FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

یَا اَیّھَُا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُلُوْامِنْ طَیِّبَاتِ مَارَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوْالِلّٰہِ

اے ایمان والو!جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤاور اللہ تعالیٰ کاشکر کرو!

 

فہرست مضامین

کھائیے مگر۔۔۔

 

کھانے پینے سے متعلق شرعی رہنمائیاں اور طبی حکمتیں

 

حافظ محمد سَاجِداُسَید ندوی

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

 

الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، امابعد

انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے، دونوں کی صحت اورمضبوطی سے ایک مضبوط وکامل انسان وجود میں آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو انسان کا خالق ہے اس کائنات میں دونوں ہی کی قوت ومضبوطی کے اسباب اور وسائل کا انتظام فرمایا ہے اور ان سے استفادہ کا حکم دیا ہے۔

انسانی جسم کو قوت وتوانائی دینے والی وہ پاکیزہ اورحلال اشیاء ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جا بجا بڑی وافر مقدار میں پھیلادی ہیں جبکہ روح کی صحت وقوت کاذریعہ وہ تعلیمات اور اعمال ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اوراس سلسلے کی آخری کڑی کے طور پر ہمارے رسول آقائے نامدار محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں جہاں عبادات(اورانسان کی روحانی زندگی) سے متعلق کامل رہنمائی موجود ہے وہیں ان تمام امور و معاملات سے متعلق ہدایات بھی جامع اور واضح شکل میں موجود ہیں جن کاتعلق انسان کی مادی زندگی سے ہے، چنانچہ انسان کے کھانے پینے اور اس کی جسمانی صحت سے متعلق رہنمائیاں بھی ان تعلیمات کا حصہ ہیں، ان دونوں قسم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف یہ کہ انسان اپنی روح کو قوت وکمال سے سرفرازکر سکتا ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت وقوت کی دولت سے مالامال ہو سکتا ہے۔

جدید تہذیب ومعاشرت کے اثرات کی بنا پر جس طرح اس وقت انسان کی روح پژمردگی کی شکار ہے، اسی طرح کھانے پینے اور غذا سے متعلق شرعی اور نبوی ہدایات اور اسووں سے دوری کی وجہ سے انسان کا جسم بھی گوناگوں امراض اور مصائب کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، بلکہ بعض بیماریاں تو انسانی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں، ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہے جن کی زندگی کا انحصار غذاؤں کی بجائے دواؤں پر ہے۔ فالأمان والحفیظ

اسی صورتحال کے پیش نظر زیر مطالعہ رسالہ میں ان اہم شرعی تعلیمات وہدایات اور آداب و احکام پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کا تعلق انسان کی غذا، صحت اور کھانے پینے سے ہے، ساتھ ہی ان میں موجو دطبی حکمتیں بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، امیدہے کہ یہ کتاب اس حوالے سے بہت سے لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کا ذریعہ بنے گی۔

اللہ جزائے خیر دے ہمارے بزرگ سید انیس الدین صاحب کو جن کی خواہش اور مسلسل ربط ویاددہانی کی بناپرگوناگوں مصروفیات کے باوجود یہ رسالہ ترتیب پا سکا ہے، اس حوالے سے امت کی صحیح رہنمائی کے سلسلے میں وہ کافی فکر مند اور پر جوش ہیں، اللہ ان کے اس جوش و فکر کے بہتر نتائج پیدا فرمائے، آمین، میں ان کا شکر گزار ہوں، ساتھ ہی ان کے رفیق جناب ابو محمد صاحب کا بھی جن کے واسطے سے ان کا تعارف مجھ سے یا میرا تعارف ان سے ہوا اور پھر یہ کوشش اور اس کا یہ ثمرہ وجود میں آیا فجزاھما اللہ فی الدارین خیرا، وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ و سلم تسلیما کثیرا کثیرا۔

ش کو مفید بنائے، آمین۔

حافظ محمد ساجد اسید ندوی

امام وخطیب مسجد تقوی، ٹولی چوکی حیدرآباد

 

 

 

 

صحت کی نعمت اور اس کی حفاظت

 

تندرستی ہزار نعمت ہے

 

صحت وتندرستی اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ بیش بہا نعمتوں میں سے ایک ہے، اس عظیم نعمت کا صحیح احساس انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو اس سے محروم کر دیئے گئے ہیں، اسی لئے کہا گیا ہے کہ صحت صحتمند لوگوں کے سروں پر سجاوہ تاج ہے جسے صرف بیمارہی دیکھ سکتا ہے، نبی کریمﷺ نے صحیح بخاری کی ایک روایت میں صحت کے لئے نعمت کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا:

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِیْھِمَاکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ:  الصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ

’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے سلسلے میں بہت سے لوگ دھوکا اٹھا تے ہیں، ایک صحت اور دوسری فراغت‘‘(صحیح بخاری: 6412)

دین اور دنیاکی بہت سی نعمتوں کا حصول اوران سے استفادہ صحت ہی کی نعمت پر موقوف ہے، صحت مند جسم ہی صحت مند اور تندرست عقل و دماغ کا حامل ہو سکتا ہے بنابریں حسن تدبیر، بلند فکراور مضبوط قوت ارادی وغیرہ جیسی عمدہ اور اعلی صفات سے بہرہ ور ہونا صحت کی نعمت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

صحت کی نعمت سے محروم شخص دنیا کی نعمتوں سے صحیح طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا، مشہور عربی شاعربشَّار بن بُرْ دکہتا ہے:

اِنِّیْ وَاِنْ کَانَ جَمْعُ الْمَالِ یُعْجِبُنِیْ   فَلَیْسَ یَعْدلُ عِنْدِیْ صِحَّۃَ الْجَسَدِ

فِی الْمَالِ زَیْنٌ وَفِی الْاَوْلَادِ مَکْرُمَۃٌ  وَالسُّقْمُ یُنْسِیْکَ ذِکْرُ الْمَالِ وَالْوَلَدِ

 ’’مال کا جمع کرنا گوکہ مجھے پسند ہے لیکن میرے نزدیک وہ جسم کی صحت کے برابر نہیں

مال میں زینت ہے اور اولاد میں عزت(لیکن )بیماری مال اور اولاد(ساری چیزوں ) کی یادبھلوادیتی ہے‘‘

بیماراور کمزور جسم کا حامل شخص جس طرح دنیا کی نعمتوں سے صحیح طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا اسی طرح وہ دین اور اس کے تقاضوں کی بجا آوری بھی کامل شکل میں نہیں کر سکتا، اسی لئے نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے:

اِغْتَنِمْ خَمْسًاقَبْلَ خَمْسٍ، شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ

’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جان لو، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو فقیری سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے‘‘

(مستدرک حاکم:  7846، صحیح الجامع: 1077 )

نبی مکرمﷺ نے صحت کی نعمت کی قدرو عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مَن أَصْبَحَ آمِنًا فی سِرْبِہٖ، مُعافًی فِیْ جَسَدِہٖ، عِنْدَہٗ قُوْتُ یَوْمِہٖ، فَکَأَنَّمَا حِیْزَتْ لَہُ الدُّنْیَا بِحَذَافِیْرھَِا

’’جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھر میں امن وحفاظت میں رہا، اس کا جسم عافیت میں رہا اور اس کے پاس اس دن کا کھانا موجود ہے تو گویا دنیا اپنے تمام اسباب کے ساتھ اس کے لئے جمع کر دی گئی‘‘

(سنن ترمذی: 2346، سنن ابن ماجہ: 4141)

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

سَلُوا اللّٰہَ العَفْوَ وَالعَافِیَۃَوَالْمُعَافَاۃَفَمَا اُوتِیَ أَحَدٌ بَعدَ یقِیْنٍ خَیْرًا مِنْ مُعَافَاۃٍ

’’اللہ تعالیٰ سے معافی، عافیت اور صحت طلب کرو، اس لئے کہ کسی کو یقین کے بعد صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دی گئی‘‘ (سنن نسائی 6؍220)

قیامت کے دن جن نعمتوں کے بارے میں بطور خاص سوال ہو گا ان میں سرفہرست صحت کی نعمت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے:

 إِنَّ أَوَّلَ مَا یُسْئَلُ عَنْہُ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ النَّعِیْمِ أَنْ یُّقَالَ لَہٗ:  أَلَمْ نُصِحَّ لَہٗ جِسْمَکَ، أَلَمْ نَرْوِکَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ؟

’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نعمتوں سے متعلق جو سوال ہو گا وہ یہ کہ کہا جائے گا کیا ہم نے تجھے صحت مند جسم نہیں دیا اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا؟‘‘   (سنن ترمذی: 3358)

 

اسلام میں صحت کی حفاظت کا خاص اہتمام

 

مذہب اسلام جس طرح یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی صحت وتندرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا صحیح استعمال کرے اسی طرح وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ صحت وتندرستی کی اس عظیم نعمت کی حفاظت کی جائے اور اس کی برقراری اور استحکام کے اسباب ووسائل اختیار کئے جائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَأَحَبُّ إِلَی اللَّٰہِ مِنَا لْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ وَفِیْکُلٍّ خَیْرٌ

’’قوی مومن کمزور مومن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے اور ہر ایک میں خیر ہے‘‘  (صحیح مسلم: 2664)

اسلام میں صحت کی حفاظت کا مختلف زاویوں سے خاص اہتمام کیا گیا ہے اور ایسی تعلیمات وہدایات دی گئی ہیں جن سے صحت کی حفاظت ہو سکے، یہ تعلیمات طہارت ونظافت، سونے اور جاگنے، بیماری وپرہیز، کھانے اور پینے اور ان تمام چیزوں سے متعلق ہیں جن کا بلاواسطہ یا بالواسطہ انسان کی صحت سے تعلق ہے۔

ہمارے پیش نظر اس وقت وہ خاص اسلامی تعلیمات وہدایات اور آداب ہیں جن کا تعلق کھانے اور پینے سے ہے اور جن میں صحت وتندرستی کی حفاظت، اس کے قیام واستحکام اور اس کی بحالی وبرقراری کی بیش قیمت حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔

 

 

 

 

کھانے پینے سے متعلق کچھ اصولی احکام وتعلیمات

 

1۔ ساری خبیث اور مضر چیزیں حرام

 

اسلام نے ساری خبیث وناپاک اور مضر چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے اور صرف مفید اور پاکیزہ چیزوں کے کھانے کی ہدایت دی ہے تاکہ صحت کی حفاظت ہو سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا اُحِلَّ لھَُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ

’’آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں‘‘(المائدہ: 4)

آیت سے واضح ہے کہ غیر پاکیزہ چیزیں حلال نہیں کی گئی ہیں، مزید نبی اکرمﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَیُحِلُّ لھَُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَائِثَ

‘‘وہ ان کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور خبیث اشیاء ان پر حرام کرتا ہے ’’  (الأعراف: 157)

 

خبیث اشیاء کی قسمیں

اسلام نے جن اشیاء کوان کی خباثت ومضرت کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے، ان میں کچھ تووہ ہیں جن کے اندر معنوی خباثت پائی جاتی ہے اور جو انسان کی روح اور اس کی دینی اور معنوی زندگی کے لئے تباہی لاتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے ضر رکا شکار انسان کا جسم ہوتا ہے، مندرجہ ذیل آیت میں ان دونوں قسم کی کچھ اشیاء کی حرمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اھُِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَاذَکَّیْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ۔۔ ۔

’’تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو اور جوگلا گھٹنے سے مرا ہو اور جوکسی ضرب سے مرگیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو۔۔ ۔‘‘  (المائدہ: 3)

آیت کریمہ میں حرام قرار دی گئی چیزوں میں مردار، خون اور خنزیر کا گوشت انسانی جسم کے لئے باعث مضرت ہیں جبکہ وہ اشیائ(جانور وغیرہ)جن پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو یا جو جانور آستانوں پر ذبح کئے گئے ہوں انسان کی روح اور اس کے عقیدہ کی نجاست وگندگی کا باعث ہیں۔

جانور وغیرہ پر غیر اللہ کا نام پکارنے سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور مفسر قرآن علامہ طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کے فرمان’وَمَا اھُِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ ‘سے مراد وہ (جانور)ہے جسے اللہ کے نام کے علاوہ دوسرے معبودوں اور بتوں کے لئے ذبح کیا گیا ہو یاجس کے ذریعے اللہ کے علاوہ بتوں کا (تقرب اور ان کی خوشنودی )مقصود ہو۔

اور وَمَا اھُِلَّ بِہ محض اس لئے کہا گیا کہ وہ جس (جانور)کو اپنے معبود وں کے لئے بطور نذر ذبح کرنے کا ارادہ کرتے، ان کے لئے ان معبودوں کا نام لیتے اورپکار تے اور ان کا یہ ایسا معمول تھا کہ ہرذبح کرنے والے کے لئے یہ تعبیر استعمال کی گئی چاہے وہ اس کا نام لیں یا نہ لیں، پکاریں یا نہ پکاریں‘‘ (تفسیرطبری بحوالہ اللہ پرایمان ص463)

حافظ صلاح الدین یوسف’وَمَا اھُِلَّ بِہٖ ‘کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وہ جانور یاکوئی اور چیز جسے غیر اللہ کے نام پر پکارا جائے، اس سے مراد وہ جانور ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے جائیں جیسے مشرکین عرب لات وعزی کے ناموں پر ذبح کرتے تھے، یا آگ کے نام پر جیسے مجوسی کرتے تھے۔

اور اسی میں وہ جانور بھی آ جاتے ہیں جو جاہل مسلمان فوت شدہ بزرگوں کی عقیدت ومحبت میں، ان کی خوشنودی وتقرب حاصل کرنے کے لیے یا ان سے ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے، قبروں اور آستانوں پر ذبح کرتے ہیں، یا مجاورین کی نیاز کے نام پر دے آتے ہیں، ان جانوروں کو چاہے ذبح کے وقت اللہ ہی کا نام لے کر ذبح کیا جائے، یہ حرام ہی ہوں گے، کیونکہ اس سے مقصود رضائے اہل قبور اور تعظیم لغیر اللہ ، یا خوف یا امید من غیر اللہ ہے جو شرک ہے، اسی طریقے سے جانوروں کے علاوہ جو اشیاء بھی غیر اللہ کے نام پرنذر، نیاز اور چڑھاوے کی ہوں گی حرام ہوں گی، جیسے قبروں پر لے جا کر وہاں سے خرید کر، قبور کے ارد گرد فقراء ومساکین پر دیگوں اور لنگروں کی یا مٹھائی اور پیسوں وغیرہ کی تقسیم، یا وہاں صندوقچی میں نذر نیاز کے پیسے ڈالنا، یا عرس کے موقع پر وہاں دودھ پہچانا، یہ سب کام حرام اور ناجائز ہیں، کیوں کہ یہ سب غیر اللہ کی نذرونیاز (منت)کی صورت ہیں اور نذر بھی، روزہ وغیرہ عبادات کی طرح ایک عبادت ہے اور عبادت کی ہر قسم صرف ایک اللہ کے لئے مخصوص ہے۔۔ ۔  ‘ ‘      (تفسیر احسن البیان، سورہ بقرہ آیت 173:  )

آیت میں مذکور چیزوں کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جنہیں شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے اور جو انسان کی روح اور جسم کی نجاست وخباثت کا باعث ہیں، ان میں ایک مشہور اور معروف چیز شراب ہے جس کی مضرت اور روح وجسم پر اس کی وجہ سے مرتب ہونے والے خبیث اثرات جگ ظاہر ہیں۔

خبیث اشیاء کے ناجائز ہونے کے اس اسلامی اصول کی بنیاد پر ان تمام خبیث ومضر چیزوں کی حرمت معلوم کی جا سکتی ہے جن کا وجود بعد کے ادوار میں ہوا۔

 

تمباکو اور سگریٹ نوشی حرام ہے

اسی اصول کے مد نظر علماء نے سگریٹ اور تمباکونوشی کو حرام قرار دیا ہے، چنانچہ مشہور عالم دین علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ تمباکو نوشی کے سلسلے میں کہتے ہیں:

’’تمباکو نوشی حرام ہے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

وَلَاتَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا

’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے‘‘(النسائ: 29)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَاتُلْقُوْابِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التّھَْلُکَۃِ

’’اپنے ہاتھوں ہلاکت وتباہی کی طرف نہ ڈالو‘‘(البقرہ: 195)

طبی لحاظ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس طرح کی چیزوں کا استعمال نقصان کا سبب ہے (روزانہ سینکڑوں اور ہزاروں افراد کی موت سگریٹ اور تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں خاص طور پر کینسر سے ہوتی ہے )، جب یہ نقصان دہ ہے تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں‘‘  (کیا یہ بھی حرام؟ص22.23)

 

2۔ ساری پاکیزہ چیزیں حلال ہیں

 

خبیث ومضرچیزوں کے علاوہ دوسری چیزوں کے سلسلے میں شریعت اسلامیہ کا حکم یہ ہے کہ وہ مباح ہیں اور ان کا استعمال جائز ہے، فقہا ء کرام یہاں ’’اِنَّ الْاَصْلَ فِی الْاَشْیَائِ اَلْاِبَاحَۃُ‘‘ (اشیاء میں اصل اباحت (مباح اور جائز ہونا) ہے ) کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، یعنی دنیوی اشیاء کے سلسلے میں اصل حکم جائز ہونے کا ہے، جب تک کسی چیز کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہ مل جائے حرام نہیں ہو گی، حرمت کے لئے (ممانعت اور نہی کی شکل میں ) دلیل کا ہونا ضروری ہے۔

بعض لوگ اس اصول کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے عبادات کے سلسلے میں پیش کرتے اور بدعات کے لئے دلیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ عبادات کے سلسلے میں اصول اس کے برعکس ہے یعنی کسی بھی عمل کو بطور عبادت اختیار کرنے کے سلسلے میں یہ بات دلیل نہیں بن سکتی کہ اس کی ممانعت اور نہی ثابت نہیں، بلکہ اس کے لئے ضروری ہو گا کہ قولی یا عملی طور پر اس کے کرنے کی دلیل موجود ہو، جب تک کسی عبادت کی دلیل قولا یا عملانہ مل جائے وہ بدعت اور حرام ہو گی، اس سلسلے میں زیادہ تفصیل میں جانے کی بجائے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر غور کر لینا چاہئے، آپﷺ نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فھَُوَ رَدٌّ

’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پرہمارا حکم موجود نہیں تو وہ مردود ہے‘‘ (صحیح مسلم: 3243)

یہاں رسول اللہ ﷺ نے ’’ لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا‘‘(جس پرہمارا حکم موجود نہ ہو) فرمایا ’’عَلَیْہِ نھَْیُنَا‘‘(جس پر ہماری نہی اور ممانعت ہو) نہیں فرمایا، مطلب واضح ہے کہ یہاں امر مطلوب ہے نہ کہ ممانعت کا نہ ہونا۔

اسلام نے تمام پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرنے اور کھانے پینے کی کھلی اجازت دی ہے، بشرطیکہ انہیں حلال ذریعے سے حاصل کیا گیا ہو، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُواْ لِلّہِ إِن کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ

’’اے ایمان والو!جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاو، اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘(البقرہ: 172)

 

3۔ حلال کو حرام نہ کیجیے !

 

اسلام نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ پاکیزہ اور حلال چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس سوچ کی بنیاد پر احتراز اور پرہیز کیا جائے کہ یہ زہد و عبادت اور قربت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے، جیساکہ دوسرے بہت سے مذاہب کے لوگ سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اسے اختیار کر کے خود کو اللہ تعالیٰ کی بہت ساری نعمتوں سے محروم رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی سوچ پر قدغن لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللہ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللہ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللہ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُون

’’اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرواور حد سے آگے مت نکلو، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے آگے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤاور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘  (المائدہ: 87۔ 88)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے سنن ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!جب میں گوشت کھاتا ہوں تو شہوت کا غلبہ ہو جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کر لیا ہے، اس پر اس آیت کا نزول ہوا۔

کسی چیزکو حلال و حرام قرار دینے کا پوراکا پورا اختیار اللہ تعالیٰ کوہے اورحلت و حرمت کا تعلق کسی شخص کے ذوق اور خیال سے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد کتاب وسنت کی نصوص پر ہے اور کھانے پینے وغیرہ سے متعلق چیزوں میں اصل ان کا حلال ہونا ہے اس لئے کسی بھی چیز کو حرام قرار دینے سے پہلے قرآن یا سنت سے اس کی حرمت کی دلیل پیش کرنا لازم ہے۔

 

 

 

4۔ طبیعت آمادہ نہ ہو تو مت کھائیے !

 

اگر کوئی شخص محض طبیعت کی ناگواری اور کراہت کی بنیاد پر کسی چیزکواستعمال نہیں کرتا تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ صحت اور طب کے اعتبار سے اس میں افادیت کا پہلو ہے نبی محترمﷺکی خدمت مبارکہ میں سانڈے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے تناول نہیں فرمایا، آپﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حرام ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

لَا، وَلٰکِنْ لَمْ یَکُنْ باَرْضِ قَوْمِیْ فَاَجِدُنِیْ اَعَافُہٗ

”نہیں، لیکن ہمارے یہاں یہ جانور نہیں پایا جاتا اس لئے میری طبیعت اس سے اِبا کرتی ہے ” (صحیح مسلم: 5035)

 

 

 

5۔  کھائیے مگر اعتدال کے ساتھ!

 

اسلام نے تمام خبیث اشیاء کو حرام ٹھہرایا اور پاکیزہ چیزوں کے کھانے کی کھلی اجازت دی لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی تاکید کی کہ کھانے اور پینے کے سلسلے میں اعتدال ملحوظ رکھا جائے اور اسراف سے بچا جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَکُلُوْ اوَاشْرَبُوْا وَلَاتُسْرِفُوْا

’’کھاؤاور پیو اور حد سے تجاوز مت کرو‘‘(الاعراف: 31)

کھانے میں اسراف کیا ہے ؟ اس سلسلے میں امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

الإسرافُ:  الأکْلُ بَعْدَ الشَّبْعِ

’’اسراف پیٹ بھرجانے کے بعد بھی کھاتے رہنے کا نام ہے‘‘(تفسیر قرطبی /7 195)

اور امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وَمِنَ الْإِسْرَافِ الأکلُ لَا لِحَاجَۃٍ وَفِیْ وَقْتِ شَبْعٍ

”اسراف یہ بھی ہے کہ بغیر ضرورت وحاجت کے اور پیٹ بھرا رہنے کے باوجود کھایا جائے ”  (فتح القدیر2؍200)

مذکورہ آیت کریمہ کے سلسلے میں کسی نے کہا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آدھاطب جمع فرمادیا ہے، سچی بات یہ ہے کہ صحت کی حفاظت کا ایک انتہائی عظیم قاعدہ اس آیت میں بیان کر دیا گیا ہے اور وہ ہے کھانے اور پینے کے سلسلے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا، عرب کے طبیب حارث بن کلدہ کا قول ہے:

اَلَّذِیْ قَتَلَ الْبَرِیَّۃَوَاھَْلَکَ السِّبَاعَ فِی الْبَرِیَّۃِ، اِدْخَالُ الطَّعَامِ عَلَی الطَّعَامِ قَبْلَ الْاِنْھِضَامِ

”ہضم ہونے سے پہلے کھانے پر کھانے کی مصیبت نے انسانوں کی جانیں لی ہے اور جنگلات میں درندوں کی ہلاکت کا سبب بھی یہی ہے ”

(جامع العلوم والحکم ج2 ص468، زادالمعاد ج4ص104)

 

کھانے میں بے اعتدالی کے نقصانات

کھانے میں اسراف اوربے اعتدالی شرعی طور بھی مضرہے، جسمانی کے اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے اور عقلی وفکری کے اعتبار سے بھی باعث نقصان وضرر ہے۔

شرعی طور پر اس کا نقصان یہ ہے کہ اس میں قرآنی حکم ’’کھاؤاور پیو اور حد سے تجاوز مت کرو‘‘ کی مخالفت پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ اس میں نبی کریمﷺ کی بہت سی احادیث کی خلاف ورزی بھی موجود ہے، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

کُلْ وَاشْرَبْ وَالْبَسْ وَتَصَدَّقْ مِنْ غَیْرِ سَرِفٍ وَّلَامَخِیْلَۃٍ

’’کھاو، پیو، لباس پہنو اور صدقہ کرو لیکن اسراف اور تکبر کے بغیر‘‘

(سنن ابن ماجہ: 3605، سنن نسائی: 2559)

اس حدیث میں کھانے میں اسراف وبے اعتدالی سے پرہیز کے حکم کے ساتھ اس بات کی بھی ہدایت موجود ہے کہ کھانے کے سلسلے میں تکبرانہ روش نہیں اختیار کرنی چاہئے کہ اس کے سلسلے میں ایک دوسرے سے اونچا اٹھنے اورایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور کمتر ثابت کرنے کا ماحول پیدا ہو جائے۔

افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی طرف سے بطور خاص دعوتوں میں ان دونوں احکامات کا خوب خوب مذاق اڑایاجا رہا ہے، اسراف پر مبنی دعوتیں اب بالکل عام ہیں، ساتھ ہی اس سلسلے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھی گویا ہوڑ مچی ہوئی ہے، وہ لوگ جو دینی امور کے لئے سو اور ہزار روپے خرچ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچتے ہیں وہی جب دعوتوں کے نام پر خرچ کرنے پر آتے ہیں تو گویا حاتم وقت بن جاتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ اس کے پیچھے نام ونمود اور شہرت طلبی کا جذبہ ہی کارفرما ہوتا ہے الا ماشاء اللہ ، آج امت کے لاکھوں اور کروڑوں روپئے اس بیجا اور بے فیض جذبۂ تفاخر کی نذر ہو رہے ہیں، کاش انہیں صحیح مقاصد میں خرچ کیا جاتا تو امت کی ہمہ جہت بھلائی کے نہ جانے کتنے راستے کھل جاتے !!!

بہرحال نبی کریمﷺ کامزید ارشاد ہے:

مَا مَلاَ َٔآدَمِیٌّ وِعَاء شرًّا مِّنْ بَطْنِہٖ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہٗ، فَإِنْ کَانَ لَا مُحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِّطَعَامِہٖ وَثُلُثٌ لِّشَرَابِہٖ، وَثُلُثٌ لِّنَفَسِہٖ

’’کسی آدمی نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدم کے بیٹے کے لئے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھی کر دے، اگر مزید کھانا ہی ہے تو ایک تہائی کھانے کے لئے، ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے‘‘

(سنن ترمذی: 2389، سنن نسائی: 6737)

نبی محترمﷺ نے کم کھانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:

طَعَام الْوَاحِدِ یَکْفِی الْاِثْنَیْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَیْنِ یَکْفِی الْاَرْبَعَۃَ وَطَعَامُ الْاَرْبَعَۃِ یَکْفِی الثَّمَانِیَۃَ

’’ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کرتا ہے اور دو آدمیوں کا کھاناچار آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے اور چار آدمیوں کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جانے والا ہے‘‘

(مسلم: 2059)

ایک روایت کے الفاظ ہیں:

کُلُوْاجَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ یَکْفِی الْاِثْنَیْنِ وَطَعَامَ الْاِثْنَیْنِ یَکْفِی الْاَرْبَعَۃَ

’’اکٹھے کھایا کرو، الگ الگ نہ کھایا کرو، بے شک ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کرتا ہے اور دو آدمیوں کا کھا نا چارآدمیوں کو کفایت کر جائے گا‘‘

(طبرانی اوسط، الصحیحۃ: 2691)

اسی طرح نبی کریمﷺ کا یہ مشہور فرمان ہے، آپﷺ نے فرمایا:

اِنَّ الْمُؤْمِنَ یَاْکُلُ فِیْ مِعًی وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ یَأْکُلُ فِیْ سَبْعَۃِ اَمْعَاء

’’بے شک میں ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘

(صحیح بخاری: 5397 )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس حدیث کی تشریح میں کئی اقوال نقل کیے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں کم کھانے کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ مؤمن کی شان کم خوری ہے جبکہ اس کے بر عکس کافر پرخور ہوتا ہے، اس لئے کہ زندگی سے متعلق دونوں کا نقطۂ نظر الگ الگ ہے، ایک کا نقطۂ نظر جینے کے لئے کھانا ہے جبکہ دوسرے کا مظمح نظر کھانے لئے جینا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُمَثْوًی لّھَُمْ

’’اور جو لوگ کافر ہوئے وہ بس(دنیاسے ) فائدہ اٹھارہے ہیں اور چوپایوں کی طرح کھارہے ہیں، ان کا (اصل )ٹھکانہ جہنم ہے‘‘(محمد: 12)

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یعنی جس طرح جانوروں کو پیٹ اور جنس کے تقاضے پورے کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہوتا، یہی حال کافروں کا ہے، ان کا مقصد زندگی بھی کھانے پینے کے علاوہ کچھ نہیں، آخرت سے وہ بالکل غافل ہیں‘‘  (احسن البیان ص1488)

آپﷺ نے پر خوری کو سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس ایک آدمی کو ڈکار آئی تو آپ نے فرمایا:

کُفَّ عَنَّاجُشَاء کَ فَاِنَّ اَکْثَرھَُمْ شَبْعًا فِی الدُّنْیَا اَطْوَلھُُمْ جُوْعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

’’ہم سے اپنی ڈکار روک کے رکھو، کیونکہ دنیا میں سیر ہو کر کھانے والے اکثر لوگ قیامت کے دن بڑے بھوکے ہوں گے‘‘(سنن الترمذی: 2478، الصحیحہ: 343)

شکم سیری اور پرخوری (خوب کھانے )کے شرعی اور دینی نقصانات میں سے یہ بھی ہے کہ یہ عبادات کی بجا آوری اور شرعی احکام پر عمل آوری کے سلسلے میں سستی وکمزوری بلکہ انحراف و بے زاری کی عادت اور روش پید اکرتی ہے، چنانچہ نبیﷺ کی احادیث کا انکار کرنے والوں کے فتنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:

اَلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ اَلَایُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلیٰ اَرِیْکَتِہٖ یَقُوْلُ عَلَیْکُمْ بھِٰذَا الْقُرْآنِ فَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَا لاًفَاَحِلُّوْہُ وَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ

’’خبردار!مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل، خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا شخص اپنے صوفے پر ٹیک لگاکر یہ کہے گا تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، جوتم اس میں حلال پاواسی کو حلال سمجھواور جسے حرام پاواسی کو حرام سمجھو‘‘

(ابوداؤد: 4604، مسند احمد ج4ص131)

نبی کریمﷺ نے انکار کرنے والے کی صفت ’’ پیٹ بھرا اور ٹیک لگایا‘‘ بیان فرمائی، اس میں اس کے انحراف وگمراہی کی اصل وجہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حدیث سے جان چھڑانے کی بات در اصل اس کی آرام پسندی اور شریعت بیزاری کا شاخسانہ اور نتیجہ ہے، وہ اس راستے سے عملی(practical) اسلام سے اپنا دامن جھاڑ لینا چاہتا ہے، اس لئے کہ احادیث کے بغیر اسلام کا عملی وجود ممکن ہی نہیں۔

ذوالنون مصری کا قول ہے:

ما شَبِعْتُ قطُّ إلا عصَیْتُ، أو ھَمَمْتُ بِمَعْصِیَۃٍ

’’میں جب بھی شکم سیر ہوا، یا تو گناہ میں مبتلاہوایاکم از کم گناہ کا خیال دل میں پیدا ہوا‘‘   (الاحیاء للغزالی ج3 ص83)

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں:

اِثْنَتَانِ یقسیانِ الْقَلْبَ کَثْرَۃُ الْکَلَامِ وَکَثْرَۃُ الْاَکْلِ

”دو چیزیں قلب کی سختی کاسبب بنتی ہیں، زیادہ بولنا اور زیادہ کھانا”

(الآداب الشرعیۃج3ص185)

اور جہانتک بدن کو پہنچنے والے نقصانات کی بات ہے تو وہ بہت سارے ہیں، امام ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’مادی(جسمانی)بیماریاں جو عام ہیں ان کا بنیادی سبب کھانے کے ہضم ہونے سے پہلے کھانا کھالینا ہے اور بدن کی ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانے کا استعمال ہے‘‘

(طب نبوی مترجم: ص 34)

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إنْ أرَدْتَّ أنْ یَّصِحَّ جِسْمُکَ، وَیَقِلَّ نَوْمُکَ فَأَقِلَّ مِنَ الْأْکْلِ

’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا جسم درست رہے اور نیند کم آئے تو کھانا کم کھاؤ‘‘

(جامع العلوم والحکم لابن رجب الحنبلی 2؍ 472)

جدید طبی تحقیقات(Medical research) سامنے رکھی جائیں تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ، دل کی بیماریاں ہوں یا معدے اور پیٹ سے متعلق امراض اور موٹاپے کی مصیبت ہو یا شوگر کی موذی بیماری، ان سب کے پیچھے پرخوری کا زبردست کردار ہے، امام ابن رجب رحمہ اللہ نبیﷺ کی گزشتہ حدیث ’’ایک ثلث کھانے کے لئے، ایک ثلث۔۔‘‘کے سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث طب کے تمام اصولوں کو جمع کر لینے والی ہے‘‘(جامع العلوم والحکم)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اگر بقراط اس تقسیم کو سنتا تو اس حکمت پر تعجب کرتا‘‘(تفسیر قرطبی ج7ص192)

ابن ماسویہ(دور عباسی کا ایک عیسائی حکیم) نے جب یہ حدیث سنی تو کہنے لگا:

’’اگر ان کلمات کو عمل میں لائیں، توامراض واسقام سے محفوظ رہیں، ہسپتال خالی ہو جائیں اور دواساز کی دوکانیں بند ہو جائیں‘‘(جامع العلوم والحکم ج2ص468)

امام غزالی نے نقل کیا ہے کہ کسی فلسفی کے سامنے اس حدیث کا ذکر ہوا تو کہنے لگا:

’’کم خوری سے متعلق میں نے اس سے بڑھ کر کوئی حکیمانہ کلام نہیں سنا، یہ واقعتاکسی حکیم کا کلام ہے‘‘  (احیاء علوم الدین ج3ص87)

اور رہی بات زیادہ کھانے کے عقلی اور ذہنی نقصانات کی تو اس سلسلے میں بزرگوں کے یہ بعض اقوال ملاحظہ فرمائیے:

لقمان حکیم نے کہا:

یَا بُنَیَّ، إذَا امْتَلَأَتِ الْمِعْدَۃُ؛ نَامَتِ الْفِکْرَۃُ وخَرِسَتِ الْحِکْمَۃُ وَقَعَدَتِ الْأَعْضَاء عَنِ الْعِبَادَۃِ

’’اے میرے بیٹے !جب معدہ بھر جاتا ہے تو فکر سوجاتی ہے، حکمت خاموش ہو جاتی ہے اور اعضاء عبادت کی بجا آوری سے قاصر ہو جاتی ہے‘‘(الإحیاء للغزالی 3؍83)

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَا تَسْکُنُ الْحِکْمَۃُ مِعْدَۃًً مَلْأیٰ

’’کوئی بھراہوامعدہ حکمت کا مسکن نہیں ہو سکتا‘‘(جامع العلوم والحکم 2؍ 469)

حسن بصری رحمہ اللہ ہی کا قول ہے:

یَا ابْنَ آدَمَ کُلْ فِیْ ثُلُثِ بَطَنِکَ وَاشْرَبْ فِیْ ثُلُثِ بَطَنِکَ وَدَعْ ثُلَثَ بَطَنِکَ یَتَنَفَّسُ لِتَتَفَکَّرَ

’’اے آدم کے بیٹے !اپنے ایک تہائی پیٹ میں کھاؤ، ایک تہائی میں پیواور ایک تہائی کو سانس لینے کے لئے چھوڑ دوتاکہ تم غور و فکر کر سکو‘‘ (جامع العلوم والحکم2 ؍469)

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’میں سولہ سالوں سے شکم سیر نہیں ہوا۔۔ ۔ اس لئے کہ شکم سیری بدن کو بھاری کر دیتی ہے، ذہانت کو مٹادیتی ہے، نیند کا سبب بنتی ہے اور شکم سیر شخص عبادت کے سلسلے میں کمزوری میں پڑ جاتا ہے‘‘(حلیۃ الاولیاء ج9ص127)

ان اقوال سے جہاں پرخوری اور شکم سیری کے نقصانات نمایاں ہیں وہیں یہ بات بھی واضح ہے کہ بزرگان سلف شکم سیری کو پسند نہیں کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا:

’’شکم سیری سے بچو!کیونکہ نماز کے سلسلے میں کاہلی پیدا کرتی ہے اورجسم کے لئے باعث اذیت ہے اور اپنی غذا کے سلسلے میں میانہ روی اپناؤ یہ تکبر اور اکڑ سے دور رکھنے والی ہے، بدن کی صحت کاذریعہ ہے اور عبادت کے لئے قوت و طاقت کا سبب ہے‘‘

(الآداب الشرعیہ لابن مفلحج 3ص184)

 

 

 

6۔ متوازن اور صحت وقوت بخشنے والی غذا کھائیے !

 

کھانے کے سلسلے میں اعتدال ملحوظ رکھنے کی تعلیم کے ساتھ یہ اسوۂنبوی بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ آدمی غذاؤں کے استعمال کے سلسلے میں توازن کا خیال رکھے اس طرح کہ وہ ایک ہی قسم کی غذائیں نہ استعمال کرتا رہے اورناقص غذا کے استعمال سے بچے، اسی طرح بیک وقت ان غذاؤں کے استعمال سے بھی گریز کرے جن کا اکھٹا ہونا صحت کے لئے مضر اور نقصان دہ ہو۔

اس سلسلے میں امام ابن قیم رحمہ اللہ اسوۂ نبوی پر قدرے وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

”غذا کے سلسلے میں ایک اصولی بات یہ ہے کہ جس غذا میں یہ تین اوصاف (Qualities) پائے جائیں وہی اعلی(اونچے ) درجے کی غذا ہو گی:

پہلا وصف(خوبی) یہ کہ غذا کئی پہلو سے نفع بخش اور اعضاء پر پوری طرح اثر انداز ہو۔

دوسرا وصف یہ ہے کہ معدہ گرانی(بوجھ) نہ محسوس کرے بلکہ وہ معدے پر ہلکی ہو۔

تیسراوصف یہ ہے کہ زود ہضم(جلدی ہضم ہونے والی) ہو۔

غذا کی بہترین قسم ان خوبیوں کی حامل ہوتی ہے، اگر ایسی غذا کا تھوڑا حصہ بھی استعمال کر لیا جائے تو وہ غذا زیادہ مقدار(Quantity)کی غذا سے کہیں زیادہ نفع بخش ثابت ہو گی۔

نبیﷺ حلوا، (گوشت)اور شہد پسند فرماتے تھے اور یہ تینوں چیزیں سب سے عمدہ ترین غذا ہے اور یہ بدن، جگر اور اعضاء کے لئے بے حد مفید ہے۔

اگر کوئی ان چیزوں کوبطور غذا استعمال کرے تو اسے صحت وقوت کی حفاظت میں غیرمعمولی فائدہ ہو گا اور ان چیزوں کو وہی شخص ناپسند کر سکتا ہے جس کو کوئی مرض لاحق ہو گا یاکسی افتاد(خرابی) کا شکار ہو گا۔

آپﷺ روٹی سالن کے ساتھ استعمال فرماتے اگر سالن میسر آتا، اور کبھی سالن گوشت لیتے اور فرماتے ’’یہ دنیا اور آخرت دونوں جگہوں کے کھانے کا سردار ہے‘‘اس کو ابن ماجہ وغیرہ نے نقل کیا ہے۔   (سنن ابن ماجہ کی یہ روایت سخت ضعیف ہے )

اور کبھی آپ تربوزاور کبھی کھجور کے ساتھ روٹی تناول فرماتے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے جو کی روٹی کے ایک ٹکڑے پر کھجور رکھ کر فرمایا ’’یہ کھجور اس روٹی کا سالن ہے‘‘

(یہ سنن ابی داود کی روایت ہے اور ضعیف ہے )

اور یہ بہترین غذا کی صورت ہے اس لئے کہ جو کی روٹی یابس بارد(خشک وسرد) ہوتی ہے اور کھجور اطبائ(حکیموں ) کے دو قول (باتوں )میں سے اصح(زیادہ صحیح) قول (بات)کے مطابق حار رطب(گرم وتر) ہے، چنانچہ جوکی روٹی اس سالن کے ساتھ عمدہ ترین غذا ہے بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اس کے عادی ہوں جیسے اہل مدینہ اس کے عادی ہوتے ہیں اور کبھی آپ روٹی سرکے کے ساتھ تناول فرماتے اور یہ فرماتے کہ ’’سِرکہ بہترین سالن ہے‘‘’سرکے ‘کی یہ تعریف حالات کے تقاضے کے مطابق ہے، اس سے کوئی شخص دوسرے سالنوں پر’ سرکے ‘کی فضیلت نہ سمجھ بیٹھے، جیساکہ بعض نادانوں نے اس سے ’ سرکے ‘کی فضیلت سمجھ لی ہے۔۔ ۔

مقصود کلام یہ ہے کہ سالن کے ساتھ روٹی کھانا صحت کی حفاظت کے اصول میں سے ہے، صرف ان میں سے کسی ایک کے استعمال سے بہتر ہے کہ دونوں کا ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔۔ ۔

نبیﷺ اپنے علاقے کے پھلوں کا استعمال اس کے موسم میں فرماتے اور اس سے پرہیز نہ کرتے، یہ صحت کی حفاظت کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ کے ذریعے ہر علاقے میں پھل پیدا کئے ہیں جو اس علاقے کے باشندوں کے لئے موسم میں سود مند ہوتے ہیں اور لوگ ان کی بہتات(کثرت) کے وقت استعمال کر کے آسودہ ہو جاتے ہیں، اس سے ان کی صحت وتوانائی میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اور یہ پھل انہیں کتنی دواؤں سے بے نیاز کر دیتے ہیں، بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اپنے علاقے کے پھلوں سے بیماری کے خوف سے پر ہیز کرتے ہیں ہاں ایسے شخص کو پرہیز کرنا مناسب ہے جو بہت زیادہ بیمار رہتا ہے اور اس کی صحت وقوت کی بازیابی کی کوئی توقع بھی نہ ہو۔

ان پھلوں میں جو رطوبت(نمی) کی کثرت ہوتی ہے وہ موسم اور زمین کے موافق ہوتی ہے اور معدے کی حرارت(گرمی) پکاکر اس کی مضرت(نقصان) کو ختم کر دیتی ہے، مگراس کے کھانے میں بداحتیاطی نہ کی جائے۔۔ ۔‘‘  (طب نبوی مترجم ص345۔ 347)

 

 

 

نبیﷺ کی پسندیدہ غذائیں اور ان کے بیش بہافوائد

 

یوں تو نبی کریمﷺ کا طرز عمل کھانے کے سلسلے میں یہ تھا کہ آپﷺ ہر طرح کا کھانا تناول فرمالیتے بشرطیکہ وہ حلال ہواور آپ کی طبیعت اس کے کھانے پر آمادہ ہو، لیکن کچھ خاص غذائیں ہیں جنہیں آپﷺ نے بطور خاص پسند فرمایا ہے، آپﷺ نے خاص طور پرانہیں استعمال کیا ہے یا ان کے لئے تعریف کے کلمات ارشاد فرمائے ہیں، ذیل میں ہم ان میں سے بعض خاص اور اہم غذاؤں کا ذکرکرتے ہیں، ساتھ ہی موجودہ تحقیقات کی روشنی میں ان کے طبی فوائد پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے، تاکہ ہم انہیں اپنی غذاؤں کاحصہ بناکر خود کو صحت وقوت سے سرفراز کریں اور مختلف قسم کے امراض سے بھی ہماری حفاظت ہو۔

 

کھجور

کھجورعام اہل عرب کی طرح نبیﷺ اور آپ کے اہل خانہ کی بھی عام غذاتھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

’’محمدﷺ کے گھرانے کے لوگ ایک دن میں دو کھانے کھاتے تو ان میں ایک کھجور ہوتی‘‘  (صحیح بخاری: 6455)

حدیث کی کتابوں میں ایسی بہت سی روایات ہیں جن میں نبیﷺ کے مختلف انداز میں کھجور تناول فرمانے کا ذکر ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’نبیﷺ کا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ کھولتے، اگر چھو ارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے‘‘   (سنن ابو داؤد: 2355، سنن ترمذی: 969)

نبیﷺ کا ارشاد ہے:

نِعْمَ سُحُوْرُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ

’’مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے‘‘(سنن ابو داؤد: 2345)

سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’نبیﷺ ککڑی کھجور کے ساتھ کھاتے تھے‘‘

(صحیح بخاری: 5440، صحیح مسلم: 1616)

آپﷺ کی نگاہ میں کھجور کی اہمیت کا اندازہ آپﷺ کے اس ارشاد سے لگا یا جا سکتا ہے، آپﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کومخاطب کر کے تین مرتبہ فرمایا:

یَا عَائِشَۃُ! بَیْتٌ لَا تَمْرَ فِیْہِ جِیَاعٌ اھَْلُہٗ

’’اے عائشہ!جس گھر میں چھوہارے نہ ہوں، اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں‘‘

(صحیح مسلم: 2046)

کھجوروں میں عجوہ کھجور کی نبیﷺ نے خاص طور پر تعریف فرمائی ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَۃً لَمْ یَضُرَّہٗ ذٰلِکَ الْیَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ

’’جس نے صبح میں سات عجوہ کھجوریں کھالیں اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘(صحیح بخاری: 5445، صحیح مسلم: 5339)

اَلْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وھَِیَ شِفَاء مِّنَ السَّمِّ

’’عجوہ کھجور جنت سے ہے اور یہ زہر کے لئے شفا ہے‘‘

(سنن ترمذی: 2066، سنن ابن ماجہ: 3456)

کھجور کی بے مثال افادیت کا اندازہ نبی کریمﷺکی اس حدیث سے کیا جا سکتا ہے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے:

’’ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، آپﷺ کے پاس کھجور کا ایک گابھہ لایا گیا، آپﷺ نے فرمایا:

اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃً مَثَلھَُا مَثَلُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَایَسْقُطُ وَرَقھَُا اَخْبِرُوْنِیْ مَاھِیَ؟

’’درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جو مرد مسلم کی طرح ہوتا ہے، اس کی پتیاں نہیں جھڑتیں بتاؤ وہ کونسا درخت ہے ؟‘‘

لوگ جنگلی درختوں کو شمار کرنے لگے اور میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ درخت کھجور کا ہے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں کہ یہ درخت کھجور کا ہے، لیکن دیکھا تو میں سب سے کم عمر تھا، اس لئے میں نے خاموشی اختیار کر لی، پھر آپﷺ نے خود فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے‘‘  (صحیح بخاری: 61، صحیح مسلم: 7098)

امام ابن القیم رحمہ اللہ کے الفاظ میں:

’’مرد مسلم کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان میں خیر کی کثرت کھجور کے انداز کی ہوتی ہے اور اس کا سایہ ہمیشہ استعمال کیا جاتا ہے، کچا پکا دونوں طرح سے کھایا جاتا ہے یہ غذا اور دوا بھی ہے، روزی اور شیرینی بھی ہے، مشروب اور پھل بھی ہے۔۔ ۔‘‘  (طب نبوی مترجمص 594)

جدید سائنس کھجور کو مکمل غذا قرار دیتی ہے، یہ تمام پھلوں میں سب سے زیادہ توانائی بخش ہے، جسم انسانی کو جس قدر حیاتین کی ضرورت ہوتی ہے تمام کی تمام کھجور میں موجودہے ’’کھجور کی افادیت ’’کے حوالے سے منعقدہ ایک تحقیقی نشست میں پاکستان کے ڈاکٹروں اور حکیموں کی ایک بڑی تعدادنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’کھجور تازہ خون پیدا کر کے قوت اور توانائی میں اضافہ کرتی ہے اوراعصابی کمزوری، کام کی زیادتی سے پیدا شدہ تھکاوٹ، کمر درد، پٹھوں کا درد، پٹھوں کا کھنچاؤ، ہاتھ پاؤں سن ہونے اور دیگر بلغمی امراض کیلئے مفید غذاء ہے، عجوہ کھجور قوت مدافعت پیدا کر کے جسم کو بیماریوں سے نجات دلاتی ہے، کھجورکولیسٹرول کو کم کر کے دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ایلو پیتھک سائنس میں کھجور کو ایک بہترین غذائی پھل قرار دیا گیا ہے، جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھجور گلوکوز اور فرکٹوز کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو فوراً جزو بدن بن جاتی ہے۔  انہوں نے بتایا کہ کھجور کے 100 گرام خوردنی حصے میں 15.3 فیصد پانی، پروٹین 2.5 فیصد چکنائی 0.4 فیصد معدنی اجزاء 2.1 فیصد ریشے، 3.9 فیصد اور کاربو ہائیڈریٹس 75.8 فیصد پائے جاتے ہیں۔  کجھور کے معدنی اور حیاتی اجزاء میں 120 ملی گرام کیلشیم 50 ملی گرام فاسفورس 7.3 ملی گرام فولاد، 3 ملی گرام وٹامن سی اور تھوڑی سی مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔  کھجور کی 100 گرام مقدار میں 315 کیلوریز ہوتی ہیں جو صحت مند زندگی گزارنے کیلئے ایک انسان کیلئے روز مرہ کی معقول غذاء ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، انگلینڈ اور جرمنی میں کھجور سے تیار کردہ جام اور مشروبات روز مرہ کی خوراک میں شامل ہو چکے ہیں۔ (ماخوذ از محدث فورم)

 

دودھ

دودھ بھی ان غذاؤں میں سے ایک ہے جنہیں روز مرہ کی زندگی میں نبیﷺ بکثرت استعمال فرماتے تھے، نبیﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ اَطْعَمَہُ اللّٰہُ طَعَامًا فَلْیَقُلْ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَارْزُقْنَاخَیْرًامِّنْہُ وَمنْ سَقَاہُ اللّٰہُ لَبَنًا فَلْیَقُلْ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَامِنْہُ فَاِنِّیْ لَا اَعْلَمُ مَایُجْزِیُِ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ اِلَّا اللَّبَنَ

’’جسے اللہ کھانا کھلائے اسے کہنا چاہئے: اے اللہ !ہمارے لئے اس میں برکت عطافرما اور اس سے بہتر رزق سے ہمیں نواز اور جسے اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہئے: اے اللہ !ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں مزید عطا فرما، کیونکہ میں دودھ کے علاوہ کوئی دوسری چیز ایسی نہیں جانتا جو کھانے اور پینے دونوں کے لئے کافی ہوتی ہو‘‘(سنن ترمذی: 3455، سنن ابن ماجہ: 3322)

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’دودھ عمدہ خون پیدا کرتا ہے، خشک بدن کو شاداب بناتا ہے، بہترین غذائیت مہیا کرتا ہے، وسواس، رنج وغم اور سوداوی بیماریوں کے لیے بہت زیادہ نفع بخش ہے، اگر اس میں شہد ملا لیا جائے تو اندرونی زخموں کو متعفن اخلاط(بدبوزدہ سودا، صفرا، بلغم اور خون) سے بچاتا ہے، شکر کے ساتھ اس کے پینے سے رنگ نکھرتا ہے، تازہ دودھ جماع کے ضرر کی تلافی کرتا ہے، سینے اور پھیپھڑے کے لیے موافق ہوتا ہے سبل(آنکھ کی ایک بیماری جس میں آنکھ پرپردہ پڑ جاتا ہے )کے مریضوں کے لیے عمدہ غذا ہے، البتہ سر، معدہ، جگر اور طحال(تلی) کے لئے ضرر رساں ہے، اس کا زیادہ استعمال دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے نقصان دہ، اسی لئے دودھ پینے کے بعد کلی کرنی چاہیے، چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ نبیﷺ نے دودھ پیا، پھر پانی طلب فرمایا اور کلی کی، پھر فرمایا:

’’دودھ میں چکنائی ہوتی ہے‘‘(صحیح بخاری: 211، صحیح مسلم: 798)

آگے لکھتے ہیں:

’’دودھ عمومی طور پر جسم انسانی کے لئے نفع بخش مشروب ہے، اس لیے اس میں غذائیت اور خون کی افزائش ہوتی ہے اور بچپن ہی سے انسان اس کا خوگر ہوتا ہے، یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے، چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے کہ:

اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺاُتِیَ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِہٖ بِقَدْحٍ مِّنْ خَمْرٍ وَقَدْحٍ مِّنْ لَبَنٍ فَنَظَرَ اِلَیْھِمَا ثُمَّ اَخَذَاللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِیْلُ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ، لَوْ اَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ اُمَّتُکَ

’’شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کے پاس شراب کا ایک پیالہ اور دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، آپﷺ نے دونوں کو دیکھا، پھر دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا، اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے آپﷺ کی رہنمائی فطرت کی جانب فرمائی، اگرآپﷺ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی‘‘  (صحیح بخاری: 3394، صحیح مسلم: 424)

تمام جانوروں میں سب سے معتدل اور مفید گائے کا دودھ ہوتا ہے، نبی کریمﷺ نے اس کی افادیت ان لفظوں میں بیان فرمائی ہے:

عَلَیْکُمْ بِاَلْبَانِ الْبَقَرِ، فَاِنّھََاتَرُمُّ مِنَ الشَّجَرِوھَُوَ شِفَائٌ مِنْ کُلِّ دَائٍ

’’تم لوگ گائے کا دودھ استعمال کرو، اس لئے کہ یہ درخت سے غذا حاصل کرتی ہے اور وہ ہر بیماری سے شفا ء ہے‘‘(مستدرک حاکم446 4/ )

اس کو دوسرے محدثین نے بھی روایت کیا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق دودھ ایک مکمل غذا ہے، دودھ میں جسم کی ضرورت کے مطابق تمام اجزا موجود ہیں جن سے جسم صحت مند رہ سکتا ہے اور اس کی نشو و نما صحیح ہو سکتی ہے، جن علاقوں میں لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں وہاں کے لوگ ذہین محنتی اورصحت مند ہوتے ہیں اوران کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں، شیر خوار بچوں کی ابتدائی غذا دو دھ ہی ہے اور بچے کے لئے ماں کا دودھ ہی سب سے زیادہ عمدہ، مفید اور مکمل غذا ہے، آج کے دور میں پورا یو رپ گائے کے دو دھ کے سلسلے میں نہ صرف یہ کہ خود کفیل ہے بلکہ بر آمد بھی کرتا ہے۔

 

گوشت

سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

سَیِّدُطَعَامِ اھَْلِ الدُّنْیَاوَاھَْلِ الْجَنَّۃِاَللَّحْمُ

’’دنیاوالوں اور جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے‘‘(ابن ماجہ: 3305)

ابن ماجہ کی یہ روایت سندا ضعیف ہے، لیکن قرآن کریم میں اہل جنت کی جن غذاؤں کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے ان میں گوشت سرفہرست ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَمْدَدْنَاھُمْ بِفَاکھَِۃٍوَّلَحْمِ طَیْرٍمِّمَّایَشْتھَُوْنَ

’’ہم انہیں میوے اور مرغوب گوشت سے خوب خوب نوازیں گے‘‘  (الطور: 22)

دوسری جگہ فرمایا گیا:

وَلَحْمِ طَیْرٍمِّمَّایَشْتھَُوْنَ

’’اور پرندوں کے گوشت جو انہیں پسند ہوں‘‘(الواقعۃ: 21)

حدیث کے مطابق جنتی لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے ان کی خدمت میں مچھلی کے جگرکا تحفہ پیش کیا جائے گا۔ پھر ان کے لئے جنت میں چرنے والا بیل ذبح کیا جائے گا۔ (مسلم: 315)

گوشت نبیﷺ کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک تھا، امام ترمذی نے شمائل میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں:

اَتَانَا النَّبِیُّﷺ فِیْ مَنْزِلِنَا فَذَبَحْنَا لہٗ شَاۃً فَقَالَ کَاَنّھَُمْ عَلِمُوْا اَنَّانُحِبُّ اللَّحْمَ

’’نبیﷺ ہمارے گھر ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپﷺ کے لئے ایک بکری ذبح کی تو آپ فرمانے لگے، انہوں نے ایسے کیا گویا کہ انہیں معلوم تھا کہ ہم گوشت پسند کرتے ہیں‘‘

(یہ روایت بخاری: 4102، مسلم: 2038 میں ایک قصہ کے ذیل میں موجود ہے )

آپﷺ نے اونٹ، گائے اور بکروں کے علاوہ مرغی، جنگلی جانوروں اور پرندوں کا گوشت کھایا ہے، سید نا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَاْکُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ

’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا‘‘

(صحیح بخاری: 5518، صحیح مسلم: 1270)

آپﷺکودست کا گوشت بطور خاص پسند تھا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’نبیﷺ کے پاس کچھ گوشت لایا گیا اور آپ کی خدمت میں دست پیش کی گئی اور یہ حصہ آپ کو بہت پسند تھا، آپ نے اسے دانتوں سے کاٹ کر کھایا‘‘

(صحیح بخاری: 3340، صحیح مسلم: 184)

اسی طرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’’نبیﷺ کو دست بہت پسند تھی، دست میں ہی آپﷺ کو زہر ملا کر دیا گیا تھا‘‘

(سنن ابی داؤد: 3780)

گوشت کی اہمیت اور انسان کی صحت وقوت پر اس کے اثرات سے متعلق سلف کے یہ اقوال ملاحظہ فرمائیں:

ابو سمعان رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’گوشت قوت سماعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے‘‘

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ گوشت کھانے سے ستر طاقتیں بڑھتی ہیں‘‘

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ گوشت کھانے سے عقل و دانش مضبوط ہوتی ہے‘‘

سید علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

’’ گوشت کھانے سے رنگ صاف اور پرورش وافزائش اچھی ہوتی ہے، جواسے چالیس دن تک نہ کھائے اس کی شکل بگڑنا شروع ہو جاتی ہے‘‘

(مزیدمعلومات کے لئے طب نبوی کا مطالعہ فرمائیں )

جدید تحقیقات کے مطابق گوشت سفیدحیوانی پروٹین(Protein)کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور انسانی جسم کے لئے پروٹین کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، گوشت کی بدولت ہی خون میں سرخ خلئے یعنی ریڈ سیلز بنتے ہیں جبکہ آئرن، زنک، سیلینیئم اور مختلف اقسام کے وٹامنز بھی اسی سے حاصل ہوتے ہیں، گوشت میں موجود وٹامن اے، بی اور ڈی ہڈیوں، دانتوں، آنکھوں اور دماغ کے ساتھ ساتھ جلد کو بھی جوان رکھتے ہیں، حیاتیاتی اعتبار سے اس میں مکمل پروٹین جن میں آٹھوں بنیادی مائنو ایسڈز موجود ہوں پائے جاتے ہیں۔ (اردو پوئنٹ9 /ستمبر2015ء)

گوشت کھانے کے سلسلے میں اعتدال ملحوظ رکھنا چاہئے، بے اعتدالی نقصان کا باعث ہے، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’مناسب ہے کہ ہمیشہ گوشت خوری کی عادت نہ ڈالی جائے اس لئے کہ دموی امراض اور امتلائی بیماریاں اور تیز قسم کے بخار ہوتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’گوشت کا استعمال ذرا سنبھل کر کرو، اس لیے کہ اس کی خواہش شراب کی طرح ہوتی ہے‘‘  (مؤطا امام مالک 2/713)  (طب نبوی ص576)

شہد

سورۂ تحریم کی ابتدائی آیات اور ان کے شان نزول سے متعلق روایات گواہ ہیں کہ شہد نبی کریمﷺ بہت زیادہ پسند تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

کَانَ النَّبِیُّﷺ یُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَالْعَسْلَ

’’نبیﷺ میٹھی چیزاور شہد پسند فرمایا کرتے تھے‘‘  (صحیح مسلم: 1101)

شہد کے سلسلے میں قرآن کریم نے صاف لفظوں میں کہا ہے:

فِیْہِ شِفَائٌلِّلنَّاسِ

’’اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے‘‘  (النحل: 69)

اورنبیﷺ کا ارشادہے:

اَلشِّفَاءُ فِیْ ثَلَاثَۃٍ، شَرْبَۃِ عَسَلٍ وَشَرْطَۃِمِحْجَمٍ وَکَیَّۃِنَارٍوَاَنْھیٰ اُمَّتِیْ عَنِ الْکَیِّ

’’شفا تین چیزوں میں ہے، شہد پینے میں، پچھنے لگوانے میں اور آگ سے داغ لگوانے میں اور میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے منع کرتا ہوں‘‘  (صحیح بخاری: 5356)

جدید تحقیق میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ شہد بہت سی بیماریوں کی کامیاب دوا ہے، جسم اور خاص طور پر پھیپھڑوں کے لئے قوت بخش ہے، دل کے لئے فرحت کا باعث ہے، کھانسی، دمہ، فالج، لقوہ اورسردی سے لاحق ہونے والے امراض میں مفید ہونے کے علاوہ خون صاف کرنے میں بہت اہمیت رکھتا ہے، جوں جوں سائنسی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں شہد کی طبّی افا دیت نمایاں تر ہو تی جا رہی ہے، ماء العسل (شہد میں پانی ڈال کر پینا) کو فالج لقوہ اور اعصابی امراض کا علاج قرار دیا گیا ہے، معدہ کے امراض میں اس کے با رے میں نبی کریمﷺ سے ایک طویل حدیث مبا رک مو جود ہے، امراض چشم میں شہد کا استعمال بے حد مفید ہے، یہ بینائی کو قائم اور تیز رکھتا ہے، یو رپ میں شہدبعد از آپریشن زخم مند مل کرنے کے لئے رواج پا رہا ہے، گر میوں میں پانی ملا کر شہد کا شربت اور سردیوں میں شہد اور ادرک کا قہوہ اپنی افا دیت کے اعتبار سے ثانی نہیں رکھتا۔

 

کدو

کدو بھی نبی کریمﷺ کی مرغوب غذاؤں میں سے ہے، سید نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’ایک درزی نے نبی کریمﷺ کو کھانے پر بلایا، میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے پر گیا، اس نے آپﷺ کو جو کی روٹی اور سالن پیش کیاجس میں شوربہ، کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے، میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو کو تلاش کر رہے ہیں تو اس دن سے میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں‘‘(صحیح بخاری: 5379، صحیح مسلم: 1615)

حکماء کہتے ہیں کہ کد و میں یہ خصوصیت ہے کہ یہ عقل اور رطوبت معتدلہ میں اضافہ کرتا ہے، آپﷺ نے اس میں وہ پوشیدہ راز ملحوظ رکھتے ہوئے اسے پسند فرمایا جس راز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے یہی درخت سیدنا یونس علیہ السلام کے لئے گرمی اور سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے اور پرورش کے لئے پید افرمایا تھا۔

(خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی ص350)

کدو کے بارے میں جدید طبّی تحقیق ہے کہ معدہ کے امراض کا خاتمہ کرتا  ہے، قبض جیسے ام الا مراض کا حتمی علاج ہے، جگر کی حدت کا خاتمہ کرتا  ہے، ہا تھ پاؤں کی جلن کو دور کرتا  ہے، شدت پیاس کو کم کرتا  ہے، بینائی کو تیز کرتا  ہے، بھوک لگا تا ہے، صحت بخشتا ہے اور دماغ کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے، جدید تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ کدو کینسر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

 

جَو

جو عمومانبیﷺ کی غذا کا حصہ ہوا کرتا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ کی وفات تک آپ کے اہل خانہ نے مسلسل دودن بھی جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی‘‘(صحیح مسلم: 2282)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے:

’’جب نبیﷺ نے وفات پائی تو میرے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، ہاں تھوڑے سے جو تھے جو میری ایک مشک میں تھے تو میں اس سے کافی عرصے تک کھاتی رہی، پھر میں نے اس کو ماپ لیا تو وہ ختم ہو گئے‘‘  (صحیح بخاری: 3097)

اسی طرح سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے ہاں کبھی جو کی ایک روٹی بھی نہیں بچتی تھی‘‘

(سنن ترمذی: 2359)

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

’’رسول اللہ ﷺ خود اور آپ کے گھر کے لوگ بھی مسلسل کئی کئی راتیں خالی پیٹ گزاردیتے تھے، ان کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور اکثر ان لوگوں کی روٹی جو کی ہوتی تھی‘‘(سنن ترمذی: 2359)

جو میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ چھپا ہے، جو میں جسم کو توانائی بخشنے والے اجزا ء کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے، اس میں 80فیصد نشاستہ‘ لحمیات اور فاسفورس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے، جو بلڈ پریشر کو فائدہ پہنچاتا ہے، حدت کوکم کرتا ہے ‘ پیاس بجھاتا ہے اور جوڑوں کے درد کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

جو دلیہ امراض معدہ با لخصوص السر جیسے تکلیف دہ مرض میں بے حد مفید ہے، ماء الشعیر(جو کا شیرہ)ٹا ئیفا ئیڈ کے مریضوں کے لئے مکمل غذا ہے، اسی طرح یہ یرقان، حِدَّتِ جگر و مثانہ کے لئے بہترین مشروب ہے، جَو زود ہضم ہے، یہ ہاتھ اور پاؤں کی جلن کو دور کرتا  ہے۔

 

زیتون اور اس کا تیل

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

کُلُوا الزَّیْتَ وَادّھَِنُوْابِہٖ فَاِنَّہٗ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ

’’روغن زیتون کھاؤاور اسے لگاؤکیونکہ یہ بابرکت درخت کا پھل ہے‘‘

(سنن ترمذی:  1851)

زیتون کو بابرکت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اس کا کوئی جزفائدہ سے خالی نہیں ہوتا، نیز اس کا وجود ایسی زمین اور علاقے میں ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے بہت زیادہ برکتیں رکھی ہیں۔  (خصائل نبوی ص344)

زیتون کا تیل دنیا کاواحد تیل ہے، جو چربی میں تبدیل نہیں ہوتا، یہ امراضِ قلب اور موٹاپے سے بچنے کیلئے انتہائی مفید ہے، روغن زیتون استعمال کرنے والے افراد دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، زیتون جوڑوں اورپٹھوں کے درد، سانس کی بیماریوں، کولیسٹرول کے مسائل، بلڈ پریشر، گردوں کے امراض، موٹاپے اورفالج سمیت مختلف امراض سے انسان کو محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

سرکہ

نبی کریمﷺ نے سرکہ کھایا بھی ہے اور اس کی تعریف بھی فرمائی ہے، آپﷺکا ارشاد ہے:

نِعْمَ الْاِدَامُ الْخَلُّ، نِعْمَ الْاِدَامُ الْخَلُّ

’’بہترین سالن سرکہ ہے، کیا ہی عمدہ سالن سرکہ ہے‘‘  (صحیح مسلم: 5345)

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب طب نبوی میں سرکہ کے بہت سے فوائد ذکر کئے ہیں، جدید تحقیق کے مطابق سرکہ کا استعمال ذیابیطس اورخون میں گلوکوز کی مقدار کو درست کرنے کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے، سرکہ کا کھانے میں استعمال اس احساس کو بڑھا دیتا ہے کہ اب بھوک نہیں یعنی انسان کم کھاتا ہے اور اس طرح نظام انہضام بہتر رہتا ہے۔

 

انجیر اور انگور

ان کے علاوہ نبیﷺ کی پسندیدہ غذاؤں میں انجیر اور انگورکا بھی ذکر آیا ہے، ان کے بھی بہت سے طبی فوائد ہیں لیکن ان سے متعلق روایات سندا ضعیف اور بہت کمزور ہیں۔

یہاں نبی کریمﷺ کی نسبت سے خاص طور پر ان غذاؤں کے ذکر سے مقصود یہ نہیں ہے کہ آپﷺ نے ان کے علاوہ دوسری غذائیں استعمال نہیں فرمائی ہیں یا ہمیں ان کے علاوہ دوسری غذائیں استعمال نہیں کرنی چاہئے، ان کے ذکر سے مقصود بس یہ ہے کہ چونکہ یہ نبیﷺ کی مرغوب اور پسند یدہ غذائیں ہیں اس لئے ہمیں بھی ان سے محبت کرنی چاہئے اور حسب توفیق واستطاعت انہیں اپنی غذا کا حصہ بنانے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جب نبیﷺ کو کدو کا استعمال شوق ورغبت سے دیکھا تو کہتے ہیں:

فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَتَتَبَّعُ الدُّبَّاء مِنْ حَوَالِی الْقَصْعَۃِ، فَلَمْ أَزَلْ اُحِبُّ الدُّبَّاء مِنْ یَوْمِئِذٍ

’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو کو تلاش کر رہے ہیں تو اس دن سے میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں‘‘

(صحیح بخاری: 5379، صحیح مسلم: 1615)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں:

فَمَا صَنِعَ لِیْ طَعَامٌ بَعْدُ اَقْدِرُعَلیٰ اَنْ یُّصْنَعَ فِیْہِ دُبَّاء اِلَّاصُنِعَ

’’اس کے بعد میرے لئے کوئی بھی کھانا بنایا گیا جس میں کدو ڈالا جا سکتا ہو تو میں اس میں کدو ضرور ڈلوایا‘‘  (صحیح مسلم: 2041)

اس حدیث کے تحت امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ وہ کدو سے محبت کرے، اسی طرح ان تمام چیزوں سے بھی جن سے نبیﷺ محبت کرتے تھے‘‘

ان غذاؤوں کا استعمال نبی کریمﷺ سے محبت کی علامت بھی ہو گا اور ان شاء اللہ بیش بہا جسمانی اورطبی فوائد کا ذریعہ بھی۔

 

7۔ علاج اور صحت کیلئے پرہیز لازمی ہے

 

انسان کے اندر فطری طور پر کھانے کی حرص وخواہش رکھی گئی ہے، اس کے سامنے کھانے کی کوئی لذیذ چیزرکھی جائے تو اس کی لذت وخوشبو اسے بے قرار کرتی اور کھانے پر ابھارتی ہے، اسلام کی تعلیم یہاں یہ ہے کہ لذت وخواہش کے باوجود انسان اس بات پر غور کر لے کہ یہ کھانا اس کے جسم کی موجودہ پوزیشن اور صلاحیت کے مطابق ہے یانہیں ؟اسے طب کی زبان میں پر ہیز کہا جاتا ہے اور انسان کے علاج اور اس کی صحت کی حفاظت کے سلسلے میں اس کی بڑی اہمیت ہے، عبد الملک بن حبیب نے اپنی کتاب ’’الطب النبوی‘‘میں نقل کیا ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طبیب عرب حارث بن کلدہ سے پوچھا: ما الدوائ(دوا کیا ہے )؟تو اس نے کہا:  الحمیۃ(پرہیز)۔   (الطب النبوی ص42۔ 43)

اسلامی شریعت میں انسانی صحت کی حفاظت سے متعلق اس پہلو کا اہتمام بھی موجود ہے، روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک گھر میں داخل ہوئے، گھر میں ادھ پکی کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبیﷺکھجور کھانے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے لگے، آپﷺ نے ان سے فرمایا ’’اے علی!مت کھاؤ، تم ابھی ابھی شفایاب ہوئے ہو، سیدنا علی بیٹھ گئے اور نبیﷺ کھاتے رہے، پھرچقندر اور جو لایا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا ’’اے علی!اس سے کھاؤ! یہ تمہارے مناسب ہے‘‘

(سنن ترمذی: 2037، سنن ابو داؤد: 3856، سنن ابن ماجہ: 3442، الصحیحہ:  59 )

علامہ احمد الساعاتی ”الفتح الربانی ”میں اس حدیث کے تعلق سے لکھتے ہیں:

’’اس حدیث میں اس بات کی طرف رہنمائی موجود ہے کہ مریض نقاہت کے ایام میں مختلف قسم کی چیزوں کی خواہش کرتا ہے لیکن اسے اس کی خواہش کی ساری چیزیں نہیں دی جائیں گی بلکہ ایسی غذائیں دی جائیں گی جو معدہ پر ہلکی ہوں‘‘

(الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد: 17؍ 176-177)

 

8۔ کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھک کر رکھنا چاہئے

 

صحت کی حفاظت کے اصولوں میں سے ایک نبوی اصول یہ بھی ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھک کر رکھا جائے، سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

’’میں مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، پیالہ ڈھکا ہوا نہیں تھا، آپﷺ نے فرمایا: تم نے اسے ڈھک کیوں نہیں دیا، کچھ نہیں تو چوڑائی میں ایک لکڑی ہی رکھ دیتے‘‘(صحیح مسلم: 2010)

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِذَاکَانَ جُنْحُ اللَّیْلِ اَوْ اَمْسَیْتُمْ فَکُفُّوْاصِبْیَانَکُمْ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ تَنْتَشِرُحِیْنَئِذٍ فَاِذَا ذھََبَ سَاعَۃٌمِّنَ اللَّیْلِ فَخَلُّوْھُمْ وَاَغْلِقُوْا الْبَابَ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَایَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَاَوْکُوْا قِرَبَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ وَخَمِّرُوْا آنِیَتَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ وَلَوْ اَنْ یَّعْرِضُوْاعَلَیْہِ شَیْئًا وَاَطْفِئُوْا مَصَابِیْحَکُمْ

’’جب رات اپنا بازو پھیلائے یا شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو روکو، اسلئے کہ شیطان اس وقت پھیلتا ہے، جب رات کا ایک پہر ہو جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازہ بند کر دواور اللہ کا نام لو، کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا اور مشکیزوں کو باندھو اور اللہ کا نام لواور پنے برتنوں کو ڈھانک دو اور بسم اللہ پڑھو، خواہ اس پر کوئی چیز چوڑائی میں رکھ دو اور چراغوں کو بجھا دو‘‘   (صحیح بخاری: 5623، صحیح مسلم: 2012)

ان احادیث سے کھانے اور پینے کی اشیاء کو ڈھک کر رکھنے کے سلسلے میں نبیﷺ کے خاص اہتمام کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا ’’یہ ڈھکنا اگرچہ چوڑائی میں ایک لکڑی ہی سے کیوں نہ ہو‘‘امام ابن القیم رحمہ اللہ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ اس سے آدمی ڈھکنا نہیں بھولے گا بلکہ وہ لکڑی ہی سے سہی اس کے ڈھکنے کا عادی ہو جائے گا، لکڑی کا فائدہ یہ ہو گا کہ کوئی کیڑا گرنا چاہے تو وہ لکڑی سے گزرجائے گا، اس طرح لکڑی اس کے لئے پل کا کام کرے گی اور اسے گرنے سے روکے گی‘‘ (الطب النبویص ۸۶۱)

امام نووی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

’’علماء نے ڈھکنے کے کئی فوائد ذکر کئے ہیں، ان میں دو فائدے تو وہ ہیں جن کا ذکر احادیث میں ہے، تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے گندگی سے حفاظت ہو گی اور چوتھا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے کیڑے مکوڑوں سے حفاظت ہو گی، اس لئے کہ ممکن ہے کہ کوئی کیڑا اس میں گرجائے اور آدمی غفلت میں یا رات میں اس سے پی لے اور یہ اس کے لئے نقصان اور تکلیف کا سبب بن جائے‘‘(شرح مسلم 13/184)

اس سلسلے میں سیدنا جابر بن عبد اللہ کی ایک اور روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

غَطُّوا الْاِنَاء وَاَوْکُوا السِّقَاءَ فَاِنَّ فِی السَّنَۃِ لَیْلَۃً یَنْزِلُ فِیْھَا وَبَاء لَایَمُرُّ بِاِنَاء لَیْسَ عَلَیْہِ غِطَاء اَوْ سِقَاء لَیْسَ عَلَیْہِ وِکَاء اِلَّا وَقَعَ فِیْہِ مِنْ ذٰلِکِ الدَّاء

’’اپنے برتنوں کو ڈھانک دو اور مشکیزوں کو باندھ رکھو، اس لیے کہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں بلا نازل ہوتی ہے، جن برتنوں پر ڈھکن نہ ہو یا جن مشکیزوں میں بندھن نہ ہو، ان میں اس وباکی بیماری واقع ہو جاتی ہے‘‘

(صحیح مسلم: 2014)

یہ حدیث نبیﷺ کے معجزات میں سے ہے، جدید طبی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ متعدی بیماریاں سال کے متعین موسم میں چلتی ہیں بلکہ بعض تو متعین سالوں میں ظاہر ہوتی ہیں، اس کی مثالوں میں سے ایک یہ ہے کہ خسرہ اور پولیو کی بیماریاں ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں زیادہ ہوتی ہیں اورٹائیفائڈ عموماًگرمی میں اور کالرا کی بیماری ہرسات سال میں چکر لگاتی ہے جبکہ چیچک کی بیماری ہرتین سال میں۔

جدید تحقیق کا یہ بھی انکشاف ہے کہ بعض متعدی بیماریاں غبار آلودفضا کی راہ سے بارش کے ہلکے قطروں کے ساتھ منتقل ہوتی ہیں اورہوائیں جب غبار کے ذرات کو اٹھاتی ہیں تو ننھے منے جراثیم ان کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں اور مریض سے صحت مند کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔

(الاعجاز العلمی فی الاسلام والسنۃ النبویۃ بحوالہ http//quran-m.com )

 

 

 

 

کھانے پینے کے آداب و احکام اور ان کی حکمتیں

 

سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا اور پینا حرام ہے

 

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا:

لاَ تَلْبَسُوا الْحَرِیْرَ وَلَا الدِّیْبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوْا فِیْ آنِیَۃِ الذّھََبِ وَالْفِضَّۃِ وَلَا تَاْکُلْوْا فِیْ صِحَافھِِمَا فَاِنّھََا لھَُمْ فِی الدُّنْیَاوَلَنَا فِی الآْخِرَۃِ

’’ریشم کے کپڑے نہ پہنو، سونے اور چاندی کے برتن میں نہ کھاؤاور ان سے بنے برتنوں میں نہ کھاؤ، کیونکہ یہ ان(کافروں )کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں‘‘(صحیح بخاری: 5426، صحیح مسلم: 2067)

جبکہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اَلَّذِیْ یَشْرَبُ فِیْ اِنَاء الْفِضَّۃِ اِنَّمَا یُجَرْجِرُ فِیْ بَطْنِہٖ نَارَ جھََنَّمَ

’’جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے‘‘

(صحیح بخاری: 5634، صحیح مسلم: 2065)

علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ وغیرہ کے مطابق اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سرکشوں اور عجمی بادشاہوں کی مشابہت پائی جاتی ہے، ساتھ ہی اس میں اسراف وتکبر کے علاوہ ان نیک اور غریب لوگوں کی اذیت و دل شکنی کا سامان بھی پایا جاتا ہے جو اپنی ضرورت کی چیزیں بھی پانے سے قاصر ہوتے ہیں۔    (التمہید 16/105، فتح الباری10/97)

 

کھانا اکٹھے کھانا چاہئے

 

نبی کریمﷺ نے کا ارشاد ہے:

اِنَّ اَحَبَّ الطَّعَامِ اِلَی اللّٰہِ مَاکَثُرَتْ عَلَیْہِ الْاَیْدِیْ

’’بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ کھانا وہ ہے جس پر زیادہ ہاتھ ہوں‘‘

(طبرانی اوسط، صحیح الترغیب للالبانی: 2045)

اکٹھے کھانا برکت کا سبب اور ذریعہ ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!ہم کھاتے ہیں لیکن سیری نہیں ہوتی ؟آپﷺ نے فرمایا: تم اکٹھے کھاتے ہو یا الگ الگ؟انہوں نے کہا: الگ الگ تو آپﷺ نے فرمایا:

فَاجْتَمِعُوْاعَلیٰ طَعَامِکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ تَعَالیٰ یُبَارَکْ لَکُمْ فِیْہِ

’’ تم کھانا ایک ساتھ(مل کر) کھایا کرو اور اللہ کا نام لو، تمہارے لئے کھانے میں برکت ڈال دی جائے گی‘‘ (ابوداؤد:  3764، حاکم 3/501 )

اور آپﷺ کافرمان ہے: ۔

کُلُوْاجَمِیْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ یَکْفِی الْاِثْنَیْنِ وَطَعَامَ الْاِثْنَیْنِ یَکْفِی الْاَرْبَعَۃَ

’’اکٹھے کھایا کرواور الگ الگ نہ کھایا کرو، بے شک ایک آدمی کا کھانادو آدمیوں کواوردو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو کافی ہو جائے گا‘‘ (طبرانی اوسط، الصحیحہ: 2691)

 

کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا

 

عموماًعلماء نے کھاناکھانے سے پہلے ہاتھ دھو نے کو مستحب قرار دیا ہے، ظاہرسی بات ہے کہ اس سے ہاتھ میں لگے میل اور گندگی سے صحت کو نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن اس سلسلے میں نبیﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے سے متعلق حدیث حسن ہے جبکہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی روایت ضعیف ہے‘‘(سنن کبری، ج7ص 451)

آدمی اگر جنبی(ناپاک)ہو تو اس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ کھانے سے پہلے وضو کر لے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ جب جنبی ہوتے اور کھا نا یا سونا چاہتے تو اسی طرح وضو کرتے جس طرح نماز کے لئے وضو فرماتے تھے‘‘  (بخاری: 286، مسلم:  305)

 

بیٹھ کر کھانے اور پینے کا حکم

 

شریعت نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ آدمی بیٹھ کر کھائے اور پئے، نبیﷺ کا فرمان ہے: ۔

لَایَشْرَبَنَّ اَحَدٌمِّنْکُمْ قَائِمًا

’’تم میں سے کوئی شخص ہرگز کھڑے ہو کر نہ پئے‘‘    (مسلم:  2026)

اورنبیﷺ کا ارشاد ہے:

لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْ یَشْرَبُ وھَُوَ قَائِمٌ مَافِیْ بَطْنِہٖ لَاسْتَقَاء

’’اگر کھڑے ہو کر پینے والے کو معلوم ہو جائے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے تو وہ قے کر دے‘‘  (احمد: 7808عن ابی ھریرہ، الصحیحہ للالبانی: 176)

نبیﷺ نے ایک آدمی کو کھڑے ہو کر پیتے ہوئے دیکھاتو اس سے فرمایا: قے کر دو! اس نے پوچھا کیوں ؟آپﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں پسند آئے گا کہ تمہارے ساتھ بلی پئے ؟اس نے کہا: نہیں، آپﷺ نے فرمایا:

فَاِنَّہٗ قَدْ شَرِبَ مَعَکَ مَنْ ھُوَ شَرٌّ مِّنْہُ، الشَّیْطَانُ

’’تو تمہارے ساتھ اس نے پیا ہے جو اس سے بدتر ہے، یعنی شیطان‘‘

(احمد: 8003، الصحیحہ: 175عن ابی ھریرہ )

گوکہ بعض صحیح روایات(بخاری: 880، 5615مسلم: 2027وغیرہ)سے کھڑے ہو کر پینے کا جواز ثابت ہے لیکن مذکورہ بالا روایات سے اس عمل کی سخت کراہت واضح ہے، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کھڑے ہو کر پینے کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’کھڑے ہو کر پانی پینے میں چند دشواریاں پیش آتی ہیں، پہلی دشواری تو یہ ہے کہ اس سے پوری طرح آسودگی نہیں ہوتی، دوسری یہ کہ اس سے پانی معدے میں اتنی دیر نہیں ٹھہرتا کہ جگر اسے دوسرے اعضا ء تک ان کا حصہ پہنچا سکے۔

پھر تیزی کے ساتھ معدے کی طرف آتا ہے جس سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کی حرارت سرد پڑ جائے اور اس میں پیچیدگی پید اہو جائے۔۔ ۔‘‘(طب نبوی مترجم ص359)

صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا تو ان سے سوال کیا گیا کہ پھر کھانے کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا:

ذَاکَ اَشَرُّ اَوْ اَخْبَثُ

’’یہ تو اور زیادہ برا یا خبیث ترین عمل ہے‘‘(مسلم: 2024)

 

 کھاتے وقت بیٹھنے کی ہیئت

 

نبی کریمﷺ نے ٹیک لگاکر کھانا کھانے کو ناپسند فرمایا ہے، آپﷺ کا ارشاد ہے:

لَا آکُلُ مُتَّکِئًا ’’میں ٹیک لگاکر نہیں کھاتا‘‘   (صحیح بخاری: 5398)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ٹیک لگانے کی کیفیت میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں کہ کھانے کے لئے کسی بھی طرح زمین پر پسر جانا اس میں شامل ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی ایک طرف ٹیک لگا کر بیٹھنا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بائیں ہاتھ کو زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا نا اور بیٹھنا۔۔ ۔، ابن عدی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ نبیﷺ نے کھانے کے دوران بائیں ہاتھ پر ٹیک لگاکر بیٹھنے پر ڈانٹ لگائی، امام مالک کہتے ہیں کہ یہ ٹیک لگانے کی ایک شکل ہے، میں (ابن حجر)کہتا ہوں کہ امام مالک کی اس بات میں اشارہ اس بات کی طرف موجود ہے کہ جو بھی شکل ٹیک لگانے میں شامل ہو گی وہ مکروہ ہے، اس کے لئے کوئی خاص کیفیت (متعین )نہیں ہے‘‘  (فتح الباری9؍541)

امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے امام نخعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تکیہ لگا کر کھانے کو مکروہ سمجھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں پیٹ نہ بڑھ جائے۔   (خصائل محمدی شرح شمائل ترمذیص 321)

سیدناعبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تحفے میں ایک بکری دی، آپ دو زانوں بیٹھ کر کھانے لگے، ایک بدو کہنے لگا: یہ کونسی بیٹھک ہے ؟توآپﷺ نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰہَ جَعَلَنِیْ عَبْدً اکَرِیْمًا وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًاعَنِیْدًا

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے شریف بندہ بنایا ہے، سرکش وجابر نہیں بنایا ہے‘‘ (سنن ابو داؤد: 3773سنن ابن ماجہ: 3263)

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کھانے کے لئے بیٹھنے کے نبوی طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’آپﷺ کھانا کھاتے وقت اقعاء (اکڑوں )کے انداز پر ہوتے، یہ بھی آتا ہے کہ آپ کھانے کے وقت سرین اور زانوں پر بیٹھتے اس طرح کہ بائیں پیر کی کف دائیں پیر کی پشت پر رکھتے۔۔ ۔ بیٹھنے کا یہ طریقہ تمام طریقوں سے بہتر ہے اس لئے کہ اس انداز میں تمام اعضاء طبیعی حالت پر رہتے ہیں، جس انداز اور ادب پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے، جب انسان کے اعضا اپنی حالت پر ہوں تو غذا بھی ہضم کا پورا لطف لیتی ہے اور یہ صرف اسی انداز پر پیدا ہو سکتی ہے جب انسان طبعی حالت پر‘‘

(طب نبوی ص349)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’نبیﷺ نے کبھی میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا، اور نہ ہی چھوٹی طشتریوں میں کھانا کھایا اور نہ ہی باریک آٹے کی روٹی بنائی گئی (ایک راوی یونس کہتے ہیں )میں نے قتادہ سے پوچھا آپﷺ کھانا کس چیز پر رکھ کر تناول کرتے تھے، انہوں نے کہا:  عام دسترخوان پر‘‘(صحیح بخاری: 5385)

لہذا بہتر یہی ہے کہ آدمی زمین پر دسترخوان بچھا کر کھائے، اگر کوئی میز اوردوسری کسی چیز پر کھاتا ہے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔

نبی کریمﷺ نے پیٹ کے بل لیٹ کر کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد:  3774، سنن ابن ماجہ: 3370)صحت کے نقطۂ نظرسے یہ بالکل بہتر نہیں ہے، امام ابن القیم رحمہ اللہ نے پہلو پر ٹیک لگاکر کھانے کو کھانے کی بدترین صورت قرار دیا ہے اور اسے غیر طبعی حالت قرار دیتے ہوئے نظام ہضم کے لئے مضر بتلایا ہے۔

 

کھانے سے پہلے کھانے کے بارے میں دریافت کرنا

 

کھانے کے آداب میں سے ایک نبوی ادب یہ بھی ہے کہ جب کھانا پیش کیا جائے اور آدمی کو اس کھانے سے متعلق علم نہ ہو تو اس کے بارے میں دریافت کر لے، اس سلسلے میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے، میمونہ خالد اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ہوتی تھیں، میمونہ کے پاس بھنا ہواسانڈا تھا، جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث نجد سے لے کر آئی تھیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبیﷺ کو سانڈا پیش کیا، نبیﷺ عموماًکسی کھانے کی طرف اس وقت ہاتھ بڑھاتے جب کہ آپ کو اس کے بارے میں بتادیا جاتا اور اس کا نام لے لیا جاتا، نبیﷺ نے اپنا ہاتھ سانڈے کی طرف بڑھایا تو وہاں موجود خواتین میں سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو بتادو کہ تم نے آپﷺ کو جو گوشت پیش کیا ہے وہ سانڈے کا ہے، (یہ بات سنتے ہی)رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا، خالدبن ولید نے پوچھا کیا سانڈا حرام ہے اے اللہ کے رسول!فرمایا: نہیں، خالد فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اسے کھینچ لیا اور اسے کھایا، رسول اللہ ﷺ میری طرف دیکھ رہے تھے‘‘

(بخاری:  5391، مسلم: 1946)

امام ابن التین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’نبیﷺ کے دریافت کر لینے کی وجہ یہ تھی کہ عربوں کے یہاں کھانے کی اشیاء کی قلت تھی اس لئے وہ کسی بھی چیز کے کھانے میں ناگواری نہیں محسوس کرتے تھے، جبکہ نبیﷺ بعض چیزوں کو کھانا پسند نہیں کرتے تھے، یہ بھی ممکن ہے کہ شریعت میں بعض جانور حرام کئے گئے ہیں اور بعض حرام جبکہ عربوں کے یہاں اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی، بھنی اور پکی ہوئی شکل میں ہونے سے تمیز مشکل تھی اس لئے نبیﷺ دریافت کر لیا کرتے تھے‘‘  (فتح الباری 9 ؍ 534)

امام ابن قیم رحمہ اللہ مذکورہ بالا حدیث کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

’’یہ صحت کی حفاظت کا ایک عظیم اصول ہے، اس لئے کہ جب انسان طبیعت کے گریز کے باوجوداور خواہش نہ ہونے پر کھاناکھالیتا ہے توا سے فائدہ سے کہیں زیادہ نقصان ہوتا ہے‘‘(طب نبوی ص344)

نبی کریمﷺ کا طریقہ اس سلسلے میں یہی تھا کہ آپ اپنی طبیعت اور خواہش کے مطابق غذا استعمال کرتے تھے، سیدنا ابو ہریرہرضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

 مَا عَابَ النَّبِیُّﷺ طَعَامًا قَطُّ، إنْ اشْتھََاہُ أَکَلَہُ، وَإِنْ کَرِہَہُ تَرَکَہُ ”

’’نبی نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا، اگر پسند ہوتا تو کھالیتے اور ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے‘‘  (صحیح بخاری: 3370 مسلم: 2046)

 

کھانے سے پہلے بسم اللہ کہنا

 

کھاناشروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہنا مشروع ہے، اس سلسلے میں کئی روایتیں آئی ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَکَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالیٰ فَإِنْ نَسِیَ أَنْ یَّذْکُرَ اسْمَ اللّٰہِ تَعَالیٰ فِی أَوَّلِہٖ فَلْیَقُلْ بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہُ

’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں اللہ کا نام لینا بھول جائے تو (یاد آتے ہی)کہے: بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہُ‘‘

(سنن ترمذی:  1858، سنن ابو داؤد:  3767، سنن ابن ماجہ:  3264)

اسی طرح عمر وبن سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

یَا غُلَامُ:  سَمِّ اللہ ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ

’’اے لڑکے ! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ‘‘

(صحیح بخاری:  3576، صحیح مسلم:  2022)

بسم اللہ پڑھنا کھانے میں برکت کا سبب اور کھانے میں شیطان کی شرکت سے حفاظت کا ذریعہ ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھارہے تھے، ایک دیہاتی آیا اور دولقموں میں پورا کھانا کھا گیا، نبیﷺ نے فرمایا:

اَمَا اِنَّہٗ لَوْسَمّیٰ لَکَفَاکُمْ

’’اگر اس نے بسم اللہ کہا ہوتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہوتا تھا‘‘

(سنن ترمذی: 1858، سنن ابن ماجہ: 3264، شعیب ارناؤوط نے مسند احمد میں اس کو شواہد کی بناپر حسن کہا ہے )

نبیﷺ نے فرمایا:

اِنَّ الشَّیْطَانَ یَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ اَنْ لَّایُذْکَرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ

’’شیطان ایسے کھانے کو حلال بنالیتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘

(مسلم:  2017، ابو داؤد: 3766)

واضح رہے کہ یہاں الرحمن الرحیم کے اضافے کے بغیر صرف ’’ بسم اللہ ‘‘ پڑھنا مسنون اور ثابت ہے جیساکہ گزشتہ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے اور معجم کبیر طبرانی کی روایت میں جسے علامہ البانی رحمہ اللہ ’’ الصحیحہ‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے، صاف لفظوں میں آیا ہے کہ نبیﷺ نے عمرو بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

یَاغُلَامُ اِذَا اَکَلْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللّٰہِ۔۔ ۔

’’اے لڑکے جب تم کھاؤ تو’بسم اللہ ‘ کہو۔۔ ۔‘‘

امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الأذکار‘‘میں مکمل بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کو افضل کہا ہے لیکن حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ان کے اس دعوے کی مجھے کوئی مخصوص دلیل نظر نہیں آئی۔    (فتح الباری 9 ؍431)

 

دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا

 

عمروبن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ بات آئی کہ نبیﷺ نے انہیں دائیں ہاتھ سے کھانے کی تاکید فرمائی، اس سلسلے میں مزید روایتیں ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:

لا یَأْکُلَنَّ أَحَدٌ مِنکُمْ بِشِمَالِہِ، وَلَا یَشْرَبَنَّ بھَِا، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْکُلُ بِشِمَالِہٖ وَیَشْرَبُ بھِا

’’تم میں سے کوئی بائیں ہاتھ سے کھائے اورنہ پئے اسلئے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اورپیتا ہے‘‘(صحیح مسلم:  2020)

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپﷺ نے اس سے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاو ٔ، وہ کہنے لگا میں نہیں کھاسکتا، آپﷺ نے فرمایا: توکھانہ سکے، اس نے در اصل تکبر میں ایسا کہا تھا، پھر وہ اپنا داہنا ہاتھ اپنے منہ تک (کبھی)نہیں اٹھاسکا۔ (مسلم: 2021)

معلوم ہوا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا شریعت کی نگاہ میں انتہائی ناپسندیدہ اور ناجائز عمل ہے، امام ابن الجوزی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

’’جب بائیں ہاتھ کو استنجاء اور گندگی وغیرہ کے لیے خاص کر دیا گیا اور دائیں ہاتھ کو کھانے (اور پینے وغیرہ)کے لئے تو مناسب نہیں ایک کو دوسرے کی جگہ میں استعمال کیا جائے، اس لئے کہ یہ مرتبہ والے کے مرتبہ کو گرانا اور کمتر کی حیثیت کو بڑھانا ہے، توجو شخص حکمت کے تقاضے کی مخالفت کرے، وہ شیطان کے ساتھ چلنے والا ہے‘‘(کشف المشکل2/594)

اگر کوئی عذر ہو اور آدمی کے لئے زخم یا کسی دوسری چیز کی وجہ سے دائیں ہاتھ سے کھانا ممکن نہ ہو تو پھر بائیں ہاتھ کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

دائیں ہاتھ سے کھانے میں کیا حکمت ہو سکتی ہے ؟ اس کی طرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت اشارہ کرتی ہے، وہ کہتی ہیں:

کَانَتْ یَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ الْیُمْنیٰ لِطھُُوْرِہٖ وَطَعَامِہٖ وَکَانَتْ یَدُہُ الْیُسْریٰ لِخَلَاء ہٖ وَمَاکَانَ مِنْ اَذًی

’’رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ پاکیزہ کاموں اور کھانے کے لئے تھا اور آپ کا بایاں ہاتھ پاخانہ اوردوسری گندی چیزوں کے لئے استعمال ہوتا تھا‘‘ (سنن ابو داؤد: 33، مسنداحمد: 26283)

کھانے پینے اور دوسرے ستھرے کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کو خاص کر لینے میں صحت کی حفاظت اور انتقالِ امراض سے بچاؤ کاراز پوشیدہ ہے، پولیواور وائرل ہیپاٹائیٹس کے بشمول ایسی بہت سی بیماریاں ہیں جن کے جراثیم بول وبراز کے راستے سے دوسروں کی طرف منتقل ہوتے ہیں، اگر اس نبوی ہدایت پر عمل کیا جائے تو ان سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق سیدھے ہاتھ سے غیر مرئی شعاعیں نکلتی ہیں اور الٹے ہاتھ سے بھی نکلتی ہیں لیکن سیدھے ہاتھ کی شعاعیں فائدہ مند ہیں اور الٹے ہاتھ کی شعاعیں نقصان دہ ہیں۔ (اردو ڈائجسٹ)

افسوس کہ مغربی تہذیب کی نقالی نے بہت سے مسلمانوں کو اس عمل سے محروم کر دیا ہے، ان کی نگاہوں میں بائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا باعث فخر عمل اور ترقی یافتہ سوسائٹی کا فرد ہونے کی علامت ہے، کاش انہیں سمجھ میں آتا کہ دنیا اور آخرت کی ہر قسم کی سعادت وبھلائی رسول اللہ ﷺ کی پیروی واتباع میں ہے نہ کہ غیروں کی نقالی اور مشابہت اختیار کرنے میں۔

بہت سے لوگ پانی پینے کے موقع پر اس حکم کی خلاف ورزی اس طرح کرتے ہیں کہ گلاس کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں اور رسما اس حکم کو نبھانے کے لئے دائیں ہاتھ سے گلاس یا دوسرے برتن کو سہار ایا ٹیکا دے دیتے ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ ایسا کرنے سے دائیں ہاتھ سے پینے کے شرعی حکم پر عمل نہیں ہو سکتا اس لئیکہ جس ہاتھ سے برتن کو پکڑا گیا ہے پینا اسی ہاتھ سے مانا جائے گا، کسی کی یہ بات بالکل بجا ہے کہ گلاس کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں شرعی حکم کو آلودہ اور پامال نہیں کرنا چاہئے، اعاذنا ا للہ منہ۔

 

کھانے کے لئے چمچہ وغیرہ کا استعمال

 

کھانے کے لئے چمچہ اور کانٹے وغیرہ کا استعمال جائز ہے، اس لئے کہ اس سلسلے میں ممانعت کی کوئی دلیل ثابت نہیں اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ دنیوی امور سے متعلق کسی چیز کے ناجائز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی ممانعت سے متعلق قرآن یا سنت میں کوئی دلیل موجود ہو، رہی اہل مغرب سے مشابہت کی بات تو کسی قوم کی مشابہت اس کے مذہبی کاموں یا اس کی ان عادتوں میں حرام ہے جنہیں ان کی شناخت، ان کے شعار اور ان کی پہچان کی حیثیت حاصل ہے۔   (کھانے پینے کے آداب از عبد الہادی عبد الخالق مدنی ص42)

 

تین انگلیوں سے کھانا

 

سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

’’نبیﷺ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے تھے اور(کھانے سے فارغ ہو کر) ان کو چاٹ لیا کرتے تھے‘‘  (صحیح مسلم: 2032)

نبیﷺ کی عادت اکثر تین انگلیوں سے کھانے کی تھی اور یہ چیز بہت نفع بخش ہے، کیونکہ ایک انگلی سے کھانا متکبرین کی علامت ہے، اس سے کھانے والا لذت بھی محسوس نہیں کر سکتا، یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی ایک ایک دانہ اپنا حق لے اور دو انگلیوں سے کھانا شیطانی عمل ہے اور پانچ انگلیوں سے کھانا لالچیوں اور حریصوں کا کام ہے جو معدے پر کھانا انڈیلتے ہیں، بسا اوقات ایسے کھایا ہوا کھانا بدہضمی اور پریشانی کا سبب بنتا ہے بلکہ کبھی ناگہانی موت کاذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ (خصائل محمدی ص322)

علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تین انگلیوں سے کھانے کی بات ان چیزوں سے متعلق ہے جنہیں تین انگلیوں سے کھانا ممکن ہے، البتہ چاول وغیرہ کھاتے ہوئے جتنی انگلیوں کی ضرورت پڑے اتنی انگلیوں سے کھانا خلافِ سنت نہ ہو گا۔

(الشرح الممتع بحوالہ کھانے پینے کے آداب ص39)

 

اپنے قریب سے اور برتن کے کنارے سے کھانا

 

جب کئی لوگ کھانے میں شریک ہوں اور کھانا ایک ہی قسم کا ہو تو آدمی کو اپنے قریب سے کھاناچاہئے، اس لئے کہ یہ مروءت اور اخلاق کا تقاضا ہے، دوسروں کے سامنے سے کھانے میں خصوصاً جبکہ شوربہ اورسالن وغیرہ جیسی چیز سامنے ہو اس بات کا امکان ہے کہ سامنے والے کو ناگوار گزرے اور اسے گھن محسوس ہو، نبیﷺنے عمرو بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہماسے فرمایا:

’’اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤاوراپنے قریب سے کھاؤ‘‘

(صحیح بخاری:  5456، صحیح مسلم: 2041)

امام ابن عبدا لبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر شوربہ، سالن اور دیگر کھانوں میں اگر کئی چیزیں شامل ہوں تو اپنی پسند کی چیز لینے اور سامنے سے آگے ہاتھ بڑھانے میں کوئی حرج نہیں، جیساکہ خودنبیﷺ سے کدو کی تلاش میں برتن کے مختلف حصے میں ہاتھ ڈالنا ثابت ہے۔ (التمہید 1/277ملخصا)

یہ بھی حکم ہے کہ کھانا برتن کے کنارے سے کھانا چاہئے، نبیﷺ کا ارشاد ہے:

کُلُوْا مِنْ جَوَانِبھَِاوَدَعُوْاذَرْوَتھََا یُبَارَکْ فِیْھَا

’’برتن کے کنارے سے کھاؤ، اس کے اوپروالے حصے (درمیان) سے مت کھاؤ (اسلئے کہ) اس میں برکت ڈالی جاتی ہے‘‘ (ابودا ؤد: 3773، ابن ماجہ: 3263)

 

 

 

دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے کی ممانعت

 

جب کئی لوگ اکٹھے کھارہے ہوں تو کھجور اور اسی طرح کی دوسری چیز ایک ساتھ دو یا زائد کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے، اس لئے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

’’نبیﷺ نے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا الا یہ کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت طلب کر لے‘‘  (صحیح بخاری: 2455، صحیح مسلم: 2045)

اماما بن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’کھجور ہی پر ان تمام چیزوں کوقیاس کیا جائے گا جنہیں ایک ایک کر کے کھانے کا رواج ہے‘‘  (الآداب الشرعیۃ 3/158)

امام نووی رحمہ اللہ اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’۔۔ ۔ اگرکھانا(کئی لوگوں کا) مشترکہ ہو تو دو کھجوریں ایک ساتھ کھانا حرام ہو گا، الا یہ کہ ان کی آپسی رضامندی ہو، رضامندی خواہ صاف لفظوں میں ہو یا ایسے قرینے وغیرہ سے جو صراحت کے ساتھ رضامندی کے قائم مقام ہواور جس کی بنیاد پر راضی ہونے کا یقین یا گمانِ غالب حاصل ہو، اگر رضامندی مشکوک ہو تو حرام ہو گا، اگر کھانا کسی دوسرے کا ہو یا ان میں سے کسی ایک کا ہو تو صرف اسی کی رضامندی شرط ہو گی، اگر اس کی رضامندی کے بغیر دو کھجوریں یکبارگی کھالیں تو یہ حرام ہو گا، اس صورت میں ساتھ میں کھانے والوں سے اجازت لینا مستحب ہو گا واجب نہیں، اگر کھانا خود کا ہو اور دوسرے بطور مہمان ہوں تو اکٹھے دو کھجوریں کھانے میں حرج نہیں، اگر کھانا کم ہو تو بہتر یہی ہے کہ ایسا نہ کیا جائے تاکہ سب برابر کھاسکیں اور اگرکھانا زیادہ ہو اور ان سے بچ جانے والا ہو تو پھر کوئی حرج نہیں، لیکن بہرحال ادب کا تقاضا یہی ہے کہ کھانے میں ٹھہراؤکا مظاہرہ کیا جائے اور لالچ وحرص کا مظاہرہ کرنے سے بچا جائے، الاکہ کوئی جلدی میں ہو اور کسی اور کام کی وجہ سے جلدی کرنے پر مجبور ہو‘‘

(شرح مسلم13/190 بحوالہ الآداب للشھلوبص 97)

ایک طرف اس شرعی ادب اور رہنمائی پر غور کیجئے اور دوسری طرف دعوت وغیرہ کے موقعوں پر ہونے والی چھین جھپٹ اورساتھ میں دستر خوان پر بیٹھے دوسرے لوگوں کی پرواہ کئے بغیر ایک ہی بار میں پوری رکابی صاف کر دینے کے مناظر کو دیکھئے، آپ ماتم کریں گے کہ کیایہ وہی مسلمان ہیں جن کی شریعت نے ان کی اس حد تک رہنمائی کی ہے !!!

 

 زیادہ گرم کھانا کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے

 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

لَایُؤْکَلُ طَعَامٌ حَتّیٰ یَذْھَبَ بُخَارُہٗ

’’کوئی کھانا اس وقت تک نہ کھایا جائے جب تک اس کی بھاپ (گرمی )نہ چلی جائے‘‘(بیہقی7/2580، ارواء الغلیل للالبانی: 1978 )

اسی طرح سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ ثرید تیاری کرتیں تو کچھ دیر اسے ڈھانک دیتیں تاکہ اس کی گرمی (بھاپ)دور ہو جائے، پھر کہتیں میں نے رسول اللہ ﷺ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: یہ زیادہ برکت کا سبب ہے۔ (احمد: 26418سنن دارمی: 2047، الصحیحہ للالبانی: 392 )

نبی کریمﷺ نے اس حکم کی علت بیان فرمادی یعنی یہ برکت (غذائیت وقوت )کا سبب ہے، بعض علماء نے اشارہ کیا ہے کہ اس میں کھانے کے سلسلے میں شدید لالچ اور جلد بازی سے بچنے کی حکمت بھی موجود ہے۔ واللہ اعلم

زیادہ گرم کھاناکھانے کے اس اخلاقی نقصان کے علاوہ اس کا جسمانی نقصان بھی ہے، اس سے آدمی کا تالو عموماًجل جاتا ہے، جدید طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ہضم کے نظام سے تعلق رکھنے والے اوپری اعضاء میں کینسر کے جنم دینے کا سبب ہے، بطور خاص حلق کے کینسر کا، حلق کا کینسر اس وقت اپنے پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا کے معروف و مشہور امراض میں سے ہے اور اس کا شمار کینسر کی خطرناک شکلوں میں ہوتا ہے، اس کینسر سے مرنے والوں کی سالانہ تعداد پانچ لاکھ ہے، سائنسدانوں نے اس کینسر کابنیادی سبب سگریٹ نوشی اور شراب نوشی بتایا ہے، اس کینسر سے سب سے زیادہ متاثر شمالی ایران کاعلاقہ گلستان ہے، حالانکہ یہاں سگریٹ نوشی اور نشہ خوری نہ کے برابر ہے، ہاں چائے نوشی بکثرت کی جاتی ہے، ایرانی ڈاکٹرز کے ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ لوگ جو پینسٹھ سے انہتر درجے تک گرم چائے پیتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ کینسر کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں جو پینسٹھ درجے سے کم گرم چائے پیتے ہیں اور جو لوگ ستر یا اس سے زائد درجے زیادہ گرم چائے پیتے ہیں ان کے کینسرسے دوچار ہونے کا خطرہ آٹھ گنا تک بڑھ جاتا ہے، اس طرح سے کینسر کی بیماری کا تعلق چائے کی مقدار سے نہیں بلکہ اس کے درجۂ حرارت سے ہے۔

(www.alsehaسے ماخوذ بحوالہ الآداب النبویۃفی الاکل والشرب واثرھا فی حفظ الصحۃ از بشیر الرحمن )

 

کھانے میں عیب نہ نکالیں

 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ۔

’’رسولﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر کھانا پسند ہوتا تو کھالیتے ورنہ چھوڑ دیتے‘‘ (صحیح بخاری: 5409، صحیح مسلم: 2064)

امام نووی رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں:

’’کھانے کے تاکیدی آداب میں سے ہے کہ کھانے کو عیب نہ لگایا جائے جیسا کہ یہ کہناکہ، نمک زیادہ ہے، کھٹا ہے، نمک کم ہے، موٹا ہے، پتلا ہے اور کچا ہے وغیرہ، ابن بطال کہتے ہیں کہ یہ حسن ادب میں سے ہے، اس لئے کہ ایسا ہوتا ہے کہ کبھی کوئی چیز ایک آدمی کو پسند نہیں ہوتی ہے جبکہ دوسرے کو پسند ہوتی ہے، اورہر وہ چیز جسے کھانے کی شریعت نے اجازت دی ہے، اس میں کوئی عیب نہیں‘‘(شرح مسلم 14/26)

علماء نے اس ممانعت کی ایک علت یہ بھی بیان کی ہے کہ اس سے کھانا تیار کرنے والے کو رنج لاحق ہو گا اوراس کے دل کو ٹھیس پہونچے گی، نبی کریمﷺ نے اس کے دروازے کو بند فرمادیا تاکہ کسی مسلمان کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔

 

کھانا چباکر کھانا چاہئے

 

بعض علماء نے کھانے کے سلسلے میں یہ نبوی طریقہ بھی نقل کیا ہے کہ آپﷺ کھانا آرام سے اور چباچبا کر کھاتے تھے، اس سلسلے میں کوئی روایت نگاہ سے نہیں گزری لیکن اس عمل کے مفید ہونے میں کوئی شک نہیں، عرب کے حکماء کہتے:

’’میوہ پکنے کے بعد ہی کھاؤ، کھانا خوب چبا کر کھاؤ، جب تک معدہ میں کھانا ہو کھانا نہ کھاؤ اور ایسی چیزوں کے کھانے سے بچو!جنہیں چبانے سے تمہارے دانت عاجز ہوں پھر تمہارا معدہ ان کو ہضم کرنے سے عاجز رہے گا‘‘

(التغذیۃ النبویۃ، الغذاء بین الداء والدواء ص70)

 

کھانے کے دوران بات چیت

 

کھانا کھانے کے دوران بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ سنت سے ثابت ہے، امام غزالیؒ کے مطابق چپ چاپ کھانا عجمیوں کا طریقہ ہے جس کی مخالفت کرنی چاہئے، بعض علماء کے مطابق یہ بسیار خوری سے حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔

کلام کی طرح سلام کرنے اور جواب دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، بعض لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں جو بے دلیل ہے اور قطعادرست نہیں۔

 

برتن میں پھونکنے اور سانس لینے کی ممانعت

 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

’’نبیﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکنے سے روکا ہے‘‘

(سنن ترمذی: 1888، سنن ابن ماجہ: 3429، سنن ابی داؤد: 3728)

اسی طرح سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جب تم میں سے کوئی پئے تو برتن میں سانس نہ لے‘‘

(بخاری: 5630، مسلم: 267)

امام نووی رحمہ اللہ کے مطابق برتن میں سانس لینے کی ممانعت اس لئے ہے کہ یہ مشروب کے پراگندہ ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اس میں اس بات کا خدشہ ہے کہ منہ اور ناک سے کوئی چیزمشروب میں گرجائے۔    (شرح مسلم 3/130)

جب کہ مشروب میں پھونکنے کی ممانعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’پانی میں پھونک مارنے سے ممانعت اس لیے ہے کہ پھونک مارنے والے کے منہ سے بدبو خارج ہوتی ہے جس کی وجہ سے کراہیت ہوتی ہے، بالخصوص جب کہ کسی کا منہ خراب ہو اور اس میں کسی چیز کے استعمال کی وجہ سے گندگی آ گئی ہو، الغرض پانی میں پھونک مارنے والے کی سانس سے گندگی پانی میں مل جاتی ہے جس سے نقصان پہنچتا ہے۔‘‘(طب نبوی ص369)

جدید سائنس سے یہ بات اجاگر ہوئی ہے کہ کھانے اور پینے کی اشیاء میں پھونکنا یا سانس لینا متعدد خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق انسانی جسم میں کچھ دوست جراثیم ہوتے ہیں، یہ جراثیم بیماریوں سے لڑنے میں جسم کی مدد کرتے ہیں اور یہ حلق میں پائے جاتے ہیں، لیکن جب انسان پھونکتا ہے تو یہ جراثیم خارج ہونے والی ہوا کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں اور گرم سطح کو چھوتے ہیں ایسے مضر جراثیم میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

(majdah.maktoob.com نامی ویٹ سائٹ سے مستفاد)

 

پانی وغیرہ تین سانس میں پینا چاہئے

 

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: ۔

’’رسول اللہ ﷺ پینے کی چیزتین سانس میں پیتے تھے‘‘

آپﷺ نے فرمایا: ۔

 اِنَّہٗ اَرْویٰ وَاَمْرَأُوَاَبْرَأُ

’’یہ( تین سانس میں پینا)زیادہ سیراب کرنے والا، آرام سے گلے سے اترنے والا اور بیماری سے بچانے والا ہے‘‘ (مسلم: 2028)

آپﷺ نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے، اسلئے سانس لیتے وقت منھ کو برتن سے ہٹالینا چاہئے، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِذَاشَرِبَ اَحَدُکُمْ فَلَایَتَنَفَّسْ فِی الْاِنَاء فَاِذَا اَرَادَاَنْ یَّعُوْدَ فَلْیُنَحِّ الْاِنَاء ثُمَّ لِیَعُدْ اِنْ کَانَ یُرِیْدُ

’’جب تم میں سے کوئی پانی پئے تو برتن میں سانس نہ لے، اگر دوبارہ پینا چاہے تو برتن کو دور کر دے، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے‘‘ (سنن ابن ماجہ: 2768، الصحیحہ1/670)

اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایک ہی سانس میں پی لے تو بھی حرج نہیں ہے، ان دونوں باتوں کی دلیل مزید یہ روایت بھی ہے، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

’’۔۔ ۔ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول !میں ایک سانس میں آسودہ نہیں ہوتاتو آپﷺ نے فرمایا ’پیالے کو منہ سے الگ کر دو پھر سانس لو۔۔ ۔‘‘

(سنن ترمذی: 1887، احمد: 10819، مؤطا: 1718 )

علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ایک سانس میں پینا جائز ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے قول ’’میں ایک سانس میں آسودہ نہیں ہوتا‘‘پر نکیر نہیں فرمائی اور یہ نہیں کہا کہ کیا ایک سانس میں پینا جائز بھی ہے ؟۔۔ ۔

اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی ایک سانس میں آسودہ ہو جا رہا ہے اور اسے مزید سانس کی ضرورت نہیں محسوس ہو رہی ہے تو یہ جائز ہے، میں نہیں جانتا کہ ائمہ میں سے کسی نے تین سانس میں پینے کو واجب اور ایک سانس میں پینے کو حرام ٹھہرایا ہو‘‘  (الفتاوی32/209 )

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نیطب نبویص 362 تا364 میں تین سانس میں پانی پینے کی حکمتوں پر تفصیل سے لکھا ہے، اہل ذوق رجوع کر سکتے ہیں۔

 

کھانے کے بعد انگلیاں اوربرتن چاٹ لینا چاہئے

 

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

کَانَ النَّبِیُّﷺ اِذَا اَکَلَ طَعَامًا لَعِقَ اَصَابِعَہُ الثَّلَاثَ

’’نبیﷺ جب کھانا تناول فرمالیتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے‘‘

(صحیح مسلم: 2034)

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے

’’رسول اللہ ﷺ نے انگلیوں اور برتن کو چاٹ لینے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ برکت کس میں ہے‘‘

(مسلم: 2033)

ایک حدیث میں ہے:

’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھالے تو ہاتھ پونچھنے سے پہلے خود چاٹ لے یا کسی کو چٹادے (یعنی اپنی بیوی، بچے یا غلام کو جو اس سے محبت کرتے ہوں)‘‘

(صحیح بخاری: 5456، صحیح مسلم: 2031)

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’برکت سے مراد غذائیت کاحاصل ہونا، انجام پر تکلیف سے سلامتی اور اطاعت الٰہی پر قدرت ہے‘‘

(شرح صحیح مسلم: 13/206 )

امام خطابی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’کچھ لوگ جن کے دل و دماغ کو مال و دولت کی فراوانی نے بگاڑ دیا ہے، وہ کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جو کھانا انگلیوں کو لگ گیا ہے وہ بھی اسی کھانے کا حصہ ہے، جسے ابھی ابھی انہوں نے کھایا ہے تو جب وہ خراب اور فاسد نہیں تو یہ باقی ماندہ حصہ جو انگلیوں کو لگا ہوا ہے وہ کیسے خراب ہو گیا ہے ؟اس طرح انگلیوں کو چاٹنا کوئی عیب اور بے ادبی بھی نہیں ہے کہ انسان کلی بھی کرتا ہے اور پھر دانتوں پر انگلیاں بھی رگڑتا ہے، یہ بات تب ہے جب کوئی ذاتی طور پر اس عمل کو اچھا نہ سمجھتا ہو، اگر کوئی اسے اس لئے برا سمجھے کہ نبیﷺ نے ایسا کیا ہے تو پھر وہ پکاکافر ہے‘‘

(معالم السنن4/260)

 

نیچے گرے ہوئے کھانے کو اٹھانے اور کھانے کی ہدایت

 

سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ۔

’’بلاشبہ شیطان تمہارے (ہر)ایک کے ساتھ اس کے ہر کام کے وقت موجود رہتا ہے پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو سے اٹھالے اور اس میں جو گندگی لگ گئی ہو اسے صاف کر لے اورپھر اسے کھالے، اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے، پھر جب کھاکر فارغ ہو جائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کون سے کھانے میں برکت ہے‘‘(مسلم: 2033 )

معلوم یہ ہوا کہ دسترخوان پر گرے کھانے کوچھوڑنا نہیں چاہئے، اس لئے کہ یہ شیطان کا حصہ ہو گا اور عین ممکن ہے کہ کھانے کی اصل برکت یعنی اس کی غذائیت وقوت اسی حصہ میں ہو۔

اگر گزشتہ تین احکام (انگلیاں چاٹنے، برتن چاٹنے اور نیچے گرے ہوئے کھانے کو اٹھا کر کھالینے )پر غور کریں تو ان میں یہ پیغام بھی موجود ہے کہ کھانے کے معمولی سے معمولی حصے کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے اور نعمت کے طور پر اس کی قدر کرنی چاہئے، لیکن افسوس کہ عملی زندگی میں (بطور خاص دعوت وغیرہ کے موقعوں پر)مسلمان ان احکام کو انتہائی بے دردی کے ساتھ پامال کرتے ہیں، فاللہ المستعان۔

 

کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے اور دھونے کا حکم

 

نبیﷺ کا ارشاد ہے: ۔

مَنْ بَاتَ وَفِیْ یَدِہٖ رِیْحُ غَمَرٍ فَاَصَابَہٗ شَیْ ء فَلَایَلُوْمَنَّ اِلَّانَفْسَہٗ

’’جس شخص نے رات گزاری اوراس کے ہاتھ میں چکناہٹ کی بوتھی اور پھراسے کوئی چیز(نقصان کیڑاوغیرہ سے )پہنچ گئی تووہ اپنے علاوہ کسی کوہر گزبرانہ کہے‘‘

(کشف الاستار بزار، الصحیحہ: 2956)

دوسری روایت کے الفاظ ہیں:

مَنْ نَامَ وَفِیْ یَدِہٖ غَمَرٌوَلَمْ یَغْسِلْہُ فَاَصَابَہٗ شَیْء فَلَایَلُوْمَنَّ اِلَّانَفْسَہٗ

’’جو شخص سو گیا اور اس کے ہاتھ میں چکنائی تھی اور اس نے اسے نہیں دھویا پھر اسے کوئی چیز پہنچ گئی تو وہ اپنے نفس کے علاوہ کسی کو ہرگز ملامت نہ کرے‘‘

(ابوداؤد: 3852، ترمذی: 1860)

ان احادیث سے واضح ہے کہ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ سے خوراک کے اجزاء اور چکناہٹ وغیرہ صاف کر لینا چاہئے، اس حکم میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اگر ہاتھ میں چکناہٹ یا غذا کا کوئی حصہ چھوڑ دیا جائے تو عین ممکن ہے نیند کی حالت میں کوئی کیڑا وغیرہ کھانے کی بو کی بنا پر ہاتھ کی طرف آ جائے اور ایذاوتکلیف کا سبب بن جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگرایسا ہوتا ہے تو اس میں آدمی کاخودکا قصور ہے لہذا اسے ملامت بھی خود ہی کو کرنی چاہئے، رسول اللہ ﷺ نے عملاً بھی اس کی تعلیم دی ہے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’رسول اللہ ﷺ نے ایک بکری کا شانہ کھایا پھر کلی کی، اپنے ہاتھ دھوئے اور نماز پڑھی‘‘   (ابن ماجہ: 493، احمد: 27486)

 

کھانے کے بعد کلی کرنا

 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے بعد کلی کرنا بھی نبیﷺ کا طریقہ رہا ہے، اس سلسلے میں مزید ایک دوروایتیں ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

’’ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے، جب ہم مقامِ صہباء پر تھے تو آپﷺ نے کھانامانگا، صرف ستو لایا گیا، ہم نے کھایا پھر آپﷺ نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، آپﷺ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی‘‘(صحیح بخاری: 5454)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

’’رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیاپھر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکناہٹ ہوتی ہے‘‘   (صحیح بخاری: 211)

اس حدیث کی شرح میں امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اس حدیث میں دودھ پینے کے بعد کلی کے مستحب ہونے کی دلیل موجود ہے، علماء نے کہا ہے کہ اسی طرح دوسری کھانے اورپینے کی چیزوں کے بعد بھی کلی کرنا مستحب ہے۔۔ ۔‘‘(شرح مسلم 4/46)

اور امام مناوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

’’دودھ پر قیاس کرتے ہوئے ہر چکنی چیز کھانے کے بعد کلی کرنا چاہئے بلکہ نبیﷺ کے ستو کھانے کے بعد کلی کرنے کے عمل ایسی چیزوں کے کھانے کے بعد بھی کلی کرنا مستحب ٹھہرتا ہے جن میں چکناہٹ نہ ہو جبکہ ان کاکچھ دانتوں کے درمیان یا منہ کے اطراف میں رہ جائے، بعض اطباء (ڈاکٹروں )نے ذکر کیا ہے دودھ کا باقی رہ جانے والا حصہ مسوڑوں اور دانتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔۔ ۔‘‘(فیض القدیر 1/496)

کھانے کے بعد اگر دانتوں کو صاف نہ کیا جائے اور کلی کر کے منہ کی پوری صفائی نہ کی جائے تو منہ میں تعفن پیدا ہوتا ہے اوردانتوں اور مسوڑھوں میں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ جراثیم صرف دانتوں اور مسوڑھوں ہی کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ دوسرے اعضاء ہضم کی طرف بھی منتقل ہوتے ہیں اورانہیں شدید نقصان سے دوچار کرتے ہیں۔

 

مشکیزہ (گھڑے وغیرہ )میں منہ لگاکر پینے کی ممانعت

 

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے کھول کر ان کے مونہوں سے پینے سے منع فرمایا ہے‘‘

(صحیح بخاری: 5625، صحیح مسلم: 2023)

اہل علم نے اس حکم کی متعدد حکمتیں بیان کی ہیں:

۱۔ مشکیزے میں پینے والے کی سانس کی آمد ورفت اس میں بدبو کا سبب بن سکتی ہے۔

۲۔ ممکن ہے مشکیزے اور گھڑے میں کوئی کیڑا یا گندگی ہو، جسے پینے والا محسوس نہ کر سکے اور وہ پیٹ میں داخل ہو کر اس کے لئے تکلیف کا سبب بن جائے، (دور نبوی میں ایک آدمی نے مشکیزے سے منہ لگا کر پیا تو اس سے سانپ نکل آیا۔ احمد 2/434)

۳۔ ممکن ہے کہ پانی پینے والے کے تھوک سے آلودہ ہو جائے اور دوسرے اس سے گھن محسوس کریں۔

۴۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پینے والی کی سانس یا اس کا تھوک دوسرے کو بیمار کرنے کا سبب بن جائے اسلئے کہ اطباء کے مطابق متعدی بیماریاں سانس اور تھوک کے راستے منتقل ہوتے ہیں۔ (الآداب، للشلھوب ص101)

 

کھانے اور پینے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرنی چاہئے

 

کھانا کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور دعا پڑھنا مستحب ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِنَّ اللّٰہَ لَیَرْضیٰ عَنِ الْعَبْدِ اَنْ یَّاْکُلَ الْاَکْلَۃَ فَیَحْمَدَہٗ عَلَیْھَا اَوْ یَشْرَبَ الشَّرْبَۃَ فَیَحْمَدَہٗ عَلَیْھَا

’’اللہ تعالیٰ بندے سے خوش ہوتا ہے جب کہ وہ کھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرے یا پئے اور اس پر اس کی تعریف بجالائے‘‘(صحیح مسلم: 2734)

کھانا کھانے کے بعد نبی کریمﷺ سے کئی دعائیں منقول ہیں: 1۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب دستر خوان اٹھاتے توکہتے:

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًاطَیِّبًامُّبَارَکًافِیْہِ غَیْرَمَکْفِیٍّ وَلَامُوَدَّعٍ وَلَامُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا

(تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جوبہت ہو پاکیزہ ہواور اس میں برکت دی گئی ہو، نہ اس سے کفایت کی گئی ہے، نہ یہ آخری کھانا ہے اورنہ اس سے بے نیازی ہو سکتی ہے اے ہمارے رب !) (بخاری: 5458)

2۔ سیدنا زیدبن خالدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانے یاپینے سے فارغ ہوتے تو پڑھتے:

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَ وَسَقیٰ وَسَوَّغَہٗ وَجَعَلَ لَہٗ مَخْرَجًا

(تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے کھلایاپلایا اسے خوشگوار بنایا اور اس کے لئے نکلنے کی جگہ بنایا)  (ابوداؤد: 3851)

3۔   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ہٰذا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ۔

(تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہے جس نے مجھے یہ کھلایا اور رزق عطا کیا اس کی مدد کے بغیرنہ نیکی ممکن ہے اور نہ برائی سے بچنا) (ترمذی: 3458، ابو داؤد: 4023 )

بہتر یہ ہے کہ مختلف اوقات میں الگ الگ دعائیں پڑھی جائیں، تاکہ ان تمام دعاؤں کی برکت بھی حاصل ہو اور ان کے معانی بھی ذہن میں موجود ومستحضر رہیں، اس لئے کہ تکرار کی کثرت سے اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ الفاظ کی معنویت وتاثیر ذہن سے رخصت ہو جائے یا اس میں کمی آ جائے۔

 

دو اور آداب

 

۱۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پانی ملا ہوا دودھ پیش کیا گیا، آپ کے دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے، آپﷺ نے پی کر باقی دیہاتی کو دیا اور فرمایا: دائیں طرف سے، دائیں طرف سے‘‘(صحیح بخاری: 4619)

۲۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سَاقِی الْقَوْمِ آخِرھُُمْ شُرْبًا

’’لوگوں کو پلانے والا خود آخر میں پئے گا‘‘(ترمذی: 1894، ابن ماجہ: 3434)

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ و سلم

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل