FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

موسم عجب سا ہے

علی تاصف

               جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

دعا

ترے دعویِ سلونی کی نہیں مثال مولا

مرے کاسۂ سخن میں کوئی لفظ ڈال مولا

کوئی حرف معتبر اب مرے نام بھی لگا دے

مجھے غیب سے عطا کر نئے کچھ خیال مولا

٭٭٭

 

بحضورِ  سرورِ  کونین احمدِ  مجتبٰی محمد مصطفٰی

خدا کا پرتو زمیں پہ اترا

تو سب نے دیکھا

سبھی نے جانا

سبھی نے مانا

ہر ایک ذرّے نے دی گواہی

امین و صادق ، طبیبِ  فطرت

دبیرِ  ذہنِ  بشر یہی ہے

سوارِ  توسنِ  زمانہ

معانیِ  کُن، ہے میرِ  عالم

قوامِ  دیں ہے

مصوّرِ  شکلِ  ماؤطیں ہے

کلاہِ  سِرِّ  یقین بھی ہے

عظیم روشن دلیل بن کر

خدا کا پرتو زمیں پہ اترا

تو سب نے جانا

سبھی نے مانا

سوائے اُن کے جو کم نظر تھے ، جو تنگ نظر تھے

شکارِ  دامِ  ہوّس ہوئے وہ

رہے جہاں میں اثیم بن کر رذیل ہو کر

٭٭٭

 

نعت

ہمیں ہے پیار جو بے انتہا مدینے سے

ہمیں ملا ہے خدا با خدا مدینے سے

بس ایک بار رسولِ  خدا بلائیں فقط

پھر اُس کے بعد نہ لائے خدا مدینے سے

میں اُٹھ رہوں گا بصد شوق اے خدائے جلال

اگر اُٹھا ہی رہا ہے اُٹھا مدینے سے

اِدھر اُدھر نہ بھٹک اے دلِ  غریب، کہ حل

ہر ایک ہوگا ترا مسئلہ مدینے سے

خدا سے مانگ رہا تھا میں اپنی بخشش پر

کسی نے کان میں آ کر کہا مدینے سے

پھر اُس کے بعد تُو جنت کے گیت گا لینا

مرے عزیز ذرا ہو کے آ مدینے سے

ہے کوئی اور جو خواہاں ہے آج بخشش کا

یہ آ رہی ہے مسلسل صدا مدینے سے

یہ سچ ہے آج تلک ہم نے بھی یہی دیکھا

نصیب بگڑا ہے جس کا بنا مدینے سے

بس ایک نور سا چمکا پھر اُس کے بعد ہوا

ہر ایک ظلم کا خود خاتمہ مدینے سے

خدا گواہ کہ دنیا کو فتح کر ڈالیں

دلوں کو ملتا ہے وہ ولولہ مدینے سے

حسین دین بچانے ضرور آئیں گے

تھی لو لگائے ہوئے کربلا مدینے سے

” سلام نانا کے روضے سلام ماں کے مزار”

حسین لے کے چلے قافلہ مدینے سے

نجف و کرب و بلا ، کاظمین و مشہد و قُم

جُڑا ہوا ہے ہر اک سلسلہ مدینے سے

نظر خدا نے عطا کی ہمیں علی تاصف

پہ دیکھنے کا ملا زاویہ مدینے سے

٭٭٭

 

نعت

واقعی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

زندگی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

سُو بہ سُو راج تھا اندھیرے کا

روشنی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

دہر میں کچھ نہیں تھا غم کے سوا

ہر خوشی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

میرا واثق یقیں نظاروں کو

دلکشی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

مرکز جہل تھا شعور بشر

آگہی آپ ہی کی دی ہوئی ہے

٭٭٭

 

مدحت

مسرور جسم و جان ہے موقع خوشی کاہے

مطلع لب شعور پہ نعت نبی کاہے

اعدائے دین حق کی صفوں میں بھی تذکرہ

سرکار دوجہاں کی خندہ لبی کاہے

عشق رسول پاک کا جس میں نہ رنگ ہو

کیا فائدہ بتایئے اُس زندگی کاہے

صحرا، ندی، پہاڑ، فلک، فرش، کہکشاں

جو کچھ ہے کائنات میں صدقہ اُنہی کاہے

ہوتی ہے کب نصیب در مصطفیٰ کی خاک

شدت سے انتظار مجھے اُس گھڑی کاہے

روز حساب نامہ اعمال کا نہیں

ہم عاصیوں کو آسرا بس آپ ہی کاہے

اُن کے حضور ایک سی حالت میں ہیں تمام

جو مفلسوں کا حال وہی لکھ پتی کاہے

وہ جانتے ہیں حال دلوں کا زباں نہ کھول

حد ادب مقام یہی خامشی کاہے

میدان خم میں آپ نے اعلان کر دیا

اُس کاہے بس خدا و نبی جو علی کاہے

دعویٰ نبی سے عشق کا اولاد پر ستم

تصویر کا یہ رخ بھی عجب بے حسی کاہے

دشت سخن میں پھول عقیدت کے کھِل اُٹھے

تاصف یہ تجھ پہ خاص کرم سیدی کاہے

٭٭٭

 

روک مت سلسلہ چراغ جلا

ایک سے دوسرا چراغ جلا

تنہا بیٹھا ہے کیوں اندھیرے میں

کوئی جگنو بُلا چراغ جلا

بھول جا تلخی شب دیروز

جو ہوا سو ہوا چراغ جلا

خالی باتوں سے کچھ نہیں ہو گا

دل مرا مت جلا چراغ جلا

ٹھوکریں کھا رہی ہے خلق خدا

گھر سے باہر تو آ چراغ جلا

رنگ فق ہو گیا اندھیرے کا

اُس نے جونہی سنا چراغ جلا

چھوڑ یہ فلسفے علی تاصف

کیا فنا کیا بقا چراغ جلا

٭٭٭

 

کوئی گزرا ترا دھوکہ ہوا ہے

ہزاروں مرتبہ ایسا ہوا ہے

خیالوں کا لگا رہتا ہے مجمع

کوئی تنہا! کبھی تنہا ہوا ہے

تمنائیں کھڑی ہیں گرد اس کے

مرے دل میں کوئی بیٹھا ہوا ہے

٭٭٭

ایسی نکل رہی ہے مرے تن بدن سے آگ

جی چاہتا ہے آج لگا دوں سخن سے آگ

تُو خاک ہے تو خاک ہوں میں بھی تری طرح

کیوں لگ رہی ہے جان ہمارے ملن سے آگ

٭٭٭

 

یہ روپ رنگ اُٹھان مری جان تابکے

یہ حشر خیز موج یہ طوفان تابکے

رُوٹھی رہے گی مجھ سے مری نیند تا کجا

آنکھیں بھریں گی خواب کا تاوان تابکے

درد و غم و عذاب و فغاں، شور و شین و آہ

ان کو لکھوں میں زیست کا عنوان تابکے

یہ مفلسی و بھوک غریبی و بے بسی

گھر میں مرے رہیں گے یہ مہمان تابکے

اے دوست یہ بتا کہ رہے گا بھلا یونہی

آئینہ دیکھ دیکھ کے حیران تابکے

مانا کہ زیست آپ کا احسان ہے، مگر

ہم پر رہے گا آپ کا احسان تابکے

خاموشیوں کا شور سکوتِ  شبِ  فراق

کھاتے رہیں گے یونہی مری جان تابکے

بیٹی جوان بیٹھی رہے گھر میں تا کجا

سوکھے رہیں غریب کے کھلیان تابکے

قریہ بہ قریہ یارِ ‌ طرحدار کے لیے

تاصف میاں پھرو گے پریشان تابکے

٭٭٭

 

درد کچھ اور بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

لوگ بس اپنی سناتے ہیں چلے جاتے ہیں

پھر خدا جانے، ہوا جانے، زمانہ جانے

ہم فقط دیپ جلاتے ہیں چلے جاتے ہیں

خاک میں خاک ملانے کو چلے آئے تھے

خاک میں خاک ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں

ہم تو بس یاد دہانی کے لیے آئے تھے

آپ کہتے ہیں تو جاتے ہیں چلے جاتے ہیں

گاہے گاہے ہی تخیّل کے یہ نایاب پرند

بامِ  وجدان پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں

کس سے ممکن ہے غمِ  دل کا مداوا تاصف

لوگ بس رسم نبھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

٭٭٭

 

دریا صحرا، صحرا دریا ہو جاتے ہیں

دینے والے صاحبِ  کاسہ ہو جاتے ہیں

عشق وہ پارس جس کو چھونے والے یکسر

ہیرے، موتی، چاندی، سونا ہو جاتے ہیں

رنگ برنگے بھیس بدل کر دیکھ چکے ہیں

اب ایسا کرتے ہیں سادہ ہو جاتے ہیں

ہم نے دیکھا اُس کی راہ میں بھٹکے راہی

اُس تک جانے والا رستہ ہو جاتے ہیں

چکنی چُپڑی میٹھی باتیں کرنے والے

وقت پڑے تو اہلِ  کوفہ ہو جاتے ہیں

بیچ میں دوری آ جائے تو بندھن پکّے

پہلے سے کچھ اور زیادہ ہو جاتے ہیں

تاصف، اچھّے لوگو کی صحبت میں اکثر

تنگ ذہن بھی آپ کشادہ ہو جاتے ہیں

٭٭٭

 

اچھّا بابا اچھّا، اچھّا ہو جاتے ہیں

پاس تمھارے اور ذرا سا ہو جاتے ہیں

آؤ خود کو زندہ اور پایندہ کر لیں

یعنی ہم بھی ہیر اور رانجھا ہو جاتے ہیں

گیت میں سرگم، سیپ میں موتی، دل میں دھڑکن

اک دوجے سے یوں وابستہ ہو جاتے ہیں

ہو جاتے ہیں جیسا تُو کہتا ہے ویسے

آ جا میری بانہوں میں آ ہو جاتے ہیں

نیند سے بوجھل آنکھوں والی لڑکی آج

ہم ہی تیرا بستر، تکیہ ہو جاتے ہیں

آپ سراپا حسن ہیں لیکن جاناں آپ

پل میں تولہ پل میں ماشہ ہو جاتے ہیں

نیلی نیلی آنکھوں والے لوگ کسی کے

یا بالکل بھی نہیں ہوتے یا ہو جاتے ہیں

یار خدا تو ہو نہیں سکتے تاصف صاحب

ایسا کرتے ہیں کہ بندہ ہو جاتے ہیں‌

٭٭٭

 

کبھی ایسا بنانے میں کبھی ویسا بنانے میں

لگا رہتا ہوں اپنی دھُن میں کچھ اچھا بنانے میں

ہمیں لے کر چلا جائے تمہاری اور جو سیدھا

گنوا دی عمر ساری ہم نے وہ رستہ بنانے میں

کہ جس میں ڈھل کے میں یکسر تمہارے جیسا بن جاؤں

لگا ہوں تن سے، من سے، دھن سے وہ سانچا بنانے میں

بھروسہ کیا ہے جیون کا جو کہنا ہے وہ کہہ بھی دے

کہیں ایسا ہو نہ رہ جائے تُو لہجہ بنانے میں

٭٭٭

 

ماتمی ہے فضا کہ میں نہ رہا

سانحہ یہ ہوا کہ میں نہ رہا

خود ہی سب کو یہ دی خبر جا کر

آپ نے کچھ سنا کہ میں نہ رہا

کوئی ہنگامہ کیوں نہیں کرتے

لوگ آخر بپا کہ میں نہ رہا

گنبد دل میں ایک ہُو گونجی

پھر یہ آئی صدا کہ میں نہ رہا

میرے ہونے سے حبس تھا صاحب

کھُل کے برسی گھٹا کہ میں نہ رہا

کو بکو کس کی ہے تلاش تجھے

جا چلی جا صبا کہ میں نہ رہا

اُس سے کہہ دو کہ اب کبھی نہ کرے

ہاتھ دل سے جُدا کہ میں نہ رہا

التجا ہے سخن طرازوں سے

آج اک مرثیہ کہ میں نہ رہا

دوستو التماس ہے تم سے

مغفرت کی دعا کہ میں نہ رہا

٭٭٭

 

موسم عجب سا ہے

شام کی چائے کتنی پھیکی ہے

آج موسم بھی کچھ عجب سا ہے

دل بھی ڈوبے ہے ساتھ سورج کے

اک یبوست ہوا میں شامل ہے

بام و در پر نحوستوں کا اثر

صاف روشن ہے آئنے کی طرح

آج خوش آواز طائران چمن

کب سے منقار زیر پر ہیں سبھی

اور وہ جان جاں بھی روٹھا ہے

٭٭٭

 

دل جلانے کا فائدہ کچھ نئیں

کور چشموں کو آئنہ کچھ نئیں

حیف صد حیف لوگ مرتے رہے

اور سرکار نے کیا کچھ نئیں

دل میں گر جاگزیں ہو خوف خدا

حکمرانوں کا دبدبہ کچھ نئیں

رفتہ رفتہ شعور آئے گا

جانے کب آئے گا پتہ کچھ نئیں

چاند تاروں کی بات کرتا ہے

تُو، جسے علم خاک کا کچھ نئیں

ہو گئیں خاک بستیاں جل کر

اور قلمکار نے لکھا کچھ نئیں

آپ انسانیت کو روتے ہیں

یاں تو وہ حال ہے خدا کچھ نئیں

٭٭٭

 

کسی کی دیکھ کے صورت گلاب سی میں نے

نگاہ حسن چمن سے بھی پھیر لی میں نے

دھمال کرتا ہوں ہوش و حواس میں رہ کر

بدل دیا ہے مزاج قلندری میں نے

سکون روح و دل و جاں جسے میسر ہو

بہت تلاش کِیا ایسا آدمی میں نے

سخن کے باب میں پہلا گلاب جس پہ کھِلا

سنبھال رکھی ہے اب تک وہ ڈائری میں نے

اسی لیے مری منزل فراز دار ہوئی

وفا کی رسم زمانے میں عام کی میں نے

نہیں نہیں میں روایت سے کٹ نہیں سکتا

غلط قبائے تمدن اتار دی میں نے

رہ وفا میں نشیب و فراز آتے ہیں

یہ بات پہلے ہی تجھ کہی نہ تھی میں نے

یہ اتفاق عجب ہے کہ تُو چلا آیا

ترا ہی نام لیا تھا ابھی ابھی میں نے

بس اس گمان میں تجھ پر نہ حرف آئے کہیں

نہ پوچھ کیسے پیا زہر خامشی میں نے

اسی امید پہ آئے گا تُو دعا کے لیے

مزار خواب پہ کی ہے مجاوری میں نے

تجھے گمان بھی گزرا تو کس طرح گزرا

ترے مزاج کو بخشی ہے کجروی میں نے

اب اعتماد کے زینے پہ رکھ دیا ہے قدم

بجھا کے شعلہ احساس کمتری میں نے

کئی دنوں سے تری یاد بھی نہیں آئی

کئی دنوں سے نہیں دیکھا خواب بھی میں نے

رگ ‌گلو سے زیادہ قریب ہے جب وہ

کسے تلاش کِیا ہے گلی گلی میں نے

کوئی بھی سُر نہیں لگتا وصال کا یارو

ہزار چھیڑی محبت کی راگنی میں نے

تمام عمر گزاری ہے کسمپرسی میں

بہت قریب سے دیکھی ہے مفلسی میں نے

چراغ جب بھی بجھائے ہواؤں نے تاصف

کشید کی ہے ستاروں سے روشنی میں نے

٭٭٭

 

توسنِ دہن بے لگام نہ کر

لہجۂ تلخ میں کلام نہ کر

سر پہ ہے رات، سامنے جنگل

عافیت اس میں ہے قیام نہ کر

یوں حقارت بھری نگاہوں سے

آتے جاتے ہوئے سلام نہ کر

جھوٹی عزت کے ہم نہیں طالب

دل نہ چاہے تو احترام نہ کر

یاد رکھ تُو ہے ایک خانہ بدوش

مستقل کوئی انتظام نہ کر

خواہشوں کو غلام کر دل کا

خواہشوں کا اِسے غلام نہ کر

حالت ہجر ہی بہت ہے ہمیں

بارش سنگ انتقام نہ کر

قریہ قریہ نہ کر ہمیں رسوا

ہم کو بدنام گام گام نہ کر

گر مسلماں ہے تُو علی تاصف

نفرتوں کی روش کو عام نہ کر

٭٭٭

 

سر بسر آرزو کا چکر ہے

تم سے جو گفتگو کا چکر ہے

ہم کہاں اور مقام عشق کہاں

جو بھی کچھ ہے لہو کا چکر ہے

پہلے آئی صدائے کُن اور اب

جو بھی چکر ہے ہُو کا چکر ہے

سیکھتے کیا بھلا کتابوں سے

علم تو جستجو کا چکر ہے

رزق مل جائے گا بہر صورت

عزت و آبرو کا چکر ہے

کوئی بھی شکل بن نہیں پاتی

چاک ہے یا عدو کا چکر ہے

سارا جھگڑا ہے وحشتِ دل کا

سب اِسی جنگجو کا چکر ہے

٭٭٭

 

مجھ سے یہ نہیں ہو گا

باد بیقراری کا رُخ بھی موڑ سکتا ہوں

خود کو توڑ سکتا ہوں

تم کو چھوڑ سکتا ہوں

ہجرتی سیاہ چادر

کیا میں اوڑھ سکتا ہوں

کان کھول کر سن لو

مجھ سے یہ نہیں ہو گا

٭٭٭

 

حاصل اِسی طرح کوئی وجدان ہو تو ہو

شعرو سخن سے ذات کا عرفان ہو تو ہو

آئینہ تیرے سامنے رکھیں گے ہم ضرور

چاہے تُو خود کو دیکھ کے حیران ہو تو ہو

وحشت کہے گی جو بھی کریں گے خوشی خوشی

دامن ہو چاک، چاک گریبان ہو تو ہو

آٹھوں پہر ہے جس کا ہمیں دھیان دوستو

اُس کو ہمارا دھیان کسی آن ہو تو ہو

مسلک، لسان اور گروہوں میں بٹ گئی

اِس قوم کا خدا ہی نگہبان ہو تو ہو

“بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست”

تیری بلا سے خلق پریشان ہو تو ہو

تاصف کسی کے سامنے جھکنا نہیں کبھی

چاہے وزیر ہو کوئی سلطان ہو تو ہو

٭٭٭

 

سرخ ہوتا گیا گلاب کا پھول

جیسے جیسے کھِلا گلاب کا پھول

تُو ہے پہلو میں اے گداز بدن

یا مہکتا ہوا گلاب کا پھول

رنگ اُڑتا گیا گلابوں کا

تجھ کو جب بھی کہا گلاب کا پھول

روح تک خوشبوئیں اُتر آئیں

تیرا لہجہ ہے یا گلاب کا پھول

نام کاغذ پہ لکھ رہا تھا ترا

خود ہی بنتا گیا گلاب کا پھول

ہے کجا سرخی لب جاناں

اور کجا یہ ترا گلاب کا پھول

اپنی تحریر چوم لی تاصف

اُس کو جب بھی لکھا گلاب کا پھول

٭٭٭

 

پیرویِ یزید سوچ کے کر

اپنی مٹی پلید سوچ کے کر

لوگ فاقوں سے جان دینے لگے

خواہش زر مزید سوچ کے کر

جن کی تکمیل تیرے بس میں نہیں

ایسے وعدے وعید سوچ کے کر

کل تری نسل ہی چک ہے گی اِنہیں

جام نفرت کشید سوچ کے کر

اپنی باری پہ سہہ سکے خود بھی

ظلم اتنا شدید سوچ کے کر

امن کے پھول جن پہ کھلنے ہیں

ایسی شاخیں برید سوچ کے کر

جو روایت کو رد کرے یکسر

ایسا لہجہ جدید سوچ کے کر

وہ جو حق بات منہ پہ کہہ ڈالیں

یار ایسے بعید سوچ کے کر

اِس کی بیعت ہے دو جہاں کا زیاں

خود کو دل کا مرید سوچ کے کر

٭٭٭

 

زندگی یونہی بسر کرتے گئے کرتے گئے

رائگاں سارا سفر کرتے گئے کرتے گئے

راز دل ہم نے بتائے تھے سمجھ کر غمخوار

دوست دنیا کو خبر کرتے گئے کرتے گئے

جس کی بنیاد میں آبا کا لہو شامل تھا

وہ عمارت بھی کھنڈر کرتے گئے کرتے گئے

بھول جانا ہی مناسب تھا تجھے اے کافر

یاد کیوں شام و سحر کرتے گئے کرتے گئے

تیرے عارض ترے گیسو ترے ابرو مژگاں

بہدف تیر اثر کرتے گئے کرتے گئے

سامنے روز اُٹھاتی رہی دنیا دیوار

ہم بھی دیوار کو در کرتے گئے کرتے گئے

یہ بھی سچ ہے کہ ستم گر تری یادوں کے طفیل

درد جاں کو بھی ہنر کرتے گئے کرتے گئے

دشت سے روکا خرد نے ہمیں جتنا ہم بھی

ادبدائے ہوئے گھر کرتے گئے کرتے گئے

جس سے جتنا ہمیں نقصان ہوا ہے تاصف

کام وہ بار دگر کرتے گئے کرتے گئے

٭٭٭

 

نشاط خیز فضاؤں سے لڑنے والے ہیں

یہ نین تیری اداؤں سے لڑنے والے ہیں

عجب نہیں کہ یہ خاکی حقیر جسم ابھی

چراغ ہوکے ہواؤں سے لڑنے والے ہیں

یہ غرق کر تو چکے ہیں زمین کا بیڑا

اور اب تو لوگ خلاؤں سے لڑنے والے ہیں

یہ بوند بوند کو ترسے ہوئے غریب کسان

قریب ہے کہ گھٹاؤں سے لڑنے والے ہیں

عطا جو ماں نے کئے ہیں دعاؤں کی صورت

وہی تو حرف بلاؤں سے لڑنے والے ہیں

ہمیں یقین کھنڈر جلد ہی بنے کہ بنے

حویلی والے گداؤں سے لڑنے والے ہیں

یہی نوشتہ دیوار وقت ہے تاصف

وفا شعار، جفاؤں سے لڑنے والے ہیں

٭٭٭

 

بہ ہر سو خامشی سی جانے کیوں ہے

کہی بھی ان کہی سی جانے کیوں ہے

بہت کم گو فسردہ سی، مگر وہ

ہمیں لگتی بھلی سی جانے کیوں ہے

زہے سب کچھ میسر ہے پہ دل کو

ہمیشہ اک کمی سی جانے کیوں ہے

رہے ہر دم گریزاں اور نالاں

ہمیں وہ زندگی سی جانے کیوں ہے

کسی سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے

وہ اتنی مطلبی سی جانے کیوں ہے

٭٭٭

 

ترے لعل و جواہر کیا کروں گا

میاں پتھر ہیں پتھر کیا کروں گا

نجانے کیوں عُدو کانپے ہے تھر تھر

بھلا میں زیر خنجر کیا کروں گا

زمیں خود ہی پھسلتی جا رہی ہے

قدم اپنے جما کر کیا کروں گا

مجھے جب نیند آتی ہی نہیں ہے

بچھا کے یار بستر کیا کروں گا

چلو تم کو بھُلا دیتا ہوں لیکن

بتاؤ پھر میں اکثر کیا کروں گا

نظر سے حیرتیں ہی چھن گئی ہیں

ہٹا بے کیف منظر کیا کروں گا

خجالت کے سوا دامن میں کیا ہے

بھلا میں روز محشر کیا کروں گا

سوال اک یہ بھی پیدا ہو گیا ہے

تجھے اپنا بنا کر کیا کروں گا

رفیقو رحم کچھ حالت پہ میری

اب اس سے بڑھ کے ابتر کیا کروں گا

نہ سر ڈھانپے نہ میرے پاؤں ڈھانپے

خدایا ایسی چادر کیا کروں گا

دروں کوئی مچا پایا نہ ہلچل

علی تاصف میں باہر کیا کروں گا

٭٭٭

 

شور گریہ ہے اور ماتم ہے

دل اسیر غم دو عالم ہے

ان گنت زخم اب بھی تازہ ہیں

کون کہتا ہے وقت مرہم ہے

زندگی جیسے نظم راشد کی

سخت مبہم تھی سخت مبہم ہے

میری دنیا ہے تیسری دنیا

میری دنیا بھی کیا جہنم ہے

شش جہت میں نہ کوئی ہے اتنا

جتنا مایوس ابن آدم ہے

آپ آئے غریب کی کٹیا

آپ کا دل سے خیر مقدم ہے

کیوں کروں مے کدے کا رخ تاصف

اُس کی آنکھوں کا کیف کیا کم ہے

٭٭٭

 

گردش حال کچھ تو کہہ یا تُو بھی بد حواس ہے

اس کا سبب ہے کیا بھلا دل جو بہت اُداس ہے

وصل و فراق دوستو اپنے لیے ہیں ایک سے

وہ تو خیال و خواب تھا یہ بھی نہ ہم کو راس ہے

کتنی عجیب بات ہے آپ ہی کچھ بتائیے

روح کو کیا کہیں بھلا جسم اگر لباس ہے

تیری طرح محال ہے اُس کو بھی شب گزارنا

تجھ کو اگر ہے دُکھ بہت وہ بھی تو محو یاس ہے

شہر کی رونقیں سبھی جانے کہاں چلی گئیں

گام بہ گام وحشتیں شام و سحر ہراس ہے

ہم نے معاملات دل گوش گزار کر دیئے

غور ذرا سا کیجئے آپ سے التماس ہے

تاصف نا مراد سن! سارا قصور ہے ترا

اُس کو پرکھ سکا نہ کیوں تُو تو ادا شناس ہے

٭٭٭

 

 

وہی قصہ پرانا چل رہا ہے

مگر اب والہانہ چل رہا ہے

نہ پوچھو شہر کی بابت نہ پوچھو

بہت ہی وحشیانہ چل رہا ہے

گئے عیش و طرب کے دن سہانے

میاں بس آب و دانہ چل رہا ہے

ادارے سب برابر لُٹ رہے ہیں

یہاں سب منصفانہ چل رہا ہے

سبھی کو دم بخود سا کر دیا ہے

وہ چالیں ساحرانہ چل رہا ہے

خرد کی لن ترانی تھم گئی ہے

جنوں کا لن ترانہ چل رہا ہے

علی تاصف ذرا سا بچ بچا کے

بہت کچھ غائبانہ چل رہا ہے

٭٭٭

 

اس وقت مری مان مری جان چلا جا

مجھ سے نہ اُلجھ کر نہ پریشان چلا جا

تبلیغ کہیں جا کے کسی اور کو کرنا

ہم لوگ ہیں پہلے ہی مسلمان چلا جا

طوطے کی طرح رٹ کے تُو آیا ہے جو اسباق

بیکار ہے ان کی یہاں گردان چلا جا

قبضے کی مساجد میں نمازیں نہیں ہوتیں

اتنا بھی نہیں دین کا عرفان چلا جا

اس دیس میں تقریر کا ہر شخص ہے شوقین

بیزار نہ کر کھا نہ مرے کان چلا جا

اغراض ترے کیا ہیں خبر ہم کو نہیں کیا؟

بڑھ جائے نہ اب خون کا دوران چلا جا

رہنے دے خدا اور مرے بیچ ہی مذہب

تُو بن نہ بلا وجہ نگہبان چلا جا

نادان کبھی اپنا بھی جھانکا کہ ہمیشہ

اوروں کے ہی جھانکے ہے گریبان چلا جا

تجھ کو تو خبر ہو گی کہ احسان ہے نیکی

ہو گا یہ مری ذات پہ احسان چلا جا

٭٭٭

 

کچھ نے کہا بھلا مجھے کچھ کہا بُرا مجھے

آپ خموش ہی رہے کچھ بھی نہیں کہا مجھے؟

اب وہ نہیں رہا ہوں میں اب وہ نہیں ہیں ‌خال و خط

اب بھی اُسی وفور سے دیکھے ہے آئنہ مجھے

جانے ہوا ہے کیا اُسے جانے معاملہ ہے کیا

دشمن جاں نے جینے کی دی ہے بہت دعا مجھے

شام فراق سے کہاں صبح ‌وصال اُلجھ گئی

یار یہی تو آج تک چل نہ سکا پتہ مجھے

آئے کہاں سے پختگی میرے کلام میں بھلا

شوق سخن عطا ہوا یار نیا نیا مجھے

اُس نے بچھڑتے وقت کچھ، جانے کہا تھا مجھ سے کیا

“لفظ بہت عجیب تھا یاد نہیں رہا مجھے “

جو تھا مرے نصیب میں وہ ہو گیا ہے غم نہ کر

جو بھی ہوا بُرا ہوا تجھ سے نہیں گلہ مجھے

٭٭٭

 

کر مری بات کا یقیں پگلی

پھول تجھ سے حسیں نہیں پگلی

یہ جو تیرے گلاب گال ہیں نا

چاند ان سے نہیں حسیں پگلی

اتنی دھڑکن نہیں مرے دل سے

جتنی تُو ہو گئی قریں پگلی

تیری ان سرمگیں نگاہوں میں

کون سا غم ہے جاگزیں پگلی

آج پہلو سے لگ کے بیٹھی رہ

یعنی بیٹھی ہی رہ یہیں پگلی

تیرے ہجراں میں صرف گل ہی نہیں

تتلیاں بھی اُداس تھیں پگلی

بن ترے زندگی گزاروں گا

توبہ توبہ نہیں نہیں پگلی

جان و دل منتظر رہے برسوں

تیرے آنے کا تھا یقیں پگلی

٭٭٭

ماخذ:

کتاب چہرہ میں علی تاصف کے نوٹس سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید