FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

ابو البیَّان ظہور احمد فاتحؔ کا کیف غزل

               شبیر ناقد

انتساب!

                        استادِ محترم پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ

                                    کے نام………!

 

حوالہ تو ہے مری بقا کا

ہے ذکر لازم تری وفا کا

ادب کے تجھ سے چراغ روشن

اٹوٹ ہے تیرا اس سے بندھن

سخن میں تیری مثال مشکل

کسی میں ہو یہ کمال مشکل

ہے شاعری باکمال تیری

نہیں جہاں میں مثال تیری

ہیں تیرے اشعار سب نرالے

جنہیں کریں خوش خلوص والے

غزل تری ہے ادب خزینہ

شعور کا ہے یہ سب خزینہ

ہے نظم بھی تیری گنجِ حکمت

ہے جس میں شامل تِری ریاضت

٭٭٭

 

لکھا تیری بابت بڑی شان سے ہے

رہی مجھ کو نسبت تِری آن سے ہے

ذرا بھی تصنع نہیں ہے بیاں میں

جو لکھا ہے لکھا وہ جی جان سے ہے

٭٭٭

 

ابو البیّان ظہور احمد فاتح ؔ کا سوانحی و فنی تعارف

            تونسہ شریف جو علمی و ادبی اعتبار سے ایک نمایاں مقام کا حامل ہے اور اسی وصفِ جمیل کے باعث یارانِ جہان اسے یونانِ صغیر بھی کہتے ہیں۔ اس شہرِ مالوف میں متعدد اہل علم و دانش نے جنم لیا اور کئی ایسے جواہرِ قابل پیدا ہوئے کہ ایک دنیا ان کی جلالتِ شان کا لوہا مانتی ہے۔ ان میں خواجہ محمد سلیمانؒ تونسوی، خواجہ محمد نظام الدینؒ تونسوی، استاد فیض اللہ فیضؔ تونسوی، فکرؔ تونسوی، خیرؔ شاہ، کہترؔ تونسوی، اقبالؔ سوکڑی، طاہرؔ تونسوی اور ارشادؔ تونسوی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے اول الذکر دو حضرات کا تعلق رُشد و معرفت سے ہے جبکہ باقی ماندہ افراد شعر و ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔

            21مارچ1954بروز منگل شہرِ تونسہ میں عبداللطیف خان سکھانی کے ہاں ظہور احمد فاتح ؔ نے جنم لیا ان کے والد کا پیشہ زراعت و کاشتکاری تھا۔ والدہ خوش مزاج اور ذوقِ لطیف سے متصف تھیں اور گہرے شعری ذوق سے بہرہ افروز تھیں۔ جس کا اثر نومولود کے بچپن اور لڑکپن پر بطورِ خاص ہوا چنانچہ دورانِ طفلی ہی یعنی تیسری چوتھی جماعت سے طبیعت شاعری کی طرف راغب ہو گئی۔

            عبداللطیف خان کا کنبہ شہرسے جنوبی مضافات میں واقع ان کی جھو ک میں منتقل ہو گیا جیسے شیران والا کہا جاتا ہے۔ یہیں کشادہ اور صاف و شفاف فضا میں ظہور احمد فاتح ؔ نے بچپن گزارا۔ یہاں یہ ذکر کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ پیدائشی طور پران کی بینائی کافی کمزور تھی ساتھ ہی شب کوری کا عارضہ لاحق تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے عام بچوں کی طرح ہنستے کھیلتے وقت گزارا۔ ایسا لگتا ہے کہ علم کا شوق ان کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا ہرچند کہ والد عذرِ بصارت کے باعث ان کی تعلیم میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے تاہم وہ از خود ہی پانچ چھ سال کی عمر میں گورنمنٹ پرائمری سکول حیدر والا میں جا داخل ہوئے جوان کی جھوک سے تقریباً ایک کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ ان دنوں اقبال کمالی وہاں استاد تھے جو بعد میں اقبال سوکڑی کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدرسے کے اکلوتے کمرے میں کم و بیش بیس پچیس طلباء پڑھتے تھے جن کا تعلق پرائمری کی مختلف جماعتوں سے تھا ظہور احمد فاتح ؔ کی علمی استعداد دیکھتے ہوئے ان کے استاد نے ان کے والد سے سفارش کی کہ بچہ ذہین ہے، لکھنے پڑھنے کا شوقین ہے لہٰذا اس کا نام باضابطہ طور پر داخل کیا جائے چنانچہ والد نے داخلہ فارم پر دستخط کر دیئے۔

            ان دنوں اقبال کما لی کا نام سرائیکی شاعر کے طور پر شہرت پا رہا تھا اور لوگ ان کے دوہڑے سنا اور گایا کرتے تھے۔ ظہور احمدفاتحؔ نے بھی اقبال کمالی اور کئی دیگر سرائیکی شعرا کے دوہڑے یاد کر لیے تھے۔ جب وہ تیسری جماعت میں پڑھتے تھے انہوں نے خود ایک چھوٹی سی ڈائری تیار کی جس پر سرخ روشنائی سے عشقیہ ڈوہرے لکھے۔ ایک دفعہ بڑے بھائی حمید خان نے ڈائری جھپٹ کر والد صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا لیجئے جناب شہزادے کے ابھی سے یہ رنگ ڈھنگ ہیں۔ والد صاحب مسکرا کے رہ گئے اور کچھ بھی نہ کہا۔ اسی عمر سے ہی علامہ اقبال کی بالِ جبریل پڑھنا اور لہک لہک کر اشعار کی ادائیگی کرنا شروع کر دی۔

دِہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں

تیرے آباء کی نہیں تیری نہیں میری نہیں

            عبداللطیف خان کی جھوک کے مغرب میں نور محمد مبارک والے کی جھوک تھی جہاں ان کی بیوی عائشہ مائی قرآن مجید پڑھاتی تھی۔ اسی سال جب کہ ظہور احمد فاتح ؔ تیسری جماعت میں پڑھتے تھے ان کے پاس جا کر قرآن مجید پڑھنے لگے اور حیران کن طور پر ایک مہینے میں ناظرہ قرآن ختم کر لیا۔ ماجی صاحبہ اور والدین سب خوش ہوئے۔ یہ نصیب کی بات ہے کہ علمِ دین کا شوق ایسا ان کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا کہ کسی کی ترغیب و تلقین کے بغیر ہی نماز سیکھی اور پھر باقاعدہ طور پر پانچوں وقت کی نماز پڑھنے لگے ساتھ ہی قرآن مجید کی تلاوت بھی معمول بنی رہی۔

            چوتھی جماعت تک چاہ حیدر والا میں پڑھائی کی پھر اپنے والدین کے ہمراہ تونسہ میں 1964میں واپس آ گئے۔ والد صاحب نے خیر سے تین شادیاں کی ہوئی تھیں۔ پہلی بیوی سے تین بیٹے تھے جن کے نام عبدالمجید، حمید اللہ اور عبدالقیوم ہیں ، دوسری بیوی جو ان کی محبت کی شادی تھی ان سے اکلوتے ظہور احمد فاتح ؔ پیدا ہوئے اور تیسری بیوی سے ان کی بیٹی بلقیس فاطمہ تھی جس کی شادی بعد ازاں خالد محمود تنگوانی سے ہوئی۔ ظہور احمد فاتحؔ اپنے بڑے بھائیوں سے چمٹے رہتے تھے تاکہ ان سے کوئی علمی بات معلوم ہو جائے۔ علاوہ ازیں نصابی کتابوں کے علاوہ جو کتاب بھی ہاتھ لگ جاتی اس کا مطالعہ ضرور کرتے بلکہ کسی طور یہ حقیقت ان پر آشکار ہوئی کہ وہ خود شعر کہہ سکتے ہیں کیونکہ تیسری جماعت کے دوران انھوں نے ایک شریر لڑکے کو سبق سکھانے کے لیے اس پر سرائیکی میں ایک ہجو لکھی جیسے مقامی طور پر وار کہا جاتا ہے لیکن باقاعدہ طور پر لکھنا غالباً ساتویں جماعت میں اردو زبان میں شروع کیا۔ ایک حمد اور ایک نعت اس وقت کی یادگار ہیں۔ آٹھویں جماعت میں رمضان المبارک کے عنوان سے ایک نظم کہی تھی غزل کا آغاز نویں جماعت میں پہنچ کر کیا تھا اور لکھی ہوئی چیزوں کو ایک کاپی میں جمع کرنا شروع کر دیا تھا جس کانا م گلزارِ خیالات نمبر1رکھا تھا۔ دسویں جماعت 1971 میں پہلی کاپی مکمل ہو گئی اور جب چھ ماہ بعد گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان میں داخلہ لیا تو دوسری کاپی گلزار خیالات نمبر2بھی مکمل ہو چکی تھی۔ کالج ہذا میں الغازی کے نام سے جو کالج میگزین چھپتاتھا، سال اول میں ان کی ایک انگریزی نظم (A Painful Tune) کے نام سے شائع ہوئی اورسال دوم میں ایک غزل چھپی جو ابتدائی غزلوں میں سے تھی اور اس کا مطلع تھا :

کر رہا ہوں رات دن میں آہ کس کی جستجو؟

کس کی یادیں پی گئیں میرے کلیجے کا لہو؟

یہ غیر مردَّف غزل بہت پسند کی گئی اور اکثر طلباء فرمائش کر کے سنا کرتے تھے۔

            1965میں استاد حاجی سردار احمد خان سکھانی جو رشتے میں دادا تھے اور گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 3المعروف کراڑیں والا میں پڑھاتے تھے ان کے زیر سایہ جماعت پنجم کا امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کیا۔ اس دور سے بزمِ ادب کے پروگراموں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 1966میں گورنمنٹ ہائی سکول تونسہ میں داخلہ لیا اور ہردور میں اساتذہ کے منظورِ نظر رہے، چھٹی جماعت میں ایک دفعہ استاد منظور احمد خان لاشاری اسلامیات کاذمیہ کام چیک کر رہے تھے دو تین طلباء ایسے تھے جن کا ذمیہ کام نامکمل تھا اتفاق سے یہ بھی ان میں شامل تھے استاد صاحب نے دوسرے لڑکوں کو تو سزا دی مگر انھیں کچھ نہ کہا اور جواز پیش کیا کہ یہ باقاعدہ طالب علم ہیں جو ہمیشہ ذمیہ کام کر کے آتے ہیں آج کوئی مجبوری ہو گئی ہو گی کہ ذمیہ کام نامکمل رہا۔

            ساتویں جماعت میں تفریح کے پیریڈ میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اقبال نامی ایک طالب علم نے کوئی بدتمیزی کی جس کی پاداش میں انھوں نے اپنے ایک دوست غلام یسین منجوٹھہ کی مدد سے اسے ریت میں دبا دیا۔ تفریح کے بعد استاد خیرمحمد خان سے اقبال نے شکایت کی تو استاد نے الٹا ڈانٹ دیا اور فرمایا ظہور احمد خان ایسا کرہی نہیں سکتے تم بکواس کر تے ہو اور وہ بے چارہ شرمندہ ہو کر اپنی نشست پرجا بیٹھا۔ آٹھویں جماعت کے امتحان میں 671نمبر حاصل کر کے اعلی پوزیشن پائی اور وظیفہ حاصل کیا۔ نویں اور دسویں جماعت میں سائنس کے مضامین اختیار کئے البتہ حیاتیات یا ڈرائنگ کی بجائے زراعت کا مضمون منتخب کیا اور میڑک کا امتحان درجہ اول میں 743نمبر حاصل کر کے پاس کیا۔

            گورنمنٹ ہائی سکول تونسہ شریف میں گزارے جانے والے پانچ سالوں میں بزمِ ادب میں بھرپور حصہ لیا۔ منظومات اور تقاریر میں انعامات بھی حاصل کئے۔ جب دسویں جماعت سے فارغ ہونے لگے تھے تو اس دور کی دو یادگار نظمیں لکھی تھیں ان میں سے ایک کا عنوان’’میرے اساتذہ‘‘ تھا جو ایک طویل نظم تھی دوسری نظم کا عنوان’’الوداع میرے سکول ‘‘تھا۔ یہ بھی خاصی پسند کی گئی اسی طرح گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان میں زیر تعلیم رہنے کے دوران بھی کئی یادگار نظمیں کہی تھیں جن میں سے’’ڈاکٹر نذیر احمد شہید کی یاد میں ‘‘’’سقوطِ ڈھاکہ‘‘ اور’’ خون کے آنسو‘‘ سے معنون نظمیں معرکۃ الآراء ہیں۔ ایک تقریب میں جب سقوط ڈھاکہ والی نظم سٹیج پر اد اکی گئی تو اخبار’’نوائے وقت‘‘ میں یہ سرخی لگائی گئی تھی کہ ظہور احمد فاتحؔ روتے ہوئے آئے اور سب کو رُلاکر چلے گئے۔ کالج تقریبات میں تقریروں اور مباحثوں میں شاندار شرکت رہی اورباربارامتیازی پوزیشنیں حاصل کیں۔ اس زمانے میں چشتیاں بہاولنگر کے گورنمنٹ کالج میں بین الکلیاتی مشاعرہ ہوا۔ اس میں بھی شرکت کی اور خصوصی انعام حاصل کیا۔ پڑھی جانے والی غزل کے دو شعر ہدیۂ قارئین ہیں :

خِرمن ہے جس پہ ہر گھڑی گرتی ہیں بجلیاں

کیا کیجئے تعلق قلب و نظر کی بات ؟

آلامِ روزگار فسردہ دلی جنوں

ایسے میں کیا کرے کوئی فکر و خبر کی بات؟

            انٹرمیڈیٹ کے دوران بینائی کا معائنہ کرانے پر ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اب مزید تعلیم باقاعدہ اداروں میں حاصل کرنے کی بجائے معذور افراد کے اداروں میں حاصل کریں۔ وجہ یہ تھی کہ اس وقت بینائی کمزور سے کمزور تر ہوتے ہوئے کمزور ترین کے درجہ کو چھو رہی تھی۔ حکومت وقت سے اس سلسلہ میں معاونت کی درخواست کی گئی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹروں کا ایک وفد مقر رکیا جس نے پوری توجہ سے بینائی کا معائنہ کیا اور یہ رپورٹ دی کہ ان کا علاج ممکن نہیں ، نہ ملک میں اور نہ بیرون ملک۔ مجبوراًایف اے کے بعد تعلیم ترک کرنا پڑی۔ والد صاحب تو پہلے ہی پڑھانے کے حق میں نہیں تھے۔ اسی طرح چند سال والد صاحب کی گائیں بھینسیں چراتے رہے، 1976میں خدیجہ ناہید سے شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد اہلیہ کے لیے نان و نفقہ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جبکہ والد صاحب بہت سادہ طرزحیات کے قائل تھے اور جدیدتقاضوں کا ساتھ دینے سے قاصر تھے مجبوراً خود انحصاری کی حکمت عملی اختیار کرناپڑی۔

            کچھ دنوں سے کئی کاروباری منصوبے زیر غور تھے اور یہ پہلو بھی زیر مشاورت تھا کہ کاروبار کربھی سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے۔ اکثر احباب کی رائے منفی تھی لیکن ان کی مہم جُو طبیعت اور جنوں پرورفطرت لبیک کر رہی تھی۔

شوق ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

            غوروفکر کے بعد یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیا کہ کاروبار کتابوں کا پیوں کا ہونا چاہئے چونکہ اس میں ناپ تول کا مسئلہ نہیں تھا جو صحت بینائی کا تقاضا کرتا ہے۔ دوسرا مسئلہ سرمائے کی فراہمی کا تھا۔ اس کے لیے یہ قرار پایا کہ اپنے مہربان و قدردان جواحباب ہیں ان سے دو سو روپے فی فرد قرضِ حسنہ لیا جائے۔ کیونکہ والد صاحب نے قحط سالی کا عذر رکھتے ہوئے وعدۂ فردا پر ٹال دیا تھا اور وہ پہلے کئی سال سے ایسا کر رہے تھے چنانچہ ادھر سے مایوسی ہوچکی تھی۔ چھ سات دوستوں اور بزرگوں کے سامنے یہ منصوبہ رکھا۔ اللہ کے فضل سے نتائج حوصلہ افزارہے اورانھوں نے مطلوبہ قرضِ حسنہ عندالطلب ادائیگی کے وعدے پر آسانی سے دے دیا۔ ایک جوڑی کنگن طلائی بیگم نے ازراہِ معاونت پیش کئے اور پانچ سو روپے پنجاب کوآپریٹوبنک کے منیجر شبیر صاحب نے قرضِ حسنہ کے طور پر چھ ماہ کے لیے بنک سے دلائے۔ یوں مجموعی طور پر اڑھائی ہزار روپے اکٹھے ہو گئے جن میں سے پانچ سو روپے کا ایک لکڑی کا کھوکھا (کیبن) خریدا، ایک سو روپے کی ٹین کی چادریں اس پر لگوائیں اور باقی انیس سو کا سامان اپنے سسر بزرگ وار حاجی غلام محمد خوجہ کے ساتھ جا کر ملتا ن سے خریدا اور دوسرے روز اسے کیبن میں سجا دیا اور پہلے روز پچھتر پیسے کی بِکری ہوئی۔ یہ 1977 کی بات ہے۔ کاروبار چل نکلا اوربعد میں جلد سازی ، پین کی مرمت اور لائبریری بھی شاملِ دکان ہو گئی۔ صبح سے شام تک باقاعدگی کے ساتھ کام جاری رکھا جب کبھی قرضِ حسنہ والے حضرات نے تقاضا کیا ان کا تقاضا بھی پورا کرتے رہے، گھر کا خرچہ بھی چلتا رہا اور تین سال بعد یعنی 1980میں اپنا پہلا مجموعہ کلام’’آئینہ دل‘‘ کے نام سے شائع کرالیا۔ ایک دوسال بعد دو ہزار روپے ایڈوانس دے کر ایک کرائے کی دکان حاصل کی اورا س میں سامان شفٹ کر دیا۔ اب ماشاء اللہ بہت سامان رکھنے کی گنجائش تھی۔ اپنے عزیز دوست ڈاکٹر احسان اللہ ترین جن کا تعلق بستی الہ آباد ضلع راجن پور سے ہے انھوں نے سٹیشنری کے چند آئیٹم لا کر بطور تحفہ نوزائید ہ کتاب گھر کے لیے پیش کئے۔ بھائی عبدالقیوم خان نے جو قرضِ حسنہ دیا تھا وہ بھی انھوں نے واپس لینے سے انکار کر دیا۔ باقی احباب جن کے اسماء گرامی حاجی سردار احمد خان سکھانی، ملک سعید احمد بھٹہ، حاجی رحیم بخش کرسی وغیرہ کے قرضِ حسنہ عندالطلب ادا ہو گئے اور یوں کمپنی اپنے ذاتی سرمایہ سے کاروبار کر رہی تھی۔ در اصل کچھ رقم بعد میں والدصاحب نے بھی مہیا فرمادی تھی۔

            1983میں گورنمنٹ ڈگری کالج تونسہ شریف میں پرنسپل پروفیسر شریف اشرف صاحب نے ایک مشاعرے کا انعقاد کیا جس میں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سید آفتا ب احمد شاہ کی صدارت میں ملک کے طول و عرض سے بہت سے شعراء کرام نے حصہ لیا۔ ظہور احمد فاتحؔ بھی اس میں شریک ہوئے۔ اتفاق سے عین اس لمحے جب صدر مجلس وارد ہوئے بجلی چلی گئی۔ چنانچہ انھوں نے اپنی غزل کا ایک شعر صدرِ مجلس کی نذر کرتے ہوئے رنگ جما یا:

ایسا مانوس ہوا ہوں شبِ تاریک سے میں

تیری آمد پہ بھی قندیل جلائی نہ گئی

            شعر تیر و نشتر کی طرح دل میں اتر گیا۔ شاہ صاحب نے مشاعرہ کے بعد میزبان پرنسپل صاحب سے دریافت کیا کہ فاتح صاحب کیا کرتے ہیں۔ جواب ملا کہ چھوٹا سابک سٹال چلاتے ہیں۔ کہا گیا او ہو پھر تو بڑی مشکل ہوتی ہو گی۔ ایسا ہے کہ مکتب سکیم نئی نئی متعارف ہوئی ہے۔ میں اس کا چیئرمین ہوں۔ میں ان کے آرڈرز کئے دیتا ہوں ان سے کہیے گاکہ وہ اسے اپنے لیے وظیفہ تصور کریں۔ چنانچہ پرنسپل صاحب نے اسناد منگوا کر شاہ صاحب کی طرف بھجوادیں اور ایک ہفتے کے اندر ٹیچر مکتب سکول کے آرڈرز موصول ہو گئے۔ کم وبیش ڈیڑھ سال تک اس خدمت پر مامور رہے۔ اسی اثنا میں بی اے کا امتحان دیا، دکان میں جو پڑھے لکھے دوست آ کر بیٹھتے تھے ان سے بی اے کے نصاب کی کتابیں پڑھوا کر سنتے تھے اور پھر امتحان کے لیے کاتب کی منظوری حاصل کر لی۔ یہ کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ دراصل بی اے کاداخلہ بھیجتے وقت ناظم امتحان کے نام کاتب رکھنے کی اجازت طلب کی گئی تھی، پرچے سے ایک دن قبل ناظم کی چٹھی موصول ہوئی، جس میں خود پیش ہونے اور میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی تاکیدکی گئی تھی۔ جمعہ کا روز تھا ملتان پہنچتے پہنچتے دس گیارہ بج گئے ،دفتر ناظم میں داخل ہوئے تو موصوف چھٹی کر کے گھر جارہے تھے۔ راستے میں انھیں روک کر ماجرا بیان کیا انھوں نے کہا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا دراصل ہسپتالوں کے ماہرینِ امراض چشم بھی جا چکے تھے لہٰذا ناکام آنا پڑا۔ ایک دو پرچہ ناظم امتحانات کی منظوری کے بغیر سپرنٹنڈنٹ کی اجازت سے کاتب رکھا، اس کے بعد باقاعد ہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ کاتب کے کاغذات سمیت درخواست جمع کرادی اور یوں امتحان کا مرحلہ سر کیا۔ بی اے میں محمد شریف کاتب تھے نتائج سے چند روز قبل ناظم امتحانات کا مراسلہ ملا جس میں موصوف نے جواب طلب کیا تھا کہ کاتب کی پیشگی منظوری کے بغیر امتحان دینے کی پاداش میں آپ کے پرچے منسوخ کیوں نہ کر لیے جائیں۔ جواب میں لکھا گیا’’اس وقت جب کہ راقم سخت بیمار ہے مکتوب مزید اعصاب شکن ثابت ہوا جس کے باعث مرض میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔ دراصل اس میں سارا قصور آپ کا ہے پہلے پرچے سے صر ف ایک دن پہلے آپ نے مطلوبہ مواد طلب کیا وہ بھی جمعہ کادن تھا آپ سے ملا قات بھی ہوئی تھی مگر آپ نے کسی قسم کی مروت کا مظاہرہ نہیں کیا وہ صورت حال کافی پریشان کن تھی پرچے بھی چھوڑے نہیں جا سکتے تھے ذرا دیر سے ہی سہی سائل نے آپ کا مطالبہ پورا کر دیا۔ صرف اس وجہ سے کہ معمولی سی تاخیر کیوں ہو گئی ایک معذور امیدوار کے پرچے منسوخ کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ آپ کو معلوم نہیں کہ راقم نے امتحان کی تیاری اور امتحان میں شرکت کے لیے کتنی مشکلات کا سامنا کیا‘‘۔

            بعد میں پتا چلا کہ ایک بھر پور مقدمہ زیر سماعت رہا۔ ناظم امتحانات اور اس کا عملہ مخالفت کر رہا تھا البتہ وائس چانسلر کی ہمدردیاں امیدوار کے ساتھ تھیں۔ کلرکانہ ذہنیت کو مات ہوئی مروت جیت گئی اور جب نتائج کا اعلان ہوا تو ظہور احمد فاتح ؔ درجہ اول کے ساتھ بی اے میں کامیاب قرار پائے اور یونیورسٹی میں پوزیشن حاصل کی۔

            اب حوصلے بلند ہو چکے تھے۔ جی چاہا کیوں نہ اسی اندازمیں ایم اے کا امتحان دے دیا جائے۔ دو چار ماہ کی مختصر تیاری کے بعد ایم اے اسلامیات کا داخلہ بھی دے دیا گیا۔ ساتھ ہی اذنِ کاتب کے لیے عذرِ بصارت کا سرٹیفیکٹ بھی پیشگی جمع کرا دیا چنانچہ جب رول نمبر سلپ موصول ہوئی تو ساتھ ہی کاتب رکھنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔ محمد شفیق نے اس با رکاتب کی خدمات انجام دیں۔ ایم اے کا امتحان ملتان میں رہ کر دینا پڑا۔ الحمداللہ پرچے بہت اچھے ہو گئے البتہ ایک پرچہ اسلام اور فلسفہ خود ساختہ حل کرنا پڑا کیونکہ اول تو اس کا نصاب بہت طویل تھاپھر درجنوں فلسفیوں کے حالات و نظریات آپس میں ایسے گڈ مڈ ہوئے کہ کچھ یاد نہ رہا۔ خوف تھا کہ کہیں اس پرچے کی وجہ سے مار نہ کھاجائیں لیکن اللہ کی شان جب نتیجہ نکلا تو اس پرچے میں سب سے زیادہ یعنی69نمبر حاصل کیے۔ مالکِ قدّوس کی مہربانی سے ایم اے کا امتحان بھی درجہ اول میں سر ہو گیا۔ اب تو خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ 1986میں اخبار میں انسٹرکٹر  اسلامیات برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی آسامیاں مشتہر کی گئی تھیں جن میں عمر کی حد 35 سال رکھی گئی تھی اور امتحان بھی زبانی ہونا تھا۔ سبحان اللہ اس کے لیے فوراًدرخواست جمع کرادی۔

            یہ جنرل ضیاء الحق کا زمانہ تھا انھوں نے معذور افراد کے لیے نیا نیا کوٹہ مقرر فرمایا تھا جس کے لیے مطلوبہ سرٹیفکیٹ تیار کرالیا گیا اور نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ انٹرویو میں شریک ہونے کے لیے مقرر وقت پر پہنچ گئے۔ متعدد حضرات اور ایک خاتون پر ماہرین کا گروپ مشتمل تھا، بڑے مشکل سوال پو چھے گئے اور بڑے اعتماد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں ان کے جوابات دیئے گئے۔ خاتون انٹرویور نے بھی خوب ٹھوک بجا کر جائزہ لیا اور کافی دیر تک استفسار کرتی رہی۔ وہ سب خاصے متاثر نظر آتے تھے۔ پندرہ بیس دن کے بعد ایک دوست نے خوشخبری سنائی کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے اور آپ چوتھے نمبر پر کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر مسرت کی کوئی حدنہ رہی چونکہ مطلوبہ پانچ آسامیوں میں سے ایک آپ کے نام ہوچکی تھی۔ کم و بیش ایک ماہ بعد گورنر پنجاب کا مراسلہ موصول ہوا جس میں کامیابی کی نویدسنائی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ آپ انسٹرکٹر اسلامیات کی آسامی کے اہل قرار پائے گئے ہیں۔ چند روز بعد ایک اور مکتوب موصول ہوا جس میں پوسٹنگ کے لیے ڈائریکٹوریٹ ٹیکنکل ایجوکیشن میں حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی تھی وہاں حسنِ اتفاق سے پروفیسر بشیر قیصرانی صاحب موجود تھے۔ حال و احوال کے بعد معلوم ہوا کہ دو اداروں میں انسٹر کٹراسلامیات کی آسامیاں خالی ہیں۔ ایک گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ راجن پور اوردوسرے گورنمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھکر۔ پروفیسر بشیر صاحب سخت پریشان ہوئے اور انتخاب کو دو تین بار تبدیل کیا۔ وجہ پوچھنے پربتایا کہ دونوں اداروں کے پرنسپل سخت مشکل لوگ ہیں۔ اول الذکر انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل ذوالفقار اسلام سخت وہمی اور سنکی طبیعت کے آدمی تھے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہ تھے۔ مؤخر الذکر کے پرنسپل ارشاد احمد قریشی بھی بہت سخت اور ٹیڑھے آفیسر تھے مجبوراً انہیں قبول کرنا پڑا اور ان کے ادارے میں 31مئی 1986 کو جائننگ دینے کے لیے جا پہنچے۔

            پہلے ہی روز ارشاد صاحب نے ہاتھ دکھا دئیے۔ ہوایوں کہ آپ نے اپنا تعارف کرایا اور اپنے آرڈر انہیں پیش کئے تو انہوں نے ان کاجائزہ لیتے ہوئے فرمایا ان پر ربنگ کی گئی ہے اور مشکوک لگتے ہیں لہٰذا نئے آرڈرز لے آؤ۔ انھوں نے عرض کیا کہ ٹیلی فون کر کے تصدیق کرالیں ، بڑی رُکھائی سے جواب دیا یہ ٹیلی فون آپ کے لیے رکھا ہوا ہے۔ لا جواب ہو کر واپس آ کر سٹاف روم میں بیٹھ گئے۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا روزہ رکھا ہوا تھا مئی کی گرمی شباب پر تھی ایسی حالت میں لاہور جانا ااور پھر واپس آنا کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ عالمِ پریشانی میں سر نہوڑائے بیٹھے تھے اتنے میں ادارہ کے سینئر پروفیسر گل امیر ملک صاحب تشریف لے آئے اور باعثِ پریشانی پوچھنے لگے۔ صورتِ حال پوچھنے سے انھیں باخبر کیا تو کہنے لگے نہ جی نہ، انسانی ہمدردی بھی کوئی چیز ہوتی ہے میں ابھی جا کر ان سے بات کرتا ہوں۔ دراصل موصوف ایک بااثر انسان تھے اور پرنسپل ان کا بڑا لحاظ کرتا تھا۔ آرڈرز لے کر چلے گئے اور کچھ دیر بعد ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے واپس آ گئے۔ سبب پوچھنے پر بتایا کہ میں نے پرنسپل کو ٹیلی فون کرنے پر آمادہ کر لیا۔ انھوں نے ڈائریکٹر کا نمبر ملایا دوسری طرف سے ہیلو ہوئی تو کہنے لگے جناب یہ ظہور احمد فاتحؔ کے آرڈرز ہیں ان پر ربنگ ہوئی ہے اور کچھ مشکوک لگتے ہیں۔ دوسری طرف سے ڈانٹ پلائی گئی۔ کتی کے بچے ہمارے آرڈرز تمہیں مشکوک لگتے ہیں شرم نہیں آتی۔ ڈائریکٹرمنیر شیخ گرج رہے تھے۔ ارشاد صاحب نے سوری سرکہہ کر ریسیور رکھ دیا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے آرڈرز لے کر 28مئی کی جائننگ درج کر دی۔ کہا گیا 28تاریخ کو آرڈرز جاری ہوئے اور آپ نے اُسی تاریخ کی جائننگ ڈال دی تو کہنے لگے کوئی بات نہیں بائی ایئر بھی تو پہنچ سکتے ہیں۔ اب فرمائیے ہنسنے والی بات نہیں توکیا ہے۔ سرائیکی میں کہتے ہیں ’’جنگھ بھجدی بھجے اگیں کنیں چنگی ول لگے‘‘ اللہ کا شکر ادا کیا کہ گھمبیر مسئلہ حل ہو گیا۔

            ایک اور بات جو بڑی خوش کن تھی اور جس کی آج تک سمجھ نہ آسکی یہ تھی کہ 28 مئی کو نکلے ہوئے آرڈرز کیسے بطور خاص ایک ڈرائیور کے ذریعے 29مئی کو میرے پاس پہنچ گئے اور یوں اسی سال ہی سالانہ ترقی کے مستحق قرار پائے حالانکہ سرکاری آرڈرز ڈاک کے ذریعے آتے ہیں اورایسا ہوتا تو آرڈرز جون کی دو تین تاریخ کو ملتے اوریوں سالانہ ترقی کا استحقاق ضائع ہو جاتا۔ پنجابی میں ٹھیک ہی کہتے ہیں ’’جینوں رب رکھے اونوں کون چکھے‘‘ بہرحال بارہاقدر ت کی ایسی عنایتوں پر سپاس گزاری کے مواقع فراہم ہوئے۔

            کچھ روز بھکر میں فراغت سے گزرے۔ درحقیقت پرنسپل صاحب متاثر ہو چکے تھے شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ڈائریکٹر ظہور احمد فاتحؔ کے رشتہ دار یا مہربان و قدردان ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی عمومی عادت کے برعکس جس میں اپنے ماتحتوں کو زچ کرنا معمول ٹھہرا تھا ان سے صرفِ نظر کر رہے تھے بلکہ ملاطفت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ جلد ہی گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان ہو گیا اور شاداں و فرحاں تونسہ پلٹ آئے گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ڈیڑھ ماہ کا عرصہ چھڑے رفقائے کار کے ساتھ ہانڈی والی رہی خوب ہنسی مذاق میں وقت گزرا۔ اسی اثنا بچی پیدا ہونے کی خبر موصول ہوئی چھٹی لے کر گھر آئے اور کچھ دن گزار کر بیوی بچوں سمیت بھکر واپس آ گئے۔ دراصل جانے سے پہلے کرائے کااک مکان لے لیا تھا اوراس میں منتقل ہو گئے۔ یہاں آٹھ ماہ مزید مزے سے گزرے۔ ادارے کے سب رفقاء بھی بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ علمی و ادبی حیثیت کا بھی بہت اکرام کرتے تھے ادارہ کی تقریبات کے انچارج مقرر ہوئے خوش طبعی کے باعث طلباء گرویدہ تھے کئی طلباء جو قریب ہی رہتے تھے گھر کا سودا سلف بھی خرید لاتے تھے۔ وہاں کئی لوگ شاعری کے فن میں شاگرد بھی ہوئے ان کی خوب آمدورفت رہتی تھی۔ ان میں سے تنویر زائر سید ساجد حسین ساجد اور ان کے بھائی سید عابد حسین عابد کے نام قابل ذکر ہیں۔ وہاں بھکر میں اک قومی مشاعرے میں بھی شرکت کی تھی اسی ناطے خیال امروہی اور بیدل حیدری سے ملاقات ہوئی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں اہل و عیال واپس تونسہ لے آئے اور خود تبلیغی جماعت کے ہمراہ چلہ لگانے کے لیے رائے ونڈروانہ ہو گئے۔ جب چلے کی تشکیل مکمل ہو گئی تو تبادلے کی نیت سے لاہور پہنچے وہاں امریکن سنٹرچچا زاد بھائی خالد کریم خان سے ملاقات کی۔ انھوں نے پوچھا کیسے آنا ہوا عرض کی تبادلے کی غرض سے، پوچھا ٹیکنیکل ایجوکیشن سے تعلق ہے۔ جواب دیاجی ہاں ، کہا ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ڈپٹی سیکریٹری امریکہ جا رہے ہیں۔ ان کا کام ہمارے ہاں پھنسا ہوا ہے درخواست لائیے۔ ابھی پندرہ منٹ میں تبادلے کے آرڈرز آجاتے ہیں انھوں نے دفتر کے اہل کار کے ذریعے درخواست تبادلہ بھجوادی۔ چائے منگوالی بس اتنی دیر گزری ہو گی کہ ہم نے چائے پی اور مختصر گفتگو بھی کی۔ اللہ کی شان تبادلے کے آرڈرز خالد کریم خان کے ہاتھ میں تھے۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ اتنی آسانی سے دوہرا تبادلہ ممکن ہوا۔ دراصل تونسہ سے انسٹرکٹر اسلامیات علامہ فریدی صاحب کا تبادلہ کوٹ ادو کروانا تھا پھر اس کی جگہ اپنا تبادلہ بھکر سے تونسہ کرانا پڑا سو اللہ کی مدد سے یہ مشکل کام انجام پا گیا۔ دراصل اللہ کے دین کے لیے ہم نے وقت لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وہ خوشی ہمارے لیے ایسا خصوصی سبب پیدا کر دیا۔

            1987میں تونسہ شریف گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں آ گئے اور یہاں بڑی محنت اور خلوص سے خدمات سر انجام دیتے رہے یہیں بطور سینئر انسٹرکٹر گریڈ اٹھارہ میں ترقی ہوئی۔ یہیں بطور پرنسپل گریڈانیس میں پرموشن ملی اور اب بطور چیف انسٹرکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

            پرنسپل شپ کے دوران بڑی کامیابی سے انتظامی امور نبھائے وہ لوگ جو کام چوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے وہ بھی پوری توجہ سے روبکار نظر آئے۔ وہ کلر ک جن سے طلباء او ر عملہ تنگ تھا وہ بھی سب کو راضی کرنے میں کوشاں نظر آئے، وہ لائبریرین جو شاذو نادر لائبریری کھولتا تھا بھی باقاعدگی سے لائبریری کھولنے لگا۔ اللہ کے فضل و کرم سے سب کچھ باضابطہ اور باقاعدہ ہو گیا۔ طلباء کے مسائل فوری طور پر حل ہونے لگے لیکن گردش افلاک محوِردوبدل رہتی ہے کچھ لوگوں کی کوشش سے ڈیرہ غازی خان تبادلہ کرادیا گیا۔ اس حرکت پر ہائی کورٹ چلے گئے اور ہائی کورٹ کی مداخلت کے باعث ڈیرہ غازی خان والی چیف انسٹرکٹر پوسٹ تونسہ منتقل کر دی گئی۔ ہمیشہ ہمت اور خلوص سے پڑھایا اور بہتر نتائج حاصل کیے مستقل طور پر انچارج تقریبات بھی رہے اور مثالی تقریبات ہوتی رہیں کالج کونسل کے بھی ممبر ہیں نیز سنیاریٹی کے اعتبار سے بھی پہلے نمبر پر ہیں۔

            کالج اوقات کے علاوہ بھی آرام سے نہیں بیٹھتے۔ گھر میں ایم اے کی طالبات کو باقاعدہ پڑھاتے رہتے ہیں۔ ان میں ایم اے اسلامیات، سیاسیات، مطالعہ پاکستان اور عربی، فارسی وغیرہ شامل ہیں۔ بیٹھک پر شعر و ادب کے تلامذہ استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ شہر تونسہ اور اس کے مضافات کے درجنوں شاگردوں کے علاوہ دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے شاگردانِ ادب کی ایک بڑی تعداد اکتساب فیض کرتی رہتی ہے۔ ظہور احمد فاتحؔ ایک استادِ جواد ہیں۔ اپنی ذات میں ایک فعال ادارہ ہیں۔ اپنے شاگردوں کوپیشیاں دینے کے قائل نہیں چاہے۔ جس حال میں بھی ہوں آنے والوں کو مرحبا کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ کسی اجنبی طالب علم و ادب کو بھی مایوس کرنے کے روادار نہیں چنانچہ تلامیذِ ادب کی تعداد ساٹھ ستر سے بھی تجاوز ہے۔ ایک ادبی تنظیم’’بزمِ فروغِ ادب‘‘ کے نام سے تشکیل دی جو کم وبیش ربع صدی تک گرم عمل  رہی مگر آج کل جمو د سے دوچار ہے۔

            استاد محترم علمی و ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ انھوں نے رفاہی کام بھی شدومدسے انجام دیئے ضرورت مندوں کی اخلاقی و مالی امداد کے علاوہ رہنمائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی بیٹھک گویا ایک ریسورس سنٹر ہے جب بھی کسی کو کسی نوعیت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اس کی نسبت سے خود حاضر ہو کر یا ٹیلی فون کے ذریعے معلومات حاصل کرتا ہے۔ انھوں نے بہبودِ عوام کے لیے ایک سماجی ادارہ بھی قائم کیا، جس کا نام انجمن فلاح و اصلاحِ معاشرہ ہے۔ یہ بھی کم وبیش ایک چوتھائی صدی سے محو خدمت ہیں جس کے تحت سپورٹس کلب دار المطالعہ مرکز فنی تربیت وغیرہ قائم رہے مرکز فنی تربیت سلائی، کڑھائی، کٹائی اور اس طرح کے فنی کام سکھائے جاتے ہیں۔ ایک مرکز بیوگان بھی قائم رہا جس میں بیوہ خواتین کو فنی تربیت کے ساتھ ساتھ انھیں وظائف سلائی مشینوں اور اسناد سے نوازا گیا۔ مظلوم لوگوں کی حق رسائی کے لیے ایک اور ادارہ تنظیم انسدادِ مظالم کے نام سے قائم کیا جس میں نوجوانوں کی تعمیری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مظلوم لوگوں کی امداد کی گئی اور ظالموں کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ بزم فروغ ادب کے تحت بڑے بڑے مشاعرے بھی کرائے گئے خود بھی مختلف شہروں میں ہونے والی نشستوں اور مشاعروں میں شریک ہوتے رہے۔ اب بھی جہاں کہیں مدعو کیاجاتا ہے وہ شعری وادبی پروگرام ہو چاہے نصابی و مذہبی برنا مج ہوں ان میں بخوشی شرکت فرماتے ہیں۔

            ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ بے پناہ ذہنی استعداد رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے اشعار کی تعداد تادم تحریر ستر ہزار کے قریب ہے جن سے سو سے زیادہ شعری مجموعے ترتیب پا سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنی ہر کاپی کا نام گلزار خیالات رکھا ہوا ہے اس کے ساتھ ہی اس کا نمبر ہے۔ اس وقت گلزار خیالات نمبر 102جاری ہے۔ ان کے اشعار کی تعداد ستر ہزار سے زائد ہو گی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے غزل، نظم، قطعات، رباعی، مثنوی، مثلث، مخمس، مسدس اور نظم کی جملہ ہئیتوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ سنجیدہ شعر بھی کہتے ہیں اور مزاحیہ بھی، جمالیاتی شاعری بھی کی ہے، قومی اور مذہبی شاعری بھی کی۔ رومان ان کے سخن کا توانا حوالہ ہے، احساس غم بھی موجزن ہے اور سرشاری کی کیفیت بھی نمایاں ہے۔ ان کے ہاں زبردست قسم کا شعری شعور متلاطم نظر آتا ہے جو معیار و مقدا ر کی نسبت سے لاثانی ہے۔ ان کے ہاں لفظیات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ جس سے طالبان ادب کے لسانی معیار میں ترقی ہوتی ہے۔ رفعتِ تخیل اور ندرتِ بیان ان کا خاصہ ہے موضو عاتی تنوع بے حدو بے حساب ہے۔ بعض احباب انھیں ادب برائے ادب کے خانے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کا کلام پکار پکار کر یہ کہہ رہا ہے کہ میں ادب برائے زندگی کا بھی وکیل وضامن ہوں۔

            ظہور احمد فاتحؔ کی شاعری کا سوادِاعظم اردو میں ہے لیکن جولانیِ طبع اس پہ ہی اکتفا نہیں کرتی۔ بہت کچھ مادری زبان سرائیکی میں بھی لکھا ہے لیکن یہاں تک محدود نہیں رہے ،پنجابی، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بلوچی زبان سے نا بلد ہونے کے باوجود بھی اپنے ایک شاگرد غلام قادر خان بزدار کی مدد سے بلوچی شاعری کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا۔ عام طور پر دو چار زبانوں میں لکھنے والے شاعر کو شاعرِ ہفت زبان کہتے ہیں مگر استادِ فن حقیقتاً شاعر ہفت زبان ہیں۔ ان کے شعری نمونے جو مختلف زبانوں میں ہیں حسب موقع پیش کیے جائیں گے۔

            جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ 1980میں ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’آئینہ دل ‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور یوں تحصیل تونسہ کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر قرار پائے۔ پھر 1993میں ’’عکاسِ فطرت‘‘ کے نام سے معروف بلوچ شاعر علی محمد چگھاؔ کے بلوچی کلام کا منظوم اردو ترجمہ زیور اشاعت سے آراستہ ہوا۔ 1995میں ’’ہفت رنگ ‘‘ کے نام سے مختلف بلوچی اصناف کا ترجمہ مختلف شعرا کے حوالے سے منظر عام پر آیا۔ 2004میں ’’ساری بھول ہماری تھی‘‘ کے زیر عنوان اردو غزلوں اور نظموں سے عبارت شعری مجموعہ اشاعت پذیر ہوا۔ 2005میں ’’سنہرے خواب مت دیکھو‘‘ سے معنون اردو غزلیات و منظومات پر مشتمل ایک اور کتاب چھاپی گئی۔ 2006میں ’’حمدیہ‘‘ شاعری پر مشتمل شعری مجموعہ بعنوان ’’روح ترے مراقبے میں ہے‘‘ مشرف بہ اشاعت ہوا۔ 2007میں نعتیہ کلام’’سلام کہتے ہیں ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ 2008میں ’’کچھ دیر پہلے وصل سے‘‘ کے ٹائٹل کا ایک مجموعہ کلام اردو غزلوں اور نظموں پر مشتمل چھاپا گیا۔ 2009میں پہلا سرائیکی مجموعہ کلام’’اساں بہوں دور ونجناں اے‘‘ کے نا م سے منصہ شہود پر آیا اور  2010میں ’’محراب اُفق‘‘ کے نام سے موسوم ایک مجموعہ غزلیات شائع ہوا جو قدیم ادبی روایت کی پاسداری کر تے ہوئے ردیف و ار مدون کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شائع شدہ شعری مواد کل تخلیقات کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔ دیدہ بایدکہ ہنوز کتنے شعری مجموعے پایانِ حیات تک شائع ہو پاتے ہیں۔ دعا ہے کہ مالک القدوس انھیں حیات خضر عطا فرمائے تاکہ اپنا طویل المیعاد اشاعتی منصوبہ خود اپنی زیر نگرانی پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

            ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ نے صرف اردو نظم پر ہی شفقت نہیں کی بلکہ اردو نثر بھی دامن فیض سے بہرہ افروز ہے۔ انھوں نے اخبارات میں مختلف سماجی و ادبی مضامین اور کالم لکھے۔ انبیائے قرآن کے حوالے سے بھی ایک کتاب رقم کی۔ علاوہ ازیں مختلف تقاریر و مباحث اور نثر لطیف کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا۔ ان کا عظیم نثری کارنامہ ادبی زبان میں محتاط ترجمہ قرآن بمع حواشی ہے جو فاتحؔ الکلام کے نام سے عنقریب زیور طباعت سے مزین ہونے والا ہے۔

            ایک اور بات قابل ذکر یہ بھی ہے کہ مختلف اوقات خواتین و حضرات اپنی نصابی و غیر نصابی ضروریات کے تحت شذ ور و مضامین لکھواتے رہتے ہیں جن کا نہ کوئی ریکارڈ ہے نہ کوئی حساب۔ تاہم یہ وسیع کاوشیں جو کسی وقت بھی کسی اہل نظرو خبر کی توجہ کے فیض سے کتابی روپ دھار سکتی ہیں۔ مزید برآں بہت سی شعری و نثری کتابوں کے پیش لفظ بھی اس استاد فن نے تحریر کیے ہیں جو ادبی دنیا میں گراں بہا اضافہ ہیں۔ مختلف ادباء و شعراء کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بھی مضامین قلم بند کئے اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ عین ممکن ہے اس نوع کی نگارشات مستقبل میں مجتمع ہو کر ایک عظیم ادبی اثاثے کی اساس بن جائیں۔

            پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ ایک ریسرچ سکالر بھی ہیں۔ منتخب اردو کتب سیر ت کا تقابلی جائزہ کے عنوان سے اسلامیات میں ایم فل کر چکے ہیں اور اب سرسید احمد خان کے خطباتِ احمدیہ کا ناقدانہ جائزہ کے زیر عنوان پی ایچ ڈی میں فاضل محقق ہیں اور مختلف اوقات میں ایم اے کے تحقیقی مقالات بھی ان پر قلم بند کیے گئے ہیں۔ جن میں سے شازیہ عطاء کا انگریزی شذرہ:”A life is struggle not complain”  سے معنون ہے اور شمع نورین کا اردو مقالہ ’’زندگی ہے سعی پیہم شکر ہے شکوہ نہیں ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ جن میں استاد محترم کی حیات اور فنی امکانات کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی وسیع و عمیق شخصیت کے طویل و عریض فنی افکار کا بسیط و مفصل جائزہ لینے کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کا تحقیقی کام کیا جائے۔ علاوہ ازیں ناقدین فن کے لیے صلاح عام ہے کہ جناب فاتحؔ کی کتابوں اور ہنر پر مبسوط تنقیدی کام کریں۔

ہے اگر مطلوب درد و حُزن کی منظر کشی

اے مغنی فاتحِؔ فن کار کے نغمے الاپ

٭٭٭

 

ظہور احمد فاتحؔ جمالیاتی احساسات کا شاعر

            ویسے تو لفظ شاعر ایک ایسی دنیا کا عکاس ہے کہ جس پر نگاہ پڑتے ہی شعور احساسات حسن و عشق سے ہمکنار ہو جاتا ہے اور شعریت کی کومل کیفیت رگ و پے میں سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ادب کا یہ نمائندہ ایک نمائندہ ادب تخلیق کرنے والا ہوتا ہے اس کے خیالات میں ترفع اور احساسات میں گہرائی ہوتی ہے تاہم یہ کیفیت مختلف سخنوروں میں کم یا زیادہ پائی جاتی ہے۔ آج میرا سرنامہ موضوع ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کی شاعری کا تجزیہ جمالیاتی احساسات کے حوالے سے ہے۔

            خدا کے فضل و کرم سے راقم الحروف کو وافر شوقِ مطالعہ بخشا گیا ہے اور کثرت سے شعرائے کرام و ادبائے عُظّام کی نگارشات کی تلاوت کی ہے مگر جو جمالیاتی ذوق مجھے جناب فاتحؔ کے ہاں نظر آیا کہیں اوراس قدر وفور سے دکھائی نہیں دیا کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اظہار جمال ہی ان کے کلام کا مستقل حوالہ ہے دراصل ان کا کلام اس قدر وسیع و عریض ہے جس پر بحرِ ذخائر ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ ان کا شاگردِ ادب ہونے کی نسبت سے مجھے بہت نزدیک سے ان کے شعری تبحر کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہے اور پھر ان کے کلام کا جائزہ دقتِ نظر سے لینے کی سعادت نصیب ہوئی ہے جو تہہ در تہہ، پہلو در پہلو پھیلتا چلا جاتا ہے۔

            ایک مضمون کے اقتضائے اختصار کے باعث ان کے کلام کا مکمل احاطہ یا سواداعظم تو خارج از امکان ہے کیونکہ اس کے لیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہو گی۔ تحقیقی انداز کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت ایک اکائی کے طور پر جناب فاتحؔ کے دسویں شعری مجموعے ’’محراب افق‘‘ میں سے ردیف الف کی غزلیں میرے زیر نظر ہیں جن کی کل تعداد اٹھارہ ہے۔ ان میں سے بارہ غزلیں ایسی ہیں جوان کے جمالیاتی احساسات کی شاہد عادل ہیں۔ چند اشعار پہلی غزل میں سے ملاحظہ ہوں :

غنچہ لب چٹک رہا ہو گا

لالہ تن مہک رہا ہو گا

بزمِ دل کو اُجالنے کے لیے

روپ موتی دمک رہا ہو گا

پیت سنگیت پیش کرنے کو

ان کا کنگن کھنک رہا ہو گا

صبح کا ملگجا سا چھایا ہے

ان کا آنچل ڈھلک رہا ہو گا

ذرا استعارات کی خوبصورتی ملاحظہ ہو:

غنچۂ لب، بزمِ دل، روپ موتی، پیت سنگیت وغیرہ کیا دلکش جمالیاتی منظر نامہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کی اگلی غزل کے چند اشعار دیکھئے :

وہ بُرا تھا کہ بھلا جیسا تھا

خوش ادا اہل وفا جیسا تھا

وہی مہکار وہی نرم روی

سارا انداز صبا جیسا تھا

صورتِ ابر تھے گیسو اس کے

اُس کا آنچل بھی گھٹا جیسا تھا

کیسے اس بُت سے ہماری بنتی

جس کا پندار خدا جیسا تھا

جس کے باعث تیری محفل چھوٹی

وہ بلاوا بھی قضا جیسا تھا

کیوں نہ ہاتھوں میں رچایا تم نے

خون کا رنگ حنا جیسا تھا

ہم بھی فاتحؔ سے ملے تھے یارو

ہر سخن جس کا دعا جیسا تھا

            مختصر بحر کی حامل یہ غزل گویا تشبیہات کا فن کدہ ہے جس میں شاعر کی فنی چابکدستی اپنی کرشمہ کاری کا معترف کر دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ غزل محبوب کے حسن و جمال کا قصیدہ ہے اس کی خوش ادائی اہل وفاسے نسبت رکھتی ہے جو اس کے تمام حسن و قبح پر محیط ہے اس کی مہکار اور نرم روی بالکل صبا جیسی ہے۔ وہ ابر جیسے گیسو وہ گھٹا جیسا آنچل وہ خدائی پندار اس کے تجمل کی دلیل ہے یہاں تک کہ شمیم چمن بھی اس کے کوچے کی ہوا جیسی ہے ایسے محبوب سے بچھڑنا پیامِ قضا نہیں تو کیا ہے۔ ایسے دلدار کا درویش اپنے لبوں پر حرفِ دعا جیسا کلام نہ رکھے تو کیا کرے۔

             ایک اور غزل کے دو شعر ہدیہ قارئین ہیں :

آئے مئے شہزادی آئے

کب سے خالی جام ہے اپنا ؟

سچ ہے اپنا قبلہ فاتحؔ

عشق خلوص امام ہے اپنا

            پہلے شعر میں مئے کے لیے شہزادی کا استعارہ ایک دلچسپ ندرت ہے اور اس کی آمد پر مرحبا کہنا گویا ملکۂ عالیہ کو خوش آمدید کہنا ہے اور اگلا مصرع اس کی شدید طلب کا بھرپور اظہار ہے۔ شعر ثانی میں سچ کو قبلہ قرار دینا اور عشق اور خلوص کو اپنا امام ٹھہرا نا شاعر کی جستجوئے جمال کا منہ بولتا شاہکار ہے۔ ایسی ہی دلنشیں حقیقتیں اعتبار ذوق ہوا کرتی ہیں۔ نکاتِ زریں افتخارِ ادب قرار پاتے ہیں۔

             ان کی ایک اور غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

پتنگے جان دے کر پیار کا اظہار کرتے ہیں

کوئی ان کو سکھا دے عاشقانہ گفتگو کرنا

ضرورت سے زیادہ انکساری بھی نہیں اچھی

مِرے فاتحؔ سدا تم فاتحانہ گفتگو کرنا

            شاعر رنگیں نوا یقیناً دیدہ بینا ہوا کرتا ہے جس کی وسعتیں اور باریک بینیاں شعر و ادب کی جان ٹھہرتی ہیں۔ پروانوں کی جاں سپاری ہو یا شاعر کی خوش گفتاری ہر پہلو محلِ نظر رہتا ہے اور اس پر بس نہیں اپنے قیمتی مشوروں سے بھی ضرور نوازا جاتا ہے مثلاً یہ کہ اگر پروانوں کو عاشقانہ گفتگو کا ہنر آ جائے تو انھیں اپنی قیمتی جانیں گنوانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسی طرح انکساری کے با وصف فاتحانہ گفتگو کرنے پر قادر ہے تو گویا سونے پر سہاگہ ہو جائے۔ اس پر لطیفہ یہ بھی ہے کہ فاتحانہ گفتگو کو فتوحات حیات کی کلید قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کی اگلی غزل کے اشعار کا جائزہ لیجئے :

مطلوب تمھیں ساجن جب موت ہماری ہو

پھر زلف کے پھندے سے آزاد ہمیں کرنا

لانا نہ کبھی آنسو ہنستی ہوئی آنکھوں میں

ہر اور طریقے سے ناشاد ہمیں کرنا

دیکھے نہ حزیں کوئی اس چاند سے چہرے کو

اے دوست گزارش ہے کم یاد ہمیں کرنا

            یہ اشعار حسنِ محبوب اور اہلِ دل کی سوگواری کا شاندار مرقع ہیں۔ شاعر اپنی موت کا راز زُلفِ محبوب کے پھندے سے رہا ہونے کو ٹھہرا رہا ہے اس لیے گزارش کر رہا ہے کہ اس کا دوست اسے کم یاد کیا کرے حالانکہ عاشق تویہ چاہتے ہیں کہ انھیں ان کا محبوب زیادہ سے زیادہ یاد کرے چنانچہ اس خوف سے کہ اس کا چاند سا چہرہ غمگین نہ ہو وہ اپنی فطری خواہش کو قربان کر رہا ہے گویا بیانِ حسن کے ساتھ حسن بیاں کے تقاضے بھی پورے کئے جا رہے ہیں نیز طلبِ حسن کے علیٰ الرغم حسن طلب بھی اپنی شان دکھا رہا ہے۔

            استادِ فن کی یہ غزل دیکھئے:

جب وہ خلدِ نظر ہمارا تھا

قابل دید گھر ہمارا تھا

پوچھنے پر حنا کا نام لیا

خونِ دل ہاتھ پر ہمارا تھا

لوگ سمجھے کہ فصلِ گل آئی

شوخ زخمِ جگر ہمارا تھا

کوئی آنچل نہ پونچھنے کو بڑھا

چہرہ اشکوں سے تر ہمارا تھا

اپنی پرواز تا بہ سدرہ تھی

کہکشاں سے گزر ہمارا تھا

            یہ اشعار بھی جمالیاتی ذوق کی عمدہ مثال ہیں محبوب کو خلدِ نظر کہنا اور پھر اسی پر گھر کی آبادی کا انحصار گویا اس کے التزام کی دلیل ہے۔ اس سے آگے والے اشعار حسنِ تعلیل کے آئینہ دار ہیں۔ ان میں ان کا خوبصورت فکری اسلوب جھانکتا نظر آتا ہے۔ اگلی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں :

آنسو کا ڈھلکنا ہمیں کیوں ہوتا گوارا

انمول نگینہ تھا انگوٹھی میں جڑا تھا

کیا پورا اترتا کوئی میزان سخن پر

فاتحؔ تری تنقید کا معیار کڑا تھا

            اشک کو انمول نگینہ قرار دینا اور آنکھ کو انگوٹھی سے تشبیہ دینا پھر نگینے کا انگوٹھی میں جڑا ہونا اور اس جڑاؤ کے باعث آنسو کا ڈھلکنا گوارا نہ ہونا بھی ایک دلکش احساس تجمل کی دلیل ہے اس غزل کا مقطع بھی کسی شاہکار سے کم نہیں۔ تنقیدِ شعر بھی کسی وجدانی عمل سے کم نہیں جیسے میزانِ سخن کا نام دیا گیا ہے اور ایک کڑے معیار کی بات کی گئی ہے۔ جس پر بہت کم لوگ پورے اترتے ہیں گویا ذوق جمال حسن محبوب اور حسن ماحول سے تجاوز کرتا ہوا حسنِ تنقید تک جا پہنچا ہے۔ اس کے بعد والی غزل کا یہ مطلع بھی دامن توجہ کھینچ رہا ہے۔

چمن تھا اس کی ادا پہ حیراں فقیر تیرا عجیب سا تھا

دمِ تبسم تھا مثل غنچہ دمِ فغاں عندلیب سا تھا

            اول تو فقیر کی چمن سے وابستگی مشیرِ خوش ذوقی ہے پھر اس کی اداؤں کا چمن سے ہم آہنگ ہونا اور زیادہ تحسین آمیز ہے۔ مثلاً غنچے کی طرح مسکرانا اور بلبل کی طرح فریاد کرنا یہ ایسے عوامل ہیں جن سے احساسِ جمال کی خبر ملتی ہے اور جناب فاتحؔ کی اس غزل کے دو اشعار دیکھیں :

تمھارا عہد ناقص تو نہیں تھا

مگر اس پر ہمیں ہی کم یقیں تھا

غزل سمجھے اسے یارانِ محفل

مرے لب پر ترا ذکرِ حسیں تھا

            کسر نفسی ایک شخصی خوش ادائی ہے پھر محبوب کے مقابلے میں اس کا اظہار اور زیادہ دلنشیں ہو جاتا ہے۔ جانِ من تمھارا عہد خام نہیں تھا بلکہ قصور ہمارا ہے کہ ہم اس پر کم یقین رکھتے تھے۔ اس طرح اگلا شعر بھی اسی جمالیاتی احساس کا مظہر ہے۔ غزل ویسے بھی صنف لطیف ہے لیکن یہ کہہ کر اسے لطیف تر کر دیا کہ حقیقت میں میرے لب پر یار کا ذکرِ جمیل تھا مگر اہل محفل کو کیا کہیے کہ وہ غزل سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح ایک ذکر خاص ذکر عام بن گیا استادِ ہنر کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں :

وہ پاؤں چھونے کے لیے بچھ بچھ گئے گلاب

ان کا خرامِ ناز تھا رقص صبا نہ تھا

تیرا تھا عکس ہر طرف تیری شبیہ تھی

دل کا یہ فن کدہ تیرا آئینہ خانہ تھا

            ان کے قدموں کو چھونے کے لیے گلاب راہِ یار میں بچھتے چلے گئے کیونکہ ان کا خرام ناز ہی ایسا تھا جو رقص صبا سے بڑھ کر تھا جس کے باعث پھول مجبور پابوسی ہو گئے۔ اگلے شعر میں شاعر یہ اظہار کرتا ہے کہ جہاں میں جس طرف دیکھا تیرا ہی عکس تھا اور تیری ہی صورت نظر آتی تھی گویا ہمارے دل کی آرٹ گیلری آئینہ خانہ بنی ہوئی تھی اور ہر آئینے میں دوست کے جلوے دکھائی دے رہے تھے۔ اب اسے عشق حقیقی پر محمول کیجئے یا عشق مجازی کا نام دیجئے، شاعر حسن یار کے بادہ جاں فزا سے سرشار ہے اور حرف حرف مدحت محبوب کا آئینہ دار ہے۔ لفظ لفظ احساسِ جمال کا پر تو ہے۔ آگے آنے والی غزل کا سواداعظم کسی خوبصورت احساس کا پتہ دیتا ہے۔

مری حیات کے افق پہ اس طرح وہ چھا گیا

کہ میری ذات کو مری نگاہ سے چھپا گیا

ہزار چاہتوں کے باوجود بھی نہ رک سکا

مثال ماہ عید آیا صورت صبا گیا

غضب کا کرب ہم نے پایا اس کے شعر شعر میں

وہ کون تھا ابھی یہاں سے جو غزل سرا گیا

زمین و آسماں پہ ہیں محیط جس کی وسعتیں

وہ حسن میرے دامن خیال میں سما گیا

تھیں کتنی ندرتیں کلامِ فاتحؔ فنون میں

وہ ایک لفظ میں تمام داستاں سنا گیا

            پہلے شعر میں محبوب کے غالب و حاوی ہونے اور شاعر کو خود فراموشی تک پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے گویا وہ جمالِ ظاہر و باہر کس قدر توانا و آفاقی ہے کہ اس کے مقابلے میں احساس ذات بھی معدوم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگلے شعر میں عاشق محبوب کو روکنا چاہتا ہے مگر وہ ہے کہ رُکتا ہی نہیں شاعر اس کے آنے کو ہلال عید کا آنا قرار دیتا ہے جو ذرا سی دیر کے لیے اُفق پر رونما ہوتا ہے اور اس کے جانے کو صبا کے جانے سے تشبیہ دیتا ہے جو آتے ہی چلی جاتی ہے ذرا دیر بھی نہیں رکتی۔ اس کے بعد والا شعر ایک عجیب کیفیت کا حامل ہے کہا گیا ہے کہ سخن ور کا ایک ایک شعر کرب سے لبریز تھا۔ ایسی خوبصورت غزل کہنے والا کون ہو سکتا ہے یقیناً یہ حضرت فاتحؔ ہی ہو سکتے ہیں اس کے بعد والا شعر واضح طور پر احساسِ جمال کا عکاس ہے، اک ایسا حسن جس کی وسعتیں زمین و آسمان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں وہ میرے دامنِ خیال میں سما گیا ہے۔ مقطع میں شاعرانہ تعلی لائی گئی ہے کہ فاتحِؔ فنون کا کلام کس قدر نُدرت آفریں ہے جس سے عجیب و غریب پہلو نکلتے ہیں۔ ایک ندرت یہ بھی ہے کہ اس استادِ ہنر  نے ایک لفظ میں پوری داستان کہہ ڈالی ہے۔ یہ جو ایجاز و اختصار کی یک گونہ کرشمہ کاری ہے۔

            لیجئے اب اس سلسلہ کی آخری غزل زیر مطالعہ لاتے ہیں :

یہ کیا ہوا کہ زلف کا بادل بکھر گیا

آنکھوں میں اشک آ گئے کاجل بکھر گیا

مدت کے بعد خاک نے اوڑھی قبائے سرخ

کس کا لہو تھا جو سرِ مقتل بکھر گیا ؟

ہر سمت پھیلتے گئے قوس قزح کے رنگ

شاید نگاہ میں تیرا آنچل بکھر گیا

خوشبو ترے خلوص کی تن من پہ چھا گئی

رگ رگ میں تیری یاد کا صندل بکھر گیا

کتنی کڑی سزا ملی ذوقِ جمال کی

پروانہ چوم کر لبِ مشعل بکھر گیا

            شعر اول اگرچہ زوال حسن کی طرف دال ہے مگر بین السطور غضب کی جمال بینی ہے زلف کو بادل سے تشبیہہ دے کر اسے بکھرانا اور آنکھوں میں اشک لا کر کاجل کا انتشار دکھانا بھی کسی مرقع سازی سے کم نہیں۔ شعرِ ثانی میں خاک کو لا ل قبا اوڑھانا اور تزئینِ مقتل کا عنوان قرار دینا نیز اس کے لیے مقتول کا احسان مند ہونا تجمل کی نظیر بے نظیر ہے۔ شعرِ ثالث میں محبوب کے آنچل کے رنگوں کے حوالے سے بات چھیڑی گئی ہے کہ آنچل کا لہرانا گویا رنگوں کا پھیلنا ہے اور ان پھیلتے ہوئے رنگوں سے قوس قزح کا ترتیب پانا کس قدر دلآویز ہے۔ شعرِ اربع میں خلوص کی خوشبو ایک دلکش حوالہ ہے جو دل و جان پر محیط ہو گئی۔ اس طرح یاد جاناں کے مہکتے جھونکوں کو صندل کا استعارہ پہنانا بھی کچھ کم تحسین آمیز نہیں شعر خامس میں براہ راست ذوق جمال کی نسبت سے بات کی گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ذوقِ جمال ہی کسی جُرم سے کم نہیں چونکہ پروانے نے لب مشعل کا بوسہ لینے کی جسارت کی تو خاکستر بن کر بکھر پڑا۔

            مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اپنے شاعر ممدوح ایک عمیق و وسیع احساسِ جمال کے مالک ہیں۔ ان کا مذاقِ جمالیات دور دور تک کار پرداز نظر آتا ہے۔ کہیں حسنِ محبوب کے حوالے سے، کہیں جمالِ کائنات کی نسبت سے، کہیں تحسینِ حالات و واقعات کے تناظر میں اور کہیں تجملِ واردات و محسوسات کی بوقلمونی اپنا رنگ جماتی نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بسا اوقات حرف و الفاظ کو بھی اس طرح آراستہ و پیراستہ کر کے اور سنوار سنوار کر اشعار کی مالا میں پروتے ہیں کہ لعل و زمر داُن پر رشک کرتے ہیں۔ بریں بنا استادِ فن ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کو قدرت نے بے انتہا احساس جمال سے نوازا ہے۔ گویا ان کا شعری قالب حسنِ فطرت، حسنِ محبوب، حسنِ کلام اور حسنِ بیان سے عبارت ہے۔ یہاں تک کہ وہ درد و غم اور آزمائش و ابتلا کو بھی خوبصورت جامہ پہنا کر دلکش بنا دیتے ہیں اور یہی معراج ہے ایک سچے سخنور کے حسن بیان کی۔ وما توفیقی الا باللہ۔

٭٭٭

 

پروفیسر ظہور احمد فاتح شاعر عرفان و آگہی

            حضرتِ انسان کو جس چیز نے مسجودِ ملائک ٹھہرایا وہ یقیناً علم ہے جسے دانش اور عرفان و آگہی بھی کہا جاتا ہے۔ عرفان کی کئی منزلیں ہیں عرفانِ ذات، عرفانِ کائنات اور عرفانِ خالقِ کائنات۔ وہ انسان یقیناً منازلِ آگہی سے بہرہ افروز ہے جو اِن مدارج کا وسیع ادراک رکھتا ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم استاد ظہور احمد فاتح کے سخن کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کلام میں سوادِ عرفان و آگہی عروج پر ہے وہ بین السطور علم و آگہی کے ایسے ایسے چراغ روشن کرتے چلے جاتے ہیں جو دور دور تک نور پاشیاں کرتے ہیں۔

            آئیے اب ہم ان کے کلام کے آئینے میں نکاتِ علم و دانش کا جائزہ لیتے ہیں اور یہاں ہم سب سے پہلے ان میں علم و عرفانِ خالق و مالک موجزن پاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جگہ جگہ حمدیہ کلام اور جذبات سپاس گزاری دامنِ توجہ کھینچ لیتے ہیں۔ وہ حُبِّ الٰہی اور احساسِ تشکر سے سرشار نظر آتے ہیں۔ قدرت کا ملہ کی کرشمہ کاری اور مخلوقات کا عجز اِن کے اشعار میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے شعر ی مجموعے ’’روح تیرے مراقبے میں ہے‘‘ کی پہلی حمد کے چند اشعار بطور استشہاد لا رہے ہیں :

میرا خالق میرا مالک میرا داتا تو ہے

میرے بگڑے ہوئے سب کام بناتا تو ہے

وقتِ آسانی تجھے یاد کروں یا نہ کروں

یاد مشکل میں بڑے زور سے آتا تو ہے

عجز اپناتے ہیں جو ان پہ کرم کرتا ہے

سرکشی کرتے ہیں جو ان کو مٹاتا تو ہے

جو توانا ہیں انہیں دیتا ہے پیغامِ اجل

موت کے منہ میں ہوں جو ان کو بچاتا تو ہے

تو ہی افتادہ و درماندہ کو دیتا ہے کمال

اونچے اڑنے لگیں جو ان کو گراتا تو ہے

تو اگر چاہے تو ہنس پڑتے ہیں رونے والے

تیری منشا ہو تو ہنستوں کو رلاتا تو ہے

سرنگوں جو ہوں انہیں قرب عطا کرتا ہے

وہ جو مغرور ہوں سر ان کے جھکاتا تو ہے

اس کا دل لگتا نہیں عالمِ رنگ و بُو میں

جس کے آئینۂ ادراک پہ چھاتا تو ہے

            دیکھا آپ نے ان حمدیہ اشعار میں کیسی ہمہ گیر ندائے فطرت ہے کس قدر عمیق اظہارِ بندگی ہے کیسی دلآویز توحید آموزی ہے۔ کیا تقویٰ اور توکل ہے۔ کس نوع کی وجدان آمیزی ہے اور کیسا بھرپور احساسِ عجز و نیاز ہے۔ گویا جو کچھ ہے اُس ذات اعظم و اعلیٰ کی بدولت ہے۔ یہاں تک کہ شاعر کی آموزشِ سخن بھی اسی کی عطا ہے۔ یہ ہے عرفان و آگہی کا ایک عدیم النظیر پہلو جو جناب فاتح کا حصہ ہے۔

            اب ہم آگاہی کی ایک اور منزل یعنی عرفان ذات و حیات کے حوالے سے کلامِ حضرتِ فاتح پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ اس وقت ان کا دسواں شعری مجموعہ’’ محرابِ اُفق‘‘ ہمارے ہاتھ میں ہے اور ردیف ’’ب ‘‘ردیف ’’ن‘‘ تک کی غزلیں ہمارے زیر نظر ہیں ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

وصل ہو یا ہجر پل پل اضطراب

زندگی کیا ہے مسلسل اضطراب

شاعر نے صرف ہجر کو ہی موجبِ بے قراری نہیں ٹھہرایا بلکہ ان کی چشم معرفت بین وصل میں بھی یک گونہ بے تابی دیکھتی ہے بلکہ وہ حتمی نتیجے کے طور پر پوری زندگی کو ایک مسلسل اضطراب ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا یہ شعر دیکھئے :

خود کو گم کر دے کسی آزار میں

ہے تری تکلیف کا حل اضطراب

دانش و واقفیت کا کمال ہے کہ ایک حکیمِ حاذق کی طرح مرض کا معائنہ کرتے ہوئے تشخیص و علاج کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور مزے کی بات ہے کہ علاج بالمثل تجویز فرما رہے ہیں یعنی اگر کوئی شدید بے چینی میں مبتلا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ خود کو کسی خوفناک تکلیف سے دو چار کر دے۔ بالکل اسی طرح جیسے بادشاہ کی کشتی میں بیٹھے ہوئے غلام نے چیخ پکار کی تو کسی دانا شخص کے مشورے پر اسے دریا میں غوطہ دے دیا گیا پھر جب نکال کر کشتی میں بٹھایا گیا تو بڑے سکون سے بیٹھا رہ گیا۔

            اگلی غزل کا یہ شعر دیکھئے :

گرا ہے خونِ شہیداں جہاں جہاں فاتحؔ

اُبل پڑے ہیں اسی نقش سے عیونِ حیات

شہادت سے ہمکنار ہونے والے لوگ محسنِ ہستی ہوا کرتے ہیں۔ ان کی مثال پا رس کی سی ہوتی ہے جو لوہے کو کندن بنا ڈالتا ہے۔ خونِ شہید اں بھی جن جن مقاماتِ خاک پر نوازش کرتا ہے وہاں سے زندگی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہ ایسی بات ہے جو گہری معرفت رکھنے والا شخص ہی کہہ سکتا ہے۔

            جنابِ فاتح کا یہ سخن پارہ ملاحظہ ہو:

خندہ بلب ہے آج اک خنجر بدست شخص

جس ہاتھ میں قلم تھا قلم ہو گیا وہ ہاتھ

قلم ایک اعجاز ہے ایک طاقت ہے جس سے جبر خائف رہتا ہے ظلم گریز پا نظر آتا ہے لہٰذا جابر قوتیں اس پر چیرہ دست ہونا چاہتی ہیں یہ کشاکش و آویزش جاری و ساری رہتی ہے۔ اکثر قلم اپنا لوہا منواتا نظر آتا ہے اور اہلِ قلم غالب و مستولی نظر آتے ہیں لیکن کبھی کبھی موقع پاکر اہلِ سیف اہلِ قلم کا قلع قمع کر ڈالتے ہیں اور یہ ساعت ان کے لیے بے پایاں مسرتوں کی ہوتی ہے کہ پھر کوئی انھیں لعن طعن کرنے والا اور عار دلانے والا نہیں ہوتا چنانچہ انھیں کھُل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ اس میں بڑی فرحت محسوس کرتے ہیں۔ گویا یہ شعر اس آگاہی کا حامل ہے کہ اہلِ قلم کا وجود غنیمت ہے اور ان کی غیر موجودگی یا بے چارگی معاشرے کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

            حضرتِ فاتح کے اس شعر کا جائزہ لیجئے :

عامِ نادانی میں تھا دن کا سکوں ، راتوں کی نیند

ہوش آتے ہی گیا دن کا سکوں ، راتوں کی نیند

گویا نادان لوگوں کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ مزے سے خوابِ خرگوش کے مزے لیتے ہیں جب کہ اہلِ خرد کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے وہ سوچوں اور پریشانیوں میں گھرے رہتے ہیں ،نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ مثل مشہور ہے ’’عقل نہیں تو موجیں ہی موجیں عقل ہے تو سوچیں ہی سوچیں ‘‘

            بیان کی یہ صورت ملاحظہ ہو:

بہاتی ہے وہاں چشمِ فلک بھی خون کے آنسو

جہاں غارت گری کرتا ہے کوئی پاسباں ہو کر

            اپنے منصب سے وفا نا گزیر ہے اپنے فرض سے کھوٹ قابلِ مذمت ہے۔ یہی عرفان یہاں کا ر فرما ہے کہ جہاں کوئی انسان پاسباں ہو کر غارت گری کرتا ہے اس کی اس بے داد پر چشمِ فلک بھی آنسو بہاتی ہے گویا یہ صورت حال بے حد نا گوار اور المناک ہوتی ہے۔

            ذرا یہ رومان پرور شاہکار دیکھئے:

صحرا صحرا عشق کی وحشت، حسن کی شوخی گلشن گلشن

دریا دریا پیار ہمارا، روپ تمہارا جوبن جوبن

شاعر کے ادراکات حدِ انتہا کو چھو رہے ہیں۔ وسعتِ مشاہدہ کمالِ تجربہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عشق کی وحشتیں صحرا بہ صحرا عام ہو چکی ہیں۔ حُسن کی شوخیاں گلشن در گلشن رنگ سامانیاں کر رہی ہیں۔ ان حالات میں ہماری محبتیں دریا دریا موجزن ہیں اور تمہاری زیبائی اور رعنائی پورے جوبن پر ہے اور ہمہ عالمِ شباب اس کا شاہدِ عادل ہے۔ اس عالمِ بے رنگ و بو میں ایسی بشارت سنانا گویا تنِ مُردہ میں رُوح پھونکنے کے احساس کے مترادف ہے۔

            عالمِ امروز کے حوالے سے آموزگارِ سخن کا یہ شعر کتنا صداقت آمیز ہے:

توبہ توبہ کیا ہے عالم ، شیشۂ دل ہے کرچی کرچی

واقف واقف آج نہیں ہے ، آج نہیں ہے ساجن ساجن

            عصرِ حاضر کا یہ رنگ ڈھنگ کہ آشنا آشنا نہیں رہا۔ دنیا کا یہ مبنی بر سردمہری رویہ شیشۂ دل کو کرچی کرچی کر رہا ہے۔ الحفیظ و الامان۔

            عرفانِ ذات کے حوالے سے غزل کا مقطع لائقِ صد ستائش ہے۔ آپ بھی حظ اُٹھائیے:

فاتح فاتحِ غم تھا لیکن آج ہے افسردہ ، افسردہ

زخمی زخمی قلب حزیں ہے دیدۂ تر ہے ساون ساون

            دورِ جدید کی المناکیوں کا عکاس یہ شعر بلا کی آگہی خود میں سموئے ہوئے ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ فاتحؔ جیسا انسان جسے فاتحِؔ غم کا مقام حاصل ہے وہ بھی آج اُداس وسوگوار نظر آتا ہے۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ دلِ غمگیں مجروح ہو چکا ہے اور آنکھ اشکوں سے تر بہ تر رہنے لگی ہے۔ سیل گریہ ساون کی بارش کی طرح ہو گیا ہے۔ گویا دنیا صرف دُکھوں کا گھر نہیں بلکہ آماجگاہ ہے اور دُکھ بھی معمولی نہیں ہو تے بلکہ غیر معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اگر اسی ادراک کو انسان گرہ باندھ لے تو یہ بڑے بڑے حوادث کو بھی خاطر میں نہیں لائے گا۔

            ایک خوشگوار احساسِ ذات کا حامل اُن کا یہ شعر دیکھئے:

یہ راز ہے کہ گریزاں ہیں ظلمتیں مجھ سے

میں چاندنی کی طرح شہر میں اُترتا ہوں

یعنی انسان اگر اپنی ہستی میں حسن و نورانیت پیدا کر لے تو سیلِ ظلمات بھی اس سے کنارہ کر کے گذرتا ہے۔ اندھیرے اُس معاشرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جس میں ایسے روشن ضمیر اور خوش طینت لوگ رہتے ہوں۔

            شاعرانہ تعلی کا حا مل یہ مقطع بھی زیر غور لائیے:

مرے عمل سے پریشاں ہے اہرمن فاتحؔ

قلم کو نیزہ بنا کر جہاد کرتا ہوں

            انسان کو رب العزت نے بڑی صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے۔ ان خوبیوں میں سے ایک خوبی حیاتِ مجاہدانہ ہے۔ جہاد تلوار سے بھی کیا جاتا ہے اور قلم سے بھی۔ ایک شاعر و ادیب کا جہاد عموماً قلمی جہاد ہوتا ہے اور اس میں بھی وہ طاقت و توانائی ہوتی ہے کہ شیطانی قوتیں اس کے مقابلے میں سیماب پا نظر آتی ہیں۔ گویا سخنور کو اپنے قلم کی طاقت کا اندازہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اُس کی بدولت وہ بڑی بڑی طاغوتی قوتوں کو شکست دے سکتا ہے۔

            اب فاتحؔ جی کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

راکھ بن جاؤں گا جب پا نہ سکوں گا تجھ کو

تیری چاہت میں سرِ طُور نکل آیا ہوں

            حُجتِ عشق ، عشق کے عرفان کا مظہر یہ شعر خود میں زبردست اپنائیت اور خودسپردگی کی کیفیت خود میں سموئے ہوئے ہے یعنی اب محبت کی وہ ابتدائی سٹیج نہیں رہی جس میں واپسی قرینِ قیاس تھی۔ اب تو عشق منزلِ طُور پر جا پہنچا ہے اور خاکستر ہونا اُس کا مقدر ہو چکا ہے۔ اگر محبوب کی تجلی میسر ہو بھی اور اگر نہ ہو تو پھر بھی۔ مراد یہ ہے کہ ایسے آخری مراحل میں پلٹنا تو درکنار شیرازۂ حیات کو مجتمع رکھنا بھی محال ہو جاتا ہے۔

            لیجئے آموزگارِ ادب کا یہ شعر پڑھئے:

جنم دن سے عدم دن تک اذیت میں پلا ہوں میں

نہیں خائف کسی غم سے مصائب آشنا ہوں میں

            اس شعر میں اول تو شاعر اپنی حیات کو از آغاز تا انجام اذیتوں کا مجموعہ قرار دیتا ہے جو خاصی تکلیف دہ صورتِ حال ہے ،ثانیاً اس اولوالعزمی کا مظاہرہ کیا ہے کہ میں اس صورت حال کا خوگر ہو چکا ہوں۔ کیونکہ میری طبیعت مصائب آشنا ہے۔ یہاں آشنا کا لفظ روشناسی کے ساتھ ساتھ دوستی کا مشیر بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی سے دوستی ہو جاتی ہے تو ایک طرح کا احساسِ مانوسیت پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے اسداللہ غالبؔ نے فرمایا تھا:

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں

کسرِ نفسی اور عاجزی کے پہلو کا حامل ظہور احمد فاتحؔ کا یہ شعر کس قدر دل نشیں ہے:

نہیں آئے قرینے دلنوازی کے مجھے اب تک

تجھے ناراض کر دیتا ہوں میں ، کتنا بُرا ہوں میں

            عام طور پر اپنی تنقیص اور اعترافِ قصور کی کیفیات شاذ و نادر دیکھی جاتی ہیں لیکن انہوں نے کھلے دل سے تسلیم کیا ہے کہ ابھی تک میں خود میں دلنوازی کے قرینے پیدا نہیں کر سکا بلکہ کبھی کبھی اپنے محبوب کو خفا کر بیٹھتا ہوں۔ میں کتنا بُرا ہوں کہ جسے ہر حال میں خوش رکھنا چاہیے تھا از راہِ غفلت اُسے ناخوش کر دیتا ہوں۔ درحقیقت اعترافِ گناہ کا یہ پہلو کیسا دلآویز ہے جس کی داد بجز معافی اور کوئی ہو نہیں سکتی۔ جیسے باوا آدمؑ نے لغزشِ بہشت کے بعد مالک حقیقی سے مناجات کی تھیں :

            رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا۔ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَO

            قدرِ ذات کے حوالے سے اُن کا یہ مقطع دیکھئے:

میرے احباب سنگریزہ سمجھتے ہیں مجھے فاتحؔ

اگر وہ قدر پہچانیں تو دُرِ بے بہا ہوں میں

            زمانے والے اصحابِ فضل و کمال کی قدر نہیں کرتے۔ اسی بات کا شکوہ شاعر نے اپنے اس مقطع میں کیا ہے کہ اہلِ دنیا مجھے سنگریزہ سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ قدر دانی کا مظاہرہ کریں تو یہ بات اُن پر آشکار ہو جائے کہ میں ایک انمول موتی ہوں جو نصیب والوں کے حصے میں آتا ہے۔

            کچھ شناسائی کی عمدہ مثال اُن کا یہ شعر ہے:

میرا اپنا مسئلہ کوئی نہیں بین السطور

رکھ کے تیری ذات کو مدِ نظر لکھتا ہوں میں

            یعنی سخنور کو اپنے کسی مسئلے کی مطلق پرواہ نہیں ہے۔ اس کے پیش نظر محض ہستیِ محبوب ہے جس کا حوا لہ اُس کا ہر مصرع بنتا ہے۔ اگر محبوب کو خوش دیکھتا ہے تو ساری دنیا اُسے تبسم ریز نظر آتی ہے۔ اور اگر روئے یار افسردہ و آزردہ ہو تو تمام عالم اداس وسوگوار نظر آتا ہے۔

جاں چھڑکتا ہے جنوں افکارِ دانش پر مِرے

اس طرح اسرارِ تکریمِ بشر لکھتا ہوں میں

            یہ شعر عرفانِ ذات کا ایک عمدہ حوالہ ہے۔ جس میں اس ادراک کا اظہار ہوتا ہے کہ فرموداتِ شاعر کے ایسے نکاتِ زریں ہیں جس کے باعث اُس کا مرتبہ محبوبِ زماں تک جا پہنچتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ تکریمِ بشر کے اسرارِ زریں قلمبند کرتا ہے اور اس کی یہ رمز اہلِ جمال کو اتنی پسند ہے کہ وہ اس پر اظہارِ عقیدت و محبت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

            ظہور احمد فاتحؔ کا یہ شعر بھی دامنِ التفات کھینچتا نظر آتا ہے:

لازم ہے توقیر دلوں کی

دل موتی ہیں دل شیشے ہیں

            اس فن پارے میں تکریمِ دل کی بات کی گئی ہے جو جانِ آگہی ہے کیونکہ یہی دل ہیں جو موتی کی طرح خوبصورت اور قیمتی ہیں۔ یہی دل ہیں جو جام نوشیناں ہیں جن سے جامِ جم بھی خجل ہیں۔

            جناب فاتحؔ صاحب کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

جسم ہیں انساں کے عاری پوشاکوں سے

قبروں پر زربفت چڑھاوے ملتے ہیں

            سماج کے دوہرے معیار کی بہترین عکاسی اُن کے اس حصۂ کلام میں ہو رہی ہے۔ ایک طرف مفلوک الحال طبقہ ہے جس کے ابدان لباسوں کو ترستے ہیں جبکہ دوسری طرف نام نہاد دیوتا صفت لوگ ہیں جن کی قبروں پر سونے کے تاروں سے بنے ہوئے چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔

            اسی طرح فرق ظاہر و باطن کا نمائندہ حضرتِ فاتحؔ کا یہ شعر دیکھئے:

لوگ بظاہر خوش خوش لگتے ہیں فاتحؔ

لیکن دل میں درد کے لاوے ملتے ہیں

            گویا شاعر اس کیفیت سے بخوبی آگاہ ہے اور اپنے سخن کے ذریعے یہ واقفیت عام کر رہا ہے کہ لوگ بظاہر خوش و خرم نظر آ تے ہیں لیکن اگر دقتِ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اُن کے سینوں میں آتش فشاں پہاڑوں کی طرح درد کے لاوے اُبلا چاہتے ہیں۔ لہٰذا کسی ہنستے مسکراتے چہرے سے اس فریب میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اُسے کوئی غم ،کوئی پریشانی ،کوئی دکھ اور کوئی پچھتاوا نہیں ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ اس کا اندر آلام کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

            اسی نوعیت کا ایک اور شعر بھی ہے جو اُن کے ذاتی حوالے سے ہے:

اُتر رہے ہیں مِرے دروں میں غموں کے پیکان درحقیقت

اگرچہ ظاہر میں غم نہیں ہے ، اگرچہ میں مسکرا رہا ہوں

            غمِ محبوب کی نسبت سے اُن کا یہ شعر دیدنی ہے:

شکستِ ذات کا مجھ کو کوئی ملال نہیں

یہی ہے رنج کہ اپنا تمہیں خیال نہیں

            یعنی اے دوست!اگر میری ذات شکست و ریخت میں مبتلا ہے تو اس کا مجھے حاشا و کلا کوئی دکھ نہیں۔ اگر افسوس ہے تو اس امر کا ہے کہ تجھے اپنی کوئی فکر نہیں ہے۔ خارزارِ جہاں میں تو اپنا ذرا بھی خیال نہیں رکھتا حالانکہ تیری ذات بہت قیمتی ہے، تیری ہستی مغتنم ہے، تیری جان جانِ محفل ہے۔ لہٰذا تجھے اپنا خصوصی خیال رکھنا چاہئے۔

            جادۂ اخلاص کی عظمت کا عکاس ظہور احمد فاتح کا یہ شعر بھی ہے:

مٹا کوئی تو ، ہوا اور معتبر فاتح

رہِ خلوص میں مٹنے کا احتمال نہیں

            اس مقطع میں خود سے مخاطب ہو کر خود آموزی کے انداز میں سخنور محوِ گفتگو ہے کہ اخلاص کی وہ عظیم منزل ہے کہ اس میں اگر کوئی محو بھی ہو جائے تو اور اُجاگر ہو جاتا ہے۔ اس جادۂ اعتبار میں مٹنے کا کوئی اندیشہ دل میں نہیں لانا چاہئے۔

            اسے آپ شاعرانہ تعلی قرار دیں یا رفعتِ ذات کا ادراک سمجھیں۔ اُن کا یہ شعر ہر اعتبار سے بھرپور تاثر کا حامل ہے:

خلوتوں میں جلوتوں کا ہم نے پایا ہے سرور

ہم وہاں پر بزم آرا ہیں جہاں کوئی نہیں

            گویا خدا نے ہمیں ایک طُرفہ طبیعت بخشی ہے جس کے با وصف ہم تنہائیوں میں بھی محفلوں کے مزے لوٹتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے آس پاس بظاہر کوئی نہیں ہوتا پھر بھی ہم اپنے پندارِ ذات میں انجمن آرا ہوتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی مترشح ہوتا ہے کہ ہماری بزم آرائیاں وہاں تک ہیں جہاں تک کسی اور کی رسائی ممکن نہیں۔ گویا ہر معنی میں یہ شعر بے مثال ہے۔

            علیٰ ہذاالقیاس پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کا کلامِ بلاغت نظام اکثر و بیشتر ایک آدرش کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ جس کے دروبست میں مقصدیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس کے باوجود بھی بہت سے حضرات اُن کی شاعری ادب برائے ادب کے زمرے میں لاتے نظر آتے ہیں۔ ہم انہیں بھی یکسر غلط نہیں کہتے کیونکہ تخلیقِ ادب میں گلستانِ ادب کی آبیاری بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ اور جناب فاتحؔ کے نزدیک شاعر و ادیب کا یہ بھی ایک فرضِ منصبی ہے کہ وہ تلامیذِ ادب کے لئے ادب آموزی کے امکانات روشن کرتا چلا جائے۔ لیکن ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سخن دان موصوف کا کلام ادب برائے زندگی بھی لاریب ہے۔ کیونکہ اُن کا اندازِ بیاں بصدائے چنگ اس امر کا غماز ہے کہ انہیں مقصدیت بہت عزیز ہے،وہ زندگی سے محبت کرتے ہیں ،وہ اس کے رمز شناس ہیں ،وہ اس کے اسرار دان ہیں ، وہ اس کے عاشق ہیں ،وہ اس کے آموزگار ہیں ، وہ اس کے عارفِ حقیقت ہیں ،اس کے آشنائے راز ہیں ، وہ اس کی کلیات و جُزئیات سے بخوبی آگاہی رکھتے ہیں۔ اُن کا فن سراپا آموزش ہے۔ وہ درسِ حیات دیتے ہیں اور مردانہ وار جینے کی تلقین کرتے ہیں۔ جہاں غم کی شدت پریشان کن ہوتی ہے وہاں مسکراہٹیں بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں درد کا احساس بہت گہرا ہوتا ہے وہاں وہ ایک گونہ لذت کشی کا اظہار کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ وجدان، یہ عرفان، یہ احساس، یہ ادراک، یہ معرفت اور یہ آگاہی اُن کے سخن کی جان ہے اور اُن کا کلام عرفان و آگہی کی پہچان ہے۔

٭٭٭

 

ابوالبیّان ظہور احمد فاتح … شاعرِ رجائیت

            مثل مشہور ہے ’’دنیا امید پر قائم ہے۔ ‘‘اُمید وہ خوبصورت حقیقت ہے جس کے باعث رنگِ حیات اور لطفِ زیست برقرار ہے۔ اُمید جسے’’رِجا‘‘ بھی کہتے ہیں دلِ انسان کی بڑی دمساز ہے۔ اسی کے باعث ہی زندگی کی دلکشی بحال ہے۔ لہٰذا اس امر کی ضرورت ہے کہ آس کی شمعیں روشن رہیں۔ اُمید کا قطبی تارا پریشان حال لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے۔ رِجا وہ آبِ حیات ہے جس کی بدولت نبضِ حیات تپش آمادہ ہے،دلوں کی دھڑکنیں برقرار ہیں اور آنکھوں میں چمک موجود ہے۔ ایسا شاعر جس کا سخن نقیبِ رِجائیت ہے اپنے سماج کے لئے یقیناً غنیمت ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے کلام کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے بیان میں جا بجا اُمید کے دیپ روشن ہیں۔ اُن کے اشعار ایک قدرتی انداز میں اُداس دلوں کی مسیحائی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ اُن کی فکر میں یاسیت کی تیرگی کو چاک کرنے والی رِجائیت پائی جاتی ہے۔ ہم اُن کے اشعار کے تناظر میں بخوبی ثابت کر سکتے ہیں۔ اس استشہاد کے لئے آج اُن کی تخلیق ’’محرابِ اُفق‘‘ میں سے ردیف ’’و‘‘ تا ’’ے‘‘ ہمارے پیش نظر ہے۔ پہلی ہی غزل سراسر مظہرِ اُمید ہے۔ اس کے اشعار بلا تبصرہ رقم کئے جاتے ہیں :

بے مروت کو محبت آشنا ہونے تو دو

کام بن جائے گا تشکیلِ وفا ہونے تو دو

درد کی ہر ٹیس ٹھہرے گی صدائے احتجاج

فصلِ گل آئی ہے زخموں کو ہرا ہونے تو دو

گھپ اندھیرے خودبخود سیماب پا ہو جائیں گے

من کے معمورے کو معمورِ ضیاء ہونے تو دو

جب یہ بولے گا تو محفل رنگ پر آ جائے گی

حضرتِ فاتحؔ کو ساقی لب کشا ہونے تو دو

            آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ ہر شعر میں رِجائیت کی ایک مخصوص فضا بھرپور اندا ز میں پائی جاتی ہے جو ظُلمتِ بیم کے پردے چاک کرتی چلی جاتی ہے۔

            اک اور غزل کے اشعار ملاحظہ فرمائیں :

میں کہ سرگرمِ عمل روز نظر آتا ہوں

بیٹھنے دیتے نہیں میرے ارادے مجھ کو

خیر مرنا تو میرے بس میں نہیں ہے لیکن

زندہ رہنے کا سلیقہ ہی سکھا دے مجھ کو

            ان اشعار میں ایک زبردست اُمنگ،ایک بھرپور تموج اور ایک شاندار تحریک کی کیفیت پائی جاتی ہے جو تمام و کمال ،اُمید و رِجا کی برکت سے ہے۔

            دو اور شعر دیکھئے:

میں اُس میں دیکھتا ہوں عکس آرزوؤں کا

تمہارا چہرہ بھی مجھ کو لگا ہے آئینہ

ترے کرم کا توکل کا عکس ہے اس میں

خدائے پاک ہماری دعا ہے آئینہ

            ان اشعار میں اُمید کی روشنی بہ اندازِ دگر نور پاش نظر آتی ہے۔ رُخِ محبوب جو مرکزِ نگاہ ہے ایک ایسا آئینہ ہے جو تمناؤں کی عکاسی کرتا ہے اور انہیں خواہشات کے زیر اثر آس کے دیپ روشن ہیں۔ اسی طرح دعا کے آئینے میں خالق حقیقی کی کرم نوازیاں اور اُس کی ذات پر بھروسے کی توانائی شامل ہے۔ جس کی برکت سے سانسوں میں تسلسل ہے اور لفظوں میں جنبش موجود ہے اور یہ سب تابشِ اُمید کی بدولت ہے۔

            ظہور احمد فاتحؔ کا یہ خوبصورت شعر ملاحظہ ہو۔

زندگی زندہ دلی سے جو گذاری ہم نے

موت بھی دے کے ہمیں جامِ بقاء گزرے گی

            یہ ترغیب ایک ایسا کرشمہ ہے جو اہل رِجا کے ہاں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آدرش جو تنِ نیم مردہ میں جان ڈال سکتا ہے۔ زندگی کو زندہ دلی سے گزارنا ایک ایسا ہنر ہے جس سے متصف ہونے سے انسان موت سے بھی خائف نہیں ہوتا بلکہ شہنازِ مرگ اُسے اپنے ہاتھوں سے آبِ حیات پلا دیتی ہے اور اس امرت کے زیر اثر انسان امر ہو جاتا ہے۔

            ایک اور غزل کے دو اشعار نذرِ قارئین ہیں۔ جو رِجائیت کی عکاسی سے معمور ہیں :

ہر دم تیری آس رہے گی

تیری دید کی پیاس رہے گی

اُڑ جائیں گی سب خوشبوئیں

پر تیری بُو باس رہے گی

            یعنی ہر آن اُمیدِ محبوب کا برقرار رہنا آرزوئے دید کا مچلنا اور انقلابِ حا ل کے باوجود چاہت کا نگہت بیز رہنا آس کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے لئے نشاط افزا ثابت ہوتی ہے۔

            اُن کا یہ مقطع بھی رِجائیت کی ایک عمدہ مثال ہے:

فاتحؔ دُکھوں کی دھُول سے جیون اُجاڑ تھا

وہ آئے تو مریض کی حالت سُدھر گئی

            پہلے ایک عالم ویرانی پھر کسی کی آمد اور اُس کے دم قدم سے مریض خستہ حال کا رُو بہ شفا ہو جانا بھی یقیناً کیفیتِ امید کا حامل ہے کیونکہ اس موجِ حیات کی برکت سے تغیر حال کا رُخ مثبت سمت کی طرف ہو جانا بھی خود میں ایک اُمید افزا پہلو رکھتا ہے۔ محبوب کا فی نفسہ، تشریف لانا گویا بزم تخیل میں وارد ہونا دونوں کیفیتیں پیغامِ رِجا رکھتی ہیں۔ جس سے سوچ کا مسکن بہارساہو جاتا ہے اور حیات انگیز نشاط سے مزین ہو جاتی ہے۔

            اُن کا یہ شعر دیکھئے:

حریمِ فکر میں اعلانِ موسمِ گل ہو

ہماری بزمِ تخیل میں آ گیا ہے کوئی

            ایسی ہی یہ پُر اُمید گفتگو رِجائیت سے معمور یہاں اور اُس کا حامل کلام جگہ جگہ جناب فاتحؔ کاسخن جلوہ پیرا نظر آتا ہے۔

            موصوف کے دو اور اشعار دیکھیں :

وہ رُت کہ جس میں تھے ہم اشک بار ختم ہوئی

وہ شب کہ جس میں تھی ذلت ہزار ختم ہوئی

سحر ہوئی ہے تو اُس میں تری ادائیں ہیں

جو شام تھی مِری آئینہ دار ختم ہوئی

            اشکباریوں کو موسم کے خاتمے کی نوید فصلِ ذلت کے اختتام کا مژدہ ، اُداس شام کے گذر جانے کی خوشخبری اور محبوب کی اداؤں جیسی حسین سحر کی بشارت یقیناسخن فاتح کا اعجازِ فن ہے جو حوصلے بڑھاتا ہے اور عزم جواں کرتا نظر آتا ہے۔

            شاعر رنگیں نوا کا یہ مقطع بھی کس قدر دلآویزی خود میں لئے ہوئے ہے:

ہر چند کہ ماتیں کھاتے ہیں پھر بھی فاتحؔ کہلاتے ہیں

گو زندگی اپنی پھیکی ہے لگتے ہیں مگر رنگیلے سے

            مشکلات کے باوجود پر عزم رہنا اور ناگواریوں کے باوجود خوشگواریاں بکھیرنا بکھیرنا آس کا اک ایسا رُوپ ہے جو جیون دھارا میں روانی اور جوانی پیدا کر رہا ہے اور اگر واقعی ایسا ہوتا رہے تو کشتِ زیست زعفران زار ہو سکتی ہے۔

            پروفیسر صاحب کا یہ مطلع بھی مطلعِ اُمید ہے:

اگرچہ وقت نے دھندلا دیئے یادوں کے آئینے

مگر شفاف ہیں اب تک مِری سوچوں کے آئینے

            گردش ایام کی تمام تر ستم ظریفیوں کے باوجود بھی یہ امر اُمید افزا ہے کہ سوچ کی آرسی بدستور صاف و شفاف ہے۔ اس امر کے علی الرغم یادوں کے نقوش بھی محو ہو چکے ہیں۔ صد شکر کہ فکرِ انسان صحیح و سالم ہے۔

            اسی نوع کا اک اور شعر دیکھئے:

سوادِ شام کا شاہی مصور

سحر میں رنگ بھرنا چاہتا ہے

            یہاں ایک عجیب کیفیت رونما ہو رہی ہے۔ جس میں اُمنگ ہے، آرزو ہے اور مژدۂ لطف و نشاط ہے۔ دراصل ایسے ہی اشعار ذہنی پراگندگی اور دماغی تناؤ کے لئے نسخۂ اکسیرہوا کرتے ہیں۔ جن سے دلوں کو سکون اور نظروں کو فروغ اور اُمیدوں کو مژدہ عطا ہوتا ہے۔

            اسی غزل کے دو اور اشعار پر غور کیجئے:

مبارک ہو کہ وہ آکاش باسی

زمیں پر پاؤں دھرنا چاہتا ہے

نویدِ جانفزا پہنچے کہ فاتحؔ

جو بگڑا تھا سنورنا چاہتا ہے

            ماشاء اللہ رِجائیت کی بارہ دری کھول دی گئی ہے۔ ایک شعر میں ہدیۂ تبریک پیش کیا جا رہا ہے کہ فلک زاد محبوب عنقریب اہل زمین کو تقرب عطا کرنے والا ہے اور دوسرے شعر میں بشارت دی جا رہی ہے کہ ایک بگڑا ہوا انسان پھر سنور جانے کا عزمِ صمیم لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا دونوں کیفیتیں نشاط انگیز بھی ہیں اور طرب افزا بھی ہیں۔ ان میں دُکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم بن کر تسکین پہنچانے کی تاثیر بھر دی گئی ہے۔

            اب ظہوراحمد فاتحؔ کا سہل ممتنع کے رنگ کا حامل یہ فن پارہ مشاہدہ کیجئے:

میں اسی آس میں ہی زندہ ہوں

تیرا آنچل مِرا مقدر ہے

            محبت کٹھنائیوں سے عبارت ہوتی ہے۔ قدم قدم پر رُکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وصال محب و محبوب محال بنا دیا جاتا ہے۔ یہاں عاشق اس اُمید کو سینے سے لگائے ہوئے ہے کہ اُس کا معشوق ضرور اُسے ملے گا۔ ضرور اُس کے آنچل کی چمک اُسے میسر آئے گی۔ گویا یہ سب کچھ مقدر ہو چکا ہے۔ جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ایسی یقین آمیز رِجائیت یقیناً کسی ٹانک سے کم نہیں۔

            اب فاتحؔ جی کے دو اور عجیب و غریب شعر دیکھئے:

یقیناً انقلابِ حال میں کچھ دیر لگتی ہے

مگر سچ ہے زمانہ محتسب ہے اور عادل ہے

نہیں ساری خطا اس میں دلِ خوش فہم کی فاتحؔ

ستم یہ ہے تری نہ بھی تیری ہاں سے مماثل ہے

            طرفہ بات یہ ہے کہ عموماً اہلِ سُخن زمانے سے شکوہ سنج رہتے ہیں۔ دنیا سے بدگمان رہتے ہیں اور اہل جمال کی کج ادائی کا گلہ کرتے ہیں۔ لیکن پہلے شعر میں موصوف ایک اعتماد اور تسلی کی فضا میں رہتے ہوئے ڈھارس بندھا رہے ہیں کہ حالات بدلنے میں کچھ نہ کچھ وقت ضرور لگتا ہے۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ زمانہ حساب لینے والا اور انصاف کرنے والا ہے۔ یہ وہ بات کہ جو ایک مسلمان شاعر کے شایانِ شان بھی ہے۔ کیونکہ حدیثِ قُدسی ہے کہ ’’زمانے کو بُرا نہ کہو جبکہ میں خود زمانہ ہوں۔ ‘‘ اسی طرح دوسرے شعر میں بھی روایت سے ذرا ہٹ کر بات کی گئی ہے۔ شعراء کرام عموماً سارا دوش اپنے دل کو دیتے ہیں۔ لیکن یہاں جنابِ فاتحؔ نے نفسیاتی آسودگی کی ایک فضا قائم کر دی ہے۔ فرماتے ہیں سارا قصور ہمارے خوش فہم دل کا ہی نہیں کہ تم سے کتنی اُمیدیں وابستہ کر بیٹھا ہے۔ کچھ شفقت مزاجِ یار کی بھی شامل ہے۔ اگر وہ نہ بھی کرتا ہے تووہ بھی آس کا ایک پہلو رکھتی ہے جس میں ہاں کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ گویا اُس کی نہیں بھی ایسی ڈھیلی ڈھالی اور اُمید افزا ہوتی ہے کہ دل والااُسے ہاں سے ملتی جُلتی کوئی چیز سمجھ بیٹھتا ہے یعنی محبوبِ دلنواز کا انکار بھی اقرار سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ ہے وہ بھرپور رِجائیت جس کا جواب شاذ و نادر ہی پایا جاتا ہے۔

            ظہور احمد فاتح کی غزل کے دو اور اشعار ملاحظہ ہوں :

ممکن ہے کہ اب بھی ہو شرارہ کوئی باقی

خاکستر جاں تم نے کریدا تو نہیں ہے

گہنا تو گیا ہے یہ ترے طرزِ عمل سے

سورج مِرے اخلاص کا ڈوبا تو نہیں ہے

            شعرِ اول میں امکان کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے تاکہ اُمید کی کرن جگمگا سکے۔ یہ سچ ہے کہ آتشِ عشق نے وجود کو بھسم کر دیا ہے اور بظاہر زندگی معدوم لگتی ہے یا بہ الفاظ دیگر تمہاری بے رُخی نے جلا کر رکھ دیا ہے۔ تاہم اگر تم کوشش کرتے قرینِ قیاس تھا کہ  حیات کی کوئی رمق یا محبت کی کوئی چنگاری اب بھی ریمادِ ہستی میں موجود ہو۔ لہٰذا مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ شعرِ ثانی میں مجبور شاعر مذکور دلبر ہزار شیوہ سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ تمہارے رویے تمہاری بے رُخی اور تمہاری سرد مہری نے اُسے گہنا ضرور دیا ہے لیکن میرے اخلاص کا سورج ہنوز غروب نہیں ہوا۔ ابھی امکان باقی ہے کہ جب گہن جاتا رہے گا۔ یہ پہلے کی طرح پوری آب و تاب سے ضو پاش ہو جائے گا گویا یہ دو اشعار بھی اُمید و رِجا کے شاہکار کہے جا سکتے ہیں۔

            لیجئے اسی احساسِ زریں کی حامل پوری غزل آپ کی نذر ہے۔ جس کا ہر شعر آس کے ساغر بھر بھر کے پیش کر رہا ہے:

ختم سوز و کاہش و غم کا سفر ہونے کو ہے

قافلے والوں پہ رحمت کی نظر ہونے کو ہے

یوسفِ گم گشتہ پھر ملنے کو ہے یعقوبِ جاں

مژدہ ہو مژدہ علاجِ چشمِ تر ہونے کو ہے

ہونے والا ہے اعصائے موسیٰ پھر معجز نما

سامری کا سحر یکسر بے اثر ہونے کو ہے

ظلمتِ شب ہونے والی ہے گریزاں عنقریب

شب گزیدوں کو خبر کر دو سحر ہونے کو ہے

اہلِ کشتی کو ہو خوشخبری کہ ہے قربِ نجات

ختم بحرِ قہر کا مد و جزر ہونے کو ہے

پیش قدمی ہی کئے جاؤ جلا کر کشتیاں

ساتھیو ہمت کرو میدان سر ہونے کو ہے

اہلِ عالم ہو گئے تذلیلِ انساں کے خلاف

پھر جہاں میں کارِ توقیرِ بشر ہونے کو ہے

ہو بشارت ٹوٹنے کو ہے حصارِ تیرگی

ایک نابینا مسافر دیدہ ور ہونے کو ہے

پانے والے ہیں حقیقی دادِ فن اہلِ سخن

آج فاتحؔ معتبر اپنا ہنر ہونے کو ہے

            یہ غزل تمام و کمالِ رِجائیت کی پیامی ہے۔ اُمید ہی ہر شعر میں موجزن ہے۔ اس میں ایک ایسا تسلسل ہے جو نشاط انگیز بھی ہے اور عزیمت خیز بھی، ایسی بھرپور عکاسی اور ایسی زبردست اُمید افزائی کی کیفیت نگاہوں سے بہت کم گزرتی ہے۔ یقیناً یہ جنابِ فاتحؔ کا کمال ہے اور اُن کے سخن کا خاصہ ہے جو اُنہیں دوسروں سے ممتاز و ممیز کرتا ہے۔ یہ غزل اس قدر معنی آفریں اور دمساز ہے کہ اس کی تشریح و توضیع ایک شذرے پر محیط ہو سکتی ہے لیکن ہم نے ابھی کئی اور رنگ آشکار کرنے ہیں۔ کئی اور جھلکیاں دکھانی ہیں۔ لہٰذا طائرانہ سے گذر چلتے ہیں۔

            اب فاتحؔ جی کا یہ شعر زیرِ نظر لائیے:

میں ہوں بلبل بہار ہو کہ خزاں

چہچہانا مِرا وظیفہ ہے

            یقیناً عندلیبِ رِجائیت ہر موسم میں نغمہ ریز ملے گا۔ بہار تو ویسے بھی سرور ساماں ہوا کرتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بلبلِ اُمید خزاں میں بھی چہچہاتا نظر آتا ہے۔ صدمات و حوادث سے بے نیاز ہو کر اپنا وظیفۂ حیات سمجھ کر آس کی شمعیں روشن کرتا رہتا ہے۔ جن سے مایوسی کے گھپ اندھیرے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

            ارے بھائی!سبحان اللہ !مختصر بحر اور سہل ممتنع کا انداز اس شعر کو چار چاند لگا رہا ہے۔ لکھتے ہیں :

چشم و دل میں دیئے جلیں فاتحؔ

کیوں اندھیرا خیال میں آئے

            یعنی آنکھ اور دل میں اُمید کے چراغ روشن رہنے چاہئیں۔ اندھیرا خیال میں بھی نہیں آنا چاہیے۔ یا کسی رَد اور رِجا کے قبول کی اس سے بڑھ کر کیا مثال ہو سکتی ہے۔ روشن ضمیری، روشن خیالی اور روشن چشمی انسان کو شکارِ بیم نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ ایک سرشاری کیفیت ہمیشہ محسوس کرتا رہتا ہے۔ جو تگ و تازِ حیات کے لئے نعمتِ  غیر مترقبہ ہے۔

            ظہور احمد فاتحؔ کا یہ پیغام سماعت کیجئے جو غمِ جہان کے نام ہے:

مجھے ہے منزلِ جاناں کی جستجو فاتحؔ

غمِ جہاں سے کہو راستے سے ہٹ جائے

منزلِ محبوب کا جنوں ساماں مسافر پوری جولانی سے جادۂ پیما ہے۔ کسی رکاوٹ ،کسی دشواری، کسی پریشانی کو خاطر میں نہیں لا رہا۔ اُس پر مستزاد یہ ہے کہ غمِ دوراں کو چیلنج کر رہا ہے کہ اُس کی عافیت اسی میں ہے کہ محب کا راستہ روکنے کی کوشش نہ کرے بلکہ فوراً راہ خلاص کر دے تاکہ چوپٹ ہونے سے بچ جائے۔ اُمید و آہنگ کی ایسی زبردست ترجمانی بلاشبہ حیران کن ہے۔

            آخر میں صاحبِ موصوف کی ایک اور غزل کا مطلع دامنِ التفات کھینچتا محسوس ہو رہا ہے:

تو اگر بے حجاب ہو جائے

چاندنی آب آب ہو جائے

محبوب کا کمالِ حُسن و جمال ملاحظہ ہو کہ اگر وہ رُخِ روشن سے نقاب ہٹا دے تو چاند مارے حجاب کے پانی پانی ہوتا دکھائی دے۔ ایسے عالم میں شبِ یاس اور ظلمتِ بیم کا کہاں ٹھکانہ۔ گویا وہ پیکرِ مغرور جملہ ستم سامانیوں کے باوجودسراپا رِجا ہے۔ سراسر اُمید کا نمائندہ ہے اور آس کی دیوی اُسے خراج پیش کرتی ہے۔

            مندرجہ بالا مواد کے تناظر میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کا بیانِ ذیشان اُمید کا بھرپور ترجمان ہے۔ جس میں آس کی چکا چوند ہے کہ چشمِ یاس خیرہ ہو کر رہ جاتی ہے اور اُمید مزید سے مزید تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ نہ کبھی وہ خود رہینِ قنوطیت ہوتے ہیں اور نہ کہیں اپنے قاری کو مبتلائے بیم ہونے دیتے ہیں بلکہ قدم قدم پر آشا کے دیپ جلاتے چلے جاتے ہیں اور نراشا کی تیرگی کے آگے بند باندھتے چلے جاتے ہیں۔ یہ اُن کا ادبی احسان ہی نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی خدمت بھی ہے۔ جو ذہنی تناؤ کے اس دور میں نسخۂ تیر بہ ہدف ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ربِّ ادب انہیں اور زیادہ آب و تاب سے نوازے۔ (آمین)

٭٭٭

 

ابوالبیّان ظہور احمد فاتحؔ … شاعرِ حُزن و ملال

            حضرتِ انسان جسے خلافتِ ارضی کا افتخار حاصل ہے دنیا میں طرح طرح کے رویوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ کچھ رویے اُسے مسرت و شادمانی عطا کرتے ہیں تو کچھ رویے اُسے افسردہ و غمگین بنا دیتے ہیں۔ عموماً چونکہ حالات نامساعد رہتے ہیں جیسے گو تم نے کہا تھا کہ دُنیا دکھوں کا گھر ہے۔ یا بقول جوش:

خدا گواہ ، مشیت کا مُدّعا ہے یہی

کہ قلبِ آدمِ خاکی سدا فگار رہے

یا بقول ساحر:

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

اسی طرح میر تقی میر کو شاعرِ غم و اندوہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تاثرِ غم بہت گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ لہٰذا جن سخنوروں کا کلام اسی کیفیت کا حامل ہوتا ہے وہ یقیناً متاثر کن ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم پروفیسر ظہور احمد فاتح کے کلام کا جائزہ لیں تو اُن کے ہاں بھی ابیاتِ حُزن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جگہ جگہ فضائے غم قائم کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں ہم ان کے آٹھویں مجموعۂ کلام ’’کچھ دیر پہلے وصل سے‘‘ کے تناظر میں اُن کی خزینہ شاعری کی نسبت سے رقمطراز ہیں۔ کوشش رہے گی کہ بین الغزل جہاں کہیں اُن کا حزیں شعر دامنِ توجہ کھینچ رہا ہو مختصر تبصرے کے ساتھ ہدیۂ قارئین کرتے چلے جائیں۔

             پروفیسر ظہور احمد فاتح کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

ہم جام پی رہے ہیں یا زہر پی رہے ہیں

کیسی یہ زندگی ہے مر مر کے جی رہے ہیں

            ناہمواریِ حیات کی بھرپور عکاسی ہے۔ جام پی رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے زہر نوشی کر رہے ہیں۔ ایسی زندگی کا کیا مزہ جس میں یوں لگے کہ مر مر کر جیا جا رہا ہے۔

            اب اُن کا یہ شعر دیکھئے:

وہ شخص آج نہایت اُداس لگتا تھا

نجانے کیا تھا کہ اتنا نراس لگتا تھا؟

            ہنستا مسکراتا انسان جب ایک دم ملول ہو جائے اور اُس پر مایوسی کا غلبہ ہو جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا کچھ ہو گیا جس کی وجہ سے اس قدر اُداسی چھا گئی ہے۔ بطورِ خاص مونس و ہمدرد دل رکھنے والا انسان ضرور اس انقلابِ حال سے متاثر بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی۔

            بالکل اسی تناظر کا حامل یہ شعر بھی ہے:

نہ جانے آ گیا کیسے غموں کے نرغے میں ؟

جو ہنستا کھیلتا غم ناشناس لگتا تھا

            یعنی ایک ایسا آدمی جسے کبھی غم و الم سے نسبت ہی نہ رہی ہو یکایک افسردہ و پژمردہ ہو جائے تو ضرور اس میں کوئی راز قرینِ قیاس ہے اور انسان سوچے بنا نہیں رہ سکتا کہ خوش مزاج شخص کس لئے دکھوں کے نرغے میں آ گیا۔

            جناب فاتح کا یہ شعر بھی پہلے دو اشعار کی طرح تحسین آمیز ہے:

کبھی نہ دامنِ اُمید چھوڑنے والا

کوئی تو بات ہوئی وقفِ یاس لگتا ہے

            وہ شخص جو فطرتاً رِجائیت پسند تھا اور ہمیشہ آس کا دامن تھامے رہتا ہے،خدا جانے کیا اُفتاد ٹوٹی کہ یاسیت کا شکار ہو گیا۔ جو دوسروں کو پیغامِ اُمید دیا کرتا تھا خود قنوطی بن بیٹھا ،یہ المیہ نہیں تو کیا ہے؟

            زندگی کے حوالے کا حامل اور اندازِ زیست کا آئینہ دار ایک اور شعر دعوتِ توجہ دے رہا ہے:

کاوشِ فکر و فن میں گذری ہے

زیست رنج و محن میں گذری ہے

            آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہماری زندگی کے شب و روز کیسے گذرے ہیں ؟ ہمارا مشغلہ غور و فکر کرنا اور خدمتِ فن کرنا رہا ہے۔ اس کے لئے ہم نے زبردست ریاضت کی ہے،بڑی کاوشیں کی ہیں ،خود رنج اٹھائے ہیں اور محنتِ شاقہ سے کام لیا ہے۔ کبھی بیکاری کے قریب بھی نہیں پھٹکے،عیش و آرام کی بابت نہیں سوچا بلکہ مقصدیت اور فرض شناسی سے جیون بسر کیا ہے۔

            استادِ فن کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

نہ ڈوب جاؤں میں ان آنسوؤں کے طوفاں میں

اے بحرِ ذات کے ساحل ذرا ٹھہر جاؤ

            بڑے عجیب انداز میں محبوبِ دلنواز سے مخاطب ہیں۔ ہماری ذات ایک سمندر کی طرح ہے اور تم بحرِ حیات کے ساحل ہو۔ ذرا ہمارے ہاں ٹھہر جاؤ تاکہ سکون کی کچھ ساعتیں ہمیں میسر آ جائیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرارِ زیست تم سے وابستہ ہے۔ تم رہو گے تو سرورِ ہستی بھی رہے گا اور چلے جاؤ گے تو یہ اندیشہ ہے کہ تمہارا چاہنے والا غمِ ہجر کی تاب نہ لائے گا۔ آنسوؤں کے طوفاں میں ڈوب جائے گا۔ یہاں ایک زبردست شاعرانہ مبالغہ بھی ہے اور شدتِ غم کی بھرپور عکاسی بھی ہے۔

            ایک بھرپور حزنیہ تاثر کے حامل ایک ہی غزل کے تین اشعار زیرِ نگاہ لائیے اور دیکھئے کہ شاعرِ موصوف نے کس خوبصورت قرینے سے غم و اندوہ کی نسبت حنا بندی کی ہے:

زائچہ میرے مقدر کا بنانے والے

مرا جلتا ہوا مقسوم دکھائی دے گا

گیت سمجھے گا کوئی اس کو غزل سمجھے گا

جب مرا گریۂ منظوم دکھائی دے گا

ایک رودادِ مصائب ہے سخن فاتح کا

جو پڑھے گا وہی مغموم دکھائی دے گا

            شعرِ اول میں ماہرِ علمِ نجوم سے خطاب ہے کہ تم میری قسمت کا زائچہ تو بنا رہے ہو مگر تمہیں پہلے ہی بتائے دیتے ہیں کہ اس زائچے کے آئینے میں ہمارے نصیب جلتے ہوئے نظر آئیں گے اور واضح طور پر تم ہمیں سوختہ قسمت اور نصیبوں جلے پاؤ گے۔ شعر دوم میں تو انتہا کر دی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہماری شاعری درحقیقت ایک گریۂ منظوم ہے چاہے کوئی اسے گیت قرار دے یا غزل سمجھے دراصل نظم عربی میں لڑی کو کہتے ہیں اور جب لڑی سے لڑی ملتی چلی جاتی ہے تو اشکوں کی جھڑی بن جاتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ہمارا رونا کوئی عام رونا نہیں ہے بلکہ یہ گریۂ منظوم ہے۔ مبالغے کے ساتھ قرینِ حقیقت بھی محسوس ہوتا ہے جیسے شدید غم کے عالم میں کوئی روتے ہوئے بین کر رہا ہوتا ہے۔ شعرِ سوم میں فرمایا گیا ہے کہ فاتح کا کلام ایک رودادِ مصائب ہے،ایک تذکرۂ آفات ہے، ایک تفصیلِ آلام ہے،ایک شہرِ آشوب ہے لہٰذا اس کا مطالعہ تفنن طبع کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جگر گردہ چاہئے۔ یہ وہ فسانۂ غم ہے جس کا ہر قاری اداس ہو جاتا ہے اور اس کی صورت غمگین دکھائی دیتی ہے۔ گویا شاعر کا کلام سر تا سردردو حزن میں ڈوبا ہوا ہے۔ جس میں کہیں غمِ ذات کارفرما ہے کہیں غمِ جاناں اجاگر ہے اور کہیں غمِ دوراں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

            آئیے اب ایک اور غزل کے دو شعر دیکھتے ہیں۔ جن میں حزن و ملال کا ایک نیا رنگ دکھائی دے گا:

یہ نین ہیں کہ ہے روئے حزیں پہ دوآبہ

رواں دواں ہے سدا آنسوؤں کا سیلابہ

ہماری شکل نہ پہچان پاؤ گے تم بھی

کیا ہے چہرے کو اشکِ رواں نے غرقابہ

            پہلے شعر میں آنکھوں کو دوآبہ کا استعارہ دیا گیا ہے جو تری کی افراط کا اظہار ہے اور دوسرے مصرع میں اسے سیلابہ قرار دیا گیا ہے۔ جس میں ایک طوفانی کیفیت پائی جاتی ہے اور یہ سیلاب تھمنے والا نہیں بلکہ پیہم رواں دواں ہے۔ دوسرے شعر میں شاعر اپنے احباب سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی تم اب میری صورت نہیں پہچان پاؤ گے کیونکہ افراطِ غم نے میرے چہرے کو غرقابہ بنا دیا ہے گویا میرے رُخِ ہستی کو پورے طور پر زیر آب کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میری صورت بھی نہیں پہچانی جاتی۔ بولئے غم و اندوہ کی ایسی بھیانک تصویر کہیں نظر آئی ہے؟

            لیجئے ایک اور بیت حُزن دامنِ التفات کھینچ رہا ہے:

آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

کم نہیں یہ اپنا اعجازِ خیال

شاعر محبوب سے مخاطب ہے جو اُس کے اعجازِ فن کے بارے میں استفسار کر رہا ہے۔ کہا گیا ہے کہ آپ جیسا شخص جسے ضبط کا دعویٰ ہے جو خوگر صبر بھی ہے اورجسے سنگدلی کی حد تک ہنرِ برداشت بھی ہے کلام سن کر آبدیدہ ہو گیا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا اعجازِ ہنر ہو گا۔ یقیناً یہی فنی کرشمہ دادِ سخن پا رہا ہے کہ حزیں اشعار سن کر دنیا والے اشک بار ہو جاتے ہیں۔

            ایک اور غزل کا یہ شعر دیکھئے:

دیکھا جو غمِ ہجر میں اشکوں کو برستے

دینے ہمیں آئی ہے گھٹا عید مبارک

            کئی تلازمے اس شعر میں کارگر نظر آتے ہیں۔ 1:غمِ ہجر2:اشکباری 3:گھٹا 4:عید مبارک۔ شاعر ہلالِ عید دیکھ چکا ہے۔ محبوب کی آمد کے کوئی آثار نہیں۔ غمِ ہجر شدید تر ہو گیا ہے۔ پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا ہے۔ بندِ ضبط ٹوٹ گیا ہے۔ آنکھوں سے آنسو برسنے لگے ہیں۔ اِدھر اشک برس رہے ہیں اور اُدھرگ ھٹا نے برسنا شروع کر دیا ہے، برستی ہوئی گھٹا عاشق اشکبار کے قریب تر آ گئی ہے اور عید مبارک کہنے لگی ہے۔ چلو اور کوئی نہ سہی محبوبِ دلنواز بھی نہ سہی، میں ہدیۂ تبریک پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں۔ ایک بے کس انسان پر اُس کے عالمِ بے بسی میں اُس کی سوگواری کو دیکھتے ہوئے مظاہرِ فطرت اور ارکانِ قدرت کا یوں مہربان ہو جانا شعر کے تاثر کو اور گہرا کر دیتا ہے۔

            آئیے اب تین اشعار ایک اور غزل کے پڑھتے ہیں جو فضائے غم کی منظر کشی بہ اندازِ دگر کر رہے ہیں :

میرے آگے رُخ پہ آنچل ڈالنا بے سود ہے

میرے نینوں میں تنی ہے میرے اشکوں کی رِدا

اب مسلسل سوگواری کا سفر درپیش ہے

نوچ ڈالی ہے تری فرقت نے خوشیوں کی رِدا

کی طلب میں نے جو اُجلی شام صبحِ وصل کی

دے گیا وہ ہجر کی تاریک شاموں کی رِدا

            شعر اول میں جناب فاتح کا حسنِ تعلیل دیدنی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ میرے روبرو اصحابِ حجاب کو زیرِ نقاب ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ میری آنکھیں تو اشکوں سے لبریز ہیں۔ تقریباً آنسوؤں کی ایک چادر اُن کے آگے تنی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے بے پردگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ گویا بین السطور شاعر نے افراطِ غم کا حوالہ بھی دے دیا اور یہ گنجائش بھی پیدا کر دی کہ شاید اسی حیلے سے دیدارِ جاناں کی کوئی سبیل نکل آئے۔ شعرِ دوم میں ایک فضائے غم کا تسلسل پایا جاتا ہے اور اُس کا جواز پیش کیا گیا ہے کہ ہم نے تیری جدائی میں خوشیوں کی چادر اُتار پھینکی ہے اور مسرت سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ شعرِ ثالث میں شاعر بتا رہا ہے کہ ہم نے تو اپنے محبوب سے وصال کی اُجلی رِدا طلب کی تھی تاکہ خوش و خرم رہ سکیں لیکن وہ سنگدل جدائی کی سیاہ شاموں کی چادر دے گیا۔ جس کی وجہ سے ایک اداسی ہمیشہ سایہ فگن رہتی ہے۔ گویا تینوں اشعار رنج و ملال کا ایک گہرا تاثر لئے ہوئے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس ظلمتِ حُزن میں شگفتہ مزاجی کی کرنیں بھی پائی جاتی ہیں جو فضائے اَلم کو زیادہ بوجھل اور گھمبیر نہیں ہونے دیتیں۔

            ابھی ایک اور شعر زیرِ تبصرہ لاتے ہیں :

وہ برستی ہے تو فوراً اشک برساتے ہیں یہ

نین کر بیٹھے ہیں دیوانی گھٹا سے دوستی

            گھٹا اور وہ بھی دیوانی۔ گھٹا ایک بھرپور برسات کے تاثر کی حامل ہے۔ پھر آنکھوں کا اُس سے دوستی کرنا اور وہ بھی اس انداز میں کہ جب گھٹا برسے گی تو آنکھیں بھی ضرور برسیں گی۔ جس زور سے گھٹا برسے گی اُسی شدت سے نین برسیں گے۔ غم کے ایک ایسے پہلو کی ترجمان ہے کہ جس میں مسابقتِ حُزن کی کیفیت اُجاگر ہوتی ہے۔ جو شاذ ہی کسی شاعر کے ہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

            آئیے اب ایک اور غزل کے تین اشعار کا جائزہ لیتے ہیں جن میں غم و ملال ایک خفیف انداز میں اپنی پرچھائیاں ڈالتا نظر آتا ہے۔

میں بزمِ شوق سجاؤں جو ناگوار نہ ہو

چراغِ اشک جلاؤں جو ناگوار نہ ہو

کسے خبر کہ سوا ہے یہ نقدِ راحت سے

متاعِ درد لٹاؤں جو ناگوار نہ ہو

لگائے ہیں جو تری بے رُخی نے چھاتی پر

وہ زخم و داغ دکھاؤں جو ناگوار نہ ہو

            ایسا لگتا ہے کہ شاعر پیکرِ تسلیم و  رضا بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اظہارِ غم کے لئے بھی وہ اِذنِ یار کا خواستگار ہے۔ لہٰذا بڑے ادب سے عرض پرداز ہے حضور اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو، میں اپنی بزمِ شوق سجاؤں کہ اُس میں اشکوں کے چراغ جلاؤں۔ میرے پاس درد کی پونجی وافر ہے۔ میرے نزدیک یہ متاعِ راحت سے بھی بڑھ کے ہے۔ اگر سرکار اجازت دیں تو یہ سرمایہ لُٹانا شروع کر دوں۔ غمِ ہجر سے سینے میں جو زخم لگے ہیں اور جو داغ بنے ہیں میں اُن کی نمائش کرنا چاہتا ہوں تاکہ اہلِ عالم کو اندازہ ہو کہ کیسے کیسے بیش بہا نوادر میرے خزانۂ عامرہ میں پائے جاتے ہیں۔ جناب اگر اِذن بخشیں تو بندہ ناچیز فروغِ انجمن کا اہتمام کرے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس میں آپ کے لئے کسی قسم کی خجالت و ناگواری کا امکان باقی نہ رہے۔

            اب ایک ایسا شعر دامنِ توجہ کھینچ رہا ہے جس میں ایک بھرپور آدرش ہے۔ اہلِ دل کے لئے ایک درسِ عبرت ہے:

اگر کوئی لوٹ لے مسرت اگر ہو لطف و قرار غارت

اگر کرے زندگی اجیرن کسی کا غم تو گلہ نہ کرنا

            اے مسافرِ جادۂ محبت اس راہ پر گامزن ہونے سے پہلے خبردار ہو جا کہ یہ راہِ پُر خار نہایت دشوار گذار ہے۔ یہاں قدم قدم پر دُکھ ہیں ،پریشانیاں ہیں ،صدمات ہیں۔ اگر آلام ومصائب کا سامنا کرنے کا زیرہ رکھتے ہو،اگر جگر میں درد کا خنجر خارا شگاف چلنے کا یارا ہے تو اس پگڈنڈی پر قدم رکھو،ورنہ ابھی سے پلٹ جاؤ۔ کیونکہ تابِ حرف زدن محال ہے۔ اگر کوئی راہزن مسرت بن جائے، اگر غارت گر صبر و قرار ثابت ہو ،اگر غمِ جاناں زندگی اجیرن کردے تو شکوہ نہ کرنا،حرفِ شکایت مطلق زبان پر نہ لانا۔

            لیجئے ایک اور غزل سامنے ہے۔ جس میں اشعار کا ایک جوڑا تاثرِ غم کو گہرا کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے:ـ

میرے دلبر میری آہوں کا ازالہ کر دے

ان چھلکتے ہوئے اشکوں کا ازالہ کر دے

میرے جلتے ہوئے حرفوں کا ازالہ کر دے

دُکھ میں ڈوبے ہوئے لفظوں کا ازالہ کر دے

            عاشق اپنے محبوب کو چارہ گر بھی سمجھتا ہے اور مسیحا نفس بھی خیال کرتا ہے۔ گو درد و رنج سے چُور ہو چکا ہے اور اپنی اس کیفیت کو بدلنا چاہتا ہے۔ لہٰذا وہ بڑے عِجز و نیاز سے گذارش کر رہا ہے کہ اُس کی دُکھ بھری صورت حال کو تبدیل کیا جائے۔ اُس کی آہوں کا کچھ مداوا ہونا چاہئے۔ شدتِ غم سے اُس کے حرف جل رہے ہیں۔ الفاظ دُکھ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس کا تدارک ناگزیر ہے اور وہ خود معشوق ہی کر سکتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جیسے کوئی درماندہ مریض مری ہوئی آواز اور دلسوز لہجے میں ڈاکٹر کو صدائیں دے رہا ہو۔

            اب ایک اور غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

ادا یہ غیر کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی

یہ دُکھ ہے مرا شناسا مرا حبیب نہیں

دھواں دھواں ہیں مناظر بجھا بجھا ہے سماں

ترا خیال ہے اب بھی فضا مہیب نہیں

            پہلے شعر میں سخن ور شکوہ کناں ہے کہ میرا محبوب میرے دُکھ سے ناآشنا بنا ہوا ہے۔ اگر کوئی غیر ایسا کرتا تو کچھ پرواہ نہ تھی مگر مقامِ اَلم ہے کہ اپنا دوست ایسا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے،جان بوجھ کر بیگانہ بن رہا ہے۔ دوسرے شعر میں شاعر اپنے مخاطب سے گویا ہے کہ یار تم بھی کمال کرتے ہو ،حالات واژگوں ہو چکے ہیں۔ مناظر دھواں دھواں ہیں ، ماحول بجھا بجھا سا ہے اور فضا نے شدید اُداسی کی رِدا اوڑھ لی ہے۔ اس پر تمہاری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ تمہیں کوئی خرابی دکھائی نہیں دیتی بلکہ تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے۔ یہ ساری کیفیت ایک گہری تشویش اور پریشانی کی غماز ہے۔

            آخر میں ایک اور غزل کے دو دُکھ بھرے اشعار شدت سے توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہے ہیں :

وہی اُداسی وہی غم وہی ہے تنہائی

بنا تھا جو میرا غم خوار ساتھ چھوڑ گیا

تو ایسے شخص کی خاطر ہے کیوں حزیں اے دل

جو توڑ کر سبھی اقرار ساتھ چھوڑ گیا

            اہلِ دل کے لئے بچھوڑا سب سے مشکل اور سب سے بڑی آفت ہے۔ مقامِ ہجر بہت بڑا المیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر کسی گھمبیر صورتحال کا عکاس ہے۔ جس طرح وصال سے پہلے تنہائی تھی،غم تھا،وہی قصہ ایک بار پھر پیدا ہو گیا ہے۔ کیونکہ ہمدرد بن کر قربت عطا کرنے والا دوست اب چھوڑ کر جا چکا ہے۔ لہٰذا پھرسے دل حُزن و ملال کے محاسبے میں آ چکا ہے۔ دوسرے شعر میں دل گرفتہ عاشق اپنے دل کو ملامت کر رہا ہے کہ تو اس شخص کے لئے اتنا دُکھی ہے جو سارے وعدے توڑ کر چلا گیا ہے۔ تجھے اس شخص کا خیال ستا رہا ہے۔ جس نے سب قسمیں توڑ ڈالیں ،تجھے اس کی یاد تڑپا رہی ہے،جس نے ذرا بھی وفا کا پاس نہ کیا۔

            مندرجہ بالا شواہد اس امر کے کافی و شافی گواہ ہیں کہ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کا کلام دُکھ درد کی مہیب فضا خود میں سموئے ہوئے ہے۔ اُن کی شاعری میں ایک زبردست فضائے حُزن ہے۔ اُن کے بیان میں رنج و ملال کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ اگر اُن کا سخن تمام و کمال درد میں ڈوبا ہوا نہیں ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی شاعر کے سب اشعار قبائے کرب و سوز میں ملبوس ہوں۔ تاہم حضرتِ فاتح کے ہاں ایک متوازن تنوع پایا جاتا ہے،ایک متناسب بوقلمونی اُن کے سخن کا طُرۂ امتیاز ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قاری اُن کے احساسِ غم سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اُن کی کیفیت دردوسوز لامحالہ طبیعت کو افسردہ کر دیتی ہے اور یہی باکمال شاعر کا کمالِ فن تصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسوسات سے اپنے مخاطب کو لبریز کر دے۔

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

٭٭٭

 

ابوالبیّان ظہور احمد فاتحؔ …… شاعرِ رومان

            کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو صوری اور صوتی اعتبار سے بہت بھلے لگتے ہیں اور ایک جہانِ معانی خود میں سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی خوبصورت الفاظ میں سے ایک لفظ رومان بھی ہے جو دیکھنے میں دلکش،سننے میں محظوظ کن اور دونوں اعتبار سے بے حد جاں نواز ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تمام خوبصورت اور لطیف جذبات اس لفظ کی ترجمانی کرتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اُنس،پیار،اُلفت،چاہت،محبت اور عشق سب اس کے رُوپ ہیں۔ پسندیدگی،شائستگی،وارفتگی،خودسپردگی اور از خود رفتگی سب اس کی صورتیں ہیں۔ یہ ایک ایسا جامع شبد ہے جس میں دلکشی بھی ہے اور دلنوازی بھی،جس میں خوشبو بھی ہے اور مٹھاس بھی،جس میں رنگ بھی ہیں اور روشنی بھی،جس میں اُمید بھی ہے اور بشارت بھی ،جس میں وفا بھی ہے اور خلوص بھی بلکہ محبوب کے عشوے غمزے، جوروستم ،بے داد و جفا اور ناز وغیرہ سب رومان کی ذیل میں آتے ہیں۔

            اس وقت ظہور احمد فاتحؔ کا مجموعہ کلام’’سنہرے خواب مت دیکھو‘‘ میرے زیرِ مطالعہ ہے اور عنوان مطالعہ اُن کی شاعری کا رومانوی پہلو ہے۔ کتاب کے رُبع اول کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حیرت و استعجاب کی ایک پُرسرور فضا مجھے اپنے حصار میں لیتی جا رہی ہے۔ میں نے بہت سے سخن وروں کے کلام کا مطالعہ کیا ہے مگر حقیقتاً جو عالمِ رومان جنابِ فاتح کے ہاں مشاہدہ کیا ہے،کہیں اور نظر نہیں آیا۔ کم و بیش ہر غزل خود میں بھرپور رومانوی تاثرات رکھتی ہے۔ طول تبصرہ سے پہلو تہی کرتے ہوئے میں براہِ راست اُن کے کلام کی طرف متوجہ ہو رہا ہوں تاکہ شواہد کا انبارجومیرے روبرو ہے،ہدیۂ قارئین کر سکوں۔

            حضرت فاتح کی غزل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں :

ہمارے پیار کی دُنیا مثال دینے لگی

یہ خوف ہے کہ جہاں کی اُسے نظر نہ لگے

کبھی جو سونے لگوں میں تو یہ دُعا مانگوں

تری طلب میں مِری آنکھ تا سحر نہ لگے

            شاعر کا کہنا ہے کہ ہماری چاہت جواں ہے۔ ہمارا پیار ایسا بے مثال ہے کہ اہلِ دُنیا اس کے حوالے دینے لگے ہیں۔ ان حالات میں یہ خوف لاحق ہونے لگا ہے کہ اس پُرخلوص محبت کو کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اے میرے محبوب تیری طلب مجھے اتنی عزیز ہے کہ میں نیند جیسی میٹھی چیز بھی اس پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔ چنانچہ جب سونے لگتا ہوں تو یہ دُعا مانگتا ہوں کہ تجھے یاد کر کے جاگتا رہوں ،دعائیں کر کے مالکِ حقیقی سے تجھے مانگتا رہوں اوراسی عمل میں رات کٹ جائے،صبح ہو جائے اور شب بھر تیرے دلنشیں تصور کو سینے سے لگائے رہوں۔

            اب پروفیسر موصوف کا یہ شعر دیکھئے:

تیرے ہی عشق نے اسے بخشی ہیں شہرتیں

ورنہ تو یہ فقیر ترا بے نشان تھا

            شاعر شہرت کے بلند پایہ مقام پر فائز ہے اور اس کا کریڈٹ وہ اپنے محبوب دل نواز کو دے رہا ہے کہ یہ اُس کا عشق ہے جس نے اُسے مجبورِ نَوا کر دیا۔ یہ اُس کا دکھ ہے جس نے اشعار میں ایسی تاثیر بھر دی۔ یہ اُس کا شوق ہے جس نے ایسی گرم گفتاری عطا کر دی۔ یہ اُس کے رویے ہیں جن کے باعث ایسا سوز وگداز میسر آیا گویا یہ رومان ہی ہے جس نے رومان گستر کو شہرۂ آفاق بنا دیا۔

            آیئے اب اس غزل کا جائزہ لیتے ہیں۔ جس کے تین اشعار نذرِ قارئین ہیں :

زمانہ لاکھ تجھے درسِ بے وفائی دے

مگر ہمیشہ وفادارِ دوستاں رہنا

صبا کہیں بھی ہو فرحت نواز ہوتی ہے

جہاں بھی رہنا مثالِ سکونِ جاں رہنا

پسند ہیں مِرے محبوب کو مرے آنسو

بُرا لگے نہ مرا خوگرِ فُغاں رہنا

            سلسلۂ کلام مبنی بر نصیحت ہے۔ بڑے خوشگوار انداز میں سخنور ابنائے زمانہ کو عموماً اور اپنے دلبر جاں نواز کو خصوصاً تلقینِ اُلفت کر رہا ہے۔ لفظ لفظ خلوص میں ڈوبا ہوا ہے۔ مصرع مصرع گہرے ارمان کی نمائندگی کر رہا ہے۔ پہلے شعر میں سمجھایا جا رہا ہے کہ دُنیا والے اپنے کھردرے رویوں اور غیر معقول منطق سے تمہیں باور کرائیں گے کہ یہ جہاں پیار کے قابل نہیں ہے۔ محبت زرِ کم عیار ہے،خلوص کھوٹا سکہ ہے، لیکن خبردار ایسی باتوں میں نہ آنا۔ کسی بھی صورت دامنِ مہر و وفا ہاتھ سے نہ چھوڑنا بلکہ صحیح معنوں میں اہلِ وفا بن کے رہنا۔ دوسرے شعر میں پہلے شعر کا تسلسل ہے۔ بڑے دلکش انداز میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمہاری ہستی صبا کی طرح ہونی چاہئے اور بادِ صبا کی یہ خوبی ہے کہ جہاں سے گزر ہوتا ہے حواس کو فرحت سے نوازتی ہے۔ اس لئے تم چاہے کہیں رہو دلوں کے لئے باعث سکون و قرار بن کے رہو۔ زمانے والے تم سے سُکھ پائیں کیونکہ بموجب حدیث ’’خیر الناس من ینفع الناسO‘‘یعنی بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو فائدہ دیتے ہیں۔ بقول کسے:

کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو

خدا کرے کسی دل کا قرار بن کے رہو

            تیسرا شعر بھی ترجمانِ رومان ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اے ہمنشیں اگر میں آہ و زاری کرتا ہوں یا روتا بسورتا ہوں تو ناراض نہ ہونا۔ میری اس عادت کو بُرا نہ گرداننا اور میری اس خصلت سے شاقی نہ ہونا کیونکہ ایسا کرنا میری مجبوری ہے۔ یہ میری محبت کا تقاضا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ میرے محبوب کو میرا اشک بار ہونا بہت پسند ہے۔ اسے میری آنکھوں میں آنسو اچھے لگتے ہیں اور جو چیز اُسے بھلی لگتی ہے، ایک عاشق ہونے کے ناطے میری یہ ذمہ داری ہے کہ وہ چیز میں اُسے مہیا کروں۔

            ایک اور جوڑا رومانوی اشعار کا دامنِ توجہ کھینچ رہا ہے۔ پڑھئے اور حظ اُٹھائیے:

تھا انتظار مجھے اس گھڑی کا مدت سے

پیامِ وصل ، پیامِ سحر میں آیا ہے

بھلا کے وعدہ و پیمان ساتھ چھوڑ گیا

وہ انقلاب مِرے ہمسفر میں آیا ہے

            اہلِ دل کا گوہر مطلوب وصالِ یار ہوتا ہے۔ جس کی حسرت میں اُسے شب بیداریوں اور اختر شماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کم ایسے لوگ قسمت کے دھنی ہوتے ہیں جن کے لئے سحر بشارتِ لقائے یار لاتی ہے اور ہمارے شاعرِ رومان جنابِ فاتح انہی فرخندہ نصیبوں میں شامل ہیں جن کے لئے نویدِ صبح مژدۂ وصلِ جاناں ثابت ہوئی ہے۔ اب ذرا دوسرے شعر کا تاثر ملاحظہ ہو۔ محبوب نے عہدِ وفا باندھا تھا، ساتھ نبھانے کے وعدے کئے تھے مگر ایک دم اس میں کیا انقلاب واقع ہو گیا کہ لگتا ہے کہ بدل گیا،پیمانِ دوستی فراموش کر دیئے، ساتھ چھوڑ کر چلا گیا، یہ کایا پلٹ ناقابلِ فہم ہے۔ ایک ایسا فریبِ محبت ہے جس نے سخنور کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑا۔

            اب ذرا یہ شعر دیکھئے:

مشتاق تھے ہم کوئی ہوس پیشہ نہیں تھے

حیرت ہے کہ روکی گئی کیوں بھیک ہماری

            عاشق اپنے جذبۂ دل کی صداقت کے حوالے سے بات کر رہا ہے کہ ہمارے شوقِ پُر خلوص کی قدر ہونا چاہئے تھی کیونکہ ہم حقیقی مشتاق تھے اور ہمارا گوہرِ مطلوب ہمیں مل جانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوا، جیسے ہم کوئی اہلِ ہوس ہوں۔ ایسا سلوک اپنے لئے قطعی غیر متوقع اور حیران کن ہے۔

            اب آگے والی غزل زیر نظر لائیے جو رومانوی فضا سے معمور ہے:

مرے ہی نام دنیا بھر کا ہر الزام کر دیتے

تمہیں جو ٹوکتا کوئی تو میرا نام کر دیتے

چھپا لیتا میں اپنا رازِ اُلفت اہلِ دنیا سے

مگر یہ نین تیرے اس کو طشت از بام کر دیتے

نہ جاتے روٹھ کر اس انجمن سے اے حسیں قاتل

کوئی تم کو بُرا کہتا تو قتلِ عام کر دیتے

ہماری دوستی کو بھی ذرا سا آزمانا تھا

ہم اپنی ہر خوشی تیرے لئے نیلام کر دیتے

اگر تکلیف فرماتے نگاہیں چار کرنے کی

یقیناً آپ ہم کو بندۂ بے دام کر دیتے

سنا دیتے غزل فاتح کی اپنی مد بھری لے میں

کرم ہوتا اگر تم یہ ہمارا کام کر دیتے

            لیجئے سلسلہ وار اشعارِ غزل کی ہلکی سی شرح حاضر ہے۔

1:       اے میرے محبوب! جو بھی کوئی تم پر کوئی الزام چسپاں کرنا چاہتا تو بلا تامل تم مجھ پر چسپاں کر دیتے اور خود معصوم بنے رہتے۔ اس پر اگر کوئی معترض ہوتا تو صاف کہہ دیتے کہ میں ایسا اُنہی کے کہنے پر کر رہا ہوں۔ یا یہ کہ وہ خود پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں۔ یہ گہری محبت کی غمازی ہے جو خود کو گناہگار بن کر محبوب کو بے گناہ ثابت کرنے کی مشیر ہے۔

2:       اے میرے محبوب!میں اگر تیرا رازِ محبت چھپا نے کی کوشش بھی کرتا تو کچھ فائدہ نہ ہوتا کیونکہ تیری آنکھیں اس راز کو فاش کر ڈالتیں۔ تیری نگاہوں کی محجوبیت اس بھید سے پردہ اٹھا دیتی اور اہل دُنیا کو ہماری محبت کی خبر ہو جاتی۔ لہٰذا میرا بہت زیادہ محتاط رہنا کچھ زیادہ مفید ثابت نہ ہوتا۔

 3:      ایک ذو معنین شعر ہے۔ اے میرے حسین قاتل اہلِ دل کی محفل سے تمہیں دور جانا نہیں چاہئے تھا کیونکہ ہم تہیہ کئے بیٹھے تھے کہ اگر کوئی تمہاری شکایت کرے گا یا تمہیں بُرا بھلا کہے گا تو ہم لڑائی کریں گے اور اُسے نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ تمہیں محفل چھوڑ کر نہیں جانا چاہئے تھا۔ اگر اہلِ محفل خلافِ مزاج کوئی بات کرتے یا تمہاری تنقیص کرتے،تمہیں پوری آزادی تھی کہ اُسے قتل کر ڈالتے بلکہ قتلِ عام کر سکتے تھے۔

4:       مثل مشہور ہے’’دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے‘‘۔ اسی اساس دوستی کے حوالے سے شاعر یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ آپ نے یونہی لاتعلقی اور بے رُخی کی فضا بنائے رکھی ورنہ اپنے اخلاص کا تو یہ عالم تھا کہ آپ کی خوشی کے لئے ہم اپنی ہر چیز نیلام کر دیتے۔

5:       ہم آپ کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے۔ بس اتنی سی خواہش تھی کہ آنکھیں چار ہو جاتیں ،نظریں مل جاتیں تو پیاسی روح کو سکون مل جاتا اور ہم ہمیشہ کے لئے آپ کے درہم نا خریدہ غلام بن جاتے۔

6:       ایک معصوم سی آرزو ہے،شاعر یہ چاہتا ہے کہ اُس کا محبوب اپنے شیریں لبوں اور شیریں زبان کے ساتھ اس کی غزل کو گنگنائے مگر وہ ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں لہٰذا بصد عجز و نیاز التماس کیا جا رہا ہے حضور اگر اتناسا کام جو چنداں دُشوار بھی نہیں ہے انجام پا جاتا تو شاعر کی روح جھوم اٹھتی۔ وہ اسے محبوب کا کرم تصور کرتا اور ہمیشہ احسان مند رہتا۔

            ایک اور غزل کے اسی رومانوی فضا کے حامل تین شعر دامنِ توجہ کھینچ رہے ہیں :

وار نظروں کا بھی اچانک تھا

من بھی اپنا مثالِ طفلک تھا

وار دی جس پہ زندگی میں نے

اُس کو میرے خلوص پر شک تھا

ہاتھ آئی ہے درد کی دولت

پیار کا مشغلہ مبارک تھا

            پہلے شعر میں نگاہوں کے اچانک حملہ آور ہونے کا ذکر ہے اور وہ بھی معصوم بچے جیسے دل پر۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ دل پریشان ہو گیا جیسے کوئی طفلِ ناداں ہجومِ بے پایاں میں ششدر و پریشان ہو جاتا ہے۔ دوسرے شعر میں یہ اظہار کیا گیا ہے کہ کتنے تاسف کا مقام ہے کہ وہ شخص جس پر ہم نے پوری زندگی وار دی وہ ہمارے اخلاص پر شک کر رہا ہے۔ اسے اتنی بڑی قربانی دیکھ کر تو خلوص کا یقین کر لینا چاہئے تھا۔ تیسرے شعر میں وہ درد کو ایک دولت قرار دے رہے ہیں اور اُس پر اظہارِ پسندیدگی کا ثبوت ہے یہ کہنا کہ پیار کا مشغلہ مبارک تھا۔ جس کے نتیجے میں یہ سب کچھ واقع ہوا ہے۔ کھلی کھلی رومانوی فضا ہر شعر میں کارگر ہے۔

            لیجئے والہانہ پن کے حامل ایک غزل کے دو شعر زیرِ نظر لائے:

آڑے آتا ہے ہمیں ساتھی کی رُسوائی کا خوف

ڈال کر ورنہ گلے میں سُرخ دھاری کھیلتے

آپ ہو جاتے اگر تیار اے جانِ خلوص

زیست سے کچھ ساعتیں لے کر اُدھاری کھیلتے

            شعرِ اول میں جناب فاتح نے بڑی عجیب بات کی ہے۔ کہ ہم ایک ایسا کھیل کھیلنے چلے تھے جس میں محبت کرنے والا گلے میں سرخ دھاری ڈال لیتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عشق میں وہ اپنا گلا کٹوا بیٹھتا ہے جو جانبازی اور فدا کاری کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم یقیناً ایسا کر گزرتے لیکن ہمیں اک خیال نے دفعتاً روک لیا کہ کہیں ہمارا محبوب بدنام نہ ہو جائے۔ لوگ اسے سنگدل قاتل نہ کہنے لگیں۔ ہماری اس تقریبِ گلو خراشی سے کہیں ساتھی کی رسوائی نہ ہو جائے۔ اسی خیال کے باعث ہم اپنا یہ شوق بھی پورا نہ کر سکے۔ شعر ثانی میں ایک ہارے ہوئے جواری کا انداز ایک لاچاری کی کیفیت، ایک مجبوری کا عالم مترشح ہے۔ ظہور احمد فاتح اپنے دلبر سے ملتمس ہیں کہ آپ تو اب محبت کے کھیل کو جاری رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اگر از راہِ شفقت آپ راضی ہو جاتے تو ہمارے ذوق و شوق کا عالم دیکھتے۔ اگر ہماری زندگی جواب دے بھی جاتی تو ہم کچھ گھڑیاں اُدھار لے لیتے اور آپ کے ساتھ چاہت کی گیم جاری رکھتے۔ یہ ہے وہ فروغِ عشق ،وہ جولانی شوق، وہ سیلِ محبت، وہ موجِ جنوں جسے شاذونادر ہی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

            قارئینِ کرام ایسے ہی سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اشعار پروفیسر ظہور احمد فاتح کی جودتِ طبع کی پیداوار ہیں۔ جو شعر در شعر،صفحہ در صفحہ،غزل در غزل ،کتاب در کتاب پھیلے ہوئے ہیں اور دعوتِ مطالعہ دے رہے ہیں۔ جن میں ایک سرشاری ہے، سرمستی ہے، وجدان ہے، مہر و خلوص ہے، جذب و شوق ہے، وفا و رضا ہے۔ غرض محبت کے تمام تر پہلو جذبۂ دل کی ساری کیفیتیں عشق و جاں سپاری کے جملہ مظاہر پوری آب و تاب سے نظر آتے ہیں۔ محض طوالتِ شذرہ کے خوف سے تحریر کو یہیں سمیٹا جا رہا ہے۔ اگر وقت اجازت دیتا اور طول بیان گراں نہ گزرتا تو آپ دیکھتے کہ شوق و وارفتگی کے کیسے کیسے امکانات در کھول رہے ہیں۔ کیا کیا احتمالات ہیں جو اپنی چھب دکھا رہے ہیں اور ہم یہ بات بلا خوفِ تردید کہہ رہے ہیں کہ ظہور احمد فاتح کو اُن کی شعری رومانیت نے حسرت موہانی اور اختر شیرانی کی صف میں لا کھڑا کیا ہے،بلکہ اُس سے بھی پیش رفت کرتے نظر آتے ہیں۔

٭٭٭

 

ابوالبیّان ظہور احمد فاتح …… ایک انسان دوست شاعر

            انسان کا خاصہ انسانیت ہے اور انسانیت عبارت ہے اُنس،اُلفت، پیار، ہمدردی اور مروت سے۔ ایک عام انسان کو بھی ان اوصافِ جمیلہ سے ضرور متصف ہونا چاہئے۔ جبکہ ایک خاص انسان جس میں بطورِ خاص شاعری جیسی حساسیت پائی جاتی ہو اُسے تو اور بھی زیادہ ان جواہر سے بہرہ افروز ہونا چاہئے۔ جیساکہ عمومی طور پر شعرا و ادبا میں اُن کے فن کے تناظر میں پائے جاتے ہیں اور اگر شخصیت بھی اسی دلنواز کیفیت سے مالا مال ہو تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ اگر ہم پروفیسر ظہور احمد فاتح کی شخصیت اور فن کا جائزہ لیں تو بلا خوفِ تردید یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ ایک انسان دوست شاعر ہیں۔ جن کی شاعری میں جگہ جگہ ایسے اشعار برنگِ تلازمہ نظر آتے ہیں۔ جن سے اُن کی بشری ہمدردیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

            آج کے شذرے میں ہم جناب فاتح کے مجموعۂ کلام’’سنہرے خواب مت دیکھو‘‘ کے رُبع ثانی کے مطالعہ کے تناظر میں اُن کے اشعار کی روشنی میں یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ اُن کا کلام انسان دوستی کا پیغام ہے،وہ اپنے فن کے ذریعے انسانیت سے محبت و ہمدردی کے جذبے کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں اور اُن ناآسودگیوں اور ناہمواریوں کا ازالہ چاہتے ہیں جو عالمِ بشریت کے لئے سوہانِ رُوح بنی ہوتی ہے۔

            لیجئے سب سے پہلے موصوف کا یہ شعر زیرِ تبصرہ لاتے ہیں :

سنگدل در پئے آزار سہی پھر بھی مجھے

ہر گھڑی اُس کی عنایت کا گماں رہتا ہے

            یہ حقیقت ہے کہ دوست کٹھور دل ہے جس کی وجہ سے اس سے جور و جفا کا صدور ہوتا رہتا ہے مگر شاعر کی نیک دلی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود اس سے حسنِ ظن رکھتا ہے اور اسے یہ گمان رہتا ہے کہ وہ فطرتاً ایسا نہیں ہے۔ عنقریب وہ سلسلۂ عنایات کا آغاز کرنے والا ہے۔ ہر لمحہ خوش گمانی رہتی ہے کہ وہ لطف و کرم کرنے والا ہے۔ اندازہ لگائیے کتنی گہری انسان دوستی ہے اور جفا جُو سے بھی گمانِ شفقت و عنایت ہے۔

            ایک اور غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

ترجمانِ معاشرہ جو نہیں

ایسا شاعر تو پل کا شاعر ہے

جھونپڑوں کے عذاب کیا جانے

وہ جو شاہی محل کا شاعر ہے

            شعر اول میں اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ ایک سچے شاعر کو اپنے سماج کا آئینہ دار ہونا چاہئے۔ اُس کے دکھ سکھ ،خوشی و غم، اس کی راحت وعسرت،اس کے اقبال و ادبار غرض تمام کیفیتوں کی ترجمانی کرنی چاہئے اور اس کے مسائل اور پریشانیوں کو زیرِ بحث لانا چاہئے۔ شعر ثانی میں کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کیا گیا ہے کہ لوگوں کے دکھ اور المیے وہی سمجھ سکتا ہے جو اُن کے ماحول میں رہتا ہو۔ بطور خاص جس کا غربت و افلاس سے کوئی لینا دینا نہ ہو،جو دربارِ شاہی کا شاعر ہو اور کاخ و ایوان کے مزے لوٹنے والا ہو وہ بھلا جھونپڑیوں کے عذاب کیا سمجھے گا؟ مراد یہ ہے کہ عوامی مسائل کو سمجھنے کے لئے اس فضا میں سانس لینا ضروری ہے اور ایسا شاعر ہی محروم طبقے کی محرومیوں کو سمجھ سکتا ہے جو اُن کے مابین رہتا ہو۔

            آئیے اب ایک اور شعر دیکھتے ہیں :

غمِ دوراں ، غمِ جاناں ، غمِ جاں

مِرا دل کتنے خانوں میں بٹا ہے؟

            ظہور احمد فاتح اس تاسّف کا اظہار کر رہے ہیں کہ اُن کا ایک دل کئی خانوں میں بٹا ہوا ہے اور یہ خانے غم کی مختلف نوعیتوں کے حامل ہیں یعنی دنیا کا غم جو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہے۔ دوسری طرف غمِ جاناں ہے یعنی محبوب کا دُکھ جو کسی سیلِ بلا سے کم نہیں اور تیسری طرف غمِ جاں یعنی غمِ ذات ہے جو مسلسل اشک افشانی کا باعث ہے۔ یہاں جو چیز قابلِ ذکر ہے وہ غمِ دوراں کا حوالہ یعنی زمانے کا دُکھ اور اہلِ عالم کا ملال جسے انسانی ہمدردی کا نام دے سکتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سخن گستر نے انسان دوستی کو پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ دوسرے نمبر پر غمِ یار کو اور تیسرے نمبر پر غمِ ذات کو رکھا ہے اور یہی اہلِ وفا کا شعار ہوا کرتا ہے ، وہ اپنے آپ کو کبھی اہمیت نہیں دیتے بلکہ شمار و قطار کی نوبت بھی آ جائے تو خود کو سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔

            اب ایک اور شعر اسی نسبت سے دامنِ التفات کھینچ رہا ہے:

میں اُجاگر اُسے کر دوں گا لہو سے اپنے

آپ کہتے ہیں اگر نقشِ وفا مدھم ہے

            زمانے میں طرح طرح کے نقوش نظر آئے مگر شاعر کے نزدیک نقشِ وفا سب سے پسندیدہ ہے کیونکہ یہ انسان دوستی کا ضامن ہے اور انسان دوستی اپنے اہلِ سخن کا خاصہ ہے۔ چنانچہ پہلا مصرع اس میں زیادہ تاثیر پیدا کر رہا ہے۔ فرما رہے ہیں کہ نقشِ وفا اگر مدھم نظر آ رہا ہے ،امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اگر یہ کمزور پڑ گیا ہے تو اپنا عزم بالجزم ہے کہ اُسے اپنے خون سے نکھار دوں گا۔ اپنے لہو کی سرخی سے اسے اجاگر کر دوں گا۔ یہاں تک کہ یہ پوری آب و تاب سے رونما نظر آئے گا۔ گویا ظہور احمد فاتح انسان دوستی اور بشری ہمدردی کے لئے کسی قربانی سے دریغ کرتے نظر نہیں آتے۔

            ایک عجیب نوعیت کا شعر اپنی طرف توجہ مبذول کرا رہا ہے:

ہمیں تو اس پہ بڑا فخر تھا مگر کیسے

سماج سے تیرا درویش جنگ ہار گیا

            ازل سے انسان دوستوں کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ سنگدل سماج اور بے مروت معاشرے کے خلاف اُن کی پیدا کردہ سماجی ناہمواریوں اور معاشرتی تفاوت کی وجہ سے نبرد آزما رہے ہیں۔ جناب فاتح اسے نگاہِ استحسان سے دیکھتے ہیں اور ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اُسے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں جو سماجی کٹھنائیوں اور اُونچ نیچ کے خلاف مصروفِ جہاد ہو۔ پھر اُنہیں اس صورت میں افسوس بھی ہوتا ہے۔ جب ایسا کوئی جیالا ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے یہ کیفیت شعرِ ہذا میں پائی جاتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو ایک درویش کی طرح معاشرتی تکلیف و جرائم سے محوِ جنگ تھا اور اس کی جسارتیں لائقِ نازش تھیں۔ کیا حادثہ ایسا گذرا کہ وہ جیتی بازی ہار بیٹھا۔

            لیجئے اب ذرا یہ شعر پڑھئے:

کتنے نادان ہیں وہ لوگ تری نگری کے

خود ہی جو آگ لگا دیتے ہیں کاشانے کو

            ایک انسان دوست شاعر ان تمام امکانات کو پسندیدگی کی نظروں سے دیکھتا ہے جن میں عالمِ بشریت کے لئے سکھ اور سکون کا سامان ہو اور اُن تمام چیرہ دستیوں کو ناپسند کرتا ہے جو فلاحِ انسانیت کے منافی ہوں۔ یہ شعر بھی اُسی صورتحال کا عکاس ہے۔ ایسے لوگوں کو نادان اور جاہل قرار دیا جا رہا ہے جو کاشانوں کو جلانے والے اور مقاماتِ راحت و فرحت کو اُجاڑنے والے ہیں۔ گھر آدمی کے لئے گوشۂ عافیت ہے اور اُس کی حفظ و بقا ناگزیر ہے لیکن اگر کوئی گھر کو آگ لگا دینے کی عاقبت نا ا ندیشی کرتا ہے تو اس سے بڑا جاہل اور کوئی نہیں ہوسکتا لہٰذا اپنے سخن ور اُس کے لئے اظہارِ ناپسندیدگی کر رہے ہیں۔

            ایک اور غزل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں :

اِک بڑی بات ہے مخلوق سے ہمدردی بھی

ساتھ اپنے یہی سوغاتِ عمل ہی لے جا

وحشتیں شہر کی پھر حد سے بڑھی جاتی ہیں

اُن کی وادی سے چُرا کر کوئی پل ہی لے جا

            پہلا شعر جانِ مضمون ہے۔ شاعر واشگاف الفاظ میں دعوت دے رہا ہے کہ ہمیں خلقِ خدا سے محبت اور ہمدردی روا رکھنی چاہئے۔ مخلوق سے ہمدردی ایک بڑی چیز ہے کیونکہ یہ چیز مالکِ حقیقی کو بہت پسند ہے۔ اس دُنیا میں بھی کام آنے والی ہے اور آخرت کے لئے بھی زادِ راہ ہے۔ پس ہمیں چاہئے کہ حتی المقدور انسانوں سے بھلائی کریں۔’’خیر الناس من ینفع الناس‘‘ بھلے لوگ وہ ہیں جو لوگوں سے بھلا کرتے ہیں۔ اس لئے اے مخاطب اعمال کی یہی سوغات اپنے ساتھ لے جا،مشکل وقت میں خوب کام آئے گی۔ اللہ رب العزت کو خادمینِ خلق بہت مرغوب و محبوب ہوں گے۔ دوسرا شعر بھی انسانی محبت کا مظہر ہے جس میں انسانی ماحول اور دیار کو وحشتوں سے پاک صاف کرنے کی بات کی گئی ہے۔ چاہے اس کے لئے وادیِ جاناں سے رنگیں ساعتیں بھی کیوں نہ چُرانی پڑیں۔ اس شعر میں شاعر اپنے عشق پر انسان دوستی کو فوقیت دیتا نظر آتا ہے۔

            اگلی غزل کے چار اشعار اسی عالمِ مروت کے حامل ہیں۔ گویا غزل کا سوادِ اعظم انسان دوستی کے آدرش کا حامل ہے۔

1:       وہ جو مجرم تھے اُن کو رہائی ملی

            قید خانے میں اِک بے خطا رہ گیا

2:       شہر بے مہر تھا لوگ بے رحم تھے

            پھر بھی ہونٹوں پہ حرفِ دُعا رہ گیا

3:       ہم پڑھاتے رہے ہیں کتابِ وفا

            ہر جفا کار ہم سے خفا رہ گیا

4:       آہ کو ہم نے باہر نہ جانے دیا

            اشک آنکھوں کے پیچھے چھپا رہ گیا

1:       شاعرِ حساس ہر ایسے اقدام کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے جو کسی سماجی پریشانی کا باعث ہو۔ وہ انسانی معاشرت میں دیگر زیادتیوں کے علاوہ ناانصافی کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے۔ اُن کے اسی فکری تقاضے کی بازگشت اس شعر میں اُبھر رہی ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مجرموں کو تو رہائی مل جائے اور بے خطا انسان سلاخوں کے پیچھے پڑا رہ جائے۔

2:       جناب فاتح نے ماحول اور جانِ ماحول کے رویوں کا گہرا مشاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ وہ بڑے دُکھ سے کہتے ہیں کہ شہر کا حال یہ تھا کہ وہاں محبت و مروت نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی اور اہلِ شہر کا یہ عالم تھا کہ وہ سخت بے رحم تھے،موانست و ہمدردی سے نابلد تھے۔ ان حالات میں بھی یہ مردِ درویش نہ صرف نباہ کرتا رہا بلکہ اپنے لوگوں کے لئے اور اپنے وطن کے حق میں دعائیں مانگتا رہا،تکالیف گوارا کر لیں مگر اُس کے لب پر ہمیشہ حرفِ دُعا مچلتا رہا۔

3:       سخنور جواز پیش کر رہا ہے کہ لوگ اُس سے ناراض کیوں ہیں ؟ وجہ یہ ہے کہ وہ معلمِ کتابِ وفا رہا ہے اور اس کا یہ منصب اغراض پرستوں کو بھلا نہیں لگا۔ اس کے دروسِ وفا ہوس کیشوں کو سخت ناگوار گذرے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہوں نے اس کے خلاف محاذ قائم کر لیا اور اس کی تضحیک کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ اپنے فریضے پر قائم ہے۔ یہی تو انسان دوستی کا کمال ہے۔

4:       اعلیٰ اخلاقیات اور خوبصورت انسانی اقدار کا ایک عنصر صبر و ضبط بھی ہے یعنی برداشت کر جانا، گوارا کر لینا،جمے رہنا، تحمل کا مظاہرہ کرنا، بردباری سے کام لینا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ اگر جبرِ زمانہ کی وجہ سے آہ بھی لبوں تک آئی تو اُسے ہم نے نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ اگر ستم ہائے روزگار کے باعث اشک بھی آنکھوں میں آنے لگے تو اُنہیں بھی اِذنِ فروغ نہیں دیا۔ وہیں پلکوں ہی پلکوں میں توڑ دیئے۔ یہ اعلیٰ حوصلگی اور اولوالعزمی کی ایک نادر نظیر ہے۔

            دیکھئے آگے غزل کے دو اشعار دامانِ توجہ تھام رہے ہیں :

مریضِ دل کا ہے پیغام ہم نشینوں کو

صدائے کرب کو حرفِ دُعا کہا جائے

شکستہ دل ہیں جو فاتح سنیں ہمارا بیاں

ہمارے شعر کو غم کی دوا کہا جائے

            پہلے شعر میں شاعر ایک ایسا مشورہ دے رہا ہے جس پر عمل کر کے وہ انسان دوستی کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور وہ مشورہ یہ ہے کہ مریضِ دل ہونے کے باوجود میں اپنے ہم نشینوں کو یہ ہدایت کروں گا کہ اگر دانستہ یا نادانستہ ان لبوں سے کوئی آہ یا کراہ یا کوئی کلمۂ تاسف نکل بھی جائے تو اُسے حرفِ شکایت کی بجائے حرفِ دُعا کا نام دیا جائے۔ اس لئے کہ دعا میں ہمدردی ہوتی ہے، لطف  و کرم ہوتا ہے، خیر خواہی ہوتی ہے اور موانست ہوتی ہے۔ لہٰذا یہی انداز ہی زیادہ مناسب ہے۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے اُس وقت فرمایا تھا جب آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے اور چہرۂ مبارک خون آلود ہوا تھا ’’اے اللہ! انہیں معاف کر دے، یہ نہیں جانتے کہ میں کون ہوں۔ ‘‘دوسرے شعر میں اپنے مقصودِ کلام پر روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں ، ان کا علاج یہ ہے کہ وہ بھی ہمارا بیان سنیں۔ اس سے اُن کے غم غلط ہوں گے، دل کا بوجھ ہلکا ہو گا، ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی اور کتھارسس کی راہ نکلے گی۔ بلکہ زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ ہمارے شعر کو دوائے غم قرار دیا جائے۔ اندازہ فرمائیے اس سے بڑھ کر انسان دوستی اور کیا ہو سکتی ہے کہ باتوں ہی باتوں میں بغیر کسی فیس اور قیمت کے بیماری کا علاج ہو جائے۔ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

            حاصلِ کلام یہ ہے کہ پروفیسر ظہور احمد فاتح کی شاعری انسانی کیفیات کی شاعری ہے جن میں انسانی ہمدردی بھی ہے۔ احترامِ آدمیت بھی ہے بشری محبتیں بھی ہیں ،کھردرے رویوں پر تبصرہ بھی ہے، سماجی ناہمواریوں اور محرومیوں کا تذکرہ بھی ہے۔ انسانی المیوں پر اشک افشانی بھی ہے۔ لطیف احساسات کے حوالے بھی ہیں ، ظلم و جبر کے خلاف آواز بھی ہے،ناانصافی اور فسطائیت کے پول بھی کھولے گئے ہیں اور دہشت گردی کی قیامت خیزیوں کی مذمت بھی ہے۔ گویا انسان دوستی کا موضوع جامع و ہمہ گیر ہے۔ یہ تو ہم نے ایک کتاب کے چوتھائی حصہ کا حاصلِ مطالعہ پیش کیا ہے۔ من الحیث المجموع اُن کے کلام کا جائزہ لیں تو یہ سیکڑوں ہزاروں اشعار ایسے ملیں گے جو انسان دوستی کی منہ بولتی تصویر ہوں گے۔ اُن کے اس شعر کے ساتھ شذرہ ہذا پایائے اختتام کو پہنچاتے ہیں۔

اُف میرے خدا کتنا بھیانک تھا وہ منظر

انسان تھا انسان کے قدموں میں پڑا تھا

٭٭٭

 

ظہور احمد فاتح کی شاعری کا اسلوبیاتی جائزہ

            شعر و شاعری میں شاعر کا اندازِ نگارش بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسے عُرفِ عام میں اسلوب بھی کہا جاتا ہے۔ شاعری دراصل صنائع،بدائع،تشبیہات و استعارات بندش و تراکیب، ردیف و قوافی اور حسن موزونیت کا نام ہے۔ اگر ہم پروفیسر ظہور احمد فاتح کے سخن کا جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ وہ ایک خاص لب و لہجہ رکھتے ہیں۔ ذیل میں ہم اُن کے مجموعۂ کلام’’سنہرے خواب مت دیکھو‘‘ کے ربع ثالث کے تناظر میں اُن کے شعری اسلوب کا جائزہ لیتے ہیں۔

            سب سے پہلے اُن کی ایک غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

ہم نے نیندیں ترے نام ارسال کیں

اپنی تقدیر میں رتجگا رہ گیا

لاکھ طوفان اوہام آتے رہے

پھر بھی حق دل میں جلوہ نما رہ گیا

            پہلے شعر میں نیندیں ارسال کرنا ایک بہت عمدہ روزمرہ ہے۔ اسی طرح رتجگا بھی بہت اعلیٰ بندش ہے۔ دوسرے شعر میں طوفان اوہام کی ترکیب بہار دکھاتی نظر آتی ہے۔ اس کے مقابلے میں حق کا جلوہ نما رہنا صنعتِ تضاد کا درجہ رکھتا ہے۔

            اس کے بعد ایک اور شعر طالبِ التفات نظر آتا ہے:

جاتا ہے اُن کے پاس جو اصحابِ ظرف ہوں

یہ نامراد غم بڑا مردم شناس ہیٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ

            اس شعر میں بھی دو جاذبِ نظر مرکبات بہت بھلے معلوم ہو رہے ہیں۔ مصرع اول میں اصحابِ ظرف اور مصرع ثانی میں مردم شناس کی ترکیب بے حد مزہ دے رہی ہے۔

            ایک اور غزل کے چار اشعار دیکھئے:

فخر نہیں اچھے انسانوں کا شیوہ مغرور نہ ہو

اُونچی ذاتِ خدا کی ، اُس کو خوش نہیں آتے اونچے بول

بول مگر یوں بول کہ جیسے رِم جھِم بارش ہوتی ہے

اپنی کمزوری ہیں ساقی امرت رس برساتے بول

بھید نہ دنیا پر کھل جائے تیری میری چاہت کا

دیواروں کے کان ہوا کرتے ہیں دھیرے دھیرے بول

میں خاموش رہوں تو باتیں کرتا رہ اے جانِ غزل

میں کرتا ہوں تلخ نوائی تیرے شہد سے میٹھے بول

            شعرِ اول میں رعایتِ لفظی سے کام لیا گیا ہے اور اونچی ذات کے مقابلے میں اونچے بول کی بندش خوب مزہ پیدا کر رہی ہے۔ دوسرے شعر کے پہلے مصرع میں محبوب کے بولنے کو رِم جھِم بارش سے تشبیہہ دی گئی ہے اور اُس کے بولوں کو امرت رس کا استعارہ دیا گیا ہے۔ یہ تشبیہہ و استعارہ کا تال میل بڑا بہار آفریں ہے۔ تیسرے شعر میں دیواروں کے کان ہونے والا محاورہ بہت بر موقع استعمال ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے کی تکرار لطف پیدا کر رہی ہے۔ چوتھے شعر میں تلخ نوائی کے مقابلے میں میٹھے بول رقم کر کے سخنور نے صنعت تضاد کا استعمال کیا ہے نیز محبوب کو جانِ غزل کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔

            اب ایک اور غزل کا شعر دیکھتے ہیں :

رہے میدان کس کے ہاتھ دیکھیں

فغانِ خونچکاں ہے اور قاتل

            پہلے مصرع میں میدان ہاتھ میں رہنا اور دوسرے مصرع میں فغانِ خونچکاں کی ترکیب چست بندش کی حامل ہے جس کی وجہ سے مصرع کا حسن دوبالا ہو گیا ہے۔

            آئیے ایک اور غزل کے دو اشعار زیرِ مطالعہ لاتے ہیں :

جو اہلِ حق ہیں وہ ہیں پریشاں جو اہلِ باطل ہیں شادماں ہیں

گماں گذرتا ہے دہر میں ہے تری خدائی علامتی سی

عجیب سی انجمن تھی فاتح نہ کوئی مونس نہ کوئی ناصح

فسانہ گوئی تھی واجبی سی غزل سرائی علامتی سی

            ان میں ردیف علامتی سی بڑی دلکش ہے۔ ایک ہی مصرع میں دو بار صنعتِ تضاد کااستعمال یقیناً استادانہ مہارت کا غماز ہے۔ اہلِ حق کے مقابلے میں اہلِ باطل، پریشانی کے مقابلے میں شادمانی کا برمحل استعمال بے حد لطیف ہے۔ دوسرے شعر میں مترادفات کا خوبصورت استعمال اپنی شان دکھا رہا ہے۔ مونس و ناصح مصرع اول میں واجبی سی اور علامتی سی ،مصرع ثانی میں علاوہ ازیں دو اصناف ادب کا حوالہ ایک ساتھ یعنی فسانہ گوئی اور غزل سرائی کی جُڑت بھی غمازِ مہارت ہے۔

            اب ایک غزل کے دو شعر پڑھتے ہیں :

آنکھ بھر آئی تو معلوم ہوا

تو میرے دل میں بسا ہے کب سے

اب تو جانا ہی پڑے گا فاتح

موت آغوش کشا ہے کب سے

            پہلے شعر میں آنکھ بھر آئی کا محاورہ آیا اور دوسرے مصرع میں دل میں بسا ہے، یہ بھی ایک محاورہ ہے۔ ایک ہی شعر میں دو محاورے برجستہ لانا یقیناً کارِ استادی ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر کے مصرع ثانی میں بھی ’’موت آغوش کشا ہے ‘‘بطور محاورہ بہت جچ رہا ہے۔

            لیجئے شعروں کی دلکش جوڑی کی حامل ایک اور غزل دعوتِ مطالعہ دے رہی ہے:

جفا کے سلسلے ہیں اور تو ہے

وفا کی آبرو ہے اور میں ہوں

عبادت انتظارِ دیدِ جاناں

یہ چشمِ با وضو ہے اور میں ہوں

            شعرِ اول میں صنعتِ تضاد دو بار وارد ہوئی۔ جفا اور اس کے مقابلے وفا تو اور اس کے مقابلے میں شعرِ ثانی میں چشمِ با وضو کی ترکیب بطور دیدۂ نمناک بڑا لطف دے رہی ہے۔

            ایک اور شعر ملاحظہ ہو:

میں کربِ تخلیق میں رہوں گاحسیں عروسِ ہنر تو ہو گی

مٹے تو مٹ جائے ذات میری کہ میری کاوش امر تو ہو گی

            طویل بحر کا حامل یہ شعر بڑے دلنواز امکانات کا حامل ہے۔ جس میں بہت خوبصورت بندشیں استعمال ہوئی ہیں۔ کربِ تخلیق اور عروسِ ہنر قابلِ دید ترکیبات ہیں۔

            اب نسبتاً مختصر بحر کی ایک غزل کے دو شعر زیرِ نظر ہیں :

توڑ کر سب حصار ظلمت کے

ہم زمانے میں نور بانٹیں گے

کاسۂ چشم کب سے ویراں ہے

کب تجلی حضور بانٹیں گے

            پہلے شعر میں حصار ظلمت کے اور نور بانٹیں گے گویا روگ اور اُس کا مداوا ہے جو قابلِ غور ہے۔ دوسرے شعر میں کاسۂ چشم اور تجلی بانٹنا بے حد پُر کیف کیفیات ہیں۔

            ایک رقصاں بحر کی غزل کا مقطع سماعت ہو:

پڑھیں فاتحؔ کے دلآویز فن پارے

سپہرِ فکر پر دلکش دھنک دیکھیں

            مصرع اول میں شاعرانہ تعلی کی دلنشیں و دلآویز شاہ پارے کی مثال ہے۔ مصرع اول کی بندش خود میں بحرِ الطاف سموئے ہے اور مصرع ثانی میں سپہرِ فکر پر دلکش دھنک کا استعارہ نہایت سحر آفریں منظر پیش کر رہا ہے جیسے کوئی تجریدی آرٹ کا شاہکار ہو۔

            اسی غزل کا ایک اور شعر دعوتِ نظارہ دینے والا ہے:

شگفتِ گل جھلک تیرے تبسم کی

گہر میں تیرے دانتوں کی چمک دیکھیں

پہلے مصرع میں شگفتِ گل کی خوبصورت ترکیب بطور استعارہ لائی گئی ہے اور دوسرے مصرع میں دانتوں کی چمک کا استعارہ گہر کے لئے لایا گیا ہے۔ یہ دونوں استعارے نہایت پُر کشش ہیں۔

            ایک اور غزل کے تین اشعار زیرِ نظر ہیں :

یہ بات ہے وقت وقت کی ، وقت ہے بڑا انقلاب پیشہ

کبھی مکمل سکوت میں ہے ، کبھی تلاطم بجاں سمندر

معاملہ ہے خلوصِ دل کا تو کیف و کم کا ہو کیا حوالہ ؟

ترا کرم نقش فی الحجر ہے مری وفا بے نشاں سمندر

غمِ شب و روز میں بھی فاتحؔ خوشی کا پہلو نکل ہی آیا

یہ بات سچ کہہ گیا ہے کوئی وہاں جزیرہ جہاں سمندر

            شعر اول کے پہلے مصرع میں وقت کی سہ بار تکرار بہار دکھا رہی ہے اور اس کے ساتھ انقلاب پیشہ کی ترکیب بھی ایک جدت ہے۔ دوسرے مصرع میں مکمل سکوت اور تلاطم بجاں کی ترکیب صنعتِ تضاد کی کیفیت کا اظہار ہیں۔ شعر ثانی کے پہلے مصرع میں کیف و کم کا مرکب عطفی فنی پختگی کا مظہر ہے جبکہ دوسرے مصرع میں نقش فی الحجر اور بے نشاں صنعتِ تضاد کے آئینہ دار ہیں۔ شعر ثالث میں صنعتِ تضاد کے تین جوڑے پائے جاتے ہیں۔ غم اور خوشی ، شب اور روز، جزیرہ اور سمندر ایک شعر کے پیمانے میں اتنی کیفیات لانا بلا شبہ فنی چابکدستی کی نادر نظیر ہے۔

            آفریں صد آفریں ایک پوری غزل مجبورِ تبصرہ کر رہی ہے:

ہاتھوں میں ترے لمس کی خوشبو ہے کہ تو ہے

سینے میں تری یاد کا جادو ہے کہ تو ہے

البم ہے مِرے سامنے یا شہرِ نگاراں

یہ مجھ سے مخاطب ترا فوٹو ہے کہ تو ہے

برسات میں جو کھیل رہی ہے میرے دل سے

بجلی ہے تری جنبش ابرو ہے کہ تو ہے

خوش آج نظر آتا ہے بیمار تمنا

بالیں پہ ترا سایۂ گیسو ہے کہ تو ہے

یہ نغمۂ بلبل ہے کہ آواز ہے تیری

اٹھکیلیاں کرتا ہوا آہو ہے کہ تو ہے

مستی بھری آنکھیں ہیں تری یا گل نرگس

یہ نور بداماں کوئی جگنو ہے کہ تو ہے

یہ تیرا تصور ہے کہ تصویر ہے تیری

نظروں میں ترے حسن کا پہلو ہے کہ تو ہے

فاتح تیرا کچھ دیر سے یہ سوچ رہا ہے

پاکیزہ کنول کوئی لبِ جُو ہے کہ تو ہے

            اُن کا یہ منفرد لب و لہجہ اس غزل کے ہر شعر میں اپنی بہار دکھا رہا ہے، لمس کی خوشبو اور یاد کا جادو بڑے دلکش مرکبات ہیں صنعتِ شبہات کا دلکش استعمال غزل میں چار چاند لگا رہا ہے۔ دوسرے شعر میں صنعتِ لف و نشر مرتب کو برتا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ استعارات کی لطیف کیفیتیں سخن کی شان بڑھا رہی ہیں۔ البم کے لئے شہر نگاراں کا استعارہ اور تصویر کا مخاطب ہونا صنعتِ نظیر کی عمدہ مثال ہے۔ تیسرے شعر میں صنعتِ لف و نشر کا ایک اور جھماکا نگاہیں خیرہ کر رہا ہے جس کے مصرعہ ثانی میں استعارات کا تہرا سلسلہ رنگ آمیزی کر رہا ہے۔ چوتھے شعر میں دو دلنواز ترکیبات لگائی گئی ہیں۔ پہلے مصرعہ میں بیمارِ تمنا جبکہ دوسرے مصرعہ میں سایۂ گیسو رقم کیا گیا ہے۔ پانچویں شعر میں نظامِ استعارہ دامنِ توجہ تھا متا نظر آتا ہے۔ مصرعہ اول میں نغمہ بلبل کو آواز ہے تیری کے لئے مستعار کیا گیا ہے۔ اسی طرح مصرعہ ثانی میں اٹھکیلیاں کرتا ہوا آہو بطور استعارہ تو کے کے لئے لایا گیا ہے۔ چھٹے شعر میں بھی دوہرا سلسلہ استعارات منظر نما ہے مصرع اول میں مستی بھری آنکھوں کے لئے نرگس کا استعارہ لایا گیا ہے جبکہ تو کے لئے نور بداماں جگنو صادر ہوا ہے۔ ساتویں شعر میں بھی حسن استعارات سخن کی جان بنا ہوا ہے۔ پہلے مصرعہ میں تو کے لئے حسن کا پہلو منضبط ہوا ہے۔ مقطع میں تو جودتِ استعارہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ ایک پاکیزہ کنول جو لبِ جُو اپنی بہار دکھا رہا ہے، تو کے لئے مستعار لیا گیا ہے جس سے حسن محبوب کی پاکیزگی اور معصومیت اُجاگر ہوتی ہے۔

            اب ایک اور غزل کا شعر واحد ملاحظہ ہو

گلشنِ جاں ناموافق موسموں کی زد میں ہے

اپنی پکی فصل ظالم بارشوں کی زد میں ہے

            غزل کا یہ مطلع شاندار اسلوب بیان کا حامل ہے، اپنی ذات کے لئے گلشنِ جاں کی ترکیب لانا اور کٹھن حالات کے لئے ناموافق موسموں کا استعارہ خوب جچ رہا ہے، اسی طرح محنت کے ما حاصل کو پکی فصل قرار دینا اور اس کے لئے ظالم بارشوں کا حوالہ دینا یقیناً فنی چابکدستی کی کرشمہ کاری ہے۔

            لیجئے اک اور غزل کے دو شعر نذرِ نظر ہیں :

لگائے کان صدا سن رہی ہیں دیواریں

یہ اور بات کہ ساکت کھڑی ہیں دیواریں

جو تم نہیں ہو تو پہلا سا لطفِ زیست کہاں

وہی ہے گھر وہی آنگن وہی ہیں دیواریں

            غزل میں دیواریں بطور ردیف یقیناً ممتاز و منفرد ہے۔ پہلے شعر میں بطور محاورہ کان لگا کر سننا مستعمل ہے اس کے مقابلے میں صنعتِ تضاد لا کر ساکت کھڑا ہوا برتا گیا ہے جو ایک ندرت ہے۔ دوسرے شعر میں لطفِ زیست کی ترکیب بے حد پرکشش ہے۔ مصرعۂ ثانی میں وہی کی تکرار نرالا لطف پیدا کر رہی ہے۔

            آئیے اب ایک اور غزل کے دو شعر دیکھتے ہیں :

ساتھ مرے اس نے بھی ترے ہجر کے رنج اٹھائے ہیں

میں چپ ہوں پر ترے لمس پہ بول اُٹھا ہے دروازہ

قریہ قریہ کوچہ کوچہ خاک اُڑاتا پھرتا ہے

تیرے دیوانے کو گھر کا بھول گیا ہے دروازہ

            اس غزل میں بطور ردیف ’’دروازہ‘‘ کو لایا گیا ہے اور بڑی خوبصورتی سے اس ردیف کو نبھایا گیا ہے۔ دیئے گئے شعر اول کے پہلے مصرعہ میں موافقت کی ایک کیفیت ہے جب کہ دوسرے مصرعہ میں صنعتِ تضاد کو استعمال میں لایا گیا ہے اور یوں ایک گنگا جمنی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ شعرِ ثانی میں پہلے مصرعہ میں قریہ قریہ کوچہ کوچہ کی تکرار مزہ پیدا کر رہی ہے، اس کے ساتھ خاک اڑاتے پھرنا بطور محاورہ رنگ آمیزی کر رہا ہے۔ گویا حسنِ بیان شعر در شعر مصرعہ در مصرعہ جوبن پہ نظر آتا ہے۔

            ایک اور غزل کے تین اشعار دعوتِ توجہ دے رہے ہیں :

کسی کی قسمت بگڑ رہی ہے مگر خدائے قدیر چپ ہے

ستارے آمادۂ شرارت ہیں پر وہ گردوں سریر چپ ہے

صد ائے زنجیر نعرۂ انقلاب ہے نا سمجھ نہ جانے

یہ سوچ کر مطمئن ہے صیاد ظلم سہہ کر اسیر چپ ہے

نہ آہ و زاری نہ رُخ پہ وحشت نہ اپنی تقدیر سے شکایت

برس رہے ہیں ستم کے پیکاں مگر تمہارا فقیر چپ ہے

            اس غزل میں ’’چپ ہے ‘‘ کو بطور ردیف لایا گیا ہے۔ پہلے شعر کے دوسرے مصرعہ میں اللہ تعالیٰ کو گردوں سریر کہہ کر حسن ایمائیت پیدا کیا گیا ہے اور ستارے آمادۂ شرارت ہیں کے قول میں ایک زبردست فنی بلاغت پائی جاتی ہے۔ دوسرے شعر کے پہلے مصرعہ میں صدائے زنجیر کو نعرہ انقلاب کا استعارہ عطا کر کے شاعر نے اسلوبی پختگی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ تیسرے شعر کے پہلے مصرعہ میں نہ کی تکرار کے ساتھ ساتھ مختلف کیفیاتِ غم کا حوالہ مثلاً آہ و زاری، رُخ پہ وحشت اور تقدیر سے شکایت تاثر میں اضافہ کر رہا ہے۔

            المختصر ظہور احمد فاتحؔ الفاظ کے ایسے بازی گر ہیں جن کے حضور لفظ اپنی تمام ہئیتوں سمیت ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ جو قدرتِ کلام اُن کے ہاں پائی جاتی ہے کہیں نہیں دکھائی دیتی، رفعتِ خیال اپنی مثال آپ ہے، حسنِ تصور لاثانی ہے، بندش اور تراکیب کا اندراج مرصع اور اچھوتا ہے، تشبیہات و استعارات جگہ جگہ گل افشانی کرتے نظر آتے ہیں ،صنائع بدائع کی کوئی کمی نہیں ، ابہام و ایہام حسب موقع لطف ساماں نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود عالم کے بقول جناب فاتحؔ کے سخن سے فاتحیت ٹپکتی نظر آتی ہے، مصرعہ مصرعہ، شعر شعر غمازی کر رہا ہے کہ مجھ پر سخن گستریِ فاتح نے شفقت کی ہے۔ ان کا اسلوب ندرت و جودت کا حامل بھی ہے اور پورے طور پر منفرد بھی، ان کا طرز بیان کہیں تو اتنا سادہ ہو جاتا ہے کہ سہل ممتنع کا گمان ہوتا ہے اور کہیں ایسی دقیقہ سنجی پائی جاتی ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور شاگردانِ ادب کے لئے انہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ علیٰ ہذاالقیاس پروفیسر ظہور احمد فاتح ؔ کے فن کا اسلوبیاتی جائزہ انسان کو ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا ہنر ابنائے ملت کے لئے بہت زیادہ سود مند ثابت ہو۔ آمین

٭٭٭

 

کلام فاتح ؔ اور داخلی کیفیات

            شعر شعور سے ماخوذ ہے اور یہ مختلف کیفیات کا حامل ہوتا ہے جسے ہم واردات قلبی کا مظہر قرار دے سکتے ہیں یہ عموماً داخلی اور خارجی کیفیات سے ترتیب پاتا ہے بعض شعراء کے ہاں داخلیت کا عنصر بہت گہرا ہوتا ہے اور بعض سخنور خارجیت میں ید طولیٰ رکھتے ہیں آج کے شذرے میں ہم ابوالبیان ظہور احمد فاتح ؔ کے کلام کے حوالے سے داخلی کیفیات کا جائزہ لے رہے ہیں ان کے ہاں داخلی عنصر بہت وقیع و عمیق ہے۔ وہ عموماً ڈوب کر لکھتے ہیں ان کا احساس بے پناہ پہنائیوں کا حامل ہے ان کے وجدان میں داخلیت رچی بسی ہوئی ہے۔ آج ہم ان کے مجموعہ کلام ’’سنہرے خواب مت دیکھو‘‘ کے ربع آخر کا حاصلِ مطالعہ ان کی داخلیت کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔

            سب سے پہلے جو غزل ہمارے سامنے ہے وہ چھوٹی بحر مگر بڑے تاثر کی حامل ہے جس کے پانچ اشعار داخلی کیفیات کے مظہر ہیں۔

غمِ عشق سینے میں گھر کر گیا ہے

یمِ زندگی کو بھنور کر گیا ہے

نمایاں تھے پہلے ہی ہم انجمن میں

یہ دُکھ اور بھی معتبر کر گیا ہے

تری یاد میں دل سے اِک ہوک اُٹھی

تصور ترا چشم تر کر گیا ہے

جسے آیا خونِ جگر کا برتنا

وہ معراجِ علم و ہنر کر گیا ہے

نکل آئے ہیں آنکھ سے اشک فاتحؔ

ترا شعر دل پر اثر کر گیا ہے

            غزل کا مطلع بڑے بھرپور داخلی تاثر کا حامل ہے ایک تو عشق پھر اس پر طرہ غم عشق کا سینے میں گھر کرنا وہ بھی اس طرح کہ بحرِ حیات میں گرداب پیدا کر دینا، ذرا سوچئے کس قدر ہیجانی کیفیت کا حامل ہوسکتا ہے۔ دوسرا شعر ذاتی دُکھ کا حوالہ ہے جس میں ایسا شخص جو پہلے صاحبِ امتیاز تھا اسے مقامِ اعتبار پر پہنچا دیا ہے، یوں سخنور دکھ کا شکوہ کرنے کی بجائے اس کا ممنون نظر آتا ہے۔ تیسرے شعر میں حاصلِ عشق جو مرکز داخلیت ہے کے دو عناصر یعنی یاد اور تصور کے حوالے سے بات کی گئی ہے، یاد نے دل کو مجبورِ فغاں کر دیا اور تصور نے سیلِ اشک رواں کر دیا۔ چوتھے شعر میں خونِ دل کی عظمت اُجاگر کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ معراجِ علم و ہنر صرف اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جو خونِ دل کے برتنے کا ہنر جانتا ہو یعنی اپنے اشعار میں کشیدِ جاں پیش کرتا ہے۔ پانچواں شعر غزل کا مقطع ہے جناب فاتح ؔ شاعرانہ تعلی پیش کرتے ہوئے محو بیان ہیں کہ آپ کے اشعار نہایت پر اثر ہیں ان کی تاثیر کا یہ عالم ہے کہ جب بھی سماعت کیے گئے ہیں آنکھ سے اشک جاری ہو گئے۔

            لیجئے ایک اور غزل کے دو شعر دیکھتے ہیں :

یہ میرے دردِ دل کی آنچ کا اعجاز ہے شاید

مری چھاتی سے ٹکرا کر جو ہے اتنا حزیں پتھر

تمہارے لمس نے تشکیل کی ہے سنگِ مرمر کی

مِرے خونِ دل سے بن گئے ہیں احمریں پتھر

            پہلے شعر میں دردِ دل کا حوالہ ہے جو ایسا شدید ہے کہ آنچ دینے لگا ہے اور اس کی آنچ نے عاشق کو دیوانہ بنا دیا ہے، ظاہر ہے کہ دیوانوں کا استقبال پتھروں سے کیا جاتا ہے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ پتھر بھی اہلِ دل کے سینے سے ٹکرا کر درد کی آنچ کے باعث افسردہ ہو گیا ہے۔ ایسی گہری داخلیت کی مثالیں شاذ و نادر ہی کہیں اور نظر آئیں گی، دوسرے شعر میں محب اور محبوب کی کرشمہ سازیوں کا ذکر ہے اگر محبوب کے لمس کے باعث ایک پتھر سنگِ مر مر بن گیا ہے تو محب کے خونِ دل کے اعجاز نے پتھروں کو سنگ احمر بنا دیا۔ جسے عرف عام میں سنگ سرخ بھی کہا جاتا ہے گویا خونِ دل کی سرخی نے ہی سنگِ احمر کو سرخی بخشی ہے۔

            اب ایک اور غزل کا شعر ملاحظہ ہو:

فن کی مایہ غم کی پونجی درد کی دولت ملی

دل زدوں کو راس آئی ہے شناسائی بہت

            دوستی اور شناسائی یقیناً بے حد نازک رشتہ ہے جو دل والوں کے لئے کسی ابتلا سے کم نہیں مگر ہمیں شناسائی کا ناتا بہت راس آیا ہے اس کے باعث سرمایہ فن میسر آیا ہے متاعِ غم فراغ ہوئی اور ساتھ ساتھ دولتِ درد بھی مہیا ہوئی ہے گویا اپنے لیے دوستی ثمر آور ثابت ہوئی ہے۔ واضح رہے یہ سب داخلی عناصر ہیں جو پوری آب و تاب سے نمایاں ہیں۔

            اس غزل کا ایک اور شعر دامن التفات کھینچ رہا ہے :

محفلیں بیگانہ کر دیتی ہیں تیری یاد سے

تیرے دیوانے کو ہے مرغوب تنہائی بہت

            بزم آرائیاں نشاط خیز اور فرحت انگیز ہوا کرتی ہیں لیکن حبیبِ لبیب کا رَسیا انجمن سے کنارہ کش ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ رونقِ محفل یادِ جاناں سے غافل کر دیتی ہے لہٰذا اس نے گوشۂ تنہائی اختیار کر لیا ہے کنجِ عُزلت کو سینے سے لگا لیا تاکہ محبوب کی محبوب یادیں متاثر نہ ہوں۔

            اگلی غزل کا ایک شعر زیر تبصرہ لاتے ہیں :

کہیے آزادی بھلی ہے کہ اسیری اچھی

دل گرفتوں سے تیری زُلف کا خم پوچھتا ہے

            عاشق محبوب کے عشق میں گرفتار ہے اور گرفتار بھی ایسا کہ مستقل اسیرِ شوق ہو کر رہ گیا ہے، وہ زنجیرِ زلف میں جکڑا گیا لیکن خود کو بڑے مزے میں سمجھتا ہے، اس کی اس سرشاری کو دیکھ کر زُلفِ پیچاں سراپا سوال بن جاتی ہے اور دریافت کرتی ہے ذرا ایمان سے بتانا کہ آزادی اچھی ہے یا اسیری بھلی ہے۔ یہ ایسی داخلیت ہے جو خارجیت کو بھی اپنے گھیرے میں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

            ایک شعر ایک اور غزل کا دامن توجہ کھینچنے لگا ہے :

دل پہ عہدِ خزاں مسلط ہے

روز و شب جشنِ نوبہار کروں

            شاعر عجیب کیفیت سے دوچار ہے بظاہر ایک عالم تضاد ہے دل کی دنیا اُجڑی ہوئی ہے من خزاں رسیدہ چمن کی طرح ہے مگر تن مظہرِ نشاط بنا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جنابِ فاتحؔ دنیا کی خوشی کے لئے یا مسرتِ زمانہ کا ساتھ دینے کے لئے جشنِ نو بہار منانے میں مصروف ہیں اور یہ جبرِ ذات ایک دو دن کی بات نہیں شام و سحر کا تسلسل ہے۔

            آگے ایک اداس غزل کا تنہا شعر آتا ہے :

ملحوظ ہے ہر بات پہ منشائے زمانہ

اے دوست کبھی دل کا کہا مان لیا کر

            ظہور احمد فاتحؔ یارِ ہزار شیوہ سے مخاطب ہیں اور مشورے دے رہے ہیں کہ یہ کیا طریقہ ہے کہ ہر معاملے میں اہلِ جہاں کی مرضی مدِ نظر رکھی جاتی ہے۔ اس طرح تو بڑی مشکل پیدا ہو جائے گی زیادہ نہ سہی کبھی کبھی تو حضرتِ دل کی بات بھی مان لینی چاہیے کہ آخر یہ بھی پہلو کا ساتھی ہے۔ جیسے اقبال نے کہا تھا :

بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

            آئیے آمدہ غزل کے چار اشعار استقبال کرتے ہیں :

جذبۂ الفت سے دل کو آشنا کرتا ہوا

ہو گیا رخصت وہ سوزِ جاں عطا کرتا ہوا

اے خدا گزرا ہے یہ کس کے بچھڑنے کا خیال

زلزلہ سا کشورِ دل میں بپا کرتا ہوا

سنگ باری میں ہنسا پہلے تو دیوانہ ترا

رو دیا پھر لب کو محرومِ دعا کرتا ہوا

اس کی رودادِ الم سن سن کے روتا ہے جہاں

مر گیا فاتحؔ غموں کا سامنا کرتا ہوا

            ان اشعار میں داخلیت پوری شدت سے پر تو فگن ہے، شعرِ اول میں شاعر جانے والے کا ذکر دل گیر اس طرح کر رہا ہے کہ وہ ایک محسن تھا جس نے ہمارے دل کو جذبۂ الفت سے آشنا کیا تھا اور ہمیں سازِ جاں عطا کیا تھا اور یہ سب نوازشیں کرنے کے بعد خود ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، یہ بھی ہوسکتا ہے یہ سوزِ جاں اس کے جانے کے نتیجے میں ملا ہو۔ شعرِ ثانی میں وہ اپنے مالکِ حقیقی سے مخاطب ہیں کہ اے خدا یہ کس کے نہ آنے کا خیال ہمارے دل سے گزرا ہے جس کے باعث دل کی دنیا میں ایک زلزلہ سا برپا ہوتا ہے۔ خود تصور کیجئے کہ جہاں خیالِ ہجراں ہی اس قدر خوفناک ہو کہ من کی دنیا کو تہ و بالا کر دے وہاں خود اس کی جدائی کس قدر المناک ہو گی۔ شعرِ ثالث میں دیوانگی کی عمیق کیفیت کا حوالہ ہے جو بارشِ سنگ میں پہلے تو ہنس دیتا ہے پھر سنگ زنی کرنے والوں کو دعا دیتا ہے۔ آخرِ کار اس کے لب محرومِ دعا ہو جاتے ہیں اور مکمل سکوت میں چلا جاتا ہے۔ غزل کا مقطع ایک عجیب احساس کا حامل ہے کہ فاتحؔ نے پوری زندگی غم جھیلے ہیں ، یہاں تک کہ کسی سیلِ غم کا سامنا کرتا ہوا راہیِ ملکِ عدم ہو گیا۔ زمانہ کو اب اس کی المناکی کا اندازہ ہوا کہ وہ کتنا دکھی انسان تھا اب اہلِ جہاں ایک دوسرے سے اس کی رودادِ الم سن کر روتے ہیں اور اشکوں کی صورت میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

            ایک بڑے گہرے احساس کا حامل ایک شعر اپنی طرف متوجہ کرا رہا ہے :

وا دیدۂ خاطر ہے جو آنکھوں میں نہیں تاب

ہم طالبِ دیدِ رُخِ زیبا تو ہوئے ہیں

            محبوب کے چہرۂ زیبا کے درشن کی خواہش دلِ عاشق میں محشر برپا کر رہی ہے۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سخن ور عذرِ بصارت سے دوچار ہے تاہم مسئلے کا حل یہ ہے کہ وہ حسنِ جاناں سے بہرہ افروز ہونے کے لئے دل کی آنکھیں وا کیے ہوئے ہے۔ گویا چشمِ بصیرت سے روئے یار کی زیارت کرنا چاہتے ہیں ، غمِ ذات کے حوالے سے غمِ اندروں کا نادر نمونہ ہے۔

             اس سے ملتا جلتا جناب فاتح کا یہ شعر بھی بہت پر اثر ہے :

سلب کر لی ہے بصارت کاتبِ تقدیر نے

جرم یہ تھا طالبِ دیدِ رُخِ جاناں تھے ہم

            ایک رقصاں اور قدرے طویل بحر کی حامل ایک طویل غزل میں سے پانچ اشعار کا انتخاب ہدیہ قارئین ہے :

لہو لہو ہوا جگر تو ہم نے شعر کہہ دیا

ہوئی نہ خشک چشمِ تر تو ہم نے شعر کہہ دیا

ہمارے بول کیوں اُتر نہ جائیں تیری روح میں

بیاں میں آ گیا اثر تو ہم نے شعر کہہ دیا

ہماری شاعری غمِ حیات کی ہے ترجماں

کٹا چکے جو بال و پر تو ہم نے شعر کہہ دیا

ہو آب آب جس کی آنچ سے ضمیرِ شمس بھی

ملا جو رنج اس قدر تو ہم نے شعر کہہ دیا

برنگِ ظلم و جبر و جور فاتحِؔ فقیر کو

ملا خلوص کا ثمر تو ہم نے شعر کہہ دیا

            پہلے شعر میں جناب فاتحؔ فرماتے ہیں کہ ہم ہر تقریب کے حوالے سے شعر کہنے والے اگر کہیں شدتِ صدمات سے جگر خون ہو گیا تو ہم شعر کہے بغیر نہ رہ سکے پھر اگر کثرتِ آلام کے سبب آنکھ اشک بار ہو گئی تو ہم مجبورِ سخن ہو گئے گویا حالات کی دوربینی نے ہمیں ہمیشہ مصروفِ بیاں رکھا اور اس مشقِ بیاں نے ہمیں ابوالبیان بنادیا، دوسرے شعر میں جواز دلپذیری بیان کیا گیا ہے کہ ہمارے اشعار ایسے نشتر ہیں جو روح کی گہرائی میں اُترتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شعر کہتے ہی اس وقت ہیں جب اثر لَو دے اٹھتا ہے اور تاثیرِ سخن مجبورِ بیاں کر دیتی ہے۔ تیسرے شعر میں فرماتے ہیں کہ ہم بے وجہ شاعری نہیں کرتے بلکہ جب غمِ حیات آنچ دینے لگتا ہے تو ہم قلم اٹھا لیتے ہیں ہمارے فرمودات اکثر و بیشتر اس عالمِ بے بسی کی روداد ہیں جب کوئی پنچھی بال و پر سے محروم ہو جائے تو اس کیفیت کا اظہار ہمارے اشعار کیا کرتے ہیں۔ چوتھے شعر میں یوں گویا ہیں کہ معمولی غموں کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ اس وقت لقائے خامہ و قرطاس معرضِ امکان میں آتا ہے۔ جب ایسا رنج شدید وارد ہوتا ہے جس کی تمازت سے ضمیرِ خورشید بھی پانی پانی ہو جائے۔ غزل کا مقطع ایک عجیب کیفیت کا حامل ہے۔ لکھتے ہیں کہ جب فاتحؔ جیسے فقیر کے ساتھ بھی زیادتیاں ہونے لگیں اور اس کے خلوص کا صلہ جبرو جور کی صورت میں ملنے لگے تو پھر ہم شعر کہے بغیر نہیں رہ سکتے، گویا شاعر حساس کا یہ فرض منصبی ہے کہ جہاں کہیں بے اصولی، بے ضابطگی، زیادتی یا ناانصافی مشاہدہ کرے ہر وقت کہے گئے اشعار کے ذریعے بروقت اپنا ما فی الضمیر پیش کرے۔

            اب ایک اور غزل کی ایک جوڑی شعر دق الباب کرتے دکھائی دے رہی ہے:

اگرچہ دل میں ہزار غم ہیں محبتیں بانٹتے رہیں گے

ہماری قسمت میں گو ستم ہیں محبتیں بانٹتے رہیں گے

ہمیں نہیں ہے کسی سے نفرت نہیں کسی سے ہمیں کدورت

ہمارے دل مثلِ جامِ جم ہیں محبتیں بانٹتے رہیں گے

            پہلے شعر میں محبتیں تقسیم کرنے کا حوالہ ہے چاہے حالات کتنے ہی ناساز ہوں چاہے ہزاروں غم دل میں رقصاں ہوں چاہے ہمارے نصیب میں ستم لکھے ہوئے ہوں ہر حال میں ہم اپنا وظیفہ جاری رکھیں گے دوسرے شعر میں شاعر اپنی صاف دلی کے حوالے سے عکس دوراں دکھا رہا ہے کہ اپنا حال یہ ہے کہ کسی سے نفرت نہیں کرتے من در پن ہر طرح کے بغض و کینہ سے پاک صاف ہے کسی سے دشمنی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ آئینہ دل جانِ جہاں نما کی مانند ہے بس ہم محبتیں بانٹنے والے ہیں۔

            اب آخر میں آخری غزل کے آخری دو شعر ہدیہ قارئین کرتے ہیں جن میں رمزِ دَروں اپنی بہار دکھا رہی ہے :

یہ تری یاد کی خوشبو ہی تو ہے جان بہار

رات دن رہتا ہے دل جس سے معطر اپنا

چارہ گر زعم تو رکھتے ہیں دوا کا فاتحؔ

درد ہے ان کی توقع سے فزوں تر اپنا

            جناب فاتح اپنے محبوب سے مخاطب ہیں۔ اے جانِ بہار ہمارا دل جو روز و شب معطر ہے، ہمارا مشامِ جاں جو مہک رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دل کی پھلواری میں تیری یادوں کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ جن کی وجہ سے ایک ہمہ وقت خوشبو کا احساس ہے جو ہمارے شعروں میں بھی رچ بس چکی ہے، دوسرے شعر میں وہ اس راز سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے گھاؤ لاعلاج ہیں نہ یہ بات ہے کہ ان کی چارہ سازی کے لئے کوئی تیار نہیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ جو چارہ گر ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں اور انہیں زعم چارہ سازی ہے انہیں آخر میں مایوس نہ ہونا پڑے وجہ یہ ہے کہ ہمارا درد دل ان کی توقع سے بھی فزوں تر ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم کتنے گہرے کرب سے گزر رہے ہیں۔

            مندرجہ بالا استشہادات و توضیحات سے یہ امر اظہر من الشمس ہو جاتا ہے کہ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے کلام بلاغت نظام میں داخلیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے چونکہ ان کے ہاں دل وارداتِ دل، سوزِ دل، دردِ دل اور جذباتِ دل کو بڑی گہرائی حاصل ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ان کی شاعری گہرے داخلی تاثرات کی حامل ہے تو مبالغہ نہ ہو گا ہر چند کہ وہ خارجیت سے بھی بے خبر نہیں اور ان کے مضامین میں ایک ایسا تنوع پایا جاتا ہے جس نے ان کے کلام کو قوسِ قزح بنا دیا البتہ یہ ضرور ہے کہ قوسِ قزح کے ان رنگوں میں داخلیت کا رنگ بہت نمایاں اور جاذبِ نظر ہے

٭٭٭

 

ابو البیان ظہور احمد فاتحؔ اور عصری رویئے

            شاعر عکاسِ عصر ہوتا ہے۔ وہ کیفیاتِ عالم کا ترجمان ہوتا ہے۔ سلوکِ خلق کے حوالے سے اس میں گہری حساسیت پائی جاتی ہے۔ یہی حال پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کا بھی ہے اُن کے کلام میں اطوارِ زمانہ کا واضح پر تو پایا جاتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو کہ بیانِ فاتح تجربات و مشاہداتِ جہاں کا منشور ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ آج کے شذرے میں ہم جناب فاتح کے آٹھویں مجموعہ کلام ’’کچھ دیر پہلے وصل سے‘‘ کے نصف اول کو بطور استشہادلارہے ہیں تاکہ ان کے اشعار کو حوالہ بناتے ہوئے ہم موقف کی ناقدانہ صراحت کر سکیں۔

            سب سے پہلے ان کی اولین غزل کا ایک شعر دیکھئے:

تم ہو ضامن تبسمِ لب کے

چشم تر آبشار تم سے ہے

            مراد یہ ہے کہ خوشی اور غم کا انحصار تمہارے رویوں پر تم چاہو لبوں پر مسکان کھیلنے لگے اور چاہو تو آنکھیں کثرتِ گریہ سے آبشار بن جائیں یعنی خوش سلوکی سے مسکراہٹیں بکھیرنے کا کام بھی کرسکتے ہو اور بدسلوکی کر کے سوگواری کا باعث بھی بن سکتے ہو یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جو انسانی رویوں کی بین ترجمانی کرتی ہے۔

            اگلی غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

ہم جام پی رہے ہیں یا زہر پی رہے ہیں

کیسی یہ زندگی ہے مر مر کے جی رہے ہیں

ہے قدر ان کی بے شک، بے شک عظیم ہیں وہ

جو لوگ دوستی میں ہوتے ستی رہے ہیں

            پہلے شعر میں زندگی کی تلخیوں اور بدمزگیوں کا حوالہ ہے کہ مئے نوشی میں کیف وسرور نہیں رہا بلکہ یوں لگتا ہے جیسے شراب نہیں پی جا رہی بلکہ زہر پیا جا رہا ہے۔ جب جیون کے یہ رنگ ڈھنگ ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے مر مر کر جیا جا رہا ہو۔ دوسرے شعر میں ان اصحابِ دل کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے جو راہِ دوستی میں دُکھ تکلیف گوارا کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بقائے رفاقت کے لئے جان کی بازی لگا دیتے ہیں ، حد تو یہ ہے کہ جان قربان کرنے پر تل جاتے ہیں ، یقیناً ایسے لوگ بھی عظیم ہیں اور لائقِ قدر و منزلت ہیں۔

            ثابت ہوا کہ جناب فاتح صرف منفی پہلوؤں کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ جہاں کوئی مثبت بات آتی ہے اُسے بھی ضرور سراہتے ہیں اوراس کی واقعی قدردانی کرتے ہیں۔

            آیئے اب ایک غزل کا مقطع زیرِ تبصرہ لاتے ہیں :

وہ ٹوٹ پھوٹ کے یکسر بکھر گیا فاتحؔ

ہمیں جو شخص قوی الحواس لگتا تھا

            امتدادِ زمانہ کی منظر کشی اس شعر میں کی گئی ہے کہ ایسے لوگ بظاہر مضبوط اعصاب اور طاقتور حواس کے مالک ہوتے ہیں وہ بھی منفی عصری رویوں اور اعصاب شکن حالات کا شکار ہو کر شکست و ریخت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں عام لوگوں کا کیا ٹھکانہ ہو گا۔

             ایک اور غزل کا مقطع ملاحظہ ہو:

فاتح ہماری شاعری آوازِ وقت ہے

ہم ترجمانِ دل ہیں توجہ سے سن ہمیں

            شاعر اہلِ دنیا سے مخاطب ہے جو کسی بات پر کان دھرنے کو تیار نہیں کہ ہماری بات سرسری طور پر سماعت نہ کی جائے بلکہ اس کلام کو پوری توجہ سے سنا جائے کیونکہ یہ کوئی معمولی بیان نہیں ہے بلکہ ابوالبیان کا بیان ہے جسے آپ صدائے عصر بھی قرار دے سکتے ہیں۔ گویا جہاں وہ عصری رویوں سے متاثر ہوتے ہیں وہاں اہلِ جہاں کو اپنے سخن سے متاثر کرنا بھی چاہتے ہیں۔

            ایک چھوٹی بحر کی غزل کے دو بظاہر سادہ مگر پرکار شعر پیشِ خدمت ہیں :

جیون لمحے سوکھے پتے

وقت کے مارے جھڑتے پتے

یوں مجبور ہے مفلس انساں

جیسے بے بس تاش کے پتے

            پہلے شعر میں لمحاتِ زیست کے حوالے سے بات کی گئی ہے کہ زندگی کے لحظے سوکھے پتوں کی طرح ہو گئے ہیں جن میں نہ رنگت ہے نہ نگہت نہ تازگی ہے، گردش دوراں نے وہ دن دکھائے ہیں کہ برگِ حیات جھڑنے لگے ہیں اور شاخساروں سے رشتہ استوار رکھنا محال ہو گیا ہے، دوسرے شعر میں افلاس زدہ لوگوں کے حوالے سے بات کی گئی ہے جو زمانے کی چیرہ دستیوں کا شکار ہو کر بے کس و مجبور ہو جاتے ہیں بالکل تاش کے پتوں کی طرح جو بازی کھیلنے والوں کے ہاتھ میں آ کر ان کے اشاروں کے غلام بن جاتے ہیں جسے چاہا گرا دیا جسے چاہا اٹھا لیا، جسے چاہا بانٹ دیا جسے چاہا چھانٹ دیا جسے چاہا بھینٹ دیا۔

            اب ایک اور غزل کے دو شعر اسی حوالے سے دیکھتے ہیں :

کاوشِ فکر و فن میں گزری ہے

زیست رنج و محن میں گزری ہے

شہر کے ہم فریب کیا جانیں

زندگی دشت و بن میں گزری ہے

            پہلا شعر جنابِ فاتحؔ کی حیات کا ترجمان ہے جیسے وہ خدمتِ شعر وا دب میں مصروف رہے ہیں اس کی عکاسی ہے۔ کہتے ہیں کہ زندگی فکری اور فنی کاوشوں میں بسر ہوئی ہے اور غم و آلام زندگی کا معمول رہے ہیں۔ شعر کا دوسرا مصرع غمِ ذات کا حوالہ نہیں لگتا کیونکہ خود تو وہ بہت ہشاش بشاش رہنے والے انسان ہیں جب بھی دیکھئے ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مصرع ثانی غمِ کائنات کا حوالہ ہے جسے ابوالبیان عند البیان اپنی ذات پر اوڑھ لیتے ہیں ، دوسرا شعر سادہ لوح انسانوں کا حوالہ ہے جو شہر کے ہنگاموں سے دور صحراؤں اور جنگلوں میں زندگی گزارتے ہیں ، جنہیں شہری فریب کاریوں کا تجربہ نہیں ہوتا جیسے کوئی گنوار کسی شہر میں آ پھنسے تو خود کو شدید الجھن میں محسوس کرتا ہے، گویا زمانہ ان کے لئے کسی جال سے کم نہیں ہوتا لیکن ایسے ہی لوگوں کے لئے شاعر مشرق نے کہا تھا کہ :

قدرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی

یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہُستانی

            ایک اور غزل کے دو شعر دامنِ توجہ کھینچتے نظر آتے ہیں :

روگ لگ جائے انا اور حسد کا جس کو

دل وہ تسکین سے محروم دکھائی دے گا

دیکھنا رنگ نہ بدلے گی کہانی کیا کیا

ہر قدم پر نیا مفہوم دکھائی دے گا

            ظہور احمد فاتحؔ ہمہ پہلو شخصیت ہیں وہ ایسے شاعر ہیں جو عام طور پر ہضم نہ ہونے والے پیغامات کو شعری کیپسول میں بھر کر دل و دماغ میں اتار دیتے ہیں ، مراد یہ ہے کہ وہ ایک بھرپور ناصح ہیں ، پند و موعظت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بعض لوگ اُن پر ادب برائے ادب کا فتویٰ لگاتے ہیں مگر حقیقت میں وہ ادب برائے زندگی کو بھی کبھی نظرانداز نہیں کرتے یہ کیفیت ان کے اس شعر میں بھی پائی جاتی ہے چنانچہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کو انا پرستی اور حسد کی بیماری لگ جاتی ہے اس کا دل سکون و راحت سے عاری ہو جاتا ہے یا تو وہ مارے پندار کے پیچ و تاب کھاتا رہتا ہے یا آتش حسد میں اپنا جی جلاتا رہتا ہے لہٰذا یہ ایسے عارضے ہیں جن سے بچنا ناگزیر ہے ان کا شعر ثانی عصری رویوں پر بھرپور طنز ہے اور بعض اوقات طنز کے یہ نشتر صفائے خون میں خاصے مفید ثابت ہوتے ہیں یہاں بھی یہی کیفیت پائی جاتی ہے کہ کہانی دم بہ دم رنگ بدلتی جاتی ہے، ساعت بساعت باتوں کے نئے نئے مفاہیم نکالے جاتے ہیں اور اقوال کی گو ناگوں تاویلات کی جاتی ہیں یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے فرار کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔

            جناب فاتح ؔ نقاد عالم ہیں وہ زمانے کی رگ رگ سے واقف ہیں اوراس کے رویوں کا گہرا مشاہدہ رکھتے ہیں پھر جہاں کہیں ضرورت ہوتی ہے اس پر بے لاگ تبصرہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے اور حقیقت میں یہی ایک سخن ور کا فرض منصبی ہے۔

            آیئے اب ایک مختصر بحر کی غزل کے دو نادر شعر دیکھتے ہیں :

چارہ ساز بنایا جس کو

کاٹ کے رکھ دی اس نے شہ رگ

مان ہماری بات پیا جی

غیروں کے کہنے پر مت لگ

            شعرِ اول میں شاعر نے بیدردیِ جہاں کے حوالے سے بات کی ہے۔ یہاں جس پر بھی اعتبار کیا جائے وہ اعتماد کو دھوکہ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جنہیں مقامِ چارہ سازی پر فائز کیا جاتا ہے، گلہ کاٹنے سے گریز نہیں کرتے جن سے امیدِ وفا کی جاتی ہے وہ دغا دے جاتے ہیں۔ دوسرے شعر میں شاعر اپنے محبوب سے گزارش کر رہا ہے کہ لوگ میرے خلاف آپ کے کان بھریں گے یا لگائی بُجھائی کریں گے مگر آپ نے کسی کی بات پر کان نہیں دھرنے، کسی کی بے ہودہ باتوں کا اعتبار نہیں کرنا۔ یہاں بھی ایک منفی عصری رویہ زیر تبصرہ آ رہا ہے۔ جیسے ایک اور موقع پر جناب فاتح ؔ نے کہا ہے کہ :

کوئی اجنبی نہیں آئے گا کوئی آشنا نہیں آئے گا

یہ ہے طے ترے مرے درمیاں کوئی تیسرا نہیں آئے گا

            لیجئے ایک اور شعر دعوتِ تبصرہ دے رہا ہے :

ٹھٹھر کے رہ گئے ہم تیری سرد مہری سے

ہے اک عذاب تری بے رخی کا برفابہ

            جناب فاتح اپنے محبوب سے شکوہ سنج ہیں کہ وہ سخت بے رخی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے زندگی یوں ٹھٹھر کے رہ گئی ہے جیسے کسی برفانی جہنم میں منتقل کر دی گئی ہو اگرچہ خصوصِ شعر یارِ ستمگر کی طرف ہے لیکن اس کا عموم دیگر احباب کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

            حضرتِ فاتح ؔ جہاں منفی رویوں کو شدت سے محسوس کرتے ہیں وہاں مثبت رویوں کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جس کا عکاس ان کا یہ شعر ہے :

اک غزل فوراً مرتب ہو گئی

آپ آئے تو چھڑا سازِ خیال

            آج وہ بہت خوش ہیں محبوب کی آمد ہوئی ہے طبیعت باغ و بہار ہو گئی ہے اس تقریب میں ساز خیال بج اٹھا ہے اور ایک غزل برجستہ ترتیب پا گئی ہے گویا محبوب کی دلداری بھی اسی طرح ادبی تغافل کا حصہ ہے جس طرح اس کی بے رخی شاعر سے پر درد کلام لکھواتی ہے لہٰذا ایک مکمل شاعر وہ ہوتا ہے جس کا قلم ہر طرح کی کیفیات پر عبارت آرائی کا مجاز ہو اور یہ وصف ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے کلام کا خاصہ ہے وہ غمگین موڈ میں لکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے سوگواری کی انتہا ہو گئی ہے اور جب طبع خوشگوار کے ساتھ لکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہے جیسے کہیں جشنِ طرب ہو۔

            ایک مختصر بحر والی غزل زیر نظر ہے جس کا ایک شعر توجہ طلب ہے :

یوں کھائے ہیں ہم نے دھوکے

رہبر سے بھی ڈر لگتا ہے

            جہاں میں بڑی کثرت سے فریب دیئے جاتے ہیں چنانچہ شاعر پکار اٹھتا ہے کہ ہم نے اتنے دھوکے کھائے ہیں کہ اب راہنماؤں سے بھی خوف آتا ہے کہ کہیں یہ بھی دم نہ دے جائیں ، جیسے غالب نے کہا تھا :

کیا کیا خضر نے سکندر سے ؟

اب کسے راہنما کرے کوئی

            یہی کیفیت سلوک زمانہ کے حوالے سے ابوالبیان کے اس شعر میں ہے۔ جیسے مثل مشہور ہے’’ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے ‘‘

            اب ایک اور منفرد نوعیت کا شعر دیکھتے ہیں :

دشمن بھی محبت سے ہمیں آج ملے ہیں

تم سے نہ ہوا کہتے ذرا عید مبارک

            بعض مواقع ایسے خوشگوار ہوتے ہیں جن میں انسان وقتی طور پر تمام رنجشیں نظرانداز کر دیتا ہے سب گلے شکوے فراموش کر ڈالتا ہے اور نہایت خوش مزاجی سے اپنوں اور غیروں سے ملتا ہے، منجملہ ان کے ایک عید کا تہوار بھی ہے جس کی نسبت جناب فاتحؔ سخن گستر ہیں کہ آج تو میرے حریف بھی خندہ پیشانی سے ملے ہیں حق تو یوں تھا کہ آج تم بھی بھرپور محبت کے ساتھ ملتے لیکن ایسا نہیں ہوا تم نے تو زبانی کلامی عید مبارک کہنا بھی گوارہ نہیں کیا دکھ کی بات ہے کہ غیر تو مہربان ہو جائیں اور اپنے کٹھور دل بن جائیں۔ بالکل اسی طرح ایک اور نظم میں فرماتے ہیں :

گلے ملے ہیں مجھے آج میرے دشمن بھی

گلے سے تم بھی لگا لو کہ عید کا دن ہے

            اگر دیکھا جائے تو اہل دل کا سب سے زیادہ تعلق اور سب سے زیادہ گہرا رشتہ محبوب سے ہوتا ہے اس کے بعد احباب وغیرہ کا رشتہ ہوتا ہے اور آخر میں اغیار کا نمبر آتا ہے بالکل اسی طرح درجہ بدرجہ ظہور احمد فاتح نے سب کی بات کی ہے۔ سب سے زیادہ یار دلدار کی نسبت سے لکھا ہے اوراس کے رویوں کو زیر بحث لائے ہیں پھر دوست و اقربا کی بات کی ہے اور ان کے سلوک کا تذکرہ کیا ہے پھر عمومی عصری رویوں کا حوالہ دیا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ اغیار و اعدا کا شکوہ بہت کم ملتا ہے بلکہ کہیں وہ حاشیہ تحسین کا استحقاق پا جاتے ہیں جیسے آج کی تحریر کا آخری شعر وارد ہوا ہے، ابوالبیان اگر شکوہ سنج ہوتے ہیں تو پھر یوں کہ جیسے اپنوں سے کوئی گلہ گزار ہوتا ہے تو احتجاج ضرور کرتے ہیں مگر ہلکا ہلکا اور حلاوت آمیز سا ہوتا ہے جیسے کوئی دھیرے سے آئینہ دکھا دے بہر حال ان کا یہ رنگ بھی بہت دھیما دھیما سا اور دل آویز ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

ابوالبیان ظہور احمد فاتح ؔ اپنی طربیہ شاعری کے تناظر میں

            فنون لطیفہ میں شعر و شاعری کو ممتاز مقام حاصل ہے یہ ایک وسیع و بسیط فن ہے، کثیر الاصناف بھی ہے اور کثیر الجہات بھی، ہر شعبۂ شعروسخن خود میں ایک جہانِ معنی لیے ہوئے ہے۔ آج ہم پروفیسر ظہور احمد فاتح کی طربیہ شاعری کے حوالے سے لکھ رہے ہیں۔ درحقیقت سخن کا وہ شعبہ جس میں بذلہ سنجی، طنز و مزاح اور خوش مزاجی کے کوائف پائے جائیں طربیہ شاعری کہلاتا ہے۔ یہ ایسی شاعری ہے جس میں مسرت کی آبشاریں اور مسکراہٹوں کی سوتیں پھوٹتی نظر آتی ہیں ، پر تفکر اور پر آشوب مادی دور میں طربیہ شاعری ایک اکسیر کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ اس کا تاثر کچھ دیر کے لئے پریشانیوں ، دکھوں اور اضطرابات سے آزاد کر دیتا ہے، غموں سے مضمحل چہروں پر ہنسی کھیلنے لگتی ہے اور فضاء زعفران زار ہو جاتی ہے۔

            جنابِ فاتحؔ کا شعری کینوس بہت وسیع ہے۔ انہوں نے سات زبانوں میں مشق سخن کی ہے، اردو ان کی محبوب زبان ہے۔ ہر چند مرکزی طور پر سنجیدہ شاعری کی ہے لیکن ذائقہ بدلنے کے لئے مزاحیہ شاعری سے نہیں چوکے، وہ سو سے زائد کتابیں شعروسخن کی مرتب کر چکے ہیں لہٰذا طربیہ شاعری میں بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس نسبت سے’’موجِ تبسم‘‘ کے نام سے ان کی طربیہ شاعری کا مجموعہ کلام ترتیب پا چکا ہے، اس سے قطع نظر آج ہم ان کے چوتھے مجموعہ کلام’’ساری بھول ہماری تھی‘‘ کے نصف اول سے طربیہ شاعری کے حوالے سے ان کے اشعار ہدیۂ قارئین کرتے ہیں اور یہ نکتہ اجاگر کرتے ہیں کہ طربیہ شاعری میں بھی ابوالبیان کس مقامِ ارفع پر فائز ہیں۔

            پہلی غزل میں اسی نوعیت کے چار اشعار قابل توجہ ہیں :

1:       مرکبِ ہستی سبک رفتار تیرے دم سے ہے

            خار زارِ زندگی گلزار تیرے دم سے ہے

2:       جسم رعنا و توانا بھی ہے تیرے فیض سے

            روح ذوق و شوق سے سرشار تیرے دم سے ہے

3:       آسماں کی دشمنی عشاق سے مخفی نہیں

            میری ہستی پر مگر گلبار تیرے دم سے ہے

4:       دیدہ و دل میں ہیں تجھ سے مستیاں ہی مستیاں

            بن پئے فاتح ترا مے خوار تیرے دم سے ہے

1۔       عام طور پر شاعر اپنے محبوب سے گلہ گزار رہتے ہیں لیکن یہاں وہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سپاس گزار ہیں کہ اس نے مرکبِ ہستی کو ان کے لئے سبک رفتار بنا دیا ہے جس کی وجہ سے منازلِ حیات باآسانی طے ہوتی جا رہی ہیں۔ اس ذاتِ مہربان نے خار زارِ زیست کو رشکِ گلزار بنادیا ہے جس کے برگ و بار اور گل و ثمر شاعر کے لئے رزق فراخ کا درجہ رکھتے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ سپاس گزاری اس عالمِ طرب کا نتیجہ ہے جو اس کریم ہستی کی بے پایاں عنایات کے با وصف میسر ہے۔

2۔       اے ذاتِ مہرباں یہ تیرا ہی فیض ہے جس کی بدولت جسم میں رعنائیاں اور توانائیاں ہیں اور یہ تو ہی ہے جس نے روح کو ذوق و شوق سے سرشار کر رکھا ہے گویا تیرے لطف  و کرم کے نتیجے میں سامانِ انبساط ہے فراوانی نشاط ہے جسمانی آسودگی بھی ہے، روحانی سرور و سرمستی بھی ہے۔

3۔       ابوالبیان نے ایک شعری روایت کے حوالے سے بات آگے بڑھائی ہے جس کے مطابق عموماً مشرقی شعراء آسمان سے شکوہ سنج رہتے ہیں یہاں بھی وہی حوالہ دیا گیا ہے کہ آسمان سفلہ و دوں پرور ہے عشاق سے ہمیشہ عناد رکھتا ہے لیکن میرے قادر مطلق تیری کرم گستری کا نتیجہ ہے کہ ہم سے آسمان کا رویہ بھی دوستانہ و مصالحانہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ ہم پر گلباریاں کرتا رہتا ہے یعنی ہم پر خوشی کی بارش ہوتی رہتی ہے اور ہم شاد و آباد رہتے ہیں۔

4۔       مقطع میں بھی یہ رنگِ طرب کار فرما ہے جس میں ساقی دوراں سے مخاطب ہو کر سخنور عرض پرداز ہے کہ دل و نگاہ میں تیری مہربانی سے ہی مستیاں سمائی ہیں دل مست، نظر مست، سخن مست، بیاں مست والی کیفیت ہے، بغیر پیئے ہی تیرا فاتح مئے شوق میں سرشار ہے۔ ایک عالمِ سرمستی ہے، ایک کیفیت سر خوشی ہے، ایک سرور ہے، ایک بے خودی ہے جو ہمیشہ طاری ہے۔

            ایک اور غزل کا ایک اور مسرت آمیز شعر پیش خدمت ہے :

ہائے وہ عشرتِ مدہوشیِ جاں

تیری آغوش میں سر ہو جیسے

            خوشی کی بہت سی کیفیتیں ہوا کرتی ہیں ، عروج پر پہنچی ہوئی کیفیت طربِ وصلِ راہ محبوب ہے اور عروجِ وصل محبوب کی آغوش میں سررکھنا ہے۔ اس لئے وہ معشوق کی گود میں سررکھنے سے تشبیہ دے رہے ہیں گویا قدرت ان پر اس قدر مہربان ہے کہ وہ سرورِ بے پایاں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

            یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ لوگ اپنے دکھوں کا حوالہ دے کر متعلقین کو سوگوار اوراداس کر دیتے ہیں اور ابوالبیان اپنی خوش قسمتی نیز راحت و فرحت کے حوالے سے اپنے قاری کو شادمان کر دیتے ہیں ، خوشیِ خاطر کی تقریب کسی ضیافتِ کبریٰ سے کم نہیں۔

            لیجئے دو اور اشعار ملاحظہ ہوں :

سمجھے نہ کرشمہ، کبھی اصحاب ہمارا

تھا رشکِ قمر کرمکِ شب تاب ہمارا

ہر فصل میں سرسبز ہیں تخیل کی شاخیں

ہے شوقِ دروں شجرۂ شاداب ہمارا

            پہلے شعر میں احباب کا شکوہ ہے کہ وہ ہماری عظمت کا ادراک نہ کرسکے انہوں نے ہماری کرشمہ کاریوں کی قدر نہ کی، حالانکہ ہم وہ اہل کمال ہیں کہ ہمارا جگنو بھی ایسا دلکش ہے کہ چاند کو اس پر رشک آتا ہے یہ شعر گہرے طنز کے زمرے میں آتا ہے یا تو ڈھکے چھپے انداز میں دوستوں پر طنز کیا جا رہا ہے کہ وہ تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا پھر اپنی شخصیت کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے تعریف کے پردے میں خود تنقیدی ہو رہی ہے۔

            دوسرے شعر میں شاعر اپنے شوقِ دروں کی سدا بہاری کا تذکرہ کر رہے کہ کوئی بھی موسم ہو یہ ہمیشہ تر و تازہ و شگفتہ رہتا ہے یہ نخلِ تمنا ایک شجرۂ شاداب ہے جو کسی بھی رُت میں کملاتا نہیں بلکہ مدام ہرا بھرا رہتا ہے یہ انبساط و طمانیت کا وہ احساسِ زریں ہے جو نہ صرف سخنور کے لئے بلکہ سامعین کے لئے بھی باعثِ نشاط ہے۔

            ایک مختصر بحر کی ہندی لفظیات کی حامل ایک غزل کے دو شعر دیکھتے ہیں :

سنجوک ہو آشا ہو

تم دل کا سہارا ہو

کھلتا ہے جو ہر رُت میں

تم وہ گلِ رعنا ہو

            دونوں شعروں میں محبوبِ مرغوب سے تخاطب ہے اس کی تعریف و توصیف ہے اس کی خوش ادائی کا حوالہ ہے اس کی کرم گستری کا بیان ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں اے میرے محبوب تم راحتِ وصال ہو، تم بابِ خوش نصیبی ہو، تم نور امید ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم دل کا سہارا ہو۔ تم سے مل کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے، تمہیں دیکھ کر قلب و نظر میں مسرت کے میلے لگ جاتے ہیں۔ اے میرے دلدارِ وفا شعار تم خوبصورت پھول ہو، کھلتے ہوئے غنچے ہو، جس کی نمو کسی موسم کی محتاج نہیں۔ تم ایسے گل ہو جو ہر فصل میں مہکتا ہے لہٰذا یہ میری خوش نصیبی ہے کہ تم جیسا محبوب قدرت نے بخشا ہے۔

            ایک اور شعر زیر تبصر ہ لاتے ہیں

پی کے تیرے پیار کا آبِ حیات

دیکھنا ایک دن خضر ہو جاؤں گا

            ظہور احمد فاتح محبت کو امرت سمجھتے ہیں ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ یوں ہی یہ نوشاد پیتے پیتے مقامِ خضر پر فائز ہو جائیں گے یعنی انہیں حیاتِ جاوید حاصل ہو جائے گی، جیسے کسی شاعر نے کہا تھا :

ہرگز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما

جنابِ فاتح کا ایک اور نشاط انگیز شعر اُن کی غزل کے مقطع کے روپ میں حاضر ہے :

ہے کسے معلوم فاتح یہ کتابِ شعر ہے

یا جمالِ یار کی تفسیر ہے رکھی ہوئی

            کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہمارا شعری مجموعہ کیا ہے ہم ہی بتائے دیتے ہیں کہ ہمارا یہ بیاض سخن دراصل ہمارے محبوبِ جاں نواز کے جمال جہاں آرا کی تفسیر ہے وہ کتنا سندر ہے کس قدر حسین و جمیل ہے۔ ہمارا ہر شعر اس پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس کے ایک ایک عضو کی تعریف و توصیف کی گئی ہے اس کی ایک ایک ادا پر قصیدہ نگاری کی گئی ہے اس کے عشوہ و غمزہ اور اس کے ناز و عربدہ کے ترانے ہیں جنہیں پڑھ کر اہلِ دل تسکین و نشاط کا حصول کرتے ہیں اور اہلِ شوق کے دلوں میں جذبہ تازہ پیدا ہوتا ہے۔

            ایک اور شعر دعوتِ تبصرہ دے رہا ہے :

ذکر تھا ہر سُو ہماری سرعتِ رفتار کا

ہم تری دنیا سے گزرے شہسواروں کی طرح

            یہ بھی رجولت و مردانگی کا حامل ایک ولولہ انگیز اور حوصلہ افزا شعر ہے جو باعثِ سرور وسامانِ دل بستگی ہے۔ ابو البیان فرماتے ہیں کہ زمانے میں ہر طرف ہماری تیز رفتاری کے چرچے ہیں ، یہاں تک کہ ہم نے پورے عالم کو اپنے لیے جادۂ پرواز بنا لیا، دنیا میں شاہ سواروں کی طرح سفر کیا اور اپنی قوت و بصالت کے وہ جو ہر دکھائے کہ قلوبِ جہاں کو مسخر کر لیا۔

            ایک اور غزل کا مطلع دامن توجہ کھینچ رہا ہے :

میٹھے میٹھے سُر میں نغمے پیار کے گاتی رہی

وہ مرے پہلو میں کافی دیر تک بیٹھی رہی

            ایک رودادِ عشق و وصال ہے، ایک داستانِ راحت و عشرت ہے، ایک افسانۂ لطف و دلداری ہے۔ شاعر رقم طراز ہے کہ محبوبۂ مہربان آج کافی دیر تک میرے سنگ بیٹھی رہی۔ وہ جملہ سلوکِ دلنوازی بروئے کار لاتی رہی۔ اُس نے نہ صرف چاہت بھری باتیں کیں بلکہ میٹھے میٹھے سروں میں پیار کے نغمے بھی الاپتی رہی، جن کے باعث عاشق اپنے سارے دُکھ بھول گیا اور سب پریشانیاں عنقا ہو گئیں ، سب زخم گہری نیند سو گئے۔

            آئیے دو اور شعر زیرِ مطالعہ لاتے ہیں :

اب حوصلے ہوں گے نہ کبھی پست ہمارے

اس بار عزائم ہیں زبردست ہمارے

تو ہم سے کسی طور جدا ہو نہیں سکتا

پنجے ہیں تِری رُوح میں پیوست ہمارے

            شعرِ اول میں ظہور احمد فاتحؔ اپنے عزم بالجزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ اپنے ہمراہیوں کو یہ نویدِ جانفزا سُنا رہے ہیں کہ حالات چاہے کچھ ہو جائیں ،ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ اس بار عزائم پہلے سے بہت زیادہ پُر زور اور بھرپور ہیں۔ جیسے ایک اور شاعر نے کہا تھا:

برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں

کچھ بھی ہو اہتمامِ گلستاں کریں گے ہم

            شعر ثانی مظہرِ امید ورِجا ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہے اور اُسے یہ باور کرا رہا ہے کہ ہماری محبت میں وہ طاقت و تاثیر ہے کہ تو ہم سے جدا ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر تو چاہے بھی تو جدا نہیں ہو سکتا۔ ہمارے پیار میں وہ شکتی ہے کہ اگر تو چاہے بھی ہم سے الگ ہو نہیں سکتا کیونکہ ہم نے مضبوط چاہت کے ذریعے تیری روح میں اپنے پنجے پیوست کر رکھے ہیں۔ جن سے خود کو آزاد کرا لینا کارِ محال ہے۔ گویا یہ عشق کی ایسی دیدہ دلیری ہے جو طبیعت کو محظوظ کر دیتی ہے اور اربابِ ذوق کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔

            ایک انوکھے دعوے کا حامل ابوالبیان کا ایک شعر ملاحظہ کیجئے:

کوئی پت جھڑ ہے نہ صر صر ہے ، نہ ژالہ باری

آ رہو غیرتِ شمشاد ہمارے من میں

            اس میں کوئی کلام نہیں کہ محبوب بغیر کسی اِذن کے دل عاشق میں متمکن ہوتا ہے۔ اُسے اس جزیرے میں اقامت گزیں ہونے کے لئے کسی دعوت کی ضرورت بھی نہیں لیکن اس کے با وصف وہ اپنے دراز قامت محبوب کو اپنے دل میں بسیرا کرنے کی بھرپور ترغیب دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بیرون کے موسم کے برعکس درون کا موسم بہت سازگار ہے۔ اس میں کوئی موسم خزاں نہیں بلکہ بہار ہی بہار ہے۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ عالمِ سدا بہاری برقرار ہے۔ یہاں کوئی بادِ سموم نہیں صر صر کے جھونکے نہیں آتے، بگولے نہیں اُٹھتے اور جسم کو جھلسا نے والی لُو نہیں چلتی،یہاں ژالہ باری بھی نہیں ہوتی اور بوچھاڑ کی بھی کوئی شکایت نہیں ہے لہٰذا ایسی وادیِ جانفزا تجھ جیسے نازک اندام اورنفیس مزاج محبوب کے لئے پورے طور پر مناسبت رکھتی ہے۔ جس میں سکون و قرار ہے، لطف و بہار ہے اور عالمِ خوشگوار ہے ،گویا سراسر رحمتِ پروردگار ہے۔

            اب ایک اور غزل کا مقطع دیکھتے ہیں :

ہے دل ہمارا بھی جامِ جہاں نما فاتحؔ

بہت فسانے ہیں مشہور ساغرِ جم کے

            کسی نعمت کا حصول فی نفسہ راحت و انبساط کا پہلو لئے ہوتا ہے اور بطور خاص جب معاملہ دل کا ہو تو کیف وسرور اور بڑھ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں مقطع ہٰذا ایک جہان عشرت خود میں لئے ہوئے ہے۔ حضرت فاتح کا دعویٰ ہے یوں تو ساغرِ جمشید دنیا میں بہت شہرت پا چکا ہے اور اس کے قصے چار دانگِ عالم میں کافی مشہور ہیں لیکن اہلِ دنیا حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ہمارا دل بھی جامِ جہاں نما ہے جس میں ہفت اقلیم کی سیر کی جا سکتی ہے بلکہ اُس کی حفاظت ناگزیر ہے۔ ایک طرف سے شاعر اہلِ دُنیا کو عموماً اور اپنے محبوب کو خصوصاً یہ ترغیب دے رہا ہے۔ یہ دل جو رشکِ جامِ  جم ہے،تمہارے لطف و  کرم اور قدر و منزلت کا پورا پورا استحقاق رکھتا ہے۔

            خوشگوار احساسات اور لطیف جذبات کی حامل یہ پوری غزل ایک منبع سرشاری ہے،ایک مخزنِ استراحت ہے:

مجھے کیا غرض کسی اور سے ، مرا دلرُبا مِرے ساتھ ہے

مجھے تیز دھوپ کا ڈر نہیں کہ گھنی گھٹا مِرے ساتھ ہے

مِرے راستے ہیں سجے ہوئے سبھی حادثے ہیں تھمے ہوئے

مِرا ہمسفر جو ہے گلبدن تو سمجھ صبا مِرے ساتھ ہے

مِرے دل میں خوفِ خزاں نہیں مجھے کوئی فکرِ جہاں نہیں

مِرے ہاں فروغِ بہار ہے گلِ جاں فزا مِرے ساتھ ہے

مِرے صبح و شام ہیں دلنشیں ہے نفس نفس مِرا عنبریں

مری با مراد ہے زندگی کہ وہ با وفا مِرے ساتھ ہے

مجھے اب کسی کی طلب نہیں مِرے روز و شب ہیں بہت حسیں

مِرا ہم نفس ، مِرا ہمسفر ، مِرا آشنا مِرے ساتھ ہے

میں ہوں آج فاتح و کامراں کوئی امتحاں نہیں امتحاں

مِرے زیرِپا مِری منزلیں کہ تِری دُعا مِرے ساتھ ہے

            دلرُبا کا سنگ، گھنی گھٹا کا ساتھ،صبا کی معیت، بہار کا سماں ، گلِ جانفزا کا تقرب، زندگی کا با مراد ہونا، آشنا کا وصال ہو اور دعاؤں کی کمک ایسے شاندار مظاہر ہیں۔ کیسی خوشگوار نعمتیں ہیں ، کیسی دلنواز عنایات ہیں ،ایسی دلنشیں سوغاتیں اور ایسے روح پرور تحائف ہیں جن پر ہزاروں خوشیاں نچھاور ہو جائیں ، لاکھوں مسرتیں قربان ہو جائیں اور کروڑوں شادمانیاں فدا ہو جائیں۔

            سخنورکا ایک منصب تربیت معاشرہ بھی ہوتا ہے۔ وہ تہذیبِ  محبت بھی کرتا ہے،فرض کی ادائیگی بھی ادا کرتا ہے۔ انہی کیفیات کے حامل ابوالبیان کے دو شعر ہدیۂ قارئین ہیں :

کبھی ساتھ ساتھ شمیم کے کبھی سنگ سنگ صبا کے چل

جو مہک ہے تیرے وجود میں وہ مشامِ جاں میں بسا کے چل

رہے لب پہ خندۂ جاں فزا تو نظر میں شوق و شگفتگی

یہ جو مختصر سا ملاپ ہے اِسے یادگار بنا کے چل

            شاعر اپنے محبوب کو خصوصاً معشوقانِ جہاں کو عموماً سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آدمی کو اپنے لئے لطیف واسطے استعمال کرنے چاہئیں اور لطافتوں سے ربط و ضبط رکھنا چاہئے۔ کبھی صبح کی مہکتی ہوا کے ساتھ اور کبھی شمیمِ شامِ جاں فزا کے ساتھ چلنا چاہئے۔ قدرت نے جن خوبیوں سے متصف فرما دیا ہے وہ اپنی حد تک محدود نہیں رکھنی چاہئیں بلکہ انہیں اوروں تک پہنچانا چاہئے تاکہ دوسرے اُن سے محظوظ ہو سکیں۔ مثال کے طور اگر اُس ذاتِ کریم نے کسی گلبدن کو عطر افشاں کر دیا ہے تو وہ اس مہک کو چھپا کر اور محدود کر کے نہ رکھے۔ جہاں تک ممکن ہو اُس خوشبو کو عام کرے۔

            وصال کے لمحے نصیب سے میسر آتے ہیں پھر عرصۂ وصل بہت قلیل ہوتا ہے۔ اس مختصر سے وقت میں ایسی خوش طبعی،خوش مزاجی اور خوش ادائی کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ وہ ساعتیں یادگار ہو جائیں ، وہ لمحے امر ہو جائیں ، وہ گھڑیاں رنگین ہو جائیں۔ لہٰذا لب پر مسکراہٹ کھیلتی رہے۔ نگاہوں میں شگفتگی ہو اور اداؤں میں شوقِ وارفتگی ہو۔ اگرایسا ہو جائے تو بات بن جائے۔

            ظہور احمد فاتح عموماًکائناتی حوالے سے بات کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ذاتی حوالے بھی پیش کر جاتے ہیں۔

            یہ دو شعر اسی کیفیت کے حامل ہیں :

یاد ہیں تسخیر خاطر کے ہزاروں گُر مجھے

ہر ملاقاتی کو گرویدہ بنا لیتا ہوں میں

بعد تیرے بھی مشامِ جاں معطر تجھ سے ہے

تیری خوشبوئیں تنفس میں بسا لیتا ہوں میں

            اگر خود ثنائی پر محمول نہ کیا جائے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے دلوں کو فتح کرنے وا لے ہزاروں اسباق پڑھ رکھے ہیں اور ملنے والوں سے اس طرح گھل مل جاتا ہوں کہ وہ میرے دیوانے بن جاتے ہیں اور میری دوستی کا دم بھرنے لگتے ہیں۔ اگر اسے خودستائی نہ سمجھا جائے تو یہ واقعہ کہ میرا شائستہ سلوک ،میری محبت آمیز گفتگو، میری ادائے دلنوازی ملنے والوں کو میرا دیوانہ بنا دیتی ہے۔ اور ایک عرصہ تک میری ملاقات کا نشہ دل و دماغ میں اُتر نہیں پاتا۔

            جہاں مجھ میں یہ خوبی ہے کہ دوسرے میری ملاقات کو آسانی سے فراموش نہیں کر سکتے، وہاں یہ خوبی بھی ہے کہ میں ایسے حالات پیدا کر دیتا ہوں کہ پیارے مجھ سے آسانی سے جدا نہیں ہو پاتے۔ اے میرے محبوب اگر تو چلا بھی جائے تو تیری دلنشیں مہکار اُس کے بعد بھی دیر تک میرے ہاں محفوظ رہتی ہے۔ کیونکہ تیری خوشبوئیں مشامِ جاں میں بسالیتا ہوں اور بڑی دیر تک اُن سے سروروسکون حاصل کرتا رہتا ہوں۔ گویا یہ ملاقات کو طول دینے کا یا اس کے تاثرات محفوظ رکھنے کا یا اس کی نشانی برقرار رکھنے کا یا اس کیفیت سے زیادہ دیر لطف اندوز ہونے کا ایسا ذریعہ ہے جو کامیاب بھی ہے اور مؤثر بھی۔

            محبوب کی عنایات کا اعتراف کم ہی لوگ کرتے ہیں لیکن جناب فاتح نے اس کرم فرمائی کا کھلے دل سے اظہار کیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اپنی شہرت کو محبوب ہی کا مرہونِ منت ٹھہرایا ہے۔ اُن کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

وہ گوشہ گیر تھے ہم ، کون جانتا ہم کو

ترا کرم ہے ہمارا جو نام دہر میں ہے

            اے میرے محبوبِ دلنواز ہم تو فقیر گوشہ گیر تھے کُنجِ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے آج دنیا میں جو ہمارا طوطی بولتا ہے، آج عالم میں ہمارے نام کا ڈنکا بجتا ہے جو عزت و شہرت ہمیں حاصل ہے اور جو وقار  و اعتبار ہم رکھتے ہیں وہ سب تیری کرم فرمائی کی بدولت ہے۔ تیرے ہی دم قدم سے جہاں میں ہمیں پذیرائی ملی ،یہ سارے پہلو بے حد خوشگوار ہیں۔ یہ سب کیفیتیں یقیناً نشاط انگیز ہیں۔ ہم نے تیرے عشق سے دوچار ہو کر ایسی فکر انگیز شاعری کی جو قلوب و اذہان کو مسخر کرتی چلی گئی۔ ہم نے تیرے حُسن سے متاثر ہو کر تیرے جمال و شباب پر وہ سحر انگیز نغمہ سنجی کی ہے کہ عالمِ عشق میں ہیجان برپا ہو گیا اور دیکھا جائے تو سب کچھ منطقی طور پر تیری محبت کا اعجاز ہے۔

            دراصل شادی و غم، مسرت و اَلم میں ایک خفیف سا فرق ہے۔ جسے اظہار کی چھلنی سے گذار کر محسوسات کے محدب عدسے سے نمایاں کر کے تخلیقی چابکدستی سے اُجاگر کیا جا سکتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پروفیسر ظہور احمد فاتح غم کی شبِ دیجور میں خوشی کی کرنیں یوں دفعتاً لے آتے ہیں کہ طبیعت باغ باغ ہو جاتی ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ خود شاعر ایسی باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں کہ غموں کے مارے ہوئے اور صدمات سے نڈھال لوگ اُن سے ملاقات کر کے ذرا سی دیر میں اپنے غم غلط کر بیٹھتے ہیں اور جب اُٹھ کر جاتے ہیں تو اُن کی طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے۔ یہ وہ کرشمہ ہے جو قدرت کم لوگوں کو عطا کرتی ہے۔ یہ وہ جوہر ہے جو نصیب والوں کو میسر آتا ہے اور پھر اُن کی مثال پارس کی سی ہوتی ہے جو چھو جائے تو سونا بنا دے۔

٭٭٭

 

ابوالبیَّان ظہور احمد فاتح……سرخیل تعلیات

            شعرا کا اپنا ایک جہان ہوتا ہے جس کا انحصار اکثر و بیشتر قوتِ متخیلہ پر ہوتا ہے۔ جس کے تحت وہ جس دنیا میں چاہے خود کو پہنچا دیتا ہے۔ کبھی دنیائے حسن و عشق میں کبھی عالمِ کیف و سرمستی میں ، کبھی رنگِ عیش و نشاط میں اور کبھی جہانِ غم و حُزن میں ، ہر رنگ اور ہر عالم ایک ردائے سوز و سرور خود میں لئے ہوتا ہے۔ شعرائے کرام جو صنائع بدائع اپنے حسن سخن کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اُن میں سے ایک شاعرانہ تعلی بھی ہے۔ یہ وہ صنف ہے جس میں شاعر اپنی تعریف و توصیف کرتا ہے اور اپنے حسنِ فن کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ چیز کم یا زیادہ اکثر شعرا کے ہاں پائی جاتی ہے لیکن پروفیسر ظہور احمد فاتح کے کلام کا مطالعہ جب ہم کرتے ہیں تو ایک جہانِ تعلیات اپنی بہار دکھاتا نظر آتا ہے۔ یہ یا تو اُن کے ادراکِ ذات کا نتیجہ ہے یا پھر خودآگاہی کا کرشمہ ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ابوالبیان کو اپنے شخصی کمالات اور فکری و فنی جمالات کا بھرپور استحضار ہے۔ ندیم نے کیا خوب کہا تھا:

حسن بیگانۂ احساسِ جمال اچھا ہے

غنچے کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں

            لیکن حضرت فاتح نے اس سے بھی دو قدم بڑھ کر بات کی ہے:

پی کے تیرے پیار کا آبِ حیات

دیکھنا اک دن خِضر ہو جاؤں گا

فن اگر اظہار کا طالب ہوا

میں بھی فاتح مشتہر ہو جاؤں گا

            ظہور احمد فاتح نے تعلیات کا استعمال اس کثرت اور قرینے سے کیا ہے کہ ہم اگر انہیں سرخیلِ تعلیات کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ ہمارے اس دعوے کا اندازہ آپ کو حسب ذیل استشہادات کے مطالعہ سے بخوبی ہو جائے گا۔ اس ضمن میں اُن کے چوتھے مجموعہ کلام’’ساری بھول ہماری تھی‘‘ کے نصف ثانی کا حاصل مطالعہ زینتِ قرطاس کر رہے ہیں۔

            سب سے پہلے اس سلسلے میں جو شعر اپنی طرف توجہ مبذول کرا رہا ہے ،وہ کچھ یوں ہے:

مِرے اور بھی ہیں مقام فاتح فن کئی

مِرا فخر و ناز مگر سلوکِ  حروف ہے

            پروفیسر ظہور احمد فاتح اس شعر میں رقم طراز ہیں کہ میں فاتحِ فن ہوں۔ میرے اور بھی کئی مقاماتِ اعزاز ہیں لیکن میرے لئے سب سے زیادہ مقامِ نازش اور پایۂ فخر و افتخار حروف ہیں جسے حروف کی بازی گری بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر کو اپنے قادر الکلام ہونے اور ذہنی پختگی کا مکمل ادراک حاصل ہے اور وہ مسرور ہے کہ ا سے سماج میں پوری پوری پذیرائی حاصل ہے۔

            افکارِ شاعر انقلاب آگیں ہوتے ہیں۔ کبھی وہ بڑی بڑی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتا،کبھی معمولی سی بات پر آزردہ ہو جاتا ہے۔ جیسے اُن کا یہ شعر ہے:

ابنائے زمانہ نے کچھ قدر نہ کی اُس کی

ورنہ تِرے فاتحؔ کی تحریر سنہری تھی

            اگرچہ اہلِ جہاں سے جنابِ فاتح شکوہ سنج ہیں کہ انہوں نے اُن کی قدر افزا ئی کا حق ادا نہیں کیا تاہم بین السطور یہ تعلی بھی کارفرما ہے کہ اُن کی تحریر سنہری الفاظ پر مشتمل تھی گویا اس کے باوجود کہ اہلِ جہاں نے بے اعتنائی دکھائی ہے۔ اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اپنا اندازِ نگارش من موہنا اور شاندار رہا ہے۔

            تخلص سے بھرپور فائدہ اُٹھانا گویا اسم با مسمیٰ ہونا ہے اور یہ قادر الکلام شعرا کا شعار رہا ہے۔ اسی کیفیت کا حامل ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا یہ مقطع بھی ہے:

یہ جو نہ رہی کون کہے گا مجھے فاتح

ناپید مِری خواہشِ تسخیر نہ کرنا

            یعنی وہ جو خواہشِ تسخیر مجھ میں پائی جاتی ہے اور جو ذوقِ فتوحات موجزن ہے اس کی وجہ سے ہم فاتح ٹھہرے ہیں اور اسے ناگزیر طور پر موجو دو برقرار رہنا چاہئے۔ کیونکہ اگر وہ خواہش ناپید ہو گئی، وہ ذوق و شوق نابود ہو گیا تو پھر ہم فاتح کیسے رہ سکیں گے۔ ایک اور شعر بھی اسی کیفیت کا مظہر ہے:

ہم ہیں فاتح تو فتوحات کا باعث یہ ہے

جو عمل کرنا وہ تا حدِ نہایت کرنا

            خدا جانے کیا راز ہے کہ دورِ ماضی انسان کو خوبصورت اور پُر کشش لگتا ہے۔ اُن کے دو اشعار ملاحظہ ہوں :

وہ ہیرے موتی اُلفت کے وہ لعل و زمرد چاہت کے

دل اک معمور خزانہ تھا اس بات کو برسوں بیت گئے

تجھے فاتحؔ اس نے رول دیا ،آلام دریچہ کھول دیا

تو اِک یاقوت یگانہ تھا اس بات کو برسوں بیت گئے

            پہلے شعر میں اُن ہیرے موتیوں کا ذکر ہے جو محبت کی علامات ہیں اور یاقوت و زمرد کا وہ حوالہ ہے جو چاہت سے نسبت رکھتا ہے۔ اس نوع کے نوادر سے ہمارا دل معمور تھا اور ہمیں اس خزانے پر ناز تھا لیکن یہ برسوں پہلے کی بات ہے۔ جبکہ وہ عالم نہیں رہا گویا ہمارے دورِ گذشتہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ محبتوں کی فراوانیاں تھیں۔ دوسرے شعر میں سخنور خود سے مخاطب ہے ،بڑے تاسف سے اظہار کر رہا ہے کہ محبوب نے اُسے کہیں کا نہیں چھوڑا ،دکھوں کے دریچے اُس پہ وا کر دیئے ہیں اور اُسے خاک میں رول دیا ہے۔ حالانکہ برسوں پہلے وہ ایک یگانہ یاقوت کی طرح تھا۔ چاہئے تو تھا کہ دُرِ بیش بہا کی قدر افزائی ہوتی اور اُسے سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا مگر بے درد معشوق نے اُس کی ذرا بھی قدر نہ کی اور اُسے ضائع ہو جانے دیا۔

            آئیے اب ایک اور غزل کا شعر زیرِ تبصرہ لاتے ہیں :

گُتھیاں زیست کی سُلجھانے کا فن جانتے ہیں

زندہ رہتے ہوئے مر جانے کا فن جانتے ہیں

            اس شعر میں فاتح جی شاعرانہ تعلی کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمیں یہ ملکہ حاصل ہے کہ زندہ رہتے ہوئے مر سکتے ہیں اور مر مر کے جی سکتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک بڑا کرشمہ ہے جو ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔

            اسی غزل کا ایک اور شعر دیکھتے ہیں :

شعر غنچہ ہے نَفَسِ مثلِ صبا ہے اپنا

سونے ماحول کو مہکانے کا فن جانتے ہیں

            شعر ہٰذا میں ایسا ہی زعم کارگر ہے۔ ابوالبیان فرماتے ہیں کہ ہم فنی اور شخصی دونوں اعتبار سے لطافت پسند واقع ہوئے ہیں یعنی اپنی نفاست کا یہ عالم ہے کہ اپنے اشعار صورتِ غنچہ ہیں ،اپنے انفاس مثلِ صبا ہیں ہم جب سخن سنج ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے صبا کلیاں کھلا رہی ہو جس سے سونا ماحول بھی گلزار ہو جاتا ہے اور ایک دلنواز کیفیت فضا میں خوشگواری بکھیرتی محسوس ہوتی ہے لہٰذا اس دورِ پُر فتن میں ہمارا وجود سماج کے لئے کسی سوغات سے کم نہیں۔

            لیجئے ایک اور تاسف آمیز تعلی ہمارا دامن تھامنے کے لئے موجود ہے:

فاتح جہان کی شبِ تیرہ میں ، اے قضا

روشن چراغ تھا جسے تو نے بجھا دیا

            شاعر ایک احساسِ  خود شناسی لئے قضائے قضا سے شکوہ سنج ہے کہ حضرت فاتح ایک روشن چراغ کی طرح تھے۔ جن کے باعث قرب و جوار میں روشنی تھی ،ادب کا اُجالا تھا، علم کی ضیا پاشی تھی، اقدار کی نور افشانی تھی اور روایات کا مان تھا مگر آہ تو نے ایسے ماحول نواز انسان کو جو کسی شمع سے کم نہیں تھا بُجھا کے رکھ دیا۔

            ایک اور تعلی آمیز شعر ملاحظہ ہو:

رہتے ہیں آکاش ہمارے چکر میں

گردشِ دوراں کو ہم ٹالے پھرتے ہیں

            یعنی ہم کوئی معمولی آدمی نہیں ہیں بلکہ ہمارا حال یہ ہے کہ آسمان ہمارے چکر میں ہے،گردشِ دوراں ہمیں مٹا ڈالنا چاہتی ہے مگر ہم پر اس کا بس نہیں چل رہا کیونکہ ہم میں یہ صلاحیت ہے کہ ہم گردشِ سماوات کا توڑ رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو خود میں بے پناہ توانائی رکھتی ہے۔ بالکل اسی نوعیت کا ایک اور شعر جنابِ فاتح کی غزل کا مقطع ہے۔ جو کچھ یوں ہے:

ورنہ کر ڈالوں گا فاتحؔ میں اُسے پیوندِ خاک

آسماں میں حوصلہ ہے تو مٹا ہی دے مجھے

            زندگی کے حقائق یقیناً تلخ بھی ہوتے ہیں مگر ابوالبیان ان تلخ حقائق کو بھی ایسی شیرینی سے بیان کر جاتے ہیں کہ موت زندگی سے ہم آغوش محسوس ہوتی ہے۔ یہاں اُن کے اس مقطع میں جو ذیل میں درج کیا جا رہا ہے یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔

بزمِ احباب سے گر جانے لگے ہیں فاتحؔ

آپ کو محفلِ اغیار صدا دیتی ہے

            شاعر کو اپنی اہمیت اور مقبولیت کا ادراک ہو چکا ہے چنانچہ اس کا اظہار اس شعر میں یوں کرتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے آپ دوستوں کی محفل چھوڑ رہے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ کے لئے صلائے عام ہے کہ بزمِ اغیار میں بھی آپ کی قدر و منزلت ہے لہٰذا آپ کو پیشگی دعوت دی جاتی ہے کہ جب بھی دوستوں کی محفل چھوڑنے کا ارادہ ہو بلاتامل مجلسِ اغیار میں تشریف لائیے گا۔ وہاں اہلِ محفل آپ کے لئے آنکھیں بچھائیں گے اور ذرا بھی احساسِ غیریت نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس سے بڑھ کر قبولِ عام اور ہر دلعزیزی کیا ہو سکتی ہے کہ اجنبیت اپنے پردے میں اپنائیت کا ثبوت دینے کے لئے تیار ہو۔

            شاعر ہمیشہ محبوب کی تعریف کرتے ہیں لیکن ابوالبیان ظہور احمد فاتح کے ہاں تعلی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ایک ادا کو محبوب کی ایک اور ادا کے مقابل میں لے آئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

وہ تبسم روح افزا یہ تغزل دلگداز

نقشِ اول دیکھ آئے نقشِ ثانی دیکھنا

            یہ شعر صنعتِ لف و نشر مرتب کی ایک عمدہ مثال ہے۔ وہ فرماتے ہیں میرے محبوب کا تبسم روح افزا ہے تو میرا تغزل بھی دلگداز ہے۔ اگر وہ نقشِ اول ہے تو یہ نقشِ ثانی ہے،اگر تم اس سے محظوظ ہوتے ہو تو یہ بھی ضرور تمہاری دلداری کرے گا۔ ایسی شانِ تعلی شاذ ہی کہیں نظر آئے گی۔

            اسی غزل کا مقطع بھی عجیب کیفیت رکھتا ہے:

کر نہ دے مغرور فاتح داد و تحسینِ جہاں

لے نہ ڈوبے دوستوں کی قدر دانی دیکھنا

            انسان کا فطری خاصہ ہے ،دادوتحسین پر خوش ہوتا ہے۔ مدح وستائش سے نہال ہو جاتا ہے۔ شاعر از قبیلِ جنوں ہوتے ہیں ، انہیں تو سوچنے اور حساب لگانے کی بھی فرصت کم ملتی ہے مگر حضرتِ فاتح کے ہاں ایسی احتیاط پسندی اور دور اندیشی حیران کن ہے کہ مثبت سے منفی امکانات زیرِ نظر رکھتے ہیں۔ چنانچہ خود کو خبر دار کر رہے ہیں کہ یہ جو اہلِ دُنیا حسنِ شعر پر دادوتحسین اور خراجِ محبت پیش کر رہے ہیں۔ اس کے منطقی نتیجے کے باعث فخرومباہات میں مبتلا نہیں ہونا۔ یہ جو آپ کی فنی چابکدستی کے باعث احباب تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسا رہے ہیں اُن کی وجہ سے احساسِ برتری میں مبتلا نہیں ہونا اور ریاضِ سخن ترک کر کے خود کو بڑا شاعر نہ سمجھنا۔ یہاں بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ابوالبیان کی تعلیات خالی خولی خود ثنائی یا خود شناسائی نہیں ہیں بلکہ اُن میں باریک بینی اور عاقبت اندیشی کے پہلو بھی پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ خود آموزی اور خود احتسابی کا جوہر بھی موجود ہے یہاں تک کہ وہ نقدِ ذات سے بھی نہیں چوکتے۔ یہاں یہ امر بھی عیاں ہے کہ اُن کے ہاں تجاہلِ عارفانہ بھی کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ وہ ایسے اہلِ جنوں ہیں جن پر خرد جان چھڑکتی ہے۔

                        عرفانِ ذات کے حوالے سے ایک بین حقیقت جوکسرِ نفسی کے انداز میں بحدیثِ دیگراں کی گئی ہے،خود میں ایک جہانِ معنی رکھتی ہے۔ لیجئے آپ بھی پڑھئے۔

اِک شناسا نے کہا ، تو ہے وہ پارس فاتح

خود جو پتھر ہی رہے اوروں کو سونا کر دے

            دوسروں کی زبانی اپنی تعریف کرانی ایک خوبصورت تکنیک ہے۔ جیسے اس شعر میں کہا گیا ہے۔ ایک واقف نے یہ بات کی ہے فاتح جی تم پارس کی طرح ہو جس میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ لوہے کو سونا بناتا چلا جاتا ہے یعنی دوسروں کو بھرپور فائدہ پہنچاتا ہے مگر خود پتھر ہی رہتا ہے یعنی اپنی صلاحیت کے باعث خود کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا۔ سو یہ نفع رسانی اور بے غرضی لائقِ تحسین ہے۔

            خود آگاہی کے حوالے سے پانچ اور شعر شاملِ شذرہ کئے جاتے ہیں۔ ویسے تو یہ پوری غزل اس قابل ہے کہ اس کا ایک ایک شعر زیرِ بحث لایا جائے۔ متذکرہ اشعار یہ ہیں :

رہیں گی منسوب اُن سے سوچوں کی راہیں لفظوں کی یادگاریں

حروف کی سلطنت کے فرمانروا رہے دستخط ہمارے

ہوئے ہیں ماخوذ ہم ہی پہلے ہمیں ہی پہلے ملی شہادت

کہ سب سے اوپر قراردادِ وفا پہ تھے دستخط ہمارے

ہمیں ریاضِ سخن کے باعث عطا ہوا درجۂ ثقاہت

شعورِ شعر و ادب ہے جس کو طلب کرے دستخط ہمارے

نقیبِ تحریکِ عدل ٹھہرے علامتِ امتیاز ٹھہرے

محیط اک عرصۂ تخیل پہ ہو گئے دستخط ہمارے

قرار پائی ہے اپنی تحریر ایک معیارِ حُسن فاتحؔ

جوان فکر و عظیم فن کے نشاں بنے دستخط ہمارے

            اب ہم باری باری ان مسلسل تعلیات کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلا شعر ادراکِ فن کا ایک شاندار مظہر ہے۔ شاعر اپنے دستخطوں کو حوالہ بناتے ہوئے اپنے دلدار کی علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ابوالبیان کا یہ کہنا ہے کہ وہ افکار کی راہیں لغات کی یادگاریں ہمارے دستخطوں سے منسوب رہیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ اقلیمِ ادب کی تاجوری ہمارے دستخطوں نے ہی کی ہے،یہ ایک سند کا درجہ رکھتے ہیں ،ایک سجلِ شاہی کا مقام انہیں حاصل ہے۔

            دوسرے شعر میں شاعر خود کو سیدالانقلاب ظاہر کر رہا ہے۔ لکھتا ہے کہ سب سے پہلے ہمیں گرفتار کیا گیا اور سب سے پہلے شہید ہمیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قراردادِ وفا پر سب سے پہلے اوپر ہمارے دستخط تھے۔ اس شعر میں مقصد سے گہری وابستگی کارگر بھی ہے،قائدانہ امکانات کا بیان بھی ہے اور اربابِ وفا سے اہلِ دنیا کے سلوکِ ناروا کا واقعہ بھی۔

            تیسرے شعر میں احساسِ اُستادی کارفرما ہے۔ لکھتے ہیں کہ شبانہ روز مشقِ سخن نے ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اب ہمارے اشعار مقامِ استناد رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ صلائے عام ہے کہ شعر و ادب کا شعور رکھنے والے حضرات ہماری طرف مراجعت کریں اور اپنی فنی و فکری استعداد کے تناظر میں ہمارے دستخط حاصل کریں۔ یہاں شاگردانِ ادب کو بھی راہ دکھائی جا رہی ہے کہ ہم آپ لوگوں کی رہنمائی کے لئے دل و جان سے حاضر ہیں۔ گویا اُن کے ہاں خدمتِ شعر و ادب کا جذبہ پورے عروج پر نظر آتا ہے جو عروسِ سخن کی مشاطگی کا ضامن ہے۔

            چوتھے شعر میں تعلیات کا میلہ لگا ہوا ہے۔ پہلے یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اشعار نہ صرف یہ کہ محرکِ انقلاب ہیں بلکہ ایک نقیبِ عدل بھی ہیں۔ اس پر بس نہیں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں جو بھی پڑھتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ ابوالبیان کے اشعار ہیں جو زبان و بیان میں مزید بر آں ہمارے اشعار جن پر ہمارے دستخطوں کی چھاپ ہے جو ہمارے مزاج کے آئینہ دار ہیں۔ جو ہماری طبیعت کا پرتو ہے اور جو ہماری معراجِ ہنر کی دلیل ہیں۔ ایک عہدِ تخیل کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی فنی استعداد پر بہت نازاں ہیں اور یہ نازش بصورت تعلیات جگہ جگہ رنگ جمائی نظر آتی ہے۔

             ایسی ہی ایک تعلی کا حامل ایک اور مقطع ہدیۂ قارئین ہے:

فاتح جہاں میں اس طرح اپنی نمو ہوئی

جیسے شبِ سیاہ میں مشعل سلگ اُٹھے

            ظہور احمد فاتح دنیا میں اپنے کردار کے حوالے سے رقم طراز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زمانے میں ہم نے یوں فروغ پایا جیسے کالی رات میں اچانک کوئی مشعل روشن ہو گئی ہو۔ ذرا سوچئے جب یہ عالم رونما ہو جائے تو ظلمتِ شب کے ماروں کا کیا عالم ہو گا۔ ایک بھرپور تشبیہہ ایک زور بیان اور ایک امید افزا صورت حال قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔

            ہرچند کہ اُن کے کلام میں تعلیات کے لئے کوئی خاص مقام مقرر نہیں تاہم مقطع میں تخلص کی مناسبت سے شاعرانہ تعلی کا بھرپور صدور ہوتا ہے جس کا موئید اُن کا یہ شعر بھی ہے:

بے سبب اہلِ جہاں نے نہیں مانا فاتح

ہم نے ٹکرایا ہے سر آہنی دیواروں سے

            لکھتے ہیں کہ ہم فاتح ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اہلِ دنیا نے بھی ہمیں فاتح تسلیم کیا ہے۔ سبب یہ ہے کہیں ہم نے سلسلۂ فتوحات موقوف نہیں ہونے دیا۔ یہاں تک کہ لوہے کی فصیلوں سے بھی ہم نے سر ٹکرانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ فاتح دراصل عربی لغت کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کھولنے والا۔ جس کے لئے فارسی لفظ کشائیندہ ہے مثلاً کوئی قلعہ کھولنا، کوئی بند دروازہ وا کرنا یا فنی اسرارورموز کی کشود کرنا،یہ سب بھی از قبیلِ فتوحات ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ابوالبیان ظہور احمد فاتح اسم بامسمیٰ ہیں تو بے جا نہ ہو گا جیسے میر تقی میرؔ نے اپنے بارے میں کہا تھا:

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

            ایک خفیہ تعلی غالب کے حوالے سے بھی سماعت فرمائیے:

غیر کی موت کا غم کس لئے اے غیرتِ ماہ

ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہوا اور سہی

            گویا غالب کے علاوہ جو دعویدارانِ محبت ہیں وہ سب ہوس پیشہ ہیں وہ تو فقط غالب ہے جو پیکرِ اخلاص ہے۔

            آئیے ایک اور مقطع دیکھتے ہیں :

یہ سچے لفظ ، یہ افکارِ نو بہ نو فاتح

غزل کے ہار میں موتی پرو رہا ہوں میں

            سبحان اللہ کیا حسنِ اظہار ہے،کیا اظہارِ حقیقت ہے،کیا حقیقت نما مجاز ہے۔ بڑی سادگی اور صفائی سے اس امر کا اقرار کیا جا رہا ہے کہ ہم سچے شعر کہتے ہیں جو ہیرے کی طرح شفاف ہیں۔ ہمارے گلہائے تخیل تازہ بہ تازہ ہیں بلکہ غنچۂ نورس کی طرح ہم شعر نہیں کہتے بلکہ غزل کے ہار میں موتی پروتے ہیں جن میں الفاظ جواہر کی طرح اور افکار تازہ پھولوں کے گجرے کی طرح اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :

میں نے اک رنگ میں سو رنگ بھرے ہیں فاتح

ایک نئے رنگ لئے ہے میرے اشعار کا رنگ

            اپنا خیال یہ ہے کہ تعلیات کے رونما ہونے میں خارجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ مثلاً مسلسل دادوتحسین، تواتر سے قدر افزائی اور انجمن در انجمن پذیرائی ، احباب کا حسنِ اظہار یہاں تک کہ نووارد ملاقاتیوں کی طرف سے بھی تعریف و توصیف یہ ایسے عناصر ہیں جو شاعر کو خودپسند یا خود نگر بنا دیتے ہیں۔ اسی نوع کی ایک تعلی کا حامل ایک اور شعر دیکھیں :

ہے ابھی بزمِ جہاں کو تری حاجت فاتح

برقعۂ مرگ پہن کر ابھی مستور نہ ہو

            شاعر خود سے مخاطب ہے مگر یہ بھی لگتا ہے کسی اور طرف تقاضا ہو رہا ہے۔ مثلاً ادب نوازوں کی طرف سے، قدردانوں کی جانب سے یا شہرِ خوباں کی سمت سے یہ اقتضا ہو رہا ہے کہ فاتح جی جائے استاد خالی است، کہیں محفل سے کوچ کا ارادہ مت کر لینا۔ آپ جیسے آموزگارِ ادب کی بزمِ جہاں کو شدید ضرورت ہے،قحط الرجال کے اس دور میں آپ کا دم مغتنم ہے،آپ کی عطر بیز شاعری، آپ کے انقلابی افکار، آپ کے ارفع تخیلات، آپ کا پیغامِ محبت، آپ کا رومان پرور انداز، آپ کا دینی آدرش، آپ کا درسِ تہذیب اور آپ کے ملی رجحانات سب آپ کی افادیت کے مظہر ہیں لہٰذا آپ کی قوم، آپ کے وطن اور آپ کے سماج کو آپ کی سخت ضرورت ہے۔ پس حجابِ مرگ میں روپوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جیسے زندہ رہنا یا مر جانا آدمی کے اپنے بس میں ہو۔

            ایک حیران کن تعلی کا حامل ایک اور مقطع توجہ اپنی طرف مبذول کرا رہا ہے:

ورنہ کر ڈالوں گا فاتح میں اسے پیوندِ خاک

آسماں میں حوصلہ ہے تو جھکا ہی دے مجھے

            شعرائے مشرق ہمیشہ آسمان سے شکوہ کناں رہے ہیں ،عشاق بھی گردشِ افلاک سے شاکی رہے ہیں۔ جیسے اقبال نے کہا تھا:

            ؎           میں نہیں کہتا کہ اے گردوں مجھے گرداں نہ کر

            ابوالبیان کو چرخ کج رفتار کی یہ ادا بالکل خوش نہیں آئی لہٰذا وہ خود آسمان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ وہ اسے دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں کہ تو نے بڑے بڑوں کو نیچا دکھایا ہے میاں آ ذرا،ذرا ہمیں بھی جھکا کر دکھا دے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ حوصلہ یہ دم خم تجھ میں نہیں ہے اور اگر تو ایسا نہیں کر سکے گا تو پھر تیار رہنا اور دیکھ لینا کہ من راقم مسمی ابوالبیان ظہور احمد فاتح تجھے کیسے پیوندِ خاک کرتا ہوں۔ یہاں تعلی کے ساتھ ساتھ حسنِ محاورہ بھی ہے،شانِ مقابلہ بھی ہے، آدابِ مبارزت بھی ہے کہ مخالف کو پہلے موقع دیا جا رہا ہے اور کمالِ مردانگی کہ ہانک للکار کر مخالف کو اس کے انجام سے باخبر کیا جا رہا ہے۔ اُن کا ایک اور شعر اسی نوعیت کا یاد آ رہا ہے:

نوائے وقت ہوں مجھ کو دبا دینا ہے ناممکن

میں اُبھروں گا مساجد کے مناروں سے اذاں ہو کر

            ایک ہی غزل کے دو شعر ملاحظہ ہوں :

ہمارے بعد پھر اس وضع کا ملزم نہ آئے گا

عدالت کے کٹہرے پر ہمارا نام لکھ دینا

جسے ہو کاٹنا فاتح غرور و جبر کی شہ رگ

اُسی خنجر کے دستے پر ہمارا نام لکھ دینا

            ماشاء اللہ دونوں شعر انقلابی شان کے حامل ہیں۔ شعر اول میں اس امر پر ناز کیا جا رہا ہے کہ ہم اپنی وضع میں منفرد ملزم ہیں اور ہمارے بعد اس قسم کے ملزم کا آنا محال ہے۔ لہٰذا عدالت کے کٹہرے پر ہمارا نام لکھ دیا جائے تاکہ یادگار رہے۔

            فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا:

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مِرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھُلا دیا

جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گذر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

            اب شعر ثانی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ حساس شاعر جبر و غرور کو ناپسند کرتا ہے بلکہ اُسے سماج کے لئے سمِ قاتل سمجھتا ہے۔ اس کے خیال میں اس بلائے فتنہ ساماں کو ختم کر دینا ہی ازالۂ فساد ہے۔ لہٰذا وہ اس کے خاتمے کی حوصلہ افزائی یوں کرتا ہے کہ اور تو اور مجھے اس خنجر سے پیار ہے جو قاطع جبر و غرور ہے۔ اُس سے نسبت رکھنا اپنے لئے باعثِ فخر ہے اور اس کے لئے یہ امر پسندیدہ ہے کہ مغرور و جابر کا گلہ کاٹنے والے خنجر کے دستے پر میرا نام رقم ہو۔

            ایک اور مقطع ایک اور تعلی عرفانِ ہنر کا ایک اور حوالہ دامن کش ہے:

اہلِ دنیا کو یہ احساس نہیں ہے فاتح

کم ہی آتے ہیں زمانے میں سخن داں ہم سے

            ایک سادہ سا شعر سہلِ ممتنع کی ایک مثال لفظ سخن داں استعمال کیا گیا ہے جو شاعر، سخنور اور اہل سخن سے زیادہ بامعنی اور وقیع ہے۔ ظہور احمد فاتح بجا طور پر شکوہ سنج ہیں کہ اہل دنیا کو ہماری عظمت کا احساس نہیں ہے کہ ہم جیسے ابوالبیان اور قادر الکلام شاعر دنیا میں شاذ ہی آیا کرتے ہیں اگر انہیں اس بات کا ادراک ہو جائے تو یقیناً وہ ہمیں پہچاننے میں غلطی نہ کریں اور ہمارا مقام و مرتبہ ایسا ہو جو حقیقت میں ہونا چاہئے۔

آخر میں ایک ذو معنین شعر قارئین کے حسن ذوق کی نذر ہے:

اعلیٰ ظرف تھا، دریا دل تھا، اہل نظر تھا، محسن تھا

فاتحؔ جس انسان پہ چسپاں تُہمتِ بادہ خواری تھی

اول معنی تو یہ ہیں کہ وہ رند مشرب شخص جس سے مئے کشی کی وجہ سے نفرت کی جاتی ہے بہت سے اوصاف حمیدہ کا حامل بھی ہے مثلاً اعلیٰ ظرف ہے، جواد ہے، اہل نظر ہے اور احسان شعار ہے۔ حیرت ہے کہ اس کی اتنی خوبیوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن ایک خامی کی وجہ سے اسے ذلیل سمجھا جاتا ہے معنی ثانی بادی النظر میں یہ بھی ہیں کہ فاتحؔ جیسا انسان مستِ صہبا کیا ہوا قیامت ہی ٹوٹ پڑی۔ اس پر تہمتیں چسپاں ہونے لگیں اور الزامات سے اس کی تواضع کی جانے لگی حالانکہ اس کی ہستی میں بہت سی اچھی اقدار بھی موجود تھیں مثلاً اعلیٰ ظرف کہ ساری زیادتیاں دیکھتے ہوئے بھی ناراض نہیں ہوتا ،ایسا دریا دل کہ ہمہ وقت علم و ادب کے خزانے لٹاتا رہتا ہے اور مال و دولتِ دنیا کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ایسا اہل نظر کہ اس کا کلام اہل عالم کے لئے بصیرت افروز ہے اور ایسا محسن کہ دشمنوں سے بھی بھلائی کا روادار ہے اور یہ محض کہنے کی باتیں نہیں ہیں بلکہ اس کی شخصیت کے جواہر اربعہ ہیں۔

قارئین کرام! یہ تو محض ہم نے ان کی تعلیات کی محض ایک جھلک دکھائی ہے جو ان کے اس قسم کے کلام کا عشر عشیر بھی نہیں ، ظاہر میں خودستائی جو اصل تعلیات ہے ایک ناپسندیدہ وصف ہے مگر شعر میں یہ روا ہے بلکہ مناسب و متداول بھی ہے بلکہ نفسیاتی اعتبار سے ایک خوشگوار عمل ہے جس سے خودشناسی، عرفانِ فن، جوہر و بصالت، جرات و جسارت، تحلیلِ نفسی اور کتھارسس کی راہیں نکلتی ہیں۔ نیا عزم، تازہ ولولہ اور دل شکن رویوں کا توڑ ہے بہت سی پریشان کن اور جبر ذات پر مشتمل کیفیتوں کا ازالہ ہے جو انسان کے لئے اعصاب شکن کیفیات ہو سکتی ہیں اور سب سے بڑھ کر لوگوں کے سلوک ناروا کے نتیجے میں حاصل ہونے والے درد کا درماں ہے اس دکھ کا مداوا ہے جو محبوب کی کج ادائی اور زمانے کی بے وفائی کے باعث پایا جاتا ہے یہ ردِّ عمل ان سب کارگزاریوں کا جو کسی کو حقیروذلیل ثابت کرنے اور احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کے لئے خصیص الفطرت، شیطانی سرشت کی وجہ سے منعکس ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جتنا بڑا سخن داں ہو گا اس کے جوابی حملے بھی اسی قدر بھرپور اور شدید ہوں گے۔

٭٭٭

ابوالبیَّان ظہور احمد فاتحؔ کی فنی دقیقہ سنجیاں

بیان کئی طرح کا ہوتا ہے مشکل بھی آسان بھی اور آسان تر بھی، آسان تر کلام کو سہل ممتنع بھی کہا جاتا ہے یعنی ایسا آسان سخن کہ سننے والا یہ سوچنے لگے کہ ایسا تو میں بھی لکھ سکتا ہوں لیکن حقیقت میں وہ ایسا نہ کر سکے مشکل کلام وہ ہے جسے سمجھنے میں لغوی یا ترکیبی وجوہ سے دقت پیش آئے لہٰذا سخن ایسی صورت میں دقیقہ سنجی کہلاتا ہے۔ یہاں ہم یہ بات واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں اس ضمن میں بیان دشوار تر ضرور آتا ہے لیکن گنجلک یا پیچیدہ اشعار ہرگز نہیں آتے۔

پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کی شاعری بہت پہلو دار کیفیات کی حامل ہے اس میں متذکرہ بالا تینوں صورتیں پائی جاتی ہیں یعنی مشکل، آسان اور آسان تر۔ یہاں ہم ان کے نسبتاً مشکل کلام کے حوالے سے رقم طراز ہیں۔ اس موقع پر یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جناب فاتحؔ کے ہاں دقیقہ سنجی بھی قرینِ فطرت ہے اور صحیح معنوں میں فن لطیف کا درجہ رکھتی ہے جس سے ان کی استادانہ مہارت کا برجستہ اظہار ہوتا ہے۔ آج ہم ان کے چوتھے شعری مجموعے’’ساری بھول ہماری تھی‘‘ کے نصف اول میں سے ایسے چیدہ چیدہ اشعار ہدیۂ قارئین کر رہے ہیں جو مشکل نگاری کی ذیل میں آتے ہیں ، اسے ہم ان معنوں میں لے رہے ہیں کہ عام قاری کے لئے جس کی وجہ سے دشواری محسوس ہو۔ دوران مطالعہ یہ بات بھی منکشف ہوتی ہے کہ فاتحؔ جی کی دقیقہ سنجی بھی ایک بھرپور آرٹ کا درجہ رکھتی ہے، ایک خوشگوار پہلو اس کا یہ بھی ہے کہ اس سے دلچسپ دماغی ریاضت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ قاری کی لسانی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ سبب یہ ہے کہ ابوالبیان شاعرِ ہفت زبان ہیں یعنی وہ اردو، سرائیکی، پنجابی، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی میں لکھتے ہیں اور ان زبانوں کی نفسیات پر انہیں خاص دستگاہ حاصل ہے جس کے باعث قاری کے لئے حروف و معنی کے انبار لگائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ جوش نے کہا تھا:

لگا رہا ہوں مضامینِ نَو کے پھر انبار

خبر کرو میرے خِرمن کے خوشہ چینوں کو

علیٰ ہذالقیاس حضرت فاتحؔ کے اس نوع کے اشعار پیش خدمت ہیں :

ہوا ہے عرصہ کسی نے مجھ کو ڈسا نہیں ہے

جو سانپ کچھ زیرِ آستیں تھے کہاں گئے ہیں

ڈسے جانے کا شوق یا نہ ڈسے جانے کا تعلق ایک نادر کیفیت ہے اور آستیں کے سانپ والی بات شعر کا حسن بڑھا رہی ہے۔

خلقتِ شہر سے روپوش ہمیں رہنا تھا

پھر وفا کیش و وفا کوش ہمیں رہنا تھا

چار دلکش تراکیب کا تسلسل خلقتِ شہر، روپوش، وفا کیش، وفا کوش پھر وفا کیشی اور وفا کوشی کی صورت میں لوگوں سے چھپ کر رہنا محبت کے گہرے پن کی دلیل بھی ہے اور مشکل پسندی کی بھی:

درد مندی کا سجایا تھا جو سہرا سر پر

پھر تو محرومِ تن و توش ہمیں رہنا تھا

اول تو دردمندی کا سہرا سر پر سجایا تھا ایک انوکھا تخیل ہے۔ دوسرے اس کے منطقی نتیجے کے طور پر محرومئ تن و توش ایک عجیب فکری پیش رفت ہے:

سخت تکلیف رساں ہے جیون

ہر نفس گردِ سفر ہو جیسے

زندگی کا تکلیف دہ ہونا مذکور ہے اور اسے گردِسفر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کی افادیت وہ لوگ سمجھتے ہیں جو سقم تنفس، الرجی یا دمے کے عارضے میں مبتلا ہوں۔

سخت دشوار سخن سنجی ہے

شیشہ سازی کا ہنر ہو جیسے

شاعری کارِ دشوار ہے یہ اس قدر دقیق ہے جیسے فنِ شیشہ سازی ہو۔ جس کے لئے سخت مہارت درکار ہوتی ہے اور تنفس کی معمولی لغزش بھی کام خراب کر سکتی ہے۔

 آتش نے کہا تھا:

بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

اگر دقتِ نظر سے جائزہ لیا جائے تو ابوالبیان کی بات اور ان کا استدلال زیادہ وزنی ہے اور وقیع ہے کیونکہ اول الذکر فن میں نقصان کا ازالہ احاطۂ امکان سے باہر ہے۔ کیونکہ یہ زیادہ نفیس اور طالبِ توجہ ہے جبکہ مؤخر الذکر میں ازالۂ زیان قرینِ امکان ہے اور غلطی سدھاری جا سکتی ہے۔ میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا:

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفات کی اس کارگہِ شیشہ گری کا

نادرہ کاری کے حامل دو اور شعر دیکھئے:

اشک وہ سیل ہے جو توڑ کے ہر بندِ شکیب

دامن و جیب و گریبان بھگونا چاہے

چشمۂ چشم سے اک اشک نہ نکلے فاتحؔ

ورنہ جی آج تو دل کھول کے رونا چاہے

شعرِ اول میں اشک کو سیل کا استعارہ دیا گیا ہے کیونکہ دونوں کا تعلق پانی سے ہے اور دونوں اختیار سے باہر ہیں دونوں میں عجلت و سرعت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح شکیب کے لئے بند کا استعارہ برتا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں روکنے اور مزاحمت کرنے والے ہیں ایک ہی مصرعے میں دو استعارے لائے گئے ہیں۔ مصرعۂ ثانی میں دامن و جیب و گریبان کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ یہ تینوں آنسوؤں سے لبریز ہونے والے ہیں۔

دوسرے شعر میں ، جو ایک مقطع ہے اس میں دقیقہ سنجی کا پہلو چشمۂ چشم سے نکل رہا ہے۔ دو مختلف چیزیں قریباً ہم جنس بنتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جی تو دل کھول کے رونا چاہتا ہے مگر کثرت گریہ سے آنکھ کا چشمہ خشک ہو چکا ہے اور اب اس ایک آنسو بھی میسر نہیں۔ اس شعر میں صنعتِ مبالغہ بھی ہے اور ترکیب محاورہ بھی ہے۔

بعض اشعار خود میں بلا کی بلاغت رکھتے ہیں۔ دشوار ہونے کے باوجود بے حد پرکشش ہوتے ہیں جیسے یہ دو شعر ہیں :

میں چھپ کے بیٹھ گیا خود ہی اپنے لفظوں میں

تمہاری دید کا مکتوب اک بہانہ تھا

مری معاش بجز قوتِ لایموت نہ تھی

مِرا سماج محبت کا میر خانہ تھا

شعرِ اول میں شاعر کا کمال یہ ہے کہ دیدار یار کے لئے وہ اپنے مکتوب کے الفاظ میں چھپ بیٹھا ہے اور اسے حیلۂ دیدار بنا رہا ہے کیونکہ محبوب جب بھی عاشق کو دیکھتا ہے رُخ پر نقاب ڈال دیتا ہے جبکہ خط پڑھتے ہوئے تو بالکل بے حجاب و بے تکلف ہے۔

شعرِ ثانی میں مذکور ہے کہ مجھے اتنی قلیل غذا مل رہی ہے جس کے باعث رشتۂ تن و روح برقرار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ میں اسیرِ عشق ہوں ظاہر ہے قیدی کو اتنی ہی خوراک ملتی ہے۔

ایک ہی غزل کے دو اشعار اسی موضوع سے مطابقت رکھتے ہوئے ہدیۂ قارئین ہیں :

سمجھے نہ کرشمہ کبھی اصحاب ہمارا

تھا رشکِ قمر کرمکِ شب تاب ہمارا

ہر فصل میں سرسبز ہیں تخئیل کی شاخیں

ہے شوقِ دروں شجرۂ شاداب ہمارا

پہلے شعر میں خود کو اہل کرشمہ قرار دیا گیا ہے اور اصحابِ فکر و خبر سے شکوہ کیا گیا ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں حالانکہ ہم تو اس مقام پر فائز ہیں کہ ہمارا ننھا سا جگنو رشکِ قمر بنا ہوا ہے۔

دوسرے شعر میں تخیل کو ایک ایسا شجر قرار دیا گیا ہے جو سدابہار ہے اور شوق دل کو بھی نخل سرسبز کا استعارہ پہنایا گیا ہے یہ بھی ایک دلچسپ صورتحال ہے۔

اسی غزل کا ایک اور شعر دیکھتے ہیں :

ہے خاک نوردی ، کبھی افلاک نوردی

فاتحؔ کہیں تھمتا نہیں سرخاب ہمارا

شعرِ ہذا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ کبھی زمین پر کبھی آسمانوں پر۔ راہوارِ شوق کو سرخاب قرار دیا گیا ہے جو ایک مثالی اور آئیڈیل پرندہ ہے۔

ذرا یہ شعر ملاحظہ ہو:

اک عجب شخص تھا فاتحؔ نہ کبھی بھولے گا

میزبانی مِری کرتا تھا وہ مہماں ہو کر

شعرِ ہذا میں جو بات محل نظر ہے وہ یہ ہے کہ مہمان کی ہمیشہ ضیافت کی جاتی ہے اور یہ کام میزبان کا ہوتا ہے لیکن اگراُسے مہمان بنا دیا جائے تو یہ تعجب آمیز صورتحال بن جاتی ہے۔ بقول کَسے خبر یہ نہیں کہ کتے نے آدمی کو کاٹ لیا بلکہ خبر یہ ہے کہ آدمی نے کتے کو کاٹ لیا۔

دقیقہ سنجی کا حامل ایک اور شعر درِ دل پر دستک دے رہا ہے:

آنکھ لگ جائے تو پھر بھی روبرو رہتے ہو تم

جاگتا ہے غم تمہارا پہرے داروں کی طرح

دونوں مصرعے کسی موجِ استعجاب سے کم نہیں۔ مصرعۂ اول میں بند آنکھوں سے دیکھنے کا تصور اور مصرع ثانیہ میں جاگنے والے غم کی پہرے دار سے تشبیہ یقیناً برجستہ ہے۔

ایک ہی غزل کے دو اشعار اپنی طرف توجہ مبذول کرا رہے ہیں :

اجالوں کو لپکیں تو سورج کی چشمِ غضبناک مجبورِ پسپائی کر دے

اندھیروں کو جائیں تو آئیں صدائیں کہ چندا کی چنچل کرن منتظر ہے

وہی پارچہ ہے وہ ثوبِ ابیض، وہی قدر و قیمت وہی آدمی ہے

کبھی بن گیا اس کا جوڑا عروسی کبھی بن کے اس کا کفن منتظر ہے

پہلی بات تو یہ ہے کہ بحر لہر بہر میں ہے ایسی رقصاں بحریں شاذونادر ہی نظر سے گزرتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عمل اور ردِ عمل کی کیفیات دونوں مصرعوں میں بدرجۂ کمال پائی جاتی ہیں۔ اجالوں کی طرف لپکنا اور جواباً منبع ضیاء سورج کی چشم غضبناک کا مجبور پسپائی کر دینا اسی طرح اندھیروں کی طرف پلٹنا تو پیچھے سے ترغیب آمیز آوازوں کا واپسی پر مائل کرنا۔

دوسرے شعر میں کچھ معروضی حقائق کا پُر اثر بیان ذرا مشکل لفظیات میں ،جیسے پارچہ یعنی کپڑا ثوبِ ابیض یعنی سفید کپڑا جو کبھی کسی دولہا کا عروسی جوڑا بنتا ہے اور کسی کا کفن ٹھہرتا ہے۔

اظہار مشکل کے حوالے کا حامل یہ شعر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:

نظر نظیر نظارہ مجازِ مرسل ہے

نہ اعتبار نگاہوں کا ہے نہ رنگوں کا

ایک ہی مصدر کے تین مختلف مشتقات جو باہم لازم و ملزوم ہیں ایک تلازمے میں پرو دیئے گئے ہیں اور کلیہ بتایا گیا ہے کہ وہ نظر جو دیکھتی ہے یا نظیر ہو جو مثال ٹھہرتی ہے یا نظارہ ہو،سب مجاز مرسل کا درجہ رکھتے ہیں یقینی مجازیات کی نمائندگی کرتے ہیں لہٰذا حقیقت میں نہ نگاہوں کا کچھ بھروسہ ہے نہ رنگوں کا کوئی اعتبار ہے جیسے بقول ابن انشاء’’سب مایا ہے‘‘ کہا جاتا ہے دراصل یہ اپنی نوعیت کا فقید المثال شعر ہے۔

دقیقہ سنجی کی ایک مثال پیش خدمت ہے:

مٹا کے خود کو بجھاتا ہوں پیاس اوروں کی

مرا وجود ہے مثلِ سحابِ در بدری

میں ایک آوارہ بادل ہوں میری بے مائیگی سامانِ صد سرمایہ ہے۔ میں اگر مٹ بھی جاتا ہوں تو میرا مٹنا رائیگاں نہیں جاتا بلکہ بہت سے تشنہ لبوں کی پیاس بجھانے کا باعث بنتا ہے۔

طرفہ خیالی کا حامل یہ شعر بھی نادرہ کاری کی عمدہ مثال ہے:

پیشِ خیمہ بنا اک زخم کئی زخموں کا

کاش رکھتا نہِ مرے زخم پہ پھاہے کوئی

پوری ایک داستان سہلِ ممتنع کے حامل اس شعر میں لپٹی ہوئی ہے جو لفظ بہ لفظ کھلتی چلی جاتی ہے۔ عاشق زخمی تھا،کسی نے زخم پر مرہم رکھا اور پھر خود ہی زخم پر زخم لگاتا چلا گیا یہاں تک کہ زخموں سے چور چور کر ڈالا۔ اس سے تو بہتر تھا کہ پہلے ہی زخم کو بے مرہم رہنے دیا جاتا کم از کم مزید زخموں سے تو جان بچی رہتی جو پہلے زخم کی بدولت لگائے گئے۔

ایک ہی غزل کے دقیقہ سنجی کے حامل چار اشعار بدونِ تبصرہ نذرِ قارئین ہیں :

عنواں کتابِ زیست کے جیون ، جنوں اور جوتشی

ہر حرف ہر لمحہ لگے جیون ، جنوں اور جوتشی

اک زخم ہے اک سوز ہے اک حسرتِ دلدوز ہے

آرام سے رہنے نہ دے جیون ، جنوں اور جوتشی

ویران سی بستی لگے موہوم سی ہستی لگے

صحرا ہوائیں راستے جیون ، جنوں اور جوتشی

میں ایسے اک محبس میں ہوں محبوس فاتحؔ ان دنوں

ہیں تین جس کے زاویے جیون ، جنوں اور جوتشی

ہمارے خیال میں حسنِ اشعار اسی میں ہے کہ انہیں بلا تبصرہ رہنے دیا جائے۔ ہر مصرع ہر شعر شاہدِ عادل ہے کہ دقیقہ سنجی کا بے مثال مظہر ہے۔

ایک اور خوبصورت شعر جو ندرتِ کلام کا بہترین نمونہ ہے کچھ یوں ہمکلام ہو رہا ہے:

حسن صورت کی قسم ، حسنِ نظر کی سوگند

حسن کوئی بھی نہیں حسنِ بیاں سے آگے

مشکل نگاری کے حامل دو اور اشعار دعوتِ غور دے رہے ہیں :

اس کا جسم سمن کا ، لب یاقوت کے ، گیسو ریشم کے

چپ سونے کی ، لَے چاندی کی اور ادائیں شیشے کی

سنگ مزاجوں کے تیور ہیں فاتحؔ بدلے بدلے سے

خنجر خامہ تھام کے عصمت آن بچائیں شیشے کی

ملاحظہ فرمایا آپ کس قدر بانکپن اور نادرہ کاری کے مظہر ہیں۔

ایک اور شعر ایسی وضع کا ذوقِ جمیل کی تواضع کے لئے موجود ہے۔ ذرا دیکھئے کیا کیا کیفیتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔

جس کو اعزاز ہو مطلوب سخن دانی کا

لائے لفظوں میں ترے حسن کو موزوں کر کے

جناب فاتحؔ کی طبعِ جواد کا مستند حوالہ ان کا یہ شعر بھی ہے:

کوئی پت جھڑ ہے نہ سَر سَر ہے نہ ژالہ باری

آ رہو غیرتِ شمشاد ہمارے من میں

یہ ایک حقیقت ہے کہ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کا عمومی منہجِ سخن دقت پسندی نہیں ہے لیکن بین الکتاب ایسی دلکش مثالیں جگہ جگہ ضرور جھانکتی نظر آتی ہیں جن کی مثال ان کا یہ شعر بھی ہے۔

جو ہے خودستا وہ ہے خود نما ، جو ہے خود نما وہ ہے بے وفا

ہے تقاضا مہر و خلوص کا کہ اَنا کے پرزے اڑا کے چل

شاعر کے کئی اسلوب کئی رنگ اور کئی افق بین الکلام دکھائی دیتے ہیں۔ دقیقہ سنجی کا حامل ان کا یہ شعر پایانِ تحریر پیش کئے بغیر نہیں رہا جاتا۔

ترے مزاج سے سیکھی ہے یہ ادا اس نے

جو روز رنگ بدلنے کی خو سپہر میں ہے

٭٭٭

 

ابوالبیَّان ظہور احمد فاتحؔ کثیر الجہات شاعر

اہلِ سخن کی یہ شان رہی ہے کہ وہ موزونیتِ طبع اور رفعتِ تخیل کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت سی نگارشات منصۂ شہود پہ لاتے ہیں البتہ مختلف سخنوروں کا شعری کینوس مختلف ہوتا ہے۔ بعض شعرا کی فکری بساط بہت وسیع و عریض ہوتی ہے اور بعض لکھاری معدودے چند موضوعات کے گرد ہی اپنا شعری تانا بانا بنتے رہتے ہیں۔ اگر ہم پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کی وسعتِ موضوعات کا جائزہ لیں تو ایک محیطِ بیکراں موجزن دکھائی دیکھتا ہے انہوں نے اس قدر زیادہ سمتوں میں راہوارِ قلم کو محوِ گردش رکھا ہے کہ ان کی جولانیِ طبع دیکھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے۔ طولِ بیاں سے گریز کرتے ہوئے ہم ان کی کثیر الجہات فنی کاوشوں کے حوالے کے لئے ان کے دسویں شعری مجموعے ’’محرابِ افق‘‘ کے نصف آخر میں سے کچھ اشعار بطورِاستشہادلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو موضوعات قائم کئے ہیں ان کے عنوانات کے تحت اشعار بلا تبصرہ درج کئے جا رہے ہیں جنہیں پڑھ کر قارئینِ کرام ان کے فکری تلون اور نیرنگیوں کا مشاہدہ کر سکیں گے اور انہیں اندازہ ہو سکے گا کہ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کتنے بڑے کثیر الجہات شاعر ہیں۔

1) آخرت

انجام اور عاقبت کی اہمیت سے کون آگاہ نہیں بحیثیتِ مسلمان دانشمند انسان وہ ہے جسے سب سے زیادہ خیالِ آخرت دامن گیر رہتا ہے چنانچہ ایک دین دار انسان ہونے کے ناطے کلامِ فاتحؔ بھی فکر آخرت سے مملو ہے ان کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں :

-1      بند ہو گی آنکھ جب تو بھید سب کھل جائیں گے

            روحِ پنچھی جسم پنجرے سے رہا ہونے تو دو

-2      قصوَرِ شوق ڈھے گئے نقوشِ حسن مٹ گئے

            بپا تھے کوہِ ذات میں جو زلزلے عجیب تھے

-3      اب تو ہم تھک بھی چکے ہیں فاتحؔ

            بارِ ہستی نہ اٹھایا جائے

-4      زندگی زندہ دلی سے جو گزاری ہم نے

            موت بھی دے کے ہمیں جامِ بقا گزرے گی

2) استغناء

بشر کے اوصافِ حمیدہ میں سے ایک وصفِ جمیل استغنا بھی ہے۔ یہ شانِ بے نیازی عموماً درویشانہ مزاج رکھنے والے انسانوں کا حصہ ہوا کرتی ہے۔ ابوالبیَّان ظہور احمد فاتحؔ کا شعری کینوس ایسی خوبصورت مثالوں سے مزیّن ہے جن میں سے چند ہدیۂ قارئین ہیں :

-1      یہ کیسا فقر ملا ہے سفیرِ الفت کو ؟

            نظر سوال ہے لب پر مگر سوال نہیں

-2      یہ روزن ایک نعمت ہے مرے تاریک زنداں میں

            غنیمت ہیں مرے سورج تِری کرنوں کے آئینے

-3      فنا ہو جائے گا ان میں تمہارا پیکرِ ہستی

            گزرتے بادلو مغرور کہساروں کو مت چھیڑو

-4      تارا بھی غنیمت ہے جیسے شبِ تیرہ میں

            یوں چشمِ سیہ گوں میں اک نیر ضروری ہے

-5      مجھے تم سے سکھ ہی ملا ہے اے میرے گلبدن

            مجھے بے نیازِ سکوں کرو کبھی یوں کرو

-6      گریباں چاک ہے فاتحؔ نہ دامن چاک ہے تیرا

            تو دیوانہ ہے کیسا بے نیازِ دشت و بن تو ہے

3) اعتبار

زندگی جن حسین رنگوں سے عبارت ہے ان میں سے ایک رنگ اعتبار ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جس کے باعث انسان معتبر ٹھہرتا ہے۔ حضرتِ فاتحؔ کے ہاں بھی اس کیفیت کے اشعار بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔

-1      مجھے اعتبار ہے تم ہو میرے کرم رساں

            مری آرزوؤں کا خوں کرو کبھی یوں کرو

2۔       تو اُس کا سہارا ہو ، وہ تیرا سہارا ہو

            ہمراہ تِرے کوئی رہگیر ضروری ہے

-3      جفا نگر میں ہے کس کے دم سے

            فروغِ محفل نہ کوئی جانے

-4      ہائے اس شہر میں ہی تہمتِ ظلمات لگی

            دن گزارے ہیں جہاں صورتِ نیَّر ہم نے

-5      نہ ہے کنائے پہ قانع نہ استعارے پر

            وہ بے مثال تلاشِ مثال میں گم ہے

-6      وفا کو وجد آتا ہے شرافت ناز کرتی ہے

            ہماری بے گناہی جب دمِ تعزیر ہنستی ہے

-7      بن کے آنسو تیری پلکوں پہ اگر میں چمکوں

            مثلِ شبنم گلِ عارض پہ سجا دے مجھ کو

-8      مہک رہے ہیں جگر میں گلاب زخموں کے

            مذاقِ درد کی دے کر دعا گیا ہے کوئی

4)انتظار

آدمی جب شکارِ عشق و محبت ہوتا ہے تو دیگر عذابات کے علاوہ ایک عذاب انتظار کی صورت میں بھی اس پر نازل ہوتا ہے۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے کلام میں انتظار کی کیفیت کے اشعار اتنے وفور سے پائے جاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی سراپا انتظار ہے۔

-1      کیا مانعِ فردا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

            دل درد میں ڈوبا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-2      ہے خستۂ ظلمات کی اب جان لبوں پر

            رہ رہ کے یہ کہتا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-3      بے رحم شبِ ہجر نے کیوں طول ہے کھینچا؟

            کیوں اتنا اندھیرا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-4      حسرت ہے کبھی ختم بھی ہو گی شبِ تاریک

            دل نور کا پیاسا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-5      تو سنتا ہے بندوں کی دعا ربِّ زمانہ

            ہر لب پہ تقاضا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-6      آنا ہے مسیحا نے دمِ فجر ہی فاتحؔ

            بیمار اکیلا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-7      تمہارے قرب و کرم کی دعا سدا مانگوں

            اگر حروف ہوں معلوم اسمِ اعظم کے

-8      مِرے مرض مِری تکلیف کا ازالہ ہو

            میں انتظار میں کب سے ہوں ابنِ مریم کے؟

-9      کسی میں عکس تیرا بھی نظر آئے مجھے شاید

            لہٰذا رات بھر تکتا ہوں میں تاروں کے آئینے

-10   ہیں منتظر مرنے والے کب سے نہ جانے قاتل کہاں گیا ہے؟

            جنوں کا خرمن تو ہے نمایاں خرد کا حاصل کہاں گیا ہے؟

5) انقلابِ نوید

یکسانیت اور جمود تحریکِ حیات کے خلاف ہے۔ ہر شخص تغیّرِ حالات کا شائق ہے بڑے پیمانے پر تغیر کا نام انقلاب ہے یعنی حالات کا منقلب ہو جانا یا قلبِ ماہیت، شاعرِ حساس بھی غیر موزوں صورت حال سے دق ہو جاتا ہے چنانچہ وہ نعرۂ انقلاب بلند کرتا ہے جو اس کے نزدیک صبحِ درخشندہ کی نوید سے متضمن ہے۔ فاتحؔ جی بھی اپنے اندر ذوق و شوق انقلاب رکھتے ہیں جو ان کے فحوائے سخن میں نمایاں نظر آتا ہے۔

-1      درد کی ہر ٹیس ٹھہرے گی صدائے احتجاج

            فصلِ گل آئی ہے زخموں کو ہرا ہونے تو دو

-2      میں کہ سرگرمِ عمل روز نظر آتا ہوں

            بیٹھنے دیتے نہیں میرے ارادے مجھ کو

-3      ایک ہیجان بپا ہو گا دلوں میں فاتحؔ

            گوشِ مخلوق سے جب میری نوا گزرے گی

-4      یقیناً انقلابِ حال میں کچھ دیر لگتی ہے

            مگر سچ ہے زمانہ محتسب ہے اور عادل ہے

-5      یوسفِ گم گشتہ پھر ملنے کو ہے یعقوبِ جاں

            مژدہ ہو مژدہ علاجِ چشمِ تر ہونے کو ہے

-6      ہونے والا ہے عصائے موسی پھر معجز نما

            سامری کا سِحر یکسر بے اثر ہونے کو ہے

-7      ظلمتِ شب ہونے والی ہے گریزاں عنقریب

            شب گزیدوں کو خبر کر دو سحر ہونے کو ہے

-8      اہلِ عالم ہو گئے تذلیلِ انساں کے خلاف

            پھر جہاں میں کارِ توقیرِ بشر ہونے کو ہے

-9      پیش قدمی ہی کئے جاؤ جلا کر کشتیاں

            ساتھیو ! ہمت کرو میدان سر ہونے کو ہے

-10   خنجر بھی سرخرو رہے مقتل بھی لالہ رنگ

            فاتحؔ کے خون سے کفِ قاتل سجی رہے

-11   اے کاش انہیں فاتحؔ یہ بات سمجھ آئے

            جب شوقِ تغیر ہو تغئیر ضروری ہے

-12   پیش کرتا ہوں میں بشارت بھی

            ڈر سنانا مرا وظیفہ ہے

-13   جگایا دوستوں کو خود بھی میں جاگا بہت فاتحؔ

            مگر صد حیف اب تک داستاں میری ادھوری ہے

6) تعلیات

برتری حاصل کرنا اور مسابقت میں پیش رفت انسانی فطرت کا خاصہ ہے چنانچہ شاعر بھی بسااوقات اسی احساس سے سرشار ہو جاتا ہے اور اسی سرشاری کے عالم میں بڑے بڑے دعوے کر گزرتا ہے جنہیں ادبی اصطلاح میں تعلیات کہا جاتا ہے۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے ہاں ان تعلیات کی بھی کوئی کمی نہیں بلکہ انہیں اگر سرخیلِ تعلیات کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ان کے اشعار ملاحظہ ہوں۔

-1      جب یہ بولے گا تو محفل رنگ پر آ جائے گی

            حضرتِ فاتحؔ کو ساقی لب کشا ہونے تو دو

-2      سنو کہ وہ شوخ کہہ رہا ہے کوئی تو فاتحؔ کو ڈھونڈ لائے

            وہ ایک انساں جو تھا خلوص و وفا کے قابل کہاں گیا ہے

-3      یہ ہے لاعلم فاتحؔ عزمِ آہن تاب سے میرے

            اگرچہ دیکھ کر نازک بدن شمشیر ہنستی ہے

-4      تھی شاعری دلنواز جس کی تھی ناز ساماں نیاز جس کی

            وہ شخص تھا جس کے دم قدم سے فروغِ محفل کہاں گیا ہے

-5      میں بھی بیگانۂ تسکین ہوں کب سے فاتحؔ ؟

            اک غزل بہرِ خدا آج سنا دے مجھ کو

-6      ہر چند کہ ماتیں کھاتے ہیں پھر بھی فاتحؔ کہلاتے ہیں

            گو زندگی اپنی پھیکی ہے لگتے ہیں مگر رنگیلے سے

7) تلقین و تدریس

شاعر کا ایک فرضِ منصبی فروغِ عرفان و آگہی بھی ہوتا ہے۔ وہ دراصل علم و دانش کا نمائندہ ہوتا ہے لہٰذا تدریس و تربیتِ معاشرہ کی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتا۔ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ جو ایک جلیل القدر استاد بھی ہیں اور آموزگارِ ادب بھی، بھلا وہ کیسے اپنے وظیفۂ حیات سے انحراف کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے ان کے اشعار ملاحظہ ہوں۔

-1      جاں کبھی تو گناہ سے چھوٹے

            کچھ تو کارِ ثواب ہو جائے

-2      دیکھ محروم نہ کر مجھ کو مری دولت سے

            یہ قلم اور کتابیں مجھے واپس کر دے

-3      نہ لو تم امتحاں فاتحؔ کسی کے جذبۂ دل کا

            تمہیں چھیڑیں تو چھڑیں یار تم یاروں کو مت چھیڑو

-4      تو اپنا حال سنا میں بھی تیرے دکھ بانٹوں

            مری کہانی تو اے غمگسار ختم ہوئی

-5      اک ہم کہ ذرا تن آساں تھے تشنہ ہی رہے کچھ پا نہ سکے

            مئے ناب مزے سے پیتے رہے وہ رند کے تھے پھرتیلے سے

-6      ساقی تیرے سپنے کی تعبیر ضروری ہے

            اک شیش محل کرنا تعمیر ضروری ہے

-7      چشم و دل میں دئیے جلیں فاتحؔ

            کیوں اندھیرا خیال میں آئے

-8      قصرِ دل اس سے ہے روشن روشن

            غم کا دیپک نہ بجھایا جائے

8) تنقید

اہل سخن کا ایک کام اپنے سماج کو پرکھنا اور اس کی اقدار کو جانچنا ہے۔ رسوم و رواج کا جائزہ لینا ہے اور انہیں تنقید کی چھلنی سے گزارتا ہے اس کی ژرف نگاہی دور دور تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتی چلی جاتی ہے۔ حضرتِ فاتحؔ کے تنقیدی اشعار بھی بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔

-1      جس کو ہنسنے کا سلیقہ ہے نہ رونے کا شعور

            ایسے ناداں سے بھلا کیسے نباہے کوئی

-2      لوٹ لی جس کی جفاؤں نے ہماری زندگی

            اب وہی آ کر سرِ جاں گریہ و زاری کرے

-3      یہ جہانِ بے بقا فاتحؔ وفا کرتا نہیں

            حضرتِ دل سے کہو چلنے کی تیاری کرے

-4      بدلے گئے سب حالات جہاں وہ باغ کہاں وہ دشت کہاں ؟

            وہ پھول کہاں خوشبو والے وہ خار کہاں نوکیلے سے؟

-5      جسے سمجھتا تھا میں مسیحا

            وہی ہے قاتل نہ کوئی جانے

-6      جو کہہ رہا ہے کہ میں ہوں عالم

            وہی ہے جاہل نہ کوئی جانے

-7      وہ ہم فقیروں پہ کیوں ہیں فاتحؔ

            ستم پہ مائل نہ کوئی جانے

-8      تری کیفیتِ دل کو سمجھ لینا نہیں مشکل

            ترے لہجے پہ حاوی ہیں تری زلفوں کے آئینے

-9      جہاں ہر دم نیا طرزِ ستم ایجاد ہوتا ہے

            وہاں اپنی خطاؤں پر پشیماں کون ہوتا ہے؟

-10   ابھی تو چند قدم ہی اٹھائے ہیں تو نے

            بدن تکان سے کیوں چور چور تیرا ہے

-11   تجھے جو فکر ہے یوں میری غم رسانی کی

            جو میرا رنج ہے شاید سرور تیرا ہے

-12   کہیں ریاکار زیبِ مسند کہیں ہوس کیش میرِ مجلس

            تھا زہد و تقویٰ سے جو مزین وہ پیرِکامل کہاں گیا ہے

-13   کسی کا ناخنِ تدبیر ہو گیا عاجز

            زباں پہ حرفِ دعا ہے تو کیا تعجب ہے؟

-14   یہ دوریاں یہ خلیجیں تو بڑھتی جائیں گی

            کہ َسدِ راہ تقرب غرور تیرا ہے

-15   وہ جس کے دل میں مسرت کے گل کھلائے تھے

            وہ زخم دے کے گیا ہے تو کیا تعجب ہے؟

-16   کسی کو کیا خبر عیار کتنا میرا قاتل ہے

            وہ کر کے قتل اب میرے عزاداروں میں شامل ہے

-17   بغاوت پھونک دی ہے وہ وقت نے کیا دیدہ و دل میں

            کہ اب میرا لہو میرا مخالف ہے مقابل ہے

-18   تھم تھم کے برستے ہوئے کیا شرم نہ آئی

            اے ابر ! مرا دیدۂ تر یاد نہیں ہے

-19   ہر بات تجھے یاد ہے اے جانِ تمنا

            اک وصل کا پیغام مگر یاد نہیں ہے

 -20  فروغِ زیست پر ، فقدانِ مقصد کی رِدائیں ہیں

            کتابِ زندگی پر بے محل تفسیر ہنستی ہے

9) جنوں

زندگی دو مخالف صفات یعنی جنون و خرد سے عبارت ہے۔ شاعر اگرچہ شعور کا عکاس ہوتا ہے مگر حیرت انگیز طور پر وہ جنوں کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے بلکہ وہ فخریہ طور پر خود کو اہل جنوں گردانتا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ وہ اپنے حکیمانہ اشعار کو بھی حرفِ جنوں کا نام دیتا ہے اور یہی مظہر شاعر کو بہت سے مؤاخذات سے بچا کر لے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مجبورِ جنوں ہو کر مخلوق تو درکنار خالق کو بھی کھری کھری سنا دیتا ہے۔ جناب فاتحؔ کے ہاں بھی عنصرِ جنوں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ذیل میں اسی قبیل کے چند اشعار پیشِ خدمت کر رہے ہیں۔

-1      میرے دل کا درد فزوں کرو کبھی یوں کرو

            مجھے سرفرازِ جنوں کرو کبھی یوں کرو

-2      کبھی بے رُخی سے ملا کرو کبھی شوق سے

            میرے ہمسفر کبھی یوں کرو کبھی یوں کرو

-3      ساقیا جامِ مئے وصل پلا آج مجھے

            یہ اگر ہو نہ سکے زہر پلا دے مجھ کو

-4      ہے آج ویراں فضائے زنداں ، لگا نہیں کوئی نعرۂ ہُو

            رہے دمکتے بدن پہ جس کے سدا سلاسل کہاں گیا ہے؟

-5      نہ سایہ ہے نہ صبا ہے تو کیا تعجب ہے؟

            یہ دشت ہے جو کڑا ہے تو کیا تعجب ہے؟

-6      جنوں حد سے بڑھے تو یہ حشر ہوتا ہے

            نگاہ آبلہ پا ہے تو کیا تعجب ہے؟

-7      تیرے فقیر کا انداز سرمدی سا تھا

            اگر وہ قتل ہوا ہے تو کیا تعجب ہے؟

-8      ہوا ہے عرصہ خلاصی پا چکے ہم طوق و جولاں سے

            ابھی تک گونجتی کانوں میں آوازِ سلاسل ہے

-9      جنوں میں جو کئے گئے وہ فیصلے عجیب تھے

            جو لُٹ کے مطمئن رہے وہ منچلے عجیب تھے

-10   خود کو دیوانہ بنایا جائے

            اہلِ دنیا کو ہنسایا جائے

10) چھیڑ چھاڑ

اُنس و الفت مہر و محبت اور عشق و مروت کے عجیب مظاہر ہیں جس کی بسا اوقات تفہیم بھی دشوار ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی مراحل میں سے ایک مرحلہ چھیڑ چھاڑ بھی ہے یہ کبھی مہوشوں سے صادر ہوتی ہے اور کبھی منچلوں سے سرزد ہوتی ہے جس طرف سے بھی ہو بڑی پُر لطف اور نشاط انگیز ہوتی ہے۔ یہ بجا ہے کہ کبھی کبھی اس کے سنگین نتائج بھی نکلتے ہیں لیکن اکثر فرحت خیز ہوتی ہے۔ محبوب جتنا ہی سنجیدہ ہو اور عاشق جتنا ہی دل جلا ہو دونوں طرف سے حسبِ موقع کم و بیش چھیڑ چھاڑ ضرور ہوتی ہے۔ پھر کبھی بیرونی عناصر بھی اس میں شریک ہوتے ہیں جیسے صبا زلفِ جاناں کو چھیڑتی ہے تو بہار دلِ عاشق پر اثرانداز ہوتی ہے۔ جنابِ فاتحؔ کے ہاں بھی چھیڑ چھاڑ کی ایسی ہی کیفیتیں پائی جاتی ہیں۔

-1      حسیں لوگو محبت کے عزا داروں کو مت چھیڑو

            جواں پھولو یہ بہتر ہے کہ تم خاروں کو مت چھیڑو

-2      کہیں ایسا نہ ہو جھانکے کوئی شعلہ کوئی بجلی

            مرصع بالا خانوں اور چوباروں کو مت چھیڑو

-3      بھرم رہ جائے گا اس سے تمہاری چارہ سازی کا

            تمہیں چھیڑیں تو چھیڑیں یار تم یاروں کو مت چھیڑو

-4      اٹھیں گے اہلِ دل تو ایک محشر سا اٹھائیں گے

            انہیں مدہوش ہی رہنے دو بے چاروں کو مت چھیڑو

11) حسن و جمال

دنیا میں اﷲ تعالیٰ نے طرح طرح کی مخلوق بنائی ہے جس میں حسن و قبح کے پہلو پائے جاتے ہیں۔ شاعر جن خوبصورتیوں سے متاثر ہوتا ہے اور پیرائے اظہار میں لاتا ہے وہ یقیناً حسن و جمال سے علاقہ رکھتی ہیں گویا عالمِ تجمل دنیائے شعر و ادب میں خاص مقام رکھتا ہے۔ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے ہاں حسن و جمال کے حوالے سے با افراط اشعار ملتے ہیں بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وہ شاعرِ جمالیات ہیں۔ یہاں ہم ان کے چند اشعار بطور استشہا دلا رہے ہیں۔

-1      انہیں ساز کہیں ، مضراب کہیں ، مطرب سمجھیں کہ رُباب کہیں

            ہیں شہد سے بھی بڑھ کر میٹھے یہ دلکش ہونٹ رسیلے سے

-2      گوہر کی دمک ان پر قرباں بجلی کی چمک ان پر قرباں

            ہو صدقے چاندنی جب دیکھے یہ دانت ترے چمکیلے سے

-3      تا عمر وہ ہوش میں آ نہ سکے ، پھر دل کا پتہ کہیں پا نہ سکے

            بھولے سے بھی جو انساں پی لے نینوں کے یہ جام نشیلے سے

-4      تری پلکیں ، تری نظریں کہیں ناوک فگن تو ہے

            ترے ابرو گواہی دیں کہ اِک شمشیر زن تو ہے

-5      ترے چشم و لب و رخسار و گیسو اس کے شاہد ہیں

            مجھے سیمابیت بخشی ہے تو نے سیم تن تو ہے

-6      ترے دم سے ہے رنگ و نور و نگہت کی فراوانی

            مہک غنچے کی تو ہے اور سورج کی کرن تو ہے

-7      ترا حسنِ جہاں آرا ہی ہر سو جلوہ پیرا ہے

            جمالِ شعر و نغمہ تو ، گھٹا تو ہے پَون تو ہے

-8      احاطہ کیا کریں اے دلنشیں تیری لطافت کا؟

            نویدِ فصلِ گل ، کیفِ صبا جانِ چمن تو ہے

-9      رہوں ہر دم نہ کیوں رطب اللساں توصیف میں تیری

            مرا حسنِ بیاں تو ہے ، مرا اعجازِ فن تو ہے

-10   ترے صدقے مری ہر آرزو ، ہر آس ، ہر خواہش

            حسیں انداز تو ، دلکش ادا ، موہن چلن تو ہے

-11   تصدق تیری زلفوں پر شبِ تیرہ سہی لیکن

            اتر کر تیرے فرقِ ناز پر تنویر ہنستی ہے

-12   پھر کوئی شب ہو کوئی اندھیرا ہو غم نہیں

            نظروں میں صورتِ مہِ کامل سجی رہے

-13   جب سویرا خیال میں آئے

            حسن تیرا خیال میں آئے

12) حق شناسی

شعر و ادب کا ایک خاصا پہچان بھی ہے جس کے کئی مدارج ہیں۔ عرفانِ ذات، عرفانِ کائنات اور عرفانِ حق۔ پھر عرفانِ حق کے بھی کئی پہلو ہیں جس میں عرفانِ حق تعالیٰ اور عرفانِ حقوق شامل ہیں۔ یہ وہ منصب ہے جو ایک شاعر کو خضرِ راہ بنا دیتا ہے۔ ابوالبیان ظہوراحمد فاتحؔ کے ہاں حق شناسی کے کئی پہلو بھی پائے جاتے ہیں۔

-1      زمانہ سمجھتا ہے اس کو کمال فاتحؔ کا

            جو کارنامہ ہے بین السطور تیرا ہے

-2      ندامت بھی مجھے ہوتی ہے گو عفوِ مسلسل پر

            کسی کی زود رنجی پر مری تقصیر ہنستی ہے

-3      تو ہے نزدیکِ رگِ جاں تو کوئی

            کیوں سرِ طور خدایا جائے

-4      ترے کرم کا تو کل کا عکس ہے اس میں

            خدائے پاک ہماری دعا ہے آئینہ

-5      دلاور ہے مگر محتاج ہے تیرے دلاسے کا

            غنی جس کو سمجھتا ہے جہاں وہ تیرا سائل ہے

-6      عجب تو یہ ہے کہ خود غم کی دھوپ سہتا ہے

            جو خود وہ ظلِ ہما ہے تو کیا تعجب ہے؟

-7      اس میں ہمراز تھے ، نغمے تھے ، مہک تھی ، ضیاء تھی

            آہ جھانکا نہ کبھی روح کے اندر ہم نے

-8      کسی کے ہاتھ سے کچھ بھی نہ لے گا تیرے سوا

            فقیر سوختہ قسمت غیور تیرا ہے

13) خلوص و مروت

خلوص یا اخلاص دل کی خالص نیت کا نام ہے جس میں کوئی غرض کوئی طمع یا ہوس شامل نہ ہو۔ یہ ایک گراں قدر جوہر ہے جو دنیا میں بہت کم یاب ہے شعرا، خود کو زمرۂ مخلصان میں شمار کرتے ہیں اور ان کا کلام اس کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

-1      مٹا کوئی ، تو ہوا اور معتبر فاتحؔ

            رہِ خلوص میں مٹنے کا احتمال نہیں

-2      تو خوش رہے سرور کی محفل سجی رہے

            پھولوں سے روز و شب تیری منزل سجی رہے

-3      کبھی کرم ، کبھی ستم ، کبھی خوشی ، کبھی الم

            خلوص کے سفر کے سارے مرحلے عجیب تھے

-4      جب بھی کوچے سے ترے موجِ ہوا گزرے گی

            اپنے دامن میں لئے میری دعا گزرے گی

-5      مجھے ڈر ہے کہیں قاتل مرا رسوا نہ ہو جائے

            دکھاؤں میں زمانے کو اگر زخموں کے آئینے

-6      سرفروشی ہے میری فطرت میں

            جاں لُٹانا مرا وظیفہ ہے

14)  خواب و خیال

دنیا دکھوں اور پریشانیوں کی آماجگاہ ہے دو چیزیں ایسی ہیں جو دل بہلانے اور ماحولِ غم سے نکلنے کا ذریعہ بنتی ہیں اور وہ ہیں خواب و خیال۔ اچھے دلکش اور سنہرے خواب آدمی کو ایک اور دنیا میں لے جاتے ہیں جو دل آویز بھی ہوتی ہے اور دل فریب بھی۔ اسی طرح دلنشیں خیال بھی تبدیلیِ ماحول کا وسیلہ ہوتے ہیں اچھے اچھے خیالوں کے تانے بانے بُن کر آدمی وقتی طور پر دکھوں کو بھول جاتا ہے۔ لہٰذا کائناتِ شعر میں خواب و خیال کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے ہاں خوابوں اور خیالوں کی کوئی کمی نہیں جو جگہ جگہ تسکینِ خاطر کا ذریعہ بنتے ہیں۔

-1      پاتے ہیں تعبیریں خونِ تمنا کی

            خواب میں جب بھی لال کجاوے ملتے ہیں

-2      تمہاری یاد کی دولت ہے اس کا سرمایہ

            دلِ غریب تمہارے خیال میں گم ہے

-3      وہ دلبرِ مغرور ہے مائل بہ عنایات

            یہ واقعہ فاتحؔ کوئی سپنا تو نہیں ہے

-4      انوکھی فکر ہے جس فکر کا حاصل ہے بے فکری

            نرالا خواب ہے جس خواب پر تعبیر ہنستی ہے

-5      اسی سے پوچھنے جاؤں گا اب تعبیر میں فاتحؔ

            کہ جس نے چور کر ڈالے مرے خوابوں کے آئینے

15)دل

انسانی خواہشات اور اشتیاق کا مرکز و محور دل ہے اور دل ہی مرکزِ کلام واقع ہوا ہے۔ کبھی وارداتِ دل اور کبھی حسرتِ دل کا حوالہ سخن میں آتا ہے۔ کبھی کوئی تمنا جاگتی ہے کبھی غمِ دل کو سلایا جاتا ہے لہٰذا یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ دل کو شعروسخن میں کلیدی مقام حاصل ہے اور یہی حال کلام فاتحؔ ہے۔

-1      کب ملتے ہیں یار ، چھلاوے ملتے ہیں ؟

            دل کو کیا کیا دکھ پچھتاوے ملتے ہیں ؟

-2      بے تکلف اس میں در آتے ہیں درد و رنج و غم

            دل حرم ایسا ہے جس کا پاسباں کوئی نہیں

-3      ہے دل ہمارا بھی جامِ جہاں نما فاتحؔ

            بہت فسانے ہیں مشہور ساغرِ جم کے

-4      پیار کا راز نہ کھل جائے جہاں والوں پر

            اس لئے ہاتھ نہ رکھا کبھی دل پر ہم نے

-5      فصلِ الفت نہ اُگی اس میں کسی بھی رُت میں

            دل زمیں پائی نہ ایسی کوئی بنجر ہم نے

-6      اُداس ہے دل نہ کوئی جانے

            ہے روح بسمل نہ کوئی جانے

-7      وہ شام تھی یا وقتِ سحر یاد نہیں ہے

            لوٹا گیا کب دل کا نگر یاد نہیں ہے؟

-8      بجلی تھی کہ پیکانِ نظر یاد نہیں ہے

            کچھ باعثِ تخریبِ جگر یاد نہیں ہے

-9      ہرچند کہ صد چاک ہے دل فرطِ الم سے

            لب پر کوئی شکوہ کوئی فریاد نہیں ہے

-10   ہمارا دل بھی جیسے دوستو آئینہ خانہ ہے

            جدھر جائے نظر آئیں نظر داغوں کے آئینے

-11   ضبط کرنے کا بھی ہے مشورہ اچھا لیکن

            روح گھائل ہو تو کیسے نہ کراہے کوئی

16) دنیا

جہاں ہم رہ رہے ہیں یہ دنیا ہے جو مختلف لوگوں سے مختلف سا سلوک کرتی ہے خصوصاً اہلِ دل سے اس کا برتاؤ بہت ناپسندیدہ و معاندانہ ہے لہٰذا وہ بھی جواباً اسے کھری کھری سناتے ہیں اور اس کے کمینے پن کی خوب ہجو کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حرف کے پتلوں کی دنیا سے کم ہی بنتی ہے۔ ذیل میں ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ کے اشعار دنیا کے حوالے ہدیۂ قارئین ہیں۔

-1      ایک عالم زندگی بھر معترف جس کا رہا

            مر گیا ہے وہ تو اس کا نوحہ خواں کوئی نہیں

-2      مری صورت کسی میں بھی نظر آتی نہیں مجھ کو

            مرے چاروں طرف ہیں مختلف رنگوں کے آئینے

-3      یہ انساں تو نہیں پتھر ہیں فاتحؔ روبرو تیرے

            تری رودادِ غم سن کر پریشاں کون ہوتا ہے

-4      عجب غمخوار ہے جو آنسوؤں کا

            مری آنکھوں میں جھرنا چاہتا ہے

-5      چھائی ہے سیہ رات سویرا تو نہیں ہے

            ظلمت کا تسلط ہے اُجالا تو نہیں ہے

-6      نہ راستوں کا علم تھا نہ منزلوں کی تھی خبر

            جو یوں ہی گھومتے رہے وہ قافلے عجیب تھے

17)دوستی

جہاں میں کئی ناطے اور بندھن ہیں جن میں سے سب سے معتبر تعلق دوستی ہے۔ جب دو دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں جب دونوں آنکھیں ایک جیسا دیکھتی ہیں اور دونوں ذہن ایک جیسا سوچتے ہیں تو اسے دوستی کہا جاتا ہے دوستی کے باب میں ایک ہرزہ سرائی یہ بھی کی جاتی ہے کہ دو افراد کا ایک دوسرے کے لئے ستی ہو جانا دراصل دوستی کا ایک مظہر ہے۔ اہل قلم دوستی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اسے معتبر ترین رشتہ سمجھتے ہیں دوستی بطور لاحقہ بھی استعمال ہوتی ہے یعنی مختلف اشیاء سے دوستانہ مراسم قائم رکھنا جیسے وفا دوستی، کتاب دوستی، علم دوستی اور ادب دوستی وغیرہ۔ ابوالبیان کے ہاں بھی دوستی کی نسبت سے بڑے لطیف جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس لئے آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

-1      کون ایسے دلربا کی ناز برداری کرے؟

            اک نظر میں جو دل و جاں کی خریداری کرے

-2      اک تیرا تجسس لئے پھرتا ہے شب و روز

            تو یاد ہے جب سے مجھے گھر یاد نہیں ہے

-3      خیال یار میں مگن وصال یار کی لگن

            وہ ابتدائے دوستی کے ولولے عجیب تھے

18)ذات

انسانی حوالوں میں سب سے اولین اور سب سے بڑا حوالہ ذات ہوا کرتی ہے جو کسی شخصیت کے متعلق یا اس پر گزرنے والی واردات سے تعلق رکھتی ہے۔ انسان کے وہ سارے دکھ وہ سب غم و الم وہ تمام دردوسوز جو اس کے اپنے حوالے سے ہوتے ہیں اور جو اس کی ہستی سے نسبت رکھتے ہیں وہ ذات کے زمرے میں آتے ہیں چنانچہ شاعر کا سب سے مضبوط حوالہ اس کا ذاتی حوالہ ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ذاتی تناظر کے بغیر کسی کی شخصیت اور فن کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ اس کی ذات کی گہری چھاپ اس کے ہنر پر ہوتی ہے یا پھر اس کے ہنر کا پرتو اس کی شخصیت کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے ذاتی حوالے ہیں۔

-1      ایک جواں دل دھڑکے اپنے پہلو میں

            دنیا کو ہم بن کر باوے ملتے ہیں

-2      گری ہے برقِ تجلی وہ خرمنِ دل پر

            کہ ہوش میرے ابھی تک ہوئے بحال نہیں

-3      وہ زمیں اپنی ہے جس کا آسماں کوئی نہیں

            اور اگر ہو بھی تو اس میں کہکشاں کوئی نہیں

-4      خلوتوں میں جلوتوں کا ہم نے پایا ہے سرور

            ہم وہاں پر بزم آرا ہیں جہاں کوئی نہیں

-5      سن رسیدہ گو سمجھتے ہیں جہاں والے ہمیں

            پھر بھی فاتحؔ زعم ہے ہم سا جواں کوئی نہیں

-6      کچھ نہ کچھ تو مری ہستی کے بھی معنی ہوں گے

            میں اگر حرف غلط ہوں تو مٹا دے مجھ کو

-7      میں وہ دیوانہ ہوں اے دوست کہ تیرے دل میں

            اب مری یاد بھی زنجیر بپا گزرے گی

-8      تھا ڈر کہ مسخ کر نہ دے سیل بلا مجھے

            افراطِ غم سے اور بھی سیرت نکھر گئی

-9      ایک ٹوٹی ہوئی تصویرِ انا ہوں فاتحؔ

            مجھ سے ناراض رہا کرتا ہے کاہے کوئی

-10   ٹوٹا ایک ستارہ ہوں میں بے وقعت آوارہ ہوں میں

            صحرا صحرا میرا مسکن میرے ساتھ رہو گے کیسے؟

-11   ستم کی لہروں کی زد میں آیا

            ہے جسم ساحل نہ کوئی جانے

-12   پائے الزام کبھی کھائے ہیں پتھر ہم نے

            عمر کاٹی ہے جہاں مثلِ پیمبر ہم نے

-13   مینہ کی اک بوند بھی نہیں برسی

            بانجھ بادل مرا مقدر ہے

-14   میں کہ دریا مثال ہوں فاتحؔ

            پیاس کا تھل مرا مقدر ہے

-15   زخم کھانا مرا وظیفہ ہے

            غم چھپانا مرا وظیفہ ہے

-16   بجلیاں باز رکھ نہیں سکتیں

            گھر بسانا مرا وظیفہ ہے

-17   جب بھی دیکھوں دیارِ پسماندہ

            اپنا ڈیرہ خیال میں آئے

19) رجائیت

اہل دنیا کے رویے انسان پر مختلف طرح کے اثرات مرتب کرتے ہیں خصوصاً درد و غم و سوز اور ظلم و ستم انسان کو مبتلائے یاس کر دیتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اس عالم میں بھی مایوس نہیں ہوتے بلکہ امید کا دامن تھامے رہتے ہیں۔ اس رجحان کو رجائیت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مستحسن طرزِ فکر ہے جس کے باعث زندگی کی امنگ برقرار رہتی ہے اور آلام و مصائب میں بھی انسان اچھے دنوں کا تصور کر کے محو تگ و تاز رہتا ہے بظاہر بازئ حیات ہارتی ہوئی بھی دکھائی دے رہی ہو تب بھی وہ جیت کی جستجو کرتا ہے اور آخری حد تک نبرد آزما رہتا ہے۔ حضرتِ فاتحؔ کے ہاں بھی یہ فکری پہلو بے حد توانا رہتا ہے۔ وہ شبِ تیرہ میں بھی روزِ روشن کے امیدوار رہتے ہیں مقتل میں بھی حیاتِ جاوید کا تصور کر کے مسکرانے سے باز نہیں رہتے۔ استشہادات ملاحظہ ہوں۔

-1      گھپ اندھیرے خودبخود سیماب پا ہو جائیں گے

            من کے معمورے کو معمورِ ضیا ہونے تو دو

-2      ہر دم تیری آس رہے گی

            تیری دید کی پیاس رہے گی

-3      وہ رُت کہ جس میں تھے اشکبار ختم ہوئی

            وہ شب کہ جس میں تھی ذلت ہزار ختم ہوئی

-4      مبارک ہو کہ وہ آکاش باسی

            زمیں پر پاؤں دھرنا چاہتا ہے

-5      نویدِ جانفزا پہنچے کہ فاتحؔ

            جو بگڑا تھا سنورنا چاہتا ہے

-6      نہیں پروا ہمارے درمیاں ہیں دوریاں حائل

            یہ کیا کم ہے تصور میں تمہارا قرب حاصل ہے

-7      ممکن ہے کہ اب بھی ہو شرارہ کوئی باقی

            خاکسترِ جاں تم نے کریدا تو نہیں ہے

-8      ختم سوز و کاہش و غم کا سفر ہونے کو ہے

            قافلے والوں پہ رحمت کی نظر ہونے کو ہے

-9      اہل کشتی کو ہو خوشخبری کہ ہے قربِ نجات

            ختم بحرِ قہر کا مد و جذر ہونے کو ہے

-10   ہو بشارت ٹوٹنے کو ہے حصارِ تیرگی

            ایک نابینا مسافر دیدہ ور ہونے کو ہے

-11   پانے والے ہیں حقیقی دادِ فن اہل سخن

            آج فاتحؔ معتبر اپنا ہنر ہونے کو ہے

-12   چاہے جو حال ہو مرے دل کا

            ہنسنا گانا مرا وظیفہ ہے

-13   میں ہوں بلبل بہار ہو کہ خزاں

            چہچہانا مرا وظیفہ ہے

20)رسوائی

بدنامی اگرچہ ناپسندیدہ چیز ہے مگر اہل محبت اسے اپنا زیور سمجھتے ہیں۔ رسوائی اگرچہ تکلیف دہ کیفیت ہے مگر عشق والے اسی میں فرحت محسوس کرتے ہیں کیونکہ بقول شاعر:

یہ تو فاتحؔ زاویے ہیں اپنی اپنی سوچ کے

تم اسے رسوائی سمجھو ہم تو مشہوری کہیں

لہذا اہلِ جنوں بے دھڑک رسوائی میں داخل ہو جاتے ہیں اور بدنامی کو اپنے لئے تمغۂ امتیاز سمجھتے ہیں۔ اسی سلسلے میں پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے خیالات سے آگاہی پاتے ہیں۔

-1      رہا سرفراز جہاں میں فاتحِؔ نیم جاں

            ذرا اس کے سر کو نگوں کرو کبھی یوں کرو

-2      جسم ہیں انساں کے عاری پوشاکوں سے

            قبروں پر زربفت چڑھاوے ملتے ہیں

-3      نظر نظر سے ملی ہو گئی خبر سب کو

            مرے خیال میں یہ کوئی نیک فال نہیں

21)شگفتگی

خوش دلی اور شگفتہ مزاجی ایک صحت مند شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہے۔ یہ سچ ہے کہ زمانہ دار المحن ہے یہ بجا سہی کہ دنیا دکھوں کا گھر ہے اور یہ بھی درست ہے کہ گردشِ ایام محوِ امتداد ہے۔ اہلِ خلوص عموماً اس کا تر نوالہ ثابت ہوتے ہیں مگر جو لوگ اس کے با وصف بھی خندہ پیشانی اور شگفتگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسے لوگ نازشِ دوراں ہوا کرتے ہیں وہ خود بھی خوش رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی خورسند و مسرور رکھنے کی سعیِ بلیغ کرتے ہیں۔ ایسے شعراء جن کے کلام میں نشاطِ بشاشت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے سماج کے لئے مسیحا نفسی کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کا کردار صبا سے مشابہ ہوتا ہے جو غنچے کھلا کر چمن کو نگہت بیز کرتی ہے۔ ابوالبیان کے بیان میں بھی یہ خصوصیت وفور سے پائی جاتی ہے۔ ذرا حسب ذیل اشعار کا جائزہ لیں۔

-1      کبھی بے رُخی سے ملا کرو کبھی شوق سے

            مرے ہمسفر کبھی یوں کرو کبھی یوں کرو

-2      آشنا سے بدگمانی ہے کہ ہو گا سنگ زن

            دشمنِ جاں سے توقع ہے کہ گل باری کرے

-3      اُنہی سے ہمدردیاں ہیں سب کو

            ہماری مشکل نہ کوئی جانے

-4      گئی شگفتہ مزاجی نہ تیرے فاتحؔ کی

            اگرچہ روز عذابِ ملال میں گم ہے

-5      پوچھتے ہو سبب تبسم کا

            مسکرانا مرا وظیفہ ہے

-6      اور چوری کوئی اچھی نہ لگے

            دل ہی لوگوں کا چرایا جائے

-7      شگفتہ بات کرو کچھ کہ وقت کٹ جائے

            کہیں نہ فرطِ اَلم سے دماغ پھٹ جائے

-8      سمیٹ لوں کبھی یوں اپنے بازوؤں میں تمہیں

            چمن میں پھول سے جیسے صبا لپٹ جائے

-9      تو اگر بے حجاب ہو جائے

            چاندنی آب آب ہو جائے

-10   دیدۂ تر سحاب ہو جائے

            داغ حسرت شہاب ہو جائے

-11   غم بڑھے تو شراب ہو جائے

            خانۂ دل خراب ہو جائے

-12   اک حقیقت بنے وصال کا خواب

            ہجر کی رات خواب ہو جائے

-13   چاند سورج نہ کیسے گہنائیں

            تو جو زیرِ نقاب ہو جائے

-14   ہم تو مانیں گے پھر تجھے فاتحؔ

            تو اگر کامیاب ہو جائے

22) عشق و محبت

انسان شہزادۂ کائنات ہے، انسانی جذبات کا مرکز و محور اس کا دل ہے، قلبی جذبات میں سے سب سے زیادہ اہمیت عشق و محبت کو حاصل ہے۔ یہ وہ نادر کیفیات ہیں جن کا حیات پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ کلامِ فاتحؔ میں عشق و محبت کے حوالے بھرپور انداز میں پائے جاتے ہیں مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں۔

-1      اربابِ وفا فاتحؔ مر جاتے ہیں چپکے سے

            چاہت کا بھی دعویٰ ہے فریاد بھی کرتے ہو

-2      صرف الفاظ کی حد تک نہ سراہے کوئی

            ہے یہ حسرت کہ مجھے ٹوٹ کے چاہے کوئی

-3      سونا تھا دل تو سوز نے کندن بنا دیا

            ہر امتحانِ عشق سے چاہت نکھر گئی

-4      بڑا گھمنڈ تھا اے دل تجھے محبت پر

            تری یہ پونجی تو قبل از شمار ختم ہوئی

-5      ایسا نہ ہو کہلائے ہر شخص وفا پرور

            تقصیرِ محبت پر تعزیر ضروری ہے

-6      زیاں پہ اپنے خندہ زن دکھوں پہ اپنے شادماں

            پھنسے تھے دامِ عشق میں جو دل جلے عجیب تھے

23)غم و دردوسوز

انسان جن عوارض سے منفی طور پر متاثر ہوتا ہے اور جو اس کے لئے باعثِ تکلیف ثابت ہوتے ہیں ان میں غم و درد و سوز قابلِ ذکر ہے۔ کبھی کوئی غم ستاتا ہے، کوئی دکھ پریشان کرتا ہے، کوئی سوز تڑپاتا ہے، کوئی درد ہلکان کرتا ہے، کوئی کرب مرغِ بسمل بنا دیتا ہے، جن میں اکثر و بیشتر کا تعلق اہلِ دل سے ہوتا ہے۔ شاعر جو پیکرِ حساس ہوتا ہے۔ ان احساسات کی وجہ سے دل میں کئی بار آلام کا سامنا کرتا ہے۔ اس کی راتیں اختر شماری میں بسر ہوتی ہیں۔ وہ رنجِ زمانہ کے ہاتھوں ماہیِ بے آب نظر آتا ہے۔ فراقِ جاناں اسے عجیب اذیتوں کا مزہ چکھاتا ہے۔ ذیل میں ہم غم و درد و سوز کے حامل پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے چند اشعار زیبِ قرطاس کر رہے ہیں۔

-1      لوگ بظاہر خوش خوش لگتے ہیں فاتحؔ

            لیکن دل میں درد کے لاوے ملتے ہیں

-2      دوستوں کا چارہ سازوں کا بھرم کھل جائے گا

            دردِ دل کو اک ذرا سا لا دوا ہونے تو دو

-3      مرے چارہ ساز ہے ناز تم پہ مجھے مگر

            ذرا تیز سوز دروں کرو کبھی یوں کرو

-4      پیش خیمہ بنا اک زخم کئی زخموں کا

            کاش رکھتا نہ مرے جسم پہ پھاہے کوئی

-5      قفس کو توڑ کے ہم خستہ حال جب نکلے

            تو اطلاع یہ پہنچی بہار ختم ہوئی

-6      کرو نباہ غم و اضطراب سے فاتحؔ

            کہ آج کاوشِ کیف و قرار ختم ہوئی

-7      میری آہوں میرے اشکوں کی قسم ہے تجھ کو

            میری ہنستی ہوئی آنکھیں مجھے واپس کر دے

-8      ویراں ہے میرا گھر آنگن میرے ساتھ رہو گے کیسے؟

            وقفِ خزاں ہے میرا گلشن میرے ساتھ رہو گے کیسے؟

-9      فاتحؔ پیہم تیر لگے ہیں زخم ہوئے ہیں درد ملے ہیں

            چھلنی چھلنی میرا تن من میرے ساتھ رہو گے کیسے؟

-10   نہ کرّ و فر سے نہ عیش و طرب سے آلودہ

            ہماری روح پہ احسان ہیں ترے غم کے

-11   مرے سخن کی اُداسی قرینِ فطرت ہے

            کہ میرے دل میں ہیں صدمات سارے عالم کے

-12   دُکھ مسلسل مرا مقدر ہے

            درد پل پل مرا مقدر ہے

-13   زیست ہے سوگوار سمّی سی

            رنج راول مرا مقدر ہے

-14   کب ثُریا کی رفعتیں میری؟

            ریگِ مقتل مرا مقدر ہے

-15   خط میں کچھ راکھ ڈال دوں تاکہ

            سوز میرا خیال میں آئے

-16   تو کر سکے گا مرے کربِ جاں کا اندازہ

            مری طرح جو ترا بھی وجود بٹ جائے

-17   میں آہ بھی نہ کروں اشک بھی نہ برساؤں

            جگر کا درد مگر شعر میں سمٹ جائے

24) معاملہ بندی و مکالمہ

کلامِ شاعر مختلف کیفیات کا حامل ہوتا ہے۔ جس میں ایک کیفیت محبوب کی گفتگو اور باتوں کی بھی ہوتی ہے جس میں اسے چھیڑنے، زچ کرنے اور تنگ کرنے کی صورت حال پائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر اپنے محبوب سے مکالمہ بھی کرتا ہے یہ معاملہ بندی اور مکالمہ پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ کے کلام میں خصوصی رچاؤ رکھتا ہے جس کی مثالیں درج ذیل ہیں۔

-1      شکستِ ذات کا مجھ کو کوئی ملال نہیں

            یہی ہے رنج کہ اپنا تمہیں خیال نہیں

-2      پہلے رنجش کا سبب کوئی بتا دے مجھ کو

            پھر تجھے حق ہے کہ جو چاہے سزا دے مجھ کو

-3      اپنے افسانۂ غم کا تجھے عنواں لکھوں

            اس قدر رنج نہ اے جانِ وفا دے مجھ کو

-4      تو مرا گیت ہے رو رو کے تجھے گاؤں گا

            میں ترا درد ہوں اشکوں میں بہا دے مجھ کو

-5      اپنا بھی سمجھتے ہو ناشاد بھی کرتے ہو

            الفت بھی جتاتے ہو برباد بھی کرتے ہو

-6      ناراض بھی ہوتے ہو ظالم جو کہے کوئی

            ہر آن ستم تازہ ایجاد بھی کرتے ہو

-7      رہتے ہو گریزاں بھی تعمیل سے یوں اس کی

            گو فیصلۂ دل کو تم صاد بھی کرتے ہو

-8      لکھتے ہو کہانی بھی پوری بھی نہیں کرتے

            شیریں بھی نہیں بنتے فرہاد بھی کرتے ہو

-9      جو پیار تمہارے میں مدہوش سا رہتا ہے

            سچ کہنا کبھی اس کو تم یاد بھی کرتے ہو

-10   یہ راز ہے کیا بولو بے چارے پرندے کو

            تم قید بھی کرتے ہو آزاد بھی کرتے ہو

-11   مرا خیال ہے آئینہ دیکھنے والے

            بچشمِ شوق تجھے دیکھتا ہے آئینہ

-12   میں اس میں دیکھتا ہوں عکس آرزوؤں کا

            تمہارا چہرہ بھی مجھ کو لگا ہے آئینہ

-13   مقتل سے صدا آئی سزاوار نہیں تم

            قاتل نے جو پوچھا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-14   تمہارا قرب ہوتا تو نہ جانے آج کیا ہوتا

            اُمڈ آئی ہے شب کے دو بجے موسم کی رنگینی

-15   آنا تھا جسے بن کے اُجالوں کا پیامی

            وہ لوٹ کے آیا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-16   تو میری منزلِ مقصود نہیں تو نہ سہی

            میری الجھی ہوئی راہیں مجھے واپس کر دے

-17   مجھ سے جب پیار نہیں تو ہے گزارش فاتحؔ

            میرے فوٹو میری غزلیں مجھے واپس کر دے

-18   یاقوت و الماس نہیں ہے کچھ بھی میرے پاس نہیں ہے

            پیسے ، کپڑے ، گہنے ، برتن میرے ساتھ رہو گے کیسے؟

-19   تم بھول گئے ہیں یاد ہمیں ممکن ہی نہیں ہم بھول سکیں

            وہ وعدے چند ادھورے سے ، وہ مدھم بول سُریلے سے

-20   رواں ہوئے ہیں جو آنکھوں سے اشک تھم تھم کے

            ہیں شاخسانے تمہارے مزاجِ برہم کے

-21   ہماری خفتہ تمنائیں جاگ اٹھی ہیں

            جناب آ کے تو دیکھو کمال موسم کے

-22   یقیناً کوئی مجبوری ہمیں پردیس لائی ہے

            وگرنہ بے نیازِ شہر جاناں کون ہوتا ہے؟

-23   ہمارا گوسفندِ شوق و مستی

            ترے جنگل میں چرنا چاہتا ہے

-24   سوادِ شام کا شاہی مصور

            سحر میں رنگ بھرنا چاہتا ہے

-25   مری اداؤں میں ہر دم ظہور تیرا ہے

            جو میرا جرم ہے وہ بھی قصور تیرا ہے

-26   مرے نصیب کا عالم ہے تیری زلفوں میں

            جو میرے دیدۂ و دل میں ہے نور تیرا ہے

-27   کسی کا چین لٹتا ہے کسی کی نیند اڑتی ہے

            خبر کیا ہو تجھے اپنی ہی مستی میں مگن تو ہے

-28   تو خاکی ہے ترا پندار ناری ہے نہ نوری ہے

            لہٰذا عاجزی تیرے لئے بے حد ضروری ہے

-29   اگرچہ تیری کاوش میری محنت سے بہت کم ہے

            مرے حصے میں فاقہ ہے ترے حصے میں چُوری ہے

-30   یہ بتاؤ کہ ہوئی ہم سے خطا کیسی ہے؟

            روز و شب تم سے جو ملتی ہے سزا کیسی ہے؟

-31   کیسے مانوں کہ ترے دل میں نہیں غم کوئی

            تیری آنکھوں میں یہ اشکوں کی گھٹا کیسی ہے؟

-32   اپنے بیمار کی شہ رگ پہ وہ خنجر رکھ کر

            مسکراتے ہوئے کہتے ہیں دوا کیسی ہے؟

-33   کوئی قدغن ، کوئی جِھڑکی ، کوئی تعزیر نہیں

            سچ بتاؤ مرے صحرا کی فضا کیسی ہے؟

-34   بے سبب آج یہ الطاف و عنایات کیوں ہے؟

            اپنے فاتحؔ پہ یہ بے وجہ عطا کیسی ہے؟

-35   جنابِ حُسن کے لئے جو دردِ سر بنے رہے

            زمانۂ شباب کے وہ مسئلے عجیب تھے

25) منظر نگاری

الفاظ کا بازی گر جب خامہ و قرطاس میں تال میل کرتا ہے تو کچھ عجیب نقوش مرتب ہوتے ہیں۔ ان نقوش میں ایک قبیل ایسی بھی ہوتی ہے جس میں طرح طرح کی تصویریں بنتی نظر آتی ہیں۔ اس کیفیت کو عرفِ عام میں منظر نگاری کہا جاتا ہے۔ بڑے اور قادر الکلام شعرا کا ایک خاصا یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں منظر نگاری میں ید طولیٰ حاصل ہوتا ہے یہاں تک کہ ان کے اشعار تصویری مرقعات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ابوالبیان ظہور احمد فاتحؔ بھی اس جوہر سے بطور خاص متصف ہیں۔ جگہ جگہ ان کے ہاں منظر نگاری پوری آب و تاب سے نظر آتی ہے ان کے یہ اشعار دیکھئے:

-1      ہر سمت سیہ پوش لُٹیرے ہیں مسلط

            اک حشر سا برپا ہے سحر کیوں نہیں ہوتی؟

-2      طلسمی ادائیں دامنِ دل کھینچ لیتی ہیں

            جواں جوڑے ، سہانے راستے ، موسم کی رنگینی

-3      فضا دلکش ہے دل آویز ہے دلدار آ جاؤ

            سنو اکسیر ہے دل کے لئے موسم کی رنگینی

-4      کئے دیتے ہیں مجبورِ غزل گوئی مجھے فاتحؔ

            یہ بادل ، بوندا باندی ، زمزمے ، موسم کی رنگینی

-5      کچھ حسن مآب سجیلے سے ، پہنے کپڑے بھڑکیلے سے

            کبھی عشوے سے ، کبھی غمزے سے دل لوٹتے ہیں ہر حیلے سے

-6      صبا مجھ سے سحر دم پوچھتی ہے روز گلشن میں

            یہ قطرے اوس کے ہیں یا حسیں پریوں کے آئینے

26) ہجر و وصال

شاعری کی جان خلوص و محبت اور عشق و مروت کے احساسات کے حامل اشعار ہوا کرتے ہیں اور ان اشعار میں ہجر و وصال کی کیفیات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے کبھی جدائی کا رونا روتا نظر آتا ہے اور کبھی راحت و وصال کے شادیانے بجاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دونوں کیفیتیں بڑی دل آویز اور جاں گداز ہوا کرتی ہیں۔ اگر ہم جناب فاتحؔ کے کلام کا جائزہ لیں تو اس میں بھی ہجر و وصال کے حوالے سے خاصے اشعار پائے جاتے ہیں جو ان کے ذوقِ محبت اور جذبۂ عشق کی گہرائی و گیرائی کے مصداق ہیں۔ بطور نمونہ ان کے کچھ اشعار پیشِ خدمت ہیں :

-1      جو سوزِ ہجر میں ہے قرب میں وہ کیف کہاں ؟

            شبِ فراق سے بڑھ کر شب وصال نہیں

-2      فاتحؔ دُکھوں کی دھُول میں جیون اُجاڑ تھا

            وہ آئے تو مریض کی حالت نکھر گئی

-3      اُداس کر کے ہمیں گو چلا گیا ہے کوئی

            مگر حدیقۂ ہستی سجا گیا ہے کوئی

-4      لہو کے دیپ جلاؤ اگر ہے شوقِ وصال

            طریقہ حسنِ طلب کا سکھا گیا ہے کوئی

-5      سمٹ کے رہ گئیں برسوں کی دوریاں فاتحؔ

            بہت قریب سے دے کر صدا گیا ہے کوئی

-6      نہ پوچھو خواہشِ قربت نے کیا کیا دن دکھائے ہیں

            کبھی مخلوق سے دوری ، کبھی خالق سے دوری ہے

مندرجہ بالا استخراجات سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ ابوالبیان پروفیسر ظہور احمد فاتحؔ ایک کثیر الجہات سخنور ہیں۔ جن کا شعری کینوس جتنا وسیع ہے اسی قدر رنگا رنگ بھی ہے۔ ان کے کلام کو بے شمار خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے ،ان گنت عنوانات ہیں۔ وہ خوشی ہو یا غم، عیش ہو یا محنت، عشق و وفا ہو یا دنیا داری، داخلی پہلو ہوں یا خارجی، غمِ دوراں ہو یا غمِ ذات یا وصال، عصری تقاضے ہوں یا ذاتی حوالے، سلوکِ یاراں ہو یا رویۂ جاناں ، نصیحت و خیرخواہی ہو یا تنقید و جراحت تمام امکانات کلامِ فاتحؔ میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا سخن پہلو دار ہے ایک ایک شعر تہہ در تہہ کھلتا چلا جاتا ہے جس سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضرت فاتحؔ کا بیان وسیع التناظر بھی ہے اور جمیع الجہات بھی۔ جس کا فائدہ یہ ہے کہ ہر طبقے اور ہر دور کے افراد اس نوائے دل نواز سے مستفیض ہو سکتے ہیں ہر نسل اور علاقے سے تعلق رکھنے والے ان کے خیالات سے استفادہ کر سکتے ہیں اس سے یہ امر بھی مترشح ہوتا ہے کہ ابوالبیان کا کلام آفاقی اور ہمہ گیر ہے جو قدرتِ کلام اور ندرتِ فن کی بین دلیل ہے۔

٭٭٭

تشکر: جلیل حیدر لاشاری جنہوں نے اس کی فائل مہیا کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید