FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 پریوں کی تلاش

 

سفر نامہ

 

وارث اقبال

 

 

 

’اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے

دشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے

خوابوں کے چاند ڈھل گئے تاروں کے دم نکل گئے

پھولوں کے ہاتھ جل گئے ، کیسےیہ آفتاب تھے !

سیل کی رہگزر ہوئے ،  ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے

کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے !

عمر اسی تضاد میں ،  رزقِ غبار ہو گئی

جسم تھا اور عذاب تھے ، آنکھیں تھیں اور خواب تھے

صبح ہوئی تو شہر کے، شور میں یوں بِکھر گئے

جیسے وہ آدمی نہ تھے ، نقش و نگارِ آب تھے

آنکھوں میں خون بھر گئے ، رستوں میں ہی بِکھر گئے

آنے سے قبل مر گئے ، ایسے بھی انقلاب تھے

ساتھ وہ ایک رات کا،  چشم زدن کی بات تھا

پھر نہ وہ التفات تھا،  پھر نہ وہ اجتناب تھے

ربط کی بات اور ہے ،  ضبط کی بات اور ہے

یہ جو فشارِ خاک ہے ،  اِس میں کبھی گلاب تھے

اَبر برس کے کھُل گئے ،  جی کے غبار دھُل گئے

آنکھ میں رُونما ہوئے ،  شہر جو زیرِ آب تھے

درد کی رہگزار میں ‘

 

پس منظر

 

زندگی ایک سفر ہے اور سفر سے ہی مربوط۔ لیکن کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں جو روح میں اس طرح رچ بس جاتے ہیں کہ اُن کی یادیں سرمایۂ حیات کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں ۔ اس کی وجہ سفر نہیں حاصل سفر ہوتا ہے۔ جسے پانے کے لئے ہم کتنے ہی خواب دیکھتے ہیں اور کتنی ہی تدبیریں کرتے ہیں تب جا کر وہ حاصلِ سفر نصیب ہوتا ہے۔

میں جس سفر کی داستان رقم کرنے جا رہا ہوں وہ ایک ایسا سفر ہے جس کی یادیں حاصلِ سفر سے کہیں زیادہ سفر کی وجہ سے میرا سرمایۂ حیات بن گئیں ۔ اس سفر میں نہ وقت کی قید تھی اورنہ منزلوں کا کوئی واضح تعین۔ سفر کے دوران کسیبھی موڑ پر فیصلہ کیا اور راہِ سفر بدل لی۔ اس سفر کے یادگار ہونے کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اس سفر کے خواب دیکھے تھے اور پھر اس خواب کی تعبیر پانے کے لئے کتنا ہی انتظار کیا تھا۔ یوں اس سفر کے یادگار ہونے کی ایک وجہ میرے ہم سفر بھی تھے۔

یہ ایک سفر ہی نہیں تھا بلکہ ایک جستجو اورکھوج بھی تھا۔ یہ جستجوکسی سوغات کے حصول کے لئے نہیں تھی بلکہ ہر اس شے کو پانے کے لئے تھی جو اچھوتی ہویا عجیب۔ چاہئے تاریخ کے بوسیدہ اوراق ہوں ، یا لوگوں کے روئیے ؛ اجناس اور کھانے کی چیزیں ہوں یا طرزِ رہائش وزیبائش؛داستانیں ہوں یا کہانیاں ؛ ٹوٹی پھوٹی خستہ حال دیواریں ہوں یا جدید عمارات، صوفیوں اور مریدوں کے عقیدت بھرے قصے ہوں یا شاعروں ادیبوں کی باتیں ۔ بس جو ملا جھولی میں ڈال لیا۔

اس سفر کو قلمبند کرنے کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ کہ جب میں نے بے گھری اور سفر کی اتنی صعوبت اٹھائی ہے اور انواع واقسام کی معلومات سے جھولی بھری ہے تو پھر اُ سے دوسروں تک ضرورپہنچایا جائے۔ دوسری وجہ ایک واقعہ تھا جو جھیل سیف الملوک پر پیش آیا جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں یہ سفر ضرور قلمبند کروں ۔

 

نانی یا ایک پری

 

خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی

نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی

 

بات بھی ایک عجیب بات ہوتی ہے، کبھی ہوتی ہی نہیں جب ہو جائے تو پہاڑوں سے گرتا ہوا جھرنا بن جاتی ہے اور ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کبھی کسی سینے پر یوں گرتی ہے جیسے زمین پر کیمیکل زدہ بارش اور کبھی کسی حسینہ کے لبوں کی مسکراہٹ بن کر اندر ایک انجانی سی کھلبلی مچا دیتی ہے۔ یہ بات ہی ہے جس سے ایک نئی بات نکلتی ہے اور کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ کبھی نئے گھر بسانے کا سبب بنتی ہے اور کبھی بسے بسائے گھر اجاڑ نے کی وجہ بن جاتی ہے۔ یہ بات ہی تھی جو بڑھتے بڑھتے باتیں بن گئی اور انہی باتوں کو کسی ذی فہم نے کہانی کا نام دے دیا۔ نہ باتیں ختم ہوئیں نہ کہانیاں ، نہ باتوں کی قدر کم ہوئی اور نہ ہی کہانیوں کی افادیت میں کمی آئی۔ کہانیوں سے کہانیاں بنتی گئیں اور باتوں سے باتیں ۔ یوں یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

میں جب بھی کسی بات کی بات کرنا چاہتا ہوں تو اُس کی کوئی نہ کوئی کڑی میری نانی اماں کی باتوں سے جا ملتی ہے۔ سرِ شام ہی ہمارے گھر کے درو دیوار میں ان کی بھاری اور سحر انگیز دیوتاؤں جیسی آواز گونج جاتی، ’’ بچو! جلدی کرو کھانا کھا لو، بستر میں آ جاؤ اورپھر میں تمہیں ایک نئے دیس کی بات سناؤں گی۔ ‘‘ نئی بات کے چکر میں ہم کھانا بھی کھا لیتے اور وقت پر بستر میں بھی پہنچ جاتے اور ہماری ماں چیخنے چلانے کے کرب سے بھی بچ جاتیں ۔ میری نانی انبالہ کی تھیں چنانچہ انبالہ اُن کی باتوں ، لباس، مسکراہٹوں اور آہوں میں یوں رچا بسا تھا جس طرح دودھ میں شکر۔ کبھی ہم دودھ کے لالچ میں شکر کھا لیتے اور کبھی شکر کے لالچ میں دودھ پی لیتے۔

اُن کی باتوں میں ایک نہر ضرور ہوتی تھی جسے وہ ندی کہتی تھیں ۔ وہ اکثر بتایا کرتی تھیں کہ اُن کے انبالہ والے گھر کے قریب سے ایک ندی گذرتی تھی جسے لوگ بڈھی کہتے تھے۔ ‘ ہم ان سے سوال کرتے ’’ اماں یہ بڈھی کیا ہوتی ہے۔ ‘‘ وہ جواب دیتیں ، ’’ جیسے تمہاری اماں بڈھی اور ابا بڈھے۔ ‘‘ ہم سب بیک زبان بولتے، ’’ نہیں اماں ۔ ‘‘ ایک دن ہمارے ابا جی نے یہ بتا کراس جھگڑے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا کہ لاہور میں بھی ایک بڈھا دریا ہے۔ جو دریا سوکھ جاتا ہے اُسے بڈھا دریا کہا جاتا ہے۔ نانی اماں جب پریوں

کی کہانیاں سناتیں تو مجھے تو اُن پر ایک پری ہونے کا گمان ہوتا۔ اور میں سوچتا کہ نانی اماں بھی کسی دیس کی پری ہی ہوں گی جنہیں کسی جن نے نانی اماں بنا دیا۔ بھلا اتنی کہانیاں کوئی نانی اماں کیسےیاد رکھ سکتی ہیں ۔ اور اور تو اور انہیں ہماری ہر شرارت اور مستی کا پہلے سے ہی علم ہوتا۔ بھلا ایک نانی اماں ایسا کس طرح کر سکتی ہیں ۔

 

ایک بوری اور ایک سوٹ کیس

 

نا جانے اللہ کے ہاں اس میں کیا مصلحت تھی کہ عین جوانی میں ہماری چاند جیسی نانی اماں کی دودھ جیسی سفید چادر پر بیو گی کا داغ لگ گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد مالکِ کائنات نے اُن سے دیکھنے کی صلاحیت بھی واپس لے لی۔ لیکن بیو گی اور اندھیرے ان کی علم سے محبت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

نانی ہمارے ماموں کے پاس شور کوٹ میں رہتی تھیں لیکن ان کا زیادہ وقت ہمارے ساتھ گزرتا۔ ہم ابا جی کی سرکاری ملازمت کی وجہ سے شہر شہر پھرتے رہتے۔ ہم جہاں بھی رہے، جہاں بھی گئے نانی ہمارے پاس پہنچ جایا کرتی تھیں ۔ یہاں تک کہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں : لورالائی، خضدار اور مستونگ تک نانی بغیر کسی خوف و خطر سفر کرتی رہیں ۔ یہ اُن کا حوصلہ تھا کہ جس کے سامنے اُن کی آنکھوں کے اندھیرے شکست کھا چکے تھے یاپھر ہماری محبت جو اُن کی انگلی پکڑ کر اُن کی انجانی راہوں پر رہنمائی کرتی رہی۔

نانی اماں کو کتابوں سے عشق تھا۔ دو چیزیں اس نابینا عورت کے ہمراہ شہر شہر گھومتی تھیں ۔ یہ تھیں ایک بوری اور ایک سوٹ کیس۔ بوری جس میں ان کی کتابیں اور بڑی بڑی تسبیحاں ہوا کرتی تھیں اور سوٹ کیس میں ان کا کفن۔ اس کے علاوہ ضرورت کی کوئی شے ان کے ہمراہ نہ ہوتی۔ حتی ٰ کہ لباس بھی نہیں ۔ وہ اپنا لباس اپنے ساتھ نہیں رکھتیں ، جہاں جاتیں وہیں کا لباس زیبِ تن کر لیتیں ۔ جب وہ شورکوٹ ہوتیں تو اپنا آبائی لباس گھاگرا اور کرتی پہنا کرتی تھیں ۔ جب ہمارے پاس آتیں تو شلوار قمیض زیبِ تن کر لیتیں ۔

نانی اماں کی قربت نے ہمیں نہ صرف کہانیوں کی قربت بخشی بلکہ ہمیں کتابوں سے اُنس بھی عطا کیا۔ انہوں نے ہیر رانجھا اور سسی پنوں جیسی مشہور داستانیں ہمیں اس طرح سنائیں اور پڑھوائیں کہ ہمارے اندر عشق کاجراثیم ایساپیدا ہوا کہ ہم سراپا عشق ہو گئے۔

یہ بوری ہمارے لئے پہلا کُتب خانہ تھا جس سے ہم نے دین اور دنیا کی تعلیم کا آغاز کیا۔ اور یہ سوُٹ کیس ہمارے لئے روحانی تعلیم کے کسی مدرسہ سے کم نہ تھا۔ جس میں رکھے چھ گز کپڑے سے ہم نے یہ جانا کہ دنیا فانی ہے، انسان کی بساط کیا ہے، انسان کتنا بیچارہ ہے کہ اُسے یہ تک یقین نہیں کہ وقت آخراُس کے تن پر یہ چند گز لباس ہو گا بھی یا نہیں ۔ اُسے اپنے کسی کا قرب تو کیا اغیار کی مسیحائی بھی نصیب ہو گی یا نہیں ۔ اس کی قبر کو اپنوں کی آشنا قبروں کی قربت ملے گی یا دیار غیر کا کوئی انجانا شہرِ خموشاں اُس کا آخری مسکن ٹھہرے گا۔ یا پھر یہ بھی نہیں ۔

شورکوٹ سے پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں اکے لیے پہنچ جانے والی اس نابینا عورت نے ۱۹۸۳ میں اپنے حوصلے ہار دئیے اور شیخوپورہ کوہمیشہ کے لئے اپنا آخری مسکن بنا لیا۔ دنیا کے لئے توایک عورت اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں لیکن ہمارے لئے محبت و شفقت سے بھرا علم و عرفان کا اک دبستان دو گز زمین کی قید میں چلا گیا۔

خلاصہ یہ کہ پریوں جیسی ہماری نانی اماں انبالہ کے کسی گاؤں کے کھیتوں میں کھیلتے کھلاتے ڈولی میں بیٹھ کر شور کوٹ کے ایک گاؤں میں چلی آئیں اور وہاں سے ٹرین میں بیٹھ کر وہ شیخوپورہ پہنچیں جہاں کا ایک نگرِ خموشاں انہیں اتنا پسند آیا کہ وہیں کی ہو رہیں ۔

 

پریوں کی تلاش کا فیصلہ

 

نانی کی کہانیوں میں ایک کہانی تھی ’سیف الملوک ‘۔ ہماری اکثر داستانوں کی طرح یہ داستان بھی ایک شہزادہ اور ایک پری کے عشق کی ایک منظوم داستان ہے۔ اس کے شاعر ہیں میاں محمد بخش۔ سیف الملوک ایک داستان ہی نہیں ہے بلکہ ہر خاص و عام کے لئے دبستانِ علم سے کم نہیں ۔ ان کے انتہائی شہرت کے حامل دو اشعار کا ذکر کر کے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ آگے جا کر اس داستان پر میں نے کہنے کے لئے کافی کچھ سنبھال رکھا ہے۔

 

پریوں کی تلاش کا فیصلہ

 

نانی کی کہانیوں میں ایک کہانی تھی ’ سیف الملوک ‘۔ ہماری اکثر داستانوں کی طرح یہ داستان بھی ایک شہزادہ اور ایک پری کے عشق کی ایک منظوم داستان ہے۔ اس کے شاعر ہیں میاں محمد بخش۔ سیف الملوک ایک داستان ہی نہیں ہے بلکہ ہر خاص و عام کے لئے دبستانِ علم سے کم نہیں ۔ ان کے انتہائی شہرت کے حامل دو اشعار کا ذکر کر کے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ آگے جا کر اس داستان پر میں نے کہنے کے لئے کافی کچھ سنبھال رکھا ہے۔

دنیا تے جو کم نہ آوے اوکھے سوکھے ویلے

اس بے فیضی سنگی نالوں بہتر یار اکے لیے

باغ بہاراں تے گلزاراں ، بن یاراں کس کاری

یار ملن دکھ جان ہزاراں شکر کراں لکھ واری

ترجمہ: دنیا میں جو دکھ سکھ میں کام نہ آئے، اس بے فیضی دوست سے بہتر ہے کہ ہم اکے لیے ہی رہیں ۔ دوستوں کے بغیر باغ بہار اور گلزار کا کوئی فائدہ نہیں ۔ یار مل جائے تو دکھ درد دور ہو جاتے ہیں ۔ اور میں ہزارہا شکر کرتا ہوں ۔

ہمارے لئے اس کہانی میں دو باتیں باعث کشش تھیں کہ سیف الملوک نے ملکہ خاتون کو اپنی جان پر کھیل کر ایک زور آور جن کی قید سے نجات دلائی تھی۔ دوسری وجۂ کشش تھی جھیل سیف الملوک۔ جس پر پریاں اترتی ہیں ۔

۔ زندگی خود سکھاتی ہے اور خود رہنمائی کرتی ہے۔ جوں جوں زندگی کے پودا بڑھتا گیا۔ جھیل سیف الملوک کے بارے میں معلومات اور کہانیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ یوں جھیل سیف الملوک ہی نہیں اُس پر اُترنے والی پریوں کو دیکھنے کا مقصد بھی ہمارے اندرتقویت پکڑتا گیا۔ جب بھی کوئی دوست یا آشنا جھیل سیف الملوک جاتا تو میں اُس سے اس جھیل سے متعلق کہانیاں بہت غور سے سنا کرتا۔ یوں میرے دماغ کی تجوری میں تصاویر کا بے پناہ خزانہ جمع ہوتا گیا۔ خزانہ کی موجود ہو تو صاحبِ خزانہ بے چینی و بے قراری سے کس طرح دور رہ سکتا ہے۔ یہ خزانہ خود تازیانہ بن گیا اور میرے شوق کا گھوڑا آگے بڑھتا گیا لیکن افسوس منزل نصیب نہ ہوئی۔ جھیل سیف الملوک کی پریوں سے ملاقات کا خواب حقیقت نہ بن سکا۔ کبھی تعلیمی مصروفیات، کبھی روزگارِ حیات، کبھی صحت، اور کبھی کوئی اور مسئلہ ہمارے خواب کی تعبیر کے راستے میں وجۂ رکاوٹ بنتا رہا۔

بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ شوق، جذبہ اورولولہ ہو تو اسباب پیدا ہو ہی جاتے ہیں ۔ ایک دن میں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ اس سال ہم موسمِ گرما کی چھٹیوں میں جھیل سیف الملوک ضرور جائیں گے۔ بس پھر کیا تھا حالات بنتے گئے اور وہ دن بھی آ گیاجس دن ہم اپنی گاڑی پر اسبابِ ضروری لاد کر گھر سے نکل پڑے۔ منزل تھی جھیل سیف الملوک اور اس کے اردگرد پریوں کی تلاش۔

 

شہزادی

 

جب میں مڈل اسکول میں تھا تو میرے بہت سے دوستوں میں ایک دوست اشتیاق بھی ہوا کرتا تھا۔ اللہ اُسے زندگی دے، اُس کے ابا کا موٹر سائیکلوں کا شو روم تھا۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نئی گاڑی آتی تو وہ ہمیں آ کر بتاتا، ’’ کل میں نے اسپورٹس چلائی، کیا شہزادی گاڑی ہے۔ کل میں نے نسان چلائی کیا شہزادی گاڑی ہے۔ ‘‘ اُس نے گاڑی چلائی تھی یا نہیں لیکن ہم بچپن کے بھول پنے میں اس کی باتوں پر اسی طرح یقین کر لیتے جس طرح اس تماشا کرنے والے کی باتوں پر جو تماشا دکھاتے ہوئے ہر پانچ منٹ بعد لو گو کویہ خبر دیتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں انہیں سنہری سانپ کی دید کا موقع ملے گا۔ اشتیاق سچ کہتا تھا یا جھوٹ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اُس نے ہمیں خیالوں ہی خیالوں میں گاڑی چلانا ضرور سکھا دیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمیں پریوں ، شہزادیوں کو دیکھنے کے شوق کاٹیکاضرور لگا دیا۔

میں جب بھی موٹر وے پر پہنچتا ہوں تو مجھے اشتیاق ضرور یاد آتا ہے۔ اس سڑک پر آ کر میرے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے، ’’ واہ کیا شہزادی سڑک ہے۔ ‘‘ اس شہزادی سڑک پر آ کر اشتیاق کے علاوہ مجھے دو شخص اور یاد آتے ہیں ، ایک ہمارے مہربان نواز شریف صاحب اور دوسرا شیرشاہسوری۔

کہا جاتا ہے کہ شیرشاہ سوری نے جب جی ٹی روڈ بنائی تو سب سے پہلے اُس سڑک کومحفوظ بنانے کے انتظامات کئیے، پھراُس نے مسافروں کے لئے جائے قیام و طعام وغیرہ کو ممکن بنایا۔ یہی خصوصیات ہمیں موٹر وے میں ملتی ہیں ۔ جب گاڑی کے ٹائر اپنی اس میزبان کے لبوں کو چومتے ہیں تومسافر کو تحفظ، امن، قانون کی حکمرانی اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سے اطمینان کابھی احساس ہوتا ہے۔ مجھ جیسوں کو یہ احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جو اپنی روزمرہ استعمال کی سڑکوں سے اُکتائے اور بے زار ہوتے ہیں ۔ اندرون ملک سڑکوں اور گلیوں کاڈسا جب اس سڑک پر آتا ہے تو اُسے کچھ دیر کے لئے یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے وطنِ عزیز کی سرزمین پاک پر موجود ہے یا دیارِ غیر میں ۔ جب یقین آتا ہے تو پھر واہ واہ کر اُٹھتا ہے، واہ کیا پاکستانی ہیں چاہیں تو کیمیکل ملا کر دودھ بڑھا لیں اور چاہیں تو سنگلاخ چٹانوں کا سینہ چیر کر دودھ کی نہریں بہادیں ۔ جہاں تک اس سڑک پر آنے والے مسافروں کا تعلق ہے تو انہیں دیکھ کر تو شانِ قدرت یاد آ جاتی ہے۔ کیا پاکستانی ہیں ، جنہوں نے زندگی میں کبھی بھی قانون کی پاسداری نہ کی ہو وہ یہاں آ کر ایسے پاسدارِ قانون بن جاتے ہیں جیسے ابھی دودھ سے دھُل کر آئے ہوں ۔

خیر بات توہو رہی تھی اُس سڑک کی۔ جب ہم اس سڑک کو اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم سلیٹی رنگ کے ایک دریا میں بہے جا رہے ہوں ۔ اس دریا کے کناروں پر اُگے ہوئے درخت ہر ساعت ایک نیا رنگ رنگ بدلتے ہیں اور کھیت ہر موڑ پر نیا لباس زیبِ تن کرتے ہیں ۔

بتانے والے بتاتے ہیں کہ اس سٹرک کی لمبائی چھ سو انہتر کلو میٹر ہے اور یہ ایشیا کی پہلی موٹر وے ہے۔ اس سڑک کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ اس میں کچھ ایسے خطرناک نقص ہیں جنہیں پوری دنیا کے انجنئیرز ٹھیک نہیں کرپائے لیکن داد طلب ہیں پاکستانی انجنئیرز جنہوں نے اس سڑک کو بے خطر بنایا ہوا ہے۔ اس سڑک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہنگامی حالات میں اسے جنگجو طیاروں کے رن وے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

چپس کی چر چر

 

میرے دو عدد برخورداروں نے حسبِ عادت ٹول پلازہ عبور کرتے ہی اپنی پسند کا میوزک ’ آن ‘ کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں مجھے شک ہونے لگا کہ انہوں نے اس دفعہ بھی ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے۔ میوزک کی تیاری کا کام اپنے ذمہ لے کر یو ایس بی ڈرائیو میں سارا میوزک اپنی پسند کا بھر رکھا ہے۔ پھر بھی مجھے یقین تھا کہ آٹے میں نمک برابر ہمارا حصہ ضرور رکھا ہو گا۔ اس لئیے میں انتظار کرنے لگا اس لمحے کا جب آٹے میں سے نمک برامد ہو گا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ہمیں اس لمحے کا بس انتظار ہی رہا۔ اور ہم بے میوزک ہی سڑک کے کنارے درختوں کے بدلتے رنگوں کی ہیت اور ترتیب پر غور کرتے رہے۔ موٹر وے کے ارد گرد بسے دیہات، اُن کے گھر، گھروں میں بندھے جانور اور گھروں کے باہر پھیلے سر سبز کھیت اور ان کی شادابی ایک جادوگر کی طرح مسافر کو اپنے سحر میں قید کر لیتے ہیں ۔ یوں موٹر وے ایک اچھی میزبانسڑک کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آتی ہے جو اپنے رنگ بدل بدل کر اپنے مہمان کو اکتاہٹ اور بے زاری سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ یہ چلتے چلتے کہیں سے اونچی ہو جاتی تو کہیں سے نیچی، کہیں سے چھوٹی سڑکوں پر چڑھائی کرتی ہے تو کہیں نہروں دریاؤں کو مسخر کرتی ہے، کہیں ٹھہرے پانی کی طرح بن جاتی ہے کہیں چھلانگیں لگاتی ہے۔ اگر اس کا مہمان ذرا سی بھی جمالیاتی حسن رکھتا ہے تو وہ اس سڑک کے ارد گرد بدلتے رنگوں سے اپنے دماغ کو ترو تازہ ضرور کرتا ہے۔

میری مسز نے بھی اچھی مصروفیت تلاش کر لی تھی۔ آج انہوں نے فیس بک کے استعمال کے تمام ریکارڈ توڑنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اور اپنے ان ان دوستوں رشتہ داروں کو بھی پوسٹس بھیجنا شروع کر دیں جنہیں کم ہی یاد کیا جاتا ہے۔ ہماری گاڑی میں پانچویں سوار تھے عابد جنہیں گاڑی چلانے کا اعزاز حاصل تھا۔ چونکہ باہر سورج اپنی ساری حشر سامانیوں کے ساتھ براجمان تھا اس لئیے عابد اے سی سے اٹکھیلیوں میں مصروف تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ گاڑی میں بیٹھا ہر شخص اے سی سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکے۔ ٹشو پیپر سے اپنی دھوپ کی عینک کو صاف کر کے اپنی ستواں ناک پر سجانا ان کا دوسرا محبوب مشغلہ تھا۔ کبھی کبھی اپنی نشست کی ایڈجسمنٹ بھی کرتے تاکہ پیچھے بیٹھے بھائی جان سے سنیں ، ’’ عابد میرا خیال ہے کہیں رک جائیں ۔ ‘‘

میرے دونوں بیٹے موسیقی کے ساتھ ساتھ اس خوراک پر بھی ہاتھ صاف کرنے پر مصروف تھے جو انہوں نے ایک پٹرول پمپ کی ٹک شاپ سے حاصل کی تھی۔ پیپسی کے کھلنے اور چپس کے چرنے کی آوازیں بے مزا اور بے رنگ موسیقی میں اپنا ہی رنگ بھر رہی تھیں ۔ میں آنکھین بند کرتا تو مجھے یوں لگتا جیسے افریقہ کے کسی خاندان کی بیٹی کی مہندی کی تقریب میں موجود ہوں جہاں نہ بولیاں سمجھ آتی ہیں نہ، موسیقی اور سچ پوچھیں تو حرکات بھی۔ ویسےیہ پاپی جی تو آنکھیں بند رکھنے پر ہی بضد تھا۔ کیوں نہ افریقنوں کی حر کات سے کچھ دیر مزید لطف اُٹھا لیا جائے۔ پر فیومز، کار فریشنرز کی خوشبو میں چپس اور پیپسی کی خوشبو نے گاڑی کاماحول کافی بہتر رکھاہوا تھا۔

سورج کارخ میری مسز کی طرف تھا جواُن کے لئے خاصی مشکلات پیدا کر رہا تھا اور میں اضافی بلائینڈز کا رخ بدل بدل کر انہیں احساس دلارہا تھا کہ مجھے ان کی اسکن کا کافی خیال ہے۔

 

بھٹیوں کی سر زمین

 

ہمارا پہلا عارضی پڑاؤ پنڈی بھٹیاں جا کر پڑا۔ ۔ جونہی ہم گاڑی سے باہر آئے تو ہمیں موسم گرما کی محبتوں کا اندازہ ہوا۔ انٹر چینج کا جائے طعام وقیام دھوپ نے جھلسا کر رکھ دیا تھا۔ ہر مرجھایا اور کملایا ہوا تھا۔ ہم نے باہر بیٹھنے کی بجائے ریسٹوران کے اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ اندر بہت سکون تھا، موسم بھی خوشگوار اورصرف ہم ہی ہم۔ اس لئے ویٹرز نے ہماری خدمت کے لئے اپنی ساری کی ساری توانائی صرف کر دی۔ ہم نے اپنی اپنی مرضی کی ضروریات بتائیں اور اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔ میرے پیچھے درواز تھا اور سامنے ریستورانکا ڈیسک۔ جہاں دو لڑکے چابکدستی سے ہمارے لئے لوازمات تیار کر رہے تھے۔ انہیں تکتے رہنا مجھے کچھ مناسب نہ لگا۔ لہذا میں کرسی کو پیچھے کی طرف موڑ کر دروازے کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا۔ جہاں سے انٹرچینج کی پارکنگ پٹرول پمپ اور اس کے پیچھے موٹر وے کا ایک حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں بیٹھے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے باہر کا ہر منظر سورج کی حشر سامانی سے محفوظ ہے لیکن اندر کی کہانی اور تھی اور باہر کی اور۔

میری نظریں سڑک پر چلنے والی ٹریفک پر جمی ہوئی تھیں اور دماغ اپنے نہاں خانوں میں کچھ تلاش کرنے میں مگن تھا۔ وہ کچھ اوراق کو رد کرتے ہوئے کچھ کو اپنے فعال حصے پر منتقل کر رہا تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں یہ عمل تیز ہو گیا اب تصویروں سے سجے تاریخ کے اوراق سیلابی پانی میں پتوں کی طرح بہے چلے آ رہے تھے۔ داستانیں ، کہانیاں ، ہیرو، دشمن، شہزادے شہزادیاں اور لہلہاتے کھیتوں کو روندتے، پاگلوں کی طرح بھاگے پھرتے بیرونی افواج کے لشکر درلشکر۔ اگر اُن کے راستہ میں کوئی بچہ آ گیاتو زندگی ہار گیا، اگر کوئی عورت آ گئی تو حیوانیت کا شکار ہو گئی اور اگر کوئی مرد تو درندگی کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔

جی ٹی روڈ پر چلتے ہوئے لشکروں کے لشکر اپنی اغراض کے لئے اس زمین کو روندتے رہے، لوٹتے رہے اور بنبھوڑتے رہے۔ یہ سب یہاں کے لوگوں کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔ا س لئے یہاں کے لوگ بیرونی حکومتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے۔ بیرونی حملہ آور خود تو چلے جاتے لیکن اپنے امیر کے نام پر ایک اور مصیبت یہاں چھوڑ جاتے اور پھر ر یہاں ایک اور ہی سلسلہ شروع ہو جاتا کبھی یہ علاقہ کسی کی امارت کا حصہ بن جاتا اور کبھی کسی کی جاگیر۔ ہر فاتح امیر اسے ناصرف لوٹتابلکہ سازشوں کا جال بھی پھیلا دیتا۔

 

ساندل بار

 

سلطنتِ دہلی پر اکبرِ اعظم کی قیادت میں مغل اپنی حکومت مضبوط بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان سرسبز اور زرخیز زمینوں کے مالک اور آئے دن کی لوٹ مار سے اُکتائے بھٹی، راجپوت اور جاٹ ساندل بھٹی کی قیادت میں سلطنتِ دہلی سے آزادی کا اعلان کر چکے تھے۔ اور یہ علاقہ ساندل بار کے نام سے مشہور تھا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اکبر جیسا حکمران ہو اور اس کا ایک علاقہ آزاد۔ اُس جیسے حکمرانوں کے ہاں تو آزادی کامطلب بغاوت ہوتا ہے۔ اس نے تو اپنی آنکھ کے تارے، کلیجہ کی ٹھنڈک اور لختِ جگر جہانگیر تک کو بغاوت کی کتاب کے دوچار سبق تک نہ پڑھنے دئیے اور کچل کر رکھ دیا۔ وہ بھٹیوں کی بغاوت کیسے برداشت کرتا۔ حملہ کیا، رگیدا، کچلا اور پھر ختم۔

قیدیوں کے ہجوم میں ساندل بھٹی کی بہو اور فرید بھٹی کی بیوی اپنی گود میں ایک چھوٹے سے بچے کو اُٹھائے اکبر کے دربار میں پیش کی گئی۔ اکبر نے جب اس بچہ کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا تو اُس چہرے پر موجود دو معصوم آنکھوں نے مسکرا کر اُس کا استقبال کیا۔ لیکن اپنے وقت کا ذہین ترین اور مردم شناس حکمران اکبر اُس بچہ کی معصوم آنکھوں میں مستقبل کی ساری کہانی پڑھ چکا تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اگر بچہ کو مارتا ہوں تو اس علاقہ کے وہ راجپوت، بھٹی اور جاٹ جو مغلوں کے اطاعت گذار ہو گئے ہیں وہ مغلوں کی اطاعت چھوڑ دیں گے۔ اگر اس بچہ کو چھوڑتا ہوں تو یہ بھٹیوں میں بغاوت کی بھٹی ہمیشہ تپائے رکھے گا۔ اس لئے بھٹیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور انہیں یہ احساس دلانے کے لئے کہ اکبر ان کاخیر خواہ ہے اکبر دُلا بھٹی کو اپنے ساتھ محل میں لے گیا۔ حکم دیا کہ اس کی اس طرح پرورش کی جائے کہ وہ اکبر کو اپنا باپ اور بھٹیوں کو سلطنت کا باغی سمجھتے ہوئے جوان ہو۔ یوں عبداللہ بھٹی عرف دُلا اکبر کے زیرِ سایہ محل میں اکبر کے بیٹے کے ساتھ پرورش پانے لگا۔ جو تعلیم اکبر کے بیٹے جہانگیر کو دی جاتی وہی دلا کو بھی مل رہی تھی جو آسائش اُس کے اپنے بیٹے کو حاصل تھی وہی عبداللہ کو۔

اکبر جانتا تھا کہ راجپوت اور بھٹی کبھی بھی سر اٹھا سکتے ہیں اس لئے اُن کا مستقل بندوبست کیا جانا ضروری تھا۔ لہذا شیخپورہ کا قلعہ کی مضبوطی کی طرف دھیان دیا گیا، علاقہ میں لوگوں کو انعام و اکرام ومراتب سے نوازہ گیا۔ اپنے اپنے علاقوں میں امن و امان اور مغلیہ وفاداری کو یقینی بنانے کی شرط پر علاقہ کی زمینیں امرا اور جا گیر داروں میں بانٹ دی گئیں ۔ سالہا سال گذر گئے۔ اور بھٹیوں کے دماغ اور زمین سے بغاوتوں کے آثار اور خیال مٹ گئے۔

دُلا جب جوان ہوا تو اُس کی خوبصورتی، جوانی اور جسم کی مضبوطی دیکھ کر لوگ عش عش کر اُٹھتے۔ علم کا میدان ہوتا تو دُلا ایسے دلائل دیتا کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جاتیں ، تلوار چلاتا تو لوگ سکتے میں آ جاتے اور نیزہ پھینکتا تو نشانہ دیکھ کر لوگ گنگ ہو جاتے۔ جب اپنے گاؤں گیا تو قبیلہ کے لوگ خود پر فخر کرنے لگے، بڑے بزرگ اُس میں اُس کے باپ دادا کو تلاش کرنے لگے، چنچل مٹیاریں اُسی کو اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھنے لگیں ، بڑی بوڑھیاں دیکھتیں تو بے ساختہ بین ڈالنے لگتیں ، ’’ ہائے ! ساندل بھٹی کا پوتا اور فرید بھٹی کا بیٹااپنے باپ پر گیا ہے شین جوان۔ ۔ کیسا اندھیر ہے سامنے ہوتے ہوئے بھی باپ کے قاتلوں کو نہیں پہچانتا۔ ‘‘

کہا جاتا ہے کہ نشانہ بازی کرتے ہوئے ایک لڑکی کاگھڑا ٹوٹ گیا تو اُس نے طنز کرتے ہوئے کہا، اپنے نشانہ پر بڑا مان ہے تو جا کر اپنا نشانہ اپنے باپ دادا کے قاتلوں پر آزماؤ۔ ‘‘ یہ تو اللہ جاتنا ہے کہ دُلے پر کس کا اثر ہوا اُس لڑکی کے طنزکا یا کسی بوڑھی اماں کی ہمدردی کا یاپھر دُلے کی ماں کے سینے میں برسہا برس کی دبی انتقام کی آگ کا جو اُس نے اپنے بیٹے کے اندر یہ کہہ کرمنتقل کر دی۔

تیرا ساندل دادا ماریا، دتا بھورے وچ پا مغلاں

پُٹھیاں کھلاں لاہ کے بھریاں نال ہوامغلاں

ترجمہ: مغلوں نے تمہارے دادا ساندل کو قتل کرنے کے بعد لاش تہہ خانے میں ڈال دی اور ہمارے عزیزوں کے لاشوں کی کھالیں الٹی کھینچ کر اتروا لیں اور ان میں ہوا بھر دی۔

وجہ جو بھی بنی عبداللہ بھٹی عرف دُلا نے اپنے باپ دادا کے راستے پر چلتے ہوئے اکبر کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔

پنجابی روبن ہڈ

دلا بھٹی کے نام کی دو وجہیں بتائی جاتی ہیں ۔ ای یہ کہ عباللہ نام بگڑ کر دلا بن گیا، دوسرا یہ کہ بھٹیوں نے اُسے بھٹیوں کا دولہا کہا جو وقت کے ساتھ ساتھ بگڑ کر دُلا بن گیا۔ بہر حال علاقے کے راجپوت اور جاٹ قبائل تو اس دن کے انتظار میں تھے جب انہیں کوئی بہادر رہنما ملے، فوراًً دُلے کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔ دُلا بھٹی اور اس کے ساتھی مغل امرا سے دولت لوٹ کر غریبوں میں بانٹتے، بے سہاراجوان بچیوں کی شادیاں کرواتے، جہاں کہیں کسی عورت پر ظلم زیادتیکی اطلاع پاتے وہاں پہنچ جاتے اور ظالم کی گردن مار کر مظلوم کی دادا رسی کرتے۔ یوں ایک باغی ابنِ باغی، ایک جنگجو اور آزادی کا ایک متوالا اپنے عہد کی عوام الناس کا ہیرو بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُ سنے پہلی اور آخری بار پنجاب میں لوک راج قائم کیا۔

پنجاب میں اُسے وہی حیثیت حاصل تھی جویورپ میں روبن ہوڈ کو سلطنتِ دہلی کاباغی اور پنجاب کے ایک بڑے حصے کا مسیحا دُلا بھٹی مقامی لوگوں کے گیتوں اور ماؤں کی لوریوں میں چپکے سے سرایت کر گیا۔ اس کے نعرے اور جنگی گیت جنہیں ‘وار‘ کہا جاتا تھاپنجاب کی پکڈنڈیوں اور کھیتوں میں سنائی دینے لگے۔ شاعروں نے اس کے کارناموں کو شاعری کی زینت بنانا شروع کر دیا اور یہ گیت پنجاب کی گلی گلی میں گائے جانے لگے۔ علما اور صوفیوں جن میں لاہور کے بزرگ صوفی مادھو لعل حسین شاہ خاص طور شامل تھے نے بھی دُلا بھٹی کی پذیرائی اور حمایت شروع کر دی۔

یا دلبر یا مر کر پیارا

دُلے دے لعل لباں دے لارے

سُولی پر چڑھ لے ہلارے

آن ملیسی دلبر یارا

ی یا دلبر یا مر کر پیارا

 

ترجمہ: یا دلبر سے پیار کر یا سر کو عزیز رکھ۔ تیرے سامنے دُلے کے لبوں کی سُرخی جلوہ دکھا رہی ہے۔ اُسے حاصل کرنے کی خاطر سُولی پر جھول جا۔ یار خودبخود مل جائے گا۔

 

ایک طرف عظیم ہندوستان کا عظیم مغل شہنشاہ اکبر، اکبرِ اعظم اور دوسری طرف یہ چھوٹا سا باغی۔ لیکن اس باغی نے تقریباً بیس سال تک اس عظیم شہنشاہ کو ناکوں چنے چبوائے۔ پنجاب کے اس سپوت نے اکبر جیسے طاقتور بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ دہلی چھوڑ کر لاہور آبسے اور اس بغاوت کا قلع قمع کرے۔ اکبر نے اپنی تمام طاقتیں اور قوتیں اس باغی کا سر کچلنے میں جھونک دیں لیکن ناکام رہا۔ بادشاہ لوگ جب ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی سازشیں کام آتی ہیں ، جھوٹ اور مکاری کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک جال بنا جاتا ہے جس میں باغی پھنس جاتا ہے، شرائط سے ان کار پر اُس باغی کا سر تن سے جد کر دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ اس باغی کے ساتھ بھی ہوا۔ شاہ حسین نے نماز جنازہ پڑھائی اور لاہور کے اُس وقت کے ایک نامانوس اور شہر سے دوردراز علاقے کے ایک قبرستان میانی صاحب میں دفن کر دیا گیا۔ شہر سے دور دفن کرنے کے پیچھے بھی شاہ اور اس کے حواریوں کا یہی ڈر پنہاں تھا کہ کہیں دلا بھٹی کی قبر اس سے زیادہ مضبوط نہ بن جائے اور لوگ اُس کی قبر کو دیکھ کر اُسے یاد نہ رکھیں ۔ لیکن وقت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کچھ وقت کے بعد میانی صاحب کا قبرستان ایک مشہور قبرستان بن گیا۔ لیکن افسوس کہ دلا بھٹی کی شکستہ حال قبر کی وجہ سے نہیں بلکہ برینڈ کی وجہ سے۔ امرا اپنی زندگی میں ہی اپنے لئے دوگز زمین قبرستانوں کے اس ڈیفینس میں خریدلیتےیوں یہ ایک وی آئی پی قبرستان بن گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

میں نے تاریخ میں کئی دفعہ دلا بھٹی کی داستان پڑھی۔ مجھے وہ ہمیشہ ایک باغی ہی دکھائی دیا لیکن جب میں نے پنڈی بھٹیاں کے انٹر چینج کے اس ریستوران میں بیٹھ کرتا ریخ کے اوراق سے گرد اْتاری تو مجھے دْلا بھٹی آزادی کا ا یک متوالا دکھائی دیا۔ جس نے پہلی اور آخری دفعہ ایک منظم لوک راج قائم کیا۔ جس نے ساندل بار کی زرخیز زمینوں اور محنتی لوگوں کو غلامی سے نجات دلوانے کے لئے جد و جہد کی اورپھر اپنے لہو سے اس خطے کی زمینوں کو سیراب کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ لہو زمین کی زرخیزی کا باعث بنتا ہے۔ شاید اس علاقے کی زمینوں کی زرخیزی دلے بھٹی اور اس کے ساتھیوں کے لہو ہی کی وجہ سے ہے۔

یہیں سے میرے عدو کا خمیر اٹھا تھا

زمین دیکھ کے میں تیغ بے نیام ہوا

خبر نہیں ہے میرے بادشاہ کو شاید

ہزار مرتبہ آزاد یہ غلام ہوا

(احمد جاوید)

میرے بیٹے نے میری توجہ میز پر رکھے برگر کی طرف دلائی تو مجھے میز پر ایک پلیٹ میں ایک چھوٹے سے لشکر جیسے فرنچ فرائز، جری سپہ سالار نما برگر اور خلقِ خدا جیسی، سیاہ نصیبوں جلی پیپسی کی ایک بوتل دکھائی دی۔ میں نے فرنچ فرائز کے تین ٹکڑوں کا ایک نوالہ بنایا اور دانتوں کے سپرد کر دیا۔ جونہی میری زبان اور دانتوں نے فرنچ فرائز کا مزا چکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں کسی لشکر میں موجود ہوں اور دن بھر کی تھکن کے بعد کھانا کھا رہا ہوں ۔ لیکن ایک خوف نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔ خوف اس امر کا نہیں تھاکہ آج کی جنگ میں میری جان جائے گی یا میں کسی اور معرکہ میں جان دینے کے لئے بچوں گا۔ خوف اس چیز کا تھا کہ تاریخ لکھنے والا میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ مجھے دلابھٹی کے لشکر میں بٹھائے گا یا اکبرِ اعظم کے۔

 

شہر کے اندر ایک شہر

 

بچے کھاتے پیتے رہتے ہیں ۔ ان کا کھانا پینا ہی ان کی تفریح ہوتی ہے۔ کھانے پینے فرصت پانے کے بعد ہم ایک بار پھر گاڑی کی طرف لوٹے۔ گاڑی میں بیٹھ کر یوں لگا جیسے ہم اپنے گھر پہنچ گئے ہوں ۔ کچھ ہی دیر میں پیٹ نے بھی احساس دلانا شروع کر دیا کہ ظلِ سبحانی اکبرِ اعظم کے نین نقش والا جابر برگر اپنا کام دکھا کر طبیعت کے بوجھل پنے کا باعث بن رہا تھا۔ کیاکر سکتا تھا، پیٹ پر ہاتھ رکھا، دھوپ کی عینک کو ناک پر بٹھا کر آنکھیں بند کیں اور کچھ دیر سستانے کی کوشش شروع کر دی۔

مگر بے وطنی میں آرام کہاں ۔ ہمیں اپنے سفر کی تمام تر تکالیف یہ سمجھتے ہوئے برداشت کر لینی چاہئیں کہ یہ ہمارے سفر کا ایندھن ہے۔ عابد صاحب پٹرول پمپ پہ لے آئے۔ دوسری طرف متاثرِ برگر پیٹ نے سیون اپ کاتقاضاشروع کر دیا جو اس کی عادت ہے۔ اس لئے میں سیون اپ کی تلاش میں ٹک شاپ پر چلا گیا۔ سیون اپ لی اور پیسے دینے کے لئے کاؤنٹر پر گیاہی تھا کہ اچانک کاؤنٹر پر رکھے ایک اخبار پر نظر پڑ گئی۔ اخبار تو روز ہی دیکھتے ہیں لیکن یہ اخبار اس لئے اہم تھا کہ اس میں ایک فیکٹری ’ کریسنٹ باہو مان ‘ کا اشتہار تھا۔ اس فیکٹری کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک دوست نے بہت کچھ بتایا تھا۔ اس اشتہار نے وہ سب کچھ یاد دلا دیا۔ یہاں اگر اس فیکٹری کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ فیکٹری بنانے والوں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ ’ کریسنٹ باہو مان ‘ پنڈی بھٹیاں میں کریسنٹ والوں کا اسٹیچنگ پلانٹ ہے۔ یہ ایک فیکٹری ہی نہیں بلکہ آٹھ سے دس ہزار آبادی پر مشتمل ایک مکمل، آزاداور جدید شہر ہے۔ یہاں بجلی کا مسئلہ نہیں کیونکہ فیکٹری کا اپنا بجلی کاپلانٹ موجود ہے، یہاں تعلیم کا مسئلہ نہیں کیونکہ فیکٹری کے اندر ہی ایک جدید اسکول قائم ہے۔ یہاں رہائش کا مسئلہ نہیں کیونکہ فیکٹری کے اندرہی رہائش کا بھی انتظام ہے۔ یہاں کھیلنے کی جگہ کا مسئلہ نہیں کیونکہ فیکڑی کے اندر ہی تمام کھیلوں کے وسیع میدان موجودہیں ، جن میں گولف تک شامل ہے۔ مختصر یہ کہ اس شہر میں نہ سکیورٹی کا مسئلہ، نہ طبی سہولیات کا فقدان۔ بس لوگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اس فیکٹری میں ڈینم جینز بنتی ہیں ۔ دھاگہ سے لے کر حتمی استری تک یہاں مکمل جین تیار ہوتی ہے جو ناصرف ملکی ضرورت پورا کرتی ہے بلکہ باہر کے ملکوں میں بھی بھیجی جاتی ہے۔ یوں پنڈی بھٹیاں کا نام باہر کی دنیا میں اس فیکٹری کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ گویا پنڈی بھٹیاں پوری دنیا میں پاکستان کی شہرت کا باعث ہے۔ کاش! مادرِ وطن کا ہر شہر اس طرح کا بن جائے کہ لوگ صرف کام کریں باقی تمام ذمہ داریاں حکومتی نظام ادا کرے۔ کاش! ہر فیکٹری، ہر کارخانہ، ہر مل ہر دکان اپنے مزدور کے ساتھ یہ معائدہ کرے تم صرف کام کرو تمہاری ذمہ داریاں ہم اٹھائیں گے۔ اُسے اور اُس کے بچوں کو صحت، صاف خوراک کی فراہمی کولازم بنایا جائے گا۔ اُس کے بچوں کو ان اداروں سے تعلیم دلوائی جائے گی جہاں اس فیکٹری کے مالک کے بچے پڑھتے ہیں ۔

کاش ایسا ہو۔ ۔

کبھی، اے کاش، میں یہ معجزہ ہُنر دیکھوں

تیرے مزاج پہ اپنے لہجے کا اثر دیکھوں

ترک خواہش ہی ہوئی تکمیل حسرت نہیں دیکھی

خواہش ہے کہ عُمر تیرے ساتھ کر کے بسر دیکھوں

ہم سب اپنی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد دوبارہ گامزنِ سفر ہوئے کیونکہ اگلا پڑاؤ ہمارا منتظر تھا۔ سڑک پر آتے ہی عابد نے رفتار کے پائے دان پر اپنے پیر کی گرفت کچھ زیادہ ہی مضبوط کر لی اور خاصے جارحانہ انداز میں گاڑی سے سڑک پر حملے شروع کر دیئے۔ جب اسپیڈو میٹر میری بتائی ہوئی حد پار کرنے لگاتو میں نے عابد سے کہا، ’’ عابد آپ نے چائے پی ہے، ‘‘ عابد نے شیشے میں سے دیکھتے ہوئے انتہائی مختصر جواب سے نوازا، ’’ جی بھائی جان۔ ‘‘ ’’ کیسی تھی چائے ؟ سنا ہے مرچیں کچھ زیادہ تھیں ۔ ‘‘

’’ نہیں بھائی جان ایسی تو کوئی بات نہیں تھی، اچھی تھی چائے۔ ‘‘ ’’ تو پھر خیریت ہے، کیا پریوں کی بجائے فرشتوں سے ملاقات کا ارادہ ہے۔ ‘‘ عابد نے ’ نئیں بھائی جان ‘ کہہ کر رفتار کو سنبھالا دیا۔ سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ مسز اپنی نیند پوری کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا تھیں اور میں حیات کے بدلتے رنگوں میں گم تھا کہ اچانک مجھے گاڑی سے کچھ ناگوار سی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ عابد کچھ فرمائیں اور شاید عابد کو یہ انتظار تھا کہ بھائی جان حسبِ عادت آوازوں کو سمجھیں اور مشورہ دیں ۔ جب میرے صبر کا امتحانا پنا نقطۂ عروج کوچھونے لگا تو میں نے عابد سے کہا، ’’ عابد یہ آوازیں کیسی ہیں ۔ ‘‘ ’’ اگلے ویل سے آ رہی ہیں جی۔ ‘‘ جو میرے لئے مسئلہ تھا وہ عابد کے لئے روزمرہ کاکھیل۔ ’’یار! کوئی خطرہ تو نہیں ، ‘‘ ’’ نہیں جی خیر ہے۔ بھیرا جا کر چیک کرواتے ہیں ۔ ‘‘ وقفہ وقفہ سے آنے والے نازک خراٹوں ، پارٹی سونگز، میرے پیٹ کی غٹر غوں اور ان انجانی اور بے کیف سی آواز وں کے ساتھ ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے۔

 

 فطرت کا دبستان

 

میں اپنی عادت کے مطابق سڑک کے دائیں بائیں سنگتروں کے باغات، دیہاتی گھروں اور درختوں کے بدلتے رنگوں کی خوبصورتی اور اصلیت کو اپنے اندر اْتارنے کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔ سنگترے تو موجودنہیں تھے لیکن پودے اپنے حسن کا بھرپوراظہار کر رہے تھے۔ سنگتروں کے اتنے باغات دیکھ کر میرے تو دماغ میں فوراًً یہ بات آئی کہ یہاں سنگترہ تو بہت ارزاں ملتا ہو گا۔ لیکن یہ محض وہم تھا کیونکہ لاہور ان باغات سے اتنا دور نہیں کہ ان کی قیمت دس گنا بڑھ جائے۔ ایک سو روپے کے ایک درجن سنگتروں کاسوچ کر مجھے ان پودوں پر ترس آنے لگا جو چند مفاد پرستوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار تھے۔ فطرت معصوم ہوتی ہے وہ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتی، نہ استحصال کرتی ہے اور نہ ہی افراطِ زر پیدا کرتی ہے۔ اْس کے لئے سب ایک جیسے ہیں لیکن وہ سب کے لئے ایک جیسی نہیں ۔ کچھ اْس کی خوبصورتی میں ڈوب جاتے ہیں ، کچھ اْسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور کچھ بد بخت ایسے ہوتے ہیں جو اْسے لوٹتے ہیں اور اس کا چہرہ بگاڑتے ہیں ۔ فطرت محض خوبصورت ہی نہیں ہوتی پْرسکون بھی ہوتی ہے، یہ ایسا حْسن ہوتا ہے جسے چْھونے کی نہیں دیکھنے کی اور محسوس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی پاکی اور لطافت انسان کے اندرہی نہیں اْترتی بلکہ اندر کو اپنے اندر سموکر اپنی طرح پاک صاف اور لطیف بنا دیتی ہے۔ اس کی ان گنت تہیں ہیں ، ان گنت جہتیں اور ان گنت روپ ہیں ۔ مشہور فلسفی جارج سانٹایا نا(George Santayana)نے بہت خوبصورت بات کی ہے۔ ’’ زمین میں موسیقی ہے مگر اْن کے لئے جو اسے سننا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ اگر کسی کو فطرت بھا جائے تو وہ سمجھ لے کہ وہ خدا کے قریب ہے اور گناہوں سے دور ہے۔ کیونکہ فطرت کے چاہنے والے فطرت کی لطافت وپاکیزگی، فطرت کے جلال و کمال اور فطرت کے جمال میں اپنے رب کو بہت آسانی سے محسوس کر لیتے ہیں ۔ موٹروے بنانے والوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ اْن کا مسافر کہیں بھی اکتاہٹ، تناؤ یا بے زاری کا شکار نہ ہو۔ چاہے میدانوں سے گذر رہا ہو، یاجنگلوں سے، بیابانوں سے یا بستیوں سے، سبزے سے لدی وادیوں سے یاسنگلاخ چٹانوں سے۔ جہاں بھی اْکتاہٹ کا جھونکا آتا ہے وہاں کوئی نہ کوئی منظر چْستی کا باعث بن جاتا ہے۔ جوں ہی تھکن کی گرم ہوا چلتی ہے تو کسی انٹر چینج پر بنے قیام و طعام کے مقامات اْسے فوراًًسیدھا ہو کر بیٹھنے اور تھکن مٹانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ ایک انٹر چینج ہمارے سامنے بھی تھا۔ ’ بھیرہ انٹر چینج ‘ بھیرہ انٹر چینج پہنچ کر ہم اپنیگاڑی کے مکمل چیک اپ کے لئے مکینک کے پاس پہنچے تو جناب مکینک نے اگلے دونوں ویل کھول دئیے۔ موٹر وے کے مکینک بھی موٹر وے کی طرح کچھ مختلف ہیں ۔ کم بول کر اور مسکراہٹ کو زبردستی دبا کر اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔ ویسے بھی جب مقابلہ میں کوئی نہ ہو تو مزاج میں سختی آہی جاتی ہے۔ خیر گاڑی اور عابد کو اس مکینک کے پاس چھوڑ کر ہم خود بھیرہ انٹر چینج کے طعام کے لوازمات اور یہاں بنے طعام و قیام کے مقامات کی خوبصورتی سے لطف اْٹھانے میں مصروف ہو گئے۔ اس انٹر چینج کی عمارت نا صرف بہت خوبصورت ہے بلکہ کھلی اور ہوا دار بھی ہے۔ یہاں ہم نے ایک گھنٹہ قیام کیا۔ اس دوران بے شمار گاڑیاں مسافروں کو لے کر آتی اور جاتی رہیں لیکن مجھے کسی لمحے ہجوم یا بدنظمی کا احساس تک نہ ہوا۔ یہاں ہر عمر کے افراد کے لئے لطف اندوز ہونے کا شرعی سامان موجود ہے۔ بھیرہ انٹر چینج پر پہنچے ہیں تو بھیرہ کا ذکر بہت ضروری ہے۔ اس انٹر چینج سے کچھ ہی فاصلے پر بھیرہ شہر موجود ہے۔ جو ہمارا اگلا پڑاؤ تھا۔

 

۔ ۔ تاریخ کا ابدی مکالمہ

 

مجھے دشمن سے بھی خوداری کی امید رہتی ہے

کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

 

دریائے جہلم کے کنارے بسابھیرہ سرگودھا کی ایک مشہورتحصیل اور اس علاقے کا انتہائی مشہور تاریخی شہر ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ شہر تاریخ کے صفحات میں غبارِ راہ کی طرح دبا ہوا تھا لیکن موٹر وے بننے کے بعد یہ شہر ہر خاص و عام کی نظروں میں اس طرح آ گیا کہ موٹر وے اور بھیرہ لازم وملزوم ہو گئے۔ قدیم ادوار میں جب دریائے جہلم اپنے کناروں سے باہر آنے کو ہوتا تو مسافر اس شہر کو جائے پناہ بناتے اور اْس وقت تک رکتے جب تک جہلم انہیں پار جانے کی اجازت نہ دیتا۔ اسکندرِاعظم یونان سے چلا اور کامیابیوں پہ کامیا بیاں حاصل کرتا ہوا دریائے جہلم پہنچا تو یہ دریا اپنی تمام تر طاقتیں لے کر اس عظیم جنگجو کے سامنے سینہ سپر ہو گیا۔ اسکندر کو اپناخواب پورا کرنے کے لئے ہر صورت آگے بڑھنا تھا۔ لیکن اس کے سامنے دو دشمن کھڑے تھے۔ ۔ ایک ٹھاٹھیں مارتا دریا اور دوسرا اْس دریا کے پار ہاتھیوں اور گھوڑوں کی ہمراہی میں ، اپنے پورے شباب اور وجاہت کے ساتھ ہند کا مضبوط اور جری بادشاہ پورس۔ دریائے جہلم کے کنارے پڑاؤ کئے ہوئے اسکندر کئی دن صبح اُٹھ کر دریاکو دیکھتا رہا اور دریاکو مات دینے کی حکمت عملی بناتا رہا۔ جولائی کا مہینہ تھا، بارش تھی کہ رکنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ دریا کی طغیانی بڑھتی جا رہی تھی۔ سکندر کے ہمراہی سوچ رہے تھے کہ یہ وہ مقام ہے جس سے آگے اسکندر کا بڑھنا ناممکن ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ مہمات کا شوقی یہ فوجی پورس پر قابو پانے کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا وہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ پورس پر قابو پانے کے بعد آگے کہاں تک جانا ہے اور کیسے جانا ہے۔ ایک رات جب بادلوں نے روشنی کے تمام در بند کر دئیے اور آسمان نے اپنے سارے دریاؤں کے منہ کھول دئیے۔ جب آ سمان سے دریابرسنے لگے تو زمین کے دریاؤں کی قوت برداشت جواب دے گئی اور وہ بھی اپناپانی باہر اْگلنے لگے۔ ندی نالے اور جہلم کے رفیق دریاؤں نے اپنا سارا بوجھ جہلم پر ڈال دیا۔ اور پھر جہلم بھی جلال میں آ گیا۔ جلال ایسا کہ میلوں تک رقبہ ہڑپ کر لیا۔ بڑے بڑے نامی گرامی تیراک بھی جب دریا کایہ روپ دیکھتے تو انہیں پسینہ آ جاتا لیکن سکندر دریا کے جلال کو شکست دے کر اُس کے جلال سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ اُس نے لشکر کو بڑھنے کا سندیسہ دیا لیکن لشکرنے لیت ولعل سے کام لیا۔ مگر وہ کہاں رکنے ولا تھا اپنے جیسے دیوانوں کا ایک دستہ لیا اور دریاکے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا۔ کوئی بیس میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ اس مقام پر پہنچا جسے اس کے دل اور دماغ نے قبول کر لیا۔ یا شایدیہاں دریا کو غفلت میں پایا۔ ۔ گھوڑا دریا میں ڈالاہی تھا کہ دیکھا دیکھی شہر نما لشکر بھی پیچھے چل پڑا۔ راوی لکھتا ہے کہ پانی اْن کے سینوں سے اونچا تھا۔ لیکن وہ چلتے جا رہے تھے۔ عزم اور حوصلہ کے سامنے دریا کہاں ٹھہرتے ہیں ۔ دریائے جہلم نے بھی سرِ تسلیم خم کر کے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کا سرچشمہ طاقت نہیں جوش، ولولہ اور مستقل مزاجی ہے۔ صبح کا سورج طلوع ہونے کے لئے بے تاب تھا کہ اسکندر اپنے دشمن پر آسمانی بجلی بن کر ٹوٹ پڑا۔ ایسی تیرندازی کی کہ دشمن کے ہاتھی اور گھوڑے بوکھلاہٹ میں اپنے ہی ساتھیوں کو روندنے لگے، سپاہی اپنی ہی بنائی ہوئی خندقوں اور دلدلوں میں دھنسنے لگے۔ دونوں ا طراف کی افواج کے دستے بکھرتے رہے، جمع ہوتے رہے، سمٹتے رہے اورپھیلتے رہے۔ بڑے بڑے سورما تھکن سے چْور ہو گئے، دماغ اور جسم میں ہم آہنگی نہ رہی۔ گھوڑے اور ہاتھیوں کے پیروں نے دھرتی کا سینہ لہو لہو کر دیا، انسان اور جانور مولی گاجر کی طرح کٹنے لگے۔ ایک طاقت کا امیر جنگوں کے ماہر گھوڑے پر سوار تھا اور دوسری طاقت کا امیر تجربہ کار وفادار اور بہادر ہاتھی پر۔ مگر کبھی کبھی انسان کی طاقت اور اعتماد ہی اُس کادشمن بن جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ پورس جسے اپنے ہاتھیوں کی طاقت پر ناز تھا وہ طاقت یعنی ہاتھی اْس کی کمزوری بن گئے۔ ماہر تیر انداز اْنہیں دور سے ہی دیکھ سکتے تھے اس لئے وہ کچھ ہی دیر میں یونانی تیر اندازوں کے تیروں سے چھلنی ہو گئے۔ آسمانِ لازوال نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ پورس کا سدھایا ہوا ہاتھی اپنے مالک کا برچھیوں اور تیروں سے لدا جسم دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اس کہانی کے مصنف لکھتے ہیں کہ وہ اپنے مالک کے جسم میں پیوستہ برچھیاں بھی اپنی سونڈ سے پکڑ پکڑ کر نکالتا رہا۔ لیکن اس کی وفاداری بھی کام نہ آئی۔ طاقت ور حکمران پہاڑوں کی طرح ہوتے ہیں جب گرتے تو ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ عظیم حکمران خود تو چکنا چور نہ ہوا لیکن اُسے گرا دیکھ کر اُ سکی فوج کے حوصلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ لہو پانی کی طرح بہنے لگا اور لاشوں کے انبار لگ گئے۔ پھر وہ گھڑی بھی آ گئی جب ایک طاقت زیر ہوئی اور دوسری کو فتح نصیب ہوئی۔ یہی وہ موقع ہے جب تاریخ کا ابدی مکالمہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ہند کا چھ فٹ سے زیادہ قد و قامت کا حامل سپوت لوہے سے جکڑا، برچھیوں اور تیروں کے زخموں سے چْور چْور، سینہ تانے، چہرے پر سورماؤں کی مخصوص مسکراہٹ کی لڑیاں سجائے اپنے وطن پر حملہ آور دشمن اسکندر کے دربار میں لایا گیا۔ فتوحات، دولت اور زمین کا شوقین، متکبر اور اور فتح کے نشہ میں چْور اسکندر اپنے عارضی تخت پر پہلو بدل رہا تھا۔ پھر اْس نے سینہ تان کر لبوں پر فتح کی مسکراہٹ سجا کر اپنے قیدی سے پوچھا، ’’ بول تیرے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے۔ ‘‘ زنجیروں میں جکڑا، زخموں سے چْور، کئی دن کا پیاسا اور بھوکا پورس کوئی عام شخص تو تھا نہیں جو کہہ دیتا، سائیں معاف کر دیں ۔ وہ تو ایسا جنگجو تھاجو سب کچھ جنگ کی آگ میں جھونک آیا تھا۔ اُس نے اپنے زخمی سینہ کو پھلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اور لبوں پر نقلی سی مسکراہٹ لا تے ہوئے جواب دیا، ’’ وہی سلوک جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔ ‘‘ میں نے بہت کوشش کی تھی کہ میں یہ واقعہ نہ لکھوں لیکن جب میں بھیرہ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجبور ہو جاتا ہوں ۔ اسکندر کا قیام وجہ بنا یا اسکندر کا باقاعدہ حکم بھیرہ شہر وجود میں آ گیا۔ اگر پہلے سے موجود تھاتو تاریخ کے کم از کم ایک صفحہ کا تو حقدار ہو گیا۔ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ اسکندر سے بہت پہلے یہاں کوئی چھوٹا سا شہر موجود ہو۔ کیونکہ ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ ۴۴۷ قبل مسیح میں کیدر نام کے ایک راجہ نے حملہ کر کے یہاں قبضہ کیا تھا۔ اسی طرح اس شہر کا ذکر آریاؤں کی ویدوں اور یونانی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔

یونانی تاریخ دانوں نے بھی بھیرہ کو ہی وہ مقام قرار دیا ہے جہاں سے اسکند نے ۳۲۶ قبل از مسیح میں دریائے جہلم کو پار کیا تھا۔ چینی سیاح فیکسین(Faxian)کے بھی یہاں رکنے کے آثار ملتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہ مقام نہیں جہاں سے اسکندر نے دریا عبور کیا تھا۔ میں تو اپنی عقل کے مطابق اتناہی کہوں گا کہ اسکندر سے مراد ایک فرد نہیں اسکندر سے مراد ایک لشکر ہے اور ایک لشکر فلموں میں دکھایا جانے ولا چند ہزار افرادکا لشکر نہیں بلکہ ایسا لشکر ہے جس میں کئی شہر شامل ہوتے تھے، جس میں آٹا پیسنے والی چکی سے لے کر سوئی تک موجود ہوتی تھی۔ جب یہ لشکر چلتا ہو گا تو کہاں اس کا منہ ہوتا ہو گا اور کہاں پاؤں ۔ کس بستی میں یہ طبل جنگ بجاتا ہو گا اور کس بستی میں صفِ ماتم بچھتی ہو گی۔ اس لئے چند میل کا فاصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسی جگہ سے کچھ میل دور اسکندر کا ہر دلعزیز گھوڑا بیوسیپھالس موت کی آغوش میں چلا گیا تو اْس نے اس کی یاد میں یہاں ایک شہربسانے کا حکم دیا۔ یہ شہر آج پھالیہ کے نام سے موجود ہے۔ اسکندر کے یونانی سوانح نگار اسکندر کے ایک وفادار کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں جس کی موت اسی کسی علاقہ میں ہوئی وہاں بھی اسکندر نے شہر بسانے کا حکم دیا۔ بادشاہ لوگ بھی بڑے بادشاہ ہوتے ہیں ۔ جو ان کی اطاعت میں چلا گیا بس امر ہو گیا۔ چاہے جہانگیر کا ہرن ہو یا سکندر کا گھوڑا، کسی کی ملکہ ہو یا وزیر۔ ۔ اور جس نے اطاعت نامہ ماننے سے ان کار کر دیا وہ باغی بناکر تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ کہیں بستے شہر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دئیے جاتے ہیں اور کہیں راکھ کے ڈھیر پر نئے شہر بسا دئے جاتے ہیں ۔ کون سا باپ کا مال ہے جس طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے اُسی طرح دونوں ہاتھوں سے لٹایا جاتا ہے۔ یہ کسی ایک دور کی بات نہیں یہ قصہ ہر دور میں دہرایا جاتا ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

https://urdunama.org/forum/viewforum.php?f=125&sid=a31c06f56b7502fd4684dbee6b013d25

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید