FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

  تفسیرنور

 

سورۂ  الانعام

 

                شیخ محسن قرائتی

 

 

 

سورہ انعام

 

                آیت نمبر ۱ تا ۱۰

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

یہ سورت قرآن مجید کی ۹ ویں سورت ہے کہ جس کی تمام آیات خصوصی اہتمام کے ساتھ مکہ معظمہ میں یکجا نازل ہوئیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں یہ سورت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔

اس سورت کی فضلیت اور اس کی تلاوت کے ذریعہ قضاء حوائج کے بارے میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص (دو سلاموں کے ساتھ) چار رکعت نماز پڑھے پھر اس سورت کی تلاوت کرے اور اس کے بعد دعا مانگے تو اس کی حاجات پوری ہوں گی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اطیب البیان)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

آیت۱

 

ترجمہ۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو قرار دیا، پس (ان تمام چیزوں کے باوجود) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر قرار دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

تمام قرآن مجید میں “نور” مفرد (واحد) کے صیغہ کے ساتھ اور “ظلمات” جمع کے صیغہ کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ کیونکہ حق ایک ہے اور باطل کی راہیں کئی ہیں۔ “نور” وحدت اور توحید کی علامت اور “ظلمات” انتشار اور پراگندگی کی نشانی ہے۔

نکات و پیام:

۱۔ اس سورت کی پہلی آیت “نظام کائنات” کی طرف دوسری آیت “تخلیق انسان” کی طرف اور تیسری آیت “انسان کے اعمال و کردار” کے نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

۲۔ وہی ذات ہی کتم عدم سے منصہ شہود پر لے آتی ہے اور خلق شدہ اشیا ء سے بھی نئی قسم کی کیفیات اور جدید قسم کی صورتیں ایجاد کرتی ہے (خلق، جعل)

۳۔ اصل راہ توحید ہی کی ہے جبکہ شرک ایسا راستہ ہے جو بعد میں پیدا ہوتا ہے (ثم…)

۴۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق یہ آیت تین قسم کے گمراہ لوگوں کا جواب ہے۔

الف: “مادہ پرستوں” کا جو کائنات کی تخلیق اور حدوث کے منکر ہیں (خلق السماوات…)

ب: “دوگانہ پرستوں” کا جو “نور” اور “ظلمت” دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مبدأ (خالق) کے قائل ہیں۔ (جعل الظلمات و النور) 1

ج: “مشرکین” کا جو خدا کے شریک اور شبیہ کے قائل ہیں۔ (ثم الذین کفروا بربھم یعدلون) 2

 

آیت ۲

 

ترجمہ۔ وہی (خدا ہی) تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت مقرر کی اور مقررہ مدت (کا علم) اسی کے پاس ہے، پھر (اس کے باوجود) بھی تم شک و شبہ کرتے ہو۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں آفاق اور آسمان و زمین کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اور زیرِ نظر آیت میں انسانی تخلیق اور اندرونی مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں بیس (۲۰) سے زیادہ مرتبہ “اجل مسمیّ” کا تذکرہ ہے۔

خداوند عالم نے انسان کے لئے دو قسم کے زمانوں کو مقرر فرمایا ہے۔ ایک حتمی مدت ہوتی ہے کہ اگر ہر طرح اس کی حفاظت کی جائے پھر بھی جس طرح چراغ کا تیل ختم ہو جانے سے چراغ بجھ جاتا ہے اسی طرح انسانی عمر ختم ہو جاتی ہے۔ اور دوسری مدت زمانی جو خود ہمارے اپنے کردار سے متعلق ہوتی ہے جیسے چراغ میں تیل موجود ہوتا ہے لیکن اسے طوفانی ہواؤں کے رُخ پر رکھ دینے سے جلد بجھ جاتا ہے۔

روایات کی رو سے کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ عمر کے طولانی ہونے کا سبب ہوتے ہیں۔ جیسے صلہ رحمی، صدقہ، زکوٰة اور دُعا وغیرہ اور کچھ اعمال ایسے ہیں جن سے عمر کوتاہ ہو جاتی ہے جیسے قطع رحمی اور ظلم وغیرہ۔

حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے دو طرح کی “اجل” مقرر فرمائی ہے ایک تو ولادت سے وفات تک اور دوسری وفات سے قیامت تک۔ اور انسان اپنے ہی اعمال و کردار کے ذریعہ بعض اوقات ایک میں کمی کر کے دوسری میں اضافہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا اجل کی انتہا کسی بھی شخص کے لئے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد الٰہی ہے “وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الافی کتاب” یعنی جس کسی کو کوئی عمر ملتی ہے یا اس کی عمر کم ہوتی ہے وہ سب کچھ کتابِ خدا (لوح محفوظ) میں درج ہے۔

پیام:

1۔ جب کائنات اور عالم انسانیت کی تخلیق اور مقررہ اجل خدا ہی کی طرف سے اور خدا ہی کے ہاتھ میں ہے تو پھر مبدا اور معاد میں اس قدر شک کیوں؟ (ثم انتم تمترون)

2۔ تمہاری عمر، تمہاری زندگی کی مقررہ مدت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (مدت عمر، کسی کو معلوم نہیں کیونکہ لفظ “اجلا” نکرہ استعمال ہوا ہے۔)

3۔ انسان کے لئے دو طرح کی “اجل” ایک مشروط اور تبدیل ہوسکنے والی جسے صرف “اجل” کہا گیا ہے۔ اور دوسری غیر مشروط اور ناقابلِ انتقال و ناقابلِ تغیر جسے “اجل مسمیٰ” سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اگر یہی اجل واقع ہو جائے تو اس میں ایک لمحہ کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

واضح رہے کہ جس طرح قانون سازی کے نظام میں یہ ہوتا ہے کہ وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر قانون بھی یا تو تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یا انہیں منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تخلیق کائنات کے نظام میں بھی مصلحت کے تقاضوں کے پیشِ نظر تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ جسے اصطلاح میں “بدا” کہتے ہیں۔ اور موضوع کو مٹا دیا جاتا ہے۔ سورہ رعد / ۳۹ میں ارشاد ہوتا ہے۔

“یمحوا اللہ مایشأ ویثبت ۔۔۔ ” یعنی خدا جس چیز کو چاہے مٹا دے اور جسے چاہے برقرار رکھے۔۔

4۔ کہاں خاک کا پُتلہ اور کہاں خدا کے بارے میں شک و شبہ؟ (من طین ۔ تمترون)

 

آیت۳

 

ترجمہ۔ اور آسمانوں اور زمین میں وہی اللہ ہے۔ تمہاری چھپی ہوئی اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے، اور جو کچھ تم کماتے ہو (اسے بھی) جانتا ہے۔

ایک نکتہ:

۱۔ چند خداؤں (بارش کا خدا، جنگ کا خدا، صلح کا خدا، زمین اور نباتات کا خدا وغیرہ) جیسے خرافاتی عقیدہ کے جواب میں یہ آیت فرماتی ہے “تمام چیزوں کا اور تمام جگہوں پر صرف ایک ہی خدا ہے۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم کی فرمانروائی کا علاقہ تمام کائنات ہے۔

۲۔ خداوند عالم انسانوں کا خالق ہونے “خلقکم من طین” کے ساتھ ساتھ ان کے ظاہر و باطن سے بھی آگاہ ہے (یعلم سرکم و جھرکم)

(یعنی خداوند عالم ہر جگہ موجود ہے “مکانی” موجودگی کی بنا پر نہیں بلکہ “علمی”، “قیومی”، “سلطانی” اور کامل “گرفت” کے لحاظ سے)

۳۔ خداوند عالم انسان کے مستقبل سے بھی پوری طرح آگاہ ہے (تکسبون)

 

آیت ۴۔۵

 

ترجمہ۔ ان کے پاس ان کے رب کی آیات اور نشانیوں میں سے کوئی اور آیت اور نشانی نہیں آئی تھی مگر وہ (اس کی تصدیق اور اس پر ایمان کی بجائے) اس سے منہ پھیر لیتے۔ پس جونہی ان کے پاس کوئی حق آ گیا تو انہوں نے اس کی یقیناً تکذیب کی اور اسے جھٹلا دیا تو جن (ناگوار اور تلخ) خبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے آئندہ وہ ان کے پاس آ کر رہیں گی (اور وہ اپنی تکذیب کی سزا کو پا لیں گے)

دو نکتے:

اسی سورت کی آیت ۱ اور ۲ میں توحید کی طرف اشارہ ہے اور زیر نظر آیت میں معاد اور نبوت کی طرف۔

آیت میں مذکور “بڑی خبر” سے مراد یا تو فتح مکہ کی خبر ہو سکتی ہے یا پھر جنگ بدر وغیرہ میں مشرکین کی شکست کی خبر۔

(تفسیر مراغی)

پیام:

۱۔ انسان تین مراحل میں پستی کی انتہائی گہرائیوں میں جا گرتا ہے۔ ۱ ۔ حق سے روگردانی ۲۔ حق کی تکذیب اور ۳ اس کا مذاق اڑانا۔ ان دونوں آیات میں تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

۲۔ ہٹ دھرم شخص کے لئے کسی قسم کی دلیل اور آیت کارگر اور موثر واقع نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ ہر ایک کو مسترد کر دیتا ہے (آیة من آیات ربھم)

۳۔ ہٹ دھرم اور کافر لوگ نہ تو کسی بات کو سننے کے روادار ہوتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر، تحقیق کرنے کے۔ جونہی حق بات ان کے سامنے پیش ہوتی ہے فوراً جھٹلا دیتے ہیں (کذبوا بالحق لما جاء ھم)

۴۔ کفار کا سکون فوراً سلب کر لو (فسوف یاتیھم)

۵۔ ادھر مومنین کو تسلی دینی چاہئے کہ جس راستے کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ برحق ہے اور ادھر کفار کو مرعوب کرنا چاہئے کہ تمہیں ناگوار اور کڑوی خبریں سننا پڑیں گی۔

۶۔ ٹھٹھا مذاق اور تمسخر اڑانا کفار کا قدیمی شیوہ ہے (کانوا بہ یستھزوٴن)

 

آیت۶

 

ترجمہ۔ آیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کس قدر بڑی تعداد میں امتوں کو ہلاک کیا؟ حالانکہ ہم نے انہیں زمین میں وہ مقام اور طاقت عطا کی تھی جو تمہیں نہیں دی۔ اور ان پر آسمان (کی بارش) کو پے درپے بڑھایا اور ان کے پاؤں کے نیچے پانی کی نہریں جاری کیں۔ پس ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کیا، اور ان کے بعد دوسری نسل کو پیدا کیا۔

ایک نکتہ

“قرن” ایسی امت کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی مرتبہ ہلاک ہو گئی ہو اور ا س سے کوئی بھی شخص باقی نہ رہا ہو۔ (اقرب الموارد) جو لوگ ایک ہی دور میں رہ رہے ہوں انہیں بھی “قرن” کہا جاتا ہے۔ اور عام طور پر ایک نسل ساٹھ سے سو سال تک چلی جاتی ہے۔ اسی لئے ساٹھ یا اسی یا سو سال کو “قرن” کہتے ہیں (تفسیرالمیزان اور تفسیر فخر رازی)

پیام

۱۔ دوسروں کی تاریخ اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ (الم یروا) اور یہ قرآن مجید کا ایک تربیتی ایک طریقہ کار ہے کہ واقعی اور سبق آموز داستانیں بیان کرتا ہے۔

۲۔ جو لوگ قدرتی اور خداداد وسائل سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی سزا ہلاکت اور تباہی ہے۔ (کم اھلکنا)

۳۔ اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے (فاھلکنا ھم)

۴۔ اعمال کی خرابی کا موجب خود انسان ہی ہوتا ہے (فاھلکنا ھم بذنوبھم)

۵۔ صاحبان اقتدار و دولت یہ نہ سمجھیں کہ دنیا ہمیشہ انہی کے حق میں رہے گی اور وہ دنیا میں رہیں گے، خداوند عالم انہیں اس دنیا سے اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ لے آتا ہے (اھلکنا ھم…وانشأنا من بعدھم قرتًااٰخرین)

۶۔ نعمتوں کے زوال اور خوشحال لوگوں کی سرنگونی کی طرف توجہ غفلت دور کرنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔

۷۔ اگر اقتدار اور امکانات نیک لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے “ان مکناھم اقاموالصلوٰة…” لیکن اگر بے ایمان اور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو فساد اور گناہ کرتے ہیں (مکناھم…بذنوبھم)

۸۔ “ارسلنا من السماء” (آسمان سے بھیجا) کی بجائے فرمایا “ارسلنا السّماء” (آسمان کو تمہارے لئے بھیجا) جس سے خداوند عالم کے لطف و کرم کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔

۹۔ مادی وسائل و امکانات خدائی قہر و غضب سے مانع نہیں ہوتے (مکناھم…اھلکناھم) 3

۱۰۔ مادی وسائل اور امکانات ہمیشہ اور ہر جگہ کامیابی کی دلیل نہیں ہوتے۔ 3-a

۱۱۔ گناہوں کی وجہ سے ہلاکت اور تباہی، ایک قانون قدرت ہے جو کسی خاص گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ارشاد باری ہے “فکلا اخذ نا بذنبہ” یعنی ہم نے سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے اپنی گرفت میں لے لیا۔ (عنکبوت/۳۹)

۱۲۔ موت دو طرح کی ہوتی ہے ایک طبعی جو “اجل” آ جانے کے ساتھ واقع ہوتی ہے اور دوسری غیر طبعی جو خدائی قہر و غضب اور اچانک حادثات کی وجہ سے واقع ہوتی ہے (بذنوبھم)

 

آیت ۷

 

ترجمہ۔ اور (ہٹ دھرم اور ضدی کفار تو بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں) حتی کہ اگر کوئی ہم کوئی تحریر کسی کاغذ میں تمہاری طرف نازل کرتے جسے وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ مس کرتے پھر بھی کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ تو جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

چند نکات:

کچھ مشرکین کہتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے جب ایک کاغذ پر کوئی تحریر فرشتے کے ذریعہ ہمارے پاس آئے۔ لیکن یہ سب ان کی جھوٹی باتیں ہیں اور ان کے بہانے ہیں۔

“قرطاس” اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کوئی چیز لکھی جائے خواہ وہ کاغذ ہو یا لکڑی، چمڑا ہو یا پتھر۔ لیکن موجودہ دور میں کاغذ کو “قرطاس” کہتے ہیں۔

آنکھوں کے ساتھ دیکھے جانے والے معجزات کے بارے میں ممکن ہے کہ بہانہ کی تلاش میں لگے رہنے والے یہ لوگ یہ کہیں کہ ہماری آنکھوں اور ہماری نگاہوں کو الٹ پھیر کر دیا گیا ہے (قرآن مجید کے بقول وہ کہیں گے “سکرت ابصارنا”) لیکن یہ لوگ اگر انہیں اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھو لیں تو بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔

پیام:

۱۔ جب مقصد ہی ضد اور ہٹ دھرمی ہو تو پھر کوئی بھی دلیل اور برہان بے فائدہ ہوتی ہے حتی کہ محسوسات (ہاتھوں وغیرہ سے چھوئی جانے والی چیزوں) کا بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔

۲۔ “جادو” ایک ایسا موثر حربہ تھا جسے مشرکین، حضرت رسول خدا کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔

 

آیت ۸

 

ترجمہ۔ اور (بہانہ جُو کفار نے) کہا (محمد، اللہ کا رسول ہے تو پھر) اس پر کوئی (ایسا) فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوا (جسے ہم دیکھتے) اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو یقیناً بات ختم ہو جاتی۔ اور اس وقت کسی قسم کی مہلت نہ دی جاتی (اگر فرشتے کے آنے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو فوراً سب لوگ سزا کے مستحق قرار پائیں گے)

ایک نکتہ:

جس قسم کے فرشتے کا کفار نے مطالبہ کیا ہے اگر وہ انسانی صورت میں ہو تو پھر اسی پیغمبر کی مانند ہو گا اور اگر اپنی حقیقی صورت میں جلوہ نمائی کرے گا تو یہ لوگ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا اسے دیکھتے ہی ان کی جان نکل جائے گی۔ (تفسیر قرطبی از ابن عباس اور تفسیر فخر رازی اور تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱۔ استکبار کا شیطانی شیوہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنے جیسے بشر کی پیروی کرے (اسی لئے کبھی تو کہتے تھے کہ “انبیاء کس لئے ہماری طرح کھانا کھاتے، بازاروں میں چلتے اور ہمارے جیسے لباس پہنتے ہیں؟ کبھی ایک دوسرے سے کہتے تھے: اگر اپنے جیسے بشر نبی کی اطاعت کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے” جیسا کہ قرآن کہتا ہے “ولئن اطعتم بشر امثلکم انکم اذاً لخاسرون”)

۲۔ خدائی طریقہ کار یہی چلا آ رہا ہے کہ اگر لوگ معجزہ طلب کریں اور وہ انجام بھی پا جائے اور پھر وہ اس کا انکار کریں تو پھر ان کی ہلاکت اور بربادی یقینی ہو جاتی ہے (ملاحظہ ہو تفسیر مراغی)

۳۔ خدائی دعوت کا انداز یہ ہے کہ مکمل آزادی، سوچ و بچار سے کام لینے، انتخاب اور مہلت دینے کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرے طریقے سے معجزہ کا تقاضا (جیسے فرشتے کا نزول یا آسمان سے مائدہ کا بھیجنا یا پہاڑ کے اندر سے اونٹنی کے باہر نکالنے کا مطالبہ) انتخاب کی مہلت اور فرصت کو ختم کر دیتا ہے اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یا تسلیم کر کے مسلمان بن جاؤ یا پھر ہلاکت کا انتظار کرو (لقضی الامر)

 

آیت۹

 

ترجمہ۔ حتی کہ اگر ہم (تمہارے لئے پیغمبر) کسی فرشتے کو قرار دیتے تو پھر بھی یقین کے ساتھ اسے مرد کی ہی صورت میں بناتے اور جس شبہے کے ساتھ اب وہ حق کو چھپاتے ہیں اسی طرح ہم ان کے لئے چھپا دیتے۔

دو نکتے:

انسان کے لئے اگر فرشتہ نمونہ عمل ہوتا تو پھر ایسے انسانوں کے لئے کیونکر نمونہ عمل قرار پاتا جو غریزوں کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں اور خوراک و خواہشات نفسانی کے سمندر میں غرق ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ آیت کا اسی طرح معنی ہو “اگر پیغمبر، فرشتہ ہوتا تو بھی اسے مرد کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے تھا کہ جسے لوگ دیکھ سکیں۔ اور یہ بات لوگوں کے شک و شبہ میں پڑ جانے کا موجب ہوتی کہ آیا یہ انسان ہے یا فرشتہ؟ (للبسنا علیھم)

پیام

۱۔ لوگوں کو دعوت دینے اور ان کی تربیت کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو نمونہ کے طور پر پیش کرناچاہئے جو دعوت اور عمل میں پیش قدم ہوتے ہیں۔ (لجعلناہ رجلا)

۲۔ پیغمبر، مرد ہونا چاہئے (لجعلناہ رجلا)

۳۔ خدائی طریقہ کار حکمت پر مبنی ہوتا ہے ہر کہ و مہ کی خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں ہو سکتا۔

 

آیت ۱۰

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) یقیناً تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان پر عذاب نازل ہوا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تسکین اور تسلی ہے کہ ایک تو یہ کہ تمام سابق انبیاء کا مذاق اڑایا گیا “مایا تیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزوٴن” اور دوسرے یہ کہ صرف اخروی عذاب ہی انہیں نہیں ملے گا۔ دنیا میں بھی مذاق اُڑانے والوں پر خدائی قہر و غضب نازل ہوا اور ان کی خطرناک سازشیں خود ان کے لئے وبال جان بن گئیں۔ “ولا یحیق مکر السییٴ الا باھلہ”

پیام

۱۔ دوسروں کی مشکلات اور ان کے صبر کو یاد کرنے سے، انسان کے صبر میں اضافہ ہوتا ہے، اور مبلغ دین کو مخالفین کی مسخرہ بازی اور مذاق اڑانے سے دل تنگ نہیں ہونا چاہئے۔

۲۔ استہزأ اور ٹھٹھا مذاق دشمن کی نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے جس سے خدائی رہبروں کے حوصلے پست کرنا مقصود ہوتا ہے۔

۳۔ مسخرہ بازی کرنے والے انجام کار خود ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور یہی مذاق بازی خود انہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے (حاق بالذین سخروا)

۴۔ استہزا یا مسخرہ بازی کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے کہ جس پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔

۵۔ دوسری ایذارسانیوں پر خداوند عالم مہلت دے دیتا ہے کہ شاید توبہ کر لیں لیکن زبان کے ساتھ زخم پہنچانے اور انبیاء کا مذاق اڑانے پر فوری سزا مل جاتی ہے (فحاق) میں “فا” کی دلیل کے ساتھ۔

 

                  آیت نمبر ۱۱ تا ۲۰

 

آیت۱۱

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا(برا) انجام ہوا۔

ایک نکتہ

قرآن مجید میں چھ مرتبہ “سیروا فی الارض” کے تحت زمین میں چلنے پھرنے کا حکم آیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غیرمسلمین نے ہم سے زیادہ اس حکم پر عمل کیا ہے۔ اور اسلامی ممالک کی ایک ایک بالشت زمین چھان ماری ہے اور مسلمانوں کے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، قوت اور کمزوری کے نقاط، تہذیبی، ثقافتی اور علمی آثار، خطی اور قلمی کتابوں اور ان کے علوم و فنون سے آگاہ ہو کر انہیں لوٹ لے گئے اور مسلمان خواب غفلت میں پڑے رہے اور اب تک غفلت کی میٹھی نیند سوئے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱۔ معلوماتی، عبرت انگیز اور سبق آموز سفر قابل ستائش اور مستحسن ہوتے ہیں (سیروا) (ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی)

۲۔ حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی شکست اور ہلاکت یقینی ہے اگر شک ہو تو ان کی تاریخوں کو پڑھئے یا پھر سفر کر کے باقی ماندہ آثار کو اپنی آنکھوں سے دیکھئے اور عبرت حاصل کیجئے۔

۳۔ چند روزہ جلوہ نمائیاں کسی قسم کی اہمیت کی حامل نہیں ہیں اصل چیز انجام ہے (عاقبة المکذبین)

 

آیت ۱۲

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس کے لئے ہے؟ کہہ دو کہ خدا ہی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے۔ وہ یقیناً تمہیں قیامت کے اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے (اور رشد و ہدایت حاصل کرنے کی بجائے اپنی استعداد کو ضائع کر کے پستی میں چلے گئے ہیں) وہی ایمان نہیں لائیں گے۔

چند نکات:

“کتب علی نفسہ الرحمة” یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے کا جملہ پورے قرآن میں دو مرتبہ آیا ہے اور وہ بھی اسی سورت میں کہ ایک تو اسی آیت میں اور دوسرا آیت ۵۴ میں۔

“لاریب فیہ” یعنی جس میں کوئی شک نہیں ہے کا جملہ ایک تو قرآن مجید کے بارے میں آیا ہے اور دوسرے قیامت کے متعلق۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں اسی طرح اپنی ذات کے لئے بھی وظائف مقرر کئے ہیں، جن میں سے ایک وظیفہ “ہدایت کرنا ہے”، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے “ان علینا للھدی” یعنی ہم پر ہدایت کرنا لازم ہے۔ ایک “رزق دینا ہے” چنانچہ فرماتا ہے “علی اللہ رزقھا” یعنی رزق و روزی دینا خدا کے ذمہ ہے۔ ایک “لطف اور رحم کرنا ہے” چنانچہ فرماتا ہے “کتب علی نفسہ الرحمة” یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے۔ البتہ رحمت الٰہی کے حصول کی شرط بندگانِ خدا پر رحم کرنا ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ “من لایرحم لا یرحم” یعنی جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فی ظلال القرآن) رحمتِ خداوندی کی کوئی حد نہیں ہے، جبکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ “رحمت خداوندی (گویا) سو درجہ کی ہے جن میں سے ایک درجہ دنیا میں ہے اور قیامت کے دن تمام سو درجوں کے ساتھ اپنے بندوں کے ساتھ برتاؤ کرے گا” (تفسیر ظلال القرآن اور تفسیر آلوسی)

استدلال اور دلائل سے کام لینے کی بجائے اپنی خواہشات کی اتباع کرنا۔ اولیاء اللہ یعنی انبیاء اور ائمہ کی بجائے طاغوت کی پیروی کرنا، ایمان لانے اور آخرت کو مد نظر رکھنے کی بجائے کفر اختیار کرنا اور نور کے آگے سر جھکانے کی بجائے نار کو اختیار کرنا کفار کے لئے بہت بڑے خسارے کا سودا ہے۔

پیام:

۱۔ تبلیغ کے طریقہ کاروں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سوال اور جواب کی روش کو اپنایا جائے خواہ کسی ایک فرد کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔ (قل لمن…قل للہ)

۲۔ کائنات کا وجود رحمت خداوندی کا مرہون منت ہے اور رحمتِ الٰہی ہر چیز پر اور ہر جگہ حاوی ہے (کتب علی نفسہ الرحمة) 4

۳۔ جس طرح خدا پر ایمان کے آثار (جیسے ہوا، بارش، روز و شب اور نباتات وغیرہ رحمت ہیں اسی طرح معاد (قیامت) بھی رحمت ہے (لیجمعنکم)

 

آیت ۱۳

 

ترجمہ۔ اور اسی ہی کے لئے ہے وہ چیز جو رات اور دن میں سکون پاتی ہے اور وہی سننے اور جاننے والا ہے۔

ایک نکتہ:

رات اور دن ایک گہوارے کی مانند ہیں جو انسانوں اور دوسری چیزوں کو اپنے دامان راحت میں لئے ہوئے ہیں انہی سے انہیں سکون نصیب ہوتا ہے، کچھ چیزیں ایسی ہیں جو رات کو آرام کرتی ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو دن میں سکون کرتی ہیں۔ ظاہر اور باطن کو وہی ذات ذوالجلال ہی جانتی ہے۔

پیام:

۱۔ ایک تو کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے (ولہ ماسکن) دوسرے اس نظام پر کنٹرول بھی اسی کے پاس ہے (ھوالسمیع العلیم)

 

آیت ۱۴

 

ترجمہ۔ کہہ دو (اے پیغمبر!) آیا میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے خدا کے علاوہ کسی اور کو اپنا سرپرست بناؤں جو دوسروں کو تو طعام اور روزی دیتا ہے اور خود طعام سے بے نیاز ہے۔

کہہ دو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کا) سب سے پہلا فرمانبردار بنوں! اور (اے پیغمبر!) تم مشرکین میں سے ہرگز نہ بننا۔

دو نکتے:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اہل مکہ کے کچھ افراد نے رسول خدا کو یہ پیش کش کی “چونکہ، آپ نے غربت کی وجہ سے بتوں سے دوری اختیار کی ہوئی ہے لہٰذا ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ آپ کو مکمل طور پر بے نیاز کر دیں اور آپ ہماری مخالفت سے باز رہیں۔”

چونکہ خداوند عالم انسانیت کا خالق اور رازق ہے اور وہی سب کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے لہٰذا اسی کی ہی عبادت کرنی چاہئے اور اسی کو اپنا سرپرست تسلیم کرنا چاہئے۔

پیام:

۱۔ تبلیغ کے عمدہ طریقہ کار میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دلیل کو فریق مخالف سے سوال کے قالب میں ڈھال کر پیش کرنا چاہئے (قل اغیراللہ)

۲۔ ولایت اور سرپرستی اسی کو جچتی ہے جو خالق بھی ہے اور رازق بھی۔ (فاطر۔ یُطعِم)

۳۔ خداوند عالم کے علاوہ دوسری مخلوق اور خودساختہ معبود اسی کے محتاج ہیں (لایُطعِم)

۴۔ رہبر کو سب سے پہلے آئین کی پابندی کرنی چاہئے اور اخلاص و تسلیم کے اعلیٰ درجہ کا حامل ہونا چاہئے (اول من اسلم)

۵۔ اقتصاد اور خوراک جس کے قبضہ میں ہوتے ہیں ولایت اور تسلط بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے (ولیا۔ یُطعِم)

۶۔ غیراللہ کی ولایت کو تسلیم کرنا شرک ہے (أغیراللہ…لاتکونن من المشرکین)

۷۔ خدا کے اوامر و نواہی عقل اور فطرت کے عین مطابق ہیں۔ خدا کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری کا امر اور شرک سے نہی اس لئے ہے کہ عقلی طور پر خالق کی فرمانبرداری کرنا حق ہوتا ہے اور اس کے غیر کی اطاعت اطاعت باطل ہوتی ہے۔

 

آیت ۱۵

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ اگر یقیناً میں بھی اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی بہت بڑے دن کے عذاب سے بہت خطرہ ہے۔

ایک نکتہ:

خوف اور خطرہ دو طرح کا ہوتا ہے۔

الف: پسندیدہ جیسے عذاب الٰہی کا خوف

ب: ناپسندیدہ جیسے جہاد سے ڈرنا

پیام:

۱۔ قانون الٰہی سب کے لئے یکساں ہے حتیٰ کہ پیغمبر خدا بھی اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں۔

۲۔ اولیاء اللہ (انبیاء و ائمہ) کا خوف، خدا کے قہر و غضب سے ہوتا ہے نہ کہ عوام اور طاغوتوں سے۔

۳۔ خوف ایک ایسا عامل ہے جو گمراہی اور خطاکاری سے روکے رکھتا ہے۔

۴۔ لوگوں کی طرف سے دنیوی لالچ اور طمع کی پیشکش کے موقع پر قیامت کے دن کے حساب کتاب کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۵۔ جب اس بات کی اتمام حجت ہو گئی کہ خداوند عالم خالق بھی ہے اور رازق بھی اور شرک سے بھی اس نے منع فرمایا ہے، تو پھر اس کے فرمان کی خلاف ورزی عذاب کا موجب ہو گی۔

 

آیت ۱۶

 

ترجمہ۔ اس دن جس سے بھی عذاب الٰہی اٹھا لیا جائے گا تو یقیناً اس پر خدا کی رحمت ہو گی اور یہی کھلم کھلا اور واضح کامیابی ہے۔

ایک نکتہ:

حضرت رسول خدا نے (ایک دن) ارشاد فرمایا: “اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ قیامت کے دن کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے بہشت میں نہیں جائے گا” لوگوں نے سوال کیا: “یا رسول اللہ! آپ بھی؟” فرمایا: “میں بھی! مگر یہ کہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو گی” پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو سر پر رکھ کر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ (تفسیر مجمع البیان۔ تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱۔ ہر شخص کو خطرات کا سامنا ہے اور عذاب الٰہی کو خدا کے خصوصی لطف و کرم سے دور کیا جا سکتا ہے۔

۲۔ صرف خداوند کریم کی رحمت ہی اس کے قہر و غضب کو روک سکتی ہے، ہمارے اعمال اور اولیاء اللہ کی شفاعت بھی اسی رحمت کا پرتو ہیں۔

۳۔ قہر خداوندی سے نجات ہی کامیابی کہلاتی ہے۔

 

آیت ۱۷

 

ترجمہ۔ اگر خداوند عالم (آزمائش اور پروان چڑھانے کے لئے یا اعمال کی سزا کے طور پر) تمہیں کسی نقصان سے دوچار کر دے تو اس کے بغیر کوئی بھی اسے دور نہیں کر سکتا، اور اگر (لطف وکرم کی بنا پر) تمہیں کوئی فائدہ پہنچائے تو وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

پیام

۱۔ تمام امیدیں بھی خدا سے وابستہ رکھنی چاہئیں اور ہر قسم کا خوف بھی خدا ہی سے کرنا چاہئے (…الاھو)

۲۔ تمام امور کا سرچشمہ اور منبع صرف ایک ہی ہے ایسا نہیں ہے کہ بھلائیاں کسی اور کی طرف سے اور برائیاں کسی دوسرے کی طرف سے ہوتی ہیں۔ (البتہ ان کا موجب خود انسان کو ہوتا ہے۔ از مترجم)

۳۔ خدائی قوانین میں استثنا کی گنجائش نہیں ہوتی، حضرت رسول خدا کو بھی تلخ اور شیریں حوادثات میں خدا سے متوسل ہونا پڑتا ہے۔

 

آیت ۱۸

 

ترجمہ۔ اور خداوند عالم اپنے بندوں پر مکمل اقتدار اور تسلط رکھتا ہے اور وہی حکیم اور آگاہ ہے۔

دو نکات

۱۴ ویں آیت میں خدا کا خالق اور رازق ہونا بیان کیا گیا ہے، ۱۵ ویں آیت میں خدا کے قہر و غضب اور قیامت کو بیان کیا گیا ہے ۱۶ ویں آیت میں قہر و غضب سے نجات اور خدا کی رحمت کا تذکرہ ہے، سترھویں آیت میں مشکلات کا حل اور نیکیوں تک رسائی کی صورت کا ذکر ہے اور اس آیت میں خداوند قہار کی قدرت مطلقہ کو بیان کیا گیا ہے۔

اگر کچھ لوگ عوام الناس کی جہالت، ان کے تفرقہ و انتشار اور کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند روز ان پر مسلط ہو جائیں تو اس سے خدا کی قہاریت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور خداوند عالم کی قہاریت ان کی اس بساط کو لپیٹ کر رکھ دیتی ہے اور اپنے علم و حکمت کے تحت اپنی قدرت اور قہاریت کو کام میں لاتی ہے۔

پیام

۱۔ اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں کیونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہے (ھوالقاہر)

۲۔ خدا کی قدرت اور قہاریت حکمت اور علم کے تحت ہوتی ہے (الحکیم الخبیر)

 

آیت ۱۹

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ بہت بڑا شاہد اور گواہ کون ہے؟ کہو خدا ہی ہے جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر وحی ہوا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ تمہیں اور ہر اس شخص کو ڈراؤں کہ جن پر قرآن اور پیغام پہنچا ہے۔ آیا تم گواہی دیتے ہو کہ معبود حقیقی کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہیں؟ کہہ دو کہ میں گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ صرف وہی خداوند یکتا ہے اور میں یقیناً اس سے بَری ہوں جس کے ذریعہ تم شرک کرتے ہو۔

چند نکات

مشرکین مکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کی رسالت کی گواہی طلب کرتے تھے اور آپ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ: “یہود و نصاریٰ بھی آپ کو نبی نہیں مانتے ” یہ آیت خدا اور اس کی نصرت کے الہام کا پیغام لئے، اسلام کی غربت کے دور میں روشن مستقبل کی خوشخبری سنا رہی ہے اور شرک سے بیزاری اور برائت کا اظہار کر رہی ہے۔

ایک سطر سے بھی کم مقدار میں تین مرتبہ توحید کا اعلان اور شرک سے برائت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ (لا اشھد، الہ واحد، بریٴ مما تشرکون)

(حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ) آنحضرت کا ارشاد گرامی ہے “جس شخص تک قرآن پہنچ گیا گویا میں نے اسے دیکھ لیا” (من بلغ)

پیام

۱۔ دوسرے معجزوں، غیبی امدادوں اور دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے علاوہ قرآن پاک بھی پیغمبر اسلام کی رسالت کا بہت بڑا گواہ ہے (ھذا القرآن)

۲۔ خود پیغمبر خدا کے زمانہ ہی میں قرآن مجید ایک کتاب کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا اور “ھذا” کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا (ھذا القرآن)

۳۔ لوگوں کے ساتھ “انذار” (ڈرانے) کے انداز میں بات کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے (لانذر کم)۔

۴۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت عالمی، جاویدانی، تمام رنگ و نسل کے لوگوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے (لانذر کم و من بلغ)

۵۔ چونکہ تبلیغ کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے لہٰذا اس کے ساتھ مبلغین کا ہونا بھی ضروری ہے پس خدا کی امامت اور رہبری کاقرآن کے ساتھ تا ابد ہونا لازمی ہے (تفسیر صافی،اصول کافی منقول از امام جعفر صادق)

۶۔غفلت، سہو و نسیان، بھول چوک اور محدودیت انسان کی خبرگیری کی قدرت کو بھی کم کر دیتی ہے اور اس کے گواہ بننے کی طاقت کو بھی اور چونکہ خداوند عالم عوارض سے پاک اور منزہ ہے لہٰذا وہ سب سے بڑا شاہد ہے (اکبر شھادة قل اللہ)

۷۔ آسمانی رہبر کے لئے لازمی ہے کہ اس میں یہ چیزیں ضروری پائی جائیں۔ ۱۔ ہدف اور مقصد پر پختہ ایمان (او حی الی ھذا القرآن) ۲۔ مستقبل سے بب وابستہ امید (ومن بلغ) ۳۔ پختگی عزم (قل لا اشھد) اور ۴۔ شرک سے برائت اور دوری (اننی بریٴ مما تشرکون)

۸۔ عام طور پر انسان میں دفع ضرر کی خواہش، حصول منفعت کی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے، لہٰذا خداوند عالم نے بھی قرآن مجید میں جہاں بہت سی خوشخبریوں سے نوازا ہے وہاں پر ڈرانے پر کافی زور دیا ہے (لانذر کم) (جبکہ دوسری آیات میں کہیں فرمایا: “ان انت الانذیر” یعنی اے پیغمبر! آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں (فاطر/۲۳) کہیں پیغمبر کی زبانی فرمایا: “انما انا نذیر مبین” یعنی میں تو بس کھلم کھلا ڈرانے والا ہی ہوں (عنکبوت/۵۰)

۹۔ مشرکین خدا کو پہچانتے تھے اسی لئے تو قرآن کہتا ہے (اللہ شھید)

۱۰۔ “انما ھوالہ واحد” یعنی خداوندتو تنہا معبود ہی ہے کی مناسبت سے حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں: “اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو وہ بھی اپنے رسول بھیجتا” (نہج البلاغة)

 

آیت۲۰

 

ترجمہ۔ جن (یہود و نصاریٰ) کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ ان (محمد مصطفیٰ) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (سابقہ انبیاء اور گزشتہ آسمانی کتابوں کی بشارتوں کو آنحضرت کے مطابق دیکھتے ہیں لیکن تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں) تو جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا وہی ایمان نہیں لے آتے۔

چند نکات:

اسی آیت سے ملتی جلتی سورہ بقرہ کی ۱۴۶ ویں آیت ہے۔

توریت و انجیل میں ایک تو سرکار رسالت مآب کا اسم گرامی اور ان کی نشانیاں موجود تھیں اور اہل کتاب کے علماء آنجناب کی “نبی موعود” کے نام سے لوگوں کو خبر دیا کرتے تھے اور دوسرے آپ کے اور آپ کے دوستوں کے اخلاق و صفات ان کتابوں میں موجود تھے چنانچہ ارشاد پروردگار ہے “محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماٰء بینھم…ذالک مثلھم فی التورٰة” پس بنا بریں آنحضرت کے ساتھیوں اور دوستوں کی صفات تک کو بھی ذکر کیا جا چکا ہے۔

اولاد کی پہچان، حقیقی پہچان ہے اور قدیم الایام سے چلی آ رہی ہے، اس لئے کہ انسان اولاد کو ان کی پیدائش کے وقت مقام پیدائش کی خصوصیات اور انداز ولادت وغیرہ سے اچھی طرح جانتا ہے۔ جبکہ بہن بھائیوں اور ماں باپ کی شناخت کے لئے کئی مہینے درکار ہوتے ہیں اور زن و شوہر کی پہچان، ازدواج کے بعد ہوتی ہے۔ اسی لئے خداوند عالم فرماتا ہے “وہ پیغمبر خدا کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے ہیں” یعنی مکمل طور پر اور اچھی طرح سے۔

پیام

۱۔ پیغمبر خدا کی معرفت اس حد تک ہونی چاہئے کہ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہ ہو۔ (کما یعرفون ابنائھم)

۲۔ صرف پہچان اور علم ہی انسان کے لئے باعث نجات نہیں ہے، کیونکہ بہت سے خداشناس، پیغمبر شناس اور دین شناس ایسے ہیں جو خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں (الذین خسروا انفسھم)

۳۔ حق پوشی، خسارت اور نامرادی ہے (خسروا انفسھم)

 

                  آیت نمبر ۲۱ تا ۳۰

 

آیت ۲۱

 

ترجمہ۔ اور اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا آیات خداوندی کو جھٹلاتا ہے، یقیناً ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔

دو نکات:

تقریباً پندرہ مرتبہ قرآن مجید میں “ومن اظلم” کا جملہ استعمال ہوا ہے۔ جو یا تو خدا پر بہتان باندھنے یا لوگوں کو مسجد سے روکنے اور یا پھر گواہی اور حق کو چھپانے کے سلسلہ میں ذکر ہوا ہے۔ جس سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ ثقافتی اور تعلیمی ظلم اور لوگوں کی معلومات کو پروان چڑھنے اور علم و فہم کے ترقی کرنے سے روکنا معاشرہ اور اجتماع پر بہت بڑا ظلم ہے۔

پتھر اور لکڑی کو خدا کے ہم پلہ قرار دینا، خدا پر ظلم ہوتا ہے اور مذکورہ اشیاء کی پرستش انسانیت پر ظلم ہوتا ہے۔

پیام:

1۔ مظلوم جس قدر زیادہ قابلِ عزت اور زیادہ مقدس ہو گا ظلم کا خطرہ اسی قدر زیادہ ہو گا۔ اسی لئے خدا پر ظلم، خانہ خدا پر ظلم، ذات اقدس الٰہی پر افترا پردازی بدترین ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ (ومن اظلم)

2۔ انسانیت کے افکار و اذہان اور تعلیم و ثقافت پر ظلم، بدترین ظلم ہوتا ہے۔ شرک، خدا کی ذات پر افتراپردازی، نبوت کا جھوٹا دعویٰ، بدعت، تفسیر بالرائے اور حق کی پردہ پوشی ان سب کا شمار ظلم میں ہوتا ہے۔

 

آیت ۲۲

 

ترجمہ: اور جس دِن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر مشرکین سے کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے بارے میں تمہیں خدائی کا گمان تھا؟

چند نکات:

﴾ گذشتہ آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ جو ظالم لوگ افترا پردازی، تکذیب اور حق پوشی سے کام لیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کامیاب وہ شخص ہو گا جس کے پاس قیامت کے لئے جواب ہو گا۔ جبکہ قیامت کے دِن تمام مشرکانہ خیالات مٹ جائیں گے۔

﴾ ّّ”جمیعاً” کے کلمہ سے مراد یا تو تمام لوگ ہیں یا مشرکین اور بت ہیں، کیونکہ ایک اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے “احشرواالذین ظلموا و ازواجھم وما کانو یعبدون” اس آیت میں لوگوں کے زندہ ہونے، ان کے زن و مرد کے جوڑوں اور ان کے معبودوں کے زندہ ہونے اور محشور ہونے کے بارے میں خطاب ہے۔

﴾ آیت میں اگرچہ شرک کو بیان کیا گیا ہے، لیکن جو لوگ حقیقی اولیاء اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رہبر و رہنما تسلیم کرتے ہیں یا اولیاء اللہ سے مخالفت کرتے ہیں وہ بھی ایک طرح کے مشرک ہیں۔ جب کہ “زیارت جامعہ” کے الفاظ ہیں “ومن خالفکم مشرک” اور ایک حدیث میں ہے کہ “الرادعلینا کالراد علی اللہ والراد علی اللہ فی حد الشرک” یعنی جو شخص ہمارے کلام اور ہمارے طریقہ کار کا انکار کرے گا وہ ایسے ہے جیسے کلامِ خدا کا انکار کرے اور ایسا شخص مشرک کی مانند ہے۔

پیام:

1۔ خدا کے علم اور اس کی قدرت کی کوئی حد و انتہا نہیں ہے۔ کوئی ایک بھی فراموش نہیں ہو گا سب کے سب بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے۔ (جمیعاً)

2۔ قیامت کے دن کی عدالت کھلی عدالت ہو گی۔ (نحشرھم جمیعا ثم نقول)

3۔ شرک تو بس ایک خیالِ محض ہے۔ (تزعمون)

4 ۔ ہر قسم کے عقیدہ، عشق و عبادت سے پہلے قیامت کے دِن کی جواب دہی کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔ (این شرکاؤکم)

 

آیت ۲۳۔ ۲۴

 

ترجمہ: پس (بتوں کے فریفتہ مشرکین کے لئے) کوئی عذر اور بہانہ باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہمیں اپنے رب، خدا کی قسم ہم مشرکین نہیں تھے۔

دیکھو تو سہی کہ مشرکین اپنے نقصان کے لئے کیونکر جھوٹ بولتے (اور اپنے شرک کا انکار کرتے) ہیں اور جو وہ خدا پر جھوٹ باندھتے تھے ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

دو نکات:

﴾ اس آیت میں “فتنہ” کا معنی بتوں اور شرک سے فریفتگی ہے یا “معذرت” کے معنی میں ہے۔

﴾ دروغ گو اپنی ہی عادت کے مطابق قیامت کے دِن بھی جھوٹ بولیں گے ۔ جیسا کہ ایک اور جگہ پر ارشاد ہوتا ہے۔ “یوم یبعثھم اللہ جمیعا فیحلفون لہ کما یحلفون لکم ویحسبون انھم علی شییٴً ” یعنی جس دِن اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ اُٹھائے گا اور وہ خدا کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ اپنی کسی بات پر قائم ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام اسی آیت کے ذیل میں ارشاد فرماتے ہیں “اس جھوٹ کے بعد ان کے لبوں پر مہر لگا دی جائیے گی اور ان کے دوسرے اعضاء حق بات بیان کریں گے”

پیام:

1۔ جھوٹ بولنے کی عادت قیامت میں بھی ظاہر ہو گی۔ (واللہ ربنا ماکنا مشرکین)

2۔ خدائی عدالت میں نہ تو جھوٹ کام آئے گا اور نہ ہی قسم۔ (ضل عنھم ماکانو ایفترون)

3۔ قیامت کے دِن، مشرکین اپنے افکار اور عقائد سے اظہار برائت کریں گے۔ (ماکنا مشرکین)

9; (یہ اور بات ہے کہ قیامت کے دِن شر ک سے بیزاری ان کے لئے کارآمد نہیں ہو گی)

4۔ قیامت اس قدر حتمی اور یقینی ہے گویا اب س وقت موجود ہے۔ (انظر) فرمایا ہے “ستنظر” نہیں فرمایا)

5۔ خدا کے علاوہ دوسرے تمام سہارے نابود ہو جائیں گے۔ (ضل عنھم)

6۔ خدا کے علاوہ دوسرے تمام سہارے صرف خیال ہی خیال ہیں۔ (یفترون)

 

آیت ۲۵

 

ترجمہ: اور ان میں سے کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو (اے پیغمبر!) آپ کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں۔ لیکن ہم نے ان کے دِلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں تاکہ وہ کچھ نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان (حق بات سننے کے لئے) سنگین ہیں۔ اور اگر وہ ایک آیت کو دیکھیں پھر بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے حتیٰ کہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔

چند نکات:

﴾ اس آیت کا شانِ نزول اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ابوسفیان، ولید بن مغیرہ، عتبہ، شیبہ اور نضربن حارث خانہ کعبہ کے باہر کھڑے ہو کر پیغمبرِ گرامی اسلامٴ کی تلاوت کو غور سے سننے لگے، سب نے “نضر” سے پوچھا۔ “کیا پڑھ رہے ہیں؟” اس نے کہا “رب کعبہ کی قسم! میں نہیں سمجھ رہا کہ کیا پڑھ رہے ہیں؟ البتہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے قصے کہانیوں میں بھی تم سے بیان کرتا رہتا ہوں۔” جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

9; “اکنة” جمع ہے “کن” یا “کنان” کی جس کا معنی ہے “پردہ” اور “وقر” کا معنی ہے “سنگینی” اور “اساطیر”جمع ہے “اسطورة” کی جس کا معنی ہے “پے در پے” اور خیالی مطالب” ہے، چنانچہ ایک اور مقام پر قرآن فرماتا ہے ’‘’فلماز اغوا أزاغ اللہ قلوبھم” یعنی جب وہ خود پھر گئے تو خدا نے ان کے دلوں کو بھی پھیر دیا۔

پیام:

1۔ تمام کفار سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے ان میں سے بعض کافر ضدی اور اکھڑ مزاج ہیں۔ (ومنھم)

2۔ قرآنی آواز کا سننا اس وقت موثر اور قابل قدر ہوتا ہے جب دِلوں پر اثر کرے (اکنة ان یفقھوہ)

3۔ کفار کے دلوں کی پردہ پوشی خود ان کے معاندانہ رویہ کی وجہ سے ہے۔ (قرآن مجید کے ایک اور مقام پر ہے کہ وہ انبیاء سے کہتے تھے “قلوبنا فی اکنة مماتدعون وفی آذاننا وقر” یعنی جس بات کی طرف تم بلاتے ہو اس سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں سنگینی ہے۔

4۔ خدائی رہبر کو چاہیے کہ وہ خود کو ہر طرح کی افتراء پردازیوں اور ناروا تہمتوں کے سننے کے لئے تیار رکھیں۔

5۔ ہٹ دھرمی، ضد اور اکھڑ مزاجی لا علاج بیماری ہے۔ اور ٹیڑھے میڑھے آئینہ کی مانند بہترین شکل و صورت کو بھی بے ڈھنگے انداز میں پیش کرتا ہے۔ (یرواکل آیة لایوٴمنوا)

6۔ اگر لڑائی جھگڑے، بدگمانی، منفی انداز اور پہلے سے تیار شدہ منصوبے کے تحت پیغمبر گرامی اسلام سے بھی ملاقات کی جائے، بے فائدہ ہے (جاؤک یجادلونک…)

 

آیت ۲۶

 

ترجمہ: اور وہ کفار لوگوں کو ایمان لانے سے (بھی) روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور اور محروم ہیں اور (لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) لاشعوری طور پر اپنے سوا کسی کو تباہ و برباد نہیں کر رہے۔

دو نکات:

“ینئون” کا لفظ”نأی” سے مشتق ہے جس کا معنی ہے “دور کرنا”

9; بعض اہل سنت مفسرین نے اپنی تفسیروں میں لکھا ہے کہ “یہ آیت حضرت ابو طالب کے بارے میں ہے۔ کیونکہ وہ لوگوں کو پیغمبر کی ایذارسانی سے تو روکتے تھے لیکن خود ایمان نہیں لائے اور ایمان سے دور رہے” اسی طرح قرآن مجید کی ایک دو اور آیات (مثلاً توبہ/…۱۱۵۔ قصص/۵۷) کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں۔ جبکہ مذہب شیعہ کے نزدیک وہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بہترین موٴمن بھی ہیں۔ جن کے ایمان اور اسلام کا اظہار ان کے اشعار سے ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں حضرت فاطمہ بنت اسد جیسی دنیا کی بہترین مومن خاتون آخر عمر تک آپ کی زوجیت میں رہیں جو آپ کے مومن ہونے کی ایک اور عمدہ دلیل ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب “الغدیر” جلد ۷۔ ۸)

پیام

۱۔ کفار ہوں یا مشرکین ہر دو تخریب کاری اور لوگوں کو راہ راست سے روکنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

۲۔ حق کو قبول کرنے کی بجائے اس سے دوری اختیار کرنا، انسان کا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

۳۔ حقیقی شعور یہ ہے کہ راہ حق کو پا لیا جائے۔ حقیقی راستہ اور برحق رہبر کو گم کر دینا خواہ کسی کی طرف سے کیوں نہ ہو بے شعوری ہے۔

 

آیت ۲۷

 

ترجمہ۔ اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ جہنم کے کنارے ٹھہرائے جائیں گے اور کہیں گے اے کاش کہ واپس پلٹائے جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور (حقیقی) مومنوں سے ہوتے۔

ایک نکتہ

قرآنی آیات کے مطابق دنیا کی طرف واپس پلٹائے جانے کی آرزو تین موقعوں میں ہو گی۔ ایک مرتے وقت دوسرے قبر میں اور تیسرے قیامت میں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: “رب ارجعونی لعلی اعمل صالحا” یعنی اے میرے رب! مجھے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ میں نیک اعمال کو بجا لاؤں (مومنون/۱۰۱) اور “ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظٰلمون” یعنی اے ہمارے رب تو ہمیں یہاں سے نکال! پس اگر ہم دوبارہ ایسے کام کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ (مومنون/۱۰۷)

پیام

۱۔ جب تک دنیا میں فرصت باقی ہے ایمان لے آؤ کیونکہ آخرت میں اس کی گنجائش نہیں ہو گی۔

۲۔ آیات خداوندی کی تکذیب، آخرت میں پشیمانی کا موجب ہو گی (لیتنا)

۳۔ آیات الٰہی کی تکذیب کا نتیجہ، جہنم کی آگ میں ڈالا جانا ہے (علی النار…لانکذب)

 

آیت ۲۸

 

ترجمہ۔ بلکہ وہ اس سے پہلے دنیا میں جو (کفر و نفاق) چھپایا کرتے تھے (اس دن) وہ ان کے لئے ظاہر ہو جائے گا اور اگر (وہ درخواست اور خواہش کے مطابق) دنیا میں پلٹا بھی دیئے جائیں پھر بھی جس چیز سے انہیں روکا گیا ہے دوبارہ انجام دیں گے اور یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔

ایک نکتہ:

قیامت کا دن، لوگوں کے مخفی رازوں کے ظاہر ہونے کا دن ہے، اور قرآن مجید نے بارہا اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے “بدالھم سیئات ما عملوا” ان کے برے اعمال ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے (جاثیہ/۳۳) اور “بداھم سیئات ماکسبوا” ان کے برے کرتوت ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے (زمر/۴۸)

پیام:

۱۔ قیامت کے دن تمام راز کھل جائیں گے (بدالھم)

۲۔ آخرت سے دنیا کی طرف واپسی محال ہے (ولوردوا…)

۳۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کے سدھرنے اور ٹھیک ہونے کی ہرگز امید نہیں ہے۔ اور اگر انہیں (ان کی اپنی درخواست کے مطابق) واپسی کی فرصت مل بھی جائے تو بھی اسی حالت میں رہیں گے جس میں وہ پہلے تھے۔ کیونکہ انسان بارہا مصائب و مشکلات میں کئی قسم کے فیصلے کرتا ہے لیکن ان سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے (لوردوا لعادوا)

۴۔ جب جھوٹ بولنا انسان کی عادت بن جائے تو قیامت میں بھی جھوٹ بولنے سے نہیں چوکے گا اور وہاں پر بھی جھوٹے دعوے کرے گا (لکاذبون) 6

 

آیت ۲۹، ۳۰

 

ترجمہ۔ اور انہوں نے کہا: ہماری اس دنیوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم (مرنے کے بعد) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

اور اگر تم اس وقت دیکھو جب وہ تمہارے پروردگار کے سامنے روکے ہوئے ہوں گے (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا آیا یہ (قیامت میں دوبارہ اٹھانا) حق نہیں ہے؟ تو وہ کہیں گے: ہمارے رب کی قسم ایسا ہی ہے! تو خدا فرمائے گا پس تم اپنے کفر کے ارتکاب کی وجہ سے عذاب کو چکھو۔

چند نکات:

۲۹ ویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کا معاد (قیامت) پر ایمان نہیں ہے اور اگر وہ باتوں کے بارے میں “ھٰوٴلآء شفعاوٴنا” (یہ ہمارے شفیع ہیں) کہا کرتے تھے تو ان کا یہ اعتقادِ شفاعت آخر (معاد) کے بارے میں نہیں بلکہ دنیوی شفاعت کے سلسلہ میں تھا (تفسیر المیزان)

۱۔ اسلام کے نزدیک انسان کے لئے چند قسم کی حیات (زندگی) ہے۔

۱۔ دنیوی حیات ۲ ۔ برزخ کی حیات۔ ارشاد ہوتا ہے “بل احیاء عند ربھم”

۳۔ حیات معنوی یا ہدایت۔ ارشاد ہوتا ہے “دعا کم لم یحییکم”

۴۔ اجتماعی و معاشرتی حیات۔ ارشاد ہوتا ہے “لکم فی القصاص حیٰوة”

۵۔ حیات طیبہ یا پاکیزہ زندگی (جو قلب سلیم اور قناعت کے زیرسایہ ملتی ہے)

۳۰ ویں آیت کے مطابق خداوند عالم مجرمین سے باتیں کرے گا، جبکہ بعض دوسری آیات ان کے ساتھ خدا کے بات کرنے کی نفی کرتی ہیں کہ “لایکلمھم اللہ” (خدا ان سے بات تک نہیں کرے گا) تو اس سے مراد یا تو یہ ہے کیفیتیں مختلف ہوں گی یا پھر ان سے کلام طیب نہیں کرے گا۔

پیام:

۱۔ مشرکین، زندگی کو صرف دنیاوی زندگی تک ہی محدود سمجھتے ہیں اور آخرت کی زندگی کے منکر ہیں۔

۲۔ مجرم افراد، ذلیل قیدیوں کی طرح گرفتار کئے جائیں گے (اذوقفوا)

۳۔ قیامت کے دن، پہلے مرحلہ میں قاضی بھی خود خدا ہو گا اور سوال بھی وہ خود ہی کرے گا (قال الیس ھذا بالحق)

۴۔ مجرمین کا اپنے جرائم کا اقرار و اعتراف، قیامت کے لرزا دینے والے مناظر میں سے ایک ہو گا۔ (قالوابلیٰ)

۵۔ قیامت کے دن گناہوں کا اعتراف بے سود ہو گا (فذوقوا)

 

                  آیت نمبر ۳۱ تا ۴۰

 

آیت ۳۱۔ ۳۲

 

ترجمہ۔ چکھو بیشک جن لوگوں نے قیامت کے دن خدا کی حضوری کو جھٹلا دیا وہ بڑے گھاٹے میں ہیں یہا ں تک کہ جب ان کے سر پر قیامت ناگہاں پہنچے گی تو کہنے لگیں گے اے ہے افسوس ہم نے تو اس میں بڑی کوتاہی کی (یہ کہتے جائیں گے) اور اپنے گناہوں کا پشتاوہ اپنی اپنی پیٹھ پر لادے جائیں گے دیکھو تو (یہ) کیا بوجھ ہے جس کو یہ لادے (لادے) پھر رہے ہیں اور (ئی) دنیاوی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ آخرت کا گھر (بہشت)پرہیزگاروں کے لئے اس سے بدرجہا بہتر ہے تو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

چند نکات:

۱۔ اگر دنیا، آخرت کی کھیتی قرار نہ پائے تو بازیچۂ  اطفال بن جاتی ہے ۔ اور لوگ اس میں بچوں کی مانند مال و مقام وغیرہ جیسے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ بالکل ویسے جس طرح کسی ڈرامہ میں کوئی شخص بادشاہ کا لباس پہن کر اس جیسا کردار ادا کرتا ہے کوئی وزیر کا ، کوئی کوتوال ، چوکیدار کا۔ لیکن جب ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے اور لباس اتر جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک نمائش اور خیال تھا اور بس!

۲۔ قرآن مجید کی دوسری آیات کے پیش نظر، زیرِ نظر آیت کو رہبانیت اور ترک دنیا کا دائمی نہیں سمجھنا چاہئے۔

۳۔ دنیا کو لہو و لعب سے تشبیہ دینے کی درج ذیل وجوہات ہیں۔

ا۔ دنیا بھی کھیل کے دورانیہ کی مدت کی مانند کوتاہ ہے۔

ب۔ جس طرح کھیل میں تفریح بھی ہوتی ہے اور تھکاوٹ بھی ، اسی طرح دنیا بھی تلخ اور شیریں حالات کا مجموعہ ہے۔

ج۔ اپنے مقصد تخلیق سے غافل لوگوں نے کھیل کو اپنا کاروبار بنا لیا ہے۔

پیام:

۱۔ خود خالقِ دنیا، آخرت سے غفلت اور دنیا کے ساتھ سرگرمی کو کھیل تماشہ سمجھتا ہے، ہم کیوں باور نہیں کرتے؟

۲۔ “انجام” پر نظر رکھنے والے کے لئے “آخرت” بہتر ہے۔ اور “طعام” پر نظر رکھنے والے کے لئے دنیا بہتر ہے (کیونکہ وہ اسی مستی میں مست ہے)

۳۔ آخرت کو مد نظر رکھے بغیر دنیا خطرناک ہے۔ اور جو دنیا آخرت کی کھیتی، آخرت کے لئے مقدمہ، آخرت کے لئے گزرگاہ اور آخرت کے لئے مقام تجارت ہو وہ میدان رُشدو ہدایت اور مقام نشو نما ہے۔

۴۔ آخرت صاحبان تقویٰ کے لئے کے لئے مطلق خیر ہے۔ ورنہ تو اس میں انہیں کوئی رنج ہو گا، نہ تو وہ عارضی ہو گی اور نہ ہی وہ صرف اوہام اور خیالات پر مبنی ہے۔

۵۔ عقل سے کام لینا، تقویٰ اختیار کرنا اور آخرت پر ایمان رکھنا یہ سب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ (للدارالاخرة، تیقون، تعقلون)

۶۔ تقویٰ، آخرت کی نعمتوں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ (خیر اللذینِ تیقون)

 

آیت ۳۳

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) البتہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں ان کی باتیں آپ کو غمگین کر دیتی ہیں وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ) ظالم لوگ (حقیقت میں) خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے بارے بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن آپ کو صادق اور امین سمجھتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ “اگر ہم ان کی تصدیق کریں گے تو قوم و قبیلہ میں ہماری توہین ہو گی اور ہماری ساکھ خراب ہو جائے گی۔” اس طرح سے وہ آیات الٰہی کی تکذیب کرتے تھے۔

پیام:

۱۔ ہادی برحق کو مخالفین کی تکذیب سے نہیں گھبرانا چاہئے۔

۲۔ حتیٰ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی تسلی، تشویق اور دلجوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔

۳۔ جن لوگوں پر زبان کے ذریعہ ظلم کیا جاتا ہے ان کی حمایت کی جانی چاہئے۔ (قد نعلم انہ…)

۴۔ پیغمبر کی تکذیب درحقیقت خدا کی تکذیب ہوتی ہے جس طرح کہ پیغمبر کی بیعت درحقیقت خدا کی بیعت ہوتی ہے۔

۵۔ بڑی بڑی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اپنی مشکل کو آسان سمجھئے۔ (لایکذبونک…بایات اللہ یجحدون)

۶۔ پیغمبر کے مخالفین درحقیقت خدا کا فریق مخالف ہیں لہٰذا غمگین نہیں ہونا چاہئے۔

۷۔ جھٹلائے جانے میں صرف پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکیلے فرد نہیں ہیں، آیات خداوندی کے مخالف لوگ تمام انبیاء کی تکذیب اور مخالفت کرتے رہے۔ (جیسا کہ بعد والی آیت میں ہے “کذبت رسل من قبلک”)

۸۔ آیات الٰہی اور اولیاء اللہ کی تکذیب کا نتیجہ ایک تو جھٹلانے والوں کا اپنی ذات پر ظلم ہوتا ہے کہ ایمان نہیں لاتے، دوسرے رسول خدا پر ظلم ہوتا ہے کہ انہیں غمگین اور محزون کرتے ہیں تیسرے مذہب و ملت پر ظلم ہوتا ہے اور چوتھے نسل انسانی پر ظلم ہوتا ہے۔

 

آیت ۳۴

 

ترجمہ۔ اور یقین جانئے کہ آپ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا، لیکن انہوں نے تکذیب اور مصائب پر صبر کیا یہاں تک کہ ان تک ہماری امداد پہنچ گئی۔ خدا کے کلمات (اور طریقہ کار) کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں، یقیناً پیغمبروں کی طرح کچھ خبریں آپ تک پہنچ چکی ہیں (اور آپ ان کی تاریخ سے واقف ہیں)

ایک نکتہ:

سابقہ انبیاء اور ان کا صبر ہمارے لئے نمونہ ہونا چاہئے، اور ہود، صالح اور لوط وغیرہ جیسے پیغمبروں کی امتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے جو انبیاء کو جھٹلانے کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئیں۔ انبیاء کا بھیجنا خدا کا کام ہے اور ان کی راہ کو اختیار کرنے میں بندوں کو آزادی حاصل ہے۔ البتہ وہ کفار کو سزا دیتا ہے اور انبیاء کی راہ حق کے لئے دعوت دینے میں امداد کرتا ہے۔

پیام

۱۔ حق کا سیدھا راستہ خطرات سے گھرا ہوا ہوتا ہے۔

۲۔ مشکلات اور شدائد میں ثابت قدم رہنے کا ایک بہترین اور اہم عنصر تاریخ اور خدا کے طریقہ کار سے آشنائی ہے

۳۔ رہبر کو اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ تمام دنیا اس کی اطاعت کرے گی۔

۴۔ کامیابی کی اصل شرط صبر ہے (فصبروا)

۵۔ حق کے دشمن حق کے خلاف کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرتے کبھی تکذیب کرتے ہیں اور کبھی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔ (کذبوا، اوزوا)

۶۔ حق، ہمیشہ کامیاب و کامران اور سرخرو ہوتا ہے (نصرہا) 7

۷۔ خدائی طریقہ کار میں کبھی تبدیلی نہیں آتی (لامبدل لکلمات اللہ) 8

۸۔ نصرت الہیٰ کے پہنچنے تک صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے (حتی اتاھم)

۹۔ گزشتہ لوگوں کے رنج اٹھانے اور تکلیفیں برداشت کرنے کی قدر کرنی چاہئے (ولقد جاء ک…)

۱۰۔ ہر شخص کو اپنے جیسے تاریخی نمونے پہچاننے چاہئیں (نبای المرسلین)

 

آیت ۳۵

 

ترجمہ۔ اور اگر ان (کفار) کی روگردانی اور بے اعتنائی تمہارے لئے گراں ہے (اور چاہتے ہو کہ ہر صورت میں انہیں راہ راست پر لے آؤ تو) اگر کر سکتے ہو کہ زمین میں نقب لگا کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی آیت لے آؤ (پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لے آئیں گے) اور اگر خدا چاہے تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دے، (لیکن یہ خدا کا طریقہ نہیں ہے) پس تم ہرگز جاہلوں میں سے نہ ہونا۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: کفار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتے تھے کہ “لن نومن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً او ترقی فی السماء” (بنی اسرائیل/۹۰) یعنی ہم آپ پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہیں کریں گے یا آسمان پر نہیں چڑھ جائیں گے۔

شاید یہ آیت ان مشرکین کے ان بے جا تقاضوں کی طرف اشارہ ہو کہ اگر آپ زمین میں نقب لگائیں یا سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس لئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ میرے پیغمبر! آپ کی دعوت اور تبلیغ میں کسی قسم کا عیب اور نقص نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ ضدی، ہٹ دھرم اور اکھڑ ہیں لہٰذا آپ ان کی ہدایت اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے اس قدر دل سوزی سے کام نہ لیں۔

پیام:

۱۔ حضرت رسول خدا لوگوں کی ہدایت کے لئے دلسوز اور ان کی روگردانی پر غمگین تھے۔ (کبر علیک)

۲۔ اسلامی تعلیمات میں کوئی نقص نہیں ہے، ساری خرابی ضدی اور ہٹ دھرم کفار کی طبیعتوں میں ہے۔

۳۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کر سکتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آزاد رہیں۔

۴۔ بہانہ گیر لوگوں کے ہر تقاضے کو پورا کرنا اور مبلغین کی بے صبری اور بے قراری جہالت ہے۔ (فلاتکونن من الجاھلین)

 

آیت۳۶

 

ترجمہ۔ صرف وہی لوگ ہی بات کو قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں، اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ دوبارہ اٹھائے گا اور پھر سارے کے سارے اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید نے بات کو قبول نہ کرنے والوں کو کئی مقامات پر “مردے” اور “بہرے” کی تعبیر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ منجملہ ان کے سورہ نمل/۸۰ اور سورہ روم/۵۲ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: “انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین” یعنی اے پیغمبر! نہ تو آپ مردوں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں اور نہ ہی بہروں کو خصوصاً جب وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں۔

پیام:

۱۔ انسان راہ کے انتخاب میں آزاد ہے (انما یستجیب…)

۲ حق کو سننا اور اسے تسلیم کرنا معنوی زندگی اور قلبی حیات کی علامت ہے۔

۳۔ جو حیات معنوی نہیں رکھتا اور حق کو تسلیم نہیں کرتا، مردہ ہے کیونکہ کھانے، پینے اور سونے اور چلنے، پھرنے والی زندگی تو حیوان بھی رکھتے ہیں۔

۴۔ اے میرے پیغمبر! حق کو قبول کرنے والے دل تمہارے ذمہ اور کفار میرے ذمہ! اور دیکھنا کہ قیامت کے دن ان سے کیسے نمٹتا ہوں!

 

آیت ۳۷

 

ترجمہ۔ اور (کفار نے) کہا: اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ (جسے ہم چاہتے ہیں) نازل نہیں ہوا؟ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ کوئی معجزہ اور نشانی اتارے لیکن ان (بہانہ گیروں) میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

دو نکات:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ: قریش کے کچھ روسأ بہانہ سازی کے طور پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتے تھے: معجزہ کے طور پر صرف قرآن کافی نہیں ہے، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت صالح وغیرھم جیسے معجزات لے آئیے! (از تفسیر مجمع البیان)

جو پیغمبر، گزشتہ انبیاء کے معجزات یاد دلا رہا ہے وہ ان کے جیسے معجزات بھی لا سکتا ہے، ورنہ لوگوں کو ان انبیاء کے معجزے اس وجہ سے یاد نہ دلاتا کہ مبادا لوگوں کا اس سے بھی اسی قسم کے معجزات کا تقاضا شروع ہو جائے۔

البتہ شیعہ اور سنی روایات کے مطابق رسول خدا نے قرآن کے علاوہ بھی کئی اور معجزات لوگوں کو دکھائے ہیں۔

معجزات دکھانے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ خداوند عالم اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ میرے اور رسول کے درمیان ایک خصوصی رابطہ ہے۔ اور میری قدرت حد و حساب سے باہر ہے۔ تاہم یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ جب بھی کوئی ضدی مزاج اور ہٹ دھرم شخص مطالبہ کرے تو فوراً معجزہ دکھا دیا جائے۔ البتہ بعض اوقات لوگوں کی درخواست کے مطابق بھی معجزہ دکھایا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ دشمنوں اور مخالفوں کے بہانوں پر کان نہ دھرو۔ (خداوند عالم فرماتا ہے “ولوداننا نزلنا…” یعنی اگر ہم لوگوں پر فرشتے اتار دیں یا ان سے مردے باتیں کرنے لگیں تو معاند لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (انعام/۱۱۱)

۲۔ معجزہ کا مقصد تو محبت اور دلیل قائم کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی ایرے غیرے کی فرمائش کو پورا کرنا۔

۳۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلسل معجزات بھی ضدی مزاج اور ہٹ دھرم لوگوں کی ہدایت کا سبب نہیں بن سکے بلکہ الٹا ان کے لئے خدائی قہر و غضب اور سزا اور عذاب کا موجب بن گئے۔

۴۔ جہاں خداوند قادر مطلق ہے وہاں حکیم علی الاطلاق بھی ہے۔ لہٰذا اس کی قدرت و ہاں پر جلوہ گر ہوتی ہے جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے (ان اللہ قادر…)

 

آیت ۳۸

 

ترجمہ۔ اور زمین پر کوئی چلنے (پھرنے) والا نہیں اور اپنے دو پروں کے ساتھ اڑنے والا کوئی پرندہ نہیں مگر یہ کہ وہ بھی تمہاری طرح امتیں ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا، پھر سارے کے سارے اپنے پروردگار کے ہاں اکٹھے کئے جائیں گے۔

دو نکات:

قرآن مجید کی پرندوں اور ان کی صفات پر مکمل توجہ ہے۔ اور لوگوں کو ہدایت کرنے کے لئے ان کی تخلیق، شعور اور صفات کی یاددہانی کرا رہا ہے، سورہ جاثیہ/۴ میں فرماتا ہے: و فی خلقکم وما یبث من دابة ایٰت للموٴمنین” یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اور زمین پر چلنے پھرنے والے جانوروں (کی تخلیق) میں بھی یقین رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

روایات میں بھی اور انسانی تجربوں میں بھی جانوروں کے ادراک اور شعور کے وافر نمونے ملتے ہیں۔

ممکن ہے کہ “کتاب” سے مراد “لوح محفوظ” بھی ہو۔

پیام:

۱۔ مخلوق کی تخلیق اور اس کے مقاصد کی تکمیل کے لئے قدرت خداوندی تمام موجودات عالم کے لئے یکساں ہے (ومامن دابة …ولا طائر…)

۲۔ با مقصد تخلیق اور اجتماعی زندگی کا نظم و انتظام صرف انسانوں ہی سے مخصوص نہیں (امم امثالکم)

۳۔ انسان ہوں یا جانور، سب کو خدا کی تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خداوند عالم اپنی مصلحت کے مطابق انہیں شعور عطا کرتا ہے، سب تسبیح خداوندی بجا لاتے ہیں، سب خدا کا رزق کھاتے ہیں اور سب کے اندر نظم و نظام ہے۔

۴۔ جو جو چیزیں انسان کی رشد و ہدایت اور تربیت کا سبب بنتی ہیں ان سب کو قرآن مجید میں بیان کر دیا گیا ہے۔ (مافرطنافی الکتٰب) چاہے وہ چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان وحی کے بغیر نہیں سمجھ سکتا۔ چاہے ایسی چیزیں ہیں جن کاجاننا انسان کے لئے واجب اور ضروری ہے اور خواہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں رہنما اصول کہا جاتا ہے۔

۵۔ انسان کے ساتھ چرند و پرند کی مماثلت اور حیوانی زندگی کو سمجھنے کے لئے خوب غور و فکر اور عمیق مطالعہ و تجربہ کی ضرورت ہے (امم امثالکم)

۶۔ حیوانات پر بھی ظلم نہ کرو اور نہ ہی ان کے حق میں کوتاہی کرو کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہیں (امم امثالکم) (ازتفسیر قرطبی)

۷۔ قرآن مجید کامل ترین کتاب ہے (مافر طنافی الکتٰب من شیٴ) 9

۸۔ معاد اور حشر صرف انسانوں ہی سے مخصوص نہیں (ثم امی ربھم یحشرون)

حیوانات کا شعور:

آیات و روایات اور تجربوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شعور صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

۱۔ حضرت سلیمان پیغمبر اپنے لشکر کے ساتھ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا: “جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں سلیمان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر دے۔” (نمل/۱۸) یہ ٹھیک ہے کہ دشمن کی پہچان چیونٹیوں کے عزیزہ (فطرت ) میں شامل ہے لیکن یہ شناخت کہ یہ سلیمان ہیں اور ان کے ساتھ ان کا لشکر ہے یہ بات عزیزہ سے بالاتر ہے۔

۲۔ ہد ہد فضا کی بلندیوں سے زمین پر رہنے والے بندوں کے شرک سے مطلع ہوا اور سلیمان کے پاس آکر اس کا ذکر کیا کہ “سبا”کے رہنے والے کدا پرست نہیں ہیں ، اس کے ذمہ ایک کام لگایا جسے اس نے انجام دیا ہے۔ شرک اور توحید کی معرفت کہ یہ شرک بری چیز ہے، اس بات کی خبر حضرت سلیمان پیغمبر تک پہنچانا اور پھر پیغام رسانی کی خصوصی ڈیوٹی انجام دینا یہ سب کچھ عزہزہ سے بالاتر امور ہیں۔

۳۔ ہد ہد کا غائب ہو جانے کے بعد واپس آ کر غیر حاضری کی معقول اور قابلِ قبول دلیل کرنا عزہزہ سے بالاتر شعور کی دلیل ہے۔

۴۔ خدا فرماتا ہے کہ “تمام موجودات ِ عالم خدا کی تسبیح پڑھتے ہیں لیکن تم اسے نہیں سمجھتے” “تسبیح تکوینی” کو تو ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن دوسری تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔

۵۔ قرآن مجید میں تمام موجودات کا خدا کے لئے سجدہ ریز ہونے کا ذکر ہے۔

۶۔ بعض جانوروں ازآنجملہ کتے میں اپنے مالک اور اس کے بچوں کے لئے وفاداری کا عنصر۔ اس کے خصوصی شعور کی علامت ہے۔

۷۔ جرائم خصوصاً منشیات اور اسمگلنگ کی دریافت کے لئے پولیس اور فوج کے کتوں کی تربیت یا شکار اور اشیاء کی خریداری کے لئے انہیں سدھایا جانا ان کے خاص شعور اور آگاہی کی دلیل ہے۔

۸۔ اسلام نے ایک جانور کودوسرے جانوروں کے سامنے ذبح کرنے سے منع کیا ہے۔

۹۔ حضرت سلیمان کے لشکر کی مشقوں میں پرندوں کی شرکت کا تذکرہ ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “وحئی لسلیمٰن جنودہ من الجن و الانس والطیر…” یعنی حضرت سلیمان کے پاس جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے جاتے…(نمل/۱۷)

۱۰۔ پرندے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور حضرت سلیمان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ “ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے “علمنا منطق الطیر” (نمل/۱۶)

۱۱۔ بعض روایات میں بعض جانوروں کے لئے فضلیت اور درجات کا ذکر ہے، مثلاً جو اونٹ تین بار (عازمین حج کو لے کر) مکہ مکرمہ جائے تو وہ بہشتی ہے۔ (تفسیر صافی)

اسی طرح حضرت امام زین العابدین علیہ اسلام فرماتے ہیں جو اونٹ سات سال تک صحرائے عرفہ میں رہے وہ بہشتی جانوروں میں سے ہو گا۔ (تفسیر نور الثقلین)

۱۲۔ “واذا الوحوش حشرت” یعنی جب وحشی جانوروں کو جمع کیا جائے گا (تکویر/…ہ) یہ آیت قیامت کے دن جانوروں کے محشور ہونے کو بیان کر رہی ہے۔

۱۳۔ “کل قد علم صلاة و تسبیحہ” یعنی سب کے سب اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتے ہیں (نور/۴۱) یہ آیت انسان کے علاوہ دوسری موجودات کے بارے میں ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات بھی شعوری طور پر عبادت کرتے ہیں۔

 

آیت ۳۹

 

ترجمہ۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ تاریکیوں میں بہرے اور گونگے ہیں۔ خداوند جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔

ایک نکتہ:

اگرچہ ہدایت اور گمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن انسان کا اپنا ارادہ اور اس کے لئے تیار کی جانے والی راہیں بھی موثر ہوتی ہیں، اور خدا کا کام بھی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ موجب ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہدایت کا “والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا” اور خدا کے بندوں پر ظلم سبب ہوتا ہے گمراہی کا “یضل اللہ الظالمین”۔

پیام:

۱۔ کفر اور عناد ایسی ظلمت اور تاریکی ہے جو نجات کی راہوں سے دوری کا سبب بن جاتی ہے (فی الظلمات)

۲۔ حق کو چھپانا “گونگا پن” ہے اور حق کو نہ سننا “بہرا پن” (صم و بکم)

۳۔ لوگوں کا گمراہ کرنا اور ان پر خدا کا غضب نازل کرنا خود ان کی تکذیب کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (کذبوا…یضللہ)

۴۔ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے حق کے سننے والے کانوں، حق بات کہنے والی زبان اور باطن کی روشنی درکار ہوتی ہے۔

 

آیت ۴۰

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور بھی کیا ہے کہ اگر (دنیا میں) خدا کا عذاب تمہارے پاس آ جائے یا قیامت (کا دن) تمہیں آلے تو کیا (اپنی نجات کے لئے پھر بھی ) غیر اللہ کو پکارو گے؟ اگر تم سچے ہو تو ۔

ایک نکتہ:

اگرچہ آیت کا خطاب کفارسے ہے جو معاد سے انکاری ہیں ، لیکن یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے بعض کا قیامت پر عقیدہ ہے ۔ علاوہ ازیں ہو سکتا ہے کہ “اتتکما الساعتہ” میں “ساعت سے مراد موت کا وقت یا قیامت سے پہلے ہولناک حوادث کا ظہور ہو۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ فرض کرنے کی صورت میں ا یمان کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

پیام:

ا۔ حادثات اور مشکل حالا ت میں جب تمام پردے اٹھ جاتے ہیں تو انسان خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے (اغیراللہ تد عون

 

                  آیت نمبر ۴۱ تا ۵۰

 

آیت۴۱

 

ترجمہ۔ بلکہ (خطرناک حالات میں تو ) صرف اسی کو پکارتے ہو اور اگر وہ چاہے تو جس بات کے لئے تم اسے پکارتے ہو وہ اسے دور کر دے ، اور تم بھی جسے خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اسے بھول جاؤ۔

پیام:

۱۔ فطرت ، خدا کی معرفت کا ایک ہموار راستہ ہے (بل ایاہ تدعون)

۲۔ خلوص پر مبنی دعا، دنیا میں خطرات سے نجات کا بہترین راستہ ہے (کافر کی دعا قیامت کے دن نہیں سنی جائے گی جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے “وما دعاء الکفرین الافی ضلٰل” (رعد/۱۴)

ٓ۳۔ آخر صرف خطرناک حالات میں ہی خداوند ذوالجلال کی طرف کیوں توجہ کرتے ہو؟ اور اپنے باطل خداؤں کی طرف کیوں نہیں جاتے 10آخر کس لئے کسی قسم کی خاصیت سے عاری خداؤں کے پیچھے لگے ہوئے ہو؟ اور عارضی خداؤں کی پوجا کرتے ہو جنہیں مصیبت کے وقت بھلا دیتے ہو؟

۴۔ خدا کے علاوہ دوسری تمام طاقتیں معمول کے حالات میں جلوہ نمائیاں کرتی ہیں لیکن سخت اور خطرناک حالات میں سب کچھ فراموش ہو جاتا ہے۔11

۵۔ خداوند تعالیٰ ہر خطرے کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے خواہ وہ دنیوی ہو یا (اخروی لیکن یہ اس کے ارادے اور حکمت سے مشروط ہے (فیکئسف۔۔۔۔ان شاء)

۶۔ عذاب کو دور کرنا یا تو اتمام حجت کے لئے ہوتا ہے یا پھر حالات کی تبدیلی کی بناء پر ۔ 12

 

آیت ۴۲

 

ترجمہ۔ اور یقیناً ہم نے تجھ سے پہلی امتوں کی طرف (پیغمبروں کو) بھیجا ، پس ہم نے انہیں تنگدستی اور بیماری میں مبتلا کر دیا تا کہ گڑ گڑاٹیں اور سر تسلیم خم کریں۔

ایک نکتہ:

“بآساء” کا معنی ہے جنگ، فقر و تنگدستی ‘ قحط ‘ سپلاب ‘ زلزلہ اور متعدی امراض کی مشکلات ۔ اور “ضرآئکا معنی ہے غم و غصہ ‘ آبروریزی ‘ جہالت اور نقصان۔

پیام:

۱۔ انبیاء کی بعثت ہو یا اتمام حجت دونوں ہی تاریخ کا حصہ اور  خدائی طریقہ کار میں شامل ہیں (الی المم)

۲۔ گزشتہ لوگوں کی تاریخ ، آئندہ والوں کے لئے باعث عبرت ہے۔ (قبلک)

۳۔ تربیت اور ہدایت و رہنمائی کے لئے کبھی سختی سے بھی کام لینا پڑتا ہے (اخذ نا ھم)

۴۔ مشکلات ‘ خدا کی طرف توجہ کرنے کا راستہ اور مغرور وسر کش افراد کو ٹھیک کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں(یتضرعون)

۵۔ ضروری نہیں کہ ہر آسائش لطف خداوند ی ہوا ور رنج و غم خدا کا قہر و غضب ہو (لعلھم یتضرعون)

۶۔ تمام سرکش، ضدی اور ہٹ دھرم لوگ دباؤ پڑنے پر سیدھے نہیں ہو جاتے (لعلھم)

۷۔ اے پیغمبر ! تمام انبیاء کرام کو ضدی اور اکھڑ مزاج لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

۸۔ مشکلات میں گھر جانے کے موقع پر دست نیاز خدا ہی کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ 13

 

آیت ۴۳

 

ترجمہ۔ پس جب ہماری طرف سے ان کو ناگواری نے آ لیا تو انہوں نے تضرع اور زاری کیوں نہیں کی؟ لیکن ان کے دل پتھر اور سخت ہو چکے ہیں۔ اور وہ جو کام کرتے ہیں شیطان اسے ان کے سامنے زیبا کر کے پیش کرتا ہے۔

پیام:

۱۔ خبردار اور ہوشیار کرنے کے باوجود بھی بے پروائی سے کام لینا سنگدلی کی علامت ہے۔ (قست)

۲۔ ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں پر نہ تو تبلیغ اثر کرتی ہے اور نہ ہی تنبیہ (جاء ھم باسنا)

۳۔ شیطان کا ان کے کرتوتوں کو زیبا کر کے پیش کرنا ان کے غرور و تکبر کا سبب بن جاتا ہے (زین لھم)

 

آیت ۴۴

 

ترجمہ۔ پس جو نصیحتیں انہیں کی گئی تھیں جب انہوں نے ان کو بھلا دیا تو ہم نے ان کے لئے تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے (تاکہ وہ آسائش اور مادیات میں پوری طرح غرق ہو جائیں) حتیٰ کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے اچانک انہیں (سز اکی) گرفت میں لے لیا اور وہ یکدم غمگین اور نا امید ہو گئے۔

ایک نکتہ:

آیت میں لفظ “مبلسون” آیا ہے جو “ابلاس” کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے “مایوسی کے ہمراہ غم و اندوہ” یعنی وہ کیفیت جو مجرم لوگوں کی عدالت میں ان کی شنوائی نہ ہونے پر ہوتی ہے۔ (تفسیر المیزان)

پیام:

۔ آسائش پر مبنی زندگی ہمیشہ رحمت خداوندی کی علامت نہیں ہوا کرتی، کبھی سزا کا موجب بھی بن جاتی ہے (نسوا۔ فتحنا) ۱۴

۲۔ مجرمین کو مہلت دینا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے آسائش کے وسائل فراہم کرنا خدا کا ایک دیرینہ طریقہ کار چلا آ رہا ہے۔

۔ دنیا اور اس سے بہرہ برداری نعمت بھی ہو سکتی ہے اور عذاب بھی، خواہ یہ کسی کو بھی ملے۔ جیسا کہ سورہ اعراف/۹۶ میں ارشاد ہوتا ہے “ولو ان اھل القریٰ امنوا و اتقو الفتحنا علیھم برکات من السماء و الارض” یعنی اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیزگار بنتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے۔

یہاں ایمان اور تقویٰ کو برکات الٰہی کا موجب گردانا گیا ہے جبکہ زیر بحث آیت میں دنیا کو خدا کا عذاب اور نقمت بتایا گیا ہے۔ ۱۵

۵۔ موت ہو یا خدا کا قہر و غضب اچانک آتے ہیں لہٰذا ہمیشہ آمادہ رہنا چاہئے (بغتةً)

۶۔ فیصلے جلدی نہ کر لیا کرو اور نعمتوں کو خدا کا لطف و مہربانی نہ سمجھ لیا کرو۔

۷۔ عیاش لوگوں کی خوشی کے نعرے بہت جلد مایوسی کی فریادوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ (فرحوا … مبلسون)

 

آیت ۴۵

 

ترجمہ۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا اور ان کی نسل ختم ہو گئی اور حمد خاص ہے عالمین کے رب کے لئے۔

پیام:

۱۔ ظلم، ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ (قطع)

ظلم کا اثر نسلوں پر پڑتا ہے۔ (دابر)

۳۔ ظالموں کا انقراض اور ان کی تباہی قطعی، حتمی اور یقینی ہے (فقطع دابر) یا جس طرح کہ ایک اور آیت میں ہے “فہل تری لھم من باقیہ” ان میں سے تو کسی کو باقی دیکھتا ہے” (الحاقہ/۸)

۴۔ ظالموں کی تباہی پر خدا کا شکر کرنا چاہئے (فقطع…والحمد للہ)

۵۔ ظالموں کی نابودی درحقیقت ان کے ظلم کا انجام اور اس کی سزا ہوتی ہے ورنہ اس پر خدا کی حمد نہ کی جاتی (والحمدللہ)

۶۔ ظالموں کی ہلاکت، دوسرے لوگوں کے لئے تربیت کا موجب ہوتی ہے (رب العالمین

 

آیت ۴۶

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور کیا ہے کہ اگر خداوند عالم تمہارے کانوں اور تمہاری آنکھوں کو اپنی گرفت میں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ کچھ بھی نہ سمجھ سکو) تو خدا کے علاوہ کون معبود ایسا ہے جو تمہیں یہ سب کچھ واپس لوٹا دے؟ دیکھو کہ ہم آیات کو کن طریقوں سے بیان کرتے ہیں، پھر بھی وہ (ایمان لانے اور بات کو تسلیم کرنے کی بجائے ) منہ پھیر لیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

9; سورت کے آغاز سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ نے تقریباً دس مرتبہ سوالیہ انداز میں مخالفین کو دعوت فکر دی ہے۔

پیام:

۱۔ دی ہوئی نعمتوں کا واپس لینا خدا کے لئے آسان ہے۔ لہٰذا ہمیشہ خبردار رہو (اخذسمعکم)

۲۔ ایک تو تخلیق کائنات ہی خدا کا کام ہے اور دوسرے کائنات کو اپنے طور پر چلانا اور ہر لمحہ اس کی حفاظت، پروردگار عالم کی نعمت ہے (اخذسمعکم)

۳۔ خدا کی نعمتوں کے بارے میں غور و فکر اور ان نعمتوں میں تغیر و تبدل کا فرض کرنا، معرفت خداوندی اور نعمت شناسی کی راہوں میں سے ایک راہ ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ:

اگر درخت سرسبز نہ ہونے پائیں (لونشاء لجعلناہ حطامًا۔ واقعہ/۶۰)

اگر پانی کڑوا اور شور ہو جائے (لونشاء لجعلناہ اجاجا۔ واقعہ/۷۰)

اگر پانی سارے کا سارا زمین کے اندر چلا جائے (ان اصبح ماؤ کم غورا۔ ملک/۳۰)

اگر ہمیشہ ہی رات یا دن برقرار رہیں (ان جعل علیکم اللیل سرمدا۔ قصص/۷۱)

اگر یہ ہو جائے اور وہ ہو جائے تو کیا ہو گا؟ یہ سب خدا کی نعمتیں ہیں

۴۔ ضدی مزاج لوگوں کے لئے ہر طرح کا بیان بے اثر ہوتا ہے (نصرف الایات۔۔ (یصدفون)

 

آیت ۴۷

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور کیا ہے کہ خدا کا عذاب اچانک یا آشکارا تمہیں آ لے تو کیا ظالم لوگوں کے علاوہ کوئی اور ہلاک ہو گا؟

دو نکات:

9; اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف ظالم لوگ ہی عذاب الٰہی سے ہلاک ہوں گے، جبکہ ایک اور آیت میں ہے کہ “واتقوافتنة لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصة” یعنی اس فتنہ سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا (بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا) (انفال/۲۵) اس آیت میں فتنہ کی لپیٹ اور عذاب کے شعلے ہر ایک کے لئے بیان ہوئے ہیں اور اس سے ہر ایک کو خبردار کیا گیا ہے۔ تو پھر ان دونوں آیات کو کیونکر جمع کیا جا سکتا ہے؟ تفسیر فخر رازی اور مجمع البیان میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ “ہر فتنہ ہلاکت نہیں ہوتا، اور تلخ اور ناگوار حوادث میں جو چیز ظالموں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے وہ ہلاکت اور خدائی قہر ہے۔ اور جو چیز مومنین کو پہنچتی ہے وہ امتحان اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوتی ہے”

9; شاید کہ “بغتة” سے مراد رات اور “جھرة” سے مراد دن ہو۔ جیسا کہ ایک اور مقام پر فرماتا ہے “اتاھا امرنا لیلا اونھارا” یونس/۲۴۔ تفسیر آلوسی)

9; اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ “بغتة” سے مراد ایسا عذاب ہو جو کسی مقدمہ کے بغیر آئے اور “جھر ة” سے مراد وہ عذاب ہو جس کے آثار پہلے دن سے ظاہر ہوں جیسے قوم عاد پر برسنے والے خطرناک عذاب کے بادل تھے، جس کے متعلق ارشاد الٰہی ہے “قالو اھذا عار ض ممطرنا بل ھوما استعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم ” (احقاف/۲۳) یعنی وہ لوگ کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، وہ آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱۔ اپنی سرکشی اور اس پر تمہیں ملنے والی خدا کی مہلت سے مغرور نہ ہو جانا، ہو سکتا ہے کہ خدا کا عذاب اچانک ہی تم پر نازل ہو جائے (بغتة)

۲۔ جب خدا کا عذاب نازل ہو گا تو تباہی اور ہلاکت یقینی ہو جائے گی جسے نہ تو تم ٹال سکو گے اور نہ ہی کوئی اور۔ (عذاب اللہ۔ یھلک)

۳۔ خدا کی طرف سے ملنے والی سزائیں عادلانہ اور منصفانہ ہوتی ہیں اور وہ بھی لوگوں کے ظلم کرنے کی وجہ سے۔ (یھلک۔ ظالمون)

۴۔ انبیاء علیہم اسلام کی دعوت سے انحراف اور روگردانی ظلم ہے (یصدفون۔ الظالمون)

 

آیت ۴۸، ۴۹

 

ترجمہ۔ ہم، رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں پس جو لوگ ایمان لے آتے ہیں اور اپنی اصلاح کرتے ہیں (نیک بن جاتے ہیں) تو ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔

9; اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تو ان کے فسق کی وجہ سے عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

ایک نکتہ:

9; متعدد آیات میں اولیاء اللہ کے بارے میں ہے کہ ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔ (لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون) جبکہ دوسری طرف آیات قرآنی میں جو خوف خدا اولیاء اللہ کا خاصہ بتایا گیا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں “انا نخاف من ربنا…” یعنی ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (دہر/۱۰) تو ان دونوں طرح کی آیات کو کیونکر جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو ا س کا جواب یہ ہے کہ: اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے بیمار آپریشن اور معالجہ سے ڈرتا ہے لیکن ڈاکٹر اسے اطمینان اور تسلی دیتا ہے کہ “گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں” تو گھبرانے کی ضرورت کا نہ ہونا، بیمار کے اندیشوں سے منافات نہیں رکھتا۔

پیام:

۱۔ تمام انبیاء کا مجموعی طریقہ کار ایک جیسا تھا (مبشرین ومنذرین)

۲۔ ہدایت اور تربیت، بیم و امید اور سزا و جزا کے دو اصولوں پر استوار ہے (مبشرین، منذرین)

۳۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ اور ایمان کے بغیر عمل بیکار ہے (آمن و اصلح)

۴۔ مومن کا کام ہمیشہ اصلاح کے رخ پر ہونا چاہئے (آمن و اصلح)

۵۔ صرف صالح ہونا ہی کافی نہیں، مصلح ہونا بھی ضروری ہے (اصلح)

۶۔ ایمان اور عمل دونوں مل کر انسان کا بیمہ کرتے ہیں (لاخوف علیھم ولا ھم یخزنون)

۷۔ فسق، عذاب الٰہی کا موجب بن سکتا ہے (بما کانوا یفسقون)

 

آیت ۵۰

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں۔ اور میں غیب بھی نہیں جانتا اور تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ (اور اے پیغمبر یہ بھی) کہہ دو کہ آیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ آیا تم کچھ غور و فکر نہیں کرتے؟

ایک نکتہ:

9; اس آیت میں پیغمبر خدا کی غیب دانی کی نفی کی گئی ہے لیکن خدا کی طرف سے غیب پر آگاہی آنجناب کو ضرور عطا ہوئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بارہا حضرت یوسف ، جناب مریم، حضرت نوح اور دیگر انبیاء کرام علیہم اسلام کے بارے میں آپ سے فرمایا ہے کہ: ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک” یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔

9; اسی طرح اللہ تعالیٰ سورہ جن کے آخر میں فرماتا ہے: “خداوند عالم کے پاس غیب کا علم ہے جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں کرتا” پس علم غیب مخصوص تو خدا ہی سے ہے لیکن اگر وہ چاہے تو اس میں سے اپنے اولیاء کو بھی عطا کر دیتا ہے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر خدا کی صداقت تو اس حد تک ہے کہ اگر ان سے کوئی قدرت سلب ہوتی ہے تو اس کا بھی وہ لوگوں میں اعلان کرتے ہیں (قل لا اقول)

۲۔ انبیاء علیہم اسلام کا کام خرافات سے نبرد آزمائی اور جھوٹی شخصیت بنانے کے خلاف جنگ ہے (متن آیت)

۳۔ انبیاء کرام سے بے جا توقعات وابستہ نہ رکھو (لا اقول لکم عندی خزائن اللہ)

۴۔ رہبر کی زندگی، اس کا ہدف اور طریقہ کار عوام پر واضح ہونا چاہئے۔

۵۔ “جو کچھ تم ہو” لوگوں کو بھی وہی باور کراؤ اورایسا نہ ہونے دو کہ لوگ تمہیں تمہاری اصلی حالت سے بڑھ کر سمجھنے لگیں )(اگر نامور شخصیات اپنی ذات سے جھوٹے القاب کی خود نفی کریں تو غلو اور گمراہی کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے)

۶۔ انبیاء کرام روپے پیسے کا لالچ دے کر لوگوں کو خدا کی طرف نہیں بلاتے اور نہ ہی دھونس اور دھاندلی سے کام لیتے ہیں تاکہ لوگ ڈر کر یا کسی لالچ میں آ کر ان کے پاس اکٹھے نہ ہوں۔ (اور لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اگر پیغمبر خدا کے ساتھ ہوں گے تو علم غیب یا خدا ئی خزانہ سے ان کی مشکلات حل ہو جائیں گی)

۷۔ پیغمبر خدا اپنی شخصی زندگی یا حکومت چلانے کے لئے دوسرے لوگوں کی طرح عام روش پر چلتے ہیں علم غیب اور خدائی خزانے سے کام نہیں لیتے۔ البتہ اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے استفادہ کریں)

۸۔ اگرچہ پیغمبر خدا کے پاس خدائی خزانہ یا علم غیب نہیں ہوتا لیکن چونکہ ان پر “وحی” ہوتی ہے لہٰذا ان کی پیروی لازمی ہے۔

۹۔ پیغمبر کا کام نہ ان کے خیال اور سلیقہ کی بنا پر ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرتی میلان اور ماحول سے متاثر ہوتا ہے بلکہ صرف اور صرف وحی کی اتباع اور پیروی ہوتا ہے (ان اتبع الاما یوحیٰ الی)

۱۰۔ انبیاء کی اتباع بصیرت ہے اور ان سے روگردانی اندھاپن۔ (ھل یستوی الاعمیٰ والصبیر)

۱۱۔ صحیح فکر انسان کو انبیاء کی پیروی پر آمادہ کرتی ہے، اور بہانوں اور توقعات کو رد کرتی ہے (افلاتتفکرون)

۱۲۔ انبیاء علیہم السلام کی رفتار اور ان کی گفتار ہمارے لئے حجت ہوتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد وحی پر استوار ہوئی ہے۔ (ان اتبع الا مایوحی الی)

۱۳۔ لوگوں سے تمام انبیاء کا رویہ ایک جیسا رہا ہے، حضرت نوح علیہ اسلام نے بھی لوگوں سے یہی باتیں کی تھیں۔ ملاحظہ ہو سورہ ہود آیت ۳۱۔

 

                  آیت نمبر ۵۱ تا ۶۰

 

آیت ۵۱

 

ترجمہ۔ اور اس (قرآن) کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈراؤ جو اپنے پروردگار کے حضور محشور ہونے سے ڈرتے ہیں (کیونکہ) خداوند عالم کے علاوہ ان کا نہ تو کوئی ولی و سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا۔ ہو سکتا ہے کہ متقی بن جائیں۔

ایک نکتہ:

9; قرآن مجید میں بارہا پیغمبر خدا سے کہا گیا ہے کہ آپ کا ڈرانا صرف ان لوگوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ مثلاً “انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمٰن” یعنی تم تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت کو مانے اور ان دیکھے، خد اسے ڈرے ( یٰس/۱۱) اور “انما تنذرالذین یخافون ربھم بالغیب” یعنی تم تو بس ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو ان دیکھے، خدا سے ڈرتے ہیں (فاطر/۱۸)

پیام:

۱۔ لوگوں کی آمادگی، ہدایت انبیاء کے موثر ہونے کی شرط ہے (الذین یخافون)

۲۔ معاد (قیامت) کا عقیدہ تقویٰ کی کلید ہے (یخافون ان یحشروا…لعلھم یتقون)

 

                آیت ۵۲

 

ترجمہ۔ جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں جبکہ وہ اس کی رضامندی کے طلبگار ہوتے ہیں انہیں اپنے پاس سے نہ دھتکارو۔ ان کے حساب سے تمہارے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے اور تمہارے حساب سے ان کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے کہ اگر تم نے انہیں دھتکار دیا تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

چند نکات:

9; اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مالدار کفار نے جب دیکھا کہ عمار، بلال اور خباب وغیرہ جیسے غریب لوگ حضرت رسول خدا کے اطراف جمع رہتے ہیں، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیش کش کی کہ آپ ان لوگوں کو اپنے اطراف سے ہٹا دیں تاکہ ہم آپ کے پاس آیا کریں۔ بقول مفسر تفسیر “المنار” خلیفہ دوم نے یہ تجویز پیش کی کہ کفار کی اس پیشکش کو آزمائش کے طور پر قبول کر لیا جائے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ملتی جلتی سورہ کہف کی ۲۸ ویں آیت بھی ہے۔

9; تفسیر قرطبی میں منقول ہے کہ اس آیت کے نازل ہو جانے کے بعد پیغمبر خدا غریبوں کی مجلس سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ وہ نہ اٹھ جاتے۔

9; صبح و شام خدا کو پکارنے سے مراد شاید روزانہ کی نمازیں ہیں (تفیسر المیزان)

پیام:

۱۔ مخلص، فقیر اور مجاہد افرادی قوت کی حفاظت کرنا سرمایہ دار کفار کے امکانی جذب کرنے سے زیادہ اہم ہے (لاتطرد)

۲۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امتیازات ‘نسل پرستی‘ تفوق طلبی اور ساز باز کے مخالف ہے (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۳۔ “ایمان” کے ساتھ کوئی بھی امتیاز مقابلہ نہیں کر سکتا (یریدون وجھہ)

۴۔ انبیاء کے طرفداروں کی غالب اکثریت غریب اور فقیر لوگوں کی تھی (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۵۔ اسلا م میں “مقصد کا حصول” ہر قسم کے ذرائع اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کفر کے سرداروں کو اپنانے کے لئے موجودہ مسلمانوں کی توہین نہیں کرنی چاہئے (لاتطرد)

۶۔ بہانہ بنانے والے اگر رہبر اور اس کے مسلک پر عیب نہیں لگا سکتے تو اس کے پیروکاروں یا پیروکاروں کی اقتصادی حالت کی عیب جوئی کرنے لگ جاتے ہیں (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۷۔ معیار، افراد کی موجودہ حالت ہے۔ اگر غریب مومن اس سے پہلے کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی کر چکے ہیں تو اس کا حساب کتاب خدا ہی کے سپرد ہے۔

۸۔ سب کا حساب خدا کے سپرد ہے، حتی کہ رسول اکرم بھی کسی کے گناہوں کے بخشنے یا سزا دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں (برخلاف دین مسیحیت کے کہ ان کے لاٹ پادری گناہوں کو بخش دیتے ہیں) (ماعلیک)

۹۔ مخلص غریب اور فقیر افراد کو دھتکار دینا ظلم ہے (فتکون من الظالمین)

۱۰۔ پیغمبر اکرم کے لئے بھی حساب و کتاب ہے (وما من حسابک)

 

آیت ۵۳

 

ترجمہ۔ اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی دوسرے بعض افراد کے ذریعہ آزمائش کی ہے تاکہ وہ (استہزا کے طور پر) کہیں، آیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہمارے درمیان میں سے ممنون فرمایا ہے؟ آیا خداوند عالم شکر ادا کرنے والوں کے حالات زیادہ نہیں جانتا؟

دو نکات:

9; قرآن مجید میں بارہا سرمایہ داروں کی بلند پروازیوں اور اونچی اونچی توقعات کا ذکر آیا ہے اور اس سلسلہ میں ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مثلاً ان کی ایک توقع یہ تھی کہ قرآن مجید ان پر ہی نازل ہوتا چنانچہ قرآن کہتا ہے: لاء القی الذکر علیہ من بیننا” یعنی آیا ہم سرمایہ داروں کے درمیان وحی اس پر نازل ہوئی؟ (قمر/۲۵) اور سورہ زخرف/۳۱ میں ہے وہ کہتے تھے “لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم” یعنی یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی ایک بڑے آدمی پر نازل کیوں نہیں ہوا؟۔

9; حقیقی مومن، نعمت ایمان پر شکر ادا کرتا ہے۔ چنانچہ کسی شخص نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے فقر و فاقہ اور غربت کی شکایت کی، امام علیہ اسلام نے اس سے فرمایا: “تمہاری نگاہوں میں مالدار ترین شخص کون ہے؟ “اس نے کہا: “ہارون الرشید” امام نے اس سے فرمایا: ” آیا اس بات کے لئے تیار ہو کہ اپنا ایمان دے کر اس کی ثروت حاصل کرو؟” اس نے عرض کیا: “نہیں! “فرمایا! “پس تو تم ہی سب سے زیادہ تونگر ہو! اس لئے کہ تمہارے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے تم اس کے مال و دولت کے بدلے میں نہیں دینا چاہتے!” (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱۔ طبقاتی تقسیم بعض اوقات، امتحان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی عادات و خصائل کے پروان چڑھنے کا موجب بھی! امیروں کا امتحان غریبوں کے ذریعہ ہوتا ہے (فتنا بعضھم ببعض)

۲۔ امیر لوگ، غریبوں کا مذاق اڑاتے ہیں (أ ھولا ءٓ)

۳۔ غریب مومن، خدا کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں (من اللہ علیھم)

۴۔ انبیاء کرام علیہم السلام خدا کے شکرگزار بندوں کا واضح نمونہ ہوتے ہیں (بالشاکرین)

۵۔ غریبوں پر خدا کا احسان، ان کے شکر کا نتیجہ ہوتا ہے ( من اللہ۔ شاکرین)

۶۔ کفار کے توہین کرنے کا جواب، مومنین کو خدا کی طرف سے نوازشات کی صورت میں دیا جاتا ہے (اھوٴلاء۔ اعلم بالشٰکرین)

۷۔ خداوند اپنی حکمت کے مطابق کام کرتا ہے، لوگوں کی توقعات کے مطابق نہیں، (لیس اللہ باعلم بالشاکرین)

 

آیت ۵۴۔ ۵۵

 

ترجمہ۔ جب وہ لوگ تمہارے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو (ان سے) کہو تم پر سلام ہو۔ تمہارے پروردگار نے اپنی ذات پر رحمت واجب کر دی ہے کہ تم میں سے جو شخص نادانستہ طور پر کوئی برا کام انجام دیتا ہے اور پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو یقیناً خدا وند عالم بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

9; اور ہم اسی طرح (لوگوں کے لئے) تفصیل کے ساتھ آیات کو بیان کرتے ہیں تاکہ حق آشکار اور) گناہگاروں کا راستہ واضح ہو جائے۔

دو نکات:

9; اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کچھ گنہگار لوگ حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے “ہم نے بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں!” یہ سن کر آنحضرت خاموش ہو گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

9; اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ “کتب علی نفسہ الرحمة” کا جملہ ارشاد فرمایا ہے۔ ایک تو اسی دنیا میں سرگرم رہنے کے لئے ہے (زیر نظر آیت) اور دوسرا قیامت کے لئے ہے (آیت ۱۲)

پیام

۔ اگر گناہ کو ہٹ دھرمی غرور اور ضد کی بنا پر انجام نہ دیا جائے تو قابل معافی ہوتا ہے (جھالة) 16

۲۔ رہبر اور عوام کا باہمی رابطہ انس و محبت کی بنیادوں پر مبنی ہونا چاہئے (قل سلام علیکم)

۔ “سلام” اسلام کی علامت ہے اور بڑا چھوٹے کو سلام کرتا ہے (سلام علیکم)

۴۔ مربی اور مبلغ کو چاہئے کہ لوگوں کے ساتھ محبت کر کے ان کی شخصیت سازی کرے (سلام علیکم)

۵۔ خداوند عالم نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کر دیا ہے، لیکن اس کے شامل حال توبہ کرنے والے ہیں۔ (کتب…ثم تاب)

۶۔ توبہ صرف ایک لفظ کا نام نہیں ہے، اس کے لئے عزم مصمم اور اصلاح احوال کی ضرورت بھی ہوتی ہے (تاب واصلح)

۷۔ مومن کی توبہ قابل قبول ہے ہر شخص کی نہیں۔ (عمل منکم)

۸۔ خدا کی بخشش اس کی رحمت کے ساتھ ساتھ ہے (غفور رحیم)

۹۔ مجرمین کی علامتیں اور خطا کاروں اور سازشی عناصر کی راہیں واضح کرنا مذہب اور دین کے اہداف میں شامل ہے۔ (لتستبین)

 

آیت ۵۶

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے کہ تم خدا کے علاوہ جن کو پکارتے ہو، (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا کیونکہ ایسی صورت میں میں گمراہ ہو جاؤں گا، اور ہدایت یافتہ افراد سے نہیں ہوں گا۔

پیام:

۱۔ بے جا خواہشات کا دو ٹوک الفاظ میں نفی میں جواب دینا چاہئے (نھیت، لااتبع، ضللت)

۲۔ پیغمبر اسلام کے موقف کا مرکز اور منبع وحی الٰہی ہے (قل۔ قل)

۳۔ شرک سے اظہار برأت، اسلام کا جزو ہے (نھیت ان اعبد)

۴۔ شرک کا اصل مرکز، ہوس پرستی ہے (لااتبع اھوائکم)

۵۔ مبلغ کو نہیں چاہئے کہ وہ لوگوں کی خواہشات کو پورا کرتا پھرے (لااتبع اھوائکم)

۶۔ ہوس پرستی، ہدایت کے رستے گم کر دیتی ہے (لااتبع اھوائکم…وما انا من المھتدین)

 

آیت ۵۷

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ میں تو یقیناً اپنے پروردگار کی روشن دلیل پر ہوں، لیکن تم اسے جھٹلاتے ہو۔ اور تم (خدا کی) جس فوری سزا کی جلدی کے خواہاں ہو وہ میرے پاس نہیں ہے۔ حکم تو بس اللہ ہی کے لئے ہے، وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہ (حق کو باطل سے) بہترین جدا کرنے والا (حاکم) ہے۔

چند نکات:

9; “بینہ” کا لفظ “بینونہ” سے ہے جس کا معنی ہے “جدائی” اور بینہ اس دلیل کو کہتے ہیں جو مکمل طور پر واضح اور روشن ہو اور حق کو باطل سے جدا کر دے۔

9; کفار کہتے تھے کہ اے محمد! اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر ہم پر خدا کا قہر و غضب نازل کیوں نہیں ہوتا؟ (تستعجلون بہ) بعینہ اس آیت کی مانند جس میں کہا گیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ اگر یہ بات سچی ہے تو اے اللہ! ہم پر پتھر برسا(“فامطر علینا حجارة من السماء” (انفال/۳۲)

9; انبیاء کے دلائل اور معجزات نہ تو ثقیل (بوجھل) ہوتے تھے اور نہ ہی مبہم۔ سب لوگ انہیں سمجھ لیتے تھے بشرطیکہ ہٹ دھرمی اور ضد سے کام نہ لیتے ہوں۔ اور انہیں دل و جان سے تسلیم بھی کر لیتے تھے۔ اسی لئے تو انبیاء نے اپنا تعارف “صاحب بینہ” کے طور پر کرایا ہے۔

9; “استعجال” یعنی جلد عذاب خواہی کی بیماری دوسری قوموں میں بھی تھی، حضرت صالح، حضرت ہود اور حضرت نوح کی قوم کے افراد بھی کہا کرتے تھے “فاتنا بما تعدنا” یعنی اگر سچ کہتے ہو تو عذاب موعود کو ہمارے لئے لے آؤ (اعراف/۷۰۔ ۷۷ ہود/۳۲)

پیام:

۱۔ انبیاء کی دعوت کا دارومدار “بینہ” (واضح دلیل) پر ہوتا ہے، خیالات اور اندھی تقلید پر نہیں۔ (علی بینة)

۲۔ انبیاء کے پاس “بینہ الٰہی” ہونا چاہئے انہیں لوگوں کے روزمرہ کے تقاضوں کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہئے (بینة من ربی)

۳۔ کفار ادھر تو پیغمبر کے بینہ کو جھٹلاتے ہیں اور ادھر اس بات کی توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی خواہشات نفسانی کی اتباع بھی کریں (کذبتم ما عندی تستعجلون بہ)

۴۔ بہانہ گروں کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں بات کرنی چاہئے۔ (ما عنوی)

۵۔ یہ آیت جہاں کفار کو تہدید اور سرزنش کرا رہی ہے وہاں پیغمبر کو تسلی بھی دے رہی ہے ۔ (خیر الفٰصلین)

۶۔ پیغمبر کو اللہ نے منطق اور بینہ دے کر بھیجا ہے اور کائنات کا سارا انتظام خدا کے ہاتھ میں ہے (لہٰذا پیغمبر سے اپنی زندگی کے خاتمے کی درخواست نہ کرو)

 

آیت ۵۸

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے جلدی کا سوال کرتے ہو اگر وہ میرے پاس ہوتی (اور تمہارے کہنے کے مطابق عذاب نازل ہوتے) تو یقیناً میرے اور تمہارے درمیان بات ہی ختم ہو جاتی ۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

پیام:

۱۔ ہر قسم کی سزا اور عذاب خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن وہ اپنی حکمت اور طریقہ کار کے تحت ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔

۲۔ لوگوں کی جلد بازی ، خدا کی حکمت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

۳۔ خدائی قہر و غضب میں تاخیر اس بات کا سبب نہ بن جائے کہ کفار خیال کرنے لگ جائیں کہ خدا نے ان کے کفر کو بھلا دیا ہے (واللّٰہ اعلم بالشاکرین)

۴۔ ایمان سے روگردانی اور عذاب میں جلد بازی ظلم ہے (بالظٰلمین)

۵۔ اگر خداوند عالم کفار کے تقاضوں کے مطابق اپنے عذاب میں جلدی کرے تو کوئی شخص بھی زندہ نہ رہ سکے۔ (اقضی الامر) 17

 

آیت ۵۹

 

ترجمہ۔ اور غیب کی چابیاں صرف اسی (خدا) کے پاس ہیں، اور انہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ اور وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو خشکی اور سمندر میں ہے۔ اور (درخت سے) کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور کوئی بھی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور کوئی تر اور خشک ایسا نہیں ہے مگر اس کا علم کتاب مبین میں (درج) ہے۔

دو نکات:

9; “مفاتیح” ایک تو خزینہ کے معنی میں ہے اور وہ “مفتح” کی جمع ہے، اور دوسرے چابی کے معنی میں ہے اور وہ “مفتح” کی جمع ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ بہتر ہے (از تفسیر المیزان)

9; خشکی اور سمندر یا خشک اور تر کا کلمہ کنایہ ہے ان دوسری تمام چیزوں سے جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ جیسے موت اور حیات، صحت اور بیماری، فقر اور غنا، نیک اور بد اور مجرد اور مادہ۔ نیز یہی بات سورہ یس/۱۱ میں بھی بیان ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے “وکل شیٴ احصیناہ فی امام مبین”

پیام:

۱۔ چونکہ خداوند عالم ہر چیز سے واقف اور کائنات کی تمام جزئیات سے باخبر ہے لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔

۲۔ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اپنی طرف سے علم غیب نہیں جانتا (وعندہ)

۳۔ ہو سکتا ہے کہ پتوں کے گرنے سے مراد “نزولی حرکات” ہوں اور دانہ کے زمین کے اگنے سے “صعودی حرکات” مراد ہوں۔ (تفسیر فی ظلال القرآن)

۴۔ کائنات میں معلومات کا ایک مرکز موجود ہے (کتاب مبین)

۵۔ نظام کائنات، باقاعدہ منصوبہ کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔ (کتاب مبین)

 

آیت ۶۰

 

ترجمہ۔ وہ (خدا تو) وہی ہے جو تمہیں (تمہاری روح کو) رات کے وقت (نیند کی حالت میں) پوری طرح لے لیتا ہے اور تم نے جو کچھ دن کو انجام دیا ہے اسے جانتا ہے، پھر تمہیں دن میں دوبارہ اٹھاتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری ہو اور اس کے بعد تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہو گی پھر تمہیں وہ ہر اس کام سے باخبر کرے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

9; “جرحتم” کا کلمہ “جارحہ” بمعنی عضو سے لیا گیا ہے یعنی ایسا عضو جس سے کوئی کام سرانجام دیا جاتا ہے۔

پیام:

۱۔ نیند ایک عارضی موت ہے اور نیند سے بیداری ایک قسم کا قبر سے باہر آنا ہے۔ (یتو فاکم۔ یبعثکم)

۲۔ انسان کی حقیقت وہی روح ہی ہے، کیونکہ آیت میں (یتوفاکم) فرمایا ہے “یتو فی روحکم” نہیں فرمایا۔

۳۔ ہماری جان ہر رات خدا کے سپرد ہوتی ہے اور ہر رات ہمارے لئے قبر کی پہلی رات کی مانند اور ہر بیداری قبر سے باہر آنے کی طرح ہوتی ہے۔ (اس کے باوجود پھر موت اور قبر سے باہر آنے سے انکار کیا؟)

۴۔ قانون طبیعت بھی یہی ہے کہ رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ (جرحتم بالنھار۔ تیوفاکم باللیل)

۵۔ زندگی کا ہر دن ایک تازہ فرصت اور ایک نئی زندگی کا سرنامہ ہوتا ہے (یبعثکم)

۶۔ ہماری زندگی کے لئے ایک مقررہ تاریخ، منصوبہ اور متعینہ مدت ہے (اجل مسمی)

۷۔ اپنے آپ کو قیامت کے دن میں جواب دینے کے لئے تیار رکھو (الیہ مرجعکم)

 

                  آیت نمبر ۶۱ تا ۷۰

 

آیت ۶۱

 

ترجمہ۔ اور وہ وہی (خدا) ہی تو ہے جو اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے۔ اور تمہارے اوپر نگرانی کرنے والے (فرشتے) بھیجتا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی ایک کو موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان کو پوری طرح اپنے پاس لے لیتے ہیں۔ اور یہ فرشتے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے۔

دو نکات:

9; قبض روح کا مسئلہ قرآن مجید میں کہیں تو خدا کی طرف منسوب ہے جیسے “اللہ یتو فی الانفس” (زمر/۴۲) کہیں ملک الموت کی طرف جیسے “یتو فاکم ملک الموت” (سجدہ/۱۱) اور کہیں خصوصاً اسی آیت میں فرشتوں کی طرف۔

9; “محافظ فرشتوں” سے مراد ممکن ہے کہ وہ فرشتے ہوں جو انسان کو حوادثات سے بچانے پر مامور ہیں۔ جیسا کہ سورہ رعد/۱۱ میں ہے “لہ معقبٰت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ” یعنی انسان کے لئے مامور کچھ ایسے (فرشتے) ہیں جو پے درپے سامنے سے اور اس کے پیچھے سے اسے حوادثات سے محفوظ رکھتے ہیں (از تفسیرالمیزن) اور ممکن ہے کہ ان محافظ فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہوں جو انسان کے اعمال ثبت و درج کرنے پر مامور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے “رسلنا لدیھم یکتبون” (زخرف/۸۰)

پیام:

۱۔ خدا کا بندوں پر تسلط اس حد تک ہے کہ کسی کو اس کے آگے چوں کرنے کی جرات نہیں (القاھر)

۲۔ کائنات عالم میں مختلف قسم کے نگران ہیں (حفظة)

۳۔ خداوند عالم مکمل طور پر قدرت کاملہ کا مالک ہے، اگر اس نے تمہیں آزاد چھوڑا ہوا ہے تو اس کی کمال مہربانی ہے۔ (وھوالقاھر)

۴۔ فرشتوں کے ہر گروہ کی اپنی ایک مخصوص ڈیوٹی ہے (حفظة، توفتہ، رسلنا)

۵۔ فرشتے اپنے مقرر کردہ فرائض کی بجا آوری میں سہل انگاری سے کام نہیں لیتے اور وہ معصوم ہیں (لایفرطون)

۶۔ فرشتوں کے نگہبان ہونے پر ایمان، خدا کے شکر کا موجب ہے جس طرح دوسری آیات کے مطابق فرشتوں کے ذریعہ اعمال کے لکھے جانے پر ایمان، حیا اور تقوی کا سبب ہے۔

 

آیت ۶۲

 

ترجمہ۔ پھر لوگ اپنے حقیقی مولا کی طرف پلٹائے جائیں گے۔ آگاہ رہو کہ (اس دن) فیصلہ صرف اور صرف اسی کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے۔

ایک نکتہ:

9; روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا حساب ایک ہی لحظہ میں لے لے گا، یا صرف اس قدر مدت میں جتنا دیر کسی بکری کا دودھ دوہنے میں لگتی ہے۔ (تفسیر مجمع البیان اور تفسیر نور الثقلین) چنانچہ حضرت علی علیہ اسلام سے پوچھا گیا کہ “کیف یحاسب اللہ الخلق ولایرونہ؟ ” یعنی اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب کیونکر لے گا جبکہ مخلوق اسے دیکھ نہیں پائے گی؟ فرمایا: “کما یرزقھم ولا یرونہ” جس طرح مخلوق اسے دیکھ نہیں پاتی لیکن وہ مخلوق کو روزی دیتا ہے۔

9; ایک سوال: اس قدر آیات و روایات کے باوجود پھر قیامت کا دن کیوں طولانی ہو گا؟

9; جواب۔ (بقول تفسیر اطیب البیان) روز قیامت کی اس قدر لمبائی ایک قسم کی سزا ہو گی نہ کہ کام کی زیادتی اور حساب و کتاب میں عاجزی کی وجہ سے وہ دن لمبا ہو گا۔

پیام:

۱۔ سب لوگوں کی باز گشت خدا کے حضور ہو گی اور قیامت کے دن اکیلا قاضی ہو گا۔ (ردواالی اللہ ۔ لہ الحکم)

۲۔ حقیقی مولا وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں پیدائش ، تخلیق ، نگرانی ، خواب اور بیداری ، موت اور دوبارہ زندگی ، حساب رسی اور فیصلہ ہے اور وہ ہے خدا و ند عالم ۔ (الی اللہ مولھم الحق)

۳۔ خدا کی عدالت میں پیشی لازمی اور حتمی ہے (ردوا)

۴۔ حقیقی مولا صرف خدا ہے باقی یا تو مجازی ہیں یا پھر باطل ۔ (مولھم الحق)

۵۔ قیامت کا در حقیقت ہماری اپنی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہے ورنہ خدا تو مولا بھی ہے اور حق بھی۔

 

آیت ۶۳۔ ۶۴

 

ترجمہ: کہہ دو کہ کون تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں نجات عطا کرتا ہے؟ جبکہ تم اسے زور زور کے نالہ و زاری کے ساتھ اور مخفی طور پر پکارتے ہو (اور کہتے ہو) کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دی تو ہم شکر گذاروں میں سے ہوں گے۔

9; کہہ دو کہ خداوند عالم ہی تمہیں ان (تاریکیوں) اور دوسری مصیبتوں سے نجات دیتا ہے، پھر بھی تم (سپاسگزاری کی بجائے) شرک کرتے ہو۔

دو نکات:

﴾ کچھ لوگ زور زور سے خدا سے مانگ رہے تھے تو پیغمبر خدا نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ خداوند عالم ہر ایک کے نزدیک بھی ہے اور ہر ایک کی بات کو سنتا بھی ہے۔ (نورالثقلین)

﴾ اس آیت کے مشابہ سورہ یونس کی ۱۳ ویں آیت بھی ہے کہ: “انسان خطرے کے موقع پر سوتے اور بیٹھتے وقت خدا کو یاد کرتا اور اسے پکارتا ہے” فلما کشفنا عنہ ضرہ مرکان لم یدعنا الی ضرمسہ” یعنی جوں ہی اس کی مشکل حل ہو جاتی ہے۔ تو سر جھکائے گزر جاتا ہے گویا اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں۔

پیام:

1۔ مادی اسباب کے منقطع ہو جانے پر ہی خدا کی یاد انسان کے دل میں انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔ اور وہ مشکلات میں خدائی طاقت کا مشاہدہ کرتا ہے۔

2۔ اپنے ضمیر اور فطرت کو خطرات کی یاد دِلا کر بیدار کرو۔

3۔ دُعا، فطرت کی ایک تصویر ہے۔ (تدعونہ)

4۔ وعظ و تبلیغ کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ضمیر سے سوال کیا جائے۔ (من ینجیکم)

5۔ انسان جب خطرات اور مشکلات میں پھنس جاتا ہے تو کئی طرح کے وعدے کرتا ہے۔ (لئن انجٰنا… لنکونن من الئسا کرین)

6۔ ہمیشہ ہر شخص کے لئے موجودہ مشکل ہی بہت بڑی مشکل ہوا کرتی ہے۔ (ھذہ)

7۔ انسان بڑا بدقول ہے، اور خدا سے کئے ہوئے وعدے بھی پورے نہیں کرتا (ثم انتم تشرکون)

 

آیت ۶۵۔ ۶۶

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر !) کہہ دو کہ وہ (خدا) اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیجے یا تمہیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے درگیر کر دے اور تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے جنگ اور خونریزی کا تلخ مزا چکھائے۔ دیکھو تو ہم اپنی آیات کو گوناگوں طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے حالانکہ وہ (کلام) برحق ہے، (ان سے) کہہ دو کہ میں تمہارے کاموں کا وکیل (اور ذمہ دار) نہیں ہوں۔

چند نکات:

9; “لبس” کا معنی ہے ملانا اور “شیع” جمع ہے “شیعہ” کی جس کا معنی ہے گروہ۔

9; اس سے پہلی آیت میں خداوند عالم کی نجات عطا کرنے والی قوت کا ذکر ہوا ہے جبکہ اس آیت میں اس کے قہر و عذاب کا تذکرہ ہے۔

9; اوپر اور نیچے سے آنے والے عذاب سے مراد یا تو آسمانی یا زمینی عذاب ہے یا اوپر کے عذاب سے مراد حکام بالا کا عذاب اور ان کی سختیاں ہیں اور نیچے کے عذاب سے مراد ماتحتوں کا دباؤ ہے (جو کام میں رخنہ اندازی اور ہڑتال وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے) ضمناً یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے طبعی یا غیر طبعی عذاب مراد ہو جیسے اوپر سے فضائی بمباری اور نیچے سے بموں کے دھماکے مراد ہوں۔

پیام:

۔ خداوند عالم نجات بھی دیتا ہے اور عذاب بھی نازل کرتا ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر غیر اللہ کی پرستش کرتا ہے اسے عذاب الٰہی کا منتظر رہنا چاہئے (قل ھو القادر علی ان یبعث…)

۲۔ فرقہ واریت اور تفرقہ اندازی بھی خدائی عذاب ہے جو آسمانی اور زمینی عذاب کے ساتھ ساتھ مذکور ہے۔ (یلبسکم شیعا)

۳۔ بعض اوقات لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں سے عذاب سے دوچار ہوتے ہیں یا پھر متنبہ ہو جاتے ہیں۔ (بعض بأس بعض)

۴۔ تم جس راہ پر گامزن ہو وہ چونکہ حق کی راہ ہے لہٰذا لوگوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے (وھوالحق)

۵۔ اے پیغمبر! آپ اپنے فریضہ کے متعلق جوابدہ ہوں گے، نتیجہ کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی۔ (لست علیکم بوکیل) 19

 

آیت ۶۷

 

ترجمہ۔ جو خبر بھی (خدا یا اس کا رسول تمہیں دیتا) ہے اس کا ایک خاص مقرر وقت ہے اور تم بہت جلد اسے جان لو گے۔

پیام:

۱۔ خدا کی خبریں قطعی اور یقینی ہوتی ہیں۔

۲۔ خداوند عالم کے تمام منصوبے اور پروگرام حکمت پر مبنی اور مقررہ زمانے کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں۔

۳۔ اگرچہ تم ایمان لانے پر مجبور نہیں ہو لیکن اپنی عاقبت اور انجام کار کی ضرور فکر کرو۔ (سوف تعلمون)

۴۔ جلدی میں فیصلہ نہ کر لینا اور خدا کی طرف سے ملنے والی مہلت کو اس کی غفلت نہ سمجھ لینا۔

 

آیت ۶۸

 

ترجمہ۔ اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں بیہودہ بحث کر رہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو یہاں تک کہ (گفتگو کا موضوع تبدیل کر کے) دوسری باتوں میں بحث کرنے لگ جائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو متوجہ ہو جانے کے بعد ان ظالم لوگوں کے پاس ہرگز نہ بیٹھو (اور فوراً اٹھ آؤ)

چند نکات:

9; “خوض” کا لفظ قرآن مجید میں باطل اور بے ہودہ مسائل میں سرگرم ہونے کے معنی میں آیا ہے۔

9; “بعدالذکریٰ” کا کلمہ ممکن ہے یاد دلانے کے معنی میں ہو اور ہو سکتا ہے کہ خود انسان کو یاد آ جانے کے معنی میں ہو۔

9; انبیاء علیہم اسلام معصوم ہیں حتیٰ کہ بھول چوک سے بھی پاک اور مبرا ہیں۔ لہٰذا آیت میں شیطان کے فراموش کرا دینے سے مرا دیا ایک فرضی مسئلہ ہے جس طرح دوسری آیات میں بھی کئی مسائل فرض کئے گئے ہیں: جیسے آیت ہے کہ: “لئِن اشرکت لیحبطن عملک” (زمر/۶۵) یعنی اگر تونے شرک کیا تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ یا یہ آیت ہے کہ: “لو تقول علینا بعض الاقاویل” (حاقہ/۴۴) یعنی اگر وہ ہم پر جھوٹ باندھتے… یا پھر محاورہ کے مطابق دروازے سے کہہ رہا ہوں تاکہ دیوار سن لے یعنی خطاب پیغمبر سے ہے اور مراد امت ہے۔

9; اسی آیت سے ملتی جلتی آیت سورہ نسأ میں بھی ہے کہ: “اذا سمعتم ایات اللہ یکفر بھا و یستھزأ بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ” (آیت ۱۴۰) یعنی اگر تم یہ سنو کہ آیات الٰہی سے کفر اختیار کیا جا رہا ہے یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ بات کو تبدیل نہ کر دیں۔

پیام:

۱۔ دشمن کے سامنے اپنے عقائد کے مقدسات کے بارے میں اپنی دینی غیرت اور اپنے مذہب میں تعصب کا ثبوت دو۔ (فاعرض عنھم)

۲۔ برائیوں سے روگردانی اور بدکاروں سے نبرد آزمائی نہی عن المنکر کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ 20

۳۔ معاشرتی برائیوں میں خود غرق ہونے کی بجائے بری محفلوں، برے افراد اور برے گروہوں میں تبدیلی پیدا کرو (فی حدیث غیرہ)

۴۔ صرف اظہار برأت یا زبانی مذمت ہی کافی نہیں، ڈٹ کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

۵۔ ظالم لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست ناجائز ہے لہٰذا اس سے پرہیز کیا کرو۔ (فلا تقعد) 21

۶۔ فریضہ کی ادائیگی کی شرط توجہ اور آگاہی ہے (اماینسینک الشیطٰن)

۷۔ آیات قرآنی کے بارے میں کسی بھی قسم کی ناجائز سرگرمی (خواہ مذاق اڑانا ہو، خواہ تفسیر بالرائے ہو خواہ بدعت اور تحریف ہو) ظلم ہے (الظالمین)

۸۔ باطل اور بیہودہ باتوں کو سننا (اور گمراہ کن کتابوں کا پڑھنا) قابل مذمت ہے۔ 22

 

آیت ۶۹

 

ترجمہ۔ ان (ظالم) لوگوں کے حساب سے (جو کہ ہماری آیات میں مسخرہ بازی کے لئے بحث کرتے ہیں) متقی لوگوں کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے۔ لیکن یاددہانی (لازم) ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ بھی (مسخرہ بازی سے) پرہیز کریں۔

دو نکات:

9; جب آیات الٰہی کے بارے میں یاوہ گوئی اور مسخرہ بازی کرنے والوں کے ساتھ نشست و برخاست کی حرمت کے لئے سابقہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ: “اس لحاظ سے تو ہمیں مسجد الحرام میں بھی نہیں جانا چاہئے اور نہ ہی وہاں طواف کرنا چاہئے کیونکہ یہ ظالم لوگ تو وہاں بھی موجود ہوتے ہیں”

9; اہل گناہ کی مجلسوں میں نہی عن المنکر اور ارشاد و تبلیغ کی غرض سے شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جو تقوی کے حامل ہیں اور ان پر دشمن کا کلام اثر نہیں کر سکتا ورنہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کو غرق ہونے سے بچانے کے لئے جاتے ہیں لیکن خود ڈوب جاتے ہیں۔ بقول سعدی (ترجمہ شعر)

9; غلام نے پانی کی نہر کھودی جب پانی آیا تو وہ خود ہی اس میں ڈوب گیا۔

پیام:

۱۔ مسائل کو “اہم” اور “اہم تر” میں تقسیم کرنے کا اصول عقلی بھی ہے اور اسلامی بھی، جواب دینے یا گمراہوں کو ہمیشہ کے لئے راہ راست پر لانے کی غرض سے یاوہ گوئیوں اور بے ہودہ باتوں کو سننا جائز ہے۔

۲۔ تقویٰ انسان کے لئے گناہ کے مقابلے میں حفاظت اور اس کے بیمہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جیسے نہ جلنے والا لباس فائر بریگیڈ کے عملہ کے لئے ہوتا ہے۔

۳۔ اپنے آپ کے لئے تقویٰ اختیار کرنے کے علاوہ دوسروں کو متقی بنانے کے لئے بھی فکر کیا کرو، (لعلھم یتقون)

 

آیت ۷۰

 

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے اور دنیا نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے۔ اور انہیں قرآن کے ذریعہ (اسی قدر) یاد دلا دو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے کئے کی سزا میں ہلاکت میں جا پڑیں اور خدا کے علاوہ ان کے لئے نہ کوئی مددگار ہے اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا (اس دن) اگر وہ ہر قسم کا بدلہ بھی دیں (تاکہ سزا سے بچ جائیں) پھر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بدکرداری کی وجہ سے پکڑے جا چکے ہیں، ان کے پینے کے لئے جلا دینے والا گرم پانی اور دردناک عذاب ہو گا، اس لئے کہ وہ کفرکیا کرتے تھے۔

دو نکات:

9; “انہیں چھوڑ دو” (ذرالذین…) سے مراد نفرت کا اظہار اور قطع تعلقی ہے جو بعض اوقات ان سے لڑائی کے معاملہ تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اور یہ مراد نہیں ہے کہ ان سے جہاد ترک کر دیا جائے۔

9; ہر دور میں دین کو کھیل تماشا سمجھنا اور دین کا مذاق اڑانا مختلف انداز میں ہوتا ہے کبھی خرافات پر مبنی عقائد کو اس کا حصہ بنا لیا جاتا ہے تو کبھی اس کے احکام کو قابل اجرا نہیں سمجھا جاتا۔ کبھی اپنے گناہوں کی توجیہہ کی جاتی ہے تو کبھی بدعت ایجاد کر دی جاتی ہے۔ کبھی تفسیر بالرائے کر کے آیات متشابہات کی پیروی کی جاتی ہے وغیرہ۔

پیام:

۱۔ دین کے بارے میں سستی سے کام لینا، منافقانہ رویہ اختیار کرنا اور دین کو بازیچہ اطفال سمجھ لینا، دینداری سے سازگار نہیں ہے۔ (لعباولھوا)

۲۔ دنیا کے ساتھ فریفتہ ہو جانا دین کو کھیل تماشا سمجھنے کا موجب ہوتا ہے (غرتھم الحیٰوة الدنیا)

۳۔ وعظ و نصیحت، خدا کے قہر و غضب سے عذاب کا موجب ہوتا ہے (وذکربہ)

۴۔ دنیا کے دھوکے میں نہ آؤ کیونکہ قیامت کے دن خدا کے علاوہ کوئی بھی تمہاری امداد نہیں کرے گا۔ (لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شفیع)

۵۔ انسان کی بدبختی اور تباہی کا موجب خود وہ اور اس کی کارستانیاں ہوتی ہیں۔ (بماکسبت، بماکسبوا، بما کانوا یکفرون)۔

۶۔ دینی غیرت معاشرہ سے بے دین لوگوں کے نکال باہر کرنے اور دشمنان دین و مذہب کے بائیکاٹ کا موجب ہوتی ہے (ذرالذین…)

 

 

                آیت نمبر ۸۱ تا ۹۰

 

 آیت ۸۱

 

ترجمہ۔ اور میں اس چیز سے کیونکر ڈروں جسے تم نے خدا کا شریک بنا لیا ہے جبکہ تم (اس بات سے نہیں ڈرتے کہ) ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ کہ) ان دونوں فریقوں میں سے کون سا (فریق) امن میں رہنے کا زیادہ سزاوار ہے؟

ایک نکتہ:

9; جو لوگ خداپرستی کا عقیدہ خوف اور ڈر کی پیداوار بتاتے ہیں، ان کے اس نظریہ کے برعکس آیت بتا رہی ہے کہ دراصل شرک کا عقیدہ، ڈر کی پیداوار ہے۔

پیام:

۱۔ مشرک کے پاس کسی قسم کی دلیل اور برہان نہیں ہے (لم ینزل بہ علیکم سلطانا)

۲۔ امن و سکون، خدا پر ایمان کے زیرسایہ ہے (فای الفریقین احق بالامن)

۳۔ صحیح علم خدا تک رسائی کا ذریعہ ہوتا ہے، اگر اس علم سے صحیح کام لیا جائے تو اس سے صحیح نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ (ان کنتم تعلمون)

۴۔ بحث اور مناظرہ میں لوگوں کے تعصب کو نہیں چھیڑنا چاہئے (ای الفریقین) فرمایا ہے یہ نہیں کہا کہ “حتماً ہم ہی امن و سکون میں ہیں”۔

 

آیت ۸۲، ۸۳

 

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں اور اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم کے ساتھ نہیں چھپاتے، ان کے لئے امن و سکون ہے اور ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ اور یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو عطا کئے تاکہ وہ اپنی قوم پر استدلال کریں ہم جس کے لئے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ بے شک تمہارا پروردگار حکمت والا اور صاحب علم ہے۔

چند نکات:

9; “لبس” کا معنی ہے کسی چیز کو ڈھانپنا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان چونکہ ایک فطری امر ہے لہٰذا ختم نہیں ہو سکتا۔ البتہ اسے مختلف قسم کے غبار ضرور ڈھانپ لیتے ہیں۔

9; اگرچہ آیت ۸۲ خداوند عالم ہی کا بیان ہے، لیکن ایک حدیث میں ہے کہ یہ کلام بھی حضرت ابراہیم کی اس گفتگو کا حصہ ہے جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوئی ہے۔

9; بعض روایات کے مطابق آیت میں مذکور ظلم سے مراد “شرک” ہے۔ اور بعض دوسری روایات میں یہ بھی ہے کہ خدا کے مقرر کردہ رہبروں اور برحق ہادیان کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے لگ جانا بھی ظلم ہے۔ (تفسیر نمونہ از تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱۔ ظلم، ایمان کے لئے آفت ہے اور اس پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

۲۔ ترک ظلم، ہدایت کی علامت ہے اور ستم، مانع ہدایت ہے (ھم مھتدون، لم یلبسوا)

۳۔ ایمان کی حفاظت، خود ایمان سے زیادہ اہم ہے (لم یلبسوا ایمانھم)

۴۔ حقیقی امن و سکون اور صحیح ہدایت ایمان اور عدالت کے سایہ میں ہے (الامن، مھتدون) نہ تو ظالم مومن ہدایت یافتہ ہوتے ہیں اور نہ ہی بے ایمان عدالت پسند۔

۵۔ جب تک خالص ایمان نہ ہو دل کو کھٹکا لگا رہتا ہے (لھم الامن)

۶۔ جو توحیدپرست دلیل اور برہان کے ساتھ معاشرہ کی بے راہروی کا مقابلہ کرے وہ بہت سے درجات کا مستحق ہوتا ہے۔

۷۔ خدا کی طرف سے افراد کو ملنے والے درجات اس کی حکمت کے مطابق ہوتے ہی (درجات…حکیم)

 

آیت ۸۴

 

ترجمہ۔ اور ہم نے ابراہیم کو (ان کی بانجھ بیوی بنام سارہ سے) اسحق اور یعقوب بخشے۔ اور ان میں سے ہر ایک کو ہدایت کی۔ اور نوح کو اس سے پہلے ہدایت کر چکے ہیں اور ابراہیم کی نسل سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (پیغمبر) قرار دیا۔ اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ 25

دو نکات:

9; اگرچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جناب ابراہیم کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے بیٹے تھے، لیکن چونکہ حضرت اسحق بانجھ ماں سے اور وہ بھی ان کے بڑھاپے میں پیدا ہوئے اسی لئے آیت اسحق کا تذکرہ کر رہی ہے۔

9; اس آیت میں اور بعد کی دو آیتوں میں مجموعی طور پر سترہ انبیاء کا نام آیا ہے، لیکن ان میں نہ تو زمانی ترتیب ہے اور نہ ہی ان کے رتبے کے مطابق۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان تینوں آیات میں ان کی تقسیم اس بنیاد پر ہو کہ آیت ۸۴ میں ان انبیاء کا نام ہے جنہوں نے حکومت کی ہے۔ آیت ۸۵ میں ان انبیاء کا ذکر ہے جو دنیا دار نہیں غریب تھے اور آیت ۸۶ میں وہ انبیاء مذکور ہیں جو خاص قسم کی مشکلات سے دوچار رہے ہیں۔ (تفسیرالمیزان)

پیام:

۱۔ نیک اولاد (جو پاکیزہ ذریت کے ذریعہ انسان کے توحیدی افکار کے دوام کا موجب ہوتی ہے) خدا کا بہترین ہدیہ اور بخشش ہے۔ (وھبنا۔ نجزی)

۳۔ تاریخ بشریت میں ہدایت اور بعثت کا قدیم سے سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ (نوحاھدینا من قبل)

۴۔ صرف اولاد پیغمبر ہونا کوئی اعزاز نہیں ہے، ابراہیم کی ذریت میں ذاتی کمالات بھی تھے اور خدائی ہدایت سے بھی بہرہ مند رہے ہیں۔ (کلاھدینا)

۵۔ الطاف الٰہی کسی کو بے مقصد عطا نہیں ہوتے۔ (کذٰلک نجزی المحسنین)

 

آیت ۸۵ تا ۸۷

 

ترجمہ۔ اور زکریا، یحیٰ، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ابراہیم کی نسل سے قرار دیا) جو سب کے سب صالحین میں سے تھے۔

9; اور اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی، اور سب کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے آباء، ذریت اور بھائیوں میں سے (کچھ لوگوں پر لطف و کرم کیا اور ان کی شائستگی کی وجہ سے انہیں) برگزیدہ کیا اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت کی۔

چند نکات:

۱۔ “ذریت‘ ‘ اس اولاد کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے کسی انسان کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ کے والد نہیں تھے اور وہ صرف ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب تھے لیکن اس آیت میں انہیں بھی ابراہیم کی ذریت میں شمار کیا گیا (ومن ذریة…وعیسیٰ)۔

9; روایات میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہم السلام نے بھی اسی آیت کوسند بنا کر اہلبیت اطہار علیہم اسلام کو جو ماں کی طرف سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک جا پہنچتے ہیں ذریت رسول اور اولاد رسول بتایا ہے۔ (تفسیر نورالثقلین جلد اول ص ۷۴۳۔) اور فخر رازی نے بھی اپنی تفسیر جلد ۱۳ ص ۶۶ میں اسی نکتہ کو قبول کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں بھی حضرت ابوبکر سے منقول ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی “ذریت” کا لفظ حضرت امام حسن علیہ السلام کے لئے استعمال کیا ہے۔

9; آیا “یسع” ایک مستقل نام ہے یا لغوی طور پر “وسعت” کے لفظ سے لیا گیا ہے اور وسع کا مضارع ہے (جیسے یحی ہے) یا یہ کہ وہی “یوسٴع” نبی کا نام ہے جو عبری زبان کا لفظ ہے اور عربی میں منتقل ہو کر “یسع” بن گیا ہے؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں،

9; اگرچہ بعض تاریخیں حضرت یونس کو نسل ابراہیم میں شمار نہیں کرتیں، لیکن چونکہ اس آیت میں انہیں ذریۂ ابراہیم میں شمار کیا گیا ہے لیکن ہم کتب تاریخ کے نقل کرنے کی وجہ سے آیات قرآنی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ بلکہ دوسرے حد سیات کا قرآنی آیات کے ساتھ مقائسہ کریں گے۔ اسی طرح یہی شبہ حضرت لوط کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

9; بعض لوگوں نے آیت ۸۷ میں موجود “آبائھم” کے کلمہ کے ساتھ “من” (بعضیہ) کی وجہ سے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ انبیاء کے آبا ؤ اجداد میں کچھ گمراہ لوگ بھی تھے، لیکن آیات کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ ان انبیاء کے آباؤ اجداد میں سے بعض کو نبوت کے لئے برگزیدہ کیا اور بعض کو برگزیدہ نہیں کیا، نہ یہ کہ ان میں سے کچھ کافر تھے اور کچھ مومن۔ (از تفسیر نمونہ)

 

آیت ۸۸

 

ترجمہ۔ یہ ہے خدا کی ہدایت، جس کے ذریعہ خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اور ا گر وہ شرک کریں گے تو ان کے تمام اعمال حبط (اور برباد) ہو جائیں گے۔

پیام:

۱۔ حقیقی اور واقعی ہدایت تو خدا ہی کی ہے۔ دوسری تمام ہدایتیں سراب ہیں (ذٰلک ھدی اللہ)

۲۔ الٰہی ہدایت کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا ہے (من یشاء) اب یہ ہمارا کام ہے کہ اپنے دل اور کانوں کو حق کے قبول کرنے اور وحی کے سننے کے لئے آمادہ کریں۔

۳۔ انبیاء سمیت تمام لوگ جب تک خدا کے ارادے اور اس کے لطف و کرم کے زیرِ سایہ نہیں ہوں گے از خود ہدایت نہیں پا سکتے۔ (یھدی بہ من یشاء)

۴۔ شرک تمام اعمال کے مٹنے اور باطل ہونے کا موجب بن جاتا ہے (لحبط)

۵۔ خدائی طریقہ کار میں تفریق نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر انبیاء بھی شرک کریں گے تو ان کو بھی تنبیہ کی جائے گی، کیونکہ معیار حق ہے نہ کہ افراد۔ (ولواشرکوا) اس بات کے پیش نظر کہ سابقہ آیات انبیاء سے متعلق ہیں۔

۶۔ تمام انبیاء معصوم ہیں اور غبار شرک کبھی بھی ان کے پاکیزہ دامن پر نہیں پڑا۔ آیت میں انبیاء کے لئے شرک کا فرض، فرض محال کے عنوان سے لیا گیا ہے، (ولو)

۷۔ زندگی بھر میں اگر انسان نے ایک لمحہ کے لئے بھی شرک کیا ہے تو وہ رہبر بننے کے لائق نہیں ہے، (اشرکوا) 26

۸۔ الٰہی نقطہ نظر سے اخلاص اور خدائی روح کے حامل ہونے کو اہمیت حاصل ہے۔ اگر روح اخلاص نہ ہو تو سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے۔ (ولو اشرکوا لحبط)

 

آیت ۸۹

 

ترجمہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے آسمانی کتاب، حکومت اور مقام نبوت عطا کیا۔ پس اگر (مشرک لوگ) ان سے کفر برتیں اور انہیں تسلیم نہ کریں (تو اے پیغمبر! پریشان نہ ہونا کیونکہ) ہم نے ایسے لوگوں کو ان کے لئے نگہبان مقرر کر دیا ہے جو کافر نہیں ہیں۔ (اگر مشرکین ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں اور تسلیم نہیں کرتے تو دوسرے لوگ موجود ہیں جو ایمان لا چکے ہیں اور ان پر نگران ہیں)

دو نکات:

9; “حکم” کا لفظ، حکومت اور فرمانروائی کے معنی کے لئے بھی آتا ہے اور فیصلہ کرنے اور عقل و ادراک کے لئے بھی۔ مفردات راغب میں ا س کا اصلی معنی “روکنا” اور “منع کرنا” ذکر ہوا ہے۔

9; چونکہ صحیح عقل، صحیح فیصلہ اور صحیح حکومت غلطی، اشتباہ اور خلاف ورزیوں سے مانع ہوتے ہیں لہٰذا “حکم” کا اطلاق ان پر ہوتا ہے (تفسیر نمونہ)

9; تفسیر المنار اور تفسیر روح المعانی میں مفسرین سے نقل کیا گیا ہے کہ “جو لوگ کافر نہیں ہیں اور حق کو قبول کر چکے ہیں اور اس کی حمایت پر کمربستہ ہیں” سے مراد ایرانی قوم ہے، (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ کچھ لوگوں کے کفر کی وجہ سے حق کا مشن اپنے حامیوں اور طرفداروں کے بغیر نہیں رہ جاتا، جب راستہ، حق کا راستہ ہو اور خدائی راستہ ہو تو افراد کی آمدورفت انسان کے لئے اہمیت کی حامل نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کچھ لوگ چلے جاتے ہیں تو دوسرے افراد آ ہی جاتے ہیں۔

 

آیت ۹۰

 

ترجمہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی ہے پس تم بھی ان کے انداز ہدایت کی اقتدا کرو، (لوگوں سے) کہو کہ: میں اس (رسالت) کی مزدوری تم سے نہیں مانگتا، یہ قرآن تو عالمین ہی کے لئے ہدایت ہے۔

ایک نکتہ:

9; لفظ “اقتدہ” میں حرف “ہ” ضمیر کے لئے نہیں ہے بلکہ “ہائے سکتہ ہے” ، اور وقت کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

پیام:

۱۔ ہدایت انبیاء کی پیروی درحقیقت الٰہی ہدایت کی اقتدأ ہے۔ (ھدی اللہ فبھدلٰھم اقتدہ)

۲۔ اولیاء اللہ کا نام، ان کی یاد اور ان کی راہ کو زندہ رکھنا چاہئے، اور نئے احکامات کے آ جانے سے گزشتہ افراد کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے (فبھدا ھم اقتدہ)

۳۔ انسانیت کی اہمیت یا اس کی قدر و قیمت اس کے افکار اور عملی سیرت سے ہے۔ فرمایا ہے (فبھداھم اقتدہ) یہ نہیں فرمایا “بھم اقتدہ” یعنی خود ان کی اقتدا کرو۔ (از تفسیرالمیزان)

۴۔ بعض جزئی احکام کی تبدیلی یا تنسیخ سے اصول اور کلیات پر اثر نہیں پڑتا، پس انبیاء کے کلی اصولوں کو دائمی رہنا چاہئے (فبھدا ھم اقتدہ)

۵۔ مبلغ دین کو دنیا طلبی اور مادیات سے دور رہنا چاہئے (قل لا اسئلکم)

۶۔ انبیاء میں اور دنیا کے دوسرے انقلابی رہنماؤں کے درمیان یہی فرق ہے کہ انبیاء کا ہدف مادیات نہیں ہوتا (لا اسئلکم)

۷۔ موفق اور کامیاب ترین انسان وہ ہوتا ہے جو گزشتہ لوگوں کے کمالات، نیک اخلاق اور محکم طریقہ سے فیض حاصل کرے، (فبھدا ھم اقتدہ)

۸۔ انبیاء، فراموش کار لوگوں کے لئے یادگار اور یادآور ہیں (ذکری)

۹۔ اسلام، عالمی دین ہے (للعالمین)

 

                  آیت نمبر ۹۱ تا ۱۰۰

 

آیت ۹۱

 

ترجمہ۔ اور ان لوگوں نے خدا کو اس طرح نہیں پہچانا جس طرح اس کے پہچاننے کا حق ہے، کیونکہ انہوں نے کہا کہ: خداوند عالم نے کسی بشر پر کوئی چیز (اور کتاب) نازل نہیں کی۔ تم خود ہی کہہ دو کہ جو کتاب (توریت) موسیٰ لے کر آئے تھے وہ لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی، اسے کس نے نازل کیا؟ جس کتاب کو تم کاغذ کے پرزے بنا لیتے ہو اور (اپنی مرضی کے مطابق) اس سے (ایک حصے کو) ظاہر کرتے ہو اور بہت سے حصے کو چھپا دیتے ہو۔ اور جو کچھ تم اور تمہارے باپ دادا نہیں جانتے تھے (اسی آسمانی کتاب تورات) کے ذریعہ تمہیں تعلیم دی گئی۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ خدا ہی ہے (کہ جس نے ان کتابوں کو نازل کیا ہے) پھر تم انہیں چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی یاوہ گوئیوں اور بیہودہ باتوں میں سرگرم رہیں۔

ایک نکتہ:

9; یہ آیت یہودیوں کے اس گروہ کے جواب میں ہے جو لفظی نزاع کے طور پر کہتے تھے کہ خداوند عالم نے تو کسی پیغمبر پر کوئی کتاب نازل ہی نہیں کی۔

پیام:

۱۔ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا بھیجنا خدا کا اپنے بندوں پر لطف ہے، لہٰذا جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ خدا کے لطف و کرم، رحمت و مہربانی، حکمت اور دیرینہ طریقہ کار کے منکر ہیں۔ (ما قدروا اللہ)

۲۔ اصلی تورات نور اور ہدایت تھی (نوراً وھدیً)

۳۔ دینی معارف کی قطع و برید، ان معارف کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے (قراطیس۔ یلعبون)

۴۔ وحی کے بغیر انسان کی بہت سے معارف اور معلومات تک دسترس ناممکن ہے (علمتم مالم تعلموا)

۵۔ کفار کے انکار اور ان کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں جو چیز انسان کی تقویت کا باعث بنتی ہے وہ ہے خدا کی ذات پر توکل۔ (قل اللہ)

۶۔ انبیاء کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہے (ذرھم)

 

آیت ۹۲

 

ترجمہ۔ اور یہ مبارک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، (اس آسمانی کتاب کی) تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آ چکی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ تم مکہ اور اس کے اطراف (کے لوگوں) کو ڈراؤ۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

9; آیت میں “ولتنذر” کہا گیا ہے “لتنذر” نہیں کہا گیا۔ اور یہ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کے اور بھی اہداف ہیں۔ جن میں ایک مکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو ڈرانا بھی ہے۔

پیام:

۱آن مجید ہر قسم کی برکات کا حامل ہے (مثلاً تدبر، عبرت کا حصول، شفا، رشد و ہدایت عزت تک رسائی وغیرہ کیونکہ یہ سب کچھ قرآن میں ہے) (مبارک)

۲۔ قرآن دوسری آسمانی کتابوں کے ہم آہنگ ہے اور یہ اس کے مقصد واحد کے حامل ہونے اور الٰہی کتاب ہونے کی دلیل ہے (مصدق) جبکہ انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں جو ان کی خواہشات پر مبنی اور محدودیت پر مشتمل ہوتی ہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔

۳۔ مکہ “ام القریٰ” (تمام آبادیوں کی ماں) ہے، لہٰذا عالم اسلام کو وہاں سے علمی اور روحانی غذا ملنی چاہئے اور وہیں سے ہی دنیائے اسلام کے امید افزا پروگرام بننے چاہئیں، جس طرح ماں اپنی اولاد کے لئے امید، حفاظت، غذا، تربیت اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہوتی ہے۔

۔ اگرچہ انبیاء کرام علیہم السلام ہدایت اور نجات کی خوشخبری دینے والے ہوتے ہیں، لیکن چونکہ انسان کی زیادہ تر کوشش ضرر کو دور کرنے کے لئے ہوتی ہے اور روحانی طور پر اسے ڈرانے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی لئے قرآن مجید میں “نذیر” کا کلمہ “بشارت” کے کلمہ سے زیادہ استعمال ہوا ہے، “انذار” ۱۲۰ مرتبہ اور “بشارت” ۸۰ مرتبہ، (لتنذر)

۵ تبلیغ کا انداز قدم بقدم ہونا چاہئے۔ پہلے اسے اپنے رشتہ داروں سے شروع کیا جائے “وانذر عشیرتک الاقربین” یعنی اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ (شعرأ/۲۱۴) پھر علاقہ کے لوگوں کو (ام القریٰ) پھر دنیا بھر کے انسانوں کو “رحمة للعالمین” تمام جہانوں کے لئے رحمت (انبیاء/۱۰۷) “کافة للناس” (تمام لوگوں کے لئے) (سبا/۲۸) “لانذر کم بہ و من بلغ” یعنی تاکہ میں تمہیں اور ان تمام افراد کو ڈراؤں جن تک یہ قرآن پہنچے (انعام…۱۹) “ان ھو الاذکر للعالمین” یعنی یہ قرآن عالمین ہی کے لئے ہدایت ہے، انعام/۹۰)

۔ آخرت پر عقیدہ، نبوت پر عقیدہ کا موجب ہے (یوٴمنون بالاخرة، یوٴمنون بہ)

۷۔ ایمان کا واضح اور روشن ترین مظہر، نماز ہے (علی صلاتھم…)

۸۔ آخرت پر ایمان، نماز کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کا ایک عامل ہے (بالاخرة…وھم علی صلاتھم یحافظون)

 

آیت ۹۳

 

ترجمہ۔ اور اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا (دعویٰ کر کے) کہتا ہے کہ: مجھ پر وحی ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بھی وحی نہیں ہوئی۔ یا (جھوٹ فریب کے طور پر) کہتا ہے کہ میں بھی اسی طرح نازل کرتا ہوں جس طرح خدا نے نازل کیا ہے، (اے پیغمبر!) اگر تم اس وقت کو دیکھو جب ظالم لوگ موت کی سکرات میں گرفتار ہو چکے ہوں گے اور فرشتے ان کی روح کو قبض کرنے کے لئے اپنے طاقتور ہاتھ ان کی طرف بڑھائے ہوئے انہیں جان دینے کاحکم کرتے ہیں، (اور کہتے ہیں) آج رسواکن عذاب دیئے جاؤ گے بوجہ ان ناجائز باتوں کے جو تم خدا کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس کی آیات سے سرپیچی کرتے تھے۔

چند نکات:

اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: “عبد بن سعد” نامی ایک شخص کاتبان وحی میں سے تھا، اس نے وحی کی کتابت میں خیانت سے کام لیا تو سرکار رسالت نے اسے وہاں سے نکال دیا اس نے لوگوں کو اکٹھا کر کے کہنا شروع کر دیا “میں بھی قرآنی آیات کی مثل لا سکتا ہوں۔”

بعض لوگوں نے اس آیت کے نزول کی وجہ “مسیلمہ کذاب” کے دعوائے نبوت کو بیان کیا ہے جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری ایام میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، ان مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے حکم سے اس جگہ پر درج کی گئی ہے۔

“غمرات” کا معنی ہے مرنے کے وقت کی سختیاں، جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں، جو لفظ “غمرہ” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے آثار کا مٹ جانا اور غرق ہونا۔

پیام:

۱۔ علمی طریقہ سے کسی پر ظلم کرنا اور نااہل افراد کی طرف سے رہبری کا دعویٰ بہت بڑا ظلم ہے (ومن اظلم…اوقال اوحی الی)۔

۲۔ دین میں بدعت۔ جو کہ بعض خلفأ کا کام بھی رہا ہے۔ جھوٹ باندھنے اور خدا پر بہتان طرازی کے مصداقوں میں سے ایک ہے۔

۳۔ حق کے دشمن یا تو حق کو نیچے لے آنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اپنی باتوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ پہلے تو کہتے ہیں کہ “قرآن افسانہ ہے۔” اگر اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو کہتے ہیں کہ: “میں بھی قرآن کی طرح بہترین باتیں کر سکتا ہوں” (سانزل مثل ما انزل اللہ) 27 یا کہتے ہیں: “لو نشاء لقلنا مثل ھذا” (انفال/۳۱)

۴۔ دینی منصب اور مذہبی تخصص کے جھوٹے اور نااہل دعویدار بہت برے طریقے سے جان دیتے ہیں۔ (ولوتری اذا لظالمون)

۵۔ غرور و تکبر اور وحی و دین کی توہین کی سزا “عذاب الھون” (رسواکن عذاب) ہے۔ (تجزون عذاب الھون)

۶۔ خدائی سزا کا آغاز موت کے پہلے ہی لمحہ سے ہو جاتا ہے اگرچہ روح اور جان لینا خدا کا کام ہے، لیکن کافروں سے کہا جائے گا “مرو” “نکالو اپنی جان” (اخرجوا انفسکم) یہ ایک طرح کی توہین اور تحقیر ہے۔

۷۔ انسان کی روح مستقل ہے (اخرجوا انفسکم)

۸۔ دنیا میں تکبرو غرور کا نتیجہ آخرت کی خواری اور ذلت ہے (عذاب الھون…تستکبرون)

 

آیت ۹۴

 

ترجمہ۔ یقیناً تم (بوقت موت یا بروز قیامت) اکیلے ہی ہمارے پاس آؤ گے۔ جس طرح کہ پہلی مرتبہ ہم نے تمہیں تنہا پیدا کیا ہے، اور تمام اموال کو جو ہم نے تمہیں دئیے ہیں اپنے پیچھے چھوڑ آؤ گے۔ اور جن (بتوں) کو تم اپنا شفیع اور خدا کا شریک سمجھتے تھے ہم انہیں تمہارے ساتھ نہیں دیکھتے۔ تمہارے تمام رشتے ٹوٹ گئے اور تمہارے تمام خیالات اور گمان مٹ گئے۔

دو نکات:

یہ خطاب بوقت مرگ یا بروز قیامت مشرکین سے کیا جائے گا۔ “خولنا” کا کلمہ “خول”(بر وزن عمل) سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے وہ خیر اور بہتری جس کے لیے سر پرست کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور عام طور پر اس کا اطلاق مال و  ثروت پر کیا جاتا ہے۔

پیام:

۱۔ قیامت اور قبر میں انسان ‘ پیدائش کے دن کی مانند یکہ و تنہا ہو گا (فرادیٰ)

۲۔ انسان قیامت کے دن کے لیے محشور ہونے کے وقت روز ولادت کی طرح عریان ‘ گریان ‘ عاجز و نادار ہو گا (کما خلقنکم اول مرة)

۳۔ معاد،  جسمانی ہو گی۔ (کما خلقنکم اول مرة)

۴۔ مشرکین کو چار چیزوں پر زیادہ بھر وسہ تھا ۔ ا۔ قوم و قبیلہ ۲۔ مال و ثروت ۳۔ طاغوت اور ارباب ۴۔ بت۔ چنانچہ یہ آیت مرنے کے بعد اور قیامت میں ان چار چیزوں کی بے ثباتی اور بے بضاعتی کو بیان کر رہی ہے۔

“فردایٰ”قوم و قبیلہ کے بغیر۔

“ترکتم ما خولناکم” مال و ثروت کے بغیر۔

“مانریٰ معکم شفعاء” یارو مدد گار کے بغیر۔

“ضل عنکم ما کنتم تزعمون” ہر قسم کی دوسری خیالی قدرت کی حمایت کے بغیر۔

 

آیت ۹۵

 

ترجمہ۔ بے شک خداوند عالم ہی دانے اور گٹھلی کو شگافتہ کرنے والا ہے، زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے باہر نکالنے والا ہے، یہ ہے تمہارا خدا بس تم کس لئے بھٹکتے پھرتے ہو؟

دو نکات:

“فالق کا لفظ “فلق” سے نکلا ہے جس کا معنی ہے شگافتہ کرنا۔ “حب” اور “حبہ” غلہ کے دانے کو کہتے ہیں۔ جیسے گندم اور جو وغیرہ کے دانے کہ جن کی فصلات کو کاٹا جاتا ہے۔ دوسرے دانوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور “نویٰ” کا معنی ہے گٹھلی۔

بے جان چارے سے جاندار حیوانوں کو اور جاندار حیوانوں سے بے جان دودھ کو پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بے جان گٹھلی سے زندہ اور فعال درخت کو اور پروان چڑھے درخت سے بے جان گٹھلی کو پیدا کرتا ہے اور روایات کے بقول: بے ایمان لوگوں سے مومن افراد پیدا ہوتے ہیں اور مومن افراد سے بعض اوقات کافر پیدا ہوتے ہیں۔ (یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی)

پیام:

۱۔ دانے یا گٹھلی کو زمین میں ڈالنا اور کاشت کرنا انسان کا کام ہے لیکن انہیں شگافتہ کرنا اور اگانا خدا کا کام ہے۔ (فالق)

۲۔ تمہارا رزق اور روزی انہی دانوں اور گٹھلیوں کی راہ سے حاصل ہوتی ہے پس تم کہاں اور کس کے پیچھے سرگرداں پھر رہے ہو؟ (فانی توٴفکون)

۳۔ قدرتی اور طبعی آثار میں غور و فکر، خدا کی معرفت کا بہترین راستہ ہے۔

 

آیت ۹۶

 

ترجمہ۔ خداوند عالم صبح (کی سفیدی) کو شگافتہ کرنے والا ہے، اس نے رات کو آرام و سکون کے لئے اور سورج اور چاند کو حساب کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ یہ خداوند دانا و توانا کے مقرر کردہ (اصول) ہیں۔

دو نکات:

“اصباح” کا ایک معنی تو ہے “صبح” اور دوسرا معنی ہے “صبح میں داخل” ہونا، لیکن یہاں پر مراد وہی پہلا معنی ہے۔

اس سے پہلی آیت میں زمین میں خداوند عالم کی قدرت اور حکمت کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ اور اس آیت میں آسمان میں اس کی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہیں رات اور دن جو اس کی قدرت کی دو نشانیاں ہیں۔ جس طرح کہ سورہ بنی اسرائیل /۱۲ میں ارشاد ہوتا ہے “وجعلنا اللیل والنھار آیتین”۔ رات کے وقت آرام و استراحت، مناجات، معراج، نزول قرآن اور تہجد کی باتوں کا ذکر ہے۔

پیام:

۱۔ رات اور دن کے ہر لمحہ کی پیدائش، قدرت، حکمت اور ایسے فالق کی محتاج ہے جو یہ کام تقدیر اور اندازے کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

۲۔ رات آرام کے لئے ہے اسی لیے روایات میں رات کے وقت کام کرنے، جانور کو ذبح کرنے اور سفر کرنے کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ ۲۸

۳۔ سورج اور چاند نظم و انتظام، حساب و کتاب اور دوسرے منظم امور بجا لانے کا ذریعہ ہیں۔ 29

 

آیت ۹۷

 

ترجمہ۔ اور وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے ہیں تاکہ تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعہ سے راہ معلوم کرو۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دی ہیں جو آگاہ ہیں اور دانا ہیں۔

دو نکات:

علم ہیئت، انسان کے قدیم ترین علوم میں سے ہے۔ اور انسان ایک عرصہ دراز سے وقت، سمت، قبلہ اور دوسری چیزوں کی پہچان کے لئے صحراؤں اور دریاؤں کے سفر میں ستاروں سے استفادہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا اوزار ہیں جو قابل اطمینان، دائمی، ہر دم تازہ، طبعی قدرتی، عمومی اور مفت ہیں۔

اسلام نے مظاہر فطرت پر خصوصی توجہ فرمائی ہے۔ بعض سورتوں کے نام طبعی چیزوں کے نام پر ہیں۔ اسلامی عبادات کا طبعیات سے گہرا تعلق ہے۔ مثلاً وقت شناسی، قبلہ شناسی، چاند گرہن، سورج گرہن، نماز آیات، ہر مہینے کی پہلی تاریخ، اور یہی چیزیں، علم ہیئت سے مسلمانوں کی آشنائی کا سبب بنیں اور انہی کی وجہ سے بغداد، دمشق، قاہرہ، مراغہ اور اندلس میں مسلمانوں کے ہاتھوں رصد خانے وجود میں آئے اور اس بارے میں مسلمانوں نے کتابیں تحریر کیں۔

پیام:

۱۔ ستارے، خدا کی مخلوق اور راہ معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں، کائنات کے خالق اور اس کے مدبر نہیں ہیں۔ (جعل لکم)

۲۔ ستاروں کا نظام اس قدر منظم اور مرتب ہے کہ اس سے بڑی آسانی کے ساتھ راہیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ (لتھتدوا)

۳۔ دریائی اور صحرائی سفر کے لئے جس کا انسان کو زندگی میں بہت کم ہی اتفاق ہوتا ہے خدا نے راہنما مقرر فرمائے ہیں، تو کیا یہ بات قابل قبول ہو سکتی ہے کہ انسان کی دائمی حرکت کے لئے اور راہ حق کو گم نہ کرنے کے لئے کوئی راہنما (نبی اور امام) نہ بنائے ہوں؟

۴۔ فقط ستاروں کے وزن، حجم، فاصلے، حرکت اور مدار کی پہچان بلکہ کلی طور پر ستارہ شناسی یا علم نجوم انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتا، بلکہ انسان خود ارادہ کرے کہ اس ذریعہ سے خدا کی معرفت حاصل کرے (لقوم یعلمون)

اس لئے بہت سے آئینہ فروش ایسے ہیں جو اپنے چہرے کو نہیں سنوارتے اور آئینہ میں اپنی صورت کو نہیں دیکھتے۔ اصلاح کے لئے شرط ہے کہ ارادہ کر کے مقصد کو حاصل کیا جائے صرف آئینہ یا اس کی طرف دیکھنا ہی کافی نہیں۔

 

آیت ۹۸

 

ترجمہ۔ اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (تم سب آدم کی اولاد ہو) پس تم میں سے کچھ تو قرار پا چکے ہیں (اور اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں) اور کچھ ابھی (باپ کی پشتوں اور ماؤں کے رحم میں) نقل و انتقال کی حالت میں ہیں۔ ہم نے اپنی آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے جو اہل فہم و شعور ہیں۔

دو نکات:

“انشأ” کی تعبیر میں دو نکتے پوشیدہ ہیں ۱۔ نئی چیز کو وجود میں لانا ۲۔ مسلسل تربیت۔ انسان کی پیدائش میں ان دونوں نکات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ایک تو اس میں نیا وجود ہے اور دوسرے اس کی مسلسل تربیت کی جاتی ہے۔ کسی کی تقلید کرتے ہوئے پیدا کرنا یا پیدا کر کے اسے چھوڑ دینا بے فائدہ ہے۔ اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

“مستقر” اور “مستودع” کی تعبیر میں اور بھی معانی ذکر ہوئے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہیں کہ: ۱۔ تم پائیدار روح اور نا پائیدار جسم کے حامل ہو۔ ۲۔ تم پائیدار اور نا پائیدار ایمان کے حامل ہو۔ ۳۔ تم عورت کے پائیدار اور مرد کے نا پائیدار نطفوں سے پیدا ہوئے ہو۔ ۴۔ تم زمین میں مستقر ہو اور قیامت تک کے لئے قبر میں ودیعت ہو۔ ۵۔ نعمتیں کبھی پائیدار ہوتی ہیں اور کبھی نا پائیدار۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام سے منقول ہے کہ: “نماز عید کے بعد خدا سے دعا مانگی جائے کہ وہ اپنی نعمتیں ہمارے لئے دائمی قرار دے کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے “فمستقرو مستودع” (تفسیر نورالثقلین اسی آیت کے ذیل میں)

پیام:

۱۔ تم سب کی اصل اور بنیاد ایک ہی ہے پس یہ سب اختلافات، تفوق طلبی اور نسلی امتیاز کیسا؟ (من نفس واحدة)

۲۔ ایک نفس (جان) سے تمام انسانوں کی تخلیق میں اس قدر تنوع اور نت نئے نمونے، عظمت خداوندی کی علامت ہے۔

۳۔ ہر بخشش اور عطیہ پائیدار نہیں ہوتا جب تک نعمت اور امکانات موجود ہیں ا س سے بہتر سے بہتر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو (فمستقرو مستودع)

۴۔ جب تک انسان “اہل فہم” نہ ہو معارفِ الٰہی سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔ (لقوم یفقھون)

 

آیت ۹۹

 

ترجمہ۔ اور وہ وہی خدا تو ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا، پس اس کے ذریعہ ہر قسم کی نباتات کو ہم نے اگایا اور اس نباتات سے سبز تنے اور شاخیں نکالیں کہ ہم اس سے باہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے شگوفوں سے لٹکے ہوئے گچھے اور خوشے (باہر نکالے) اور (ہم نے) انگور اور زیتون اور انار کے باغات (کی پرورش کی) جو باہم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور (کچھ) ایک دوسرے سے جدا جدا بھی ہیں۔ اور اس کے پھل کی طرف غور سے نگاہ کرو کہ جب وہ پھلے اور پکے۔ بے شک اس میں ایماندار لوگوں کے لئے (خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں فرمایا: تمام انسان ایک نفس سے ہیں اور اس آیت میں فرماتا ہے کہ: تمام نباتات، درخت اور پھل میوے ایک ہی سرچشمہ سے ہیں اور وہ ہے بارش کا پانی۔

“متراکب” کا لفظ “رکوب” (سوار ہونا) سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ایک دوسرے پر سوار پھل اور باہم گتھے ہوئے دانے۔

“طلع” کھجور کے بند شگوفوں کو کہتے ہیں۔ “قنوان” تار کی مانند باریک لڑیاں بعد میں جن پر کھجور کے خوشے تیار ہوتے ہیں۔ “دانیہ” ایسے خوشے ہوتے ہیں جو گتھے ہوئے ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں یا سنگین بوجھ کی وجہ سے زمین کے نزدیک ہوتے ہیں۔ “متشابہ” وہ درخت ہوتے ہیں جو ظاہری شکل و شباہت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں،۔ جیسے زیتون اور انار ہیں (اس بارے میں اسی سورت کی ۱۴۱ ویں آیت میں بھی اسی بات کا ذکر ہے) “غیر متشابہ” مزے اور خاصیت میں ایک دوسرے سے جدا جدا۔ یا اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے سے اس بات میں مشابہ ہیں کہ ایک ہی آب و خاک سے ہیں۔ اور غیر متشابہ میووں اور درختوں میں ہیں۔ بعض پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعض ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اور “ینع” کا معنی ہے پھل کے پکنے کی طرز۔

اس آیت میں اور اس سے پہلے کی دو آیات میں تین پے درپے تعبیریں بیان ہوئی ہیں۔ “لقوم یعلمون”، “لقوم یفقھون” اور “لقوم یوٴمنون” اس قسم کی تعبیرات لانے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب آپ کو ذیل کے پیام میں ملے گا۔

پیام:

۱۔ تمام سبزہ جات اور نباتات کا منبع بارش کا پانی ہے (من السماء ماء فاخر جنابہ نبات کل شیٴ)

۲۔ بارش کا نازل کرنا ہو یا دانے کا شگافتہ کرنا اور ا س سے درختوں اور پھل میووں کا اگانا، سب خدا کے ہاتھ میں ہے (انزل، فالق، نخرج)

۳۔ مطلب کو بیان کرنے میں اولیت کو پیش نظر رکھا جائے (زراعت اور گندم، خرما، انگور، زیتون، اور انار)

۴۔ پھل میووں سے تمہارا تعلق صرف مادی اور کھانے کی حد تک ہی نہیں ہونا چاہئے، ان سے فکری اور توحیدی تعلق بھی ہونا چاہئے (انظروا)

۵۔ ستاروں سے بہرہ مندی کے علم اور واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرمایا ہے “لقوم یعلمون” (آیت ۹۷) اس بات کا ادراک کہ کاروان بشریت کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور یہ کاروان پائیدار اور نا پائیدار صورت میں رواں دواں ہے ، اس بات کو سمجھنے کے لئے گہرے ادراک کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرمایا ہے “لقوم یفقہون” (آیت ۹۸) نباتات، بارش اور پھل میووں سے معنوی طور پر بھی استفادہ کیا جانا چاہئے، اور اس بات سے غافل نہیں رہنا چاہئے کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور انہیں ہستی کی نعمت سے نوازنے والا خداوند عالم ہے، اس کے لئے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرماتا ہے (لقوم یوٴمنون)

 

آیت۱۰۰

 

ترجمہ۔ اور ان لوگوں نے جنات کو خدا کا شریک بنایا ہے جبکہ جن خدا کی مخلوق ہیں۔ اور بغیر سوچے سمجھے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی ہیں۔ خداوند عالم ان صفات سے منزہ اور برتر ہے جو وہ خدا کے لئے بیان کرتے ہیں۔

دو نکات:

“خلق” کا معنی ہے کسی چیز کو باقاعدہ حساب کے تحت وجود میں لانا، اور “خرق” کسی چیز کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی حساب کے پارہ پارہ کر دینا اور “اختراق” بے انتہا اور بغیر سوچے سمجھے جھوٹ بنانا۔ پس “خرقوا” کے جملے کا معنی ہو گا بغیر کسی سوچ سمجھ کے اور اطراف و جوانب کو پیش نظر رکھے بغیر کسی بات کا اظہار کرنا، باتیں بنانا اور دعوے کرنا۔ (تفسیر نمونہ)

بقول قرآن مجید، عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو اور یہودی حضرت عزیر علیہ اسلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ اور سورہ زخرف کی آیت ۱۹ کے بقول: کئی لوگ ملائکہ کو خدا کی اولاد سمجھتے تھے۔ زردشتی بھی “اھریمن” کو جو جنات میں سے تھا خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور تمام برائیاں اسی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ کچھ عرب تو خدا اور جنوں کے درمیان رشتہ داری کے قائل تھے۔ بقول قرآن “وجعلوابینہ و بین الجنة نسبا” یعنی ان لوگوں نے خدا اور جنات کے درمیان رشتہ قرار دیا ہے (صافات/۱۵۸)

پیام:

۱۔ جہالت، خرافات گھڑنے کی بنیاد ہے (خرقوا…بغیر علم)

۲۔ مخلوق، خالق کیونکر بن سکتی ہے؟ (وخلقھم)

۳۔ ازدواج اور اولاد کا پیدا کرنا ایک کمی کو پورا کرنے کے لئے ہوتے ہیں اور خداوند متعال اس قسم کے نقائص اور عیوب سے پاک و مبرا ہے (سبحٰنہ

 

                  آیت نمبر ۱۰۱ تا ۱۲۰

 

آیت ۱۰۱۔ ۱۰۲

 

ترجمہ۔ (وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے لئے بیٹا کیسے ہو جبکہ اس کے بیوی ہی نہیں ہے۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔

وہی ہے خدا جو تمہارا پروردگار ہے، اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگہبان اور مدبر ہے۔

ایک نکتہ:

جس نے کسی کی دیکھا دیکھی اور پہلے سے تیار شدہ نقشہ کے بغیر آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اسے اولاد اور بیوی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو ایک ہی ارادے کے ساتھ جو چاہے پیدا کرے۔

پیام:

۱۔ خالق کائنات، قادر و توانا ہے اسے اولاد اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے (پہلی آیت کے آخری حصے اور اس آیت کے پہلے حصہ کے پیش نظر)

۲۔ جس خدا کا قرآن تعارف کرا رہا ہے اس کا اور جن خداؤں کے متعلق دوسرے لوگ عقیدہ رکھتے ہیں ان کا، آپس میں تقابل کرو (ذلکم اللہ)

۳۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق پیدا کرنے والا (خالق) اور پروردگار (رب) ایک ہی ہے (ربکم…خالق) لیکن مشرکین خالق تو اللہ کو ہی جانتے تھے لیکن رب، دوسری کئی چیزوں کو سمجھتے تھے۔

۴۔ خدا کی خالقیت مطلقہ اس کی توحید کی دلیل ہے (لاالہ الا ھو خالق کل شیٴ)

۵۔ جس طرح تخلیق خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ہر چیز کی بقا اور ثبات بھی اسی کے ارادے کے تحت ہے (خالق۔ وکیل)

۶۔ خدا کی ربوبیت اور خالقیت ہی ہماری عبادت کا فلسفہ ہے (خالق کل شیٴ فاعبدوہ)

 

آیت ۱۰۳

 

ترجمہ۔ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن وہ آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے، وہ نہ دیکھا جانے والا باریک بین اور آگاہ ہے۔

دو نکات:

خداوند عالم ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے سوال رویت کے جواب میں فرمایا “لن ترانی” یعنی اے موسیٰ! تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے (اعراف/۱۴۳) لیکن اہلسنت اس بات کے قائل ہیں کہ خداوند عالم کو قیامت کے دن دیکھا جا سکے گا اور وہ قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ” الی ربھا ناظرة” یعنی قیامت کے دن چہرے خدا کی طرف دیکھ رہے ہوں گے (قیامت/۲۳) (اشاعرہ اور تفسیر المنار) لیکن وہ اس بات سے غافل ہیں کہ خدا جسم اور مادہ نہیں ہے۔ اور خدا کو دیکھنے سے مراد ظاہر آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ مثلاً ایک اور آیت ہے: ولقدراہ نزلةاخریٰ” یعنی پیغمبر نے خدا کو ایک اور بار دیکھا (نجم/۱۳) یعنی اس کے آثار و الطاف کا مشاہدہ کیا۔ کیونکہ ظاہری آنکھوں سے تو اس چیز کو دیکھا جاتا ہے جو جسم و مکان اور محدودیت اور رنگ وغیرہ کی حامل ہو جبکہ خداوند تعالیٰ ان چیزوں سے پاک، منزہ اور مبرا ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اگر ہمارے ظاہری حواس اس کے ادراک سے عاجز ہیں اس سے یہی سمجھ لیا جائے کہ وہ مخلوق سے علاوہ ذات ہے۔ نہ یہ کہ ہم اس کے منکر ہو جائیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ “آیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ پیغمبر خدا کی طرف خدا کو دیکھنے کی نسبت دیتے ہو جبکہ خدا خود فرماتا ہے: “لیس کمئلہ شیٴ” یعنی اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ (شوریٰ/۱۱) یا ایک اور جگہ پر فرماتا: “لایحیطون بہ” یعنی لوگ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے، (طہ/۱۱۰) از تفسیر نورالثقلین)

“لطیف” کے چند ایک معانی ہیں، ۱۔ جو اپنی عطا کو کم اور بندوں کی اطاعت زیادہ سمجھے۔ ۲۔ نہایت باریک۔ ۳۔ امور پر مخفی نگاہ رکھنے والا، باریک بیں اور ظریف اور نایاب چیزوں کا خالق۔ ۴۔ خاطر و مدارات کرنے والا، دوستی کے لائق۔ ۵۔ وفا شعاروں کو جزا دینے والا اور خطا کاروں کو معاف کر دینے والا۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم نہ جسم ہے اور نہ ہی مادہ سے بنی مخلوق۔ (لاتدرکہ الابصار)

۲۔ کوئی بھی اس کی ذات سے آگاہ نہیں ہے (ھواللطیف) ۳۰

۳۔ خدا بشری فکر کے احاطہ سے باہر ہے۔ (ھواللطیف) ۳۱

۴۔ پردہ یا اور کوئی چیز خدا کے علم کو نہیں روک سکتی (ھواللطیف الخبیر)

۵۔ خداوند عالم کائنات کے تمام لطائف و رموز خواہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی سب سے آگاہ ہے (ھواللطیف الخبیر)

۶۔ خدا کا ادراک، خدا کا وہی علم ہی تو ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ذہن و فکر یا مغزی خلیوں وغیرہ سے کام لے کر علم و ادراک حاصل کرتا ہے، جیسے سمیع و بصیر ہے یعنی وہ دیکھنے اور سننے میں آنکھ اور کان کا محتاج نہیں ہے۔

 

آیت ۱۰۴

 

ترجمہ۔ یقیناً (آیات الٰہی اور آسمانی کتابیں اور) روشن دلائل جو تمہاری بصیرت کا سبب ہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آ چکی ہیں۔ پس جس شخص نے بصیرت حاصل کر لی تو یہ اس کے اپنے فائدہ کے لئے ہے۔ اور جو ان چیزوں سے اندھا رہا تو یہ اس کے نقصان میں ہے۔ اور میں (زبردستی طریقہ پر) تمہاری حفاظت کا ضامن اور نگہبان نہیں ہوں۔

چند نکات:

اسی سورت کی آیت ۹۵ سے یہاں تک، خدا کے تعارف اور شرک پر تنقید کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اور یہ آیت گویا گزشتہ ایٓات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔

اس قسبم کی آیتیں قرآن مجید میں بہت زیادہ ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ایمان و کفر، اچھائی اور برائی اور بصیرت اور کور باطنی کا نتیجہ خود انسان ہی کو حاصل ہوتا ہے، منجملہ ان آیات کے چند ایک نمونے یہ بھی ہیں، ۱۔ لھا ما کسبت و علیھا ما اکتسبت (بقرہ/۲۸۶) جس نے اچھا کام کیا تو اس کا نفع اسی کے لئے اور برا کام کیا تو اس کا وبال اسی کے لئے۔ ۲۔ من عمل صالحا فلنفسہ و من اساء فعلیھا۔ (فصلت/۴۶) جو نیک کام کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا اسی کو نقصان ہو گا۔

۳۔ ان احسنتم احسنتم لا نفسکم و ان اسأتم فلھا (بنی اسرائیل/۷) اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ سے بھلائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو بھی اپنے ہی لئے برائی کرو گے۔

اندھا پن یا نابینائی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ یعنی یا تو طبعی ہوتی ہے جو والدین یا خود انسان کی اپنی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور وہ یوں کہ حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے انسان اندھا ہو جاتا ہے۔ یا پھر تقدیر کی طرف سے ہوتی ہے جو انسان کی آزمائش کے لئے ہوتی ہے اور یا پھر انتخابی ہوتی ہے اور وہ یوں کہ انسان عمداً حقیقت کو دیکھنے سے آنکھیں بند کئے رکھتا ہے۔

پیام:

۱۔ کفر کے لئے عذر کی کوئی راہ باقی نہیں رہ گئی تاکہ ہر شخص کی ہلاکت یا نجات بطور آگاہانہ ہو (قد جاء کم بصائر)

۲۔ لوگ، راہ کے انتخاب کرنے میں آزاد ہیں (من ابصر…من عمی)

۳۔ پیغمبر کا کام صرف تبلیغ ہوتا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں۔ (ما انا علیکم بحفیظ)

۴۔ لوگوں کے کفر و ایمان کا نقصان یا فائدہ خود لوگوں ہی کو ملے گا خدا کو نہیں (فلنفسنا۔ فعلیہا)

۵۔ اے پیغمبر! آپ کے پیغام میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے ساری خرابی ان کے اندھے دلوں کی ہے۔ (ومن عمی)

 

آیت ۱۰۵

 

ترجمہ۔ اور اس طرح ہم اپنی آیات کو (مختلف طریقوں سے) بیان کرتے ہیں تاکہ کہیں (یہ نہ) کہیں کہ تم نے (کسی کے پاس) کوئی درس پڑھا ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں،

پیام:

۱۔ بیان و استدلال اور تعلیمی ذرائع میں گوناگوں تبدیلیاں، انسان کے لئے قبول کرنے کی راہیں زیادہ کھولتی ہیں، (نصرف الایات)۔

۲۔ لوگوں کے تحقیر و توہین کرنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی کے استقلال کی نفی کر دیتے ہیں اور یہی بات کفار نے اپنائی ہوئی تھی وہ کہا کرتے تھے: پیغمبر کی باتیں اپنی نہیں ہیں، اس نے کسی سے پڑھ کر ہی سب کچھ یاد کیا ہوا ہے (درست) 33

۳۔ آیات الٰہی کے مقابلے میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو ڈٹ جاتے اور انکار پر اڑے رہتے ہیں (درست) اور جن میں جوہر قابل ہوتا ہے وہ ہدایت پا جاتے ہیں (لقوم یعلمون) گویا قرآن پاک اہل دین کے لئے شفا اور ظالموں کے لئے خسارہ ہے۔ (بقول سعدی)

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

درباغ لالہ روید و درشور زار خس

یعنی بارش کی لطیف طبع میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ بارش قبول کرنے والے کا ظرف ہوتا ہے کہ باغ میں تو گل لالہ اگتا ہے اور شورہ زار زمین میں خس و خاشاک۔

۴۔ توہین و تحقیر کا جواب بھی اسی انداز میں دینا چاہئے، کفار و مشرکین پیغمبر اسلام پر درس پڑھنے اور لوگوں سے سیکھنے کی تہمت لگایا کرتے تھے تو قرآن نے بھی ضمنی طور پر ان لوگوں کو جاہل کہا ہے اور بیان قرآن کو اہل علم و فہم کے لئے مخصوص قرار دیا ہے۔ (لقوم یعلمون)

 

آیت ۱۰۶

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تم اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اور مشرکین سے منہ پھیر لو۔

ایک نکتہ:

اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے پیغمبر اسلام پر اتہامات اور الزامات کی بات ہوئی جو کہا کرتے تھے: “تمہارا کلام وحی نہیں ہے بلکہ دوسروں سے سیکھی ہوئی باتیں ہیں” اور اس آیت میں آنجناب کو تسلی دی جا رہی ہے کہ: آپ اپنا کام کریں اور دشمنوں کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دیں”

پیام:

۱۔ الٰہی رہبروں کو دشمن کی تہمتوں، حقارتوں اور غلط قسم کی تاویلوں سے گھبرا کر پریشان نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے آگے بڑھتے رہنا چاہئے (اتبع)

۲۔ خداوند عالم خود ہی رسالت کے کاموں کا حامی اور مددگار ہے (ربک)

۳۔ دین کی راہ میں خود کو حد سے زیادہ مشقت میں نہیں ڈالنا چاہئے (اعرض)

۴۔ بے اعتنائی، دشمن کے پروپیگنڈوں کا ایک اہم توڑ ہے، (اعرض) ۳۴

 

آیت ۱۰۷

 

ترجمہ۔ اگر خدا چاہتا تو (زبردستی طور پر تمام لوگ ایمان لے آتے اور) مشرک نہ ہوتے (لیکن خدا کا طریقہ کار یہ نہیں ہے) اور ہم نے تجھے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا اور تو ان کے (ایمان لانے) کا ذمہ دار نہیں ہے۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم کا طریقہ کار ابتدا ہی سے یہی چلا آ رہا ہے کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور شرک و مشرکین کا وجود اس آزادی کی علامت ہے (ولو شاء اللہ ما اشرکوا)

۲۔ پیغمبر اسلام نہ تو مشرکین سے بلائیں دور کرنے کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ان کے لئے فوائد و منافع حاصل کرنے کے (حفیظا…وکیل)

۳۔ انبیاء الٰہی لوگوں کے معلم اور مربی ہیں داروغہ جیل نہیں ہیں کہ کسی پر زبردستی حکم چلائیں، (ماجعلناک علیھم حفیظا)

۴۔ چند لوگوں کی گمراہی کی وجہ سے اپنی طراوت و شادابی کو ضائع نہ کرو (آیت کا مفہوم)

۵۔ انبیاء کرام کی بھی تمام آرزوئیں پوری نہیں ہوئیں، اس قدر سعی و کوشش کے باوجود بہت سے لوگ شرک پر باقی رہے۔

 

آیت ۱۰۸

 

ترجمہ۔ اور جو لوگ خدا کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں ان (کے معبودوں) کو گالیاں مت دو جس کے نتیجہ میں وہ بھی جہالت اور دشمنی کی وجہ سے خداوند متعال کو ناسزا کہیں گے۔ ہم نے اسی طرح ہر امت کے عمل کو مزین کیا ہے، پھر ان سب کی بازگشت ان کے رب کی طرف ہے، پس اللہ انہیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا۔

ایک نکتہ:

ہر عمل کی ایک تاثیر ہوتی ہے، خدا نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ گناہ اور خلاف ورزی آہستہ آہستہ اس کی روح میں موثر ہو جاتی ہے اور وہ اس کی عادت بنا لیتا ہے، اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ برائیوں کو بھی اچھائیاں سمجھنے لگتا ہے، اور یہ تاثیر کبھی تو لوگوں کے سمجھانے کی وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی شیطانی وسوسوں کی بنا پر اور بعض اوقات اعمال کا طبعی رد عمل ہوتا ہے، اسی لئے “برے کاموں کو مزین کرنے” کی نسبت خدا کی طرف بھی دی گئی ہے (زینا) کیونکہ وہ روح میں گناہ کی تاثیر کا خالق ہے، اور شیطان کی طرف بھی اس کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ وہ وسوسوں اور وعدوں کے ذریعہ برے کاموں کو اچھا کر کے پیش کرتا ہے، جیسے ارشاد ہوتا ہے “زین لھم الشیطان۔۔۔۔،، (انعام۴۳ ۔انفال۴۸۔ نحل۶۳۔ نمل ۲۴۔ عنکبوت۳۸)

پیام:

۱۔ گالیاں دینے اور ناسزا کہنے سے کسی کو اس کی غلط راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا (لا تسبوا)۳۵

۲۔ ہر گروہ اپنے عقائد کے لحاظ سے متعصب ہے (فیسبوا اللہ عدوا)

۳۔ گالی دینا یا تو منطق کے فقدان کی علامت ہے یا پھر بے ادبی اور بے صبری کی۔ مسلمان کو چاہئیے کہ ناسزاکہنے سے پرہیز کر کے یہ ثابت کر دے کہ اس میں صبر، منطق اور ادب جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں، (لا تسبوا)

۴۔ جو کام بھی ہمارے مقدسات کی توہین کا سبب بنے حرام ہے (فیسبوا اللہ)

۵۔ تبلیغ ، مناظرہ اور نہی عن المنکر کے انجام دینے کے وقت دشنام طرازی کے حربہ سے کام لینا ممنوع ہے (تفسیرفخر رازی)

۶۔ ایسا کام جس کی وجہ سے دوسرے لوگ گناہ کے مرتکب ہوں، حرام ہے (تفسیرمحمع البیان)

۷۔ بعض اوقات انسان لاشعوری طور پر دوسرے لوگوں کے گناہ میں شریک ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت دوسروں کے لئے گناہ کے مقدمات فراہم کرتا ہے۔

۸۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ولی خدا کو گالی دینا خود خدا کو گالی دینا ہے۔ (تفسیر المیزان)

۹۔ مشرکین سے تبرا کا  مقصد انہیں گالی دینا نہیں ہے ، اسی طرح لعنت اور نفرین بھی گالی نہیں ہے۔

۱۰۔ ناجائز باتیں اور گالیاں دینا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ اور قیامت کے دن اس کا غلط انجام ظاہر ہو گا۔ (فینبئھم بما کا نوا یعملون)

 

آیت ۱۰۹

 

ترجمہ۔ اور انہوں نے خدا کی بڑی سخت قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے لئے کوئی معجزہ ظاہر ہو تو وہ یقیناً ایمان لائیں گے۔ (اے پیغمبر!) کہ دو کہ معجزات تو صرف خدا ہی کے پاس (اور اسی کے ہاتھ میں) ہیں اور تمہیں کیا معلوم کہ اگر معجزہ آ بھی جائے تو بھی وہ ایمان نہیں لائے گے۔

ایک نکتہ:

کفار قریش کا یک طولہ حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا! “آپ بھی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی مانند معجزات دکھائیے تا کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں! “آپ نے پوچھا : “میں کونسا معجزہ دکھاؤں ؟ انہوں نے کہا : “کوہ صفا کو(جو مکہ میں ہے) سونے میں تبدیل کر دیجئے، ہمارے مردوں کو زندہ کیجئے اور خدا اور اس کے فرشتے ہمیں دکھلائیے۔۔۔۔! ،، اور ساتھ ہی قسم کھا کر کہا کہ ایسی صورت میں ایمان لے آئیں گے، اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے کہا کہ : “معجزہ خدا کے ہاتھ میں ہے، ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں دکھایا جا سکتا،، (تفسیرمجمع البیان اور تفسیر نمونہ)

بعض مطالبے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خلاف عقل ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس دنیا کو نمایشگاہ بنا دیا جائے گا اور نظام کائنات مشرکین کی خواہشات کا بازی گھر بن جائے۔

پیام:

۱۔ کفار اور دشمنان دین کے نعروں اور جھوٹی قسموں کے فریب میں نہیں آ جانا چاہئے۔ (واقسموا باللہ جھد ایمانھم)

۲۔ دلیل پیش کرنا قبول ! لیکن مشرکین کی ناز برداری نفسانی خواہشات کی تکمیل نا قابل قبول ! (انما الایات عند اللہ )

۳۔ ابنیاء کرام کے معجزات ، خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ (انما الایات عند اللہ)

۴۔ ہٹ دھرمی لا علاج مرض ہے، کیونکہ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم لوگ ہر قسم کے معجزات دیکھنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لاتے (لایوٴ منون)

 

آیت ۱۱۰

 

ترجمہ۔ اور (کفار کے بے جا تعصب اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ) ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو دگر گوں کر دیتے ہیں جس طرح کہ وہ آغاز ہی میں ایمان نہیں لائے۔ اور انہیں ان کی سر کشی میں رہنے دیتے ہیں تا کہ وہ اسی حالت میں دل کے اندھے بن کرسر گرداں رہیں۔

پیام:

۱۔ گناہ اور ہٹ دھرمی انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ (ونقلب ا فئدتھم۔۔۔)

۲۔ اگرچہ خد اہی “مقلب القلوب ” (دلوں کو بدلنے والا) ہے ، لیکن یہ انسان ہی ہے جو کفر یا ایمان کا انتخاب کر کے اس کی دگر گونی کے اسباب فراہم کرتا ہے۔ (نقلب ۔۔۔۔کما لم یو منوا )

۳۔ طغیان اور سرکشی ، کفر کی بنیاد ہے (لم یو منوا ۔۔۔طغیانھم)

۴۔ جسے خد اچھوڑ دے وہ ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے (تزرھم ۔۔۔یعمھون)

 

آیت ۱۱۱

 

ترجمہ۔ اور اگر ہم فرشتے (بھی) ان کی طرف نازل کرتے اور مردے (بھی) ان سے باتیں کرتے اور (صدق و اعجاز کی گواہی کے لئے) تمام چیزوں کو گروہ در گروہ ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے پھر بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ مگر یہ کہ خدا چاہے ۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں۔

چند نکات:

“قبل”کا معنی یا تو”مقابل “ہے یا “قبیل” کی جمع ہے یعنی گروہ اور دستے ۔

اس سے پہلے کی دو آیتوں میں مشرکین کے جھوٹے دعوے کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر معجزہ ظاہر ہو تو ہم ایمان لے آئیں گے ، اس آیت میں ان معجزات کے نمونے بیان کئے گئے ہیں۔

خدا چاہے تو جبر کے طور پر سب کو مومن بنا دے لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔

پیام:

۱۔ ضدی اور ہٹ دھرم دلوں کے لئے کوئی بھی آیت اور نشانی ایمان کی راہ ہموار نہیں کر سکتی (ما کانوا لیومنوا) 36

۲۔ جہالت ، آیات الہی پر ایمان نہ لانے کا موجب ہوتی ہے (اکثر ھم یجھلون)

اس سے ملتی جلتی ایک اور  آیت سورہ حجر میں ہے ارشاد ہوتا ہے” ولو فتحنا علیھم با با من السماء فظلوا فیہ یعرجون۔ لقالو اانما سکرت ابصار نابل نحن قوم مسحورون”یعنی اگر آسمان کا دروازہ کھل جائے اور کفار اس سے آسمان پرچڑھ جائیں پھر بھی وہ کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کر دیا گیا ہے (آیت ۱۴)

 

آیت ۱۱۲

 

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر !) یہ لوگ صرف تمہارے سامنے ہی ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے ہم نے ہر پیغمبر کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے ایک دشمن قرار دیا ہے (جن کا کام یہ تھا کہ ) اپنی دلچسپ اور فریب د ہندہ باتیں مخفیانہ طور پر ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے تا کہ اس طرح سے وہ فریب دے سکیں ۔ اگر تمہارا پردردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے ۔ (لیکن خدا کا طریقہ کار تو یہ ہے کہ انسان کو آزاد رہنے دیا جائے) پس تم انہیں ان کی تہمتوں کے ساتھ اپنے حال پر رہنے دو۔

ایک نکتہ:

اس سے دو آیات پہلے گذر چکا ہے کہ “ہم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے ” اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ : ” اے پیغمبر ! تم بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو” (فذر ھم)

پیام:

۱۔ روح کی تسکین کے عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دوسروں کی تاریخ اور مشکلات سے آگاہی حاصل کی جائے۔ (وکذٰلک)

۲۔ حق اور باطل کی آویزش ازل سے چلی آرہی ہے (و کذٰلک)

(بقول علامہ اقبال : ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز۔ چراغ مصطفوی سے شراربولہبی)

۳۔ تضاد اور آویزش اختیاری ارتقاء کا ذریعہ ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس جہان کو تضادات کی دنیا بنایا ہے (و کذٰلک)

۴۔ ہر رہبر اپنے آپ کو مخالفین کی ناروااور ناگوارباتیں سننے کے لئے ہمیشہ تیار رکھے اور مخالفین اور مخالفتوں کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ رہے (و کذٰلک)

۵۔ دشمنوں اور مخالفوں کی بیخ کنی کی امیدیں نہ رکھو (وکذٰلک جعلنا)

۶۔ ہر موذی انسان ، شیطان ہوتا ہے،جس طرح تبلیغ کبھی ظاہری ہوتی ہے اور کبھی مخفی اسی طرح دشمن بھی کبھی ظاہری ہوتے ہیں اور کبھی چھپے ہوئے۔ (شیاطین الانس والجن)

۷۔ انبیاء علیہم السلام کے دشمن اپنے اندرونی پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں۔ (یوحی بعضھم الی بعض)

۸۔ فتنہ پرور لوگوں کی چکنی چیڑی باتیں اور مخفیانہ کاروائیاں کا عوام الناس کو فریب دینے کے لئے ہوتی ہیں۔ (یوحی۔۔۔زخرف القول)

۹۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور دنیا ستیزہ کاری کا میدان ہے (ولوشاء ربک مافعلوا)

۱۰۔ کائنات کا نظام چلانے کے لئے صرف ایک ہی خدا کا ارادہ کار فرما ہے دو طاقتیں اسے نہیں چلا رہیں۔ یعنی اہرمن اور یزدان آپس میں نہیں ٹکڑا رہے۔ لوگوں کی گمراہ کن کوششیں خدا کی قدرت اور اس کے تسلط سے باہر نہیں ہیں۔ (ولوشاء ربک مافعلوہ)

۱۱۔ انسان کے سقوط کے مراحل کا آغاز شیطانی وسوسوں کے قبول کرنے ہی سے ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد قدرت ہے “یوسوس فی صدور الناس” یعنی لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (الناس ۵)پھر جس کے دل میں وسوسہ اثر کر گیا وہ شیطان کے دوستوں میں شمار ہونے لگا ۔ ارشاد قدرت ہے: اخوان الشیاطین” یعنی شیطان کے بھائی ہیں (بنی اسرائیل ۲۷) آخر میں انسان خود ہی شیطان بن جاتا ہے: جیسا کہ یہی زیر بحث آیت ہے، “شیاطین الانس” یعنی انسانی شیطان۔

 

آیت ۱۱۳

 

ترجمہ۔ اور (شیطان صفت لوگوں کے نعروں اور وسوسوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے) کہ ان کے دلوں کے کان جو کہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان لوگوں کی باتوں کے سپردہو جاتے ہیں اور وہ انہیں پسند کرتے اور اپنی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے لگتے ہیں۔ جن کے وہ اس سے پہلے مرتکب ہوا کرتے تھے۔ (جس کے نتیجہ میں وہ بھی تاریخ کے خلاف ورزی کرنے والوں کے انجام سے دو چار ہو جاتے ہیں)

دو نکات:

” تصغی” کا کلمہ”صخو” سے ہے جس کا معنی ہے تمایل پیدا کرنا ایسا تمایل جو کانوں کے ذریعہ سننے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔

“اقتراف”کا معنی ہے کمانا اور حاصل کرنا۔

پیام:

۱۔ صرف نعرے ، وسوسے اور پروپیگنڈے ہی گمراہی کا عامل نہیں ہوتے بلکہ کان لگا کر سننا ، دل لگا کر قبول کرنا ، جذب ہو جانا اور راضی ہونا بھی موثر ہوتا ہے۔ (لتصخی۔۔۔لیرضوہ)

۲۔ انسان کی گمراہی کا راستہ عام طور پر یوں ہوتا ہے ۔ سننا ، راضی ہونا پسند کرنا اور وارد عمل ہونا۔ (لتصخی، لیر ضوہ۔ لیقترفوا)

۳۔ شیطان اور اس کے وسوسے صرف ان لوگوں کے دلوں میں اثر کرتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ (لایوٴمنون بالاخرة) معاد اور آخرت پر ایمان دوسروں میں جذب ہو جانے سے مانع ہوتا ہے۔

 

آیت۱۱۴

 

ترجمہ۔ آیا (دین کے تمام دلائل کے ہوتے ہوئے بھی ) خد اکے علاوہ کسی اور کو اپنا داور اور حاکم مان لوں؟

جبکہ اسی نے ہی تو تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب کو نازل کیا ہے۔ اور جن(یہود و  نصاریٰ) کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ پس تو شک اور تردید کرنے والوں میں سے نہ ہو جا۔

چند نکات:

“حکم” کو بعض مفسرین نے “حاکم ” کے ہم معنی مراد لیا ہے۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ”حکم” وہ ہوتا ہے جسے مقدمہ کے دونوں فریق اپنے فیصلہ کے لئے منتخب کریں۔ لیکن “حاکم “ہر طرح فیصلہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ (تفسیر نمونہ منقول ازتفسیر المنار)

تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ “حکم” وہ ہو تا ہے جو برحق فیصلے کرے جبکہ “حاکم” ہر قاضی کو کہتے ہیں۔

چند آیات پہلے یہ بات ہوئی تھی کہ اگر ان لوگوں کے پا س فرشتے بھی آ جائیں اور مردے بھی باتیں کرنے لگیں پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور یہ آیت کہتی ہے کہ”اہل کتاب”قرآن کو وحی سمجھتے تھے نصاریٰ کی طرف سے دوسرے معجزات کا مطالبہ صرف ایک بہانہ تھا۔

پیغمبر اکرم کو اپنے مشن میں ذرہ بھر شک و تردید نہیں تھی، لا تکونن”کا خطاب مسلمانوں کو متنبہ کرنے کے لئے ہے کہ ہر گز اپنے دل میں شک کا گزر نہ ہونے دیں۔

پیام:

۱۔ خدا کے علاوہ کسی کو نہ تو قانون بنانے کا حق ہے اور نہ ہی فیصلہ کرنے کا (افخیراللہ اتبخی حکما)

۲۔ اسلام کے قوانین و احکام میں ابہام نہیں ہے (مفصلا)

۳۔ اسلام کی حقانیت کے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ انبیاء توریت اور انجیل نے بھی اس بارے میں بشارتیں دی ہیں (یعلمون انہ منزل من ربک)

۴۔ اہل کتاب پیغمبر اسلام کو بھی اور قرآن مجید کو بھی بڑی گہری نظر سے پہچانتے تھے (یعلمون انہ منزل)37

۵۔ رہبر کو چاہئیے کہ دل میں کسی قسم کا شبہ پیدا کئے بغیر ڈٹ کر اپنے سلسلہ دعوت و تبلیغ کو جاری رکھے (فلا تکونن۔۔)

 

آیت ۱۱۵

 

ترجمہ۔ اور تیرے پروردگار کا کلام صداقت اور عدالت کی تمام و کمال حد تک پہنچ گیا، اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا اور وہ سننے اور جاننے والا ہے۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید میں “کلمہ” کئی معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ۔ ۱۔ حتمی وعدہ : مثلاً وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروا”یعنی بنی اسرائیل نے چونکہ صبر کیا تھا اس لئے تیرے رب کا نیک وعدہ ان کے لئے پورا ہو گیا (اعراف ۱۳۷) یہاں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے وعدہ الہی کے پورا ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔

۲۔ دین ۔ جیسے “کلمتہ اللہ ” یعنی خد اکا دین اور کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ۔

۳۔ خدا کا بنی ۔ یا اولیاء اللہ ۔ کیلئے بھی استعمال ہوا ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔ کلمتہ القھاالی مریم” یعنی حضرت عیسیٰ خد اکے رسو ل اور اسی کے کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم کی طرف القا فرمایا۔ (نساء ۱۷۰) نیز روایات میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی زبانی یہ ارشاد ات موجود ہیں کہ : “نحن الکلمات التامات ” یعنی ہم خد اکے کلمات تامہ ہیں۔

پیام:

۱۔ دین اسلام میں قرآن مجید کامل اور تمام ہے۔ (تمت کلمت ربک)

۲۔ الہی دین کی تمام خبریں سچ اور تمام احکام عدل پر مبنی ہیں (صدقاوعدلا)38

۳۔ خدا کے وعدے اور طریقہ کار نہیں بدل سکتے (لا مبدل لکلماتہ)

۴۔ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہو سکتی (لا مبدل لکلماتہ)

 

آیت ۱۱۶

 

ترجمہ۔ اور اگر تم روئے زمین کے بہت سے افراد کی پیروی کرو گے تو تمہیں راہ خدا سے منحرف اور گمراہ کر دیں گے۔ کیونکہ وہ بھی گمان کے علاوہ کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور اپنے گمان اور تخمینے ہی سے کام لیتے رہتے ہیں،

ایک نکتہ:

“خرص” کا معنی ہے تخمینہ لگانا اور حد س و گمان سے کام لینا ، پہلے تو اس کا استعمال درخت پر موجود پھل کی مقدار کا تخمینہ لگانے کے لئے ہوتا تھا بعد میں ہر طرح کے تخمینے کے لئے استعمال ہونے لگا ، چونکہ بعض تخمینے غلط بھی ثابت ہوتے ہیں لہذا جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ جھوٹ کا بازار ہمیشہ گرم رہتا ہے عوام الناس کی اکثریت کا کاروبار برہان اور منطق کی بنیاد پر نہیں ہوتا جبکہ حق اور برہان کے بازار میں ہمیشہ مندی رہتی ہے اور وہ ہر وقت کساد بازاری کا شکار رہتے ہیں۔ (اکثر من فی الارض یضلوک)

۲۔ گمراہیوں کی بنیاد حد س و گمان پر اعتماد کرنے پر استوار ہوتی ہے (یضلوک۔۔۔ان یتبحون الا الظن)

۳۔ اکثریت کو خوش کرنے کی خاطر ان کی پیروی کیلئے کسی قسم کا اقدام بھی انسان کی تباہی اور گمراہی کا موجب ہو سکتا ہے، (ان تطع ۔۔۔یضلوک)

۴۔ اکثریت ، حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔ معیار حق ہے تعداد نہیں ، کیفیت کمیت پر مقدم ہوتی ہے۔ (بندوں کو گنا نہیں تولا کرتے ہیں۔ از مترجم)

۵۔ اکثریت بعض اوقات اس حد تک جلوہ گر ہوتی ہے کہ پیغمبر کو بھی اس کی طرف متوجہ کرانا پڑتا ہے۔

۶۔ جس اکثریت کی بنیاد یں حق اور  برہان کی بجائے تخمین اور ہوس پر استوار ہوں وہ قابل مذمت ہے۔ (ان ھم الا یخرصون)

۷۔ راستہ اختیار کرنے کے لئے دلیل و برہان لازم ہوتی ہے حدس و قیاس اور استحسان نہیں۔ (ان یتبعون الا الظن۔۔۔۔یخرصون)

 

آیت ۱۱۷

 

ترجمہ۔ یقیناً تمہارا پروردگار ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں سے( بھی) اچھی طرح واقف ہے۔

ایک نکتہ:

“مھدی”اور “مھتدی ‘‘ میں فرق ؟ فرق یہ ہے کہ مھدی جیسے امام معصوم ہوتے ہیں ۔ جو روز اول ہی سے خد اکی طرف سے ہدایت یافتہ ہوتے ہیں ۔ جبکہ مھتدی وہ ہوتا ہے جو پہلے گمراہی کا شکار رہا ہو پھر ہدایت حاصل کرے (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱۔ انسان کو عقل ، تجربہ اور مشورہ سے پہچاننے سے محدود نتیجہ حاصل ہوتا ہے، اور خدا حقیقی انسان شناس ہے۔ انسان ہزار طرح کے ذریعے اختیار کر کے صرف “عالم” بن سکتا ہے جبکہ خداوند عالم کسی بھی ذریعہ کو اختیار کئے بغیر “اعلم” ہے۔

۲۔ ریا کاری ‘ ظاہر سازی اور چاپلوسی سے نہ تو خود کو دھوکہ دو اور نہ ہی دوسروں کو کیونکہ خدا ہر ایک کو اچھی طرح جانتا ہے۔ (ھوا علم من یضل۔۔۔۔)

 

آیت۱۱۸

 

ترجمہ۔ پس اگر خد اکی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو ان (جانوروں کے گوشت) سے کھاؤ جن پر ( ذبح کے وقت) خدا کانا م لیا گیا ہے۔

دو نکات:

جانور کو ذبح کرتے وقت خد اکا نام لینا، مادیات کو ایک طرح کا بچاؤ دینا اور ایمان کا اظہار کرنا ہے ویسے تو ہر کام میں خد ا کو یاد کرنا اچھی با ت ہے لیکن جانور کو ذبح کرتے وقت جبکہ اس کی جان لینے کا موقع ہوتا ہے اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے

ذبح جو ایک جزوی امر ہے، اس کے لئے بھی بہت سی شرائط کا لحاظ رکھا گیا ہے (مثلاً صرف خدا کا نام لیا جائے کسی اور کا نہیں ذبح کرنے والا مسلمان ہو نہ کہ کافر ، رخ قبلہ کی طرف ہوکسی اور سمت کو نہیں، لوہے کے ساتھ ذبح کیا جائے کسی اور چیز کے ساتھ نہیں ، ذبح کیا جائے گلہ نہ دبایا جائے وغیرہ) اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملت اسلامیہ کے لئے تمام امور میں خدا کی بتائی ہوئی جہت اور دیا ہوا دین پیش نظر رہنا چاہئیے۔

پیام:

۱۔ مومن کی خوراک اور غذا کو جچا تلا ہونا چاہئے۔ (ذکر اسم اللہ)

۲۔ خدا کا نام گوشت کے استعمال کیلئے جائز ہونے کی مہر اور مصرف کا اجازت نامہ ہوتا ہے (کلو امما۔۔۔)

۳۔ توحید کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہر فرصت سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، حتی کہ غذا کے طور پر استعمال کرنے کے لئے گوشت حاصل کرنے کے موقع پر جانور کو ذبح کرتے وقت بھی توحید کو ہی پیش نظر رکھا جائے۔ کیونکہ توحید صرف ایک ذہنی مسئلہ نہیں ہے۔

۴۔ حلال غذا کا استعمال ، ایمان کی شرط اور علامت ہے (ان کنتم بایاتہ موٴمنین)

۵۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جس نے ذبح جیسے ایک جزوی مسئلہ کے لئے بھی تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے۔ دین کہ خدا کا نام لیا جائے۔ ذبح کے آلہ کو کہ لوہا ہو، ذبح کے انداز کو ، چار رگوں کو کاٹا جائے ، امت کو، کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، اور سمت کو ، کہ قبلہ کی طرف ہو۔

 

آیت ۱۱۹

 

ترجمہ۔ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اس ذبح سے تم نہیں کھاتے جس پر خدا کا نام لیا گیا ہے؟ (اور ہمارے حلال کردہ کو بغیر کسی وجہ کے حرام کرتے ہو) حالانکہ خداوند عالم نے خود ہی تفصیل کے ساتھ تمہارے لئے ان چیزوں کو بیان کر دیا ہے جو حرام ہیں، (اور تمہارے حرام کرنے کی ضرورت نہیں ہے) جہاں تم مجبور ہو جاؤ تو پھر حرام چیزوں کا استعمال تمہارے لئے جائز ہے، اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ بہت سے لوگ جہالت کی بنا پر اپنی خواہشات کے مطابق دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ یقین جانو کہ تمہارا پروردگار حد سے تجاوز کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

ایک نکتہ:

کچھ لوگ ایسے تھے اور ہیں جو ذبح کئے ہوئے اور مردہ جانور کے درمیان تقابل کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کہتے ہیں: “آخر کیا وجہ ہے کہ جو جانور ہم ذبح کریں وہ حلال ہے اور جسے خدا موت دے وہ حرام ہے؟ (لیضلون باھوائھم)

پیام:

۱۔ بے بنیاد طریقہ پر کسی چیز کو حرام کرنا قابل مذمت ہے، جس طرح حرام کو حلال کرنا ممنوع ہے اسی طرح حلال کو حرام کرنا بھی ممنوع اور ناجائز ہے (وما لکم)

 

آیت ۱۲۰

 

ترجمہ۔ اور آشکار اور پنہائی گناہ کو ترک کر دو (جسم اور فکر کے گناہ کو) یقیناً جو لوگ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں وہ بہت جلد اپنے گناہ کے ارتکاب کی سزا پائیں گے۔

دو نکات:

۔ زمانہ جاہلیت ہو یا دور حاضر زمانے کے بہتیرے لوگ آشکارا اور ظاہری گناہوں سے ڈرتے چلے آرہے ہیں۔

۔ ظاہری اور باطنی گناہوں کے بہت سے مصداق بتائے گئے ہیں۔ مثلاً ظاہری گناہ وہ ہوتے ہیں جن کے خطرناک نتائج فوراً اور فوراً اور ہر شخص کے لئے واضح ہو جاتے ہیں اور باطنی گناہ وہ ہوتے ہیں جو اس کے برعکس ہیں۔ مثلاً وہ غذائیں جو سنگدلی کا باعث بنتی ہیں۔

پیام:

۱۔ گناہ میں ایک طرح کی جاذبیت اور کشش ہوتی ہے جس کو ایک محکم اور قطعی ارادے کے ساتھ دل سے نکال دینا چاہیے۔ (ذورا)

۲۔ خدا کی طرف سے سزا صرف ان گناہوں پر ملتی ہے جو جان بوجھ کر اور علم و ارادے سے کئے جائیں۔ (یکسبون)

۳۔ اسلام کی توجہ ظاہری تربیت اور طہارت پر بھی ہے اور باطنی پر بھی۔ چنانچہ پاک دل کے لوگ ہوں یا منافق لوگ جو ظاہر کی پابندی نہیں کرتے اسلان ان پر کڑی تنقید کرتا ہے۔ (ظاہرالائم و باطنہ)

۴۔ انسان گناہ کے ارتکاب میں آزاد ہے۔ (یکسبون)

۵۔ قیامت اور آخرت کی سزا زیادہ دور نہیں۔ (سیجزون)

 

                  آیت نمبر ۱۲۱ تا ۱۴۰

 

آیت ۱۲۱

 

ترجمہ۔ اور (ذبح یا نحر کے وقت) جن چیزوں پر خدا کا نام نہیں لیا گیااسے نہ کھاؤ۔ کیونکہ یقینی بات ہے کہ یہ فسق(مدار بندگی سے نکل جاتا) ہے۔ بے شک شیطان اپنے (وسوسہ پذیر) دوستوں کو القا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں (کہ مردہ یا ذبیحہ میں کیا فرق ہے؟) اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو یقیناً تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔

چند نکات:

چونکہ حرام خواری دل کی سختی یا سنگدلی کا باعث ہوتی ہے۔ اور دوسرے بڑے گناہوں کے لئے زمین ہموار کرتی ہے۔ لہٰذا اسلام نے اس سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

سورہ مائدہ کی پانچویں آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔ اور یہ آیت کہتی ہے کہ جس جانور پر ذبح کے وقت خدا کا نام نہ لیا جائے اس کا گوشت حرام ہے۔ چونکہ اہلِ کتاب اس شرط کی پابندی نہیں کرتے لہٰذا ن کے جانوروں کا گوشت ہمارے لئے حرام ہو گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آیت میں طعام سے مراد غلہ ا ور اس کی مانند دوسری خشک چیزیں ہیں نہ کہ گوشت۔ (تفسیر المیزان)

۔ جن و انس کے شیطانوں کا وسوسہ اس طرح ہوتا ہے کہ “مردہ جانور کو خدا نے موت دی ہے۔ لہٰذا خدا کا مارا ہوا انسان کے مارے ہوئے سے بہتر ہے۔ لیکن وہ اس نکتہ سے غافل ہیں کہ مردہ جانور کے بدن سے کثیف اور غلیظ خون باہر نہ نکلنے کی وجہ سے عام طور پر کئی طرح کی بیماریاں اس کے ہمراہ ہوتی ہے۔

پیام:

۱۔ مسلمان کو چاہیئے کہ وہ خوراک کے مسائل اور طعام کے ایک لقمہ کی حد تک بھی دینی پابندی اور اعتقادی اور عملی حدود کو پیشِ نظر رکھے۔ (لاتاکاکلوا)

۲۔ ذبح کے وقت خدا کا نام لینا صرف تکلف کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایک ایسا حکم ہے جس کی تکمیل واجب اور جس کی خلاف ورزی جرم ہے۔ (انہ لفسق)

۳۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان صرف ایک ناجائز لقمے کی وجہ سے فاسق ہو جاتا ہے۔ (انہ فسق)

۴۔ شیاطین میں الہام اور القاء کی قدرت موجود ہے۔ (لیوحون)

۵۔ شیطانی وسوفہ صرف ان کے اولیاء (دوستوں) پر اثر کرتا ہے۔ اولیاء اللہ پہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ (اولیائھم)

۶۔ احکام الٰہی میں لڑنا جھگڑنا اور کج بحثی کرنا ایک شیطانی حربہ ہے۔ (لیجادلوکم)

۷۔ انسان “آزادانہ استعمال” کے نتیجہ میں شیطانی القاء کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ (لیوجون)

۸۔ جزوی مسائل میں جدال اور بحث و مباحثہ انسان کو شرک کی حدود تک پہنچاتا ہے۔ (لمشرکون)

۹۔ لڑائی جھگڑے اور بحث مباحثہ کا موجب وسوسے اور خواہشات ہوتی ہیں۔ (الیوحون۔۔ لیجادلوکم)

۱۰۔ خدا پرست بھی اگر عمل کی راہ میں غیر اللہ کی اطاعت کریں گے، مشرک ہو جائیں گے۔ (انکم لمشرکون)

 

آیت۱۲۲

 

ترجمہ۔ آیا جا شخص (جہالت اور شرک کی موت) مر چکا تھا اور ہم نے اسے (اپنی ہدایت کی بدولت )زندہ کر دیا۔ اور اُس کے لئے ایک نور قرار دے دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے۔ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو (جہالت اور شرک کی) تاریکیوں میں (ڈوبا ہوا) ہے۔ اور اس سے نکل ہی نہیں سکتا ہے۔ کافروں کے لئے اسی طرح ان کے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ یہ آیت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب حضرت حمزہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل نے حضرت رسول کو سخت اذیت پہنچائی ہے تو فوراً اس کے پیچھے گیا ور جب وہ مل گیا تو انہوں نے ابوجہل کے سر پر ایک زور دار مکا رسید کر دیا۔ پھر فرمانے لگے ۔ “میں آج سے محمد پر ایمان لا رہا ہوں” چنانچہ اس وقت سے آخر عمر تک اسلام کے ایک مومن اور جری فوجی سردار بن کر رہے۔

پیام:

۱۔ کفر، موت ہے اور ایمان زندگی۔ ایمان مردہ انسانوں اور معاشروں کو زندہ کرتا ہے، انسان کی حقیقی زندگی اور موت۔ ایمان اور کفر ہے۔ (میتا۔ فاحینیاہ) 40

۲۔ ہدایت اور رہنمائی خدا کا کام ہے۔ ہر چند کے خود انسان ہدایت کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ (احینیاہ)

۳۔ مومن کی راہ میں ہرگز رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ (نورایمشی)

۴۔ جب روشنی نہ ہو تو طرح طرح کی تاریکیاں انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ (فی الظلمات)

۵۔ حق ایک ہے و ر باطل ڈھیروں ہیں۔ ( “نور” مفرد ہے اور “ظلمات ” جمع )

۶۔ روایات ہیں کہ امامت اور الٰہی رہبری “نور” کا ایک مکمل مصداق ہے۔ 1

۷۔ نور ایمان اور الٰہی ہدایت کے بغیر انسان کے لئے کوئی اور چیز حیات بخش نہیں ہے۔ (لیس نجارج منہا)

۸۔ انسان کے کارنامے اس کی نگاہا ور فکر میں موثر ہوتے ہیں۔ (زین۔۔۔ کانو ایعملون)

۹۔ کفار کے پرکشش کارنامے مثلاً نئی ایجادات، انکشافات، ٹیکنالوجی، تمدن وغیرہ ان کے لئے اس قدر خوبصورت اور مزین ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنی گمراہی اور اپنی انسانیت کے انحطاط و سقوط کا بھی احساس نہیں رہا۔ (زین للکافرین ما کانوا یعملون۔)

 

آیت۱۲۳

 

ترجمہ۔ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی (آبادی) میں بڑے مجرم مقرر کئے ہیں جو وہاں پر مکر وحیلوں سے کام لیتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ مکاری نہیں کرتے اور اس بات کو سمجھتے بھی نہیں۔

دو نکات:

اس سے پہلی آیت کے شان نزول میں ابوجہل کی اسلام کے ساتھ شیزہ کاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور اس آیت میں خدا یہ بتانا چاہتا ہے کہ “ابوجہلوں” کا وجود کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ اور ہر جگہ دعوتِ حق کے مقابلے میں ایسے فاسد مہرے موجود چلے آرہے ہیں۔ (کذالک)

۔ حق اور باطل اور ان کے طرفداروں کی آویزشیں ازل سے چلی آ رہی ہیں۔ اور یہ ایک طریقہ کار قدرت ہے جو ان کے اختیار کے منافی بھی نہیں ہے۔ اسی لیے سابقہ آیت میں انسان کی نور خدا کی روشنی میں حرکت کرنے کو اپنی طرف نسبت دی ہے۔ اور فرمایا ہے۔ “وجعلنا” اور اس آیت میں بزرگ مومنین کے وجود کو اپنی طرف نسبت دے کر کہا۔ (وجعلنا فی کل قریة اکابرمجرمیھا) گویا “نور” اور “مجرم” کا وجود دونون ہی قدرت خداوندی کے مدار میں ہیں۔

پیام:

۱۔ نیک اور بد لوگوں کی تمام سرگرمیاں مدار قدرت خداوندی سے باہر نہیں۔ (جعلنا)

۲۔ فاسد اور مفسد سردار ہی حق شرہ میں فساد کی جڑیں ہیں۔ (یعنی مالی، فوجی، فکری اور سیاسی مراکز میں یہی “رکابر” ہی تمام برائیوں، بد بختیوں اور تباہیوں کا سرچشمہ ہیں۔)

۳۔ شاطرانہ چالیں اور طرح طرح کی زیرنگیاں انہی مفسد سرداروں کا حربہ ہیں۔ (لیمکروا)

۴۔ صدق و صفا جیسے جوہر کو ضائع کر کے خدائی قہر و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی ایک بہت بڑی ضرب ہے جو یہ مکار لوگ اپنے آپ لگاتے ہیں۔

۵۔ ہر بیماری سے بدتر بیماری کو نہ جاننا ہے اور مکر و فریب سے بدتر اس بات کو نہ سمجھنا ہے کہ اس مضر اثرات خود مکار اور فریبی ہی کی طرح پلٹ جاتے ہیں۔ (وما یشعرون)

 

آیت۱۲۴

 

ترجمہ: اور جب (خدا کی طرف سے ان کی ہدایت کیلئے) کوئی آیت اور نشانی نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی کچھ عطا نہ کیا جائے جو خدا کے رسولوں کو (وحی کا شرف یا اجتماعی رتبہ) دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں (اور کس میں) مقرر کرے۔ جن لوگوں نے (مکر و فریب جیسے) جرم کئے ہیں بہت جلد ہی انہیں ان کے حیلوں فریبوں کی سزا ذلت و خوایر اور سخت عذاب (کی صورت)میں ملے گی۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شانِ نزول میں بتایا گیا ہے کہ کفار کا نام نہاد بڑا سمجھدار اور با شعور شخص ولید بن مغیرہ کہا کرتا تھا “چونکہ میری عمر اور دولت محمد سے زیادہ ہے لہٰذا مجھ پر بھی وحی آنی چاہیے۔” اور اس قسم کی باتیں ابوجہل سے بھی منقول ہیں۔

پیام:

۱۔ صاحبان مال و اقتدار میں سے بڑے بڑے افراد کسی منطقی دلیل کے بغیر صرف اپنی “چودھراہٹ” کی وجہ سے دعوت اسلام کو ٹھکرا دیا کرتے ہیں۔ (قالوا لن موٴمن)

۲۔ مجرمین ہی غرور و تکبر کا شکار ہوتے ہیں۔ (سابقہ آیت میں “اکابرمجرمیھا” ہے اور اس آیت میں “لن موٴمن” ہے۔) 41

۳۔ خدا کا کسی منصوب اور مقرر کرنا، اس امر کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ)

۴۔ خداوند اعلم کے انتخاب کا معیار کسی کی لیاقت اور شائستگی کے بارے میں اس کا علم ہے۔ (اللہ اعلم)

۵۔ استکبار کا نتیجہ ذلت ہی ہے۔ (لن موٴمن۔ صغار)

۶۔ کفار کے کچھ سردار “بدر” میں مارے گئے جس سے خدائی وعدہ کی تعمیل ہو گئی اور وہ ذلت کا شکار ہو گئے۔

 

آیت ۱۲۵

 

ترجمہ: پس خدا جس کو ہدایت کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ اور روح کو اسلام (کی قبولیت) کیل ئے کشادہ کر دیتا ہے۔ اور جس کو (اس کے ناشائستہ اعمال اور خصلتوں کی وجہ سے) گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ اور قبول نہ کرنے والا دشوار گزار بنا دیتا ہے۔ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہو (کہ زمین کو اپنے پیروں سے نکلتا ہوا اور راہ کو دور دیکھتا ہے اور کافی حد تک آکسیجن بھی اپنے پاس نہیں رکھتا) اللہ تعالیٰ اسی طرح پلیدی کو ان لوگوں کے لئے قرار دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ 42

دو نکات:

۔ خدا کی ہدایت اور گمراہی سے مراد شائستہ اور اہل لوگوں کے لئے اسبابِ ہدایت کا فراہم کرنا اور ناشائستہ اور نااہل افراد کے لئے اسباب ہدایت کا سلب کرنا ہے۔

۔ “صدر” (سینہ) سے مراد روح اور دل ہے۔ اور “شرح صدر” سے مراد حق اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تحصل و فکر کے افق کی وسعت اور روح کی بلندی ہے۔ اور اس کے لئے نفسانی خواہشات اور دلی آرزوؤں کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شرح صدر کا حامل نہیں ہوتا وہ ہمیشہ ایک ہی خول میں پڑا رہتا ہے۔ اور اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔ شرح صدر کا نتیجہ ایک تو بصیرت اور نورانیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے نرم دلی اور حق کو قبول کرنے کی صورت میں۔

پیام:

۱۔ حق کو قبول کرنے کے لیے وسعت ظرفی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دوسرے تہہ دل سے اس کے لئے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ (نشرح صدرہ)

۲۔ جو حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا وہ آسمان کی طرف پرواز نہیں کرسکتا۔ (یصعد فی اسماء)

۳۔ فطرت، عقل اور طبعی امور کے مدار سے نکل جانے کا نتیجہ سینے کی تنگی اور گھٹن ہوتا ہے۔ (یصعد فی اسماء)

۴۔ گمراہ لوگ ہر چند کے بظاہر اپنے آپ کو کشادہ حالی اور ترقی کی صورت میں دیکھیں درحقیقت وہ ذہنی دباؤ اور قلبی تنگی کا شکار ہوتے ہیں۔ (فیقا حرجا)

۵۔ بے حوصلہ اور کم ظرف ہونا ایک طرح کی روحانی نجاست اور غلاظت ہوتی ہے۔ (یجعل الرجس)

۶۔ جو حق پر ایمان نہیں لاتا وہ تدریجی طور پر غلیظ اور آلودہ ہو جاتا ہے۔ (کذالک یجعل الرجس)

 

آیت ۱۲۶

 

ترجمہ: اور یہ ہے تیرے رب کا سیدھا راستہ۔ یقیناً ہم نے اپنی آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

دو نکات:

۔ خاوند عالم کا قدیم سے یہی طریقہ کار چلا آ رہا ہے کہ حق کو قبول کرنے والے پاک دل لوگوں کے سینے کو کشادہ کر دیتا ہے اور ایمان سے گریز کرنے والے ہٹ دھرم لوگوں کو سلب توفیق اور رجس جیسی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

۔ ممکن ہے کہ “ھذا” کا اشارہ “اسلام” کے لفظ کی طرف ہو۔ (جو اس سے پہلے آیت میں ذکر ہو چکا ہے۔ “للاسلام” )

پیام:

۱۔ خدا کے رستے کے علاوہ باقی تمام راستے یا منزل مقصود تک نہیں لے جاتے یا پھر آگے جا کر بند ہو جاتے ہیں۔ (وھذا صراط ربک)

۲۔ یاد دہانی ا ور نصیحت کے لئے تنوع، تفصیل اور تکرار ضروری ہوتا ہے۔ (فصلنا)

۳۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک پر اپنی حجت تمام کر دی ہے اگر کوئی اہل توجہ ہو۔ حق کی تمام آیات اور نشانیاں مختلف انداز میں بیان کر کے واضح کر دی گئی ہیں۔ (لقوم یذکرون)

 

آیت ۱۲۷

 

ترجمہ: ان کے لئے رب کے نزدیک امن اور آسودگی کا گھر ہو گا، اور وہ ان کا سرپرست اور حامی ہو گا کیونکہ وہ (نیک) اعمال انجام دیتے رہے۔

پیام:

۱۔ بہشت میں کسی دشمنی، رقابت، ضد بازی، تہمت، حسد، کینہ، جھوٹ، غم، اندوہ کسی قسم کی بے چینی، موت، بیماری، غربت اور ناداری وغیرہ نہیں ہے۔ (دارالسلام)

۲۔ امن و سلامتی کی نعمت سے بھی بالاتر ایک اور نعمت ہے اور وہ پروردگار کے مخصوص سایہ الطاف میں رہنا۔ (عندربھم)

۳۔ الٰہی ولایت اور امان تک رسائی، عمل کے زیر سایہ حاصل ہوتی ہے۔ (بما کانوا یعملون)

 

آیت ۱۲۸

 

ترجمہ: اور اس دن (کو یاد رکو) جب کہ خداوند عالم سب کو محشور کرے گا (پھر شیاطین جو کہ جنات کو مخاطب کر کے فرمائے گا۔) اے شیطانوں اور جنوں کے گروہ! تم نے بہت سے انسانوں کو اپنا پیروکار پایا۔ ان کے طرفدار انسان کہیں گے۔ پروردگار! اہم انسانوں اور جنوں نے ایکدوسرے فائدہ اٹھایا اور اپنے اس انجام کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے جس مین تم ہمیشہ رہو گے، مگر یہ کہ خدا چاہے (کہ تم میں سے کچھ افراد کے گروہ کو بخش دے) یقیناً تیرا پروردگار حکیم و دانا ہے۔

ایک نکتہ:

۔ سابقہ آیات (مثلاً ۱۱۲۔ ۱۲۱) میں شیطانی کارستانیوں اور وسوسوں کی طرف اشارہ موجود ہے، اس آیت میں شیطانی وسوسوں کو قبول کرنے کا انجام جو کہ جہنم ہے، بیان کیا جا رہا ہے۔ ضمناً یہ بات بھی یاد رہے کہ قرآن مجید کے بقول شیطان۔ جنات میں سے ہے، جس جن نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا وہی شیطان ہے۔

پیام:

۱۔ شیطان، جنوں میں سے ہے اور جن بھی مکلف اور مختار ہوئے ہیں انہیں بھی سزا اور جزا سے واسطی بڑھے گا۔ (یامعشرالجن)

۲۔ شیطان لوگوں کے کم گروہوں کو گمراہ کرنے پر راضی نہیں ہے اس نے انسانوں کے بہت سے گروہوں کو گمراہ کیا ہے۔ (قد استرکثرتم من الانس) 43

۳۔ قیامت کے دن خدا کی عدالت اور سزا و تنبیہ کھلم کھلا ہو گی۔ (نحشرھم۔۔۔۔ یامعشرالجن)

۴۔ اپنے اعمال کے انجام کے بارے میں بھی سوچو! (ویوم)

۵۔ قیامت کے دن تمام انسان اور شیاطین یکجا اکٹھے اور محشور ہوں گے۔ (جمعیا)

۶۔ شیطانی وسوسوں کی اتباع سے انسان میں آہستہ آہستہ شیطان سے انس اور اس کی حکومت کو تسلیم کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ (اولیاء ھم)

۷۔ شیطان کی پیروی کو موجب، بہرہ مندی ہے۔ (استمتع)

۸۔ انسان آزاد ہے اور اس کو اختیار حاصل ہے کہ کسی کا اثر قبول نہ کرے اور کسی فریب میں نہ آئے۔ (بعضنا)

۹۔ تمام گمراہ ایک جیسی سزا کے مستحق نہیں ہوں گے اور نہ ہی جہنم میں ہمیشہ رہنے کے (الا ماشاء اللہ)

۱۰۔ خدائی عدالت کے فیصلے علم و حکمت کی بنا پر ہیں۔ (علیم حکیم)

 

آیت ۱۲۹

 

ترجمہ: اور اسی طرح (کہ تمہاری خواہش تھی کہ کامیابی حاصل کرو تو) ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دیں گے تاکہ انہیں ان کے کئے کی سزا مل جائے۔)

ایک نکتہ:

۔ روایات کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ترک کرنے، خمس و  زکوٰۃ اور دیگر شرعی اور واجبات کو ادا نہ کرنے اور ظالموں کی امداد کرنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر ظالموں کا تسلط کر دیا جاتا ہے۔ (تفسیر اطیب البیان)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے راضی ہوتا ہے تو ان کے امور نیک لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اور اگر ناراض ہوتا ہے تو بُرے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ (کشف الاسرار)

پیام:

۱۔ عیاشی اور لذت کام و دین۔ باطل حکومتوں کے اثرورسوخ اور ظالموں کے مسلط ہو جانے کا موجب ہوتی ہے۔ (استمتع۔۔۔ نولی) جبکہ ظالموں سے نجات کا راستہ لذتوں اور عیاشیوں کو ترک کر دینے میں ہوتا ہے۔

۲۔ صرف حاکم ہی ظالم نہیں ہوتے، بزدل، ڈرپوک، خاموش اور عیاش محکوم بھی ظالم ہیں۔ (بعض الظالمین بعضا)

۳۔ ظالموں کے تسلط کا سبب خود لوگوں کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ (بما کانوایکسبون) 44

 

آیت نمبر۱۳۰

 

ترجمہ: (قیامت ے دن ان سے کہیں گے) اے جن و انس کے گروہ! آیا تمہارے پاس تم میں پیغمبر نہیں آئے تاکہ تمہارے سامنے میری آیات پڑھیں اور تمہیں آج کے اس دن کی ملاقات کے بارے میں ڈرائیں تو وہ کہیں گے: ہم اپنے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ اور دنیوی زندگی نے انہیں فریب دیا تھا اور (اب) خود ہی اپنے خلاف گواہی دیر ہے ہیں کہ بے شک وہ کافر تھے۔

چند نکات:

۔ آیات قرآنی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت محمد اور قرآن مجید جنات کے لئے بھی بھیجے گئے ہیں۔ ا ور وہ قرآن کو بھی سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مومن بھی ہیں۔ (ملاحظہ قرطبی، طبرسی، مفسرِ الفرقان اور مغرفی ظلال القرآن) کہتے ہیں کہ جنوں کے رسول، انسانوں کے رسولوں سے وحٰ دریافت کر کے اپنی جس کے افراد تک پہنچاتے ہیں۔ (یہ حدیث ابن عباس سے منقول ہے)

“رسول” کا لفظ انسان کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے “ان اللہ یصطفی من الملائکة رسلا” یعنی خداوند عالم ملائکہ میں سے بھی رسولوں کا انتخاب کرتا ہے۔ (حج/ ۷۰)

۔ اس آیت میں جن و انس کے دو تلخ اقراروں کا تذکرہ ہے، ایک تو یہ کہ وہ اپنی طرف رسولوں کے آنے ک گواہی دیں گے۔ اور دوسرے یہ کہ اپنے کفر کا اعتراف کریں گے۔

۔ قیامت کے مختلف مراحل ہیں۔ ا ور سب سے پہلے مرحلہ میں وہ اپنے کفر و شرک کا انکار کریں گے۔ اور کہیں گے “واللہ ماکنا مشرکین” یعنی خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے۔ (انعام/ ۲۳) لیکن جب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ انکار ناممکن ہے تو پھر اعتراف کر لیں گے۔

پیام:

جن و انس دونوں، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے کے پابند ہیں اور دونوں قوموں کیلئے رسول آئے ہیں۔ (الجن والانس)

۲۔ “انذار” (ڈرانا) انسانوں کی تربیت کیلئے طاقتور ترین اور موثر ترین ہتھیار ہے۔ (وینذرونکم)

۳۔ فرد اور اجتماع (معاشرے) کی اصلاح کیلئے، احکام الٰہی کے اجرا کا طاقتور ترین ضامن معاد اور آخرت پر ایمان ہے۔ (الم یاتکم ۔۔۔۔ینذرونکم)

۴۔ قیامت کے دن کسی بھی بات کو چھپایا نہیں جا سکے گا، اس دن انسان اپنے خلاف بھی گواہی دیں گے۔ (شھدواعلیٰ انفسھم)

۵۔ عیاشی، آسائش طلبی اور دنیا پرستی، انبیاء کی دعوت سے بے اعتنائی کا موجب ہیں۔ (عزتھم الحیاة الدنیا)

۶۔ دنیا ہر فریفتگی، آخرت کی فراموشی کا موجب ہوتی ہے۔ (عزتھم ۔۔۔ یمکم ھذا)

۷۔ دنیا کے ساتھ محبت انسان کو کفر تک لے جا سکتی ہے۔ (عزتھم ۔۔۔ کافرین)

 

آیت ۱۳۱

 

ترجمہ۔ یہ (تمام حجت اور تنبیہ) اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار ظلم کی بناء پر ایسی آبادیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا جن کے رہنے والے غافل ہوں۔ (اللہ تعالیٰ پہلے تولوگوں کو غفلت اور جہالت سے باہر نکلتا ہے اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے انہیں خبردار کرتا ہے اگر وہ پھر بھی قبول نہیں نہ کریں تو ہلاک کر دیتا ہے۔

ایک نکتہ:

۔ خداوند عالم کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ انبیاء بھیج کر لوگوں کو خبردار کرتا ہے۔ انہیں “راہ” اور “چاہ” کے درمیان فرق بتاتا ہے۔ حقائق کو اُن پر واضح کرتا ہے اور اپنی حجت ان پر تمام کر دیتا ہے۔ (اگر پھر بھی وہ نہ سمجھیں اور بے اعتنائی کا ثبوت دیں تو پھر انہیں سزا دیتا ہے۔ خدا کا یہ دیرینہ قانون اور طریقہ کار قرآن کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے۔ منجملہ ان کے سورہ شعرأ/۲۰۸ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے “وما اھلکنا من قریة الاولھا منذرون” یعنی ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ وہاں کے لوگوں کے پاس ڈرانے والے موجود تھے۔ اسی طرح سورہ بنی اسرائیل /۱۵ میں ہے کہ “وما کنا معتدبین حتی نبعث رسولا” یعنی جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں اس وقت تک عذاب نہیں کرتے۔

پیام:

۱۔ خدا کی سزائیں، اس کے رب ہونے کی وجہ سے ہیں۔ (ربک)

۲۔ بیان کئے اور خبردار کئے بغیر عذاب اور سزا دینا ظلم ہے اور بُری بات ہے۔

 

آیت ۱۳۲

 

ترجمہ۔ اور تمام انسانوں کیلئے اس بنیاد پر درجات ہیں جو انہوں نے انجام دئیے ہیں اور تیرا پروردگار اس بات سے غافل نہیں ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ اس آیت میں “درجہ” سے مراد صرف اس کی بلندی ہی نہیں، بلکہ درکات اور سقوط کے مراحل کو بھی شامل ہے۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم عادل ہے اور ہر شخص کو اس کے کارناموں کی وجہ سے رتبہ اور درجہ عطا کرتا ہے۔ (مما عملوا)

۲۔ انسان ک سعادت (خوش بختی) اور شقاوت (بدبختی) ایسی کے اعمال سے وابستہ ہیں۔ (مما عملوا) 45

۳۔ انسان کو اپنے ہوش و حواس ٹھکانے رکھنے چاہئیں کہ اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ (وما ربک بغافل)

 

آیت ۱۳۳، ۱۳۴

 

ترجمہ: اور تیرا پروردگار بے نیاز اور رحمت والا ہے۔ (لہٰذا اے ظلم کرنے کی ضرورت نہیں ہے) اگر چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنائے۔ جس طرح تمہیں ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

یقیناً تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ البتہ ضرور آنے والا ہے وار تم (خدا کو) ناتواں نہیں بنا سکتے (اور اس کی سزا اور عدل سے گریز نہیں کرسکتے۔)

ایک نکتہ:

۔ سابقہ آیات میں خدا کے عدل و انصاف پر مبنی سزا کی بات ہو رہی تھی اور یہاں پر اس کی بے نیازی اور رحمت کا ذکر ہے اور یہی دونوں اس کی عدالت کی دلیل ہیں۔

لفظ “الغنی” میں ایک نکتہ پوشیدہ ہے جو “غنی” میں نہیں ہے۔ اور وہ یہ کہ “الغنی” کے ذریعہ بتایا جا رہا ہے بے نیازی صرف اور صرف خدا ہی کے لئے ہے۔

پیام:

۱۔ بے نیازی صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا تم کبھی بھی خود کو بے نیاز نہ سمجھو۔ (ربک الغنی) 46

۲۔ گناہگاروں کو اسی دنیا میں بھی خدا سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ ان کا مٹانا خدا کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ (یذھبکم)

۔ ظلم (کہ جس کا ذکر دو آیت پہلے ہو چکا ہے) یا تو ضرورت کی بنا پر کہا جاتا ہے یا سنگدلی کی وجہ سے اور خدا ان دونوں ضرورتوں سے بے نیاز ہے ۔ (الغنی ذوالرحمة)

۔ ایک اچھے مربی کی خصوصیت یہ ہے کہ بے نیاز اور مہربان ہو۔ البتہ کبھی قدرت اور تہدید کو بھی کام میں لانا پڑتا ہے۔ (ربک الغنی ذوالرحمة)

۵۔ بشری معاشروں کی بقا مشیت ایزدی سے وابستہ ہے۔ (ان یشاء یذھبکم)

۶۔ خدا کو ہماری عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں وہ اس سے بے نیاز ہے اس کے عبادت کے فرامین ہماری ہی رشد و ہدایت اور ترقی کا عامل ہیں۔ (الغنی)

۷۔ رحمت خدا کا خاس مواقع سے تعلق ہے۔ اور کبھی اپنی حکمت کے تقاضوں کے پیش نظر اپنے قہر و غضب کو کام میں لائے ہوئے سب کو نابود کرسکتا ہے۔ (ذوالرحمة۔۔۔۔ یذھبکم)

۸۔ الٰہی وعدے قطعی ہوتے ہیں مذاق نہیں۔ (لات) 47

۹۔ قیامت کے دن مجرم، قدرت خداوندی سے نہیں ٹکرا سکے گا۔ (ماانتم بمعجزین)

 

آیت ۱۳۵

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ اے میری قوم جو کچھ تم عمل کرسکتے ہو کرو۔( تمہاری ہٹ دھرمی میرے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی) میں بھی اپنے فریضہ پر عمل کرتا رہوں گا (جو کہ تبلیغ اور صبر ہے) پس بہت جلد جان لوگے کہ نیک انجام (اور عزت کا مقام) کس کیلئے ہے؟ یقیناً ظالم کامیاب نہیں ہونگے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر اکرم کو چونکہ اپنے موقف پر یقین ہے لہٰذا اس پر پورے اطمینان سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ (اعملوا علی مکانتکم)

۲۔ لوگوں کا انجام خود ان کے اپنے کارناموں سے وابستہ ہے۔ (اعملوا ۔۔۔ فسوف تعلمون)

۳۔ لوگوں کی سرکشی، انبیاء کے فرائض کو نہیں بدل سکتی۔ (انی عامل)

۴۔ کامیابی کا دارومدار اچھے انجام پر ہے، ناکہ دنیا کی ظاہری زرق وبرق اور بھاگ دوڑ پر۔ (عاقبة اللہ)

۵۔ ظالم، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (لایفلح)

۶۔ خدا اور انبیاء کے رستے سے روگردانی ظلم ہے۔ (الظالمون)

 

آیت ۱۳۶

 

ترجمہ: اور ان (بت پرست) لوگوں نے جو خدا نے کھیتی اور جانور پیدا کئے ہیں ان میں سے اپنے باطل گمان کے مطابق ایک حصہ خدا کیلئے (بھی) مقرر کر دیا اور کہا: یہ حصہ خدا کیلئے ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں (بتوں) کیلئے ہے (جو کہ خدا کے بھی شریک ہیں اور مال کے بھی) پس جو حصہ ان شریکوں (بتوں) کا تھا وہ خدا تک نہیں پہنچتا تھا لیکن جو خدا کا حصہ تھا ہو شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔ یہ کیسا بُرا فیصلہ کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ جو لوگ انبیاء کی ترتیب کے مدار سے نکل کر وادی خیال میں جا پہنچتے ہیں ان کی باتیں اور فیصلے بھی خیالی او بے منطق ہوتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہر چیز کا مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اپنی مرضی کی تقسیم شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی تو لڑکوں کو اپنا حصہ لڑکیوں کو خدا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ “الکم الذکرو لہ الانثی” (نجم/۲۱) اور کبھی غلہ اور جانوروں کو تقسیم کرتے ہیں۔

۔ مشرکین سمجھتے تھے کہ بتوں کا حصہ تبدیل نہیں ہوسکتا لہٰذا اسے بت خانوں اور ان کے پجاریوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے اور جو خدا کا حصہ ہوتا تو اس بناء پر کہ آسمانوں کا مالک خدا تو بے نیاز ہے لہٰذا جب بت خانوں اور ان کے پجاریوں کا خرچہ کم ہونے لگتا تو خدا کے حصے سے اُٹھا کر وہیں پر لگا دیتے اور غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ نہیں کرتے تھے۔

پیام:

۱۔ زراعت اور پرورش حیوانات کے ساتھ اگرچہ انسان کا تعلق ہے لیکن زراعت اور جانوروں کا اصل خالق تو خدا ہی ہے۔ (مماذی أ)

۲۔ زکوٰة کی نوعیت اور آمدنی اور منافع کی تقسیم تمام انسانوں کے عقائد میں شامل رہی ہے یہ اور بات ہے کہ خرافاتی انداز میں رہی ہے۔ (ھذاللہ ۔۔۔۔۔۔ ھذا لشرکائنا)

۳۔ انبیاء کے فرائض میں شامل ہے کہ خرافات کے خلاف علم بلند کرنا (ساء مایحکون)

۴۔ مشرکین اگرچہ بتوں کو خدا کا شریک سمجھتے تھے لیکن خدا کے لئے خصوصی عظمت کے قائل بھی تھے اور عزت اور بے نیازی خدا کے لئے خاص سمجھتے تھے۔ اور کمی کو خدا کے حصے سے پورا کرتے تھے۔

 

آیت ۱۳۷

 

ترجمہ: اور اسی طرح بتوں (کے ساتھ عشق و محبت) نے بہت سے مشرکین کے لئے ان کی اولاد کے (بتوں کی قربانی کے طور پر) قتل کو مزین کر دیا تھا کہ انہیں ہلاکت اور بربادی تک لے گئے اور ان کے دین کو ان کے لیے دگرگوں کر ڈالا۔ اور اگر خدا (زبردستی کرنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے لہٰذا تو بھی انہیں ان کی افترا پردازیوں کی حالت میں چھوڑ دے۔

دو نکات:

۔ جس طرح زراعت اور جانوروں کی خدا اور بتوں کے درمیان تقسیم اگرچہ ایک فضول خیال تھا لیکن ان کی نظروں میں ایک بہت اچھا کام تھا، اسی طرح بتوں کے ساتھ محبت اور بتوں کے آگے قربانی کے طور پر اولاد کا قتل بھی شیطانی وسوسوں کی وجہ سے ان کی نگاہوں میں بہت اچھی ریت تھی۔

۔ “یردوھم” کا لفظ “ارداء” سے ہے جس کا معنی ہے ہلاکت اور بربادی۔

پیام:

۱۔ جس معاشرے کی انہی خطوط پر تربیت نہ ہوئی ہو۔ اس کے افراد اپنی اولاد تک کو پتھر اور لکڑی کے تراشے بتوں کے آگے قربان کر دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں اور اسے عبادت بھی سمجھتے ہیں۔ (زین ۔۔۔۔۔ قتل اولادھم)

۲۔ مجرم لوگ اپنی اولاد کئی تک کی (بزعم خویش) صحیح توجیہ کرتے ہیں۔ (زین) 48

۳۔ گناہ کی توجیہ اور برائیوں کو اچھائیوں کی صورت میں پیش کرنا انسان ہی نہیں انسانیت کے بھی سقوط و تباہی کا موجب ہے۔ (لیردوھم)

۴۔ گناہوں کو آراستہ کر کے پیش کرنا، دین کو شبہات کے ساتھ مخلوط کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ (ولیلبسوا)

۵۔ انسان، آزاد ہے۔ (ولوشاء اللہ مافعلوہ)

۶۔ پیغمبر پر تو صرف تبلیغ کا فریضہ عائد ہوتا ہے، اگر لوگ ان کی بات کو نہیں سنیں گے تو انہیں چھوڑ کر ان سے زیادہ آمادہ دل رکھنے والوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ (فذرھم)

۷۔ گمراہ لوگوں کے افکار اور ان کا رویہ، حق کی دعوت دینے والوں کے لئے پریشانی کا سبب نہیں بننا چاہیئے۔ (فذرھم وما یفترون)

 

آیت ۱۳۸

 

ترجمہ: اور (مشرکین نے) کہا! یہ حیوانات اور کھتیاں ممنوع ہیں، ان کے گمان کے مطابق کسی کو ان کے مصرف اور ان سے کھانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مگر (بت خانے کے پجاریوں کے) جنہیں ہم چاہیں اور چوپائے کہ جن کی پشت (پر سواری) حرام ہے۔ اور چوپایوں کو بغیر خدا کے نام کے ذبح کیا کرتے تھے۔ (ان احکام کو) خدا کی طرف جھوٹ کے ساتھ منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد انہیں ان کی افترا پردازی کی سزا دے گا۔

چند نکات:

۔ “حجر” کا معنی ہے رکاوٹ۔ اور “حجارہ” اور “تحجیر” کا معنی بھی رکاوٹ ہے۔ یعنی کسی علاقے کے گرد پتھر رکھ کر لوگوں کو وہاں پر آمدورفت اور قبضہ کرنے سے روکنا۔ “حجراسماعیل” وہی جگہ ہے جو پتھروں کی دیوار کے ذریعے مسجد الحرام سے علیحدہ کی گئی ہے۔ “عقل” کو بھی “حجر” کہتے ہیں کیونکہ یہ انسان کو بُری چیزوں سے باز رکھتی ہے۔ جب کہ قرآن میں ہے “ھل فی ذٰلک قسم لذی حجر” (الفجر/ ۵) یعنی کیا اس میں صاحبان عقل کے لئے بڑی قسم نہیں ہے؟

۔ اس سے دو آیات قبل زراعت اور جانوروں میں خدا اور بتوں کے حصوں کے بارے میں مشرکین کے خرافاتی عقائد کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اس آیت میں بتوں کے حصے کی تقسیم کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ بت خانے اور بتوں کے پجاریوں کے علاوہ کسی کو اس سے استفادہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ بھی جنہیں ہم چاہیں۔

۔ چوپایوں اور جانوروں سے بہرہ برداری کو حرام قرار دینا، زمانہ جاہلیت کی بدعتوں میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں سورہ مائدہ / ۱۰۳ میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے۔

پیام:

۱۔ خرافات اور گمراہ کُن عقائد سے نبرد آزمائی انبیاء کرام کے اصل فرائض میں سے ایک ہے۔ (افتراء ًعلیہ)

۲۔ دین کو خدائی اور خدا کی طرف ہی منسوب ہونا چاہیئے۔ نا کہ انسان کے اپنے خیال، گمان، قیاس اور استحسان کی بنیاد پر۔ (زعمھم)

۳۔ بدعت اور حلال کو حرام کر دینا یا حرام کو حلال کر دینا خدا پر تہمت لگانا ہے۔ (افترء ً) 49

۴۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے کہ جانوروں تک کے بارے میں بھی انحراف و گمراہی کو برداشت نہیں کرتا۔ جب قرآن مجید کسی جانور کو بغیر مصرف کے رکھنے اور اس پر سواری کو حرام جاننے کی مذمت کرتا ہے تو انسانوں، قدرتی وسائل، سرمائے اور استعداد اور لیاقتوں کو بغیر مصرف کے رکھنے یا ضائع کر دینے کو تو اور بھی زیادہ قابل مذمت جانتا ہے۔

۵۔ بدعت ایجاد کرنے والوں کو اپنے موہوماتی قوانین کی اختراع کے سزا کا منتظر رہنا چاہیے۔ (سیجزیھم)

 

آیت ۱۳۹

 

ترجمہ۔ اور (مشرکین دوسرے خرافاتی عقائد مین یہ بات شامل تھی کہ وہ) کہتے: جو بچہ ان چوپایوں کے شم میں ہے ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر حیوان کوئی بچہ مردہ پیدا ہو تو سب (زن و مرد) اس میں شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس قسم کے توصیف (غلط احکام) کی سزا انہیں دے گا کہ وہ حکمت والا دانا ہے۔

پیام:

۱۔ زن و مرد کے درمیان بے جا تفریق جاہلیت کی ایک رسم ہے۔ (خالصة الذکورز۔۔)

۲۔ عورت کو اس قدر حقیر بنا دیا گیا تھا کہ ایک پورا مردہ جانور تک بھی اسے نہ دیا جاتا، بلکہ اسے اس کا کچھ حصہ دیا جاتا۔ (شرکاء)

۳۔ زمانہ جاہلیت کی خرافات سے آگہی، انسان کو پیغمبرِ اسلام کی زحمتوں اور رکاوٹوں سے آشنا کرتی ہے اور قدر شناسی کی روح کو زندہ کر کے اسے پروان چڑھاتی ہے۔

۴۔ قیامت کے دن خدا کی طرف سے ملنے والی سزا یا جزا انسان کے وہی اوصاف، نفسانی حالات اور اختیار کئے ہوئے عادات ہوں گے جو جسمانی صورت اختیار کر لیں گے۔ (سیجزیھم وصفھم)

۵۔ خدا کی طرف سے ملنے والی سزا یا جزا اس کے علم و حکمت کی بنیاد پر ہو گی۔ (سیجزیھم۔ حکیم علیم)

 

آیت نمبر۱۴۰

 

ترجمہ: یقیناً ان لوگوں نے خسارہ اُٹھایا جنہوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی اور جہالت کی بنا پر قتل کیا۔ اور خدا نے ان کے لئے جو روزی مقرر کی تھی انہوں نے خدا پر جھوٹ باندھ کر اُن پر حرام کر دی، وہ یقیناً گمراہ ہو گئے اور ہدایت پانے والے نہیں تھے۔

چند نکات:

۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں جو شخص زمانہ جاہلیت کی اقوام کی کا اندازہ کرنا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ سورہ انعام کی انہی چند آیات کو پڑھ لے۔ (از تفسیر نمونہ)

۔ دورِ جاہلیت کے عرب، بتوں کا قرب حاصل کرنے یا اپنی آبرو بچانے کے خیال سے اپنی لڑکیوں کو یا تو بتوں کی قربانی کر دیا کرتے یا پھر انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔

۔ ایک شخص نے اپنی پریشانی کا سبب پیغمبرِ خدا سے ان الفاظ میں کہا: “خدا نے زمانہ جاہلیت میں مجھے ایک بیٹی عطا کی، میں چاہتا تھا کہ اسے قتل کر دوں لیکن میری بیوی اس سے مانع ہوئی۔ لڑکی جوان ہو گئی، اس کی خواستگاری کیلئے لوگ آنے لگے، میری غیرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی، اور اُس کا غیر شادی شُدہ رہنا بھی مناسب نہیں تھا، آخر اسے ایک دِن جنگل میں لے گیا اور کنویں میں جا کر پھینک دیا۔ وہ جتنا چیختی چلاتی رہی میں نے ذرہ بھر پرواہ نہیں کی”

یہ سُن کر رسول خدا رو دئیے اور فرمایا “اگر گذشتہ خطائیں معاف نہ کر دی ہوتیں تو تجھے سخت سزا دیتا۔”

پیام:

۱۔ خرافات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔ (قد خروا، سفھا، بغیر علم، افتراء ً، ضلوا، ماکانو ا مھتدین)

۲۔ جہالت اور حماقت، خسارے کا موجب ہیں۔ (خسارے مثلاً اولاد کو ضائع کر دینا، محبت اور نرم دلی کو دل سے نکال دینا، حلال نعمتوں کا فقدان، جہنم خرید کرنا، اور خدائی عذاب کا مستحق ہونا۔)

۳۔ بہت بڑا خسارہ یہ ے کہ انسان باطل کی راہ میں قربان ہو جائے۔ (خواہ بتوں کی قربانی کی صورت میں ہو یا خیالات اور بے جا غیرت کیلئے)

۴۔ کسی چیز کا حرام قرار دینا یا شرعی دلیل کی وجہ سے ہوتا ہے یا عقلی دلیل کی وجہ سے (بغیر علم۔ افتراء ً علی اللہ)

۵۔ حلال چیزوں کو بے مقصد حرام کر دینا خدا پر تہمت لگانے کے مترادف ہے۔ ممنون ہے۔ (وحرموا مارزقھم اللہ

 

                  آیت نمبر ۱۴۱ تا ۱۵۰

 

آیت ۱۴۱

 

ترجمہ۔ اور وہ وہی ہے جس نے باغات اور بوستانوں کو پیدا کیا جو مچانوں کے ساتھ بھی ہیں اور مچانوں کے بغیر بھی ہیں۔ اور کھجور کے درخت، کھیتی کہ جن کی مختلف خوراکیں ہیں۔ اور زینوں و انار کو بھی پیدا کیا۔ کچھ تو ان پھلوں میں سے ایکدوسرے کے مشابہ ہیں اور کچھ آپس میں نہیں ملتے، جب باغات پھل دینے لگیں تو ان کے پھلوں میں سے کھاؤ، اور فصلات کو کاٹنے کے وقت اور پھلوں کو چننے کے وقت (غریبوں کو) ان کا حق دو۔ اور اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھتا۔

دو نکات:

۔ “جنات” درختوں سے بھرے باغات اور کھیتی سے ڈھکی زمینوں کو کہتے ہیں۔ “معروش” ایسے درختوں یا باالفاظ دیگر ایسی بیلوں کو کہتے ہیں جن کے لئے مچان کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے انگور وغیرہ۔ اور “کل” کا معنی ہے کھائی جانے والی چیزیں۔

۔ اسی سورت کی ۹۹ویں آیت میں آیا ہے ۔ “انظروا الیٰ ثمرہ اذا اثمر” لینی جونہی کوئی درخت پھل لے آئے اسے غور سے دیکھو اور اس آیت میں بھی ہم پڑھتے ہیں۔ (کلوامن ثمرہ اذا اثمر) یعنی جب درخت پھل دے تو کھاؤ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمہارا کھانا غور و فکر اور اچھی طرح دیکھ بھال کر ہونا چاہیے، غفلت برت کر نہیں کھانا چاہیئے۔

پیام:

۱۔ اس آیت سے ہمیں چند چیزوں کا درس ملتا ہے۔ ۱۔خدا شناسی، ۲۔استعمال کی اجازت، ۳۔غریبوں اور معاشرہ کے محروم لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، ۴۔راہ خدا میں خرچ کرنا اور ۵۔اسراف سے کام نہ لینا (انشاء۔ کلوا، اتو۔ لاتسرفوا)

۲۔ اسلام ایک معتدل اور میانہ رو دین ہے۔ جہاں ہ ر وہ حلال چیزوں کو بے جا طور پر حرام کرنے سے منع کرتا ہے۔ وہاں پر بے رویہ استعمال سے بھی روکتا ہے۔ (لاتسرفوا) جبکہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا۔ “حرموا مارزقھم اللہ”

۳۔ استعمال کی شرط یہ ہے کہ غریبوں کا حق دیا جائے۔ (کلوا۔ اتواحقہ)

۴۔ کس قدر کھایا جائے؟ جب تک اسراف کی حد تک نہ جا پہنچے۔ (کلوا۔ لاتسرفوا)

۵۔ اناج اور پھل کے محصولات اٹھانے کے دن غریبوں کو نہیں بھولنا چاہیئے۔ (یوم حصادہ)

۶۔ فصلات کو دن کے وقت اٹھایا کرو تاکہ دوسرے بھی ان سے محروم نہ رہ جائیں۔ (یوم حصادہ)

۷۔ محصولات اور فصلات کو اُٹھانے کے دن راہ خدا میں خرچ کرنے کیلئے بہتر آمادگی ہوتی ہے۔ لہٰذا فرصت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا کرو۔ (یوم حصادہ)

۸۔ کچے پھل نہ کھایا کرو۔ (اذا اثمر) تازہ پھل کھایا کرو۔ (اذا اثمر) پھل طبعی طور پر پکنے چاہئیں انہیں مصنوعی طور پر نہ پکایا کرو۔ (اذااثمر)

۹۔ اسراف کرنے والے پر خدا ناراض ہوتا ہے۔ (لایحب)

 

آیت ۱۴۲

 

ترجمہ: اور چوپاؤں میں سے بعض تو وہ ہیں جو بوجھ اُٹھاتے ہیں اور بعض (بوجھ نہیں اُٹھاتے اور) چھوٹے چھوٹے اور فرش کی مانند (ان کے بدن زمین سے نزدیک ہوتے ہیں) اس سے کھاؤ جو خدا نے تمہارے لئے روزی مقرر کی ہے۔ اور شیطان کے نقشِ قدم (اور اس کے وسوسوں) کی پیروی نہ کرو۔ کیونکہ یقیناً وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔

چند نکات:

بعض چوپاؤں میں سے فرش کے کلمہ سے مراد گوسفند جیسے جانور ہیں جن کے بدن زمین سے نزدیک ہونے کی وجہ سے فرش کی مانند ہوتے ہیں، یا یہ کہ ان جانوروں کے اون، پشم اور بالوں سے زمین پر بچھانے کے لئے فرش بنائے جاتے ہیں۔ چنانچہ سورہ نحل /۸۰ میں بھی جانوروں کی پشم، بالوں اور چمڑے سے بہرہ گیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “وجعل لکم من جلودالانعام بیوتا۔۔۔ ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اثاثاومتاعا”

سابقہ آیت مین چند پھلوں کا نام لیا گیا تھا اور یہاں پر جانوروں کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا “حمولہ اور فرش کو پھلوں اور باغات پر عطف کیا گیا ہے جو گذشتہ آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔

پیشتر مفسرین نے “حمولہ” سے مراد بوجھ اُٹھانے والے اور “فرش” سے بوجھ نہ اُٹھانے والے جانور مراد لئے ہیں۔ اس لیے پہلی آیت آیت میں کاشتکاری کی ضرورت پر اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہاں پر جانور رکھنے کی طرف۔

پیام:

۱۔ یہ جہان اور اس میں موجود تمام مخلوق کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کی گئی ہے۔ اور انسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہے۔ (حمولة وفرشا)

۲۔ حیوانات کے بارے میں اصول اور کلیہ قاعدہ یہ ہے کہ ان کا مصرف اور استعمال حلال ہے۔ بشرطیکہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ (کلوا)

۳۔ حلال گوشت جانور صرف چوپاؤں ہی میں منحصر نہیں اسی لئے “کلوا من الانعام” نہیں فرمایا بلکہ فرمایا ہے۔ (خلوا ممارزقکم اللہ)

۴۔ حلال جانوروں کو بے جا اور بغیر کسی دلیل کے حرام کر دینا شیطانی قدم ہے۔ (کلوا ۔۔۔۔ ولا تتبعوا)

۵۔ شکم پُری سے انسان بھٹک سکتا ہے لہٰذا تنبیہ کرنا ضروری ہے۔ (کلوا ۔۔۔۔۔ ولا تتبعوا)

۶۔ دینی عنوان کے ساتھ خام خواری، بدعت اور ممنوع ہے۔ (کلوا مما رزقکم اللہ)

۷۔ گمراہ کرنے کے لئے شیطان کا سب سے پہلا حربہ خوراک تھا (شجر ممنوعہ کا ماجرا) لہٰذا کھانے کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ (کلوا۔۔۔۔ ولا تتبعوا)

۸۔ خدائی دسترخوان پر بیٹھ کر اس کے دشمن کا اتباع نہ کرو۔ (رزقکم اللہ۔۔۔۔الشیطان)

۹۔ خدائی نعمتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ کرو۔ نہ تو حرس سے کام لو اور نہ ہی دوسروں کے مال کو ہتھیانے کی سوچو۔ (رزقکم اللہ۔۔۔۔ لاتتبعوا)

۱۰۔ شیطان جن رستوں کے ذریعہ اپنے اثرات قائم کرتا ہے ان میں سے ایک شکم پرستی اور حرام خوری بھی ہے۔ (کلوا۔۔۔۔ ولا تتبعوا)

۱۱۔ شیطانی سیاست یہ ہوتی ہے کہ قدم بقدم گمراہ کیا جائے نا کہ ایک ہی دفعہ میں۔ (خطوات الشیطان)

 

آیت ۱۴۳

 

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جانوروں میں سے حلال کیا ہے) آٹھ جوڑوں کو، دو تو ہیں بھیڑیں (ایک نر اور ایک مادہ) اور دو ہیں بکریاں (ایک نر ایک مادہ) جو لوگ اپنی طرف سے بعض چوپاؤں کو حرام قرار دیتے ہیں ان سے) کہہ دو کہ آیا خدا نے گوسفندوں اور بکریوں میں سے دونوں نر کو حرام کیا ہے یا دنوں مادہ کو یا اس بچے کو جو ان دونوں مادہ کے پیٹ میں ہے؟ اگر تم سچ کہتے ہو تو علم و دانش کی رو سے مجھے باخبر کرو۔

چند نکات:

۔ “زوج” کا لفظ نر اور مادہ دونوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ کے لئے بھی۔ اس آیت میں ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ کیلئے زوج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور آٹھ جوڑوں سے مراد آٹھ عدد ہیں۔ جن میں سے چار نر اور چار مادہ ہیں۔ جن میں سے چار تو اسی آیت میں اور چار اگلی آیت مذکور میں ہیں۔ سورہ نجم کی ۴۵ ویں آیت “خلق الزوجین الذکر والانثی” نے ابھی “زوج” کا لفظ “فرد” کے لئے استعمال کیا ہے نا کہ جوڑے کے لئے۔

بعض روایات میں آٹھ جوڑے (جو سولہ عدد بنتے ہیں) یوں بیان ہوئے ہیں کہ ان چاروں نسلوں (گوسفند، بکری، اونٹ اور گائے) میں سے ایک پالتو ہے اور ایک جنگل ہے، ایک نر ہے اور ایک مادہ ہے۔

سورہ زمر کی پانچویں آیت مین آٹھ نر اور مادہ کو انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ “خلقکم من نفس واحدة ثم جعل منہازوجھا وانزل لکم من الانعام ثمنیة ازواج” اور یہ شاید جانوروں کی تخلیق اور انسانوں کی پیدائش اکٹھا ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ خرافات کو ختم کرنے اور ذہن میں بیٹھے ہوئے غلط نظریات کو اصلاح کرنے کے لئے عقائد حقہ کو ا چھی طرح اور زیادہ سے زیادہ اور واضح طور پر بیان کرنا چاہیئے۔ جس طرح قرآن نے اس آیت میں مشرکین کے خرافاتی عقائد کے لئے بیان کیا ہے۔

۲۔ فتویٰ دینے کے لئے یا کسی چیز کے حلال یا حرام کا عقیدہ رکھنے کے لئے علم کا ہونا ضروری ہے۔ (بنئونی بعلم)

 

آیت ۱۴۴

 

ترجمہ: اور اونٹ سے دو عدد (نر اور مادہ) اور گائے سے دو عدد (نر اور مادہ) کو (تمہارے لئے حلال کیا ہے) کہہ دو: آیا اللہ نے ان دونوں کے نر جانوروں کو حرام کیا ہے یا مادہ جانوروں کو یا ان کے ان بچوں کو دونوں مادہ کے شکم میں ہیں۔ یا تم گواہ تھے کہ خدا نے ان کے گوشت کے حرام ہونے کی تمہیں سفارش کی ہے؟ پس اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرے؟ یقیناً خداوند تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

ایک نکتہ:

احتمال یہ ہے کہ ان چار جانوروں (بھیڑ، بکری ، اونٹ، اور گائے ) کا بالترتیب نام لینے کی وجہ ان کے گوشت کے استعمال میں برتری کی طرف اشارہ ہے۔

پیام:

۱۔ خدا پر بہتان طرازی بہت بڑا ظلم ہے۔ (فمن اظلم)

۲۔ خدا پر جھوٹ باندھنا، لوگوں کے گمراہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ (لیضل الناس )

۳۔ ظلم اور افترا پردازی، انسان کو ہدایت کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ (لایھدی)

 

آیت ۱۴۵

 

ترجمہ۔ کہہ دو کہ جو مجھ پر وحی ہوئی ہے اس میں کسی کھانے والے کے لئے جو وہ غذا کھاتا ہے کسی حرام کو نہیں پاتا۔ مگر یہ کہ مردار، یا بہہ جانے والا خون یا خنزیر کا گوشت ہو کہ حتما وہ نجاست ہیں۔ یا (پھر) یہ کہ فسق اور نافرمانی کی بنا پر خدا کا نام لئے بغیر ذبح کیا جائے۔ پس جو شخص ان کے کھانے کے لئے مضطر اور ناچار ہو بشرطیکہ سرکشی اور ضرورت کی حد سے زیادہ نہ ہو (تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے) یقیناً تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

مردار صرف وہی حرام نہیں ہوتا جو خودبخود مر جائے، بلکہ اگر الٰہی اصولوں کے مطابق بھی اُسے ذبح نہ کیا جائے پھر بھی مردار کے حکم میں اور حرام ہے۔

مردار اور خوں کے حرام ہونے کا تذکرہ قرآن مجید میں چار مقامات پر ہوا ہے دو مرتبہ مکی سورتوں میں اور دو مرتبہ مدنی سورتوں میں۔ اور یہ اس سلسلے کی پہلی آیت ہے۔

۔ “اُھل” کا لفظ “اھلال” مصدر سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے پہلی رات کا چاند دیکھنے کے موقع پر آواز کو بلند کرنا۔ پھر اس کا پھر اس کا استعمال پر بلند آواز کے لئے ہونے لگا۔ جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی بلند آواز کے ساتھ بتوں کا نام لیا جاتا تھا۔ اس لئے “اُھل” کہا گیا ہے۔

۔ “لااجد” ۔۔۔ الا ان یکون میتة” کا جملہ در حقیقت مشرکین کے جاہلانہ انداز میں حرام کرنے کے مقابلے میں ہے۔ ورنہ بعض پرندے اور درندے بھی حرام ہیں۔ اور اصولی اصطلاح میں اس حصر کو ” حصر اضافی” کہتے ہیں۔ یعنی یہ “حصر اضافی” ہے۔ “حصر حقیقی” نہیں ہے۔ 1

۔ تفسیر مراغی میں اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “حرام جانور فقط یہی چار طرح کے ہیں۔ باقی جانوروں کی حرمت کی روایات کراہت پر محمول ہیں۔” ان سے پوچھنا چاہیئے کہ آیا کتنے کا گوشت بھی مکروہ ہے؟

پیام:

۱۔ اصولی طور پر قانون اولیہ کے مطابق سب جانور حلال ہیں۔ (لا اجد)

۲۔ ہم، ظاہر کے پابند ہیں اور اسی پر عمل کرنے کا ہمیں حکم ہے۔ اور آیات میں جن محرمات کو بیان کیا گیا ہے ان پر عمل پابند ہیں۔ اگر ہم تلاش کرتے ہیں لیکن اچھی خاصی تگ و دو کے بعد ہمیں کسی جانور کی حرمت کا حکم نہیں ملتا تو وہ ہمارے لئے حرام ہے۔ (البتہ پیغمبر کے لئے: “عدم الوجدان” دلیل ہے۔ “عدم الوجود” ہر لااجد)

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے فقط وہی چند چیزیں حرام تھیں، لہٰذا بعض دوسرے جانوروں کا حرام ہونا اس آیت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ان کی حرمت بعد میں یا تو قرآن کے ذریعے یا پھر پیغمبرِ اکرم اور ان کی پاک آل کے ذریعہ بیان ہوئی۔

۳۔ جب کسی چیز کے کھانے یا نہ کھانے کے متعلق خود پیغمبر اکرم بھی وحی کے ذریعے حکم کے محتاج ہیں کہ ادھر سے حکم ملے اور لوگوں کو بتائیں، تو عام لوگ کیونکر کسی چیز کو اپنی طرف سے حرام کر سکتے ہیں؟

۴۔ غذا کا قانون زن و مرد کے لئے یکساں ہے، (طاعم یطعمہ) یہ قانون اس بے ہودہ عقیدہ کے مقابل میں ہے جس کے تحت مشرکین ان جانوروں کا گوشت مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ “خالصة لذکور ناومحرم علی ازورجنا”

۵۔ قانون میں “اہم” اور “اہم تر” کے قاعدہ کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ جان کی حفاظت مردار کھانے سے زیادہ اہم ہے۔ (فمن اضطر)

۶۔ دین اسلام میں کہیں پر بھی رکاوٹ نہیں ہے۔ جب مجبوری کا سوال پیدا ہوتا ہے تو حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔ (فمن اضطر)

۷۔ قانون اور استثنائی صورتوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔ صرف مجبوری ہی کی حد تک اکتفا کرنا چاہیئے۔ (غیر باغ والاعاد)

۸۔ جو خون شرعی ذبح کرنے کے بعد گوشت کے اندر یا رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ حرام نہیں ہے۔ ذبح کے وقت بہنے والا خون حرام ہے۔ (دمامسفوحا)

۹۔ حرام ہونے کا سبب یا تو مادی اثرات ہیں (رجس) یا معنوی بُرے اثرات ہیں جیسے خدا کے نام سے غفلت یا شرک کے جلوے ہیں کہ اُن کا شمار بُرے معنوی اثرات میں ہوتا ہے۔ (فسقا)

۱۰۔ جہاں پر جبری طور پر اضطرار اور مجبوری پیش آ جائے وہاں پر حرام گوشت کو کھایا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم خود اپنے ہاتھوں سے کوئی ایسا کام کریں مجبور اور مضطر ہو جائیں تو پھر ایسی حالت میں اس کی حرمت بحال رہے گی اور کھانا حلال نہیں ہو گا ( کیونکہ “اُضطر” کا لفظ ہے “اِضْطَرَّ” کا نہیں۔)

 

آیت ۱۴۶

 

ترجمہ۔ اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا اور گائے اور گوسفند سے ان دونوں کی چربی کو اُن پر حرام کیا مگر وہ چربی جو گائے اور گوسفند کی پُشت پر ہو یا انتڑیوں کے ساتھ ہو یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو۔ یہ (حرمت) ان کے اس ظلم کی وجہ سے ہے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیں۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں ان چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جو اسلام میں حرام ہیں اور اس آیت میں وہ چیزیں بتائی گئی ہیں جو یہودیوں پر حرام تھیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ مشرکین کے بیہودہ عقائد کسی بھی آسمانی دین کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ (تفسیر نمونہ)

“ظُفر” کا معنی ناخن ہے، لیکن اس کا اطلاق جانوروں کے ان سموں پر بھی ہوتا ہے جو چیرے ہوئے نہیں ہوتے (مثلاً گھوڑے کے سُم یا اونٹ کے پاؤں کی نوک) بنا بریں اونٹ اور ہر وہ جانور جس کے سُم چیرے ہوئے نہیں ہوتے خواہ چوپائے ہوں یا پرندے، یہودیوں پر حرام ہیں۔ (ملاحظہ وہ تورات، سفر لاویان فصل ۱۱)

“حوایا” جمع ہے “حاویہ” کی جو شکم کے مجموعی حصے پر بولا جاتا ہے۔ (تفسیر نمونہ)

اس آیت کا مضمون توریت، سفر لاویان فصل ۷ آیت ۲۴ میں بھی مذکور ہے۔

سورہ نساء /۱۶۰ میں ہے “فبظلم من الذین ھادواحرمنا علیھم۔۔۔۔” یعنی بعض پاکیزہ چیزیں یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔

اور یہ اس کے علاوہ ہے جو یہودیوں نے مشرکین کی مانند کچھ چیزیں اپنے اور خود حرام کر دی تھیں۔ 50

پیام:

۱۔ یہودیوں پر یہ چیزیں وقتی اور عارضی طور پر حرام تھیں جو بعد میں حضرت عیسیٰ کے ذریعہ حلال کر دی گئیں۔ 1 5

۲۔ احکام خداوندی تین طرح کے ہیں۔ الف: جن میں واقعاً کوئی بھلائی یا بُرائی ہوتی ہے جیسے اکثر دینی احکام۔ ب: جو امتحان اور آزمائش کیلئے ہوتے ہیں جیسے حضرت اسماعیل کے ذبح کرنے کا حکم۔ ج:جو سزا کے طور پر ہوتے ہیں جیسے یہی زیرِ بحث آیت ہے۔ خدائی سزاؤں مٰں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کی مشیت تنگ کر دی جائے۔

۳۔ خلاف ورزی کرنے والوں، باغیوں اور قیدیوں کے خوراک کے لئے پروگرام کو محدود کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

۴۔ خدائی سزائیں صرف آخرت ہی میں نہیں ملیں گی، دنیا میں بھی ملتی ہیں۔ (جزیناھم بینٰھم)

 

آیت ۱۴۷

 

ترجمہ: (اے پیغمبر!) اس پر بھی اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو تم (ان سے) کہہ دو کہ تمہارا پروردگار وسیع رحمت کا مالک ہے (اور اگر تم توبہ نہیں کرو گے اور اپنی تکذیب کے سلسلے کو جاری رکھو گے تو) اس کا قہر و عذاب مجرم لوگوں سے پلٹایا نہیں جائے گا۔

پیام:

۱۔ رہبر کو لوگوں کی طرف سے تکذیب و تہمت سننے کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔ (کذبوک)

۲۔ جھٹلانے والوں کے ساتھ بھی خیر خواہانہ رویہ اختیار کرنا چاہیئے، لیکن اگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لینا چاہیے۔ (ذو رحمة ۔۔۔۔ لایردباسہ)

۳۔ مربی کو رحمت کا موجیں مارنے والا سمندر ہونا چاہیے۔ (ذورحمة)

۴۔ خوف اور اُمید ساتھ ساتھ ہوں تو کام بنتا ہے۔ (رحمة ۔۔۔۔ باسہ)

۵۔ خدا کی رحمت کے دروازے تو انبیاء کے مخالفین کے لئے بھی بند نہیں ہیں۔ (کذبوک ۔۔ ذ ورحمة)

 

آیت ۱۴۸

 

ترجمہ: عنقریب مشرکین کہیں گے: اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا مشرک ہوتے اور نہ ہی کسی چیز کو حرام کرتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے ان (انبیاء ماسلف) کو بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے قہر و عذاب کا ذائقہ چکھا۔ کہہ دو کہ آیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے لئے ظاہر کرو؟ تم تو صرف خیال اور گمان کی پیروی کرتے ہو اور بے جا تخمینے لگاتے ہو۔

دو نکات:

مشرکین کا یہ بہانہ کہ “اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا مشرک نہ ہوتے” قرآن میں بار رہا بیان ہوا ہے ا۔منجملہ ان کے سورہ نحل کی ۳۰ویں آیت اورسورہ زخرف کی ۲۰ویں آیت میں بھی ہے اس آیت میں ہے کہ در عنقریب مشرکین کہیں گے جب کہ سورہ نحل میں ہے ۔(قال الذین اشر کوا۔)یعنی انہوں نے کہا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیب کی خبر ہے

پیام ۔

۱۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہے کہ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا بھیجنا اور توحید کی دعوت دنیا صرف اس لئے ہے تا کہ لوگ اپنے ارادے ،اختیار اور پوری آزادی کے ساتھ توحید پرست بنیں لہذا مشرکین کی یہ منطق کے ِِاگر خدا چاہتا ۔۔۔۔۔غلط ہے (ولوشاء اللہ مااشرکنا )

۲۔ دین کے رہبر اور دانشوروں کو مستقبل میں پیش آ نے والے شبہات اور بہا نوں کا جواب دینے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے(سیقول)52

۳۔ عذر گنا ہ ، بدتر  از گناہ کے مصداق مشرکین اپنے ترکو خدا کی منشا اور مشیت سمجھتے تھے ۔(لوشاء اللہ )

۴۔ جبر کا عقیدہ گمراہ لو گوں کی بے بنیاد توجیہ ہے ، شیطان نے بھی جو گمراہوں کا سردار ہے ۔ اپنی گمراہی کو خدا کی طرف منسوب کیا تھا ۔ 53

۵۔ خدا چاہتا ہے کہ لوگ مومن بنیں، نا کہ انہیں زبردستی مومن بنایا جائے۔ قرآن مجید میں بارہا آیا ہے کہ : “اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کرتا” لیکن زبردستی کے ایمان میں نہ تو تربیت کا عنصر ہوتا ہے اور نہ ارتقاء کا۔ اور پیغمبر کو بھی زبردستی یا کسی کو مجبور کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ لوگوں پر جبار ہے اور نہ ہی ان کا وکیل۔

۶۔ قرآن، مخالفین سے بھی دلیل اور ثبوت طلب کرتا ہے۔ (ہل عندکم من علم)

۷۔ جبر کے معتقدین کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے صرف باتیں کرتے ہیں (الا الظن)

۸۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائیت و معلومہ ہو گا کہ لوگ جبر کا سہارا لے کر انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔ (کذب الذین من قبلھم)

۹۔ اگر کسی بھی بہانے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے فرار کریں گے تو پھر انہیں خدا کا قہر و غضب چکھنے کے لئے منتظر رہنا چاہیے۔ (ذاقوالینا)

۱۰۔ اگر علم و یقین کی بجائے ظن اور گمان کی پیروی کریں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔ (ان انتم الا تخرصون)

 

آیت۱۴۹

 

ترجمہ: (اے پیغمبر) کہہ دو کہ صرف خدا ہی کے لئے (روشن اور مقصد تک پہنچانے والی دلیل ) پس اگر وہ چاہتا تو یقیناً تم سب کو (زبردستی)ہدایت کرتا۔

چند نکات:

خداوند عالم نے “فطرت توحیدی” جو انسان کے اندر قرار دی ہے اور انبیاء و عقل کی ہدایت کے ذریعہ اپنی حجت تمام لوگوں پر تمام کر دی ہے۔ اور خیر و شر کی راہیں اور ہر ایک کا نیک و بد انجام بھی بیان کر دیا ہے۔ خطا کاروں کے لئے توبہ اور تلافی کے دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔ انبیاء کے روشن معجزے، ان کی دعوت کا احسن طریقہ کار اور فطرت و عقل کے ساتھ دین کی مطابقت اور سازگاری کے محکم دلائل غرض ہر قسم کی حجت کو تمام کر دیا ہے۔ تمام گمراہ کن رستوں کا سدباب بھی کر دیا ہے۔ خدائی راستے کے علاوہ دوسرے تمام راستے اختیار کرنے کے خطرات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اب کسی کیلئے کسی قسم کے جواب کی گنجائش نہیں چھوڑی۔

اب مشرکین کے پاس بے بنیاد گمان کے علاوہ ان کے شرک کی کوئی اور دلیل باقی نہیں رہ گئی۔ اور اگر وہ خدا کے بتائے ہوئے رستے کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کریں گے تو اوہام و خیال اور علمی اور فکری محدودیت اور ہوا و ہوس کی پیروی کریں گے۔

تفسیر نور الثقلین میں ہے کہ: خداوند عالم قیامت کے دن انسان سے فرمائے گا: “آیا تو جانتا تھا یا نہیں جانتا تھا؟” اگر وہ جواب دے گا کہ “میں جانتا تھا!” تو خدا پوچھے گا کہ “تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟” اور اگر وہ کہے گا کہ “میں نہیں جانتا تھا!” تو خدا سوال کرے گا : “اسے سیکھا کیوں نہیں؟” تو یہ ہے بندوں کے لئے خدا کی حجت بالغہ۔

پیام:

۱۔ یہ صرف خدا ہی ہے کہ جس کے پاس حجت بالغہ ہے اور ہم سب اس کے جواب کے لئے عاجز، یہی دست اور قصوروار! (فللّٰہ الحجة البالغہ)

۲۔ مخالفین کیلئے راہ خدا میں کسی قسم کا ابہام اور بہانہ نہیں ہے جس سے وہ کوئی دلیل قائم کر سکیں نہ تو استدلال میں نہ سابقہ حالات و واقعات میں نہ انبیاء کی صفات میں اور نہ ہی ان کے اندازِ تبلیغ میں۔ (فللّٰہ الحجة البالغة)

۳۔ خدا کی مشیعت اور ارادہ یہ ہے کہ بندے آزاد اور خودمختار رہیں (فلوشاء لھداکم)

 

آیت ۱۵۰

 

ترجمہ: (جن لوگوں نے ناجائز طور پر اپنے اوپر زراعت اور جانوروں کو حرام کر دیا ہے ان سے) کہہ دو کہ اگر تمہارے پاس اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا نے حرام کیا ہے تو لے آؤ! پس اگر وہ (اس بات کی) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ (مل کر) گواہی نہ دینا۔ اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو لوگ آخرت ایمان نہیں رکھتے اور خدا کا ہمسر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔

چند نکات:

چونکہ اسلام خود منطق اور آزادی کا دین ہے لہٰذا وہ فی لفن سے بھی دلیل اور برہان کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلے کی دو آیات میں بھی اس نے پوچھا کہ : “آیا تمہارے پاس کسی کوئی اطلاع ہے جو ہمارے پاس نہیں؟ “ھل عندکم من علم” اور یہاں پر فرماتا ہے: “اگر تمہارے پاس گواہ ہیں تو لے آؤ!” (ھلم شھداء کم)

اس آیت میں پہلے تو فرمایا: اگر ان کے پاس کوئی دلیل یا گواہ ہے تو لے آئیں! پھر فرمایا کہ! “اگر گواہی دیں بھی تو تم اسے قبول نہ کرو۔” (اس لئے کہ صداقت پر مبنی نہیں ہے۔)

“یعدلون” کا کلمہ “عدل” سے لیا گیا ہے جس کا معنی “ہم پلہ” پس (بربھم یعدلون) کا معنی ہو گا “وہ خدا کے لئے شریک، ہمسر اور مشابہ قرار دیتے ہیں۔” (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ اسلام، منطق اور دلیل کا دین ہے لہٰذا مخالفین سے بھی گواہی مانگ رہا ہے۔ (ھلم شھداء کم)

۲۔ ہر شہادت اور گواہی قابل اعتبار نہیں ہوتی (فان شھدوافلا تشھدمعھم)

۳۔ خبردار! کہیں معاشرہ اور ماحول تمہیں دام اور اشتباہ میں ڈال دے۔ (فان شھدوافلا تشھدمعھم)

۴۔ آیات الٰہی کا منکر، عوام کا رہبر نہیں بن سکتا (فلا تتبع۔۔۔)

۵۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین چونکہ کفار کی خواہشات کے مطابق بنائے جاتے ہیں لہٰذا ناقابلِ عمل ہیں۔ (لاتتبع اھوائھم

 

                  آیت نمبر ۱۵۱ تا ۱۶۵

 

آیت۱۵۱

 

ترجمہ: (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ آؤ میں وہ چیز تمہارے لئے پڑھوں جو تمہارے پروردگار نے تمہارے اوپر حرام کر دی ہے۔ (وہ) یہ کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بناؤ، والدین کے ساتھ نیکی کرو، اپنی اولاد کو تنگدستی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ (اس لئے کہ) ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور انہیں بھی اور برائیوں کے نزدیک نہ جاؤ۔ خواہ وہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ ۔ اور کسی جان کو کہ خدا نے جس کا قتل حرام قرار دیا ہے، قتل نہ کروسوائے (قصاص یا دفاع وغیرہ جیسے) حق کے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ عقل و خرد سے کام لو۔

ایک نکتہ:

زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی آیت میں محرمات کے دہ گانہ اصول بیان ہوئے ہیں۔ جن کا آغاز توحید سے اور اختتام: اختلافات کے خاتمے پر ہوتا ہے۔ بقول تفسیر المیزان یہ آیت تمام ادیان کے مشترکات میں سے ہے۔ توریت (سفر خروج باب ۲۰) میں بھی اس سے ملتے جلتے احکام مذکور ہیں۔

مدینہ سے وہاں سے دو سردار حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنجناب نے جب ان کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو وہ مسلمان ہو گئے اور آپ سے مبلغ کی درخواست ک۔ حضور پاک نے مصعب بن عمر کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔ اس طرح مدینہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کی راہیں ہموار ہو گئیں۔

پیام:

۱۔ لوگوں کو حرام چیزیں بتانا انبیاء کے فرائض میں شامل ہے۔ (اتل ماحرم)

۲۔ چونکہ ہر چیز میں اصل اس کا حلال ہونا ہے لہٰذا حلال کو شمار کرنے اور تلاوت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ حرام کو بیان کرنا چاہیئے۔ (اتل ماحرم)

۳۔ دین میں حرام کردہ چیزیں خدا کی طرف سے ہیں، پیغمبر اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام نہیں کرتے۔ (حرم ربکم)

۴۔ بُرے کاموں سے رکاوٹ، انسان کی تربیت اور ارتقاء کے لئے ہے۔ (حرم ربکم)

۵۔ چونکہ شرک بہت بڑا ظلم اور تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ اسی لئے ممنوعات میں سرفہرست بیان کیا گیا ہے۔ (الائشرکوا)

۶۔ توحید پرستی کے بعد والدین کے ساتھ نیکی اور خاندان کے نظام کی حفاظت کا حکم ہے۔ (وبالوالدین)

قرآن مجید میں چار مقامات پر والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا یگا ہے۔ اور ہر جگہ مسئلہ توحید اور شرک سے نہی کے بعد۔ 54

۷۔ اس آیت میں تمام احکامات نہی کی صورت میں بیان ہوئے ہیں مگر والدین کے ساتھ نیکی کا امر کیا گیا ہے یعنی نہ صرف انہیں اپنی نظروں سے نہ گراؤ بلکہ ان کے ساتھ احسان (نیک سلوک ) بھی کرو۔

۸۔ غربت کے ڈر سے اولاد کشی اور اسقاط حمل ایک جاہلانہ کام ہے، اگر خدا ہی روزی کا ضامن ہے تو پھر غربت کا خوف کیسا؟ (نحن نرزقکم)

۹۔ معاشرے کی اصلاح خرابیوں کا دور کرنا بھی ضروری اور روح کی اصلاح کے لئے اس سے رذالتوں کا دور کرنا بھی۔ (ماظھرمن ھاومابطن)

۱۰۔ ایک گناہ سے آلودگی، دسرے گناہوں کی چابی ہوتی ہے، اسی لئے “فواحش” کہا ہے “فاحشہ” نہیں کہا۔

۱۱۔ بعض گناہ ایسے خطرناک ہیں کہ ان کے نزدیک بھی نہیں بھٹکنا چاہئے جیسے پیٹرول کے نزدیک آگ نہیں لائی جا سکتی۔ (لاتقربوا)

 

آیت ۱۵۲

 

ترجمہ: بہتر اور مفید تر انداز کے بغیر یتیم کے مال کے نزدیک نہ جاؤ۔ جب تک کہ وہ بلوغ اور رشد کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔ اور (لین دین میں) پیمانے اور وزن کے حق کی عدالت کے ساتھ پورا کرو ہم کسی شخص کو اس کی وسعت کے سوا تکلیف نہیں دیتے اور جب تم کوئی بات کرو (خواہ فیصلہ کی ہو خواہ گواہی دینے کی) تو عدالت کی بات کرو خواہ تمہارے قریبی شرتہ داروں کے بارے میں ہو، اللہ سے کئے ہوئے اپنے وعدے پورے کرو، یہ ایسے امور ہیں جن کی خدا نے تم کو حکم دیا ہے، شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

ایک نکتہ:

خداوند تعالیٰ اپنے کام “احسن طریقے” سے انجام دیتا ہے۔ “احسن الخالقین” ۔ “احسن تقویم” “نزل احسن الحدیث” وغیرہ۔ وہ ہم سے بھی یہی چاہتا ہے کہ ہمارے کام بھی احسن طریقے سے انجام پائیں خواہ یتیموں کے مال میں دخل اندازی ہو یا مد مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ۔ خواہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو سُن کر ان میں اچھی باتوں کو قبول کرنا ہو یا لوگوں کی برائیوں کا بہترین انداز میں جواب دینا۔ کیونکہ ان تمام صورتوں میں لفظ “احسن” استعمال ہوا ہے۔

پیام:

۱۔ یتیموں کے حقوق کی حفاظت کے لئے بہترین رویہ اپنانا چاہیئے (التی ھی احسن) جو لوگ اقتصادی صلاحیت رکھتے ہیں اور کافی حد تک تقویٰ کے پابند ہیں ان کے علاوہ کسی کو ان کے مال کے نزدیک نہیں جانا چاہیئے۔ (لاتقربوا ۔۔۔۔ الا)

۲۔ جب یتیم اچھی طرح رشد اور سوجھ بوجھ کی حد تک پہنچ جائیں ان سے اپنا تسلط اٹھا لو۔ (حتی یبلغ اشدہ)

۳۔ اقتصادی نظام عدل اور قسط کی بنیادوں پر چلنا چاہئے (بالقسط) 55

۴۔ اگر عدالت کا اجر صحیح معنوں میں ممکن نہیں ہوسکتا تو امکان اور طاقت کی حد تک تو اس کا لحاظ ضرور رکھو۔ (لاتکلف تفساالا وسعھا)

۵۔ قرآنی آیات میں خدا کے امر اور نہی انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہے (لاتکلف نفسا الا وسعھا)

۶۔ فرائض کی بجا آوری کے لئے قدرت اور توانائی کا ہونا شرط ہے اور عرو حرج کی نفی ہے۔ اور یہی چیز فقہ کے قوانین مرتب کرنے کے لئے کافی حد تک معاون اور کارساز ہے۔ (الا وسعھا)

۷۔ اسلام میں فریضہ کی بجا آوری، قدرت اور توانائی کے مطابق ہے۔ جو جس قدر طاقتور ہو گا، فرائض کی بجاآوری اس کے لئے اسی قدر سنگین ہو گی۔

۸۔ گفتگو اور گواہی دینے میں مشفقانہ جذبات کا شکار ہو کر حق اور عدالت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ (اذاھلتم فاعداوا)

۹۔ عدالت ایک ضروری اصول ہے خواہ وہ رفتار مٰں ہو یا گفتار مٰن۔ (اوفواالکیل۔۔۔۔ واذاتلتم فاعدلوا) اسی طرح (قرار کرنے) گواہی دینے، وصیت کرنے، فیصلہ کرنے، حکم جاری کرنے، کسی پر تنقید کرنے یا کسی تعریف کرنے مٰں عدل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیئے۔

۱۰۔ خدا کے کئے ہوئے عہد و پیماں کے وفادار رہو( جس میں اوامر اور نواہی، نیز ضمیر اور فطرت سب داخل ہیں)

۱۱۔ رشتہ داری کے “رابطہ” کو حق اور عدل کے “ضابطہ” پر ترجیح نہ دو (ولوکان ذاقربیٰ)

 

آیت۱۵۳

 

ترجمہ: اور یقیناً یہ (مذکورہ احکام) یہ سیدھا راستہ ہیں۔ پس تم اس راستے کی پیروی کرو۔ اور دوسرے کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں راہ خدا سے پراگندہ کر دیں گے۔ یہ تمہیں خدا کا حکم ہے شاید کہ تم متقی بن جاؤ۔

چند نکات:

پیغمبر خدا نے اس آیت کی وضاحت کے لئے تصویر کشی سے کام لیا، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین پر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا “یہ سیدھا راستہ ہے جو ایک سے زیادہ نہیں ہے” پھر اس لکیر کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھنچیں اور فرمایا۔ “متعدد راستے ہیں جن میں سے ہر ایک کے لئے ایک نہ ایک شیطانی دعوت کرتا ہے۔ ” پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمایا۔ (تفسیر مراغی منقول از ابن عباس)

حضرت رسول اکرم انہی تین آیات کی بنیاد پر لوگوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔ (تفسیر فرقان)

ان آخری تین آیتوں میں تین مختلف تعبیریں بیان ہوئی ہیں، آیت ۱۵۱ میں شرک، قتل اور فحاشی سے روکا گیا ہے اور آخر میں کہا گیا ہے۔ “لعلکم تعقلون” یعنی ان امور کی بُرائی تھوڑے سے غور و فکر کرنے سے سب پر روشن ہو جاتی ہے۔ آیت ۱۵۲ میں یتیموں کے مال کی حفاظت ، قسط و عدل کا پس، اور ایفائے عہد کا حکم دیا گیا ہے اور آخر میں کہا گیا ہے کہ “لعلکم تذکرون” یعنی عدالت کی اچھائی کو ہر شخص کی فطرت اور ضمیر قبول کرتے ہیں۔ صرف یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ اور زیر بحث آیت میں خدائی احکام کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا آخر میں “لعلکم تتقون” آیا ہے۔ کیونکہ تقویٰ نام ہی فرمان الٰہی کی اطاعت کی راہ میں قدم اٹھانے کا ہے۔

پیام:

۱۔ جس طرح “نور” ایک ہے اور “ظلمات” بہت زیادہ، اسی طرح راہ مستقیم بھی ایک ہے یعنی تمام صحیح حرکتیں اور سلیقے ایک ہی منزل مقصود تک جا پہنچاتے ہیں۔ لیکن گمراہ کن رشتے بہت زیادہ ہیں۔ (“صراط” مفرد ہے اور “سبل” جمع ہے۔)

۲۔ تمام خدائی ادیان کی اساس اور بنیاد خدا کی راہ پر چلنا اور دوسرے رستوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔ (صراطی، فاتبعوہ، ولا تتبعوا السبل) 56

۳۔ تقویٰ کے حصول کی راہ صرف یہی ہے کہ متعدد اور مختلف رستوں سے دوری اختیار کی جائے (ولا تتبعوالسبل۔۔۔۔ تتقون)۔

۴۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاید انسان کے رشد و کمال کے مراحل تعقل، تذکر اور تقویٰ سے عبارت ہیں۔ (جوان آخری تین آیتوں میں ذکر ہوتے ہیں۔ یعنی “لعلکم تعقلون۔ لعلکم تذکرون اور لعلکم تتقون۔” پہلے تعقل ہے پھر تذکر ہے اور آخر میں راہ حق کو اختیار کرنا اور دوسری راہوں سے بے اعتنائی برتنا ہے۔

 

آیت۱۵۴

 

ترجمہ: اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو (آسمانی) کتاب دی تاکہ ہم اپنی نعمتیں اس شخص پر مکمل کریں جو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اچھے اچھے کام کرتا ہے۔ اور (یہ کتاب) تمام مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کرے اور لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا وسیلہ ہو۔ تاکہ لوگ (قیامت کے دن) اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید اور توریت میں کئی طرح کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ جب کہ روایات میں ہے کہ: مسلمانوں کی سرنوشت بھی قوم بنی اسرائیل سے ملتی جلتی ہے۔ انجیل میں زیادہ زور وعظ و نصیحت پر دیا گیا ہے۔ زبور میں دعائیں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن قوانین کے لحاظ سے توریت قرآن مجید سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ اسی لئے توریت کو “امام” بھی کہا گیا ہے جیسا کہ سورہ ہود/ ۱۷ میں: “ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما” اور زیر بحث آیت میں بھی توریت کا رحمت، ہدایت اور ہر چیز کا تفصیل سے بیان کرنے والی کتاب کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ ہر کتاب اپنے زمانے کے حساب سے کامل و مکمل ہے۔ (تماما)

۲۔ صرف نیک لوگ اور نیک فکر رکھنے والے افراد ہی آسمانی کتابوں کے پیغامات کو لیتے اور انبیاء کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپناتے ہیں۔ (علی الذی احسن)

۳۔ تمام انسانی ضروریات جو معنوی ارتقا کے لئے ضروری ہوتی ہیں آسمانی کتابوں میں مذکور ہیں۔ (تفصیلا لکل شیء۔)

۴۔ جو نقطہ ہمیشہ اور ہر نبی کے پیش نظر رہا “قیامت” ہے۔ (لقاء ربھم)

 

آیت ۱۵۶، ۱۵۶

 

 

ترجمہ: اور یہ کتاب (قرآن مجید) جسے ہم نے نازل کیا ہے برکت سے بھرپور ہے۔ لہٰذا تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔

(اسے ہم نے اس لئے نازل کیا ہے) تاکہ تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو بس دو ہی گروہوں (یہودو نصاریٰ) ہر نازل ہوئی ہے جو ہم سے پہلے تھے اور ہم اس کے پڑھنے سے بے خبر تھے۔

چند نکات:

“مبارک” اور “برکت” جیسے کلمات میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ۱۔طاقتور اور پائیدار بنیاد، ۲۔ہمیشہ کی ترقی، چنانچہ قرآن مجید میں بنیادی اور ناقابل تغیر و تبدل: محکم اور پائیدار مطالب بھی پائے جاتے ہیں اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ اس کے اسرار سے پردے بھی اُٹھتے جاتے ہیں اور روز بروز اس کا جلوہ افروزن تر ہوتا جاتا ہے۔

“ان تقولوا” کا معنی ہے “لئلاتقولوا” یعنی تاکہ تم کوئی بات نہ کر سکو اور کسی قسم کا بہانہ نہ بنا سکو۔

“دراستہ” کا معنی تلاوت اور علم ہے۔

پیام:

۱۔ قرآن مجید صرف تھیوری کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمل کی کتاب اور قابل اتباع ہے۔ (فاتبعوہ)

۲۔ انسان کی سعادت کا راز دو چیزوں میں مضمر ہے۔ ۱۔حق کی اطاعت اور ۲۔باطل سے دوری۔ (فاتبعوہ اتقو)

۳۔ قرآن کی اتباع تو راہ کا صرف ایک حصہ ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا حصہ پیغمبر اسلام کی نیت اور ان کے معصوم جانشینوں کے اسوہ عمل کی پیروی ہے۔ (لعلکم)

۴۔ خدا نے اپنی حجت لوگوں پر تمام کر دی ہے (ان تقولوا)

۵۔ مسلمانوں کی نشریاتی اور تبلیغی مشینری پر ملک، ہر ملت، اور ہر زبان کے لئے ہونی چاہیئے جس کہ ذریعہ سے صحیح پروگرام عالمی سطح پر نشر کئے جائیں تاکہ دنیا کے تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے۔ (ان تقولوا)

 

آیت۱۵۷

 

ترجمہ: یا یہ کہو کہ: اگر آسمانی کتاب ہم پر نازل ہوتی تو ہم بھی یقیناً ان سے زیادہ اور بہتر ہدایت پا جاتے۔ (اس بہانے کو ختم کرنے کے لئے) تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل، ہدایت اور رحمت آ چکی ہے۔ پس اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرتا ہے اور اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ ہم بہت جلد ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے روگردانی کرتے ہیں سخت عذاب کے ساتھ سزا دیں گے۔ اس لئے کہ حق کی راہ کی طرف پشت کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

“صدف” کا معنی ہے بغیر سوچے سمجھے کسی چیز سے سخت روگردانی کرنا۔

پیام:

۱۔ قرآن، دلائل کی کتاب، ہدایت اور رحمت ہے۔ (جاء کم بینة ۔۔۔۔ وھدیً ورحمة)

۲۔ آزمائش سے پہلے دعویٰ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں لیکن جب امتحان ہوتا ہے تو سب کی صداقت آشکار ہو جاتی ہے۔ (لکنا اھدیٰ۔۔۔۔۔ وصدف عنہا)

۳۔ آسمانی کتابوں سے روگردانی، انسانیت پر بہت بڑا ظلم ہے۔ (فمن اظلم)

۴۔ دین حق سے بلاوجہ روگردانی کی سزا، عذاب شدید ہے۔ (سواء العذاب بما کانوا۔۔۔۔)

۵۔ انسان کی بدبختی اور شقاوت کا اصل عامل و اس کے اپنے کارنامے ہوتے ہیں۔ (بما کانوا یصدفون)

 

آیت ۱۵۸

 

ترجمہ: آیا (آیات، معجزات، بینات اور رحمتوں کے دیکھنے کے باوجود بھی) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا خود تیرا پروردگار ان کے پاس آئے یا تیرے رب کی بعض آیات (قیامت کی نشانیاں) آئیں؟ (آیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ) جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں (خدا کے قہر و غضب کی صورت میں) آئیں گی تو انہیں ان کا (مجبوری کے تحت لایا جانے والا) ایمان (اور توبہ) کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ وہ اس سے پہلے ایمان نہیں لائے تھے اسی طرح ان لوگوں کا ایمان بھی بے کار ہو گا جنہوں نے نیکی کا کوئی کام نہیں کیا تھا۔ (اے پیغمبر!)کہہ دو کہ (قہر خداوندی کے) منتظر رہیں ہم بھی انتظار میں ہیں۔

ایک نکتہ:

سورہ بنی اسرائیل کی ۹۱ویں آیت میں بھی کفار کی بے جا توقعات کو ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے : “ہم تمہارے اوپر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ تم آسمان ہمارے سر پر گرا دو یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ اس آیت میں کفار کی اس قسم کی توقعات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ ضدی مزاج کافر: خدا کے معجزات دیکھنے کے باوجود بھی انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ (ھل ینظرون)

۲۔ ایمان کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لینے کا نتیجہ شقاوت اور بدبختی ہے۔ (لاینفع تفسا ایمانھا)

۳۔ ایمان اور عمل اس وقت فائدہ مند ہوتے ہیں جب آزادانہ اور طبعی طور پر اختیار کئے جائیں۔ مجبوری اور خوف کے مارے ایمان یا عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔ (یوم یاتی بعض آیات ربک لاینفع۔۔۔)

 

آیت۱۵۹

 

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکروں میں بانٹ دیا اور گروہ گروہ بن گئے (تو اے پیغمبر!) تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی سزا، انجام اور معاملہ صرف خدا کے سپرد ہے۔ پھر وہ انہیں ان کے کرتوتوں اور کارناموں سے آگاہ کرے گا۔

پیام:

۱۔ دین کے معارف میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا سب پر ایمان رکھنا اور عمل کرنا چاہیئے۔ (فرقوادینھم)

۲۔ مسلم معاشرے کا بٹوارہ عام طور پر دین میں رد و بدل کرنے کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ (فرقوا دینھم وکانو اشیعا)

۳۔ جو لوگ تمام اسلامی نظام کو نہیں مانتے ان کے ساتھ تعاون اور ہم کاری نہیں کرنی چاہیئے اور نہ ہی انہیں اپنا سمجھنا چاہیئے۔ (لست منھم فی شیء)

۴۔ دین مٰں فرقہ رستی اور تفرقہ بازی ایک قسم کا شرک ہے چنانچہ سورہ روم/۳۲ مٰن ہے “ولا تکونوامن المشرکین من الذین فرقوادینھم” یعنی مشرکین سے نہ ہو جاؤ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکروں میں تقسیم کر دیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ 57

 

آیت ۱۶۰

 

ترجمہ: جو شخص بھی کوئی نیکی لے آئے گا تو اس کے لئے (جزا کے طور پر) اس کا دس گناہیں۔ اور جو برائی لے آئے گا۔ اسے اسی مقدار کے علاوہ سزا نہیں ملے گی اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔

چند نکات:

“جاء” کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا اور جزا کا تعلق قیامت کی عدالت سے ہے، ورنہ بہت سے ایسے گناہ ہوتے ہیں جو یا تو توبہ کے ذریعہ مٹا دئیے جاتے ہیں جیسا کہ خدا فرماتا ہے “یقبل التوبہ” توبہ/۱۰۴۔ شوریٰ/۲۰ اور یہ خدا کی ایک صفت یا پھر نیکی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ “یبدلاللہ میئاتھم حسنات” خدا ان کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔(فرقان/ ۷۰) یا معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ “یفعواعن کثیر” خدا بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ (شوریٰ/ ۳۰)

اسی طرح کئی ایسی نیکیاں بھی ہیں جو ریا، خود پسندی اور دوسرے گناہوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ پس وہی عمل ہی ثواب و عذاب کا مستوجب بنے گا جو عرصہ محشر میں لایا جائے گا۔ (جاء )

اگرچہ آیت کا تعلق نیک اور بد اعمال سے ہے لیکن روایات کے مطابق جو شخص نیکی کی نیت کرے گا اسے اس کا بھی ثواب ملے گا۔ (خواہ وہ نیکی نہ بھی بجا لائے) لیکن برائی کی نیت کو جب تک عملی جامہ نہیں پہنایا جائے گا اس وقت اس کی سزا کا مستوجب نہیں ہو گا، اور یہ ایک فضل خداوندی ہے۔

روایات میں ہے کہ جو شخص ہر مہینے تین روزے رکھے گا اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے” اسی آیہ “عشرامثالھا” کی دلیل کے مطابق کہ اس کا ہر ایک روزہ دس روزوں کے برابر شمار ہو گا۔

پیام:

۱۔ اسلام کے طریقۂ تربیت میں تنبیہ صرف ایک ہے اور تشویق دس گنا۔ (عشرامثالھا)

۲۔ تشویق کئی گناہ ہو تو یہ ظلم نہیں ہے لیکن حد سے زیادہ سزا ظلم ہے۔

۳۔ خداوند عالم جزا اور تو اب میں اپنے فضل کا مظاہرہ کرتا ہے اور سزا اور عذاب میں عدل کا ۔ 58

۴۔ دس گنا جزا مین سے صرف ایک حصہ “مزدوری” ہے اور باقی نو حصے “فضل” جب کہ خود فرماتا ہے۔ “فیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ” یعنی انہیں ان کی اجرت بھی پوری ملے گی اور ساتھ ہی خدا کا مزید فضل بھی ہو گا۔ (مائدہ/ ۱۷۳)

۵۔ انسان کا عمل ہمیشہ اور ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ ہے (جاء بالحسنة ۔ جاء بالسیئة)

۶۔ دس گنا تو اب تو ایک عمومی بات ہے ورنہ بعض اعمال ایسے بھی ہیں جنہیں بعض حالات میں بعض افراد سرانجام دیتے ہیں جن کی جزا اور ثواب سات سو گنا بلکہ بعض اوقات بے حساب بھی ہے۔

 

آیت۱۶۱

 

ترجمہ: (اے پیغمبر )کہہ دیجیئے کہ میرے پروردگار نے مجھے راہ راست کی اور ثابت و استوار دین کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ابراہیم کے آئین کی جو (باطل سے منہ موڑ کر) حق کی راہ پر گامزن تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔

چند نکات:

جس قدر اس سورت مین لفظ “قل” (کہہ) استعمال ہوا ہے اتنا قرآن مجید کی کسی اور سورت میں استعمال نہیں ہوا۔ اس خطاب کا ۴۴ مرتبہ تکرار شاید اس وجہ سے ہے کہ اس سورت میں گمراہ کن اور باطل عقائد کی تردید اور مشرکین کی ناروا اور بے جا توقعات کو بیان کر کے ان کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ ایسے مواقع پر دشمنانِ دین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت رسالتمآب خدا کی طرف سے مامور تھیا ور جو چکھ وحی ناز ہو اسے من و عن بیان کر دیں۔

۔ “قِیمَ” اور “قِیمَّ” دونوں ایک ہی طرح کے کلمات ہیں جن کا معنی ہے سیدھا، پائیدار اور استوار دائمی اور جامع۔ یعنی ایسا دین جو لوگوں کے اس دنیا کے مادی مسائل پر بھی توجہ رکھتا ہے اور اُس جہان کے معنوی مسائل پر بھی۔

پیام:

۱۔ پیغمبرِ اسلام کے فرمودات اور ان کی تعلیمات، آپ کی ذاتی رائے کے مطابق نہیں تھیں بلکہ جو کچھ بھی تھا وحی خداوندی کا متن تھا۔ (قل)

۲۔ پیغمبرِ خدا نہ صرف صراطِ مستقیم پر گامزن تھے بلکہ اس پر مسلط بھی تھے۔ (اس سے اچھی طرح آگاہ بھی تھے کیونکہ اس آیت میں “الی صراط مستقیم” ہے اور سورہ یس میں “علی صراط مستقیم” ہے۔

۳۔ ہدایت صرف خدا کا کام ہے ، حضرت انبیاء کرام علیھم السلام بھی الٰہی ہدایت کے تحت راہ مستقیم پر گامزن ہیں۔ (ھدنیٰ ربی)

۴۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ بھی وہی توحید اور یگانہ پرستی کا راستہ تھا وہ مشرکانہ عقائد و افکار سے بالکل پاک اور منزہ تھے۔ (حنیفا و مان من المشرکین) مشرکین حضرت ابراہیم کی طرف عقائد باطلہا ر مشرکانہ افکار کو منسوب کرتے تھے۔

۵۔ بت شکنی اور سرک سے روگردانی کا کام صرف رسول اسلام ہی نے سر انجام نہیں دیا بلکہ ابراہیم بھی ایسا کر چکے تھے۔ (حنیفا)

۶۔ تاریخی لحاظ سے تمام توحیدی ادیان کی اساس اور اصول ایک ہی چکے آرہے ہیں۔ اسلام وہی دین ہے جو ابراہیم کا آئینی اصول تھا اور شرک سے نفرت اور بیزاری تمام انبیاء کا کام رہا ہے۔

 

آیت ۱۶۲، ۱۶۳

 

ترجمہ: کہہ دو کہ یقیناً میری نماز میری عبادت، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی بات (سر تسلیم خم کرنے اور اس کی عبودیت کا اقرار کرنے) کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ 59

دو نکات:

موت، زندگی کو، زندگی نُسک (عبادت) کو اور نُسک نماز کو اپنے احاطہ میں لئے ہوتی ہے۔ بنا بریں نماز تمام عبادات کا اندرونی مرکز ہے اور عبادت و نُسک زندگی کے متن میں واقع ہیں۔

اسلام کا معنی ہے امر خداوندی کے آگے سر جھکانا اور اس کی نسبت تمام انبیاء کی طرف دی گئی اور حضرت آدم اور حضرت نوح خود کو مسلمان کہتے تھے ملاحظہ ہو سورة احقاف آیت ۱۵۔ سورہ یونس/۷۲۔ حضرت ابراہیم نے خدا سے درخواست کی کہ انہیں مسلمان قرار دے۔ “واجعلنا مسلمین” تو پھر جناب پیغمبر اسلام کس معنی کے لحاظ سے سب سے پہلے مسلمان ہیں؟ یا تو اس معنی کے لحاظ سے کہ اپنے زمانے کے سب سے پہلے مسلمان ہیں یا چونکہ مقام اور رتبہ کی وجہ سے سب پر مقدم ہیں لہٰذا پہلے مسلمان ہیں۔

پیام:

۱۔ مخلص انسان اپنی “تکونی راہ “(موت و حیات) اور “تشریعی راہ “(نماز و عبادت ) صرف اور صرف خدا کے لئے سمجھتے ہیں۔

۲۔ اگرچہ نماز جزو عبادات ہے لیکن نُسک (عبادات) کے ساتھ ساتھ اس کا علیحدہ ذکر اس کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔

۳۔ باطل اور گمراہ کن رستوں کے مقابلہ میں اپنے موقف کو ڈٹ کر، صراحت اور پورے فخر کے ساتھ بیان کرو (قل)

۴۔ پیغمبر اسلام ہم سب کے لئے اسہ (نمونہ عمل) ہیں لہٰذا ہماری تمام زندگی ا ور موت بھی انہی کی مانند خدا کے لئے ہونی چاہیئے۔

۵۔ موت اور زندگی اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ خدا کے لئے اور خدا کی راہ میں ہوں۔ (اللّٰہ)

۶۔ جو چیز خدا ے لئے ہو وہ پروان چڑھتی ہے (اللّٰہ رب العالمین)

۷۔ ہم جس طرح نماز میں قصد قربت کرتے ہیں اسی طرح ہر ہر سانس میں اور موت اور زندگی کے ہر لمحے میں بھی ہمارا قصد قربت ہونا چاہیئے۔

۸۔ اگرچہ زندگی اور موت ہاتھوں میں نہیں ہیں لیکن انہیں رُخ دینا تو ہمارے اختیار میں ہے۔ (للّٰہ)

۹۔ تمام کاموں میں خلوص، امر الٰہی ہے۔ (اُمرتُ)

۱۰۔ رہبر کو چاہیئے کہ راستہ طے کرنے میں اور فرمان اور دعوت پر عمل کرنے میں پیش قدم ہو۔ (اوّل المسلمین)

 

آیت۱۶۴

 

ترجمہ: کہہ دو کہ آیا میں خدا کے علاوہ کوئی اور پروردگار تلاش کروں؟ حالانکہ وہ تمام چیزوں کا پروردگار ہے اور کوئی شخص جو کام بھی کرتا ہے، اسی کے ذمہ ہوتا ہے (اس کا نفع یا نقصان اسے ہی پہنچتا ہے) اور کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اُٹھاتا۔ پھر تمہاری بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پس وہ تمہیں اس چیز سے آگاہ کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

چند نکات:

عدل الٰہی کا موضوع اور یہ کہ “کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اُٹھاتا” نہ صرف اسلام میں بلکہ قرآنی تصریحات کے مطابق صحف اور ابراہیم و موسیٰ میں بھی مذکور ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: “ام لم ینبأمافی صحف موسیٰ۔ و ابراھیم الذی وفیّٰ۔ الائزر وارزة وزراخرض۔” یعنی کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم (کے صحیفوں میں بھی) جنہوں نے پورا پورا حق ادا کیا (یہ ہے کہ) کوئی شخص کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ (نجم/ ۳۶ تا ۳۸)

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ “اگر کوئی شخص کسی وجہ کے بغیر دوسرے کے گناہوں کا ذمہ دار نہیں ہے تو پھر قرآن میں جو یہ ہے کہ “گمراہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے رہبر، اپنے پیروکاروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے اوپر اُٹھائیں گے، جب کہ ارشاد ہوتا ہے: “لیحملوا اوزارھم کا ملة یوم القیٰمة ومن اوزارالذین یضلونھم” (نحل/ ۲۵) اس کا کیا جواب ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا بلاوجہ نہیں ہے، وہ یوں کہ گمراہ کن رہبر دوسروں کے گمراہ ہونے اور ان کے بھٹکنے کا موجب بنے ہیں، درحقیقت گناہ کا بوجھ ان کے گمراہ کرنے کا بوجھ ہو گا۔

پھر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : “اگر کسی شخص کا عمل دوسروں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے تو پھر عبادت میں نیابت کا یہ مسئلہ کیا ہے؟”

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عمل کے وضعی آثار کسی دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوسکتے لیکن عمل کی جزا اور ثواب دوسروں کو “ہدیہ” دیا جا سکتا ہے۔

پیام:

۱۔ انسان کا بیدار ضمیر ایک ایسی بہترین عدالت ہے کہ جو اندرونی سوالات کے از خود جواب دیتی ہے۔ (اغیراللہ ابغی)

۲۔ خدا ہی ہر شے کا پروردگار ہے، اس کے علاوہ اور لوگ کون ہوتے ہیں؟ (رب کل شی ء ٍ)

۳۔ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ (لاتزروازرة ورز اخریٰ)

۴۔ لوگوں کا کفر و شرک یا نیکی اور بُرائی، خدا کو نہ تو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان، بلکہ جو کوئی جو کچھ کرے گا اس کا نفع یا نقصان خود اسی کا دامنگیر ہو گا۔ (لاتکسب کل نفس الا علیہا)

 

آیت ۱۶۵

 

ترجمہ: اور وہ وہی خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں زمین کے جانشین قرار دیا۔ اور تم میں سے بعض کے درجات کو دوسرے بعض پر برتری دی تاکہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو تمہیں عطا کی ہے، یقیناً تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

دو نکات:

سورہ انعام حمد الٰہی کے ساتھ شروع ہوئی اور اس آیت میں رحمت الٰہی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

“خلائف الارض” سے مراد یا تو زمین میں خدا کے خلیفے اور جانشین ہیں یا پھر گذشتہ امتوں کے جانشین۔

پیام:

۱۔ انسان زمین میں خلیفہ اور اس کا امیر ہے اور کائنات پر حاکم ہے ناکہ کائنات کا اسیر۔ (خلائف الارض)

۲۔ خدا کے عطئے، برتری کا معیار نہیں ہے بلکہ آزمائش کا ذریعہ ہے۔ (لیبلوکم)

۳۔ جس کے جس قدر امکانات ہیں، اس کی اسی قدر آزمائش ہے۔ (فیما اتاکم)

۴۔ خدا کے عطیات اور درجات دائمی نہیں بلکہ عارضی ہیں۔ اور وہ بھی آزمائش کے لئے کبھی کچھ دے کر آزمایا جاتا ہے اور کبھی لے کر)

۵۔ ہر امتحان اور آزمائش کے بعد جو ناکام ہو جاتے ہیں خدا ان کے لئے (سریع العقاب) ہے اور جو کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے لئے (غفور الرحیم) ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.alhassanain.com/urdu/download_zip.php?book_id=3683&link_book=holy_quran_library/quran_interpretation/tafseer_e_noor

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید