FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

تفسیر سورۂ فاتحہ

 

(درِ منثور کا ابتدائی حصہ)

                جلال الدین ابو بکر السیوطی

 

 

 

 

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ﴿1﴾

 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

 

سورۃ الفاتحۃ مکیۃ

 

یہ سورۃ مکی ہے اور اس کی سات آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔

(۱) حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ میں نے حضرت اسود رحمہ اللہ سے فاتحہ الکتاب کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ قرآن میں سے ہے تو انہوں نے فرمایا ہاں۔

(۲) امام عبد بن حمید اور محمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلاۃ میں اور ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ ابی بن کعب لکھا کرتے تھے (اپنے مصحف میں) فاتحۃ الکتاب والمعوذتین واللہم ایاک نعبد واللہم ایاک نستعین اور ابن مسعود نے (اپنے مصحف میں) اس میں سے کچھ بھی نہ لکھا اور عثمان بن عفانؓ  نے فاتحۃ الکتاب والمعوذتین کو لکھا۔

(۳) امام عبد بن حمید نے حضرت ابراہیم رحمہ ارحمہ اللہ سے روایت کیا کہ عبد اللہؓ  اپنے مصحف میں فاتحۃ الکتاب کو نہیں لکھا کرتے تھے اور انہوں نے فرمایا اگر میں اس کو لکھوں تو ہر چیز کے اول میں لکھوں۔

(۴) الواحدی رحمہ اللہ اسباب النزول میں اور الثعلبی نے اپنی تفسیر میں حضرت علیؓ  سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب عرش کے خزانے کے نیچے سے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔

(۵) امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابو نعیم نے دلائل نبوۃ میں واحدی اور ثعلبی نے ابو میسرہ عمرو بن شرجیلؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت خدیجہؓ  کو فرمایا کہ جب میں اکیلا ہوا تو میں نے ایک آوز سنی قسم ہے اللہ پاک کی میں ڈرا کہ کوئی (بڑا) حادثہ پیش آنے والا ہے۔ حضرت خدیجہؓ  نے (یہ سن کر) فرمایا اللہ کی پناہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اللہ کی قسم آپ تو امانت کو ادا کرنے والے ہیں اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور سچی بات کہنے والے ہیں پھر جب ابو بکرؓ  حضرت خدیجہؓ  کے پاس آئے جبکہ رسول اللہﷺ موجود نہیں تھے تو حضرت خدیجہؓ  نے اس واقعہ کو حضرت ابوبکرؓ  سے بیان فرمایا اور ان سے کہا کہ آپ محمدﷺ کے ساتھ ورقہ کے پاس جاؤ پھر جب رسول اللہﷺ تشریف لائے تو حضرت ابو بکرؓ  نے ان کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ ورقہ کے پاس تشریف لے چلئے آپ نے ان سے (یعنی حضرت ابوبکرؓ  سے) فرمایا کہ تجھے کس نے (اس واقعہ کی) خبر دی۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت خدیجہؓ  نے چنانچہ دونوں (یعنی حضور اقدسﷺ اور حضرت ابوبکر) ورقہ کی طرف تشریف لے گئے اور دونوں حضرات نے ان کو اپنا قصہ بیان کیا اور حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جب میں اکیلا رہتا ہوں تو میں اپنے پیچھے سے یہ آواز سنتا ہوں یا محمد یا محمد تو میں (ڈر کی وجہ سے) زمین میں بھاگ جاتا ہوں (یہ بات سن کر) ورقہ نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں بلکہ آپ کے پاس کوئی (آواز) آئے تو آپ جائیں اور (اس کی بات) سنتیں جو وہ کہتا ہے پھر آپ (دوبارہ) میرے پاس تشریف لائیں اور مجھے بتائیں پس جب آپ اکیلے ہوئے تو کسی آپ کو پکارا یا محمد آپ پڑھیئے لفظ آیت ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ (سے لیکر) لفظ آیت ولا الضالین تک (پھر) اس نے کہا آپ پڑھیئے لا الہ الا اللہ (اس کے بعد) حضورﷺ ورقہ کے پاس تشریف لائے اور اس کو یہ سب کچھ بتایا ورقہ نے آپ سے عرض کیا آپ کو خوشخبری ہو پھر کہا آپ کو خوشخبری ہو (اور) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ آپ وہی ہیں جس کی ابن مریم (علیہ السلام) نے خوشخبری دی تھی ۔ اور بلاشبہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے ناموس کی طرح ہیں (یعنی فرشتہ ان کے پاس آتا تھا وہی فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے) اور بلاشبہ آپ بھیجے ہوئے نبی ہیں۔

(۶) امام ابو نعیم نے دلائل نبوۃ میں اسحاق بن یسار رحمہ اللہ نے بنی سلمہ کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ اس نے کہا کہ جب نبی سلمہ کے دو نوجوان اور عمرو بن الجموعؓ  کے صاحبزادے اسلام لائے تو عمرو بن جموع کی گھر والی ان سے کہنے لگی کیا تو نے اپنے بیٹے سے سنا جو وہ ان کی طرف سے روایت کرتا ہے تو عمروؓ  نے کہا تو نے اس آدمی (یعنی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )  کی طرف سے کیا کلام سنا ہے؟ بیٹے نے (ان کے سامنے) یہ پڑھا لفظ آیت الحمد للہ رب العالمین سے اھدنا الصراط المستقیم تک تو عمرو بن جموع نے یہ کلام سن کر) فرمایا کیا ہی اچھا اور کیا ہی خوبصورت کلام ہے اور ان کا ہر کلام اس طرح ہے پھر اس کے صاحبزادے نے عرض کیا اے میرے ابا جان اور (ان کا کلام) اس سے بھی زیادہ اچھا ہے اور یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے۔

(۷) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابو سعید بن الاعرابی نے اپنی معجم میں اور طبرانی نے الاوسط میں مجاہد کے واسطے سے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ جب سورۃ فاتحہ اتری تو ابلیس بلند آواز سے رونے لگا اور (سورۃ فاتحہ) مدینہ منورہ میں اتری۔

(۸) وکیع اور فریابی نے اپنی اپنی تفسیر میں اور ابو عبد اللہ نے فضائل القرآن میں، ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، عبد بن حمید اور ابن المذر نے اپنی اپنی تفسیر میں ، ابو کثیر ابن الانباری نے کتاب المصاحف میں، ابو الشیخ نے العظمۃ میں، ابو نعیم نے الحلیہ میں، حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ فاتحہ الکتاب (یعنی سورۃ فاتحہ) مدینہ منورہ میں اتری۔

(۹) وکیع نے اپنی تفسیر میں مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ فاتحۃ الکتاب مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔

(۱۰) ابوبکر بن الانباری نے المصاحف میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ فاتحہ الکتاب مکہ مکرمہ میں اتری۔

(۱۱) امام ابن الضریس نے فضائل القرآن میں ایوب سے روایت کیا ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ وہ (سورۃ فاتحہ کو) ام القرآن کہنا ناپسند فرماتے تھے اور وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لفظ آیت ’’ وعندہ ام الکتاب ‘‘ اور لیکن (یہ سورۃ) فاتحۃ الکتاب ہے۔

(۱۲) امام دار قطنی نے روایت کیا ہے اور اس روایت کو انہوں نے صحیح بھی کہا ہے اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم الحمد (یعنی سورۃ فاتحہ) پڑھو تو ہم لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم (بھی) پڑھو کیونکہ یہ (سورۃ فاتحہ) ’’ ام القرآن ‘‘ اور ’’ ام الکتاب ‘‘ اور سبع المثانی ہے۔ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے۔

(۱۳) امام بخاری نے اور دارمی نے اپنے سند میں ابو داؤد، ترمذی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابی ابی مرویہ نے اپنی اپنی تفاسیر میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ’’ الحمدللہ رب العالمین ‘‘ ام القرآن، ام الکتاب اور سبع المثانی ہے۔

 

                فاتحہ کا دوسرا نام ام القرآن

 

(۱۳) امام احمد نے اپنی سند میں ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاترم اور ابن مرویہ نے اپنی اپنی تفاسیر میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ام القرآن کے بارے میں کہ ام القرآن فاتحۃ الکتاب ہے اور یہ السبع المثانی ہے اور یہ القرآن العظیم ہے۔

(۱۴) الثعلبی نے عبد الجبار بن العلاء رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فاتحۃ الکتاب کا نام الواقعہ رکھتے تھے (وافیہ کا معنی عربی میں آنکھیں اور کان کو کہا جاتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے الوافیہ کا ترجمہ یہ ہو گا کہ فاتحۃ الکتاب کی حیثیت قرآن مجید میں اتنی اہم ہے جتنی انسانی جسم میں آنکھوں اور کانوں کی حیثیت ہے۔ گویا سورۃ فاتحہ قرآن مجید کی آنکھیں اور کان ہیں) ۔

(۱۵) الثعلبی نے عفیف بن سالم رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ میں نے عبد اللہ بن یحیی بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو الکافیہ کے متعلق پوچھتا ہے میں نے کہا الکافیہ کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ’’ الفاتحہ ‘‘ کیا تو نہیں جانتا کہ (ایک ہی سورۃ فاتحہ) اپنے علاوہ (سب سورتوں سے) کافی ہو جاتی ہے اور نہیں ہوتیں (سب سورتیں) اس (ایک سورۃ فاتحہ) کے علاوہ۔

(۱۶) الثعلبی نے حضرت شبعی رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے کوکھ میں درد کی شکایت کی تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو قرآن کی بنیاد کو لازم پکڑ تو اس نے پوچھا کہ قرآن کی بنیاد کیا چیز ہے آپ نے فرمایا فاتحۃ الکتاب۔

(۱۷) درا قطنی اور بیہقی نے السنن میں صحیح سند کے ساتھ عبد خیر رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ حضرت علیؓ  سے سبع المثانی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ’’ الحمد للہ رب العالمین پھر ان سے کہا گیا کہ یہ تو چھ آیتیں ہیں آپ نے فرمایا کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی ایک آیت ہے۔

(۱۸) طبرانی نے اپنی وسط میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لفظ آیت ’’ الحمدللہ رب العالمین ‘‘ سات آیتیں ہیں اور بسم اللہ الرحمن الرحیم ان میں سے ایک آیت ہے۔ اور یہ السبع المثانی ہے اور القرآن العظیم ہے اور یہ ام القرآن ہے اور یہ فاتحۃ الکتاب ہے۔

(۱۹) امام دار قطنی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ بلاشبہ نبی کریمﷺ لوگوں کی امامت فرماتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم (سے) شروع فرما رہے تھے ابوہریرہؓ  نے فرمایا کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت ہے پڑھو تم (اس کو) اگر تم فاتحۃ الکتاب کوّ پڑھنا) چاہو بےشک وہ ساتویں آیت ہے۔ (بخاری نے بھی اس کی مثل روایت نقل کی ہے) ۔

(۲۰) امام ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت ام سلمہؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے (اس طرح) تلاوت فرمائی لفظ آیت ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ الحمد للہ رب العلمین ۔ الرحمن الرحیم ۔ ملک یوم الدین ۔ ایاک نعبد وایاک نستعین ۔ اھدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین اور فرمایا یہ سات (آیتیں) ہیں اے ام سلمہ۔

(۲۱) احمد، بخاری ، دارمی ، ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن ماجہ، ابن مرویہ اور بیہقی نے ابو سعید بن المعلیؓ  سے روایت کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا مجھ کو نبی کریمﷺ نے بلایا تو میں (نماز پڑھنے کی وجہ سے) آپ کو جواب نہ دے سکا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ پاک کا یہ فرمان نہیں ہے؟ لفظ آیت

استجیبوللہ وللرسول اذا دعاکم ؛

تم حکم مانو اللہ اور اس کے رسول کا جب وہ تم کو بلائیں

پھر فرمایا کہ میں ضرور ضرور تجھ کو قرآن میں اعظم سورۃ کے بارے میں بتاؤں گا تیرے مسجد سے نکلنے سے پہلے۔ پھر آپ نے میرے ہاتھ کو پکڑا اور جب ہم نکلنے کے قریب ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ آپ نے فرمایا تھا کہ میں ضرور تجھ کو ایک سورۃ قرآن کی بتاؤں گا تو آپ نے فرمایا لفظ آیت ’’ الحمدللہ رب العالمین ‘‘ یہ سبع المثانی اور القرآن العظیم ہے جو مجھے دی گئی۔

(۲۲) امام ابو عبید، احمد، ترمذی، دارمی، نسائی، ابن خزیمہ، ابن المنذر، حاکم، مردویہ اور ابوذر البہری نے فضائل قرآن میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ ابن ابی کعب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت ابی آپ کے فرمان پر متوجہ ہوئے مگر (نماز میں مشغول ہونے کی وجہ سے) آپ کو جواب نہ دے سکے حضرت ابی نے نماز ادا فرمائی مگر (نماز کو حضورﷺ کے بلانے کی وجہ سے) ہلکا کردیا پھر وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا السلام علیک یا رسول اللہ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب میں نے تجھ کو بلایا تھا تو نے جواب کیوں نہ دیا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کلام میں نہیں پڑھا جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی یہ کہ لفظ آیت

استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحیکم

ترجمہ : اے ایمان والو تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جبکہ وہ تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہیں۔

ابی نے عرض کیا کیوں نہیں اور میں انشاء اللہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا (پھر) فرمایا کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ میں تجھ کو ایک ایسی سورۃ بتاؤں جس کی مثال نہ تورات میں ہے نہ انجیل میں نہ زبور میں ہے اور نہ فرقان میں ہے ابی نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول (مجھے ضرور بتائے) پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا تو نماز میں کیسے پڑھتا ہے ؟ یعنی کوئی سورۃ پڑھتا ہے تو ابی نے ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) پڑھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس سورۃ کی مثل نہ توراۃ میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ (اس) قرآن میں اتری اور بلاشبہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں پڑھی جاتی ہیں یہ سبع من المثانی ہے یا فرمایا السبع المثانی اور یہ القرآن العظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا۔

(۲۳) امام دارمی، ترمذی انہوں نے اس کو حسن قرار دیا ہے، نسائی ، عبد اللہ بن حنبل نے زوائد المسند میں ابن الضریس نے فضائل القرآن میں ابن جریر، ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اس کو العلاء عن ابیہ عن ابی ہریرہ حضرت ابی کعبؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں، اور نہ (اس ) فرقان میں مثل (اس) ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) کے اور یہ السبع المثانی ہے اور القرآن العظیم ہے۔ جو مجھ کو عطا کیا گیا اور (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) کہ (یہ سورۃ) تقسیم کی ہوئی ہے میرے اور میرے بندے کے درمیان اور میرے بندے کے لئے (وہ سب کچھ) ہے جو اس نے (مجھ سے) سوال کیا۔

 

                دو نوروں کی بشارت ملنا

 

(۲۴) امام مسلم، نسائی، ابن حیان، طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بھی تشریف فرما تھے اچانک آسمان کے اوپر سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی تو حضرت جبرئیل نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا اے محمدﷺ یہ ایک فرشتہ نازل ہوا ہے جو پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا راوی فرماتے ہیں کہ وہ (فرشتہ) نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور سلام کیا (سلام کے بعد) کہنے لگا کہ آپ کو دو نوروں کی خوشخبری ہو جو (خاص کر) آپ کو دئیے گئے اور آپ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دئیے گئے ایک فاتحۃ الکتاب اور (دوسرے) سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے وہ آپ کو دیا جائے گا۔

(۲۵) امام طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابو زیدؓ  سے روایت کیا ہے جو صحابی تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کے بعض کشادہ راستوں میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا (وہاں) ایک آدمی کو سنا جو رات کو تہجد کی نماز میں ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ پڑھ رہا تھا تو نبی کریمﷺ اس کی سورۃ ختم ہونے تک ٹھہرے رہے پھر فرمایا کہ زمین میں اسی جیسی (سورۃ) نہیں ہے۔

(۲۶) امام ابو عبید، احمد، بخاری، مسلم اور ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدریؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ہم کو تیس سواروں کے ایک دستہ کے ساتھ لڑنے کے لئے بھیجا ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے (اور) ہم نے ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کر دیا (اس دوران) ان کے سردار کو بچھونے ڈس لیا وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو بچھو کے ڈسے ہوئے پر دم کرتا ہو تو میں نے کہا ہاں میں ہوں اور لیکن میں (اس وقت تک دم) نہیں کروں گا جب تک کہ تم ہم کو کوئی چیز نہیں دو گے انہوں نے کہا کہ ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے تو میں نے الحمد (یعنی سورۃ فاتحہ) اس پر سات مرتبہ پڑھی اور وہ اچھا ہو گیا۔ پھر جب ہم نے (ان تیس) بکریوں پر قبضہ کر لیا تو ہمارے دلوں میں اس کے حلال ہونے کے بارے میں شبہ پیدا ہوا تو ہم ان کے کھانے سے رک گئے۔ یہاں تک کہ جب ہم نبی کریمﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو اس سارے واقعے کے بارے میں ذکر کیا آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ (سورۃ فاتحہ) دم کرنے کے لئے ہے ان (بکریوں) کو آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ (اس میں سے) ایک حصہ میرے لئے بھی مقرر کرو۔

(۲۷) امام احمد بخاری اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ کے چند صحابہ ایک پانی کے پاس سے گزرے جس میں ایک آدمی بچھو کا ڈسا ہوا یا سانپ کا کاٹا ہوا تھا۔ تو (اس قبیلہ) میں سے ایک آدمی ان (صحابہ) کے پاس آیا اور کہا کیا تم میں سے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ کیونکہ پانی میں ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا ہے یا سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ تو ان میں سے ایک صحابی تشریف لے گئے اور کچھ بکریوں کی شرط پر انہوں نے سورۃ فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو (وہ مریض) صحت یاب ہو گیا وہ ان بکریوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انہوں نے ان (بکریوں) کو (بطور عوض کے لینا) پسند نہ کیا اور کہا کہ کیا تو نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے؟ یہاں تک کہ وہ (سب) مدینہ منورہ پہنچے اور عرض کیا اسے اللہ کے رسول اس نے اللہ کی کتاب پر اجرت لی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا! جس چیز پر تم اجرت لیتے ہو کتاب اللہ اس کی زیادہ حق دار ہے (کہ اس پر اجرت لی جائے)

(۲۸) امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں جید سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن جابرؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو قرآن مجید میں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۃ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا (وہ ہے) فاتحۃ الکتاب اور میں گمان کرتا ہوں کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سورت میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔

(۲۹) حضرت سائب بن یزیدؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے فاتحۃ الکتاب کے ساتھ میرے اوپر دم کیا تھوکتے ہوئے (یعنی پھونک میں تھوک کے ذرے بھی تھے) ۔

(۳۰) سعید بن منصور نے سنن میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو سعید خدریؓ  سے روایت کیا کہ بلاشبہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب زہر کے لئے شفا ہے۔

(۳۱) ابو سعید و ابوہریرہؓ  سے اسی طرح مرفوعاً روایت ہے۔

(۳۲) حضرت عبد المالک بن عمیرؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہر بیماری کی شفا ہے۔

(۳۳) حضرت سلیمانؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ کے کچھ صحابہ بعض غزوات میں ایک ایسے آدمی پر گزرے جس کو سر درد کی تکلیف تھی کسی صحابی نے اس کے کان میں ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) پڑھی تو وہ اچھا ہو گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ ام القرآن ہے اور یہ ہر بیماری کی شفا ہے۔

(۳۴) حضرت خارجہ بن الصلت التمیمی رحمہ اللہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے چچا رسول اللہﷺ کے پاس آئے پھر آپ کے پاس سے ہو کر واپس لوٹے تو ایک قوم پر ان کا گزر ہوا جن میں ایک مجنون آدمی تھا جو لوہے سے بندھا ہوا تھا اس مجنون کے گھر والوں نے کہا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے کہ جس سے اس (مریض) کا علاج ہو جائے۔ کیونکہ تمہارے ساتھی (یعنی تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )  خیر کو لائے ہیں۔ ان کے چچا فرماتے ہیں کہ میں نے (اس مریض) پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھی ہر دن دو مرتبہ صبح اور شام کو میں اپنے تھوک کو جمع کر کے اس پر تھوکتا تھا تو وہ اچھا ہو گیا (اور) انہوں نے مجھے (اس کے بدلے میں) سو بکریاں دیں۔ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ سارا واقعہ بتایا تو آپ نے فرمایا اس کو کھا لے جو باطل جھاڑ پھونک کے ساتھ کھاتا ہے (اس کے لئے جائز نہیں)

(۳۵) بزار نے اپنی سند میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت انسؓ  سے روایت کیا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تو اپنی کروٹ کو اپنے بستر پر رکھے (یعنی سونے لگے) اور تو سورۃ فاتحہ اور لفظ آیت ’’ قل ھو اللہ احد ‘‘ پڑھ لے تو تو موت کے علاوہ ہر چیز سے امن میں ہو جائے گا۔

(۳۶) امام طبرانی نے الاوسط میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ام القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) اور لفظ آیت ’’ قل ھو اللہ احد ‘‘ پڑھ لے تو گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔

(۳۷) امام عبد ابن حمید نے اپنی سند میں اور الفریابی نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ فاتحہ الکتاب (ثواب کے اعتبار سے) تہائی قرآن (کے برابر) ہے۔

(۳۸) امام عبد ابن حمید نے اپنی مسند میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ  رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ فاتحۃ الکتاب دو تہائی قرآن کے برابر ہے۔ (ثواب کے اعتبار سے)

(۳۹) حاکم نے روایت نقل کی ہے اور اسے صحیح بھی کہا ہے اور ابوذر ہروی نے فضائل میں ، بیہقی نے الشعب میں حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ایک سفر میں تھے ایک جگہ آپ اترے تو آپ کے صحابہؓ  میں سے ایک آدمی آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ) چلا آپ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا میں تجھ کو افضل القرآن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر آپ نیت اس پر لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین (یعنی فاتحۃ الکتاب) پڑھی۔

(۴۰) ابن الضریس نے فضائل القرآن میں اور بیہقی نے شعب میں حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز عطا فرما کر اس کے ساتھ مجھ پر احسان فرمایا اور فرمایا کہ بلاشبہ میں نے آپ کو فاتحۃ الکتاب عطا فرمائی اور یہ عرش کے خزانوں میں سے ہے پھر میں نے اس کو اپنے اور آپ کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا ہے۔

(۴۱) حضرت اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ علیہ اپنی سند میں حضرت علیؓ  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ  سے فاتحۃ الکتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کو اللہ کے نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ بلاشبہ یہ (سورۃ) عرش کے نیچے خزانے میں سے اتاری گئی۔

(۴۲) حاکم نے روایت کیا ہے اور انس نے اسے صحیح بھی کہا ہے اور ابن مرویہ نے اپنی تفسیر میں، ابوذر الہروی نے فضائل میں بیہقی نے شعب میں حضرت معقل بن یسارؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سورۃ البقرۃ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے عطا کی گئی اور مفصل سورتیں زائد عطیہ ہیں۔

(۴۳) امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عمران بن حصینؓ  سے روایت کیا ہے کہ فاتحہ الکتاب اور آیۃ الکرسی جب کوئی بندہ ان دونوں کو کسی گھر میں پڑھے گا تو اس دن ان کو کسی انسان یا جن کی نظر بد نہیں لگے گی۔

(۴۴) امام ابو شیخ نے الثواب میں الطبرانی، ابن مرویہ، دیلمی ایضا المقدسی نے المختارۃ میں حضرت ابو امامہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں عرش کے نیچے خزانے میں سے اتاری گئی ان کے علاوہ اور کوئی چیز اس (خزانے) میں سے نہیں اتاری گئی۔

(۱) ام الکتاب یعنی سورۃ فاتحہ۔ (۲) آیۃ الکرسی۔ (۳) سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ (۴) سورۃ الکوثر۔

ابن جریر نے ابو امامہؓ  سے موقوفا اسی طرح روایت کیا ہے۔

(۴۵) امام ابو نعیم اور دیلمی نے حضرت ابو الدرداءؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاتحہ الکتاب اتنی کفایت کرتی ہے جتنی کفایت قرآن کا کوئی جز نہیں کرتا۔ اور اگر فاتحۃ الکتاب کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں (پورے) قرآن کو رکھ دیا جائے تو البتہ فاتحۃ الکتاب قرآن سے سات گناہ زیادہ ہو گا۔

(۴۶) امام ابو عبید نے فضائل میں حضرت حسنؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص فاتحہ الکتاب کو پڑھے تو گویا اس نے توراۃ، انجیل ، زبور اور قرآن مجید کو پڑھ لیا۔

(۴۷) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت حسنؓ  سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل فرمائی پھر ان کتابوں کے علوم کو ان میں سے چار کتابوں یعنی توراۃ، انجیل، زبور اور فرقان میں محفوظ کر دیا۔ پھر قرآن مجید کے علوم کو مفصل سورتوں میں محفوظ کر دیا پھر مفصل سورتوں کے علوم کو فاتحۃ الکتاب میں محفوظ کر دیا تو جو شخص اس فاتحۃ الکتاب کی تفسیر کو جان لے تو گویا اس نے پوری نازل کی ہوئی کتابوں کی تفسیر کو جان لیا۔

(۴۸) امام و کیع نے اپنی تفسیر میں ابن الانباری نے المصاحف میں، ابو شیخ نے العظمۃ میں ، ابو نعیم نے الحلیہ میں، حضرت مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ابلیس چار مرتبہ اونچی آواز سے رویا۔ جب فاتحہ الکتاب نازل ہوئی، جب اس پر لعنت کی گئی ۔ جب زمین کی طرف اتارا گیا، اور جب محمدﷺ مبعوث ہوئے۔

دنیوی مصیبت کی وجہ سے رونا شیطانی عمل ہے

(۴۹) ابن الضریس نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ جب لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین نازل ہوئی تو ابلیس سخت مشقت میں پڑ گیا۔ بلند آواز سے شدید رویا اور ناک سے سخت خراٹے مارنے لگا۔ مجاہد نے فرمایا کہ جو شخص (مصیبت کے وقت) شدید روئے اور سخت خراٹے مارنے لگے تو وہ ملعون ہے۔

(۵۰) امام ابن الضریس نے حضرت عبد العزیز بن ربیع رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ جب فاتحہ الکتاب نازل ہوئی تو ابلیس اونچی آواز سے رویا جیسا کہ لعنت کے دن رویا تھا۔

(۵۱) ابو عبیدہ نے حضرت مکحول رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ام القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ) قرأۃ ہے اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی چیز ہے اور دعا ہے۔

(۵۲) ابو شیخ نے الثواب میں حضرت عطا رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے جب تو کسی حاجت کا ارادہ کرے تو فاتحہ الکتاب کو آخر تک پڑھ انشاء اللہ تیری حاجت پوری ہو گی۔

(۵۳) ابن قانع نے معجم الصحابہ میں حضرت رجاء الغنویؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شفا طلب کرو تم اس چیز کے ساتھ جس سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی حمد بیان کی پہلے اس سے کہ اس کی مخلوق اس کی حمد بیان کرے اور اس چیز کے ساتھ شفا طلب کرو کہ جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی تعریف بیان کی ہے۔ ہم نے عرض کیا وہ کیا چیز ہے اے اللہ کے نبی؟ فرمایا کہ وہ لفظ آیت الحمد للہ اور قل ھو اللہ احد ہے جس شخص کو قرآن شفا نہیں دیتا اس کو اللہ تعالیٰ بھی شفا نہیں دیتے۔

(۵۴) امام ابو عبیدہ نے حضرت ابو منہال سیار بن سلامہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی عمر بن الخطاب کے پاس پہنچے اور حضرت عمرؓ  رات میں تہجد پڑھ رہے تھے اور ہر رکعت میں صرف فاتحۃ الکتاب پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور تکبیر کہتے اور تسبیح پڑھتے پھر رکوع کرتے اور سجدہ کرتے جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے حضرت عمرؓ  سے یہ ذکر کیا (کہ آپ صرف فاتحۃ الکتاب کیوں پڑھتے تھے؟) تو حضرت عمرؓ  نے جواب دیا کہ تیری ماں ہلاک ہو! کیا یہ فرشتوں کی نماز نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ کیا فرشتوں کو صرف فاتحہ کے پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے؟ اور ابن الصلاح رحمہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ بلاشبہ قرآن کا پڑھنا یہ خصوصیت ہے جو صرف بشر کو دی گئی ہے۔ سوائے فرشتوں کے اور بلاشبہ وہ فرشتے حریص ہوتے ہیں۔ اس قرآن کو انسان سے سننے کے لئے۔

(۵۵) امام ابن الضریس نے حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ علیہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص حاضر ہوا (نماز میں) جب امام نے فاتحہ الکتاب شروع کی۔ وہ اس طرح سے ہے گویا کہ وہ فتح کے وقت حاضر ہوا اللہ کے راستے میں۔ اور جو شخص ایسے وقت میں حاضر ہوا کہ امام فاتحۃ الکتاب ختم کر چکا تھا۔ تو وہ اس طرح سے ہے گویا کہ وہ ایسے وقت میں غنیمتوں پر حاضر ہوا یہاں تک کہ ان کو تقسیم کر دیا گیا۔

(۵۶) امام ابن عسا کرنے تاریخ دمشق میں حضرت شداد بن اوسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لیٹنے کے لئے اپنے لیٹنے کی جگہ پر آئے تو اس کو ام القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ) اور ایک اور سورۃ پڑھ لینی چاہئے۔ کیونکہ (ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ اس کے ساتھ مقرر فرما دیتے ہیں جو اس کے ساتھ رہتا ہے جب تک یہ شخص سو کر جاگ نہ جائے۔ ابن عساکر کی روایت ضعیف ہیں۔

(۵۷) امام الشافعی رحمہ اللہ علیہ نے الام میں، ابن ابی شیبہ نے المصنف میں، احمد نے اپنی مسند میں بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عبادہ بن الصامتؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی نماز کامل نہیں جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی۔

(۵۸) امام دار قطنی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن الصامتؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ام القرآن دوسری تمام آیات کا عرض ہے لیکن دوسری تمام آیات اس کا عوض نہیں۔

(۵۹) امام احمد اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے مجھ کو رسول اللہﷺ نے حکم فرمایا کہ وہ نماز جس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی جائے تو وہ دھوکہ ہے یعنی نامکمل ہے۔

(۶۰) امام مالک نے موطا میں اور سفیان بن عینیہ نے اپنی تفسیر میں ، ابو عبیدہ نے فضائل میں اور ابن ابی شیبہ اور احمد نے اپنی مسند میں بخاری نے جزء القرأۃ میں مسلم نے اپنی صحیح میں ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن جریر، ابن الانباری نے المصاحف میں، ابن حبان ، دار قطنی اور بیہقی نے السنن میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن کو نہ پڑھا تو یہ نامکمل ہے۔ تو یہ نا مکمل ہے، تو یہ نامکمل ہے تین مرتبہ فرمایا یعنی ناقص ہے ابو السائبؓ  کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوہریرہؓ  میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں کیا اس وقت بھی پڑھنی ہے؟ تو انہوں نے میرے بازو کو حرکت دی اور کہا کہ اے فارسی اس کو اپنے دل میں پڑھ بلاشبہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے ۔ اس کا آدھا میرے لئے اور آدھا میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا پڑھو تم اس سورۃ کو بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین (۱) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی ۔ اور بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت الرحمن الرحیم (۲) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور بندہ جب کہتا ہے لفظ آیت ملک یوم الدین (۳) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بندگی بیان کی۔ اور (جب) بندہ کہتا ہے لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین (۴) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان (آدھا آدھا) ہے۔ اس کا اول میرے لئے ہے اور اس کا آخر میرے بندے کے لئے ہے اور اس کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ اور جب بندہ کہتا ہے کہ لفظ آیت اھدنا الصراط المستقیم (۵) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (۷) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے۔ اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔

 

                سورۃ فاتحہ اللہ اور بندے کے درمیان منقسم ہے

 

 

(۶۱) امام دار قطنی اور بیہقی نے السنن میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے ۔ جب بندہ کہتا ہے کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے مجھے یاد کیا ہے اور جب بندہ کہتا ہے لفظ آیت الحمد للہ رب العالمین (۱) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب (بندہ) کہتا ہے کہ لفظ آیت الرحمن الرحیم (۲) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف کی۔ جب (بندہ) کہتا ہے لفظ آیت ملک یوم الدین (۳) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ جب (بندہ) کہتا ہے لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین (۴) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ہے اور سورۃ کا آخری حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔

(۶۲) ابن ابی جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی اپنی تفسیر میں حضرت ابی بن کعبؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فاتحۃ الکتاب پڑھی پھر فرمایا کہ تمہارے رب تعالیٰ فرماتے ہیں یہ ابن آدم پر سات آیتیں اتاری گئی تین میرے لئے ہیں اور تین تیرے لئے ہیں۔ اور ایک میرے اور تیرے درمیان (آدھی آدھی) ہے۔ پس جو میرے لئے ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت الحمدللہ رب العالمین (۱) الرحمن الرحیم (۲) ملک یوم الدین (۳) اور وہ جو میرے اور تیرے درمیان ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت ایاک نعبد و ایاک نستعین (۴) تیری طرف سے عبادت ہے اور میری طرف سے تیری مدد کرنا ہے اور وہ جو تیرے لئے وہ ہے (وہ یہ ہے) لفظ آیت اھدنا الصراط المستقیم (۵) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (۶) ۔

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

(۱) امام ابو عبیدہ، ابن سعد نے الطبقات میں، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ابن خزیمہ، ابن الانباری نے المصاحف میں، دار قطنی اور حاکم بیہقی ، خطیب اور ابن عبد البران دونوں نے کتاب المسئلہ میں حضرت ام سلمہؓ  سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ نبی کریمﷺ (اس طرح) پڑھا کرتے تھے۔ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین (۱) الرحمن الرحیم (۲) ملک یوم الدین (۳) ایاک نعبد وایاک نستعین (۴) اھدنا الصراط المستقیم (۵) صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین (۶) ۔ جدا جدا کرتے ہوئے اس کو ایک آیت کے شمار کرتے تھے۔ ان کو اعراب کی گنتی کی طرح اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بھی ایک آیت شمار کیا لوگوں پر شمار نہ کیا۔

(۲) امام ابن حاتم، طبرانی، دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے (مجھ سے) فرمایا کہ میں مسجد سے نہیں نکلوں گا یہاں تک کہ تجھ کو ایک ایسی آیت یا سورۃ کے بارے میں خبر نہ دوں جو سلیمان (علیہ السلام) کے بعد میرے علاوہ کسی نبی پر نہیں اتری، راوی کہتے ہیں کہ آپ چل پڑے اور میں آپ کے ساتھ ہولیا یہاں تک کہ ایک پاؤں مسجد کی چوکھٹ کے باہر نکالا اور دوسرا پاؤں مسجد کے اندر باقی رہ گیا۔ میں نے دل میں سوچا کہ آپﷺ وہ سورت بتانا بھول گئے ہیں۔ تو آپ اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کون سی چیز کے ساتھ تو قرآن کو شروع کرتا ہے جب تو نماز کو شروع کرتا ہے؟ میں نے عرض کیا لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم (کے ساتھ) تو آپ نے فرمایا یہی ہے، یہی ہے (یعنی یہی آیت ہے جس کے بارے میں میں، تجھے بتانا چاہتا تھا) پھر آپ مسجد سے باہر تشریف لے گئے۔

(۳) امام ابن الضریس نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک آیت ہے۔

(۴) حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ شیطان نے لوگوں سے آیۃ کو چرا لیا۔ (یعنی شیطان لوگوں کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے نہیں دیتا) ۔

(۵) ابو عبید، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی ایک آیت سے لوگ غافل ہو گئے۔ جو نبی کریمﷺ کے علاوہ کسی ایک (نبی پر بھی) نازل نہیں ہوئی مگر یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) بن داؤد (علیہ السلام) پر اتری تھی وہ آیت لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔

(۶) امام دار قطنی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمرؓ  سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب جبرئیل (علیہ السلام) میرے پاس وحی لے کر آئے تھے کہ سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہیں۔

(۷) امام داؤد، البزار، طبرانی ، حاکم (انہوں نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) بیہقی نے المعرفہ میں حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ سورت کے فضل کو یعنی ایک سورت کو دوسری سے جدا ہونے کو نہیں پہچانتے تھے اور دوسرے لفظوں میں سورت کے ختم ہو جانے کو بھی نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ بزار اور طبرانی نے زیادہ کیا کہ جب لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ پہچان لیتے کہ یہ سورۃ ختم ہو گئی ہے۔ اور دوسری سورۃ شروع ہو گئی ہے۔

(۹) امام حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح بھی کہا ہے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ مسلمان سورۃ کے ختم ہونے کو نہیں پہچانتے تھے، یہاں تک کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ پہچان لیتے تھے کہ یہ سورۃ ختم ہو گئی ہے۔

 

                بسم اللہ ختم سورت کی پہچان ہے

 

 

(۱۰) امام ابو عبیدہ نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرامؓ  نبی کریمﷺ کے عہد میں سورۃ کے ختم ہونے کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی ۔ جب یہ آیۃ نازل ہوئی تو صحابہؓ  نے جان لیا کہ یہ سورۃ ختم ہو گئی اور دوسری نازل ہوئی۔

(۱۱) امام طبرانی، حاکم، بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے پاس جب جبریل (علیہ السلام) تشریف لاتے اور لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تو آُ سمجھ لیتے کہ یہ نئی سورۃ ہے۔

(۱۲) امام بیہقی نے شعب الایمان میں الواحدی نے حضرت ابن مسعودؓ  سے روایت کیا ہے کہ ہم دو سورتوں کے درمیان فصل (یعنی جدا جدا ہونے) کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔

(۱۳) امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمرؓ  سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے جب سورۃ ختم کرتے تو اس کو پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ بسم اللہ قرآن میں پڑھنے کے لئے لکھی گئی ہے۔

(۱۴) امام دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ کو جبریل (علیہ السلام) نے نماز سکھائی، کھڑے ہوئے اور ہمارے لئے تکبیر کہی پھر ہر رکعت میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی۔

(۱۵) امام ثعلبی نے حضرت علی ابن زید بن جدعان سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ عبادلہ (یعنی عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر، اور عبد اللہ بن الزبیرؓ  یہ تینوں حضرات) بلند آواز کے ساتھ اپنی قرأۃ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع فرماتے تھے۔

(۱۶) امام ثعلبی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا اچانک ایک آدمی آیا اور نماز شروع کی اور اعوذ باللہ پڑھی اور لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین (۱) تو نبی کریمﷺ نے (ان الفاظ کو) سنا اور فرمایا اے آدمی تو نے اپنی نماز کو کاٹ دیا ، کیا تو نہیں جانتا بلاشبہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ الحمد میں سے ہے۔ جس نے اس کو چھوڑ دیا تو گویا اس نے ایک آیت کو چھوڑ دیا اور جس نے ایک آیت کو چھوڑ دیا تو اس پر اس کی نماز فاسد ہو گئی۔

(۱۷) حضرت ثعلبی رحمہ اللہ علیہ، حضرت علیؓ  سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ نماز میں کسی سورۃ کو شروع فرماتے تھے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ جس نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا تو یقینی طور پر اس نے کمی کر دی۔ اور فرماتے تھے کہ یہ سبع المثانی کو پورا کرنے والی ہے۔

(۱۸) امام ثعلبی نے حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چھوڑ دیا تحقیق اس نے کتاب اللہ میں سے ایک آیت کو چھوڑ دیا۔

(۱۹) امام شافعی نے الام میں، دار قطنی ، حاکم انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے اور بیہقی نے حضرت معاویہؓ  سے روایت کیا ہے کہ وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی تو انہوں نے نماز میں نہ تو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا اور نہ جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہی جب انہوں نے سلام پھیرا تو مہاجرین اور انصار نے ان کو زور سے آواز دی، اے معاویہ تو نے اپنی نماز میں چوری کی ، کہاں گئی بسم اللہ الرحمن الرحیم اور کہاں گئی تکبیر پھر جب اس کے بعد انہوں نے نماز پڑھائی تو اس میں انہوں نے ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ کے لئے بھی لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی اور اس سورۃ کے لئے بھی جو اس کے بعد ہوتی ہے اور تکبیر بھی کہی جب سجدہ کے لئے جھکے۔

(۲۰) بیہقی نے حضرت زہری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نماز کی سنت میں سے یہ ہے کہ تو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے اور بلاشبہ پہلا وہ شخص جس نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو آہستہ پڑھا ۔ عمرو بن سعید العاصؓ  مدینہ منورہ میں تھے اور وہ شرمیلے آدمی تھے۔

(۲۱) امام ابو داؤد، ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ اپنی نماز کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع فرماتے تھے۔

(۲۲) امام بزار، دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو الطفیل رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب اور عمارؓ  دونوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ رسول اللہﷺ فرض نمازوں میں فاتحۃ الکتاب اور لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔

(۲۳) امام طبرانی نے الاوسط میں دار قطنی اور بیہقی نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے کہ بلاشبہ ابن عمرؓ  جب نماز شروع فرماتے تھے (دونوں کے شروع میں) لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے اور فرماتے تھے کہ انہوں نے ایسے ہی رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔

(۲۴) امام دار قطنی، حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔

(۲۵) امام طبرانی ، دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو الطفیل کے طریق سے اور دار قطنی اور حاکم نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے ہوئے سنا۔

(۲۶) امام دار قطنی ، حاکم اور بیہقی نے حضرت نعیم المجمر سے روایت کیا ہے کہ میں ابوہریرہؓ  کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا انہوں نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی پھر ام القرآن پڑھی یہاں تک کہ لفظ آیت ولا الضالین پر جب پہنچے اور کہا آمین تو سب لوگوں یعنی سب مقتدیوں نے بھی آمین کہی اور جب وہ سجدہ کرتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے اور جب جلسہ سے کھڑے ہوتے تھے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے اور جب سلام پھیرا تو فرمایا اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ میں تم سے زیادہ رسول اللہﷺ کے مشابہ نماز پڑھتا ہوں۔

(۲۷) امام دار قطنی نے حضرت علیؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ دونوں سورتوں میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔

(۲۸) امام دار قطنی نے حضرت علی بن ابی طالبؓ  سے روایت کیا ہے کہ (مجھ کو) نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو کیسے پڑھتا ہے؟ میں نے عرض کیا لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین آپ نے فرمایا کہ کہو لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

(۲۹) امام دار قطنی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابرؓ  سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو کیسے قرأت کرتا ہے؟ میں نے عرض کیا میں لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی کہو۔

(۳۰) امام دار قطنی نے حضرت ابن عمرؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے بنی کریمﷺ ابوبکر و عمرؓ  کے پیچھے نمازیں پڑھیں یہ سب حضرات لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے تھے۔

(۳۱) امام دار قطنی نے  ۔۔ ن م

 

اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿2﴾

 

ترجمہ : سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔

 

(۱) امام عبد الرزاق نے المصنف میں اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں الخطابی نے الغریب میں بیہقی نے الادب میں دیلمی نے مسند الفردوس میں اور ثعلبی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ  سے وہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ الحمدللہ شکر کی اصل ہے اس بندے نے شکر ادا نہیں کیا جس نے اس کی حمد بیان نہیں کی۔

 

الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ﴿3﴾

 

جو سب سے بڑا مہربان بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

 

ترجمہ : بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

 

(۱) امام عبد ابن حمید نے مطر الوراق کے واسطے سے حضرت قتادہؓ  اللہ تبارک و تعالیٰ کے قول لفظ آیت الحمدللہ رب العلمین کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ مخلوق میں سے کسی نے یہ وصف بیان نہیں کیا اور لفظ آیت الرحمن الرحیم میں اپنی ذات کی تعریف فرمائی لفظ آیت ملک یوم الدین اس دن سے وہ دن مراد ہے کہ جس دن لوگوں کو جزا دی جائے گی پھر فرمایا اس طرح تم کہو لفظ آیت ایاک نعبد وایاک نستعین ہم خاص کر تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص کر تجھ سے مدد مانگتے ہیں یعنی اس میں اپنی ذات پر دلالت فرمائی ہے کہ میرے لئے ہی عبادت کرو اور مجھ ہی سے مدد مانگو اور یوں کہو لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ یعنی سیدھا راستہ ہم کو دکھا لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم ‘‘ یعنی انبیاء کا راستہ لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ یعنی یہود کا راستہ نہ دکھا لفظ آیت ’’ ولا الضالین ‘‘ نصاری کا راستہ بھی نہ دکھا۔

امام دار قطنی، حاکم بیہقی نے حضرت ام سلمہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نماز میں لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور اس کو ایک آیت شمار فرماتے تھے پھر لفظ آیت ’’ الحمدللہ رب العلمین ‘‘ کو دوسری لفظ آیت ’’ الرحمن الرحیم (۲) کو تیسری اور لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ کو چوتھی آیت شمار فرماتے تھے اسی طرح لفظ آیت ’’ ایاک نعبد وایاک نستعین ‘‘ کو پانچویں آیت شمار فرماتے تھے اور اپنی پانچوں انگلیوں کو جمع فرماتے تھے۔

 

مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴿4﴾

 

ترجمہ : مالک ہے روز جزا کا۔

 

(۱) امام ترمذی، ابن الانباری اور ابن بی الدنیا نے کتاب المصاحف میں ام سلمہؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ لفظ آیت ملک یوم الدین بغیر الف پڑھتے تھے۔

(۲) ابن ابی الانباری نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ اور ابوبکر، عمر، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف اور معاذ بن جبلؓ  نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ کو بغیر الف کے پڑھا۔

(۳) امام احمد نے الزہد میں، ترمذی، اور ابن ابی داؤد ابن الانباری نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ اور ابوبکر و عمر اور عثمانؓ  لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔

(۴) امام سعید بن منصور اور ابن ابی داؤد نے مصاحف میں سالم رحمہ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ ابوبکر و عمر و عثمانؓ  لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔

(۵) وکیع نے اپنی تفسیر میں عبد بن حمید ابو داؤد اور ابن ابی داؤد نے زھری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ابوبکر و عمرؓ  لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور سب سے پہلے مروان نے بغیر الف کے پڑھا۔

(۶) امام ابن ابی داؤد اور الخطیب نے ابن شہاب کے طرق سے سعید بن المسیب رحمہ اللہ علیہ اور براء بن عازبؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ ابوبکر و عمر نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ بغیر الف کے پڑھا۔

(۷) ابن ابی داؤد نے ابن شہاب رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرمﷺ و ابوبکر و عمر و عثمان و معاویہ اس کا بیٹا یزید لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مردوان نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ بغیر الف کے پڑھا۔

(۸) ابن ابی داؤد اور ابن الانباری نے زھری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ بغیر الف کے پڑھتے تھے اور ابوبکر و عمرو عثمان و طلحہ و زبیر اور ان کے والد ابن مسعود اور معاذ بن جبل رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اسی طرح پڑھتے تھے۔

(۹) امام ابن ابی داؤد اور ابن الانباری نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ ابوبکر و عمر و عثمان و علیؓ  کے پیچھے نمازیں پڑھیں یہ سب حضرات لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ بغیر الف کے پڑھتے تھے۔

(۱۰) ابن ابی داؤد نے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ علیہ بعض ازواج النبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ پڑھا۔

(۱۱) ابن ابی داؤد اور ابن الانباری، دارقطنی نے الافراد میں ابن جمیع نے اپنی معجم میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ بغیر الف کے پڑھتے تھے۔

(۱۲) امام حاکم نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔

(۱۳) امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں حضرت ابن مسعودؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھا اور لفظ آیت لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ‘‘ کو کسرہ کے ساتھ

(۱ امام وکیع، الفریابی، سعید بن جبیر بن منصور، عبد بن حمید اور ابن المنذر رحمہ اللہ علیہ حضرت عمر ابن الخطاب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ (۴

(۱ امام وکیع اور سعید بن منصور نے ابو قلابہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابی کعبؓ  لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔(۵

(۱۶) امام وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، اور ابن ابی داؤد رحمہ اللہ علیہ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ الف کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔

(۱۷) عبد بن حمید نے ابو عبیدہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبد اللہؓ  نے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ سے حساب کا دن مراد لیا ہے۔

(۱۸) امام ابن جبیر اور حاکم نے حضرت ابن مسعود اور بہت سے صحابہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ سے حساب کا دن مراد ہے۔

(۱۹) اس روایت کو حاکم نے صحیح کہا ہے امام ابن جبیر اور حاکم نے حضرت ابن عباسؓ  سے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس دن حکم میں کوئی مالک نہ ہو گا جیسا کہ دنیا میں ان کا مالک ہونا ہے اور لفظ آیت ’’ یوم الدین ‘‘ سے مراد ہے مخلوق کے حساب کا دن اور وہ قیامت کا دن ہے جس میں ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے اگر اچھے عمل ہیں تو اچھا بدلہ ہو گا۔ اور اگر برے عمل ہیں تو برا بدلہ ہو گا مگر جس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں یہ الگ بات ہے۔

(۲۰) عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے حضرت قتادہؓ  سے لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے۔

(۲۱) امام ابو داؤد، حاکم اور بیہقی نے حضرت عائشہؓ  سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے بارش کے قحط کی شکایت کی آپ نے منبر رکھنے کا حکم فرمایا اس کو عیدگاہ میں رکھ دیا گیا پھر آپ نے لوگوں کے لئے ایک دن مقرر فرما دینا کہ وہ باہر نکلیں جب سورج نکلنا شروع ہوا تو آپ باہر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے آپ نے تکبیر کہی اور اللہ کی حمد بیان کی۔ پھر فرمایا تم نے اپنی زمینوں کے خشک ہو جانے کی شکایت کی اور عرصہ دراز سے بارش نہیں اتری حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو حکم فرمایا کہ اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے وعدہ فرمایا کہ میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا آپ نے یہ دعا مانگی لفظ آیت ’’ الحمدللہ رب العلمین ۔ الرحمن الرحیم ۔ ملک یوم الدین ‘‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو چاہتا ہے کرتا ہے اے اللہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ غنی ہیں اور ہم فقیر ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ آپ بارش اتاریں اس کی قوت والا پہنچنے والا بنا دیں ایک وقت تک۔ ابوداؤد نے فرمایا کہ حدیث غریب ہے لیکن اس کی سند جید ہے۔ اہل مدینہ لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ‘‘ پڑھتے ہیں اور یہ حدیث ان کے لئے حجت ہے۔

 

اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَاِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ﴿5﴾

 

ترجمہ : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

 

(۱) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباسؓ  سے لفظ آیت ’’ ایاک نعبد ‘‘ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تجھے ایک مانتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے ڈرتے ہیں اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے امید رکھتے ہیں تو ہمارا رب ہے تیرے سوا کوئی نہیں لفظ آیت ’’ وایاک نستعین ‘‘ اور ہم تجھ ہی سے تیری اطاعت پر اور اپنے تمام کاموں پر مدد مانگتے ہیں۔

(۲) امام وکیع اور الفریابی نے ابو رزینؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علیؓ  کو یہ حرف اس طرح پڑھتے ہوئے سنا اور وہ قریشی عربی ہیں اور فصیح زبان والے تھے۔ لفظ آیت ’’ ایاک نعبد وایاک نستعین اھدنا ‘‘ اور آپ نے دونوں صیغوں کو مرفوع پڑھا۔

(۳) الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابو رزین سے روایت کیا ہے کہ حضرت علیؓ  سے اس طرح پڑھا ’’ ایاک نعبد وایاک نستعین ‘‘ پہلے ہمزہ پھر مد پھر شد پڑھی۔

(۴) ابو القاسم البغوی اور الماوردی نے معرفتہ الصحابہ میں طبرانی نے الاوسط میں اور ابو نعیم نے دلائل میں حضرت انسؓ  بن مالک کے واسطہ سے ابو طلحہؓ  سے روایت کیا ہے ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے وہاں دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تو میں نے آپﷺ کو یوں کہتے ہوئے سنا لفظ آیت ’’ ملک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین ‘‘ ابو طلحہؓ  نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ گر رہے ہیں اور فرشتے ان کو آگے پیچھے سے ما رہے ہیں۔

 

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ﴿6﴾

 

ترجمہ : چلا ہم کو سیدھے راستے پر۔

 

(۱) امام حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی کہا اور ذہبی نے ان کا تعاقب کیا ہے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ صاد سے پڑھا۔

(۲) سعید بن منصور ، عبد بن حمید، بخاری نے التاریخ میں اور ابن الانباری رحمہ اللہ علیہ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے لفظ آیت ’’ اھدنا السراط ‘‘ میں سین پڑھا۔

(۳) ابن الانباری میں عبد اللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ وہ ’’ السراط ‘‘ سین سے پڑھتے تھے۔

(۴) ابن الانباری نے فراء سے روایت کیا ہے کہ حمزہ نے ’’ الزراط ‘‘ زا کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء کہتے ہیں کہ الزراط زاء کے اخلاص کے ساتھ ہے یہ لغت عذرہ، کلب اور بنو العین (قبائل) کی ہے۔

(۵) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباسؓ  سے لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ کا یہ مطلب نقل کیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اے اللہ اپنے سچے دین کو ہمارے دلوں میں ڈال دے۔

(۶) ابن جریر حضرت ابن عباسؓ  سے لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ کا معنی بتاتے ہیں کہ اے اللہ ہدایت دینے والا راستہ ہمارے دلوں میں ڈال دے اور وہ دین اللہ کا ہے جس میں کوئی کجی نہیں۔

(۷) امام جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ الصراط ‘‘ سے راستہ مراد ہے۔

(۸) وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، المحاملی نے المصنف کے نسخہ سے امالی میں اور حاکم نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ سے مراد اسلام ہے اور وہ زیادہ کشادہ ہے ان چیزوں سے جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں۔

(۹) ابن جریج نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ الصراط المستقیم ‘‘ سے اسلام مراد ہے۔

(۱۰) ابن جریر حضرت ابن مسعودؓ  اور دیگر صحابہؓ  سے روایت کرتے ہیں کہ لفظ آیت ’’ الصراط المستقیم ‘‘ سے اسلام مراد ہے۔

(۱۱) امام احمد، ترمذی، (انہوں نے اسے حسن کہا ہے) نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت نواس بن سمعانؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستے کی مثال بیان فرمائی ، اس سیدھے راستے میں سب کے سب داخل ہیں جن میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے ہیں لٹکے ہوئے اور اس سیدھے راستے میں سب کے سب داخل ہو جاؤ اور آپس میں متفرق نہ ہو جاؤ اور ایک بلانے والا راستہ کے اوپر سے بلا رہا ہے یہ سیدھا راستہ ہے آ جاؤ جب انسان ارادہ کرتا ہے ان دروازوں میں کسی دروازے کو کھولنے کا تو وہ (بلانے والا) کہتا ہے تیرے لئے ہلاکت ہو اس کو مت کھول بلاشبہ تو کھول دے گا اس میں داخل ہو جائے گا پس سیدھا راستہ اسلام ہے۔ اور دیواریں اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اور دروازہ کھلے ہوئے محارم ہیں اور یہ بلانے والا سیدھے راستہ پر اللہ کی کتاب ہے اور بلانے والا اوپر سے اللہ تعالیٰ کا وہ واعظ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے۔

(۱۲) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابو بکر ابن الانباری نے المصاحف میں اور حاکم انہوں نے اسے صحیح بھی کہا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ  سے روایت کیا ہے لفظ آیت ’’ اھدنا الصراط المستقیم ‘‘ سے مراد کتاب اللہ ہے۔

(۱۳) امام ابن الانباری نے حضرت ابن مسعود سے یہ روایت کیا کہ یہ سیدھا راستہ حاضر ہے کیا ہوا ہے اس میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں اے اللہ کے بندو! یہ سیدھا راستہ ہے پس اس کی تابعداری کرو اور سیدھا راستہ سے مراد کتاب اللہ ہے پس اس کو مضبوطی سے پکڑو۔

 

                صراط مستقیم امن کا راستہ ہے

 

(۱۴) امام ابن ابی شیبہ، دارمی ، ترمذی، (انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن الانباری نے المصاحف میں ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علیؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب فتنے (برپا) ہونگے۔ میں نے عرض کیا ان کا راستہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے بعد والوں کی بھی خبریں ہیں اور اس میں تمہارے درمیان جھگڑوں کا فیصلہ بھی ہے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے۔ یہ کوئی دل لگی اور مذاق والی چیز نہیں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور یہ وہ چیز جس کو حکم نے ذکر کیا ہے اور وہ سیدھا راستہ ہے۔

(۱۵) امام طبرانی نے الکبیر میں حضرت مسعودؓ  سے روایت کیا ہے کہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر ہم نے رسول اللہﷺ کو چھوڑا۔

(۱۶) ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعودؓ  سے روایت کیا ہے کہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر ہم کو رسول اللہﷺ نے چھوڑا اور اس کی دوسری طرف جنت ہے۔

(۱۷) بیہقی نے الشعب میں اور قیس بن سعد نے ایک آدمی سے روایت کیا ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ قرآن و نور مبین ہے اور ذکر حکیم ہے اور سیدھا راستہ ہے۔

(۱۸) عبد بن حمید ، ابن جریح، ابن ابی حاتم، ابن عدن اور ابن عساکر نے عاصم الاحول کے طریق سے ابو العالیہ سے لفظ آیت ’’ الصراط المستقیم ‘‘ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ اور آپ کے بعد کے دونوں ساتھی ہیں راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ بات حضرت حسنؓ  کو بتائی کہ ابو العالیہ یوں کہتے ہیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ابو العالیہ رحمہ اللہ علیہ نے سچ فرمایا اور خالص بات کی ہے۔

(۱۹) حاکم نے ابو العالیہ کے طریق سے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ الصراط المستقیم ‘‘ سے رسول اللہﷺ اور ان کے دونوں ساتھی مراد ہیں۔

(۲۰) عبد بن حمید نے ابو العالیہ الریاحی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ اسلام کو سیکھو جب تم اس کو سیکھ لو تو پھر اس سے انحراف نہ کرو اور تم صراط مستقیم کو لازم پکڑو بلاشبہ لفظ آیت ’’ الصراط المستقیم ‘‘ اسلام ہے۔ اور تم اس سے دائیں اور بائیں نہ گھوم جاؤ۔

(۲۱) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابن المنذر سے کتاب الرؤیا میں حضرت سفیان رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں بلاشبہ وہ جامر کلام ہے اس سے یہ اور یہ مراد لیا گیا ہے۔

(۲۲) ابن سعد نے طبقات میں ابو نعیم نے الحلیہ میں ابو قلابہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ابو درداءؓ  نے فرمایا بےشک تو پوری طرح سمجھ حاصل نہیں کرسکتا یہاں تک کہ تو قرآن میں کئی وجوہ دیکھے۔

قرآن کریم کے ساتھ بحث نہ کرنا

(۲۳) ابن سعد نے حضرت عکرمہؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ  کو خوارج کے متعلق بتاتے ہوئے سنا جنہوں نے حکومت کا انکار کیا تھا اور حضرت علی بن ابی طالبؓ  سے جدا ہو گئے تھے پھر فرمایا کہ ان میں سے بارہ ہزار جدا ہوئے تھے۔ پھر حضرت علیؓ  سے مجھ کو بلایا اور فرمایا کہ تم خارجیوں کے پاس جاؤ اور ان سے بحث کرو ان کو کتاب اور سنت کی طرف بلاؤ اور ان سے قرآن کے ذریعہ بحث نہ کرو کیوں کہ وہ یعنی قرآن کئی وجوہ والا ہے کہ کئی مطالب اس سے نکل سکتے ہیں اور لیکن ان سے سنت کے ذریعہ مناظرہ کرو۔

(۲۴) امام ابن سعد نے حضرت عمران بن مناح سے روایت کیا ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ  نے فرمایا اے امیر المؤمنین میں ان میں سے سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہوں (کیونکہ) ہمارے گھروں میں نازل ہوا انہوں نے فرمایا تو نے سچ کہا لیکن قرآن ایسا جمال ہے کئی وجوہ رکھتا ہے وہ قرآن یوں کہتا ہے اور وہ لوگ یوں کہتے ہیں لیکن ان سے سنت کے ذریعے بحث کرو کیونکہ وہ اس سے کوئی بھاگنے کا راستہ نہیں پائیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ  جن کی طرف تشریف لائے اور ان سے سنن کے ساتھ مناظرہ کیا یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں کوئی دلیل باقی نہ رہی۔

 

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ  ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ﴿7﴾

 

ترجمہ : جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے انعام فرمایا جن پر غصہ نہیں کیا گیا اور جو گمراہ نہیں ہیں۔

 

(۱) امام وکیع، ابوعبید، سعید بن منصور بن حمیر، ابن المنذر، ابن ابی داؤد اور ابن الانباری ان دونوں نے المصاحف میں حضرت عمر بن الخطاب کے طریق سے نقل کیا ہے کہ وہ لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الظالین ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔

(۲) امام ابو عبید، عبد بن حمید، ابن الانباری، ابن ابی داؤد نے حضرت عبد اللہ بن الزبیرؓ  سے روایت کیا ہے کہ وہ نماز میں لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔

(۳) ابن الانباری رحمہ اللہ علیہ حضرت حسن رحمہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں وہ لفظ آیت ’’ علیہمی ‘‘ ھا اور میم کے کسرہ اور یا پر فتحہ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔

(۴) ابن الانباری رحمہ اللہ علیہ حضرت اعرج رحمہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ’’ علیھموا ‘‘ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔

(۵) ابن الانباری رحمہ اللہ علیہ عبد اللہ بن کثیر رحمہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ لفظ آیت ’’ انعمت علیھموا ‘‘ ھا اور میم کے ضمہ اور واؤ کو ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔

(۶) ابن الانباری ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ’’ علیہم ‘‘ ھا اور میم کے ضمہ کے ساتھ واؤ کو بغیر ملائے پڑھا۔

(۷) ابن ابی داؤد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ اور اسود اس طرح پڑھا کرتے تھے۔ لفظ آیت ’’ صراط من انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ ۔

(۸) ثعلبی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ انعمت علیہم ‘‘ چھٹی آیت ہے۔

(۹) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباسؓ  سے لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم ‘‘ کے بارے میں یہ نقل کیا ہے (کہ اس سے مراد) وہ راستہ ہے جن پر انعام ہوا فرشتوں میں سے اور نبیوں اور صدیقین اور شہداء اور صالحین میں سے مراد جنہوں نے تیری اطاعت اور تیری عبادت کی۔

(۱۰) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم ‘‘ سے مراد مؤمنین کا راستہ ہے۔

(۱۱) ابن جریر نے ابو زید رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ صراط الذین ‘‘ سے نبی اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا راستہ مراد ہے۔

(۱۲) امام عبد بن حمید نے حضرت ربیع بن انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ صراط الذین انعمت علیہم ‘‘ سے انبیاء مراد ہیں اور لفظ آیت ’’ غیر المغضوب ‘‘ سے یہودی مراد ہیں اور لفظ آیت ’’ ولا الضالین ‘‘ سے نصاری مراد ہیں۔

(۱۳) عبد بن حمید نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ‘‘ سے یہودی مراد ہیں اور ’’ ولا الضالین ‘‘ سے نصاری مراد ہیں۔

(۱۴) عبد ابن حمید نے حضر سعید ابن جبیر سے روایت ہے کہ لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ سے یہود و نصاری مراد ہیں۔

(۱۵) امام عبد الرزاق، احمد بن حمید، ابن جریر اور البغوی نے عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو ایسے آدمی نے خبر دی جس نے نبی کریمﷺ سے سنا اور آپ وادی قری میں ایک گھوڑے پر سوار تھے اور بنی عین کے ایک آدمی نے آپ سے پوچھا کہ لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ‘‘ سے کون مراد ہیں یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا یہود پھر اس نے پوچھا کہ لفظ آیت ’’ ضالون ‘‘ سے کون مراد ہیں؟ آپ نے فرمایا نصاریٰ۔

(۱۶) امام وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر نے عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے وادی قری کے رہنے والوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک آدمی نے پوچھا یہ وادی قری والے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ‘‘ یہود ہیں پھر اس نے پوچھا یہ دوسرا گروہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا یہ لوگ لفظ آیت ’’ الضالون ‘‘ یعنی نصاریٰ ہیں۔

(۱۷) امام ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن شقیق کے طریق سے حضرت ابوذرؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد یہود ہیں پھر میں نے ’’ الضالین ‘‘ کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس سے مراد نصاریٰ ہیں۔

(۱۸) امام بیہقی شعب الایمان میں عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ علیہ بلعین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے چچا کے بیٹے سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی قری میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا آپ کے پاس یہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ یعنی یہود اور ’’ ولا الضالین ‘‘ یعنی نصاریٰ ہیں۔

(۱۹) سفیان بن عینیہ اپنی تفسیر میں سعید بن منصور نے اسماعیل بن ابی خالدؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم سے مراد یہود اور ’’ الضالون ‘‘ سے مراد نصاریٰ ہیں۔

(۲۰) امام احمد، عبد بن حمید، ترمذی ، انہوں نے اسے حسن کہا ہے ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم ، ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ سے مراد یہود ہیں اور ’’ ولا الضالین ‘‘ سے مراد نصاریٰ ہیں۔

(۲۱) احمد، ابو داود، ابن حبان، الحاکم ، انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے اور طبرانی نے حضرت شریدؓ  سے روایت کیا ہے کہ میرے پاس سے رسول اللہﷺ گزرے اور میں اس طرح بائیں ہاتھ کو اپنی پیٹھ پیچھے رکھ کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر سہارا لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھا ہوا ہے؟ یعنی یہودیوں کی طرح۔

(۲۲) امام ابن جریج نے حضرت ابن مسعودؓ  سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ سے مراد یہود ہیں اور ’’ ولا الضالین ‘‘ سے مراد نصاریٰ ہیں۔

(۲۳) ابن جریج ، مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

(۲۴) ابن ابی حاتم رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان لفظ آیت ’’ المغضوب علیہم ‘‘ کا معنی یہود اور ’’ ولا الضالین ‘‘ کا معنی نصاریٰ لینے میں مفسرین میں کوئی اختلاف کو نہیں جانتا (یعنی ہر مفسر نے ان کا یہی معنی مراد لیا ہے) ۔

 

                ذکر آمین

 

اے اللہ! قبول فرما۔

 

(۱) امام وکیع اور ابن شیبہ نے ابو میسرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب رسول اللہﷺ کو فاتحہ الکتاب پڑھوائی اور لفظ آیت ’’ ولا الضالین ‘‘ پر پہنچے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے بعد آپ آمین کہیں۔ تو آپ نے فرمایا آمین۔

(۲) امام وکیع ، ابن ابی شیبہ، احمد، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو حسن کہا ہے) نسائی، ابن ماجہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے وائل بن حجر حضرمیؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا کہ آپ نے لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کے بعد فرمایا آمین۔ اور اس کے ساتھ آپ آواز کو بلند کرتے تھے۔

(۳) امام طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں وائل بن حجرؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کی آواز کو سنا جب آپ نے لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ پڑھا تو فرمایا لفظ آیت ’’ رب اغفرلی آمین۔ اے اللہ! مجھے بخش دے آمین۔

(۴) امام طبرانی نے وائل بن حجرؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو نماز میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جب آپ فاتحۃ الکتاب سے فارغ ہوئے تو تین مرتبہ فرمایا آمین۔

(۵) امام ابن ماجی نے حضرت علیؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو لفظ آیت ’’ ولا الضالین ‘‘ کے بعد آمین کہتے ہوئے سنا۔

(۶) امام مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب امام لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔

(۷) امام مالک ، شافعی، ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، مسلم ، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی ابن ماجہ اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ سب معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

(۸) امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن مردویہ نے جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کہے اور اس کے پیچھے مقتدی بھی آمین کہیں تو اس آمین پر آسمان اور زمین والے متوجہ ہوتے ہیں۔ اور جو شخص آمین نہیں کہتا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نے قوم کے ساتھ جہاد کیا اور ان کے حصوں کا قرعہ ڈالا گیا لیکن اس کا حصہ نہ نکلا تو اس نے کہا میرا حصہ کیوں نہیں نکلا تو (ایک کہنے والے نے) کہا کیونکہ تو نے آمین نہیں کہا (اس لئے تمہارا حصہ نہیں نکلا) ۔

(۹) امام ابو داؤد نے حسن سند کے ساتھ ابو زھیر  نمیری رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ اور وہ صحابہ میں سے تھے جب کوئی آدمی دعا کرتا ہے تو اس کو آمین پر ختم کرتا ہے کیونکہ آمین کسی کاغذ پر مہر لگانے کی طرح ہے۔ اور مزید فرمایا کہ میں تم کو اس بارے میں بتاتا ہوں ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ باہ نکلے اور ایک آدمی ہمارے پاس آیا جو اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں بہت آہ و زاری کر رہا تھا تو نبی اکرمﷺ اس کی دعا کو سننے کے لئے ٹھہر گئے پھر آپ نے اس سے فرمایا اگر اس نے مہر لگائی تو اس نے واجب کر دیا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کس چیز کے ساتھ مہر لگائے؟ آپ نے فرمایا آمین کے ساتھ کیونکہ اگر آمین کے ساتھ مہر لگائی تو اس نے واجب کردیا (سوال کے پورا ہونے کو) ۔

(۱۰) امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز سے اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔

(۱۱) ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تم پر یہود نے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا آمین پر حسد کیا۔ پس آمین کثرت سے کہو۔

(۱۲) ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے اور انہوں نے تم پر تین چیزوں پر حسد کیا۔ سلام کے پھیلانے پر، صف باندھنے پر اور برابر آمین کہنے پر۔

(۱۳) امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت معاذ بن جبلؓ  سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا بلاشبہ یہود حسد والی قوم ہے انہوں نے مسلمانوں سے تین افضل چیزوں میں حسد کیا سلام کا جواب دینے میں، صفوف کے باندھنے میں، فرض نماز میں امام کے پیچھے آمین کہنے میں۔

 

                امت محمدیہﷺ کی تین خصوصیات

 

(۱۴) الحرث بن اسامہ نے اپنی مسند میں حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور ابن مردویہ نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تین چیزیں دی گئیں۔ نماز کو صفوں میں (کھڑے ہو کر ادا کرنا) دیا گیا۔ اور میں سلام دیا گیا جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور میں آمین دیا گیا اس سے پہلے سوائے ہارون (علیہ السلام) کے کسی کو یہ تحفہ نہیں دیا گیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور حکیم ترمذی کے الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین چیزیں عطا فرمائیں اور ان سے پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔ سلام جو جنت والوں کا تحفہ ہے اور فرشتوں کی طرح صف باندھنا اور آمین کہنا۔ مگر یہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی آمین کی سعادت دی گئی تھی۔

(۱۵) الطبرانی نے الدعا میں ابن عدی اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا آمین رب العالمین کی مہر ہے اس کے مؤمن بندوں کی زبان پر۔

(۱۶) امام جو یبر نے اپنی تفسیر میں ضحاک کے واسطے سے حضرت ابن عباسؓ  سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آمین کا کیا معنی ہے؟ آپ نے فرمایا اے میرے رب قبول فرما۔

(۱۷) ثعلبی نے کلبی کے طریق سے ابن صالح سے ابن عباس سے اس کی مثل روایت کی ہے۔ وکیع اور ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ہلال بن سیاف اور مجاہد رحمہ اللہ علیہ دونوں حضرات سے روایت کیا ہے کہ آمین اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

(۱۸) امام ابن شیبہ نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کہے تو اس کے جواب میں لفظ آیت ’’ اللہم اغفرلی ‘‘ اور آمین کہنا مستحب ہے۔

(۱۹) امام ابن ابی شیبہ نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جب امام لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کہے۔ تو اس کے بعد کہو :

اللہم انی اسئلک الجنہ واعوذبک من النار

ترجمہ : اے اللہ! میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آپ سے دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں۔

(۲۰) امام ابن ابی شیبہ ربیع بن خیثم سے روایت کرتے ہیں کہ جب امام لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ‘‘ کہے تو تم جو چاہو دعا سے مدد حاصل کرو۔

(۲۱) امام ابن شاہین نے السنہ میں اسماعیل بن مسلم سے روایت کیا ہے کہ ابی بن کعبؓ  کے مصحف میں لفظ آیت ’’ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین آمین بسم اللہ ‘‘ تھا پھر اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسنؓ  سے آمین کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے اللہم استجب۔ اے اللہ تو ہماری اس دعا کو قبول فرما۔

(۲۲) دیلمی نے حضرت انسؓ  سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا پھر فاتحۃ الکتاب کو پڑھا پھر کہا آمین تو آسمان پر کوئی فرشتہ مقرب باقی نہیں رہتا جو اس شخص کے لئے استغفار نہ کرتا ہو۔

الحمدللہ سورۃ فاتحہ مکمل ہوئی

٭٭٭

ماخذ:

http://www.gegasoft.com/quran-reader/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید