FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

اہل تصوف کی کارستانیاں

 

 

                عبد الرحمن عبد الخالق

 

       نصوص قرآن و حدیث کے لئے       باطنی تاویل کا دروازہ کھولنا​

 

 

صوفیانہ افکار کے عظیم ترین خطرات میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کے نصوص کے لئے باطنی تفسیر کا دروازہ کھول دیا۔ چنانچہ مشکل ہی سے کوئی ایسی آیت یا حدیث ملے گی جس کی بد دین اہل تصوف نے خبیث باطنی تاویلات نہ کی ہوں۔ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“ابو عبدالرحمن سلمی نے تفسیر قرآن کے سلسلے میں ان (اہل تصوف) کا کلام جو زیادہ تر ناجائز ہذیان ہے تقریباً دو جلدوں میں جمع کیا ہے۔ اور اس کا نام “حقائق التفسیر” رکھا ہے۔ سورہ فاتحہ کے سلسلے میں اس نے ان سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام فاتحۃ الکتاب اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ اول ترین چیز ہے جس سے ہم نے تمہارے ساتھ اپنے خطاب کا دروازہ کھولا ہے۔ اگر تم نے اس کے ادب کو اختیار کیا تو ٹھیک ، ورنہ اس کے مابعد کے لطائف سے تم کو محروم کر دیا جائے گا”۔

مصنف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بری بات ہے ۔ کیوں کہ مفسرین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سورۃ فاتحہ اول اول نازل نہیں ہوئی تھی۔

اسی طرح سورہ فاتحہ کے خاتمے پر جو آمین کہی جاتی ہے اس کی تفسیر کی ہے کہ : ہم تیرا قصد کرتے ہیں”.

مصنف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بھی بری تفسیر ہے۔ اس لئے کہ یہ اُمّ سے نہیں ہے، جس کے معنی قصد کرنے کے آتے ہیں۔کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو آمین کی میم کو تشدید ہوتی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قول : وان یاتوکم اسٰرٰی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ابو عثمان نے کہا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو گناہوں میں غرق ہوں۔ اور واسطی نے کہا کہ جو اپنے افعال کو دیکھنے میں غرق ہوں۔ اور جنید نے کہا کہ جو اسباب دنیا کے اندر قید ہوں۔ اور “تم ان کا فدیہ دیتے ہو” کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ انہیں دنیا سے قطع تعلق کی طرف لے جاتے ہو۔

میں کہتا ہوں کہ یہ آیت بطور انکار کے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے طرز عمل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب تم انہیں قید کرتے ہو تو فدیہ دیتے ہو اور جب ان سے جنگ کرتے ہو تو قتل کرتے ہو(حالانکہ یہ بات تم پر حرام کی گئی ہے) مگر ان اہل تصوف نے اس تفسیر انکار کے بجائے مدح کے طور پر کی ہے۔

محمد بن علی نے یحب التوابین کا معنی بیان کیا ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اپنی توبہ سے توبہ کرتے ہیں (یعنی توبہ توڑ دیتے ہیں۔)

اور نوری نے یقبض و یبسط (اللہ روزی تنگ کرتا اور کشادہ کرتا ہے) کی تفسیر یوں کی ہے کہ وہ اپنے ذریعہ قبض کرتا ہے اور اپنے لئے پھیلاتا ہے۔ اور من دخلہ کان آمنا کی تفسیر یہ کی ہے کہ حرم میں داخل ہونے والا اپنے نفس کے خیالات اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ نہایت گندی تفسیر ہے کیوں کہ آیت کا لفظ خبر کا لفظ ہے لیکن معنی امر کا ہے اور مفہوم یہ ہے کہ جو حرم میں داخل ہو جائے اسے امن دے دو۔ لیکن ان حضرات نے اس کی تفسیر خبر سے کی ہے۔ پھر جو تفسیر کی ہے وہ صحیح بھی نہیں۔ کیوں کہ کتنے ہی لوگ ہیں جو حرم میں داخل ہوتے ہیں۔ لیکن نفس کے خیالات اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ نہیں رہتے۔

ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ (یعنی اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کر لو گے تو ہم معمولی گناہوں کو بخش دیں گے۔ الخ) اس کی تفسیر میں ابو تراب نے کہا کہ کبائر سے مراد فاسد دعوے ہیں۔

والجار ذی القربیٰ (قرابت دار پڑوسی) کی تفسیر میں سہل نے کہا کہ اس سے مراد دل ہے اور الجار الجنب (پہلو کا ساتھی) نفس ہے۔ اور ابن السبیل (راستہ چلنے والا مسافر) اعضاء و جوارح ہیں۔

وھم بھا (یوسف نے اس کا قصد کیا) اس کی تفسیر میں ابوبکر وراق نے کہا کہ دونوں قصد امراۃ العزیز کا تھا۔ یوسف علیہ السلام نے اس کا قصد نہیں کیا تھا میں کہتا ہوں یہ صریح قرآن کے خلاف ہے۔

ما ھذا بشر (یہ بشر نہیں) کی تفسیر محمد بن علی نے یوں کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں کہ اس کو مباشرت کے لئے بلایا جائے۔

زنجانی نے کہا کہ رعد(کڑک) فرشتوں کی بیہوشیاں ہیں اور برق (بجلی) ان کے دلوں کی آہیں ہیں۔ اور بارش ان کا آنسو ہے۔

وللہ المکر جمیعا کی تفسیر حسین نے یوں کی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ جیسا مکر کرتا ہے اس سے زیادہ واضح مکر کوئی نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ اللہ نے ان کے ساتھ یہ وفا کی ہے کہ ان کے لئے اللہ کی جانب ہر حال میں راستہ ہے۔ یا حادث کے لئے قدیم کے ساتھ اتصال ہے۔

مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس کے معنی پر غور کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ نرا کفر ہے۔ کیوں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا مکر گویا ٹھٹا اور کھلواڑ ہے۔ مگر یاد رہے کہ یہ حسین وہی ہے جو حلاج کے نام سے مشہور ہے۔ اور وہ اسی لائق ہے۔

لعمرک کی تفسیر میں لکھا ہے کہ تو اپنے راز کو ہمارے مشاہدے کے ذریعہ تعمیر کرتا ہے۔

“میں کہتا ہوں پوری کتاب اسی ڈھنگ کی ہے۔ میں نے سوچا یہاں اس کا کافی حصہ درج کر دوں۔ لیکن پھر یہ خیال آیا کہ اس طرح ایک ایسی بات کے لکھنے میں وقت ضائع گا جو یا تو کفر ہے یا خطا یا ہذیان ہے۔ یہ تفسیر اسی ڈھنگ کی ہے جیسی ہم باطنیہ سے نقل کر چکے ہیں۔ لہٰذا جو شخص اس کتاب کے مشتملات کو جاننا چاہتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہی اس کا نمونہ ہے۔ اور جو شخص مزید جاننا چاہتا ہو، وہ اس کتاب کا مطالعہ کر لے”۔ (تلبیس ابلیس ص 332 و ص 333)

اور یہ جو کچھ امام ابن جوزی نے ذکر کیا ہے یہ اس گروہ کے اوائل سے منقول صوفیانہ تاویلات کا محض نمونہ ہے۔ ورنہ اگر ہم اہل تصوف کے ہاتھوں قرآن و حدیث کی لکھی ہوئی خبیث باطنی تاویلات کا تتبع شروع کر دیں تو دسیوں دفتر جمع ہو جائیں گے، جو سب کے سب اسی قسم کے ہذیان ، افتراء اور اللہ پر بلا علم گھڑی ہوئی باتوں سے پر ہوں گے۔ اور اوپر سے یہ زعم بھی گا کہ یہی معنی قرآن کے حقیقی معانی ہیں۔

افسوس ہے کہ قرآن و حدیث کے اس باطنی منہج پر اس گروہ کے پیروکار آج تک کاربند ہیں۔ بلکہ ان صوفیانہ خرافات کی تصدیق میں مبتلا ہونے والوں کے لئے یہ خصوصی نہج اور اسلوب بن چکا ہے۔ تم مصطفیٰ محمود کی کتاب “القرآن محاولۃ لتفسیر عصری” دیکھو یا وہ کتابیں دیکھو جنہیں نام نہاد جمہوری سودانی پارٹی کے لیڈر محمود محمد طہ سودانی نے تالیف کیا ہے تو تمہیں ان عجیب و غریب نمونوں کا علم گا جو صوفیانہ افکار کے زیر اثر وجود میں آ کر مسلمانوں کے سامنے قرآن و حدیث کی باطنی تاویلات کے لباس میں ظاہر ہوئے ہیں۔

بعض نمونے پیش خدمت ہیں:

المحاولہ العصریہ لتفسیر القرآن (قرآن کریم کی عصری تفسیر کی کوشش) جسے ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے مصری رسالہ صباح الخیر کے صفحات پر قلمبند کیا۔ پھر اسے “القرآن محاولۃ لفھم عصری للقرآن” کے نام سے کتابی شکل میں جمع کیا۔ یہ تفسیر قرآن کی نئی صوفیانہ کاوش ہے۔ اور یہ ڈاکٹر موصوف کے فکری استاذ محمود محمد طہ کے الفاظ میں صوفیانہ افکار کے دائرہ میں ایک وسیع کاوش ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر موصوف اس کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

“مجھے اسلامی مفکر محمود طہ کے “الصلاۃ” نامی رسالہ کی ایک نفیس تعبیر بہت ہی پسند آئی۔ موصوف نے لکھا ہے :

اللہ نے آدم کو کیچڑ یا گارے سے دھیرے دھیرے وجود میں نکالا۔ ولقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین ہم نے انسان کو مٹی کے گارے سے پیدا کیا۔ یہ مٹی سے درجہ بدرجہ اور قدم بقدم انسان کے پھوٹنے اور وجود میں آنے کی بات ہے۔ یعنی ایلبا سے اسفنج، اس سے نرم حیوانات اور ان سے چھلکے والے حیوانات، اور ان سے ہڈی والے حیوانات، اور ان سے مچھلیاں، مچھلیوں سے زمین پر گھسٹنے والے جانور، اور ان سے چڑیاں اور چڑیوں سے چھاتی والے جانور بنتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کے فضل و ہدایت اور رہنمائی سے آدمیت کا اعلیٰ مرتبہ وجود میں آیا۔ (المحاولہ ص 52)

ڈاکٹر مصطفیٰ محمود کا یہ اسلامی مفکر درحقیقت سودان کا ایک زرعی انجینئر ہے جس نے تصوف کا مطالعہ کیا۔ اور اس دعوے تک پہنچا کہ اس سے تمام شرعی احکام ساقط ہو گئے ہیں۔ (اور وہ مکلف نہیں رہ گیا ہے) کیوں کہ وہ یقین کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے ۔ اس کی کتاب تو وہی نماز کے متعلق ہے جس سے ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے مذکورہ عبارت نقل کی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کچھ اور کتابیں بھی ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ایک کتاب ” تفسیر قرآن کی عصری کاوش” کے رد میں بھی ہے۔

اور ڈاکٹر موصوف کو محمود محمد طہ کی کتاب الصلاۃ کی جو بات پسند آئی، اور جسے ہم ابھی نقل کر چکے ہیں، وہ درحقیقت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے معاملے میں ڈارون کے نظریے کو گھسیڑنے کی عجیب و غریب کوشش ہے۔ حالانکہ اب اس نظریہ پر کسی کو یقین نہیں رہ گیا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ہر قسم کے اوٹ پٹانگ خیال کو لے کر اس سے اللہ عزوجل کے کلام کی تفسیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ بات کشف اور مجاہدہ کے ذریعے معلوم ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ محض کافروں اور ملحدوں کے افکار و خیالات کی نقل ہوتی ہے جس پر وہ قرآن کریم کی آیات کا لیبل لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ تفسیر و تعبیر قرآن کی عصری کاوش صوفیانہ افکار کے دائرہ سے اٹھی ہے تو اس کی دلیل قرآن کے متعلق ڈاکٹر مصطفیٰ محمود کی حسب ذیل عبارتیں ہیں:

(الف) ڈاکٹر محمود مصطفیٰ نے “اسماء اللہ” کے عنوان سے پوری ایک فصل قلمبند کی ہے جس میں رب اور اِلٰہ کے معانی کی صحیح اور سالم معرفت وہی قرار دہی ہے جسے اہل تصوف نے دریافت کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

“اہل تصوف کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حد درجہ ظاہر ہونے کے سبب ہم سے پوشیدہ ہے”۔ ص 99

اس کے بعد موصوف صوفیانہ فکر کی مدح سرائی میں یوں رواں دواں ہیں کہ:” صوفیا اللہ کا قرب محبت کی وجہ سے چاہتے ہیں جہنم کے خوف یا جنت کی طلب کی وجہ سے نہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کائنات سے اس کے بنانے والے کی طرف مسلسل ہجرت میں میں ہیں۔ ص 100

پھر لکھتے ہیں کہ : “اہل تصوف کے مختلف اطوار و حالات ہوتے ہیں ۔ اور وہ بڑی دلچسپ رائے کے حامل ہوتے ہیں جو اپنی خاص گہرائی اور معنی رکھتی ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ معصیت کبھی کبھی طاعت سے افضل ہوتی ہے۔ کیوں کہ بعض معصیتیں اللہ کے خوف اور ذل وانکسار کی طرف لے جاتی ہیں۔ جب کہ بعض طاقتیں تکبر اور فریب نفس میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اور اس طرح فرمانبردار کے مقابل میں نافرمان اللہ تعالیٰ کے کہیں زیادہ قریب اور با ادب ہو جاتا ہے”۔ ص 101

پھر لکھتے ہیں کہ : ” صوفی اور جوگی اور راہب سب ایک ہی راہ کے راہی ہیں۔ اور زندگی کے بارے میں سب کی ایک ہی منطق اور ایک ہی اسلوب ہے جس کا نام ہے زہد”۔ ص 101

پھر فرماتے ہیں: ” جوگی اور راہب اور مسلمان صوفی سب ایک ہی اسلوب سے اللہ کا قرب اور اس کی بارگاہ تک رسائی چاہتے ہیں یعنی تسبیحات کے ذریعہ۔ چنانچہ اللہ کو یہ لوگ اس کے ناموں سے پکارتے ہیں ۔”وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا” اور اللہ کے بہترین نام ہیں پس اس کو ان ہی ناموں سے پکارو”۔

“اور تسبیحات (چاپ) کے ذریعہ ایک خاص قسم کا جوگ کیا جاتا ہے جسے منتر یا جوگ کہتے ہیں۔ یہ ہندی (سنسکرت) زبان کے لفظ منترام سے بنا ہے۔ جس کے معنی تسبیح یا چاپ کے ہیں۔ اور سنسکرت کی ایک خاص تسبیح (چاپ) یہ ہے کہ جوگی خشوع کے ساتھ ہزاروں بار “ہری رام” کے الفاظ تلاوت کرتا ہے۔ یہ الفاظ ہمارے ہیں “رحمن و رحیم” کے بالمقابل ہیں۔ اور سنسکرت زبان میں اللہ کا نام ہے۔ اور جوگی اپنی گردن میں ہزار دانے کی ایک لمبی تسبیح لٹکائے رہتا ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر مصطفیٰ محمود تصوف کے طریقے اور اہل تصوف کے فہم اسلام کی تعریف کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتے ہیں، اور لکھتے ہیں:

“تصوف در حقیقت بلند مدارک کے ذریعہ ادراک کا نام ہے۔ اور صوفی عارف ہوتا ہے۔ ص 103

پھر ڈاکٹر صاحب موصوف قرآنی آیات کو صوفیوں کی باطنی تفسیر کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ان کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

“داؤد علیہ السلام کے بعض واقعات میں ہے کہ انہوں نے کہا: “اے میرے پروردگار میں تجھے کہاں پاؤں؟ اس نے کہ اپنے آپ کو چھوڑ ، اور آ۔۔۔۔۔۔اپنے آپ سے غائب ہو جا۔ مجھے پا جائے گا۔”

اس سلسلے میں بعض اہل تصوف نے قرآن میں موسیٰ علیہ السلام سے اللہ کی گفتگو کی تفسیر یوں کی ہے کہ : فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی (تم اپنے جوتے اتار دو۔ تم وادی مقدس طوی میں ہو) میں نعلین (دونوں جوتوں) سے مراد نفس اور جسم ہے۔ یا نفس اور لذات جسم میں لہٰذا اللہ سے ملاقات نہیں ہوسکتی جب تک کہ انسان اپنے دونوں جوتے یعنی نفس اور جسم کو موت یا زھد کے ذریعہ اتار نہ دے”۔ ص 104

پھر ڈاکٹر صاحب مزید آگے بڑھتے ہیں اور فرماتے ہیں:

“صوفی سوال نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ سے شفا نہیں مانگتا۔ بلکہ ادب سے کہتا ہے: میں اللہ کے ارادہ کے بالمقابل اپنے لئے کوئی ارادہ کیوں کر بناسکتا ہوں کہ اس سے ایسی بات کا سوال کروں جسے اس نے نہیں کیا”۔ ص 105

پھر اللہ تعالیٰ کے قول : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کی تفسیر یہ کی ہے کہ “میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں”

پھر اس صوفیانہ فصل کے خاتمہ پر لکھتے ہیں:

“یہی لوگ اہل اسرار، اصحاب قرب و شہود اور برحق اولیاء صالحین ہیں”۔ ص 109

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس صوفیاء منہج نے جو ڈاکٹر موصوف کا اپنا منتخب کردہ ہے ان پر کیا اثر ڈالتا ہے اور اس فکر کا نتیجہ ڈاکٹر موصوف کے یہاں کیا ہے؟

ڈاکٹر مصطفیٰ محمود نے قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کا بیڑہ اٹھایا تو لوگوں کے سامنے کیا چیز لے کر نمودار ہوئے؟ اور رب العالمین سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب کا وہ کیا عصری فہم ہے جو انہوں نے پیش کیا؟ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے فہم کی رسائی کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

(الف) ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے حسب ارشاد اس درخت کو پہچاننے کی کوشش کی جسے کھا کر آدم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کی ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا اجتہاد خود ان کے حسب ارشاد یہ ہے:

“جنسی اختلاط ہی وہ ممنوعہ درخت تھا جس سے زندگی نے زندگی کو کھا لیا اور وہ عدم کے گھڑے میں جا گری”۔۔۔۔۔۔۔”اور شیطان جانتا تھا کہ نسل کا درخت موت کے آغاز اور دائمی جنت سے نکالے جانے کا اعلان ہے۔ اس لئے اس کے ایک پیغام رساں نے آدم سے یہ جھوٹ کہا کہ بعینہ یہی درخت ہمیشگی کا درخت ہے۔ اور اسے ورغلایا کہ وہ اپنی بیوی سے جسمانی اختلاط کرے”۔ ص 64

“پھر ڈاکٹر صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ وہ یہ بھی یقین کرتے ہیں کہ حواء اسی جنسی اختلاط کے دوران حاملہ ہو گئیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

“پھر ہم دیکھتے ہیں کہ درخت چکھ لینے کے بعد قرآن مجید ان دونوں کو یوں خطاب کرتا ہے کہ وہ جمع ہیں۔ چنانچہ کہتا ہے “اھبطوا بعضکم لبعض عدو” (تم سب اتر جاؤ۔ تم میں کا بعض بعض کا دشمن گا۔) حالانکہ اس غلطی سے قبل انہی آیات میں خطاب مثنیٰ (دو) کو ہوا کرتا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس درخت سے کھانا تکاثر کا سبب بنا” ص 62

پھر اس ساری ہذیان کے بعد موصوف فرماتے ہیں:

“ان مسائل میں ہمارے لئے قطعی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔ بلکہ یہ کہنا ضروری ہے کہ وہ درخت اب بھی ایک چیستاں ہے۔ اور پیدائش کا معاملہ اب بھی ایک غیبی معاملہ ہے جس کے بارے میں ہم اجتہاد سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اللہ اپنی کتاب کو بہتر جانتا ہے۔ اور صرف وہی ہے جو اس کی تاویل سے آگاہ ہے”۔

میں کہتا ہوں کہ جب معاملہ ایسا ہے تو پھر آپ نے یقین کےساتھ کوئی بات کیسے کہی، اور ابھی ابھی وہ تفسیر کیسے کر دی جو آپ کو شیریں لگ رہی تھی۔ اور اللہ پر اور اس کی کتاب پر جو کچھ چاہا بغیر علم و ہدایت کے کیسے کہہ دیا۔ اور معانی قرآن کے سلسلے میں وہ سارے دعوے کیسے ہانک دیئے جو آپ کی خواہش اور رائے کے موافق تھے۔

پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ان سب کے باوجود ڈاکٹر مصطفیٰ محمود خود ہی قرآن کی باطنی تفسیر کرنے والے بہائیوں پر زور شور سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک موقع پر لکھتے ہیں:

“اور یہ بات حروف کے ظاہر اور کلمات و عبارات کے تقاضوں سے ہٹ کر قرآن کی باطنی تفسیر کرنے کی خطرناکی کو واضح کرتی ہے۔ اور بتلاتی ہے کہ اس قسم کی تفسیریں کس طرح دین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر منتج ہوسکتی ہیں۔ یہ بعینہ وہی عمل ہے جسے خوارج ، اثنا عشری اور بابی فرقے قرآن مجید کو اپنے اغراض کے سانچے میں ڈھالنے اور ایک دوسرے کا توڑ کرنے کے لئے اختیار کرنے پر مجبور ہوتے تھے”۔

پھر ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں:

“اور یہ بات ہمیں تفسیر کے سلسلے میں ایک خاص موقف تک لے جاتی ہے جس کا التزام ضروری ہے۔ اور وہ ہے عبارت سے حرف بحرف جڑے رہنا، اور الفاظ کے ظاہر معنی سے چپکے رہنا۔ یعنی ہم کسی باطنی تفسیر کی طرف خود قرآنی الفاظ کے الہام و اشارہ کے بغیر منتقل نہ ہوں۔ اور ظاہراً او باطناً بہر صورت تفسیر، الفاظ کے ظاہری مفہوم سے نہ تو ٹکراتی ہو اور نہ اس کی نفی کرتی ہو”، (المحاولہ ص 122,123)

یہ عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے موصوف نے باطنی تفسیر کی خطرناکی کے متعلق جو کچھ فرمایا ہے ان سب کے باوجود خود اپنے لئے اس کا دروازہ کھول رکھا ہے، تاکہ اپنی آرزو کے مطابق جو کچھ کہنا چاہیں کہہ سکیں۔ چنانچہ موصوف نے جنت اور جہنم کو حقیقی اور محسوس شئے کے بجائے معنوی عذاب اور نعمت قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ مجھے شہد ناپسند ہے۔ اور جب سے میں نے سنا ہے کہ جنت میں شہد کی نہریں ہوں گی، میری طبیعت کو انقباض گیا ہے۔ اسی طرح موصوف نے باشندگان چین کو یاجوج ماجوج قرار دیا ہے۔ اور حدیث میں جس دجال کا ذکر ہے اس سے مراد موجودہ سائنس قرار دی ہے۔ کیوں کہ یہ سائنس ایک آنکھ سے صرف دنیا کی طرف دیکھتی ہے۔ اس طرح عورتوں کے لئے تیراکی کے لباس کو اللہ کے خلق میں تفکر کا تقاضا اور ضرورت کا لباس قرار دیا ہے۔ یہ ان کی تاویلات کا مشتے نمونہ از خروارے ہے۔

باقی رہا ان کا استاد محمد محمود طہ سودانی، جس کی باتیں موصوف نے نقل کی ہیں تو یہ وہ شخص ہے جسے تاویلات نے اس مقام تک پہنچایا کہ اس نے اپنے اوپر سے شریعت ساقط کر لی ۔ چنانچہ وہ نماز نہیں پڑھتا۔ کیوں کہ وہ اللہ کے مرتبے کو پہنچ گیا ہے۔ اور اسے قرآن میں اشتراکیت مل گئی ہے۔ کیوں کہ اللہ فرماتا ہے: “ویسئلونک ماذا ینفقون قل العفو” (لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔ آپ کہہ دیں کہ زائد مال) عفو کا مطلب اس شخص کے نزدیک یہ ہے کہ مال اکٹھا کرنا جائز نہیں۔ اور زائد کمائی ساری کی ساری خرچ کر دینی ضروری ہے۔

ان ساری خرافات اور لاف و گزاف کے باوجود اس قسم کے خیالات کو رواج حاصل ہوا۔ میں نے سودان کی نام نہاد جمہوری پارٹی کے بہت سے افراد سے بحث و گفتگو کی ہے۔ اور قارئین کو تعجب گا کہ اس قسم کے باطنی افکار کو یونیورسٹی کے اساتذہ ، وکلاء ۔ مدرسین اور طلبہ نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور ان خیالات کی مدافعت میں عجیب جاں سوزی سے کرتے ہیں۔ پس اس سے بڑھ کر خطرے کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟

 

اسلامی عقیدہ کی بربادی​

 

صوفیانہ افکار سب سے پہلے جس چیز کو تباہ کرتے ہیں اور بدلتے ہیں ، وہ ہے صاف ستھرا اسلامی عقیدہ، عقیدہ کتاب و سنت، کیوں کہ صوفیانہ افکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہر قسم کے جدید و قدیم فلسفوں، خرافات اور لاف و گزاف کا پورا پورا معجون مرکب ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کفر ، زندقہ اور الحاد ایسا نہیں جو صوفیانہ افکار میں داخل ہو کر صوفی عقیدے کا ایک جزو نہ بن گیا ہو۔ چنانچہ ایک طرف وحدۃ الوجود کا قول ہے کہ جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ہے۔ تو دوسری طرف مخلوق میں اللہ کی ذات یا صفات کے حلول کا قول ہے۔ کہیں معصوم ہونے کا دعویٰ ہے تو کہیں غیب سے تلقی اور حصول کی ترنگ ہے۔ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے عالم کا قبہ اور عرش پر مستوی قرار دیا جا رہا ہے، تو کہیں کہا جاتا ہے کہ اولیاء کرام دنیا کا نظام چلاتے اور کائنات پر حکومت کرتے ہیں۔ غرض کہا جاسکتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی بھی شرکیہ عقیدہ ایسا نہیں پایا جاتا جسے صوفیانہ افکار کی طرف منتقل نہ کر لیا گیا ہو، اور اس کو آیات و احادیث کا لباس نہ پہنا دیا گیا ہو۔ بلکہ کوئی بھی صوفی جو یہ جانتا ہو کہ تصوف کیا ہے میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق یہ ثابت کر دے کہ ابلیس کافر اور جہنمی ہے۔ اور فرعون کافر اور جہنمی تھا۔۔ اور بنو اسرائیل کے جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی انہوں نے غلطی کی تھی۔ اور آج کل جو گائے کی پوجا کرتے ہیں وہ کافر ہیں۔۔۔۔۔کوئی بھی صوفی جو جانتا ہو کہ تصوف کی حقیقت کیا ہے میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنی ان باتوں کو ثابت کر دے۔

کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں ثابت کیوں نہیں کی جاسکتیں جب کہ یہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں۔ اور ہر مومن ان کی گواہی دیتا ہے۔ اور جو اس میں شک کرے وہ خود ہی کافر ہے۔

جواب یہ ہے کہ اگر صوفی ان باتوں کو ثابت کر دے تو وہ عقیدہ تصوف ہی کو مطعون کر دے گا۔ اور اپنے اکابر اور بزرگوں کو مشکوک ٹھہرا دے گا۔ بلکہ اپنے بڑے بڑے رہنماؤں اور اساطین کو کافر قرار دے دے گا۔ اور نتیجہ کے طور پر وہ خود تصوف کے دائرہ سے باہر ہو جائے گا۔ کیوں کہ صوفیوں کے شیخ اکبر بددین ابن عربی کا دعویٰ ہے کہ فرعون موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو جانتا تھا۔ اور جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی انہوں نے اللہ ہی کو پوجا تھا۔ کیوں کہ بچھڑا بھی ۔ اس کے خبیث عقیدے کی رو سے اللہ تعالیٰ ہی کا ایک روپ تھا۔ (تعالیٰ اللہ عن ذٰلک علوًا کبیرا) بلکہ اس شخص کے نزدیک بتوں کے پجاری بھی اللہ تعالیٰ ہی کی پوجا کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کے نزدیک یہ سارے جدا جدا روپ بھی اللہ ہی کے روپ ہیں۔ وہ ہی سورج اور چاند ہے۔ وہی جن و انس ہے۔ وہی فرشتہ اور شیطان ہے۔ بلکہ وہی جنت اور جہنم ہے۔ وہی حیوان اور پیڑ پودا ہے اور وہی مٹی اور اینٹ پتھر ہے۔ لہٰذا زمین پر جو کچھ بھی پوجا جائے وہ اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ ابلیس بھی ابن عربی کے نزدیک اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے۔ (تعالیٰ اللہ عن ذلک علوًا کبیرا)

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملعون عقیدہ کو ( جس سے بڑھ کر گندہ ، بیہودہ، بدبو دار اور بدکردار عقیدہ نہ روئے زمین نے کبھی دیکھا گا) صوفیاء حضرات سرّالاسرار (رازوں کا راز) غایتوں کی غایت، ارادتوں کا منتہا، پہنچے ہوئے کاملین کا مقام اور عارفین کی امیدوں کی آخری منزل قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بد دینوں ، زندیقوں، برہمنوں، ہندوؤں اور یونان کے پرانے فلسفیوں کا عقیدہ ہے۔ اور اس کے بعد تصوف میں جو برائی بھی داخل ہوئی وہ یقیناً اسی ملعون عقیدے کی تاریکی میں چھپ کر داخل ہوئی ۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ آج روئے زمین پر تصوف کی حقیقت کو جاننے والا کوئی بھی صوفی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور نہ اسے برا کہہ سکتا ہے۔ بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کا علم صرف اربابِ ذوق اور اہل معرفت ہی سمجھ سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات واضح عربی زبان میں صاف صاف لکھی ہوئی ہے۔ ان حضرات نے اسے ضخیم ضخیم جلدوں میں لکھا ہے۔ اور نثر اور شعرا اور قصیدوں اور امثال سے اس کی شرح کی ہے۔

البتہ بعض اہل تصوف اس سلسلے میں یہ معذرت کرتے ہیں کہ یہ بات وجد کے غلبے اور شطحیات کے طور پر کہی گئی ہے۔مگر معلوم ہے کہ شطح درحقیقت مدہوشی، پاگل پن اور جنون کو کہتے ہیں۔ اور اہل تصوف کا دعویٰ ہے کہ ان کے یہ احوال کامل ترین احوال ہیں۔ اس لیئے سوال یہ ہے کہ جنون اور پاگل پن کمال کیونکر ہوسکتا ہے۔ پھر جو بات دسیوں جلدوں میں لکھی اور مدون کی گئی ہے، اور جسے اہل تصوف کی غایۃ الغایات اور امیدوں کی آخری منزل قرار دے کر لوگوں کو اس دعوت دی جا رہی ہے وہ بات شطحیات (پاگل پن کی بات) کیسے ہوسکتی ہے؟

کبھی کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ باتیں گھڑ کر ان کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں۔۔۔۔ مگر یہ بھی حقیقت صوفیوں کے جھوٹ اور فریب کاری کا ایک حصہ ہے۔ میں ہر صوفی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ کسی معین عبارت کو ذکر کر کے بتائے کہ یہ غلط طور ان کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یا کسی خاص اور معین عقیدے کو ذکر کر کے بتائے کہ فلاں لکھنے والے کی طرف اسے غلط منسوب کیا گیا ہے۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ اس سلسلہ میں پوری پوری کتاب لکھ ماری گئی ہیں۔ آراستہ وپیراستہ عقیدے تصنیف کر ڈالے گئے ہیں۔ اور موزوں و خوش آہنگ قصیدے کہہ ڈالے گئے ہیں ۔ میں کسی بھی صوفی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بتائے کہ یہ قصیدہ غلط طور پر منسوب ہے۔ یا فلاں معین قول غلط طور پر منسوب ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کہے گا تو پھر سارا کا سارا تصوف جھوٹا اور غلط انتساب کا مجموعہ بن جائے گا۔ اور یہ بات برحق بھی ہے۔ کیوں کہ تصوف کے یہ بڑے بڑے جگادری یعنی حلاج، بسطامی، جیلی، ابن سبعین، ابن عربی، نابلسی ، تیجانی وغیرہ وغیرہ یہ سب کے سب درحقیقت اس امت میں غلط طور گھسائے گئے اور اس امت کی طرف غلط طور پر منسوب کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑا ہے۔ اللہ کے دین میں باطل بات کہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کا زعم ہے کہ وہ خود اللہ ہے جو کائنات میں تصرف کرتا ہے ۔ اور ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے اس کائنات کا ایک حصہ اس کو سونپا ہے۔ ان میں سے ہر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ ولی کامل ہے جس کے پاس صبح و شام وحی آتی ہے۔ بلکہ وہ غیب سے واقف ہے اور لوح محفوظ کو پڑھتا ہے۔ اللہ نے اس کو خاتم الانبیاء بنایا ہے۔ اور اسے دنیا کا قبلہ اور ساری مخلوق کے لئے معجزہ اور مینار قرار دیا ہے۔ نبی کے بعد براہ راست اسی کا درجہ و مقام ہے۔ نبی ان کے نزدیک عرش رحمانی پر مستولی و مستوی ہے۔ یعنی عرش پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے سوا کچھ نہیں ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نزدیک تمام ذات میں سب سے پہلا وجود ہیں۔ اور تمام تعینات میں سب سے پہلا تعین ہیں۔ وہی اللہ کے عرش پر مستوی ہیں۔ وہ سارے انبیاء کی طرف وحی بھیجتے ہیں۔ اور سارے اولیاء کو الہام کرتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے خود اپنی طرف سے اپنے پاس وحی بھیجی ۔ یعنی انہوں نے وحی کو آسمان پر جبریل کے حوالے کیا ۔ اور زمین پر ان سے وصول کیا۔

“مسلمانو! کبھی آپ لوگوں نے کوئی ایسا عقیدہ سنا ہے جو اس درجہ بے حیائی ، خست ، گراوٹ، کفر اور بے دینی لئے ہوئے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے صوفیوں کا عقیدہ، اور یہ ہے ان کی میراث، اور یہ ہے ان کا دین۔۔۔۔۔بحمد للہ ہم نے یہ ساری باتیں تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب “الفکرالصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ” کے دوسرے ایڈیشن میں بیان کر دی ہیں۔ اور ہر بات کے ثبوت میں ان زندیقوں کی کتابوں سے لمبی لمبی عبارتیں نقل کر دی ہیں۔ یہ زندیق آج بھی دنیا کے سامنے یوں ظاہر ہوتے ہیں گویا وہ اللہ کے ولی اور محبوب ہیں، دلوں کی کنجیوں کے مالک ہیں۔ اور ان کے پاس مسلمانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے کے لئے تربیت کا بہترین اور افضل ترین طریقہ ہے۔ حالانکہ یہ ہے ان کا عقیدہ اور یہ ہے ان کا طریقہ، جو مسلمانوں کا دین بگاڑنے اور لوگوں کو رب العالمین کے پیغام سے ہٹانے اور بہکانے کا کام کرتا ہے۔

 

فسق اور فجور اور اباحیّت کی دعوت​

 

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تصوف کی بنیاد پہلے پہل تقویٰ پر تھی وہ غلطی پر ہیں۔ ان کے متعلق ابن جوزی رحمہ اللہ کی زبانی حسب ذیل حکایت سنیے ۔ وہ ابوالقاسم بن علی بن محسن تنوخی عن ابیہ کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ :

مجھے اہل علم کی ایک جماعت نے بتایا کہ شیراز میں ایک شخص تھا جو ابن خفیف بغدادی کے نام سے معروف تھا۔ اور وہاں صوفیوں کا شیخ (پیر) تھا۔ صوفیاء اس کے پاس جمع ہوتے۔ اور وہ دل میں گزرنے والے خیالات اور وسوسوں کے متعلق باتیں کیا کرتا۔ اس کے حلقہ میں ہزاروں آدمی جمع ہوتے۔ وہ بڑا خوشحال ، چالاک اور ماہر تھا۔ اس نے کمزور لوگوں کو اس مذہب میں پھنسا رکھا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے شاگردوں میں سے ایک آدمی مرگیا، اور اپنی صوفی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے پاس بڑی تعداد میں صوفی عورتیں جمع ہوئیں۔ اس ماتم میں ان کے سوا کوئی اور عورت شامل نہ تھی۔ جب لوگ اس آدمی کو دفن کے کر کے فارغ ہوئے تو ابن خفیف اور اس کے خواص شاگرد جو خاصی بڑی تعداد میں اس کے گھر آئے ۔ اور عورت کو صوفیوں کی باتوں کے ذریعہ تسلی دینے لگے۔ یہاں تک کہ اس نے کہا کہ مجھے تسلی ہو گئی۔ تب ابن خفیف نے اس عورت سے کہا : یہاں غیر بھی ہیں؟ اس نے کہا نہیں غیر نہیں ہیں ۔ اس نے کہا :پھر نفس پر غم و الم کی آفتوں کو لازم کرنے اور اسے رنج و غم کے عذاب میں مبتلا رکھنے سے کیا فائدہ؟ آخر ہم کس بناء پر امتزاج (آپس میں خلط ملط ہونے) کو چھوڑ دیں ، کیوں کہ اس سے انوار ایک دوسرے سے ملیں گے ، روحیں صاف ہوں گی، آمد و رفت گی اور برکتیں نازل ہوں گی۔ اس کے جواب میں عورتوں نے کہا: اگر آپ چاہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مردوں اور عورتوں کی جماعتیں ایک دوسرے سے رات بھر بھڑی اور خلط ملط رہیں اور جب صبح ہوئی تو نکل بھاگیں۔

اس واقعہ کے راوی محسن کہتے ہیں: ابن خفیف نے جو یہ کہا کہ کیا یہاں غیر ہیں؟ تو اس کا مطلب یہ تھا کیا یہاں کوئی ایسا بھی ہے جو ہمارے مذہب کے موافق نہیں۔اور عورت کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہمارا کوئی مخالف موجود نہیں۔ ابن خفیف نے جو یہ کہا تھا کہ ہم امتزاج کو کیوں چھوڑ دیں، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ وطی میں اختلاط ہونا چاہیے۔ (یعنی ایک ایک مرد کئی کئی عورتوں سے، اور ایک ایک عورت کئی کئی مردوں سے وطی کریں اور کرائیں۔) اور جو یہ کہا کہ اس سے انوار ایک دوسرے سے ملیں گے تو ان کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر جسم میں ایک خدائی نور ہے (پس بدکاری کے نتیجہ میں مرد اور عورت کے اندر موجود خدائی نور ایک دوسرے سے مل جائے گا۔ العیاذ باللہ) اور یہ جو کہا کہ آمد و رفت گی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جس کا شوہر مرگیا، یا سفر میں چلا گیا، اس کی جگہ دوسرا شخص آ جائے گا۔

محسن کہتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک ایک عظیم واقعہ ہے۔ اگر مجھے اس کی اطلاع ایک ایسی جماعت نے نہ دی ہوتی جو جھوٹ سے دور و نفور ہے تو میرے نزدیک اتنا عظیم واقعہ ہے، اور دارالاسلام میں ایسی بات کا پیش آنا اس قدر مستعبد ہے کہ میں اسے بیان ہی نہ کرتا۔

وہ کہتے ہیں کہ : مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ اور اس جیسی باتیں پھیل کر عضدالدولہ تک جا پہنچیں،۔ اور جب اس نے ان کے ایک گروہ کو گرفتار کر کے کوڑوں سے پٹائی کی، اور ان کے مجمع کو پراگندہ کیا، تب وہ اس سے باز آئے۔ (تلبیس ابلیس ص 374)

غرض تمہیں یقین کرنا چاہئے کہ یہ گروہ اپنے ہر دور میں محض بد دینوں ، جھوٹے مدعیوں اور زندیقوں کا مجموعہ رہا ہے۔ جو بظاہر تو شریعت کے پاک و صاف ظاہر کی پابندی کرتا تھا۔ مگر نگاہوں سے پس پردہ کفر و فسق اور زندقہ چھپائے رکھتا تھا۔ اسی لئے ابن عقیل حتمی طور پر کہتے تھے ۔ جیسا کہ ابن جوزی نے ان سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ زندیق ، ملحد اور دین کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:” ان فارغ اور اثبات سے خالی لوگوں کی طرف کان لگانے سے خدا کے لئے بچو۔ یہ نرے بد دین لوگ ہیں جو ایک طرف مزدوروں کا لباس یعنی گدڑی اور اون پہنتے ہیں اور دوسری طرف بدکردار بد دینوں والے اعمال کرتے ہیں ، یعنی کھاتے اور پیتے ہیں، ناچتے اور تھرکتے ہیں ، عورتوں اور لونڈوں سے گانے سنتے ہیں۔ اور شریعت کے احکام چھوڑتے ہیں۔ زندیقوں کو بھی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ شریعت کے احکام چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ اہل تصوف کا ظہور ہوا تو وہ بدکاروں کی روش ساتھ لائے”۔

یاد رہے کہ ابن عقیل رحمہ اللہ نے یہ بلیغ عبارت اپنے زمانہ کے صوفیوں کے احوال درج کرنے کے بعد لکھی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

 

       ابن عقیل صوفیوں کی سیاہ کاریاں بیان کرتے ہیں

 

” میں کئی وجہوں سے صوفیوں کی مذمت کرتا ہوں جن کے فعل کی مذمت کو شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ : “انہوں نے بیکاری کے اڈے یا احدی خانے قائم کر رکھے ہیں۔ اس سے مراد ان کی خانقاہیں ہیں۔ جہاں وہ مساجد کی جماعتوں سے کٹ کر پڑے رہتے ہیں۔ یہ خانقاہیں نہ تو مسجد میں نہ مکانات نہ دکانیں۔ وہ ان خانقاہوں میں اعمال معاش سے کٹ کر محض بے کار پڑے رہتے ہیں ۔ اور کھانے پینے اور ناچنے گانے کے لیے جانوروں کی طرح اپنے بدن کو موٹا کرتے ہیں۔ اپنی چمک دمک دکھانے اور نگاہوں کو خیرہ کرنے کے لئے گدڑی اور پیوند پر اعتماد کرتے ہیں۔ اور عوام اور عورتوں پر اثر انداز ہونے والے مختلف رنگ کے شعبدے دکھلاتے ہیں۔ جیسے ریشم کے مختلف رنگ کے شعبدے دکھلاتے ہیں۔ جیسے ریشم کے مختلف رنگوں سے سقلاطون کی چمک دکھلائی جاتی ہے۔ یہ مختلف صورتیں بنا کر اور لباس پہن کر عورتوں اور بے داڑھی مونچھ کے نوخیز لڑکوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ اور جس گھر میں داخل ہوتے ہیں اگر وہاں عورتیں ہوں تو یہ ان عورتوں کا دل ان کے شوہروں سے بگاڑ کر ہی نکلتے ہیں۔ پھر یہ لوگ ظالموں ، فاجروں اور لٹیروں مثلاً نمبرداروں ، فوجیوں اور ناجائز ٹیکس لینے والوں سے کھانے اور غلے اور روپے پیسے قبول کرتے ہیں بے داڑھی مونچھ کے نوخیز لڑکوں کو سماع کی مجلسوں میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور شمع کی روشنی میں مجمعوں کے اندر انہیں کھینچتے ہیں۔ اجنبی عورتوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اور اس کے لئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ انہیں خرقہ پہنانا ہوتا ہے۔ اور حلال بلکہ ضروری سمجھتے ہیں کہ مستی میں جس شخص کے کپڑے گر جائیں اس کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیں۔ یہ لوگ اس مستی کو وجد کہتے ہیں ، اور دعوت کو وقت کہتے ہیں، اور لوگوں کو کپڑے بانٹنے کو حکم کہتے ہیں۔ اور جس گھر میں ان کی دعوت کی گئی ہو وہاں سے اسی وقت نکلتے ہیں جب کہ ایک دوسری دعوت کو لازم کر لیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دعوت واجب ہو گئی۔ حالانکہ ان باتوں کا عقیدہ رکھنا کفر ، اور انہیں کرنا فسق ہے۔

ان کا یہ عقیدہ ہے کہ سارنگی بجا کر گانا گانا عبادت ہے۔ ہم نے ان سے سنا ہے حدی خوانی اور محمل کی آمد کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ بھی عبادت ہے۔ حالانکہ یہ بھی کفر ہے۔ کیوں کہ جو شخص مکروہ اور حرام کام کو عبادت سمجھے وہ اپنے اس عقیدے کی وجہ سے کافر ہو گیا۔ جب کہ باقی لوگوں کے لئے وہ کام صرف حرام یا مکروہ ہی رہا۔

اور اہل تصوف اپنے آپ کو اپنے شیخ (پیر) کے حوالہ کرتے ہیں۔ پس اگر ان کے شیخ کے درجہ و مقام کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ شیخ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اس شیخ کی رسی کھلنے اور شطحیات نامی کفر و ضلالت والے اقوال کے دھاگے میں منسلک ہونے اور فسق و فجور کے معلوم و معروف کاموں میں ملوث ہونے کا حال نہ پوچھو۔ اگر وہ شیخ کسی خوبرو لونڈے کو بوسہ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ رحمت ہے۔ اگر کسی اجنبی عورت کے تنہائی میں اکٹھا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے وہ اس کی بیٹی ہے، اور اس نے خرقہ پہن رکھا ہے۔ اور وہ کوئی اور کپڑا اس کے مالک کی رضامندی کے بغیر دوسروں پر تقسیم کرتا ہے تو کہا جاتا ہے خرقہ کا فیصلہ ہے۔ ابن عقیل کہتے ہیں کہ : حالانکہ مسلمانوں کا کوئی شیخ ایسا نہیں جس کو اس کے حال پر چھوڑا جاسکے اور اس کے احوال تسلیم کئے جاسکیں۔ کیوں کہ یہاں کوئی شیخ ایسا نہیں جو دائرہ تکلیف میں نہ ہو۔ پھر پاگلوں اور بچوں کے ہاتھ پر مارا جاتا ہے۔ اور یہی سلوک چوپایوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ خطاب کے بدلے مار پڑتی ہے۔(پس صوفیوں کے مشائخ کو ان کے حال پر کیوں کر چھوڑا جاسکتا ہے) ہاں اگر کوئی شیخ ایسا ہوتا جسے اس کے حال پر چھوڑا جاسکتا تو وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتے۔ مگر ان کا بھی ارشاد ہے کہ : “اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھے سیدھا کر دو” یہ نہیں فرمایا کہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ پھر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ کس طرح آپ پر بھی صحابہ نے اعتراض کیا چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھو کہ انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم نماز قصر کیوں کریں جب کہ حالت امن میں ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے صحابی نے کہا کہ آپ ہمیں وصال سے (یعنی بغیر پے درپے روزہ رکھنے سے) کیوں منع کرتے ہیں۔ جب کہ آپ خود وصال کرتے ہیں؟ اور ایک صحابی نے کہا کہ آپ ہمیں حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا حکم دے رہے ہیں ، اور خود ایسا نہیں کر رہے ہیں؟

پھر اور آگے بڑھو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوتا ہے۔ یعنی تخلیق آدم کے موقع پر اس سے فرشتے کہتے ہیں :”اتجعل فیھا” الخ (اے اللہ کیا زمین میں ایسی مخلوق کو بنائے گا جو فساد مچائے گی۔ الخ) اسی طرح اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا:”اتھلکنا بما فعل السفھآء منا” (کیا تو ہمارے بیوقوفوں کی کرنی پر ہمیں ہلاک کرے گا۔)

واضح رہے کہ صوفیوں نے یہ بات (کہ شیخ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا) اپنے اگلوں کو خوش کرنے ، اور تابعداروں اور مریدوں پر اس کے سلوک کا سکہ بٹھانے کے لئے ایجاد کی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”فاستخف قومہ فاطاعوہ” (فرعون نے اپنی قوم کو حقیر جانا تو انہوں نے اس کی بات مان لی) اور غالباً یہ بات انہی لوگوں نے ایجاد کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ بندہ جب اپنے آپ کو پہچان لے تو جو بھی کرے اسے کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔ حالانکہ یہ غایت درجہ بد دینی اور گمراہی ہے۔ کیوں کہ فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ عارف جس حال تک پہنچتا جاتا ہے اس پر تکلیف کا دائرہ اسی قدر تنگ ہو جاتا ہے۔ جیسے انبیاء کے حالات ہیں کہ انہیں صغائر کے سلسلہ میں بھی تنگی کے اندر رکھا جاتا ہے۔ پس ان فارغ اور اثبات سے خالی لوگوں کی طرف کان لگانے سے خدا کے لئے بچو، خدا کے لئے بچو، یہ لوگ محض زندیق ہیں جنہوں نے ایک طرف مزدوروں کا لباس یعنی گدڑی اور اون پہن رکھا ہے۔ اور دوسری طرف بے حیا اور بدکردار ملحدوں کا عمل اپنائے رکھا ہے۔ یعنی کھاتے پیتے ہیں ناچتے تھرکتے ہیں۔ عورتوں اور لونڈوں سے گانے سنتے ہیں۔ اور شریعت کے احکام چھوڑتے ہیں۔ زندیقوں نے بھی شریعت کو چھوڑنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ یہاں تک کہ اہل تصوف آئے تو بدکاروں کی روش بھی ساتھ لائے”۔

 

صوفیاء اور گانے کی حلت​

 

پھر ابن عقیل رحمہ اللہ ان کے زندقہ اور کفر کا حال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے خیال میں شریعت اور حقیقت کے درمیان تفریق کی ۔ اور نشہ آور حشیش (گانجا اور بھنگ وغیرہ) کو حلال ٹھہرایا۔ بلکہ یہی وہ گروہ ہے جس نے پہلے پہل اس (گانجے) کا انکشاف کیا۔ اور مسلمانوں کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں نے گانے اور مرد و عورت کے درمیان اس کو رواج دیا۔ اسی طرح انہوں گانے اور مرد و عورت کے اختلاط کو حلال ٹھہرایا۔ اور یہ کہہ کر کفر و زندقہ کے اظہار کو بھی حلال ٹھہرایا کہ یہ احوال شطحیات ہیں۔ اور ضروری ہے کہ ان پر نکیر نہ کی جائے ۔ کیونکہ یہ مجذوب لوگ ہیں۔ یا (ان کے خیال میں) بارگاہ پروردگار کے مشاہدہ میں مشغول لوگ ہیں۔

ابن عقیل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تو انہوں نے نام گھڑ ے۔ اور حقیقت و شریعت کا بکھیڑا کھڑا کیا۔ حالانکہ یہ بری بات ہے۔ کیوں کہ شریعت کو حق تعالیٰ نے مخلوق کی ضروریات کے لئے وضع کیا ہے تو اب اس کے بعد حقیقت نفس کے اندر شیطان کے القاء کیے ہوئے وسوسوں کے سوا اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔ جو شخص بھی شریعت سے الگ ہو کر کسی حقیقت کا متلاشی ہو وہ بیوقوف اور فریب خوردہ ہے۔

پھر ان صوفیاء کے سامنے کوئی حدیث روایت کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ مسکین لوگ ہیں ۔ اپنی حدیث مردے سے روایت کرتے ہیں، جو کسی اور مردے سے روایت کرتا ہے جب کہ ہم نے اپنا علم اس زندہ و پائندہ ہستی سے لیا ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ لہٰذا اگر کوئی شخص حدثنی ابی عن جدی کہتا ہے (یعنی میرے باپ نے میرے دادا سے حدیث روایت کی) تو میں حدثنی قلبی عن ربی کہتا ہوں۔ (یعنی میرے دل نے میرے پروردگار سے روایت کیا ہے) غرض ان خرافات کے ذریعہ خود بھی برباد ہوئے اور کم عقلوں کے دلوں کو بھی برباد کیا۔ اور عبرت کی بات یہ ہے کہ اسی کے لیے ان پر مال خرچ کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ فقہاء تو مثل اطباء کے ہیں۔ اور دواء کی قیمت پر خرچ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر ان لوگوں پر خرچ کرنا ایسا سہل ہے جیسا ناچنے اور گانے والیوں پر خرچ کرنا۔

اور فقہاء سے ان کا بغض ایک بڑا زندقہ (بد دینی )ہے۔ کیوں کہ فقہاء اپنے فتاویٰ کے ذریعہ ان کی گمراہی اور فسق سے روکتے ہیں۔ اور حق گراں گزرتا ہے جیسے زکاۃ گراں گزرتی ہے۔ لیکن گانے والی عورتوں پر مال نچھاور کرنا اور شعراء کو ان کی مدحیہ قصیدوں پر عطیہ دینا کس قدر آسان معلوم ہوتا ہے۔ یہی حال اہل الحدیث سے ان کے بغض کا ہے۔

پھر انہوں نے عقل کو زائل کرنے کے لئے شراب کے بدلے ایک دوسری چیز اختیار کی جس کا نام حشیش اور معجون رکھا ہے۔ یعنی گانجا، افیون اور بھنگ، اور حرام گانے بجانے کا نام سماع اور وجد رکھا ہے۔ حالانکہ جو وجد عقل کو زائل کر دے اس سے تعرض حرام ہے۔

اللہ شریعت کو اس طائفہ کے شر سے محفوظ رکھے جو لباس کی نفاست، زندگی کی بہار اور شیریں الفاظ کی فریب کاری کا جامع ہے۔ اور جس کے پیچھے احکام الٰہی کو ختم کرنے اور شریعت کو چھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ اسی لئے یہ دلوں پر ہلکے ہو گئے ہیں اور ان کے باطل پر ہونے کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا پرست ان سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں۔ جیسی محبت کھیل کود والوں سے اور ناچنے گانے والیوں سے کرتے ہیں۔

اس کے بعد ابن عقیل کہتے ہیں:

اگر کوئی کہنے والا یہ کہے یہ لوگ تو صاف ستھرے، اچھے طور طریقے والے اور با اخلاق لوگ ہیں، تو میں ان سے کہوں گا کہ اگر یہ لوگ کوئی ایسا طریقہ نہ اپنائیں جس سے اپنے جیسے لوگوں کا دل کھینچ سکیں تو ان کی عیش و عشرت ہمیشہ رہ ہی نہ سکے گی۔ اور ان کا جو حال تم ذکر کر رہے ہو وہ تو عیسائیوں کی رہبانیت ہے۔ اور اگر تم دعوتوں کے اندر طفیلی بننے والوں اور بغداد کے زنخوں کی صفائی ستھرائی دیکھو، اور ناچنے والیوں کی نرم اخلاقی کا مشاہدہ کرو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان کا طریقہ ظرافت اور فریب کاری کا طریقہ ہے۔ آخر ان لوگوں کو طور طریقے یا زبان ہی سے تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔ اگر ان لوگوں کے پاس علم کی گہرائی بھی نہ ہو اور کوئی طور طریقہ بھی نہ ہو تو آخر یہ کس مالداروں کا دل کھینچیں گے۔ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ احکام الٰہی کی تعمیل مشکل کام ہے۔ اور بدکاروں کے لئے اس سے زیادہ کوئی بات آسان نہیں کہ معاشرے سے الگ تھلگ رہیں۔ اور اس سے زیادہ کوئی مشکل بات نہیں کہ شریعت کے اوامر و نواہی کی روشنی میں صادر ہونے والی رکاوٹ کی پابندی کریں۔ درحقیقت شریعت کے لئے متکلمین اور اہل تصوف سے بڑھ کر کوئی قوم نقصان دہ نہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ (متکلمین) لوگوں کے عقائد کو عقلی شبہات کا وہم لا کر فاسد کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ (اہل تصوف) لوگوں کے اعمال خراب کرتے، دین کے قوانین کو ڈھاتے، بیکاری کو پسند کرتے اور گانے وغیرہ سننے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ حالانکہ سلف ایسے نہیں تھے۔ بلکہ عقائد کے باب میں بندہ تسلیم و رضا تھے۔ اور دوسرے ابواب میں حقیقت پسند و جفا کش۔

وہ کہتے ہیں : اپنے بھائیوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ ان کے دلوں کے افکار میں متکلمین کی بات نہیں پڑنی چاہیئے، اور ان کا کان صوفیوں کی خرافات کی طرف نہیں لگنا چاہیئے۔ بلکہ معاش کے کام میں مشغول ہونا صوفیوں کی بیکاری سے بہتر ہے۔ اور ظواہر پر ٹھہرے رہنا نام نہاد دین پسندوں کی وقت پسندی سے افضل ہے میں نے دونوں گروہوں کے طریقے آزما لئے ہیں، ان لوگوں کا منتہاء کمال شک ہے، اور ان لوگوں کا منتہاء کمال شطح ہے۔ (تلبیس ابلیس ص 375-374)

پھر یہ برا اور رسوا کن حال جس کو ابن عقیل نے بیان کیا ہے اور ابن جوزی نے نقل کیا ہے یہ برابر قائم رہا بلکہ اس کے بعد جو صدیاں آئیں وہ مزید جہل و تاریکی کی صدیاں تھیں۔ کیوں کہ ان صدیوں میں اہل تصوف نے اسلامی سرزمین میں خوب خوب بگاڑ اور خرابی مچائی، اور اسے دین اور اسلام کے نام پر فسق و فجور سے بھر دیا۔ اور صرف عقل اور عقیدے ہی کو بگاڑنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اخلاق و آداب کو بھی تباہ و برباد کیا۔

چنانچہ یہ عبدالوہاب شعرانی ہے جس نے اپنی کتاب “الطبقات الکبریٰ” میں صوفیوں کی ساری بدکاریوں، خرافات اور دہریت کو جمع کیا ہے۔ اور سارے پاگلوں ، مجذوبوں، لونڈے بازوں اور ہم جنسی کے خو گروں، بلکہ سرِ راہ کھلم کھلا جانوروں کے ساتھ بد فعلی کرنے والوں کو اولیاء اللہ قرار دیا ہے۔ اور انہیں عارفین اور اہل کرامت کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ اور ان کی طرف فضائل اور مقامات سلوک کی نسبت کی ہے۔ اور اسے ذرا شرم نہ آئی کہ وہ ان کی ابتداء ابوبکر صدیق پھر خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین سے کرتا ہے۔ پھر اسی لڑی میں ایسے شخص کو بھی پروتا ہے جو دن دھاڑے کھلم کھلا لوگوں کے روبرو گدھی کے ساتھ بد فعلی کرتا تھا۔ اور ایسے شخص کو بھی پروتا ہے جو زندگی بھر غسل نہیں کرتا تھا تھا، یا زندگی بھر کپڑے سے ننگا رہتا تھا۔ اور ننگا ہی رہتے ہوئے جمعہ کا خطبہ دیتا تھا ۔ اور ۔۔۔اور ۔۔۔۔ہرایسا پاگل، جھوٹا، کذاب جس سے زیادہ خسیس طبیعت ٹیڑھے مسلک، برے اخلاق اور گندے عمل کا آدمی انسانیت نے کبھی نہ دیکھا گا، ان سب کو یہ شخص خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور اہل بیت نبوی اطہار جیسے اشرف و اکرم انسانوں کے ساتھ ایک ہی دھاگے میں پروتا ہے۔ اور اس طرح یہ شخص طہارت کو نجاست کے ساتھ، شرک کو توحید کے ساتھ، ہدایت کو گمراہی کے ساتھ اور ایمان کو زندقہ کے ساتھ مخلوط کرتا ہے۔ لوگوں پر ان کا دین ملتبس کرتا ہے۔ اور ان کے عقیدے کی شکل و صورت مسخ کرتا ہے۔ آؤ! اور اس گناہ گار شخص نے اپنے نامزد کیے ہوئے اولیاء عارفین کے جو حالات لکھے ہیں ان میں سے تھوڑا سا پڑھ لو۔ یہ شخص سید علی وحیش نامی ایک شخص کے حالات میں لکھتا ہے کہ:

“وہ (علی وحیش) جب کسی شہر کی شیخ وغیرہ کو دیکھتا تو ان کو ان کی گدھی سے اتار دیتا ۔ اور کہتا کہ اس کا سر پکڑے رہو، تاکہ میں اس کے ساتھ بد فعلی کروں۔ اب اگر وہ شیخ انکار کر دیتے تو زمین میں کیل کی طرح گڑ جاتے۔ اور ایک قدم بھی نہ چل سکتے۔ اور اگر بات مان لیتے تو بڑی شرمندگی اٹھانی پڑتی (کہ وہ سر عام بد فعلی کرتا، اور یہ سر پکڑے رہتے) اور لوگ یہ سارا منظر دیکھتے ہوئے) وہاں سے گزرتے رہتے۔” (الطبقات الکبریٰ ج2 ص 135)

دیکھو کہ کس طرح اس کا سید علی وحیش لوگوں کے روبرو ایسی حرکت کرتا تھا کیا اس کے بعد بھی کوئی سوجھ بوجھ رکھنے والا آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ ناپاک تصوف مسلمانوں کے دین کا حصہ ہے۔ اور یہ بھی وہی چیز ہے کہ جس کے ساتھ پروردگار عالم کے پیغمبر ہادی و امین محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمائے گئے تھے۔ اور کیا علی وحیش اور اس قماش کے لوگوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی لائن میں رکھنے والا، اور ان سب کو ایک ہی راستے کا راہرو قرار دینے والا والا زندیق و افاک کے سوا کچھ اور ہوسکتا ہے جس نے دین اسلام کو ڈھانے اور مسلمانوں کے عقائد کو برباد کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہو۔

اور شعرانی نے اس مقصد کے لئے کہ عقلیں اپنی نیند سے بیدار نہ ہوں لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اولیاء اللہ کے لئے ان کی خاص شریعت ہوتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ چاہے اس کا ایک حصہ گدھیوں کے ساتھ بد فعلی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے جب بھی کوئی شخص کوشش کرتا ہے کہ جاگے اور غور کر کے ہدایت اور گمراہی اور پاکی و ناپاکی کے فرق کو سمجھے تو یہ لوگ اس پر تلبیس و تزویر کا پھندہ ڈال دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی شعرانی کو لے لیجئے۔ اس نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جس نے سید بدوی کے عرس میں ہونے والے فسق و فجور پر نکیر کی تھی۔ جہاں آج بھی شہر طنطا(مصر) کے اندر لاکھوں انسان جمع ہوتے ہیں۔ اور مردوں اور عورتوں کے درمیان بہت ہی بڑا اختلاط ہوتا ہے۔ بلکہ مسجدوں اور راستوں میں حرام کاریاں ہوتی ہیں۔ رنڈی خانے کھولے جاتے ہیں اور صوفی مرد اور صوفی عورتیں بیچ مسجد میں ایک ساتھ ناچتے ہیں۔اور ہر حرام کو حلال کیا جاتا ہے۔ اسی کے متعلق شعرانی نے اپنی کتاب “الطبقات الکبریٰ ” میں یہ بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے اس فسق و فجور پر نکیر کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ایمان چھین لیا۔ اور کس طرح چھین لیا۔ شعرانی لکھتا ہے کہ: “پھر اس شخص کا ایک بال بھی ایسا باقی نہ بچا جس میں دین اسلام کی طرف جھکاؤ ہو۔ آخر اس نے سیدی احمد رضی اللہ عنہ سے فریاد کی ۔ انہوں نے فرمایا شرط یہ ہے کہ تم دوبارہ ایسی بات نہ کہنا۔ اس نے کہا جی ہاں۔ تب انہوں نے اس کے ایمان کا لباس اسے واپس کیا۔ پھر اس سے پوچھا تم کو ہماری کیا چیز بری معلوم ہوتی ہے؟ اس نے کہا مردوں اور عورتوں کا میل جول۔ جواب میں سیدی احمد رضی اللہ عنہ نے کہا یہ بات تو طواف میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کی یہ حرمت (احترام) کے خلاف نہیں۔ پھر فرمایا میرے رب کی عزت کی قسم! میرے عرس میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ ضرور توبہ کرتا ہے اور اچھی توبہ کرتا ہے۔ اور جب میں جنگل کے جانوروں اور سمندروں کی مچھلیوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، ان میں سے بعض کو بعض سےمحفوظ رکھتا ہوں تو کیا اللہ تعالیٰ میرے عرس میں آنے والے کی حفاظت سے مجھے عاجز اور بے بس رکھے گا۔ (طبقات الکبریٰ ج 1 ص162)

اور شعرانی نے اپنی کتاب میں ان سب زندقے اور کفر اور جہالت اور گمراہی کو جو روایت کر رکھا ہے تو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں۔ کیوں کہ اس شخص نے خود اپنے متعلق یہ جھوٹ اڑایا ہے کہ سید بدوی جو اس سے چار سو برس پہلے انتقال کرچکا ہے اس سے سلام کرنے کے لیے قبر سے اپنا ہاتھ نکالتا تھا۔ اور یہ کہ اس مرے ہوئے سید بدوی نے اپنی مسجد کے زاویوں میں سے ایک زاویے کو شعرانی کے لئے شب عروسی کے کمرے کے طور پر تیار کیا تاکہ شعرانی اس کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ یکجا ہو۔ اور جب شعرانی سید بدوی کے عرس میں پہنچنے میں دیر کرتا تو سید بدوی اپنی قبر سے نکل کر قبر کے اوپر رکھا ہوا پردہ ہٹاتا تھا اور کہتا تھا ۔ عبدالوہاب نے دیر کر دی آیا نہیں۔ آئیے خود شعرانی کی عبارت پڑھئیے ۔ وہ لکھتا ہے:

“احمد بدوی کے عرس میں ہر سال میرے حاضر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میرے شیخ عارف باللہ محمد شناوی رضی اللہ عنہ جو ان کے گھر اعیان میں سے ایک ہیں انہوں نے قبر کے اندر سیدی احمد رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے مجھ سے عہد لیا۔ اور اپنے ہاتھ سے مجھے ان کے حوالے کیا۔ چنانچہ ان کا ہاتھ شریف قبر سے نکلا۔ اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور شناوی نے کہا حضور! آپ کی توجہ ان پر ہونی چاہیے۔ اور آپ انہیں اپنے زیر نظر رکھیں۔

اور اس کے ساتھ ہی میں نے قبر سے سیدی احمد کا یہ فرمان سنا کہ ہاں! ”

پھر شعرانی مزید آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ :

“جب میں نے اپنی بیوی فاطمہ ام عبدالرحمٰن کو جو کنواری تھی رخصت کرایا تو پانچ مہینے تک رکا رہا اور اس کے قریب نہیں گیا۔ اس کے بعد سیدی احمد تشریف لائے، اور مجھے ساتھ لیا۔ اور بیوی ساتھ میں تھی۔ اور قبر کا جو گوشہ داخل ہونے والے بائیں واقع ہے اس کے اوپر بستر بچھایا۔ اور میرے لئے حلوہ پکایا۔ اور زندوں اور مردوں کو اس کی دعوت دی اور فرمایا کہ یہاں اس کی بکارت زائل کرو۔ چنانچہ اس رات وہ کام ہوا”

پھر لکھا ہے کہ:” میں 948ھ میں عرس کے اندر وقت مقررہ پر حاضر نہ ہوسکا۔ اور وہاں بعض اولیاء موجود تھے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیدی احمد رضی اللہ عنہ اس روز قبر کا پردہ ہٹاتے تھے اور کہتے تھے کہ عبدالوہاب نے دیر کر دی ۔ آیا نہیں”۔ (تلبیس ابلیس ج 1ص161-162)

غرض یہ ہیں برے نمونے جن کے متعلق چاہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے انہیں کے نقش قدم پر چلیں۔ اور یہ ہے تصوف کا حقیقی چہرہ۔ اور یہ ہیں اس کے رموز اور رجال کی صورتیں۔ اور اگر ہم ان صورتوں کو گننا شروع کر دیں تو اس مختصر رسالہ میں میانہ روی سے باہر نکل جائیں گے۔ البتہ بحمد للہ ، اللہ کی توفیق سے اس کو اپنی کتاب “الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ” میں پورے بسط سے لکھ دیا ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اسی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

اور توفیق اللہ ہی طرف سے ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔ اور اسی سے یہ بات مطلوب ہے کہ وہ اسلامی معاشرہ کو اس خبیث سرطان سے پاک کر دے جس نے مسلمانوں کے عقیدے ، عمل اور سماج کو فاسد کر رکھا ہے۔

اور اخیر میں اللہ عزیز و حمید کے راستے کے داعی و طاہر پر درود وسلام ہو۔​

 

       اہل تصوف سے کس طرح بحث کی جائے؟

 

پچھلے باب میں ہم صوفیانہ افکار کی خطرناکیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ اب جو شخص بھی ان باتوں سے واقف ہو جائے اس پر ضروری ہے کہ اسلامی سماج سے اس خبیث درخت کی جڑ اکھاڑنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف دعوتِ برحق نہ دی جائے۔ اور ہدایت و پاکیزگی کے پردے میں ہر قسم کے کفر و زندقہ کو چھپانے والے اس قابل نفرت تصوف کو سرعام رسوا نہ کیا جائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جس شخص کو حق معلوم ہو جائے وہ اسے پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرے۔ اور اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو اس شر کا علم ہو جائے وہ اس کے درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرے۔

اور چونکہ بیشتر طالب علم تصوف کی حقیقت کو نہیں جانتے، اور اس کی کفریات، اکاذیب، اباطیل اور لاف و گزاف سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے صوفیوں سے بحث کرتے ہوئے بہترین جواب نہیں دے پاتے ۔ اور نہ انہیں حق پر قانع کر پاتے ہیں۔ کیوں کہ صوفی جب ایسے آدمی کو دیکھتا ہے جو کتاب و سنت اور دلیل کی عظمت کا قائل ہو تو جھٹ کہتا ہے کہ جنید نے جو کہ شیخ الطائفہ تھے فرمایا ہے کہ ہمارا طریقہ کتاب وسنت کا پابند ہے۔ اور جو کتاب و سنت کو نہ سمجھے وہ اس گروہ کے طریقے کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اور فلاں نے یہ کہا ہے ۔ اور فلاں نے وہ کہا ہے ۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے دل میں اس گروہ کا کوئی نکتہ جاگزیں ہوتا تو میں اسے بیان نہیں کرتا جب تک کہ میں اس کے لئے کتاب و سنت سے دو شاہد نہ پا جاؤں۔

اور یہ باتیں سن کر صوفیوں کی راہیں نہ جاننے والا طالب علم سمجھتا ہے کہ یہ لوگ دین کے ماہر ہیں۔ اور ورع و اخلاص کے ایسے مقام پر فائز ہیں کہ کوئی بات اس وقت تک نہیں بولتے جب تک کہ وہ کتاب و سنت کے موافق نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اقوال و افعال میں کتاب و سنت کے پیروکار ہیں۔ اس لئے بیچارہ نادم اور عموماً لا جواب ہو جاتا ہے۔البتہ کبھی کبھی یہ پوچھ بیٹھتا ہے کہ پھر یہ لوگ اپنے عرسوں اور اپنی محفلوں میں ناچتے کیوں ہیں؟ اور یہ مجذوب کیا ہیں جو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہیں، اور چیختے چلاتے ہیں۔ مگر اس کے جواب میں وہ کٹھ حجت صوفی کہتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔یہ تو غفلت کے مارے ہوئے عوام ہیں۔ حقیقی صوفی نہیں ہیں۔ صوفیت تو کچھ اور ہی ہے۔ حالانکہ یہ بات فطری طور پر جھوٹ ہوتی ہے۔ لیکن اس قسم کا جواب طالب علم پر چل جاتا ہے، اور وہ چپ ہو رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تصوف اس امت کے جسم میں اپنا کام کرتا رہتا ہے، اور پتہ بھی نہیں چلتا۔

اور چونکہ بہت سے طالب علموں کو اتنا وقت نہیں ملتا کہ تصوف کی کتابیں دیکھ سکیں۔ اور ان میں جو کچھ ہے اس کی حقیقت معلوم کرسکیں۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بعض کتابیں دیکھتے ہیں تو حق پوشیدہ رہ جاتا ہے اور باطل سے ممیز نہیں ہو پاتا۔ کیوں کہ اس میں ایسی تلبیس اور ملاوٹ ہوتی ہے کہ پڑھنے والا ایک مریض کے قول کے پہلو بہ پہلو ایک صحیح قول دیکھتا ہے۔ اور چھپے ہوئے لفظوں میں کفر والے ایک قول سے گزرتا ہے تو ایک چوتھا قول ایسا دیکھتا ہے جس سے حکمت پھوٹتی محسوس ہوتی ہے اس لئے وہ گڑ بڑا جاتا ہے، اور حقیقت نہیں دیکھ پاتا۔ اور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ کون سے راستے سے گزر رہا ہے۔

اس لئے ہم تصوف کے بنیادی اور کلی قضیوں کو بتلانے اور اساطین تصوف کے ساتھ مباحثہ کا ڈھنگ سکھانے کے لئیے یہ مختصرسا خلاصہ لکھ رہے ہیں۔ اس کی روشنی میں بحث کرنے والا اگر ایک مبتدی طالب علم بھی ہوا تو وہ بھی ان کو مغلوب اور خاموش کر لے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں صراط مستقیم کی ہدایت بھی دے دے۔

قواعد یہ ہیں:

سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ تصوف گندگیوں کا ایک سمندر ہے۔ کیوں کہ اہل تصوف نے ہندوستان ، ایران اور یونان کے فلسفوں میں پائے جانے والے ہر طرح کے کفر و زندقہ کو، اور قرامطہ اور باطنی فرقوں کے تمام مکر و فن کو، خرافیوں کی ساری خرافات کو، دجالوں کے سارے دجل کو اور شیطانوں کی ساری “وحی” کو اکٹھا کر لیا ہے۔ اور ان سب کو تصوف کے دائرے، اور اس کے علوم و اصول اور کشف کے سانچے میں ڈھال لیا ہے۔ مخلوق کی طرف خدائی کی نسبت سے لے کر ہر موجود کو عین خدا قرار دینے تک تمہاری عقل روئے زمین پر جس کفریہ عقیدہ کا تصور کرسکتی ہے وہ تمہیں تصوف میں ضرور مل جائے گا۔ (تعالی اللہ عن ذلک علوا کبیرا)

اسلامی بھائیو! اس مقصد کے لیے آپ کے ذہن میں تصوف کا واضح نقشہ آ جائے، ہم آپ کے سامنے صوفیوں کے عقائد کا، اور دین تصوف اور دین اسلام کے بنیادی فرق کا ایک بہت ہی مختصر سا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔

 

                       اول: اسلام اور تصوف کے درمیان بنیادی فرق

 

اسلام کا منہج اور راستہ تصوف کے راستے اور منہج سے ایک انتہائی بنیادی چیز میں علیحدہ ہے۔ اور وہ ہے “تلقی” یعنی عقائد اور احکام کے سلسلے میں دینی معرفت کے ماخذ۔ اسلام عقائد کے ماخذ کو صرف نبیوں اور پیغمبروں کی وحی میں محصور قرار دیتا ہے۔ اور اس مقصد کے لئے ہمارے پاس صرف کتاب و سنت ہے۔

اس کے برخلاف دین تصوف میں عقائد کا ماخذ وہ خیالی وحی ہے جو اولیاء کے پاس آتی ہے۔ یا وہ مزعومہ کشف ہے جو انہیں حاصل ہوتا ہے۔ یا خواب ہیں یا پچھلے وقتوں کے مرے ہوئے لوگوں اور خضر علیہ السلام سے ملاقات وغیرہ ہے۔ بلکہ لوح محفوظ میں دیکھنا اور جنوں سے جنہیں یہ لوگ روحانی کہتے ہیں کچھ حاصل کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

اسی طرح اہل اسلام کے نزدیک شرعی احکام کا ماخذ کتاب و سنت اور اجماع و قیاس ہے، لیکن صوفیوں کی شریعت خوابوں،خضر اور جنوں اور مردوں اور پیروں وغیرہ پر قائم ہے۔ یہ سارے لوگ ہی شارع ہیں۔ اسی لیئے تصوف کے طریقے اور شریعتیں مختلف اور متعدد ہیں۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ مخلوق کی سانس کی تعداد کے مطابق راستے ہیں اور سب کے سب اللہ کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیئے ہر شیخ کا اپنا ایک طریقہ اور تربیت کا اپنا ایک اصول ہے۔ اس کا اپنا مخصوص ذکر و اذکار ہے، مخصوص شعائر ہیں اور مخصوص عبادتیں ہیں۔ اسی لئے تصوف کے ہزاروں بلکہ لاکھوں، بلکہ بے شمار دین اور عقیدے اور شریعتیں ہیں۔ اور سب کو تصوف کا نام شامل ہے۔

یہ ہے اسلام اور تصوف کا بنیادی فرق۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس کے عقائد متعین ہیں۔ عبادات متعین ہیں۔ اور احکام متعین ہیں۔ اس کے برخلاف تصوف ایک ایسا دین ہے جس میں نہ عقائد کی تعیین ہے نہ شرائع اور احکام کی۔ یہ اسلام اور تصوف کے درمیان عظیم ترین فرق ہے۔

 

                       دوم: صوفی عقیدے کے تفصیلی خطوط

 

       ا۔ اللہ کے بارے میں

اللہ کے بارے میں اہل تصوف کے مختلف عقیدے ہیں ۔ ایک عقیدہ حلول کا ہے۔ یعنی اللہ اپنی کسی مخلوق میں اتر آتا ہے۔ یہ حلاج کا عقیدہ تھا۔ ایک عقیدہ وحدۃ الوجود کا ہے۔ یعنی خالق مخلوق جدا نہیں۔ یہ عقیدہ تیسری صدی سے لے کر موجودہ زمانہ تک رائج رہا۔ اور اخیر میں اسی پر تمام اہل تصوف کا اتفاق ہو گیا ہے۔ اس عقیدے کے چوٹی کے حضرات میں ابن عربی، ابن سبعین، تلمسانی، عبدالکریم جیلی، عبدالغنی نابلسی ہیں۔ اور جد ید طرق تصوف کے عام افراد بھی اسی پر کاربند ہیں۔

 

       ب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی صوفیوں کے مختلف عقیدے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مرتبہ و مقام کو نہیں پہنچ سکے تھے۔ اور آپ اہل تصوف کے علوم سے ناواقف تھے۔ جیسا کہ بایزید بسطامی نے کہا ہے کہ: “خضنا بحراوقف الانبیاء بساحلہ” (ہم ایک ایسے سمندر کی تہ میں پہنچ گئے جس کے ساحل پر انبیاء کھڑے ہیں) اس کے برخلاف بعض دوسرے صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کائنات کا قبہ ہیں، اور آپ ہی وہ اللہ ہیں جو عرش پر مستوی ہے۔ اور آسمان و زمین اور عرش و کرسی اور ساری کائنات آپ کے نور سے پیدا کی گئی ہے۔ آپ پہلا موجود ہیں۔ اور آپ ہی اللہ کے عرش پر مستوی ہیں۔ یہ ابن عربی اور اس کے بعد آنے والے صوفیوں کا عقیدہ ہے۔

 

ج: اولیاء کے بارے میں

اولیاء کے بارے میں بھی صوفیوں کے مختلف عقیدے ہیں۔ بعض صوفیاء ولی کو نبی سے افضل کہتے ہیں۔ اور عام صوفیاء ولی کو تمام صفات میں اللہ کے برابر مانتے ہیں۔ چنانچہ ان کے خیال میں ولی ہی پیدا کرتا ہے، روزی دیتا ہے، زندہ کرتا، اور مارتا ہے۔ اور کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک ولایت کے بٹوارے بھی ہیں چنانچہ ایک غوث ہوتا ہے جو کائنات کی ہر چیز پر حکم چلاتا ہے۔ چار قطب ہوتے ہیں جو غوث کے حکم کے مطابق کائنات کے چاروں کونے تھامے ہوئے ہیں۔ سات ابدال ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک غوث کے حسب الحکم سات براعظموں میں سے کسی ایک براعظم پر حکومت کرتا ہے۔ کچھ نجباء ہوتے ہیں جو صرف شہر پر حکومت کرتے ہیں۔ ہر نجیب ایک شہر کا حاکم ہوتا ہے۔ اس طرح اولیاء کا یہ بین الاقوامی نظام مخلوق پر حکومت کرتا ہے۔ پھر ان کا ایک ایوان ہے جس میں وہ ہر رات غار حراء کے اندر جمع ہوتے ہیں ۔ اور تقدیر پر نظر ڈالتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔مختصر یہ کہ اولیاء کی دنیا مکمل خرافات کی دنیا ہے۔

اور یہ طبعی طور پر اسلامی ولایت کے خلاف ہے جس کی بنیاد دینداری، تقویٰ، عمل صالح، اللہ کی پوری پوری بندگی اور اسی کا فقیر و محتاج بننے پر ہے۔ یہاں ولی خود اپنے کسی معاملے کا مالک نہیں ہوتا، چہ جائیکہ وہ دوسروں کے معاملات کا مالک ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے:”قل انی الا املک ضرا ولا رشدا” (تم کہہ دو کہ میں نہ تمہارے کسی نقصان کا مالک ہوں۔ نہ ہدایت کا)

د: جنت اور جہنم کے بارے میں

جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو تمام صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ جنت کو طلب کرنا بہت بڑا نقص اور عیب ہے ۔ ولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جنت کے لیئے کوشاں ہو، اور اسے طلب کرے۔ جو جنت طلب کرتا ہے وہ ناقص ہے۔ ان کے یہاں طلب اور رغبت صرف اس کی ہے کہ وہ اللہ میں فنا ہو جائیں، غیب سے واقف ہو جائیں اور کائنات میں تصرف کریں ۔۔۔۔۔ یہی صوفیوں کی خیالی جنت ہے۔

اور جہاں تک جہنم کا تعلق ہے تو صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ اس سے بھاگنا صوفی کامل کے شایان شان نہیں۔ کیوں کہ اس سے ڈرنا آزادوں کی نہیں غلاموں کی طبیعت ہے۔ اور بعض صوفیوں نے تو غرور و فخر میں آ کر یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر وہ جہنم پر تھوک دے تو جہنم بجھ جائے گی۔ جیسا کہ ابو یزید بسطامی نے کہا ہے۔ پھر صوفیاء وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ان کے لئے جہنم ایسی شیریں اور ایسی نعمت بھری گی کہ جنت کی نعمت سے کسی طرح کم نہ گی، بلکہ کچھ زیادہ ہی گی۔ یہ ابن عربی کا مذہب اور عقیدہ ہے۔

 

        ح: ابلیس اور فرعون

جہاں تک ابلیس کا معاملہ ہے تو عام صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ کامل ترین بندہ تھا۔ اور توحید میں ساری مخلوق سے افضل تھا۔ کیوں کہ اس نے۔ ان کے بقول۔ اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کیا۔ اس لیئے اللہ نے اس کے سارے گناہ بخش دیئے۔ اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ اسی طرح فرعون بھی ان کے نزدیک افضل ترین موحد تھا۔ کیونکہ : ” انا ربکم الاعلیٰ ” (میں تمہارا سب سے اعلیٰ پروردگار ہوں) اس نے حقیقت پہچان لی تھی۔ کیوں کہ جو کچھ موجود ہے وہ اللہ ہی ہے پھر وہ ان کے خیال میں ایمان لے آیا۔ اور جنت میں داخل ہوا۔

 

       صوفی شریعت​

 

                       عبادات

 

صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ نماز، روزہ، حج زکوٰۃ یہ سب عوام کی عبادتیں ہیں۔ صوفی حضرات اپنے آپ کو خواص یا خاص الخاص کہتے ہیں۔ اسی لئیے ان کی ساری عبادتیں بھی خاص قسم کی ہیں۔

پھر ان کے ہر گروہ نے اپنی ایک مخصوص شریعت بنائی ہے۔ مثلاً مخصوص ہیئت کے ساتھ مخصوص ذکر، خلوت، مخصوص کھانے اور مخصوص لباس اور محفلیں۔

پھر اسلامی عبادات کا مقصد نفس کا تزکیہ اور معاشرے کی پاکیزگی ہے۔ مگر تصوف میں عبادات کا مقصد یہ ہے کہ دل کو اللہ کے ساتھ باندھ دیا جائے تاکہ اللہ سے براہ راست فیض حاصل ہو۔ اور ا س میں فنا ہو جائیں۔ اور رسول سے غیب کے راستے مدد حاصل ہو۔ اور اللہ کے ساتھ متصف ہو جائیں۔ یہاں تک کہ صوفی کسی چیز کو کہے کن (ہو جا) تو وہ ہو جائے۔ نیز وہ مخلوق کے اسرار پر مطلع ہو۔ اور سارے ملکوت کو دیکھے۔

اور تصوف میں اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ صوفیوں کی شریعت ، محمدی اور اسلامی شریعت کے کھلم کھلا خلاف ہو۔ چنانچہ حشیش یعنی گانجا اور شراب پینا اور عرسوں اور ذکر کے حلقوں میں مردوں عورتوں کا خلط ملط ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کیوں کہ ہر ولی کی اپنی شریعت ہے جسے وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔ اس لیئے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے موافق ہے یا نہیں۔ کیوں کہ ہر ایک کی اپنی شریعت ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت عوام کے لیئے ہے۔ اور پیر اور صوفی کی شریعت خواص کے لیئے ہے۔

 

                حلال و حرام

 

یہی حال حلال و حرام کا بھی ہے۔ چنانچہ صوفیوں میں جو لوگ وحدۃ الوجود کے قائل ہیں ان کے نزدیک کوئی حرام نہیں۔ کیوں کہ ہر موجود ایک ہی ہے۔ اسی لئے ان کے اندر ایسے ایسے ہوئے جو زندیق یا لوطی تھے یا گدھیوں کے ساتھ کھل کھلا دن دھاڑے بد فعلی کرتے تھے۔ پھر ان ہی میں وہ بھی تھے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ نے اس سے سارے احکام ساقط کر دیئے ہیں۔ اور ان کے لیئے وہ چیز حلال کر دی ہے جو دوسروں پر حرام تھی۔

 

                       حکومت و سلطنت اور سیاست

 

جہاں تک حکومت و سلطنت اور سیاست کا تعلق ہے تو صوفیوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ برائی کا مقابلہ کرنا اور بادشاہوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں اللہ نے جس حال کو چاہا بندوں کو اسی حال میں قائم کیا ہے۔

 

                       تربیت

 

غالباً صوفی شریعت میں جو چیز سب سے خطرناک ہے وہ ہے ان کا طریقہ تربیت۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی عقل پر پوری طرح مسلط ہو جاتے ہیں اور اسے بیکار بنا ڈالتے ہیں۔ اور اس کے لیئے وہ قدم بہ قدم کام کرنے کا طریقہ اپناتے ہیں۔ چنانچہ پہلے وہ آدمی کو مانوس کرتے ہیں۔ پھر اس کے دل و دماغ پر تصوف اور صوفیوں کی عظمت، اور ہولناکی کا سکہ جماتے ہیں۔ اس کے بعد آدمی کو تلبیس اور فریب میں ڈالتے ہیں۔ پھر اس پر علوم تصوف میں سے تھوڑا تھوڑا چھڑکتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اسے صوفی طریق کے ساتھ باند دیتے ہیں۔ اور نکلنے کے سارے راستے بند کر دیتے ہیں۔ ​

سوم: صوفی سے بحث کا نقطہ آغاز بہت سے غیرت مند مسلمان بھائی جنہیں دین سے محبت ہے اور تصوف اور اس کی لغویات سے نفرت ہے وہ صوفیوں سے غلط طور پر بحث شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ فروعی اور ادھر ادھر کی باتوں پر بحث کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ذکر و اذکار میں ان کی بدعتیں، صوفی نام رکھنا، عرس منانا محفل میلاد قائم کرنا، تسبیحیں لٹکانا، گڈری پہننا، یا اسی طرح کے دوسرے الگ تھلگ مظاہر اور روپ جن میں وہ ظاہر ہوتے ہیں۔

لیکن واضح رہے کہ ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا پورے طور پر غلط ہے۔ اور باوجودیکہ یہ ساری باتیں بدعت اور خلاف شریعت ہیں، اور انہیں دین میں گھڑ کر داخل کیا گیا ہے، لیکن تصوف کی جو باتیں پس پردہ ہیں وہ ان سے کہیں زیادہ کڑوی اور خطرناک ہیں۔ میرا مقصد یہ ہے کہ یہ باتیں فروع کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا اصول کو چھوڑ کر ان باتوں سے بحث کا آغاز کرنا درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ بھی جرائم ہیں اور خلاف شریعت ہیں، لیکن تصوف کے اندر جو ہولناک باتیں، جو گھڑنت، جو بدترین کفریات اور جو گندے مقاصد پائے جاتے ہیں ان کے مقابل میں مذکورہ بالا باتیں بہت معمولی اور ہیچ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جو شخص صوفی سے بحث کرے وہ فروعی اور شکلی باتوں کے بجائے اصولی اور بنیادی باتوں سے ابتداء کرے۔

اور غالباً اسلام اور تصوف کا اصل جوہری اختلاف پڑھ لینے کے بعد تمہیں سمجھ میں آگیا گا کہ بحث کی ابتداء کہاں سے کرنی چاہیے۔ یعنی سب سے پہلا سوال ماخذ دین کے متعلق ہونا چاہیے کہ دین کہاں سے لیا جائے اور عقیدہ و عبادت کس چیز سے ثابت کی جائے۔ یعنی دین اور عقیدہ و عبادت کے حاصل کرنے کا ماخذ کیا ہو؟ اسلام اس ماخذ کو صرف کتاب و سنت میں محصور کرتا ہے کسی بھی عقیدے کا اثبات قرآن کی نص یا رسول کے ارشاد کے بغیر جائز نہیں اور کسی بھی شریعت کا اثبات کتاب و سنت یا اس کے موافق اجتہاد کے بغیر جائز نہیں اور اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی اور کتاب اللہ اور سنت رسول کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔

مگر مشائخ تصوف کا خیال ہے کہ وہ دین کو بغیر کسی واسطہ کے براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور براہ راست رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ان کی مجلسوں اور ان کے ذکر کے مقامات میں تشریف لاتے ہیں ۔ اسی طرح وہ اپنا دین فرشتوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اور جنوں سے حاصل کرتے ہیں جنہیں روحانی کہتے ہیں اور کشف حاصل کرتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ولی کے دل پر غیب کی باتیں کھل جاتی ہیں اور وہ زمین و آسمان کی ساری چیزوں کو اور گذشتہ اور آئندہ کے سارے واقعات کو دیکھتا ہے۔ پس ولی کے علم سے ۔۔۔۔۔۔۔ان کے بقول۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں۔

اس لیے صوفی سے پہلا سوال یہ کرنا چاہیے کہ آپ لوگ دین کا ثبوت کہاں سے لاتے ہیں؟ یعنی اپنا عقیدہ کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ اگر وہ کہے کہ کتاب و سنت سے حاصل کرتے ہیں تو اس سے کہو کہ کتاب و سنت کی گواہی تو یہ ہے کہ ابلیس کافر ہے اور وہ اور اس کے پیروکار جہنمی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الأَمْرُ إِنَّ اللّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (إبراهيم : 22 )

اور جب معاملات کا فیصلہ کر دیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے برحق وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں البتہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد کرسکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد کرسکتے ہو۔ تم نے پہلے مجھے شریک ٹھہرایا میں اس کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

تمام مفسرین سلف کا اجماع ہے کہ یہاں شیطان سے مراد ابلیس ہے۔ اور “تم میری فریاد نہیں کرسکتے” کا مطلب تم مجھے چھڑا اور بچا نہیں سکتے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہے۔

تو اب اے صوفیو! سوال یہ ہے کہ کیا ابلیس کے بارے میں آپ لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے؟

اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ہاں! ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے کہ ابلیس اور اس کے ماننے ولے جہنمی ہیں تو یاد رکھو کہ وہ تم سے جھوٹ بول رہا ہے اور اگر یہ جواب دے کر ہم ابلیس کو جہنمی نہیں مانتے، بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس نے جو کچھ کیا تھا اس سے توبہ کر لیا اور مومن و موحد گیا۔۔۔۔۔۔جیسا کہ ان کے استاد حلاج کا کہنا ہے۔ تو اس سے کہو کہ اب تم کافر گئے۔ کیونکہ تم نے کتاب اللہ، احادیث رسول اور اجماع امت کی مخالفت کی ۔ اس لیے کہ ان سب ذریعوں سے ثابت ہے کہ ابلیس کافر اور جہنمی ہے۔

صوفی سے یہ بھی کہو کہ تمہارے شیخ اکبر ابن عربی کا فیصلہ ہے کہ ابلیس جنتی ہے اور فرعون جنتی ہے (جیسا کہ “فصوص الحکم” میں لکھا ہے) اور تمہارے استاد اعظم حلاج کا کہنا ہے کہ ابلیس اس کا پیشوا اور فرعون اس کا پیر ہے( جیسا کہ “طواسین” ص 52میں لکھا ہے) اب بتاؤ کہ اس بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ جواب میں اگر وہ ان باتوں کو ماننے سے انکار کر دے تو سمجھ لو کہ وہ کٹ حجت اور حقیقت کا منکر ہے یا جاہل اور ناواقف ہے اور اگر وہ بھی کافر ہوا۔ اور ابلیس اور فرعون کا بھائی ٹھہرا۔ لہٰذا جہنم میں ان سبھوں کا ساتھ اس کے لیے کافی ہے۔

اور اگر وہ تلبیس سے کام لے اور کہے کہ ان کی بات شطحیات میں سے ہے۔ انہوں نے اسے حال اور سکر کے غلبے کے وقت کہا تھا تو اس سے کہو تم جھوٹ بولتے ہو۔ یہ بات تو لکھی ہوئی کتابوں میں موجود ہے اور ابن عربی نے اپنی کتاب “فصوص” کو یوں شروع کیا ہے:

انی رایت رسول اللہ فی مبشرۃ فی محروسۃ دمشق واعطانی ھذا الکتاب وقال لی اخرج بہ علی الناس۔

“میں نے محروسہ دمشق کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھے یہ کتاب دی ۔ اور فرمایا اسے لوگوں کے سامنے برپا کرو”۔

اور اسی کتاب میں ابن عربی نے بیان کیا ہے کہ ابلیس اور فرعون اللہ کی معرفت رکھتے تھے۔ اور نجات پائیں گے۔ اور فرعون کو موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ اللہ کا علم حاصل تھا۔ اور جس نے کسی بھی چیز کی پوجا کی اس اللہ ہی کی پوجا کی ۔ اسی طرح حلاج نے بھی اپنی ساری کفریات کو کتاب کے اندر لکھ رکھا ہے۔ یہ شطح یا حال کا غلبہ نہیں تھا جیسا کہ لوگ کہا کرتے ہیں۔

اس کے جواب میں اگر صوفی یہ کہے کہ ان لوگوں نے ایک ایسی زبان میں بات کی ہے جسے ہم نہیں جانتے تو اس کو کہو کہ ان لوگوں نے اپنی بات عربی زبان میں لکھی ہے اور ان کے شاگردوں نے ان کی شرح کی ہے اور مذکورہ باتوں کو دو ٹوک لفظوں میں بیان کیا ہے۔

اگر اس کے جواب میں صوفی یہ کہے کہ ایسی زبان ہے جو اہل تصوف کے ساتھ خاص ہے اور اسے دوسرے لوگ نہیں جانتے۔ تو اس سے یہ کہو کہ ان کی یہ زبان عربی ہی زبان تو ہے جس کو انہوں نے لوگوں کے درمیان عام کیا ہے اور اپنے ساتھ خاص نہیں کیا ہے اور اسی بنیاد پر علماء اسلام نے حلاج کواس کی باتوں کے سبب کافر قرار دیا اور اسے 309ھ میں بغداد کے پل پر پھانسی دی گئی۔ اسی طرح علماء اسلام نے ابن عربی کے بھی کافر زندیق ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگر صوفی کہے کہ میں علماء شریعت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ وہ علماء ظاہر ہیں حقیقت نہیں جانتے۔ تو اس سے کہو کہ یہ “ظاہر” تو کتاب و سنت ہے۔ اور جو “حقیقت” اس “ظاہر” کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ پھر اس سے یہ بھی پوچھو کہ وہ صوفیانہ حقیقت کیا ہے جس کا تم لوگ دعویٰ کرتے ہو؟ اگر وہ کہے کہ یہ ایک راز ہے جس کو ہم نہیں بتلاتے تو اس سے کہو کہ جی نہیں تم لوگوں نے اس راز کو آشکارا کر دیا اور پھیلا دیا ہے۔ اور وہ راز یہ ہے کہ تمہارے خیال میں ہر موجود اللہ ہے۔ جنت و جہنم ایک ہی چیز ہے۔ ابلیس اور محمد ایک ہی ہیں۔ اللہ ہی مخلوق ہے اور مخلوق ہی اللہ ہے۔ جیسا کہ تمہارے امام شیخ اکبر نے کہا ہے؟

العبد رب والرب عبد یالیت شعری من المکلف

ان قلت عبد فذاک رب وان قلت اب انی یکلف

“بندہ رب ہے اور رب بندہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر مکلف کون ہے؟ اگر کہا جائے کہ بندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہی رب ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ رب۔ تو پھر مکلف کیسے ہو سکتا ہے”۔

اب اگر صوفی اس کا اقرار کر لے، اس کے باوجود ان زندیقوں کی پیروی کرے تو انہیں جیسا کافر وہ بھی ہوا۔ اور کہے کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا بات ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں۔ البتہ میں اس کے کہنے والوں کی ایمان اور پاکی اور ولایت کا یقین رکھتا ہوں تو اس سے کہو کہ یہ واضح عربی کلام ہے۔ اس میں کوئی خفا نہیں اور یہ ایک معروف عقیدے یعنی وحدۃ الوجود کا پتہ دیتا ہے۔ اور یہ ہندوؤں اور زندیقوں کا عقیدہ ہے جسے تم لوگوں نے اسلام کی طرف منتقل کر لیا ہے۔ اور اسے قرآنی آیات اور نبوی احادیث کا جامہ پہنا دیا ہے۔

اس کے بعد اگر صوفی یہ کہے کہ اولیاء کی شان میں گستاخی نہ کرو ورنہ وہ تم کو برباد کر دیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی میرے ولی سے دشمنی کرے میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ تو اس کے جواب میں تم کہو کہ یہ لوگ اولیاء نہیں ہیں بلکہ زندیق و بد دین ہیں جنہوں نے اوپر سے اسلام کا پردہ ڈال رکھا ہے اور میں تمہارے ساتھ اور تمہارے خداؤں کے ساتھ کفر کر رہا ہوں۔

فَكِيدُونِي جَمِيعاً ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ (55) إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (هود :55-56 )

“لہٰذا تم سب مل کر میرے خلاف داؤں چلاؤ پھر مجھے مہلت نہ دو۔ میں نے اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ روئے زمین پر جو بھی چلنے والا ہے اللہ نے اس کی چوٹی پکڑ رکھی ہے۔ بے شک میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے”۔

پھر اگر صوفی یہ کہے کہ ضروری ہے کہ ہم صوفیوں کے حق میں ان کے حالات کو تسلیم کر لیں کیونکہ انہوں نے حقائق کو دیکھا ہے اور دین کے باطن کو پہنچانا ہے۔ تو اس سے کہو کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اگر کوئی شخص اپنی بات کے ذریعہ کتاب و سنت کی مخالفت کرے ۔ اور مسلمانوں کے درمیان کفر و زندقہ پھیلائے تو اس پر چپ رہنا جائز نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَـئِكَ يَلعَنُهُمُ اللّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ( 159) إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَـئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة :159-160)

“یقیناً جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم اسے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر چکے ہیں تو ایسے لوگوں اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور اصلاح کریں اور بیان کریں تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں”۔

اس لیے تمہارے باطل اور لغویات اور زندقہ پر چپ رہنا جائز نہیں۔ کیونکہ تم لوگوں نے عالمِ اسلام کو پچھلے دور میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی خراب کر رکھا ہے۔ آج تک تم لوگوں کا یہی وطیرہ چلا آ رہا ہے کہ لوگوں کو اللہ کی عبادت سے نکال کر مشائخ کی عبادت کی طرف لے جاتے ہو۔ توحید سے نکال کر شرک اور قبر پرستی کی طرف لے جاتے ہو۔ سنت سے نکال کر بدعت کی طرف لے جاتے ہو۔ اور کتاب و سنت کے علم سے نکال کر اللہ، فرشتے، رسول اور جنوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرنے والوں سے بدعات و خرافات اور جھوٹ فریب حاصل کرنے کی طرف لے جاتے ہو۔ تم زندگی بھر باطنی فرقوں کے مددگار اور سامراج کے خادم رہے۔ اس لیے قطعاً جائز نہیں کہ تم لوگوں نے جو گمراہی اور شرک پھیلا رکھا ہے، اور لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث سے بہکا کر اپنے بدعتیانہ اذکار اور مشرکوں جیسی سیٹی اور تالی والی عبادت کی طرف لے جاتے ہو اس پر خاموشی اختیار کی جائے۔

اس مرحلہ پر صوفی لازماً خاموش ہو جائے گا۔ وہ سمجھ جائے گا کہ اس کا پالا ایک ایسے شخص سے پڑا ہے جس کو اس کے باطل کا پورا پورا علم ہے اس کے بعد یا تو اللہ تعالیٰ اس کو صحیح اسلام کی ہدایت دے گا یا وہ اپنے عقیدے اور معاملہ کو چھپائے رکھے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے کسی دن رسوا کر دے، یا کفر و زندقے اور بدعت و مخالفتِ حق پر اس کی موت آ جائے۔

ہم نے یہ ساری باتیں ان کی کتابوں اور اقوال سے تفصیل کے ساتھ بیان کر دی ہیں آپ ہماری کتاب “الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب والسنۃ” کا مطالعہ کرو گے تو اللہ کی حمد و توفیق سے آپ کو یہ سب تفصیل کے ساتھ مل جائے گا۔

اور اول و آخر ساری حمد اللہ کے لیے ہے۔ اور ساری عزت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، اور ان کی پیروی کرنے والے، اور صراط مستقیم پر چلنے والے مومنین کے لیئے ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔

٭٭٭

کمپوزنگ: رحیق (اردو مجلس)

ماخذ:

http://www.urdumajlis.net/threads/%D8%A7%DB%81%D9%84-%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA.2005/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید