FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

ارمغانِ تبسم

 

جولائی تا ستمبر ۲۰۱۶ء

حصّہ دوم

 

                مدیر: نوید ظفر کیانی

                مشاورت

کے ایم خالد، روبینہ شاہین، محمد امین

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سفر وسیلۂ ظفر

جیون میں ایک بار

 

 

                محمد خلیل الرحمٰن

 

یوں تو دلشاد بیگم کا دعوت نامہ، ’’ جیون میں ایک بار آنا سنگاپور‘‘ ہمیں کافی عرصے سے دعوتِ گناہ دے رہا تھا، لیکن جس بات نے ہمارے جذبۂ شوق پر مہمیز کا کام دیا وہ کچھ اور تھی۔ ہوا یوں کہ ہم شب و روز کی یکسانیت سے تنگ آ گئے۔ ڈاکٹروں اور طبیبوں کو دکھایا، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ جب ہمیں یقین ہو گیا کہ

مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

تو علاج کے لیے قدیمی حکما کے نسخوں کو ٹٹولا۔ کرنل شفیق الرحمٰن دور کی کوڑی لائے۔

’’ تم اس جمود کو توڑتے کیوں نہیں۔ صبح اٹھ کر رات کا کھانا کھایا کرو، پھر قیلولہ کرو۔ سہہ پہر کو دفتر جاؤ، وہاں غسل کرو اور اور سنگل روٹی کا ناشتہ۔ حجام سے شیو کرواؤ اور حجام کا شیو خود کرو۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

یہ بھی کر دیکھا، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ آخر کار تنگ آ کر دو ہفتہ کی چھٹی کے لیے درخواست داغ دی۔ جواب آیا۔ ’’ آپ کی چھٹی کی درخواست نامنظور کی جاتی ہے، اس لیے کہ کمپنی اس عرصے میں آپ کو تربیت کے لیے سنگاپور بھیج رہی ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

کوئی جل گیا، کسی نے دعا دی۔ زادِ سفر کا مرحلہ درپیش ہوا تو دوستوں سے مشورہ لیا۔ سیر کے لیے فلاں فلاں جگہیں ہیں۔ خرید و فروخت کے لیے فلاں فلاں، اور کھانے کے لیے فلاں فلاں ریسٹورینٹ۔ اور مساج کے لیے فلاں فلاں سنٹر۔ اور دیکھو، آرچرڈ روڈ سے کچھ مت خریدنا، اور نہ ہی اپنے ہوٹل کے مساج سنٹر سے مساج کروانا، یہ دونوں جگہیں مہنگی ہیں۔ فلاں اسٹریٹ سے بچنا، وہاں رات گیے وہ لوگ اپنا بازار لگاتے ہیں جو ہیوں میں نہ شیوں میں۔

ایک صاحب کہنے لگے، ’’ سنگاپور سے مساج ضرور کروا کے آنا‘‘۔ ’’ اور دیکھو! ‘‘ انھوں نے تاکیداً کہا، ’’ واپسی پر جھوٹ نہ کہنا کہ مساج کروا آئے ہو۔ مجھے اس کے تمام لوازمات معلوم ہیں۔ ‘‘

بھاگے بھاگے ایک اور دوست کے پاس پہنچے اور ’’ مساج کے لوازمات ‘‘ معلوم کیے، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

بڑی ردّ و قدح کے بعد، جس زاد سفر کا اہتمام کیا وہ یہ تھا۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس وزن بیس کلو اور ساتھ سفری بیگ میں کچھ کپڑے وغیرہ۔

ضروری کارروائیوں کے بعد پروانہ اور پرِ پرواز ہمیں عطا کر دیے گئے۔ اور یوں ہم اسلام آباد سے سنگاپور کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ راستہ میں ایک کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو ہم نے اس نحوست کے تدارک کے لیے پہلے پشاور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں بھی خالہ خالو ہمارے قریب ترین رشتہ دار تھے۔ ( یہاں ہمارا مقصد اسلام آباد میں رہتے ہوئے مکانی فاصلہ کی قربت ہے )۔

پشاور پہنچے تو خالہ اور خالو ہمیں دیکھ کر کھل اٹھے۔ یہ آج سے کوئی بیس بائیس برس اُدھر، اُن دنوں کا ذکر ہے جب آتش بھی جوان تھا اور ہم بھی۔ پہلی پہلی نوکری ملی تھی اور اس سلسلے میں ہم اسلام آباد میں، اپنے گھر، کراچی اور اپنے خاندان سے دور کالے پانی کی سزا کاٹ رہے تھے۔ راول جھیل کے اسی کالے پانی میں اپنی گاڑی دھونے کے لیے کبھی کبھی جایا کرتے۔ خیر صاحب خالہ خالو نے دیکھا، حال چال دریافت کیے، تو ہم پھٹ پڑے۔ فوراً اگل دیا کہ ہم سنگاپور جا رہے ہیں۔ خالو نے حیران ہو کر ہمیں دیکھا اور پھر ہمارے زادِ سفر کی جانب نگاہ کی،کہنے لگے۔ ’’ اور میاں۔ تمہارا باقی سامان کہاں ہے۔ ‘‘ ہم ہنس دیے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ہمیں۔ مشوروں کے اس سوٹ کیس کے بارے میں انھیں کیسے بتلاتے۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے تو کیا، البتہ سنگاپور کی بے پردہ بیبیوں کے نام آتے تھے، اور پھر یہ مشورے گردن زدنی تو نہیں البتہ قابلِ گرفت ضرور تھے، اور ان پر’’ صرف بالغان کے لیے ‘‘ کا ٹیگ لگانا پڑا تھا، اور اس محفل میں ان کا تذکرہ مخرّبِ اخلاق ضرور گردانا جاتا۔

خیر صاحب، خالو جان ہمارے اس مختصر زادِ راہ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گئے۔ کہنے لگے، ’’ اور ایک ہماری بیٹی صاحبہ ہیں، کہ وہ جب دو ہفتوں کے لیے آسٹریلیا گئیں تو تین سوٹ کیس ان کے ساتھ گئے اور پانچ سوٹ کیس واپس آئے۔ ‘‘

کراچی پہنچے تو کراچی ائر پورٹ پر ہمارے ساتھ دو حادثے پیش آئے۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس اور پیمانۂ صبر، دونوں ہی کھوئے گئے اور  چودھری صاحب ہمارے ہم سفر بنا دئیے گئے۔

کراچی پہنچ کر ایک دن کا آرام ملا تو کشاں کشاں گھر پہنچے اور گھر والوں کو یہ مژدہ جاں فزاء سنایا کہ ہم سنگاپور جا رہے ہیں۔ گھر والوں نے دعا دی۔

’’ شکر ہے کہ اب تمہیں سنگاپور کی نوکری ملی۔ جس طرح پیٹھ دکھاتے ہو اسی طرح  چہرہ بھی دکھاؤ‘‘۔

’’چہرہ تو ہم تین ہفتے بعد ہی دکھا دیں گے۔ تین ہفتے کا تربیتی کورس ہے سنگاپور میں، کوئی مستقل نوکری تو نہیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں کوئی مستقل نوکری تھوڑا ہی تھی، چند ہفتے کی تربیت بھگتا کر واپس لوٹے تھے۔‘‘

بہرحال یہ خوشخبری بھی اپنی جگہ خوب تھی۔ سنگاپور کا تین ہفتے کا سفر۔ سب خوش ہوئے اور اگلے روز خوشی خوشی ہمیں رخصت کیا۔ ہمارے سنگاپور کے سفر کے لیے کمپنی کی جانب سے تھائی ائر کی فلائیٹ پہلے ہی سے بک تھی۔ جہاز پر پہنچے تو اندازہ ہوا کہ اک غولِ بیابانی ہے جو ہمیں اڑائے لیے چلا ہے۔ ذکر ان پری وشوں کا اور پھر بیاں اپنا۔ کیا کیا بتائیں اور کہاں تک سنائیں۔ ہم اور چودھری صاحب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ان پری وشوں کی بلائیں لیا کیے۔ جانے کب جہاز اڑا اور جانے کب بنکاک ائر پورٹ پر پہنچ گیا۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔

ائر پورٹ پر امیگریشن کاونٹر سے فارغ ہوئے تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ اب اگلی دوپہر دو بجے تک کے لیے ہم فارغ تھے۔ فوراً انفارمیشن سے رجوع کیا اور ان کے مشورے سے رات کے لیے ایک ہوٹل پسند کر لیا اور وہیں پر اگلے دن صبح ایک عدد ٹوور کا انتظام بھی کر لیا۔ ٹیکسی پکڑ کر ہوٹل پہنچے، اور کمرے میں جا کر اگلی صبح تک یوں انٹا غفیل ہوئے کہ اگلی صبح ناشتے کے لیے بڑی مشکل سے آنکھ کھلی۔ فوراً تیار ہو کر لاونج میں پہنچے، ناشتے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمیں ٹوور گائڈ کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ ٹوور گائڈ کو دیکھا تو باچھیں کھل گئیں، یہ ایک خوبصورت سی خاتون تھیں۔ ان خوبصورت خاتون کی معیت میں تو ہم کہیں بھی جانے کے لیے تیار ہو جاتے، یہ تو پھر بھی بنکاک کے مشہور بدھ عبادت گاہوں کا ٹوور تھا۔ آج سے کم و بیش بیس سال پہلے کا بنکاک ویسے تو یوں بھی بہت خوبصورت تھا، لیکن ان خوبصورت عبادت گاہوں نے تو اسے چار چاند لگا دیے تھے۔ ان تین گھنٹوں میں ہم نے چار عبادت گاہوں کا دورہ کیا جن میں گولڈن ٹمپل اور ٹمپل آف ریکلائیننگ بدھا بہت خوب تھے۔ بدھا کے یہ سنہری مجسمے جو ان عبادت گاہوں میں تھے، بہت بلند و بالا تھے لیکن ہم ان کا موازنہ لاہور میوزیم میں رکھے ہوئے اس مجسمے سے کر رہے تھے جس میں بدھا کو درخت کے نیچے تپسیا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا مجسمہ اپنی خوبصورتی اور صناعی کا یقیناً ایک اعلی نمونہ ہے، اور بنکاک کے ان عبادت گاہوں میں بنائے ہوئے یہ عالی شان مجسمے اس کے سامنے ہیچ تھے۔ ادھر چھوٹے چھوٹے مجسموں کی شکل میں بدھا کی زندگی کے حالات بھی منقش کیے گیے تھے۔ ایک طرف تو انسانی کاری گری کے یہ اعلیٰ نمو نے تھے اور دوسری طرف انسان تھے جو اپنے ہی بنائے ہوئے ان مجسموں کی عبادت کر رہے تھے۔ کتنا بڑا ظلم تھا اس انسان کے ساتھ، جو انھیں انسانیت سکھانے اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے ان کے پاس آیا اور ان ظالم لوگوں نے اس کی ہی پوجا شروع کر دی۔

ظلم کی اس داستان میں جو ظلم ہمارے ساتھ ہوا وہ بھی ساتھ ساتھ بیان کرتے چلیں۔ جب ہم سنگاپور کا سفر ختم کر کے واپس پاکستان پہنچے اور یار دوستوں نے اس سفر کا حال دریافت کیا اور سن کر اس پر تبصرے کیے تو ہمیں حقیقتِ حال کا ادراک ہوا۔ دراصل کمپنی والے نوجوان لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق انھیں بنکاک میں ایک دن کا حضر عطا فرمایا کرتے تھے، تاکہ نوجوان اپنے دل کی تسلی کر لیں۔ ہم اور آگے بڑھے اور اس ہوٹل کا تذکرہ کیا جہاں پر ہم نے رات قیام کیا تھا، تو سننے والوں نے سر پیٹ لیا۔ یہی تو وہ علاقہ تھا جہاں پر ہم کچھ ‘دل پشوری ‘کر سکتے تھے۔

خیر صاحب، ولے بخیر گزشت۔ بنکاک کی سیر سے فارغ ہوئے تو فوراً ہوٹل کا حساب بیباق کیا اور ائر پورٹ کی جانب دوڑ لگائی تاکہ سنگاپور کی جانب عازمِ سفر ہو سکیں۔ باقی سفر جو نسبتاً مختصر تھا آرام سے گزر گیا اور ہم سنگاپور ائر پورٹ پر اتر گئے۔ ائر پورٹ پر پاسپورٹ اور امیگریشن کی لائن میں لگے ہوئے نہایت انہماک سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ایک با وردی آفیسر نے ہمیں لائن سے علیحدہ ہونے کا اشارہ کیا اور اپنے ساتھ لے کر ایک جانب کو چل دیا۔ ہم حیران تھے کہ یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے، کیوں اس آفیسر نے ہمیں ساتھ لے لیا ہے۔ ابھی ہم اس سے پوچھنے کے لیے اپنی انگریزی کو آواز دے ہی رہے تھے کہ وہ ہمیں لے کر ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا۔ سامنے ایک اور آفیسر کے سامنے ایک پٹھان بھائی بیٹھے تھے، یہ بھائی صاحب پشتو اور ٹوٹی پھوٹی اردو کے علاوہ اور کچھ نہ جانتے تھے اور یہاں سنگاپور میں کپڑا خریدنے آئے تھے۔ ۔ ہم نے فوراً مترجم کے فرائض سنبھال لیے اور ان حضرت سے ان کے بارے میں پوچھ پوچھ کر آفیسر حضرات کو بتانے لگے۔ یہ مسئلہ حل ہوا تو ہم پھر اپنی لائن میں جا کر لگ گئے اور اس طرح سنگاپور کا ایک ماہ کا ویزہ لگوا کر ہی دم لیا۔ ادھر چودھری صاحب ہم سے پہلے ہی فارغ ہو کر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ہمارے فارغ ہونے پر وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑے، ہم دونوں نے اپنا سامان سنبھالا اور ٹیکسی کی لائن میں کھڑے ہو گئے۔ نہایت اعلیٰ درجے کی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر کھڑے دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ کہیں ہم وی وی آئی پی یعنی کوئی بہت ہی اعلیٰ شخصیت تو نہیں ہو گئے ؟ اپنے بازو پر زور سے چٹکی لی تو درد کی شدید لہر اور ‘سی‘ کی اپنی ہی آواز نے ہمیں جتلا دیا کہ ہم خواب نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ سنگاپور کی ٹیکسی میں سفر کیا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنی اُسی افلاطونی انگریزی کو آواز دی جس کے ذریعے ابھی ابھی ہم ایک معرکۂ عظیم طے کر کے آرہے تھے اور بھاؤ تاؤ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ خدا جانے یہ ٹیکسی ڈرائیور ہمارے ہوٹل کی جانب جانا چاہتا ہو یا اس کا ارادہ کسی اور جانب کا ہے ؟ کیا جانیے وہ منھ پھاڑ کر کتنے پیسے مانگے ؟ کیا ہمیں کوئی سستی ٹیکسی مل سکتی ہے ؟ ہم ابھی اسی ادھیڑ بُن میں تھے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بھاؤ کیا اور نہ تاؤ، بلکہ یوں کہیے کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور نہایت ادب سے ہمارا سامان ڈِکی میں رکھا، ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور میٹر پر لگے ایک بٹن کو دبا کر چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔

اور صاحبو! یوں ہم ’ اپر بوکے تیما روڈ‘ پر واقع ’ نووٹیل آرکڈ اِن‘ نامی ایک نہایت عالیشان ہوٹل میں پدھارے۔ بکنگ کلرک مصروف تھا۔ اس نے نہایت ادب سے ہمیں ایک میز کی جانب بلایا اور ہمیں بٹھا کر ایک سنگاپوری حور کو آواز دی، وہ حسن کی دیوی فوراً ہماری جانب لپکی اور اپنی ایک ٹانگ لبادے سے نکال، کاغذ پینسل سنبھال، ہمارا آرڈر لینے کے لیے تیار ہو گئی۔ ہم نے کنکھیوں سے اس شمشیرِ برہنہ کی جانب دیکھتے ہوئے اک شانِ بے نیازی کے ساتھ آرینج جوس کا حکم صادر فرمایا۔ چودھری صاحب نے بھی کنکھیوں سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے ‘وہی وہی‘ کی آواز نکالی۔ حسنِ بے پروا نے فوراً اپنے کاغذ پر کچھ لکھا اور اسے لپیٹتی ہوئی آگے چل دی۔ ہم یوں چونکے گویا ابھی ابھی ہماری آنکھ کھلی ہو۔ ہم نے چونک کر چاروں جانب دیکھا۔ ہمارے اطراف رنگ و نور کی اک عجیب دنیا پھیلی ہوئی تھی۔ تو یہ سنگاپور ہے، ہم نے ترنگ میں آ کر سوچا۔

ہم نے آرینج جوس کے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے ہوئے چیک اِن کیا اور اپنے اپنے کمرے میں جا کر ڈھیر ہو گئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ بعد جب ہوش ٹھکانے لگے اور رات کی بے آرامی کا کچھ مداوا ہوا تو دوپہر کے کھانے کا خیال دل کو ستانے لگا۔ ہوٹل کا کھانا بہت مہنگا پڑتا لہٰذا دونوں دوست ہوٹل سے نکلے اور کسی سستے ریسٹورینٹ کی تلاش شروع کی۔ دور دور تک ایسے کسی ریسٹورینٹ کا پتہ نہ چلا تو تھک ہار کر واپس ہوئے ہی تھے کہ ایک اسٹور پر نظر پڑی۔ چودھری صاحب نے مسکرا کر ہمیں معنی خیز نظروں سے دیکھا گویا کہہ رہے ہوں، ’’ اب دیکھو ! میں کیا کرتا ہوں۔ ‘‘، ایک عدد ڈبل روٹی خریدی اور ہمیں لیے ہوئے اپنے کمرے کی جانب آ گئے۔ کمرے میں پہنچ کر دروازہ لاک کیا اور اپنے سوٹ کیس میں سے ایک عدد بجلی کی ہیٹنگ راڈ برآمد کی، اسے قریب ترین بجلی کے ساکٹ میں لگا کر اس کا سرا ایک پانی کے برتن میں ڈال دیا۔ پانی گرم ہونا شروع ہوا، اتنے میں انھوں نے اپنے سوٹ کیس سے ‘ احمد‘ کا کوفتوں کے سالن کا سربند کین نکالا، اسے پانی میں رکھ کر خوب گرم کیا اور اسے کھول کر پلیٹ میں ڈال دیا۔ اس طرح ہم نے اس دوپہر اپنی بھوک مٹائی اور سیر کے لیے نکل پڑے۔ آج اتوار تھا اور ہم نے سن رکھا تھا کہ سنگاپور میں ایک جگہ ‘ لٹل انڈیا‘ نامی بھی ہے جہاں ہندوستانی کھانوں کے سستے ریسٹورینٹ موجود ہیں نیز یہ کہ وہاں پر دکانیں اتوار کے دن بھی کھلی رہتی ہیں۔

بس کے ذریعے سرنگون روڈ کے اسٹاپ پر اترے تو کچھ اور ہی سماں تھا۔ ہر طرف سجی سجائی ہندوستانی طرز کی دکانیں موجود تھیں جن میں قسم قسم کی ہندوستانی اشیاء فروخت کے لیے موجود تھیں۔ کہیں زرق برق بھڑکیلی، بنارسی ہندوستانی ساڑھیاں اور دیگر ہندوستانی کپڑے، کہیں سونے اور چاندی کے جڑاؤ زیور۔ کہیں ہندوستانی موسیقی پر مبنی کیسٹ اور سی ڈیاں۔ اور ان دکانوں کے درمیان خالص ہندوستانی کھانے سرو کرتے ریسٹورینٹ۔ کہیں روا ڈوسا اور مسالہ ڈوسا، کہیں اڈلی وڑہ، کہیں تھالی ریسٹورینٹ، جہاں پر آپ کی پسند کے مطابق اسٹیل کی تھالی میں یا کیلے کے پتے پر کھانا دیا جاتا ہے۔ کہیں صرف ویجیٹیرین یعنی سبزیوں والے کھانے، کہیں بسم اللہ بریانی۔ کہیں ہندوستانی مٹھائیاں۔ چوک سے چلنا شروع کیا تو ایک جگہ ’مصطفے ٰ اینڈ شمس الدین‘ کی دکان نظر آئی۔ یہ ان کی سب سے پرانی دکان ہے۔ نظارہ کرتے چلے تو لطف آ گیا۔ یوں تو اس سڑک کا نام سرنگون روڈ ہے لیکن اطراف میں چونکہ ہر طرف ہندوستانی آباد ہیں اور ان ہی کی دکانیں نظر آتی ہیں، لہٰذا اسے لٹل انڈیا یعنی‘ چھوٹا ہندوستان‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بازار یونہی پھیلتا ہوا اگلے چوک تک پہنچتا ہے جہاں پر اُس زمانے میں سرنگون پلازہ میں مصطفے ٰ اینڈ شمس الدین کا بڑا اسٹور ہوتا تھا، اب اس جگہ، اس سے بھی بڑا مصطفے ٰ سنٹر ہے۔ مصطفے ٰ سنٹر اب ایک بہت بڑا ملٹی اسٹوری ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے جہاں ضروریاتِ زندگی کی تقریباً ہر چیز ملتی ہے۔ آجکل، جب سے زمین دوز ٹرین ( جسے مقامی لوگ ایم آر ٹی یعنی ماس ریپڈ ٹرانزٹ کہتے ہیں ) چلی ہے اس کے دو اسٹیشن سرنگون روڈ پر ہیں۔ ایک بکے تیما روڈ اور سرنگون روڈ کے سنگم پر اور دوسرا مصطفے ٰ سنٹر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر۔ سرنگون روڈ پر چلتے ہوئے راستے میں ایک ہندو مندر اور مصطفے ٰ سنٹر کے عین سامنے انگولیا مسجد واقع ہے،بھی نظر آتے ہیں۔ اتوار کو تو یوں لگتا ہے گویا سڑک پر ایک جلوس چل رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے زیادہ تر اسی علاقے میں پہنچ کر کھانا کھاتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خریداری یہیں سے کرتے ہیں۔ بسم اللہ ریسٹورینٹ میں ایک بزرگ ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، ان سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ ’مصطفے ٰ بھائی‘ ہندوستان سے آئے تو شروع میں ایک ٹھیلا لگاتے تھے، ایک صاحب اپنی دکان بیچ کر ہندوستان جا رہے تھے۔ مصطفے ٰ بھائی نے ان سے دکان خرید لی۔ اللہ نے برکت دی اور کاروبار اتنا بڑھا کہ اب ماشاء اللہ مصطفے ٰ سنٹر چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے اور روزانہ ہزاروں خریدار خریداری کے لیے آتے ہیں اور لاکھوں کی خریداری کرتے ہیں۔

وہیں سے کٹ مارا اور سیدھے ہاتھ کی طرف ہولیے۔ چلتے چلتے راستے میں عرب اسٹریٹ نظر آئی، دیکھ کر دل خوش ہوا، وہیں سے نظر گھمائی تو دل پہلو میں رکتا ہوا سا محسوس ہوا۔ نظروں کے سامنے ایک انتہائی خوبصورت مسجد موجود تھی۔ تیز تیز چلتے ہوئے اس مسجد تک پہنچے۔ اس خوبصورت  اور عالی شان مسجد کا نام ’’ مجدی سلطان‘‘ ہے۔ مسجد باہر سے جتنی خوبصورت نظر آتی ہے، اندر سے بھی اتنی ہی خوبصورت ہے۔ اندر جا کر دو رکعت نمازِ عصر قصر پڑھی، کچھ تصویریں اندر باہر سے کھینچیں اور پھر عرب اسٹریٹ پر نظر کی تو یہاں کئی ملائین مسلم ریسٹورینٹ دکھائی دیئے جو انڈا پراٹھا قسم کی کوئی چیز بنا رہے تھے۔ اس ڈش کا نام مرطباق ہے۔ چائے کے ساتھ مرطباق کھایا۔ بہت لذیذ تھا۔ واپس اسی راستے سے لوٹے اور سرنگون روڈ پہنچے اور دیر تک وہاں ٹہل لگاتے رہے۔

راستے میں ایک جگہ ایک ریسٹورینٹ پر’’ عظمی ہوٹل‘‘ لکھا ہوا دیکھا تو قسمت آزمانے کا خیال آیا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں پر کسی بھی ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے سے پہلے حلال وغیرہ سے متعلق پوچھ لیا کرتے تھے۔ یہاں بھی خیال آیا کہ پہلے دل کی تسلی کر لی جائے اس لیے اسی عظمی ہوٹل کے کاونٹر پر جا کر ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہاں حلال کھانا ملتا ہے۔ کرتا پائجامہ میں ملبوس ایک مولانا کاونٹر پر کھڑے تھے، برا مان کر بولے۔

’’عظمی ہوٹل نام ہے، سب کام کرنے والے یہاں مسلمان ہیں اور یہاں پر ہر کھانا حلال ہے۔ ‘‘

دل کو تسلی ہوئی تو ہم نے رات کا کھانا وہیں سے کھایا اور بس میں بیٹھ کر ہوٹل واپس لوٹ گئے۔ دروازے سے اندر آتے ہی کئی کارڈوں پر نظر پڑی جو دروازے کے نیچے سے کمرے میں ڈالے گئے تھے۔ یہ کارڈ مختلف مساج سنٹرز سے متعلق تھے۔ انھیں ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور کمرے میں ادھر ادھر نظر ڈالی۔ کمرے میں موجود ریفریجریٹر کے قریب بجلی کی کیتلی اور ساتھ ہی ایک طشت میں دو عدد چائے اور دو عدد کافی کا انتظام تھا جو ہوٹل کی جانب سے مفت تھا۔ مزے سے چائے بنا کر پی، آنے والے کل کی تیاری کر کے بستر پر لیٹ گئے اور ٹیلیویژن سے دل بہلانے لگے۔ چیک اِن کے ساتھ ہی کمپنی کی جانب سے ایک خط ہمیں مل چکا تھا کہ اگلے روز ایک بس ہمیں ہوٹل کی لابی سے لیکر ٹریننگ سنٹر تک لے جائے گی، لہٰذا اس طرف سے اطمینان تھا۔ سفر کی تھکن اب تک محسوس ہو رہی تھی اس لیے لیٹے تو اگلے ہی لمحے گہری نیند نے ہمیں آ دبوچا۔ جانے کب تک سوتے رہے۔ اچانک ٹیلومین کی مسلسل گھنٹی کی آواز سے بیدار ہوئے۔ کچھ دیر تک تو سمجھ ہی میں نہ آیا کہ ہم کہاں ہیں اور اس وقت کے بجے ہیں۔ حواس باختہ سے لیٹے رہے۔ بارے کچھ سکون ملا تو رسیور اٹھا کر ’’ ہیلو!‘‘ کہا۔

کسی خاتون کی میٹھی سی آواز سنائی دی۔ وہ انگریزی میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ آپ نے ہمیں بلایا؟

ہمارے حواس دوبارہ گم ہو گئے۔ بڑی مشکل سے انھیں پھر سے مجتمع کیا اور نہایت تلخ لہجے میں جواب دیا۔ جی نہیں۔ ہم نے آپ کو کال کیا نہ بلایا۔ اور رسیور کریڈل پر پٹخ کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر اٹھے، حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر ٹیلیویژن کو بند کیا۔ لائٹ بند کی اور کافی دیر تک دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے۔

 

سنگا پور کے شب و روز

 

گلی صبح جب ہم نہا دھوکر تیار ہو چکے تو ہوٹل کے ریسٹورینٹ میں ناشتے کے لیے پہنچے۔ چودھری صاحب بھی ابھی کچھ ہی دیر پہلے پہنچے تھے۔ ہم دونوں نے ایک اچھی سے میز تلاش کی جہاں سے ہر طرف نظر رکھ سکتے، اور اس پر براجمان ہو کر دہن و نظر کا ناشتہ شروع کیا۔ لذتِ کام و دہن کے ساتھ ساتھ لذت ذہن و نظر کا بھی وافر مقدار میں انتظام ہو تو کیا کہنے۔ ہوٹل دنیا بھر کے سیاحوں سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستان سے باہر کی حوریں اعضا ء کی فی البدیہہ شاعری میں درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، ہنسنا بولنا سب شاعرانہ انداز میں ہوتا ہے۔ ہائے ! نہ ہوئے ہم نقاد، ورنہ کیسے کیسے بخیے اُدھیڑ تے۔ اِدھر چودھری صاحب نے ہمیں ایک فارمولے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ ناشتہ ہوٹل کی جانب سے فری ہے اور ساتھ ہی یہاں پر حلال اشیا ( صرف ناشتے کے لیے ) وافر مقدار میں موجود ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ڈٹ کر ناشتہ کریں، خدا جانے دوپہر کے کھانے کے لیے کچھ میسر آئے نہ آئے۔ تجویز چونکہ معقول تھی اس لیے ہم نے جلدی جلدی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا، لیکن دو انڈوں کے آملیٹ کے ساتھ ڈبل روٹی کے صرف دو ہی سلائیس کھا سکے البتہ آرینج جوس کے ساتھ خوب دشمنی نبھائی اور کئی گلاس بغیر ڈکار لیے ہضم کر گئے۔ ادھر چودھری صاحب بات کے پکے نکلے اور انھوں نے ناشتے کے لیے موجود تمام اشیاء کے ساتھ خوب انصاف کیا۔

دورانِ ناشتہ وہ ترنگ میں آ کر کچھ اور کھُلے اور بتایا کہ کل رات انھوں نے ایک مساج سنٹر فون بھی کھڑکایا تھا اور بھاؤ  تاؤ وغیرہ کے تمام مراحل بحسن و خوبی سر کر لیے تھے۔ ہم نے انھیں معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے ان سے سوال کیا’’ ذرا بتانا تو! اپنے کمرے کا کیا نمبر تم نے انھیں لکھوایا تھا؟‘‘ اب تو وہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے لہٰذا شرماتے ہوئے اعتراف کیا کہ انھوں نے ہمارے کمرے کا ہی نمبر لکھوا دیا تھا۔ البتہ اس بات نے ان کی حیرت اور خوشی کو دوبالا کر دیا کہ ان کی فون کال کا نتیجہ اتنی جلد نکل آیا تھا۔ اب انھوں نے راز دارانہ انداز میں ہمیں تاکید کی کہ آئندہ اگر فون آیا تو ہم انھیں بلا لائیں اور ان کی بات کروا دیں۔

ناشتے سے فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ کرائے کی ایک ویگن ہمیں ٹریننگ سینٹر تک چھوڑنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ اور اس طرح ایک نہایت خشک قسم کی تربیت کا آغاز ہوا، جو ہر روز صبح ساڑھے آٹھ بجے سے لے کر سہہ پہر پانچ بجے تک جاری رہتی۔ سوائے اس کے کہ یہی تربیت ہمارے سنگاپور آنے اور اس سفر نامے کے لکھنے کا سبب بنی تھی کوئی اور قابلِ ذکر بات اس میں نہیں تھی جس کا ذکر کر کے ہم اپنے قارئین کو بور کر سکیں۔ ہاں البتہ ایک واقعہ ایسا بھی گزرا جس کا ذکر کیے بغیر آگے بڑھ جانا نری زیادتی ہو گی۔ ایک دن ہم اپنے ٹریننگ سنٹر میں اپنی معمول کی تربیتی سر گرمیوں میں مصروف تھے کہ اچانک ہماری تجربہ گاہ میں بہار آ گئی۔ ایک خوبصورت سی چینی نژاد سنگاپوری حسینہ اس خشک ماحول میں چودھویں کے چاند کی مانند طلوع ہوئی۔ ہم حیران تھے کہ

الٰہی یہ کیا ماجرا ہو گیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

ہم نے مشینوں پر خاک ڈالی اور اِس حسن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس حسینہ نے اطمینان کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا چپٹا بکس میز پر رکھ دیا اور اسے کھول کر ہمارے معائنے کے لیے پیش کر دیا۔ اس بکس میں قسم قسم کی خوبصورت گھڑیاں موجود تھیں۔ ہم نے گھڑیاں دیکھیں تو میکانیکی انداز میں پیچھے ہٹ گئے۔ یہ گھڑیاں یقیناً قیمتی ہوں گی، اور ہم انھیں خریدنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ چند لمحے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے رہنے کے بعد وہ حسینہ ہنس پڑی۔ ہمیں اس کے یکایک ہنسنے کی وجہ تو بعد میں پتہ چلی لیکن اُس وقت اس کے ہنسنے کا یہ انداز بہت پیارا لگا۔ ہم نے بھی جواباً مسکرا کے اس کو دیکھا اور منتظر رہے کہ دیکھیں دستِ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ پتہ چلا کہ یہ سب گھڑیاں نقلی تھیں۔ پھر کیا تھا۔ ہم سب ہم جماعت اس قیمتی مجموعے پر ٹوٹ پڑے اور سب دوستوں کی طرح ہم نے بھی دو گھڑیاں مول لے لیں۔ وہاں بھاؤ، تاؤ کیا کرتے، جو اس نے کہا مان لیا اور فوراً جیب سے پرس نکال کر مطلوبہ ڈالر اس کے ہاتھ میں تھما دیے۔

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

یہ وہ زمانہ تھا جب نقلی گھڑیاں ابھی نئی نئی آئی تھیں، لہٰذا ایک انوکھی شے سمجھ کر ہم خرید لائے اور گھر والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو شو کیسوں میں سجی گھڑیوں کو گھنٹوں تکا کرتے لیکن خریدنے کی سکت اپنے اندر نہ پاتے تھے۔ اب جو یہ نقلی گھڑیاں ہاتھ آئیں تو گویا وارے نیارے ہو گئے۔ خیر صاحب یہ تھی ہماری ٹریننگ کی داستان۔ شام کو تربیتی مرکز سے نکلتے، سرکاری ویگن ہمیں سیدھے ہوٹل لے جاتی، جہاں پر ہم اپنا بیگ کمرے میں پھینکنے کے بعد فوراً ہوٹل سے باہر نکل جاتے، رات دس گیارہ بجے تک سڑکوں اور شاپنگ سنٹرز کے چکر لگاتے اور جب تھک کر چور ہو جاتے تو واپس ہوٹل کی راہ لیتے۔ ہفتے کے اختتامیے ( ویک اینڈز) ہم نے مشہور سیر گاہوں کی سیر کے لیے مخصوص کر دیے تھے۔

سنگا پور استوائی خطے میں واقع ہے لہٰذا اس کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ بارشیں خوب ہوتی ہیں۔ دن کا اوسط درجہ حرارت تقریباً تیس درجے سنٹی گریڈ ہوتا ہے۔ ہر یا لی خوب ہے۔ سال کے بارہ مہینے آپ ایک عدد ٹی شرٹ میں گزارہ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر روز ایک ہی ٹی شرٹ نہ ہو۔ یہاں آپ کو گرم کپڑوں کی بالکل ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ یہاں پر گرمی کی وجہ سے تمام دفاتر، زیادہ تر شاپنگ سنٹر اور ہوٹل وغیرہ ائر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں، جسے یہاں ائر کون کہا جاتا ہے، کسی بھی بلڈنگ کے اندر آپ کو گرم سوئٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے لہٰذا حفظ، ماتقدم کے طور پر سنگاپور آتے ہوئے ایک عدد سوئٹر ضرور رکھ لینی چاہیے۔

سنگاپور میں کئی قومیتوں اور رنگ و نسل کے لوگ بستے ہیں۔ سب سے زیادہ چینی نژاد ہیں جو آبادی کا تقریباً پچھتر فیصد ہیں۔ باقی پچیس فیصد میں ملایئن، ہندوستانی، پاکستانی، سری لنکن عرب وغیرہ ہیں۔ بڑے مذاہب میں بدھ ازم، ہندومت، اسلام اور عیسائیت ہیں جن کے عبادت خانے بھی نظر آتے ہیں۔ حکومت کا انداز جمہوری ہے لیکن کسی بھی شخص کو دوسرے کے مذہب پر تنقید کا حق نہیں ہے۔ ملک میں سیاحت ایک انڈسٹری کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیاحوں کی دلچسپی کی ہر شے وہاں موجود ہے اور سستی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح سنگاپور آئیں اور زرِ مبادلہ کمایا جا سکے۔ پورا سنگاپور ایک بہترین تفریح گاہ، ایک سیاحتی مرکز اور ایک بہت بڑا اور اعلیٰ درجے کا بازار ہے۔ ابھی حال ہی میں ( ۲۰۱۰) سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا آئی لینڈ میں بھی ایک عدد کسینو بنایا گیا ہے جہاں پر سیاحوں کا داخلہ مفت ہے جبکہ سنگاپوری شہریوں کیلیے داخلہ فیس ہی ایک سو ڈالر ہے۔

سنگاپور کا جو انداز سب سے پہلے آنکھوں کو بھاتا ہے وہ یہاں کی صفائی ستھرائی ہے۔ ہمیں تو سنگاپور یورپ سے بھی زیادہ صاف و شفاف نظر آیا، جس کی تائید ہمارے جرمن انسٹرکٹر نے بھی کی۔ صاف، شفاف، چمکتی ہوئی سڑکیں، عمارتیں اور پارک دل کو بھاتے ہیں۔ سنگاپوری شہریوں کے بقول ان کا ملک ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہے، جس پر وہ بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ یہاں پر کوڑا کرکٹ پھیلانے پر سخت سزا اور جرمانے کا رواج ہے۔ یہ جرمانہ ۵۰ سے ۵۰۰ ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کے متعلق سوچا جہاں پر اس حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم پر ہمارا ایمان ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے، لیکن اس صفائی سے مراد ہم گھر کی صفائی لیتے ہیں اور اس کا اطلاق اپنے گھر کی دہلیز سے باہر نہیں کرتے۔ ہمارے گھر سے باہر دراصل ہماری ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ حکومتِ وقت کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ ہم نے پہلے دن کے اختتام پر اپنی قمیص کی کالر کی حالت دیکھنی چاہی، وہ بالکل صاف تھی۔ اسی طرح ان تین ہفتوں میں ہمیں اپنے جوتوں پر پالش کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، وہ اسی طرح چمکتے ہوئے ہی ملے، جس طرح پہلے روز نظر آئے تھے۔ اب جب ۲۰۱۰ میں، اتنے سالوں بعد ہم دوبارہ سنگاپور پہنچے تو پتا چلا کہ سگریٹ اور چیونگم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دراصل ایم آر ٹی کے چلنے کے بعد ایک مرتبہ سنا کہ کسی نے چیونگم کو چبا کر ٹرین کے آٹو میٹک دروازے میں چپکا دیا تھا جو دروازہ کھلنے میں تاخیر کا سبب بنا، لہٰذا چیونگم کے خلاف یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سگریٹ سنگاپور میں بہت مہنگی ہے، البتہ چنگی ائر پورٹ کے انٹر نیشنل لاونج میں سستی۔ دفتروں، شاپنگ سنٹرز اور بس اسٹاپوں، ریلوے اسٹیشن وغیرہ پر سگریٹ نوشی کی سختی سے ممانعت ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں کو بھی وہ آلودگی تصور کرتے ہیں۔

لاہور سے ہمارے ایک سینئر  انجینیر نے ایک صاحب کا نام اور ٹیلیفون نمبر دیا تھا کہ ان سے رابطہ قائم کر کے سلام کہہ دینا۔ ہم نے انھیں کال کیا اور اپنے لاہوری دوست کا سلام و پیغام پہنچایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ہمیں لینے کے لیے ہوٹل آ گئے۔ یہ صاحب پاکستانی تھے لیکن ایک سنگاپوری حور پر دل ہار بیٹھے تھے۔ اب اس سے شادی رچا کر گزشتہ سالہا سال سے سنگاپوری شہریت اختیار کر کے یہیں بس گئے تھے۔ اب تو ان کا ایک جوان بیٹا بھی تھا۔ انھوں نے ہمیں اپنے گاڑی میں بٹھایا اور ایک لمبی ڈرائیو پر نکل گئے۔ ہائی وے پر پہنچے اور ہمیں سنگاپور سے متعلق بتاتے ہوئے سنگاپور کی ہوائی سیر کروائی۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں کے قوانین بہت سخت ہیں اور غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے بیٹے نے کہیں اپنی یونیورسٹی کے کسی اخبار میں اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں ایک مضمون لکھ مارا تھا۔ اس کی پاداش میں اسے مسجد کمیٹی کی اپنی رکنیت سے مستعفی ہو جانا پڑا تھا۔ صحیح یا غلط، ان کا مطمحِ نظر یہ تھا کہ کسی کی بھی مخالفت نہیں کرنی چاہے۔ اس ملٹی ایتھنک ملٹی ریشیل قسم کے ملک کے لیے یہی پالیسی بہتر ہے ورنہ ہر روز کوئی نہ کوئی گروہ جذبات میں آ کر اور مشتعل ہو کر ہنگامہ آرائی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اس دنیا میں بہت سی باتیں غلط ہو رہی ہیں، لیکن ان کی وجہ سے ہم جوش میں آ کر اپنے ہی سکون کو کیوں غارت کر لیں۔ ان صاحب نے ہمیں گھر لے جا کر چائے وغیرہ پلوائی اور پھر ہوٹل چھوڑ دیا۔

ان دنوں ہم ہوٹل سے باہر نکلتے تو زیادہ تر بس میں سفر کرتے تھے، اس لیے کہ ٹیکسی مہنگی پڑتی تھی اور ایم آر ٹی ابھی بنی نہیں تھی۔ سنگاپور میں آج تک ڈبل ڈیکر بسیں چلتی ہیں۔ ہم بس اسٹاپ پر آ کر کھڑے ہو جاتے اور ڈبل ڈیکر کا انتظار کرتے اور جوں ہی ڈبل ڈیکر بس میسر آتی، فوراً اس میں سوار ہو کر اوپر کی منزل کی جانب لپکتے۔ اوپر جا کر وہاں سے سنگاپور کا نظارہ کرتے تھے، یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ ہمیں اپنے بچپن میں کراچی کی سڑکوں پر چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بسوں کا بھی ہلکا سا دھیان ہے۔ ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا۔ اسی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ہم نے سنگاپور کی ڈبل ڈیکر میں خوب سفر کیا اور خوب مزے لے لے کر کیا۔ اس زمانے میں انڈر گراونڈ ٹرین کی تیاری اور سرنگوں کی تعمیر چپکے چپکے کی جا رہی تھی، البتہ کہیں کہیں اس کے اسٹیشن ابر تے ہوئے نظر آتے تھے۔ اس بارے میں مقامی لوگوں سے خاصا سننے کو مل جاتا تھا۔ ۱۹۹۵ ء میں جب ہم تیسری بار سنگاپور پہنچے تو یہی انڈر گراونڈ ٹرین بن کر تیار ہو چکی تھی اور اس نے اپنا کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن ہمیں اسے دیکھنے اور اس میں سفر کرنے کا اتفاق ۲۰۱۰ء میں ہوا۔

ہم نے سنگاپور پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کاغذ پینسل سنبھال کر بیٹھ گئے اور ایک مکمل بجٹ بنا لیا کہ ہمیں جو زرِ مبادلہ دیا گیا تھا، اس میں سے ہمارا اصل حصہ کتنا ہے اور کس قدر رقم ہمیں واپس لوٹا دینی ہے۔ پھر اپنے حصے میں سے ہم نے ہوٹل اور ٹیکسی کا حساب علیحدہ کر لیا تاکہ کھانے کے لیے اپنی ذاتی رقم کا اندازہ ہو سکے۔ ذاتی یوں کہ اسی میں سے ہم کچھ رقم پس انداز کر سکتے تھے اور اپنی ذاتی خریداری کر سکتے تھے۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو اسی طرح ہم نے اپنے کھانے میں سے کافی رقم پس انداز کی تھی اور ایک عدد کمپیوٹر خریدا تھا۔ یہاں سے بھی ہم نے ایک عدد کمپیوٹر خریدنے کا پروگرام بنا لیا۔ سنگاپور میں یوں تو ساری دنیا کی طرح اچھے ریسٹورینٹ کافی مہنگے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے یہاں پر جگہ جگہ کھانے کے سستے اسٹال لگائے گئے ہیں۔ جہاں پر درمیان میں ایک مناسب بیٹھنے کی جگہ کا انتظام کیا گیا ہے اور چاروں جانب کھانے کے اسٹال ہیں جہاں سے کھانے والے اپنی مرضی کی اشیاء خرید کر کھاتے ہیں۔ یہاں پر بیرے ( ویٹرز) نہیں ہوتے بلکہ لوگ خود اپنی مدد آپ( سیلف سروس) کے تحت اپنا کھانا خود ہی اپنی میز تک لے آتے ہیں۔ یہ بندوبست فاسٹ فوڈ ریسٹورینٹوں یعنی میکڈانلڈ اور کے ایف سی سے بھی سستا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جگہ جگہ انڈین مسلمانوں یا ملاین مسلمانوں کے حلال کھانے کے ڈھابے بھی نظر آ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہماری دو عدد ترکیبیں ایسی تھیں جو ہماری بچت میں سراسر اضافے کا باعث تھیں۔ پہلی ڈٹ کر ناشتہ کرنا اور دوسری چودھری صاحب کے لائے ہوئے فوڈ کینز سے فائدہ اٹھانا۔ پہلی ترکیب پر ہم سے زیادہ چودھری صاحب عمل کر پاتے تھے اور دوسری ترکیب پر عمل پیرا ہونے میں ہم چودھری صاحب کے شانہ بشانہ شریک ہوتے تھے۔

ہماری دوسری لسٹ خریداری کی تھی۔ اس دوسری لسٹ میں سرِ فہرست تو جیسا کہ ہم نے ابھی عرض کیا ایک عدد کلون کمپیوٹر تھا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو ایک عدد کموڈور ۶۴ کمپیوٹر مول لے آئے تھے۔ ادھر کچھ ماہ سے آئی بی ایم کلون کمپیوٹر عام ہو گئے تھے اور سستے ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ میں تھے۔ باقی اشیاء کا دارومدار اس بات پر تھا کہ کمپیوٹر خریدنے کے بعد ہمارے پاس کتنی رقم بچ رہتی ہے۔ اس میں ہمارے اپنے کپڑوں کے علاوہ گھر والوں کے لیے کچھ تحفے تحائف وغیرہ شامل تھے۔ روزانہ رات کو سونے سے پہلے ہم ان دونوں لسٹوں کو بلا ناغہ اپڈیٹ کر لیتے تھے۔ تاکہ ہر وقت ہمیں اپنی جیب کی حیثیت کا احساس رہے اور ہم اپنے بجٹ سے زیادہ خرچ نہ کر سکیں

 

چل چل چنبیلی باغ میں

 

سنگاپور میں ہماری تربیت جاری رہی اور آخر کار جمعہ کا دن بھی آ گیا۔ اس روز ہم الارم بجنے سے کوئی پانچ منٹ پہلے ہی بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پطرس بخاری صاحب کی طرح غسل خانے میں دیر تک چل چل چنبیلی باغ میں گاتے رہے۔ آج جمعہ تھا یعنی اب سے کچھ ہی گھنٹے میں ہفتے کا اختتامیہ شروع ہو رہا تھا۔ پاکستان میں چونکہ ہفتہ وار چھٹی کا صرف ایک ہی دن معین ہوتا ہے لہٰذا وہاں پر لوگ جمعے کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں پر ہم نے یہ رمز جانا تھا۔ جمعہ کی صبح ہی سے وہاں پر لوگوں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے۔ ٹی جی آئی ایف۔ کلاس روم میں پہنچتے ہی ہم نے بورڈ پر چاک سے ٹی جی آئی ایف لکھ دیا۔ جو لوگ صاحبِ کشف تھے فوراً سمجھ گئے۔ ہمارے انسٹرکٹر صاحب بھی جو جرمن تھے اور ’گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو تھے ‘، مسکرا دیئے۔ اور بورڈ پر اس کے سامنے پورا جملہ لکھ مارا۔

تھینک گاڈ اِٹس فرائیڈے یعنی اللہ کا شکر ہے آج جمعہ ہے۔

خیر صاحب! آج ایک گھنٹہ پہلے چھٹی ہونی تھی۔ نہیں بتا سکتے کہ کس طرح انگاروں پر یہ وقت گزارا۔ چھٹی ہوتے ہی، فائل وغیرہ کو بغل میں داب، ویگن میں آن بیٹھے اور آن کی آن میں ہوٹل پہنچ گئے۔ ابھی سہہ پہر کی دھوپ ڈھلنا شروع ہوئی تھی۔ کمرے میں پہنچے تو آج نوٹ کیا کہ پردے کھنچے ہوئے تھے اور شیشے میں سے سہہ پہر کی تیز روشنی کمرے میں آ رہی تھی۔

ہم نے کھڑکی سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ایک عجیب منظر ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ہمارا کمرہ ہوٹل کی دسویں منزل پر تھا اور یہاں سے ہمیں چھٹی منزل پر بنا ہوا سوئمنگ پول صاف نظر آ رہا تھا۔ اس وقت اس سوئمنگ پول میں دو عدد جل پریاں دو صورت حرام مردوں کے ساتھ چہلیں لگا رہی تھیں۔ بقول چچا غالب

جنوں کی دستگیری کس سے ہو، گر ہو نہ عریانی

دل تو چاہا کہ یہیں سے چھلانگ مار کر سوئمنگ پول کے اندر پہنچ جائیں، لیکن کیا کرتے، ہمارے سامان میں سوئمنگ کاسٹیوم نہیں تھا۔ کان پکڑ کر باہر نکال دیے جاتے۔ ہم نے فوراً اپنی خریداری لسٹ میں سوئمنگ کاسٹیوم کا اضافہ کیا اور تنتناتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئے۔ چودھری صاحب کو بتایا تو وہ ابھی اسی وقت سوئمنگ پول کی طرف جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ بڑی مشکل سے انھیں راضی کیا کہ بھائی جان آپ تو تیرنا بھی نہیں جانتے۔ کیا آپ پول کے باہر اپنے پورے کپڑوں میں بیٹھے تماشا کرنا چاہیں گے ؟ خود بھی تماشا بنیں گے اور ہمیں بھی پول نکالا دلوائیں گے۔

طے پایا کہ آج کا باقی دن کمپیوٹر کی خریداری پر لگایا جائے اور کل بروز ہفتہ ژورونگ برڈ پارک جا کر رنگ برنگے پرندوں سے جی بہلائیں گے۔ اس زمانے میں سم لم اسکوائر ابھی نہیں بنا تھا۔ الیکٹرانکس کی تمام اشیاء سم لم ٹاور سے یا پھر کمپیوٹر کی قبیل کی اشیاء نارتھ برج روڈ پر واقع فونان سنٹر سے مل سکتی ہیں۔ پہلے بس میں بیٹھ کر بوکے تیما روڈ اور سرنگوں روڈ کے سنگم پر واقع سم لم ٹاور پہنچے اور مارکیٹ کا جائزہ لیا۔ پھر فونان سنٹر پہنچ کر ایک دکاندار سے بھاؤ تاؤ شروع کیا۔

پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں دکان پر پہنچ کر دکاندار سے کہا تھا کہ ایک کموڈور کمپیوٹر چاہئے اور اس نے شیلف سے ایک عدد سیل بند ڈبہ نکال دیا تھا جسے لے کر خوشی خوشی ہوٹل آ گئے تھے۔ یہاں پر جب ہم نے دکاندار سے کہا کہہ ہمیں ایک کمپیوٹر درکار ہے تو وہ پہلے تو حیران ہو کر ہمیں دیکھنے لگا، گویا ہم نے کوئی عجیب بات کہہ دی ہو۔ بولا

’’ کس قسم کا کمپیوٹر چاہیے آپ کو؟‘‘

ہم نے کہا ’’ جیسا ایک کمپیوٹر ہوتا ہے۔ ویسا ہی چاہیے۔ ‘‘

بولا’’ کچھ جزئیات کی تفصیل ہے آپ کے پاس۔ ‘‘

ہم نے کہا’’ کمپیوٹر ایک ایسا آلہ ہوتا ہے جو بجلی سے چلتا ہے اور آٹو میٹک ہوتا ہے۔ ‘‘

وہ ناہنجار اب بھی نہ سمجھا، بولا’’ وہ سب تو مجھے پتہ ہے لیکن آپ کو پروسسر کون سا چاہیے۔ ریم کون سی اور کتنی چاہیے۔ فلاپی ڈسک ڈرائیو کتنی درکار ہیں۔ مانیٹر کون سا چاہیے۔ ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور بھی بہت سی تفصیل تھی جو ہمیں اب یاد نہیں ہے۔

اس بار ہم اس کی بات نہیں سمجھے۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا اور طے پایا کہ وہ جاہل شخص ہمارے لیے ایک عدد کلون آئی بی ایم پی سی ایکس ٹی بنا دے گا، جس کی جزئیات کی تفصیل اس نے ایک کاغذ پر ہمیں لکھ دی تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے۔ ہم نے اسے پیسوں کی نقد ادائیگی کر دی اور مال کے طالب ہوئے، بولا۔ ’’ کمپیوٹر آپ کو ایک ہفتے بعد ملے گا۔ اس عرصے میں میں اسے آپ کے لیے اسمبل کروں گا اور پورا ہفتہ اپنی دکان پر اسے ٹسٹ کروں گا۔ ‘‘

ہم نے کہا ’’ یہ عجب کہی تم نے۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو ہاتھ کے ہاتھ دکان سے کمپیوٹر لے آئے تھے۔‘‘

لیکن صاحب ہماری ایک نہ چلی۔ اس ناہنجار نے ہماری باتوں کو سمجھنے سے صاف انکار کر دیا اور ہم ناکام و نامراد وہاں سے واپس مڑے، اگلے ہفتے تک انتظار کی کوفت اٹھانے کے لیے۔

خیر صاحب، اس بڑے کام سے فارغ ہوئے تو پھر چائنا ٹاون سیر کی سوجھی۔ نارتھ برج روڈ سے ہوتے ہوئے چائنا ٹاون پہنچے۔ لٹل انڈیا کی طرح چائنا ٹاؤن کا بھی اپنا ایک نرالا انداز ہے۔ ہر طرف چھوٹی چھوٹی چائنیز دکانیں کھلی ہیں۔ کہیں چائنیز جڑی بوٹیاں بک رہی ہیں تو کہیں چائنیز کھانوں کے اسٹال ہیں۔ چائینیز کھانوں کی ناقابلِ برداشت بو سے دماغ پکا جاتا ہے۔ دکانوں میں سجاوٹ کا چائنیز سامان بک رہا ہے، اس لئے کہ سنگاپور میں سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی تہوار منایا جا رہا ہوتا ہے۔ چائنیز نئے سال کے موقعے پر تو چائنا ٹاؤن کو خاص طور پر سجایا جاتا ہے اور یہ سجاوٹ دیدنی ہوتی ہے۔ ہم چونکہ جولائی میں سنگاپور پہنچے تھے اور اگست میں سنگاپور کا قومی دن منایا جانا طے تھا، لہٰذا آجکل اس تہوار کی خوشی میں سجاوٹ کی جا رہی تھی۔ اس زمانے کا ایک مشہور گیت جو ہمیں بہت پسند آیا تھا وہ تھا ’’ وی آر سنگاپور‘‘ یعنی ہم سنگاپور ہیں۔ ہمیں یہ گیت اتنا پسند آیا کہ ہم نے اس گیت پر مشتمل ایک عدد کیسٹ خرید لیا اور وطن واپس پہنچ کر اکثر اسے سنا کرتے اور سنگاپور کی یادیں تازہ کرتے تھے۔

وی آر سنگاپور

سنگاپورینز

سنگاپور آور ہوم لینڈ

اٹس ہیئر دیٹ وی بیلونگ

آل آف اس یونایئٹڈ

ون پیپل مارچنگ آن

ان انگریزی الفاظ کے لفظی ترجمہ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، ان جذبات و احساسات کی ترجمانی کی جائے تو امجد حسین کا گایا ہوا مندرجہ ذیل پاکستانی نغمہ بن جاتا ہے۔

ہم زندہ قوم ہیں

پایندہ قوم ہیں

ہم سب کی ہے پہچان

ہم سب کا پاکستان، پاکستان، پاکستان

ہم سب کا پاکستان

چائنا ٹاون میں رات کے وقت چھوٹی چھوٹی دکانوں کا ایک بازار سجتا ہے جو سیاحوں کی خاص دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔ اس میں چھوٹی بڑی یادگاری چیزیں وغیرہ رکھی ہوتی ہیں اور سستے داموں فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ رات گئے تک ہم اس بازار میں آوارہ گردی کرتے رہے آخر کار تھک ہار کر ہوٹل پہنچے۔

ہفتے کے روز صبح سویرے، یعنی دس بجے ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور مفت ناشتہ کو یقینی بناتے ہوئے ساڑھے دس بجے سے پہلے ہی ریسٹورینٹ میں داخل ہو گئے۔ اگر پانچ منٹ اور دیر سے اٹھتے تو ہمیں اس کی پاداش میں ناشتے کے لیے کچھ سنگاپوری ڈالر خرچ کرنے پڑ ہی جاتے۔ ناشتے کے فوراً بعد ہم نے چودھری صاحب کی معیت میں بس پکڑی اور اپر بوکے تیما روڈ پر شمال کی جانب عازمِ سفر ہوئے۔ سنگاپور باغوں، پارکوں اور تفریح گاہوں کا شہر ہے۔ مشہور باغوں میں زولوجیکل گارڈن، بوٹانیکل گارڈن، چائنیز اور جاپانیز گارڈن ژورونگ برڈ پارک اور جزیرہ سینتوسا شامل ہیں۔ برڈ پارک میں رنگ برنگ کے خوشنما پرندے اپنی شان دکھا رہے ہوتے ہیں۔

برڈ پارک پہنچے تو دیکھا کہ سامنے ہی ایک ٹرینر اپنے سدھائے ہوئے اژدھے کو لیے ہوئے ایک عجیب شو دکھا رہا تھا۔ وہ اپنا اژدھا اطمینان کے ساتھ سیاح کے گلے میں ڈال دیتا اور اس کی تصویریں کھینچ کر اس سے پیسے وصول کر لیتا۔ بہادر تو ہم بچپن سے ہی ہیں، اس دن اپنی بہادری کو آزمانے کا خیال آیا تو خم ٹھونک کر اژدھے والے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس ناہنجار نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور اپنا خوفناک اژدھا اٹھا کر ہمارے گلے میں ڈال دیا۔ یہ شاید ہماری زندگی کا بد ترین دن تھا۔ واہ میاں یہ بھی خوب رہی۔ بلی کی بلا طویلے کر سر۔ ہمیں تو اس وقت صحیح محاورہ تک یاد نہیں آ رہا تھا۔ خدا جانے کتنے گھنٹے وہ بلا ہمارے گلے سے لپٹی رہی اور وہ ناہنجار سپیرا مختلف پوز بنا بنا کر ہماری تصویریں کھینچتا رہا۔ ادھر چودھری صاحب بھی مختلف زاویوں سے ہمیں دیکھ دیکھ کر ہماری اس بے بسی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو۔ ہمیں جتنی دعائیں یاد تھیں، ہم نے وہ سب دل ہی دل میں دہرانا شروع کر دیں۔ آخر کار خدا خدا کر کے اس مصیبت سے نجات ملی اور سپیرے نے اس خطرناک ترین اژدھے کو ہمارے گلے سے نکالا تو ہم نے یوں زندہ بچ جانے پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا، جوں توں کر کے کانپتے ہاتھوں سے اپنا پرس نکالا اور منہ مانگے ڈالر اس موذی کی نظر کیے۔ ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ دوبارہ اس اژدھے کو ہمارے گلے نہ منڈھ دے۔ اب چودھری صاحب کی باری تھی لیکن وہ اس مشکل صورتِ حال میں پھنسنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوئے اور بھاگ کر سپیرے کی پہنچ سے دور جا کھڑے ہوئے۔

آگے بڑھے تو شہباز کے شو کا وقت ہو چلا تھا۔ ایک کھلی جگہ پر لوگ شہباز کے ٹرینر کو گھیرے کھڑے تھے۔ اس نے لوگوں کو دور ایک اونچے درخت کی سب سے اونچی ٹہنی پر بنا یا ہوا شہباز کا بسیرا دکھایا اور اعلان کیا کہ شہباز اس کی آواز پر لپکتا ہوا اس کے پاس آئے گا اور اس کے ہاتھ سے گوشت کی بوٹی لے جائے گا۔ اور یوں ہی ہوا۔ وقتِ مقررہ پر شہباز کے گھر کا دروازہ کھولا گیا، ٹرینر نے اسے پکارا اور وہ ایک اونچی اڑان لے کر جھپٹتا ہوا آیا اور ٹرینر کے ہاتھ سے گوشت کا پارچہ لے اڑا۔ پھر جب وہ اس پارچے کو اطمینان سے کھا چکا تو ایک لمبی اڑان لے کر دوبارہ اپنے ٹرینز کے کندھے پر آ بیٹھا اور داد سمیٹی۔ ہم نے بھی ارد گرد کھڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل کر خوب دل کھول کر اس پرندے کو اور اس کے ٹرینر کو سراہا۔ ہمیں علامہ اقبال کا شعر یاد آ گیا جو انھوں نے شاید ہمارے سنگاپور کے اس سفر میں شہباز کے اس مظاہرے کے لیے ہی لکھا تھا۔

جھپٹنا، پلٹنا، جھپٹ کر پلٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

سنگاپور آ کر نقلی رنگین پرندے تو بہت دیکھے تھے، یہاں پر آ کر ہم نے جی بھر کے اصلی رنگین پرندے دیکھے۔ جب یہاں سے خوب دل بھر گیا تو ہم نے روانگی کا پروگرام بنایا اور وہاں سے نکل کر سیدھے جزیرے کی دوسری جانب، چائنا ٹاون کے قریب دریائے سنگاپور کے کنارے پہنچے۔ نارتھ برج روڈ اور ساؤتھ برج روڈ کے سنگم پر دریا کے اوپر ایک نہایت خوبصورت پل بنایا گیا ہے اور اسی پل کی مناسبت سے ان دونوں سڑکوں کا نام رکھا گیا ہے۔ وہیں سے ہم پیدل چلتے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں پر سر اسٹیمفورڈ ریفلز نے پہلی مرتبہ سنگاپور کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ یہاں اب حکومت نے سر ریفلز کا ایک قد آدم مجسمہ کھڑا کر دیا ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتا ہے۔

اب سے سینکڑوں سال پہلے جب علاقے میں ملاکا کی اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں لایا گیا اور وہ علاقے کی ایک قابلِ ذکر تجارتی منڈی بن گیا، تو سنگاپور اس سلطنت کا ایک حصہ بنا، بالآخر ۱۵۱۱ ء میں ملاکا پرتگیزیوں کے ہاتھوں فتح ہوا تو سنگاپور اس کی عملداری سے نکل کر جوہور بھارو کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ ۱۸۱۹ء میں سر ٹامس اسٹیمفورڈ بنگلے ریفلز نے اس جزیرے پر اتر کر اسے برطانوی عملداری میں دیدیا۔

جنگِ عظیم دوم کے بعد اسے ۱۹۴۹ میں محدود خود مختاری دی گئی۔ پھر جب ۱۹۶۵ ء میں برطانوی حکومت نے اس علاقے کو چھوڑا اور ملائشیا آزاد ہوا تو اسے بھی ملائشیا سے الگ کر کے ایک الگ ریاست کی شکل دیدی گئی۔

یہاں سے چلے تو مرلائن پارک پہنچے جہاں پر سنگاپور دریا کے دہانے پر مر لائن کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کا سر شیر کا اور دھڑ مچھلی کا ہے۔ یہ سنگاپور کا قومی نشان ہے۔ کچھ دیر تو ہم اس مجسمے کے منھ سے ابلتے ہوئے پانی کو دیکھتے رہے اور پھر ہوٹل واپسی کا پروگرام بنایا۔

 

ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے

 

ہم سنگاپور کیا گئے، ہماری دیکھا دیکھی رجب علی بیگ سرور صاحب بھی ہمارے پیچھے سنگاپور ہولیے اور اس کا سارا حال اپنی کتاب فسانہ عجائب میں لکھنؤ اور سرزمینِ ختن کے خیالی شہر، فسحت آباد کے نام سے لکھ مارا۔ لکھتے ہیں :۔

’’ عجب شہرِ گلزار ہے، ہر گلی کوچہ دلچسپ باغ و بہار ہے۔ ہر شخص اپنے طور پر با وضع قطع دار ہے۔ دو رویہ بازار کس انداز کا ہے۔ ہر دکان میں سرمایہ ناز و نیاز کا ہے۔ ہر چند ہر محلے میں جہاں کا ساز و سامان مہیا ہے پر ( ڈائی نے سٹی ہوٹل) سے ( ویسما ایٹریا، لکی پلازہ) اور (سنگاپورہ پلازہ ) تک، کہ صراطِ مستقیم ہے، ( اور آرچرڈ روڈ) کہلاتی ہے کیا جلسہ ہے۔ ‘‘

آگے لکھتے ہیں :۔

’’ باشندے یہاں کے ذکی، فہیم، عقل کی تیز اگر دیدہ انصاف اور نظرِ غور سے اس شہر کو دیکھے تو جہان کے دید کی حسرت نہ رہے۔ آنکھ بند کرے (شعر، سرور صاحب سے معذرت کے ساتھ)

سنا! رضواں بھی جس کا خوشہ چیں ہے

وہ (سنگا پور ہی) کی سر زمیں ہے

آگے ذرا برسات کا حال سنئیے :۔

’’برسات کا اگر موسم ہے، شہر کا یہ عالم ہے، ادھر مینہ برسا، پانی جا بجا بہہ گیا، گلی کوچہ صاف رہ گیا، ساون بھادوں میں زردوزی جوتا پہن کر پھرے، کیچڑ تو کیا مٹی نہ بھرے۔ فصل بہار کی صنعت، پروردگار کی قدرت، رضوان جن کا شائق، دیکھنے کے لائق۔ روز عیش باغ میں تماشے کا میلہ، ہر وقت چین کا جلسہ‘‘ (فسانہ عجائب از رجب علی بیگ سرور)

بھائی ! ہم باز آئے اپنی منظر کشی سے، آئندہ جب کبھی سنگاپور ی جلوہ حُسن کے متعلق لکھنا ہو تو کہہ دیں گے، دیکھئے فسانہ عجائب، صفحہ فلاں۔

مزید برآں کچھ، اسی قسم کا ظلم ہمارے ساتھ جناب قمر علی عباسی صاحب نے بھی روا رکھا۔ انھوں نے تو ہماری دیکھا دیکھی سنگاپور کا سفر نامہ تک لکھ ڈالا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے اِن دونوں شخصیات کو علم ہو چکا تھا کہ ہم سنگاپور کا ایک عجائب روزگار سفر نامہ لکھنے والے ہیں۔

ہائے سنگاپور، وائے سنگاپور

بھاڑ میں جائے سنگاپور

سنگاپور جو سرزمینِ ماوراء الہند یعنی شرق الہند میں ملائشیاء کے جنوب میں ایک جزیرہ ہے، ۱ ڈگری ۲۰ منٹ شمال طول البلد اور ۱۰۳ ڈگری ۵۰ منٹ عرض البلد مشرق میں واقع ہے اور خط استوا سے کوئی ۱۳۷ کلو میٹر کے فاصلے پر آبنائے ملاکا کے دہانے پر ہونے کی وجہ سے مشرق و مغرب کے درمیان ایک اہم بندرگاہ ہے۔ اس کا نام سنگاپور کیسے پڑا، اس کے بارے میں بھی ایک لوک داستان بہت مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ اس علاقے کے ایک شہزادے کا دل ایک جل پری پر آ گیا اور اس نے اس جل پری سے شادی رچا لی اور ہنسی خوشی رہنے لگا۔ اس کے تین بیٹے ہوئے جو جوانمردی اور بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ منجھلے بیٹے نیلا اُتّم نے ایک دن سمندر پار ایک جزیرے کو دیکھا تو اس کی جستجو میں ایک بحری جہاز لے کر نکلا۔ سمندر میں طوفان آ گیا اور اس کا جہاز ڈوبنے لگا۔ شہزادے نے بڑی مشکل سے جان بچائی اور کنارے پہنچا۔ یہاں پہنچتے ہی اس نے ایک عجیب جانور دیکھا جو در حقیقت ایک شیر تھا۔ اس نے جزیرے کو اپنی مملکت میں شامل کیا اور اس پہلے نظارے کی یاد میں اس جزیرے کا نام سنگا پورا یعنی شیر کا شہر رکھ دیا۔ اہلِ سنگاپور آج بھی اس شہزادے کو نہیں بھولے اور اس کی یاد میں مرلائن کو سنگاپور کا قومی نشان قرار دیا جس کا سر شیر کا اور دھڑ اس جل پری کے بیٹے کی یاد میں مچھلی کا ہے۔

یہی کچھ وہ اسمال ٹاک یعنی گپ شپ تھی جسے روا رکھتے ہوئے ہم نے اس شام برمی بجرے پر قدم رنجہ فرمایا اور چار گھنٹے کے اس حسین و رنگین سفر میں جاری رکھا جس کی منزل واپس سنگاپور ہاربر تھی۔ چار گھنٹے کا یہ کروز جس میں ایک عدد شاندار قسم کا ڈنر یعنی طعامِ شبینہ بھی شامل تھا، ہماری کمپنی کی جانب سے ہم مہمانانِ گرامی قدر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ہم گنتی کے جو چند مسلمان اس میں شامل تھے،ہمارے لیے علیحدہ حلال کھانے کا انتظام تھا۔ بحری بجرہ بین الاقوامی مہمانوں یعنی سیاحوں سے بھرا ہوا تھا، لہٰذا ہم سمندر اور اس کے قدرتی جزیروں کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ، ابنِ صفی کے قول کے مطابق انسانی جزیروں کی سیر سے بھی بدرجہ اتم لطف اندوز ہو رہے تھے۔

’’ اور کیا جناب!۔ ۔ ۔ اینٹوں اور پتھروں کے ڈھیر میں کیا رکھا ہے۔ خواہ وہ پہلی صدی عیسوی ہی سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔ یہ جھیل اور اس کے ساحل بھی لاکھوں سال پرانے ہیں۔ میں تو آپ کو وہ نایاب جزیرے دکھاؤں گا، جو آج ہیں کل نہ ہوں گے یا اگر ہوں گے بھی تو اس قابل نہ رہ جائیں گے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا کیا جا سکے !‘‘ ( پوائینٹ نمبر بارہ۔ عمران سیریز۔ از ابنِ صفی)

۱۸۱۹ ء میں سر اسٹیمفورڈ رئفلز یہاں پہنچے تو اس وقت جزیرے کی آبادی صرف چند نفوس پر مشتمل تھی۔ سر اسٹیمفورڈ ریفلز کے جزیرے پر قدم رکھتے ہی یہ شہر سلطان آف جوہر بھارو کی عملداری میں ہونے کے باوجود ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجارتی منڈی کے طور پر جانا گیا۔ چاروں طرف سے لوگ اس کی جانب امڈ پڑے اور آج ( ۱۹۸۵ء ) اس کی آبادی پچیس لاکھ ہے۔

ہم نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ ٹوور گائڈ ہمیں اپنے پبلک ایڈریس سسٹم پر ارد گرد پھیلے ہوئے جزیروں کا جغرافیہ اور سنگاپور کی تاریخ سے آگاہی دلوا رہا تھا۔ تاریخ، جغرافیہ اور معاشرتی علوم میں ہم ویسے ہی کچے اور کورے رہے ہیں اس لیے ہم نے اس کی ان خرافات کو ایک کان سے سنا اور دوسرے کان سے اڑا دیا۔ ان جزیروں کا حال ہم گائڈ کتابوں میں پڑھ ہی لیں گے۔ یہ وقت تو ان نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا تھا جو اس سمے ہمارے چاروں اُور پھیلے ہوئے تھے۔ سبحان تیری قدرت۔ ہم نے اپنی یادوں کی پٹاری کھولی تو اس میں اس شام کی یاد ان الفاظ کے ساتھ محفوظ تھی۔ ’’سنگاپور کی ایک شام جو بہتر انداز میں بسر ہوئی۔ ‘‘

اگلے دن ہمارے سب ہم جماعتوں نے استاد صاحب کے ساتھ ملکر تفریح کرنے کا پروگرام بنایا اور کلاس ختم ہوتے ہی دو ٹیکسیاں پکڑ کر سیدھے آرچرڈ روڈ پہنچ گئے۔ آرچرڈ روڈ سنگاپور کا سب سے بڑا خریداری کا علاقہ ہے۔ فرحت اللہ بیگ صاحب کی لکھی ہوئی تعریف ہم پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ سمجھ لیجے کہ یہ بازار سنگاپور کا طارق روڈ یا لبرٹی ہے۔ اہالیانِ کراچی اور لاہور سمجھ گئے ہوں گے، دوسرے علاقوں کے مکین اپنے علاقائی ماحول کے مطابق کچھ اور تصور کر لیں۔ چونکہ اس پہلے دن ہم نے ڈائی نے سٹی ہوٹل کے قریب ٹیکسی سے اتر کر پیدل آوارہ گردی کا آغاز کیا تھا، لہٰذا اس کے بعد ہمارے لیے آرچرڈ روڈ اسی نکتے سے شروع ہوتی تھی۔ پیدل ٹہلتے ہوئے چلے تو راستے میں آنے والے کئی شاپنگ سنٹر دیکھ ڈالے۔ ان دنوں لکی پلازا کا بڑا چرچا تھا، لہٰذا وہاں پہنچے اور زیادہ توجہ کے ساتھ دکانوں کا معائنہ شروع کیا۔ اکٹھے آٹھ لوگ کسی بھی دکان میں گھستے تو دکاندار سٹپٹا جاتے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ کس کی طرف توجہ کریں اور کس کی نگرانی کریں۔ ایک دکاندار تو اس قدر گھبرایا کہ ہر ایک کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگا۔ جب کافی دیر تک ادھر ادھر اشیاء کا بغور معاینہ کرنے کے باوجود بھی ہم میں سے کسی نے کسی شے کو خریدنے کا عندیہ نہ دیا تو وہ کچھ مشتعل سا نظر آنے لگا۔ ہم چونکہ اپنی کالی رنگت کی بناء پر ویسے ہی سب کی توجہ کا مرکز تھے، اس کے غصے کا محور بھی بن گئے اور اس نے ہمیں دیکھ کر ایک نعرہ مستانہ بلند کیا’’ ہے یو؟‘‘ یعنی’’ ارے تم! کیا چاہیے تمہیں ؟‘‘ ہم غریبِ شہر کیا کہتے، ٹُک اسے دیکھا کیے، لیکن گورے استاد نے دکاندار کو تسلی دی کہ ہم سب اکٹھے ہیں اور سب ہی غیر ملکی ہیں۔ اس بات پر اسے کچھ تسلی ہوئی لیکن پھر جب یہ دیکھا کہ سب ہی بناء خریداری کیے دکان سے باہر جا رہے ہیں تو اس کا موڈ پھر بگڑ گیا۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب ہم نے کسی سنگاپوری شہری کو اس طرح خراب موڈ میں دیکھا، ورنہ ہمیشہ سب ہی ہمیں خوش اخلاقی سے ملے۔

جس زمانے کا یہ قصہ ہے اس دور میں سنگاپور میں بھاؤ تاؤ کرنے کا بہت زیادہ رواج تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، اگر آپ دکاندار کی بتائی ہوئی قیمت پر بھروسا کر کے خریداری کر لیتے، تو گویا آپ لٹ چکے ہوتے۔ فارمولا یہ بتایا گیا کہ دکاندار جتنی قیمت بتائے، آپ اس کی آدھی قیمت سے بحث کا آغاز کریں۔ پھر جہاں پر بات بن جائے، وہیں بات ختم کر کے پیسے ادا کر دیں۔ بھاؤ تاؤ کا طریقہ بھی مخصوص تھا۔ دکاندار جس قیمت پر آپ سے بھاؤ تاؤ شروع کرنا چاہتا، وہی قیمت کیلکولیٹر پر لکھ کر آپ کے سامنے کر دیتا۔ آپ اپنی من پسند قیمت اسی کیلکولیٹر پر لکھ کر اس کے سامنے رکھ دیتے۔ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ جو قیمت آپ کے نزدیک مناسب ہوتی اس پر پہنچ کر آپ اپنے بٹوے سے پیسے نکالتے جنھیں دیکھتے ہی دکاندار رام ہو جاتا اور آپ سے پیسے پکڑ کر خریدی ہوئی شے آپ کے حوالے کر دیتا۔ آرچرڈ روڈ اور خاص طور پر لکی پلازا اس قسم کی خریداری کے لیے مشہور تھے۔ سرنوسن روڈ پر مصطفے ٰ سنٹر میں البتہ ہر شے پر قیمت لکھی ہوئی تھی اور دھوکے کے امکانات کم تھے۔ لہٰذا ہم نے اصولی طور پر، طے کر رکھا تھا کہ اپنی تمام خریداری مصطفے ٰ سنٹر ہی سے کی جائے گی علاوہ معدودے چند اشیاء کے، جن میں کمپیوٹر سرِ فہرست تھا۔ (ایک ہفتے بعد فونان سنٹر سے ہمارا خریدا ہوا کمپیوٹر ہمارے حوالے کر دیا گیا تھا اور ہم اسے اپنے ہوٹل کے کمرے میں تختہ مشق بنائے ہوئے تھے )۔

واپسی پر سڑک پار کر کے دوسری جانب ہو گئے اور ویسما ایٹریا سمیت اس طرف کے تمام خریداری مرکز دیکھ ڈالے اور ہوٹل واپسی کا پروگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جب ہم اور چودھری صاحب اکیلے دکیلے ہی آرچرڈ روڈ پہنچے تو اس مرتبہ ہم نے ڈائی نے سٹی ہوٹل سے دوسری جانب اس کاٹس روڈ پر چلنا شروع کیا اور تیسری بلڈنگ  اس کاٹ سنٹر کے تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک صاف ستھرے فوڈ سنٹر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور مزے لے لے کر پیلی کھچڑی کے ساتھ حلال سالن تناول کیا اور اس کا لطف اٹھایا۔ اس سے آگے چلے تو فار ایسٹ پلازا نے ہمارا راستہ روکا اور ہمیں چہل قدمی کی دعوت دی۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ ایم آر ٹی ابھی نہیں بنی تھی۔ بعد میں جب ہم ۲۰۱۰ء میں سنگاپور پہنچے تو آرچرڈ روڈ کے اسٹیشن پر اتر کر ان سب جگہوں کو تلاش کرتے رہے جہاں کبھی ہم نے وقت گزارا تھا۔ اس کاٹ سنٹر کی یہ عمارت غائب تھی اور ساتھ ہی یہ فوڈ سنٹر بھی۔ لکی پلازا اتنا دلکش نہ لگا جتنا کبھی لگا تھا، کیوں کہ راستے میں دونوں اطراف کئی ایک خوبصورت شاپنگ سنٹرز بن چکے تھے۔ خاص طور پر سنگاپورا پلازا جو آرچرڈ روڈ کی تقریباً دوسری جانب‘ دھوبی گھاٹ‘ نامی ایم آر ٹی جنکشن کے اوپر بنایا گیا ہے بہت خوبصورت اور با رونق ہے۔

۲۰۱۰ء میں ہم چوتھی مرتبہ سنگاپور پہنچے تو پچھلی دفعہ سے زیادہ سنگین واردات ہمارے ساتھ ہو چکی تھی۔ اس مرتبہ خان صاحب ہمارے ہمسفر تھے۔ اس مرتبہ ہم کسی بھی تفریحی مقام کی سیر کو نہ نکل سکے، اس لیے کہ خان صاحب کو تربیتی مرکز سے ہوٹل واپسی کے بعد کہیں اور جانے کے لیے آمادہ کرنا کار ِ دارد تھا۔ ہم لاکھ انھیں مناتے کہ بھائی کہیں تو نکل چلو، لیکن وہ اپنے کمرے میں، لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے، اپنی محبوبہ سے چیٹ یعنی ہوائی پینگیں بڑھایا کرتے۔ ہم چونکہ اس بار چائنا ٹاؤن کے ایک ہوٹل فوراما سٹی سنٹر میں ٹھرے تھے، لہٰذا ہر روز رات کا کھانا کھانے کے لیے انھیں سرنگون روڈ کھینچ کر لے جاتے۔ کھانا ختم کرتے ہی، وہ ہمیں ٹرین اسٹیشن کی جانب اور ہم انھیں شاپنگ سنٹر کی جانب کھینچتے۔ زیادہ تر جیت ان کی ہی ہوتی کیونکہ وہ ہم سے درخواست بھی کر رہے ہوتے تھے کہ ’وہ اپنی محبوبہ دلنواز کو انتظار کرتا چھوڑ آئے ہیں اور واپس پہنچ کر اس کے غصے کو برداشت کرنے اور اسے منانے کا خوشگوار کام بھی انھی کو سر انجام دینا ہے ‘۔

پاکستان واپس آ کر ہم نے ہمجولیوں میں ان کی شکایت کی کہ خان صاحب کا تو سنگاپور میں ایک ہی مشن تھا۔ اپنی محبوبہ دلنواز سے باتیں۔ ساتھی کہنے لگے ’’ بھئی! ہم نے تو انھیں ایک بالکل ہی مختلف مشن پر بھیجا تھا۔ خدا جانے وہ اس مقصد و مدعا میں کامیاب ہو پائے یا نہیں۔ ‘‘

ہم نے حیران ہو کر پوچھا ’’ وہ کیا مشن تھا؟‘‘

جواب ملا’’ ان کا مشن اپنے ’ٹی اے۔ ڈی اے ‘ کے پیسے مکمل طور پر بچا کر، کھانے کے لیے آپ کے ’ٹی اے۔ ڈی اے ‘ پر انحصارِ کلی تھا۔ ‘‘

ہم حیران رہ گئے۔ ہم ہنس دیے۔ ہم چپ رہے۔ کچھ اس کا سبب چپ تھا، کچھ اس کا سبب باتیں۔

خیر صاحب ولے بخیر گزشت۔ جن جگہوں کو ہم پچھلی مرتبہ دیکھ نہ پائے تھے، وہ ان دیکھی ہی رہ گئیں اور جن مقامات کو ایک مرتبہ دیکھ چکے تھے، انھیں دوسری بار دیکھنے کی ہوس رہ گئی۔ ان چند جگہوں میں خاص طور پر سینتوسا آئی لینڈ بھی شامل ہے۔

اگلے اتوار ہم اور چودھری صاحب جلد ہی اٹھ کر تیار ہو گئے اور مفت ناشتے کے فوائد حاصل کرتے ہوئے ٹیکسی پکڑ کر کوہِ فیبر پہنچ گئے۔ وہاں سے ان دنوں سینتوسا آئی لینڈ کے لیے کیبل کار روانہ ہوتی تھی۔ ہم نے فوراً ٹکٹ کٹایا اور کیبل کار میں بیٹھ کر فضائی نظارے کے مزے لیتے ہوئے سینتوسا جزیرے پر اتر گئے۔ آج کل مرینہ مال سے اس جزیرے کے لیے چھوٹی ٹرین چلتی ہے جو سمندر پر بنے ہوئے ایک پل سے گزرتی ہے۔ ۔ سینتوسا سنگاپور مین جزیرے کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جسے سیاحوں اور سیر کے رسیا افراد کے لیے ایک مکمل تفریحی مقام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ گویا موجودہ دنیا کے عجائبات میں سے ایک ہے , ۲۰۱۰۔ ء میں اس جزیرے میں دو دلچسپیوں کا اور اضافہ کیا گیا جن میں سے ایک یونیورسل اسٹوڈیو کا ڈسپلئے اور فن سنٹر اور دوسرا ایک عدد کسینو ہے۔ کسینو کی یہ خوبی بیان کی جاتی ہے کہ یہاں پر سیاحوں کے لیے داخلہ بالکل مفت اور مقامی شہریوں کے لیے سو ڈالر داخلہ فیس کے ساتھ ہے۔ اگر یہ کسینو اس زمانے میں بھی موجود ہوتا تو ہمارے چودھری صاحب لازمی اس کی سیر کرتے اور ہمیں ‘مجبوراً ‘ ان کا ساتھ دینا ہی پڑتا۔ سب سے پہلے ہم نے یہاں پر بنایا ہوا میوزیم دیکھا اوراس کے مظاہر میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔

آئی لینڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مفت مونو ریل چلتی ہے۔ لہٰذا ہم دونوں اس سہولت کا خوب فائدہ اٹھاتے رہے اور اس ریل میں بیٹھ کر بار بار مفت سیر کا لطف اٹھایا۔ ایک جگہ سمندر کے کنارے پیڈل بوٹ نظر آئی تو چودھری صاحب مچل گئے۔ ہم نے مونو ریل کے قریبی اسٹیشن پر اتر کر وہاں سے دوڑ لگائی اور ایک ایک پیڈل بوٹ کرائے پر لے کر تقریباً دو گھنٹے تک پیڈل مارتے رہے۔ عجیب واہیات سواری ہے۔ اس وقت کچھ احساس نہیں ہوتا، بعد میں خوب پتا چلتا ہے۔ دو گھنٹے گزار کر اس سے اترے تو اگلے دو دن تک لنگڑاتے رہے اور اس گھڑی کو کوستے رہے جب چودھری صاحب کو پیڈل بوٹس نظر آئی تھیں۔ جھٹپٹے کے وقت تک اسی طرح مختلف تفریحات میں مشغول رہے۔ اندھیرا پھیلنے لگا تو ٹکٹ لیکر میوزیکل فاؤنٹین کے چھوٹے سے اسٹیڈیم میں جا بیٹھے۔ درمیان میں ایک تالاب میں کئی فوارے پانی اچھال رہے تھے۔ اندھیرا چھا گیا تو شو شروع ہوا۔ مختلف رنگوں کی روشنیاں میدان میں رقص کرنے لگیں، بہترین ساؤنڈ سسٹم پر موسیقی شروع ہوئی تو رنگ و نور کا ایک طوفان آ گیا اور تمام فوارے اور رنگ برنگی روشنیاں اس موسیقی کی تال پر رقص کرتے ہوئے پانی سے کھیلتے رہے۔ ہم اس اسٹیڈیم میں موجود تمام تماشائیوں کے ہمراہ دم بخود اس حسین نظارے کو دیکھتے رہے۔ کوئی ایک گھنٹے کے اس شو میں انھوں نے کئی انگریزی، چائنیز اور ہندوستانی گانوں کی تال پر رقص کیا اور داد سمیٹی۔ آخر میں جب انڈین فلم قربانی کا مشہور یہ گانا چھیڑا گیا

’’ قربانی، قربانی، قربانی

اللہ کو پیاری ہے قربانی‘‘

تو فواروں، رقص و موسیقی او ر روشنی کے اس طوفان میں ہم بھی جھوم اٹھے۔ گانا، موسیقی، رنگ و نور اور فواروں کا رقص اپنے عروج پر پہنچ کر یکبارگی تھم گیا، لیکن ناظرین کی تالیاں اگلے دس منٹ تک فضا ء کو گرماتی رہیں۔ واقعی یہ ایک ایسا نظارہ تھا جو ہمیں مدتوں یاد رہے گا۔

اب تو سنا ہے کہ انڈر واٹر ورلڈ کے نام سے ایک اور مظہر وجود میں آ چکا ہے لیکن ہماری ۲۰۱۰ء کی سیر کے پروگرام میں خان صاحب کی محبوبہ آڑے آئیں اور ہم اس جزیرے کو دوبارہ نہیں دیکھ سکے۔ ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے

ہم نے بارہا خان صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ سنگاپور سے واپسی تک اپنی محبوبہ دلنواز کو خدا حافظ کہہ دیں کہ واپسی پر تمہارے لیے ٹافیاں لے کر آئیں گے، لیکن وہ نہ مانے۔

آخری دن ہم اپنی شاپنگ لسٹ سنبھال کر مصطفے ٰ اور شمس الدین پہنچ گئے اور بشمول ایک عدد بڑے سوٹ کیس، تمام اشیاء وہیں سے بازار سے با رعائت خریدیں اور خوش خوش سنگاپور سے وطن واپس لوٹے۔

کراچی ائر پورٹ پر کسٹم آفیسر نے ہمارا سوٹ کیس اور اس کے ساتھ کمپیوٹر اور مانیٹر کے دو ڈبے دیکھے تو بظاہر گھبرا کر اور بباطن خوش ہوتے ہوئے سوال کیا۔ ’’ کیا کیا خرید لیا بھائی جان؟‘‘

ہم نے سوالیہ انداز میں ان کی جانب دیکھا تو وہ اور زیادہ خوش ہو گئے۔ مرغا پھنس گیا، انھوں نے شاید یہ سوچ کر ہمارا سامان کھلوا لیا، لیکن اسے دیکھتے ہی ان کا منہ بن گیا اور انھوں نے مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے ہمیں جانے کا اشارہ کر دیا۔ ادھر کئی کھیپیے لائن میں موجود تھے جن پر آفیسر صاحب کی نظر کرم ٹھہر گئی۔

دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی۔

٭٭٭

 

ولایتی زعفران

 

اِس طرح تو ہوتا ہے

 

                بی۔سی۔لیز  /  نوید ظفر کیانی

 

تیسرا ایکٹ

 

مکمل  ڈرامہ ایک الگ ای بک کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

چوکے ہی چوکے(قطعات)

 

 

                تنویر پھولؔ

 

ارمغانِ ابتسام

 

ہنساؤ، ہنسو، قہقہے بھی لگاؤ

نیا آ گیا ’’ارمغانِ تبسم‘‘

پڑھا جب اِسے، گدگدی ہو رہی ہے

رگوں میں رواں کاروانِ تبسم

 

 

پیر جی

 

باغی مرید بولا، عجب ہیں یہ پیر جی!

بارِ مریدی ہم سے اُٹھایا نہ جائے گا

غصے میں اُن کی آنکھیں ہیں شعلے اگل رہی

’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘

 

 

الیکشن

 

شرمندہ ہم ہیں تجھ سے، پیارے وطن کے پرچم!

ہیں دیکھتے تماشا، اہلِ جہاں ہمارا

ہوتا ہے جب الیکشن، چُنتے ہیں ڈاکوؤں کو

’’سو بار لے چکا ہے تو امتحاں ہمارا ‘‘

 

 

 

 

پانامہ لیکس

 

ہے بے وقوف قوم مگر اتنی بھی نہیں !

کہتا نہیں ہے کوئی بھی باتیں یہ بے سبب

ہے لیڈروں کے پیٹ میں گڑبڑ مچی ہوئی

’’پانامہ لیکس‘‘ بن گیا ’’پاجامہ لیکس‘‘ اب

 

 

ساقی

 

پیٹ اپنا خراب ہے ساقی!

ہم نے کھایا کباب ہے ساقی!

تو نے ہے مے میں کیا ملاوٹ کی؟

کس لئے آب آب ہے ساقی؟

 

 

الیکشن

 

ایمان چلا جائے تو عزت نہیں رہتی

حیرت کو بھی پھر تو کوئی حیرت نہیں رہتی

جو قوم شب و روز بنے فول مزے سے

اس کو یکم اپریل کی حاجت نہیں رہتی

٭٭٭

 

 

 

                ڈاکٹر مظہرؔ عباس رضوی

 

خالد عرفان کے نام

 

کوششیں آپ بھی کر لیجئے جتنی چاہے

پر چلیں گے نہ کبھی چین کے جاپان کے فین

داد کے جھونکوں سے گرمی یہاں کم ہوتی ہے

اب تو کام آتے ہیں بس خالدِ عرفان کے

 

 

آپریشن تھیٹر میں

 

’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ‘‘

مریضِ سرجری کے لب پہ تھے یہ افسانے

یہ ڈاکٹر ہیں کہ ڈاکو تمیز مشکل ہے

’’نقاب پوش پھریں ہیں پہن کے دستانے ‘‘

 

پری

 

ہمت بندھائی اُس نے بڑھے اپنے حوصلے

تعریفِ حُسن کرنے ہم اُس کے قریں چلے

اچھائی کا مگر وہ زمانہ کہاں رہا

ہم نے کہا پری تو وہ بولی ’’پرے پرے ‘‘

 

 

گیس

 

ماہرِ امراضِ معدہ ایک دن کہنے لگا

جس کو دیکھو گیس کے آزار میں ہے مبتلا

مُلک میں ہے گیس کی قِلّت کا چرچا ان دنوں

استفادہ کیوں نہیں کرتا کوئی ان سے بھلا

 

کمربستہ

 

کروں کیا منکشف اب آپ پر یہ راز سربستہ

کلاس اوّل میں اِک من کا اُٹھاتا تھا پسر بستہ

جھکی اس کی کمر، بھاری تھا اس کا اسقدر بستہ

مرا بچہ ہوا تعلیم پر ایسے کمربستہ

 

میں

 

انا پرستی کی حد ہو گئی کہ اب ہم لوگ

کسی کو جانتے ہیں  اور نہ کچھ سمجھتے ہیں

ہے گرچہ صورتِ انساں، صدا ہے بکری کی

جسے بھی دیکھو وہی کر رہا ہے ’’ میَں میَں میَں ‘‘

 

زردہ

 

ہے لت پڑی ہوئی کہ کروں ایک کو میں دو

دولت کا شوق ہے میں کماتا ہوں اِس لئے

میٹھے کا کوئی شوق نہیں ہے مجھے جناب

زردہ میں زر ہے دس دفعہ، کھاتا ہوں اِس لئے

٭٭٭

 

 

                امجدؔ علی راجا

 

پہلے  اور بعد میں

 

ایک سے پاگل تھے دونوں میں نے پوچھا کون ہیں ؟

ڈاکٹر بولا ہوا یہ حال بربادی کے بعد

ایک مجنوں ہو گیا جب ’’ش‘‘ کی شادی ہوئی

ایک دیوانہ ہوا ہے ’’ش‘‘ سے شادی کے بعد

 

اچھا شوہر

 

جی جان سے بیوی کی جو خدمت نہیں کرتا

سسرال میں اس کی کوئی عزت نہیں کرتا

شوہر وہی اچھا ہے زمانے کی نظر میں

’’جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا‘‘

 

وہ

 

اس کی عادت سی ہے لڑکوں سے شرارت کرنا

اس نے ویسے ہی کہیں آنکھ لڑائی ہو گی

چھوڑ دے گی وہ کسی  اور کی خاطر مجھ کو

’’یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی‘‘

 

دھو کے کھائیے

 

عقل بڑھ جاتی ہے دھوکے کھانے سے انسان کی

صاحبِ دولت ہوں یا مزدور، دھوکے کھائیے

فلسفہ گہرا ہے اس کا عقل کی یہ بات ہے

سیب ہو، امرود یا انگور دھو کے کھائیے

 

۔ ۔ ۔ تو کیا نام نہ ہو گا

 

قائم ہے کرپشن کے طفیل اپنی حکومت

میرٹ پہ کسی طور کوئی کام نہ ہو گا

لعنت بھی اگر قوم سے ملتی ہے تو کیا غم

’’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘

٭٭٭

 

 

 

                انجینئر عتیقؔ الرّحمٰن

 

سیاست

 

غرض کا کھیل کھیلا جا رہا ہے

کسی کو پھر دھکیلا جا رہا ہے

سیاست کی کوئی تو انتہا ہو

لگا جو ہاتھ پیلا جا رہا ہے

 

آزادیِ صحافت

 

ہے ملک میں اس وقت کرپشن، بڑی لعنت

آزاد صحافت ہے کرپشن سے حفاظت

چھڑنا ہے ترقی کا اگر تم کو یہ زینہ

لازم ہے کرو ملک میں آزاد صحافت

٭٭٭

 

 

 

                شاہینؔ فصیح ربّانی

 

ضرورت

 

روپ بہروپ کی ضرورت ہے

جوس کی، سوپ کی ضرورت ہے

آپ تو گوری چمڑی والے ہیں

آپ کو دھوپ کی ضرورت ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                احمدؔ علوی

 

اب

 

اب ہیں وصال یار کے کتنے ہی راستے

ہم نیٹ پر ہیں شب کو شبستاں کئیے ہوئے

اب دور وہ نہیں رہا علوی تمام رات

بیٹھے رہیں تصور جاناں کئیے ہوئے

 

 

انجم عثمانی

 

قد کے بونے ہو بھوٹانی لگتے ہو

جانے کس کس کی نادانی لگتے ہو

اے ٹی ایم بتاتے ہو خاتونوں کو

سو فی صد انجم عثمانی لگتا ہو

٭٭٭

 

 

 

 

مزاحچے

 

سوال نامے کا کمال

 

                صداقت حسین ساجد

 

وہ شہر کا مشہورہسپتال تھاجس کے استقبالیہ پر ایک نرس سفید کپڑے پہنے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ کافی دیر سے بے کار بیٹھی تھی، اس لیے اس پر سستی طاری تھی  اور وہ بار بار جمائیاں لے رہی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔

’’اُف خدایا! یہ بوریت تو مجھے پاگل کر دے گی۔ ۔ ۔ اب تک کوئی بھی ایسا نہیں آیا جسے پاگل کتے نے کاٹا ہو۔ ۔ ۔ اگر کوئی آ جاتا، تو میں کم سے کم اس سے باتیں ہی کر لیتی۔ ۔ ۔ میری سہیلی کی ملازمت کتنی دل چسپ ہے کہ صبح سے رات گئے تک مریضوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ۔ ۔ ایک میں ہوں کہ اتنے بڑے شہر کے اتنے مشہورہسپتال میں بیٹھی بور ہو رہی ہوں۔ ۔ ۔ ابھی تک کسی پاگل کتے نے کسی انسان کو نہیں کاٹا ہے۔ ‘‘

ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ایک شخص تیزی سے اندر داخل ہوا  اور اس کی طرف بڑھا۔

’’’مس! بات یہ ہے کہ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’جی۔ ۔ ۔ جی! فرمائیے۔ ۔ ۔ کیا بات ہے ؟ ‘‘

’’ کل میں ایک دوست کے گھر گیا تھا۔ ‘‘

’’تو اس میں کیا خاص بات ہے ؟۔ ۔ ۔ لوگ اپنے دوستوں کے گھر جاتے ہی رہتے ہیں۔ ‘‘

’’میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ایک کتا پال رکھا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

’’اچھا! تو میں اب سمجھی کہ اس کتے نے آپ کو کاٹ لیا ہے۔ ۔ ۔ لیجیے ! یہ سوال نامہ پر کر دیں۔ ‘‘

یہ کہہ کر نرس نے میز کے دراز میں سے ایک کافی لمبا سا فارم نکالا۔ یہ فارم کئی صفحوں پر مشتمل تھا۔ اِتنا بڑا فارم دیکھ کر اس شخص کے چھکے چھوٹ گئے۔

’’اف! اگر میں یہ فارم مکمل کرنے بیٹھ گیا، تو مجھے دفتر سے دیر ہو جائے گی۔ ۔ ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ مجھے صرف ایک ٹیکا لگا کر فارغ کر دیں ؟‘‘

’’جی نہیں۔ ۔ ۔ یہ ممکن نہیں۔ ۔ ۔ آپ اپنا نام بتائیے ؟ ‘‘

’’نعیم شامی ‘‘

’’مسٹر نعیم! آپ کو کس نے کاٹا ہے ؟ ‘‘

’’ٹامی نے !‘‘

’’یہ آپ کے کسی رشتے دار کا نام ہے ؟ ‘‘

’’ نرس! تمیز سے بات کریں۔ ۔ ۔ ٹامی کتا ہے  اور میں اشرف المخلوق یعنی انسان ہوں۔ ‘‘

’’ سوری! آپ مجھے انسان ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ۔ ۔ اصل میں شامی  اور ٹامی ملتے جلتے نام ہیں ناں ! اس لیے غلطی ہو گئی ہے۔ ۔ ۔ اچھا! یہ بتائیے کہ آپ کا پیشہ کیا ہے ؟‘‘

’’منیجر۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ کس کمپنی میں ؟ ‘‘

’’ نیشنل بنک میں ‘‘

’’ کون سا بنک؟ ‘‘

’’ نیشنل بنک‘‘

’’کیا۔ ۔ ۔ کون سا بنک؟ ‘‘

’’ نیشنل بنک‘‘

’’نیشنل۔ ۔ ۔ کیا؟‘‘

’’ نیشنل بنک۔ ۔ ۔ نیشنل بنک۔ ۔ ۔ نیشنل بنک۔ ۔ ۔ نیشنل بنک۔ ۔ ۔ ‘‘ نعیم شامی جھلا کر چیخ پڑا۔

’’ ہاں۔ ۔ ۔ تو مسٹر شامی! آپ کو میرے سوالوں کی سمجھ آ رہی ہے ؟ ‘‘

’’ ہاں۔ ۔ ۔ لیکن کیا آپ میرے جوابات کو سمجھ رہی ہیں ؟ ‘‘

’’ نہیں۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ تو اس کے باوجود بھی آپ لکھتی جا رہی ہیں ؟‘‘

’’آپ کو اس بارے میں ذرا بھر بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ۔ ۔ صرف میرے سوالوں کا جواب دیجیے۔ ۔ ۔ اِس پہلے بھی آپ کو کسی جانور نے کاٹا تھا؟ ‘‘

’’ اگر میرا جواب ہاں میں ہو، تو پھر؟‘‘

’’ یہ بتائیے ! کس نے کاٹا تھا؟‘‘

’’ مجھے کھٹمل کاٹتے رہتے ہیں۔ ‘‘

’’ میں ان کی بات نہیں کر رہی۔ ۔ ۔ کسی جانور نے آپ کو کبھی کاٹا ہے ؟ ‘‘

’’ نہیں !‘‘

’’ کیوں ؟ ‘‘

’’ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ اُنھیں میرا ذائقہ پسند نہ آیا ہو۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ انھیں بھوک ہی نہ لگی ہو!!‘‘

’’ اچھا! یہ بتائیے۔ ۔ ۔ آپ کی بہنیں ہیں ؟ ‘‘

’’ نہیں !‘‘

’’ بھائی؟ ‘‘

’نہیں !!‘‘

’’ کیا انھیں کبھی کسی نے نہیں کاٹا؟ ‘‘

’’ کیا فضول سوال ہے۔ ۔ ۔ جب بہن بھائی ہیں ہی نہیں، تو انھیں کاٹتاکون؟ ‘‘

’’ دیکھئے ! آپ میرے سوالوں کے جواب بد تمیزی سے دے رہے ہیں۔ ۔ ۔ اگر آپ نے اپنا رویہ نہ بدلا، تو مجھے مجبوراًہسپتال کے ملازموں کو زحمت دینا پڑے گی کہ وہ آپ کو آ کر رسیوں سے باندھ دیں گے۔ ۔ ۔ کیا آپ کے والدین کو کسی نے کاٹا تھا؟‘‘

’’ اوہ۔ ۔ ۔ میرے خدایا! ان کو کاٹنے کی ہمت کون کر سکتا تھا؟‘‘

’’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ ۔ ۔ شاید ان کے کسی دوست۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ دوستوں کے بارے میں آپ کا اندازہ درست نہیں ‘‘

’’ میں کہتی ہوں کہ میرے سوالوں کے جواب دیں۔ ۔ ۔ آپ کو کس جانور نے کاٹا ہے ؟ ‘‘

’’ ایک پلے نے۔ ۔ ۔ میں یہ بات پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ ‘‘

’’سرکاری زبان میں پلے نام کوئی جانور موجود نہیں !‘‘

’’ اوہ۔ ۔ ۔ اسے کتا کہہ لو۔ ۔ ۔ پلا، کتے کا بچہ ہی ہوتا ہے۔ ‘‘

’’ وہ نر تھا یا مادہ؟ ‘‘

’’ کتیا! ‘‘

’’ یہ کیا بکواس ہے ؟ تمیز سے بات کرو۔ ‘‘

’’ میں کتیا کو کتا کیسے کہوں ؟ وہ کتیا ہی تھی۔ ‘‘

’’ اوہ۔ ۔ ۔ تم پاگل ہو۔ ۔ ۔ دیوانے ہو۔ ۔ ۔ مجھے ملازم بلانے ہی پڑیں گے !‘‘

’’ پاگل تم آپ ہو۔ ۔ ۔ تم کسی دیوانے کتے کی کاٹی ہوئی معلوم ہوتی ہو۔ ‘‘

’’ بکواس مت کرو۔ ۔ ۔ میں یہاں تین سال سے کام کر رہی ہوں  اور آج تک مجھے کسی نے نہیں کاٹا۔ ‘‘

نعیم شامی نرس کی طرف تیزی سے بڑھا  اور وحشت بھرے لہجے میں سرگوشی کرنے لگا۔

’’ اگر تمھیں آج تک کسی نے نہیں کاٹا، تو آج میں ضرور کاٹوں گا۔ ۔ ۔ تم پر لعنت ہو!!‘‘

یہ کہہ کر وہ تیزی سے اس پر جھپٹا۔ اس کے منہ سے غرانے کی آوازیں نکلنے لگیں۔

نرس چلاتے ہوئے وہاں سے نکل بھاگی۔

’’ اوہ۔ ۔ ۔ اوہ! اس پر پاگل کتے کا اثر جلد ہو گیا ہے۔ ‘‘

نعیم شامی جنون کے عالم میں کمرے میں موجود ہر چیز کو توڑنے پھوڑنے لگا۔ میز کرسی الٹ دی، کاغذات پھاڑ ڈالے  اور پھر وہ باہر چلا گیا۔

تھوڑی دیر بعد نرس نے کمرے میں جھانکا، تو اسے ہر طرف ابتری پھیلی ہوئی دکھائی دی۔

’’ شکر ہے۔ ۔ ۔ وہ بھاگ گیا۔ ۔ ۔ مجھے یہی امید تھی۔ ۔ ۔ اب وہ بازاروں میں دیوانوں کی مانند وہاں موجود لوگوں کو کاٹنے کی کوشش کر رہا ہو گا  اور دکانوں کا سامان توڑ پھوڑ چکا ہو گا۔ ‘‘

پھر اس نے تیزی سے ٹیلی فون کا ریسیور اٹھایا  اور ایک نمبر ملایا۔ جب رابطہ ہوا، تو تیزی سے کہنے لگی۔

’’ ہیلو۔ ۔ ۔ ہیلو۔ ۔ ۔ ایمبولینس سروس پلیز! سنیے۔ ۔ ۔ یہ ہنگامی صورت حال ہے۔ ۔ ۔ ایک دیوانے کتے نے ایک آدمی کو کاٹ لیا ہے  اور اب وہ شخص بازار کی طرف بھاگ گیا ہے۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ! وہ لوگوں کو کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ۔ ۔ کیا۔ ۔ ۔ ؟ جی نہیں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ وہ مجھے کیسے کاٹ سکتا تھا؟ نہیں۔ ۔ ۔ جی! یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔ ۔ ۔ ہم لوگ ایسے مریضوں سے نبٹنے کا طریقہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ ۔ ۔ آپ کو معلوم ہے ناں۔ ۔ ۔ ! ہم تو تربیت یافتہ نرسیں ہیں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ! ہم تو انھیں پانچ منٹ میں پاگل بنا کر کمرے سے نکل کر بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ! آپ کو معلوم ہے ناں۔ ۔ ۔ ! اس کام کے لیے تو ایک عدد سوال نامہ ہی بہت ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

٭٭٭

 

 

 

سویا ہوا محل

 

                ابنِ منیب

 

گاؤں والے سخت تنگ آ چکے تھے۔ ڈاکو دن دیہاڑے آتے  اور کسی کو بھی لُوٹ کر چلتے بنتے۔ مریض کلینک کے باہر ’’بند ہے ‘‘ کا بورڈ دیکھ کر واپس چلے آتے۔ بچوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اہلکار کٹائی کے وقت گاؤں آتے  اور شاہی حکمنامہ دکھا کر دو تہائی فصلیں قبضے میں کر لیتے۔ اگر کبھی کچھ لوگ ہمت کر کے اِن سے مشکل حالات کی شکایت کرتے تو یہ اہلکار اُنہیں ایک بار پھر شاہی حکمنامہ دکھا کر کہتے کہ وہ صرف لگان اکھٹی کرنے پر مامور ہے۔ اِن اہلکاروں کی نقل و حرکت  اور اِن کا کام بھی عجیب تھے۔ نہ جانے کہاں سے عین کٹائی کے وقت یہ گاؤں پہنچ جاتے  اور پھر اگلی کٹائی تک دوبارہ نظر نہ آتے۔ لگان میں لی ہوئی فصلوں کو بیل گاڑیوں پر لاد کر گاؤں کے قریبی دریا تک لے جاتے  اور وہاں بڑے بڑے لکڑی کے جڑے ہوئے تختوں پر رکھ کر دریا کے بہاؤ پر روانہ کر دیتے۔ یہ دریا آگے کہاں تک جاتا تھا، گاؤں والوں کو ٹھیک طرح سے معلوم نہیں تھا۔ کچھ بوڑھوں کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنی جوانی میں اِس دریا کے ساتھ ساتھ کئی دن تک سفر کیا ہے۔  اور یہ کہ گاؤں سے کم از کم پانچ دن کی مسافت پر یہ دریا چار چھوٹے دریاؤں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔  اور وہ دریا کہاں جاتے ہیں ؟ یہ جاننے کی کوشش کسی نے کبھی نہیں کی تھی۔ صرف اتنا کہا جاتا تھا کہ اِن چار دریاؤں پر ایک طلسماتی  اور قدرے خوفناک سی دھُند چھائی رہتی ہے۔ چوپال میں جب کبھی اِن دریاؤں کا ذکر آتا تو گاؤں کا دیوانہ اچانک ایک پاؤں پر کھڑا ہو کر ناچنے لگتا۔ طرح طرح کے منہ بناتا  اور ا انگوٹھا بند کر کے ہاتھ کی چار اُنگلیاں ہوا میں لہراتا۔ پھر ایک ایک انگلی بند کرتا  اور کچھ عجیب سے الفاظ بکتا، جیسے دریاؤں کے نام گِنوا رہا ہو۔

’’سوئٹزرلینڈ، لندن، دبی، ڈیفینس‘‘

گاؤں والوں کو یقین تھا کہ یہ نام اُس کے مفلوج ذہن کی پیداوار ہیں  اور بالکل بے معنی ہیں۔ دیوانہ تو خیر دیوانہ تھا، مگر اب حالات کے ہاتھوں گاؤں والے بھی پاگل ہوتے جا رہے تھے۔ بالآخر پنچائت نے طے کیا کہ گاؤں کے پانچ نوجوانوں کو بادشاہ کے دربار میں بھیجا جائے گا۔ مگر یہ کام اِتنا آسان نہیں تھا۔ پہلا  اور سب سے اہم مسئلہ تو یہ تھا کہ اُن میں سے کسی نے بھی دارالحکومت  اور بادشاہ کا محل نہیں دیکھے تھے۔ پھر اُنہیں اِس بات کا بھی ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ دربار میں اپنی شکایات کیسے پیش کی جاتی ہیں، یا پیش کی بھی جا سکتی ہیں یا نہیں ؟ (گاؤں میں رعایا کے حقوق کے بارے میں کبھی بات ہوئی ہی نہیں تھی۔  اور جس دور میں کچھ عرصے تک گاؤں کا اسکول چلتا رہا تھا وہاں بچوں کو طوطا مینا کی کہانیاں ہی پڑھائی جاتی تھیں، جنہیں بچے لفظ بہ لفظ یاد کر لیتے  اور بغیر توجہ دیئے لفظ بہ لفظ سُنا دیتے )۔ چار و ناچار اُنھوں نے گاؤں کے نجومی سے راستے کا اندازہ لگوایا  اور نوجوانوں کو اِس راستے پر روانہ کر دیا۔ نجومی نے اُنہیں دو اہم نشانیاں بتائی تھیں، چار دریا  اور دو رنگا پہاڑ۔ سفر کے پہلے حصے میں اُنہیں دریا کے ساتھ ساتھ گاؤں سے مغرب کی طرف چلتے جانا تھا۔ جب چار یا پانچ دن کی مسافت کے بعد دریا چھوٹے چھوٹے چار دریاؤں میں تقسیم ہوتا نظر آئے تو اُنہیں عین بائیں یعنی جنوب کی جانب مُڑ کر ناک کی سیدھ میں سفر کرنا تھا، یہاں تک کہ اُنہیں دو رنگا پہاڑ نظر آ جائے۔ نجومی کا دعویٰ تھا کہ پہاڑ سے آگے اُنہیں محل کا راستہ خود مل جائے گا۔  اور ہُوا بھی ایسا ہی۔ چار دریاؤں کے پھوٹنے کے مقام پر نوجوان بائیں مُڑے  اور مزید تین دِن کے سفر کے بعد دو رنگے پہاڑ تک پہنچ گئے۔ یہ وسیع و عریض پہاڑ بھی ایک عجیب معمہ تھا۔ جس جانب سے وہ اِس تک پہنچے تھے وہ بالکل بنجر  اور ویران تھی۔ جبکہ اِسکا عقبی رُخ (جو پوری طرح چوٹی پر چڑھ کر نظر آتا تھا) کسی عظیم الشان باغ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پہاڑکے اِس رُخ پر موجود خوبصورت درخت  اور بُوٹے پہاڑ کے دامن پر ختم نہیں ہوتے تھے بلکہ تاحدِ نگاہ ایک جنت نظیر میدان میں پھیلے ہوئے تھے۔ اِسی سرسبز میدان میں پہاڑ سے بہت دُور بادلوں  اور دُھند میں گھِرے ہوئے بلند و بالا میناروں کی ہلکی سی جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ یہی بادشاہ کا محل تھا۔ نوجوان اِن میناروں کی جانب سفر کرتے ہوئے بالآخر محل کے قریب پہنچ گئے۔ اب اُنہیں پورا محل اپنی مکمل شان و شوکت میں نظر آ رہا تھا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اُنہیں ایک مشکل درپیش تھی۔ محل کے چاروں طرف ایک گہری خندق کُھدی ہوئی تھی جس میں نصف گہرائی تک پانی چل رہا تھا۔ اِس خندق پر ایک ہی پُل تھا جو محل کے بڑے دروازے تک جاتا تھا۔ پُل کا داخلی کنارہ ایک بھاری زنجیر سے بند کر دیا گیا تھا  اور اِس کی ایک جانب ایستادہ ایک قدرے چَوڑی  اور قدِ آدم سے اونچی سنگِ مرمر کی سِل پر شاہی حکمنامہ درج تھا ’’یہاں سے آگے جانا منع ہے۔ بادشاہ سلامت  اور اُن کے وزیر پانچ سال کے لئے سو رہے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی مشکل درپیش ہے تو بالکل فکر نہ کریں، پانچ سال بعد بادشاہ سلامت خود آپ کے گھر پر حاضر ہو کر آپ کی داد رسی کریں گے۔ ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

چمچے اسٹیل کے

 

                حنیف سیّد

 

پاگل ہے دنیا۔ دنیا نہیں، تومیں۔ میں نہیں، تو وہ،  یعنی کہ میری بیوی، رجنی۔ ہم تینوں میں، ہے ضرور کوئی پاگل۔ تینوں بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ توفلاسفرز کا کہنا ہے  اور ڈاکٹرز  کا بھی ’’دنیا کا ہر شخص پاگل ہے۔ کوئی کم تو کوئی زیادہ۔ ‘‘

میں نے جب اپنے الیکشن کی کنویسنگ میں ڈائس پر کہا ’’امریکا وغیرہ تو چاند پر پہنچے، ہماری سرکاربنی، تو سورج پرجائیں گے، ہم۔ وہاں بھی جیون ہے۔ ‘‘ اتنا کہنا تھا کہ ٹماٹروں کی بارش ہونے لگی  اور مجھ کو دُم دبا  کر بھاگنا پڑا، ڈائس سے۔

بس اُسی دِن سے سمجھ گیا کہ دنیا پاگل ہے۔ ۔ ۔ اور جاہل بھی۔ اِس کو اتنا تک نہیں پتا کہ سورج پربھی جیون ہے۔ اگر ہم سمندرمیں نہ اُترے ہوتے، تو کیا تصور کر سکتے تھے کہ پانی کے اندر بھی جیون ہو سکتا ہے اور اگر پانی کے اندر جیون ہو سکتا ہے، ہوا میں جیون ہو سکتا ہے، مٹّی کے اندر جیون ہو سکتا ہے تو آگ میں کیوں نہیں ؟ یعنی کہ سورج میں۔  اور پھر لغت تو چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ آتش پرستوں کے آتش کدوں میں چوہوں جیسی شکل کے کیڑے پائے جاتے ہیں جِن کو سمندرکہتے ہیں جو صرف آگ کھاتے ہیں اور آگ سے باہر نکلنے پر مر جاتے ہیں۔ اِس کے متعلق حالیؔ نے بھی کہا ہے :

آگ سے جب ہوا سمندر دور

اُس کے جینے کا پھر نہیں مقدور

جب اُن چھوٹے چھوٹے آتش کدوں میں سمندرہیں توسورج میں تو کروڑوں برسوں سے آگ دہک رہی ہے، وہاں نہ جانے کتنے طرح کے جیو دھاری ہوں گے  اور آکسیجن توہے ہی وہاں۔ کیوں کہ آکسیجن کے بِنا آگ ہونا ممکن نہیں، آکسیجن ہے جہاں، جیون ہے وہاں۔ بس اُسی روز سے لوگ پاگل کہنے لگے مجھ کو اور میری بیوی نے لاکھوں ووٹوں سے مجھ کو ہرا کر الیکشن نکال لیا۔ حالانکہ پاگل تووہ تھی، پوری طرح۔ اَب سے نہیں، بچپن سے۔

جب مجھے زیادہ تر لوگ پاگل کہنے لگے، تو مجھے خود پر شک ہوا  اور میں فوراً پی۔ جی۔ آئی۔ جا پہنچا۔ پہلے تو نیروسرجن اور مریضوں کے درمیان کی گفتگو سنتا رہا۔ جب میرا نمبرآیا، تومیں نے نیرو سرجن سے فلاسفرزاورڈاکٹرز والی بات دُہرا دی۔

’’تو کیا، میں بھی پاگل ہوں۔ ؟‘‘ نیروسرجن سنجیدہ ہو گیا۔

’’جی ہاں۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘میں نے وثوق سے جواب دیا۔

’’وہ کیسے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘اُس کے تیور چڑھ گئے۔

’’میں دیکھ رہا ہوں، آپ مریضوں سے، مریضوں کے اِستر کی بات نہ کر کے ،  اپنے استرکی بات کر رہے ہیں :جب کہ ڈاکٹرز  کو لازم ہے، کہ وہ مریض اور مرض کو ملحوظ رکھتے ہوئے مریضوں کے استرکی بات کرے۔ ‘‘بات چونکہ سچ تھی، لہٰذا بنا حرکت مجھے گھورنے لگا وہ۔ ۔ ۔ جیسے ہارٹ فیل ہو گیا ہو، اُس کا۔

’’تم ٹھیک کہتے ہو، ہر شخص تھوڑا بہت پاگل ضرور ہوتا ہے، میں بھی ہوں۔ ‘‘اُس نے کمپیوٹر پر کچھ فیڈ کرتے ہوئے کہا۔

میں نے سوچا ’’میں پاگل تو ہوں، لیکن نہیں کے برابر،  یعنی کہ دنیا  اور رجنی کی بہ نسبت، بہت کم۔ ‘‘ اب رجنی اورساری دنیا کا علاج کروانا تو میرے بس کا تھا نہیں۔ ہاں، میں ضرور تھوڑے بہت علاج کا مستحق تھا۔ لہٰذا خود کو  تھوڑا بہت پاگل سمجھ کر پی۔ جی۔ آئی۔ سے اپنے ہی شہر کے نیروسرجن کے پاس آ گیا۔

جب میں نے ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے نمستے کیا۔ پہلے تو اُس نے اپنا چہرہ اُٹھاکر مجھے غورسے دیکھا، پھر کھڑے ہو کر نمستے کا جواب دیتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر مجھ سے میرے آنے کاسبب دریافت کیا۔

’’ڈاکٹر کے پاس مریض ہی آتا ہے۔ ‘‘ میں نے جواب دیا۔

پہلے تواُس نے میری بات ہنسی میں اُڑا دی، پھر میری تواضع کے واسطے اپنے ملازم کو آواز دی، کیوں کہ میں معمولی انسان تو تھا، نہیں، بلکہ ایک پرائم منسٹر کا شوہر تھا۔ بہرحال میری ضد پر ڈاکٹر صاحب نے دوچارسوالات کرنے کے بعد مجھ کو میرے بالکل ٹھیک ہونے کا یقین دِلا دیا، پھر میرا ذہن رجنی کی جانب لپکا، لیکن بے سود۔ کیونکہ اُس کے الیکشن جیتتے ہی میں نے اُسے پاگل ڈکلیئر کر کے مقدمہ کر دیا تھا، کیونکہ ہم دونوں ساتھ ساتھ کھیلے اور پڑھے بھی تھے۔ میں نے ایم۔ ایس۔ سی۔ کر لیا تھا اور وہ آٹھویں کلاس میں فیل ہو گئی تھی۔

وہ اکثر پاگل پن کی حرکتیں کرتی تھی، مثلاً ایک بار ہم دونوں کے بچپن میں یوں ہوا کہ جب اُس نے کنویں میں جھانکتے ہوئے کہا: ’’ارے۔ ۔ ۔ ! کنویں میں ہاتھی۔ ۔ ۔ !‘‘ اس کے کہنے پر جیسے ہی میں نے کنویں میں جھانکا، اُس نے دھکّا دے دیا  اور اُچھل اُچھل کر تالیاں بجاتی ہوئی بھاگ لی۔ یہ کہو کہ پانی کم تھا ورنہ اُسی روز میرا کام تمام ہو جاتا۔

ایک بار ہم دونوں نے کھیل کھیل میں گھروندے بنائے۔ جب اُس کے گھروندے سے میرا گھروندا بہتر بنا،  تو وہ میرا گھروندا بگاڑ کر بھاگ لی۔

ایک باراُس کی ماں نے میرے لیے کھیر بھیجی، جیسے ہی میں نے پہلا چمچہ مُنہ میں رکھا،  تو نمک ہی نمک، وہ بڑے اہتمام سے ڈھانپ کر لائی تھی۔ اِس طرح کبھی برتنوں میں اینٹ پتھر نکلتے تو کبھی اُچھلتے ہوئے مینڈک۔ ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتی وہ،  اور میں ہکّا بکّا رہ کراُس کو تکتا رہ جاتا۔

وہ کبھی کسی کی ہانڈی میں نمک جھونک آتی، تو کبھی مرچ۔ موقع دیکھ کر عورتوں کے مجمع میں گھُس جاتی۔ کبھی کسی کے نیچے پانی سے بھیگا کپڑا رکھ دیتی، تو کبھی دو عورتوں کی چوٹیاں باندھ دیتی،  کبھی کسی کے بیٹھنے کے مقام پر چُپکے سے پان کی پیک اُگل دیتی۔ اِن سب حرکتوں کے بعد خوب اُچھل اُچھل کر تالیاں بجاتی، اورہنستی ہنساتی نکل جاتی۔

محلّے کے شاطرسے شاطر کُتّے، اُس کو دیکھتے ہی دُم دبا کر بھاگ لیتے۔ اگر کبھی کسی سوتے ہوئے کُتّے پراُس کی نظر پڑ جاتی، توفوراًاُس کی پچھلی ٹانگیں پکڑتی، گھماتی اور پھینک دیتی۔ پھر تو دور دور تک قیوں قیوں کی آوازیں ہی سنائی پڑتیں۔

چڑیاں، اُس کو دیکھتے ہی اُڑ جاتیں، کبھی کوئی چڑیا، اُس کو دیکھنے میں چوک جاتی، تب تواُس کا نشانہ نہ چوکتا،  غلیل میں غُلّہ لگایا اور چڑیا نیچے۔

کبھی کوئی بکری یا بکرا نظر آیا، کان پکڑا اوراوراُس کی پیٹھ پر۔ جہاں کسی دھوبی نے اپنا گدھا باندھنے کی چوک کی، اُس نے فوراً اُس کی دُم میں ٹوٹا پیپا باندھ دیا۔

لڑکوں کی گلّی ڈنڈے میں، وہ شامل۔ کبڈّی میں، اُس کو دخل۔ کرکٹ میں، چوکے چھکے۔ تیراکی، میں وہ ماہر۔ پتنگ بازی میں تو لڑکوں کواُس کا ہُچکا ہی تھامتے بنتا،  ورنہ ڈور توڑی، اور پتنگ چھوڑ دی۔

پان، ہر وقت چبائے رہتی وہ۔ لڑکوں کا نئے کپڑے پہن کر نکلنا محال تھا۔ جہاں کوئی چوکا، پیک کپڑوں پر۔

ماسٹر صاحب، اُس کواسکول کے دروازے پر دیکھتے ہی، ڈنڈا سنبھال لیتے، ورنہ اسکول کے بچّوں کی کتابوں پر چیل کوّے بنا ڈالتی۔

رکشے والوں نے محلّے میں آنا بند کر دیا تھا۔ کبھی کوئی آ نکلا، تواُس کے رکشے کے پہیّے کی تیلیوں میں ڈنڈا۔ سائکل والے تودورسے ہی دیکھ کر اُتر لیتے۔

راستہ چلتے کسی کو مُنہ چڑایا، کسی کے لتّی ماری اورکسی کو دھکا دے دیا۔ لوگوں نے اُس کی گلی سے نکلنا بند کر دیا تھا۔ وہ اکثر دیوار پر لٹکی رہتی۔ کوئی بھولے سے اُدھر آ گیا فوراً ٹوپی اُتار کر زنّاٹے دار ٹیپ جانے دی۔

خوانچے والا، جیسے ہی گلی سے گزرا، مال غائب۔ پھر تو خوب اُچھل اُچھل کر سارا مال بچّوں کو بانٹ بانٹ کر کھاتی کھلاتی۔

شیرخواراکثراُس کی گود میں کھیلتے کھیلتے اُس کے چٹکی لینے سے چیخ پڑتے ،  سمجھ دار بچّے تواُس کو دیکھتے ہی اپنی ماؤں کو بلبلا کر چمٹ جاتے۔ جس گلی میں نکل جاتی کہرام مچ جاتا۔ بچّے، اپنے گھروں میں سہم جاتے۔ لوگوں کے گھروں کے پیڑ پودے نوچ ڈالتی،  بھگائی جاتی۔

پڑوسن تھی وہ میری،  اور کچھ کچھ دور کی رشتے داری کے ساتھ ٹھیکرے کی منگیتر بھی۔ حالاں کہ میں اُس کے ساتھ شادی کرنے سے انکار کرتا رہا، لیکن ماں کے آگے ایک نہ چلی اور میری ماں، اُس اکلوتی کو دولت کی رانی کے ناتے بیاہ لائیں۔ دولت کا انبار تو میرے یہاں بھی تھا، لیکن وہ ہر معاملے میں مجھ سے سِواتھی۔ پہلی ہی رات میں اُس نے مجھ کو ناکوں چنے چبوا دِیے۔ اُس نے کہا ’’آدمی  اور عورت برابر کا درجہ رکھتے ہیں، میاں۔ تم بھی میرے جیسے کپڑے  اور زیورات پہن کرسنگارکرو۔ !‘‘ میں نے انکار کیا تووہ چیخنے لگی۔ مجھے اپنی عزت بچانی تھی، لہٰذا اُس نے جو کہا:مجھے سب کرنا پڑا۔ حالاں کہ صبح ہوتے ہی میں نے اپنی ماں سے احتجاج کیا، کہ میں اُس سے نباہ نہ کر سکوں گا، لیکن اُن کی گھڑکی نے میری زبان میں تالا ڈال دیا، آخر کار ماں کو ایک دن کہنا پڑا: ’’تھی تو پاگل، لیکن میں سمجھتی تھی کہ شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی، اب ٹھیک نہ ہوئی ، تو تیری قسمت۔ چراغ جلانے اور خاندان چلانے کو دو بیٹے تو ہو گئے۔ گھر میں کام کاج کے لیے ہیں تو چار چار نوکرانیاں سمجھ لے ایک پاگل پڑی ہے، گھر میں۔ خدا نے دُکان اِسی لیے تو دِیے ہیں ، ایک سے سُن اوردوسرے سے نکال۔ اِسی میں عافیت ہے، تیری۔ اُس کے والد خود نہ لڑ کر اب کے تجھ کو اُتاریں گے، الیکشن میں۔ ‘‘

جب الیکشن آیا تو آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے تال ٹھوک کر میرے مقابل اُتر آئی وہ۔ میرے خاندان کے علاوہ اُس کے والدین نے بھی بہت سمجھایا، لیکن رہی کتے کی دم، آدم کی پسلی، یعنی کہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی۔ یہ میں خوب جانتا تھا کہ جیتوں گا میں ہی الیکشن، کیوں کہ اُس کے والد میرے ہی سپورٹرتھے۔ میں یہ بھی سمجھتا تھا کہ اُس کے جیتنے سے میری عزت سرِعام نیلام ہو جائے گی، کیوں کہ میری بیوی پاگل ہے۔ حالاں کہ جب سے بیاہ کر گھر لایا، کوئی کسرنہ چھوڑی اُس کے علاج میں، لیکن اُس کا پاگل پن، دِن دُونا، رات چوگنا بڑھتا گیا، بھرشٹاچار کی طرح۔ آتنک واد کی مانند۔

آخرکاراُس نے اپنی گاڑی سنبھالی  اور کنویسنگ کو نکل پڑی۔ میرے پاس پانچ کی پانچ ہی رہیں، گاڑیاں۔ اُس کی مدد کوتیس چالیس گاڑیاں اور ہو لیں۔

میں الیکشن کی تقریر میں، سورج پرجیون ہونے کی بات کرتا، توٹماٹربرستے۔ وہ کچھ بھی کہتی، تو لاد دی جاتی پھولوں سے، تالیوں کے ساتھ۔ کہنے کواُس نے چھوڑا ہی کیا تھا، وہ وہ باتیں کہیں، کہ جِن کے سرنہ پیر، مگر تالیوں کی گونج نے دوسری پارٹیوں کے دِل دہلا دِیے۔ اُس نے کہا : ’’ زمین کوآسمان پرلے جاؤں گی۔ ‘‘تب تالیاں، ’’عورتوں کو مردوں کا اور مردوں کو عورتوں کالباس پہنواؤں گی۔ ‘‘تب تالیاں : ’’کسی عورت کو بچّے پیدا کرنے کی زحمت نہ اُٹھانی پڑے گی۔ بچّے، ٹیسٹ ٹیوب میں تیار ہوں گے یا پھر امپورٹ کیے جائیں گے۔ اور اُن کی پرورش مرد کریں گے۔ ‘‘تب تالیاں : ’’جھاڑو برتن سے لے کر کھانا بنانے تک کے گھرکے سارے کام، مردوں کو کرنا پڑیں گے۔ ‘‘تب تالیاں : ’’مچھلیوں کو پیڑوں پر اور پرندوں کو پانی میں رہنا پڑے گا۔ ‘‘تب تالیاں : ’’ہر شخص دن کی گرمی میں نہیں بل کہ رات کے ٹھنڈے موسم میں کام کرے گا۔ ‘‘تب تالیاں : ’’سڑکوں اور ٹرین کی پٹریوں میں اربوں کا خرچ آتا ہے، اُن کی جگہ نہریں کھدوائی جائیں گی، جن میں کشتیاں چلیں گی۔ ‘‘تب تالیاں : ’’اَب کوئی دُلھن بیاہ کر دُولھے کے یہاں نہیں جائے گی، بل کہ دُولھے کو دُلھن کے یہاں آنا پڑے گا۔ ‘‘تب تالیاں : ’’ہر شخص کو اُڑنے والی مشین دی جائے گی۔ ‘‘تب تالیاں : ’’اب جانوروں کے بیاہ بھی کیے جائیں گے، کیوں کہ بچّوں کی پیدایش کے بعد، نر آزاد گھومتے ہیں۔ بچّے، بے چاری ماداؤں کوہی پالنے ہوتے ہیں۔ اب مادائیں، صرف دودھ پلائیں گی اور اُن کی خوراک، نر مہیّا کرائیں گے۔ ‘‘تب تالیاں : ’’ ہر جیو دھاری کو جینے کا حق ہے یعنی کہ مچھر اور مکھّی کو اَب مارا نہیں جائے گا۔ ‘‘تب تالیاں : ’’اب تعلیم کی ضرورت نہیں، صرف انگوٹھا لگا کر پرکھوں کی تہذیب کو برقرار رکھا جائے گا۔ ‘‘تب تالیاں۔ تالیاں بجانے کا انداز بھی نرالا تھا، اُس کا۔ بات کہی اور خود تالیاں بجاتے ہوئے لوگوں سے کہا: ’’بجاؤ تالیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !‘‘پھرتوایسی بجیں تالیاں کہ پرندے ترس گئے پیڑوں پر بیٹھنے کے لیے۔

اُس کی دیکھا دیکھی میں نے بھی کہا : ’’ اگر میں الیکشن جیت گیا تو زمین کے نارتھ پول کے نگیٹو اور ساؤتھ پول کے پازِیٹوکرنٹ کو فریکوانسی میں تبدیل کرا کر بنا تاروں کی الیکٹرک عوام کو فری فراہم کراؤں گا۔ میرے خیال سے جب خلاء میں نمی کی مقدار بڑھ جاتی ہے  اور زمین کے دونوں پولوں کے نگیٹو، پازیٹوکرنٹ، اُس نمی میں فلو ہو کرآپس میں ٹکراتے ہیں : تب تیز چمک کے ساتھ دھماکہ ہوتا ہے، جس کو سائنس داں بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہونے والی بجلی کہتے ہیں۔ ‘‘ میری اِس دلیل کو سراہنے کے بجائے انڈوں اور ٹماٹروں کی بارش کی گئی، مجھ پر۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ جب میں نے اپنی ذہانت کا لوہا منوانے کے لیے آسمانی اِندر دھنک کو زمین پرسیکڑوں گانو والوں کے درمیان دھوپ میں نمی پیدا کر کے دکھا یا، تب بھی ٹماٹروں اور انڈوں کی بارش کے ساتھ جادوگر کے خطاب سے نوازا گیا، میں۔

حالات یہاں تک پہنچ گئے، کہ میرے زیادہ تردوست مجھ سے ٹوٹ کراُس سے جا ملے اور آگے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ میرے بولنے کی جگہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں انڈوں، ڈنڈوں  اور ٹماٹروں کا انتظام ہو جاتا، پھر مجھ میں کہاں ہمّت کہ وہاں پہنچ پاتا۔ جب کہ اُس کے ابّو نے اُس کو پاگل ڈکلیئر کر دیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ کوسات سو دس ووٹ ملے اوراُس کو پانچ لاکھ، تریپن ہزار، چار سو، انتیس۔ میرے ساتھ ساتھ سبھی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں۔ سونے پرسُہاگا یہ کہ ایک پارٹی نے اپنے میں شامل کر کے پرائم منسٹربنا دیا، اُس کو۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اُس پر کیا گیا مقدمہ بھی ہار گیا۔ اَب تو میں شرمندگی کے باعث مکان کے اندر اور وہ بڑے بڑے نیتاؤں کے درمیان ، مکان کے باہر۔ پھرجیسے کہ جنتاسے اُس نے وعدے کیے تھے :ایوان کی توثیق حاصل کر کے یکے بعد دیگرے اُن کا نفاذ بھی شروع کر دیا۔ پانی، سرسے اُوپر ہوتا دیکھ کر میں بھڑک گیا۔ انجام یہ ہوا کہ مجھے پاگل قرار دے کر ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھونس دیا، اس نے۔ حویلی کے باہر ہنگامے ہوتے رہے اور میں قید خانے میں اپنی قسمت کو روتا رہا۔ کھانا پانی مل جاتا، وہ بھی وقت بے وقت۔ باہر کیا ہو رہا ہے اُس سے پوری طرح بے خبر رہتا۔ ہاں، کبھی کبھار کوئی ملازم رحم کھا کر اخبار ڈال جاتا۔ اخبار میں اُس کے احمقانہ رویّے پڑھ کر من ہی من کڑھتا، میں۔ لیکن پبلک، اُس کوبڑی گرم جوشی سے سراہتی، تالیاں بجاتی۔

میری ماں، جب کبھی میرے قید خانے کی جانب آ جاتی، میں اُس کے کیے کا رونا روتا۔ کسی طرح اِس کا اُس کو علم ہوا، تو میری ماں کو بھی مجھ سے الگ ایک کمرے میں ٹھونس دیا، اُس نے۔ اُس کے والد نے احتجاج کیا تو اُن کا بھی میرے جیسا حشر ہوا۔ ایک روز، جینز شرٹ پہنے، ایک ملازمہ مجھ کو شلوار جمپر تھما گئی، جو مجھ کو پہننا پڑا۔ تھوڑی دیر بعدساڑی بلاؤز پہنے ایک فوٹو گرافر میرا فوٹو لے گیا۔ دوسرے روز اخبار میں اپنی ماں کو نیکر شرٹ اورخسر کو اِسکرٹ ٹاپ میں دیکھ کرہنسی آئی،  اور رونا بھی۔ ساڑی بلاؤز، شلوار کرتے، اسکرٹ ٹاپ میں بڑے بڑے حاکموں کے درمیان اُس کو جینز شرٹ میں دیکھ کر بچپن سے اَب تک کے اُس کے پاگل پن کے سارے کارنامے یاد آ گئے اور میں خون کے آنسوروتارہا۔

دن گزرتے گئے اوراُس کے پاگل پن کی حرکتیں بڑھتی گئیں ،  جن کو دنیا والے گرم جوشی سے سراہتے رہے۔

ایک روز اچانک خبر ملی کہ اُس کا پلین کریش ہوا، اوراُس کی موت ہو گئی۔ دوسرے دِن اخبار میں تھا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق :وہ پوری طرح پاگل تھی۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے آج بھی قاصر ہوں کہ آخر پاگل تھا کون؟میں، وہ یا کہ چمچے اسٹیل کے۔ ۔ ۔ ؟

٭٭٭

 

 

 

دوسرا خط

 

                م۔ ص۔ ایمن

 

ابرار دفتر جانے کے لیئے لوکل ٹرین کے انتظار میں سٹیشن پر سیمنٹ کی نشست پر بیٹھے تھے کہ عین ان کے سامنے ایک اجنبی آ کھڑا ہوا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کاغذ کا عام سا ایک صفحہ تھا  اور دوسرے ہاتھ میں قلم!۔ ان سے مخاطب ہوا ’’ جناب مجھے خط لکھ دیں گے ؟‘‘

ابرار مسکرائے ’’لکھ تو دوں گا لیکن پورا خط نہیں لکھ پاؤں گا۔ ۔ ۔ گاڑی آ گئی تو چلا جاؤں گا‘‘

وہ اطمینان سے بولا ’’ ایک دو باتیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی۔ گاڑی کے آتے آتے۔ آپ لکھ لیں گے ‘‘

’’اچھا لاؤ ‘‘ابرار نے بلاتاخیراس سے کاغذ قلم لے لیے  اور سمٹ کر سیمنٹ کی بنی کرسی پراسے بیٹھنے کی جگہ دی۔ اس نے لکھوانا شروع کیا

پیارے بیٹے رحمت جان نور چشم عبدالمتین

سدا خوش رہو

بیٹے ! لوگ کہتے ہیں کراچی میں بہت کام ہے۔ آج تین ہفتے ہو گئے ہیں مجھے کراچی آئے ہوئے  اور کوئی کام نہیں ملا۔ ۔ ۔ بھینس بیچ کر میں جو پیسے ساتھ لایا تھا، بے روزگاری میں وہ بھی خرچ کر دیئے ہیں۔ اب صرف واپسی کے کرائے کے پیسے ہی بچے ہیں اور اگر میں کچھ دن  اور یہاں رہا تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں بچے گا۔ سب خرچ ہو جائیں گے۔ سوچا تھا کہ کراچی سے کما کر لاؤں گا  اور اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی دھوم دھام سے کروں گا۔ دنیا دیکھے گی۔ ۔ ابھی سٹیشن پر ٹکٹ کروانے آیا ہوں۔ جمعے کے دن گاؤں پہنچ جاؤں گا  اور آ کر وہیں اپنا کام کروں گا۔ ۔ ۔ تمام پڑھنے سننے والوں کو درجہ بدرجہ سلام۔

از طرف تمہارے ابو

مستری الف دین

خط مکمل ہوا تومستری الف دین نے جیب سے ایک لفافہ نکال کر دیا کہ اس پر وہ پتہ بھی لکھ دے۔ لگتا تھا کہ مستری الف دین گھر سے پوری تیاری کر کے آیا ہے جو پتہ اس نے بتایا، ابرار نے لفافے پر لکھ کر اس کے حوالے کر دیا۔ اس دوران اس نے خط کوتہ کر لیا تھا۔

ابرار نے پوچھا ’’تم کس قسم کے مستری ہو ؟ ‘‘

’’ میں راج مستری ہوں۔ گاؤں میں کام کرتا رہا ہوں لیکن وہاں کام کم ملتا ہے جو لوگ کام کرواتے ہیں وہ بھی ادھار کر دیتے ہیں پریشان ہو کر اس شہر کا رخ کیا تھا لیکن یہاں آ کر تو پریشانی میں اضافہ ہی ہوا ‘‘ مستری الف دین بے حد مایوس دکھائی دے رہا تھا، ابرار کو اس پر ترس آ گیا۔

دور سے۔ ۔ ۔ ۔ آتی ہوئی لوکل ٹرین کے آثار نمودار ہوئے۔ اگلے چند منٹوں میں وہ قریب آ جاتی۔

ابرار نے کہا ’’تم جمعہ کے دن گاؤں جاؤ گے !۔ تمہارے پاس ابھی تین دن ہیں۔ ۔ کل کی ایک دیہاڑی لگا کر میرا ایک چھوٹا سا کام تو کر دو ‘‘

’’جی فرمائیے ! ‘‘ مستری الف دین ہمہ تن گوش ہو گیا(عموماً ’’چھوٹے سے کام‘‘ کا سن کر مستری آتے نہیں ہیں )

ابرار بولے ’’ حکومت نے گلیاں پکی کروائی ہیں۔ اس سے میرے گھر کے سامنے گلی اونچی ہو گئی ہے  اور میرا صحن گلی سے تقریباً چھ انچ نیچا ہو گیا ہے۔ بارش ہوتی ہے یا گلی میں کسی کا گٹر بند ہوتا ہے تو گلی کا پانی میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ ۔ مہمان آتے ہیں تو ان کا سر چوکھٹ سے ٹکراتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ گلی کا دروازہ گلی سے کم از کم ایک فٹ اونچا کروا دوں تاکہ اس پریشانی سے نجات مل جائے ‘‘

مستری جلدی سے بولا۔ ’’ٹھیک ہے صاحب ! یہ کام ہو جائے گا ‘‘

’’ابھی تو میں ڈیوٹی پر جا رہا ہوں۔ شام کو چار بجے والی گاڑی سے واپس آؤں گا۔ تم یہیں میرا انتظار کرنا۔ یہاں سے میرا گھر پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے، میرے ساتھ۔ ۔ میرے گھر چلنا۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے صاحب !۔ ۔ ۔ آپ میرا ایک کام  اور کر دیں ‘‘ مستری الف دین نے جلدی سے کھڑے ہو کر جیب سے ایک کاغذ  اور نکالا  اور کہا ’’مجھے ایک دوسرا خط لکھ دیں۔ ‘‘

ابرار حیران ہو گئے۔ ’’ ابھی تو تم نے خط لکھوایا ہے ‘‘

’’اسے چھوڑیں صاحب ! اب دوسراخط لکھ دیں۔ گاڑی بھی آ رہی ہے۔ ‘‘

ابرار نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے الف دین کے کہنے پردوسرا خط لکھنا شروع کیا۔

پیارے بیٹے !رحمت جاں نور چشم عبدالمتین

سدا خوش رہو !

تین ہفتے کراچی میں بے روزگار رہنے کے بعد آج مجھے کام مل گیا ہے۔ اب میں چھ ماہ تک گھر نہیں آ سکوں گا  اور ان شا ء اللہ چھ مہینے بعد آ کر دھوم دھام سے تمہاری شادی کرواؤں گا۔ دنیا دیکھے گی۔ ۔ گھر کا۔ ۔  اور ماں کا اچھی طرح خیال رکھنا۔ ۔ تمام پڑھنے سننے والوں کو درجہ بدرجہ سلام۔ ۔ ۔ خدا حافظ‘‘

از طرف تمہارے ابو

مستری الف دین

ابرار نے دوسرا خط لکھ دیا تھا۔ الف دین کے بشاش چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کی پریشانی ختم ہو گئی ہے لیکن وہ اس سے بے خبر تھا کہ اس کی پریشانی ابرار میں منتقل ہو گئی ہے۔

گاڑی سٹیشن کی حدود میں داخل ہو گئی تھی پلیٹ فارم پر ہلچل پیدا ہو گئی۔ جا بجا بیٹھے ہوئے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تھے  اور انگڑائیاں لے رہے تھے۔ ابرار بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’یار مستری ! ‘‘انہوں نے الجھن دور کرنے کے لیے کہہ ہی دیا ’’ابھی تو تم نے خط لکھوایا ہے کہ تم ٹکٹ کروانے سٹیشن آئے ہو  اور جمعے کے دن گھر پہنچ جاؤ گے  اور اب لکھوایا ہے کہ تم چھ مہینے بعد آؤ گے میرا تو خیال ہے کہ میرے گھر کا گلی والا دروازہ ہی تو اونچا کرنا ہے ایک دن میں بھی یہ کام ہو سکتا ہے ؟‘‘

مستری الف دین مسکرایا ’’آپ کا یہ کام ایک ہی دن میں ہو گا جناب۔ ۔ ۔ ۔ ! لیکن ’’ مجھے ‘‘ کام مل جائے گا۔ ابھی تو کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کام جانتا ہوں۔ جب آپ کا کام کر رہا ہوں گا۔ ۔ وہ بھی گلی میں تو آپ کے محلہ دار۔ ۔ پڑوسی۔ ۔ آنے جانے والے دیکھیں گے۔ ان کے گھر بھی تو گلی سے نیچے ہو گئے ہوں گے انہیں بھی کوئی نہ کوئی کام یاد آ جائے گا۔ ۔ اس طرح آپ کے محلے میں ہی مجھے کام ملتا چلا جائے گا ‘‘

’’اچھا اچھا ! ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ ابرار کی سمجھ میں یہ بات آ گئی وہ مطمئن سے ہو گئے

گاڑی آ گئی۔ ابرار چلے گئے۔ الف دین شاداں و فرحان سٹیشن پر ٹہلتا رہا۔ اسے ’’چھ مہینے کا ‘‘ کام مل گیا تھا۔

ابرار کسی محکمے میں کلرک تھے۔ ان کا گھر سٹیشن سے قریب ہی تھا صبح بذریعہ لوکل ٹرین دفتر جاتے  اور شام کو واپس آتے۔ آج جب وہ واپس آئے توسٹیشن پر حسب وعدہ مستری الف دین ان کا منتظر تھا۔ ابرار اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے۔

جیسا ابرار نے بتایا تھا، اس کے گھر کا دروازہ زمین میں دھنسا ہوا معلوم ہو رہا تھا  اور صاف دکھائی دیتا تھا کہ بارش  اور گلی کے بند گٹروں کا پانی لامحالہ گھر میں داخل ہوتا ہو گا۔

ابرار کا مکان چھوٹے چھوٹے دو کمروں پر مشتمل تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی برآمدہ تھا پھر چھوٹا سا صحن !۔ صحن کا ایک حصہ باورچی خانے، غسل خانے  اور ’تیسرے خانے ‘ میں بٹا ہوا تھا۔

ابرار نے مستری الف دین کو برآمدے میں بچھی ایک چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا  اور خود مونڈھا کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گئے۔

اُنہوں نے اپنی بیگم کو بتا دیا تھا کہ گلی کا دروازہ اونچا کروانے کے لیئے وہ ایک مستری کو ساتھ لائے ہیں۔ ان کی بیگم اس کے لیئے چائے بنانے باورچی خانے میں مصروف ہو گئی، آخر کو وہ ان کے گھر ’’ پہلی بار‘‘ آیا تھا۔

مستری نے طائرانہ مگر ’’ فاتحانہ ‘‘انداز میں مکان کا جائزہ لیا۔ بولا ’’ٹھیک ہے صاحب ! میں کل سے آ جاؤں گا۔ ۔ ۔ آپ کل گھر پر ہوں گے یا دفتر جائیں گے ؟ ‘‘

’ ’کل سے آ جاؤں گا ‘‘سن کر ابرار چونک اٹھے۔ پھر اپنے فہم کا قصور سمجھ کرسر جھٹک دیا ’’نہیں ! میں نے دفتر سے ایک دن کی چھٹی لے لی ہے تاکہ تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مہیا کر دوں کیونکہ تم یہاں اجنبی ہو‘‘ ابرار نے کہا

’’بس تو آپ آج ہی ایک سو بلاک، دو بوری سیمنٹ  اور ایک سوزوکی ریت منگوا لیں تاکہ کل وقت ضائع نہ ہو اور صبح ہی صبح کام شروع کر دیا جائے۔ ‘‘

’’سو بلاک ؟۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ابرار حیران ہو گئے ’ ’بھئی وہ کس لیے ؟ ‘‘

’’سو بلاک تو کم ہیں صاحب !۔ ۔ ‘‘ وہ صحن کی دائیں بائیں دیواروں کو دیکھتے ہوئے بولا ’’تین سو بلاک تو بعد میں منگوانا پڑیں گے ‘‘

’’تین  اور ایک۔ ۔ ۔ چار سو بلاک ؟ ‘‘ ابرار بے ہوش ہوتے ہوتے بچے۔

’’اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ۔ کیونکہ میں نے آپ کا کمرہ اندر سے نہیں دیکھا اس لیئے کمرے کا حساب ہی نہیں لگایا ‘‘

’’اوہ یار !کمرے کو چھوڑو! صرف یہ دروازہ اونچا کر دو۔ بس !‘‘ انہیں قدرے اطمینان ہو گیا کہ یہ میرا کمرہ بھی اونچا کرنے لگا تھا۔

’’اسی دروازے کے لیئے سو بلاک منگوا رہا ہوں صاحب ! ‘‘

’’مجھے سمجھاؤ۔ ’’ابرار نے وضاحت چاہی ’’مجھے بتاؤ۔ ۔ تم سو بلاک بلکہ تین سو بلاک لگاؤ گے کہاں ؟۔ ۔ مکان تو سارا بنا ہوا ہے ‘‘

’’صاحب ! پہلے تو۔ ۔ ۔ یہ دروازہ نکلے گا۔ ۔ ۔ اوپر سے دیوار کاٹی جائے گی۔ ۔ ۔ دروازہ ایک فُٹ اونچا کر کے لگایا جائے گا۔ ۔ ۔      اس طرح صحن دروازے سے ڈیڑھ فیٹ نیچے ہو جائے گا۔ ۔ ۔   اسے اونچا کرنے کے لیے صحن میں ملبہ ڈالا جائے گا۔ ۔ تب صحن  اور برآمدے کا فرش اونچا ہو گا۔ ۔ ۔ ڈیڑھ فٹ فرش اونچا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ تو برآمدے کی چھت بھی ڈیڑھ فٹ نیچی ہو جائے گی۔ پھر آپ کہیں گے کہ دیواروں پر دو دو ردّے لگا دو دو ردّے لگانے کے لیئے برآمدے کی یہ چھت اتارنا پڑے گی۔ ۔ ۔ ۔ ردّے لگا کر چھت پھر ڈلے گی۔ ۔ جو ردّے لگیں گے ان پر پلستر بھی ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ برآمدے کا فرش اونچا ہوا۔ ۔ تو کمروں کا فرش نیچا ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ کمروں کے دروازے۔ ۔ ۔ جو اب چھ فٹ دکھائی دے رہے ہیں۔ ۔ ۔ چار فٹ کی کھڑکی دکھائی دیں گے۔ ۔ ۔  اور یہ کھڑکیاں۔ ۔ جو اب زمین سے ڈھائی فٹ اونچی ہیں۔ ۔ زمین کے برابر ہو جائیں گی۔ ۔ آپ کہیں گے کہ یہ دروازے  اور کھڑکیاں بھی اونچے کر دو۔ ۔ ۔ کمروں کے دروازے  اور کھڑکیاں اونچے کیے تو کمروں کا فرش بھی اونچا کرنا پڑے گا۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ تو کمروں میں دویا تین سیڑھیاں بنانا پڑیں گی۔ ۔ اور۔ ۔ کمروں میں دن میں بھی اندھیرا رہے گا۔ ۔ کمروں کا فرش اونچا کیا تو چھت کا پنکھا سر سے ٹکرائے گا۔ ۔ ۔ آپ کہیں گے کہ کمروں کی چھت بھی اونچی کر دو۔ ۔ ۔ چھت اونچی کرنے کے لیے کمروں کی بھی چھت اتارنا پڑے گی۔ ۔ ۔ ۔ گلی کی دیوار پر دو دو ردّے لگے تھے۔ ۔ ۔ کمروں کی دیوار پر چار نہیں تو تین تین ردّے لگانا ہی پڑیں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ تین ردوں سے دو فٹ اونچائی بنتی ہے۔ ۔ ۔ پھر کمروں کی چھت پڑے گی۔ ۔ پھر ان ردّوں پر پلاستر بھی ہو گا۔ ‘‘

’’اوہ!۔ ۔ ‘‘ابرار صاحب کرا ہے ’’ اس کا مطلب ہے۔ ۔ ۔ ہمیں یہ مکان خالی کرنا پڑے گا ‘‘

’’بالکل !۔ ۔ ۔ ‘‘ مستری نے فوراً تائید کی۔ ’’آپ کو کچھ دن کے لیئے مکان خالی کرنا پڑے گا تب ہی یہ کام جلدی ہو گا‘‘

’’نہیں بھائی !۔ ۔ میری اتنی گنجائش نہیں ہے۔ ۔ میں تھوڑے سے پیسے جمع کر لوں پھر یہ سب کرواؤں گا ‘‘ ابرار نے گویا فیصلہ کر لیا۔ ان کے ذہن میں مستری کے ’’دوسرے خط ‘‘کے الفاظ گونج اٹھے تھے۔ وہ کہنا تو یہ چاہتے تھے ’کہ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے تمہارے بیٹے کی شادی تو چھ ماہ بعد ہو گی ‘۔ لیکن نہ کہہ سکے۔

’’یہ تو صاحب میں نے آپ کو بتایا ہے کہ آپ کو یہ ساراکام کروانا پڑے گا۔ کب کرواتے ہیں ؟ آپ کی مرضی۔ ۔ ‘‘

’’نہیں بھئی ابھی نہیں۔ میں نے صرف ایک دن کی چھٹی لی ہے  اور ایک دن میں یہ سب نہیں ہو سکتا فی الحال رہنے ہی دو۔ ۔ ۔ ‘‘

اس دوران بیگم ابرار چائے بنا کر لے آئی تھیں۔ انہوں نے سن لیا کہ ابرار گلی کا دروازہ اونچا کروانے کا ’’فی الحال ‘‘ارادہ نہیں رکھتے، بولیں ’’باقی کام کروائیں یا نہ کروائیں۔ ۔ ۔ گلی کا دروازہ ضرور اونچا کروا دیں۔ ۔ ۔ ۔ ایک ہی دن کا تو کام ہے۔ سچ! گلی میں کسی کا بھی گٹر بند ہو! پریشان ہم ہوتے ہیں ‘‘

’’بیگم ! یہ کام ایک دن کا نہیں ہے۔ ۔ پورے چھ مہینے کا ہے۔ چھ مہینے کا۔ ۔ ۔ میں نے بھی یہی سمجھ کر دفتر سے ایک دن کی چھٹی لی تھی لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘انہوں نے بے چارگی سے مستری کی طرف دیکھتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’اتنا سا کام بھی چھ مہینے میں ہو گا ؟‘‘بیگم بھی سن کر حیران ہوئیں۔

ابرار مونڈھے سے اٹھ کھڑے ہوئے  اور کمرے کی جانب جاتے ہوئے بیگم سے بولے ’’تم یہاں آؤ !‘‘

کمرے میں پہنچ کر وہ بولے ’’بیگم ! یہ مستری گاؤں سے آیا ہوا ہے۔ جمعے کوواپس جا رہا تھا۔ ۔ یہ مجھے سٹیشن پر ملا تھا میرے اس کام کے لیئے اس نے چھ مہینے کی ایکسٹینشن لی ہے  اور ’’مجھے ‘‘ ٹینشن میں مبتلا کر دیا ہے ‘‘

بیگم حیران ہو کر بولیں ’’گاؤں سے آیا ہے ؟۔ ۔ جب ہی تو یہ اناڑی مستری اس کام کو چھ مہینے میں کرے گا۔ ‘‘

’’نہیں بیگم !۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘وہ سرگوشی سے بولے۔ ’’ یہ اناڑی نہیں ہے۔ ۔ ۔ بڑا خطرناک آدمی ہے۔ ‘‘ ابرار کے ذہن سے اس کا ’’دوسرا خط ‘‘ہنوز چپکا ہوا تھا ’’ یقین کرو !سٹیشن پر اس نے اپنے بیٹے کو خط لکھوایا  اور مجھ سے ہی لکھوایا کہ اسے کراچی آئے ہوئے تین ہفتے ہو گئے ہیں  اور ابھی تک بے روزگار ہے۔ ۔ جمعہ کے دن واپس آ رہا ہے۔ مجھے اس پر ترس آ گیا  اور میں نے سوچا کہ اس بے چارے سے کچھ کام کروا لوں اس کی بھی ایک آدھ دیہاڑی لگ جائے گی  اور میرا گلی کا دروازہ بھی اونچا ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس نے جب سنا کہ مجھے گلی کا دروازہ اونچا کروانا ہے تو ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں اس نے ’’ چھ مہینے کا‘‘ منصوبہ بنا لیا۔ یہ چھ مہینے تک میرے گھر کام کرے گا بیگم !۔ ۔ ۔  اور چھ مہینے بعد گاؤں جا کر اپنے بیٹے کی دھوم دھام سے شادی کرے گا۔ ۔ وہ بھی میرے پیسے سے ؟ ‘‘

اور پھر ابرار نے بیگم کو تفصیل بتائی کہ وہ ان چھ مہینوں میں کیا کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

نا گاہ ان کی نظر کمرے کے پچھلے روشن دانوں پر پڑی۔ بولے ’’ ابھی تواس نے کمرہ اندر سے دیکھا ہی نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس کا حساب تو بعد میں لگائے گا۔ ۔ ۔ اس کے تو روشن دان بھی اونچے کرے گا۔ ۔ ۔ یہ الماری۔ ۔ ۔ ۔ یہ الماری جو دیوار کے اندر بنی ہے یہ بھی دو فٹ زمین میں دھنس جائے گی یہ بھی اونچی ہو گی ‘‘ وہ کہتے گئے اور ان کا دل ڈوبتا گیا ’’ ابھی ہماری چھت فرش سے دس فٹ اونچی ہے۔ ۔ فرش دو فٹ اونچا ہو گیا تو چارپائی پر کھڑے ہو کر ہم چھت کو ہاتھ لگاس کیں گے۔ ۔ ہمیں کمروں کی دیواروں پر چار چار ردے لگوانا پڑیں گے۔ کیونکہ مستری بتا رہا ہے کہ تین ردوں سے دو فٹ اونچائی بنتی ہے۔ ‘‘

بیگم نے یہ سب سنا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں بولیں ’’سنتے آئے ہیں کہ مستری کسی گھر میں گھس جائے تو بڑی مشکل سے نکلتا ہے لیکن یہ تو ’ہمیں ‘گھر سے نکالنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے ‘‘چند لمحے سوچ کر بولیں ’’یہ سچ مچ پینڈو مستری ہے۔ ۔ یہ پینڈو مستری نہ ہوتا۔ ۔ شہر کا سمجھ دار، چالباز مستری ہوتا تو اپنا تجربہ بتا کر یوں ہمیں ہوشیار نہ کرتا۔ اپنا کام شروع کر دیتا۔ ‘‘

’’بیگم !۔ ۔ کہتا تو وہ ٹھیک ہے۔ ۔ پینڈو نہ ہوتا شہری ہوتا۔ الف دین نہ ہوتا۔ کوئی بے دین ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کیا کریں یہ کام تو کروانا ہی پڑے گا۔ ۔ ۔ آج نہیں تو کل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

کمرے سے باہر آئے۔ ان کی نظر کچن کی جانب اٹھ گئی۔ ۔ وہ ساکت ہو گئے۔ ۔ انہوں نے اسے مستری کی نظر سے دیکھا۔ ان کے دل پر ایک گھونسا سالگا ’’یہ بھی نیچا ہو جائے گا۔ ۔ غسل خانے  اور تیسرے خانے سے ہوتے ہوئے ان کی نظریں الف دین پر ٹک گئیں۔ ۔ ۔ انہیں الف دین سے خوف آنے لگا تھا۔ ۔

اس پینڈو مستری نے سیکنڈوں میں چھ مہینے کی منصوبہ بندی کر لی لیکن ابرار سارا دن میں بھی فیصلہ نہیں کر پائے تھے کہ چھ مہینے کا کام ایک دیہاڑی میں کیسے کروایا جائے۔ بالآخر انہوں نے چھ ماہ بعد عبدالمتین کی شادی دھوم دھام سے کروانے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

پلکیں جھکی جھکی سی، قدم تھکے تھکے سے وہ الف دین کے قریب آئے۔ اس سے الوداعی مصافحہ کیا  اور شکست خوردہ لہجے میں بولے ’’ٹھیک ہے مستری !۔ ۔ ۔ کل سے۔ ۔ ۔ آ جانا ‘‘

٭٭٭

 

 

 

انشائیہ

 

چھیڑ خوباں سے چلی جائے ۔۔۔

 

                اقبال حسن آزاد

 

مرزا غالب ؔ نے فرمایا ہے:

چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسدؔ

گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

وصل  اور حسرت کے تعلق سے اتنا عمدہ شعر میری نظروں سے نہیں گزرا۔لیکن اس شعر کا کلیدی لفظ دراصل ’’چھیڑ ‘‘ ہے۔  چھیڑ خانی کرنا عاشقوں کا محبوب مشغلہ ہے  اور جو معشوق عاشق کی چھیڑ چھاڑ سے لطف اندوز ہونے کا مادہ نہیں رکھتا اسے معشوق بننے کا کو ئی حق نہیں۔یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ معشوق بنانے کے لیے کسی کو زہرہ جبیں ،ماہ جبیں ،ماہ پارہ،مہ ناز،یا یوں کہے کہ کسی سراپا ناز کی کوئی ضرورت نہیں۔معشوق تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔اردو کے مشہور شاعر آبروؔ کا ایک شعر ہے:

زبس ہم کو نہایت شوق ہے امرد پرستی کا

جہاں جاویں وہاں دو چار کو ہم تاک رکھتے ہیں

ایک  اور شاعر تھے قمرالدین احمد قمرؔ۔فرماتے ہیں:

لوطیوں میں شہرہ آفاق ہوں

بچہ بازی میں نہایت طاق ہوں

اشرف الدین علی خاں پیام ؔکا شعر ہے:

دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے

کام عشاق کا تمام کیا

اُسی دور کے ایک  اور شاعر تھے جو مضمونؔ تخلص فرمایا کرتے تھے۔انھوں نے اس مضمون کو کس خوبی کے ساتھ مندرجہ بالا شعر میں ادا کیا ہے ۔ملاحظہ فرمائیے

میکدے میں گر سراسر فعلِ نا معقول ہے

مدرسہ دیکھا وہاں بھی فاعل و مفعول ہے

میر تقی میر کا معشوق کوئی کمسن لونڈا تھا جس کے سبزہء خط پر میر فدا ہو گئے تھے۔موصوف کا رنگ سخن ملاحظہ فرمائیے:

باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر

یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دو خوابا

لفظ فدا پر مشہور آرٹسٹ فدا حسین بھی یاد آ جاتے ہیں جو اپنی پر پوتی کی عمر کی ہیروئینوں پر بڑی آسانی سے فدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن سچ پوچھئے تو اصل عشق ، عشق حقیقی ہے مرزا شوق لکھنوی نے اپنی مشہور مثنوی ’’بہار عشق ‘‘طبع دوم کے آخر میں’’ ترغیب عشق حقیقی،، کا عنوان قائم کر کے اپنی تمام فحش نگاری کا جو ۸۱۹ اشعار کا احاطہ کرتی ہے،صرف ۲۳ اشعار میں کفارہ ادا کر دیا ہے۔چند شعر حسب ذیل ہیں

سب یہ دنیا سرائے فانی ہے

عشق معبود جاودانی ہے

عشق اللہ کا جو مائل ہو

ترک دنیا کرے تو حاصل ہو

کوئی الفت نہ بے وفا سے کرے

عشق کرنا ہو تو خدا سے کرے

چار دن کی یہ زندگانی ہے

جو ہے اس کے سوا سو فانی ہے

کیسی سچی بات کہی ہے شاعر نے۔جب چار دن کی زندگانی ہے  اور دنیا سرائے فانی ہے تو پھر یہ سارے جھگڑے رگڑے کس لیے۔ہاں ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ میں کوئی قباحت نہیں۔چھیڑ چھاڑ دراصل زندگی کا حسن ہے ور نہ یہ زندگی کسی بیوہ کی طرح اداس  اور غمگین ہو کر رہ جائے گی۔ کہتے ہیں

افسردہ دل کند افسردہ انجمنی را

ذرا غور فرمائیے،اگر کوئی شخص اپنے چہرے پر ہمہ وقت سنجیدگی کا غلاف اوڑھے رہے تو کیا ہوگا۔ اول تو وہ شخص وقت سے پہلے بوڑھا دکھائی دینے لگے گا  اور دوئم یہ کہ وہ جس محفل میں رونق افروز ہوگا وہاں سنجیدگی کی ایسی دبیز دھند چھا جائے گی کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔شاید اسی لیے غالب جیسے ذہین شاعر نے خود کو  اور اوروں کو ہمہ وقت شگفتہ شاداب رکھنے کے لیے ہنسی مذاق  اور چھیڑ چھاڑ سے اپنی تکلیف دہ زندگی کو جینے کے قابل بنا یا۔غالباً اسی نسخہ میں غالب کی عظمت کا راز پوشیدہ ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ غالب کے دل میں اپنے معشوق کے لب لعلیں کو چومنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اس ستم پیشہ نے بجائے ان کی دلی مراد پوری کرنے کے انھیں ٹھینگا دکھا دیا۔ غالب نے کہا

غنچہ ٔ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسہ کو پوچھتا ہوں منھ سے مجھے بتا کہ یوں

اس پر معشوق  اور برہم ہوا  اور اس نے انھیں گالیاں دینی شروع کر دیں۔غالب بھلا کب پیچھے رہنے والے تھے۔فوراً کہا

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

گالیاں تو دراصل غالب ہی کو پڑی تھیں مگر انھوں نے آجکل کے شرم سے عاری سیاست دانوں کی طرح رقیب کے کندھے پر بندوق چلا دی۔ معشوق ان کی اس چالاکی کو سمجھ گیا  اور اس نے ان کا منھ چڑا دیا۔غالب نے اب کے فرمایا:

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

جب اس پر بھی پتھر دل نہ پگھلا تب مجبور ہو کر موصوف نے فرمایا:

چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسدؔ

گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

ہم عصروں،ہم جماعتوں  اور ہم سایوں کے درمیان چھیڑ چھاڑ کا معاملہ بہت قدیمی ہے۔میرے ایک عزیز دوست کرائے کے مکان میں مقیم تھے  اور اپنے ہم سائے کی چھیڑ چھاڑ سے عاجز تھے۔معاملہ یہ تھا کہ موصوف جب کسی نئی خادمہ کو بحال کرتے ان کا پڑوسی کسی شنی کی طرح اس پر اپنا منگل گرہ ڈال دیتا ۔اب ہوتا یہ کہ چند روز تو پڑوسی صاحب حالات کا جائزہ لیتے  اور پھر اس ملازمہ کو ورغلا کر اپنے یہاں کام پر لگا دیتے۔جب یہ سلسلہ دراز ہونے لگا تو تنگ آکر میرے دوست نے اپنا مکان بدل لیا۔

چھیڑ چھاڑ کی روایت اردو ادب میں بھی بہت پرانی ہے ۔اس ادبی چھیڑ چھاڑ کو معاصرانہ چشمک کہا جاتا ہے۔ اول اول غالب نے مشکل پسندی کو راہ دی  اور اپنے اشعار پر اسرار کے ایسے دبیز پردے ڈال دیے کہ ان کے مفہوم تک عام لوگوں کی رسائی نہ ہو سکی  اور ان پر یہ کہہ کر چوٹ کی گئی کہ:

کلام میر سمجھے  اور کلام میرزا سمجھے

مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

لہذا ان پر مشکل پسندی کا الزام آ گیا۔بعد میں انھوں نے سادہ  اور آسان زبان میں اشعار کہنے شروع کیے۔ ذوق ،غالب کے ہم عصر تھے۔انھوں نے غالب کو چھیڑنے کے لیے فرمایا:

نہ ہوا پر نہ ہوا میر کا انداز نصیب

ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

غالبؔ بھلا کب چوکنے والے تھے۔وہ موقع کی تلاش میں رہے  اور جب بہادر شاہ ظفر نے اپنے بیٹے کی شادی پر ان سے سہرا لکھنے کی فرمائش کی تو انھوں نے ایک شاندار سہرا لکھا  اور مقطع میں فرمایا:

ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں

دیکھیں اِس سہرے سے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا

بہادر شاہ سمجھ گئے کہ اشارہ ان کے استاد ذوق کی طرف ہے۔ چنانچہ ان کے حکم پر ذ و ق نے بھی ایک سہرا لکھا  اور مقطع میں فرمایا:

جس کو دعویٰ ہے سخن کا یہ سنا دے اس کو

دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

اُردو ادب کے دو اہم مرثیہ گو شاعروں انیس  اور دبیر کی چشمک بھی مشہور ہے ۔ پورا لکھنؤ دو حصوں میں منقسم تھے۔آدھے انیسیئے تھے  اور آدھے دبیریئے۔انیس کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ دبیر ان کے مضامین چرا لیتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ انھوں نے کہا:

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

مندرجہ بالا شعر میں انیس نے کھلم کھلا دبیر پر سرقہ کا الزام لگایا مگر دبیر کی اعلیٰ ظرفی دیکھیے کہ انھوں نے انیس کے خلاف کو ئی محاذ نہیں کھولا بلکہ یہ کہہ کر رہ گئے کہ:

اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے

انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے

انیس بھلا کب پیچھے ہٹنے والے تھے۔فوراً جواب دیا:

انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے

دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے

انشاء  اور مصحفی کی چشمک بھی مشہور ہے۔انیس  اور دبیر کی طرح ان دو شاعروں کے شاگرد بھی دو گروپ میں بنٹے ہوئے تھے۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ دونوں شاعروں میں کسی بات پر ٹھن گئی۔انشاء نے ایک ہزل لکھی جس کے ٹیپ کا بند تھا:

لڑتے بھڑتے جا رہے ہیں مصحفی  اور مصحفن

اس کے بعد ان کے شاگردوں نے اپنے اپنے ہاتھوں میں ایک گڈا  اور ایک گڑیا لیا  اور سڑک پر جلوس بنا کر نکلے۔وہ گڈے  اور گڑیے کو آپس میں لڑاتے جاتے تھے  اور کہتے جاتے تھے ،:

لڑتے بھڑتے جا رہے ہیں مصحفی  اور مصحفن

لڑتے بھڑتے جا رہے ہیں مصحفی  اور مصحفن

جب مصحفی  اور ان کے شاگردوں کو اس فوج ظفر موج کی آمد کی خبر ملی تو یہ لوگ بھی آلات ِ حرب و ضرب سے لیس ہو کر ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ چنانچہ جب انشاء  اور ان کے شاگرد مصحفی کے در دولت پر پہنچے تو ان کے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے  اور انھیں شربت پیش کیا گیا ۔پھر سب آپس میں گلے گلے ملے تو سارا گلہ جاتا رہا۔

چھیڑ چھاڑ کا اصل لطف تو دور حاضر کے نیتا لوگ اُٹھاتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف پارٹیوں کے لیڈر اسمبلی  اور پارلیامنٹ میں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔کبھی کبھی یہ چھیڑ چھاڑ خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے  اور مار پیٹ کی نوبت آ جاتی ہے ۔اسمبلی میں جوتے چلتے ہیں  اور پارلیامنٹ میں کرسیاں۔مگر جب یہ لوگ کسی پارٹی میں شریک ہوتے ہیں تو ہم نوالہ ہم پیالہ ،ہم مشرب ،ہمدم  اور ہمراز دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ان کی کامیابی کا راز اسی حکمت عملی میں مضمر ہے۔

ادبی چھیڑ چھاڑ سے انتشار پیدا نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک صحت مند روایت قائم ہوتی ہے۔ مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے  اور دونوں فریق اپنے اپنے قلم کا جوہر دکھانے میں جُٹ جاتے ہیں  اور اس طرح زبان و ادب میں گرانقدر اضافہ ہوتا ہے ۔اگر مولانا الطاف حسین حالی کی ’’مسدس حالی ،، کو اُبالی ہوئی کھچڑی نہ کہا جاتا  اور اس کے جواب میں ’’مسدس بد حالی‘‘ نہ لکھی جاتی تو تو حالی اپنی اس تصنیف پر نظر ثانی نہیں کرتے  اور اس صورت میں یہ کتاب ایک شاہکار بن کر نہیں اُبھر پاتی۔ لیکن یہ مسابقت کبھی کبھی مضحکہ خیز صورت اختیار کر جاتی ہے  اور اس لطیفے کی طرح ہو جاتی ہے جہاں ایک بچہ ہنستا چہکتا گھر میں داخل ہوتا ہے  اور اپنی ماں سے کہتا ہے ۔۔۔۔۔’’ممی !ممی!!میں دوڑ میں فرسٹ آیا۔،،ماں نے پوچھا:

’’ریس میں کتنے بچے تھے؟،،بچے نے جواب دیا:

’’میں اکیلا ہی دوڑ رہا تھا۔،،

پس ثابت ہوا کہ جب تک دو یا اس سے زیادہ فریق نہ ہونگے کھیل میں مزا نہیں آئے گا۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ بازار میں کسی چیز کی ایک دکان چل نکلتی ہے تو اس کے بغل میں اسی چیز کی دوسری دکان کھل جاتی ہے۔کسی شہر میں اگر ایک ادبی فورم قائم ہوتا ہے تو فوراً ایک  اور ادبی ادارے کا قیام بھی عمل میں آ جاتا ہے۔اسی طرح کسی جگہ سے ایک اردو کا رسالہ جاری ہوتا ہے تو اس کے شانہ بشانہ دوسرا رسالہ بھی شائع ہونے لگتا ہے ۔اگر ایسا نہ ہو تو وہ اکیلا رسالہ بہت جلد بور ہو کر بند ہو جاتا ہے۔ تو بھائی میرے! زندگی کا اصل لطف چھیڑ چھاڑ ہی میں پوشیدہ ہے شرط یہ کہ یہ صحت مند چھیڑ چھاڑ ہو  اور اس میں کسی کی کردار کشی ،غیبت ،عیب جوئی  وغیرہ کی کوشش نہ ہو ۔

٭٭٭

 

 

 

قلم  اور کالم

 

یہ وسائلِ تبسم

 

                نسرین سید

 

ریاض، سعودی عرب سے طویل سفرطے کرتی ہوئی ایک حسین کتاب کینیڈا پہنچی ہے۔ یہ کتاب محترم شوکت جمال نے از راہِ لطف و کرم ڈھیر سارے ریال خرچ کر کے ارسال فرمائی ہے۔ کتاب دیکھ کر دل واقعی باغ باغ ہو گیا۔ اس سے پہلے، ان کی دو کتابیں سال ۲۰۰۰ء میں ’’دیوانچہ‘‘  اور سال ۲۰۰۳ء  میں ’’ شوخ بیانی ‘‘ اہلِ ذوق قارئین کی سیرابی طبع کا باعث بن چکی ہیں۔ مزاح پر ان کی یہ تیسری کتاب ہے۔ کتاب کیا ہے، پھلجھڑیوں کا حسین گلدستہ ہے۔ کتاب کا نام ’’ یہ وسائلِ تبسم‘‘ بار بار مجھے غالب کے مصرع ’’ یہ مسائل تصوف، یہ ترا بیان غالبؔ‘‘ کی یاد دلاتا رہا۔

آپ میری تائید کریں گے کہ کتاب کا نام اس سے بہتر ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ کتاب میں شوکت جمال صاحب نے تبسم کے جو وسائل بہم پہنچائے ہیں، وہ یقیناً‘‘ ہمیشہ اپنے قارئین کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتے رہیں گے۔ کتاب کے لیے بڑا سائز انتخاب کیا گیا ہے  اور اس کا سرورق نہایت دل کش ہے۔ کتاب کی جلد اتنی مضبوط ہے کہ بار بار پڑھنے پر بھی اس کا بال بیکا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو ریشمی کاغذ استعمال کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ کتاب کی اشاعت میں کافی فراخ دلی  اور بہت سی محبت سے کام لیا گیا ہے۔

کتاب کے شروع میں جن محترم و موقر دوستوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے، ان میں پروفیسر آفاق صدیقی، ڈاکٹر معین قریشی، اطہر شاہ خان، ڈاکٹر اقبال واجد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، نورین طلعت عروبہ  اور کلیم چغتائی شامل ہیں۔

کتاب کو شایع کرنے کا جو جواز محترم مصنف نے پیش لفظ میں تحریر فرمایا ہے، اس سے کم از کم میں تو پوری طرح متفق ہوں۔ فرماتے ہیں ’’ متعدد نئی غزلیں، قطعات  اور نظمیں میرے دل و دماغ کے کونوں کھدروں سے نکل کر میرے کمپیوٹر میں محفوظ ہو چکی تھیں چنانچہ ان سب کو جمع کر کے کاغذی پیرہن میں ملبوس کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ ویسے بھی کمپیوٹر کا کیا بھروسہ، ایک چھوٹا سا وائرس کسی بھی وقت حملہ آور ہو کرسارے کیے کرائے پر پانی پھیر سکتا ہے ‘‘

میں ان کی اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ شاید ہی کوئی چیز کتاب کی نعم البدل قرار دی جا سکے۔ سونے سے قبل کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا، اس کے بعد نشانی کے طور پر اس صفحے پر ریشمی ڈوری رکھنا (اگرچہ کچھ لوگ صفحہ موڑنا، بہتر سمجھتے ہیں )  اور پھر اگلی شب وہیں سے مطالعہ کا آغاز کرنا بہت پر لطف ہوتا ہے۔

شستہ مزاح لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ محترم شوکت جمال کی افتاد طبع نے اس خارزار رستے میں ان کی بے حد مدد کی ہے۔ وہ زندگی میں پیش آنے والی مختلف سچویشنز کا تجزیہ اپنے ہلکے پھلکے انداز میں ایسے کرتے ہیں کہ آپ ان کا حظ اٹھائے بغیر رہ نہیں سکتے۔ منتخب شاعری میں سے انتخاب کرنا بذاتِ خود ایک مشکل کام ہے۔ تاہم اپنی پسند کے چند گلہائے ظرافت قارئین کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کرتی ہوں۔

دور ہے مہنگائی کا اس ملک میں تو کیا ہوا

اس گرانی کے سبب ہرگز نہ رونا چاہیے

اپنا بسکٹ نرم کرنا ہو تو اے اہلِ وطن

دوسروں کی چائے میں اس کو ڈبونا چاہیے

 

سڑک پار کرتے ہوئے آج شب

جو جاں سے گئے سب کو کر کے ملول

وہی تھے جنہوں نے لکھی تھی کتاب

’’سڑک پار کرنے کے زریں اصول‘‘

 

ٹکنولوجی کی ہمارے دور میں

اب کہاں تک ہے رسائی، دیکھ لی

میرے موبائل میں ہے تصویرِ یار

’’ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی‘‘

 

محفل میں وہ بھی آئے، دیکھو مگر یہ قسمت

پہنے ہوئے نہیں تھا میں چشمۂ بصارت

سوچا زباں سے کہہ دوں میں حالِ دل ہی، لیکن

لائے نہیں تھے اس دن وہ آلۂ سماعت

 

سویرا ہوتے ہی شاعر پہ یہ ستم ٹوٹا

پولیس لے گئی تھانے، اسے وہاں کوٹا

کہا کہ مال بر آمد کرا، ابھی فوراً‘‘

سُنا ہے رات کو تُو نے مشاعرہ لوٹا

 

دل ہے پتھر، دماگ میں بُھس ہے

میرا ماسوک بھی عجب ٹھُس ہے

مجھ سے سو گج پرے ہی رہتا ہے

اور گیروں کے بیچ میں کھُس ہے

 

ذکر غیروں کا اگر تم نے نہ چھیڑا ہوتا

وصل کی رات کا یوں غرق نہ بیڑا ہوتا

اس لیے مل کے میں آیا ہوں اسی کے گھر میں

اپنے گھر اس کو بلاتا تو بکھیڑا ہوتا

یاد آنے لگے پھر کام ضروری تم کو

قبل آنے کے، ہر اک کام نبیڑا ہوتا

 

جو نقشِ نا پائیدار اترا تو میں نے دیکھا

دلہن کا چہرا، سنگار اترا تو میں نے دیکھا

لکھا تھا بوتل پہ الکحل ہے، شراب ہے یہ

مگر یہ لیبل، خمار اترا تو میں نے دیکھا

 

جذبۂ الفت کو اپنے میں نے جب سچا کہا

مسکرا کر اس نے مجھ کو عقل کا کچا کہا

کس طرح آگے بڑھاتا بات، جب اس شوخ نے

میرے اظہارِ محبت پر فقط ’’اچھا‘‘ کہا

 

جب کہا اس نے ’’آ‘‘ تو آیا تھا

جب وہ بولا ’’نکل‘‘ نکل آیا

بنتے دیکھا جو داد کو بیداد

لے کے اپنی غزل نکل آیا

 

گفتگو اُن سے ہماری ہے یہی، شادی کے بعد

’’آپ کا جو حکم ہو‘‘ یا ’’آپ جو چاہیں جناب‘‘

 

سوچوں میں عقدِ ثانی کے کھویا ہوا ہوں میں

بیگم سمجھ رہی ہیں کہ سویا ہوا ہوں میں

 

اس باغ و بہار کتاب کی اشاعت پر محترم شوکت جمال صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر ان کی نوازش کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

 

e شیطان

 

                سلیم فاروقی

 

صاحبو! کہتے ہیں انسان عموماً رواں رویہ (Status Quo) کو پسند کرتا ہے، تبدیلی کو ذرا مشکل سے ہی قبول کرتا ہے۔ اگر آپ کو ہماری بات کا اعتبار نہیں ہے تو اپنے بود و باش میں ایک معمولی سی تبدیلی لا کر دیکھیں، آپ کو ہماری بات بہت اچھی طرح سمجھ آ جائے گی۔ مثلاً اگر آپ عموماً شہری علاقوں کے رہنے والوں کی طرح پینٹ پہنتے ہیں  اور کبھی کبھار (یا اکثر جمعہ کے دن ) شلوار قمیض ہی پہنتے ہیں لیکن ذرا دو چار دن اپنے دفتر یا کاروبار پر شیر وانی پہن کر جا ئیے، یا اگر آپ عموماً شلوار قمیض پر واسکٹ یا شیر وانی پہننے کے عادی ہیں تو کچھ دن تھری پیس سوٹ میں دفتر جا کر دیکھیں، پھر آپ کو کیا کیا سننے کو ملتی ہے، اس سے آپ ہمارے اس کلیہ پر یقین کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اگر کسی کا محض گواہی سے ہی کام چل جاتا ہو تو وہ محترم طاہر مسعود سے احوالِ واقعی سن لے۔

ویسے ہمارا ذاتی تجر بہ بھی یہی ہے گذشتہ دنوں موسم کی سختی سے گھبرا کر ہم نے اپنی زلف ہائے دراز کو عملاً دراز میں بند کیا  اور اپنے بالوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی مانند ہلکا پھلکا کروا لیا۔ اس کے بعد ہم سے ہر کوئی اس چوک کا پتہ پوچھ رہا ہے جہاں ہماری حجامت بنی۔ دوسری جانب ہمارے چند دوست ہم سے یہ پوچھتا تھا کہ چار گرہ زلف دراز میں سے دو گرہ گذر جانے کی وجہ پوچھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہماری حجامت سے سوائے ہمارے بینکر  اور حجام کے کسی کو کوئی مثبت یا منفی فرق نہیں پڑتا۔

قارئین کرام ! یہ بھی کوئی نیا رویہ نہیں ہے۔ ہم تاریخ کا سر سری مطالعہ کریں یا عمیق، ہمیں اس قسم کے واقعات جا بجا ملتے ہیں جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ عموماً لوگ کسی بھی تبدیلی کو ذرا مشکل سے ہی قبول کر تے ہیں  اور جب بات سائنسی  اور یا کسی قسم کی ایجاد کی آ جائے تو یہ صورتحال  اور بھی زیادہ عجیب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی سائنس دان یہ کہہ دے کے سو رج زمین کے گرد نہیں گھوم رہا ہے بلکہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو یہ بات عوام میں اس قدر نا پسندیدہ ہوتی ہے کہ اس بیچارے سائنس دان کو قید حیات سے ہی جان چھٹکارا مل جاتا ہے۔

چلیں چھوڑیں ہم کہاں آپ کو تاریخ  اور سائنس کی پر پیچ گلیوں میں گھماتے رہیں گے  اور آپ بھی ہمارے ساتھ ساتھ گھومتے رہیں گے  اور پھر بعد میں شکوہ کریں گے کے اتنا گھما دینے کے بعد تو دودھ سے مکھن  اور لسی علیحدہ علیحدہ ہو جاتے ہیں آپ کی لمبی چوڑی تمہید سے اصل بات بھی نہ نکل سکی۔ لہٰذا ہم تاریخ  اور سائنس کی گلیوں سے گھومتے ہیں ان چیزوں کی طرف جن کے گواہ آپ میں سے اکثر لوگ خود ہوں گے۔ عوام کی طرف سے ان چیزوں کو فوری صرف مسترد کر دینا صحیح تھا یا غلط، یہ تو وقت نے ثابت کر ہی دیا کے مسترد کر دینے کے باوجود عوام ان کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئی لیکن ہمارا آپ سے صرف ایک سوال ہے کہ عوام نے ان ایجادات پر جو الزام لگائے کیا وہ غلط تھے ؟ عوام نے ان کو جو شیطانی ڈبہ کہا تھا کیا یہ الزام غلط تھا ؟ ہمیں یقین ہے کہ آپ بھی اس موقع پر وہی دلیل دیں گے جو ہم بھی اپنے مخا لفین کو زچ کرنے کے لئے دیا کرتے ہیں، یعنی یہ کہ کوئی بھی ایجاد خود صحیح یا غلط نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا استعمال صحیح یا غلط ہوا کرتا ہے۔ تو پھر ہمارا سوال یہ ہے کہ خود کش بمبار کی جیکٹ میں فٹ بم سے لے کر ایٹم بم تک کوئی ایسا بم بتا دیں جس کا استعمال سود مند بھی ہو۔ لیکن شاید ہم پھر اپنے موضوع سے ہٹ جائیں گے ہمارا سوال یہ نہیں ہے کہ کسی بھی چیز کی ایجاد سود مند ہے یا نہیں بلکہ ہمارا سوال یہ ہے کہ کسی چیز کی ایجاد پر اٹھنے والے اعتراضات کیا واقعی غلط ہوتے ہیں، کیا وہ واقعی بالکل بے وزن ہوتے ہیں ؟

مثلاً ٹی وی ریڈیو کی ایجاد پر جب یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ شیطانی ڈبے ہیں تو کیا وہ اعتراض بالکل ہی بے وزن تھے یا یہ اعتراض کرنے والے اپنی دور اندیشی کی وجہ سے ان کے دور رس اثرات کا تو اندازہ لگانے میں کسی حد تک کامیاب رہے لیکن اپنی کم مائے گی کی وجہ سے اپنا ما فی الضمیر صحیح انداز میں پیش نہ کر سکے۔ کیا آج ان کا یہ الزام صحیح نہیں ہو رہا ہے ؟ کچھ دیر کے لئے اپنے ملک ہی نہیں دنیا بھر میں پھیلی بے چینی  اور بد امنی پر ایک نظر دوڑائیں  اور ہمارے اس سوال کا جواب دیں کہ کیا اس بے چینی  اور بد امنی کے پھیلاؤ میں زیادہ حصہ اسی ٹی وی  اور ریڈیو کا نہیں ہے ؟ پہلے دنیا بھر کے ٹی وی، ریڈیو ( اس کو ہم اختصاراً میڈیا کہہ لیں ) نے عراق پر عظیم تباہی والے ہتھیاروں کا الزام عائد کیا  اور اتنا اتنا عائد کیا کے پوری دنیا اس کو سچ ماننے ہر مجبور ہو گئی پھر دنیا بھر کی فوجوں نے مل کر عراق کا پورا پہاڑ کھود ڈالا  اور اندر سے ایک مرا ہوا چوہا بھی بر آمد نہ کر سکے۔ 9/11 کے نام پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی  اور پاکستان کا بیڑہ غرق کر دیا  اور نکلا کیا ؟ صرف اسامہ بن لادن کی ایک مشکوک نعش۔ ۔ ۔ جس کا عینی شاہد بھی وہی ہے جو خود مدعی  اور منصف بھی بنا ہے  اور خود ہی ثواب بھی الٹا لے رہا ہے۔ کیا اب بھی آپ یہ نہیں مانیں گے کہ اس کو شیطانی ڈبہ کہنے والے کچھ زیادہ غلط نہیں تھے ؟

آج ہم اپنے مولویوں پر الزام دھرتے ہیں کہ انہوں نے تو لاؤڈ اسپیکر کو بھی ابتدائی طور پر یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ اس میں شیطان بولتا ہے لیکن جب مولویوں نے لاؤڈ اسپیکر کے مائیک کی طاقت دیکھی تو انہوں نے اسی مائیک کو ایسا پکڑا کے آج ہمارے ملک کی ہر ہر گلی میں دو چار مولوی یہ مائیک پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں  اور ایک حد تک تو ہم بھی ان معترضین سے اتفاق کریں گے کے کئی بار لاؤڈ اسپیکر کا اتنا غلط استعمال ہوتا ہے کے اہل محلہ کی بیماری آزاری کا خیال کئے بغیر ہی لوگوں کی نیندیں  اور آرام میں خلل پیدا کیا جاتا ہے۔ آج اگر ہم پرانے زمانے کے مولویوں کے اس اعتراض کو اگر یوں بیان کریں کہ مائیک میں شیطان بولتا ہے تو کیا یہ دعویٰ غلط ہو گا ؟اگر ہم یہ کہیں کے مائیک پر صادر کئے جاتے غیر مسلم کے الزامات  اور فتوے در اصل شیطان کی ہی بولی تو ہے تو یقیناً ہماری ہاں میں ہاں ملانے کو پوری سول سوسائٹی، تمام اعتدال پسند  اور ترقی پسندوں سمیت تمام ہی لوگ ہماری پشت پناہی کے لئے موجود ہوں گے۔ جب ہم یہ کہیں مائیک سے بٹنے والا ’’ملک دشمن‘‘  اور ’’ غدار‘‘ کا سرٹیفیکیٹ بھی تو در اصل شیطان ہی کی بولی ہے تو کتنے لوگ ہماری ہاں میں ہاں ملانے کو تیا رہوں گے ؟ اس کی گواہی آپ کا دل ہی دے گا کیا یہ بھی مائیک کے شیطان ہونے کے لئے کافی نہیں ہے کہ جب کسی ٹی وی کے ٹاک شو کا مائیک اتفاقاً ہمارے پاس آ جائے تو ہم پر اس ملک کی اتنی محبت غالب آ جاتی ہے کہ ہم اپنی جان بھی اپنے ملک کے لئے قربان کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لیکن جب واپس گھر میں آتے ہیں تو سب سے پہلا شکایتی فون اپنے کیبل آپریٹر کو ہی کرتے ہیں کے میرے گھر کا کنکشن چیک کرو اسٹار پلس ٹھیک طریقے سے نہیں آ رہا ہے یا تم نے اچھا بھلا سونی ٹی وی کو ۱۲ نمبر پر سیٹ کیا ہوا تھا یہ آج اچانک ۱۹ نمبر پر کیوں کر دیا ؟ کیا تم کو اندازہ ہے تمہاری اسی حرکت سے مجھے کتنی ذہنی کوفت ہوتی ہے ؟

کیا خیال ہے آپ کا اگر ہم آج کے اس eمیل، eٹکٹ، eبینکنگ  اور eفائلنگ کے اس دور میں ہم اِس مائک کو مائک کی بجائے ’’e شیطان‘‘ کہنے میں حق بجانب ہوں گے ؟؟؟

٭٭٭

 

 

 

 

کتاب میلے میں حُسن کے ٹھیلے  اور گردن میں سریا

 

                نسیم سحر

 

نیشنل بک فاؤنڈیشن کا سجایا ہؤ اسالانہ سہ روزہ کتاب میلہ جس خوبصورتی سے آغاز ہوا تھا اسی کے ساتھ اختتامی تقریب تک پہنچا۔ شاعر نے تو کہا تھا ’’آتے ہوئے اذاں ہوئی، جاتے ہوئے نماز‘‘، مگر یہاں آتے ہوئے بھی تقریر ہوئی  اور جاتے ہوئے بھی۔ آتے ہوئے یعنی افتتاحی تقریر صدر مملکت جناب ممنون حسین نے فرمائی جبکہ اختتامی تقریر وفاقی وزیر جناب عرفان صدیقی نے کی جنہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے کے بعد سے ہمیں اپنے انتہائی عمدہ مسجع و مقفیٰ نثر پاروں سے یکسر محروم کر دیا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ ہم ان کے کالم پڑھ کر ان کی اردو دانی کی بے حد داد دیا کرتے تھے۔ کاش وہ سرکاری عہدے پر رہتے ہوئے بھی کالم لکھتے رہیں، جیسے ہمارے کچھ  اور دوست باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔ تو خیر، بات ہو رہی تھی صدر ممنون حسین کی تقریر کی، جو اس لحاظ سے ’’قندِ مکرّر کا درجہ حاصل کر گئی کہ وہی تقریر انہوں نے ادیبوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ میں بھی کی جس میں شاید ’’چنیدہ ادیبوں ‘‘ ہی کی شرکت ہو سکی کہ راولپنڈی اسلام آباد کے بیشتر سینئیر ادیب اس سرکاری لنگر سے محروم ہی رہے۔ ہم تو خیر کسی گنتی میں آتے ہی نہیں کہ اسی دوپہر کو کتاب میلے کے شرکاء کے لئے مہیّا کئے جانے والے لنچ میں بھی شرکت کا شرف طعام گاہ پر ڈیوٹی دینے والے ایک بدتمیز سیکورٹی گارڈ کی وجہ سے حاصل نہ ہو سکا کیونکہ اس وقت عزت مآب عرفان صدیقی صاحب بھی اندر کھانا تناول فرما رہے تھے  اور ان کی سیکورٹی پر ہم جیسے سینکڑوں ادیبوں کے خالی معدوں کو قربان کیا جا سکتا تھا۔

صدر ممنون حسین نے اپنی تقریر میں کیا کہا  اور جناب عرفان صدیقی نے کیا کہا، یہ جاننے کے لئے پچھلے سال  اور اس سے پچھلے سال ہونے والے ایسے ہی کتاب میلوں کی تقاریر بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ البتّہ اِس سال اپنی تقریر کے دوران صدر ممنون حسین لکھی ہوئی تقریر سے قدرے ہٹ کر کرپشن  اور دیگر کئی مسائل پر کچھ ایسی باتیں بھی کہہ گئے جنہیں یار لوگ نون لیگ کی حکومت کے خلاف کہہ رہے ہیں، حالانکہ ایسا ممکن ہی نہیں۔ ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ ابھی کچھ دن پیشتر پی ٹی وی کے چیئرمین جناب عطاء الحق قاسمی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی میں اپنے اختیارات کے بارے میں بڑی معنی خیز بات کہہ گئے کہ ’’میرے اختیارات وہی ہیں جو صدر مملکت ممنون حسین کے ہیں ‘‘۔ اب یہ اندازہ پڑھنے والا خود لگا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات بہت زیادہ ہونے کی بات کی تھی یا صدر ممنون حسین کے اختیاراتِ بے اختیارانہ کی بات کہی تھی۔ ہماری خوش فہمی ہے کہ ہم صدر ممنون حسین کے اختیارات کو عطاء الحق قاسمی کے اختیارات جتنا نہیں سمجھ رہے بلکہ عطاء الحق قاسمی کے اختیارات کو صدر مملکت کے اختیارات جتنا سمجھ رہے ہیں۔  اور اِس کی دلیل میں ان کے جاری کردہ فرمان کا حوالہ دیتے ہیں جس کے تحت ایک مرتبہ پھر پی ٹی وی کی نیوز کاسٹرز کے لئے دوپٹہ اوڑھنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ (یہاں ’’کی نیوز کاسٹرز ‘‘ کے الفاظ ہیں، مرد نیوز کاسٹرز پر ایسی کوئی پابندی نہیں !)۔

یارو، پی ٹی وی کی نیوز کاسٹرز پر ایسی پابندیاں لگ گئیں، اچھا ہوا، مگر خدا کا شکر ہے کہ کتاب میلے میں شریک خواتین پر ایسی کوئی پابندی نہیں تھی جن میں سے کئی خواتین (کچھ دو  اور تین نمبر شاعرات سمیت) تو باقاعدہ حسن کے ٹھیلے کی طرح سج دھج  اور بن ٹھن کر میلے میں شریک ہوئی تھیں  اور جو کسی بھی معروف ادیب و شاعر کے ساتھ اپنی سیلفیاں بنوانے میں اِتنی زیادہ مصروف تھیں کہ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ کون سے ہال یا کمرے میں کون سا ادبی پروگرام چل رہا ہے۔ یہاں فلمسٹار ریما خان کا ذکر ان کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان کی ادب نوازی  اور ادبی ذوق کے حوالے سے بھی ضروری ہے جو کچھ ایونٹس میں عطاء الحق قاسمی کے ساتھ سٹیج پر بڑے طمطراق سے جلوہ افروز تھیں،  اور کتاب خوانی میں انہوں نے جس روانی  اور عمدہ تلفظ کے ساتھ جناب عطاء الحق قاسمی کی ایک تحریر پڑھی اس نے تحریر کا لطف دوبالا کر دیا۔ کتاب میں سے یہ چھپی ہوئی پوری تحریر پڑھتے ہوئے انہیں جو لفظ بہت مشکل لگا  اور جس پر وہ بری طرح اٹک گئیں  اور جس پر مردِ بحران محبوب ظفر فوراً ان کی مدد کو آئے وہ ’’برادرم‘‘ تھا !قارئین اس لفظ کی گہرائی میں جتنا اتریں گے اتنا ہی ریما کی اس پر اٹکنے کی ادا پر لطف اندوز ہوں گے۔

جناب عطاء الحق قاسمی نے اس کتاب خوانی کے سیشن میں جو مضمون اپنی کلیات میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھا وہ اپنی جگہ خاصے کی چیز تھا کہ یہ ایک ریٹائرڈ طوائف کی طرف سے اپنی بیٹی کو لکھا گیا ایک خط تھا جو کہ ’’ورکنگ طوائف‘‘ تھی۔ اس کے ایک ایک جملے پر سامعین نے جس طرح داد دی اس سے اس شہپارے کی عمدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ البتّہ ہمارے ایک ساتھی کو اعتراض تھا کہ ریما خان کو سامنے بٹھا کر ایسا مضمون نہیں پڑھنا چاہئے تھا۔

کتاب خوانی کے اس سیشن میں شرکت کر کے  اور بعد میں بھی ہم پر جناب عطاء الحق قاسمی کے ایک  اور وصف کا واضح طور پر انکشاف بھی ہؤا کہ پی ٹی وی کا چیئرمین بننے کے باوجود اُن کی گردن میں سریا پڑنے کی کوئی علامات دکھائی نہیں دیں۔ سیشن کے دوران وہ اپنے بائیں طرف بیٹھے ہوئے صاحبِ صدر کو مسلسل نظرانداز کر کے اپنی دائیں طرف بیٹھی ہوئی ریما خان کی طرف ہی جھک جھک کر باتیں کرتے رہے، ظاہر ہے اگر گردن میں سریا ہوتا تو وہ اتنا کیسے جھک سکتے تھے ؟  اور سیشن میں شرکت کے بعد انہوں نے جس طریقے سے ہماری طرف بڑھ کر معانقہ کیا اس سے تو ہمارا یہ یقین مزید محکم ہو گیا کہ واقعی ان کی گردن میں ہر گز سریا نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

یومِ تکبیر کا ہیرو

 

                کے ایم خالد

 

اُسے بچپن سے ہی مشہور ہونے کی خواہش تھی اپنی اس خواہش کے احترام میں وہ کچھ نہ کچھ نیا کرتا رہتا تھا لیکن وہ دن نہیں آ رہا تھا کہ جب اس کا نام پوری دنیا میں گونجے۔ ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پٹھو گرم کھیل رہا تھا کہ ساتھ والی گلی کے بچوں کی ٹولی نعرہ تکبیر کا نعرہ بلند کرتے ادھر سے گزری وہ بھی اس ٹولی میں شامل ہو گیا۔ اسے پتہ چلا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کر دیئے ہیں ایک جذبہ تھا جو گلی محلوں میں جاگ اٹھا تھا قومی ترانے جذبات کو بڑھاوا دے رہے تھے  اور وہ انہی ٹولیوں کے ساتھ نعرہ تکبیر کے نعرہ کا جواب دیتا۔ حکومت نے ایٹمی دھماکوں کے دن کو ایک قومی نام دینے کا سوچا اخبارات ریڈیو، ٹی وی پر حکومت کی طرف سے پوری قوم کو اس دن کے نام کے انعامی مقابلے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا اس کے باپ نے اپنے آٹھ سال کے بیٹے سے پوچھا ’’ تمہارے خیال میں اس دن کا کیا نام ہونا چاہئے۔ ۔ ؟‘‘ اس نے اپنے دیدے گھمائے  اور کہا ’’پٹاخے ‘‘

’’او نیں کاکے۔ ۔ ! پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے ہیں اس دن کا نام رکھنا ہے ہو سکتا ہے تمہارا رکھا ہوا نام حکومت کو پسند آ جائے تم دنوں میں پوری دنیا میں مشہور ہو جاؤ گے ‘‘۔

’’ پاکستانی دھماکے، کیسا رہے گا۔ ۔ ۔ ؟‘‘۔

’’اچھا جو تم نعرہ لگا رہے تھے وہی نام نہ رکھ دیں ‘‘۔

’’ نعرہ تکبیر ‘‘اس نے حیرانی سے کہا

’’نہیں یوم تکبیر ‘‘۔

اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی یوں گردن ہلائی جیسے سمجھ گیا ہو۔ یوں یوم تکبیر فائنل کر کے خط بھیج دیا گیا اب انتظار تھا اس کے جواب کا گلی کے ڈاکیے نے اس گلی سے ہی گزرنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ روزانہ جواب دے دے کر زچ آ گیا تھا لیکن وہ بھی دھن کا پکا تھا کسی نہ کسی گلی میں ڈاکیے کو پکڑ ہی لیتا تھا  اور پھر ڈاکیا ہوتا  اور اس کا پروگرام ہوتا ’’جوابدہ ‘‘۔

اب تو اس کا پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا تھا  اور پھر ایک دن ڈاکیا اسے ڈھونڈتا پھر رہا تھا ایک خط تھا جو حکومت کی طرف سے تھا ڈاکیے نے اسے شاباش دے کر اس سے پانچ روپے کا نوٹ شاباشی میں لیا تھا اس کے ابا نے خط پڑھ کر اسے بتایا کہ حکومت نے اس کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے ایٹمی دن کا نام یوم تکبیر رکھا اب جلد ہی حکومت اسے انعام و اکرام سے نوازنے کے اسلام آباد بلائے گی پھر ایک دن اس نے خبر نامے میں یہ خبر دیکھی کہ ایک رنگ ساز کو یوم تکبیر کا نام رکھنے پر ایک لاکھ روپے حکومت کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔ اس نے اپنے ابا سے گلو گیر لہجے میں کہا ’’یہ بیمانچی ہے، نام میں نے رکھا  اور انعام کسی  اور کو دے دیا ‘‘۔

’’کاکے۔ ۔ ! تمہارا انعام انہوں اپنے پاس رکھ لیا ہے کیونکہ تم ابھی چھوٹے ہو جب تم بڑھے ہو جاؤ گے وہ تمہیں تمہارا انعام واپس کر دیں گے ‘‘۔

’’میں اس شخص سے اپنا انعام واپس لوں گا ‘‘۔

’’ او یار، اس شخص سے نہیں حکومت سے۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے کسی دن حکومت ایک خط لکھ کر تمہیں اسلام آباد بلا لے بس تم ذرا اپنے ڈاکیے پر نظر رکھو‘‘۔

اس نے ڈاکیے پر نظر رکھنی شروع کر دی اس روز روز کی تھانیداری پوچھ گچھ سے ڈاکیا اس کے علاقے سے اپنا تبادلہ کروا گیا  اور پھر تو یوں جیسے تبادلوں کی لائن ہی لگ گئی ہو آخر محکمہ ڈاک کو ایک جوان سال ڈاکیا تعینات کرتے ہوئے اس کی تعیناتی کے احکامات میں یہ لکھنا پڑا کہ تمہاری ریٹائرمنٹ تک تمہاری ڈیوٹی اسی علاقے میں رہے گی۔

یہ بات اس کے ساتھ ہی جوان ہوئی کہ حکومت نے اس بتایا ہوا نام تو رکھ لیا لیکن اس کے عوض کچھ نہیں دیا اب وہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی کہ یوم تکبیر کا نام رکھنے والے سینکڑوں میں ہیں، قرعہ اندازی میں نام صرف رنگساز کا ہی نکلا تھا جسے حکومت نے انعامی رقم دی باقی سب کو سرٹیفیکیٹ دے دیئے گئے تھے وہ سر پر جناح کیپ رکھے اپنے ’’حق ‘‘ کی خاطر کوشش کر رہا ہے اب اس کا ٹارگٹ انعامی رقم نہیں بلکہ پاکستان کے قومی ہیروز کی فہرست میں نام  اور ایک سرکاری ملازمت ہے جس کے لئے تعلیم اس نے دیار غیر سے لی ہے۔ اپنے ’’حق‘‘ کے اس سفر وہ شمالی علاقہ جات میں بھی ہو تو پھر بھی گھر فون کر کے ضرور پوچھ لیتا ہے کہ ڈاکیا کوئی سرکاری خط تو لے کر نہیں آیا۔

اس کی آنکھ کسی کھٹکے سے کھلی تھی کمرے میں زیرو بلب کی نیلگوں روشنی پھیلی ہوئی تھی اس نے آنکھیں ملتے ہوئے دیکھا کوئی جناح کیپ پہنے کھڑا تھا وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا اس کے منہ سے نکلا ’’ او جناح صاحب خود تشریف لائے ہیں، دیکھیں جناح صاحب آپ کے دیس میں میرے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ‘‘۔

’’ میں تمہارا رفیق ہوں دوست، تمہارا ضمیر تمہارا بوجھ ہلکا کرنے آیا ہوں ‘‘۔

’’ تم جانتے ہو مجھے تمہاری ضرورت نہیں کیوں تنگ کرنے آ جاتے ہو۔ ۔ ۔ ؟ ‘‘

’’میں تمہیں اصل بات بتاتا ہوں بات در اصل یہ ہے۔ ۔ ۔ ‘‘

’’تو یوں نہیں مانے گا ‘‘۔ اس نے بیڈسے اتر کر الماری کھول کر اس میں سے ایک لمبی سرنج اورٹیکہ نکالا تھا۔

’’اچھا چلا جاتا ہوں ‘‘۔ ضمیر نے گھبرائے ہوئے جناح کیپ اس کے سر پر رکھتے ہوئے کہا ’’پہلے ہی ٹیکے سے ایک مہینے بعد کچھ اوسان بحال ہوئے تھے ‘‘۔

اس کی آنکھ کیوں کھلی اسے کچھ یاد نہیں تھا وہ شاید سوتے وقت بلب بند کرنا بھول گیا تھا کمرے میں تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی جناح کیپ اس کے سر پر تھی جو وہ رات بغیر اتارے سو گیا تھا کمرے میں ضمیر کا نام و نشان تک نہیں تھا۔

٭٭٭

 

 

 

عقرب ادیب شاعر  اور صحافی دانشور

 

                میم سین بٹ

 

عقرب برج رکھنے والے ادیب، شاعر اور صحافی دانشور بڑے متلون مزاج  اور بے حد جذباتی ہوتے ہیں یہ جلد غصے میں آ جاتے ہیں اور محض ذرا سی بات پر مشتعل ہو کر فوراً مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں چونکہ بڑے گرم مزاج بلکہ گرم دماغ ہوتے ہیں  اور ان کا موافق رنگ سرخ جبکہ نشان بچھو ہوتا ہے اس لئے ان سے ذرا بچ کر رہنا چاہیے کیونکہ یہ پیدائشی طور پر ہائی بلڈ پریشر کے مریض سمجھے جاتے ہیں، بحث و تکرار سے ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے  اور پھر یہ بیحد غضبناک ہو جاتے ہیں اپنی تخلیقات پر تنقید تو بالکل ہی برداشت نہیں کر سکتے  اور اگر کوئی یہ غلطی کر بیٹھے تو پھر اسے فوراً مزا چکھا دیتے ہیں۔ یہ جسمانی طور پر مضبوط  اور عموماً بھاری بھرکم جثے کے حامل ہوتے ہیں ہر معاملے میں بالا دست رہنا پسند کرتے ہیں  اور اکثر لڑ بھڑ کر اس میں کامیاب رہتے ہیں انہیں شکست کسی بھی قسم کی پسند نہیں۔

دشمن کی طرح بیماری سے بھی نہیں گھبراتے  اور اپنی اپنی مضبوط قوت ارادی کے باعث بیماری کو بھی شکست فاش دے دیتے ہیں، چھوٹی موٹی بیماریاں خود بھی ان سے دور رہتی ہیں ڈاکٹرز  اور حکیموں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے، کھانا ان کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے بڑے خوش خوراک ہوتے ہیں ڈٹ کر کھاتے ہیں  اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں جس کے باعث عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر یہ دمہ  اور تبخیر معدہ جیسے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں بلکہ یہ بیماریاں جلد ہی انہیں عمر کے آخری حصے میں پہنچا دیتی ہیں ویسے یہ اپنی عمر سے بہت چھوٹے نظر آتے ہیں آپ انہیں برخوردار سمجھ کر ملیں گے مگر بعد میں آپ کو اس انکشاف پر سخت شرمندگی کا احساس ہو گا کہ آپ تو خود ان کے برخورداروں کے ہم عمر ہیں۔

بیشتر عقرب دانشور بڑے ہی خودپسند  اور خود دار ہوتے ہیں کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتے، شدت پسند طبعیت کے باعث میانہ روی کے قائل نہیں ہوتے، دوستی  اور دشمنی میں بہت آگے تک چلے جاتے ہیں، دشمن ہی نہیں کسی قسم کا اختلاف رائے رکھنے والے دوستوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ ان میں برداشت کا مادہ بہت کم بلکہ برائے نام ہی پایا جاتا ہے کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے بدزبانی میں تو کوئی دانشور ان کا مقابلہ ہی نہیں کر سکتا چونکہ یہ بڑے منہ پھٹ نقاد ہوتے ہیں اس لئے ادبی مخالفین ہی نہیں قریبی احباب بھی ان سے محتاط بلکہ کسی حد تک خائف رہتے ہیں اپنی زبان درازی کی بدولت یہ اکثر نقصان بھی اٹھاتے ہیں لیکن انہیں اپنے نفع و نقصان کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اپنی بدزبانی پر قابو پانے کی کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ اگر کوشش بھی کریں تو اس میں انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ ان کی زبان ان کے قابو سے باہر ہوتی ہے۔

ہمیشہ پسندیدہ لوگوں میں گھرے رہنا پسندکرتے ہیں اورناپسندیدہ لوگوں کو اپنے قریب ہی نہیں پھٹکنے دیتے قدرے بلکہ بہت زیادہ مغرور بھی ہوتے ہیں دوسروں کی کوئی کوئی پرواہ نہیں کرتے البتہ خود کو نظر انداز کیا جانا برداشت نہیں کر سکتے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹ جاتے ہیں خواہ ان کا موقف غلط ہی کیوں نہ ہو  اور اکثر ان کا موقف غلط ہی ہوتا ہے، اگر کسی محاذ پر ڈٹ جائیں تو انہیں ان کے مقام سے ہٹانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے، دیگر دانشوروں کے برعکس لڑائی جھگڑے سے نہیں گھبراتے دوسروں کو لڑتے جھگڑتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں  اور اپنی خوشی کی خاطر دوسروں کو آپس میں لڑا دیتے ہیں۔ بڑے شکی مزاج بلکہ حد سے زیادہ وہمی ہوتے ہیں کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے ہر کسی کو شک و شبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اپنے معاملات کو راز میں رکھنے کے عادی ہوتے ہیں دل کی بات  اور ارادوں کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دیتے، بڑے ہی تجسس پسند ہوتے ہیں اوراسرار و رموز میں بے حد دلچسپی رکھتے ہیں، جاسوسی ناول شوق سے پڑھتے ہیں، یہ پرکشش شخصیت کے مالک ہوتے ہیں دوسروں کو بہت جلد اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں  اور جو متوجہ نہیں ہوتے انہیں خود بھی نظر انداز کر دیتے ہیں، شو باز  اور شوقین مزاج بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں ادب کے ساتھ ساتھ شوبز  اور سیاسی معاملات میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں ادبی، سیاسی  اور ثقافتی موضوعات پر گھنٹوں بول سکتے ہیں بلکہ ہر وقت بولتے ہی رہتے ہیں  اور دوسروں کی کم سنتے ہیں انہیں پیدائشی دانشور قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ تیز تیز بولتے  اور تیز تیز ہی چلتے ہیں اس کے باوجود ان کے لیے وقت پر کہیں پہنچنا  اور وعدہ نبھانا بیحد مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے ان کے وعدے پر اعتبار کرنے والے ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہتے ہیں، عقرب افراد یکسانیت سے بہت جلد اکتا جاتے ہیں  اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے پل میں تولہ  اور پل میں ماشہ ہوتے رہتے ہیں، یہ حاسد بھی بڑے اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں حسد کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کسی کو خود سے آگے نکلتے نہیں دیکھ سکتے  اور جو کوئی ان سے آگے نکلنے کی کوشش کرے اسے منہ کے بل گرا دیتے ہیں، زبانی کلامی تو جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں مگر اپنے عملی اقدامات کے ذریعے آمریت پسندی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں در اصل یہ برج ہی آمروں کا سمجھا جاتا ہے دنیا کے مشہور سابق فوجی  اور سول آمر حکمرانوں ہٹلر، ڈیگال، سکندر مرزا، صدام حسین، مارگریٹ تھیچر، اندرا گاندھی کے علاوہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا برج بھی عقرب ہی تھا۔

عقرب دانشور زندگی گزارنے کے لیے اپنے راستے خود چنتے ہیں، اپنے اصول  اور ضابطے وغیرہ بھی خود بناتے ہیں دوسروں کے اصولوں یا مشوروں کو اہمیت نہیں دیتے  اور جو کوئی انہیں زبردستی مشورہ دینے کی غلطی کر بیٹھے وہ پھر ساری عمر پچھتاتا رہتا ہے  اور اس کے بعد کسی کو مفت مشورہ دینے کی جرات نہیں کرتا، جھگڑا لو طبعیت کی وجہ سے عقرب افراد کے لیے کسی کی ماتحتی میں کام کرنا بیحد مشکل ہوتا ہے کیونکہ اپنے کام پرکسی قسم کی نگرانی  اور ضابطوں کی پابندی بالکل برداشت نہیں کر سکتے  اور نہ ہی اپنے کاموں میں دوسروں کی مدد طلب کرتے ہیں چونکہ غصہ ہر وقت عینک کی طرح ان کی ناک پر رکھا رہتا ہے لہٰذا صرف وہی لوگ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں جو انہیں غصہ نہ دلائیں، عقرب ادیب، شاعر، دانشور زیادہ تر درس و تدریس، ریڈیو، ٹی وی، اخبارات اور دیگر تحریر و تحقیق کے شعبوں سے منسلک ہوتے ہیں اورجس کسی پروفیسر، ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس، نقاد، محقق، کالم نگار  اور صحافی کو آپ شکی، وہمی، جلد باز، بدمزاج، انتہا پسند، خود غرض، ضدی، ہٹ دھرم  اور مطلق العنان پائیں تو سمجھ لیں کہ اس کا برج ضرور عقرب ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

نظمالوجی

 

سی ایل آئی

 

                شہاب ظفر

 

 

فون اُٹھایا تو وہ بولی

’’میرے دلبر! میرے ساجن!!‘‘

 

(کون ہے یہ بیہودہ لڑکی

ختم ہوا نہ جس کا بچپن)

 

’’شغل ہے میرا کالیں کرنا

مل گیا نمبر آپ کا فوراً

آن بسو تم من کے اندر

سُونا ہے یہ دل کا آنگن‘‘

 

’’نمبر دو پھر بات کروں گا

پیش ابھی ہے کچھ مجھے الجھن‘‘

 

’’لگتی ہوں میں اِتنی بھولی

اچھا ہے ون۔ وے کمنی کیشن

پھنس جاؤں گی دے کر نمبر

کٹوا دو گے میرا کنکشن‘‘

 

کیسے میں اُس کو بتلاتا

پھنس تو گئیں تم جان کی دشمن

کیونکہ میں نے لگا رکھی تھی

کالرز لائن آئی ڈینٹی فکیشن

٭٭

 

 

شوہر  اور جانور

 

شوہر و جانور میں تعلق بلا کا ہے

اِک ہے زباں دراز تو اِک بے نوا سا ہے

 

جنگلی بھی شوہر ہوتے ہیں  اور پالتو سے بھی

کچھ جانور ہیں کام کے کچھ فالتو سے بھی

 

کچھ animals سے تو بظاہر یہ ہلکا ہے

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ملکہ ہے

 

بیوی کبھی مطالبہ جو مہر کا کرے

گیدڑ کی طرح شوہر بھی رُخ شہر کا کرے

 

بیوی  اور ماں کے بیچ میں فٹبال بن گیا

دھوبی کا کتا جس طرح گھر کا نہ گھاٹ کا

 

کچھوے کی طرح جاتا ہے سسرال کی طرف

خرگوش بن کے لپکے حسیں مال کی طرف

 

شوہر کے گھر نہ چاہیئے بیگم کو خیر کیا؟

دریا میں رہ کے رکھے مگرمچھ سے بیر کیا؟

 

ڈھلتے ہی شام گھر سے تو بھاگا کرے ہے وہ

الّو کی طرح رات کو جاگا کرے ہے وہ

 

سالے سے  اور سالیوں سے بھی ملتا ملاتا ہے

ساس  اور سسر کے سامنے وہ منمناتا ہے

 

سرگرمیوں پہ اس کی جو بیوی کو شک گیا

چوہے کی طرح پھرتی سے بِل میں دُبک گیا

 

شوہر کے پاس گُر تو ستانے کے  اور ہیں

کھانے کے دانت  اور دکھانے کے  اور ہیں

 

شوہر کو ایک پہلو پہ یوں بیٹھنا پڑا

سیدھی ہے اس کی کون سی کل دیکھنا پڑا

 

شوہر کی بیگمات ہوں قسمت سے دو یا تین

اُن کو بجانی بھینس کے آگے ہے پھر تو بین

 

ویسے تو اس پہ غصہ کئی بار آ گیا

بلی کی طرح پھر بھی کبھی پیار آ گیا

 

شاپنگ کا گر پلان میاں نے بدل دیا

چیونٹی سمجھ کے بیوی نے پل میں مسل دیا

 

اس کو تم اپنے ڈھب سے یونہی ہانکتے رہو

کھوتے کی طرح اس پہ وزن لادتے رہو

 

اِن خصلتوں کے بعد بھی respect ہی نہیں

قانون میں تو شوہری کا act ہی نہیں

 

بہبودِ شوہراں کوئی اسکیم تو بنے

اِن کے حقوق کی کوئی تنظیم تو بنے

٭٭٭

 

 

 

                محمد خلیل الرّحمٰن

 

طفلِ شیر خواب کا جواب

 

تو نے موبائیل جو چھینا ہے تو چلاتا ہوں میں

یوں تجھے اپنے تئیں نامہرباں سمجھا ہوں میں

 

کیوں رُلاتا ہے مجھے تو بار بار اے نوجواں

تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں

 

آہ ! کیوں مجھ کو رُلانے سے تجھے یوں پیار ہے

کھیلنا کیا تیرے موبائیل سے اِک آزار ہے ؟

 

گیند ہے میری کہاں، چینی کی بلی ہے کدھر؟

وہ ذرا سا جانور، ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر

 

ہاں ! کھلونوں میں یونہی مصروف میرا دِل رہے

اور ہمیشہ ہاتھ میں تیرے یہ موبائیل رہے

 

کھیلتا رہتا ہے موبائیل سے اپنے ہر گھڑی

اور ایسے کھیل میں اب تجھ کو میری کیا پڑی

 

آج تک ہر شے کو میرے واسطے لاتا رہا

میری خاطر اپنے دِل کو یونہی بہلاتا رہا

 

آج تجھ کو ایک موبائیل میسر آ گیا

آرزوؤں پر تری اِک خواب بن کر چھا گیا

 

چھا گیا ہر خواب پر مثلِ غبارِ آرزو

آنکھ کھلتے ہی چمک اٹھا شرارِ آرزو

 

ہاتھ کی جنبش میں، طرزِ دید میں پوشیدہ ہے

دیکھنے والا ہر اک اس حسن کا گرویدہ ہے

 

ہاتھ میں لے لوں، بگڑ کر مجھ سے چلاتا ہے تو

چھینتا ہے مجھ سے فوراً،  اور من جاتا ہے تو

 

آہ اس عادت میں ہم آہنگ ہے تو بھی مرا

میں تلوّن آشنا، تو بھی تلوّن آشنا

 

تیری آنکھوں کو لبھا لیتا ہے حسنِ ظاہری

کم نہیں کچھ میری نادانی سے نادانی تری

 

میری صورت گاہ خنداں، گاہ گریاں تو بھی ہے

دیکھنے کو نوجواں ہے، طفلِ ناداں تو بھی ہے

٭٭٭

 

 

                ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

 

موٹر سائکل

 

نہ موٹر کار جیسی ہے نہ ہے یہ سائیکل جیسی

یہ موٹر سائیکل ہے صرف موٹر سائیکل جیسی

بُلند و پَست یکجا کر کے کیا صورت نکالی ہے

مِڈّل طبقے کی یہ گویا مخنث اِک سواری ہے

غرور و کِبر و نَخوت سے نہ کوئی واسطہ اِس کا

فقط بیچارگی کا، عجز کا ہے راستہ اِس کا

جگہ کم ہے مگر دل کی فراخی کا یہ عالم ہے

لدی ہے فیملی پوری سفر کا شوق پیہم ہے

میاں بیوی  اور ان کے چار بچے اسطرح لٹکیں

دکھاتے ہوں تماشا جیسے ’’جوکر‘‘ کوئی کرتب میں

یہ موٹر سائکل صورت نئی ہے گھڑ سواری کی

ہے جس کی ہارس پاؤر ایک سو بیس اسَپِِ تازی کی

سفر میں دھول کھاتی ہے، بہت مٹی اُڑاتی ہے

سواروں کا بہت عمدہ یہ میک اپ بھی کراتی ہے

سنواریں زلف کو کیسے نہیں کچھ اختیار اپنا

اُڑاتی ہے یہ بال ایسے لگے شاعر سوار اِس کا

سفر کے ساتھ اِتنی دُور تک گردِ سفر جائے

کہ موٹر سائکل والے سے آئینہ بھی ڈر جائے

اٹی ہے دھول چہرے پر کہ ویرانی نہیں جاتی

کہ اب تو شکل بھی خود اپنی پہچانی نہیں جاتی

غرض مجنوں کی صورت سوئے دفتر ایسے جاتے ہیں

کہ بچے دیکھ کر ہنستے ہیں  اور سیٹی بجاتے ہیں

مگر بچّوں کی سیٹی سے بھلا ہو خوف کیوں ہم کو

سپاہی کو اگر دیکھیں تو سِٹّی گم ہماری ہو

چمک اٹھے پولس والوں کا چہرہ دیکھ کر ہم کو

پھڑک اٹھے رگِ رشوت تو چلائیں رکو، ٹھہرو

پجارو پہ نہیں چلتا ہے بس، یوں خوار بیٹھے ہیں

پکڑنے کو ہمیں ہر دم مگر تیار بیٹھے ہیں

بہانے سو طرح کے پاس ان کے ہیں مفر کب ہے

بِنا چالان ہر گز کوئی بھی بخشش نہیں اب ہے

وہ سو کے نوٹ پہ قائد کو دیکھیں تو سلامی دیں

اور اس کے بعد ہی ہم کو نویدِ خوش خرامی دیں

ہر اک چورا ہے ہر اک موڑ پہ نذرانہ دیتے ہیں

یہ ماہانہ نہیں بھتّہ کہ ہم روزانہ دیتے ہیں

بنایا ہم کو موٹر سائیکل نے دید کے قابل

دیا جرمانہ عیدی کا رہے کب عید کے قابل

سُبک رفتار موٹر سائیکل ہے غرغراتی ہے

خراماں گامزن ہو کوئی یہ ’’ ہورَن‘‘ بجاتی ہے

بڑی مشہور ہیں ہر سمت دہشت گردیاں اس کی

پولس والے بھی کانپیں دیکھ لیں گر پھرتیاں اس کی

کیا ہے جرم موٹر سائیکل پہ کیونکہ مجرم نے

لگی پابندی ’’ڈبلِنگ‘‘ پہ کیا انصاف ظالم نے

نہ پکڑا جا سکا ملزم تو موٹر سائیکل مجرم

ہوئی برباد سب نیکی گُنہ بس ہو گیا لازم

عجب منطق یہاں پر ہے مضر ہر چیز اب ٹھہری

لگے گی کل سے قدغن دیکھنا چاقو چھری پر بھی

ڈبل پہ جب سے پابندی لگی ہم ہو گئے تنہا

خدا ہو حامی و ناصر غریبوں کی سواری کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

                عابی مکھنوی

 

بابا لندن میں دل نہیں لگتا

 

’’بابا لندن میں دل نہیں لگتا‘‘

ڈیڈی پیرس بھی اب نہیں بھاتا

جتنے ساحل ہیں چھان مارے ہیں

مہنگے ہوٹل بھی بور کرتے ہیں

گوری پریاں عذاب لگتی ہیں

بابا بچپن کے دِن وہ اچھے تھے

دِل بہلتا تھا جب کھلونوں سے

اُف جوانی میں ایسی اُکتاہٹ !!

کیا کروں کیسے دِل کو بہلاؤں !!

مُنے ایسی بھی کیا ہے مایوسی !!

بیٹا جُگ جُگ جیے یہ پیارا وطن

سوہنی دھرتی کو رب رکھے آباد

پیشہ باقی رہے سیاست کا !!

تیرے بابا کے اِک اشارے پر !!

کُتے بِلے کروڑ نکلیں گے

اُن کو آپس میں پھر لڑائیں گے

چھوڑو مغرب میں کچھ نہیں رکھا

جب کبھی دِل تِرا یہ اُکتائے !!

آؤ کھیلو غریب لوگوں سے

اپنا دھندہ یہی ہے جانِ پِدر !!

آؤ بیچو غریب لوگوں کو !!

٭٭٭

 

 

                احمد علوی

 

ساتویں شیروانی

 

پانچویں دلہن میاں گھر لائے سہرا باندھ کر

بے وقوفی پر نہیں شرمائے سہرا باندھ کر

 

گھر کے اندر جیسے ہی دلہن نئی داخل ہوئی

چار برقعوں پر اچانک ہی نظر اس کی پڑی

 

دیکھ کر برقعوں کو غصّے میں چھبیلی ہو گئی

گھونگھٹ اٹھنے سے ہی پہلے لال پیلی ہو گئی

 

ہو بیاں ان چار برقعوں کی کہانی مختصر

چار برقعے جو ٹنگے ہیں شان سے دیوار پر

 

پوچھا دلہن نے بتاؤ چار برقعے کس کے ہیں

اتنے دلکش ریشمی رنگدار برقعے کس کے ہیں

 

دست بستہ ہو کے شوہر نے دیا اس کو جواب

اے شریکِ زندگی اے آفتاب و ماہتاب

 

ایک ہے رضیہ کا برقعہ دوسرا مہناز کا

تیسرا شبنم کا ہے  اور چوتھا ہے ممتاز کا

 

ہو گئیں اللہ کو پیاری میری چاروں بیویاں

وہ بچاری قبر میں ہیں صرف برقعے ہیں یہاں

 

پانچویں برقعے کا ہے ان کھونٹیوں کو انتظار

پانچواں برقعہ تمہارا ہی ٹنگے گا اب کی بار

 

بولی دلہن آپ کو شاید نہیں ہے یہ خبر

اب کے یہ برقعہ نہیں ! ہے شیروانی داؤ پر

 

چار برقعے ٹانگ کر ہی اتنا اتراتے ہیں آپ

بیویوں کو اپنی قبرستان پہنچاتے ہیں آپ

 

جو بیاہ کر لائے ہو اس بار شرمیلی دلہن

آپ کی اس شیروانی کو بنا دے گی کفن

 

سابقہ مرحوم شوہر کی نشانی ٹانگ کر

آپ کے گھر آئی ہوں چھ شیروانی ٹانگ کر

 

ختم برقعے کی نہیں ! ہو گی کہانی آپ کی

ساتویں نمبر پہ ہے یہ شیروانی آپ کی

٭٭٭

 

 

 

                عبدالحکیم ناصف

 

الل ٹپ

 

گھر میں مرے اِک طُرفہ تماشا ہے اَلل ٹَپ

ہر دوسرا ، ہر تیسرا بکتا ہے اَلل ٹَپ

میں نے تو یہ سمجھا مرا بیٹا ہے اَلل ٹَپ

بیٹا یہ سمجھتا ہے کہا بّا ہے اَلل ٹَپ

تائی نے بتایا ترا تایا ہے اَلل ٹَپ

چَچّی نے کہا چونک کے چچّا ہے اَلل ٹَپ

دادی کا ہے اِصرار کہ دادا ہے اَلل ٹَپ

نانی نے کہا زَور سے نا نا ہے اَلل ٹَپ

مامی تھی بضد لِکھ ترا ماما ہے اَلل ٹَپ

ماموں نے جُگت دی مرا بھانجا ہے اَلل ٹَپ

پھُپّھا کے لیے جاننا چاہا تھا ذراسا

پھپّھو نے کہا پُورے کا پُورا ہے اَلل ٹَپ

مردوں پہ جو آفت تھی طِلسم اس کا یوں ٹُوٹا

خالو نے بتایا تری خالہ ہے اَلل ٹَپ

خالہ کی مُمانی کی مُمانی کی ہے خالہ

بیگم سے مرا دُور کا رِشتہ ہے اَلل ٹَپ

پاپا ہی کا یہ ظرف ہے کہ مجھ کو سر بزم

بولے ابے ! تُو اُلّو کا پَٹّھا ہے اَلل ٹَپ

کہتی تھی بہو ساس تَوہے نک چڑھی کھوسٹ

اور سُسر مرا نک کٹا بڈّھا ہے اَلل ٹَپ

صد شُکر بہن میری ہے سسرال میں رانی

بہنوئی مرا رِشوتی رَاجا ہے اَلل ٹَپ

بنگال کے جادُو کی ہے مُوجد مری بھابھی

تَبلیغی، نمازی مرا بھیّا ہے اَلل ٹَپ

ہیں میری بھتیجی کے کئی دوست مخیّر

کنگلی کی محبّت میں بھتیجا ہے اَلل ٹَپ

سالی کی میں ہُوں زُلفِ گِرہ گیر پہ قُربان

وہ ’’وِگ‘‘ زدہ ہم زُلف کا بچّہ ہے اَلل ٹَپ

سسرال میں ہے ہائے ! سُلج میری ’’کرینہ‘‘

اور ’ ’سیف علی خان‘‘ تو سالا ہے الل ٹٹَپ

سسرال میں اُٹھتے ہیں مری ساس کے شعلے

جھُلسا ہُوا فُٹ پاتھ پہ سسرا ہے اَلل ٹَپ

جائے تو غُلام  اور نہ جائے تَوہے مغرور

سسرال سے داماد کا رِشتہ ہے اَلل ٹَپ

شادی پہ دُلہن دیکھ کے چِلّا کے میں رویا

مجذوب دُلہن کو مری بولا ’’ہے اَلل ٹَپ‘‘

دُلہا ہے الل ٹَپ تجھے دُلہنیا مُبارک

مولا جِسے دیتا ہے تو دیتا ہے اَلل ٹَپ

’’سی ویو‘‘ کا نظارہ ہے مری جَل پری سمدھن

سَمد ھی تَو سمندر میں ’ ’منوڑہ‘‘ ہے اَلل ٹَپ

ناصِفؔ یہ الل ٹَپ مجھے آیا ہے خیال آج

دنیا ہے یہاں آوے کا آوا ہے اَلل ٹَپ

٭٭

 

ماڈرن دعا

 

ہاتھ بس مُجھ کو تھماتی ہے ’’ حمیرا‘‘ میری

لب تلک آئے کبھی کاش ’’تمنّا‘‘ میری

 

زندگی ’’شمعِ کمرشل‘‘ ہو ’’رِموور کلچر‘‘

صاف ’’ کترینہ‘‘ کروڑوں میں مِلے ہر دِلبر

 

’’نازیہ ‘‘زُلف کے سائے میں سُلائے مُجھ کو

’’شازیہ‘‘ آ کے ہر اِک صبح جگائے مُجھ کو

 

میری ’’جُگنو‘‘ کا بہت نرم کلیجا ہو جائے

’’روشنی‘‘ مُجھ پہ فریفتہ ہو ’’اُجالا‘‘ ہو جائے

 

میرے اللہ! لُگائی سے بچانا مُجھ کو

نیک ’’ نسرینوں ‘‘ کی راہوں پہ چلا نا مُجھ کو

 

زندگی ’’سیف علی خاں ‘‘کی ہو صُورت یارَب!

مُجھ کو مِل جائے ’’کرینہ‘‘ کی رفاقت یارَب!

 

ہو مرا کام حمیدہ کی حمایت کرنا

اور ’’بلقیس و زرینہ‘‘ سے محبّت کرنا

 

گوری محبوبہ کے بھائی سے بچانا مُجھ کو

کالے شیشوں لگی کاروں میں گھُمانا مُجھ کو

 

ہو ’’ڈرگ مافیہ‘‘ کا ’’ڈان‘‘ مرا پیارا سسر

ہیروئن ساتھ میں لے جاؤں بِلا خوف و خطر

 

فِکر ناصفؔ کی بڑھاپے میں عُقابی کرنا

اب جوانی ہے مزید اِس کو گُلابی کرنا

٭٭٭

 

 

 

 

                شوکت جمال

 

عقیقے کا گوشت

 

سنا جب یہ کہ گھر میں گوشت آیا ہے عقیقے کا

خیال آیا کہ اس صدقے کا مصرف ہو سلیقے کا

جو پوچھا ہم نے بیگم سے کہو کیا کیا پکانا ہے

وہ بولیں، ہاں، مگر پہلے مجھے بھی کچھ بتانا ہے

کہا میں نے کہ چھوڑو تم ابھی بیکار کے قصّے

کہ قسمت سے ملا کرتے ہیں چھوٹے گوشت کے حصّے

کڑاہی گوشت پہلے تو بنا لو آج تم بیگم

ضروری تو نہیں کہ اس مبارک دن پکے شلجم

ہیں جتنی پسلیاں ان کی تو یخنی ہی بنا لینا

پئیں گے سردیوں میں ہم، ابھی اُس کو جما دینا

ہو تازہ گوشت تو بنتا ہے اِسٹو لاجواب اس کا

مسالہ اس قدر ڈالو، نہ ہو خانہ خراب اس کا

بنا لو تم اگر چاہو تو تھوڑا سا ’’مٹن ہنٹر‘‘

ڈبل روٹی میں رکھ کے کھاس کیں ابّا مہینے بھر

کہا بیگم نے فرمائش تو سر آنکھوں پہ میرے ہے

مگر میری بھی سن لیتے، مجھے بھی فکر گھیرے ہے

جو کاٹی بات بیگم نے تو غصّے سے انہیں روکا

اڑائی ٹانگ کیوں تم نے، مجھے پھر کس لئے ٹوکا؟

نہیں ہو گا ہدایت پر اگر میری عمل بیگم

تو ہاتھ آیا ہوا بکرا بھی جائے گا نکل بیگم

ہے پالک گوشت سے رغبت؟ چلو وہ بھی بنا لو تم

مگر ایسا نہ ہو مرچیں کھڑی اُس میں نہ ڈالو تم

بھنا ہو گوشت دیسی گھی میں  اور میتھی قصوری ہو

جو کھانے کے لئے بیٹھیں، تو روٹی بھی تنوری ہو

ٹماٹر گوشت کے سالن میں گاڑھا شوربہ بھی ہو

مٹر آلو ڈلیں، تیکھا سا اس کا ذائقہ بھی ہو

بنا لیتا ہوں میں خود ہی ذرا سا قورمہ شاہی

پلاؤ بھی، کہ خوشبو سے رکے جاتا ہوا راہی

ارادہ اس طرح باندھا خود اپنی میزبانی کا

خیال آیا نہ اک پل شیخ چلّی کی کہانی کا

پلاؤ میں مرے جیسے کوئی کنکر نکل آیا

دبا تھا اُن کے دل میں جو، وہ سب باہر نکل آیا

زمیں تھرّا رہی تھی  اور فضا میں ایک ہلچل تھی

جو اپنی اہلیہ کے ہاتھ میں دیکھا تو چپّل تھی

گرج کر مجھ سے وہ بولیں، ابھی میکے میں جاتی ہوں

مگر پہلے تمہارے سر سے میں جِن کو بھگاتی ہوں

یہ ہڈّی  اور بوٹی کا محل میں ہی گراؤں گی

سنو یا مت سنو لیکن یہ تم سے کہہ کے جاؤں گی

نہ حسرت کوئی نکلے گی، نہ کوئی چاؤ نکلے گا

جو گوشت آیا ہے، تَولو گے تو آدھا پاؤ نکلے گا

٭٭٭

 

 

 

                عامر ؔراہداری

 

بینگن

 

 (وصی شاہ / مجید امجد سے معذرت کے ساتھ)

 

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا بینگن ہوتا

 

تُو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

دستِ نازک سے مرے جسم کو چھیلا کرتی

اور پھر چاؤ سے کٹ کر مجھے دھویا کرتی

پھر کسی پیارے سے کُکُر میں تو رکھتی مجھ کو

ہلکی سی آنچ میں چولہے پہ چڑھاتی مجھ کو

میں اِسی آنچ میں جا کر ذرا پک سا جاتا

پھر مجھے کانچ کے پیالے میں تُو ڈالا کرتی

اور پھر پہلے نوالے میں ہی نگلا کرتی

میں ترے ہونٹوں سے ہو کر ترے اندر جاتا

پھر ترے پیٹ میں جا کر تجھے گُد گُد کرتا

رات کو جب بھی تُو نیندوں کے سفر پر جاتی

میں ترے پیٹ کی آنتوں کو مروڑا کرتا

اور تُو درد کی شدت سے دھل سی جاتی

رات بھر پھر میں ترے ساتھ ہی جاگا کرتا

کچھ نہیں تو یہی بے نام سی الجھن ہوتا

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا بینگن ہوتا

٭٭٭

 

 

 

 

                انجینئر عتیق الرحمٰن

 

بینگن

 

بیوی ہے بہت موٹی تو خود بھی ہے پہلوان

اِک فوج ظفر موج بھی لایا ہے یہ مہمان

 

بچوں نے مچایا ہے مرے گھر میں وہ کہرام

جنات بھی بھاگے ہوئے پھرتے ہیں پریشان

 

رنگین ہیں، دیوار ہو یا فرش ہو گھر کا

ہیں ان کے عجب مشغلے کھاتے ہیں بہت پان

 

مہمانوں کی وہ بھوک کہ انجام نہیں ہے

جب مرغ اُڑا لیتے ہیں کھاتے ہیں مرے کان

 

قبضہ ہے کچن پہ نہیں معلوم یہ کب تک

بیٹھا ہوں پریشان کہ کب چھوٹے مری جان

 

ٹھہریں گے مہینہ مرے گھر دنگلی مہمان

یہ سوچ کے ہوتے ہیں خطا میرے بھی اوسان

٭٭٭

 

 

 

 

 

                غضنفر علی

 

رجعتِ قہقہری

 

جانوں کہہ کہہ کے تھک گیا ہوں میں

میں نے مانا سنک گیا ہوں میں

تیرے رخسار کی تمازت پر

تیرے ہونٹوں کی ہر شرارت پر

تیرے تن کے سڈول ہونے پر

باقی سب کے ببول ہونے پر

تیری آنکھوں کی مہربانی پر

تیری اِس نوجوان نانی پر

جو لکھا آج تک وہ جعلی تھا

میں تو سنکا ہوا موالی تھا

آ تجھے آج شیشہ دکھلاؤں

آئینہ کیا ہے تجھ کو بتلاؤں

ترے رخسار ہیں تکونے سے

ہونٹ ہیں دونوں تیرے بھونڈے سے

رنگ تیرا تو پھیکا پھیکا ہے

اِس سے اچھا تو پھینی کھجلہ ہے

تیری آواز صور جیسی ہے

تیری فیگر فضول ایسی ہے

تجھ سے اچھی تو وہ بشیراں ہے

جس پہ فیصل عزیزؔ شیداں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                شہباز چوہان

 

پلے پڑ گئی ہے

 

درد و غم کی ماری پلے پڑ گئی ہے

محبوبہ دُکھیاری پلے پڑ گئی ہے

 

پہلے اُس نے سونپے اپنے کام مجھے

پھر گھر کے بھی سب دے دیئے آلام مجھے

ہولی ہولی ساری پلے پڑ گئی ہے

 

بھائی بہنیں امّاں ابّا، ساروں نے

میری کلّی جیب کو لبھّا ساروں نے

میرے دنیا ساری پلے پڑ گئی ہے

 

راحت کا کوئی دن نہیں آیا بھائی جی

کبھی کمیٹی کبھی کرایہ بھائی جی

میرے ہر ذمہ داری پلے پڑ گئی ہے

 

درد کو اکثر کرتی ہے وہmention بھی

acidity بھی ہے hypa tension بھی

میرے عجب بیماری پلے پڑ گئی ہے

 

اِن دنوں ہیں جاری رپھڑے جانو جی

سب کو لے کر دو نہ کپڑے جانو جی

جان سے مشکل بھاری پلے پڑ گئی ہے

 

جھِجکے جھُجکے شرمائے نہ کھنگے ہے

ہر اِک شے میں دسواں حصّہ منگے ہے

وہ مثلِ زرداری پلے پڑ گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                ڈاکٹر سعید اقبال سعدیؔ

 

ڈرائیورانہ انتباہ

 

ایک شادی تن کی گاڑی کے لئے پٹرول ہے

دوسری شادی ڈرائیور کے لئے چھترول ہے

 

ایک تو رکھے گی فِٹ سوچوں کے انجن آپ کے

دوسری کر دے گی ڈھیلے رنگ پسٹن آپ کے

 

ایک ہو گی تو بریکیں روک لیں گی ایکسیڈینٹ

دوسری ڈالے گی اکثر آپ کے چہرے پہ ڈینٹ

 

جب ہوئی پہلی سے کچھ انڈرسٹینڈنگ آپ کی

دوسری کر دے گی منٹوں میں ٹیوننگ آپ کی

 

ایک فِٹ رکھے گی اے سی  اور ہیٹر آپ کا

دوسری آ کر گھما ڈالے گی میٹر آپ کا

 

ایک تو چمکا کے رکھے گی بڑا رنگ آپ کا

دوسری کر دے گی آ کر قافیہ تنگ آپ کا

 

ایک شادی کر کے گاڑی جو چلاتے ہیں سمارٹ

دوسری شادی سے ہو جاتے ہیں وہ دھکا سٹارٹ

 

ایک گاڑی آٹو میٹک ریس جیسا دے مزا

دوسری سے وھیل، فلٹر، گیئر کا حافظ خدا

 

عین ممکن ہے کہ وہ ہیڈ لائٹیں ہی توڑ دے

کھا کے گرمی آپ کی وہ دونوں آنکھیں پھوڑ دے

 

یہ بھی ممکن ہے وہ گاڑی کے اُڑا ڈالے فیوز

اگلے دِن دو کالمی ہو آپ کی اپنی نیوز

 

ایک بیوی کی وفا کا سارا حصہ آپ کا

دوسری کر دے گی اک دِن پاک قصہ آپ کا

٭٭٭

 

 

 

 

کتابی چہرے

 

دانائے ڈانس

 

                خانزادہ خان

 

فلمی دنیا سے زیادہ لگاؤ نہ ہونے کے باعث ہمیں یش چوپڑہ کی پیدائش  اور موت دونوں کا پتہ ایک ہی وقت میں لگا۔ ہمیں اپنی لاعلمی کے باعث کوئی معلوم نہ تھا کہ اس دنیائے آب و گل کی سات ارب کی مخلوقِ خدا میں یش چوپڑا نام کا کوئی ’’دانائے ڈانس‘‘ یا ’’دانائے رومانس‘‘ بھی ہے، حالانکہ جس روز ہمیں یش چوپڑہ کی موت کی خبر ملی تب تک موصوف رومان بھرے پورے اسی سال کھڑکا چکے تھے۔ سید ضمیر جعفری نے شاید ایسے ہی بڈھے کے لئے کہا ہے کہ:

آخری سانس کے آنے تک

برسے گا  اور گرجے گا

یہ بڈھا اوّل درجے کا

سید ضمیر جعفری مرحوم کے کالم ’’ضمیر حاضر، ضمیر غائب‘‘ کے عنوان سے چھپا کرتے تھے۔ گویا حاضر  اور غائب کو ہم اگر انگریزی کے یس (YES)  اور نو (NO) سے تعبیر کریں تو پھر اس وزن میں مسٹر یش چوپڑہ کو یس چوپڑہ  اور نو چوپڑہ کہہ کر چوپڑہ حاضر  اور چوپڑہ غائب بھی کہہ سکتے ہیں۔

ہیروئن کے ننگے پینڈے پر ’’چھمکاں ‘‘ مارنے والے  اور اُنہیں مسلسل گھوڑیوں کی طرح نچانے والے یش چوپڑہ کی موت ڈیں گی بخار سے ہوئی۔ بخار کو ہندی میں تاپ بھی کہتے ہیں۔ ہندی میں ایک کہاوت بھی ہے کہ ’’تاپ ہوا تو باپ موٗا‘‘ یعنی تاپ یا بخار موت کا بہانہ بنا۔ باپ کی مناسبت سے ایک کہاوت یاد آئی کہ ’’کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے ‘‘یوں بولی ووڈ کی فلم انڈسٹری کے سر سے ایک یش چوپڑہ کے اُٹھ جانے سے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ اپنی کامیابی کے سو باپوں سے نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں باپوں سے یکلخت محروم ہو گئی ہے۔ میڈیا کا کوئی نامور جغادری ہو یا نچلے درجے کا یاہرچرن داس، سب یہ دھائی دیتے نظر آتے ہیں کہ ؎

دِگر دانائے ’’ڈانس‘‘ آید نہ نا آید

نہ جانے کتنی صدیوں تک فلمی ہیروئنیں کسی  اور چوپڑے کے انتظار میں خود کو بناتے سنوارتے  اور چوپڑتے ہوئے کانی  اور گنجی ہوتی چلی جائیں گی۔ ہندوؤں کے عقیدۂ تناسخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم یش چوپڑہ کے متعلق یہ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ دوسرے جنم میں ہاتھ میں لال لگام لئے دوبارہ برآمد ہوں  اور بوڑھی گھوڑیوں کو لال لگام دے کر نچاتے ہوئے دوسرے جنم لے جائیں۔

رقص و سرور کے رومان پرور مناظر فلمانے والے یش چوپڑہ نے اپنی نظروں کے سامنے کئی فلمی حسیناؤں پر جوانی آتے  اور پھر حُسن و رعنائی کا سورج ڈھلتے دیکھا تھا کیونکہ یش چوپڑہ نے رومان پرور ماحول کی سیاحی میں دوچار برس نہیں بلکہ پوری نصف صدی راج کیا ہے، گویا :

اِس بولی ووڈ کے بوس و کنار میں جو بھی دستِ چوپڑا ہے

وہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں

سچی بات ہے کہ اگر یش چوپڑہ کو ڈیں گی مچھر نہ کاٹتاتو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ اسّی سالہ جوان چکاچوند کر دینے والی فلمی دنیا چھوڑ کر دوسری دنیا سفر کر جائے گا لیکن میڈیا  اور فلمی ستاروں نے جس انداز سے یش چوپڑہ کو یاد کیا ہے اس انداز کو قتیل شفائی کے اشعار میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔

وہ دل سے کبھی دور نہیں ہوتا ہے

مر جائے تو دھڑکن میں مکیں ہوتا ہے

جو شخص حسینوں میں جیا کرتا ہے

اُس شخص کا مرنابھی حسیں ہوتا ہے

جس ڈیں گی مچھر نے یش چوپڑہ کو کاٹا اس مچھر کی حماقت پر حیرانی ہوتی ہے کہ اُس کمبخت نے دھماچوکڑی کرتی کسی ہیروئن کو کیوں نہ کاٹا حالانکہ وہ کاٹے جانے کے لئے کہیں زیادہ دعوتِ نظّارہ  اور حدودِ اربعہ رکھتی تھیں۔ لگتا ہے کہس مچھر کا تعلق رقیبوں کے قبیلے یا ولن کے خاندان سے تھا، یہ بھی ممکن ہے کہ یش چوپڑہ مچھر بھگانے والی کوئی دوا جسم پر چوپڑنا بھول گئے ہوں جبکہ ہیروئنوں نے تو مساج وغیرہ کے ذریعے طرح طرح کے لوشن چوپڑوائے ہوتے ہیں کہ مچھر بھی امان مانگتے ہوئے یہ کہتے ہیں۔ ؎

ترا حُسن فتنۂ دہر ہے، ترا رنگ آگ کی لہر ہے

تری انکھڑیوں میں جو زہر ہے وہ بلا ہے ظلم ہے قہر ہے

یش چوپڑہ کی بے نوٹس موت نے نہ صرف بولی ووڈ کی فلم انڈسٹری کو ہی نہیں بلکہ امن کی آشا تک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارے ملک کی کچھ اداکارائیں بھی انڈیا جا کر رومانیت کی جدتوں سے روشناس ہوا کرتی تھیں ؎

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی

ابھی تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے

یش چوپڑہ جیسی شخصیات خود رو پھولوں کی مانند ہوا کرتی ہیں  اور یہ شخصیات جمہوری معاشروں کی دین ہوتی ہیں، جس طرح مورتیوں کے کئی چہرے ہوتے ہیں، اِسی طرح ہندوستانی حکومت کے جمہوری چہرے کا ایک رنگ یش چوپڑہ جیسے لوگوں کے روپ میں جلوہ فگن ہے۔ آزادی سے قبل یہ ماسک صرف برہمن  اور بنئیوں نے پہن رکھا تھا ؎

جو بنیا جتنا زیادہ ہنس کے بولتا ہے

اُتنا ہی کم تولتا ہے

بنئے  اور برہمن کا مشترکہ چہرہ اس وقت بولی ووڈ کے پاس ہے۔ ہندوستانی معاشرے کے بحرِ ہند کا ہر صدف معاشرے کی سطح پر آ کر منہ کھولتا ہے تو وہ بولی ووڈ کے قطرۂ نیساں ہی کا طلبگار ہوتا ہے۔ اگر وہ بولی ووڈ کے ابرِ نیساں سے محروم ہو جائے تو پھر بقیہ عمر وہ اس معاشرے میں حلقہ صد کام نہنگ کا سامنا کر کے گزارتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہندوستانی آزادی  اور جمہوریت کا جو مزہ بولی ووڈ نے اُٹھایا ہے، شاید ہی کسی  اور طبقے کو اس کا عشرِ عشیر بھ ملا ہو۔

ہندو سنیاسیوں کا خیال ہے کہ بڑھاپا ساٹھ سال کی عمر میں جنم پاتا ہے  اور آدمی جب ستر سال کا ہو جائے تو بڑھاپا دس سال کا ہو کر شوخیاں کرتا ہے  اور جب آدمی اسّی سال کا ہو جائے تو بڑھاپا بیس سال کا ہو کر دھما چوکڑی  اور اچھل کود کرتا ہے۔ ابھی یش چوپڑہ کے بڑھاپے کے اچھل کود کے دن شروع ہی ہوئے تھے کہ وہ دھما چوکڑی کرتی ہیروئنوں کو داغ مفارقت دے گئے لیکن اُن کا فن کڑاج پاتا رہے گا۔

ایسا کچھ کر گیا آج یش چوپڑہ

کرے گا زمانہ عش عش چوپڑہ

پریان کا سے لے کر قطرینہ تک سب

بعد تیرے اب ٹیں ٹیں فش چوپڑہ

دانائے ڈانس آئے گا نہ اب تجھ سا کوئی

فلموں میں رہے گا بہت رش چوپڑہ

ڈینگی تجھے کبھی بھی نہ کاٹ سکتا

کاش تو نے کی ہوتی مالش چوپڑہ

تجھ سا نہ پھر کوئی آئے گا کبھی

ہنس مکھ چوپڑہ لش پش چوپڑہ

٭٭٭

 

 

                مرزا یاسین بیگ

 

آؤ ڈاکٹر خالد سہیل کو ڈھونڈیں

 

ڈاکٹر خالد سہیل کی تحریر کردہ کتابوں کی طویل فہرست دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دو سو سال سے متواتر لکھ رہے ہیں مگر جب انھیں اپنے سامنے دیکھتا ہوں تو ان کی عمر ایک کتابچے جتنی لگتی ہے۔ آج کل لوگوں کے اندر جتنا زہر بھرا ہے، خالد سہیل کے اندر اُتنا علم بھرا ہے۔ یہ مرد ہو کر عورت سے زیادہ بے صبرے ہیں۔ عورت نو ماہ میں بچہ جنتی ہے، یہ چھ ماہ میں ہی کتاب جنتے ہیں  اور اکثر جڑواں بھی۔ کوئی بھی بچہ ماں کے پیٹ سے پڑھ لکھ کر پیدا نہیں ہوتا مگر ان کی ہر کتاب پڑھی لکھی ہوتی ہے  اور پیدا ہوتے ہی قدردان اسے گود لے لیتے ہیں۔ ان کی لائبریری میں اگر ان کی کتابوں کی طرف سے دیکھنا شروع کیا جائے تو کسی  اور کی لکھی کتاب تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ جہاں آپ ان کی آخری کتاب تک پہنچتے ہیں، ایک  اور نئی کتاب شائع ہو جاتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ دن بھر بلکہ رات گئے تک تو ہم سب کے ساتھ ہوتے ہیں پھر اتنی کتابیں کیسے لکھ لیتے ہیں ؟ یہی شک ان کی ڈیٹنگ کی طرف بھی جاتا ہے۔ یہ شہر کا واحد آدمی ہے جو سیل فون نہیں رکھتا مگر قیاس آرائیوں کے مطابق کئی گرل فرینڈز رکھتا ہے۔

خالد سہیل نے شاعری سے لے کر افسانے، ناولٹ، نظمیں، مضامین، انٹرویوز، مزاح، تحقیق غرض یہ کہ ہر صنف کو پرکھا ہے یہاں تک صنفِ نازک کو بھی۔ ان کے رومانی افسانوں کی عورت اکثر ان کی اپنی محبوبہ ہوتی تھی۔ ہر رومانس کے بعد ایک افسانہ لکھنا ان کی ہابی تھی۔ اسی لئے رومانس میں ٹھہرے رہنا یہ ادبی بددیانتی سمجھتے تھے۔

بطور ثبوت میں ان ہی کا ایک قطعہ پیش کر دیتا ہوں :

جام چھلکے ہیں میرے ذہن کے میخانوں میں

خواہشیں سلگیں مرے قلب کے تہہ خانوں میں

تیرے ہر رنگ نے یوں گھیر لیا ہے مجھ کو

اِک دھنک پھیل رہی ہے میرے افسانوں میں

پچھلے چند سالوں سے ان کے افسانوں میں کمی آئی ہے وجہ آپ خود سمجھ لیں۔ میں تو خوش ہوں ڈاکٹر صاحب میں ٹھہراؤ آ گیا ہے، اب ہم افسانے لکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل کی سماجیات، سیاسیات  اور نفسیات پر لکھی گئی کتابیں بھی اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ پاکستان، ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اِن کے ہزاروں پڑھنے والے موجود ہیں۔ بعضے ایسے بھی ہیں جو انھیں چومنے کی خواہش میں ان کی کتابوں کا بوسہ لیتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں خالد سہیل سے کہتا ہوں کہ آپ کے پاس ای میل کی کمی ہے نہ فیمیل کی۔ ان کی تحریر میں ایسی کشش ہے کہ اکثر لوگ انھیں پڑھ کر اپنے دقیانوسی نظریات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو  اور تحریر علم کی بھوک بڑھا دیتی ہے۔ جو ایک بار اُنہیں پڑھ لے، اُنہیں کا ہو کر رہ جاتا ہے، چاہے شادی شدہ ہو یا مولوی۔

خالد سہیل شاعر  اور ادیب ہونے کے باوجود بہت آرگنائزڈ  اور وقت کے پابند ہیں۔ کبھی اپنے مریض کو اپنا شعر نہیں سناتے، نہ ہی کسی دوست کو مفت کی دوا یا دعا دیتے ہیں۔ ہر ادبی تقریب میں ایسے جاتے ہیں جیسے اپنے کلینک پر جا رہے ہوں مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ غزل کی جگہ دوا کی پرچی پڑھ دی۔ اتنے صحت مند ماہرِ نفسیات ہیں کہ بھیڑ میں بھی اپنے مریض  اور قاری کو پہچان لیتے ہیں۔ ’’انسان دوست‘‘ ایسے کہ ہر نظرئیے  اور نظر آنے والی شئے کو گلے لگانے میں عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔

خالد سہیل نے ہر کام کیا ہے سوائے شادی کے۔ شاید انھوں نے میرا مقولہ سن لیا ہے کہ جس گھر میں نکاح داخل ہو جائے وہاں محبوبائیں آنا بند ہو جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھیں اب تک ہر عورت اچھی لگتی ہے۔ ایک بیوی کی کمی دور کرنے کے لیے انھیں ہر روز بیڈ پر لیٹے لیٹے کوئی نہ کوئی کتاب پڑھنی پڑتی ہے۔ حقوقِ زوجیت ادا کرنا ہو تو قلم لے کر کچھ نہ کچھ لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ خالد سہیل نے دنیا کا ہر حق ادا کیا ہے سوائے حق مہر کے۔ یہ واحد مرد ہیں جو بیوی نہ رکھتے ہوئے بھی انتہائی سنجیدہ ہیں۔ بال بچوں میں سے صرف بال کی پرورش کی۔ ان کی ایک خوبی خدا کا ذکر کئے بغیر پوری نہیں ہوتی  اور وہ ہے ان کی خدا ترسی۔ اِتنے خدا ترس ہیں کہ جنھیں لکھنا بھی نہیں آتا، ان کے لئے اچھا اچھا لکھ کر دے دیتے ہیں۔ برا بھلا کہنے میں عار محسوس کرتے ہیں یعنی برا نہیں کہہ پاتے صرف بھلا بھلا کہہ دیتے ہیں۔

کہنے کو تو ڈاکٹر صاحب ’’سنگل‘‘ ہیں مگر کسی بھی محفل میں سنگل نظر نہیں آتے۔ لوگ انھیں ایسے گھیرے رہتے جیسے آج ہی شادی کروا کر چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس موضوع  اور مریض کی کوئی کمی نہیں۔ موضوع  اور مرض کو برتنا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے، بائیں ہاتھ کو کم ہی زحمت دیتے ہیں۔ کپڑے نفیس پہنتے ہیں  اور اکثر خود ہی پہنتے ہیں۔ کسی نے مشہور کر دیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو کچھوے پسند ہیں بس اس دن سے جس مریض کو پیار آیا وہ ایک مصنوعی کچھوے کا تحفہ دے گیا۔ اب یہ حال کہ کلینک میں ہر طرف مریض نظر آتے ہیں یا کچھوے  اور ڈاکٹر صاحب دونوں سے خوش ہیں۔

ڈاکٹر صاحب پچھلے چند سالوں سے اردو میں کم  اور انگریزی میں زیادہ لکھنے لگے ہیں۔ سنا ہے اُردو اس پر کافی بگڑی ہے۔ یہ پہلی زبان ہے جو ڈاکٹر صاحب پر بگڑی ہے۔ ڈاکٹر صاحب جیسے بلند مرتبت ادیب اگر اُردو کو چھوڑ جائیں گے تو اُردو پر تو بگاڑ ہی آئے گا۔ امید کی جاتی ہے ڈاکٹر صاحب اُردو کا دامن ویسے ہی پکڑے رہیں گے جیسے اُنھوں نے بیٹی ڈیوس کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ایک شانے سے اُردو  اور دوسرے شانے سے انگریزی لگی ہو تو ادب  اور قاری ان پر زیادہ ناز کرے گا۔

ڈاکٹر خالد سہیل کو ہم دیکھ تو سکتے ہیں مگر انھیں ڈھونڈ نہیں سکتے۔ ان کی شخصیت کے جز تو مل جاتے ہیں مگر ان کی تلاش ختم نہیں ہوتی۔ وہ ادیب تو ادیب انسان ہونے کی بھی عمدہ مثال ہیں۔ ایسے لوگ بڑی مشکل سے پیدا ہوتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ان کی نظروں میں رہتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

                ارمان یوسف

 

ہمارے فقیر اللہ صاحب

 

(کھٹی میٹھی یادیں)

 

حاجی بشیر حسین ملغانی(سابق ہیڈماسٹر ہائی سکول تھیم والا) شیخ محمد حنیف  اور فقیراللہ صاحب کے تذکرے اس وقت سے سننے کو ملتے جب ہم نے سکول کا رخ بھی نہیں کیا تھا  اور ان صاحبان کا ذکر خیر بشیر احمد(مڑھی شریف والی سرکار ) غلام گبول، عابد شریف، قاسم سیال  اور بڑے بھائی اجمل تبسم سے سنا کرتے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب آتش بھی جوان تو کیا بلکہ ابھی لڑکا سا تھا  اور بشیر احمد کے والد گرامی استاد حافظ عبدالعزیز صاحب کے ہاں قرآن شریف حفظ کر رہا تھا۔ آتش تو خیر اب بھی لڑکا ہی ہے۔ دنیا والے چاہے ہماری ایک سو پچاسویں سالگرہ کی تیاری کر رہے ہوں مگر اس سے کیا؟ اب سارے زمانے کی مانیں یا اس ایک دل کی جو اب بھی پھڑک پھڑک کے دھڑک کر یہ اعلان کر رہا ہے کہ جذبے جوان ہوں تو حالات کی ستم ظریفی کے باوجود بڑھتی عمر کے سا تھ ساتھ آدمی جوان ہوتا چلا جاتا ہے۔ اب آپ بھی کہیں اس عمر میں بھی ’’جوانی‘‘ کے جوش میں آ کر لنگوٹ کس کے ہیڈ پنجند یا چناب پہ نہانے چل نکلیں، یہ آپ کی آخری ڈبکی ثابت ہو  اور ہم لندن میں بیٹھے بیٹھے ہی امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں دھر لئے جائیں۔ الطاف بھائی پہ تو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مقدمات چل ہی رہے ہیں، ارمان بھائی پر بھی شروع ہو جائیں۔ آجکل طہٰ قریشی صاحب بھی پاکستان گئے ہوئے ہیں، ایسے میں ہماری ضمانت کون کرائے گا؟

سب نے کہا پہلے حفظ کر لو سکول بعد میں پڑھ لینا، وجہ یہ بتائی کہ آخرت میں حافظِ قرآن کو ستر آدمیوں کو جنت میں لے جانے کا خصوصی اختیار حاصل ہو گا(حاسدین آج ہی سے دل سے ہمارا احترام کرنا شروع کر دیں ورنہ جنت سے چھٹی اور اگر آپ کو بھی اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخلے پہ ذرا بھی شبہ ہو تو دو دو ہزار میں آج ہی ٹکٹیں بک کرا لیجئے (روپے نہیں دو دو ہزار پاؤنڈ) نیز موت کے منتظر  اور بے صبرے گنہگاروں کے لئے خصوصی پیکج  اور آن لائن بیعت کی سہولت بھی دستیاب ہے البتہ لنگر شریف کی توقع ہر گز نہ کیجئے گا کمپنی پہلے ہی خسارے میں جا رہی ہے ) محض سترہی؟ تعداد بہت کم تھی۔ ہم نے ایک سو ستر کی شرط کے ساتھ فرشتوں سے مذاکرات شروع کر دئیے  اور یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ ہمارا مطالبہ نہ مانا گیا تو ’’دیوانِ غالب‘‘ کو حفظ کرنا شروع کر دیں گے۔ تیس سیپاروں کی جگہ شراب و کباب کی کھلے عام دعوت دینے والی غالب و سعدی کی تیس غزلیں ہی سہی، پھر چاہے ایک سو ستر کو ساتھ ہی لے ڈوبے کہ ’’ہمہ یاراں دوزخ‘‘ مگر فرشتوں سے مذاکرات کامیاب ہو گئے  اور یوں ہم حافظ محمد یوسف بن کے ہائی سکول تھیم والا آن پہنچے جہاں جاوید اختر صاحب، صدیق صاحب، ہدایت اللہ صاحب، اکبر صاحب، ملک محمد حسین، علامہ غلام عباس  اور عارف صاحب سے عربی، انگریزی  اور سائنسی مضامین پڑھا کرتے۔ ایسے میں بشیر ملغانی صاحب، شیخ صاحب  اور فقیر اللہ صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان حضرات کی محنت، جد و جہد اور نیک نیتی کی بدولت سکول کا معیار اس قدر بلند تھا کہ پنجاب بھر سے سیاسی  اور سرکاری عمائدین کے بچے بھی یہاں پڑھنے پر فخر محسوس کرتے۔ بشیر صاحب تو امتحانوں کے دوران اکثر روزے سے ہوتے  اور بچوں کی کامیابی کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ دعا گو بھی رہتے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر سال میٹرک بورڈ میں اس سکول کی پوزیشن لازمی قرار پاتی۔ کسی نے سچ میں جہالت کے اندھیروں کو علم کے چراغ سے روشن کرنے والی شخصیت کو دیکھنا ہو تو بشیر صاحب سے جا ملے جنہوں نے تمام عمر شمع کی مانند گزار دی۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت انہیں اچھی صحت دے۔ شیخ حنیف صاحب تو پہلے ہی جہانِ فانی سے رخصت ہوئے جبکہ فقیر اللہ صاحب بھی اسی سال ۲۸ جنوری کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ ۱۹۴۶ء  میں علی پور کے ایک نواحی قصبے میں ایک علم دوست خاندان میں پیدا ہوئے، ایک مقامی ورنی کولر(انگلش میڈیم)سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی  اور ایف اے کرنے کے بعد دوست احباب  اور چند رشتے داروں کے توسط سے پہلے چنگی انسپکٹر  اور پھر محکمہ بار دانہ میں تعینات ہوئے مگر چند دنوں بعد ہی تنخواہ لئے بغیر دونوں محکموں کے خیر باد کہا۔ وجہ؟ وجہ نہیں بیماری کہئے، رشوت خوری اوراقربا پروری کا سرطان جو آج پورے معاشرے کو چاٹ چکا ہے۔ مگر آپ کو حرام کا ایک لقمہ بھی گوارا نہ تھا۔ یار لوگوں نے علی الاعلان کہا کہ برخوردار کسی  اور کام کے تو ہیں نہیں ’استاد‘ہی لگوا دیجئے۔ یوں آپ درس و تدریس  اور علم و حکمت والے پیغمبرانہ شعبے میں آئے  اور اسی میں عمر گزار دی۔ ۱۹۸۵ء میں تھہیم والا میں آئے  اور یہی سے ۲۰۰۶ءمیں ریٹائرڈ ہوئے۔ محنت، سچی لگن  اور تعلیم سے محبت کے بل بوتے پرسکول کے تعلیمی معیار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ آپ کو صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا  اور بارہا صوبائی ایوارڈ بھی ملے۔ ریٹائرڈمنٹ کے آخری سال بھی اپنے سکول کی دو پوزیشنیں پکی کر لیں۔ الطاف حسین گبول  اور ساجد مجید نے بالترتیب پہلی  اور تیسری پوزیشن لی، اب سنا ہے استادِ محترم کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے اسی ہی سکول میں پڑھا رہے ہیں۔ آپ سے بھلا کیا پردہ، یہ دونوں جوان بھی اپنے ہی محلے کے ہیں۔ یوں تو اپنی پوزیشن بھی پکی تھی مگر دو حادثات ہو گئے، ایک تو ہم نے میٹرک ۲۰۰۴ء ہی میں کر لیا تھا، دوسرا یہ کہ ان دنوں خدا معلوم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ والوں کو کیا ہو گیا تھا کہ ہماری ہر کتاب پہ گلابوں سا ایک حسین چہرہ چھاپ دیا کرتے تھے جو پڑھنے نہیں دیتا تھا، یوں اسی سال ہی میٹرک میں پاس  اور محبت میں ناکام ہو گئے تھے، صرف سکول بھر میں اول پوزیشن لی، خالد مجید نے ’’ شہیدِ محبت‘‘ کا خطاب دے کر بورڈ میں پوزیشن نہ لینے کا غم بھی کسی حد تک کم کر دیا تھا۔

ان کے صاحبزادے سلیم اختر صاحب کے بقول ہمیشہ حلال کھانے کی تلقین کرتے رہے  اور خود بھی عمر بھر اسی پر کار بند رہے، ۱۹۸۹ء میں والد گرامی کی وفات کے بعد سے آخری روز تک بلا ناغہ ان کی قبر پر فاتحہ کے لئے جاتے رہے۔ با وضو رہتے  اور کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے۔

بس اتنا ہی؟صدارتی ایوارڈ؟احترام کرنے والے ہزاروں شاگرد؟تابع فرمان اولاد؟ محبت کا دم بھرنے والے دوست؟۔ ۔ ان سب سے بڑھ کر ان کا خاتمہ با الخیر!زندگی کے آخری روز رات گئے تک گھر والوں سے باتیں کرتے رہیں، اگلے روز معمول کے مطابق اخبار گردانی کی، شوگر چیک کی  اور معمول کے مطابق ہی نماز ظہر کا وضو کیا  اور مصلے پہ جا کھڑے ہوئے، حالتِ قیام ہی میں روح پرواز کر گئی۔

اِس آخری نماز، اس آخری قیام، اس آخری سجدے کا ذرا موازنہ کیجئے !دنیا بھر کے قارونوں کے خزانے تو مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ دولتِ دنیا کی وقعت ہی کیا کہ آنکھ ملا سکے۔ عمر بھر کی ریاضتیں  اور عبادتیں بھی اس آخری سجدے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ سورج کو چراغ دکھانا محاورتاً کہا جاتا ہے مگر یہاں تو سورج بھی منہ چھپائے پھرتا ہے، جسے سر شام ہی ڈوب جانا ہو وہ ابدی چراغ کا سامنا کیسے کرے ؟

رزقِ حلال، ایمانداری  اور والدین کی خدمت ہی ان کی زندگی کا سادہ سا اصول تھے، وفات کے بعد والد گرامی کی قبر کے پاس ہی علی پور میں دفن ہوئے، ان کی قبر پہ جانا نصیب میں نہ بھی ہو تو فاتحہ پڑھ لیجئے، کارِ ثواب ہے۔

٭٭٭

 

 

 

                نیرنگِ خیال

 

شاہ جی

 

یہ اُن بھلے دنوں کی بات ہے جب مولوی نے شہر اقتدار میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ دفتر میں مولوی کی نشست ملک صاحب  اور چوہدری کے ساتھ تھی۔ شاہ جی ان کے بالکل عقب والی کرسی پر سویا کرتے تھے  اور جب کبھی جاگ رہے ہوتے تو فرماتے تھے کہ یہ لوگ میرے عقب میں بیٹھتے ہیں۔ بات ان کی یوں بھی درست تھی کہ شاہ جی خود تو کم ہی بیٹھا کرتے تھے۔ زیادہ تر میز کو تکیہ بنائے فون کو کسی حسینہ کا ہاتھ سمجھ کر تھامے محوِ استراحت ہوتے تھے۔ آخر ہم سے رہا نہ گیا  اور شاہ جی سے ایک دِن پوچھ ہی بیٹھے کہ فون کو اتنی محبت سے پکڑ کر کیوں سوتے ہیں۔ کیا کسی کے لوٹ آنے کا امکان باقی ہے۔ اس پر شاہ جی نے صرف ہنسنے پر اکتفا کیا۔ یوں بھی ہمارے درمیان ایسی کوئی بے تکلفی نہ تھی کہ شاہ جی ہماری اس بات کا جواب دیتے یا جواباً ہم پر کوئی فقرہ کستے۔ اب یہ سوال اس لیے نہیں پوچھتے کہ بے تکلفی کے سبب شاہ جی اصل بات ہی نہ بتا دیں۔ پہلی چند ملاقاتوں میں ہم شاہ جی کو مکہ پلٹ حاجی سمجھتے رہے۔ وجہ یہ کہ ہم نے اِتنا منڈھا ہوا سر حاجیوں  اور عمرہ کر کے پلٹنے والوں کا ہی دیکھا تھا۔ لیکن مہینوں بعد بھی بالوں کی طوالت میں اضافہ نہ ہوا تو ہم سمجھ گئے کہ یہ حاجی پلٹ حلیہ ڈھونگ ہے۔ در حقیقت شاہ جی ایک پلٹے ہوئے حاجی تھے جس کا ادراک ہمیں مدت کی آشنائی کے بعد ہوا۔ شاہ جی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی عادات کا تذکرہ ہو تو سامع فوراً کہتا ہے کہ بالکل ایسا ہی ایک دوست میرا بھی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ جی سے تعارف ہوا تو ہم نے بھی یہی کہا کہ شاہ جی آپ جیسا ایک دوست ہمارا بھی ہے۔

شاہ جی کے قد و قامت کی مثال عمران سیریز کے “جوانا” سے دی جا سکتی ہے۔ لحیم شحیم، جتنا لمبا، اتنا چوڑا۔ ایک دن اپنی دونوں کلائیوں کو اکھٹا جوڑ کر فرمانے لگے آج میں نے ایک لڑکی دیکھی جس کی کمر قریباً میری ان کلائیوں جتنی ہو گی۔ اس پر مولوی نے برجستہ کہا۔ شاہ جی مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کو موٹی عورتیں پسند ہیں۔ مولوی کا فرمانا اپنی جگہ بالکل بجا تھا۔ شاہ جی کی کلائی کی گولائی ایک عام آدمی کی ران جتنی تھی۔ اس پر دونوں کلائیاں ملا لی جائیں تو کمر کسی پنجابی ہیروئن ہی کی بنتی ہے۔ ہمارے ذہن میں مشہور زمانہ گانے کے بول رقص کرنے لگے۔ پٹ ۲۸ کڑی دا، ۸۷ ویٹ کڑی دا۔ مردوں سے بات کرتے وقت چشمہ اتار دیا کرتے تھے۔  اور صنف مخالف سے بات کرتے وقت چشمہ اتار کر شیشے صاف کر کے دوبارہ لگا لیتے تھے۔ پتا نہیں اس میں کیا رمز تھی۔ ہاں یہ بات ہمیں ضرور معلوم تھی کہ بغیر چشمے کے شاہ جی کوئی ساڑھے تین سینٹی میٹر تک دیکھ لیتے ہیں۔ پاس کھڑا دوست ان کو دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن ہمالہ پر کھڑے ہو کر کراچی ساحل پر پھرتی لڑکیاں دیکھ لیا کرتے تھے۔ ان کی اس دور بیں نگاہ  اور حرکات کے سبب ہمیں محسوس ہوتا کہ شفیق الرحمن کا کردار “شیطان” تحاریر کی دنیا سے نکل کر مجسم ہو گیا ہے۔

ایک دن ہم، مولوی  اور شاہ جی جب جمعہ نماز کے لیے نکلے تو راہ میں شاہ جی کو پتا نہیں کیا سوجھی۔ مولوی کو چھیڑتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر یہ بڑا ساکھمبا آپ کے سر پر گر پڑے تو آپ  اور چھوٹے ہو کر کوہ قاف سے درآمد شدہ لگیں گے۔ اس پر ہم نے کہا کہ اگر یہی کھمبا آپ کے سر پر گر پڑے تو آپ چھوٹے ہو کر عام انسان لگیں گے۔ شاہ جی نے مسکراتے ہوئے دستِ شفقت راقم کے کاندھے پر رکھا، جس کا اثر راقم الحروف نے ایڑی تک محسوس کیا۔

شاہ جی کے قدو قامت کا اندازہ ان کے چہرے مہرے سے نہیں ہو پاتا تھا۔  اور اس کا وہ بہت ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ ایک دن مجلسِ یاراں میں اپنی دلیری کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے۔

میں شمالی علاقہ جات سے واپس آ رہا تھا۔ راستے میں ایک موٹر سائیکل والے نے انتہائی فضول انداز میں بائیک سڑک پر لہرایا جس کی وجہ سے گاڑی نے ہلکی سی تھپکی اس موٹر سائیکل کو دے دی۔ میں نے دیکھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تو نہ گاڑی آہستہ کرنے کی ضرورت محسوس کی  اور نہ ہی رکا۔ لیکن اس موٹر سائیکل سوار نے دیکھا کہ ایک “لڑکا بالا” گاڑی اڑائے لے جا رہا ہے سو فوراً گاڑی کے پیچھے اپنا موٹر سائیکل لگا لیا۔ شاہ جی کے منہ سے اپنے لیے “لڑکا بالا” کے الفاظ سن کر تمام سامعین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ لیکن شاہ جی نے سب کو نظرانداز کر کے اپنی بات جاری رکھی۔ لڑائی بھڑائی سے میں یوں بھاگتا ہوں جیسے سپین میں لوگ بھینسے کے آگے بھاگتے ہیں۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ اس سے جان کیسے چھڑاؤں۔ خیر آگے ایک ہوٹل پر جب میں نے گاڑی روکی تو وہ فوراً میرے دروازے والی طرف آ گیا۔ میں سکون سے نیچے اتر کر جب اس کے سامنے کھڑا ہوا تو اس کے چہرے کی رنگت ہی بدل گئی۔ اس غریب کو ایسی ہی مایوسی ہوئی جیسی کسی لڑکی کا نمبر سمجھ کر ملانے والے آوارہ  اور بدقماش لڑکے کو لڑکے کی آواز سننے پر ہوتی ہے۔  اور وہ گھبرا کر کہتا ہے۔ “جی فلاں سے بات ہو سکتی ہے۔ “اس کا سر بمشکل میرے سینے تک پہنچ رہا تھا۔ میں نے پوچھا۔ “جی فرمائیے !” تو اس کی زبان بھی لڑکھڑا گئی  اور کہنے لگا کہ “دیکھیے ! ہمارا بھی سڑک پر حق ہے۔ ” میں نے کہا تم اتنی دور مجھے بس یہی بات بتانے آئے ہو تو وہ بیچارہ دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ آخر میں نے اس کو ایک عدد ہلکا سا دھکا دیا  اور اندر کی جانب چلا آیا۔ شاہ جی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس دن انہوں نے شکرانے کے کتنے نفل پڑھے تھے۔

کھیلوں کے بیحد شوقین تھے۔ اکثر ان کا نعرہ ہوتا تھا۔ “کھیڈاں نہ کھیڈن داں گے۔ ۔ ۔ ۔ ” بقیہ احباب علم و عمل کی محاورہ فہمی پر چھوڑ رہا ہوں۔ کئی ایک تو دبے دبے لفظوں میں کہہ بھی دیتے کہ آپ تو کھیل لیتے ہیں۔ انہی دنوں میں شاہ جی کو فوس بال (گڈویوں والا فٹبال) کھیلنے کا شوق ہو گیا۔ عالم یہ تھا کہ شاہ جی کے ہاتھ بال آ جاتی تو اتنی زور سے شاٹ مارتے کہ بال مخالف سمت کی دیوار سے ٹکرا کر اپنے ہی گول میں جا چھپتی تھی۔ کئی بار تو گیند نے باہر آنے سے انکار کر دیا کہ جناب یہ آدمی بہت زور سے مارتا ہے۔ دیکھنے والوں کا یہ بھی فرمانا تھا کہ ایک آدھے فٹبالر کی ٹانگ توڑ دی ہے۔ اگر وہ راڈ سے بندھے نہ ہوتے تو یقیناً باہر آ جاتے۔ اس پر ہمارا خیال یہ ہے کہ اگر ہو بندھے ہونے کی وجہ سے باہر نہیں آ سکتے تھے تو دل میں گالیاں ضرور دیتے ہوں گے۔ اچھے کھلاڑی کو اپنا پارٹنر بناتے  اور جیتنے کی صورت میں خود رقص ابلیسی فرماتے۔

ایک دن مجھ گناہ گار سے فرمانے لگے کہ آئیں فوس بال کھیلتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جہاں شاہ جی ایک قدم اٹھاتے میں چار پانچ قدم اٹھاتا۔ لیکن بندہ بشر تھا۔ سو کوتاہی ہو گئی  اور جب فوس بال کی میز تک پہنچا تو شاہ جی میرے سے ایک قدم آگے ہو گئے۔ وہاں پر ایک بہتر کھلاڑی پہلے سے کسی پارٹنر کی راہ تک رہا تھا۔ فوراً اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر مجھے کہنے لگے۔ آپ نے دیر کر دی۔ محفل یاراں میں جب شاہ جی کی اس بے رخی کا تذکرہ کیا تو مولوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہم پریشان ہو گئے۔ الٰہی خیر۔ اے مولوی! بتا تو سہی ماجرا کیا ہے۔ اے شخص تو رو کیوں رہا ہے۔ چشم فلک نے ایسا کون سا منظر دکھلا دیا کہ آج سربزم تیری آنکھ چھلک گئی۔ اس پر وہ مرد بیقرار، پیکر زہد و انکسار یوں گویا ہوا۔

تمہارا یہ واقعہ سن کر مجھے ایک شام کا قصہ یاد آ گیا ہے۔ ہاں وہ شام ہی تھی۔ عام سی شام تھی لیکن پھر ایسی بات ہوئی کہ وہ شام بہت خاص بن گئی۔ آہ! اس کو یاد کر کر کے میرا کلیجہ چھلنی ہوا جاتا ہے۔ سنو اے نادان دوستو! تمہیں میں اپنی سادگی  اور شاہ جی کی چالاکی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ یہ شخص جسے دنیا شاہ جی کے نام سے جانتی ہے میرے پاس آیا۔ میں ایک دفتری کام میں غرق تھا۔ اس پر آدھے سامعین کی آنکھوں میں حیرت عود کر آئی۔ مولوی نے مجلسی حیرانی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔ اس نے مجھے کہا کہ آؤ نیچے جا کر فوس بال کھیلتے ہیں۔ میں اس قدر مصروف تھا کہ میں نے اسے اشارے سے منع کیا۔ لیکن اس نے میرے اشارے کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا کہ خبردار! دفتر میں اس قسم کے اشارے کرنا اخلاقی گراوٹ کی نشانی ہے۔ میں خود بھی سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے اشارہ کیا کیا ہے۔ اس نے جب مجھے تذبذب کے عالم میں دیکھا تو کہنے لگا کہ آئیں۔ فوس بال کھیلنے سے طبیعت تروتازہ ہو جائے گی۔ واپس آ کر کام کر لیجیے گا۔ میں جو کافی دیر سے دفتری الجھن کا سرا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا مجھے اس کی بات میں صداقت نظر آئی۔ میں اس کے ساتھ کھیلنے کی جگہ تک جا پہنچا۔ وہاں پہلے ہی دو ٹیمیں آپس میں کھیل رہی تھیں۔ ہم ان کا کھیل دیکھنے لگے۔ باتوں باتوں میں شاہ جی نے تگڑی والی ٹیم کو چیلنج مار دیا۔  اور کہنے لگے کہ اگر خدانخواستہ تم لوگ اس ٹیم سے جیت گئے تو پھر ہم دیکھنا تمہارا کیا حشر کریں گے۔ میں شاہ جی کے اس چیلنج پر حیران ہو رہا تھا کہ میری کھیلنے کی صلاحیت جاننے کے باوجود وہ اس ٹیم کو چیلنج کیسے دے رہے ہیں۔ اتنی دیر میں ایک  اور اچھا کھلاڑی وہاں آن پہنچا۔ تگڑی ٹیم کے جیتنے کے بعد جب میں نے شاہ جی کے ساتھ میز سنبھالنے کی کوشش کی تو یہ مجھے کہنے لگے کہ مولوی۔ یار ذرا چیلنج لگا ہوا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس اچھے کھلاڑی کے ساتھ کھیل لوں۔ شاہ جی اس حرکت کا تگڑی ٹیم کو بھی اتنا دکھ ہوا کہ وہ اسی دکھ میں ہار گئے۔

مولوی کا واقعہ ختم ہونے پر ہم نے دیکھا کہ وہاں  اور بہت سارے لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ پس منظر میں چلتی موسیقی کسی فلمی تھیم کی طرح ماحول پر اثرانداز ہو رہی تھی۔

ایک ہم ہی نہیں

جسے دیکھو یہاں

وہی آنکھ ہے نم

ایک طرف سے ہلکی سی آواز آئی۔ ٹیبل ٹینس پر میرے ساتھ بھی یہی ہوا جبکہ دوسری جانب سے یہی صدا بلئیرڈ کے نام سے سنائی دی  اور پھر باقی آوازیں ہچکیوں میں دب گئیں۔

بجھتا کہاں بھڑک گیا رونے سے سوز غم

سب کے چہروں پر ایک ہی کہانی لکھی ہوئی تھی۔ ادھر ہمارا وہ حال تھا کہ:

میرا اس کا غم سانجھا تھا

میں اس کو کیسے بہلاتا

جبکہ شاہ جی کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقصاں تھی۔

 

نوٹ اِس خاکے کے تمام کردار تخیلاتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی ’’سو  فیصد‘‘ مشابہت محض اتفاقیہ ہو گی۔

٭٭٭

 

 

                محمد امین

 

عبدالحکیم ناصفؔ۔ ایک عہد ساز مزاح نگار

 

ہماری بچپن ہی سے یہ بالغانہ رائے رہی ہے کہ ہمارے سرکاری ٹیلیویژن سے ’’تا‘‘ کرنا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ اس کے لئے خاصے مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یا تو بندہ مکھن لگانے  اور پروڈیوسروں کی مٹھی چاپی میں اُستاد ہو یا پھر اپنے فن میں اُستاد ہو۔ اگرچہ آج کل چند ایک خواتین کی پی ٹی وی میں جلوہ آرائیاں دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ضمن میں ایک  اور خصوصیت بھی درکار ہے جس کے لئے تمام مرد حضرات طبی لحاظ سے اَن فِٹ ہیں۔

کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی سے ایک کمپئر نے انتہائی شوخ و شنگ  اور چہکتی ہوئی زندہ آواز کے ساتھ جلوہ آرائی دکھانی شروع کی۔ یہ کمپئر نہ صرف کامیڈی پروگراموں میں نظر آنے لگا بلکہ مزاحیہ شاعری میں بھی خاصے وکھرے ٹائپ کی آواز ثابت ہوا۔ اِن کا نام دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ میں ان کے قطعات بہت عرصہ قبل ملک کے ایک مؤقر اخبار میں پڑھ چکا ہوں۔ اُن کے قطعات میں اس قدر چلبلاہٹ  اور چاشنی ہوا کرتی تھی کہ پڑھ کر لطف آ جاتا تھا۔

اُسی زمانے میں اُردو کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری پر ایک کتاب بھی شائع ہوئی تھی، جس میں اُس دور کے تمام قابلِ ذکر مزاحیہ شعراء کا انتخاب شامل تھا۔ اُس میں بھی اِن صاحب کا نام شامل تھا۔ اُس وقت میں سوچتا تھا کہ یہ محترم کوئی خاصی بزرگانہ  اور بھاری بھرکم علمی و ادبی شخصیت ہوں گے لیکن ٹیلیویژن پر اِن پر نظر پڑی تو خاصی حیرانی ہوئی۔ اپنے لڑکپن میں جن صاحب کے قطعات ایک قومی اخبار میں پڑھتا رہا ہوں وہ میرے اپنے بڑھاپے میں اِس قدر پُر شباب و شاداب شخصیت کے مالک ہوں گے، یقین نہیں آتا۔ لگتا ہے کہ یا تو وقت ہی نے کچھ ہیرا پھیری کی تھی یا پھر یہی صاحب کچھ اُس طرح کی کوئی چیز ہوں گے جس کا تذکرہ غلام عباس نے اپنے افسانے ’’بہروپیا‘‘ میں کیا تھا۔ غضب خدا کا، فدوی تو دیکھتے ہی دیکھتے بزرگانہ عمر کی قلانچیں بھرتا ہوا پچاس کے پیٹھے میں پہنچ گیا ہے، نہ صرف اس عمر سے فلرٹ کر رہا ہے بلکہ چہرے مہرے سے بھی ایسا نظر آ رہا ہے کہ بقول اطہر شاہ خان جیدی کے ’’ محبوبہ کے بزرگ کہنے ‘‘کے خطرہ سے دوچار ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہے  اور یہ صاحب ہیں کہ اس طویل عرصے بعد بھی اس قدر ترو تازہ نظر آ رہے ہیں کہ پنجابی فلموں میں ہیرو کا کردار ادا کرنے کے بارے میں سوچیں تو کوالیفائی کر لیں گے۔

عبدالحکیم ناصف نے اُسی برس پیدا ہونا مناسب سمجھا جب یہ مابدولت دنیا میں رونے دھونے کے لئے وارد ہوئے۔ ۳؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء بروز ہفتہ اُن کی پیدائش کا دِن ہے۔ وہ پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق اجمیر شریف سے تھا۔ شاعری میں شرفِ تلمّذ استاد واجدؔ سعیدی مرحوم سے حاصل ہوا۔ ابتدا میں بہاریہ شاعری کی طرف طبیعت راغب رہی تاہم بعد ازاں اُن کی شگفتہ طبیعت رنگ لانے لگی  اور ان کے اشعار میں غیر محسوس طریقے سے ہلکا پھلکا مزاح کا رنگ بھی جھلکنے لگا۔ طبیعت و تخلیق میں اس ظریفانہ انداز  اور رنگوں کی دھنک دیکھ کر اُن کے شاعر شناس استاد نے ناصف کو اسی مسکراتی  اور چمچماتی روش پر گامزن ہونے کا حکم صادر فرما یا۔ اس سلسلے میں استاد انورؔ بریلوی  اور عنایتؔ علی خان نے بھی اِن پر بھرپور توجہ دی۔ تاہم ان کی طنز و مزاح کی لطیف حسّیات کو خالد عرفان نے مزید مہمیز کیا۔

ظرافت وہ فطری حِس ہے جو اپنی تخلیق کے لیے بھرپور سنجیدگی  اور مسلسل فکری مشاہدے کا مطالبہ کرتی ہے  اور اگر یہ صلاحیت کسی شاعر کو عطا ہو تو اس کا اظہار بے حد مشکل یوں بھی ہو جاتا ہے کہ نثر میں مزاح نگار کو جو آزادی اپنے فکر و خیال کو فوراً سے پیشتر احاطۂ تحریر میں لانے کی حاصل ہوتی ہے، مزاحیہ شاعر اس آسانی سے محروم ہوتا ہے۔ ممکن ہے اس تخیّلاتی  اور تخلیقی جد و جہد میں مرکزی طنزیہ یا مزاحیہ خیال ہی رفو چکّر ہو جائے یا بحر کی تنگ، دشوار  اور بند گلی اس کے سُبک رفتار ’’لونگ وہیکل‘‘ کا سفر ہی روک دے۔ لہذا یہ کہنا یقیناً حق بجانب ہے کہ شاعری میں مزاح نگاری ’’سُوئی سے ناقہ‘‘ گزارنے کے کٹھن ترین عمل کے مترادف ہے۔ عبدالحکیم ناصف نے اس صنف  اور عمل میں انتہائی مشّاقی  اور شب و روز کی مسلسل مشقوں سے کمال حاصل کیا ہے۔

کراچی منتقلی کے بعد عبدالحکیم ناصف نے اُردو کے ایک کثیر الاشاعت اخبار میں حالاتِ حاضرہ پر قطعہ نگاری کا آغاز کیا  اور بہت جلد اہلِ ادب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ عبدالحکیم ناصف کے برجستہ  اور چونکا دینے والے کلام  اور ادائیگی کے منفرد انداز نے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ بہت جلد عوامی پذیرائی بھی حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب  اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ڈاکٹر انعام الحق جاویدنے انھیں متعارف کرایا  اور ناصفؔ کا شمار پاکستان کے ’’ ٹاپ فائیو ‘‘ بڑے مزاحیہ شعراء میں ہونے لگا۔ اب وہ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے مشاعروں میں مدعو کیے جاتے ہیں۔

عبدالحکیم ناصف کے قہقہہ آور  اور فکر انگیز کلام  اور مشاعروں میں اس کی دلآویز  اور منفرد ’’پیشکش‘‘ انھیں ایک بھرپور عوامی شاعر بناتی ہے۔ ان کے کلام کا ’’کینوس‘‘ کائناتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کی طرح عبدالحکیم ناصفؔ عوام  اور خواص کے ہر ہر معاملہ  اور مسئلہ کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ اسی باعث ناصفؔ کا ہمہ گیر شعری طنز و مزاح نہ صرف مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت ہے بلکہ مطالعہ کے دوران بھی قارئین بھرپور لطف اٹھانے کے ساتھ طنزو مزاح سے محظوظ بھی ہوتے ہیں۔

حیرانی کی بات ہے کہ اِس قدر پُر گو  اور عوامی مقبولیت کے حامل شاعر ہونے کے باوجود اب تک اُن کا کوئی مجموعۂ کلام شائع نہیں ہوا ہے تاہم اب سُنا ہے کہ اُن کا طنز و مزاح پر مبنی ایک مجموعہِ کلام ’’ چھَٹی ہُوئی حِس ‘ ‘ اشاعتی تکمیل کے مراحل میں ہے  اور بہت جلد ہمارے ہاتھوں میں ہو گا۔ اللہ اُنہیں مزید ترقی دے۔

٭٭٭

 

 

 

سہ ماہی کی کتاب

 

                میجر عاطف مرزا

 

قلم آرائیاں یا قلمِ آرئیاں

 

’’چاند‘‘، ’’اخبارِ جہاں ‘‘، ’’آداب عرض‘‘، ’’پیغام‘‘، ’’تعلیم و تربیت‘‘  اور جانے کون کون سے رسالے، میگزین پڑھے، کوئی ایک بھی تو خادم حسین مجاہدؔ کے شر سے محفوظ نہیں نظر آیا۔ میری دلچسپی اس لیے بھی بڑھی کہ تعلق کے خانے میں سرگودھا لکھا تھا۔ میں نے پھر بھی تلاش کرنا مناسب نہ جانا۔ ایک بار میں ’’غالب لائبریری، سرگودھا‘‘ کے ریڈنگ روم میں بیٹھا تھا وہاں میری ملاقات میرے ایک کلاس فیلو سے ہوئی جو پچھلے دو برس سے میرے ساتھ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں پڑھ رہا تھا۔ ، مگر ہم ایک دوسرے کے نام سے شناسانہ ہو سکے تھے۔ اُس روز نام سے بھی پردہ اُٹھ گیا۔ یہی حضرت خادم حسین مجاہدؔ صاحب تھے، جناب چھپے رہے تھے پہلے، ویسے میں اُس وقت اتنا مشہور ہوتا تو نیم پلیٹ لگا کر گھومتا مگر مجاہدؔ تھا کہ کوئی پروا ہی نہیں تھی، یعنی۔ ۔ ۔ ۔ (مناسب محاورہ یا ضرب المثل دستیاب نہیں لہٰذا۔ ۔ ۔ ۔ سے ہی گزارا کیجیے )۔

مجاہدؔ نے جب لکھنا شروع کیا تو بچوں کا ادب تخلیق کیا۔ پھول کلیاں، پیغام ڈائجسٹ، تعلیم و تربیت  اور بچوں کے کئی  اور رسالوں میں مجاہد کی کہانیاں چھپتی رہیں۔ پھر اس نے مزاح پر طبع آزمائی شروع کر دی۔ طبع آزمائی کیا تھی، اچھا خاصا بالغانہ انداز تھا۔ گویا ایک عرصے سے مزاح اندر اندر پک رہا تھا بالکل کسی آتش فشاں کی طرح۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موقع ملا تو پھٹ پڑا  اور کئی سنجیدہ سے سنجیدہ شخصیات کو اس مزاحیہ لاوے میں بہتے دیکھا گیا۔

طنز و مزاح لکھنا ایک دقیق فن ہے، جو مجاہد کو بے بہا ملا۔ لفظوں کے حصے بخرے، تلفظ میں ردّ و بدل، لہجے میں ترمیم کر کے ایک نیا لفظ بنا دینا یا اُس لفظ کے معانی و کیفیت کو بدلنا مجاھد کا خاصہ رہا ہے۔ ایک عام واقعے سے لے کر خاص بات تک کو اپنے مزاح کا حصہ بنا لینے میں مجاہدؔ کا کوئی ثانی نہیں (یہ بات ثانیؔ نے مجھے خود بتائی)۔ لیکن بظاہر جو بات آپ کو مزاح محسوس ہو گی در اصل اِس میں گہرا طنز یا درد چھپا ہوتا ہے۔

مجاہدؔ کم از کم ساڑھے تین عشروں سے مزاح کی لسی بنا رہا ہے، جسے وہ پہلے ’’ دست و گریبان‘‘ نامی پیمانے میں ڈال کر لوگوں کو پلا چکا ہے، اور پھر ’’ قلم آرائیاں ‘‘ کے نام سے اِس لسی کا دوسرا پیگ پیش کیا گیا۔ اب دیکھیں کہ کس کس پر اِس کا نشہ کتنا چڑھتا ہے۔

اردو میں اعراب مستعمل نہیں لہٰذا ’’ قلم آرائیاں ‘‘ کو ’’ قلمِ آرائیاں ‘‘ بھی پڑھا جا سکتا ہے،  اور حقیقتاً کئی دوستوں نے تو اِس پر اعتراض بھی کیا ہے کہ مجاہدؔ نے شیخ ہوتے ہوئے آرائیوں کا قلم کیسے حاصل کیا؟ دوسرا نکتۂ اعتراض یار لوگ یہ لگاتے پائے گئے ہیں کہ ’’ قلم آرائیاں ‘‘کرنل محمد خان کی ’’بزم آرئیاں ‘‘ کی پارٹ 2 لگتی ہے۔ ’’ بزم آرائیاں ‘‘چھپنے کے بعد کرنل صاحب کو ’’بزمِ آرئیاں گوجرانوالہ‘‘ کی طرف سے شکریے کا خط موصول ہوا تھا، لیکن ’’ قلم آرائیاں ‘‘ چھپنے کے بعد سے اب تک آرائیں برادری خاموش ہے، (نجانے کیوں ؟)

’’ قلم آرائیاں ‘‘ میں مجاہدؔ کا باریک بین مشاہدہ  اور گہرا تجربہ کوٹ پیٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ایسے ایسے سچ لکھے گئے ہیں کہ خود سچ کو بھی خوف آنے لگا ہے۔ اِس کتاب کی تمام تحریریں مزاح کے نچلے درجے کے علاوہ ہر درجے پر فائز نظر آتی ہیں، کچھ صرف ہلکی سی مسکراہٹ کا باعث بنتی ہیں  اور کچھ پر بے ساختہ قہقہہ برآمد ہوتا ہے جس کی شدت اتنی ہوتی ہے کہ ریکٹر سکیل اِسے ریکارڈ کرنے سے پہلے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ پھکڑ پن پوری کتاب میں تلاش کرنے کے باوجود کہیں نہیں مل سکا  اور یہی مجاہد کی کامیابی ہے۔ پوری کتاب کی 23تحریروں کی درجہ بندی ایک بہت مشکل کام ہے، ویسے بھی ہر پڑھنے والے کی اپنی اپنی پسند ہوتی ہے، لازمی نہیں کہ جس تحریر کو میں پہلے درجے پر رکھوں سب کو وہ پہلے پر ہی محسوس ہو، لہٰذا قارئین کی اپنی اپنی مرضی۔

مجاہدؔ نے اِس کتاب میں کئی راز بھی افشا کیے، کئی پردہ نشینوں کی نقاب کشائی کی  اور تو  اور اِس نے گھر کا بھیدی بن کر ادیب  اور شاعر برادری کے ’’ٹریڈ سیکریٹس‘‘ بھی اوپن کر کے لنکا ڈھائی۔ اِس کے علاوہ مجاہدؔ کا ایک  اور خطرناک انداز یہ ہے کہ وہ دنیائے مزاح کا کرائم رپورٹر بھی ہے۔ اُس کی یاد داشت غضب کی ہے ایک بار کچھ پڑھ لے تو بھولتا نہیں۔ کسی بھی تحریر کو مصدقہ  اور مسلمہ دلائل کے ساتھ سرقہ قرار دینے میں دیر نہیں لگاتا۔ ڈریے نہیں یہ کام وہ سب کے ساتھ نہیں کرتا، بس چور لکھاریوں کو مارک کر کے کسی کائیاں کرائم رپورٹر کی طرح چپکے چپکے ثبوت حاصل کرتا ہے، پھر ایک روز نعرۂ جہاد بلند کر دیتا ہے۔ اکثر چور لکھاریوں کو یہ کیفرِ کردار تک پہنچا چکا ہے۔

ویسے سرِ ورق کا تذکرہ تو پہلے ہونا تھا مگر پھر اندر کے مواد کے ساتھ اِس کا موازنہ کرنا صحت مند تصور نہ کیا جاتا۔ کتاب کے مجموعی تاثر کے مقابلے میں سرِورق بہت کمزور ہے، اِس کے علاوہ سرِورق پر چھپی ہوئی کارٹونی تصاویر کتاب کے نام ’’قلم آرائیاں ‘‘  اور اِس میں شامل تحریروں کی عکاسی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے سرِ ورق کی وجہ سے یہ کتاب مناسب مقام حاصل نہ کر سکے۔ اگر صرف مواد پر ہی نظر رکھی جائے تو بلاشبہ ایک قیمتی  اور مزاح سے بھرپور کتاب ہے۔

شروع میں مجاہدؔبسیار نویس تھا مگر اب بسیار خور ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اِسے لکھنے کا وقت کم ہی ملتا ہے۔ اِس کے علاوہ غمِ دوراں  اور معاشیات کے چکروں نے بھی اِس کے لکھنے کی رفتار کم کر دی ہے۔ لیکن اب جو بھی لکھتا ہے وہ اتنا وزن دار  اور طاقتور ہوتا ہے کہ اِس کمی کی کمی پوری کر دیتا ہے۔

خلقِ خدا نے مجاہدؔ کے حق میں صفحہ نمبر۵سے ۱۰تک جو بیان بازی کی ہے وہ صد فی صد درست ہے، جو بھی حوالے انہوں نے پیش کیے ہیں وہ تمام مجاہد سے پوچھے بغیر لکھے گئے ہیں۔ ویسے تو مجاہدؔ نے مجھے بھی تبصرہ لکھنے کی دعوت نہیں دی، میں از راہِ ہمدردی یہ فریضہ سر انجام دے رہا ہوں (حقِ دوستی بھی تو ادا کرنا ہے نا)۔ آخر کو کل میری بھی تو کتاب آنی ہے نا۔ کوئی  اور تبصرہ لکھے نہ لکھے مجاہدؔ کو تو لکھنا پڑے گا۔

آئیے مجاہدؔ کی تحریروں کا عکس ملاحظہ کریں :-

۱۔      پروفیسر وحشت پوری، آوارہ کو محدب عدسے کی مدد سے چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرتے ہوئے ملے۔ یہ خبر سن کر اُنہوں نے آوارہ کو مبارک باد کے طور پر پدی کا شوربہ پلایا۔ آوارہ کو مزید مشق کے لیے سیر کا حکم دے کر خود نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے چل دیے۔

(راز دارِ حیوانات۔ صفحہ 13)

(یہاں دیکھئے کہ مجاہدؔ نے کس خوبصورتی سے اردو محاوروں کی چٹنی بنائی  اور اپنی تحریر کا الّو سیدھا کیا۔ )

۲۔      امیدوار ایک ایک کر کے اندر جاتے  اور واپس آتے رہے فرق صرف یہ تھا کہ اندر جاتے ہوئے ان کی امید کی ٹیوب لائٹیں روشن ہوتیں  اور واپسی پر ان کے پورے چہرے پر لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہوتی، نہ جانے اندر کیسے ’واپڈا‘ صفت لوگ بیٹھے تھے۔

چپراسی نے ایک امیدوار کو اندر بھیج کر سگریٹ نکالی تو مغرور فوراً اٹھا  اور لائیٹر سے سگریٹ سلگانے کے بہانے اُسے ایک سرخ نوٹ کی جھلک دکھا کر سرگوشی کی۔

’’یار تم تو محرمِ رازِ درونِ خانہ ہو، اِس ظالم انٹرویو میں کامیابی کا کوئی گُر تو بتاؤ۔ ‘‘

’’بیس پچیس نیلے نوٹ اکٹھے کرو یا کوئی سفارش پیدا کرو۔ ‘‘اُس نے جوابی سرگوشی کی۔

’’میں کیسے سفارش پیدا کر سکتا ہوں میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ ‘‘

’’ارے بھئی اسمبلی ہال چلے جاؤ  اور کوئی سفارش گود لے لو، وہی سفارشوں کا میٹر نٹی ہوم ہے۔ ‘‘

(از قصابی تا نوابی۔ صفحہ ۲۴)

۳۔     شاعر دماغ رکھتے ہیں یا نہیں یہ قصہ بحث طلب ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دماغ کے بغیر کوئی شاعری کیسے کر سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی دماغ کے ہوتے ہوئے شاعری کیوں کرے گا۔

(قلم قبیلہ۔ صفحہ ۴۴)

مولیاں تیرے روبرو رکھتے

تجھے ہر وقت بے وضو رکھتے

(آنجہانی شاعری۔ صفحہ۶۱)

۴۔     مجھے شکایت مل رہی ہے کہ رسائل کی پروف ریڈنگ آنکھیں بند کر کے کی جاتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ پچھلے ماہ ماہنامہ ’’آفت‘ ‘میں میرا ایک مضمون چھپا تھا جس کے چند جملے یوں تھے ’’اسلام آباد میں ایک گھر میں مغنی غزل گا رہا تھا جبکہ دوسرے میں ایک بیدار بخت مصلے پر کھڑا کہتا تھا، اے خدا! میں حاضر ہوں، اپنی تمام تر سیاہ کاریوں کے ساتھ۔ ‘ ‘لیکن کمپیوٹر کی فنکاری کے باعث یہ شائع کچھ یوں ہو گئے، ’’اسلام کے گھر میں ایک مفتی غزل گا رہا تھا جبکہ دوسرے میں بیزار بخت تسلے پر کھڑا بہتا تھا، اے خدا میں کافر ہوں اپنی تمام تر سیاہ گاڑیوں کے ساتھ۔ ‘‘ میں نے تو اپنا گردہ پیٹ لیا۔

(ادبی اجلاس۔ صفحہ۸۱)

۵۔     سوال نمبر ۳:- سکھ  اور حجام میں کیا دشمنی ہے، تاریخی حوالوں سے وضاحت کریں، اگر اِن میں صلح ہو جائے تو مزید کتنے ہیئر کٹنگ سیلون کھولے جا سکتے ہیں ؟

(پرچہ گنج و حجامت۔ صفحہ۸۷)

۶۔      چوری در اصل مساوات  اور برابری جیسے سنہری اصولوں کے نفاذ کی عملی کوشش ہے جس میں سرمایہ زیادہ دولت مند سے کم دولت مند کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ جو سماجی استحصال  اور معاشی ناہمواریوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

(اقتباس از ’’چوری ایک معاشرتی ضرورت‘‘ از چورِ اعظم حضرت سارق رہزن آبادی)

(چور کی ڈائری۔ صفحہ۱۱۰)

یہ تمام حوالے پڑھنے کے بعد آپ لوگوں کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ خادم حسین مجاہدؔ در اصل ایک کامیاب  اور بڑا مصنف ہے۔ ابھی تک اِس پر نقادوں کی نظر کا نہ پڑنا اِس کی کمزوری نہیں بلکہ نقادوں کی اپنی کم نظری  اور نالائقی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب بڑے بڑے نقاد اِس کی تحریوں پر تنقید کرنے کے لیے اِس سے ’’اِجازت‘‘ طلب کیا کریں گے۔  اور تو  اور مجھے تو یہ بھی گمان ہو رہا ہے کہ مجاہدؔ کی اپنی کتابوں سے زیادہ اِس کی کتابوں پر نقادوں کی آراء پر مبنی کتابیں شائع ہوا کریں گی اور ہر کتاب میں اِس کی کتابوں پر تنقید اور اُن کی تشریح کا دعویٰ بھی کیا جائے گا  اور ہر نقاد مجاہدؔ کا قریب ترین دوست ہونے کا دعویٰ بھی کرے گا اور۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔  اور رر رر رر رر ر

٭٭٭

 

 

 

                کے ایم خالد

 

خادم حسین مجاہد کی فنی زندگی

 

 

وہ ایک گرمیوں کی چلچلاتی دوپہر تھی جب ایک پیدل ڈاکیے نے میرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا میں نے دروازہ کھولا تو پسینے میں شرابور ڈاکیے نے ایک بنڈل میرے ہاتھ میں پکڑایا  اور کہا ’’ آپ کے ایم خالد ہیں ‘‘ میں نے سر ہلا دیا اس نے ایک کاغذ پر خود ہی میرا نام لکھا  اور کہا ’’ ایک گلاس پانی مل جائے گا ‘‘۔ میں اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ’’ کیا پیو گے۔ ۔ ۔ بوتل یا شربت ؟‘‘ اس نے پسینہ پونچھتے ہوئے ’’ اگر بوتل مل جائے پیپسی کی ٹھنڈی یخ تو کیا بات ہے ‘‘۔ تھوڑی دیر میں بوتل آ گئی اس نے بوتل کے دو تین گھونٹ ہی کئے میں نے اس سے پوچھا ’’یہ بنڈل کہاں سے آیا ہے ؟‘‘ اس نے بنڈل میرے ہاتھ سے لے کر کہا ’’ یہ بھابھڑا سرگودھا سے آیا ہے ‘‘۔ میں ہنستے ہوئے کہا ’’ آپ یہ پیکٹ لے کر سرگودھا سے آئے ہو تو کسی کورئیر کے ہاتھ بھیج دیتے ‘‘۔ ڈاکیا کھسیانا سا ہو گیا ’’ میں جناب کورئیر کمپنی سے ہوں، کمپنی ذرا ماٹھی ہے میری سائیکل پنکچر تھی اس لئے ویگن سے سٹاپ تک آیا  اور وہاں سے پیدل آپ کے گھر، ٹی سی ایس نے بھی تو پارسل ہی پہچانا تھا ہم نے بھی پہنچا دیا ‘‘۔ اس نے مجھ سے یہ کہتے ہوئے اجازت چاہی کہ جناب اگر کہیں پارسل مناسب ریٹس یعنی سرکاری ڈاک سے بھی کم ریٹس پر تو ہماری کورئیر کمپنی کو ضرور یاد رکھئے گا۔

کتابوں کے بنڈل کو بڑے سلیقے سے ٹیپ کے ساتھ بند کیا گیا تھا ٹیپ اتری تواس میں دو کتابیں نکل کر مجھ سے دست و گریبان ہو گئیں ایک ’’قلم آرائیاں ‘‘  اور دوسری ’’دست و گریبان ‘‘یہ میرا خادم حسین مجاہد سے دوسرا تعارف تھا پہلا تعارف تو تیس روزہ ’’ چاند ‘‘ کے حوالے سے تھا جہاں ہمارا ’’ قلمی دشمنی‘‘ کا سلسلہ تو تھا کیونکہ ایک رائٹرز دوسرے رائٹرز سے بغض رکھنا ناممکنات سے نہیں تھا لیکن ہماری قلمی دوستی نہ جانے کیوں نہ ہو سکی حالانکہ خادم حسین مجاہد نے چاند کے سب دوستوں کو اپنی شادی کی ایک اجتماعی دعوت یوں دی جیسے کسی سیاسی جلسے کی دی جاتی ہے جس کا احوال بھی بعد میں کسی ’’ لفنگے ‘‘ نے ’’چاند ‘‘میں ’’شادی خادم حسین مجاہد کی ‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔

میں پیکٹ پر دیئے ہوئے نمبر پر فون کیا تو ایک چہکتی ہوئی آواز سنائی دی میں نے کہا ’’جی خادم ‘‘فون والے نے خادم حسین مجاہد پکارا تو ایک زندگی سے بھر پور آواز سنائی دی ’’جی کون۔ ۔ ۔ ؟‘‘ میرے کے ایم خالد کہنے کی دیر تھی کہ بس مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا فون کسی خاتون کے ساتھ مل گیا جب وہ تقریباً ً بیس منٹ بعد شاید گلا کھنکھارنے کے لئے رکا تو میں نے موقع غنیمت جان کر اس کی کتاب بھجوانے کا شکریہ ادا کیا۔ جس پر اس نے دوبارہ سٹارٹ لیا جس میں مجھے پتہ چلا کہ ’’ بغض‘‘ صرف میری طرف نہیں چل رہا دوسری طرف بھی ایسا ہی حال ہے اس کی طویل گفتگو سے پتہ چلا کہ وہ بھی میری طنزو مزاح سے بھر پور تحریروں سے ’’نالاں ‘‘ ہے۔ اپنی گفتگو میں خادم حسین مجاہد نے مجھے پتے کی بات یہ بتائی کہ میرے بات ختم کرنے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں آپ کسی لائیو شو کے اینکر کی طرح میری بات کاٹ کر اپنی بات کر سکتے ہیں۔

خادم حسین مجاہد کی طویل تحریروں کے طویل مطالعے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اس نے شاید کسی استاد مزاح نگار کی تحریروں کو نہیں پڑھا کیونکہ اس کا ایک اپنا ہی اندازِ تحریر  اور اسلوبِ بیاں ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قاری کے پسند کرنے یا نہ کرنے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ خادم حسین مجاہد کافی عرصہ ’’چاند ‘‘ میں چھائے رہے  اور ’’احمقستانی اسمبلی ‘‘ کی ایسی بنیاد ڈالی کہ اپنی قومی اسمبلی کی لائیو کاروائی دیکھ کر نہ جانے کیوں خادم کی ’’اسمبلی ‘‘ ذہن میں گھوم جاتی ہے۔ خادم نے ہر وہ چیز لکھی جس کے بارے میں اسے تھوڑا سا بھی شک تھا کہ اس سے قاری کا ہاسا نکل سکتا ہے۔ خادم حسین مجاہد کی تحریروں کا صرف پاکستان ہی نہیں انڈیا بھی دیوانہ ہے وہاں کے ’’شگوفہ ‘‘ سمیت بہت سے رسائل میں ان کا مزاحیہ مواد شائع ہو چکا ہے۔ جب تک ’’چاند ‘‘ شائع ہوتا رہا وہ مزاح لکھتے رہے جب سے چاند بند ہوا ہے، ان میں وہ جوش و خروش باقی نہیں رہا۔

اُنہوں نے پاکستان کے فکاہیہ ادب پر یہ بہت بڑا ’’احسان ‘‘ کیا ہے کہ نفع نقصان کی پروا کئے بغیر انہوں نے اپنا طنز ومزاح کا ملغوبہ کتابی شکل میں شائع کر کے دوستوں تک پہنچا دیا ہے ان کی دو کتابیں اس وقت نہ صرف پبلشرز کے پاس تھوک تعداد میں موجود ہیں بلکہ ان کے اپنے پاس بھی پڑا سٹاک ’’گھن ‘‘ کے چکر میں ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے مسٹر گوگل انہیں مزاح نگاروں کی صف میں دکھاتی ہے۔ بلکہ ان کی کچھ کتابیں بین الاقوامی بک سٹالوں کے پاس بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی کتاب کی پی ڈی ایف فائلز بھی نیٹ ورک پر موجود ہیں تاکہ مستقبل میں اگر کو ئی مزاحیہ ادب کا طالب علم ان کی شخصیت پر کوئی مقالہ لکھنا چاہے تو اسے ’’بھابھڑا بازار ‘‘ کا رخ نہ کرنا پڑے۔

خادم حسین مجاہد کی ’’قلم آرائیاں ‘‘ میں شامل تحریروں ’’کہتی ہے خلق خدا ‘‘سے ’’راز دار حیوانات ‘‘، ’’قلم قبیلہ ‘‘، ’’آنجہانی شاعری ‘‘، ’’ادبی اجلاس ‘‘، ’’چور کی ڈائری ‘‘  اور ’’کھٹی میٹھی ‘‘ تک جو کاٹو سب ہی ’’لال ‘‘ہیں۔ ان کی تحریروں کو پڑھنے کی بعد اگر کسی کے لبوں پر مسکان نہیں ابھری تو یاتو پھر اسے کسی نفسیات کی ڈاکٹر کی ضرورت ہے یا پھر وہ مسکرانا ہی نہیں چاہتا ہو گا کیونکہ جو سرٹیفیکٹ اسے ڈاکٹر وزیر آغا  اور ضیا الحق قاسمی جیسی شخصیات نے دے دیا ہے اس کے بعد میری کچھ کہنے کی گنجائش نہیں بچتی۔

خادم حسین مجاہد نے اب تک جتنی تعلیم حاصل کر لی ہے اگر وہ لاہور، اسلام آباد یا کراچی میں ہوتے تو کسی چینل کے انٹرٹینمنٹ کی ہیڈ ہوتے یاکسی یونیورسٹی میں کسی فیکلٹی کے ڈین ہوتے لیکن انہیں کچھ ’’بھابھڑا ‘‘سے پیار ہی اتنا ہے کالے بالوں سے سفید ہوتے بالوں میں وہ وہیں طالب علم بچوں کے لئے ’’ڈائن ‘‘ بنے ہوئے ہیں۔

’’قلم آرئیاں ‘‘میں ایک فقرہ جو کہ شاید آج کی ادبی دنیا کا سچ ہے :

’’وہ بیک وقت کوئی پچاس کے قریب علمی، ادبی، ثقافتی، سماجی  اور معاشی تنظیموں کی مرکزی ذمہ داریاں اپنے سنگل سائز کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں جو ڈھنگ سے کوئی جنازہ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ‘‘

( قیس صحرائی)

٭٭٭

 

 

                نوید ظفرؔ کیانی

 

خادم حسین مجاہد کی مزاح نگاری

 

خادم حسین مجاہدؔ نے  اور بہت سوں کی طرح اپنی کتاب ’’قلم آرائیاں ‘‘ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے ’’مزاحیہ مضامین‘‘، میں اس طرح کی پیشانیوں کو قارئین کے لیے پریشانیاں سمجھتا ہوں۔ ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ہاتھ ہو چکا ہے۔ کنگلے زمانے یعنی زمانۂ طالب علمی میں، میں ایک ایسی ہی کتاب خرید کر لایا تھا جس کی پیشانی پر لکھا ہوا تھا ’’انشائیوں کا مجموعہ‘‘۔ بہت سے شاداب  اور خوش باش انشائیہ نگاروں کے انشائیے پڑھ کر میں گمان کر بیٹھا تھا کہ یہ بھی کوئی ویسی ہی کتاب ہو گی جسے پڑھ کر میں دل پشوری کر سکوں گا لیکن باپ رے باپ، صفحۂ اوّل تا آخر، فلسفے  اور ثقیل نگاری کے ایسے طوفانِ بدتمیزی سے سابقہ پڑا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اب کسی کتاب کے سرِ ورق پر کوئی اس قسم کا اعلان دیکھتا ہوں تو دوکاندار کی گھوریوں کی پرواہ کئے بغیر یہ اطمینان ضرور کر لیتا ہوں کہ واقعی درست لکھا گیا ہے یا سیاست بھگاری گئی ہے۔ خادم حسین مجاہد کو اپنی کتاب کے سرِ ورق پر ’’مزاحیہ مضامین‘‘ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی، سرِ ورق پر اُن کا نام ہی کافی تھا۔ خادم کے پہلو بہ پہلو مجاہد کا لفظ دیکھ کر پڑھنے والوں کو پتہ چل جاتا کہ واقعی یہ مزاحیہ مضامین کی کتاب ہے۔

’’قلم آرائیاں  اور ’’دست و گریباں ‘‘ زندہ دلی کے مکمل نسخے ہیں جنہیں معاشرے کا کوئی بھی حکیم یا ڈاکٹر پورے تیقّن سے امراضِ قلب میں مبتلا  اور قنوطیت کے شکار مریضوں پر آزما سکتا ہے، انشاء للہ اُسے کبھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ شوخ بیانی، طنز و استہزا، بشاشت، ظرافت، رمز، ایجاز، مخول، ٹھٹھا، سخن چینی، نقطہ چینی، تفنّن کیا نہیں ہے اِن کتاب میں، لیکن یہ بات بھی دل پر ہاتھ رکھ کر تسلیم کرنی پڑے گی کہ اِن سب گھوڑوں کی لگامیں ہمیشہ  اور ہر جگہ خادم حسین مجاہدؔ کے نہایت مضبوط ہاتھوں میں محسوس ہوتی رہی ہیں، اُن کی جانب سے ذراسی بھی ڈھیل کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اُن کی ظرافت میں بے سمتی بھی نہیں ہے۔ ہر تحریر ایک واضع پیغام دیتی نظر آتی ہے۔ واشگاف  اور صحافت کی زبان میں ’’مبینہ طور پر‘‘، ہر تحریر میں فلیش لائٹ براہِ راست  اور مکمل طور پر موضوع پر مرتکز ملتی ہے لیکن اس قدر سادگی میں بھی پُرکاری دیکھی جا سکتی ہے، ٹو دی پوائنٹ ہو کر بھی تحریر کے ہزارہا پہلو دانت نکالے نظر آتے ہیں، ضیا ء الحق قاسمی مرحوم نے اُن کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے :

’’وہ ایک خیال پر ایک تحریر نہیں لکھتے بلکہ ایک تحریر میں کئی خیال پیش کرتے ہیں۔ ‘‘

کہا جاتا ہے کہ مزاح لکھنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اِس کے لئے ایک توخود لکھنے والی کی فطری خوش طبیعی کا عمل دخل ہوتا ہے  اور دوسرا یہ بھی لازم ہے کہ اُس میں معاشرتی، معاشی، سیاسی، عمرانیاتی غرض یہ کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجود ناہمواریوں  اور بے اعتدالیوں سے مفاہمت کا جذبہ نہ ہو  اور وہ اُس کو اُسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے بیوی سوتن کو دیکھتی ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کامیاب مزاح نگاری کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ کسی وقوعے پر اپنی شدید ذاتی ناپسندیدگی کے باوجود اپنے شدید ردِ عمل کو قابو میں رکھ کر نہایت نفاست سے چٹکیاں لے کر موضوع سے انصاف کرے۔ ہمارے مجاہد کے لئے تو لگتا ہے کہ مزاح لکھنا خالہ جی کا گھر ہے۔ کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائی کر رہا ہو، اس قدربیساختگی  اور روانی سے چٹکلے چھوڑتا ہوا بہتا جاتا ہے کہ راوی کے بہاؤ کا سماں بندھ جاتا ہے۔ اُن کے نشتروں کی کاٹ  اور تیزی کسی بھی موڑ پر کند نہیں لگتی۔

ہمارے دفتر میں تین افراد پر مشتمل ایک بھانڈ گروپ ہے جس کا کام بقول شخصے بلا انصاف تمام لوگوں کی لباس دری کرنا ہے۔ اِن تینوں بھانڈوں کو نقالی پر اس قدر عبور حاصل ہے کہ دیکھا چاہیئے۔ اہلِ مجلس کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتے ہیں، اُن کی اِس قدر پُر لطف محفل سے کوئی بھی اُٹھ کر جانا نہیں چاہتا۔ محفل سے اُٹھ کر جانے کا مطلب ہے کہ محفل کا موضوع بننا یا ’’جگتوں کا نشانہ‘‘ بننا، جس کے لئے کسی کا بھی ظرف راضی نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس طرح وہ کچھ دیر قبل دوسروں کی ’’لباس دری‘‘ پر ہنستا رہا ہے، دوسرے بھی اُس کا ٹھٹھا اُڑانے میں اِسی خشوع و خضوع کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں پر تو خوب لطف اندوز ہوتا ہے لیکن جب خود اُس کی کمزوریوں کا مذاق اُڑایا جائے تو اُس کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ خادم حسین مجاہد اِس کا قطعاً قائل نہیں۔ وہ دوسروں کی طرح خود اپنے آپ پر بھی ہنسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ خود اپنی برادری ’’ادیبوں ‘‘ پر قلم آرائیاں میں ایک پورا مضمون ملتا ہے جو اُنہوں نے غالباً آئینے کے سامنے بیٹھ کر لکھا ہے۔ اپنی قلمکاریوں پر اس قدر نفاست سے خنجر آزمائی کی ہے جیسے اکبر الٰہ آبادی نے اپنے ایک شعر میں اپنے آپ کو لہولہان کیا ہے :

بھیا رنگ یہی ہے اچھا

ہم بھی کالے یار بھی کالا

’’قلم آرئیاں ‘‘ میں ایک مضمون قلم قبیلہ میں ’’ادیب‘‘ کی تعریف میں خادم حسین مجاہد لکھتا ہے :

’’خود کو جینئس سمجھنے والا ایک کھسکا ہوا انسان جو اس خوش فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ معاشرے کو بذریعہ قلم سدھار لے گا لیکن یہ بیچارہ خود کو بھی ساری عمر سدھار نہیں سکتا۔ ‘‘

بہت سے مزاح نگاروں کا طریقۂ واردات ہی الفاظ سے کھیلنا ہے۔ وہ کسی بھی بات سے یوں بات نکالتے ہیں جیسے سیاستدان خیر کے کاموں سے بھی اپنی آف شور کمپنیوں کے لئے سرمایہ۔ محض اِسی ہتھیار کو استعمال کر کے بہت سے مزاح نگاروں نے خود کو مشفق خواجہ، یونس بٹ، انور مقصود، گلِ نوخیز اختر وغیرہ بنا ڈالا ہے۔ خادم کا ترکش بھی رعایت لفظی کے اِن تیروں سے خالی نہیں۔ وہ باتوں ہی باتوں میں انتہائی معصومیت سے ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ بندہ بیساختہ ہنس دیتا ہے۔ مثلاً اپنے ایک مضمون ’’انگریزی  اور ہم دیسی‘‘ میں وہ یوں چٹکیاں بھرتے ہیں۔

مجھے ایک دفعہ ان کا انگریزی اردو مکس میسج ملا تو میں نے سر پیٹ لیا۔ لکھا تھا ’’ کل میری میرج marriage کی برتھ ڈے birthday ہے آپ کی دعاؤں کا ویٹweight کروں گا۔ ‘‘ شادی کی سالگرہ کا ترجمہ جو انہوں نے اینی ورسری کی بجائے برتھ ڈے (یوم پیدائش ) سے کیا اس کی صحیح داد تو کوئی انگریز ہی دے سکتا ہے۔ ہم تو حیران تھے کہ شادی کی پیدائش کا دن بھی ہوتا ہے  اور پھر انتظار کرنے کے لئے weight واہ۔

الفاظ کے اُلٹ پھیر سے نئے مضحک و ظریفانہ مفہوم نکالنے کو پیروڈی یا تحریف کہا جاتا ہے۔ اُردو ادب میں مزاحیہ شاعروں نے کثرت سے تحریفیں لکھی ہیں لیکن ہماری نثر کا دامن بھی تحریف سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، عطا الحق قاسمی، یونس بٹ وغیرہ نے تحریف نگاری کے کامیاب تجربے کئے ہیں۔ خادم حسین مجاہدؔ بھی اس میدان کا مجاہد ہے۔ اُن کی کتابوں قلم آرائیاں  اور دست و گریبان میں جا بجا اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ ’’قلم آرائیاں ‘‘ کی تحریر ’’ادبی اجلاس‘‘ اس سلسلے کا ایک عمدہ نمونہ ہے، جس کا ایک ابتدائی قاشہ پیشِ خدمت ہے۔

’’خواتین و حضرات! بزمِ ادب کے زیرِ انہدام اس یتیم الشان ادبی محفل میں بادل صحرائی بجلی پوری پورے زور سے کڑکتے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہنے کی جسارتِ عالیہ کی جسارت کر رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی کانوں میں روئی دے کر پُر امن طریقے سے تشریف فرما رہیں گے  اور ہمیں ہماری حماقت کا احساس نہیں دلائیں گے۔ ‘‘

عموماً طنز و ظرافت کا استعمال ایک ساتھ ہوتا ہے  اور اِن دونوں میں امتیاز نہیں برتا جاتا حالانکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ظرافت خالص مزاح ہوتا ہے جس سے پڑھنے والوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے، اس میں کسی پر چوٹ نہیں کی جاتی جبکہ اس کے برخلاف طنز تیز اور چبھتے ہوئے خفتہ معنی رکھتا ہے لیکن اس میں ہجو کی طرح کثافت  اور زہر بھرا ہوا نہیں ہوتا۔ اسے تنقید کی جڑواں بہن بھی کہا جا سکتا ہے، تاہم یہ اُس کی خاصی لڑاکا بہن ہوتی ہے اس لئے اس میں کاٹ  اور بے اعتدالی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ خادم حسین مجاہد کے ہاں طنزیہ اندازِ فکر جا بجا ملتا ہے۔ اُن کی ایک تحریر ’’از نوابی تا قصابی‘‘ کی اختتامی سطوراس اسلوب کی ایک عمدہ مثال ہے۔

’’ آج ہمارا ایک عالیشان گھر ہے۔ ایک قصاب مارکیٹ ہے  اور اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ بیسیویں گریڈ کے افسر ہم سے قرض لینے آتے ہیں۔ ہماری بیٹی کسٹم میں آفیسر ہے، ایک بیٹا پولیس میڈ ہے  اور دوسرا ڈاکٹر ہے۔ یوں ہماری اولاد جدید بنیادوں پر ہمارے پیشے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ ‘‘

خادم کے مزاح میں ’’تفنّن‘‘ کے اسلوب کی بہت اعلیٰ شکل موجود ہے۔ اُنہوں نے بہت سے بزرگانِ سخن کے ساتھ چہلیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کا مضمون ’’مرزا غالب‘‘ بھی خاصے کی چیز ہے۔ اس میں وہ رقم طراز ہے۔

جب اُنہوں نے دیوان مرتب کیا تو اپنی رنگین جوانی کی سنگین شاعری کا بیشتر حصہ حذف کر دیا۔ اس کے باوجود ان کا چھوٹا سا دیوان دوسرے شاعروں کے بڑے بڑے دیوؤں کو ناک آؤٹ کر دیتا ہے، کیونکہ غالب کے معیار پر پرکھا جائے تو کئی لوگوں کے دیوان کے دیوان حذف کرنا پڑیں گے، مگر مرزا کا انکسار ملاحظہ فرمائیں کہ پورا اردو دیوان مومنؔ کے ایک شعر کے بدلے دینے کو تیار ہو گئے، وہ تو شکر ہے مومنؔ صاحب اس تبادلے پر راضی نہیں ہوئے ورنہ آج ہمیں غالبؔ کے بجائے مومنؔ کو چھیڑنا پڑتا  اور پھر نجانے ہمارا کیا انجام ہوتا۔

خادم حسین مجاہد پیشے کے لحاظ سے ہی اُستاد نہیں، ادیب بھی بڑا اُستادقسم کا ہے۔ اپنی نصابی اوزار کو مزاح نگاری میں بھی کھینچ لانا اُنہیں کا بودا ہے۔ اپنے بالغ شاگردوں کے لئے نمونے کی عرضی نویسی، خطوط نویسی، معاشرے کے مختلف طبقات کے لئے امتحانی پرچے وضع کرنا اُنہیں کا کمال ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اگر آپ بیک وقت قہقہہ، زیرِ لب تبسم، بدیہہ گوئی، موشگافیوں، ٹھٹھا بازیوں، چکلس، خندہِ استہزا  اور اسی طرح کی دوسری ظرافت نگاریوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں خادم حسین مجاہدؔ کی کسی بھی تحریر کا مطالعہ آپ کی صحت کے لئے از حد مفید ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

                خادم حسین مجاہد

 

شاعر

(قلم آرائیاں کے مضمون قلم قبیلہ کا ایک حصہ)

 

تعارف

 

کسی دِلی یا دماغی چوٹ کے باعث منہ  اور قلم کے راستے کسی موزوں کلام اُگلنے والی توپ کو  ’’شاعر‘‘ کہتے ہیں۔ تاریخ کے ہر دور میں اس کا وجود ثابت ہے  اور یہ واحد پیداوار ہے جس کا کبھی قحط نہیں پڑا، ہمیشہ افراط ہی رہی ہے۔ سقوط غرناطہ مغلوں کے آخری دور  اور عربوں کے زمانہ جاہلیت  اور سکھوں کے آخری دنوں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات ٹیوب لائٹ کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ جب بھی کوئی قوم تباہی کے دہانے پر پہنچی، اس میں شاعر حد سے زیادہ بڑھ گئے، جنہوں نے کار پردازانِ سلطنت کو شاعری پر لگا کر کاروبارِ سلطنت سے غافل کر دیا  اور دشمنوں کا کام آسان کر دیا شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے جنگ آزادی کے بعد دوسرے درباریوں کو تو پھانسی دے دی مگر مرزا غالبؔ  اور دوسرے شاعروں کو انعامات سے نوازا۔

 

اسباب

 

کوئی انسان اچانک شاعر کیسے بن جاتا ہے، اِس بارے میں محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال اِن سب کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ دماغ چلنے کی طرح اس کے بھی کئی اسباب و عوامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی طے ہے کہ ہر انسان زندگی میں ایک بار شاعر ضرور بنتا ہے۔ جب وہ دل کا تبادلہ کرتا ہے، بعد میں بے شک بندہ بن جائے۔

 

پہچان

 

یوں تو اہلِ نظر شاعر کو دور سے  اور ’’با ادب‘‘ گفتگو سے پہچان لیتے ہیں، پھر بھی آسانی کے لئے موٹی موٹی نشانیاں بتائے دیتا ہوں کہ شاعر بننے کے بعد یہ اپنے نام میں کسی عجیب و غریب لفظ کا اضافہ کر لیتا ہے جسے تخلص کا نام دیتا ہے۔ بعض دور اندیش شاعر بننے سے قبل ہی کوئی تخلص الاٹ کر لیتے ہیں مبادا کوئی دوسرا قبضہ نہ کر لے۔ یہ تخلص عموماً ایسا ہوتا ہے کہ پہلی بار سننے والا چونک اٹھتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک بھولا بھالا لڑکا جسے آپ عبدالرّشید کے نام سے جانتے ہیں  اور وقتاً فوقتاً ’’شیدا‘‘ کہہ کر سگریٹ بھی منگواتے ہیں، اچانک پتہ چلتا ہے کہ وہ عبدالرّشید اب بھولا بھالا شیدا نہیں رہا بلکہ عبدالرّشید آزردہؔ ہو کر رہ گیا ہے۔ آپ لاکھ اس کی آزردگی کا سبب جاننے کی کوشش کریں، وہ وضاحت نہیں کرتا۔ کسی کے شاعر ہونے کی دوسری بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ جو کرے گا وہ کہے گا نہیں۔ یہ عملی زندگی میں انتہائی بے عمل ہونے کے باوجود شاعری میں بہت با عمل ہوتا ہے۔ اس کے ارادے خواہشات  اور مقاصد عموماً ممکنات کی سرحد سے پار واقع ہوتے ہیں مگر جب قلم قرطاس اس اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اس کو صحیح معنوں میں خنجر کی طرح استعمال کرتا ہے  اور وہ کارنامے سر انجام دیتا ہے کہ بڑے بڑے سورما چیں بول جاتے ہیں، یہ چاہے تو آہ سے آندھی چلوا دے، جنگل جلا کر راکھ کر دے، پوری دنیا آنسوؤں کے سیلاب میں غرق کر دے  اور اس میں تیراکی کرتا درِ محبوب تک پہنچ جائے۔ چاہے تو محبوب کا جلوہ دکھائے  اور صور پھونک دے، محبوب کی جھلک دکھا دے  اور مرتے ہوؤں کو قبر سے کھینچ لائے۔ موڈ میں آ جائے تو سمرقند و بخارا بادشاہ سے پوچھے بغیر محبوب کے ایک تل کے بدلے ہدیہ کر دے اور بعد میں  سزائیں بھگتا پھرے۔ چاہے تو محبوب کی کمر یوں غائب کر دے جیسے ممبران اسمبلی سے شائستگی، دل چاہے تو محبوب کے ما تھے پر صرف ستارے ہی نہیں پورا نظام شمسی سجا دے  اور چاہے تو محبوب کو باغ میں پھرا کے پھولوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دے۔ بڑے سے بڑا عالمی تنازعہ جب ایک شاعر کے سامنے آتا ہے تو وہ محض ایک شعر یا نظم میں حل ہو کر رہ جاتا ہے۔

 

حلیہ/عادات

 

پرانے زمانے میں شاعروں کا حلیہ خاندان والوں سے کم  اور نفسیاتی مریضوں سے زیادہ ملتا تھا۔ مہینوں غسل خانوں، نائی  اور آئینے کا منہ نہ دیکھتے تھے جس کی وجہ سے اِن کی داڑھی، مونچھوں  اور سر کے بالوں میں خطِ علیحدگی کھینچنا کار دارد ہوتا تھا۔ وہ عموماً۔ ۔ ۔ ۔ دانت خراب کرنے کے لیے پان کی خدمات حاصل کرتے تھے  اور میسر ہوتی تو انگور کی بیٹی سے بھی چھیڑ چھاڑ کر لیا کرتے تھے۔

آج کل شاعر۔ ۔ ۔ شاعر کم  اور بیوروکریٹ زیادہ لگتے ہیں اکثر گورنمنٹ سروسزکے شوقین ہوتے ہیں کہا فسری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت مشقِ سخن جاری رہے۔ یہ دانت، معدہ  اور دل تباہ کرنے کے لئے سگریٹ، پائپ، کافی  اور چائے کا استعمال تھوک کے حساب سے کرتے ہیں۔

 

معاشرتی مقام

 

معاشرے میں جو مقام شاعر کو حاصل ہے، اُسے معزز تو کیا، مقام بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اکثریت شاعر کو چور ڈاکو سے بھی زیادہ مشکوک سمجھتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں چور ڈاکو پھر بھی اپنا کنبہ پالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  اور تو  اور افلاطون نے بھی اپنی خیالی جمہوریہ Eutopia میں شاعروں کو فالتو مخلوق گردانتے ہوئے نمائندگی نہ دی۔

 

عمومی رویہ

 

شاعر عموماً ایک شریف جانور ہے۔ ۔ ۔ سوری انسان ہے  اور اس کا مشقِ سخن کرنے کا عمل نہایت پر امن ہے۔ نقص امن کا مسئلہ تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ شاعری سنانے پہ تُل جائے  اور اُس وقت اسے شاعری سنانے سے روکنا کسی طوفان کو روکنے کی حماقت کرنے کے برابر ہے۔ یہ صورت حال اس وقت مزید گھمبیر ہو جاتی ہے جب شاعر نیا نیا ہو  اور آس پاس کوئی مشاعرہ ہو اور نہ سامع۔ اس وقت اس کی حالت اس مرغی کی سی ہوتی ہے جس نے انڈہ دینا ہو اور اُسے مناسب جگہ نہ مل رہی ہو۔ اس وقت کچھ تو پتھروں کو غمِ دل سنا لیتے ہیں  اور کچھ کا نروس بریک ڈاؤن ہو جاتا ہے۔

 

دماغ  اور شاعری

 

شاعر دماغ رکھتے ہیں یا نہیں یہ قصہ بحث طلب ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دماغ کے بغیر کوئی شاعری کیسے کر سکتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی دماغ کے ہوتے ہوئے شاعری کیوں کرے گا۔

 

خوراک

 

شاعروں کی خوراک کے بارے میں بھی پہلوانوں کی طرح خاصی مبالغہ آرائی آمیز حکایات مشہور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاعروں کی خوراک محض ’’داد‘‘ ہے یعنی واہ واہ سبحان اللہ۔ اگر ایک شاعر سے آپ تین ٹائم اس کی شاعری سن کر واہ، واہ کہتے رہیں تو وہ لمبا عرصہ کھائے پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر آپ اِسے دنیا جہان کی ہر چیز کھلا دیں  اور داد نہ دیں تو وہ بھوکا رہے گا۔ اگر آپ کسی شاعر سے انتقام لینا چاہتے ہیں تو اکثر و بیشتر اُس کی شاعری سنتے رہا کریں لیکن اسے داد نہ دیں۔ کسی نہ کسی دن اُسے ضرور اختلاجِ قلب ہو جائے گا۔ ویسے ہم نے چند ایسے شاعروں کو دیکھا ہے جنہوں نے واہ واہ سبحان اللہ کی آوازوں کی کیسٹ ریکارڈ کی ہوئی ہے جنہیں وہ تنہائی میں داد کی بھوک مٹانے کے لئے سنتے ہیں۔

 

اقسام

 

دنیا میں ہر مخلوق لا تعداد اقسام میں پائی جاتی ہے شاعر بھی اس مستثنی نہیں مزاج، انداز  اور طریقہ واردات میں اختلاف کے باوجود ان کی کئی اقسام ہیں۔ جن میں سے چند ایک کا حال آپ کی عبرت کے لئے دیا جا رہا ہے۔

نرا شاعر: جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ سوائے شاعری کے  اور کچھ نہیں کر سکتا۔ چونکہ اِسے اکثر و بیشتر فاقے سے لطف اندوز ہونا پڑتا ہے اِس لئے اس کی شاعری میں بلا کا سوز  اور درد پایا جاتا ہے۔ یہ با آسانی کوئی بھی مشاعرہ لوٹ لیتا ہے لیکن محلے کے دوکاندار سے اُدھار تک نہیں لے سکتا۔ بعض اوقات اسے اپنی شاعری فروخت کرنی پڑتی ہے۔ اِن کی ازدواجی زندگی مرثیوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ غالبؔ، اقبال ساجدؔ  اور ساغرؔ صدیقی اِس قسم کے نمائندہ شاعر ہیں۔

عاشق کم شاعر: یہ عموماً بے روزگار ہوتے ہیں  اور پارٹ ٹائم عشق سے ٹائم پاس کرتے ہیں۔ عشق کی منازل طے کرتے کرتے جب یہ رانجھے یا مجنوں کے انجام کے قریب پہنچتے ہیں تو ترقی کر کے شاعر بن جاتے ہیں۔ اِن کی شاعری عموماً بے وزن ہونے کے باوجود کلو گراموں میں ہوتی ہے۔ یہ نوکری یا چھوکریوں کے پلے پڑنے کے بعد تائب ہو جاتے ہیں  اور ادب کو بخش دیتے ہیں۔

سمگلر شاعر: عام شاعروں کی طرح سمگلر شاعروں کے بھی کئی گروہ ہیں۔ اِن کا ایک گروہ کسی انتقال شدہ گمنام شاعر کے اہلِ خانہ سے اس کی شاعری ردی کے بھاؤ خرید کر صاحبِ دیوان بن جاتا ہے۔ دوسرا گروپ پرانے شعرا ء کی تلخیص  اور الٹ پھیر سے کام چلاتا ہے۔ تیسرا گروہ کسی دوسری زبان کی شاعری سے خیالات اڑا کر اپنی زبان میں باندھ لیتا ہے۔ چوتھا  اور آخری گروہ کسی لمبی جھنجھٹ میں پڑے بغیر شارٹ کٹ استعمال کرتا ہے  اور کسی بھی ’’نرے شاعر‘‘ سے شاعری خرید لیتا ہے۔ اچھی سے اچھی غزل پندرہ بیس روپے میں مل جاتی ہے۔ اس چوتھے گروہ میں عموماً بیورو کریٹ  اور سماجی شخصیات ہوتی ہیں جو اس طریقے سے خود کوُ ’’انٹی لیکچوئل‘‘ (INTELLECTUAL)ثابت کرتے ہیں۔

عظیم شاعر: اس گروہ کی عظمت میں ان کی دولتمندی، عہدے  اور پریس پروری کے علاوہ ان کے کاسہ لیسوں کے خوشامدی مضامین کا بھی دخل ہوتا ہے۔ یہ اپنے تئیں غالبؔ سے کم عظیم نہیں ہوتے  اور اسی زعم میں اساتذہ کے کلام پر خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ وہ اُنہی کا پڑھتے  اور اُنہی کا کھاتے ہیں۔ علاوہ ازاں ایسے عظیم شعراء ان خواتین شاعرات کی سر پرستی بھی فرماتے ہیں جو شاعری بیشک نہ کر سکتی ہوں لیکن شاعر بننا ضرور چاہتی ہوں۔ یہ ایسی شاعرات کے مجموعے اپنے خرچ  اور مواد پر چھپوا کر اپنی عظمت کا ثبوت دیتے ہیں۔

سیاسی شاعر: اِن کے دو گروہ ساحرؔ، فیضؔ، جالبؔ  اور شورشؔ جیسے شاعروں پر مشتمل ہے۔ یہ کلمۂ حق کسی جابر سلطان کے سامنے کہہ کر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ عوامی ہے جو سیاسی جلسوں میں اپنا لوہا  اور فولاد منواتا ہے۔ یہ کسی امیدوار یا پارٹی کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں  اور پھر اس کے جلسوں میں اس کے قصیدے  اور مخالفین کی ہجو پڑھتے ہیں، یوں یہ عوامی شہرت کے ساتھ ساتھ شاعروں کے سب گروہوں سے زیادہ کماتے ہیں۔

موبائل شاعر: اِن کے بھی دو گروہ ہیں۔ پہلے گروہ والے شہر میں گلی گلی گھومتے ہیں۔ کہیں کسی شادی، منگنی، مہندی، ختنہ یا سالگرہ کی بھنک ملتی ہے تو وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ عموماً معززین کا لباس زیب تن کیے ہوتے ہیں، اس لیے تقریبات میں با آسانی گھس جاتے ہیں۔ پھر مہمانوں سے باتوں باتوں میں تقریب کے مرکزی کرداروں کے نام معلوم کر کے پہلے سے تیار شدہ سہرے  اور دعا اُس میں فٹ کر لیتے ہیں۔ حاضرین کی بڑی تعداد تب تک انہیں ایک معزز مہمان ہی سمجھ رہی ہوتی ہے کہ اچانک یہ بلائے ناگہانی کی طرح تقریب کے مرکزی کردار کے سر پر پہنچ کر اپنا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں  اور تمام شرکا ء کا موڈ خراب کر دیتے ہیں۔ یہ تب تک چپ نہیں ہوتے جب تک پیسے یا کسی  اور چیز سے اِن کا منہ بند نہیں کر دیا جاتا۔ دوسرا گروہ چھوٹے چھوٹے پمفلٹوں کی صورت میں شاعری چھاپ کر بسوں  اور تعلیمی اداروں میں گا گا کر فروخت کرتے ہیں۔

پینٹر شاعر: اکثر پینٹر شاعر شاعرانہ ذوق کے حامل ہوتے ہیں جس کا ثبوت وہ گاڑیوں کو پینٹ  اور ڈیکوریٹ کرتے وقت دیتے ہیں۔ آپ نے اکثر بسوں، ویگنوں  اور رکشوں کے پیچھے کبھی غالب ؔیا اقبالؔ کو بغل گیر ہوتے دیکھا ہو گا تو کبھی فیضؔ  اور جوشؔ کو  اور کبھی ایسے ذاتی اشعار بھی پڑھے ہوں گے جن کا ایک مصرعہ دوسرے مصرعے سے متفق نہیں ہوتا۔ یہ سب کارنامے  اور شاہکار پینٹرز کے ہوتے ہیں۔ اگر ان پینٹرز کے ہتھے کوئی ہوائی جہاز بھی چڑھ گیا تو یہ وہاں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائیں گے  اور شاعری کو نیا بین الاقوامی انداز دیں گے۔ پینٹر شاعر کی اتنی خدمات کے برعکس آج تک کسی ادبی جائزے میں ان کاُذکر نہیں کیا گیا  اور نہ ہی ایسی عوامی شاعری پر ان کو کوئی ایوارڈ دیا گیا ہے حالانکہ یہ لوگ تو اس قابل ہیں کہ ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کرنا چاہیے، لیکن یہ صابر شاکر لوگ ان تمام حق تلفیوں کے باوجود شکوہ کناں ہوئے بغیر اپنے فرائضِ منصبی نہایت دیانتداری، محنت  اور مہارت سے انجام دے رہے ہیں  اور شاعری میں نِت نئے تجربے کر رہے ہیں۔ ایک شنید یہ بھی ہے کہ آزاد شاعری کے موجد بھی یہی لوگ ہیں۔

آزاد شاعر: یہ آزادی پسند ہوتے ہیں۔ شاعری میں بھی کسی قسم کی پابندی کے قائل نہیں ہوتے۔ نثری عبارتوں کو اوپر تلے مبہم انداز میں لکھ کر آزاد شاعری کا نام دیتے ہیں  اور لہو لگا کر شہیدوں میں ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِن کو بھی ابھی تک باقاعدہ شاعر تسلیم نہیں کیا گیا۔ بعض غضبناک بزرگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آزاد شاعری کرنے کا حق صرف  اور صرف پابند شاعری کرنے والوں کو ہونا چاہیے، لیکن ان کے غضب کے باوجود مارکیٹ آزاد شاعری کے مجموعوں سے بھری پڑی ہے  اور کوئی طوفان نہیں ٹوٹا۔ جہاں تک سیل کی بات ہے تو یہ بھی پابند شاعری کی طرح ردی میں سیل ہو رہی ہے۔ یوں نتیجے کے لحاظ سے ان میں زیادہ فرق نہیں۔

فوائد

’’نہیں ہے نکمی کوئی چیز زمانے میں ‘‘ کے مصداق شاعروں کے بھی کچھ فوائد ہیں۔

٭ شاعر کے حال سے کسی بھی وقت ٹنوں کے حساب سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہے۔

٭ شاعری سننے کے وعدے پر شاعر سے ہر کام کرا سکتے ہیں۔

٭ ضرورت کے وقت ان سے اپنی محبوبہ کا قصیدہ لکھوا کر اپنے درجات بلند کئے جا سکتے ہیں۔

٭ شادی کے مواقع پر سہرا لکھوایا جا سکتا ہے  اور بیگم کے مرنے پر قطعۂ تاریخِ وفات بھی لکھوا کر لوح مزار سجائی جا سکتی ہے۔

٭ شاعر کی موجودگی میں گھر میں چوکیدار کی قطعاً ضرورت نہیں رہتی۔

٭شاعر گھر پر ہو تو کسی بھی وقت اس کے ردی جلا کر  اور بیچ کر ہاتھ  اور جیب گرم کیے جا سکتے ہیں۔

٭کسی بھی دشمن پر شاعر کو مسلّط کر کے اس سے بدلہ لے سکتے ہیں۔

٭ شاعروں کو ٹارچر سیلوں پر ملازمت دینے سے کم وقت میں آسانی سے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

٭ ایک شاعر کو دوست بنا کر سب دوستوں پر رعب رکھا جا سکتا ہے۔

٭ضخیم شعری دیوان اچھے ہتھیار کا کام دے سکتا ہے۔

 

نقصانات

 

٭یہ گھر یا گھر سے باہر کا کوئی عملی کام نہ کر سکنے کے باعث والدین کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

٭ ان کے اشعار بعض اوقات خاندان کی لڑائی کا باعث بنتے ہیں۔

٭ شاعر کے رات دیر تلک جاگنے سے محلے والے مشکوک ہو جاتے ہیں۔

٭شاعر جہاں بھی رہتا ہے کباڑ خانہ قائم کر دیتا ہے۔

٭گھر میں موجود کوئی بھی صاف کاغذ، حساب کتاب کی کاپیاں حتیٰ کہ ٹوائلٹ کی دیواریں  اور بستر کی چادریں بھی اس کے مشقِ سخن سے محفوظ نہیں ہوتیں

٭ شاعر  اور اس کے دوستوں کو چائے پلا پلا کر گھر کا بجٹ غیر متوازن ہو جاتا ہے۔

٭ شاعر زیادہ تر تنگ دست رہتے ہیں اس لئے اوّل تو کوئی لڑکی ان سے شادی کے لئے تیار نہیں ہوتی  اور اگر شادی ہو جائے تو تمام عمر روتی ہے

٭ اگر آپ کے حلقۂ احباب میں کوئی شاعر ہے تو آپ کا موڈ ہو یا نہ ہو اس کی شاعری سے محظوظ ہونا پڑے گا۔

٭٭٭

 

 

 

 

قلم آرائیاں سے اقتباسات

 

                متفرق

 

غلام جیلانی اصغر

خادم حسین مجاہدؔ ادب  اور زندگی کی ناہمواریوں کو دیکھتے ہیں تو اپنے قلمی نشتر سے اِن ناسوروں کو آہستگی سے چھیڑ دیتے ہیں، اسطرح کہ فاسد مواد بہہ جاتا ہے۔ اِن کے عملِ جراحی میں ایک فطری نفاست  اور تیزی ہے۔ اس عمل کے دوران وہ عموماً مریض کو اِس درجہ مبہوت کر دیتے ہیں کہ مریض کو نشتر کی جراحت تک محسوس نہیں ہوتی۔

 

ضیاء الحق قاسمی

خادم حسین مجاہد کی طنز میں گہری کاٹ پائی جاتی ہے۔ وہ تفصیل کے بجائے ایجاز و اختصار کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ایک خیال پر ایک تحریر نہیں لکھتے بلکہ ایک تحریر میں کئی خیال پیش کرتے ہیں۔ وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ادبی  اور سیاسی معاملات کو بھی کامیابی کے ساتھ طنز و مزاح کا روپ دیتے ہیں، جس سے زبان و بیان پر اُن کے عبور  اور وسیع مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔ اِن کے ہاں ابنِ انشاء کی طرح نصابی تحریف (Parody) کے بعض عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں جن میں انہوں نے اپنا ایک خاص رنگ پیدا کیا ہے۔ مزید ادبی اجلاس  اور تنقیدی مضامین کی جو خوبصورت پیروڈی اُنہوں نے پیش کی ہے اس کی نظیر مشکل سے ہی ملے گی۔

 

ڈاکٹر وزیر آغا

خادم حسین مجاہد کی تحریروں میں تازگی  اور گہرائی کے ساتھ ساتھ ایک چونکا دینے والا تیکھا پن ہے۔ اس کے ہاں واضح سماجی شعور پایا جاتا ہے۔ اس کی نظر اپنے ماحول کی ناہمواریوں پر مرکوز ہے۔ وہ ہمیں سماج کے ناسوروں لی طرف متوجہ کرنے کی برابر کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے طنز میں تفکر کا رنگ غالب ہے تو مزاح میں خیر خواہی کا، اسی لئے اِن کی تحریر کا ساختیاتی مطالعہ جہاں طنز و مزاح کی تمام جہتوں پر اس کی فنی مہارت کو ظاہر کرتا ہے وہاں پسِ ساختیاتی مطالعے میں ہمیں اپنے ہی معاشرے کی حقیقی تصریو اپنی تمام تر تلخیوں  اور مضحکہ خیزیوں سمیت نظر آتی ہے۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ اس کا سامنا کریں یا آنکھیں بند کر لیں۔

 

امر بلال رانا

خادم حسین مجاہد نیم فلسفی، نیم ملا ہے (وضاحت کے لئے اس کی تصویر دیکھ لیں ) تحریریں لکھتے ہوئے اس کا لاشعور قیانے  اور فلسفے کے زیرِ اثر جدلیاتی حقائق کو بھی تخلیق میں گھوٹ دیتا ہے، اِسی لئے اس کی تحریریں مسمریزم  اور ہپناٹزم کے سے اثرات رکھتی ہیں جن کی ٹرانس سے کوئی بھی با ذوق  اور زندہ دل نہیں نکل سکتا۔ یہ جانوروں کی نفسیات  اور انسانوں کے بارے میں ان کے خیالات اِتنے وثوق سے بیان کرتا ہے کہ اس کے اشرف المخلوق ہونے پر شک ہونے لگتا ہے۔

 

رقیہ آرزو

خادم حسین مجاہد کی تحریریں اختصار  اور جامعیت کا حسین امتزاج ہوتی ہیں۔ وہ قاری کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اس لئے کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اِن کی تحریریں آئیڈیاز سے بھرپور  اور پہلو دار ہوتی ہیں۔ ایک ایک جملے سے کئی کئی مطلب برآمد ہوتے ہیں۔ یہ صنفِ نازک کے موضوع پر بے حد احتیاط سے لکھتے ہیں۔ اِن سے شرمیلا مزاح نگار آج تک نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایسے ایسے پرچے سیٹ کرتے ہیں کہ طلباء پریشان ہونے کے بجائے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔

 

صوفی فقیر محمد

سرگودھا میں ہنسی کی ہر سازش کے پیچھے کہیں نہ کہیں خادم حسین مجاہد کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔

 

ڈاکٹر رضوان ثاقب

معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں کے خلاف خادم حسین مجاہد کا رویہ جارحانہ ہی نہیں، مجاہدانہ بھی ہوتا ہے۔ مسکراہٹیں تقسیم کرنے والا یہ فنکار جب قلمی جہاد پر نکلتا ہے تو مکروہ چہروں سے خوش نما نقاب نوچ لیتا ہے۔ یہ کوشش کے باوجود ظلم، استحصال، نا انصافی  اور کرپشن سے اپنی نفرت چھپا نہیں سکتا کیونکہ یہ وہ مجاہد ہے جس کی اذان ملا کی اذان سے بہرحال مختلف ہوتی ہے۔

 

پروفیسر شیخ محمد اقبال

ابتدا سے ہی خادم حسین مجاہد کے قلم میں وہ پختگی ہے جو برسوں کی ریاضت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اب تو اس کا قلم مزید نکھر گیا ہے۔

 

ارشاد العصر جعفری

خادم حسین مجاہدؔ عوام میں سے ہے اِسی لئے اپنی تحریروں میں سیاست سے ’’امتیازی‘‘ سلوک کرتا ہے۔ سیاست کے نالے کی ’’بھل صفائی‘‘ کرتے ہوئے اس کے چہرے پر بڑی قاتل مسکراہٹ ہوتی ہے۔ نوجوان مزاح نگاروں میں اس جیسا بیباک ادیب  اور کوئی نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

لمرک

 

                نوید ظفر کیانی

 

 

شکر گزاری

 

میرے چند اِک دوستوں کی بیویوں میں بات یہ اچھی نہیں

شوہروں  کی تو اُنہیں اخبار بینی مطلقاً بھاتی نہیں

زہر لگنے لگتے ہیں شوہر اُنہیں

گمشدہ جب دیکھ لیں اخبار میں

شکر کرتا ہوں کہ بیگم آپ اُن میں سے کسی جیسی نہیں

٭٭

 

سودا نقد ہے

 

کیوں ہر بجٹ پر ہر کوئی اب دل پہ اپنے بات لے

تنخواہوں میں increase لے کر ٹیکسوں کی بہتات لے

ٹیکسوں کی جو بھرمار ہے

اس سے تو ہے یہ بات طے

ہے گورنمنٹ کی پالیسی اِس ہاتھ دے اُس ہات لے

٭٭

 

 

ایک ہی صف میں۔ ۔ ۔

 

زبانِ زوجہ کے نرغے میں ہے میاں کی پھبن

ہر ایک مردِ اکڑ خو بنا ہے بندۂ رن

سو کر سکا ہے کہاں

کبھی بھی چوں و چراں

جو حکم ہو گیا وہ نیڈفُل کیا ہے ڈن

 

 

سیاست

 

سرکاری دفتر میں کام کہاں کہ کوئی کیا کرے

ٹی وی چینلز کے اِن ٹاکنگ شوز کا مولا بھلا کرے

کارِ بیکاری ہے لیکن

دِن نہیں کٹنے پاتا اِس بِن

ایک سیاست ہے وہ چارہ جس کو ہر کوئی چرا کرے

٭٭

 

لوٹا ای اوئے۔ ۔ ۔

 

عبرت کہ دنیا میں کیسے کیسے نہلے ہیں دھلے

میری حالت پر و ہنس لے، جو جی چاہے سو کہہ لے

تھینک یو ویری ویری مچ

لیکن یہ بھی بات ہے سچ

میں بھی تھا بندے کا پُتر لیڈر بننے سے پہلے

٭٭٭

 

 

 

 

جستہ جستہ

 

 

عاشق  اور خاوند

 

کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو کیونکہ جو کامیاب ہو جائے وہ ’’عاشق‘‘ نہیں ’’خاوند‘‘ کہلاتا ہے۔ شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے، اپنی محبت کے لئے، جبکہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے، اپنے بچاؤ کے لئے۔ جو شخص یہ کہے کہ اس کی بیوی نے کبھی اُس کی حکم عدولی نہیں کی، یہ وہ شخص ہے جس نے کبھی اپنی بیوی کو حکم ہی نہیں دیا۔ ویسے بھی محبوبہ میں سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ بندے کو اسے طلاق نہیں دینا پڑتی۔ عورت کا عشق مرد سے ہزار درجے بہتر ہے کیونکہ عورت کو عشق میں کامیابی کی صورت میں کسی عورت کے ساتھ شادی تو نہیں کرنی پڑتی۔

شیطانیاں از ڈاکٹر محمد یونس بٹ

٭٭

’’جن لوگوں کے اندر شاعری کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ شاعری کر کے اس صلاحیت کو زائل کر لیتے ہیں لیکن جن میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی انہیں بھی تو بہرحال کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھیں، نثری شاعری کر لیں۔ اس میں کسی دوسرے کی گرہ سے کیا جاتا ہے۔ نثری شاعری کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو پڑھنے کی عادت نہیں ہے، وہ اپنی اس عادت کے جواز میں شاعری کو پیش کر کے بہت خوش اسلوبی سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پڑھنے سے نہ پڑھنا بدرجہا بہتر ہے۔ ‘‘

شگفتہ بیانی یا آشفتہ بیانی از خامہ بگوش

٭٭

 

ادب کا بھاؤ

 

’’ادب کے معیار کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ کاغذ جو بازار میں سونے کے بھاؤ بکتا ہے، جب اس پر شاعری یا افسانہ چھپ جاتے ہیں تو ردی کے بھاؤ بھی نہیں بکتا‘‘

سوختنی نہ فروختنی از خامہ بگوش

٭٭

 

ایک بار تخلص بھوپالی مولانا علی میاں کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک صاحب آئے  اور کہنے لگے کہ ’’ حضرت آپ سعودی عرب تشریف لے جا رہے ہیں اس درمیان اگر میں مر جاؤں تو کتبے پر کیا لکھواؤں۔ مولانا نے مسکرا کر تخلص کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا ’’میرا خیال ہے آپ کتبے پر یہ لکھوائیے کہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے۔ ‘‘

دہلی میں پیروڈی شاعری کا مشاعرہ تھا۔ جب گلزار زتشی کا نام صدارت کے لیے پیش کیا گیا تو وہ انکسار سے بولے ’’حضور ! میں صدارت کا اہل کہاں ہوں ؟‘‘

اس پر کنور مہندر سنگھ نے فرمایا ’’مطمئن رہیں، آپ بھی صدر کی پیروڈی ہی ہیں۔ ‘‘

٭٭

 

وزیرِ قانون

 

بہت پرانا لطیفہ ہے۔ جب پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک افغانی مہاجر نے اپنا تعارف افغانستان کے ریلوے کے وزیر کے طور پر کرایا۔

مخاطب نے حیران ہو کر کہا ’’وہ کیسے ؟ افغانستان میں تو ریلوے ہے ہی نہیں۔ ‘‘

اس پر افغان مہاجر نے جواب دیا ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہی، آخر پاکستان میں وزیر قانون بھی تو ہوتا ہے۔ ‘‘

ماورائے عدالت پھینٹی ازعطاء الحق قاسمی

٭٭

 

لوٹا

لوٹا چاندی بھی ہے ، لوٹا سونا بھی ہے  اور لوٹا ہیرا بھی ہے لیکن ایک لوٹا مٹی بھی کہ وہ مٹی ہی سے بنا ہوتا ہے۔  اور اس نے لوٹ کر اسی مٹی میں جانا ہوتا ہے۔ جو لوٹا اپنی مٹی سے تعلق نہیں توڑتا اس کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ اس کی خوشبو ہی منفرد ہوتی ہے۔ اس میں گرم تپتا ہوا پانی بھی ڈالیں تو کچھ لمحوں بعد وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ الغرض لوٹے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے کہ لوٹا خیرِ کثیر ہوتا ہے۔ لوٹا صرف ووٹ ہی نہیں حوصلے بھی بڑھاتا ہے۔ بعض اوقات ایک لوٹا آنے سے کہانی کا رُخ ہی بدل جاتا ہے ، پانسے پلٹ جاتے ہیں۔ بہرکیف لوٹا اگر ایک گروہ کے لئے خوشی کا باعث ہے تو دوسروں کو چھوڑ کر آنا بھی شاید اس کے لئے دُکھ کا باعث نہ ہوتا ہو جن کو وہ چھوڑ کر آتا ہے ان کے لئے غم کا ایک کوہِ گراں بن جاتا ہے۔ لوٹے کی زندگی میں غم  اور ندامت رچی بسی معلوم ہوتی ہے کہ لوٹا جتنا بھی با رعب ہو، اس کی آنکھیں پیچھے چھوڑ کر آنے والوں کا سامنا نہیں کر پاتیں۔ لیکن لوٹا تو لوٹا ہوتا ہے، وہ کیا کرے کہ اس کی اگر آنکھیں دو ہیں تو ٹوٹیاں بھی دو ہوتی ہیں۔ جو اسے نت نئی سمتوں کا تعین کرنے کے لئے بے تاب رکھتی ہیں۔

ہم تو یونہی چلتے رہیں گے

جلنے والے جلتے رہیں گے

یوسف عالمگیرین

٭٭

 

مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو اپنی بیٹی زیب النساء کے لیے استاد درکار تھا۔ یہ خبر سن کر ایران  اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے بیسیوں قادر الکلام شاعر دہلی آ گئے کہ شاید قسمت یاوری کرے  اور وہ شہزادی کے استاد مقر ر کر دیئے جائیں۔

ان ایام میں دہلی میں اس زمانہ کے نامور شاعر برہمن  اور میر ناصر علی سرہندی بھی موجود تھے۔ نواب ذوالفقار علی خان، ناظمِ سرہند کی سفارش پر برہمن  اور میر ناصر کو شاہی محل میں اورنگزیب کے روبرو پیش کیا گیا۔ سب سے پہلے برہمن کو اپنا کلام سنانے کا حکم ہوا، برہمن نے تعمیلِ حکم میں جو غزل پڑھی، اس کا مقطع تھا۔

مرا دلیست بکفر آشنا کہ چندیں بار

بکعبہ بُردم و بازم برہمن آوردم

(میرا دل اسقدر کفر آشنا ہے کہ میں جب بھی کعبہ گیا، برہمن کا برہمن ہی واپس آیا۔ )

گو یہ محض شاعرانہ خیال تھا  اور تخلص کی رعایت کے تحت کہا گیا تھا لیکن عالمگیر انتہائی پابند شرع  اور سخت گیر بادشاہ تھا، اس کی تیوری چڑھ گئی  اور وہ برہمن کی طرف سے منہ پھیر کے بیٹھ گیا۔

میر ناصر علی نے اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے اٹھ کر عرض کی کہ جہاں پناہ اگر برہمن مکہ جانے کے باوجود برہمن ہی رہتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، شیخ سعدی بھی تو یہی کہہ گئے ہیں۔ ۔

خرِ عیسیٰ اگر بمکہ رود

چوں بیاید ہنوز خر باشد

(عیسیٰ کا گدھا اگر مکہ بھی چلا جائے وہ جب واپس آئے گا، گدھے کا گدھا ہی ہو گا۔ )

عالمگیر یہ شعر سن کر خوش ہو گیا  اور برہمن کو معاف کر دیا۔

٭٭

 

محمد علی بمقابلہ محمد علی

 

محمد علی باکسر ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے جس طرح کچھ سال قبل ہمارے اپنے فلمی اداکار محمد علی ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یہ دونوں اپنے فن کے دھنی تھے  اور بے حد اچھے انسان بھی تھے لیکن ایک بات ہمیں ماننی پڑے گی کہ محمد علی باکسر کو ہم فلمی اداکار محمد علی سے بہتر مسلمان سمجھتے رہے جس کی وجہ شاید ہمارے والے محمد علی کی فلمی دنیا سے وابستگی ہو سکتی ہے کیونکہ ہمارے دین میں فلموں میں کام کرنے پر پابندی ہے  اور معاشرہ بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ ہاں البتہ پوری دنیا کے سامنے جانگھیا پہن کر کسی کو گھونسے مارنا ٹھیک ہے۔ بچپن میں محمد علی باکسر کے پوسٹر کمرے کی دیوار پر لگانے پر کوء پابندی نہیں تھی البتہ گھر میں محمد علی اداکار کے ذکر پر لوفر کا لقب ملنے میں دیر نہیں لگتی تھی  اور اگر یہ غلطی اسکول میں ہو تی تو استاد کلاس روم سے نکال دیتے تھے۔ محمد علی باکسر ہمارے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہے مگر محمد علی اداکار پاکستانی فلمیں دیکھنے والے “جاہل  اور گنوار” تبقے سے تعلق رکھنے والوں سے منصوب کئے جاتے رہے۔ جہاں محمد علی باکسر کے حقیقت پر مبنی  اور ناک منہ سے خون نکال دینے والے گھونسے ہم سراہتے رہی وہاں محمد علی اداکار کے جھوٹ موٹ کے مکّوں کو، جن سے “بھشوم – پا” کی آواز کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا تھا، مذاق کا نشانہ بناتے رہے۔ محمد علی باکسر جب بھی ہمارے ڈرائنگ روم میں آئے بغیر قمیض کے آئے  اور ہم انہیں بہ خوشی برداشت کرتے رہے لیکن محمد علی اداکار کے گریبان کے کھلے ہوئے دو بٹن ہم سے گورا نہ ہو سکے۔ خیر۔ ۔ ۔ اب چونکہ دونوں محمد علی دنیا میں نہیں رہے اس لئے دونوں کی مغفرت کی دعا کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں محمد علیوں کو معاف کرے  اور جنت میں اعلیٰ درجے عطا فرمائے۔ آمین

عظیم خواجہ

٭٭

 

مجھے ہنسنا ہنسانا پسند ہے لیکن کچھ لوگوں کا ہنسنا ہنسانا دیکھ کر مرثیہ گوئی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ ایک صاحب ہیں جو کسی معمولی سی بات پر ہنستے ہیں  اور پھر ہنستے چلے جاتے ہیں۔ اِن کا مخاطب انتظار کرتا ہے کہ ان کی ہنسی ختم ہو تو وہ آگے بات بڑھائے لیکن ان کے آدھے جملے پر یہ صاحب پھر سے ہنسنا شروع کر دیتے ہیں  اور اِتنا ہنستے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے جس پر وہ دھوتی کا پلو اوپر اُٹھا کر آنکھ صاف کرتے ہیں، دوسرے ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہنسنا منع ہے از عطاء الحق قاسمی

٭٭

 

تمھیں یقین نہیں آئے گا، دو ہفتے ہونے کو آئے، ایک مظلوم صورت کلرک یہاں آیا  اور مجھے اس کونے میں لے جا کر کچھ شرماتے، کچھ لجاتے ہوئے کہنے لگا کہ کرشن چندر ایم اے کی وہ کتاب چاہیئے جس میں ’’تیری ماں کے دودھ میں حکم کا اِکّا‘‘ والی گالی ہے۔ خیر، اسے جانے دو کہ اس بیچارے کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ یہ گالی سامنے رکھ کر ہی اُس کی صورت بنائی گئی ہو مگر ان صاحب کو کیا کہو گے جو نئے نئے اُردو کے لیکچر ر مقر ر ہوئے ہیں۔ میرے واقف کار ہیں۔ اِسی مہینے کی پہلی تاریخ کو کالج سے پہلی تنخواہ وصول کر کے سیدھے یہاں آئے  اور پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ پوچھنے لگے کہ صاحب آپ کے ہاں منٹو کی وہ کتاب بھی ہے جس میں ’’دھرن تختہ‘‘ کے معنیٰ ہوں ؟  اور ابھی پرسوں کا ذکر ہے، ایک محترمہ تشریف لائیں، سن یہی اٹھارہ انیس کا، نکلتا ہوا بدن، اپنی گڑیا کی چولی پہنے ہوئے تھیں۔ دونوں ہتھیلیوں کی رحل بنا کراس پر اپنا کتابی چہرہ رکھا  اور لگیں کتابوں کو ٹکر ٹکر دیکھنے۔ اِسی جگہ جہاں تم کھڑے ہو۔ پھر دریافت کیا ’’کوئی ناول ہے ؟‘‘ میں نے راتوں کی نیند حرام کرنے والا ایک ناول پیش کیا۔ رحل پر سے بولیں ’’یہ نہیں، کوئی ایسا دلچسپ ناول دیجئے کہ رات کو پڑھتے ہی نیند آ جائے۔ ‘‘ میں نے ایک ایسا ہی غشی آور ناول نکال کر دیا۔ مگر وہ بھی نہیں جچا۔ در اصل اُنہیں کسی گہرے سبز گرد پوش والی کتاب کی تلاش تھی جو اُن کی خواب گار کے سرخ پردوں سے ’’میچ‘‘ ہو جائے۔ اس سخت معیار پر صرف ایک کتاب پوری اُتری۔ وہ تھی ’’استاد موٹر ڈرائیوری (منظوم)‘‘ جسے در اصل اُردو زبان میں خودکشی کی آسان ترکیبوں کا پہلا منظوم ہدایت نامہ کہنا چاہیئے۔

خاکم بدہن از مشتاق احمد یوسفی

٭٭

 

ہمارے ایک شاعر دوست نے کہا ’’میری ماں دعا مانگتی تھیں کہ میرا بیٹا شاعر نہ بنے ‘‘ عرض کی ’’آپ کا کلام پڑھ کر یقین ہوتا ہے کہ ماں کی دعا سیدھی عرش پر جاتی ہے۔ ‘‘

بٹ پارے از ڈاکٹر محمد یونس بٹ

٭٭

 

مشہور شاعر اختر شیرانی لاہور کے انارکلی بازار میں جوتوں کی مشہور دکان پر جوتے خریدنے گئے۔ دکان دار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا، مگر کوئی پسند نہیں آیا۔ قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا۔ دکان دار طنزیہ لہجے میں بولا ’’ اِتنے جوتے پڑے ہیں، آپ اب بھی مطمئن نہیں ہوئے ؟‘‘

اختر شیرانی ایک جوتا پہنتے ہوئے بولے ’’بارہ روپے لیتے ہو یا اُتاروں جوتا؟”

٭٭

 

ڈاکٹر تمہیں کوئی خاص شکایت نہیں، صرف آرام کی ضرورت ہے۔ مریضہ لیکن ڈاکٹر صاحب ذرا میری زبان تو دیکھیے۔

ڈاکٹر ہاں اس کو بھی آرام کی ضرورت ہے۔

(نوادر۔ مرزا محمد عسکری)

٭٭

 

چغلیاں

 

گدھا ایک ایسا جانور ہے جو پیٹھ پیچھے کھڑے ہو کر بولنے والوں کو لات مارتا ہے مگر سامنے کھڑے ہو کر بولا جائے تو خاموش کھڑا رہتا ہے۔

کہتے ہیں گناہ میں لذت ہوتی ہے  اور یہ مشغلے گناہ بھی بڑا لذت آموز ہوتا ہے لوگ اسے اس شخص کی پرواہ تو چھوڑ دیجئے بلکہ منکر  اور نکیر کی پرواہ تک چھوڑ دیتے ہیں اس کار مصروف میں ابن آدم سے زیادہ بنت حوا کافی آگے ہے اس لئے بیچاریاں کافی مصروف ہوتی ہیں۔ گھر کی مصروفیات نپٹانے کے بعد ایک دوسرے سے نپٹتی ہیں۔ اس نپٹا نپٹی میں کبھی کبھی جھپٹا جھپٹی  اور جنگ محلہ  اور جنگ پڑوسی برپا ہو جاتی ہے۔ ہتھیار تیز رفتار زبان جو پیٹھ پیچھے چلتی تھی اب آگے چلنے لگ جاتی ہے، یہ نوبت اس لئے آتی ہے کیونکہ اس میں کچھ ماہر جاسوسیت بھی ہوتی ہیں جو بجھانے سے زیادہ چنگاریاں سلگاتی ہیں۔

اس لپٹا جھپٹی سے نکل کر اس مرگِ فتن کا کا پوسٹ مارٹم کرے تو پتہ چلتا ہے کی جس میں حق گوئی کے وٹامن نہیں ہوتے یہ بیماری اس پر اثر کرتی ہے  اور اس مرگ لاعلاج کا جب بے عزتی سے آپریشن نہیں ہوتا تب تک ختم نہیں ہوتی۔ کچھ لوگوں کے لا تعداد آپریشن کرنا ہوتے ہیں مگر پھر بھی یہ ناسور ختم نہیں ہوتا، بس زندگی آپریشن بھری ہو جاتی ہے الا یہ کہ سکرات میں جائے  اور زبان خنجر خاموش ہو جائے۔

پیٹھ پیچھے از ارشاد سرگروہ

٭٭

 

منے میاں ہمارے پڑوسی ہیں  اور اس نوخیز نسل کی کونپل ہیں جسے آگے چل کر پھول بننا ہے، پتہ نہیں گوبھی کا پھول یا گلاب کا۔ البتہ آثار بتاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کے عینک لگ جائے گی  اور بال بڑھائے، سگریٹ پھونکتے ہوئے وہ چٹکی بجا کر، گل جھاڑتے ہوئے کہا کریں گے ’’بائی دی وے انکل، ہمارے ہاں سنسر اِتنا نیرو مائنڈڈ کیوں ہے ؟ ہم سنسر کی قید سے آزاد فلمیں کیوں نہیں بناتے۔ ماشا اللہ ہمارے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ بدر منیر ہے، مسرت شاہین ہے، منزہ شیخ ہے، سنیتا خان ہے، اِتنا سہم سہم کر، بچ بچ کر، مرغی چوزوں کی طرح دائیں بائیں دیکھ کر فلمیں بنانے کی کیا ضرورت ہے، آ جاؤ کلئر کٹ میدان میں !‘‘

اس طرح تو ہوتا ہے از اعتبار ساجد

٭٭

 

غلام گردش

 

ایک بار مرزا غالبؔ نواب فتح الملک بہادر سے ملنے ان کے یہاں گئے تو خدمت گاروں نے صاحب عالم کو اطلاع دی ’’مرزا نوشہ صاحب آ رہے ہیں۔ ‘‘

وہ کسی کام میں مشغول تھے اس لیے فوراً باہر نہ جا سکے۔ جبکہ مرزا صاحب کچھ دیر وہیں ٹہلتے رہے۔ اتنے میں صاحب عالم نے پکار کر ملازم سے پوچھا ’’ارے مرزا صاحب کہاں ہیں ؟‘‘

ان کی آواز جب غلام گردش میں ٹہلتے ہوئے مرزا صاحب کے کان میں آئی تو انہوں نے وہیں سے جواب دیا ’’غلام گردش میں ہے !‘‘

جوشؔ ملیح آبادی  اور حفیظؔ جالندھری میں شروع ہی سے ادبی چپقلش چل رہی تھی۔ جوشؔ کے پاکستان آ جانے کے بعد تو چپقلش  اور بھی بڑھ گئی۔ ایک مشاعرے میں جوش ؔ اور حفیظؔ دونوں کو شرکت کت لئے مدعو کیا گیا، لہذا منتظمین نے فیصلہ کیا کہ دونوں کی نشستیں ریل کے الگ الگ ڈبوں میں ہونی چاہئیں۔ ایک صاحب پوچھنے لگے ’’ کیا آپ کو خدشہ ہے کہ کہیں دونوں میں جھگڑا نہ ہو جائے ؟‘‘

ابھی منتظمین نے کوئی جواب بھی نہ دے پائے تھے کہ پاس کھڑے ابنِ انشا بولے ’’نہیں ! اندیشہ یہ ہے کہ کہیں دونوں میں صلح نہ ہو جائے۔ ‘‘

٭٭

 

ایک محفل میں مشہور صحافی احمد علی  اور اُن کی اہلیہ ہاجرہ مسرور، ابراہیم جلیس  اور بہت سے ادیب جمع تھے۔ اچانک ایک صاحب نے ابراہیم جلیس سے سوال کیا ’’یہ بتائیے کہ صحافت  اور ادب میں کیا رشتہ ہے ؟‘‘

اِس پر ابراہیم جلیس مسکرائے، احمد علی  اور ان کی اہلیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’جو احمد علی  اور ہاجرہ مسرور کا ہے۔ ‘‘

٭٭

 

ابراہیم جلیس کو جھوٹ بولنے کی بہت عادت تھی۔ ایک دِن حمید اختر نے جلیس سے کہا ’’میں نے زندگی میں بہت جھوٹے آدمی دیکھے ہیں مگر تم سے بڑا کوئی نہیں ملا۔ تمھاری نظر میں ایسا کوئی ہے جو اِس میدان میں تم سے آگے ہو؟‘‘

’’ہاں ہے !‘‘ ابراہیم جلیس نے جواب دیا۔

حمید اختر نے پوچھا ’’کون؟‘‘

’’میرے والد صاحب۔ ‘‘ ابراہیم جلیس نے کہا ’’میں بی۔ اے میں ایک نمبر سے پاس ہوا یعنی مارجن پر  اور والد صاحب نے سارے حیدر آباد کی دعوت کر ڈالی کہ لڑکا یونیورسٹی میں ایک نمبر پر آیا ہے۔ ‘‘

٭٭

 

رفیق چوہدری کے افسانوں کا مجموعہ ’’محبتوں کے چراغ‘‘ شائع ہوا۔ اس پر دیباچہ ابراہیم جلیس نے لکھا تھا۔ مصنف  اور دیباچہ نگار دونوں کو پاکستان سرکار نے فحاشی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ مقدمہ چلا  اور دونوں کو تین تین ماہ قید  اور تین ہزار جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعہ کے بعد ابراہیم جلیس نے چوہدری رفیق سے کہا ’’آئندہ تم افسانے لکھنا بند کر دو  اور میں دیباچے لکھنا تاکہ دوبارہ یہ دن دیکھنا نہ پڑے۔ ‘‘

٭٭

 

بیوی سے بحث مت کرو، جیت تم نہیں سکتے، چُپ وہ نہیں ہو سکتی۔

خادم حسین مجاہد از ’’ قلم آرائیاں ‘‘

٭٭

 

ہزارہ کے عالم مولانا عبدالرحیم ہزاروی نے اداکارہ ریما سے شادی کرنے کا پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ’’مسجد میں طالبعلموں کو پڑھانے  اور دیگر امور کے صرف آٹھ سو روپے ماہوار ملتے ہیں جس سے میرا گزارہ مشکل ہے، اگر ریما سے میری شادی ہو گئی تو اس کی آمدنی میری پوری زندگی کے لئے کافی ہو گی‘‘۔ مولانا نے کہا کہ ’’اگر لوگ مجھے پاگل کہیں تو بیشک کہیں، میں بہر حال ریما سے شادی کروں گا بلکہ کسی  اور مولوی نے اگر میرا نکاح نہ پڑھایا تو میں خود اپنا نکاح پڑھوں گا۔ میرا یہ مشن ضرور کامیاب ہو گا  اور شاید میں بھی فلمی دنیا کا ہیرو بن جاؤں۔ پہلی بیوی کو چار سال پہلے طلاق دے چکا ہوں کیونکہ وہ کالی تھی۔ آئندہ طلاق کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ میری آئندہ بیوی ریما ہو گی۔ ‘‘

آپ بھی شرمسار ہو از عطا الحق قاسمی

٭٭

 

منیر نیازی

 

اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے منیر نیازی نے کہا ’’ میں ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، کھاتا کم ہوں  اور پیتا زیادہ ہوں۔ تقسیمِ ہند سے قبل نیوی میں بھرتی ہو گیا تھا۔ میری والدہ نے مجھے لکھا کہ انگریز کی فوج میں بھرتی ہو کر آدمی شہید نہیں ہوتا، لہذا وہاں سے بھاگ گیا۔

بات سے بات از انورؔ مسعود

٭٭

 

جدید خط ۔ ردی فروش کے نام

 

چٹخارا سینٹر

۳۸مئی ۲۰۰۰ء

محترم ادب فروش صاحب: السلام علیکم

پچھلے دِنوں ایک دوست کی زبانی معلوم ہوا کہ سارا جدید اَدب بکسٹالوں سے زیادہ آپ کے پاس ملتا ہے  اور اِن جدید اَدبی کتابوں کی یہ خاصیت ہے کہ اِن کا کاغذ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔ اَدب کی کوالٹی تو اِن کتابوں کے آپ کے پاس ہونے سے ہی ظاہر ہے تو محترم ایسی ۱۰۰ عدد کتب پیک کر کے بھجوا دیں جن کو پڑھنے کی غلطی کسی نے نہ کی ہو کیونکہ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے گاہکوں کو اچھے سے اچھے کاغذ میں پکوڑے لپیٹ کر دوں۔

والسلام

طیفا پروپرائٹر، چٹخارا سینٹر

قلم آرائیاں از خادم حسین مجاہد

٭٭

 

علامہ اقبال اپنی یوم ولادت پہ مجھے خواب میں نظر آئے تھے  اور نہایت پریشان تھے، مجھ سے کہنے لگے کہ یار تم لوگ یہ میری سالگرہیں منانا چھوڑو، بس اتنا کرو کہ کم از کم طوائفوں اور میراثیوں کو تو میرا کلام گانے سے روک دو۔ چھٹے ہوئے لچوں دلالوں منافقوں  اور جانے مانے کنجروں کو تو میرے اشعار کے حوالے دینے سے اجتناب کرنے کو کہو۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ بات سن کر مجھے بھی نہ جانے کیا ہوا، اچانک زوردار تالی بجائی ایک ٹھمکا سا لگایا  اور یہ کہتے ہوئے کیٹ واک کرتا ہوا ایک طرف کو چل دیا، ’’چھوڑو بھی جناب حکیم الامت جانی، رہے نا تم حکیم کے حکیم۔ ۔ ۔ تم تو اپنے کلام کی رائلٹی لینے سے کام رکھو بس۔ ۔ آجکل اسے ہی دانشوری کہتے ہیں۔

عارفیات از سید عارف مصطفیٰ

٭٭

 

عشق کا بھوت عقل پر پاؤں رکھ کر سوار ہوتا ہے۔

قلم آرائیاں از خادم حسین مجاہد

٭٭

 

کسی کا احمق ہونا ایک خدائی راز ہے جو بتدریج سب پہ کھل جاتا ہے سوائے اسی کے جو احمق ہو۔

عارفیات از سید عارف مصطفیٰ

٭٭

 

لڑکیاں بدلہ بھی بہت بُرا لیتی ہے۔ ۔ ۔

 

کالج کے زمانے میں ایک دفعہ میں الیکشن میں کھڑا ہوا تھا۔ ۔ میرے مقابلے میں ایک لڑکی کھڑی تھی، میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کے پرس میں ایک نقلی چھپکلی رکھ دی۔ ۔ ۔ جب وہ تقریر کرنے ڈائس پر آئی  اور تقریر والا کاغذ نکالنے کے لئے پرس میں ہاتھ ڈالا تو ٹھیک ساڑھے چار سیکنڈ اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی رہ گئیں  اور پھر اچانک پوری ذمہ داری سے غش کھا کر گر گئی۔ ۔ ۔

اِس بات کا بدلہ اس ظالم نے یوں لیا کہ میرے الیکشن والے پوسٹروں پر راتوں رات، جہاں جہاں بھی ’’نامزد امیدوار‘‘ لکھا تھا، وہاں وہاں ’’نامزد‘‘ میں سے ’’ز‘‘ کا نقطہ اُڑا دیا۔ ۔ میں آج تک اس کی ’’سیاسی بصیرت‘‘ پر حیران ہوں۔

شیطانیاں از یونس بٹ

٭٭

 

شریف اداکارہ

 

ایک وقت تھا جب ’’شریف‘‘ اداکارہ فلمی دنیا میں پورے ۱۰۰۰ واٹ کے مرکری بلب کی طرح جگمگا رہی تھی۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کے فلامنٹ کی طاقت کم ہوتی گئی تو اس نے وولٹیج پورے کرنے کے لئے جسمانی بجلی کا بھرپور استعمال شروع کر دیا، جس سے کئی منچلوں کے دِل شارٹ سرکٹ ہو کر جل گئے۔ بیشمار ہیروئنیں اس کے فیوز (fuse)ہونے کی دعائیں مانگتے مانگتے ایکسپائر (Expire) ہو کر بچوں کو کہانیاں سنانے پر مجبور ہو گئیں مگر شریف اداکارہ نے کسی نیوٹرل سے بندے کیساتھ تعلقات کی تاریں جوڑ کر زندگی کی ہائی سپیڈموٹر چلانے کی کوشش نہ کی۔ در اصل وہ اس ڈر سے فلم انڈسٹری سے کنکشن نہ کاٹ رہی تھی کہ بیرونی دنیا کی گرم ہوا اس کے ٹرانسسٹر نہ جلا دے حالانکہ پوری دنیا میں اس کے اِتنے پنکھے (Fans) موجود تھے کہ وہ گرمیوں میں فل ائر کنڈیشنڈ زندگی گزار سکتی تھی لیکن اس نے حُسن کا فیوز اُڑنے تک فلموں میں جلوؤں کی تھری فیز سپلائی جاری رکھی۔ ’’عجب آزاد عورت تھی۔ ‘‘

’’قلم آرائیاں ‘‘ از خادم حسین مجاہد

٭٭

 

’’تم کیا کرتے ہو؟‘‘

’’بس لڑکیوں کی شادی کروا رہا ہوں۔ ‘‘

’’کیا کوئی میرج سینٹر۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’نہیں بھئی، تم سے بچھڑنے کے بعد سے فی سبیل اللہ یہ فرض سر انجام دے رہا ہوں۔ ‘‘

’’وہ کیسے ؟‘‘

’’ایک کلو میٹر کے دائرے میں جو لڑکی شادی کے قابل ہوتی ہے، اُس کے ساتھ شادی کا پروگرام بنانا شروع کر دیتا ہوں  اور پھر اُس کی شادی ہو جاتی ہے۔ ‘‘

’’میں سمجھا نہیں، پاکستانی عوام کی طرح۔ ‘‘

’’ارے گھامڑ، جب ہمارے چرچے ہر زبان پر پہنچتے ہیں تو اُس کے گھر والے فوراً اُس کی شادی کر دیتے ہیں۔ ‘‘

’’یہ چرچے تمھارے والدین تک نہیں پہنچے کہ تمھارا بھی کریا کرم کر دیتے ؟‘‘

’’بالکل پہنچے، ایک دن شکایت وصول کرنے کے بعد ابو نے انتہائی جارحانہ انداز میں مجھے طلب کیا  اور آہستہ سے بولے یار! لڑکی پٹائی کیسے تھی؟‘‘

’’ہیں ؟ پھر کیا ہوا؟‘‘

’’میں نے کچھ جدید فارمولے اُن کو بتا دئیے۔ ‘‘

’’اوہ۔ ۔ ۔ پھر۔ ۔ ۔ پھر کیا ہوا؟‘‘

’’محبو

بہ نمبر ۴۵ اب ہماری دوسری ممی ہے۔ ‘‘

 

قلم آرائیاں از خادم حسین مجاہد

٭٭

 

درختوں کی چھاؤں  اور زلفوں کی چھاؤں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آپ درختوں کی چھاؤں میں سرِ عام بیٹھ سکتے ہیں۔

قلم آرائیاں از خادم حسین مجاہد

٭٭

 

دنیا کی تمام عورتوں سے اگر فرمائش کا عطر نکال لیں تو چاروں برِ اعظم ڈوب جائیں گے۔

قلم آرائیاں از خادم حسین مجاہد

٭٭٭

تشکر: مدیر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید