FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

بڑے نصیب کی بات ہے

 

(سفرِ حج کی روداد)

 

حصہ دوم

 

 

 

               صفدر قریشی


 

 

نفلی عمرہ

 

ایامِ حج میں  حجاج کرام کو مناسکِ حج کے  علاوہ کسی اور طرف متوجہ ہونے  کی فرصت نہیں  ملتی۔ اس لئے  ہمیں  مکہ معظمہ کے  مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کا موقع نہیں  ملا۔ ہمارا ارادہ حجِ تمتع کا تھا۔ اس حج میں  عمرہ کے  بعد احرام کھولنے  کی سہولت ہوتی ہے۔ حج کا احرام باندھنے  تک آدمی احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو جاتا ہے۔ قدرے  فراغت ہوتی ہے۔ اس فراغت میں  زیارت وغیرہ کی جا سکتی ہیں۔ مگر ہمارے  لئے  فراغت صرف ایک دو روز کی تھی۔

مناسکِ حج سے  فراغت کے  بعد اہلیہ کی طبیعت کچھ سنبھل چکی تھی اور میری تھکن بھی ختم ہو چکی تھی۔ حجاج کرام بڑے  جوش و جذبہ سے  عمرے  اور طواف کر رہے  تھے۔ جوان اور با ہمت حضرات دن میں  کئی کئی طواف اور عمرے  کرتے۔ بعض پانچوں  نمازیں  حرم شریف میں  ادا کرتے۔ ہم بھی دیکھا دیکھی زیادہ وقت حرم شریف میں  گذارنے  کی کوشش کرتے۔ مگر بشری تقاضا جات کی وجہ سے  ہم زیادہ دیر حرم شریف میں  نہیں  رہ سکتے  تھے۔ بوڑھے  آدمی کے  لئے  رفع حاجت بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ پیشاب زیادہ دیر روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اور ٹائیلٹ حرم شریف کے  باہر ہیں۔ وہاں  تک جاتے  جاتے  کافی وقت لگ جاتا ہے۔ پھر ہمیں  متبادل جگہوں  کا بھی علم نہیں تھا۔ اس لئے  ہم بمشکل ظہر سے  عصر یا مغرب سے  عشاء تک حرم شریف میں  مقیم رہتے۔ الحمد للّٰہ کسی روز فجر کی نماز بھی حرم شریف میں  نصیب ہو جاتی تھی۔ اس کے  علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کے  فضل سے  چار عمرے  بھی کئے۔ ان عمروں  کے  دوران مکہ شریف کے  بازاروں  اور شاہراہوں  کی زیارت نصیب ہوئی۔

نفلی عمرہ کے  لئے  مسجدِ عائشہؓ (مسجدِ تنعیم)سے  احرام باندھ کر طوافِ کعبہ اور سعی کے  بعد حلق یا قصر کرانا ہوتا ہے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی نے  اپنی رہائش گاہ سے  غسل وغیرہ کر کے  احرام باندھ لیا۔ ہماری رہائش گاہ بیت عائشہ بنتِ سعد بن ابی وقاص والے  چوک سے  ملحقہ گلی میں  واقع تھی۔ بیت عائشہ سے  ملحقہ مسجد سے  سیدھی سڑک چوک شارع کعبہ کو جاتی ہے۔ ہم اپنی بلڈنگ سے  نکل کر چوک پر پہنچے  تو ایک صاحب نے  ہمیں  دو ڈبے  دودھ کے  ہدیہ کئے۔ چوک کے  قریب بسوں  ویگنوں  کا سٹاپ ہے۔ ویگنوں  والے  مسجدِ عائشہؓ کی آواز لگا رہے  تھے۔ دو دو ریال کرایہ تھا۔ یہاں  سے  مسجدِ عائشہ چند کلومیٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ رستے  میں  شارع مدینہ اور جدہ کے  بورڈ نظر آئے۔ شارع مدینہ کو دیکھ کر مدینہ شریف کے  تصور سے  دل میں  مسرت کی لہر دوڑنے  لگی۔ مکہ شریف کی سڑکیں  صاف و شفاف اور وسیع ہیں۔ دو رویہ سڑکوں  کے  درمیان کہیں  کہیں  کھجور وغیرہ کے  درخت بھی نظر آ جاتے  ہیں۔ سڑکوں  کے  دونوں  جانب اونچی اونچی عمارتیں  اور عمارتوں  کی اوٹ سے  جھانکتی فلک بوس پہاڑیاں  دعوت نظارہ دے  رہی ہیں۔

مسجدِ عائشہؓ پہنچے  تو مسجد کے  باہر ایک صاحب کیمرہ پکڑے  حجاج کرام کو تصویر بنوانے  کی دعوت دے  رہے  تھے۔ ہمارے  دل میں  بھی ایک یادگاری تصویر بنوانے  کا خیال آیا مگر شرعی ممانعت کی وجہ سے  ہم اپنا شوق پورا نہ کر سکے۔ اب خیال آتا ہے  کہ وہاں  تو بہت سارے  علماء بھی ہوتے  ہیں۔ اگر واقعی فوٹو حرام ہو تو کم از کم حدود حرم میں  تو فوٹو گرافی کی ممانعت ہونا چاہئے۔ مگر وہاں  کوئی ممانعت نہیں۔ میں  نے  عام فوٹوگرافی اس کے  علاوہ مکہ میں  کسی اور جگہ نہیں  دیکھی۔ ہاں  مسجدِ نبویؐ کے  صحن میں  ایک صاحب کو مسجد کی فوٹو لیتے  مشاہدہ کیا ہے۔ فوٹو کی حلت و حرمت کا مسئلہ تو علماء کا موضوع ہے۔ عامۃ الناس نے  تو علماء کی ماننی ہے۔ ہمارے  ایک دوست کہتے  ہیں  کہ ایک کیمرہ مین نے  اسی مسجد میں  زبردستی میری تصویر اتاری مگر جیسے  ہی اس نے  ٹریگر دبایا  میرا دل نورانیت سے  خالی ہو گیا۔ خیر یہ تو اپنے  اپنے  ایمان کی بات ہے۔ حج تو ایک اجتماعی عمل ہے۔ اور مسجدِ عائشہؓ میں  بھی اجتماعیت نظر آتی ہے۔ ہم نے  مسجد میں  پہنچ کر دو نفل تحیۃ المسجد اور دو نفل احرام و عمرہ کے  ادا کئے۔ یہاں  بھی ایک چھوٹا سا بازار ہے۔ ضروریات کی تمام چیزیں  یہاں  دستیاب ہیں۔ غسل اور وضو استنجا کے  لئے  عورتوں  اور مردوں  کے  علیحدہ علیحدہ حمام موجود ہیں۔ مسجد کے  باہر حرم شریف جانے  کے  لئے  ہر وقت سواریاں  موجود رہتی ہیں۔

مسجد سے  باہر نکلے  تو حرم!حرم!کی صدائیں  بلند  ہو رہی تھیں۔ یہ کوئی اجنبی منظر نہیں۔ پاکستانی اڈوں  کی طرح ہر گاڑی والا اس کوشش میں  ہوتا ہے  کہ پہلے  میری گاڑی بھر جائے۔ اگرچہ تمام ڈرائیوروں  نے  عربی لباس زیبِ تن کیا ہوتا ہے۔ مگر ان میں  سے  کئی ایک پاکستانی ہوتے  ہیں۔ اگر پاکستانی نہیں  تو کم از کم اردو سمجھنے  والے  ہوتے  ہیں۔ زبان کا مسئلہ پیدا نہیں  ہوتا۔ اس مسجد کا نام مسجدِ تنعیم بھی ہے۔ یہ حدودِ حرم کی سرحد پر ہے۔ سڑک پر حدودِ حرم کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ یہاں  سے  حرم تک واپسی کا کرایہ بھی دو دو ریال ہے۔ گاڑی میں  سوار ہوئے  تو حجاج کرام نے  تلبیہ کی تلاوت شروع کر دی۔ تین بار تلبیہ کے  الفاظ دہرانا تو ضروری ہوتا ہے۔ حج کے  دنوں  میں  تو سب سے  بڑا وظیفہ یہی ہوتا ہے۔ مگر عمرہ میں  لوگ عام طور پر سنت پوری کرنے  کی ہی کوشش کرتے  ہیں۔ عمرہ میں  حج جیسا جوش و جذبہ دیکھنے  میں  نہیں  آتا۔ لوگ تھکے  تھکے  سے  لگتے  ہیں۔ حرم شریف پہنچ کر، طواف و سعی سے  فارغ ہو کر ڈیرے  کی طرف روانہ ہوئے  تو صحن حرم میں  دو تین بھائیوں  نے  ٹنڈ کرنے  کی دعوت دی۔ مگر سابقہ تجربہ کی بنا پر ہم معذرت ہی کرتے  رہے۔ پہلے  عمرہ کے  وقت کرنسی کی ویلیو کا احساس نہیں  تھا۔ جب سعی سے  فارغ ہو کر مروۃ سے  ملحقہ سیلون میں  گیا تو انہوں  نے  حلق کرنے  کے  دس ریال مانگے۔ میں  نے  بخوشی دے  دئیے۔ بعد میں  حساب کیا تو یہ پاکستانی ایک سو ساٹھ روپے  بنتے  تھے۔ سو آئندہ کے  لئے  اس فضول خرچی سے  توبہ کر لی۔ سیفٹی، بلیڈ،قینچی اپنے  پاس تھی سو ہم نے  اپنی مدد آپ کے  تحت حلق و قصر کا فریضہ خود ادا کر لیا کرتے  تھے۔

 

اپنی مدد آپ

 

بیمار آدمی کا نہ صرف بدن بلکہ اس کا مزاج بھی بیمار ہوتا ہے۔ جو چیز صحت مند کو مرغوب ہوتی ہے  بعض مریضوں  کو وہ ناپسند ہوتی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے  ساتھ تھا۔ ہماری بلڈنگ میں  ہمارا کوئی مشترکہ سلسلہ تو تھا نہیں۔ سب کے  کھانے  پینے  کا انفرادی انتظام تھا۔ ہماری بلڈنگ کے  قریب ایک سادہ سا ہوٹل تھا۔ بوقت ضرورت  حاجی صاحبان وہاں  جا کر کھانا کھا آتے  یا لے  آتے  اور دوچار ساتھی مل کر کھا لیتے۔ ہوٹل کا عملہ اور مالک لاہوری تھے۔ سالن روٹی پاکستانی نوعیت کا ہوتا۔ مگر اس میں  کچھ مقامی رنگ بھی ہوتا۔ دال سبزی وغیرہ روٹی سمیت چار ریال کی دیتے۔ سالن میں  تیل کی تری ضرورت سے  زیادہ ہوتی۔ روٹی کا سائز اتنا بڑا کہ دو نوجوانوں  کو تین روٹیاں  کفایت کر جاتیں۔ روٹی کا سائز بڑا مگر کوالٹی پاکستانی۔ باریک آٹے  کی میدے  کی طرح، اگر ٹھنڈی ہو جائے  تو ہمارے  جیسے  بے  دانت بوڑھے  کے  لئے  اس کا چبانا یا نگلنا مشکل ہو۔ ہم دو روز مجبوراً ہوٹل کا کھانا کھاتے  رہے۔ ہماری اہلیہ کی عجیب عادت ہے  ہر چیز کو کھانے  سے  پہلے  سونگھنا اور چکھنا ضروری سمجھتی ہیں۔ ہوٹل والے  سالن یا چاول وغیرہ پلاسٹک کے  ڈبوں  میں  پیک کر کے  دیتے  ہیں۔ ڈبہ کھولتے  ہی انہیں  ابکائی ہونے  لگتی۔ چند دن وہ پیٹ بھر کر کھانا نہیں  کھا سکیں۔ میں  نے  بسکٹ،بند،ڈبل روٹی کھلانے  کی کوشش کی تو اس نے  کھانے  سے  انکار کر دیا۔ گھر میں  بھی وہ یہ چیزیں  نہیں  کھاتیں۔ گھر تو خیر بچے  انہیں  سنبھالتے  تھے۔ مجھے  کوئی  پروا نہیں  تھی۔ اب پردیس میں  یہ بوڑھی بچی میرے  لئے  بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ بڑی سوچ بچار کے  بعد ایک ہی حل سوجھا کہ خود کھانا پکانے  کا انتظام کرتے  ہیں۔ بلڈنگ میں  گیس کا چولہا موجود تھا۔ صرف چند برتنوں  کی ضرورت تھی۔ میں  نے  چوکیدار سے  مشورہ کیا۔ اس نے  پینتالیس ریال میں  ایک دیگچہ اور نمک مرچ وغیرہ لا دیا۔

کوکنگ کا سامان آ گیا مگر پکائے  کون۔ میرا خیال تھا کہ محترمہ کچھ تعاون فرمائیں  گی۔ مگر ان کا تعاون صرف مشورہ اور نمک مرچ ڈالنے  کی حد تک تھا۔ اور میرا اس سلسلے  میں  کوئی خاص تجربہ نہیں۔ چھڑے  پن کا تجربہ بہت پرانا ہو چکا ہے۔ اور تبلیغ میں  ہم اُس وقت لگے  جب سیکھنے  کی اہلیت کمزور پڑ چکی تھی۔ اب تبلیغ پہ جاتے  ہیں  تو جوان حضرات بزرگ سمجھ کر ہمیں  خدمت کا موقع ہی نہیں  دیتے۔ پھر بھی جو باتیں  زبانی کلامی سیکھی ہیں  وہ کام آ رہی ہیں۔

 

آموختہ آید بکار

 

بعض دفعہ بچپن کی سیکھی ہوئی باتیں  بڑھاپے  میں  آ کر بہت کام دیتی ہیں۔ بچپن میں  ہم مٹی،سرکنڈوں،دھاگوں  اور ڈنڈوں  سے  کئی قسم کے  کھیل کھیلتے  رہے  ہیں۔ ان کھیلوں  میں  سیکھے  ہوئے  کئی گُر کئی جگہوں  پر کام آئے  ہیں۔ اس حوالے  سیبچیوں  کو دیکھیں  تو گڈی گڈے  کا کھیل ان کے  گرہستی بننے  کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے  ہنر جو بھی ہو کبھی نہ کبھی کام آ جاتا ہے۔ تبلیغ میں  ہمارا زیادہ وقت نہیں  لگا۔ سو ہم تبلیغی نہیں  بن سکے  مگر اس ماحول سے  جو تھوڑا سا سیکھا ہے  وہ زندگی کے  ہر موڑ پر کام آ رہا ہے۔

کہتے  ہیں  اللّٰہ کے  راستے  میں  نکلنے  سے  اللّٰہ تعالیٰ دو بڑے  انعامات سے  نوازتا ہے۔ اپنے  علم سے  علم عطا فرماتا ہے  اور اپنے  حلم سے  حلم عطا فرماتا ہے۔

تبلیغ اصل میں  ایک تربیتی نظام ہے۔ اس نظام سے  اختلاف رکھنے  والے  بھی اس امر کے  معترف ہیں۔ اس نظام میں  چھ نمبر کلمہ،نماز،علم و ذکر، ا کرام مسلم،تصحیح نیت اور دعوت و تبلیغ ابتدائی مگر بنیادی اسباق ہیں۔ یہ چھ باتیں  مسلمانوں  کے  تمام مکاتب فکر کی مشترکہ باتیں  ہیں۔ ان میں  کوئی اختلاف نہیں۔ اور تبلیغ کا مقصد بھی یہی ہے  کہ ان آسان سے  بنیادی اصولوں  کو آسان انداز سے  مسلمانوں  تک پہنچانے  کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کہ پوری امت میں  محبت اور اخوت کی فضا پیدا ہو جائے۔ اور فرقہ فرقہ بکھرے  ہوئے  فرقے  ایک وحدت کی شکل اختیار کر لیں۔ ان مقاصد کے  حصول کے  لئے  ہجرت و نصرت کی سنت کے  مطابق گھر سے  نکل کر محض اللّٰہ کی رضا کے  لئے  قریہ بہ قریہ گھوم کر کلمے  کی صدا لگانی یہ اندازِ تبلیغ ہے۔ یہ انداز کافی حد تک حج سے  مماثلت رکھتا ہے۔

حاجی جب گھر سے  نکلتا ہے  تو اس کے  پیشِ نظر صرف اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کا طریقہ ہوتا ہے۔ گھر سے  نکلتے  ہی مخلوق کی نفی اور خالق کا اثبات محسوس ہونے  لگتا ہے۔ اور یہ احساس مرحلہ بہ مرحلہ ترقی کرتا رہتا ہے۔ جس طرح سفرِ حج میں  تکلیف و مشقت لازمی ہے  اس طرح تبلیغ میں  ایسے  مرحلے  آتے  ہیں۔ دیکھا جائے  تو تبلیغ اصل میں  حج اور دوسرے  ارکانِ اسلام کی اہمیت و فضیلت بتانے  کا ایک ذریعہ ہے۔ حضورﷺ کے  حج مبارک کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو حج کا مقصد مناسکِ حج سے  فراغت کے  بعد اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولؐ کے  پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانا ضروری ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطاب میں  حضورﷺ نے  تمام حاضرین کو مخاطب کرتے  ہوئے  فرمایا تھا:۔

“سنوجولوگ یہاں  موجود ہیں  انہیں  چاہئے  کہ یہ احکام اور باتیں  ان لوگوں  کو بتا دیں  جو یہاں  نہیں  ہیں۔ ہو سکتا ہے  کہ کوئی غیر موجود تم سے  زیادہ سمجھنے  اور محفوظ رکھنے  والا ہو”

حضورﷺ کے  اس ارشاد کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو حج سے  واپس آنے  والوں  کو دین اسلام کو پورے  عالم میں  پھیلانے  کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔ اور اسلام کیا ہے ؟سیدھے  سادھے  لفظوں  میں  کہا جا سکتا ہے  کہ “اللّٰہ کے  حکموں  کو حضرت محمدﷺ کے  طریقے  کے  مطابق ماننا اسلام ہے “تفصیلات میں  جائیں  تو یہ مختصر جملہ پوری زندگی پر محیط نظر آتا ہے۔ اپنی ساری زندگی کو اللّٰہ اور اللّٰہ کے  نبیؐ کے  سپرد کرنا پڑتا ہے۔

دین کا تقاضا تو یہ ہے  کہ ہر کام کرتے  وقت اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کی سنت کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ اور ہر کام میں  اللّٰہ کو راضی کرنا مقصود ہو۔ یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  جب یہ یقین ہو کہ اللّٰہ دیکھ رہا ہے،اللّٰہ سن رہا ہے،اللّٰہ ہمارے  ساتھ ہے، وہ ہمارے  ہر عمل سے  باخبر ہے۔ اس کے  ساتھ ساتھ اللّٰہ اور اس کے  وعدوں  پر پکا یقین ہو۔ نویدوں  اور وعیدوں  یعنی اعمال کے  فضائل کاپورا پورا استحضار اور یقین ہو۔ اور جب یقین ہو گا تو عمل کرنے  کا شوق پیدا ہو گا۔ اور یہ ذوق و شوق ہی ہے  جو کچھ کرنے  پر ابھارتا ہے۔ یقین جتنا پختہ ہو گا اتنا شوق پختہ ہو گا۔ اور جتنا شوق زیادہ ہو گا اتنا عمل میں  جان کھپانے  کا جذبہ پیدا ہو گا۔ اور ظاہر ہے  کہ ہر کام میں  کچھ نہ کچھ زحمت و مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ اور اہلِ عشق و محبت کے  ہاں  تو اصل ثمرہ لذتِ مشقت ہے۔ اس بات کو تبلیغ کی لغت میں  نفس کا مجاہدہ کہا جاتا ہے۔ حج کرنے  والوں  کو اس امر کا خوب تجربہ ہے۔ حج میں  واقعی مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر نفس کے  مجاہدہ کا تجربہ ہو تو یہ مشقت زیادہ شاق نہیں  گذرتی۔ ہم نے  بھی جو تھوڑا بہت سبق یاد کیا تھا دورانِ حج بہت کام آیا۔

حاجی کیمپ میں  داخل ہوتے  ہی میں  نے  اپنی اہلیہ کی برین واشنگ شروع کر دی تھی۔ یہ ترغیبی عمل نہ صرف میرے  مفلوج ساتھی بلکہ میرے  لئے  بھی بہت ضروری تھا۔ میں  نے  شروع ہی سے  مخلوق کی نفی اور خالق کی قدرت و قوت اور اس کے  فضل و کرم کا تذکرہ کرنا شروع کر دیا۔ اللّٰہ سے  ہونے  اور غیر سے  اللّٰہ کے  حکم کے  بغیر کچھ نہ ہونے  کی بات بات بے  بات دہراتا رہتا۔ جہاں  موقع ملتا حضورﷺ کی سنتوں  کی فضیلت ضرور بتاتا۔ کبھی تلبیہ اور تلبیہ کے  معانی بتاتا۔ کبھی موقع محل کی دعاؤں  کے  حوالے  سے  اللّٰہ کی مدد،مہربانی، رحمت،کرم، بڑائی اور قدرت وغیرہ کا تذکرہ چھیڑ دیتا۔ موقع ملتا تو صحابہ ؓ کے  مناقب سنانا شروع کر دیتا۔ اس ترغیبی عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ دورانِ سفر اللّٰہ کے  فضل و کرم سے  باوجود شدید محنت و مشقت کے  یک گونہ اطمینان نصیب رہا۔

مخلوق سے  بے  رغبتی پیدا کرنے  کے  لئے  میں  نے  ارادہ کر لیا کہ کسی سے  سوال نہیں  کرنا۔ نہ صرف زبان بلکہ دل سے  بھی کسی سے  کوئی غرض نہیں  رکھنی۔ تبلیغ والے  اسے  اشراف کہتے  ہیں۔ اس کے  ساتھ ساتھ یہ بھی تلقین کی جاتی ہے  کہ اسراف یعنی فضول خرچی نہیں  کرنی۔ اور بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہیں  کرنی۔

مخلوق سے  کسی قسم کی مدد واستعانت کی امید رکھنا ایک طرح کا شرک ہے  اور فضول خرچی شیطانی وصف ہے۔ ان باتوں  کا تعلق تو ممنوعات سے  ہے۔ کرنے  کے  کاموں  میں  زیادہ زور اللّٰہ رسولؐ کے  پیغام کی ترسیل و تبلیغ پر دیا جاتا ہے۔ اور یہ کام باہمی تعلیم و تعلم یعنی سیکھنے  سکھانے  کے  اصول کے  تحت کیا جاتا ہے۔ اللّٰہ کا دھیان تو گویا چوبیس گھنٹے  کا کام ہے۔ اور دھیان جمانے  کی لئے  ذکرو عبادت کا خصوصی اہتمام ضروری ہے۔ اور ان سارے  اعمال میں  اخلاص نیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ خدمتِ خلق کا جذبہ تالیفِ قلب کے  لئے  نہایت ضروری ہے۔ اور حکماء کے  قول کے  مطابق کم کھانا، کم سونا،کم بولنا روحانی تربیت کے  لئے  نہایت ضروری ہے۔ یہ چند باتیں  جو میں  نے  اپنے  تربیتی سفروں  میں  سیکھی تھیں  بیگم سے  گاہے  بگاہے  ان کا مذاکرہ کرتا رہتا تھا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ بہت سے  مشکل مرحلے  آسانی سے  طے  ہونے  لگے۔ اللّٰہ کی مہربانی سے  سارے  سفر میں  کوئی بات ہمارے  لئے  باعث نزاع نہیں  ہوئی۔ حالانکہ یہاں  والوں  کو یہی گمان تھا کہ کہیں  دونوں  میاں  بیوی آپس میں  لڑتے  نہ رہیں۔ یہ ان کی خام خیالی تھی۔ انہیں  فکر تھی کہ ابو خود بیمار ہیں  امی کی تیمار داری اور نگہداشت کیسے  کریں  گے۔ مگر انہیں  یہ معلوم نہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔ تنازع اس وقت پیدا ہوتا ہے  جب مفادات میں  الجھاؤ یا  ٹکراؤ ہو۔ اور ہم میں  تو اللّٰہ کی مہربانی سے  پوری ہم آہنگی تھی۔ ہمارے  مفادات ومسائل سب سانجھے  تھے۔ میرے  ترغیبی عمل نے  بھی سفر کو مبارک اور خوشگوار بنانے  میں  اہم کردار ادا کیا۔

 

نوکر حاجن دا

 

ایک زمانہ میں  “نوکر وہٹی دا “بڑا مشہور تھا۔ یہ پنجابی جملہ زن مریدی کے  طعنہ کے  طور پر دیا جاتا تھا۔ میں  نے  اس طعنہ کو اپنا ماٹو بنا لیا۔ مذاق مذاق میں  “نوکر وہٹی دا”کے  بجائے  میں  نے  اپنے  آپ کو”نوکر حاجن دا”کہنا شروع کر دیا۔ نہیں  !نہیں !بلکہ عملی طور پر میری پوزیشن نوکر کی سی تھی۔ کھانا پکانا،کھانا کھلانا اور کپڑے  دھونا تو میری خاص ڈیوٹی تھی۔ اس کے  علاوہ عام ذمہ داریاں  عام تھیں۔ اٹھانا،بٹھانا،وضو کرانا،ورزش کرانا،دوائی کھلانا وغیرہ یہ عام ذمہ داریاں  تھیں۔ سچ پوچھیں  تو یہ سب کچھ ثواب کے  لالچ میں   ہو رہا تھا۔ ثواب کا لالچ نہ ہوتا تومیں  قطعاً حاجن کا نوکر نہ بنتا۔ ہو سکتا ہے  اس کی گذشتہ خدمات کا احساس بھی کبھی ہو جاتا ہو۔ ہاں  اس کی بیماری اور لاچاری پر ترس تو ضرور آتا تھا۔ دل میں  آتا تھا کہ گھر میں  تو بیچاری کے  کئی خدمتگار تھے  یہاں  اپنے  آپ کو بے  یار و مددگار نہ سمجھنے  لگے۔ تفصیلاً کیا عرض کروں۔ اس وقت کے  جذبات واحساسات پوری طرح یاد بھی نہیں۔ اس وقت کی سوچ تو یہی ہے  کہ عمر بھر وہ بیوی کی حیثیت سے  میری خدمت کرتی رہی ہے۔ اللّٰہ نے  چند دنوں  کے  لئے  مجھے  خاوند کی حیثیت سے  اس کا حق ادا کرنے  کی توفیق دی۔ اللّٰہ کا شکر ہے  کہ میں  نے  اللّٰہ کے  حکم اور نبیؐ کے  طریقے  کے  مطابق اس کا کچھ حق ادا کرنے  کی کوشش کی۔ میں  اپنے  آپ کو نوکر وہٹی دا یا نوکر حاجن دا کہتے  ہوئے  شرم نہیں  فخرمحسوس کرتا ہوں  کہ حضورﷺ نے  عورتوں  کے  حقوق پورا کرنے  کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطبہ سے  معلوم ہوتا ہے۔ سیرتِ نبویؐ کے  مطالعے  سے  یہ حقیقت کھل کر سامنے  آ جاتی ہے  کہ عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے  کے  لئے  ازواجِ مطہرات کو خوش رکھنے  کی پوری پوری کوشش فرمائی۔

 

بکھری بکھری یادیں

 

آج اپریل ۲۰۰۵؁ء کی غالباً آٹھویں  ہے۔ حج سے  واپس آئے  تقریباً ڈیڑھ ماہ گذر چکا ہے۔ اب تک جو کچھ عرض کیا ہے۔ وہ مناسکِ حج کی ترتیب کے  حساب سے  مرتب تھا۔ اس لئے  اسے  یاد کرنے  کے  لئے  دماغ پر زیادہ زور نہیں  دینا پڑا۔ اب مناسکِ حج کے  اعمال و احوال یاد رکھنا مجھے  بہت محبوب ہے  کہ میری زندگی کے  قیمتی ترین وہی لمحات ہیں  جو مکہ، مدینہ کی فضاؤں  میں  گذرے  ہیں۔ اعمال و احوال سے  ہٹ کر کسی اور طرف متوجہ ہونے  کی ہمیں  فرصت نہیں  ملی۔ مگر ان اعمال کے  دوران بعض قابلِ ذکر اور مفید قسم کی واردات کا تجربہ بھی ہوا ہے۔ ان کا ذکر بھی قارئین کے  لئے  یقیناً خوشگوار ہو گا۔

یہ تو عام مشاہدہ و تجربہ ہے  کہ ہر حاجی کے  دوست احباب اور عزیز و اقارب دعاؤں  کی خاص درخواست کرتے  ہیں۔ ان کی درخواستیں  بوقت دعا یاد آ جاتی ہیں۔ مگر کچھ ایسے  بھولے  دوست احباب یا رشتے  دار ہوتے  ہیں  جن سے  بچھڑے  مدتیں  گذر جاتی ہیں۔ ان سے  ملاقات نہیں  ہوتی۔ بلکہ کئی ایسے  بھی ہوتے  ہیں  جن کا نام تک آدمی بھول چکا ہوتا ہے۔ بوقت دعا ان کی یاد عجیب حیرانی اور مسرت کا باعث بنتی ہے۔

 

ایصالِ ثواب

 

میرے  ایک خالہ زاد بھائی تھے۔ سداکے  کنوارے،نہ بیوی نہ بچے،درویش منش انسان تھے۔ عمر میں  ہم سے  بڑے  تھے۔ اتنے  بڑے  کہ میرے  بڑے  بھائی صاحب کو بھی کھلاتے  رہے  ہیں۔ مگر یہ باتیں  اس وقت تک کی ہیں  جب تک ہم گاؤں  میں  اکٹھے  تھے۔ ملازمت کے  سلسلے  میں  ہم شہر آ گئے  تو ملاقاتیں  کم ہو گئیں۔ کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تو معمولی سی سلام دعا ہو جاتی۔ انہیں  فوت ہوئے  بارہ،چودہ سال تو ہو ہی گئے  ہوں گے۔ اس دوران انہیں  یاد کرنے  کا کوئی خاص موقع نہیں  آیا۔ قدرت خدا کی ایک روز ہم میاں  بیوی زیارتِ کعبہ میں  محو تھے  کہ یکدم مجھے  اپنی مرحومہ بیٹی کا خیال آ گیا۔ وہ میرے  مرحوم خالہ زاد کو ماماں  پپو،چاچا پپو کہا کرتی تھی۔ میں  نے  بیوی سے  پوچھا روبی لالے  پپوکو چاچا پپو کہتی تھی یا ماما پپو،اس نے  بتایا ماما پپو۔ اصل میں  میری بڑی بھابی صاحبہ کے  چچا لگتے  تھے۔ اس وجہ میرے  بھتیجے  بھتیجیاں  انہیں  ماموں  کہتے  تھے۔ اور ان کی دیکھا دیکھی میرے  بچے  بھی انہیں ماماں  پپو کہتے  تھے۔ مرحوم کا نام تومحمدحسین تھا مگر بچپن میں  انہیں  لاڈ سے  پپو کہا جاتا تھا۔ اور یہ لفظ آخر تک ان کے  نام کا بدل رہا۔ اس نام کے  تذکرہ سے  گویا ماضی کے  دریچے  کھل گئے۔ بہت سے  بھولے  بسرے  چہرے  آنکھوں  کے  سامنے  لہرانے  لگے۔ ہر چہرہ ملتجی تھا کہ ہمارے  لئے  بھی اللّٰہ کے  حضور ہاتھ پھیلا کر مغفرت کی درخواست کر دیں۔ سومیں  نے  اپنی اہلیہ سے  کہا کہ حاجی صاحبہ اپنے  تمام مرحوم عزیز و اقارب کی مغفرت کے  لئے  خصوصی دعا فرمائیں۔ ہم کافی دیر تک مرحومین کے  لئے  دعائیں  کرتے  رہے۔ معاً مجھے  خیال آیا کہ بھائی محمد حسین (پپو) کے  لئے  طواف کرنا چاہیے۔ سواللّٰہ کی مہربانی سے  اسی روز میں  نے  اس کے  ایصال ثواب کے  لئے  طواف کیا اسی حوالے  سے  ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔

ایک روز ہم طواف سے  فارغ ہو کر واپسی کے  ارادہ سے  باب فہد کی طرف آ رہے  تھے۔ میری اہلیہ کی ایک خاتون پر اچانک نظر پڑ گئی۔ اس نے  مجھے  اس طرف متوجہ کیا تو میں  دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ خاتون بالکل میری مرحومہ بھابی کی طرح بڑے  خشوع و خضوع سے  محوِ دعا ہے۔ شکل و صورت اور اندازسے  بالکل بھابی کے  مشابہ تھی۔ مگر اتنی مشابہت کے  باوجود وہ ہمارے  لئے  غیر تھی۔ ہم اس سے  تعارف نہیں  کر سکے۔ میری اہلیہ کہنے  لگی آج بھابی کے  ایصالِ ثواب کے  لئے  طواف کرینگے۔ میں  نے  کہا صرف میری نہیں  تمہاری مرحومہ بھابی کے  لئے  بھی۔ چنانچہ اگلے  روز میری اہلیہ نے  میری بھابی اور میں  نے  اس کی بھابی کے  ایصالِ ثواب کے  لئے  طواف کیا۔

نفلی عمرہ کرتے  وقت مسجدِ عائشہؓ میں  ایک عالم سے  ملاقات ہوئی۔ اس نے  بتایا کہ اپنی صحت کے  حساب سے  جتنے  عمرے  آدمی کر سکتا ہے  کرے۔ ان کی کوئی تعداد متعین نہیں۔ پھر اگر کسی کو ایصالِ ثواب کرنا ہو تو عمرہ کرنے  والے  کے  اپنے  ثواب میں  کوئی کمی نہیں  آئے گی۔ سومیری اہلیہ نے  میرے  والدین اور میں  نے  اس کے  والدین کے  لئے  ایک ایک عمرہ کیا۔ ایصالِ ثواب کے  عمروں  اور طواف سے  جو خوشی ملی ہے  بیان سے  باہر ہے۔

اپنوں  کو یاد کرنا تو ایک فطری امر ہے۔ میں  ارادتاً غیر معروف غیروں  کے  لئے  بھی دعاگو رہا ہوں۔ بچپن کے  دوست جو دنیا سے  رخصت ہو چکے  ہیں۔ ملازمت کے  زمانے  کے  ساتھی چپراسی سے  لے  کر پرنسپل صاحب تک تمام کے  لئے  دعائے  مغفرت کرنا میرا خاص معمول تھا۔ اس کے  علاوہ غلبۂ اسلام،مسلمانوں  کے  باہمی اتحاد اور عملی طور پر دنیا میں  دین کے  نفاذ کی دعائیں  تو عام دعائیں  ہیں۔ پھر کچھ دعائیں  اور سلام امانت ہوتے  ہیں۔ ان امانتوں  کی ادائیگی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس موقع پر مجھے  اپنی بے  بسی اور بے  کسی یاد آ رہی ہے  قارئین سے  گذارش ہے  اپنی دعاؤں  میں  اس فقیر کو بھی یاد فرما لیا کریں۔ اور جب کبھی دربار خدا اور دیارِ محبوبِ خدا میں  حاضری ہو تو میری مغفرت کے  لئے  خصوصی دعا فرمانا۔

حضورﷺ کے  حضور سلام عرض کرنا۔

 

مزہ تو جب ہے

 

نشہ پلا کے  گرانا توسب کو آتا ہے

مزہ تو جب ہے  کہ گرتے  کو تھام لے  ساقی

یہ ایک عام ساشعرہے،بچپن میں  کہیں  سے  سن کر یاد کر لیا تھا۔ اس وقت کے  تاثر کا علم نہیں  مگر جب مکہ شہر میں  پہلی دفعہ گرا تو دل کی گہرائی سے  ہوک اٹھی

“مزہ تو جب ہے  کہ گرتے  کو تھام لے  ساقی”

مکہ شریف آمد کا دوسرایا تیسراروزتھا۔ میں  تنہا نمازِ مغرب کے  بعد شارع جبلِ کعبہ کے  راستے  واپس ڈیرے  پر آ رہا تھا۔ یہ راستہ چڑھائی والا راستہ ہے۔ دوسرے  صاف راستہ کا مجھے  علم نہیں  تھا۔ جب میں  چڑھائی چڑھ چکا تو کافی تھک چکا تھا۔ میں  دائیں  فٹ پاتھ پر آہستہ آہستہ چل رہا تھا کہ ایک دم میرا پاؤں  پھسل گیا۔ میں  دھڑام سے  سڑک پر آ گرا۔ اس وقت کوئی خاص چوٹ تو نہیں  لگی۔ مگر اندر ہل گیا۔ تنہائی اور بے  بسی کا شدیداحساس ہوا۔ دل میں  خیال ہوا۔ اے  اللّٰہ تیرے  شہر میں  بھی میں  پردیسی ہوں !دل میں  اس خیال کا آنا تھا کہ پیچھے  سے  ایک اجنبی آدمی نے  سہارادے  کر مجھے  اوپر اٹھا کر دلاسہ دیا۔ یہ اٹھانے  والا مجھے  اٹھا کر دلاسہ دے  کر چلا گیا۔ میں  پھر تنہا رہ گیا۔

تنہائی ایک طرح سے  نعمت ہے  کہ آدمی ہجوم سے  کٹ کر اپنے  قریب آ جاتا ہے۔ میں  مکہ کی شارع کعبہ پر لنگڑاتا چل رہا ہوں۔ میراسڑک پر گرنا کوئی بڑا حادثہ نہیں  مگر اس معمولی سے  واقعہ نے  دل کے  اندر ایک ہل چل سی مچا دی۔ عجیب قسم کی سوچیں، اور کیفیتیں  پیدا  ہو رہی تھیں۔ سوالات و اشکالات کا سلسلہ چل رہا تھا۔ کبھی اپنے  سے  کبھی زمانے  سے  کبھی اللّٰہ سے  مکالمہ  ہو رہا تھا کہ ایک واقعہ یاد آ گیا۔

 

قبول!قبول!حج قبول

 

ایک صحابی کی اہلیہؓ نے  ایک روز بغیر کوئی وجہ بتائے  طلاق کا تقاضا کر دیا۔ صحابیؓ نے  وجہ پوچھی تو وجہ بتانے  سے  انکار کر دیا۔ اس روز تو بات آئی گئی ہو گئی۔ چند روز بعد پھر وہی طلاق کا تقاضا شروع ہو گیا۔ آپؓ وجہ پوچھتے  مگر اہلیہ بتانے  سے  گریز کرتی۔ ایک روز دونوں  میاں  بیوی نے  یہ مقدمہ حضورﷺ کے  حضور پیش کرنے  کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ دونوں  میاں  بیوی حضورﷺ سے  فیصلہ کرانے  کے  لئے  گھر سے  نکلے۔ مگر ابھی تھوڑی دور ہی گئے  تھے  کہ صحابیؓ کو ٹھوکر لگی اور وہ گر پڑے۔ ظاہر ہے  گرنے  سے  کوئی چوٹ وغیرہ بھی آئی ہو گی۔ اہلیہ نے  اٹھایا اور گھر واپس جانے  کا تقاضا کیا۔ صحابیؓ نے  کہا کہ ہم تو حضورﷺ کے  پاس مقدمہ لے  کر جا رہے  ہیں۔ واپس کیسے  جائیں۔ اہلیہ نے  کہا کہ اب فیصلہ ہو چکا۔ میں  طلاق کا تقاضا واپس لیتی ہوں۔ صحابیؓ نے  وجہ پوچھی تو فرمانے  لگیں  کہ ہماری شادی کو کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ اس دوران میں  نے  آپ کو کسی آزمائش میں  مبتلا ہوتے  نہیں  دیکھا۔ اس لئے  مجھے  آپ کے  ایمان پر شک ہونے  لگا۔ اب آپ گرے  ہیں  تو مجھے  آپ کے  ایمان پر شک نہیں  رہا۔ اللّٰہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو مصائب و آلام کے  ذریعے  آزماتا ہے۔ یہ گرنا آپ کی آزمائش تھی۔ اس واقعہ کے  یاد آنے  سے  بہت تسکین ہوئی۔ مگر

“ابھی عشق کے  امتحاں  اور بھی ہیں ”

محبوب کی گلی میں  گرنے  کی لذت اور ہے  اور اس کے  در پہ گرنے  کا تجربہ اور ہے۔ اور دَر پر گرنے  کا تجربہ اتنا شدید تھا کہ آج تک اس کا دردمحسوس  ہو رہا ہے۔

ایک روز ہم چاشت کے  وقت طواف کی نیت سے  حرم شریف پہنچے۔ مسجد میں  داخل ہونے  سے  پہلے  کعبے  کے  کبوتروں  کے  آگے  کچھ دانہ ڈالنا ہمارا معمول تھا۔ کبوتروں  کی جگہ مسجد کے  جنگلے  کے  باہر ہے۔ دانہ ڈال کر صحن مسجد میں  داخل ہونے  لگے  تو وہاں  صفائی کا عملہ مصروف کار تھا۔ صفائی کے  لئے  چھوٹی چھوڑی گاڑیوں  کی شکل کی مشینیں  استعمال ہوتی ہیں۔ ان پر Coptor کا لفظ لکھا ہے۔ میں  انہیں  کعبہ کے  کبوتر کہتا ہوں۔ ان مشینوں  کے  نیچے  فوم سالگا ہوتا ہے۔ صفائی کا عملہ عام قسم کے  برتنوں  سے  پانی ڈالتا جاتا ہے۔ پیچھے  سے  دوسرے  ساتھی بڑی چابکدستی سے  وائپر لگاتے  جاتے  ہیں  اور آخر میں  کاپڑ پانی وغیرہ خشک کرتے  جاتے  ہیں۔ حرم شریف کے  صحن میں  بھی ماربل لگا ہوا ہے۔ اس فرش پر جب پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے  توزبردست پھسلن ہو جاتی ہے۔ تو جس وقت ہم صحنِ مسجد میں  داخل  ہو رہے  تھے۔ صفائی کا کام جاری تھا۔ مسجد کے  داخلہ والے  جنگلے  پر بھی چھڑکاؤ کیا ہوا تھا۔ میں  نے   اہلیہ کو پھسلن سے  بچنے  کی تاکید کی۔ مگر اس کی فکر کرتے  کرتے  خود پھسل گیا۔ ایساپھسلاکہ بائیں  ٹانگ پھر گئی۔ بائیاں  گھٹنا پہلے  بھی درد کرتا تھا۔ پھسلنے  سے  مزیدسوج گیا۔ ایک آدمی نے  مجھے  بڑی مشکل سے  اٹھایا۔ اللّٰہ اسے  جزائے  خیر دے۔ اس گرنے  نے  میرے  اندر کو  ہلا کر رکھ دیا۔ اس وقت میرے  دل میں  اپنے  میزبان کے  بارے  میں  کچھ شکوہ و شکایت بھی پیدا  ہو رہی تھی۔ دل کہہ رہا تھا۔ گھر بلا کر تو ایسانہیں  کرتے !پھر مہمانوں  کے  ساتھ!اے  گرانے  والے  کیا میں  تیرا مہمان نہیں ؟ کیا یہ تیرا گھر نہیں ؟اس کے  ساتھ ساتھ یہ آواز بھی آ رہی تھی۔ ہاں !یہ میرا گھر ہے۔ اور میرے  گھر میں  آنے  والوں  کو دل صاف کر کے  آنا چاہئے۔ میری قدرت اور کبریائی کا یقین ہونا چاہئے۔ میں  خالق و مالک و مختار ہوں۔ میرے  دربار میں پوری مخلوق کی نفی کر کے  آنا ہے۔ اس سوچ کے  ساتھ مجھے  اپنے  گذشتہ عمرہ کی کیفیات یاد آ گئیں۔ اس عمرہ سے  میں  بہت خوش تھا کہ مجھے  کوئی خاص مشقت نہیں  اٹھانا پڑی۔ خوشی کے  ساتھ ساتھ یک گونہ فخر بھی تھا۔ میں  سوچ رہا تھا۔ ’’ابھی تومیں  جوان ہوں ‘‘۔ اب ہر روز عمرہ کروں گا۔ شائد میں  نے  ان شاء اللہ نہیں  کہا تھا۔ اور اللّٰہ کو میری یہ حالت پسند نہیں  آئی۔ اس نے  مجھے  احساس دلانے  کے  لئے  کہ طاقت و توانائی کا سرچشمہ میری ذات ہے۔ میں  چا ہوں  تو ہدایت و عبادت کی توفیق دوں، نہ چا ہوں  توسب کچھ سلب کر لوں۔ اس تجربہ سے  اللّٰہ سے  ہونے  اور اللّٰہ کے  امر کے  بغیر غیر سے  کچھ نہ ہونے  کا یقین پختہ ہو گیا۔ یقیناً یہ گرانا میرا یقین بنانے  کے  لئے  تھا کہ جب بھی گھٹنے  میں  ٹیس اٹھتی ہے  زباں  پکار اٹھتی ہے

“اللّٰہ سے  ہوتا ہے  اللّٰہ کے  غیر سے  نہیں  ہوتا”

 

زیارتِ مکہ

 

عقیدت و محبت سے  کسی چیز یا شخصیت کو دیکھنا زیارت ہے۔ زیارت محض چشمِ ظاہر کے  مشاہدہ کا نام نہیں  اس میں چشمِ باطن کا متاثر ہونا بھی شامل ہے۔ چشمِ ظاہر کا مشاہدہ ایک مادی تجربہ ہے  مگر چشمِ باطن کا مشاہدہ روحانی واردات ہے۔ عام مشاہدہ سے  دماغ اور روحانی مشاہدہ سے  دل متاثر ہوتا ہے۔ اس حوالے  سے  سوچا جائے  تو زیارت کا مقصد محض معلومات حاصل کرنا نہیں  بلکہ روحانی تسکین حاصل کرنا ہے۔ اور روحانی تسکین کے  لئے  اللّٰہ کا ذکر ضروری ہے۔ پھر ذکر سے  مراد محض یاددہانی یا تکرارِ لفظی و معنوی نہیں  بلکہ عشق و محبت کے  جذبے  کے  ساتھ واصل باللّٰہ ہونے  کی خواہش کو پورا کرنے  کے  عمل کو ذکر کہا جا سکتا ہے۔ سومکہ و مدینہ کی زیارت کا مقصد آثارِ نبوت کے  مشاہدہ سے  اللّٰہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ میرے  نہاں  خانۂ دل میں  کچھ اسی طرح کے  جذبات تھے۔ میری روح قدم قدم پر حضورﷺ کے  نقوش پا کی متلاشی رہی ہے۔ مگر کیا کریں  آثارِ نبوتؐ پر وقت کی دبیز تہ جم چکی ہے۔ زمانہ نبوت کا مکہ مدینہ فلک بوس عمارتوں  کی اوٹ میں  اوجھل ہو چکا ہے۔ دور جدید کے  ملمع نے  عہدِ قدیم کی حقیقت و اصلیت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کتابوں  والا مکہ،مدینہ سنگِ مرمر کی تہوں  میں  مستور ہو چکا ہے۔ میں  سوچتا ہوں  کہ حرمین شریفین میں  لگے  ہوئے  مرمر کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیاروں  کے  نقوش ہائے  پا کا تحفظ فرمایا ہے۔ اگر یہ نہ سوچوں  تو میرے  پاس دماغ میں  پیدا ہونے  والے  بہت سے  اشکالات وسوالات کا کوئی جواز باقی نہیں  رہتا۔ میں  خیرالقرون کی تلاش میں  ہوں  جس کا منبع و مخزن مکہ مدینہ ہے۔

دین اسلام کو دین حنیف بھی کہا جاتا۔ شریعتِ محمدیؐ ایک طرح سے  شریعتِ خلیلؑ کا تسلسل ہے۔ حج کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تومناسکِ حج خاندانِ خلیلؑ کے  اعمال و افعال کی نقل ہیں۔ کعبہ و متعلقاتِ کعبہ کا تعلق خلیلؑ و خانوادۂ خلیلؑ کے  آثار و نوادرات سے  ہے۔ خود کعبہ جو کہ اللّٰہ کا گھر ہے، اس کی تعمیر حضرت ابراہیمؑ اور ان کے  فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیلؑ نے  اپنے  دستِ مبارک سے  فرمائی تھی۔ تعمیر ابراہیمی کے  بعد مختلف ادوار میں  کعبۃ اللّٰہ کی تعمیر و مرمت ہوتی رہی۔ بہت سی تبدیلیوں  کے  باوجود آج تک مقامِ ابراہیمؑ کی صورت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  حضرت ابراہیمؑ کے  پائے  مبارک کے  نقوش کو بطور معجزہ محفوظ فرما رکھا ہے۔

مقامِ ابراہیمؑ پر طواف کرنے  کے  بعد دو نفل ادا کئے  جاتے  ہیں۔ اس کا حکم قرآن پاک میں  آیا ہے۔ اس مقام پر ایک پتھر کو محفوظ کیا ہوا ہے۔ یہ وہ پتھر ہے  جس پر کھڑے  ہو کر حضرت ابراہیمؑ کعبۃ اللّٰہ کی تعمیر فرماتے  رہے  ہیں۔ قدرتِ خداوندی سے  حضرت ابراہیمؑ کے  نقوشِ پا اس پتھر پہ کندہ ہو گئے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیارے  خلیل کے  نقوش پاکو آج تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔ پھر اس خول کو بھی پیتل کے  جالی دار خول میں  محفوظ کیا ہوا ہے۔ اس خول کے  بالکل قریب کھڑے  ہو کر دیکھیں  تو نقشِ کفِ پائے  خلیل کی زیارت ہوتی ہے۔ یہ تو ظاہرہ نقشہ ہے۔ معنوی طور پر دیکھا جائے  تو نقوشِ خلیل کی زیارت کا مقصد کردارِ خلیل کی یاددہانی ہے۔

خانوادۂ خلیلؑ کے  دور کی اہم یادگار سعی ہاجرہؑ ہے۔ اس یادگار کے  پسِ منظر میں  شریعتِ ابراہیمی کا پورا نقشہ پوشیدہ ہے۔ شریعت کیا ہے ؟ اللّٰہ کی، اللّٰہ کے  رسول کے  طریقے  کے  مطابق ماننا۔ حضرت ابراہیمؑ ایک خاندان کے  سربراہ ہیں۔ ان کے  خاندان میں  ایک بیوی اور بیٹا دو  افراد ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ سربراہِ خاندان ہونے  کے  ساتھ ساتھ اللّٰہ کے  پیغمبر بھی ہیں۔ اس چھوٹے  سے  کنبے  کی معاشرت اصل میں  ابراہیمی شریعت کا خلاصہ ہے۔ پیغمبر نے  ہر معاملے  میں  اللّٰہ کی مانی۔ بیوی نے  امتی اور بیوی ہونے  کے  ناتے  اللّٰہ کے  حکم کے  آگے  پیغمبرؑ(جو کہ خاوند بھی ہے)کے  طریقے  کے  مطابق سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اور بیٹے  نے  بیٹا اور امتی ہونے  کے  ناتے  اللّٰہ کے  حکم کو نبیؑ کے  طریقے  کے  مطابق مان کر شریعت ابراہیمی کے  تقاضے  پورے  کئے۔

حضرت ہاجرہؑ کے  حوالے  سے  صفا و مروہ  دو مقامات زیارت گاہِ خاص و عام ہیں۔ آجکل سعی کا ساراراستہ بہترین قسم کے  مرمر تلے  مستور ہے۔ صفا پہاڑی ایک ٹیلے  کی صورت چند میٹر بلند ہے۔ اس پہاڑی کے  پتھر کی رنگت سیاہ ہے۔ حج کے  دنوں  میں  یہ پہاڑی حاجیوں  سے  ڈھکی رہتی ہے۔ لوگ اس پہاڑی پر بیٹھ کر تلاوت و اذکار میں  مصروف رہتے  ہیں۔ اہلیہ نے  ایک دفعہ اس پر چڑھنے  کی کوشش کی مگر پھسلن کی وجہ سے  پاؤں  پھسل گیا۔ اوپر نہیں  چڑھ سکیں۔ دوسری پہاڑی مروہ ہے۔ دونوں  پہاڑیوں  کے  درمیان آدھ پون کلو میٹر کا فاصلہ ہو گا۔ مروہ تقریباً  برابر پتھر ہے۔ اس پتھر کا رنگ بھی سیاہ ہے۔ ایسے  لگتا ہے  جیسے  کوئی کیمیائی مادہ ڈال کر اس پتھر کے  نوکیلے  پن کو دور کیا گیا ہے۔

سعی کا عمل سنتِ ہاجرہؑ کی یاد دہانی ہے۔ حضرتِ ہاجرہؑ کی سعی محض دوڑ نہیں  تھی۔ اس دوڑ کے  وقت جو اضطراب، کرب اور تعلق باللّٰہ حضرتِ ہاجرہؑ کے  سینے  میں  تھا۔ وہی اس عمل سے  مطلوب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے  کہ وہ اسبابِ ظاہری کی تلاش میں  بھا گ دوڑ رہی تھیں۔ مگر حقیقت میں  ان کا رابطہ مسبب الاسباب سے  تھا۔ اس باہمی رابطہ کا نتیجہ تھا کہ مسبب الاسباب نے  معجزانہ طور پر ان کے  لئے  سامانِ حیات کا بندوبست فرما دیا۔ معصوم اسماعیل کی ایڑیوں  کی رگڑسے  چشمہ جاری فرما دیا۔

چشمہ زمزم کی زیارت نہیں  ہو سکی کہ یہ تہہ خانہ میں ہے۔ ہم وہاں  تک تو نہیں  جا سکے مگر تقریباً چالیس دن اس مبارک چشمہ کے  پانی کے  علاوہ دوسراپانی نہیں  پیا۔ یہ چشمہ اللّٰہ تعالیٰ کا ایسامعجزہ ہے  جس سے  کافر بھی انکار نہیں  کر سکتا۔ ہزاروں  سالوں  سے  ہزاروں  گیلن پانی اس چشمہ فیض سے  حاصل  ہو رہا ہے۔ مسجدالحرام کے  علاوہ مسجدِ نبویؐ کے  اندر بھی ہر وقت آبِ زمزم کے  کولر موجود رہتے  ہیں۔ یوں  معلوم ہوتا ہے  کہ اس چشمہ فیض کی تہ میں  پانی کا چشمہ نہیں  کوئی وسیع سمندر ہے۔ جس کا پانی قیامت تک ختم نہیں  ہو سکتا۔ زمزم کی فراوانی کو حجازِ مقدس کے  دوسرے  مقامات کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو پانی پیٹرول سے  مہنگا ہے۔ ہم نے  ایک لٹر پانی کی بوتل ایک ریال (پاکستانی سولہ روپے)میں  بکتے  دیکھی ہے۔

 

بیرونِ حرم

 

عہدِ اسلام کی تاریخ نہ صرف کعبہ بلکہ مکہ مکرمہ کی گلی کوچوں، شاہراہوں  اور پہاڑوں  میں  بکھری پڑی ہے۔ حضورﷺ کے  تبلیغی سفر کو دیکھیں  تو مکہ کے  مضافات بھی اس تاریخی تناظر میں  نظر آتے  ہیں۔ دین اسلام کا اصل ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ قرآن کا زیادہ تر حصہ مکہ و مدینہ میں  نازل ہوا۔ سوقرآن فہمی کے  لئے  اس ماحول کا جاننا ضروری ہے  جس ماحول میں  قرآن پاک نازل ہوا ہے۔ نزولِ قرآن کے  زمانہ سے  پہلے  کے  مکی تمدن کا علم بھی قرآن فہمی کے  لئے  ضروری ہے۔ خاص طور پر حضورﷺ کی بعثت سے  پہلے  کے  چالیس سالوں  کا مطالعہ بھی تفہیمِ دین کے  لئے  ضروری ہے۔ شرعی طور پر تو بعثت سے  رحلت تک کے  زمانے  کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر معرفت کے  لئے  حضورﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ زمانوں  کی رہنمائی کا ضامن ہے۔ سوحضورﷺ کی ساعتِ ولادت اور جائے  ولادت کا علم ہونا بھی اضافۂ ایمان کا باعث ہے۔

 

جائے  ولادت__ مولد الرسولﷺ

 

حضورﷺ کی جائے  پیدائش جسے  مولد الرسولﷺ کہا جاتا ہے  بوقبیس پہاڑی کے  دامن میں  واقع ہے۔ یہ جگہ حضورﷺ کے  والدِ گرامی حضرت عبداللّٰہ کا مکان تھا۔ آجکل اس مکان کے  نشانات نظر نہیں  آتے۔ بلکہ اس جگہ جدید طرز کی ایک عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ جس میں  کتب خانہ قائم ہے۔ اس عمارت تک پہنچنے  کا آسان طریقہ یہ ہے  کہ صفا کی پہاڑی کے  قریب کسی بھی دروازے  سے  باہر آئیں  اور محل کی دیوار کے  ساتھ ساتھ چلتے  جائیں۔ تقریباً ایک فرلانگ کے  فاصلے  پر سیدھے  ہاتھ کو میدان میں  یہ مکان آپ کو نظر آئے  گا۔ مجھے  مولد الرسولﷺ کی زیارت کا بہت شوق تھا۔ یہ توسنا تھا کہ اب اس عمارت کو لائبریری میں  تبدیل کر دیا گیا ہے۔ خیال تھا لائبریری میں  محفوظ نوادرات یا کتب وغیرہ تو ہوں  گی ان کی زیارت ہو جائے گی۔ مگر لائبریری کو تالا لگا ہوا تھا۔ سوہماری ادھوری خواہش بھی پوری نہ ہو سکی…… اس وقت تسکین قلب کی خاطر ولادت باسعادت کے  متعلق چند سطریں نظرِ قارئین کر رہا ہوں :۔

 

ساعتِ ولادت__ ولادت باسعادت

 

ہوئی پہلوئے  آمنہ سے  ہویدا

دعائے  خلیلؑ اور نوید مسیحا

وہ نور جو سینۂ لامکاں  میں  مستور تھا نو ربیع الاول سنۃ ایک عام الفیل یوم دو شنبہ کو صبح کے  وقت شعبِ بنی ہاشم کے  اندر حضرت عبداللّٰہ کے  مکان میں  ظہور پذیر ہوا۔ اس وقت نوشیروان کی تخت نشینی کا چالیسواں  سال تھا اور ۲۰یا ۲۲اپریل،۵۷۱ء؁ کی تاریخ تھی۔ سلمان صاحب سلمان منصورپوری ؒ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔

ابنِ سعد کی روایت ہے  کہ رسول اللّٰہﷺ کی والدہ نے  فرمایا:۔ جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو میرے  جسم سے  ایک نور نکلا جس سے  ملک شام کے  محل روشن ہو گئے۔ امام احمد نے  حضرت عرباض بن ساریہ سے  بھی تقریبااًسی  مضمون کی ایک روایت نقل فرمائی ہے۔

بعض روایتوں  میں  بتایا گیا ہے  کہ ولادت کے  وقت بعض واقعات نبوت کے  پیش خیمہ کے  طور پر ظہور پذیر ہوئے۔ یعنی ایوانِ کسریٰ کے  چودہ کنگرے  گر گئے۔ مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا۔ بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کے  گرجے  منہدم ہو گئے۔ یہ بیہقی کی روایت ہے۔ لیکن غزالی نے  اسے  درست تسلیم نہیں  کیا ہے۔ (الرحیق المختوم)

حضورﷺ کے  ظہور پُر نور کے  تذکرہ سے  ماضی کے  دریچوں  میں  سے  نورانی یادوں  کی کرنیں  چھن چھن کے  آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ان نورانی یادوں  سے  دل منور ہو جاتا ہے۔ عجیب قسم کی معصومیت اور پاکیزگی محسوس ہوتی ہے۔ عقلِ عیار کے  حصار سے  نکل کر انسان محبت کے  گلزار میں  داخل ہو جاتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے  کوئی حضورﷺ کے  بچپن کی پیاری پیاری بھولی بھالی باتیں  بتائے۔ مگر کیا کیا جائے  میری اس خواہش کو اکثریت اہمیت نہیں  دیتی۔ میرے  لئے  بلوغت اور معصومیت دونوں  اہم ہیں۔ جس سیدھے  سادھے  معصومانہ اور پاکیزہ ماحول میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  نبوت کی تربیت فرمائی ہے  میں  اس ماحول کے  احوال جاننا چاہتا ہوں۔ میرے  لئے  اعلان نبوت سے  پہلے  کی نبوی زندگی بہت اہم ہے۔ مگر کیا کروں  مجھے  اس پہلی زندگی کے  آثار مولدِ رسولﷺ کے  آس پاس بھی نہیں  ملے۔

 

دیکھا نہیں  !مگر

 

مؤلدِ الرسولﷺ کے  دروازے  کے  سامنے  چند سیڑھیاں  چڑھ کر ایک دو رویہ سڑک آ جاتی ہے۔ یہاں  ایک قسم کا اڈہ ہے  کہ زیارات کے  لئے  یہاں  سے  سواریاں  مل جاتی ہیں۔ منیٰ آنے  جانے  کے  لئے  ہم اس اڈہ سے  سواری لیتے  رہے  ہیں۔ ایک دن زیارات کے  ارادہ سے  اس مقام پر آئے  تو ایک مقامی بھائی زیارہ!زیارہ!کی آواز لگا رہا تھا۔ کرایہ پوچھاتودس ریال بتایا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کیا مگر کوئی دوسراساتھی نہ ملا۔ اہلیہ کی ناسازی طبع کے  پیشِ نظرواپس ڈیرے  پر آنا پڑا۔ محترمہ پہاڑی دیکھنے  کا بڑا تقاضا کرتی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ غارِ حرا یا  جبلِ ثور کا تقاضا ہے۔ مگر تفصیلاً پوچھنے  پر معلوم ہوا کہ انہیں  صفا پر چڑھنے  کا شوق ہے۔ میں  نے  شوق پورا کرنے  کی کوشش کی مگر ان کا پاؤں  پھسل گیا۔ اوپر نہیں  چڑھ سکیں۔ بہرحال ان کی خواہش کافی حد تک پوری ہو گئی۔ میں  نے  حرم شریف کے  مشہور مقامات کی زیارت کر لی تھی اب مجھے  حرم شریف سے  باہر کی زیارات کا شوق تھا۔ مگر نہ معلوم محترمہ باہر جانے  سے  کیوں  کتراتی تھیں۔ میرے  خیال میں  بیماری کی وجہ سے  مشقت کے  سفر سے  کتراتی تھیں۔ میں  دو تین دفعہ انہیں  اڈے  تک لے  گیا۔ لیکن ایک تومناسب کرائے  کی سواری نہیں  ملی۔ دوسرے  ان کا اصرار تھا کہ کوئی پاکستانی بھی ساتھ ہونا چاہئے۔ یا کم از کم ڈرائیور پاکستانی ہو۔ مگر ایساکوئی جوڑ نہ جڑسکا۔ سوہم حرم سے  باہر کی زیارات نہیں  کر سکے۔ منیٰ، عرفات یا مزدلفہ تومناسک کے  دوران آدمی دیکھ لیتا ہے۔ اس سفر میں  بھی میں  کئی مقامات نہیں  دیکھ سکا۔ قارئین کی دلچسپی کے  پیشِ نظر کتابوں  سے  ان کا مختصر تذکرہ نقل کر دیتا ہوں۔

 

جَنَّت الْمُعَلّیٰ

 

مکہ شریف کا مشہور اور تاریخی قبرستان ہے۔ یہاں  تابعین، اولیاء اور بزرگوں  کی قبریں  ہیں۔ یہاں  نبی ا کرمﷺ کی پہلی بیوی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ بھی آرام فرما ہیں۔ یہاں  حضورﷺ کے  اجداد کی قبریں  ہیں۔ حضرت اسما ء بنتِ ابوبکر صدیقؓ،حضرت عبدالرحمن بن ابو بکرؓ، حضورﷺ کے  دادا جناب عبدالمطلب اور چچا محترم جناب ابوطالب، حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ، حضرت فضیل بن عباسؓ،حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ اور حضورﷺ کے  صاحبزادگان قاسمؓ،طاہرؓ اور طیبؓ کے  مزارات بھی اس قبرستان میں  ہیں۔ یہ قبرستان شارعِ غزہ پر مسجد جن کے  قریب ہے۔ یہی سڑک آگے  جا کر منیٰ کو جاتی ہے۔

 

جبلِ ثور

 

مکہ مکرمہ سے  تقریباً چھ میل دور وہ پہاڑی”جبلِ ثور”ہے  جس کے  ایک غار میں  رسولِ ا کرمﷺ نے  ہجرت کے  موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے  ساتھ قیام فرمایا تھا۔

 

مسجد عائشہؓ

 

یہ مسجد تنعیم میں  ہے  جہاں  سے  عمرہ کے  لئے  احرام باندھتے  ہیں۔ یہ مسجد حرم کی حدود سے  باہر  تقریباً آٹھ کلو میٹر دور مدینہ روڈ پر واقع ہے۔ حضورﷺ نے  ام المومنین کو یہاں  سے  احرام باندھنے  کا فرمایا تھا۔ ان کی نسبت سے  اس مسجد کا نام مسجدِ عائشہؓ  مشہور ہوا ہے۔

 

مسجد الرایۃ

 

مسجدِ جن کے  قریب ہی سیدھے  ہاتھ کو مسجد الرایۃ ہے۔ رایۃ کے  معنی عربی میں  جھنڈے  کے  ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے  جہاں  رسولِ ﷺ پاک نے  فتح مکہ کے  موقع پر اپنا جھنڈا نصب فرمایا تھا۔

 

مسجدِ جِنّ

 

یہ مسجد سوقِ معلیٰ میں  جنت المعلیٰ کے  قبرستان کے  قریب ہے۔ اس کا نام مسجدِ بیعت اور مسجد حرس بھی ہے۔ یہیں  نبی کریمﷺ نے  جنوں  سے  بیعت لی تھی۔

 

غارِ حرا

 

مکہ معظمہ سے  تقریباً تین میل کے  فاصلے  پر جبل النور میں واقع ہے۔ یہ تقریباً دو ہزار فٹ بلند ہے۔ اس کی چوٹی پر مقدس غار واقع ہے  جو غارِ حرا کے  نام سے  موسوم ہے۔ ہدایت الٰہی کا نور یہیں  سے  ساری کائنات میں  پھیلا۔ یہیں  حضورﷺ منصبِ رسالت پر فائز ہوئے۔

میں  نے  موجودہ سفر میں  ان مقاماتِ مقدسہ کی زیارت نہیں  کی۔ اب ان کے  تذکرہ سے  ایک تو ان کی زیارت کا شوق دوبالا ہو گیا ہے  دوسرے  حضورِ پاکﷺ کی مکی زندگی کے  بہت سے  بھولے  ہوئے  ابواب وا ہو گئے  ہیں۔

 

حضورﷺ کی مکی زندگی کی جھلکیاں

 

حضورﷺ کی حیاتِ مقدس کا زیادہ تر حصہ مکہ مکرمہ میں  گذرا ہے۔ اس مقدس سرزمین میں  حضورﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس شہر کے  گلی کوچوں  میں  چل پھر کر آپ جوان ہوئے۔ یہیں  آپ کے  سپرد ساری انسانیت کو دوزخ سے  بچا کر جنت میں  لے  جانے  کی فکر عطا ہوئی۔ یہ شہر جو کہ آپ کی جنم بھومی ہے  ایک وقت آپ کے  لئے  بالکل بیگانہ ہو گیا۔ اس ارضِ مقدس میں  حضورﷺ نے  تقریباً ترپن(۵۳)برس گذارے  ہیں۔ یہاں  کا ایک ایک لمحہ زندگیوں  میں  انقلاب برپا کرنے  کے  لئے  تحرک اور تپش کا درجہ رکھتا ہے۔ اہلِ علم نے  حضورؐ کی زندگی کے  ایک ایک لمحے  کو ریکارڈ کرنے  کی بے  مثال کوششیں  کیں  ہیں۔ ا یمان کی تازگی کے  لئے  حیات النبیﷺ کی چند جھلکیاں  دکھانے  کی کوشش کر رہا ہوں۔

جیسا کہ پہلے  لکھا جا چکا ہے  کہ حضورﷺ۹،ربیع الاول   ۱    ؁ عام الفیل یوم دو شنبہ کی صبح کو حضرت عبداللّٰہ بن عبدالمطلب کے  گھر پیدا ہوئے۔ آپؐ کے  والد گرامی ولادتِ پاک سے  پہلے  وفات پا چکے  تھے۔ چنانچہ آپؐ کی پرورش کی ساری ذمہ داری آپؐ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کے  ذمہ تھی۔ آپؐ کے  دادا جان نے  باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے  دی۔ آپؐ کے  ابتدائی ایام قبیلہ بنو سعد میں  گذرے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ جو کہ آپ کی دایہ ہیں  انہوں  نے  آپؐ کو اپنا دودھ پلایا۔ بنو سعد کے  ہاں  حضورﷺ کے  شق الصدر کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت حلیمہ اس واقعہ سے  ڈر گئیں۔ اور حضورؐ کو حضرت آمنہ کو واپس کر گئیں۔ مگر قدرت خدا کی کہ والدِ گرامی کی قبر کی زیارت سے  واپس آتے  ہوئے  آپؐ کی والدہ ماجدہ بھی دارِ فانی سے  رخصت ہو گئیں۔ اب آپؐ کی ساری ذمہ داری بوڑھے  دادا کے  سرپر آ گئی۔ جب آپؐ کی عمر مبارک آٹھ سال دو ماہ کی ہوئی تو وہ بھی معصوم پوتے  کو اپنے  بیٹے  حضرت ابوطالب کے  سپرد کر کے  اللّٰہ کو پیارے  ہو گئے۔ حضرت ابوطالب نے  مرتے  دم تک تقریباً چالیس برس تک حضورﷺ کی سرپرستی فرمائی۔ ایک دفعہ آپؐ اپنے  چچا ابوطالب کے  ہمراہ تجارت کے  سلسلے  میں  ملک شام کے  سفر پر نکلے  تو بحیرہ نامی راہب نے  حضورﷺ کو دیکھ کر اندازہ کر لیا کہ آپؐ ہی پیغمبر آخر الزماں  ہیں۔ چنانچہ اس نے  آپؐ کو یہودیوں  کی دشمنی سے  بچانے  کے  لئے  حضرت ابوطالب کو مشورہ دیا کہ انہیں  واپس مکہ بھیج دیں۔ آپؐ نے  ۱۵سال کی عمر میں  جنگ فجار میں  حصہ لیا۔

آپؐ ایک معاہدے  میں  شریک ہوئے  جسے  حلف الفضول کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے  مطابق چند شرفائے  قریش نے  یہ عہد کیا کہ مکہ میں  جو بھی مظلوم نظر آئے  گا خواہ مکے  کا رہنے  والا ہو یا کہیں  اور کا،یہ سب اس کی مدد اور حمایت کے  لئے  اٹھ کھڑے  ہوں  گے۔ اور اس کا حق دلوا کر رہیں  گے۔ اس اجتماع میں  آپؐ بھی شریک تھے۔ آپؐ کو اس معاہدہ کی شرکت پر بڑا فخر تھا۔ اس واقعہ سے  اپنا ایک شعر یاد آ گیا ہے

یہ آرزو ہے  کوئی ہم نوا ملے  تو حضورﷺ

میں  اپنے  عہد کا حلف الفضول نقش کروں

قریشِ مکہ کا پیشہ تجارت تھا۔ جب حضورﷺ کی عمر ۲۵برس کی ہوئی تو حضرتِ خدیجہؓ کا مال لے  کر ملک شام تشریف لے  گئے۔ حضرتِ خدیجہؓ کو جب آپؐ کے  اخلاق حسنہ اور خوش معاملگی کا علم ہوا تو نکاح کی خواہش ظاہر فرمائی سو ملک شام سے  واپسی کے  دو مہینے  بعد بیس اونٹوں  کے  مہر پر حضورﷺ نے  حضرت خدیجہؓ سے  نکاح فرمایا۔ تقریباً اسی عرصے  میں  تعمیر کعبہ کا واقعہ پیش آتا ہے۔ جب ہجرِ اسود کی تنصیب کا تنازعہ پیدا ہوا ابوامیہ مخزومی کی تجویز کے  مطابق حضورﷺ مسجدِ حرام کے  دروازے  سے  پہلے  داخل ہوئے  اور تنصیب حجرِ اسود کا اعزاز آپؐ کو نصیب ہوا۔

جب آپؐ کی عمر چالیس برس ہوئی تو اللّٰہ تعالیٰ نے  آپؐ کو منصب رسالت پر فائز فرمایا۔ الرحیق المختوم کے  مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی ۲۱ تاریخ کو دو شنبہ کی رات کو پیش آیا۔ اس روز اگست کی دس تاریخ تھی اور ۶۱۰ء ؁ تھا۔ قمری حساب سے  نبی ؐ کی عمر چالیس سال چھ مہینے  بارہ دن اور شمسی حساب سے  ۳۹ سال تین مہینے  ۲۲دن تھی۔

منصبِ رسالتؐ ملتے  ہی حضورﷺ کو تبلیغِ دین کا حکم بھی سنا دیا گیا۔ سورۃ مدثر کی روشنی میں  مضامین دعوت کا خلاصہ ان الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے۔

“توحید، یوم آخرت پر ایمان،تزکیہ نفس کا اہتمام،اللّٰہ کے  آگے  خود سپردگی اور اطاعتِ رسولؐ ۔ حکمِ تبلیغ کے  ملتے  ہی حضورﷺ نے  پہلے  خفیہ پھر اعلانیہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی دعوت دینا شروع کر دی۔ تین سال تک تبلیغ کا کام خفیہ اور انفرادی رہا۔ اس دوران اہلِ ایمان کی ایک مختصر سی جماعت تیار ہو گئی۔ جو اخوت و تعاون پر قائم تھی اور اللّٰہ کا پیغام بقدرِ استطاعت پہنچا رہی تھی۔

جب مخلص جانثاروں  کی ایک مختصرسی جماعت تیار ہو گئی تو آپؐ نے  اپنے  نزدیک ترین قرابت داروں کے  سامنے  اللّٰہ کے  حکم کے  تحت کھلم کھلا اعلانِ نبوت کر دیا۔ آپؐ نے   اپنی برادری کے  پینتالیس آدمیوں  کو اللّٰہ کی توحید اور رسالت پہ ایمان لانے  کی دعوت دی۔ اس موقع پر سوائے  حضرت ابوطالب کے  کسی نے  بھی حضورﷺ کی حوصلہ افزائی نہیں  کی۔ جب حضورﷺ کو حضرت ابوطالب کی طرف سے  اس امر کا اطمینان ہو گیا کہ وہ تبلیغِ دین میں  مدد فرماویں  گے  تو آپؐ نے  کوہ صفا پر چڑھ کر اہلِ مکہ کو دعوتِ عام دی۔ مگر اس موقع پر بھی انہوں  نے  کوئی حوصلہ افزا ردِ عمل پیش نہیں  کیا۔ بلکہ ابولہب وغیرہ نے  آپؐ کی توہین کی۔ اس لعین کی گستاخی پر اللّٰہ تعالیٰ نے  سورۃ لہب نازل فرمائی۔

اعلانِ صفا سے  کفارِ مکہ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ محمدﷺ کی بات ماننے  سے  ان کے  دنیاوی مفادات کو زبردست نقصان پہنچے  گا۔ ان کی سرداری اور چودھراہٹ ختم ہو جائے گی۔ پھر ان کی بت پرستی اور شرک کی وجہ سے  ان کے  اعتقادی نظام کو گمراہی کہا جا رہا تھا۔ ان متکبر سرداروں  کو اپنی منوانے  کی عادت تھی یہ اللّٰہ اور اس کے  رسولﷺ کی کیسے  مان سکتے  تھے۔ سو انہوں  نے  کھلم کھلا حضورﷺ کی  مخالفت شروع کر دی  پہلے  تو انہوں  نے  اتمامِ حجت کے  طور پر حضرت ابو طالب کو کہا اپنے  بھتیجے  کو اپنے  اشن سے  روک دیں۔ مگر جب وہ حضور کی مدد سے  دست بردار نہ ہوئے  تو انہوں  نے  حضورﷺ اور حضورﷺ کے  متبعین کو رسوا کرنا شروع کر دیا۔ وہ مقدس ہستی جس کو بالاجماع تمام مکہ والے  صادق و امین کہتے  تھے  اب اس پر (نعوذ باللہ)شاعر، مجنون اور کاذب ہونے  کے  الزامات لگائے  جا رہے  تھے۔ حضورﷺ جہاں  حق بیان فرماتے۔ جھٹلانے  والے  وہیں  آ جاتے۔ ہنسی، استہزاء،ٹھٹھا اور تکذیب تو عام معمول تھا۔ حضورؐ کو جسمانی اذیت پہچانے  سے  بھی دریغ نہ کیا جاتا۔ حضورﷺ اور بیہودہ گالیوں  کا نشانہ بنایا جاتا۔ ناروا تہمتوں  اور مختلف قسم کے  سیاسی حربوں  کے  ذریعے  حضورؐ کو اپنے  مشن سے  باز رکھنے  کی کوشش کی جاتی۔ حضورﷺ کو ہر قسم کے  دنیاوی لالچ کے  ذریعے  اپنے  مشن سے  دستبردار ہونے  کی ترغیب دی گئی۔ مگر آپؐ نے  فرمایا کہ اگر میرے  ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے  ہاتھ پر سورج رکھ دیا جائے  تب بھی میں  اپنے  مشن سے  نہیں  ہٹ سکتا۔ آپ ﷺ کو یہ پیشکش بھی کی گئی کہ کچھ اپنی منواؤ اور کچھ ہماری مانو،کچھ لو کچھ دو کا فلسفہ صرف آج کا نہیں  پرانا ہے۔ ان کم عقلوں  کو عقل نہ تھی کہ دینِ خداوندی حضورؐ کی ذاتی سوچ نہیں  بلکہ یہ حکمِ خداوندی ہے۔ اس میں  حضورؐ اپنے  طور پر کوئی تخفیف و ترمیم نہیں  کر سکتے۔ کفار کی سیاسی چالیں  اور نفسیاتی حربے  جب کار گر ثابت نہ ہوئے  تو انہوں  نے  حضورﷺ کو (نعوذ باللہ)شہید کرنے  کا منصوبہ بنا لیا۔ ایک رات کفار نے  اپنے  ناپاک منصوبے  کے  مطابق حضورﷺ کے  گھر کو چاروں  طرف سے  گھیر لیا۔ حضورؐ نے  مٹھی بھر مٹی ان پر پھینکی لمحہ بھر کے  لئے  وہ اندھے  ہو گئے۔ حضورﷺ اللّٰہ کی حفاظت میں  سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے  ہوئے  کفار کا حصار توڑ کر سوئے  مدینہ رخصت ہوئے۔

 

آئینہ نبوت__ قرآن

 

مکہ مکرمہ میں  ہمارے  قیام کا دورانیہ ختم ہونے  کو ہے۔ اس وقت میں  ضرور ت کے  موضوع پر سوچ رہا ہوں۔ میں  سوچ رہا ہوں  کہ اس سفرِ سعید کا مقصد کیا تھا۔ یہ تو ظاہر ہے  کہ اللّٰہ کے  حکم کے  مطابق ہر صاحب استطاعت پر حج فرض ہے۔ فرض کے  علاوہ حج کر ناسنت بھی ہے۔ اور اللّٰہ کے  حکم کو سنت کے  مطابق ماننا دین ہے۔ سوحج کرنے  سے الحمد اللّٰہ ایک فرض ادا ہو گیا۔ اب اس عمل کے  اجر و ثواب کی کیا قیمت ہے ؟ وہ اللّٰہ ہی جانتا ہے۔ اللّٰہ کے  نبیؐ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ حج کرنے  کے  بعد آدمی ایسے  ہوتا ہے  جیسے  ابھی اس نے  بطنِ مادر سے  جنم لیا ہے۔ یعنی فریضہ حج کی ادائیگی سے  گناہگار سے  گناہگار بھی معصوم بچے  کی طرح پاک صاف ہو جاتا ہے۔ اس پر یقین ہے۔ باقی رہا اجر و ثواب کے  درجے  کا تو یہ درجہ معلوم نہیں۔ یہ اطمینان ہے  کہ حاضری لگ گئی ہے۔ اور یہ حاضری بھی محض اس کے  کرم سے  ہے۔ کہتے  ہیں  اللّٰہ تعالیٰ جسے  قبول فرماتے  ہیں  اسے  ہی بلاتے  ہیں  سو قبولیت کا یقین ہے۔ مگر اس یقین کے  باوجود عجیب عجیب سی سوچیں  ذہن میں  پیدا  ہو رہی ہیں۔ سب سے  بڑی سوچ تو یہ ہے  کہ میں  مکہ سے  کیا لے  جا رہا ہوں ؟

ایک عالم نے  فرمایا تھا کہ”مکہ کا زمزم اور حضورﷺ کی مکی زندگی اصل سوغاتیں  ہیں۔ سوان سوغاتوں  کے  حصول کی کوشش اصل مقصدِ حج ہے “۔ میں  سوچ رہا ہوں  کہ زمزم کے  دوکنستر توہم لے  آئے  ہیں۔ کیا حضورﷺ کی مکی زندگی کی نورانیت بھی نصیب ہوئی یا نہیں۔ میرے  پاس اس کا کوئی واضح جواب نہیں۔ سوچ دھندلائی اور یاد پتھرائی ہوئی ہے  شاید میں  پتھر تھا۔ روح پتھر تھی۔ نظر پتھر تھی….. یا منظر۔ نہیں  !نہیں !میں  ہی پتھر تھا۔ روح پتھر تھی، نظر پتھر تھی۔ پتھر نہ ہوتی تو پتھروں  میں  کیوں  الجھتی۔ ستونوں،مناروں،فانوسوں  میں  الجھنے  کی بجائے  ان کی نسبت کی طرف متوجہ ہوتی۔ سطحی اور سرسری دیکھنے  کے  بجائے  منظر کی تہ میں  اترنے  کی کوشش کرتی۔ یہ منظر کوئی عام منظر نہیں  تھا۔ کعبہ،منیٰ،عرفات، مزدلفہ۔ کوئی سیرگاہ تو نہ تھی۔ عبرت گاہ تھی۔ جنت کی رہگذر تھی۔ ان منزلوں  پر حضورﷺ کی مبارک زندگی کے  آثار نظر آتے  ہیں۔ ہم جیسے  بے  بصروں  کو بھی نور نظارے  ہوتے  ہیں۔ مگر یہ نظارے  صرف حجۃ الوداع کے  چند ایام کی جھلک ہیں۔ حضورؐ کی بقیہ ترپن سالہ مکی زندگی کے  آثار تک میری رسائی نہیں  ہو سکی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے  انقلابات زمانہ نے  بہت سے  آثار کو تبدیل کر دیا ہے یا مٹا دیا ہے۔ مجھے  عہدِ نبویؐ کی تلاش ہے۔ مجھے  اس عہد کے  تہذیب وتمدن سے  عشق ہے  اور یہ عشق سیرتِ رسول ؐ اور حکایاتِ صحابہؓ اور اہلِ بیت کی روایات سے  پیدا ہوا ہے۔ میری سرشت میں  روایت پسندی رچی بسی ہے۔ میں  اپنی سرشت کے  ہاتھوں  مجبور ہوں۔ میں  اس روایت کو جو قرآن و حدیث میں  محفوظ ہے  اسے  عملی صورت میں  دیکھنا چاہتا ہوں  جہاں  اس روایت نے  جنم لیا تھا۔ میں  اپنی کم نظری کی وجہ سے  وہاں  کا پوری طرح مشاہدہ نہیں  کر سکا۔ بہرحال مجھے  جہاں  جہاں  ماضی کی جھلک دکھائی دی ہے  میں  نے  وقتاً فوقتاً اس کا تذکرہ کر دیا ہے۔ اگر میں  یہ کہوں  کہ حضورﷺ کی مکی زندگی نظر نہیں  آتی تو یہ میری کم نظری ہے۔ حضورؐ کی پوری زندگی کو اللّٰہ تعالیٰ نے  قرآن و حدیث کی صورت میں  پوری طرح محفوظ کر رکھا ہے۔ مادی ماخذوں  تک رسائی حاصل کرنے  کے  لئے  ہزاروں  لاکھوں  خرچ کرنے  پڑتے  ہیں۔ میلوں  سفر کی صعوبتیں  برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن قرآن پاک ہرمسلمان کے  گھر میں  موجو دہے۔ اگر تھوڑی سی محنت و مشقت اٹھا کر اس کو سمجھنے  کی کوشش کی جائے  تو حضورﷺ کی پوری زندگی کی زیارت ہو سکتی ہے۔

“نیست ممکن جز بقرآن زیستن”

 

طوافِ وداع__الوداعی مصروفیات

 

ہمیں  سرزمین مکہ میں  اندازاًتیس دن ہونے  والے  ہیں۔ ہم پاکستان سے  پندرہ جنوری کو روانہ ہوئے  تھے۔ سرکاری پروگرام کے  مطابق حجازِ مقدس میں  ہمارا قیام چالیس روز کا تھا۔ ان چالیس ایام میں  ایک مہینہ مکہ مکرمہ اور دس دن مدینہ منورہ کے  قیام کے  ہیں۔ مدینہ منورہ میں  مسجدِ نبوی کی چالیس نمازیں  ضروری ہوتی ہیں۔ ان کے  لئے  آٹھ روز کافی ہوتے  ہیں۔ مگر دو دن مدینہ آنے  پھر مدینہ سے  واپس پاکستان آنے  میں  لگ جاتے  ہیں۔ مکہ میں  سوائے  طوافِ وداع کے  ہم تمام مناسک ادا کر چکے  تھے۔ تیرہ فروری کو مکتب والوں  نے  چودہ کی ظہر کو تیاری کا نوٹس لگا دیا۔ اب مکہ سے  روانگی کی باتیں  شروع ہو گئیں۔ مکہ چھوڑنے  سے  پہلے  طوافِ وداع ضروری ہوتا ہے۔ طوافِ وداع حج کا آخری واجب ہے۔ اکثر حجاج کرام نے  چودہ کو طواف وداع کا پروگرام بنایا۔ مگر ہم نے  حفظِ ماتقدم کے  پیشِ نظر تیرہ کو یہ واجب ادا کرنے  کا پروگرام بنایا۔

طوافِ وداع میں  صرف بیت اللّٰہ کے  سات چکر لگانے  ہوتے  ہیں۔ اس میں  احرام کی بھی پابندی نہیں  ہوتی۔ رمل بھی نہیں  ہوتا۔ طواف کے  بعد دو نفل پڑھ کر زمزم پئیں  دعا کریں۔ بس طوافِ وداع ادا ہو گیا۔ مگر اس وداعی طواف کے  وقت اندر کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مہینہ بھرکی مصاحبت سے  مکی ماحول سے  انسیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر کعبۃ اللّٰہ سے  بچھڑنے  کا احساس دل میں  عجیب قسم کی افسردگی پیدا کر دیتا ہے۔ ایک طرف یہ کیفیت ہوتی ہے  اور دوسری طرف گھر کی کشش کھینچ رہی ہوتی ہے۔ دوران حج تومناسک کی مصروفیت کی وجہ سے  گھر بار بال بچوں  کا اتنا خیال نہیں  آتا۔ مگر مکہ چھوڑتے  وقت بال بچوں  اور عزیز و اقارب کی فرمائشیں  یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حجاج کرام غیر ملکی مصنوعات مکی سوغاتیں  سمجھ کر خریدنے  میں  مصروف ہو جاتے  ہیں۔ ٹیلیفونی رابطے  بڑھ جاتے  ہیں۔ روحانی رابطے  کمزور پڑ جاتے  ہیں۔ کئی حجاج تسبیحوں،رومالوں، جائے  نمازوں  اور ٹوپیوں  کو مکی سوغاتیں  سمجھ کر اپنے  احباب کو ہدیہ کرنے  کے  لئے  خرید فرما رہے  ہیں۔ کچھ کپڑے، زیور،گھڑیاں وغیرہ خریدنے  میں  مصروف ہیں۔ ان حضرات کا خیال ہے  کہ یہ چیزیں  مکہ،مدینہ میں  سستی ہیں۔ حالانکہ پنڈی کے  بازار میں  جائیں  تو یہ سب چیزیں  اس سے  بھی سستی مل سکتی ہیں۔ لیکن ایک رواج سابن گیا ہے  کہ حج سے  واپسی پر ریال ختم کر کے  آنا ہیں۔ اور کم از کم اتنا مال ضرور لے  کر آنا ہے  جتنے  کی حکومت نے  اجازت دے  رکھی ہے۔

ہمارے  پاس ریال بھی تھے۔ وقت بھی تھا۔ ترغیب بھی تھی۔ مگر بوجھ اٹھانے  کی ہمت نہ تھی۔ اپنی کم ہمتی کی تشفی کے  لئے  ہم اپنے  آپ کو سمجھاتے  رہے۔ یہ حج ہے  تجارت نہیں۔ اس کے  باوجود تبرک کے  بہانے  تسبیحاں، ٹوپیاں  اور رومال ہم نے  بھی خرید لئے۔ کچن کا سامان پہلے  خرید رکھا تھا۔ سواحتیاط کے  باوجود ہمارے  سامان میں  بھی ایک تھیلے  کا اضافہ ہو گیا۔

ایامِ حج میں  خرید و فروخت کی ممانعت تو نہیں۔ مگر اس میں  زیادہ انہماک حج کی نورانیت ختم کرنے  کا باعث بنتا ہے۔ ہم نے  اپنی معذوری کی وجہ سے  اس طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ مگر بازار سے  گذرتے  وقت ہم حرم کی نورانیت کو بحال نہیں  رکھ سکے۔

 

سوئے  مدینہ

 

طوافِ وداع سے  واپس ہو کر ہم میاں  بیوی صفا و مروہ اور مسجد کے  درمیان کی چھوٹی سی دیوار پر آرام کر رہے  تھے۔ ہمارے  سامنے  ایک خاتون نوافل پڑھ رہی تھی۔ آدھ پون گھنٹے  کے  بعد نوافل سے  فارغ ہوئی تو میری اہلیہ سے  تعارف کرنے  لگی۔ میری اہلیہ نے  بتایا کہ کل ان شاء اللّٰہ ہم لوگ مدینہ منورہ کو روانہ ہو جائیں  گے۔ یہ سن کر موصوفہ نے  دیگر ہدایات کے  ساتھ ساتھ خصوصی طور پر تاکید فرمائی کہ مدینہ شریف میں  درود شریف کا خصوصی اہتمام رکھنا۔ بہتر تو یہی ہے  کہ گاڑی میں  بیٹھتے  ہی درود شریف شروع کر دیا جائے۔

کم از کم ایک لاکھ مرتبہ ہو جانا چاہئے۔ سب سے  افضل تو درودِ ابراہیمیؑ ہے  اور چھوٹا درود بھی باعثِ برکت ہے۔ اس محترمہ کی گفتگو سے  مکہ چھوڑنے  کے  خیال سے  جو خلا پیدا  ہو رہا تھا وہ پورا ہو گیا۔

مکہ شریف میں  قدرتِ خداوندی کے  جلالی اور مدینہ منورہ میں  جمالی نظارے  ہیں۔ سو قدرتِ کا ملہ کے  نظارے  کے  لئے  مکہ،مدینہ دونوں  دیاروں  کی زیارت ضروری ہے۔ مکہ میں  اللّٰہ کا گھر ہے  اور مدینہ میں  اللّٰہ کا محبوب ہے۔ اللّٰہ کا محبوب نہ صرف اللّٰہ بلکہ اللّٰہ والوں  کا بھی محبوب و مقصود ہے۔ اللّٰہ کے  حکم کے  مطابق اللّٰہ کے  محبوب کی محبت اصلِ ایمان ہے۔ اس محبت کا معیار صحابہ کرامؓ کا معیار ہے۔ ” میرے  ماں  باپ آپؐ پر قربان”یہ حضورﷺ کے  عاشقوں  کا تکیہ کلام تھا۔ عشقِ رسولؐ کا تقاضا ہے  کہ اپنی جان سے  بڑھ کر حضور۰ﷺ سے  محبت ہو۔ اگر ایسانہیں  تو ایمان کامل نہیں۔ سوسفرِ مدینہ میں  عشقِ رسولﷺ اصل زادِ سفر ہے۔ اور یہ متاعِ گراں  مایہ کسی بازار سے  نہیں  ملتی۔ اس کے  حصول کاآسان ترین ذریعہ درود شریف ہے۔ درود شریف پڑھتے  وقت حضورﷺ کے  احسانات کا استحضار بہت ضروری ہے۔ حضورؐ نے  ہماری نجات کے  لئے  کتنے  کتنے  دکھ اٹھائے  ہیں  ان کا خیال کرنا دل میں  محبتِ رسول پیدا کرنے  کا ذریعہ بنتا ہے۔

میں  نے  خاتونِ محترمہ کی باتوں  سے  متاثر ہو کر اس وقت درود کا ورد شروع کر دیا۔ اب میرے  سامنے  کعبہ اور تصور میں  روضہ رسولؐ تھا… وہ روضہ رسولﷺ جس کی تصویروں  میں  زیارت ہوتی تھی اب اللّٰہ کے  فضل سے  ظاہر کی آنکھوں  سے  اس منبع نورِ بصیرت کو دیکھنے  کا موقع مل رہا تھا۔ میں  ذہنی طور پر مکہ و مدینہ کے  مکانی بُعد کو ختم کرنے  کی کوشش کر رہا تھا۔ میں  مدینہ جانے  کا خواہش مند تھا۔ مگر مکہ چھوڑنے  کو بھی جی نہیں  چاہ رہا تھا۔ عجیب تذبذب اور کشمکش کا عالم تھا۔ اس کشمکش میں  الجھتے  ہوئے  جب رہائش گاہ پر پہنچے  تو حاجی حضرات اپنا سامان وغیرہ پیک کر رہے  تھے۔ جوش و خروش سے  مدینہ منورہ روانگی کی تیاریاں   ہو رہی تھیں۔ اس گہماگہمی میں  میرے  اندر کی کشمکش کم ہو گئی۔ ہم میاں  بیوی بھی اپنا سامان پیک کرنے  میں  مصروف ہو گئے۔ ہمارے  سامان میں  کیا تھا۔ تین چھوٹے  چھوٹے  بیگ اور دو زمزم کے  کین۔ مگر یہ بیگ اور کین بھی تو وزن تھا۔ نہ صرف کندھے  کا بلکہ سرکا۔ یہ بوجھ گھر واپسی تک ہمارے  لئے  دردِ سر بنا رہا ہے …پتہ نہیں  جن کے  بڑے  بیگ اور بوجھ ہوتے  ہیں  ان کا کیا حال ہوتا ہے۔

ہمارے  مکتب والوں  نے  چودہ فروری کی ظہر کو تیار رہنے  کا نوٹس لگایا تھا۔ ہمارے  کچھ ساتھی تیرہ کو طوافِ وداع کر آئے  تھے۔ اور باقی حجاج کرام نے  چودہ کی ظہر سے  پہلے  طواف وداع کیا۔ ظہر تک تقریباً سارے  حجاج کرام طواف سے  فارغ ہو چکے  تھے  اور سامان بھی پیک کر چکے  تھے۔ بلکہ کئی حضرات توسامان کمروں  سے  نکال کر باہر رکھ چکے  تھے … پتہ نہیں  ایسے  موقعوں  پر زیادہ جلدی کیوں  ہوتی ہے۔ حالانکہ گاڑی والوں  نے  توسب کو لے  کر جانا ہوتا ہے۔ یہ ان کا فرض یا مجبوری ہوتی ہے۔ نماز ظہر کے  بعد گاڑی آئی تو ایک طرح کی بھگدڑسی مچ گئی۔ حاجی حضرات دوڑ دوڑ کر سامان گاڑی تک لانے  لگے۔ سب کی کوشش تھی کہ ہماراسامان پہلے  لوڈ کر لیا جائے  اور سب سے  پہلے  سیٹوں  پر قبضہ کر لیا جائے۔ ہم ذہنی طور پر تو اس بدنظمی میں  برابر کے  شریک تھے  مگر جسمانی مجبوری کی وجہ سے  زیادہ متحرک نہیں  تھے۔ میں  نے  بڑی مشکل سے  اپنا سامان کمرے  سے  نکال کر باہر دروازے  پر رکھا۔ اس کے  بعد اللّٰہ بھلا کرے  جمال کا (یہ ہماری عمارت کا چوکیدار تھا)اس نے  ہمارا سارا سامان لوڈ کرایا۔ اس نے  بیٹوں  کی طرح ہماری خدمت کی ہے۔ ہم اس کی خدمت کا اجر نہیں  دے  سکتے۔ ہم نے  زبردستی اس کو دس ریال دئیے۔ اگرچہ وہ لینے  سے  انکاری تھا مگر ہماری ضد کی وجہ سے  اس نے  ہمارا ہدیہ قبول کیا…

 

بندۂ مزدور کے  اوقات

 

یہاں  پاکستان میں  عرب ریاستوں  میں  مزدوری کرنے  والوں  کے  متعلق بڑی خوش فہمیاں  پائی جاتی ہیں۔ دوسرے  ممالک کا تو مجھے  پتہ نہیں  سعودی عرب کے  مزدوروں  کو دیکھ کر ترس بھی آتا ہے  اور تعجب بھی ہوتا ہے۔ جمال سے  پہلے  ہماری بلڈنگ میں  ا کرم نامی جوان چوکیدار تھا۔ یہ بھی بڑی محبت والا خدمت گذار لڑکا ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے  والا ہے۔ عام طور پر رنگ کا کام کرتا ہے۔ اس سے  تھوڑی سی غلطی ہو گئی جس کی سزاکے  طور پر پاکستان کی انتظامیہ نے  اس کی جگہ جمال کو بھیج دیا۔ جمال سرحد کے  کسی علاقے  کا رہنے  والا ہے۔ پکا نمازی اور تابعدار قسم کا آدمی ہے۔ ان دونوں  کے  پاس اکثرپاکستانی مزدور آیا کرتے  تھے۔ ان کی گفتگو اور حالات سے  معلوم ہوتا تھا کہ یہاں  بھی یہ بیچارے  مہاجن ذہنیت کے  شکار ہیں۔ ان کی تنخواہ یا مزدوری تیس یا چالیس ریال ہوتی ہے۔ تعمیراتی سلسلوں  کے  ٹھیکے  جن حضرات نے  لئے  ہوتے  ہیں  وہ ان سے  ایساہی سلوک کرتے  ہیں  جیسے  پاکستانی ٹھیکیدار مزدوروں  کے  ساتھ کرتے  ہیں۔ یہ حالت صرف پاکستانی مزدوروں  ہی کی نہیں  بلکہ دیگر مزدور بھی کس مپرسی کی حالت میں  ہیں۔

جس گاڑی میں  ہم سوار ہوئے  اس میں  واضح طور پر لکھا تھا کہ کسی کو ٹپ یا بخششیں  نہ دیں۔ گاڑی پہ سامان لوڈ کرانے  والوں  کو حاجیوں  نے  بقدرِ توفیق کچھ نہ کچھ ہدیہ کیا۔ مگر ڈرائیور کو کچھ نہیں  دیا۔ گاڑی جب مکہ سے  باہر نکلی تو کچھ حجاج کرام نے  ڈرائیور کے  لئے  نذرانہ اکٹھا کرنے  کی تجویز پیش کی۔ میرے  سمیت ایک آدھ حاجی نے  اس تجویز کی مخالفت کی۔ ہمارا کہنا تھا کہ بھائی یہ ایک طرح کی رشوت ہے۔ اور رشوت دے  کر ہم حج کا ثواب ضائع نہیں  کرنا چاہتے۔ پتہ نہیں  ڈرائیور کو ہماری باتوں  کی سمجھ آئی یا نہیں۔ وہ بڑے  آرام سے  گاڑی چلا رہا تھا۔ اتنے  آرام سے  کہ پیچھے  سے  آنے  والی گاڑیاں  بڑی سرعت سے  ہمیں  کراس کر رہی تھیں۔ حاجی حضرات بڑی جلدی اور غصے  میں  تھے۔ مجھے  میری اہلیہ نے  خاموش رہنے  کا مشورہ دیا۔ سوہم دونوں  خاموشی سے  درود شریف پڑھتے  رہے۔ ڈرائیور کے  لئے  چندہ ہوا یا نہیں  ہمیں  اس کا علم نہیں۔ اس کے  علاوہ جب ہم مدینہ منورہ سے  جدہ کے  لئے  سامان لوڈ کرا رہے  تھے  تو مزدوروں  کو مجبوراً ہدیہ کرنا پڑا۔ وہ مزدوری نہیں  بخشش مانگ رہے  تھے۔ یہ بخشش کا لفظ جب میں  نے  جدہ ائر پورٹ کے  لوڈنگ سٹاف کی زبانی سنا تو مجبوراً کہنا پڑا:۔

تو خالق و مالک ہے  مگر تیرے  جہاں  میں

ہیں  تلخ بہت بندۂ مزدور کے  اوقات(اقبال)

 

سنبھل اے  دل

 

کسی نے  کیا  خوب کہا ہے “با خدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار”یہ اس لئے  کہ اللّٰہ تو خالق و مالک اور غفور و رحیم ہے۔ اس کے  سامنے  آدمی اس طرح ننگا ہے  جیسے  نوزائیدہ بچہ۔ بچوں  پر شریعت لاگو نہیں۔ اور حضورﷺ تو صاحب شریعت ہیں۔ اور صاحبِ شریعت کے  حضور حاضری کا تقاضا ہے  کہ با شریعت ہو کر حاضر ہوا جائے۔ اور اس حاضری کے  لئے  سیرتِ صحابہ کو نمونہ بنانا چاہئے۔ صحابہ کرامؓ جب حضورﷺ کی محفل میں  حاضر ہوتے  تھے  توایسے  معلوم ہوتا تھاجیسے  بے  جان بت ہوں۔ اگر ان کے  سروں  پر پرندے  بیٹھ جاتے  تو انہیں  خبر تک نہ ہوتی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  حکماً حضورﷺسے  اونچی آواز میں  بولنا منع فرمایا ہے۔ آپؐ کو عامۃ الناس کے  لہجے  میں  مخاطب کرنا سخت گستاخی ہے۔ جب حضورﷺ کے  سامنے  اونچی آواز سے  بولنے  کی ممانعت آئی تو ایک صحابی جو قدرتی طور پر بلند آواز تھے  انہوں  نے  اپنے  آپ کو گھر میں  محبوس فرما لیا۔ صحابہ کرام کو اللّٰہ کے  نبیؐ سے  بے  انتہا عشق تھا۔ ایسا عشق کہ حضورﷺ کے  اشارہ ابرو پر پروانہ وار قربان ہونے  کو ہر صحابی ہر وقت تیار رہتا تھا۔ “ہمارے  ماں  باپ آپ پر قربان”یہ توہر صحابی کا تکیہ کلام تھا۔ صحابہ کرام کے  بعد تابعین و تبع تابعین کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ بلکہ اکثر روایات کے  مطابق کئی عشاق اس خدشہ سے  کہ کہیں  حضورﷺ کے  نقش پا پر قدم نہ آ جائے  زیارتِ روضہ اقدس نہیں  کر سکے۔ اور کئی ایسے  تھے  جنہوں  نے  جب تک مدینہ میں  رہے  جوتا نہیں  پہنا۔ ننگے  پاؤ ں  حج و زیارت کی روایات تو آج تک پائی جاتی ہیں۔ ان تمام روایات میں  عشق نبیؐ کی کیفیت ہوش کی ہے  جوش کی نہیں۔ یہاں  دیوانگی نہیں  فرزانگی کی ضرورت ہے۔ اور فرزانگی کیا ہے ؟شریعت کی پابندی اور پاسداری۔ ان آداب کی روشنی میں  جب اپنے  آپ کو دیکھتا ہوں  تو مجھے  سے  روسیاہ کو محبوب خدا کے  دربار کی حاضری محض اللّٰہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے

میں  کہاں اور کہاں  یہ مقام اللّٰہ!اللّٰہ!

اس وقت مدینہ روانگی کی تفصیلات اور اس وقت کے  تاثرات یاد نہیں۔ کچھ دھندلے  دھندلے  تصورات ہیں۔ ان تصورات میں  لمحہ موجود کے  خیالات کی آمیزش سے  جو تصویر تشکیل پا رہی ہے  وہ پیش کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔

نماز عصر سے  چند لمحے  پیشتر ہماری بس مدینہ منورہ کے  لئے  روانہ ہوئی۔ مکتب کا دفتر رستے  میں  تھا۔ تھوڑی دیر کے  لئے  دفتر کے  سامنے  توقف کیا۔ نمازِ عصر ادا کی۔ مکتب والوں  نے  زادِ سفر کے  طور پر ہر حاجی کو ایک ایک پراٹھا ہدیہ کیا۔ نماز سے  فراغت کے  فوراً بعد بس روانہ ہو گئی۔ یہ وہی مسجد ہے  جو ہماری رہائش گاہ کے  قریب واقع تھی۔ بہت سی نمازیں  ہم نے  یہاں  ادا کیں  تھیں۔ اس مسجد سے  کافی انس تھا۔ سویہاں  سے  روانہ ہوتے  دل کو ایک دھچکا سالگا۔ گاڑی جیسے  جیسے  مدینہ کی طرف جا رہی تھی مکہ چھوٹنے  کا صدمہ بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر یہ مکہ تو حضورﷺ نے  بھی چھوڑا تھا۔ مجبوراً یا خوش دلی سے ….اللّٰہ کی رضا کے  لئے۔ مکہ حضورﷺ کو بہت پیارا تھا۔ ہجرت کے  وقت حضورﷺ مڑ مڑ کر مکے  کو دیکھتے  تھے۔ مگر اللّٰہ کا حکم ہجرت کا تھا۔ ہجرت کیا ہے ؟

ایک جگہ سے  دوسرے  جگہ کی طرف کوچ کرنا۔ چھوڑنا!جگہ کو چھوڑنا۔ مکان کو چھوڑنا۔ مکینوں  کو چھوڑنا۔ پیار کو چھوڑنا، پیاروں  کو چھوڑنا۔

 

کیوں  چھوڑنا؟

 

صرف اللّٰہ کی رضا کے  لئے  اس خیال سے  مکہ چھوڑنے  کا صدمہ کم ہوا اور ہجرت کے  تصور سے  مدینہ جانے  کا شوق بڑھنے  لگا۔ دل میں  بجائے  اضطراب کے  یک گونہ اطمینان محسوس  ہو رہا تھا۔ اس لئے  کہ مکہ ہمیں  مدینہ شریف کی طرف وداع کر رہا تھا۔ یوں  محسوس  ہو رہا تھا کہ جیسے  کعبہ حکم دے  رہا ہے  کہ ہم نے  اپنے  نبی کی مدینہ کے  لئے  تشکیل کی تھی اب اس کی اتباع کے  لئے  تمہاری تشکیل کی جا رہی ہے۔ نبیؐ کی تشکیل رب کعبہ کے  تعارف کے  لئے  تھی اور تمہاری تشکیل بھی معرفتِ الٰہی کے  لئے  ہے۔ نبیؐ کو کلمہ دے  کر مدینہ بھیجا تھا۔ نبی نے  کلمہ پھیلانے  کا حق ادا کر دیا۔ اب کلمے  کو ساری دنیا میں  پھیلانا۔ سارے  انسانوں  تک پہنچانا تمہارا فرض ہے۔

 

آغوشِ فطرت

 

مکہ شریف کی سوغاتوں  میں  سے  دوسوغاتیں  خالص مکی سوغاتیں  ہیں۔ ایک آبِ زمزم اور دوسراکلمہ۔ یہ دونوں  سوغاتیں  حرم شریف سے  حاصل ہوتی ہیں۔ باہر سے  نہیں۔ باہر توسڑکیں  ہیں،عمارتیں  ہیں،بازار ہیں۔ (اور بازار میں  تو چیزیں  ہوتی ہیں  کلمہ نہیں  ہوتا۔)

جب گاڑی کشادہ سڑکوں،بلند عمارتوں  اور پُر کشش بازاروں  سے  نکل کر کہساروں  اور ریگزاروں  میں  داخل ہوتی ہے  فطرت اپنے  پورے  مفاہیم سمیت روشن ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ میں  کثرت کے  جنگل سے  نکل کر وحدت کی وسعت میں  داخل ہو جاتا ہوں۔ میرے  دائیں  بائیں  چٹیل میدان اور ویران پہاڑ ہیں۔ ان پہاڑوں  پر سبزہ ہے  نہ کوئی شجر۔ کوئی چشمہ پھوٹتا نظر آتا ہے  نہ کوئی دریا۔ ہر طرف ایستادہ پتھروں  کے  ٹیلے  اور پہاڑ ہیں  یا ان پہاڑوں  کے  پہلو میں  پھیلے  ہوئے  ریت کے  وسیع میدان۔ یہ ہموار اور صاف میدان کثرت و تنوع کی آلائش سے  پاک اور صاف ہیں۔ گویا نیچے  زمین کا فرش اور اوپر آسمان کا سائبان ہے۔ باقی!باقی کچھ نہیں۔ کوئی کثرت نہیں۔ تعداد معدود اور قیود ناپید۔ گویا ایک ایساجہان ہے  جو نا پیدا کنا رہے۔ چاروں  طرف وسعت ہی وسعت ہے،کشادگی ہی کشادگی ہے۔ کوئی گھٹن نہیں، کوئی حبس نہیں،کوئی قید نہیں۔ آزادی ہی آزادی ہے۔ چاروں  طرف فطر ت سواگت کے  لئے  بازو پھیلائے  منتظر ہے۔ مگر انسان اب فطرت کے  اس محبوب رویے  سے  بیزار ہے۔ غیر فطری زندگی ہماری فطرت بن چکی ہے۔ ہمارے  لئے  پہاڑی اور صحرائی زندگی عذاب ہے۔ مگر کیا کیا جائے  اسلامی تہذیب نے  تو گہوارہ فطرت میں  تربیت پائی ہے۔ میں  ماضی حال کے  مقابلہ و موازنہ میں  مصروف ہوں  کہ ایک پرکشش آواز اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیپ ریکارڈ پر کوئی عالم عربی میں  بیان فرما رہے  تھے۔ میں  نے  توجہ سے  سننے  کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ تقریر کا موضوع سیرتِ رسولِ مقبول ہے۔

مقرر حضورﷺ کی ولادتِ باسعادت اور پرورش کی تفصیلات بتا رہے  تھے۔ اس تقریر سے  اندازہ ہوا کہ حضورﷺ کا بچپن فطری ماحول میں  گذرا ہے۔ پھر اس وقت کے  مکہ کی معاشرت کا مطالعہ کریں  تو وہ بھی نہایت سادہ معلوم ہوتی ہے۔ اس کے  علاوہ حضورﷺ کی بقیہ زندگی کا مطالعہ کیا جائے  تو یہ حقیقت کھل کر سامنے  آ جاتی ہے  کہ دین اسلام فطری دین ہے  اسلام کا مزاج سادہ ہے  اس کا تصنع،بناوٹ اور تکلفات سے  کوئی تعلق نہیں۔ علامہ اقبال نے  فرمایا تھا:۔

فطرت کے  مقاصد کی کرتا ہے  نگہبانی

یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی

بیشک اسلام دین فطرت اور مسلمان فطرت آشنا فطرت پسند ہے۔ حفیظ جالندھری نے  کہا تھا:۔

نہ اس میں  گھاس اگتی ہے  نہ اس میں  پھول کھلتے  ہیں

مگر اس سرزمیں سے  آسماں  بھی جھک کے  ملتے  ہیں

واقعی سرزمینِ حجاز بے  آب و گیاہسرزمین ہے۔ مگر پیغمبروں  کے  سلسلہکو دیکھیں  تو اکثر کی تربیت اس فطری ماحول میں  ہوئی ہے۔ یہ نکتہ آج کے  مفکرین کے  لئے  دعوتِ فکر ہے۔

 

جانب بطحا

 

نسیما جانبِ بطحا گذر کن

ز احوالم محمدؐ را خبر کن

(اے  بادِ نسیم لِللہ مدینہ شریف جا کر حضورﷺ کو میرے  احوال کی خبر کرنا)

مولانا جامی مشہور صوفی شاعر ہیں۔ آپ نہ صرف صاحب قال بلکہ صاحبِ حال ہیں۔ علم و فضل کے  لحاظ سے  ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ خاص طور پر فارسی شاعری میں  ان کا بہت نام ہے۔ یہ صاحب بادِ نسیم کو عرضِ احوال کا پیغام دے  رہے  ہیں  اور ہماری قسمت کے  کیا کہنے  ہمارے   پاس علم و فضل،زہد و تقویٰ اور عشق و محبت جیسی کوئی سوغات نہیں پھر بھی قدم بوسی ء رسول ﷺ کے  لئے  جا رہے  ہیں۔

“یہ بڑے  کرم کے   ہیں فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے ”

ایک اور شاعر نے  کہا تھا:۔

پیام بر نہ میسر ہو ا تو خوب ہوا

زبانِ غیر سے  کیا شرحِ آرزو کرتے

الحمد للّٰہ کسی واسطے  وسیلے  کی ضرورت نہیں  پڑی۔ اللّٰہ نے  بالمشافہ ملاقات کا موقع دیا ہے  اور اپنی زبان سے  حالِ دل کہنے  کی سبیل بنائی ہے۔ مگرسوچتا ہوں  کس منہ سے  حضورﷺ کا سامنا کروں  گا۔ اور کس زبان سے  حالِ دل کہوں  گا۔ میرا دل لذتِ عشق سے  ناآشنا اور وسواس سے  آلودہ ہے۔ نگاہ آدابِ زیارت سے  اور زبان آدابِ تکلم سے  ناآشنا ہے۔ عجب تذبذب کی کیفیت ہے۔

میں  جو سربسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے  آنے  لگی صدا

تیرا دل توہے  صنم آشنا تجھے  کیا ملے  گا نماز میں            (اقبال)

واقعی میرا دل تو صنم کدہ ہے۔ اس میں  دنیا کی محبت بھری ہوئی ہے۔ خواہشیں،تمنائیں  اور محبتیں  وغیرہ،پتہ نہیں  کیا کیا غلاظتیں  اندر بھری ہوئی ہیں۔ کعبۃ اللّٰہ میں  اگرچہ صفائی ہوئی ہے۔ مگر ابھی تک صنم خانۂ دل میں  کئی لات و منات سجے  ہوئے  ہیں۔

کہتے  ہیں  انسان کے  دو بڑے  دشمن ہیں۔ ایک شیطان دوسرانفس۔ شیطان ہمیں  نظر نہیں  آتا اور نفس سے  بھی ہم نظریں  چراتے  رہتے  ہیں۔ مگر جب مرحلہ خود احتسابی کا آتا ہے  تو دونوں  نظر آتے  ہیں۔ شیطان کی کوشش ہوتی ہے  کہ انسان کو راہ سے  گمراہ کر دے۔ اس کی توجہ اللّٰہ سے  ہٹا کر مخلوق میں  لگا دے۔۔۔۔ یہ مخلوق پرستی ہی تو شرک ہے۔ معنوی لحاظ سے  شرک کی دوقسمیں  ہیں۔ جلی و خفی۔ شرکِ جلی کا احساس و ادراک آسانی سے  ہو جاتا ہے  اس کا تعلق خارج سے  یا غیر سے  ہے۔ مگر شرکِ خفی کا تعلق اپنی ذات سے  ہے۔ اس کا احساس تک نہیں  ہوتا۔ آدمی اپنے  سوا ساری مخلوق کی نفی کر سکتا ہے  مگر اپنی اَنا کو ختم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ آدمی اپنی فہم وفراست، علم و فضل اور ذہانت کو بت ہی نہیں  سمجھتا،حالانکہ وہ چیزیں  جنہیں  انسان نورِ بصیرت خیال کرتا ہے  وہ سدّ راہ ہیں۔ ایمان کی کمی کی صورت میں  آدمی ان پر بھروسہ کر کے  دھوکا کھا جاتا ہے،گمراہ ہو جاتا ہے۔ اگر ان صلاحیتوں اور اہلیتوں  کو خدا کی دین سمجھ کر ان سے  کام لیا جائے  تو یہ نور نظر ہیں  اور اگر ان کو ذاتی صفات سمجھ کر ان پربھروسا کیا جائے  تو یہ سدِراہ ہیں۔ آدمی دلائل و استدلال کی بھول بھلیوں  میں  پھنس جاتا ہے۔ کیا؟کیوں ؟کیسے  کے  چکر سے  نہیں  نکل سکتا۔ اور یہ اشکال وسوالات اہلیت تسلیم و رضا سے  عاری ہیں۔ یہ تشکیک و شبہات میں  الجھے  ہوئے  معمے  ہیں۔ ان میں  ایمان و ایقان کی سادگی اور راستی نہیں۔ اور راستی اور سچائی توانسان کی فطری ضرورت ہے۔

کبھی اے  حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں  سجدے  تڑپ رہے  ہیں  مری جبینِ نیاز میں            (اقبال)

 

بے  جسم سے  صاحبِ جسم کی طرف

 

بہت سی باتیں  ایسی ہیں  جنہیں  نثر میں  بیان نہیں  کیا جا سکتا۔ خاص طور پر جذبات وحسیات کی عکاسی نثری اسلوب میں  کرنا مشکل ہوتی ہے۔ اس کے  لئے  مجبوراً شعر کے  سانچے  کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ حقیقت منتظر جس کی ہر انسان کو فطری طور پر تلاش ہے  وہ کسی جسم یا شکل و صورت کا نام نہیں۔ وہ ایک نام ہے  جو تمام ناموں، شکلوں  اور جسموں  کا خالق ہے۔ اس بے  جسم اسم کا نظارہ نظر نہیں  کر سکتی۔ اس کا ادراک ذہن نہیں  کر سکتا۔ یہ ذات احاطۂ ادراک سے  ماوراء ہے۔ یہ حدود میں  محدود اور قیود میں  قید نہیں۔ یہ وراء الوریٰ ہے۔ یہ قیدِ زمان و مکان سے  آزاد ہے۔ اس کا کوئی مقام ہے  نہ مکان….. ہاں  !اگر قیام ہے  توسینہ صفاء میں۔ قلبِ مصفا میں، اور قلبِ مصفا اور سینہ صفا کیا ہیں ؟یہ بھی اصطلاحات ہیں  یا استعارے۔ سوحقیقت منتظر یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی زیارت  و وصال کی بات کے  لئے  استعارے  کا سہارالینا مجبوری ہے۔

استعارہ  وہ  اشارہ ہے  جو حواسِ کی استعداد کے  مطابق ہو۔ آدمی غیر مادی کو مادی اور غیر محسوس کو قابلِ احساس کے  حوالے  سے  محسوس کرنے  کا عادی ہے۔ حقیقت کو مجاز کے  آئینے  میں  دیکھنے  کا تقاضا ایک فطری بات ہے۔ اس لئے  اقبال حقیقت منتظر کو لباسِ مجاز میں  دیکھنے  کی آرزو کر رہا ہے۔

ذاتِ باری تعالیٰ کے  متعلق کہتے  ہیں  کہ وہ ذات و صفات دونوں  لحاظ سے  بے  مثل و بے  مثال ہے۔ اس کی ذات کی شناخت اس کی صفات سے  ہے۔ اور صفات میں  اس کی صفتِ تخلیق اس لحاظ سے  اہم ہے  کہ عملِ تخلیق میں  ربوبیت و رحمت کے  علاوہ دیگر صفات بھی موجود ہیں۔ عمل تخلیق جلال و جمال کا مرکب ہے۔ سواس عمل سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی جلال و جمال ہر دوقسم کی صفات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ اظہار ہی اس کا تعارف اور معرفت ہے۔

مکہ میں  اللّٰہ کی جلالی و جمالی ہر  دو صفات کا مشاہدہ  و تجربہ ہو چکا تھا۔ مگر یہ مشاہدہ تشنہ اور تجربہ نا پختہ تھا۔ گھر سے  اپنے  در تک وہ سائے  کی طرح ساتھ ساتھ رہا۔ جلال میں  ہوتا تو بیمار کر دیتا، لاچار کر دیتا۔ پھر جمال کی صورت میں  صحت دے  دیتا۔ کبھی دکھ دیتا،کبھی سکھ دیتا،کبھی گدگدی کرتا، کبھی چٹکی بھرتا۔ کبھی گراتا کبھی سنبھالتا،جدا کرتا پھر ملا دیتا۔ مگر اس ہجر و وصال کے  لمحوں  میں  بھی وہ متصل رہا۔ جو کچھ بھی ہوتا وہی کرتا محسوس ہوتا، کبھی وہ خوداحساس دلاتا، کبھی ہم اس کو چھونے  کی کوشش کرتے۔ عجیب کھیل تھا۔ منیٰ میں، عرفات میں،مزدلفہ میں، طواف میں، سعی میں  ہم اس کو چھونے  کی کوشش میں  رہے  ہیں۔ اس کوشش میں  کبھی اسے  پا لیتے، کبھی کھو دیتے۔ عجیب آنکھ مچولی کا کھیل تھا۔

حج کی آنکھ مچولی میں  ہم نے  مکان کے  حوالے  سے  مکین کا طواف کیا۔ یہ مکان اللّٰہ کا گھر ہے۔ اور گھر اس کو بڑا محبوب ہے۔ یہ گھر بے  شک پتھر گارے  کی تعمیر ہے  مگر یہ تعمیر دوسری تعمیروں  سے  افضل ہے  کہ اس کو اس نے  اپنا گھر بتایا ہے۔ اس گھر سے  بڑھ کر اسے  اپنے  محبوب کا گھر زیادہ پیارا ہے۔ اور محبوب کے  حوالے  سے  محبوب کا شہر زیادہ پیارا ہے یثرب …… اور خود محبوب کتنا پیارا ہے۔ اس کی کوئی حد نہیں  کوئی حساب نہیں۔ اللّٰہ کا محبوب اللّٰہ کی صفتِ تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار ہے۔ یہ شاہکار اللّٰہ کی صفاتِ جلال و جمال کا مرقع ہے۔ اور یہ مرقع کوئی خیالی خاکہ یا تصوراتی تصویر نہیں۔ ایک جسم ہے۔ جسم جس کوچھوسکیں، جس سے  مل سکیں،گلے  لگا سکیں، باتیں  کر سکیں، جسے  سن سکیں،جسے  سنا سکیں،جس کے  حسن کو ظاہری آنکھ سے  دیکھ سکیں۔ جس کے  پسینے  کی خوشبوسونگھ سکیں۔ محسوس کر سکیں۔ ہاں  ہم حواس کے  عادیوں  کو حواس کے  ذریعے  محسوس کرنے  کی عادت ہے۔ ہم قوانینِ مجاز کے  عادی حقیقت کو مجاز کے  حوالے  سے  دیکھ سکتے  ہیں۔ اور مجاز کے  لبادہ میں  حقیقت کا عکس حضرت محمد ؐ کی ذاتِ با برکات میں  بدرجہ اتم دکھائی دیتا ہے۔ سوہمیں  حسرت ہے  اس قدرت کے  شاہکار کے  کی بجائے  مدینۃ النبی ﷺ ہو گیا۔

مدینہ شریف وہ مبارک بستی ہے  جس کی فضیلت میں  بہت سی احادیث مروی ہیں۔ یہی نہیں  بلکہ حضورﷺ کی ابدی رہائش گاہ کی نسبت سے  بعض علماء مدینہ النبیؐ کو مکۃ المکرمہ سے  بھی افضل کہتے  ہیں۔ مکہ شریف کی طرح مدینہ شریف بھی حرم ہے۔

حضرت انسؓ حضورﷺ کی یہ دعا نقل کرتے  ہیں  کہ اے  اللّٰہ جتنی برکتیں  آپ نے  مکہ میں  رکھی ہیں ان سے  دگنی برکتیں  مدینہ منورہ میں  عطا فرما۔ حضرت سعدؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے  کہ جو کوئی بھی مدینہ کے  رہنے  والوں  کے  ساتھ مکر کرے گا وہ ایسا گھل جائے گاجیسا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔

مدینہ شریف کی مٹی خاکِ شفا ہے۔ اس کے  متعلق فضائل حج میں  لکھا ہے  کہ حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں  کہ حضورﷺ مریض کے  لئے  فرمایا کرتے  تھے :۔

بِسْمِ اللّٰہِتُرْبَۃ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِناَ یَشْفِیْ سَقِیْمَنَا

اللّٰہ کے  نام کے  ساتھ ہماری زمین کی مٹی ہم میں  سے  بعض آدمیوں  کے  لب کے  ساتھ مل کر ہمارے  بیمار کو شفا دیتی ہے۔

مدینہ کی موت،مبارک موت ہے۔ اس سلسلے  میں  “حضرت ابنِ عمرؓ حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں  جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں  مرے  چاہئے  کہ وہیں  مرے۔ اس لئے  کہ میں  اس شخص کا سفارشی ہوں گاجو مدینہ میں  مرے گا۔ دوسری حدیث میں  ہے  کہ میں  اس کا گواہ ہوں گا”اس سلسلہ میں  حضرت عمرؓ کی دعا مشہور ہے  کہ”اے  اللّٰہ مجھے  اپنے  راستہ میں  شہادت عطا فرما اور اپنے  رسولؐ کے  شہر میں  موت عطا فرما”۔

ریاض الجنہ کے  دروازہ پر یہ حدیث عربی میں  لکھی ہوئی ہے۔

جو جگہ میرے  گھر یعنی میری قبر اور میرے  منبر کے  درمیان ہے  وہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے  اور میرا منبر میرے  حوض پر ہے۔

اس حدیث کے  ساتھ ایک اور حدیث لکھی ہوئی ہے  جس کا ترجمہ ہے :۔

بیشک ایمان مدینہ کی طرف ایسا کھنچ کر آتا ہے  جیسا کہ سانپ اپنے  سوراخ کی طرف آ جاتا ہے۔

مسجدِ نبویؐ کا چپہ چپہ جنت نظیر اور باعثِ برکت ہے۔ حضوراقدس کا ارشاد ہے  کہ:۔

جو شخص میری مسجد میں  چالیس نمازیں  ایسی طرح پڑھے  کہ ایک نماز بھی اس کی مسجد سے  فوت نہ ہو تو اس کے  لئے  آگ سے  برأت لکھی جاتی ہے  اور وہ شخص نفاق سے  بری ہے۔

اسی حدیث کی روشنی میں  مسجدِ نبویؐ میں  چالیس نمازیں  با جماعت پڑھنے  کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کعبۃ اللّٰہ کے  بعد مسجدِ نبوی ؐ میں  نماز پڑھنے  کا ثواب دوسرے  نمبر پر ہے۔ ایک روایت کے  مطابق عام نماز کی نسبت ہزار گنا اور دوسری کے  مطابق پچاس ہزار گنا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔

مسجدِ نبویؐ کے  آٹھ ستونوں  کی فضیلتیں  بھی احادیث میں  وارد ہوتی ہیں۔ ان کے  علاوہ مسجد کا چپہ چپہ باعثِ برکت ہے  کہ اس سرزمین کو حضورﷺ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اس سے  ہٹ کر دیکھیں  تو مدینہ منورہ کا کون ساحصہ ایسا ہو گا جہاں  حضورﷺ یا صحابہ کرامؓ جیسی بابرکت ہستیوں  کے  قدم نہ پڑے  ہوں گے۔ اس لئے  یہاں  کی ہر جگہ بابرکت ہے۔ اس بابرکت شہر کے  وہی آداب ہیں  جو مکہ شریف کے  اس لئے  کہ ان دونوں  شہروں  کو حرمین شریفین کہا جاتا ہے۔

 

مینارِ نور___ نظارہ نور

 

جب مسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آئے

اللّٰہ کی رحمت کے  آثار نظر آئے

غروب آفتاب تک میری نگاہیں  دائیں بائیں  کے  نظاروں  میں  محور ہیں  مگر غروب آفتاب کے  ساتھ باہر کے  نظارے  غائب ہو گئے  اور اندر کی دنیا روشن ہو گئی۔ اب تصوراتی مدینہ جو کتابوں  میں  پڑھا تھا یا تصویروں  میں  دیکھا تھا۔ پردۂ ذہن پر فلم کی طرح روشن ہونے  لگا۔ ہجرتِ مکہ سے  لے  کر سفرِ آخرت تک کا زمانہ قرطاسِ ذہن پہ جگمگانے  لگا۔ راستے  میں  مختلف مقامات پرا کرام بھی ہوا۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں راستہ میں ادا کیں۔ اور رات کے  دو اڑھائی بجے  مدینۃ الحجاج میں  پہنچے۔ سفر کی طوالت کی وجہ سے  حجاج کرام تھک چکے  تھے۔ کچھ اونگھ رہے  تھے،کچھ سورہے  تھے  اور کچھ ذکر و اذکار میں  مصروف تھے۔ ذاکرین کے  چہروں  پہ تھکن یا اکتاہٹ کے  بجائے  تسکین  و اطمینان کے  آثار نمایاں  تھے۔

مدینۃ الحجاج کی کاغذی کاروائی کے  بعد بس مدینہ النبی ؐ کی طرف روانہ ہوئی تو نگاہیں  خواب کے  سراب سے  نکل کر حقیقت کے  نظاروں  سے  لطف اندوز ہونے  لگیں۔ مسجدِ نبویؐ کے  میناروں  پر نظر پڑتے  ہی نگاہیں  روشن اور دل منور ہو گئے۔ صلٰوۃ وسلام کی صدائیں  بلند ہونے  لگیں۔ ان صداؤں  میں  دبی دبی سسکیاں  اور ہچکیاں  بھی شامل تھیں۔ پلکوں  پر لرزاں اشکوں  میں  ستاروں  کی سی چمک دکھائی دے  رہی تھی۔ نگاہیں کہکشاں اورسینے  گلستاں تھے۔ روحیں  عجیب طرح کا اطمینان محسوس کر رہی تھیں۔ عجیب اطمینان تھا۔ اضطراب بھی تھا، ٹھہراؤ بھی۔ جذبات مچل رہے  تھے،مگر نگاہیں  میناروں  پر جمی ہوئی تھیں۔ سواروں  کی یہ حالت تھی اور سواری یعنی گاڑی اپنے  معمول کے  مطابق مدینہ کی شاہراہوں  پر رواں  کشاں  کشاں  مسجدِ نبویؐ کی طرف جا رہی تھی۔

مدینہ شریف کی سڑکین اور بازار بجلی کے  قمقموں  سے  اور حجاج کرام کے  دل عقیدت و محبت سے  منور تھے۔ گویا ظاہر و باہر نور ہی نور تھا۔ ہر سو طور ہی طور تھا۔ اس کیفیت کو چند منٹ گذرے  ہوں  گے  کہ ایک جھٹکے  کے  ساتھ گاڑی رک گئی۔ ہماری موجودہ منزل آ گئی۔ یہ منزل بھی عجیب منزل تھی۔ عین منزل پہ آ کر ہم منزل کا  تصور تک بھول گئے۔ سب ساتھی اپنا اپنا سامان اتارنے، سنبھالنے  اور کمروں  تک لے  جانے  میں  مصروف ہو گئے۔ درود وسلام اور ذکر و فکر کا سلسلہ یکدم ملتوی ہو گیا۔ نورانی نظاروں  کے  قرب کے  باوجود کچھ دیر کے  لئے  ہم لوگ اندھیروں  میں  ڈوب گئے۔ وقتی دھندوں  کی مشغولی کی وجہ سے  ازلی مسرتوں  سے  محروم ہو گئے۔ مگر یہ محرومی وقتی محرومی تھی۔ مسجدِ نبویؐ ہماری رہائش گاہ کے  قریب تھی۔ سوسامان وغیرہ سنبھالنے  کے  بعد حاجی حضرات مسجدِ نبویؐ کی زیارت کے  لئے  چلے  گئے۔

محل چڑھایا ای سانیاں

خس خس جتنا قدر نئیں  میرا خالق نوں  وڈیایاں

میں گلیاں  دا روڑا کوڑا کرم کمایا ای سائیاں

(میں  تو اتنا بے  قدر و قیمت ہوں  کہ خس و خاشاک سی بھی میری قدر نہیں۔ ساری تعریفیں  تو خالقِ حقیقی کو روا ہیں  میری حیثیت تو گلیوں  کے  روڑے  اور کوڑے  کی سی ہے۔ یہ تو میرے  سائیں  مولا کریم کی کرم نوازی ہے  جس نے  مجھ فقیر پر اتنا کرم فرمایا ہے)

ہم نے  کمرے  کی کھڑکی کھول کر باہر کا نظارہ کیا تو جگمگاتا مدینۃ النبیﷺ نورِ نظر بنا ہوا تھا۔ مغرب کی جانب نظر کی تومسجد نبوی ﷺ کے  منار جگمگ کر رہے  تھے۔ اس موقع پر ہم دونوں  کے  منہ سے  بے  ساختہ نکل “میں  گلیاں دا روڑا کوڑا محل چڑھایا ای سائیاں ”

اب کے  یہی کیفیت تھی۔ ہم جیسے  ناکارہ و بے  سہارالوگوں  کو اللّٰہ تعالیٰ نے  خاک سے  اٹھا کر محل پہ بٹھا دیا تھا یہ اس کا خصوصی کرم ہے۔

جسے  چاہا اپنا بنا لیا جسے  چاہا در پہ بلا لیا

یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے

 

مسجدِ نبوی ﷺ

 

مدینہ منورہ میں  ہماری رہائش کا انتظام ایک ہوٹل میں  کیا گیا تھا۔ اس ہوٹل کا نام”فندق برکۃ الاندلس”ہے۔ ہمارا کمرہ گیارہویں  منزل پر تھا۔ یہ کمرہ چار بستروں  پر مشتمل تھا۔ ضرورت کی تمام اشیاء یہاں  موجود تھیں۔ ہمارے  ساتھ چار ساتھی تھے۔ ان میں دو خواتین اور دو مرد تھے۔ تین کا تعلق ایک ہی گھرانے  سے  تھا۔ ان میں  ایک میاں  بیوی اور ان کا بیٹا تھا۔ چوتھی ایک خاتون تھی۔ ان لوگوں  نے  ہمارے  ساتھ بہت تعاون کیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  ہر حال میں  خوش و خرم رکھے۔ دونوں  جہانوں  میں  کامیاب فرمائے۔ آمین!

مسجدِ نبویؐ ہمارے  ہوٹل سے  چند قدم کے  فاصلے  پر تھی۔ ہمارے  راستے  میں  صرف ایک بلڈنگ پڑتی تھی۔ اس کا نام معلوم نہیں۔ اس کے  سامنے  دو ہوٹل ہیں۔ ایک کا نام فندق اندلس اور دوسرے  کا فندق ایلافِ طیبہ ہے۔ یہ عمارتیں  تقریباً مسجدِ نبویؐ  کے  گیٹ کے  بالمقابل ہیں۔ ہمارے  چاروں  ساتھی سامان رکھتے  ہی حرم شریف (مسجدِ نبویؐ )چلے  گئے۔ نو وارد ہونے  کی وجہ سے  ہمیں  ابھی تک حرم شریف کے  راستہ کا علم نہیں  تھا۔ پھر اہلیہ کی بیماری میرے  لئے  ایک مستقل مجبوری تھی۔ ہم ساتھیوں  کے  ساتھ نہ جا سکے۔ مگر جب تہجد کی اذان ہوئی تو مجھ سے  رہا نہ گیا۔ میں  نے  اہلیہ کو کہا کہ آپ بیماری کی وجہ سے  معذور ہیں۔ آپ کمرے  میں  ہی نوافل اور نماز ادا کریں۔ میں  حرم شریف جا کر نماز پڑھوں  گا۔ میں  اس کی نیم خاموشی کو نیم رضا سمجھ کر حرم شریف چلا گیا۔

مسجد میں  داخل ہوتے  ہی کیفیت بدل گئی۔ گذشتہ ڈیڑھ دو گھنٹے  میں  جو بے  کیفی سی پیدا ہو گئی تھی یکدم رفع ہو گئی۔ مسجدِ نبوی کے  میناروں  کو پہلی نظر دیکھنے  والی کیفیت دوبارہ طاری ہو گئی۔ اب تویوں  محسوس  ہو رہا تھا کہ میں  نور کے  سمندر میں  غوطہ زن ہوں۔ پہلے  صرف نظر شرف زیارت سے  مشرف ہوئی تھی۔ اب پوری ذات نور میں  نہا رہی تھی۔ پہلے  منظر کا مشاہدہ تھا۔ اب ناظر منظر کا حصہ تھا۔ میرے  مولا نے  اتنا اتنا عطا فرمایا کہ بتایا نہیں  جا سکتا۔ بیشک میرے  داتا نے  اوقات سے  بڑھ کر عطا فرمایا۔

جسے  چاہا در پہ بلا لیا جسے  چاہا اپنا بنا لیا

یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے

مسجدِ نبویؐ کو ظاہر کی نظر سے  دیکھیں  تو یہ بھی سنگ و خشت سے  تعمیر کردہ ایک مسجد ہے۔ اس حوالے  سے  اس کی تخصیص یہ ہے  کہ یہ مسجد فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔ اس مبارک مسجد کو ظاہر کی نظر سے  دیکھنے  سے  بھی یک گونہ فرحت ہوتی ہے۔ مگر جیساکہ پہلے  عرض کیا جا چکا ہے  مکان کی اہمیت اس کے  مکین کی نسبت سے  ہوتی ہے۔ اس لئے  مسجدِ نبویؐ کو اللّٰہ کے  نبیؐ حضرت محمدﷺ کے  حوالے  سے  دیکھنے  کی ضرورت ہے۔ جب اس نظر سے  دیکھیں  تو معرفت کا دروازہ  وا ہو جاتا ہے۔ آدمی لمحۂ حاضر کی گرفت سے  آزاد ہو کر خیرالقرون میں  پہنچ جاتا ہے۔ اللّٰہ کے  محبوب اور محبوب کے  محبوبوں  کے  حوالے  سے  نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ مسجدِ نبویؐ کا چپہ چپہ چومنے  کو جی چاہتا ہے  کہ اس سرزمین پر محبوب خدا کے  نقوشِ پا ثبت ہیں۔ حضورﷺ کے  صحابہ کرامؓ،اہلِ بیت اطہار کے  آثاراس خاک پاک میں  محفوظ ہیں،یہ مسجدمدرسہ نبوت تھا۔ یہ مسجد صحابہ  کرامؓ کی تربیت گاہ تھی۔ یہ مسجد اسلام کا مرکز اور سلطنتِ اسلامیہ کا دارالسلطنت تھی، یہیں  مختلف ممالک کے  وفود آتے،یہیں  حضورﷺ کی کچہری لگتی،یہیں  فیصلے  ہوتے، اسی مسجد کے  پہلو میں  اہلِ بیت کے  حجرات تھے۔ اس وقت آپؐ جہاں  آرام فرما ہیں  یہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ مبارک تھا۔ حضورﷺ کے  پہلو میں  حضرت ابوبکر صدیقؓ جن کا لقب یار غار ہے  اور حضرت عمر فاروقؓ مدفون ہیں۔ حدیث مبارک کی رو سے  یہاں  سے  حضورﷺ کے  منبر شریف تک کی زمین جنت کے  باغات میں  سے  ایک باغ ہے۔ حضورﷺ کے  پائے  مبارک کی طرف وہ چبوترہ ہے  جسے  صفہ کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ یہ صفہ اصحابِ صفہ کی رہائش گاہ اور مکتب تھا جدید زبان میں  اسے  صحابہ کا ہاسٹل یا کلاس روم کہا جا سکتا ہے۔ ان حضرات کا اپنا گھر گھاٹ کوئی نہیں  تھا۔ یہ اللّٰہ کے  نبی ﷺ کے  مستقل مہمان تھے۔

مسجدِ نبویؐ وہی مسجد ہے  جسے  حضورﷺ نے  اپنے  ساتھیوں  کی مدد سے  خود تعمیر فرمایا تھا۔ یہ وہی مسجد ہے  جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں  اور تنوں  سے  تعمیر کی گئی تھی۔ یہ وہی مسجد ہے  جس میں  کھجور کی ٹہنیاں  جلا کر روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا اور اس مدھم روشنی میں  دنیا کو منور کرنے  کی سوچیں  سوچی جاتیں،ظلمت مٹانے  کے  منصوبے  پر ورش پاتے  تھے۔

اس مسجد سے  حضورﷺ اور صحابہ کرامؓ کے  رتجگوں  اور مشقتوں  کی داستانیں  وابستہ ہیں۔

مسجدِ نبویؐ کا موجودہ نقشہ جدید فنِ تعمیر کا بے  مثال نمونہ ہے۔ زائرین کی سہولت و آرام کے  تمام انتظامات موجود ہیں۔ تمام متبرک مقامات کے  تحفظ کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے۔ مسجد میں  سب سے  اہم مقام تو روضہ رسولؐ ہے۔

 

روضہ رسولﷺ (مقصورہ شریف)

 

روضہ اقدس کا طول سولہ میٹر یا تقریباً باون فٹ اور عرض تقریباً انچاس فٹ ہے۔ چاروں  گوشوں  میں  سنگِ مرمر کے  بڑے  بڑے  ستون ہیں  جن کی بلندی چھت تک ہے۔ ۹۸۰ھ؁ میں  سلطان سلیم ثانی نے  روضہ اقدس کا قابلِ رشک گنبد بنوایاجسے  رنگین پتھروں  ور زردوزی سے  مزین کیا گیا۔

۱۲۳۳ھ؁ میں  سلطان محمود نے  گنبد نبویؐ کو ازسرِ نو تعمیر کرایا۔ پہلے  گنبد کا رنگ سفید تھا۔ مگر ۱۲۵۵ھ؁ میں  اس گنبد پر سبزرنگ کرایا گیا جب ہی سے  اسے  گنبدِ خضراء کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔، یہی وہ گنبدِ خضراء ہے  جسے  عاشقانِ رسولؐ اپنے  خوابوں  میں  دیکھتے  ہیں  اور قسمت والے  جب وہاں  تک پہنچ جاتے  ہیں  تو اس کی تجلیاں  ان کے  دلوں  میں  نور،ان کی آنکھوں  میں  ایمان کی روشنی اور ان کی روح میں  سرور پیدا کر دیتی ہیں۔

مسجدِ نبویؐ کی موجودہ توسیع خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کے  موجودہ عہد میں  مکمل ہوئی۔ اس توسیع کے  بعد مسجدِ نبوی ؐ کا کل رقبہ اٹھانوے  ہزار پانچ سو مربع میٹر کے  برابر ہے۔ جو کہ پچھلی تعمیر سے  تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس کے  علاوہ اب چھت پر بھی نماز پڑھنے  کے  لئے  سڑسٹھ ہزار مربع میٹر کی اضافی جگہ موجود ہے۔ اب مسجد میں  عام دنوں  میں  چھ لاکھ پچاس ہزار نمازی بآسانی نماز ادا کر سکتے  ہیں۔ (کتاب الحج مسلم کمرشل بینک)

دوسری اہم جگہ ریاض الجنۃ ہے۔ مسجدِ نبویؐ میں  باب جبریلؑ میں  داخل ہوتے  وقت بائیں  ہاتھ ایک حجرہ ہے۔ یہ حضرت بی بی فاطمہؓ کا گھر تھا۔ یہاں  سے  آگے  بائیں  ہاتھ پر مسجدِ نبویؐ کا جو حصہ ہے  یہ ریاض الجنۃ ہے۔ اسی جگہ کے  متعلق فرمانِ رسولؐ ہے  کہ”جو جگہ میرے  گھر اور منبر کے  درمیان ہے  وہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے ”

ریاض الجنۃ میں  حضورﷺ کا مصلیٰ بھی ہے  جہاں  آپؐ کھڑے  ہو کر امامت فرمایا کرتے  تھے۔ اس جگہ ایک خوبصورت محراب بنی ہوئی ہے  جس پر خوبصورت طلائی کام کیا ہوا ہے۔ دونوں  جانب سرخ سنگِ مرمر کے  بے مثال ستون بنے  ہوئے  ہیں۔ محراب کے  اوپر وہ آیت لکھی ہوئی ہے  جس میں  درود شریف پڑھنے  کا حکم دیا گیا ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ اور فرشتے  نبیؐ پر درود وسلام بھیجتے  ہیں،اس لئے  اے  ایمان والو تم بھی آپؐ پر درودوسلام بھیجو(الاحزاب،۵۶)

ریاض الجنہ کے  وہ سات ستون جنہیں  سنگِ مرمر کے  کام اور سنہری مینا کاری سے  نمایاں  کر دیا گیا ہے  خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ ستون روضہ انور کی مغربی دیوار کے  ساتھ سفید رنگ کے  ذریعے  ممتاز کئے  ہوئے  ہیں۔ یہ خاص ستون ہیں  اور ان کی درمیانی جگہ جنت کا ٹکڑا ہے۔

ستونِ حَنَّانہ:۔ یہ محراب النبیؐ کے  قریب ہے۔ اس جگہ کھجور کا وہ تنا تھا جس سے  ٹیک لگا کر حضورﷺ منبر بننے  سے  پہلے  خطبہ پڑھا کرتے  تھے۔ جب منبر شریف تیار ہوا اور حضورﷺؒؒ خطبہ کے  لئے  اس پر تشریف فرما ہوئے  تو تنے  سے  بہت زورسے  رونے  کی آواز آئی۔ حضورﷺ اس کے  پاس آئے  اور اس پر دستِ مبارک رکھا جس سے  اس کا رونا بند ہوا۔

ستونِ عائشہؓ:۔ ایک مرتبہ حضورﷺ نے  ارشاد فرمایا”میری مسجد میں  ایک ایسی جگہ ہے  کہ اگر لوگوں  کو وہاں  نماز پڑھنے  کی فضیلت کا علم ہو جائے  تو وہ قرعہ اندازی کرنے  لگیں “اس جگہ کی نشاندہی حضرت عائشہؓ نے  فرمائی تھی اب وہاں  ستون عائشہؓ بنا دیا گیا ہے۔

ستونِ ابولبابۃؓ:۔ ایک صحابی حضرت ابولبابہؓ سے  غزوہ بنو قریظہ کے  وقت ایک غلطی ہو گئی تھی۔ جب انہیں  اپنی اس غلطی کا احساس ہوا تو انہوں  نے  مسجدِ نبویؐ کے  ایک ستون سے  خود کو باندھ لیا۔ اور کہا کہ جب تک میری توبہ قبول نہیں  ہوتی اپنے  آپ کو نہیں  کھولوں  گا۔ ایک شب حضورﷺ اُم سلمہؓ کے  مکان پر تھے  کہ تہجد کے  وقت ابوالبابہؓ کی توبہ قبول ہوئی۔ اس توبہ کے  حوالے  سے  اس ستون کو اسطوانۃ التوبہ بھی کہتے  ہیں۔

ستونِ سریر:۔ اس جگہ نبی ا کرمؐ اعتکاف فرماتے  تھے  اور رات کو یہیں  آپؐ کے  لئے  بستر بچھایا جاتا تھا۔

ستونِ وفود:۔ اس جگہ نبی ا کرم ؐ باہر سے  آنے  والے  وفودسے  ملاقات فرماتے  تھے۔

ستونِ حرس:۔ اس کو اسطوانۃ علی بھی کہتے  ہیں۔ اس مقام پر حضرت علیؓ اکثر نماز پڑھا کرتے  تھے  اور اس جگہ بیٹھ کرسرکارِ دو عالم کی پاسبانی کیا کرتے  تھے۔

ستونِ تہجد:۔ نبی کریمؐ یہاں  تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے  تھے۔

اسطوانہ جبرائیل:۔ حضرت جبرائیل ؑ کے  آنے  کی یہ خاص جگہ تھی۔ یہ ستون اس وقت حجرہ شریف کی تعمیر کے  اندر آ گیا ہے۔

صفہ:۔ ستونوں  کے  علاوہ وہ صفہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے  جو اہلِ صفہ کی ایک طرح سے  رہائش گاہ تھی۔ یہ مسجدِ نبویؐ کے  شمالی مشرقی کنارے  مسجد سے  ملا ہوا ایک چبوترہ تھا۔ یہ جگہ اس وقت باب جبرائیلؓ سے  اندر داخل ہوتے  وقت مقصورہ شریف کے  شمال میں  محرابِ تہجد کے  بالکل سامنے  دو فٹ اونچے  پیتل کی کٹہرے  میں  گھری ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی چوڑائی چالیس ضربِ چالیس فٹ ہے۔

گنبدِ خضراء:۔ روضہ اقدس کے  اوپر گنبدِ خضراء ہے  جس کی زیارت کرنے کی سعادت ہر مسلمان کے  دل کی تمنا اور آرزو ہے۔

 

آدابِ زیارت

 

ادب گہہ ایست زیر آسمان از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید ایں  جا

(زیرِ آسمان ایک ایسی جائے  ادب ہے  جو عرش معلیٰ سے  بھی نازک ہے۔ یہاں  جنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے  جلیل القدر، عالی مرتبت اولیاء بھی خود فراموشی کی حالت میں  حاضر ہوتے  ہیں۔)

بارگاہِ رسالت مآبؐ میں  حاضری کے  وقت حضورﷺ کے  مرتبہ و فضیلت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہاں  وفورِ محبت و عقیدت کے  باوجود اپنے  آپ کو حدودِ ادب میں  قید کرنے  کی ضرورت ہے۔ یہاں  جوش کی نہیں  ہوش کی ضرورت ہے۔

مسجدِ نبویؐ کی اہمیت و فضیلت خانہ خدا اور آستانہ نبوتؐ ہونے  کی وجہ سے  دیگر مساجد کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے :۔

میری مسجد میں  ایک نماز پڑھنا دوسری مسجدوں  میں  ایک ہزار نماز نمازیں  پڑھنے  سے  افضل ہے  سوائے  مسجد حرام کے  کہ وہاں  نماز پڑھنا میری مسجد میں  سونمازیں  پڑھنے  سے  افضل ہے ”

مسجدِ نبویؐ میں  داخلے  کے  بھی وہی آداب ہیں  جو دوسری مساجد میں  داخل ہونے  کے  ہیں۔ داخل ہوتے  وقت پہلے  دایاں  قدم مسجد میں رکھا جائے۔ ساتھ ہی اعتکاف کی نیت کر لی جائے۔ مسجد میں  داخل ہو کر تحیۃ المسجد کی نیت سے  دو نفل ادا کئے  جائیں۔

مسجدِ نبویؐ کی تعمیر نو فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔ نہایت دیدہ زیب فانوسوں  کے  ذریعے روشنی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اذان کے  وقت ساؤنڈ سسٹم کے  ذریعہ آواز روح کی گہرائیوں  میں  اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے  اور یوں  محسوس ہوتا ہے  کہ ہمارا دل و دماغ، روح سب پاک وصاف ہو گئے  ہوں۔ ایک عجیب لذت کا احساس دل و دماغ کو کشادگی بخشتا ہے۔ خوش قسمت ہیں  وہ لوگ جنہیں  حاضری کی توفیق عطا ہوتی ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے  کم ہے۔ سومسجد میں  درود شریف پڑھتے  ہوئے  داخل ہونا چاہئے  اور داخل ہونے  سے  پہلے  کچھ صدقہ کر نا بھی باعثِ ثواب ہے۔ زائر کے  لئے  ضروری ہے  کہ پنجگانہ نماز با جماعت کا اہتمام کرے  اور تکبیر اولیٰ کا خاص خیال رکھے  اور اگلی صف کے  ثواب کو مدِ نظر رکھتے  ہوئے  مسجد میں  بر وقت پہنچنے  کا اہتمام کرے۔ نماز کے  علاوہ ذکر اور تسبیحات کا خاص خیال رکھے۔ اذکار میں  درود شریف، استغفار اور دعاؤں  کا خاص اہتمام کر ے  نفل نمازوں  کا بھی خاص اہتمام کرے۔ جن امور کی عام مساجد میں  ممانعت ہے  ان کا یہاں  خاص خیال رکھا جائے۔

 

فضائلِ درود

 

صفدؔر یہی ہے  ایک وسیلہ نجات کا

پڑھتے  رہو درود کہ محشر میں  کام دے      (جبینِ نعت)

مسجدِ نبویؐ کا خصوصی ذکر درود شریف ہے۔ احادیث میں  درود شریف کے  بہت سے  فضائل وارد ہوئے  ہیں۔ اور قرآن پاک میں  تو اللّٰہ تعالیٰ نے  درود شریف پڑھنے  کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے :۔

ان اللہ وملٰئکتہ یصلون علی النبی،یایھا الذین اٰ منو صلوا علیہ وسلموا تسلیما(پارہ۲۲رکوع ۳)

بیشک اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے  فرشتے  رحمت بھیجتے  ہیں  ان پیغمبرؐ پر۔ اے  ایمان والو تم بھی آپؐ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔ (بیان القرآن)

درود شریف ایسامبارک وظیفہ ہے  جس میں  خود خداوند تعالیٰ،اس کے  فرشتے  اور مومنین شامل ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  درود اور فرشتوں  اور انسانوں  کے  درود میں  بہت فرق ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  درود کا مفہوم حضورﷺ کے  درجات بلند کرنا ہے۔ اور فرشتوں  اور مومنین کے  درود کا مفہوم اللّٰہ سے  حضورﷺ کی بلندی درجات کی درخواست کرنا ہے۔ حضورﷺ کے  نہ صرف امت بلکہ پوری انسانیت پہ اتنے  احسانات ہیں  جن کی انتہا نہیں۔ آپؐ رحمت اللعالمین ہیں۔ نہ صرف انسان بلکہ پوری مخلوق آپؐ کی مرہونِ منت ہے۔ آپؐ اپنے  پرائے،دوست دشمن، مسلم غیر مسلم سب کے  لئے  رحمت تھے۔ بلکہ آپﷺ تو آئے  ہی کفار کو آتش دوزخ سے  بچانے  کے  لئے۔ آپ ﷺ کو قیامت تک آنے  والے  انسانوں  کی فکر تھی۔ آپؐ نے  اپنے  جانی اور ایمانی دشمنوں  کے  لئے  خدا جانے  کتنی دعائیں  مانگی،کتنے  دکھ سہے، کتنی مصیبتیں  اٹھائیں۔ کہتے  ہیں  اپنے  سب سے  بڑے  دشمن ابوجہل کو آپ نے  بیسوں  بار دعوت دی، اس کے  باوجود کہ آپ کو اذیت پہنچانے  میں  یہ لعین سب سے  آگے  تھا۔ یہاں  تک سنا ہے  کہ ایک دفعہ سخت باد و باراں  کا سماں  تھا۔ حضورﷺ کو ایک دم ابوجہل کا خیال آیا۔ آپؐ اسی وقت اس کے  گھر پہنچے۔ دروازے  پہ دستک دی۔ ابوجہل نے  بیوی سے  کہا کہ اس وقت جو آیا ہے  کوئی سخت غرض مند ہے۔  میں  اس کی ہر غرض پوری کروں گا۔ باہر آیا تو دیکھا سامنے  داعیِ حق کھڑا تھا۔ پوچھا بھتیجے  کیسے  آئے ؟فرمایا چچا کلمہ پڑھ لو فلاح پا  جاؤ گے۔ اس بدنصیب کے  نصیب میں  فلاح نہیں  تھی سواس نے  انکار کر دیا۔ یہی نہیں  آپؐ نے  تو اپنے  پیارے  چچا امیر حمزہؓ کے  قاتل وحشی اور ان کا کلیجہ چبانے  والی ہندہ کو بھی دوزخ سے  بچا لیا۔ آپؐ کے  سفرِ طائف کا قصہ سن کر سنگدل سے  سنگدل انسان کا دل درد سے  بھر آتا ہے۔ روایات کے  مطابق جتنا صدمہ آپؐ کو  اہلِ طائف کے  رویے  سے  ہوا  اتنا غزوہ احد کی تکالیف سے  بھی نہیں  ہوا۔ مگر آپؐ نے  اہلِ طائف اور مکہ کے  کفار کے  لئے  بھی دعا  کی اے  اللّٰہ! انہیں  ہدایت دے۔ یہ مجھے  نہیں  پہچانتے۔ حضورﷺ غریبوں، مسکینوں،یتیموں، بیواؤں، بے  نواؤں اور بے  کسوں  کے  ملجا و ماویٰ تھے۔ آپؐ ساری عمر امت کے  غم میں ہلکان ہوتے  رہے۔ غارِ حراسے  لیکر قبر اطہر تک کا سفرپوری انسانیت کی فکر میں  مصیبتیں  اٹھانے  اور مشقتیں  جھیلنے  کی داستان ہے۔ آپؐ کو آخری وقت بھی امت کے  مظلوم ترین طبقے  یعنی غلاموں  کی فکر تھی۔ آخری وقت بھی امت کی بخشش کے  لئے  اللّٰہ سے  دعا گو تھے  اور آخرت میں  بھی امت کی بخشش کے  لئے  اللّٰہ کے  حضور سجدہ ریز ہو کر دعا فرمائیں  گے۔ آپؐ کے  احسانات کا کوئی شمار نہیں۔ آپؐ کی حیات مبارک کا ایک ایک لمحہ فلاح انسانیت کے  لئے  وقف تھا۔ سودرود شریف پڑھتے  وقت آپؐ کے  احسانات کا استحضار بہت ضروری ہے۔ آپؐ کے  احسانات کے  علاوہ آپؐ کے  دیگر اوصافِ حمیدہ اور سراپا کا تصور بھی اطمینان قلب کی زیادتی کا باعث ہے۔

 

صورت وسیرت

 

حسنِ یوسف،دمِ عیسیٰ،یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں  ہمہ دارند تو تنہا داری

(آپ ایسے  ہمہ اوصاف ہیں  کہ حسینانِ عالم میں  جتنی خوبیاں  پائی جاتی ہیں  وہ اس ایک ذات میں  موجود ہیں۔ یہاں  تک کہ حضرت یوسفؑ کا حسن اور معجزات عیسیٰ وموسیٰ حضورﷺ کی ذاتِ واحدہ میں  موجود ہیں)

حضرت عائشہ صدیقہؓ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ مصر کی عورتوں  نے  تویوسفؑ کو دیکھ کر اپنی انگلیاں  کاٹ لی تھیں  اگر میرے  محبوب حضورﷺ کو دیکھ لیتیں  تو کلیجے  کاٹ لیتیں۔

ایک بار آپؐ حضرت عائشہؓ کے  پاس تشریف فرما تھے۔ پسینہ مبارک آیا تو چہرہ کی دھاریاں  چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عائشہؓ نے  ابو کبیر ہذلی کا شعر پڑھا

واذا نظرت الی اسرۃ وجھہ                              برقت کبرق العارض المتھلل

جب ان کے  چہرے  کی دھاریاں  دیکھو تو وہ یوں  چمکتی ہیں  جیسے  روشن بادل چمک رہا ہو

حضرت ابوبکر صدیقؓ آپؐ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھتے :۔

امین مصطفی مالخیرید عو                           کضوء البدرَزَایَلہ الظلام

“آپؐ امین ہیں، چنیدہ اور برگزیدہ ہیں،خیر کی دعوت دیتے  ہیں  گویا

 

ماہِ کامل کی روشنی

 

حضرت عمرؓ زُہَیر کا یہ شعر پڑھتے  جو ہر م بن سنان کے  بارے  میں  کہا گیا تھا:

لو کنت من شی سوی البشر                             وکنت المضیء لِلَیْلَۃِ الْبَدر

اگر آپؐ بشر کے  سوا کچھ اور چیز سے  ہوتے  تو آپؐ ہی چودھویں  کی رات کو روشن کرتے ”

حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے  کہ میں  نے  ایک بار چاندنی رات میں  آپؐ کو دیکھا آپؐ پر سرخ جوڑا تھا۔ میں  رسول اللّٰہﷺ کو دیکھتا اور چاند کو دیکھتا۔ آخر(اس نتیجہ پر پہنچا)آپؐ چاند سے  زیادہ خوبصورت ہیں        (الرحیق المختوم)

اسی تناظر میں  اردو شاعر کہتا ہے

کل چودھویں  کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے  کہا یہ چاند ہے  میں نے  کہا چہرہ ترا

حضرت علیؓ کی ایک روایت میں  ہے  کہ آپؐ کا سربڑا تھا، جوڑوں  کی ہڈیاں  بھاری بھاری تھیں۔ سینے  پر بالوں  کی لمبی لکیر تھی۔ جب آپؐ چلتے  تو قدرے  جھک کر چلتے۔ گویا کسی ڈھلوان سے  اتر رہے  ہیں۔

ہجرت کے  وقت رسول اللّٰہﷺ اُمِّ مَعْبَد خُزَاعِیَہ کے  خیمے  سے  گذرے  تو اس نے  آپؐ کی روانگی کے  بعد اپنے  شوہر سے  آپؐ کے  حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا۔

حلیہ مبارک:۔ چمکتا رنگ،تاب ناک چہرہ،خوبصورت ساخت،نہ توندلے  پن کا عیب نہ گنجے  پن کی خامی، جمالِ جہاں  تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر، سُرمگیں  آنکھیں،لمبی پلکیں،بھاری آواز، لمبی گردن،

سفید وسیاہ آنکھیں،سیاہ سرمگیں  پلکیں،باریک اور باہم ملے  ہوئے  ابرو،چمکدار کالے  بال،خاموش ہوں  توبا وقار،گفتگو کریں  تو پُر کشش،دور سے  دیکھنے  میں  سب سے  تابناک اور پُر جمال،قریب سے  سب سے  خوبصورت اور شیریں،گفتگو میں  چاشنی،بات واضح اور دو ٹوک، نہ مختصر نہ فضول،انداز ایسا کہ گویا لڑی سے  موتی جھڑ رہے  ہیں۔

درمیانہ قد،نہ ناٹا کہ نگاہ میں  نہ جچے، نہ لمبا کہ ناگوار لگے۔ دو شاخوں  کے  درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں  جو سب سے  زیادہ تازہ و خوش منظر ہے،رفقاء آپؐ کے  گرد حلقہ بنائے  ہوئے، کچھ فرمائیں  تو توجہ سے  سنتے  ہیں، کوئی حکم دیں  تو لپک کر بجا لاتے  ہیں۔ مطاع مکرم، نہ ترش رو نہ لغو گو۔

حضرت علیؓ حضورﷺ کی صورت وسیرت کے  متعلق یوں  فرماتے  ہیں :۔

آپؐ نہ لمبے  تڑنگے  تھے  نہ ناٹے  کھوٹے،لوگوں  کے  حساب سے  درمیانہ قد کے  تھے۔ بال زیادہ تر گھنگریالے  تھے  نہ بالکل کھڑے  کھڑے  بلکہ دونوں  کے  بیچ بیچ کی کیفیت تھی۔ رخسار نہ بہت زیادہ پر گوشت تھا،نہ ٹھوڑی چھوٹی اور پیشانی پست،چہرہ کسی قدر گولائی لئے  ہوا تھا۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں  سرخی مائل،پلکیں  لمبی،جوڑوں  اور مونڈھوں  کی ہڈیاں  بڑی بڑی، سینہ پر ناف تک بالوں  کی ہلکی سی لکیر،بقیہ جسم بال سے  خالی،ہاتھ اور پاؤں  کی انگلیاں  پُر گوشت،چلتے  تو ذرا جھٹکے  سے  پاؤں  اٹھاتے  اور یوں  چلتے  گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے  ہیں۔ جب کسی طرف ملتفت ہوتے  تو پورے  وجود کے  ساتھ ملتفت ہوتے۔ دونوں  کندھوں  کے  درمیان مہرِ نبوتؐ تھی۔ آپؐ سارے  انبیاء کے  خاتم تھے۔ سب سے  زیادہ سخی دست اور سب سے  بڑھ کر جرأت مند،سب سے  زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے  بڑھ کر عہد و پیمان کے  پابندِ وفا۔ سب سے  زیادہ نرم طبیعت اور سب سے  شریف ساتھی۔ جو آپؐ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہو جاتا۔ جو جان پہچان کے  ساتھ ملتا محبوب رکھتا۔ آپؐ کا وصف بیان کرنے  والا یہی کہہ سکتا ہے۔ کہ میں  نے  آپؐ سے  پہلے  اور آپؐ کے  بعد آپؐ جیسانہیں  دیکھا۔

آفاقہا گردیدہ ام مہرِ بتاں  ورزیدہ ام

بسیارخوباں  دیدہ ام لیکن تو چیزے  دیگری

(میں  نے  زمین وآسمان بلکہ سارے  جہاں  کی سیروسیاحت کی ہے۔ صنم پرستی کا شغل بھی دیکھا۔ غرضیکہ بہت سارے  خوبصورت اور خوبصورتیاں  دیکھیں  مگر آپؐ کا حسن تو کوئی اور ہی چیز ہے۔ کوئی کہاں  آپؐ کی ہمسری کر سکتا ہے)

اصل موضوع چل رہا ہے  فضائلِ درود۔ جب تک اس ہستی کے  مقام و مرتبہ کا احساس نہ ہو جس پر درود بھیجا جا رہا ہے  اس وقت تک وہ کیفیت نصیب نہیں  ہوتی جو اس عظیم وظیفہ کا خاصہ ہے۔ حضورﷺ کے  مقام و مرتبہ کے  استحضار کے  علاوہ دل میں  اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے  کہ حضورﷺ پر درود بھیجنا اللّٰہ کا حکم ہے۔ نہ صرف اللّٰہ کا حکم بلکہ خود حضورﷺ کی سنت بھی ہے۔

 

درود و صلوۃ کا طریقہ

 

حدیث میں  ہے  کہ جب آیت صلوٰہ نازل ہوئی تو صحابہؓ نے  عرض کیایارسول اللّٰہﷺ سلام کا طریقہ تو ہمیں  معلوم ہو چکا یعنی التحیات میں  جو پڑھا جاتا ہے  “السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ”صلوہ کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے۔

آپؐ نے  درودِ ابراہیمی ارشاد فرمایا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  مومنین کو حکم دیا تھا کہ تم بھی نبیؐ پر درود بھیجو نبیؐ نے  اس کا طریقہ بتا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہی ہے  کہ تم اللّٰہ ہی سے  درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش رحمتیں  نازل فرمائے  وہ ہم عاجز و نا چیز بندوں  کی طرف منسوب کر دی جائیں  گویا ہم نے  بھیجی ہیں۔

غالب ثنائے  خواجہ بہ یزداں  گذاشتیم

کاں  ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدﷺ است

حضورﷺ نے  جو درود شریف تعلیم فرمایا اس کو درودِ ابراہیمی کے  نام سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہی درود ہے  جو نماز میں  پڑھا جاتا ہے۔

 

فضیلتیں۔۔۔ نوازشیں

 

انسان فطری طور پر مفاد پرست ہے۔ ہر عمل کو نفع نقصان کی ترازو میں  تولتا ہے۔ نہ صرف دنیوی بلکہ دینی معاملات میں  بھی اس کی نظر فوائد پر رہتی ہے۔ روزہ،نماز، حج،زکوٰۃ ہر عمل کے  وقت انسان کے  لاشعور میں  یہسوچ چھپی ہوتی ہے  کہ اس عمل کے  کرنے  سے  ہمیں  کیا ملے  گا۔ اللّٰہ تعالیٰ توانسانی فطرت کا خالق ہے۔ اور اللّٰہ کا نبیؐ انسانی نفسیات کا نبض شناس ہے  اس لئے  اللّٰہ اور اس کے  رسولؐ نے  احکام کے  ساتھ ساتھ ان کے  فضائل کی نشاندہی بھی فرما دی ہے۔ درود شریف کے  متعلق فرمانِ رسولؐ ہے :۔

“جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے  اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس صلوٰۃ بھیجتے  ہیں ”

دوسری حدیث میں  ہے :۔

جس آدمی کے  سامنے  میرا تذکرہ آوے  اس کو چاہئے  کہ مجھ پر درود بھیجے  اور جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے  گا اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ درود بھیجے  گا،اس کی دس خطائیں  معاف کرے گا۔ اور اس کے  دس درجے  بلند کرے گا۔

ایک اور حدیث میں  ہے :۔

“بلا شک قیامت میں  لوگوں  میں  سے  سب سے  زیادہ مجھ سے  قریب وہ شخص ہو گاجو سب سے  زیادہ مجھ پر درود بھیجے ”

ابنِ مسعودؓ  حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں :۔

کہ اللّٰہ تعالیٰ کے  بہت سے  فرشتے  ایسے  ہیں  جو (زمین میں)پھرتے  رہتے  ہیں  اور میری امت کی طرف سے  مجھے  سلام پہنچاتے  ہیں۔ ایک فرشتہ میری قبر پہ مقرر کر رکھا ہے  جس کو ساری مخلوق کی باتیں  سننے  کی اہلیت عطا فرما رکھی ہے۔ پس جو شخص بھی قیامت تک مجھ پر درود بھیجتا رہے گا وہ فرشتہ اس کا اور اس کے  باپ کا نام لے  کر درود پہنچاتا ہے  کہ فلاں  شخص جو  فلاں  کا بیٹا ہے  آپؐ پر درود بھیجتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ حضورﷺ کا ارشاد نقل کرتے  ہیں :۔

کہ جو شخص میرے  اوپر میری قبر کے  قریب درود بھیجتا ہے  میں  اس کو خود سنتا ہوں  اور جو دور سے  مجھ پر درود بھیجتا ہے  وہ مجھ کو پہنچا دیا جاتا ہے۔

حضرت ابوالدرداؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے  :۔

کہ جو شخص صبح اور شام مجھ پر دس دس مرتبہ درود بھیجے  اس کو قیامت کے  دن میری شفاعت پہنچ کر رہے  گی۔

حضرت عائشہؓ نے  حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے   :۔

کہ جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے  تو ایک فرشتہ اس درود شریف کو لے  جا کر اللّٰہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں  پیش کرتا ہے۔ وہاں  سے  ارشاد عالی ہوتا ہے  کہ اس درود کو میرے  بندہ کی قبر کے  پاس لے  جاؤ۔ یہ اس کے  لئے  استغفار کرے  گا اور اس کی وجہ سے  اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو گی۔

 

معمولاتِ مدینہ

 

مکہ شریف میں  آدمی مناسکِ حج و عمرہ کی وجہ سے  بہت تھک جاتا ہے۔ اس کے  علاوہ روحانی طور پر مکہ معظمہ کا ماحول جلالی اور مدینہ منورہ کا جمالی ہے۔ یہاں  پہنچ کر آغوش مادر کا ساسکھ محسوس ہوتا ہے۔ ایک تو یہاں  سوائے  ذکر و عبادت کے  اور کوئی مشقت نہیں۔ دوسرے  یہ رحمت اللعالمین کی بارگاہ ہے۔ یہاں  رحمت ہی رحمت ہے۔ یہاں ہماری

دو ہی مصروفیات تھیں  مسجدِ نبویؐ کی حاضری یا ضروریاتِ بشری کے  لئے  رہائش گاہ کا قیام۔ انکے  علاوہ مقاماتِ مقدسہ کی زیارت۔

مسجدِ نبوی ؐ کے  معاملات میں  پہلا عمل تو نماز با جماعت کا ہے۔ یہاں  کی ایک نماز کا ثواب دیگر مساجد کی نسبت ہزار گنا زیادہ ہے۔ پھر یہاں  حدیث کی روسے  چالیس نمازیں  با جماعت پڑھنے  کا اجر و ثواب آگ اور نفاق سے  برأت ہے۔ فرائض کے  علاوہ نوافل اور دیگر اور اد و تسبیحات کا ثواب بھی احاطہ مسجد میں  کعبۃ اللّٰہ کے  علاوہ بقیہ مقامات کی نسبت زیادہ ہے۔ اس لئے  ہر حاجی یا زائر کی یہی کوشش ہوتی ہے  کہ زیادہ سے  زیادہ وقت حرم پاک یعنی مسجدِ نبوی میں  گذارا جائے۔ اس کے  علاوہ سب سے  بڑی نعمت تو روضہ رسولؐ کی زیارت ہے۔ اور روضہ مبارک بھی اسی مسجد میں  ہے۔

اہلیہ کی معذوری کی وجہ سے  پہلے  دو روز تو میں  زیارت نہیں  کر سکا۔ حج کی برکت سے  ان کی صحت کافی حد تک بہتر ہو چکی تھی مگر ابھی تک خود اٹھنے  بیٹھنے  سے  معذور تھیں۔ ہمارے  ساتھ کوئی معاون بھی نہیں  تھا۔ انہیں  اٹھانے  بٹھانے  کا فریضہ میرے  ذمہ تھا۔

ہم اذان سے  چند منٹ پہلے  وضو وغیرہ کر کے  حرم شریف کی طرف چل دیتے۔ میں  انہیں  صحنِ مسجد میں  بٹھا کر اندر چلا جاتا اور نماز سے  فارغ ہو کر واپس آ جاتا۔ پھر کافی دیر تک کسی دیوار کے  سائے  میں  بیٹھ کر ذکر وغیرہ کرتے  رہتے  اور مسجدِ نبویؐ اور زائرین کی زیارت کرتے  رہتے۔

حرمِ کعبہ اور حرمِ نبویؐ میں  ایک لطیف سافرق محسوس ہوتا ہے۔ حرم کعبہ کے  اندر بچوں  اور بچوں  والی عورتوں  کو داخل ہوتے  ہوئے  نہیں  دیکھا۔ ہاں  وہ بچے  جنہیں  مناسکِ حج کے  سلسلے  میں  والدین اپنے  کندھوں  پر سوار کر کے  یاکسی اور انداز میں  ساتھ لے  جاتے  ہیں  ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ سات آٹھ سال کے  بچے  تو احرام میں  ملبوس طواف وسعی کرتے  بڑے  پیارے  لگتے  ہیں۔ مناسک کے  علاوہ صحن کعبہ میں  کسی بچے  کو کھیلتے  نہیں  دیکھا بلکہ کہیں  کسی بورڈ پر صحن حرم میں  بچوں  کے  کھیلنے  کی ممانعت بھی لکھی ہوئی ہے  اس کے  برعکس مسجدِ نبوی کے  صحن میں  بچوں  کوسکیٹنگ کرتے  اور شور مچاتے  ہوئے  بھی دیکھا ہے۔ یہاں  مقامی مستورات بچوں  سمیت نماز کے  لئے  تشریف لاتی ہیں۔ دودھ پیتے  بچوں  کو ریڑھیوں  پر بٹھائے  مسجد کے  اندر تشریف لے  جاتی ہیں۔ اس نظارے  کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے  کہ مسجدِ نبویؐ کا رویہ ماں  کی مامتا کا سا ہے۔

باب العمرؓ ابن الخطاب ہمیں  قریب پڑتا تھا۔ میں  اہلیہ کو باہر صحن میں  بٹھا کر اندر چلا جاتا اور واپسی پر انہیں  اندر کے  منظر اور کیفیت کی کارگذاری سناتا۔ کارگزاری سننے  سے  ان کے  چہرے  پر مایوسی کے  آثار نمودار ہونے  لگتے۔ مگر کیا کیا جائے  تنہا یہ اندر جا نہیں  سکتیں۔ تیسرے  یا چوتھے  دن میں  نے  کہا کہ میں  باہر کھڑے  ہو کر دیکھتا رہتا ہوں  آپ کھڑی کھڑی مسجدکے  دروازے  سے  اندر کا نظارہ کر کے  آ جائیں۔ چنانچہ حوصلہ کر کے  یہ مستورات کے  دروازے  سے  مسجد کے  منظر کو جھانک کر واپس آ گئیں۔ اس دن ان کے  چہرے  پر عجیب قسم کی چمک تھی۔ بہت خوش تھیں۔ مگر اصل مقصد ابھی پورا نہیں  ہوا۔ اصل مقصد تو روضہ رسولﷺ کی زیارت ہے۔ سواس کا ابھی کوئی سبب نظر نہیں  آ رہا۔


اعجازِ ایمان و یقین

 

“مینوں  سوہنے  نے  بلایامیں  مدینے  چلی آں ”

جب سے  امید لگی تھی یہی مصرعہ میری اہلیہ کے  وردِ زبان تھا۔ بیماری کے  ابتدائی ایام میں  بھی تتلاتی زبان اور لرزتے  ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے۔ جب کوئی کہتا کہ بیماری کی وجہ سے  آپ کو اس دفعہ حج پہ نہیں  جانا چاہئے  تو تڑپ کر کہتی کیوں ؟’’اکھاں  مل مل کے  تے  ایہہ دن نصیب ہویا اے۔ میں  ضرور جانواں  دی‘‘(انتظار بسیار کے  بعد یہ دن نصیب ہوا ہے  میں  تو ضرور جاؤں گی)نہ جانے  محترمہ کے  دل میں  کتنی قوت اور ایمان کی کیا کیفیت تھی کہ اللّٰہ نے  آج اسے  اس کی منزل کے  بالکل قریب کر دیا تھا۔ مگر آج بھی قرب تھا،وصل نہیں  تھا۔ تمنا روضہ رسولﷺ کی زیارت کی تھی اور وہ ابھی تک نہیں  ہو سکی۔ شائد ابھی :۔

نالہ ہے  ترا بلبل شوریدہ ذرا خام ابھی

اپنے  سینے  میں  اسے  اور ذرا تھام ابھی(اقبال)

محترمہ مسجد کا نظارہ کر کے  آئیں  تو آنکھوں  میں  عجیب طرح کی چمک اور چہرے  پر طمانیت تھی۔ وہ مجھے  ایک روشنی کے  مینار کے  سائے  میں  اپنے  تاثرات سنا رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ زیارتِ روضہ کے  لئے  دعائیں  کر رہی تھی۔ اور دعا  و التجا کے  متعلق اقبال نے  کہا ہے :۔

دل سے  جو بات نکلتی ہے  اثر رکھتی ہے

پر نہیں  طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

واقعی جب انسان دل کی گہرائیوں  سے  اللّٰہ کو پکارتا ہے  تو وہ دستگیری فرماتا ہے۔ مدینہ شریف میں  غالباً یہ ہمارا پانچواں  دن تھا۔ دورانِ گفتگو محترمہ نے  اٹھنے  کی کوشش کی۔ میں  نے  سہارا دینے  کے  لئے  بازو پکڑا تو بڑے  جذباتی انداز میں  ہاتھ کو جھٹک دیا۔ کہنے  لگیں “چھوڑ دیں  ان شاء اللہ خود اٹھوں  گی”میں  مذاق سے  ہنسنے  لگا۔ مگر محترمہ ہاتھ پاؤں  آگے  پیچھے  مار کر خود اٹھ گئیں۔ میں  حیران و ششدر رہ گیا۔ واہ خدایا!تیری شان!بیشک تو مردوں  کو زندہ کرنے  والا ہے۔ میں  تیری شان کے  قربان!تو کتنا رحیم ہے !کتنا کریم ہے !بیشک توسمیع و بصیر ہے۔ بے  نواؤں،بے  کسوں  کا تو ہی سہارا ہے۔

بیشک ایک فالج زدہ مفلوج شخصیت کا اتنی جلدی صحت مند ہو جانا اعجازِ ربانی ہے۔ مگر یہ اعجاز کسی خاص کے  ساتھ مخصوص نہیں، عام ہے۔ ہمارے  ایک مہربان (سید فیاض بخاری)بھی اسی سال سعادتِ حج سے  بہرہ مند ہوئے  ہیں  انہوں  نے  بتایا کہ ہمارے  گروپ کے  ایک ساتھی کی مکہ شریف میں  فالج کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس نے  اللّٰہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے  ہوئے  عرض کی:۔

“اے  میرے  رب میں  تیرے  گھر دونوں  ٹانگوں  سے  چل کر آیا ہوں۔ اب یہاں  سے  لولا لنگڑا ہو کر نہیں  جاؤں گا”

راوی کہتے  ہیں  کہ ہمارے  دل میں  خیال آیا کہ اس فقیر نے  تو اللّٰہ تعالیٰ کی غیرت کو چیلنج کر دیا ہے۔ قدرت خدا کی اس شخص نے  معذوری کے  باوجود سارے  مناسکِ حج پورے  کئے  اور اللّٰہ تعالیٰ نے  واپسی سے  پہلے  اسے  صحت مند کر دیا۔ اسی طرح کا واقعہ ایک دوسرے  ساتھی کے  ساتھ مدینہ منورہ میں  پیش آیا۔ یہاں  اس نے  حضورﷺ کے  حضور عرض کی:۔

“اے  پاک رسولﷺمیں  آپ کے  دربار میں  چلتے  پاؤں  آیا ہوں۔ اب بڑی شرمساری کی بات ہے  اگر میں  یہاں  سے  لولا ہو کر واپس جاؤں ”

اللّٰہ تعالیٰ نے  اسے  بھی شفا عطا فرمائی۔ یہی نہیں  ہمارے  ایک دوسرے  ساتھی شیخ عبد الغفور صاحب سناتے  ہیں  کہ’’ ان کے   ایک عزیز بھی اسی سال حج کی سعادت سے  سرفراز ہوئے  ہیں۔ وہ اپنے  ساتھیوں  سے  بچھڑ گئے۔ اس صدمہ سے  دل کی تکلیف شروع ہو گئی۔ وہ حرم شریف آ گئے  اور آبِ زمزم پینا شروع کر دیا۔ اللّٰہ نے  افاقہ دیا  تو غارِ ثور کی زیارت کو چل دیئے۔ راستے  میں  تکلیف زیادہ ہو گئی۔ مگر اللّٰہ تعالیٰ نے  جلد ہی سنبھالا دیا۔ گھر والے  بھی مل گئے  اور صحت بھی ہو گئی۔ ‘‘ان صاحب سے  چند روز پہلے  مسجد میں  ملاقات ہوئی۔ تفصیلات کا موقع نہیں  ملا۔ چہرے  سے  اچھے  خاصے  صحت مند دکھائی دے  رہے  تھے۔ بعض لوگوں  کے  دل میں  ایسی باتیں  سن کر اشکال پیدا ہوتے  ہیں  کہ یہ واقعات نہیں  من گھڑت قصے  ہیں۔ مگر یہ قصے  نہیں  حقائق ہیں۔ میں  اپنی سرگذشت میں  مبالغے  سے  بچنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں  اپنی اہلیہ کے  متعلق جو کچھ عرض کر رہا ہوں  بالکل حقیقت ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے  سو مجھے  اس سفر کی معجزاتی کیفیات کے  بارے  میں  کوئی اشکال نہیں۔ میں  سمجھتا ہوں  کہ میری اہلیہ کا بغیر سہارے  کے  مسجدِ نبوی میں  خود بخود اٹھنامسجدکی برکت اور اللّٰہ کی رحمت ہے۔ اس مہربان اللّٰہ نے  ہماری ساری حسرتیں  پوری کی ہیں۔ ہمیں  حضورﷺ کے  دربار کی حاضری بھی نصیب ہوئی اور وہاں  اللّٰہ کے  حضور سجدہ شکر ادا کرنے  کا موقع بھی ملا۔

 

حضورﷺ کے  دربار میں 

 

اب میری اہلیہ باقاعدگی سے  مسجد کے  اندر جا کر نماز ادا کرتی۔ میں  نماز سے  فارغ ہو کر آتا تو مقرر کردہ جگہ پر اکھٹے  ہو جاتے۔ میں  تو تین چار دفعہ روضہ مبارک پر حاضری دے  چکا تھا مگر ان کے  لئے  ابھی کسی ایسی خاتون کا سبب نہیں  بن رہا تھا جو انہیں  ساتھ لے  جا کر زیارت کرا لائے۔ ان کے  لئے  چلنا اگرچہ مشکل نہیں  تھا مگر بیماری کی وجہ سے  ایک ساتھی کی ضرورت تھی۔ انہیں  راستے  کی بھی خبر نہیں  تھی۔ مسجد کے  اندر ایک سے  ستون اور راستے  ہیں۔ سادہ آدمی راستہ بھول جاتا ہے۔

ایک دن میں  عشا ء کی نماز پڑھ کر مستورات کے  گیٹ پر ان کی انتظار کر رہا تھا کہ ایک صاحب مجھے  مخاطب کر کے  پوچھنے  لگے  ’’بھائی صاحب آپ کہاں  کے  ہیں۔ ‘‘میں  انتظار کی محویت کی وجہ سے  ان کی طرف توجہ نہ دے  سکا۔ میری کیفیت یہ تھی:۔

آہٹ پہ کان در پہ نظر دل میں  اضطراب

پوچھے  تو کوئی ان سے  مزہ انتظار کا

مجھے  یہ فکر تھی کہیں  مسجد کے  اندر راستہ نہ بھول گئی ہو۔ کہیں  کسی کے  دھکے  سے  گر نہ گئی ہو۔ کچھ اس طرح کی سوچ اور فکر تھی کہ میں  اپنے  مخاطب کی طرف توجہ نہ دے  سکا۔ جب تیسری یا چوتھی دفعہ انہوں  نے  مجھے  پکارا تو میں  نے  بے  توجہی سے  کہاپاکستان سے۔ مگر اس وقت بھی میری نظر مسجد کے  دروازے  پر جمی ہوئی تھی۔ جب انہوں  نے  میرے  انہماک کی کیفیت دیکھی تو قریب آ کر پوچھنے  لگے  کس کی انتظار ہے ؟میں  نے  کہا بیوی کی۔ میں  نے  اختصار سے بتایا کہ وہ معذور ہیں۔ کہیں  گر نہ پڑیں۔ بھول نہ جائیں۔ انہوں  نے  تسلی دی یہاں  فکر نہ کریں۔ یہ حضورﷺ کا دربار ہے۔ اللّٰہ محافظ ہے  فکر نہ کریں۔ اس دوران محترمہ لڑکھڑاتے  لڑکھڑاتے  آتی نظر آئیں  توتسلی ہوئی۔ ہم دونوں  گیٹ کے  سامنے  بیٹھ گئے۔ باہمی تعارف و تبادلہ خیال ہوا۔ موصوف نے  بتایا کہ ہم ملتان کے  رہنے  والے  ہیں، عرصہ دراز سے  مدینہ منورہ میں  رہ رہے  ہیں۔ میں  نے  کہا کہ ابھی تک میری اہلیہ روضہ مبارک کی زیارت نہیں  کر سکی۔ انہوں  نے  کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں  کل آپ آٹھ بجے  صبح یہیں  میرا انتظار کریں  آپ کو زیارت کرا دی جائے گی۔ ہماری گفتگو کے  دوران ان کی اہلیہ اور بیٹیاں   بھی آ گئیں۔ ہماری بیگم کو ان کی بیگم اور بیٹیوں  نے  تسلی دی ہم بہت خوش تھے  کہ اللّٰہ نے  زیارتِ روضہ کا سبب بھی بنا دیا۔

 

سبب سبب ہے  رب نہیں

 

بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے  نظامِ کائنات کو اسباب کے  ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ بلکہ اہلِ نظر تو مافوق الفطرت واقعات کو بھی اسباب کا نتیجہ خیال کرتے  ہیں۔ ان کا کہنا ہے  کہ مافوق الفطرت کے  پیچھے  بھی فطری قوانین کا ر فرما ہیں۔ فطری اور مافوق الفطری میں  فرق صرف اتنا ہے  کہ جنہیں  ہم فطری کہتے  ہیں  ان کے  اسباب کو ہم حواسِ خمسہ سے  محسوس کر سکتے  ہیں  اور مافوق الفطرت کے  محرکات کا ادراک ہمارے  احاطۂ احساس میں  نہیں۔ سو ہر دو طرح کے  واقعات و حادثات کسی نہ کسی سبب کا نتیجہ ہوتے  ہیں۔ یہ اسباب و نتائج اصل میں  انسان کی آزمائش ہیں۔ ان کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ بندوں  کو آزمانا چاہتا ہے  کہ وہ اسباب پر تکیہ کرتے  ہیں  یا اسباب کے  خالق یعنی رب پر بھروسہ کرتے  ہیں۔ اسی لئے  وہ اکثر سلسلہ اسباب کو منقطع کر کے  انسان کو غیر متوقع صورت حالات سے  دوچار کر دیتا ہے۔ اس امر کا تجربہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ہمارا تازہ تجربہ بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

ملتان کے  بھائی صاحب نے  ہمیں  صبح آٹھ بجے  انتظار کرنے  کو کہا تھا۔ ہم بڑے  خوش تھے۔ ہم دل میں  ان کے  بڑے  شکر گذار تھے۔ مگر اس شکر گذاری میں  ہم مسبب الاسباب کو بھول گئے۔ ہمیں  خیال ہی نہیں  رہا کہ کرنے  والا تو اللّٰہ ہے۔ وہ سبب کے  ذریعے  کرے  یا بے  سبب کرے۔ ہمیں  تو اس کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔ ہماری یہ بھول محض بھول نہیں  بلکہ گناہ تھا۔ اور گناہ کی سزا ہوتی ہے۔ سواس کی سزاملی۔ وہ اسطرح کہ ہم صبح کی نماز پڑھ کر حرم شریف میں  ہی رک گئے۔ حرم شریف میں  داخل ہوتے  ہوئے  دائیں  ہاتھ ایک عمارت ہے۔ یہاں  سے  باہر کے  لوگ آبِ زمزم لے  کر جاتے  ہیں۔ دھوپ ذرا زیادہ ہوئی توہم اس عمارت کے  سائے  میں  بیٹھ گئے۔ اب انتظار شروع ہو گئی۔ کہتے  ہیں  انتظار کی گھڑیاں  لمبی ہوتی ہیں۔ ان گھڑیوں  کی لمبائی بقدرِ اشتیاق و ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا شوق اپنے  نقطہ عروج پر تھا۔ سوایک ایک لمحہ صدی معلوم  ہو رہا تھا۔ ہماری نظریں  گیٹ پر لگی ہوئی تھیں۔ موصوف نے  کہا تھا کہ میں  اپنی گاڑی میں  اپنی بیٹیوں  کو لے  آؤں گا۔ سو ہم ہر آنے والی گاڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ یاد رہے  یہاں  عام گاڑیوں  کی آمدورفت نہیں۔ صرف عملے  کی گاڑیوں  کو شائد اجازت ہو۔ اور موصوف کی گفتگو سے  اندازہ ہوا تھا کہ وہ مسجدکے  خدمتگاروں  میں  سے  ہیں۔ اس لئے  ان کی گاڑی ادھر آ سکتی تھی۔ اس صورتحال میں  صرف گنتی کی چند گاڑیاں  ہمارے  سامنے  سے  گذریں  مگر کسی میں  بھی ہمارا مطلوب موصوف نہ تھا۔ آٹھ بجے  تک تو کوئی زیادہ پریشانی نہیں  تھی کہ وعدہ آٹھ بجے  کا تھا۔ مگر جب گھڑی کی سوئیاں  آٹھ کی حد سے  گذرنے  لگیں  تو انتظار کی گھڑیاں  مزید طویل ہونے  لگیں۔ ہوتے  ہوتے  نو بج گئے۔ ہماری حاجن صاحبہ انتظار کرتے  کرتے  اکتا گئیں۔ کچھ ناراضی کا اظہار کرنے  لگیں۔ میں  نے  کہا بدگمانی اچھی نہیں۔ بھائی جان کو کوئی ضروری کام پڑ گیا ہو گا۔ اور واقعتاً بات بھی یہی تھی۔ دوسرے  روز ان سے  ملاقات ہوئی تو انہوں  نے  اپنی مجبوری بتائی۔ میں  تو پہلے  ہی مطمئن تھا۔ اہلیہ محترمہ نے  بھی معاف فرما دیا۔

ساڑھے  نو بجے  تک انتظار کرتے  کرتے  جب انتہائی اکتا گئے  تو اللّٰہ تعالیٰ نے  دل میں  ڈالا کہ اپنے  طور پر کوشش کرنی چاہئے۔ میں  نے  اہلیہ سے  کہا چلیں  مستورات کے  باب کی طرف چلتے  ہیں۔ ہو سکتا ہے  اللّٰہ تعالیٰ کوئی اور سبب پیدا کر دے۔ محترمہ میری تجویز پر مستعد ہو گئیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی آہستہ آہستہ مستورات کے  دروازے  کی طرف رواں  ہوئے۔ ہم راستے  میں  دائیں  بائیں  دیکھتے  جا رہے  تھے  کہ کوئی پاکستانی خاتون مل جائے  تو اس کی منت خوشامد کر کے  زیارت کے  لئے  اس کی مدد حاصل کی جائے۔ مگر راستے  میں  کوئی سبب نہیں  بنا۔

ہم مستورات کے  دروازے  کے  سامنے  روشنی کے  مینار کے  پاس جا کر کھڑے  ہو گئے۔ مستورات زیارت کے  لئے  جا رہی تھیں۔ ہم زیارت کر کے  جانے  والوں  کو حسرت بھری اور آنے  والیوں  کو لالچ بھری نظروں  سے  دیکھ رہے  تھے۔ لالچ یہی تھا کہ کوئی اللّٰہ کی ولیہ میری اہلیہ کو روضہ رسولﷺ کی زیارت کرا دے۔ مگر ان آنے  جانے  والیوں  کو شرم کے  مارے  ہم کہہ نہیں  سکے۔ جہاں  ہم کھڑے  تھے  وہاں  ایک پاکستانی کنبہ کے  سربراہ کو سلام کیا اور اپنامسئلہ بتایا۔ انہوں  نے  اپنی بیٹی کو اشارہ کیا۔ بیٹی نے  آمادگی کا اظہار کیا اور بڑی محبت اور عقیدت سے  میری اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے  گئی۔ بڑا پیارا گھرانہ ہے۔ اللّٰہ انہیں  خوش رکھے۔ تھوڑی بہت گفتگو سے  معلوم ہوا کہ موصوف گذشتہ بیس سال سے  جدہ میں  انجینئر کی حیثیت سے  کام کر رہے  ہیں۔ اور اہل و عیال بھی ساتھ رکھے  ہوئے  ہیں۔ ان کا بیٹا تقریباً تیرہ سال کا ہے۔ یہ حافظِ قرآن تھا۔ بہت پیارا اور سعادتمندبیٹا ہے۔ جب میں  نے  بتایا کہ ہمارا چھوٹا بیٹا بھی حافظ ہے  تو وہ بہت خوش ہوئے۔ موصوف کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں  بہت نیک خاتون ہیں۔ ان کے  علاوہ دو بیٹیاں  بھی ان کے  ساتھ تھیں۔ ایک بیٹی میری اہلیہ کو زیارت کرانے  کے  لئے  اندر گئی ہوئی تھی۔

ہماری بیگم صاحبہ جب اندر سے  باہر آئیں  تو چہرہ کھل رہا تھا۔ بہت خوش تھیں۔ صدیقی صاحب کی بیٹی کو بڑی دعائیں  دے  رہی تھیں۔ مجھے  بتایا کہ بیٹی نے  بڑے  اہتمام کے  ساتھ زیارت کرائی ہے۔ میں  نے  حضورﷺ کے  منبر شریف کے  پاس نوافل پڑھے  ہیں۔ صدیقی صاحب اس روز واپس جدہ جا رہے  تھے۔ اس لئے  ہم زیادہ تعارف نہیں  کر سکے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو بمعہ اہل و عیال خوش و خرم رکھے۔ اور دونوں  جہانوں کی کامیابی نصیب فرمائے۔ اس زیارت سے  ایک دن پہلے  ہمارے  مکہ کے  ساتھیوں  میں  سے  ایک خاتون نے  زیارت کرانے  کا وعدہ کیا تھا مگر ہم نے  ملتان والے  بھائی کے  وعدہ کی وجہ سے  ان کا شکریہ کر دیا تھا۔ ہم زیارت سے  واپس آ رہے  تھے  تو اس بہن سے  ملاقات ہو گئی اس نے  اگلے  دن زیارت کرانے  کا وعدہ کیا چنانچہ اگلے  روز انہوں  نے  بڑی محبت سے  زیارت کرائی۔ ہمارے  لئے  یہ مرحلہ خاصا مشکل تھا۔ مگر جو مشکل پیدا کرتا ہے  مشکل کشا بھی وہی ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ سوہرحال میں  اس پہ بھروسہ کرنا لازم ہے۔ سبب کو سبب سمجھناچاہئے  اسے  رب نہیں  سمجھنا چاہئے۔

 

زہے  مقدر

کبھی تو دل میں  خدایا مثالِ نور آئیں

وہ جن سے  حسنِ نہاں  کا ہوا ظہور آئیں

نزول دل پہ ہو ان کا یا خواب میں  آئیں

کسی وسیلے  سے  آئیں  مگر ضرور آئیں

مثالِ طور ہے  امید کی کرن روشن

غریب خانے  میں  شاید کبھی حضورﷺ آئیں

ہر ایک شاخ سے  پھوٹے  گی صد ہزار بہار

خزاں  رسیدہ چمن میں  اگر حضورﷺ آئیں

بھٹک رہی ہے  اندھیروں  میں  کب سے  خلقِ خدا

صدائیں  دیتا ہے  انسان کا شعور آئیں

درودِ پاک سے  ماحول مشک بار ہے  آج

رچابسا ہے  فضا میں  عجب سرور آئیں

حضورؐ رقص کناں  ہے  شکستگی دل کی

عجیب کیف میں  صفدر ؔ ہے  چور چور آئیں

 

حرفِ حقیر

 

تیرے  حرمِ پاک کی حاضری،یہ قرابتیں  یہ زیارتیں

میرے  ایک حرفِ حقیر پہ یہ نوازشیں  یہ عنایتیں

مذکورہ نعت فروری۱۹۸۰ء؁ کی ہے۔ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  اس کے  انعام کے  طور پر ایک مبارک خواب دکھایا تھا۔ یہ خواب میری زندگی کا سرمایا ہے۔ آج اس خواب کو تقریباً۱۵ برس گذر چکے  ہیں۔ اس خواب کی تعبیر میرے  خواب و خیال میں  بھی نہ تھی۔ کہ میرے  مولا نے  ایک دم اسباب پیدا فرما دئیے۔ آج وہ خواب مجسم صورت میں  میرے  سامنے  ہے۔ تقریباً آٹھ روز تک مغرب کی نماز باب السلام میں  پڑھنے  کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔

نمازِ مغرب کے  بعد ہم نے  ایک روشنی کے  ستون کے  پاس اکٹھے  ہونے  کا معمول بنا رکھا تھا۔ میں  اہلیہ کو احاطۂ حرم میں  داخل کر کے  خود زیارت کی نیت سے  روضہ اقدس کی طرف چلا جاتا۔ میری یہی کوشش ہوتی کہ باب السلام کے  اندر یا باہر پہلی صف میں  جگہ مل جائے۔ اس لئے  کہ یہاں  سے  اندر جانا آسان تھا۔ زائرین کا معمول تھا کہ امام صاحب کے  سلام پھیرتے  ہی اٹھ کھڑے  ہوتے۔ اور صفوں  کو چیرتے  نمازیوں  کو پھلانگتے  روضہ مبارک تک پہنچنے  کی کوشش کرتے۔ لوگوں  کی دیکھا دیکھی مجھے  بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرنا پڑا۔ اپنے  اس عمل کو جائز ثابت کرنے  کے  لئے  دل میں  خیال آتا کہ محبت اور جنگ میں  سب کچھ جائز ہے۔ مگر جائز تو صرف وہی جائز ہے  جسے  اللّٰہ اور رسولﷺ جائز کہیں۔ اللّٰہ اور اس کے  رسولﷺ نے محبت اور جنگ دونوں  کے  آداب بتائے  ہیں۔ ان میں  بھی ا کرام آدمی کی بڑی تاکید ہے۔ زائرین ایک دوسرے  کا ا کرام کرتے  ہیں  مگر اس جگہ ذوقِ دیدار کی وجہ سے  معمولی سی بے  ا کرامی ہو جاتی ہے، اللّٰہ معاف کرے !

باب السلام کے  اندر تقریباً چار صفوں  کی فراخی ہے۔ اس سے  آگے  چند قدم کے  فاصلے  پر قبلہ رخ راستہ اور فراخ ہو جاتا ہے۔ تقریباً آٹھ صفوں  کی فراخی ہو گی۔ پہلے  روز ہجوم کی زیادتی کی وجہ سے  میں  نے  سیدھا جانا مناسب نہیں  جانا۔ قبلہ کی جانب ہجوم قدرے  کم تھا بلکہ قبلہ کی دیوار کے  ساتھ کچھ حضرات بیٹھے  تلاوتِ کلام اللّٰہ میں  مصروف تھے۔ میں  دوسرے  حضرات کے  پیچھے  پیچھے  درود شریف پڑھتے  پڑھتے  دور سے  مواجہ مبارک کی زیارت کرتا ہوا باب البقیع کے  راستے  باہر نکل گیا۔ یہ پہلے  روز کی زیارت ایک قسم کی مطالعاتی یا مشاہداتی زیارت تھی۔ اس زیارت سے  پتہ چلا کہ باب السلام سے  داخل ہوتے  ہوئے  بائیں  ہاتھ کے  جنگلے  کے  ساتھ ساتھ رہنا زیادہ مناسب ہے۔ دوسرے  اس زیارت سے  تشنگی میں  اضافہ ہو گیا۔ اس کے  علاوہ دل میں  کچھ ایسے  اشکالات اور سوالات پیدا ہونے  لگے  جو خواب و خیال میں  بھی نہ تھے۔

 

وسواس کا جال

 

انسان کے  دو بڑے  دشمن ہیں  نفس اور شیطان۔ اور یہ دونوں  دشمن ہر وقت آدمی کے  ساتھ ہوتے  ہیں۔ آدمی کو ہمہ وقت ان سے  ہوشیار رہنا چاہئے۔ شیطان کا کام دلوں  میں  وسواس پیدا کرنے  سے  شروع ہوتا ہے،اور یہ کام وہ اپنے  کارندوں  کے  ذریعے  کرواتا ہے۔ اور کارندے  اس کے  جنات اور انسان ہیں۔ وسواس کی بھی کئی شکلیں  ہیں۔ وسوسہ اصل میں  حقائق کو شک کی نظر سے  دیکھنے  کے  رویے  کا نام ہے۔ شک ایمان اور یقین کی اہلیت کو دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے۔ شک یقین کی ضد ہے۔ کیا؟کیوں ؟کیسے ؟جیسے  جال ہمہ وقت بنتا رہتا ہے۔ یہ نہیں  دیکھتا کہ یہ حکم خداوندی ہے  یا فرمانِ نبویؐ ہے۔ یہ ہر بات کو عقل کی کسوٹی پہ پرکھتا اور اپنے  عقائد و نظریات کی روشنی میں  سوچتا ہے۔ شکی آدمی جب اپنے  عقائد کو دین اور حقائق کو بے  دینی سمجھنے  لگتا ہے  تو یہ وسوسہ ہے۔ اس وسوسے  ہی نے :۔

“ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیا ہے  نوعِ انسان کو”

اللّٰہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے  کہ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے  تھام لو اور آپس میں  تفرقہ نہ ڈالو۔ مگر وسواس کی بنا پر مسلمان سینکڑوں  فرقوں  میں  بٹ چکے  ہیں۔ دین نے  تو اخوت و بھائی چارہ کے  رشتہ میں  امت کو متحد رہنے  کی تاکید فرمائی تھی مگر امت نے  ایک حدیث کو بہانہ بنا کر تہتر کے  بجائے  بے  شمار فرقے  بنا لئے۔ یہ فرقے  صرف شرعی اختلافات کی بنا پر نہیں  بلکہ بنیادی عقائد کے  اختلاف کی بنا پر بنے  ہوئے  ہیں۔ المیہ تو یہ ہے  کہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولﷺ کے  بارے  میں  ایسے  ایسے  وسواس پیدا ہو چکے  ہیں  کہ العیاذ باللہ۔ نعوذ باللہ بعض دفعہ ایسے  لگتا ہے  کہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے  رسولؐ کے  مابین مقابلہ کرایا جا رہا ہے۔ دین کو ایک کھیل بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ سارا کھیل قرآن و حدیث کے  نام پر کھیلا جا رہا ہے۔

میں  نے  کسی غیر مسلم کو اپنے  مذہبی اکابرین کی شخصیتوں  کے  بارے  میں  بحث و مباحثہ یا مناظرہ کرتے  نہیں  دیکھا۔ صرف ایک مسلمان ہیں  جو اپنے  اکابرین کو تختۂ مشق بنائے  ہوئے  ہیں۔ ایک فرقہ ایک شخصیت کو افضل اور دوسری کو کمتر ثابت کرنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ کوئی دوسرے  کو کمتر اور اپنے  کو برتر ثابت کرنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ عام صالحین کو تو چھوڑیں  امت اس وقت اللّٰہ کے  رسولؐ کی شخصیت و مرتبہ کے  متعلق وسواس میں  مبتلا کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال کی وضاحت کی ضرورت نہیں  کہ احوال سب کے  سامنے  ہیں۔ وہ بات جسے  اہلِ علم مسئلہ کہیں  وہ یقیناً مسئلہ ہے۔ مگر ہر مسئلہ کا ایک خاص حلقہ ہوتا ہے۔ بعض ایسے  نازک مسائل ہوتے  ہیں  جنہیں  صرف علماء کی حدود تک محدود رہنا چاہئے۔ جیسے  میاں  محمد بخش نے  کہا تھا

“خاصاں  دی گل عاماں  اگے  نئیں  مناسب کرنی”

خواص کے  مسائل عامۃ الناس میں  لانے  مناسب نہیں۔ اس سے  بڑی خرابیاں  پیدا ہوتی ہیں۔ چھوٹے  ذہن بڑی باتیں  نہیں  سمجھ سکتے۔ یہ نازک مسائل کی نزاکتوں  سے  آگاہ نہیں  ہوتے۔ اس لئے  ہم جیسے  کم علم آدمی شک و شبہات اور وسواس کے  جال میں  پھنس جاتے  ہیں۔ عام حالات میں  اس حالت کا احساس نہیں  ہوتا۔ مگر جب مخصوص صورتِ حال سامنے  آتی ہے  تو آدمی کو سمجھ نہیں  آتی کہ کیا کیا جائے۔ عجیب تذبذب کی کیفیت ہوتی ہے۔ دورانِ حج  کئی مقامات پر ایسی صورتحال پیش آئی مگر احوال کا تعلق اعمال سے  تھا۔ سو وہاں  کوئی زیادہ الجھاؤ نہ تھا۔ اور یہاں  یعنی روضہ رسول کی زیارت کے  وقت مسئلہ اعمال کا نہیں  عقائد کا تھا۔ اور عقائد میں  توحید اور سنت دو بنیادی عقائد ہیں۔ آج ان عقائد میں  عجیب قسم کے  الجھاؤ پیدا کر دیئے  گئے  ہیں۔

عام مسلمان اس الجھاؤ کے  لئے  علماء کو موردِ الزام ٹھہراتے  ہیں۔ مگر کیا علماء کو ذمہ دار ٹھہرانے  سے  عام مسلمان بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ نہیں !ہر گز نہیں !دین سیکھنا سکھانا ہرمسلمان کا فرض ہے۔ یہ کوئی پیشہ نہیں، فریضہ ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے  کہ وہ خود قرآن اور حدیث پڑھنے  پڑھانے  اور سمجھنے  سمجھانے  کی کوشش کرے۔ جتنی محنت ہم دنیوی علوم کے  حصول کے  لئے  کرتے  ہیں  اگر اس کا دسواں  حصہ بھی دین فہمی کے  لئے  وقف کریں  تو سارے  الجھاؤ ختم ہو جاتے  ہیں۔ توحید ورسالت کے  الجھاؤ بھی سلجھ جاتے  ہیں۔ آدمی مقامِ خدا اور شانِ رسولؐ سے  آگاہ ہو تو ہر قسم کے  غلو اور افراط و تفریط سے  بچ جاتا ہے۔ بہرحال دوسروں  کا تو علم نہیں  مجھے  میری کم علمی نے  زیارتِ روضہ مبارک کے  وقت سوچ کے  الجھاؤ نے  چکرا دیا تھا۔

 

محبت اور پرستش

 

روضہ رسولؐ کی حاضری کے  وقت محبت اور پرستش کے  فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ محبت اور محبت کے  اظہار کے  آداب ہیں  اور پرستش کے  بھی اپنے  انداز ہیں۔ حبِ رسول ؐ کا تقاضا ہے  کہ جان مال بلکہ ماں  باپ سے  بڑھ کر حضورﷺ سے  محبت کی جائے۔ حضورؐ سے  محبت کرنے  کے  آداب خدا تعالیٰ نے  قرآنِ پاک میں  بھی واضح الفاظ میں  بیان فرمائے  ہیں۔ پھر صحابہ کرامؓ نے  عملی طور پر حبِ رسولؐ کا نمونہ پیش کیا ہے۔ ان عاشقانِ رسولؐ نے  حضورﷺ کے  اشارہ ابرو پر جانوں  کے  نذرانے  پیش کئے۔ صحابہ  نے  حبِ رسولؐ کا نمونہ پیش کیا اور رسولِ پاکؐ نے  اللّٰہ کی عبادت کے  انداز سکھائے۔  سو زیارتِ روضہ کے  وقت آثارِ صحابہؓ کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہاں  بڑا امتحان یہ ہے  کہ زائر محبت و عقیدت کے  آداب چھوڑ کر عبادت کے  انداز اختیار نہ کرے۔ یہاں  اس امر کی بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں  کہ آدمی احتیاط کے  بہانے  اللّٰہ کے  محبوب کی محبت سے  محروم ہو جائے۔ عشقِ نبیؐ کے  تقاضے  پورے  کرنا بھی ضروری ہیں  کہ یہ بھی عبادتِ خداوندی کا جزو ہیں۔

شرعی مسائل سے  ہٹ کر سوچا جائے  توانسان جس چیز یا شخصیت سے  محبت کرتا ہے  وہ بوقتِ تفکر مفکر کے  لئے  مستحضر ہوتی ہیں۔ شاعر جب محبوب کی شان میں  تفکر کرتا ہے  تو اس کے  تصور میں  محبوب کی تصویر موجود ہوتی ہے۔ میلوں  دور بیٹھے  عزیزوں  اور سالوں  بچھڑے  محبوبوں  کا جب ذکر ہوتا ہے  تو ان کے  سراپے گویا مشہود و موجود ہوتے  ہیں۔

دل کے  آئینے  میں  ہے  تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

یہ چند جملے  میں  شاعری کے  حوالے  سے  عرض کر رہا ہوں۔ ذوق شعر کی وجہ سے  روضہ رسولؐ پہ حاضر ہو کر میں  حضورﷺ کے  سراپا کے  تصور سے  تغافل نہیں  برت سکتا۔ میں  حضورﷺ کے  حضور حاضری کے  وقت انہیں  غیر حاضر نہیں  کہہ سکتا۔ میری حالت اس وقت امیر خسرو کے  شعر کی تصویر ہے۔

خدا خود میرِ محفل بود اندر لامکان خسروؔ

محمدﷺ شمع محفل بود شب جائے  کہ من بودم

میں  حضورﷺ کے  دربار کے  سامنے  سے  گذرتے  ہوئے  کچھ اس طرح کے  کلمات کہہ رہا ہوں :۔

اے  !اللّٰہ مجھے  مسئلے  کا علم نہیں۔ مگر فلاں  نے  حضورﷺ کو سلام عرض کیا تھا۔

میرے  پاس یہ امانت ہے۔ یہ امانت میں  نے  تیرے  سپرد کر دی ہے۔ مجھے  سلام کے  آداب کا علم نہیں  سو جس طرح تو چاہتا ہے  حضورﷺ کو میری طرف سے  سلام پہنچا دے۔ اے !اللّٰہ مجھے  صلواۃ وسلام کے  طریقے  معلوم نہیں۔ تو بتا دے۔ تو سکھا دے۔ میری کیفیتیں  حضورﷺ کو پہنچا دے۔ میری تمنائیں  پوری کر دے۔ اللّٰہ مجھے  زیارت کرا دے۔ قبر شریف کی۔ صاحبِ قبر کی… میرے  اللّٰہ اتنا قریب لا کر مجھے  حضور ﷺ سے  دور نہ رکھ ! اے  اللّٰہ! میں  دیکھنا چاہتا ہوں۔ اندرسے  دیکھنا چاہتا ہوں۔ اے  اللّٰہ میں  مکالمہ کرنا چاہتا ہوں،آپ سے  آپ،کے  حبیب سے، میں  حضورﷺ کے  سامنے  آپ کو دکھڑے  سناناچاہتا ہوں۔

حضورﷺ کو اپنی درخواست کا گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ اے  اللّٰہ!اے  اللّٰہ!۔۔۔

اسی وارفتگی میں زباں  سے  درود و سلام کا چشمہ ابلنے  لگتا ہے

السلام علیک یا رسول اللہ،السلام علیک یا سید المرسلین،السلام علیک یا خاتم المرسلین،السلام علیک یا خاتم النبیین،السلام علیک یا نبی الرحمۃ،السلام علیک یا ھادی الامۃ،السلام علیک و علیٰ اھلِ بیتک الذین ازھب اللہ عنھم الرجس و طھرھم تطھیراً،و علیٰ ازواجک الطاہرات امھات المؤمنین،و جزاک اللہ عنا افضل ماجازی رسولاً عن امتہ۔

…. یا اللہ!یارسول اللہ!کہتے  کہتے  باب البقیع سے  باہر نکل آیا۔

باب البقیع سے  نکلتے  ہوئے  جنت البقیع پر  نظر پڑی تو بے  ساختہ زبان سے  السلام علیکم یا اہل القبور کے  الفاظ نکل گئے۔ مسئلہ حل ہو گیا۔ الجھاؤ سلجھ گیا۔ میں  نے  روضہ مبارک کی طرف منہ کر کے  عرض کیا۔

الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسو ل اللہ

 

جنت کی ضیافت

 

پہلی زیارت تو ایک قسم کی تجرباتی کوشش تھی۔ اس ابتدائی تجربہ کے  بعد معمول یہ تھا کہ میں  مغرب کی اذان سے  پہلے  باب السلام یا اس کے  قریب کی کسی صف میں  بیٹھ جاتا۔ امام صاحب کے  سلام پھیرتے  ہی روضے  کا رخ کر لیتا۔ روضے  کی جانب والے  پیتل کے  جنگلے  کے  ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ چلتے  ریاض الجنۃ تک پہنچ جاتا۔ اللّٰہ کی مہربانی سے  ریاض الجنۃ میں  نماز پڑھنے  کی سعادت نصیب ہوئی اور دسویں  محرم کو اسی جنت کے  باغ میں  اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  ضیافت بھی کرا دی۔

نویں  اور دسویں  محرم کو نفلی روزہ ہوتا ہے۔ ہمیں اس کا علم نہیں  تھا۔ دسویں  محرم کو میں  اذان سے  پہلے  ریاض الجنۃ تک پہنچ گیا۔ کوشش کے  باوجود ریاض الجنۃ کے  اندر جگہ نہیں  ملی۔ دروازہ کے  سامنے  بھی خاصی بھیڑ تھی۔ مجبوراً مجھے  دروازے  میں  بیٹھنا پڑا۔ اس سے  پہلے  مجھے  روزے  کا علم نہیں  تھا مگر جیسے  ہی افطار کا وقت ہوا روزہ داروں  نے  کھجوریں  وغیرہ نکال کر افطار کرنا شروع کر دیا۔ مجھے  بڑی شرمندگی  ہو رہی تھی کہ میں  نے  روزہ کیوں  نہیں  رکھا۔ حالانکہ یہاں  روزہ رکھنے  کا ثواب بھی عام روزوں  سے  ہزار گنا زیادہ ہو گا۔ میں  اپنی شرمندگی چھپانے  کی کوشش کر رہا تھا کہ آگے  کی دوسریصف سے  ایک صاحب نے  مجھے  کھجوریں  پیش کیں  میں  نے  اشارے  سے  بتانے  کی کوشش کی کہ میرا روزہ نہیں۔ پھر شوگر کی وجہ سے  کھجور کھانے  سے  پرہیز بھی ہے۔ موصوف کو شاید میرا اشارہ سمجھ نہیں  آیا اور آیا بھی تو انہوں  نے  ثواب کی نیت سے  زبردستی کھجوریں  پکڑا دیں۔ ان کی دیکھا دیکھی قریب بیٹھے  روزہ دار نے  دو اور کھجوریں  دے  دیں۔ تبرک کے  خیال سے  انکار نہ کر سکا۔ میں  ریاض الجنۃ کے  دروازے  میں  بیٹھا تھا۔ شائد اللّٰہ کو مجھ پر ترس آ گیا کہ یہ فقیر میرے  محبوب کے  در پہ بیٹھا ہے  سواس کا ا کرام کرنا چاہئے …. کتنا کریم ہے  میرا مولا۔ اس نے  مجھ جیسے  گناہ گار کو اس مادی عالم اور زندگی میں  جنت کے  دسترخوان پہ بٹھا کر جنت کا کھانا کھلایا۔ آج اگر کوئی سوال کرے  کہ کسی نے  جیتے  جی جنت کا کھانا کھایا ہے  تو یہ فقیر با یقین کہے  گا کہ میں  نے  جنت کا کھانا کھایا ہے۔

 

مدینے  کی دہی میٹھی

 

حدیثِ پاک کی روسے  حضورﷺ کے  منبرمقدس اور حجرہ مبارک کے  درمیان کی جگہ جنت کے  باغوں  میں  سے  ایک باغ ہے۔ حضورﷺ کے  فرمان پر ایمان لانا اس طرح ضروری ہے  جس طرح آیاتِ قرآن پر ایمان لانا لازمۂ ایمان ہے۔ یہ حدیث ریاض الجنۃ کے  دروازے  پر اپنے  اصل عربی متن میں  لکھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب متفقہ علیہ ہے۔ تمام مسلمانوں  کا ایمان ہے  کہ یہ قطعہ زمین جنت کا باغ ہے۔ اور میں  اس وقت اس جنت کی چوکھٹ پہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دروازے  کے  باہر سے  روزہ دار مجھ بے  روزے  کا ا کرام کر رہے  ہیں  اور اندر والے  مجھ سے  بے  نیاز پر تکلف افطاری میں  مصروف ہیں۔ میں  ابھی باہر کی طرف متوجہ ہوں  کہ اندر سے  ایک روزہ دار میرا بازو پکڑ کر کھجوریں  پیش کرتا ہے۔ میں اس سے  کھجوریں  لے  لیتا ہوں۔ اس کی دیکھا دیکھی ساتھ والے  صاحب دہی کا ڈبہ مجھے  پیش کرتے  ہیں۔ میں ہچکچاتے  ہوئے  کہتا ہوں  کہ کھٹا تو نہیں۔ اس ایک جملے  سے  ایسے  محسوس ہوا کہ میرا اندر نورانیت سے  خالی ہو گیا ہے۔ میں کبیرہ کا مرتکب ہو گیا ہوں۔ اس احساس کی وجہ ایک واقعہ ہے  جو بھائی عطی الرحمن نے  پاکستان سے  رخصتی سے  چند روز پہلے  سنایا تھا۔

بھائی عطی الرحمن نے  بتایا کہ ایک صاحب نے  خواب میں  حضورﷺ کی زیارت کی۔ حضورﷺ بڑی ناراضگی کے  انداز میں  فرما رہے  تھے  کہ تو کہتا ہے  مدینے  کی دہی کھٹی ہے۔ تو نکل جا میرے  شہر سے۔ خواب دیکھنے  والا بہت پریشان ہوا۔ ایک مفتی صاحب سے  تعبیر پوچھی تو انہوں  نے  فرمایا کہ بھائی تعبیر تو واضح ہے۔ تمہیں  شہر بدری کا حکم ہوا ہے۔ سوفوراًمدینہ شریف سے  نکل جاؤ۔

مجھے  یہ خواب والا قصہ یاد آیا تو ہچکیاں  بندھ گئیں۔ بے  ساختہ میرے  لبوں  پر یہ جملہ جاری ہو گیا۔ مدینہ کی دہی میٹھی!مدینہ کی دہی میٹھی!میں  نے  دہی پیش کرنے  والے  کے  ہاتھ سے  ڈبہ چھین لیا اور تمام دہی چٹ کر گیا۔ ان کے  ساتھ والے  ساتھی حلوہ تناول فرما رہے  تھے۔ میرے  آنسوؤں  سے  متاثر ہو کر انہوں  نے  حلوہ پیش کیا۔ میں  شوگر کا خیال کئے  بغیر حلوہ کھا گیا۔ ایک صاحب نے  قہوہ پیش کیا۔ میں  نے  کہا کہ دو گھونٹ خود پی لیں۔ اس لئے  کہ میں  نے  سنا ہے  مومن کا جوٹھا شفا ہے  اور میں  بیمار ہوں۔ میں  یہ قہوہ بھی کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی گیا۔ ساتھیوں  نے  میرے  رونے  کی وجہ پوچھی تومیں  نے  مذکورہ قصہ سنایا وہ بھی بہت متاثر ہوئے۔

 

اندر کا منظر

 

رقیباں  گوش بر آواز و او در ناز و من ترساں

سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے  کہ من بودم

مجرد کیفیتوں کو علمی زبان میں  بیان کرنا مشکل ہے۔ سوان کے  اظہار و بیان کے  لئے  تلمیح واستعارہ سے  کام لینا پڑتا ہے۔ وارداتِ عشق کے  بیاں  کے  لئے  نثر کی نسبت شعر کی زبان زیادہ معاون ہے۔ مگر اکثر مقامات پر شاعری بھی ساتھ نہیں  دیتی۔ سوبہت سی باتیں  ان کہی رہ جاتی ہیں۔ عشق کی واردات جذباتی اور عقیدت کے  معاملات روحانی ہیں۔ دونوں  کا تعلق اندر سے  ہے۔ اور اندر کیا ہے ؟

ایہہ تن تیرا حجرہ رب دا ایتھے  مار فقیرا چہاتی ہُو

شوق دا دیوا بال انہیرے  تینوں  لبھ جائے  وست کھڑاتی ہُو

(اے  سالک تیرا دل خانہ خدا ہے۔ ضرورت گھر کے  اندر جھانکنے  کی ہے۔ جب تو جذبہ شوق کی روشنی میں  دیکھے  گا تو تجھے  گمشدہ چیز مل جائے گی۔)

سو حقائقِ ازلی و ابدی کے  ادراک کے  لئے  جذبۂ شوق کی ضرورت ہے۔ جب خدا اور محبوبِ خدا کے  وصال کا جذبہ پیدا ہو گاتوسینہ روشن ہو جائے گا۔ دل کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے۔ جس چیز کی طلب ہو وہ اس آئینے  میں  منعکس ہوتی ہے۔ اور مطلوب کے  علاوہ غیر مطلوب سے  سینے  پاک کرنا پڑتے  ہیں۔ اگر زیارتِ رسولﷺ کی طلب ہو تو درودِ پاک کے  ذریعہ سینے  کو پاک کرنے  کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضورﷺ کی صورت وسیرت کے  مختلف پہلوؤں  کو خیال کر کے  دل میں  جمانے  کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  کہ خدا اور محبوب خدا کے  سواساری محبتوں  سے  دل کو پاک کیا جائے۔ خواہش ہو تو زیارت کی طلب ہو تو وصال کی،اس کے  علاوہ اپنی تمنائیں،آرزوئیں، خواہشیں  سب کچھ قربان کرنا ہوں  گی۔ اور یہ کام کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے  لئے  عشاق اپنی زندگیاں  قربان کر دیتے  ہیں مگر زیارت مقدر والوں  کو ہوتی ہے۔ بہر حال طلبِ صادق کے  ساتھ ساتھ مشقت ضروری ہے۔

محبت کا ایک اصول یہ بھی ہے  کہ طالب و مطلوب میں  ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ ایسی ہم آہنگی کہ

من تو شدم تومن شدی من تن شدم تو جاں  شدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں  من دیگرم تو دیگریٍٍ(خسرو)

(ہم دونوں  میں  ایسی ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ گویا میں  تو ہو جاؤں  اور تومیں  ہو جائے۔ وہ اس طرح کہ تو میرے  تن بدن میں  روح کی طرح سرایت کر جائے  یہ آہنگ ایسا ہم رنگ ہونا چاہئے  کہ دیکھنے  والے  یہ نہ کہیں  کہ میں  اور ہوں  اور تو اور ہے)

ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ اطاعتِ خداوندی سے  انسان ایسے  مرتبے  پر پہنچ جاتا ہے  کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کا ہاتھ بن جاتا ہے  جس سے  وہ کام کرتا ہے  اور پاؤں  بن جاتا ہے  جس سے  وہ چلتا ہے  اور کان بن جاتا ہے  جس سے  وہ سنتا ہے ……

علامہ اقبال نے  جو کہا ہے  کہ”ہاتھ ہے  اللّٰہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ” یہ اسی مفہوم میں  ہے۔ اور جب وہ یہ کہتا ہے :۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے  پہلے

خدا بندے  سے  خود پوچھے  بتا تیری رضا کیا ہے

تو اس کا بھی یہی مفہوم کہ جب آدمی اپنی خواہشات کو رضائے  الٰہی کے  تابع کر لیتا ہے  تو اللّٰہ کی رضا اور بندے  کی منشا ء میں  ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ہم آہنگی اصل میں  وصال ہے۔ اور وصال میرے  جیسے  گناہ گاروں  کے  نصیبوں  میں  کہاں۔ میں  تو زیارت چاہتا ہوں۔ گو میرے  جیسے  گندے  کو یہ سوچنا بھی زیب نہیں  دیتا۔ مگر کیا کروں۔ دل توسب میں  ہوتا ہے۔ میرے  سینے  میں  بھی دل ہے۔ اور دل میں  زیارتِ رسولؐ کی طلب بھی ہے۔ اور یہ طلب اب بھی ہے  اور جب بھی تھی۔ جب سے  مراد وہ مبارک شام ہے  جب ان گناہگار آنکھوں  کو روضہ شریف کی جالیوں  سے  اندر جھانکنے  کی سعادت نصیب ہوتی تھی۔

 

اندر تو کلمہ ہی ہے

 

یہ مدینہ شریف سے  رخصتی سے  ایک دن پہلے  کا واقعہ ہے۔ میں  نے  ارادہ کیا کہ آج ان شاء اللّٰہ اندر سے  دیکھوں  گا۔ اندر ہی اندر اللّٰہ سے  دعائیں  بھی کرتا رہا۔ میرا معمول تھا کہ سلام پھیرتے  ہی زیارت روضہ کے  لئے  اٹھ کھڑا ہوتا۔ مگر آج میں  نے  سنتیں  پڑھنا لازمی سمجھا کہ یہ چار سجدے  صاحبِ روضہ کا محبوب وظیفہ تھا سوسنتوں  سے  فارغ ہو کرآہستہ آہستہ جنگلے  کے  ساتھ ساتھ چلنے  لگا۔ ہجوم آج بھی بہت تھا۔ ہجوم کی وجہ سے  مجھے  مجبوراً جنگلے  سے  ہٹ کر تیسری یا چوتھی قطار میں  آنا پڑا۔ میں  بڑی عاجزی،عقیدت اور محبت سے  درودوسلام پڑھ رہا تھا اور دل ہی دل میں  دعائیں  کر رہا تھا۔ ہجوم آہستہ آہستہ آگے  سرک رہا تھا۔ کوشش کے  باوجود میں  جنگلے  کے  قریب نہیں  آ سکا۔ ہاں  اتنا ہوا کہ روضہ شریف کی جالیوں  کے  قریب دوسری قطار میں  پہنچ گیا۔ اب بھی میرے  اور جالیوں  کے  درمیان ایک قطار آڑ بنی ہوتی تھی۔ میں  ایڑیاں  اٹھا اٹھا کر اور کبھی پہلو بدل بدل کر جالیوں  کے  اندر جھانکتا۔ اندر سبز رنگ کا غلاف نظر آتا۔ اور اس غلاف پر لکھے  ہوئے  کلمات سے  اندازہ ہوتا یہ کلمہ طیبہ ہے۔ قدرت خدا کی جب مواجہ مبارک کے  قریب پہنچا تو جنگلے  سے  چمٹے  ہوئے  ایک جوان نے  مجھے  کھینچ کر اپنے  آگے  کر لیا۔ شکل و صورت سے  یہ جوان چینی یا جاپانی نظر آتا تھا۔ جو کوئی بھی ہو۔ میرے  لئے  تو فرشتہ تھا۔ اللّٰہ اسے  اس نیکی کا اجر دے  میں  نے  حضرت عمرِ خطابؓ کے  روضہ کے  سوراخ سے  جھانک کر دیکھا تو واقعی اندر کلمہ لکھا ہوا تھا۔ پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے  مواجہ سے  جھانک کر دیکھا تو کلمہ ہی تھا۔ پھر جب حضورﷺ کے  پُر نور چہرہ  انور دیکھنے  کی کوشش کی تو وہاں  بھی لکھا ہوا تھا

“لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”

کلمہ پڑھتے  ہی دل مطمئن ہو گیا۔ شکوک و اشکال رفع ہو گئے۔ الجھاؤ سلجھ گئے۔ سو

دوستو!بزرگو! بھائیو!

اندر کلمہ ہی ہے۔

کلمہ جو کہ دین کی بنیاد ہے۔ اس کلمے  کو سمجھنا سوچنا،برتنا اور پھیلانا گویا زیارتِ رسولﷺ ہے۔ کلمہ عمل میں  لانے  سے  حضورﷺ سے  ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

 

کلمہ

 

حدیث شریف کا مفہوم ہے  کہ اسلام کی مثال ایک خیمہ کی سی ہے۔ جو پانچ ستونوں  پر کھڑا ہے۔ کلمہ، نماز،روزہ،حج،زکوٰۃ۔ ان پانچوں  میں  کلمہ کی حیثیت درمیانی لکڑی کی ہے۔ اگر یہ لکڑی نہ ہو تو خیمہ کھڑا نہیں  ہو سکتا جبکہ بقیہ چاروں  میں  سے  کوئی ایک ناقص ہو تو خیمہ کھڑا رہے  گا۔ اگرچہ وہ طرف جس کی لکڑی نہیں  وہ گری رہے  گی۔

اس حدیث سے  کلمہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے  کہ دین میں  اس کی اہمیت  مرکزی ہے۔ یہ کلمہ اگرچہ گنتی کے  چند عربی الفاظ پر مشتمل ہے۔ مگر گہری نظر سے  دیکھا جائے  تو ایسے  لگتا ہے  جیسے  کوزے  میں  سمندر بند کر دیا گیا ہے۔

کلمہ کے  دو حصے  ہیں۔ پہلے  حصے  کا تعلق توحید سے  اور دوسرے  کا رسالت سے  ہے۔ کلمہ کا معنی یہ کیا جاتا ہے  کہ’’ اللّٰہ کے  سوا کوئی عبادت کے  لائق نہیں  اور حضرت محمدﷺ اللّٰہ کے  رسول ہیں۔ ‘‘ علمائے  کرام اس کلمے  کو توحید ورسالت کے  حوالے  سے  صوفیا ء اور فلاسفہ نفی اثبات کے  حوالے  سے  دیکھتے  ہیں اور تبلیغ والے  اس کا مفہوم ان الفاظ میں  بیان کرتے  ہیں  کہ”اللّٰہ سے  ہوتا ہے۔ اللّٰہ کے  غیر سے  اللّٰہ کے  حکم کے  بغیر کچھ نہیں  ہوتا۔ اور دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضورﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے۔ “اس مفہوم کا تقاضا یہ ہے  کہ ان الفاظ کو بار بار بولا اور سنا جائے۔ ہمارا ہر عمل اس کلمے  کے  مطابق ہو، ہم سراپاکلمہ بن جائیں۔

کلمہ کا بنیادی مقصد اللّٰہ تعالیٰ کا تعارف ہے۔ اور تعارف کا طریقہ انبیاءؑ کی وساطت سے  معلوم ہوتا ہے۔ اگر اس واسطہ کو درمیان سے  ہٹا دیا جائے  تو معرفتِ الٰہی ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ اللّٰہ تعالیٰ نے  ہر نبی کے  نام کے  ساتھ اپنے  نام کو منسلک کیا ہے۔ چنانچہ حضرت آدمؑ کی امت کے  لئے  لا الہ الا اللہ کے  ساتھ آدمؑ صفی اللّٰہ، نوحؑ کی امت کے  لئے  نوح نجی اللہ،حضرت موسیٰؑ کی امت کے  لئے  موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰؑ کی امت کے  لئے  عیسیٰ روح اللہ کا لاحقہ لازمی قرار دیا ہے۔ اسی طرح حضرت محمدﷺ کی امت کے  لئے   محمد رسول اللہ کا لقب لا الہ الا اللہ کے  ساتھ ٹھہرایا۔ اگر محمد رسول اللّٰہ نہ کہا جائے  تو کلمہ نامکمل ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں  کا کلمہ ہی نہیں۔

لا الہ الا اللہ کی پہچان محمد رسول اللہ نے  کرائی ہے۔ اگر رسالت یا صاحبِ رسالت کی پہچان نہیں  ہو گی تو توحید باری تعالیٰ کی معرفت بھی حاصل نہیں  ہو گی۔ حضرت محمدﷺ کی رسالت اللّٰہ تعالیٰ تک رسائی کا راستہ ہے۔ جو اس راستہ سے  ہٹ گیا گمراہ ہو گیا۔ حضورﷺ معبود و عابد کے  درمیان کا واسطہ ہیں  اگر اس واسطہ سے  رابطہ نہیں  تو اللّٰہ تعالیٰ سے  رابطہ پیدا نہیں  ہو سکتا۔

اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک بے  جسم اسم ہے  جس کا احساس و ادراک حواسِ خمسہ کے  بس کی بات نہیں۔ اس ذات پاک کا مقام قلب مومن ہے۔ اور قلب میں  بھی وہ صفات کے  حوالے  سے  جلوہ گر ہوتا ہے۔ اللّٰہ کی ذاتِ پاک کی ایک صفت تخلیق ہے۔ اس صفت کے  حوالے  سے  دیکھیں  توانسان اس کی تخلیق کا بہترین نمونہ ہے۔ پھر انسانوں  میں  بھی حضرت محمدﷺ تخلیقِ خداوندی کا شاہکار ہیں۔

تخلیق اپنے  خالق کا آئینہ ہوتی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے  خالق کی ذات و صفات کی عکاسی کر رہا ہے۔ ہر چیز اللّٰہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کی مظہر ہے۔ مگر یہ اظہار جزوی اظہار ہے۔ صرف ایک اور صرف ایک مبارک ذات ہے  کہ جس میں  ذاتِ باری تعالیٰ کی تمام صفات کا عکس بدرجہ اتم موجود ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  انسان کو اپنی سیرت پہ پیدا فرمایا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی اس قدر ت کا اظہار اللّٰہ کے  محبوب حضرت محمدﷺ کی سیرت و صورت میں  نظر آتا ہے۔ حضورﷺ اللّٰہ تعالیٰ کی جلالی و جمالی ہر دو صفات کا مظہر ہیں۔ سو صاحبِ جمال و جلال کے  نظارہ کے  لئے  اس کے  مظہرِ کمال کا نظارہ گویا صاحبِ جلال و جمال کا نظارہ ہے۔ شائد اسی تناظر میں  میاں  محمد بخش نے  کہا تھا

جنہاں  اکھیاں  ساجن تکیا اوہ اکھیاں  تک لیاں

توں  ملیاتے  ساجن ملیا ہُن آساں  لگ پیاں

(جو آنکھیں  زیارتِ محبوبؐ سے  بہرہ مند ہوئی ہیں  ان کی زیارت سے  امید بندھ گئی ہے  ان شاء اللہ ہمیں  بھی زیارتِ محبوب نصیب ہو گی۔)

اللّٰہ تعالیٰ کی کلی معرفت صرف حضورﷺ کو ہوئی ہے۔ پھر حضورﷺ نے  اپنے  پیاروں  کو اپنے  مولیٰ کی پہچان کرائی۔ حضورﷺ کے  پیارے  حقیقت میں  اپنے  خالق و مالک اللّٰہ تعالیٰ کے  شیدائی تھے  مگر اللّٰہ تعالیٰ ورا الوریٰ ہے۔ اس تک انسانی آنکھ کی رسائی نہیں۔ سوصحابہ کرامؓ حضورؐ پُر نور کے چہرہ انور کی زیارت سے  آنکھیں  ٹھنڈی کر لیتے  کہ حضورﷺ قدرتِ خداوندی کا مکمل مظہر اور کامل نمونہ ہیں۔

 

زیارت و اطاعت

 

حضورﷺ کی زیارت آنکھوں  کانور اور دل کا سرور ہے۔ حضورﷺ کی اطاعت اللّٰہ کی اطاعت ہے۔ اور یہ اطاعت عام ہے۔ تمام مسلمانوں  کے  لئے  فرض ہے۔ ہر مسلمان کو حضرت محمد ؐ کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اگر کسی کا اطاعتِ رسولؐ کی فرضیت پر ایمان نہیں  تو وہ مسلمان ہی نہیں۔ اطاعتِ محمدؐ بڑی نعمت ہے۔ مگر اطاعتِ رسولؐ سے  صرف مسلمان بنتا ہے  صحابی نہیں  بنتا۔ صحابی صرف وہ ہے  جو اطاعتِ محمدؐ کے  ساتھ ساتھ زیارت محمدﷺ سے  بھی مشرف ہوا ہے۔ اور ایسے  خوش قسمت تقریباً سوالاکھ بتائے  جاتے  ہیں۔ سوچا جائے  تو عہدِ رسالتؐ میں  ان مبارک ہستیوں  کے  علاوہ بھی لاکھوں  مسلمان تھے  وہ صحابی کیوں  نہیں۔ صرف اس لئے  کہ انہوں  نے  صورتِرسولؐ کی زیارت نہیں  کی۔ حضرتِ اویس قرنی کا عشق رسول مثالی ہے  کہ جب جنگ احد میں  حضورﷺ کے  دندانِ مبارک شہید ہونے  کی خبر سنی تو انہوں  نے  اپنے  سارے  دانت نکال دئیے۔ احادیث میں  ان کے  بڑے  فضائل و مناقب ہیں  مگر صرف ظاہری طور پر وہ حضورﷺ کے  سراپاکا نظارہ نہیں  کر سکے  اس لئے  انہیں  صحابی کے  بجائے  تابعی کہا جاتا ہے۔ اصحابی کے  متعلق علماء کا کہنا ہے  کہ انبیاء ورسل کے  بعد ساری مخلوق میں  مرتبہ کے  لحاظ سے  اصحابی بلند مرتبہ ہے۔ اس سے  آپ کے  سراپا مبارک کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ پھر اگر منصب کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تو اس سراپا کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے  منصبِ رسالتؐ پہ فائز فرمایا ہے۔ اور اس منصب کا مرتبہ انسانی تصور و ادراک سے  ماورا ہے۔

حضورﷺ کی خاتم یعنی انگوٹھی جو مہر کے  طور پر استعمال ہوتی تھی اگر اس کا عکس دیکھیں  تو اس پر اللّٰہ اوپر، نیچے  رسولؐ اور نیچے  محمدؐ لکھا ہوا ہے۔ اس ترتیب سے  منصب کا مرتبہ سراپا سے  بلند نظر آتا ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ کا مقام و مرتبہ محمدؐ اور رسول یعنی منصبِ رسالتؐ اور صاحبِ منصب سے  بھی بلند تر ہے۔

یہ انگوٹھی کا نقش آثارِ نبوت کا ایک ایسانشان ہے  جس سے  بہت سے  اسرار کا انکشاف ہوتا ہے۔ موجودہ موضوع کی مناسبت سے  اس مہر کی تحریر سے  معلوم ہوتا ہے  کہ رسول، اللّٰہ اور بندہ کا درمیانی واسطہ ہیں۔ سواس واسطہ کی وساطت سے  اللّٰہ اور بندہ دونوں  کی پہچان ہوتی ہے۔

اس وقت حضورﷺ پُر نور بھی ہماری نگاہوں  سے  مستور ہیں۔ اور اللّٰہ تعالیٰ توہے  ہی وراء الوریٰ۔ ہماری ظاہری آنکھ ان دونوں  ہستیوں  کی زیارت کی اہلیت نہیں  رکھتی۔ سودونوں  کی زیارت کا ذریعہ رسالت ہے۔ اور رسالت کیا ہے ؟اللّٰہ کا حکم بوساطتِ رسولِؐ مقبول۔ اور یہ حکم ہی ہے  جس کو امر بالمعروف اور نہی عنِ المنکر کی اصطلاحات سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  جو کرنے  کو کہا ہے  وہ امر بالمعروف اور جس کے  کرنے  سے  منع فرمایا ہے  وہ نہی عن المنکر ہے۔ سو جس نے  اللّٰہ کی مان لی اس نے  اللّٰہ کی زیارت کر لی۔ اللّٰہ کا حکم رسول ؐ کی زبان سے  صادر ہوتا ہے۔ سوجس نے  حضورﷺ کی مانی اس نے  اللّٰہ اور رسولؐ دونوں  کی مانی۔ سودونوں  کی زیارت ہو گئی۔

 

یقین سے  ماننا زیارت ہے

 

غالباً حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے  کہ میں  بن دیکھے  خدا کی عبادت نہیں  کرتا۔ بلکہ دیگر اصحابہؓ بھی کہتے  تھے  کہ اگر جنت اور دوزخ مجسم صورت میں  ہمارے  سامنے  آ جائیں  تو ہمارے  ایمان میں  ذرا برابر کمی ہو گی نہ زیادتی۔ ان حضرات کے  ایمان کی یہ کیفیت تھی کہ جب نماز کے  لئے  کھڑے  ہوتے  تو انہیں  دنیا و ما فیہا کی خبر نہ ہوتی۔ ان کی نماز واقعی اخلاص کی نماز تھی۔ ان کے  رکوع وسجود حضورِ خداوندی میں  حاضری کا کامل نمونہ تھے۔ ان کی نماز واقعی معراج المومنین تھی۔ نماز کے  علاوہ باقی اعمال میں  بھی ان کے  ایمان کی یہی کیفیت تھی کہ خلوت و جلوت میں  ان کا یقین تھا کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے، ہماری سن رہا ہے  اور وہ ہمارے  ساتھ ہے۔ ہماری ایک ایک حرکت سے  باخبر ہے۔

حقیقت تو ہر حال میں  حقیقت ہے۔ کوئی اسے  تسلیم کرے  یا نہ کرے  حقیقت میں  کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نقصان ہے  تو انکارِ حقیقت کرنے  والے  کا۔ انکارِ حقیقت سے  حقیقت ناقص نہیں  ہو جاتی۔ اللّٰہ کی الوہیت اور رسولﷺ کی رسالتؐ سب سے  بڑے  حقائق ہیں۔ ان کا انکار وہی کرتے  ہیں  جن کی سماعت و بصارت پہ پردے  اور دلوں  پہ مہریں  لگی ہوئی ہیں۔ صاحب نظر تو مجاز میں بھی حقائق کو تلاش کر لیتے  ہیں۔ بے  بصیرت لوگ مجاز میں  اس قدر گم ہیں  کہ اسے  ہی حقیقت سمجھ رہے  ہیں۔ دنیا اور دنیا میں  جو کچھ ہے،سب مجاز ہے۔

مجاز خود حقیقت نہیں  حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر آدمی اسی کا ہو کر رہ جائے  تو یہ مجاز خدا کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ آدمی اس کی پرستش کو عبادتِ خدا سمجھنے  لگتا ہے۔ اور یہ رویہ ہی اصل میں  شرک ہے۔ مجاز اصل میں  اشارہ ہے  اصل کی جانب۔ سواصل کی طرف رجوع کرنا توحیدی رویہ ہے۔ اصل صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ جو واحد ہے،احد ہے،اکیلی ہے۔ ہر لحاظ سے  یکتا و یگانہ۔ اس کا نامِ نامی اللّٰہ ہے۔ اس کا کوئی ثانی اور شریک نہیں۔ کوئی اس سانہیں  اور وہ کسی سانہیں  وہ بے  مثل ہے  اور بے مثال ہے۔ وہ ویسا ہے ؟جیسا اس کے  رسولؐ نے  بتایا ہے۔ رسولؐ کے  علاوہ کوئی اس کا مخبر اور پیغمبر نہیں۔ سو وہ وہی ہے  جو اس کے  رسولؐ کی خبر ہے۔ سورسولؐ کی خبر کو ماننا ہی معرفت ہے۔ اللّٰہ کو پہچاننا ہے  تورسول ؐ کی خبر کی نظر سے  پہچاننا ہے۔ رسول ؐ کی خبر کے  علاوہ سب خبریں  جھوٹ ہیں۔ باطل ہیں۔ سوکلمے  کی تفہیم کے  لئے  سب سے  پہلے  مخبرِ صادق کے  علاوہ باقی منابع اور مراجع کی نفی کرنا ضروری ہے۔ باقی تمام ذرائع اخبار باطل ہیں، جھوٹے  ہیں۔ اس جھوٹ کی نفی کرنا ضروری ہے …مگر یہ کیسے  ہو؟ہم آج کی تازہ خبر کے  خوگر چودہ سوسال پرانی خبر پہ کیسے  یقین کریں۔ مشکل ہے ! بہت مشکل !ہم علوم جدیدہ کو علوم قدیمہ پرکیسے  قربان کریں۔ ہم پیچھے  نہیں  آگے  جانا چاہتے  ہیں۔ ہم ترقی کرنا چاہتے  ہیں … بس یہ ترقی کا لفظ ہماری خواہشوں، تمناؤں، آرزوؤں،آدرشوں  اور سوچوں  کا محور ہے۔ ہماری ساری زندگی اس محور کے  گرد گھوم رہی ہے۔ ہم اس محور کی گرفت سے  آزاد نہیں  ہو سکتے۔ اس لئے  کہ ترقی کرنا انسان کی فطری خواہش ہے۔ مگر سوچنا یہ ہے  کہ ترقی کیا ہے ؟

 

کامیابی کیا ہے ؟

 

ایک مسلمان کی حیثیت سے  سوچیں  تو حضورﷺ کا زمانہ مبارک ہر لحاظ سے  ترقی یافتہ زمانہ ہے۔ آپ کے  زمانہ مبارک کو خیرُ القرون کہا گیا ہے۔ اس لئے  کہ یہ زمانہ ہر لحاظ سے  خیر تھا۔ سیاسی،معاشی، معاشرتی، ہر لحاظ سے  یہ زمانہ سارے  زمانوں  کے  لئے  ایک نمونہ ہے۔ معاشرتِ مدینہ کو دیکھیں  تو یہ شہر جنت کا نمونہ ہے۔ ہر کسی کا جان و مال اور عزت و حرمت محفوظ ہے۔ رحمت اللعالمین کے  سایہ رحمت میں  پورا ماحول سکھ چین اور راحت و آرام کی زندگی بسرکر رہا ہے۔ اس مبارک ماحول کا موجودہ ماحول سے  موازنہ کیا جائے  توسکھ، چین،راحت و آرام اور اطمینان کی لغت میں  بہت اختلاف نظر آتا ہے۔ اُس دور کے  اطمینان اور اِس دور کے  اطمینان میں  نہ صرف فرق بلکہ کئی حوالوں  سے  تضاد پایا جاتا ہے۔ اس وقت کا اطمینان سادگی اور آج کا سکھ چین تکلف و پرکاری ہے۔ اس وقت کی ترقی اللّٰہ کی غلامی اور مخلوق سے  آزادی تھی۔ جب کہ آج کا رویہ اس سے  بہت مختلف ہے۔ آج کی ترقی مال و دولت اور منصب و مرتبہ کو سمجھا جاتا ہے۔ آج کا انسان مادے  کا غلام بن کر رہ گیا ہے  جبکہ اس وقت کا انسان مادے  کا آقا تھا۔ مسلمان ضرورت کی حد تک حصولِ مادہ کی کوشش کرتا تھا۔ بلکہ جہاں  ترجیحات کا مسئلہ پیش آتا وہاں  اپنی ذاتی ضروریات کو دوسروں  کی ضروریات پر قربان کر دیتا۔ مسلمان نے  سبب کو رب نہیں  بنایا تھا۔ وہ دنیا کے  شیدائی نہیں  آخرت کی کامیابی کے  تمنائی تھے۔ وہ فانی دنیا کی ترقی کو ترقی اور وقتی کامیابی کو کامیابی نہ جانتے  تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جو دوزخ سے  بچ کر جنت میں  داخل ہو گیا صرف وہی کامیاب ہے۔ سوان کا مقصودِ محنت آخرت اور ہمارا مقصودِ محنت دنیا ہے۔ جب تک ہم اس دنیا کی نفی نہیں  کرتے  اس وقت تک ہم ترقی نہیں  کر سکتے  نہ ہی کامیاب ہو سکتے  ہیں۔

دنیا اور جو کچھ دنیا میں  ہے  اس کی نفی کرنا لا الہ کا  مقصود ہے۔ دل میں  یہ یقین ہو کہ دنیا اور اسبابِ دنیا سے  کامیابی نہیں، ترقی نہیں  بلکہ دنیا اور اسبابِ دنیا کا اپنا وجود بھی کوئی حیثیت نہیں  رکھتا۔ جو ہمیں  نظر آ رہا ہے  یا جو ہماری آنکھوں  سے  اوجھل ہے  یہ سب کچھ اللّٰہ کے  حکم اور ارادہ سے  ہے۔ سوہونا اور نہ ہونا سب کچھ اللّٰہ کے  امر سے  ہے۔ نہ صرف آج کا بلکہ گذشتہ اور آنے  والے  کل کا ہونا صرف اور صرف اللّٰہ کے  حکم اور ارادہ سے  ہے۔ بس اللّٰہ کی ذات حقیقی ذات ہے  اور اللّٰہ کی صفات حقیقی صفات ہیں۔ اور مقصودِ مومن اللّٰہ کی معرفت کرنا اور کرانا ہے۔

اللّٰہ کی معرفت اللّٰہ کی صفات سے  ہے۔ اور صفاتِ الٰہی کا مظہر حضرت محمدﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ سوحضورﷺ کی معرفت اصل میں  معرفت الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اور حضورﷺ کی معرفت حضورؐ کی رسالت سے  ہے۔ اور رسالت کی پہچان حضورؐ کے  آثار سے  ہے۔ اور آثار میں  قرآن و حدیث اور اوامر و نواہی ہیں۔ سواوامرونواہی کو اس یقین کے  ساتھ ماننا اور ان پر عمل کرنا کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے، ہماری سن رہا ہے  اور وہ ہمارے  ساتھ ہے۔ یہ اصل معرفت ہے۔

 

کلمے  کا مقصد

ہمارا اصل موضوع حج ہے۔ اور اس مرحلہ پر ہم اعمالِ حج سے  فارغ ہو چکے  ہیں۔ اس وقت اس سفرِ سعید کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سفر کے  تجربات و واردات گذشتہ صفحات میں  عرض کی جا چکی ہیں۔ گذشتہ صفحات میں “شریعت؟طریقِ پیغمبراں “کے  عنوان سے  میں  نے  عرض کیا ہے  کہ شریعت اصل میں  اللّٰہ کے  پیغمبروں  کے  اعمال کی نقل ہے۔ اس سوچ کے  مطابق شریعتِ محمدی اصل میں  اللّٰہ تعالیٰ کے  آخری نبیؐ کی اداؤں  کی نقل ہے  اور حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل کرنا ہی کلمہ کا مقصد ہے۔

ایک نعت میں  شریعتِ محمدیؐ پر عمل پیرا ہونے  کی تمنا کی تھی۔ یہ نعت نذرِ قارئین ہے۔

نعت

تری حدیثیں،طریقے،اصول نقش کروں

میں  اپنے  ہاتھوں  پہ  سیرت کے  پھول نقش کروں

لہو کے  رنگ سے،اشکوں  کی روشنائی سے

تری کتاب کی شانِ نزول نقش کروں

شفق شفق ترے  جلوؤں   کی چاندنی بھر دوں

افق افق ترے  قدموں  کی  دھول نقش کروں

یہ آرزو  ہے  کوئی ہم نوا ملے  تو  حضورﷺ

میں  اپنے  عہد کا حلف الفضول نقش کروں

یہ انتہائے   ہنر ہے  کہ شیشۂ  دل پر

جو کر  سکوں  تو جمالِ رسول نقش کروں

جبین نعت پہ قوسِ قزح کے  رنگوں  سے

حسنؓ، حسینؓ و علیؓ اور بتولؓ نقش کروں

بناؤں زائچے  جب انقلاب کے  صفدؔر

ہر ایک نقش میں  عکسِ رسول ؑ نقش کروں                  (جبینِ نعت)

تبلیغ والے  محمدرسولؐ اللہ کا مفہوم ان الفاظ میں  بتاتے  ہیں  کہ “دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضرت محمدﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے “یہ جملہ بظاہر بہت سادہ مگر مفہوم کے  لحاظ سے  پوری شریعت کے  مفہوم کو اپنے  اندر لئے  ہوئے  ہے۔ اس جملے  میں  ہمارے  مسائل اور مسائل کے  حل کا کلیہ موجود ہے۔ ہمارے  مسائل کے  اسباب میں  سب سے  بڑاسبب غیروں  کی نقالی ہے۔ اس نقالی کی وجہ سے  ہم حضورﷺ کے  طریقوں  کو بھول گئے  ہیں۔ بلکہ آج کل اکثر اعمال کو جو کہ سنت کے  سراسرخلاف ہیں  دین سمجھ رہے  ہیں۔ اگر ہم صبح سے  لے  کر رات تک کے  اعمال کا جائزہ لیں  تو ہمیں  اپنی حالت مشکوک نظر آئے گی۔ بیشک کسی روز اپنے  روزمرہ معمولات کی ڈائری لکھ کر اس کا شریعت کی روشنی میں  جائزہ لیں  آپ کو اپنی دینی حالت کا پتہ چل جائے  گا۔ پوری زندگی کے  بجائے  صرف نمونہ کے  طور پر اپنے  تعلیمی نظام کو ایک نظر دیکھ لیں  تو ہمیں اپنی دینی حیثیت کا علم ہو جائے گا۔

 

معذرت کے  ساتھ

 

جومسجد مسلمانوں  اور اسلام کا مرکز ہے۔ صبح سویرے  مسجد کو جانے  والوں  اور مسجد سے  منہ پھیرنے  والوں  یا غفلت برتنے  والوں  کا مشاہدہ کریں۔ ڈائری پر لکھتے  جائیں۔

کتنے  سورہے  ہیں  کتنے  بازار کو جا رہے  ہیں۔ کتنے  سیر کر رہے  ہیں،کتنے  سکول کالج یا یونیورسٹی جا رہے  ہیں۔ اب مشاہدے  کو صرف سکول کالج جانے  والوں  تک محدود کر دیں۔

اب ان جانے  والوں  کے  ظاہر کا مشاہدہ کریں  تو ان کا لباس اور صورت اپنوں  کے  نہیں  غیروں  کے  مشابہ ہے۔ اب ان کے   بستوں میں  جو کچھ بند ہے  اسے  کھولیں  تو اس میں  قرآن نظر آتا ہے  نہ حدیث۔ اور جہاں  قرآن و حدیث نہیں  وہاں  کیا ہو گا؟اسے  آپ علم کہہ لیں  تو آپ کی مرضی، میں  اسے  علم نہیں  کہہ سکتا۔ میں  یہ کڑوا جملہ صرف طوالت سے  بچنے  کے  لئے  کہہ رہا ہوں۔ میری رائے  سے  اکثریت کو اختلاف ہو گا۔ مگر اختلاف کرنے  والوں  سے  صرف اتنی گذارش ہے  خدارا اپنے  نظامِ تعلیم کا قرآن اور حدیث کی روشنی میں  جائزہ لیں۔

غزوہ بدر کے  قیدیوں  کی رہائی کے  لئے  ایک شرط یہ تھی کہ جو قیدی دس دس مسلمان بچوں  کو پڑھنا لکھنا سکھادے  اسے  رہا کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے  میں  ہم یہ بھول جاتے  ہیں  کہ علم اور خواندگی میں  زمین آسمان کا فرق ہے۔ علم صرف وہی علم ہے  جو قرآن و حدیث کے  ذریعے  ہم تک پہنچا ہے۔ ایک اور حدیث اس سلسلے  میں  نقل کی جاتی ہے  کہ علم حاصل کرنے  کے  لئے  چین جانا پڑے  تو جاؤ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے  جہاں  پائے  وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ ان حوالہ جات کو بنیاد بنا کر غیروں  کے  فلسفہ و فکر کو علم کے  نام پر من و عن اپنا لینا المیہ نہیں  تو اور کیا ہے۔ کیا علم و حکمت قرآن و حدیث میں  نہیں ؟کیا قرآن و حدیث میں  قیامت تک کے  مسائل کا حل موجود نہیں ؟کیوں  نہیں۔ تمام علوم کا ماخذ قرآن ہے۔ اور ان علوم کی تفسیرحدیث ہے۔ تمام علوم کی مبادیات قرآن میں  دے  دی گئی ہیں۔ اب قرآنی بنیادوں  پر حدیث کی روشنی میں  فلاحی معاشرہ کی عمارت تعمیر کرنا مسلمانوں  کا فرض ہے  اور یہ اس صورت میں  ہو سکتا ہے  جب ہم علم کے  نام پر پھیلائی جانے  والی جہالت کی مکمل نفی کر کے  قرآن و حدیث کو اپنی فکر و عمل کا محور و مرکز بنائیں  گے۔ میرے  خیال میں  آج کی زبان میں  کلمے  کا یہی مقصد ہو سکتا ہے۔

درس وتدریس کا ایک ذریعہ لفظ ہے۔ لفظ کا سیکھنا سکھانا ہنر ہے،علم نہیں۔ تعلیمی اصطلاح میں  اسے  خواندگی کہا جاتا ہے۔ اس وقت اہم مناصب پر وہی لوگ متعین ہیں  جنہیں  پڑھا لکھا کہا جا رہا ہے۔ اگر کسی محکمے  کی کارکردگی اچھی ہے  تو اس کا کریڈٹ اس پڑھے  لکھے  طبقے  کو جاتا ہے  اور اگر اس معاشرے  میں  کرپشن ہے  تو اس کا ذمہ دار بھی یہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ نچلا طبقہ اگر کوئی برائی کر رہا ہے  تو وہ اعلیٰ طبقہ کے  مفادات کے  تحفظ کے  لئے  کر رہا ہے۔ نچلا طبقہ تو اعلیٰ طبقہ کا آلۂ کار ہے۔ اصل ذمہ دار کرنے  والا نہیں  برائی کرانے  والا ہے۔ اب کون سامحکمہ قرآن و حدیث کی روشنی میں  جائز ہے  اور کونسانا جائز ہے۔ یہ ایک دوسرامسئلہ ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے  کہ برائی ریڈیو،ٹیلیویژن کے  ذریعے  پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ ٹیلیویژن یا دوسرے  آلات تو بے  جان چیزیں  ہیں  یہ خود تو برائی نہیں  پھیلا رہے۔ برائی تو وہ پھیلا رہے  ہیں  جنہیں  آرٹسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ آرٹسٹ بھی توکسی لکھاری کے  سکرپٹ کو تمثیل کی صورت پیش کر رہے  ہیں۔ ان کے  علاوہ بھی جتنے  آڈیو ویڈیو ذرائع ہیں  ان کو کنٹرول کرنے  والے  تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ سوکہنا پڑتا ہے  کہ آج کا معاشرہ جیسابھی ہے  وہ نام نہاد تعلیم کی پیداوار ہے۔ اور اس پیداوار کی اصل کھیتی سکول،کالج اور یونیورسٹی ہے۔ میں  اس کھیتی کو یکدم اجاڑنے  کا مشورہ تو نہیں  دیتا صرف اتنی گذارش ہے  کہ ذراسنجیدگی سے  قرآن اور حدیث کی روشنی میں  اس نظام کا جائزہ لیں۔ تعلیم اور دین میں  ربط کی ضرورت ہے۔ تعلیم آجکل دین سے  قطعی غیر متعلق ہے۔

 

مفتی کا کہنا

 

ہمارے  ہی دور کے  ایک ممتاز لکھاری ممتاز مفتی کے  نام سے  مشہور ہیں۔ ابھی چند سال پہلے  ان کا انتقال ہوا ہے۔ بڑے  اعلیٰ پائے  کے  ادیب تھے۔ چند ایک محافل میں  انہیں  سنا ہے۔ جب پڑھنا شروع کرتے  تو یکدم خاموشی چھا جاتی۔ مفتی صاحب کے  پڑھنے  کا انداز ساحرانہ تھا۔ انہوں  نے  اپنے  حج کے  تاثرات رپورتاژ کی صورت میں  لکھے  ہیں۔ ان کی کتاب کا نام ہے “لبیک” جب میں  نے  اپنی یادداشتیں  محفوظ کرنے  کا ارادہ ظاہر کیاتودوستوں  نے  لبیک پڑھنے  کا مشورہ دیا۔ مفتی صاحب تو ماہر ادیب تھے  انہوں  نے  افسانوی رنگ میں  اپنے  سفر کی تصویر کشی کی ہے۔ سنا ہے  ان کی کچھ باتوں  سے  لوگوں  نے  اختلاف کیا ہے۔ مجھے  ان باتوں  کا علم نہیں۔ اور پھر اختلاف کرنا توانسانی حق ہے۔ مگر جہاں  اتفاق کی گنجائش ہو وہاں  اتفاق بھی کرنا چاہئے۔

“لبیک”کے  دیباچے  سے  معلوم ہوتا ہے  کہ مفتی صاحب نے  ۱۹۶۸ء؁ میں  حج کیا۔ ان کی کتاب سے  آج سے  سینتیس سال پرانی تہذیب کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ اس وقت کی معاشرت آج کے  مقابلے  میں  دیہاتی قسم کی معلوم ہوتی ہے۔ آج تو ہمارے  گاؤں  میں  بھی ایک طرح کے  محلات ہیں  جب کہ اس زمانے  میں  مدینہ شریف کے  اعلیٰ قسم کے  ہوٹل بھی چار منزلہ تھے۔ مفتی صاحب”انگریز کی بو” کے  عنوان کے  تحت لکھتے  ہیں  :۔

کمرے  کی ہر چیز سے  انگریز کی بو آ رہی تھی۔ ہر چیز پر اس کی چھاپ لگی ہوئی تھی،اس زمانے  کے  انگریز کی جب سلطنت برطانیہ پر سورج کبھی غروب نہیں  ہوتا تھا۔

مکہ معظمہ میں  انگریز کی بو!لیکن وہ بواس قدر واضح تھی کہ مجھے  شک پڑنے  لگا کہ ہم مکہ معظمہ کی بجائے  کسی اور شہر میں  آورد ہوئے  ہیں۔

یہ تحریر۱۹۶۸ء؁ کی ہے۔ مفتی صاحب اگر آج زندہ ہوتے  تو آج کے  ہوٹل کو دیکھ کر انہیں  تعجب نہ ہوتا حالانکہ جس ہوٹل میں  میرے  جیسا ایک عام آدمی آٹھ نو دن گذار کر آیا ہے  وہ پندرہ منزلہ عمارت تھی جس میں  وہ ساری سہولتیں  تھیں  جن کی آج کے  حاجی کو ضرورت پڑتی ہے۔ … یہ مفتی بھی عجیب دقیانوس تھا۔ یہ دقیانوس آج ہوتا تو وہ اس بو کو خوشبو کہتا کہ آج کی لغت میں  بو،بدبو نہیں  خوشبو ہے۔

ناواقف قارئین کی اطلاع کے  لئے  عرض ہے  کہ ممتاز مفتی علمی لحاظ سے  مفتی نہ تھے۔  مفتی ان کا ادبی نام ہے۔ وہ صرف ادیب تھے۔ عالم نہیں۔ وہ “میری طرف دیکھو”کے  عنوان سے  لکھتے  ہیں :۔

میں  نے  چلا کر ہجوم کو مخاطب کیا”۔ بھائیو!جمرہ وہ نہیں  ہے۔ میں  ہوں۔ میں،مجھے  کنکر مارو، مجھے،اس بیجان کو کنکریاں  مارنے  سے  کچھ حاصل نہیں  ہو گا۔ میں  نے  بنی نوع انسان کو بہکایا ہے۔ میں  نے  لوگوں  کے  دلوں  میں  وسوسے  پیدا کئے  ہیں۔ میں  نے  کفر و الحاد کا بیچ بویا ہے۔

“میری طرف دیکھو۔ میں  دانشور ہوں،میں  نے  شک کو علم کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ”

“میری طرف دیکھو،میں  ادیب ہوں،میں  نے  نئی اور انوکھی بے  ادبیوں  پر جدید ادب کی تعمیر کی ہے۔ ”

“میں  فلسفی ہوں، میں  نے  چون و چرا کے  خوبصورت ٹائلوں  سے  ایوانِ فلسفہ کی تعمیر کی ہے۔ ”

“میں  سائنسی انداز کا مفکر ہوں  اور میں  نے  فکر کو سِکولر ازم کی حدوں  سے  باہر نکالنے  پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ”

“میں  پڑھا لکھا فرد ہوں،میں  نے  کفر کو تہذیب کی بنیاد قرار دے  رکھا ہے  اور ایمان کو جہالت کی نشانی۔ ”

“بھائیو!مجھے  کنکریاں  مارو، میں  جمرہ ہوں، مجھ سے

ڈرو نہیں  کہ میں  تم میں  سے  ہوں “۔

ا س ا قتباس سے  آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جن معلومات کو علم اور جس رویے  کو ہم دانش کہہ رہے  ہیں  اس کی حقیقت کیا ہے۔

حج کے  بعد وطن واپسی پر خریداری کرنا ایک عام ریت ہے۔ اس موقع پر خرید و فروخت کی شرعی طور پر ممانعت بھی کوئی نہیں۔ خریدنے  والے  اس موقع پر کچھ خریداری عقیدت کی نظر سے  کرتے  ہیں  اور کچھ چیزیں  سستی سمجھ کر خریدتے  ہیں۔ اور کچھ تجارت کی نیت سیخریدتے  ہیں۔ عقیدت کی نیت سے  تسبیحاں، مصلے  وغیرہ خریدتے  ہیں  اور سستی سمجھ کر ہر وہ چیز خریدتے  ہیں  جو ان کے  خیال میں  سستی ہوتی ہے  اور اسے  خریدنے  کے  ان کے  پاس پیسے  بھی ہوتے  ہیں۔ ان خریداروں  کے  متعلق مفتی صاحب لکھتے  ہیں :۔

یہاں  کوئی چیز مدینہ منورہ کی نہیں،یہاں  کوئی چیزسعودی عرب کی بنی ہوئی نہیں۔ یہاں  کوئی ایسی چیز نہیں  جو کسی اسلامی ملک کی بنی ہوئی ہو۔

“تم نے  اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر تبرکاتِ مدینہ خریدنے  کے  لئے  پیسے  جوڑے  ہیں  اور اب وہ پیسے  یورپ کی بنی ہوئی مصنوعات پر خرچ کر رہے  ہو۔ ایسی چیزوں  کو خرید کر تم ہر سال کروڑوں  روپے  مغربی سرمایہ داروں  کی تجوریوں  میں  بھر دیتے  ہو۔ یہاں  مدینہ منورہ کا صرف ایک تحفہ ہے۔ خاک پاک۔

مرکز کے  مولوی صاحب نے  فرمایا تھا کہ غیر جس چیز کو رواج دینا چاہتے  ہیں  وہ مکہ، مدینہ پہنچا دیتے  ہیں۔ میں  اس جملے  کو صرف تہذیبی پہلوسے  سمجھا تھا کہ اپنے  تہذیب و تمدن کو براستہ مکہ، مدینہ مسلم ممالک میں  بھیجتے  ہیں۔ مگر مفتی صاحب کے  مذکورہ اقتباس سے  پتہ چلتا ہے  کہ معاشی اور تجارتی لحاظ سے  بھی فائدہ غیروں  کو  ہو رہا ہے۔ باقی رہا عقیدت کا معاملہ تومسلمان کا اصل سرمایہ تو عقیدت ہے۔ اس کی عقیدت کی تسکین کے  لئے  وہ نقلی موتیوں  کی تسبیحاں  اور قبلہ نما مصلے  نہ خریدے  تو کیا کرے۔ مفتی صاحب کی تحریر سے  پتہ چلتا ہے  کہ خاکِ شفا کی ٹکیاں  بھی اصل خاکِ شفا نہیں۔ پھر یہ ۱۹۶۸ء؁ کی بات ہے  آج تو نقلی خاکِ شفا بھی میسر نہیں۔ اس وقت کی نقلی خاکِ شفا کم از کم مکہ،مدینہ کے  گلی بازاروں  کی خاک تھی۔ اب تو فضا میں  اڑتے  ہوئے  تعمیراتی ملبے کے  ذرات کے  سوا کہیں  مٹی یعنی خاک نظر نہیں  آتی۔ آج کا زائر کس چیز کو آنکھوں  کا سرمہ بنائے ؟کس نظارے  سے  آنکھوں  کو ٹھنڈا کرے ؟ کتابوں  میں  لکھے  ہوئے  نظارے  جن کو دیکھنے  کی تمنا لے  کر زائرین مکہ،مدینہ آتے  ہیں  وہ دن بدن مٹتے  جا رہے  ہیں۔ ان مٹتے  نظاروں  کی جگہ جدید مناظر منظرِ عام پر آ رہے  ہیں۔ ان مناظر کو دیکھنا زائر کی مجبوری ہے۔ زائر کا مکہ مدینہ اور اس کے  مناظر سے  چاہے  وہ کتنے  بدلے  ہوئے  ہوں  محبت کرنا اور عقیدت رکھنا ایک ضرورت ہے۔ اس لئے  کہ انقلابات زمانہ کے  باوجود مکہ، مدینہ کی فضا وہی ہے۔ ہوا وہی ہے۔ پہاڑ وہی ہیں۔ صحرا وہی ہیں۔ یہی نہیں یہ زمین وہی ہے۔ حدود اربعہ وہی ہے۔ وہی جو جناب رسالت مآبؐ کے  دور میں  تھا۔ ہاں  !ہاں !مکہ وہی ہے !مدینہ وہی ہے۔ وہی مکہ جہاں  حضورﷺ کا بچپن اور جوانی گذری،یہ وہی مکہ ہے  جہاں  غارِ حرا ہے۔ ہاں  وہی غارجس کے  افق سے  آفتابِ ہدایت طلوع ہوا تھا۔ ہاں ! ہاں ! غارِ حرا آج بھی موجود ہے۔ … اور مدینہ بھی وہی مدینہ ہے  جہاں  خلاصۂ کائنات، محبوب خدا کی آرام گاہ ہے۔ یہیں  حضورﷺ کے  حجرات، صحابہؓ کے  گھر اور مسجدِ نبویؐ ہے۔ بیشک ان مقدس مقامات کو تعمیر جدید نے  اپنے  غلاف سے  ڈھانپ لیا ہے  مگر اس کے  آثار و نشانات تو اسی سرزمین میں  ہیں۔ ممتاز مفتی کی”لبیک”پڑھنے  سے  پتہ چلتا ہے  کہ موصوف کو مکہ،مدینہ سے  ایسی ہی عقیدت و محبت ہے  جیسی ایک مسلمان کو ہونی چاہئے۔ وہ بھی ایک زائر ہے۔ ہماری طرح ایک زائر۔ ہم میں  اور اس میں  فرق ہے  تو صرف نقطۂ نظر کا۔ مفتی ایک دانشور ہے  جو تنقیدی ذہن بھی رکھتا ہے۔ اسے  اصل و نقل کی تمیز ہے۔ اور وہ اصل کا متلاشی ہے۔ وہ اصلی مکے،مدینے  اور زیارات کی زیارت کا متمنی ہے۔ جب اسے  اصل نظر نہیں  آتی تو وہ نقل سے  مطمئن نہیں  ہوتا۔ اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔ اگر آدمی نقل سے  مطمئن ہو جائے  ت واصل کی تمنا ختم ہو جاتی ہے۔ اور مکہ، مدینہ کی اصل زیارت کی تمنا اصل میں  دینِ خالص کی تمنا ہے۔

 

آثارِ مقدسہ

 

ایک صاحب نے  اونٹوں  کی مینگنیاں  دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ مدینہ کے  اونٹوں  کی مینگنیاں  ہیں۔ اس کے  علاوہ معتبر روایات سے  معلوم ہوتا ہے  کہ مکہ کے  کھوجی حضورﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے  نشاناتِ پا کا کھوج لگاتے  لگاتے  غارِ ثور تک پہنچ گئے  تھے۔ آج کل آثار قدیمہ باقاعدہ علم کی ایک شاخ بن چکی ہے۔ اس علم کے  ذریعے  مٹی ہوئی تہذیبوں  کی تاریخ معلوم کرنے  کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل میں  اس علم کی اساس علامات و نشانات کے  ذریعے  اصل کا سراغ لگانا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں  دین متین کا مکمل نمونہ نظر نہیں  آتا۔ ایک سرزمین حجاز ہے  جہاں  اس کے  آثار موجود ہیں  گو مکمل طور پر وہاں  بھی نظر نہیں  آتے۔ وقت کے  ساتھ ساتھ روز بروز یہ آثار بھی سیمنٹ سریا اور مرمر تلے  دفن  ہو رہے  ہیں۔ ان آثار کو زمانے  کی خورد برد سے  بچانا بہت ضروری ہے۔ اس لئے  کہ یہ آثار اس ماحول کی نشاندہی کرتے  ہیں  جس میں  دین متین کی تکمیل و ترقی ہوئی۔

دین متین ایک عملی دین ہے۔ اور عمل کے  لئے  ایک ماحول ہوتا ہے۔ ماحول میں  نہ صرف مقام بلکہ مقیم بھی ہوتا ہے۔ مقام کا خاص حدود اربعہ اور مقیم کی خاص شکل و صورت اور صفات ہوتی ہیں۔ اس وقت چودہ سوسالہ مقیم ہمارے  سامنے  نہیں۔ ضرورت اس کی صورت کی زیارت کی ہے۔ اس کا مقام یا مکان دیکھ لیں  تو اس کی یک گونہ زیارت ہو جاتی ہے۔ اگر مکان و مقام بھی مٹ گیا تو کس کی زیارت ہو گی ؟

سو زائرینِ کرام روضہ رسول ؐ کی زیارت ایمان کی نگاہ سے  ہوتی ہے۔ جس کی بنیاد کلمہ ہے۔ سوجتنی محنت کلمہ سمجھنے  اور اس پر عمل کرنے  پر کی جائے گی اسی نسبت سے  حضورﷺ کا قرب نصیب ہو گا۔

 

 گم شدہ بہشت کی تلاش

 

آثار و نقشِ کوئے  پیمبرؐ تراشتا

میں  گم شدہ بہشت کے  منظر تراشتا      (جبینِ نعت)

کہنے، سنانے  یا لکھنے  والا اپنے  فن میں لاشعوری طور پر اپنی ذات کو ظاہر کرنے  پر مجبور ہوتا ہے۔ مضمون کوئی بھی ہو اس میں  مضمون نگار کی ذاتی سوچ ضرور شامل ہوتی ہے۔ اور پھر کہنے  والا اپنی سرگذشت سنا رہا ہو تو اس میں کسی قسم کے  اشکال کی گنجائش نہیں  ہوتی۔ یہ فقیر اپنی سرگذشت لکھ رہا ہے۔ قاری کی پسند یا ناپسند کی رعایت رکھنے  کے  باوجود اپنی بات کہنے  پر مجبور ہوں۔

میں  لفظ کو محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں  سمجھتا۔ میں ادب برائے  ادب کا نہیں  بلکہ ’’ادب برائے  تبلیغ ‘‘کا قائل ہوں  اور تبلیغ سے  مراد تبلیغ دینِ اسلام ہے۔ اس سلسلے  میں  میری سوچ کا محور و مرکز توحید و وحدت اور منبع قرآنِ پاک ہے۔ میری خواہش اور تمنا تو یہ ہے

اعجازِ فنِ تو یہ ہے  کہ گونگے  حروف سے

میں  صوتِ جبرائیلؑ کے  پیکر تراشتا    (جبینِ نعت)

میرے  دل میں  آثارِ مقدسہ کی زیارت کی حسرت کا مقصد اصل میں  قرآن فہمی ہے۔ میں  آثار کے  ذریعے  ان حالات و واقعات تک پہنچنا چاہتا ہوں  جن کا قرآنِ پاک میں  ذکر ہے۔ پھر ان حالات و واقعات کی روشنی میں  اپنی روش درست کرنے  کی کوشش کرتا ہوں۔ مدنی معاشرہ میرے  خوابوں  کی تعبیر اور میری خواہشوں  کی تکمیل ہے۔ میں  تکلف و تصنع کی زندگی سے  بیزار ہوں۔ میری روح دورِ نبوتؐ کے  سیدھے  سادیفطری ماحول کی متلاشی ہے۔ میں  خیر القرون کے  ماحول کو اپنی گمشدہ جنت سمجھتا ہوں  اور اس ایمان کی روشنی میں  مکہ مدینہ کے  چپہ چپہ کی زیارت کی طلب رکھتا ہوں۔

 

جنت کی رہگذر

 

“جنت کی رہگذر”میرے  تبلیغی سفر کی روداد ہے۔ اس وقت زیارات کے  تذکرے  کے  لئے  بھی یہی عنوان مناسب معلوم  ہو رہا ہے۔ اس لئے  کہ مکہ، مدینہ کے  آثار ہر عنوان سے  جنت کی طرف رہنمائی کرتے  ہیں۔ یہاں  کے  گلی کوچے،سڑکیں بازار،باغات،پہاڑ،ہوا وغیرہ سب ماضی کے  پردے  میں  پوشیدہ عہدِ نبویؐ کی یادگار ہیں۔ ان گلی کوچوں  میں  حضورﷺ کے  نقوشِ پا مدفون ہیں۔ ان سڑکوں  اور بازاروں  سے  حضورﷺ کے  یاروں  اور پیاروں  کی یادیں  وابستہ ہیں۔ ان پہاڑوں  اور صحراؤں  کی را ہوں  پہ گذرتے  ہوئے  شہسواروں کے  گھوڑوں  کے  ٹاپوں  کے  نشانات ثبت ہیں۔ اہلِ نظر کے  لئے  یہ راہیں  ہی نہیں  بلکہ مدینہ منورہ کا چپہ چپہ جنت ہے۔ سواس جنت کی سیر کی تمنا ہر زائر کے  دل میں  ہوتی ہے۔

اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے  ہم مکہ کے  مقاماتِ مقدسہ کی زیارت نہیں  کر سکے۔ اس کی وجہ سے  دل میں  عجیب طرح کا احساسِ محرومی تھا۔ ہم مکہ معظمہ میں  تنہا تھے  اور یہاں  مدینہ منورہ میں  بھی تنہا تھے۔ ہمارے  کمرے  والوں  نے  ہماری بہت خدمت کی مگر اعمال کے  سلسلے  میں  جس طرح ہم زیادہ سے  زیادہ ثواب کمانے  کے  تمنائی تھے  اس طرح دوسرے  بھی ثواب کے  لالچی تھے۔ ہمارے  کمرے  والوں  کے  واقف مدینہ منورہ میں  مقیم تھے۔ انہوں  نے  انہیں  تمام مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرائی۔ اللّٰہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے  اس نے  مسجدِ نبویؐ ،روضہ رسول ؐ اور اس سے  ملحقہ زیارات کے  اسباب تو بنا دئیے۔

مسجدِ نبویؐ سے  ملحقہ قبرستان ہے  جس میں  ہزاروں  صحابہؓ اور اہلِ بیتِ اطہار کی قبور ہیں۔ یہ قبرستان روضہ رسولؐ کے  باب البقیع کے  بالکل سامنے  ہے۔ ایک روز ہم وہاں  پہنچے  تو لوگ ایک اونچی دیوار کے  گیٹ پر کھڑے  دعا میں  مصروف تھے۔ ایک دو عربی دعائیں  پڑھ رہے  تھے  اور حاضرین ان کی دعاؤں  پر آمین کہہ رہے  تھے۔ ہم بھی ان کے  ساتھ شریک دعا ہو گئے۔ ان کی دعاؤں  میں  بہت سے  صحابہؓ کے  نام آئے۔ اہلِ بیت کے  نام بھی آئے۔ یہ نام سن کر دل میں  اشتیاق زیارت زیادہ ہو گیا۔ مگر کیا کرتے  اونچی دیوار راستہ روکے  کھڑی تھی۔ اور دیوار کا دروازہ بند تھا۔ ہم اس بند دروازے  کے  پیچھے  بند تاریخ کی زیارت کی حسرت لے  کر لوٹنے  لگے  تو دعا کرنے  والے  نے  حق دعا طلب کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے  ان کی خدمت کرنا مناسب نہیں  سمجھا۔ ہم نے  مسجدِ نبویؐ کے  احاطہ میں  کبوتر نہیں  دیکھے  یہاں  کبوتر بھی تھے  اور کبوتروں  کا دانہ بیچنے  والے  بھی۔ ہم نے  چند پوٹلیاں  دانوں  کی خرید کر ان کبوتروں  کے  آگے  ڈال دیں۔ دل میں  ایک کھٹکا سا تھا کہ ہم نے  دعا کرانے  والوں  کی خدمت نہیں  کی اب کبوتروں  کی خدمت کر کے  دل مطمئن ہو گیا۔ مسجدِ نبویؐ کا یہ رخ ہم نے  پہلی مرتبہ دیکھا تھا چنانچہ واپسی پر ہم اس رخ کا نظارہ کرتے  ہوئے  رہائش گاہ کو واپس آ گئے۔

 

دیگر زیارتیں

 

ہم مسجدِ نبویؐ اور جنت البقیع کی زیارت کے  بعد بیرونِ مسجد مقامات مقدسہ کی زیارت کا سوچ رہے  تھے  کہ ایک روز دوپاکستانی ہمارے  کمرے  کا دروازہ کھٹکھٹا کے  اندر تشریف لائے۔ انہوں  نے  فرمایا کہ صبح ساڑھے  سات بجے  ہم زیارات کے  لئے  جا رہے  ہیں۔ جو حضرات جانا چاہیں  ساڑھے  سات بجے  نیچے  ہوٹل کے  سامنے  آ جائیں۔ ہم نے  انہیں  اپنے  نام لکھوا دئیے۔

دوسرے  دن ہم میاں  بیوی پورے  ساڑھے  سات بجے  نیچے  آئے۔ ایک ہائی ایس گاڑی ہوٹل کے  سامنے  کھڑی تھی۔ اس کے  اسٹیئرنگ پر عربی لباس میں  ملبوس ایک صاحب بیٹھے  تھے۔ گاڑی کے  باہر ایک صاحب تسبیح پکڑے  ہوئے  کھڑے  تھے۔ ہمیں  شک ہوا کہ یہی گاڑی زیارت کرانے  والی ہو گی۔ تسبیح والے  بھائی سے  پوچھنے  پر ہمارے  شک کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں  نے  کہا گاڑی میں  تشریف رکھیں  باقی حضرات بھی آ رہے  ہیں۔ تقریباً آدھے  گھنٹے  کے  بعد سات اور زائر آ گئے۔ مزید آدھا گھنٹہ انتظار کرنے  کے  باوجود اور کوئی حاجی نہیں  آیا۔ اصل میں  رات کو نام لکھوانے  والے  کافی حاجی لیت و  لعل سے  کام لے  رہے  تھے۔ گاڑی میں  بیٹھے  حضرات بیٹھے  بیٹھے  تنگ پڑ گئے۔ جمعہ کا روز تھا۔ نماز جمعہ حرم شریف میں  ادا کرنا ضروری تھا۔ ایک ساتھی اسی عذر کی وجہ سے  اتر کر دوسرے  لوگوں  کے  ساتھ چلے  گئے۔ جمعہ کی جلدی اور حجاج کرام کے  اصرار کی وجہ سے  زیارت کرانے  والوں  کو مجبوراً چلنا پڑا۔

زیارت کرانے  والے  وہی صاحب تھے  جو رات کو ہمیں  اطلاع کرنے  آئے  تھے۔ انہوں  نے  کاروباری انداز میں  اپنا تعارف کرانا شروع کیا کہ ہم تمام مقدس مقامات کی زیارت کراتے  ہیں۔ ان کی اہمیت وپسِ منظر بھی مستند حوالوں  سے  بتاتے  ہیں۔ زیارت کے  لئے  مناسب وقت دیتے  ہیں  اور اس کے  عوض صرف پندرہ ریال لیتے  ہیں  یہ ساری معلومات وہ گاڑی میں  لگے  ہوئے  مائیک کے  ذریعے  بتا رہے  تھے۔

گاڑی زیارات کے  لئے  روانہ ہوئی تو موصوف نے  تلاوتِ کلامِ پاک سے  کلام شروع کیا۔ موصوف کی قراء ت بہت پیاری تھی۔ ان کی باتیں  اور راستے  یاد نہیں۔ بہت سی معلومات جو ان کی زبانی معلوم ہوئیں  وہ بھی یاد نہیں۔ بعد میں  احساس ہوا کہ نوٹ بک ساتھ ہونی چاہئے۔ یہ خیال پہلے  بھی آیا تھا۔ مگر ایک تو اعمال اور اہلیہ کی خدمت سے  فرصت نہیں  ملتی تھی دوسرے  میں  ڈائری لکھنے  کے  بجائے  پورے  حج کو اپنے  اندر جذب کرنا چاہتا تھا۔

گاڑی ایک چوک سے  گذری تو موصوف نے  کہا کہ یہاں  وہ کنواں  ہے  جو حضرتِ عثمان غنیؓ نے  خرید کر مسلمانوں  کے  لئے  وقف فرمایا تھا۔ یہ کنواں  ایک زرخیز باغ میں  ہے۔ مگر باغ میں  داخلے  کی اجازت نہیں۔ چنانچہ اس باغ کو باہر سے  دیکھتے  ہوئے  ہم آگے  نکل گئے۔ یہاں  سے  آگے  کو ہِ احد پرجا کر موصوف نے  ہمیں  اس پہاڑ کے  متعلق کچھ معلومات فراہم کیں  اور فرمایا کہ پندرہ منٹ تک زیارت کر کے  واپس آ جائیں۔

 

اُحد کی گود میں

 

احد وہ پاک زمین ہے  جس میں  حضورﷺ کے  سترجانثارمحوِ استراحت ہیں۔ غزوہ احد کا معرکہ یہاں  ہی ہوا۔ یہ وہ مقام ہے  جہاں  مسلمانوں  کا سخت امتحان ہوا۔ اس امتحان کے  متعلق بہت سی آیاتِ قرآنی نازل ہوئیں۔ اس وقت میرے  ہاتھ میں  سیرت کی دو کتابیں  ہیں۔ ان کتابوں  کے  مندرجات کو میں  زیارت احد کی روشنی میں  دیکھنے  کی کوشش کر رہا ہوں  میرے  لئے  احد کے  نظارے  سے  قرآن کی تفہیم آسان ہو گئی ہے۔ حدیث کی تفسیرواضح  ہو رہی ہے۔ میں  احد کے  ماحول میں  غزوہ احد کے  کتابی حوالوں  کو دیکھ کر عبرت و نصیحت کے  علاوہ ایمان و ایقان کے  نور سے  سرشار  ہو رہا ہوں۔

احد کی گود میں  سونے  والے  شہیدوں  کی قبور کے  اردگرد چاردیواری بنا دی گئی ہے۔ قبور کی زیارت کے  لئے  دروازوں  کے  علاوہ دیواروں  میں  سوراخ ہیں،جن سے  ان مبارک قبور کی زیارت ہو سکتی ہے۔ دروازے  بند ہونے  کی وجہ سے  ہم اندر نہیں  جا سکے۔ اس زیارت نوریاں  و خاکیاں  کے  آگے  کھلا میدان ہے۔ جہاں  گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ یہاں  ریڑھیوں  والے  کھجوریں  اور دوسرے  تبرکات لئے  کھڑے  ہوتے  ہیں۔ زائرین اپنی اپنی پسند کے  تبرکات خرید فرماتے  ہیں۔ ہم نے  ایک ریڑھی والے  سے  کھجور کا ریٹ پوچھا۔ اس سے  ہمارا بھاؤ نہ بنا۔ دوسرے  کے  پاس چلے  گئے  اس کے  پاس کالے  رنگ کی کھجوریں  تھیں۔ اس نے  بتایا کہ انہیں  کلمہ کھجور کہتے  ہیں۔ کلمہ کے  لفظ سے  مسلمان کو قدرتی عقیدت ہے۔ سوہم نے  وہ ساری کھجوریں  چار ریال میں  خرید لیں۔ کوئی سواکلو وزن ہو گا۔ اس کے  ساتھ ایک لڑکا کچی کھجوریں  ایک بڑی بالٹی میں  رکھے  بیچ رہا تھا۔ یہ کھجوریں  زیادہ میٹھی نہیں  ہوتیں۔ شوگر کی وجہ سے  میں  دوسری کھجوریں  کھانے  سے  پرہیز کرتا ہوں۔ شوق پورا کرنے  کے  لئے  کچی مل جائیں  تو شوق پورا کر لیتا ہوں۔ ہم نے  اس لڑکے  سے  پورا گچھا خرید لیا۔ خیال تھا کہ رہائش گاہ پر جا کر یہ گچھا فریج میں  رکھ دیں  گے۔ اور گھر جاتے  ہوئے  نکال لیں  گے۔ ایک آدھ دن میں  خراب نہیں  ہو گا۔ ہم نے  چند کھجوریں  کھڑے  کھڑے  چکھیں۔ بڑا مزہ آیا۔ اس مزے  میں  روحانی خوشی بھی شامل تھی۔ اس یقین کی وجہ سے  کہ یہ کھجوریں  مدینہ شریف کے  باغ کی ہیں۔ وقت تنگ ہونے  کی وجہ سے  ہم دوسری اشیاء کی طرف توجہ نہیں  دے  سکے۔ جلدی جلدی اس تاریخی درے  کو دیکھنے  کے  لئے  چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے۔ اب یہ درہ ایک عام ساکشادہ راستہ معلوم ہوتا ہے۔ دائیں  بائیں  کی پہاڑیوں  کی بلندی بہت کم رہ گئی ہے۔ یہاں  سے  ہم نے  شہداء کی قبور کی طرف دیکھا تو تمام قبور کی ایک نظر میں  زیارت ہو گئی۔ اس نظارہ سے  میری زبان سے  بے  ساختہ یہ شعر جاری ہو گیا

بنا کر دنند خوش رسمے  بخاک و خون غلطیدن

خدا رحمت کندایں  عاشقانِ پاک طینت را

 

غزوہ احد ایک نظر

 

تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے  سینہ را

گاہے  گاہے  باز خواں  ایں  قصہ پارینہ را

تاریخ قوموں  کے   صدیوں کے  تجربے  کا نام ہے۔ ہر قوم کی تاریخ اس کے  لئے  عظیم سرمایہ ہے۔ مسلمانوں  کی تاریخ جو ان کے  لئے  نمونہ ہے  وہ احادیث کے  اوراق میں  محفوظ ہے۔ اس تاریخ کا وہ باب جس کا تعلق حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ سے  ہے  وہ سب سے  زیادہ اہم ہے۔ مسلمانوں  کو اس حصہ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں  مگر احد کے  حوالے  سے  غزوہ احد کے  چند اشارے  پیش کرنا ضروری ہیں۔

جنگِ بدر میں  اہلِ مکہ کو سخت شکست وہزیمتکاسامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کا بدلہ لینے  کے  لئے  انہوں  نے  متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں  سے  ایک بھرپور جنگ لڑ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا جائے۔ سو وہ شوال  ۳  ھ؁ کو پوری تیاری کے  ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کفارِ مکہ کی فوج تین ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ اس کے  علاوہ تین ہزار اونٹ دوسوگھوڑے  بار برداری کے  لئے  ان کے  ساتھ تھے۔ دیگر سامانِ حرب کے  علاوہ حفاظتی ہتھیاروں  میں  سات سوزرہیں  بھی تھیں۔ اس پورے  لشکر کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔

حضرت عباسؓ نے  ایک قاصد کے  ذریعے  اہلِ مکہ کے  ارادہ اور تیاری کی تفصیلات سے  حضورﷺ کو آگاہ کیا تو آپؐ نے  فوری طور پر انصار و مہاجرین کے  قائدین سے  مشورہ کیا۔ اور ہنگامی صورت حال کے  پیشِ نظر حفاظتی اور دفاعی انتظامات شروع کر دئے۔ اسی اثنا میں  کفارِ مکہ کے  لشکر نے  کوہ احد کے  قریب عینین کے  مقام پر آ کر پڑاؤ ڈال دیا۔

حضورﷺ نے  لشکرِ کفار کی آمد کی خبر سن کر اپنی مجلسِ شوریٰ منعقد فرمائی اور مشیروں  کو اپنا ایک خواب سنا کر ان سے  مشورہ لینا شروع کیا۔ آپ کی ذاتی رائے  تھی کہ شہر کے  اندر قلعہ بند ہو کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر کچھ صحابہؓ کرام جو بدر میں  شرکت نہیں  کر سکے  انہوں  نے  میدانِ جنگ میں  اپنے  حوصلے  دکھانے  اور تمنائیں  پوری کرنے  پر اصرار کیا۔ ان حضرات کے  اصرار پر حضورﷺ نے  مدینہ سے  باہر دشمن کا مقابلہ کرنے  کا فیصلہ فرمایا۔

اسلامی لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا۔ جن میں  ایک سو زرہ پوش اور پچاس سوار تھے۔ آپؐ نے  اس لشکر کو تین دستوں  میں  تقسیم کر کے  مہاجرین کے  دستے  کا پرچم حضرت مصعبؓ بن عمیراوس کا اُسَید بن حضیرؓ کو اور خزرج کا حبابؓ بن منذر کو عنایت فرمایا۔ شیخان کے  مقام پر حضورﷺ نے  لشکر کا معائنہ فرمایا تو بہت سے  صحابہ کو چھوٹا ہونے  یا نا اہل ہونے  کی وجہ سے  واپس کر دیا۔ آپؐ نے  مغرب اور عشاء کی نماز کے  بعد یہیں  رات بسر فرمائی۔

مقامِ”شوط”پہنچ کر آپ ؐ نے  نماز فجر ادا فرمائی۔ یہاں  سے  رئیس المنافقین عبداللّٰہ بن ابی کوئی تین سوافراد لے  کر واپس ہو گیا۔ اس کی اس منافقانہ چال سے  لشکرِ اسلام میں  اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بلکہ بنو حارثہ اور بنوسلمہ بھی واپسی کی سوچ رہے  تھے  مگر اللّٰہ تعالیٰ نے  ان کی دستگیری فرمائی اور یہ کفار کے  مقابلہ کے  لئے  جم گئے۔

منافقین کی واپسی کے  بعد حضورﷺ نے  سات سوجانثاروں  کو لے  کر احد پہاڑ کی گھاٹی میں  نزول فرمایا۔ اور اپنے  لشکر کی صف بندی شروع کر دی۔ اور جنگی حکمتِ عملی کے  طور پر پچاس تیر اندازوں  کا ایک دستہ حضرت عبد اللّٰہؓ بن جبیر کی سرکر دگی میں جبلِ  رماۃ پر متعین فرما دیا اور تاکید فرمائی کہ میرے  حکم کے  بغیر کسی حال میں  بھی اس درہ کو نہیں  چھوڑنا۔ باقی لشکر کے  میمنہ پر حضرت مندرؓ بن عمرو،میسرہ پر حضرت زبیرؓ بن عوام کو مقرر فرمایا۔

۷، شوال  ۳  ھ؁ یوم سنیچر کی صبح کو آپؐ نے  لشکر کی تنظیم و ترتیب کے  بعد صحابہؓ کو پامردی اور ثابت قدمی کی ترغیب دی اور اپنی تلوار حضرت ابو دجانہؓ کو خصوصی طور پر عنایت فرمائی۔ ادھر مکی لشکر کا سپہ سالار بھی اپنی فوج کو غیرت و حمیت کے  نام پر ترغیب دے  رہا تھا۔ جنگ شروع ہونے  سے  پہلے  ابوسفیان نے  انصار کے  پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لو گ ہمارے  اور ہمارے  چچیرے  بھائی (محمدؐ )کے  بیچ سے  ہٹ جائیں  تو ہمارا رخ بھی آپ کی طرف نہ ہو گا۔ مگر انصار نے  کفار کو سخت جواب دیا۔ اس کے  بعد کفار نے  ابوعامر فاسق کو جو کہ جاہلیت میں  قبیلہ اوس کا سردار تھا، انصار کے  بہکانے  کے  لئے  بھیجا۔ لوگوں  نے  اسے  کہا اوفاسق!اللّٰہ تیری آنکھ کو خوشی نصیب نہ کرے۔ اس طرح قریش کی جانب سے  اہلِ ایمان کی صفوں  میں  پھوٹ ڈالنے  کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوئی۔

جنگ شروع ہوئی تو قریش کے  علم بردار طلحہ ؓ بن ابی طلحہ نے  مبارزت کی دعوت دی۔ یہ شخص اونٹ پر سوار تھا۔ حضرت زبیر شیر کی طرح جست لگا کر اونٹ پر جا چڑھے  اور اسے  اونٹ سے  گرا کر ذبح کر دیا۔ اس کے  بعد ہر طرف جنگ کے  شعلے  بھڑکنے  لگے۔ طلحہ کے  بعد جس نے  بھی پرچم ہاتھ میں  لیامسلمانوں  کے  ہاتھوں  قتل ہوا۔ اس معرکہ میں  صرف بنو عبدالدار کے  دس افراد جو کہ کفار کے  علم بردار تھے  مارے  گئے  آخر میں  ایک غلام نے  پرچم سنبھالا۔ لکھا ہے  کہ یہ غلام(صواب)بڑی بہادری اور پامردی سے  لڑا آخر یہ بھی مسلمانوں  کے  ہاتھوں  مارا گیا۔ اس کے  بعد کسی کو جھنڈا اٹھانے  کی ہمت نہ ہوئی۔

مسلمان میدانِ جنگ کے  ہر محاذ پر چھائے  ہوئے  تھے۔ اسلام کے  شیدائیوں  نے  کفار کی صفوں  کو تتر بتر کر دیا تھا۔ حضرت ابو دجانہؓ صفوں  پر صفیں  درہم برہم کرتے  ہوئے  قریشی عورتوں  کی کمانڈر تک جا پہنچے۔ دیگر صحابہ کرام بھی برابر دادِ شجاعت دے  رہے  تھے۔ حمزہ شیر کی طرح بے  نظیر مار دھاڑ کے  ساتھ قلبِ لشکر کی طرف بڑھے  اور چڑھے  جا رہے  تھے۔ کوئی ان کے  سامنے  ٹھہر نہیں  رہا تھا۔ مگر وحشی بن حرب نے (جو کہ بعد میں  مسلمان ہو گئے  تھے)چھپ کر ان کی طرف نیزہ پھینکا جس سے  یہ شہید ہو گئے۔ حضرت حنظلۃ الغسیل جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ بھی دادِ شجاعت دیتے  ہوئے  شہید ہو گئے۔ ان کے  علاوہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ،علیؓ و زبیرؓ،مصعبؓ بن عمیر،طلحہؓ بن عبید اللّٰہ،عبداللّٰہؓ بن جحش،سعدؓبن معاذ،سعدؓ بن عبادہ،سعدؓبن ربیع اور نضر بن انس وغیرہ نے  ایسی پامردی و جانبازی سے  لڑائی لڑی کہ مشرکین کے  چھکے  چھوٹ گئے۔ اور مسلمانوں  کا پلہ بھاری رہا۔ کچھ دیر تک اسی طرح شدید جنگ ہوتی رہی۔ اسلامی لشکر رفتارِ جنگ پر پوری طرح بھاری رہا۔ بالآخر مشرکین کی صفوں  میں  کھلبلی مچ گئی اور وہ مسلمانوں  کے  بھاری حملوں  کی تاب نہ لا کر پسپا ہونے  پر مجبور ہو گئے۔ ابن اسحاق کے  مطابق بلاشبہ ان کو شکستِ فاش ہوئی۔

صحیح بخاری میں  حضرت برائؓ بن عازب کی روایت ہے  کہ جب مشرکین سے  ہماری ٹکر ہوئی تو مشرکین میں  بھگدڑ مچ گئی یہاں  تک میں  نے  عورتوں  کو دیکھا کہ پنڈلیوں  سے  کپڑے  اٹھائے  پہاڑ میں  تیزی سے  بھاگ رہی تھیں۔ ان کی پازیبیں  دکھائی پڑ رہی تھیں۔ اس عالم میں  مسلمان مشرکین پر تلوار چلاتے  مال سمیٹتے  ہوئے  ان کا تعاقب کر رہے  تھے  درہ پر متعین  تیر اندازوں نے  دشمن کی فوج کو درہ کے  راستہ حملہ کرنے  سے  بڑی جوانمردی سے  روکے  رکھا۔ مگر جب انہوں  نے  دشمن کو میدانِ جنگ سے  بھاگتے  اور مسلمانوں  کو مالِ غنیمت سمیٹتے  دیکھا تو وہ بھی درہ چھوڑ کر مال سمیٹنے  میں  شامل ہو گئے۔ خالد بن ولید نے  کہ ابھی مسلمان نہیں  ہوئے  تھے  موقع غنیمت جان کر مسلمانوں  کی پشت پر ہو کر درہ پر متعین دس جانثاروں  کو شہید کر دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر مشرکین کے  حوصلے  بلند ہو گئے۔ بنو حارث کی ایک عورت عمرہ بنت علقمہ نے  لپک کر زمین پر پڑا ہوا مشرکین کا جھنڈا اٹھا لیا۔ اب دوبارہ گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ کفار نے  آگے  پیچھے  دونوں  اطراف سے  مسلمانوں  کو گھیر لیا۔

حضورﷺ نے  خالد بن ولید کے  شہسواروں  کو دیکھتے  ہی نہایت بلند آواز سے  صحابہ کرامؓ کو پکارا۔ یہ آواز سن کر مشرکین کا ایک دستہ مسلمانوں  سے  پہلے  آپؐ کے  پاس پہنچ گیا اور باقی شہسواروں  نے  تیزی کے  ساتھ مسلمانوں  کا گھیراؤ کر لیا۔ اس اچانک تبدیلی سے  مسلمانوں  کا ایک گروہ تو ہوش کھو بیٹھا۔ ایک اور گرو ہ پیچھے  کی طرف پلٹا تو مشرکین کے  ساتھ مخلوط ہو گیا۔ اس دوران ایک پکارنے  والے  کی پکار سنائی پڑی کہ محمدؐ قتل کر دئیے  گئے  ہیں۔ اس سے  رہاسہا ہوش بھی جاتا رہا کچھ نے  لڑائی سے  ہاتھ روک لیا۔ کچھ ابوسفیان سے  امان کی سوچنے  لگے۔ اس کے  باوجود بعض جاں نثارانِ محمد ؐ و دینِ محمدؐ پر جان قربان کر رہے  تھے۔ حضورﷺ کفار کے  گھیرے  میں  گھرے  ہوئے  تھے۔ آپؐ کے  پاس صرف نو صحابہؓ تھے۔ ان میں  سے  سات جو کہ انصار میں  سے  تھے  شمع رسالت پہ قربان ہو گئے۔ اسی موقع پر آپؐ کے  دندان مبارک شہید ہوئے  اور خود کی کڑیاں  چہرہ مبارک میں  گھس گئیں۔ ایسے  موقع پر بھی آپؐ نے  اللّٰہ تعالیٰ سے  دعا کی “اے  اللّٰہ میری قوم کو بخش دے۔ وہ نہیں  جانتی۔ ‘‘

اس نازک ترین لمحے  میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  آپؐ کی خصوصی حفاظت کے  لئے  دوایسے  آدمیوں  کو مقرر کیا جو سفید کپڑے  پہنے  ہوئے  تھے  اور انہیں  پہلے  کبھی نہیں  دیکھا گیا ایک روایت کے  مطابق یہ دونوں  حضرت جبرائیلؑ اور میکائیلؑ تھے۔

صحابہؓ نے  حضورﷺ کی آواز سنی تو اس آواز کی طر ف لپکے۔ مگر ان کے  پہنچنے  سے  پہلے  آپ ؐ زخمی ہو چکے  تھے۔ اس وقت تک حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور طلحہؓ بن عبید اللّٰہ تنہا مشرکین کا مقابلہ کرتے  رہے۔ دیگر صحابہ نے  آتے  ہی حضورﷺ کے  گرد اپنے  جسموں  اور ہتھیاروں  سے  ایک باڑ تیار کر دی۔ جیسے  جیسے  حضورﷺ کے  گرد صحابہ کی تعداد زیادہ  ہو رہی تھی ایسے  ہی مشرکین کا دباؤ بھی بڑھ رہا تھا۔ اس جگہ صحابہ کرامؓ نے  مثالی جانبازی  کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابو طلحہؓ نے  اپنے  آپ کو حضورﷺ کے  آگے  سپر بنا لیا۔ حضرت ابو دجانہؓ نبیؐ کے  آگے  کھڑے  ہو گئے  اور اپنی پیٹھ کو آپؐ کے  لئے  ڈھال بنا دیا۔ خواتین میں  سے  ام عمارہ بھی حضورﷺ کا دفاع کرتے  ہوئے  شدید زخمی ہوئیں۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے  آخری دم تک پر چم گرنے  نہیں  دیا۔ یہ حضورﷺ کے  ہم شکل تھے  ان کی شہادت سے  مشرکین سمجھے  کہ ہم نے  حضورﷺ کو شہید کر دیا ہے۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر کی شہادت کے  بعد حضورﷺ نے  جھنڈا حضرت علیؓ کو دیا انہوں  نے  جم کر لڑائی کی آخر زبردست مقابلے  کے  بعدمسلمان مشرکین کے  نرغے  سے  نکل کر اپنے  کیمپ میں  واپس آنے  میں  کامیاب ہو گئے  جب حضورﷺ گھاٹی کے  اندر اپنی قیادت گاہ میں  پہنچے  تو کفار نے  آخری حملہ کیا مگر صحابہ کرام نے  تیر اندازی کے  ذریعے  ان کے  منہ پھیر دئیے۔

اس غزوہ میں  ستر مسلمان شہید ہوئے۔ بائیس یا تئیس مشرک مارے  گئے۔ اس میں  اللّٰہ کی بڑی حکمتیں  اور مسلمانوں  کے  لئے  عبرتیں  ہیں۔ اس غزوہ میں صحابہؓ کی کچھ بشری کمزوریاں  نظر آتی ہیں  تو ان کی جانثاری اور جوانمردی کے  کارنامے  بھی بے مثال ہیں۔ ایسے  ہی مثالی لوگوں  کے  لئے  شاعر نے  کہا ہے۔

جو رکے  تو کوہِ گراں  تھے  ہم جو چلے  تو جاں  سے  گذر گئے

رہِ یار ہم نے  قدم قدم تجھے  یاد گار بنا دیا

 

غزوہ خندق کی یادگار

 

غزواتِ نبیؐ میں  غزوہ خندق بھی دینی لحاظ سے  بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے  بارے  میں  بھی قرآن پاک کی بہت سی آیتیں  نازل ہوئی ہیں۔ عسکری نقطہ نظر سے  دیکھیں  تو یہ ایک دفاعی جنگ ہے۔ اس میں  بھی مسلمانوں  کی عالیٰ ہمتی کی بے مثال مثالیں  موجود ہیں۔

اس غزوہ کے  اصل محرک یہود ہیں۔ بنو نضیر کے  بیس سردار اور رہنما مکے  میں  قریش کے  پاس حاضر ہوئے  اور انہیں  رسول اللّٰہ کے  خلاف آمادہ جنگ کرتے  ہوئے  انہیں  مدد کا یقین دلایا۔ اس کے  بعد یہود کا وفد بنو غطفان کے  پاس گیا اور انہیں  بھی آمادہ جنگ کیا۔ ان کے  علاوہ دیگر کئی قبائل کو بھی اس جنگ میں  شامل ہونے  پر آمادہ کر لیا۔ ان سب کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کا سپہ سالار ابوسفیان تھا۔

مدینے  کے  مخبرین نے  دشمنانِ اسلام کے  پروگرام کی اطلاع جب حضورﷺ کو دی تو آپؐ نے  مجلسِ شوریٰ منعقد فرمائی۔ اس مجلس میں  مدینہ کے  اندر رہ کر دفاعی جنگ کا فیصلہ کیا گیا اور حضرت سلمانؓ فارسی کے  مشورہ کے  مطابق جس راستے  سے  دشمن کے  حملہ اور ہونے  کا خدشہ تھا اس کو خندق کے  ذریعے  روکنے  کی تجویز منظور کی گئی۔ چنانچہ حضورِ پاکﷺ نے  دس دس صحابہؓ کو چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے  کا کام سپردکیا۔ چنانچہ صحابہؓ نے  یہ کام انتہائی بھوک پیاس کے  عالم میں  دشمن کے  آنے  سے  پہلے  ختم کر لیا۔ اس معرکہ میں  بھی حضورﷺ کے  ہاتھوں  بہت سے  معجزات رونما ہوئے  اور صحابہؓ کی جانثاری کی بھی بہت سی مثالی سامنے  آئیں۔ اسی معرکہ میں  صحابہؓ نے  بھوک بہلانے  کے  لئے  پیٹ پر پتھر باندھے  تھے۔ حضرت جابرؓ بن عبداللّٰہ نے  ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور ایک صاع جو کے  آٹے  کی روٹیاں  پکا کر حضورﷺ کی ضیافت کی۔ یہ کھانا خندق کے  تقریباً ایک ہزار صحابہؓ نے  سیر ہو کر کھایا۔ اس کے  باوجود سالن اور آٹے  میں  کمی واقع نہ ہوئی۔ اسی طرح نعمان بن بشیر کی بہن دو مٹھی کھجوریں  لے  کر آئیں۔ اہلِ خندق انہیں  کھاتے  گئے  اور وہ بڑھتی گئیں۔ یہاں  تک کہ سارے سیر ہو گئے  اور کھجوریں  کپڑے  کے  کناروں  سے  باہر گر رہی تھیں۔ اسی موقعہ پر حضورﷺ نے  ایک ناقابلِ شکست چٹان توڑتے  وقت شام، فارس، مدائن اور یمن کی فتح کی بشارت دی۔

کفارِ مکہ کی فوج جب وارد ہوئی تو وہ اپنے  سامنے  خندق کی رکاوٹ دیکھ کر غیظ و غضب سے  چکرا گئے۔ انہیں  مسلمانوں  سے  دو دو ہاتھ کرنے کی حسرت تھی مگر مدینہ میں  داخل ہونے  کا راستہ نہیں  مل رہا تھا۔ بڑی تگ  و دو کے  بعد عمرو بن عبدِ ود، عکرمہ بن ابی جہل اور ضرار بن خطاب وغیرہ چند ساتھیوں  سمیت خندق عبور کرنے  میں  کامیاب ہو گئے۔ حضرت علیؓ نے  چند ساتھیوں  سمیت ان کا مقابلہ کیا۔ عمرو بن عبدِ ود جو کہ بڑا بہادر اور شہ زور سمجھا جاتا تھا حضرت علیؓ کے  ہاتھوں  جہنم رسید ہوا۔ اس کے  باقی ساتھی جان بچا کر بھاگ گئے۔ خندق کی وجہ سے  دونوں  فوجوں  کی دوبدو مڈھ بھیڑ تو نہیں  ہوئی البتہ دونوں  طرف سے  تیروں  سے  زبردست مقابلہ ہوا۔ اس مقابلہ میں  حضورِ پاکﷺ اور صحابہ کرامؓ کی کئی نمازیں  قضا ہو گئیں۔ آپؐ کو نماز قضا ہونے  کا اس قدر ملال تھا کہ آپ نے  مشرکین پر بد دعا کی۔

تیر اندازی میں  چھ مسلمان شہید ہوئے  اور دس مشرک مارے  گئے۔ ان دس میں  ایک یا دو تلوار سے  قتل کئے  گئے۔ اسی تیری اندازی کے  دوران حضرت سعدؓ بن معاذ کے  ایسا تیر لگاجس سے  ان کے  بازو کی شہ رگ کٹ گئی۔ اس موقعہ پر انہوں  نے  دعا کی تھی کہ “اے  اللّٰہ مجھے  موت نہ دے  یہاں  تک کہ بنو قریظہ کے  معاملے  میں  میری آنکھوں  کو ٹھنڈک حاصل ہو۔ اللّٰہ نے  ان کی یہ دعا پوری فرمائی۔

بنوقریظہ یہود کا ایک قبیلہ تھا جو ابھی تک مدینہ منورہ میں  مقیم تھا۔ بنو نضیر کے  مجرمِ اکبر حُیَیْ ابن اخطب نے  انہیں  مسلمانوں  کی مخالفت پر مائل کر لیا۔ کعب بن اسد نے  جو کہ قریظہ کا سردار تھا اس لعین کی ترغیب سے  رسولؐ اللّٰہ سے  کیا ہوا عہد توڑ دیا اور مسلمانوں  کے  ساتھ طے  کی ہوئی ذمہ داریوں  سے  بری ہو کر ان کے  خلاف مشرکین کی جانب سے  جنگ میں  شریک ہو گیا۔

یہود کی عہد شکنی کی خبر رسول اللّٰہ کو پہنچی تو آپ نے  فوراً تحقیق کی طرف توجہ فرمائی۔ تحقیق سے  اس خبر کی تصدیق ہوئی۔ اس وقت مسلمان نہایت نازک صورتِ حال سے  دو چار تھے۔ آگے  مشرکین کا لشکرِ جرار اور پیچھے  یہود مکار۔ اس موقع پر منافقین کے  نفاق نے  بھی سرنکالا۔ چنانچہ وہ گھروں  کے  غیر محفوظ ہونے  کے  بہانے  واپسی کی اجازت مانگنے  لگے۔ نوبت یہاں  تک پہنچ چکی تھی کہ بنوسلمہ بھی پسپائی کی سوچ رہے  تھے۔ قرآن پاک میں  ان لوگوں  کی منافقت کا بڑی وضاحت سے  بیان فرمایا ہے۔ اس نازک صورتِ حال میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  مسلمانوں  کی نصرت کا انتظام فرما دیا۔ بنو غطفان کے  نعیم بن مسعود کو اللّٰہ تعالیٰ نے  اس نازک گھڑی میں  نصرتِ اسلام کی سعادت نصیب فرمائی۔ انہوں  نے  حضورﷺ سے  عرض کیا کہ اللّٰہ کے  رسولؐ میں  مسلمان ہو گیا ہوں۔ میری قوم کو میرے  اسلام کا علم نہیں  لہذا آپﷺ مجھے  کوئی حکم فرمائیں۔ آپﷺ نے  فرمایا تم فقط ایک آدمی ہو۔ البتہ جس قدر ممکن ہو ان میں  پھوٹ ڈالو اور ان کی حوصلہ شکنی کرو۔ حضرت نعیم نے  بڑی حکمت اور ہوشیاری سے  بنو قریظہ اور قریش میں  پھوٹ ڈالنے  کا فریضہ سرانجام دیا۔ دونوں  فریق ایک دوسرے  سے  بد ظن ہو گئے۔ اس دوران مسلمان اللّٰہ سے  دعا کر رہے  تھے۔ اللّٰہ نے  ان کی دعائیں  قبول فرمائی اور دشمنانِ اسلام پرتند و تیز ہواؤں  کا طوفان بھیج دیا۔ جس سے  ان کے  خیمے  اکھڑ گئے۔ ہانڈیاں  الٹ گئیں  طنابوں  کی کھونٹیاں  اکھڑ گئیں۔ اس کے  ساتھ ہی اللّٰہ تعالیٰ نے  فرشتوں  کا لشکر بھیج دیا جس نے  انہیں  ہلا ڈالا اور ان کے  دلوں  میں  خوف اور رعب ڈال دیا۔ چنانچہ اللّٰہ نے  دشمن کو کسی خیر کے  حصول کا موقع دئیے  بغیر اس کے  غیظ و غضب سمیت واپس کر دیا۔

یہ غزوہ صحیح ترین قول کے  مطابق شوال   ۵ھ؁میں  پیش آیا۔ اس کو جنگ خندق کے  علاوہ جنگِ احزاب کے  نام سے  بھی یاد کیا جاتا ہے  کہ اس میں  بہت سے  قبیلوں  نے  مسلمانوں  کے  خلاف متحد ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا تھا۔

ہمارے  گائیڈ کو کچھ زیادہ جلدی تھی۔ اس لئے  اس نے  ہمیں  نہ تو احد کی جی بھرکر زیارت کرنے  دی نہ مقام خندق پہ رکنے  دیا۔ اس کی بھی مجبوری تھی کہ نمازِ جمعہ کا وقت قریب آ رہا تھا۔ بہرحال مقام خندق پہ چند منٹ رک کر اس نے  تھوڑا ساتعارف کرایا۔

مقام خندق پر ہمیں  خندق کی کوئی نشانی نظر نہیں  آئی۔ اس وقت یہ خندق بھر دی گئی ہے۔ گائیڈ نے  انگلی کے  اشارے  سے  لکیر کھینچ کر اس کی نشاندہی کی تھی مگر ہمیں  اس کی بھی سمجھ نہیں  آئی۔ اس کے  علاوہ جو جو کچھ دیکھا تھا اس کی صرف دھندلی سی یاد ہے۔ یہاں  خوبصورت درخت تھے  اور مساجد۔

 

یادگار مساجد

 

مسجدنہ صرف مذہبی بلکہ معاشرتی لحاظ سے  مسلمانوں  کا مرکز ہے۔ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کی تربیت گاہ ہے۔ اس تربیت گاہ سے  مسلمان کی محبت و عقیدت ایک فطری امر ہے۔ اسی عقیدت کی وجہ سے  ہر اہم مقام پر یادگار کے  طور پرمسجد تعمیر کرنا ایک پرانی روایت ہے۔ اس روایت کے  تحت حضورﷺ اور صحابہ کرامؓ سے  نسبت رکھنے  والے  اہم مقامات پر مساجد تعمیر کی گئی ہیں۔ مدینہ منورہ کی چند مساجد کے  احوال درج ذیل ہیں :۔

مسجدِ غمامہ:۔ مسجدِ نبویؐ کے  باب السلام سے  باہر آئیں  تو جنوب مغربی جانب تقریباً پندرہ سوفٹ کے  فاصلے  پر مسجدِ غمامہ واقع ہے۔ حضورﷺ نے  یہاں  دو  ہجری میں  پہلی دفعہ عیدین کی نمازیں  ادا فرمائیں۔ اور نویں  صدی ہجری تک عیدین کی نماز یہاں  ہی پڑھی جاتی رہیں۔ اس کو مسجدِ مصلے ّٰ بھی کہتے  ہیں۔ آپؐ نے  اس جگہ نمازِاستسقاء بھی پڑھائی تھی اسی وقت بادل نمودار ہوئے  اور بارش شروع ہو گئی، اس لئے  اس کو مسجدِ غمامہ(بادل)بھی کہتے  ہیں۔

مسجدِ ابوبکرؓ صدیق:۔ مسجدِ غمامہ کے  قریب شمال میں  مسجدابوبکرؓ صدیق ہے۔ ملا علی قاری کہتے  ہیں  حضرت ابوبکرؓ صدیق نے  وہاں  کچھ نمازیں  پڑھی تھیں۔

مسجدِ عمر فاروقؓ:۔ یہ مسجد بھی مسجدِ غمامہ کے  قریب ہے۔

مسجدِ علیؓ:۔ یہ مسجدغمامہ کے  قریب ہے، یہاں  پر حضرت علیؓ نے  نمازِ عید اداکی تھی۔

مسجدِ قبا:۔ مدینہ منورہ سے  تین میل کے  فاصلے  پر جو آبادی ہے  اسے  قبا کہتے  ہیں۔ ہجرتِ مدینہ کے  زمانے  میں  یہاں  انصار کے  بہت سے  خاندان آباد تھے۔ اس وقت عمر بن عوفؓ کے  خاندان کے  سربراہ کلثوم بن الہدم تھے۔ حضورﷺ نے  ان کے  ہاں  چار دن قبا میں  قیام فرمایا اور وہیں  اپنے  دستِ مبارک سے  مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ اسلام کی تاریخ میں  سب سے  پہلے  یہی مسجد تعمیر ہوئی تھی۔ مسجد قبا میں  دو نفل نماز پڑھنے  کا ثواب ایک عمرہ کے  برابر ہے۔ یہ حدیث مسجد کے  محراب پر عربی رسم الخط میں  لکھی ہوئی ہے۔

مسجدِ قبلتین:۔ یہ مسجدِ نبویؐ سے  تقریباً تین میل کے  فاصلے  پر ہے۔ یہ مسجد تاریخ اسلام کے  ایک اہم واقع کی علامت ہے۔ ابتداء میں  مسلمان نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے  پڑھتے  تھے۔ حضورﷺ جب تک مکہ میں  تشریف فرما رہے  یہی دستور رہا مگر آپ نمازیں  اسطرح ادا کرتے  تھے  کہ بیت اللّٰہ بھی سامنے  رہے۔ اور مدنی زندگی کے  ابتدائی دنوں  میں  مکمل طور پر بیت المقدس ہی قبلہ تھا اور تقریباً سولہ سترہ مہینے  آپ نے  بیت المقدس کی طرف منہ کر کے  نمازیں  پڑھیں۔ بیت المقدس مسلمانوں  کے  لئے  اس لئے  بھی مقدس تھا کہ یہاں  سے  نبی کریمؐ معراج کے  لئے  تشریف لے  گئے  تھے۔ لیکن اس تمام عرصہ میں  حضورﷺ کی یہ دلی تمنا رہی کہ مسلمان حضرت ابراہیمؑ کے  تعمیر کردہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے  نماز ادا کریں۔ حضورﷺ بار باراس تمنا میں  آسمان کی طرف دیکھتے  تھے۔ بالآخر ایک روز عین نماز کی حالت میں  یہ آیت نازل ہوئی:۔

ترجمہ:۔ یہ تمہارے  منھ کا بار بارآسمان کی طرف دیکھنا ہم دیکھ رہے  ہیں۔ لو ہم اسی قبلے  کی طرف تمہیں  پھیرے  دیتے  ہیں۔ جسے  تم پسند کرتے  ہو۔ مسجدِ حرام (خانہ کعبہ)کی طرف رخ پھیر دو۔ اب جہاں  کہیں  تم ہو اسی کی طرف منھ کر کے  نماز پڑھا کرو۔ (البقرہ،۱۴۴)

یہ حکم رجب یا شعبان  ۲ ھ؁ میں  نازل ہوا تھا۔ حضورﷺ بشرؓ بن برا کے  ہاں  بنوسلمہ تشریف لے  گئے۔ وہاں  ظہر کی نماز کا وقت ہوا۔ آپؐ بنوسلمہ کی مسجد میں  نماز کی امامت کرانے  کھڑے  ہوئے  دو رکعتیں  پڑھا چکے  تھے  کہ تیسری رکعت میں  یکایک وحی کے  ذریعے  تحویل قبلہ کی آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ کی اقتدا میں  جماعت کے  تمام لوگ بیت المقدس سے  کعبے  کے  رخ پھر گئے۔

بیت المقدس مدینہ منورہ سے  عین شمال میں  واقع ہے  اور کعبۃ اللّٰہ جنوب میں۔ نماز با جماعت پڑھاتے  ہوئے  قبلہ تبدیل کرنے  میں  لامحالہ آپؐ کو چل کر مقتدیوں  کے  پیچھے  آنا ہو گا۔ اور مقتدیوں  کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہو گا کچھ نہ کچھ انہیں  بھی چل کر اپنی صفیں  درست کرنا پڑی ہوں  گی۔ اسی طرح ایک نماز کی دو رکعتیں  بیت المقدس کی طرف اور دو رکعتیں  کعبۃ اللّٰہ کی جانب ادا فرمائی گئیں۔ اسی لئے  اس مسجد کو قبلتین یعنی دو قبلوں  والی مسجد کہتے  ہیں۔

مسجد جمعہ:۔ مسجدِ قباسے  کچھ فاصلہ پر مدینہ منورہ کے  راستے  میں  قبیلہ بنوسالم آباد تھا۔ حضورﷺ جب ہجرت کے  موقع پر قبا کی بستی سے  مدینہ منورہ روانہ ہوئے  تھے  تو جمعہ کا روز تھا۔ ابھی آپؐ قبیلہ بنوسالم بن عوف میں  پہنچے  تھے  کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہو گیا۔ اس مقام پر آپؐ نے  نماز جمعہ ادا فرمائی۔ مدینہ منورہ میں  یہ آپؐ کا سب سے  پہلا جمعہ تھا۔ اس جگہ جہاں  آپؐ نے  جمعہ کی نماز پڑھائی تھی اب مسجد بنا دی گئی ہے۔

ہم نے  مذکورہ مساجد میں  سے  دومساجد یعنی مسجد قبلتین اور مسجدِ قبا میں  نوافل پڑھنے  کی سعادت حاصل کی ہے۔ مجھے  کھجوروں  کے  باغ دیکھنے  کا بڑا شوق تھا۔ گاڑی میں  چلتے  ہوئے  کہیں  کہیں  چھوٹے  چھوٹے  باغ نظر آئے۔ مگر ان کے  پاس جا کر ان کی زیارت کرنے  کی حسرت پوری نہیں  ہو سکی۔ راستے  میں  غالباً مسجد قباسے  پہلے  چند منٹوں  کے  لئے  گاڑی رکی۔ گائیڈ نے  بتایا کہ یہاں  کھجوریں  پیک کرنے  کی فیکٹری ہے۔ جس کسی کو کھجوریں  لینی ہوں  لے  لیں۔ ہم نے  یہاں  سے  آدھ کلو عجوہ کھجور کا پیکٹ پچیس ریال میں  خریدا۔ تقریباً ڈیڑھ کلوکادوسراپیکٹ بھی پچیس ریال میں  خریدا۔ اس قسم کا نام یاد نہیں۔

راستے  میں  ایک چھوٹاساباغ نظر آیا۔ یہاں  آبشاروں  کی صورت پانی کی دھاریں  گر رہی تھیں۔ انہیں  دیکھ کر بڑی فرحت محسوس ہوئی۔ غالباً یہ مصنوعی نظام تھا۔ راستے  کے  کنارے  ایک مقام ہے  جس کے  متعلق بتایا گیا کہ یہاں  کی مٹی خاکِ شفا ہے۔ مگر یہاں  جانا ممنوع ہے۔ اسی راستے  پر سڑک سے  ہٹ کر ایک دیوار کی طر ف اشارہ کرتے  ہوئے  گائیڈ نے  بتایا کہ یہ حضرت سلمان فارسی کا گھر ہے۔ مگر میری نظر کے  سامنے  ایک پتھروں  کی بنی ہوئی لمبی دیوار تھی۔ اور حضرت سلمان فارسی کا گھر کہیں  اس دیوار میں  گھرا ہوا تھا۔ میں  گھرے  ہوئے  گھر کی زیارت نہیں  کر سکا۔

جن مساجد کی ہم نے  زیارت کی ہے  بیشک وہ جدید فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں  مگر میں  ان کو جدت یا فنِ تعمیر کے  حوالے  سے  نہیں  بلکہ ان حوالوں  سے  دیکھنے  کا خواہشمند تھا جن حوالوں  کی یاد میں  یہ یادگاریں  تعمیر کی گئی ہیں۔ میں  قدم قدم پر رک کر مدینہ شریف کے  ذرے  ذرے  کی زیارت کرنا چاہتا تھا۔ میں  مساجد میں  مراقبہ کرنا چاہتا تھا۔ میں  لمحہ موجود کی گرفت سے  آزاد ہو کر اپنے  حسین ترین ماضی کی آزاد فضاؤں  میں  سانس لینا چاہتا تھا۔ مگر لمحہ موجود کی گرفت سے  آزاد ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ ہمارا موجودہ لمحہ ہمارے  گائیڈ کی مرضی کے  تابع تھا۔ اسے  واپسی کی جلدی تھی۔ سوہمیں  تشنہ تمناؤں  سمیت واپس آنا پڑا۔ واپسی پربھی موصوف اپنی کاروباری دیانت کی یقین دہانی کراتے  رہے۔ اپنی مزدوری پندرہ پندرہ ریال وصول کرنے  کے  بعد انہوں  نے  بتایا کہ ہمارے  پاس ایک خاص تیل بھی ہے۔ جو ایک خاص پہاڑی بوٹی سے  تیار کیا جاتا ہے۔ اس بوٹی کا نام یاد نہیں۔ اس کے  خواص بتانے  کے  ساتھ ساتھ انہوں  نے  سرمہ شفا کا ذکر بھی کیا کہ اس وقت میرے  پاس یہ سرمہ بھی ہے۔ انہوں  نے  دونوں  کی قیمت بتائی مگر کسی نے  ان کی یہ چیزیں  نہیں  خریدیں۔ گاڑی سے  اترتے  وقت اندازہ ہوا کہ گاڑی اور گائیڈکاساتھی دونوں  کرائے  کے  تھے۔ اس لئے  کہ ہم سے  وصول کردہ رقم میں  سے  کچھ ریال اس نے  ڈرائیور کو اور کچھ اپنے  ساتھی کو دے  دیئے۔ آج کا دن ان کے  لئے  مزدوری کے  لحاظ سے  نا مبارک تھا۔ کہ انہیں  کوئی بچت نہیں  ہوئی۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ جن حضرات نے  بکنگ کرائی تھی ان میں  سے  کافی حضرات تشریف نہیں  لائے۔ ہمیں  ان کی دہاڑی نہ لگنے  کی وجہ سے  قدرے  افسوس ہوا۔ مگر ہم سوائے  دعا کے  کیا کر سکتے  تھے۔ سواس وقت بھی دعا کی اور اب بھی دعا ہے۔

 

الوداع کیسے  کہوں

 

رسم دنیا ہی سہی لیکن بتا میں  کیا کروں

دل نہ چاہے  تو تجھے  میں  الوداع کیسے  کہوں       (سندیسہ)

آج اپریل کی چودہ تاریخ ہے۔ پندرہ جنوری سے  آج تک میرا روحانی رابطہ مکہ،مدینہ سے  رہا ہے۔ چوبیس فروری کو جسمانی طور پر ہم سرزمین حجاز سے  سرزمین پاکستان میں  واپس آئے  تھے۔ چند روز تک اس سفر سعید کے  زبانی تذکرے  ہوتے  رہے۔ پھر گیارہ مارچ کو اس سفر سعید کو محفوظ کرنے  کی خاطر لکھنا شروع کیا۔ جسمانی سفر میں  میری اہلیہ میری ہمسفر تھی اور اس تحریری یا روحانی سفر میں میرا قلم میراہمسفر رہا ہے۔ میں  اور میراہمسفر ابھی مدینہ منورہ کے  نورانی ماحول میں  ہیں۔ اس ماحول سے  نکلنے  کو جی نہیں  چاہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے  کہ فکری طور پر بھی اس ماحول سے  جدائی کے  آثار نظر آ رہے  ہیں۔

جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے  اس کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ مکہ،مدینہ میں  رہتے  ہوئے  ہمیں  ان مقدس شہروں  کی اتنی قدر نہیں  تھی جتنی اب محسوس  ہو رہی ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ رودادِ سفر لکھتے  وقت چشمِ تصور نے  مکہ،مدینہ کے  ان مناظر کا نظارہ کیا  جو چشمِ ظاہر سے  ممکن نہیں۔ حقیقت میں  ان نظاروں  کی منظر کشی میرے  قلم کے  بس میں  نہیں۔ مگر کیا کیا جائے  مجبوری ہے۔

 

مجبوری

 

وقت کی مجبوریوں  کا عذر کیوں  کر مان لوں

تومراسایہ ہے  میں  تجھ سے  جداکیسے  رہوں

تو مرے  ماضی کا حصہ ہے  مری پہچان ہے

ہو مرے  بس میں  تومیں تجھ کو کہیں  جانے  نہ دوں

کائنات کی ہر ایک چیز تقدیر کی زنجیر میں  اسیر ہے۔ قدرت کا ایک قانون ہے  جسے  سائنس کی زبان میں  جمود کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے  مطابق ہر چیز اپنی حالت کو ہر حالت میں  برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مگر طبیعت کی اس کیفیت کے  برخلاف بیشماردوسری طبیعتیں  برسرِ پیکار رہتی ہیں، جو ہر قرار کو بے  قراری میں  تبدیل کرنے  کے  درپے  رہتی ہیں۔ اس خیال کو علامہ اقبال نے  ان الفاظ میں  بیان فرمایا ہے۔

“ثبات ایک تغیر کو ہے  زمانے ”

سوتغیر جمود کا تضاد ہے۔ اور یہ تضاد ہی ہے  جو احساس و ادراک کا محرک ہے۔ ہجر و وصال کی کیفیتوں  میں  یہی حکمت مضمر نظر آتی ہے۔ اگر ملنے  کے  بعد بچھڑنا نہ ہو تو ملنے  کا احساس نہ ہو۔

بھانویں  ہجر تے  بھانویں  وصال ہو وے  وکھو وکھ دونواں  دیاں  لذتاں  نیں

میرے  سوہنیا جاتوں  ہزار واری، آ جا پیاریا تے  لکھ وار آ جا

(کیفیت ہجر اور کیفِ وصال دونوں  کی جدا جدا لذتیں  ہیں۔ سو ان واردات کا بار بار تجربہ کرنے  کی تمنا ہے۔)

فطرتِ جمود کی وجہ سے  مکہ،مدینہ کی سوچوں  اور خیالات کا دامن چھوڑنے  کو جی نہیں  چاہتا۔ لیکن میرا چاہنا قدرت کی چاہت کے  تحت ہے۔ میری ہی نہیں  پوری مخلوق خالق کی چاہت کے  تحت مجبور و بے  بس ہے۔ میں  تو چاہتا ہوں :۔

ہو اگر ممکن تومیں  اس ساعتِ موجود کو

ایک نقطے  پر ہمیشہ کے  لئے  روکے  رکھوں     (سندیسہ)

لیکن رکنا ممکن نہیں  کہ یہ منشائے ربانی کے  خلاف ہے۔ سومیں  اپنی منشاء کو رب کی منشاء کے  سپرد کرتا ہوں۔ وہ اس فقیر سے  جو کام لینا چاہے  لے۔

میں  دتی ہتھ واگ بلوچے  جدھرچلاوے  چلاں        (میاں  محمد بخش)

میں  نے  اپنی باگ ڈور اپنے  مالک کے  ہاتھ دے  دی ہے  جدھر چلائے  گا چلا جاؤں  گا۔ صرف اس مالک و خالق سے  دعا ہے  کہ وہ ان سہانی یادوں  کے  تناظر میں  مستقبل کے  نظارہ کی توفیق عطا فرمائے۔

 

نوٹس__ کوچ نقارہ

 

جسم ہے  دھوکا مجھے  تجسیم سے  الفت نہیں

ٹوٹ سکتا ہے  کسی لمحہ نگاہوں  کا فسوں

ہم نشیں  یوں  تو بظاہر رابطہ کٹ جائے گا

کٹ نہیں  سکتاکسی صورت مگر ربطِ دروں

ممکنہ خدشات میں  امید کا پہلو بھی ہے

آنے  والے  وقت کا صفدرؔ میں  کیوں  نوحہ لکھوں          (سندیسہ)

۴۔ اکتوبر ۱۹۸۰ء؁ کو ہمارے  سکول کے  چھ ساتھیوں  کی بیک وقت مختلف مقامات پر ٹرانسفر ہو گئی۔ اس موقعہ پر کہے  ہوئے  شعر اس وقت کی کیفیت کی کچھ عکاسی کرتے  ہیں۔ اصل نظارہ چشمِ باطن کا نظارہ ہے۔ چشم ظاہر کے  نظارے  کو ظاہر کی نظر سے  دیکھنا محض نظارہ ہے  اور اس نظارے  کو چشمِ باطن سے  دیکھنا زیارت ہے۔ اور یہی زیارت ہے  جسے  اہلِ نظر معرفت کہتے  ہیں۔ اور معرفت کے  لئے  بصارت کی نہیں  بصیرت کی ضرورت ہے۔ معرفت کی زیارت کھلی آنکھوں  سے  بھی ممکن ہے  اور بند آنکھوں  سے  بھی۔ معرفت ایک مستقل رابطہ ہے  جو ہجر و وصال ہر حال میں  برقرار رہتا ہے۔ معرفت ہر حال میں  حال  ہے۔ اس کے  راستے  میں  زمان و مکان کے  فاصلے  کوئی معنی نہیں  رکھتے۔ مگر یہ حال بڑی ریاضت و مشقت سے  نصیب ہوتا ہے۔ سالوں  کے  مراقبہ سے  تصور اپنے  مقصود و مطلوب پہ مرتکز ہوتا ہے۔ اور یہ ارتکازِ توجہ یا گیان دھیان ہی زیارت و معرفت کا ذریعہ ہے۔

مکہ،مدینہ کی ظاہری آنکھ سے  زیارت آنکھوں  کی ٹھنڈک اور دلوں  کا سکون ہے۔ اور چشمِ تصور سے  مقامات مقدسہ کا نظارہ بھی تسکین و اطمینان کا ذریعہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے  کہ اس نے  پہلے  چشمِ ظاہر سے  پھر چشمِ باطن سے  اپنے  گھر اور پیارے  نبیؐ کے  در کی زیارت نصیب کی۔ اڑتیس روز تک ہم جسمانی اور روحانی طور پر نورانی ماحول میں  سرشار رہے  مگر ۲۲،فروری ۲۰۰۵ء؁ کی عشاء کو روانگی کا نوٹس پڑھ کر دل دھک سے  رہ گیا۔ نوٹس میں  پندرہ جنوری کی پرواز کے  حجاج کرام کو تئیس فروری کی ظہر تک واپسی کے  لئے  تیار ہونے  کی ہدایت کی گئی تھی۔

واپسی کے  اعلان کے  ساتھ ہی حجاج کرام کی توجہ مسجدِ نبویؐ کے  بجائے  بازار کی طرف مبذول ہو گئی۔ حجاج کرام بچے  ہوئے  ریال خرچ کرنے  کی فکر میں  مصروف ہو گئے۔ ہمارے  پاس ریال تو تھے  مگر بوجھ اٹھانے  کی سکت نہیں  تھی۔ دوسروں  کی دیکھا دیکھی زیور،کپڑا، یا  الیکڑانک کا سامان خریدنے  کو دل تو ہمارا بھی چاہتا تھا مگر ہماری کمزوری ہماری مجبوری تھی۔ اس مجبوری کی وجہ سے  ہم اپنا بوجھ بڑھانے  سے  بچ گئے۔ ہم نے  صرف چند کلو کھجوریں  خریدنے  پر اکتفا کیا۔ اس احتیاط کے  باوجود تین بیگ اور دو گیلن گھرواپسی تک ہمارے  لئے  دردِ سر بنے  رہے۔

ہمارے  کمرے  کے  ساتھی بہت مہربان تھے۔ ان کا بیٹاسعودیہ کے  کسی شہر میں  ملازمت کرتا ہے۔ وہ بھی والدین کے  ساتھ حج کر رہا تھا۔ اس کے  دوساتھی جو کہ مدینہ منورہ میں  مقیم ہیں انہوں  نے  بھی ہماری بڑی خدمت کی۔ وہ جہاں  کہیں  بھی ہیں  اللّٰہ انہیں  خوش رکھے۔ انہوں  نے  سامان پیک کرنے  سے  لوڈ کرانے  تک ہماری بڑی مدد کی۔

 

واپسی

 

تئیس فروری کو وطن واپسی کے  لئے  نمازِ ظہر کے  بعد ہمارا قافلہ جدہ کے  لئے  روانہ ہوا۔ اس وقت عجیب کیفیت تھی۔ گھر واپس ہونے  کی خوشی تھی اور مکہ، مدینہ سے  جدا ہونے  کا غم بھی۔ ہم نے  مسجد نبوی کے  بیرونی حصہ کی صرف ایک دفعہ زیارت کی تھی وہ بھی اس دن جس دن جنت البقیع کی زیارت کے  لئے  گئے  تھے۔ جنت البقیع کی زیارت اس روز نصیب نہیں ہو سکی۔ اس دن جنت البقیع کا دروازہ اور دیواریں  دیکھی تھیں  یہاں  کے  مبارک مقیمین کے  مقبروں  یا مقبروں  کے  نشانات کی زیارت نہیں  ہوئی تھی۔ مسجدِ نبویؐ کو بھی پوری طرح نہیں  دیکھا تھا۔ اس وجہ سے  دل میں  شدید قسم کی تشنگی پائی جاتی تھی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  ہماری اس تشنگی کی تسکین کا سبب عین اسی وقت بنا دیاجس وقت ہم ادھوری حسرتیں  لئے  وطن واپس آ رہے  تھے۔

ہماری بلڈنگ کی اوپر والی منزلوں  سے  مسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آتے  تھے  نیچے  سڑک سے  نظر نہیں  آتے  تھے۔ گاڑی روانہ ہوئی تو مینار نظر نہیں  آئے  مگر جیسے  ہی گاڑی نے  چند میٹر آگے  جا کرموڑمڑاتومسجدِ نبویؐ کے  مینار نظر آنے  لگے۔ چند قدم پر مینا ردوسری عمارتوں  کی اوٹ میں  اوجھل ہو گئے۔ چند میٹر آگے  بڑھنے  پر پھر مینار نظر آنے  لگے۔ گاڑی کا روٹ ہی کچھ اس طرح کا تھا کہ مدینہ شریف چھوڑتے  ہم نے  مکمل مسجدِ نبویؐ کی زیارت کر لی۔ یہی نہیں  بلکہ چلتے  چلتے  جنت البقیع کا نظارہ بھی کر لیا۔ اس نظارہ سے  اضطراب قلب میں  قدرے  ٹھہراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مگر جیسے  ہی ہم حدود مدینہ سے  باہر ہوئے  اس ٹھہراؤ میں  ایک او الجھاؤ پیدا ہو گیا۔

 

بھریا ان کا جانئے ……..

 

میاں  محمد بخش جن کے  بہت سے  اشعار اس تحریر میں  آ رہے  ہیں۔ ان کی ایک تمثیل کا مصرعہ ہے :۔

“بھریا انکا جانیئے  جن کا توڑ چڑھے ”

تمثیل کا آغاز اس طرح ہوتا ہے  کہ چند سہیلیاں  پانی بھرنے  کے  لئے  پنگھٹ پہ جاتی ہیں۔ ان میں  کئی ایسی ہیں  جنہوں  نے  گھڑے  بھرکرسروں  پہ رکھ لئے  ہیں  اور کچھ ایسی بدقسمت ہیں  کہ وہ خالی گھڑے  لے  کر لوٹ رہی ہیں۔ اب جنہوں  نے  بھرے  گھڑے  سروں  پہ رکھے  ہیں  وہ بڑی احتیاط سے  پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں  اس ڈر سے  کہ کہیں  پاؤں  پھسل نہ جائے  اور پانی گر نہ جائے۔ اور نتیجہ کے  طور پر کہتے  ہیں  کہ کمائی صرف انہی کی ہے  جو پانی سمیت صحیح وسالم گھر لوٹتی ہیں۔

نیکی کمانا مشکل ہے۔ مگر محض نیکی کمانا مقصود نہیں۔ نیکی کو بچانا اصل کمائی ہے۔ میاں  صاحب اس تمثیل کے  ذریعے  یہی سمجھا رہے  ہیں  کہ اعمالِ صالح کی حفاظت بہت ضرور ی ہے۔ اس لئے  کہ قدم قدم پہ شیطان کے  ہاتھوں  لٹنے  کا خدشہ ہے۔ شیطان جو کہ انسان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اس تاک میں  رہتا ہے  کہ کسی نہ کسی طرح اسے  گمراہ کرے۔ اگر انسان نے  خوش قسمتی سے  کوئی نیکی کمائی ہے  تو وہ اس نیکی کو برباد کرنے  کی پر زور کوشش کرتا ہے۔ بعض دفعہ تو اس کی کوشش سے  اچھے  بھلے  نیکو کار دوزخی ہو جاتے  ہیں۔ حضورﷺ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ کنگال وہ ہے  جس کے  نامہ اعمال میں  بہت ساری نیکیاں  ہوں۔ مگر ان نیکیوں  کے  برعکساگر اس نے  کسی کا حق کھا لیا یا دبا لیا ہو تو قیامت کے  دن اس کی نیکیاں  اس کو دلائی جائیں  گی۔ جب نیکیاں  ختم ہو جائی گی تو حقدار کی برائیاں  اس کے  اعمال نامے  میں  ڈال دی جائیں  گی۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسی اذیت سے  ہر مسلمان کو بچائے۔

مدینہ النبیؐ سے  مدینہ الحجاج تک حجاج کرام کا مزاج کافی حد تک حاجیانہ تھا۔ مگر مدنی حدود سے  نکلتے  ہی حج کے  اثرات زائل ہونا شروع ہو گئے۔ عورتوں  اور مردوں  میں  جو شرعی پردے  کا حجاب تھا آہستہ آہستہ بے  نقاب ہونے  لگا۔ ہلکا پھلکا مذاق شروع ہو گیا۔ ایک خاتون جو ذرا اونچی آواز میں  بول رہی تھی اس کا پینڈو انداز دوسری کو ناگوار گذراتو اس نے  جملہ کسا:۔

” صدقے  جانواں  کتھوں ایں ؟(قربان جاؤں  کہاں  کی ہو؟)”

عیسیٰ خیل(مسؤلہ نے  جواب دیا)

عطاء اللّٰہ نیازی تینڈاکی لگیندا اے ؟(عطاء اللّٰہ نیازی سے  تمہارا کیا رشتہ ہے)

عطاء اللّٰہ عیسیٰ خیلوی ایک عوامی موسیقار ہے۔ اس کی ازدواجی زندگی پر تبصرے  شروع ہو گئے …… معاً میرے  دل سے  آواز آئی۔ آ گیا!دشمن آ گیا!انسان کا ازلی دشمن شیطان آ گیا۔ میں  نے  فوراً جیب سے  تسبیح نکالی استغفار اور لاحول کا ورد شروع کر دیا۔ اہلیہ کو بھی استغفار کا مشورہ دیا۔ اس نے  بھی تسبیح شروع کر دی۔ اب پتہ چلا کہ تبلیغ والے  واپسی پر استغفار کی کیوں  تلقین کرتے  ہیں۔ ہنسی مذاق جاری رہا۔ شیطان اپنا کام کرتا رہا۔ وہ لوٹتا رہا اور حجاج کرام لٹتے  رہے۔ اللّٰہ جانے  کون اس ڈاکو کی دست برد سے  محفوظ رہا۔

 

جدہ سے  پنڈی

 

مدینہ منورہ سے  جدہ کافی دور ہے۔ ہم نے  عصر، مغرب اور عشاء کی نماز راستے  میں  ادا کی۔ تقریباً نو دس بجے  جدہ ائرپورٹ پہنچے۔ میرے  لئے  سامان سنبھالنا مشکل تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  ایک نوجوان جوڑے  کو ہماری مدد کے  لے  بھیج دیا۔ نوجوان نے  تبلیغیوں  کی سی پگڑی باندھی ہوئی تھی اس نے  مجھ سے  بیگ اور کنستر چھین لئے۔ اور ہمیں  ساتھ لئے  اسی جگہ لے  گیا جہاں  جدہ آمد کے  وقت ہم نے  ناشتہ کیا تھا۔

جدہ ائر پورٹ عجیب قسم کا ائر پورٹ ہے۔ بڑی بڑی دیو ہیکل قسم کی چھتریوں  کے  نیچے  عام قسم کے  دفاتر ہیں۔ یہ چھتریاں  اتنی بڑی ہیں  کہ بڑے  سے  بڑا جہاز بھی اس میں  بآسانی سماسکتا ہے۔ میں  نے  اپنے  مددگار جوان سے  زیادہ تعارف نہیں  کیا۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ جہلم کے  کسی نواحی دیہات کے  رہنے  والے  ہیں۔ وہ پہلے  بھی حج کی سعادت حاصل کر چکے  تھے۔ ان کے  پاس چار پانچ کنستر آبِ زمزم کے  تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم رمضان شریف میں  افطاری زمزم سے  کراتے  ہیں۔ ان کے  پاس اپنا بھی کافی سامان تھا اس کے  باوجود انہوں  نے  ہماری بہت مدد کی ہے۔ جدہ ائر پورٹ پر وزن کرانے  سے  لے  کر اسلام آباد ائرپورٹ پر سامان وصول کرنے  تک کے  تمام مراحل پر انہوں  نے  ہم سے  بہت تعاون کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  جزائے  خیر عطا فرمائے۔

تئیس اور چوبیس فروری کی رات ہم نے  جاگ کر گذاری۔ رات کو زیادہ جاگنے  کی وجہ سے  مجھے  نزلہ زکام ہو جاتا ہے۔ مگر اللّٰہ کا کرم ہے  کہ اس رت جگے  کی وجہ سے  مجھے  کوئی عارضہ لاحق نہیں  ہوا۔ تاہم تھکن اتنی زیادہ تھی کہ واپسی کے  پندرہ بیس روز تک گھر سے  نکلا نہیں  گیا۔ ہماری فلائٹ کا وقت غالباً پانچ بجے  صبح تھا۔ اتنا یاد ہے  کہ ہم نے  صبح کی نماز جدہ ائر پورٹ پر ادا کی تھی۔

نماز پڑھنے  تک ہم چیکنگ کے  تمام مراحل طے  کر چکے  تھے۔ اب جہاز تک جانے  کے  لئے  ہمیں  کوئی خاص تردد نہیں  کرنا پڑا۔ ایسے  معلوم ہواجیسے  ہم ایک کمرے  سے  ملحقہ دوسرے  کمرے  میں  داخل ہوئے  ہیں۔ جہاز میں  داخلے  سے  پہلے  سعودی حکومت کے  اہلکاروں  نے  ایک مترجم قرآن پاک اور کتابوں  کا سیٹ ہر حاجی کو ہدیہ دیا۔

جہاز کا عملہ پاکستانی اور جہاز کسی دوسرے  ملک کا تھا۔ اس دفعہ سیٹوں  کی الاٹمنٹ اس لحاظ سے  غیر مناسب تھی کہ ان میں  محرم یا غیر محرم کا لحاظ نہیں  رکھا گیا تھا۔ میری اور میری اہلیہ کی سیٹ علیحدہ علیحدہ تھی۔ اس طرح بہت سی دوسری جوڑیوں  کی سیٹیں  بھی اکٹھی نہیں  تھیں۔ بہرحال جہاز کے  عملے  نے  بڑی خوش اسلوبی سے  اس غلطی کا ازالہ کیا۔

جدہ آمد کے  وقت رات کا سماں  تھا۔ ہمیں  ستاروں  یا کہیں  کہیں  زمین پہ جگمگاتی روشنیوں  کے  اور کچھ نظر نہیں  آیا۔ اور اب واپسی میں  دن کا سفر تھا۔ ہماری سیٹ جہاز کے  پر کے  اوپر تھی۔ اس وجہ سے  ہم بالکل نیچے  نہیں  دیکھ سکتے  تھے۔ مگر آگے  کا منظر بخوبی نظر آتا تھا۔ جہاز کے  زمین چھوڑنے  اور فضا میں  جانے  تک مجھے  کوئی پریشانی نہیں  ہوئی۔ مگر جوں  ہی جہاز بادلوں  میں  داخل ہوا ایسے  لگاجیسے  ہم کسی گڑھے  میں  گر گئے  ہیں۔ میرا دل دھک سے  رہ گیا۔ میری پشت درد سے  بھر گئی۔ آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا۔ جہاز لمحہ بہ لمحہ اوپر کو اٹھ رہا تھا۔ اٹھتے  اٹھتے  اتنا اوپر چلا گیا کہ بادل ہم سے  نیچے  رہ گئے۔ ذکر کی وجہ سے  کچھ خوف دور ہوا تو باہر کا نظارہ کرنے  کو جی چاہنے  لگا۔ جہاز کے  نیچے  بادل ایسے  لگ رہے  تھے  جیسے  نیچے  سمندر میں  برف کے  بڑے  بڑے  سفید تودے  تیر رہے ہوں۔ دائیں  بائیں  کے  بادل ایسے  معلوم ہوتے  تھے  جیسے  برف کے  بڑے  بڑے  پہاڑ ہوں۔ اس نظارے  کے  باوجود دل میں  خوف بدستور موجود تھا۔ اسی کیفیت میں  رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ توجہ تقاضا کی طرف ہوئی تو خوف مزید کم ہو گیا۔ اتنے  میں  جہاز کا عملہ ناشتہ لے  کر آ گیا۔ اب توجہ اس طرف ہو گئی۔ عملے  کے  ایک ملازم نے  باہر جھانک کر بتایا کہ اب ہم کراچی پر پرواز کر رہے  ہیں۔ جہاز آہستہ آہستہ زمین کی طرف آ رہا تھا۔ بادل چھٹ چکے  تھے  خوف کی بجائے  زمین کے  نظارہ سے  یک گونہ فرحت محسوس ہو رہی تھی۔ اسلام آباد کی حدود میں  داخل ہو کر جہاز فضا میں  چکر لگانے  لگا اس جہازی طواف سے  پم نے  اسلام آباد اور اس کے  مضافات کا فضائی نظارہ کیا۔ تھوڑی دیر میں  زمین کی کشش نے  ہم حاجیوں  کو اپنی لپیٹ میں  لے  لیا۔ پھر۔۔۔

 

پھر ہم زمین پر آ رہے

 

مشرف گرچہ شدجامی ز لطفش

خدایا ایں  کرم بارِ دگر کُن

۴۔ مئی  ۲۰۰۵ء؁

 

 

 

                                          وَعَلَّمَ آدمَ الاَسْمَآء کُلَّھا        

اور اللہ نے  آدم ؑ کو تمام اسماء تعلیم فرما دیئے

 

کتابیات

 

فضائلِ درود

الدلیل المختار فی الحج و زیارۃ۔ الدکتورمسعد محمد الدیب

الرحیق المختوم۔ صفی الرحمٰن مبارکپوری

انوارِ حرمین۔ وزارتِ مذہبی امور

کتاب الحج۔ مسلم کمرشل بینک

حج مبارک رفیق الحرمین ۔ الائیڈ بینک آف پاکستان

رفیقِ حج۔ مولانا محمد الیاس قادری

لبیک۔ ممتاز مفتی

جبین نعت۔ صفدر قریشی

 

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی اور اجازت مرحمت کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل اعجاز عبید