FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

 

بہار ایمان

 

رمضان مبارک کے موقع پر تقاریر کا مجموعہ

 

 

               مرتبہ: نسیم عباس نسیمی

 

 

 

 

 

 

انتساب

 

قبلہ و کعبہ!

عزت مآب !!

والد گرامی !!!

مولانا غلام اکبر بلوچ (رح) کے نام !

جن کی علم دوستی صحرائے زیست میں میرے لئے زادِ راہ بنی۔

 

 

 

 

نسیم عباس نسیمی

03320591769

Naseemathar14@gmail.com

 

 

 

(1)

 

ماہ رمضان ، جس میں خدا نے اپنے بندوں کو اپنی خاص نعمتیں عطا کی ہیں ، ان امور کی انجام دہی کے بارے میں تفکر و تدبر کا بہترین موقع ہے جو خدا سے ہماری قربت یا دوری کا باعث بنتے ہیں۔ اس مہینے میں خداوند کردیم نے اپنے تمام بندوں کو اپنے سے قریب ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ ہر فرد اپنی استطاعت و توانائی کے مطابق نیک اعمال کی انجام دہی میں کوشاں ہو نیز گناہ اور دنیوی مادی لذات و خواہشات نفسانی سے دوری اختیار کرے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ،وہ تمام راستے بند کر دیتا ہے جس کے ذریعے شیطان انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یعنی اس مبارک مہینے میں شیطان جس زنجیر میں جکڑا جاتا ہے وہ خود روزہ ہے کوئی اور چیز نہیں ہے۔ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں ” شیطان انسان کے وجود اور بدن میں خون کی طرح رواں رہتا ہے۔ بنا بریں بھوک اور گرسنگی کے ذریعے اس کے راستوں کو تنگ تر کرو” یہ روایت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ روزہ قدرتی طور سے انسان پر شیطان کے تسلط میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے۔ روزہ نہ صرف شیطان کو قید کر دیتا ہے بلکہ نفس امّارہ کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اور اسے قیدی بنا دیتا ہے اور انسان پر تسلط جمانے نہیں دیتا۔ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں “بھوک اور گرسنگی،نفس کو اسیر اور اس کی عادت تبدیل کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہے ”

اگر اندھیری رات ہو اور ہمارے ارد گرد نشیب و فراز اور گڑھے وغیرہ موجود ہوں تو ہم احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔ قرآن کے سورۂ اسرا کی 36 ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت جانا بیشک روز قیامت سماعت، بصارت اور قوت قلب سب سے سوال کیا جائے گا”

شاید آپ یہ جانتے ہوں کہ گلاب ناب و خالص قطرہ قطرہ حاصل ہوتا ہے ، اور اس کے نکالنے میں بڑی زحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گلاب نکالنے والے صبح سویرے باغ میں جاتے ہیں اور انھیں خوشبو دار پھول چننے کے لئے کانٹوں سے لگنے والے زخموں کا تحمل بھی کرنا پڑتا ہے ، پھر ان پھولوں کو پانی سے بھرے ہوئے ایک بڑے برتن میں ابالا جاتا ہے پانی بھاپ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بھاپ قطرہ قطرہ بڑے برتن میں جمع ہوتی ہے اور سر انجام گلاب سے بھری ایک پتیلی ہاتھ آتی ہے لیکن ممکن ہے کہ ایک غیر ذمہ دار انسان، اس گلاب سے بھری ہوئی پتیلی کو جو گھنٹوں کی محنت و زحمت کا نتیجہ ہے پلک جھپکتے ایک ٹھوکر میں زمین پر بہا دے۔ اب اگر گلاب نکالنے والے آپ ہوں تو ایسے موقع پر آپ پر کیا گزرے گی؟ انسان کی عزت و آبرو بھی گلاب کی طرح ہے ذرہ ذرہ اور رفتہ رفتہ ہاتھ آتی ہے ایک رات میں عزت و آبرو کی دولت ہاتھ نہیں آتی، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے باغ زندگی میں کردار کے پھول بوئیں تاکہ عزت و آبرو کے چند قطرے ہاتھ آسکیں۔ لیکن بعض افراد ایسے ہیں جنھیں انسان کی عزت و آبرو اور شخصیّت کو پائمال کرتے دیر نہیں لگتی اسی لئے اسلام نے لوگوں کی عزت و آبرو کا پاس و لحاظ کئے جانے کے سلسلے میں بڑی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں ” اگر کوئی لوگوں کے عیب تلاش اور بے نقاب کرے گا تو

خداوند عالم اس کے عیب کو بے نقاب کر دے گا” اس بات سے خدا انسانوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ لوگوں کی آبرو پائمال کرنے کا نتیجہ بہت تلخ ہے اور جب تک انسان ، اپنے اس عمل کا مزہ نہیں چکھتا اس کی اہمیت درک نہیں کرتا۔ قرآن کردیم میں بہت سی آیات میں کسی پر تہمت لگانے اور بہتان باندھنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے چنانچہ سورۂ نساء کی آیت 112میں خدا فرماتا ہے ” اور جو شخص بھی کوئی غلطی یا گناہ کر کے کسی دوسرے کے سر ڈال دیتا ہے وہ بہت بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا ذمہ دار ہوتا ہے ”

آپ نے بارہا یہ سنا ہو گا کہ بات، تیر کی مانند ہے جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے تو پھرواپس نہیں آتا لیکن کبھی یہ تیر سخن لوگوں کی عزت و آبرو کو نشانہ بناتا ہے جس کا انجام بہت تلخ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے ایک پڑوسی پر تہمت لگا دی اور پھر اس کو پھیلانا شروع کر دیا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ سارے پڑوسیوں اور محلے والوں کو معلوم ہو گیا۔ تہمت زدہ شخص کا گھر سے نکلنا دشوار ہو گیا کچھ عرصہ بعد وہ عورت اپنی غلطی کی جانب متوجہ ہوئی اور اس نے اپنے اس پڑوسی کا حال دیکھا جس پر اس نے جھوٹی تہمت باندھی تھی۔ وہ بہت پشیمان ہوئی اور ایک حکیم و دانشور کے پاس گئی اور اس سے اس سلسلے میں مدد چاہی تاکہ اپنی غلطی کی تلافی کرسکے۔ اس دانشور نے اس عورت سے کہا کہ بازار جاؤ اور ایک مرغا خریدو اور اسے ذبح کر ڈالو اور پھر اس کے پروں کو اپنے گھر کے راستے میں بکھیر دو۔ یہ سن کر عورت کو بہت تعجب ہوا لیکن اس نے یہ کام کیا اور دوسرے روز اس دانشور کے پاس آئی اور اس سے پوچھا اب کیا کر دیں ؟ اس دانشور نے عورت سے کہا کہ ان پروں کو میرے پاس لے آؤ۔ عورت گئی بہت تلاش کیا لیکن چار پروں سے زیادہ نہ پا سکی۔ حکیم کے پاس واپس لوٹی اور اس نے کہا کہ بڑی ہی زحمتوں سے یہی چار پر مل سکے ہیں بقیہ سب ہوا میں اڑ گئے۔ یہ سن کر اس دانشور نے اس عورت سے کہا پروں کو پھینک دینا کتنا آسان کام ہے ،لیکن انھیں جمع اور پھر سے اکٹھا کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسی طرح تم نے آسانی سے اس پر تہمت لگا دی لیکن مکمل طور سے اس کی تلافی ناممکن ہے۔ ایک معمولی تہمت اور الزام انسان کی زندگی کا شیرازہ بکھیر کر رکھ سکتا ہے۔

پروگرام کے اس حصے میں حضرت امام سجاد (ع) کی مناجات کے اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ حضرت امام سجاد(ع) خدا سے شیطان کی شکایت کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا میں تجھ سے ایسے دشمن کی شکایت کرتا ہوں جو مجھے گمراہ کرنا چاہتا ہے اور شیطان کی جو مجھے فریب اور میرے سینے کو وسوسوں سے پر کر دیتا ہے۔ میرے دل پر باطل اوہام و خیالات نے تسلط جما رکھا ہے اور ہوس پرستی میں میری مدد کی ہے ، دنیا کی دوستی کو میرے لئے نمایاں کرتا ہے نیز میرے اور تیرے تقرب اور تیری اطاعت کے درمیان دوری اور جدائی ڈالنے کے درپے ہے۔

انسان کو ہمیشہ دو خطرناک دشمنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک باطنی اور اندرونی دشمن ہے جس کا نام نفس امّارہ ہے ، اور دوسرا دشمن بیرونی دشمن یعنی شیطان ہے رسول اکرمﷺاس بارے میں فرماتے ہیں ” تمھارا سب سے برا اور سب سے بڑا دشمن تمھارا وہ نفس ہے جو تمھارے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے ” لیکن پروردگار عالم نے سب سے بڑا لطف، انسان کے حق میں یہ کیا ہے کہ شیطان کی دشمنیوں کے بارے میں مختلف طریقوں سے انسان کو آگاہ اور باخبر کر دیا اور ہمیں متنبہ کیا ہے کہ شیطان کے فریب میں نہ آئیں۔ سورۂ فاطر کی چھٹی آیت میں ارشاد باری تعالی ہے ” بیشک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے اپنا دشمن سمجھووہ اپنے گروہ کو صرف اس بات کی دعوت دیتا ہے۔

چونکہ شیطان انسان کے انتخاب و اختیار میں حائل نہیں ہو سکتا اس لئے مختلف طریقوں ، روشوں اور ہتھکنڈوں سے انسان کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے اور انسان کے دل و دماغ میں وسوسہ پیدا کر کے اسے صراط مستقیم اور اس کی باطنی فطرت کے راستے پر چلنے سے روک دیتا ہے۔ درحقیقت انسان فطری طور پر دنیا کی زیبائیوں اور لذّتوں کی جانب رجحان رکھتا ہے ، اور شیطان اس کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر انسان کو گناہوں اور خطاؤں کی انجام دہی کی دعوت دیتا ہے اور کبھی انسان میں خوف وہراس اور کاہلی پیدا کر کے اسے الٰہی فرائض کی ادائگی سے باز رکھتا ہے انسان ہر بار گناہ کرنے کے بعد جب پشیمان ہوتا ہے تو شیطان اس کو فریب دے کر اس کے گناہ کی توجیہ کر کے اسے انسان کی نظر میں اچھے عمل کے عنوان سے پیش کرتا اور پھر اسے اس گناہ کی انجام دہی پر آمادہ کرتا ہے۔ وسوسوں کی زنجیروں اور جھوٹی لذتوں کے دام میں پیہم گرفتار کر کے انسان اور خدا کے مابین فاصلہ ایجاد کرنا اور انسان کو الٰہی فرائض کی ادائگی سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) مناجات میں خدا کو اس کے لطفو کرم و مہر بانی کا واسطہ دیتے ہیں کہ مجھے اپنے جود واحسان کی پناہ میں رکھ اور خطرناک دشمنوں (نفس اور شیطان) پر غالب آنے کی توفیق عطا فرما نیز بلاؤں اور گناہوں سے محفوظ رکھ۔ آمین

 

 

 

(2)

 

وہ زندگی بے روح و بے جان ہے جو معنویت سے سرشار لمحوں سے عاری ہو۔ اگر ماہ رمضان جیسے گرانقدر مواقع زندگی میں نہ آئیں تو ہمارے دل نفسانی خواہشات کے سبب گناہوں اور برائیوں سے آلودہ ہو جائیں۔ لیکن جب ماہ رمضان ہماری زندگی کے ایام میں مہمان بن کر آتا ہے تو گویا لطیف و شفاف شبنم کے قطرے ہمارے دلوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ہماری زندگی میں معنویت اور طراوت بخشتے رہتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں۔ جو کوئی خدا کے لئے سخت گرمی کے موسم میں روزہ رکھے اور اس پر پیاس غلبہ کر لے تو خداوند عالم ہزار فرشتوں کو مامور کرتا ہے تاکہ وہ اس کی صورت پر ہاتھ پھیرتے رہیں اور اسے بشارت دیں اور جب وہ افطار کرتا ہے تو خدا فرماتا ہے کہ اے فرشتوں گواہ رہنا کہ میں نے اسے بخش دیا ہے۔

زبان انسان کے بدن کا ایک اہم عضو ہے اور انسان کی عزت و ذلت دونوں اسی کی مرہون منت ہے۔ زبان ایک ایسی گواہ ہے جو انسان کے باطن کی خبر دیتی ہے۔ انسان کے وجود کو متعارف کراتی اور انسان کی فکر کی ترجمان ہے۔ زبان، ایک طرف حق گوئی ، نیک سخن ، اور دوسروں کو اچھی نصیحت کے ذریعے پاکیزہ ماحول بناتی ہے تو دوسری جانب دوسروں کی چغل خوری کے سبب کدورت اور دشمنی پیدا کرتی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں انسان دو قابل قدر نعمتوں کا حامل ہے ایک خرد اور عقل اور دوسرے گویائی۔ عقل و خرد کے ذریعے وہ علوم سے بہرہ مند ہوتا ہے اور گویائی اور بیان کے ذریعے دوسروں کو بہرہ مند کرتا ہے۔ زبان اور سخن کی ہی مدد سے انسانوں کے درمیان بات چیت اور باہمی میل جول آسان ہو گیا ہے اور وہ اپنے افکارو نظریات ، خیالات اور اپنے تجربات اور علوم کو ایک دوسرے تک منتقل کرسکتے ہیں۔ زبان کے جملہ امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کا بیان و کلام ، اس کی شخصیت کی علامت اور دل و روح کا ترجمان ہے۔ اسی لئے حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں بولو تاکہ پہچانے جاؤ کیوں کہ انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔

اس اعتبار سے کہ زبان پر کنٹرول نہ پانا گناہوں اور خطاؤں کا باعث بنتا ہے ، دینی تہذیب میں انسان کو زیادہ تر خاموش رہنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زبان ہی بدن کا وہ حصہ ہے جو آسانی سے خطا اور گناہ کا راستہ ہموار کرتا ہے اور غیبت ، جھوٹ اور چغل خوری و تہمت کے سبب گناہ اور خطا کا مرتکب بناتا ہے۔ اسی لئے بزرگان دین نے خاموشی کو دین فہمی کی علامت اور حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیا ہے اور اس امر پر تاکید فرمائی ہے کہ جہاں بات کرنی ہو وہاں اچھی اور نرم لہجے میں بات کرو کہ اس سے دوستی اور قربت بڑھتی ہے۔ خداوند عالم نے جب موسی (ع) کو رسالت دی تو ان سے اور ہارون سے فرمایا : اب جب کہ فرعون کے پاس جا رہے ہوتو اس سے پرسکون اور نرم لہجے میں بات کرنا یعنی اگر تم دونوں کرخت اور تیز لہجے میں بات کرو گے تو اس پر ناگوار گذرے گا اور تمہاری بات اس پر اثر نہیں کر دے گی۔ لوگوں کی باتیں جب نرم و لطیف ہوں تو وہ دلوں میں بیٹھتی ہیں جیسے کہ برف اگر تیز گر رہی ہو تو وہ نہیں جمتی۔ برف اس وقت جمتی ہے جب آہستہ آہستہ گرے۔ بات بھی کچھ اسی طرح ہے ، قرآن کردیم کے مطابق اگر نرم و لطیف ہو تو دل پر اثر انداز ہوتی، اور دلنشیں ہوتی ہے۔

ایک بچہ بہت شرارتی تھا جو دوسروں کو بری اور ناپسندیدہ باتوں سے تکلیف پہنچاتا تھا ایک دن اس کے باپ نے اس کو اس کی اس بری حرکت پر متوجہ کرنے کے لئے کیل سے بھرا ہوا ایک جوتا دیا اور اس سے کہا کہ جب بھی تمہاری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچے تو اس میں سے ایک کیل دیوار میں ٹھونک دینا۔ بیٹے کو باپ کی اس بات پر اگرچہ تعجب ہوا تاہم اس نے باپ کی بات مان لی۔ پہلے ہی دن بیٹے نے 20 کیلیں دیوار میں ٹھونک دیں۔ باپ نے اس سے کہا کہ اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرو۔ اس کے بیٹے نے کوشش کرنی شروع کر دی اور دیوار پر کیلیں ٹھونکنے کی تعداد میں روز بروز کمی آنے لگی۔ ایک دن باپ نے اس سے کہا جب تم اپنی بات کی وجہ سے کسی سے معذرت خواہی کرو تو ایک کیل دیوار سے نکال لو۔ کئی دن گذر گئے تو بیٹا باپ کے پاس آیا اور خوشی سے کہنے لگا بابا آج ہم نے آخری کیل دیوار سے نکال دی۔ باپ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور دونوں دیوار کی طرف گئے باپ نے ایک نظر دیوار پر ڈالی اور کہا واہ بیٹے بہت اچھا کام کیا ہے لیکن دیوار کے سوراخوں کو دیکھو، اب دیوار پہلے کی مانند صاف اور بے داغ نہیں رہی اسی طرح جب تم غصہ ہوتے ہو اور اپنی باتوں سے دوسروں کو رنجیدہ کرتے ہو تو تمہاری باتوں کا اثر بھی لوگوں پراسی طرح ہوتا ہے۔ تم انسان کے قلب میں چاقو بھونکنے کے بعد اس سے ہزاروں مرتبہ معذرت خواہی کر لو مگر جو زخم اسے ملا ہے وہ کبھی مندمل نہیں ہونے والا ہے۔

لیکن بد قول اور بد رفتار انسانوں کے مقابلے میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ چائے یا تلخ قہوے کے ساتھ، ہمیشہ شکر ہوتی ہے اور اسی کے ذریعے اسے پیا جا سکتا ہے۔ بعض انسانوں کی باتیں چائے کی طرح تلخ ہوتی ہیں اس لئے ان کے ساتھ شیر و شکر ہوکے رہو یعنی ان سے میٹھے لب و لہجے میں باتیں کرو اور اچھے انداز سے پیش آؤ تاکہ وہ راہ راست پا سکیں اور اس سلسلے میں خداوند عالم کا فرمان ہے کہ “ادفع بالتی ھی احسن السیئۃ ” برائی کو بہترین راہ و روش سے دفع کرو ( یعنی بری بات کا جواب اچھائی سے دو )   سورہ مومنون۔

فرزند رسول خدا حضرت امام سجاد علیہ السلام کے مناجاتی کلمات پر غور کرتے ہیں۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی عارفانہ مناجاتوں میں خداوند عالم کے حضور، قسی القلبی کے بارے میں شکایت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں خدایا میں تجھ سے اس دل کے بارے میں شکایت کرتا ہوں جو وسوسے سے دگرگوں ہو گئے ہیں اور ان کے دلوں پر ظلمت و تاریکی کا زنگ اور بد توفیقی کی مہر لگ چکی ہے۔

قرآن و روایات اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی اس مناجات میں قلب سے مراد انسان کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل نہیں ہے بلکہ یہاں قلب سے مراد انسان کی روح اور اس کا نفس ہے جس میں احساس کا   ادراک پایا جاتا ہے۔ انسان کا دل شروع میں نورانیت ، شفافیت اور پاکیزہ فطرت کا حامل ہوتا ہے اس طرح سے کہ گناہ انجام دینے سے متاثر اور پشیمان نہیں ہوتا لیکن اگر گناہ کرتا رہے توانسان پستی کے اس مرحلے میں پہنچ جاتا ہے کہ نہ صرف اپنی خطاؤں اور گناہوں پر نادم نہیں ہوتا بلکہ خوش بھی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں حق بات اور ہدایت ، اس کے قلب پر اثرانداز نہیں ہوتی اور وہ سنگدل ہو جاتا ہے۔ فرزند رسول خدا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ایسے قلب کے بارے میں فرماتے ہیں۔ ہر بندۂ مومن کے قلب میں ایک سفید نقطہ موجود ہوتا ہے چنانچہ انسان اگر گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور بار بار گناہ انجام دیتا ہے تو پھر ایک سیاہ نقطہ اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ اسی طرح اپنی گناہ پر مصر رہے اور گناہ انجام دیتا رہے تو وہ سیاہ نقطہ پھیلتا جاتا ہے یہاں تک سفیدی قلب کو ڈھانپ لیتا ہے اور پھر ایسا قلب کبھی کبھی اچھائی اور نیکی کی جانب مائل نہیں ہوسکتا ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام خدا سے شکایت کرنے والوں کی مناجات میں اس آنکھ کی شکایت کرتے ہیں جو خوف خدا سے گریاں نہیں ہوتی۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ خدایا میں تجھ سے اس آنکھ کے بارے میں شکایت کرتا ہوں جو خوف خدا سے روتی نہیں ہے لیکن وہ چیز جو اسے پسند ہے اس کا حریص ہوتا ہے۔ جب انسان قسی القلب یا سنگدل ہو جاتا ہے تو اس کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی آنکھ خوف خدا میں گریہ نہیں کرتی۔ گناہوں کے سبب آنسو بہانا اور ان پر نادم ہونا یا عذاب الٰہی سے خوفزدہ ہونا اور اسی طرح اولیائے خدا خاص طور پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر آنسوبہانا ایک ایسی عطائے پروردگار ہے جو باطن کی پاکیزگی اور روح کی لطافت کا باعث بنتی ہے۔ وہ دل، جو شیطان کا اڈہ بن جائے اور نفسانی خواہشات اس کا احاطہ کر لیں تو وہ عذاب الٰہی سے خوفزدہ اور متاثر نہیں ہوتا۔ لیکن وہ لذت بخش اور شہوت انگیز مناظر سے بہت جلدی متاثر ہو جاتا ہے اور اس سے منھ نہیں پھیرتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام آنکھیں خشک ہو جانے اور خوف خدا میں گریہ کناں نہ ہونے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب انسان قسی القلب ہو جائے اور یا گناہیں بکثرت انجام دی ہوں تو اس وقت آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں اور خوف خدا میں گریاں نہیں کرتیں۔

 

 

 

 

(3)

 

سلام ہو خدا کے روزہ دار مہمانوں پر جو قوت ایمان سے اپنے سرکش نفس پر کنٹرول کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہوں کی زنجیروں سے رہا کرتے ہیں اور دیار سعادت کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ سلام ہو ماہ رمضان کی برکتوں اور فضیلتوں سے بہرہ مند ہونے والوں پر جو دستر خوان رحمت و مغفرت الٰہی پر جلوہ افروز ہیں اور جہاد نفس میں مصروف و مشغول ہیں اس مبارک مہینے کی فضیلت کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جس کے روز و شب تمام دنوں اور تمام راتوں سے افضل وبرتر ہیں۔ جیساکہ حضرت رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں ماہ رمضان کی پہلی رات کو آسمان کے دروازے خدا کے حکم سے کھول دیے جاتے ہیں اور رمضان کی آخری رات تک بند نہیں ہوتے۔

آپ جانتے ہیں بہت سی دوائیں تلخ اور کڑوی ہوتی ہیں لیکن صحت و سلامتی کی مٹھاس کی حامل ہوتی ہیں بشرطیکہ انھیں ان کے معینہ وقت پر استعمال کیا جائے نہ ان کے وقت سے پہلے اور نہ ان کے معینہ وقت کے گزرنے کے بعد۔ دوسرے یہ کہ دواؤں کی مقدار کی رعایت بھی ضروری ہے۔ ان کا کم یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ جس قدر طبیب و ڈاکٹر نے بتایا ہے اسی مقدار میں دوا یا شربت کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ نماز بھی دواؤں سے مشابہ ہے۔ اور بعض انسانوں کے لئے تلخ دواؤں کی مانند ہے۔ سامعین جاڑے کے موسم میں ٹرین یا بس کا سفر کرتے ہوئے نماز فجر کے لئے ٹرین یا بس سے نیچے اترنا اور لرزتے ہوئے صبح کی دو رکعت نماز ادا کرنا بہت ہی تلخ اور دشوار ہوتا ہے۔

یا کسی کام میں مصروف اور منہمک افراد کے لئے اذان کی آواز سن کر دلچسپ کام کو ترک کرنا اور مسجد جانا بہت ہی سخت و دشوار ہے لیکن یہ بات صرف نماز ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ دیگر عبادات کے لئے بھی یہ ممکن ہے کہ بعض افراد کے لئے ان بجا لانا بھی سخت و دشوار ہو لیکن اگر انسان نماز کی حقیقت درک اور اس کی معرفت حاصل کر لے تو اس کی تلخی، مٹھاس اور اس کی دشواری، آسانی میں تبدیل ہو جائے گی۔ کتنے اولیائے الٰہی اور صاحبان ایمان ایسے ہیں جن کے لئے نماز، سختیوں کے درمیان امید کی کرن اور باعث سکون و قرار ہے۔ اسی لئے ہم خدا سے یہ دعا کرتے ہیں کہ ” پروردگارا اپنے ذکر کی حلاوت ومٹھاس کی لذت سے ہمیں آشنا کر دے یعنی اپنی عبادت کی معرفت ہمیں عنایت فرما۔ دوسرے یہ کہ نماز، ان دواؤں کی مانند ہے جو معینہ وقت کے اندر استعمال کی جاتی ہیں۔ نماز کے لئے وقت کی رعایت لازمی ہے۔ یعنی نمازوں کو ان اوقات کے اندر ادا کرنا چاہیے۔ چونکہ فلسفۂ نماز، عظمت حق کا احساس ہے اور اس احساس کو وہی انسان درک کرسکتا ہے جو نماز اول وقت پڑھتا ہے۔ جو شخص نماز تاخیر سے پڑھتا ہے وہ در حقیقت اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ خدایا ہم اپنے کاموں کو تیری عبادت و اطاعت پر ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب جس طرح دوا کے استعمال کے ساتھ پرہیز بھی ضروری ہوتا ہے اسی طرح نماز پڑھنے کے دوران بعض امور کی انجام دہی سے پرہیز لازم ہے۔ نماز، حق ہے لہذا نمازی کو باطل سے دوری اختیار کرنی چاہیے ، یعنی نمازی کو چاہیے کہ برائیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہ کرے ورنہ نماز کی خاصیت ختم ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر جب موسم سرما میں گھر کو گرم کرنے کے لئے روم ہیٹر کا استعمال کرتے ہیں تو فضا کی گرمی باقی رکھنے کے لئے تمام دروازے ، دریچے اور کھڑکیاں بند کر دیتے ہیں ورنہ انرجی ضایع ہو گی اور گھر گرم نہیں ہو گا۔ نماز ہمارے اندر برائیوں سے پرہیز کی حرارت کیوں نہیں پیدا کرتی؟اس لئے کہ کان، آنکھ اور دہن کے دریچے کھلے ہوئے ہیں جو چاہتے ہیں سنتے ،دیکھتے اور بولتے ہیں۔ جس طرح گندم سے پر گودام میں اگر کوئی سوراخ موجود ہو تو گندم کا ذخیرہ، چوہے وغیرہ سے محفوظ اور سالم نہیں رہ سکے گا۔ لہذا اگر کوئی نماز سے حاصلہ ذخائر کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے ضرورت کے وقت کان ،آنکھ اور منہ کے دریچے کھولے۔ ہر وقت ہر بات سننے ، ہر چیز دیکھنے اور ہر بات بولنے کے لئے ان سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے۔

ایک سن رسیدہ اور ضعیف العمر مومن کی داستان پیش کر رہے ہیں جو اپنے عہد جوانی کا واقعہ یوں بیان کرتا ہے ” میں اپنی جوانی کے دور میں زیارت کے لئے مشہد مقدس گیا تھا وہاں معروف عارف اور اہل سلوک و عرفان “مرحوم شیخ حسن علی نخودکی” سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ میری تین خواہشیں ہیں میرا جی چاہتا ہے کہ تینوں خواہشیں خدا میری جوانی کے دور میں ہی پوری کر دے۔ آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جس کے انجام دینے سے میری یہ حاجتیں پوری ہوں۔ شیخ حسن علی نے مجھ سے پوچھا تمھاری حاجتیں کیا ہیں ؟ میں نے کہا کہ پہلی حاجت خداسے یہ ہے کہ جوانی میں ہی مجھے حج سے مشرف فرمائے کیونکہ جوانی میں حج کرنے کی کچھ اور ہی بات ہے ، یہ سن کر “شیخ حسن علی نے کہا کہ اگر یہ چاہتے ہو تو نماز، اول وقت اور جماعت سے پڑھو۔ میں نے کہا دوسری حاجت خدا سے یہ ہے کہ خدا مجھے ایک اچھی سی زوجہ نصیب کرے۔ شیخ نے کہا کہ نماز اول وقت اور جماعت سے ادا کرو۔ میں نے کہا کہ تیسری حاجت خداسے یہ ہے کہ مجھے عزت و آبرو کی کی کوئی نوکر دی یا ملازمت نصیب کرے۔ پھر شیخ حسن علی نے وہی کہا کہ اول وقت اور جماعت سے نماز ادا کرو۔ ضعیف العمر شخص کہتا ہے کہ میں اس وقت سے نمازیں اول وقت اور جماعت سے پڑھنے لگا، جس کے نتیجے میں تین برسوں میں خدا نے میری تینوں حاجتیں پوری کر دیں۔ کتنی اچھی بات ہے کہ ہم اس ماہ مبارک میں اذان کی آواز سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوں ، شوق سے وضو کر دیں اور ہر دنیوی کام چھوڑ کر نماز جماعت کی صفوں میں شامل ہو جائیں۔ اس وقت شیطان ہمارے دلوں میں نفوذ کی راہ نہیں پا سکتا۔ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں “جب تک مومن نمازیں ان کے اوقات میں ادا کرے گا شیطان اس سے ڈرتا رہے گا اور دور رہے گا، اور مومن اس کی رعایت نہیں کرے گا تو شیطان جری ہو جائے گا اور اس کوگناہان کبیرہ کے ارتکاب پر بھی آمادہ کر دے گا”

پروردگار عالم کی نظر میں رمضان کا مہینہ پورے سال کے مہینوں اور رمضان کے ایام تمام سال کے دنوں میں افضل و برتر ہیں۔ خداوند کردیم اس مہینے میں اپنے بندوں کو خصوصی رحمت کی نظر سے دیکھتا، ان کی مناجات سنتا اور ان کی دعائیں پوری کرتا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے مسلمانوں کو رمضان المبارک کی آمد کا مژدہ سناتے ہوئے فرمایا” ہوشیار رہو کہ تمھاری روح و جان تمھارے کردار کی برائیوں کی قید میں ہے اس لئے خداوند کر یم سے استغفار کے ذریعے شیطان کے چنگل سے نجات حاصل کرو اور طولانی سجدوں کے ذریعے اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے کاندھے سے اتار پھینکو، کیونکہ خدا نے اپنی عزت کی قسم کھا کر فرمایا ہے نماز گزاروں او سجدہ کرنے والوں کوعذاب نہیں کرے گا اور انھیں دوزخ کی آگ میں نہیں جلائے گا۔

اگر انسان کا وجود، فطرت الٰہی سے کسی حد تک وابستہ رہ گیا ہے تو وہ جب اپنے اعمال پر نظر کر تا ہے تو یہ درک کر لیتا ہے کہ خدا کی عطا کردہ اکثر نعمتوں کو اس نے خدا کی ہی نافرمانی اور مخالفت کا وسیلہ بنا لیا ہے اور اسی وجہ سے وہ خداسے شرم وحیا اور احساس ندامت کرتا ہے۔ دوسری جانب خداوند کردیم سورۂ زمر کی 53ویں آیت میں فرماتا ہے ” پیغمبر آپ یہ پیغام پہنچادیجیے ” اے میرے بندو جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ یقیناتمام گناہوں کا بخشنے والا اور بڑا مہر بان ہے ”

حضرت امام زین العابدین (ع) نے خداوند کردیم سے رابطہ کے لئے تمام بندگان الٰہی کے لئے روشن افق پیش کر دیے ہیں۔ آپ پر امیداور آرزوؤں سے سرشار قلب کے ساتھ خدا سے راز نیاز کرتے اور معصوم ہوتے ہوئے بھی گناہ گاروں اور توبہ کرنے کی طرح اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور خدا سے طلب بخشش کرتے ہیں۔ سامعین آئیے حضرت امام سجاد (ع) کے ساتھ ہم آپ بھی مناجات کے ان الفاظ کو اپنی زبانوں پر جاری کر دیں ” خدایا میرے گناہوں نے مجھے ذلت و رسوائی   میں مبتلا کر رکھا ہے ، اور تیری دوری نے مجھے تن تنہا کر دیا ہے ،اور ہواؤ ہوس نے میرے دل کو مردہ کر دیا ہے۔ اے میرے مالک اے میری امید و آرزو، توبہ کے ذریعے میرے دل کو زندگی عطا کر دے “میرے مالک تیری عزت کی قسم، میرے گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا اور کوئی نہیں ہے ، اور میرے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے والا بھی تیرے علاوہ کوئی نہیں ہے ، میرے مالک تیری بارگاہ میں سر جھکا کر توبہ کاسہارہ لے کر ذلت و خواری کے ساتھ حاضر ہو گیا ہوں ، اگر اپنی بارگاہ سے مجھے نکال دے گا تو کس کے پاس جاؤں گا؟ اور اگر تو نے اپنے در لطف و کرم سے لوٹا دیا تو مجھے کہاں پناہ ملے گی؟ میرے مالک میرے گناہوں کو اپنی رحمت سے محو کر دے ، اور اپنی مہربانی کا ابر باراں میرے عیوب برسا کر انھیں پاک کر دے ، پروردگارا، فراری غلام اپنے آقا اور مولا کے سوا پلٹ کر اور کہیں جاتا ہے ؟ یا اسے اس کے آقا کے غضب سے خود اس کے مولا کے سوا کوئی اور نجات دلا سکتا ہے ؟ میرے مالک اگر تیرے بندے سے گناہ اور نافرمانی کا ارتکاب، برائی میں شامل ہے تو تیری جانب سے عفو و بخشش تو اچھی بات ہے ،اے بے نواؤں کے فریاد رس، اے نقصان کو دور کرنے والے ، اے وہ کہ جو تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے ، اے وہ کہ گناہوں کی باقاعدہ پردہ پوشی کرتا ہے ، تجھے تیرے جود و کرم کا واسطہ میری شفاعت فرما، اور تجھے تیری رحمت و فضل و کرم کا واسطہ میری دعا کو شرف قبولیت عطا فرما، میری امید کو نا امیدی میں تبدیل نہ کر، میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہوں سے چشم پوشی فرما ، اے سب سے بڑے مہر بان۔

 

 

 

 

(4)

 

خدائے غفور و رحیم رمضان کے مبارک مہینے میں انسان کی رہائی و نجات اور اپنی رضاؤ خوش نودی کے راستے میں قدم بڑھانے میں مومنوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ بہت سے اہل عرفان وسلوک نے عشق الٰہی میں شدید مشکلات اور صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد اس راہ کو طے کیا ہے اور کاشانۂ رضوان الٰہی میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا روزہ دار کے لئے ایسے اصول و ضوابط کا حامل ہے جن میں سے ہر ایک بندوں تک معنویت و روحانیت کے خزانوں کی منتقلی کا باعث بنتا ہے۔ روزہ، انسان کے مقصد و ہدف اور انجام پر توجہ میں اضافے کا باعث ہے اور انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ نیک مقصد کے حصول کی راہ میں دشواریوں اور مشکلات سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے۔ روزہ داروں میں صبر و تحمل کا حوصلہ بہت بلند ہے اور تقرب الٰہی کے حصول پر مبنی ان کا ہدف و مقصد دلکش و زیبا ہے اور ہر آسانی و سہولت، دشواری و سختی میں مضمر ہے اور گوہر آسائش کے حصول کے لئے سختیوں کے سمندر میں اترنا اور امید وار ہونا چاہیے۔ حقیقت میں انسان کی پیشرفت میں امید کا اہم کردار ہوتا ہے خاص طور خدا سے امید انسان کے لئے ہر سختی اور دشواری کو آسان بنا دیتی ہے سورۂ انشراح کی آیات پانچ اور چھ میں خدا فرماتا ہے ” بے شک ہر تنگی کے ساتھ کشادگی ہے اور بیشک ہر دشواری و سختی کے ساتھ آسانی ہے ”

موسم سرما میں چیری کے درخت کو اگر دیکھیے تو سوکھا اور خشک نظر آتا ہے لیکن فصل بہار میں اس کی یہی خشک شاخیں سبز ہو جاتی ہیں اور ان میں نرم و سفید اور خوب صورت شگوفے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان قدرت کے یہ کرشمے دیکھتا ہے ،اس کے وجود میں شادابی اور خانۂ دل میں امید کی شمع روشن ہو جاتی ہے اس لئے کہ انسان یہ کرشمۂ قدرت الٰہی دیکھ کے یہ باور کرنے لگتا ہے کہ خدا جو ان خشک لکڑیوں میں تازہ روح پھونک کر ان کی تہ میں سے کونپلیں نکال سکتا ہے وہ بد اخلاق اور سخت دل انسانوں کی وادی زندگی میں خوش اخلاقی کے دلکش و زیبا پھول بھی کھلا سکتا ہے۔ ایران کے عظیم اور معروف شاعر حافظ شیرازی نے اپنے اس شعرمیں اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے

“ان کہ رخسار ترا رنگ گل ونسرین داد

صبر و آرام تواند بہ   من مسکین داد

یعنی وہ ہستی جس نے تیرے رخسار کو پھولوں کی طرح تازگی و شادابی عطا کی ہے ، وہی میرے جیسے مسکین و فقیر کو بھی صبر وسکون کی دولت سے نواز سکتی ہے۔

اسلام میں رجاء اور امید کا درجہ بہت بلند ہے یہاں تک کہ اقوال معصومین علیھم السلام میں امید کو رحمت الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن انسان کو چاہیے کہ اس قدر امید وار بنے کہ خیال پردازی کی حد میں داخل نہ ہو بلکہ حقائق، امکانات اور اپنی ذاتی طاقت و صلاحیت کو پیش نظر رکھے۔

عراق کے شہر کوفہ کا ایک تاجر تھا جس کا نام “ابو طیّارہ”تھا ایک مرتبہ کسی افتاد کے نتیجے میں وہ غربت کا شکار ہو کر افسردہ اور مایوس ہو گیا۔ ایک روز وہ شہر مدینہ میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کی خدمت میں پہنچا اور غربت سے نجات حاصل کرنے کی آپ سے تدبیر چاہی۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) نے ابو طیارہ کے دل میں امید اور اللہ پر توکل اور بھروسے کی شمع روشن کرنے کے لئے ان سے پوچھا کہ ” کیا تمھارے پاس دکان موجود ہے ؟ ابوطیارہ نے عرض کی جی ہاں ، لیکن تجارت کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔ حضرت نے فرمایا” تم کوفے جا کر اپنی دکان کھول کر اس کی صفائی کرو اور اس پر بیٹھ جاؤ لیکن اپنا کام شروع کرنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرو اور خدا سے یہ دعا کرو کہ پروردگارا مجھے اپنی شکست خوردہ طاقت پر بھروسہ نہیں ہے میرا بھروسہ صرف تیری شکست ناپزیر طاقت پر ہے میرے مالک تو ہی مجھے طاقت و توانائی عطا فرما، میرے مالک میں تجھ سے وسعت رزق کا سوالی ہوں اور تجھ سے روزی کا خواہاں ہوں۔ ابو طیارہ نے حضرت امام جعفر صادق (ع) کے فرمان پر عمل کیا اور پھر بڑے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ انپی دکان کی صفائی کر کے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد ایک پارچہ فروش وہاں آیا اور کہنے لگا ” اگر مناسب سمجھو تو آدھی دکان مجھے کرائے پر دے دو۔ ابو طیارہ نے اس کی بات مان لی اور آدھی دکان اس کے حوالے کر دی۔ اس پارچہ فروش نے اپنے کپڑے فروخت کے لئے سجادئے۔ اور پھر انھیں فروخت کرنے میں مشغول ہو گیا۔ ابو طیارہ نے اس پارچہ فروش سے کہا کہ اگر تم چاہو تو اپنا کچھ مال مجھے دے دو میں بھی فروخت کروں اور مجھے تم اس کے عوض کچھ اجرت دے دینا اور بقیّہ تم لے لینا پارچہ فروش نے ابو طیارہ کی بات مان لی۔ ابو طیارہ نے اللہ کا نام لے کر اس سے کچھ کپڑے لئے اور انھیں فروخت کرنا شروع کر دیا اتفاقا اس روز ہوا کافی خنک و سرد ہو گئی تھی اس لئے کافی تعداد میں گاہک آ گئے اور شام تک سارے کپڑے بک گئے۔ ابو طیارہ کہتے ہیں کہ میرا کام اسی طرح جاری رہا اور خدا نے مجھے اتنی روزی دے دی کہ میں نے سواری، غلام اور کنیز بھی خرید لی اور اپنا ایک نیا مکان بھی تعمیر کر لیا۔ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں ” امید اور آرزو میری امت کے لئے رحمت ہے اگر امید و آرزو نہ ہوتی ، تو کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ بھی نہیں پلاتی اور کوئی باغباں اپنے باغ میں ایک درخت بھی نہ لگاتا” رمضان کے اس مبارک مہینے میں رحمت الٰہی کے دروازے بندگان خدا پر کھلے ہوئے ہیں ہم آپ بھی عفو و بخشش و رحمت الٰہی سے لو لگائے ہوئے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ پروردگار، اپنی رحمت کی بارش سے ہمارے گناہوں کی آلودگی اور کثافت کو دور کر کے ہمارے کردار کو پاکیزہ بنا دے گا۔ بخشش و رحمت و مغفرت کی امید گنہگار انسانوں کو اپنی سمت دعوت دیتی ہے اور منادی یہ اعلان کرتا ہے کہ اے خدا کے بندو، اگر تم سے بدترین گناہ بھی سرزد ہو گیا ہے اور اپنے کئے پر پشیمانی اور شرمندگی ہے تو رحمت الٰہی سے مایوس نہ ہونا اس لئے کہ مایوسی سب سے بڑا گناہ ہے۔

حضرت امام سجاد(ع) کی پندرہ معروف مناجاتوں میں سے ایک مناجات ایسی ہے جو “امید واروں ” کی مناجات کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت امام سجاد(ع) اس دعا کے آغاز میں خداوند کردیم اور اس کی رحمت کے بحر بیکراں سے امید کی لو لگاتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” اے وہ خدائے کر یم کہ جب بھی تیرا کوئی بندہ تجھ سے کسی چیز کا طلبگار ہوتا ہے تو اسے وہ چیز عطا کر دیتا ہے اور جب بھی کسی چیز کی تجھ سے آرزو کرتا ہے ، تو اس کی آرزو پوری کر دیتا ہے اور جب بھی کوئی بندہ تیری بارگاہ میں حاضری دیتا ہے تو اسے اپنی قربت عطا کر دیتا ہے اور جب بندہ آشکارا طور سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اورجب بندہ تجھ پر توکل کرتا ہے تو اس کے سارے امور بخوبی انجام دیتا ہے ” اس دعاء میں حضرت امام سجاد (ع) نے انسان کو یہ حوصلہ بخشا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی آرزو اور تمنّا پروردگار کی بارگاہ عالیہ سے طلب کرے اور اپنے ذہن میں خداوند متعال سے اعلی مدارج و منازل تک رسائی کی امید رکھے اس لئے کہ خداوند متعال کی قدرت و مالکیت کی کوئی حدو انتہا نہیں ہے وہ جسے جس قدر بھی عطا کر دے اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ حضرت امام سجاد(ع) بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” میرے مالک تیرے غیر سے کس طرح کسی بھی شے کی امید رکھوں جب کہ ہر خیر و نیکی کا مصدر تیری ذات ہے ؟ اور کس طرح تیرے علاوہ اور کسی سے امیدوار بنوں جب کہ کبریائی اور ساری خدائی تیری ہستی سے مختص ہے ؟ کیا میں تجھ سے اپنی امید کا رشتہ توڑ لوں جب کہ تو نے اپنے فضل و کرم سے وہ نعمتیں بھی عطا کر دیں جو میں نے تجھ سے طلب بھی نہیں کی تھیں ”

ایسے مبارک مہینے اور پر برکت ایاّم میں جب کہ آسمان کے دروازے اہل زمین کی دعاؤں کی قبولیت کے لئے کھلے ہوئے ہیں ،   اس سنہرے اور قیمتی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر ہو گا کہ بارگاہ الٰہی سے اپنی بڑی سے بڑی حاجتیں طلب کر دیں۔ حضرت امام سجاد(ع) کی “امیدواروں کی مناجات” کے فقروں کو خلوص دل کے ساتھ اپنی زبان پر جاری کر دیں ” اے وہ بہترین ہستی کہ جو امید لگانے کے قابل ہے اور اے وہ کردیم ترین ذات، جس کے سامنے دست سوال دراز کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور اے وہ ذات جو اپنے سائل و گدا کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی اور اپنے سے مایوس نہیں کرتی اور اپنے امید واروں کو نا امید نہیں کرتی تجھے تیرے فضل و کرم کا واسطہ کہ مجھ پر کرم فرما اور اپنی اس عطا ؤ بخشش سے نواز دے جو مجھے چشم بصیرت عنایت کرنے کا باعث بنے اور اپنی امیدوں سے اس قدر مجھے سرشار فرما دے کہ میرے دل کو سکون و اطمینان حاصل ہو جائے اور ایسا یقین عطا فرما کہ دنیا کے رنج و غم کا تحمل میرے لئے آسان ہو جائے اور اس یقین کی بدولت، جہل و ظلمت کے پردے میری چشم بصیرت کے سامنے سے ہٹا دے۔ تجھے تیری بے بیکراں رحمت کا واسطہ، اے سب سے بڑے مہربان”

دنیا کی زندگی میں غم و غصہ، ناگوار مسائل سے دوچار ہونا اگر انسان کے لئے تلخ ہے تو دوسری جانب خوشیاں اور مسرتیں بھی شکر و شہد کی مانند شیریں اور خوش ذائقہ ہیں۔ اگر انسان کو مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے تو اسے مضطرب اور پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ آسانیوں کا امید وار ہونا چاہیے۔ امیر المومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں ” ہر رنج و غم سرانجام خوشی اور شادمانی کا باعث بنتا ہے “۔

 

 

 

(5)

 

 

رمضان کا مہینہ بارش کے پانی کی مانند ہے جو انسانوں کو خداوند کردیم کی برکتوں اور مغفرت سے سیراب کرتا ہے۔ اس مبارک مہینے کے دنوں اور راتوں میں دعاؤ مناجات، انسان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ اپنے کو درک کرے اور رحمت الٰہی کی بارش سے اپنی روح و جان کو طراوت و تازگی بخشے۔ روزہ اس امر کا باعث بنتا ہے کہ تمام انسان خواہ امیر ہوں یا غریب و فقیر سب بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں روزہ رکھنے سے سماجی مشارکت کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ثروت مند افراد محروموں اور غریبوں کے رنج و غم کا احساس کرتے اور ان کی مدد کرتے ہیں اور غریبوں کو اپنے دستر خوان کی زینت قرار دیتے ہیں ، انھیں افطار اور کھانے کی دعوت دیتے ہیں اور ان سے بھائی چارے اور محبت و الفت کا برتاؤ کرتے ہیں۔

آسمان سے بارش کی بوندیں جب تک زمین تک نہیں پہنچتیں اس وقت تک وہ قطرہ شمار کی جاتی ہیں اور جب تک قطرہ ہیں ان کی اہمیت اور افادیت نہیں ہے ،لیکن جب زمین پر پہنچ جائیں اور ایک دوسرے سے مل جائیں تو آب جاری کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور ہر چیز کو پاک و صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، بیج کو سبز اور اور سبزوں کو شادابی اور نمو عطا کر دیتی ہیں۔ انسانوں کو بھی بارش کے قطروں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جب تک غرور و تکبر کا نشہ ان پر سوار ہے ، ان کی کوئی حیثیت و افادیت نہیں ہے لیکن جب مرکب تکبر و غرور سے نیچے اتر آئیں اور ان میں تواضع و انکساری پیدا ہو جائے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ معاشرت اور زندگی بسر کرنے لگیں تو اس وقت ان کا وجود مفید بن جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی پیغمبر اکرم ﷺ معاشرتی اورسماجی زندگی بسر کرنے کو دوست رکھتے تھے اور ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے سے منع فرماتے تھے۔ حقیقتاً انسان چاہے جتنی بھی بلندی پر پہنچ جائے اگر اپنی سطح سے نیچے کے لوگوں کے ساتھ معاشرت اختیار نہ کرے تو اسے حقیقی عروج و کمال اور سربلندی حاصل نہ ہو گی۔ جو چیز انسان کی بلندی کی راہ میں حائل اور رکاوٹ بنتی ہے ،تکبر و غرور ہے۔ غرور و تکبر، خدا سے دوری، راہ حق سے انحراف،اور شیطان کے راستے پر چلنے کا باعث بنتا ہے۔ قرآن کے سورۂ بقرہ کی چونتیس ویں آیت میں ارشاد باری ہے ” اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو ،پس سب نے سجدہ کیا ابلیس کے علاوہ، اس نے ہمارے حکم سے سرپیچی کی اور غرور و تکبر سے کام لیا اور کافروں میں شامل ہو گیا”

قرآن کردیم نے غرور و تکبر کے بعض ظاہری اثرات و نتائج کی جانب بھی متوجہ کیا ہے اس لئے کہ انسان میں جو صفتیں موجود ہیں وہ کبھی نہ کبھی اپنے آپ اس کے اعمال سے ظاہر ہو جاتی ہیں۔ انسان کی رفتار و گفتار اس کے صفات کی مظہر بن جاتی ہیں۔ سورۂ اسراء کی 37ویں آیت میں ارشاد باری ہے ” روئے زمین پر غرور وتکبر کے ساتھ اکڑ کر نہ چلو، کیونکہ تم زمین کو شگافتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور تمھارے قد کی بلندی بھی پہاڑوں کی بلندی کو چھو نہیں سکتی” بعض متکبر اور غروری افراد ایسے ہیں جو راستہ چلنے میں زمین پر پاؤں پٹختے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کی آمد کا علم ہو جائے ، وہ گردن تان کر چلتے ہیں تاکہ اپنے زعم میں دیگر افراد پر اپنی برتری اور اپنے کو اونچا ظاہر کر دیں۔ حکایات میں آیا ہے کہ ایک سنگ ریزے نے پہاڑ کے مقابل کھڑے ہو کر کہا کہ اے بلند و بالا پہاڑ میں احساس تنہائی میں مبتلا ہوں مجھے بھی اپنے وجود کا حصہ بنا لو میں بھی تمھاری شان و شوکت کا باعث بنوں گا” سنگریزے کی باتیں سن کر پہاڑ ہنسا اور غرور و تکبر کے ساتھ بولا ” اے نادان سنگ ریزے ، تم ہماری شان و شوکت اور رفعت وسربلندی میں کیا مؤثر ثابت ہوسکتے ہو تمھاری حیثیت ہی کیا ہے ؟ ” پہاڑ سے وابستہ تمام سنگ ریزوں کو پہاڑ کے غرور آمیز جواب سے رنج پہنچا اور ایک ایک کر کے پہاڑ سے جدا ہونے لگے تھوڑی دیر میں پہاڑ دشت کے ذہن میں ایک یاد داشت میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔

تاریخ اسلام میں ملتا ہے کہ ایک روز رسول اکرمﷺ کسی بزم میں تشریف فرما تھے اور آپ کے اصحاب پروانہ وار آپ کے گرد جمع تھے در ایں اثنا ایک غریب شخص پھٹا پرانا لباس پہنے ہوئے بزم میں آ گیا اور ایک ثروت مند کے پہلو میں جگہ پا کر بیٹھ گیا۔ ثروت مندنے اسے دیکھ کر اپنے کپڑے سمیٹ لئے اور اس غریب آدمی سے کچھ دور ہٹ گیا۔ رسول اکرمﷺ نے جوساراماجرا مشاہدہ فرما رہے تھے ،اس ثروت مندسے فرمایا کہ کیا تم ڈر رہے تھے کہ اس کی غربت تمھیں نہ لگ جائے ؟اس نے عرض کی نہیں ایسانہیں ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تمھارے قریب اس کے بیٹھ جانے سے تمھارے کپڑے میلے ہو جائیں گے ؟ اس نے کہا ہرگز ایسا نہیں ہے۔ پھر حضرت نے اس ثروت مند سے بڑے ہی نرم لہجے میں کہا کہ تم نے اپنے کپڑے اس غریب کو دیکھ کر آخر کیوں سمیٹ لئے ؟ اس سوال پر اس ثروت مند کا شیشۂ غرور چور چور ہو گیا اس نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی اب میں اپنی غلطی کی تلافی کے لئے اپنی آدھی دولت و ثروت اپنے اس غریب مسلمان بھائی کو دیتا ہوں تاکہ میں نے جو غلطی کی ہے یہ مجھے معاف کر دیں۔ اس وقت اس غریب شخص نے بڑی حکمت آمیز بات کہی ” مگر میں آپ کی اس پیش کش کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں ” آپ کے اصحاب کو اس کا جواب عجیب سا لگا اور سب تعجب سے اس غریب کی جانب دیکھنے لگے۔ رسول اکرمﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمھارے انکارکاکیاسبب ہے ؟اس غریب شخص نے عرض کی یارسول خدا مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان کے جیساغرورمیرے ذہن میں نہ پیدا ہو جائے اور میں بھی اپنے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ یہی سلوک کر بیٹھوں ” سامعین اس مبارک لمحات میں ہماری دعا ہے کہ خدا ہمیں غرور و تکبر سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت و مغفرت کی بارش سے ہمارے وجود میں پائی جانے والی ناشائستہ صفات کی کثافتوں کو دور فرما دے۔

حضرت امام سجاد (ع) کی پندرہ معروف مناجاتوں میں سے ایک، مناجات شاکیان بھی ہے۔ یہ مناجات خداسے شکایت کے لہجے میں کی گئی ہے لیکن مادی اور دنیوی امور سے مربوط نہیں ہے بلکہ ان مشکلات سے مربوط ہے جو فرائض کی انجام دہی اور خدا کی بندگی اور انسانی کمالات تک رسائی کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ حضرت امام زین العابدین (ع) اپنی اس مناجات میں خدا سے عرض کرتے ہیں ” خدایا میں تجھ سے اس نفس امّارہ کی شکایت کرتا ہوں جو مجھے ہمیشہ برے اعمال کی انجام دہی کا حکم دیتا ہے اور ہر خطا کی جانب دوڑتا ہے اور تیری نافرمانی میں حریص ہے اور اس نے مجھے تیرے غضب کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور ہمیشہ میری تباہی و بربادی کے درپے ہے یہ ایسا نفس ہے جس نے میری ہستی کو تیرے سامنے پست ترین اور تباہ شدہ بنا کر پیش کرنے کا خواہاں ہے اگر کوئی شر یا برائی نظر آتی ہے تو اس کی انجام دہی کے لئے بیتاب ہوتا ہے لیکن نیک امور کی انجام دہی اور دوسروں کے ساتھ احسان اور حسن سلوک سے روکتا ہے ”

حضرت امام سجاد (ع) کی شکایات کا محور خود اپنا نفس ہے۔ مذہبی ثقافت و لغت میں نفس کے لفظ کا بہت زیادہ اور مختلف انداز میں استعمال ہوا ہے اور قرآن میں بھی لفظ نفس کا استعمال متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ اس بارے میں خداوند کردیم سورۂ یوسف کی ترپن ویں آیت میں حضرت یوسف (ع) کے قول کو یوں نقل کرتا ہے ” اور میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں قرار دیتا کہ نفس بہر حال برائیوں کا حکم دینے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے کہ وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ” یہ نفس جو نفس امّارہ کے نام سے مشہور ہے ، انسان کو گناہ و خطا اور پست ترین مادی اور دنیوی لذات کے حصول پر مجبور کرنا چاہتا ہے نفس امّارہ خطاؤں کی توجیہ اور ان کی انجام دہی کا جواز پیش کرتا ہے اور گناہوں کو اچھا بنا کے انسان کے سامنے پیش کرتا ہے جب کہ بلا شبہ گناہ کی توجیہ خود اس گناہ سے بڑا گناہ ہے اس لئے کہ اگر گنہگار اپنے گناہ کی برائی کو درک کر لے تو اس کی تلافی اور توبہ کا خواہاں ہوتا ہے لیکن گناہ کی توجیہ کے باعث گناہ کی خرابی اور برائی پوشیدہ رہ جاتی ہے اور انسان گناہ پر اصرار کرتا رہتا ہے اور روز بروز اپنے خالق حقیقی سے اپنے گناہوں پر اصرار کی وجہ سے دور ہوتا جاتا ہے۔

حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات مین خدا سے اس نفس کی شکایت کرتے کہ جو انسان کو تیزی سے گناہ کی سمت لے جاتا ہے اور جب انسان توبہ کرنے کی سمت راغب ہوتا ہے اس وقت توبہ کو کسی اور موقع کے لئے ٹال دیتا ہے اس طرح ساراوقت دنیوی لذتوں میں صرف ہو جاتا ہے اور انسان خدا سے توبہ اور اپنے گناہوں کی تلافی کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتا۔ کیونکہ شیطان بھی بے بنیاد وعدوں ک ذریعے گنہگار انسان کو فریب دیتا ہے اور مختلف بہانوں سے انسان کی توبہ کو مستقبل پر ٹال دیتا ہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) اس مناجات میں بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا میرے لئے تیری طاقت کے سوا کوئی دوسری قوت و طاقت موجود نہیں ہے۔ اگر تو میری حفاظت نہ کرے تو دنیا کی گرفتاری سے مجھے ہرگز نجات نہیں مل سکتی، میرے مالک تجھے تیری بے پناہ حکمتوں اور تیرے عزم راسخ کی قسم مجھے صرف اپنے جود و کرم سے نواز دے اور گناہوں سے محفوظ رکھ تجھے تیری رحمت کا واسطہ اے مہربانوں کے مہربان. آمین

 

 

 

 

(6)

 

رمضان کا مہینہ معنوی و روحانی کمالات اور قربت الٰہی کے حصول کے لئے بہترین موقع ہے۔ خداوند کردیم نے اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اگر وہ چاہیں تو ان نعمتوں کو خدا کی طاعت و عبادت کی راہ میں استعمال اور دوسروں کو بھی ان نعمتوں سے بہرہ مند کرسکتے ہیں۔ ایران کے ممتاز عالم و عارف خواجہ عبداللہ انصاری کہتے ہیں “اگر پانی میں اترنا ہے تو تنکے کی طرح سبک بن جاؤ، اگر ہوا میں اڑنا ہے تو مکھی کے مثل بن جاؤ، اور اگر کچھ بننا ہے تو پہلے دل جیتنا سیکھو”

انسان کو چاہیے کہ بخشش وسخاوت میں تنگ نظری کا شکار نہ ہو اور احسان و بخشش کے دائرے کو مادی اور دنیوی احسان و بخشش کے مظاہر میں محدود نہ کرے۔ امام المتقین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں ” ہر کار خیر جو پروردگار عالم کی رضاؤ خوشنودی کے لئے انجام دیا جائے وہ احسان و عمل خیر شمار ہوتا ہے ”

بعض انسان آنکھوں کی پتلیوں کی طرح ہیں۔ جس قدر نور اور روشنی بڑھتی جاتی ہے آنکھ کی پتلی اتنی ہی سمٹتی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض افراد ہیں کہ اللہ ان کی نعمتوں میں جس قدر اضافہ کرتا جاتا ہے ، اتنا ہی وہ بخیل و تنگ نظر ہوتے جاتے ہیں لیکن اہل تقویٰ ایسے نہیں ہیں۔ خداوند کردیم اہل تقویٰ اور پرہیز گار لوگوں کو جب نعمتیں عطا کرتا اور رزق سے نوازتا ہے تو دوسروں کو بھی ان نعمتوں سے استفادے کی دعوت دیتے ہیں یعنی اہل تقویٰ وہ لوگ ہیں کہ اگر خدا انھیں عزت و آبرو عطا کرتا ہے تو اسے صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کی مشکلات کو حل کرنے کے کام میں لاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صاحب ضرورت قرض لینا چاہتا ہے تو اس کے ضامن بنتے ہیں ، یا کسی کی نوکر دی اور ملازمت کی سفارش کر دیتے ہیں یا اگر علم حاصل کر لیتے ہیں تو ہاتھوں میں قلم اٹھا لیتے ہیں اور دوسروں کو زیور علم سے آراستہ کر دیتے ہیں اور اگر کتاب یا کوئی مفید مطالب و مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں تو دوسروں کو بھی ان سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ دینی مسائل کے ماہر حجۃالاسلام “رنجبر” نے کیا لطیف بات کہی ہے ” کلیاں چٹخنے کے بعد خوبصورت اور دلکش پھولوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں لیکن یہ سب نسیم بہار کا کرشمہ ہے جو بغیر کسی منت واحسان کے بند کلیوں کو کھول دیتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اسے اس عمل خیر کے عوض کچھ نہ ملتا ہو،وہ بھی اپنے اس نیک عمل کے بدلے میں عطر آگیں اور معطر ہو جاتی ہے۔ کیا کہنا ان لوگوں کا جو باد نسیم کی مانند خلق خدا کی گرہیں کھول دیتے اور ان کی مشکلات آسان کر دیتے ہیں لیکن وہ اپنے اس عمل سے محروم نہیں رہتے اللہ انھیں اس کار خیر کا بدلہ دیتا ہے۔

کمترین نیکی اور حسن عمل دوسروں کے حق میں دعا کرنا ہے خاص طور سے ایسے معنوی و روحانی اور مبارک ایام میں کہ جب خداوند کردیم سے دعاؤ مناجات کے لئے دونوں ہاتھ اس کی بارگاہ میں بلند ہوتے ہیں اور دعا باب اجابت کے قریب ہوتی ہے۔ سامعین دوسروں کے حق میں دعا کرنا، گویا خیر خواہی کی سعی و کوشش نیز بخل وکنجوسی ، اور تنگ نظری و خود غرضی سے رہائی حاصل کرنے کی عملی مشق ہے۔ دوسروں کے لئے دعاء، گویا انسانی حقوق کے اہم ترین اصول و قانون پر دست رسی کی راہ ہموار کرنا ہے ایسا قانون جو یہ کہتا ہے کہ ” جو اچھائیاں اور خوبیاں تم اپنے لئے پسند کرتے ہو دوسروں کے لئے انھیں پسند کرو” اور اس طرح انسان دوسروں کے حق میں نیکی اور اچھائی کر کے یہ باور کر لیتا ہے کہ اس کی خوش نصیبی دوسروں کی خوش بختی کی مرہون منّت ہے۔ حضرت امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں ” جو دعائیں زیادہ اور بہت جلد شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں وہ ایسی دعائیں ہیں جو دوسروں کے لئے اور ان کی غیر موجودگی میں کی جاتی ہیں ” اسی طرح حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں ” دوسروں کے حق میں دعائیں کرنا، انسان کے رزق و روزی میں اضافے اور ناگوار حادثات سے محفوظ رہنے کا باعث بنتا ہے ”

ایک مرتبہ ایک کشتی طوفان کے تھپیڑوں سے شکستہ ہو کر ڈوب گئی اس کشتی میں سوار لوگوں میں دو افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ ایک بے آب و دانہ جزیرے میں پہنچ گئے وہ بہت ہی دشوار حالات میں گرفتار تھے اور ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کر دیں انھوں نے پریشان ہو کر خدا سے پناہ مانگنے کے بار ے میں سوچا اور دونوں نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ بلند کر دئے اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کس کی دعا پہلے مستجاب ہوتی ہے دونوں الگ الگ گوشے میں بیٹھ کر خدا سے دعا مانگنے میں مشغول ہو گئے۔ دوسرے روز ان دونوں میں سے ایک کو پھل دار درخت نصیب ہو گیا اور اس نے شدید بھوک اور گرسنی کے باعث ان پھلوں کو کھا لیا لیکن دورے دوسرے شخص کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ دوسرے روز پہلے شخص نے خدا سے شریکۂ حیات اور ہمدم ودمساز عطا کرنے کی درخواست کی ، اگلے روز اتفاقیہ طور پر ایک اور کشتی طوفان کے سبب غرق ہو گئی اور اس پر سوار مسافرین میں ایک خاتون زندہ بچ گئیں تھیں جو اس شخص کے نصیب میں آ گئیں۔ جزیرہ کے دوسرے گوشے میں بیٹھ کر دعا مانگنے والے کے پاس کچھ بھی نہ تھا اور وہ بالکل تنہا تھا۔ پہلے شخص نے خدا سے مزید غذا طلب کی ، اگلے روز پہلے شخص کو معجزے کے طور پر جو کچھ اس نے خدا سے طلب کیا تھا سب کچھ ایک ساتھ مل گیا لیکن دوسرے شخص کو کچھ بھی نہیں ملا۔ سر انجام پہلے شخص نے خدا سے ایک کشتی کی درخواست کی تاکہ وہ اپنی زوجہ کے ہمراہ اس جزیرے سے چلا جائے ، دوسرے روز ایک کشتی اسی جزیرے میں لنگر انداز ہو گئی اس پہلے شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ چلے جانے اور اپنے ساتھی کو وہیں چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا اور اپنے آپ سے کہنے لگا ” اس شخص میں واقعی نعمتوں کے حصول کی صلاحیت نہیں ہے ،کیونکہ اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوئی لہذا بہتر یہی ہے کہ وہ یہیں پڑا رہے ” وہ اپنی بیوی کے ساتھ کشتی میں بیٹھ گیا اور جب کشتی چلنے لگی تو آسمان سے ندا آئی اپنے ساتھی کو اس بیایان میں تنہا چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا ” کہ جو نعمتیں میں نے حاصل کی ہیں وہ سب میری ہیں میں نے خود خدا سے طلب کی ہیں اور میرے ساتھی کی تو کوئی دعا پوری ہی نہیں ہوئی لہذا وہ ان نعمتوں کے قابل نہیں ہے۔ پھر آسمان سے آواز آئی کہ تمھارا یہ اقدام غلط ہے۔ میں نے صرف اس کی دعائیں قبول کی ہیں تویہ ساری نعمتیں تم کو مل گئیں ” یہ سن کر وہ شخص حیرت میں پڑ گیا اور اس نے پوچھا میرے ساتھی نے کیا دعا کی تھی کہ مجھے اس کا احسان مند ہونا چاہیے ؟ جواب ملا ” اس نے مجھسے یہ دعا کی تھی میں تمھاری ساری خواہشات کو پورا اور تمھاری ساری دعائیں مستجاب کروں ”

ہماری زندگی کا بھی یہی حال ہے کہ ہم بھی حاصل ہونے والی نعمتوں کو اپنی دعاؤں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو مستجاب الدعوات سمجھنے لگتے ہیں ، جبکہ خداوند متعال ہمارے حق میں دیگر مومنوں کی دعاؤں کے نتیجے میں ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز دیتا ہے اور ہمارے اوپر اپنی نعمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک مومن کی دعا دوسرے برادر مومن کے حق میں زیادہ مستجاب ہوتی ہے۔

حضرت امام سجاد (ع) کی پندرہ معروف مناجاتوں میں سے ایک، مناجات “مشتاقین” یعنی مشتاقوں کی مناجات، ہے۔ اس مناجات کے آغاز میں حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں پروردگارا اگرچہ تیری بارگاہ کے سفر میں میرے پاس زاد راہ بہت کم ہے لیکن میں تجھ پر توکل اور تیرے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوں ، اگر میرے جرم اور گناہ، آخرت میں میرے خوف وہراس کا باعث بن رہے ہیں تو یقیناً تیرے لطف و کرم سے امید بھی تیری سزا سے میرے بچنے کا مژدہ دے رہی ہے اگر میرے گناہ نے مجھے عذاب اور سزا کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے تو تیرے اوپر میرا حسن اعتماد بھی تیری جزا کی خوش خبری دے رہا ہے ، اگرچہ غفلت تیرے دیدار کی آمادگی کی جانب سے میری عدم توجہ کا باعث بنی ہے لیکن تیرے کرم اور تیری عطاؤں سے آشنائی نے مجھے ہوشیار کر رکھا ہے ، اور اگرچہ گناہ و سرکشی میں اضافہ، میری وحشت کا باعث بنا ہے لیکن تیری بخشش و عطا ؤ خوشنودی میرے سکون و اطمینان کا سبب بنی ہے ”

اس مناجات میں حضرت امام سجاد(ع) نے آخرت کے طولانی سفر میں زاد راہ کی قلت پر اپنی تشویش کا اظہار فرمایا ہے لیکن بلا وقفہ خداوند کردیم پر توکل اور اس کی بے انتہا اور لامحدود رحمت کے بارے میں حسن ظن اور اس سے امید کی وابستگی کا ذکر فرماتے ہیں۔ احادیث و روایات میں خداوند کردیم سے حسن ظن پر تاکید کی گئی ہے۔ خدا سے حسن ظن، ہر حال میں خدا سے انسان کے امید وار رہنے اور خدا نے انسان کے مقدر میں جو مقرر فرمایا ہے اس پر اس کے راضی رہنے کا سبب بنتا ہے۔ خدا سے حسن ظن کے سبب انسان اپنی حقیقی مصلحت و منفعت کو ان امور میں قرار دیتا ہے جو خدا نے اس کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ حضرت امام رضا(ع) اس بارے میں فرماتے ہیں ” خدا سے حسن ظن رکھو، کیونکہ خدا فرماتا ہے ” میں اپنے مومن بندے کے حسن ظن کا تابع ہوں اگر میرے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے تو میں اس کی امید کے مطابق اس کے ساتھ نیک سلوک روا رکھتا ہوں اور اگر میرے بارے میں بدگمانی رکھتا ہے تو اس کے ساتھ میرا سلوک بھی ویساہی ہو گا”

حضرت امام سجاد (ع) اس مناجات میں فرماتے ہیں ” میرے مالک میں نے اپنے آپ کو تیری رحمت و مہربانی کی باد نسیم کی راہ سے وابستہ کر رکھا ہے اور تجھ سے تیری رحمت وجود و کرم کی بارش کا طلبگار ہوں۔ میرے مالک تیرے غضب سے تیری رضا و خوشنودی اور تجھ سے تیری ہی طرف گریزاں ہوں اور تیرے پاس جو بہترین چیزیں ہیں ان سے میری امیدیں وابستہ ہیں اور تیری بخشش پر مجھے مکمل اعتماد ہے ” قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ امام (ع) فرماتے ہیں کہ” تیرے غضب سے تیری رحمت کی پناہ میں آ گیا ہوں ” کیونکہ خدا کے بے انتہا لطف و کرم کا تقاضا ہے کہ جو شخص اس کی پناہ میں آنا چاہے اس کو نا امید نہ کرے اور رحمت و عنایت اس کے شامل حال کرے۔ خداوند کردیم سورۂ توبہ کی آیت (6) میں اپنے پیغمبر سے ارشاد فرماتا ہے اگر مشرکین ان سے پناہ کے طالب ہوں تو انھیں پناہ دیں اور ان کے ساتھ الفت و محبت اور لطف و مہربانی کا برتاؤ کر دیں۔ جو شخص حق خدا میں کوتاہی اور گناہ کرتا ہے اور اس کے قہر و غضب سے بھاگتا ہے اسے خدا کے سوا اور کہاں پناہ مل سکتی ہے اس لئے کہ وہ روئے زمین پر جہاں بھی جائے گا وہاں خدا موجود ہے اسی لئے جب بندۂ مومن احساس گناہ کے سبب پشیمان اور رنجور ہوتا ہے تو مہرو محبت الٰہی کے دامن میں ہی پناہ لیتا ہے اور اس کے جود و کرم اور لطف و بخشش کا امید وار ہوتا ہے اس لئے کہ گنہگار مومن بندہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا گناہ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو لیکن خدا کی بے انتہا رحمت و مہربانی کے مقابلے میں ناچیز اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

 

 

 

 

(7)

 

 

ماہ مبارک رمضان کے حوالے سے حضرت امام سجاد (ع) اپنے خالق حقیقی سے مناجات میں یوں راز و نیاز کرتے ہیں۔

” پروردگارا اس مبارک مہینے میں ہمیں اپنے عزیز و اقارب سے نیک برتاؤ ، ان سے ملاقات اور صاحب ضرورت ہمسایوں اورپڑوسیوں کے ساتھ عطا و بخشش کی توفیق عطا فرما ، ہمارے اموال میں جو ناحق اضافہ ہو گیا ہے اسے خیرات و زکات کی توفیق کے ذریعے پاک کر دے اور جو لوگ ہم سے جدا اور علیحدہ ہو گئے ہیں ان سے پھر ملا دے ”

آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہو گا کہ انار کے دانے جب ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ اور مرتب ہوتے ہیں تو ایکدوسرے کو حیثیت اور عظمت و شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔ ہم لوگ بھی انار کے دانوں کی طرح ہیں ، یعنی اس وقت ہم قابل ذکر حیثیت اور تشخص کے حامل ہیں جب ایک ساتھ ہوں۔ اسی لئے حضرت علی (ع) نے فرمایا ہے ” ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے سے پرہیز ایک دوسرے سے منہ موڑنے سے اجتناب کرو”حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اور جدائی اور منہ موڑنے سے آدمی کی کوئی حیثیت اور وقار باقی نہیں رہتا۔

ایک آرے کو ہاتھ میں اٹھا کر دیکھئے اس کے دانت یا دندان کس قدر مرتب اور منظم اور ایک قطار میں ہوتے ہیں اور اسی لئے ان میں برش اور کاٹنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اور وہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔ اگر اس کے دانتے ایک دوسرے سے دور ہوں یا ایک الٹا اور ایک سیدھا ہو تو اس سے لکڑی نہیں کاٹی جا سکتی۔ ہماری مثال بھی ایسی ہی ہے خاص طور سے جب ہم اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ زندگی نہ بسر کر دیں ،اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور صلۂ رحم نہ کر دیں تو ہمارے وجود کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ چیز ہمارے ہی نقصان میں بھی ہے۔ حضرت علی (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں ” تمھارے لئے افسوس کی بات ہے اگر قطع رحم کرو، یعنی رشتہ داروں اور عزیزوں سے قطع تعلق کرو لیکن یہ بھی جاننا چاہیے کہ صلۂ رحم کرنے سے مراد، ایک دوسرے سے ملاقات نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے کام آنا اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثارو فدا کاری کرنا ہے۔ شب عاشور حضرت امام حسین (ع) نے اپنے کنبے کے افراد سے فرمایا ” میری نظر میں تم سے بڑھ کر صلۂ رحم کرنے والا کوئی نہیں ہے ” یعنی صلۂ رحم صرف ایک ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانا نہیں ہے بلکہ حقیقتاً صلۂ رحم سختیوں ، دشواریوں اور مشکلات میں زندگی کے آخری لمحے تک ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔

ایک شخص نے حضرت رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ” اے خدا کے رسول ہمارے عزیز و اقارب ایسے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں لیکن ان کا سلوک ہمارے ساتھ اچھا نہیں ہے۔ ہم ان کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ ہمیں اذیت دیتے ہیں۔ اب میں نے ان سے ترک تعلق کا فیصلہ کر لیا ہے ” حضرت رسول اکرمﷺ نے اس شخص کی باتیں سننے کے بعد فرمایا ” جب تم ان سے ترک تعلق کر لو گے تو خدا بھی تم سے ترک تعلق کر لے گا” اس نے کہا اے خدا کے رسول بتائیے پھر میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا”جس نے تم کو محروم کر رکھا ہے اس کے ساتھ عطا ؤ بخشش کا برتاؤ کرو، جس نے تم سے قطع تعلق کیا ہے اس کے ساتھ تم اپنا رابطہ برقرار رکھو، اور جس نے تم پر ظلم وستم کیا ہے اس کو معاف کر دو، اگر ایسا کرو گے تو خداوند کردیم تمھارا حامی و مددگار ہو گا” حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی عبادت خلق خدا کی خدمت اور الٰہی نعمتوں کو بندگان الٰہی کی امداد کی راہ میں صرف کرنا ہے لیکن اس سے مراد صرف ان کی مالی مدد نہیں ہے بلکہ ان کی ہرقسم کی مشکل کو دور اور حل دینا احسان اور حسن سلوک شمار ہوتا ہے۔ اگر کسی مومن کے دل کو مسرور یا اس کے غم کو دور کر دیا جائے تو یہ عمل احسان ہے۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں ” اگر کوئی شخص اپنے برادر ایمانی کے چہرے سے خس و خاشاک صاف کر دے تو اس کے عوض پروردگار اس کو دس اجر وثواب عطا فرمائے گا اور اگر کوئی اپنے برادر ایمانی کو مسرور کرے اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ آنے کا باعث بنے تو خدا اس کو حسنہ اور نیکی عطا کرے گا”

شیخ رجب علی خیاط ایک مرد زاہد تھے اور بہت اللہ والے اور عارف تھے۔ ان کے حالات میں ملتا ہے کہ ایک روز ایک جوان آدمی ان کے پاس آیا جو بلڈنگ انجینیر تھا اور اس نے جلد ہی کچھ بلڈنگیں تعمیر کی تھیں لیکن ان کے فروخت نہ ہونے کے باعث سخت مقروض ہو گیاتھا۔ اس نے شیخ رجب علی سے کہا کہ طلبگار مجھے ڈھونڈ رہے ہیں اور میرا اپنے گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے آخر میں کیا کروں کہ میری مشکل حل ہو جائے ؟   شیخ رجب علی نے کچھ سوچنے کے بعد اس جوان انجینیر سے کہا کہ ” جاؤ اپنی بہن کو راضی کرو” اس انجینیر نے کہا کہ میری بہن مجھ سے راضی ہے۔ شیخ رجب علی نے کہا کہ نہیں راضی نہیں ہے۔ اس جوان نے کچھ سوچنے کے بعد کہا کہ ہاں ہوسکتا ہے اس لئے کہ میرے والد کا جب انتقال ہوا تو ان کی میراث میں سے میں نے بہن کو اس کا حصہ نہیں دیا تھا۔ وہ یہ کہکر چلا گیا اور اپنی بہن کو کچھ رقم دے کر واپس آیا اور شیخ سے کہنے لگا کہ میں نے اس کی رضامندی حاصل کر لی۔ شیخ نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر اس سے کہا ابھی وہ تم سے راضی نہیں ہوئی ہے کیا تمھاری ہمشیرہ کے پاس اپنا مکان ہے ؟ جوان نے کہا کہ نہیں کرائے کا ہے۔ شیخ نے کہا کہ جاؤ جو گھر تم نے تعمیر کئے ہیں ان میں سے ایک بہترین مکان اپنی ہمشیرہ کے حوالے کر دو۔ ” وہ جوان چلا گیا اور ایک بہترین مکان بہن کے نام کر دیا اور اس کاسامان بھی کرائے کے گھر سے اس کے مکان میں منتقل کر دیا اور پھر شیخ رجب علی کے پاس واپس آ کر کہنے لگا جو آپ نے کہا تھا وہ میں نے انجام دے دیا۔ شیخ نے کہا اب جاؤ سب ٹھیک ہو جائے گا ” جوان گھر لوٹ آیا دوسرے ہی روز اس کی تعمیر کردہ عمارتیں اچھے داموں میں فروخت ہو گئیں اور اسے اقتصادی مشکلات سے نجات مل گئی۔

خداوند کردیم سورۂ نساء کی36 ویں آیت میں فرماتا ہے ” اور خدا کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو،اور والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اور قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، قریب کے ہمسایہ، پہلو نشین، مسافر غربت زدہ اور غلام و کنیز سب کے ساتھ نیک برتاؤ کرو کہ اللہ مغرور اور متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا”

حضرت امام زین العابدین (ع) کی دعا و مناجات سے اقتباس پیش کر رہے ہیں۔

” پروردگارا تجھ سے میری یہ آرزو ہے کہ میرے دل کو اپنی محبت سے سرشار کر دے اور اپنا خوف میرے دل میں ڈال دے اور اس بات کی توفیق عطا فرما کہ میں تیری تصدیق کروں اور تجھ پر ایمان و یقین رکھ سکوں۔ پروردگارا میں تجھ سے اس بات کا طالب ہوں کہ مجھے اپنی محبت اور جو تجھے دوست رکھتے ہیں ان کی الفت عطا فرما اور ایسا عمل انجام دینے کی توفیق عطا کر جو تیری الفت و محبت کا باعث بن سکے اور میرے دل میں اپنا عشق اتنا بھر دے کہ اپنی جان اور اپنے گھرانے کی جان کی تیرے عشق کے مقابلے میں کوئی حیثیت نظر نہ آئے ”

جس نے حق کی قربت اور اس کی الفت کی لذت کو درک اورمحسوس کر لیا ہے اس کے لئے خداوند متعال سے دوری بلائے عظیم اور ناقابل برداشت ہے۔ اسی لئے حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا جو تجھ سے محبت رکھتا ہے اسے کیسے تو اپنے سے دور کرے گا؟ خدایا میں کہ تجھ سے امید باندھے ہوئے ہوں کس طرح مجھے اپنے لطف و کرم سے محروم کر دے گا؟

دل سے نکلے ہوئے یہ فقرے لطف و کرم و رحمت الٰہی سے امیدواری کے غماز ہیں اور یہ شمع امید وہ ہے جو ہمیشہ دل مومن میں روشن ہے۔ حضرت علی (ع) مناجات شعبانیہ میں فرماتے ہیں ” پروردگارا اگرچہ تیری اطاعت و فرماں برداری کے قد سے میرے عمل و کردار کا قد بہت ہی چھوٹا ہے لیکن تیری عطاؤ بخشش کے لئے میری آرزو بہت زیادہ ہے ” اسی طرح حضرت امام سجاد (ع) خدا کی مہر و محبت اور لطف و رحمت الٰہی سے بہرہ مند ہونے اور خداسے مناجات کو خوف الٰہی سے دل کی تسکین کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ آپ خدا سے راز و نیاز کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” میرے مالک تیری یاد و ذکر سے میرے دل کو شادابی مل گئی اور تجھ سے مناجات کر کے میرا درد دل کم ہو گیا اور تسکین حاصل ہو گئی”

آئیے ماہ رمضان کے اس بابرکت ایام میں خداوند کردیم کی بارگاہ میں دعا کر دیں ” پروردگارا اپنے اس مبارک مہینے میں دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرما، اور اپنی بے انتہا رحمت و برکت شامل حال فرما خدایا اس عظیم مہینے میں اپنے خاص بندوں کی دعاؤں کو ہمارے حق میں بھی قرار دے ، اور جیسا کہ تیری کرامت و کرم کا تقاضا ہے ویسی اپنی بخشش و مغفرت مجھے نواز دے۔

 

 

 

 

 

 

(8)

 

ماہ مبارک رمضان کے بارے میں ایک فارسی زبان شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

ماہ رمضان است صفاآمدہ است

برخانۂ دل نور وضیا آمدہ است

از سفرۂ ما بوئے بہشت می آید

این سفرہ زدرگاہ خداآمدہ است

“رمضان کے مبارک مہینے کی آمد آمد سے صفا ؤ پاکیزگی آ گئی ہے۔

خانۂ دل نور ایمان سے منور ہو گیا ہے۔ ہمارے دسترخوان سے جنت کی خوش بو آ رہی ہے۔ اس لئے کہ یہ دستر خوان، خداوند کردیم کا عطا کردہ ہے ” رمضان کا مبارک مہینہ خداوند مہربان و کردیم سے مناجات اور راز و نیاز کا مہینہ ایک بار پھر آ گیا ہے۔ ایسا مہینہ جس میں خدا نے اپنے تمام بندوں کو نور ومسرت،اور اپنی رحمت و مغفرت کے لامحدود دستر خوان پر آنے کی دعوت دے رکھی ہے۔ ایسی مہمانی جو معنویت ، اخلاق اور معرفت و کمال سے سرشار ہے اور اس دستر خوان کے آداب سے آگاہی، مہمان کے لئے لازم ہے اور اس الٰہی دسترخوان کے آداب کی رعایت سے مہمانوں کے فیوض و برکات میں اضافہ ہوتا ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے یعنی، باطل اور مادی زنجیروں کی قید سے رہائی، تہذیب نفس اور روح کی پاکیزگی کے مہینے کی آمد آمد عالم اسلام کو مبارک ہو۔

ایک عارف اپنے عارفانہ خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتا ہے ” اس پھول کی خوبئ قسمت کا کیا کہنا جو پانی کے راستے میں ہو کیونکہ ترو تازہ رہتا ہے اس کا حسن نکھر جاتا ہے اور اس میں دلکشی پیدا ہو جاتی ہے جس کے باعث لائق دید ہو جاتا ہے اور اگر تم اس پھول کے پاس بیٹھ جاؤ تو وہ تمھیں بھی شاد و شاداب کر دے گا اور کتنے بد نصیب ہیں وہ پھول اور سبزے ، جو پانی سے دور اور آفتاب کے نور سے محروم رہ کر مرجھا جاتے اور خشک ہو جاتے ہیں ” انسان بھی پھول کی طرح ہے اور وجود خدا اس کے لئے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو ہدایت الٰہی کے کی راہ پر گامزن ہو۔ وہ دیدنی اور دلکش ہو جاتا ہے اور اس کے وجود میں شادابی آ جاتی ہے۔ لیکن وائے ہو ایسے بد قسمت انسان پر جو خدا سے دور ہو جائے ، بالکل اس پھول کی طرح جو پانی سے دور یا آفتاب کی روشنی سے محروم ہو۔ در حقیقت جو چیز انسان کو خدا کے راستے پر لگاتی ہے وہ طاعت و بندگیِ حق ہے۔ اور وہ بھی کسی طرح کی چوں چرا کے بغیر۔

خدا کی بندگی اور اطاعت کرو تاکہ تمھارے دل میں یقین اور معرفت کا نور پیدا ہو۔ اس لئے کہ بندگی ہے جو انسان کو متقی و پرہیزگار بنا دیتی ہے۔ تقویٰ یعنی کنٹرول اور اپنے آپ کو بری باتوں سے روکے رکھنا۔ متقی وہ شخص ہے جو ان امور سے پرہیز کرے جو خدا سے دوری کا باعث بنتے ہوں۔ تقویٰ اور پرہیز گاری کے بے شمار فیوض و برکات ہیں جن میں سب سے پہلی برکت کی چیز، زندگی میں آسانی کا میسر ہونا ہے۔ قرآن مجید کے سورۂ طلاق کی دوسری آیت میں خدا فرماتا ہے۔

“جو شخص تقویٰ اختیار کرے خدا اس کے لئے نجات کے راستے کھول دیتا ہے ” اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سختیاں دور ہو جائیں گی ایسا نہیں ہے بلکہ سختیوں کا احساس نہیں ہو گا اور ہر قسم کی سختیاں اور دشواریاں متقی انسان، آسانی سے برداشت کر لے گا۔ جس طرح ماہر گھوڑے سوار تمام رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کر لیتا ہے لیکن جو لذّت اسے محسوس ہوتی ہے وہی جانتا ہے۔ تقویٰ کے دیگر اثر ت میں سے یہ ہے کہ انسان مخمصے اور مشکل میں گرفتار نہیں ہو گا یا اگر گرفتار ہوا بھی تو اسے راہ نجات بھی مل جائے گی قرآن سورۂ طلاق کی دوسری آیت میں فرماتا ہے ” جو شخص تقوائے الٰہی اختیار کرتا ہے خدا اس کے لئے راہ نجات کھول دیتا ہے ” بنا بریں اگر کوئی کسی مشکل اور مخمصہ میں گرفتار ہو جائے اور اسے نجات کا کوئی راستہ نظر نہ آئے تو یہ یقین کر لینا چاہیے کہ اس کی پرہیز گاری اور تقویٰ میں کوئی خامی اور کمزوری ہے۔

بڑا ہی مشہور واقعہ ہے کہ ایک نوجوان طالب علم جس کا نام محمد باقر تھا دینی علوم کے ایک مرکز میں رات کے وقت کتاب کے مطالعے میں مشغول تھا کہ ناگاہ ایک حسین لڑکی خوف وہراس سے لرزتی ہوئ کمرے میں داخل ہو گئی۔ اس کی شان وشوکت سے ظاہر تھا کہ وہ کوئی شہزادی ہے۔ اس نے کمرے میں داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کر دیا اور اس نوجوان کو چپ چاپ رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر اس لڑ کی نے محمد باقر سے پوچھا، کھانے کے لئے تمھارے پاس کچھ ہے ؟ نوجوان طالب علم نے جو کچھ موجود تھا اس کے سامنے پیش کر دیا۔ اس لڑکی نے کسی طرح اس میں سے کچھ کھایا اور پھر اسی کمرے میں ایک گوشے میں سوگئی اور محمد باقر اپنی کتاب کے مطالعے میں مشغول رہے۔ دوسری جانب یہ ہوا کہ چونکہ وہ مفرور لڑکی ایسی ویسی نہیں تھی بلکہ حقیقت میں شہزادی تھی اس لئے بادشاہ کے سپاہی اس کو تلاش کررہے تھے۔ جب صبح کو وہ شہزادی، جوان طالب علم محمد باقر کے کمرے سے باہر نکلی تو شاہی گماشتوں نے اس کواور محمد باقردونوں کو گرفتار کر لیا اور بادشاہ کے پاس لے گئے۔ شاہ عباس صفوی نے محمد باقر سے غصّے کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا” تم نے رات ہی میں کیوں نہ اس بات کی خبر دی کہ میری بیٹی تمھارے یہاں ہے ؟محمد باقر نے بے خوف وہراس جواب دیا کہ شہزادی نے مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر کسی کو میرے یہاں آنے کی اطلاع دوگے تو جلادوں کے سپرد کر دیے جاؤ گے “شاہ عباس صفوی نے تحقیقات کروائیں اور اسے یہ معلوم ہو گیا کہ نوجوان محمد باقر ساری رات مطالعے میں مشغول رہا اور حتی شہزادی کی سمت نظریں اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ شاہ عباس صفوی کوبڑا تعجب ہوا اور اس نے محمد باقر کو تحسین آمیز نظروں دیکھتے ہوئے پوچھا” تم نے کس طرح اس جوانی میں اپنے نفس پر کنٹرول کیا؟ محمد باقر نے اپنے ہاتھوں کی دس انگلیاں باشاہ کو دکھائیں جو جل کر سیاہ ہو گئی تھیں۔ شاہ عباس نے پوچھا یہ کیاہوا؟ جوان طالب علم محمد باقر نے کہا کہ جب شہزادی میرے کمرے میں محو خواب تھی تو میرا نفس امّارہ مجھے گناہ کرنے پر مجبور کرنا چاہتاتھا جب بھی یہ وسوسہ میرے ذہن میں جاگتا میں اپنی ایک انگلی جلتی ہوئی شمع کی لو پر رکھ دیتا تھا اور دوزخ کی آگ کا تصور کرنے لگتا تھا۔ اسی طرح رات بھر یہی عمل انجام دیتارہا اور اپنے مطالعے میں بھی مشغول رہا اور خدا کے فضل اور اس کے لطفو کرم سے شیطان میرے نفس پر غالب نہیں آسکا”

شاہ عباس صفوی نے جب محمد باقر کی زبانی ان کی یہ داستان سنی تو بہت خوش ہوا اور اپنی اسی بیٹی سے محمد باقر کی شادی کر دی اور اسی وقت سے ان کو “میر داماد” کا لقب مل گیا۔ میر باقر داماد اپنے وقت اور اپنے دور کے ممتاز دانشوروں میں شمار ہوتے تھے اور آج بھی انھیں عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

رمضان کا مہینہ اسلام میں مبارک ترین مہینہ ہے جسے “ماہ ضیافت الٰہی” کہا گیا ہے۔ یہ مہینہ روزے اور تلاوت قرآن کردیم کا مہینہ ہے۔ رمضان کا مہینہ خدا سے راز و نیاز اور دعا کی قبولیت کے لئے بہترین موقع ہے۔ دعا، یاد خدا سے دل کو سرشار رکھتی ہے اور ایمان کے مستحکم اور مضبوط ہونے کا سبب بنتی ہے۔ فرزند رسول حضرت امام زین العابدین (ع) کی دلنشین بہترین مناجاتیں موجود ہیں۔ حضرت امام سجاد (ع) کے صحابی طاؤوس یمانی کہتے ہیں کہ ” میں نے حضرت سجاد (ع) کو حرم امن الٰہی میں رات بھر طواف و عبادت و دعا ؤ مناجات میں مشغول دیکھا ہے ، آپ بارگاہ الٰہی میں یہ مناجات کر رہے تھے ” پروردگارا آسمان کے ستارے ڈوب گئے ، آنکھیں محو خواب ہو گئیں ، تیری بارگاہ، اپنے سائلوں کے لئے آمادہ ہے۔ میرے مالک میرے جیسا طالب مغفرت و رحمت سائل، تیری بارگاہ میں حاضر ہے اور تیرے کرم سے اس بات کا امید وار ہے کہ روز قیامت اپنے حبیب رسول اکرم ﷺ کی زیارت سے مجھے محروم نہ رکھے گا” یہ کہتے کہتے حضرت امام سجاد (ع) کی آنکھوں سے آنسوجاری ہو گئے اور پھر امام نے یوں اپنی مناجات جاری رکھی “پروردگارا،توہر عیب اور ہر برائی سے منزہ اور پاک ہے۔ میرے مالک لوگ اس طرح معصیت اور گناہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں گویا وہ تیری نظروں سے دور ہیں اور توہے کہ اس طرح ان کے گناہوں سے چشم پوشی کر رہا ہے کہ گویا انھوں نے کسی گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا ہے اور اس طرح ان کی ناز برداری کرتا ہے کہ گویا تجھے ان کی ضرورت ہے جبکہ تیری ہستی مستغنی اور ہر ایک سے بے نیاز ہے ” طاؤوس یمانی کہتے ہیں کہ اس مناجات کے بعد حضرت امام زین العابدین (ع) سجدے میں چلے گئے۔

حضرت امام سجاد (ع) ماہ رمضان المبارک کے آغاز میں پیکر شوق و اشتیاق بن کر حمد و ثنائے الٰہی کرتے تھے کہ اس نے ایک بار پھر یہ مبارک اور محترم مہینہ اپنے بندوں کے نصیب میں قرار دیا ہے۔ ” آپ فرماتے ہیں ” تمام حمد وثنا اس معبود کے لئے ہے جس نے اپنا دین ہمیں عنایت فرمایا اور ہمیں اپنے احکام سے مختص فرمایا اور اپنے احسان کے راستے اپنے بندوں کے لئے کھول دیے تاکہ وہ اپنے رب کے لطف و کرم و فضل و عنایت اور اس کی رضا کی جانب قدم بڑھائیں اور حمد و ثنا اس معبود کی جس نے اپنے لطف و کرم اور فضل و عنایت و رضا اور احسان کی راہوں میں اپنے مہینے یعنی ماہ رمضان کو قرار دیا۔ ماہ رمضان ، ماہ روزہ ، ماہ اسلام ، ماہ پاکیزگی، ماہ امتحان اور بندوں کے خلوص کی آزمائش اور قیام کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں انسانوں کی رہنمائی، ہدایت اور حق و باطل میں فرق ظاہر کرنے کے لئے خدا نے قرآن مجید نازل فرمایا اور اس مہینے کو سال کے تمام دیگر مہینوں پر فضیلت بخشی اور جن امور کی انجام دہی دیگر اوقات میں حلال تھی روزے میں انھیں حرام قرار دیا اور اس کے احترام کے لئے کھانے پینے سے اس کے مقرر کردہ وقت میں منع فرمایا۔

رمضان کے اس رحمت و برکت کے مہینے میں کہ جس میں رسول اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق خداوند کردیم اپنے بندوں پرآسمان کے دروازے کھول دیتا ہے اور دوزخ کے شعلے خاموش کر دیے جاتے ہیں ،نور تقویٰ سے اپنے دلوں کو منور کر دیں اور غیر خدا سے دوری اختیار کر کے پرہیزگار بن جائیں اور اپنے مولا سید الساجدین حضرت امام زین العابدین (ع) کی اس دعا کو اپنی زبانوں پر جاری کر دیں ” پروردگارا نور تقویٰ سے میرے دل کو منور فرما دے ” آمین۔

 

 

 

(9)

 

رمضان کے مبارک مہینے اور ان بابرکت ایام کے عرفانی لمحات میں ہمارے لئے یہ موقع زیادہ سے زیادہ فراہم ہے کہ خداوند کردیم اور اس کے بندوں کے جو حقوق ہماری گردن پر ہیں ان کے بارے میں فکر کر دیں۔ دین اسلام کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ حق شناسی اور قدر دانی کی بنیاد پر استوار ہے۔ اگر کسی نے آپ کا کوئی مسئلہ حل کر دیا تو اسے فراموش نہ کیجئے اور اس کے احسان کی احسان سے تلافی کی کوشش کیجئے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کے احسان اور نیکی کی تلافی نہیں کر سکتا، اپنی عدم توانائی کے سبب یا اس کا احسان اتنا زیادہ اور اتنا اہم ہے کہ قابل تلافی نہیں ہے۔ ایسے میں کم سے کم زبان سے ہی اپنے محسن کا شکر دیہ ہی ادا کر دیا جائے ورنہ کفران نعمت شمار ہو گا اور انسان اس بات کا مستحق قرار پائے گا کہ اس سے نعمتیں سلب کر لی جائیں۔ شکر گزاری اولیں جلوۂ عقل و مظہر خرد ہے اس لئے عقل انسان کو یہ ہدایت کرتی ہے کہ نعمت اور اپنے منعم کا شکرگزار بنے۔ انسان اپنی فطرت اور عقل سلیم کی راہ پر گامزن ہے یانہیں ، یہ راز انسان کی شکر گزاری نعمت یا کفران نعمت اور عدم تشکر میں پنہاں ہے۔ جو انسان ہدایت کے راستے پر ثابت قدم ہے وہ شکر گزار ہے اور شکر گزار نہ ہونا ، انسان کی گمراہی اور عقل و فطرت سے انحراف کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ حسن سلوک روا رکھا ہے ان کی تعداد کم نہیں ہے۔ ماں باپ، اساتذہ ، پڑوسی وغیرہ بھی ان میں شامل ہیں اور ہم ان کے نیک برتاؤ اور حسن سلوک کے مرہون منّت ہیں۔ بہت سے عوامل اور اسباب کی فراہمی، ہماری آسائش اور علم وہنر سے ہمارے بہرہ مند ہونے کا باعث بنتی ہے لیکن ہم اپنی عدم توانائی کے باعث سب کی تلافی کرنے سے قاصر ہیں۔ بنابریں کم سے کم ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ان کی قدر دانی اور ان کا شکر دیہ ہی ادا کر دیں۔ اب اگر ان لوگوں کا شکر دیہ اور قدر دانی ہمارے لئے لازم ہے ،تو وہ خدا جس نے ہماری خلقت کے آغاز سے حیات کے آخری لمحے تک اپنی بے شمار نعمتوں سے ہمارے وجود کو سرشار کر رکھا ہے ، اس کی شکر گزاری کس انداز کی جانی چاہیے ؟ قرآن کردیم کے سورۂ ابراہیم کی ساتویں آیت میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے ” اگر تم شکر گزار بنو گے تو ہم اپنی نعمتوں میں مزید اضافہ کر دیں گے ، اور اگر کفران نعمت کرو گے تو یہ بھی جان لو کہ میرا عذاب یقیناً بہت سخت ہے ” معلوم ہوا کہ ذات احدیت نے ہمیں اپنی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کے عوض صرف شکر گزاری کی خواہاں ہے وہ بھی ہمارے نفع میں ہے اس کا ثواب اور اس کا فائدہ بھی ہمیں ہی ملے گا۔ شکر نعمت، زبان سے ادا کرنے کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اس نعمت سے اپنی ترقی و کمال اور خدا کی خوشنودی کے لئے استفادہ کیا جائے۔

خداوند کردیم نے اپنے بندوں کو جو ایک عظیم اور بے مثال لائق شکر نعمت سے نوازا ہے ، ماہ رمضان المبارک میں مہمانی کی دعوت ہے لہذا خدا سے دعا ہے کہ ہمیں اس با عظمت مہینے کی قدر سمجھنے اور نیک اعمال کی انجام دہی اور شکر گزاری کی توفیق عطا فرمائے۔

مشہور مثل ہے کہ کپڑے خریدتے وقت اس کو مسل کر دیکھو اگر شکن نہ پڑے تو اچھا ہے۔ اسی طرح انسان بھی ہے اگر دباؤ مشکلات کے سبب اس کی رفتار و گفتار میں تبدیلی آ جائے اور ماتھے پر شکن پڑ جائے تو اچھا نہیں ہے ایسے افراد اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں ہمیشہ خدا سے شاکی رہتے ہیں۔ وہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں سے غافل اور اس کی جانب سے اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ انسان سختیوں اور مشکلات کا تحمل کرنے سے مضبوط اور استقامت کا حامل بن جاتا ہے اور ایسے حالات سے درس حاصل کرتا ہے اور شکست کھانے سے شکست دینا سیکھتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اہل بیت اطہار نے جو کائنات میں سب سے افضل و برتر تھے ہمیشہ سختیوں اور مشکلات میں زندگی بسر کی۔ رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں ” کسی نبی کو اتنی اذیتیں نہیں دی گئیں جتنی مجھے دی گئیں ” اس کے باوجود آپ کی شخصیت میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور کبھی بارگاہ الہی میں آپ نے شکوہ شکایت نہیں کی بلکہ پروردگارسے ہمیشہ اپنا رشتہ اور رابطہ مزید مستحکم رکھا۔ آپ کا اخلاق ، قرآنی تعلیمات کا آئینہ دار تھا اور آپ قرآنی زندگی بسر کرتے تھے۔

ایک روز حضرت عیسی (ع) نے اپنی مناجات میں خدا سے عرض کی ” پروردگارا اپنے دوستوں میں سے کسی سے مجھے روشناس فرما دے۔ وحی الٰہی ہوئی فلاں مقام پر جاؤ وہاں تمھاری یہ مراد و خواہش پوری ہو جائے گی۔ حضرت عیسی (ع) خدا کے ہدایت کردہ مقام پر پہنچے وہاں ایک نابینا عورت نظر آئی جس کے ہاتھ پاؤں مفلوج تھے۔ وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور اس کی زبان پر یہ فقرہ تھا ” خدایا تیری آشکارا اور پنہاں نعمتوں پر تیری شکر گزار ہوں ” حضرت عیسی(ع) کو اس پر بڑا تعجب ہوا آگے بڑھے اسے سلام کیا اس خاتون نے بھی جواب میں کہا اے روح اللہ آپ پر بھی میرا سلام۔ حضرت عیسی(ع) نے فرمایا اے خاتون تم نے مجھے کبھی نہیں دیکھا، کس طرح تم سمجھیں کہ میں عیسی ہوں ؟ اس عورت نے کہا کہ اس دوست نے جس نے آپ کو میرے پاس بھیجا ہے اسی نے مجھے بھی آپ کے بارے میں سب کچ بتا دیا ہے۔ حضرت عیسی (ع) نے اس عورت سے فرمایا کہ اے خاتون تم آنکھوں اور ہاتھ پاؤں سے محروم ہو تمہارا سارا جسم مفلوج ہے۔ یہ سن کر اس خاتون نے کہا کہ اس خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے مجھے اپنی یاد و ذکر کا حامل دل اور شکر گزار زبان اور صابر جسم عطا فرمایا ہے۔ میں اپنے معبود حقیقی کی شکر گزار ہوں کہ اس نے وہ چیزیں سلب کر لیں جو اس کی معصیت کا وسیلہ بن سکتی تھیں۔ اگر میری آنکھیں ،ہاتھ پاؤں سب موجود ہوتے اور میں ناجائز لذتوں کے حصول میں کوشاں رہتی تو میرا انجام کیا ہوتا؟ اسی لئے میں اس حالت میں بھی خدا کی شکرگزار ہوں۔

ایک روز حضرت موسی (ع) پر وحی الٰہی ہوئ ” اے موسی میرے شایان شان میرا شکر ادا کرو” حضرت موسی (ع) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی میرے مالک یہ کس طرح ممکن ہے جب کہ مجھے معلوم ہے کہ تو نے ہی شکر کی توفیق اور صلاحیت عطا کی ہے اور تیرے ہر شکر کی ادائگی پر ایک اور شکر واجب ہے اس لئے کہ تیری جانب سے شکر گزاری کی توفیق بھی ایک نعمت ہے اور یہ نعمت تو نے مجھے عطا کی ہے ” ندائے الٰہی آئی موسی، تم نے یہ درک کر لیا کہ حتی شکر گزاری کی توفیق بھی میری جانب سے عطا کرہ ایک نعمت ہے ، یہی تمھاری جانب سے میرے شایان شان حق شکر کی ادائگی ہے ”

گویندہ اول سامعین حضرت امام سجاد (ع) کی معروف پندرہ مناجاتوں میں سے ایک مناجات شاکر دین بھی ہے یعنی “شکر گزاروں کی مناجات” حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا یکے بعد دیگرے تیری عطاؤ بخشش نے مجھے تیری شکر گزاری کے فریضے کی ادائگی سے بھی غافل کر دیا ہے اور تیرے مسلسل فضلو کرم نے تیری حمد و ثنا کے شمار سے قاصر و ناتواں بنا رکھا ہے ، تیری جانب سے نعمتوں کی فراوانی نے تیری صفات حمیدہ کے ذکر سے روک رکھا ہے اور تیری عنایات کے تسلسل نے تیری خوبیوں کے بیان و اظہار کی توفیق سلب کر لی ہے ، اور یہ حالت اس بندے کی ہے جو تیری بے شمار نعمتوں کی زیادتی اور فراوانی کا معترف ہے ”

سامعین خداوند کردیم کی نعمتوں کی شناخت اور شکر گزاری میں رکاوٹ کا اہم اور بنیادی عامل، نعمات الٰہی کا بے شمار ہونا اور نعمتوں کی مسلسل بارش ہے۔ خداوند کردیم سورۂ ابراہیم کی چونتیس ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے ” خداسے جو کچھ تم نے طلب کیا خدا نے تمھیں عطا کیا اور اگر تم نعمت الٰہی کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ” فرزند رسول حضرت امام سجاد (ع) نے الٰہی نعمتوں کی مسلسل اور مستقل بارش کی قدردانی میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ کس طرح بارگاہ احدیت میں شکر گزاری نہ کرسکنے کا اعتراف کیا جائے اس لئے کہ یہ اعتراف خود شکر نعمت شمار ہوتا ہے۔ رسول خدا ﷺ بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا تو نے مجھے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں اور ان نعمتوں کی بخشش پر میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں لیکن اس شکر گزاری کی نعمت پر کس طرح تیرا شکر ادا کروں ؟ خدا نے جواب میں فرمایا کہ میرے حبیب شکر گزاری کی معرفت کے ساتھ شکر کی ادائگی میں سب کچھ موجود ہے اور تمھارا یہ باور کرنا کہ شکر گزاری خود ہی میری جانب سے عطا کی ہوئی ایک نعمت ہے ، یہی تمھارے لئے کافی ہے۔ حضرت امام سجّاد (ع) اپنی مناجات شاکر دین میں فرماتے ہیں ” خدایا تیری نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ میری زبان انھیں شمار کرنے سے قاصر اور میری عقل ان نعمتوں کے ادراک سے معذور ہے۔ میں تیری نعمتوں کا شکر کیسے ادا کرسکتاہوں جب کہ تیرا شکر ادا کرنے کا بھی ایک شکر اور ادا کرنا ضروری ہے اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ تیرے ہر شکر پر ایک شکر اور ادا کروں ”

 

 

 

 

(10 )

 

خداوند عالم نے اپنے پیغمبر حضرت موسی (ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” اے موسی جو ہمیں دوست رکھتا ہے وہ ہمیں بھولتا نہیں ہے اور جو کوئی میرے احسان سے امیدیں لگائے بیٹھتا ہے وہ مجھ سے التجا کرتا ہے۔ اے موسی میں ہرگز اپنے بندوں سے غافل نہیں ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے فرشتے میرے بندوں کی دعاؤں اور مناجاتوں کو سنیں۔

روزہ کی حالت میں عشق و امید کے ساتھ رحمت و لطف الٰہی کا زمزمہ کرتے ہیں۔ ” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھوا لغفور الرحیم ” پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ( سورۂ زمر آیۃ 53 )

روزہ اسی طرح نفسانی خواہشات کے سامنے مضبوط سپر ہے۔ انسان روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو بری خواہشات اور رجحانات سے دور رکھتا ہے اور اپنے باطن سے تمام برائیوں اور خباثتوں کو دور کرتا اور اچھائیوں اور نیکیوں سے خود کو آراستہ کرتا ہے۔ امید ہے کہ ماہ رمضان کے جو ایام ابھی باقی ہیں ان میں اپنی پاکیزہ فکر و عمل کے ذریعے ہم خود کو مزید سنواریں گے۔

جو لوگ عینک لگاتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی عینک صاف کرتے رہتے ہیں تاکہ صاف دکھائی دے۔ عینک کا شیشہ اگر سفید نہ ہو تو ہر چیز ہر چیز تاریک سی دکھائی دیتی ہے۔ عینک کی صفائی بھی ملائمت اور نرم و لطیف رومال یا ٹشو پیپر سے ہونی چاہئے آپ کسی کو نہیں دیکھیں گے جو اپنی عینک کا شیشہ کسی کھردرے اور سخت کپڑے یا کسی اورچیز سے کرے۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ایک طرح سے سبھی انسان، اپنی آنکھوں پر عینک لگائے ہوئے ہیں اور وہ عینک ہمارا ذہن ہے یعنی ہم اپنی فکر اور ذہنیت کے اعتبار سے تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہمارے خیالات و افکار ہی ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایک شخص کہتا ہے کہ میں کسی ایئرپورٹ پر گیا ایک بک اسٹال سے ایک کتاب خریدی اور ایک دکان سے بسکٹ لیا۔ اور آ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا میں نے اپنے پاس رکھے بسکٹ میں سے ایک بسکٹ لیا لیکن میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا مرد جو ہمار ے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے بھی ان بسکٹ میں سے بغیر اجازت کے ایک بسکٹ اٹھا لیا۔ میں نے ایک اٹھایا تو اس نے بھی۔ مجھے بہت برا لگا، لیکن میں نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ پھر میں نے بسکٹ اٹھایا تو اس نے بھی اٹھا لیا میں نے اسے گھور کر دیکھا لیکن وہ مجھے مسکرا کر دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ جب آخری بسکٹ بچا تو اس بوڑھے انسان نے اس بسکٹ کے بھی دو حصے کر دیئے اور اس کا ایک حصہ خود کھایا اور دوسرا میرے سامنے رکھ دیا۔ میں غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور غیض و غضب کے عالم میں اس سے دور ہو کر بیٹھ گیا۔ جب میں پرواز میں بیٹھا اور کتاب پڑھنے کے لئے اپنا بیگ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میرے بسکٹ کا پیکٹ میرے بیگ میں پڑا ہوا ہے اس وقت میں متوجہ ہوا کہ میں نے ہی اس بیچارے کے سارے بسکٹ کھالئے ہیں جب کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بسکٹ میرے ہیں اور اسی غلط خیال کے سبب ، میرا ذہن و خیال ، اس کو غلط سمجھ رہا تھا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمارے زیادہ تر تنازعے اور لڑائیاں ہمارے غلط اور نا معقول طرز فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اسی لئے اسلام نے اس قسم کے خیالات اور بد گمانیوں کو باطل اور غلط قرار دیا ہے۔ آیات و روایات میں بد گمانی کی جو مذمت کی گئی ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ انسان کو اپنے ذہن کو پاک کرنا چاہئے خداوند عالم سورۂ یونس کی آیۃ 36 میں ارشاد فرماتا ہے اور ان کی اکثریت تو صرف خیالات کا اتباع کرتی ہے جب کہ گمان ، حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا بیشک اللہ ان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارے خیالات میں جو کچھ گذرتا ہے اس کا اہم حصہ ہماری سنی سنائی باتوں سے ہوتا ہے اسی بناء پر دین اسلام میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ دوسروں کی بری باتوں کو نہ سنیں لیکن ان کی اچھی باتوں کو پر ضرور کان دھریں۔ یعنی اگر کسی نے دوسرے کی خوبی بیان کی تواس کو ضرور سنئے لیکن جہاں دوسروں کی برائی کا ذکر ہو وہاں آپ یہی کہئے کہ میں جب تک خود اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں آپ کی بات کو قبول نہیں کرسکتا۔

دو بھائی تھے جو برسوں تک اپنے باپ سے ورثے میں ملنے والے ایک کھیت میں زراعت کا کام کرتے تھے اور اپنی زندگی چلاتے تھے ایک دن ایک ذرا سی غلط فہمی پر دونوں بھائیوں میں بحث ہو گئی۔ کئی ہفتے گذرنے کے بعد، ان کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ ایک دن بڑے بھائی کے دروازے پر ایک آواز سنائی دی۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا ایک بڑھئی کھڑا ہے۔ بڑھئی نے پوچھا میں کام کی تلاش میں ہوں کوئی کام ہے جس میں میں تمہاری مدد کرسکوں ؟ بڑے بھائی نے جواب دیا۔ ہاں اتفاق سے میں بھی ایک بڑھئی کی ہی تلاش میں تھا۔ اس نے بڑھئی سے کہا وہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر دیکھ رہے ہو۔ وہ پڑوسی جو حقیقت میں میرا چھوٹا بھائی ہے گذشتہ ہفتے اس نے کئی مزدوروں کو بلایا تاکہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر کھودوائے اور اس طرح سے نہر کے ذریعے کھیت کا بٹوارہ کر دے اور اس نے یہ کام یقینا دل میں مجھ سے جو کینہ ہے اس کی وجہ سے کیا ہے۔ پھر اس نے کھیت کے انبار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس انبار میں کچھ لکڑیاں ہیں اور میں تم سے یہ چاہوں گا کہ میرے اور میرے بھائی کے کھیت کے درمیان لکڑی کی دیوار کھینچ دو تاکہ میں اسے کبھی نہ دیکھ سکوں۔ بڑھئی نے اس کی بات مان لی اور پھر لکڑی کا ناپ لینے اور اسے چیرنے کا کام شروع کر دیا۔ بڑا بھائی ان ہی دنوں خریداری کے لئے شہر گیا اور بڑھئی اکیلا رہ گیا۔ جب وہ غروب کے وقت شہر سے گھر واپس آیا تو تعجب سے اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ اس نے دیکھا کہ بڑھئی نے دیوار کے بجائے اس کے اور اس کے بھائی کے کھیت کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے۔ اس شخص نے غصے سے بڑھئی کو دیکھا اور کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ہمارے لئے دیوار اور حصار بناؤ۔ اسی وقت اس کا چھوٹا بھائی کسی طرف سے آ گیا اور اس پل دیکھ کر یہ سمجھا کہ اس کے بھائی نے یہ پل بنانے کو کہا ہے۔ وہ پل پار کر کے اپنے بڑے بھائی کے پاس آیا اور اس سے گلے لگ گیا اور پھر اس نے نہر کھدوانے پر بھائی سے معذرت کی۔ کاش ہم بھی اس ماہ مبارک اور ماہ عزیز میں اس بڑھئی کی مانند، غمزدہ دلوں کے درمیان صلح و آشتی کا پل بنائیں اور اپنے دوستوں کے درمیان محبت و مودت پیدا کر دیں۔

پروگرام کے اس مرحلے میں گذشتہ پروگراموں کی طرح آج بھی حضرت امام سجاد علیہ السلام کی مناجات کے ایک حصے میں غور و فکر کرتے ہیں۔

شکر، دین اسلام میں بہت زیادہ فضیلتوں کا حامل اور تمام اعمال میں سے ایک افضل ترین عمل ہے۔ شکرگذار بندہ ، ہمیشہ خداوند عالم کی نعمت کی یاد میں رہتا اور اس کی تعظیم کرتا ہے اور خداوند عالم کی عظمت کے مقابلے میں حقارت اور نیاز مندی کا اظہار کرتا ہے۔ ایک شکر گذار انسان کے قلب سے ، شکر کے سرچشمے اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں اور وہ دل سے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرتا اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہتا ہے۔ اور یہ رضامندی اور شکر، انسان کے قلب کو خدا کے شکر سے سرشار کرنے کے علاوہ ، اس کے کردار و عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی شکر گذار انسان، خداوند عالم کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر کرتا ہے۔ خداوند عالم کی نعمتوں میں جو معنوی نعمتیں ہیں وہ دین اور ایمان ہیں۔ فرزند رسول خدا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ، پندرہ مناجاتوں میں سے چھٹی مناجات ، مناجات شاکر دین کے ایک حصے میں فرماتے ہیں۔ نعمت انوار ایمان ، ایسی زینتیں ہے کہ جن سے تو نے ہمیں آراستہ کیا ہے اور تو نے اپنے جود و کرم سے عزت کا تاج میرے سر پر رکھ دیا ہے اور تو نے اپنی عطا و احسان کی خوبصورت مالا ، میری گردن میں ڈال دی ہے جو کبھی بھی کھل نہیں سکتی۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی مناجات میں ، لطیف و زیبا تشبیہات کے ساتھ انوار ایمان کو ایسے زیوروں سے تشبیہ دیتے ہیں کہ جو انسان کی آراستگی کا باعث بنتی ہیں۔ امام سجاد علیہ السلام ، خداوند عالم کے احسان و کرم کو ایک تاج سے تعبیر کرتے ہیں جو انسان کے سر پر رکھا گیا ہے۔ ان تعبیروں کو قرآن میں بھی بیان کیا گیا ہے جو حقائق اور ایمان کی باطنی صورت کی آئینہ دار ہیں۔ چنانچہ یتیم کا مال کھانے کی باطنی صورت ، یعنی آگ کا کھانا ہے۔ اور یا غیبت کی باطنی صورت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے۔ اسی طرح بہت سی ایسی روایتیں ہیں جو اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ بعض عمل، عالم برزخ میں خوبصورت حالت میں یا بری اور وحشتناک حالت میں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے بارے میں فرماتے ہیں ” نماز، سفید انسان کی صورت میں مرنے والے کی قبر میں داخل ہوتی ہے اور اس سے مانوس ہوتی ہے اور اس سے برزخ کی وحشت اور خوف کو برطرف کرتی ہے۔ امام سجاد علیہ السلام اس مناجات کے آخر میں فرماتے ہیں خدایا جس طرح سے تو نے ہمیں اپنے لطفو کرم سے کھانا دیا اور اپنے احسان کے ذریعے ہماری پرورش کی ، تو ہمارے اوپر اپنی تمام نعمتیں کامل کر دے۔ اور جو برائیاں ہیں ان کو ہم سے دور کر دے اور دونوں جہان کی بھلائیاں اور نیکیاں ہمیں عطا کر۔ تمام حمد و ثناء تیرے ہی لئے ہے ہر بلا اور آزمائش میں ، اور ایسی شکر کی توفیق عطا کر جو تیری شایان شان ہو۔ اے عظیم ، اے کردیم اور اے سب سے مہربان پروردگار۔

 

 

 

(11)

 

 

رمضان کا مبارک مہینہ، مومنوں کے صبرواستقامت نیز پاکیزہ اور نیک سیرت انسانوں کی بشارت و خوش خبری کا مہینہ ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس مہینے میں روزہ رکھتے اور اور چشمۂ رحمت الٰہی سے فیضیاب ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت علی (ع) فرماتے ہیں “خدا نے روزہ اس لئے واجب کیا ہے تاکہ اس کی بدولت بندوں کے خلوص و اخلاص کا امتحان لے۔

تاریخ انسانیت میں کامیاب ترین گروہ، انبیاء اور اولیائے الٰہی کا ہے اور ان کی کامیابی کا راز، راہ خدا میں اخلاص عمل ہے اور یہی امر ان کی بقا کا بھی باعث بنا ہے۔ “اخلاص” یعنی پروردگار ہی اپنے مخلص بندے کے ایمان کی شہادت کے لئے کافی ہے کسی دوسرے کی گواہی کی کوئی ضرورت نہ ہے۔ سورۂ نساء کی آیت اناسی میں ارشاد الٰہی ہے ” شہادت الٰہی کافی ہے ”

ایک صاحب عرفان کا کہنا ہے کہ گاڑی جب خالی ہو اور نشیبی راستہ ہو تو کسی طرح کے شور شرابے کے بغیر تیزی سے چلتی جاتی ہے اسی طرح انسان میں اگر جذبۂ خلوص و اخلاص ہو تو وہ کسی قسم کے شور شرابے کے بغیر اپنے امور بخوبی انجام دیتا ہے حضرت علی (ع) فرماتے ہیں ” دنیا ؤ آخرت کی گرفتاریوں سے انسان کی رہائی و نجات کا وسیلہ، اخلاص عمل ہے ” اگر ہم نجات و رہائی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے اندر جوہر اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بڑا کام انجام دیا ہے تو اخلاص کے حامل انسان کو اس کی فکر نہیں ہوتی کوئی اس کے کام سے باخبر ہوا یا نہیں اور یہ جذبۂ اخلاص اسے حسد اور تنگ نظری کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ جو کوئی نیک کام انجام دے اور کوئی نہ دیکھے تو اس کا فائدہ کیا ہو گا؟ لیکن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے عمل کا نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور خدا اپنے قانون عدل کی بنیاد پر سب کچھ کرتا ہے خدا کا قانون یہ ہے کہ اگر بندہ دکھاوے کے لئے کوئی عمل انجام دیتا ہے تو وہ اس عمل کو پنہا ں رکھتا ہے اور اگر وہ کار خیر مخفیانہ انجام دیتا ہے تو خدا اس عمل کو آشکار کر دیتا ہے۔

داستان حضرت موسی(ع) میں یہ واقعہ ملتا ہے کہ ایک روز آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی ” پروردگارا میں تیری اس مخلوق کے دیدار کا مشتاق ہوں جو تیرے ذکر اور تیری طاعت و عبادت میں نہایت مخلص ہو” آواز قدرت آئی موسی تم فلاں دریا کے ساحل پر جاؤ تو ہم تمھاری دلی آرزو پوری کر دیں گے ” حضرت موسی(ع) دریا کے قریب پہنچے تو ایک درخت نظر آیا اس درخت کی ایک شاخ دریا کی سمت جھکی ہوئی تھی اور اس شاخ پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا حمد و ثنائے الٰہی میں مشغول تھا۔ حضرت موسی (ع) نے نبی خدا ہونے کی حیثیت سے اس سے اس کی زبان میں اس کا حال و احوال دریافت کیا۔ پرندے نے کہا ” خدا نے جب سے مجھے زیور خلقت سے آراستہ فرمایا ہے میں اس درخت پر حمد پروردگار میں مشغول ہوں اور میری غذا یہی لذت ذکر الٰہی ہے حضرت موسی (ع) نے پھر اس سے پوچھا ” کیا تیرے دل میں دنیوی کوئی آرزو ہے ؟ اس نے جواب دیا ” کیوں نہیں میرے دل میں بس ایک آرزو ہے کہ اس دریا سے ایک قطرہ پانی پی لوں ” حضرت موسی(ع) نے تعجب سے فرمایا کہ تیرے لئے کیا مشکل ہے تیرا آشیانہ لب دریا ہے کیوں نہیں جا کے پانی پی کر اپنی آرزو پوری کر لیتا؟ اس پرندے نے جواب دیا ” اے اللہ کے نبی میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو پانی کا ذائقہ مجھے ذکر الٰہی کی لذت کے حصول میں رکاوٹ بن جائے ” حضرت موسی(ع) اس پرندے کے اخلاص عمل سے بہت ہی متاثر ہوئے۔

اسی طرح تاریخی واقعات میں ملتا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی عبادت گزار شخص تھا اس سے لوگوں نے کہا کہ فلاں مقام پر ایک درخت ہے جسے کچھ لوگ خدا سمجھ کر پرستش کرتے ہیں یہ سن کر مرد عابد کو بہت غصہ آیا اس نے کلہاڑی اٹھائی اور اس پیڑ کو کاٹ کر نابود کرنے کے ارادے سے گھر سے باہر نکل گیا۔ راستے میں ایک بوڑھے آدمی کی شکل میں شیطان ملا اور مرد عابد سے کہنے لگا آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ عابد نے کہا کہ وہ درخت کاٹنے جا رہے ہیں جس کی کچھ لوگ خدا سمجھ کر پرستش کر رہے ہیں۔ درخت کاٹ دینے سے یہ سلسلہ بند ہو جائے گا۔ شیطان نے اس عابد سے کہا کہ یہ کام مت کرو ، خدا کے پاس پیغمبر ہیں اگر اس کے لئے اس درخت کو نابود کرنا لازم ہوتا تو وہ اپنے پیغمبروں کو بھیج کر اس درخت کو کٹوا دیتا عابد نے اس کی بات نہیں مانی اور درخت کاٹنے پر مصر رہا شیطان نے جب یہ دیکھا کہ عابد اس کے فریب میں نہیں آ رہا ہے تو اس نے غصّہ میں میں آ کر عابد سے ہم تمھیں وہ درخت نہیں کاٹنے دیں گے اور یہ کہہ کر اس کی کلہاڑی چھیننے لگا دونوں میں زور آزمائی ہونے لگی سرانجام عابد نے اسے زمین پر دے مارا۔ شیطان دوسرا حربہ استعمال کیا اس مرد عابد سے کہا ہمیں چھوڑ دو تو ہم تمھارے فائدے ایک بات کہیں اس عابد نے کہا نہیں پہلے تم بتاؤ ہمارے نفع میں کیا کہنا چاہتے ہو؟ شیطان کہا کہ تم درخت نہ کاٹو اس کے بدلے میں تمھیں روز صبح سویرے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملیں گے تمھارا کام چلے گا۔ عابد نے سوچنے لگا اچھا تو ہے بیٹھے بٹھائے روز محنت کے بغیر دو دینار مل جائیں گے ایک دینار خیرات کر دیں گے اور ایک دینار اپنے کام میں خرچ کر دیں گے۔ عابد شیطان کو چھوڑ دیا دو روز اس عابد کو تکیے کے نیچے سے دو دینار ملے لیکن تیسرے روز کچھ نہ ملا اس عابد نے پھر غصّے سے کلہاڑی اٹھائی اور وہی درخت کاٹنے کے لئے گھر سے باہر نکل گیا۔ راستے میں پھر وہی شیطان ملا اور اس عابد سے کہنے اب تو درخت کو نہیں کاٹ سکتے اور یہ کر اس عابد سے لڑنے لگا عابد اول اس دن کے برعکس تھوڑی دیر میں عابد کو اس نے زمین پر دے مارا۔ عابد نے اس سے کہا کہ اس بار مینے تمھیں آسانی سے زیر کر دیا تھا لیکن آج کیسے تم نے بڑی آسانی سے مجھ پر غلبہ پا لیا؟ شیطان نے جواب میں کہا کہ پہلی بار تم نے خدا کے لئے اخلاص کے ساتھ درخت کاٹنے کا عزم کیا تھا اس لئے تم نے مجھ پر غلبہ حاصل کر لیا تھا اور اس بار تم پیسے کی حرص و لالچ میں غصّے میں آ گئے تھے اس لئے میں تم پر غالب ہو گیا۔ سامعین ہمیں چاہیے کہ اخلاص اور خدا پر توکل کے ذریعے اپنے نفس غلبہ حاصل کر دیں۔

پروگرام کے اس حصہ میں حضرت امام سجاد (ع) کی مناجات پیروان خدا ، میں موجود بعض اہم نکات کی جانب توجہ فرمائیے۔ حضرت امام سجاد (ع) اس مناجات میں فرماتے ہیں ” پروردگارا مجھے اپنے منتخب بندوں اور صالحین میں شامل کر جو تیرے تقرب کے اعلی مدارج طے کرنے میں سبقت حاصل کرتے ہیں اور اعمال خیر کی انجام دہی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ شائستہ اور باقی رہنے والے امور انجام دیتے ہیں اور بہشت میں اعلی مقام حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔ میرے ملک تو ہر چیز پر قادر ہے اور تو ہی اپنے بندوں کی دعا کو شرف قبولیت عطا کرنے کے لائق ہے میری دعائیں قبول فرما تجھے تیری رحمت کا واسطہ اے ارحم الراحمین” حضرت امام سجاد (ع) نے اپنی اس مناجات میں باقیات الصالحات کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ “باقیات صالحات” اہم مسائل میں سے ہے اور قرآن نے اس مسئلے پر تاکید کی ہے چنانچہ سورۂ کہف کی چھیالیس ویں آیت میں ارشاد الٰہی ہے

” مال اور اولاد زندگانی دنیا کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیاں پروردگار کے نزدیک ثواب اور امید دونوں کے اعتبار سے بہتر ہیں ” یعنی باقیات صالحات وہ اعمال صالحہ ہیں جنھیں انسان نے دنیا میں انجام دیا ہے ، اور وہ پیش خدا محفوظ ہیں اور پروردگار کی جانب سے انسان کے لئے عظیم اجرو ثواب کا باعث ہیں اور چونکہ یہ اعمال اخلاص کے ساتھ خدا کی راہ میں انجام پائے ہیں اس لئے انھیں بقا حاصل ہو گئی ہے اور یہ اعمال دنیوی لذت پسندی اور فانی مادی ونفسانی خواہشات کے مقابلے میں خاص منزلت و عظمت کے حامل ہیں۔

حضرت امام سجاد (ع) نے اپنی اس “مناجات پیروان خدا” کے آخر میں یا ارحم الراحمین یعنی (اے مہربانوں میں مہربان ترین ذات) کے نام سے پکارا ہے۔ روایت میں ہے رسول اکرم ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص مسلسل خداکو” یا ارحم الراحمین” کے نام سے پکارے جا رہا ہے آپ نے اس سے کہا کہ بس کرو اب اپنی حاجت بارگاہ الٰہی میں پیش کرو۔ پھر آپ نے اس شخص سے کہا کہ تم یہی تو چاہتے تھے کہ پروردگار تمھاری جانب متوجہ ہو جائے تو اب اس کی نظر عنایت تمھاری جانب ہے اب سے اس سے اپنی حاجت طلب کرو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا خدا نے ایک فرشتے کو مقرر کر رکھا ہے جب کوئی تین مرتبہ اس کو یا ارحم الراحمین کے نام سے پکارتا ہے تو وہ فرشتہ اس پکارنے والے سے کہتا ہے کہ ارحم الراحمین تیری جانب متوجہ ہے اب تو اپنی حاجت اس سے طلب کر۔

 

 

 

 

(12)

 

 

خداوند عالم نے اپنے پیغمبر حضرت موسی (ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” اے موسی جو ہمیں دوست رکھتا ہے وہ ہمیں بھولتا نہیں ہے اور جو کوئی میرے احسان سے امیدیں لگائے بیٹھتا ہے وہ مجھ سے التجا کرتا ہے۔ اے موسی میں ہرگز اپنے بندوں سے غافل نہیں ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرے فرشتے میرے بندوں کی دعاؤں اور مناجاتوں کو سنیں۔

روزہ کی حالت میں عشق و امید کے ساتھ رحمت و لطف الٰہی کا زمزمہ کرتے ہیں۔ ” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا انہ ھوا لغفور الرحیم ” پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہ یقیناً بہت بخشنے والا اور مہربان ہے ( سورۂ زمر آیۃ 53 )

گویندہ : روزہ اسی طرح نفسانی خواہشات کے سامنے مضبوط سپر ہے۔ انسان روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ، اپنے نفس کو بری خواہشات اور رجحانات سے دور رکھتا ہے اور اپنے باطن سے تمام برائیوں اور خباثتوں کو دور کرتا اور اچھائیوں اور نیکیوں سے خود کو آراستہ کرتا ہے۔ امید ہے کہ ماہ رمضان کے جو ایام ابھی باقی ہیں ان میں اپنی پاکیزہ فکر و عمل کے ذریعے ہم خود کو مزید سنواریں گے۔

جو لوگ عینک لگاتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی عینک صاف کرتے رہتے ہیں تاکہ صاف دکھائی دے۔ عینک کا شیشہ اگر سفید نہ ہو تو ہر چیز ہر چیز تاریک سی دکھائی دیتی ہے۔ عینک کی صفائی بھی ملائمت اور نرم و لطیف رومال یا ٹشو پیپر سے ہونی چاہئے آپ کسی کو نہیں دیکھیں گے جو اپنی عینک کا شیشہ کسی کھردرے اور سخت کپڑے یا کسی اور چیز سے کرے۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ایک طرح سے سبھی انسان، اپنی آنکھوں پر عینک لگائے ہوئے ہیں اور وہ عینک ہمارا ذہن ہے یعنی ہم اپنی فکر اور ذہنیت کے اعتبار سے تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہمارے خیالات و افکار ہی ہمارے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایک شخص کہتا ہے کہ میں کسی ایئرپورٹ پر گیا ایک بک اسٹال سے ایک کتاب خریدی اور ایک دکان سے بسکٹ لیا۔ اور آ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا میں نے اپنے پاس رکھے بسکٹ میں سے ایک بسکٹ لیا لیکن میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا مرد جو ہمارے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے بھی ان بسکٹ میں سے بغیر اجازت کے ایک بسکٹ اٹھا لیا۔ میں نے ایک اٹھایا تو اس نے بھی۔ مجھے بہت برا لگا، لیکن میں نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ پھر میں نے بسکٹ اٹھایا تو اس نے بھی اٹھا لیا میں نے اسے گھور کر دیکھا لیکن وہ مجھے مسکرا کر دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ جب آخری بسکٹ بچا تو اس بوڑھے انسان نے اس بسکٹ کے بھی دو حصے کر دیئے اور اس کا ایک حصہ خود کھایا اور دوسرا میرے سامنے رکھ دیا۔ میں غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور غیض و غضب کے عالم میں اس سے دور ہو کر بیٹھ گیا۔ جب میں پرواز میں بیٹھا اور کتاب پڑھنے کے لئے اپنا بیگ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میرے بسکٹ کا پیکٹ میرے بیگ میں پڑا ہوا ہے اس وقت میں متوجہ ہوا کہ میں نے ہی اس بیچارے کے سارے بسکٹ کھا لئے ہیں جب کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بسکٹ میرے ہیں اور اسی غلط خیال کے سبب ، میرا ذہن و خیال ، اس کو غلط سمجھ رہا تھا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہمارے زیادہ تر تنازعے اور لڑائیاں ہمارے غلط اور نا معقول طرز فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اسی لئے اسلام نے اس قسم کے خیالات اور بد گمانیوں کو باطل اور غلط قرار دیا ہے۔ آیات و روایات میں بد گمانی کی جو مذمت کی گئی ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ انسان کو اپنے ذہن کو پاک کرنا چاہئے خداوند عالم سورۂ یونس کی آیۃ 36 میں ارشاد فرماتا ہے اور ان کی اکثریت تو صرف خیالات کا اتباع کرتی ہے جب کہ گمان ، حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا بیشک اللہ ان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہمارے خیالات میں جو کچھ گذرتا ہے اس کا اہم حصہ ہماری سنی سنائی باتوں سے ہوتا ہے اسی بناء پر دین اسلام میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ دوسروں کی بری باتوں کو نہ سنیں لیکن ان کی اچھی باتوں کو پر ضرور کان دھریں۔ یعنی اگر کسی نے دوسرے کی خوبی بیان کی تواس کو ضرور سنئے لیکن جہاں دوسروں کی برائی کا ذکر ہو وہاں آپ یہی کہئے کہ میں جب تک خود اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لوں آپ کی بات کو قبول نہیں کرسکتا۔

دو بھائی تھے جو برسوں تک اپنے باپ سے ورثے میں ملنے والے ایک کھیت میں زراعت کا کام کرتے تھے اور اپنی زندگی چلاتے تھے ایک دن ایک ذرا سی غلط فہمی پر دونوں بھائیوں میں بحث ہو گئی۔ کئی ہفتے گذرنے کے بعد، ان کے درمیان اختلافات مزید بڑھ گئے اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ ایک دن بڑے بھائی کے دروازے پر ایک آواز سنائی دی۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا ایک بڑھئی کھڑا ہے۔ بڑھئی نے پوچھا میں کام کی تلاش میں ہوں کوئی کام ہے جس میں میں تمہاری مدد کرسکوں ؟ بڑے بھائی نے جواب دیا۔ ہاں اتفاق سے میں بھی ایک بڑھئی کی ہی تلاش میں تھا۔ اس نے بڑھئی سے کہا وہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر دیکھ رہے ہو۔ وہ پڑوسی جو حقیقت میں میرا چھوٹا بھائی ہے گذشتہ ہفتے اس نے کئی مزدوروں کو بلایا تاکہ کھیت کے بیچ میں ایک نہر کھدوائے اور اس طرح سے نہر کے ذریعے کھیت کا بٹوارہ کر دے اور اس نے یہ کام یقینا ًدل میں مجھ سے جو کینہ ہے اس کی وجہ سے کیا ہے۔ پھر اس نے کھیت کے انبار کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس انبار میں کچھ لکڑیاں ہیں اور میں تم سے یہ چاہوں گا کہ میرے اور میرے بھائی کے کھیت کے درمیان لکڑی کی دیوار کھینچ دو تاکہ میں اسے کبھی نہ دیکھ سکوں۔ بڑھئی نے اس کی بات مان لی اور پھر لکڑی کا ناپ لینے اور اسے چیرنے کا کام شروع کر دیا۔ بڑا بھائی ان ہی دنوں خریداری کے لئے شہر گیا اور بڑھئی اکیلا رہ گیا۔ جب وہ غروب کے وقت شہر سے گھر واپس آیا تو تعجب سے اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ اس نے دیکھا کہ بڑھئی نے دیوار کے بجائے اس کے اور اس کے بھائی کے کھیت کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے۔ اس شخص نے غصے سے بڑھئی کو دیکھا اور کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ہمارے لئے دیوار اور حصار بناؤ۔ اسی وقت اس کا چھوٹا بھائی کسی طرف سے آ گیا اور اس پل دیکھ کر یہ سمجھا کہ اس کے بھائی نے یہ پل بنانے کو کہا ہے۔ وہ پل پار کر کے اپنے بڑے بھائی کے پاس آیا اور اس سے گلے لگ گیا اور پھر اس نے نہر کھدوانے پر بھائی سے معذرت کی۔ کاش ہم بھی اس ماہ مبارک اور ماہ عزیز میں اس بڑھئی کی مانند، غمزدہ دلوں کے درمیان صلح و آشتی کا پل بنائیں۔

پروگرام کے اس مرحلے میں گذشتہ پروگراموں کی طرح آج بھی حضرت امام سجاد علیہ السلام کی مناجات کے ایک حصے میں غور و فکر کرتے ہیں۔

شکر، دین اسلام میں بہت زیادہ فضیلتوں کا حامل اور تمام اعمال میں سے ایک افضل ترین عمل ہے۔ شکر گذار بندہ ، ہمیشہ خداوند عالم کی نعمت کی یاد میں رہتا اور اس کی تعظیم کرتا ہے اور خداوند عالم کی عظمت کے مقابلے میں حقارت اور نیازمندی کا اظہار کرتا ہے۔ ایک شکر گذار انسان کے قلب سے ، شکر کے سرچشمے اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں اور وہ دل سے نعمت دینے والے کا شکر ادا کرتا اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہتا ہے۔ اور یہ رضامندی اور شکر، انسان کے قلب کو خدا کے شکر سے سرشار کرنے کے علاوہ ، اس کے کردار و عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی شکر گذار انسان، خداوند عالم کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر کرتا ہے۔ خداوند عالم کی نعمتوں میں جو معنوی نعمتیں ہیں وہ دین اور ایمان ہیں۔ فرزند رسول خدا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ، پندرہ مناجاتوں میں سے چھٹی مناجات ، مناجات شاکر دین کے ایک حصے میں فرماتے ہیں۔ نعمت انوار ایمان ، ایسی زینتیں ہے کہ جن سے تو نے ہمیں آراستہ کیا ہے اور تو نے اپنے جود و کرم سے عزت کا تاج میرے سر پر رکھ دیا ہے اور تو نے اپنی عطا و احسان کی خوبصورت مالا ، میری گردن میں ڈال دی ہے جو کبھی بھی کھل نہیں سکتی۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنی مناجات میں ، لطیف و زیبا تشبیہات کے ساتھ انوار ایمان کو ایسے زیوروں سے تشبیہ دیتے ہیں کہ جو انسان کی آراستگی کا باعث بنتی ہیں۔ امام سجاد علیہ السلام ، خداوند عالم کے احسان و کرم کو ایک تاج سے تعبیر کرتے ہیں جو انسان کے سر پر رکھا گیا ہے۔ ان تعبیروں کو قرآن میں بھی بیان کیا گیا ہے جو حقائق اور ایمان کی باطنی صورت کی آئینہ دار ہیں۔ چنانچہ یتیم کا مال کھانے کی باطنی صورت ، یعنی آگ کا کھانا ہے۔ اور یا غیبت کی باطنی صورت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے۔ اسی طرح بہت سی ایسی روایتیں ہیں جو اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ بعض عمل، عالم برزخ میں خوبصورت حالت میں یا بری اور وحشتناک حالت میں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے بارے میں فرماتے ہیں ” نماز، سفید انسان کی صورت میں مرنے والے کی قبر میں داخل ہوتی ہے اور اس سے مانوس ہوتی ہے اور اس سے برزخ کی وحشت اور خوف کو برطرف کرتی ہے۔ امام سجاد علیہ السلام اس مناجات کے آخر میں فرماتے ہیں خدایا جس طرح سے تو نے ہمیں اپنے لطفو کرم سے کھانا دیا اور اپنے احسان کے ذریعے ہماری پرورش کی ، تو ہمارے اوپر اپنی تمام نعمتیں کامل کر دے۔ اور جو برائیاں ہیں ان کو ہم سے دور کر دے اور دونوں جہان کی بھلائیاں اور نیکیاں ہمیں عطا کر۔ تمام حمد و ثناء تیرے ہی لئے ہے ہر بلا اور آزمائش میں ، اور ایسی شکر کی توفیق عطا کر جو تیری شایان شان ہو۔ اے عظیم ، اے کردیم اور اے سب سے مہربان پروردگار۔

 

 

 

 

(13)

 

 

 

آپ جانتے ہیں کہ کوئلے جب ایک جگہ اور ایک دوسرے سے متصل ہوتے ہیں تو ان میں حدت و حرارت زیادہ ہو جاتی ہے اور کوئلے زیادہ دیر تک باقی رہتے ہیں۔ اگر ایک ساتھ نہ ہوں الگ الگ ہوں تو بہت جلد جل کر راکھ بن جائیں گے یعنی ان کی عمر کم ہو جاتی ہے اور الگ ہونے سے ان کی سوزش و حرارت اور گرمی میں بھی کمی آ جاتی ہے۔ یہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں موجود ہے وہ غور و فکر کرنے والے انسان کے لئے سبق آموز ہے۔ یہاں تک کہ کوئلے سے بھی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) فرماتے ہیں ” دنیا کی ہر چیز سے درس لیا جا سکتا ہے ” کوئلے کے ٹکڑوں کے باہم اور ایک ساتھ رہنے سے ان کی گرمی زیادہ ہو جاتی ہے ، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ طول عمر کا راز باہمی زندگی میں پنہاں ہے اور انسان اس وقت خوش حال ہوتا ہے جب دوسروں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے رزق و روزی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص صلۂ رحم اور دوسروں سے ملنا جلنا پسند نہ کرتا ہو، تنہائی پسند ہو،تو اس کی حیات اور اس کی عمر کم ہو جاتی ہے لہذ ا انسان کو چاہیے کہ ماں باپ کی خدمت کرے ان کے ساتھ حسن سلوک کرے ان کا دل جیتنے کی کوشش کرے ان کو خوش کرے اور ان سے اپنے لئے دعائیں کرنے کی خواہش کرے۔ آپ نے رسول اکرمﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ آپ نے فرمایا ” فرزند کے حق میں والدین کی دعا،اپنی امت کے حق میں پیغمبرﷺ کی دعا کی مانند ہے ” ایک جوان لڑکا پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس کا ارتکاب میں نے نہ کیا ہو کیا میری بخشش کی بھی امید کی جا سکتی ہے ؟ رسول اکرمﷺ نے اس جوان سے فرمایا تمھارے والدین ہیں ؟اس نے کہا والدہ تو نہیں ہیں مگر والد حیات ہیں۔ آپ نے فرمایا اپنے والد کی خوب اچھی طرح خدمت کرو ” یہ سن کر وہ جوان خوش ہو کر چلا گیا۔ جیسے ہی وہ جوان رسول ﷺ کے اس سے ہٹا آپ نے فرمایا کہ کاش اس کی ماں ہوتی تو اور جلدی اسے اس کے عمل کا نتیجہ مل سکتا تھا”

قرآن کردیم کے سورۂ اسرا کی 23اور 24 ویں آیت میں ارشا ہوتا ہے “اور آپ کے پروردگار کا فیصلہ کہ تم سباس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں تو خبر دار ان سے اف بھی نہ کہنا،اور انھیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا اور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینا اور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا، کہ پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرماجس طرح کہ انھوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے ”

ایک روز حضرت موسی (ع) نے مناجات کے دوران پروردگار سے عرض کی میرے مالک مجھے یہ بتا دے کہ بہشت میں میرا ساتھی اور ہمنشیں کون ہو گا؟ آواز معبود آئی موسی فلاں جوان ہے جو فلاں جگہ رہتا ہے وہی بہشت میں تمھارا ہمنشیں اور ساتھی ہو گا۔ حضرت موسی (ع) اس کی تلاش میں نکلے۔ حضرت موسی ایک جوان قصاب کو دیکھا اور دور سے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا تاکہ دیکھیں کہ وہ خدا کی نظر اہمیت کا حامل کون کا عمل انجام دیتا ہے کہ بہشت میں اس کا مرتبہ اتنا زیادہ ہے۔ جس قدر بھی حضرت موسی نے اس کے عمل کو دیکھا وہ کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ رات ہوئی تو اس جوان نے اپنی دوکان بند کی اور اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گیا حضرت موسی نے اپنا تعارف کرائے بغیر اس کے قریب آ کر اس سے کہا کہ ہم آج تمھارے مہمان رہنا چاہتے ہیں۔ اس جوان نے قبول کر لیا اور حضرت موسی (ع) کو اپنے گھر لے آیا۔ حضرت موسی (ع) نے دیکھا کہ جب وہ جوان اپنے گھر میں داخل ہوا، سب سے پہلے غذا تیار کی اور پھر ایک بوڑھی عورت کے پاس گیا جو بالکل مفلوج تھی اور اس نے اس عورت کو آہستہ آہستہ ایک لقمہ کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ بوڑھی عورت شکم سیر ہو گئی پھر اس جوان نے اس ضعیفہ کے کپڑے بدلے اور اس کے ساتھ بڑی الفت و مہربانی کا برتاؤ اور ہر کام میں اس کی مدد کرتا رہا۔ پھر اس نے اس عورت اس کے بستر پر لٹا دیا۔ حضرت موسی نے دیکھا کہ اس جوان نے اس رات ضروری مذہبی فرائض کے علاوہ اور خاص عبا دت اور اہم عمل انجام نہیں دیا نہ نماز شب نہ دعاؤ مناجات اور نہ کوئی دوسرا عمل۔ دوسرے روز گھر سے نکلنے سے پہلے اس جوان نے غذا تیار کی اور اس بوڑھی عورت کے پاس جا کر اسے بڑے پیار سے ایک ایک لقمہ کھلانے لگا اور اس کے تمام امور میں اس عورت کی مدد کی۔ جب دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے تو اس وقت حضرت موسی نے اس جوان سے دریافت کیا “وہ بوڑھی عورت کون تھی؟ تمھارے کھانا کھلانے سے پہلے وہ آسمان کی جانب نظریں اٹھا کر نہ جانے کیا دعا مانگ رہی تھی وہ کیا کہ رہی تھی؟ جوان نے کہا وہ میری ماں ہے جب میں اسے کھانا کھلاتا ہوں تو وہ میرے لئے خدا سے دعا کرتی ہے اور کہتی ہے ” خدایا میرا بیٹا جو میری خدمت کرتا ہے اس کے عوض بہشت میں اسے موسی ابن عمران کی ہمنشینی عطا فرما” جب حضرت موسی (ع) نے یہ ماجرا سنا تو اس جوان سے فرمایا تمھارے بارے میں تمھاری والدہ کی دعا قبول ہو گئی۔

پروگرام کے اس حصے میں حضرت امام سجاد (ع) کی ایک اور مناجات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ “مناجات پیروان خدا” میں حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے ہیں ” بار الہا اپنی طاعت و بندگی کا جذبہ سے میرے دل کے سرشار اور غم و غصّہ مجھ سے دور کر دے ،اور میرے رزق و روزی اور میری آرزوئیں پوری کرنے کے لئے وہ راہ فراہم کر جس سے تو راضی وخوشنود ہے اور مجھے بہشت جاوداں جگہ عنایت فرما ہماری چشم بصیرت کے سامنے سے شکوک و شبہات کے کالے بادل ہٹا دے اور میرے دل سے لیت و لعل کے تاریک پردے اور باطل کو میرے باطن سے دور کر، حقیقت کو میرے باطن میں نفوذ عطا کر میرے مالک بے شک شکوک و اوہام فتنے ایجاد کرنے کے درپے ہیں اور تیری نعمتوں اور بخششوں شادابی کو ناگوار بنانے کے خواہاں ہیں ”

جو انسان اپنے الٰہی فریضے کی انجام دہی کا خواہاں ہے ،وہ معبود حقیقی سے ہر دعا سے پہلے واجبات کی ادائگی اور محرمات سے دوری اختیار کرنے کی توفیق کا طالب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ گوہر تقویٰ تک رسائی اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے شرعی فرائض کی انجام دہی و ادائیگی لازم ہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) نے اپنی اس مناجات میں اپنے خالق سے توفیق بندگی اور الٰہی احکام و فرائض کی انجام دہی کی توفیق طلب کرنے کے بعد، دلوں سے شک و شبہ دور ہونے کی دعا فرماتے ہیں۔ اور اس طرح آپ نے فاسد شک اور وہم و گمان کو ہر برائی کی جڑ بتایا ہے اس لئے کہ اگر دینی اعتقادات و احکام میں وہم و گمان یقین کی جگہ لے لے تو وہیں سے انسان کی کجروی کا آغاز ہو گا البتہ کبھی کبھی انسان عارضی شک و تردید اور غفلت کا شکار ہو جاتا ہے لیکن وہ لوگ جو نور ہدایت سے بہرہ مند ہونے کی صلاحیت کے حامل ہیں ، لطف و عنایت پروردگار ان کے شامل حال ہوتی ہے اور انھیں توجہ دلائی جاتی ہے جس کی بدولت ان کی آنکھیں اور دل نور بصیرت سے منور ہو جاتے ہیں اور شیطان ان سے دور ہو جاتا ہے لیکن جو لوگ غفلت کے مارے ہیں اور نور ہدایت سے فیضیاب ہونے کے لائق نہیں ہیں ، شیطان ان کے سامنے جب مظاہر دنیا کو آراستہ کر پیش کرتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ متوجہ ہوں ،اور شیطان کے فریب سے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کر دیں ،مزید پیرو شیطان بن جاتے ہیں اس لئے انکی آنکھوں اور دلوں پر اور زیادہ پردے پڑ جاتے ہیں اور دل تاریک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قعر غفلت میں گر جاتے ہیں اور اور یادو ذکر الٰہی سے بھی انھیں نفرت ہو جاتی ہے۔

حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات میں بارگاہ الی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا ہمیں اپنی نجات کی کشتیوں میں جگہ عنایت فرما، اور اپنی مناجات کی لذت کے فیض سے کامیابی عطا فرما، اپنے چشمۂ محبت سے فیضیاب کر اور اپنی دوستی و قربت کی لذت سے آشنا کر اور اپنی معرفت کے حصول کی راہ میں سعی و کوشش کی توفیق عطا فرما اور ہماری قوت و طاقت و حوصلے کو اپنی طاعت و عبادت میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنے معاملے میں ہماری نیت میں پاکیزگی اور خلوص پیدا کر، ہمارا وجود تیری ذات سے قائم اوروابستہ ہے اور تیری قربت کے حصول کے لئے ہمارے پاس تیرے سوا دوسرا کوئی وسیلہ نہیں ہے۔ ”

حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات کے اس حصّہ میں خدا سے دعا فرماتے ہیں نجات کی کشتیاں عنایت اور اپنی رحمت شامل حال فرمائے تاکہ اپنے معبود حقیقی سے دعاؤ مناجات کی لذت سے سرشار ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ خداسے مناجات کا ذائقہ اور اس کی لذت کا حاصل کرنا ہر ایک کا نصیب نہیں ہے۔ یہ عنایات انھیں نصیب ہوتی ہیں جو اپنے دلوں کو ظلمتوں سے پاک کرتے اور انوار ہدایت الٰہی سے دلوں کو منور کرتے ہیں۔ کبھی انسان منتظر رہتا ہے کہ ماہ رمضان آئے اور وہ اس کی بابرکت راتوں اور خاص طور پر شبہائے قدر میں خداسے دعاؤ مناجات کے ذریعے اپنے دل کو نورانی بنائے اور جب ماہ رمضان اپنے دامن میں برکتیں اور الٰہی رحمتیں لئے ہوئے آتا ہے تو انسان مشغول دعاؤ مناجات ہو جاتا ہے راتوں بیدار رہ عبادت الٰہی میں مصروف ہوتا ہے لیکن خدا سے مناجات میں اسے حقیقی لذت حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس لئے کہ اس نے لذت مناجات اور اپنے معبود سے قربت و دوستی کے شیریں ذائقے کے حصول کے لئے اپنے نفس کو آمادہ نہیں کیا ہے۔

 

 

 

 

(14 )

 

 

روزہ نفسانی خواہشات کے مقابلے میں ایک مضبوط سپر اور ڈھال ہے۔ انسان روزے کے ذریعے ناشائستہ نفسانی خواہشات و رجحانات پر کنٹرول کر لیتا ہے اور اپنے باطن سے ظلمت و غفلت کی تیرگی دور کر کے اپنے نفس کو نور الفت الٰہی سے منور اور تواضع و انکساری کے پھولوں سے آراستہ کرتا ہے۔ یعنی روزہ، کھانے پینے سے اجتناب کے علاوہ اعلی مدارج کا بھی حامل ہے یعنی اپنے نفس اور دل کو تمام گناہوں اور کثافتوں سے دور رکھنا سکھاتا ہے۔

اسلامی اخلاق نے پسندیدہ اور ناپسندیدہ انسانی صفات کو بہ نحو احسن پیش کیا ہے اور پیروان اسلام کو اسلامی اخلاق اور اعلی اقدار سے آراستہ ہونے کی دعوت دی ہے۔ اخلاق اسلامی میں تواضع کو اہم مقام و منزلت حاصل ہے تواضع اور انکساری وہ اچھی اور نیک صفت ہے کہ ہر انسان رمضان کے اس مبارک مہینے میں بخوبی اس کا حامل بن سکتا ہے ” تواضع” کے ذریعے دلوں کو نرم اور دوسروں کو اپنے سے قریب کیا جا سکتا ہے۔ “تواضع” محبت، دوستی، مہربانی اور سربلندیوں کے حصول کا زینہ ہے۔ تواضع اور فروتنی، وہ گلشن و گلزار ہے جہاں برادری و بھائی چارے ،صدق و صفا اور مہر و محبت کے دلکش پھول کھلتے ہیں اور انسان کے لئے حقیقی عظمت و منزلت کا باعث بنتے ہیں۔ تواضع ، باطنی خشوع و خضوع کی ایک معقول حالت ہے کہ انسان کی رفتار وکردارسے جس کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ منکسر انسان لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔ تواضع اور فروتنی کی صفت کے حامل انسان میں وفا اور ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ ایسا انسان خدا کے سامنے تسلیم ہو جاتا ہے اور نہایت عشق و ایمان کے ساتھ طاعت و عبادت الٰہی بجا لاتا ہے۔ اس کا ایمان مستحکم اور دل ایسا مضبوط قلعہ ہو جاتا ہے کہ دشمن اس میں نفوذ کی توانائی نہیں رکھتا۔ تواضع ، خدا کے مخلص بندوں کے لئے تاج افتخار ہے۔

موسم بہار میں کبھی کسی پتھر پر سبزے نہیں اگتے کیونکہ پتھر سخت ہوتا ہے لیکن پتھر کے مقابلے میں مٹی کو دیکھیے کہ اس میں کیسے کیسے رنگ برنگے پھول کھل اٹھتے ہیں اس لئے کہ مٹی میں نرمی اور لطافت پائی جاتی ہے اور وہ اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اس کے اندر پھول پرورش پائیں۔ انسان کے دل کو بھی مٹی کی مانند نرم و نازک ہونا چاہیے پتھر کی طرح سخت نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اہل دوزخ قیامت میں فریاد کر دیں گے ، اور قرآن کے مطابق “کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی اور خاک ہوتا”یعنی اے کاش ہم متواضع اور منکسرالمزاج ہوتے۔ حق بات قبول کر لیتے اور خاکسار انسان ہوتے۔

آج کے دور میں ہمیں یہ معلوم ہو گیا ہے صدف میں مختلف رنگوں کے خوش نما پتھر تیار ہوتے ہیں اور ہم انھیں مروارید کا نام دیا جاتا ہے لیکن زمانۂ قدیم میں لوگ اس بات کے معتقد تھے کہ جب آب نیساں کا کوئی قطرہ صدف یا سیپ میں پہنچ جاتا ہے تو وہ مروارید اور موتی بن جاتا ہے ایران کے عظیم و ممتاز شاعر سعدی شیرازی اسی خیال کو انسانوں کے لئے سبق آموز سمجھتے ہیں انھوں نے اپنے نصیحت آموز اشعار میں اسی خیال کو نظم کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ” پانی کا ایک قطرہ جب دریا میں گرا تو وہ دریا کی عظمت کو دیکھ کر شرمندہ ہو گیا اور اپنے آپ سے کہنے لگا اس عظیم دریا کے سامنے میری حیثیت کیا ہے ؟ اس کے وجود کے مقابلے میں گویا میں اتنا ناچیز ہوں کہ میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ جب اس قطرۂ آب نے اپنے کو حقیر سمجھا تو صدف نے اس کی انکساری اور تواضع کی وجہ سے اسے اپنی آغوش میں لے کر ایسی پرورش کی کہ اسے در شہوار میں تبدیل کر دیا۔

پروگرام کے اس حصے میں ایک معروف ممتاز عالم دین کے تواضع اور انکساری کا ایک واقعہ سن لیجیے۔ شیخ عباس قمی کی ایک معروف کتاب “منازل الآخرۃ” ہے یہ کتاب شایع ہونے کے بعد علماؤ فضلاء کے درمیان بہت مقبول ہوئی قم میں ایک عالم دین تھے جن کا نام شیخ عبد الرزاق تھا وہ ہمیشہ حرم حضرت معصومہ (س) میں آذان ظہر سے قبل مومنین کے لئے احکام شرعیہ بیان کیا کرتے تھے۔ شیخ عباس قمی کی کتاب منازل الآخرۃ شایع ہونے کے بعد ، شیخ عبدالرزاق احکام شرعیہ بیان کرنے کے بعد اس کتاب سے احادیث و روایات بھی لوگوں کے لئے وعظ و نصیحت کے عنوان سے پیش کر دیتے تھے۔ شیخ عباس قمی کے والد شیخ عبدالرزاق کے موعظہ سے بہت متاثر تھے وہ ہر روز ان کا بیان سننے حرم جاتے تھے اور کتاب منازل الآخرۃ کے مطالب بہت پسند کرتے تھے۔ ایک روز وہ اپنے فرزند شیخ عباس قمی کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ بیٹا کاش تم شیخ عبدالرزاق کی طرح منبر پر جا کر اس کتاب سے میرے لئے مطالب بیان کرتے جس کتاب سے وہ بیان کرتے ہیں ” شیخ عباس قمی خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی بار میں نے سوچا کہ والد سے کہوں جس کتاب سے وہ مطالب بیان کرتے ہیں وہ میری ہی تالیف کردہ ہے لیکن میں نے یہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا کہ ابا جان دعا فرمائیے کہ خداوند کردیم مجھے توفیق عنایت فرمائے ” شیخ عباس قمی کی کتابوں اور خاص طور سے مفاتیح الجنان کی مقبولیت کی ایک سبب ان متواضع ہونا تھا۔

حضرت امام سجاد(ع) مناجات “محّبین” میں فرماتے ہیں ” پروردگارا ایسا کون ہے کہ جو تیری محبت کی مٹھاس کا ذائقہ لینے کے بعد کسی اور سے عشق کرے ؟ اور ایسا کون ہے کہ تیری قربت کے حصول کے بعد ایک لمحہ کو بھی تجھ سے دور رہنا چاہے ” سب سے عظیم لذت، محبت خدا کی لذت ہے جس کو الفت خدا کا ذائقہ حاصل ہو گیا وہ کسی اور جانب نہیں جا سکتا اور قرب الٰہی سے دوری اختیار نہیں کرسکتا۔ خداوند کردیم سے عشق و محبت کا راستہ اس کا ذکر اور اسکی عطا کردہ نعمتوں کو یاد کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے۔ خدا کی معرفت میں اضافہ اس کی محبت و الفت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ حضرت داؤد (ع) سے خدا نے فرمایا مجھے دوست رکھو اور میری مخلوقات کے درمیان مجھے محبوب بناؤ” حضرت داؤد (ع) نے عرض کی خدایا میں تجھے دوست رکھتا ہوں لیکن کیسے دنیا میں تیری محبوبیت کو عام کروں ؟ خدا نے فرمایا ان کے سامنے میری نعمتوں کا ذکر کرو تو دنیا مجھے چاہنے لگے گی۔

گویندہ اول جو شخص لوگوں کے حق میں اچھائیاں کرتا ہے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں بنابریں ہم خدا کی عطا کردہ نعمتوں پر جتنی زیادہ توجہ دیں گے اور اس کی نعمتوں کی اہمیت سمجھیں گے اتنی ہی زیادہ خدا سے ہماری الفت میں اضافہ ہوتا جائے گا کیونکہ دوست رکھنا عارضی جذبہ نہیں ہے بلکہ ایک پائیدار حالت شفقت و مہربانی ہے۔ جب کوئی انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو اس سے اپنے انس و علاقہ کا اظہار بھی کرتا ہے اور کچھ عرصے تک اس کا دیدار نہیں ہوتا تو اس کے فراق میں رنجیدہ و محزون ہو جاتا ہے۔ خداوند متعال سے ایسی محبت کے لئے اس کے ذکر اور اس کی نعمتوں کو بھی متواتر یاد کرنا چاہیے اگر ایسا کیا جائے تو خدا کی محبت، انسان کے دل میں بیٹھ جائے گی۔ محبت الٰہی کو دل میں جاگزیں کرنے کا ایک مناسب راستہ خلوص و اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت ہے۔ رسول اکرمﷺ عبادت الہی سے عشق کے بارے میں فرماتے ہیں ” سب سے افضل و بہتر وہ انسان ہے جو عاشق عبادت اور اس سے مانوس ہو، دل کی گہرائی سے عبادت کو دوست رکھتا ہواور اس کی انجام دہی کے وقت کسی دوسرے کام میں مشغول نہ رہے ایسے شخص کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس کی دنیوی زندگی آسائش میں یا مشکلات میں بسر ہو رہی ہے ” حضرت امام سجاد(ع) مناجات (محبّین ) میں فرماتے ہیں خدایا مجھے اپنے ان بندوں میں شامل فرما جو تجھ سے ہر حال میں خوش اور راضی ہیں اور دل کی گہرائی سے تجھے پکارتے ہیں اور ساری عمر تیرے عشق میں آہ ونالہ کرتے ہیں ان کی پیشانیاں تیری عظمتوں کے سامنے خم ہیں اور ان کی آنکھیں بیدار اور تیرے تقرب کی راہ پر مرکوز ہیں اور ان کے دل تیرے بحر عشق و محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہیبت و جلال سے سرشار ہیں۔

 

 

 

 

(15 )

 

حضرت امام سجاد (ع) ماہ رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں رمضان کا مہینہ خدا کا عظیم مہینہ اور اس کے خصوصی بندوں کے لئے عید ہے۔ اس مبارک مہینے میں روزہ سمیت تمام عبادات کی انجام دہی کی توفیق عظیم ترین الٰہی نعمت ہے جو پروردگار نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے اس مبارک مہینے اور ان قیمتی اوقات میں اپنے مالک و خالق حقیقی سے التجاء کرتے ہیں کہ ہمیں استقامت و پائیداری عطا کرے تاکہ اس مبارک مہینے میں فیوض و برکات اور معنویت سے کماحقہ استفادہ کرسکیں۔

رمضان ماہ صبر واستقامت ہے۔ صبر اور روزے کا بندھن اور رشتہ اٹوٹ ہے بھوک اور پیاس کے مقابلے میں صبر ،گناہوں کے مقابلے میں استقامت ،دشواریوں اور مشکلات کے مقابلے میں شکیبائی ، سب کچھ اس روزے میں موجود ہے۔ درحقیقت مختلف قسم کی سختیاں اور دشواریاں ، زندگانی دنیا کا حصہ ہیں اگر انسان ان دشواریوں اور سختیوں کے مقابلے میں صبر واستقامت کا مظاہرہ کرے تو یقیناً کامیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر صبر وشکیبائی کا دامن چھوڑ دے گا اور مشکلات و حوادث کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا تو کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

آپ کو معلوم ہے کہ کافی، کڑوی ہوتی ہے اور اس کی کڑواہٹ شکر ڈال دینے سے بھی دور نہیں ہوتی لیکن قابل برداشت ہو جاتی ہے مگر جب شکر کافی میں گھل جاتی ہے تو شیریں اور خوش ذائقہ ہو جاتی ہے اور اب اس کی تلخی انسان کے لئے مٹھاس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مشکلات بھی تلخ اور ناگوار ہوتی ہیں اور کبھی ان کی تلخی نہیں جاتی لیکن ان مشکلات کو بھی قابل تحمل و برداشت بنانے کا ایک راستہ ہے اور وہ صبر ہے۔ قرآن کردیم کے سورۂ عصر میں ایمان اور عمل صالح کے بعد مشکلات اور خسارے سے انسان کی نجات کا ذریعہ حق اور صبر کے دامن سے وابستہ ہونے کو قرار دیا گیا ہے۔ صبر کیمیا ہے۔ یعنی انسان ، صبر و استقامت کے ذریعے سونا بن جاتا ہے اور اس کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور سے اس وقت جب یہ صبر نماز کے ساتھ ہو یعنی اس صبر کا رابطہ خداسے برقرار ہو جائے۔ سورۂ بقرہ کی 45 ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے ” صبر اور نماز سے مدد مانگو” استقامت و پائیداری اور پروردگار کی جانب توجہ انسان کو قوت عطا کرتی ہے۔ جو آیات، صبر کی فضیلت میں نازل ہوئ ہیں وہ انسان میں مشکلات اور دشواریوں سے مقابلے کا عظیم حوصلہ پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ جیساکہ انبیائے الٰہی نے کفار و مشرکین کے ذریعے شدید مشکلات برداشت کی ہیں۔ مشرکین انھیں جادوگر اور مجنون اور جھوٹا کہتے تھے۔ ان کی دی ہوئی بشارتوں کی تردید کرتے تھے لیکن انبیاء(ع) نے کبھی لب شکایت وا نہیں کیا۔

ایک روز پیغمبر اکرم ﷺ مکہ کے قریب واقع شہر طائف تشریف لے گئے تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں۔ آپ نے طائف پہنچنے کے بعداس شہر کی ممتاز اور عظیم شخصیتوں سے ملاقاتیں اور ان سے دین اسلام کے بارے میں گفتگو فرمائی۔ لیکن انھوں نے آپ کی دعوت قبول نہیں کی بلکہ آپ کو اذیت پہنچانے کی ٹھان لی اور جاہلوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ رسول خدا ﷺ کو پریشان کر دیں اور اذیت پہنچائیں یہ جاہل افراد آپ پر پتھر برساتے تھے یہاں تک کہ آپ کو پتھر مار مار کر زخمی کر دیا آپ زخمی حالت میں چلتے چلتے ایک باغ میں پہنچ گئے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور اپنے محبوب حقیقی سے راز و نیاز کرنے میں مشغول ہو گئے۔ جب باغ کے مالکوں نے آپ کو زخمی حالت میں درخت کے سائے بیٹھے ہوئے دیکھا تو انھیں آپ پر افسوس آیا ایک غلام کو بلا کر اس سے کہا کہ جاؤ ایک انگور لے کر آؤ، آپ کے سامنے تھوڑی دیر میں انگور آ گئے آپ نے ایک خوشۂ انگور اٹھا لیا اور ان لوگوں کا شکر دیہ ادا کیا پھر آپ نے انگور تناول فرمانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا وہ غلام تعجب سے آپ کو دیکھنے لگا پھر اس نے آپ سے پوچھا ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے ہم نے تو آج تک یہ الفاظ کسی سے بھی نہیں سنے۔ آپ نے فرمایا، میں خدا کا نام لے رہا تھا پھر آپ نے اس غلام سے پوچھا تمھارا تعلق کہاں سے ہے ؟ غلام نے کہا عراق میں نینوا کا رہنے والا ہوں۔ پیغمبرﷺ نے مسکرا کر فرمایا “شہریونس” خداوند کردیم کے پاکیزہ نبی؟اس غلام نے عرض کی آپ یونس نبی کو جانتے ہیں ؟ آپ نے آسمان کی جانب نظر کرتے ہوئے فرمایا ہاں میں بھی ان کی ہی طرح نبی خدا ہوں خدا نے ہی مجھے یونس کے بارے میں آگاہ کیا ہے پھر آپ نے حضرت یونس(ع) کے واقعات اس کے سامنے بیان فرمائے اس غلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اس نے اٹھ کر حضرت رسول اکرمﷺ کے ہاتھوں کوبوسہ دیا اور کہنے لگا میں آپ کی نبوت اور آپ کے خدا پر ایمان لاتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت بہت خوش ہو گئے جب مکہ کی طرف روانہ ہوئے اپنی ساری تکلیفیں اور پتھروں کے زخم سب کچھ فراموش کر چکے تھے پیغمبر اکرمﷺ صبر تحمل سے کام لیتے ہوئے تبلیغ دین کے فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ مصروف رہتے تھے بڑے وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ دین اسلام کی پیشرفت اور فروغ میں پیغمبرﷺ کا جذبۂ صبر و تحمل کار فرما تھا۔

اہل بیت رسولﷺ کی دعاؤں اور مناجاتوں کا پڑھنا انسانی صفات اور اعلی مدارج کے حصول کا باعث بنتا ہے ان مناجاتوں میں سے ایک “مناجات محبّین ” ہے یعنی خدا کے دوست داروں کی مناجات۔ اس مناجات میں محبت و قربت الٰہی کا ذکر ہے حضرت امام سجاد (ع) اس مناجات کے آغاز میں خدا سے محبت خالص کی درخواست کرتے ہیں۔ حضرت امام سجاد کا پاکیزہ دل محبت الٰہی سے سرشار ہے لیکن آپ خدا سے محبت کی انتہا طلب فرماتے ہیں یعنی آپ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی محبت کے سوا آپ کے قلب مطہر میں اور کچھ بھی باقی نہ رہے۔

حضرت امام سجاد(ع) اپنی مناجات میں معبود حقیقی سے راز و نیاز کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” پروردگارا ہمیں اپنے ان بندوں میں قرار دے جنھیں تو نے اپنی دوستی اور اپنے تقرب کے لئے منتخب فرمایا ہے ،اپنی محبت و عشق کے لئے خالص بنا دیا ہے ،وہی بندے جو تیرے دیدار کے مشتاق اور تیرے ہر فیصلے سے راضی و خوشنود ہیں ” حضرت امام سجاد (ع) نے خداسے عشق و محبت خالص کی دعا اس لئے فرمائی ہے کہ ممکن ہے انسان پروردگار سے محبت رکھتاہو لیکن اس کی محبت خالص نہ ہو۔ سعادت کے حصول کے لئے صرف خداسے دوستی کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں چاہیے کہ دوسروں سے زیادہ خدا سے محبت والفت کر دیں اور اسے دوست رکھیں اور یہ دوستی ہمارے اعمال کے ذریعے ظاہر ہو۔ جب ہم خدا کو دوسروں سے زیادہ دوست رکھیں گے تو پھر خدا ہمیں حقیقی ایمان کی دولت سے نواز دے گا اور یہی حقیقی ایمان اس کی دوستی کا ثبوت قرار پائے گا۔ سورۂ بقرہ کی 165ویں آیت میں اسی سلسلے میں ارشاد الٰہی ہے ” جو لوگ صاحب ایمان ہیں خدا سے انھیں بہت زیادہ محبت ہے۔ حضرت امام سجاد (ع) بارگاہ الٰہی میں مناجات کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” اے میرے مالک مجھے ان لوگوں میں قرار دے جنھیں تو نے اپنے جوار میں جگہ دی ہے اور مقام صدق و صفا پر فائز کیا ہے اور معرفت کے مرتبہ کے حصول کے لئے مختص کر کے اپنی پرستش اور بندگی کے لائق بنا رکھا ہے ”

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ لقائے الٰہی کا شوق ، محبت خدا کے فطری آثار میں شامل ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی انسان کسی سے عشق کرتا ہو لیکن اس کے دیدار کا مشتاق نہ ہو۔ محبوب تک رسائی کا شوق و اشتیاق جس قدر بڑھتا جائے گا اس کی محبت میں اسی قدر اضافہ بھی ہوتا جائے گا۔ اپنے محبوب کی قربت اور اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہر انسان کی سب سے بڑی تمنّا اور آرزو ہوتی ہے۔ بلا شبہ قربت الٰہی اعلی ترین اور عظیم ترین مقام ہے اس مقام تک رسائی کے بعد انسان تمام رنج و غم اور تمام دشواریوں اور مشکلات سے نجات پالیتا ہے اور اسے ابدی سکون حاصل ہو جاتا ہے۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ فرعون کی زوجہ آسیہ کو خداوند متعال اور حضرت موسی(‏ب) کی نبوت پر ایمان لانے کے بعد فرعون کی جانب سے شدید ایذائیں پہنچائی گئیں کہ وہ عقیدۂ توحید و یکتا پرستی سے دست بردار ہو جائیں لیکن انھوں نے الفت و عشق الٰہی کا ذائقہ چکھ لیا تھا اس لئے ان کے دل میں صرف اور صرف تقرب الٰہی کی آرزو تھی۔ سورۂ تحریم کی گیارہویں آیت میں اس واقعہ کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ ایسے دشوار اور سخت ترین حالات میں بھی خدا سے راز و نیاز کر رہی تھیں کہ” پروردگارا بہشت میں اپنے جوار میں مجھے جگہ عنایت فرما”

قرب الٰہی اور اس کی عظمت کا ادراک، صرف اس کی بندگی کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے اسی لئے حضرت امام سجاد (ع) نے خدا سے دعا کی ہے کہ ان لوگوں میں شامل ہوں جو خدا کی بندگی کے لائق ہیں۔ یعنی انسان اس بات کو صدق دل سے قبول کرے کہ وہ مکمل طور سے اپنے خالق حقیقی کا نیازمند اور محتاج ہے۔ خدا کی بندگی کا صرف زبان سے نہیں بلکہ ساری زندگی انسان کے اعمال و کردار و رفتار سے اظہار بھی ضروری ہے۔

 

 

 

 

(16)

 

 

پروردگار عالم اس مبارک مہینے میں اپنی نعمتوں اور برکتوں سے اپنے تمام بندوں کو نوازتا ہے بھوک اور پیاس کے تحمل اور روزہ رکھنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور دعا مانگنے کی دعوت دیتا ہے۔

دعا اور مناجات ، انسان کے لئے اپنے خالق حقیقی سے رابطہ برقرار کرنے کا بہترین راستہ ہے۔ خداوند کردیم سے راز و نیاز پروردگار عالم کی جانب انسان کے فطری رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک روز ایک شخص پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا کہ اے رسول خداﷺ کیا خدا ہم سے نزدیک ہے اور ہم چاہیں تو اس سے آہستہ سے راز و نیازکرسکتے ہیں یا دور ہے کہ اس کوزورسے پکارنا پڑے گا؟رسول خداﷺ نے ابھی لب بھی نہیں کھولے تھے کہ سورۂبقرہ کی آیت نمبر 186 آپ پر نازل ہوئی اور ” اے پیغمبر اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کر دیں تو میں ان سے قریب ہوں پکارنے والے کی آواز سنتاہوں جب بھی وہ پکارتا ہے۔ لہذا مجھسے طلب قبولیت کر دیں اور مجھی پر ایمان و اعتقاد رکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پر آ جائیں ”

دنیا کے ہر انسان کو زندگی کے تمام مرحلوں میں ایک مضبوط سہارے اور پشت پناہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ زندگی کے مختلف امور کو آگے بڑھایا جا سکے اور ترقی و کمال کے راستے پر گامزن ہوا جا سکے۔ خداوند کردیم سے رابطے کے وقت انسان اپنے کو نفسیاتی اعتبار سے خصوصی روحانی ماحول اور معنوی فضا میں محسوس کرتا ہے۔ صبح کا وقت ایسا قیمتی وقت ہے کہ اس وقت دعا بہت جلدی باب اجابت تک پہنچ جاتی ہے ،خاص طور سے ماہ رمضان کی سحر خداسے دنیوی اور اخروی حاجتیں طلب کرنے نیز پروردگارسے استغفار کرنے اور اس کی جانب پلٹنے کا بہترین وقت ہے۔

گویندہ دوم سامعین آپ نے دیکھا ہو گا کہ قطب نما ہمیشہ حرکت میں ہوتا ہے مگر اس وقت رک جاتا ہے جب قبلے سے اس کا رابطہ ہو جاتا ہے آدمی کا دل بھی قطب نما کی مانند لرزاں اور مضطرب ہے مگر جب یاد و ذکر خدا میں مشغول ہو تو انسان کے دل کو سکون ملتا ہے۔ پیغمبر اکرمﷺ ہمیشہ مطمئن اور پرسکون رہتے تھے اسلئے کہ ہمیشہ یاد الہی میں مشغول رہتے تھے اور اٹھتے بیٹھتے ذکر خدا کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ فقط زبان سے ذکر الٰہی فرماتے تھے بلکہ آپ اپنے سارے امور کی انجام دہی میں مرضیِ الٰہی کو پیش نظر رکھتے تھے۔

ایک ماں نے اپنے نوجوان فرزند کو گھر سے باہر جاتے دیکھ کر اس سے سوال کیا بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ بیٹے نے کہا امی جان میرا محبوب ترین اداکار اس شہر میں آیا ہے میرے لئے اس سے ملاقات اور اس سے گفتگو کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ میں جا رہا ہوں بہت جلدی واپس آ جاؤں گا۔ اگر اس کے پاس مجھسے باتیں کرنے کا وقت ہوا تو کیا اچھی بات ہو گی” وہ اپنے محبوب اداکار کے دیدار کے تصور سے خوش تھا اور مسکراتاہوا خدا حافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل گیا اور آدھ گھنٹے میں غصّے میں بھرا ہوا واپس آیا ماں نے پوچھا بیٹا کیوں پریشان ہو؟ کیا ہوا تمھارے محبوب اداکار سے تمھاری ملاقات ہوئی؟

بیٹے نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا ہم اور ہماری طرح بہت سے لوگ اس کے آنے کے منتظر تھے لیکن پتہ چلا کہ آدھ گھنٹہ پہلے وہ شہر کو ترک کر چکا ہے۔ کاش خدا نے جیسی شہرت اسے عطا کی ہے مجھے عطا کی ہوتی۔ ماں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر اپنے کمرے میں گئی اور تیار ہو کر بولی بیٹا تم بھی تیار ہو جاؤ چلو ایک جگہ چلتے ہیں۔ بیٹے نے بے اعتنائی کے ساتھ کہا کہ امی آپ کیا مذاق کر رہی ہیں ؟ وہ آدھ گھنٹہ پہلے اس شہر کو ترک کر چکا ہے آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ؟ ماں نے بڑے پیار سے کہا کہ بیٹا میرے اوپر اعتماد کرو اور میرے ساتھ چل چلو۔ بیٹے نے نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کی بات مان لی کیونکہ وہ ماں سے بہت محبت کرتا تھا۔ تیار ہو کر دونوں گھر سے باہر نکل گئے چند قدم چلنے کے بعد ماں نے مسجد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیٹے سے کہا کہ لو پہنچ گئے۔ بیٹے نے یہ سن کر ناراض ہوتے ہوئے کہا امی جان ہم نے آپ سے کہہ دیا کہ یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔ ماں نے کہا کہ ابھی تم نے نہیں کہا تھا کہ کاش خدا اس کو اتنی شہرت دینے کے بجائے تمھیں دے دیتا؟ پس خدا ہر ایک سے برتر ہے اس لئے کہ وہی انسان کو شہرت و محبوبیت عطا کرتا ہے اس سے بڑھ کر اور باعث افتخار کیا ہو گا کہ جو شہرت دینے والا ہے اس سے باتیں کر دیں۔

ماں کی منطقی بات بیٹے کی سمجھ میں آ گئی اور اس نے یہ درک کر لیا کہ جو ساری نعمتوں کا خالق ہے اس سے گفتگو اور راز و نیاز ، خدا کے تخلیق کردہ ان انسانوں سے گفتگو کرنے سے زیادہ آسان اور زیادہ مؤثر و مفید ہے جو اپنے خالق سے زیادہ رابطہ بھی نہیں رکھتے۔ جی ہاں ، خداوند کردیم سے گفتگو اور راز و نیاز، ہواؤں کے نرم و لطیف جھوکے کی مانند روح کو بالیدگی نیز افسردہ مضطرب انسانوں کو سکون و قرار عطا کرتا ہے۔ سامعین آئیے اس ماہ خیر و برکت میں سر چشمۂ توحید و معرفت سے قلبی رابطہ برقرار کر دیں اور تنہائی میں اپنے خالق و معبود سے راز و نیاز اور دعاؤ مناجات کر دیں کیونکہ سورۂ رعد کی 28 ویں آیت میں ارشاد الٰہی ہے ” صرف یادو ذکر خدا سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے ”

خداوند کردیم اپنے خاص بندوں سے خصوصی رابطہ رکھتا ہے ان سے خلوت و جلوت میں گفتگو کرتا اور ان کے روح و نفس کو سرافراز فرماتا ہے۔ حضرت امام زین العابدین (ع) مناجات محبان الٰہی میں فرماتے ہیں ” اے وہ معبود کہ جس کے انوار قدسیہ اس کے عاشقوں کی آنکھوں کو نور عطا کرتے ہیں اور جس کی ہستی کی تجلیوں سے عارفوں کے دل منور و نورانی ہو جاتے ہیں۔ اے مشتاقوں کے دلوں کی آرزو اور اے اپنے دوستداروں کی منزل مقصود” جس وقت نور الٰہی، (جس کی ضیاء تمام انوار حسیہ سے کہیں زیادہ ہے ) عاشقان خدا کے دلوں میں سرایت کرتا ہے تو وہ اتنے مسرور ہو جاتے ہیں کہ دنیا اور اس کی تمام لذتیں ، اس نور الٰہی کے عوض دینے کو آمادہ ہو جاتے ہیں۔ عشق مادی وانسانی کی داستانوں میں کبھی عاشق و معشوق کے مابین اتنا گہرا عشق ہوتا ہے کہ جس کا تصور بھی ان لوگوں کے لئے بہت ہی دشوار ہے جو عشق کی لذت سے ناآشنا ہیں۔ اسی طرح خدا اور اس کے عاشقوں کے مابین ایسے گہرے روابط ہیں کہ محبت الٰہی سے بے خبر انسانوں کے لئے جن کا درک کرنا محال ہے۔

حضرت امام زین العابدین (ع) اپنی عرفانی مناجات میں اپنے خالق سے اس طرح محو گفتگو ہوتے ہیں کہ ” اے مشتاقوں کے دلوں کی آرزو، اے عاشقوں کی منزل مقصود،اپنی دوستی اور اپنے دوست داروں اور ہر اس عمل کا عشق میرے دل کو عطا فرما دے جو تیرے تقرب کا باعث ہو” اس مناجات میں حضرت امام زین العابدین (ع) خالق حقیقی سے اپنے عاشقانہ رابطے کے علاوہ ایک توحیدی مسئلے پربھی تاکید فرماتے ہیں۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ عاشقان الٰہی کے لئے محبت خدا سے حاصل ہونے والے تمام نتائج کا سرچشمہ لطف و عنایت الٰہی ہے اور جب تک پروردگار کی مرضی نہ ہو کوئی بھی اس کی الفت ودوستی کے درجہ اور مرتبہ کو حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ اسی طرح حضرت امام زین العابدین (ع) خدا سے اس کی نعمت الفت و محبت طلب کرتے ہیں اور محبت الٰہی کا لازمہ یہ ہے کہ جب انسان خدا سے محبت طلب کرے گا تو لازما خدا کے دوستوں سے بھی الفت کرے گا۔ اسی لئے آپ نے اپنے خالق سے اس کی محبت کے ساتھ اس کے عاشقوں کی بھی محبت و الفت طلب فرمائی ہے ،

یہ محال ہے کہ انسان خدا کو دوست رکھے اور اس کے پیغمبر کو جو حبیب الٰہی ہیں ، دوست نہ رکھے۔ خدا کی محبت و دوستی کا معیار ہی اس کے پیغمبر کی دوستی و محبت ہے۔ اور حبیب الٰہی کی محبت و الفت خدا کی محبت میں اضافے کا باعث ہے۔ حضرت امام سجاد (ع) اپنی مناجات میں خداسے ایسے امور کی بھی محبت و الفت کی درخواست کرتے ہیں جو محبت الٰہی تک رسائی کا وسیلہ قرار پائے۔ حضرت اپنی اس مناجات کے آخری حصہ میں اپنے معبود سے یہ دعا فرماتے ہیں کہ ” میرے مالک مجھ پر لطف و عنایت کی نظر فرما اور کبھی مجھے اپنی نظر عنایت سے محروم نہ فرمانا اور مجھے اپنی منظور نظر سعادت و کامرانی عطا فرما اے اپنے بندوں اور اپنی مخلوقات کی دعائیں قبول فرمانے والے اے ارحم الراحمین۔

 

 

 

 

 

(17)

 

روزے کے ایام بڑی تیزی سے گزرتے جا رہے ہیں اس مبارک مہینے میں ضیافت الٰہی اور خدا کی جانب سے اس کی عبادت و بندگی کی توفیق حاصل ہونے پر اس کے شکر گزار ہیں۔

اگر ہم آئینے میں اپنے چہرے کے تل کو قریب سے دیکھیں تو صرف کالے نشان کے علاوہ اور کچھ نہیں دکھائی دے گا لیکن اگر تھوڑی دور سے آئینے میں اپنا مکمل چہرہ اور پوری صورت دیکھیں تو وہ سیاہ تل، پورا چہرہ دکھائی دینے کے سبب برا نہیں معلوم ہو گا اور توجہ صرف اس تل پر مرکوز نہیں ہو گی۔

پیشگی منفی رائے قائم کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ فرشتوں نے بھی انسان کے سلسلے میں از قبل رائے کا اظہار کیا تھا۔ پروردگار عالم نے جب فرشتوں سے فرمایا” میں زمین پر اپنا جانشین اور خلیفہ بنانے والا ہوں ” توسارے فرشتے بول اٹھے ” پروردگار کیا اس کو روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا جو فساد و خونریزی برپا کرے ” خداوند کردیم نے جواب میں فرمایا “جن حقائق سے ہم واقف ہیں تم لوگ ان سے آگا ہ نہیں ہو” یعنی آدم کی شخصیت کے دوپہلو ہیں فرشتوں نے صرف ایک پہلو کو مد نظر رکھا اور از قبل آدم کے بارے میں منفی رائے قائم کر لی جو حقیقت سے پرے تھی۔ ہمارا دستور یہ ہے کہ ہم صرف ایک پہلو کو دیکھتے ہیں ، ہم موسم خزاں کو دیکھتے ہیں لیکن فصل بہار کو نہیں دیکھتے ، موسم سرما کو دیکھتے ہیں لیکن گرمی کے موسم کا مشاہدہ نہیں کرتے۔ ہم کانٹے دیکھتے ہیں لیکن پھولوں کی جانب نظر نہیں کرتے۔ ہمیں انسان کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اسی لئے فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں ” خدا نے فرشتوں کو ان کی فکر کی عدم صحت کی جانب متوجہ کرانے کے لئے دو امور انجام دیے۔ ایک حضرت آدم (ع) کے ساتھ اور ایک فرشتوں کے ساتھ۔ خداوند کردیم نے حضرت آدم کو تمام انبیاء اور ائمّہ علیھم السلام کے اسمائے گرامی تعلیم فرما دیے اور ادھر فرشتوں کو ان تمام عظیم شخصیات کی روحوں کا مشاہدہ کرا دیا۔ پھر ان سے سوال فرمایا کہ ان شخصیات کے بارے میں جانتے ہو کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ یعنی خدا اپنے فرشتوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ جب تم لوگ ان عظیم ہستیوں کو نہیں جانتے تو ان کے بارے میں از قبل فیصلہ کیوں کر رہے ہو اور انھیں زمین میں مفسد اور خونریز کیوں بنا رہے ہو؟ کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ جس کے بارے میں اظہار رائے کرنا ہے ، انسان پہلے سے مکمل طور سے اس کے بارے میں علم رکھتا ہو ورنہ بعد میں پشیمانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ایک ہسپتال سے ایک سرجن کو آپریشن کے لئے ٹیلیفونی رابطہ کر کے بلایا گیا وہ ڈاکٹر فورا تیار ہو کر گھر سے چل پڑا ہسپتال میں پہنچتے ہی اس نے اپنے آپریشن روم میں جانے والا لباس تبدیل کیا اور آپریشن روم میں پہنچ گیا۔ جس لڑکے کا آپریشن کرنا تھا اس کا باپ کوری ڈور میں کھڑا ڈاکٹر کے آنے کا منتظر تھا وہ ڈاکٹر کو دیکھتے ہی غصّے میں برس پڑا۔ آپ نے آنے میں کیوں اتنی دیر لگا دی؟ آپ کو نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کی زندگی خطرے میں ہے اور آپ کو اپنی ذمے داری کا کوئی احساس بھی نہیں ہے ؟ ڈاکٹر نے زبردستی مسکراتے ہوۓکہاجنابہمہسپتال میں موجود نہیں تھے۔ ہمیں ٹیلی فون کر کے بلایا گیا ہے اور ہم سب کچھ چھوڑ کے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ آپ صبر سے کام لیں اور آرام سے بیٹھیں تاکہ میں بھی اپنا کام انجام دے سکوں ” مریض کا باپ غصّے میں چلایا واہ جناب واہ میں آرام سے بیٹھوں ؟اگر آپ کا بیٹا اس وقت آپریشن روم میں ہوتا تو کیا آپ آرام سے بیٹھتے ؟ پھر مسکرا کر ڈاکٹر نے کہا کہ قرآن نے جو ایسے موقع پر کہا ہے وہی آپ کی بات کا میرے پاس جواب ہے “ہم خدا کے پاس سے آئے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف واپس بھی جانا ہے ” شفا دینے والا خدا ہے ڈاکٹر کسی کی عمر میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ آپ جائیے اپنے بیٹے کی شفا یابی کی خدا سے دعا کیجئے اور ہم خداوند متعال کی مدد و عنایت سے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر دیں گے ” لڑکے کا باپ بڑبڑایا” خود کسی قابل نہ ہوں تو دوسروں کو نصیحت کرنا بڑا ہی آسان ہوتا ہے ” ڈاکٹر آپریشن روم میں چلا گیا اور آپریشن کرنے میں مصروف ہو گیا۔ آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ آپریشن روم کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر خوش خوش باہر آیا اس نے لڑکے کے والد سے کہا کہ خدا کا شکر کہ آپ کا بیٹے کو دوبارہ زندگی مل گئی ” پھر اس نے مریض کے والد کے جواب کا انتظار کئے بغیر اسپتال سے باہر جاتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ پوچھنا ہو گا تو نرس سے پوچھ لیجئے گا۔ ڈاکٹر کے جانے کے کچھ دیر بعد نرس آ گئی لڑکے کے والد نے اس نرس سے کہا کہ یہ ڈاکٹر صاحب کتنے مغرور ہیں ؟ تھوڑی دیر رک نہیں سکتے تھے کہ ہم ان سے اپنے بچّے کا کچھ حال چال پوچھ سکتے ؟ نرس نے جس کی آنکھیں آنسوؤں سے نم تھیں ، جواب دیا بھائی صاحب آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ڈرائیونگ حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ جس وقت میں نے انھیں فون کیا تھا وہ اپنے بچے کے غسل و کفن میں مصروف تھے اور انھوں نے ایسے حالات میں آ کر آپ کے بیٹے کی جان بچائی اور ا ب وہ یہاں سے فورا چلے گئے تاکہ اپنے بچے کی تدفین میں شریک ہو سکیں ”

اس واقعہ سے ہمیں نصیحت وسبق حاصل کرنا چاہیے اور خداوند کردیم کی بارگاہ میں یہ دعا کرنی چاہیے

پروردگارا اس مبارک مہینے میں ہماری مدد فرما کہ ہم دوسروں کے بارے میں اپنے بے بنیاد نظریہ کے جلد بازانہ اظہار سے پرہیز کر دیں اور اس با برکت ایام میں تہمت اور غیبت سے اجتناب کر دیں۔

حضرت امام زین العابدین (ع) کی پندرہ معروف مناجاتوں میں سے ایک مناجات جو “مناجات متوسلین” یعنی خدا سے توسل اختیار کرنے والوں کی مناجات کے نام سے معروف ہے۔ اس مناجات کے آغاز میں حضرت امام سجآد (ع) بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” خدایا تیری بارگاہ تک رسائی کے لئے تیری شفقت و مہربانی کے وسیلے کے سوا میرے پاس دوسرا کوئی وسیلہ اور ذریعہ نہیں ہے اور تیرے پیغمبر رحمت کی شفاعت و عنایت کے  علاوہ اور کوئی دستاویز میرے پاس موجود نہیں ہے ایسے پیغمبر کی شفاعت جو دو عالم کے غم و اندوہ سے امت کو نجات دلانے والا ہے۔ میرے مالک انھیں میری بخشش اور سعادت و خوش بختی نیز اپنی بہشت رضوان کے حصول کا وسیلہ اور ذریعہ قرار دے ”

گویندہ اول سامعین جو چیز تقرب الٰہی کا ذریعہ ہو اسے وسیلہ کہتے ہیں۔ وہ تمام اعمال خیر کہ جو انسان انجام دیتے ہیں وہ تقرب الٰہی کا وسیلہ اور مقدمہ شمار ہوتے ہیں لیکن قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ پروردگار نے اعمال خیر کی انجام دہی کے جسمانی، روحانی اور فکر دی وسائل، انسان کے اختیار میں دیے ہیں۔ اگر انسان کو قرأت قرآن کے لئے آنکھیں اور ذکر الٰہی کے لئے زبان عطا نہ کی گئی ہوتی تو اس کی زندگی کسی کا م کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر عمل خیر کی انجام دہی کے لئے ہمت و حوصلہ اور عزم وارادہ نہ ہو تا تو انسان کوئی نیک عمل انجام نہیں دے سکتاتھا۔ بنابریں خداوند کردیم کے لطف و کرم اور س کی توفیق کے بغیر انسان کوئی بھی کار خیر انجام دے ہی نہیں سکتا۔

حضرت امام زین العابدین (ع) نے تقرب الٰہی کے وسائل میں ایک عظیم وسیلہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے وجود اقدس کو قرار دیا ہے اور یہ وہ عظیم اور قیمتی وسیلہ ہے کہ قربت الہی کے حصول کے لئے ہر قسم اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو جس کی اشد ضرورت ہے۔ خدا نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو اعلی ترین مقام یعنی مقام شفاعت عطا فرمایا ہے سورۂضحی کی پانچویں آیت میں ارشاد الہی ہے ” اور عنقریب تمھارا پروردگار تمھیں اسقدرعطا کر دے گا کہ خوش ہو جاؤ گے ” یہ آیت حضرت رسول اکرمﷺ کے مقام شفاعت پر فائز ہونے پر شاہد ہے مفسرین قرآن اس آیت کو قرآن کی سب سے زیادہ امید بخش آیت سمجھتے ہیں۔ حضرت امام زین العابدین (ع) خدا سے یہ دعا فرماتے ہیں کہ ان دونوں وسیلوں کو میری بخشش اور اپنی رضاؤ سعادت کے حصول کا وسیلہ قرار دے۔ حضرت اپنے اس بیان سے ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ مہرو رحمت الٰہی کے بغیر شفاعت پیغمبر ﷺ انسان کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ انسان اس صورت میں شفاعت کامستحق ہو گا جب اپنے آپ میں شفاعت کے حصول کی اہلیت و صلاحیت پیدا کر لے۔

حضرت امام زین العابدین (ع) اپنی “مناجات متوسلین “میں بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں ” پروردگارا میری امید تیری بارگاہ لطف و کرم سے بندھی ہوئی ہے اور تیری عنایت واحسان کا خواہاں ہوں۔ میرے مالک اپنے لطف و کرم سے میری امید و آرزو پوری فرما دے اور ہمارے امور کو نیک انجام کے ساتھ منزل اتمام تک پہنچا دے ” اپنی اس مناجات میں حضرت امام سجاد (ع) خداسے خیر و ہدایت پر اپنی زندگی کے انجام کے خواہاں ہیں یعنی بارگاہ الٰہی سے توسل اور مناجات کی توفیق حاصل ہونے کے بعد جو نیک اور اچھے اعمال انجام دیے ہیں ، خدا مدد کرے تاکہ پھر گناہوں کے ارتکاب کے ذریعے اپنے انجام دیے ہوئے نیک اعمال کو لوگ تباہ نہ کر دیں۔ کیونکہ مومن کے لئے سب سے بڑی آفت و بلا یہ ہے کہ وہ ایک مدت تک خدا کی عبادت و بندگی کرے اور اپنی حیات کی آخری منزل میں گناہوں کے ارتکاب کے ذریعے اپنے انجام دیے ہوئے نیک اور اچھے اعمال کو خود تباہ کر دے۔

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید