واقع ہو گیا ہے کہ آیا یہی حکم اس عورت کا بھی ہے جس کا شوہر زمانہ حمل میں وفات پا گیا ہو؟ یہ اختلاف اس وجہ سے ہوا ہے کہ سورہ بقرہ آیت  ۲۳۴ میں اس عورت کی عدت ۴ مہینے دس دن بیان کی گئی ہے جس کا شوہر وفات پا جائے ، اور وہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حکم آیا تمام بیوہ عورتوں کے لیے عام ہے یا ان عورتوں کے لیے خاص ہے جو حاملہ نہ ہوں۔

حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ استنباط کرتے ہیں کہ حاملہ مطلقہ کی  حد تو وضع حمل تک ہی ہے ، مگر بیوہ حاملہ کی عدت آخر الَاَجلَین ہے ، یعنی مطلقہ کی عدت اور حاملہ کی عدت میں سے جو زیادہ طویل ہو وہی اس کی عدت ہے ۔ مثلاً اگر اس کا بچہ ۴ مہینے دس دن سے پہلے پیدا ہو جائے تو اسے چار مہینے دس سن پورے ہونے تک عدت گزارنی ہو گی۔اور اگر اس کا وضع حمل اس وقت تک نہ ہو تو پھر اس کی عدت اس وقت پوری ہو گی جب وضع حمل ہو جائے ۔ یہی مذہب امامیہ کا ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ سورہ طلاق کی یہ آیت سورہ بقرہ کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے بعد کے حکم نے پہلی آیت کے حکم کو غیر حاملہ بیوہ کے لیے خاص کر دیا ہے اور ہر حاملہ کی عدت وضع حمل تک  مقرر کر دی ہے ، خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ۔ اس مسلک کی رو سے عورت کا وضع حمل چاہے شوہر کی وفات کے فوراً بعد ہو جائے یا ۴ مہینے دس دن سے زیادہ طول کھینچے ، بہر حال بچہ پیدا ہوتے ہیں وہ عدت سے باہر ہو جائے گی۔ اس مسلک کی تائید حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت کرتی ہے وہ فرماتے ہیں، جب سورہ طلاق کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کیا یہ مطلقہ اور بیوہ دونوں کے لیے ہے ؟ حضورؐ نے جواب دیا ہاں۔ دوسری روایت میں حضورؐ نے مزید تصریح فرمائی : اجل کل حامل ان تضع مافی بطنہا، ’’ ہر حاملہ عورت کی عدت کی مدت اس کے  وضع حمل تک ہے ‘‘ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ابن حجر کہتے ہیں کہ اگر چہ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے ، لیکن چونکہ یہ متعدد سندوں سے نقل ہوئی ہے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے )۔ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کی مضبوط تائید سبیعہ اسلمیہ کے واقعہ سے ہوتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں پیش آیا تھا۔ وہ بحالت حمل بیوہ ہوئی تھیں اور شوہر کی وفات کے چند روز بعد (بعض روایات میں ۲۰ دن، بعض میں ۲۳ دن، بعض میں ۲۵ دن، بعض میں ۴۰ دن اور بعض میں ۳۵ دن بیان ہوئے ہیں) ان کا وضع حمل ہو گیا تھا۔ حضورؐ سے ان کے معاملہ میں فتویٰ پوچھا گیا تو آپ نے ان کو نکاح  کی اجازت دے دی۔ اس واقعہ کو بخاری و مسلم نے کئی طریقوں سے حضرت ام  سلمہ سے روایت کیا ہے ۔ اسی واقعہ کو بخاری، مسلم، امام احمد، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے مختلف سندوں کے ساتھ حضرت مسور بن مخرمہ سے بھی روایت کیا ہے ۔ مسلم نے خود سبیعہ اسلمیہ کا یہ بیان نقل کیا ہے  کہ میں حضرت سعد بن خولہ کی بیوی تھی۔ حجۃ الوداع کے زمانے میں میرے شوہر کا انتقال ہو گیا جبکہ میں حاملہ تھی۔ وفات کے چند روز بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ تم چار مہینے دس دن سے پہلے نکاح نہیں کر سکتیں۔ میں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہو چکی ہو، اب چاہے تو دوسرا نکاح کر سکتی ہو۔ اس روایت کو بخاری نے بھی مختصراً نقل کیا ہے ۔

صحابہ کی کثیر تعداد سے یہی مسلک منقول ہے ۔ امام مالک، امام شافعی، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبد الہ بن عمر سے حاملہ بیوہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس کی عدت وضع حمل گی ہے ۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب بولے کہ حضرت عمر نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر شوہر ابھی دفن بھی نہ ہوا ہو ا بلکہ اس کی لاش اس کے بستر پر ہی ہو اور اس کی بیوی کے ہاں بچہ ہو جائے تو وہ دوسرے نکاح کے لیے حلال ہو جائے گی۔ یہی رائے حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت ابو مسعودؓ بدری اور حضرت عائشہؓ کی ہے ، اور اسی کا ائمہ اربعہ اور دوسرے اکابر فقہاء نے اختیار کیا ہے ۔

شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر حاملہ کے پیٹ میں ایک سے زیادہ بچے ہوں تو آخری بچے کی ولادت پر عدت ختم ہو گی۔بچہ خواہ مردہ ہی پیدا ہو، اس کی ولادت سے عدت ختم ہو جائے گی۔ اسقاط حمل کی صورت میں اگر دائیاں اپنے فن کی رو سے یہ کہیں کہ یہ محض خون کا لوتھڑا نہ تھا بلکہ اس میں آدمی کی صورت پائی جاتی تھی، یا یہ رسولی نہ تھی بلکہ آدمی کی اصل تھی تو ان کا قول قبول کیا جائے گا اور عدت ختم ہو جائے گی(مغنی المحتاج)۔حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک بھی اس کے قریب قریب ہے ، مگر اسقاط کے معاملہ میں ان کا مذہب یہ ہے کہ جب تک انسانی بناوٹ ظاہر نہ پائی جائے ، محض دائیوں کے اس بیان پر کہ یہ آدمی ہی کی اصل ہے ، اعتماد نہیں کیا جائے گا اور اس سے عدت ختم نہ ہو گی(بدائع الصنائع۔ الانصاف )۔ لیکن موجودہ زمانے میں طبی تحقیقات کے ذریعہ سے یہ معلوم کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ جو چیز ساقط ہوئی ہے وہ واقعی انسانی حمل کی نوعیت رکھتے تھی یا کسی رسولی یا جمے ہوئے خون کی قسم سے تھی، اس لیے اب جہاں ڈاکٹروں سے رائے حاصل کرنا ممکن ہو وہاں یہ فیصلہ بآسانی کیا جا سکتا ہے کہ جس چیز کو اسقاط حمل کہا جاتا ہے وہ واقعی اسقاط تھا یا نہیں اور اس سے عدت ختم ہوئی یا نہیں۔ البتہ جہاں ایسی طبی تحقیق ممکن نہ ہو وہاں حنابلہ اور حنفیہ کا مسلک ہی زیادہ مبنی بر احتیاط ہے اور جاہل دائیوں پر اعتماد کرنا مناسب نہیں ہے ۔

۱۵۔ یہ اگر چہ ایک عمومی نصیحت ہے جس کا اطلاق انسانی زندگی کے تمام حالات پر ہوتا ہے ، لیکن اس خاص سیاق و سباق میں اسے ارشاد فرمانے کا مقصد مسلمانوں کو خبردار کرنا ہے کہ اوپر جو احکام بیان کیے گئے ہیں، ان سے خواہ تمہارے اوپر کتنی ہی ذمہ داریوں کا بوجھ پڑتا ہو، بہر حال خدا سے ڈرتے ہوئے ان کی پیروی کرو، اللہ تمہارے کام آسان کرے گا، تمہارے گناہ معاف کے گا اور تمہیں بڑا اجر دے گا۔ ظاہر ہے کہ جن مطلقہ عورتوں کی عدت تین مہینے مقرر کی گئی ہے ان کا زمانہ عدت ان عورتوں کی بہ نسبت طویل تر ہو گا جن کی عدت تین حیض مقرر کی گئی ہے ۔ اور حاملہ عورت کا زمانہ عدت تو اس سے بھی کئی مہینے زیادہ ہو سکتا ہے ۔ اس پورے زمانے میں عورت کی سکونت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری اٹھانا، جبکہ آدمی اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر چکا ہو، لوگوں کو ناقابل برداشت بار محسوس ہو گا۔ لیکن جو بار اللہ سے ڈرتے ہوئے ، اللہ کے احکام کی پیروی میں اٹھایا جائے ، اللہ کا وعدہ ہے کہ اپنے فضل سے وہ اس کو ہلکا کر دے گا اور اس کی اتنی بھاری جزا دے گا جو دنیا میں اٹھائے ہوئے اس تھوڑے سے بار کی بہ نسبت بہت زیادہ گراں قدر ہو گی۔

۱۶۔ اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ مطلّقہ کو اگر  رجعی طلاق دی گئی ہو تو شوہر پراس کی سکو نت اور اس کے نفقہ کی ذمہ داری عائد ہو تی ہے ۔اور اس امر پر بہی اتفاق ہے کہ اگر عورت حاملہ ہو،تو خو ا ہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہویا قطعی طور پرا لگ کر دینے والی بہر حال اس کے وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کی نفقہ کا ذمہ دار شو ہر ہو گا۔اس کے بعد اختلاف اس امر میں ہو ا ہے کہ آیا غیر حاملہ مطلّقۂ  مَبتُوتہ(یعنی جسے  قطعی طور پرا لگ کر دینے والی طلاق دی گئی ہو ) سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے ؟یا صرف سکونت کا حق ر کہتی ہے ؟یا دو نو ں  میں سے کسی کی بہی حق دار نہیں ہے ؟

ایک گروہ کہتا ہے کہ وہ سکونت اور نفقہ دونوں کی حق دار ہے ۔یہ رائے حضرت عمر،حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت علی بن حسین(امام زین العابد ین)،قاضی شُر یح اور ابراہیم  نخعی کی ہے ۔اسی کو حنفیہ نے اختیار کیا ہے ،اور امام سُفیان ثوری اور حسن بن صالح کا بھی یہی مذہب ہے ۔ اس کی تائید و ارقطنی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضرت جاب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : المطلقۃ ثلاثا لھا السکنٰی واجفقۃ، ’’ جس عورت کو تین طلاقیں دی جاچکی ہوں اس کے لیے زمانہ عدت میں سکونت اور نفقہ کا حق ہے ’’۔

اس کی مزید تائید ان روایات سے ہوتی ہے جن میں بتایا  گیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس کی حدیث کو حضرت عمر نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ ایک عورت کے قول پر اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ترک نہیں کر سکتے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے علم میں لازماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ سنت ہو گی کہ ایسی عورت کے لیے نفقہ اور سکونت کا حق ہے ۔بلیہ ابراہیم نخعی کی ایک روایت میں تو یہ تصریح ہے کہ حضرت عمر نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کو رد کرتے ہوئے فرمایا تھا سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بقول  لھا السکنٰی و انفقۃ، ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ایسی عورت کے لیے سکونت کا حق بھی ہے اور نفقہ کا بھی‘‘ امام ابو بکر جصاص احکام القرآن میں  اس مسئلے پر مفصل بحث کرتے ہوئے اس مسلک کے حق میں پہلی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً فرمایا ہے فَطَلِّقُوْ ھُنَّ لِعِدَّ تِھِنَّ، ’’ ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو‘‘ اس فرمان الہٰی کا اطلاق اس شخص پر بھی تو ہوتا ہے جو دو طلاق پہلے دے کر رجوع کر چکا ہو اور اب اسے صرف ایک ہی طلاق دینے کا حق باقی ہو۔ دوسری دلیل ان کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے طلاق دینے کا جب یہ طریقہ بتایا کہ ’’ آدمی یا تو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو یا ایسی حالت میں طلاق دے جبکہ عورت کا حاملہ ہونا ظاہر ہو چکا ہو‘‘ تو اس میں آپ نے پہلی، دوسری، یا آخری طلاق کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ’’ ان کو اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو‘‘ ہر قسم کی طلاق سے متعلق مانا جائے گا۔ تیسیر دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ حاملہ مطلقہ خواہ رجعیہ ہو یا مبتوتہ، اس کی سکونت اور اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے ۔ اور غیر  حاملہ رجعیہ کے لیے بھی یہ دونوں حقوق واجب ہیں۔ اس سے معلوم ہو ا کہ کونت اور نفقہ کا وجوب در اصل حمل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ یہ دونوں قسم کی عورتیں شرعاً شوہر کے گھر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اب اگر یہی حکم مبتوتہ غیر حاملہ کے بارے میں بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی سکونت اور اس کا نفقہ مرد کے ذمہ نہ ہو۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ مطلقہ مبتوتہ کے لیے سکونت کا حق تو ہے مگر نفقہ کا حق نہیں ہے ۔ یہ مسلک سعید بن المسیب، سلیمان بن یسار، عطاء، شعبی، اوزاعی، لیث اور ابو عبید رحمہم اللہ کا ہے ،اور امام شافعی اور امام مالک نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ۔ لیکن مغنی المحتاج میں امام شافعی کا مسلک اس سے مختلف بیان ہوا ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے ۔

تیسرا گروہ کہاتا ہے کہ مطلقہ مبتوتہ کے لیے نہ سکونت کا حق ہے نہ نفقہ کا۔ یہ مسلک حسن بصری، حماد، ابن ابی لیلیٰ، عمرو بن دینار، طاؤس، اسحاق بن راہویہ، اور ابو ثور کا ہے ۔ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا بھی یہی مسلک نقل کیا ہے ۔ امام احمد بن حنبل اور امامیہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ۔اور مغنی المحتاج میں شافعیہ کا مسلک بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ تجب سکنٰی لمعتدۃِ طلاقٍ او حاملٍ ولا بائن………… ولحائل البائن لا نفقۃ لھا ولا کسوۃ۔’’ طلاق کی بنا پر جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کے لیے سکونت کا حق واجب ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا نہ ہو، مگر بائنہ کے لیے واجب نہیں ہے ………… اور غیر حاملہ بائنہ کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ کپڑا‘‘۔ اس مسلک کا استدلال ایک تو قرآن مجید کی اس آیت سے ہے کہ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللہُ یُحْدِ ثُ بَعْدَ ذٰ لِکَ اَمْراً، تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ موافقت کی کوئی صورت پیدا کر دے ‘‘۔اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ بات مطلقہ رجعیہ کے حق ہی میں درست ہو سکتی ہے نہ کہ مبتوتہ کے حق میں۔ اس لیے مطلقہ کو گھر میں رکھنے کا حکم بھی رجعیہ ہی کے لیے خاص ہے ۔ دوسرا استدلالفاطمہ بنت قیس کی حدیث سے ہے جسے کتب حدیث میں بکثرت صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ۔

یہ فاطمہؓ بن قیس الفہریہ اولین مہاجرات میں سے تھیں، بڑی عاقلہ سمجھی جاتی تھیں، اور حضرت عمرؓ کی شہادت کے موقع پر اصحاب شوریٰ کا اجتماع انہی کے ہاں ہوا تھا۔ یہ پہلے ابو عمرو بن حفص ؓ المحیرۃ المخزُومی کے نکاح میں تھیں، پھر ان کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دے کر الگ کر دیا، اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید سے کیا۔ ان کا قصہ یہ ہے کہ ان کو شوہر ابو عمرو پہلے ان کو دو طلاق دے چکے تھے ۔ پھر جب حضرت علی کے ساتھ وہ یمن بھیجے گئے تو انہوں نے وہاں سے باقی ماندہ تیسری طلاق بھی ان کو بھیج دی۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ ابو عمرو ہی نے اپنے رشتہ داروں کو پیغام بھیجا تھا کہ عدت کے زمانے میں ان کو گھر میں رکھیں اور ان کا خرچ برداشت کریں۔ اور بعض میں یہ ہے کہ انہوں نے خود نفقہ و سکونت کے حق کا مطالبہ کیا تھا۔ بہر حال جو صورت بھی ہو، شوہر کے رشتہ داروں نے ان کا حق ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر یہ دعویٰ لے کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچیں، اور حضورؐ نے فیصلہ فرمایا کہ نہ تمہارے لیے نفقہ ہے نہ سکونت۔ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: الما النفقہ و السکنٰی للمرأۃ علیٰ زوجھا ما کانت لہۂ علیھا رجعۃ، فاذالم یکن لہ علیہحا رجعۃ فلا نفقۃ ولا سکنٰی۔’’ عورت کا نفقہ اور اس کی سکونت تو شوہر پر اس صورت میں واجب ہے جب کہ شوہر کو اس پر رجوع کا حق ہو۔ مگر جب رجوع کا حق نہ ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکونت‘‘(مسند احمد)۔ طبرانی اور نسائی نے بھی قریب قریب یہی روایت نقل کی ہے اور اس کے آخری الفاظ یہ ہیں فاذا کانت لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ فلا نفقۃ ولا سکنٰی۔’’ لیکن جب وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو جب تک اس کے سوا کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے تو پھر اس کے لیے نہ نفقہ ہے نہ سکونت’’۔ یہ حکم بیان کرنے کے بعد حضورؐ نے ان کو پہلے ام شریک کے  گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا اور بعد میں فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم کے ہاں رہو۔

لیکن اس حدیث کو جن لوگوں نے قبول نہیں کیا ہے ان کے دلائل یہ ہیں:

اولاً، ان کو شوہر کے رشتہ داروں کا گھر چھوڑنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ بہت تیز زبان تھیں اور شوہر کے رشتہ دار ان کی بد مزاجی سے  تنگ تھے ۔ سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ ’’ ان خاتون نے اپنی حدیث بیان کر کے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ زبان دراز تھیں، اس لیے ان کو ابن ام مکتوم کے ہاں رکھا گیا‘‘(ابو داؤد)۔ دوسری روایت میں سعید بن المسیب کا یہ قول منقول ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے زبان درازی کی تھی اس لیے انہیں اس گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا گیا تھا (جصاص)۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں ’’ ان کا گھر سے نکلنا در اصل بد مزاجی کی وجہ سے تھا’’ (ابو داؤد)۔

ثانیاً، ان کی روایت کو حضرت عمر نے اس زمانے میں رد کر دیا تھا جب بکثرت صحابہ موجود تھے اور اس معاملہ کی پوری تحقیقات ہو سکتی تھی۔ ابراہیم نَخعی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو فاطمہؓ کی یہ حدیث پہنچی تو انہوں نے فرمایا لسنا بتاوکی اٰیۃ فی کتاب اللہ و قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لقسل امأۃ لعلھا اوھمت سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول لھا السکنٰی و لنفقۃ۔ ’’ ہم کتاب اللہ کی ایک آیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قول کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے جسے شاید کچھ وہم ہوا ہے ۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ مبتونہ کے لیے سکونت کا حق بھی ہے اور نفقہ کا بھی ‘‘(جصاص)۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس کوفہ کی مسجد میں بیٹھا تھا۔ وہاں شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت اسود نے شعبی کو کنکریاں کھینچ ماریں اور کہا کہ حضرت عمر کے زمانے میں جب فاطمہ کی یہ روایت پیش کی گئی تھی تو انہوں نے کہا تھا ’’ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے رد نہیں کر سکتے ، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا یا بھول گئی۔ اس کے لیے نفقہ اور سکونت ہے ، اللہ کا حکم ہے لَا تُخءرِجُوْھُنَّ مِنْ؍بُیُوْتِھِنَّ‘‘ یہ روایت باختلاف الفاظ مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں منقول ہوئی ہے ۔

ثالثاً، مروان کے زمانہ حکومت میں جن مطلقہ مبتوتہ کے متعلق ایک نزاع چل پڑی تھی، حضرت عائشہؓ نے فاطمہ بنت قیس کی روایت پر سخت اعتراضات کیے تھے ۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کیا آپ کو فاطمہ کا قصہ معلوم نہیں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا’’ فاطمہ کی حدیث کا ذکر نہ کرو تو اچھا ہے ‘‘ (بخاری) بخاری نے دوسری روایت جو نقل کی ہے اس میں حضرت عائشہ کے الفاظ یہ ہیں’’ فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے ، وہ خدا سے ڈرتی نہیں؟‘‘ تیسری روایت میں حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا’’ فاطمہ کے لیے یہ حدیث بیان کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ‘‘۔ حضرت عروہ ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فاطمہ پر سخت ناراضی اک اظہار فرمایا اور کہا ’’ وہ دراصل ایک خالی مکان میں تھیں جہاں کوئی مونِس نہ تھا اس لیے ان کی سلامتی کی خاطر حضورؐ نے ان کو گھر بدل دینے کی ہدایت فرائی تھی‘‘۔

رابعاً، ان خاتون کا نکاح بعد میں اسامہؓ بن زید سے ہوا تھا، اور محمد بن اسامہ کہتے ہیں کہ جب کبھی فاطمہ اس حدیث کا ذکر کرتیں میرے والد، جو چیز بھی ان کے ہاتھ لگتی اٹھا کر ان پر دے مارتے تھے (جصاص)۔ ظاہر ہے کہ حضرت اسامہ کے علم میں سنت اس کے خلاف نہ ہوتی تو وہ اس حدیث کی روایت پر اتنی ناراضی کا اظہار نہیں کر سکتے تھے ۔

۱۷۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ مطلقہ، خواہ رجعیہ ہو یا مبتوتہ، اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کی سکونت اور اس کے نفقہ کا ذمہ دار شوہر ہے ۔ البتہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ حاملہ کا شوہر مر گیا ہو، قطع نظر اس سے کہ وہ طلاق دینے کے بعد مرا ہو، یا اس نے کوئی طلاق نہ دی ہو اور عورت زمانہ حمل میں بیوہ ہو گئی ہو۔ اس معاملہ میں فقہاء کے مسالک یہ ہیں:

۱)۔ حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا قول ہے کہ شوہر کے مجموعی ترکہ میں اس کا نفقہ واجب ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، قاضی شریح، ابو العالیہ، شعبی اور ابراہیم نخعی سے بھی یہی قول منقول ہے ، اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے (آلوسی۔جصاص)۔

۲)۔ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ اس پر اس کے پیٹ کے بچہ کے حصے میں سے خرچ کیا جائے اگر میت نے کوئی میراث چھوڑی ہو۔ اور اگر میراث نہ چھوڑی ہو تو میت کے وارثوں کو اس پر خرچ کرنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ (البقرہ، آیت ۲۳۳)۔

۳)۔ حضرت جابرؓ بن عبد اللہ، حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ، حضرت حسن نصری، حضرت سعید بن المُسَیَّب اور حضرت عطاء بن ابی رَباح کہتے ہیں کہ متوفیٰ شوہر کے مال میں اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایک تیسرا قول یہی منقول ہوا ہے (جصاص)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے ترکہ میں سے اس کو جو میراث کا حصہ ملا ہو اس سے وہ اپنا خرچ پورا کر سکتی ہے ، لیکن شوہر کے مجموعی ترکے پر اس کا نفقہ عائد نہیں ہوتا جس کا بار تمام وارثوں پر پڑے ۔

۴)۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ اس کا نفقہ متوفی شوہر کے مال میں اسی طرح واجب ہے جس طرح اس کے مال میں کسی کا قرض واجب ہوتاہے (جصاص)۔ یعنی مجموعی ترکہ میں سے جس طرح قرض ادا کیا جاتا ہے اسی طرح اس کا نفقہ بھی ادا کیا جائے ۔

۵)۔ امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور امام زُفرؒ کہتے ہیں کہ میت کے مال میں اس کے لیے نہ سکونت کا حق ہے نہ نفقہ کا۔ کیونکہ موت کے بعد میت کی کوئی ملکیت ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد تو وہ وارثوں کا مال ہے ۔ ان کے مال میں حاملہ بیوہ کا نفقہ کیسے واجب ہو سکتا ہے (ہدایہ، جصاص)۔ یہی مسلک امام احمدؒ بن حنبل کا ہے (الانصاف)۔

۶)۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے ، البتہ اسے سکونت کا حق ہے (مُغنی المحتاج)۔ ان کا اسدلال حضرت ابو سعید خدریؓ کی بہن فریعہ بنت مالک کے اس واقعہ سے ہے کہ ان کے شوہر جب قتل کر دیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے گھر ہی میں عدت گزاریں( ابو داؤد، نسائی، ترمذی)۔ مزید برآں ان کا استدلال دارقُطنی کی اس روایت سے ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: للحامل المتوفی عنھا زوجھا نفقۃ۔ ’’بیوہ حاملہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے ‘‘۔ یہی مسلک امام مالکؒ کا بھی ہے (حاشیۃ الد سوقی)۔

۱۸۔ اس ارشاد سے کئی اہم باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ عورت اپنے دودھ کی مالک ہے ، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ اس کی اجرت لینے کی مجاز نہیں ہو سکتی تھی۔ دوسرے یہ کہ جب وہ وضع حمل ہوتے ہی اپنے سابق شوہر کے نکاح سے باہر ہو گئی تو بچے کو دودھ پلائے گی ور اس پر اجرت لینے کی حق دار ہو گی۔ تیسرے یہ کہ باپ بھی قانوناً مجبور نہیں ہے کہ بچے کی ماں ہی سے اس کو دودھ پلوائے ۔چوتھے یہ کہ بچے کا نفقہ باپ پر عائد ہوتا ہے ۔ پانچویں یہ کہ بچے کو دودھ پلانے کی اولین حق دار ماں ہے اور دوسری عورت سے رضاعت کا کام اسی صورت میں لیا جا سکتا ہے جبکہ ماں خود اس پر راضی نہ ہو، یا اس کی اجرت مانگے جس کا ادا کرنا باپ کی مقدرت میں نہ ہو۔ اسی سے چھٹا قاعدہ یہ نکلتا ہے کہ اگر دوسری عورت کو بھی وہی اجرت دینی پڑے جو بچے کی ماں مانگتی ہو تو ماں کا حق اولیٰ ہے ۔

فقہاء کی آراء اس مسئلے میں یہ ہیں:

ضحاک کہتے ہیں کہ ’’ بچے کی ماں اسے دودھ پلانے کی زیادہ حق دار ہے ۔ مگر اسے اختیار ہے کہ چاہے دودھ پلائے یا نہ پلائے۔ البتہ اگر بچہ دوسری عورت کی چھاتی قبول نہ کرے تو ماں کو اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا‘‘۔ اسی سے ملتی جلتی رائے قتادہ اور ابراہیم نخعی اور سفیان ثوری کی ہے ۔ ابراہیم نخعی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ اگر دوسرے عورت رضاعت کے لیے نہ مل رہی ہو تب بھی ماں کو اسے دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا’‘ (ابن جریر)۔

ہدایہ میں ہے ، ’’ اگر ماں باپ کی علیٰحدگی کے وقت چھوٹا بچہ دودھ پیچا ہو تو ماں پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہی اسے دودھ پلائے ۔ البتہ اگر دوسری عورت نہ ملتی ہو تو وہ رضاعت پر مجبور کی جائے گی۔ اور اگر باپ یہ کہے کہ میں بچے کی ماں کو اجرت دے کر اس سے دودھ پلوانے کے بجائے دوسری عورت سے اجرت پریہ کام لوں گا، اور ماں دوسری عورت ہی کے برابر اجرت مانگ رہی ہو، یا بلا اجرت ہی اس خدمت کے لیے راضی ہو، تو اس صورت میں ماں کا حق مقدم رکھا جائے گا۔ اور اگر بچے کی ماں زیادہ اُجرت مانگ رہی ہو تو باپ کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا’’۔

۱۹۔ اس میں ماں اور باپ دونوں کے لیے عتاب کا ایک پہلو ہے ۔ انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی تلخیوں کی بنا پر، جن کے باعث بالآخر طلاق تک نوبت پہنچی تھی، دونوں بھلے طریقہ سے آپس میں بچے کی رضاعت کا معاملہ طے نہ کریں تو یہ اللہ کو پسند نہیں ہے ۔ عورت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تو زیادہ اجرت مانگ کر مرد کو تنگ کرنے کی کوشش کرے گی تو بچے کی پرورش کچھ تیرے ہی اوپر موقوف نہیں ہے ، کوئی دوسری عورت اسے دودھ پلالے گی۔ اور مرد کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تو ماں کی مامتا سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اسے تنگ کرنا چاہے گا تو یہ بھلے آدمیوں کا سا کام نہ ہو گا۔ قریب قریب یہی مضمون سورہ بقرہ، آیت ۲۳۳ میں زیادہ تفصیل کے ساتھ ارشاد ہوا ہے ۔

 

ترجمہ

 

کتنی (۲۰) ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سر تابی کو تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزا کچھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے ، اللہ نے (آخرت میں ) ان کے لیئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے ، ایک ایسا رسو ل (۲۱) جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سنا تا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے (۲۲)۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے ار نیک عمل کرے ، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیئے  بہترین رزق رکھا ہے ۔ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھیا انہی کے مانند (۲۳)۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے ۔ (یہ بات تمھیں اس لیئے بتائی جا رہی ہے ) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے ۔ع

 

تفسیر

 

۲۰۔ اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہوں گے ، اور اگر اطاعت کی راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے ۔

۲۱۔ مفسرین میں سے بعض نے نصیحت سے مراد قرآن لیا ہے ، اور رسول سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور بعض کہتے ہیں کہ نصیحت سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں، یعنی آپ کی ذات ہمہ تن نصیحت تھی۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے ، کیونکہ پہلی تفسیر کی رو سے فقرہ یوں بنانا پڑے گا کہ ’’ ہم نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے اور ایک ایسا رسول بھیجا ہے ‘‘ قرآن کی عبارت میں اس تبدیلی کی آخر ضرورت کیا ہے جب کہ اس کے بغیر ہی عبارت نہ صرف پوری طرح بامعنی ہے بلکہ زیادہ پر معنی بھی ہے ۔

۲۲۔ یعنی جہالت کی تاریکیوں سے علم کی روشنی میں نکال لائے ۔اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرے کے لیے مفید قانون میسر نہیں آ سکا ہے جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسولؐ نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے ہم کو دیا تھا اور جس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی نہ پیش آ سکتی ہے ۔ یہاں اس تقابلی بحث کا موقع نہیں ہے ۔ اس کا محض ایک مختصر سا نمونہ ہم نے اپنی کتاب ’’حقوق الزوجین‘‘ کے آخری حصہ میں درج کیا ہے ۔ لیکن جو اصحاب علم چاہیں وہ دنیا کے مذہبی اور لادینی قوانین سے قرآن و سنت کے اس قانون کا مقابلہ کر کے خود دیکھ لیں۔

۲۳۔ ’’ اُنہی کے مانند‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جتنے آسمان بنائے اُتنی ہی زمینیں بھی بنائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جیسے متعدد آسمان اس نے بنائے ہیں ویسی ہی متعدد زمینیں بھی بنائی ہیں۔ اور ’’ زمین کی قسم سے ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ زمین جس پر انسان رہتے ہیں، اپنی موجودات کے لیے فرش اور گہوارہ بنی ہوئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات میں اور زمینیں بھی تیار کر رکھی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں کے لیے فرش اور گہوارہ ہیں۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن میں یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی پر نہیں ہیں، عالم بالا میں بھی پائی جاتی ہیں (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم۔الشوریٰ، آیت ۲۹، حاشیہ ۵۰)۔بالفاظ دیگر آسمان میں یہ جو بے شمار تارے اور سیارے نظر آتے ہیں، یہ سب ڈھنڈار پڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمین کی طرح ان میں بھی بکثرت ایسے ہیں جن میں دنیائیں آباد ہیں۔

قدیم مفسرین میں سے صرف ابن عباسؓ ایک ایسے مفسر ہیں جنہوں نے اس دور میں اس حقیقت کو بیان کیا تھا جب آدمی اس کا تصور تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ کائنات میں اس زمین کے سوا کہیں اور بھی ذی عقل مخلوق بستی ہے ۔ آج اس زمانے کے سائنس دانوں تک کو اس کے امر واقعہ ہونے میں شک ہے ، کجا کہ ۱۴ سو برس پہلے کے لوگ اسے بآسانی باور کر سکتے ۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ عام لوگوں کے سامنے یہ بات کہتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں اس سے لوگوں کے ایمان متزلزل نہ ہو جائیں۔ چنانچہ مجاہد کہتے ہیں کہ ان سے جب اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ’’ اگر میں اس کی تفسیر تم لوگوں سے بیان کروں تو تم کافر ہو جاؤ گے اور تمہارا کفر یہ ہو گا کہ اسے جھٹلاؤ گے ‘‘۔ قریب قریب یہی بات سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے کہ ابن عباس نے فرمایا ’’ کیا بھروسا کیا جا سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں اس کا مطلب بتاؤں تو تم کافر نہ ہو جاؤ گے ‘‘۔(ابن جریر۔ عبد بن حمید)۔ تاہم ابن جریر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے ، اور شعب الایمان اور کتاب الاسماء و الصفات میں بیہقی نے ابو الضحٰی کے واسطے سے باختلاف الفاظ ابن عباس کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ : فی کلِّ ارضٍ نبیٌّ کنبیِّکم و اٰدمُ کَاٰ دَمَ و نوحٌ کنوجٍ و ابراہیم کا ابراھیم و عیسیٰ کعیسیٰ‘‘۔ ان میں سے ہر زمین میں نبی ہے تمہارے نبیؐ جیسا اور آدم ہے تمہارے آدمؑ جیسا اور نوح ہے تمہارے نوحؑ جیسا، اور ابراہیم ہے تمہارے ابراہیمؑ جیسا اور عیسیٰ ہے تمہارے عیسیٰؑ جیسا‘‘۔ اس روایت کو ابن حجرؒ نے فتح لاباری میں اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے ۔ اور امام ذہنی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے البتہ میرے علم میں ابو الضحٰی کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا ہے ، اس لیے یہ بالکل شاذ روایت ہے ۔ بعض دوسرے علماء نے اسے کذب اور موضوع قرار دیا ہے اور ملا علی قاری نے اس کو موضوعات کبیر(ص ۱۹) میں موضوع کہتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ ابن عباس ہی کی روایت ہے تب بھی اسرائیلیات میں سے ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے رد کرنے کی اصل وجہ لوگوں کا اسے بعید از عقل و فہم سمجھنا ہے ، ورنہ بجائے خود اس میں کوئی بات بھی خلاف عقل نہیں ہے ۔ چنانچہ علامہ آلوسی اپنی تفسیر میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ اس کو صحیح ماننے میں نہ عقلاً کوئی چیز مانع ہے نہ شرعاً۔ مراد یہ ہے کہ ہر زمین میں ایک مخلوق ہے جو ایک اصل کی طرف اسی طرح راجع ہوتی ہے جس طرح بنی آدم ہماری زمین میں آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہوتے ہیں۔ اور ہر زمین میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے ہاں دوسروں کی بہ نسبت اسی طرح ممتاز ہیں جس طرح ہمارے ہاں نوح اور ابراہیم علیہ السلام ممتاز ہیں‘‘۔ آگے چل کر علامہ موصوف کہتے ہیں’’ ممکن ہے کہ زمینیں سات سے زیادہ ہوں اور اسی طرح آسمان بھی صرف سات ہی نہ ہوں۔ سات کے عدد پر، جو عدد تام ہے ، اکتفا کرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ اس سے زائد کی نفی ہو‘‘۔ پھر بعض احادیث میں ایک ایک آسمان کی درمیانی مسافت جو پانچ پانچ سو برس بیان کی گئی ہے اس کے متعلق علامہ موصوف کہتے ہیں : ھومن باب التقریب لِلا فْھام، یعنی اس سے مراد ٹھیک ٹھیک مسافت کی پیمائش بیان کرنا نہیں ہے ، بلکہ مقصود بات کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ وہ لوگوں کی سمجھ سے قریب تر ہو۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال میں امریکہ کے رانڈ کارپوریشن(Rand Corporation) نے فلکی مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ زمین جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے صرف اسی کے اندر تقریباً ۶۰ کروڑ ایسے سیارے پائے جاتے ہیں جن کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت کچھ ملتے چلتے ہیں اور امکان ہے کہ ان کے اندر بھی جاندار مخلوق آباد ہو (اکانومسٹ، لندن۔ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۶۹ء)۔

٭٭٭

 


 

(۶۶)۔سورۃ التحریم

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے الفاظ لِمَ تُحَرِّمُ سے ماخوذ ہے۔  یہ بھی اس کے مضامین کا عنوان نہیں  ہے،  بلکہ اس نام سے مُراد یہ ہے کہ  یہ وہ سورہ ہے جس میں  تحریم کے واقعہ کا ذکر آیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس میں  تحریم کے جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق احادیث کی روایات میں  دو خواتین کا ذکر آیا ہے جو اُس وقت حضورؐ کے حرم میں  تھیں ۔  ایک حضرت صفیہؓ۔  دوسری حضرت ماریہِ قِبْطِیّہؓ۔  ان میں  سے ایک،  یعنی حضرت صَفِیّہ فتح خیبر کے بعد حضورؐ کے نکاح میں  آئیں،  اور خیبر کی فتح بالاتفاق سن ۷ ہجری میں  ہوئی ہے۔  دوسری خاتون ماریہ کو سن ۷ ہجری میں  مصر کے فرمانروا مُقَوْقِس نے حضورؐ کی خدمت میں  ارسال کیا تھا اور اُن کے بطن سے ذی الحجہ سن ۸ ہجری میں  حضورؐ کے فرزند حضرت ابراہیمؓ  پیدا ہوئے تھے۔  ان تاریخی واقعات سے یہ بات قریب قریب متعین ہو جاتی ہے کہ اس سُورہ کا نزول سن ۷ ہجری یا  سن ۸ ہجری کے دوران میں  کسی وقت ہوا ہے۔

 

موضوع اور مباحث

 

یہ ایک بڑی اہم سُورۃ ہے جس میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی ازواجِ مطہرات کے متعلق بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چند مہمّاتِ مسائل پر روشنی  ڈالی گئی ہے۔

ایک یہ کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنے کے اختیارات قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں  ہیں،  اور عام انسان تو درکنار، خود اللہ تعالیٰ کے نبیؐ کی طرف بھی اُن کا کوئی حصّہ منتقل نہیں  کیا گیا ہے۔  نبی بحیثیتِ نبی اگر کسی چیز کو حرام یا حلا ل قرار دے سکتا ہے تو صرف اُس صورت میں  جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اشارہ ہو، قطعِ نظر اس سے کہ وہ اشارہ قرآن مجید میں  نازل ہو ا ہو، یا وحی خفی کے طور پر کیا گیا ہو۔ لیکن بطورِ خود اللہ تعالیٰ کی مباح کی ہوئی کسی چیز کو حرام کر لینے کا مجاز نبی بھی نہیں  ہے کجا کہ کوئی اور شخص ہو سکے۔

دوسرے یہ کہ انسانی معاشرہ میں  نبی کا مقام انتہائی نازک مقام ہے۔  ایک معمولی بات بھی، جو کسی دوسرے انسان کی زندگی میں  پیش آئے تو چنداں  اہمیت  نہیں  رکھتی،  نبی کی زندگی میں  اگر پیش آ جائے تو وہ قانون کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔  اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السّلام کی زندگی پر ایسی کڑی نگرانی رکھی گئی ہے  کہ ان کا کوئی ادنیٰ اِقدام بھی منشاء الہیٰ سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ ایسا کوئی فعل بھی اگر نبی سے صادر ہوا ہے تو اس کی فوراً اصلاح کر دی گئی ہے تا کہ اسلامی قانون اور اس کے اصول اپنی بالکل صحیح صورت میں  نہ صرف خدا کی کتاب،  بلکہ نبی کے اُسوۂ حسنہ  کی صورت میں  بھی خدا کے بندوں  تک پہنچ جائیں  اور ان میں  ذرّہ برابر بھی کوئی چیز  ایسی شامل نہ ہو نے پائے جو منشائے الہیٰ سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔

تیسری بات جو مذکورۂ بالا نکتہ سے خود بخود نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ذرا سی بات پر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ٹوک دیا گیا اور نہ صرف اس کی اصلاح کی گئی بلکہ اسے ریکارڈ پر بھی لے آیا گیا،  تو یہ چیز قطعی طور پر ہمارے دل میں  یہ اطمینان پیدا کر دیتی ہے کہ حضورؐ کی حیاتِ طیّبہ میں  جو اعمال و افعال اور جو احکام و ہدایات بھی ہمیں  اب ملتے ہیں ،  اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت یا اصلاح ریکارڈ پر موجود نہیں  ہے،  وہ سراسر حق ہیں،  اللہ کی مرضی سے پُوری مطابقت رکھتے ہیں ،  اور ہم پُورے اعتماد کے ساتھ ان سے ہدایت و رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

چوتھی بات جو اِس کلام میں  ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جس رسولِ مقدس کی عزت و حُرمت کو اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں  کے حق میں  لازمۂ  ایمان قرار دیتا ہے اُسی کے متعلق اِس سُورہ میں  بیان کیا گیا ہے کہ اُس نے اپنی بیویوں  کے خوش کرنے کے لیے ایک مرتبہ اللہ کی حلال کی ہوئی ایک چیز اپنے اوپر حرام کر لی۔ اور جن ازواج مطہرات کو اللہ تعالیٰ خود تمام اہلِ ایمان کی ماں  قرار دیتا ہے اور جن کے احترام کا اس نے خود مسلمانوں  کو حکم دیا ہے انہی کو اس نے بعض غلطیوں  پر اِس سُورۃ میں  شدّت سے تنبیہ فرمائی ہے۔  پھر  نبی پر یہ گرفت اور ازواجِ مطہرات کو یہ تنبیہ بھی خفیہ طور پر  نہیں  کی گئی بلکہ اُس کتاب میں  درج کر دی گئی  جسے تمام اُمّت کو ہمیشہ ہمیشہ تلاوت کرنا ہے۔  ظاہر ہے کہ کتاب اللہ میں  اِس ذکر کا  منشا  نہ یہ تھا،  نہ یہ ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور امہات المومنین کو اہلِ ایمان کی نگاہوں  سے گرا دینا چاہتا تھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن پاک کی یہ سورۃ پڑھ کر کسی مسلمان کے دل سے ان کا احترام اُٹھ نہیں  گیا ہے۔  اب قرآن میں  یہ ذکر لانے کی مصلحت اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنے بزرگوں  کے احترام کی صحیح حدوں  سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔  نبی، نبی ہے،  خدا نہیں  ہے کہ اس سے کوئی لغزش نہ ہو۔ نبی کا احترام اس بنا پر نہیں  ہے کہ اس سے لغزش کا صدور  نا ممکن ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ وہ مرضی الہیٰ کا مکمل نمائندہ ہے اور اس کی ادنیٰ سی لغزش کو بھی اللہ نے اصلاح کیے بغیر نہیں  چھوڑا ہے جس سے ہمیں  یہ اطمینان نصیب ہو جاتا ہے کہ نبی کا چھوڑا ہوا اُسوۂ  حسنہ اللہ کی مرضی کی پُوری نمائندگی کر رہا ہے۔  اسی طرح صحابۂ کرام ہوں  یا ازواجِ مطہرات،  یہ سب انسان تھے،  فرشتے یا فوق البشر  نہ تھے۔  اُن سے غلطیوں  کا صدور ہو سکتا تھا۔ اُن کو جو  مرتبہ بھی حاصل ہوا اِس وجہ سے ہوا  کہ اللہ کی رہنما ئی اور  اللہ کے رسول ؐ  کی تربیت نے ان کو انسانیت کا بہترین نمونہ بنا دیا تھا۔  اُن کو جو کچھ بھی احترام ہے اسی بنا پر ہے،  نہ کہ اِس مفروضے پر کہ وہ کچھ ایسی ہستیاں  تھیں  جو غلطیوں  سے بالکل مبرّا تھیں۔  اِسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عہدِ مبارک میں  صحابہ یا ازواج مطہرات سے بشریت کی بنا پر جب بھی کسی غلطی کا صدور ہوا اُس پر ٹوکا گیا۔ اُن کی بعض غلطیوں  کی اصلاح حضورؐ نے کی جس کا ذکر احادیث میں  بکثرت مقامات پر آیا ہے۔  اور بعض غلطیوں  کا ذکر قرآن مجید میں  کر کے اللہ تعالیٰ نے خود ان کی اصلاح کی تاکہ مسلمان کبھی بزرگوں  کے احترام کا کوئی ایسا مبالغہ آمیز تصوّر نہ قائم کر لیں  جو انہیں  انسانیت کے مقام سے اٹھا کر دیویوں  اور دیوتاؤں  کے مقام پر پہنچا دے۔  آپ قرآن پاک کا مطالعہ آنکھیں  کھول کر کریں  تو اِس کی پے در پے مثالیں  آپ کے سامنے آئیں  گی۔ سُورۂ آلِ عمران میں  جنگِ اُحُد کا ذکر کرتے ہوئے صحابۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا:

’’ اللہ نے (تائید و نصرت) کا جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پُورا کر دیا  جبکہ اُس کے اذن سے تم اُن کو قتل کر رہے تھے۔  یہاں  تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں  باہم اختلاف کیا اور جو نہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں  دکھائی  جس کی محبت میں  تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت) تم حکم کی نافرمانی کر بیٹھے،   تم میں  سے کوئی دنیا کا طالب تھا اور کوئی آخرت کا طلب گار،  تب اللہ نے تمہیں  اُن کے مقابلہ میں  پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔  اور حق یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں  معاف کر دیا، اللہ مومنوں  پر بڑا فضل  فرمانے  والا ہے ‘‘ (آیت ۱۵۲)۔

سُورۂ نُور میں  حضرت عائشہ پر تُہمت کا ذکر کرتے ہوئے صحابہ ؓ  سے فرمایا گیا:

’’ ایسا کیوں   نہ ہوا کہ جب تم لوگوں  نے اِسے سُنا تھا اُسی وقت مومن مرد اور عورتیں ،  سب اپنے آپ سے نیک گمان کرتے اور کہ ہ دیتے کہ یہ تو صریح بہتا ن ہے ؟۔ ۔۔۔ اگر تم لوگوں  پر دُنیا اور آخرت میں  اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں  میں  تم پڑ گئے تھے ان کی پاداش میں  بڑا عذاب تمہیں  آلیتا۔ ذرا غور کرو،  جب تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اِس  قصّے کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں  کوئی علم نہ تھا۔ تم اِسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔ کیوں   نہ اِسے سنتے ہی تم نے کہ ہ دیا کہ ہمیں  ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں  دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتانِ عظیم ہے ؟ اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو ‘‘ (آیات ۱۲تا ۱۷)۔

سُورۂ اَحزاب میں  ازواجِ مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا:

’’ اَے نبی اپنی بیویوں  سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ،  میں  تمہیں  کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔  اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کی طلبگار ہو تو جان لو کہ تم میں  سے جو نیکو کار ہیں  اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ‘‘ (آیات ۲۸ تا ۲۹)۔

سُورۂ جُمعہ میں  صحابہ ؓ  کے متعلق فرمایا:

’’ جب انہوں  نے کاروبارِ تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ گئے اور (اے نبی) تم کو(خطبے میں ) کھڑا چھوڑ دیا۔ اِن سے کہو کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے ‘‘ (آیت۱۱)۔

سُورۂ مُمتَحِنہ میں  ایک بدری صحابی حضرت حاطِب ؓ  بن ابی بَلْتَعَہ کے اِس فعل پر سخت گرفت کی گئی کہ انہوں  نے فتح مکہ سے پہلے حضورؐ کے حملے کی خُفیہ اطلاع کفّارِ قریش کو بھیج دی تھی۔

یہ ساری مثالیں  خود قرآن میں  موجود ہیں،  اُسی قرآن میں  جس میں  اللہ تعالیٰ نے صحابہ اور ازواج مطہرات کے فضل و شرف کو خود بیان فرمایا ہے اور اُنہیں  رضی اللہ عنہم و رَضُوا عَنہ کا پروانۂ  خوشنودی عطافر مایا ہے۔  بزرگوں  کے احترام کی یہی مبنی بر اعتدال تعلیم تھی جس نے مسلمانوں  کو انسان پرستی  کے اُس ھاوِیہ میں  گرنے سے بچایا جس میں  یہود و نصاریٰ گر گئے۔  اور اسی کا نتیجہ ہے کہ حدیث، تفسیر اور تاریخ کے موضوعات پر جن اکابرِ اہلِ سنّت نے کتابیں  مرتّب کی ہیں  ان میں  جہاں  صحابۂ  کرام اور ازواجِ مطہرات اور دوسرے بزرگوں  کے فضائل و کمالات بیان کیے گئے ہیں،  ان کی کمزوریوں  اور لغزشوں  اور غلطیوں  کے واقعات بیان کرنے میں  بھی تامّل نہیں  کیا گیا ہے،  حالانکہ آج کے مدعیانِ احترام کی بہ نسبت وہ اِن بزرگوں  کے زیادہ قدر شناس تھے اور اِن سے زیادہ حدودِ احترام کو جانتے تھے۔

پانچویں  بات جو اس سُورہ میں  کھول کر بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کا دین بالکل بے لاگ ہے۔  اس میں  ہر شخص کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کا وہ اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے مستحق ہو۔ کسی بڑی سے بڑی ہستی کے ساتھ نسبت بھی اس کے لیے قطعًا نافع نہیں  ہے اور کسی بُری سے بُری ہستی کے ساتھ نسبت بھی اُسے کوئی نقصان نہیں  پہنچا سکتی۔ اس معاملہ میں  خاص طور پر ازواجِ مطہرات کے سامنے تین قسم کی عورتوں  کو بطورِ مثال پیش کیا گیا ہے۔  ایک مثال حضرت نوح ؑ ارو حضرت لُوط ؑ کی بیویوں  کی ہے،  جو اگر ایمان لاتیں  اور اپنے جلیل القدر شوہروں  کا ساتھ دیتیں  تو ان کا مقام امّتِ مُسلِمہ میں  وہی ہوتا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی ازواجِ مطہرات کا ہے۔  لیکن چونکہ انہوں  نے اِس کے برعکس رویّہ اختیار کیا، اس لیے انبیاء کی بیویاں  ہونا ان کے کچھ کام نہ آیا اور وہ جہنّم کی مستحق ہوئیں۔  دوسری مثال فرعون کی بیوی کی ہے۔  جو اگرچہ ایک بدترین دشمنِ خدا کی بیوی تھیں ،  لیکن چونکہ وہ ایمان  لے آئیں  اور انہوں  نے قومِ فرعون کے عمل سے اپنے عمل کا راستہ الگ کر لیا، اس لیے فرعون جیسے اکفر الکا فرین کی بیوی ہونا بھی اُن کے لیے کسی نقصان کا موجب نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں  جنت کا مستحق بنا دیا۔ تیسری مثال حضرت مریم علیہا السّلام کی ہے  جنہیں  یہ مرتبۂ عظیم اس لیے ملا کہ اللہ نے جس شدید آزمائش میں  انہیں  ڈالنے کا فیصلہ فرمایا تھا اس کے لیے انہوں  نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ حضرت مریم ؑ  کے سوا دنیا میں  کسی شریف اور نیک لڑکی کو کبھی ایسی سخت آزمائش میں  نہیں  ڈالا گیا کہ کنوار پنے کی حالت میں  اللہ کے حکم سے اس کو معجزے کے طور پر حاملہ کر دیا گیا ہو اور اُسے بتا دیا گیا ہو کہ اُس کا رب اُس سے کیا خدمت لینا چاہتا ہے۔  جب حضرت مریم  ؑ  نے اِس پر کوئی واویلا  نہ کیا بلکہ ایک سچّی مومنہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ برداشت کرنا قبول کر لیا جو اللہ کی مرضی پُوری کرنے کے لیے برداشت کرنا ناگزیر تھا، تب اللہ نے ان کو سیّدۃ النسَآ ء فی الجنۃ (مُسند احمد) کے مرتبہ ء عالی پر سرفراز فرمایا۔

 

اِن اُمور کے علاوہ ایک اور اہم حقیقت جو اِس سُورۃ سے ہمیں  معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے پاس صرف وہی علم نہیں  آتا تھا جو قرآن میں  درج ہوا ہے،  بلکہ آپؐ  کو وحی کے ذریعہ سے دوسری باتوں  کا علم بھی دیا جاتا تھا جو قرآن میں  درج نہیں  کیا گیا ہے۔  اس کی صریح دلیل اِس سُورۃ کی آیت ۳ ہے۔  اُس میں  بتایا گیا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اپنی ازواجِ مطہرات میں  سے ایک بیوی سے راز میں  ایک بات کہی اور اُنہوں  نے وہ کسی اور کو بتا دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو مطلع کر دیا۔ پھر جب حضورؐ نے اِس غلطی پر اپنی اُن بیوی کو تنبیہ فرمائی،  اور انہوں  نے پوچھا کہ آپؐ کو میری یہ غلطی کس نے بتائی تو حضورؐ نے جواب دیا کہ مجھے علیم و خبیر ہستی نے اس کی خبر دی ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ پُورے قرآن میں  کہاں  وہ آیت ہے جس میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو کہ’’ اَے نبی، تم نے اپنے بیوی سے راز میں  جو بات کہی تھی وہ اُس نے کسی اور پر،  یا فلاں  شخص پر ظاہر کر دی ہے ‘‘ ؟ اگر ایسی کوئی آیت قرآن میں  نہیں  ہے،  اور ظاہر ہے کہ نہیں  ہے،  تو یہ اِس بات کا صریح ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔ اس سے منکرینِ حدیث کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر قرآن کے سوا اور کوئی وحی نہیں  آتی تھی۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

اے نبیؐ،  تم کیوں  اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے ؟ ۱ (کیا اس لیے کہ ) تم اپنی بیویوں  کی خوشی چاہتے ہو؟ ۲۔ ۔۔۔ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔  ۳ اللہ نے تم لوگوں  کے لیے  اپنی قسموں  کی پابندی سے نکلنے کا  طریقہ مقرر کر دیا ہے۔  ۴ اللہ تمہارا مولیٰ ہے،  اور وہی علیم و حکیم ہے۔  ۵

(اور یہ معاملہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں  کی تھی۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبی کو  اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی،  تو نبی نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا۔ پھر جب نبی نے اُسے (افشائے راز کی ) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا’’ مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔ ‘‘  ۶

اگر تم دونوں  اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں،  ۷ اور اگر نبی کے مقابلہ میں  تم نے باہم جتھہ بندی کی ۸ تو جان رکھو کہ اللہ  اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مدد گار ہیں۔  ۹ بعید نہیں  کہ اگر نبی تم سب بیویوں  کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں  تمہارے بدلے میں  عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں،  ۱۰ سچی مسلمان، با ایمان، ۱۱ اطاعت گزار، ۱۲ توبہ گزار، ۱۳ عبادت گزار، ۱۴  اور روزہ دار، ۱۵ خواہ شوہر دیدہ ہوں  یا باکرہ۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ  اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں  گے،  ۱۶ جس پر نہایت تند خُو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں  گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں  کرتے اور جو حکم انہیں  دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں  ۱۷ (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں  پیش نہ کرو، تمہیں   تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔  ۱۸   ؏۱

 

تفسیر

 

۱:یہ  دراصل استفہام نہیں  ہے بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔  یعنی مقصود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ دریافت کرنا نہیں   ہے کہ آپ ؐ نے یہ کام کیوں  کیا ہے،  بلکہ آپ ؐ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے کا جو فعل آپ ؐ سے صادر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔  اِس سے خودبخود یہ مضمون مترشح ہوتا ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اسے حرام کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں  ہے،  حتیٰ کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی یہ اختیار نہیں  رکھتے۔  اگرچہ حضور ؐ نے اُس چیز کو نہ عقیدہ  ٔ حرام سمجھا تھا اور نہ اُسے شرعًا حرام قرار دیا تھا، بلکہ صرف اپنی ذات پر اُس کے استعمال کو حرام کر لیا تھا، لیکن چونکہ آپ ؐ کی  حیثیت ایک عام آدمی کی نہیں  بلکہ اللہ کے رسُول کی تھی، اور آپ ؐ کے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے سے یہ خطرہ پیدا ہو سکتا تھا کہ امّت بھی اُس شے کو حرام یا کم از کم مکروہ سمجھنے لگے،  یا امّت کے افراد یہ خیال کرنے لگیں  کہ اللہ  کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے میں  کوئی مضائقہ نہیں  ہے،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کے اِس فعل پر گرفت فرمائی اور آپ ؐ کو اس  تحریم سے باز رہنے کا حکم دیا۔

۲:اس سے معلوم ہوا کہ حضور ؐ نے تحریم کا یہ فعل خود اپنی کسی خواہش کی بنا پر نہیں  کیا تھا بلکہ آپ ؐ کی بیویوں  نے یہ چاہا تھا کہ آپ ؐ ایسا کریں  اور آپ ؐ نے محض اُن کو خوش کرنے کے لیے ایک حلال چیز اپنے لیے حرام کر لی تھی۔ یہاں  یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تحریم کے اِسفعل پر ٹوکنے کے ساتھ اُس کی اِس وجہ کا ذکر خاص طور پر کیوں  فرمایا؟ ظاہر ہے کہ اگر مقصودِ کلام صرف تحریمِ حلال سے آپ کو باز رکھنا ہوتا تو یہ مقصد پہلے فقرے سے پورا ہو جاتا تھا اور اس کی ضرورت نہ تھی کہ جس وجہ سے آپ نے یہ کام کیا تھا اُس کی بھی تصریح کی جاتی۔ اُس کو بطورِ خاص بیان کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقصد صرف حضور ؐ ہی کو تحریم حلال پر ٹوکنا نہیں  تھا بلکہ ساتھ ساتھ ازواجِ مطہرات کو بھی اس بات پر متنبہ کرنا تھا کہ اُنہوں  نے ازواجِ  نبی ہونے کی حیثیت سے اپنی نازک ذمہ داریوں  کا احساس نہ کیا  اور حضور ؐ سے ایک ایسا کام کرا دیا جس سے ایک حلال چیز کے حرام ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔اگرچہ قرآن میں  یہ نہیں  بتایا گیا ہے کہ وہ چیز کیا تھی جسے حضور ؐ  نے اپنے اوپر حرام کیا تھا، لیکن محدثین و مفسرین نے اس سلسلے میں  دو مختلف واقعات کا ذکر کیا ہے  جو اِس آیت کے نزُول کاسبب بنے۔  ایک واقعہ حضرت ماریۂ  قِبطیَہ ؓ   کا ہے اور دوسرا واقعہ یہ کہ آپ نے شہدا ستعمال نہ کرنے کا عہد کر لیا تھا۔حضرت ماریہ ؓ کا قصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے فارغ ہو نے کے بعد رسول اللہ علیہ و سلم نے جو خطوط اطراف و نواح کے بادشاہوں  کو بھیجے تھے اُن میں  سے  ایک اسکندریہ کے  رومی بطریق  (Patriarch )کے نام بھی  تھا جسے عرب مُقَو قِس کہتے تھے۔  حضرت حاطِب بن ابی بَلنَغہ نہ نامۂ  گرامی لے کر جب اس کے پاس پہنچے تو اُس نے اسلام تو قبول نہ کیا،  مگر اُن کے ساتھ اچھی طرح پیش آیا اور جواب میں  لکھا  کہ’’ مجھے یہ معلوم ہے کہ ایک نبی آنا  ابھی باقی ہے،  لیکن میرا خیال یہ ہے کہ وہ شام میں  نکلے گا۔ تاہم میں  آپ کے ایلچی کے ساتھ احترام سے پیش آیا ہوں  اور آپ کی خدمت میں  دو لڑکیاں  بھیج رہا ہوں  جو قبطیوں  میں  بڑا مرتبہ رکھتی ہیں  ‘‘ (ابنِ  سعد)۔ اُن لڑکیوں  میں  ایک سِیرِین تھیں  اور دوسری ماریہ (عیسائی حضرت مریم کو ماریہ Mary  کہتے ہیں )۔ مصر  سے واپسیپر راستہ میں  حضرت حاطب نے دونوں  کے سامنے اسلام پیش کیا اور وہ ایمان لے آئیں۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوئیں  تو آپ نے سیرین کو حضرت حسان ؓ بن ثابت کی مِلک یمین میں  دے دیا اور حضرت ماریہ کو اپنے حرم میں  داخل فرمایا۔ ذی الحجہ سن ۸ ہجری میں  انہی کے بطن سے حضور  ؐ  کے صاحبزادے ابراہیم  پیدا ہوئے (اَلاِ ستِیعاب۔ الاِ صابہ)۔ یہ خاتون نہایت خوبصورت تھیں۔  حافظ  ابن حَجَر نے الاِصابہ میں  ان کے متعلق حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ مجھے کسی عورت کا آنا اس قدر ناگوار نہ ہوا جتنا ماریہ کا آنا ہوا تھا، کیونکہ وہ حسین و جمیل تھیں  اور حضور ؐ کو بہت پسند آئی تھیں۔ ‘‘  اِن کے بارے میں  متعدد طریقوں  سے جو قصّہ احادیث میں  نقل ہوا ہے کہ وہ مختصراً یہ ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی  اللہ علیہ و سلم حضرت حَفصہ کے مکان میں  تشریف لے گئے اور وہ گھر  پر موجود نہ تھیں۔  اُس وقت حضرت ماریہ آپ کے پاس  وہاں  آ گئیں  اور تخلیہ میں  آپ کے ساتھ رہیں۔  حضرت حفصہ کو یہ بات ناگوار گزری اور انہوں  نے حضور ؐ  سے اس کی سخت شکایت کی۔ اس پر آپ نے اُن کو راضی کر نے کے لیے اُن سے یہ عہد کر لیا کہ آئندہ ماریہ سے  کوئی ازدواجی تعلق نہیں  رکھیں  گے۔  بعض روایات میں  یہ ہے کہ آپ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا، اور بعض میں  بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے اِس پر قسم بھی کھائی تھی۔ یہ روایات زیادہ تر تابعین سے مُرسَلاً نقل ہوئی ہیں ،  لیکن ان میں  سے بعض حضرت عمر ؓ،  حضرت عبداللہ ؓ بن عباس اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہیں۔  ان کی کثرتِ  طُرق کو دیکھتے ہوئے حافظ ابن حَجَر نے فتح الباری میں  یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اِس قصّے کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہے۔  مگر صحاح ستّہ میں  سے کسیمیں  بھی  یہ قصّہ نقل نہیں  کیا گیا ہے۔  نَسائی میں  حضرت اَنَس سے صرف اتنی بات منقول ہوئی ہے کہ’’ حضور ؐ کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ تمتع فرماتے تھے۔  پھر حضرت حفصہ ؓ  اور حضرت عائشہ ؓ  آپؐ  کے  پیچھے پڑ گئیں  یہاں  تک کہ آپ ؐ نے اُسے اپنے اوپر حرام کر لیا۔ اِس پر یہ آیت نازل ہوئیکہ اَے نبی تم کیوں  اُس چیز کو حرام کرتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے ؟‘‘ دوسرا واقعہ بخاری،  مسلم،  ابو داؤد، نَسائی اور دوسری متعدد کتبِ حدیث میں  خود حضرت عائشہ ؓ سے جس طرح نقل ہوا ہے  اس کا  خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بالعموم ہر روز عصر کے بعد تمام ازواجِ مطہرات کے ہاں  چکر لگاتے تھے۔  ایک موقع پر ایسا ہو ا کہ آپ حضرت زینب ؓبنتِ جَحش کے ہاں  جا کر زیادہ دیر تک بیٹھنے لگے،  کیونکہ ان کے ہاں  کہیں  سے شہد آیا ہوا  تھا، اور حضور ؐ کو شیرینی بہت پسند تھی، اس لیے آپ ؐ ان کے ہاں  شہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔  حضرت عائشہ ؓ  کا بیان ہے کہ مجھ کو اس پر رشک لاحق ہوا اور میں  نے حضرت حَفصَہ ؓ،  حضرت سَودہ ؓ اور حضرت صَفِیّہ ؓ سے مل کر یہ طے کیا کہ ہم میں  سے  جس کے پاس بھی آپ  آئیں  وہ آپ سے کہے کہ آپ کے منہ سے مَغافِیر کی بُو آتی ہے۔  مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے جس میں  کچھ بِساند ہوتی ہے اور اگر شہد کی مکھی اس سے شہد حاصل کرے تو اس کے اندر بھی اس بساند کا اثر آ جاتا ہے۔  یہ بات سب کو معلوم تھی کہ حضور ؐ  نہایت نفاست پسند ہیں  اور آپ ؐ  کو اِس سے سخت نفرت ہے کہ آپ ؐ  کے اندر کسی قسم کو بدبُو پائی جائے۔  اس لیے آپ کو حضرت زینب ؓ  کے ہاں  ٹھیرنے سے روکنے کی خاطر یہ تدبیر کی گئی اور یہ کار گر ہوئی۔ جب متعدد بیویوں  نے آپ ؐ سے کہا کہ مُنہ سے مَغافیر کی بُو آتی ہے تو آپ ؐ نے عہد کر لیا کہ اب یہ شہد استعمال نہیں  فرمائیں  گے۔  ایک روایت میں  آپ ؐ کے الفاظ یہ ہیں  کہ فَلَنْ اَعُوْدَ لَہٗ وَقَدْ حَلَفْتُ ’’اب میں  ہر گز اسے نہ پیوں  گا،  میں  نے قسم کھا لی ہے۔ ‘‘  دوسری روایت میں  صرف فلن اعود لہ کے الفاظ ہیں،  و قد حلفت کا ذکر نہیں  ہے۔  اور ابن عباس ؓ  سے جو روایت ابن المُنذِر،  ابن ابی حاتم، طَبَرانی اور ابن مَرْدُوْیَہ نے نقل کی ہے ا س میں  یہ الفاظ ہیں  کہ وَاللہِ لَا اشربُہ، ’’ خدا کی قسم میں  اسے نہ پیوں  گا۔‘‘ اکابر اہلِ علم نے اِن دونوں  قصّوں  میں  سے اِسی دوسرے قصّے کو صحیح قرار دیا ہے اور پہلے قصّے کو ناقابلِ اعتبار ٹھیرایا ہے۔  امام نَسائی کہتے ہیں  کہ ’’ شہد کے معاملہ میں  حضرت عائشہ ؓ  کی حدیث نہایت صحیح ہے،  اور حضرت ماریہ ؓ کو حرام کر لینے کا قصّہ کسی عمدہ طریقہ سے نقل نہیں  ہوا ہے۔ ‘‘  قاضی عِیاض کہتے ہیں ’’ صحیح یہ ہے کہ  یہ آیت ماریہ ؓ کے معاملہ میں  نہیں  ہے بلکہ شہد کے معاملہ میں  نازل ہوئی ہے۔ ‘‘  قاضی ابوبکر ابن العربی بھی شہد ہی کے قصّے کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور یہی رائے امام نَوَوِی اور حافظ بدر الدین عَینی کی ہے۔  ابن ہُمام فتح القدیر میں  کہتے ہیں کہ ’’ شہد کی تحریم کا قصّہ صحیحین میں  خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا، اس لیے یہی زیادہ قابل اعتبار ہے۔ ‘‘  حافظ ابن کثیر کہتے ہیں ’’ صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت شہد کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے بارے میں  نازل  ہوئی ہے۔ ‘‘

۳:یعنی بیویوں  کی خوشی کی خاطر ایک حلال چیز کو حرام کر لینے کا جو فعل آپ سے صادر ہوا ہے یہ اگرچہ آپ کے اہم ترین ذمّہ دارانہ منصب کے لحاظ سے مناسب نہ تھا،  لیکن یہ کوئی گناہ بھی نہ تھا کہ اس پر مواخذہ  کیا جائے۔  اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف ٹوک کر اس کی اصلاح کر دینے پر اکتفا فرمایا اور آپ ؐ کی اِس لغزش کو معاف کر دیا۔

۴:مطلب یہ ہے کہ کفارہ دے کر قَسموں  کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ  مائدہ، آیت ۸۹ میں  مقرر کر دیا ہے اس کے مطابق عمل کر کے آپ اُس عہد کو توڑ دیں  جو آپ ؐ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لیے کیا ہے۔  یہاں  ایک اہم فقہی سوال پیدا ہوتا ہے،  اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ حکم اُس صورت کے لیے ہے کہ جبکہ آدمی نے قسم کھا  کر حلال کر حرام کر لیا ہو، یا بجائے خود تحریم ہی قسم کی ہم معنی ہے خواہ قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہوں  یا نہ کیے گئے ہوں  ؟ اس سلسلے میں  فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ محض تحریم قسم نہیں  ہے۔  اگر آدمی نے کسی چیز کو،  خواہ وہ بیوی ہو یا کوئی دوسری حلال چیز،  قسم کھائے بغیر اپنے اوپر حرام کر لیا ہو تو  یہ ایک لغو  بات ہے جس سے کوئی کفارہ لازم نہیں  آتا، بلکہ آدمی کفارے کے بغیر ہی وہ چیز استعمال کر سکتا ہے جسے اُس نے حرام کیا ہے۔  یہ رائے مسْرُوق،  شَعْبی، رَبِیعَہ اور ابو سَلَمَہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر اور تمام ظاہریّوں  نے اختیار کیا ہے۔  ان کے نزدیک تحریم صرف اُس صورت میں  قَسم  ہے جب کہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرتے ہوئے قسم کے الفاظ استعمال کیے جائیں ۔  اس سلسلے میں  ان کا استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ علیہ و سلم نے چونکہ حلال چیز کو اپنے لیے حرام کر نے کے ساتھ قسم بھی کھائی تھی،  جیسا کہ متعدد روایات میں  بیا ن ہوا ہے،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ؐ سے فرمایا کہ ہم نے قسموں  کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ مقرر کر دیا ہے  اس پر عمل کریں ۔ دوسرا گروہ  کہتا ہے کہ قسم کے الفاظ استعمال کیے بغیر کسی چیز کو حرام کر لینا بجائے خود قسمتو نہیں  ہے،  مگر بیوی کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے۔  دوسری اشیاء،  مثلاً کسی کپڑے یا کھانے کو آدمی نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہو تو یہ لغو ہے،  کوئی کفّارہ دیے بغیر آدمی اس کو استعمال کر سکتا ہے۔  لیکن اگر بیوی یا لونڈی کے لیے اس نے کہا ہو کہ اُس سے مباشرت میرے اوپر حرام ہے  تو وہ حرام تو نہ ہو گی، مگر اس کے پاس جانے سے پہلے کفّارۂ  یَمین لازم آئے گا۔ یہ رائے شافعیہ کی ہے (مُغْنِی المحتاج)۔ اور اسی سے ملتی جلتی رائے مالکیہ کی بھی ہے (احکام القرآن لابن العربی)۔تیسرا گروہ کہتا ہے کہ تحریم بجائے خود قسم ہے خواہ قَسم کے الفاظ استعمال  نہ کیے گئے ہوں ۔  یہ رائے حضرت ابوبکر صدیق ؓ،  حضرت عائشہ ؓ،  حضرت عمر ؓ،  حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی ہے۔  اگرچہ ابن عباس سے ایک دوسری رائے بخاری میں  نقل ہوئی ہے کہ اذا حرّم امر ا ٔ  تَہ فلیس بشی ءٍ (اگر آدمی نے اپنی بیوی کو حرام کیا ہو تو  یہ کچھ نہیں  ہے )، مگر اس کی توجیہ یہ کی گئی  ہے کہ اُن کے نزدیک یہ طلاق نہیں  بلکہ قسم ہے اور اس پر کفارہ ہے،  کیونکہ بخاری،  مسلم، اور ابن ماجہ میں  ابن عباس کا یہ قول نقل ہو ا ہے کہ حرام قرار دینے کی صورت میں  کفّارہ ہے،  اور نَسائی میں  روایت ہے کہ ابن عباس سے جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں  نے کہا ’’  وہ تیرے اوپر حرام تو نہیں  ہے مگر تجھ پر کفّارہ لازم ہے ‘‘،  اور ابن جَرِیر کی روایت میں  ابن عباس کے الفاظ  یہ ہیں  : ’’ اگر لوگوں  نے اپنے اوپر کسی چیز کو حرام کیا ہو جسے اللہ نے حلال کیا ہے تو ان پر لازم ہے کہ اپنے قَسَموں  کا کفارہ ادا کریں ۔ ‘‘  یہی رائے حسن بصری، عطاء، طاؤس،  سلیمان بن یَسار، ابن جُبَیر اور قَتَادہ کی ہے،  اور اسی رائے کو حنفیہ نے اختیار کیا ہے۔  امام ابوبکر  جَصّاص کہتے ہیں  کہ’’ آیت لِمَتُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ لَکَ کے ظاہر الفاظ اس بات پر دلالت نہیں  کرتے کہ رسول اللہ علیہو سلم نے تحریم کے ساتھ قَسم بھی کھائی تھی، اس لیے یہ ماننا پڑے گا کہ تحریم ہی قسم ہے،  کیونکہاس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اِسی تحریم کے معاملہ میں  قسم کا کفارہ واجب  فرمایا۔‘‘ آگے چل کر پھر کہتے ہیں  ’’ ہمارے اصحاب (یعنی حنفیہ)  نے تحریم کو اُس صورت میں  قسم قرار دیا ہے کہ جبکہ اس کے ساتھ طلاق کی نیت نہ  ہو۔ اگر کسی شخص نے بیوی کر حرام کہا تو گویا اس نے یہ کہا کہ خدا کی قسممیں  تیرے قریب نہیں  آؤں  گا، اس لیے وہ اِیلاء کا مرتکب ہوا۔ اور اگر اس نے کسی کھانے  پینے کی چیز وغیرہ کو اپنے لیے حرام قرار دیا تو گویا اس نے یہ کہا کہ خدا کی قسم میں  وہ چیزاستعمال نہ کروں  گا۔ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ فرمایا کہ’’  آپ اُس  چیز کو کیوں  حرام کرتے ہیں  جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے ‘‘ ،  اور پھر فرمایا کہ’’  اللہ نے تم لوگوں  کے لیے قَسموں  کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ  مقرر کر دیا ہے ‘‘۔  اِس طرح اللہ تعالیٰ نے تحریم کو قسم قرار دیا اور تحریم کا لفظ اپنے مفہوم  اور حکمِ شرعی میں  قَسم کا ہم معنی ہو گیا۔اِس مقام پر فائدۂ  عام کے لیے یہ بتا دینا بھی مناسب معلوم ہو تا ہے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے،  اور بیوی کے سوا دوسری چیزوں  کو حرام کر لینے کے معاملہ میں  فقہا کے نزدیک شرعی حکم  کیا ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں   کہ اگر طلاق کی نیّت کے بغیر کسی شخص نے بیوی کو اپنے  لیے حرام کیا ہو، یاقسم کھائی ہو کہ اس سے مُقاربت نہ کرے گا،  تو یہ ایلاء ہے اور اس صورت میں  مقاربت سے پہلے اسے قسم کا کفارہ دینا ہو گا۔ لیکن اگر اس نے طلاق کی نیت سے یہ کہا ہو کہ تو میرے اوپر حرام ہے تو معلوم  کیا جائے گا کہ اس کی نیت کیا تھی۔ اگر تین طلاق کی نیت تھی تو تین واقع ہوں گی اور اگراس سے کم کی نیت تھی،  خواہ ایک کی نیت ہو یا دو کی،  تو دونوں  صورتوں  میں  ایک ہی طلاق وارد ہو گی۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ جو کچھ میرے لیے حلال تھا وہ حرام ہو گیا،  تو اس کا اِطلاق بیوی پر اُس وقت تک نہ ہو گا جب تک  اُس نے بیوی کو حرام کرنے کی نیت سے یہ الفاظ  نہ کہے ہوں ۔  بیوی کے سوا دوسری کسی چیز کو حرام کرنے کی صورت میں  آدمی اُس وقت تک وہ چیز استعمال نہیں  کر سکتاجب تک قَسَم کا کفّارہ ادا نہ کر دے (بدائع الصَّنائِع،  ہدایہ، فتح القدیر، احکام القرآن للجصّاص)۔شافعیہ کہتے ہیں  کہ بیوی کو اگر طلاق یا ظِہار کی نیت سے حرام کیا جائے تو جس چیز کی نیت ہو گی وہ واقع ہو جائے گی۔ رجعی طلاق کی نیت ہو تو  رجعی، بائن کی نیت ہو تو بائن، اور ظہار کی نیت ہو تو ظہار۔ اور اگر کسی نے طلاق و ظہار دونوں  کی نیت سے تحریم کے الفاظ استعال کیے ہوں  تو اُس سے کہا جائے گا کہ دونوں  میں  سے  کسی ایک چیز کو اختیار کر لے۔  کیونکہ طلاق و ظہار، دونوں  بیک وقت ثابت نہیں  ہو سکتے۔  طلاق سے نکاح زائل ہوتا ہے،  اور ظہار  کی صورت میں  وہ باقی رہتا ہے۔ اور اگر کسی نیت کے بغیر مطلقًا بیوی کو حرام قرار دیا گیا ہو تو وہ حرام نہ ہو گی مگر قَسم کا کفّارہ لازم آئے گا۔ اور اگر بیوی کے سوا کسی اور چیز کو حرام قرار دیا ہو تو یہ لغو  ہے،  اسپر کوئی کفّارہ نہیں  ہے (مُغْنِی المحتاج)۔مالکیہ کہتے ہیں  کہ بیوی کے سوا دوسری کسی چیز کو آدمی اپنے اوپر حرام کرے تو   نہ وہ حرام ہوتی ہے اور نہ اسے استعمال کرنے سے پہلے کوئی کفارہ لازم آتا ہے۔  لیکن اگر بیوی کو کہہ دے کہ تو حرام ہے،  یا میرے لیے حرام ہے،  یا میں  تیرے لیے حرام ہوں ،  تو خواہ  مدخولہ سے یہ بات کہے یا غیر مدخولہ سے،  ہر صورت میں  یہ تین طلاق ہیں ،  الّا یہ ہے کہ اس نے تین سے کم کی نیت  کی ہو۔اَصْبَغ کا قول ہے  کہ اگر کوئی یوں  کہے کہ جو کچھ مجھ پر حلال تھا وہ حرام ہے تو جب تک وہ بیوی کو مستثنیٰ نہ کرے،  اس سے بیوی کو تحریم بھی لازم آ جائے گی۔ المُدوَّ نہ میں  مدخولہ اور غیر مدخولہ  کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔  مدخولہ کو حرام کہہ دینے سے  تین ہی طلاقیں  پڑیں  گی، خواہ نیت کچھ بھی ہو، لیکن غیر مدخولہ کے معاملہ میں   اگر نیت کم کی ہو تو جتنی طلاقوں  کی نیت کی گئی ہے اُتنی ہی پڑیں  گی، اور کسی خاص تعداد کی نیت نہ ہو تو پھر یہ تین طلاقیں  ہوں  گی( حاشیۃ الدُّسُوقی)۔ قاضی ابن العربی نے احکام القرآن میں  اس مسئلے کے متعلق امام مالک  ؒ کے تین قول نقل کیے ہیں ۔  ایک یہ کہ بیوی کی تحریم ایک طلاقِ بائن ہے ۔  دوسرا یہ کہ یہ تین طلاق ہیں ۔  تیسرا یہ کہ مدخولہ کے معاملہ میں  تو یہ بہر حال تین طلاقیں  ہیں  البتہ غیر مدخولہ کے معاملہ میں  ایک کی نیت ہو تو ایک ہی طلاق پڑے گی۔ پھر کہتے ہیں  کہ’’ صحیح یہ ہے کہ بیوی کی تحریم ایک ہی طلاق ہے کیونکہ اگر آدمی حرام کہنے کے بجائے طلاق کا لفظ استعمال کرے اور کسی تعداد کا تعیّن نہ کرے تو ایک ہی طلاق واقع ہو گی۔‘‘ امام احمد بن حنبل ؒ سے اس مسئلے میں  تین مختلف اقوال منقول ہوئے ہیں ۔  ایک یہ کہ بیوی کی تحریم، یا حلال کو مطلقًا اپنے لیے حرام قرار دینا ظہار ہے خواہ ظِہار کی نیت ہو یا نہ ہو۔دوسرا یہ کہ یہ طلاق کا صریح کنایہ ہے  اور اس سے تین طلاقیں  واقع ہو جاتی ہیں  خواہ نیت ایک ہی کی ہو۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ قَسَم ہے،  الّا یہ کہ آدمی نے طلاق یا  ظہار میں  سے کسی کی نیت کی ہو، اور اِس صورت میں  جو نیت بھی کی گئی ہو وہی واقع ہو گی۔ ان میں  سے پہلا قول ہی مذہبِ حنبلی میں  مشہور ترین ہے (الانصاف)۔

۵:یعنی اللہ تمہارا آقا اور تمہارے معاملات کا متولّی ہے۔  وہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ تمہاری بھلائی کس چیز میں  ہے اور جو احکام بھی اُس نے دیے ہیں  سراسر حکمت کی بنا پر دیے ہیں ۔  پہلی بات ارشاد فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ تم خود مختار نہیں  ہو بلکہ اللہ کے بندے ہو اور وہ تمہارا آقا ہے،  اس لیے اس کے مقرر کیے ہوئے طریقوں  میں  ردّ و بدل کرنے کا اختیار تم میں  سے کسی کو حاصل نہیں  ہے۔  تمہارے لیے حق یہی ہے کہ اپنے معاملات اس کے حوالے کر کے بس اُ س کی اطاعت کرتے رہو۔ دوسری بات ارشاد فرمانے سے یہ حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ نے جو طریقے اور قوانین مقرر کیے ہیں  وہ سب علم و حکمت پر مبنی ہیں ۔  جس چیز کو حلال کیا ہے علم و حکمت کی بنا پر حلال کیا ہے اور جسے حرام قرار دیا ہے اسے بھی علم و حکمت کی بنا پر حرام قرار دیا ہے۔  یہ کوئی اَلل ٹپ  کام نہیں  ہے کہ جسے چاہا حلال کر دیا اور جسے چاہا حرام ٹھیرا دیا۔ لہٰذا جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں  انہیں  یہ سمجھنا چاہیے کہ علیم و حکیم ہم نہیں  ہیں  بلکہ اللہ ہے  اور ہماری بھلائی اسی میں  ہے کہ ہم اس کے دیے ہوئے احکام کی پیروی کریں ۔

۶:مختلف روایات میں  مختلف باتوں  کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں  بات تھی جو حضور  ؐ  نے اپنی ایک بیوی سے راز میں  کہی تھی اور اُن کی بیوی نے ایک دوسری بیویسے اس کا ذکر کر دیا۔ لیکن ہمارے نزدیک اوّل تو اُس کا کھوج لگانا صحیح نہیں  ہے،  کیونکہ راز  کے افشا کرنے پر ہی تو اللہ تعالیٰ یہاں  ایک بیوی کو ٹوک رہا ہے،  پھر ہمارے لیے کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ ہم اُس کی ٹٹول کریں  اور اسے کھولنے کی فکر میں  لگ جائیں ۔  دوسرے،  جس مقصد کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے لحاظ سے یہ سوال سرے سے کوئی اہمیت نہیں  رکھتا کہ وہ راز کی بات تھی کیا۔ مقصودِ  کلام سے اِس کا کوئی تعلق ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے خود بیان فرما دیتا۔ اصل غرض جس کے لیے اِس معاملے کو قرآن مجید میں  بیان کیا گیا ہے،  ازواجِ مطہرات میں  سے ایک کو اس غلطی پر ٹوکنا  ہے کہ اُن کے عظیم المرتبہ شوہر نے جو بات راز میں  اُن سے فرمائی تھی اُسے انہوں  نے راز نہ رکھا اور اس کا اِفشا کر دیا۔ یہ محض ایک نجی معاملہ ہوتا، جیسادنیا کے عام میاں  اور بیوی کے درمیان ہوا کرتا ہے،  تو اس کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست وحی کے ذریعہ سے حضور ؐ کو اس کی خبر دیتا اور پھر محض خبر دینے ہی پر اکتفا نہ کرتا بلکہ اسے اپنی اُس کتاب میں  بھی درج کر دیتا جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ساری دنیا کو پڑھنا ہے۔  لیکن اسے یہ اہمیت جس وجہ سے دی گئی وہ یہ تھی کہ وہ بیوی  کسی معمولی شوہر کی نہ تھیں  بلکہ اُس عظیم ہستی کی بیوی تھیں  جسے اللہ تعالیٰ  نے انتہائی اہم ذمہ داری کے منصب پر مامور فرمایا تھا، جسے ہر وقت کفار و مشرکین اور منافقین کے ساتھ ایک مسلسل جہاد سے سابقہ درپیش تھا، جس کی قیادت میں  کفر کی جگہ اسلام کا نظام  برپا کرنے کے لیے ایک  زبردست جدوجہد ہو رہی تھی۔ایسی ہستی کے گھر میں  بے شمار ایسی باتیں  ہو سکتی تھیں  جو اگر راز نہ رہتیں  اور قبل  از وقت ظاہر ہو جاتیں   تو اُس کارِ عظیم کو نقصان پہنچ سکتا تھا جو وہ ہستیانجام دے رہی تھی۔ اس لیے جب اُس گھر کی ایک خاتون سے پہلی مرتبہ یہ کمزوری صادر ہوئی  کہ اُس نے ایک ایسی بات کو جو راز میں  اُس سے کہی گئی تھی کسی اور پر ظاہر کر دیا(اگرچہ وہ کوئی غیر نہ تھا بلکہ اپنے ہی گھر کا ایک فرد تھا) تو اس  پر فوراً ٹوک دیا گیا، اور درپردہ نہیں  بلکہ قرآن مجید میں  برملا ٹوکا گیا  تاکہ نہ صرف  ازواجِ مطہرات کو بلکہ مسلم معاشرے کے تمام ذمہ دار لوگوں  کی بیویوں  کو رازوں  کی حفاظت کی تربیت دے جائے۔   آیت میں  اس سوال کو قطعی نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ جِس راز کی بات کو اِفشا کیا گیا تھا وہ کوئی خاص اہمیت رکھتی تھی  یا نہیں ،  او راِس کے اِفشا سے کسی نقصان کا  خطرہ تھا یا نہیں ۔   گرفت بجائے خود اس امر پر کی گئی ہے  کہ راز کی بات کو دوسرے سے بیان کر دیا گیا۔  اس لیے  کہ کسی ذمہ دار ہستی کے گھر والوں  میں  اگر یہ کمزوری موجود ہو  کہ وہ رازوں  کی حفاظت میں  تساہل برتیں  تو آج ایک غیر اہم راز افشا ہوا ہے،  کل کوئی اہم راز افشا ہو سکتا ہے۔  جس شخص کا منصب معاشرے میں  جتنا زیادہ ذمہ دارانہ ہو گا  اُتنے ہی زیادہ اہم اور نازک معاملات اس کے گھر والوں  کے علم میں  آئیں  گے،   اُن کے ذریعہ سے راز کی باتیں  دوسروں  تک پہنچ جائیں  تو کسی وقت بھی یہ کمزوری کسی بڑے خطرے کی موجب بن سکتی ہے۔

۷:اصل میں  الفاظ ہیں  فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔ صَغْو عربی زبان میں  مُڑ جانے اور ٹیڑھا ہو جانے کے  معنی میں  بولا جاتا ہے۔  شاہ ولی اللہ صاحب نے اِس فقرے کا ترجمہ کیا ہے : ’’ ہر آئینہ کج شدہ است دِل شما۔‘‘  اور شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے ’’ کج ہو گئے ہیں  دل تمہارے۔ ‘‘  حضرات عبد اللہ ؓ بن مسعود ؓ،   عبداللہ  ؓ بن عباس ؓ، سُفیان ثوری ؒ اور ضحاک   ؒ  نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے زَاغَتْ قُلُوْ بُکُمَا، یعنی’’ تمہارے دل راہِ راست سے ہٹ گئے ہیں ۔ ‘‘    امام رازی  ؒ  اس کی تشریح میں  کہتے ہیں  ’’ عدلت و مالت عن الحق وھو حق الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ’’ حق سے ہٹ گئے ہیں ، اور حق سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حق ہے۔ ‘‘  اور علامۂ  آلوسی ؒ کی تشریح یہ ہے : مالت عن الواجب من موافقتہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  بِحُبِّ ما یحبہ وکراھۃ ما یَلر ھہ الیٰ مخالفتہٖ  یعنی’’ تم پر واجب تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جو کچھ پسند کریں  اسے پسند کرنے میں  اور جو کچھ آپ ؐ  ناپسند کریں  اسے ناپسند کرنے میں  آپ ؐ  کی موافقت کرو۔ مگر تمہارے دل اِس معاملہ میں  آپ کی موافقتسے ہٹ کر آپ کی مخالفت کی طرف مڑ گئے ہیں ۔ ‘‘

۸:اصل الفاظ ہیں  وَاِنْ تَظَاھَرَ ا عَلَیْہِ تَظَا ھُر کے معنی ہیں  کسی کے مقابلہ میں  باہم تعاون کرنا یا کسی کے خلاف ایکا کرنا۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس فقرے کا ترجمہ  کیا ہے : ’’ اگر باہم متفقشوید بر رنجا نیدنِ پیغمبر۔‘‘  شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ ہے : ’’ اگر تم دونوں  چڑھائی کرو گے اُس پر۔‘‘  مولانا اشرف علی  صاحب کا ترجمہ ہے :’’ اور اگر اسی طرح پیغمبر کے مقابلے میں  تم دونوں  کاروائیاں  کرتی رہیں ۔ ‘‘  اور مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب  نے اِس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ اگر تم دونوں  اِسی طرح کی کارروائیاں  اور مظاہرے کرتی رہیں ۔ ‘‘ آیت کا خطاب صاف طور پر دو خواتین کی طرف ہے،  اور سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین رسول اللہ علیہ و سلم کی ازواجِ مطہرات میں  سے ہیں ،  کیونکہ اِس سورے کی پہلی آیت سے پانچویں  آیت تک مسلسل حضور ؐ  کی ازواج کے معاملات ہی زیر بحث آئے ہیں ۔  اس حد تک تو  بات خود قرآن مجید کے اندازِ بیان سے ظاہر ہو رہی ہے۔  اب رہا یہ سوال کہ یہ دونوں  بیویاں  کون تھیں ،  اور وہ معاملہ کیا تھا جس پر یہ عتاب ہوا ہے،  اِس کی تفصیل ہمیں  حدیث میں  ملتی ہے۔  مُسند احمد، بخاری، مُسلم، تِرمِذی اور نَسائی میں  حضرت عبداللہ بن عباس  کی ایک مفصّل روایت نقل ہوئی ہے جس میں  کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ یہ قصّہ بیان کیا گیا ہے۔  ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  :’’ میں  ایک مدت سے اِس فکر میں  تھا کہ حضرت عمر ؓ سے پوچھوں  کہ رسول اللہ علیہ و سلم کی بیویوں  میں  سے وہ کون سی دو بیویاں  تھیں   جنہوں  نے حضور ؐ کے مقابلہ میں  جتھہ بندی کر لی تھی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی ہے کہ اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہ فَقَدْ صَغَتْقُلُوْبُکُمَا۔ لیکن اُن کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر ایک مرتبہ وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور میں  اُن کے ساتھ گیا۔ واپسی پر راستہ میں  ایک جگہ اُن کو وضو کراتے ہوئے  مجھے موقع مل گیا اور میں  نے یہ سوال  پوچھ لیا۔ انہوں  نے جواب  دیا وہ عائشہ ؓ  اور حفصہ ؓ  تھیں ۔ پھر انہوں  نے بیان کرنا شروع کیا کہ  ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں  کو دبا کر رکھنے کے عادی تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہمیں  یہاں  ایسے لوگ ملے جن پر اُن کی بیویاں  حاوی تھیں ،  اور یہی سبق ہماری عورتیں  بھی اُن سے سیکھنے لگیں ۔  ایک روز میں  اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو کیا دیکھتا ہوں  کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے رہی ہے ( اصل الفاظ ہیں  فَاِذَا ھِیَ تُرَاجِعُنِیْ)۔ مجھے یہ بہت ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے۔  اس نے کہا آپ اس بات پر کیوں  بگڑتے ہیں  کہ میں  آپ کو پلٹ کر جواب دوں  ؟ خدا کی قسم، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیویاں  حضور ؐ  کو دُوبدو جواب دیتی ہیں  (اصل لفظ ہے لِیُرا جِعْنَہٗ) اور ان  میں  سے کوئی حضور ؐ سے دن دن بھر روٹھی رہتی ہے (بخاری کی روایت میں  ہے کہ حضور ؐ اس سے دن بھر ناراض رہتے ہیں  )۔ یہ سُن کر میں  گھر سے نکلا  اور حَفصہؓ کے ہاں  گیا ( جو حضرت عمر ؓ  کی بیٹی اور حضور ؐ  کی بیوی تھیں  )۔ میں  نے اُس سے پوچھا کیا تُورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دو بدو جواب دیتی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ۔  میں  نے پوچھا اور کیا تم میں  سے کوئی دن دن بھر حضور ؐ سے روٹھی رہتی ہے ؟ (بخاری کی روایت  میں  ہے کہ حضور  ؐ دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں  )۔ اس نے کہا ہاں ۔  میں  نے کہا نا مراد ہو گئی اور گھاٹے میں  پڑ گئی وہ عورت جوتم میں  سے ایسا کرے۔  کیا تم میں  سے کوئی اس  بات سے بے خوف ہو گئی  ہے کہ اپنے رسول ؐ  کے غضب کی وجہ سے اللہ اس پر غضبناک ہو جائے اور وہ ہلاکت میں  پڑ جائے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کبھی  زبان درازی نہ کر( یہاں  بھی وہی الفاظ ہیں  لَا تُراجِعِیْ)  اور نہ اُن سے کسی چیز کا مطالبہ کر،  میرے مال سے تیرا جو جی چاہے مانگ لیا کر۔ تُو اس بات  سے کسی دھوکے میں  نہ پڑ کہ تیری پڑوسن (مراد   ہیں  حضرت عائشہ ؓ ) تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو  زیادہ محبوب ہے۔  اِس کے بعد  میں  وہاں  سے نکل اُمِّ سَلَمہ ؓ  کے پاس پہنچا جو میری رشتہ دار تھیں ،  اور مَیں  نے اِس معاملہ میں  ان سے بات کی۔ انہوں  نے کہا، ابن خطاب تم بھی عجیب آدمی ہو۔  ہر معاملہ میں  تم نے دخل دیا یہاں  تک کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور ان کی بیویوں  کے معاملے میں  بھی دخل دینے چلے ہو۔ اُن کی اس بات نے میری ہمت توڑ دی۔ پھر ایسا ہوا کہ میرا ایک انصاری پڑوسی رات کے قریب میرے گھر آیا اور اس نے مجھے پکارا۔ ہم دونوں  باری باری رسولاللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس میں  حاضر ہوتے تھے اور جو بات کسی کی باری کے دن ہوتی تھی  وہ دوسرے کو بتا دیا کر تا تھا۔ زمانہ وہ تھا جب ہمیں  غَسّان کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا۔ اُس کے پکارنے پر جب میں  نکلا تو اُس نے کہا ایک بڑا حادثہ پیش آ گیا ہے۔  میں  نے کہا کیا غَسّانی چڑھ آئے ہیں  ؟ اس نے کہا نہیں ،  اس سے بھی زیادہ بڑا معاملہ ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اپنی بیویوں  کو طلاق دے دی ہے۔  میں  نے کہا کہ برباد ہوئی اور نا مراد ہو گئی حفصہ، (بخاری کے الفاظ ہیں  رَغِمَ اَنْفُ حَفصَۃ و عَا ئِشَۃ) مجھے پہلے ہی اندیشہ تھا  کہ یہ ہونے والی بات ہے۔ ‘‘ اس کے آگے کا قصہ ہم نے چھوڑ دیا ہے جس میں  حضرت عمر ؓ  نے بتایا ہے کہ دوسرے روز صبح حضور ؐ کی خدمت میں  جا کر انہوں  نے کس طرح حضور ؐ  کا غصّہ ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی۔ اس قصّے کو ہم نے مسنداحمد اور بخاری کی روایات جمع کر کے مُرتب کیا ہے۔  اس میں  حضرت عمر ؓ نے مُراجَعَت کا لفظ استعمال کیا ہے اُسے لُغوی معنی میں  نہیں  لیا جا سکتا بلکہ سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ یہ لفظ دُوبدُو جواب دینے کے معنی میں  استعمال ہوا ہے،   اور حضرت عمر ؓ کا اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ لا تراجعنی رسُول اللہ صاف طور پر اس معنی میں  ہے کہ حضور ؐ سے زبان درازی نہ کیا کر۔ اس  ترجمے کو بعض لوگ غلط کہتے ہیں  اور ان کا اعتراض یہ  ہے کہ مراجعت کا ترجمہ پلٹ کر جواب دینا،  یا دوبدو جواب  دینا تو صحیح ہے،  مگر اس کا ترجمہ’’ زبان درازی‘‘  صحیح نہیں  ہے۔  لیکن یہ معترض حضرات اس بات کو نہیں  سمجھتے کہ اگر کم مرتبے کا آدمی اپنے سے بڑے مرتبے کے آدمی کو پلٹ کر جواب دے، یا دو بدو جواب دے تو اسی کا  نام زبان درازی ہے۔  مثلاً باپ اگر بیٹے کو کسی بات پر ڈانٹے یا اس کے کسی فعل پر ناراضی کا اظہار کرے اور بیٹا اس پر ادب سے خاموش رہنے یا معذرت کرنے کے بجائے پلٹ کر جواب دینے پر اتر آئے تو اس کو زبان درازی کے سوا اور کچھ نہیں  کہا جا سکتا۔ پھر جب یہ معاملہ باپ اور بیٹے کے درمیان نہیں  بلکہ اللہ کے رسول اور امت کے کسی فرد کے درمیان ہو تو صرف ایک غبی آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا نام زبان درازی نہیں  ہے۔ بعض دوسرے لوگ ہمارے اس ترجمے کو سُوء ادب قرار دیتے ہیں ،  حالانکہ یہ سُوءِ ادب اگر ہو سکتا تھا تو اُس صورت میں  جبکہ ہم اپنی طرف سے اِس طرح کے الفاظ حضرت حفصہ ؓ کے متعلق استعمال کرنے کی جسارت کرتے۔  ہم نے تو حضرت عمر ؓ کے الفاظ کا صحیح مفہوم ادا کیا ہے،  اور یہ الفاظ انہوں  نے اپنی بیٹی کو اُس کے قصور پر سرزنش کرتے ہوئے استعمال کیے ہیں ۔  اِسے سُوءِ ادب کہنے کے معنی یہ ہیں  کہ یا تو باپ اپنی بیٹی کو ڈانٹتے ہوئے بھی ادب سے بات کرے،  یا پھر اس ڈانٹ کا ترجمہ کرنے والا اپنی طرف سے اس کو با ادب کلام بنا دے۔ اس مقام پر سوچنے کے قابل بات دراصل یہ ہے کہ اگر معاملہ صرف ایسا ہی ہلکا اور معمولی سا تھا کہ حضور ؐ  کبھی اپنی بیویوں  کو کچھ کہتے تھے اور وہ پلٹ کر جواب دیا کرتی تھیں ،  تو آخر اس کو اتنی اہمیت کیوں  دی گئی کہ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے براہِ راست خود اِن ازواجِ مطہرات کو شدّت کے ساتھ تنبیہ فرمائی؟ اور حضرت عمر ؓ نے اس معاملہ کو کیوں  اتنا سخت سمجھا کہ پہلے بیٹی کو ڈانٹا اور پھر ازواجِ مطہرات میں  سے ایک  ایک کے گھر جا کر ان کو اللہ کے غضب سے ڈرایا؟ اورسب سے زیادہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کیا آپ کے خیال میں  ایسے ہی زور رنج تھے کہ ذرا ذرا سی باتوں  پر بیویوں  سے ناراض ہو جاتے تھے اور کیا معاذ اللہ آپ کے نزدیک حضور ؐ کی تنک مزاجی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایسی ہی باتوں  پر ناراض ہو کر آپ ؐ ایک دفعہ سب بیویوں  سے مقاطعہ کر کے اپنے حجرے میں  عزلت گزیں  ہو گئے تھے ؟ ان سوالات پر اگر کوئی شخص غور کرے تو اسے لامحالہ ان آیات کی تفسیر میں  دو ہی راستوں  میں  سے ایک کو اختیار کرنا پڑے گا۔ یا تو اسے ازواج مطہرات کے احترام کی اتنی فکر لاحق ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ؐ  پر حرف آ جانے کی پروا  نہ کرے۔  یا پھر سیدھی طرح یہ مان لے کہ اُس زمانہ میں  اِن ازواجِ مطہرات کا  رویّہ فی الواقع ایساہی قابل اعتراض ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس پر ناراض ہو جانے میں  حق بجانب تھے اور حضور سے بڑھ کر خود اللہ تعالیٰ اس بات میں  حق بجانب تھا کہ  اِن ازواج کو اس رویّہ پر شدّت سے تنبیہ فرمائے۔

۹:مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقابلہ میں  جتھہ بندی کر کے تم اپنا ہی نقصان کرو گی،  کیونکہ جس کا مولیٰ اللہ ہے اور جبریل  اور ملائکہ اور تمام صالح اہلِ ایمان جس کے ساتھ ہیں  اُس کے مقابلہ میں  جتّھہ بندی کر کے کوئی کامیاب نہیں  ہو سکتا۔

۱۰:اس سے معلوم ہوا کہ قصُور صرف حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ ہی  کا نہ تھا،  بلکہ دوسری ازواجِ  مطہرات بھی کچھ نہ کچھ قصور وار تھیں ،  اسی لیے اُن دونوں  کے بعد اِس آیت میں  باقی سب ازواج کو بھی تنبیہ فرمائی گئی۔ قرآن مجید میں  اس قصور کی نوعیت پر کوئی روشنی نہیں  ڈالی گئی ہے،  البتہ احادیث میں  اس کے متعلق کچھ  تفصیلات آئی ہیں ۔  اُن کو ہم یہاں  نقل  کیے دیتے ہیں ۔ بخاری میں  حضرت اَنس ؓ کی روایت   ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا’’ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیویوں  نے آپس کے رشک و رقابت میں  مِل جُل کر حضور ؐ کو تنگ کر دیا تھا (اصل الفاظ میں  اجتمعنساء النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فی الغیرۃ علیہ)۔ اس پر میں   نے اُن سے کہا کہ ’’ بعید نہیں   اگر حضور تم کو طلاق دے دیں  تو اللہ تم سے بہتر بیویاں  آپ ؐ  کو عطا فرما دے۔ ‘‘  ابن ابی حاتم نے حضرت اَنس ؓ کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کا بیان ان الفاظ میں  نقل کیا ہے : ’’ مجھے خبر پہنچی کہ امہات المومنین اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان کچھ ناچاقی ہو گئی ہے۔  اس پر میں  ان  میں  سے ایک ایک کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ علیہ و سلم کو تنگ کرنے سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں  حضور ؐ کو عطا فرما دے گا۔ یہاں  تک کہ جب میں  امہات المومنین میں  سے آخری کے پاس گیا (اور بخاری کی ایک روایت کے بموجب حضرت اُمِّ سَلَمہ ؓ تھیں  )تو انہوں  نے مجھے جو اب  دیا اَے عمر، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عورتوں  کی نصیحت کے لیے کافی نہیں  ہیں  کہ تم  انہیں  نصیحت کرنے چلے ہو؟ اس پر میں  خاموش ہو گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔مسلم میں  حضرت عبداللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت  ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں  سے علیٰحدگی اختیار فرما لی تو میں  مسجد نبوی میں  پہنچا۔دیکھا کہ لوگ متفکر بیٹھے ہوئے کنکریاں  اٹھا اٹھا کر گرا رہے ہیں  اور آپس میں  کہہ رہے ہیں  کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بیویوں  کو طلاق دے دی ہے۔  اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ  کے ہاں  اپنے جانے اور ان کو نصیحت کرنے کا ذکر کیا، پھر فرمایا کہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوا اور میں  نے عرض کیا ’’  بیویوں  کے معاملہ میں  آپ ؐ کیوں  پریشان ہوتے ہیں  ؟ اگر آپ ان کو طلاق دے دیں  تو اللہ آپ ؐ کے ساتھ ہے،  سارے ملائکہ اور جبریل و میکائیل آپ ؐ کے ساتھ ہیں  اور مَیں  اور ابوبکر  اور سب اہلِ ایمان آپ ؐ کے ساتھہیں ۔ ‘‘  میں  اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں  کہ کم ہی ایسا ہوا ہے کہ مَیں  نے کوئی بات کہی ہو اور اللہ سے یہ امید نہ رکھی ہو کہ وہ میرے قول کی تصدیق فر مادے گا،  چنانچہ اس کے  بعد سورۂ   تحریم کی یہ آیات نازل ہو گئیں ۔  پھر میں  نے حضور ؐ سے  پوچھا کہ آپ ؐ نے بیویوں  کو طلا ق دے دی ہے ؟حضور ؐ نے فرمایا نہیں ۔  اس پر میں  نے مسجد نبوی کے دروازے پر کھڑے ہو کر بآوازِ بلند اعلان کیا کہ حضور ؐ  نے اپنی بیویوں  کو طلا ق نہیں  دی ہے۔ بخاری میں  حضرت انس ؓ اور مُسند احمد میں  حضرت عبداللہ ؓ بن عباس،  حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایات منقول ہوئی ہیں  کہ حضور ؐ نے ایک مہینہ تک کے لیے اپنی بیویوں  سے علاحدہ رہنے کا عہد فرما لیا تھا اور اپنے بالاخانے میں  بیٹھ گئے  تھے۔  ۲۹ دن گزر جانے پر جبریل علیہ السّلام نے آ کر کہا  آپ کی قسم پُوری ہو گئی ہے،  مہینہ مکمل ہو گیا۔حافظ بدر الدین عینی نے عُمدۃ القاری میں  حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے کہ ازواجِ مطہرات کی دو پارٹیاں  بن گئی تھیں ۔  ایک میں  خود حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت صفیہ ؓ تھیں ،  اور دوسری میں  حضرت زینب ؓ،  حضرت اُم سَلَمہ ؓ اور باقی ازواج  شامل تھیں ۔ ان تمام روایات سے کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خانگی زندگی میں  کیا حالات پیدا ہو گئے تھے جن کی بنا پر یہ ضروری ہوا کہ اللہ تعالیٰ مداخلت کر کے ازواجِ مطہرات کے طرزِ عمل کی اصلاح فرمائے۔  یہ ازواج اگر چہ معاشرے کی بہترین خواتین تھیں ، مگر بہرحال تھیں  انسان ہی، اور بشریت کے تقاضوں  سے مبرّا نہ تھیں ۔  کبھی ان کے لیے مسلسل عُسرت کی زندگی بسر کرنا دشوار ہو جاتا تھا اور وہ بے صبر ہو کر حضور ؐ  سے نفقہ کا مطالبہ کرنے لگتیں ۔  اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ  احزاب کی آیات ۲۹-۲۸ نازل فرما کر ان کو تلقین کی کہ اگر تمہیں  دنیا کی خوشحالی مطلوب ہے تو ہمارا رسول تم کو بخیر و خوبی رخصت کر دے گا، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ؐ  اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو تو پھر صبر و شکر کے ساتھ ان تکلیفوں  کو برداشت کرو جو رسول  کی رفاقت میں  پیش آئیں  ( تفصیل کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ ۴۱، اور دیباچۂ  سورۂ   احزاب، صفحہ ۸۴)۔ پھر کبھی نسائی فطرت کی بنا پر اُن سے ایسیباتوں  کا ظہور ہو جاتا تھا  جو عام انسانی زندگی میں  معمول کے خلاف نہ تھیں ،  مگر جس گھر میں  ہونے کا شرف اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا تھا، اس کی شان اور اس کی عظیم ذمّہ داریوں  سے وہ مطابقت نہ رکھتی تھیں ۔  اِن باتوں  سے جب یہ اندیشہ پیدا ہو ا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خانگی زندگی کہیں  تلخ نہ ہو جائے اور اُس کا اثر اُس کارِ عظیم پر مترتب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ حضور ؐ  سے لے  رہا تھا، تو قرآن مجید میں  یہ آیت نازل کر کے ان کی اصلاح فرمائی گئی تاکہ ازواجِ مطہرات کے اندر اپنے اُس مقام اور مرتبے کی ذمّہ داریوں  کا احساس پیدا ہو جو اللہ کے آخری رسول ؐ کی رفیقِ زندگی ہونے کی حیثیت سے ان کو نصیب ہو ا تھا، اور وہ اپنے آپ کو عام عورتوں  کی طرح اور اپنے گھر کو عام گھروں  کی طرح نہ سمجھ بیٹھیں ۔  اس آیت کا پہلا ہی فقرہ ایساتھا کہ اس کو سُن کر ازواجِ مطہرات کے دل لرز اٹھے ہوں  گے۔  اِس ارشاد سے بڑھ کر ان کے لیے تنبیہ اور کیا ہو سکتی تھی کہ’’ اگر نبی تم کو طلاق دے دے تو بعید نہیں  کہ اللہ اُس کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں  عطا کر دے۔ ‘‘  اوّل تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے طلاق مل جانے کا تصوّر ہی ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، اس پر یہ بات مزید کہ تم سے  امہات المومنین ہونے کا شرف چھِن جائے گا اور دوسری عورتیں  جو اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجیت میں  لائے گا وہ تم سے بہتر ہوں گی۔ اس کے بعد تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ ازواجِ مطہرات سے پھر کبھی کسی ایسی بات کا صدور ہوتا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت کی نوبت آتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں  بسدو ہی مقامات ہم کو ایسے ملتے ہیں  جہاں  اِن برگزیدہ خواتین کو تنبیہ فرمائی گئی ہے۔  ایک سُورۂ احزاب اور دوسرے یہ سورۂ  تحریم۔

۱۱:مسلم اور مومن کے الفاظ جب ایک ساتھ لائے جاتے ہیں  تو مسلم کے معنی عملاً احکامِ الہیٰ پر عمل کرنے والے کے ہوتے ہیں  اور مومن سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو صدقِ دل سے ایمان لائے۔  پس بہترین مسلمان بیویوں  کی اوّلین خصوصیت یہ ہے کہ وہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ؐ  اور اس کے دین پر ایمان رکھتی ہوں  اور عملاً اپنے اخلاق، عادات، خصائل اور برتا ؤ میں  اللہ کے دین کی پیروی کر نے والی ہوں ۔

۱۲:اِس کے دو معنی ہیں  اور دونوں  ہی یہاں  مراد ہیں ۔  ایک،  اللہ  اور اس کے رسول کی تابع فرمان۔ دوسرے،  اپنے شوہر کی اطاعت کرنے والی۔

۱۳:تائب کا لفظ جب آدمی کی صفت کے طور پر آئے تو اس کے معنی بس ایک ہی دفعہ توبہ کر لینے والے کے نہیں  ہوتے بلکہ ایسے شخص کے ہوتے ہیں  جو ہمیشہ اللہ سے اپنے قصوروں  کی معافی مانگتا رہے،  جس کا ضمیر زندہ اور بیدار ہو،  جسے ہر وقت اپنی کمزوریوں  اور لغزشوں  کا احساس ہوتا رہے اور وہ اُن پر نادم  و شرمسار ہو۔ ایسے شخص میں  کبھی غرُور و تکبُّر اور نخوت و خود پسندی کے جذبات پیدا  نہیں  ہوتے بلکہ وہ طبعاً نرم مزاج اور حلیم ہوتا ہے۔

۱۴:عبادت گزار آدمی بہر حال کبھی اُس شخص کی طرح خدا سے غافل نہیں  ہو سکتا جس طرح عبادت نہ کرنے والا انسان ہوتا ہے۔  ایک عورت کو بہترین بیوی بنانے میں  اِس چیز کا بھی بڑا دخل ہے۔  عبادت گزار ہونے کی وجہ سے وہ حدود اللہ کی پابندی کرتی ہے،  حق والوں  کے حق پہچانتی اور ادا کرتی ہے،   اس کا ایمان ہر وقت تازہ اور زندہ رہتا ہے،  اُس سے اِس امر کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ احکامِ الہیٰ کی پیروی سے منہ نہیں  موڑے گا۔

۱۵:اصل میں  لفظ سائحات استعمال ہوا ہے۔  متعدد صحابہ  اور بکثرت تابعین نے اس کے معنی صائمات بیان کیے ہیں ۔  روزے کے لیے سیاحت کا لفظ  جس مناسبت سے استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ  ہے کہ قدیم زمانے میں  سیاحت زیادہ  تر راہب اور درویش لوگ کرتے تھے،  اور ان کے ساتھ کوئی زادِ راہ نہیں  ہوتا تھا۔ اکثر ان کو اُس وقت تک بھوکا رہنا پڑتا تھا جب تک کہیں  سے کچھ کھانے کو نہ مل جائے۔  اِس بنا پر روزہ بھی ایک طرح کی درویشی ہی ہے  کہ جب تک افطار کا وقت نہ آئے روزہ دار بھی بھوکا رہتا ہے۔  ابن جریر نے سُورۂ  توبہ،  آیت ۱۲ کی تفسیر میں  حضرت عائشہ ؓ  کا قول نقل کیا ہے کہ سیاحۃ ھذہ الامۃ الصیّام، ’’ اس امت کی سیاحت (یعنی درویشی)روزہ ہے۔ ‘‘  اِس مقام پر نیک بیویوں  کی تعریف میں  اُن کی روزہ داری کا ذکر اس معنی میں  نہیں  کیا گیا ہے کہ وہ محض رمضان کے فرض روزے رکھتی ہیں ،  بلکہ اس معنی میں  ہے کہ وہ فرض کے علاوہ نفل روزے بھی رکھا کرتی ہیں ۔ ازواجِ مطہرات کو خطاب کر کے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد   کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تم  کو طلاق دے دیں  تو اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں  اُن کو ایسی بیویاں  عطا فرمائے گا جنمیں  یہ اور یہ صفات ہوں  گی، اس کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ ازواجِ مطہرات یہ صفات نہیں  رکھتی تھیں ۔  بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری جس غلط روش کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیّت ہو رہی ہے اُس کو چھوڑ دو اور اُس کے بجائے اپنی ساری توجّہات اِس کوشش میں  صرف کر دو کہ تمہارے اندر یہ پاکیزہ صفات بدرجۂ  اَتَم پیدا ہوں ۔

۱۶:یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب  سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں  ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظامِ فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اُس  پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حدِ استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ  انسان بنیں ،  اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں  تو جہاں  تک بھی اس کے بس میں  ہو ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔  اُس کو صرف یہی فکر نہیں  ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں  خوشحال ہوں  بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں  جہنم کا ایندھن نہ بنیں ۔  بخاری میں  حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  کی روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ’’  تم میں  سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک اپنی رعیّت کے معاملہ میں  جواب دہ ہے۔  حکمراں  راعی ہے اور وہ اپنی رعیّت کے معاملہ میں  جوابدہ ہے۔  مرد اپنے گھر والوں  کا راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں  جواب دہ ہے۔  اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں  کی راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں  جوابدہ ہے۔ ‘‘ جہنم کا ایندھن پتھر ہوں گے،  اس سے مراد غالباً پتھر کا کوئلہ ہے۔  ابن مسعود ؓ،  ابن عباسؓ،  مجاہد ؒ، امام محمد الباقر ؒ،  اور سُدِّی ؒ  کہتے ہیں  کہ یہ گندھک کے پتھر ہوں  گے۔

۱۷:یعنی اُن کو جو سزا بھی  کسی مجرم پر نافذ کرنے کا حکم دیا جائے گا اُسے جُوں  کاتُوں  نافذ کریں  گے اور ذرا رحم نہ کھائیں  گے۔

۱۸:اِن دونوں  آیتوں  کا اندازِ بیان اپنے اندر مسلمانوں  کے لیے سخت تنبیہ لیے ہوئے ہے۔  پہلی آیت میں  مسلمانوں  کو خطاب کر کے فرمایا گیا  کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اِس خوفناک عذاب سے بچا و  ٔ۔  اور دوسری آیت میں  فرمایا گیا ہے کہ  جہنّم میں  عذاب دیتے وقت کافروں  سے یہ کہا جائے گا۔ اِس سے خود بخود یہ مضمون مترشح ہوتا ہے کہ مسلمانوں  کو دنیا میں  وہ طرزِ عمل اختیار کرنے سے بچنا چاہیے جس کی بدولت آخرت میں  ان کا انجام کافروں  کے ساتھ ہو۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو،  اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ۱۹،  بعید نہیں  کہ اللہ تمہاری برائیاں  تم سے دُور کر دے اور تمہیں  ایسی جنّتوں  میں  داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں  بہ رہی ہوں  گی۔ ۲۰ یہ وہ دن ہو گا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں  کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں  رُسوا نہ کرے گا۔ ۲۱ اُن کا نُور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں  جانب دوڑ رہا ہو گا اور وہ کہہ رہے ہوں  گے کہ اے ہمارے ربّ، ہمارا نُور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تُو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔  ۲۲

اے نبی ؐ،  کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔  ۲۳ ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

اللہ کافروں  کے معاملہ میں  نوح ؑ اور لُوط ؑ  کی بیویوں  کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔  وہ ہمارے دو صالح بندوں  کی زوجیّت میں  تھیں ،  مگر انہوں  نے اپنے ان شوہروں  سے خیانت کی ۲۴ اور وہ اللہ کے مقابلہ میں  ان کے کچھ بھی نہ  کام آ سکے۔  دونوں  سے کہہ دیا گیا ہے کہ جاؤ  آگ میں  جانے والوں  کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ۔  اور اہلِ ایمان کے معاملہ میں  اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی’’  اے میرے ربّ،  میرے لیے اپنے ہاں  جنّت میں  ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے ۲۵ اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔ ‘‘  اور عمران کی بیٹی مریم ۲۶ کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، ۲۷ پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے رُوح پھُونک دی، ۲۸ اور اُس نے اپنے ربّ کے ارشادات اور اس کی کتابوں  کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں  میں  سے تھی۔ ۲۹ ؏۲

 

تفسیر

 

۱۹:اصل میں   توبۃً نَّصُوحًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔  نُصح کے معنی عربی زبان میں  خلوص اور خیر خواہی کے ہیں ۔  خالص شہد  کو عَسلِ  ناصح کہتے ہیں  جس کو موم اور دوسری آلائشوں  سے پاک کر دیا گیا ہو۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور اُدھڑے ہوئے کپڑے کو مرمت کر دینے کے لیے نَصَاحۃ الثَّوب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔  پس توبہ کو نَصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبارسے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توبہ کرے جس میں  ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔  یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں  جو شگاف پڑ گیا ہے،  تو بہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے۔  یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سنوار لے کہ دوسروں  کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اس کی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اُسی کی طرح اپنی اصلاح کر لیں ۔  یہ تو ہیں  توبۂ  نصوح کے وہ مفہومات جو اس کے لغوی معنوں  سے مترشح ہوتے ہیں ۔  رہا اس کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں  اُس حدیث میں  ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زِرّین حُبَیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔  وہ کہتے ہیں  کہ میں  نے حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ سے توبۂ  نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں  نے کہا  میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہی سوال کیا تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’اِس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہو جائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔‘‘  یہی مطلب حضرت عمر ؓ،  حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود اور حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے بھی منقول ہے، اور ایک روایت میں  حضرت عمر ؓ  نے توبۂ  نصوح کی تعریف  یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار،  اُس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے (ابن جریر)۔ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ایک بدُّو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ تَوبۃُ الکذّابین ہے۔  اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے ؟ فرمایا، اُس کے ساتھ  چھ چیزیں  ہونی چاہییں  (۱) جو کچھ ہو چکا ہے اس پر نادم ہو۔(۲) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو اُن کو ادا کر۔(۳) جس کا حق مارا ہو اُس کو واپس کر۔(۴)جس کو تکلیف پہنچائی ہو اُس  سے معافی مانگ۔(۵) آئندہ کے لیے عزم کر لے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔ اور(۶) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں  گھُلا دے جس طرح تُو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اُس کو طاعت کی تلخی کا مزا چکھا جس طرح اب تک  تُو اُسے معصیتوں  کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے۔ (کشّاف)توبہ کے سلسلہ میں  چند امور اور بھی ہیں  جنہیں  اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔  اوّل یہ کہ توبہ در حقیقت کسی معصیت  پر اس لیے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔  ورنہ کسی گناہ سے اسلیے پرہیز کا عہد کر لینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے،  یا کسی بدنامی کا ،  یا مالی نقصان کا  موجب ہے،  توبہ کی تعریف میں  نہیں  آتا۔ دوسرے  یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہو جائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے،  اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں  بھی ممکن ہو بلا تاخیر  اس کی تلافی کر دینی چاہیے،  اُسے ٹالنا مناسب نہیں  ہے۔  تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اُسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے،  کیونکہ  توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے،  اور بار بار کی توبہ شکنی اس  بات کی علامت ہے کہ اُس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں  ہے۔  چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کر چکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اُسی گناہ کا اعادہ ہو جائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ  ہو گا،  البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ  سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی  کا مرتکب نہ ہو۔ پانچویں  یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یا د آئے،  توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں  ہے،  لیکن اگر اُس کا نفس اپنی سابق گناہگارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں  تک کہ گناہوں  کی یاداُس کے لیے لذّت کے بجائے شرمساری کی موجب بن جائے۔  اس لیے کہ جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بنا پر معصیت سے  توبہ کی ہو وہ اِس خیال سے لذت نہیں  لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔  اُس سے لذّت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف  نے اس کے دل میں  جڑ نہیں  پکڑی ہے۔

۲۰:آیت کے الفاظ قابلِ غور ہیں ۔  یہ نہیں  فرمایا گیا ہے کہ توبہ کر لو تو تمہیں  ضرور معاف کر دیا جائے گا اور لازماً تم جنت میں  داخل کر دیے جاؤ گے،  بلکہ یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرو گے تو بعید نہیں  کہ اللہ تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرے۔ اس کے معنی یہ ہیں  کہ گناہ گار کی توبہ  قبول کر لینا اور اسے سزا دینے کے بجائے  جنت عطا فرما دینا اللہ پر واجب نہیں  ہے،  بلکہ یہ سراسر اُس کی عنایت و مہربانی ہو گی کہ وہ معاف بھی کرے اور انعام بھی دے۔  بندے کو اس سے معافی کی امید تو ضرور رکھنی چاہیے مگر اس بھروسے پر گناہ نہیں  کرنا چاہیے کہ توبہ سے معافی مل جائے گی۔

۲۱:یعنی اُن کے اعمالِ حسنہ کا اجر ضائع نہ کرے گا۔ کفار و منافقین کو یہ کہنے کا موقع ہر گز نہ دے گا کہ اِن لوگوں  نے خداپرستی بھی  کی تو اس کا کیا صلہ پایا۔رسوائی باغیوں  اور نافرمانوں  کے حصّے میں  آئے گی  نہ کہ وفاداروں  اور فرماں  برداروں  کے حصّے میں ۔

۲۲:اِس آیت کو سُورۂ  حدید کی آیات ۱۳-۱۲ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے آگے آگے نُور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اُس وقت پیش آئے گی جب وہ میدانِ حشر سے جنت کی طرف جا رہے ہوں گے۔  وہاں  ہر طرف گھُپ اندھیرا ہو گا جس میں  وہ سب لوگ ٹھوکریں  کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں  دوزخ کا فیصلہ ہو گا، اور روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہو گی جس کے سہارے وہ اپنا  راستہ طے کر رہے ہوں گے۔  اس نازک موقع پر تاریکیوں  میں  بھٹکنے والے لوگوں  کی آہ و فغاں  سُن سُن کر اہلِ ایمان پر خَشِیّت کی کیفیت طاری ہو رہی ہو گی، اپنے قصوروں  اور اپنی کوتاہیوں  کا احساس کر کے انہیں  اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں  ہمارا نُور بھی نہ چھِن جائے اور ہم اِن بد بختوں  کی طرح ٹھوکریں  کھاتے نہ رہ جائیں ،  اس لیے وہ دعا کریں  گے کہ اَے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور  ہمارے نُور کو جنت میں  پہنچنے تک ہمارے لیے باقی رکھ۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ  کا قول نقل کیا ہے کہ  رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا  کے معنی یہ ہیں  کہ  ’’  وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں  گے کہ ان کا نُور اُس وقت تک  باقی رکھا جائے اور اُسے بجھنے نہ دیا جائے جب تک وہ  پُل صراط سے بخیریت نہ گزر جائیں ۔ ‘‘ حضرت حسن بصری اور مجاہد اور ضحّاک  کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔  ابن کثیر نے انکا یہ قول نقل کیا  ہے کہ ’’  اہلِ ایمان جب یہ دیکھیں  گے کہ منافقین نُور سے محروم رہ گئے ہیں  تو وہ اپنے حق میں  اللہ سے تکمیلِ نُور کی دعا کریں  گے۔ ‘‘ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الحدید، حاشیہ ۱۷)۔

۲۳:تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، التوبہ، حاشیہ ۸۲۔

۲۴:یہ خیانت اس معنی میں  نہیں  ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی  تھیں ،  بلکہ اس معنی میں  ہے کہ انہوں  نے ایمان کی راہ میں  حضرت نوح ؑ  اور حضرت لوط ؑ  کا ساتھ نہ دیا بلکہ  ان کے مقابلہ میں  دشمنانِ دین کا ساتھ دیتی رہیں ۔  ابن عباس ؓ  فرماتے ہیں  کہ ’’  کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں  رہی ہے۔  ان دونوں  عورتوں  کی خیانت دراصل  دین کے معاملہ میں  تھی۔ انہوں  نے حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کا دین قبول نہیں  کیا۔حضرت نوح ؑ کی بیوی اپنی قوم کے جبّاروں  کو ایمان لانے والوں  کی خبریں  پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط ؑ  کی بیوی اپنے شوہر   کے ہاں   آنے والوں  لوگوں  کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں  کو دے دیا کرتی تھی۔‘‘ (ابن جریر)۔

۲۵:یعنی فرعون جو بُرے اعمال کر رہا ہے ان کے انجامِ بد میں  مجھے شریک نہ کر۔

۲۶:ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم ؑ  کے والد ہی کا نام عمران ہو، یا ان کو عمران کی بیٹی اس لیے کہا گیا ہو کہ وہ آلِ عمران سے تھیں ۔

۲۷:یہ یہودیوں  کے اِس الزام کی تردید ہے کہ ان کے بطن سے حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی پیدائش معاذ اللہ کسی گناہ کا نتیجہ تھی۔ سورۂ  نساء، آیت ۱۵۶ میں  اِن ظالموں  کے اِسی الزام کو بہتانِ عظیم قرار دیا گیا ہے۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، سورۃ النساء، حاشیہ ۱۹۰)۔

۲۸:یعنی بغیر اس کے کہ ان کا کسی مرد سے تعلق ہوتا،  اُن کے رحم میں  اپنی طرف سے ایک جان ڈال دی۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، النساء، حواشی ۲۱۳-۲۱۲۔ جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ ۸۹)۔

۲۹:جس مقصد کے لیے اِن تین قسم کی عورتوں  کو مثال میں  پیش کیا گیا ہے اس کی تشریح ہم اِس سُورہ کے دیباچے میں  کر چکے ہیں ،  اس لیے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں  ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

(۶۷)سورة الملک

 

نام

 

پہلے فقرے تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ المُلکُ کے لفظ المُلک کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

کسی مُعتبر روایت سے یہ نہیں  معلوم ہوتا کہ یہ کس زمانے میں  نازل ہوئی ہے،  مگر مضامین اور اندازِ بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس میں  ایک طرف مختصر طریقے سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا گیا ہے اور دوسری طرف بڑے بڑے موثر انداز میں  اُن لوگوں  کو چونکا یا گیا ہے۔  جو غفلت میں  پڑے ہوئے تھے۔  یہ مکہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں  کی خصوصیت ہے کہ وہ اسلام کی ساری تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے مقصدِ بعثت کو پیش کر تی ہیں،  مگر تفصیل کے ساتھ نہیں  بلکہ اختصار کے ساتھ، تا کہ وہ بتدریج لوگوں  کے ذہن نشین ہوتی چلی جائیں۔  اس کے ساتھ ان میں  زیادہ تر زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ لوگوں  کی غفلت دور کی جائے،  ان کو سوچنے پر مجبور کیا جائے،  اور ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا جائے۔

پہلی پانچ آیتوں  میں  انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ جس کائنات میں  رہتا ہے وہ ایک انتہائی منظم اور محکم سلطنت ہے جس میں  ڈھونڈے سے بھی کوئی عیب یا نقص یا  خلل تلاش نہیں  کیا جا سکتا۔ اس سلطنت کو عدم سے وجود میں  بھی اللہ تعالیٰ ہی لایا ہے اور اس کی تدبیر و انتظام اور فرمانروائی کے تمام اختیار ات بھی بالکل یہ اللہ ہی کے ہا تھ میں  ہیں  اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔  اس کے ساتھ انسان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس انتہائی حکیمانہ نظام میں  وہ بے مقصد پیدا نہیں  کر دیا گیا ہے بلکہ یہاں  اسے امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے،  اور اس امتحان میں  وہ اپنے حسنِ عمل ہی سے کامیاب ہو سکتا ہے۔

آیت ۶ سے ۱۱ تک کفر کے وہ ہولناک نتائج بیان کیے گئے ہیں  جو آخرت میں  نکلنے والے ہیں  اور لوگوں  کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو بھیج کر تمہیں  اسی دنیا میں  ان نتائج سے خبر دار کر دیا ہے۔  اب اگر یہاں  تم انبیاء کی بات مان کر اپنا رویہ درست کر و گے تو آخرت میں  تمہیں  خود اعتراف کرنا پڑے گا کہ جو سزا تم کو دی جا رہی ہے فی الواقع تم اُس کے مستحق ہو۔

آیت ۱۲ سے ۱۴ تک یہ حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بے خبر نہیں  ہو سکتا۔ وہ تمہاری ہر کھلی اور چھپی بات، حتیٰ کہ تمہارے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔  لہٰذا اخلاق کی صحیح بنیاد ہے کہ انسان اُس اَن دیکھے خدا کی باز پرس سے ڈر کر برائی سے بچے،  خواہ دنیا میں  کوئی طاقت اُس پر گرفت کرنے والی ہو یا نہ ہو اور دنیا  میں  اس سے کسی نقصان کا امکان ہو یا نہ ہو۔ یہ طرز عمل جو لوگ اختیار کریں  گے وہی آخرت میں  بخشش اور اجرِ عظیم کے مستحق ہوں گے۔

آیت ۱۵ سے ۲۳ تک اُن پیش یا اُفتادہ حقیقتوں  کی طرف جنہیں  انسان دنیا کے معمولات سمجھ کر قابل توجہ شمار نہیں  کرتا، پے در پے اشارے کر کے اُن پر سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔  فرمایا گیا ہے کہ اس زمین کو دیکھو جس پر تم اطمینان سے چل پھر رہے ہو اور جس سے اپنا رزق حاصل کر رہے ہو۔ خدا ہی نے اسے تمہارے لیے تابع کر رکھا ہے،  ورنہ کسی وقت بھی اس زمین میں  ایسا زلزلہ آ سکتا ہے کہ تم پیوندِ خاک ہو جاؤ، یا ہوا کا ایسا طوفان آ سکتا ہے جو تمہیں  تہس نہس کر کے رکھ دے۔  اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں  کو دیکھو۔ خدا ہی تو ہے جو انہیں  فضا میں  تھامے ہوئے ہے۔  اپنے تمام ذرائع و وسائل پر نگاہ ڈال کر دیکھو۔ خدا اگر تمہیں  عذاب میں  مبتلا کرنا چاہے تو کون تمہیں  اس سے بچا سکتا اور خدا اگر تمہارے لیے رزق کے دروازے بند کر دے تو کون انہیں  کھول سکتا ہے ؟ یہ ساری چیزیں  تمہیں  حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔  مگر انہیں  تم حیوانات کی طرح دیکھتے ہو جو مشاہدات سے نتائج اخذ کر نے کی صلاحیت نہیں  رکھتے،  اور اس سماعت و بینائی اور ان سوچنے سمجھنے والے دماغوں   سے کام نہیں  لیتے جو انسان ہونے کی حیثیت سے خدا نے تمہیں  دیے ہیں ۔  اسی وجہ سے راہ راست تمہیں  نظر نہیں  آتی۔

آیت ۲۴ سے ۲۷ تک بتایا گیا ہے کہ آخر کار تمہیں  لازماً اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔  نبی کا کام یہ نہیں  ہے کہ تمہیں  اُس کے آنے کا وقت اور تاریخ بتائے۔  اس کا کام بس یہ ہے کہ تمہیں  اُس آنے والے وقت سے پیشگی خبردار کر دے۔  تم آج اُس کی بات نہیں  مانتے اور مطالبہ کرتے ہو کہ وقت لا کر تمہیں  دکھا دیا جائے۔  مگر جب وہ آ جائے گا اور تم آنکھوں  سے اسے دیکھ لو گے تو تمہارے ہوش اُڑ جائیں  گے۔  اس وقت تم سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جسے جلدی لے آنے کا تم مطالبہ کر رہے تھے۔

آیت ۲۸ اور ۲۹  میں  کفار مکہ کی اُن باتوں  کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور آپؐ کے ساتھیوں  کے خلاف کرتے تھے۔  وہ حضورؐ کو کوستے تھے اور آپ کے لیے اور اہل ایمان کے لیے ہلاکت کی دعائیں  مانگتے تھے۔  اس  پر فرمایا گیا  ہے کہ تمہیں  راہ راست کی طرف بلانے والے خواہ ہلاک ہوں  یا اللہ اُن پر رحم کرے،  اس سے آخر تمہاری قسمت کیسے بدل جائے گی؟ تم اپنی فکر کرو  کہ خدا کا عذاب اگر تم پر آ جائے تو کون تمہیں  بچائے گا؟ جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں  اور جنہوں  نے اُس پر توکل کیا ہے۔  انہیں  تم گمراہ سمجھ رہے ہو۔ ایک وقت آئے گا جب یہ بات کھل جائے گی کہ حقیقت میں  گمراہ کون تھا۔

آخر میں  لوگوں  کے سامنے یہ سوال رکھ دیا گیا ہے اور اسی پر سوچنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا گیا ہے کہ عرب کے صحراؤں  اور پہاڑی علاقوں  میں ،  جہاں  تمہاری زندگی کا سارا انحصار اُس پانی پر ہے جو کسی جگہ زمین سے نکل آیا ہے،  وہاں  اگر یہ پانی زمین میں  اتر کر غائب ہو جائے تو خدا کے سوا کون تمہیں  یہ آبِ حیات لا کر دے سکتا ہے ؟

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

نہایت بزرگ و برتر ہے ۱ وہ جس کے ہاتھ میں  کائنات کی سلطنت ہے،  ۲ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔  ۳ جس نے موت اور زندگی  کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں  کو آزما کر دیکھے تم میں  سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے،  ۴ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ ۵ جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔  ۶ تم رحمٰن کی تخلیق میں  کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے۔  ۷ پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں  تمہیں  کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ ۸ بار بار نگاہ دوڑاؤ،  تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان ۹ کو عظیم الشان چراغوں  سے آراستہ کیا ہے ۱۰ اور اُنہیں  شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔  ۱۱ اِن شیطانوں  کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے۔

جن لوگوں  نے اپنے ربّ سے کفر کیا ہے ۱۲ ان کے لیے جہنّم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔  جب وہ اُس میں  پھینکے جائیں  گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں  سُنیں  گے ۱۳ اور وہ جوش کھا رہی ہو گی، شِدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں  ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں  سے پوچھیں  گے ’’ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا ‘‘نہیں  آیا تھا؟‘‘ ۱۴ وہ جواب دیں  گے ’’ ہاں،  خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا،  مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا  اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں  کیا ہے،  تم بڑی گمراہی میں  پڑے ہوئے ہو۔‘‘ ۱۵ اور وہ کہیں  گے  ’’کاش ہم سُنتے اور سمجھتے ۱۶ تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں  میں  نہ شامل ہوتے۔ ‘‘ اس طرح وہ اپنے قصور کا ۱۷ خود اعتراف کر لیں  گے،  لعنت ہے ان دوزخیوں  پر۔

جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں،  ۱۸ یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔ ۱۹ تم خواہ چُپکے سے بات کرو یا اُونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں  ہے )، وہ تو دلوں  کا حال تک جانتا ہے۔  ۲۰ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ ۲۱ حالانکہ وہ باریک بیں  ۲۲ اور باخبر ہے۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: تَبَا رَکَ برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔  برکت میں  رفعت و عظمت،  افزائش اور فراوانی،  دوام و ثبات اور کثرتِ خیرات و حَسَنات کے مفہومات شامل ہیں۔  اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تَبَارَکَ بنایا جائے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں  کہ وہ بے انتہا بزرگ و عظیم ہے،  اپنی ذات و صفات و افعال میں  اپنے سوا ہر ایک سے بالا تر ہے،  بے حد وحساب بھلائیوں  کا فیضان اُس کی ذات سے ہو رہا ہے،  اور اُس کے کمالا ت لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۴۳۔جلد سوم، المومنون، حاشیہ۱۴۔ الفرقان، حواشی۱، ۹)

۲: اَلْمُلْکُ کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں  میں  نہیں  لیا جا سکتا۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجوداتِ  عالم پر شاہانہ اقتدار ہی ہو سکتا ہے۔  اور اُس کے ہاتھ میں  اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ وہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے،  بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں  استعمال ہوا ے۔  عربی کی طرح ہماری زبان  میں  بھی جب یہ کہتے ہیں  کہ اختیارات فلاں  کے ہاتھ میں  ہیں  تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے،  کسی دوسرے کا اس میں  دخل نہیں  ہے۔

۳: یعنی وہ جو کچھ چاہے کر سکتا ہے۔  کوئی چیز اُسے عاجز کرنے والی نہیں  ہے کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ کر سکے۔

۴: یعنی دنیا میں  انسانوں  کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اُس نے اِس لیے شروع کیا ہے کہ اُن کا امتحان لے اور یہ دیکھنے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔  اس مختصر سے فقرے میں  بہت سی حقیقتوں  کا طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔  اول یہ کہ موت اور حیات اُسی کی طرف سے ہے،  کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے  نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا  کی گئی ہے،  اُس کی نہ زندگی بے مقصد ہے نہ  موت۔ خالق نے اُسے یہاں  امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔  زندگی اُس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں  کہ اُس کے امتحان کا وقت ختم ہو گیا۔  تیسرے یہ کہ اِسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تا کہ وہ دنیا میں  کام کر کے اپنے اچھائی یا برائی کا اظہار کر سکے اور عملاً یہ دکھاوے کہ وہ کیسا انسان ہے۔  چوتھے یہ کہ خالق ہی دراصل اِس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا علم اچھا ہے اور کس کا بُرا۔ اعمال کی اچھائی اور بُرائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں  کا کام نہیں  ہے بلکہ امتحان لینے والے کا کام ہے۔  لہٰذا جو بھی امتحان میں  کامیاب ہونا چاہے اُسے یہ معلوم کرنا ہو گا کہ ممتحن کے نزدیک محسن عمل کیا ہے۔  پانچواں  نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں  پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کا جیسا عمل ہو گا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی، کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں  رہتے۔

۵: اس کے دو معنی ہیں  اور دونوں  ہی یہاں   مراد ہیں ۔  ایک یہ کہ وہ بے انتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں  رحیم و غفور ہے،  ظالم اور سخت گیر  نہیں  ہے۔  دوسرے یہ کہ بُرے عمل کرنے والوں  کو سزا دینے کی وہ پوری قدرت رکھتا ہے،  کسی میں   یہ طاقت نہیں  کہ اُس کی سزا سے بچ سکے۔  مگر جو نادم ہو کر بُرائی سے باز آ جائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔

۶: تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد اول،  البقرہ، حاشیہ۳۴۔جلد دوم، الرعد، حاشیہ۲۔۱ الحجر، حاشیہ ۸۔جلد سوم، الحج، حاشیہ ۱۱۳۔ المومنون، حاشیہ ۱۵۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ ۵۔  المومن، حاشیہ ۹۰۔

۷: اصل تَفاوُت کا لفظ استعمال ہوا ہے،  جس کے معنی ہیں ،  عدم تناسُب۔  ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ اَنْمِل بے جُوڑ ہونا۔ پس اِس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات میں  تم کہیں  بد نظمی، بے تربیتی اور بے ربطی نہ پاؤ گے۔  اللہ کی پیدا کردہ اِس دنیا میں  کو ئی چیز اَنْمِل بے جوڑ نہیں  ہے۔  اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں  اور ان میں  کمال درجے کا تناسُب پایا جاتا ہے۔

۸: ’’اصل میں  لفظ فُطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں  دراڑ، شگاف،  رخنہ، پھٹا ہوا ہونا،  ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پُوری کائنات کی بندش ایسی چُست ہے،  اور زمین کے ایک ذرّے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں  تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں  نظمِ  کائنات کا تسلسل نہیں  ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کر لو، تمہیں  اس میں  کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں  مل سکتا(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد پنجم، تفسیر سورہ ق، حاشیہ۸)۔

۹: قریب کے آسمان  سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تاروں  اور سیاروں  کو ہم برہنہ آنکھوں  سے دیکھتے  ہیں۔  اس سے آگے جن چیزوں  کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دُور کے آسمان ہیں۔  اور ان سے بھی زیادہ دُور کے آسمان وہ ہیں  جس تک آلات کی رسائی  بھی نہیں  ہے۔

۱۰: اصل میں  لفظ’’مصابیح‘‘ نکرہ استعمال ہوا ہے،  اور ا س کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں  کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔  ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کائنات ہم نے اندھیری اور سُنسان نہیں  بنائی ہے بلکہ اسے ستاروں  سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں  میں  دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

۱۱: اس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ یہی تارے شیطانوں  پر پھینک مارے جاتے ہیں،  اور یہ مطلب بھی نہیں  ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں  کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں،   بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں  سے جو بے حدو حساب شہابِ ثاقب نکل کر کائنات میں  انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں،  اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے،  وہ اس امر میں  مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالمِ بالا میں  جا سکیں۔  اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں  بھی تو یہ شہاب انہیں  مار بھگاتے ہیں۔  اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں  کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں  کا دعویٰ بھی تھا، کہ شیاطین اُن کے تابع ہیں،  یا شیاطین سے اُن کا رابطہ ہے ،  اور اُن کے ذریعہ سے اُنہیں  غیب کی خبریں  حاصل ہوتی ہیں  اور وہ صحیح طور پر لوگوں  کی قسمتوں  کا حال بتا سکتے ہیں۔  اس لیے قرآن میں  متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالمِ بالا میں  جانے اور وہاں  سے غیب کی خبریں  معلوم کرنے کا قطعاً کوئی امکان نہیں  ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد دوم، الحجر، حواشی۹تا۱۲۔جلد چہارم، الصافات، حواشی۶، ۷)۔           رہا یہ سوال کہ ان شہابوں  کی حقیقت کیا ہے،  تو اس کے بارے میں  انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔  تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم میں  آئے ہیں،  اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں  کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں،  ان کی بنا ء پر سائنس دانوں  میں  سب سے زیادہ مقبول نظر یہ  یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں  گھومتے رہتے ہیں  اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے  میں  آ کر  ادھر کا رُخ کر لیتے ہیں (ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا بر ٹا نیکا، ایڈیشن ۱۹۶۷؁۔ جلد ۱۵۔لفظ (Meteorites )۔

۱۲: یعنی انسان ہو ں،  یا شیطان، جن لوگوں  نے بھی اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کا یہ انجام ہے (رب سے کفر کرنے کے مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد اوّل، البقرہ، حاشیہ۱۶۱۔ النساء، حاشیہ ۱۷۸۔ جلد سوم، الکہف، حاشیہ ۳۹۔ جلد چہارم، المومن،  حاشیہ۳)۔

۱۳: اصل میں  لفظ شھیق استعمال ہوا ہے جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔  اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں  کہ خود جہنم کی آواز ہو گی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں  کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہو گی جہاں  اُن لوگوں  سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں  مار رہے ہوں  گے۔  اس دوسرے مفہوم کی تائید سورہ ہود ؑ کی آیات ۱۰۶ سے ہوتی ہے جس میں  فرمایا گیا ہے  کہ دوزخ میں  یہ دوزخی لوگ ’’ہانپیں  گے اور پھُنکارے ماریں  گے ‘‘۔اور پہلے مفہوم کی تائید سورہ فرقان آیت ۱۲ سے ہوتی ہے جس میں  ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں  جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں  سنیں  گے۔  اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہو گا اور جہنمیوں  کا بھی۔

۱۴: اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں  ہو گی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں  سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں  کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبر دار کرنے والا آیا تھا یا نہیں،  بلکہ اس سے مقصود اُن کو اِ س بات کا قائل کرنا ہو گا کہ انہیں  جہنم میں  ڈال کر اُن کے ساتھ کوئی بے انصافی نہیں  کی جا رہی ہے۔  اس لیے وہ خود اُن کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں  گے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بے خبر نہیں  رکھا تھا، اُن کے پاس انبیاء بھیجے تھے،  اُن کو بتا دیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہِ  راست کون سی ہے،  اور ان کو متنبہ کر دیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اِسی جہنم کا ایندھن بننا ہو گا جس میں  اب وہ جھونکے گئے ہیں،  مگر انہوں  نے انبیاء کی بات نہ مانی، لہٰذا اب جو سزا اُنہیں  دی جا رہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں۔  یہ بات قرآن مجید میں  بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امتحان کے لیے دنیا میں  انسان کو بھیجا ہے وہ اِس طرح نہیں  لیا جا رہا ہے کہ اُسے بالکل بے خبر رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہو کہ وہ خود راہِ راست پاتا ہے یا نہیں،  بلکہ اُسے راہِ  راست بتانے کا جو معقول ترین انتظام ممکن تھا وہ اللہ نے پوری طرح کر دیا ہے،  اور وہ یہی انتظام ہے کہ انبیاء بھیجے گئے ہیں  اور کتابیں  نازل کی گئی ہیں۔  اب انسان کا سارا امتحان اِس امر میں  ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام اور اُن کی لائی ہوئی کتابوں  کو مان کر سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے یا ان سے مُنہ موڑ کر خود اپنی خواہشات اور تخیّلات کے پیچھے چلتا ہے۔  اس طرح نبوت در حقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ حُجّت ہے جو اس نے انسان پر قائم کر دی ہے،  اور اسی کے ماننے یا نہ ماننے پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے۔  انبیاء کے آنے کے بعد کوئی شخص یہ عذر پشن نہیں  کر سکتا کہ ہم حقیقت سے آگاہ نہ تھے،  ہمیں  اندھیرے میں  رکھ کر ہم کو اتنے بڑے امتحان میں  ڈال دیا گیا، اور اب ہمیں  بے قصور سزا دی جا رہی ہے۔  اس مضمون کو اتنی بار اتنے مختلف طریقوں  سے قرآن میں  بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے۔  مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات  ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن،  جلد اول، البقرہ، آیت۲۱۳، حاشیہ۲۳۰۔ النساء، آیات۴۱۔۴۲، حاشیہ۶۴۔آیت۱۶۵، حاشیہ ۲۰۸۔ الانعام، آیات۱۳۰۔۱۳۱، حواشی۹۸ تا ۱۰۰۔ جلد دوم، بنی اسرائیل، آیت۱۵، حاشیہ۱۷۔جلد سوم، طٰہٰ، آیت۱۳۴۔ القصص، آیت۴۷، حاشیہ۶۶۔ آیت۵۹، حاشیہ ۸۳۔  آیت۶۵۔جلد چہارم، فاطر، آیت۳۷۔ المومن، آیت۵۰، حاشیہ۶۶۔

۱۵: یعنی تم بھی بہکے ہوئے ہو اور تم پر ایمان لانے والے لوگ بھی سخت گمراہی میں  پڑے ہوئے ہیں۔

۱۶: یعنی ہم نے طالبِ حق بن کر انبیاء کی بات کو توجہ سے سنا ہوتا، یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔  یہاں  سننے کو سمجھنے پر مقدم رکھا گیا ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم کو توجہ سے سننا(یا اگر وہ لکھی ہوئی شکل میں  ہو تو طالبِ حق بن کر اُسے پڑھنا) ہدایت پانے کے لیے شرط اول ہے۔  اُس پر غور کر کے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کا مرتبہ اس کے بعد آتا ہے۔  نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل سے بطورِ خود کام لے کر انسان براہِ راست حق تک نہیں  پہنچ سکتا۔

۱۷: قصور کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔  اس کے معنی یہ ہیں  کہ اصل قصور جس کی بنا پر وہ جہنم کے مستحق ہوئے  رسولوں  کا جھٹلا نا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے۔  باقی سارے گناہ اُسی کی فرع ہیں۔

۱۸: تَبَا رَکَ برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔  برکت میں  رفعت و عظمت،  افزائش اور فراوانی،  دوام و ثبات اور کثرتِ خیرات و حَسَنات کے مفہومات شامل ہیں۔  اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تَبَارَکَ بنایا جائے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں  کہ وہ بے انتہا بزرگ و عظیم ہے،  اپنی ذات و صفات و افعال میں  اپنے سوا ہر ایک سے بالا تر ہے،  بے حد وحساب بھلائیوں  کا فیضان اُس کی ذات سے ہو رہا ہے،  اور اُس کے کمالا ت لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد دوم، الاعراف، حاشیہ ۴۳۔جلد سوم، المومنون، حاشیہ۱۴۔ الفرقان، حواشی۱، ۹)

۱۹: یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں۔  ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں  کی بنا پر آدمی سے سرزد ہو گئے ہوں  وہ معاف کر دیے جائیں  گے،  بشرطیکہ ان کی تہ میں  خدا سے بے خوفی کار فرما نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اِس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اُ س پر وہ بڑا اجر پائے گا۔

۲۰: یہ بات تمام انسانوں  کو خطاب کر کے فرمائی گئی ہے،  خواہ وہ مومن ہوں  یا کافر۔ مومن کے لیے اس میں  یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں  زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں  تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں ،  اس کی نیتیں  اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں  ہیں۔  اور کافر کے لیے اس میں  یہ تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بے خوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے،  اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں  رہ سکتی۔

۲۱: دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا؟‘‘اصل میں  مَنْ خَلَقَ استعمال ہوا ہے۔  اس کے معنی’’جس نے پیدا کیا ہے ‘‘بھی ہو سکتے ہیں،  اور ’’جس کو اُس نے پیدا کیا ہے‘‘ بھی۔ دونوں  صورتوں  میں  مطلب ایک ہی رہتا ہے۔  یہ دلیل ہے اُس بات کی جو اوپر کے فقرے میں  ارشاد ہوئی ہے۔  یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بے خبر ہو؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بے خبر ہو سکتی ہے،  مگر خالق اُس سے بے خبر نہیں  ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔  تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔  تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔  تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا ہے۔  اُس سے تمہاری کوئی بات کیسے چھُپی رہ سکتی ہے ؟

 

ترجمہ

 

۲۲: اصل میں  لفظ’’لطیف‘‘استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں  اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے،  چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، ۲۳ اُسی کے حضور تمہیں  دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔  ۲۴ کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں  ہے ۲۵ تمہیں  زمین میں  دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جَھکو لے کھانے لگے ؟ کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں  ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے ؟ ۲۶ پھر تمہیں  معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔  ۲۷ اِن سے پہلے گُزرے ہوئے لوگ جھُٹلا چکے ہیں۔  پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی تھی۔ ۲۸ کیا یہ لوگ اپنے اُوپر اُڑنے والے پرندوں  کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں  دیکھتے ؟ رحمٰن کے سوا کوئی نہیں  جو انہیں  تھامے ہوئے ہو۔ ۲۹ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔  ۳۰ بتاؤ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمٰن کے مقابلے میں  تمہارے مدد کر سکتا ہے ؟ ۳۱ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں  پڑے ہوئے ہیں۔  یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں  رزق دے سکتا ہے اگر رحمٰن اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور  حق سے گریز پر اَڑے ہوئے ہیں۔  بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو ۳۲ وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اُٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟ اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں  پیدا کیا، تم کو سُننے اور دیکھنے کی طاقتیں  دیں  اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے،  مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ ۳۳

اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں  زمین میں  پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔  ۳۴ یہ کہتے ہیں ’’ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پُورا ہو گا؟ ۳۵ ‘‘کہو’’ اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے،  میں  تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔ ‘‘ ۳۶ پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں  گے تو اُن سب لوگوں  کے چہرے بگڑ جائیں  گے جنہوں  نے انکار کیا ہے،  ۳۷  اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے۔

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں  کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے،  کافروں  کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟ ۳۸ اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے،  اسی پر ہم ایمان لائے ہیں،  اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے،  ۳۹ عنقریب تمہیں  معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں  پڑا ہوا کون ہے۔  اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں  کا پانی زمین میں  اُتر جائے تو کون ہے  جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں  تمہیں  نکال کر لادے گا؟ ۴۰ ؏۲

 

تفسیر

 

۲۳: یعنی یہ زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں  بن گئی ہے اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں  پیدا نہیں  ہو گیا ہے،  بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اِس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں  تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کُرہ ایسا پُرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے  اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوانِ نعمت بن گیا کہ اس میں  تمہارے  لیے زندگی بسر کرنے کا بے حد و حساب سرو سامان موجود ہے۔  اگر تم غفلت میں  مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے دیکھو تو تمہیں  معلوم ہو کہ اِس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کر دینے میں  کتنی حکمتیں  کار فرما ہیں ۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی۷۳۔۷۴۔۸۱۔ جلد چہارم، یٰس، حواشی۲۹۔۳۲۔المومن، حواشی۹۰۔۹۱۔ الزُّخْرُف، حاشیہ۷۔ الجاثیہ، حاشیہ۷۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ۱۸)۔

۲۴: یعنی اِ س زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اِ س بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں  ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔

۲۵: اس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں  رہتا ہے،  بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔  دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔  کسی آفت کے موقع پر سب سہاروں  سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رُخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے۔  کوئی ناگہانی بلا آ پڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اُوپر سے نازل ہوئی ہے۔  غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالمِ بالا سے آئی ہے۔  اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں   کو کتبِ سماوی یا کتبِ آسمانی کہا جاتا ہے۔  ابو داؤد میں  حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ا یک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہو گیا ہے،  کیا میں  اس لونڈی کو آزاد کر سکتا ہوں ؟ حضورؐ نے اُس لونڈی سے پو چھا  اللہ کہاں  ہے ؟ اُس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر دیا۔ حضورؐ نے پوچھا اور میں  کون ہوں ؟ اُس نے پہلے آپؐ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا،  جس سے اُس کا یہ مطلب واضح ہو رہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔  اور پر حضورؐ نے فرمایا، اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ( اسی سے ملتا جُلتا قصہ مُوَطَّا، مُسلم اور نسائی میں  بھی روایت ہوا ہے )۔ حضرت خَوْلَہ بنت ثعْلَبَہ کے متعلق حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ لوگوں  سے فرمایا، وہ خاتون ہیں  جن کی شکایت سات آسمانوں  پر سُنی گئی (تفسیر سورہ مجادلہ حاشیہ۲ میں  ہم اِس کی تفصیل نقل کر چکے ہیں )۔ان ساری باتوں  سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں  ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اُس کے ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں  بلکہ اُوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔  اسی بات کو ملحوظ رکھ کر یہاں  اللہ تعالیٰ کے متعلق مَنْ فِی السَّمَآءِ (وہ جو آسمان میں  ہے ) کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں ۔  اس میں  اِس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں  ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں  مقیم قرار دیتا ہے۔  یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہو سکتا ہے  جبکہ اسی سورہ مُلک کے آغاز میں  فرمایا جا چکا ہے  کہ اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا  (جس نے تہ بر تہ سات آسمان پیدا کیے )اور سورہ بقرہ میں  ارشاد ہوا ہے،  فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْ ا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ ط (پس تم جدھر بھی رُخ کرو اُس طرف اللہ کا رُخ ہے )۔

۲۶: مراد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اِس زمین پر تمہارا بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔  اپنے بل بوتے پر تم یہاں  مزے سے نہیں  دندنا رہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں  گزر رہا ہے،  اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا  رہینِ مِنّت ہے۔  ورنہ کسی وقت بھی اُس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آ سکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوشِ مادر کے بجائے قبر کا گڑھا بن جائے،  یا ہوا کا ایسا طوفان آ سکتا ہے جو تمہاری بستیوں  کو غارت کر کے رکھ دے۔

۲۷: تنبیہ سے مراد وہ تنبیہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور قرآن پاک کے ذریعہ سے کفار مکہ کو کی جا رہی تھی کہ اگر کفر و شرک سے باز نہ آؤ گے اور اس دعوتِ توحید کو نہ مانو گے جو تمہیں  دی جا رہی ہے تو خدا کے عذاب میں  گرفتار ہو جاؤ گے۔

۲۸: اشارہ ہے اُن قوموں  کی طرف جو اپنے ہاں  آنے والے انبیاء کو جھُٹلا کر اِس سے پہلے مبتلائے عذاب ہو چکی تھی۔

۲۹: یعنی ایک ایک پرندہ جو ہوا میں  اڑرہا ہے،  خدائے رحمٰن کی حفاظت میں  اڑ رہا ہے۔  اُسی نے ہر پرندے  کو وہ ساخت عطا فرمائی جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا۔ اسی نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اُسی نے ہوا کو اُن قوانین کا پابند کیا جن کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں  کا اُس میں  اڑنا ممکن ہوا۔ اور وہی ہر اڑنے والے کو فضا میں  تھامے ہوئے ہے،  ورنہ جس وقت بھی اللہ اپنی حفاظت اُس سے ہٹا لے،  وہ زمین پر آرہے۔

۳۰: یعنی کچھ پرندوں  ہی پر موقوف نہیں،  جو چیز بھی دنیا میں  موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے۔   وہی ہر شے کے لیے وہ اسباب فراہم کر رہا ہے جو اس کے وجود کے لیے درکار ہیں،  اور وہی اس بات کی نگرانی کر رہا ہے کہ اس کی پیدا کر دہ مخلوق کو اس کی ضروریات بہم پہنچیں۔

۳۱: دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’رحمان کے سوا  وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنا ہوا تمہاری دستگیری کرتا ہو‘‘۔ہم نے متن میں  جو ترجمہ کیا ہے وہ آگے کے فقرے سے مناسبت رکھتا ہے،  اور اس دوسرے ترجمہ کی مناسبت پچھلے سلسلہ کلام سے ہے۔

۳۲: یعنی جانوروں  کی طرح منہ نیچا کیے ہوئے اُسی ڈگر پر چلا جا رہا ہو جس پر کسی نے اسے ڈال دیا ہو۔

۳۳: یعنی اللہ نے تو تمہیں  انسان بنا یا تھا، جانور نہیں  بنایا تھا۔ تمہارا کام یہ نہیں  تھا کہ جو گمراہی بھی دنیا میں  پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں  بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔  یہ کان تمہیں  اس لیے تو نہیں  دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں  صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سُن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں  پہلے سے تمہارے دماغ میں  بیٹھی ہوئی ہیں  اُنہی پر اَڑے رہو۔ یہ آنکھیں  تمہیں  اس لیے تو نہیں  دی گئی تھیں  کہ اندھے بن کر دوسروں  کی پیروی کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو نشانیاں  پھیلی ہوئی ہیں  وہ آیا اُس توحید کی شہادت دے رہی ہے جسے خدا کا رسول پیش کر رہا ہے  یا یہ  شہادت دے رہی ہیں  کہ یہ سارا نظامِ کائنات بے خدا  ہے یا بہت سے خدا اس کو چلا رہے ہیں۔  اسی طرح یہ دل و دماغ بھی تمہیں  اس لیے نہیں  دیے گئے تھے کہ تم سوچنے سمجھنے کا کام دوسروں  کے حوالے کر کے ہر اُس طریقے کی پیروی کرنے لوگ جو دنیا میں  کسی نے جا ری کر دیا ہے اور اپنی عقل سے کام لے کر یہ سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرو کہ وہ غلط ہے یا صحیح۔ اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں  تمہیں  حق شناسی کے لیے دی تھیں۔  تم نا شکری کر رہے ہو  کہ ان سے اور سارے کام تو لیتے ہو مگر بس وہی ایک کام نہیں  لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں  ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم،  النحل،  حواشی۷۲۔۷۳، جلد سوم، المومنون، حواشی۷۵۔۷۶۔ جلد چہارم،  السجدہ، حواشی۱۷۔۱۸۔ الاحقاف، حاشیہ ۳۱)۔

۳۴: یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے  ہر گوشہ زمین سے گھیر لائے جاؤ گے اور اس کے سامنے حاضر کر دیے جاؤ گے۔

۳۵: یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اُس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں  اُس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتا دیا جائے تو وہ اسے مان لیں  گے۔  بلکہ دراصل وہ اُس کے آنے کو غرا ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اُسے جھٹلانے کا ایک بہانہ اُن کے ہاتھ آئے۔  ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر و نشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں  سنا رہے ہو آخر یہ کب ظہور میں  آئے گا؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے ؟ ہماری آنکھوں   کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں  نہیں  دیتے کہ ہمیں  اس کا یقین آ جائے ؟ اس سلسلے یں  یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہو سکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہو سکتا ہے،  اور قرآن میں  جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں۔  رہی اُس کی تاریخ،  تو قیامت کی بحث میں  اُس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہو سکتا ہے۔  کیونکہ اگر بالفرض وہ بتا بھی دی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں  پڑتا۔  نہ ماننے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آ جائے گی تو مان لوں  گا، آج آخر میں  کیسے یقین کر لوں  کہ وہ اُس روز ضرور آ جائے گی( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ ۶۳۔ الاحزاب،  حاشیہ ۱۱۶۔ سبا، حواشی۵۔۴۸۔ یٰس، حاشیہ ۴۵)۔

۳۶: یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں  کو اس کی آمد سے پہلے خبر دار کر دینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔  رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے،  مجھے نہیں  ہے،  اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔  اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھاجا سکتا ہے۔  یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔  البتہ یہ ہمیں  معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔  ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں  کہ ہو مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کر لے۔  اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضرور نہیں  ہے  کہ وہ کس روز مرے گا۔

۳۷: یعنی ان کا وہی حال ہو گا جو پھانسی کے تختہ کی طرف لے جائے جانے والا ہے کسی مجرم کا ہوتا ہے۔

۳۸: مکہ معظمہ میں  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوت کا آغاز ہوا اور قریش کے مختلف خاندانوں  سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا تو گھر گھر حضورؐ اور آپ کے ساتھیوں  کو بد دعائیں  دی جانے لگیں۔  جادو ٹونے کیے جانے لگے تا کہ آپ ہلاک ہو جائیں۔  حتیٰ کہ قتل کے منصوبے بھی سوچے جانے لگے۔  اس پر یہ فرمایا گیا کہ ان سے کہو، خواہ ہم ہلاک ہو یا خدا کے فضل سے زندہ رہیں،  اس سے تمہیں  کیا حاصل ہو گا؟ تم اپنی فکر کرو کہ خدا کے عذاب سے تم کیسے بچو گے۔

۳۹: یعنی ہم خدا پر ایمان لائے ہیں  اور تم اس سے انکار کر رہے ہو، ہمارا بھروسا خدا پر ہے اور تمہارا اپنے جتھوں  اور اپنے وسائل اور اپنے معبودانِ غیر اللہ پر۔ اس لیے خدا کی رحمت کے مستحق ہم ہو سکتے ہیں  نہ کہ تم۔

۴۰: یعنی کیا  خدا کے سوا کسی میں  یہ طاقت ہے کہ ان سورتوں  کو پھر سے جاری کر دے ؟ اگر نہیں  ہے ،  اور تم جانتے ہو کہ نہیں  ہے،  تو پھر عبادت کا مستحق خدا ہے،  یا تمہارے وہ معبود جو اُنہیں  جاری کرنے کی کوئی قدرت نہیں  رکھتے ؟ اس کے بعد تم خود اپنے ضمیر سے پوچھو کہ گمراہ خدائے واحد کو ماننے والے ہیں  یا وہ جو شرک کر رہے ہیں ؟

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۸) سورة الحاقۃ

 

 

نام

 

سورة کے پہلے ہی لفظ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں   میں  سے ہے اور اس کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُس زمانے میں  نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی مخالفت تو شروع ہو چکی تھی، مگر اس نے ابھی زیادہ شدت نہ اختیار کی تھی۔ مسند احمد میں  حضرت عمر ؓ کی روایت ہے کہ اسلام سے پہلے ایک روز میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ستانے کے لیے گھر سے نکلا مگر آپ مجھ سے پہلے مسجد حرام میں  داخل ہو چکے تھے۔  میں  پہنچا تو آپ نماز میں  سورہ الحاقہ پڑھ رہے تھے۔  میں  آپؐ  کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور سننے لگا۔ قرآن کی شانِ کلام پر میں  حیران ہو رہا تھا کہ میرے دل میں  یکایک خیال آیا کہ یہ شخص ضرور شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں۔  فوراً ہی حضورؐ  کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ’’یہ ایک رسولِ کریمؐ کا قول ہے کسی شاعر کا قول نہیں  ہے ‘‘۔ میں  نے اپنے دل میں  کہا شاعر نہیں  تو پھر کاہن ہے۔  اُسی وقت زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے ’’اور نہ کسی کاہن کا قول ہے۔  تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘‘۔ یہ سن کر اسلام میرے دل میں  گہرا اُتر گیا۔ حضرت عمرؓ کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة اُن کے قبولِ اسلام سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی، کیونکہ اس واقعہ کے بعد بھی ایک مدت تک وہ ایمان نہیں  لائے تھے اور وقتاً فوقتاً متعدد واقعات اُن کو اسلام سے متاثر کرتے رہے تھے،  یہاں  تک کہ اپنی بہن کے گھر میں  اُن کے دل پر وہ آخری ضرب لگی جس نے ان کو ایمان کی منزل پر پہنچا دیا (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، دیباچہ سورہ مریم۔ جلدپنجم، دیباچہ سورہ واقعہ)۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس  کا پہلا رکوع آخرت کے بیان میں  ہے،  اور دوسرا رکوع  قرآن کے مُنزَّل من اللہ اور محمد صلی للہ علیہ و سلم کے رسولِ  برحق ہونے کے بارے میں۔

پہلے رکوع کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ قیامت کا آنا اور آخرت کا بر پا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو ضرور پیش آ کر رہنی ہے۔  پھر آیت۴ سے ۱۲ تک یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جن قوموں  نے بھی آخرت کا انکار کیا ہے وہ آخر کار خدا کے عذاب کی مستحق ہو کر رہی ہیں۔  اس کے بعد آیت ۱۷ تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہ کس طرح بر پا ہو گی۔ پھر آیت۱۸ سے ۳۷ تک وہ اصل مقصد بیان کیا گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد نوعِ انسانی کے لیے ایک دوسری زندگی مقدر فرمائی ہے۔  اس میں  بتایا گیا ہے کہ اُس روز تمام انسان اپنے رب کی عدالت میں  پیش ہوں  گے جہاں  اُن کا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ ہر ایک کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں  دے دیا جائے گا۔ جن لوگوں  نے دنیامیں  یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی تھی کہ ایک دن اُنہیں  اپنے رب کو اپنا حساب دینا ہے،  اور جنہوں  نے دنیا کی زندگی میں  نیک عمل کر کے اپنی آخرت کی بھلائی کے لیے پیشگی سامان کر لیا تھا، وہ اپنا حساب پاک دیکھ کر خوش ہو جائیں  گے اور انہیں  جنت کا ابدی عیش نصیب ہو گا۔ اس کے بر عکس جن لوگوں  نے خدا کا حق مانا نہ بندوں  کا حق ادا کیا، انہیں  خدا کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا اور وہ جہنم کے عذاب میں  مبتلا ہو جائیں  گے۔

دوسرے رکوع میں  کفارِ مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اس قرآن کو ایک شاعر اور کاہن کا کلام کہتے ہو، حالانکہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام ہے جو ایک رسولِ کریم کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔  رسول اس کلام میں  اپنی طرف سے ایک لفظ گھٹانے یا بڑھا نے کا اختیار نہیں  رکھتا۔  اگر وہ اس میں  اپنی من گھڑت کوئی چیز شامل کر دے تو ہم اُس کی رگِ گردن(یا رگِ دل)کاٹ دیں۔  یہ ایک یقینی برحق کلام ہے اور جو لوگ اسے جھٹلائیں  گے انہیں  آخر کار پچھتانا پڑے گا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ہونی شُدنی! ۱ کیا ہے وہ ہونی شُدنی؟ اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شُدنی؟ ۲

ثمود ۳ اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی  آفت ۴ کو جھُٹلایا۔ تو ثمود ایک سخت حادثہ ۵ سے ہلاک کیے گئے۔  اور عادایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے۔  اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلّط رکھا۔ (تم وہاں  ہوتے تو)دیکھتے کہ وہاں  اِس طرح پَچھڑے پڑے ہیں  جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔  اب کیا اُن میں  سے کوئی تمہیں  باقی بچا نظر آتا ہے ؟

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں  نے اور تَل پٹ ہو جانے والی بستیوں  نے کیا۔ ۶ ان سب نے اپنے ربّ کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا ۷ تو ہم نے تم کو کشتی میں  سوار کر دیا تھا ۸ تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنادیں   اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔  ۹

۱۰ پھر جب ایک دفعہ صُور میں  پھونک مار دی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں  کو اُٹھا کر ایک ہی چوٹ میں  ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا،  اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا۔ اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی۔ فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں  ہوں  گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے ربّ کا عرش اپنے اُوپر اُٹھائے ہوئے ہوں  گے۔  ۱۱ وہ دن ہو گا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے،  تمہارا کوئی راز بھی چھُپا نہ رہ جائے گا۔

اُس وقت جس کا نامۂ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں  دیا جائے گا ۱۲ وہ کہے گا’’ لو دیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال، ۱۳ میں  سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔ ‘‘ ۱۴ پس وہ دل پسند عیش میں  ہو گا،  عالی مقام جنت میں  جس کے پھلوں  کے گچھے جھُکے پڑ رہے ہوں  گے۔  (ایسے لوگوں  سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو  اپنے  اُن اعمال کے بدلے  جو تم نے گُزرے ہوئے دنوں  میں  کیے ہیں۔

اور جس کا نامۂ اعمال  اُس کے بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا ۱۵ وہ کہے گا’’ کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا ۱۶ اور میں  نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔  ۱۷ کاش میری وہی موت (جو دُنیا میں  آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔ ۱۸ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا۔‘‘ ۱۹ (حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں  طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنّم میں  جھونک دو، پھر اِس کو ستّر ہاتھ لمبی زنجیر میں  جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ ۲۰ لہٰذا آج نہ یہاں  اِس کا کوئی یارِ غم خوار ہے اور نہ زخموں  کے دھووَن کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا،  جسے خطاکاروں  کے سوا کوئی نہیں  کھاتا۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  لفظ الحاقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں  وہ واقعہ جو کو لازماً پیش آ کر رہنا ہے جس کا آنا برحق ہے، جس کے آنے میں  کسی شک کی گنجائش نہیں۔  قیامت کے لیے یہ لفظ استعمال کر نا اور پھر کلام کا آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مُخاطب وہ لوگ ہیں  جو اُس کے آنے کو جھٹلا رہے تھے۔  اُن کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر رہے ہو وہ ہونی شُدنی ہے،  تمہارے انکار سے اُس کا آنا رُک نہیں  جائے گا۔

۲: یکے بعد دیگرے یہ دوسوالات سامعین کو چونکانے کے لیے کیے گئے ہیں  تا کہ وہ بات کی اہمیت کو سمجھیں  اور پوری توجہ کے ساتھ آگے کی بات سُنیں۔

۳: کفارِ مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اُس کے آنے کی خبر کو مزاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے اُن کو خبردار کیا گیا کہ وہ تو ہونی شُدنی ہے،  تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہر حال آ کر رہے گی۔ اس کے بعد اب اُن کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ صرف اتنا سادہ سا معاملہ نہیں  ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں،  بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں  کے اخلاق اور پھر اُن کے مستقبل سے ہے۔  تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں  کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخر کار خدا کی عدالت میں  اپنا حساب دینا ہو گا،  وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں  مبتلا ہوئی، یہاں  تک کہ خدا کے عذاب نے آ کر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کر دیا۔

۴: اصل لفظ القارعہ ہے۔  قرع عربی زبا ن میں  ٹھوکنے،  کوٹنے،  کھڑ کھڑا دینے،  اور ایک چیز کو دوسری چیز پر مار دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔  قیامت کے لیے یہ دوسرا لفظ اُس کی ہولناکی کا تصور دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

۵: سورہ اعراف،  آیت ۷۸ میں  اس کو الرّجْفہ (زبردست زلزلہ)کہا گیا ہے۔  سورہ ہود،  آیت ٦۷ میں  اس کے لیے الصَّیْحَہ (زور کے دھماکے )کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔  سورہ حٰم السجدہ، آیت ١۷ میں  فرمایا گیا ہے کہ ان کو صَاعِقَةُ الْعَذَاب (عذاب کے کڑکے ) نے آلیا۔ اور یہاں  اُسی عذاب کو الطَّاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ)سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔  یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیا ن ہے۔

۶: ہیں  قومِ لوط کی بستیاں  جن کے متعلق سورہ ہود ؑ (آیت ۸۲) اور سورہ حجز(آیت ۷۴) میں  فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔

۷: اشارہ ہے طوفانِ نوح کی طرف جس میں  ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کر دکی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں  نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی۔

۸: اگرچہ کشتی میں  سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں  برس پہلے گزر چکے تھے،  لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل اُنہی لوگوں  کی اولا دہے جو اُس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے،  اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں  سوار کر ادیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں  اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اُس طوفان میں  صرف مُنکر ین کو غرق کیا تھا اور ایمان لانے والوں  کو بچا لیا تھا۔

۹: یعنی وہ کان نہیں  جو سُنی اَن سنی کر دیں  اور جن کے پر دے پر سے آواز اُچٹ کر گزر جائے،  بلکہ وہ کان جو سُنیں  اور بات کو دل تک اُتاردیں۔  یہاں  بظاہر کان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے،  مگر مراد ہیں  سننے والے لوگ جو اس واقعہ کو سن کر اُسے یاد رکھیں ،  اُس سے عبرت حاصل کریں  اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں  کہ آخرت کے انکا راور خدا کے رسول کی تکذیب کا انجام کیسا ہولناک ہوتا ہے۔

۱۰: آگے آنے والی آیات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں  رہنی چاہیے کہ قرآن مجید کہیں  تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں  جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں  پیش آئیں  گے،  اور کہیں  گے سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کر دیا گیا ہے۔  مثال کے طور پر سورہ نمل آیت ۸۷ میں  پہلے نفخ سور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں  گے۔  اُس وقت نظامِ  عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات اُن کی آنکھوں  کے سامنے پیش آئیں  گی جو سورہ حج آیات١۔۲، سور ہ یٰس آیات ۴۹۔۵۰، اور سورہ تکویر آیات ١۔٦ میں  بیان ہوئی ہیں۔  سورہ زُمر آیات ٦۷ تا ۷۰ میں  دوسرے  اور تیسرے نفخ صور کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایک نفخ پر سب لوگ مر کر گر جائیں  گے اور اس کے بعد جب پھر  صور پھونکا جائے گا تو سب جی اٹھیں  گے اور خدا کی عدالت میں  پیش ہو جائیں  گے۔  سورہ طٰہٰ آیات ۲۔١ تا ١١۲، سورہ انبیاء آیات ١۰١ تا ١۰۳، سورہ یٰس آیات۵١تا۵۳، اور سورہ ق آیات ۲۰ تا ۲۲ میں  صرف تیسرے نفخ صور کا ذکر ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طٰہٰ حاشیہ ۷۸۔ الحج، حاشہت١۔ جلد چہارم، یٰس، حواشی ۴٦۔۴۷)۔ لیکن یہاں  اور بہت سے دوسرے مقامات پر قرآن میں  پہلے نفخ صور سے لے کر جنت اور جہنم میں  لوکوں  کے داخل ہونے تک قیامت کے تمام واقعات کو ایک ہی سلسلے میں  بیان کر دیا گیا ہے۔ ۱۱:  یہ آیت متشابہات میں  سے ہے جس کے معنی متعین کر نا مشکل ہے۔  ہم نہ یہ جان سکتے ہیں  کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں  کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں  کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہو گی۔ مگر یہ بات بہر حال قابل تصور نہیں  ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہو گا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھا ئے ہوئے ہوں گے۔  آیات میں  بھی یہ نہیں  کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہو گا،  اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں  دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں  مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اُسے اٹھا ئے۔ اس لیے کھوج کر ید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو گمراہی کے خطرے میں  مبتلا کر نا ہے۔  البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ کی حکومت و فرمانروائی اور اس کے معاملات کا تصور دلانے کے لیے لوگوں  کے سامنے وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں  بادشاہی کا نقشہ ہوتا ہے،  اور اس کے لیے وہی اصطلاحیں  استعمال کی گئی ہیں  جو انسانی زبانوں  میں  سلطنت اور اس کے مظاہر دلوازم کے لیے مستعمل ہیں،  کیونکہ انسانی ذہن اسی نقشے اور انہی اصطلاحات کی مدد سے کسی حد تک کائنات کی سلطانی کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے۔  یہ سب کچھ اصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب تر کرنے کے لیے ہے۔  اس کو بالکل لفظی معنوں  میں  لے لینا دُرست نہیں  ہے۔

۱۲: سیدھے ہاتھ میں  نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے گا کہ اُس کا حساب بے باق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں  مجرم کی حیثیت سے نہیں  بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔  اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں  کی تقسیم کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے وقت سے میدانِ حشر میں  حاضری تک اُس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہو گا اس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی  یہ اطمینان حاصل ہو چکا ہو گا کہ میں  یہاں  انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں  نہ کہ سزا پانے کے لیے۔  قرآن مجید  میں  یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہو جاتی ہے کہ وہ نیک بخت آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں  جا رہا ہے یا بدبخت آدمی کی حیثیت سے۔  پھر موت سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بد انسان کے ساتھ حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اسی وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور کفار و منافقین اور مجرمین کی حالت و کیفیت کچھ اور (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الانفال، آیت۵۰۔النحل، آیات۲۸، ۳۲، مع حاشیہ ۲۶۔بنی اسرائیل، آیت۹۷۔ جلد سوم،  طٰہٰ، آیات۱۰۲، ۱۰۳، ۱۲۴تا۱۲۶، مع حواشی ۸۰، ۷۹، ۱۰۷ لانبیاء، آیت ۱۰۳، مع حاشیہ ۹۸۔الفرقان، آیت۲۴، مع حاشیہ۳۸۔ النمل، آیت۸۹، مع حاشیہ۱۰۹م جلد چہارم، سبا، آیت ۵۱، مع حاشیہ۷۲۔ یٰس، آیات ۲۶، ۲۷، مع حواشی ۲۲۔۲۳۔المومن، آیات۴۵، ۴۶، مع حاشیہ ۶۳۔جلد پنجم، محمد ؐ،  آیت۲۷ مع حاشیہ ۳۷۔ق، آیات۱۹تا۲۳۔مع حواشی ۲۵، ۲۳، ۲۲)۔

۱۳: یعنی نامہ اعمال ملتے ہی وہ خوش ہو جائے گا اور اپنے ساتھیوں  کا دکھائے گا۔  سورہ الشقاق،  آیت ۹ میں  بیان ہوا ہے کہ ’’وہ خوش خوش اپنے لوگوں  کی طرف پلٹے گا۔

۱۴: یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں  آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روزاُسے خدا کے حضور حاضر ہونا ور اپنا حساب دینا ہے۔

۱۵: سورہ انشقاق میں  فرمایا گیا ہے ’’اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا‘‘۔غالباً اس کی صورت یہ ہو گی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہو گا اور وہ جانتا ہو گا کہ اس نامہ اعمال میں  اس کا کیا کچھا چٹھا در ج ہے،  اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں  ہاتھ بڑھا کر اُسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔

۱۶: یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدانِ  حشر میں  علانیہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔

۱۷: یعنی مجھے نہ بتایا جاتا کہ میں  دنیا میں  کیا کچھ کر کے آیاہوں۔  دوسرا مطلب اس آیت  کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں  نے کبھی یہ نہ جانا تھا کہ حساب کیا بلا ہوتی ہے،  مجھے کبھی یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا حساب بھی دینا ہو گا اور میرا سب کیا کرایا میرے سامنے رکھ دیا جائے گا۔

۱۸: یعنی دنیا میں  مرنے کے بعد میں  ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گیا ہوتا اور کوئی دسری زندگی نہ ہوتی۔

۱۹: اصل الفاظ ہیں  ھَلَکَ عَنِّی ْسُلطٰنِیَہْ۔ سلطان کا لفظ دلیل وحجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اُسے دلیل وحُجت کے معنی میں  لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ جو دلیل باز یاں  میں  کیا کرتا تھا وہ یہاں  نہیں  چل سکتیں ،  میرے پاس اپنی صفائی میں  پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں  رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں  لیا جائے تو مراد یہ ہو گی کہ دنیا میں  جس طاقت کے بل بوتے پر میں  اکڑتا تھا وہ یہاں  ختم ہو چکی ہے۔  اب یہاں  کوئی میرا لشکر نہیں،  کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں،  میں  ایک بے بس اور لا چار بندے کی حیثیت  سے کھڑا ہوں  جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں  کر سکتا۔

۲۰: یعنی  خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار،  کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں  کو روٹی دے دو۔

 

ترجمہ

 

پس نہیں،  ۲۱ میں  قسم کھاتا ہوں  اُن چیزوں  کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور اُن کی بھی جنہیں  تم نہیں  دیکھتے،  یہ ایک رسولِ کریم کا قول ہے،  ۲۲ کسی شاعر کا قول نہیں  ہے،  تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ ۲۳ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے،  تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔  ۲۴ اور اگر  اس (نبیؐ )نے خود گھڑ کر کوئی بات  ہماری طرف منسُوب کی ہوتی تو ہم اِس کا دایاں  ہاتھ پکڑ لیتے اور  اِس کی رگِ گردن  کاٹ ڈالتے،  پھر تم میں  سے کوئی (ہمیں ) اِس کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔ ۲۵ درحقیقت یہ پرہیز گار لوگوں  کے لیے ایک نصیحت ہے۔  ۲۶ اور ہم جانتے ہیں  کہ تم میں  سے کچھ لوگ جھُٹلانے والے ہیں۔  ایسے کافروں  کے لیے یقیناً یہ موجبِ حسرت ہے۔  ۲۷ اور یہ بالکل یقینی حق ہے۔  پس اے نبی ؐ،  اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔   ؏۲

 

تفسیر

 

۲۱: یعنی تم لوگوں  نے جو کچھ سمجھ رکھا ہے بات وہ نہیں  ہے۔

۲۲: یہاں  رسولِ کریم سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہیں  اور سورہ تکویر(آیت ۱۹) میں  اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔  اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں  قرآن کو رسولِ کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں  ہے،  اور ظاہر  ہے کہ کفارِ مکہ  جبریل ؑ کو نہیں  بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو شاعر اور کاہن کہتے تھے۔  بخلاف اس کے سورہ تکویر میں  قرآن کو رسولِ کریم  کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے،  صاحبِ عرش کے ہاں  بلند مرتبہ رکھتا ہے،  وہاں  اس کی بات مانی جاتی ہے،  وہ امانت در ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اُس کو روشن اُفق پر دیکھا ہے۔  قریب قریب یہی مضمون سورہ نجم آیات ۵ تا ۱۰ میں  جبریل علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے۔            یہاں  یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور جبریل کا قول کس معنی میں  کہا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ اس کوحضور ؐ کی زبان سے اور حضور ؐ اسے جبریل ؑ کی زبان سے سُن رہے تھے،  اس لیے ایک لحاظ سے یہ حضور ؐ  کا قول تھا اور وہ دوسرے لحاظ سے جبریل ؑ  کا قول، لیکن آگے چل کر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ فی الاصل یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جبریل کی زبان سے،  اور لوگوں  کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔  خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا لفظ بھی اس حقیقت پر دلالت کر تا ہے کہ یہ ان دونوں  کا اپنا کلام نہیں  ہے بلکہ پیغام بر ہونے کی حیثیت سے انہوں  نے اس کو پیغام بھیجنے والے کی طرف سے پیش کیا ہے۔

۲۳: ’’کم ہی ایمان لاتے ہو‘‘کا ایک مطلب عربی محاورے کے مطابق یہ ہو سکتا ہے کہ تم ایمان نہیں  لاتے۔  اور دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن کو سُن کر کسی وقت تمہارا دل خود پکار اُٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں  ہو سکتا،  مگر پھر تم اپنی ضدپر اڑ جاتے اور اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیتے ہو۔

۲۴: ’’حاصلِ کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں  نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں  آتا، اُس  سب کی قسم میں  اس بات پر کھاتا ہوں  کہ یہ  قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں  ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف)ہے۔  اب دیکھیے کہ یہ قسم کس  معنی میں  کھائی گئی ہے۔  جو کچھ لوگوں  کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ:           (۱)اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں  کسی سے چھپا ہوا نہ تھا۔ سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ اُن کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔  ایسے شخص سے یہ توقع نہیں  کی جا سکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا جھوٹ لے کر اٹھ کھڑا ہو گا کہ خدا پر بُہتان باندھے اور اپنے دل دے ایک بات گھڑ کر اُسے خدا وندِ عالم کی طرف منسوب کر دے۔            (۲)وہ یہ بھی علانیہ  دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کو پیش کرنے میں  اپنا کوئی ذاتی مفاد اُس شخص کے پیشِ نظر نہیں  ہے،  بلکہ یہ کام کر کے تو اُس نے اپنے مفاد کو قربان کر دیا ہے۔  اپنی تجارت کو برباد کیا۔ اپنے عیش و آرام کو تَج دیا۔ جس معاشرے میں  اسے سر آنکھوں  پر بٹھا یا جاتا تھا، اُسی میں  گالیاں  کھانے لگا۔ اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بال بچوں  تک کو ہر قسم کے مصائب میں  مبتلا کر لیا۔ ذاتی مفاد کا خواہشمند ان کانٹوں  میں  اپنے آپ کو کیوں   گھسیٹتا؟           (۳)اُن کی آنکھیں  یہ بھی دیکھ رہی تھیں  کہ اُنہی کے معاشرے میں  سے جو لوگ اُس شخص پر ایمان لا رہے تھے ان کی زندگی میں  یک لخت ایک انقلاب بر پا ہو جاتا تھا۔ کسی شاعر یا کاہن کے کلام میں  یہ تاثیر آخر کب دیکھی گئی ہے کہ وہ لوگوں  میں  ایسی زبردست اخلاقی تبدیلی پیدا کر دے اور اس کے ماننے والے اُس کی خاطر ہر طرح کے مصائب و آلام برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ؟           (۴)اُن سے یہ بات بھی چھپی ہوئی نہ تھی کہ شعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں  کا کلام کیسا ہوتا ہے۔  ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کون یہ کہہ سکتا تھا کہ قرآن کی زبان شاعری یا کہانت کی زبان ہے (اس پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن،  جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ ۷۔ جلد چہارم، الشعراء، حواشی ۱۴۲ تا۱۴۵۔ اور جلد پنجم، الطور حاشیہ ۲۲ میں  کر چکے ہیں۔            (۵)یہ بات بھی اُن کی نگاہوں  کے سامنے تھی کہ پورے عرب میں  کوئی شخص ایسا فصیح و بلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کے مقابلے میں  لایا جا سکتا ہو۔ اُس کے برابر تو درکنار،  اس کے قریب تک کسی کی فصاحت و بلاغت نہیں  پہنچتی تھی۔           (۶)ان سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی زبان بھی اپنی ادبی شان کے لحاظ سے قرآن کی ادبی شان بہت مختلف تھی۔ کوئی اہل زبان حضور ؐ کی اپنی تقریر،  اور قرآن کو سُن کر یہ نہیں  کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں  ایک ہی شخص کے کلام ہیں۔            (۷)قرآن جن مضامنپ اور علوم پر مشتمل تھا، دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی مکہ کے لوگوں  نے کبھی وہ باتیں  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی زبان سے نہ سنی تھیں،  او وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ آپ کے پاس نہیں  ہے۔  اسی وجہ سے آپ کے مخالفین اگر یہ الزامات لگاتے   بھی تھے کہ آپ کہیں  سے خفیہ طریقے پر یہ معلومات حاصل کرتے ہیں  تو مکہ میں  کوئی شخص اُن کو باور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا(اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن جلد دوم، النحل حاشیہ ۱۰۷، اور جلد سوم، الفرقان، حاشیہ۱۲ میں  کر چکے ہیں )۔           (۸)زمین سے لے کر آسمان تک اس عظیم الشان کارخانہ ہستی کو بھی وہ اپنی آنکھوں  سے چلتا ہوا دیکھ رہے تھے جس میں  ایک زبردست حکیمانہ قانون اور ہمہ گیر نظم و ضبط کار فرما نظر آرہا تھا۔ اس کے اندر کہیں  اُس شرک اور انکارِ آخرت کے لیے کوئی شہادت نہیں  پائی جاتی تھی جس کے اہلِ عرب معتقد تھے،  بلکہ ہر طرف توحید اور آخرت ہی کی صداقت کے شواہد ملتے تھے جسے قرآن پیش کر رہا تھا۔           یہ سب کچھ تو دیکھ رہے تھے۔  اور جو کچھ وہ نہیں  دیکھ رہے تھے وہ یہ تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق و مالک اور فرمانروا ہے،  کائنات میں  سب بندے ہی بندے ہیں،  خدا اُس کے سوا کوئی نہیں  ہے،  قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے،  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول مقرر کیا ہے،  اور اُن پر اللہ ہی کی طرف سے یہ قرآن نازل ہو رہا ہے۔  ان دونوں  قسم کے حقائق کی قسم کھا کر وہ بات کہی گئی ہے جو اوپر کی آیا ت میں  ارشاد ہوئی ہے۔

۲۵: اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ نبی کو اپنی طرف سے وحی میں  کوئی کمی بیشی کر نے کا اختیار نہیں  ہے،  اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں۔  مگر اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے جس سے آنکھوں  کے سامنے یہ تصویر کھینچ جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کا مقرر کردہ افسر اُس کے نام سے کوئی جعلسازی کرے توبادشاہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کا سر قلم کر دے۔  بعض لوگوں  نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے،  اُس کی رگِ دل یا رگِ گردن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اُس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے۔  حالانکہ اس آیت میں  جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں  ہے،  نبوت کے جھوٹے مدعیوں  کے بارے میں  نہیں  ہے۔  جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں  خدائی تک کے دعوتے کرتے ہیں  اور زمین پر مدتّوں  دندناتے پھرتے ہیں۔  یہ اُن کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں  ہے۔  اس مسئلے پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن، جلد دوم، تفسیر سورہ یونس حاشیہ ۲۳ میں  کر چکے ہیں۔

۲۶: یعنی قرآن اُن لوگوں  کے لیے نصیحت ہے جو غلط روی اور اُس کے بُرے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ۳)۔

۲۷: یعنی آخر کار انہیں  اس بات پر پچھتا نا پڑے گا  کہ انہوں  نے کیوں  اس قرآن کی تکذیب کی۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین۔ کلیم محی الدین

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید