FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

ایوبی کی یلغاریں

 

فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ

 

 

                محمد طاہر نقاش

 

 

 

 

 

 

حرف آغاز​

 

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر احمد محمود الاحمد جو مدینہ یونیورسٹی کے کلیہ الدعوۃ واصول الدین میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ انہوں نے سلطان صلاح الدین کی جہادی و قتالی زندگی پر ایک لیکچر دیا جو بعد میں ایک مختصر کتابچہ کی شکل میں شائع ہوا۔اس کا میں نے مطالعہ کیا تو موجودہ حالات کے تناظر میں اسی مختصر کتابچہ کو بنیاد بنا کر سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا مختلف پہلوؤں سے مطالعہ شروع کیا تو پتہ چلا کہ دنیا میں کچھ لوگ ہمیشہ کے لیے کسی بات کی علامت اور نشان بن جاتے ہیں یا کوئی خاص چیز ان کی پہچان بن کر رہ جاتی ہے ۔ایسے ہی عظیم مجاہد گوریلا کمانڈر اور صف شکن سپہ سالار سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اپنے کارناموں کی بنا پر شجاعت و بہادری، غیرت و حمیت اور صلیبیوں پر جہادی و قتالی یلغاروں کی بنا پر ہمیشہ کے لیے جہاد و قتال کا نشان بن گئے ۔اب جب بھی کہیں دلاوری بہادری شجاعت اور صلیبیوں کو نکیل ڈالنے کی بات کی جاتی ہے تو فوراً سلطان صلاح الدین کا خیال ذہن میں آتا ہے ۔جن لوگوں سے مستقبل میں اللہ کریم نے کوئی بڑا اور عظیم کام لینا ہوتا ہے ان کے بچپن میں ہی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی کسی نہ کسی قرینے اور کنائے سے نشان دہی فرما دیتے ہیں ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی جس نے اسلامی تاریخ پر اپنی عظمت و شوکت کے انمٹ نقوش ثبت کیے ہیں کی اسلام اور مسلمانوں کے لیے غیرت و حمیت کا عالم یہ تھا کہ ابھی نوعمر ہی ہیں ، عیسائی فوجیں “رہا”پر قبضہ کر کے مال واسباب لوٹ کر عورتوں کو پکڑ لے جاتی ہیں ۔یہ ظلم دیکھ کر یہ نوعمر صلاح الدین ایک ترکی بوڑھے کو لے کر سلطان عماد الدین زنگی کے پاس پہنچتے ہیں ۔عیسائیوں کے مظالم سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں ، اس کی اسلامی حمیت اور غیرت کو بیدار کرتے ہیں اور رو رو کر مدد کے لیے فریاد کرتے ہیں ۔

نیک دل بادشاہ کو ان حالات کا علم ہوتا ہے تو وہ تمام فوجیں جمع کرتا ہے ۔انہیں “رہا”کے حالات سناتا اور جہاد پر ابھارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ “کل صبح میری تلوار رہا کے قلعے پر لہرائے گی، تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا ؟” یہ اعلان سن کر تمام فوجی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں سے “رہا”۹۰ میل کی دوری پر ہے ، راتوں رات وہاں کیسے پہنچاجا سکتا ہے ؟یہ تو کسی طرح ممکن نہیں ۔تمام فوجی ابھی غور ہی کر رہے تھے کہ ایک نو عمر لڑکے کی آواز گونجتی ہے “ہم بادشاہ کا ساتھ دیں گے ۔”لوگوں نے سراٹھا کر دیکھا تو ایک نوعمر لڑکا کھڑا تھا، بعضوں نے فقرے چست کیے کہ “جاؤ میاں کھیلو کودو!یہ جنگ ہے بچوں کا کھیل نہیں ۔”سلطان نے یہ فقرے سنے تو غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا، بولا:”یہ بچہ سچ کہتا ہے ، اس کی صور ت بتاتی ہے کہ یہ کل میرا ساتھ دے گا۔یہی وہ بچہ ہے جو “رہا”سے میرے پاس فریاد لے کر آیا ہے ، اس کا نام صلاح الدین ہے ۔” یہ سن کر فوجیوں کو غیرت آتی ہے سب تیار ہو جاتے ہیں اور اگلے روز دوپہر تک رہا پہنچ کر حملہ کر دیا۔گھمسان کی جنگ ہوئی، عیسائی سپہ سالاربڑی آن و بان کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا، سلطان نے اس پر کاری ضرب لگائی مگر لوہے کی زرہ نے وار کو بے اثر بنا دیا، عیسائی سپہ سالار نے پلٹ کر سلطان پر حملہ کیا اور نیزہ تان کر سلطان کی طرف پھینکنا ہی چاہتا ہے کہ صلاح الدین کی تلوار فضا میں بجلی کی طرح چمک اٹھی اور زرہ کے کٹے ہوئے حصہ پر گر کر عیسائی سپہ سالار کے دو ٹکڑے کر کے رکھ دیئے ۔عیسائی سپہ سالار کے موت کے گھاٹ اترتے ہی عیسائی فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور “رہا”پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔

آج ہر شخص کی زبان پر نوعمر صلاح الدین کی شجاعت کے چرچے ہیں اور یہ واقعہ تاریخ اسلام میں سنہرے الفاظ میں لکھا جاتا ہے ۔

اس مختصر سے کتابچے میں ہم نے سلطان کی زندگی کے آخری چھ سال کا عرصہ منتخب کیا ہے ۔سلطان کی زندگی کے یہ آخری ۶ سال اس کی زندگی کے سب سے قیمتی اور یادگار ایام ہیں کہ جن میں اس نے مسلسل صلیبیوں سے معرکے کرتے ہوئے ، جہاد و قتال کے میدان گرم کرتے ہوئے ، صلیبیوں کو ہر طرف سے گھیر گھیر کر ان کا شکار کرتے ہوئے ، بیت المقدس کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کے لیے ، اللہ کے اس بابرکت گھر کی عزت وناموس کی رکھوالی کے لیے ، دن رات اپنی جان ہتھیلی پر لیے ، شمشیروں کی چھاؤں میں ، تیروں کی بارش میں ، نیزوں کی انیوں میں ، گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر، اس کو دشمن کی صفوں میں سرپٹ دوڑاتے ہوئے ، تلوار بلند کرتے ہوئے ، اللہ کے باغیوں ، کافروں ، ظالموں کی گردنیں اڑاتے ہوئے ۔من دون اللّہ کے ان پجاریوں کو خاک و خون میں تڑپاتے ہوئے اور ایسے معرکے ، ولولے ، غلغلے ، برپا کرتے ہوئے اور دشمن پر گھاتیں لگاتے ۔یلغاریں کرتے ، شاہین کی طرح ممولوں پر جھپٹتے پلٹتے اور پھر جھپٹتے ۔سلطان کی زندگی کے آخری چھ سالوں میں اسی مجاہدانہ روپ کو دکھایا گیا ہے ۔اس جہادی و قتالی تگ و تاز میں سلطان کی زندگی کی آخری صبحیں اور شامیں گزریں ۔حتیٰ کہ اس نے صلیبیوں کے سروں کی فصل کو شمشیر جہاد سے کاٹتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو ناپاک صلیبی قبضے سے آزاد کروا لیا۔سلطان کے انہی شجاعت و دلاوری بہادری و حمیت سے بھرپور قتالی ایام کے چند نظاروں کو ہم نے کتاب کا حصہ بنایا ہے کہ جو خالصتاً سلطان کے جہادی و قتالی کردار کے غماز ہیں ۔

 

 

عظیم مجاہد

 

صلاح الدین ایوبی کی زندگی کے آخری سالوں کے یہ جہادی لمحات ہمیں یہ دعوت مبارزت دے رہے ہیں کہ ((ھل من مبارز))کہ تم میں کوئی ایسا دلاور ہے جو میدان میں آ کران صلیب کے پجاریوں کا مقابلہ کرے ۔کہ آج جب امت مسلمہ صلیبیوں کے گھیروں ، ان کی مکروہ چالوں اور فریبانہ سازشوں کے جال میں پھنس کر لہولہان ہے ۔آہ!آج افغانستان، کشمیر جنت نظیر کے مظلومین، مقہورین، مجبورین، معصومین کٹے پھٹے خون آلودبارود کی بُو میں رچے بسے رو روکر یہ فریاد کر رہے ہیں کہ نام نہاد مہذب یورپی درندوں نے ہمیں چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ہمیں گھر سے بے گھر۔وطن سے بے وطن کر دیا ہے ۔ہمارا یہ حال کر دیا ہے ہم جائیں تو کس کے پاس شکایت لے کر جائیں ۔کس کے پاس فریادی بن کر جائیں ۔ہم کس کو اپنا دکھڑا سنائیں کہ کون ہمارے دکھوں کا مداویٰ کرسکے ۔یہ دکھیارے آج کسی ایوبی اور قاسم رحمہما اللہ کے منتظر ہیں ۔آسیں لگائے کب سے بیٹھے ہیں ۔آج پھروہی مسجد اقصیٰ۔وہی بیت المقدس جس کو سلطان صلاح الدین نے غیرت مسلم کا ثبوت دیتے ہوئے آزاد کروایا تھا، پھر صلیبیوں اور یہودیوں کے خونخوار پنجوں میں پھنسی ہوئی ہے اور وہاں مسجد اقصیٰسسکتی ہوئی، بلکتی ہوئی۔کراہتی ہوئی۔آہیں اور سسکیاں بھرتی ہوئی، ہم سے یوں فریاد کناں ہے ، ہم سے کہہ رہی ہے کہ میں (اللہ کا گھر)اقصیٰ۔اے غیرتوں ، شجاعتوں کے امین مسلمانو!۔تمہیں پکار رہی ہوں ۔کب سے بلک رہی ہوں ۔کہ کفر کے تیر میرے سجدوں کے لیے بے تاب جسم کو زخمی کر رہے ہیں ۔میرا جسم زخموں سے چور چور ہو چکا ہے ، لہولہان اور ویران ہو چکا ہے ، ۔اے آخری نبی محمدﷺ کے کلمہ پڑھنے والے امتیو!تم میری چیخوں کو سن بھی رہے ہو پھر بھی میری مدد کے لیے نہیں آرہے ؟ ۔کیا ہو گیا ہے تمہیں کب آ کر میرے زخموں پر مرہم رکھو گے ۔

ان حالات میں کیا ہم میں کوئی ایسا ہے جو صلاح الدین بن کر دنیا بھر کے صلیبیوں کو منہ توڑ جواب دے کر یہ بتا دے کہ غیرت مسلم ابھی زندہ ہے ، ایوبی کی شجاعت ابھی زندہ ہے ۔ہماری رگوں میں ابھی غزنوی غوری اور ابن قاسم رحمۃ اللہ علیہم کا غیرتوں اور شجاعتوں کا امین خون گردش کر رہا ہے ۔اگر تم نے مسلمانوں پر روا موجودہ مظالم کو صلیبی جنگوں کا بدلہ کا نام دے دیا ہے ، تو پھر ایسے ہی سہی۔اب ہر میدان میں دوبارہ ہلال اور صلیب کی جنگ ہو گی۔کفر اور ایمان کی جنگ ہو گی۔ظالم اور مظلوم کی جنگ ہو گی۔اب میدانِ جہاد و قتال سجیں گے ۔اب معرکے ہوں گے اب ایوبی کے روحانی فرزند جہاد و قتال کی شمشیر بے نیام ہاتھوں میں تھام کر، میدان کارزار میں اُتر آئے ہیں ۔رب المستضعفین کی رحمت سے ۔اب ہر اس صلیبی کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائی گے جو ظلم کے لیے کسی مسلمان کی طرف بڑھیں گے ۔وہ آنکھ نکال دیں گے جو امت مسلمہ کی کسی بیٹی کی طرف بری نظر سے دیکھنے کی جرأت کرے گی کہ صلاح الدین کے روحانی فرزند ابھی زندہ سلامت ہیں ۔وہ تمہیں ہر جگہ ظلم سے روکیں گے جہاد و قتال کی شاہراہ پر چلتے ہوئے تیرے پیچھے پیچھے آئیں گے ۔تمہیں مظلوم و مجبور مسلمانوں پر ہرگز ظلم نہیں کرنے دیں گے ظلم سے روکنے کو۔تم ہماری دہشت گردی کہو یا صلیبی جنگ کے آغاز کا بغل بجاؤ ہم ہر دم تیار ہیں ۔اپنے رب کریم کی رحمت و نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے ہم تجھے باور کروا دیتے ہیں کہ ان شاء اللہ تیری طرف سے شروع کی گئی اس صلیبی جنگ کا نتیجہ بھی وہی برآمد ہو گا جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں برآمد ہوا تھا۔پھر تو آگے آگے ہو گا اور ہم تیرے پیچھے پیچھے تعاقب کرتے ہوئے یورپ پہنچیں گے ۔اور اس وقت تک اس جہادی و قتالی شعلے کو سرد نہ ہونے دیں گے کہ جب تک یورپ میں جہاد کے شعلے نہیں بھڑک اٹھتے اعلائے کلمۃ اللہ کا پرچم لہرا نہیں جاتا جب تک دین خالص اللہ کے لیے نہیں ہو جاتا اور فضائیں “اللہ اکبر”کے دلنواز ترانوں سے نہیں گونج جاتیں ان شاء اللہ وہ دن عنقریب آنے والا ہے ۔

ان شاء اللہ !اب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر جوان دنیا میں مختلف جگہ ظلم و جور پر مبنی روا رکھی گئی ان صلیبی جنگوں کے لیے تیار ہو چکا ہے ۔بس ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں ۔مسرت کی گھڑیاں آئی ہی چاہتی ہیں ۔ ان شاء اللہ

 

1۔ طوائف الملوکی کا دور اور صلیبیوں کی آمد آمد

 

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے آخری سالوں پر گفتگو کرنے کا، یہ ایک تقاضا ہے کہ صلیبی جنگوں کے (۴۹۱ھ/۱۰۹۷ء)میں شروع ہونے اور بڑھنے سے قبل عالم اسلام پر ایک نگاہ اگرچہ طائرانہ ہی سہی ڈالی جائے ، ا ور خاص طور پراس علاقے پر جو صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے پروان چڑھنے کے لیے سازگار ثابت ہوا، اور وہ ہیں جزیرہ فراتیہ، شمالی عراق اور مصر کے علاقے ۔

صلیبی جنگوں کے حوالے سے اس سابقہ دور کی “سیاسی زندگی”کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔پورے عالم اسلام میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی، صرف بغداد ہی کو لیجئے ، خلافت عباسیہ دگرگوں اور ڈانواں ڈول تھی، اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ سلجوقی بادشاہوں کے اشارے پر کام چلایا جا رہا تھا۔اسی لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ “حکومت بویہیہ”کی نسبت “حکومت سلجوقیہ “خلافت عباسیہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔اس لیے کہ یہ لوگ “اہل سنت “اور وہ “اہل تشیع”تھے ۔اس خلافت نے ان دوسروں کے تسلط سے بچتے ہوئے کٹھن مراحل میں سانس لیا۔اور یقیناً حکومت سلجوقیہ کا اس علاقے میں اہل سنت عقائد کی ترویج واستحکام میں اور رومی معرکوں کی روک تھام میں اہم کردار ہے ۔یہ وہی حکومت ہے جس نے (۴۶۳ھ /۱۰۷۱م )میں “ملاذکرد”کے فیصلہ کن معرکہ میں برابر کا ماپ دیا تھا(یعنی رومیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا)

لیکن ابھی ۱۰۹۷ء کا برس شروع نہ ہوا تھا کہ یہ حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور باہم متصادم، ایک دوسرے سے دست گریباں اور ایک دوسرے کو زیر کرنے والی پانچ سلجوقی حکومتیں بن بیٹھیں اور پھر بتدریج ان صلیبی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے سے عاجز آتی گئیں جب کہ مصر “خلافت فاطمیہ “کے زیر اثر تھا، جہاں پر ہنگامہ آرائی نے اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے اور پھر یہ دن بدن چاروں طرف پھیلتے ہی چلے گئے ۔بالآخر نوبت بایں جارسید کہ حلیفوں وزیروں اور سرداروں میں ختم نہ ہونے والے جھگڑے طول پکڑ گئے ۔

مذکورہ حالات سے بڑھ کر “ملک شام “تو فاطمیوں اور سلجوقیوں کی کھینچا تانی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ان دونوں قوتوں کو اس بات کی پرواہ تک بھی نہ رہی کہ اپنے ملک اور رعایا کے لیے ضروری حقوق کا خیال ہی رکھ سکیں ۔

تو ان حالات میں چھوٹی چھوٹی اور حقیر سی طوائف الملوکی پر مبنی گروہی حکومتوں نے جنم لیا۔کچھ تو ایسی بھی تھیں کہ جن کے پاس ایک قلعے سے زیادہ اور تھوڑی سی زمین کی ٹکڑی کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔یہ عجیب و غریب حکمران آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جھگڑنے اور ظلم و زیادتی کرنے والے بنتے چلے گئے ۔ابوشامہ کے بقول۔کسی کا اپنے پیٹ اور شرمگاہ سے آگے کوئی پروگرام نہ تھا۔

 

 

2۔ پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس

 

پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پذیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی تھی مسیحی اقوام کو اپنی ناپاک آرزو کی تکمیل کا موقع مل گیا۔”میڈیا وار”کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی فرضی داستانیں سنا کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور مسیحی دنیا میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگا دی۔پوپ اربن دوم نے اس جنگ کو” صلیبی جنگ” کا نام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے جنتی ہونے کا مژدہ سنایا۔زبردست تیاریوں کے بعد فرانس، انگلینڈ، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیرہ لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا۔روبرٹ، نارمنڈی، گاڈفری اور ریمون الطولوزی جیسے مشہور یورپی فرمانروا ان بپھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے ۔شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان ۴۹۲ھ جولائی ۱۰۹۹ء میں صلیبی افواج نے بیالیس دن کے محاصرے کے بعد بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور وہاں خون کی ندیاں بہا دیں ۔فرانسیسی مورخ “میشو”کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا جس کی مثال نہیں ملتی، عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھت سے گرایا گیا، آگ میں زندہ جلایا گیا، گھروں سے نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح گھسیٹا گیا، صلیبی جنگجو، مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جا کر قتل کرتے ، کئی ہفتوں تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہا، سترہزار سے زائد مسلمان (صرف اقصیٰ میں )تہ تیغ کیے گئے ۔عالم اسلام پر نصرانی حکمرانوں کی یہ وحشیانہ یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے ۔

عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبری کا پیغام بھجوایا اور اس میں لکھا :”اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک معلوم کرنا چاہیں تو مختصراً اتنا لکھ دینا کافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ السلام کے معبد (مسجد اقصیٰ)میں داخل ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔”)تاریخ یورپ اے جے گرانٹ ص ۲۵۷)

بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسیحی اقوام نے مقبوضہ شام وفلسطین کو تقسیم کر کے القدس، طرابلس، انطاکیہ اور یافا کی چار مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں ، حالات نہایت پرخطر تھے ، عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے ، بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے ، ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے ٹکرانے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا۔

 

3:ایک سال میں تین صلیبی حکومتوں کا قیام

 

اس صورتحال میں صلیبیوں کا مسلمان ملکوں میں داخلہ آسان تر بنتا گیا، یہاں تک کہ صرف ایک سال اور چند ماہ کے مختصر عرصے میں اس حساس اسلامی خطے میں ان صلیبیوں کی مندرجہ ذیل تین صلیبی حکومتیں معرض وجود میں آ گئیں ۔

۔

۔۱     “رھا”کی حکومت جو ۱۰ مارچ ۱۰۹۸ء کو قائم کی گئی۔

۔۲     “انطاکیہ “کی حکومت :اسی سال ہی “حزیران”میں قائم ہوئی جس نے “القدس “شہر پر قبضہ کر لیا۔ پھر ۱۰۹۹ء میں “القدس”شہر میں اس حکومت کو منتقل کر دیا گیا۔پھر یہ شہر صلیبیوں کے ہاتھوں ہی میں چلتا آیا۔یہاں تک کہ (۸۸برس بعد)صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے ۱۱۸۷ء میں ان سے واپس لیا۔

۔۳    “طرابلس”کی حکومت :یہ ۱۱۰۹ء میں بنائی گئی۔

۔

 

صلیبیوں کی اس تیز رفتاری سے حکومتیں بنا لینے میں ہمیں زیادہ حیرانی نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ ہم گذشتہ پشیمان کن اور ذلت آمیز اسباب دیکھ چکے ہیں ۔اور اس سے بڑھ کر یہ حالت دیکھتے ہیں کہ ہمارے ان قلعوں کے والیوں اور شہروں کے امراء میں سے چند ایک تو ان حملہ آوروں سے باقاعدہ تعاون بھی کیا کرتے تھے ۔اپنے مال اور اپنی اولاد ان کے سامنے حاضر خدمت کر دیا کرتے تھے ، اس حال میں کہ وہ ” القدس “شہر پر قبضہ کرنے والے تھے ۔جیسا کہ “شیزر”میں بنو منقذ نے کیا اور” طرابلس “میں بنو عمار نے یہ غدارانہ کام کیا۔اور ان میں کچھ اور بھی ہیں ، جوان کے نقش قدم پر چلے ، جو اپنی حقیر، کمینی اور ذلیل حکومتوں کو بچانے کے عوض اس قومی خیانت اور ذلت پر راضی ہو بیٹھے تھے ۔

 

 

4:بیداری کا زمانہ

 

تقریباً چالیس سال تک عالم اسلام پر جمود طاری رہا، پھر یکایک ان ساکت لہروں میں جہادی اضطراب پیدا ہونا شروع ہو گیا۔یہ بالکل نہیں ہوسکتا تھا کہ مسلمان انہی حالات میں سے گزرتے چلے جائیں ۔ان مایوسیوں کے بعد امت کا شعور بیدار ہونا شروع ہوا، ان سے نجات پانے اور رہائی حاصل کرنے کے لیے سوچیں پروان چڑھنے لگیں ، کیونکہ مسلمانباوجود ان کٹھن حالات کے جوان پر چھائے ہوئے تھے پھر بھی قرآن پاک، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اپنے دلوں میں ، اپنے وجود کے رویں رویں میں (اور ریشے ریشے میں )ان اسلامی عقائد و تعلیمات کو جگہ دیتے آئے ہیں ۔

 

5:عماد الدین زنگی کے ہاتھوں صلیبیوں کی ٹھکائی

 

ان کربناک حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ترکی نوجوان “عماد الدین زنگی”کو اس کام کے لیے حوصلہ بخشا، یہاں تک کہ۵۲۱ھ میں موصل کی چھوٹی سی ریاست اس کے ہاتھ لگ گئی۔پھر اس نے بتوفیق الٰہی اپنی شان عبقری، جرأت و ہمت، جذبہ ایمانی اور غیرت اسلامی کے جذبوں سے سرشار ہو کر، مسلمانوں کی آرزوؤں اور تمناؤں پر لبیک کہتے ہوئے اس مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا۔اپنی مختصر سی اسٹیٹ کو اس طرح وسیع کیا کہ حلب، حماۃ اور حمص کے علاقے اپنے ساتھ ملا لیے ۔جس سے ایک چھوٹا سا “متحدہ اسلامی بلاک “بن گیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس جہاد کی برکت سے “الرھا” کا علاقہ صلیبیوں سے وا گذار کروا لیا اور ۵۳۹ھ بمطابق ۱۱۴۴ء میں عیسائیوں کی اس حکومت کو ختم کر دیا، تو مسلمانوں نے کسی حد تک راحت و اطمینان کا سانس لیا۔ان کی خود اعتمادی پلٹ آئی انہوں نے “الرھا”شہر پر اپنے دوبارہ قبضے کو “فتح الفتوح” کا نام دیا۔

عماد الدین زنگی کے پے درپے حملوں نے عیسائی دنیا فاتحین کے دماغ سے تمام اسلامی دنیا کو زیر نگیں کرنے کا خیال رخصت کر دیا اور وہ فلسطین اور شام کی مقبوضات کے دفاع کو اپنی بڑی کامیابی سمجھنے لگے تاہم عماد الدین زنگی رحمہ اللہ نے ان کی یہ خام خیالی بھی دور کر دی اور حصن بارین، “بعلبک”اور “رھا”کے اہم مراکز ان کے قبضے سے آزاد کرا لیے ۔

پھر وہ اس اسلامی بلاک کی توسیع میں مسلسل کوشاں رہا۔اس نے اپنی جہادی یلغاروں کو جاری رکھا۔یہاں تک کہ اس نے ان دخل انداز غاصب صلیبیوں کے ناپاک وجود کو ہلا کر رکھ دیا بالآخر ۵۴۱ھ میں “جعبر”نامی قلعے کے محاصرے کے دوران امت مسلمہ کا یہ عظیم سپہ سالار اور مجاہد شہید کر دیا گیا (انا للہ وانا الیہ راجعون)

 

6:نورا لدین محمود رحمہ اللہ اور اس کے جہادی عزائم

 

پھر اس کے ہونہار سپوت نورالدین محمود رحمہ اللہ نے اس علم کو اٹھایا، اللہ تعالیٰ نے اسے صلیبیوں کے ساتھ جہاد کا سچا جذبہ عطا فرمایا۔ا س نے کتنے ہی قلعے اور شہر صلیبیوں کے قبضے سے واپس لیے ۔اللہ تعالیٰ بھی اسے اس کی خلوص نیت اور رفتارِ عملِ جہاد کی نسبت سے اپنی مدد خاص سے نوازتا رہا۔یہاں تک کہ اس نے “القدس”شہر صلیبیوں سے چھڑوانے کا مصمم ارادہ کر لیا، یہاں تک ہی نہیں بلکہ اس نے “بیت المقدس “میں رکھوانے کے لیے ایک منبر بھی بنوایا، کاریگروں کو انتہائی مہارت اور دلچسپی سے بنانے کا حکم دیا۔بڑھئی حضرات کو یوں سمجھایا کہ “ہم نے اسے “بیت المقدس “کی زینت بنانا ہے لہٰذا اپنے فن کی مہارتوں کی انتہاء کر دو”چنانچہ کاریگروں نے کئی سالوں کی محنت شاقہ سے اسے تیار کیا۔امام ابن الاثیر “الکامل “میں اس پر یوں رقمطراز ہیں :

((افجاء علی نحو ، لم یعمل فی الاسلام مثلہ))

کہ یہ ایسا کارنامہ ہے جو اس سے قبل کوئی مسلمان انجام نہ دے سکا تھا”​

ان کوششوں کے ساتھ ساتھ اس نے اسلامی بلاک کو متحد اور بیدار رکھنے کی کاوشیں بھی تیز تر کر دیں ، جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے بکھری ہوئی ، چھوٹی چھوٹی من پسند قلعوں اور شہروں کی حکومتوں کی بجائے ایک طاقتور جہاد کو جاری رکھنے والی سلطنت عطا فرمائی ، جزیرۃ فراتیہ، سوریہ (یعنی شام)اردن مصر ، حجاز اور یمن اس سلطنت کے مضبوط پائے تخت سمجھے جانے لگے ۔

سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے صلیبیوں سے جہاد کا علم سنبھال لیا، اور اپنے مسلسل حملوں سے تمام دنیائے عیسائیت کو بدحواس کر دیا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ نورالدین زنگی کی قیادت میں مسلمان جلد یا بدیر بیت المقدس کو بازیاب کرا لیں گے ، اس خطرے کو بھانپ کر جرمنی کے بادشاہ کو نراد ثالث اور فرانس کے تاجدار لوئی ہفتم نے مشترکہ تیاری کے ساتھ ایک ٹڈی دل لشکر ترتیب دیا اور ۵۴۲ھ ۱۱۴۷ء میں عالم اسلام پر چڑھائی کر دی۔سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ نے مومنانہ شجاعت اور غیر معمولی استقامت کے ساتھ دوسال تک ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور انہیں عبرتناک شکست دے کرواپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔عیسائی حملہ آوروں کی اس دوسری مشترکہ یلغار کو تاریخ میں دوسری صلیبی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

چند سال بعد سلطان نورالدین زنگی نے ایک زبردست معرکے میں دس ہزار صلیبی جنگجوؤں کو تہ تیغ کر کے ان کے اہم مرکز قلعہ حارم پر قبضہ کر لیا، بعد ازاں دنیائے عیسائیت کے مقابلے میں مضبوط مورچے تیار کرنے کے لیے انہوں نے دمشق اور مصر کو بھی زیر نگیں کر لیا۔رمیاط اور اسکندریہ کی بندرگاہوں پر تسلط کے بعد انہوں نے یورپ کے بحری راستے سے شام اور بیت المقدس کے عیسائیوں کی کمک کا راستہ بند کر دیا۔سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنی تیاریوں کو آخری شکل دے رہے تھے کہ ان کا وقت موعود آ گیا۔

کاش !ذات باری تعالیٰ اسے پورے عالم اسلام کو متحد کرنے کے لیے کچھ مہلت اور دے دیتی !۔وجود اسلامی کے ایک ایک رگ و ریشے میں روح اسلام کو سرایت ہو لینے دیتی !۔القدس شہر کو فتح ہو لینے دیتیمسجداقصیٰ میں اس منبر کو نصب ہو لینے دیتی۔

افسوس !کہ موت نے اے مہلت نہ دی اور پھر موت بھی اس حالت میں کہ ۵۶۹ھ میں قلعہ دمشق کے ایک معمولی سے کمرہ میں یہ اللہ کا مجاہد و عاجز بندہ اللہ رب العزت کی بارگاہ اقدس میں مصروف عبادت تھا۔ابھی اس نے اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں ہی دیکھیں تھیں ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون!​

 

7:سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علم جہاد تھامتے ہیں

 

پھر اس کے پیچھے اس کے شاگرد رشید ناصر یوسف صلاح الدین نے بیت المقدس اور فلسطین کو آزاد کروانے کے لیے پھر سے اس علم جہاد کو اٹھا لیاصلاح الدین کی شخصیت میں تقریباً تمام اسلامی محاسن و خصائل کوٹ کوٹ کر بھر دئیے گئے تھے ۔اس میں بردباری و پرہیز گاری ارادے کی پختگی و پیش قدمی، دنیا سے بے رغبتی اور سخاوت، مہارت سیاسی و تدبیر عملی، ہمہ وقت جہاد کے لیے کمر بستہ، علم دوستی اور علماء کی قدر دانی جیسی اعلیٰ صفات قابل رشک تھیں ۔یقیناً جن کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی سربلندی، اپنے دشمنوں کی سرکوبی کے لیے چن لیتا ہے ان میں یہ صفات لازماً موجود ہوتی ہیں ، جو اپنا حصہ ڈال کر تاریخ اسلام کا رخ صحیح جانب موڑ دیتے ہیں ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی شخصیت اسلامی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش مقام رکھتی ہے ۔ان کی زندگی کا ہر لمحہ جہادِ مسلسل سے عبارت تھا، انہوں نے دین مبین کی سربلندی، کفر سے جہاد اور بیت المقدس کی بازیابی کے لیے انتھک جدوجہد کی اور اللہ بزرگ و برتر نے انہیں ان کے ارادے میں کامیاب کیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کا تعلق کرد قوم سے تھا جو شام ، عراق اور ترکی کی جنوبی سرحدوں میں پائی جاتی ہے ۔ان کے والد نجم الدین ایوب مشرقی آذربائیجان کے ایک گاؤں “ودین”کے رہنے والے تھے ، بعد میں وہ شام آ کر عمادالدین زنگی کی فوج میں شامل ہو گئے ۔ان کے بھائی “اسد الدین شیر کوہ”بھی ان کے ساتھ تھے ۔دونوں نے اپنی صلاحیتوں کی بناء پر نمایاں ترقی کی۔نجم الدین ایوب کے بیٹے ہونے کی حیثیت سے صلاح الدین ایوبی کے لیے بھی ترقی کے راستے کھل گئے ۔سلطان نور الدین زنگی نے ان کی قابلیت دیکھتے ہوئے مصر کی فتح کے لیے انہیں اسد الدین شیر کوہ کا دست راست بنا کر روانہ کیا۔مصر پر قبضہ کے کچھ عرصے بعد جب شیرکوہ نے وفات پائی تو نورالدین زنگی کے نائب کی حیثیت سے صلاح الدین ایوبی نے وہاں کی حکومت سنبھال لی۔۵۵۹ھ میں سلطان نورالدین زنگی کی وفات کے بعد صلاح الدین ایوبی مصر کے خود مختار حاکم بن گئے ۔بعد ازاں انہوں نے دمشق اور شام کی چند دیگر چھوٹی چھوٹی کمزورمسلم ریاستوں کو بھی اپنی تحویل میں لے کر ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی جو صلیبی حکمرانوں کی متحدہ طاقت کا مقابلہ کرنے اور انہیں اسلامی مقبوضات سے نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھی۔

اس سے قبل سلطان کی زندگی ایک عام سپاہی کی سی تھی مگر حکمران بنتے ہی ان کی طبیعت میں عجیب تبدیلی پیدا ہوئی۔انہوں نے راحت و آرام سے منہ موڑ لیا اور محنت و مشقت کو خود پر لازم کر لیا۔ان کے دل میں یہ خیال جم گیا کہ اللہ کو ان سے کوئی بڑا کام لینا ہے جس کے ساتھ عیش و آرام کا کوئی جوڑ نہیں ۔وہ اسلام کی نصرت و حمایت اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کمربستہ ہو گئے ، ارض مقدس کو صلیبی جنگجوؤں کے وجود سے پاک کرنا انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران اسی کام کے کرنے کی کوشش کی۔اس کی شخصیت میں موجود خصائص و کمالات کا بھی یہی تقاضا تھا کہ تاریخ اسلام میں ہمیشہ باقی رہنے والے کچھ شاندار اور عالی شان کارنامے سرانجام دے لے ۔تو قصہ مختصر اب لیجئے !اس کے کچھ ایسے ہی اعمال اور کارناموں کا بیان بھی ملاحظہ ہو:

 

حطین میں صلیبیوں پر قہر و غضب

 

حطین بحیرہ طبریہ کے مغربی جانب واقع ہے ، جو اب مقبوضہ فلسطین میں ہے ۔یہ ایک سرسبز شاداب بستی ہے جس میں پانی کی فراوانی بھی ہے ۔اس میں جیسا کہ زبان زد عام ہے ۔کہ شعیب علیہ السلام کی قبر بھی موجود ہے ۔اس بستی کے قریب ہی سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا صلیبیوں سے ایک خونریز معرکہ ہوا تھا، وہ کس طرح ہوا تھا ؟ابھی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں ۔

۵۸۳ھ میں ماہ ربیع الاول کی ۲۴ تاریخ کو بروز ہفتہ یہ معرکہ بپا ہوا۔اس معرکہ سے قبل صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی حالت مضبوط، قوت بازو توانا، لشکر جرار، اور لوگوں کا جم غفیر اس کے ایک اشارہ پر آبرو اسلام پر جانثار ہونے کو تیار تھا۔سلطان صلاح الدین نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان تمام نعمتوں اور قوتوں کو صلیبیوں کے مقابلے میں کرنا چاہا تاکہ ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے ۔

 

8:پیاس کی شدت کا عذاب اوپر سے مجاہدین کی یلغاریں

 

انہیں یہ خبر ملی تھی کہ ، ، صفوریۃ ” کی چراگاہ میں صلیب کے پجاری اپنے لاؤ لشکر سمیت اکھٹے ہو رہے ہیں ۔سلطان اپنے لشکروں سمیت حطین کے علاقے بحیرہ طبریہ کے غربی پہاڑ پر ان کے قریب ہی خیمہ زن ہوا۔اس نے صلیبیوں کو ابھارا اور انہیں وہاں سے نکال کر ایسے علاقے میں لانے میں کامیاب ہو گیا جہاں پانی نہ تھا۔راستوں میں جو چند چشمے اور تالاب تھے ان کو بھی مسلمان مجاہدین نے ناقابل استعمال بنادیا تھا۔

جب مسلمان اور صلیبی ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو شدت پیاس سے صلیبی بہت تنگ ہوئے ۔اس کے باوجود وہ اور مسلمان ڈٹ کر لڑتے رہے ، بہادری اور صبر سے داد شجاعت دیتے رہے ، مسلمانوں کے مقدمۃ الجیش یعنی سپاہ کے اگلے دستے بلندی پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے ۔جس کے بعد انہوں نے ان اللہ کے دشمنوں پر تیروں کی بوچھاڑسے وہ بارش برسائی کہ وہ منتشر ٹڈی دل کا حملہ ہو، اس سے دشمن کے ان گنت گھوڑ سوار واصل جہنم ہوئے ۔اس دوران صلیبیوں نے بارہا پانی والی جگہ کی طرف بڑھنے کی کوششیں کیں کیونکہ وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ صرف شدت پیاس ہی کی وجہ سے وہ کثیر تعداد میں مر رہے ہیں ۔اس بیدار مغز قائد وسپہ سالار نے ان کے ارادوں کو بھانپ لیا تو وہ ان کے اور ان کی مطلوبہ چیز یعنی پانی کے درمیان حائل رہا اور ایسے ہی ان کی شدت پیاس کو برقرار رکھا

 

9:جوش جہاد اور طلب شہادت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر

 

پھر خود بنفس نفیس طوفانی موجوں کی طرح مسلمانوں کے پاس پہنچ پہنچ کر انہیں ابھارتا رہا، جو اس شہادت کے صلے میں انہیں اللہ کے پاس ملنے والا تھا، اس کی رغبت دلاتا رہاشوق جہاد پیدا کرتا رہا۔ان صابر اور صادق مجاہدین کے اللہ کی تیار شدہ نعمتوں کو یاد دلاتا رہاتو مسلمانوں کی حالت دیدنی بن گئی کہ وہ موت یعنی مرتبہ شہادت کے حصول کے لیے دیوانہ وار آگے بڑھنے لگے ۔جوں جوں اپنے سالار کی حالت کو دیکھتے اور اس کی ایمان افروز باتوں کو سنتے تو ظاہری زندگی سے دست کش ہو کر جنت کی طرف لپکنے لگے گویا کہ اپنی زبان حال سے یوں پکار رہے ہوں کہ”ہمیں ان صلیبیوں کی صفوں کے پیچھے جنت مل رہی ہے ۔”

 

 

10:اچانک ایک نوجوان بجلی کی طرح تلوار لیے نکلتا ہے

 

چشم زدن میں ایک نوجوان مسلمانوں کی صفوں سے بجلی کی طرح نمودار ہوا، اور صلیبیوں کی صفوں کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہو گیا، جیسے “موت پر بیعت “کرنے والے لڑتے ہیں ، ایسی بے جگری سے لڑا کہ دشمن حیران و ششدر رہ گیا۔پھر دشمن اس پر ٹوٹ پڑے اوراسے شہید کر دیا۔اس کا شہید ہونا کیا تھا کہ پٹرول کے خزانوں میں آگ سلگادی گئی ہو۔مسلمان طیش میں آ گئے ، ان کے سینوں میں جوش انتقام کا طوفان ٹھاٹھیں مارنے لگا۔لہٰذا انہوں نے ایسا نعرہ تکبیر بلند کیا، کہ جسے کائنات کے کناروں نے سنا ہو گا اور آفاق عالم نے جس کا جواب دیا ہو گا۔پھر مسلمانوں نے صلیبیوں پر وہ پُر خلوص فدائیانہ اور جانثارانہ حملے کیے جنہوں نے صلیبیوں کی صفوں کو تتربتر کر کے رکھ دیا، صلیبی فوج کے سربراہ “الکونثار ریمونڈ” کا دل مایوسی اور ناامیدی سے بھر گیا، اس نے میدان جنگ سے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا؟اس نے اپنا ایک گھوڑسوار دستہ اکھٹا کیا اور قریبی مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تاکہ بھاگنے کے لیے کوئی راستہ بنا سکے ۔لیکن اس جانب سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھتیجا تقی الدین عمر مقرر تھا، جب اس نے دیکھا کہ وہ ایک مصیبت زدہ اور مایوس آدمی کے حملہ کرنے کی طرح حملہ آور ہیں ، کوئی راہ فرار چاہتے ہیں ، تو اس نے انہیں بھاگنے کی راہ دے دی۔انہوں نے جان کی امان میں ہی عافیت جانی اور دم دبا کر بھاگ نکلے ۔وہ ایسے بھاگ رہے تھے کہ پلٹ کر بھی نہ دیکھتے تھے ، کیونکہ ان کی مطلوب ایک ہی چیز تھی کہ بھاگو بھاگو اور جان بچاؤ۔

 

 

11:آگ کا بطور جنگی ہتھیار استعمال

 

اور یہ بھی اتفاق کی بات تھی کہ وہ علاقہ ایسا تھا جہاں خشک گھانس اور خزاں زدہ خشک درخت بکثرت موجود تھے اور وہ دن بھی انتہائی زیادہ گرمی والے ، لُو چلنے کے ایام تھے ، مسلمانوں نے اس میں آگ لگا دی، آگ بڑھی ، شعلے اٹھے ، ہوا کا رخ بھی صلیبیوں کی طرف تھا۔تو اس طریقے سے صلیبیوں پر کئی حرارتیں حملہ آور تھیں یعنی آگ کی حرارت، دھوئیں کی حرارت۔پیاس کی حرارت قتال کی حرارت اورموسم کی حرارت۔سب کی سب اکٹھی ہو گئیں تھیں ۔ا س سے قبل انہوں نے ایسا حال کبھی نہ دیکھا ہو گا(کیونکہ یہ صلیبی اکثر سرد اور برفانی علاقوں کے رہنے والے تھے )

 

 

12:عبرتناک اور حسرتناک موت کا یقین

 

انہیں اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ کوئی راستہ انہیں موت سے بچا نہیں سکے گا سوائے اس کے کہ اپنے “عقیدہ” کا۔ خواہ وہ کیسا بھی ہے ۔دفاع کرنے والے کی طرح بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے موت کی طرف ہی بڑھا جائے ۔ادھر ان مسلمانوں کا کیا جوش اور ولولہ ہو گا جو اپنے سچے عقیدے کے ساتھ لڑ رہے تھے ، جن کے گھر بار لوٹ لیے گئے تھے جن کے علاقے چھین لیے گئے تھے ۔

صلیبی ایک بار پھر جمع ہوئے ، مسلمانوں پر کئی حملے کئے ، قریب تھا کہ مسلمانوں کو ان کی جگہوں سے ہٹا دیتے اگر ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت نہ ہوتی۔بس یہ ہوتا رہا کہ ہر بار صلیبی جب حملے سے واپس پلٹتے تو مقتولین اور مجروحین کی تعداد میں اضافہ ہی پاتے یہاں تک کہ کمزور سے کمزور ترہی بنتے گئے ۔امام ابن الاثیر کے بقول :مسلمانوں نے انہیں دائرے کے محیط کی طرح گھیر ے میں لے لیا، کچھ باہر بچے تو وہ حطین کی ایک جانب ایک ٹیلے پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے ، وہاں انہوں نے اپنے خیمے نصب کرنے چاہے تو مسلمان ان پر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے ، اکثر کو واصل جہنم کیا پھر بھی وہ ایک خیمہ نصب کرنے میں کامیاب ہوہی گئے اور وہ بھی اپنے بادشاہ کا خیمہ

 

 

13:صلیب اعظم پر مجاہدین کا قبضہ

 

مسلمانوں نے دریں اثناء ان سے اس”صلیب اعظم “کو چھین لیا جس کو “صلیب الصلبوت”کہتے تھے ۔ اس صلیب کا مسلمانوں کے قبضہ میں آ جانا ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی بن گئی۔اوپر سے اللہ کا لشکر یعنی مسلمان انہیں تہ تیغ کیے جا رہے تھے اور بے شمار کو قیدی بھی بنا رہے تھے ، یہاں تک کہ اس ٹیلے پر بادشاہ کے خواص اور بہادر تقریباً ڈیڑھ صد گھوڑ سوار باقی رہ گئے ۔

 

 

14:صلیبی بادشاہ کے خیمے کی تباہی اور سجدہ میں شکرانہ کے آنسو

 

یہاں سے ہم صلاح الدین کے بیٹے سلطان افضل کی بات آپ کے سامنے رکھتے ہیں جو اس نے معرکہ کے اس مرحلہ سے متعلق اپنی عینی شہادت کے طور پر بیان کی ہے ، وہ بتاتا ہے کہ “میں بھی اس معرکہ میں اپنے ابو کے ہمراہ تھا۔ان فرنگیوں نے اپنے مدمقابل مسلمانوں پر ایک بارگی ایک بڑا خطرناک حملہ کیا، یہاں تک کہ انہیں میرے ابو کے قریب تک لے آئے ۔میں نے اپنے ابو جان کی طرف نگاہ اٹھائی تو چہرے پر پریشانی اور غصے کے آثار دیکھے ، انہوں نے اپنی ریش مبارک کو پکڑا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔مسلمانوں نے ان کی پیروی کی۔فرنگی شکست کھا کر پیچھے ہٹے اور ایک ٹیلے تک پہنچ کر پناہ گزیں ہوئے ۔میں اس دم زور زور سے چلا رہا تھا :”ہم نے انہیں ہرا دیا، ہم نے انہیں شکست دے دی !! فرنگی دوبارہ پلٹے ، دوسری بار پھر حملہ آور ہوئے ۔انہوں نے اپنے سامنے والے مسلمانوں کو پھر میرے ابو تک پہنچا دیا۔میرے ابو جان نے دوبارہ پہلے کی طرح کیا، مسلمان بھی ان کے ساتھ ہی جھپٹے اور یوں دوبارہ انہیں اس ٹیلے تک پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

دراصل سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اپنا یہ فعل و عمل اس انداز سے کر رہے تھے جس انداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم بدر میں کیا تھا۔جیسا کہ سیدنا علی بن ابی طالب روایت بیان کرتے ہیں :”جب لڑائی اپنے جوبن پر ہوتی، آنکھیں جوش انتقام میں سرخ ہو چکی ہوتیں تو لوگ آپ کے پاس آ کر اپنے آپ کو بچایا کرتے تھے ، لڑائی کی اس حالت میں آپ دشمن کے قریب تر ہوا کرتے تھے ۔”یہ بات کوئی قابل تعجب بھی نہیں ۔بلکہ ایسے مرحلے میں ایک حقیقی مومن سپہ سالار کو جو صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ جیسا ہو، اسے رسول ﷺ کی پیروی ہی کرنی چاہیے ۔

جب مسلمان دوسری مرتبہ افرنگیوں پر جھپٹے افضل پھر چلانے لگا :”ہم نے انہیں شکست دے دی۔ہم نے انہیں ہرا دیا۔!!تو اس کا باپ(سلطان )اس کی طرف پلٹا اور اسے کہا :”چپ ہو جا جب تک اس خیمہ کو اکھاڑ نہ لیں ہم نے انہیں شکست نہیں دی “یہ صلیبی بادشاہ کے اس خیمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ٹیلے پر نصب کیا گیا تھا۔صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے ابھی اپنا یہ جملہ پورا بھی نہ کیا تھا کہ مجاہدین کی طرف سے اس خیمے کو زمین بوس کیا جاچکا تھا۔سلطان نے یہ دیکھتے ہی اپنے گھوڑے سے نیچے اترا ور بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کیا۔اس کے ساتھ ہی، جو اللہ نے مسلمانوں پر انعام فرمایا تھا، آپ کے گندم گوں رخساروں پر خوشی وانبساط کے آنسو موتی بن کر بہہ رہے تھے ۔اللہ اکبر !یہ یادگار معرکہ فلسطین کی صلیبی ریاستوں کے مکمل خاتمے اور بیت المقدس کی آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔اس معرکہ کے متعلق مغربی مورخ لین پول لکھتا ہے :”کٹے ہوئے سر خربوزوں کی فصل کی مانند ہر طرف بکھرے پڑے تھے ۔”

 

15:مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن کی گرفتاری

 

مسلمان ٹیلے پر چڑھ گئے ، تمام فرنگیوں کو قیدی بنا لیا۔ان میں بیت المقدس کا بادشاہ “جان نورجیان” اور “کرک” قلعہ کا مالک “البرنس اُرناط”بھی شامل تھا۔تمام فرنگیوں میں اس سے بڑھ کر مسلمانوں کا کوئی دشمن نہ تھامسلمانوں نے ان میں سب سے عظیم المرتبت بری فوج کے کمانڈر ان چیف “جیرارڈی ریڈ فورٹ”کو بھی گرفتار کر لیا۔مسلمانوں نے ان کے بہت سے سرکردہ لیڈروں کو بھی قابو کر لیا تھا۔ان کے علاوہ بری فوج اور صحرائی و بیابانی فوج کے دستوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خلاصہ یہ کہ ان میں واصل جہنم بھی بکثرت ہوئے اور بکثرت ہی گرفتار ہوئے ۔جو کوئی ان کے مقتولوں کو دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ کوئی ایک بھی گرفتار نہ ہوا ہو گا (یعنی سب کے سب واصل جہنم ہو گئے ہیں )جو کوئی ان کے قیدیوں پر نگاہ ڈالتا تو یہ خیال کرتا کہ کوئی بھی قتل نہیں ہوا ہو گا(یعنی سب کے سب قیدی بنا لیے گئے ہیں ۔یعنی وہ اس کثرت سے مقتول اور قیدی ہوئے تھے )ان ظالموں کو جب سے (۴۹۱ھ /۱۰۹۷م )سے یہ ان اسلامی ممالک میں گھسے ہیں ، اتنا بڑا نقصان برداشت نہیں کرنا پڑا تھا اس معرکہ میں عیسائی مورخ مچاڈ اس جنگ میں عیسائیوں کے نقصان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تفصیل سے لکھتا ہے :

“فتح مسلمانوں کی طرف مائل ہو چکی تھی لیکن رات نے دونوں فوجوں کو اپنے تاریک پردے میں چھپا لیا، اور فوجیں اسی طرح ہتھیار پہنے ہوئے جہاں تھیں صبح کے انتظار میں پڑ رہیں ۔ایسی رات میں آرام کس کو نصیب ہوسکتا تھا۔سلطان تمام رات فوجوں کو جنگ کے لیے برانگیختہ کرتا رہا۔نہایت پر جوش الفاظ میں ان کی ہمت اور حوصلوں کو بڑھانے کی کوشش کی۔تیر اندازوں میں چار چار سو تیر تقسیم کر کے ان کو ایسے مقامات پر متعین کیا کہ عیسائی فوج ان کے احاطہ سے نہ نکل سکے ۔”

 

16:تیس ہزار صلیبی فوجی مجاہدین کے ہاتھوں کٹتے ہیں !

 

عیسائیوں نے تاریکی سے یہ فائدہ اٹھایا کہ اپنی صفوں کو قریب قریب یکجا کر لیا، لیکن ان کی طاقت صرف ہو چکی تھی۔دوران جنگ بعض اوقات وہ ایک دوسرے کو موت کی پرواہ نہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے اور بعض اوقات آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے اپنی سلامتی کی دعائیں مانگتے تھے ۔کسی وقت وہ ان مسلمانوں کو جوان کے نزدیک تھے دھمکیاں دیتے تھے ۔اور اپنے خوف کو چھپانے کے لیے ساری رات فوج میں ڈھول اور نفیری بجاتے رہے ۔

آخر کار صبح کی روشنی نمودار نمودار ہو گئی جو تمام عیسائی فوج کی بربادی کا ایک نشان تھی۔عیسائیوں نے جب صلاح الدین کی تمام فوج کو دیکھا اور اپنے آپ کو سب طرف سے گھر ہوا پایا تو خوفزدہ اور متعجب ہو گئے ۔دونوں فوجیں کچھ دیر تک ایک دوسرے کے سامنے اپنی اپنی صفوں میں آراستہ کھڑی رہیں ۔صلاح الدین حملہ کا حکم دینے کے لیے افق پر روشنی کے اچھی طرح نمودار ہو جانے کا انتظار کر رہا تھا۔جب صلاح الدین نے وہ مہلک لفظ پکار دیا تو مسلمان سب طرف سے یکبارگی حملہ کر کے خوفناک آوازیں بلند کرتے ہوئے (جس سے انگریز مؤرخ کی مراد نعرہ تکبیر اللہ اکبر ہے )ٹوٹ پڑے ۔عیسائی فوج کچھ دیر تک تو جان توڑ کر لڑی مگر ان کی قسمتیں ان کے دنوں کو ختم کر چکی تھیں ۔ان کی بائیں جانب کوہ حطین واقع تھا۔تلواروں اور نیزوں کے سایہ میں پناہ نہ دیکھ کر وہ حطین کی طرف بڑھے کہ اسی کو اپنا اپنا پناہ گاہ بنا لیں لیکن تعاقب کرنے والے مسلمان وہاں ان سے پہلے پہنچنے والے تھے ۔یہی مقام اس عظیم اور مہیب خونریزی کی یادگار ہونے (بننے )والا تھا۔ صلیب کی لکڑی جو “عکا”کے پادری کے ہاتھ میں تھی، پادری کے کٹ کر گر جانے پر “لذا”کے پادری نے سنبھالی مگر وہ مع صلیب کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہو گیا۔صلیب کو چھڑانے کی کوشش کرنا باقی عیسائی فوج کی موت کا باعث ہو گیا۔حطین کی زمین کشتوں سے بھر گئی۔خون کا دریا بہہ نکلا۔ایک روایت کے مطابق تیس ہزار عیسائی فوج کے خون سے رنگی گئی اور تیس ہزار ہی مسلمانوں کی قید میں آ گئے ۔مسلمانوں کی فوج کے نقصان کا کوئی صحیح اندازہ بیان نہیں کیا گیا مگر ایسی فتح آسانی سے نہیں ہوسکتی تھی۔عیسائی نائٹ اور سوار سر سے پاؤں تک لوہے کی زرہوں وغیرہ میں ایسے چھپے ہوئے ہوتے تھے کہ سوائے آنکھ کے ان کے جسم کا کوئی مقام کھلا نہیں ہوتا تھا اور کوئی ہتھیار آسانی سے ان پر کارگر نہیں ہوسکتا تھا۔”

 

17:جب چالیس چالیس صلیبی قیدی خیمے کی ایک رسی سے باندھے گئے !

 

ایک مسلمان مؤرخ اس امر کو بطور عجیب واقعہ بیان کرتے ہوئے جہادی عظمت کے حقائق کا انکشاف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:، ، عیسائی سوار سرتاپالوہے سے ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر نیزہ اور تلوار سے زخم لگانا مشکل ہوتا تھا۔اس لیے پہلے گھوڑے کو قتل کر کے سوار کو زمین پر گرانا پڑتا تھا اور پھر اس کو مارا جاتا تھا۔اسی سبب سے بے شمار ملا غنیمت میں کوئی گھوڑا مسلمانوں کے ہاتھ نہ آیا۔عیسائی مقتولوں کے سخت ہیبت ناک نظارے مؤرخوں نے بیان کیے ہیں ۔ان کی صفوں کی صفیں کٹی پڑی تھیں اور جدھر نظر جاتی تھی۔اسی طرح عیسائی کی تعداد بھی عظیم تھی۔ایک ایک رسی میں تیس تیس چالیس چالیس عیسائی باندھ دیئے گئے اور سو سو اور دو دو سو قیدیوں کو ایک جگہ بند کیا گیا، جن پر ایک ہی مسلمان محافظ تھا۔ایک شخص اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتا ہے کہ”ایک مسلمان سپاہی اکیلا ۴۰ عیسائی قیدیوں کو خیمہ کی رسی سے باندھ کر ہانکتا ہوا لے جا رہا تھا۔دمشق میں تین دینار کو ایک ایک عیسائی قیدی فروخت ہوا۔اور ایک سپاہی نے جس کے پاس جوتا نہ تھا، اپنے حصہ کے ایک عیسائی قیدی کو ایک کفش دوز (موچی)کے ہاتھ جوتے کے بدلے میں فروخت کیا۔مال غنیمت کی تقسیم سے ہر ایک غریب سپاہی بھی مالدار ہو گیا۔”

غرض اس قسم کے حالات ہیں جو بیان کیے گئے ہیں ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حطین کی شکست نے عیسائیوں کی طاقت کو جڑ سے اکھیڑ دیا تھا اور اس سے زیادہ ابتری اور تباہی کیا ہوسکتی ہے کہ عیسائیوں کی صلیب، عیسائیوں کا بادشاہ، ہر ایک عیسائی امیر اور نامور شخص مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو گیا تھا۔امراء اور نامور والیان ملک عیسائیوں میں صرف ایک شخص ریمنڈ صاحب طرابلس جو فوج کے پچھلے حصہ پر متعین تھا، میدان جنگ سے جان بچا کر بھاگ سکا، مگر موت نے وہاں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور طرابلس میں پہنچ کر دل شکنی سے یا ذات الجنب کے مرض سے مرگیا۔

 

18:سلطان کے خیمہ میں

 

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا خیمہ نصب کیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں پر شا کر، قابل رشک حالت میں خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا۔لوگ ان قیدیوں کو اور ان کے رسوائے زمانہ بڑے بڑے عہدیداروں کو، جن کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے ، باری باری سلطان کے سامنے لا رہے تھے ۔اس فاتح سلطان نے صلیبیوں کے بادشاہ یروشلم گائی اور “البرنس اُرناط”(ریجی نالڈ)کو اپنے خیمہ میں طلب کیا، بادشاہ کو ایک طرف بٹھا دیا گیا، اس کی حالت یہ تھی کہ شدت پیاس سے جاں بلب تھا، بس مرا ہی چاہتا تھا، اسے تھوڑا سا ٹھنڈا عرق گلاب پیش کیا، جسے اس نے پیا، اور پھر “برنس اُرناط”کو بھی پلایا۔صلاح الدین نے ترجمان سے کہا کہ اسے بتلا دو کہ “تو نے پانی پی لیا ہے جب کہ میں نے ابھی تک منہ سے بھی نہیں لگایا۔کیونکہ یہ مسلمان جرنیلوں کی شروع سے عادت چلی آ رہی ہے کہ جب ان کے قیدی، گرفتار کرنے والوں کے سامنے کچھ کھا پی لیتے ہیں تو انہیں دلی سکون مل جاتا ہے

 

 

19:وقت حساب آن پہنچا

 

جی ہاں ، حساب کی گھڑی آن پہنچی تھی، لیکن کس کا حساب؟اس اُرناط (ریجی نالڈ)کا حساب جو مسلمانوں کو اذیتیں اور تکالیف پہچانے (ان کو بری طرح تڑپا تڑپا کر مارنے )اور ان کی بد خواہی و دشمنی میں تمام صلیبی امراء میں سے پیش پیش رہتا تھا۔جو مسلمانوں سے فراڈ کرنے ، دھوکہ دینے اور وعدے توڑنے میں بہت گہرا آدمی تھا۔

صلاح الدین اور اُرناط(ریجی نالڈ)کے مابین ایک معاہدہ طے پایا تھا۔جس کے مطابق حاجیوں اور تاجروں کے قافلے صحراء اردن سے اُرناط کے قلعے “کرک”کے قریب سے بڑے اطمینان سے بلا خوف گزرتے رہے مصر اور شام کے درمیان بھی ایک راستہ برائے آمد و رفت بن چکا تھا۔ یہ دونوں شہراس ترقی پذیر بیدار اسلامی بلاک کے دو اہم بازو تھے جسے نورالدین نے منظم کیا تھا۔جس کا بعد میں صلاح الدین وارث بنا تھا، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں

ایک بار ایسے ہوا کہ ایک بہت بڑا قافلہ عمدہ سازوسامان لیے مصر سے بجانب شام رواں دواں تھا۔ان نفیس، عمدہ ترین اور بیش بہا گراں مایہ اشیاء پر نظر پڑتے ہی اُرناط کی رال ٹپکنے لگی۔اس نے تمام وعدوں کو پس پشت ڈال کر، قول و قرار کو توڑ کر، قافلے کو لوٹا اور سب اہل قافلہ کو گرفتار کر کے قیدی بنا لیا۔اور پھر ان سے یوں کہنے لگا:”(قُولُوا لِمُحَمَّدِکُم یُخلِصُکُم)کہ اپنے نبی محمد ﷺسے کہو کہ وہ یہاں آئے اور تمہیں چھڑا کر لے جائے “۔

۵۷۷ھ بمطابق ۱۱۸۱ء کو موسم گرما میں اُرناط اپنی فوجوں کو لے کر نکلا، بلاد عرب میں آگے بڑھتے بڑھتے شیماء کے علاقے تک آن پہنچا “المدینہ المنورہ “پھر “مکۃ المکرمۃ”تک چڑھائی کرنے کی اس کی نیت بن چکی تھیاس کے لیے وہ پر تول ہی رہا تھا کہ”فروغ شاہ”صلاح الدین کے بھتیجے نے ، جو دمشق پر اس کی طرف سے قائم مقام تھا، اردن پر حملہ کرنے میں پھرتی سے کام لیا، جس کی وجہ سے اُرناط اپنے “تخت سلطنت”کرک کو بچانے کے لیے واپس پلٹنے پر مجبور ہو گیا۔

اس کے انہی ظلم و جور پر مبنی افعال اور وعدوں کو توڑ کر کرنے والی حرکتوں کی وجہ سے صلاح الدین نے قسم اٹھا رکھی تھی اگر اللہ تعالیٰ نے اسے “اُرناط”پر کامیابی عطا فرمائی تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے واصل جہنم کرے گا

 

 

20:صلیبی گستاخ کا کربناک انجام

 

اب جبکہ حساب کا وقت قریب آن پہنچا تھا، اللہ تعالیٰ “اُرناط”کو جنگی قیدی کی صورت میں سلطان کے پاس لا چکا تھاتوسلطان صلاح الدین اسے اس کی ایک ایک حرکت اور کرتوت یاد دلانے لگااسے کہنے لگا:”تو کتنی بار قسمیں اٹھاتا رہا اور کتنی ہی بار انہیں توڑتا رہا میں نے بھی تمہارے متعلق دو مرتبہ قسم کھائی تھی۔ایک مرتبہ جب تو نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔دوسری مرتبہ اس وقت تو نے دھوکے سے حاجیوں کے قافلے پر حملہ کیا تھا اور کیا تو نے یہ بکواس نہ کی تھی کہ “اپنے نبی محمد(ﷺ)سے کہو کہ تمہیں چھڑا کر لے جائے “ہاں !اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ میں محمدﷺ کے لیے بدلہ لے رہا ہوں ۔

اس کے بعد اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جسے اس نے ٹھکرا دیا، پھر اس وقت سلطان ناصر صلاح الدین نے ایک تلوار نما خنجر کو، درمیان سے پکڑ کراسے مارا۔پھراس (سلطان)کے کسی ساتھی نے اس ملعون کا کام تمام کر دیا، پھر اسے گھسیٹا گیا۔مشہور و معروف قیدیوں کو دمشق کی طرف چلایا گیا اور ایک قلعے میں انہیں بند کر دیا گیا۔ابن شداد کے بقول “:مسلمانوں نے وہ رات انتہائی زیادہ مسرت و فرحت اور کمال درجے کی خوشیوں میں بسر کی۔اللہ رب العزت سبوح وقدوس کی تعریفوں اور شکرانے کے جملوں سے فضا گونج رہی تھی۔اللہ اکبر اور لاالٰہ الااللہ کی صداؤں میں اتوار کی صبح طلوع ہوئی۔

 

 

21:صلیبیوں پر صلاح الدین کی مہربانیاں

 

آخر ربیع الآخر ۵۸۳ہجری کے چہار شنبہ کے روز سلطان نے “عکا”کی طرف کوچ کیا۔یہ مشہور بندرگاہ جو تاجروں اور سوداگروں سے بھری ہوئی تھی اور جس نے بقول مؤرخ مچاڈ کے “پچھلے زمانہ میں مغرب کی نہایت طاقتور فوجوں کے حملوں کا تین برس تک مقابلہ کیا تھا “دو روز بھی سلطان کے مقابلے میں نہ ٹھہرسکی۔سلطان نے اہل شہر کو امان اور آزادی دی کہ اپنے سب سے قیمتی اسباب جو لے جا سکیں لے کر وہاں سے چلے جائیں ۔جمعہ کے روز سلطان شہر میں داخل ہوا قاضی فاضل بھی اس موقع پر مصر سے آ گئے اور سب سے پہلے نماز جمعہ ساحل کے علاقہ “عکا”میں پڑھی گئی۔اس کے بعد نابلس، حیفا، قیصاریہ، صفوریہ، ناصرہ یکے بعد دیگرے بہت جلد بغیر کسی مزاحمت کے فتح کر لیے گئے اور اسی سلسلہ فتوحات میں تمام ساحل کو چند ہی ماہ میں سلطانی افواج نے مسخر کر لیا۔

ایک مؤرخ نے ان میں سے بعض مشہور مقامات کے نام بہ ترتیب ذیل یکجا لکھ دیئے ہیں :

طبریہ، عکا، زیب، معلیا، اسکندرونہ، تتیین، ناصرہ، عور، صفوریہ، فولہ، جنیس، ارعین، دیوریہ، عصربلا، بیان، مبسطیہ، نابلس، لجون، اریحا، سنجل، بیرہ، یافا، ارسوف، قیصاریہ، حیفا، صرفد، صیدا، بیروت قلعہ، ابی الحسن، جبیل، نجدل یابا، مجدل حباب، داروم، عزہ، عسقلان، تل صافیہ، تل احمر، اطرو، بیت جریل، جبل الخیل، بیت اللحم، لاب، ریلہ، قریتا، القدس، صوبا، ہرمزصلح، عضوا، شقیف۔

ان مقامات میں سے اکثر تو سلطان نے امن اور مصالحت کے ساتھ لے لیے ۔ان کے باشندوں کو اپنا مال واسباب لے کر امن سے چلے جانے کی اجازت دی۔مصالح ملکی کے لحاظ سے سلطان اپنی نرمی اور ملاطفت کے سلوک میں غلطی کر رہا تھا کہ وہ متفرق باشندوں اور ان کی پریشان طاقتوں کو یکجا جمع ہو جانے اور اس جمعیت سے ایک مضبوط طاقت پیدا کر لینے کا موقع دے رہا تھا۔اس خطرناک غلطی کا اس کو آخر خمیازہ اٹھانا پڑا مگر کوئی اس قسم کا خیال اس کو اس احسان اور مروت کرنے سے باز نہ رکھ سکا۔وہ تمام عیسائیوں کو امن و امان دینے اور صلح کے ساتھ اطاعت کرانے کے لیے تیار رہا۔بعض مقامات کے لوگ اس سے مقابلہ کرنے پر تیار ہوئے مگر ان کو بھی امان دینے کے لیے جب وہ امان مانگیں وہ ہر وقت تیار تھا۔مثلاً عسقلان کے لوگوں نے جو ایک نہایت مضبوط اور ساتھ ہی نہایت مفید مقام تھا، کیونکہ مصر کے ساتھ براہ راست آمد و رفت کے تعلقات قائم کرنے کا ایک محفوظ اور کار آمد ذریعہ تھا، مقابلہ کیا اور جب سلطانی فوج نے قلعہ کو توڑ کر شگاف ڈالا اور سلطان نے باشندوں کو اس وقت بھی امن قبول کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے انکار کیا اور مقابلہ کے ارادہ کو نہ چھوڑا۔لیکن گوئی بادشاہ یروشلم نے جو سلطان کی قید میں سلطان کے ہمراہ تھا، اہل عسقلان کو سمجھایا کہ تم اپنے بچاؤ کی بے فائدہ کوشش میں اپنے اہل و عیال کی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو۔اس پر انہوں نے سلطان کے پاس آ کر صلح اور امن کی درخواست کی اور سلطان نے بقول مچاڈ:”ان کی شجاعت کی داد دینے میں جو شرائط انہوں نے پیش کیں منظور کر لیں اور اپنے بادشاہ کی نسبت ان کی محبت کے خیالات سے متاثر ہو کر بادشاہ کو ایک سال کے اختتام پر آزاد کر دینے کے لیے رضا مند ہو گیا۔”

 

22:دس ہزار مسلمان قیدیوں کی صلیبیوں کے ظلم سے رہائی

 

سلطان کو ان تمام التعداد مسلمان قیدیوں کے آزاد کرنے کا موقع ملا۔ایک شہر فتح کرنے کے بعد جو کام سب سے پہلے سلطان کرتا تھا، وہ قیدیوں کی زنجیریں توڑتا اور ان کو آزاد کرنا اور کچھ مال و متاع دے کر رخصت کر دینا ہوتا تھا۔اس سال میں سلطان نے دس (۱۰)ہزار سے زیادہ مسلمان قیدی آزاد کیے جو مختلف مقامات پر عیسائیوں کی قید میں تھے ۔

ساحل کے تمام ملک کے فتح ہو جانے پر صرف صور اور بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھ میں اور قابل فتح رہ گئے تھے ، اور یہ سب کچھ بیت المقدس کے واسطے تھا جو کیا گیا تھا۔یہ نورالدین رحمہ اللہ کی عمر بھر کی آرزو تھی جس کے پورا نہ کرنے پر سلطان نے اس کو اپنی زندگی کا مقصد اور تمنا قرار دیا تھا اور اسی ایک بڑے مدعا کو پیش نظر رکھ کر اپنے تمام کاموں کی علت ٹھہرایا تھا۔اسی غرض سے مسلمانوں حکومتوں کو منتشر طاقتوں اور پریشان اجزاء کو جمع کر کے ایک متحدہ طاقت بنانے کے لیے ایک عرصہ دراز تک لگا رہا اور سر توڑ کوششیں کی تھیں ، اور یہی دن تھے جن کا انتظار اس نے ایسے صبر اور تحمل کے ساتھ کیا تھا اور جن کے وہ اب اس قدر قریب پہنچ گیا تھا۔

 

 

23:جہادی جذبوں میں آگ لگا دینے والا شعلہ بیان خطاب

 

فتح عسقلان کے بعد سلطان نے تمام لشکروں کو جو اطراف و جوانب میں منتشر ہوئے تھے ، بیت المقدس کی طرف کوچ کرنے کے لیے جمع کیا اور علماء و فضلاء اور ہر فن اور علم کے اہل کمال کو جو اس عرصہ میں سلطان کی کامیابی کی خبریں سن کر مختلف ممالک و دیار سے اس کے پاس جمع ہو گئے تھے ، ساتھ لیا اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے ہوئے اس مقدس گھر کی طرف راہی ہوئے ۔بیت المقدس کے قریب پہننے پر جب عیسائیوں کی فوج کے ایک دستہ سے مسلمان لشکر کی ایک بڑھی ہوئی جماعت سے مڈبھیڑ ہو گئی تو سلطان نے تمام ارکان دولت، اہل شجاعت، شاہزادگان والا مرتبت، برادران عالی ہمت اور تمام امراء اور مصاحبین اور اہل لشکر کا ایک دربار مرتب کیا اور ان سب سے صلاح و مشورہ لیا اور خاتمہ پر ان سب کو خطاب کر کے ایک پر اثر تقریر کی اور کہا کہ :

“اگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم نے دشمنوں کو بیت المقدس سے نکال دیا تو ہم کیسے سعادت مند ہوں گے اور جب وہ ہمیں توفیق بخشے گا تو ہم کتنی بڑی بھاری نعمت کے مالک ہو جائیں گے ۔بیت المقدس ۹۱ برس سے کفار کے قبضہ میں ہے اور اس تمام عرصہ میں اس مقدس مقام پر کفر اور شرک ہوتا رہا ہے ایک دن بلکہ ایک لمحہ بھی اللہ واحد کی عبادت نہیں ہوئی۔اتنی مدت تک مسلمان بادشاہوں کی ہمتیں اس کی فتح سے قاصر رہیں ، اتنا زمانہ اس پر فرنگیوں کے قبضہ کا گذر گیا ہے ۔بس اللہ تعالیٰ نے اس فتح کی فضیلت آل ایوب کے واسطے رکھی تھی کہ مسلمانوں کو ان کے ساتھ جمع کرے اور ان کے دلوں کو ہماری فتح سے رضامند کرے ۔بیت المقدس کی فتح کے لیے ہمیں دل اور جان سے کوشش کرنی چاہیئے اور بے حد سعی اور سرگرمی دکھانی چاہیئے ۔بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ جس کی بنا تقویٰ پر ہے جو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کا مقام اور پرہیزگاروں اور نیکوکاروں کا معبد اور آسمان کے فرشتوں کی زیارت گاہ ہے ۔غضب کی بات ہے کہ وہاں کفار کا قبضہ ہے ۔کافروں نے اس کو اپنا تیرتھ بنا رکھا ہے ۔افسوس، افسوس !اللہ کے پیارے بندے جوق در جوق اس کی زیارت کو آتے ہیں ۔اس میں وہ بزرگ پتھر ہے جس پر جناب رسول اللہ ﷺ کے معراج پر جانے کا منہاج بطور یادگار بنا ہوا ہے جس پر ایک بلند قبہ تاج کی مانند تیار کیا ہوا ہے ، جہاں سے بجلی کی تیزی کے ساتھ براق برق رفتار سید المرسلین ﷺسوار ہو کر آسمان پر تشریف لے گئے اور اس رات نے سراج الاولیاء سے وہ روشنی حاصل کی جس سے تمام جہان منور ہو گیا۔اس میں سیدنا سلیمان علیٰ نبینا علیہ السلام کا تخت اور سیدنا داؤد علیہ السلام کی محراب ہے ۔اس میں چشمہ سلوان ہے جس کے دیکھنے والے کو حوض کوثر یاد آ جاتا ہے ۔یہ بیت القدس مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے ۔اور مبارک گھروں میں سے دوسرا اور دو حرمین شریفین سے تیسرا ہے ۔وہ ان تین مسجدوں میں سے ایک سے ایک مسجد ہے ، جس کے بارے میں رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ “ان کی طرف سفر کیا جائے اور لوگ ارادتمندی سے وہاں جائیں ۔”کچھ عجیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ وہ پاک مقام مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دے کہ ا س کا ذکر اس نے کلام پاک میں اشرف الانبیاء کے ساتھ مفصل بیان فرمایا ہے :

﴿سُبحَانَ الَّذِی اَسرٰی بِعَبدِہِ لَیلًا مِّنَ المَسجِدِ الحَرَامِ اِلَی المَسجِدِ الاَقصَی﴾اس کے فضائل اور مناقب بے شمار ہیں ۔اسی سے رسول خاتم الانبیاء ﷺ کو معراج ہوئی۔اس کی زمین پاک اور مقدس کہلائی۔کس قدر پیغمبروں نے یہاں عمریں گذاریں ۔اولیاء اور شہداء اور علماء و فضلاء اور صلحاء کو تو کچھ ذکر ہی نہیں ۔یہ برکتوں کی سرچشمہ اور خوشیوں کی پرورش گار ہے ۔یہ وہ مبارک صخرہ شریفہ اور قدیم قبلہ ہے جس میں خاتم الانبیاء ﷺ تشریف لائے اور آسمانی برکتوں کا نزول متواتر اس مقام پر ہوا۔اس کے پاس رسول مقبول ﷺ نے تمام پیغمبروں کی امامت کی جناب روح الامین ہمراہ تھے ، جب نبی ﷺ نے یہیں اعلیٰ علیین کو صعود فرمایا۔اسی میں سیدہ مریم علیہا السلام کی وہ محراب ہے جس کے حق میں پروردگار عالمین فرماتا ہے :﴿کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیھَا زَکَرِیَّا المِحرَابَ وَجَدَ عِندَھَا رِزقٌا﴾ اللہ کے نیک بندے اس میں تمام دن عبادت کرتے اور راتوں کو بیدار رہتے ہیں ۔یہ وہی مسجد ہے جس کی بناء سیدناداؤد علیہ السلام نے ڈالی اور سیدنا سلیمان علیہ السلام اس کی حفاظت کی وصیت کر گئے ۔اس سے بڑھ کر اس کی بزرگی کی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ پروردگار عالمین نے اس کی تعریف کو ﴿سُبحَانَ الَّذِی﴾سے شروع کیا۔سیدنا عمر رضی اللہ نے کمال سعی سے اس کو فتح کیا تھا کیونکہ اس کی تعریف میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک بزرگ سورہ کو شروع کیا اور قرآن کا نصف بھی وہیں سے شروع ہوتا ہے ۔پس یہ مقام کیا ہے بزرگ اور عالی شان ہے اور یہ مسجد کیسی عالی قدر اور اکرم ہے ، جس کا وصف بیان نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ اس کے علو شان کو اس طرح بیان کرتا فرماتا ہے :﴿اَلَّذِی بَارَکنَا حَولَہُ﴾ یعنی یہ وہ مقام ہے جس کے اردگرد کو ہم نے برکت بخشی اور اپنی کمال قدرت کی آیات اپنے نبی ﷺکواس مقام پر دکھائیں ۔اسی مقام کے فضائل ہم نے نبیﷺسے سنے ہیں جو بذریعہ روایت ہم تک پہنچے ہیں ۔

غرض سلطان نے ایک ایسی مؤثر اور دلکش تقریر کی کہ سامعین خوش ہو گئے اور خاتمہ تقریر پر سلطان نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی کہ جب تک بیت المقدس پر اسلام کے جھنڈے نصب نہ کروں اور رسول مقبول ﷺ کے قدم کی پیروی نہ کروں اور صخرہ مبارک پر قابض نہ ہو جاؤں اپنی کوشش کے پاؤں کو نہ ہٹاؤں کا اور اس قسم کے پورا کرنے تک لڑوں گا”۔

مسلمان اور عیسائی مؤرخ اس امر میں متفق ہیں کہ یروشلم میں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ متنفس موجود تھے جن میں بقول ایک مسلمان مؤرخ ۶۰ہزارعیسائی جنگ کرنے کے لائق تھے “شکست حطین کے بعد کوئی عیسائی امیر یا سردار سوائے بطریق یروشلم کے وہاں نہ رہا تھا۔بالیان ایک عیسائی سردار بھی حطین کی شکست سے بھاگ کر صور میں جا کر پناہ گزین ہوا تھا۔وہاں سے (بقول مؤرخ آرچر)اس نے سلطان سے اجازت مانگی کہ اس کو اپنی بیوی اور بچے یروشلم میں پہنچا دینے کے لیے وہاں سے ایک دن کے لیے جانے دیا جائے اور پختہ اقرار کیا کہ اگر اجازت دے دی گئی تو ایک شب سے زیادہ وہاں نہ ٹھہرے گا”۔سلطان نے از راہ اخلاق و مروت اس کو اجازت مطلوبہ دے دی، لیکن جب یروشلم میں پہنچ گیا تو لوگوں نے اسے وہیں رہ جانے کی ترغیب دی اور بطریق ہریکلی اس نے بھی فتویٰ دے دیا کہ اس اقرار کا پورا کرنا بمقابلہ اس کو توڑنے کے بڑا گناہ ہو گا۔چنانچہ وہ بدعہدی کر کے وہاں رہنے کو رضامند ہو گیا اور اس طرح ایک عیسائی سردار یروشلم میں موجود ہو گیا۔بطریق اور دوسرے سرگرم عیسائیوں نے موجود عیسائیوں کے درمیان جوش اور سرگرمی پیدا کرنے کی ہر ایک تدبیر کی۔ان کے درمیان نہایت پر جوش تقریریں کیں ۔ان کی ہمت اور دلیری کو بڑھایا اور شہر کی حفاظت کرنے پر آمادہ کیا۔

 

فتح بیت المقدس

حطین میں کامیاب و کامران ہونے کے بعد”القدس”کی جانب راستہ بالکل واضح ہو چکا تھا، اب یہ بات ممکن تھی کہ صلاح الدین اس کا قصد کرتا اور قدرے کوشش کر کے اس کو اپنے قبضے میں لے لیتا۔لیکن اس نے عسکری نقطہ نگاہ سے اس کو دیکھا اور یہی بات اس کی اعلیٰ شخصیت اور شان عبقریت کو نمایاں کر رہی ہے ۔اس نے یہ سوچاکہ “القدس تو کئی شہروں کے درمیان واقع ہے اور ساحل سمندر پر صلیبیوں کے کئی مراکز قائم ہو چکے ہیں ، جہاں سے وہ بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات بڑی آسانی سے قائم کرسکتے ہیں ۔خصوصاً عیسائیوں کے وہ ممالک جو ارض فلسطین میں ، ، صلیبی ناپاک وجود”کو لا کھڑا کرنے میں چشموں کی حیثیت رکھتے تھے ، اسی لیے اس نے پہلے ساحلی صلیبی مراکز سے خلاصی پانے اور دوسرے صلیبی قلعوں اور پناہ گاہوں پر قبضہ کرنے کا پختہ پروگرام بنایا۔اس کے بعد وہ القدس کی طرف پیش قدمی کر کے اسے فتح کر لے گا، جب کہ اس “صلیبی ناپاک وجود”کی زندگی کی شریانوں کو وہ پہلے ہی کاٹ چکا ہو گا، اس کے علاوہ “عکا”اور دوسرے ساحلی صلیبی قلعوں پر قبضہ کرنا بھی مصر اور شام کے مابین راستہ بھی بنا دے گا، جو اس کے ملک کے دونوں بازو شمار ہوتے تھے ۔

اس نے اپنے پروگرام کی تکمیل کے لیے عسکری اعتبار سے ہر طرح کی تیاری کیں ، مجاہدین کو اپنے ہمراہ لیا اور اپنے ذہن میں کھینچے ہوئے خطوط کو زمین پر کھینچنے کے لیے چل پڑا، حطین کی کامیابی کے بعد صرف چند ماہ ہی گذرنے پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مندرجہ ذیل شہروں اور قلعوں پر فتح نصیب فرما دی۔

عکا، قیساریہ، حیفا، صفوریہ، معلیا، شقیف، الغولہ، الطور، سبطیہ، نابلس، مجدلیانہ، یافا، تبنین، صیدا، جبیل، بیروت حرفند، عسقلان، الرملہ، الداروم(ویرالبلح)غزہ، یبنی، بیت لحم، بیت جبریل اور ان کے علاوہ ہر وہ چیز جوان صلیبی بری فورسز کے پاس تھی۔

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ سب عظیم کامیابیاں اور بڑی بڑی فتوحات معرکہ حطین کے بعد ۵۸۳ہجری میں صرف چند مہینوں کے دوران ہی پوری ہو گئی تھیں ۔اس طرح “بیت المقدس” کو فتح کرنے کے لیے فضا مکمل طور پر سازگار تھی، کام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سلطان نے مصر سے اسلامی بحری بیڑے بھی منگوا لیے ، جو حسام الدین لؤلؤ الحاجب (چمکدار اَبرو والا)کی زیر قیادت پہنچے ۔جو اپنی جرأت وبسالت اور عظیم، خطرناک کاموں میں بلا خوف و خطر کود جانے میں مشہور زمانہ تھا، اور صائب المشورہ بھی تھا۔اس نے “بحرمتوسط”میں چکر لگانے شروع کر دیئے ، خصوصاً اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ کہیں (یورپ کے )افرنگی ساحل فلسطین تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہونے پائیں ۔

۵۸۳ہجری /۱۵رجب المرجب کو بروز اتوار”القدس”کے قریب آن اترا، اب اس نے بیت المقدس میں محصور عیسائیوں سے کہا کہ”بغیر خونریزی اور کشت و خون کہ جس کہ وہ ایسے مقدس مقام میں پسند نہیں کرتا، اطاعت قبول کر لیں ۔”لیکن جب انہوں نے اس کے جواب میں متکبرانہ انکار پیش کیا تو پھر سلطان حملہ کر کے اور نقب لگا کر اس کو فتح کرنے کی تدابیر کرنے لگا۔اس مقصد کے لیے پانچ دن صرف اسی کام میں گذر گئے ۔وہ بذات خود شہر کی دیواروں کے اردگرد چکر لگاتا رہا تاکہ اس کا کوئی کمزور پہلو تلاش کر کے وہاں سے حملہ آور ہوسکے ۔بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ شمالی جہت سے حملہ کر ہی دے ۔چنانچہ ۲۰ رجب کو اس نے اپنے لشکر کو اس جانب منتقل کر دیا، اسی رات منجنیقیں نصب کروانی شروع کر دیں ، صبح ہونے سے قبل منجنیقیں لگ چکی تھیں بلکہ اپنا کام کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار تھیں ، لو !اب انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا۔

دوسری طرف فرنگیوں نے فصیل کے اوپر اپنی مجانیق کو نصب کر لیا، دونوں طرف سے پتھراؤ شروع ہو گیا تھا۔فریقین کے مابین سخت ترین لڑائی ہو رہی تھی۔امام ابن الاثیر کے بقول۔ایک دیکھنے والے نے دیکھا کہ ہر ایک فریق اس لڑائی کو “دین”سمجھ کر لڑ رہا ہے ، اور یہ بات بھی ایسے ہی، کہ دین ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر کو متحرک کرتی ہے ، موت کو اسے محبوب بنا دیتی ہے ، اپناسب کچھ اس پر لٹا دینا اس کے لیے آسان ترین بنا دیتی ہے ، لوگوں کو اس بات کی ذرہ برابر بھی ضرورت نہ تھی کہ انہیں لڑنے ، مرنے ، موت کے دریا میں کودنے پر ابھارا جائے ، بلکہ شاید انہیں زبردستی بھی روکا جائے تو روکے نہ جا سکیں

 

 

24:یکبارگی زور دار حملہ

 

پھر انہی جہادی و قتالی ایام میں سے ، ایک امیر عزالدین عیسیٰ بن مالک جو مسلمان قائدین اور متقین میں سے ایک تھا، وہ شہید ہو گیا، تو اس کے جام شہادت نوش کرتے ہی مسلمانوں کے جوش اور ولولے میں ایک نیا رنگ پیدا ہو گیا، تو انہوں نے یک بارگی ایسا حملہ کیا کہ فرنگیوں کے قدم اکھڑ گئے ، کچھ مسلمان خندق عبور کر کے فیصل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔دیوار توڑنے والے نقابوں نے شہر پناہ کو توڑنا شروع کر دیا، اس دوران دشمن کو دور رکھنے کے لیے مجانیق بلا توقف پتھراؤ کر رہی تھیں اور تیر انداز مسلسل تیروں کی موسلا دھار بارش برسارہے تھے ، تاکہ یہ نقاب (دیوار توڑنے والے )اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں (یعنی یہ ان کے لیے کور فائر تھا)

 

25:جان بخشی کی درخواستیں

 

تو جب ان فرنگیوں کے دفاع کرنے والوں نے ، مسلمانوں کے حملے کی شدت، ان کے ارادوں کی صداقت، اور”القدس”رسول معظم ﷺ کی سب معراج کی عارضی قیام گاہ کو چھڑوانے کی خاطر، موت کو سینے لگانے کے جذبات کو دیکھا، تو انہیں اپنی ہلاکت و بربادی کا یقین ہو گیا اور سوائے امان طلب کرنے کے کوئی چارہ نہ دیکھا تووہ مذاکرات کرنے کے لیے مائل ہوئے ۔دنیا میں کافر قوموں سے مذاکرات کا طریقہ بھی یہی ہے کہ جہاد جاری رکھا جائے اور اللہ کے دشمنوں کا گھیرا تنگ کیا جائے کہ وہ مذاکرات کی اپیل کریں یہ نہ ہو کہ مسلمان کمزوری دکھاتے ہوئے خود مذاکرات کی دعوت دیں ، اور وہ بھی مغلوبانہ جمہوری انداز میں کہ جس طرح آج کل ہو رہا ہے ، پہلے مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے ، ان کو ذلیل کیا جاتا ہے اور پھر مذاکرات کی سازش کر کے ان کو نام نہاد معاہدوں کے جال میں پھانس کر بے بس کر دیا جاتا ہے ۔

اسی طرح مغلوب عیسائیوں کے معززین جمع ہو کر سلطان کے پاس امان طلب کرنے کی غرض سے آئے اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ سے اس شرط پر امان کے طلب گار ہوئے کہ “بیت المقدس”اس کے حوالے کیے دیتے ہیں تو آخر سلطان نے ان کی طلب کو مان لیا اور “بیت المقدس “لے کر انہیں “امان نامہ “دینے پر راضی ہو گیا۔

 

26:معافیاں جان بخشیاں اور جذبہ کی تھیلیاں

سلطان نے اس شرط پر امان دے دی کہ عیسائی باشندوں میں سے تمام مرد فی کس دس دینار اور عورتیں فی کس ۵ دینار اور بچے فی کس ۲ دینار جزیہ دے سکیں ، اپنا ضروری اسباب اور جانیں لے کر چلے جائیں اور جو اس فدیہ یعنی زر تلافی کو ادا نہ کرسکیں وہ بطور غلاموں کے مسلمانوں کے قبضے میں رہیں گے ۔عیسائی اس شرط پر رضامند ہو گئے۔ اور بالیان بن بارزان اور بطریق اعظم اور داویہ (ٹمپلرس)اوراستباریہ(ہاسپٹلرس)کے رئیس اس رقم کے ادا کرنے کے ضامن ہوئے ۔بالیان نے ۳۰ہزار دینار مفلس لوگوں کے واسطے ادا کیے اور اس جزیہ کے ادا کرنے والے تمام لوگ امن کے ساتھ شہر سے نکل گئے ۔ایک بہت بڑی تعداد لوگوں کی بغیر جزیہ ادا کرنے کے ہر ایک ممکن ذریعہ سے یعنی دیواروں سے لٹک کر اور دوسرے طریقوں سے نکل گئی اور باقیوں کی نسبت بھی جو جزیہ ادا نہیں کرسکتے تھے سلطان نے ایسی فیاضی رکھی جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملے گی۔ملک عادل کی درخواست پر اور اپنے بیٹوں اور عزیزوں کی درخواستوں پر بے شمار لوگ جو جزیہ ادا نہیں کرسکتے تھے ، آزاد کر دیئے ۔پھر بالیان اور بطریق اعظم کی درخواست پر بھی ایک بڑی جماعت کو آزادی دی اور سب کے بعد ایک بڑی جماعت اپنے نام پر چھوڑ دی۔عیسائی ملکہ کو معہ اپنی تمام دولت اور بے شمار مال واسباب اور زر و جواہر کے اپنے ملازموں اور متعلقین سمیت اپنے خاوندوں کے پاس جانے کی اجازت دی، اور کسی شخص سے خواہ وہ کتنی ہی دولت اور مال لے کر نکلا سوائے جزیہ کی معین رقم کے کچھ زائد طلب یا وصول کرنے کی کسی مسلمان نے پرواہ نہیں کی۔

جب عیسائیوں کے گھوڑے مسلمانوں کے خون میں گھٹنوں تک چلتے رہے سلطان کا یہ سلوک جو اس نے عیسائیوں کے ساتھ کیا اسلامی فیاضی اور تحمل اور احسان اورسلوک کی ایک ایسی مثال ہے جس پر خونخوار اور درندہ خصلت عیسائی دنیا کو اسلام اورمسلمانوں پر خونریزی کے الزام لگانے اور اسلام کو خون ریزی کا مترادف قرار دینے کے بجائے اس کے روبرو شرمندہ ہونا چاہئیے ۔ یہی شام کی سرزمین اور وہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ کے واقعات جو دونوں قوموں کی دنیا نے دیکھے ، اس امر کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں ۔عیسائیوں نے فتح بیت المقدس کے وقت جس خونریزی کو روا رکھا اور جو ظلم وستم بے گناہ مسلمانوں پر کیا اور جو بے انتہاء اور بے حساب خون مرد، عورتوں اور بچوں کا گرایا، وہ تاریخ کے صفحوں سے پونچھ نہیں ڈالا گیا۔گاڈ فری اور ریمنڈ وغیرہ فاتحین بیت المقدس نے جو خط اس وقت پوپ کو فتح بیت المقدس کی نسبت لکھا تھا اس میں فتح کی خبر لکھنے کے بعد لکھا کہ :

“اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ ہم نے ان دشمنوں کے ساتھ جن کو ہم نے شہر میں پایا ، کیا کیا؟تو تم کو بتایا جاتا ہے کہ رواق سلیہان اور گرجا میں ہمارے گھوڑے تک مسلمانوں کے ناپاک خون چلتے رہے (تاریخ مچاڈ:جلد سوم ضمیمہ ص ۳۶۲)”

 

 

27:صلیبیوں کو بیت المقدس سے نکالنے کے جہادی مناظر

 

امان نامہ پر دستخط ہو جانے کے بعد تمام جنگ کرنے والے لوگوں کو جو یروشلم میں تھے صور یا طرابلس چلے جانے کی اجازت مل گئی۔فاتح نے باشندوں کو ان کی جانیں بخشیں اور ان کو چند دیناروں پر مشتمل حقیر سی رقم کے بدلے اپنی آزادی خریدنے کی اجازت دے دی۔تمام عیسائیوں کو باستثنائے یونانیوں اور شامی عیسائیوں کے چار دن تک یروشلم سے چلے جانے کا حکم دیا گیا۔(شامی اور یونانی عیسائیوں کے ساتھ قطعی رعایت کی گئی اور ان کو ہر ایک آزادی دی گئی۔یہ سلطان کا ایک اور احسان تھا)زر مخلصی (جزیہ)کی شرح دس دینار ہر ایک مرد کے واسطے ، پانچ عورت اور دو دینار بچے کے لیے مقرر کیے گئے اور جو اپنی آزادی خرید نہ سکے غلام رہنے کے پابند تھے ۔ان شرائط پر عیسائیوں نے پہلے بہت خوشی منائی لیکن جب وہ طے شدہ دن قریب آ پہنچا جس پر انہوں نے یروشلم سے رخصت ہونا تھا، بیت المقدس کو چھوڑنے کے سخت رنج اور غم کے سوا ان کو کچھ نہیں سوجھتا تھا۔انہوں نے مسیح کی قبر کو اپنے آنسوؤں سے تر کر دیا اور متاسف تھے کہ وہ کیوں اس کی حفاظت کرنے میں نہ مر گئے ۔انہوں نے کالوری اور گرجاؤں کو جن کو وہ پھر کبھی نہیں دیکھنے والے تھے ، روتے اور چلاتے ہوئے جا کر دیکھا۔بازوؤں میں ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اپنے مہلک اختلافات پر آنسو بہائے اور غم کیا۔

آخر وہ مہلک دن آ گیا جب عیسائیوں کو یروشلم چھوڑنا تھا۔داؤد کے دروازے کے سوائے جس میں لوگوں کو باہر گذرنا تھا سب دروازے بند کر دئیے گئے ۔صلاح الدین ایک تخت پر بیٹھا ہوا عیسائیوں کو باہر جاتے دیکھ رہا تھا۔سب سے پہلے بطریق بہ معیت جماعت پادریان آیا، جنہوں نے مقدس ظروف (یا تصویریں وغیرہ )مسیح کی مقدس قبر کے گرجا کے زیورات یا اسباب زیبائش اور وہ خزانے اٹھائے ہوئے تھے جن کی نسبت ایک عرب مؤرخ لکھتا ہے کہ ان کی قیمت و مالیت اتنی زیادہ تھی”اللہ تعالیٰ ہی ان کی قیمت کو جانتا تھا”ان کے بعد یروشلم کی ملکہ نوابوں (بیرنس)اور سواروں (نائیٹس)کے ہمراہ آئی۔ملکہ کے ہمراہ ایک بہت بڑی تعداد عورتوں کی تھی جو گودیوں میں اپنے بچوں کو اٹھائے ہوئے تھیں اور بہت دردناک چیخیں مار رہی تھیں ۔ان میں سے بہت سی صلاح الدین کے تخت کے قریب گئیں اور اس سے یوں التجا کی :

“اے سلطان تم اپنے پاؤں میں ان جنگ آوروں کی عورتیں ، لڑکیاں اور بچے دیکھتے ہو جن کو تم نے قید میں روک لیا ہے ہم ہمیشہ کے لیے اپنے ملک کو جس کو انہوں نے بہادری سے بچایا ہے چھوڑتی ہیں وہ ہماری زندگیوں کاسہارا تھے ان کو کھو دینے میں ہم اپنی آخری امیدیں کھو چکی ہیں (یعنی اگر ہمارے مرد آپ کی قید میں چلے گئے اور ہم سے بچھڑ گئے تو ہماری زندگی کی آخری امید اور سہارا بھی ختم ہو جائے گا(اگر تم ان کو ہمیں دے دو (یعنی آزاد کر دو )تو۔ہماری جلاوطنی کی مصیبتیں کم ہو جائیں گی۔اور ہم زمین پر بے یار و مددگار نہ ہوں گے ۔”

سلطان ان کی اس درخواست سے متاثر ہوا، اوراس قدر دل شکستہ خاندانوں کی مصیبتوں کو دور کر دینے کا وعدہ کیا۔اس نے بچے ان کی ماؤں کے پاس پہنچا دئیے اور خاوند آزاد کر کے ان کی بیویوں کے پاس بھیج دئیے جو کہ ان کی قید یوں میں گرفتار تھے ، جن کی زر مخلصی (فدیہ یا جزیہ)ادا نہیں کی گئی تھی۔بہت سے عیسائیوں نے اپنے نہایت قیمتی مال واسباب چھوڑ دیئے تھے اور بعض کے کندھوں پر ضعیف العمر والدین تھے اور دوسروں نے کمزور یا بیمار دوستوں کو اٹھا لیا تھا۔اس نظارہ کو دیکھ کر سلطان کا دل بھر آیا لہٰذا اس نے اپنے دشمنوں کے اوصاف کی تعریف کر کے ان کو قیمتی تحائف اور انعامات دیئے ۔اس نے تمام مصیبت زدہ پر رحم کیا اور ہاسپٹلر (فرقہ استباریہ کے لوگوں )کو اجازت دی کہ شہر میں رہ کر عیسائی حاجیوں کی خبر گیری اور خدمت کریں ، اور ایسے لوگوں کی مدد کریں جو سخت بیماری کے باعث یروشلم سے جا نہیں سکتے ہیں ۔

 

 

28:قیدیوں کی رہائی اور رحمدلانہ سلوک

 

جب مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ شروع کیا اس وقت بیت المقدس میں ایک لاکھ سے زیادہ عیسائی تھے ۔ان کے بہت بڑے حصے میں خود اپنی آزادی خریدنے کی قابلیت موجود تھی اور بلیٹو جس کے پاس شہر کی حفاظت کے واسطے خزانہ موجود تھا، اس کے باشندوں کے ایک حصہ کی آزادی حاصل کرنے میں صرف کیا۔ملک عادل سلطان کے بھائی نے ۲ ہزار قیدیوں کو فدیہ (زر مخلصی یا جزیہ خود اپنے پاس سے (ادا کیا۔صلاح الدین نے اس کی مثال کی پیروی کی اور غریبوں اور یتیموں کی ایک بہت بڑی تعداد کو زنجیروں سے آزاد کر دیا۔وہاں قید میں صرف چودہ ہزار کے قریب صلیب کے پجاری رہ گئے جس میں چار یا پانچ ہزار کم سن بچے تھے جو اپنی مصائب سے بے خبر تھے لیکن جن کی قسمت پر عیسائی اس امر کے یقین سے اور بھی زیادہ نالاں تھے کہ یہ جنگ کے بے گناہ مظلوم (معاذ اللہ)محمد ﷺ کی بت پرستی میں پرورش پائیں گے ۔”

ان حالات کے قلم بند کرنے کے بعد فرانسیسی مؤرخ لکھتا ہے کہ:

“بہت سے جدید مؤرخوں یا مصنفوں نے صلاح الدین کے اس فیاضانہ سلوک کو ان نصرت انگیز واقعات کے ساتھ جو پہلے کروسیڈروں سے یروشلم میں داخل ہونے کے وقت پیدا کیے گئے تھے ، مقابلہ کیا ہے ، لیکن ہم کو نہیں بھولنا چاہئے کہ عیسائیوں نے شہر کو حوالہ کر دینے کی درخواست کی تھی اور مسلمان مجنونانہ ہٹ کے ساتھ عرصہ دراز تک محصور رہے تھے اور گاڈ فری کے ہمراہیوں نے جو ایک نامعلوم سرزمین میں معاند قوموں کے درمیان تھے ، بیشمار خطرات برداشت کر کے اور تمام قسم کی مصیبتیں اٹھا کر شہر کو مقابلہ سے فتح کیا تھا۔لیکن ہماری التماس یہ ہے کہ اس بات کے کہنے سے ہم عیسائیوں کو حق بجانب نہیں بیان کرنا چاہیں گے اور نہ ان تعریفوں کو ضعیف کرنا چاہتے ہیں جو صلاح الدین کی تاریخ کے ذمہ ہیں اور جو اس نے ان لوگوں سے بھی حاصل کی ہیں جن کو اس نے فتح کیا تھا۔(تاریخ مچاڈ جلد اول ص:۴۳۰تا ۴۳۲)”

باوجود اس تنگدلی کے جو فرانسیسی مؤرخ کی بجا تعریف میں مضائقہ کرنے سے ظاہر کرتا ہے آخرکار وہ ان کے تسلیم کرنے میں مجبور ہو جاتا ہے ۔ایک جدید زمانہ کا انگریزی مؤرخ اپنی مختصر تاریخ میں اس سے زیادہ انصاف سے سلطان کے ان احسانات کو تسلیم کرتا ہے ۔وہ لکھتا ہے کہ :

“غریب عیسائیوں کی آزادی خریدنے کی ہر ایک کو شش کرنے اور ہر ایک بازار میں ٹیکس لگانے اور بادشاہ انگلستان کا خزانہ جو اسپتال میں اسی مشترک فنڈ میں داخل کر دینے کے بعد بھی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی رہ گئی جو کوئی فدیہ )جزیہ )ادا نہیں کرسکتا، جن کی قسمت میں اس صورت میں دائمی غلامی یا موت تھی۔ان کی دردناک حالت پر رحم کر کے صلاح الدین کا بہادر اور فیاض دل بھائی عادل سلطان کے پاس گیا اور شہر کے فتح کرنے میں اپنی خدمات یاد دلا کر عرض کی کہ “اس کے حصہ غنیمت میں ایک ہزار غلام اس کو دے دیا جائے ۔”صلاح الدین نے دریافت کیا :”وہ کس غرض کے لیے انہیں طلب کرتا ہے ؟”عادل نے جواب دیا:”جو سلوک وہ چاہے گا ان کے ساتھ کرے گا۔”اس کے بعد بطریق نے جا کر ایسی ہی درخواست کی اور سات سوآدمی پائے اور اس کے بعد بالیان کو ۵۰۰ اور ملے ۔تب صلاح الدین نے کہا:”میرے بھائی نے اپنی خیرات کی ہے ۔بطریق اور بالیان نے اپنی اپنی کی ہے ۔اب میں اپنی بھی کروں گا، اور اس پر حکم دیا کہ تمام معمر آدمی جو شہر میں تھے آزاد کر دئیے جائیں ۔، ، یہ وہ خیرات تھی جو صلاح الدین نے بے تعداد غریب آدمیوں کو چھوڑ دینے سے کی۔”(تاریخ آرچر:ص ۲۸۰)

مؤرخ لین پول لکھتا ہے :

“ہم جب سلطان کے ان احسانات پر غور کرتے ہیں تو وہ وحشیانہ حرکتیں یاد آتی ہیں جو صلیبیوں نے فتح بیت المقدس کے موقع پر کی تھیں ۔جب گاڈ فرے اور تنکیرڈ بیت المقدس کے بازار سے اس حال میں گزر رہے تھے کہ وہ مسلمانوں کی لاشوں سے بھرا ہوا تھا اور جاں بلب زخمی وہاں تڑپ رہے تھے ، جب صلیبی بے گناہ اور لاچار مسلمانوں کو سخت اذیتیں دے کر قتل کر رہے تھے ، زندہ آدمیوں کو جلا رہے تھے اور القدس کی کی چھت پر پناہ لینے والے مسلمانوں کو تیروں سے چھلنی کر کے نیچے گرا رہے تھے ۔بے رحم عیسائیوں کی خوش قسمتی تھی کہ سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں ان پر رحم و کرم ہو رہا تھا۔”

 

29:سلطان صلاح الدین بیت المقدس میں داخل ہوتا ہے

 

اب رہا ان کا معاملہ جو “اہل قدس”میں سے اس کے برخلاف معرکہ آراء رہے تقریباً ستّر ہزار کی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو گئے ۔نجابت، سماجت، مہربانی اور شرافت میں جن کی یادیں ضرب الامثال بن چکی ہیں اس پر کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ یہ تو صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ جیسے مسلم جرنیل کی صفات میں صرف ایک “صفت چشمہ نما”کی حیثیت رکھتی ہے

 

30:عیسائیوں کے نشانات مٹانے کا حکم ہوتا ہے

 

صلاح الدین نے بیت المقدس کی فتح کے بعد صلیبیوں کے نشانات کو ختم کرنا شروع کر دیا ، اور اس میں اسلامی طور اطوار واپس لانے شروع کیے ۔

امام ابن الاثیر کے بقول :”یہاں اسلام یوں پلٹ آیا جیسے موسم بہار میں کسی سوکھی شاخ میں تر و تازگی پلٹ آتی ہے اور یہ ، ، نشان بلند ” یعنی بیت المقدس کی فتح سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے بعد سوائے صلاح الدین ایوبی کے کسی کا مقدر نہ بنی۔اور ان کی عظمت و رفعت اور سربلندی کے لیے یہی کارنامہ ہی کافی ہے مسجد اقصیٰ کی حالت عیسائیوں نے ایسی بگاڑ دی تھی کہ بہت کچھ تبدیلی اور درستی کے بغیر اس میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی تھی۔سب سے پہلے سلطان نے اس کی درستی کا حکم دیا۔

 

 

31:محراب کی رونقیں واپس لوٹتی ہیں

 

فرقہ داویہ (ٹمپلرس)کے عیسائیوں نے مسجد کے قدیم محراب کو بالکل چھپا دیا تھا۔ اس کے مغرب کی طرف ایک جدید عمارت گرجا بنا کر محراب کو اس کے اندر داخل کر دیا تھا اور محراب دیواروں میں غائب ہو گئی تھی محراب کے نصف حصہ پر دیوار بنا کر ان بدبختوں نے بیت الخلاء بنا دیا تھا، اور نصف کو علیحدہ کر کے وہاں غلہ بھرنے کی جگہ بنائی تھی۔سلطان کے حکم سے یہ جدید دیواریں اور مغربی طرف کا گرجا وغیرہ گرا دئیے گئے اور محراب کی اصلی صورت نکال کر جہاں اس کی مرمت اور درستی کی ضرورت تھی کر دی گئی۔

 

32:صدائے اذان کی گونج اور جمعۃ المبارک کا روح پرور نظارہ

 

مسجد کو اس کی اصلی حالت میں لا کر اس کو عرق گلاب سے جو دمشق سے لایا گیا تھا، دھویا گیا اور صاف کر کے نماز پڑھنے کے لیے پاک اور آراستہ کی گئی۔منبر رکھا گیا اور محراب کے اوپر قندیلیں لٹکائی گئیں ۔قرآن شریف کی تلاوت شروع کی گئی اور وہیں نماز پڑھی جانے لگیں اور ناقوس کی صدا کی بجائے اللہ واحد کی اذانیں کہی جانے لگیں ۔۴ شعبان کو دوسرے جمعہ کا دن جو نماز ادا کرنے کے واسطے پہلا جمعہ تھا، ایک عجیب و غریب شان و شوکت کا دن تھا۔خطیبوں نے خطبے تیار کیے تھے اور ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ اس کو خطبہ پڑھنے کی اجازت دی جائے ۔بے شمار لوگ ہر ایک درجہ اور رتبہ کے اور ہر ایک دیار و ملک کے علماء و فضلاء جو سلطان کے ساتھ رہتے تھے اور ہر ایک علم و ہنر کے نامور آدمی بیت المقدس میں پہلی نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے ۔ایک غیر معمولی جو ش سب کے چہروں سے عیاں تھا اور دلوں پر رقت طاری تھی۔اذان کہے جانے کے بعد سلطان نے قاضی محی الدین ابی المعالی محمد بن ذکی الدین قریشی کی طرف منبر پر چڑھنے کے لیے اشارہ کیا۔خطیب نے منبر پر چڑھ کر اس فصاحت اور بلاغت سے خطبہ پڑھنا شروع کیا کہ لوگ نقش دیوار کی ساکت اور خاموش ہو گئے ، سامعین کے دل دہل گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے ۔بیت المقدس کی تقدیس اور مسجد اقصیٰ کی بناء سے شروع کر کے اس کے فتح کے حالات تک واقعات کو کمال خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ بیان کیا اور اللہ کریم کی منت اور احسان بیان کر کے بادشاہ بغداد اور سلطان کے دعا کی اور ﴿اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُم بِالعَدلِ وَالاِحسَانِ﴾پر ختم کیا۔

پھر مسلمانوں نے شعبان کی چار تاریخ کو آنے والا جمعہ صلاح الدین کی معیت میں بیت المقدس ہی میں ادا کیا۔ابن الزکی قاضی دمشق نے یہ پہلا خطبہ اس مسجد اقصیٰ میں ارشاد فرمایا، بعد اس کے کہ ماضی کے اٹھاسی برسوں سے خطبات اور جمعات اس مسجد سے غائب ہو چکے تھے ۔ان صلیبی غاصبوں نے ذلیل ورسوا ہو کر اسے چھوڑااور ان شاء اللہ ہر ظالم غاصب آثم کا یہی انجام ہو گا جو مسلمانوں کو دکھ دے کر اپنی راتیں گزارتا ہے ۔جب یہ مسلمان صحیح سمت پے گامزن ہوں گے ، اور اللہ کے حضور اپنے جہاد ، اپنے عزائم اور اپنی نیتوں میں سچے ہو جائیں گے ۔

 

 

33:بیت المقدس کی فتح کے بعد شکرانے کے آنسو اور ہچکیاں

 

خطبہ ختم کرنے کے بعد منبر سے اتر کر امامت کی اور ادائے نماز کے بعد سلطان کے ایماء سے زین العابدین ابوالحسن علی بن نجا وعظ کرنے کے لیے کھڑا ہوا اور نہایت خوش الحانی اور طلاقت لسانی سے خوف اور رجاء، سعادت وسقاوت، ہلاکت و نجات کے مضامین پر ایسا عمدہ اور مؤثر وعظ کہا کہ سامعین ڈھاڑیں مار مار کر روئے اور سب پر عجیب سی حالت طاری ہو گئی اور بعد ازاں سب سلطان کی دوام نصرت کے واسطے دعائیں مانگیں ۔

 

34:سلطان نورالدین کا بنایا منبر محراب بیت المقدس کی زینت بنتا ہے

 

اس روز جس منبر پر خطبہ پڑھا گیا تھا وہ ایک معمولی منبر تھا۔سلطان نور الدین کا منبراس کے بعد وہاں لا کر رکھا گیا۔سلطان نورالدین محمود بن زنگی نے اس واقعہ سے تیس برس بیشتر بیت المقدس کی اس عظیم الشان مسجد میں رکھنے اور بعد فتح اس پر خطبہ پڑھے جانے کے لیے ایک عالی شان منبر جس کو نہایت صنعت اور کاریگری سے بڑے بڑے صناعوں (کاریگروں )کی عرصہ دراز کی محنت اور صرف زر کثیر کے بعد بنوایا تھا اور اس کو اپنے خزانہ میں محفوظ رکھا تھا (کہ جب میں بیت المقدس کو فتح کروں گا تواسے اس کے محراب کی زینت بنا کر اپنا دل ٹھنڈا کروں گا)مگر سلطان رحمہ اللہ کی یہ آرزو فتح بیت المقدس کی پوری نہ ہوئی اور منبر اسی طرح پڑا رہ گیا۔سلطان صلاح الدین نے اس کو منگوا بھیجا اور مسجد اقصیٰ کے محراب میں رکھ کر بزرگ نورالدین کی اس تمنا کو پورا کیا جو وہ حسرت کی طرح اپنے دل میں لے کر دنیائے فانی سے چل بسا تھا۔بیت المقدس کی عمارات اور اکمنہ متبرکہ اور دوسرے کوائف میں تبدیلیاں اور درستیاں کی گئیں ۔

 

35:صلیبیوں کی دلخراش جسارتیں

 

اسلامی شعار کو ختم کر کے صلیبی تہذیب اور رنگ کو غالب کرنے کی جسارتوں کی نقاب کشائی کرتے ہوئے عماد لکھتا ہے کہ:صخرہ مقدسہ پر فرنگیوں نے ایک گرجا تعمیر کر لیا تھا، جو شکل و صورت اس کی مسلمانوں کے وقت میں تھی اس کو بدل ڈالا تھا اور نئی عمارتوں میں اس کو بالکل چھپا دیا تھا۔اس کے اوپر بڑی بڑی تصویریں لٹکا دی تھیں اور صخرہ کو کھود کر اس میں بھی خنازیر وغیرہ کی تصویریں بنائی تھیں ۔قربان گاہ کو بالکل برباد کر ڈالا تھا۔اس میں غلط اشیاء بھر دی تھیں ۔وہاں بھی تصویریں لگائی گئی تھیں اور پادریوں کے رہنے کے مکان اور انجیلوں کا کتب خانہ بنا ہوا تھا۔(ان صلیبی جسارتوں کا تدارک کر کے )ان سب کو سلطان نے ان کی اصلی شکل میں تبدیل (بحال)کر دیا۔

 

36:مقام قدمِ مسیح

 

ایک جگہ پر جس کو مقام قدم مسیح کہتے ہیں ، ایک چھوٹا سا قبہ تعمیر کر کے اس پر سونا چڑھایا ہوا تھا۔صلیبیوں نے اس کے گرد ستون کھڑے کر کے ان پر ایک بلند گرجا تعمیر کیا تھا، جس کے اندر وہ قبہ چھپ گیا تھا اور کوئی اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا سلطان نے اس حجاب کو اٹھوا کراس پر ایک لوہے کے تاروں کا پنجرہ بنوا دیا۔اس کے اردگرد قندیلیں لگائیں جن سے وہ مقام رات کو روشنی سے جگمگاتا جاتا تھا۔وہاں حفاظت کے واسطے پہرہ مقرر تھا۔

 

 

37:بت توڑے جاتے ہیں

 

سنگ مرمر کے کثیر التعداد بت جو اس کے اندر سے نکلے تھے تڑوا کر پھینک دئیے گئے ۔مسلمانوں کو اس امر کے دیکھنے سے بہت رنج ہوا کہ عیسائی صخرہ شریف سے ٹکڑے کاٹ کر قسطنطنیہ کو لے گئے تھے ، جن کو وہ وہاں سونے کے برابر فروخت کرتے تھے اور اس کے بت بنواتے تھے ۔سلطان نے صخرہ کی حفاظت کا انتظام کر کے اس پر امام مقرر کر دیا اور بہت سی اراضی اور باغات اور مکانات بطور وقف کے اس کے لیے جاگیر مقرر کر دئیے اور قلمی قرآن شریف موٹے حروف میں لکھے ہوئے لوگوں کے پڑھنے کے لیے وہاں رکھوا دئیے ۔

 

38:مساجد ومدارس کا قیام عمل میں آتا ہے

 

محراب داؤد علیہ السلام مسجد اقصیٰ سے باہر ایک قلعہ میں شہر کے دروازہ کے پاس ایک نہایت رفیع الشان عمارت تھی اور اس قلعہ میں والی بیت المقدس رہا کرتا تھا۔سلطان نے اس کی بھی مرمت کرائی۔دیواریں صاف اور سفید کرائیں اور پھاٹک اور دروازوں کو درست کروا دیا اور امام مؤذن وہاں رہنے کو مقرر کیے اور مساجد کی تعمیر کرائی اور جوجو ضروریات لوگوں کی تھیں ان کو پورا کر دیا۔اس قلعہ میں جو سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدناسلیمان علیہ السلام کے گھر تھے اور زیارت گاہ تھے ، درست کر دئیے ۔فقہائے شافعیہ کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا اور صلحائے کرام کے لیے ایک مہمان خانہ بنایا۔دوسرے علوم کی تعلیم وتدریس کے لیے بہت سے اور مدارس قائم کیے اور معلموں اور طالب علموں کے لیے ان کی تمام ضروریات کا انتظام کر دیا۔غرض بیت المقدس کی بزرگی ایک فیاض اور عالی ہمت مسلمان بادشاہ سے جس اہتمام کی خواہش کرسکتی تھی اس سے زیادہ اہتمام سلطان نے کیا اور بیت المقدس کے ساتھ سلطان کی یہ فیاضانہ اور اسلامی دلچسپی صرف اس کی ذات تک مخصوص و محدود نہیں رہی۔اس کے بعد اس کے بھائی عادل اور اس کے بیٹوں اور جانشینوں نے بیت المقدس کی عظمت و بزرگی اور شان و شوکت کے بڑھانے کے واسطے اس سے بھی بڑے بڑے کام کیے اور اپنے اس نامورانہ تعلق کو اس مقدس مقام کے ساتھ آخر تک نباہ دیا۔

اس مبارک فتح کے لیے سلطان کے پاس تمام مسلمان فرماں رواؤں کے پاس سے اور ہر طرف سے قاصد مبارک باد کے خطوط لائے ۔دربار بغداد سے ایک غلط فہمی کے باعث کچھ کشیدگی سی پیدا ہو گئی جو بہت جلد رفع ہو گئی۔شعراء نے اس کی تعریف میں بے شمار قصائد لکھے جو بجائے خود ایک دفتر عظیم ہیں ۔

 

39:فتح بیت المقدس کے بعد پھر جہادی میدان سجتے ہیں

 

سلطان ایک عرصے تک بیت المقدس میں مقیم رہ کر معاملات ملکی کی تدابیر میں مصروف رہا اور محنت کے اس مبارک اور میٹھے پھل کو کھاتا اور حظوظہ و لذات روحانی حاصل کرتا رہا۔مشہور اور مضبوط مقامات میں سے صور کا قلعہ عیسائیوں کے قبضہ میں رہ گیا تھا اور سلطان کو اس کے فتح کرنے کی فکر تھی۔سیف الدین علی بن احمد شفوب نے جو صور کے قریب صیدا اور بیروت میں سلطان کا نائب تھاسلطان کو خط لکھ کر محاصرہ صور کی ترغیب دلائی۔سلطان ۲۵ شعبان کو جمعہ کے روز وہاں پہنچ گیا اور صور کا محاصرہ شروع کر دیا۔قلعہ صور کو پانی نے محاصرین کے حملے سے بہت کچھ بچایا، تاہم سلطان تیرہ روز تک محاصرہ ڈالے پڑ رہا۔ان دنوں میں سمندر میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے جہازوں میں مقابلہ جاری رہتا تھا اور ایک دوسرے کی ہار جیت ہوتی رہتی تھی۔محاصرہ نے طول کھینچا تو تو لوگ سامان کی رسد کی کمی اور شدتِ سرما(یعنی شدیدقسم کی سردی)سے تنگ آ گئے اور سلطان سے محاصرہ اٹھانے کے لیے عرض کرنے لگے ۔سلطان کی اور بعض امراء مثلاً فقیہ عیسیٰ اور حسام الدین و عزالدین جردیک کی یہ رائے تھی کہ جب قلعہ کی فصیل ٹوٹ چکی ہے اور بہت محنت اور زر صرف ہو چکا ہے بغیر فتح قلعہ کو نہ چھوڑنا چاہئیے ۔مگر اکثر لوگ بد دل ہو گئے تھے اور سلطان نے آخرکار محاصرہ اٹھا لینا مناسب سمجھا۔آخر کار شوال میں شدید سردی کی حالت میں وہاں سے کوچ کیا۔محاصرہ صور کے زمانہ میں ہونین فتح ہو چکا تھا۔سلطان نے بدر الدین بلارم کو وہاں حاکم کر کے بھیج دیا اور خود عکا میں انتظام اور رفاہ عام کے کاموں میں کچھ مدت مصروف رہا۔

 

 

40:سلطان کی آمد کا سن کر حملہ آور فرنگی بھاگ اٹھے

 

۵۸۴ہجری کے آغاز میں یعنی وسط ماہ محرم میں سلطان عکا سے حصن کوکب کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس کا محاصرہ شروع کیا، مگراس مدعا کی دشواری نے بالفعل اس سے اس کو ملتوی کرا دیا۔وہیں بعض والیان ملک کے سفیروں نے اس سے ملاقات کی اور اس کے بعد وہ دمشق کو چل دیا اور ۶ ربیع الاول کو وہاں پہنچا سلطان چودہ ماہ کے بعد دمشق کو واپس آیا اور چند روز قیام کرنا چاہتا تھا لیکن پانچویں ہی دن دفعتاً اس کو خبر پہنچی کہ فرنگیوں نے جبیل پر چڑھائی کی ہے اور اس کا محاصرہ کر لیا ہے ۔اس خبر کے سنتے ہیں ا س نے لشکروں کو طلب کیا اور سیدھا جبیل کو نکلا لیکن ابھی وہ راستہ ہی میں تھا کہ فرنگی اس کی آمد کی خبر سن کر وہاں سے بھاگ اٹھے اور واپس کر چلے گئے ۔

سلطان کو عماد الدین اور لشکر موصل اور مظفر الدین کے حلب کو، آپ کی خدمت میں جہاد کے لیے آنے کی خبرملی۔پس وہ ملک بالائی ساحل کے ارادہ سے حصن الاکراد کی طرف چلا اور اس کے مقابل میں ایک بلند ٹیلے پر جا اترا اور شاہزادہ ملک ظاہر اور ملک مظفر کو کہلا بھیجا کہ دونوں جمع ہو کر تیزین پر انطاکیہ کے مقابل جا اتریں اور اس طرف سے دشمن کے حملہ کا خیال رکھیں ۔سلطان حسن الاکراد کے فتح کرنے کی تجاویز سوچتا رہا مگر کوئی تدبیر کارگر معلوم نہ ہوئی۔دو دفعہ اس نے طرابلس کو تخت و تاراج کیا اور پھر اہل لشکر کی رخصت کے ختم ہونے پر، ان کے پھر جمع ہونے کے وقت کا انتظار کرنے کے لیے دمشق کو چلا آیا۔اور چند روز تک وہاں رہ کر عدل گستری اور انتظام ملک اور اہتمام جہاد میں مصروف رہا۔

 

41:جہادی میدانوں میں فتوحات پر فتوحات

 

جب فوجوں کے جمع ہونے کا وقت ہو گیا تو وہ بلاد بالائی ساحل کے فتح کرنے کے عزم سے اس طرف روانہ ہوا۔راستہ میں اس کو خبر ملی کہ عماد الدین سے بڑے تپاک سے ملاقات کر کے اس کے لشکروں کو اپنے لشکر میں شریک کر کے حصن الاکراد کے قریب جا اترا۔قبائل عرب بھی پہنچ گئے تو حصن الاکراد کے گرد کے قلعے فتح کرتا چلا گیا۔۶ جمادی الاول کو اس نے الطرطوس کو جا گھیرا اور اس کو فتح کر کے جبلہ کی طرف بڑھا۔وہاں پہنچتے ہی شہر پر قبضہ ہو گیا مگر اہل قلعہ مقابلہ پر آمادہ رہے ۱۹ تاریخ کو جب اہل قلعہ عاجز آ گئے تو انہوں نے امان چاہی، جو سلطان نے دے دی اور قلعہ پر قبضہ ہو گیا۔۲۳ جمادی الاول تک وہاں ٹھہر کر سلطان نے لاذقیہ کو کوچ کیا اور شب تک اس کے قریب پہنچ گیا۔فرنگی صبح کو خبر پا کر قلعوں میں پناہ گزین ہو گئے ۔ یہ تین قلعہ ایک بلندی پر تھے مسلمان لشکر نے نقب لگانا شروع کی اور قلعہ کی جڑوں کو اکھاڑ ڈالا۔تیسرے ہی دن اہل قلعہ نے امان چاہی اور شہر چھوڑ جانے یا جزیہ ادا کرنے کی شرط پر امان دی گئی۔

 

 

42:لاذقیہ میں بتوں اور تصویروں کی شامت

 

لاذقیہ ایک نہایت فراخ اور آباد اور خوبصورت شہر تھا۔عمارتیں پختہ اور رفیع الشان تھیں ۔نواح میں باغات نہایت دلفریب اور سرسبز شاداب تھے ۔چاروں طرف نہریں جاری تھیں بڑے بڑے عالیشان گرجے جن کی دیواروں میں سنگ مرمر لگا ہوا تھا اور ان پر تصویریں منقش تھیں ، مسلمانوں نے ان تصویروں کو مٹا دیا۔بعض مکانات کو بھی گرا دیا جس کا بعد ازاں ان کو بہت افسوس ہوا۔

لاذقیہ کے عیسائیوں نے وطن کی الفت کے سبب اس کو چھوڑ کر جانا گوارا نہ کیا اور جزیہ دینا قبول کر کے وہیں رہنا پسند کیا۔سلطان جب شہر میں داخل ہوا تو ان سے الفت اور دل دہی کی باتیں کیں اور ان کی تسکین اور تشفی کی۔شہروں اور بازاروں کی سیر کر کے لاذقیہ کی بندرگاہ کو دیکھنے کے لیے گیا ، اور ایسے خوبصورت شہر کے فتح ہونے پر اللہ کریم کا شکریہ ادا کیا۔

سیف الاسلام کو ایک خط میں لکھتا ہے کہ :

“لاذقیہ نہایت فراخ اور دلکشا شہر ہے ۔اس کی منازل خوبصورت اور عمارات دلکش ہیں اور گرد نواح میں باغات اور نہریں ہیں ۔یہ شہر ساحل کے تمام شہروں میں خوبصورت اور پختہ ہے اور سمندر کے اس ساحل کی بندرگاہوں میں ایسی خوبصورت بندرگاہ کسی کی نہیں ہے ۔جہازوں کے ٹھہرنے کا مقام نہایت مناسب اور موزوں ہے ۔”

 

43:ہیبت ناک خندق والے قلعہ کی فتح

 

۲۷جمادی الاول کو سلطان نے لاذقہ سے صیہون کی طرف کوچ کیا اور۲۹ کو وہاں پہنچ کر محاصرہ شروع کر دیا۔صہیون کا قلعہ نہایت پختہ اور بلند تھا ، گویا آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔اس کے گرد نہایت عمیق اور ہیبت ناک خندق تھی جس کا عرض ۱۲۰ گز تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ قلعہ مشکل سے فتح ہو گا۔تین فصیلوں سے شہر پناہ میں تھا مگر جب مناجیق نے کام شروع کیا تو فصیل کا ایک بڑا قطعہ گر پڑا اور اندر جانے کا راستہ ہو گیا۔سلطان نے خود پیش قدمی کی اور لشکرنے اللہ اکبر کے نعرے بلندکر کے فصیل پر چڑھنا اور جنگ شروع کر دی اور ایسے جان توڑ کر لڑے کہ عیسائیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ امان مانگنے لگے ۔سلطان نے اہل شہر کو انہیں شرائط پر جو اہل یروشلم سے مقرر ہوئی تھیں ان کو امان دے دی اور قلعہ پر قبضہ کر کے وہاں انتظام و انصرام کے شعبے قائم کر کے حکام کا تقرر کر دیا۔وہاں سے سلطان بکاس کی طرف روانہ ہوا اور بکاس اور اشفر اور سرمانیہ کو اسی طرح فتح کر لیا۔

 

 

44:مسلمان مظلوم قیدیوں پر آزادی و رہائی کے دروازے کھلتے ہیں

 

ایک مؤرخ کہتا ہے کہ :

“سلطان کی فتوحات جبلہ سے لے کر سرمانیہ تک تمام حسن اتفاق سے جمعہ کے دن ہوئیں اور یہ علامت (شاید) خطیبوں کی دعاؤں کی قبولیت کی(تھی)جو وہ منبروں پر سلطان کے لیے مانگا کرتے تھے ۔ان مفتوحہ مقامات سے ہر ایک جگہ ایک تعداد مسلمان قیدیوں کی ملتی تھی (جو صلیبیوں نے ظلم وستم کا مظاہرہ کرتے ہوئے قید خانوں میں ڈالے ہوئے ہوتے تھے فتح کے بعد سلطان کی طرف سے (یہ مسلمان قیدی سب سے پہلے آزاد کر دیئے جاتے تھے)۔”

 

45:پہاڑ کی چوٹی پر واقع مضبوط قلعہ کی تسخیر

 

سلطان وہاں سے فارغ ہو کر حصن بزریہ کی طرف چلا جو ایک بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر ایک نہایت پختہ اور مضبوط قلعہ تھا۔اس کی دشوار گذار راہوں اور پختگی کے سبب سے یہ بات عوام میں مشہور ہو چکی تھی کہ اس قلعہ کو کوئی فتح نہیں کرسکتا۔سلطان کو ان مشکلات نے اس کی فتح کرنے پر اور زیادہ حریص کیا، اور ۲۵ جمادی الآخر کو وہاں پہنچ کر مناجیق سے کام لینا شروع کر دیا۔دو روز تک کوئی مفید نتیجہ نہ پیدا ہوا تو لشکر کے تین حصے کر کے ہر ایک کو باری باری حملہ کرنے کا کام سپرد کر دیا۔پہلے روز عماد الدین والی سنجار کی باری تھی۔بہت شجاعت سے اس نے حملہ اور لڑائی کی مگر کچھ پیش رفت نہ گئی۔دوسرے روز سلطان کی اپنی نوبت تھی۔سلطان نے لشکر کے درمیان کھڑے ہو کر نعرہ اللہ اکبر بلند کیا۔اور لشکر نے متفق ہو کر یکبارگی حملہ کیا اور فصیل پر چڑھ گئے اور فرنگیوں سے سخت لڑائی لڑے ۔آخر کار عیسائی شکست کھا گئے اور مجبوراً امان ماننے لگے ۔اس قلعہ کی فتح کے بعد بہت مخلوق اس میں جزیہ دے کر نکلی۔

والی قلعہ ایک عیسائی والی انطاکیہ کا رشتہ دار تھا۔سلطان نے اس سے نرمی اور ملاطفت سے سلوک کیا اور اس کی خواہش کے مطابق اس کے تمام عزیزوں سمیت انطاکیہ کی طرف عزت کے ساتھ روانہ کیا۔ایک دوسری روایت یہ ہے کہ قلعہ والیہ برنس صاحب انطاکیہ کی زوجہ تھی اور قیدیوں میں وہ اور اس کی بیٹی بھی گرفتار ہوئی تھی سلطان کو جب یہ معلوم ہوا تو ان کو معہ ان کے خدام کے آزاد کر دیا اور تحفے اور انعام دے کر انطاکیہ روانہ کر دیا اور اس کے بعد سلطان کے اسی طرح حصن، دربساک اور بغراس کے قلعوں کو فتح کیا۔یہ آخری دو قلعے تھے جو انطاکیہ کے نواح میں اور اس منہ پر واقع تھے ۔ان کے فتح ہو جانے سے انطاکیہ اکیلا اپنے آپ کو سنبھالنے کے واسطے رہ گیا، گویا کہ انطاکیہ کے اعضاء کٹ گئے اور وہ کمزور و ضعیف ہو گیا۔

سلطان اب انطاکیہ کی فصیلوں کے نیچے پہنچ گیا تھا اور تھوڑی سی کوشش سے انطاکیہ فتح ہو جاتا لیکن مسلمان فوجیں ایک عرصہ کے سخت اور کٹھن کام اور مسلسل لڑائیوں سے درماندہ ہو گئی تھیں ۔وطن کی محبت ان کو کھینچ رہی تھی۔صرف غرباء کی ہمتیں ہی ضعیف نہیں ہوئی تھیں بلکہ عماد الدین سنجار بھی بہت بے قراری سے رخصت طلب کرتا تھا۔

 

46:رمضان المبارک میں سلطان کے جہادی معرکے

 

انطاکیہ کے والی کے سفیر سلطان کے پاس صلح کی درخواست کرنے کے لیے آ چکے تھے ۔سلطان کو مسلمان لشکر کے آرام کی ضرورت نے درخواست صلح منظور کر لینے کی تحریک کی اور موسم سرما کو ۸ ماہ کے واسطے اس نے والی انطاکیہ سے صلح کر لی اور ایک شرط یہ ٹھہرائی کہ”تمام مسلمان قیدی جو انطاکیہ میں ہیں رہا کر دئیے جائیں “۔اس کے دمشق پہنچنے پر ماہ رمضان آ گیا۔یہ ایک قدرتی تحریک آرام کرنے کی تھی مگر سلطان کی کمال ہمت اور شوق جہاد نے اس کو آرام کرنے کی طرف مائل نہ ہونے دیا قریب کے اور قلعوں میں سے حوران کے علاقہ میں صفد اور کوکب نام کے دو قلعے ابھی غیر مفتوحہ باقی تھے ، ان ایام میں ان کو فتح کرنے کا عزم کر لیا۔

 

 

47:مکہ اور مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے خواہشمند پر جہادی ضرب

 

جس زمانہ میں سلطان بلاد انطاکیہ میں عیسائیوں کے شہروں کو فتح کر رہا تھا، ملک عادل نواح کرک میں عیسائیوں سے جنگ کر رہا تھا۔خاص کرک پر بھی اس نے اپنے خسر سعدالدین کثبہ کے ماتحت فوج بھیج دی تھی جس نے آخر کار عیسائیوں کو عرصہ تک محصور رکھ کر تنگ کر دیا اور وہ امداد اور سامان رسد کے پہنچنے سے مایوس ہو کر نہایت عاجزی سے ملک عادل سے امان طلب کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ملک عادل نے امان دے دی اور قلعہ پرمسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔کرک کی فتح ایک بہت بڑی کامیابی تھی جو مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔عماد نے ایک خط میں لکھا کہ :

“کرک پرمسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔یہ وہ قلعہ ہے جس کے والی نے حجاز (مکہ اور مدینہ)پر حملہ کرنے ا ور اس کو فتح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ہمارے پھندے میں ایسا پھنساکہ مشکل سے جانبر ہوا اور مخلصی کو غنیمت سمجھا۔(والی کرک جنگ حطین میں قید ہو گیا تھا اور بعد فتح کرک، سلطان نے اس کو چھوڑ دیا تھا)ہم نے اس کو سال کی ابتداء میں موت کا مزا چکھا دیا تھا۔اب ہم اس قلعہ کے مالک ہو گئے ہیں جس کی نسبت وہ اسی سال میں بڑے دعوے کرتا تھا۔کفر عاجز ہو کر اسلام کے پاؤں پر گرا اوراس قلعہ کے فتح ہونے سے اسلام کا بول بالا ہو گیا۔”

 

48:بارشوں کیچڑ دلدل اور پانیوں کے درمیان خندقوں سے گھرے قلعے کی طرف پیش قدمی

 

فتح کرک کے بعد صفد اور کرک دو قلعے مضبوط باقی رہ گئے تھے ۔سلطان نے ماہ رمضان میں آرام کرنے کے بجائے ان کو فتح کے لیے جہاد کرنا پسند کیا اور شروع رمضان میں دمشق سے صفد کو روانہ ہوا۔قلعہ بلند تھا۔عمیق خندقوں سے گھرا ہوا تھا اور شدت بارش و باراں سے محاصرہ میں کافی ترقی و پیش قدمی نہیں ہوسکتی تھی۔خیموں کے اردگرد سب طرف پانی بھرا ہوا تھا۔کیچڑ میں چلنا پھرنا دشوار تھا مگر سلطان تھا کہ اس جہاد میں اسی سرگرمی اور شوق سے مصروف تھا۔اس تکلیف کو وہ راحت اور مصیبت کو وہ عشرت سمجھتا تھا۔کوئی مشکل اس کو اپنے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتی تھی اور کوئی قوت اسے تھکا نہیں سکتی تھی۔دن بھر فوج کے ساتھ حملے میں شریک رہتا تھا اور رات بھر منجنیقوں کے نصب کرنے کے کام کو اپنی ہر وقت کھلی رہنے والی آنکھوں سے دیکھتا تھا۔صفد کی امداد کے لیے عیسائیوں نے صور سے کچھ فوج بھیجی تھی جو گھاٹیوں میں چھپی ہوئی تھی۔ایک مسلمان امیر شکار کھیلنے کو گیا۔تواس کا سراغ لے آیا اور مسلمان فوج کے سپاہیوں نے ان جنگل باش صلیبیوں ہی کا شکار کر ڈالا اور ایک بھی ان میں بھاگ کر کہیں نہ جا سکالیکن سلطان نے ان کے ساتھ ملاطفت کا برتاؤ کیا اور چھوڑ دیا۔

 

49:چاند کی منزل فتح ہوتی ہے

 

قلعہ صفد فتح ہو گیا اور سلطان قلعہ کو کب کی طرف متوجہ ہوا۔یہ قلعہ بلندی میں سچ مچ کوکب (آسمان کا ستارہ )ہی تھا، جس کو عربی مؤرخ عنقا کا آشیانہ یا چاند کی منزل سے تشبیہ دیتا ہے مگر سلطان کی ہمت سے باوجود بارش و باراں کی مصیبت اور اسی قسم کی تکالیف کے فتح ہو گیا۔

فتح کوکب نے مسلمانوں کی فتوحات کے تمام سلسلے کو ملا دیا۔چنانچہ عماد بغداد کے خط میں سلطان کی طرف لکھتا ہے کہ :

“اب ہمارے لیے تمام مملکت قدس (بیت المقدس)کی سرحد میں اطراف مصر عریش سے لے کر ممالک حجاز تک ادھر کرک سے شوبک تک کا راستہ کھل گیا جس میں بلاد ساحلیہ اعمالیہ بیروت تک شامل ہیں ۔اس مملکت میں اب صور کے سوائے کوئی جگہ غیر مفتوح نہیں رہی اور اقلیم انطاکیہ کے تمام قلعے جبکہ اور لاذقیہ بھی بلاد لادن تک ہمارے قبضہ میں آ گئے ہیں ۔اب صرف انطاکیہ معہ چند چھوٹے قلعوں کے باقی ہے ۔کوئی علاقہ نہیں رہا جس کے مضافات میں سے صرف جبیل فتح ہوا ہے ۔اب کچھ عرصہ کے بعد اس کو فتح کیا جائے گا۔اس کو عذاب الٰہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔میرا ارادہ اس پر حملہ کرنے کا پختہ ہو چکا ہے اور اس کی حدود میں بیت المقدس کی جانب جبیل سے عسقلان تک فوجیں اور سامان جنگ اور کثیر التعداد آلات واسلحہ جمع کر دیئے گئے ۔میرا بیٹا افضل اس ولایت کی حفاظت اور نگہداشت پر متعین ہے اور میرا چھوٹا بیٹا عثمان مصر اور اس کے نواح میں انتظام پر مقرر ہے ۔”

 

 

50:سلطان کی بیت المقدس میں عید الاضحیٰ کی ادائیگی

 

ان فتوحات سے فارغ ہو کر سلطان ملک عادل کو ہمراہ لیے ہوئے بیت المقدس کو روانہ ہوا اور عید الاضحیٰ تک وہیں انتظام و اہتمام میں مصروف رہا۔ا س کے بعد عسقلان کو گیا اور ملک کے انتظام اوربندوبست اور رعایا کے حالات کے تفحص اور ضروری احکام کے اجراء میں مصروف رہا۔ملک عادل کو شاہ زادہ عزیز عثمان کے ساتھ مصر روانہ کر دیا اور خود عکا کے علاقہ کی طرف گیا۔لشکروں کا جائزہ لیا۔نئی فوجیں بھرتی کیں اور لشکروں کو سرحدوں کی حفاظت کے لیے مقرر کر کے روانہ کیا۔عکا کی حفاظت اور استحکام کے لیے مجوزہ عمارات کی ترقی کو جو بہاؤ الدین قراقوش کے زیر اہتمام بن رہی تھیں ، دیکھتا رہا اور خود دمشق کو روانہ ہوا۔حکام کی تبدیلیوں اور تقرریوں کی بابت احکام جاری کرنے اور ہر ایک قسم کی انتظامی ضروریات پر متوجہ ہوا۔

 

 

51:بیت المقدس پر نصب صلیب اعظم کی بغداد روانگی

 

وسط ماہ ۵۸۵ہجری میں دربار بغداد کاسفیر سلطان کے پاس آیا اور اس کی واپسی پر سلطان نے اپنا سفیر اس کے ہمراہ بھیجا اور عجیب و غریب تحائف اور قیمتی اور نادر اشیاء معہ عیسائی قیدیوں اور غنیمت کے بیش قیمت اسباب اور عیسائی بادشاہ کے تاج اور لباس اور صلیب اعظم کے جو صخرہ مقدسہ پر نصب کی ہوئی تھی ، بادشاہ کی خدمت میں بیت المقدس کی عظیم کامیابی کے نشان کے طور پر روانہ کر دئیے ۔

 

 

52:کچھ مزید عظیم جہادی کارنامے

 

یہاں کچھ اور بھی عظیم کارنامے ہیں جنہیں صلاح الدین رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران سر انجام دیا، اور شاید یہ برس چھ سے زائد نہ ہوں گے اور یہ مختلف النوع کامیابیوں سے بھرپور ہیں ۔کچھ علمی ، کچھ سیاسی اور کچھ اور ان کے علاوہ۔میں کچھ باقی عسکری کامیابیوں کے بالاختصار ذکر پر اکتفا کرتا ہوں ، جن کا ابھی تھوڑی دیر قبل میں نے فتح المقدس کے ضمن میں اشارہ کیا ہے ، اور یہ ہیں :فتح طبریہ، الناصرۃ، ارسوف، ھونین، جبلہ، الطرطوس، اللاذقیہ، نابلس، البیرۃ، حصن عنصری، حصن العارزیہ، البرج الاحمر، حصن الخیل، تل الصافیہ، قلعہ الحبیب الفوقانی، الحبیب التحتانی، الحصن الاحمر، لد، قلنوسہ، القاقون، قیمون، الکرک، قلعہ الشوبک، قلعہ السلع، الوعیرۃ، قلعہ الجمع، قلعہ الطفیلہ، قلعہ الہرمز، صفد، حصن بازور، حصن اسکندرونہ صور اور عکا کے درمیان)، قلعہ ابی الحسن، بالائی ساحل پر ایک شہر ، المرقید، حصن یحمور (جبلہ اور مرقب کے مابین) بلنیاس، صہیون، بلاطنس، حصن الجماہیر، قلعہ الیذو، بکاس، الشغر، بکسرائیل، السرمانیہ، قلعہ برزیہ، دربساک، (انطاکیہ کے قریب)بفراس، (ارض بیروت میں )الدامور ، (صیدا کے نزدیک )السوفند۔

 

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اور اس کے استاذ نورالدین رحمہ اللہ سے قبل صلیبیوں نے دریائے اردن اور بحر ابیض کے درمیان سب علاقوں پرقبضہ جمالیا تھا۔حتیٰ کہ مسلمانوں کے پاسایک محقق کے بقول دریائے اردن کے غربی کنارے ایک مربع سینٹی میٹر جگہ بھی نہ رہی تھی۔بلکہ اس کے برعکس دریا کے شرقی کنارے صلیبیوں کے قلعے اور مضبوط مقامات موجود تھے جیسے کہ کرکوک اور الشوبک وغیرہ۔صلاح الدین رحمہ اللہ نے ہمت سے کام لیا۔اللہ کے فضل و کرم اور اپنی اسلامی شخصی خوبیوں کی بدولت کہ انہیں ، ، صور”اور”یافا”کے درمیان ساحل پر ہی چھوٹے چھوٹے دائروں میں محصور کر دیا۔اگر اللہ تعالیٰ اسے کچھ اور مہلت دے دیتا ، اور ۵۷۹ہجری میں وفات نہ پاتا تو اور بھی حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیتا۔ان شاء اللہ لیکن پھر بھی جو اس نے کیا حق ادا کر دیا۔یقیناً صلاح الدین رحمہ اللہ مسلم قائد ان حملہ آوروں اور ملک پر قابض غاصبوں کو ملک سے نکالنے پر ان سمندری آمد و رفت پر اور انہیں ان کے ملک یورپ تک واپس دھکیلنے جیسے اہم مسائل پر اکثر سوچتا رہتا تھا، تاکہ وہ یہ علاقے اسلامی تعلیمات سے منور اور جاہلیت کی ظلمات سے پاک صاف کرسکے ایک بار وہ اپنے وزیر ابن شداد سے جب کہ وہ دونوں مجاہدین کی جماعت کے ہمراہ ایک ساحلی مہم پر جا رہے تھے ، یوں ہمکلام ہوا :”کیا میں تجھے ایک بات بتاؤں ؟، ، ابن شداد نے کہا:”ہاں ضرور!”تو صلاح الدین رحمہ اللہ کہنے لگا:

“میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ ساحل کے بقیہ علاقے اللہ تعالیٰ کب فتح کروائے گا !!میں جب پورے ملک میں بنظر غائر دیکھتا ہوں تو دل میں یہ بات اٹھتی ہے کہ لوگوں کو خیر باد کہوں ، گھنے گھنے جنگلات تک پہنچوں سمندر کی پشت پر سوار ہو کر ایک ایک جزیرے تک پہنچوں ۔زمین کا ایک ایک چپہ تلاش کروں روئے زمین میں اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کو (زندہ) باقی نہ چھوڑوں یا پھر میں خود شہید ہو جاؤں ۔”اللہ اکبر!

 

53:صلاح الدین رحمہ اللہ کا مجاہدانہ طرز زندگی

 

یوں لگتا ہے کہ زندگی کے ان آخری برسوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دل سے دنیا کی ہر رغبت اور مرغوب و پسندیدہ چیز کو نکال دی تھا اور جہاد کو اس کے لیے ایسا محبوب مشغلہ بنا دیا تھا کہ صرف جذبہ جہاد ہی اس کے دل پر چھا گیا اور جی پر غالب آ گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مشکلات و شدائد کو اس پر آسان فرما دیا تھا۔کہ اس کی زندگی کے یہ برس جہادی خیموں میں یا پھر گھوڑوں کی پشتوں پر ہی گزار دئیے دشمن سے لڑتے ہوئے یا ان کا محاصرہ کرتے ہوئے یا پھر ان کے قلعوں اور پناہ گاہوں کو فتح کرتے ہوئے جو آدمی ملک شام اوراس کی موسم سرمامیں سردی کی شدت یعنی اس موسم سرماکے اولوں ، برفوں ، پہاڑوں کی برف باریوں ، یخ بستہ ہواؤں ، آندھیوں اور بارشوں سے آشنا ہے ، وہ اچھی طرح سمجھ سکتا اور تجزیہ کرسکتا ہے کہ صلاح الدین نے کس ولولہ انگیز جذبہ اور ایمانی حوصلے سے اپنے رب کی رضا جوئی اور دین کو غالب دیکھنے کے لیے ، ان حالات میں زندگی بسر کی ہو گی۔

ہم ابن شداد سے صلاح الدین کی زندگی کے بارے میں یہ ایک واضح ترین مثال بھی توسنتے ہیں ، وہ کہتا ہے :”۵۸۴ہجری رمضان المبارک کے مہینے کے اوائل ہی میں سلطان دمشق سے بجانب “صفد”چل پڑا۔اس نے اس ماہ مبارک میں اپنے بیوی بچوں ، گھر بار اور وطن کی طرف کوئی التفات تک نہ کیا، مڑ کر بھی نہ دیکھا حالانکہ اس ماہ میں انسان جہاں کہیں بھی گیا ہو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھے رہنے کے لیے لوٹ آتا ہے اے اللہ !اس نے یہ سب کچھ تیری رضا کے لیے برداشت کیا ہے ، اسے اجر عظیم عطا فرما۔(آمین)

اسی مبارک ماہ میں اللہ کا یہ شیر “صفد”تک پہنچا، حالانکہ وہ ایک ایسا محفوظ مضبوط اور محفوظ قلعہ تھا جسے تمام اطراف سے وادیوں نے بھیر رکھا تھا اس کے باوجود اس نے وہاں پہنچ کر منجنیق نصب کر دیں بارش اپنے جوبن پر ، وادیوں میں کچی زمین کی دھنسن بہت زیادہ (یعنی گاراسا، جس میں پاؤں رکھتے ہی آدمی دھنس جائے )بارشوں کے ساتھ ژالہ باری بھی شدید ترین لیکن یہ سب کچھ ، اس کی یلغار کے سامنے اور فوجوں کی صف بندی کرنے میں ، جن کا موقع محل متقاضی تھا، ذرہ برابر بھی رکاوٹ نہ بن سکے ۔

اس ایک رات، میں خود بھی آپ کے ہمراہ تھا کہ آپ نے بنفس نفیس پانچ منجنیقوں کو نصب کرنے کے لیے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔اسی رات یوں فرمانے لگے :”ان پانچوں کو نصب کرنے سے پہلے ہمیں سونا نہیں ہو گا” لہٰذا ایک ایک جماعت کو ایک ایک منجنیق حوالے کی اور قاصد مسلسل اس کے اور منجنیق نصب کرنے والوں کے مابین آتے جاتے رہے ، ایک ایک لمحہ کی خبر دیتے رہے ، یہاں تک کہ آپ (رحمہ اللہ )کی خدمت گذاری اور امیر کی اطاعت شعاری میں ہمیں صبح ہو گئی۔منجنیق گاڑی (نصب)کی جاچکی تھیں ، تو میں نے آپ سے ایک حدیث مبارکہ بیان کی اور اسی کے حوالے سے آپ کو بشارت اور خوشخبری سنائی، وہ حدیث نبوی ﷺ یہ ہے :

((عَینَان لَا تَمَسُّھُمَا النَّارُ عَینٌ بَاتَت تَحرُسُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَعَینٌ بَکَت مِن خَشیَةِ اللّٰہِ))​

“دو آنکھیں ہیں جنہیں دوزخ کی آگ چھو نہ سکے گی ، ایک آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے جاگتے ہوئے گزاری، دوسری آنکھ جس نے اللہ کے ڈر سے آنسو بہا دئیے “۔

پھر صفد کے ان صلیبیوں سے لڑائی جاری رہی یہاں تک کہ وہ سلطان کے حکم کے سامنے مطیع ہو گئے ۔

 

54:مہلک بیماری بھی گھوڑے کی پشت سے نیچے نہ اتارسکی

 

آپ کو”دردوں “کا مرض بھی لاحق تھا، اس کے باوجود میدان جنگ کی چیخ و پکار اور پکڑ دھکڑ میں رہے ، تو یہ صرف بارگاہ الٰہی سے ثوب چاہتے ہوئے تھا۔وہ صبر و ثبات کے صلے میں جو کچھ اللہ رحیم و کریم کے پاس ہے اسے چاہتے ہوئے کیا کرتے تھے ۔

ہم ابن شداد سے اس کے صبر و ثبات کے بارے میں ایک اور پہلو بھی سنتے ہیں جب کہ صلاح الدین رحمہ اللہ ساٹھ ستر برس کی عمر کے درمیان تھے ، وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :

“میں نے آپ رحمہ اللہ کو “عکا”کی چراگاہ میں خود دیکھا کہ سلطان کی مرض کی تکلیف انتہاء کو پہنچ چکی تھی جو اسے جسمانی پھوڑوں کی وجہ سے لاحق ہوئی تھی۔اس مرض نے اس کے جسم کے درمیانی حصے کو ماؤف کر دیا تھا، جس سے اس سے بیٹھا بھی نہ جا سکتا تھا۔وہ خیمہ میں اپنے ایک پہلو پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، اور اسی حالت ہی میں کھانا کھارہا تھا، جب کہ وہ اس وقت خیمہ میں ہونے کے باوجود دشمن کے بھی قریب ترین تھا۔یہ مرض اسے ، دشمن سے لڑنے کے لیے اپنے لشکر کے میمنہ (دائیں طرف کا لشکر)میسرہ اور قلب الجیش (لشکر کا وسط)ترتیب دینے سے نہ روک سکا۔اس مرض کی شدت کے با وصف وہ ابتدائے نماز (صبح )سے صلاۃ ظہر تک اور پھر عصر تا مغرب گھوڑے کی پشت پر بھی بیٹھتا، اپنے لشکر کے مختلف دستوں اور یونٹوں کے پاس پہنچتا، انہیں حکم دیتا، انہیں جہاد و قتال سے متعلق منہیات سے روکتا، ان میں فی سبیل اللہ فداء ہونے اور جام شہادت نوش کرنے کی روح کو تڑپاتا اور گرماتا۔اور اس کی اپنی حالت یہ ہوتی کہ شدت الم اور پھوڑوں کی ٹیس کو برداشت کیے ہوئے تھا۔ہمیں اس کی حالت پر حیرت اور تعجب ہوا کرتا، تو وہ یوں کہا کرتا:”کہ گھوڑے کی پشت سے نیچے اترنے تک یہ درد محسوس ہی نہیں ہوتا۔بلا شک اس پر اللہ تعالیٰ کی یہ خاص عنایت تھی، اوراس اسلامی حکم کی برکت تھی جس کی خاطر وہ جہاد کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں جسے اس کے رسول معظم ﷺ نے اپنے رب سے حدیث قدسی میں بیان کیا ہے :

((ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصر بہ وید ہ التی یبطش بھا و رجلہ التی یمشی بھا ولئن سألنی لاعطینہ ولئن استعاذنی لاعیذتہ))

“میرا بندہ لگاتار نوافل کی ادائیگی سے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ۔تو جب میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کی وہ ٹانگ بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ بھی دیتا ہوں ۔”

اور وہ اللہ قرآن میں یوں بھی فرماتا ہے :

﴿وَالَّذِینَ جَاھَدُوا فِینَا لَنَھدِیَنَّھُم سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ المُحسِنِینَ﴾​

“اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی (یا جہاد کیا، کافروں سے لڑے )ہم ان کو ضرور اپنے (قرب کے ) رستے دکھلائیں گے اور بے شک اللہ (اپنی مدد سے )نیک لوگوں کے ساتھ ہے ۔”

 

 

55:سلطان صلاح الدین کی وفات

 

جہاد کی پر مشقت زندگی اور مسلسل بے آرامی نے سلطان کو مستقل مریض بنا دیا تھا، مرض کی شدت میں رمضان کے کئی روزے قضا ہو گئے مگر جہاد نہ چھوٹا۔اب جو موقع ملا تو قضا روزے ادا کرنا شروع کر دیئے ۔معالج نے ان کی تکلیف کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے منع کیا مگر سلطان نے یہ کہہ کر کہ “نہ معلوم آئندہ کیا حالات پیش آئیں “تمام قضا روزے پورے کیے ۔

وسط صفر ۵۸۹ہجری میں مرض شدت اختیار کر گیا اور وفات سے تین روز قبل غشی کی سی حالت طاری ہو گئی ، معلوم ہوتا تھا کہ بیس سال کا تھکا ماندہ مجاہد تکان اتار رہا ہے ۔۲۷ صفر کی صبح کا ستارہ افق پر نمودار ہوا تو سلطان صلاح الدین کی نبضیں ڈوب رہی تھیں ۔شیخ ابوجعفر رحمہ اللہ نے سکرات موت کے آثار محسوس کر کے سورۃ حشر کی تلاوت شروع کی جب آیت ﴿ھُوَ الَّذِی لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَالِمُ الغَیبِ وَالشَّھَادَةِ﴾ پر پہنچے تو یکایک سلطان نے آنکھیں کھول دیں ، مسکرائے اور تبسم ریز لہجے میں کہا:”سچ ہے ۔” یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔سلطان کے غم میں ہر آنکھ اشکبار نظر آتی تھی، صلیبی دنیا کے چھکے چھڑا دینے والے اس بطل جلیل کا انتقال اس حال میں ہوا کہ ترکے میں کوئی گاؤں ، باغ اور مکان نہ چھوڑا تھا۔

 

56:دنیا سے بے رغبتی اور قلت سرمایہ

 

شاید یہ بھی مناسب ہی رہے کہ میں (ابن شداد) آپ رحمہ اللہ کے زہد و تقویٰ اور دنیاوی مال و متاع کی قلت کی طرف اشارۃً بات کر دوں ۔مجھے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اس نے اپنے مولا سے اس حال میں ملاقات کی کہ ورثہ میں کوئی محل چھوڑا اور نہ کوئی دنیاوی سرمایہ، بلکہ اتنی بھی رقم نہیں چھوڑی جس میں زکوٰۃ واجب ہوتی، بلکہ وہ ساری دولت جو اپنے پیچھے چھوڑی وہ صرف ۴۷ درہم (ناصری)اور ایک سونے کا دینار (شامی)۔اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے آخرت میں جو نعمتیں تیار فرما رکھی ہیں ، وہ عطا فرمانے کے لیے سلطان کو دنیاوی رقبوں ، باغوں ، بستیوں اور کھیتیوں محلات وغیرہ سے بے نیاز ہی رکھا۔

اگر آپ رحمہ اللہ دنیاوی دولت جمع کرنے اور کوٹھیاں بلڈنگیں بنانے میں مشغول ہو جاتے تو کبھی بھی اپنے علاقے آزاد کروانے ، تاریخ کے رخ کو موڑنے اور ہمیشہ زندہ رہنے کی استطاعت نہ پاتے ۔گویا کہ لقیط بن یعمر الایادی نے کسی ایسے ہی سپوت کو ذہن میں رکھ کر یہ ابیات کہیں ہیں :

فقلدوا امرکم للّٰہ درّکم

رحب الذراع بامر الحرب مضطلعا​

“تم اپنے سب معاملات اسی کے حوالے کر دو ، اسی میں تمہاری بہتری ہے (دوستی کرنے کے لیے )کھلے بازوؤں والا ہے (یعنی دوستوں پر مہربان ہے اور (دشمنی کے حوالے سے ( جنگ کی بات کے ساتھ ہی دشمنوں کو بوجھل کر دینے والا ہے ، ان پر قدرت اور غلبہ پانے والا ہے ۔”

لا مترفا انّ رخاء العیش ساعدة

ولا اذا عضّ مکروہ بہ خشّعا​

“وہ دنیاوی ناز و نعمت پر اترانے والا شیخی بگھارنے والا بھی نہیں ہے بلکہ یہ دنیاوی آسائشیں تو اس کی معاون و مددگار ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ ذرہ برابر ڈرنے والا ہے جب کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس پر آن پڑے ۔”

مسھد اللیل تعنیہ امودکم

یروم منھا الی الاعداء مطّلعا​

“راتوں کو بیدار رہنے والا ، بیدار مغز ہے ، تمہاری ہی سوچیں اسے تھکا دیتی ہیں (تمہیں تباہ و برباد کرنے کے لیے سوچتا رہتا ہے )پھر دشمنوں پر حملے کرنے کے نئے نئے راستے تلاش کرتا ہے (دشمنوں کو لاچار کیے رکھتا ہے )”

لا یطعم النّوم الا دیث یبعثہ

ھم یکاد شباة یفصم الضلعا​

” وہ تو نیند کا ذائقہ بھی تھوڑی دیر کے لیے چکھتا ہے پھر اسے کوئی پروگرام ہی بیدار کر دیتا ہے ، قریب ہے (اس کا سطحی سا غصہ ہی)دشمن کی، مدمقابل کی پسلیوں کو توڑ کر نہ رکھ دے ۔(تو ا سکے مکمل غصے کی کیا کیفیت ہو گی)”

ولیس یشغلہ مال بثمرہ

عنکم ولا ولد ینغی لہ الرّفعا​

“اس کا دنیاوی مال و متاع اکٹھا کرنا بھی تمہاری طرف سے مشغول تو نہ کرسکے گا اور نہ ہی وہ نور چشم صاحبزادہ غافل کرسکے گا جس کی رفعت و منزلت کا وہ طلب گار اور خواہش مند ہے ۔”

اذ عابہ عائب یوما فقلت لہ

دمت لجنبک قبل النوم مضطجعا​

“اگر کوئی عیب جو کسی روز اس کی (بہادری کے سلسلے میں )عیب جوئی کرے میں تو صرف اسے یہی کہوں گا کہ سونے سے قبل اپنے پہلوؤں کے لیے نرم بستر کو نرم و ملائم کر لینا۔”

فساوروہ فالقوہ أخا علل

فی الحرب یحتبل الرتبال والسّبعا​

 

 

57:تاریخ اسلام، سنت الٰہیہ کی روشنی میں

 

یہاں میں چاہوں گا کہ ایک سوال پوچھوں :کہ عالم اسلام، صلیبیوں کے بلاد اسلامیہ میں ناپاک قدم رکھنے سے قبل جس حالت میں تھا، اس کی برعکس حالت جو ہم نے ابھی دیکھی، اس کی طرف کیسے منتقل ہو گیا؟جن حالات کے سائے تلے صلاح الدین ان صلیبیوں سے فلسطین آزاد کروانے کی ہمت پا سکا”صور”اور”یافا”کے درمیان پر چھوٹے چھوٹے دائروں میں انہیں دھکیلنے میں کامیاب ہوسکاانہیں مزید دور دراز علاقوں تک دھتکارنے کے لیے جسے موت نے مزید مہلت نہ دی، یہاں تک کہ یہی شان اللہ تعالیٰ نے اشرف خلیل بن قلادون کی قسمت میں لکھی، جو ۶۹۰ہجری بمطابق ۱۲۹۱ء میں صلیبیوں کے آخری قلعے اور پناہ گاہ “عکا”پر قابض ہو گیا۔

شاید کہ اس سوال کا یہی جواب ہے کہ تاریخ بھی ایک طرح سے “ماں “ہے ۔جس سے کچھ عرصے بعد “پیدائش” ہوتی رہتی ہے ، جس پیدائش کے بعد سنت الٰہیہ مضبوط ہوتی ہے اور یہ بالکل “انسانی پیدائش” ہی کی طرح ہے ، کہ جب اس “تاریخی پیدائش ” کا وقت وضع قریب آ جاتا ہے تو کوئی بھی “اللہ کے حکم”اور اس کی تقدیر کو روک نہیں سکتا۔بے شک یہ بھی اللہ کی سنتوں یعنی حکموں کا حصہ ہے ، ان سے تعصب رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے ۔جیسے “عورتوں کے رحم”سے “نومولود بچے “دنیا میں آتے ہیں اسی طرح “تاریخ کے رحم”سے بڑے بڑے “واقعات “جنم لیتے ہیں یہ واقعات “تاریخی رفتار”کے ساتھ ساتھ دوسرے واقعات سے جنم لیتے ہیں ۔

مسلمانوں کے لیے کس حد تک ہم پسند کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ان سنتوں اور ان کے تقاضوں کی فطرت سے واقفیت اورشناسائی حاصل کریں ، پھر اسی انداز اور اسی نہج پرن اپنے حالات کو ڈھال دیں جو ان سنتوں سے مطابقت اور موافقت رکھتے ہوں ، نتیجتاً، اللہ کی توفیق، سے دنیا کی باگ ڈور پھر انہیں کے ہاتھوں میں ہو گی۔

یقیناً یہ “کمزور ترین حالات”جن سے عالم اسلام گذر رہا ہے ، اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ “سنت الٰہیہ “کے مطابق عنقریب ایک “تاریخی ولادت”ہونے والی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ نئی پیدائش “نیا صلاح الدین”ہو گا پھر اس روز حطین بھی واپس پلٹ آئے گا اور القدس اور فلسطین بھی واپس مل جائیں گے ۔ان شاء اللہ

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ، بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ، وَعْدَ اللَّهِ لا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ ﴾​

“اور اس دن مسلمان اللہ تعالیٰ کی مدد پر خوش ہو جائیں گے ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ زبردست رحم کرنے والا۔یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ (یہ بات )نہیں جانتے ۔”

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی زندگی کے آخری برسوں پر یہ ہلکی سی مگر واضح جھلک ہے اور درحقیقت یہی موضوع ہی پڑھنے پڑھانے کے زیادہ لائق ہے ، جو ہر پہلو کو شامل بھی ہے اور مکمل ترین بھی ہے ۔اور خصوصاً ان کرب ناک اور غم ناک حالات و ظروف کے تناظر میں جن کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں ۔یقیناً صلاح الدین جیسے “زندہ”افراد کی تاریخ پڑھنے سے ہی زندگی مل سکتی ہے ، جو عزائم کو زندہ کرتے ہیں ، اور ہمتوں کو تیز کر دیتے ہیں ، افراد کو”ہم مرتبہ ثریا”بنا دیتے ہیں ، اور پھر یقیناً افراد کو “ایک فیصلہ کن زندگی”کے لیے معرکہ کرنے پر تیار کر دیتے ہیں ۔

 

والصلاة والسلام علی القدو ة المثلیٰ للابطال والقاد ة محمد و علی آلہ و اصحابہ واتباعہ۔​

اور درود وسلام محمدﷺ پر، آپ کی آل آپ کے صحابہ اور آپ کے پیروکاروں پر۔وہ محمدﷺ جو تمام بہادروں اور لیڈروں کے لیے بہترین نمونہ ہیں ۔

ورحم اللّہ صلاح الدین ومکن لہ فی جوار الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصیدیقین والشھداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا۔​

اور رحمت فرمائے اللہ تعالیٰ”صلاح الدین رحمہ اللہ”پر، اور ان لوگوں کے پڑوس میں اسے جگہ نصیب فرمائے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے ، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے ، ان لوگوں کی رفاقت اور صحبت کتنی ہی بہترین ہے !

٭٭٭

ماخذ:

www.siratulhuda.com/forum/threads/ایوبی-کی-یلغاریں.4112/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید