FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

چراغِ دل تو ہو روشن

 

 

                شفیق خلشؔ

 

جمع و ترتیب، ٹائپنگ: طارق شاہ

 

 

 

 

 

 

بدلے بہت ہیں ہم نے اطوار زندگی کے ​

کھُلتے نہیں ہیں پھر بھی اسرار زندگی کے ​

کوئی تو ایسا ہوتا، ہم یاد کر کے روتے​

گزرے ہیں سارے دن ہی بیکار زندگی کے ​

اپنوں کے ہاتھوں مرتے دیکھے ہیں روز اپنے​

کیسے ہیں یہ تماشے خونخوار زندگی کے ​

آمر نہیں ہے فوجی، پھر بھی وہی چلن ہے​

کالک مَلی ہے کس نے اِس بار زندگی کے ​

مانگیں عذاب سے ہیں، سب لوگ ہی رہائی​

طالب نہیں وطن میں، دو چار زندگی کے ​

سب ہی تڑپ رہے ہیں تیرے دئے وطن میں​

ہلکے ہوں اب تو مالک، کچھ بار زندگی کے ​

ہر روز کی قیامت نازل نہ کر خدایا​

نام و نشاں مِٹا دے اک بار زندگی کے ​

بھولے ہیں کب خلش ہم، اپنی وطن کی یادیں​

خوش رنگ تِتلِیاں وہ، وہ پیار زندگی کے ​

​٭٭٭

 

 

 

 

مِسمار کرنے آئی مِری راحتوں کے خواب​

تعبیر وَسوَسے لئے سب چاہتوں کے خواب​

دل کے یقینِ وصل کو پُختہ کریں کچھ اور ​

ہر شب ہی ولوَلوں سے بھرے ہمّتوں کے خواب​

پَژ مُردہ دل تُلا ہے مِٹانے کو ذہن سے​

اچّھی بُری سبھی وہ تِری عادتوں کے خواب​

کیسے کریں کنارا، کہ پیشِ نظر رہیں​

تکمیلِ آرزو سے جُڑے عظمتوں کے خواب​

ہجرت سِتم نہ لوگوں کے ہم سے چھُڑا سکی​

آئیں یہاں اب اُن کی اُنہی تہمتوں کے خواب​

یادش بخیر! اُس نے ہی دِکھلائے تھے ہمیں​

رنگوں بھرے گُلوں سے لدے پربتوں کے خواب​

دل کو لُبھائے رکھتے ہیں پردیس میں خلش​

نسبت سے اُن کی یاد ہمیں، مُدّتوں کے خواب​

​٭٭٭

 

 

 

 

چراغِ دل تو ہو روشن، رسد لہو ہی سہی ​

‘ نہیں وصال میسّر تو آرزو ہی سہی ‘​

کوئی تو کام ہو ایسا کہ زندگی ہو حَسِیں ​

نہیں جو پیار مقدّر، توجستجو ہی سہی​

یہی خیال لئے، ہم چمن میں جاتے ہیں​

وہ گل مِلے نہ مِلے اُس کے رنگ و بُو ہی سہی​

عجیب بات ہے حاصل وصال ہے نہ فِراق ​

جو تیرے در پہ پڑے ہیں وہ سُرخ رُو ہی سہی​

ہم اُس کے طرزِ عمل سے ہوئے نہ یوں عاجز ​

کہ جان جاں تو ہے اپنا، وہ تند خُو ہی سہی​

خَلِش یہ دل نہ ہو مائل کسی بھی مہوش پر ​

مشابہت میں ہواُس کی وہ ہُو بَہُو ہی سہی​

٭٭٭

 

 

 

 

نہ بوجھ یوں دلِ مُضطر پہ اپنے ڈال کے رکھ​

دُکھوں کو گوشوں میں اِس کے نہ تُو سنبھال کے رکھ​

ہر ایک شے پہ تو قدرت نہیں ہے انساں کو​

شکستِ دل کو بصورت نہ اک وبال کے رکھ​

گِراں ہیں رات کے آثار، ذہن دل کے لئے​

سُہانے یاد کے لمحے ذرا نکال کے رکھ​

میں جانتا ہوں نہیں دسترس میں وہ میری​

ہَوا مہک سے نہ اُس کی یہ دل اُچھال کے رکھ​

بہل ہی جائیں گے ایّام ہجرتوں کے خَلِش​

خیال و خواب اُسی حُسنِ بے مثال کے رکھ​

​٭٭٭

 

 

 

 

 

تمہاری، دل میں محبت کا یوں جواب نہیں​

کہ اِس سے، ہم پہ مؤثر کوئی عذاب نہیں​

ہزاروں پُوجے مگر بُت کوئی نہ ہاتھ آیا​

تمام عُمْر عبادت کا اِک ثواب نہیں​

اُمیدِ وصْل سے قائم ہیں دھڑکنیں دل کی​

وگرنہ ہجر میں ایسا یہ کم کباب نہیں​

سِوائے حُسن، کسی بات کی کہاں پروا​

ہمارے دل سے بڑا دہر میں نواب نہیں​

ہم اب بھی دل میں اُمنگیں ہزار رکھتے ہیں​

جواں یہ دل رہا دائم اگر شباب نہیں​

کبھی کبھی ہی سہی، خواب میں تو آتے ہیں​

خدا کا شُکر یوں آنے میں کچھ حجاب نہیں​

تلاش کیوں ثمر آور جہاں میں ہو، کہ خلش​

نِگاہِ یار سے بڑھ کر کوئی شراب نہیں​

​٭٭٭

 

 

 

 

سائے ہیں بادلوں کے وہ، چھٹتے نہیں ذرا

لا لا کے غم سروں پہ یہ، تھکتے نہیں ذرا

 

کیسے قرار آئے دلِ بے قرار کو

گھر سے اب اپنے وہ، کہ نکلتے نہیں ذرا

 

کیا وہ بچھڑ گئے، کہ خُدائی بچھڑ گئی

دُکھ اب ہماری ذات کے بٹتے نہیں ذرا

 

سُوجھے کوئی نہ بات ہمیں آپ کے بغیر

موسم تخیّلوں کے بدلتے نہیں ذرا

 

ہر روز ہاتھ سُرخ ہیں اوروں کے خون سے

کیا لوگ ہیں، کہ ظُلم سے تھکتے نہیں ذرا

 

انسانیت کا خُون اُنہی نے یہاں کِیا

قاتل جو اپنی شکل سے لگتے نہیں ذرا

 

بے سُود، ذکرِ غم ہے زمانے کے سامنے

دل اب کسی بھی طَور پِگھلتے نہیں ذرا

 

رہتی نہیں ہے دھُوپ ہمیشہ اگر خلش

کیوں زندگی سے درد یہ ہٹتے نہیں ذرا

٭٭٭

 

 

 

 

عالم جنُون خیز ہے، دمساز بھی نہیں ​

اِک ہم نفس تو کیا ، کوئی آواز بھی نہیں ​

وہ خامشی بَپا ہے مِری مُشتِ خاک میں ​

اِک شور حشْر سا بھی ہے، آواز بھی نہیں ​

حاصل کہاں سے ہونگی تصوّر کی ساعتیں​

باقی تخیّلات میں پرواز بھی نہیں ​

یاد آئے جب بھی اُن کی، تو آنسو اُمڈ پڑیں ​

وہ ضبط غم پہ، تھا جو کبھی ناز بھی نہیں​

‘ فرزندِ ارجُمند مُحمّد صدیق ہست ‘ ​

حاصل یہاں وطن کا وہ اعزاز بھی نہیں​

دل میں غمِ فِراق نے، چھوڑی نہ نغمَگی ​

بے ربط دھڑکنیں ہیں کوئی ساز بھی نہیں​

بپتا ہم اپنے من کی سُنائیں کِسے خلش ​

گھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں، کہ ہمراز بھی نہیں ​

٭٭٭

 

 

 

 

آنکھوں کی پُوری ہو یہ عبادت رہی سہی

پڑھ لیں رُخوں پہ لِکھّی عبارت رہی سہی

 

کب تک ہو چِلمَنوں سے عَطَا حُسنِ خِیرہ کُن

مِل جائے اب نظَر کو اجازت رہی سہی

 

بے پَردَگی کی آس لگائے ہُوئے ہے دِل!

ہو دُور درمیاں سے قباحت رہی سہی

 

اب تاب ہی کہاں، کہ سَہے بندِشیں کوئی

حاصِل ہو دِل کو دِل سے اجازت رہی سہی

 

غم اِنتہا کا، مُجھ کو نہ لے جائے اُس جگہ

بھُولوں میں، اُس کی یاد کی راحت رہی سہی

 

مولا کرے ، ہو موت تصوّر لِئے تِرا

پوری ہو دل کی آخری حاجت رہی سہی

 

خَلوَت میں مُنتَظِر ہے تِری دِید کا خلش

چاہے پھر آئے اُس پہ قیامت رہی سہی

٭٭٭

 

 

 

 

جب جب کِئے سِتم، تو رعایت کبھی نہ کی

کیسے کہیں کہ اُس نے نہایت کبھی نہ کی

 

کیا ہو گِلہ سِتم میں رعایت کبھی نہ کی

سچ پُوچھیے تو ہم نے شکایت کبھی نہ کی

 

چاہت ہمارے خُوں میں سدا موجزن رہی

صد شُکر نفرتوں نے سرایت کبھی نہ کی

 

شاید ہمارے صبْر سے وہ ہار مان لیں

یہ سوچ کر ہی ہم نے شکایت کبھی نہ کی

 

اُس چشمِ مے نواز و فسُوں ساز نے ہمیں​

اک دیدِ التفات عنایت کبھی نہ کی

 

ہوگا غلط ، اگر یہ کہیں کارِ عشق میں

عقل و ہُنر نے دل کی حمایت کبھی نہ کی

 

 

بھرتا ہُوں دَم میں اب بھی اُسی دلنواز کا

ترسیلِ غم میں جس نے کفایت کبھی نہ کی

 

اِس جُرمِ عاشقی میں برابر کے ہو شریک

تم بھی خلش، کہ دل کو ہدایت کبھی نہ کی​

٭٭٭

 

 

 

 

نہ پُوچھو ہم سے کہ وہ خُرد سال کیا شے ہے

کمر کے سامنے جس کی ہِلال کیا شے ہے

 

حَسِین چیز کوئی کیا، جمال کیا شے ہے

خدا نے اُس کو بنایا کمال، کیا شے ہے

 

بنایا وہ یَدِ قُدرت نے خاک سے پُتلا

خجِل ہوں حُور مقابل غزال کیا شے ہے

 

تمہارے حُسن سے، شاید مِرے تصور کو

کبھی خبر ہی نہیں ہو زوال کیا شے ہے

 

بتانا چاہیں بھی تو خاک ہم بتا نہ سکیں

وہ سَرْو قد، وہ خِراماں مثال کیا شے ہے

 

کہَیں جو وقت کو ہر ایک زخم کا مرہم

اُنھیں خبر ہی نہیں ہے خیال کیا شے ہے

 

بتائیں کیا، کہ بنایا ہے اُس نے کاجل سے

نظر سے دل میں اُترتا جو خال، کیا شے ہے

 

ہے مشتِ خاک میں جاری وہ رقصِ بے ہنگام

مقابلے میں کہ جس کے دھمال کیا شے ہے

 

وہی ہیں ولولے دل میں خلش اوائل کے

غموں سے عشق میں ہونا نڈھال کیا شے ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

موسمِ گُل مِرا، خوشیوں کا زمانہ وہ تھا

ہنس کے جینے کا اگر تھا تو بہانہ وہ تھا

 

اک عجب دَور جوانی کا کبھی یوں بھی رہا !

میں کہانی جو زبانوں پہ فسانہ وہ تھا

 

اپنا کر لایا، ہر اِک غم میں کہ جس پر تھوڑا

یہ گُماں تک بھی ہُوا، اُس کا نشانہ وہ تھا

 

دل، عقیدت سے رہا اُس کی گلی میں، کہ اِسے

ایک مندر کی طرح کا ہی ٹھکانہ وہ تھا

 

وقتِ رُخصت بڑا مُشکل تھا چھپانا غم کا !

اشک آنکھوں سے رَواں تھے، جو روانہ وہ تھا

 

دشمنِ جاں جو سرِدست ہے ٹھہرا میرا

سر کا سایہ کبھی میرے کبھی شانہ وہ تھا

 

عاشقی کا نہ مجھے ہی مگر اُن کو بھی خلش

رہ گیا یاد ہر اِک دن، کہ سُہانہ وہ تھا

٭٭٭

 

 

 

 

زیست مُشکل ہے بہت غم کی مِلاوٹ کے بغیر

آ ہی جاتے ہیں کسی طور یہ آ ہٹ کے بغیر

 

شب رہیں جن سے شبِ وصل، لگاوٹ کے بغیر

چہرے دیکھیں ہیں کبھی اُن کے سجاوٹ کے بغیر

 

بے بسی رات کی چہروں سے جھلکتی ہے صبح

دن کے آلام اٹھاتے ہیں تراوٹ کے بغیر

 

رُوح تک جسم کے دردوں کی کسک جاتی ہے

کام دُنیا میں کوئی ہے بھی، تھکاوٹ کے بغیر

 

وہ، جو مجبوریِ حالات سے بِک جاتے ہیں !

گھر پُہنچتے ہیں تو سہمے ہُوئے، آہٹ کے بغیر

 

اے خُدا ! مایہ و زر اُن پہ فراواں کر دے

ناؤ بہتی نہیں جن کی بھی رُکاوٹ کے بغیر

 

اِک نظر اُن پہ بھی شفقت کی، مِرے ربِ کریم

دانہ جن کو نہ میسّر ہو بناوٹ کے بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

خُلوصِ دِل سے جو اُلفت کِسی سے کرتے ہیں

کہاں وفا کی وہ دُشوارِیوں سے ڈرتے ہیں

 

ہر اِک سے، سر نہیں ہوتی ہے منزلِ مقصُود

بہت سے، راہِ طلب میں تڑپ کے مرتے ہیں

 

ڈریں ہم آگ کے دریا کے کیوں تلاطُم سے

نہیں وہ ہم ، جو نہیں ڈوب کر اُبھرتے ہیں

 

جنہیں نہ عشق میں حاصل ہو وصل کی راحت

وہ داستانوں کے عنوان بن نکھرتے ہیں

 

تمھارے ہجر کے لائے ہوئے یہ روز و شب

بجز تمھارے ہی آئے کہاں سُدھرتے ہیں

 

صعُوبَتوں کے نِشاں تک تو سب مِٹا ڈالے

مُفارقت کے لگے داغ کب اُترتے ہیں

 

خلش جو ساتھ ہوں راتوں کو چاندنی کی طرح

وہی تو صبح کو سُورج بنے اُبھرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

نہیں ہو پاس بھی، ہو پاس تم مگر میرے

وہ اور بات تھی ہوتے جو تم اگر میرے

 

جو چھوڑ آئے تھے جاناں تمھارے جانے پر

وہ یاد آتے ہیں اب بھی تو بام و در میرے

 

نہیں ہوں جن کی مسافت میں کچھ مِلن کے گماں

سُکون دیتے ہیں مجھ کو وہی سفر میرے

 

وہاں رہا نہ کوئی، اور یہاں کھُلا نہ کوئی

نہیں ہے گھر تو بھلا ہوں کہاں سے در میرے

 

رہینِ دل ہو تو ہر فکر، ہر خیال میں تم

رہے ہو تم ہی تو ہر راہ ہمسفر میرے

 

خلش وہی تو مِری شکل سے بھی ظاہر ہیں

کہ جبر اُن کے تھے اور جبر کے اثر میرے

٭٭٭

 

 

 

 

راہوں میں تِری بیٹھنے والا نہ مِلے گا

ہم جیسا تجھے سوچنے والا نہ مِلے گا

 

گو دیکھنے والوں کی کمی تو نہیں ہوگی

پر میری طرح دیکھنے والا نہ مِلے گا

 

شاید کئی بن جائیں تِرے چاہنے والے

مجھ جیسا مگر پُوجنے والا نہ مِلے گا

 

مِل جائیں گے دُنیا میں حَسِیں یوں تو ہزاروں

دل ایسا کوئی لوُٹنے والا نہ مِلے گا

 

وہ زود خفا ہے، کہ خفا رہتا ہے اکثر

ڈھونڈے سے بھی یوں رُوٹھنے والا نہ مِلے گا

 

مُمکن ہے نظر آئیں کئی حُسن کے پیکر

یوں دل کو کوئی کھینْچنے والا نہ مِلے گا

 

دل کھو کے خلِش شُکر کے سجدے یوں کریں ہم

دل ایسا حَسِیں چھیننے والا نہ مِلے گا

٭٭٭

 

 

 

 

نظر سے میری جو پردے ہٹا دِئے رب نے

تماشے سب کے ہوں جیسے لگا دِئے رب نے

 

دِکھا کے آج سرِ راہ اُن کو پھر سے ہمیں

تمام لوگ نظر سے ہٹا دِئے رب نے

 

خیالِ یار سے راحت ہے زندگی میں مدام

نشاط و کیف سب اِس میں بسا دِئے رب نے

 

حَسِین ایک نظارہ نہیں جُدا اُن سے

سب اُن کی دِید میں جلوے سجا دِئے رب نے

 

ذرا سی مجھ کو مُصیبت میں ڈال کر یوں خلِش

ہٹا کے چہروں سے چہرے دِکھا دِئے رب نے

٭٭٭

 

 

 

 

 

پھر خیالِ دلِ بیتاب ہی لایا ہوگا

کون آتا ہے یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

 

خوش خیالی ہی مِری کھینچ کے لائی ہوگی

در حقیقت تو مِرے در وہ نہ آیا ہوگا

 

کیا کہیں ہجر کے ایّامِ عقوبت کا تمہیں

کیا ستم دیکھ کے تنہا نہیں ڈھایا ہوگا

 

ممکنہ راہوں پہ ہم حسرتِ دید اُن کی لئے

عمر بھر بیٹھے، بس اک روز ہی آیا ہوگا

 

ہو گماں شک پہ حقیقت کا، نہ ہاتھ آئے جب

ہم جسے جسم سمجھتے ہیں، وہ سایا ہوگا

 

سوچ کر اپنے ہی مکتوب پہ رشک آتا ہے

اُس نے مِلتے ہی اُسے دل سے لگایا ہوگا

 

بس یہی سوچ کے ہر روز خلِش جاتے ہیں

گُل کا موسم ہے، وہ گُل باغ میں آیا ہوگا

٭٭٭

 

 

 

 

آئیں اگر وہ یاد تو مرتے نہیں ہیں ہم

حالت خراب دل کی، گو کرتے کہیں ہیں کم

 

دل خُون ہے اگرچہ شب و روز ہجر میں

آنکھوں کو اپنی، شرم سے کرتے نہیں ہیں نم

 

ایسا جلا دیا ہمیں فُرقت کی دھُوپ نے

کوشش رہے ہزار نِکھرتے کہیں ہیں ہم

 

اک پل نہ ہوں گوارہ کسی طور یوں ہمیں

دل پر سوار ہو کے اُترتے نہیں ہیں غم

 

رکھتے ہیں سطحِ آب سے اُونچا ہم اپنا سر

ڈوبے پہ یوں نہیں، کہ اُبھرتے نہیں ہیں ہم

 

قبل اِس کے جاں سے جائیں، وہ آ جائیں ایک بار

ہے شرط، ورنہ موت سے ڈرتے کہیں ہیں ہم

 

ہوگا نصیب قُرب دمِ مرگ، یار کا

کب آئی ایسی موت پہ مرتے نہیں ہیں ہم

 

پُہنچےِ ترے خیال میں جب جب بھی عرش پر

گزرے زماں وہیں پہ، اُترتے کہیں ہیں ہم

 

ذکرِ خُدا کچھ آپ پر لازم بھی ہو خلش

ہر وقت بس صنم کا ہی، بھرتے نہیں ہیں دم

٭٭٭

 

 

 

ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں میرے دئے ہوئے

کرتی تھی یاد سات وہ پھیرے لئے ہوئے

 

کیوں چوڑیاں نہیں پہ ہمیشہ یہی کہا !

پہنوں گی اپنی ہاتھوں میں تیرے دئے ہوئے

 

دل روز روز ملنے پہ ڈرتا بہت تھا تب

کیا کیا نہ خوف رہتے تھے گھیرے لئے ہوئے

 

شاخیں فسردہ یوں کہ پرندے تھے جو یہاں !

گم ہو گئے کہیں وہ، بسیرے لئے ہوئے

 

ہر سمت دھُول دھُول ہے، کچھ بھی نہیں سِوا

خوشیاں کہاں ہَوا بھی وہ میری لئے ہوئے

 

لچّھی نہیں پہ ، رات کہ ہٹتی نہیں مِری

سورج تو آئے روز سویرے لئے ہوئے

٭٭٭

 

 

 

 

صد شُکر ریزہ ریزہ کا خدشہ نہیں رہا

دل ضبط و اعتبار میں خستہ نہیں رہا

 

کیا خُوب ، رہ سکوںگا نہ تیرے بغیر پل

افسوس جس پہ سچ کا بھی خدشہ نہیں رہا

 

باتوں سے تیری ذہن ہمارا بنائے پھر

ایسا اب ایک بھی کوئی نقشہ نہیں رہا

 

افسوس یوں نہیں ہمیں مال و متاع کا

سوچیں ہماری جان کا صدقہ نہیں رہا

 

چھانی نہ جس کی خاک وفا کی تلاش میں

ایسا کوئی بھی شہر یا قصبہ نہیں رہا

 

پھر سے ہمارے دل میں مکیں بن کے آ رہو

ٹوٹے اب اس مکان کو رستہ نہیں رہا

 

جا تے ہیں اطمینان سے جانا جہاں بھی ہو

جب دل نہیں اثر میں تو رخنہ نہیں رہا

 

جوش و خروش عشق میں پہلا سا کب خلش

جب فیصلہ ہی تخت یا تختہ نہیں رہا

٭٭٭

 

 

 

 

کیوں روٹھ گئے ہو یہ بتا کیوں نہیں دیتے؟

اب مجھ کو محبت کی سزا کیوں نہیں دیتے؟

 

جس پھول سے گل رنگ ہوئی جاتی ہیں راہیں

وہ پھول مرے دل میں‌کھلا کیوں نہیں دیتے؟

 

اقرار محبت ہے اگر جرم تو جاناں

مجرم ہوں، محبت کی سزا کیوں نہیں‌دیتے؟

 

جس باغ میں‌پھولوں کا تصور بھی نہیں‌ہے

اُس باغ کو تم آگ لگا کیوں نہیں دیتے؟

 

جس دل میں محبت کا کوئی پھول نہیں ہے

اُس دل میں کوئی پھول کھلا کیوں نہیں دیتے؟

 

وہ لفظِ محبت جو لکھا تھا مرے دل پر

وہ صفحۂ ہستی سے مٹا کیوں‌نہیں دیتے؟

 

اب دل کو یقیں ہے نہ تصور ہے تمہارا

کس جگہ چھپے ہو یہ بتا کیوں‌ نہیں دیتے؟

 

زندہ ہوں کہ آؤ‌ گے مرے پاس کبھی تم

مر جاؤں محبت میں‌بتا کیوں نہیں دیتے؟​

٭٭٭

 

 

 

 

 

دعوے لبوں پہ جن کے ، ہمیشہ وفا کے ہیں

دل پر ہمارے زخم، اُنہی کی سزا کے ہیں

 

ہجرت، ملال، بے وطنی، بیکسی، الم

سارے ثمر یہ اپنی ہی شاخِ دعا کے ہیں

 

اُن کی وفا کی بات کا کر کے یقین ہم

یہ سوچتے ہیں کیا بھلا معنی جفا کے ہیں

 

افسوس اُن کو ہوگا ہمیں یاد کر کے کل

مسرورآج، ہم پہ جو تہمت لگا کے ہیں

 

کرتے ضرور دل کا کوئی انتظام ہم

گر جانتے کہ اُن کے ارادے دغا کے ہیں

 

ہر بار اُن کی جھوٹ پہ آ جاتا ہے یقیں

الفاظ یوں زباں پہ وہ لاتے سجا کے ہیں

 

کچھ دیر قربتوں کا مزہ لوٹنے تو دیں

اطوار چاہتوں میں بھی جن کے قضا کے ہیں

 

یہ دوریاں دبا نہ سکیں بے قراریاں

بیٹھے دیارِ غیر میں دل کو دبا کے ہیں

 

جاتی کہاں ہیں جی سے وہ فتنہ نمائیاں

اب بھی فسوں نگاہوں میں اُن کی ادا کے ہیں

 

کب رحم روز و شب کو مرے حال پر یہاں

آلام ہجرتوں کے تو دُگنی سزا کے ہیں

 

کیونکر اٹھائیں حشر پہ دل کا معاملہ

طالب تو ہم جہاں میں ہی روزِ جزا کے ہیں

 

الزام زندگی پہ خلش کیا دھریں کہ جب

آزار ہم پہ سارے ہی دل کی خطا کے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

نہیں آتے پل کو جو پہروں یہاں تھے

اثر کھو چکی ہیں سبھی اِلتجائیں ​

 

زمانہ ہُوا چھوڑ آئے وطن میں

نظر ڈھُونڈتی ہے اب اُن کی ادائیں​

 

مِرے خونِ ناحق پہ اب وہ تُلے ہیں

جو تھکتے نہ تھے لے کے میری بَلائیں​

 

خَلِش تم زمیں کے ، وہ ہیں آسمان پر

بھلا کیسے سُنتے تمہاری صدائیں​

٭٭٭

 

 

 

 

بہ رفتنِ شہزاد ​

تجھ سے مِلے احساس، مِٹانے کے نہیں ہم

شہزاد تُجھے دِل سے بھُلانے کے نہیں ہم

 

ہے قصْد، کہ رکھّیں گے تُجھے یاد ہمیشہ

رِحْلت سے تِری تُجھ کو بھُلانے کے نہیں ہم

 

آ جائیں گے دُنیا میں کئی اور سُخنْور

لیکن کوئی شہزاد سا، پانے کے نہیں ہم

 

احسان تِری ذات پہ کیا کیا نہیں اُس کا

اُردو! یہ تُجھے گِن کے بتانے کے نہیں ہم

 

دُکھ سے ہے عجَب ضعْف، خلِش جان پہ طاری

شاید، کہ مِلا غم اب اُٹھانے کے نہیں ہم

٭٭٭

 

 

 

 

کھِلا نیا ہو کوئی گل تو ہر نظر میں رہے​

کسی کے دل میں رہے وہ، کسی کے سر میں رہے​

تمام عمر عذابوں کے ہم اثر میں رہے​

نہ ذِکر میں رہے کِس کے نہ ہی نظر میں رہے​

​ہمارا دل نہ سُکوں سے اب ایسے گھر میں رہے​

جہاں خیال تمہارا ہی بام و در میں رہے​

زبان رکھتے ہوئے اُن سے مُدّعا نہ کہا ​

ملال اِس کا ہمارے دل و جگر میں رہے​

​بلند جس کی طلب میں رہے ہیں دستِ دُعا ​

خُدا کرے، کہ دُعاؤں کے وہ ثمر میں رہے​

تھی مُختصرسی محبت کی زندگی اتنی

لگے کہ جیسے کسی پل، کسی شرر میں رہے​

کسے بھی پیار محبت کا کچھ نہیں تھا دماغ

سب اجنبی کی طرح ہی رہے، جو گھر میں رہے​

کسی بھی بات سے ناراضگی نہ ہو اُن کی

کہیں، کہ دُور وہ ہم سے اِسی ہی ڈر میں رہے​

​بغیرسایۂ گیسو کٹھن ہے دھُوپ خلش ​

چلے بھی آئیں، کہ پتے نہ اب شجر میں رہے​

٭٭٭

 

 

 

​ رنجشوں کو دل میں تم اپنے جگہ دینے لگے

غم ہی کیا کم تھے، جو اَب یوں بھی سزا دینے لگے

 

خواہشیں دل کی دبانےسے کہیں دبتی ہیں کیا

بھول کر میری وفاؤں کو جفا دینے لگے

 

یوں تمہاری یاد نے فرقت کا عادی کر دیا

ہجر کے غم بھی بالآخر اب مزہ دینے لگے

 

کیا یہ تجدیدِ محبت ہی علاجِ دل بھی ہے

آپ بیمارِ محبت کو دوا دینے لگے

 

باغ میں میرے سُلگتے آشیاں کو دیکھ کر

“جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے”

 

کیوں ہوئے مرنے پہ راضی، بات آخر کیا ہوئی

کیا کفن کو وہ تمہیں اپنی قبا دینے لگے

 

زندگی بھر جن کو سُننے کی تڑپ دل میں رہی

اٹھ گئے جب ہم جہاں سے تب صدا دینے لگے

 

رزقِ غم کی یوں ہوئی دنیا میں قسمت سے تلاش

سب کہ سب اس کو ہمارا ہی پتہ دینے لگے

 

کیا نہ دعوہ عشق میں شادی سے پہلے تھا تمہیں

کیا طبیعت بھر گئی جو، یوں سزا دینے لگے

 

مُنتظر جب ہم رہے آیا نہ ان کو کچھ خیال

بُجھ گئے جب دل کے جذبے تب ہوا دینے لگے

 

اک اگر ہو، تو کریں شکوہ ہم اُس کی ذات سے

ہم کو سارے ہی خلش مِل کر سزا دینے لگے​

٭٭٭

 

 

 

 

 

کچھ پیار محبت کے صدموں، کچھ زہر بھرے پیمانوں سے ​

جو ہوش گنوائے پھرتے ہیں، کچھ کم تو نہیں دیوانوں سے ​

اِس حالت پر افسوس نہیں، یہ راہِ دل کا حاصل ہے ​

وہ عالم دل کو راس تھا کب، نفرت ہی رہی ایوانوں سے​

وہ داغ کہ اُن کی چاہت میں، اِس دامن دل پر آئے ہیں ​

شل رکھا اپنا دستِ طلب اور خوف رہے ارمانوں سے​

عادت سے ہماری شیخ تو ہے، سب رند کہاں نا واقف ہیں ​

ہم دُور رہے ہیں مسجد سے، کب دُور رہے میخانوں سے ​

ہر شمع کی یہ فطرت ٹھہری، محفل میں بُلا کر جاں لینا ​

مرنے کا نہیں افسوس خلش، نِسبت تو رہی پروانوں سے ​

٭٭٭

 

 

 

 

دوستی جب بھی کچھ بُتاں سے رہے ​

دشمنی میری اک جہاں سے رہے​

بحر میں تِشنگی کے ڈُوب گیا ​

لمحہ بھر بھی جو وہ نہاں سے رہے​

روز تہمت کا سامنا ہو جہاں ​

کوئی خوش بھی وہاں کہاں سے رہے​

کرب چہرے نے کردئے ظاہر ​

زخم دل کے اگر نہاں سے رہے​

جن کی فرقت نے کر دیا بوڑھا ​

وہ تصوّر میں کیا جواں سے رہے​

دل میں خواہش تھی وصل کی لیکن ​

سامنے اُن کے اِس بیان سے رہے ​

اُن حسینوں کی نا رَسِی توبہ ​

میری نظروں سے جو نہاں سے رہے​

اک عمل بھی نہیں تھا پوشیدہ ​

ساری دنیا پہ ہم عیاں سے رہے​

رچ گئے مجھ میں وہ خلش بن کر ​

جو تخیّل میں جانِ جاں سے رہے ​

٭٭٭

 

 

 

 

عزم سارے ہی رائیگاں سے رہے

خاک سر پر جو سائباں سے رہے

 

خاک میں مِل گئے وہ سب آمر

اس زمیں پر جو آسماں سے رہے

 

بس یہ خواہش ہے دل میں حاکم کی

جانشیں میرا خانداں سے رہے

 

ایسے لوگوں کا اعتبار ہی کیا

جو ارادوں میں خونچکاں سے رہے

 

روند ڈالیں نمودِ گلشن کو

دشمنی ایسی گلستان سے رہے

 

گھر کے مالک بنے یہ جب چاہا

پاسباں کب وہ پاسباں سے رہے

 

عزم مضبوط حوصلہ ہو جواں

سامنا جب بھی سخت جاں سے رہے

 

ایسے سب حاکموں پہ لعنت ہو

ملک و ملّت پہ جو گراں سے رہے

 

نہ تھے امید کے دیئے بھی خلش

دل ہمارے وہ خاکداں سے رہے​

٭٭٭

 

 

 

 

حوصلے جب نہ کچھ جواں سے رہے ​

روز و شب ہم پہ اِمتحاں سے رہے ​

اشک آنکھوں سے یُوں رواں سے رہے ​

لوگ نظروں میں سب دھُواں سے رہے ​

ہم یہ کہنا تو اِس زباں سے رہے ​

کیا تعلّق فلاں فلاں سے رہے ​

منزِلِ عشْق کِس طرح مِلتی ​

جب نہ ہم میرِ کارواں سے رہے ​

موسَمِ دِل نہ اِس بَرَس بدلا ​

ہم بہاروں میں بھی خِزاں سے رہے ​

بھُولنا اُن کا کچھ نہ تھا آساں ​

پیش صدمے جو ناگہاں سے رہے ​

تیری اُلفت کے سُرخ رُو لمحے ​

میری راتوں کی کہکشاں سے رہے ​

میری اِس کشتیِ محبّت میں ​

آپ ہی تھے جو بادباں سے رہے​

ہم جِنہیں یاد کر کے روتے تھے ​

وہ خَلِش، دِل میں ہیں کہاں سے رہے ​

​٭٭٭

 

 

 

 

بھری محفل میں تنہائی کا عالم ڈھونڈ لیتا ہے ​

جو آئے راس، دل اکثر وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے ​

کسی لمحے اکیلا پن اگر محسوس ہو دل کو ​

خیال یار کے دامن سے کچھ غم ڈھونڈ لیتا ہے ​

کسی رُت سے رہے مشرُوط کب ہیں روز و شب میرے ​

جہاں جیسا یہ چاہے دل وہ موسم ڈھونڈ لیتا ہے​

غمِ فرقت کا دل کو بوجھ کرنا ہو اگر ہلکا !​

سُنانے کو تِرے قصّے یہ ہمدم ڈھونڈ لیتا ہے​

جدائی کب رہی مُمکن کسی حالت کوئی صُورت ​

مجھے، محفل ہو تنہائی ترا غم ڈھونڈ لیتا ہے ​

رہے یوں ناز اپنے ذہن پر لاحق غموں میں بھی ​

خوشی کا اک نہ اک پہلو یہ تاہم ڈھونڈ لیتا ہے ​

خیالِ یار ہی درماں غمِ فرقت کی زخموں کا ​

کہ بیتے ساتھ لمحوں سے یہ مرہم ڈھونڈ لیتا ہے​

٭٭٭

 

 

 

 

نظر جیسی نظر ہو تو نظارے بول پڑتے ہیں​

اشارے ہوں نہاں، اِس کے سہارے بول پڑتے ہیں​

ہمارے دیس میں اب تک کئی ایسے علاقے ہیں​

ڈھلےسورج جہاں سوئے چوبارے بول پڑتے ہیں​

چھپائے لاکھ ہی اُس کو سمندر اپنی موجوں میں​

کسی طوفاں کی آمد کا، کنارے بول پڑتے ہیں​

عیاں کرنا نہ چاہے عشق کو اپنے، کوئی جتنا​

سلگتا دل ہو گر اِس میں، شرارے بول پڑتے ہیں​

لگی ہو چپ زمانے سے کسی بھی بات پر، لیکن​

جہاں ہو ذکر شادی کا، کنوارے بول پڑتے ہیں​

کہاں سے دیر تک سونا میّسر ہو اب اُس گھر میں​

جہاں پر صبْحِ صادق ہی غرارے بول پڑتے ہیں​

خلش کیسے کریں اُن سے کوئی بھی بات دُکھڑے کی​

ذرا جو دل پسیجا، غم وہ سارے بول پڑتے ہیں​

​٭٭٭

 

 

 

 

غمِ حیات سے کب قلْب ہمکنار نہیں​

خدا کا شکر، ضمیر اپنا داغدار نہیں​

تمھارے ہجرمیں دل کو ذرا قرار نہیں​

غمِ جہاں کی طرح تم سے بھی فرار نہیں​

ہر ایک چیز میں ہوتی ہے کچھ کمی بیشی​

بس ایک غم میں تمھارے ہی اختصار نہیں​

بھروسہ غیر پہ رکھیں، کہاں رہا ممکن​

خود اپنے گھر میں کسی کا جب اعتبار نہیں​

یہ خوف کیوں ہے کہ رسوا رہو گے دنیا میں​

شریکِ گریہ ہیں یہ لوگ، راز دار نہیں​

ارادہ یوں تو ہے پختہ نہ عشق کرنے کا​

نگاہِ حُسن کا لیکن کچھ اعتبار نہیں​

​٭٭٭

 

 

 

 

محبّت اُن کی شاید بٹ گئی ہے ​

توجّہ مجھ سے تھوڑی ہٹ گئی ہے​

خلا ہے اب زمین وآسماں سی ​

محبت درمیاں سے چھٹ گئی ہے​

دِلوں کے فاصلے گھٹتے نہیں ہیں ​

مُقابل یوں مُصیبت ڈٹ گئی ہے​

محبت میں کسے الزام دینا !​

زباں میری، کہ جیسے کٹ گئی ہے​

جُدائی میں، کہاں اب نیند آئے ​

خَلِش یہ کب کسی کروٹ گئی ہے​

کہاں بھُولے خراماں ناز کو ہم!​

کہاں دل سے کبھی آہٹ گئی ہے ​

سُجھائی کچھ نہ دے، ایسی ہے حالت ​

زمیں پیروں تلے سے ہٹ گئی ہے​

محبت سے سجائی تھی، جو دنیا ​

الم کے خاک سے وہ اٹ گئی ہے​

وقار و منزلت بابت محبت ​

اچانک ایسی کیسے گھٹ گئی ہے ​

مرے دل میں جو تھی تیری تمنّا ​

بہت سی خواہشوں میں بٹ گئی ہے​

خلش! کیا بے رخی کا اب گلہ ہو ​

یونہی جب عمر ساری کٹ گئی ہے ​

٭٭٭

 

 

 

 

کچھ نہ ہم کو سُجھائی دیتا ہے​

ہر طرف وہ دِکھائی دیتا ہے​

خود میں احساس اب لئے اُن کا ​

لمحہ لمحہ دِکھائی دیتا ہے ​

ہو گئے خیر سے جواں ہم بھی ​

گُل بھی اب گُل دِکھائی دیتا ہے​

دسترس میں ہے کچھ نہیں پھر بھی ​

اونچا اونچا سُنائی دیتا ہے​

کب محبت میں سُرخ رُو ہونا ​

اپنی قسمت دِکھائی دیتا ہے ​

تار ٹُوٹے ہیں زندگی کے سبھِی ​

ساز دل کا سُنائی دیتا ہے ​

کیسے گزرے گی زندگی تنہا ​

دل بھی اب تو دُہائی دیتا ہے​

میری آنکھوں کو عِشق اشکوں کی ​

پھر سے اپنی کمائی دیتا ہے ​

روز کرتا رہا جو مجھ پہ سِتم ​

دوست اب بھی دِکھائی دیتا ہے​

رہنما کچھ بھی جب نہیں ہوتا! ​

راستہ کب دِکھائی دیتا ہے​

اُن کے شانے سے، سر لگا کے خلش ​

ہم کو رونا سُجائی دیتا ہے​

دُور ایسا کیا ہے قسمت نے!​

کب یہ مُمکن دِکھائی دیتا ہے​

​٭٭٭

 

 

 

 

کِس کِس ادا سے اُن سے نہ تھی بات کی جناب ​

بنتی اگر جو بات، تو کیا بات تھی جناب​

ہو کر جُدا نہ دے ہے تکلّف مِزاج سے​

اب تک وہ گفتگو میں کریں آپ، جی، جناب​

بار آور آپ پر نہ ہوں کیوں کوششیں مِری​

کب تک یہ بے ثمر سی رہے آشتی جناب​

جاتے نہ کیسے اُن کے بُلانے پہ ہم بھلا ​

موضوعِ گفتگو پہ کہا عاشقی جناب​

کب تھا میں اِضطراب و غمِ ہجْر آشنا​

جب تک کہ آپ سے تھی فقط دوستی جناب​

جانے کہاں گئی ہے، خوشی چھوڑ کر مجھے​

کل تک تو ہر قدم وہ مِرے ساتھ تھی جناب​

للچائے کیوں نہ جی ہر اک اچھی سی چیز پر​

شامل ہے یہ سرشت میں، ہوں آدمی جناب​

پُختہ یقین ہے کہ یہ جب تک جہان ہے​

گونجے گی کو بہ کو یہ مِری نغمگی جناب​

احساس، رنجِ مرگ پہ غالب ہے یہ خلش​

زندہ اگر نہ میں تو مِری شاعری جناب​

٭٭٭

 

 

 

 

آئی ہے جب بھی یادِ وطن، تنگ کر گئی ​

قرطاسِ خوش نظر کو لہو رنگ کر گئی ​

حفظ وسلامتی کو ترستے ہیں لوگ اب ​

محفوظ کچھ نہیں ہے، خبر دنگ کر گئی​

٭٭٭

 

 

 

 

وہ، جس کی یاد میں نیناں ہمارے ترسے رہے​

اب اُس وطن کو بھی جانے سے، جاں کے ڈرسے رہے ​

جہاں میں جن کی توسط سے بے ثمر سے رہے​

ہمارے حال سے وہ بھی تو بے خبر سے رہے ​

ہُوا نہ ترکِ وطن سے بھی کچھ ہمیں حاصل ​

دیار غیر میں آ کر بھی در بہ در سے رہے​

خدا گواہ ہے، کہ رہنا یہاں نہیں تھا ہمیں​

وطن میں جان گنوانے کی، اپنے ڈرسے رہے​

وہ جن کو جان بھی لینے پہ کچھ ملال نہ ہو ​

خدا کا شکر کہ محفوظ اُن کے شر سے رہے​

رہِ فریب میں چل کر جو ہو گئے پختہ ​

وہ زندگی کی کسی اور اب ڈگر سے رہے​

ہم اُن کی باتوں میں آ کر وہاں چلے جائیں​

وطن کے لوگ اب ایسے نہ معتبر سے رہے​

خلش، ملال رہے یوں، کہ ہم ہمیشہ ہی ​

کسی بھی سانحہ ہونے کا، منتظر سے رہے ​

٭٭٭

 

 

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ

جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

 

ہو مثالوں میں نہ جو حُسنِ عجب بن جاؤ

کِس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ

 

آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش اِلحان

زندگی بھر کو مِری سازِ طرب بن جاؤ

 

رشک قسمت پہ مِری سارے زمانے کو رہے

ہمسفرتم جو لِئے اپنے یہ چھب بن جاؤ

 

میں نے چاہا تھا سرِصُبْحِ جوانی بھی یہی

تم ہی سانسوں کی مہک، دل کی طلب بن جاؤ

 

کچھ تو احساس چَھٹے دل سے اندھیروں کا مِرے

زیستِ تاریک کو اِک شمعِ شب بن جاؤ

 

دل میں رکھتا ہُوں محبّت کا خزانہ جاناں

چھوڑکرسارا جہاں میری ہی اب بن جاؤ

 

ذات قربت سے ہمیشہ ہی منوّر چاہوں

کب کہا اُس سے خلش رونقِ شب بن جاؤ

٭٭٭

 

 

 

 

 

نظرسے جواُس کی نظر مِل گئی ہے

محبت کو جیسے اثر مِل گئی ہے

 

سرِشام ، وہ بام پر آئے ، شاید

ہم آئے گلی میں خبر مِل گئی ہے

 

مزید اب خوشی زندگی میں نہیں ہے

تھی قسمت میں جو مختصر مِل گئی ہے

 

گِلہ کیوں کریں ہم مِلی بے کلی کا

توسّط سے اُس کے اگر مِل گئی ہے

 

ہمہ وقت طاری جو رہتی تھی ہم پر

اب اُس تیرگی کو سحرمِل گئی ہے

 

دُعائیں کہاں نا رسا اب رہی ہیں

خوشی جس پہ تھی منحصر مِل گئی ہے

 

خلش، زندگی پر ہمیں ناز کیا کم

محبّت کو اِک خوش نظر مِل گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

آئے جو وہ ، تو دل کے سب ارماں مچل گئے

بُجھتے ہُوئے چراغِ وفا پھر سے جل گئے

 

مِلتے توسب سے آ کے ہیں اِک ہم ہی کو مگر

مِلتی نہیں خبر وہ کب آ کر نکل گئے

 

پیمان و عہد کیا ہُوئے، سوچوں کبھی کبھی

کیوں قربتوں کے ہوتے وہ اِتنے بدل گئے

 

ویراں تھی زندگی، مِری اِک دِید کے بغیر

اب ایسی زندگی سے وہ کیسے بہل گئے

 

وارفتگیِ شوق کا عالم نہ پُوچھیے

ہم لوگ انتظار کے سانچوں میں ڈھل گئے

 

ہے اشتیاق دل کو خلش جاننے کا اب

کیونکر وہ اپنی باتوں سے پہلو بدل گئے

٭٭٭

 

 

 

 

وہ خوابِ دل نشیں مِرے ، جو مُنتشر ہُوئے

حسرت میں ڈھل کے پھر سے تِرے مُنتظر ہُوئے

 

راہِ خیال و فکر میں جو ساتھ ساتھ تھے

کب راہِ زندگی میں مِرے ہم سفر ہُوئے

 

دل کے مُعاملے وہ دِلوں تک ہی کب رہے

برکت سے راز داں کی سبھی مُشتہر ہوئے

 

بڑھ کر بالآخر ایک سے غم قافلہ بنا

رنج و الم تھے جتنے سبھی ہمسفر ہُوئے

 

پُوچھو نہ تیرے ہجر میں کاٹے ہیں کیسے سب !

کوہِ گراں سے مجھ پہ وہ شام وسحر ہُوئے

 

اپنے ہیں، دل میں پیار بھی رکھتے ضرور ہیں

نالے مِرے اب ان پہ مگر بے اثر ہُوئے

 

جائیں سُنانے کِس کو اب اشعار ہم خلش

ناپَید اب نظر سے سب اہل نظر ہُوئے

٭٭٭

 

 

 

 

آنکھوں کی طرح میری چمکتے رہو تارو

تم دل کی طرح دِید کی اُمید نہ ہارو

 

ہے ہجر کا موسم یہ مِرے دل کے سہارو

قائم رہے کچھ وصل کی اُمّید تو پیارو

 

غالب رہے ضو باری بچھی تِیرہ شبی پر

چہرے نہ لگیں یاس کی تصویر سی تارو

 

اے چاند ، اُسے میری تسلّی ہی کی خاطر

آ جائے وہ تم میں نظر ایسا تو پُکارو

 

صدقے میں بَھلی ذات کے پھر ہجر میں اُس کی

اے ماہِ منّور وہی صُورت تو اُبھارو

 

حسرت میں نہ مر جاؤں مِرے ذوقِ تخیّل

لے آؤ مقابل اُسے ، قالب میں اُتارو

 

قدموں تلے آ جائے گی منزل ، جو خلش تم

لو سر سے کوئی کام ، نہ دیوار پہ مارو

٭٭٭

 

 

 

 

کہتے تھے ہر اِک بات پہ مُجھ سے جو، وہی تو

چپ سادھ کے بیٹھے رہے جب دل کی کہی تو

 

ڈر یوں بھی رہے اُن کی، نہیں آج نہیں سے

دل میں ہی مِرے دل کی اگر بات رہی تو

 

مِلتی نہ محبت وہ الگ بات ہے، لیکن

پھیلاتے، تم اپنا کبھی دامانِ تہی تو

 

جائیں گے ضرور اُن سے مُلاقات کو، پہلے

ہو دُور مُلاقات میں حائل سی نہی تو

 

ہے دِید کی خواہش پہ جُنوں خیز طبیعت

کیا بدلے گی حالت، نہ ہوئی اُن سے بہی تو

 

فرمائیں گے ایفا میں کوئی عُذر نیا وہ

ہوتا ہے کئے وصل کے وعدے پہ یہی تو

 

گو جان پہ بن آئی تھی فُرقت میں ہماری

یادوں سے ہی کانٹوں بھری ہر رات سہی تو

 

بد دل نہ خلش ایسے، غزل لکھنے سے ہوتے

ہوتی جو کبھی اُن سے ذرا داد دہی تو

٭٭٭

 

 

 

ہو دل میں اگر پیار نہ کرنے کا تہیّہ

بہتر نہیں اِس سے کہ ہو مرنے کا تہیّہ

 

ہوتا ہے ترے وصل کے وعدے پہ مؤخر

وابستہ تِرے فُرق سے مرنے کا تہیّہ​

 

دل خود میں کسی طَور پنپنے نہیں دیتا

کچھ ہٹ کے کبھی عشق سے کرنے کا تہیّہ​

 

گُزری ہے بڑی عمر اِسی حال میں ناصح

کامل نہ مِرا ہوگا سُدھرنے کا تہیّہ​

 

ہر شخص کئے بیٹھا ہے میری ہی مُصَمَّم

شیرازۂ ہستی کے بکھرنے کا تہیّہ​

 

ہلکان ہوئے جاتے ہو کیوں چا رہ گرو تم

ہے زیست کا اُن سے ہی سنورنے کا تہیّہ ​

 

تاویل نئی، یا وہی بے وجہ کے خدشے

قائم رہے کب اُن کا نہ ڈرنے کا تہیّہ​

 

نالاں کریں احباب کو کب میرے ارادے

بس دل میں تِرے، میرا اُترنے کا تہیّہ​

 

چاہوں کہ تِرے عشق میں ڈوبا رہُوں ایسا

تا عمر نہ ہو جس سے اُبھرنے کا تہیّہ​

 

حاصل رہی جس راہ خلش دید کی راحت

اب روز وہیں سے ہے گُزرنے کا تہیّہ​

٭٭٭

 

 

 

 

کیا تم سے کہیں چُپ رہنے دو

جو چاہیں کہیں وہ ، کہنے دو

 

دیوانہ سمجھ کر رہنے دو

اے چارہ گرو دُکھ سہنے دو

 

دن بھر تو رہے آنسو روکے

خلوت میں لڑی تو بہنے دو

 

سُونی سی لگے دُنیا دل کی

کچھ اور غموں کے گہنے دو

 

ہاں درد کے سارے زیور وہ

اب تک جو نہیں ہیں پہنے دو

 

دیوانگی اُن کی ثابت ہے

کہتے ہیں خلش جو کہنے دو

٭٭٭

 

 

 

 

 

کچھ اُس کے دل میں خُدا میری اعتنائی دے

نہیں تو مجھ کو جنُوں سے ہی آشنائی دے

 

چلے بھی آؤ کہ فرقت سے دل دُہائی دے

غمِ جہاں بھی نہ اِس غم سے کچھ رہائی دے

 

کبھی خیال، یوں لائے مِرے قریب تجھے !

ہر ایک لحظہ، ہر اِک لب سے تو سُنائی دے

 

کبھی گُماں سے ہو قالب میں ڈھل کے اِتنے قریب

تمھارے ہونٹوں کی لرزِش مجھے دِکھائی دے

 

ہے خوش خیالیِ دل سے کبھی تُو پہلو میں

کچھ اِس طرح ، کہ تنفس تِرا سُنائی دے

 

نسیمِ صُبح کے جھونکوں سے ہلتے پھُولوں میں

ہمیشہ تُو ہی خراماں مجھے دِکھائی دے

 

گُلوں کے پتّوں پہ بارش کے ننھے قطروں سے

ہمیشہ تیری ہی آہٹ مجھے سُنائی دے

 

در و دریچے سے خوشبو لئے گھر آئی ہوا

یوں گنگنائے کہ آمد تِری سُجھائی دے

 

ہُوں منتظر میں کسی ایسے معجزے کا خلش

جو میرے خواب کو تعبیر تک رسائی دے

٭٭٭

 

 

 

 

یادوں سے سیلِ غم کو ہیں آنکھوں میں روکے ہم

کب بھُولے، زندگی سے محبّت کے بوسے ہم

 

دیکھیں برستی آگ لبِ نغمہ گو سے ہم

حیراں ہیں گفتگو کو مِلی طرزِ نو سے ہم

 

سب دوست، آشنا جو تھے ، تاتاری بن گئے

آئے وطن، تو بیٹھے ہیں محبوس ہوکے ہم

 

اپنی روایتوں کا ، ہمیں پاس کب رہا !

کرتے شُمار خود کو ہیں اِس دَورِ نو کے ہم

 

کیا تھی خبر کہ، کھائیں گے جنّت کو چھوڑ کر

اِس دہرِ پُر فریب میں، کیا کیا نہ دھوکے ہم

 

الزام سارا لِکھّے پہ ڈالیں نہ کیوں ، کہ جب !

رہتے ہیں مطمئن سے، یوں قسمت کو رو کے ہم

 

چھائی وہ تِیرگی سی ہمہ وقت ہے خلش !

ہوتی سحر نہیں ہے اُٹھیں لاکھ سو کے ہم

٭٭٭

 

 

 

 

یوں زندگی میں ہم سے کوئی کام بھی تو ہو

مائل بہ عشق جس سے دِل آرام بھی تو ہو

 

اُن تک سفر کا میرے اب انجام بھی تو ہو

کچھ تگ و دو یہ باعثِ انعام بھی تو ہو

 

دُشنام گو لبوں پہ خلش نام بھی تو ہو

عاشق ہو تم تو شہر میں بدنام بھی تو ہو

 

پتّھر برس رہے ہوں کہ، ہو موت منتظر

اُن کا، گلی میں آنے کا پیغام بھی تو ہو

 

کر لُوں گا طے میں عِشق کی پُر پیچ رہگُزر

اُس پار منتظر وہ خوش اندام بھی تو ہو

 

گردن زنی پہ میری تھا قاتل کا عذر یہ

کچھ ساتھ حُکم کے تِرے اِلزام بھی تو ہو

 

میخانے جائیں کیوں بھلا پینے کو پھر خلش

گھر میں مگر وہ ساقیِ گلفام بھی تو ہو

٭٭٭

 

 

 

 

دبائے دانتوں میں اپنی زبان بیٹھے ہیں

ہم اُن سے کچھ نہ کہیں گے یہ ٹھان بیٹھے ہیں

 

رہِ غزال میں باندھے مچان بیٹھے ہیں

ہم آزمانے کو قسمت ہی آن بیٹھے ہیں

 

کُشادہ دل ہیں، سِتم سے رہے ہیں کب خائف

کریں وہ ظلم بھی ہم پر جو ٹھان بیٹھے ہیں

 

نہیں ہے اُن سے ہماری کوئی شناسائی

گلی میں شوقِ تجلّی میں آن بیٹھے ہیں

 

کہاں ہم ایسے، غزالوں کے رَم سے ہوں عاجز

اُتارنے کو ذرا سی تکان بیٹھے ہیں

 

خُدا کرے، وہ حقیقت میں ہم کو ہوں حاصل

جنہیں ہم اپنا، تصوّر میں مان بیٹھے ہیں

 

نہیں یہ غم، کہ گئیں ساری راحتیں دل کی

ہم اُن کو اپنی خوشی کر کے دان بیٹھے ہیں

 

کچھ اورپاس نہیں وارنے کو جاں کے سِوا

لُٹا کے اُن پہ ہی دونوں جہان بیٹھے ہیں

 

سِتَم سے اُن کے خلش، زندگی لبِ دم ہے

مگر وہ ہیں کہ ، ابھی اور ٹھان بیٹھے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

ہُوں کِرن سُورج کی پہلی، اور کبھی سایا ہُوں میں

کیسی کیسی صُورتوں میں وقت کی آیا ہُوں میں

 

قُربِ محبُوباں میں اپنی نارسائی کے سبب

گھیرکرساری اُداسی اپنے گھر لایا ہُوں میں

 

گو قرار آئے نہ میرے دل کو اُن سے رُوٹھ کر

جب کہ مِلنے سے اِسی پر زخم کھا آیا ہُوں میں

 

بے سبب اُن سے نہیں بے اعتنائی کا گِلہ

کب زمانے سے اُنھیں بڑھ کر ذرا بھایا ہُوں میں

 

کیوں نہ اربابِ خِرَد میں ہو خلش میرا شُمار

اپنے افکارِ سُخن سے بزم پر چھایا ہُوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

دوڑے آتے تھے مِرے پاس صدا سے پہلے

اب وہ شاید ہی، کبھی آئیں قضا سے پہلے

 

کوئی اور آ کے ہی بتلا دے ہمیں حال اُن کا !

دردِ دل غم سا ہی ہو جائے سَوا سے پہلے

 

عادتیں ساری عِنایت کی بدل دیں اُس نے

اب تسلّی نہیں دیتے وہ سزا سے پہلے

 

روز و شب وہ بھی اذیّت میں ہُوئے ہیں شامِل

یادِ جاناں میں جو رہتے تھے جُدا سے پہلے

 

خواہشیں ساری جو پنہاں ہیں مِرے سینے میں

پُوری ہونے کی نہیں تیری وفا سے پہلے

 

ناز و انداز ہے کیا، حُسْن کے نخرے کیا ہیں

کچھ بھی معلوم نہ تھا، اُن کی ادا سے پہلے

 

کھولنے آئی مُصیبت تھی حقیقت اُن کی !

دوست بن بن کے جو مِلتے تھے ریا سے پہلے

 

اُن دِیوں نے بھی، سرِباد ہی اِلزام دھرے

جل بُجھے تھے جو چَلی تیز ہَوا سے پہلے

 

چا ہے جانے پہ ہی وہ، ہو گئے بدنام خلش !

کیا سزا پائی ہے نِسبت کی خطا سے پہلے

٭٭٭

 

 

 

 

ہزار سی بھی لوں دامن، سِیا نہیں لگتا

جنُوں سے عِشق میں سودا کِیا نہیں لگتا

 

اِک امتحان سے گُذرا ہُوں، کیوں نہیں سمجھیں

یونہی نہیں میں ہر اِک کو جِیا نہیں لگتا

 

وہ اطمینان سے یُوں ہیں، کہ میں کسی کو بھی اب

خود اپنے آپ پہ تہمت لِیا نہیں لگتا

 

وقوعِ وصل پہ کہتے ہیں سب، کروں نہ یقیں

کبھی وہ مجھ کو بھی وعدہ کِیا نہیں لگتا

 

اِنہی اندھیروں میں شاید ہے اختتامِ حیات

ہو اِک بھی راہ میں روشن دِیا، نہیں لگتا

 

کب اِن کے بیچ مجھے روز و شب نہیں بھاری !

کب آسمان و زمیں آسیا نہیں لگتا

 

تمام وقت ہی مدہوش جس کے عشق میں ہو

بس اِک اُسی کو خلش، تُو پیا نہیں لگتا

 

 

٭٭٭

 

 

 

 

چار دہ سالی میں رُخ زیرِ نقاب اچھّا نہ تھا

اک نظر میری نظر کو اِنقلاب اچھا نہ تھا

 

اِس تغیّر سے دلِ خانہ خراب اچھا نہ تھا

تیرا غیروں کی طرح مجھ سے حجاب اچھا نہ تھا

 

اِس سے گو مائل تھا دل تجھ پر خراب اچھا نہ تھا

کب نشہ آنکھوں کا تیری اے شراب اچھا نہ تھا

 

بیقراری اور بھی بڑھ کر ہُوئی مجھ پر سَوا

اِک نظر، آنا نظر میری گلاب اچھا نہ تھا

 

ذہن و دل پر اِختیار اب میرا کچھ باقی نہیں

تجھ سے پیار اِس قدر میرا بے حساب اچھا نہ تھا

 

کل کا کہہ کر آج ہی واپس ہُوئے ہیں یُوں خلش

دل پہ تیرے ہجر میں پڑتا عذاب اچھا نہ تھا

 

آرزُو تیری نہیں کرتا، تو کیا کرتا خلش

پورے عالم میں کوئی تجھ سا شباب اچھا نہ تھا

 

جی کا میرے وسوسوں سے پیچ و تاب اچھا نہ تھا

غیر کی باتوں پہ دل ہونا کباب اچھا نہ تھا

 

گفتگو میں ظاہر اُس کا اِضطراب اچھا نہ تھا

اس نتیجے جو مِلا اجر و صواب اچھا نہ تھا

 

تھی شکایت سب ہی کو کہتے نہیں ہم دل کی بات

جو کہا سُن کر مِلا اُن سے جواب اچھا نہ تھا

 

آرزُو اُس کی نہیں کرتا، تو کیا کرتا خلش

پورے عالم میں کوئی اُس سا جناب اچھا نہ تھا

 

گو سہارے ہی گُزاری لیکن احساس اب ہُوا

زندگی بھر دیکھتے رہنا بھی خواب اچھّا نہ تھا

 

ہر عمل اور ہر سِتم اُس کا رَوا ہو، پھر بھی یُوں !

اِک بھری محفل میں مجھ سے اِجتناب اچھا نہ تھا

 

بھاڑ میں جائے خلش اُس سے نہیں کچھ واسطہ!

اُس کا لوگوں کو یہی دینا جواب اچھا نہ تھا

٭٭٭

 

 

 

 

وہ جو رُخ پہ رنگِ شباب تھا

تِرا حُسن تھا کہ گلاب تھا

 

نہ تھا یوں مگر مجھے یوں لگا

وہی جاں کا میری عذاب تھا

 

کہ شکستِ دل کا سبب بھی تو

وہی عشقِ خانہ خراب تھا

 

اُفقِ نظر پہ ہے آج تک

وہ جو چاند زیرِ نقاب تھا

 

مِری زندگی تھی کہ دھُوپ تھی

تِرا حُسن مثلِ سحاب تھا

 

بنا تیرے لمحہ بھی ایک ایک

مِری ضیقِ جاں کا حساب تھا

 

نہ تھا کچھ بھی میری نظر میں تب

تُو ہی ایک لُبّ لُباب تھا

 

تُو مِلا جو مجھ سے تو یُوں مِلا

نہیں مانع کوئی حجاب تھا

 

تو بچھڑ گیا تو لگا ہے یُوں

کہ وہ سب ہی مثلِ حباب تھا

 

کبھی ہو سکے گا نہ مجھ سے حل

وہی ایک ایسا نصاب تھا

٭٭٭

 

 

 

 

 

اُس حُسن کے پیکر کو کچھ پیار بھی آ جائے

ہونٹوں پہ محبّت کا اِقرار بھی آ جائے

 

لبریز ہو چاہت سے پیمانۂ دِل اُس کا

ہونٹوں سے چَھلک کر کچھ اِظہار بھی آ جائے

 

رُت آئی ہے برکھا کی، ہیں پھُول کھِلے دِل میں

کیا خُوب ہو ایسے میں دِلدار بھی آ جائے

 

کیا کیا نہ کِیا ہم نے، پُوری نہ ہُوئی کوئی

خواہش ، کہ کسی شب وہ ضُو بار بھی آ جائے

 

چُپ ہُوں ، کہ نہ ہوں نالاں وہ میرے تواتر سے

ایسا نہ ہو لہجے میں دھُتکار بھی آ جائے

 

آتے ہیں سبھی سُننے محفِل میں خلِش کو تو !

جس کے لئے لکھے ہیں اشعار بھی آ جائے

٭٭٭

 

 

 

 

کرتے ہیں اگر مجھ سے وہ پیار تو آ جائیں

پھر آ کے چلے جائیں ، اِک بار تو آ جائیں

 

ہے وقت یہ رُخصت کا، بخشش کا، تلافی کا

سمجھیں نہ جو، گر اِس کو بیکار تو آ جائیں

 

اِک دِید کی خواہش پہ اٹکا ہے یہ دَم میرا

کم کرنا ہو میرا کچھ آزار تو آ جائیں

 

جاں دینے کو راضی ہُوں، اے پیکِ اجل لیکن

کچھ دیر تو رُک جاؤ، سرکار تو آ جائیں

 

جائیں نہ خلش لے کر ہم سُوئے عدم حسرت

مقصُود ہو اُن کو بھی دِیدار، تو آ جائیں

٭٭٭

 

 

 

 

پھر وہی گونج ہے باتوں کی بیاں سے باہر

پھر وہی تیغ ہے نظروں میں، مَیاں سے باہر

 

کیسا یہ درد سمایا ہے جگر میں میرے !

خود پہ کھُلتا نہیں، اُن کے بھی گُماں سے باہر

 

کبھی باہر تھی بیاں سے، تو تھی اُلفت اُن کی

اُن کی رنجش بھی ابھی ہے تو بیاں سے باہر

 

کاش ہوتے نہ جو اپنے، تو نِکلتا شاید !

لاوہ اندر سے جو نِکلا نہ زباں سے باہر

 

جاں کو محبُوب ہُوا درد، مِری جاں سوچے

اب کہاں جائے گا ، ہوگا جو یہاں سے باہر

 

پہرے دہشت کے خلش اور کہیں موت کے ہیں !

گھر سے نکلے بھی بھلا کوئی کہاں سے باہر

٭٭٭

 

 

 

 

بہت سے لوگ تھے باتیں جہاں ہماری تھیں

تمھارے وصف تھے رُسوائیاں ہماری تھیں

 

نہیں تھا کوئی بھی، دیتا جو ساتھ محفل میں

تمھاری یاد تھی، تنہائیاں ہماری تھیں

 

عجب تماشا تھا، ہرآنکھ کا وہ مرکز تھا

وجود اُس کا تھا، پرچھائیاں ہماری تھیں

 

تباہ ہو نہ سکے ، یہ کمال تھا اپنا

تمھارے خواب تھے بیداریاں ہماری تھیں

 

خلش! گو قہقہے پھیلے ہُوئے تھے محفل میں

مگر وہاں بھی طلبگاریاں ہماری تھیں

٭٭٭

 

 

 

مجھ سے آنکھیں لڑا رہا ہے کوئی

میرے دِل میں سما رہا ہی کوئی

 

ہے تِری طرح روز راہوں میں

مجھ سے تجھ کو چھُڑا رہا ہے کوئی

 

پھر ہُوئے ہیں قدم یہ من من کے

پاس اپنے بُلا رہا ہے کوئی

 

نِکلوں ہر راہ سے اُسی کی طرف

راستے وہ بتا رہا ہے کوئی

 

کیا نِکل جاؤں عہدِ ماضی سے !

یادِ بچپن دِلا رہا ہے کوئی

 

پھر سے اُلفت نہیں ہے آساں کُچھ

بھُولے نغمے سُنا رہا ہے کوئی

 

دھڑکنیں تیز ہوتی جاتی ہیں

میرے نزدیک آ رہا ہے کوئی

 

وہ جو کہتا ہے بھُول جاؤں خلش !

وقت اُس پر کڑا رہا ہے کوئی ؟

٭٭٭

 

 

 

 

مناظر حَسِیں ہیں جو راہوں میں میری

تمہیں ڈھونڈتے ہیں وہ بانہوں میں میری

 

اِنہیں کیا خبر مجھ میں رَچ سے گئے ہو

بچھڑ کر بھی مجھ سے، ہو آہوں میں میری

 

عجب بیخُودی آپ ہی آپ چھائے

تِرا نام آئے جو آہوں میں میری

 

ہر اِک سُو ہے رونق خیالوں سے تیرے

ابھی بھی مہک تیری بانہوں میں میری

 

مِرے ساتھ بھی ہو، ہو مِرے ہمقدم بھی !

نہیں صرف ہو تم نِگاہوں میں میری

٭٭٭

 

 

 

 

دی خبر جب بھی اُنھیں اپنے وہاں آنے کی

راہیں مسدُود ہُوئیں میرے وہاں جانے کی

 

اور کُچھ پانے کی دِل کو نہیں خواہش کوئی

نِکلے بس راہ کوئی میرے وہاں جانے کی

 

وجہ کیا خاک بتائیں تمھیں کھُل کر اِس کی

کوئی تدبیر چلی ہی نہیں دِیوانے کی

 

میری قسمت میں کہاں یار سے جا کر مِلنا

کوشِشیں خاک ہُوئیں ساری وہاں جانے کی

 

ایسا کھویا ہُوں جہانِ غمِ ہستی میں خلش

کوئی صُورت ہی نہیں اپنا نشاں پانے کی

 

راہ گر دیکھتی جنّت ہے تو دیکھے، کہ خلش !

ہم کو جلدی نہیں دُنیا سے وہاں جانے کی

٭٭٭

 

 

 

 

کیسی یہ روشنی ہے بکھرتی نہیں کبھی

تاریک راستوں پہ تو پڑتی نہیں کبھی

 

کیسا یہ چھا گیا ہے مِری زندگی پہ زنگ

کوشش ہزار پہ بھی اُترتی نہیں کبھی

 

یکسانیت کا ہو گئی عنوان زندگی !

بگڑی ہے ایسی بات سنْورتی نہیں کبھی

 

رہتا ہے زندگی کو بہاروں کا اِنتظار

حرکاتِ کج رَواں سے تو ڈرتی نہیں کبھی

 

ہے عزم بھی بُلند مصائب کے ساتھ ساتھ

چاہت مِری، مقام سے گِرتی نہیں کبھی

 

حیراں اِس حوصلے پہ بھی دل کے ہُوں میں خلش

خواہش بھی اُن کے پانے کی مرتی نہیں کبھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

کچھ سفیدی نے سحرکی رنگ بھی پکڑا نہ تھا

رات کی اُس تِیرَگی کو بھی ابھی جکڑا نہ تھا

 

خواب میں تھے سب مکینِ وادئ جنّت نظیر

رات کے سب خواب تھے دن کا کوئی دُکھڑا نہ تھا

 

سحری کر کے پانی پی کے سو گئے تھے روزہ دار

وہ بھی حاصل جن کو روٹی کا کوئی ٹکڑا نہ تھا

 

حُسن فِطرت میں کہ تھے پالے ہُوئے چہرے وہاں

ہو نہ جس پہ رشک ایسا کوئی بھی مُکھڑا نہ تھا

 

بھیج کر بچوں کو مکتب پل کو جو لیٹے ہی تھے

آ گیا یوں زلزلہ، کیا تھا کہ جو اُکھڑا نہ تھا

 

ہر طرف لاشیں تھیں یا پھر گونجتی آہ و بکا

کون تھا اپنے لہو میں خود ہی جو لِتھڑا نہ تھا

 

اپنوں کو کیسے نکالیں یوں دبی دیوار سے

سوچ میں تھے غرق سب کوئی مگر تگڑا نہ تھا

 

کوئی گھرایسا نہ تھا جس کے پیاروں کو وہاں

موت کے بے رحم ہاتھوں نے خلش جکڑا نہ تھا

 

یونہی کتنے مرنے والوں کو لِٹایا قبر میں

ڈھانپنے کو لاش کے دو گز یہاں کپڑا نہ تھا

 

سوچتا ہُوں کیوں مِلی اِن روزہ داروں کو سزا

تیرے آگے اپنا ماتھا کیا کبھی رگڑا نہ تھا

 

یہ نمازی اُس کے ہی سب نام لیوا تھے خلش

دین کا اور کفر کا، ایسا کوئی جھگڑا نہ تھا

٭٭٭

 

 

 

 

نہیں جو عِشق میں رُتبہ امین رکھتا تھا

میں اپنا دِل تک اُسی کا رہین رکھتا تھا

 

رہی جو فکر تو نادان دوست ہی سے مجھے

وگرنہ دشمنِ جاں تک ذہین رکھتا تھا

 

خیال جتنا بھی اُونچا لیے پھرا ، لیکن

میں اپنے پاؤں کے نیچے زمین رکھتا تھا

 

خُدا کا شُکر کہ عاجز کِیا نہ دل نے کبھی

میں اِس کو دوست ہمیشہ حَسِین رکھتا تھا

 

کسی بھی شہر، کسی مُلک میں جہاں بھی گیا

جِلو میں اپنی میں عُمدہ ترین رکھتا تھا

 

نہیں یُوں یاد ہر اِک کو، کہ میں حَسِیں تھا، مگر

ہمیشہ ساتھ میں زہرہ جبین رکھتا تھا

 

چُنا اگر تو اِک ایسا ہی زندگی کو خلش

کمر گُلوں میں جو سب سے مہین رکھتا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

نہ دوست بن کے مِلے وہ ، نہ دشمنوں کی طرح

جُدا یہ دُکھ بھی، مِلے اور سب دُکھوں کی طرح

 

یُوں اجنبی سی مُصیبت کبھی پڑی تو نہ تھی

سحر کی آس نہ جس میں وہ ظلمتوں کی طرح

 

نہ دل میں کام کی ہمّت، نہ اوج کی خواہش !

کٹے وہ حوصلے سارے مِرے پروں کی طرح

 

ستارے توڑ کے لانے کا کیا کہوں میں اُسے

زمیں کے کام بھی جس کو ہیں زحمتوں کی طرح

 

کروں میں شُکر ادا ربِ ذُو الجلال کا یُوں

کہ تجھ سے پیار بھی بخشش ہے رحمتوں کی طرح

 

کبھی ہُوا نہیں نادم میں تیری نسبت سے

اگرچہ باہمی قصّے تھے تہمتوں کی طرح

 

خلش رہی تو بس اِس بات کی خلش، کہ رہا !

میں اُس کے ہوتے بھی دُنیا میں بیکسوں کی طرح

٭٭٭

 

 

 

 

 

میں نے فرطِ شوق میں دی تھی زباں جاتا رہا

ورنہ مِلنے کو کسی سے کب کہاں جاتا رہا

 

میں لبِ دم تھا غمِ فُرقت میں لاحق وہم سے

جی اُٹھا آنے پہ اُس کے ، ہر گُماں جاتا رہا

 

وہ جو آئے جیسے آئیں زندگی کی رونقیں

‘میری تنہا زندگی کا سب نشاں جاتا رہا’

 

شوق اب بھی جی کو ہیں لاحق وہی پہلے جو تھے

کب بَھلا دِل سے مِرے عِشق بُتاں جاتا رہا

 

ہے گِلہ یہ وقت سے، مجھ کو ذرا مُہلت نہ دی

حسرتیں روندے مِری نامہرباں جاتا رہا

 

تھی بہت کوشش کہ اُن کا قُرب ہو حاصِل مجھے

ہر عمل اِس مد میں لیکن رائیگاں جاتا رہا

 

ہم ہُوئے رُسوا وہاں بھی جس جگہ تھے اجنبی

کون جانے لے کے جھُوٹی داستاں جاتا رہا

 

اب کہاں بیٹھیں جہاں سے دِید ہو حاصل، خلش!

اُس گلی اپنا بنایا آستاں جاتا رہا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ان و دِل ہجر میں کُچھ کم نہیں بے جان رہے

لڑ کر اِک دردِ مُسلسل سے پریشان رہے

 

سوچ کر اور طبیعت میں یہ ہیجان رہے !

کیوں یُوں درپیش تلاطُم رہے، طوفان رہے

 

بُت کی چاہت میں اگر ہم نہ مُسلمان رہے

رب سے بخشش کی بھی کیا کُچھ نہیں امکان رہے

 

مگر اب دل میں کہاں میرے وہ ارمان رہے

ضُعف سے لگتا ہے کُچھ روز کے مہمان رہے

 

زندگی کی مِری تخفِیف کا سامان رہے

لمحے یادوں کے تِری، باعثِ تاوان رہے

 

میں رہا، اور مِری زیست کی تنہائی کو

تیرے ایفا نہ کئے وعدہ و پیمان رہے

 

غم جسے اپنا سُنائیں کوئی ایسا بھی نہیں !

اُن کی چاہت میں خلش سب ہی سے انجان رہے

٭٭٭

ماخذ: اردو محفل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید