FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

نظریۂ پاکستان

ایک تاریخی مغالطہ اور موجودہ بحران

 

 

 

                حسن جعفر زیدی

 

(یہ مضمون حلقہ ارباب ذوق لاہور میں 16اگست 2009کو ،اور ہالیڈے ان،  رسل سکوئر، لندن میں پروگریسو فورم لندن کے اجلاس میں 25 اکتوبر2009ء کو پیش کیا گیا۔)

 

 

 

 

 

 

 

آج پاکستان میں مذہبی دہشت گردوں اور طالبان نے قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کی جڑ میں جن نعروں اور نظریوں کا بیج بویا گیا اور جن کی آبیاری گزشتہ ساٹھ سال کے دوران کی گئی وہ کچھ یوں ہیں

نظریہ پاکستان ، نظریاتی سرحدیں، نظریاتی ریاست، اسلامی ریاست،اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات، اسلامی نظام، نفاذ شریعت یا نفاذ اسلام، حکومت الہیہ کا قیام ، اسلامی نظام کی تجربہ گاہ ، احیائے اسلام ، اسلامی اُمہ وغیرہ۔

ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان اصطلاحوں کا استعمال قیام پاکستان سے پہلے کہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس کے کچھ عرصہ بعد شروع کیا گیا۔ درا صل یہ وہ دور تھا جب بین الاقوامی سامراج (اینگلو امریکی سامراج) اور مقامی حکمران طبقوں کو ان نعروں اور نظریوں کی شدید ضرورت پڑ گئی تھی۔ بین الاقوامی سامراج کو اس لئے کہ:

سوویت روس اور ابھرتی ہوئی چین کی کمیونسٹ قوت کے گرد حصار قائم کرنے کے لئے سامراج فیصلہ کر چکا تھا کہ مذہب کو بطور نظریاتی ہتھیار کے ستعمال کرے گا۔

مقامی حکمران طبقوں کو اس لئے کہ:

۔عوام اپنے معاشی، جمہوری حقوق کا مطالبہ کریں تو اسے نظریہ کے نام پر رد کیا جا سکے

۔بنگال کے عوام اپنے حقوق مانگیں، پٹ سن کی آمدنی کو بنگال پر خرچ کرنے کی بات کریں، ملازمتوں میں اپنا حصہ مانگیں، فوج میں بھرتی ہونے کی بات کریں، بنگالی کو قومی زبان بنانے کا نعرہ لگائیں،اور آئین میں آبادی کی بنیاد پر ایک فرد ایک ووٹ کا مطالبہ کریں، تو کہا جائے کہ نظریہ پاکستان کی مخالفت کی جا رہی ہے اور نظریہ کے نام پر گھڑے گئے ان نعروں کے نیچے کچل دیا جائے

۔ سندھ، سرحد اور بلوچستان کے عوام اپنی صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کریں تو ان نظریاتی ہتھیاروں کو استعمال کیا جائے

۔پاکستان کے عوام بالعموم اپنے معاشی خوشحالی اور بنیادی حقوق کے مطالبات اُٹھائیں تو بھی یہ نظریاتی ہتھیار استعمال میں لائے جائیں۔

اور پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان نظریوں کا سہارا لے کر

۔اینگلو امریکی سامراج نے اسلامی بلاک بنانے کے لئے پاکستان کو آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا۔ اسلامستان بنانے کے مشن پر چوہدری خلیق الزمان کو مسلمان ملکوں کے دوروں پر بھیجا گیا۔ پھر Middle East Defence (MEDO) Organization کے قیام کے لئے چوہدری ظفر اﷲ وزیر خارجہ پاکستان کو مسلمان ملکوں میں بھیجا گیا۔اور بالآخر بغداد پیکٹ وجود میں آیا جسے بعد میں CENTO کا نام دے دیا گیا

۔ملک میں آئین سازی کے عمل کو طول دے کر پس پشت ڈال دیا گیا۔قائد اعظم کی ۱۱۔اگست 1947کی دستور اسمبلی کی افتتاحی تقریر کو نظر انداز کر کے قرارداد مقاصد منظور کی گئی جو چند تجریدی Abstractمذہبی نعروں پر مبنی تھی۔اسمبلی کے اقلیتی ارکان نے اس کی مخالفت میں تقریریں کیں اور اس کے خلاف ووٹ دیا۔وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل ملک چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا۔

۔1953 میں مذہبی جماعتوں کے قادیانی ایجی ٹیشن کے نتیجے میں لاہور میں مارشل لاء لگا جو پاکستان کا پہلا مارشل لاء تھا۔

۔1954میں دستور ساز اسمبلی کے بنائے ہوئے آئین کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی کو توڑ دیا گیا

۔1955میں سندھ، سرحد، بلوچستان،پنجاب کاہکےیںائے شرماون یونٹ بنا کر تخت لاہور کے تحت صوبہ مغربی پاکستان بنا دیا گیا

۔1956 اسٹبلشمنٹ کے نمائندے چوہدری محمد علی نے پہلا دستور بنایا جس میں پیریٹی کے نام پر مشرقی پاکستان کے 54 فیصد کو مغربی پاکستان کے 46 فیصد کے برابر کر دیا گیا۔یہ چوہدری محمد علی وہی شخص ہے جس نے 60 کی دہائی میں نظام اسلام پارٹی بنائی اور64 اور70 کے انتخابات میں دائیں بازو کے اتحاد میں شامل ہو کر حصہ لیا۔اور یہی شخص ہے جس نے سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان کی حیثیت سے پہلی پریس ایڈوائس جاری کی تھی کہ قائد اعظم کی ۱۱۔اگست کی تقریر کے مکمل متن کو شائع نہ کیا جائے (مگر ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے پورا متن شائع کیا)۔

۔56-58کے عرصہ میں لیاقت علی خان، چوہدری محمد علی، سر ظفر اﷲ،غلام محمد، سکندر مرزا وغیرہ نے اسلام اور نظریہ کے نام پر ملک کو سیاسی طور پر غیر مستحکم کیا اور ایوب خان کے مارشل لاء کی راہ ہموار کی۔

۔ایوب خان کے دس سالہ دور میں اسلام اور نظریہ کا کئی بار استعمال کیا گیا۔غلاف کعبہ۔کشمیر کا جہاد اور 65 کی جنگ۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلا گیا

۔یحی خان کے تین سالہ دور میں نظریہ سازی کی سرکاری فیکٹریوں نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور تمام سرکاری وسائل دائیں بازو کی نظریہ باز جماعتوں کے حوالے کر دئے گئے۔70 کے انتخاب کا نتیجہ آیا تو اس کے نتائج یہ کہ کر مسترد کر دئے گئے کہ نظریہ پاکستان کی مخالف جماعتیں کامیاب ہو گئی ہیں اس لئے ان انتخابات کو کالعدم کر کے نئے انتخاب کرائے جائیں۔ اور مشرقی پاکستان میں اس انتخاب کو کالعدم کر کے فوجی ایکشن کر دیا گیا اور اسلام اور نظریہ پاکستان کے نام پر جعلی انتخاب کرائے گئے۔ مذہبی انتہا پسند تنظیمیں الشمس اور البدر نظریہ پاکستان کے نام پر فوجی ایکشن میں شامل ہو گئیں۔ 71 میں نظریہ پاکستان کے نام پر پاکستان کو توڑ دیا گیا

۔72-77بھٹو دور میں مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں نے اسلامی نظام اور نظریہ پاکستان کے نعروں کے بے دریغ استعمال کیا اور بھٹو حکومت کو مسلسل غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی۔ 74میں قادیانی ایجی ٹیشن کر کے احمدیوں کو اقلیت قرار دلوایا گیا۔ 77 کی PNA کی تحریک۔نظام مصطفے تحریک۔فوجی کمانڈوز نے دینی مدرسوں کے طالب علموں کو مسلح ہو کر مظاہروں میں حصہ لینے کی ٹریننگ دی۔ بھٹو حکومت کا نظریہ پاکستان کے نام پر تختہ الٹ دیا گیا۔

۔77-88 ضیا دور۔ نظریہ سازی کی جو فصل گزشتہ 30 سال میں بوئی گئی تھی اب اس کے کاٹنے کا وقت آ گیا تھا۔ضیا الحق اور امریکی سامراج نے نفاذ اسلام، نفاذ شریعت، حدود آرڈنینس،چادر اور چار دیواری، پھانسیاں، کوڑے ، جلا وطنیاں، کلاشنکوف کلچر،ہیروئین اور سب سے بڑھ کر جہاد افعانستان کے ذریعے پاکستان کے سیاسی، ثقافتی،معاشرتی اور اخلاقی نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔درسی نصاب کی کتابوں،ملازمتوں کے لئے انٹرویوز اور ترقیوں کے لئے معیار نظریہ کے نام پر گھڑے گئے ان نعروں کی بھینٹ چڑھا دئے۔

۔88-99بے نظیر اور نواز شریف کے میوزیکل چئرز اقتدار کے ادوار میں ISI نے ضیا دور کی تمام داخلی اور خارجی پالیسیوں کو من و عن جاری رکھا۔ افغانستان میں جہادی تنظیموں کی خانہ جنگی کے دوران ان کی سرپرستی جاری رہی یہاں تک کہ طالبان تنظیم کو اقتدار میں لایا گیا۔ پاکستان کے اندر بھی سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور جیش محمد پروان چڑھائی گئیں۔

۔99-2009۔ مشرف دور اور بعد۔ 9/11 کے بعد کا پاکستان۔مذہبی انتہاپسندی جنونیت میں تبدیل ہو گئی۔ لال مسجد اور اسی قبیل کے مدرسوں میں خود کش حملہ آوروں کی فیکٹریاں قائم ہو گئیں جنہیں ISIاور اسٹبلشمنٹ نے پروان چڑھنے دیا۔ اعجاز الحق، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر حکومتی عہدیدار ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ اور میڈیا کے بہت سے lead anchors بھی ان کی حمایت میں پیش پیش رہے۔ ملک مذہبی جنونیوں اور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گیا اور بے گناہ معصوم لوگوں ؛ سکول کے بچوں اور عورتوں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا، سارا ملک اس مذہبی جنونیت کے آتش فشاں کے دہانے پر رکھ دیا گیا۔اور اب اس میں بھی کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ اس پورے ڈرامہ کے پس پشت امریکی برطانوی اور بھارتی ایجنسیاں ہیں جو ان کو جدید اسلحہ، ٹریننگ اور ڈالرز فراہم کر رہے ہیں۔

ہم نے اس نام نہاد نظریہ پاکستان اور دوسرے نظریاتی نعروں کے سراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے جو شدید نقصانات اُٹھائے ہیں، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی سطح پر جو Reverse Gear لگا ہے اس سے ہم قریب قریب پتھر کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ اصل کنفیوژن نام نہاد پڑھے لکھے درمیانے طبقہ کی سوچ کا ہے جس میں اکثریت پروفیشنلز کے ہے جن کے ذہنوں میں ایک طالبان بٹھا دیا گیا ہے۔ گزشتہ ساٹھ سال میں اسٹبلشمنٹ اور عالمی سامراج نے اس پر بہت کام کیا، تمام سرکاری و غیر سرکاری وسائل اور بین الاقوامی وسائل بروئے کار لائے گئے۔ درسی کتابوں، اخبارات و رسائل، تقریروں تحریروں، تعلیمی اداروں، ابلاغ کے اداروں اور فوجی افسروں کے تربیتی اداروں میں تاریخ کو مسخ کر کے جو نظریاتی تربیت کی گئی اس نے نام نہاد پڑھے لکھے درمیانے طبقہ کو ذہنی طالبان بنا دیا ہے۔

آئیے دیکھیں کہ نظریہ پاکستان اور دیگر نظریاتی نعروں کی اصلیت کیا ہے ؟

قیام پاکستان کے بارے میں ایک نظریہ تو یہ پیش کیا جاتا ہے کہ:

’’برصغیر کے مسلمانوں کو اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک ملک چاہیے تھا، چنانچہ پاکستان دراصل اسلامی نظام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کیا گیا ہے۔ یہ ایک نظریاتی ملک ہے اور اس کی نظریاتی سرحدیں ہیں جنہیں جغرافیائی سرحدوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال نے اس کا خواب دیکھا تھا، قائد اعظم نے اس کی تعبیر کی۔‘‘

اس تصور کو نظریہ پاکستان کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا سرکاری نظریہ بھی یہی ہے۔ اس تصور کو ان مراعات یافتہ طبقات نے اختیار کیا جو محکوم طبقوں اور قومیتوں پر اپنی سیاسی و معاشی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے اسلام کی آڑ استعمال کرنا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں اس تصو رکی نقیب سیاسی جماعتیں جو ’’نفاذ اسلام‘‘ کے نعرے کو متذکرہ طبقات کی بالادستی اور جہادی کلچر کو مسلط کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں تحریک پاکستان کے دوران قیام پاکستان کی شدید مخالفت کرتی رہی ہیں۔

ایک دوسرا تصور بھی پایا جاتا ہے :

’’برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین کوئی تضاد نہیں تھا۔ انگریزوں نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کر کے ان کے مابین صدیوں سے قائم بھائی چارہ کو ختم کیا اور پھر سازش کے ذریعے ملک کو تقسیم کر کے چلے گئے تاکہ برطانوی سامراج کے مفادات پورے ہوتے رہیں۔‘‘

یہ انڈیا کی اسٹبلشمنٹ کا سرکاری مؤقف ہے اور اسے پاکستان کے بعض، تمام نہیں، ترقی پسند، بائیں بازو اور لبرل کہلوانے والے لوگ بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ پاکستان کو توڑنے اور تاریخ کی اس غلطی کو درست کر کے بھارت اور پاکستان کے درمیان لکیر کو مٹانے کی بات بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی وفاداریاں اور مفادات سرحد پار ہیں۔ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام آباد کے مسلسل جبر اور نا انصافیوں سے تنگ آ کر چھوٹے صوبوں کے بعض قوم پرست رہنما بھی اس تصور کو اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہ دونوں تصوراتی یا نظریاتی ماڈل یا موقف جو مختلف مخصوص مفادات کے تحت وجود میں آئے یا لائے گئے ہیں، جب تاریخی جدلیات کے دھارے کے سپرد کیے جائیں تو خس و خاشاک کی طرح بہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مطالعہ تاریخ دراصل ایک سائنس ہے۔ اس میں ذاتی پسند یا ناپسند کا کوئی دخل نہیں ہے۔ تاریخ کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ اس کا مطالعہ عقائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ معروضیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عقاید خواہ دائیں بازو کے ہوں یا بائیں بازو کے ، عقیدہ پرستی کے شکنجے میں پھنس کر نہ تو ماضی کی اصل حقیقت سے آگاہی حاصل ہوسکتی ہے ، نہ حال کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی درست پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

تاریخ عالم ملکوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال سے عبارت ہے۔ مختلف قبیلوں، گروہوں، قوموں، نسلوں، طبقوں اور فرقوں کے باہمی ٹکراؤ یا جدل کے نتیجے میں نئے ملک اور سلطنتیں وجود میں آئیں اور پھر ٹکراؤ اور جدل کے اسی عمل نے ان کا شیرازہ بکھیر دیا اور نئے ملک یا سلطنتیں وجود میں آ گئیں۔ ملکوں یا سلطنتوں کی سرحدوں کو کبھی دوام حاصل نہیں ہوا۔ کسی ملک یا سلطنت کی عمر کا انحصار اس کی داخلی و خارجی قوتوں کے مابین تضادات کی حل پذیری پر رہا ہے۔ اگر تضادات حل ہوتے رہیں تو عمر لمبی ہو جاتی ہے ورنہ مختصر۔ اس وقت دنیا کا جو نقشہ ہے اس کی عمر کچھ زیادہ نہیں ہے۔گذشتہ بیسویں صدی میں یہ تین مرتبہ بڑی تبدیلیوں سے گزرا، ایک پہلی عالمی جنگ کے بعد، دوسرا دوسری عالمی جنگ کے بعد اور تیسرا سرد جنگ کے خاتمے پر۔ ا اس دوران کبھی غالب مغلوب ہو جاتے رہے اور کبھی مغلوب غالب!

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں غالب و مغلوب کی جدلیات ہندوؤں اور مسلمانوں کے حوالے سے کم و بیش بارہ تیرہ سو سال پہلے شروع ہوئی۔ جب برصغیر کے مغرب میں سندھ اور پھر پنجاب پر مسلمان حملہ آوروں نے حکمرانی اور غلبہ حاصل کیا۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین معاشرتی اور ثقافتی تفریق بھی بہت زیادہ تھی۔ غزنوی دور کے مسلمان مفکر ابو ریحان البیرونی نے اپنی تصنیف کتاب الہند میں اس تفریق کی شدت کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ’’ ہندو تمام غیرملکیوں یعنی مسلمانوں کو ملیچھ یعنی ناپاک سمجھتے ہیں اور اگر کوئی مسلمان یا غیرملکی چاہے بھی تو وہ ان میں داخل نہیں ہوسکتا گویا دونوں فرقوں میں سے کوئی ایک فرقہ بھی دوسرے میں جذب نہیں ہوسکے گا۔‘‘ (1) برصغیر کے وسیع علاقے پر مسلمان سیاسی، معاشی و ثقافتی معاشرتی طور پر غالب اور ہندو مغلوب رہے۔ مسلمان حکمران تھے اور ہندو رعیت یا باجگزار۔ مسلمان حکمران قرون وسطیٰ کے مروجہ استبدادی دستور کے مطابق رعیت اور محکوم پر وہ تمام ظلم و زیادتی روا رکھتے تھے جو اس استبدادی نظام میں رائج تھا۔ اس استبداد کا اگرچہ مذہب سے تعلق نہیں تھا، مروجہ دستورہییہ تھا ،تاہم غالب کا مذہب غالب اور مغلوب کا مذہب مغلوب تھا۔ اس وقت کے مسلمان مورخین منہاج الدین سراج، ضیاء الدین برنی، محمدقاسم فرشتہ، نظام الدین احمد بخشی اور مُلا عبد القادر بدایونی وغیرہ کی ضخیم تصانیف تاخت و تاراج کی ان تفاصیل سے بھری پڑی ہیں جو مسلمان حکمران اور حملہ آور مفتوحہ اور مقبوضہ علاقوں پر کرتے تھے۔ مندر تباہ و مسمار کیے جاتے تھے ، بت توڑے جاتے تھے۔ تاہم خراج ادا کرنے کی صورت میں مندر اور بت محفوظ رہتے تھے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس طویل دور میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوا، ہندو مسلم تضاد کو ختم کرنے یا کم کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں جو بعض ادوار میں کامیاب بھی ہوئیں۔ اس ضمن میں مغل شہنشاہ اکبر کا دور اور کشمیر کے حکمران زین العابدین اور بعض اور علاقائی حکمران قابل ذکر ہیں۔ مسلمان صوفیا کا کردار بھی اس تضاد کو کم کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے میں بڑا اہم رہا۔ خصوصاً چشتیہ سلسلہ کے بزرگان بابا فرید الدین، نظام الدین اولیا اور امیر خسرو وغیرہ۔ تاہم طریقت اور شریعت کا نفاذ بھی ساتھ ساتھ کارفرما تھا۔ اہل شریعت اس دور کے ’’نظریاتی‘‘ ماڈل کے علمبردار تھے۔ جب حکمران ان کا زیادہ اثر قبول کر لیتا تو ہندو مسلم تضاد میں شدت آ جاتی اور جب حکمران صوفیا کے مسلک کے زیادہ زیراثر ہوتا تو یہ تضاد نرم پڑ جاتا تھا۔ صوفیا کی اس تحریک میں بھگتی تحریک نے اہم کردار ادا کیا۔ اس طرح یہ تاریخی جدل غالب و مغلوب کی کشمکش سے ہوتا ہوا اٹھارویں صدی کے آغاز میں پہنچا تو مغل زوال پذیر ہوچکے تھے اور مرہٹہ ایک بڑی قوت بن چکے تھے۔ 1757ء میں احمد شاہ ابدالی نے انہیں پانی پت کے میدان میں شکست فاش دی لیکن اس کا فائدہ مسلمانوں کو نہ ہوا۔ تھوڑے عرصے بعد احمد شاہ ابدالی کے ایک سکھ سپاہی رنجیت سنگھ نے پنجاب، کشمیر اور پشاور پر اپنی حکومت قائم کر لی اور ادھر بنگال و بہار میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس حکومت کے قیام میں ہندو مارواڑی سیٹھوں نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔

اٹھارویں صدی کے انجام اور انیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر کے طاقت کے توازن میں ایک کیفئیتی تبدیلی(qualitative (change آ چکی تھی۔ وہ جو ہزار سال سے مغلوب تھے یعنی ہندو  غالب قوت یعنی انگریزی استعمار کے وفادار بن گئے یا کمپراڈور بن گئے۔ راجہ رام موہن رائے کی ترغیب پر انہوں نے انگریزی تعلیم حاصل کی اور نئے انتظامی و سیاسی ڈھانچہ میں ایک جونیئر پارٹنر کی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مسلمان اشرافیہ جو لارڈہیسٹنگز(Hastings)کے عارضی بندوبست اور لارڈ کارانوالس (Cornwalis) کے بندوبست دوامی کا شکار ہو کر اپنی دولت و جاگیر سے محروم ہو گئے۔ ان کی جاگیردارانہ اخلاقیات اور کرم خوردہ سماجی اقدار ان کو انگریزی تعلیم کی جانب مائل نہ کر سکی۔ مسلمان درمیانہ اور غریب طبقہ کو بھی جاگیرداروں کی قیادت اور علماء کی قیادت جن میں وہابی اور فرائضی تحریک کے جہادی بھی شامل تھے ایک طویل عرصہ تک جدید تعلیم اور نئے نظام سے دور رکھے رہے۔ علاوہ ازیں صدیوں سے مغلوب ہندو جو نئے تناظر (Pardigm Shift)کے بعد نئی غالب قوت انگریز کے جونیئر پارٹنر تھے اپنی پوری کوشش کرتے تھے کے مسلمان کی ترقی کا راستہ روکیں۔

185 7ء کی جنگ آزادی یا غدر کے بعد جو پاور سٹرکچر ابھر کر سامنے آیا اس میں سب سے اوپر غالب قوت انگریز تھے ، دوسرے نمبر پر نئی ابھرتی ہوئی ہندو بورژوازی تھی اور تیسرے اور نچلے درجے پر مسلمان تھے جن میں چند مسلمان ریاستوں کے نوابین کو مستثنیٰ کر سکتے ہیں۔ اب جدلیات ان تین قوتوں کے درمیان تھی۔ انگریزایسٹ انڈیا کمپنی کی انتظامیہ کو ہٹا کر براہ راست تاج برطانیہ کی عملداری قائم کر چکے تھے اور اسے مستحکم کر رہے تھے۔ نئی ہندو بورژوازی کو پہلی بار یہ اندازہ ہوا تھا کہ یورپ کے صنعتی انقلاب نے جو جمہوری نظام جنم دیا ہے اس نے عددی اکثریت کی بنیاد پر ان کے لیے حصول اقتدار کا راستہ کھول دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے غلبہ کے حصول کے لیے یورپ کے بورژوا نیشنلزم کے تصور کا من و عن ہندوستان پر اطلاق کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں درپردہ بورژوا لبرل سوچ کے بجائے ہندو احیاء اور ہندو غلبہ کی کوشش تھی جس میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی تھی۔ وہ اپنی جدلیات میں ایک طرف انگریز کے ساتھ اقتدار و اختیار میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی جدوجہد کر رہے تھے اور دوسری طرف مسلمانوں کو مکمل طور پر مغلوب و محکوم بنا نے کی کوشش کر رہے تھے۔

ئور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبیدی فائل فراہم کی

iہندو نئ

اٹھارویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے وسط تک کے 100سال میں برصغیر کے سیاسی، معاشی و معاشرتی منظر میں جس قدر بڑی تبدیلی یا Paradigm Shift آیا تھا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو جس جدلیات کا سامنا تھا اس کے لیے اس 100 سال میں انہیں شاہ ولی اللہ، سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہید، جمال الدین افغانی اور علمائے دیوبند کے نظریاتی مذہبی ماڈل نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ ا ان مذہبی رہنماؤں کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ سیاست، معیشت اور معاشرت کی جدل میں مسلمان ہندوؤں کے مدمقابل کیسے کھڑے ہوں گے۔

جس زمانے میں رام موہن رائے ہندوؤں کو انگریزی تعلیم اور جدید سائنس پڑھا رہا تھا، اسی زمانے میں سیداحمد، شاہ اسماعیل اور ان کے بعد کے وہابی تحریک کے قائدین مسلمانوں کے جہادی جتھے بھرتی کر کے پشاور میں طالبان ٹائپ اسلامی حکومت قائم کرنے میں مصروف تھے۔ بالآخر مسلمان اپنے تاریخی جدل کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے سرسیداحمد خاں، نواب لطیف اور سیدامیر علی جیسے لوگوں کے ساتھ شامل ہوئے۔انہوں نے راجہ رام موہن رائے والا کام کم و بیش 50 یا 60 سال کے بعد شروع کیا اور یہ ایک ایسا فرق تھا جسے مسلمان کبھی پورا نہیں کر سکے۔

انیسویں صدی کے اواخر تک ہندوؤں نے انگریزوں کو آنکھیں دکھانی شروع کر دی تھیں۔ وہ انڈین نیشنلزم اور جمہوری حقوق کے نام پر اقتدار اور انتظامی ڈھانچے میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے مطالبات کر رہے تھے۔ 1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس خود ایک انگریز لارڈ ہیوم نے قائم کر دی تھی۔ تاکہ زیادہ مراعات کے حصول کی تحریک ایک بورژوا جمہوری پلیٹ فارم سے ہو اور کہیں یہ تشدد کا راستہ نہ اختیار کر لے۔ یاد رہے کہ انڈین نیشنلزم کا کوئی وجود ہندوستان کی تاریخ میں نہیں رہا۔ برصغیر کبھی ایک سلطنت یا ملک کے طور پر موجود نہیں رہا۔ خصوصاً جنوبی ہند ہمیشہ ایک الگ دنیا تھا اور شمالی و مغربی ہند ایک دوسری دنیا۔ یہاں تک کہ ہندومت بھی مختلف علاقوں میں مختلف تھا۔ مختلف علاقوں کے دیوی دیوتا بھی اور رسوم و رواج بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ مگر اس وقت ہندو اپنے مادی مفادات کے حصول اور اپنے غلبہ کے احیاء کے لیے انڈین نیشنلزم کے نعرے کو فروغ دے رہے تھے۔ بنگال کا سریندر رناتھ بینرجی اور پونا کا بال گنگا دھر تلک اس سودیشی تحریک میں پیش پیش تھے۔

انیسویں صدی کے اواخر میں مسلمان بھی اپنی بقا کی جدلیات کے تقاضے پورے کرنے میدان میں اتر آئے تھے۔ سرسیداحمد خاں کا موقف یہ تھا کہ ہندوستان ایک کثیر الاقوام برصغیر ہے۔ یہ ایک ملک نہیں ہے اور نہ یہاں رہنے والے ایک مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔سرسید نے برصغیر کا یورپ سے موازنہ کیا کہ جیسے یورپ میں کئی اقوام ہیں ویسے ہی برصغیر ہندوستان میں کئی اقوام ہیں اور یہاں انڈیشن نیشنل کانگریس کسی ایک قوم کی نہیں بلکہ ہندو اکثریت کے مفاد کی نمائندگی کر رہی ہے۔ 1905ء کی تقسیم بنگال پر کانگریس کی جانب سے شدید ایجی ٹیشن نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کے فائدے میں ہونے والی کسی انتظامی تبدیلی یا اقدام پر کانگریس کا رویہ کیا ہو گا۔ جس کے بعد 1906ء میں سرآغا خاں اور دوسرے مسلم زعماء نے مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں مسلم لیگ کے قیام کا فیصلہ کیا اور سرسید کی تعلیمی تحریک ایک سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔

بیسویں صدی کا آغاز ہوا تو برصغیر میں تینوں قوتوں کے مابین جدلیات کی کشمکش کچھ یوں تھی۔ اسٹرکچر میں دوسری پوزیشن کے حامل ہندو جلد از جلد انگریز کو حاصل پہلی پوزیشن پر پہنچنا چاہتے تھے اور غلبے کے حصول کی اس کوشش میں مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ انڈین نیشنلزم اور سیکولر ازم کی تعریف یوں کرتے تھے کہ کوئی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی نہیں ہے ، سب ہندوستانی ہیں۔ وہ ان کی قومی شناخت کا انکار کر کے ان کو اپنی عددی اکثریت کے نیچے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ یوں وہ مسلمانوں سے گزشتہ ایک ہزار سال کا بدلا بھی لینا چاہتے تھے۔ ادھر مسلمان اس صورتحال میں اپنی بقا کی جدوجہد کر رہے تھے۔

مسلمان انڈین نیشنلزم کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ہندوستان میں آباد دونوں بڑی قوموں کے وجود کو تسلیم کیا جائے اور وہ آپس میں معاملات طے کر کے انڈین نیشنلزم کے لیے کام کریں۔ ان کے سیاسی، معاشی و معاشرتی حقوق تسلیم کیے جائیں اور ہر سطح پر انہیں ان کا حصہ دیا جائے۔ برصغیر کے مغرب اور مشرق کے وسیع علاقوں میں وہ اکثریت میں تھے۔ وہ متحدہ ہندوستان کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی حیثیت کو منوانا چاہتے تھے۔

ادھر انگریز اپنی بین الاقوامی سامراجی سیاست میں اتارچڑھاؤ کا شکار تھے۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم اور دونوں جنگوں کے درمیانی عرصہ میں ان کی کوشش رہی تھی کہ ہندوستان میں داخلی امن رہے اور وہ جنگی تیاریوں میں ہندوستان کے وسائل کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ اس کے لیے وہ ہر دس سال بعد آئینی اصلاحات کا ایک پیکیج لاتے تھے۔ لیکن ہر پیکیج سے پہلے اور بعد ہندو۔ مسلم تضاد شدید ہو جاتا تھا۔ وجہ یہ ہوتی تھی کہ کانگریس اس پیکیج میں بلا شرکت غیرے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرتی، خود کو پورے ہندوستان کے عوام کا واحد نمائندہ ثابت کرتی جبکہ حقیقت میں مسلمانوں کے فائدے کا کوئی کام ہوتا تو اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی۔ مسلمانوں کا اعتماد کانگریس سے اٹھتا چلا گیا اور ہندو۔ مسلم جدلیات کے نتیجے میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا مسلم کانفرنس ان کی نمائندہ جماعتوں کے طور پر ابھر آئیں۔ چونکہ کانگریس آبادی کے لحاظ سے بڑے حصے کی نمائندہ تھی اور اس کی ایجی ٹیشن کی قوت بھی زیادہ تھی اس لیے وہ انگریزوں سے اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔

190 5ء میں تقسیم بنگال سے لے کر 1947ء کی تقسیم ہندوستان تک جدلیات کی یہ مثلث اسی کشمکش کا شکار رہی۔ کانگریس کی سودیشی تحریک کے دباؤ سے 1912ء میں تقسیم بنگال کی تنسیخ کر دی گئی اور مسلمانوں کو اس کے عارضی سیاسی و معاشی ثمرات سے محروم کر دیا گیا۔ 1909ء کی منٹو۔مورلے اصلاحات اور 1919ء کی مانٹیگو۔چیمسفورڈ اصلاحات کے نتیجے میں بننے والی لیجسلیٹو کونسلوں میں جداگانہ نمائندگی کا اصول تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کو نمائندگی دے دی گئی تھی لیکن وہ مسلم اکثریتی صوبوں میں بھی اپنی آبادی کے تناسب سے بہت ہی کم تھی۔ تاہم مسلمان نمائندوں کی اکثریت کا تعلق مسلم لیگ سے تھا۔ محمد علی جناح بمبئی کونسل کے رکن تھے اور مسلم لیگ اور کانگرس دونوں میں شامل تھے۔ وہ 1916ء میں کانگرس اور مسلم لیگ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور میثاق لکھنؤ طے کرانے کی وجہ سے ہندو۔مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے۔ 20ء کے عشرے میں لیگ اور کانگرس نے سیلف رول یعنی سوراج کے لیے مشترکہ کوشش شروع کی اور لگا کہ جدلیات کی مثلت کے دو نقطے ایک دوسرے کے قریب ہو کر زیادہ قوت سے سوراج حاصل کر لیں گے۔

پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ، ترکی کی شکست اور خلافت کا خاتمہ، 20ء کے عشرے میں برصغیر کے مسلمانوں کی تمام تر توانائیاں تحریک خلافت میں بہا لے گیا۔ اس تحریک کا مقصد تو پورا نہ ہوا کیونکہ اتاترک نے خلافت کی بساط ہمیشہ کے لیے لپیٹ دی تھی۔ مگر برصغیر میں سیاسی مولویوں کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار ہو گئی۔ ان کا کردار ہندو۔مسلم۔انگریز جدلیات میں زیادہ تر مثبت کردار کے بجائے منفی کردار ادا کرنے کا تھا۔ وہ مسلمانوں کو قرون وسطیٰ کے احیائے اسلام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے اور برصغیر سے انگریزوں کو نکالنے کے لیے کانگرس کا ساتھ دینے کی بھرپور حمایت کرتے تھے۔ مسلمانوں کے سیاسی، معاشی و معاشرتی حقوق کے تحفظ کی مسلم لیگ کی جدوجہد کی کھل کر مخالفت کرتے تھے۔

2 0ء کے عشرے کے اواخر میں دوسری عالمی جنگ کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔ حکومت برطانیہ نے اگلا آئینی پیکیج لانے کے لیے ہندوستانی لیڈروں سے مشورے کے لیے سائمن کمیشن بھیجا جو 1927ء اور 1928ء میں دو مرتبہ ہندوستان آیا۔ ایک مرتبہ پھر ہندو۔مسلم۔انگریز کی جدلیات کی مثلث میں کشمکش تیز ہو گئی۔ مسلمان متحدہ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے سیاسی، معاشی، معاشرتی حقوق کا تحفظ چاہتے تھے۔ مسلم اکثریت کے علاقوں میں مکمل صوبہ کا درجہ صرف پنجاب اور بنگال کو حاصل تھا۔ سندھ صوبہ بمبئی کے حصہ تھا۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ مکمل صوبہ نہ تھا بلکہ ایک لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت مرکز سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ بلوچستان میں جو علاقہ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا وہ ایک چیف کمشنری کا درجہ رکھتا تھا۔ باقی قلات اور دوسری ریاستوں پر مشتمل تھا۔ چنانچہ اس وقت مسلمانوں کی جدوجہد دراصل صوبائی خودمختاری کی تحریک کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ ان کے اولین مطالبات میں سندھ کو بمبئی سے الگ کرنا، صوبہ سرحد اور بلوچستان کو مکمل صوبہ کا درجہ دینا شامل تھا۔ مزید برآں وہ ایک فیڈریشن کا ڈھانچہ چاہتے تھے جس میں صوبوں کے پاس زیادہ اختیارات ہوں اور مرکز کے پاس چند ضروری مرکزی محکمے ہوں۔ جبکہ کانگرس مضبوط مرکز کی حامی تھی اور صوبوں کو کم سے کم اختیارات دینا چاہتی تھی۔ اس طرح مسلم۔ ہندو جدلیات کی کشمکش اپنے اپنے مفادات کے حوالے سے مضبوط مرکز اور ڈھیلے ڈھالے وفاق کے مطالبوں کی شکل اختیار کر گئی تھی۔

ان حالات میں 1928ء۔ 1927ء کے دو سال میں سیاسی کشمکش میں تیزی آئی۔ جناح کی تجاویز دہلی سامنے آئیں پھر کانگرس اور لیگ سمیت آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اور موتی لال نہرو کو سب کے مشترکہ مطالبات پر مبنی رپورٹ بنانے کا کام سونپا گیا تاکہ سائمن کمیشن کے ذریعے حکومت برطانیہ کو آئینی فارمولے کا ایک مشترکہ چارٹر پیش کر دیا جائے مگر نہرو رپورٹ نے مسلمانوں کے فائدے کے تمام مطالبات کو یکسر نظرانداز کر کے ایک مضبوط مرکز پر مبنی وحدانی طرز حکومت کا منصوبہ پیش کر دیا۔ مسلمان سخت مایوس ہوئے اور انہوں نے آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقد کر کے اپنا مطالبات کا علیحدہ چارٹر پیش کر دیا جسے قائد اعظم کے چودہ نکات کہا جاتا ہے۔

محمد علی جناح حالات سے مایوس ہو کر انگلستان چلے گئے۔

یہاں تک یہ واضح ہو جاتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کا سیاسی مسئلہ کیا تھا اور وہ کسی قسم کی کشمکش سے دوچار تھے۔ مسئلہ نظریاتی ریاست کے حصول کا نہیں تھا بلکہ سیاسی و معاشی تحفظات کی کشمکش کا تھا۔ پاور سٹرکچر کے تینوں فریق یعنی انگریز، ہندو اور مسلمان ایک جدل میں ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ لیکن ہمارے نظریاتی ریاست کے علمبردار اسے صرف ایک نظریاتی ریاست کے حصول کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے 1930ء کے مسلم لیگ کے الٰہ آباد کے سالانہ اجلاس میں علامہ محمد اقبال کے خطبہ صدارت کو بنیاد بناتے ہیں۔ آیئے اس خطبے کا مطالعہ کرتے ہیں۔

اس خطبے کا پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس کا مکمل متن نہ تو پڑھا جاتا ہے اور نہ درسی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں سے صرف ایک جملہ اپنے سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ جو یوں ہے کہ:

’’میری خواہش ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست میں ضم کر دیا جائے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ سیلف گورنمنٹ، خواہ یہ سلطنت برطانیہ کے اندر ہو یا سلطنت برطانیہ کے باہر ہو، ایک مربوط شمال مغربی ہندی مسلم ریاست کی تشکیل مسلمانوں کی کم از کم شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کی تقدیر ٹھہرے گی۔‘‘

اردو درسی کتابوں میں لفظ ریاست کے ساتھ ’’خودمختار‘‘ اور انگریزی درسی کتابوں میں “autonomous” کے لفظ کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے جو کہ اصل خطبہ میں نہیں ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ علامہ کا مذکورہ خطبہ 1927-28ء کے پس منظر میں ہے جس میں آل پارٹیز کانفرنس، نہرو رپورٹ اور آل پارٹیز مسلم کانفرنس اور قائد اعظم کے چودہ نکات پیش ہوئے تھے۔ یہ پورا خطبہ ایک متحدہ ہندوستان کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک فیڈریشن پر مبنی ہے جو مسلمانوں کا عمومی مطالبہ تھا اس فیڈریشن کے اندر آپ نے سندھ کو بمبئی سے الگ کر کے پنجاب، سرحد اور بلوچستان کے ساتھ ضم کر کے ریاست بطور ایک فیڈرل یونٹ یعنی صوبہ کے طور پر مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی آپ کا نیا مطالبہ نہیں ہے بلکہ آپ خود اس خطبے میں فرماتے ہیں کہ ’’یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی۔ اس نے اس بنا پر اس تجویز کو رد کر دیا تھا کہ اگر اس قسم کی ریاست قائم ہوئی تو یہ بے ہنگم طور پر وسیع و عریض ریاست ہو گی جس کا انتظام کرنا دشوار ہو گا۔‘‘ اس کا حل آپ نے یہ تجویز کیا کہ اگر انبالہ ڈویژن جو ہندو اکثریت کا تھا، نکال دیا جائے تو یہ مجوزہ ون یونٹ کا صوبہ قابل عمل ہو جائے گا۔

علامہ نے اپنے خطبے کے شروع کا حصہ مسلم قومیت کے تصور پر صرف کیا اور زور دیا کہ انڈین نیشنلزم برصغیر میں آباد قوموں کے وجود سے انکار میں نہیں بلکہ ان کے وجود کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔ انڈین نیشنلزم کی یہ تعریف سرسید سے لے کر جناح تک تمام مسلم رہنما کرتے تھے اور اس بنیاد پر متحدہ ہندوستان میں ڈھیلے ڈھالے وفاق کے قیام کے خواہاں تھے۔ رینان کے ’’قوم‘‘ کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہا ’’اگر اکبر کا دین الٰہی یا کبیر کی تعلیمات عوام الناس میں مقبول ہو جاتیں تو ممکن تھا کہ ہندوستان میں بھی اس قسم کی ایک نئی قوم پیدا ہو جاتی لیکن تجربہ بتلاتا ہے کہ ہندوستان کے مختلف مذاہب اور متعدد جاتیوں میں اس قسم کا کوئی رجحان نہیں کہ وہ اپنی حیثیت کو ترک کر کے ایک وسیع جماعت کی صورت اختیار کر لیں۔ قومیت ہند کا اتحاد ان تمام جماعتوں کی نفی میں نہیں بلکہ ان کے تعاون اور اشتراک اور ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ میری رائے میں ہندوستان اور ایشیا کی تقدیر صرف اس بات پر مبنی ہے کہ ہم قومیت ہند کا اتحاد اسی اصول پر قائم کریں۔‘‘

آگے چل کر کہا:

’’میرا دل اب بھی امید سے لبریز ہے۔ واقعات کا رجحان بہرکیف ہمارے داخلی اتحاد اور اندرونی ہم آہنگی ہی کی جانب نظر آتا ہے۔ اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے مجھے یہ اعلان کرنے میں تامل نہیں اگر فرقہ وارانہ امور کے ایک مستقل اور پائیدار حل کے اس بنیادی اصول کو تسلیم کر لیا جائے کہ مسلمانان ہند کو اپنی روایات و تمدن کے ماتحت اپنے ہندوستانی مادر وطن کے اندر رہتے ہوئے آزادانہ نشوونما کا حق حاصل ہے تو وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔‘‘

آپ نے ون یونٹ کا صوبہ تجویز کرنے کے بعد آگے چل کر کہا کہ ’’اس سے مسلمانوں میں احساس ذمہ داری مضبوط ہو گا اور جذبہ حب الوطنی فروغ پائے گا۔ اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ بھرپور موقع دیا جائے کہ وہ ہندوستان کے نظام سیاست میں رہ کر نشوونما پا سکیں تو وہ ہندوستان کے خلاف تمام حملوں کی صورت میں چاہے یہ حملہ بزور قوت ہو یا بزور خیالات، ہندوستان کے بہترین محافظ ثابت ہوں گے۔‘‘

اس کے بعد آپ نے وفاق ہندوستان کے دفاع پر بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی اور کہا ’’مجھے یقین ہے کہ وفاقی حکومت کے قیام کی صورت میں مسلم وفاقی ریاستیں ہندوستان کے دفاع کی خاطر غیرجانبدار بری اور بحری فوجوں کو قائم کرنے کے لیے بخوشی رضامند ہو جائیں گی۔ ہندوستان کے دفاع کے لیے اس قسم کی غیر جانبدار فوجی طاقت مغلیہ دور حکومت میں موجود تھیں۔ اکبر کے زمانہ میں ان تمام سرحدی فوجوں کے افسر ہندو تھے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ہندوستان کے وفاق پر مبنی ایک غیرجانبدار ہندوستانی فوج کے قیام سے مسلمانوں کی حب الوطنی میں اضافہ ہو گا۔‘‘

علامہ نے اصل میں مسلم لیگ کے سرکاری موقف کے بارے میں کہ برصغیر میں ایک ڈھیلا ڈھالا وفاق قائم کیا جائے یہ خطبہ بہت تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔ آپ نے اس میں صوبوں کی ازسرنو حدبندی کا جو مطالبہ کیا وہ بھی مسلم لیگ پہلے سے کر رہی تھی۔ اس خطبے میں آپ نے ایک جگہ سندھ اور بلوچستان کو باہم ضم کر کے ایک صوبہ بنانے کی بھی تجویز دی۔ آپ نے نہرو رپورٹ کی مجوزہ وحدانی طرز کی مضبوط مرکز کی حکومت کی مخالفت کی اور کہا کہ ’’مسلمانوں کو اس وقت تک فائدہ نہیں ہوسکتا جب تک انہیں ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے پانچ میں تمام اختیارات ما البقی کے ساتھ اکثریت کے حقوق حاصل نہ ہوں اور وفاقی مجلس قانون ساز میں 33 فیصد نشستیں نہ ملیں۔‘‘ آپ نے مسلم اکثریت پر مبنی خودمختار ریاستوں یعنی صوبوں کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ’’ہندوؤں کے دلوں میں یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ خودمختار مسلم ریاستوں کے قیام سے ان علاقوں میں ایک طرح کی مذہبی حکومتیں قائم ہو جائیں گی۔‘‘ آپ نے اس کے لیے ٹائمز آف انڈیا کے اداریے کے حوالے سے بتایا کہ’’ باوجودیکہ اسلام میں سود لینا حرام ہے ، مسلم دور حکومت میں ہندوستانی مسلم ریاستوں نے شرح سود پر پابندی نہیں لگائی تھی۔‘‘(2)

ان اقتباسات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے اس خطبہ میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن یعنی Sovereign State کے قیام کا کوئی تصور پیش نہیں کیا تھا۔خود علامہ نے 1934ء میں اس کی تردید فرمائی جس کی تفصیل کچھ یوں ہے :

1930-32ء کے دوران گول میز کانفرنسوں کے انعقاد کے دوران کیمبرج کے طلبہ کے گروپ نے چودھری رحمت علی کی قیادت میں پمفلٹ شائع کیا جس میں پاکستان کے نام سے شمالی مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کے ملک کا نقشہ شائع کیا گیا تھا۔ 1934ء میں علامہ اقبال کی کتاب رموز خودی کے انگریزی ترجمے پر ان کے پروفیسر ای۔جے۔ تھامپسن نے تبصرہ کرتے ہوئے علامہ کے تعارف میں آپ کے خطبہ الہ آباد کو چودھری رحمت علی کی پاکستان کی تجویز سے منسلک کر دیا۔ آپ نے یہ تبصرہ پڑھا تو جواب میں جو خط لکھا وہ پروفیسر تھامپسن کے خطوط کے مجموعہ میں شامل ہے جسے علی گڑھ یونیورسٹی نے شائع کیا ہے۔ آپ نے اس میں لکھا ’’۔۔۔آپ نے ایک غلطی کی ہے جس کی میں فوری نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ آپ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں اس سکیم کا حامی ہوں جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میری سکیم نہیں ہے۔ میں نے اپنے خطبے میں جو تجویز پیش کی تھی وہ ایک مسلم صوبہ کے بارے میں تھی۔ جو شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا۔ میری سکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہو گا۔ پاکستان سکیم میں مسلم صوبوں پر مشتمل ایک علیحدہ فیڈریشن کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔۔۔۔ اس سکیم نے کیمبرج میں جنم لیا ہے۔ ‘‘(3)

یہ امر بھی خالی از دلچسپی نہیں ہے کہ خود قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے کسی بیان میں اور مسلم لیگ نے اپنی کسی سرکاری قرارداد میں کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ 1938ء میں علامہ اقبال کا انتقال ہوا۔ دسمبر 1938ء کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں اس سال کے دوران وفات پانے والی تین معتبر شخصیات مولانا شوکت علی، کمال اتاترک اور علامہ اقبال کے بارے میں قائد اعظم نے اپنے صدارتی خطبہ کے اختتام پر تعزیتی الفاظ کہے۔ آپ نے علامہ کے بارے میں فرمایا:

“His death too is an irreparable loss to Muslim India. He was personal friend of mine and a singer of the finest poetry in the world. He will live as long as Islam will live. His able poetry interprets the true aspiration of the Muslims of India. It will remain an inspiration for us and for generations after us”.(4)

ترجمہ : ’’ اُن کی وفات مسلم ہند کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔وہ میرے ذاتی دوست تھے۔اور دنیا کی عمدہ ترین شاعری کے مغنی تھے۔وہ اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک اسلام زندہ ہے۔آپ کی پر مغز شاعری مسلمانان ہند کی امنگوں کی سچی ترجمانی کرتی ہے۔یہ شاعری ہمارے لئے اور ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے ولولہ مہیا کرتی رہے گی۔‘‘

آپ نے ان کی شاعری ،اسلام سے وابستگی اور ذاتی دوستی کے حوالے سے خراج تحسین پیش کیا۔ علامہ کے بارے میں بطور سیاست داں یا فلسفی کے کچھ نہیں کہا۔ اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے تصور کے خالق کا تو دور دور کوئی ذکر نہیں ہے۔اسی اجلاس میں مسلم لیگ نے تعزیتی قرارداد بھی منظور کی۔ اس میں بھی آپ کو اسلام کے سنجیدہ فلسفی “a sage philosopher of Islam”اور عظیم قومی شاعر “great national poet”کی حیثیت سے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ (5) گویا گزشتہ 8 سال سے لیگ کو یہ علم نہیں تھا کہ علامہ نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کر رکھا ہے اور اس حوالے سے آپ کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ حقیقت یہ تھی کہ ایسا تھا ہی نہیں۔

مارچ 1940ء میں لاہور کا مسلم لیگ کا اجلاس جس میں پہلی بار مسلم لیگ نے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں پر مبنی مکمل آزاد مملکتوں Sovereign Statesکے قیام کا مطالبہ کیا، اس جلسے میں قائد اعظم سمیت کسی مقرر نے علامہ اقبال کا ذکر تک نہیں کیا۔ چہ جائیکہ ان کے تصور پاکستان کے خالق کی حیثیت سے کوئی ذکر کیا جاتا۔ حالانکہ جس جگہ پر جلسہ ہو رہا تھا وہاں سے نصف کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر علامہ اقبال کا مزار ان دنوں زیر تعمیر تھا۔ یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ قائد اعظم نے اپنی طویل افتتاحی تقریر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے مطالبے کی حمایت میں ماضی کا جو حوالہ دیا وہ پنجاب کے مہاسبھائی لیڈر لالہ لاجپت رائے کا تھا جس نے 1924ء میں اخبار ٹریبیون میں اپنے ایک مضمون میں برصغیر کی فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کی سکیم پیش کی تھی۔ غالباً یہ برصغیر میں پہلی بار تھا کہ ایسی کوئی سکیم پیش کی گئی تھی۔ اس کی سکیم یہ تھی کہ ’’مسلمانوں کی چار ریاستیں ہوں گی۔ (1) پٹھانوں کا صوبہ یا شمال مغربی سرحد۔ (2) مغربی پنجاب (3) سندھ اور (4) مشرقی بنگال۔ یہ متحدہ ہندوستان نہیں ہو گا۔ ہندوستان واضح طور پر مسلم انڈیا اور غیرمسلم انڈیا میں تقسیم ہو گا۔‘‘ (6)

قائد اعظم نے مارچ 40ء کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے انہی دنوں چھپی اندر پرکاش کی کتاب نکالی جس میں لالہ لاجپت رائے کا ایک خط شامل تھا جو اس نے 16 جون 1925ء کو کانگرس کے صدر سی۔آر۔داس کو لکھا تھا۔ قائد اعظم نے یہ پورا خط پڑھ کر سنایا جس میں لاجپت رائے نے جو لکھا اس کا لب لباب یہ تھا کہ ’’میں مسلمانوں کی تاریخ اور فقہ پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ آپ کو ہمارے لیے کوئی راہ نجات نکالنی چا یے۔‘‘ (7)

مولوی اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی تو اس کی تائید میں چودھری خلیق الزمان کے علاوہ مولانا ظفر علی خان نے بھی تقریر کی۔ ان کے علاوہ جن اصحاب نے تقریر کی ان میں سردار اورنگ زیب (سرحد)، سر عبداللہ ہارون (سندھ)، نواب محمد اسماعیل (بہار)، محمد عیسیٰ خان (بلوچستان)، عبدالحمید خاں (مدراس)، اسماعیل چندریگر (بمبئی)، عبد الرؤف شاہ (سی پی) اور ڈاکٹر محمد عالم شامل تھے۔ ڈاکٹر عالم نے کہا کہ ایسی ہی سکیم غدر پارٹی کے بھائی پرمانند نے 1914-15ء میں بھی پیش کی تھی۔ (8) لاہور کے رہنے والے مولانا ظفرعلی خان سمیت کسی نے بھی حوالہ نہ دیا کہ مسلمانوں کے علیحدہ وطن کا تصور علامہ اقبال نے 10 سال پہلے پیش کیا تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان لوگوں کی یادداشت کمزور تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ایسا ہوا ہی نہیں تھا۔

میں نے 1940ء سے 1947ئمیں قیام پاکستان تک مسلم لیگ کے تمام اجلاسوں کی کارروائیاں کابغور مطالعہ کیا۔ 1942ء میں مسلم لیگ نے لفظ پاکستان کو قرارداد لاہور کے ساتھ منسلک کر لیا۔ پھر 1945-46ء کے انتخابات میں مطالبہ پاکستان مسلم لیگ کا انتخابی منشور کا حصہ بن گیا۔ لیکن ان سات برس کی تمام کارروائیوں میں کسی ایک جگہ بھی اس مطالبے کے ساتھ علامہ اقبال کو منسوب نہیں کیا گیا۔ حالانکہ 1943ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی میں انور قریشی نے جلسہ کے شروع میں ترانہ ’’چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا‘‘ پڑھ کر سنایا اور اسی اجلاس میں جی ایم سید نے اپنی تقریر میں علامہ اقبال کے اشعار کا استعمال کیا۔ اور پھر قائد اعظم نے صدارتی تقریر کی۔ مگر علامہ کا تصور پاکستان کے خلاق کے طور پر کسی نے ذکر نہ کیا۔ (9) 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت اور اس کے بعد اپنے انتقال ستمبر 1948ء تک اپنے کسی بیان میں قائد اعظم کی جانب سے اس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ حالانکہ اس دوران 21 اپریل 1948ء کو یوم اقبال بھی آیا جسے اس وقت تک سرکاری طور پر نہیں منایا جاتا تھا۔ لوگ اپنے طور پر منایا کرتے تھے۔

یہ بات تحقیق طلب ہے کہ اقبال کو تصور پاکستان کے خالق کے طور پر کب اور کہاں شروع کیا گیا۔ غیرسرکاری طور پر پنجاب کے مسلم لیگی حلقوں میں 1945-46ء کے انتخابات میں اس کا ذکر شروع کر دیا گیا تھا۔ اس میں اخبار نوائے وقت پیش پیش تھا۔ لیکن سرکاری طور پر پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے یہ سلسلہ بہت بعد میں شروع کیا۔ اس سلسلے میں اہم کردار پنجابی بیوروکریسی نے ادا کیا جس کے سرغنہ چوہدری محمد علی، سیکرٹری جنرل حکومت پاکستان اور وزیر خزانہ ملک غلام محمد تھے اور میڈیا میں حمید نظامی کا ادارہ نوائے وقت جو دراصل پنجابی شاونزم کا ترجمان تھا اور پنجابی فوج اور افسر شاہی کی سیاسی نظریہ سازی کیا کرتا تھا۔ ان پنجابی شاونسٹوں کی سیاسی ترجمانی نواب مشتاق گورمانی اور نواب افتخار حسین ممدوٹ کرتے تھے ، اس کے علاوہ اردو بولنے والوں میں خود وزیر اعظم لیاقت علی خان اور وزراء ڈاکٹر محمود حسین اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی بھی نظریہ سازی کے لئے اقبال کو استعمال کرنے کا کام شروع کر چکے تھے۔ قیام پاکستان پر دو اہم کتابیں شائع ہوئیں۔ایک چوہدری محمد علی کی Emergence of Pakstan اور دوسری ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کیThe Struggle for Pakistan۔ ان دونوں حضرات نے نظریہ پاکستان کی مذہبی بنیادوں پر اسلامی نظام کی تجربہ گاہ کے تھیسیس کو پروموٹ کیا۔پنجابی اور مہاجر شاونسٹوں دونوں کی یہ سیای ضرورت تھی۔ مہاجروں کا زمین سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس لئے وہ جغرافیائی سرحدوں کے بجائے نظریاتی سرحدوں کے نام پر یہاں اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتے تھے۔پنجابی بنگالیوں کے مقابلے میں اپنی عددی کمی کو کسی بھی سیکولر ریاست کے ڈھانچے میں جو قائد اعظم کے دستور سازی کے تصور پر مبنی ہوتی ایک غالب قوت میں نہیں بدل سکتے تھے۔ چنانچہ نظریہ پاکستان کی ان کو بھی بڑی شدید ضرورت تھی جس کے لئے پنجابی علامہ اقبال سب سے موزوں شخصیت ہو سکتے تھے۔

1938ء میں سندھ مسلم لیگ پراونشل پارٹی نے جی۔ایم۔سید اور مولانا عبد المجید سندھی کی قیادت میں یہ قرارداد پہلی بار منظور کی تھی کا مسلمانوں کا الگ وطن ہونا چاہئے۔ لیکن اس کا کوئی ذکر نہیں کرتا کیونکہ جی ایم سید کے قاید اعظم کے ساتھ 46 کے انتخابات کیلئے انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف ہو ا اور سید ہمیشہ کے لئے لیگ کا مخالف ہو گیا یہاں تک کہ بعد میں قیام پاکستان کا بھی مخالف ہو گیا۔ تاہم تاریخی حقیقت کے طور پر سندھ پراونشل مسلم لیگ کی قرار داد جو 40 سے پہلے اور لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی نوعیت کی پہلی قرارداد تھی، ان نظریہ سازوں کو کبھی نظر نہ آئی کیونکہ یہ سندھ سے آئی تھی اور نظریہ سازی اپنے اپنے مفاد کے لئے پنجابی اور مہاجر کر رہے تھے۔

یہ تاریخی مغالطہ دور کرنا ضروری تھا اس لیے بحث بہت دور تک چلی گئی۔ بتانا صرف یہ تھا کہ قیام پاکستان نظریوں یا تصورات یا خوابوں کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا تھا۔یہ خواب اور نظرئیے بعد کی پیداوار ہیں۔ پاکستان دراصل برصغیر میں ہندو۔مسلم۔انگریز کی جدلیات کی مثلث میں جو کشمکش چل رہی تھی، اس کے نتیجے میں ایک انجام تک پہنچا تھا۔ قائد اعظم کے دو قومی نظرئیے یا تھیوری کو بھی ان نظریہ سازوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مسئلے کو ایک ڈھیلے ڈھالے آل انڈیا وفاق میں رہتے ہوئے حل کرنے کو تقسیم کے مقابلے میں ترجیح دی تھی اور آخر وقت تک اس کے لئے کوشش کرتے رہے۔ اس کی مختصر تفصیل یہ ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے اختتام تک انگریزوں کا دیوالیہ ہو چکا تھا۔ اور انگریز نے برصغیر سے بستر گول کرنے کا بگل بجا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہندو۔مسلم۔انگریز کی جدلیات کی مثلث کی کشمکش تیز ہو گئی تھی۔ ان تینوں کی ترجیحات یہ تھیں:

1- انگریز: ہر قیمت پر برصغیر کو متحد اکائی کے طور پر چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے ڈیڑھ سو برس کی کوشش سے جو سول اور فوجی ڈھانچہ کھڑا کیا تھا وہ اسے متحد اس لیے چھوڑنا چاہتے تھے کہ عالمی جنگ کے اختتام پر سوویت یونین اور ابھرتا ہوا چین کا کمیونسٹ انقلاب برصغیر میں داخل نہ ہوسکے کہ اس کے بعد خلیج، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور افریقہ تک اس کا راستہ روکنا بہت مشکل ہو جاتا۔

2- ہندو: کانگرس کے سیکولرازم کے بینر کے تحت پورے برصغیر پر مضبوط مرکزی حکومت کے ذریعہ مکمل اور بلاشرکت غیرے کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔

3- مسلمان: ہر حال میں مسلم اکثریتی صوبوں کو ہندوؤں یعنی کانگرس کے مضبوط مرکزی کنٹرول سے آزاد رکھنا چاہتے تھے اور کم از کم مکمل علاقائی خودمختاری چاہتے تھے۔

یہ کشمکش 1944ء میں لارڈ ویول کی جانب سے گاندھی۔جناح ملاقاتوں کے اہتمام اور پھر تمام رہنماؤں کی شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد اس وقت نئے موڑ میں داخل ہو گئی جب نئی لیبر حکومت کے وزیر اعظم ایٹلی نے 1945-46ء میں انتخابات کا اعلان کر دیا اور 48ء میں انتقال اقتدار کی تاریخ دے دی۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ تمام صوبائی اور مرکزی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت بن کر ابھری۔ مارچ 46ء میں حکومت برطانیہ نے انتقال اقتدار کا فارمولا طے کرنے کے لیے تین وزیروں لارڈ پیتھک لارنس، سٹیفرڈ کرپس اور اے۔وی۔الیگزینڈر کو ہندوستان بھیجا۔ انہوں نے تین ماہ تک تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور بالآخر مئی 46ء میں ایک آئینی منصوبہ پیش کیا۔ جسے وزارتی مشن منصوبہ کہا جاتا ہے۔ اس میں دستورساز اسمبلی بنانے کا خاکہ دیا گیا تھا اور جن سیاسی جماعتوں کو یہ قبول تھا انہیں عبوری حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ دستور سازی کا خاکہ تین گروپوں یاہ زونوں پر مشتمل تھا۔ جن میں ان صوبوں کو شامل کیا گیا تھا۔

گروپ A۔ مدراس، بمبئی، یوپی، بہار، سی پی، اڑیسہ۔

گروپ B۔ پنجاب، سرحد، سندھ

گروپ C۔ بنگال ،آسام۔

یہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کی سکیم تھی جس میں مرکز کے پاس دفاع، خارجہ، مواصلات اور ان محکموں کے لیے درکار آمدنی کے حصول کے اختیارات تھے۔ باقی سب اختیارات گروپ (زون) اور صوبائی سطح پر منتقل) Devolve (کر دیئے گئے تھے۔ اسے گروپنگ سکیم یا زونل سکیم کہا جاتا تھا۔ اس آئینی منصوبے کے دیباچہ میں پاکستان کی سکیم کو ناقابل عمل قرار دے کر رد کر دیا گیا تھا۔ تاہم جناح نے باوجود اس کے کہ لیگ نے مطالبہ پاکستان پر انتخاب جیتا تھا۔ مسلم لیگ کی طرف سے اس منصوبے کو منظور کر لیا۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ ہی پاکستان ہے۔یاد رہے کہ ایک اور نعرے کو نظریہ سازون نے استعمال کیا ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اﷲ ’۔اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نعرہ گلی گلی اور مسلم لیگ کے ہر جلسے میں لگایا جاتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعرہ فقط ایک مرتبہ لگا اور وہ مسلم لیگ کا جلسہ نہیں تھا بلکہ جمعیت المشائخ کے جلسہ منعقدہ موچی دروازہ لاہور میں پیر جماعت علی شاہ نے مسلم لیگ کی 46کے انتخابات میں حمایت کیلئے لگایا تھا۔ یہ نعرہ یا اس سے ملتا جلتا کوئی نعرہ مسلم لیگ کے کسی جلسہ میں یا کسی رسمی اجلاس میں یا قرار داد میں شامل نہیں ہوا۔ مشائخ یا صوفیا جو عوام الناس کے زیادہ قریب تھے پاکستان کے حامی تھے جبکہ ملاؤں کی مذہبی سیاسی جماعتیں اس کی بڑھ چڑھ کر مخالفت کر رہی تھیں۔ مجلس احرار، جمیعت علمائے ہند، جماعت اسلامی، آل انڈیا شیعہ کانفرنس، آل انڈیا مومن کانفرنس، خاکسار تحریک شامل تھے۔ ایک احراری ملا مظہر علی اظہر جلسوں میں یہ شعر پڑھا کرتا تھا۔

اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا

یہ قائد اعظم ہے کہ ہے کافر اعظم

تاہم 46کا انتخاب پاکستان کے نام پر جیتنے کے باوجود قائد اعظم وزارتی مشن منصوبہ کی مجوزہ زونل یا گروپنگ پر مبنی کل ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے آئین کو قبول کر چکے تھے۔لیکن کانگرس نے دستورساز اسمبلی کے قیام اور انتقال اقتدار کی باقی سب شقوں کو تو منظور کر لیا مگر گروپنگ سکیم یا زونل سکیم کو رد کر دیا۔ مسلم لیگ جو کسی مخصوص نظریے کے تجربے کے لیے مملکت کے حصول پر کام نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ اب بھی ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کو قبول کر رہی تھی، کو شدید مایوسی ہوئی۔ اس پر کانگرس کے صدر ابوالکلام آزاد کو بھی بہت مایوسی ہوئی تھی کیونکہ آزاد کے مطابق یہ ایک بہترین حل تھا مگر اس منصوبے کو نہرو نے سبوتاژ کر دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ گاندھی اور پٹیل بھی اسے سبوتاژ کرنے میں برابر کے شریک تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ کانگرس ڈھیلے ڈھالے وفاق کے بجائے مضبوط مرکز کے ذریعے ہندوستان پر گرفت مضبوط کرنا چاہتی تھی۔ اگرچہ اس نے مشن منصوبہ مکمل منظور نہ کیا تھا مگر اسے عبوری حکومت میں شامل کر لیا گیا۔

کانگرس کی طرف سے گروپنگ سکیم کے رد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ نے بھی اپنے فیصلے کوواپس لے لیا اور ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کر دیا۔ 16 اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے منایا گیا۔ اور پورے برصغیر میں ہندو۔مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ صرف کلکتہ میں تین دن میں پچاس ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ اور پھر یہ سلسلہ نہ رک سکا۔ تین چار ماہ تک نواکھلی سے لے کر بہار اور گڑھ مکتیشر تک خون کے دریا بہا دیئے گئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔

مسلم لیگ جسے عبوری حکومت سے اس لیے باہر رکھا گیا تھا کہ اس نے مشن منصوبہ کی منظوری واپس لے لی تھی۔ مگر فسادات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے اکتوبر 46ء میں لیگ کو بھی عبوری حکومت میں شامل کر لیا گیا۔ اس حکومت میں آئے دن کانگرس اور لیگ کے وزراء کے مابین چپقلش جاری رہتی تھی۔

دسمبر46ء تک برطانوی حکومت اور کانگرس میں یہ طے پا گیا کہ انتقال اقتدار کانگرس کی Terms پر کر دیا جائے گا۔ لارڈ ویول جو ابھی تک وزارتی مشن منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کر رہا تھا اور کانگرس کو انتہائی ناپسند تھا، برطرف کر دیا گیا۔ اس کی جگہ کانگرس کی منشاء سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقرر کا اعلان کر دیا گیا۔ جناح نے مشن منصوبے کی مجوزہ گروپنگ سکیم کو بچانے کے لیے ایک آخری کوشش کے طور پر دسمبر 46ء میں لندن کا دورہ کیا۔ وہ اسے خونریز مسلم کش فسادات کے باوجود اب بھی متحدہ ہندوستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کو پاکستان کی سکیم سے بہتر سمجھتے تھے۔ لیکن اس ضعیف العمری اور سخت سردی میں دسمبر کے لندن دورے کے دوران برطانوی حکام نے انہیں بتا دیا کہ گروپنگ سکیم اب قصہ پارینہ ہو چکی ہے۔ اس دوران نہرو بھی مختصر دورے پر لندن بلایا گیا تھا۔

مارچ 47ء میں نیا وائسرائے ماؤنٹ بیٹن انتقال اقتدار کے آخری راؤنڈ کے لیے دہلی پہنچا۔ اس کا رویہ جناح اور لیگی رہنماؤں کے ساتھ انتہائی رعونت آمیز اور معاندانہ تھا جبکہ کانگرسی رہنماؤں خصوصاً نہرو کے ساتھ بہت گہرے تعلقات تھے۔ اس نے اپریل اور مئی دو ماہ میں حالات کا جائزہ لیا اور تمام سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ وہ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے لیے پاگل پاکستان کا لفظ استعمال کیا کرتا تھا۔ اس لیے کہ جو پاکستان وہ دینا چاہتا تھا وہ ایک کٹا پھٹا پاکستان تھا۔

یکم مئی 47ء کوکانگرسی مجلس عاملہ نے برصغیر کی تقسیم کی منظوری دے دی۔ جس میں پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کیا گیا تھا۔ منقسم پنجاب اور منقسم بنگال پر مبنی پاکستان کو قائد اعظم ہمیشہ نامنظور کیا کرتے تھے۔ وہ اسے کٹا پھٹا، کرم خوردہ اور ناقابل عمل قرار دیتے تھے۔ کانگرس بھی ایسا ہی سمجھتی تھی اور ایک کمزور پاکستان دے کر وہ باقی پورے ہندوستان پر ایک مضبوط مرکز کے تحت کنٹرول حاصل کرنے جا رہی تھی۔ اس سلسلہ میں 7-10 مئی کے دوران ماؤنٹ بیٹن اور نہرو شملہ چلے گئے۔

تقسیم کے منصوبے کا ڈرافٹ ڈومینین کی بنیاد پر شملہ کے سیسل ہوٹل میں وی۔پی مینن نے ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کی ہدایات کے مطابق تیار کیا۔ یہ بھی فیصلہ کر لیا گیا کہ انتقال اقتدار 48ء کے بجائے اگست 47ء میں ہی کر دیا جائے گا۔ تقسیم کی ساری تفصیل، باؤنڈری لائن تک نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کے مابین طے ہوئی۔ جس کی منظوری ماؤنٹ بیٹن لندن سے لے کر آیا اور 3 جون 47ء کو پارٹیشن ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ (10)

قائد اعظم کے پاس اسی پاکستان کو قبول کر لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا جسے وہ ہمیشہ کٹا پھٹا، کرم خوردہ اور ناقابل عمل قرار دیا کرتے تھے۔ تاہم انہوں ن ے ایک کوشش اور کی کہ پنجاب اور بنگال تقسیم نہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ کلکتہ کے بغیر مشرقی بنگال معاشی طور پر چل نہیں سکے گا۔ انہوں نے سکھ رہنماؤں کو بہت یقین دہانی کرائی اور گیانی کرتار سنگھ مان بھی گیا مگر ماسٹر تارا سنگھ نہ مانا اور یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ البتہ بنگال کی تقسیم روکنے کی جو کوشش ہوئی اس میں قدرے کامیابی کی امید پیدا ا ہوئی۔ حسین شہید سہروردی جو متحدہ بنگال کے مسلم لیگی وزیر اعلیٰ تھے ، قائد اعظم کی اشیرباد سے بنگال کے فارورڈ بلاک کے رہنما سرت چندر بوس اور بنگال پراونشل کانگرس کے صدر کرن شنکر رائے کو بنگال کو متحد رکھنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تجویز یہ تھی کہ متحدہ بنگال ایک الگ تیسرا آزاد ملک بن جائے۔ سہروردی نے بنگال کے رہنماؤں کو قائل کرنے کے بعد ماؤنٹ بیٹن کو اس تجویز سے آگاہ کیا۔ ماؤنٹ بیٹن نے پوچھا کہ جناح کی اس بارے میں کیا رائے ہے تو سہروردی نے بتایا کہ یہ ان کی اشیرباد سے ہی طے ہوا ہے۔ اس کے بعد ماؤنٹ بیٹن نے جناح کے ساتھ ملاقات میں ان سے اس بابت دریافت کیا تو جناح بولے کہ’’ ہمیں آزاد متحدہ بنگال کے بننے پر خوشی ہو گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہوں گے۔‘‘ یاد رہے متحدہ بنگال کی اس ریاست کا نام سوشلسٹ ری پبلک آف بنگال تجویز کیا گیا تھا۔ لیکن گاندھی، نہرو اور پٹیل نے بنگال کانگرس کی قیادت کو سہروردی کے ساتھ اس قسم کی تجویز پر اتفاق کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسے کامیاب نہ ہونے دیا۔ (11)

یہ ظاہر ہوا کہ قائد اعظم کسی مخصوص نظریے کی تجربہ گاہ کے لیے ملک بنانے نہیں جا رہے تھے۔ وہ اس وقت ہی آزاد اور متحدہ بنگال (یعنی بنگلہ دیش) بنانے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ وہ ایک حقیقت پسند pragmaticسیاست دان تھے۔ وہ کسی تھیوکریٹک ریاست کے قیام کے سخت خلاف تھے۔ جب 14 اگست کو ملک کا قیام عمل میں آیا، تو ان کے ہر بیان اور ہر عمل سے یہ بات ظاہر ہوئی۔ مگر بنگال اور پنجاب کی تقسیم نہ رک سکی۔ باؤنڈری کمیشن محض برائے نام بنایا گیا تھا۔ لکیر کہاں ڈالی جائے گی یہ فیصلہ نہرو اور ماؤنٹ بیٹن پہلے ہی کر چکے تھے۔ لیکن باؤنڈری کمیشن کے ایوارڈ کا اعلان دونوں ملکوں کے وجود میں آنے کے بعد 17اگست کو ہوا۔ مشرقی پنجاب بالخصوص وہاں کے دیہاتوں میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ پتہ ہی نہ تھا کہ ان کا علاقہ پاکستان میں ہو گا۔ان پر اچانک سکھوں کے حملوں سے جو قیامت ٹوٹی اس سے معلوم پڑا کہ وہ دشمن کے علاقے میں ہیں۔ پنجاب کے دونوں حصوں میں جو قتل عام ،خونریزی اور تباہی ہوئی اس کی تفصیل سے آپ سب واقف ہیں۔لیکن صرف یہ کہوں گا کہ پنجاب کے دونوں طرف کے لوگوں کا یہ چوائس نہیں تھا کہ یہ خونریزی ہو۔ ان پر تاریخ کی جدلیات کا جبر ٹوٹا تھا جس سے بچنا شاید ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ کانگرس کی تنگ نظر قیادت اور برطانوی سامراج تھوڑی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے اور ڈھیلے ڈھالے وفاق پر مبنی گروپنگ سکیم کے تحت انتقال اقتدار کر دیتے تو یہ عذاب نہ ٹوٹتا اور ضلع گورداسپور اور فیروزپور میں غیر منصفانہ طریقے سے باؤنڈری ڈال کر مسئلہ کشمیر کی شکل میں ایک ناسور پیدا کیا گیا، اس سے بھی نجات مل جاتی۔ دونوں ملک Security Statesکی حیثیت سے اپنا اربوں ڈالر کا بجٹ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں شاید اس سے بھی بچت ہو جاتی۔

تقسیم کے بعد بھی برصغیر میں قوتوں کے مابین کشمکش کی جدلیات بدستور جاری رہی۔ہندو مسلم تضاد، پاک بھارت تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا۔دونوں ملکوں کے مابین تین جنگیں ہوئیں۔ ایٹمی دوڑ شروع ہوئی۔اُدھر سے اگنی اور پرتھوی داغے جاتے ، ادھر سے غزنوی اور غوری۔پاکستان کے اندر، جو بنیادی طور پر صوبائی خودمختاری کی تحریک کی بدولت وجود میں آیا تھا، جب یہاں ’’نظریہ پاکستان‘‘ اور ’’نظریاتی تجربہ گاہ‘‘ کا نام لے کر ان صوبائی حقوق کو سلب کر لیا گیا تو پھر یہ جدلیات اگلے مرحلے میں داخل ہو کر 71ء میں ایک اور تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ جس طرح ’’انڈین نیشنلزم‘‘ کا نظریہ 1947ء کی تقسیم کو نہیں روک سکا تھا، ویسے ہی ’’نظریہ پاکستان‘‘ 71ء کی تقسیم کو نہ روک سکا۔ 47ء سے پہلے انڈین نیشنلزم کے علمبردار کہتے تھے ، کوئی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی نہیں سب ہندوستانی ہیں اور یہ کہہ کر وہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی نفی کرتے تھے ویسے ہی قیام پاکستان کے بعد کہا گیا کہ کوئی بنگال، سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی نہیں، سب پاکستانی اور مسلمان ہیں اور یہ کہہ کر بنگالیوں، سندھیوں، بلوچوں اور پٹھانوں کے حقوق کی نفی کی گئی۔ مگر تاریخ کی جدلیات نے ثابت کیا کہ نظریے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، جدلیاتی قوتیں اپنا راستہ بنا لیتی ہیں اور تاریخ آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس مرتبہ پاکستان کے یوم آزادی پر بلوچستان میں کالے جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔ ادھر کشمیر میں ہمیشہ کی طرح پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔ آج پاکستان بلکہ پاکستان اور ہندوستان کے حکمرانوں کو نظریئے کے شکنجے سے نکل کر حالات کی جدلیات کی حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ ورنہ سرحدیں اور ملک نظریوں کے مرہون منت نہیں ہوا ا کرتے۔

٭٭٭

 

 

 

 

حواشی

 

1.Al-Beruni, Abu Rehan, Indica, Translated by Edward Sachau, Munshiram Manoharlal Publishers, New Delhi, 3rd Edition 1992, pp.17-24.

  1. i) For complete orignal in English of Allama Iqbal’s presidential address in the Annual Session All India Muslin League at Allahabad, December 1930, See.
  2. i) Foundations of Pakistan, All India Muslim League Documents: 1906-1947, Edited by Syed Sharifuddin Pirzada, Vol II (1924-47), National Publishing House, Karachi, 1970, pp. 154-171.
  3. ii) Syed Abdul Vahid, Thoughts and Reflections of Iqbal, Sh. Muhammad Ashraf, Lahore, 1973, pp.161-194

(iii) اردو میں علامہ اقبال کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد ، 1930ء کے خطبہ صدارت کا مکمل متن دیکھئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔جلد 5۔ مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقاء (1849-1947ء)۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ ادارہ مطالعہ تاریخ۔ 1991ء۔ ص ص 395-417

3.S. Hassan Ahmad, Iqbal: His Political Ideas at Cross Roads, Print Well Publications, Aligarh 1979, p.8 0(p.94)

اردو متن کے لیے دیکھئے۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ محولہ بالا ص 418

  1. Foundations of Pakistan, op, cit, see 26th session. Patna, 1938, p.303
  2. Ibid . p 303
  3. M.H. Saiyid, Mohammed Ali Jinnah, A Political Study, Elite Publisher, Karachi, 2nd Ed. Reprinted 1962, p.109
  4. Foundation of Pakistan, op.cit, 27th session, Lahore 1940, pp. 335-336
  5. Ibid. pp. 343-345
  6. Ibid. pp. 442-448

10۔ 44ء سے 47ء تک انگریز، کانگرس اور مسلم لیگ کے مابین جدلیات کی تفصیل جس میں مشن منصوبہ کی مجوزہ گروپنگ سکیم کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں اور کانگرس کی جانب سے اسے ناکام بنا کر ایک مضبوط مرکز کے تحت ہندوستان کے وسیع علاقے پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی خاطر تقسیم ہند کو اپنی منشا کے مطابق منوانے کی کانگرس کی کوششوں اور انگریزوں سے تعاون کی تفصیل کے لیے دیکھئے۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔ پاکستان کیسے بنا؟ دو جلدیں۔ ادارہ مطالعہ تاریخ لاہور۔ 1989ء۔

11 ۔تفصیل کے لیے دیکھئے۔ زاہد چودھری/حسن جعفر زیدی۔ محولہ بالا۔ جلد 2 ص ص 278-281، 323-330

٭٭٭

ماخذ: جریدہ جدید ادب، جرمنی، شمارہ ۱۴، مدیر: حیدر قریشی

تشکر: وقاص جنہوں نے جدید ادب کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید