FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

 الوَصیۃ الصُّغریٰ

 

وصیت

 

 شیخ الاسلام امَام

                    ابن تیمیہ

(رحم اللہ علیہ)

                   ترتیب و تخریج: ابوبکرالسلفی

 

 

 


 

 

 

 

                    عرض ناشر

 

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تجدیدی اور اصلاحی خدمات قیامت تک اُمّت اسلامیہ پر احسان رہیں گی۔ اور ان کی علمی، اصلاحی اور تجدیدی یادگاریں رہتی دنیا تک عوام و خواص کے لئے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ زیر نظر رسالہ الوصیۃ الصغریٰ جو در اصل حضرت معاذ بن جبلؓ کی اس حدیث کی مکمل تشریح ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو تقویٰ، حسن خلق، اخلاص، توکل، توبہ، استغفار، تفقہ فی الدین اور مداومتِ ذکر کی تاکید فرمائی تھی۔

یہ وصیت اتنی جامع اور مکمل ہے کہ ہر مسلمان کو اسے اپنی زندگی کا دستور العمل بنانا چاہیئے۔ کہ اسی میں اُمّت کی فلاح اور دین و دنیا کی سعادت کا راز مضمر ہے۔ اس رسالے کی اشاعت دار السلفیہ کے اِحیاء  تراث السلفیہ کی ایک کڑی ہے جو اُمید ہے علمی اور دینی حلقوں میں لائق توجہ اور عند اللہ مقبول ہو گی۔

 

مختار احمد ندوی

۱۵ فروری؁ ۱۹۹۰ء

 

 

 

 

                   وصیت

 

 

سوال: ایک بزرگ جن کا اسم گرامی ابو العاصم القاسم بن یوسف بن محمد التجیبی السبتی ہے، فرماتے ہیں کہ میرے استاد شیخ فقیہ امام فاضل عالم تقی الدین ابو العباس احمد ابن تیمیہؒ سلف صالحین میں سے آخری بزرگ علمائے متاخرین کے مقتداء، عجیب و غریب باتیں بیان کرنے والے اور اپنے بحر علم کو نہایت فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بیان کر سکتے تھے۔ اور ان تمام علماء پر فوقیت رکھتے تھے جن سے مجھے بلاد مشرق و مغرب میں ملاقات حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم پر ان کی برکات جاری رکھے میں نے ان سے درخواست کی کہ براہِ مہربانی

(1) آپ مجھے ایسی چیز کی وصیت فرمائیں جس سے میرا دین و دنیا دونوں درست ہو جائیں۔

(2) مجھے کسی ایسی کتاب کی طرف رہنمائی کریں کہ علمِ حدیث کے متعلق مجھے اس پر پورا اعتماد ہو۔ اور باقی علومِ شریعہ کے متعلق بھی اسی طرح ارشاد فرمائیں۔

(3) مجھے ایسے عمل پر مطلع کریں جو بعد ادائے فرائض و واجبات سب اعمال صالحہ پر فوقیت رکھتا ہو۔

(4) جو کسب میرے حق میں سب ذرائع معاش پر ترجیح رکھتا ہو، وہ بھی بیان فرمائیں۔ ان سب باتوں کا جواب مختصراً اشارات کے طور پر کافی ہے۔ وَاللہُ تَعَالیٰ یحفَظَہ وَالسَّلامُ عَلیہ وَ رَحمَۃ اللہ وَبَرکَا اتہ

جوَاب:حضرت شیخ الاسلام بحر العلوم ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ و رضی عنہ، نے یوں جواب دیا” الحمد للہ رب العالمین۔ سب سے پہلے چیز جس کی بابت دریافت کیا گیا، یعنی وصیت، تو میری دانست میں جو شخص وصیت کی حقیقت کو سمجھتا اور اس کا اتباع کرنا چاہتا ہے اس کے لئے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی وصیت سے نافع تر کوئی وصیت نہیں۔ ”

 

                    اللہ عزّ و جل کی وصیت

 

اللہ عز و جل کی وصیت اس آیت میں مذکور ہے :-

(وَ لَقَدْ وَصَّینَا الَّذِینَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ اِیاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ) (النساء:131)

(اور مسلمانو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب ملی تھی، اُن سے اور تم سے ہم نے بتاکید یہی کہہ رکھا تھا کہ اللہ کی نا رضا مندی سے ڈرتے رہو)

 

                    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وصیت

 

اور رسول اللہﷺ کی وصیت وہ ہے جو آپ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو فرمائی جبکہ آپ نے انھیں یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا۔

آپ نے فرمایا:-

” یا معاذ اتَّقِ اللَّہَ حَیثُمَا کُنْتَ أَوْ أَینَمَا کُنْتَ قَالَ : زِدْنِی قَالَ : أَتْبِعْ السَّیئَ الْحَسَنَ تَمْحُہَا قَالَ : زِدْنِی قَالَ : خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ ” [1]

معاذؓ! جہاں بھی تم ہو، اللہ سے ڈرتے رہنا، جہاں بُرائی صادر ہو فوراً نیکی کرنا کہ وہ پہلی بُرائی کے اثر کو مٹا دے گی اور لوگوں سے خوش خلقی کا برتاؤ کرنا۔

 

                   معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے فضائل

 

معاذؓ کی رسول اللہﷺ کے ہاں بڑی قدر و منزلت تھی ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے معاذؓ کو یہ بھی کہا تھا:

“یا مُعَاذُ وَاللَّہِ إِنِّی لَأُحِبُّکَ”[2]

(معاذ اللہ کی قسم میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں۔ )

کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ سوار ہوتے تو معاذؓ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیتے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ حلال اور حرام کے مسائل میں معاذؓ تمام امت سے بڑھ کر عالم ہیں۔ اور قیامت کے دن تمام علماء سے ایک قدم آگے ہوں گے۔ انہی فضائل کی وجہ سے نبی کریمﷺ نے معاذؓ کو اہل یمن کی طرف اپنا مبلّغ، داعی، فقیہ، مفتی اور حاکم بنا کر بھیجا۔ اور آپ معاذؓ کو ابراھیم علیہ السلام سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خلیل اور امام الناس کے لقب سے پکارا ہے۔ ابن مسعودؓ معاذؓ کو ابراہیم ؑ سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے :

“إِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ کَانَ أُمَّ قَانِتًا لِلَّہِ حَنِیفًا وَلَمْ یکُ مِنَ الْمُشْرِکِینَ”[3]

(بیشک معاذؓ لوگوں کے پیشوا ہیں۔ خدا کے فرمانبردار بندے ہیں جو ایک خدا کے ہو رہے ہیں اور مشرکین میں سے نہیں۔ )

پھر باوجود اتنے فضائل کے نبیﷺ نے انھیں یہ وصیت فرمائی، تو معلوم ہوا کہ یہ وصیت جَامِع ہے اور فیا لواقع صاحب عقل و فہم کو اس کی جامعیت سے انکار نہیں ہو سکتا۔ علاوہ بریں اس میں یہ بھی کوبی ہے کہ یہ قرآنی وصیت کی تفسیر ہے۔

 

                    وصیت کے جَامع ہونے کے وجُوہ

 

باقی رہا یہ بیان کہ اس کے جامع ہونے کے دلائل کیا ہیں تو اسے یوں سمجھنا چاہیئے کہ بندے کے ذمے دو حق ہیں۔

 

1-اللہ عز و جل کا حق۔

2-اس کے بندوں کا حق۔

 

پھر جو حق انسان کے ذمے ہے چار و نا چار اور گاہ بگاہ اس کے کسی حصّے میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔ یا تو وہ کسی امر کو ترک کر دیتا ہے یا کسی نہی کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ لہذا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

اِتَّقِ اللہ حَیثُ مَاکُنتَ

جہاں بھی ہو تم اللہ سے ڈرتے رہنا۔

اور یہ کلمہ جامع ہے۔ اور آپ نے جو حیث ماکنت کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس میں اس امر کا ثبوت ہے کہ انسان پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں تقویٰ طرف کا محتاج ہے۔ اس کے بعد جو یہ فرمایا:

أَتْبِعْ السَّیئَ الْحَسَنَ تَمْحُہَا

یعنی برائی صادر ہو تو فی الفور نیکی کرنا۔

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مریض کوئی مضر چیز کھا لیتا ہے تو طبیب اسے ایسی چیز کے استعمال کا حکم دیتا ہے جو اس کی اصلاح کر دے۔ چونکہ بندے سے گناہ کا صادر ہونا ایک فیصلہ شدہ بات ہے لہذا عقلمند شخص ہر وقت ایسے نیک عمل کرتا رہتا ہے جن سے برائیوں کے اثرات زائل ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس حدیث میں لفظ سیۃ کے عبارت میں مفعول واقع ہونے کے باوجود پہلے لانے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جگہ نیکی کے ذریعہ بُرائی کا مٹانا مقصود ہے کود نیکی کرنا مقصود نہیں تو یہ قول بعینہ آپ کے اس مقولے کی طرح ہے :

“صبُّوا علیٰ بَو لہ دَلواً مِن مَاء”[4]

(جس جگہ اس شخص نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی کا ایک ڈول گراؤ۔ )

یہ حدیث ان الفاظ سے مروی ہے : “وأہریقوا على بولہ دلوا من ماء”۔ جو الفاظ شیخ الاسلام نے لکھے ہیں وہ ہمیں نہیں ملے۔

 

                    وہ اعمال جن سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں

 

اور یہ نہایت ضروری امر ہے کہ جن گناہوں کے مٹانے کے لئے نیکیاں کرنی چاہئیں وہ نیکیاں بھی ان بُرائیوں کی جنس سے ہوں۔ کیونکہ وہ ان کے مٹانے میں زیادہ تاثیر رکھتی ہیں۔ اور گناہوں کا نتیجہ یعنی عذاب الٰہی مندرجہ ذیل باتوں سے زائل ہو جاتا ہے۔

1- توبہ سے یعنی گزشتہ گناہوں سے نادم ہو کہ پیزار ہو جانا اور آئندہ کے لئے عملاً گناہ سے رک جانا۔

2- بغیر توبہ کے صرف استغفار سے یعنی دل اور زبان کے ساتھ اللہ سے معافی کا خواستگار ہونا اگرچہ توبہ کے شرائط موجود نہ ہوں۔ کیونکہ کبھی اللہ تعالیٰ محض بندہ کی دعا کو قبول کر کے معاف کر دیتا ہے اگرچہ عملی طور پر وہ گناہ سے باز نہ آیا ہو۔ لیکن اگر توبہ اور استغفار دونوں صفتیں اکھٹی ہو جائیں یعنی ایک شخص گناہ سے بھی رک جائے اور معافی کا بھی خواستگار ہو، تو یہ درجہ کمال ہے۔

3- اعمال صالحہ سے جو گناہوں کو مٹا دیتے ہیں جن کا دوسرا نام کفارات ہے۔ پھر کفارات کی دو قسمیں ہیں۔ قسم اول “کفارات مقدرہ” یعنی ایسے اعمال جن کی مقدار شریعت نے معین کر دی ہے۔ جیسے رمضان کے روزے میں جماع کرنے والے پر جو کفارہ لگتا ہے اس کی مقدار شریعت نے مقرر کر دی ہے اور اپنی بی بی سے ظہار کرنے والے (یعنی جس نے اپنی منکوحہ کو کسی اپنی محرمہ سے تشبیہ دی ہو۔ اس) اس کے کفارہ کی بھی مقدار معین ہے۔ علیٰ ہذا القیاس حج کے بعض ممنوعات کا ارتکاب کرنے والے یا حج کے بعض واجبات کو ترک کرنے والے یا احرام میں شکار مارنے والے کے کفارات کی مقدار بھی مقر ر ہے۔ چنانچہ اس کی چار قسمیں ہیں اونٹ کی قربانی کرنا، غلام آزاد کرنا، صدقہ دینا، روزے رکھنا۔

 

قسم دوم: کفّارات مُطلقہ۔ یعنی ایسے اعمال صالحہ جن کی شریعت نے کوئی تحدید نہیں کی۔ جیسا کہ حذیفہؓ نے عمرؓ سے کہا:

” فِتْنَ الرَّجُلِ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَجَارِہِ تُکَفِّرُہَا الصَّلَا وَالصِّیامُ وَالصَّدَقَ”[5]

(اہل، مال اور اولاد کے بارے میں جو انسان فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اسے نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف، اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں۔ )

اس بات پر قرآن کی آیات بھی دلالت کرتی ہیں اور وہ احادیث صحیحہ بھی جن میں آیا ہے کہ پانچ نمازیں، جمعہ، روزے، حجر، اور باقی وہ اعمال کفارات ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے :

مَن قَالَ کَذَاَوعَمِلَ کَذَا غَفِرََ لَہ اَو غَفِرَ لَہ مَا تَقَدَّمَ مِن ذنَبِہ۔

جو شخص یہ کلمہ کہے یا ایسا عمل کرے اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں یا اس کے پہلے گناہ بخشے جاتے ہیں۔

اس قسم کے اعمال بہت ہیں، جو شخص حدیث کی کتابوں میں ان میں ان کو تلاش کریگا کثرت سے پائے گا۔ خصوصاً جو کتابیں فضائل اعمال میں لکھی گئی ہیں۔

 

                    رسوم جَاہلیت اور خصَائِص یہودیت و نصرانیت کا اختلاط

 

واضح ہو کہ انسان کو ایسے اعمال مکفرہ کی طرف توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ انسان جو نہی بالغ ہوتا ہے خصوصاً زمانہ موجودہ میں اور اس قسم کے ان زمانوں میں جن میں سلسلہ وحی اور رسالت کے موقوف ہو جانے کے باعث بعض وجوہات سے ایام جاہلیت کا تشبیہ آ جاتا ہے۔ جبکہ اہل علم اور دیندار لوگوں میں پرورش پانے والا شخص بھی جاہلیت کے کئی امور سے آلودہ ہو جاتا ہے تو پھر اس شخص کا کیا حال ہے جسے دیندار لوگوں کی صحبت نصیب ہی نہیں۔ بخاری و مسلم میں ایک حدیث ابو سعید رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

“لتتبعن سنن من کان قبلکم حذو القذ بالقذ، حتى لو دخلوا جحر ضب لدخلتموہ قالوا: یا رسول اللہ ! الیہود والنصارى ؟ قال: فمن”[6]

(جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں تم اس طرح ان کے طریقوں کے پیچھے لگ جاؤ گے جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے پر کے برابر کاٹ کتر کر بنا لیا جاتا ہے حتّیٰ کہ وہ لوگ اگر گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم بھی ضرور داخل ہو گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ(ﷺ) پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود اور نصاریٰ ہیں ؟ فرمایا یہود اور نصاریٰ نہیں تو اور کون؟)

یہ ایسی حدیث ہے جس کی تصدیق قرآن شریف میں ہے۔ فرمایا:

(فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِکُمْ کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِخَلَاقِہِمْ وَ خُضْتُمْ کَالَّذِی خَاضُوْا)  (سورۃ التوبۃ:69)

(تم نے بھی اپنے حصّے کے فائدے اٹھائے جیسے تم سے پہلوں نے اپنے حصّے کے فائدے اٹھائے اور جیسی باتوں میں لوگ بحث کیا کرتے تھے تم بھی ویسی ہی باتوں میں بحث کرنے لگے )

اس حدیث کے شواہد صحیح اور حَسن حدیثوں میں بہت ہیں۔ اور کبھی کبھی یہ رسوم جاہلیت ان دیندار لوگوں تک میں سرایت کر جاتی ہیں جن کو خواص سمجھا جاتا ہے چنانچہ سلف میں سے کوئی ایک بزرگوں نے کہا جن میں ابن عیینہ بھی داخل ہیں کہ اہل علم یہود کی بہت سی باتوں میں اور اہل دین نصاریٰ کی اکثر باتوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ چنانچہ جو شخص دین اسلام کی حقیقت کو سمجھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرمایا۔ او پھر اس کو لوگوں کی عام حالت پر منطبق کرنا چاہتا ہے اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ مسلمان بہت سی علمی اور دینی باتوں میں یہود اور نصاریٰ کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔ جب معاملہ ایسا نازل ہے تو جس شخص کے سینے کو اللہ نے کھول رکھا ہے اور وہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت پر قائم ہے۔ پہلے مُردہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اُسے روحانی زندگی دے کر زندہ کیا اور اسے نور عطا فرمایا جس کے ذریعہ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اپنے زمانے کی جاہلیت کی باتوں کا ملاحظہ کرے۔ اور دونوں اُمتوں “مغضوب علیہم” اور”الضالین” یعنی یہود اور نصاریٰ کے افراط اور تفریط کو جانچے جب یہ جانچ پڑتال کر لے گا تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ یہودیت اور نصرانیت کے بعض خصائص میں مبتلا ہے لہذا جو چیز کہ خاص و عام کے لئے سب سے بڑھ کر نفع یہاں ہے وہ ان امور کا علم ہے جس کے ذریعہ نفوس ان مہلک چیزوں سے نجات حاصل کر سکیں۔ اور وہ یہ ہے کہ گناہوں کے سرزد ہوتے ہی فی الفور نیک اعمال کئے جائیں۔ نیکی ان اعمال، اخلاق اور صفات کا نام ہے جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیینﷺ کی زبانی دیا ہے۔

اور منجملہ ان امور کے جو گناہ کے نتیجہ یعنی عذاب الٰہی کو دور کر سکتے ہیں وہ مصائب یعنی تکالیف ہیں جو انسان کی بدیوں کو مٹا دیتی ہیں، اور مصائب کے مفہوم میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن سے انسان کو تکلیف ہوتی ہے خواہ فکر اور غم ہو یا ماں و آبرو۔ اور جسم کو دکھ پہنچے یا اُن کے سوا کوئی اور رنج دہ امر ہو، لیکن یہ تمام باتیں بدلنے کے فعل سے نہیں یعنی کوئی شخص اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہے تو اس کے ادا کرنے کا یہ طریق نہیں کہ کوئی رنج یا مصیبت خواہ مخواہ اپنے اوپر ڈال لے بلکہ کفارات شریعہ میں سے کسی چیز کو اختیار کر لے۔

پس جب آپ نے یہ دو کلمے فرما کر(اتق اللہ حیث ماکنت اور اتبع السیۃ الحنسۃ تمحھا) اللہ تعالیٰ کا حق بیان کر دیا۔ یعنی پہلے میں عمل صالح اور دوسرے میں اصلاح فاسد کی تاکید کی تو آگے تیسری بات و خالق الناس بخلق حسن فرما کر حقوق العباد کی طرف توجہ دلائی۔

 

                   حُسن خُلق

 

اور لوگوں کے ساتھ حُسن خلق رکھنے کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص تجھ سے قطع تعلق کرے تو اس کے ساتھ میل ملاپ رکھے۔ اسے سلام کرے، اس کی عزت کرے اس کو دُعا دے، اس کے لئے اللہ سے بخشش مانگے، اس کی خوبیاں بیان کرے اور اس سے ملاقات کرتا رہے، اور جو شخص تجھے تعلیم نافع اور مال وغیرہ سے محروم کر دے تو اسے یہ فوائد پہنچا تا رہے، اور جو شخص خون، مال اور آبرو کے بارے میں تجھ پر ظلم کرے تو اسے معاف کر دے، ان میں سے بعض احکام واجب ہیں اور بعض مستحب، باقی رہی تفسیر خلق عظیم کی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو متصف کیا ہے تو اس سے مراد پورا دین ہے جو مطلقاً تمام امر الٰہی پر مشتمل ہے، مجاہد وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے اور یہ قرآن کا مدّعا سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہے چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کَانَ خُلُقہ القُرآنَ(نبی کا خلق قرآن تھا) اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے انھیں بطیب خاطر پورے شرح صدر کے ساتھ بغیر تنگدلی کے ادا کرے میں جلدی کی جائے۔

 

                   لفظ تقویٰ کی تفسیر

 

رہا اس امر کا بیان کہ یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی وصیت میں داخل ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَ لَقَدْ وَصَّینَا الَّذِینَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ اِیاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ) تو یہ اس طرح سمجھنا چاہیئے کہ لفظ تقویٰ ان تمام امور کو جامع ہے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے خواہ وہ حکم واجب ہو، یا مستحب اور ان تمام باتوں کی نہی کو شامل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا خواہ وہ نہی تحریمی ہو یا تنزیہی۔ اور یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر مشتمل ہے لیکن چونکہ کبھی تقویٰ سے مُراد عذاب الٰہی سے ڈرنا لیا جاتا ہے جو حرام کاموں سے رُکنے کا باعث ہوتا ہے اس لئے معاذؓ کی حدیث میں اس کی پوری تفسیر کر دی گئی ہے اور اسی طرح ابوہریرہؓ کی حدیث میں ہے جسے ترمذیؒ نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے جس سے معلوم ہو گیا کہ اس کا مفہوم وسیع تر ہے، ابوہریرہؓ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

“قیل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ما أَکْثَرِ مَا یدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّ، فَقَالَ : تَقْوَى اللَّہِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَقیل ما أَکْثَرِ مَا یدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ “۔[7]

(عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کونسی چیز ہے جو لوگوں کو سب سے بڑھ کر جنّت میں لے جائے گی، فرمایا اللہ کا ڈر اور اچھا خلق اور عرض کیا گیا کونسی چیز سب سے بڑھ کر لوگوں کو دوزخ میں لے جائے گی، فرمایا وہ دو کھوکھلی چیزیں ہیں (۱) مُنھ اور(۲) فرج (حرام کھانا، کلمہ کفرو شرک جھوٹ، غیبت وغیرہ، یہ معاصی منہ سے تعلق رکھتے ہیں اور زنا وغیرہ فواحش فرج سے )

صحیح حدیث میں عبد اللہ بن عمرؓ[8] سے روایت ہے :

” قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا”[9]

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمام مؤمنوں میں کامل تر ایمان اس شخص کا ہے جو سب سے اچھا خلق رکھتا ہے۔ )

اس حدیث میں نبی نے بتلادیا کہ ایمان کا کامل ہونا اچھے خلق کے کامل ہونے پر موقوف ہے۔ اور یہ معلوم ہی ہے کہ ایمان سب کا سب تقویٰ ہے اور تقویٰ کے اصول اور فروع کے بالتفصیل ذکر کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں کیونکہ اس میں تو تمام دین داخل ہے۔

 

                    اخلاص

 

لیکن نیکی کا سرچشمہ اور اس کی جڑ اخلاص ہے یعنی یہ کہ بندہ خلوص کے ساتھ اپنی عبادت اور استعانت کو اپنے رب کے ساتھ اس طرح مخصوص کر دے کہ اپنا قلبی تعلق تمام مخلوقات سے منقطع کرے، نہ اُن سے نفع کی توقع رکھے اور نہ ان کی خاطر عمل کرے، اور اپنا مقصد رب تعالیٰ ہی کو بنالے، چنانچہ مندرجہ ذیل آیات میں اسی اخلاص کا ذکر ہے۔

  1. (اِیاکَ نَعْبُدُ وَ اِیاکَ نَسْتَعِینُؕ)(سورۃ الفاتحہ: 5) (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ )
  2. (فَاعْبُدْہُ وَ تَوَکَّلْ عَلَیہِ) (سورۃ ھود:123) (اس کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ)
  3. (عَلَیہِ تَوَکَّلْتُ وَ اِلَیہِ اُنِیبُ) (سورۃ ھود: 88) ( اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ )
  4. (فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْہُ وَ اشْکُرُوْا لَہٗ) (سورۃ العنکبوت: 17) (رزق کی تلاش بھی اللہ کے پاس ہی کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لاؤ)

اور اس کے حصول کے ذریعہ یہ ہے کہ ہر مطلوب شئے میں خواہ بھوک اور احتیاج ہو یا خوف اور ڈر ہو، یا اس کے سوا کوئی اور حاجت ہو، ہمیشہ ہر مطلب کے لئے اسی سے دعا مانگتا رہے، اور ہر پسندیدہ عمل اسی کی رضا جوئی کے لئے کرے، جو شخص اس قسم کے اخلاص کو مضبوط اور محکم کرے ممکن نہیں کہ اس میں ایسی بات باقی رہے جو اسے عذاب میں مبتلا کر سکے۔

 

                    فرائض کے بعد سب سے بہترین عمل اللہ کا ذکر ہے

 

اس کے بعد دوسری چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ فرائض کے بعد کونسا عمل سب سے بہترہے، تو اس کا کُلّی جامع اور مفصل جواب تو ممکن نہیں جس سے ہر ایک شخص کے حق میں افضل الاعمال کی تعیین ہو سکے، کیوئنکہ باعتبار قدرت ومناسبت اوقات لوگوں کے حالات مختلف ہیں، اس اختلاف کے لحاظ سے افضل العمل بھی ان کے حق میں مختلف ہو گا تاہم اس کے متعلق جو مجمل جواب دیا جا سکتا ہے اور جس پر ان لوگوں کا اتفاق ہے جو اللہ کی ذات اور اس کے اوامر کا علم رکھتے ہیں یہ ہے کہ ہر حالت میں اللہ کا ذکر پابندی سے کیا جائے۔ یہ بہترین عمل ہے جس میں بندہ اپنے نفس کو مشغول رکھ سکتا ہے۔ اس کی تائید میں ابو ہریرہؓ کی حدیث وارد ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے :

“سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا وَمَا الْمُفَرِّدُونَ یا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ الذَّاکِرُونَ اللَّہَ کَثِیرًا وَالذَّاکِرَاتُ “[10]

(مفردون سبقت لے گئے ہیں، صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مفردون کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہ مرد یا عورتیں ہیں جو اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں۔ )

ابو داؤد نے ابو دردا سے اس طرح روایت کیا ہے :

” أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَیرِ أَعْمَالِکُمْ وَأَرْضَاہَا عِنْدَ مَلِیکِکُمْ وَأَرْفَعِہَا فِی دَرَجَاتِکُمْ وَخَیرٍ لَکُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ وَیضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ قَالُوا : وَمَا ذَاکَ یا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ ذِکْرُ اللَّہِ “[11]

(کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتلاؤں جو سب اعمال سے بہتر ہے اور تمہارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ اور تمہارے درجوں کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا اور سونے چاندی کی خیرات کرنے سے بھی بہتر ہے اور اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ دشمنان اسلام سے تمہارا مقابلہ ہو، پھر تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں (یعنی جہاد) صحابہؓ نے عرض کیا، کیوں نہیں، یا رسول اللہﷺ ضرور بتلائیے۔ فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے۔ )

اللہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت میں قرآنی اور ایمانی دلائل بکثرت ہیں جو بصیرت قلبی، روایت اور استدلال سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

 

                    اَذکارِ مسنونہ کی تین قِسمیں ہیں

 

ادنیٰ درجہ ذکر کا یہ ہے کہ انسان ان اذکار ماثورہ کو لازمی طور پر اپنا معمول بنا لے جو علم اور نیکی کی تعلیم دینے والے اور متقین کے امام حضرت محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔

1- اذکار و اتب یعنی جن کے اوقات مقر ر ہیں، جیسا کہ شروع دن میں پچھلے پہر خوابگاہ میں لیٹنے کے وقت نیند سے بیدار ہونے کے وقت اور نمازوں کے بعد کے اذکار ہیں۔

2- وہ اذکار جو خاص خاص امور مثلاً کھانے پینے، پہننے، جماع کرنے، گھر مسند اور بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے اور بارش اور گرج وغیرہ کے وقت پڑھے جاتے ہیں، ان دونوں قسم کے اذکار کے معلق کتابیں لکھی گئی ہیں جو کہ “عمل یوم و لیلہ” کے نام سے موسوم ہیں۔ یعنی وہ کتابیں جن میں دن اور رات کے اذکار درج ہیں۔

3- وہ اذکار جو مطلق بلا قید وقت پڑھے جا سکتے ہیں کسی خاص وقت کے ساتھ مقید نہیں، ان میں سب سے افضل لَا الٰہَ اِلّاَ اللہُ ہے لیکن کبھی ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ باقی اذکار مثلاً: سُبحَانَ اللہِ وَالحَمدُ لِلہِ وَاللہُ اَکبَرُ وَلاَ حَولَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلآَ بِاللہِ۔ لَا اِلٰہَ اِلآَ اللہُ سے افضل ہو جاتے ہیں پھر یہ بھی جاننا چاہیئے کہ ہر بات جو انسان کو اللہ کے قریب کر سکتی ہے خواہ وہ زبان کا قول ہو یا دل کا تصور، مثلاً علم سیکھنا اور سکھانا، نیکی کا حکم کرنا اور بدی سے روکنا، یہ سب اللہ کے ذکر میں داخل ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص فرائض کے ادا کرنے کے بعد علم نافع یعنی دین یا دین سے تعلق رکھنے والے علم کی جستجو میں مشغول ہو۔ یا یسی مجلس منعقد کرے جس میں بیٹھ کر وہ فقہ پڑھے یا پڑھائے جس کا نام اللہ اور رسولﷺ نے فقہ رکھا ہے تو یہ بھی بہترین ذکر الٰہی ہے۔ اور اگر افضل اعمال کی تعیین میں یہ وسعت دی جائے تو غور کے بعد تجھے معلوم ہو جائے گا کہ متقدمین کے اقوال میں جو اس بارے میں وارد ہیں کوئی بڑا اختلاف نہیں۔

 

                   افضل الاعمال کی تعیین میں استخارہ مسنونہ

 

اور جب اپنا مسلک اختیار کرنے کے لئے افضل اعمال معین کرنے میں کسی شخص کو اشتباہ واقع ہو جائے تو اسے لازم ہے کہ شرعی استخارہ کرے۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے وہ کبھی نادم نہیں ہوتا اور بکثرت دعاء اور استخارہ کرے، کیونکہ وہ ہر خیر کی چابی ہے، اور جلد بازی کر کے یوں نہ کہنے لگے کہ میں نے دعاء کی تھی مگر قبول نہیں ہوئی، اور دعا مانگنے کے لئے فضیلت والے اوقات کی تلاش کرے، مثلاً رات کا پچھلا حصّہ، نمازوں اور اذان کے بعد کا وقت، نزول باراں کا وقت اور اسی طرح کے دوسرے اوقات ہیں۔

 

                     بہترین کسب توکل ہے

 

اس کے بعد تیسری چیز جس کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کونسا کسب سب سے اعلیٰ ہے، توا سکا جواب یہ ہے کہ سب سے بہتر کسب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، تمام حاجات میں اسی کے کافی ہونے پر اعتماد، اور اس کے ساتھ نیک ظن رکھنا ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ جو شخص رزق کے بارے میں متفکر ہو اُسے لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرے اور اسی سے دعاء مانگے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث قدسی میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو یوں مخاطب فرمایا ہے :

” یا عِبَادِی کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُہُ فَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ، یا عِبَادِی کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ “[12]

(میرے بندوں، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے، سوائے اس کے جس کو میں نے کھانا دیا، پس تم مجھی سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا، تم میں سے ہر ایک ننگا ہے سوائے اس کے جس کو میں نے کپڑا پہنایا پس تم مجھی سے کپڑا مانگو میں تمہیں کپڑا دوں گا۔ )

اور جو حدیث امام ترمذی نے انسؓ سے روایت کی ہے اس میں اس طرح آیا ہے :

” لِیسْأَلْ أَحَدُکُمْ رَبَّہُ حَاجَتَہُ کُلَّہَا حَتَّى یسْأَلَ شِسْعَ نَعْلِہِ إِذَا انْقَطَعَ فإنہ إن لم ییسرہ لم یتیسر”[13]

(تم میں سے ہر شخص اپنی حاجتیں اللہ سے مانگے یہاں تک کہ جب جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ سے مانگے کیونکہ اگر اللہ اس کا سامان میسر نہ کریگا تو اسے کبھی تسمہ نہیں مل سکے گا۔ )

اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے :

(وَ سْـَٔلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖؕ) (سورۃ النساء:32)

(اللہ سے اس کا فضل یعنی رزق طلب کرو)

نیز فرمایا:

(فَاِذَا قُضِیتِ الصَّلٰو فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ) (سورۃ الجمعہ: 10)

(جب نماز ہو چکے تو زمین میں چلو پھرو اور اس کے فضل یعنی رزق کی تلاش کرو۔ )

یہ آیت اگرچہ جمعہ کے بارے میں آئی ہے تاہم اس کا حکم ہر نماز کے ساتھ قائم ہے، اور غالباً اسی لئے نبیﷺ نے حکم دیا ہے کہ انسان مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دُعا پڑھ لیا کرے :

اللھم افتح لی ابواب رحمتک

اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے

اور مسجد سے نکلتے وقت پڑھے :

اللھم انی اسئلک من فضلک

اے اللہ میں تجھ سے فضل یعنی رزق چاہتا ہوں

اور حضرت خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام سے بھی قرآن شریف میں اس طرح منقول ہے آپ نے اپنی قوم کو کہا:

(فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْہُ وَ اشْکُرُوْا لَہٗ۱ؕ اِلَیہِ تُرْجَعُوْنَ) (سورۃ العنکبوت: 17)

(اللہ سے رزق مانگو، اس کی عبادت کرو اور اسی کا شکر ادا کرو۔ )

یہ امر کا صیغہ ہے اور امر وجوب کو چاہتا ہے الغرض رزق کے معاملہ میں اللہ سے مدد طلب کرنا اور اس کی طرف التجا کرنا بڑا بھاری اصول ہے، رزق کی تلاش میں دوسری ضروری بات یہ ہے کہ انسان مال کو بے طمعی اور جوانمردی کے ساتھ قبول کرے تاکہ اس میں برکت ہو، اور مال کی تاک میں نہ لگا رہے، اسے طمع اور لالچ کے ذریعہ نہ حاصل کرے، بلکہ اس کے دل میں زیادہ سے زیادہ مال کی اتنی ہی قدر ہونی چاہیئے جس قدر کہ بیت الخلاء کی، جس کی طرف وہ رفع حاجت کے لئے مجبور تو ہوتا ہے لیکن اس کے دل میں اس کی وقعت نہیں ہوتی، اور تحصیل مال میں جب کوشش کرے تو وہ بھی اسی قدر ہونی چاہیئے جس قدر کہ پاخانہ کی اصلاح میں کوشش کرتا ہے، ترمذی وغیرہ کی ایک مرفوع حدیث میں وارد ہے :

“مِنْ أَصْبَحَ وَالدُّنْیا أَکْبَرُ ہَمِّہِ شَتَّتَ اللَّہُ علیہ شملہ ونرق علیہ ضعیۃ و لم یاتہ من الدنیا الا ماکتب لہ۔ ومن اصبح والا خرۃ اکبر ھمہ جمع اللہ علیہ شملہ وجعل غناہ فی قلبہ واتتہ الدنیا وھی راغمۃ”[14]

(جو شخص صبح کو اُٹھے اور اس وقت کے لئے سب سے بڑی فکر کی چیز حصول دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے اجتماعی کام کو پراگندہ کر دیتا ہے۔ اس کے اسباب بکھیر دیتا ہے اور دنیا سے اس کو اسی قدر حاصل ہوتا ہے جتنا کہ اس کے مقسوم میں لکھا گیا ہے، اور صبح کے وقت جس کو سب سے بڑھ کر آخرت کی فکر ہو اس کے لئے اللہ تمام پراگندہ کاموں کو جمع کر دیتا ہے اس کے دل میں ان کی طرف سے فنا پیدا کر دیتا ہے، اور خادمہ بن کر دُنیا اس کے پاس آتی ہے۔ )

سلف میں سے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اے انسان تو دنیا کا محتاج تو ہے لیکن اپنے آخرت کے حصّے کا اس سے کہیں بڑھ کر محتاج ہے، پس اگر اپنے اخروی حصّے کو اس طرح حاصل کر جیسے گذرتے گذرتے راستے میں چیز آ جاتی ہے تو اس کا انتظام کر لیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیعْبُدُوْنِ مَاۤ اُرِیدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیدُ اَنْ یطْعِمُوْنِ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّ الْمَتِینُ) (سورۃ الذاریات: 56 تا58)

(اور میں نے جنوں اور انسانوں اسی لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں، میں ان سے کچھ روزی کا تو خواہاں ہوں نہیں اور نہ اس کا خواہاں ہوں کہ مجھ کو کھلائیں پلائیں، اللہ خود بڑا روزی دینے و الا قوت والا زبردست ہے )

باقی رہا کسی خاص کسب کا معین کرنا، دست کاری ہو یا تجارت، فن تعمیر ہو یا زراعت وغیرہ، تو یہ بھی لوگوں کے مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف ہے اور مجھے کوئی ایسا کسب یاد نہیں آتا جو عام طور پر تمام لوگوں کو یکساں مفید ہو سکے لیکن جب تلاش معاش کی خاص صورت درپیش ہو تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے جو معلّم خیر نبی صلّی اللہ علیہ وعلم سے حاصل ہوا ہے کیونکہ اس میں ایکا یسی برکت ہے جس کا احاط نہیں ہو سکتا پھر دوسری بات یہ ہے کہ جو کام اسے میسّر آ جائے وہی اختیار کرے دوسرے کام میں پڑ کر کواہ مخواہ تکلیف نہ اُٹھائے ہاں اس میں کوئی شرعی کراہیت ہو تو دوسری بات ہے۔

 

                    علوم نبی و دیگر علوم شرعیہ

 

اس کے بعد یہ دریافت کیا گیا کہ علم حدیث اور دیگر علوم شرعیہ میں اعتماد کرنے کے لئے کوئی خاص کتاب منتخب کر دی جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ باب بھی بہت وسیع ہے یہ بھی انسان کے مختلف بلاد میں پرورش پانے کے اعتبار سے مختلف ہے کیونکہ بعض بلاد میں ایک شخص کو کسی خاص علم طریق اور مذہب کی کوئی ایسی کتاب میسر آ جاتی ہے جو دوسری جگہ دستیاب نہیں ہو سکتی، لیکن تمام خیر و برکت کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے اس علم کے حاصل کرنے کی مدد چاہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بطور میراث چلا آ رہا ہے، کیونکہ حقیقت میں یہی چیز اس بات کا حق رکھتی ہے کہ اسے علم کے نام سے پکارا جائے اس کے سوائے جو کچھ ہے اس کی تین صورتیں ہیں یا تو وہ علم ہو گا لیکن نافع نہیں ہو گا یا وہ علم ہی نہیں ہو گا اگرچہ اسے علم کہا جاتا ہو اور اگر واقعی علم بھی ہے اور نافع بھی، یہ ضرور امر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے علم مورث کو چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہ رہی تو ثابت ہو گیا کہ انسان کی تمام جد و جہد یہی ہونی چاہیئے کہ رسول اللہﷺ کے امر ونہی اور دوسرے کلام کے مقاصد سمجھے جب جد و جہد کے بعد اس کا دل مطمئن ہو جائے کہ اس مسئلہ میں رسولﷺ کی مراد یہ ہے تو پھر بقدر امکان اس سے سر مو انحراف نہ کرے خواہ اس کا تعلق ان معاملات سے ہو جو انسان کے اپنے نفس اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں یا لوگوں سے تعلق رکھتا ہو (یعنی حقوق اللہ سے تعلق رکھتا ہو یا حقوق العباد سے )۔

اور علم کی ہر شاخ میں انسان ایسی اصل کو مضبوط پکڑنے کی کوشش کرے جو نبیﷺ سے مروی ہے اور جب اس پر کوئی ایسا مسئلہ مشتبہ ہو جائے جس میں اہل علم کا اختلاف ہو تو اسے اللہ سے وہ دعا مانگنی چاہیئے جو صحیح مسلم میں عائشہؓ سے مروی ہے :

“کَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیلِ افْتَتَحَ صَلَاتَہُ اللَّہُمَّ رَبَّ جَبْرَائِیلَ، وَمِیکَائِیلَ وَإِسْرَافِیلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَیبِ وَالشَّہَادَ أَنْتَ تَحْکُمُ بَینَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یخْتَلِفُونَ اہْدِنِی لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَہْدِی مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ”[15]

(رسول اللہﷺ جب پچھلی رات کو تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا مانگتے اے جبرئیل، میکائل اور اسرافیل کے رب اے غیب اور حاضر کے جاننے والے ! تو بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں یہ اختلاف کرتے تھے، جس حق بات کے بارے میں اختلاف ہو رہا ہے اپنے حکم سے مجھے اس کی طرف ہدایت کر تو جسے چاہے سیدھا راستہ دکھلاتا ہے۔ )

کیونکہ ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے :

“یا عِبَادِی کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ ہَدَیتُہُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ”[16]

(میرے بندو! تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اُس شخص کے جسے میں نے ہدایت کی، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں راہ دکھلاؤں گا۔ )

باقی رہا کتابوں اور مصنفین کا مسئلہ، تو سائل نے اس کے متعلق میرے ہاں درس و مذاکرہ کے اثناء میں جس قدر کہ اللہ نے میسّر کیا سُن ہی لیا ہو گا۔ اس وقت اتنا کہے دیتا ہوں کہ تمام تصنیف شدہ کتابوں میں جن میں تقسیم ابواب پائی جاتی ہے صحیح محمد بن اسماعیل بخاری سے نافع تر کوئی کتاب نہیں لیکن اکیلی وہ بھی علم کے تمام اصول سمجھنے میں کافی نہیں اور مختلف علوم کے عالم متبحّر کا مقصود پورا نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کتاب کے علاوہ دوسری احادیث اور اہل فقہ اور اہل علم کے اقوال کا جاننا بھی ضروری ہے خاص کر ان مسائل کا علم جن کے ساتھ بعض علماء مختص ہیں اور امّت مرحومہ نے تو علم کے فنون میں پورا پورا حصّہ لیا ہے جس شخص کے دل کو اللہ تعالیٰ نے منور کیا ہے اسے جو بات پہنچی ہے اس کے ذریعہ اللہ اسے رہنمائی کرتا ہے، اور جس کے دل کو اس نے اندھا کر دیا ہے اس کے پاس جوں جوں زیادہ کتابیں پہنچتی ہیں اس کی حیرت اور گمراہی بڑھتی ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ابن لبید انصاری سے فرمایا:

“ہذا التورا والإنجیل عند الیہود والنصارى فماذا تغنی عنہم ؟ “[17]

(کیا یہود اور نصاریٰ کے ہاں تورات اور انجیل نہیں ہے، تو انھیں کیا فائدہ ہُوا؟)

لہذا ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہمیں ہدایت اور دستی علم و عمل عطا فرمائے، ہمارے دلوں میں وہ بات ڈال دے جس میں ہماری ہدایت ہو اور ہمیں نفس کی شرارت سے محفوظ رکھے اور ہدایت عطا کر چکنے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی سے بچائے اور ہمیں اپنے پاس سےرحمت عطا فرمائے، کیونکہ وہی رحمت بخشنے والا ہے۔

والحمد للہ رب العالمین وصلوٰتہ علی اشرف المرسلین۔

٭٭٭

ماخذ: اردو مجلس فورم، کمپوزنگ: ابو بکر سلفی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

[1] مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَ الْمُبَشَّرِینَ بِالْجَنَّ۔ .. » مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رقم الحدیث: 21491۔ وقال صحیح الألبانی فی صحیح الجامع رقم: 97

[2] سنن أبی داود » کِتَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ » بَاب تَفْرِیغِ أَبْوَابُ السُجُودِ وَکَمْ سَجْدَ۔ .. رقم الحدیث: 1305۔ قال صحح الألبانی فی صحیح أبی داود، رقم: 1522

[3] الطبقات الکبرى لابن سعد » ذِکْرُ مَنْ کَانَ یفْتِی بِالْمَدِینَ وَیقْتَدَى۔ .. » مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَحِمَہُ اللَّہُ رقم الحدیث: 2456

[4] صحیح النسائی : 329

[5] صحیح البخاری » کِتَاب الْحَجِّ » أَبْوَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّیدِ رقم الحدیث: 1772

[6] البخاری الاعتصام بالکتاب واسنۃ:6889۔ صحیح المسلم۔ العلم :2669۔ مسند أحمد ابن حنبل (84/3)

[7] جامع الترمذی » کِتَاب الْجُمُعَ » أَبْوَابُ السَّفَرِ رقم الحدیث: 1924۔ سنن ابن ماجہ » کِتَاب الصَّلَا » أَبْوَابُ مَوَاقِیتِ الصَّلَا رقم الحدیث: 4244البانی نے صحیح ابن ماجہ 3443 میں صحیح کہا ہے

[8] ہمیں ابن عمرؓ سے یہ حدیث نہیں ملی بلکہ ان الفاظ کے ساتھ ابوھریرہؓ سے مروی ہے۔

[9] سنن أبی داود » کِتَابُ سُجُودِ الْقُرْآنِ » بَاب تَفْرِیغِ أَبْوَابُ السُجُودِ وَکَمْ سَجْدَ۔ .. رقم الحدیث: 4065۔ البانی نے صحیح أبی داود 4682 میں صحیح کہا ہے۔

[10] صحیح مسلم » کِتَاب الذِّکْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَ وَالِاسْتِغْفَار۔ .. » بَاب الْحَثِّ عَلَى ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَى رقم الحدیث: 4841

[11] سنن ابن ماجہ » کِتَاب الْأَدَبِ » بَاب فَضْلِ الذِّکْرِ، رقم الحدیث: 3788۔ قال البانی صحیح فی صحیح ابن ماجہ رقم: 3072۔ ہمیں یہ حدیث سنن ابو داؤد میں نہیں ملی۔

[12] صحیح مسلم » کِتَاب الْبِرِّ۔ وَالصِّلَ۔ وَالْآدَابِ » بَاب تَحْرِیمِ الظُّلْمِ۔ رقم الحدیث: 4681

[13] جامع الترمذی » کِتَاب الدَّعَوَاتِ » بَاب لِیسْأَلِ الْحَاجَ مَہْمَا صَغُرَتْ رقم الحدیث: 3567 البانی نے ضعیف الترمذی: 3604 میں ضعیف کہا۔ شعب الإیمان : 2/509

[14] السلسل الصحیح للألبانی حدیث رقم 404

[15] صحیح مسلم » کِتَاب صَلَا الْمُسَافِرِینَ وَقَصْرِہَا » بَاب الدُّعَاءِ فِی صَلَا اللَّیلِ وَقِیامِہِ۔ .. رقم الحدیث: 1295

[16] صحیح مسلم » کِتَاب الْبِرِّ، وَالصِّلَ، وَالْآدَابِ » بَاب تَحْرِیمِ الظُّلْمِ، رقم الحدیث: 4681

[17] سنن الترمذی » کتاب العلم، رقم الحدیث: 2653۔ الألبانی نے صحیح الترمذی، رقم 2653 میں صحیح کہا۔