FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

حصہ دوم یہاں دیکھیں

باغ و بہار یعنی (قصہ چہار درویش)

مولفہ: میر امن دہلوی

 

مع مقدمہ و فرہنگ

 

باغ و بہار یعنی (قصہ چہار درویش)

مولفہ: میر امن دہلوی

مع مقدمہ و فرہنگ

 

عرضی میر امن دلی والے کی

جو

مدرسے کے مختار صاحبوں کے حضور میں دی گئی۔

صاحبان والا شان نجیبوں کے قدر دانوں کو خدا سلامت رکھے۔ اس بے وطن نے حکم اشتہار کا سن کر چار درویش کے قصے کو ہزار جد و کد سے اردوئے معلا کی زبان میں باغ و بہار بنایا۔ فضلِ الٰہی سے سب صاحبوں کے سیر کرنے کے باعث سر سبز ہوا۔ اب امیدوار ہوں کہ اسکا پھل مجھے بھی ملے، تو میرا غنچۂ دل مانند گل کے کھلے۔ بقول حکیم فردوسی کے کہ شاہ نامے میں کہا ہے۔

بسے رنج بر دریں سال سی

عجم زندہ کردم بہ ایں پارسی

سو اردو کی آراستہ کر زباں

کیا، میں نے بنگالہ ہندوستاں

خداوند آپ قدر دان ہیں، حاجت غرض کرنے کی نہیں.

الٰہی تارا اقبال کا چمکتا رہے۔

 

مقدمہ ۔ میر امن دہلوی

سبحان اللہ، کیا صانع ہے کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹی کی مورتیں پیدا کیں باوجود رنگ کے ایک گورا اور ایک کالا۔ اور یہی ناک، کان، ہاتھ پاؤں سب کو دیئے ہیں۔ تس پر، رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی، جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں۔ کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیئے، پہچان لیجئے۔ آسمان اس کے دریائے وحدت کا ایک بلبلا ہے اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہے کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے پر اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ جسکی یہ قدرت اور سکت ہو اسکی حمد و ثنا میں زبان انسان کی گویا گونگی ہے، کہیے تو کیا کہیے، بہتر یوں ہے کہ جس بات میں دم نہ مار سکے، چپکا ہو رہے۔

عرش سے لے کر فرش تک جس کا یہ سامان ہے

حمد اس کی اگر لکھا چاہوں تو کیا امکان ہے

جب پیمبر نے کہا ہو میں نے پہچانا نہیں

پھر جو کوئی دعویٰ کرے اس کا، بڑا نادان ہے

رات دن یہ مہر و مہ پھرتے ہیں صنعت دیکھتے

پر ہر اک واحد کی صورت دیدۂ حیران ہے

جس کا ثانی اور مقابل ہے نہ ہووے گا کھبو

ایسے یکتا کو خدائی سب طرح شایان ہے

لیکن اتنا جانتا ہوں خالق و رزاق ہے وہ

ہر طرح سے مجھ پر اس کا لطف اور احسان ہے

اور درود اس کے دوست پر جس کی خاطر، زمین و آسمان کو پیدا کیا اور درجہ رسالت کا دیا۔

جسم پاک مصطفیٰ، اللہ کا اک نور ہے

اس لئے پرچھائیں اس قد کہ نہ تھی، مشہور ہے

حوصلہ میرا کہاں اتنا، جو نعت اس کی کہوں

پر سخن گویوں کا یہ بھی قاعدہ دستور ہے

اور اس کی آل پر صلوٰۃ و سلام، جو ہیں بارہ امام

حمدِ حق اور نعتِ احمد کو یہاں کر انصرام

اب میں آغاز اس کو کرتا ہوں جو ہے منظور کام

یا الٰہی واسطے اپنے نبی کی آل کے

کر یہ میری گفتگو مقبول طبع خاص و عام

 

سبب تالیفِ کتاب

منشا اس تالیف کا یہ ہے کہ سن ایک ہزار دو سو پندرہ برس ہجری اور اٹھارہ سے ایک سال عیسوی مطابق ایک ہزار دو سو سات سن فصلی کے عہد میں اشرف الاشراف مارکوئس ولزلی، گورنر جنرل، لارڈ مارننگٹن صاحب کے (جن کی تعریف میں عقل حیران اور فہم سرگردان ہے۔ جتنے وصف سرداروں کو چاہیے انکی ذات میں خدا نے جمع کئے ہیں۔ غرض، قسمت کی خوبی، اس ملک کی تھی جو ایسا حاکم تشریف لایا، جس کے قدم کے فیض سے ایک عالم نے آرام پایا۔ مجال نہیں کوئی کسو پر زبردستی کرسکے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں، سارے غریب و غربا دعا دیتے ہیں اور جیتے ہیں) چرچا علم کا پھیلا۔ صاحبانِ ذی شان کو شوق ہوا کہ اردو زبان سے واقف ہو کر ہندوستانیوں سے گفت و شنید کریں اور ملکی کام کو بہ آگاہی تمام انجام دیں۔ اس واسطے کتنی کتابیں اسی سال بموجب فرمائش کے تالیف ہوئیں۔

جو صاحب دانا اور ہندوستان کی زبان بولنے والے ہیں، انکی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ قصہ چار درویش کا، ابتدا میں امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاء، زری زر بخش، (جو انکے پیر تھے اور درگاہ انکی دلی میں، قلعے سے تین کوس، لال دروازے کے باہر، مٹیا دروازے سے آگے، لال بنگلے کے پاس ہے) انکی طبیعت ماندی ہوئی۔ تب مرشد کا دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کہتے اور تیمار داری میں حاضر رہتے۔ اللہ نے چند روز میں شفا دی۔ تب انہوں نے غسلِ صحت کے دن یہ دعا دی کہ جو کوئی اس قصے کو سنے گا، خدا کے فضل سے تندرست رہے گا۔ جب یہ قصہ فارسی میں مروج ہوا۔

اب خداوندِ نعمت، صاحبِ مروت، نجیبوں کے قدردان، جان گلکرسٹ صاحب نے (کہ ہمیشہ ان کا اقبال زیادہ رہے، جب تلک گنگا جمنا بہے) لطف فرمایا کہ اس قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں جو اردو کے لوگ، ہندو مسلمان، عورت مرد، لڑکے بالے، خاص و عام آپس میں بولتے چالتے ہیں، ترجمہ کرو۔ موافق حکم حضور کے، میں نے ابھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔

پہلے اپنا احوال یہ عاصی گنہگار، میر امن دلی والا بیان کرتا ہے کہ میرے بزرگ ہمایوں بادشاہ کے عہد سے ہر ایک بادشاہ کی رکاب میں، پشت بہ پشت، جاں فشانی بجا لاتے رہے اور وہ بھی پرورش کی نظر سے، قدر دانی جتنی چاہیے، فرماتے رہے۔ جاگیر و منصب اور خدمات کی عنایات سے سرفراز کر کر، مالا مال اور نہال کر دیا اور خانہ زاد موروثی، اور منصب دار قدیمی، زبانِ مبارک سے فرمایا، چنانچہ یہ لقب بادشاہی دفتر میں داخل ہوا۔ جب ایسے گھر کی (کہ سارے گھر اس گھر کے سبب آباد تھے) یہ نوبت پہنچی، ظاہر ہے۔ (عیاں را چہ بیاں) تب سورج مل جاٹ نے جاگیر کو ضبط کر لیا اور احمد شاہ درانی نے گھر بار تاراج کیا۔ ایسی ایسی تباہی کھا کر ویسے شہر سے (کہ وطن اور جنم بھوم میرا ہے، اور آنول نال وہیں گڑا ہے) جلا وطن ہوا، اور ایسا جہاز کہ جس کا ناخدا بادشاہ تھا، غارت ہوا۔ میں بے کسی کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔ ڈوبتے کو تنکے کا آسرا بہت ہے۔ کتنے برس بلدۂ عظیم آباد میں دم لیا۔ کچھ بنی کچھ بگڑی، آخر وہاں بھی پاؤں اکھڑے، روزگار نے موافقت نہ کی۔ عیال و اطفال کو چھوڑ کر تن تنہا کشتی پر سوار ہوا، اشرف البلاد کلکتے میں آب و دانے کے زور سے آ پہنچا۔ چندے بیکاری گزری۔ اتفاقاً نواب دلاور جنگ نے بلوا کر، اپنے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم خاں کی اتالیقی کے واسطے مقرر کیا۔ قریب دو سال کے وہاں رہنا ہوا، مگر نباہ اپنا نہ دیکھا۔ تب منشی میر بہادر علی جی کے وسیلے سے، حضور تک، جان گلکرسٹ صاحب بہادر (دام اقبالہ) کے، رسائی ہوئی۔ بارے، طالع کی مدد سے ایسے جواں مرد کا دامن ہاتھ لگا ہے، چاہیے کہ دن کچھ بھلے آویں۔ نہیں تو یہ بھی غنیمت ہے کہ ایک ٹکڑا کھا کر، پاؤں پھیلا کر سو رہتا ہوں اور گھر میں دس آدمی، چھوٹے بڑے، پرورش پا کر دعا اس قدردان کو کرتے ہیں۔ خدا قبول کرے۔

حقیقت اردو کی زبان کی، بزرگوں کے منہ سے یوں سنی ہے کہ دلی شہر ہندوؤں کے نزدیک چوجگی ہے، انہیں کے راجا پرجا قدیم سے رہتے تھے اور اپنی بھاکھا بولتے تھے۔ ہزار برس سے مسلمانوں کا عمل ہوا۔ سلطان محمود غزنوی آیا، پھر غوری اور لودھی بادشاہ ہوئے۔ اس آمدورفت کے باعث کچھ زبانوں نے ہندو مسلمان کی آمیزش پائی۔ آخر امیر تیمور نے (جن کے گھرانے میں اب تلک نام نہاد سلطنت کا، چلا جاتا ہے) ہندوستان کو لیا۔ ان کے آنے اور رہنے سے لشکر کا بازار شہر میں داخل ہوا۔ اس واسطے شہر کا بازار اردو کہلایا۔ پھر ہمایوں بادشاہ پٹھانوں کے ہاتھ سے حیران ہو کر ولایت گئے۔ آخر وہاں سے آن کر پسماندوں پٹھانوں کی گوشمالی کی۔ کوئی مفسد باقی نہ رہا کہ فتنہ و فساد برپا کرے۔

جب اکبر بادشاہ تخت پر بیٹھے تب چاروں طرف کے ملکوں سے قوم، قدردانی اور فیض رسانی اس خاندانِ لاثانی کی سن کر، حضور میں آ کر جمع ہوئے۔ لیکن ہر ایک کی گویائی اور بولی جُدی جُدی تھی۔ اکٹھے ہونے سے آپس میں لین دین، سودا سلف، سوال و جواب کرنے کی زبان اردو کی مقرر ہوئی۔ جب حضرت شاہ جہان، صاحب قران نے قلعۂ مبارک اور جامع مسجد اور شہر پناہ تعمیر کروایا اور تخت طاؤس میں جواہر جڑوایا اور دل بادل سا خیمہ، چوبوں پر استاد کر، طنابوں سے کھنچوایا اور نواب علی مردان خان نہر کو لے کر آیا، تب بادشاہ نے خوش ہو کر جشن فرمایا اور شہر کو اپنا دارالخلافت بنایا، تب سے شاہ جہاں آباد مشہور ہوا (اگرچہ دلی جُدی ہے، وہ پرانا شہر اور یہ نیا شہر کہلاتا ہے) اور وہاں کے بازار کو اردوئے معلیٰ خطاب دیا۔

امیر تیمور کے عہد سے محمد شاہ کی بادشاہت، بلکہ احمد شاہ اور عالم گیر ثانی کے وقت تک، پیڑھی بہ پیڑھی، سلطنت یکساں چلی آئی، ندان، زبان اردو کی منجھتے منجھتے ایسی منجھی کہ کسو شہر کی بولی اس سے ٹکر نہیں کھاتی، لیکن قدردان منصف چاہیے، جو تجویز کرے۔ سو اب خدا نے، بعد موت کے، جان گلکرسٹ صاحب سا دانا، نکتہ رس پیدا کیا کہ جنہوں نے اپنے گیان اور اُگت سے، اور تلاش و محنت سے، قاعدوں کی کتابیں تصنیف کیں۔ اس سبب سے ہندوستان کی زبان کا ملکوں میں رواج ہوا اور نئے سر سے رونق زیادہ ہوئی۔ نہیں تو اپنی دستار و گفتار و رفتار کو کوئی برا نہیں جانتا۔ اگر ایک گنوار سے پوچھیے تو شہر والے کو نام رکھتا ہے، اور اپنے تئیں سب سے بہتر سمجھتا ہے۔ خیر عاقلاں خود میدانند۔

جب احمد شاہ ابدالی کابل سے آیا اور شہر کو لٹوایا، شاہ عالم پورب کی طرف تھے۔ کوئی وارث اور مالک، ملک کا نہ رہا، شہر بے سر ہو گیا۔ ہیچ ہے، بادشاہت کے اقبال سے شہر کی رونق تھی۔ ایک بارگی تباہی پڑی۔ رئیس وہاں کے، میں کہیں تم کہیں، ہو کر جہاں جس کے سینگ سمائے وہاں نکل گئے۔ جس ملک میں پہنچے، وہاں کے آدمیوں کے ساتھ سنگت سے بات چیت میں فرق آیا۔ اور بہت ایسے ہیں کہ دس پانچ برس کسو سبب سے دلی میں گئے اور رہے، وے بھی کہاں تک بول سکیں گے، کہیں نہ کہیں چوک ہی جائیں گے۔ اور جو شخص سب آفتیں سہہ کر دلی کا روڑا ہو کر رہا، اور دس پانچ پشتیں اسی شہر میں گزاریں، اور اس نے دربار امراؤں کے، اور میلے ٹھیلے، عرس چھڑیاں سیر تماشا اور کوچہ گردی اس شہر کی مدت تلک کی ہوگی، اور وہاں سے نکلنے کے بعد اپنی اپنی زبان کو لحاظ میں رکھا ہوگا، اس کا بولنا البتہ ٹھیک ہے۔ یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تماشا دیکھتا یہاں تلک پہنچا ہے۔

 

باغ و بہار

مقدمہ

)ڈاکٹر جان گلکرسٹ(

یہ قصہ اردو میں ترجمہ ہونے سے پہلے فارسی زبان میں قصۂ چہار درویش کے نام سے ایک زمانے میں مقبولِ خاص و عام رہا ہے۔ اسکی تصنیف کا سبب یہ ہے کہ ایک دفعہ امیر خسرو کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی طبیعت ناساز ہوئی، تب ان کا دل بہلانے کیلیے امیر خسرو نے یہ قصہ فارسی زبان میں کہا۔ اردو میں اس کا ترجمہ سب سے پہلے میر حسین عطا خان تحسین نے کیا اور اس کا نام نو طرز مرصع رکھا۔ لیکن اردو زبان کے ایک معیاری نمونے کی حیثیت سے ان کا یہ ترجمہ ناقص قرار پایا کیونکہ اس میں عربی اور فارسی کے فقروں اور محاوروں کی بہتات ہے۔ اس نقص کو دور کرنے کیلیے میر امن عالم و فاضل، دلی والے جو کہ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ ہیں، عطا خان تحسین کے ترجمے سے یہ نیا اسلوب (version) نکالا ہے۔ میر امن ایک سہل و سادہ اور صاف اسلوب کے نکالنے میں کس قدر کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ ہندوستانی زبان کا کوئی بھی عالم کرسکتا ہے۔ وہ ریختہ کے محاوروں کو ایسی صحت اور عفت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ اس کے دیکھنے سے اس بات کا یقینِ کامل ہوتا ہے کہ ان کی واقفیت اردو زبان سے بڑی گہری تھی۔

اس قصے میں ایشیائی رسم و رواج کا مذکور بہت خوب ہے اور ان کے بیان میں ایک ایسی کلاسیکی طہارت پائی جاتی ہے کہ اس سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ یہ قصہ ان کا اپنا طبع زاد ہے۔ یہ کتاب اپنی اس خصوصیت کے باعث ہندوستان کی ان کتابوں کے سرمائے میں ایک بیش بہا اضافہ کرتی ہے جو کہ حال ہی میں وہاں کی معروف اور مقبول زبان میں شائع ہوئی ہیں۔

)ترجمہ(

 

آغاز

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سبحان اللہ کیا صانع ہے! کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹّی کی مورتیں پیدا کیں! باوجود دو رنگ کے ایک گورا ایک کالا اور یہی ناک کان ہاتھ پاؤ سب دیے ہیں۔ اس پر رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں، کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیے پہچان لیجئے۔ آسمان اس کے دریاۓ وحدت کا ایک بلبلا ہے، اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہی کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے، پر اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ جس کی یہ قدرت اور سکت ہو اس کی حمد و ثنا میں زبان انسان کی گویا گونگی ہے۔ کہے! بہتر یوں ہی کہ جس بات میں دم نہ مار سکے، چپکا ہو رہے،

عرش سے لے کر فرش تک جس کا کہ یہ سامان ہے

حمد اس کی گر لکھنا چاہوں، تو کیا امکان ہے!

جب پیمبر نے کہا ہو، “میں نے پہچانا نہیں”

پھر کوئی دعوا کرے اس کا، بڑا نادان ہے

رات دن یہ مہرو مہ پھرتے ہیں صنعت دیکھتے

پر ہر ایک واحد کی صورت دیسہ حیران ہے

جس کا ثانی اور مقابل ہے نہ ہووے گا کبھو

ایسا یکتا کو خدائی سب طرح شایان ہے

 

آغاز قصے کا

اب آغاز قصے کا کرتا ہوں، ذرا کان دھر کر سنو اور منصفی کرو۔ سیر میں چہار درویش کے یوں لکھا ہے اور کہنے والے نے کہا ہے کہ آگے روم کے ملک میں ایک شہنشاہ تھا۔ کہ نوشیرواں کی سی عدالت اور حاتم کی سی سخاوت اس کی ذات میں تھی۔ نام اسکا آزاد بخت اور شہر قسطنطنیہ(جس کو استنبول کہتے ہیں) اس کا پایۂ تخت تھا۔ اس کے وقت میں رعیت آباد، خزانہ معمور، لشکر مرفّہ، غریب غربا آسودہ، ایسے چین سے گزران کرتے اور خوشی سے رہتے کہ ہر ایک کے گھر میں دن عید، اور رات شبِ برات تھی۔ اور جتنے چور چکار، جیب کترے، صبح خیزے اٹھائی گیرے دغا باز تھے، سب کو نیست و نابود کر کر نام و نشان ان کا اپنے ملک بھر میں نہ رکھا تھا۔ ساری رات دروازے گھروں کے بندے نہ ہوتے اور دکانیں بازار کی کھلی رہتیں۔ راہی مسافر جنگل میدان میں سونا اچھالتے  چلے جاتے کوئی نہ پوچھتا کہ تمھارے منہ میں دانت ہیں، اور کہاں جاتے ہو؟

اس بادشاہ کے عمل میں ہزاروں شہر تھے، اور کئی سلطان نعل بندی دیتے، ایسی بڑی سلطنت پر ایک ساعت اپنے دل کو خدا کی یاد اور بندگی سے غافل نہ کرتا۔ آرام دنیا کا جو چاہے سب موجود تھا، لیکن فرزند کی طرف سے محروم تھا۔ کہ جو زندگانی کا پھل ہے اس کی قسمت کے باغ میں نہ تھا۔ اس خاطر اکثر فکر مند رہتا۔ پانچوں وقت کی نماز کے بعد اپنے کرم سے کہتا کہ اے اللہ مجھ عاجز کو تو نے اپنی عنایت سے سب کچھ دیا لیکن ایک اس اندھیرے گھر کو دیا نہ دیا۔ یہی ارمان جی میں باقی ہے ایک بیٹا جیتا جاگتا مجھے دے تو تو میرا نام اور اس سلطنت کا نشان باقی رہے۔ اسی امید میں بادشاہ کی عمر چالیس برس کی ہو گئی۔ ایک دن شیش محل میں نماز ادا کر وظیفہ پڑھ رہے تھے کہ ایک بارگی آئینہ کی طرف جو خیال کرتے ہیں تو ایک سفید بال موچھوں میں نظر آیا کہ مانند تار مقیش کے چمک رہا ہے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر آبدیدہ ہوئے اور ٹھنڈی سانس بھری پھر دل میں سوچا کیا کہ افسوس تو نے اتنی عمر ناحق برباد کی اور اس دنیا کی حرص میں ایک عالم کو زیر و زبر کیا اور ملک جو لیا اب تیرے کس کام آئے گا۔ آخر یہ سارا مال و سباب کوئی دوسرا اور آئے گا تجھے تو پیغام موت کا آ چکا۔ اگر کوئی دن جئے بھی تو بدن کی طاقت کم ہو گی۔

اس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ میری تقدیر میں نہیں لکھا کہ وارث چیز اور تخت کا پیدا ہو مجھے ایک روز مرنا ہے اور سب کچھ چھوڑ جانا ہے اس سے یہ بہتر ہے کہ میں ہی اسے چھوڑ دوں اور باقی زندگانی اپنے خالق کی یاد میں کاٹوں۔ یہ بات اپنے دل میں ٹھہرا کر پائیں باغ میں جا کر سب مجرائیوں کو جواب دے کر فرمایا کہ کوئی آج سے میرے پاس نہ آوے۔ سب دیوان عام میں آیا جایا کریں اور اپنے کام میں مستعد رہیں یہ کہہ کر آپ ایک مکان میں جا بیٹھے۔ اور مصلاّ بچھا کر عبادت میں مشغول ہوئے سوائے رونے اور آہ بھرنے کے کچھ کار نہ تھا۔ اسی طرح بادشاہ آزاد بخت کو کئی دن گزرے شام کو روزہ کھولنے کے وقت ایک چھوہارا اور تین گھونٹ پانی پیتے اور تمام دن رات جانماز پر پڑے رہتے۔ اس بات کا باہر چرچا پھیلا رفتہ رفتہ تمام ملک میں خبر ہو گئی کہ بادشاہ نے بادشاہت سے ہاتھ کھینچ کر گوشہ نشینی اختیار کی۔ چاروں طرف سے غنیموں اور مفسدوں نے سر اٹھایا اور قدم اپنی حد سے بڑھایا جس نے چاہا ملک دبا لیا اور سر انجام سر کشی کا کیا ہوا جہاں کہیں حاکم تھے ان کے حکم میں خلل عظیم واقع ہوا۔ ہر ایک صوبے سے غرضی بد عملی کی حضور میں پہنچی۔ درباری امراء جتنے تھے جمع ہوئے اور اصلاح مصلحت کرنے لگے۔ آخر یہ تجویز ٹیرائی کہ نواب وزیر عاقل اور دانا اور بادشاہ کا مقرب اور معتمد ہے اور درجے میں بھی سب سے بڑا ہے اس کی خدمت میں چلیں اور دیکھیں کہ وہ کیا مناسب جان کر کرتا ہے۔ سب ہی امیر وزیر کے پاس آئے اور کہا بادشاہ کی یہ صورت اور ملک کی وہ حقیقت اگر چندے تغافل ہو تو اس محنت کا ملک لیا ہو مفت میں جاتا رہے گا، پھر ہاتھ آنا مشکل ہے۔ وزیر پرانا قدیم نمک حلال اور عقل مند نام بھی خرد مند اسم با مسمّیٰ تھا کہا اگر چہ بادشاہ نے حضور میں آنے کو منع کیا ہے۔ لیکن تم چلو میں چلتا ہوں۔ بادشاہ کے خیال میں آوے جو روبرو بلائے۔ یہ کہہ کر سب کو اپنے ساتھ دیوان عام تک لا ان کو وہاں چھوڑ کر آپ دیوان خاص میں آیا اور بادشاہ کی خدمت میں محلی کے ہاتھ کہلا بھیجا کہ یہ پیر غلام حاضر ہے۔ کئی دنوں سے جمال جہاں آرا نہیں دیکھا امید وار ہوں کہ ایک نظر دیکھ کر قدم بوسی حاصل کروں تو خاطر جمع ہو۔ یہ عرض وزیر کی بادشاہ نے سنی۔ از بسکہ قدامت اور خیر خواہی اور تدبیر اور جان نثاری اس کی جانتے تھے اور اکثر اسکی بات مانتے تھے۔ بعد تائل کے فرمایا خرد مند کو بلا لو بارے جب پروانگی ہوئی وزیر حضور میں آیا آداب بجا لایا۔ اور دست بستہ کھڑا رہا۔

دیکھا تو بادشاہ کی عجیب صورت بن رہی ہے کہ زار زار رو رہے ہیں اور دبلاپے سے آنکھوں میں حلقے پڑ گئے ہیں اور چہرہ زرد ہو گیا ہے۔

خرد مند کو تاب نہ رہی، بے اختیار دوڑ قدموں پر جا گرا۔ بادشاہ نے ہاتھ سے سر اس کا اٹھایا اور فرمایا لو، مجھے دیکھا، خاطر جمع ہوئی؟ اب جاؤ، زیادہ مجھے نہ ستاؤ، تم سلطنت کرو۔ خرد مند سن کر، ڈاڑھ مار کر رویا اور عرض کی غلام کو آپ کے تصدق اور سلامتی سے ہمیشہ بادشاہت میسر ہے۔ لیکن جہاں پناہ کی یک بیک اس طرح کی گوشہ گیری سے تمام ملک میں تہلکہ پڑ گیا ہے اور انجام اس کا اچھا نہیں۔ یہ کیا خیال مزاج مبارک میں آیا؟ اگر اس خانہ زاد موروثی کو بھی محرم اس راز کا کیجیے تو بہتر ہے۔ جو کچھ عقلِ ناقص میں آوے، التماس کرے۔ غلاموں کو جو یہ سرفرزایاں بخشی ہیں، اسی دن کے واسطے کہ بادشاہ عیش و آرام کریں، اور نمک پرور دے تدبیر میں ملک کی رہیں۔ خدانخواستہ جب فکر مزاج عالی کے لاحق ہوئی تو بند ہائے بادشاہی کس دن کام آویں گے؟ بادشاہ نے کہا سچ کہتا ہے، پر جو فکر میرے جی کے اندر ہے، سو تدبیر سے باہر ہے۔ سن اے خرد مند میری ساری عمر اسی ملک گیری کے دردِ سر میں کٹی، اب یہ سِن و سال ہوا، آگے موت باقی ہے، سو اس کا بھی پیغام آیا کہ سیاہ بال سفید ہو  چلے۔ وہ مثل ہے، ساری رات سوئے، اب صبح کو بھی نہ جاگیں؟ اب لک ایک بیٹا پیدا نہ ہوا جو میری خاطر جمع ہوتی، اس لیے دل سخت اداس ہوا اور میں سب کچھ چھوڑ بیٹھا، جس کا جی چاہے، ملک لے یا مال لے، مجھے کچھ کام نہیں، بلکہ کوئی دم میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ سب چھوڑ کر، جنگل اور پہاڑوں میں نکل جاؤں اور منھ اپنا کسو کو نہ دکھاؤں، اسی طرح یہ چند روز کی زندگی بسر کروں۔ اگر کوئی مکان خوش آیا تو وہاں بیٹھ کر بندگی اپنے معبود کی بجا لاؤں گا۔ شاید عاقبت بخیر ہو اور دنیا کو تو خوب دیکھا، کچھ مزہ نہ پایا۔ اتنی بات بول کر، اور ایک آہ بھر کر، بادشاہ چپ ہوئے۔

خرد مند ان کے باپ کا وزیر تھا، جب یہ شہزادے تھے، تب سے محبت رکھتا تھا، علاوہ دانا اور نیک اندیش تھا، کہنے لگا خدا کی جناب سے ناامید ہونا ہر گز مناسب نہیں۔ جس نے ہیژدہ ہزار عالم کو ایک حکم میں پیدا کیا، تمھیں اولاد دینی اس کے نزدیک کیا بڑی بات ہے؟قبلہ عالم اس تصورِ باطل کو دل سے دور کرو، نہیں تو تمام عالم درہم برہم ہو جائے گا۔ اور یہ سلطنت کس کس محنت اور مشقت سے تمھارے بزرگوں نے اور تم نے پیدا کی ہے؟ ایک ذرا میں ہاتھ سے نکل جائے گی اور بے خبری سے ملک ویران ہو جائے گا۔ خدانخواستہ بدنامی حاصل ہو گی۔ اس پر بھی بازپرس روزِ قیامت کی ہوا چاہے کہ تجھے بادشاہ بنا کر، اپنے بندوں کو تیرے حوالے کیا تھا، تو ہماری رحمت سے مایوس ہوا اور رعیت کو حیران پریشان کیا۔ اس سوال کا کیا جواب دو گے؟ پس عبادت بھی اس روز کام نہ آئے گی۔ اس واسطے کہ آدمی کا دل خدا کا گھر ہے۔ اور بادشاہ فقط عدل کے واسطے پوچھے جائیں گے۔ غلام کی بے ادبی معاف ہو، گھر سے نکل جانا اور جنگل جنگل پھرنا، کام جوگیوں اور فقیروں کا ہے۔نہ کہ بادشاہوں کا۔ تم اپنی جوگا کام کرو، خدا کی یاد اور بندگی جنگل پہاڑ پر موقوف نہیں۔ آپ نے یہ بیت سنی ہو گی۔

خدا اس پاس، یہ ڈھونڈے جنگل میں

ڈھنڈھورا شہر میں، لڑکا بغل میں

اگر منصفی فرمائیے، اور اس فدوی کی عرض قبول کیجئے تو بہتر یوں ہے کہ جہاں پناہ ہر دم اور ہر ساعت دھیان اپنا خدا کی طرف لگا کر، دعا مانگا کریں۔ اس کی درگاہ سے کوئی محروم نہیں رہا۔ دن کو بندوبست ملک کا اور انصاف، عدالت غریب غربا کی فرمائیں، تو بندے خدا کے دامنِ دولت کے سایے میں امن و امان خوش رہیں، اور رات کو عبادت کیجئے اور درود پیغمبر کی روحِ پاک کو نیاز کر کر درویش گوشہ نشین متوکلوں سے مدد لیجئے، اور روز راتب یتیم اسیر عیال داروں محتاجوں اور رانڈ بیواؤں کو کر دیجئے۔ ایسے اچھے کاموں اور نیک نیتوں کی برکت ہے، خدا چاہے تو امید قوی ہے۔ کہ تمھارے دل کے مقصد اور مطلب سب پورے ہوں۔ اور جس واسطے مزاجِ عالی مکدر ہو رہا ہے۔ وہ آرزو بر آوے، اور خوشی خاطر شریف کو ہو جاوے۔ پروردگار کی عنایت پر نظر رکھیے۔ کہ وہ ایک دم میں جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ بارے خرد مند وزیر کے ایسی ایسی عرض معروض کرنے سے آزاد بخت کے دل کو ڈھارس بندھی۔ فرمایا، اچھا تو جو کہتا ہے بھلا یہ بھی کر دیکھیں، آگے جو اللہ کی مرضی ہو گی، سو ہو گا۔

جب بادشاہ کے دل کو تسلّی ہوئی، تب وزیر سے پوچھا کہ اور سب امیر و کبیر کیا کرتے ہیں اور کس طرح ہیں؟ اس نے عرض کہ کہ سب ارکانِ دولت قبلہ عالم کے جان و مال کو دعا کرتے ہیں۔ آپ کی فکر سے سب حیران و پریشان ہو رہے ہیں۔ جمال مبارک اپنا دکھائیے تو سب کی خاطر جمع ہووے، چناں چہ اس وقت دیوانِ عام میں حاضر ہیں۔ یہ سن کر بادشاہ نے حکم کیا، انشاءاللہ تعالیٰ کل دربار کروں گا، سب کو کہ دو حاضر رہیں۔ خرد مند یہ وعدہ سن کر خوش ہوا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا دی کہ جب تلک یہ زمین و آسمان برپا ہیں تمھارا تاج و تخت قائم رہے۔ اور حضور سے رخصت ہو کر خوشی خوشی باہر نکلا، اور یہ خوش خبری امراؤں سے کہی۔ سب امیر ہنسی خوشی گھر کو گئے۔ سارے شہر میں آنند ہو گئی۔ رعیّت پر جا مگن ہوئی کہ کل بادشاہ دربارِ عام کرے گا۔ صبح کو سب خانہ زاد اعلیٰ ادنیٰ، اور ارکانِ دولت چھوٹے بڑے، اپنے اپنے پائے اور مرتبے پر آ کر کھڑے ہوئے، اور منتظر جلوہ بادشاہی کے تھے۔

جب پہر دن چڑھا ایک بارگی پردہ اٹھا اور بادشاہ نے برآمد ہو کر تختِ مبارک پر جلوس فرمایا۔ نوبت خانے میں شادیانے بجنے لگے۔ سبھوں نے نذریں مبارک بادی کی گزرانیں۔ اور مجرے گاہ میں تسلیمات و کورنشات بجا لائے۔ موافق قدر و منزلت کے ہر ایک کو سرفرازی ہوئی۔ سب کے دل کو خوشی اور چین ہوا۔ جب دوپہر ہوئی، برخاست ہو کر اندرونِ محل داخل ہوئے، خاصہ نوشِ جان فرما کر خواب گاہ میں آرام کیا۔ اس دن سے بادشاہ نے یہی مقرر کیا کہ ہمیشہ صبح کو دربار کرنا، اور تیسرے پہر کتاب کا شغل یا درود وظیفہ پڑھنا، اور خدا کی درگاہ میں توبہ استغفار کر کر، اپنے مطلب کی دعا مانگنی۔

ایک روز کتاب میں بھی لکھا دیکھا، کہ اگر کسی شخص کو غم یا فکر ایسی لاحق ہو کہ اس کا علاج تدبیر سے نہ ہو سکے تو چاہیے کہ تقدیر کے حوالے کرے اور آپ گورستان کی طرف رجوع کرے، درود طفیل پیغمبر کی روح کے ان کو بخشے، اور اپنے تئیں نیست و نابود سمجھ کر، دل کو اس غفلت دنیوی سے ہوشیار رکھے، اور عبرت سے رو دے، اور خدا کی قدرت کو دیکھے کہ مجھ سے آگے کیسے کیسے صاحب ملک و خزانہ اس زمین پر پیدا ہوئے؟ لیکن آسمان نے سب کو اپنی گردش میں لا کر خاک میں ملا دیا۔ یہ کہاوت ہے ۔

چلتی چکی دیکھ کر، دیا کبیرا رو

دو پاٹن کے بیچ آ، ثابت گیا نہ کو

اب جو دیکھیے سوائے ایک مٹی کے ڈھیر کے ان کا کچھ نشان باقی نہیں رہا اور سب دولتِ دنیا گھر بار، آل اولاد، آشنا دوست، نوکر چاکر، ہاتھی گھوڑے چھوڑ کر اکیلے پڑے ہیں۔ یہ سب ان کا کچھ کام نہ آیا، بلکہ ان کوئی نام بھی نہیں جانتا کہ یہ کون تھے اور قبر کے اندر کا احوال معلوم نہیں کہ (کیڑے مکوڑے چیونٹے سانپ ان کو کھا گئے یا) ان پر کیا بیتی اور خدا سے کیسی بنی۔ بے باتیں اپنے دل میں سوچ کر ساری دنیا کو پیکھنے کا کھیل جانے، تب اس کے دل کا غنچہ ہمیشہ شگفتہ رہے گا، کسو حالت میں پژمردہ نہ ہو گا۔ یہ نصیحت جب کتاب میں مطالعہ کی، بادشاہ کو خرد مند وزیر کا کہنا یاد آیا اور دونوں کو مطابق پایا۔ یہ شوق ہوا کہ اس پر عمل کروں لیکن سوار ہو کر اور بھیٹ بھاڑ لے کر، پادشاہوں کی طرح سے جانا اور پھرنا، مناسب نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ لباس بدل کر رات کو اکیلے مقبروں میں یا کسی مردِ خدا گوشہ نشین کی خدمت میں جایا کروں، اور شب بیدار ہوں، شاید ان مردوں کے وسیلے سے دنیا کی مراد اور عاقبت کی نجات میسر ہو۔

یہ بات دل میں مقرر کر کے ایک روز رات کو موٹے جھوٹے کپڑے پہن کر روپے اشرفی لے کر، چپکے قلعے سے باہر نکلے اور میدان کی راہ کی، جاتے جاتے ایک گورستان میں پہنچے، نہایت صدق دل سے درود پڑھ رہے تھے، اور اس وقت بادِ تند چل رہی تھی، بلکہ آندھی کہا چاہیے۔ ایک بارگی بادشاہ کو دور سے ایک شعلہ سا نظر آیا کہ مانند صبح کے تارے کے روشن ہے۔ دل میں اپنے خیال کیا کہ اس آندھی اور اندھیرے میں یہ روشنی خالی حکمت سے نہیں۔ یا یہ طلسم ہے کہ اگر پھٹکری اور گندھک کو چراغ میں بتی کے آس پاس چھڑک دیجئے، تو کیسی ہی ہوا چلے، چراغ گل نہ ہو گا۔ یا کسو دلی کا چراغ ہے کہ جلتا ہے، جو کچھ ہو سو ہو، چل کر دیکھا چاہیے شاید اس شمع کے نور سے میرے بھی گھر چراغ روشن ہو اور دل کی مراد ملے۔ یہ نیت کر کے اس طرف کو چلے۔ جب نزدیک پہنچے، دیکھا تو چار فقیر بےنوا کفنیاں گلے میں ڈالے اور سر زانو پر دھرے، عالم بے ہوشی میں خاموش بیٹھے ہیں اور ان کا یہ عالم ہے جیسے کوئی مسافر اپنے ملک اور قوم سے بچھڑ کر، بے کسی اور مفلسی کے رنج و غم میں گرفتار ہو کر حیران رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سے بے چاروں نقشِ دیوار ہو رہے ہیں۔ اور ایک چراغ پتھر پر دھرا ٹمٹما رہا ہے۔ ہر گز ہوا اس کو نہیں لگتی گویا فانوس اس کا آسمان بنا ہے کہ بے خطرے جلتا ہے۔

آزاد بخت کو دیکھتے ہی یقین آیا کہ مقرر تیری آرزو، ان مردانِ خدا کے قدم کی برکت سے بر آوے گی، اور تیری امید کا سوکھا درخت ان کی توجہ سے ہرا ہو کر پھلے گا۔ ان کی خدمت میں چل کر اپنا احوال کہہ اور مجلس کا شریک ہو، شاید تجھ پر رحم کھا کر دعا کریں جو بے نیاز کے یہاں قبول ہو۔ یہ ارادہ کر کے چاہا کہ قدم آگے دھرے۔ وہیں عقل نے سمجھایا کہ اے بے وقوف جلدی نہ کر، ذرا دیکھ لے۔ تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ اور کدھر جاتے ہیں؟ کیا جانیں یہ دیو ہیں یا غولِ بیابانی ہیں کہ آدمی کی صورت بن کر باہم مل بیٹھے ہیں۔ بہ ہر صورت جلدی کرنا اور اس کے درمیان جا کر مخل خوب نہیں۔ ابھی ایک گوشے میں چھپ کر حقیقت ان درویشوں کی جاننا چاہیے۔ آخر بادشاہ نے یہی کیا کہ ایک کونے میں اس مکان کے چپکا جا بیٹھا کہ کسی کو اس کے آنے کی آہٹ کی خبر نہ ہوئی، اپنا دھیان ان کی طرف لگایا کہ دیکھئے آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں۔ اتفاقاً ایک فقیر کو چھینک آئی، شکر خدا کا کیا، وہ تینوں قلندر اس کی آواز سے چونک پڑے، چراغ کو اکسایا، ٹھیپ تو روشن تھا، اپنے اپنے بستروں پر حقّے بھر کر پینے لگے۔ ایک ان آزادوں میں سے بولا: اے یارانِ ہمدرد و رفیقانِ جہاں گرد! ہم چار صورتیں آسمان کی گردش سے اور لیل و نہار کے انقلاب سے در بہ بر خاک بہ سر ایک مدت پھریں۔ الحمد لللہ کہ طالع کی مدد اور قسمت کی یاوری سے آج اس مقام پر باہم ملاقات ہوئی اور کل کا احوال کچھ معلوم نہیں کہ کیا پیش آوے، ایک گت رہیں یا جدا جدا ہو  جاویں۔ رات بڑی پہاڑ ہوتی ہے، ابھی سے پڑ پڑ رہنا خوب نہیں۔ اس سے یہ بہتر ہے کہ اپنی اپنی سر گزشت جو اس دنیا میں جس پر بیتی ہو (بشرطیکہ جھوٹ اس میں کوڑی بھر نہ ہو) بیان کرے، تو باتوں میں رات کٹ جائے۔ جب تھوڑی شب باقی رہے تب لوٹ پوٹ رہیں گے۔“ سبھوں نے کہا یا ہادی! جو کچھ ارشاد ہوتا ہے۔ ہم نے قبول کیا۔ پہلے آپ ہی اپنا احوال جو دیکھا ہے شروع کیجئے تو ہم مستفید ہوں۔“

 

سیر پہلے درویش کی

پہلا درویش دو زانو ہو بیٹھا اور اپنی سیر کا قصہ اس طرح سے کہنے لگا۔ یا معبود اللہ! ذرا ادھر متوجہ ہو، اور ماجرا اس بے سروپا کا سنو!

یہ سر گزشت میری ذرا کان دھر سُنو!

مجھ کو فلک نے کر دیا زیر و زبر سُنو!

جو کچھ کہ پیش آئی ہے شدت مری تئیں

اُس کا بیان کرتا ہوں تم سر بہ سر سُنو!

اے یاران! میری پیدایش اور وطن بزرگوں کا ملکِ یمن ہے۔ والد اس عاجز کا ملک التجار خواجہ احمد نام بڑا سوداگر تھا۔ اس وقت میں کوئی مہاجن یا بیپاری ان کے برابر نہ تھا۔ اکثر شہروں میں کوٹھیاں اور گُماشتے خرید و فروخت کے واسطے مقرر تھے، اور لاکھوں روپے نقد اور جنس ملک ملک کی گھر میں موجود تھی۔ اُن کے یہاں دو لڑکے پیدا ہوئے، ایک تو یہی فقیر جو کفنی سیلی پہنے ہوئے مرشدوں کے حضوری میں حاضر اور بولتا ہے، دوسری ایک بہن جس کو قبلہ گاہ نے اپنے جیتے جی اور شہر کے سوداگر بچے سے شادی کر دی تھی۔ وہ اپنی سُسرال میں رہتی تھی۔ غرض جس کے گھر میں اتنی دولت اور ایک لڑکا ہو، اُس کا لاڈ پیار کا کیا ٹھکانا ہے؟ مجھ فقیر نے بڑے چاؤ چوز سے ماں باپ کے سائے میں پرورش پائی اور پڑھنا لکھنا سپاہ گری کاکسب و فن، سوداگری کا بہی کھاتہ، روزنامہ، سیکھنے لگا۔ چودہ برس تک نہایت خوشی اور بے فکری میں گزرے، کچھ دُنیا کا اندیشہ دل میں نہ آیا۔ یک بہ یک ایک ہی سال میں والدین قضائے الٰہی سے مر گئے۔

عجب طرح کا غم ہوا، جس کا بیان نہیں کر سکتا۔ ایک بارگی یتیم ہو گیا۔ کوئی سر پر بوڑھا بڑا نہ رہا۔ اس مصیبتِ ناگہانی سے رات دن رویا کرتا، کھانا پینا سب چھوٹ گیا۔ چالیس دن جوں توں کر کٹے، چہلم میں اپنے بیگانے چھوٹے بڑے جمع ہوئے۔ جب فاتح سے فراغت ہوئی، سب نے فقیر کر باپ کی پگڑی بندھوائی، اور سمجھایا۔ دُنیا میں سب کے ماں باپ مرتے آئے ہیں، اور اپنے تئیں بھی ایک روز مرنا ہے۔ پس صبر کرو۔ اپنے گھر کو دیکھو، اب باپ کی جگہ تم سردار ہوئے، اپنے کاروبار لین دین سے ہوشیار رہو۔ تسلی دے کر وے رخصت ہوئے۔ گماشتے کاروباری نوکر چاکر جتنے تھے آن کر حاضر ہوئے، نذریں دیں اور بولے کوٹھی نقد و جنس کی اپنی نظرِ مبارک سے دیکھ لیجیئے۔ ایک بارگی جو اس دولتِ بے انتہا پر نگاہ پڑی، آنکھیں کھُل گئیں۔ دیوان خانے کی تیاری کو حکم کیا۔ فراشوں نے فرش فروش بچھا کر چھت پردے چلونیں تکلف کی لگا دیں، اور اچھے اچھے خدمت گار دیدار و نوکر رکھے۔ سرکار سے زرق برق کی پوشاکیں بنوا دیں۔ فقیر مسند پر تکیہ لگا کر بیٹھا۔ ویسے ہی آدمی غنڈے بھانکڑے مفت پر کھانے پینے والے جھوٹے خوشامدی آ کر آشنا ہوئے اور مصاحب بنے۔ اُن سے آٹھ پہر کی صحبت رہنے لگی۔ ہر کہیں کی باتیں اور زٹلیں واہی تباہی ادھر اُدھر کی کرتے اور کہتے اس جوانی کے عالم میں کیتکی کی شراب یا گلِ گلاب کھنچوائیے، نازنین معشوقوں کو بُلوا کر اُن کے ساتھ پیجئے اور عیش کیجئے۔

غرض آدمی کا شیطان آدمی ہے۔ ہر دم کے کہنے سُننے سے اپنا بھی مزاج بہک گیا۔ شراب ناچ اور جوے کا چرچا شروع ہوا۔ پھر تو یہ نوبت پہنچی کہ سوداگری بھول کر تماش بینی کا اور دینے لینے کا سودا ہوا۔ اپنے نوکر اور رفیقوں نے جب یہ غفلت دیکھی جو جس کے ہاتھ پڑا، الگ کیا گویا لوٹ مچا دی۔ کچھ خبر نہ تھی کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے، کہاں سے آتا اور کیدھر جاتا ہے؟ مالِ مفت دلِ بے رحم۔ اس در خرچی کے آگے اگر گنج قارون کا ہوتا تو بھی وفا نہ کرتا۔ کئی برس کے عرصے میں ایک بارگی یہ حالت ہوئی کہ فقط ٹوپی اور لنگوٹی باقی رہی۔ دوست آشنا جو دانت کاٹی روٹی کھاتے تھے اور چمچا بھر خون اپنا ہر بات میں زبان سے نثار کرتے تھے، کافور ہو گئے۔ بلکہ راہ باٹ میں اگر کہیں بھینٹ ملاقات ہو جاتی تو آنکھیں چُرا کر منھ پھیر لیتے، اور نوکر چاکر خدمت گار بہلیے ڈھلیت خاص بردار ثابت خانی سب چھوڑ کر کنارے لگے۔ کوئی بات کا پوچھنے والا نہ رہا جو کہے یہ کیا تمھارا حال ہوا، سوائے غم اور افسوس کے کوئی رفیق نہ ٹھہرا۔

اب دمڑی کی ٹھڈیاں میسر نہیں جو چبا کر پانی پیوں۔ دو تین فاقے کڑا کے کھینچے، تاب بھوک کی نہ لا سکا۔ لاچار بے حیائی کا برقعہ منھ پر ڈال کر قصد کیا۔ کہ بہن کے پاس چلیے۔ لیکن یہ شرم دل میں آتی تھی کہ قبلہ گاہ کی وفات کے بعد نہ بہن سے کچھ سلوک کیا، نہ خالی خط لکھا، بلکہ اس نے خط خطوط ماتم پُرسی اور اشتیاق کے جو لکھے، ان کا بھی جواب اِس خوابِ خرگوش میں نہ بھیجا۔ اِس شرمندگی سے جی تو نہ چاہتا تھا، پر سوائے اُس گھر کے اور کوئی ٹھکانا نظر میں نہ ٹھہرا۔ جوں توں پا پیادہ خالی ہاتھ گرتا پڑتا ہزار محنت سے وہ کئی منزلیں کاٹ کر ہمشیر کے شہر میں جا کر اُس کے مکان پر پہنچا۔ وہ ماں جائی میرا یہ حال دیکھ کر بلائیں لی اور گلے مِل کر بہت روئی۔ تیل ماش اور کالے ٹکے مجھ پر سے صدقے کیے۔ کہنے لگی “اگرچہ ملاقات سے دل بہت خوش ہوا، لیکن بھیا، تیری یہ کیا صورت بنی؟” اُس کا جواب میں کچھ نہ دے سکا۔ آنکھوں میں آنسو، ڈبڈبا کر چُپکا ہو رہا۔ بہن نے جلدی سے پوشاک سِلوا کر حمام میں بھیجا۔ نہا دھو کر وہ کپڑے پہنے۔ ایک مکان اپنے پاس سے بہت اچھا تکلف کا میرے رہنے کو مقرر کیا۔ صبح کو شربت اور لوزیات حلوا سوہن پستہ مغزی ناشتے کو، اور تیسرے پہر میوے خشک و تر پھل پھلاری، اور رات دن دونوں وقت پلاؤ نان قلیے کباب تحفہ مزے دار منگوا کر اپنے روبرو کھلا کر جاتی۔ سب طرح خاطرداری کرتی۔ میں نے ویسی تصدیع کے بعد جو یہ آرام پایا۔ خدا کی درگاہ میں ہزار ہزار  شکر بجا لایا۔ کئی مہینے اس فراغت سے گُزرے کہ پانو اس خلوت سے باہر نہ رکھا۔

ایک دن وہ بہن جو بجائے والدہ کے میری خاطر رکھتی تھی، کہنے لگی، اے بیرن! تو میری آنکھوں کی پُتلی اور ماں باپ کی موئی مٹی کی نشانی ہے۔ تیرے آنے سے میرا کلیجا ٹھنڈھا ہوا۔ جب تجھے دیکھتی ہوں، باغ باغ ہوتی ہوں۔ تو نے مجھے نہال کیا، لیکن مردوں کو خدا نے کمانے کے لیے بنایا ہے گھر میں بیٹھے رہنا اُن کو لازم نہیں۔ جو مرد نکھٹو ہو کر گھر سیتا ہے، اُس کو دُنیا کے لوگ طعنہ مِہنا دیتے ہیں، خصوصاً اس شہر کے آدمی چھوٹے بڑے بے سبب تمھارے رہنے پر کہیں گے، اپنے باپ کی دولتِ دُنیا کھو کھا کر بہنوئی کے ٹکڑوں پر آ پڑا۔ یہ نہایت بے غیرتی اور میری تمہاری ہنسائی اور ماں باپ کے نام کو سبب لاج لگنے کا ہے۔ نہیں تو میں اپنے چمڑے کی جوتیاں بنا کر تجھے پہناؤں اور کلیجے میں ڈال رکھوں۔ اب یہ صلاح ہے کہ سفر کا قصد کرو۔ خدا چاہے تو دن پھریں اور اس حیرانی و مفلسی کے بدلے خاطر جمعی اور خوشی حاصل ہو۔ یہ بات سُن کر مجھے بھی غیرت آئی، اس کی نصیحت پسند کی۔ جواب دیا ، اچھا اب تم ماں کی جگہ ہو، جو کہو سو کروں۔ یہ میری مرضی پا کر گھر میں جا کے پچاس توڑے اشرفی کے اصیل لونڈیوں کے ہاتھوں میں لِوا کر میرے آگے لا رکھے اور بولی ایک قافلہ سوداگروں کا دمشق کو جاتا ہے، تم ان روپوں سے جنس تجارت کی خرید کرو۔ ایک تاجر ایماندار کے حوالے کر کے، دستاویز پکی لکھوا لو، اور آپ بھی قصد دمشق کا کرو۔ وہاں جب خیریت سے جا پہنچو، اپنا مال مع منافع سمجھ بوجھ لیجیو یا آپ بیچیو۔ میں وہ نقد لے کر بازار میں گیا، اسباب سوداگری کا خرید کر  ایک بڑے سوداگر کے سپرد کیا۔ نوشت و خواند سے خاطر جمع کر لی۔ وہ تاجر دریا کی راہ سے جہاز پر سوار ہو کر ورانہ ہوا۔ فقیر نے خُشکی کی راہ چلنے کی تیاری کی۔ جب رُخصت ہونے لگا، بہن نے ایک سری پاؤ بھاری اور ایک گھوڑا جڑاؤساز سے تواضع کیا، اور مٹھائی پکوان ایک خاص دان میں بھر کر ہرنے سے لٹکا دیا، اور چھاگل پانی کی شکار بند میں بندھوا دی۔ امام ضامن کا روپیہ میرے بازو پر باندھا، دہی کا ٹیکا ماتھے پر لگا کر آنسو پی کر بولی، سدھارو! تمھیں خدا کو سونپا، پیٹھ دکھائے جاتے ہو، اسی طرح جلد اپنا منہ دکھائیو۔ میں نے فاتحہ خیر کی پڑھ کر کہا، تمھارا بھی اللہ حافظ ہے۔ میں نے قبول کیا۔ وہاں سے نکل کر گھوڑے پر سوار ہوا، اور خدا کے توکل پر بھروسہ کر  کے دو منزل کی ایک منزل کرتا ہوا دمشق کے پاس جا پہنچا۔

غرض جب شہر کے دروازے پر گیا، بہت رات جا چکی تھی۔ دربان اور نگاہ بانوں نے دروازہ بند کیا تھا۔ میں نے بہت منت کی کہ مسافر ہوں، دور سے دھاوا مارے آتا ہوں، اگر کواڑ کھول دو شہر میں جا کر دانے گھاس کا آرام پاؤں۔ اندر سے گھرک کر بولے، اس وقت دروازہ کھولنے کا حکم نہیں، کیوں اتنی رات گئے تم آئے؟ جب میں نے جواب صاف اُن سے سنا، شہر پناہ کی دیوار کے تلے گھوڑے پر سے اُتر زین پوش بچھا کر بیٹھا۔ جاگنے کی خاطر ادھر اُدھر ٹہلنے لگا۔ جس وقت آدھی رات اِدھر اور آدھی رات اُدھر ہوئی، سنسان ہو گیا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ ایک صندوق قلعے کی دیوار پر سے نیچے چلا آتا ہے۔ یہ دیکھ کر میں اچنبھے میں ہوا کہ یہ کیا طلسم ہے؟ شاید خدا نے میری حیرانی و پریشانی پر رحم کھا کر خزانہ غیب سے عنایت کیا۔ جب وہ صندوق زمین پر ٹھہرا، ڈرتے ڈرتے میں پاس گیا، دیکھا تو کاٹھ کا صندوق ہے۔ لالچ سے اُسے کھولا۔ ایک معشوق، خوب صورت، کامنی سی عورت (جس کے دیکھنے سے ہوش جاتا رہے) گھایل، لہو میں تر بتر، آنکھیں بند کئے پڑی کُلبلاتی ہے، آہستہ آہستہ ہونٹھ ہلتے ہیں، اور یہ آواز منہ سے نکلتی ہے۔ ای کم بخت بے وفا! اے ظالمِ پُر جفا! بدلا اس بھلائی اور محبت کا یہی تھا جو تُو نے کیا؟ بھلا ایک زخم اور بھی لگا، میں نے اپنا تیرا انصاف خدا کو سونپا۔ یہ کہہ کر اُسی بے ہوشی کے عالم میں دوپٹے کا آنچل منہ پر لے لیا۔ میری طرف دھیان نہ کیا۔

فقیر اُس کو دیکھ کر اور یہ بات سُن کر سُن ہوا، جی میں آیا، کسی بے حیا ظالم نے کیوں ایسے نازنین صنم کو زخمی کیا، کیا اُس کے دل میں آیا؟ اور ہاتھ اُس پر کیوں کر چلایا؟ اُس کے دل میں تو محبت اب تلک باقی ہے جو اس جان کنی کی حالت میں اُس کو یاد کرتی ہے، میں آپ ہی آپ یہ کہہ رہا تھا، آواز اس کے کان میں گئی، ایک مرتبہ منہ سرکا کر مجھ کو دیکھا۔ جس وقت اس کی نگاہیں میری نظروں سے لڑیں، مجھے غش آنے اور جی سنسنانے لگا۔ بہ زور اپنے تئیں تھانبا۔  جرأت کر کے پُوچھا، سچ کہو تم کون ہو اور یہ کیا ماجرا  ہے۔ اگر بیان کرو تو میرے دل کو تسلی ہو۔ یہ سُن کر اگرچہ طاقت بولنے کی نہ تھی آہستے سے کہا، شکر ہے۔ میری حالت زخموں کے مارے یہ کچھ ہو رہی ہے۔ کیا خاک بولوں؟ کوئی دم کی مہمان ہوں، جب میری جان نکل جاوے تو خدا کے واسطے جواں مردی کر کے مجھ بدبخت کو اسی صندوق میں کسی جگہ گاڑ دیجو۔ تو میں بھلے بُرے کی زبان سے نجات پاؤں، اور تُو داخل ثواب کے ہو۔ اتنا بول کر چُپ ہوئی۔

رات کو مجھ سے کچھ تدبیر نہ ہوسکی، وہ صندوق اپنے پاس اُٹھا لایا اور گھڑیاں گننے لگا کہ کب اتنی رات تمام ہو تو فجر کو شہر میں جا کر جو کچھ علاج اس کا ہو سکے بہ مقدور اپنی کروں۔ وہ تھوڑی سی رات ایسی پہاڑ ہو گئی کہ دل گھبرا گیا۔ بارے خُدا خُدا کر کے صبح جب نزدیک ہوئی، مُرغ بولا، آدمیوں کی آواز آنے لگی۔ میں نے فجر کی نماز پڑھ کر صندوق کو خورجی میں کسا۔ جونہیں دروازہ شہر کا کھُلا، میں شہر میں داخل ہوا ہر ایک آدمی اور دکان دار سے حویلی کرائے کی تلاش کرنے لگا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک مکانِ خوش قطع نیا فراغت کا بھاڑے لے کر جا اُترا۔ پہلے اس معشوق کو صندوق سے نکال کر روئی کے پہلوں پر ملائم بچھونا کر کے ایک گوشے میں لٹایا، اور آدمی اعتباری وہاں چھوڑ کر فقیرِ جراح کی تلاش میں نکلا۔ ہر ایک سے پوچھتا پھرتا تھا کہ اس شہر میں جراح کاری گر کون ہے اور کہاں رہتا ہے؟ ایک شخص نے کہا، ایک حجام جراحی کے کسب اور حکیمی کے فن میں پکا ہے، اور اس کام میں نپٹ پکا ہے، اگر مُردے کو اُس پاس لے جاؤ، خُدا کے حُکم سے ایسی تدبیر کرے کہ ایک بار وہ بھی جی اُٹھے ۔ وہ اس محلے میں رہتا ہے اور عیسیٰ نام ہے۔

میں یہ مُژدہ سُن کر بے اختیار چلا۔ تلاش کرتے کرتے پتے سے اُس کے دروازے پر پہنچا۔ ایک مردِ سفید ریش کو دہلیز پر بیٹھا دیکھا اور کئی آدمی مرہم کی تیاری کے لئے کچھ پیس پاس رہے تھے۔ فقیر نے مارے خوشامد کے ادب سے سلام کیا اور کہا، میں تُمھارا نام اور خُوبیاں سُن کر آیا ہوں۔ ماجرا یہ ہے کہ میں اپنے مُلک سے تجارت کے لئے چلا، قبیلے کو بہ سبب محبت ساتھ لیا۔ جب نزدیک اس شہر کے آیا، تھوڑی سی دُور رہا تھا کہ شام پڑ گئی۔ اَن دیکھے مُلک میں رات کو چلنا مناسب نہ جانا۔ میدان میں ایک درخت کے تلے اُتر پڑا۔ پچھلے پہر ڈاکا آیا، جو کچھ مال و اسباب پایا لُوٹ لیا، گہنے کے لالچ سے اس بی بی کو بھی گھایل کیا۔ مجھ سے کچھ نہ ہوسکا، رات جو باقی تھی جُوں تُوں کر کے کاٹی، فجر ہی شہر میں آن کر ایک مکان کرائے لیا، اُن کو وہاں رکھ کر میں تمھارے پاس دوڑا آیا ہوں۔ خُدا نے تمھیں یہ کمال دیا ہے، اس مسافر پر مہربانی کرو، غریب خانے تشریف لے چلو، اُس کو دیکھو اگر اس کی زندگی ہوئی تو تمھیں بڑا جس ہو گا اور میں ساری عمر غلامی کروں گا۔ عیسیٰ جراح بہت رحم دل اور خُدا پرست تھا۔ میری غریبی کی باتوں پر ترس کھا کر میرے ساتھ اُس حویلی تک آیا۔ زخموں کو دیکھتے ہی میری تسلی کی، بولا کہ خُدا کے کرم سے اِس بی بی کے زخم چالیس دن بھر آویں گے، غسل شفا کا کروا دوں گا۔

غرض اُس مردِ خُدا نے سب زخموں کو نیم کے پانی سے دھو دھا کر صاف کیا۔ جو لائق ٹانکوں کے پائے انھیں سیا، باقی گھاؤں پر اپنی کھیسے سے ایک ڈبیا نکال کر کتنوں میں پٹی رکھی، اور کتنوں پر پھائے چڑھا کر پٹی سے باندھ دیا اور نہایت شفقت سے کہا، میں دونوں وقت آیا کروں گا، تو خبردار رہیو ایسی حرکت نہ کرے جو ٹانکے ٹوٹ جائیں۔مرغ کا شوربا بجائے غذا اسں کے حلق میں چوائیو اور اکثر عرق بید مشک گلاب کے ساتھ دیا کیجیو جو قوت رہے- یہ کہ کر رخصت چاہی۔میں نے بہت منت کی اور ہاتھ جوڑ کر کہا، تمھاری تشفی دینے سے میری بھی زندگی ہوئی، نہیں تو سوائےمرنے کے کچھ سوجھتا نہ تھا، خدا تمھیں سلامت رکھے۔ عطر پان دے کر رخصت کیا میں رات دن خدمت میں اس پری کے حاضر رہتا، آرام اپنے اوپر حرام کیا۔ خدا کی درگاہ سے روز روز اس کے چنگے ہونے کی دعا مانگتا۔ اتفاقاً وہ سوداگر بھی آ پہنچا، اور میرا مال امانت میرے حوالے کیا۔ میں نے اسے اونے پونے بیچ ڈالا، اور دارو درمن میں خرچ کرنے لگا۔ وہ مرد جراح ہمیشہ آتا جاتا، تھوڑے عرصے میں سب زخم بھر کر انگور کر لائے۔ بعد کئی دن کے ٍسل شفا کیا، عجب طرح کی خوشی حاصل ہوئی۔ خلعت اور اشرفیاں عیٰسی حجام کے آگے دھریں، اور اس پری کو مکلف فرش بچھا کر مسند پر بٹھایا۔ فقیر غریبوں کو بہت سی خیر خیرات کی۔ اس دن گویا بادشاہت ہفت اقلیم کی اس فقیر کے ہاتھ لگی، اور اس پری کا شفا پانے سے ایسا رنگ نکھرا کہ مکھڑا سورج کے مانند چمکنے اور کندن کی طرح دمکنے لگا۔ نظر کی مجال نہ تھی جو اس کے جمال پر ٹھہرے۔ فقیر بہ سروچشم اس کے حکم میں حاضر رہتا، جو فرماتی سو بجا لاتا۔ وہ اپنے حسن کے غرور اور سرداری کے دماغ میں جو میری طرف کبھو دیکھتی تو فرماتی، خبردار، اگر تجھے ہماری خاطر منظور ہے تو ہر گز ہماری بات میں دم نہ مارئیو، جو ہم کہیں سو بلا عذر کیے جائیو، اپنا کسی بات میں دخل نہ کریو، نہیں تو پچتاوے گا۔ اس کی وضع سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ حق میری خدمت گزاری اور فرماں برداری کا اسے البتہ منظور ہے۔ فقیر بھی اس کی بے مرضی ایک کام نہ کرتا، اس کا فرمانا بہ سرد چشم بجا لاتا۔

ایک مدت اسی راز و نیاز میں کٹی، جو اس نے فرمائش کی، وونھیں میں نے لا کر حاضر کی۔ اس فقیر پاس جو کچھ جنس اور نقد اصل و نفع کا تھا، سب صرف ہوا۔ اس بیانے ملک میں کون اعتبار کرے جو قرض دام سے کام چلے؟ آخر تکلیف روزمرے کے خرچ کی ہونے لگی، اس سے دل بہت گھبرایا، فکر سے دبلا ہوتا چلا، چہرے کا رنگ کلجھواں ہو گیا، لیکن کس سے کہوں؟ جو کچھ دل پر گزری سو گزری، قہر درویش بر جانِ درویش۔ ایک دن اس پری نے اپنے شعور سے دریافت کر کے کہا۔ “اے فلانے! تیری خدمتوں کا حق ہمارے جی میں نش  کالحجر ہے۔ پر اس کا عوض بالفعل ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اگر واسطے خرچ ضروری کے کچھ درکار ہو تو اپنے دل میں اندیشہ نہ کر، ایک ٹکڑا کاغذ اور دوات قلم حاضر کر۔ میں نے تب معلوم کیا کسی ملک کی پادشاہ زادی ہے جو اس دل و دماغ سے گفتگو کرتی ہے۔ فی الفور قلم دان آگے رکھ دیا۔ اس نازنین نے ایک شقہ دستخط خاص سے لکھ کر میرے حوالے کیا اور کہا، “قلعے کے پاس تر پو لیا ہے۔ وہاں اس کوچے میں ایک حویلی بڑی سی ہے۔ اس مکان کے مالک کا نام سیدی بہار ہے۔ تو جا کر اس رقعے کو اس تلک پہنچا دے۔”

فقیر موافق فرمانے اس کے اسی نام و نشان پر منزلِ مقصود تک جا پہنچا۔ دربان کی زبانی کیفیت خط کی کہلا بھیجی۔ وونھیں سنتے ہی ایک ایک حبشی جوان خوب صورت ایک پھینٹا طرح دار سجے ہوئے باہر نکل آیا۔ اگرچہ رنگ سانولا تھا پر گویا تمام نمک بھرا ہوا۔ میرے ہاتھ سے خط لے لیا، نہ بولا نہ کچھ پوچھا۔ انھیں قدموں پھر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں گیارہ کشتیاں سر بہ مہر زربفت کی تو رہ پوش پڑے ہوئے غلاموں کے سر پر دھرے باہر آیا۔ کہا اس جوان کے ساتھ جا کر چو گوشے پہنچا دو۔ میں بھی سلام کر رخصت ہو اپنے مکان میں لایا آدمیوں کو دروازے کے باہر سے رخصت کیا۔ دو کشتیاں امانت حضور میں اس پری کے گزار رانیاں دیکھ کر فرمایا “یہ گیارہ بدرے اشرفیوں کی لے اور خرچ اور خرچ میں لا خدا رزاق ہے۔ فقیر اس نقد کو لے کر ضروریات میں خرچ کرنے لگا۔ اگرچہ خاطر جمع ہوئی پر دل میں یہ خلش رہی یا الٰہی! یہ کیا صورت ہے؟ بغیر پوچھے گچھے اتنا مال نا آشنا صورت اجنبی نے ایک پرزے کاغذ پر میرے حوالے کیا، اگر اس پری سے یہ بھید پوچھوں، تو اس نے پہلے ہی منع کر رکھا تھا۔ مارے ڈر کے دم نہیں مار سکتا تھا۔

بعد آٹھ دن کے وہ معشوقہ مجھ سے مخاطب ہوئی کہ حق تعالیٰ نے آدمی کو انسانیت کا جامہ عنایت کیا ہے کہ نہ پھٹے نہ میلا ہو۔ اگر چہ پرانے کپڑے سے اس کی آدمیت میں فرق نہیں آتا، پر ظاہر میں خلق اللہ کی نظروں میں اعتبار نہیں پاتا۔ دو توڑے اشرفی کے ساتھ لے کر چوک کے چوراہے پر یوسف سوداگر کی دکان میں جا اور کچھ رقم جواہر کے بیش قیمت اور دو خلعتیں زرق برق کی مول لے آ۔ “فقیر دو نہیں سوار ہو کر اس کی دکان پر گیا۔ دیکھا تو ایک جوان شکیل زعفرانی جوڑا پہنے گدی پر بیٹھا ہے، اور اس کا یہ عالم ہے کہ ایک عالم دیکھنے کے لیے دکان سے بازار تک کھڑا ہے۔

فقیر کمال شوق سے نزدیک جا کر سلام علیک کر کر بیٹھا اور جو جو چیز مطلوب تھی، طلب کی۔ میری بات چیت اس شہر کے باشندوں کی سی نہ تھی۔ اس جوان نے گرم جوشی سے کہا، جو صاحب کو چاہیے موجود ہے، لیکن یہ فرمائیے کس ملک سے آنا ہوا؟ اور اس اجنبی شہر میں رہنے کا کیا باعث ہے؟ اگر اس حقیقت سے مطلع کیجئے تو مہربانی سے بعید نہیں، میرے تئیں اپنا احوال ظاہر کرنا منظور نہ تھا۔ کچھ بات بنا کر اور جواہر پوشاک لے کر اور قیمت اس کو دے کر رخصت چاہی۔ اس جوان نے روکھے پھیکے ہو کر کہا، اے صاحب! اگر تم کو ایسی ہی ناآشنائی کرنی تھی، تو پہلے دوستی اتنی گرمی سے کرنی کیا ضرور تھی؟ بھلے آدمیوں میں صاحب سلامت کا پاس بڑا ہوتا ہے۔ یہ بات اس مزے اور انداز سے کہی بے اختیار دل کو بھائی اور بے مروت ہو کر وہاں سے اٹھنا انسانیت کے مناسب نہ جانا۔ اس کی خاطر پھر بیٹھا اور بولا، تمھارا فرمانا سر آنکھوں پر، میں حاضر ہوں۔

اتنے کہنے سے بہت خوش ہوا، ہنس کر کہنے لگا، اگر آج کے دن غریب خانے پر کرم کیجئے تو تمھاری بدولت مجلس خوشی کی جما کر دو چار گھڑی دل بہلاویں۔ اور کچھ کھانے پینے کا شغل باہم بیٹھ کر کریں۔ فقیر نے اس پری کو کبھو اکیلا نہ چھوڑا تھا، اس کی تنہائی یاد کر کر چند در چند غدر کیے، پر اس جوان نے ہر گز نہ مانا۔ آخر وعدہ ان چیزوں کو پہنچا کر میرے پھر آنے کا لے کر اور قسم کھلا کر رخصت دی۔ میں دکان سے اٹھ کر جواہر اور خلعتیں اس پری کی خدمت میں لایا۔ اس نے قیمت جواہر کی اور حقیقت جوہری کی پوچھی۔ میں نے سارا احوال مول تول کا اور مہمانی کے بضد ہونے کا کہہ سُنایا۔ فرمانے لگی، آدمی کو اپنا قول قرار پورا کرنا واجب ہے، ہمیں خُدا کی نگہبانی میں چھوڑ کر اپنے وعدے کو وفا کر، ضیافت قبول کرنی سُنت رسُول کی ہے۔ تب میں نے کہا، میرا دل چاہتا نہیں کہ تمھیں اکیلا چھوڑ کر جاؤں اور حکم یوں ہوتا ہے، لاچار جاتا ہوں، جب تلک آؤں گا دل یہیں لگا رہے گا۔ یہ کہہ کر پھر اس جوہری کی دُکان پر گیا، وہ مونڈھے پر بیٹھا میرا انتظار کھینچ رہا تھا۔ دیکھتے ہی بولا “آؤ مہربان، بڑی راہ دکھائی۔“

وہیں اُٹھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور چلا، جاتے جاتے ایک باغ میں لے گیا وہ بڑی بہار کا باغ تھا، حوض اور نہروں کے فوارے چھوٹتے تھے، میوے طرح بہ طرح کے پھل رہے تھے، ہر ایک درخت مارے بوجھ کے جھوم رہا تھا۔رنگ برنگ کے جانور اُن پر بیٹھے چہچہے کر رہے تھے، اور ہر مکان عالی شان میں فرش سُتھرا بچھا تھا۔ وہاں لبِ نہر ایک بنگلے میں جا کر بیٹھا۔ ایک دم کے بعد آپ اُٹھ کر چلا گیا، پھر دوسری پوشاک معقول پہن کر آیا۔ میں نے دیکھ کر کہا“ سبحان اللہ! چشمِ بد دور۔“ سُن کر مُسکرایا اور بولا“ مناسب یہ ہے کہ صاحب بھی اپنا لباس بدل ڈالیں۔ اُس کی خاطر میں نے بھی دوسرے کپڑے پہنے اُس جون نے بڑی ٹیپ ٹاپ سے تیاری ضیافت کی کی، اور سامان خوشی کا جیسا چاہیے موجود کیا۔ اور فقیر سے صحبت بہت گرم کر مزے کی باتیں کرنے لگا۔ اتنے میں ساقی صراحی و پیالہ بلور لے کر حاضر ہوا اور گزک کئی قسم کی لا کے رکھی۔ نمک دان چُن دیے، دور شراب کا شروع ہُوا۔ جب دو جام کی نوبت پہنچی چار لڑکے امرد صاحبِ جمال زلفیں کھولے ہوئے مجلس میں آئے، گانے بجانے لگے۔ یہ عالم ہُوا اور ایسا سماں بندھا اگر تان سین اس گھڑی ہوتا، تو اپنی تان بھول جاتا، اور بیجو باؤرا سُن کر باؤلا ہو جاتا۔ اس مزے میں ایک بارگی وہ نوجوان آنسو بھر لایا، دو چار قطرے بے اختیار نکل پڑے اور فقیر سے بولا۔ اب ہماری تمھاری دوستی جانی ہوئی، پس دل کا بھید دوستوں سے چھُپانا کسو مذہب میں درست نہیں۔ ایک بات بے تکلف آشنائی کے بھروسے کہتا ہوں اگر حُکم کرو تو اپنی معشوقہ کو بُلوا کر اِس مجلس میں تسلی اپنے دل کی کروں۔ اُس کی جُدائی سے جی نہیں لگتا۔

یہ بات ایسے اشتیاق سے کہی کہ بغیر دیکھے بھالے فقیر کا دِل بھی مشتاق ہوا۔ میں نے کہا، مجھے تمھاری خوشی درکار ہے، اس سے کیا بہتر؟ دیر نہ کیجیے ، سچ ہے معشوق بِن کچھ اچھا نہیں لگتا۔ اِس جوان نے چلون کی طرف اشارت کی ، دونھیں ایک عورت کالی کلوٹی  بھتنی سی جس کے دیکھنے سے انسان بے اجل مر جاوے، جوان کے پاس آن بیٹھی۔ فقیر اس کے دیکھنے سے ڈر گیا۔ دل میں کہا یہی بَلا محبوبہ ایسے جوان پری زاد کی ہے جس کی اتنی تعریف اور اشتیاق ظاہر کیا! میں لاحول پڑھ کر چُپ ہو رہا، اُسی علم میں تین دن رات مجلس شراب اور راگ رنگ جمی رہی، چوتھی شب کو غلبہ نشے اور نیند کا ہوا۔میں خوابِ غفلت میں بے اختیار سو گیا جب صبح ہوئی اُس جوان نے جگایا ، کئی پیالے خمار شکنی پلا کر اپنی معشوقہ سے کہا، اب زیادہ تکلیف مہمان کو دینی خوب نہیں۔

دونوں ہاتھ پکڑے اُٹھے، میں نے رُخصت مانگی خوشی بہ خوشی اجازت دی، تب میں نے جلد اپنے قدیمی کپڑے پہن لیے اپنے گھر کی راہ لی، اور اس پری کی خدمت میں جا حاضر ہوا۔ مگر ایسا اتفاق کبھو نہ ہوا کہ اُسے تنہا چھوڑ کر شب باش کہیں ہوا ہوں۔ اس تین دن کی غیر حاضری سے نہایت خجل ہو کر عذر کیا ، اور قصہ ضیافت کا اور اُس کے نہ رخصت کرنے کا سارا عرض کیا۔ وُہ ایک دانا زمانے کی تھی، تبسم کر کے بولی، کیا مضائقہ اگر ایک دوست کی خاطر رہنا ہوا؟ ہم نے معاف کیا، تیری کیا تقصیر ہے؟ جب آدمی کسو کے گھر جاتا ہے تب اُس کی مرضی سے پھر آتا ہے، لیکن مُفت کی مہمانیاں کھا پی کر چُپکے ہو رہو گے یا اس کا بدلا بھی اُتارو گے؟ اب یہ لازم ہے کہ جا کر اُس سوداگر بچے کو اپنے ساتھ لے آؤ، اور اُس سے دو چند ضیافت کرو۔ اور اسباب کا کچھ اندیشہ نہیں، خدا کے کرم سے ایک دم میں سب لوازمہ تیار ہو جاوے گا اور بہ خوبی مجلس ضیافت کی رونق پاوے گی۔ فقیر موافق حکم کے جوہری پاس گیا اور کہا، تمھارا فرمانا تو میں سر آنکھوں سے بجا لایا، اب تُم بھی مہربانی کی راہ سے میری عرض قبول کرو۔ اُس نے کہا جان و دل سے حاضر ہوں۔

تب میں نے کہا اگر اس بندے کے گھر تشریف لے چلو، عین غریب نوازی ہے، اُس جوان نے بہت عذر اور حیلے کیے، پر میں نے پِنڈ نہ چھوڑا جب تلک وہ راضی ہوا، ساتھ ہی ساتھ اُس کو اپنے مکان پر لے چلا۔ لیکن راہ میں یہی فکر کرتا تھا کہ اگر آج اپنے تئیں مقدور ہوتا تو ایسی تواضع کرتا کہ یہ بھی خوش ہوتا۔ اب میں اسے لئے جاتا ہوں، دیکھیے کیا اتفاق ہوتا ہے۔ اِسی حیض بیض میں گھر کے نزدیک پہنچا، تو کیا دیکھتا ہوں؟ کہ دروازے پر دھوم دھام ہو رہی ہے۔ گلیارے میں جھاڑو دے کر چھڑکاؤ کیا ہے۔ یساول اور عصیٰ بردار کھڑے ہیں۔ میں حیران ہوا لیکن اپنا گھر جان کر قدم اندر رکھا۔ دیکھا تو تمام حویلی میں فرشِ مکلف لائق ہر مکان کے جا بجا بچھا ہے اور مسندیں لگی ہیں۔ پان دان، گلاب پاش ، عِطر دان، پیک دان، چنگیریں، نرگس دان قرینے سے دھرے ہیں۔ طاقوں میں رنگترے، کبنولے ، نارنگیاں اور گلابیاں ، رنگ برنگ کی چُنی ہیں، ایک طرف رنگ آمیز ابرک کی ٹٹیوں میں چراغاں کی بہار ہے۔ ایک طرف جھاڑ اور سروکنول کے روشن ہیں، اور تمام دالان اور شہ نشینوں میں طلائی شمع دان پر کافوری شمعیں چڑھی ہیں اور جڑاؤ فانوسیں اوپر دھری ہیں۔ سب آدمی اپنے اپنے عہدوں پر مستعد ہیں، باورچی خانے میں دیگیں ٹھنٹھنا رہی ہیں، آب دار خانے کی ویسی ہی تیاری ہی، کوری کوری ٹھلیاں روپے کی گھڑونچیوں پر صافیوں سے بندھیں اور بُجھروں سے ڈھکی رکھی ہیں۔ آگے چوکی پر ڈونگے کٹورے بمع تھالی، سر پوش، دھرے برف کے آب خورے لگ رہے ہیں اور شورے کی صراحیاں ہل رہی ہیں۔

غرض سب اسباب پادشاہانہ موجود ہے، اور کنچنیاں، بھانڈ، بھگتیے ، کاونت، قوال، اچھی پوشاک پہنے ساز کے سُر ملائے حاضر ہیں۔ فقیر نے اُس جوان کو لے جا کر مسند پر بٹھایا اور دل میں حیران تھا کہ یا الٰہی ! اتنے عرصے میں یہ سب تیاری کیوں کر ہوئی؟ ہر طرف دیکھتا پھرتا تھا لیکن اُس پری کا نشان کہیں نہ پایا۔ اسی جستجو، میں ایک مرتبہ باورچی خانے کی طرف جا نِکلا، دیکھتا ہوں تو وہ نازنیں ایک مکان میں گلے میں کُرتی ، پانو میں تہ پوشی، سر پر سفید رومالی اوڑھے ہوئے سادی خوزادی بِن گہنے پاتے بنی ہوئی ۔

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی

کہ جیسے خوش نما لگتا ہے دیکھو چاند بِن گہنے

خبر گیری میں ضیافت کے لگ رہی ہے اور تاکید ہر ایک کھانے کی کر رہی ہے کہ خبردار با مزہ ہو اور آب و نمک بو باس درست رہے، اس محنت سے وہ گلاب سا بدن سارا پسینے پسینے ہو رہا ہے۔

میں پاس جا کر تصدق ہوا اور اس شعور و لیاقت کو راہ کر دعائیں دینے لگا۔ یہ خوشامد سُن کر تیوری چڑھا کر بولی، آدمی سے ایسے کام ہوتے ہیں کہ فرشتے کی مجال نہیں، میں نے ایسا کیا کِیا ہے جو تو اتنا حیران ہو رہا ہے؟ بس بہت باتیں بنانی مجھے خوش نہیں آتیں۔ بھلا کہ تو یہ آدمیت ہے کہ مہمان کو اکیلا بٹھلا کر اِدھر اُدھر پڑے پھرے؟ وہ اپنے جی میں کیا کہتا ہو گا؟ جلد جا مجلس میں بیٹھ کر مہمان کی خاطر داری کر اور اُس کی معشوقہ کو بھی بُلوا کر اُس کے پاس بٹھلا۔ فقیر وونھیں اُس جوان کے پاس گیا اور گرم جوشی کرنے لگا۔ اتنے میں دو غلام صاحب جمال صراحی اور جام جڑاؤ ہاتھ میں لیے روبرو آئے، شراب پلانے لگے۔ اِس میں میں نے اُس جوان سے کہا، میں سب طرح مخلص اور خادم ہوں بہتر یہ ہے کہ وہ صاحبِ جمال کہ جس کی طرف دِل صاحب کا مائل ہے تشریف لاوے تو بڑی بات ہے۔ اگر فرماؤ تو آدمی بُلانے کی خاطر جاوے۔یہ سُنتے ہی خوش ہو کر بولا بہت اچھا، اِس وقت تم نے میرے دل کی بات کہی۔ میں نے ایک خوجے کو بھیجا، جب آدھی رات گئی وہ چڑیل خاصے چوڈول پر سوار ہو کر بلائے ناگہانی سی آ پہنچی۔

فقیر نے لاچار خاطر سے مہمان کی استقبال کر کر نہایت تپاک سے برابر اُس جوان کے لا بٹھایا۔ جوان اُس کے دیکھتے ہی ایسا خوش ہوا جیسے دُنیا کی نعمت ملی۔ وُہ بُھتنی بھی اُس جوان پری زاد کے گلے لپٹ گئی۔ سچ مچ یہ تماشا ہوا جیسے چودھویں رات کے چاند کو گہن لگتا ہے۔ جتنے مجلس میں آدمی تھے، اپنی اپنی اُنگلیاں دانتوں میں دابنے لگے کہ کیا کوئی بَلا اِس جوان پر مسلط ہوئی؟ سب کی نگاہ اُسی طرف تھی، تماشا مجلس کا بھول کر اُس کا تماشا دیکھنے لگے۔ ایک شخص کنارے سے بولا، یارو ! عِشق اور عقل میں ضد ہے، جو کچھ عقل میں نہ آوے یہ کافر عشق کر دِکھاوے، لیلیٰ کو مجنوں کی آنکھوں سے دیکھو، سبھوں نے کہا آمنّا، یہی بات ہے۔

یہ فقیر بہ موجب حکم کے مہمان داری میں حاضر تھا، ہر چند جوان ہم پیالہ ہم نوالہ ہونے کو مجوز ہوتا تھا، پر میں ہرگز اُس پری کے خوف کے مارے اپنا دل کھانے پینے یا سیر تماشے کی طرف رجوع نہ کرتا تھا۔ اور عُذر مہمان داری کا کر کے اُس کے شامل نہ ہوتا۔ اسی کیفیت سے تین شبانہ روز گُزرے۔ چوتھی رات وہ جوان نہایت جوشش سے مجھے بُلا کر کہنے لگا، اب ہم بھی رُخصت ہوں گے، تمہاری خاطر اپنا سب کاروبار چھوڑ چھاڑ تین دن سے تمہاری خدمت میں حاضر ہیں۔ تم بھی تو ہمارے پاس ایک دم بیٹھ کر ہمارا دل خوش کرو۔ میں نے اپنے جی میں خیال کیا اگر اس وقت کہا اس کا نہیں مانتا تو آزردہ ہو گا، پس نئے دوست اور مہان کی خاطر رکھنی ضرور ہے، تب یہ کہا، صاحب کا حکم بجا لانا منظور کہ الامر فوق الادب۔ سُنتے ہی اس کو، جوان نے پیالہ تواضع کیا اور میں نے پی لیا۔ پھر تو ایسا پیہم دَور چلا کہ تھوڑی دیر میں سب آدمی مجلس کے کیفی ہو کر بے خبر ہو گئے، اور میں بھی بے ہوش ہر گیا۔

جب صبح ہوئی اور آفتاب دو نیزے بلند ہوا، تب میری آنکھ کھلی تو دیکھا میں نے نہ وہ تیاری ہے نہ وہ مجلس نہ وہ پری، فقط خالی حویلی پڑی ہے مگر ایک کونے میں کمل لپٹا ہوا ادھر ہے۔ جو اُس کو کھول کر دیکھا تو وہ جوان اور اس کی رنڈی دونوں سر کٹے پڑے ہیں۔ یہ حالت دیکھتے ہی حواس جاتے رہے، عقل کچھ کام نہیں کرتی کہ یہ کیا تھا اور کیا ہوا؟ حیرانی سے ہر طرف تک رہا تھا، اتنے میں ایک خواجہ سرا (جسے ضیافت کے کا کاج میں دیکھا تھا) نظر پڑا۔ فقیر کو اُس کے دیکھنے سے کچھ تسلی ہوئی، احوال اس واردات کا پوچھا۔ اُس نے جواب دیا تجھے اس بات کی تحقیق کرنے سے کیا حاصل جو تُو پوچھتا ہے؟ میں نے بھی اپنے دل میں غور کی کہ سچ تو کہتا ہے، پھر ایک ذرا تامل کر کے میں بولا خیر نہ کہو، بھلا یہ تو بتاؤ وہ معشوقہ کس مکان میں ہے؟ تب اُس نے کہا البتہ جو میں جاتا ہوں، سو کہ دوں گا، لیکن تجھ سا آدمی عقل مند بے مرضی حضور کے دو دن کی دوستی پر بے محابا بے تکلف ہو کر صحبت مے نوشی کی باہم گرم کرے، یہ کیا معنی رکھتا ہے؟

فقیر اپنی حرکت اور اُس کی نصیحت سے بہت نادم ہوا۔ سوائے اِس بات کے زبان سے کچھ نہ نکلا، فی الحقیقت اب تو تقصیر ہوئی معاف کیجیئے، بارے محلی نے مہربان ہو کر اُس پری کے مکان کا نشان بتایا اور مجھے رُخصت کیا، اپ اُن دونوں زخمیوں کے گاڑنے دابنے کی فکر میں رہا۔ میں تُہمت سے اُس فساد کے الگ ہوا اور اشتیاق میں اُس پری کے ملنے کے لیے گھبرایا ہوا، گرتا پڑتا ڈھونڈھتا شام کے وقت اُس کوچے میں اسی پتے پر جا پہنچا اور نزدیک دروازے کے ایک گوشے میں ساری رات تلپھتے کٹی، کسو کی آمدورفت کی آہٹ نہ ملی۔ اور کوئی احوال پُرساں میرا نہ ہوا۔ اُسی بے کَسی کی حالت میں صبح ہو گئی، جب سورج نِکلا اُس مکان کے بالا خانے کی ایک کھڑکی سے وہ ماہ رو میری طرف دیکھنے لگی۔ اُس وقت عالم خوشی کا جو مجھ پر گُزرا، دِل ہی جانتا ہے، شکر خدا کا کیا۔

اتنے میں ایک خوجے نے میرے پاس آ کر کہا، اس مسجد میں تو جا کر بیٹھ، شاید تیرا مطلب اس جگہ بر آوے اور اپنے دل کی مراد پاوے۔ فقیر فرمانے سے اُس کے وہاں سے اُٹھ کر اُسی مسجد میں جا رہا، لیکن آنکھیں دروازے کی طرف لگ رہی تھی کہ دیکھیے پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ تمام دِن جیسے روزہ دار شام ہونے کا انتظار کھینچتا ہے، میں نے بھی دو روز ویسی ہی بے قراری میں کاٹا۔ بارے جس تس طرح سے شام ہوئی اور دِن پہاڑ سا چھاتی پر سے ٹلا۔ ایک بارگی وہی خواجہ سرا (جن نے اُس پری کے مکان کا پتا بتا دیا تھا) مسجد میں آیا۔ بعد فراغت نماز مغرب کے میرے پاس آ کر اُس شفیق نے (کہ سب راز و نیاز کا محرم تھا) نہایت تسلی دے کر ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے ساتھ لے چلا رفتہ رفتہ ایک باغیچے میں مجھے بٹھا کر کہا یہاں رہو جب تک تمہاری آرزو بر آوے، اور آپ رخصت ہو کر شاید میری حقیقت حضور میں کہنے گیا۔ میں اُس باغ کے پھولوں کی بہار اور چاندنی کا عالم اور حوض نہروں میں فوارے ساون بھادوں کے اُچھلنے کا تماشا دیکھ رہا تھا، لیکن جب پھولوں کو دیکھتا تب اُس گلبدن کا خیال آتا، جب چاند پر نظر پڑتی تب اُس مہ رو کا مکھڑا یاد کرتا، یہ سب بہار اُس کے بغیر میری آنکھوں میں خار تھی۔

بارے خدا اُس کے دل کو مہربان کیا، ایک دم کے بعد وہ پری دروازے سے جیسے چودھویں رات کا چاند بناؤ کیے گلے میں پشواز بادلے کی سنجاف کی موتیوں کا دروامن ٹکا ہوا اور سر پر اوڑھنی جس میں آنچل پلو لہر گوکھرو لگا ہوا، سر سے پانو تک موتیوں میں جڑی روش پر آ کر کھڑی ہوئی۔ اُس کے آنے سے تر و تازگی نئے سر سے اُس باغ کو فقیر کے دل کو ہو گئی۔ ایک دم اِدھر اُدھر سیر کر کر شہ نشین میں مغرق مسند پر تکیہ لگا کر بیٹھی۔ میں دوڑ کر پروانے کی طرح جیسے شمع کے گرد پھرتا ہے تصدق ہوا اور غلام کے مانند دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا۔ اس میں وہ خوجہ میری خاطر بہ طور سفارش کے عرض کرنے لگا۔ میں نے اس محلی سے کہا بندہ گنہ گار تقصیر وار ہے جو کچھ سزا میرے لائق ٹھہرے، سو ہو۔ وہ پری ازبس کہ ناخوش تھی، بد دماغی سے بولی کہ اب اس کے حق میں یہی بھلا ہے کہ سو توڑے اشرفی کے لیوے، اپنا اسباب درست کر کے وطن کو سدھارے۔

میں یہ بات سنتے ہی کاٹھ ہو گیا اور سوکھ گیا کہ اگر کوئی میرے بدن کو کاٹے تو ایک بوند لہو کی نہ نکلے اور تمام دنیا آنکھوں کے آگے اندھیری لگنے لگی، اور ایک آہ نامرادی کی بے اختیار جگر سے نکلی، آنسو بھی ٹپکنے لگے۔ سوائے خدا کے اس وقت کسو کی توقع نہ رہی، مایوسِ محض ہو کر اتنا بولا، بھلا ٹک اپنے دل میں غور فرمائیے، اگر مجھ کم نصیب کو دُنیا کا لالچ ہوتا تو اپنا جان و مال حضور میں نہ کھوتا۔ کیا ایک بارگی حق خدمت گزاری اور جاں نثاری کا عالم اُٹھ گیا؟ جو مجھ سے کم بخت پر اتنی بے مہری فرمائی۔ خیر اپ میرے تئیں بھی زندگی سے کچھ کام نہیں، معشوقوں کی بے وفائی سے بے چارے عاشقِ نیم جاں کا تباہ نہیں ہوتا۔

یہ سُن کر تیکھی ہو تیوری چڑھا کر خفگی سے بولی، چہ خوش ! آپ ہمارے عاشق ہیں؟ مینڈکی کو بھی زکام ہوا؟ اے بے وقوف ! اپنے حوصلے سے زیادہ باتیں بنانی خیالِ خام ہے، چھوٹا منہ بڑی بات۔ بس چپ رہ یہ نکمی بات چیت مت کر، اگر کسی اور نے یہ حرکتِ بے معنی کی ہوتی، پروردگار کی سوں اس کی بوٹیاں کٹوا چیلوں کو بانٹتی، پر کیا کروں؟ تیری خدمت یاد آتی ہے اب اسی میں بھلائی ہے کہ اپنی راہ لے، تیری قسمت کا دانا پانی ہماری سرکار میں یہیں تلک تھا۔ پھر میں نے روتے بسورے کہا، اگر میری تقدیر میں یہی لکھا ہے کہ اپنے دل کے مقصد کو نہ پہنچوں اور جنگل پہاڑ میں سر ٹکراتا پھروں تو لاچار ہوں۔ اس بات سے بھی دِق ہو کہنے لگی، میرے تئیں یہ پُھسا ہندے  چوچلے اور رمز کی باتیں پسند نہیں آتیں، اس اشارے کی گفتگو کی جو لائق ہو، اُس سے جا کر کر۔ پھر اُسی خفگی کے عالم میں اُٹھ کر اپنے دولت خانے کو چلی۔ میں نے بہتیرا سر پٹکا، متوجہ نہ ہوئی۔ لاچار میں بھی اُس مکان سے اُداس اور نا اُمید ہو کر نکلا۔

غرض چالیس دن تک یہی نوبت رہی۔ جب شہر کی کوچہ گردی سے اُکتاتا، جنگل میں نکل جاتا۔ جب وہاں سے گھبراتا، پھر شہر کی گلیوں میں دیوانہ سا آتا، نہ دن کو کھاتا نہ رات کو سوتا، جیسے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ زندگی انسان کی کھانے پینے سے ہے۔ آدمی اناج کا کیڑا ہے۔ طاقت بدن میں مطلق نہ رہی، اپاہج ہو کر اُسی مسجد کی دیوار کے تلے جا پڑا کہ ایک روز وہی خواجہ سرا جمعے کی نماز پڑھنے آیا، میرے پاس سے ہو کر چلا، میں یہ شعر آہستہ نا طاقتی سے پڑھ رہا تھا ؛

اس دردِ دل سے موت ہو یا دل کو تاب ہو

قِسمت میں جو لکھا ہو الٰہی شتاب ہو

اگرچہ ظاہر میں صورت میری بالکل تبدیل ہو گئی تھی، چہرے کی یہ شکل بنی تھی کہ جن نے مجھے پہلے دیکھا تھا، وہ بھی نہ پہچان سکتا کہ یہ وہی آدمی ہے۔ لیکن وہ محلی آوازِ درد سن کر متوجہ ہوا، میرے تئیں بہ غور دیکھ کر افسوس کیا اور شفقت سے مخاطب ہوا کہ آخر یہ حالت اپنی پہنچائی۔ میں نے کہا، اب تو جو ہوا سو ہوا، مال سے بھی حاضر تھا، جان بھی تصدق کی، اس کی خوشی یوں ہی ہوئی تو کیا کروں؟

یہ سُن کر ایک خدمت گار میرے پاس چھوڑ کر مسجد میں گیا۔ نماز اور خطبے سے فراغت کر کرا جب باہر نکلا، فقیر کو ایک میانے میں ڈال کر اپنے ساتھ خدمت میں اُس پری بے پروا کی لے جا کر چق کے باہر بٹھایا۔ اگرچہ میری روہٹ کچھ باقی نہ رہی تھی پر مدت تلک شب و روز اُس پری کے پاس اتفاق رہنے کا ہوا تھا، جان بوجھ کر بے گانی ہو کر پوچھنے لگی، یہ کون ہے؟ اُس مرد آدمی نے کہا، یہ وہی کم بخت بدنصیب ہے جو حضور کی خفگی اور عتاب میں پڑا تھا۔ اُسی سبب سے اس کے یہ صورت بنی ہے۔ عشق کی آگ سے جلا جاتا ہے۔ ہر چند آنسووں کے پانی سے بجھاتا ہے پر وہ دونی بھڑکتی ہے، کچھ فائدہ نہیں ہوتا، علاوہ اپنی تقصیر کی خجالت سے موا جاتا ہے۔ پری نے ٹھٹھولی سے فرمایا، کیوں جھوٹ بکتا ہے؟ بہت دن ہوئے اُس کی خبر وطن پہنچنے کی مجھے خبرداروں نے دی ہے۔ واللہ اعلم، یہ کون ہے اور تو کس کا ذکر کرتا ہے؟ اُس دم خواجہ سرا نے ہاتھ جوڑ کر التماس کیا، اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ فرمایا کہ تیری جان تجھے بخشی۔ خوجا بولا، آپ کی ذات قدردان ہے، واسطے خدا کے چِلون کو درمیان سے اُٹھور کر پہچانیے اور اِس کی بے کسی کی حالت پر رحم کیجیئے۔ ناحق شناسی خوب نہیں۔ اب اِس کے احوال پر جو کچھ ترس کھائیے، بجا ہے اور جائے ثواب ہے۔ آگے حدِ ادب جو مزاج مبارک میں آوے سو ہی بہتر ہے۔

اتنے کہنے پر مُسکرا کر فرمایا، بھلا، کوئی ہو، اِسے دار الشِفا میں رکھو، جب بھلا چنگا ہو گا تب اس کے احوال کی پرسش کی جائے گی۔ خوجے نے کہا اگر اپنے دستِ خاص سے گلاب اِس پر چھڑکیے اور زبان سے کچھ فرمائیے تو اس کو اپنے جینے کا بھروسا بندھے، ناامیدی بُری چیز ہے، دنیا بہ امید قائم ہے۔ اس پر بھی اُس پری نے کچھ نہ کہا۔ یہ سوال و جواب سن کر میں بھی اپنے جی سے اُکتا رہا تھا۔ نِدھڑک بول اٹھا کہ اب اِس طور کی زندگی کو دل نہیں چاہتا۔ پانو تو گور میں لٹکا چکا ہوں، ایک روز مرنا ہے اور علاج میرا پادشاہ زادی کے ہاتھ میں ہے، کریں یا نہ کریں وہ جانیں۔ بارے مقلب القلوب نے اس سنگ دل کو دل کو نرم کیا۔ مہربان ہو کر فرمایا جلد پادشاہی حکیموں کو حاضر کرو۔ دونھیں طبیب آ کر جمع ہوئے۔ نبض قارورہ دیکھ کر بہت غور کی۔ آخرش تشخیص میں ٹھہرا کہ یہ شخص کہیں عاشق ہوا ہے، سوائے وصلِ معشوق کے اس کا کچھ علاج نہیں۔ جس وقت وہ ملے، یہ صحت پاوے۔ جب حکیموں کی بھی زبانی یہی مرض میرا ثابت ہوا، حکم کیا اس جوان کو گرمابے میں لے جاؤ، نہلا کر خاصی پوشاک پہنا کر حضور میں لے آؤ۔ دونھیں مجھے باہر لے گئے۔ حمام کروا اچھے کپڑے پہنا، خدمت میں پری کی حاضر کیا۔ تب وہ نازنین تپاک سے بولی تو نے مجھے بیٹھے بٹھائے ناحق بدنام اور رُسوا کیا، اب اور کیا کِیا چاہتا ہے؟ جو تیرے دل میں ہے صاف صاف بیان کر۔

یا فُقرا ! اُس وقت یہ عالم ہو کہ شادیِ مرگ ہو جاؤں، خوشی کے مارے ایسا پھولا کہ جامے میں نہ سماتا تھا اور صورت شکل بدل گئی۔ شُکر خدا کا کیا اُس سے کہا، اِس دم ساری حکیمی آپ پر ختم ہوئی کہ مجھ سے مُردے کو ایک بات میں زندہ کیا، دیکھو تو اُس وقت سے اِس وقت تک میرے احوال میں کیا فرق ہو گیا؟ یہ کہہ کر تین بار گِرد پھرا اور سامنے آ کر کھڑا ہوا اور کہا حضور سے یوں حکم ہوتا ہے کہ جو تیرے جی میں ہو سہ کہہ، بندے کو ہفت اقلیم کی سلطنت سے زیادہ یہ ہے کہ غریب نوازی کر کر اس عاجز کو قبول کیجیئے اور اپنی قدم بوسی سے سرفرازی دیجیئے۔ ایک لمحہ تو سُن کر غوطے میں گئی، پھر کن انکھیوں سے دیکھ کر کہا بیٹھو۔ تم خدمت اور وفا داری ایسی ہی کی ہے، جو کچھ کہو سو پھبتی ہے اور اپنے بھی دل پر نقش ہے، خیر ہم نے قبول کیا۔

اسی دن اچھی ساعت سُبھ لگن میں چپکے چپکے قاضی نے نکاح پڑھا دیا۔ بعد اتنی محنت اور آفت کے خدا نے یہ دِن دکھایا کہ میں نے اپنے دل کا مدعا پایا، لیکن جیسی دل میں آرزو اُس پری سے ہم بستر ہونے کی تھی، ویسی ہی جی میں بے کلی اُس وارداتِ عجیب کے معلوم کرنے کی تھی کہ آج تک میں نے کچھ نہ سمجھا کہ یہ پری کون ہے؟ اور وہ حبشی سانولا سجیلا جس نے ایک پُرزے کاغذ پر اتنی اشرفیوں کے بدرے میرے حوالے کیئے، کون تھا؟ اور تیاری ضیافت کی پادشاہوں کے لائق ایک پہر میں کیوں کر ہوئی؟ اور وہ دونوں بے گناہ اُس مجلس میں کس لیے مارے گئے؟ اور سبب خفگی اور بے مروتی کا (باوجود خدمت گزاری اور ناز برداری کے) مجھ پر کیا ہوا؟ اور پھر ایک بارگی عاجز کو یوں سر بلند کیا؟ غرض اسی واسطے بعد رسم رسوماتِ عقد کے آٹھ دن تلک با وصف اس اشتیاق کے قصد مباشرت کا نہ کیا۔ رات کو ساتھ سوتا، دن کو یونہی اُٹھ کھڑا ہوتا۔

ایک دن غسل کرنے کے لیے میں نے خواص کو کہا کہ تھوڑا پانی گرم کر دے تو نہاؤں۔ ملکہ مُسکرا کر بولی کس برتے پر تتا پانی؟ میں خاموش ہو رہا، لیکن وہ پری میری حرکت سے حیران ہوئی۔ بلکہ چہرے پر آثار خفگی کے نمود ہوئے، یہاں تلک کہ ایک روز بولی تم بھی عجب آدمی ہو، یا اتنے گرم یا ایسے ٹھنڈے، اِس کو کیا کہتے ہیں؟ اگر تم میں قوت نہ تھی تو کیوں ایسی کچی ہوس پکائی؟ اُس وقت میں نے بے دھڑک ہو کر کہا اے جانی ! منصفی شرط ہے، آدمی کو چاہیے کہ انصاف سے نہ چوکے۔ بولی اب کیا انصاف رہ گیا ہے؟ جو کچھ ہونا تھا سو ہو چکا۔ فقیر نے کہا، واقعی بڑی آرزو اور مُراد میری یہی تھی، سو مجھے ملی، لیکن دل میرا دُبدھے میں ہے اور دو دلے آدمی کی خاطر پریشان رہتی ہے۔ اُس سے کچھ ہو نہیں سکتا، انسانیت سے خارج ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے دل میں یہ قول کیا تھا کہ بعد اس نکاح کے (کہ عین دل کی شادی ہے) بعضی بعض باتیں (جو خیال میں نہیں آتیں اور نہیں کھلتیں) حضور میں پوچھوں گا کہ زبان مبارک سے اُس کا بیان سُنوں تو جی کو تسکین ہو۔ اُس پری نے چیں بہ چیں ہو کر کہا کیا خوب ! ابھی سے بھول گئے۔ یاد کرو بار ہا ہم نے کہا ہے کہ ہمارے کام میں ہرگز دخل نہ کیجیو، اور کسی بات کے معترض نہ ہو جیو۔ خلافِ معمول یہ بے ادبی کرنی کیا لازم ہے؟ فقیر نے ہنس کر کہا جیسی اور بے ادبیاں معاف کرنے کا حکم ہے، ایک یہ بھی سہی۔ وہ پری نظریں بدل کر تیہے میں آ کر آگ بگولا بن گئی اور بولی، اب تو، بہت سر چڑھا، جا اپنا کام کر، ان باتوں سے تجھے کیا فائدہ ہو گا؟ میں نے کہا، دنیا میں اپنے بدن کی شرم سب سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرے کا واقف کار ہوتا ہے، پس جب ایس چیز دل پر روا رکھی تو اور کون سا بھید چھپانے کے لائق ہے؟

میری اس رمز کو وہ پری وقوف سے دریافت کر کر کہنے لگی۔ یہ بات سچ ہے پر جی میں یہ سوچ آتا ہے کہ اگر مجھ نگوڑی کا راز فاش ہو تو بڑی قیامت مچے۔ میں بولا یہ کیا مذکور ہے؟ بندے کی طرف سے یہ خیال دل میں نہ لاؤ اور خوشی سے ساری کیفیت جو بیتی ہے، فرماؤ۔ ہرگز ہر گز میں دل سے زبان تک نہ لاؤں گا، کسو کے کان پڑنا کیا امکان ہے؟ جب اس نے دیکھا کہ اب سوائے کہنے کے اس عزیز سے چھٹکارا نہیں، لاچار ہو کر بولی ان باتوں کے کہنے میں بہت سی خرابیاں ہیں، تو خواہ مخواہ در پہ ہوا۔ خیر تیری خاطر عزیز ہے، اس لیے اپنی سرگزشت بیان کرتی ہوں، تجھے بھی اُس کا پوشیدہ رکھنا ضرور ہے، خبر شرط۔

غرض بہت سی تاکید کر کر کہنے لگی کہ میں بدبخت ملکِ  دمشق کے سلطان کی بیٹی ہوں اور وہ سلاطینوں سے بڑا پادشاہ ہے۔ سوائے میرے کوئی لڑکا بالا اُس کے یہاں نہیں ہوا۔ جس دن سے میں پیدا ہوئی ما باپ کے سائے میں ناز و نعمت اور خوشی خرمی سے پلی۔ جب ہوش آیا تب اپنے دل کو خوب صورتوں اور نازنینوں کے ساتھ لگایا۔ چناں چہ سُتھری سُتھری پری زاد ہم جولی اُمرا زادیاں مصاحبت میں، اور اچھی اچھی قبول صورت ہم عمر خواصیں سہیلیاں خدمت میں رہتی تھیں۔ تماشا ناچ اور راگ رنگ کا ہمیشہ دیکھا کرتی، دنیا کے بھلے بُرے سے کچھ سروکار نہ تھا۔ اپنی بے فکری کے عالم کو دیکھ کر سوائے خدا کے شکر کچھ منہ سے نہ نکلتا تھا۔

اتفاقاً طبیعت خود بخود ایسی بے مزہ ہوئی کہ نہ مصاحبت کسو کی بھاوے نہ مجلس خوشی کی خوش آوے۔ سودائی سا مزاج ہو گیا۔ دل اُداس اور حیران، نہ کسو کی صورت اچھی لگے، نہ بات کہنے سننے کو جی چاہے۔ میری یہ حالت دیکھ کر دائی ددا چھو چھوانگا سب کی سب متفکر ہوئیں اور قدم پر گرنے لگیں۔ یہی خواجہ سرا نمک حلال قدیم سے میرا محرم اور ہم راز ہے، اس سے کوئی بات مخفی نہیں، میری وحشت دیکھ کر بولا کہ اگر پادشاہ زادی تھوڑا سا شربت ورق الخیال کو نوش جان فرماویں تو اغلب ہے کہ طبیعت بحال ہو جاوے اور فرحت مزاج میں آوے۔ اُس کے اس طرح کے کہنے سے مجھے بھی شوق ہوا، تب میں نے فرمایا جلد حاضر کر۔

محلی باہر گیا اور ایک صراحی اسی شربت کی تکلف سے بنا کر برف میں لگا کر لڑکے کے ہاتھ لوا کر آیا۔ میں نے پیا اور جو کچھ اُس کا فائدہ بیان کیا تھا، ویسا ہی دیکھا۔ اُسی وقت اُس خدمت کے انعام میں ایک بھاری خلعت خوجے کو عنایت کی اور حکم کیا کہ ایک صراحی ہمیشہ اِسی وقت حاضر کیا کر۔ اُس دن یہ مقرر ہوا کہ خواجہ سرا صراحی اُسی چھوکرے کے ہاتھ لِوا لاوے اور بندی پی جاوے۔ جب اس کا نشہ طلوع ہوتا، تو اس کی لہر میں اُس لڑکے سے ٹھٹھا مزاح کر کر دل بہلاتی تھی۔ وہ بھی جب ڈھیٹھ ہوا تب اچھی اچھی میٹھی باتیں کرنے لگا اور اچنبھے کی نقلیں لانے، بلکہ آہ اوہی بھی بھرنے اور سسکیاں لینے، صورت تو اُس کی طرح دار لائق دیکھنے کی تھی، بے اختیار جی چاہنے لگا، میں دل کے شوق سے اور اٹھکھیلیوں کے ذوق سے ہر روز انعام بخشش دینے لگی، پر وہ کم بخت انھیں کپڑوں سے جیسے ہمیشہ پہن رہا تھا، حضور میں آتا بلکہ وہ لباس بھی میلا کچیلا ہو جاتا۔

ایک دن پوچھا کہ تجھے سرکار سے اتنا کچھ ملا، پر تُو نے اپنی صورت ویسی کی ویسی ہی پریشان بنا رکھی، کیا سبب ہے، وے رُوپے کہاں خرچ کیئے یا جمع کر رکھے؟ لڑکے نے یے خاطر داری کی باتیں جو سنیں، اور مجھے احوال پُرساں پایا، آنسو ڈبڈبا کر کہنے لگا جو کچھ آپ نے غلام کو عنایت کیا، سب استاد نے لے لیا، مجھے ایک پیسا نہیں دیا۔ کہاں سے دوسرے کپڑے بناؤں جو پہن کر حضور میں آؤں؟ اِس میں میری تقصیر نہیں، میں لاچار ہوں۔ اِس غریبی کے کہنے اُس کے ترس آیا۔ وونھیں خواجہ سرا کو فرمایا کہ آج سے اِس لڑکے کو اپنی صحبت میں تربیت کر، اور اچھا لباس تیار کروا کر پہنا اور لونڈوں میں بے فائدہ کھیلنے کودنے نہ دے بلکہ اپنی خوشی یہ ہے کہ آداب لائق حضور کی خدمت کے سیکھے اور حاضر رہے۔ خواجہ سرا موافق فرمانے کے بجا لایا اور میری مرضی جو اُدھر دیکھ نہایت اُس کی خبرگیری کرنے لگا۔ تھوڑے دنوں میں فراغت اور خوش خوری کے سبب سے اس کا رنگ و روغن کچھ کا کچھ ہو گیا اور کینچلی سی ڈال دی۔ میں اپنے دل کو ہر چند سنبھالتی پر اُس کافر کے صورت جی میں ایسی کُھب گئی تھی، یہی جی چاہتا کہ مارے پیار کے اُسے کلیجے میں ڈال رکھوں اور اپنی آنکھوں سے ایک پل جُدا نہ کروں۔

آخر اس کو مصاحبت میں داخل کیا، اور خلعتیں طرح بہ طرح کی اور جواہر رنگ بہ رنگ کے پہنا کر دیکھا کرتی۔ بارے اُس کے نزدیک رہنے سے آنکھوں کو سُکھ کلیجے کو ٹھنڈک ہوئی۔ ہر دم اُس کی خاطر داری کرتی، آخر کو میری یہ حالت پہنچی کہ اگر ایک دم کچھ ضروری کام کو میرے سامنے سے جاتا تو چین نہ آتا۔ بعد کئی برس کے وہ بالغ ہوا۔ مسیں بھیگنے لگیں، چھب تختی درست ہوئی، تب اس کا چرچا ہونے لگا۔ دربان اور رَوَنے، میوڑے، باری دار، اوریساول، چوب دار اُس کو محل کے اندر آنے جانے سے منع کرنے لگے۔ آخر اُس کا آنا موقوف ہوا، مجھے تو اس کے بغیر کل نہ پڑتی تھی، ایک دم پہاڑ تھا۔ جب یہ احوال ناامیدی کا سُنا، ایسی بدحواس ہو گئی گویا مجھ پر قیامت ٹوٹی۔ اور یہ حالت ہوئی کہ نہ کچھ کہ سکتی ہوں، نہ اُس بِن رہ سکتی ہوں۔ کچھ بس نہیں چل سکتا، الٰہی کیا کروں ! عجب طرح کا قلق ہوا، مارے بے قراری کے اُسی محلی کو (جو میرا بیدو تھا) بُلا کر کہا کہ مجھے غور اور پرداخت اس لڑکے کی منظور ہے، بالفعل صلاحِ وقت یہ ہے کہ ہزار اشرفی پونجی دے کر چوک کے چوراہے میں دکان جوہری کی کروا دو، تو تجارت کر کے اُس کے نفع سے اپنی گُزران فراغت سے کیا کرے۔ اور میرے محل کے قریب ایک حویلی اچھے نقشے کی رہنے کے لیے بنوا دو۔ لونڈی غلام نوکر چاکر جو ضرور ہوں، مول لے کر اور در ماہا مقرر کر رک اُس کے پاس رکھوا دو کہ کسو طرح بے آرام نہ ہو۔ خواجہ سرا نے اُس کی بود و باش کی اور جوہری پنے اور تجارت کی سب تیاری کر دی۔ تھوڑے عرصے میں اس کی دکان ایسی چمکی اور نمود ہوئی کہ جو خلعتیں فاخرہ اور جواہر بیش قیمت سرکار میں پادشاہ کی اور امیروں کی درکار و مطلوب ہوتے، اُسی کے یہاں بہم پہنچتے۔ آہستہ آہستہ یہ دُکان جمی کہ جو تحفہ ہر ایک مُلک کا چاہیے، وہیں ملے، سب جوہریوں کا روزگار اُس کے آگے مندا ہو گیا۔ غرض اُس شہر میں کوئی برابری اُس کی نہ کر سکتا، بلکہ کیس ملک میں ویسا کوئی نہ تھا۔

اِسی کاروبار میں اُس نے تو لاکھوں رُپی کمائے، پر جدائی اُس کی روز بروز نقصان میرے تن بدن کا کرنے لگی۔ کوئی تدبیر نہ بن آئی کہ اُس کو دیکھ کر اپنے دل کی تسلی کروں۔ندان صلاح کی خاطر اُسی واقف کار محلّی کو بُلایا اور کہا کہ کوئی ایسی صورت بن نہیں آتی کہ ذرا اس کی صورت میں دیکھوں اور اپنے دل کو صبر دوں۔ مگر یہ طرح ہے کہ ایک سرنگ اُس کی حویلی سے کھدوا کر محل میں ملوا دو۔حُکم کرتے ہی تھوڑے دنوں میں ایسی نقب تیار ہوئی کہ جب سانجھ ہوتی چپکے ہی وہ خواجہ سرا اُس جوان کو اسی راہ سے لے آتا۔ تمام شب شراب و کباب و عیش و عشرت میں کٹتی، میں اس کے ملنے سے آرام پاتی ، وہ میرے دیکھنے سے خوش ہوتا۔ جب فجر کا تارا نکلتا اور مؤذن اذان دیتا، محلی اسی راہ سے اُس جوان کو اُس کے گھر پہنچا دیتا۔ ان باتوں سے سوائے اُس خوجے کے اور دو دائیوں کے(جنھوں نے مجھے دودھ پلایا اور پالا تھا) چوتھا آدمی کوئی واقف نہیں تھا۔ مدت تلک اسی طرح سے گُزری۔ ایک روز یہ اتفاق ہُوا کہ موافق معمول خواجہ سرا جو اُس کو بلانے گیا ،دیکھے تو وہ جوان فکر مند سا چُپکا بیٹھا ہے۔محلّی نے پوچھا آج خیر ہے کیوں ایسے دل گیر ہو رہے ہو؟ چلو حضور میں یاد فرمایا ہے۔ اُس نے ہر گز کچھ جواب نہ دیا، زبان نہ ہلائی۔ خواجہ سرا اپنا مُنھ لے کر اکیلا پھر آیا اور احوال اُس کا عرض کیا۔ میرے تئیں شیطان جو خراب کرے، اس پر بھی محبت اُس کی دل سے نہ بھُولی ، اگر یہ جانتی کہ عِشق اور چاہ ایسے نمک حرام بے وفا کی آخر بدنام اور رُسوا کرے گی اور ننگ و ناموس سب ٹھکانے لگے گا تو اُسی دم اُس کام سے باز آتی اور توبہ کرتی، پھر اس کا نام نہ لیتی نہ اپنا دل اُس بے حیا کو دیتی۔ پر ہونا تو یوں تھا اس لیے حرکتِ بے جا اُس کی خاطر میں نہ لائی۔ اور اس کے نہ آنے کو معشوقوں کا چوچلا اور ناز سمجھا۔ اُس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ اس سرگزشت سے بغیر دیکھے بھالے تُو بھی واقف ہوا، نہیں تو میں کہاں اور تُو کہاں؟ خیر جو ہوا سو ہوا۔ اس خر دماغی پر اُس گدھے کی خیال نہ کرو۔دوبارہ خوجے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ اگر تُو اس وقت نہیں آوے گا تو میں کسو نہ کسو ڈھب سے وہیں آتی ہوں، لیکن میرے آنے میں بڑی قباحت ہے۔ اگر یہ راز فاش ہُوا تو تیرے حق میں بہت بُرا ہے۔ تب ایسا کام نہ کر جس سے سوائے رُسوائی کے اور کچھ پھل نہ ملے۔ بہتر یہی ہے کہ جلد چلا آ نہیں تو مجھے پہنچا جان۔ جب یہ سندیسا گیا اور اشتیاق میرا نپٹ دیکھا، بھونڈی سی صُورت بنائے ہوئے ناز نخرے سے آیا۔

جب میرے پاس بیٹھا تب میں نے اُس سے پُوچھا کہ آج رکاوٹ اور خفگی کا کیا باعث ہے؟ اتنی شوخی اور گُستاخی تُو نے کبھو نہ کی تھی، ہمیشہ بلا عذر حاضر ہوتا تھا۔ تب اُس نے کہا کہ میں گُم نام غریب حضور کی توجہ اور دامنِ دولت کے باعث اِس مقدُور کو پہنچا، بہت آرام سے زندگی کٹتی ہے، آپ کی جان و مال کی دُعا کرتا ہوں، یہ تقصیر پادشاہ زادی کے معاف کرنے کے بھروسے اس گنہگار سے سرزد ہوئی، امیدوار عفو ہوں۔ میں تو جان و دل سے اُسے چاہتی تھی، اُس کی بناوٹ کی باتوں کو مان لیا اور شرارت پر نظر نہ کی، بلکہ پھر دل داری سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ایسی مُشکل کٹھن پیش آئی جو ایسا متفکر ہو رہا ہے؟ اس کو عرض کر، اُس کی تدبیر ہو جائے گی۔

غرض اُس نے اپنی خاکساری کی راہ سے یہی کہا کہ مجھ کو سب مُشکل ہے آپ کے رُو برُو سب ہی آسان ہے۔ آخر اس کے فحواۓ کلام اور بت کھاؤ سے یہی کھُلا کہ ایک باغ نہایت سر سبز اور عمارت عالی حوض تالاب کوئی پُختہ سمیت غلام کی حویلی کے نزدیک نافِ شہر میں بکاؤ ہے اور اُس باغ کے ساتھ ایک لونڈی بھی گائن کہ علمِ موسیقی میں خوب سلیقہ رکھتی ہے، یہ دونوں باہم بکتے ہیں نہ اکیلا باغ، جیسے اونٹ کے گلے میں بلی۔ جو کوئی وہ باغ لے وے اُس کنیز کی قیمت بھی دے وے، اور تماشا یہ ہے کہ باغ کا مول پانچ ہزار رُوپے اور اس باندی کا بہا پانچ لاکھ۔ فدوی سے اِتنے رُوپے بالفعل سر انجام نہیں ہو سکتے۔ میں نے اس کا دِل بہت بے اختیار شوق میں اُن کی خریداری کے پایا کہ اسی واسطے دل حیران اور خاطر پریشان تھا۔ باوجودے کہ رُو برو میرے بیٹھا تھا، تب بھی اُس کا چہرہ ملیّن اور جی اُداس تھا۔ مجھے تو خاطر داری اُس کی ہر گھڑی اور ہر پل منظور تھی، اُسی وقت خواجہ سرا کو حُکم کیا کہ کل صبح کو قیمت اُس باغ کی لونڈی سمیت چُکا کر قبالہ باغ ا اور خط کنیزک کا لکھوا کر اس شخص کے حوالے کرو اور مالک کو زرِ قیمت خزانۂ عامرہ سے دلوا دو۔

اس پروَانگی کے سنتے ہی جوان نے آداب بجا لایا اور منھ پر روہٹ آئی۔ ساری رات اُسی قاعدے سے جیسے ہمیشہ گزرتی تھی، ہنسی خوشی سے کٹی۔ فجر ہوتے ہی وہ رُخصت ہوا، خوجے نے موافق فرمانے کے اُس باغ اور لونڈی کو خرید کر دیا، پھر وہ جوان رات کو موافق معمُول کے آیا جایا کرتا۔ ایک روز بہار کے موسم میں کہ مکان بھی دل چسپ تھا ، بدلی گھمنڈ رہی تھی، پھونھیاں پڑ رہی تھیں، بجلی بھی کوندھ رہی تھی، اور ہَوا نرم نرم بہتی تھی، غرض عجب کیفیت اُس دم تھی۔ جونہیں رنگ بہ رنگ کے حباب اور گلابیاں طاقوں پر چُنی ہوئی نظر پڑیں ۔ دل للچایا کہ ایک گھونٹ لوں، جب دو تین پیالوں کی نوبت پہنچی وونہیں خیال اُس باغِ نو خرید کا گُزرا۔ کمال شوق ہُوا کہ ایک دم اِس عالم میں وہاں کی سیر کِیا چاہیے۔ کم بختی جو آوے، اونٹ چڑھے کتا کاٹے۔ اچھی طرح بیٹھے بٹھائے ایک دائی کو ساتھ لے کر سرنگ کی راہ اُس جوان کے مکان کو گئی، وہاں سے باغ کی طرف چلی۔ دیکھا تو ٹھیک اُس باغ کی بہار بہشت کی برابری کر رہی ہے۔ قطرے مینھ کے درختوں کے سر سبز پتوں پر جو پڑے ہیں، گویا زمرد کی پڑیوں پر موتی جڑے ہیں، اور سُرخی پھولوں کی اُس ابر میں ایسی چہچہی لگتی ہے جیسے شام میں شفق پھُولی ہے اور نہریں لبا لب مانند فرشِ آئینے کے نظر آتی ہیں اور موجیں لہراتی ہیں۔

غرض اُس باغ میں ہر طرف سیر کرتی پھرتی تھی کہ دن ہو چکا ، سیاہی شام کی نمودار ہوئی۔ اتنے میں وہ جوان ایک روش پر نظر آیا، اور مجھے دیکھ کر بہت ادب اور گرم جوشی سے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ پر دھر کر بارہ دری کی طرف لے چلا۔ جب وہاں میں گئی تو وہاں کے عالم نے سارے باغ کی کیفیت کو دل سے بھُلا دیا۔ یہ روشنی کا ٹھاٹھ تھا جا بجا قمقمے سرد چراغاں کنول اور فانوس خیال شمع مجلس حیران اور فانوسیں روشن تھیں کہ شبِ برات باوجود چاندنی اور چراغاں اُس کے آگے اندھیری لگتی۔ ایک طرف آتش بازی پھلجڑی انار داؤدی بُھچنپا  مروارید مہتابی ہوائی چرخی ہتھ پھول جاہی جوہی پٹاخے ستارے چھٹتے تھے۔

اس عرصے میں بادل پھٹ گیا اور چاند نکل آیا بعینہ جیسے نافرمانی جوڑا پہنے ہوئے کوئی معشوق نظر آ جاتا ہے۔ بڑی کیفیت ہوئی چاندنی چھٹکتے ہی جوان نے کہا کہ اب چل کر باغ کے بالا خانے پر بیٹھیے۔ میں ایسی احمق ہو گئی تھی کہ جو وہ نگوڑا کہتا سو میں مان لیتی، اب یہ ناچ نچایا کہ مُجھ کو اُوپر لے گیا۔ وہ کوٹھا ایسا بلند تھا کہ تمام شہر کے مکان اور بازار کے چراغاں گویا اُس کے پائیں باغ تھے۔ میں اُس جوان کے گلے میں بانہہ ڈالے ہوئے خوشی کے عالم میں بیٹھی تھی ۔ اتنے میں ایک رنڈی نہایت بھونڈی سی، صُورت نہ شکل چولھے میں سے نکل، شراب کا شیشہ ہاتھ میں لِئے ہوئے آ پہنچی۔ مجھے اُس وقت اُس آنا نپ بُرا لگا اور اُس کی صُورت دیکھنے سے دل میں ہول اُٹھی۔

تب میں نے گھبرا کر جوان سے پوچھا کہ یہ تحفہ علّت کون ہے؟ تُو نے کہاں سے پیدا کی؟ وہ جوان ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ یہ وہی لونڈی ہے کو اِس باغ کے ساتھ حضور کی عنایت سے خرید ہوئی۔ میں نے معلوم کیا کہ اس احمق نے بڑی خواہش سے اِس کو لیا ہے۔ شاید اس کا دل اس پر مائل ہے۔ اسی خاطر سے پیچ و تاب کھا کر میں چُپکی ہو رہی، لیکن دل اُسی وقت سے مکدّر ہوا اور نا خوشی مزاج پر چھا گئی، تس پر قیامت اُس ایسے تیسے نے یہ کی کہ ساقی اُسی چھنال کو بنایا۔ اُس وقت میں اپنا لہُو پیتی تھی اور جیسے طوطی کو کوئی کوّ ے کے ساتھ ایک پنجرے میں بند کرتا ہے، نہ جانے کی فرصت پاتی تھی اور نہ بیٹھنے کو جی چاہتا تھا۔ قصہ مختصر وہ شراب بوند کی بوند تھی جس کے پینے سے آدمی حیوان ہو جاوے۔ دوچار جام پے در پے اُسی تیز آب کے جوان کو دیے اور آدھا پیالہ جوان کی منت سے میں نے زہر مار کیا۔ آخر وہ پلشت بے حیا بھی بدمست ہو کر اُس مردود سے بے ہُودہ ادائیں کرنے لگی، اور وہ چبلا بھی نشے میں بے لحاظ ہو چلا اور نامعقول حرکتیں کرنے لگا۔

مجھے یہ غیرت آئی اگر اُس وقت زمین پھاٹے تو میں سما جاؤں۔ لیکن اس کی دوستی کے باعث میں بللّی اس پر بھی چُپ ہو رہی۔ پر وہ تو اصل کا  پاجی تھا، میرے اس درگزرنے کو نہ سمجھا، نشے کی لہر میں اور بھی دو پیالے چڑھا گیا کہ رہتا سہتا ہوش جو تھا، وہ بھی گُم ہوا۔ اور میری طرف سے مطلق دھڑکا جی سے اُٹھا دیا۔ بےشرمی سے شہوت کے غلبے میں میرے روبرو اُس بے حیا نے اُس بندوڑ سے صحبت کی۔ اور وہ پچھل پائی بھی اُس حالت میں نیچے پڑی ہوئی نخرے تلّے کرنے لگی اور دونوں میں چُوما چاٹی ہونے لگی۔ نہ اِس بے وفا میں وفا نہ اُس بے حیا میں حیا، جیسی روح ویسے فرشتے۔ میری اس وقت یہ حالت تھی جیسے اوسر چو کے ڈومنی گاوے تال بے تال، اپنے اوپر لعنت کرتی تھی کہ کیوں تو یہاں آئی جس کی یہ سزا پائی؟ آخر کہاں تک سہوں، میرے سر سے پاؤں تک آگ لگ گئی اور انگاروں پر لوٹنے لگی، اس غصّے اور طیش میں یہ کہاوت (بیل نہ کوُدا  کُودے گون، یہ تماشا دیکھے کون) کہتی ہوئی وہاں سے اُٹھی۔

وہ شرابی اپنی خرابیِ دل میں سوچا کہ اگر پادشاہ زادی اس وقت ناخوش ہوئی تو کل میرا کیا حال ہو گا اور صبح کو کیا قیامت مچے گی؟ اب یہ بہتر ہے کہ شاہ زادی کو مار ڈالوں۔ یہ ارادہ اس غیبانی کی صلاح سے جی میں ٹھہرا کر گلے میں پٹکا ڈال میرے پاؤں آ کر پڑا، اور پگڑی سر سے اُتار کر منّت و زاری کرنے لگا۔ میرا دل تو اُس پر لٹّو ہو رہا تھا، جدھر لئے پھرتا تھا، پھرتی تھی اور چکی کی طرح میں اس کے اختیار میں تھی۔ جو کہتا تھا سو کرتی تھی، جوں توں مجھے پُھسلا پنڈھلا کر پھر بٹھلایا اور اُسی شراب دو آتشہ کے دو چار پیالے بھر بھر کر آپ بھی پیے اور مجھے بھی دیے، ایک تو غصّے کے مارے جل بھن کر کباب ہو رہی تھی، دوسرے ایسی شراب پی جلد بے ہوش ہو گئی، کچھ حواس باقی نہ رہے۔ تب اُس بے رحم نمک حرام کٹّر سنگ دل نے تلوار سے مجھے گھایل کیا بلکہ اپنی دانست میں مار چکا۔ اُس دم میری آنکھ کُھلی تو مُنہ سے یہی نکلا، خیر، جیسا ہم نے کیا، ویسا پایا لیکن تُو اپنے تئیں میرے اس خونِ ناحق سے بچائیو۔

مبادا ہو کوئی ظالم تِرا گریباں گیر

مرے لہُو کو تو دامن سے دھو، ہُوا سو ہُواکسی سے یہ بھید ظاہر نہ کیجیو، ہم نے تو تجھ سے جان تک بھی درگزر نہ کی، پھر اس کو خدا کے حوالے کر کے مرا جی ڈوب گیا، مجھے اپنی سُدھ بُدھ کچھ نہ رہی شاید اُس قصائی نے مجھے مُردہ خیال کر اُس صندوق میں ڈال کر قلعے کی دیوار کے تلے لٹکا دیا، سو تُو نے دیکھا میں کسی کا برا نہ چاہتی تھی لیکن یہ خرابیاں قسمت میں لکھی تھیں، مٹتی نہیں کرم کی ریکھا، ان آنکھوں کے سبب یہ کچھ دیکھا۔ اگر خوب صورتوں کے دیکھنے کا دل میں شوق نہ ہوتا تو وہ بدبخت میرے گلے کا طوق نہ ہوتا۔ اللہ نے یہ کام کیا کہ تجھ کو وہاں پہنچا دیا اور سبب میری زندگی کا کیا۔ اب حیا جی میں آتی ہے کہ یہ رُسوائیاں کھینچ کر اپنے تئیں جیتا نہ رکھوں یا کسی کو مُنہ نہ دکھاؤں۔ پر کیا کروں، مرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں، خدا نے مار کر پھر جِلایا، آگے دیکھیے کہ کیا قسمت میں بدا ہے۔ ظاہر میں تو تیری دوڑ دھوپ اور خدمت کام آئی جو ویسے زخموں سے شفا پائی۔ تُو نے جان و مال سے میری خاطر کی اور جو کچھ اپنی بساط تھی، حاضر کی۔ اُن دنوں تجھے بے خرچ اور دو دلا دیکھ کر وہ شقّہ سیدی بہار کو (جو میرا خزانچی ہے) لکھا، اُس میں یہی مضمون تھا کہ میں خیر و عافیت سے اب فلانے مکان میں ہوں مجھ بد طالع خبر والدہ شریفہ کی خدمت میں پہنچائیو۔ اُس نے تیرے ساتھ دو کشتیاں نقد کی خرچ کی خاطر بھیج دیں۔ اور جب تجھے خلعت اور جواہر خرید کرنے کو یوسف سوداگر بچّے کی دکان کو بھیجا، مجھے یہ بھروسا تھا کہ وہ کم حوصلہ ہر ایک سے جلد آشنا ہو بیٹھتا ہے، تجھے بھی اجنبی جان کر اغلب ہے کہ دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا، سو میرا منصُوبہ ٹھیک بیٹھا، جو کچھ میرے دل میں خیال آیا تھا اُس نے ویسا ہی کیا۔ تُو جب اُس سے قول قرار پھر آنے کا کر کر میرے پاس آیا اور مہمانی کی حقیقت اور اُس کا بَجِد ہونا مجھ سے کہا، میں دل میں خوش ہوئی کہ جب تُو اس کے گھر میں جا کر کھاوے پیوے گا، تب اگر تُو بھی اُس کو مہمانی کی خاطر بلاوے گا، وہ دوڑا چلا آوے گا۔ اِس لئے تُجھے جلد رُخصت کیا۔ تین دن کے پیچھے جب تُو وہاں سے فراغت کر کے آیا اور میرے رُو برو عذر غیر حاضری کا شرمندگی سے لایا، میں نے تیری تشفّی کے لئے فرمایا، کچھ مضائقہ نہیں، جب اُس نے رضا دی تب تُو آیا، لیکن بے شرمی خوب نہیں کہ دُوسرے کا احسان اپنے سر پر رکھئے اور اُس کا بدلا نہ کیجیے، اب تُو بھی جا کر اُس سے استدعا کر اور اپنے ساتھ ہی ساتھ لے آ۔ جب تُو اُس کے گھر گیا تب میں نے دیکھا کہ یہاں کچھ اسباب مہمان داری کا تیّار نہیں اگر وہ آ جاوے تو کیا کروں؟ لیکن یہ فرصت پائی کہ اس ملک میں قدیم سے پادشاہوں کا یہ معمُول ہے کہ آٹھ مہینے کاروبار مُلکی اور مالی کے واسطے ملک گیری میں باہر رہتے ہیں اور چار مہینے موسِمِ برسات کے قلعۂ مبارک میں جلوس فرماتے ہیں۔ اُن دنوں دو چار مہینے سے پادشاہ یعنی ولی نعمت مجھ بدبخت کے بندوبست کی خاطر ملک میں تشریف لے گئے تھے۔

جب تک تُو اُس جوان کو ساتھ لے کر آوے کہ سیدی بہار نے میرا احوال خدمت میں پادشاہ بیگم کی (کہ والدہ مجھ ناپاک کی ہیں) عرض کیا۔ پھر میں اپنی تقصیر اور گُناہ سے خجل ہو کر اُن کے رُو برو جا کر کھڑی ہوئی اور جو سرگزشت تھی سب بیان کی۔ ہر چند اُنہوں نے میرے غائب ہونے کی کیفیت دُور اندیشی اور مہرِ مادری سے چُھپا رکھی تھی کہ خدا جانے اس کا انجام کیا ہو، ابھی یہ رُسوائی ظاہر کرنی خوب نہیں، میرے بدلے میرے عیبوں کو اپنے پیٹ میں رکھ چھوڑا تھا، لیکن میری تلاش میں تھیں۔ جب مجھے اس حالت میں دیکھا اور سب ماجرا سُنا، آنسُو بھر لائیں اور فرمایا اے کم بخت ناشدنی! تُو نے جان بُوجھ کر نام و نشان بادشاہت کا سارا کھویا، ہزار افسوس! اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھویا۔ کاش کہ تیرے عوض میں پتھر جنتی تو صبر آتا! اب بھی توبہ کر، جو قسمت میں تھا سو ہُوا، اب آگے کیا کرے گی؟ جیوے گی یا مرے گی؟ میں نے نہایت شرمندگی سے کہا کہ مُجھ بے حیا کے نصیبوں میں یہی لکھا جو اس بدنامی اور خرابی میں ایسی ایسی آفتوں سے بچ کر جیتی رہوں۔ اِس سے مرنا ہی بھلا تھا، اگرچہ کلنک کا ٹیکا میرے ماتھے پر لگا، پر ایسا کام نہیں کیا جس میں ماں باپ کے نام کو عیب لگے۔

اب یہ بڑا دکھ ہے کہ وہ دونوں بے حیا میرے ہاتھ سے بچ جاویں اور آپس میں رنگ رلیاں مناویں اور میں اُن کے ہاتھوں سے یہ کچھ دُکھ دیکھوں۔ حیف ہے مجھ سے کچھ نہ ہو سکے۔ یہ امیدوار ہوں کہ خانساماں کو پروانگی ہو، تو اسباب ضیافت کا بخوبی تمام اس کم بخت کے مکان میں تیّار کرے تو میں دعوت کے بہانے سے اُن دونوں بدبختوں کو بُلوا کر اُن کے عملوں کی سزا دُوں اور اپنا عوض لُوں۔ جس طرح اُس نے مجھ پر ہاتھ چھوڑا اور گھایل کیا، میں بھی دونوں کے پُرزے پُرزے کرُوں، تب میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو، نہیں تو اِس غصّے کی آگ میں پُھک رہیں ہوں، آخر جل بل کر بھوبل ہو جاؤں گی۔

یہ سُن کر امّاں نے آتما کے درد سے مہربان ہو کر میری عیب پوشی کی اور سارا لوازمہ ضیافت کا اُسی خواجہ سرا کے ساتھ (جو میرا محرم ہے) کر دیا۔ سب اپنے اپنے کارخانے میں آ کر حاضر ہوئے۔ شام کے وقت تُو اُس موئے کو لے کر آیا، مُجھے اُس قحبہ باندی کا بھی آنا منظور تھا۔ چنانچہ پھر تجھ کو تَقیّد کر کر، اُسے بھی بُلوایا۔ جب وہ بھی آئی اور مجلس جمی، شراب پی پی کر سب بدمست اور بے ہوش ہوئے اور اُن کے ساتھ تُو بھی کیفی ہو کر مُردا سا پڑا۔ میں نے قلماقنی کو حکم کیا کہ اِن دونوں کا سر تلوار سے کاٹ ڈال۔ اُس نے وَہیں ایک دم میں شمشیر نکال کر دونوں کے سر کاٹ بدن لال کر دیے اور تُجھ پر غصّے کا یہ باعث تھا کہ میں نے اجازت ضیافت کی دی تھی، نہ دو دن کی دوستی پر اعتماد کر کے شریک مے خوری کا ہو۔ البتّہ تیری یہ حماقت اپنے تئیں پسند نہ آئی، اس واسطے کہ جب تُو پی پا کر بے ہوش ہوا، تب توقّع رفاقت کی تُجھ سے کیا رہی؟ پر تیری خدمت کے حق ایسے میری گردن پر ہیں کہ جو تجھ سے ایسی حرکت ہوتی ہے تو معاف کرتی ہوں۔ لے میں نے اپنی حقیقت ابتدا سے انتہا تک کہہ سُنائی، اب بھی دل میں کچھ اور ہَوس باقی ہے؟ جیسے میں نے تیری خاطر کر کے تیرے کہنے کو سب طرح قبول کیا، تُو بھی میرا فرمایا اُسی صورت سے عمل میں لا۔ صلاحِ وقت یہ ہے کہ اب اِس شہر میں رہنا میرے اور تیرے حق میں بھلا نہیں۔ آگے تُو مختار ہے۔

یا معبود اللہ! شہزادی اتنا فرما کر چپ رہی۔ فقیر تو دل و جان سے اس کے حکم کو سب چیز پر مقدّم جانتا تھا، اور اُس کی مَحبّت کے جال میں پھنسا تھا۔ بولا جو مرضیِ مبارک میں آوے سو بہتر ہے۔ یہ فدوی بے عذر بجا لاوے گا۔ جب شہزادی نے میرے تئیں فرماں بردار و خدمت گار اپنا پُورا سمجھا، فرمایا دو گھوڑے چالاک اور جاں باز (کہ چلنے میں ہوا سے باتیں کریں) بادشاہ کے خاص اصطبل سے منگوا کر تیّار رکھ۔ میں نے ویسے ہی پری زاد چار گردے کے گھوڑے چُن کر زین بندھوا کر منگوائے۔ جب تھوڑی سی رات باقی رہی بادشاہ زادی مردانہ لباس پہن اور پانچوں ہتھیار باندھ کر ایک گھوڑے پر سوار ہوئی، اور دوسرے مرکب پر میں مسلّح ہو کر چڑھ بیٹھا اور ایک طرف کی راہ لی۔

جب شب تمام ہوئی اور پرچھا ہونے لگا، تب ایک پوکھر کے کنارے پہنچے۔ اُتر کر ہاتھ مُنہ دھوئے، جلدی جلدی کچھ ناشتہ کر کے پھر سوار ہو کر چلے۔ کبھو ملکہ کچھ کچھ باتیں کرتی، اور یُوں کہتی کہ ہم نے تیری خاطر شرم حیا، ملک مال ماں باپ، سب چھوڑا، ایسا نہ ہو کہ تُو بھی اُس ظالم بے وفا کی طرح سلوک کرے۔ کبھو میں کُچھ احوال اِدھر اُدھر کا راہ کٹنے کے لئے کہتا، اور اُس کا بھی جواب دیتا کہ پادشاہ زادی! سب آدمی ایک سے نہیں ہوتے۔ اُس پاجی کے نُطفے میں کُچھ خلل ہو گا جو اُس سے ایسی حرکت واقع ہوئی اور میں نے تو جان و مال تُم پر تصدّق کیا اور تُم نے مُجھے ہر طرح سرفرازی بخشی۔ اب میں بندہ بغیر داموں کا ہُوں۔ میرے چمڑے کی اگر جُوتیاں بنوا کر پہنو تو میں آہ نہ کروں۔ ایسی ایسی باتیں باہم ہوتی تھیں۔ اور رات دن چلنے سے کام تھا۔ کبھو جو ماندگی کے سبب کہیں اُترتے تو جنگل کے چرند پرند شکار کرتے۔ حلال کر کے نمک دان سے لون نکال چکمک سے آگ جھاڑ بھُون بھان کر کھا لیتے اور گھوڑوں کو چھوڑ دیتے۔ وے اپنے مُنہ سے گھاس پات چَر چُگ کر اپنا پیٹ بھر لیتے۔

ایک روز ایسے کفِ دست میدان میں جا نکلے کہ جہاں بستی کا نام نہ تھا اور آدمی کی صورت نظر نہ آتی تھی، اُس پر بھی پادشاہ زادی کی رفاقت کے سبب سے دن عید اور رات شب برات معلوم ہوتی تھی۔ جاتے جاتے انچت ایک دریا (کہ جس کے دیکھنے سے کلیجہ پانی ہو) راہ میں ملا۔ کنارے پر کھڑے ہو کر جو دیکھا تو جہاں تلک نِگاہ نے کام کیا، پانی ہی تھا، کچھ تھل بیڑا نہ پایا۔ یا الٰہی! اب اس سمندر سے کیوں کر پار اُتریں! ایک دم اِسی سوچ میں کھڑے رہے۔ آخر یہ دل میں لہر آئی کہ ملکہ کو یہیں بِٹھا کر میں تلاش میں ناؤ نواڑی کے جاؤں، جب تلک اسباب گزارے کا ہاتھ آوے، تب تلک وہ نازنین بھی آرام پاوے۔ تب میں نے کہا اے ملکہ! اگر حکم ہو تو گھاٹ باٹ اس دریا کا دیکھوں۔ فرمانے لگی بہت تھک گئی ہوں اور بھوکی پیاسی ہو رہی ہوں، میں ذرا دم لے لوں جب تئیں تو پار چلنے کی کچھ تدبیر کر۔

اُس جگی ایک درخت پیپل کا تھا بڑا، چھتر باندھے ہوئے کہ اگر ہزار سو آوے تو دھوپ اور مینہ میں اس کے تلے آرام پاوے۔ وہاں اُس کو بٹھا کر میں چلا اور چاروں طرف دیکھتا تھا کہ کہیں بھی زمین پر یا دریا میں نشان انسان کا پاؤں۔ بہتیرا سر مارا پر کہیں نہ پایا۔ آخر مایوس ہو کر وہاں سے پھر آیا تو اُس پری کو پیڑ کے نیچے نہ پایا۔ اُس وقت کی حالت کیا کہوں کہ سرت جاتی رہی؟ دیوانہ باؤلا ہو گیا۔ کبھو درخت پر چڑھ جاتا اور ڈال ڈال پات پات پھرتا، کبھو ہاتھ پاؤں چھوڑ کر زمین میں گرتا اور اُس درخت کی جڑ کے آس پاس تصدّق ہوتا، کدھو چنگھاڑ مار کر اپنی بے بسی پر روتا۔ کبھو پچھم سے پورب کو دوڑا جاتا، کدھو اُتّر سے دکھن کو پھر آتا۔

غرض بہتیری خاک چھانی لیکن اُس گوہرِ نایاب کی نشانی نہ پائی۔ جب میرا کچھ بس نہ چلا تب روتا اور خاک سر پر اُڑاتا تلاش ہر کہیں کرنے لگا۔

دل میں یہ خیال آیا کہ شاید کوئی جن اُس پری کو اُٹھا کر لے گیا اور مجھے یہ داغ دے گیا، یا اُس کے مُلک سے کوئی اُس کے پیچھے لگا چلا آیا تھا، اس وقت اکیلا پا کر منا منو کر پھر شام کی طرف لے اُبھرا۔ ایسے خیالوں میں گھبرا کر کپڑے وپڑے پھینک پھانک دیے، ننگا منگا فقیر بن کر شام کے مُلک میں صبح سے شام تک ڈھونڈھتا پھرتا اور رات کو کہیں پڑ رہتا۔ سارا جہاں روند مارا، پر اپنی بادشاہ زادی کا نام و نشان کسی سے نہ سُنا، نہ سبب غائب ہونے کا معلوم ہوا۔ تب دل میں خیال آیا کہ جب اس جان کا تُو نے کچھ پتا نہ پایا، تو اب جینا بھی حیف ہے۔ کسی جنگل میں ایک پہاڑ نظر آیا، تب اُس پر چڑھ گیا اور یہ ارادہ کیا کہ اپنے تئیں گرا دوں کہ ایک دم میں سر مُنہ پتھروں سے ٹکراتے ٹکراتے پھُوٹ جاوے گا، تو ایسی مصیبت سے جی چھُوٹ جاوے گا۔

یہ دل میں کہہ کر چاہتا ہوں کہ اپنے تئیں گراؤں، بلکہ پاؤں بھی اُٹھ چُکے تھے کہ کسو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اتنے میں ہوش آ گیا، دیکھتا ہوں تو ایک سوار سبز پوش مُنہ پر نقاب ڈالے مجھے فرماتا ہے کہ کیوں تُو اپنے مرنے کا قصد کرتا ہے؟ خُدا کے فضل سے ناامید ہونا کفر ہے۔ جب تلک سانس ہے، تب تلک آس ہے۔ اب تھوڑے دنوں میں روم کے ملک میں تین درویش تُجھ سار کے ایسی ہی مصیبت میں پھنسے ہوئے اور ایسے ہی تماشے دیکھے ہوئے تجھ سے ملاقات کریں گے اور وہاں کے پادشاہ کا آزاد بخت نام ہے، اس کو بھی ایک مشکل درپیش ہے، جب وہ تُم چاروں فقیروں کے ساتھ ملے گا تو ہر ایک کے دل کا مطلب اور مراد جو ہے، بہ خوبی حاصل ہو گی۔

میں نے رکاب پکڑ کر بوسہ دیا، اور کہا اے خدا کے ولی! تمہارے اِتنے ہی فرمانے سے میرے دلِ پُر اضطرار کو تسلّی ہوئی، لیکن خُدا کے واسطے یہ فرمائیے کہ آپ کون ہیں اور اسم شریف کیا ہے؟ تب اُنہوں نے فرمایا کہ مرتضیٰ علیؓ میرا نام ہے اور میرا یہی کام ہے کہ جس کو جو مشکل کٹھن پیش آوے تو میں اس کو آسان کر دوں۔ اتنا فرما کر نظروں سے پوشیدہ ہو گئے۔ بارے اس فقیر نے اپنے مولا مُشکل کشا کی بشارت سے خاطر جمع کر قصد قسطنطنیہ کا کیا۔ راہ میں جو کچھ مصیبتیں قسمت میں لکھی تھیں کھینچتا ہوا اُس پادشاہ زادی کی مُلاقات کے بھروسے خدا کے فضل سے یہاں تک آ پہنچا، اور اپنی خوش نصیبی سے تمہاری خدمت میں مشرّف ہوا۔ ہمارے تمہارے آپس میں ملاقات تو ہوئ، باہم صحبت اور بات چیت میسّر آئی، اب چاہیے کہ پادشاہ آزاد بخت سے بھی رُوشناس اور جان پہچان ہو۔

بعد اس کے مقرّر ہم پانچوں اپنے مقصدِ دلی کو پہنچیں گے۔ تم بھی دعا مانگو اور آمین کہو۔ یا ہادی! اس حیران سرگردان کی سرگزشت یہ تھی جو حضوری میں درویشوں کی کہہ سنائ۔ اب آگے دیکھیے کہ کب یہ محنت اور غم ہمارا پادشاہ زادی کے ملنے سے خوشی و خرّمی سے بدل ہو۔ آزاد بخت ایک کونے میں چھُپا ہُوا چُپکا دھیان لگائے پہلے درویش کا ماجرا سُن کر خوش ہوا، پھر دوسرے درویش کی حقیقت کو سننے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اختتام “سیر پہلے درویش کی” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سیر دوسرے درویش کی

جب دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت پہنچی، وہ چار زانو ہو بیٹھا اور بولا۔

اے یارو! اس فقیر کا ٹک ماجرا سنو!

میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو!

جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم

ہے گا ہمارا درد نپت لا دوا سنو!

اے دلق پوش! یہ عاجز بادشاہ فارس کے ملک کا ہے۔ ہر فن کے آدمی وہاں پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ اصفہان نصف جہاں مشہور ہے۔ ہفت اقلیم میں اس اقلیم کے برابر کوئی ولایت نہیں کہ وہاں کا ستارہ آفتاب اور وہ ساتوں کواکب میں نیر اعظم ہے۔ آب و ہوا وہاں کی خوشی اور لوگ روشن طبع اور صاحب سلیقہ ہوتے ہیں۔ میرے قبلہ گاہ نے، جو بادشاہ اس ملک کے تھے لڑکپن سے قاعدے اور قانون سلطنت کی تربیت کرنے کے واسطے بڑے بڑے دانا ہر ایک علم اور کسب کے چن کر میری اتالیقی کے لیے مقرر کیے تھے تو تعلیم کامل ہر نوع کی پا کر قابل ہوں۔ خدا کے فضل سے چودہ برس کے سن و سال میں سب علم سے ماہر ہوا۔ گفتگو معقول نشست و برخاست پسندیدہ اور جو کچھ بادشاہوں کو لائق اور درکار ہے سب حاصل کیا اور یہی شوق شب و روز تھا کہ قابلوں کی صحبت میں قصے ہر ایک ملک کے اور احوال اوالعزم بادشاہوں اور نام آوروں کا سنا کروں۔

ایک روز ایک مصاحب دانا نے کہ خوب تواریخ داں اور جہاں دیدہ تھا، مذکور کیا کہ اگرچہ آدمی کی زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، لیکن اکثر وصف ایسے ہیں کہ ان کے سبب سے انسان کا نام قیامت تک زبانوں پر بخوبی چلا جائے گا۔ میں نے کہا اگر تھوڑا سا احوال اس کا مفصل بیان کرو تو میں بھی سنوں اور اس پر عمل کروں۔ تب وہ شخص حاتم طائی کا ماجرا اس طرح سے کہنے لگا۔

قصہ حاتم طائی کا۔

حاتم طائی کے وقت میں ایک بادشاہ عرب کا نوفل نام تھا۔ اس کو حاتم کے ساتھ بہ سبب نام آوری کے دشمنی مکال ہوئی۔ بہت سا لشکر فوج جمع کر کر لڑائی کی خاطر چڑھ آیا۔ حاتم تو خدا ترس اور نیک مرد تھا، یہ سمجھا کہ اگر میں بھی جنگ کی تیاری کروں تو خدا کے بندے مارے جائیں گے۔ اور بڑے خوں ریزی ہو گی۔ اس کا عذاب میرے نام لکھا جائے گا۔ یہ بات سوچ کر تن تنہا اپنی جان لے کر پہاڑ کی کھوہ میں جا چھپا۔

جب حاتم کے غائب ہونے کی خبر نوفل کو معلوم ہوئی، سب اسباب گھر بار حاتم کا قرق کیا اور منادی کرا دی جو کوئی حاتم کو ڈھونڈ کر پکڑ لاوے پانچ سو اشرفی بادشاہ کے سرکار سے انعام پاوے۔ یہ سن کر سب کو لالچ آیا اور جستجو حاتم کی کرنے لگے۔ اور روز ایک بوڑھا اس کی بڑھیا دو تین بچے چھوٹے چھوٹے ساتھ لیے ہوئے لکڑیاں توڑنے کے واسطے اس غار کے پاس جہاں حاتم پوشیدہ تھا، پہنچے اور لکڑیاں اس جنگل سے چننے لگے، بڑھیا بولی کہ اگر ہمارے کچھ دن بھلے آتے تو حاتم کو کہیں ہم دیکھ پاتے اور اس کو پکڑ کر نوفل کے پاس لے جاتے تو وہ پانچ سو اشرفی دیتا ہم آرام سے کھاتے اس دکھ دھندے سے چھوٹ جاتے۔ بوڑھے نے کہا۔ کیا ٹر  ٹر کرتی ہے؟ ہماری طالع میں یہی لکھا ہے کہ روز لکڑیاں توڑیں اور سر پر دھر کر بازار میں بیچیں، تب لون روٹی میسر آوے یا ایک روز جنگل سے باگھ لے جاوے۔ لے اپنا کام کر۔ ہمارے ہاتھ حاتم کاہے کو آوے گا اور بادشاہ روپے دلاوے گا؟ عورت نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپکی ہو رہی۔

یہ دونوں کی باتیں حاتم نے سنیں، مرومی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔ سچ ہے اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں، اور جس کی جی میں درد نہیں وہ قصائی ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

غرض حاتم کی جواں مردی نے نہ قبول کیا کہ اپنے کانوں سے سن کر چپکا ہو رہے۔ وونہیں باہر نکل آیا اور اس بوڑھے سے کہ اے عزیز! حاتم میں ہی ہوں۔ میرے تئیں نوفل کے پاس لے چل۔ وہ مجھے دیکھے گا اور جو کچھ روپے دینے کا اقرار کیا ہے تجھے دیوے گا۔ میر مرد نے کہا، سچ ہے کہ اس صورت میں بھلائی اور بہبودی البتہ ہے، لیکن وہ کیا جانے تجھ سے سلوک کرے، اگر مار ڈالے تو میں کیا کروں؟ یہ مجھ سے ہر گزر نہ ہو سکے گا کہ تجھ سے انسان کو طمع کی خاطر دشمنی کے حوالے کروں۔ وہ مال کتنے دن کھاؤں گا اور کب تک جیئوں گا؟ آخر مر جاؤں گا، تب خدا کو کیا جواب دوں گا۔

حاتم نے بہتیری منت کی کہ مجھے لے چل۔ میں اپنے خوشی سے کہتا ہوں اور ہمیشہ اسی آرزو میں رہتا ہوں کہ مرا جان مال کسو کے کام آوے تو بہتر ہے۔ لیکن وہ بوڑھا کسی طرح راضی نہ ہوا کہ حاتم کو لے جاتا تو میں آپ سے آپ بادشاہ پس جا کر کہتا ہوں کہ اس بوڑھے مجھے جنگل میں ایک پہاڑ کی کوہ میں چھپا رکھا تھا۔ وہ بوڑھا ہنسا اور بولا۔ بھلائی کے بدلے برائی ملے، تو یا نصیب اس رد و بدل کے سوال جواب میں آدمی اور بھی آ پہنچے، بھیڑ لگ گئی۔ افسوس کرتا ہوا پیچھے پیچھے ساتھ ہو لیا۔ جب نوفل کے رو برو لے گئے تو اس نے پوچھا کو اس کو کون پکڑ لایا؟ ایک بد ذات سنگ دل بولا کہ ایسا کام سوائے ہماری اور کون کر سکتا ہے؟ یہ فتح ہماری نام ہے ہم نے عرش پر جھنڈا گاڑا ہے۔ ایک لن ترانی والا ٹینگ مارنے لگا کہ میں کئی دن سے دوڑ دھوپ کر کر جنگل سے پکڑ لیا ہوں۔ میری محنت پر نظر کیجئے اور جو قرار ہے، سو دیجئے۔ اسی طرح اشرفیوں کے لالچ سے ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ کام مجھ سے ہوا۔ وہ بوڑھا چپکا ایک کونے میں لگتا ہوا سب کی شیخیاں سن رہا تھا اور حاتم کی خاطر روتا تھا۔ جب اپنی اپنی دلاوری اور مردانگی سب کہہ چکے۔ تب حاتم نے بادشاہ سے کہا اگر سچ بات پوچھو تو یہ ہے کہ وہ بوڑھا جو الگ سب سے کھڑا ہے، مجھ کو لایا ہے، اگر قیافہ پہچان جانتے ہو تو دریافت کرو اور میرے پکڑنے کی خاطر جو قبول کیا ہے پورا کرو کہ ساری ڈیل میں زبان حلال ہے۔ مرد کو چاہیے جو کہے سو کرے۔ نہیں تو جیبھ حیوان کو بھی خدا نے دی ہے۔ پھر حیوان اور انسان میں کیا تفاوت ہے؟ نوفل نے اس لکڑہارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا کہ سچ کہہ، اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا؟ اس بیچارے نے سر سے پاؤں تک جو گذرا تھا راست کہہ سنایا اور کہا حاتم میری خاطر آپ سے چلا آیا ہے۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ بل بے تیری سخاوت اپنی جان کا بھی خطر نہ کیا۔ جتنے جھوٹ دعوے حاتم کو پکڑ لانے کے کرتے تھے، حکم ہوا کہ ان کی ٹنڈیاں کس کر پانچ سو اشرفی کے بدلے پانچ پانچ سو جوتیاں اس کے سر پر لگاؤ کہ ان کی جان نکل پڑے۔ وونہیں تڑ تڑ بیزا سریں پڑنے لگیں کہ ایک دم میں سر ان کے گنجے ہو گئے۔ سچ ہے، جھوٹ بولنا ایسی ہی گناہ ہے کہ کوئی گناہ اس نہیں پہنچتا۔ خدا سب کو اس بلا سے محفوظ رکھے اور جھوٹ بولنے کا چسکا نہ دے۔ بہت آدمی جھوٹ موٹ بکے جاتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت سزا پاتے ہیں۔ غرض ان سب کو موافق ان کے انعام دے کر، نوفل نے اپنے دل میں خیال کیا کہ حاتم سے شخص سے کہ ایک عالم کو اس سے فیض پہنچتا ہے اور محتاجوں کی خاطر جان اپنی دریغ نہیں کرتا اور خدا کی راہ میں سرتاپا حاضر ہے دشمنی رکھنی اور اس کا مدعی ہونا مرد آدمیت اور جواں مردی سے بعید ہے۔ وونہیں حاتم کا ہاتھ بڑی دوستی اور گرم جوشی سے پکڑ لیا اور کہا کیوں نہ ہو جب ایسی ہو تب ایسی ہو تواضع تعظیم کر کر پاس بٹھلایا اور حاتم کو ملک و املاک اور مال و اسباب جو ضبط کیا وونہیں چھوڑ دیا، نئے سر سے سرداری قبیلہ طے کی اسے دی اور اس بوڑھے کو پانچ سو اشرفیاں خزانے سے دلوا دیں وہ دعا دیتا ہوا چلا گیا۔

جب یہ ماجرا حاتم کا میں نے تمام سنا جی میں غیرت آئی اور یہ خیال گزرا کہ حاتم اپنی قوم کا رئیس تھا، جن نے سخاوت کے باعث یہ نام پیدا کیا کہ آج تلک مشہور ہے۔ میں خدا کے حکم سے بادشاہ تمام ایران کا ہوں، اگر اس نعمت سے محروم رہوں تو بڑا افسوس ہے۔ فی الواقع دنیا میں کوئی بڑا داد و دہش سے نہیں۔ اس واسطے کہ آدمی جو کچھ دنیا میں دیتا ہے اس کو عوض عاقبت میں لیتا ہے۔ اگر کوئی ایک دانہ بوتا ہے تو اس جتنا کچھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات دل میں ٹھہرا کر میر عمارت کو بلوا کر حکم کیا کہ ایک مکان عالی شان جس کے چالیس دروازے بلند اور بہت کشادہ ہوں، باہر شہر کے جلد بنواؤ۔ تھوڑے عرصے میں ویسی ہی عمارت جیسا دل چاہتا تھا بن کر تیار ہوئی اور اس مکان میں ہر روز ہر وقت فجر سے شام تک محتاجوں اور بے کسوں کے تئیں روپے اشرفیاں دیتا، اور جو کوئی جس چیز کا سوال کرتا، میں اسے مالا مال کرتا۔

غرض چالیس دروازوں سے حاجت مند آتے اور جا چاہتے سو لے جاتے۔ ایک روز کا یہ ذکر ہے کہ ایک فقیر سامنے کے دروازے سے آیا اور سوال کیا۔ میں نے اسے ایک اشرفی دی۔ پھر وہی دوسرے دروازے سے ہو کر آیا، دو اشرفیاں مانگیں۔

میں نے پہچان کر درگزر کی اور دیں۔ اسی طرح اس نے ہر ایک دروازے سے اور ایک ایک اشرفی بڑھانا شروع کیا اور میں بھی جان بوجھ کر ان جان ہوا، اور اس کے سوا موافق دیا گیا۔ آخر چالیس دروازے کی راہ سے آ کر چالیس اشرفیاں مانگیں۔ وہ بھی میں نے دلوا دیں اتنا کچھ لے کر وہ درویش پھر پہلے دروازے سے گھس آیا اور سوال کیا۔ مجھے بہت برا معلوم ہوا۔ میں نے کہا سن اے لالچی تو کیسا فقیر ہے کہ ہر گز فقیر کے تینوں حرفوں سے واقف نہیں؟ فقیر کا عمل ان پر چاہیے۔ فقیر بولا۔ بھلا داتا تم ہی بتاؤ میں نے کہا ” ف ” سے فاقہ، ” ق ” سے قناعت ” ر ” سے ریاضت نکلتی ہے، جس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ فقیر نہیں۔ اتنا جو تجھے ملا ہے، اس کو کھا پی کر پھر آئیو اور جو مانگے گا لے جائیو۔ یہ خیرات احتیاج رفع کرنے کے واسطے ہے نہ جمع کرنے کے لیے۔ اے حریص! چالیس دروازوں سے تو نے ایک اشرفی سے چالیس اشرفیوں تک لیں، اس کا حساب تو کر کہ ریوڑی کے پھیری طرح کتنی اشرفیاں ہوئیں اور اس پر بھی تجھے حرص پھر پہلے دروازے سے لے آئی۔ اتنا مال جمع کر کے کیا کرے گا؟ فقیر کو چاہیے کہ ایک روز کی فکر کر لے اور دوسرے دن پھر نئی روزی رازق دینے والا موجود ہے۔ اب حیا و شرم پکڑ اور صبر و قناعت کا کام فرما۔ یہ کیسی فقیری ہے جو تجھے مرشد نے بتائی ہے؟

فقیر یہ میری بات سن کر خفا اور بد دماغ ہوا اور جتنا مجھ سے لے کر جمع کیا تھا سب زمیں میں ڈال دیا اور بولا۔ بس بابا اتنے گرم مت ہو۔ اپنی کائنات لے کر رکھ چھوڑو، پھر سخاوت کا نام لیجئو۔ سخی ہونا بہت مشکل ہے۔ تم سخاوت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اس منزل کو کب پہنچو؟ ابھی دلی دور ہے۔ سخی کے بھی تین حروف ہیں۔ پہلے ان پر عمل کرو تب سخی کہلاؤ گے۔ جب میں ڈرا اور کہا بھلا داتا! اس کے معنی مجھے سمجھاؤ۔ کہنے لگا۔ س سے سمائی اور خ سے خوف الٰہی اور ی سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور مرنے کو، جب تلک اتنا نہ ہو لے، تو سخاوت کا نام لے، اور سخی کا درجہ ہے کہ اگر بدکار ہو، تو بھی دوست خدا کا ہے، اس فقیر نے بہت ملکوں کے سیر کی ہے، لیکن سوائے بصرے کی بادشاہ زادی کے کوئی سخی دیکھنے میں نہ آیا۔ سخاوت کا خاصہ خدا نے اس عورت پر قطع کیا ہے اور سب نام چاہتے ہیں، پر ویسا کام نہیں کرتے۔ یہ بھی سن کر میں نے بہت منت کی اور قسمیں دیں کہ میری تقصیر معاف کرو اور جو چاہیے سو اور میر دیا ہرگز نہ لیا اور یہ بات کہتا ہوا چلا۔ اب اپنی ساری بادشاہت مجھے دے تو اس پر بھی نہ تھوکوں اور نہ دھر ماروں ، وہ تو چلا گیا پر بصرے کی بادشاہ زادی کی یہ تعریف سننے سے دل بے کل ہوا۔ کسی طرح کل نہ تھی۔ اب یہ آرزو ہوئی کہ کسو صورت سے بصرے چل کر اس کو دیکھا چاہیے۔

اس عرصے میں بادشاہ نے وفات پائی اور تخت پر میں بیٹھا۔ سلطنت ملی پر وہ خیال نہ گیا ۔ وزیر اور امیروں سے ، جو پائے تختِ سلطنت کے اور کان مملکت کے تھے ، مشورت کی کہ سفر بصرے کا کیا چاہتا ہوں۔ تم اپنے کام میں مستعد رہو۔ اگر زندگی ہے تو سفر کی عمر کوتاہ ہوتی ہے، جلد پھر میں آتا ہوں۔ کوئی میرے جانے پر راضی نہ ہوا۔ لاچار دل تو اداس ہو رہا تھا۔ ایک دن بغیر سبب کے کہے سنے ، چپکے سے وزیرِ با تدبیر کو بلا کر مختار اور وکیل مطلق اپنا کیا اور سلطنت کا مدار المہام بنایا۔ پھر میں نے گیروا بسر پہن فقیر بھیس کر ، اکیلے راہ بصرے کی لی۔ تھوڑے دنوں میں اس کی سرحد میں جا پہنچا۔ تب سے یہ تماشا دیکھنے لگا کہ جہاں رات کو جا کر مقام کرتا ، نوکر چاکر اسی ملکہ کے استقبال کر کر ایک مکان معقول میں اتارتے ، اور جینا لوازمہ ضیافت کا ہوتا ہے ، بخوبی موجود ہو کر اور خدمت میں دست بستہ تمام رات حاضر رہتے ، دوسرے دن دوسری منزل میں یہی صورت پیش آتی۔ اسی آرام سے مہینوں کی راہ طے کی۔ آخر بصرے میں داخل ہوا۔ وونہیں ایک جواں شکیل ، خوش لباس ، نیک خُو ، صاحبِ مروت کہ دانائی اس کے قیافے سے ظاہر تھی ، میرے پاس آیا اور نپٹ شیریں زبانی سے کہنے لگا کہ میں فقیروں کا خادم ہوں ، ہمیشہ اسی تلاش میں رہتا ہوں کہ جو کوئی مسافر ، فقیر یا دنیا دار اس شہر میں آوے ، میرے گھر میں قدم رنجہ فرماوے، سوائے ایک مکان کے یہاں بدیسی کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ آپ تشریف لے چلئے اور مقام کو زینت بخسئے اور مجھے سرفراز کیجئے۔

فقیر نے پوچھا ، صاحب کا اسمِ شریف کیا ہے۔ بولا اس گمنام کا نام بیدار بخت ہے۔ اس کی خوبی اور تملق دیکھ کر یہ عاجز اس کے ساتھ چلا اور اس کے مکان میں گیا۔ دیکھا تو ایک عمارت عالی لوازم شاہانہ سے تیار ہے۔ ایک دالان میں اس نے لے جا کر بٹھایا اور گرم پانی منگوا کر ہاتھ پاؤں دھلوائے اور دستر خوان بچھوا کر مجھ تن تنہا کے روبرو بکاول نے ایک تاورے کا تورا چن دیا۔ چار بشقاب ، ایک میں یخنی پلاؤ ، دوسری میں قورما پلاؤ ، تیسری میں متنجن پلاؤ اور چوتھی میں کوکو پلاؤ اور ایک قاب زردے کی اور کئی طرح کے قلئے ، دو پیازہ ، نرگسی ، بادام ، روغن جوش اور روٹیاں کئی قسم کی باقر خانی ، تنکی شیرمال ، گاؤدیدہ ، گاؤ زبان ، نعمت نان ، پراٹھے ، اور کباب کوفتے کے ، مرچ کے تکے ، خاگینہ ، ملغوبہ شب دیگ ، دم پُخت ، حلیم ، ہریسا ، سموسے ، ورتی ، قبولی ، فرنی ، شیر برنج ، ملائی ، حلوہ ، فالودہ ، پن بھتا ، نمش ، آب شورہ ، ساق عروس ، لوزیات ، مربہ اچار دان ، دہی کی قلفیاں ، یہ نعمتیں دیکھ کر روح بھر گئی ۔ جب ایک ایک نوالہ ہر ایک سے لیا ، پیٹ بھی بھر گیا ، تب کھانے سے ہاتھ کھینچا ۔ وہ شخص مجوز ہوا کہ صاحب نے کیا کھایا؟ کھانا تو سب امانت دھرا ہے بے تکلف اور نوشِ جان فرمائیے ۔ میں نے کہا شرم کیا ہے خدا تمہارا خانہ آباد رکھے ۔ جو کچھ میرے پیٹ میں سمایا سو میں نے کھایا اور ذائقے کی اس کے کیا تعریف کروں کہ اب تک جزبان چاٹتا ہوں اور جو ڈکار آتی ہے سو معطر۔ لو اب مزید کرو۔ جب دسترخوان اٹھا تو زیر انداز کا شانی مخمل کا مقیش بچھا کر چلمچی ، آفتابہ طلائی لا کر بیس دان میں سے خوشبو دار بیس دے کر گرم پانی سے میرے ہاتھ دھلائے۔ پھر پان دان جڑاؤ میں گلوریاں سونے کی بھر کر پکھروٹوں میں بندھی ہوئیں اور چو گھروں میں گلوریاں ، چکنی سپاریاں اور لونگ الائچیاں ، روپہلے ورقوں میں منڈھی ہوئی لا کر رکھیں۔ جب میں پانی پینے کو مانگتا تب صراحی برف میں لگی ہوئی آب دار لے آتا ۔

جب شام ہوئی فانوسوں میں کافوری شمعیں روشن ہوئیں۔ وہ عزیز بیٹھا ہوا باتیں کرتا رہا۔ جب پہر رات بیت گئی ، بولا اب اس چھپر کھٹ میں کہ جس کے آگے دلدار پیش گیر کھڑا ہے ، آرام کیجئے ۔ فقیر نے کہا اے صاحب ! ہم فقیروں کو ایک بوریا یا مرگ چھار بستر کے لئے بہت ہے۔ یہ خدا نے تم دنیا داروں کے واسطے بنایا ہے۔ کہنے لگا۔ یہ سب اسباب درویشوں کی خاطر ہے۔ کچھ میرا مال نہیں ۔ اس کے بجد ہونے سے ان بچھونے پر۔ کہ پھولوں کی سیج جیسی بھی نرم تھے ، جا کر لیٹا۔ دونوں پٹیوں کی طرف گلدان اور چنگیریں پھولوں کی چنی ہوئیں اور عود سوز اور لخلخے روشن تھے ، جیدھر کی کروٹ لیتا دماغ معطر ہو جاتا۔ اس عالم میں سو رہا۔

جب صبح ہوئی ناشتے کو بھی بادام ، پستے ، انگور ، انجیر ، ناشپاتی ، انار ، کشمش ، چھوہارے اور میوے کا شربت لا کر حاضر کیا ۔ اسی طور سے تین دن رہا۔ چوتھے روز میں نے رخصت مانگی۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا شاید اس گنہگار سے صاحب کی خدمت گاری میں کچھ قصور ہوا کہ جس کے باعث مزاج تمہارا مکدر ہوا، میں نے حیران ہو کر کہا برائے خدا یہ کیا مذکور ہے ؟ لیکن مہمانی کی شرط تین دن تلک ہے سو میں رہا ۔ زیادہ رہنا خوب نہیں اور علاوہ یہ فقیر واسطے سیر کے نکلا ہے ۔ اگر ایک ہی جگہ زیادہ رہ جاوے تو مناسب نہیں ۔ اس لئے اجازت چاہتا ہے نہیں تو تمہاری خوبیاں ایسی نہیں کہ جدا ہونے کو جی چاہے ۔ تب وہ بولا جیسی مرضی لیکن ایک سماعت توقف کیجئے کہ بادشاہ زادی کے حضور میں جا کر عرض کروں۔ اور تم جو جایا چاہتے ہو تو جو کچھ اسباب اوڑھے بچھانے کا اور کھانے کے باسن روپے سونے کے اور جڑاؤ کے اس مہمان خانے میں ہیں ، یہ سب تمہارا مال ہے ، اس کے ساتھ لے جانے کی خاطر جو فرماؤ تدبیر کی جائے ۔ میں نے کہا لا حول پڑھو ، ہم فقیر نہ ہوئے نئے بھاٹ ہوئے ۔ اگر یہی حرص دل میں ہوتی تو فقیر کاہے کو ہوتے ، دنیا داری کیا بری تھی۔

اس عزیز نے کہا اگر یہ احوال ملکہ سے سنے تو خدا جانے مجھے اس خدمت سے تغیر کر کر کیا سلوک کرے ۔ اگر تمہیں ایسی ہی بے پروائی ہے تو ان سب کو ایک کوٹھڑی میں امانت بند کر کر دروازے کو سر بہ مہر کر دو پھر جو چاہو سو کیجو ۔

میں قبول نہ کرتا تھا اور وہ مانتا بھی نہ تھا ۔ لاچار یہی صلاح ٹھہری کہ سب اسباب کو گند کر کر قفل کر دیا اور منتظر رخصت کا ہوا۔ اتنے میں ایک خواجہ سرا معتبر سر پر سر پیچ اور گوش پیچ اور کمر بندی ، باندھے ایک عصا سونے کا جڑاؤ ہاتھ میں اور ہاتھ اس کے کئی خدمت گار ، معقول عہدے لیے ہوئے اس شان و شوکت سے میرے نزدیک آیا ۔ ایسی ایسی مہربانی اور ملائمت سے گفتگو کرنے لگا کہ جس کا بیان نہیں کر سکتا ۔ پھر بولا ، اے میاں ، اگر توجہ اور کرم کر اس مشتاق کے غریب خانے کو اپنے قدم کی برکت سے رونق بخشو تو بندہ نوازی اور غریب پروری سے بعید نہیں۔ شاید شہزادی سنے کہ کوئی مسافر یہاں آیا تھا ۔ اس کی تواضع مدارت کسے نے نہ کی ، وہ یوں ہی چلا گیا ۔ اس واسطے واللہ اعلم مجھ پر کیا آفت لاوے اور کیسی قیامت اٹھاوے ، بلکہ حرف زندگی پر ہے۔ میں نے ان باتوں پر نہ مانا۔ تب خواہ مخواہ منتیں کر کرے میرے تئیں اور ایک حویلی میں، کہ پہلے مکان سے بہتر تھی، لے گیا۔ اسی پہر شربت اور تفنن کی خاطر میوے کھلائے اور باسن نقرئی و طلائی فرش فروش اور اسباب جو کچھ وہاں تھا مجھے سے کہنے لگا کہ ان سب کے تم مالک مختار ہو۔ جو چاہو سو کرو۔ میں یہ باتیں سن کر حیران ہوا اور چاہا کہ کسی نہ کسی طرح یہاں سے رخصت ہو کر بھاگوں۔ میرے بشرے کو دیکھ کر وہ محلی بولا اے خدا کے بندے، جو تیرا مطلب یا آرزو ہو، سو مجھ سے کہہ، تو حضور میں ملکہ کے جا کر عرض کروں۔ میں نے کہا۔ میں فقیری کے لباس میں دینا کا مال کیا مانگوں کہ تم بغیر مانے دیتے ہو اور میں انکار کرتا ہوں۔ تب وہ کہنے لگا کہ حرص دنیا کی کسی کے جی سے نہیں گئی۔ چنانچہ کسو کب نے کبت کہا ہے :

نکھ بن کٹا دیکھے، سمیں بھاری جٹا دیکھے

جوگی کن پتھا دیکھے، چھار لائے تن میں

موتی انمول دیکھے، سیوڑا سر چھول دیکھے

کرت کلول دیکھے، بن کھنڈی بن میں

بیر دیکھے، سور دیکھے، سب گئی اور کوڑ دیکھے

مایا کہ پور دیکھے، پھول رہے، دھن میں

اوی انت سکھی دیکھے، جنم ہی کے دکھی دیکھے

پردے نہ دیکھے، جن کے لوبھ ناہیں من من

میں نے یہ سن کر جواب دیا کہ یہ سچ ہے، پر میں کچھ نہیں چاہتا۔ اگر فرماؤ تو ایک رقعہ سر بہ مہر اپنے مطلب کا لکھ کر دوں جو حضور ملکہ کے پہنچا دو، تو بڑی مہربانی ہے، گویا تمام دنیا کا مال مجھ کو دیا۔ بولا بسر و چشم کیا مضائقہ میں نے ایک رقعہ لکھا پہلے شکر خدا کیا پھر احوال کہ یہ بندہ خدا کا کئی روز سے اس شہر میں وارد ہے اور سرکار سے سب طرح کی خبر گیری ہوتی ہے۔ جیسی خوبیاں اور نیک نامیاں ملکہ کی سن کر اشتیاق دیکھنے کا ہوا تھا، اس سے چار چند پایا۔ اب حضور کے ارکان دولت یوں کہتے ہیں کہ جو مطلب اور تمنا تیری ہو، سو ظاہر کر۔ اس واسطے بے حجابانہ جو جو دل کی آرزو ہے، سو عرض کرتا ہو کہ دنیا کے مال کا محتاج نہیں۔ اپنے ملک کا میں بھی بادشاہ ہوں۔ فقط یہاں آنا اور محنت اٹھانا آپ کے اشتیاق کے سبب سے ہوا جو تن تنہا اس صورت سے آ پہنچا۔ اب امید ہے کہ حضور کی توجہ سے خاک نشین مطلب دلی کو پہنچے لائق ہے۔ آگے جو مرضی مبارک۔ لیکن اگر یہ التماس خاکسار کا قبول نہ ہو گا، تو اسی طرح خاک چھنتا پھرے گا اور اس جان بے قرار کو آپ کے عشق میں نثار کرتے گا۔ مجنوں اور فرہاد کی مانند جنگل میں یا پہاڑ پر مر رہے گا۔

یہی مدعا لکھ کر اس خوجے کو دیا۔ اس نے بادشاہ زادی تلک پہنچایا۔ بعد ایک دم کے پھر آیا اور میرے تئیں اور اپنے ساتھ محل کی ڈیوڑھی پر لے گیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو ایک بوڑھی سی عورت صاحب لیاقت سنہری کرسی پر گہنا پاتا پہنے ہوئے بیٹھی ہے۔ اور کئی خوجے خدمت گار تکلف کے لباس پہنے ہوئے ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہیں۔ میں اسے مختار کا جان کر اور دیرینہ سمجھ کر دست بسر ہوا۔ اس ماما نے بہت مہربانی سے سلام کیا اور حکم کیا آؤ بیٹھو خوب ہوا تم آئے۔ تمہیں نے ملکہ کے اشتیاق کا رقعہ لکھا تھا؟ میں شرم کھا کر چپ ہو رہا اور سر نیچا۔

ایک ساعت کے بعد بولی کہ اے جوان! پادشاہ زادی نے سلام کہا اور فرمایا کہ مجھ کو خاوند کرنے سے عیب نہیں۔ تم نے میری درخواست کی، لیکن اپنی پادشاہت کا بیان کرنا اور اس فقیری میں اپنے تئیں پادشاہ سمجھنا اور اس کا غرور کرنا نپٹ بے جا ہے۔ اس واسطے کہ سب آدمی آپس میں فی الحقیقت ایک ہیں، لیکن فضیلت دین اسلام کی البتہ ہے اور میں بھی ایک مدت سے شادی کرنے کی آرزومند ہوں، اور جیسے تم دولت دنیا سے بے پروا ہو، میرے تئیں بھی حق تعالیٰ اتنا مال دیا ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ پر ایک شرط ہے کہ پہلے مہر ادا کر لو، اور مہر شاہ زادی کا ایک بات ہے جو تم سے ہو سکے۔

میں نے کہا۔ میں سب طرح حاضر ہوں۔ جان و مال سے دریغ نہیں کرنے کا۔ وہ بات کیا ہے؟ کہو تو میں سنوں۔ تب اس نے کہا آج کے دن رہ جاؤ کل تمہیں کہہ دوں گی۔ میں نے خوشی سے قبول کیا اور رخصت ہو کر باہر آ یا۔

دن تو گزرا، جب شام ہوئی تو اکابر عالم اور فاضل صاحب شرع حاضر ہیں، میں بھی اس جلسے میں جا کر بیٹھا۔ اتنے میں دسترخوان بچھایا گیا۔ اور کھانے اقسام اقسام کے شیریں اور نمکین چُنے گئے۔ وہ سب کھانے لگے تو مجھے بھی تواضع کر کر شریک کیا۔ جب کھانے سے فراغت ہوئی ایک دائی اندر آئی اور بولی کہ بہروز کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔ یسادلوں نے وونہیں حاضر کیا۔ اس کی صورت میں بہت مرد آدمی کی سی اور بہت سی کنجیاں روپے سونے کی کمر میں لٹکی ہوئیں۔ سلام علیک کر کے میرے پاس آ کر بیٹھا۔ وہی دائی کہنے لگی کہ اے بہروز! تُو نے جو کچھ دیکھا ہے مفصل اس کا بیان کر۔

بہروز نے یہ داستان کہنی شروع کی اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولا اے عزیز ہماری پادشاہ زادی کی سرکار میں ہزاروں غلام ہیں کہ سوداگری کے کام نہیں متعین ہیں۔ ان میں سے ایک میں بھی ادنا خانہ زاد ہوں۔ ہر ایک ملک کی طرف لاکھوں روپے کا اسباب اور جنس دے کر رخصت فرماتی ہیں جب وہ وہاں سے پھر آتا ہے تب اس سے اس دیس کا احوال اپنے حضور میں پوچھتی ہیں اور سنتی ہیں۔ ایک بار یہ اتفاق ہوا کہ کم ترین تجارت کی خاطر چلا اور شہر نیم روز پہنچا۔ وہاں کے باشندوں کے دیکھا تو سب کا لباس سیاہ ہے اور ہر دم نالہ و آہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کچھ بڑی مصیبت پڑی ہے۔ اس سبب جس سے میں پوچھتا کوئی جواب میرا نہ دیتا۔

ایس حیرت میں کئی روز گزرے۔ ایک دن جونہیں صبح ہوئی۔ تمام آدمی چھوٹے بڑے، لڑکے بوڑھے غریب، غنی، شہر کے باہر چلے۔ ایک میدان میں جا کر جمع ہوئے ، اور اس ملک کا بادشاہ بھی سب امیروں کے ساتھ سوار ہوا اور وہاں گیا۔ تب سب برابر قطار باندھ کر کھڑے ہوئے۔

میں بھی ان کے درمیان کھڑا تماشا دیکھتا تھا۔ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کسو کا انتظار کھینچ رہے ہیں۔ ایک گھڑی کے عرصے میں دور سے ایک جوان پری زاد صاحب جمال پندرہ سولہ برس کا سن و سال ، غل اور شور کرتا ہوا اور کف منہ سے جاری زرد بیل کی سواری، ایک ہاتھ میں کچھ لئے مقابل خلق اللہ کے آیا اور اپنے بیل پر سے اترا۔ ایک ہاتھ میں ناتھ اور ایک ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر دو زانو بیٹھا۔ ایک گل اندام، پری چہرہ اس کے ہمراہ تھا۔اس کو اس جوان نے وہ چیز جو ہاتھ میں تھی دی وہ یتیم لے کر ایک سرے سے ہر ایک کو دیکھاتا جاتا تھا‘ لیکن یہ حالت تھی کہ جو کوئی دیکھتا تھا بے اختیار دھاڑ مار کر روتا تھا۔ اسی طرح سب کو دکھاتا اور رلاتا ہوا سب کے سامنے سے ہو کر اپنے خاوند کے پاس پھر گیا۔

اس کے جاتے ہی وہ جوان اٹھا اور غلام کا سر شمشیر سے کاٹ کر اور سوار ہو کر جیدھر سے آیا تھا، اودھر کو چلا۔ سب کھڑے دیکھا کئے۔ جب نظروں سے غائب ہوا لوگ شہر کی طرف پھرے۔میں ہر ایک سے اس ماجرے کی حقیقت پوچھتا تھا بلکہ روپیوں کا لالچ دیتا اور خوشامد منت کرتا کہ مجھے ذرا بتا دو کہ یہ جوان کون تھا؟ اور اس نے یہ کیا حرکت کی۔ اور کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ ہرگز کسی نے نہ بتلایا اور نہ کچھ میرے خیال میں آیا۔ یہ تعجب دیکھ کر جب میں یہاں آیا اور ملکہ کے روبرو اظہار کیا۔ تب سے پادشاہ زادی بھی حیران ہو رہی ہے اور اس کے تحقیق کرنے کی خاطر دو دلی ہو رہی ہے۔ لہٰذا مہر اپنا یہی مقرر کیا ہے کہ جو شخص اس عجوبے کی کماحقہ‘ خبر لاوے، اس کو پسند فرماوے اور وہی مالک سارے ملک کا اور ملکہ کا ہووے۔

یہ ماجرا تم نے سب سنا۔ اپنے دل میں غور کرو، اگر تم اس جوان کی خبر لا سکو تو قصد ملک نیم روز کا کرو اور جلد روانہ ہو۔ نہیں تو انکار کر کر اپنے گھر کی راہ لو، میں نے جواب دیا کہ اگر خدا چاہے تو جلد اس کا احوال سر سے پاؤں تک دریافت کر کر پادشاہ زادی تک آ پہنچتا ہوں اور کامیاب ہوتا ہوں۔ اور جو میری قسمت بدتر ہے تو اس کا کچھ علاج نہیں، لیکن ملکہ اس کا قول اقرار کریں کہ اپنے کہنے سے نہ پھریں۔ اور بالفعل ایک اندیشہ مشکل میرے دل میں خلش کر رہا ہے۔ اگر ملکہ غریب نوازی اور مسافر پروری سے حضور میں بلاویں اور پردے کے باہر بٹھلا دیں اور میرا التماس اپنے کانوں سنیں اور اس کا جواب اپنی زبان سے فرما دیں تو میری جان جمع ہو، اور مجھ سے سب کچھ ہو سکے۔ یہ میرے مطلب کی بات اس ماما نے روبرو اس پیکر کے عرض کی بارے قدردانی کی راہ سے حکم کیا کہ انہیں بلا لو۔

دائی پھر باہر آئی اور مجھے اپنے ساتھ جس محل میں پادشاہ زادی تھی، لے گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دو رویہ صف باندھے دست بستہ سہیلیاں اور خواصیں اور اروابیگیاں قلماقنیاں، ترکیناں، حبشیاں، ازبکنیاں، کشمیرنیاں جواہر میں جڑی عہد لئے کھڑی ہیں۔ اندر کا اکھاڑا کہوں یا پریوں کا اتارا؟ بے اختیار ایک آہ بےخودی سے زباں تک آئی اور کلیجہ تہلکے لگا۔ پر بہ زور اپنے تئیں تھانبا۔ ان کو دیکھتا بھالتا اور سیر کرتا آگے چلا، لیکن پاؤں سو سو من کے ہو گئے۔ جس کو دیکھو پھر یہ نہ جی چاہے کہ آگے جاؤں۔ ایک طرف چلون پڑی تھی اور مونڈھا جڑاؤ بچھوا رکھا تھا، اور ایک چوکی بھی صندل کی بچھی ہوئی تھی۔ دائی نے مجھے بیٹھنے کی اشارت کی۔ میں مونڈھے پر بیٹھ گیا اور وہ چوکی پر، کہنے لگی لو اب جو کہنا ہے سو جی بھر کر کہو۔

میں نے ملکہ کی خوبیوں کی اور عدل و انصاف۔ داردو دہش کی پہلے تعریف کی پھر کہنے لگا۔ جب سے میں اس ملک کی سرحد میں آیا، ہر ایک منزل میں یہی دیکھتا کہ جا بجا مسافرخانے اور عمارتیں عالی بنیں ہوئیں ہیں اور آدمی ہر ایک عہدے کے تعینات ہیں کہ خبرگیری مسافروں کی کرتے ہیں۔ مجھے بھی تین دن ہر ایک مقام میں گزرے چوتھے روز جب رخصت ہونے لگا تب کسو نے خوشی سے نہ کہا کہ جاؤ۔ اور جتنا اسباب اس مکان میں تھا، شطرنجی،چاندی،قالین،ستیل پانی،منگل کوٹی، دیوار گیری،چھت پردے،چلونیں،سائبان، نم گیرے، چھپر کھٹ مع غلاف،اوقچہ،توشک،بالا پوش،سإیج بند، چادر تکیے،تکینی،گل تکیے،مسند،گاؤ تکیے،دیگ دیگچے،پتیلے،طباق،رکابی،با دئیے،تشتری،چمچے،بکاؤلی،کف گیر،طعام بخش، سرپوش، سینی، خوان، پوش، تورہ پوش، آبخورے، بجھرے، صراحی، لگن، پان دان،چوگھرے، چنگیر، گلاب پوش، عود، سوز، آفتابہ، چلمچی سب میرے حوالے کیے کہ یہ تمہارا مال ہے چاہو اب لے جاؤ، نہیں تو ایک کوٹھڑے میں بند کر کر اپنی مہر کرو۔ جب تمہاری خوشی ہو گی پھرتے ہوئے لے جائیو۔ میں نے یوں ہی کیا۔ پر یہ حیرت ہے کہ جب مجھ سے فقیر تنہا سے یہ سلوک ہوا۔ تو ایسے غریب ہزاروں تمہارے ملکوں میں آتے جاتے ہوں گے۔ پس ہر ایک سے یہی مہمان داری کا طور رہتا ہو گا تو مبلغ بےحساب خرچ ہوتی ہوں گے۔پس اتنی دولت کہ جس کا یہ صرف ہے، کہاں سے آئی اور کیسی ہے؟ اگر گنجِ قارون ہو تو بھی وفا نہ کرے۔ اور ظاہری میں اگر ملکہ کی سلطنت پر نگاہ کیجئے تو اس کی آمد فقط باورچی خانے کے خرچ کو بھی کفایت نہ کرتی ہو گی۔ اور خرچوں کا تو کیا ذکر ہے۔ اگر اس کا بیان ملکہ کی زبان سے سنوں تو خاطر جمع ہو، قصد ملک نیم روز کا کروں اور جوں توں وہاں جا پہنچوں پھر سب احوال دریافت کر کے ملکہ کی خدمت میں بہ شرط زندگی بار دگر حاضر ہوں، اپنے دل کی مراد پاؤں۔

یہ سن کر ملکہ نے اپنی زبان سے کہا کہ اے جوان! اگر تجھے آرزو کمال ہے کہ یہ ماہیت دریافت کرے تو آج کے دن بھی مقام کر۔ شام کو تجھے حضور میں طلب کر کر جو کچھ احوال اس دولتِ بے زوال کا ہے، بے کم و کاست کہا جائے گا۔ میں یہ تسلی پا کر اپنی استقامت کے مکان پر آ کر منتظر تھا کہ کب شام ہو جو میرا مطلب تمام ہو۔ اتنے میں خواجہ سرا کئی چوگاشے تورہ پوش پڑے بھوئیوں کے سر پر دھرے آ کر موجود ہوا اور بولا کہ حضور سے الش خاص عنایت ہوا ہے اس کو تناول کرو۔جس وقت میرے سامنے کھولے بوباس سے دماغ معطر ہوا اور روح بھر گئی۔ جتنا کھا سکا کھا لیا۔ باقی ان سبھوں کو اٹھا دیا اور شکر نعمت کہہ بھیجایا۔ بارے آفتاب تمام دن کا مسافر تھکا ہوا، گرتا پڑتا اپنے محل میں داخل ہوا اور ماہتاب دیوان خانے میں اپنے مصاحبوں کو ساتھ لے کر نکل بیٹھا، اس وقت دائی آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ چلو پادشاہ زادی نے یاد فرمایا ہے۔ میں اس کے ہمراہ ہو لیا خلوت خاص میں لے گئی۔ روشنی کا یہ عالم تھا کہ شب قدر کو وہاں قدر نہ تھی اور بادشاہی فرش پر مسند مغرق بچھی ہوئی مرصع کا تکیہ لگا ہوا اور اس پر ایک شمیانہ موتیوں کا جھالر کا جڑاؤ استادوں پر کھڑا ہوا۔ اور سامنے مسند کے جواہر کے درخت پھولوں پات لگے ہوئے، گویا عین قدرتی ہیں۔ سونے کی کیاریوں میں جمے ہوئے اور دونوں طرف دست چپ شاگرد پیتے اور مجرائی دست بستہ، با ادب آنکھیں نیچی کئے ہوئے حاضر تھے اور طوائفیں اور گائنیں سازوں کے سُر بنائے منتظر۔ یہ سماں اور یہ تیاری کروفر دیکھ کر عقل ٹھکانے نہ رہی۔ دائی سے پوچھا کہ دن کو وہ زیبائش اور رات کو یہ آرائش کہ دن عید اور رات شب برات کہا چاہیے۔بلکہ دنیا میں بادشاہت ہفت اقلیم کو یہ عیش میسر نہ ہو گا۔ کیا ہمیشہ یہی صورت رہتی ہے؟ دائی کہنے لگی کہ ہماری ملکہ کا جتنا کارخانہ تم نے دیکھا یہ سب اسی دستور سے جاری ہے۔ اس میں ہرگز خلل نہیں۔ بلکہ افزوں ہے۔ تم یہاں بیٹھوں دوسرے مکان میں تشریف رکھتی ہیں، جا کر خبر کروں۔

دائی یہ کہہ کر گئی اور انہی پاؤں پھر آئی کہ چلو حضور میں۔ یہ مجرد اس مکان میں جاتے ہی بھیچک رہ گیا۔ نہ معلوم ہوا کہ دروازہ کہاں اور دیوار کدھر ہے اور اس واسطے کہ آئینے قدم آدم چاروں طرف لگے اور ان کی پروازوں میں ہیرے موتی جڑے ہوئے تھے۔ ایک کا عکس ایک میں نظر آتا تو یہ معلوم ہوتا کہ جواہر کا سارا مکان ہے۔ ایک طرف پردہ پڑا تھا۔ اس کے پیچھے ملکہ بیٹھی تھیں۔ وہ دائی پردے سے لگ کر بیٹھی اور مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ تب دائی ملکہ کے فرمانے سے اس طور پر بیان کرنے لگی کہ سن اے جوان! دانا! سلطان اس اقلیم کا بڑا بادشاہ تھا۔ اس کے گھر سات بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک روز بادشاہ نے جشن منایا۔ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ سنگار، بارہ ابھرن بال بال گنج موتی پرو کر بادشاہ کے حضور کھڑی تھیں۔ سلطان کے کچھ جی آیا تو بیٹیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اگر تمہارا باپ بادشاہ نہ ہوتا اور کسی غریب کے گھر تم پیدا ہوتیں، تو تمھیں بادشاہ زادی اور ملکہ کون کہتا؟ خدا کا شکر کرو کہ شہزادیاں کہلاتی ہو، تمہاری یہ ساری خوبی میرے دم سے ہے، چھے لڑکیاں ایک زبان ہو کر بولیں کہ جہاں پناہ جو فرماتے ہیں بجا ہے، اور آپ ہی کی سلامتی سے ہماری بھلائی ہے۔ لیکن یہ ملکہ پناہ سب بہنوں سے چھوٹی تھیں، پر عقل و شعور میں اس عمر میں بھی گویا سب سے بڑی تھیں۔ چپکی کھڑی رہیں۔ اس گفتگو میں بہنوں کی شریک نہ ہوئیں۔ اس واسطے کہ یہ کلمہ کفر کا ہے۔

بادشاہ نے نظرِ غضب سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کیوں بی بی تم کچھ نہ بولیں اس کا کیا باعث ہے؟ تب ملکہ نے اپنے دونوں ہاتھ رومال سے باندھ کر عرض کی کہ اگر جان کی امان پاؤں اور تقصیر معاف ہو تو یہ لونڈی اپنے دل کی بات گزارش کرے۔ حکم ہوا کہ کیا کہتی ہے؟ تب ملکہ نے کہا کہ قبلہ عالم آپ نے سنا ہے کہ سچ بات کڑوی لگتی ہے سو اس وقت میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو کر عرض کرتی ہوں، اور جو کچھ میری قسمت میں لکھنے والے نے لکھا ہے اس کا مٹانے والا کوئی نہیں۔ کسو طرح نہیں ٹلنے کا۔

خواہ تم پاؤں گھسو یا کہ رکھو سر بسجود

بات پیشانی کی جو کچھ ہے سو پیش آتی ہے

جس بادشاہ علی الاطلاق نے آپ کو بادشاہ بنایا۔ انہیں نے مجھے بھی بادشاہ زادی کہلوایا۔ اس کی قدرت کے کارخانے میں کسو کا اختیار نہیں چلتا۔ آپ کی ذات ہماری ولی نعمت اور قبلہ و کعبہ ہے۔ حضرت کے قدم مبارک کی خاک کو سرمہ کروں تو بجا ہے۔ مگر نصیب ہر ایک کے ہر ایک کے ساتھ ہیں۔ بادشاہ سُن کر طیش میں آئے اور جواب دل پر سخت گراں معلوم ہوا۔ بیزار ہو کر فرمایا۔ چھوٹا منہ بڑی بات، اب اس کی یہی سزا ہے کہ گہنا پاتا جو کچھ اس کے ہاتھ گلے میں ہے، اُتار لو۔ اور ایک میانے میں چڑھا کر ایسے جنگل میں کہ جہاں نام و نشان آدمی آدم زاد کا نہ ہو، پھینک آؤ۔ دیکھیں اس کے نصیبوں میں کیا لکھا ہے۔

بموجب حکم بادشاہ کے اس آدھی رات میں کہ عین اندھیری تھی، ملکہ کو جو نرے بھونرے میں پلی تھیں اور سوائے اپنے محل کے دوسرے جگہ نہ دیکھی تھی، بھولی لے جا کر ایک میدان میں کہ وہاں پرندہ پر نہ مار سکتا، انسان کو تو کیا ذکر ہے، چھوڑ کر چلے آئے۔ ملکہ کے دل پر عجب حالت گزرتی تھی کہ ایک دم میں کیا تھا اور کیا ہو گیا؟ پھر اپنے خدا کی جناب میں شکر کرتیں اور کہتیں تو ایسا ہی بے نیاز ہے، جو چاہا سو ہو گیا۔ اور جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اور جو چاہے گا سو کرے گا۔ جب تلک نتھنوں میں دم ہے، تجھ سے نا امید نہیں ہوتی۔ اسی اندیشے میں آنکھ لگ گئی۔ جس وقت صبح ہونے لگی ملکہ کی آنکھ کھُل گئی۔ پُکاریں کہ وضو کا پانی لانا۔ پھر ایک بارگی رات کی بات چیت یاد آئی کہ تو کہاں اور یہ بات کہاں؟ یہ کہہ کر اٹھ کر تیمّم کیا اور دوگانہ شکر کا پڑھا۔ اے عزیز، ملکہ کی اس حالت کے سننے سے چھاتی پھٹتی ہے۔ اس بھولے بھالے جی سے پوچھا چاہیے کہ کیا کہتا ہو گا۔

غرض اس میانے میں بیٹھی خدا سے لو لگائے رہتی تھیں۔ اور یہ کبت اس دم پڑھتی تھیں:

جب دانت نہ تھے تب دودھ دیو، جب دانت دیے کاہے ان نہ دے ہے

جو جل میں تھل میں پنچھی پس کی سدھ لیت، سو تیری بھی لے ہے

کاہے کو سوچ کرے من مورکھ، سوچ کرے کچھ ہاتھ نہ آئے ہے

جان کو دیت، ابا جان کو دیت، جہاں کو دیت سو تو کو بھی دے ہے

سچ ہے جب کچھ بن نہیں آتا۔ تب خدا ہی یاد آتا ہے۔ نہیں تو اپنی اپنی تدبیر میں ہر ایک لقمان اور بو علی سینا ہے۔ اب خدا کے کارخانے کا تماشا سنو۔ اسی طرح تین دن رات صاف گزر گئے کہ ملکہ کے مُنہ میں ایک کھیل بھی اُڑ کر نہ گئ۔ وہ پھول سا بدن سوکھ کر کانٹا ہو گیا اور وہ رنگ جو کندن سا دمکتا تھا، ہلدی سا بن گیا۔ مُنہ میں پھپھڑی بندھ گئی، آنکھیں پتھرا گئیں، مگر ایک دم اٹک رہا تھا کہ وہ آتا جاتا تھا۔ جب تلک سانس تب تلک آس۔ چوتھے روز صبح کو ایک درویش، خضر کی سی صورت، نورانی چہرہ، روشن دل آ کر پیدا ہوا۔ ملکہ کو اس حالت میں دیکھ کر بولا اے بیٹی! اگرچہ تیرا باپ بادشاہ ہے لیکن تیری قسمت میں یہ بھی بدا تھا۔ اب اس فقیر بوڑھے کو اپنا خادم سمجھ اور اپنے پیدا کرنے والے کا رات دن دھیان رکھ۔ خدا خوب کرے گا۔ اور فقیر کے کشکول میں جو ٹکڑے بھیک کے موجود تھے، ملکہ کے روبرو رکھے اور پانی کی تلاش میں پھرنے لگا دیکھتے تو ایک کنواں تو ہے پر ڈول رسّی کہاں جس سے پانی بھرے؟ تھوڑے پتّے درخت سے توڑ کر دونا بنایا اور اپنی سیلی کھول کر اس میں باندھ کر نکالا اور ملکہ کو کچھ کھلایا پلایا۔ بارے ٹک ہوش آیا۔ اس مردِ خدا نے بےکس اور بےبس جان کو بہت سی تسلّی دی، خاطر جمع کی اور آپ بھی رونے لگا۔ ملکہ نے جب غم خواری اور دل داری اس کی بےحد دیکھی، تب ان کی رجا کو استقلال ہوا۔

اس روز اس پیر مرد نے یہ مقرّر کیا کہ صبح کو بھیک مانگنے نکل جاتا۔ جو ٹکرا پارچہ پاتا، ملکہ کے پاس لے آتا اور کھلاتا۔

اس طور سے تھوڑے روز گزرے۔ ایک روز ملکہ نے تیل سر میں ڈالنے اور کنگھی چوٹی کرنے کا قصد کیا۔ جوں ہی مباف کھولا، چٹلے میں سے ایک موتی کا دانہ گول آب دار نکل پڑا۔ ملکہ نے اس درویش کو دیا اور کہا کہ شہر میں اسے بیچ لاؤ۔ وہ فقیر اس گوہر کو بیچ کر اس کی قیمت بادشاہ زادی کے پاس لے آیا۔ تب ملکہ نے حکم کیا کہ ایک مکان موافق گزران کے اسی جگہ بنواؤ۔ فقیر نے کہا اے بیٹی! نیو دیوار کی کھود کر تھوڑی سی مٹی جمع کرو۔ ایک دم میں پانی لا کر گارا کر کر گھر کی بنیاد درست کر دوں گا۔ ملکہ نے اس کے کہنے سے مٹی کھودنی شروع کی۔ جب ایک گز عمیق گڑھا کھود گیا۔ زمین کے نیچے سے ایک دروازہ نمودار ہوا، ملکہ نے اس در کو صاف کیا۔ ایک بڑا گھر جواہر اور اشرفیوں سے معمور نظر آیا۔ ملکہ نے پانچ چار لب اشرفیوں کی لے کر پھر بند کر دیا، اور مٹی دے کر اوپر سے ہموار کر دیا۔

اتنے میں فقیر آیا، ملکہ نے فرمایا کہ راج اور معمار کاریگر اور اپنے کام کے استاد اور مزدور جلد بلاؤ جو اس مکان پر ایک عمارت بادشاہانہ کہ طاقِ کسریٰ کا جفت ہو، اور قصرِ نعمان سے سبقت لے جائے اور شہر پناہ اور قلعہ اور باغ اور باؤلی اور ایک مسافر خانہ کہ لاثانی ہو، جلد تیّار کریں، لیکن پہلے نقشہ ان کا ایک کاغذ پر دست کر کے حضور میں لاویں جو پسند کیا جائے۔ فقیر نے ایسے ہی کارکن، کارکردہ، ذی ہوش لا کر حاضر کیے، موافق فرمانے کے تعمیر عمارت کی ہونے لگی۔ اور نوکر چاکر ہر ایک کارخانہ جات کی خاطر چُن چُن کر فہمیدہ اور بادیانت ملازم ہونے لگے۔ اس عمارت عالیشان کی تیار کی خبر رفتہ رفتہ بادشاہ ظل سبحانی کو جو قبلہ ملکہ کے تھے، پہنچی۔ سن کر بہت متعجّب ہوئے اور ہر ایک سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے یہ محلات بنانے شروع کیے ہیں؟ اس کیفیت سے کوئی واقف نہ تھا جو عرض کرے۔ سبھوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے کہ کوئی غلام نہیں جانتا کہ اس کا بانی کون ہے؟ تب بادشاہ نے ایک امیر کو بھیجا اور پیغام دیا کہ میں ان مکانوں کو دیکھنے آیا چاہتا ہوں۔ اور یہ بھی معلوم نہیں تم کہاں بادشاہ زادی ہو اور کس خاندان سے ہو؟ یہ سب کیفیّت دریافت کرنی اپنے تئیں منظور ہے۔ جوں ہی ملکہ نے یہ خوش خبری سنی، دل میں بہت شاد ہو کر عرضی لکھی کہ جہاں پناہ سلامت! حضور کے تشریف لانے کی خبر طرف غریب خانے کی سُن کر نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ اور سبب حرمت اور عزّت اس کمترین کا ہوا۔ زہے طالع اس مکان کے! کہ جہاں قدم مبارک کا نشان پڑے، اور وہاں کے رہنے والوں پر دامن دولت سایہ کرے اور نظرِ توجّہ سے وہ دونوں سرفراز ہوویں۔ یہ لونڈی امیدوار ہے کہ کل روز پنج شنبہ مبارک ہے اور میرے نزدیک بہتر نو روز سے ہے۔ آپ کی ذات مشابہ آفتاب کے ہے، تشریف فرما کر اپنے نور سے اس ذرّہ بے مقدار کو قدر و منزلت بخشے۔ اور جو کچھ اس عاجزہ سے میسّر ہو سکے نوش جان فرمائیے۔ یہ عین ریب نوازی اور مسافر پروری ہے، زیادہ حد ادب، اور اس عمدہ کو بھی کچھ تواضع کر رخصت کیا۔

بادشاہ نے عرضی پڑھی اور کہلا بھیجا کہ ہم نے تمہاری دعوت قبول کی، البتّہ آویں گے۔ ملکہ نے نوکروں اور سب کاروباریوں کو حکم کیا کہ لوازمہ ضیافت کا ایسے سلیقے سے تیار ہو کہ بادشاہ دیکھ کر اور کھا کر بہتر محظوظ ہوں اور ادنیٰ اعلیٰ جو بادشاہ کے آویں سب کھا پی کر خوش ہو کر جاویں۔ ملکہ کے فرمانے اور تاکید کرنے سے سب قسم کے کھانے سلونے اور میٹھے ذائقے کے تیّار ہوئے کہ اگر برہمن کی بیٹی کھاتی تو کلمہ پڑھتی۔ جب شام ہوئی بادشاہ منڈے تخت پر سوار ہو کر ملکہ کے مکان کی طرف تشریف لائے۔ ملکہ اپنی جان خواص سہیلیوں کو لے کر استقبال کے واسطے چلیں۔ جوں بادشاہ کے تخت پر نظر پڑے اس آداب سے مجرا شاہانہ کیا کہ یہ قاعدہ دیکھ کر بادشاہ کو اور بھی حیرت نے لیا، اور اسی انداز سے جلوہ کر کر بادشاہ کو تخت مرصع پر لا بٹھایا۔ ملکہ نے سوا لاکھ روپے کا چبوترہ تیّار کروا رکھا تھا اور ایک سو ایک کشتی جواہر اور اشرفی اور پشمینہ اور نوبانی اور ریشمی طلابانی اور زردوزی کی لگا رکھی تھی، اور وہ زنجیر فیل اور دس راس اسپ عراق اور یمنی مرصع کے ساز سے تیّار کر رکھے تھے، نذر گزرانے اور آپ دونوں ہاتھ باندھے روبرو کھڑی رہیں۔ بادشاہ نے بہت مہربانی سے فرمایا کہ تم کس ملک کی شہزادی ہو اور یہاں کس صورت آنا ہوا؟

ملکہ نے آداب بجا کر التماس کیا کہ یہ لونڈی وہی گنہ گار ہے جو غضبِ سلطانی کے باعث جنگل میں پہنچی اور یہ سب تماشے خدا کے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں۔ یہ سنتے ہی بادشاہ کے لہو نے جوش مارا۔ اُٹھ کر محبت سے گلے لگا لیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت کے پاس کرسی بچھوا کر حکم بیٹھنے کا کیا، لیکن بادشاہ حیران اور متعجّب بیٹھے تھے، فرمایا کہ بادشاہ بیگم کو کہو کہ بادشاہ زادیوں کو اپنے ساتھ لے کر جلد آویں۔ جب وہ آئیں، ماں بہنوں نے پہچانا اور گلے مل کر روئیں اور شکر کیا۔ ملکہ نے اپنی والدہ اور چھیوں ہمشیروں کو روبرو اتنا کچھ نقد اور جواہر رکھا کہ خزانہ تمام عالم کا اس کے پاسنگ میں نہ چڑھے، پھر بادشاہ نے سب کو ساتھ بٹھا کر خاصہ نوش جان فرمایا۔ جب تلک جہاں پناہ جیتے رہے اسی طرح گزری۔ کبھو کبھو آپ آتے اور ملکہ کو بھی اپنے ساتھ محلوں میں لے جاتے۔

جب بادشاہ نے رحلت فرمائی اس اقلیم کی ملکہ کو پہنچی کہ ان کے سوا دوسرا کوئی لائق اس کے نہ تھا۔ اے عزیز سرگزشت یہ ہے جو تو نے سنی۔ دولت خداداد کو ہر گز زوال نہیں ہوتا، مگر آدمی کی نیّت درست چاہیے۔ بلکہ جتنی خرچ کرو، اس میں اتنی برکت ہوتی ہے۔ خدا کی قدرت میں تعجب کرنا کسی مذہب میں روا نہیں۔

دائی نے یہ بات کہہ کر آپ اگر قصد وہاں کے جانے کا اور اس خبر لانے کا دل میں مقرر رکھتے ہو تو جلد روانہ ہو۔ میں نے کہا اسی وقت میں جاتا ہوں اور خدا چاہے تو پھر آتا ہوں۔ آخر رخصت ہو کر اور فضل الٰہی پر نظر رکھ اس سمت کو چلا۔

برس دن کے عرصے میں ہرج مرج کھینچتا ہوا شہر نیمروز جا پہنچا۔ جتنے وہاں کے آدمی ہزاری اور بزاری نظر پڑے، سیاہ پوش تھے۔ جیسا احوال سنا تھا اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

کئی دن کی بعد چاند رات ہوئی۔ پہلی تاریخ، سارے لوگ اسی شہر کے چھوٹے بڑے لڑکے بالے، امرا، بادشاہ عورت مرد ایک میدان میں جمع ہوئے، میں بھی اپنی حالت میں حیران سرگردان اس کثرت کے ساتھ اپنے مال ملک سے جدا، فقیر کی صورت بنا ہوا کھڑا دیکھتا تھا کہ دیکھیئے پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک جوان گاؤ سوار منھ میں کف بھرے، جوش خروش کرتا ہوا جنگل میں سے باہر نکلا۔ یہ عاجز جو اتنی محنت کر کے اس کے احوال دریافت کرنے کی خاطر گیا تھا، دیکھتے ہی اسے حواس باختہ ہو کر حیران کھڑا رہ گیا۔ وہ جوان مرد قدیم قاعدے پر جو جو کام کرتا تھا، کر کر پھر گیا اور خلقت شہر کی طرف متوجہ ہوئی۔ جب مجھے ہوش آیا تب میں پچھتایا کہ یہ کیا تجھ سے حرکت ہوئی۔ اب مہینے بھر پھر راہ دیکھنی پڑی۔ لاچار سب کے ساتھ چلا آیا اور اس مہینے کو ماہ رمضان کی مانند ایک ایک دن گن کر کاٹا۔ بارے دوسری چاند رات آئی مجھے گویا عید ہوئی۔ غرے کو پھر بادشاہ خلقت سمیت وہیں آ کر اکٹھے ہوئے۔ تب میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ اب کے بار جو ہو سو ہو اپنے تئیں سنبھال کر اس ماجرائے عجیب کو معلوم کیا چاہیے۔

ناگاہ جوان بدستور زرد بیل پر زین باندھے سوار آ پہنچا، اور اتر کر دو زانو بیٹھا، ایک ہاتھ میں ننگی سیف اور ایک ہاتھ میں بیل ناتھ پکڑی اور مرتبان غلام کو دیا۔ غلام ہر ایک کو دکھا کر لے گیا۔ ایک آدمی دیکھ کر رونے لگا۔ اس جوان نے مرتبان پھوڑا، اور غلام کو ایک تلوار ایسی ماری کہ سر جدا ہو گیا اور آپ سوار ہو کر مڑا۔ میں اس کے پیچھے جلد قدم اٹھا کر چلنے لگا۔ شہر کے آدمیوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ کیا کرتا ہے۔ کیوں جان بوجھ کر مرتا ہے؟ اگر ایسا ہی تیرا دم ناک میں آیا ہے تو بہتیری طرحیں مرنے کی ہیں۔ مر رہیو۔ ہر چند میں نے منت کی اور زور بھی کیا کہ کسو صورت سے ان کے ہاتھ سے چھوٹوں، چھٹکارا نہ ہوا۔ دو چار آدمی لپٹ گئے اور پکڑے ہوئے بستی کی طرف لے آئے۔ عجب طرح کا قلق پھر مہینے بھر گزرا۔ جب وہ بھی مہینہ تمام ہوا اور سلخ کا دن آیا۔ صبح کو اسی صورت سے عالم کا وہاں ازدحام ہوا۔ میں الگ سے نماز کے وقت اٹھ کر آگے ہی جنگل میں، جو عین اس طرح کی راہ پر تھا، گھس چھپ رہا کہ یہاں کوئی میرا مزاحم نہ ہو گا۔ وہ شخص اسی قاعدے سے آیا اور وہی حرکتیں کر کرا سوار ہوا اور چلا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور دوڑتا دھوپتا ساتھ ہو لیا۔ اس عزیز نے آہٹ سے معلوم کیا کہ کوئی چلا آتا ہے۔ ایک بارگی باگ موڑ کر ایک نعرہ مارا اور گھڑکا۔ تلوار کھینچ کر میرے سر پر آ پہنچا۔ چاہتا تھا کہ حملہ کرے۔ میں نے نہایت ادب سے مہر کر سلام کیا اور دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا رہ گیا۔ وہ قاعدہ داں متکلم ہوا کہ اے فقیر تو ناحق مارا گیا ہوتا، پر بچ گیا۔ تیری حیات کچھ باقی ہے۔ جا کہاں آتا ہے؟ اور جڑاؤ خنجر موتیوں کا اور آویزہ لگا ہوا کمر سے نکال میرے آگے پھینکا اور کہا۔ اس وقت میرے پاس کچھ نقد موجود نہیں جو تھے دوں۔ اس کو بادشاہ کے پاس لے جا، جو تو مانگے گا ملے گا۔

ایسی ہیبت اور ایسا رعب اس کا مجھ پر غالب ہوا کہ نہ بولنے کی قدرت نہ چلنے کی طاقت۔ منہ میں گھگھی بندھ گئی پاؤں بھاری ہو گئے۔

اتنا کہہ کر وہ غازی جمرد نعرہ بھرتا ہوا چلا۔ میں نے دل میں کہا ہر چہ بادا باد۔ اب رہ جانا تیرے حق میں برا ہے۔ پھر ایسا وقت نہ ملے گا۔ اپنی جان سے ہاتھ دھو کر میں بھی روانہ ہوا۔ پھر وہ پھرا اور بڑے غصے سے ڈانٹا، اور مقرر ارادہ میرے قتل کا کیا، میں نے سر جھکا دیا اور سوگند دی کہ اے رستم وقت کے، ایسی ہی ایک سیف مار کے صاف دو ٹکڑے ہو جاؤں، ایک تسمہ باقی نہ رہے اور اس حیرانی اور تباہی سے چھوٹ جاؤں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا؟ وہ بولا کہ اے شیطان کی صورت، کیوں اپنا خون ناحق میری گردن پر چڑھاتا ہے وہ مجھے گنہ گار بناتا ہے؟ جا اپنی راہ لے، کیا جان بھاری پڑی ہے؟ میں نے اس کا کہا نہ مانا اور قدم آگے دھرا پھر اس نے دیدہ و دانستہ آنا کانی دی اور میں پیچھے لگ لیا۔ جاتے جاتے دو کوس وہ جھاڑ جنگل طے کیا۔

ایک چار دیواری نظر آئی۔ وہ جوان دروازے پر گیا اور ایک نعرہ مہیب مارا۔ وہ در آپ سے آپ کھل گیا۔ وہ اندر بیٹھا۔ میں باہر کا باہر کھڑا رہ گیا۔ الٰہی اب کیا کروں، حیران تھا۔ بارے ایک دم کے بعد غلام آیا اور پیغام لایا کہ چل تجھے روبرو بلایا ہے۔ شاید تیرے سر پر اجل کا فرشتہ آیا ہے۔ کیا تجھے کم بختی لگی تھی۔ میں نے کہا زہے نصیب اور بے دھڑک اس کے ساتھ اندر باغ کے گیا۔

آخر مکان میں لے گیا جہاں وہ بیٹھا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر فراشی سلام کیا۔ اس نے اشارت بیٹھنے کی کی۔ میں ادب سے دو زانو بیٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مرد اکیلا ایک مسند پر بیٹھا اور ہتھیار زر گری کے آگے دھرے ہیں۔ اور ایک جھاڑو مرد کا تیار کر چکا ہے۔ جب اس کے اٹھنے کا وقت آیا جتنے غلام اس شہ نشین کے گرد و پیش حاضر تھے، حجروں میں چھپ گئے۔ میں بھی مارے وسواس کے ایک کوٹھڑی میں جا گھسا، وہ جوان اٹھ کر سب مکان کی کنڈیاں چڑھا کر باغ کے کونے کی طرف چلا اور اپنی سواری کے بیل کو مارنے لگا۔ اس کے چلانے کی آواز میرے کانوں میں آئی۔ کلیجا کانپنے لگا لیکن ماجرے کی دریافت کرنے کی خاطر یہ سب آفتیں یہیں تھیں۔ ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر ایک درخت کے تنے کی آڑ میں جا کر کھڑا ہوا اور دیکھنے لگا۔ جوان نے وہ سونٹا جس سے مارتا تھا۔ ہاتھ سے ڈال دیا اور ایک مکان کا قفل کنجی سے کھولا اور اندر گیا۔ پھر وونہیں باہر نکل کر نرگاؤ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور منہ چوما اور دانہ گھاس کھلا کر ایدھر کو چلا۔ میں دیکھتے ہی جلد دوڑ کر پھر کوٹھڑی میں جا چھپا۔

اس جوان نے زنجیریں سب دروازوں کی کھول دیں۔ سارے غلام باہر نکلے۔ زیر انداز اور سپلچی، آفتابہ لے کر حاضر ہوئے۔ وہ وضو کر کر نماز کی خاطر کھڑا ہوا۔ جب نماز ادا کر چکا پکارا کہ وہ درویش کہاں ہے؟ اپنا نام سنتے ہی میں دوڑ کر روبرو جا کھڑا ہوا۔ فرمایا بیٹھ۔ میں تسلیم کر کر بیٹھا۔ خاصہ آیا اس نے تناول فرمایا مجھے بھی عنایت کیا۔ میں نے بھی کھایا۔ جب دسترخوان بڑھایا اور ہاتھ دھوائے، غلاموں کو رخصت دی کہ جا کر جو رہو۔ جب کوئی اس مکان میں نہ رہا، تب مجھ سے ہم کلام ہوا اور پوچھا کہ اے عزیز تجھ پر کیا ایسی آفت آئی ہے جو تو اپنی موت کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے؟ میں نے اپنا احوال آغاز سے انجام تک جو کچھ گزرتا تھا، تفصیل وار بیان کیا اور کہا۔ آپ کی توجہ سے امید ہے کہ اپنی مراد کو پہنچوں۔

اس نے یہ سنتے ہی ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بے ہوش ہوا اور کہنے لگا بار خدایا عشق کے درد سے تیرے سوا کون واقف ہے۔ جس کی نہ پھٹی ہو، بوائی کیا جانے پیر پرائی۔ اس درد کی قدر درد مند ہو سو جانے۔

آفتوں کو عشق کی عاشق سے پوچھا چاہیے

کیا خبر فاسق کو ہے؟ صادق سے پوچھا چاہیے

بعد ایک لمحے کے ہوش میں آ کر ایک آہ جگر سوز بھری، سارا مکان گونج گیا۔ تب مجھے یقین ہوا کہ یہ بھی اسی عشق کی بلا میں گرفتار اور اسی مرض کا بیمار ہے۔ تب تو میں نے دل چلا کر کہا میں نے اپنا احوال سب عرض کیا۔ آپ توجہ فرما کر اپنی سرگزشت سے بندے کو مطلع فرمائیے۔ توبہ مقدور اپنے پہلے تمہارے واسطے سعی کروں اور دل کا مطلب کوشش کر ہاتھ میں لاؤں۔

القصہ وہ عاشق صادق مجھ کو اپنا ہمراز اور ہمدرد جان کر اپنا ماجرا اور اس صورت سے بیان کرنے لگا کہ سن اے عزیز میں بادشاہ زاد جگر سوز اس اقلیم نیم روز کا ہوں۔ بادشاہ یعنی قبلہ گاہ نے میرے پیدا ہونے کے بعد بخوبی اور رمال اور پنڈت جمع کیئے اور فرمایا کہ احوال شہزادے کے طالعوں کا دیکھو اور جانچو، اور جنم پتری درست کرو اور جو جو کچھ ہونا ہے حقیقت پل پل گھڑی گھڑی اور پہر پہر، دن دن مہینے مہینے اور برس برس مفصل حضور میں عرض کرو۔ بموجب بادشاہ کے سب نے متفق ہو اپنے اپنے علم کی رو سے ٹھہرا اور سادھ کر التماس کیا۔ خدا کے فضل سے ایسی نیک ساعت اور شبھ لگن میں شہزادے کا تولد اور جنم ہوا ہے کہ چاہیے سکندر کی بادشاہت کرے اور نوشیرواں سا عادل ہو اور جتنے علم اور ہنر ہیں، ان میں کامل ہو اور جس کام کی طرف دل اس کا مائل ہو، وہ بخوبی حاصل ہو۔ سخاوت شجاعت میں ایسا نام پیدا کرے کہ حاتم اور رستم کو لوگ بھول جاویں، لیکن چودہ برس تلک سورج اور چاند کے دیکھنے سے ایک بڑا خطرہ نظر آتا ہے بلکہ یہ وسواس ہے کہ جنونی اور سودائی ہو کر بہت آدمیوں کا خون کرے اور بستی سے گھبراوے، جنگل میں جاوے اور چرند پرند کے ساتھ دل بہلاوے، اس کا قید رہے کہ رات دن آفتاب ماہتاب کو نہ دیکھے، بلکہ آسمان کی طرف بھی نگاہ نہ کرنے پاوے، جو اتنی مدت خیر و عافیت سے کٹے تو پھر سارے عمر سکھ اور چین سے سلطنت کرے۔

یہ سن کر بادشاہ نے اس لیے اس باغ کی بنا ڈالی، اور مکان متعدد ہر ایک نقشے کے بنوائے۔ میری تئیں تہ خانے میں پلنے کا حکم کیا اور اوپر ایک برج نمدے کا تیار کروا دیا تو دھوپ اور چاندی اس میں سے چھنے۔ میں دائی دودھ پلائی اور انگاچھو اور کئی خواص کے ساتھ اس محافظت سے اس مکان عالی میں پرورش پانے لگا، اور ایک استاد دانا، کار آزمودہ واسطے میری تربیت کی متعین کیا تو تعلیم ہر علم اور ہنر کی اور مشق ہفت قلم لکھنے کی کرے اور جہاں پناہ ہمیشہ میری خبر گیراں رہتے۔ دم بہ دم کی کیفیت روز مرہ حضور میں عرض ہوتی۔ میں اس مکان ہی کو عالم دنیا جان کر کھلونوں اور رنگ بہ رنگ پھولوں سے کھیلا کرتا اور تمام جہان کی نعمتیں کھانے کے واسطے موجود رہتیں۔ جو چاہتا سو کھاتا۔ دس برس کی عمر تک جتنی صنعتیں اور قابلیتیں تھیں، تحصیل کیں۔

ایک روز اس گنبد کے نیچے روشن دان سے ایک پھول اچنبھے کا نظر پڑا کی دیکھتے دیکھتے بڑا ہوتا جاتا تھا۔ میں نے چاہا کہ ہاتھ سے پکڑ لوں۔ جوں جوں میں ہاتھ لمبا کرتا تھا وہ اونچا ہوتا جاتا تھا۔ میں حیران ہو کر اسے جاتا تک رہا تھا۔ وونہیں ایک آواز قہقہے کی میرے کان میں آئی۔ میں نے اس کے دیکھنے کو گردن اٹھائی دیکھا کہ نمدا چیر کر ایک مکھڑا چاند کا سا نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی اس کے میرے عقل و ہوش بجا نہ رہے۔ پھر اپنے تئیں سنبھال کر دیکھا تو ایک مرصع کا تخت پری زادوں کا کاندھے پر معلق کھڑا ہے اور ایک تخت نشین تاج و جواہر کا سر پر اور خلعت جھلا بور بدن میں پہنے، ہاتھ میں یاقوت کا پیالہ لئے اور شراب پئے ہوئے بیٹھی ہے، وہ تخت بلندی سے آہستہ آہستہ نیچے اتر کر اس برج میں آیا۔ تب پری نے مجھے بلایا، اور اپنے نزدیک بٹھایا۔ باتیں پیار کی کرنے لگی اور منہ سے منہ لگا کر ایک جام شراب گل گلاب کا میرے تئیں پلایا اور کہا آدمی زاد بیوفا ہوتا ہے، لیکن دل ہمارا تجھے چاہتا ہے۔ ایک دم میں ایسی ایسی انداز و ناز کی باتیں کیں کہ دل محو ہو گیا اور ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ زندگی کا مزا پایا، اور یہ سمجھا کہ آج تو دنیا میں آیا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میں تو کیا ہوں، کسو نے یہ عالم نہ دیکھا ہو گا۔ نہ سنا ہو گا اس مزے میں خاطر جمع سے ہم دونوں بیٹھے تھے کہ کریال غلیلا لگا۔ اب اس حادثہ کا ماجرا سن کر وہ نہیں چار پری زاد نے آسمان سے اتر کر کچھ اس معشوقہ کے کان میں کہا۔ سنتے ہی اس کا چہرہ تغیر ہو گیا اور مجھ سے بولی کہ اے پجاری دل تو یہ چاہتا تھا کہ کوئی دم تیرے ساتھ بیٹھ کر دل بہلاؤں اور اسی طرح ہمیشہ آؤں یا تجھے اپنے ساتھ لے جاؤں۔ پر یہ آسمان دو شخص کو ایک جگہ آرام سے اور خوشی سے رہنے نہیں دیتا۔ لے جاناں تیرا خدا نگہبان ہے۔

یہ سن کر میرے حواس جاتے رہے اور طوطے ہاتھ کے اڑ گئے۔ میں نے کہا کہ جی اب پھر کب ملاقات ہو گی؟ یہ کیا تم نے غضب کی بات سنائی؟ اگر جلد آؤ گی تو مجھے جیتا پاؤ گی، نہیں تو پچھتاؤ گی یا اپنا ٹھکانا اور نام و نشان بتاؤ کہ میں ہی اس پتے پر ڈھونڈھتے اپنے تئیں تمہارے پاس پہنچاؤں۔ یہ سن کر بولی دور پار شیطان کے کان بہرے، تمہاری صد و بیت سال کی عمر ہووے۔ اگر زندگی ہے تو پھر ملاقات ہو رہے گی۔ میں جنوں کے بادشاہ کی بیٹی ہوں اور کوہ قاف میں رہتی ہوں۔ یہ کہہ کر تخت اٹھایا اور جس طرح اترا تھا وونہیں بلند ہونے لگا۔ جب تلک سامنے تھا، میری اور اس کی چار آنکھیں ہو رہی تھیں، جب نظروں سے غائب ہوا یہ حالت ہو گئی جیسے پری کا سایہ ہوتا ہے۔ عجب طرح کی اداسی دل پر چھا گئی، عقل و ہوش رخصت ہوا، دنیا آنکھوں کے تلے اندھیری ہو گئی، حیران، پریشان اور سر پر خاک اڑانا، کپڑے پھاڑنا، نہ کھانا کھانے کی سدھ نہ بھلے برے کی بدھ

اس عشق کی بدولت کیا کیا خرابیاں ہیں

دل میں اداسیاں ہیں اور اضطرابیاں ہیں

اس خرابی سے دائی اور معلم خبردار ہوئے۔ ڈرتے ڈرتے بادشاہ کے روبرو گئے اور عرض کی کہ بادشاہ زادہ عالمیان کا یہ حال ہے۔ معلوم نہیں خود بخود کیا غضب ٹوٹا جو ان کا آرام اور کھانا پینا سب چھوٹا۔ تب بادشاہ وزیر امرائے صاحب تدبیر اور حکیم حاذق، منجم صادق، ملا، سیانے، خوب درویش سالک اور مجذوب اپنے ساتھ لے کر اس باغ میں رونق افزا ہوئے۔ میری بے قراری اور نالہ و زاری دیکھ کر ان کی بھی حالت اضطراب کی ہو گئی۔

آب دیدہ ہو کر بے اختیار گلے سے لگا لیا۔ اور اس کی تدبیر کی خاطر حکم کیا۔ حکیموں نے قوتِ دل اور خلل دماغ کے واسطے نسخے لکھے اور ملاؤں نے نقش و تعویذ پلانے اور پاس رکھنے کو دیئے۔ دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکنے لگے اور نجومی بولے کہ ستاروں کی گردش کے سبب یہ صورت پیش آئی ہے۔ اس کا صدقہ دیجیئے۔

غرض ہر کوئی اپنے اپنے کام کی باتیں کہتا تھا۔ جو گزرتی تھی میرا دل ہی سہتا تھا۔ کسو کی سعی اور تدبیر اور میری تقدیر بد کے کام نہ آئی۔ دن بہ دن دیوانگی کا زور اور میرا بدن بے آب و دانے کم زور ہو چلا۔ رات دن چلانا اور سر ٹپکنا ہی باقی رہا۔ اس حالت میں تین سال گزرے۔ چوتھے برس ایک سوداگر سیر و سفر کرتا ہوا آیا، اور ہر ایک ملک کے تحفے تحائف عجیب و غریب جہاں پناہ کے حضور میں لایا۔ ملازمت حاصل کی۔ بادشاہ نے بہت توجہ فرمائی اور احوال پرسی اس کی کر کے پوچھا کہ تم نے بہت ملک دیکھے، کہیں کوئی حکیم کامل بھی نظر پڑا، یا کسو سے مذکور اس کا سنا؟ اس نے التماس کیا کہ قبلہ عالم غلام نے بہت سیر کی، لیکن ہندوستان میں دریا کے بیچ ایک پہاڑی ہے وہاں ایک گسائیں جٹا دھاری نے بڑا منڈھب مہا دیو کا اور سنگت اور باغ بڑی بہار کا بنایا ہے۔ اس میں رہتا ہے اور اس کا یہ قاعدہ ہے کہ برسویں دن شیو رات کے روز اپنے استھان سے نکل کر دریا میں پیرتا ہے اور خوشی کرتا ہے۔ اشنان کے بعد جب اپنے آسن پر جانے لگتا ہے تب بیمار اور درد مند دیس دیس اور ملک ملک کے جو دور دور سے آتے ہیں دروازے پر جمع ہوتے ہیں، ان کی بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔

وہ مہنت جسے اس زمانے کا افلاطون کہا چاہیے، قارورہ اور نبض دیکھتا ہوا اور ہر ایک کو نسخہ لکھ کر دیتا ہوا چلا جاتا ہے۔ خدا نے ایس دست شفا اس کو دیا ہے کہ دور پیتے ہی اثر ہوتا ہے اور وہ مرض بالکل جاتا رہتا ہے۔ یہ ماجرا میں نے بہ چشمِ خود دیکھا اور خدا کی قدرت کو یاد کیا کہ ایسے ایسے بندے پیدا کیئے ہیں۔ اگر حکم ہو تو شہزادہ عالمیان کو اس کے پاس لے جاویں، اس کو ایک نظر دکھاویں، امید قوی ہے کہ جلد شفائے کامل ہو۔ اور ظاہر میں بھی یہ تدبیر اچھی ہے کہ ہر ایک ملک کی ہوا کھانے سے اور جا بجا کے آب و دانے سے مزاج میں فرحت آتی ہے۔

بادشاہ کو بھی اس کی صلاح پسند آئی اور خوش ہو کر فرمایا بہت بہتر، شاید اس کا ہاتھ راس آوے اور میرے فرزند کے دل سے وحشت جاوے، ایک امیر معتبر جہاں دیدہ، کار آزمودہ کو اور اس تاجر کو میر رکاب میں تعینات کیا اور اسباب ضروری ساتھ کر دیا۔ نواڑی، بجرے، مور پنکھی پلوار، لچکے، کھیلنے، الاق، پٹیلیوں پر مع سر انجام سوار کر کر رخصت کیا۔ منزل منزل چلتے چلتے اس ٹھکانے پر جا پہنچے۔ نئی ہوا اور نیا دانہ پانی کھانے پینے سے کچھ مزاج ٹھہرا، لیکن خاموشی کا وہی عالم تھا اور رونے سے کام۔ دم بہ دم اسی پری کی دل سی بھولتی نہ تھی۔ اگر کبھو بولتا تو بیت پڑھتا۔

نہ جانوں کس پری رو کی نظر ہوئی

ابھی تو تھا بھلا چنگا مرا دل

بارے جب وہ تین مہینے گزرے اس پہاڑ پر قریب چار ہزار مریض کے جمع ہوئے، لیکن سب یہی کہتے تھے کہ اب خدا چاہے تو گسائیں اپنے مٹھ سے نکلیں گے اور سب کو ان کے فرمانے سے شفائے کلی ہو گی۔

القصہ جس دن وہ دن آیا، صبح کو جوگی مانند آفتاب سے نکل آیا اور دریا میں نہایا اور پیرا، پار جا کر پھر آیا اور بھبھوت بھسم تمام بدن میں لگایا۔ وہ گورا بدن مانند انگار کے راکھ میں چھپایا اور ماتھے پر ملا گیر کا ٹیکا دیا، لنگوٹ باندھ کر انگوچھا کاندھے پر ڈالا بھالوں کا جوڑا باندھا، موچھوں پر تاؤ دے کر چڑھواں جوتا اڑایا۔ اس کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا اس کے نزدیک کچھ قدر نہیں رکھتی۔ ایک قلم دان جڑاؤ بغل میں لے کر ایک ایک کی طرف دیکھتا اور نسخہ دیتا ہوا میرے نزدیک آ پہنچا۔ جب میری اور اس کی چار نظریں ہوئیں، کھڑا رہ کر غور میں گیا اور مجھ سے کہنے لگا ہمارے ساتھ آؤ۔ میں ہم راہ ہو لیا۔

جب سب کی نوبت ہو چکی، میرے تئیں باغ کے اندر لے گیا اور ایک مقطع خوش نقشی خلوت خانے مجھے فرمایا کہ یہاں تم رہا کرو، اور آپ اپنے استھان میں گیا۔ جب ایک چِلا گزرا تو میرے پاس آیا اور آگے کی نسبت مجھے خوش پایا۔ تب مسکرا کر فرمایا کہ اس باغیچے میں سیر کیا کرو۔ جس میوے پر جی چلے کھایا کرو اور ایک قلفی چینی کی معجون بھری ہوئی دی کہ اس میں سے چھ ماشے ہمیشہ بلا ناغہ نوش جان فرمایا کرو۔ یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا، اور میں نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔ ہر روز قوت بدن میں اور فرحت دل کی معلوم ہونے لگی، لیکن حضرت عشق کو کچھ اثر نہ کیا۔ اس پری کی صورت نظروں کے آگے پھرتی تھی۔

ایک روز طاق میں جلد کتاب کی نظر آئی۔ اتار کر دیکھا تو سارے علم دن دنیا کے اس میں جمع کئے تھے۔ گویا دریا کو کوزے میں بھر دیا تھا۔ ہر گھڑی اس کا مطالعہ کیا کرتا۔ علم حکمت اور تسخیر میں نہایت قوت بہم پہنچائی۔ اس عرصے میں برس دن گزر گیا۔ پھر وہی خوشی کا دن آیا۔ جوگی اپنے آسن پر سے اٹھ کر باہر نکلا۔ میں نے سلام کیا۔ ان نے قلم دان مجھے دے کر کہا ساتھ چلو۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ جب دروازے سے باہر نکلا ایک عالم دینے لگا۔ وہ امیر اور سوداگر مجھے ساتھ دیکھ کر گسائیں کے قدموں میں گرے اور ادائے شکر کرنے لگے کہ آپ کی توجہ سے بارے اتنا تو ہوا۔ وہ اپنی عادت پر دریا کے گھاٹ تک گیا اور اشنان پوجا جس طرح ہر سال کرتا تھا، پھرتی بار بیماریوں کو دیکھتا بھالتا چلا آتا تھا۔

اتفاقا مسودائیوں کے غول میں ایک جوان خوب صورت شکیل کے ضعف سے کھڑے ہونے کی طاقت اس میں نہ تھی نظر پڑا۔ مجھ کو کہا کہ اس کو ساتھ لے آؤ۔ سب کی دارو درمن کر کے جب خلوت خانے میں گیا۔ تھوڑی سی کھوپڑی اس جوان کی تراش کر، چاہا کہ کنکھجورا جو مغز پر بیٹھا تھا، زنبور سے اٹھا لیوے۔ میرے خیال میں گذرا اور بول اٹھا کہ اگر دست پناہ آگ میں گرم کر کر اس کی پیٹھ پر رکھئے تو خوب ہے۔ آپ سے آپ نکل آوے گا۔ اور جو یوں کھینچے گا تو مغز کے گودے کو نہ چھوڑے گا۔ پھر خوف زندگی کو ہے۔ یہ سن کر میری طرف دیکھا اور چپکا اٹھا باغ کے کونے میں ایک درخت کو لے میں پکڑ جٹا کی لٹ کی گلے میں پھانسی لگا کر رہ گیا۔ میں نے پاس جا کر دیکھا تو واہ واہ یہ تو مر گیا۔ یہ اچنبھا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔ لاچار جی میں آیا اس کو گارڈ دوں۔ جوں درخت سے جدا کرنے لگا وہ کنجیاں اس کی لٹوں میں سے گر پڑیں۔ میں نے ان کو اٹھا لیا اور اس گنج خوبی کو زمیں میں دفن کیا۔ وہ دونوں کنجیاں لے کر سب قفلوں میں لگانے لگا۔ اتفاقاً دو حجروں کے تالے ان تالیوں سے کھلے۔ دیکھا تو زمیں سے چھت تلک جواہر بھرا ہوا ہے۔ اور ایک پیٹی مخمل سے مڑھی سونے کے پتر لگی قفل دی ہوئی ایک طرف دھری ہے۔ اس کو جو کھولا تو ایک کتاب دیکھی کہ اس میں اسم اعظم اور حاضرات جن و پری کی اور روحوں کی ملاقات اور تسخیر آفتاب کی ترکیب لکھی ہے۔

ایسی دولت کے ہاتھ لگنے سے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور ان پر عمل کرنا شروع کیا۔ دروازہ باغ کا کھول اپنے اس امیر اور ساتھ والوں کو کہا کہ کشتیاں منگوا کر یہ سب جواہر و نقد جنس اور کتابیں بار کر لو اور ایک نواڑے پر آپ سوار ہو کر وہاں سے بحر کو روانہ کیا۔ آتے آتے جب نزدیک اپنے ملک کے پہنچا، جہاں پناہ کو خبر ہوئی۔ سوار ہو کر استقبال کیا اور اشتیاق سے بے قرار ہو کر کلیجے سے لگا لیا۔ میں نے قدم بوسی کر کر کہا کہ اس خاک سار کو قدیم باغ میں رہنے کا حکم ہوا۔ بولے کہ اے برخوردار وہ مکان میرے نزدیک منحوس ٹھہرا۔ لہٰذا اس کی مرمت اور تیاری موقوف کی۔ اب وہ مکان لائق انسان کے رہنے کے نہیں رہا۔ اور جس محل میں جی چاہے، اترو۔ بہتر یوں ہے کہ قلعے میں کوئی جگہ پسند کر کے میری آنکھوں کے روبرو رہو اور پائیں باغ جیسا چاہو تیار کروا کر سیر تماشا کرو۔ میں نے بہت ضد اور ہٹ کر کر اس باغ کو نئے سرے سے تعمیر کروا دیا اور بہشت کی مانند آراستہ کر داخل ہوا۔ پھر فراغت سے جنوں کی تسخیر کی خاطر چلے بیٹھا اور ترک حیوانات کر کر حاضرات کرنے لگا۔

جب چالیس دن پورے ہوئے تب آدھی رات کو ایک ایسی آندھی آئی کہ بڑی بڑی عمارتیں گر پڑیں اور درخت جڑ پیڑ سے اکھڑ کر کہیں سے کہیں جا پڑے، اور پری زادیوں کا لشکر نمودار ہوا۔

ایک تخت ہوا سے اترا۔ اس پر ایک شخص شاندار موتیوں کا تاج اور خلعت پہنے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھتے ہی بہت مودب ہو کر سلام کیا۔ اس نے میرا سلام لیا اور کہا اے عزیز! یہ کیا تو نے ناحق دند مچایا؟ ہم سے تجھے کیا مدّعا ہے؟ میں نے التماس کیا کہ یہ عاجز بہت مدت سے تمہاری بیٹی پر عاشق ہے، اور اسی لیے کہاں سے کہاں خراب و خستہ ہوا اور جیتے جی موا۔ اب زندگی سے بھی تنگ آیا ہوں اور اپنی جان پر کھیلا ہوں، جو یہ کام کیا ہے۔ اب آپ کی ذات سے امیدوار ہوں کہ مجھ حیران سرگردان کو اپنی توجہ سے سرفراز کرو، اور اس کے دیدار سے زندگی اور آرام بخشو تو بڑا ثواب ہو گا۔ یہ میری آرزو سن کر بولا کہ آدمی خاکی اور ہم آتشی، ان دونوں میں موافقت آنی مشکل ہے۔ میں نے قسم کھائی کہ ان کے دیکھنے کا میں مشتاق ہوں اور کچھ مطلب نہیں۔ پھر اس تخت نشین نے جواب دیا کہ انسان اپنے قول و قرار پر نہیں رہتا۔ غرض کے وقت پر سب کچھ کہتا ہے لیکن یاد نہیں رکھتا۔ یہ بات میں تیرے بھلے کے لیے کہہ سناتا ہوں کہ اگر تو نے کبھی قصد کچھ اور کیا تو وہ بھی اور تو بھی دونوں خراب اور خستہ ہو گئے، بلکہ خوف جان کا ہے۔ میں نے پھر دوبارہ سوگندہ یاد کی کہ جس میں طرفین کی برائی ہو، ویسا کام ہر گز نہ کروں گا۔ مگر ایک نظر دیکھتا رہوں گا۔ یہ باتیں ہوتیاں تھیں کہ انچت وہ پری کہ جس کا مذکور تھا، نہایت ٹھسے سے بناؤ کیے ہوئے آ پہنچی اور بادشاہ کا تخت وہاں سے چلا گیا۔ تب میں نے بے اختیار اس پری کو جان کی طرح بغل میں لے لیا اور یہ شعر پڑھا:

کماں ابرو مرے گھر کیوں نہ آوے کہ جس کے واسطے کھینچے ہیں چلّے

اسی خوشی کے عالم میں باہم اس باغ میں رہنے لگے۔ مارے ڈر کے کچھ اور خیال نہ کرتا۔ بلائی مزے لیتا اور فقط دیکھا کرتا۔ وہ پری میرے قول و قرار کے نباہنے پر دل میں حیران رہتی اور بعضے وقت کہتی کہ پیارے! تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو، لیکن ایک نصیحت میں دوستی کی راہ سے کرتی ہوں۔ اپنی کتاب سے خبردار رہیو کہ جن کسی نہ کسی دن تمہیں غافل پا کر چرا کر لے جائیں گے۔ میں نے کہا اسے میں اپنی جان کے برابر رکھتا ہوں۔

اتفاقاً ایک روز رات کو شیطان نے ورغلایا۔ شہوت کی حالت میں یہ دل میں آیا کہ جو کچھ ہو سو ہو، کہاں تلک اپنے تئیں تھانبوں؟ اسے چھاتی سے لگایا اور قصد جماع کا کیا۔ وونہیں ایک آواز آئی۔ یہ کتاب مجھ کو دے کہ اس میں اسم اعظم ہے، بے ادبی نہ کر۔ اس مستی کے عالم میں کچھ ہوش نہ رہا۔ کتاب بغل سے نکال کر بغیر جانے پہچانے حوالے کر دی اور اپنے کام میں لگا۔ وہ نازنین یہ میری نادانی کی حرکت دیکھ کر بولی کہ ظالم! آخر چوکا اور نصیحت بھولا۔

یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی اور میں اس کے سرہانے ایک دیو دیکھا کی کتاب لیے کھڑا ہے۔ چاہا کہ پکڑ کر خوب ماروں اور کتاب چھین لوں۔ اتنے میں اس کے ہاتھ سے کتاب دوسرا لے بھاگا۔ میں نے جو افسوں یاد کیے تھے، پڑھنے شروع کیے۔ وہ جن جو کھڑا تھا بیل بن گیا، لیکن افسوس کہ پری ذرا بھی ہوش میں نہ آئی اور وہی حالت بے خودی کی رہی۔ تب میرا دل گھبرایا۔ سارا عیش تلخ ہو گیا۔

اس روز آدمیوں سے نفرت ہوئی۔ اس باغ کے گوشے میں پڑا رہتا ہوں اور دل بہلانے کی خاطر یہ مرتبان زمرد کا جھاڑ دار بنایا کرتا ہوں، اور ہر مہینے اس میدان میں اس بیل پر سوار ہو کر جایا کرتا ہوں۔ مرتبان کو توڑ کر غلام کو مار ڈالتا ہوں۔ اس امید پر کہ سب میری حالت دیکھیں اور افسوس کھاویں۔ شاید کوئی ایسا خدا کا بندہ مہربان ہو کہ میرے حق میں دعا کرے تو میں بھی اپنے مطلب کو پہنچوں۔

اے رفیق! میرے جنون اور سودا کی یہ حقیقت ہے جو میں نے تجھے کہہ سنائی۔ میں سن کر آبدیدہ ہوا اور بولا کہ اے شہزادے! تو نے واقعی عشق کی بڑی محنت اٹھائی۔ لیکن قسم خدا کی کھاتا ہوں کہ میں اپنے مطلب سے درگزرا۔ اب تیری خاطر جنگل پہاڑ پھروں گا اور جو مجھ سے ہو سکے گا کروں گا۔ یہ وعدہ کر کر میں جوان سے رخصت ہوا، اور پانچ برس تک سودائی سا ویرانے میں خاک چھانتا پھرا، سراغ نہ ملا۔

آخر اکتا کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور چاہا کہ اپنے تئیں گرا دوں کہ ہڈی پسلی کچھ ثابت نہ رہے۔ وہی ایک سوار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ اپنی جان مت کھو، تھوڑے دنوں کے بعد تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا۔ یا سائیں اللہ! تمہارے دیدار تو میسر ہوئے۔ اب خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ خوشی اور خرمی حاصل ہو۔ اور سب نامراد اپنی مراد کو پہنچیں۔