FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

               مرزا خلیل احمد بیگ

مصنف کی کتاب ’تنقید اور اسلوبیاتی تنقید سے

 

ابوالکلام کی نثر

مولانا ابوالکلام  آزاد محض ایک ادیب ، انشاءپرداز ، صحافی ، تذکرہ نگار، خطیب ، مترجم ، نیز مذہبی مفکر اور سیاسی مدبّر ہی نہیں، بلکہ ایک منفرد طرزِ نگارش اور امتیازی اسلوبِ تحریر کے مالک بھی تھے جس کی طرف ہر اس شخص کی توجّہ مبذول ہوتی ہے جو اُن کی تصانیف کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کرتا ہے۔ مولانا آزاد کے اسلوبِ نثر کی انفرادیت کا اعتراف حسرت موہانی نے اپنے ایک شعر میں یوں کیا ہے :

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر

نظمِ حسرت میں کچھ مزا نہ رہا

سجاد انصاری نے تو محشرِ خیال میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ میرا عقیدہ ہے کہ قرآن نازل نہ ہو چکا ہو تو مولانا ابوالکلام کی نثر اس کے لئے منتخب کی جاتی‘‘۔ مولانا عبد الماجد دریابادی کے بہ قول مولانا آزاد ’’تحریر  و  انشاء میں اپنے اسلوب کے موجد بھی تھے اور خاتم بھی۔ ‘‘(۱)  مولوی عبد الرزاق ملیح آبادی ذکرِ آزاد میں لکھتے ہیں کہ ’’مولانا کی تحریر ایسی ہے کہ عش عش کرتے رہئے، اعلیٰ انشاء و ادب کا نمونہ جس کی تقلید ممکن نہیں۔ ‘‘ (۲)

یہ تمام بیانات اس امر کی دلیل ہیں کہ مولانا آزاد کا اسلوبِ تحریر روشِ عام سے ہٹ کر تھا جس میں بلند آہنگی ، شان و شکوہ ، علمی وقار اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ایک ادبی حُسن اور جمالیاتی کشش بھی پائی جاتی تھی۔ لسانی اعتبار سے مولانا آزاد کا اسلوب عہد بہ عہد بدلتا رہا ہے۔ آزاد کی پچاس سالہ تصنیفی زندگی میں ان کے اسلوب نے اپنے ارتقاء کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ آزاد نے اپنی نگارشات میں زبان کے اطلاعی (Informative) ، ہدایتی (Directive) اور اظہاری (Expressive) تینوں اسالیب سے کام لیا ہے۔ بحیثیتِ مجموعی آزاد کا اسلوب اردو کے بنیادی اسلوب سے انحراف کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہی ان کے اسلوب کی امتیازی شان ہے اور اسی میں ان کی انفرادیت مضمر ہے۔

(۲)

مولانا آزاد کے اسلوب کے ارتقاء کو سمجھنے کے لئے ان کی تصنیفی زندگی کو چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے دور میں وہ الہلال اور البلاغ جاری کرتے ہیں۔ اور اپنی خود نوشت سوانح عمری ترتیب دیتے ہیں۔ دوسرے دور میں وہ قرآنِ کریم کے ترجمہ و تفسیر کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ تیسرے دور میں وہ مکتوب نما انشائیے لکھتے ہیں اور چوتھے اور آخری دور میں وہ بعض ایسے خطبات پیش کرتے ہیں جن کی کئی لحاظ سے بے حد اہمیت ہے۔ اسلوبیاتی اعتبار سے ان چاروں ادوار کی چار نمائندہ تصانیف کے نام ہیں: (۱)  تذکرہ، (۲)  ترجمان القرآن ، (۳)  غبارِ خاطر اور (۴)  خطباتِ آزاد۔

مولانا آزاد کی علمی اور تصنیفی زندگی تقریباً نصف صدی پر محیط ہے جس کا آغاز ۱۹۰۳ء میں کلکتہ سے لسان الصدق کے اجراء سے ہوتا ہے۔ اس وقت ان کی عمر میں صرف پندرہ سال کی تھی۔ لیکن اس اخبار کے اجرا سے قبل ان کی مضمون نگاری کا آغاز ہو چکا تھا اور ان کی نگارشات میں اس دورق کے معیاری رسائل مثلاً مخزنِ ، خدنگِ نظر اور احسن الاخبار ، میں شائع ہو چکی تھیں۔ لسان الصدق کے اجراء کے نو سال بعد مولانا آزاد نے پوری آب و تاب کے ساتھ میدانِ صحافت میں دوبارہ قدم رکھا اور جولائی ۱۹۱۲ء سے ایک ہفتہ وار جریدہ الہلال کی ادارت کی ذمہ داری سنبھالی۔ الہلال مولانا آزاد کی مذہبی فکر، سیاسی تدبّر اور ادبی احساسات کا ترجمان تھا۔ لیکن ان کی فکر و تحریر کی بے باکی اور انقلاب انگیز ی کی وجہ سے یہ اخبارِ حکومتِ وقت کی نظروں میں کھٹکنے لگا۔ بالآخر اخبار کی ضمانت ضبط ہونے پر مولانا آزاد کو نومبر ۱۹۱۴ء میں یہ اخبار بند کر دینا پڑا۔ لیکن اس کے ایک سال بعد نومبر ۱۹۱۵ء میں انھوں نے البلاغ کے نام سے ایک دوسرا اخبار جاری کیا۔ یہ اخبار الہلال کا نقشِ ثانی تھا۔ چنانچہ اس کا بھی وہی حشر ہوا جو الہلال کا ہوا تھا، یعنی اپریل ۱۹۱۶ء میں یہ اخبار بند ہو گیا اور مولانا آزاد رانچی میں بند کر دئے گئے۔ اُسی زمانے میں انھوں نے الہلال اور البلاغ کے مہتمم فضل الدین احمد مرزا کے اصرار پر اپنی سوانح عمر میں لکھنا شروع کی جس نے ایک ضخیم کتاب کی شکل اختیار کر لی۔ اس کتاب کا پہلا حصّہ تذکرہ کے نام سے پہلی بار ۱۹۱۹ء میں کلکتے میں شائع ہوا جس میں انھوں نے اپنے خاندان کے ایک بزرگ شیخ جمال الدین بہلول کے حالات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔

رانچی ہی میں نظر بندی کے دوران مولانا آزاد نے ایک اور اہم علمی کارنامہ انجام دیا جسے ترجمان القرآن کہتے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اردو ترجمہ اور اس کی تفسیر و تشریح ہے۔ یہ کتاب ان کی زندگی میں دو جلدوں میں شائع ہوئی ، لیکن جس طرح تذکرہ نامکمل رہ گیا تھا اسی طرح قرآنِ کریم کا یہ ترجمہ بھی پورا نہ ہو سکا اور صرف ۱۸ پاروں تک پہنچ کر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔

تذکرہ اور ترجمان القرآن کے بعد مولانا آزاد کی تیسری اہم تصنیف غبارِ خاطر ہے۔ یہ ان خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے قلعۂ احمد نگر کی اسیری کے دوران ۱۹۴۲ء اور ۱۹۴۳ء میں اپنے دوست حبیب الرحمن خاں شروانی ، رئیس بھیکم پور کے نام لکھے تھے۔ لیکن یہ خطوط مکتوب الیہ کو بھیجے نہیں گئے۔ بہ قولِ مولانا آزاد ’’یہ تمام مکاتیب نج کے خطوط تھے اور اس خیال سے نہیں لکھے گئے تھے کہ شائع کئے جائیں گے ‘‘ لیکن قید سے رہائی کے محمد اجمل خاں کے اصرار پر مولانا آزاد نے ۱۹۴۶ء میں یہ خطوط غبارِ خاطر کے نام سے کتابی صورت میں شائع کرا دئے۔ بہ قولِ احمد سعید ملیح آبادی مولانا آزاد نے یہ خطوط ’’ہم کلامی‘‘ اور اپنے ایک نئے طرزِ انشاء سے اردو ادب میں اضافے کی غرض سے لکھے۔ ‘‘ (۳)  لیکن یہ در اصل مختلف موضوعات پر انشائیے ہیں جنھیں مکاتیب کی شکل دے دی گئی ہے۔

مولانا آزاد کے تصنیفی آثار میں خطبات آزاد کو بھی ایک قابلِ لحاظ اہمیت حاصل ہے۔ خطبات آزاد میں پندرہ خطبے شامل ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل نیز حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے زبان و بیان اور اسلوب کے لحاظ سے مولانا آزاد کے وہ خطبات بہت اہم ہیں جو انھوں نے ۱۹۴۰ء اور ۱۹۴۱ء کے دوران پیش کئے تھے۔

(۳)

زبان کا بنیادی مقصد ادائے مطلب اور ترسیل و ابلاغ ہے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے زبان کئی اسالیب اختیار کرتی ہے جن میں تین اسالیب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے:۔

۱۔       اطلاعی اسلوب

(Informative Style)

۲۔       ہدایتی اسلوب

(Directive style)

۳۔       اظہاری اسلوب

(Expressive style)

(۴)

ان اسالیب سے زبان مختلف کام لیتی ہے۔ زبان کا ایک نہایت اہم فریضہ اطلاع رسائی (Communication of information) ہے۔ یہ اطلاع سامع یا قاری تک اثبات میں پہنچائی جا سکتی ہے۔ اور نفی میں بھی زبان کا استعمال جب اثبات و نفی کی لئے کیا جائے یا جب اس کے ذریعے استدلال پیش کئے جائیں تو یہ زبان کا اطلاعی اسلوب کہلائے گا۔ ’’ اطلاع ‘‘ کا لفظ یہاں خالص اپنے لغوی معنی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی سامع یا قاری کو کسی بات کی اطلاع  (Information)  بہم پہنچانا یا کسی بات سے مطلع کرنا۔ یہ اطلاع غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی۔ اسی طرح دلائل بھی صحیح اور غلط ہو سکتے ہیں۔ اطلاعی اسلوب بیانیہ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد محض بیان واقعہ یا Reportingہے سماجی اور سائنسی علوم کی زبان اطلاعی اسلوب کی بہترین مثال پیش کرتی ہے اسی طرح غیر افسانوی نثر میں بھی اطلاعی اسلوب کے بہت اچھے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مولانا آزاد الہلال ، البلاغ ، تذکرہ اور خطبات میں اطلاعی اسلوب یعنی بیانیہ اندازِ تحریر سے کام لیا ہے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو جو مذہبی اور سیاسی پیغام وہ لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے وہ شاید نہیں پہنچا سکتے تھے ترجمان القرآن اور غبارِ خاطر کی زبان کی زبان اگر چہ مختلف انداز کی ہے ، لیکن اس میں بھی اطلاعی اسلوب کے نمونے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اطلاعی اسلوب لسانی اعتبار سے سادہ بھی ہو سکتا ہے اور مشکل اور پیچیدہ بھی رسمی اور پُر تکلف بھی ہو سکتا ہے اور غیر رسمی بھی جامد (Frozen) بھی ہو سکتا ہے اور متحرک بھی خطباتِ آزاد کا اطلاعی اسلوب لسانی اعتبار سے بالعموم ایک سادہ اور سہل اسلوب ہے اور کافی حد تک اردو کے بنیادی اسلوب سے قریب ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر کی حیثیت سے رام گڑھ (بہار)  میں ۱۹۴۰ء میں انھوں نے جو خطبہ پیش کیا تھا، اسے دیکھ کر بالکل یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ تذکرہ اور غبارِ خاطر کے مصنف کی زبان ہے۔ کیوں کہ اس کی زبان کافی حد تک عام فہم ، مانوس اور غیر رسمی زبان ہے۔ اسی طرح تقسیمِ ملک کے فوراً بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں دہلی کی جامع مسجد میں مسلمانوں کے ایک اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے جو زبان استعمال کی ہے وہ بھی سادگی اور سلاست کا ایک عمدہ نمونہ ہی۔ اس ضمن میں مولانا آزاد کے اس صدارتی خطبے کا ذکر بھی بیجا نہ ہو گا، جو انھوں نے گاندھی جی کے سانحۂ قتل کے چند روز بعد کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی کے ایک جلسہ میں فروری ۱۹۴۸ء میں پیش کیا تھا۔ ان خطبات کی زبان میں سادگی ، صفائی اور سلاست بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان میں الفاظ و تراکیب کی وہ گھن گرج موجود نہیں۔ جو اس سے پہلے کی تصانیف کا طرۂ امتیاز ہے اور نہ ہی وہ رنگینی ، آراستگی اور مرصع کاری ہے جسے بعض نقادوں نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خطبات کی زبان میں عربی فارسی کے غریب اور مغلق الفاظ سے پرہیز کیا گیا ہے جن کی تذکرہ میں بھرمار ہے۔ ان خطبات میں اضافی اور عطفی ترکیبیں بھی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فارسی اور عربی کے صرف وہی مرکبات استعمال کئے گئے ہیں جو عام فہم اور مانوس ہیں اور اردو زبان جزو بن گیے ہیں۔ صرف دو یا تین خطبات کو چھوڑ کر بقیہ تمام خطبات کی زبان عربی اور فارسی کے فقروں ، جملوں ، مصرعوں ، اشعار اور امثال سے بڑی حد تک مبرّا ہے۔ آخری دور کے خطبات میں تو یہ چیزیں بالکل دیکھنے کو نہیں ملتیں۔

مولانا آزاد انگریزی زبان پر کامل عبور نہیں رکھتے تھے، لیکن وہ انگریزی الفاظ کے مناسب ، موزوں ، برجستہ اور بر محل استعمال سے بہ خوبی واقف تھے۔ رام گڑھ کے خطبے میں انھوں نے پہلی بار انگریزی الفاظ کا آزادانہ استعمال کیا ہے۔ جس سے اُن کے اسلوب کی جدت کا پتہ چلتا ہے۔ اس خطبے میں ہمیں ڈپلو میسی (Diplomacy) ، ڈسپلن (Discipline) ، ری ایکشن (Reaction) ڈومی نین (Dominion ) ، اسٹیس (Status) ، ڈاکومنٹ(Document) ، ریزن(Reason) ، کو آپریشن(Cooperation) کانسٹی ٹیوشن (Constitution) ، فیکٹر (Factor) ، فیڈریشن(Federation) ریوائول(Revival) ، ٹریجڈی (Tragedy) اور انٹرنیشنل (International) جیسے الفاظ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خطبات کی زبان نہ صرف الفاظ کی سطح پر ایک سادہ اور عام فہم زبان ہے، بلکہ نحوی اعتبار سے بھی یہ سہل نگاری کا ایک اعلا نمونہ ہے۔ ان میں آزاد کے فقرے بالعموم چھوٹے اور سادہ ہیں جن میں وہ اور ، لیکن، کہ ، جو ، بلکہ ، غیر ہ جوڑ کر ربط پیدا کرتے ہیں۔ آزاد کے اسی سلیس اور سہل اسلو ب کی ایک مثال ان کے ایک خطبے ’’گاندھی جی کی یادگار ‘‘ (فروری ۱۹۴۸ ء)  سے پیش ہے:

’’گاندھی جی ہندو تھے اور ہندو ہی رہے، لیکن انھوں نے ہندو دھرم کی اتنی اونچی جگہ بنائی تھی کہ جب وہ اس بلندی پرسے دیکھتے تھے تو دنیا کے تمام جھگڑے ان کو مٹے ہوئے نظر آتے تھے۔ ان کے سامنے ایک کھلی ہوئی سچائی تھی جو کسی ایک ورثہ نہیں ہے ، بلکہ سورج اور اس کی شعاعوں کی طرح سے سب کے لئے ہے۔ ‘‘(۵)

خطبات کے اسلوب کی سادگی کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اسلوب آزاد کی شعوری کو شش کا نتیجہ نہیں، بلکہ زبان کے فوری اور برجستہ استعمال کے نتیجے میں معرض ِ وجود میں آیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان خطبات کے مخاطب مختلف طبقوں اور جماعتوں کے لوگ ہوتے تھے ، اس لئے انہیں زبان کو ممکن حد تک آسان رکھنا پڑتا تھا۔ تاکہ سامعین ان کی بات بآسانی سمجھ سکیں۔ مالک رام نے خطباتِ آزاد کے دیباچے میں لکھا ہے کہ مولانا آزاد ’’اپنے سامعین کے مطابق زبان بھی بدل لیتے ہیں۔ ‘‘ یہی وجہ ہے کہ ’’اتحادِ اسلامی‘‘ ، ’’جمیعت العلمائے ہند‘‘ اور ’’خلافت کانفرنس ‘‘ جیسے خطبات کی زبان نسبتاً مشکل ہے ، کیوں کہ ان کے مخاطب صرف مسلمان تھے۔ لیکن دوسرے خطبات کی زبان بہت آسان ہے جیسے ہم بلاشبہ اردو کا بنیادی اسلوب کہہ سکتے ہیں۔

اس کے برعکس الہلال اور البلاغ بالخصوص تذکرہ میں اُنھوں نے نہایت مشکل اور بوجھل زبان استعمال کی ہے جسے مولانا آزاد کی نثر کا ’علمی اسلوب‘ کہہ سکتے ہیں۔ علمی اسلوب میں ایک طرف صرف و نحو اور قواعد کی پیچیدگیاں نظر آتی ہیں تو دوسری طرف عربی اور فارسی کے ذخیرہ الفاظ و تراکیب اور مصطلحات کا آزادانہ استعمال ملتا ہے۔ تذکرہ کی زبان عربی فارسی کے ثقیل اور متعلق الفاظ اور مشکل و پیچیدہ تراکیب سے حد درجہ بوجھل ہے۔ یہی نہیں بلکہ جا بجا عربی کے ٹکڑے ، فقرے، اقوال و امثال اور اشعار ، نیز قرآن و حدیث کے اقتباسات بھی پیش کئے گئے ہیں جن کی اردو نثر متحمل نہیں ہو سکتی۔ تذکرہ میں فارسی کے مصرعے ، اشعار اور اقوال بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

مولانا آزاد عربی کے منتہی اور فارسی کے جیّد عالم تھے، بلکہ عربی تو ان کے لئے مادری زبان کی حیثیت رکھتی تھی، لہٰذا وہ عربی اور فارسی سے کسی بھی طرح صرفِ نظر نہیں کر سکتے تھے۔ انھوں نے مذہبی دعوت و تبلیغ اور خطابت میں ان زبانوں سے خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی فارسی زبانوں سے گہرے اخذ و استفادے میں ان کے نزدیک اظہاری سہولت مدِ نظر رہی ہو گی ، لیکن اس سے ان کے اسلوب کی امتیازی شان اور ان کی شخصیت کے انوکھے پن کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو میں کسی سنجیدہ یا علمی موضوع پر اظہارِ خیال کے لئے عربی فارسی کا سہار از بس ضروری ہے اور مذہبی مسائل و مباحث اور استدلال کے لئے ان زبانوں کا سہارا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ لیکن مولانا آزاد کے یہاں عربی فارسی عناصر کا تناسب اپنی حد سے بہت زیادہ تجاوز کر گیا ہے۔ اسی اسلوب کو مولانا عبد الماجد دریایادی نے ’’اثقل ‘‘ کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’شروع میں اسلوب بیان ذرا ثقیل تھا اور تذکرہ میں تو ثقیل سے گزر کر   اثقل ہو گیا۔ ‘‘(۶)

الہلال ، البلاغ اور تذکرہ کی زبان اور اندازِ بیان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد کا تخاطب صرف خواص اور مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے سے تھا نہ کہ عوام سے۔ مالک رام غبارِ خاطر کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

’’ان پرچوں کا خاص مقصد تھا، اور ان کے مخاطب بھی تعلیم یافتہ لوگ بلکہ بہت حد تک طبقۂ علماء افراد تھے۔ ان اصحاب سے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ نہ صرف ان تحریر وں کو سمجھ سکیں گے بلکہ ان سے لطف اندوز بھی ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مطالب اس سے آسان تر زبان میں بیان نہیں ہو سکتے۔ پس ظاہر ہے کہ عوام تو در کنار ، متوسط طبقہ بھی ان سے پورے طور پر مستفید نہیں ہو سکتا تھا۔ ‘‘

مولانا آزاد بھی یہ بات سمجھتے تھے۔ چنانچہ ۱۰ جون ۱۹۲۷ء کو الہلال کا جب دوبارہ اجراء عمل میں آیا تو انھوں نے اس میں لکھا :

’’ یہ ظاہر ہے کہ الہلال کے فوائد عام نہیں ہو سکتے۔ جب تک کہ اس کا دائرہ بحث و نظر عام فہم نہ ہو۔ اور عام فہم جبھی ہو سکتا ہے جب مطالب کے سہل ہونے کے ساتھ ان کا اسلوبِ بیان اور زبان بھی سہل ہو۔ ‘‘

الہلال کی اسی روز کی اشاعت میں وہ مزید لکھتے ہیں:

’’ آئندہ الہلال میں دونوں قسم کے مضامین درج کئے جائیں بڑا حصہ تو سہل و عام فہم ہو، لیکن کچھ حصّہ بلند اور خاص قسم کا بھی ہو۔ اس طرح عوام و خواص دونوں ذوقِ نظر کا سامانِ مہیّا ہو جائے گا۔ ‘‘

مولانا آزاد نے جو اسلوبِ بیان اپنی تصنیفی زندگی کے آغاز میں اختیار کیا ہے اس کی مثال ان کے ہم عصر وں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ آزاد کے عہد میں ڈاکٹر ذاکر حسین ، خواجہ غلام السیدین ، سید عابد حسین اور محمد مجیب جیسے دانشور موجود تھے جن کی گہری دل چسپی علم و ادب ، مذہب و سیاست اور تعلیم و تدریس کے مسائل سے تھی، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مولانا آزاد کا سا اسلوب اختیار نہیں کیا۔ اسی عہد میں سید سلیمان ندوی اور مولانا آزاد کا اسلوب اختیار نہیں کیا۔ اسی عہد میں سید سلیمان ندوی اور مولانا عبد الماجد دریابادی جیسے عالم بھی موجود تھے ، لیکن ان کے اسلوب میں بھی الفاظ کی وہ گھن گرج ، بلند آہنگی اور ادبی مرصع کاری نہیں پائی جاتی جو آزاد کے اسلوب کا امتیازِ خاص ہے، بلکہ ان مصنفین کا اسلوب سادگی کی طرف زیادہ مائل تھا۔ آزاد کے پیش روؤں میں سر سید نے عصری تقاضوں اور ضرورتوں کے تحت ایک نئے اسلوب کی بِنا ڈالی تھی ، جو نثر میں رنگینی ، مرصّع کاری اور آراستگی کے شدید ردِ عمل کے طور پر سامنے آیا تھا جس کی جڑیں میر امّن کی باغ و بہار سے جا کر ملتی ہیں۔ سر سید مسلمانوں میں جدید علوم کو فروغ دینا چاہتے تھے جس کے لئے شعر و ادب کی زبان قطعی ناموزوں تھی۔ اسی لئے انھوں نے ایک سادہ اسلوب سے کام لیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مولانا آزاد نے سر سید کی سیاسی فکر کو قبول نہیں کیا تھا ، اسی طرح انھوں  نے ان کے لسانی اسلوب کو بھی رد کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ نظریاتی اعتبار سے آزاد علامہ شبلی سے بہت قریب تھے اور یہی قربت جو انھیں کشاں کشاں ندوہ لے آئی ، جہاں انھوں نے کچھ عرصے تک شبلی کے علمی رسالے الندوہ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دئے۔ آزاد نے شبلی کی تصانیف الفاروق ، المامون، الغزالی ، اور سیرة النعمان ،وغیرہ کا ضرور مطالعہ کیا ہو گا۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ انھیں اپنے خاندان کے بزرگوں کے تاریخی اور سوانحی حالات لکھنے کا خیال ان تصانیف کو پڑھنے کے بعد آیا ہو اور جیل کے فرصت کے اوقات اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوئے ہوں۔ لیکن تذکرہ میں شبلی کے اسلوبِ تحریر کی بھی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تذکرہ کا اسلوب آزاد کے اپنے ذہن کی ایجاد و اختراع ہے، جس میں اُن کے تبحر علمی، عربی فارسی پر عبورِ کامل اور اسلامی فلسفہ و فکر سے گہرے شغف اور قرآن و حدیث سے غیر معمولی اخذ و استفادے کو زیادہ دخل ہے۔ اس کے علاوہ ان کی شخصیت کے انوکھے پن نے بھی ان کے اسلوب کی تعمیر و تشکیل میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ تمام چیزیں مل کر ان کے اسلوب کو مشکل ،بوجھل اور اثقل بنا دیتی ہیں جس کا انھیں خود بھی احساس تھا اور وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ زبان اور اندازِ بیان ممکن حد تک آسان اور عام فہم ہونا چاہئے۔ الہلال کے دوبارہ اجراء پر اس کی ۱۰ جون ۱۹۲۸ء کی اشاعت میں انھوں نے لکھا :

’’باقی رہا زبان کا معاملہ تو وہ ہر حال میں حتی الوسع سہل اور صاف اختیار کی جائے گی۔ کسی درجہ کا موضوع ہو لیکن اسلوبِ بیان مشکل اور دیر فہم نہ ہو گا۔ ‘‘

مولانا آزاد کے خیال میں اسلوبِ بیان اس وجہ سے مشکل ہو جاتا ہے کہ دقیق اور علمی مطالب ‘‘ بیان کر نا پڑتے ہیں۔ الہلال کی ۱۰ جون ۱۹۲۷ء کی ہی اشاعت میں وہ لکھتے ہیں:

’’مشکل یہ ہے کہ ہر طرح کی مطالب کا عام فہم طریقے پر بیان کرنا آسان نہیں۔ بعض دقیق اور علمی مطالب ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں کتنا ہی گھُلا کر بیان کیا جائے ایک حد تک مشکل اور گراں ضرور ہوں گے۔

(۴)

اطلاعی اسلوب کے بعد زبان کا دوسرا بنیادی اسلوب ہدایتی اسلوب (Directive style) ہے۔ یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی فعل کو سرانجام دینے کی ہدایت  (Direction) دی جاتی ہے یا کسی عمل سے باز رکھنا مقصود ہوتا ہے۔ ہدایتی اسلوب کی بہترین مثالیں حکم اور استدعا کے لئے استعمال کی جانے والی زبان میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے اسلوب میں فعلِ امر و نہی کی صیغوں اور امرِ تعظیمی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ترجمان القرآن میں جہاں ایک طرف اطلاعی اسلوب کے نمونے ملتے ہیں وہیں یہ کتاب ہدایتی اسلوب کی مثالوں سے بھی پُر ہے۔ ترجمان القرآن کا یہ جملہ :’’ حق کے سِوا کچھ اور نہ کہو ‘‘ (ص ۵۷۶)  کوئی اطلاع بہم نہیں پہنچاتا اور نہ ہی اس سے کسی جذبے یا تاثر کا پیدا کرنا مقصود ہے بلکہ ایک مخصوص عمل کے لئے مخاطب کو آمادہ کرنا ہے اور اس میں تحریک پیدا کرنا ہے کہ اس سے وہ عمل سرزد ہو۔ ہدایتی اسلوب کا مقصد حصولِ نتائج ہے نہ کہ اطلاع دہی۔ ترجمان القرآن کے یہ جملے ملاحظہ ہوں:

’’اپنے دین میں غلو نہ کرو (ص ۵۷۶)

’’اللہ پر ایمان لاؤ ‘‘(ص۵۴۹)

’’جب گواہی دو تو صاف صاف بات کہو‘‘(ص ۵۴۹)

’’فتح و کام یابی کے بعد ظلم و شرارت نہ کرو‘‘ (ص ۵۶۵)

’’جو کوئی برائی کرے اس کی مدد نہ کرو‘‘(ص ۵۸۷)

’’احکامِ حق کی اطاعت کا عہد پورا کرو‘‘(ص ۵۹۶)

’’خدا نے جو چیزیں تم پر حلال کر دی ہیں، انھیں اپنے اوپر حرام نہ کرو   (۵۶۱)

 ترجمان القرآن کے علاوہ مولانا آزاد کے بعض خطبات کا اسلوب بھی ہدایتی ہے۔ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں مسلمانانِ دہلی  کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہی اسلوب اختیار کیا تھا۔ اس خطبے کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو:

’’یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدّس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو ،اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنی دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں۔ آخر کہاں جا رہے ہو اور کیوں جا رہے ہو؟‘‘

اسی خطبے سے ایک اور مثال پیش ہے:

’’عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو۔ یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لئے تیار نہ تھے۔ بلکہ اب تیار ہو جاؤ۔ ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے ، اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راتوں میں بچھا دو جہاں اُجالے کی ضرورت ہے۔ ‘‘

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ حکم اور استدعا دونوں ہی ہدایتی اسلوب کی شکلیں ہیں۔ امرِ تعظیمی کے استعمال اور ’’تم‘‘ کی جگہ ’’ آپ ‘‘ کے استعمال سے حکم کو استدعا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان القرآن میں امرِ تعظیمی کی شکلیں بالکل مفقود ہیں۔ اس کے برعکس خطبات میں ان شکلوں کا بار ہا استعمال ہوا ہے۔

ہدایتی اسلوب پر تکلف اور رسمی بھی ہو سکتا ہے اور بے تکلفانہ اور غیر رسمی بھی۔ تقسیم ملک کے بعد دلّی کی جامع مسجد سے انھوں نے مسلمانوں کو جو خطبہ دیا تھا۔ وہ بے تکلفانہ اسلوب کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس خطبے میں آزاد کا تخاطب صر ف مسلمانوں سے ہے جس میں انھوں نے شروع میں صرف ایک بار ’’آپ‘‘ اور باقی ہر جگہ ’’ تم ، تمھیں ، تمھارا ، تمھارے ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس طرح اس خطبے میں ہر جگہ فعلِ امر کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں اور کسی ایک جگہ بھی امر تعظیمی استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال یہ ہے :

’’ یہ دیکھو مسجد کے بلند مینار تم سے اُچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کر دیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمھارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ تمھیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ حال آنکہ دہلی تمھاری خون سے سینچی ہوئی ہے۔ ‘‘

(۵)

زبان کا تیسرا بنیادی اسلوب، اظہاری اسلوب (Expressive Style) ہے۔ جس طرح سائنس کی زبان اطلاعی اسلوب کی بہترین مثال ہے۔ اسی طرح شاعری اظہاری اسلوب کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ اظہاری اسلوب کے ذریعے شاعر اطلاعی رسی یا معلومات کی ترسیل کا کام انجام نہیں دیتا بلکہ جذبے اور احساس کی ترجمانی اس کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ شاعر اس لئے شعر تخلیق نہیں کرتا کہ وہ معلومات کا خزانہ قاری کو دینا چاہتا ہے یا کوئی اطلاع بہم پہنچاتا چاہتا ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے داخلی جذبے اور تاثر کو پیش کر سکے اور اگر ہو سکے تو وہی جذبہ اور تاثر وہ قاری کے اندر بھی پیدا کر سکے۔ زبان سے جب داخلی تاثر ، جذبے اور احساس کی ترجمانی کا کام لیا جاتا ہے تو یہ زبان کا اظہاری استعمال کہلاتا ہے جو اظہاری اسلوب کی شکل کا تعلق صرف شاعری ہی سے نہیں بلکہ نثر میں بھی یہ اسلوب برتا جا سکتا ہے اور ’’غبارِ خاطر ‘‘ اس کی ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔

غبارِ خاطر میں مولانا آزاد نے جو مکتوب نما انشائیے پیش کئے ہیں ان میں معنی کے بجائے لفظ اہم ہے اور بیان کے بجائے طرزِ بیان۔ ان میں مواد کی وہ اہمیت نہیں جو اظہار کی ہے۔ مولانا آزاد نے اظہاری اسلوب کے ذریعے غبارِ خاطر کی نثر میں وہی داخلی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو شاعری میں ملتا ہے۔ غبارِ خاطر کے بعض نثر پارے قاری کو ایک مخصوص جمالیاتی تجربے کا احساس دلاتے ہیں ’’حکایتِ زاغ و بلبل ‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’زمستاں کی برف باری اور پت جھڑ کے بعد جب موسم کا رُخ پلٹنے لگتا ہے اور بہار اپنی ساری رعنائیوں اور جلوہ فروشیوں کے ساتھ باغ و صحرا پر چھا جاتی ہے ، تو اس وقت برف کی بے رحمیوں سے ٹھٹھری ہوئی دنیا یکایک محسوس کرنے لگتی ہے کہ اب موت کی افسردگیوں کی جگہ زندگی کی سرگرمیوں کی ایک نئی دنیا نمودار ہو گئی۔ انسان اپنے جسم کے اندر دیکھتا ہے تو زندگی کا تازہ خون ایک ایک رگ کے اندر اُبلتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے سے باہر دیکھتا ہے تو فضا کا ایک ایک ذرہ عیش و نشاطِ ہستی کی سرمستیوں میں رقص کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو کل تک محرومیوں کی سوگواری اور افسردگیوں کی جانکاہی تھی، آج آنکھ کھولیے تو حسن کی عشوہ طرازی ہے۔ کان لگائیے تو نغمے کی جاں نوازی ہے۔ سونگھئے تو سر تا سر خوشبو کی عطر بیزی ہے۔ ‘‘ (۷)

’’غبارِ خاطر‘‘کی نثر ادبی مرصع کاری اور رنگینی عبارت کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ لفظی رعایات و مناسبات ،فقروں کی صوتی در و بست ،جملوں کی متوازن ترکیب و ترتیب، اظہار کے بدلے ہوئے پیرائے ، نت نئے تلازمات اور نادر ترکیبات نے اس کی دل آویزی اور دل کشی میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ’’حکایت بادہ و تریاک ‘‘ سے رعایات و مناسباتِ لفظی اور مرصع کاری کی ایک خوب صورت مثال ملاحظہ ہو:

’’جس قید خانے میں صبح ہر روز مسکراتی ہو، جہاں شام ہر روز پردۂ شب میں چھُپ جاتی ہو، جس کی راتیں کبھی ستاروں کی قندیلوں سے جگمگانے لگتی ہوں کبھی چاندنی کی حُسن افروزیوں سے جہاں تاب رہتی ہو، جہاں دوپہر ہر روز چمکے ، شفق ہر روز نکھرے ، پرند ہر صبح و شام چہکیں ، اُسے قید خانہ ہونے پر بھی عیش و عشرت کے سامانوں سے خالی کیوں سمجھ لیا جائے۔ ‘‘(۸)

یہاں ڈاکٹر سید عبد اللہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ غبار خاطر ایک لحاظ سے ’’بیکاری کا مشغلہ ‘‘ ہے جس میں ابوالکلام کا قلم ’’بیمار‘‘ اور ’’ضعیف ‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ (۹)  لیکن حقیقت یہ ہے کہ زبان کا جتنا جمالیاتی اور تخلیقی استعمال غبارِ خاطر میں ملتا ہے ، مولانا آزاد کی کسی اور تصنیف میں نہیں ملتا ہے۔ یہاں آزاد کا قلم نہ تو بیمار ہے اور نہ ضعیف ، بلکہ ایک متحرک و توانا قلم جسے ایک نئے پیرایۂ اظہار اور ایک نئے اسلوبِ بیان کی تلاش ہے۔

حواشی و حوالے

۱۔        عبدالماجد دریا بادی ، اردو کا ادیبِ اعظم ، ص ۲۵

۲۔       عبد الرزاق ملیح آبادی، ذکرِ آزاد، ص ۴۱۲۔

۳۔       احمد سعید ملیح آبادی، ’’ مولانا آزاد کے چند اہم مسودات‘‘ مشمولہ مولانا ابوالکلام آزاد : شخصیت اور کارنامے مرتبہ خلیق انجم (دہلی : اردو اکادمی ، ۱۹۶۸ ء)  ، ص ۳۶۶)

۴۔       اطلاعی ، ہدایتی اور اظہاری ،یہ تینوں اسالیب در حقیقت زبان کے تین Functions)  ہیں لیکن جب زبان ان Functionsکے لئے استعمال کی جاتی ہے تو یہ اسالیب کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کیوں کہ ان تینوں اسالیب میں زبان کا استعمال جداگانہ ہوتا ہے۔

۵۔       ابوالکلام آزاد ، خطباتِ آزاد مرتبہ مالک رام (نئی دہلی : ساہتیہ اکادمی ، ۱۹۷۴ء) ، ص ۳۵۔

۶۔       عبد الماجد دریابادی ، محولہ کتاب ، ص ۲۵

۷۔       ابوالکلام آزاد، غبارِ خاطر مرتبہ ، مالک رام (نئی دہلی : ساہتیہ اکادمی ، ۱۹۶۷ ء) ، ص ۶۰۲

۸۔       ایضاً ص ۶۹۔

۹۔        سید عبد اللہ ، انوارِ ابوالکلام ، ص ۸۷

 

نیاز فتح پوری : لسانی مزاج اور تشکیلِ اسلوب

نیاز فتح پوری اردو کے ایک صاحبِ طرز انشا پرداز، طرح دار ادیب اور جید عالم تھے۔ اردو زبان پر فن کارانہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ انھیں عربی، فارسی اور ترکی زبانوں پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ علاوہ ازیں انگریزی زبان سے بھی ان کی واقفیت کچھ کم نہ تھی۔ فارسی کا ذوق انھیں اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا جو نہ صرف فارسی کے کلاسیکی ادب کے دلدادہ تھے، بلکہ فارسی میں شعر بھی کہتے تھے۔ فارسی کا ابتدائی درس نیاز فتح پوری نے گھر پر ہی اپنے والد سے لیا تھا۔ (۱)  بعد میں انھوں نے مدرسۂ اسلامیہ، فتح پور میں درسِ نظامی کی کتابیں باقاعدہ طور پر پڑھیں اور اس مدرسے کے مدیرِ اعلیٰ مولانا نور محمد سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ (۲)  آگے چل کر انھوں نے عربی میں اتنا کمال پیدا کر لیا کہ اپنی پہلی بیوی کے انتقال پر عربی میں مرثیہ لکھا۔ ( ۳)  انھوں نے بہت سے افسانے بھی عربی زبان سے اردو میں ترجمہ کیے جو رسالہ نگار میں شائع ہوئے ترکی زبان پر انھیں اتنی قدرت حاصل تھی کہ وہ براہِ راست ترکی سے اردو میں ترجمہ کر سکتے تھے(۴)  ترکی ادب کا انھوں نے بہت گہرا مطالعہ کیا تھا، ترکی کی مشہور شاعرہ نگار بنتِ عثمان سے وہ اتنے متاثر تھے کہ فروری ۱۹۲۲ء میں انھوں نے آگرے سے جب اپنا رسالہ جاری کیا تو اس کا نام بھی نگار رکھا۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ”یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ترکی سیکھنے کا مجھ پر جنون سوار تھا،”(۵)  نیاز نے اپنی ادبی زندگی کی اٹھان میں سجاد حیدر یلدرم سے بہت اثر قبول کیا۔ یلدرم اس زمانے میں تراجم کے ذریعے اردو میں انشائے عالیہ کے نمونے پیش کر رہے تھے۔ عربی فارسی کی طرح نیاز نے انگریزی کی تعلیم بھی ابتدا ہی سے حاصل کی تھی اور اس میں اتنی صلاحیت پیدا کرلی تھی کہ مدرسۂ اسلامیہ، فتح پور کی انگریزی شاخ کے تین مرتبہ ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے بعد میں اپنے مطالعے کی بنیاد پر انگریزی ادیبوں سے انھوں نے کافی اثر قبول کیا جن میں وکٹر ہیوگو، ہیزلٹ اور اوسکر وائلڈ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ الغرض، نیاز فتح پوری کے لسانی مزاج کی تشکیل و ارتقا میں ان زبانوں کا نہایت اہم رول رہا ہے۔

کسی شخص کے لسانی مزاج کا انحصار اس کی اپنی زبان کی اہلیت یا شعور پر قائم ہوتا ہے جسے لسانیاتی ادب کی اصطلاح میں ‘Linguistic Competence’ کہا جاتا ہے۔ مشہور امریکی ماہر لسانیات نوام چامسکی مراد لیتا ہے بعد میں اس نظریے کو ایک دوسرے امریکی ماہر لسانیات ڈیل ہائمز نے چیلنج کیا اور کہا کہ کسی شخص کے لیے محض اپنی زبان کا علم، اہلیت یا شعور ہی کافی نہیں بلکہ مخصوص سماجی سیاق و سباق میں اسے اپنی زبان کو برتنے اور بروئے عمل لانے کا شعور بھی آنا چاہیے کیوں کہ زبان ایک سماجی مظہر (Social Phenomenon)  ہے جسے سماجی سیاق و سباق سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ڈیل ہائمز نے اپنے اس نظریے کو ‘Communicative Competence’ یعنی ترسیلی شعور یا اہلیت کا نام دیا ہے۔ لسانی مزاج کی تشکیل میں ان دونوں نظریات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

نیاز فتح پوری نے خالص مشرقی ماحول میں آنکھیں کھولیں۔ ہوش سنبھالا تو مذہبی طرز کی تعلیم پائی جس پر عربی اور درسِ نظامی کی گہری چھاپ موجود تھی۔ والد کی صحبت و تربیت نے ان کے اندر فارسی کا گہرا ذوق پیدا کیا۔ چنانچہ دونوں زبانیں ان کے لسانی مزاج کا اٹوٹ حصّہ بن گئیں۔ آگے چل کر ان کے اندر فارسی کا ذوق اور زیادہ نکھرا۔ ۱۲ -۱۳ برس کی عمر میں شاعری شروع کی۔ (۶)  عنفوانِ شباب میں لکھنؤ کا رنگین ماحول ملا جس کے اثرات نہ صرف ان کے ذہن و دماغ اور فکر پر مرتب ہوئے بلکہ ان کے لسانی مزاج کی تشکیل میں بھی ان کا نمایاں حصّہ رہا ہے۔ خود انھیں کی زبانی لکھنؤ کی ایک طوائف کے ”دربار” کا حال سنیے جہاں ان کے والد نے انھیں ”بالکل آزاد” چھوڑ دیا تھا:

”شام کو چودھراین کا مکان بالکل دربار نظر آتا تھا جس میں شہر کے اکثر خوش ذوق لوگ شریک ہوتے تھے۔ اور اس محفل میں چودھراین کی حیثیت ایک معلّم کی سی ہوتی تھی جس کی گفتگو اور اندازِ نشست و برخواست سے لوگ صحیح لکھنؤی تہذیب سیکھتے تھے۔ اس محفل میں شعرا خوانی، داستان گوئی، لطائف و ظرافت، ضلع جگت، رقص و سرود، سبھی کچھ ہوتا تھا اور جب لوگ یہاں سے لوٹتے تھے تو موسیقی کا صحیح ذوق یا زبان کا صحیح استعمال، گفتگو کا خاص انداز، لب و لہجہ کی شیرینی، نشست و برخاست کا انداز اور خدا جانے کن کن باتوں کا درس لے کر لوٹتے تھے”۔ ( ۷)

کسی شخص کا لسانی مزاج نہ تو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اور نہ خلقی و موروثی، بلکہ یہ کلیۃً اکتسابی اور ماحول کا زائیدہ ہوتا ہے جس کی تحصیل پہلے غیر رسمی پھر رسمی (جب وہ پڑھنا لکھنا سیکھتا ہے)  طور پر عمل میں آتی ہے کسی شخص کے لسانی مزاج کی تشکیل میں اس کا عہد، معاشرہ تہذیب، ماحول، علمی و ادبی روایات، تعلیمی پس منظر، گرد و پیش کے افراد نیز ثانوی زبانیں (جو وہ شعوری طور پر سیکھتا ہے)  اہم رول ادا کرتی ہیں۔ نیاز فتح پوری کے لسانی مزاج کی تشکیل میں بھی ان تمام عوامل کی کارفرمائی رہی ہے۔ لسانی مزاج کی اصل، عام اور سادہ صورت روزمرّہ کی گفتگو اور عام بول چال میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی مادری زبان پر قدرت رکھتا ہے۔ ایک مخصوص لسانی مزاج کا بھی حامل ہوتا ہے۔ لیکن صحیح معنوں میں اس کا ارتقا ادبی زبان کی شکل میں ہی ہوتا ہے۔ یہ لسانی مزاج کی تخلیقی اور فن کارانہ صورت ہے۔ یہ وہی لسانی مزاج ہے جو کسی ادیب کا صاحبِ اسلو بناتا ہے، اس کی انفرادیت کا ضامن ہوتا ہے اور اسے دوسرے ادیبوں سے ممتاز کرتا ہے۔ کسی ادیب یا شعر کے اسلوب کی تشکیل میں اس کے تخلیقی اور فن کارانہ لسانی مزاج کی ہی کارفرمائی ہوتی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کسی ادیب کا اسلوب اس کے تخلیقی اور فن کارانہ لسانی مزاج کا ہی دوسرا نام ہے تو بیجا نہ ہو گا۔ جب ہم میر کا اسلوب’ غالبؔ کا اسلوب یا اقبال کا اسلوب کہتے ہیں تو اس سے میر’ غالب یا اقبال کے لسانی مزاج کی تخلیقیت ہی مراد لی جاتی ہے۔ روز مرّہ کی گفتگو یا عام بول چال کی زبان کی ایک خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ Automatized ہوتی ہے یعنی اس میں ترسیل و ابلاغ کا عمل برجستہ، بہ سرعت اور غیر ارادی طور پر سرانجام پاتا ہے اور زبان تحت الشعور کا حصّہ بن جاتی ہے لیکن ادبی زبان میں اس کے بالکل برعکس عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے De-automatization کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا زبان کے تخلیقی استعمال سے گہرا تعلّق ہے۔ زبان کے تخلیقی استعمال میں ادیب کی شعوری کوششوں کو خاصا دخل ہوتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زبان کے تخلیقی استعمال سے جو اسلوب تشکیل پاتا ہے وہ اس زبان کے بنیادی اسلوب سے مختلف ہوتا ہے۔ بنیادی اسلوب میں ایک قسم کا لسانی توازن پایا جاتا ہے۔ اور قواعد کے جملہ اصول و ضوابط کی پابندی ملتی ہے۔ بنیادی اسلوب دراصل عام اور مروجہ زبان کا ہی دوسرا نام ہے، جب کہ تخلیقی زبان لسانی توازن کے انحراف کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتی ہے، لسانی توازن کو ہم لسانی نارم (Linguistic Norm)  سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ادبی زبان میں لسانی نارم سے انحراف (Deviation)  پایا جاتا ہے۔ جب کہ بول چال کی زبان بنیادی اسلوب سے قریب تر ہوتی ہے اور اس میں لسانی نارم کی پابندی کی جاتی ہے، لیکن اس میں زبان کے تخلیقی استعمال کے امکانات بہت محدود ہوتے ہیں۔ جہاں تک کہ اردو کے بنیادی اسلوب کا تعلق ہے تو یہ عام خیال یہ ہے کہ ایک ‘مفروضہ’ ہے کیوں کہ اردو کے کسی بھی مصنف کے اسلوب کو اردو کا بنیادی اسلوب نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ہاں اگر کسی مصنف کا اسلوب کسی حد تک عام فہم، سادہ اور سلیں ہے تو اسے بنیادی اسلوب سے قریب تر ضرور کہا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں سر سید، حالی، مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن کے اسالیب کو اردو کے بنیادی اسلوب سے قریب تر کہا جا سکتا ہے۔ ان مصنفین کے علی الرغم اگر ہم مولانا محمد حسین آزاد، مرزا رجب علی بیک سرور مولانا ابوالکلام آزاد اور نیاز فتح پوری کی تحریروں کو دیکھیں تو ہمیں ایک بالکل دوسرا اسلوب نظر آئے گا جسے پیچیدہ، مرصع، رنگین اور آراستہ اسلوب قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو کے بنیادی اسلوب کے برعکس ہے۔ پروفیسر محمد حسن کا یہ خیال تو درست ہے کہ ”سر سیّد نے جس سلیس اور سادہ نثر کو رواج بخشا تھا اسے نیاز نے مرصع اور رنگین بنا دیا،” لیکن ان کی یہ بات محلِ نظر ہے کہ ایسا سر سیّد کے ردِ عمل کے طور پر ہوا۔ ( ۸)  نیاز کے اسلوب میں جو صنعت گری اور حسن کاری پیدا ہوئی اس کے دو محرکات ہیں: اوّل کی حسن پرستی اور جمالیاتی احساس، دوم ان کا مخصوص لسانی مزاج جس کی تشکیل ایک خاص ماحول میں ہوئی تھی۔

نیاز فتح پوری کے دلکش، رنگین، مرصع اور آراستہ اسلوب کو ذہن میں رکھتے ہوئے انھیں ‘اردو نثر کا جوش’ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، کیوں کہ نیاز کے یہاں الفاظ کی وہی گھن گرج پائی جاتی ہے جو جوش ملیح آبادی کے یہاں ہے۔ دونوں کے یہاں زبان کا تاثراتی اور جمالیاتی استعمال اپنی بلندیوں پرہے۔ دونوں کے یہاں مرعوب کرنے والا انداز ملتا ہے اور دونوں کو الفاظ کے استعمال پر زبردست قدرت حاصل ہے۔ دونوں زبان کی رنگینی اور آراستگی پر زور دیتے ہیں اور دونوں عربی فارسی کے الفاظ و تراکیب کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ نیاز فتح پوری اپنی کتاب مالہٗ و ما علیہ میں جوش کی ایک نظم پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”یہ نظم صرف خوش نما الفاظ و دلکش تراکیب اور خوب صورت تشبیہوں کا مجموعہ ہے جن سے شاعر کے اچھے آرٹسٹ ہونے پر تو حکم لگایا جا سکتا ہے لیکن ان کی مفکرانہ حیثیت پر اس سے کوئی روشنی نہیں پڑتی۔ ” جن لوگوں نے نیاز کے افسانوی مجموعوں، انشائیوں، مکاتیب اور دیگر تحریروں کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ خود نیاز کے یہاں ”خوش نما الفاظ و دلکش تراکیب اور خوب صورت تشبیہوں کی کمی نہیں۔ باعتبارِ اسلوب نیاز، ابوالکلام آزاد سے بھی بے حد قریب ہیں۔ آزاد کے مجموعۂ مکاتیب غبار خاطر اور مکتوب نیاز میں بے شمار اسلوبیاتی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، نیاز فتح پوری نے رنگین ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں، حُسن پرستی ان کا شعار تھا، اور احساسِ جمال ان کی کمزوری۔ پھر بنیادی طور پر وہ افسانہ نگار تھے۔ لہٰذا ان سے سادہ سہل نثر کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن ابوالکلام آزاد دونوں کی نثر میں آراستگی، صنعت گری، رنگینی اور پیچیدگی ایک عام بات ہے۔ دونوں اپنی نثر میں فارسی الفاظ و تراکیب کی گہری آمیزش سے کام لیتے ہیں اگر چہ فکری اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

نیاز فتح پوری کے اسلوب کی ان کے تمام ہم عصروں نے جی کھول کر داد دی ہے۔ جوش نے اپنی تمام تر مخالفتوں کے با وصف نیاز کو ”خالقِ طرز انشاء پرواز” کہا ہے۔ (۹)  فراق گورکھپوری نے انھیں ”بلند پایہ اسٹائلسٹ (Stylist)  کے نام سے یاد کیا۔ ( ۱۰)  مجنوں گورکھپوری نے ان کے اسلوب کی انفرادیت کو ” تخلیقی اسلوب” کا نام دیا اور یہ کہا کہ ” نیاز فطرتاً ایک صاحبِ اسلوب ہیں۔ ” انھوں نے یہ بھی کہا کہ ” نیاز کا بڑے سے بڑا منکر بھی ان کے اسلوب کی ساحرانہ قوت سے مبہوت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ۔ ۔ ۔ نئی نسل کو نیاز سے جو ترکہ ملا ہے وہ اسلوب ہے، ایسا اسلوب جو طرح طرح کی توانائیاں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ”(۱۱) ۔ ۔ ۔ ۔ احمد اکبر آبادی نے ایک جگہ یہ لکھا کہ ”اس دور میں نیاز صاحب اردو کے مسلمہ ادیب و انشا پرداز اور بلا شبہ اعلیٰ طرز نگارش کے مالک ہیں۔ ”(۱۲)  مالک رام نے ان کی نثر کو ”بانکی، البیلی نثر” کہا۔ ( ۱۳)  محمد حسن نے نیاز فتح پوری پرا اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ان کی نثر میں جادو تھا۔ ”(۱۴)  اس میں کوئی شک نہیں کہ نیاز فتح پوری ایک صاحب طرز انشا پرداز تھے۔ ان کا اسلوب اپنے اندر ایک انفرادی اور جداگانہ شان رکھتا ہے۔ نیاز کی تحریروں کو پڑھ کر ہم ایک ایسے جمالیات تجربے سے گزرتے ہیں جہاں نغمگی، رنگینی، دلآویزی اور حسن کاری سب کچھ ہے۔

اس امر کا ذکر یہاں بیجا نہ ہو گا کہ اسلوب کا تعلق ادب میں زبان کے استعمال سے ہے۔ چوں کہ ادب کا ذریعۂ اظہار زبان ہے۔ لہٰذا اظہار کے نت نئے طریقوں، طرز بیان کی جدتوں نیز نئے لسانی سانچوں کی تشکیل سے ہی اسلوب کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔ یہ تمام اسلوبیاتی وسائل زبان کی صوتی، صرفی، لغوی، نحوی اور معنیاتی سطح پر بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ زبان کا ادبی یا اسلوبیاتی استعمال ایک طرف طرز بیان میں اثریت کا موجب بنتا ہے تو دوسری طرف اظہار میں جدت اور معنی میں اضافے کا سبب بھی قرار پاتا ہے۔ نیاز فتح پوری کی تحریریں، جن میں ان کے افسانوی مجموعے، انشائیے، مکاتیب، تنقیدی مقالات، مذاکرات اور ان کی کتاب ما لہٗ و ما علیہ شامل ہے، زبان کے اسلوبیاتی استعمال کے بڑے اچھے اور اچھوتے نمونے پیش کرتی ہیں جن کا تجزیہ ذیل میں محدود طور سے صوتی، نحوی اور معنیاتی سطحوں پر کیا جاتا ہے:

۱۔ صوتی تجزیہ

۱۔    صوتی رمزیت:

صوتی سطح پر نیاز فتح پوری کے اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت صوتی رمزیت (Sound Symbolism)  ہے جس میں الفاظ کی اصوات سے ان کے معانی کا اظہار ہوتا ہے، مثلاً:

“زبیدہ میں ناگن کا بل تھا اور لہروں کا لوچ، گلبن کی لچک تھی اور سُنبل کا پیچ و خم۔ ”(۱۵)

    (لام کی آواز جو اس جملے میں چھے بار استعمال ہوئی ہے، حرکت کے مفہوم کو بخوبی ادا کرتی ہے، بالخصوص بل، لہروں، لوچ اور لچک جیسے الفاظ میں)

ساکن سطحِ آب، سنسان صحرا،  خاموش شبِ ماہ، برف پوش چوٹیاں۔ ”(۱۶)

    (یہاں س (ص) ، ش اور خ کی صیفری (Fricative)  آوازوں سے ماحول کے سکوت و سکون کی عکاسی کا کام لیا گیا ہے۔ )

“جس کے ایوان خانے میں کنیزوں کے ریشمی ملبوسات کی سرسراہٹ ہمیشہ محسوس ہوتی رہتی تھی۔ ”(۱۷)

    (یہاں ”سرسراہٹ” ایک Onomatopoeic یعنی صوت رمزی لفظ ہے جس میں ”س” کی دونوں اصوات اس آواز کی نقالی کر رہی ہیں جو لباس کے سرکنے، ہلنے یا جسم سے مس ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور قریب الواقع لفظ ”ملبوسات” بھی ہے جو اگرچہ صوت رمزی لفظ نہیں ہے لیکن اس میں پائی جانے والی ”س” کی آواز ”سرسراہٹ” کی ”س” کے ساتھ مل کر صورت رمزی کیفیت کو دو بالا کر رہی ہے۔ انگریزی میں اس کی ایک خوب صورت مثال ٹینی سن کی میر لائن ہے: “And murmuring of innumerable bees

۲۔    تجانسِ صوتی

تجانسِ صوتی (Alliteration)  کی مثالیں بھی نیاز کی تحریروں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اس میں کسی جملے یا فقرے کے دویا دو سے زیادہ قریب الواقع الفاظ ایک ہی آواز سے شروع ہوتے ہیں، مثلاً:

“اگر میری زلفوں کی تاب سے وہ بچ گیا تو نگاہوں کے تیر سے کیوں کر جانبر ہو سکے گا۔ ”(۱۸)

“جمنا اپنی نیلگوں چادر میں چاند کا مکھڑا چھپانے کی کوشش کر رہی تھی اور ناکام ہو کر ساحل پرسر پٹک رہی تھی۔ ”

“اور لانبی گھنی پلکوں کو تو دیکھو جیسے سیاہ ریشم کے باریک و نرم ریشے کسی نے سلیقے سے جما دیے ہوں۔ ”(۱۹)

“چاندنی رات تھی، خانقاہ کے نیچے بہنے والی ندی میں چاند نے چراغاں کر رکھا تھا۔ ”(۲۰)

۳۔    قافیہ بندی

نیاز کے اسلوبِ نثر کی ایک نمایاں خصوصیت جملوں اور فقروں میں قافیوں کا التزام ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں بڑی خوب صورت کے ساتھ مقضی، الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جس سے شعر کی سی دلکش پیدا ہو جاتی ہے۔ چند مثالیں دیکھیے:

“راجپوتوں کی لڑکیاں ہیں، بلند بالا، صحیح و توانا، تیوریاں چڑھی ہوئی، گردنیں تنی ہوئی، آنکھوں میں تیر، مانگوں میں عبیر، ابروؤں میں خنجر، بالوں میں عنبر، ہاتھوں میں مہندی، ماتھے پر بندی، اب آپ سے کیا کہوں کیا چیز ہیں۔ ”(۲۱)

“وہ جام و مینا کی سرگوشیاں، وہ صحن چمن میں درختوں کی گل پوشیاں، وہل ہلکی ہلکی پھوار، وہ رندانِ بدمست کی ہنگامۂ بادہ بیاز’، آہ کیا پوچھتے ہو!”(۲۲)

“محبت کو تم جنون و دیوانگی سمجھتے ہو، لیکن غزل گوئی کو بڑی فرزانگی! قربان جائیے اس عقل و فراست کے۔ ”(۲۳)

“نسیم! دیکھتے ہو ان چھوٹے چھوٹے بلبلوں کو جو شہابِ ثاقب کی طرح نیچے سے اوپر کی طرف بیتابانہ دوڑ تے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک معمولی انسانی زندگی کا بھی یہی فلسفہ ہے۔ ایک بے اختیارانہ صعود، ایک مضطربانہ اقدام، ایک والہانہ استعلاء اور ایک محبوبانہ تگ و دو۔ ”(۲۴)

“تجھے کیا خبر کہ جب تو سو جاتی ہے تو کیا ہو جاتی ہے۔ ”(۲۵)

“اس کی رنگینی طبع اکتسابی نہیں، بلکہ یکسر وہبی ہوتی ہے اور اس لیے وہ کبھی موقع پر چوکتا نہیں اور ہونٹوں پر آئی بات کو روکتا نہیں۔ ”(۲۶)

“‘اے بادلوں کی طرح اپنی خانہ بدوش آوارگیوں میں گم رہنے والے صحرائیوں، کیا مجھے بھی تم اپنے نشۂ وارفتگی میں کبھی شریک کر سکتے ہو جس سے تم نے صحرا کے ذروں کو مخمور اور پہاڑوں کی وادیوں کو معمور کر رکھا ہے۔ ”(۲۷)

(۲)     نحوی تجزیہ

۱۔    عکسِ ترتیب یا تقلیب (Inversion) :

ترتیبِ الفاظ اردو کی ایک اہم نحوی خصوصیت ہے۔ اردو میں الفاظ بہ اعتبارِ فاعل/ مفعول/ فعل ترتیب دیے جاتے ہیں۔ مثلاً احمد (فاعل)  اخبار (مفعول)  پڑھتا ہے (فعل)  چامسکی کے نظریۂ نحو کے مطابق کسی جملے کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ فقرۂ اسمیہ (Noun Phrase)  اور فقرۂ فعلیہ (Verb Phrase)  ، مثلاً احمد (فقرۂ اسمیہ)  اخبار پڑھتا ہے (فقرۂ فعلیہ) ۔ ترتیبِ الفاظ کی اس مقررہ صورت سے انحراف کو عکس ترتیب یا تقلیب کہتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی اسلوبیاتی جدت ہے جو بعض مصنفین کے یہاں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ نیاز فتح پوری کی تحریروں میں بھی اس طرزِ اسلوب کے نمونے اکثر و بیشتر پائے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں عکسِ ترتیب کے زیادہ تر وہ نمونے ملتے ہیں جن میں فقرۂ فعلیہ، فقرۂ اسمیہ سے پہلے آتا ہے، مثلاً:

“ایک کیفیت تھی بدن میں سنسنی کی، دماغ میں نشے کی، خون میں سرعتِ دوران کی، روح میں بالید گی اور احساس میں اس شگفتگی کی جو جسیمِ صبح کے چھو جانے کے بعد کلی میں پیدا ہونے لگتی ہے۔ ” (۲۸)

“زندگی نام ہے صرف ریگ زار کی سی وحشت کا، بے آب و گیاہ سرزمین کی سی خشکی کا۔ ” (۲۹)

“جو کسی زمانے میں مخصوص تھا صرف جمیل مناظرِ قدرت کے مطالعے کے لیے۔ ”(۳۰)

“لیکن مجھ سے پوچھیے تو میں کہوں گا کہ وہ صرف کیفیت ہے روح کی، پیام ہے قلب کا۔ ”

   عکسِ ترتیب سے جملے کی معنیاتی ساخت میں اگرچہ کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی تاہم تھوڑا زور اور جذباتی تاثر ضرور پیدا ہو جاتا ہے۔

۲۔    ساختی متوازیت

ساختی متوازیت (Constructional Parallelism)  کے نمونے وہاں پائے جاتے ہیں جب دویا دو سے زیادہ جملے جملے کے قریب الواقع اجزا نحوی ساخت کے اعتبار سے متوازی (Parallel)  ہوں یعنی ان میں نحوی مماثلت یا مطابقت پائی جاتی ہو۔ ساختی متوازیت میں بالعموم الفاظ اور حروف (حروفِ عطف، حروفِ ربط وغیرہ)  کی تکرار پائی جاتی ہے۔ لیکن خالص ساختی متوازیت کا انحصار ان چیزوں پر نہیں ہوتا بلکہ جملوں یا فقروں کے نحوی سانچوں اور شکلوں کی تکرار پر ہوتا ہے۔ ساختی متوازیت جزوی (Partial)  بھی ہو سکتی ہے اور کُلی((Total)   بھی۔ جزوی ساختی متوازیت کسی جملے کے دو یادو سے زیادہ متواتر اجزا کی نحوی تکرار سے تشکیل پاتی ہے جب کہ کُلی ساختی متوازیت میں ایک جملہ دوسرے متواتر جملے یا جملوں سے مکمل طور پر نحوی مطابقت رکھتا ہے۔ کلی ساخت متوازیت کو، توازن، (Balance)  بھی کہتے ہیں۔

متوازیت نیاز فتح پوری کے نثری اسلوب کی ایک ایسی نمایاں خصوصیت ہے جس سے کوئی بھی قاری صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ ان کی ہر تحریر میں خواہ وہ افسانہ ہو یا انشائیہ تنقید ہویا تبصرہ، مکاتیب ہوں یا ملاحظات ، متوازی ساختوں کے نمونے قدم پر مل جائیں گے۔ وہ اس خوبصورتی کے ساتھ متوازی ساختے (Parallel Constructions)  تشکیل دیتے ہیں کہ پڑھنے والا مسحور ہو جانا ہے۔ نیاز کے اسلوبِ نثر کا یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے جس کی طرف ہر قاری کی توجہ فوراً مبذول ہو جاتی ہے۔ نیاز کے متوازی ساختے خواہ جزوی ہوں یا کُلی، اپنے اندر شعر کی سی نغمگی اور دلکشی رکھتے ہیں اور غالباً انھیں کے لیے ”شعر منثور” کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔

(الف)  جزوی ساختی متوازیت:

“وہ گھٹنوں مندر کے اندر تنہا بیٹھا رہتا، کسی فکر میں مستغرق کسی خیال میں منہمک۔ ”(۳۱)

“میرے نزدیک محبت نام ہے ایک بے غرض انہماک کا، ایک خود فراموش محویت کا۔ ”(۳۲)

“کیسی کیسی چاندنی راتیں آئیں اور ختم ہو گئیں، کیسی کیسی متوالی گھٹائیں آئیں اور گزر گئیں، لیکن ایک دن بھی، کھُل کھیلنے کا بہانہ تم نے ہاتھ نہ آنے دیا۔ ”(۳۳)

“عورت۔ ۔ ۔ ۔ ایک روشنی ہے جسے ہم چھو سکتے ہیں، ایک نکہت ہے جس سے ہم گفتگو کر سکتے ہیں، ایک حلاوت ہے جو ہاتھوں سے چکھی جا سکتی ہے، ایک موسیقی ہے جو آنکھوں سے سنی جا سکتی ہے۔ ”(۳۴)

“ساحلِ قلابہ کی تاریکی میں صرف ایک ہی روشنی جگمگا رہی تھی کہاں؟ میرے پہلو میں، میری آغوش میں، میری نگاہ کے سامنے، میرے لبوں سے نزدیک اور میری روح کے اندر۔ ”(۳۵)

“یہ تو نے کیسے جانا کہ میں صرف تیرے جسم کا پرستار ہوں، صرف تیری صورت کا شیدائی ہوں۔ ”(۳۶)

“یہ صبح و شام اپنے صحیح فرائضِ زندگی کو بھول کر گھنٹوں تک سنورنے والیاں، یہ اپنے بیباک تسبموں، اپنی دلبر نگاہوں، اپنی جری و شوخ چتونوں سے دنیا کو مالوف کر دینے کی آرزو رکھتے ہوئے خود کسی سے محبت نہ کر سکنے والیاں۔ ”(۳۷)

“وہ وقت جس کی آرزو میں میری عمر کے سترہ سال ایک ایک دن کر کے گزرگئے تھے، وہ ساعت جس کا تخیل مجھے پہروں کا لج میں مست رکھتا تھا، وہ گھڑی جس کے انتظار میں لاکھوں تمنّائیں دل میں خوابیدہ تھیں، آئی۔ ”(۳۸)

(ب)     کُلّی ساختی متوازیت:

“ہوا کا ہر ہر جھونکا خم کے خم لیے پھرتا ہے اور کوئی پینے والا نہیں۔ مینہ کا ہر ہر قطرہ نغمۂ جال سے لبریز ہے اور کوئی اس کا سننے والا نہیں۔ ”(۳۹)

“بجلی چمکی تھی اور تمھارا تبسم نگاہوں میں پھر جاتا تھا۔ سور شمشاد ہوا سے جھومتے تھے اور تمھاری رعنائیاں آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھیں۔ ساغر میں شراب چھلکتی ہوئی دیکھتا تھا اور تمھاری آنکھوں کا تصور ستانے لگتا تھا۔ ”(۴۰)

“ہو آتی ہے اور میری آنکھوں میں اپنی گرمی چھوڑ جاتی ہے۔ نسیم چلتی ہے اور میرے کانوں میں اپنی ٹھنڈی سانسیں بھر جاتی ہے۔ کہ منتشر ہوتا ہے اور اپنے سیاہ کفن سے مجھ ے ڈھک لیتا ہے بادل اٹھتا ہے اور مجھ پر برہم ہو کر برس پڑتا ہے۔ ”(۴۱)

“اس کا صحیح و توانا جسم، جس کے اندر شباب نے اپنا مخصوص رنگ بھر کر یکسر مینائے رنگین بنا دیا تھا۔ اس کی بری بڑی سیاہ آنکھیں، جن سے زہرہ ہر وقت افسوس کرتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ اس کا سڈول جسم، جس کے ہر ہر عضو سے بہار کا مفہوم پیدا تھا۔ ”(۴۲)

“کیا شبنم سبزۂ پامال سے دریافت کر کے اس کو نہال کرتی ہے۔ کہا آبِ نیساں صدفِ تشنہ کام سے پوچھ کر اس کی پیاس بجھاتا ہے۔ کیا نسیم صبح کلیوں سے امتزاج کر کے ان کو شگفتہ کرتی ہے۔ کیا بارش کا چھینٹا کھیتوں سے اجازت طلب کر کے ان کو سیراب کرتا ہے۔ ”(۴۳)

ساختی متوازیت ایک جذبہ انگریز طرزِ بیان ہے۔ اس کا مقصد جذبے کو ابھارنا ہے۔ متوازی ساختوں کے ذریعے یہ کام کئی طرح سے لیا جاتا ہے۔ کہیں ان چیزوں سے گنتی یا ترتیب کا کام لیا جاتا ہے۔ کہیں یہ مترادفات کا کام انجام دیتے ہیں اور کہیں ان سے بیان میں وضاحت پیدا کی جاتی ہے۔ ان سب سے قطع نظر متوازی ساختے عبارت میں ایک ایسا آہنگ یا پیٹرن پیدا کر دیتے ہیں جو صرف شعر میں پایا جاتا ہے۔ اسی لیے نیاز کی نثر کو ”مترنم نثر” یا ” شعر منثور” بھی کہا گیا ہے۔

۳۔    عکسِ متوازیت:

یہ ساختی متوازیت کا عکس یا تقلیب ہے۔ جب دو متواتر جملے یا ان کے اجزا ایک دوسرے کا معکوس ہوں تو اسے عکسِ متوازیت (Chiasmus)  کہتے ہیں۔ اس میں نہ صرف الفاظ و تراکیب کی ترتیب الٹ جاتی ہے، بلکہ اکثر نحوی سانچوں میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ نیاز فتح پوری کے اسلوب نثر کی یہ بھی ایک اہم خصوصیت ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

“تیری آواز صدائے ساز ہے یا صدائے ساز تیری آواز۔ ” (۴۴)

“ایک مرد عورت کو یہی سکھاتا ہے کہ اسے ایک بیوی کیسے بننا چاہیے۔ اور ایک عورت مرد کو یہ سکھاتی ہے کہ اسے ایک اچھا شوہر کیسے بننا چاہیے۔ ”(۴۵)

“جوانی میں بوڑھا ہو جانا اتنا مشکل نہیں جتنا بڑھاپے میں جوان ہونا۔ ”(۴۶)

“کیا عرض کروں وہ کیا بات تھی، بات کیا تھی ایک کیفیت تھی بدن میں سنسنی کی، دماغ میں نشے کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”(۴۷)

“بمبئی کا بہترین حُسن کی بہترین خود آرائیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” (۴۸)

عکسِ متوازیت کا استعمال ساختے کے دوسرے حصّے پر جو پہلے حصّے کا معکوس ہوتا ہے، زور پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات اس سے نئے معنی بھی پیدا ہوتے ہیں اور معنیاتی تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے۔

۴۔    تکرار:

تکرار (Repetition)  زبان میں جذباتی طرز پیدا کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے، اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب متکل کسی جذباتی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے، تکرار سے متکلم کی ذہنی کیفیت کا بھی پتا چلتا ہے۔ جب متکل کا دل جوش اور جذبے سے معمور ہوتا ہے تو الفاظ کے اتار چڑھاؤ، جملوں اور فقروں کی ترتیب اور ادائگی، نیز گفتگو کے عام انداز اور لب و لہجے میں تو فرق آتا ہی ہے الفاظ، تراکیب اور فقروں کی تکرار بھی واقع ہوتی ہے تکرار کا جذباتی اور تاثراتی زبان سے گہرا تعلق ہے۔ جوش اور جذبے کے اظہار کے علاوہ تکرار سے بیان میں شدّت پیدا کرنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ اس سے غصّہ، عمل کی یکسانیت، تھکن، بیزاری اور مایوسی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ نیاز فتح پوری کی تحریروں بالخصوص ان کے انشائیوں اور افسانوں میں تکرار کے نت نئے پیرائے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

“نہیں، میں نہیں سننا چاہتی، اپنے سوال کا جواب تجھ سے نہیں چاہتی۔ ”(۴۹)

“مردانہ جذبات! میں نہیں سمجھی کس قدر عجیب بات ہے، ایک عورت میں مردانہ جذبات؟ صاف صاف کہہ، یہ مردانہ جذبات کیسے ہوتے ہیں۔ میں سننا چاہتی ہوں کہ وہ کیا کیفیت ہے جو صرف مردوں میں مخصوص سمجھی جاتی ہے، لیکن ہاں تو نے ایک عورت ہو کر یہ کیسے معلوم کیا کہ وہ جذبات مردانہ ہیں؟مردانہ! مردانہ!! اُف کس قدر مکروہ، کیسا قابلِ نفرت لفظ ہے۔ ”(۵۰)

“ہمارے ملک میں عورتیں مردوں ہی کے ساتھ تعلیم پاتی ہیں۔ اس لیے وہ مردوں ہی کی طرح سوچتی ہیں، مردوں ہی کی طرح بولتی ہیں اور مردوں ہی کی طرح اپنی زندگی بسر کرتی ہیں۔ (۵۱)

“میں کانپ رہا تھا، میرے جسم کا ایک ایک ریشہ کانپ رہا تھا۔ ”(۵۲)

“میں تیرے حسن تحائف واپس کرتا ہوں کہ یہ تیرے ہی حسین جسم کے لیے موزوں ہیں۔ ”(۵۳)

“ماضی کی داستان بھی کس قدر پر لطف داستان ہے۔ ”(۵۴)

“ساون کی وہ سیاہ رات، رات کی وہ امنڈ پڑنے والی تاریکی، وہ پہاڑوں اور جنگلوں کو ہلا دینے والی گرج اور پھر اس کے تاریک پردے سے فطرت کا وہ زہرہ گداز تبسم برق، یہ معلوم ہوتا ہے کہ اب اس رات کی کبھی صبح نہ ہو گی۔ ”(۵۵)

نیاز فتح پوری کے یہاں تکرار کی ایک ترادفی شکل بھی ملتی ہے جس میں مترادف الفاظ و تراکیب اور فقروں کے استعمال سے مفہوم کی تکرار پیدا کی جاتی ہے۔ اسے ترادفی تکرار (Synonymical Repetition)  کہہ سکتے ہیں۔ نیاز کے یہاں اس کے بڑے اچھے نمونے پائے جاتے ہیں۔ مثلاً۔

“میرے دماغ کا وزن کیوں ہلکا ہو رہا ہے، میں اپنے آپ کو کیوں سُبک محسوس کر رہی ہوں۔ ”(۵۶)

تُف ہے تمھاری جوانی پر اور حیف ہے تمھارے شباب پر۔ ”(۵۷)

“میں تجھے کیسے پوجوں؟ اپنے جذبۂ پرستاری کی آگ کو کیوں کر ٹھنڈا کروں؟”(۵۸)

“وہ اپنی نگاہوں کے افسوں اور باتوں کے جادو سے سب کو مسحور کیا کرتی تھی۔ ”(۵۹)

“میں یہ دیکھ کر خوش ہوتا ہوں کہ تو دولت مند ہے، میں یہ معلوم کر کے مسرور ہوتا ہوں کہ تو ذہین و قابل ہے۔ ” (۶۰)

“حقیقت یہ ہے کہ اسے اپنے حسن پر بڑا غرور تھا، بڑا پندار تھا۔ ”(۶۱)

۵۔    شماریت:

نیاز فتح پوری کے اسلوب کی ایک خصوصیت شماریت (Enumeration)  بھی ہے۔ یہ بیان کا ایک طرز ہے جس میں مختلف اشیاء یا افعال (Actions)  کا ایک ایک کر کے نام گنایا جاتا ہے جس سے ایک زنجیرسی بن جاتی ہے۔ اس سے جملے کی نحوی ترتیب میں کوئی فرق نہیں آتا۔ جن اشیاء کا ایک ایک کر کے نام لیا جاتا ہے وہ بالعموم ایک ہی زمرے یا قبیل سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں ایک قسم کا معنیاتی ربط پایا جاتا ہے اور یہ کسی بھی طرح تسلسلِ بیان کو مجروح نہیں ہونے دیتا۔ چند مثالیں:

“یہ شمعدان، یہ گلدان یہ دروازوں کے پردے، یہ دیواروں کے نقش و نگار، الغرض ہر چیز مجھ سے دور ہٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ”(۶۲)

“تمام احاطہ در و دیوار، محراب، زینہ، چھت، ستون، غرض اس عمار کا کوئی حصّہ ایسانہ تھا جہاں پھول ہی پھول نہ نظر آتے ہوں۔ ” (۶۳)

“لکھنؤ کی شاعری میں الفاظ کی طلسم بندی، کنگھی، چوٹی، انگیا، آنچل، آرسی، سرمہ، بے معنی صنائع و بدائع اور اسی قسم کی بہت سی سطحی و غیر سنجیدہ خصوصیات کے پیدا ہونے کا سبب یہی تھا۔ ” (۶۴)

“اسی کے ساتھ چہرہ کا غازہ، رخسار کی گلگونی، لبوں کی سُرخی، آنکھوں کی گہری سرمگینی، بالوں کی تموجی آرائش، یہ بھی کوئی غیر معمولی چیز نہ تھی۔ ۔ ۔ ” (۶۵)

“میں نے دیکھا کہ موجیں ہت گئیں، مچھلیاں چلی گئیں، آفتاب نے کیچڑ کو خشک کر دیا اور ہوا پتیاں اڑا لے گئی۔ ” (۶۶)

۶۔    تضاد (Antithesis) :

نیاز فتح پوری اشیاء یا مظاہر کو ایک خاص انداز سے بیان کرنے کے لیے ان میں اور دوسری اشیاء یا مظاہر میں مماثلت یا تناسب کے علاوہ تضاد بھی تلاش کرتے ہیں۔ تضاد منطقی بھی ہوتا ہے اور اسلوبیاتی بھی منطقی تضاد کسی بھی طرح کے دو لفظوں میں جو ایک دوسرے کی ضد ہوں دیکھا جا سکتا ہے۔ انھیں متضاد الفاظ (Antonyms)  کہتے ہیں۔ مثلاً خیر و شر، نیک و بد، لیل و نہار، صبح و شام، زمین و آسمان یا آگے پیچھے، اوپر نیچے، دائیں بائیں وغیرہ۔ اسلوبیاتی تضاد متضاد الفاظ کے خالی خولی استعمال سے نہیں پیدا ہوتا، بلکہ ان کے استعمال میں جدّت سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کا تعلق زیادہ تر عبارت کے سیاق و سباق سے ہوتا ہے۔ اسلوبیات تضاد بالعموم متوازی کی ساختوں (Parallel construction)  کی طرز پر ڈھالا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی کلیہ نہیں ہے۔ متوازی ساختوں کی وجہ سے عبارت میں ایک مخصوص قسم کا آہنگ یا پیٹرن پیدا ہو جاتا ہے۔ اسلوبیاتی تضاد کا ایک مقصد دو چیزوں میں تقابل بھی ہے جس کی بہترین مثال نیاز فتح پوری کے اس جملے میں پائی جاتی ہے۔ یہ جملہ متوازیت کی بھی ایک اچھی مثال پیش کرتا ہے:

“اُدھر سورج ڈوب رہا تھا اور اِدھر ایک بدرِ کامل طلوع ہو رہا تھا۔ ” (۶۷)

اس جملے کے نہ صرف دونوں متوازی ساختے ایک دوسرے کی ضد ہیں بلکہ ان کے ہر ہر لفظ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ (بہ استثناء ”ایک”)

    اُدھر                                      اِدھر

    سورج                                  بدرِ کامل

    ڈوب رہا تھا                 طلوع ہو رہا تھا

    اُدھر سورج ڈوب رہا تھا            اِدھر (ایک)  بدرِ کامل طلوع ہو رہا تھا

تضاد کی ایک عمدہ مثال ذیل کی عبارت میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ پوری عبارت کلی ساختی متوازیت کا بھی ایک بہترین نمونہ ہے جس کا ہر متوازی ساختہ ایک دوسرے کی ضد ہے اور جسے حرفِ عطف ”اور” سے جوڑا گیا ہے۔

“گویا ایک زرّیں شعاع تھی جو دفعتہً نمودار ہوئی اور پھر چھپ گئی۔ ایک ابتسامِ لطف تھا جس نے طلوع کیا اور پھر فوراً ہی تاریکیوں میں پوشیدہ ہو گیا۔ ایک نورِ فکر تھا جو ایک لمحہ کے لیے چمکا اور بحرِ عدم میں ڈوب گیا۔ ایک معطر پھول تھا جو تھوڑی دیر اپنی نکہت سے سُکر پیدا کر کے مرجھا گیا۔ ایک نغمۂ محبت تھا جو ایک ساعت کے لیے تموج میں آیا اور پھر ہاویۂ سکون میں غائب ہو گیا۔ ” (۶۸)

(ج)     معنیاتی تجزیہ

جب ہم کلام کرنے کے لیے لفظوں کا انتخاب کرتے ہیں تو انھیں آپس میں جوڑنا اور ترکیب دینا پڑتا ہے، لیکن یہ عمل اتنا آسان نہیں، کیوں کہ ایک لفظ کو دورے لفظ کے ساتھ ترکیب دیتے وقت ہم پر بہت سی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، مثلاً ہمارا لسانی شعور یہ کہتا ہے کہ ‘لبی رسی’ اور ‘اونچا درخت’ کی ترکیبیں بالکل درست ہیں۔ اس کے برعکس اگر ‘اونچی رسی’ اور لمبا درخت، کہیں تو یہ معنیاتی اعتبار سے بے میل اور بے قاعدہ سمجھا جائے گا کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جسامت کے اعتبار سے جو چیز عمودی یعنی’کھری ہوتی’ ہے اس میں اونچائی ہوتی ہے اور جو یہ چیز افقی یا، پڑتی، ہوتی ہے اس میں لمبائی پائی جاتی ہے۔ اس رو سے لمبی رسّی، لمبی پنسل یا لمبا راستہ کہنا درست ہو گا اور اونچا راستہ اونچی پنسل یا اونچی رسّی کہنا ناردست۔ انتخابِ الفاظ کے سلسلے میں عائد اس پابندی کو انتخابی پابندی (Selectional Restrictions)  کہیں گے۔ اگر کوئی شخص ان پابندیوں یا ضابطوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ لسانی نارم (Norm)  سے انحراف کا مرتکب ہوتا ہے۔ انتخابی پابندیاں ہمیں معنیاتی اعتبار سے دو بے میل (Incompatible)  الفاظ یا کلموں کو باہم ترکیب دینے سے روکتی ہیں۔ اسے ایک اور مثال بھی واضح کیا جا سکتا ہے: ہنسنا ایک انسانی عمل یا عادت ہے، مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بچّہ ہنس دیا، لڑکے ہنسنے لگے یا مجھے ہنسی آ گئی۔ لیکن بے جان چیزوں کے لیے لفظ ‘ہنسنا’ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کرسی ہنسنے لگی، یا کمرے کو ہنسی آ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابی پابندیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم کرسی، کمرہ اور اسی قبیل کے اور بہت سے اسماء کے ساتھ لفظ ‘ہنسنا’ اور اس کے تصریفی شکلوں کو ترکیب نہیں دے سکتے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ انتخابی پابندیوں یا ضابطوں سے انحراف تصوّر کیا جائے گا، اور زبان میں بے قاعد گی (Anomaly)  کا موجب قرار پائے گا۔ لیکن ادب بالخصوص شاعری میں اس قسم کے انحرافات کو پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور انھیں اظہار کی جدّت ، انوکھے پیرایۂ بیان، الفاظ کے نئے تلازمات اور نئے لسانی سانچوں کی تشکیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (۶۹)  اور یہ چیزیں کسی مصنف یا شاعر کے اسلوب کی انفرادیت کی ضامن قرار پاتی ہے۔ مثلاً پرکاش فکری کا یہ مصرعہ دیکھیے:

    میرے کمرے کو ہنسی آئے گی تھوڑی دیر میں

یہاں شاعر نے کمرہ (بے جان اسم)  کو فعل ہنسی (انسانی عمل یا عادت)  کے ساتھ ترتیب دیا ہے، جو انتخابی پابندی کی مبیّنہ خلاف ورزی ہے۔ ‘کمرے’ اور’ ہنسی’ کی ترکیب معنیاتی عدم مطابقت کی وجہ سے بے میل ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں زبان میں انحراف پیدا ہو گیا ہے لیکن مذکورہ مصرعہ میں یہ چیز اظہار کی جدّت اور انوکھے پیرایۂ بیان کی حامل ہے۔ اُردو میں انتخابی پابندیوں سے انحراف کی چند اور مثالیں ملاحظہ ہوں:

ہنستی ہوئی گئی ہے صبح، پیار سے آ رہی ہے شام

        (جمیل الدین عالیؔ)

اداس شام دریچوں میں مسکراتی ہے

        (پروین شاکر)

حدِّ افق پہ شام تھی خیموں میں منظر

        (وزیر آغا)

یادیں رہ جاتی ہیں ڈسنے کے لیے

        (شہریار)

تمام رات بُنے خواب اس کی یادوں کے

        (انور سدید)

پتیوں کے لحافوں میں دبکی ہوئی سو رہی تھی ہوا

        (راہی معصوم رضا)

مذکورہ نمونے شاعری سے پیش کیے گئے ہیں جہاں انتخابی پابندیوں سے انحراف ایک عام بات ہے، بلکہ شعری زبان کا ایک وصف ہے۔

نیاز فتح پوری نے نثر میں انتخابی ضابطوں سے انحراف کر کے شعر جیسی دلکشی پیدا کر دی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں جو زیادہ تر ان کے افسانوں اور انشائیوں سے لی گئی ہیں:

“میری آنکھیں نازک حنائی انگلیوں کو چوم رہی تھیں۔ ” (۷۰)

“ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سمندر بیدار ہو کر آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہا ہے۔ ” (۷۱)

“پھول کنارِ راہ میں مسرور نظر آتے تھے۔ ” (۷۲)

“چاند چادر سیمیں پھیلا کر اس پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ”

“جمنا اپنی نیلگوں چادر میں چاند کا مکھڑا چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”

“جب رات زیادہ بلوان ہو چکی۔ ” (۷۳)

“چاندنی رات تھی، خانقاہ کے نیچے بہنے والی ندی میں چاند نے چراغاں کر رکھا تھا۔ ” (۷۴)

“شہزادی ریحانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساحلِ بحر پر کھڑی دیکھ رہی تھی کہ جب آفتاب سمندر کے اندر سے تازہ تازہ نہا کر باہر نکلتا ہے تو کائنات کی ہر چیز اس کی پذیرائی کس طرح کرتی ہے۔ ” (۷۵)

“سمندر ہنس کر لہریں لیتا ہے اور ساحل پر اپنی زرد شعاعیں پھیلاتا ہے۔ لہریں بے معنی نظمیں بچوں کو سنا یا کرتی ہیں، جیسے ماں پالنا ہلاتے وقت۔ سمندر بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ ” (۷۶)

“ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میری آنکھوں سے اس وقت موسیقی نکل نکل کر تمام وادی میں گونج رہی ہے۔ ” (۷۷)

حواشی و حوالے

۱۔    نیاز فتح پوری لکھتے ہیں: ”میرے والد فارسی کے بڑے مشہور شاعر و انشا پرواز تھے۔ غزل سے انھیں بہت کم دلچسپی تھی۔ صرف قصائد لکھتے تھے، اور وہ بھی نعت و منقبت میں۔ صہبائی کے شاگرد تھے اور غالب کی فارسیت کے شیدائی۔ اس وقت فارسی تعلیم کا رواج کافی تھا اور صبح کو میرا مکان ایک اچھا خاصا درس گاہ ہو جاتا تھا جہاں زیادہ تر پختہ عمر کے لوگ میرے والد سے فارسی پڑھنے آ جاتے تھے۔ ” (دیکھیے نیاز فتح پوری، والدِ مرحوم، میں اور نگار” مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر) ، حصّہ اول، سالنامہ ۱۹۶۳ء، ص ۳۱)

۲۔    نیار نے عربی اپنے وطن (فتح پور)  کے مدرسۂ اسلامیہ میں مولانا نور محمد صاحب سے پڑھی جو عربی کے عالم تھے اور صرف و نحو، فقہ و حدیث اور منطق وغیرہ میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں: ” میں مدرسۂ اسلامیہ میں عربی کا درسِ نظامی حاصل کر رہا تھا اور گھر پر والد سے فارسی پڑھتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور عربی میں درسِ نظامی کا بڑا حصہ ختم کر کے اس حد تک پہنچ گیا تھا جب صرف و نحو اور منطق کی ضرورت تعلیم کے بعد اونچی تعلیم شروع ہوتی ہے۔ ” (دیکھئے ایضاً ، ص ۳۱)

۳۔    بہ حوالہ امیر عارفی ، نیاز فتح پوری (نئی دہلی: انجمن ترقیِ اردو (ہند) ، ۱۹۷۷ء) ، ص ۵۱

۴۔    محمد اسحاق صدیقی نے امیر عارفی کو ایک انٹر و یو دیتے ہوئے یہ کہا کہ ”میں نے ترکی زبان کے کچھ سبق نیاز صاحب سے پڑھتے تھے۔ نیاز صاحب کو ترکی زبان پر خاص عبور تھا (دیکھئے امیر عارفی ، محولہ کتاب ، ص ۱۰۶)

۵۔    نیاز فتح پوری ، “والدِ مرحوم، میں اور نگار” مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر)  ، حصّہ اول، سالنامہ ۱۹۶۳ء ، ص ۳۹۔

۶۔    نیاز جس زمانے میں مدرسۂ اسلامیہ، فتح پور میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت ان کی عمر ۱۲، ۱۳سال کی تھی۔ اس زمانے میں انھیں شعر کہنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ ”فارسی میں کبھی کبھی اور اردو میں اکثر ” شعر کہا کرتے تھے۔

۷۔    نیاز فتح پوری ، ”والدِ مرحوم ، میں اور نگار ” مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر) ، حصّہ اول ، سالنامہ ۱۹۶۳ء، ص ۳۶۔

۸۔    دیکھئے محمد حسن کا مضمون ” نیاز فتح پوری ” مشمولہ شناسا چہرے (محمد حسن)  ، کراچی :غضنفر اکیڈمی پاکستان ، ۱۹۷۸۔ ص ۹تا ۲۰۔

۹۔    جوش ملیح آبادی ، ”حضرتِ نیاز فتح پوری ” مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر)  حصہ اول ، ص۴۲۔

۱۰۔    فراق گورکھپوری ، ”آشفتہ بیانی میری” ، مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر)  حصّہ اول، ص ۴۵

۱۱۔    مجنوں گورکھ پوری ، ”جدید اردو نثر ، نیاز فتح پوری اور نئی نسل” مشمولہ نگارِ پاکستان (نیاز نمبر)  ، حصّہ اوّل ،ص ۱۰۱۔ ۱۰۴۔

۱۲۔    ل۔ احمد اکبرآبادی ، ”نیاز فتح پوری کی ادبیت ” ، مشمولہ ایضاً ، ص ۹۵۔

۱۳۔    مالک رام ” نیاز اور نیازمند ” مشمولہ ایضاً ، ص ۵۸۔

۱۴۔    محمد حسن ، محولہ مضمون ، ص ۹

۱۵۔    نیاز فتح پوری ، ”یکے از غوازی مصر”، مشمولہ مذاکراتِ نیاز یا مقالات (لکھنؤ : نگار بک ایجنسی ، ۱۹۴۲ء) ، ص ۱۳

۱۶۔    نیاز فتح پوری ، ”از ماہ تابہ ماہی ” مشمولہ مذاکراتِ نیاز  یا مقالات ، ص ۴۴۔

۱۷۔    نیاز فتح پوری ،”شبنستان کا قطرۂ گوہریں” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے(کراچی : ادارہ ادب العالیہ ، ۱۹۶۰ء)  ص ۳۔

۱۸۔    نیاز فتح پوری ، ”قربان گاہِ حسن ” مشمولہ ایضاً ، ص ۸۷۔

۱۹۔    نیاز فتح پوری ، شبنمستان کا قطرۂ گوہریں” مشمولہ ایضاً ص ۱۳۔

۲۰۔    نیاز فتح پوری ”درسِ محبت” مشمولہ ایضاً ، ص ۴۶۔

۲۱۔    نیاز فتح پوری ، “مکتوباتِ نیاز ” حصّہ اوّل (لکھنؤ : نگار بُک ایجنسی ، ۱۹۴۴)  ، بارِ دوم ، ص ۱۲۳۔

۲۲۔    ایضاً ، ص ۱۷۸

۲۳۔    ایضاً ، ص ۱۹۔

۲۴۔    نیاز فتح پوری ، (تاملاتِ نیاز) ، ص ۱۰۔

۲۵۔    نیاز فتح پوری ”ایک شب کی قیمت” ، مشمولہ نگارستان (۱۹۳۹ء)  ص ۷۶

۲۶۔    نیاز فتح پوری انتقادیات ، حصّہ اول (حیدرآباد دکن : عبد الحق اکیڈمی ، ۱۹۴۴ء)  ص ۲۵۸۔

۲۷۔    نیاز فتح پوری ” برسات ” ، مشمولہ نگارستان (۱۹۳۹ء)  ص ۸۵۔

۲۸۔    نیاز فتح پوری ”شبنمستان کا قطرۂ گوہریں ” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے، ص ۲۷۔

۲۹۔    ایضاً ص۱۹۔

ـ۳۰۔    نیاز فتح پوری ، ”درسِ محبت ” مشمولہ ایضاً ، ص ۴۴۔

۳۱۔    ایضاً ، ص ۶۷۔

۳۲۔    نیاز فتح پوری ، شہاب کی سرگزشت (لکھنؤ : نگار مشین پریس) ، ص ۱۳۔

۳۳۔    نیاز فتح پوری ، مکتوباتِ نیاز (حصّہ اوّل ) ، ص ۱۵۹۔

۳۴۔    نیاز فتح پوری ”عورت” ، مشمولہ نگارستان(۱۹۳۹ء)  ، ص ۸۲۔

۳۵۔    نیاز فتح پوری ”ازماہ تابہ ماہی” ، مشمولہ مذاکراتِ نیاز یا مقالات ، ص ۲۶۔

۳۶۔    نیاز فتح پوری ”درسِ محبت” ، مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے ص ۴۸۔

۳۷۔    نیاز فتح پوری ، شہاب کی سرگذشت، ص ۲۶۔

۳۸۔    نیاز فتح پوری ، ایک شاعر کا انجام (لکھنؤ : نگار مشین پریس) ، ص ۳۔ ۴

۳۹۔    نیاز فتح پوری مکتوباتِ نیاز (حصّہ اوّل )  ، ص ۱۱۱۔

۴۰۔    ایضاً ، ص ۱۷۸۔

۴۱۔    نیاز فتح پوری ، تاملاتِ نیاز، ص ۱۸۔ ۸۲

۴۲۔    نیاز فتح پوری ، ”درسِ محبت” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے ص ۶۸۔

۴۳۔    نیاز فتح پوری ، مکتوباتِ نیاز (حصّہ اوّل )  ، ص ۱۰۱۔

۴۴۔    نیاز فتح پوری ، ”ایک رقاصہ سے” ، مشمولہ نگارستان، ص ۷۲۔

۴۵۔    نیاز فتح پوری تاملاتِ نیاز ، ص ۲۴۔

۴۶۔    نیاز فتح پوری ، مکتوباتِ نیاز (حصّہ اوّل ) ، ص ۱۳۲

۴۷۔    نیاز فتح پوری ، شبنمستان کا قطرۂ گوہریں” ، مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے، ص ۲۷۔

۴۸۔    نیاز فتح پوری ،شہاب کی سر گذشت ، ص ۱۲۶۔

۴۹۔    نیاز فتح پوری ، ”شبنمستان کا قطرۂ گوہریں،” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے ، ص ۲۴۔

۵۰۔    ایضاً ، ص ۲۴

۵۱۔    ایضاً ، ص ۱۴

۵۲۔    نیاز فتح پوری ، ”یکے از غوازی مصر” ، مشمولہ مذاکراتِ نیاز یا مقالات ، ص ۱۵۔

۵۳۔    نیاز فتح پوری ،”قربان گاہِ حسن” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے ، ص ۹۰۔

۵۴۔    نیاز فتح پوری ،چاند کا سفر” مشمولہ نگارستان، ص ۶۹۔

۵۵۔    نیاز فتح پوری ،”برسات” مشمولہ نگارستان، ص ۸۵

۵۶۔    نیاز فتح پوری ، شبنمستان کا قطرۂ گوہریں” مشمولہ شبنمستان کا قطرۂ گوہریں اور دوسرے افسانے ، ص ۱۰۔

۵۷۔    نیاز فتح پوری ،،مکتوباتِ نیاز (حصّہ اوّل ، ص ۱۴۴۔ )

۵۸۔    نیاز فتح پوری ،”درسِ محبتشبنمستان کا قطرہ گوہریں اور دوسرے افسانے، ص۶۸

۵۹۔    نیاز فتح پوری ،”قربانِ حسن ” ، مشمولہ ایضاً ، ص ۸۶۔

۶۰۔    ایضاً، ص ۶۹۔ ۹۰

۶۱۔    ایضاً، ص ۶۲۔

۶۲۔    نیاز فتح پوری ، “شبنمستان کا قطرۂ گوہریں” مشمولہ ایضاً، ص۱۱

۶۳۔    نیاز فتح پوری ،”از ماہِ تابہ ماہی”مشمولہ مذاکراتِ نیاز یامقالات ، ص ۴۰۔

۶۴۔    نیاز فتح پوری ،”لکھنؤ و لکھنویات” ، مشمولہ ایضاً ، ص ۱۳۴

 

رشید  احمد صدیقی کا طنزیہ و مزاحیہ اسلوب

زبان ادب کا ذریعۂ اظہار ہے، لیکن جس طرح شعری ادب ، نثری ادب سے اور افسانوی ادب، طنزیہ اور مزاحیہ ادب سے مختلف ہوتا ہے، اسی طرح ذریعۂ اظہار کے طور پر زبان کے استعمال کی نوعیت بھی جدا گانہ ہوتی ہے۔ روز مرہ کی زندگی کے معمولات میں بھی زبان کا استعمال ہوتا ہے جسے زبان کا ترسیلی Communicativeیا فنکشنل Functional استعمال کہتے ہیں۔ اس کے برخلاف ادب میں زبان کا تخلیقی Creativeاور اظہاریExpressive استعمال ہوتا ہے۔ زبان کا تخلیقی استعمال زبان کے ترسیلی استعمال سے کئی لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ترسیل Communication ہی زبان کا بنیادی مقصد ہے۔ ترسیل سے مراد اطلاع رسانی یا ادائے مطلب ہے۔ زبان کے ترسیلی استعمال اطلاع رسانی کا کام بندھے ٹکے انداز اور مروجہ اسلوب میں انجام پاتا ہے۔ اس میں اطلاع یعنی Informationکی بنیادی اہمیت ہوتی ہے اور لفظ اور معنیٰ کے درمیان رشتہ سیدھا اور استوار ہوتا ہے اور الفاظ کے لغوی معنیٰ مراد لئے جاتے ہیں، قواعد کے اصول کی پابندی کی جاتی ہے اور زبان کے استعمال کے تمام مروجہ فارم Normsکا خیال رکھا جاتا ہے۔ زبان کے تخلیقی یا اظہاری استعمال میں مواد یا اطلاع کی وہ اہمیت نہیں ہوتی جو زبان کے ترسیلی استعمال میں ہوتی ہے، اسی لئے اس میں مواد یا نفسِ مطلب Content سے زیادہ اظہار Expressionپر زور ہوتا ہے۔ اظہار کے نت نئے انداز اختیار کئے جاتے ہیں اور ایک مضمون کو سو سو ’رنگ‘ سے ’باندھنے‘ کی کوشش کی جاتی ہے۔

ادب کا کام اطلاع رسانی نہیں بلکہ جمالیاتی حظ Aesthetic Pleasure فراہم کرنا ہے۔ ادب کا مطالعہ معلومات حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ جمالیاتی حظ یا کیف حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ادب کے مطالعے سے انسان ایک ایسے جمالیاتی تجربے سے گزرتا ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ ادب میں چونکہ اطلاع رسانی سے زیادہ اظہار زور ہوتا ہے اس لئے اظہار میں طرح طرح کی جدتیں پیدا کی جاتی ہیں، نئے نئے تلازمات اختیار کئے جاتے ہیں اور بیان کے نئے نئے انداز ڈھونڈے جاتے ہیں جس سے زبان مروجہ ڈگر سے ہٹ جاتی ہے اسی کو ممتاز ماہر اسلوبیات  Enkvistنے نارم سے انحراف  (Deviation From The Norm)  کہا ہے۔ زبان کے مروجہ استعمال یا عام قاعدے سے ہٹا ہوا کوئی بھی لفظ یا فقرہ زبان کے تخلیقی استعمال کے دائرے میں آ سکتا ہے اور کسی لفظ کے نئے انوکھے اور چونکا دینے والے استعمال کو زبان کے تخلیقی استعمال سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے اس تخلیقی استعمال کو ’فور گراؤنڈنگ‘ (Foregrounding)  بھی کہا گیا ہے جس کی بہترین مثالیں شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اگر نثر میں بھی ییہی خوبی پیدا ہو جائے تو یہ تخلیقی نثر کہلائے گی (۱)

زبان کے ترسیلی اور تخلیقی استعمال کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم طنزیہ اور مزاحیہ ادب کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ طنزیہ اور مزاحیہ اسلوب ادب کا وہ اسلوب ہے جس میں زبان کا تخلیقی استعمال اپنے انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ طنزو مزاح کی تخلیق میں زبان بہت بڑا رول ادا کرتی ہے۔ یہ بات بدیہی ہے کہ زبان کے محض ترسیلی یا خالی خولی استعمال سے طنزیہ و مزاحیہ اسلوب تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔ رشید احمد صدیقی نے طنز و مزاح کی تخلیق میں زبان کے تمام تخلیقی امکانات کا سہارا لیا ہے۔ زبان کو ہر نئے انداز سے برتنے کی کوشش کی ہے اور زبان کی صوتی ، صرفی ، نحوی اور معنیاتی سطحوں پر اس کے تخلیقی امکانات کو ڈھونڈ نکالنے کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک اعلیٰ اور کامیاب مزاح نگار کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ کامیاب مزاح نگار بننے کے لئے زبان بر اعلیٰ قدرت اور اسے تخلیقی طور پر برتنے کا شعور ہونا اولین شرط ہے۔ رشید صاحب میں یہ دونوں خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ وہ زبان پر اعلیٰ قدرت بھی رکھتے تھے اور اسے تخلیقی طور پر بروئے کار لانا بھی جانتے تھے۔

یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہو گا کہ خالص اسلوب کے اعتبار سے طنز اور مزاح دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ طنز میں لہجہ تیز اور تلخ ہوتا ہے اور اس میں زہر نا کی ہوتی ہے، جب کہ مزاح میں الفاظ کے ذریعے خوش طبعی کی چاشنی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی لئے مزاح کو ظرافت کا بھی نام دیا گیا ہے۔ رشید احمد صدیقی نے اپنے ایک مضمون میں ظرافت اور طنز کے درمیان رشتے اور فرق کو بڑی خوبی کے ساتھ واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔

’’ظرافت میں طنز مضمر ہوتی ہے۔ طنز میں ظرافت کو داخل نہ کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک ظرافت طنز سے مشکل فن ہے۔ ظرافت کے لئے کے لئے خوش دلی ، آرزو اور مرحمت درکار ہوتی ہے۔ طنز میں جوش ، رنج ، غصہ اور بے زاری کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے زندگی میں دونوں کا کیا مقام ہے۔ زندگی اور زمانہ کی مکروہات سے بے زار و بد دل ہونا، طیش میں آ جانا ، دوسروں کو غصہ یا غیرت دلانا کوئی کارنامہ نہیں۔ دوسری طرف خرابیوں کو دیکھ کر مسکرا دینا اور دوسروں کو خواہ وہ کتنا ہی مصیبت و مایوسی میں کیوں نہ مبتلا ہوں اس پر آمادہ کر دینا کہ وہ ہنس کھیل کر ان مصائب و مکروہات سے گزر جائیں اور بے دلی و بے زاری کو پاس نہ آنے دیں معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں کہ ایک طنز نگار جن فرائض کو جتنا جلد پورا کر دیتا ہے ظرافت نگار نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ اکبر کی ظرافت نے یکہ و تنہا جو کام کیا وہ بہت سے طنز نگاروں سے مل کر بھی نہ ہو سکا‘‘(۲)

رشید احمد صدیقی کے طنزیہ و مزاحیہ اسلوب کی تخلیق میں زبان کا بہت بڑا رول ہوتا ہے۔ کبھی وہ رعایتِ لفظی سے کام لیتے ہیں تو کبھی حروف و الفاظ کے الٹ پھیر سے۔ کبھی معنیٰ کے تضاد اور کبھی معنوی تناسب کا استعمال کرتے ہیں۔ رشید صاحب نے مزاح پیدا کرنے کے لئے اکثر معنوی تناسب سے کام لیا ہے۔ وہ بات یا جملے کو سنجیدہ طور پر شروع کرتے ہیں پھر کوئی ایسے دو لفظ لاتے ہیں جن میں معنیاتی ہم آہنگی Semantic cohesionہوتی ہے اور جن سے ظرافت پیدا ہو جاتی ہے اور پڑھنے والا بغیر مسکرائے نہیں رہ کتا۔ اس کی ایک عمدہ مثال ملاحظہ ہو:۔

’’ڈاکٹر عبد الحمید صدیقی ہاؤس سرجن تھے اور میری دیکھ بھال ان کے سپرد تھی۔ کتنے محنتی ، محبتی اور اپنے فن میں طاق تھے۔ کسی وقت سرجری میں اپنے استاد ڈاکٹر بھاٹیہ کے ہم اثر بن جائیں گے۔ اس میں اتنا عرصہ لگے گا جتنا ’فتنہ ‘ کو ’قیامت‘ ہونے میں لگتا ہے۔ ‘‘ (۳)

یہاں ’فتنہ‘ اور ’قیامت ‘ ایسے الفاظ ہیں جن میں معنیاتی اعتبار سے ایک تناسب اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

رشید صاحب صوتی ادل بدل سے بھی مزاح کا رنگ پیدا کر دیتے ہیں۔ ذیل کی مثال میں ایک لفظ میں ’ٹ‘ کو ’ت‘ سے بدل کر مزاح پیدا کیا ہے۔

’’ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی پر پہنچا۔ یہ میرس روڈ پر حال ہی میں تیار ہوئی ہے۔ وسیع ، خوش قطع ، سامنے گھاس ، کشادہ میدان ، آمد و رفت کا راستہ چوڑا صاف ستھرا، ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی انفلوائنزا میں مبتلا تھے۔ دیکھتے ہی بولے خوب آئے کوٹھی کا نام تجویز کرو۔ میں نے کہا آپ نے روکار پر کیا لکھوا رکھا ہے، فرمایا حمید بٹ اور محمود بٹ ، عرض کیا یہ کوٹھی کا نام ہے یا خاندان کا شجرہ نسب، کہنے لگے حرج کیا ہے میں نے کہا ایسا نام بھی جس کو نہ ثواب سے لگاؤ نہ آرٹ سے تعلق۔ ثواب کی خاطر رکھتے تو کراماً کاتبین میں کیا قباحت تھی اور آرٹ مدِ نظر تھا تو یا جوج ماجوج رکھتے۔ اکتا کر بولے ناک میں دم ہے، تم ہی بتاؤ، لیکن میں منزل ونزل کا قائل نہیں۔ میں نے کہا ’بٹ کدہ‘ نام رکھئے رفتہ رفتہ ’بت کدہ ‘ بن جائے گا۔ ‘‘(۴)

رشید صاحب معنیاتی اعتبار سے دو غیر متناسب الفاظ کو غیر متوقع طور پر یکجا کر دیتے ہیں۔ جن کا وقوع عام طور پر ذہن میں نہیں آتا پھر ان دونوں میں تناسب پیدا کر کے مزاح کا رنگ پیدا کر دیتے ہیں۔ مثلاً ’عدالت‘ اور ’قباحت‘ ایسے الفاظ کی یکجائی ظرافت کا رنگ پیدا کر دیتی ہیں:

’’گواہ قربِ قیامت کی دلیل ہے۔ عدالت سے قیامت تک جس سے مفر نہیں وہ گواہ ہے۔ عدالت مختصر نمونۂ قیامت ہے اور قیامت وسیع پیمانے پر نمونۂ عدالت۔ فرق یہ ہے کہ عدالت کے گواہ انسان ہوتے ہیں اور قیامت کے گواہ فرشتے جو ہمارے اعمال لکھتے ہیں اور خدا کی عبادت کرتے ہیں‘‘(۵)

ایک اور مثال میں کھچڑی اور کیمیا جیسے الفاظ کو یکجا کر دیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ایک دفعہ عطاء اللہ خاں درانی کے کمرے میں پہنچ گئے۔ خان کو کیمیا بنانے اور کھچڑی پکانے کا غیر معمولی شوق تھا۔ صبح سے شام تک سید محمود ( کچی بارک)  کے برامدے میں انگیٹھی دہکتی رہتی۔ کیمیا سے سیر ہو جاتے تو کھچڑی کی دیگچی آگ پر رکھ دیتے اور کھچڑی سے فراغت پاتے تو کیمیا میں مصروف ہو جاتے‘‘(۶)

ایک اور مثال میں شعر اور بسکٹ جیسے الفاظ کو یکجا کر کے طنز و ظرافت کا رنگ پیدا کیا ہے:

’’حاجی صاحب شعر کہتے ہیں اور بسکٹ بیچتے ہیں شعر اور بسکٹ دونوں خستہ………… حاجی صاحب جس خلوص کے ساتھ شعر کہتے ہیں اس سے زیادہ مہنگے بسکٹ بیچتے ہیں‘‘(۷)

رشید صاحب نے موازنے کی تکنیک سے بھی مزاح کا رنگ پیدا کیا ہے۔ وہ اپنے ایک مضمون میں ارہر کے کھیت کا موازنہ میں ہائڈ پارک اس طرح کرتے ہیں کہ ظرافت کا رنگ خود بخود پیدا کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’دیہات میں ارہر کے کھیت کو وہی اہمیت حاصل ہے جو ہائڈ پارک کو لندن میں ہے، دیہات اور دیہاتیوں کے سارے منصبی فرائض ، فطری حوائج اور دوسرے حوادثات یہیں پیش آتے ہیں۔ ہائڈ پارک کی خوش فعلیاں آرٹ یا اس کی عریانیوں پر ختم ہو جاتی ہیں۔ ارہر کے کھیت کی خوش فعلیاں اکثر واٹرلو پر تمام ہوتی ہیں‘‘(۸)

رشید احمد صدیقی نے طنز و مزاح کی تخلیق میں ان تمام وسائل سے کام لیا ہے  جن کا تعلّق زبان سے ہے مثلاً رعایتِ لفظی، تجنیسِ صوتی، قولِ محال، تضاد، تکرار، متوازیت، موازنہ، تحریف، کفایتِ لفظی وغیرہ۔ ان کے علاوہ رشید صاحب نے ظرافت کا رنگ پیدا کرنے کے لئے ایک اور ٹکنیک بھی استعمال کی ہے جسے Personificationکہتے ہیں، انھوں نے اپنی بعض تحریروں میں غیر ذی روح اشیاء کو اس طرح پیش کیا ہے جیسے کہ وہ ذی روح ہوں۔  اس ٹکنیک کو انھوں نے اس طرح برتا ہے کہ ظرافت کا رنگ خود بخود پیدا ہو گیا ہے۔ اپنے ایک مضمون “وکیل صاحب “میں ایک وکیل کی زبوں حالی کی تصویر کشی کرتے ہوئے وہ اس کی میز کا حال یوں بیان کرتے ہیں:

“۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ٹوٹے ہوئے سائبان میں ایک خانہ ساز کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سامنے ان کے خیالات کی طرح ڈانواں دول ایک میز ہے جس کا ایک پاؤں کسی حادثے کی نذر ہو گیا تھا۔ ” (۹)

اسی نوع کا ایک اور اقتباس ان کے مضمون “ماتا بدل” سے پیش ہے:

“منشی چھیل بہاری دفتر میں روزنامچہ سر کے نیچے رکھے خرّاٹے لے رہے تھے۔ موٹے شیشے کی عینک ناک سے پھسل کر نیم کشادہ  سہن میں آ گئی تھی اور ہر سانس کے ساتھ حلق تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ” (۱۰)

ان کے ایک مضمون “دھوبی” سے بھی ایسی ہی ایک مثال پیش ہے جس میں غیر ذی روح کو ذی روح کے طور پر اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ مضحک پہلو سامنے آ گیا ہے:

“میں اپنے کپڑے دھوبی کو پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں کہ دیکھئے زمانہ ایسا آ گیا ہے کہ یہ غریب میرے کپڑے پہننے پر اُتر آیا۔ گو اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اپنی قمیض دھوبی کو پہنے دیکھ کر  میں نے دل ہی دل میں افتخار بھی محسوس کیا ہے۔ اپنی طرف سے نہیں تو قمیض کی طرف سے۔ اس لئے کہ میرے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس قمیض کو پہنے دیکھ کر مجھے در پردہ کسی نے اچھّی نظر سے نہیں دیکھا ہو گا۔ ممکن ہے خود قمیض نے بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو۔ ” (۱۱)

رشید احمد صدیقی نے اپنی تحریروں میں رعایتِ لفظی اور الفاظ کے الٹ پھیر نیز ضلع جگت سے بھی طنز و مزاح کا رنگ پیدا کیا ہے۔ رشید صاحب لفظ کی حَرَکی قوّت(Dynamism)   سے بخوبی واقف تھے اور اسے تخلیقی طور پر برتنے اور بروئے کار لانے کا انھیں گُر معلوم تھا۔  وہ اس فن سے بخوبی واقف تھے کہ الفاظ یا فقروں کو ادل بدل کر یا ان میں اُلٹ پھیر  اور تحریف و تصریف کر کے  یا محض ان کی تکرار کے ذریعے یا ان میں ذو معنیت پیدا کر کے یا انھیں نفی و اثبات یا تذکیر و تانیث کی شکل دے کر کس طرح طنز کا لہجہ یا ظرافت کا رنگ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں جو ان کی تصنیف مضامینِ رشید سے لی گئی ہیں:

“دیوتاؤں کے بارے میں  مشہور ہے کہ وہ جسے عزیز رکھتے ہیں، اسے دنیا سے جلد اُٹھا لیتے ہیں۔ دیویوں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ جس کو عزیز رکھتی ہیں اسے کہیں کا نہیں رکھتیں” (“اپنی یاد میں”)

“عورتوں کے بارے میں میری کچھ بھی رائے کیوں نہ ہو، جنسی میلانات کو بڑی اچھّی چیز سمجھتا تھا اور جو ایسا نہیں سمجھتا تھا اس کو کسی جنس میں بھی نہیں سمجھتا تھا”(“اپنی یاد میں”)

” مجھے اشعار یاد نہیں رہتے، اور جو یاد  آ جاتے ہیں وہ شعر نہیں رہ جاتے” (“دھوبی”)

“ہندوستانی کسانوں کو دیکھتے ہوئے یہ بتانا مشکل ہے کہ اس کے بال بچّے مویشیان ہیں یا مویشیان اس کے بال بچے” (گواہ”)

“ہر مرض کی ایک حد ہونی چاہئے ورنہ مریض کو اختیار ہے کہ وہ حد سے گزر جائے” (شیطان کی آنت”)

رشید احمد صدیقی کی ظرافت میں ہمیں جا بجا طنز کا عنصر بھی ملتا ہے۔ اسی طرح جہاں انھوں نے طنز کیا ہے وہاں ظرافت کا رنگ بھی جھلک اٹھا ہے۔ رشید صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ہر اچھی ظرافت ایک قسم کی خوش گوار طنز ہوتی ہے اور ہر خوش گوار طنز بجائے خود ایک لطیف ظرافت ‘‘(۱۲)

ا س میں کوئی شک نہیں کہ اس کا بہترین ثبوت خود رشید احمد صدیقی کی طنزیہ اور مزاحیہ تحریروں میں نظر آتا ہے۔ بقول آل احمد سرور “رشید صاحب ہنسی ہنسی میں نہ صرف بہت کچھ کہہ جاتے ہیں بلکہ سوچنے کے لئے بھی بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔ “۔ ان کے خیال میں رشید صاحب کا طنز و مزاح “خوانِ مسرّت” نہیں، “سامانِ بصیرت” بھی ہے (۱۳) ۔ رشید صاحب کے ہاں یہ خوبی اس وجہ سے ہے کہ ان کے اسلوب میں طنز و مزاح کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ رشید احمد صدیقی کا خواہ طنز ہو یا مزاح، ان کی تخلیق زبان کے تخلیقی استعمال کے بغیر ممکن نہیں۔

حواشی و حوالے

۱۔         شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں ڈیوڈ لاج کے حوالے سے لکھا ہے کہ “فکشن کی نثر یعنی تخلیقی نثر میں زبان کا عمل وہی ہوتا ہے جو شاعری میں ہوتا ہے۔ ” دیکھئے شمس الرحمٰن فاروقی کا مضمون “رشید احمد صدیقی کا نثری آہنگ”، مشمولہ  “رشید احمد صدیقی: آثار و اقدار” (علی گڑھ، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ۱۹۸۴) ، مرتّبہ اصغر عبّاس۔ ص ۱۵۰

۲۔        رشید احمد صدیقی ، ’’اپنی یاد میں ‘‘ مشمولہ مضامین رشید (رشید احمد صدیقی)  دہلی: انجمن ترقیِ اردو ، ہند۔ ص ۷۷

۳۔        رشید احمد صدیقی ، ’’شیطان کی آنت ‘‘، مشمولہ ایضاً،ص ۱۵۰

۴۔       رشید احمد صدیقی ،’’کارواں پیداست‘‘ ، مشمولہ ایضاً ، ص ۷۲۔ ۷۱

٥۔        رشید احمد صدیقی ،’’گواہ‘‘ مشمولہ ایضاً ، ص ۱۳۲

۶۔        رشید احمد صدیقی ،’’مرشد‘‘ ، مشمولہ ایضاً ،ص ۱۲۹

۷۔        رشید احمد صدیقی ،’’حاجی صاحب‘‘، مشمولہ ایضاً ، ص ۲۰

۸۔        رشید احمد صدیقی ،’’ارہرکا کھیت ‘‘ ، مشمولہ ایضاً ۱۲۵

۹۔         رشید احمد صدیقی ،’’وکیل صاحب‘‘، مشمولہ ایضاً ، ص ۶۲۔ ۶۳

۱۰۔       رشید احمد صدیقی ،’’ماتا بدل‘‘، مشمولہ ایضاً ، ص ۱۶۵

۱۱۔        رشید احمد صدیقی ،’’دھوبی‘‘، مشمولہ ایضاً ، ص ۵۱

۱۲۔ رشید احمد صدیقی ،طنزیات و مضحکات (نئی دہلی ، مکتبہ جامعہ لمٹیڈ) ص۱۶۵

۱۳۔ آل احمد سرور، “رشید احمد صدّیقی” مشمولہ “نئے اور پرانے چراغ” (لکھنؤ، ادارۂ فروغِ اردو، ۱۹۵۵ء)  ص ۳۹۴۔

 

بیدی کی زبان

اردو کے افسانوی ادب میں راجندر سنگھ بیدی کا مرتبہ بلند ہے۔ انھیں اردو کا صفِ اول کا افسانہ نگار تسلیم کیا گیا ہے۔ بیدی کے بارے میں نقادوں کی یہ عام رائے ہے کہ وہ ایک اعلیٰ فن کار ہیں اور ان کے یہاں فن کی پختگی اور گہرائی پائی جاتی ہے۔ ان کے یہاں زندگی کا گہرا مشاہدہ اور انسانی فطرت اور نفسیات کا عمیق مطالعہ بھی پایا جاتا ہے، نیز ان کی کہانیاں اپنے اندر فنّی ندرت، ذہانت اور سماجی شعور رکھتی ہیں اور ذہن پر دیر پا اثر چھوڑ تی ہیں۔ ان کی کہانیوں کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ روس کے عظیم افسانہ نگار چیخوف کی یاد دلاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیدی کی کہانیاں فنّی اعتبار سے بالکل منفرد ہیں۔ ان میں اچھی کہانیوں کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں اور بقولِ خلیل الرحمٰن اعظمی ’’ان کے کسی افسانے میں فنِ افسانہ نگاری کے اعتبار سے کوئی کور کسر نہیں ہے‘‘ (۱)

لیکن جہاں تک کہ بیدی کی زبان کا تعلق ہے یا اردو کے تقریباً نقادوں نے اس پر اعتراضات کیے ہیں۔ بعض نقادوں نے تو بیدی کی زبان کی کھُل کر نکتہ چینی کی ہے۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری اپنے مضمون ’’بیدی کا فن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’زبان کے موثر استعمال کے لیے جس نزاکتِ احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی بیدی کے یہاں افسوس ناک کمی ہے۔ ‘‘(۲)

اسی مضمون میں وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’بیدی کے یہاں ایک خامی بہت کھٹکتی ہے، اور وہ یہ کہ انھیں زبان اور محاورے پر عبور حاصل نہیں ہے۔ ان کے یہاں استوار اور منضبط نثر نہیں ملتی۔ ‘‘(۳)

پروفیسر اسلوب احمد انصاری نے بیدی کی زبان پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ ان کے ’’اکثر جملوں کی ساخت میں ناپسندیدہ پیچیدگی اور طوالت نظر آتی ہے۔ ‘‘ نیز ’’ان کے بیان کا تکلف اور مصنوعی پن پوری کہانی کی فضا سے غیر آہنگ ہوتا ہے، اس لیے ابلاغ کے مقصد کو جھٹلا دیتا ہے۔ ‘‘ (۴)  بیدی کی زبان کے بارے میں ان کا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ ’’وہ بعض جگہ ہندی کے نامانوس الفاظ غلط جگہوں پر لا کر عبارت کی سبک روی میں رخنہ ڈال دیتے ہیں۔ ‘‘(۵)  بیدی کی زبان کے بارے میں اسلوب صاحب کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ وہ ’’الفاظ کے در و بست کا کوئی سلیقہ نہیں رکھتے‘‘ اور ’’زبان کو غلط اور بے ڈھنگ طور پر ‘‘ استعمال کرتے ہیں جس کا ان کے پاس کوئی ’’جواز‘‘ نہیں ہے۔

بیدی کی زبان کی کمزوری کا ذکر ہر اس نقاد نے کیا ہے جس نے بیدی پر کچھ نہ کچھ لکھا ہے خلیل الرحمٰن اعظمی اپنے تحقیقی مقالے اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک میں بیدی کی افسانہ نگاری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بیدی کی کمزوری ان کے یہاں زبان کا کہیں کہیں غلط اور خام استعمال ہے۔ ‘‘(۶)

پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’بیدی کی زبان اردو کے بنیادی دھارے (Main stream)  سے قدرے ہٹی ہوئی ہے۔ ‘‘(۷)

اردو کے افسانوی ادب کے معتبر نقاد وقار عظیم اپنی تصنیف نیا افسانہ میں بیدی کی زبان پر یوں تبصرہ کرتے ہیں:

’’بیدی کے فن کا ایک اور پہلو ان کی زبان ہے۔ عام طور پر ان کی زبان کے اس حصّے پر اعتراض کیا جاتا ہے جس پر مقامی اثرات غالب ہیں، اور ان میں سے بعض سے ان کی طرز کی شگفتہ سنجیدگی کی روانی میں فرق بھی پڑتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اس سے بھی زیادہ اہم ایک بات اور ہے جو ہر پڑھنے والا ان کے افسانوں میں محسوس کرے گا۔ جن باتوں کو آسان اور سیدھی سادی باتوں میں کہہ کر زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے انھیں بیدی نے دقیق اور مشکل زبان میں کہا ہے اور اس سے ہر جگہ افسانے کی فضا میں ایک بوجھل پن پیدا ہو گیا ہے، اس میں تصنع آ گیا ہے اور بات میں شاید وہ تاثیر بھی باقی نہیں رہی جو افسانے کی مجموعی فضا کے لحاظ سے ضروری تھی۔ ‘‘(۸)

بیدی کی زبان پر پروفیسر آل احمد سرور ان الفاظ میں اظہارِ خیال کرتے ہیں:

’’چنانچہ بیدی کی زبان بڑی اکھڑی اکھری، ناہموار کہیں کہیں بے جا فارسیت لیے ہوئے اور زیادہ تر پنجابی اردو کہی جاتی تھی۔ ‘‘(۹٩)

یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ بیدی پنجاب کے رہنے والے تھے اور اقبال کی طرح ان کی مادری زبان بھی پنجابی تھی۔ وہ اردو کے اہلِ زبان نہ تھے۔ اردو ان کی اکتسابی زبان تھی اور ان کے نزدیک ثانوی یا دوسری زبان کا درجہ رکھتی تھی۔ یہ ایک بد یہی حقیقت ہے کہ تحریر و تقریر میں کوئی بھی شخص ثانوی زبان پر مادری زبان جیسی قدرت حاصل نہیں کر سکتا۔ خود اقبال کو پنجابی نژاد ہونے کہ وجہ سے اردو پر اہلِ زبان جیسی قدرت اور مہارت حاصل نہ تھی، اگر چہ انھوں نے داغ کی شاگردی اختیار کی تھی۔ چنانچہ ان کی زبان پر اہلِ زبان کی جانب سے مسلسل اعتراضات ہوتے رہے۔ اقبال کو اپنی اس کمزوری کا خود بھی احساس تھا۔ ان کی تحریروں میں کہیں کہیں ان اعتراضات کا ردِ عمل بھی پایا جاتا ہے، لیکن یہ ردِ عمل بقول پروفیسر مسعود حسین خاں بہت معتدل اور متوازن ہے۔ (۱۰)

’اہلِ زبان‘ (Native speaker)  کی لسانیاتی اصطلاح سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی زبان کی تحصیل مادری زبان یا پہلی زبان کی حیثیت سے کی ہو۔ اگر کوئی شخص پہلی زبان (مادری زبان)  سیکھنے کے بعد کسی دوسری زبان کا شعور حاصل کرتا ہے تو وہ ’زبان داں‘ کہلاتا ہے۔ اقبال کی طرح بیدی بھی اردو کے ’اہلِ زبان‘ نہ تھے بلکہ ’ زبان داں‘ تھے، کیوں کہ اردو ان کی ثانوی زبان تھی۔ بقول پروفیسر مسعود حسین خاں ’’زبان داں کو (چاہے وہ ہمسایہ بولی ہی کاکیوں نہ ہو)  اہلِ زبان کے محاورے اور روز مرہ پر قدرت حاصل کرنے میں کئی دقتوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے یہاں اکثر قواعد کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ وہ الفاظ و محاورات کے ان نازک اختلافات سے واقف نہیں ہوتا (یا کم تر ہوتا ہے)  جن کا بر محل استعمال شاعری کی جان ہے۔ تذکیر و تانیث کا جھگڑا، فعالِ مرکبہ کا ہیر پھیر اور حروف کا برمحل استعمال، اس کے لیے ہمیشہ سوبانِ روح رہتا ہے اور اس لیے اسے اہلِ زبان کے استہزا کا شکار ہونا پڑا ہے۔ بید کی زبان کے جن نقائص کی طرف اردو کے نقادوں نے اشارہ کیا ہے ان کے پس پردہ ایک ’زبان داں‘ کی وہ تمام لسانی خصوصیات کارفرما ہیں جن کی طرف اقتباسِ بالا میں اشارہ کیا گیا ہے، زبان کے استعمال میں ایک زبان داں سے اہلِ زبان کی سی توقعات وابستہ کرنا کسی بھی طرح روا نہیں۔ اقبال بھی اہل زبان کی توقعات کو پورا نہیں کر سکے۔ اقبال کے مقابلے میں بیدی تو یقیناً کم پڑھے لکھے تھے۔ ان کا اساتذہ کے کلام کا مطالعہ بھی اقبال کے برابر نہیں رہا ہو گا۔ بیدی کو داغ جیسے استاد کی شاگردی بھی نصیب نہیں ہوئی تھی کہ اہلِ زبان کی سند ملتی۔ لہٰذا بیدی اپنے ادبی اظہار کے لیے ایک نیا محاورہ یا ایک نئی زبان جو اہلِ زبان کی کسوٹی پر پوری اترتی کہاں سے لاتے۔

لاہور اردو کا ایک اہم مرکز ضرور رہا ہے لیکن زبان کے معاملے میں اس سے وہی توقعات وابستہ کرنا جو اردو کے دوسرے مراکز مثلاً دہلی اور لکھنؤ سے وابستہ کی جاتی ہیں مناسب نہیں۔ یہ مرکز اردو کے اصل مراکز سے دور واقع ہوا ہے جہاں کی علاقائی زبان پنجابی ہے اردو کے پنجابی ادیب اپنی عام بول چال اور روز مرّہ کی گفتگو میں بہ طورِ مادری زبان جب پنجابی کا استعمال کرتے ہیں جو نہایت فطری عمل ہے تو انھیں اردو کے روزمرّہ سے کیوں کر واقفیت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جب ان کے لاشعور میں پہلی زبان گھر کر چکی ہے تو وہ ثانوی زبان کے تغیر و تبدل، حزم و احتیاط اور صحتِ الفاظ کا شعور کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔ انھیں اکتسابی طور پر زبان کی بنیاد ہئیت اور نحوی قاعدوں کا علم تو حاصل ہو سکتا ہے جسے نوام چامسکی نے لسانی مہارت (Linguistic competence)  کا نام دیا ہے، لیکن اصل سماجی اور تہذیبی سیاق وسباق میں زبان کی اس بنیادی ہئیت کو کس طرح بروئے کار لایا جائے۔ اس کا وجدان صرف اہل زبان کو ہی حاسل ہوتا ہے۔ سماجی لسانیات کے ایک امریکی عالم ڈیل ہائمز نے چامسکی کے اس نظریے کو چیلنج کرتے ہوئے زبان کی ترسیلی مہارت (Communicative competence)  کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ (۱۱)  زبان کی ترسیلی مہارت لسانی مہارت کے آگے کی منزل ہے جس میں زبان کی بنیادی ہئیت سے زیادہ اس کے روزمرّہ سے واقفیت ضروری سمجھی جاتی ہے، اور کہاں کب اور کس سے کیا بولا جائے اور کیسے بولا جائے کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ زبان کی ترسیلی مہارت سماجی و تہذیبی سیاق و سباق میں زبان کے مناسب و موزوں اور موثر استعمال کے وجدانی شعور کا نام ہے۔ میرے خیال میں بیدی کے یہاں لسانی مہارت کی کمی نہیں بلکہ ترسیلی مہارت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ان کی زبان میں کہیں کہیں جھول پیدا ہو گیا ہے اور بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زبان پٹری سے اتر گئی ہے۔

کوئی بھی زبان جب غیر اہل زبان کے ہاتھوں بروئے جا پڑتی ہے اور اس میں ایک قسم کی مغائرت پیدا ہو جاتی ہے، نیز اس میں مقامی یا علاقائی رنگ جھلکنے لگتا ہے۔ بیدی کی زبان پر پنجابیت یا پنجابی پن کا جو اعتراض کیا جاتا ہے اس کی واحد وجہ یہی ہے۔ اقبال کی زبان بھی مقامی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکی تھی۔ لاہور کی مرکزیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن وہاں کی علاقائی لسانی خصوصیات اردو زبان کا جزو کبھی نہیں بن سکیں ان کے خلاف اردو والوں میں ہمیشہ ردِ عمل رہا۔ اس کے برخلاف اردو کے دوسرے مراکز کی علاقائی لسانی خصوصیات اردو میں اس درجہ مدغم ہوئیں کہ وہ اردو زبان کی اپنی خصوصیات بن گئیں۔ اردو کا اصل مرکز قدیم زمانے سے شہر دہلی رہا ہے۔ لیکن سیاسی مصلحتوں کے زیرِ اثر اردو نے اپنا ایک دوسرا مرکز دور دراز خطۂ دکن کو بنایا۔ اردو کا ایک اور اہم مرکز لکھنؤ قرار پایا۔ لسانی اعتبار سے دکن مراٹھی اور دراوڑی زبانوں کا اور لکھنؤ اودھی کا مرکز تھا۔ قدیم اردو پر دکنی اثرات بہت واضح ہیں۔ انھیں قدیم اردو کی خصوصیات مان لیا گیا ہے، اسی طرح اُردو پر اودھی بولی کے اثرات آج بھی پائے جاتے ہیں جنھیں اردو ہی کی خصوصیات سمجھ لیا گیا ہے۔ کسی زمانے میں آگرہ بھی جو برج کے علاقے میں واقع ہے، اردو کا مرکز تھا۔ وہاں کے علاقائی لسانی اثرات بھی اردو میں مدغم ہو گئے۔ لیکن اردو کی ادبی تاریخ کا یہ نہایت اہم واقعہ ہے کہ اردو اپنے ایک اہم مرکز لاہور کے علاقائی لسانی اثرات کو ابھی تک اپنے اندر ضم نہیں کر سکی ہے۔ اس کی وجہ شاید اہلِ زبان اور اہل پنجاب کی روایتی لسانی چشمک ہے۔ اگر پنجاب کی علاقائی لسانی خصوصیات کو اردو نے اپنا لیا ہوتا تو بیدی کی زبان پر آج جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں وہ شاید نہ کیے جاتے۔

(۲)

بیدی کی زبان کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے وقت یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ خود بیدی پنجاب کے رہنے والے تھے بلکہ ان کے افسانوں کے بیشتر کرداروں کا تعلق بھی سرزمینِ پنجاب سے ہے۔ زبان کے سلسلے میں یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ بیدی کے زیادہ تر کردار متوسط طبقے کے ہندو اور سکھ گھرانوں کے افراد ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کرداروں کی زبان اعلیٰ معیار اردو یا جسے نستعلیق اردو کہتے ہیں نہیں ہو سکتی تھی، ان کی زبان میں لکھنؤ کی شیرینی، تکلف اور تصنع کی تلاز بھی بے معنی ہے۔ اسی طرح ان کی زبان میں دہلی کی زبان کی سادگی اور پُرکاری کی جستجو بھی کارِ عبث ہے۔ دہلی کی زبان صدیوں کی تراش خراش اور کاٹ چھانٹ کے بعد’ چوکھی‘ ہوئی تھی۔ لکھنؤ کے مخصوص سماجی اور تہذیبی حالات اور ماحول و فضا نے زبان کے مزاج و منہاج پر بھی اثر ڈالا تھا اور وہاں کی زبان نے دہلی سے الگ ہٹ کر اپنا ایک مخصوص محاورہ، لہجہ، انداز اور رنگ متعین کر لیا تھا جو لکھنؤ کا اپنا رنگ تھا۔ ظاہر ہے کہ اہلِ لاہور اس کی پیروی نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ انھیں وہ فضا اور ماحول کی وہ رنگینی کہاں سے ملتی جو اس قسم کی زبان کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی زبان ایک الگ تھلگ راستے پر پڑ کر علاقائی لسانی اثرات کی زد میں آ گئی۔ بیدی کی زبان کا ’کھُردرا پن‘ یا ’اکھڑپن‘ اس کی بھرپور غمازی کرتا ہے۔

یہ بات نہایت اہم اور لائق ستائش ہے کہ بیدی نے اپنی کہانیوں میں زبان کے استعمال میں تصنع یا رکھ رکھاؤ سے کام نہیں لیا ہے۔ جس طرح وہ اپنے کرداروں کو ان کے حقیقی رنگ میں پیش کرتے ہیں اور ان کے جذبات و نفسیات کے بیان میں فطری انداز اختیار کرتے ہیں اسی طرح انھوں نے زبان کے استعمال میں بھی حقیقت پسندی سے کام لیا ہے اور کرداروں کی گفتگو، بول چال، طعنہ و تشنیع، نیز پیار و محبت اور نفرت و حسد کے جذبے کے اظہار میں انہیں کی زبان سے کام لیا ہے۔ یہاں باقر مہدی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’’بیدی کی زبان پر اکثر اعتراض کیا جاتا ہے۔ لیکن معترضین یہ بھول جاتے ہیں کہ بیدی اپنے کرداروں کے ذریعے خود ہم کلام نہیں ہوتے، بلکہ اکثر ان کی ہی زبان لکھتے ہیں۔ ‘‘(۱۲)

پہلے کہا جا چکا ہے کہ بیدی کے افسانوی کردار متوسط طبقے کے سکھ اور ہندو گھرانوں کے افراد ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق سرزمین پنجاب سے ہے، لہٰذا وہ اہلِ زبان کی جیسی شگفتہ، با محاورہ، ٹکسالی اور نستعلیق اردو جس کی نوک پلک ہر طرح سے درست ہو کیسے بول سکتے تھے۔ اور بیدی جو سکھ بھی تھے اور پنجابی بھی، زبان کے معاملے میں اہلِ زبان کی توقعات کس طرح پوری کر سکتے تھے۔ یہ توقعات تو پریم چند بھی جو یوپی کے رہنے والے تھے پوری نہ کر سکے۔ پریم چند کی اردو بھی ہندی اور اردو کی ایک ملواں شکل ہے جس میں مقامی اثرات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ ’’پریم چند کی اردو ادنیٰ سی تبدیلی کے ساتھ ہندی بن جاتی ہے اور ان کی ہندی ادنیٰ سی تبدیلی سے اردو۔ ‘‘( ۱۳)  اسی زبان کو عرفِ عام میں ’ہندوستانی‘ کہا گیا ہے۔ یہ زبان اہلِ زبان کی معیاری اردو پر پوری نہیں اترتی اور نہ ہی اردو کے بنیادی اسلوب کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پریم چند کے کردار سماج کے نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور Rural-based ہیں۔ یعنی جن کی سماجی اور تہذیبی جڑیں دیہی علاقوں میں پیوست ہیں اور اردو کا مزاج جیساکہ ہم جانتے ہیںUrban-based ہے۔ لہٰذا بیدی کی طرح پریم چند کی بھی دشواری یہی تھی کہ وہ اعلیٰ معیاری زبان جسے اہل زبان استعمال کرتے ہیں اپنی کہانیوں میں نہیں برت سکتے تھے۔ مقامی لسانی اثرات سے پریم چند کی زبان بھی پاک نہیں، لیکن پھر بھی پریم دن کی زبان کو ٹھیٹھ اور ٹکسالی اردو کہا گیا ہے اور جو اعتراضات بیدی کی زبان پر کیے گئے وہ پریم چند کی زبان پر نہیں کیے گئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پریم چند نے اردو کی تحصیل پہلی زبان کی حیثیت سے کی تھی اور بیدی نے دوسری یا ثانوی زبان کی حیثیت سے چنانچہ اردو کا جو لسانی شعور اردو زبان کے استعمال کا جو وجدان پریم چند کو ورثے میں ملا تھا وہ بیدی کو حاصل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پریم چند کی اردو خارجی لسانی عوامل کی کارفرمائی کے باوجود اردو کا ایک معیار متعین کرتی ہے۔

جس طرح زبان پر اعتراضات کا ردِ عمل اقبال کے یہاں ملتا ہے اسی طرح بیدی کے یہاں بھی کہیں کہیں یہ رد عمل دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں بیدی کا انداز بھی اقبال کی طرح معتدل اور متوازن رہا ہے۔ بیدی نے کبھی اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی کہ لوگ ان کی زبان کے بارے میں کیا کہتے ہیں، بلکہ وہ اپنے فن کو نکھار نے اور سنوارنے میں لگے رہے اور اسی کی گہرائیوں میں اترتے چلے گئے۔ ورنہ آج وہ اعلیٰ فن کارانہ بن پاتے، بیدی یہ بات بہ خوبی جانتے تھے کہ وہ زبان پر اہلِ زبان جیسی قدرت تو نہیں حاصل  کر سکتے البتہ اپنے فن کو ضرور نکھار سکتے ہیں۔ اسی لیے بیدی کی زبان کی خامیاں ان کے فن کی خوبیوں کے آگے ماند پڑ گئیں ورنہ اس معاملے میں تو اہلِ زبان نے اقبال کو بھی نہیں بخشا تھا۔ بیدی کے اعلیٰ فن کار ہونے کا اندازہ تو ان کے افسانوں کے پہلے مجموعے دانہ و دام کی ہی اشاعت سے ہو گیا تھا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ بیدی نے فن پر توجہ شروع ہی سے دینا شروع کر دی تھی۔ منٹو نے بیدی کے نام اپنے ایک خط میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’بیدی، تمہاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو، لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو۔ ‘‘( ۱۴)

بیدی نے نقشِ ثانی کو ہمیشہ نقش اول پر ترجیح دی۔ وہ اپنی لکھی ہوئی چیزوں میں ہمیشہ کاٹ چھانٹ اور ایراد و اضافہ کرتے رہے، اور بعض اوقات پھاڑ کر بھی پھینکتے رہے۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ ‘‘(۱۵)  انھوں نے ایک جگہ اور کہا ہے کہ ’’سکھ اور کچھ ہوں یا نہ ہوں کاری گر اچھے ہوتے ہیں اور جو کچھ بناتے ہیں ٹھوک بجا کر اور چول سے چول بٹھا کر بناتے ہیں۔ ‘‘(۱۶)  یہ تمام باتیں اس امر کی مظہر ہیں کہ بیدی فن میں پختگی اور گہرائی کے کس قدر متلاشی تھے۔

زبان پر اعتراضات کا ردِ عمل بیدی کے اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے جس میں طنز کے نشتر بھی ہیں۔

’’ایک طرف مجھے فن اور دوسری طرف زبان سے لوہا لینا تھا۔ اہل زبان اس قدر بے مروت نکلے کہ انھوں نے اقبال کا بھی لحاظ نہ کیا۔ ‘‘( ۱۷)

اہل زبان پنجابی لہجے کو جس طرح اپنے استہزا کا شکار بناتے تھے، بیدی کو اس کا پورا علم تھا۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’کسی سے پوچھا آپ اقبال سے ملے تو کیا بات ہوئی بولے، کچھ نہیں۔ میں جی ہاں، جی ہاں، کہتا رہا اور وہ ’ہاں جی‘ ہاں جی‘ کہتے رہے۔ ‘‘(۱۸)

بیدی کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ ان کی زبان میں ’کھُردرا پن‘ اور ’’اُکھڑا پن‘ پایا جاتا ہے۔ لیکن افسانے کی زبان کے لیے وہ اس کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری بھی سمجھتے تھے اپنی ایک تحریر میں وہ اس کا جواز یوں پیش کرتے ہیں:

’’شعر، فی الخصوص غزل میں آپ عورت سے مخاطب ہیں، لیکن افسانے میں کوئی ایسی قباحت نہیں آپ مرد سے بات کر رہے ہیں، اس لیے زبان کا اتنا رکھ رکھاؤ نہیں۔ غزل کا شعر کسی کھردرا پن کا متحمل نہیں ہو سکتا، لیکن افسانہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ نثری نژاد ہونے کہ وجہ سے اس میں کھردرا پن ہونا ہی چاہیے، جس سے وہ شعر سے ممیز ہو سکے۔ دنیا میں حسین عورت کے لیے جگہ ہے تو اکھڑا مرد کے لیے بھی ہے، جو اپنے اکھڑ پن ہی کہ وجہ سے صنفِ نازک کو مرغوب ہے۔ فیصلہ اگرچہ عورت پہ نہیں، مگر وہ بھی کسی ایسے مرد کو پسند نہیں کرتی جو نقل میں بھی اس کی چال چلے، ہمارے نقادوں نے افسانے کو داد بھی دی تو نظم کے راستے سے ہو کر، نثر کی راہ سے نہیں، جس سے اچھے اچھے افسانہ نگاروں کی ریل پٹری سے اتر گئی۔ ‘‘(۱۹)

زبان اور تہذیب کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ زبان پر تہذیبی اثرات کا پڑنا امر لازمی ہے۔ اسی طرح زبان تہذیبی عوامل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ وہ تہذیبی اور سماجی اثرات کو قبول کرتی ہے۔ معاشرے میں رو نما ہونے والی گوناگوں تبدیلیاں زبان میں منعکس ہوتی رہتی ہیں جس سے نہ صرف زبان کا ڈھانچہ متغیر ہوتا ہے بلکہ اس کے ذخیرۂ الفاظ میں بھی حک و اضافے کا عمل جاری رہتا ہے۔ زبان کے مطالعے سے تہذیب کے مطالعے کا کام بھی لیا گیا ہے۔ زبان محض تہذیب کا جزو ہی نہیں، اس کی بنیاد بھی ہے۔ بیدی نے اپنی کہانیوں میں جس تہذیب و معاشرے کی عکاسی کی ہے وہ سکھ اور ہندو تہذیب و معاشرہ ہے جس کہ جڑیں اساطیری یا دیومالائی حدود سے بھی جا ملتی ہیں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنے ایک مضمون میں ان تمام اساطیری عناصر کی نشان دہی کی ہے جن کے امتزاج سے بیدی کی کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ہندو تہذیب و معاشرے کی عکاسی اور اساطیری فضا کی نمائندگی کے لیے سنسکرت اور پراکرت کے لسانی اسلوب اور ذخیرۂ الفاظ کا ہی سہارا لیا جاتا تو اس مخصوص تہذیبی فضا کی صحیح اور سچّی نمائندگی نہیں ہو سکتی تھی اور نہ ہی اس تہذیبی اور اساطیری عناصر کی عکاسی ممکن تھی۔ کیوں کہ عربی اور فارسی کا لسانی سلسلہ بہرحال اسلامی تہذیب سے جا کر ملتا ہے۔ اردو اگرچہ ایک ہند آرائی زبان ہے لیکن اسلامی تہذیب کے ساتھ اس کی زبردست ہم آہنگی کے سبب سنسکرت، پراکرت اور اپ بھرنش کی قدیم لسانی روایتوں سے اس کا رشتہ بالکل ٹوٹ س گیا ہے۔ بیدی کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی کہانیوں کی زبان کے ذریعے اس رشتے کو استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ صحیح معنوں میں بیدی کی کہانیوں کی اساطیری اور تہذیبی فضا اسی اسلوب میں منعکس ہوئی ہے۔ اسی لیے بیدی کی زبان کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ زبان اردو کے بنیادی دھارے سے ہٹی ہوئی ہے۔ اردو کے بنیادی دھارے میں عربی اور فارسی کے لسانی اشتراک کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، جب کہ بیدی کی زبان میں سنسکرت اور پراکرت کی لسانی اور تہذیبی روایات کی حد درجہ پاسداری ملتی ہے۔

اردو کے بنیادی اسلوب اور بیدی کی زبان میں حد درجہ مغائرت پائی جاتی ہے۔ اس کی اصل وجہ غالباً یہی ہے کہ ان کے یہاں ہندی اور سنسکرت الفاظ کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ اردو کے اسلوب میں عربی اور فارسی کے ذخیرۂ الفاظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس سے میری یہ مراد ہرگز نہیں کہ اردو میں ہندی نژاد الفاظ نہیں ہیں۔ اردو میں ہندی کے نرم و نازک، سبک و شیریں اور ٹھیٹھ الفاظ کی کمی نہیں، بلکہ ان کا تناسب عربی اور فارسی الفاظ سے کہیں زیادہ ہے، لیکن بول چال اور عام گفتگو کی زبان سے قطع نظر کسی بھی علمی اور ادبی کاوش میں عربی فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال ناگزیر ہے۔ انشاءاللہ خاں انشاء کی رانی کیتکی کی کہانی اور آرزو لکھنوی کی سریلی بانسری اردو میں لسانی اسلوب کے اعتبار سے مستثنیات کا درجہ رکھتی ہیں جن میں عربی اور فارسی الفاظ سے عمداً اور التزاماً بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ اردو کا فطری اسلوب نہیں ہے اور نہ ہی بنیادی یا معیاری اسلوب کہا جا سکتا ہے۔ اسی لیے یہ اسلوب مقبول نہ ہو سکا اور یہ ادیب خود بھی اس اسلوب کو اپنی دوسری تحریروں میں قائم نہ رہ سکے۔ جہاں اردو کے بنیادی اسلوب میں عربی اور فارسی الفاظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے وہیں سنسکرت کے ’تتسم‘ الفاظ اور ہندی لفظیات سے یکسر گریز بھی پایا جاتا ہے۔ جدید اردو نے سنسکرت کے ’’تتسم‘ الفاظ کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے۔ اور پراکرت اور اپ بھرنش کے صرف ان الفاظ کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے جو ’تدبھو‘ کہلاتے ہیں اور صدیوں کی تراش خراش، کاٹ چھانٹ اور تغیر و تبدل کے بعد سبک ، شیریں اور نرم بن گئے ہیں۔ اس کے برخلاف بیدی کے یہاں سنسکرت اور ہندی نژاد الفاظ کا بے پناہ ذخیرہ پایا جاتا ہے۔ جو اردو کے کسی دوسرے ادیب حتیٰ کہ پریم چند کے یہاں بھی نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ بیدی کی زبان میں اجنبی پن پیدا ہو گیا ہے اور یہ اردو کے بنیادی لسانی اسلوب سے ہٹی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس سے یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ بیدی نے عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال نہیں کیا ہے۔ ان کے یہاں ان الفاظ کا ایک خاص تناسب پایا جاتا ہے، بلکہ بعض جگہ تو ان الفاظ کا استعمال اتنا شدید ہوا ہے کہ بہت گراں گزرتا ہے جس کی وجہ سے عبارت ثقیل اور پیچیدہ ہو گئی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیدی کے یہاں عربی فارسی اور ہندی الفاظ کا تناسب برقرار نہیں رہنے پایا ہے اور جب تک ان زبانوں کے الفاظ ایک خاص تناسب میں استعمال نہ کیے جائیں۔ اردو کے بنیادی اسلوب کا برقرار رکھنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس خیال کی تائید میں پروفیسر اسلوب احمد انصاری کے ایک مضمون ’’نثر کا آہنگ‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اردو نثر کے بنیادی اسٹائل سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں صرف فارسی یا صرف ہندی الفاظ کی مناسب ترتیب کو کام میں لایا جائے، بلکہ یہ کہ مختلف اجزاء کا ایسا تناسب اور توازن برقرار رکھا جائے جو زبان کی فطانت سے میل کھائے۔ ‘‘(۲۰)

لیکن بیدی نے تناسب اور توازن کی پروا کیے بغیر مخصوص تہذیبی اور اساطیری فضا کی نمائندگی کے لیے سنسکرت اور ہندی کی لسانی روایات سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور ایسا کرنا ان کے لیے ناگزیر تھا کہ اس کے بغیر وہ اپنی کہانیوں کی تہذیبی اور اساطیری فضا میں نہ تو حقیقی رنگ بھر سکتے تھے اور نہ ہی معنی و اظہار میں ہم آہنگی پیدا کر سکتے تھے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بیدی کی کہانیوں کی استعاراتی اور اساطیری فضا پر بہت زور دیا ہے ،(۲ ۱)  لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیدی کی کہانیوں کی تہذیبی فضا اساطیری فضا سے زیادہ اہم ہے ، کیوں کہ اساطیری عناصر و عوامل کی کار فرمائی ایک مخصوص تہذیبی سیاق و سباق میں ہی حقیقی روپ اختیار کرتی ہیں اور سماج کے چلتے پھرتے کرداروں کے اعتماد و حرکات اور فکری پس منظر میں ہی ان کا انعکاس ہوتا ہے۔ ’’گرہن‘‘ کے راہو اور کیتو اگرچہ اساطیری روایات کے حامل ہیں لیکن کہانی کے دو اہم کردار بھی ہیں۔ ہولی جو ’’گرہن‘‘ کا مرکزی کردار ہے، اس کی ساس راہو ہے اور اس کا شوہر کیتو۔ یہ دونوں اس مخصوص تہذیب و معاشرے کا حصہ ہیں جس کی نمائندگی بیدی نے اپنی اس کہانی میں کی ہے ہے۔ بلکہ اپنی مخصوص تہذیبی اور سماجی کارکردگی ہی کی وجہ سے انھیں راہو اور کیتو کی اساطیری حیثیت دی گئی ہے۔ ’’ اپنے دکھ مجھے دے دو ‘‘کی تہذیبی اور معاشرتی فضا کافی بسیط ہے۔ اس کی حدیں ہندوؤں کے مذہبی تصورات سے بھی جا ملتی ہیں جن کو سمجھے بغیر کہانی کو اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے تمام اہم کردار اساطیری روایات کے بھی حامل نظر آتے ہیں۔ اندو اس کہانی کا مرکزی نسوانی کردار ہے جس سے بیدی نے بھر پور حسن مراد لیا ہے۔ کیونکہ اندو پورے چاند کو کہتے ہیں۔ وہ ’’حسن و محبوبیت‘‘ کا مرقع ہے۔ مدن اندو کا شوہر ہے جو عشق و محبت کے دیوتا کام دیو کا استعارہ ہے۔ اس کہانی میں بیدی کی تمام تر توجہ عورت(اندو)  کی کردار نگاری پر صرف ہوئی ہے۔ عورت کو انھوں نے ہر زاوئے سے دیکھا ہے اور اسے ہر رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ ’’ازلی اور ابدی‘‘ عورت کے روپ میں بھی۔ ’’اپنے دکھ مجھے دے دو ‘‘ کی اندو کبھی دروپدی، کبھی ساوتری ، کبھی سیتا اور کبھی جسودھا کا روپ اختیار کرتی ہے۔ بیدی کے یہاں عورت کا ہمہ گیر اور آفاقی تصور پایا جاتا ہے جو بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ ’’اپنی اصل کے اعتبار سے شیو مت کے شکتی اور تانترک عقائد سے ملتا جلتا ہے۔ (۲۲)  لیکن جیسا کہ نارنگ صاحب کا خیال ہے کہ اس کہانی کی ساری فضا ویشنو مت سے ماخوذ ہے اور دروپدی ، ساوتری اور سیتا سب ویشنو تصورات ہیں۔ اس کے برخلاف ’’ایک چادر میلی سی ‘‘ کی ساری اساطیری فضا شیو مت سے ماخوذ ہے۔ بیدی نے اپنی مشہور کہانی ’’لاجو نتی‘‘ میں راماین کی کتھا اور سیتا کے اغوا کا ذکر کیا ہے، ’’ببّل‘‘ میں لڑکی کے کردار میں سیتا کے کردار کی جھلک پیش کی گئی ہے اور خود ننھا ببل بالک کرشن کی یاد دلاتا ہے۔ ’’ بلّی لڑکی‘‘ میں گیتا ہمیشہ دادی کے سرہانے کھلی رکھی رہتی ہے۔ کہانی کے شروع ، درمیان اور آخر میں کئی جگہ گیتا کا ذکر آتا ہے۔ گیتا کا ’’شیڈ شمایت ‘‘ اس وقت ہوتا ہے جب دادی اس دنیا سے اُٹھ جاتی ہے۔ بیدی نے اپنی دوسری کہانیوں میں ہندو اور سکھ گھرانوں کی تہذیب و معاشرت کا نقشہ کھینچا ہے اور کانی کی توسیع میں اساطیری فضا سے کام لیا ہے۔

ان تمام باتوں کا اظہار اردو کے بنیادی اسلوب کے ذریعے ممکن نہیں تھا۔ اردو کا بنیادی اسلوب جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے ایک مناسب حد تک ہندی نژاد الفاظ متحمل ہو سکتا ہے، لیکن بیدی کی مشکل یہ تھی کہ ان کی کہانیوں میں جس طرح کے کردار نظر آتے ہیں اور ان میں جو تہذیبی اور اساطیری فضا پائی جاتی ہے اس کی صحیح اور سچی عکاسی ور سنسکرت اور ہندی الفاظ کے ایک مخصوص تناسب کا سہارا لیے بغیر نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بیدی کہانی کے ماحول اور اس کے تہذیبی پس منظر کی عکاسی میں جتنے کامیاب نظر آتے ہیں ، اردو کے بنیادی اسلوب کو برقرار رکھنے میں اتنے ہی ناکام رہتے ہیں۔ اردو کے بنیادی اسلوب سے یہ انحراف بیدی کا اپنا اسلوب بن گیا۔ یہ چیز بیدی کو ان کو ہم عصروں کرشن چندر ، منٹو وغیرہ سے ممتاز کرتی ہے۔ نلز ایرک انکوسٹ کے نزدیک اسلوب کی تعریف بھی یہی ہے۔ وہ زبان کے مروجہ اصولوں سے انحراف کو اسلوب کا نام دیتا ہے (۲۳) ۔ یہ انحراف صوتی سطح پر بھی ہو سکتا ہے، الفاظ کی سطح پر بھی اور نحوی، قاعدوں سے جب بھی انحراف ہوتا ہے، ایک نئے اسلوب کی بنیاد پرتی ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جب کوئی ادیب یا شاعر کسی نئے انداز، کسی نئے آہنگ یا کسی نئے اسلوب کی تشکیل کرتا ہے تو لوگ اس کا اعتراف نہیں کرتے اور ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ غالب نے اپنے دور کی مروجہ زبان اور اندازِ بیان سے ہٹ کر جب ایک نئے اسلوب کی بنیاد ڈالی تو آغا خان عیش کو یہ چیز بہت ناگوار معلوم ہوئی۔ اسی طرح اقبال نے جب روایتی انداز و آہنگ کو ترک کر کے زبان اور اسلوب کا ایک نیا آہنگ اختیار کیا تو پیارے صاحب رشید کو اقبال کا کالم سمجھنے میں سخت دشواری پیش آئی کیوں کہ وہ فطری طور پر اس نئے آہنگ سے مانوس نہیں تھے۔ جس طرح غالب اور اقبال نے مروجہ زبان اور اسلوب سے انحراف کے بعد ایک نئے اندازِ بیان اور ایک نئے اسلوب کی بنیاد ڈالی تھی اسی طرح بیدی نے بھی سنسکرت اور ہندی کی لسانی روایات کا سہارا لے کر اردو افسانے کو ایک نیا محاورہ (Idiom)  اور ایک نیا اسلوب دیا۔ بیدی نے اپنے اسلوب اور زبان کے ذریعے ایک تہذیب کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیدی کے اسلوب کو اچھا یا برا کہنا درست نہیں۔ کوئی ادیب نہ تو اسلوب کو بگاڑتا ہے اور نہ زبان کو مسخ کرتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے تخلیقی اظہار کے لیے اس میں جدت پیدا کرتا ہے، زبان کے نئے امکانات ڈھونڈ تا ہے، الفاظ کے نئے تلازمات تلاش کرتا ہے اور نئے لسانی تجربے بھی کرتا ہے یہی جدت اور رسم د رہِ عام سے انحراف ایک نئے اسلوب کی تشکیل کا سبب بنتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیدی نے ایک نئے اسلوب کی تشکیل کی ہے۔ اس کا اندازہ صرف انھیں نقادوں کو ہو سکتا ہے جو اسلوب کا مطالعہ توضیحی (Descriptive)  نقطۂ نظر سے کرتے ہیں نہ کہ تاثراتی یا داخلی نقطۂ نظر سے اسلوب کا تعلق فن پارے میں زبان کے استعمال سے ہے۔ ایک اسلوبیاتی نقاد مطالعۂ اسلوب کو اسی وقت سائنٹیفک اور معروضی بنا سکتا ہے جب وہ صرف یہ دیکھے کسی شاعر یا ادیب نے زبان کا استعمال کس طرح کیا ہے۔

اسلوب کا اس نوع کا مطالعہ توضیحی مطالعہ کہلاتا ہے ، لیکن جہاں نقاد نے یہ حکم لگانا شروع کر دیا کہ شاعر یا ادیب کو زبان کا استعمال کس طرح کرنا چاہیئے اور کس طرح نہیں کرنا چاہیئے، وہاں اس کا مطالعہ توضیحی کے بجائے ہدایتی (Prescriptive)  اور امتناعی (Proscriptive)  بن جاتا ہے۔ ادبی نقادوں نے اسلوب کا مطالعہ زیادہ تر اسی نقطۂ نظر سے کیا ہے اور ان کی تنقیدوں میں توضیحی انداز بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

(۳)

بیدی کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے ان کے ذخیرۂ الفاظ کا تجزیہ بہت ضروری ہے، بیدی نے عربی اور فارسی الفاظ کے علاوہ جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان میں کثیر تعداد تتسم، یعنی خالص سنسکرت الفاظ کی ہے۔ اس کے بعد پراکرتی یا ہندی نژاد الفاظ میں جو تدبھو کہلاتے ہیں۔ یہ تمام الفاظ جنہیں آج اردو کا بنیادی اسلوب نظر انداز کر چکا ہے قدیم اردو کا قیمتی سرمایہ تھے۔ (۲۳)  یہ صرف قدیم دکنی ادب بلکہ شمالی ہند کی قدیم تصانیف میں بھی ان الفاظ کی بہتات ہے۔ اٹھارویں صدی کے نصف میں شاہ حاتم اور مرزا مطہر جانِ جاناں نے تحریکِ اصلاحِ زبان کے نام پر ان تمام الفاظ کو چھانٹ چھانٹ کر اردو سے خارج کر دیا، اور آج ہمارے لیے یہ بالکل اجنبی بن گئے، بیدی کے یہاں ان الفاظ کی باز آفرینی پائی جاتی ہے۔

بیدی کے سنسکرت اور ہندی نژاد الفاظ کو ذیل کے تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (الف)  وہ الفاظ جو مخصوص مذہبی طبقے کے افراد کے نام ہیں جن سے ان کے مذہب کی شناخت ہوتی ہے۔ انھیں ’طبقاتی الفاظ‘ کہہ سکتے ہیں (ب)  وہ الفاظ جو مخصوص تہزیبی اور مذہبی فکر کے نمائندہ ہیں انھیں ’تہذیبی الفاظ‘ کہہ سکتے ہیں (ج)  وہ الفاظ جو بذاتِ خود تہذیبی الفاظ تو نہیں، لیکن تہذیبی سیاق و سباق میں استعمال ہوتے ہیں۔ انھیں و سیاقی الفاظ، کہہ سکتے ہیں ان تینوں زمروں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیدی کی چھے نمائندہ کہانیوں ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘،’’ گرہن‘‘، ’’لاجونتی‘‘، ’’ببّل‘‘، ’’ٹرمینس سے پرے‘‘ اور ’’ لمبی لڑکی‘‘ کے الفاظ ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:

(الف)             طبقاتی الفاظ:

  • مدن، اندو، کندن، دُلاری، دھنی رام، دروپدی، ساوتری، ستیہ وان، جسودھا، نند لال، رام۔                                             (اپنے دکھ مجھے دے دو)
  • ہولی، سیتل، وشنو، سدرشن، کتھو رام، راہو، کیتو،      (گرہن)
  • سندرلال، لاجونتی، نیکی رام، سیتا، رام چندر جی، کالکا پرشاد، لال چند، لہنا سنگھ، نیتو، (لاجونتی)
  • درباری لالا، سیّا، گردھاری لال، بہاری لال، ستونتی، گن وتی، راما سوامی، گوپی، کنھیّا، لچھمن دئ، حُمد، جگ موہن۔ (ببّل)
  • موہن، سومترا، اچلا، رام گدکری، دیبی، رام، رادھا، کیلاش، سیتا۔ (ٹرمینس سے پرے)
  • شیلا، دیوندر تیاگی، جمنا، جگن ناتھ تیاگی، رلیا رام جمراج، گوتم، راجا جنک، سیّا، تلسی جی۔       (لمبی لڑکی)

(ب)    تہذیبی الفاظ:

  • دیوی، پرماتما، بھگوان، پرارتھنا، سمادھی، شمشان، وجے دشمی، پرساد، ارتھی، ڈنڈوت، جنم داتا، پرنام، چتا، شگن، اماوس، جناردھن، جنک دُلاری۔ (اپنے دکھ مجھے دے دو)
  • مندر، شاستر، پرماتما، باپ، شنکھ، امرت، جات (گرہن)
  • مندر، شاستر، پُران، شردّھالو، رماین، پریرنا، مہاستونتی، رام راج، شلوک، دید، دیوی۔ (لاجونتی)
  • بھگوان، شاستر، ہنومان، دھنیہ داد (ببّل)
  • نمستے، بھگوان، رکھشا بندھن، اشٹمی، پرارتھنا۔ (ٹرمینس سے پرے)
  • گیتا، مہاتما، سنیاس، یوگی، کِرتن، نمسکار، دیوی، پُران، شاستر، ایشور، وید، آشیرواد، منتر، شلوک، دیو، سنسکار، مندر۔ (لمبی لڑکی)

(ج)     سیاقی الفاظ:

  • بھاگ، پاتال، پتا، شبد، من، سواگت، رسوئی، کارن، پاپ، وچن، دھنیہ، جیو، دُکھ، دکھی، چھایا، سمے، شانتی، دیا، کرونا، بھیانک، دھرتی، دھرم، شرن، چھما، پربت، لاج۔ (اپنے دکھ مجھے دے دو)
  • سُندرتا، بیاج، کُل ودھو، اشنان، دیا، دان، مالا، دیس، پتنی، بیسوا۔ (گرہن)
  • پربھات، سیوا، سمے، سہاگ دنتی، پرچار، کتھا، گربھوتی، ورنن، مان مریادا، نیتا، سیّہ، مہارانی، وشواس، پتنی، مہانتا، سنسار، نردوش، بدھائی، شُدھی، بن باس، دیپ، سورن مورتی، استھاپت، سماج، ہانی، من، سُدھارک۔          (لاجونتی)
  • شُدھ، سمے، من، انیک، پتی، پَتا، راج، سویم، انگ، دکھ، چھما، وشواس، جنم، دھرتی، امرت، سواد، سیما، اپار، سُکھ، شانتی۔ (ببّل)
  • مایا، لیلا، سمے، انش، سنگ، پتی، پتنی، سنسار، پاپ، شریر، تیوہار۔ (ٹرمینس سے پرے)
  • پران، سمے، سواس، سماپتی، پاسٹھ، بھاگ، چرتر، شریر، گُپھا، سنسار، روگ، بھاشن، جیو، انت، ارتھ، اچّھا، کارن، شبد، درشن، مورکھ، بھید، انتر، وچار، پرکاش، شروتا، آکاش، کیندر، جیوتی، روپ، سپنا، سیما، گراس، دستر، بُدھوا، سویم، دان، اچارن، سواگت، اُچت، سبھا، ادھیائے، سماپتی، دھرتی، دھرم، ارتھی، سنسکار، داتاورن۔  (لمبی لڑکی)

بیدی کی تقریباً ہر کہانی میں مذکورہ تین قسم کے الفاظ مل جائیں گے۔ جو مذہبی ، تہذیبی و فکری نیز سیاق و سباق کے اعتبار سے ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ معنوی اعتبار سے ان میں اتنا گہرا رشتہ ہے کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے زمرے کے الفاظ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ایک مخصوص مذہبی معاشرے میں سانس لینے والے افراد کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے اور جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے یہ ہندو اور سکھ معاشرہ ہے۔ دوسرے زمرے کے الفاظ اس معاشرے کی تہذیبی اور فکری نمائندگی کرتے ہیں۔ اور تیسرے زمرے کے الفاظ مخصوص سیاق و سباق میں استعمال ہو کر اس مخصوص تہذیب و معاشرے کی تصویر کشی میں حقیقی رنگ بھرتے ہیں۔ بیدی ان الفاظ کی جگہ عربی فارسی الفاظ بھی استعمال کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ اس سے ہندو تہذیب و معاشرت کی، جس کا نقشہ انھوں نے اپنی کہانیوں میں کھینچا ہے سچّی عکاسی ممکن نہیں تھی۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ بیدی کے یہاں عربی فارسی الفاظ بھی یہ کثرت استعمال ہوئے ہیں لیکن یہ تمام الفاظ عمومی الفاظ کے زمرے میں رکھے جا سکتے ہیں۔ عربی فارسی کے تہذیبی الفاظ بیدی نے بہت کم استعمال کیے ہیں کیوں کہ ان کی جگہ تو سنسکرت و ہندی نژاد الفاظ نے لے لی ہے۔ بیدی نے عربی فارسی (یا ترکی)  کے تہذیبی الفاظ صرف وہیں استعمال کیے ہیں جہاں کسی مسلمان کردار کو پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ میں ایک جگہ ایک مسلمان کردار سبطے کا ذکر آیا ہے۔ بیدی نے اس کی بیوی کے لیے ’بیگم‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، ’بیگم‘ ایک تہذیبی لفظ ہے جو صرف اس وجہ سے آیا ہے کہ سبطے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ورنہ ہندو اور سکھ کرداروں کی بیوی کا بیدی نے جہاں کہیں بھی ذکر کیا ہے وہاں بالعموم لفظ ’پتینی‘ استعمال کیا ہے۔ ’’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو جس میں بیدی نے بیوی کے لئے لفظ ’بیگم‘ استعمال کیا ہے:

’’سبطے نے اس وقت اپنی بیوی سے بات چیت کی جب اس کی بیگم نے مدن کو مثالی شوہر کی حیثیت سے سبطے کے سامنے پیش کیا؛  پیش ہی نہیں کیا بلکہ منھ پر مارا۔ اس کو اٹھا کر سبطے نے بیگم کے منھ پر دے مارا۔ ‘‘

لیکن ’’لاجونتی‘‘ میں جہاں کی تہذیبی فضا بالکل بدلی ہوئی ہے، بیدی نے بیوی کے لیے ’پتنی‘ کا لفظ استعمال کیا ہے:

’’نارائن بابا نے اپنی داڑھی کی کھچڑی پکاتے ہوئے کہا   ’’اس لیے کہ سیتا ان کی اپنی پتنی تھی، سندرلال! تم اس بات کی مہانتا کو نہیں جانتے۔ ‘

اسی طرح بیدی نے ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ میں ایک جگہ سلام دین گوجر کا ذکر کیا ہے اور اس کی مناسبت سے لفظ ’اللّٰہ‘ استعمال کیا ہے۔ ورنہ اپنی کہانیوں میں بیدی نے جہاں ہندو کرداروں کا ذکر کیا ہے، ان کی مناسبت سے، ’پرماتما‘ یا ’بھگوان‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ’’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’اور پھر ایک دن سلام دین گو جر نے فرمائش کر دی۔ اندو سے کہا۔ ’’بی بی! میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس۔ میں قلی رکھوا دو، اللّٰہ تم کو اجر دے گا۔ ‘‘

’’اور پھر سے لیٹے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کو دیکھنے لگتے اور اپنے من کے بھگوان سے پوچھتے۔ ‘‘

ذیل میں بیدی کی کہانیوں سے چند جملے پیش کیے جاتے ہیں جن سے اندازہ ہو گا کہ مخصوص سیاق و سباق اور مخصوص تہذیبی و فکری پس منظر میں بیدی کے لیے ان الفاظ کا استعمال کتنا ناگزیر تھا۔ اسے تہذیبی تناسبات کا نام بھی دیا جا سکتا ہے بیدی کے یہاں دو یا دو سے زیادہ الفاظ کے استعمال میں زبردست تہذیبی تناسب پایا جاتا ہے۔ بیدی جب کسی طبقاتی لفظ کا انتخاب کرتے نہیں تو اس کی مناسبت سے انھیں تہذیبی لفظ کا بھی انتخاب کرنا پرتا ہے۔ اور پھر تہذیبی لفظ کی مناسبت سے سیاقی لفظ کا انتخاب ان کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کہانی کا تانا بانا طبقاتی لفظ سے تیار ہوتا ہے۔ تہذیبی لفظ گوشت پوست کا کام دیتے ہیں اور سیاقی الفاظ کہانی کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بیدی کے ذخیرۂ الفاظ کی اوپری پرت طبقاری الفاظ پر مشتمل ہے، درمیان میں تہذیبی الفاظ اور نچلی سطح پر سیاقی الفاظ آتے ہیں۔

طبقاتی الفاظ تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔ یعنی کسی کہانی میں جتنے کردار یا اشخاص ہوتے ہیں اتنے ہی طبقاتی الفاظ پائے جاتے ہیں۔ تہذیبی الفاظ طبقاتی الفاظ سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سیاقی الفاظ کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے۔ ان کی تعداد مذکورہ دونوں قسم کے الفاظ کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ ذیل کے مثلث سے طبقاتی، تہذیبی اور سیاقی الفاظ کے حجم اور سطحات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے:

طبقاتی  الفاظ

تہذیبی الفاظ

سیاقی الفاظ

بیدی جب کوئی ’طبقاتی لفظ‘ استعمال کرتے ہیں تو وہ اس کی مناسبت سے دوسرا ’تہذیبی لفظ‘ استعمال کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں ‘اور تہذیبی لفظ کے ساتھ ساتھ ’سیاقی لفظ‘ کی پابندی بھی ان پر عائد ہو جاتی ہے۔ الفاظ کو بروئے کار لانے کی اس پابندی کو لسانیات کی قواعدی اصطلاح میں انتخابی پابندی (Selectional restrictions)  کہتے ہیں۔ مذکورہ مثالوں میں سبطے اور بیگم، سلام دین گوجرا اور اللّٰہ، دھنی رام اور بھگوان اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ بیدی کی کہانیوں سے انتخابی پابندیوں کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

  • اُس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو وہ آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کر دیتا۔ ‘‘
  • ’’اور اب دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہے۔ ‘‘
  • ’’مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ ‘‘
  • ’’سبھی سر جھکائے اندو ہی کی شرن میں آتے تھے اور اسی سے چھما مانگتے تھے۔ ‘‘

(اپنے دکھ مجھے دے دو)

  • ’’رسیلا کی بات تو دوسری ہے۔ شاستروں نے اسے پرماتما کا درجہ دیا ہے۔ ‘‘
  • ’’گرہن کے موقع پر جی کھول کر دان پُن کیا جاتا ہے۔ عورتیں اکھٹی ہو کر ترویدی گھاٹ پر اشنان کے لیے چلی جاتی ہیں۔ ‘‘
  • ’’چند لمحات کے لیے چاروں طرف خاموشی اور پھر رام نام کا جاپ ہوتا ہے۔ ‘‘
  • ’’کتھو رام نے آہستہ سے جواب دیا، ’’میری پتنی ہے۔ ‘‘
  • ’’نرم دل ہندو دان دیتا ہے تاکہ غریب چاند کو چھوڑ دیا جائے۔ ‘‘

(گرہن)

  • ’’پربھات پھیری کے سمے ایسی ہی باتیں سندرلال کو یاد آئیں۔ ‘‘
  • ’’مندر کے باہر پیپل کے پیڑ کے ارد گرد سیمنٹ کے تھڑے پر کئی شردھالو بیٹھے تھے اور راماین کی کتھا ہو رہی تھی۔ ‘‘
  • لوگ رامائن کی کتھا اور شلوک کا ورتن سننے کے لیے ٹھہر چکے تھے۔ ‘‘
  • ’’آج ہماری سیتا نردوش گھر سے نکال دی گئی۔ ‘‘
  • ’’سندرلال نے لاجو کی سورن مورتی کو اپنے دل میں استھاپت کر لیا تھا۔ ‘‘

(لاجونتی)

  • ’’درباری حوصلہ پا کر بولا۔ ’’تمہیں کیا سچ مجھ پر وشواس نہیں۔ ‘‘
  • ’’اور لپک کر اس نے ببّل کو اٹھا لیا اور اسے سینے سے لگا کر ہلنے لگی، جیسے کسی اپار سُکھ اور شانتی کے جھولے میں پڑی ہے۔ ‘‘
  • “اسے ہی تو مایا کہتے ہیں یا لیلا۔ ‘‘
  • ’’جانے وہ سمے کا کون سا انش تھا جس میں……..۔ ‘‘
  • ’’میں نے کوئی بھی پاپ کیا ہو بھگوان، تو میرے شریر میں کیڑے پڑیں۔ ‘‘
  • ’’رادھا نے اس کا نوٹ اپنی آنکھوں سے لگایا اور پرارتھنا کی۔ ‘‘

(ٹرمینس سے پرے)

  • ’’رحیمنا اور گلوّ کے سے شروتا مل جائیں تو اور کیا چاہئیے۔ “
  • ’’ہوش میں آتے ہی جس پہلے شبد کا اچارن سنا کرتی ’منو‘ ہوتا۔ ‘‘
  • ’’پہلا ہی گراس بابو جی کے منھ میں رُکا۔ ‘‘
  • ’’پھر گیتا کے پنّے کھلے، پھر سترھویں ادھیائے کا پاٹھ ہوا۔ ‘‘
  • ’’لیکن من سو ہی کا بھگوان پر پورا وشواس تھا۔ ‘‘
  • ’’اس کے بعد واتاورن میں ہوا کا تتو پربل ہو گیا۔ ‘‘
  • ’’دادی نے دیول میں مورتی کے لیے دستروں کی منّت مانی ہی تھی۔ ‘‘

(لمبی لڑکی)

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ بیدی نے ہندی اور سنسکرت الفاظ کے استعمال میں تہذیبی سیاق و سباق کے علاوہ تہذیبی تناسبات کا بھی خیال رکھا ہے۔ بیدی کی کہانیوں کے مذکورہ اقتباسات میں تہذیبی تناسبات کی بڑی واضح مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یعنی مثالوں میں ایک لفظ کی تہذیبی رعایت سے دوسرا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اوپر کی مثالوں میں چند تہذیبی تناسبات یہ ہیں :

دیوی/دَیا؛ مدن/پرنام؛ شرن/چھما؛ گرہن /دان پُن؛ رام نام /جاب ؛ ہندو/دان؛ راماین /کتھا ؛ سیتا/ نردوس؛ مورتی/ استھاپت؛ رادھا/ پرارتھنا؛جمنا/شروتا؛ شبد/اچارن؛ بھگوان/وشواس؛ مورتی/ دستر؛ گیتا/ پاٹھ، وغیرہ

بیدی نے ہندی اور سنسکرت کے مفرد الفاظ کے علاوہ مرکب الفاظ کا بھی آزادانہ استعمال کیا ہے۔ یہاں بھی کہانی کی تہذیبی فضا کی حقیقی عکاسی ہی بیدی کے مد نظر رہی ہے۔  سنسکرت اور ہندی مرکبات معنی و اظہار میں توہم آہنگی پیدا کرتے ہی ہیں، معنی کی توسیع میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان مرکبات میں ’’کہیں پہلا لفظ صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے اور کہیں بحیثیتِ اسم۔ سابقوں اور لاحقوں کی مدد سے بھی مرکبات بنائے گئے ہیں۔ کہیں کہیں دو لفظوں کو ’ہندی‘ کے طریقے پر ترکیب دیا گیا ہے جس سے مرکبِ امتزاجی کی تشکیل عمل میں آئی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

وچتر گھٹنا، بھاگ ہین، چرتر ہین، جیو جنتو، دُردَشا، بھوگ بِلاس ، شاسترارتھ، پرم دھرم، واہ سنسکار، چھتر چھایا،جنم داتا ، کپال کریا، من ہونا، لوکسیوا، پتی پتنی، دان پُن، انگ انگ، جنک دلاری ، وغیرہ۔

بیدی کی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت صوتیت اور لفظی تکرار ہے۔ لفظ کی ابتدائی اور آخر حالتوں میں آوازوں کی تکرار اور جملوں میں الفاظ کی تکرار سے بیدی کی زبان میں ایک مخصوص قسم کا آہنگ اور حسن پیدا ہو گیا ہے۔ بیدی اپنے جملوں میں بالعموم دو ایسے لفظ استعمال کرتے ہیں جن کی ابتدا ایک ہی آواز سے ہوتی کبھی کبھی تین الفاظ ایک ہی آواز سے شروع ہوتے ہیں۔ اس قسم کی صوتی تکرار کو تجنیسِ صوتی Alliterationکہتے ہیں۔ صوتی تکرار کبھی کبھی دو لفظوں کے آخر میں بھی پائی جاتی ہے جس سے الفاظ مقفیٰ بن جاتے ہیں۔ بیدی نے صوتی تکرار سے بڑے خوبصورت آوازی پیکروں کی تشکیل کی ہے۔

پیکر ہموار سماعی لہریں پیدا کرتے ہیں جو نثری آہنگ میں اور ترنم پیدا کر دیتی ہیں۔ صوتی تکرار، قافیہ بندی اور اس قسم کے خو ش آہنگی یہ آوازی دوسرے سماعی پیکروں کا استعمال عام طور پر شعری اظہار میں زیادہ ہوتا ہے ، لیکن اُسے کیا کیا جائے کہ بیدی کے یہاں نثر میں بھی اس کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ ترنم خوش آہنگی اور آوازی پیکروں کے اعتبار سے بیدی کی نثر کے بعض شعری آہنگ سے قریب تر ہو جاتے ہیں۔

’’دادی نے اسے چھاتی سے میں چھپا لیا۔ ‘‘

’’اب وہ چب ہیں تو سارا سنسار چپ ہے۔ ‘‘

’’آنکھوں سے جوت جاتی رہی۔ ‘‘

’’اس کے بعد تو کوئی بھی مرد اس گھر میں نہ گھستا۔ ‘‘

                                                (لمبی لڑکی)

’’بابو جی کے اندر کوئی جناردھن جگا دیا تھا۔ ‘‘

’’وہ جگہ جہاں صندل کا ضدوق پڑا تھا۔ ‘‘

’’پورا آسمان انھیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگا۔ ‘‘

(ددد)

’’گھر میں ماتا کی موت نے مدن کے بڑا ہونے کے کارن سب سے زیادہ اثر اسی پر کیا تھا۔ ‘‘

’’جبھی ایک چمک سی ، اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی‘‘۔

’’اب ساوتری کی نہیں ستیہ وان کی باری ہے۔ ‘‘ (سس)

’’آج خس کی خوشبو نے بوکھلا دیا۔ ‘‘ (خخ)

                                                            (اپنے دکھ مجھے دے دو)

’’لا جو نے شہری کے ایک لڑکے سے لو لگا لی۔ ‘‘

’’سندر لال نے کہا۔ ’’جانے دو بیتی باتیں۔ ‘‘(ب/ب)

’’سیتا کے ستیہ اور استیہ کی بات ہے یا راکشس راون کے وحشی پن کی۔ ‘‘            (لاجونتی)

’’وہ پلیٹ فارم کا ٹکٹ ٹٹول رہا تھا۔ ‘‘

’’اس کا چہرہ کسی اندرونی تمازت سے تمتمایا ہوا تھا۔ ‘‘

’’ان مردوں کا کیا پتا، کسی سوتن کے سنگ راس رچا رہے ہوں۔ ‘‘

                                                                                    (ٹرمینس سے پرے)

قافیہ بندی کی مثالیں بھی بیدی کی کہانیوں میں جا بہ جا ملتی ہیں۔ وہ جملوں میں دو ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کی آخری آوازیں یکساں ہوتی ہیں۔ اس قسم کی صوتی تکرار الفاظ کو مقفّیٰ بنا دیتی ہے اور یہ ایک خاص قسم کے سماعی اور آوازی پیکروں میں ڈھل جاتے ہیں جن کی ہموار لہریں زبان میں خوشی آہنگی کا حسن پیدا کر دیتی ہیں۔ بیدی نے ان آوازی پیکروں سے اظہاریت کا کام بھی لیا اور معنی کی توسیع کا بھی۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’ایک پہراوا بھگوان دیتا ہے اور دوسرا انسان۔ ‘‘

’’جس میں ادب کی حد سے پر ے اور ننگے پن کی سیما سے  ورے کی باتیں ہوتیں۔ ‘‘

’’لیکن آدھی ہی میں وہ ساری معلوم ہو رہی تھی۔ ‘‘

’’جیجے کو بھی سالیاں ملتی ہیں ایک ایک سالی ، آدھی گھر والی۔ ‘‘

’’اور یوگیشور انہیں کے ساتھ آنگن، انہی کے ساتھ پریم کھیلن کے لئے مچل جاتا۔ ‘‘

’’انسان دنیا میں جس کو سجن سمجھتا ہے وہ کتنا بڑا دشمن  ہوتا ہے۔ ‘‘                                             (لمبی لڑکی)

’’ایک بار میں سوہی کو ہنستے ، بستے دیکھ لوں۔ ‘‘

’’کبھی وہ ان کی دُلاری تھی جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی۔ ‘‘

’’بابو جی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے اور اٹھانے کو ذرا بھی کوشش نہ کرتے۔ ‘‘                       (اپنے دکھ مجھے دے دو)

’’پہلے سے بھی صاف شفاف ، چمکیلی ، نوکیلی….‘‘

’’دونوں بالکل ایسے تھے جیسے جذبات اور خیالات۔ ‘‘

’’مایا۔ جس کے بارے میں سوچیں کہ رام ہوئی، وہیں    حکمت ناکام ہوئی۔ ‘‘

’’کیوں کہ یہ رشتہ بھگوان نے نہیں انسان بنایا تھا۔ ‘‘

                                                                        (ٹرمینس سے پرے)

’’وہ کہہ نہ سکی ساری بات اور چپکی دبکی پڑی رہی۔

’’تشدد اب تاجروں کی نس نس میں بس چکا ہے۔ ‘‘

                                                                                    (لاجونتی)

بیدی بعض جملوں میں آخری الفاظ کچھ اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وہ جملہ یا فقرہ مقفیٰ بن جاتا ہے۔ بیدی کے مقفی جملے فسانۂ عجائب کی مقفیٰ و مسجع عبارات کی یاد دلاتے ہیں۔ خطوطِ غالب اور جوش کی یادوں کی بارات میں بھی یہی انداز ملتا ہے بیدی کی کہانیوں سے ذیل کی مقفیٰ عبارت ملاحظہ ہوں:

’’وہی لوری جو دُلاری مُنی کو سلا رہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ ‘‘

                                                                                    (اپنے دکھ مجھے دے دو)

’’منھ میں میٹھے کا ایک ٹکڑا ڈالا، موہن نے جیب سے دس روپے کا ایک نوٹ نکالا۔ ‘‘

                                                                        (ٹرمینس سے پرے)

’’کیوں کہ موت اسے لوٹ چکی ہے، زندگی ایک بار اس کے ہاتھوں چھوٹ چکی ہے۔ ‘‘

’’اور اب جہاں جائے گی، تباہی اور بربادی لائے گی۔ ‘‘

’’مجال ہے جو گھر میں دیر سے بتی جلے ، کھانے میں نمک زیادہ پڑے۔ ‘‘

’’سر بادلوں میں چھپائے ،کہیں اوپر کی اوپر چلی جائے۔ ‘‘

’’تم جانوروں کی طرح سے نہیں رہو گے، بے موسم کا بھوگ بلاس نہیں کرو گے۔ ‘‘

                                                                                                (لمبی لڑکی)

بیدی کے یہاں تکرار کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ایک ہی لفظ سے مشتق دو ایسے لفظ لاتے ہیں جو عبارت میں ایک لطف پیدا کر دیتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’پھر وہ وہیں بستر پر پڑی گھر کی اس ستار کی کمر میں باز و ڈال کر اس کے تار درست کرنے لگے۔ ‘‘

’’اس نے سوچا اَچّی ہنسے گی اور لطیفے سے پورا لطف لے گی۔ ‘‘

’’ہائے ری سو ہی۔ تو کِسے سو ہے گی۔ ‘‘

            ’’مجھ سے اب کسی کے مرنے نہیں مرے جاتے۔ ‘‘

’’دادی کے پلیت کئے ہوئے کپڑے منّی دھوتی تھی۔    اس پر شیلا ناک پر ڈوپٹہ رکھے ہوئے اندر آتی باہر جاتی۔ دیوندر کو یہ نظارہ بہت نک چھڑا معلوم ہوتا۔ ‘‘

بیدی کی زبان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جہاں انھوں نے کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ لوگوں کی زبان سے عربی اور فارسی کے الفاظ کہلوائے ہیں ، وہاں ان کا تلفظ بدل کر ان کی فطری بول چال کے مطابق کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی عربی فارسی سے آئی ہوئی پانچ آوازوں خ، ز(ض، ظ)  ، غ، ف، اور ق کو علی الترتیب کھ ، ج ، گ ، پھ اور ک میں ڈھال کر کی گئی ہے۔ کہیں کہیں ش کی آواز کو س میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بیدی کی مختلف کہانیوں سے اس صوتی تبدیلی کی چند مثالیں یہ ہیں:

جرورت (ضرورت)  باجو(بازو)  ،جادی ( زادی ) ، جیادہ (زیادہ) ، سریپھ(شریف)  ، جرا،(ذرا) ،کھرسید(خورشید)  ، جور (زور)  ، جندگی(زندگی)  ، جرور (ضرور) ، سکل (شکل)  ، کھبر(خبر) ، کھراب (خراب) ، جلم(ظلم) ، مجا(مزہ) ، گریب(غریب)  ، جات(ذات)  ، آواج(آواز)  وغیرہ۔

حواشی و حوالے

۱۔         خلیل الرحمن اعظمی، اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک (علی گڑھ : انجمن ترقی اردو ہند) ، ۱۹۷۲ء، ص ۲۲۷

۲۔        اسلوب احمد انصاری ، ’’بیدی کا فن ‘‘ مشمولہ ادب اور تنقید (اسلوب احمد انصاری)  ، الٰہ آباد: سنگم پبلشرز، ۱۹۶۸ء۔ ص ۲۹۰

۳۔        ایضاً ، ص ۳۱۵۔

۴۔        ایضاً

۵۔        ایضاً

۶۔        خلیل الرحمن اعظمی، محولہ کتاب ، ص ۲۲۷۔

۷۔        گوپی چند نارنگ ، ’’بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیری جڑیں‘‘ مطبوعہ ہندوستانی زبان(بمبئی، سال ۴، نمبر ۲ (اکتوبر ۱۹۸۲ء)  ص ۵۲

۸۔        وقار عظیم ، نیا افسانہ (علی گڑھ : ایجو کیشنل بک ہاؤس، ۱۹۸۳ء)  ص ۲۶

۹۔         آل احمد سرور، ’’بیدی کے افسانے: ایک تاثر ‘‘مشمولہ راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے (مرتبہ اطہر پرویز) ، علی گڑھ : ایجو کیشنل بک ہاؤس ، ۱۹۸۳ء۔ ص ۲۶۔

۱۰۔       مسعود حسین خاں ، اقبال کی نظری و عملی شعریات، مشمولہ اقبال کی نظری و عملی شعریات (سری نگر: اقبال انسٹی ٹیوٹ، کشمیر یونیورسٹی ، ۱۹۸۳ء) ص ۶۴ و ۶۵۔

۱۱۔        ڈل۔ ایچ۔ ہائمس (Dell H. Hymes) ، ۱۹۸۲ء”On Communicative Competence”مشمولہ Sociolinguistic : Selected Readingsمرتبہ جے۔ بی۔ پڑائڈ اور دیگر) ،ہارمنڈوزورتھ: پنگوِن بکس ، ۱۹۷۲ء ص ۲۶۹تا ۲۹۳۔

۱۲۔       باقر مہدی ، ’’راجندر سنگھ: بھولا سے ببّل تک‘‘ مشمولہ راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے (مرتبہ اطہر پرویز) ، علی گڑھ : علی گڑھ ایجوکیشنل بک ہاؤس ، ۱۹۸۳ ء۔ ص ۶۱۔

۱۳۔       گوپی چند نارنگ ، محولہ مضمون ، ص ۲۸۔

۱۴۔       بحوالہ راجندر سنگھ بیدی، ’’افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل ‘‘ مشمولہ راجندر سنگھ بیدی اور ان کے افسانے (مرتبہ اطہر پرویز) ، علی گڑھ : ایجو کیشنل بک ہاؤس ، ۱۹۸۳ء ص ۲۳۔

۱۵۔       راجندر سنگھ بیدی ، محولہ مضمون ، ص ۲۳۔

۱۶۔       بحوالہ گوپی چند نارنگ ، محولہ مضمون ، ص ۲۹۔

۱۷۔      راجندر سنگھ بیدی ، محولہ مضمون ، ص۲۳۔

۱۸۔       ایضاً، ص ۲۳۔

۱۹۔       ایضاً ، ص ۲۰۔

۲۰۔      اسلوب احمد انصاری، محولہ کتاب، ص۱۱۵۔

۲۱۔       گوپی چند نارنگ ، محولہ مضمون ، ص ۲۸ تا ۵۳۔

۲۲۔      ایضاً ، ۳۵۔

۲۳۔      دیکھئے نلزایرک انکوسٹ (Nils Erik Enkvist) کا مضمون “On Defining Style”مشمولہ Linguistics and Style(نلزایرک انکوسٹ اور دیگر)  ، لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ۱۹۶۴ ء)  ص ۱۲

۲۴۔      دیکھئے مرزا خلیل احمد بیگ کا مضمون ’’قدیم اردو کا سرمایۂ الفاظ‘‘ مشمولہ اردو کی لسانی تشکیل (مرزا خلیل احمد بیگ)  ، تیسرا ایڈیشن (علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، ۲۰۰۰)  ، ص ۱۶۷ تا ۱۸۳۔ ۱۹۸۸ء)

 

ذاکر حسین : زبان اور اسلوب

ڈاکٹر ذاکر حسین ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئے ، لیکن جب انہوں نے ہوش سنبھالا تو بیسویں صدی شروع ہو چکی تھی۔ اسلامیہ ہائی اسکول ، اٹاوہ سے میٹریکولیشن کا امتحان پا سکرنے کے بعد وہ علی گڑھ آ گئے اور محمڈن اینگلو اورینٹل (MAO)  کالج میں رہ کر انٹر میڈیٹ اور بی۔ اے۔ کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۲۰ء میں جب وہ ایم۔ اے کر رہے تھے تو ایس زمانے میں گاندھی جی علی گڑھ آئے۔ ان کی تحریک پر ذاکر صاحب نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایم۔ اے۔ او۔ کالج کو خیر باد کہا اور الگ جا کر ایک قومی ادارے کی بنیاد ڈالی۔ اس وقت ذاکر صاحب کی عمر محض ۳۲ سال تھی۔ مزید تعلیم کے لیے وہ جرمنی گئے اور وہاں سے ۱۹۲۵ء میں معاشیات میں پی۔ ایچ۔ ڈی۔ (Ph.D)  کی ڈگری حاصل کی۔ ذاکر صاحب کی زندگی کے یہ ابتدائی ۲۵۔ ۳۰ سال ان کی ذہنی تربیت اور ان کے شعور کی نشو و نما میں نمایاں اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جو کچھ بھی سیکھا  اور حاصل کیا وہ انھیں ماہ و سال کی گردش کا نتیجہ تھا۔ ان کی علمی اور ادبی صلاحیتوں کو بعد کے دور میں جو جِلا ملی اس کا خمیر انھیں ایّام میں تیار ہوا۔ ان کے اسلوب اور اندازِ بیان کو متعین کرنے اور اس میں انفرادیت کا رنگ بھرنے میں اس دور کا نمایاں حصّہ رہا ہے۔

ذاکر صاحب کی طالب علم علمی کا بہترین دور علی گڑھ میں گزرا۔ ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل اور ذہن و شعور کی پرداخت میں علی گڑھ کا زبردست حصّہ رہا ہے۔ اردو اور انگریزی تحریر و تقریر پر قدرت انھیں یہیں حاصل ہوئی۔ ذاکر صاحب کا شمار علی گڑھ کے ذہین طالب علموں میں ہوتا تھا؟ اور ذہین طالب علموں کے جو ہریا تو کالج کے جلسوں اور ادبی و علمی اجتماعات میں کھُلتے تھے یا پھر طلبہ کی یونین میں رشید احمد صدیقی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ذاکر صاحب کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں کہ ان کی اردو کی تقریر و تحریر بہتر ہوتی ہے یا انگریزی کی۔ ‘‘(١)  ذاکر صاحب کا شمار اس زمانے کے علی گڑھ کے بہترین مقررین میں ہوتا تھا۔ یونین ہال کے جلسوں میں جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوتے تھے تو ایک سماں چھا جاتا تھا۔ اور بقولِ رشید احمد صدیقی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ’’ کوئی بہت بڑا شاعر اپنی بہترین نظم سنا رہا ہے جس کے ایک ایک شعر پر مجمع تلے اوپر ہو رہا ہے۔ ‘‘(۲)  ذاکر صاحب کی تقریر میں بہت روانی ہوتی تھی۔ ان کے الفاظ جستہ، جملے بر محل اور عبارت صاف اور شگفتہ ہوتی تھی۔ خیالات میں تازگی اور توانائی پائی جاتی تھی۔ ذاکر صاحب کو جو قدرت تقریر پر حاصل تھی وہی قدرت انھیں تحریر پر بھی حاصل تھی۔ مشکل سے مشکل موضوع پر بھی جب وہ قلم اٹھاتے تو زبان کی روانی اور بیان کی قدرت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ مضمون نگاری کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا۔ علی گڑھ میں طالب علم کے زمانے میں وہ کالج میگزین میں رپ (RIP)  کے نام سے مضامین لکھا کرتے تھے۔ موضوع پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ ان کا انداز بھی بیحد دل کش ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے مضامین کا بڑے شوق سے انتظار کیا کرتے تھے۔ اظہار بیان پر جو قدرت اور عبور انھیں اردو میں حاصل تھا وہی انگریزی میں بھی حاصل تھا۔ انگریزی زبان میں ان کی لیاقت اور صلاحیت کو دیکھ کر ایک بار مسلم یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر مسٹر یمرباتھم نے کہا تھا کہ ’’ڈاکٹر ذاکر حسین کی انگریزی تحریرو تقریر بالخصوص ان کی حاضر جوابی کا مقابلہ برطانوی پارلیمنٹ کے بہترین اراکین سے کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘(۳)  رشید احمد صدیقی کے ذاکر صاحب نے بڑے گہرے، دیرینہ اور دوستانہ مراسم تھے۔ انھیں ذاکر صاحب کی تقریریں سننے کا بار ہا اتفاق ہوا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ ذاکر صاحب کی تقریر ہر طرح کے تکلّفات سے قطعی بری، رواں، جچی تلی، دل نشیں اور فکر انگیز ہوتی تھی۔ ذاکر صاحب کا یہ اسلوب اور اندازِ بیان ان کی تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔

(۲)

ذاکر صاحب نے بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں اور معاشیات کے دقیق مسائل پر بھی قلم اٹھایا۔ انہوں نے افلاطون کی Republic کا اردو میں ترجمہ بھی کیا اور تعلیمی موضوعات پر خطبات بھی تحریر کیے علاوہ ازیں ہندوستان میں تعلیم کی تعمیرِ نو کے بارے میں بھی خامہ فرسائی کی۔ ذاکر صاحب کی یہ تمام تحریریں مواد اور موضوع کے اعتبار سے تو اہم ہیں ہی، زبان و اسلوب اور اندازِ بیان کے نقطۂ نظر سے بھی انفرادی شان رکھتی ہیں۔ ’’ابّو خاں کی بکری‘‘ سے قطع نظر جس کا انداز تمثیلی ہے، ذاکر صاحب کا اسلوب براہِ راست (Direct)  اسلوب کی ایک عمدہ مثال ہے۔ جس میں رمز و اشارہ اور کنایہ نیز علامت و استعارہ سے کام نہیں لیا جاتا۔ یہی وجہ ہے ان کا اسلوب شاعرانہ اندازِ بیان سے کوسوں دور ہے۔ ان کے یہاں نہ تو مقفیٰ و مسجّع عبارات ملتی ہیں اور نہ ہی رعایتِ لفظی نظر آتی ہے، اور نہ ہی اسی طرح کی کسی اور رنگینی اور تکلفات سے کام لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی بات سلیں، بے ساختہ اور رواں انداز میں کہتے چلے جاتے ہیں۔ جسے ہم اردو کا بنیادی اسلوب کہہ سکتے ہیں پروفیسر گوپی چند نارنگ کو بھی اس سے اتفاق ہے۔ انھوں نے بجا طور پر ذاکر صاحب کی نثر کو اردو کے بنیادی اسلوب کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ (۴)  ذاکر صاحب کی نثر سادہ لیکن معیاری اور علمی نثر ہے۔ ان کے ہاں نہ تو بے جا عربیت اور فارسیت پائی جاتی ہے اور نہ ہندی الفاظ کا بے جا اور بے دھڑک استعمال ملتا ہے۔ محاورات بھی انھوں نے وہی استعمال کیے ہیں جو اردو بول چال کا حصّہ ہیں اور جن سے اردو زبان کی روانی مجروح نہیں ہونے پاتی۔ ذاکر صاحب کے جملے بالعموم چھوٹے ہوتے ہیں، جس طرح بات چیت کے دوران ادا کیے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں بات کو سمجھا سمجھا کر کہنے کا انداز ملتا ہے، جس وضاحتی انداز کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے جملوں کو ترکیب دینے والے فقرے اور ٹکڑے بھی عموماً چھوٹے ہوتے ہیں اور بعض جگہوں پر ان ٹکڑوں کو دہرایا بھی جاتا ہے۔ ذاکر صاحب کے ہاں اگر کوئی بڑا جملہ پایا جاتا ہے تو وہ انھیں چھوٹے چھوٹے فقروں اور ٹکڑوں کو ملا کر بنتا ہے جس سے پیچیدگی پیدا نہیں ہونے پاتی اور نہ نحوی ترکیب میں کوئی الجھاؤ پیدا ہوتا ہے۔

پروفیسر آل احمد سرور نے ایک جگہ نظم اور نثر کی زبان میں فرق بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ نظم کے زبان ’’تخلیق‘‘ ہوتی ہے، اور نثر کی زبان ’’تعمیری‘‘۔ (۵)  انہوں نے نثر کے اسلوب میں تعمیری اظہار کو بنیادی شرط قرار دیا ہے جس طرح کہ نظم کے اسلوب میں بنیادی شرط تخلیقی اظہار ہے۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ذاکر صاحب کی نثر تعمیری اظہار کی ایک بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ تعمیری اظہار میں خیالات نہایت واضح ہوتے ہیں اور اظہار یا انداز بیان براہِ راست ہوتا ہے جب کہ تخلیقی اظہار۔ میں اظہار رمزیہ اور علامتی ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ اسلوب کے اعتبار سے شاعری کا تعلق بنیادی طور پر تخلیقی اظہار سے ہے لیکن بعض ادیبوں کی نثر بھی تخلیقی اظہار کا اعلا نمونہ ہوتی ہے۔ ایسی نثر شاعری سے قریب تر ہو جاتی ہے۔ اس میں رمز یہ اسلوب پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ اشارہ کنایہ، علامت اور استعارہ جیسے شاعرانہ وسائل سے کام لینے لگتی ہے۔ ذاکر صاحب کی نثر تو رمزیہ اور علامتی ہے اور نہ تخلیقی۔ اسی لیے یہ ترسیلی الجھنوں سے پاک ہے اور قاری سے براہِ راست رشتہ قائم کر لیتی ہے۔

(۳)

ذاکر صاحب نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے سامنے نثر کے دو بنیادی اسلایب موجود تھے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ ذاکر صاحب کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل علی گڑھ میں ہوئی اور ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو جِلا وہیں کے ماحول سے ملی۔ ذاکر صاحب کے سامنے ایک اسلوب تو خود سر سیّد احمد خاں کا تھا جو سادہ اور براہ راست اسلوب تھا اور جس میں نہ محاورہ بندی تھی اور نہ مرصعّ کاری۔ زبان کا پر شکوہ اندازِ بیان بھی اس میں مفقود تھا اور شاعرانہ اظہار سے تو یہ اسلوب عاری تھا ہی۔ سر سیّد کے اس اسلوب کا براہِ راست تعلق میر امّن کے اسلوب سے تھا جو اردو کا سادہ اور رواں اسلوب تھا۔ سر سیّد کے رفقاء میں حالی اس اعتبار سے سب سے زیادہ ممتاز درجہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے اس اسلوب کو اپنی تحریروں میں برتنے کی کوشش کی۔ حالی نے دراصل سادہ نگاری اور براہ راست اندازِ بیان کی اس روایت کو مستحکم کیا تھا جس کی بنیاد سر سیّد نے ڈالی تھی، لہٰذا حالی کے اسلوب کو ہم سر سیّد کے اسلوب کی توسیع کہہ سکتے ہیں جس طرح کہ سر سیّد کا اسلوب میرا مّن کے اسلوب کی توسیع قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعد کے دور میں یہی اسلوب مولوی عبدالحق نے اختیار کیا اور یہی ذاکر صاحب نے۔ سر سیّد اور حالی کے اسالیب میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ پروفیسر آل احمد سرور کے خیال میں ’’سر سیّد اور حالی کے یہاں خیال واضح اور ان کے اظہار میں اعتدال اور موزونیت ہے، یعنی نہ لفّاظی ہے اور نہ ناہمواری۔ ‘‘(۶)  سر سیّد اور حالی کے اسالیب کی جن خصوصیات کا ذکر اقتباس بالا میں کیا گیا ہے۔ ان کا عکس مولوی عبدالحق اور ذاکر صاحب کی نثر میں بہ خوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ خواہ سر سیّد ہوں یا حالی، عبدالحق ہوں یا ذاکر حسین، ان سب نے زبان کے عصری تقاضوں کو پورا کرنے، زبان میں اپنے دور کی روح کو جذب کرنے اور زبان کو زمانے کی بدلتی قدروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان چیزوں کا ساتھ رمزیہ یا شاعرانہ اسلوب نہیں دے سکتا تھا۔

ذاکر صاحب کے سامنے دوسرا اسلوب مرزا رجب علی بیگ سرور کی فسانۂ عجائب کا تھا جو بے انتہا مرصع ومسجع اور مقفیٰ اسلوب تھا۔ جس کے ہر جملے میں تک بندی اور قافیہ پیمائی پائی جاتی تھی۔ اور جو فارسی الفاظ و تراکیب سے حد درجہ بوجھل اور لفظی و معنوی صنعتوں سے گراں بار اسلوب تھا۔ ذاکر صاحب کے مزاج اور عصری تقاضوں سے یہ اسلوب کسی بھی طرح میل نہیں کھاتا تھا۔

ذاکر صاحب نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا وہ مختلف النوع تھے۔ ان کے دائرۂ فکر میں قومی اور بنیادی تعلیم کے مسائل سے لے کر بچّوں کی تربیت معاشیات، مذہب، ادب، سیاست، و تمدن اور حالات حاضرہ وغیرہ سبھی کچھ شامل تھے۔ ان تمام چیزوں کے اظہار کے لیے وہ ایک ایسی زبان کو بروئے کار لانا چاہتے تھے جو ترسیل کی الجھنوں سے پاک، شاعرانہ اندازِ بیان سے میر امّن اور رمز یہ تکلفات سے آزاد ایک نہایت سادہ، رواں اور براہِ راست زبان ہو۔ ورد وہ اپنے ما فی الضمیر کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتے تھے۔ سر سیّد نے اردو زبان کو بہت کچھ اس لائق بنا دیا تھا کہ وہ عصری تقاضوں کو پورا کر سکے۔ سر سیّد کے سامنے زبان کا افادی پہلو تھا، تخلیقی یا تاثراتی پہلو نہیں۔ سر سیّد نے اس میں عصری روح پھونکی تھی۔ اسی لیے ان کی نثر اگر چہ جمالیاتی نقطۂ نظر سے ایک ’’خالی خولی‘‘ نثر تھی، لیکن ایک ترقی یافتہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تھی۔ ذاکر صاحب نے سر سیّد کے اسلوب کو مشعلِ راہ بنایا۔ اور زبان سے تقریباً وہی کام لیا جو سر سیّد لے چکے تھے۔ ذاکر صاحب کو اردو زبان کا معیاری روپ اور لب و لہجہ ملا تھا جس میں ہر طرح کے خیال کے اطہار کی قوت، قدرت اور صلاحیت موجود تھی۔ ذاکر صاحب نے زبان سے وہ کام لیا جو ایک عصری مزاج داں لینا چاہتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ زبان ذاکر صاحب کے تابع تھی، ذاکر صاحب زبان کے تابع نہ تھے۔ ذاکر صاحب کی زبان پر ایک جگہ تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر محمد مجیب نے لکھا ہے کہ ادبی تصانیف میں زبان کی قینچی اکثر کاٹنے والے کے قابو میں نہیں رہتی، خود اپنے ہنر دکھانے لگتی ہے، لیکن ذاکر صاحب کی قدرتی استعداد نے زبان کو اپنا خادم بنا کر ان کی تحریروں میں وہ خوبیاں پیدا کر دی ہیں جو ادیبوں کی تحریر کو برسوں کی مشق اور محنت کے بعد نصیب ہوتی ہیں۔ ‘‘ (۷)  مجیب صاحب کی اس رائے سے ہر وہ شخص اتفاق کرے گا جس نے ذاکر صاحب کی تحریروں کا بغور مطالعہ کیا ہے اور ان کے اسلوب اور اندازِ بیان کو قریب سے دیکھا ہے۔

(۴)

ذاکر صاحب کی زبان اور ان کی اسلوب کی بعض خصوصیات کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

۱۔                     ذاکر صاحب کی نثر کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بالعموم چھوٹے جملے استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی جملے کی نحوی ترکیب طویل ہونے لگتی ہے تو وہ اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جس میں کسی ایک ٹکڑے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو دوسرے تمام ٹکڑوں سے بڑا ہوتا ہے اور مکمل جملہ ہوتا ہے۔ ذیل کی مثال سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔

’’اس نصب العین کے حصول کے لیے جو نظامِ تعلیم کارآمد ہو سکتا تھا وہ وجود میں آ گیا، بہت کچھ دوسروں کی مدد سے، کچھ کچھ اپنی کوشش سے۔ ‘‘(۸)                                                                         (مسلمانوں کی تعلیم)  (۸)

اس جملے میں یہ ظاہر تین ٹکڑے ہیں، ایک چھوٹا ٹکڑا اور دو بڑے ٹکڑے۔ پہلا ٹکڑا بڑا ہے۔ اس میں فاعل، فعل، مفعول، نیز مبتدا اور خبرسب اپنی اپنی جگہ بہت مناسب ہیں۔ بقیہ دو ٹکڑے اس کے تابع ہیں۔ ذاکر صاحب اسی بات کو تین ٹکڑوں میں کہنے کے بجائے، انھیں الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے صرف ایک جملے میں بھی کہہ سکتے تھے، یعنی۔

اس نصب العین کے حصول جو نظام تعلیم کار آمد ہو سکتا تھا وہ بہت کچھ دوسروں کی مدد سے اور کچھ کچھ اپنی کوشش سے وجود میں آ گیا۔

 یہاں نہ تو کوئی لفظ کم کیا گیا ہے۔ اور نہ کسی لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے محض نحوی ترتیب کی تبدیلی سے تین ٹکڑوں کو ملا کر ایک جملہ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن چوں کہ ذاکر صاحب بڑے جملے ترتیب دینا پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے انہوں نے اس جملے کو تین چھوتے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اس کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:

’’وہ ایسے تجربے کر سکیں گے جو حکومت شاید اپنے کام کے پھیلاؤ کی وجہ سے نہ کر سکے، اور وہ اپنے تجربوں سے، انکی کامیابیوں سے اور انکی ناکامیوں سے، حکومت کے پھیلے ہوئے تعلیمی کام کو نئی راہیں دکھا سکیں گے۔ ‘‘                                                                  (بنیادی تعلیم)

یہ جملہ یوں بھی تحریر کیا جا سکتا تھا:

وہ ایسے تجربے کر سکیں گے جو حکومت شاید اپنے کام کے پھیلاؤ کی وجہ سے نہ کر سکے اور وہ اپنے تجربوں، انکی کامیابیوں اور ناکامیوں سے حکومت کے پھیلے ہوئے تعلیمی کام کو نئی راہ دکھا سکیں گے۔

ذاکر صاحب چھوٹے چھوٹے جملوں کی مدد سے اپنے ما فی الضمیر کو کس طرح ادا کرتے تھے، اس کی ایک بہترین مثال ذیل میں پیش ہے۔

’’تم جس دیس میں یہاں سے نکل کر جا رہے ہو وہ بڑا بدنصیب ملک ہے۔ وہ غلاموں کا ملک ہے۔ جاہلوں کا ملک ہے۔ بے انصافیوں کا ملک ہے۔ بے رحمیوں کا ملک ہے۔ ظالمانہ رسموں کا ملک ہے۔ غافل پجاریوں کا ملک ہے۔ افلاس اور ناداری کا مُلک ہے۔ اسی میں جینا ہے اور اسی میں مرنا ہے۔ اس لیے یہ ملک تمہاری ہمتوں کے امتحان، تمہاری قوتوں کے استعمال اور تمہاری محبت کی آزمائش کی جگہ ہے۔ ‘‘ (قومی تعلیم)

۲۔        ذاکر صاحب کے اسلوب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ نثر کا ایک مخصوص آہنگ برقرار رکھنے کے لیے یا مخصوص نحوی توازن کے خیال سے جملوں کے اختتام میں مختلف افعال کی ایک ہی تحریفی شکلیں استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل کے اقتباس میں ان کے جملے لیں، کریں، دھونڈیں، اور ڈالیں پر ختم ہوتے ہیں جو مختلف افعال کی ایک ہی تحریفی شکلیں ہیں:

’’بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے کام کا جائزہ لیں، اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں سے سبق حاصل کریں، اور نصف صدی کے تجربے کی روشنی میں آگے کی راہ دھونڈیں، یعنی اپنے پچاس سال کے تعلیمی کام پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں۔ ‘‘                                                          (مسلمانوں کی ثانوی تعلیم)

اسی قسم کا ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو:

’’کیا اسی سماج میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی گیت نہیں جو سب مل کر گائیں کوئی تہوار نہیں جو سب مل کر منائیں، کوئی شادی نہیں جو سب مل کر رچائیں، کوئی دکھ نہیں جسے سب بٹائیں۔ ‘‘    (بنیادی تعلیم)

۳۔ جس طرح ذاکر صاحب افعال کی یکساں صورتیں استعمال کرتے چلے جاتے ہیں اسی طرح اسم کی یکساں صورتیں (بالعموم جمع کی صورتیں)  بھی وہ تکرار کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذیل کے اقتباس میں جمع کی صورتوں مختلف اسماکے ساتھ ایک ہی جملے میں ساتھ بار استعمال کی گئی ہے:

’’اس لیے کہ قوم کے عام نصب العین کو بدلنے کا کام اس کے مدبّروں اور مفکروں، اس کے ادیبوں اور شاعروں اس کے دینی خادموں اور سیاسی کارکنوں کا بھی ہے اور اس کے اعلیٰ اداروں کا بھی۔ ‘‘

                                                                                                (مسلمانوں کی ثانوی تعلیم)

ایسی ہی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:

’’کیا حیاتِ ملّی کے تمام گوشے جنھیں پست مقصدی نے اجاڑ دیا ہے، نئی امنگوں  اور نئے ولولوں، نئی کوششوں اور نئی امیدوں۔ ، غرض ایک نئی زندگی کی بہار سے لہلہانے لگیں گے۔ ” (مسلمانوں کی ثانوی تعلیم)

۴۔  ذاکر صاحب اپنی بات کو وضاحت کے ساتھ اور پھیلا کر کہنے کے عادی ہیں۔ ان کا یہ وضاحتی انداز بہت فطری معلوم ہوتا ہے۔ وہ بعض اوقات فقرے پر فقرہ بِٹھاتے چلے جاتے ہیں۔ ذیل کے اقتباس میں فقرۂ شرطیہ جو “اگر” سے شروع ہوتا ہے، کئي بار استعمال ہوا ہے۔

اگر ہم مسلمانوں کی حیثیت سے حرّیت خواہ ہونے پر مجبور ہیں، اگر ہم دنیا سے ہر قسم کی غلامی مِٹانے پر مامور ہیں،۔ اگر ہم انسانیت کی ایسی معاشی تنظیم چاہتے ہیں جس میں امیر و غریب کا فرق انسانوں کی اکثریت کو انسانیت کے شرف سے ہی نہ محروم کر دے، اگر ہم دولت کی شرافت کی جگہ تقوے کی شرافت کا قیام چاہتے ہیں، اگر ہم نسل اور رنگ کے تعصّبات کو مِٹانا اپنا فرض سمجھتے ہیں تو ان سب فرائض کو پورا کرنے کا موقع سب سے پہلے خود اپنے پیارے وطن میں ہے” (مسلمانوں کی ثانوی تعلیم)

ایک اور اقتباس میں “کب تک” سے شروع ہونے والے فقرے ملاحظہ ہوں:

“ہم کب تک اس سیاسی ریگستان میں  ہل چلائیں، کب تک شبہے اور بدگمانی کے دھوئیں میں تعلیم کو دَم گھُٹ گھُٹ کر سِسکتے ہوئے دیکھیں، کب تک ہم اس ڈر سے تھرّاتے رہیں کہ ہماری عمر بھر کی محنت کو کوئی سیاسی حماقت، کوئی ایک سیاسی ضد بھسم کر دے گی۔ ” (بنیادی تعلیم)

۵۔  ذاکر صاحب کے یہاں بعض اوقات الفاظ اور ترکیبیں تکرار کے ساتھ واقع ہوتی ہیں۔ مثلاً:

درخت میں ہی ڈالی اور پتّی بھی اپنا ایک وجود رکھتی ہے، لیکن ڈالی یا پتّی کے ٹوٹ جانے سے درخت ختم نہیں ہوتا۔ درخت سے الگ ہو کر ڈالی اور پتّی کے لئے سوائے فنا کے اور کچھ نہیں۔ ” (قومی تعلیم)

اس مختصر سے اقتباس میں درخت، ڈالی اور پتّی کو تین تین بار دہرایا گیا ہے۔

۶۔  ذاکر صاحب کے یہاں محاوروں کا وہ  استعمال تو نہیں پایا جاتا جو ڈپٹی نذیر احمد اور خواجہ حسن نظامی کے یہاں ملتا ہے۔  لیکن ان کی نثر محاوروں سے عاری بھی نہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

“یہ بڑا پِتّا مارنے کا کام ہے۔ “

“یوں مل جل کر کام کرنے میں کھوے سا کھوا چھِلتا ہے۔ “

جس میں اپنے کو بدلتے رہنے کی طاقت نہیں وہ بھی موت کے ہی گھاٹ اترتا ہے۔ “

سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جاتا ہے۔ “

کیاا اس وقت بھی ہمارا نساب ایسا ہی چوں چوں کا مربّا ہو گا؟”

“خوشامد کا جادو بڑے بڑے گھاگھوں پر چل جاتا ہے۔ “

“تمدّنی زندگی میں دیے سے دیا یوں ہی جلتا رہتا ہے۔ “

“اور کون سی سرسوں ہے جو ہتھیلی پر جم جاتی ہے۔ “

“نئی دواؤں کو برتتے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ “

“جو خود تھالی کے بینگن کی طرح اِدھر اُدھر لڑھکتا ہو، وہ دوسروں کو ایک سمت میں کیسے چلا سکتا ہے؟”

“وہ اس دشمن سے چوکنّا رہے  کہ ذرا آنکھ جھپکی اور اس نے وار کیا۔ “

“مسلمان ہونے کے یہ معنی نہیں کہ آدمی ایک خاص جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور اسی کے دنیاوی اور سیاسی مفاد کی اُدھیڑ بُن میں لگا رہتا ہے۔ “

۷۔  ذاکر صاحب نے اپنی تحریروں میں میں بعض جگہ ہندی نژاد الفاظ بڑی خوب صورتی کے ساتھ کھپائے ہیں۔ ہندی الفاظ کے استعمال میں انھوں نے اگر ایک طرف سیاق و سباق کا خیال رکھا ہے تو دوسری طرف ترسیل کی آسانی بھی ان کے پیشِ نظر رہی ہے، یعنی کہ جو بات  وہ کہنا چاہتے ہیں اسے اچھّی طرح سے کہہ سکیں۔ ہندی الفاظ کے استعمال سے انھوں نے نثر کے آہنگ کو  کہیں بھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ اسی لئے یہ الفاظ گراں نہیں گزرتے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

“سخت بیماری کی حالت میں جسم اپنے روگ کو  دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرتا ہے”

“ہر ہندوستانی کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ قوم کی سیوا کر کے ہی وہ اپنی ترقّی کی راہ نکال سکتا ہے۔ “

“اپنی قومی زندگی کے تحفّظ و ترقّی کے لئے ایک نئے نظام کی داغ بیل ڈالنے کا کٹھِن مگر ضروری کام شروع کریں۔ “

” کلکتّے کے ایک کالج میں ۱۳ ہزار ودیارتھی تعلیم پاتے ہیں۔ “

“ہماری رنگارنگ دنیا میں ایسی چیزوں کی کیا کمی ہے، جنھیں دیکھ کر آدمی اچنبھے سے انگلی دانتوں میں دبا لے۔ “

“جو پھر سنسار کے اندھیرے میں ہر تاریک گوشے کو اجاگر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ “

کوئی دنیا کو بنانے والے اور پالن ہار کے دھیان میں سرشار ہے۔ “

“جسم کا دکھ بالکل میکانکی طور پر ہماری ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ “

حواشی اور حوالے

۱۔ رشید احمد صدّیقی، ذاکر صاحب (دہلی، کتابی دنیا لمیٹیڈ، س ن)  ص ۳۵۔

۲۔ ایضاً، ص ۲۵

۳۔ ایضاً، ص ۳۵

۴۔ دیکھئے گوپی چند نارنگ کا مضمون “ذاکر صاحب کی نثر: اردو کے بنیادی اسلوب کی ایک مثال” مشمولہ “ادبی تنقید اور اسلوبیات” (گوپی چند نارنگ)  دہلی، ایجوکیشنل بک ہاؤس، ۱۹۸۹ء۔

۵۔ آل احمد سرور، “نثر کا اسٹائل”، مشمولہ “نظر اور نظرئے” (آ؛ احمد سرور) ، نئی دہلی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، ۱۹۷۳ء، ص ۴۶

۶۔ ایضاً، ص ۴۸

۷۔ محمّد مجیب، “پیش لفظ”۔ “تعلیمی خطبات” (ذاکر حسین) ، نئی دہلی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، ۱۹۸۴ء ، ص ۱۰۔

۸۔ یہ اور اس کے بعد کی تمام مثالیں ڈاکٹر ذاکر حسین کی تصنیف “تعلیمی خطبات” (نئی دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، ۱۹۸۲ء)  سے لی گئی ہیں۔

 

اکبر الٰہ آبادی اور ’لغاتِ مغربی‘: ایک اسلوبیاتی مطالعہ

اکبر الٰہ آبادی نے ایک موقع پر کہا تھا:

ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہو گی

لغاتِ مغربی بازار کی بھا کھا سے ضم ہوں گے

لیکن یہ بات خود اکبر کے کلام پر صادق آتی ہے، کیوں کہ ان کے یہاں ’لغاتِ مغربی‘ کا بے دریغ استعمال پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں انگریزی الفاظ کا استعمال جس کثرت اور تنوع کے ساتھ کیا ہے، کسی دوسرے اُردو شاعر نے آج تک نہیں کیا۔

اکبر الٰہ آبادی کو اُردو میں طنز و مزاح کا سب سے بڑا نمائندہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اکبر کا طنزو مزاح اس دور میں رونما ہونے والی سماجی اور تہذیبی تبدیلیوں کے زیر ِ اثر وجود میں آیا تھا۔ اکبر نے جب آنکھیں کھولیں تو ایک نئی تہذیب کی آمد آمد تھی۔ اُن کے دل میں یہ خیال بلکہ خوف پیدا ہوا کہ یہ نئی تہذیب مشرق کی صدیوں پر انی تہذیب کو ختم کر دے گی۔ مشرقی تہذیب انھیں بے حد عزیز تھی۔ وہ پرانی قدروں کو مٹتا اور ملیامیٹ ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ وہ روحانیت کے قائل تھے۔ یہ نئی یا مغربی تہذیب مادّیت کی پروردہ تھی جسے وہ روحانیت کے علی الرغم تصّور کرتے تھے۔ اکبر کی شاعری کا محور نئی اور پرانی تہذیب کا ٹکراؤ، مغربی اور مشرقی اقدار کی کشمکش نیز مادی روحانی قوتوں کی پنجہ آزمائی ہے۔ اکبر اس نئی مغربی یا مادّی تہذیب کے کھوکھلے پن کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کی اندھی تقلید کو اہلِ قوم کے لئے مُضر تصّور کرتے تھے۔ اسی لئے وہ اس تہذیب کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا چاہتے تھے۔ اس کام کے لئے انھوں نے طنز و ظرافت کا سہارا لیا اور بقولِ آل احمد سرور ’’ہنسی ہنسی میں سینکڑوں نشتر لگائے اور سینکڑوں جلے دل کے پھپھولے توڑے۔ ‘‘ (۱)

اکبر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے مغربی تعلیم ، مغربی تہذیب اور مغربی طرز زندگی کو اپنے طنزو مزاح کا نشانہ بنانے کے لئے ’لغاتِ مغربی ‘ ہی کا سہارا لیا، اور اس میں انھیں بیحد کامیابی حاصل ہوئی۔ اگر ان کے کلام سے انگریزی لفظیات کو خارج کر دیا جائے تو نہ طنز کے وہ نشتر باقی رہیں گے اور نہ مزاح کی وہ چاشنی ہی برقرار رہے گی جو اکبر کے کلام کا طرۂ امتیاز ہے۔

اکبر کے کلام کی انگریزی لفظیات کو دو بڑے حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔         موضوغی الفاظ (Content Words)

۲۔        ارتباطی الفاظ (Relational Words)

اکبر کے کلام میں موضوعی الفاظ کی تعداد ارتباطی الفاظ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اکبر نے طنزو ظرافت کا زیادہ تر کام انگریزی کے موضوعی الفاظ سے ہی لیا ہے۔ موضوعی الفاظ معنیاتی اعتبار سے خود کفیل ہوتے ہیں، یعنی ان کی حیثیت آزاد صرفیے ( Free Morphemes)  کی ہوتی ہے۔ یہ الفاظ کسی نہ کسی موضوع یا مفہوم کا اظہار ہوتے ہیں۔ اکبر کے کلام میں پائے جانے والے انگریزی کے چند موضوعی الفاظ حسبِ ذیل ہیں:۔

ڈنر، ہوٹل، گزٹ، کالج، کیک، لائف، نیچر، اسپیچ، پارک، لیڈر، پبلک، پائپ، ٹائپ، ٹیبل، کٹلٹ، سوپ، پمپ، سٹی ، پروفیسر، ہال، نیشن، مشین گریجویٹ، اولڈ، کونسل، نیٹو، ووٹر، ممبر، بسکٹ، کمیٹی، کیمپ، کانووکیشن، فلاسفی، فورس، ہسٹری، لیڈی، ڈگری، کلکٹر، کورس، ڈیلی گیٹ، کمشنر، سروس، تھیئٹر، ینگ، لٹریچر، اسٹیج، آنر، لایلٹی، ایڈریس، ہاسٹل، کلرک، انجن، جنٹلمین، مون، جمپ، سوڈا، یونیورسٹی، سلکٹ، رجکٹ وغیرہ۔

(نوٹ: یہ فہرست اور بھی طویل ہو سکتی ہے۔ )

موضوعی الفاظ کے برعکس ارتباطی الفاظ ربطِ کلام کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کی قواعدی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ اکبر کے کلام میں انگریزی کے ارتباطی الفاظ کی تعداد محض چند ہے جو یہ ہیں:

اِف، بٹ، انڈر، یٰس، نو، وغیرہ۔

ان الفاظ کے استعمال سے اکبر نے اپنے کلام میں بہت چبھتا ہوا طنز پیدا کیا ہے ، مثلاً:

اجل آئی اکبر گیا وقتِ بحث

اب اِف کیجئے اور نہ بٹ کیجئے

ان کے علاوہ انگریزی ضمائر مثلاً ہی، شی، (He, She)  وغیرہ کا استعمال بھی اکبر کے کلام میں ملتا ہے:

محبوبہ بھی رخصت ہوئی، ساقی بھی سدھارا

دولت نہ رہی پاس، تو اب ہی ہے نہ شیِ ہے

اکبر اپنے کلام میں انگریزی الفاظ کو اردو الفاظ کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کرتے ، اور نہ ہی ان کی حیثیت مترادفات کی ہوتی ہے بلکہ یہ خود مکتفی (Self-contained)  ہوتے ہیں۔ اور ایک مخصوص سیاق و سباق میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اکبر پہلے ایک مخصوص سیاق و سباق تیار کرتے ہیں پھر اس میں انگریزی الفاظ کا نہایت موزوں، بر محل اور چبھتا ہوا استعمال کرتے ہیں جو طنز کے نشتر کا کام کرتا ہے اور اسی سے ظرافت کی چاشنی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس سیاق و سباق میں اگر وہ انگریزی الفاظ کی جگہ اردو الفاظ استعمال کرتے تو نہ طنز پیدا ہوتا اور نہ مزاح۔ رشید احمد صدیقی نے اکبر کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے:

’’ان کے یہاں بعض بعض الفاظ کے مخصوص معنی اور مفہوم ہیں جن کو وہ اس لطیف انداز سے اپنے کلام میں لاتے ہیں کہ ان کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی تشریح کی جائے تو ورق کے ورق سیاہ ہو جائیں اور پھر بھی کافی طور پر دل نشین نہ ہو سکیں۔ ‘‘ (۲)

رشید صاحب نے اپنے اس بیان کے ثبوت میں جو الفاظ پیش کیے ہیں ان میں اکثریت انگریزی الفاظ کی ہے۔ مثلاً نیٹو، بسکٹ، گزٹ، کالج، ڈنر، اسپیچ، کونسل، کیمپ، پریڈ، کمیشن، ڈارون وغیرہ غالباً یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اکبر کی طنز یہ اور ظریفانہ شاعری میں انگریزی الفاظ کو بنیادی لغات کی اہمیت حاصل ہے۔ وہ طنز و ظرافت کا تانا بانا انھیں الفاظ کی مدد سے تیار کرتے ہیں۔ اکبر کے طنز کو سمجھنے اور ان کی ظرافت سے لطف اندوز ہونے کے لئے اکبر کے انگریزی الفاظ کے سیاق و سباق سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ ذیل کے اشعار میں اس قسم کے چند الفاظ کا استعمال ملاحظہ ہو:

یوسف کو نہ سمجھے کہ حسیں بھی ہے جواں بھی

شاید نرے لیڈر تھے زلیخا کے میاں بھی

کمیٹی میں چندے دیا کیجئے    ترقی کے ہجّے کیا کیجئے

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکّام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے، مگر آرام کے ساتھ

تھے معزّز شخص لیکن ان کی لائف کیا لکھوں

گفتنی درجِ گزٹ، باقی جو ہے ناگفتنی

اکبر سے میں نے پوچھا اے واعظِ طریقت

دنیائے دوں سے رکھوں میں کس قدر تعلق

اس نے دیا بلاغت سے یہ جواب مجھ کو

انگریز کو ہے نیٹؤ سے جس قدر تعلق

تعلیم کی خرابی سے ہو گئی بلآخر          شوہر پرست بیوی ، پبلک پسند لیڈی

صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی

لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی

انتہا یونیورسٹی پہ ہوئی        قوم کا کام اب تمام ہوا

کیا وہ درست ہو، مری نظموں کے فورس سے

فرصت کہاں ہے قوم کو کالج کے کورس سے

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا   شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر، اسکول جا

اکبر کی شاعری میں انگریزی کے موضوعی الفاظ کے استعمال کے نت نئے انداز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کے یہاں لفظ قواعد کی پابندیوں میں جکڑا ہوا محض ایک کلمہ یا جزوِ کلام ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی ایک شعری اور اُسلوبیاتی حیثیت بھی ہوتی ہے۔ اکبر کے کلام کے حوالے سے جب ہم لفظ کی شعری اور اسلوبیاتی حیثیت کی بات کرتے ہیں تو ہمارا ذہن سب سے پہلے لغوی اتصال (Lexical Cohesion)  کی جانب منتقل ہوتا ہے۔ لغوی اتصال میں ایک لفظ دوسرے لفظ یا الفاظ کے ساتھ صوتی یا معنیاتی سطح پر باہم متصل یا پیوست ہوتا ہے۔ دویا دوسے زیادہ الفاظ کے درمیان صوتی پیوستگی کو صوتی اتصال (Phonological Cohesion)  کہتے ہیں۔ اسی طرح دویا دو سے زیادہ الفاظ کے درمیان پائی جانے والی معنیاتی پیوستگی کو معنیاتی اتصال (Semantic Cohesion)  کہتے ہیں۔ صوتی اتصال کے سبب تجنیسِ صوتی (Alliteration)  اور قافیہ بندی (Rhyming)  کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔

اکبر کے کلام میں تجنیسِ صوتی کی مثالیں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں دویا دو سے زیادہ قریب الواقع الفاظ ایک ہی آواز سے شروع ہوتے ہیں، مثلاً ہوٹل اور ہال۔ ان دونوں الفاظ کی ابتدائی آواز/ہ/ ہے۔ اکبر نے ان دونوں الفاظ کا خوبصورت استعمال اپنے اس شعر میں کیا ہے:

کل مستِ عیش و ناز تھے ہوٹل کے ہال میں

اب ہائے ہائے کر رہے ہیں اسپتال میں

تجنیسِ صوتی کی ایک اور مثال کالج اور کورس کے باہمی اتصال میں پائی جاتی ہے۔ اکبر کا یہ شعر دیکھئے:

کیا وہ درست ہو مری نظموں کے فورس سے

فرصت کہاں ہے قوم کو کالج کے کورس سے

صوتی اتصال کی دوسری اہم قسم قافیہ بندی ہے۔ جہاں دو یا دو سے زیادہ الفاظ کے آخری اجزاء میں صوتی یکسانیت پائی جاتی ہے، مثلاً پائپ اور ٹائپ۔ اکبر کے اِس شعر میں ان الفاظ کا استعمال دیکھیے:

پانی پینا پڑا ہے پائپ کا

حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا

اکبر کے کلام میں قافیہ بندی کی چند اور مثالیں ملاحظہ ہوں:

ٹم ٹم ہوں کہ گاڑیاں کہ موٹر

جس پر دیکھو لدے ہیں ووٹر

یہی مرضی خدا کی تھی، ہم ان کے چارج میں آئے

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ جارج میں آئے

زندگی اور قیامت میں ریلیشن سمجھو

اس کو کالج اور اُسے کانووکیشن سمجھو

کیا کہوں اس کو میں بد بختیِ نیشن کے سوا

اس کو آتا نہیں اب کچھ ایمی ٹیشن کے سوا

قوم سے دوری سہی حاصل جب آنر ہو گیا

تن کی کیا پروا رہی جب آدمی سر ہو گیا

اکبر نے اپنے بعض اشعار میں اُردو اور انگریزی قوافی ایک ساتھ استعمال کیے ہیں۔ مثلاً:

جشنِ عظیم اس سال ہوا ہے           شاہی فورٹ میں بال ہوا ہے

                                                               (بال/ سال)

شیخ کو الفت ہو گئی مِس کی

خوب پئے اب شوق سے وِھسکی

                                                            (مِس کی/ وھسکی)

جو پوچھا میں نے ہوں کس طرح ہے پی

کہاں اُس مِس نے میرے ساتھ مئے پی

                                                                            (ہے پی/ مَے پی)

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا

                                                                   (بھول/ اسکول)

کیوں کر کہوں طریقِ عمل ان کا نیک ہے

جب عید میں بجائے سویّوں کے کیک ہے

                                                                           (نیک/ کیک)

جب کئی موضوعی الفاظ معنیاتی اعتبار سے باہم مربوط و متصل ہوں یعنی ان کے درمیان معنیاتی ارتباط و اشتراک پایا جاتا ہو تو اسے معنیاتی اتصال (Semantic Cohesion)  کہیں گے۔ اکبر کے کلام میں معنیاتی اتصال کی نہایت عمدہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثلاً ذیل کے لفظی زمرے ملاحظہ ہوں:

۱۔         ہوٹل، ڈنر، سوپ، کاری (=کری) ۔

۲۔        لیڈر، اسپیچ، ووٹ۔

۳۔        کلرک، کلکٹر، کمشنر۔

۴۔        کالج، یونیورسٹی، لکچر، کانووکیشن، گریجویٹ، پروفیسر۔

۵۔        ممبر، اسپیکر، کونسل ، ریزولوشن۔

۶۔        انجن ، ریل، سگنل۔

۷۔        کوٹ، پتلون، بٹن۔

۸۔        نیشن، لیڈر، کونسل۔

۹۔         لٹریچر، ہسٹری، فلاسفی۔

۱۰۔       بائیسکل، موٹر، ایروپلین۔

۱۱۔        ڈاکٹر ، سرجن، آپریشن، اسپتال۔

۱۲۔       سروس، پنشن۔

۱۳۔       سوڈا، لمنڈ، وھسکی، ٹی۔

۱۴۔       جرمن، فرنچ، لیٹن، انگلش۔

صوتی و معنیاتی اتصال کے علاوہ اکبر کے کلام میں قواعدی اتصال (Grammatical Cohesion)  کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ کئی موضوعی الفاظ میں جب کوئی قواعدی خصوصیت مشترک ہوتی ہے تو اسے قواعدی اتصال کہتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں صفت بنانے کے لئے  al کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک لاحقہ (Suffix)  ہے اگر کئی موضوعی الفاظ ایسے آئیں جن میں -al پایا جاتا ہے تو یہ قواعدی اتصال کہلائے گا۔ اکبر کے کلام میں اس قسم کی بیشمار مثالیں پائی جاتی ہیں، مثلاً سنٹرل، سوشل، پولیٹکل وغیرہ۔

عروجِ قومی، زوالِ قومی    خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے

ہمیشہ رد ّو بدل کے اندر یہ امر پولیٹیکل رہا ہے

انگریزی اسماء میں er کا لاحقہ جوڑ کر اسمِ فاعل بناتے ہیں مثلاً ریفارمر، ووٹر، ریڈر، اسپیکر، ریڈر، وغیرہ۔ اکبر نے اپنے کلام میں اس قسم کے الفاظ استعمال کر کے قواعدی اتصال کی بڑی عمدہ مثالیں فراہم کی ہیں، مثلاً:

ٹم ٹم ہو کہ گاڑیاں کہ موٹر

جس پر دیکھو لدے ہیں ووٹر

گردن رِفارمر کی ہر اک سمت تن گئی

بگڑی ہو قوم و ملک کی، اُن کی تو بن گئی

چور کے بھائی گرہ کٹ تو سنا کرتے تھے

اب یہ سنتے ہیں ایڈیٹر کے برادر لیڈر

تمام قوم ایڈیٹر بنی ہے یا لیڈر

سبب یہ ہے کہ کوئی اور دل لگی نہ رہی

اکبر کے کلام میں قواعدی اتصال کی بہت سی ایس مثالیں بھی پائی جاتی ہیں جن میں لفظ تو انگریزی زبان کا ہے، لیکن قواعدی ہیئت یعنی لاحقہ اردو سے لیا گیا ہے، مثلاً نیچری، لیڈری، کلکڑی، گورنمنٹی، شومیکری، ممبری، وغیرہ۔

ان الفاظ کا انوکھا استعمال شعر کے پیرایے میں دیکھیے:

شاہی وہ ہے یا پیمبری ہے

آخر کیا شے یہ ممبری ہے

کام وہ ہے جو ہو گورمنٹی

نام وہ ہے جوپانیر میں چھپے

جمالِ نیچری درمن اثر کرد

وگرنہ من ہماں شیخم کہ ہستم

شو میکری شروع جو کی اک عزیز نے

جو سلسلہ ملاتے تھے بہرام و گور سے

کہنے لگے ہے اس میں بھی اک بات نوک کی

روٹی ہم اب کماتے ہیں جوتے کے زور سے

یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اکبر نے اردو کے لفظی سرمایے میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اس سے نہ صرف زبان میں وسعت پیدا ہوئی ہے بلکہ اظہار کے طریقوں میں بھی تنوع پیدا ہوا ہے۔ اکبر کی لفظیات کے اس انوکھے اور نادر ذخیرے سے بہت سے عصری اور تہذیبی مسائل کو بھی سمجھنے میں ہمیں مدد ملتی ہے۔ لیکن جو بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے زبان کے مروجّہ معیار یا نارم (Norm)  سے انحراف کر کے ایک نیا اسٹائل پیدا کیا اور ایک نئے اُسلوب کی بنیاد ڈالی۔ اسلوب کے بارے میں چارلز اوس گڈ (Charles Osgood )  کا خیال ہے کہ یہ نارم، یعنی زبان کے مروجّہ معیار سے انحراف (Deviation)  کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آتا ہے (۳)  اِسی کو دبستانِ پراگ (Prague School)  کے ایک ممتاز ماہر لسانیات اور ادبی نقاد مکاروسکی(Mukarovsky)  نے فورگروؤنڈنگ (Foregrounding)  کا نام دیا ہے (۴) ۔ زبان کا یا کسی لفظ کا کوئی بھی نیا اور انوکھا یا عام قاعدے سے ہٹا ہوا استعمال Foregrounding کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعری کی زبان  Foregounded ہوتی ہے ، یعنی زبان کے اپنے Background کے برعکس ہوتی ہے زبان کا اپنا Background یا پس منظر روز مرّہ کی زبان یا عام بول چال کی زبان میں صاف جھلکتا ہے، لیکن شاعری کی زبان عام بول چال کی زبان سے مختلف ہوتی ہے اور زبان کے مروجّہ نارم سے انحراف کرتی ہے ،اسی لیے اسے Foregounding کا نام دیا گیا ہے۔ عام بول چال کی زبان ایک بالکل بندھے ٹکے انداز پر کام کرتی ہے اور ایک روایتی ڈھرے پر چلتی ہے، اور بڑی حد تک روایت زدہ (Conventionalized)  ہوتی ہے۔ اس میں تاثراتی یا جمالیاتی عنصر جو ادبی زبان کا وصفِ خاص ہے تقریباً مفقود ہوتا ہے۔ زبان چوں کہ ہمارے شعور کا ایک حصّہ ہے ، اس لیے بول چال کی سطح پر اس کا استعمال بالکل برجستہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بول چال کی زبان میں برجستگی یا خود کاری (Automatization)  بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے، جب کہ شاعری کی زبان غیر خود کارانہ (De-Automatized)  ہوتی ہے- اس میں غیر خود کارانہ اور شعوری کوششوں کو خاصا دخل ہوتا ہے- اکبر کے کلام میں لغاتِ مغربی سے متعلق بعض تجربات اور امکانات کو ہم زبان کی Foregroundig اور De-antomatization سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

اکبر کے کلام میں لسانی نارم (Norm)  سے انحراف کی مثالیں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثلاً اکبر نے انگریزی الفاظ کی جمع اکثر اردو قاعدے کے مطابق بنائی ہے۔ اردو میں اسم جمع بنانے کے دو مروجہ قاعدوں کا اطلاق اکبر نے انگریزی الفاظ کی جمع بنانے پر بھی کیا ہے:

۱۔         حالت فاعلی (Direct Case)  میں جمع، اسم کے آخر میں ’’اں‘‘ (الف اور نونِ غنّہ)  یا ’’یں‘‘ (ے اور نونِ غنّہ)  کے اضافے سے بنائی جاتی ہے۔ اگر کوئی اسم مصوتے (Vowel)  ’’ی‘‘ پر ختم ہوتا ہے تو جمع بناتے وقت اس کے آخر میں ’’اں‘‘ لگاتے ہیں، مثلاً لڑکی/ لڑکیاں، اور اگر کوئی اسم مصتمے (Consonant)  پر ختم ہوتا ہے تو جمع بناتے وقت اس کے آخر میں ’’یں‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں، مثلاً عورت/ عورتیں۔ کتاب/ کتابیں، وغیرہ۔

اکبر کے کلام میں حالتِ فاعلی کے دونوں طرح کے اسمائے جمع کا استعمال ملتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

ضروری چیز ہے اک تجربہ بھی زندگانی کا

تجھے یہ ڈگریاں بوڑھوں کا ہم سِن کر نہیں سکتیں

                                                                        (ڈگری/ ڈگریاں)

حرم میں مسلموں، کے رات انگلش لیڈیاں آئیں

پئے تکریمِ مہماں بن سنور کر بیبیاں آئیں

                                                             (لیڈی/ لیڈیاں)

ترقی کی تہیں ہم پر چڑھا کیں          گھٹا کی دولت، اسپیچیں بڑھا کیں

                                                            (اسپیچ / اسپیچیں)

۲۔        حالتِ مفعولی (Objective (کی جمع میں اسم کے آخر میں ’’وں‘‘ (واؤ اور نونِ غنّہ)  لگاتے ہیں، مثلاً باغ/ باغوں ، پھول/ پھولوں وغیرہ اس نوع کے اسمائے جمع کے بعد کا، کی، کے، میں، پر، تک، سے ، وغیرہ حروف کا استعمال ہوتا ہے۔ اردو کے اس قاعدے کے مطابق انگریزی الفاظ کی جمع کی مثالیں اکبر کے کلام میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

بہت روئے وہ اسپیچوں میں، حکمت اس کو کہتے ہیں

میں سمجھا خیر خواہ ان کو ، حماقت اس کو کہتے ہیں

                                                            (اسپیچ/ اسپیچوں)

مشینوں نے کیا نیکوں کو رخصت     کبوتر اڑ گئے انجن کی پیں سے

                                                            (مشین/ مشینوں)

مسجدیں سنسان ہیں اور کالجوں کی دھوم ہے

مسئلہ قومی ترقی کا مجھے معلوم ہے

                                                            (کالج/ کالجوں)

ہوئے اس قدر مہذب ، کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا

کٹی عمر ہوٹلوں میں، مرے اسپتال جا کر

                                                            (ہوٹل/ ہوٹلوں)

لیڈیوں سے مل کے دیکھو، ان کے انداز طریق

ہال میں ناچو، کلب میں جا کے کھیلو ان سے تاش

                                                            (لیڈی/ لیڈیوں)

رزولیوشن کی شورش ہے مگر اس کا اثر غائب

پلیٹوں کی صدا سنتا ہوں اور کھانا نہیں آتا

                                                            (پلیٹ/ پلیٹوں)

اردو کے شعری ادب میں فارسی کے مرکباتِ اضافی ( Genitive Compounds)  کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے جن میں مضاف اور مضاف الیہ کو اضافتِ زیر یا ہمزہ کے ساتھ ترتیب دیا جاتا ہے۔ اکبر نے بھی اپنے کلام میں ان مرکبات کا کثرت سے استعمال کیا ہے، مثلاً رازِ فطرت، کارِ دنیا یا کشتۂ غم، وغیرہ لیکن انھوں نے یہ جدّت پیدا کی ہے کہ انگریزی الفاظ کے اشتراک سے بھی اضافی مرکبات ترتیب دیے ہیں، مثلاً:

زیبِ ٹیبل، انتظارِگزٹ، ترقئی نیشن، تادیبِ کالج، اربابِ نیشن، پیشِ کمیشن، شہدِا سپیچ، بد بختیِ نیشن، مستحقِ آنر، مے خانۂ رفارم، وغیرہ۔

ان مرکبات میں مضاف الیہ انگریزی لفظ ہے، لیکن بعض دوسرے اضافی مرکبات میں مضاف انگریزی لفظ ہے اور مضاف الیہ عربی و فارسی لفظ، مثلاً اسپیچ وفا، مِس سیمیں بدن وغیرہ۔ کہیں مضاف اور مضاف الیہ، دونوں انگریزی الفاظ ہیں، مثلاً ممبرِ کونسل۔

انگریزی الفاظ پر مشتمل چند اضافی ترکیبوں کا استعمال شعر کے پیرائے میں دیکھیے:

نہ کچھ انتظارِ گزٹ کیجیے      جو افسر کہے اس کو جھٹ کیجیے

پارک میں ان کو دیا کرتا ہے اسپیچِ وفا

زاغ ہو جائے گا اک دن آنریری عندلیب

کسی سر میں ہے لیڈری کی ہوس       کوئی شہدِ اسپیچ کی ہے مگس

حقیقت میں میں بلبل ہوں مگر چارے کی خواہش میں

بنا ہوں ممبرِ کونسل یہاں مٹھو میاں ہو کر

اک مسِ سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عشق

اس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش

اکبر کے ہاں مرکباتِ اضافی کی طرح مرکباتِ عطفی (Conjunctive Compounds)  کی تشکیل و ترتیب میں بھی جدّت پائی جاتی ہے۔ یہاں بھی انگریزی الفاظ ان کا پیچھا نہیں چھوڑ تے۔ مرکبِ عطفی دو الفاظ کے درمیان واوِ عطف داخل کر کے ترتیب دیا جاتا ہے۔ چوں کہ واو عربی سے آیا ہے اس لیے دونوں الفاظ بھی عربی (یا فارسی)  کے ہی ہوتے ہیں مثلاً لیل و نہار، شام و سحر، شب و روز وغیرہ۔ اکبر نے واوِ عطف کے ساتھ کبھی ایک انگریزی لفظ اور کبھی دونوں انگریزی الفاظ لے کر عطری مرکبات تشکیل دیے ہیں ، مثلاً پیری و نپشن، اس میں پہلا لفظ فارسی ہے اور دوسرا انگریزی، لیکن آنر و دولت میں پہلا لفظ انگریزی اور دوسرا لفظ عربی ہے۔ اکبر کے ہاں بعض ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں دونوں الفاظ انگریزی زبان کے ہیں مثلاً نیچر و سائنس۔ شعر کے پیرائے میں اس نوع کی چند مثالیں دیکھیے:

عوام باندھ لیں دو ہر کو تھرڈ و انٹر میں         ۔ سکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

ابھارے رکھتا ہے اکبر کے دل کو فیضِ سخن     اگر چہ پیری و نپشن کی آمد آمد ہے

اکبر اس اندیشے میں رہتا ہے غرق   کافر و نیٹؤ میں ہے تھوڑا ہی فرق

اکبر نے انگریزی کے بعض الفاظ میں ذو معنیت بھی پیدا کی ہے، مثلاً یہ شعر دیکھیے:

کالج میں دھوم مچ رہی ہے پاس پاس کی

عہدوں سے آ رہی ہے صدا دور دور کی

اس میں صنعتِ تضاد کا بھی ایک خوبصورت پہلو نکلتا ہے، ذو معنیت کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:

قوم سے دوری سہی حاصل جب آنر ہو گیا

تن کی کیا پروا رہی جب آدمی سر ہو گیا

اکبر کے کلام میں انگریزی کے مفرد الفاظ کے علاوہ مرکب الفاظ بھی پائے جاتے ہیں ، مثلاً سلف رسپکٹ، ایرشپ، انگلش ڈریس، سول سروس، وغیرہ۔

عکسِ صوت و حروف بھی اکبر کے کلام کی ایک اہم اسلوبیاتی خصوصیت ہے اکبر نے بعض اشعار میں حروف کی ترتیب الٹ دی ہے۔ مثلاً ایک مصرع میں انھوں نے پہلے انگریزی حروف تہجّی اے، بی (A, B)  کا استعمال کیا، لیکن پھر اس کی ترتیب الٹ دی اور اسے بی۔ اے (B, A)  کر دیا۔ اس عکسِ ترتیب سے شعر گنجینۂ معنی کا طلسم بن گیا ہے، وہ شعر یہ ہے:

عاشقی کا ہو بُرا، اس نے بگاڑے سارے کام

ہم تو اے۔ بی میں رہے اغیار بی۔ اے ہو گئے

بعض اردو الفاظ میں بھی اکبر نے یہی جدّت پیدا کی ہے، مثلاً تادیب کالج میں انھوں نے دیب کے حروف کی ترتیب الٹ دی ہے جس سے دیب ، بید بن گیا ہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے:

کیوں نہ ہو تا دیبِ کالج بے ثمر

کس نے دیکھا بید کو پھلتے ہوئے

لسانیاتی ادب میں اُسلوب کی جتنی بھی تعریفیں ملتی ہیں ان میں زبان کا حوالہ ضرور پایا جاتا ہے، یعنی لسانیات و اسلوبیات میں اسلوب کی تمام تر تعریفیں زبان کے حوالے سے ہی کی جاتی ہیں، نہ کہ شخصیت کے حوالے سے اور (۵)  زبان کے استعمال میں انفرادیت سے ہی کسی ادیب کے اسلوب کی انفرادیت کی نشان دہی کی جاتی ہے اکبر کے کلام میں’ لغاتِ مغربی ،‘ کے استعمال سے ایک ایسا اُسلوب معرضِ وجود میں آیا جو انھیں پر ختم ہو گیا۔ اکبر الٰہ آبادی کو اس وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ انھوں نے انگریزی الفاظ کے امتزاج سے ایک نئے اور انوکھے اسلوب کی بنیاد ڈالی تھی اور اپنی جدّت طبع سے اس اسلوب کو انفرادی رنگ بخشا تھا۔

حواشی و حوالے

۱۔         آل احمد سرور، ’’اکبر اور سر سید‘‘ مشمولہ نئے اور پرانے چراغ (آل احمد سرور)  ، لکھنؤ: ادارۂ فروغِ اردو، ۱۹۵۵ ء ص ۲۱۹۔

۲۔        رشید احمد صدیقی، طنزیات و مضحکات، نئی دہلی: مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، ۱۹۷۳ء، ص ۱۲۳۔

۳۔        چارلز اوس گڈ ، بہ حوالہ نلز ایرک انکوسٹ اور دوسرے، Linguistics and Style ، لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، ۱۹۷۱ ء، ص ۲۳ (حاشیہ) ۔

۴۔        دیکھیے ژاں مکارووسکی، Standard Language and Poetic Language، مشمولہ A Prague School Reader on Esthetics, Literary Structure and Style مرتبہ پال گارون (اصل زبان چیک سے ترجمہ جسے پال گارون نے کیا)  واشنگٹن ڈی سی: جارج ٹاؤن یونیورسٹی پریس، ۱۹۶۴ ء۔

۵۔        فرانسیسی مصنف اور دانشور بفون (Buffon)  نے فرنچ اکیڈ می کے ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “Style is the man himself”۔

٭٭٭

مصنف کا شکریہ کہ انہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید