FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

لمعاتِ نظر

 

حصہ اول

 

 

                محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی

 

 

 

 

 

 

انتساب

 

 

محبّانِ رسولؐ کے نام

 

 

 

درویش صفت شاعر

 

عبد الحمید صدیقی المتخلص بہ نظرؔ لکھنوی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس نے ادبی و علمی طور پر تونگر و توانا ہونے کے باوجود ساری زندگی صرف رزقِ حلال کمانے، اولاد کی صحیح خطوط پر تربیت دینے اور شاعری کے ذریعے دلی جذبات کا اظہار کرنے میں خاموشی سے گزار دی۔ نہ زیادہ مشاعروں میں شرکت کی، نہ زیادہ چھپنے چھپانے پر توجہ کی، نہ کسی قسم کی گروہ بندی کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مطالعے کی بدولت علمی وسعت سے بھی نوازا تھا اور شاعرانہ صلاحیت بھی بدرجۂاتم ودیعت کی تھی۔ اس لئے یہ نا ممکن تھا کہ تہذیب و تمدن کی سرزمیں لکھنؤ کی ادبی و علمی فضا سے متاثر نہ ہوتے۔ چنانچہ ان کی ساری شاعری خواہ غزل ہو یا نظم یا نعتِ رسولِ مقبولﷺ ہر جگہ وہ دبستانِ لکھنؤ کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ لکھنؤ کے اندازِ فکر و طرزِ بیان کے دلدادہ تھے۔ بلکہ اس حد تک والہ و شیدا تھے کہ اس کے خلاف کچھ سننے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ چنانچہ آپ ان کے نعتیہ کلام میں بھی جا بجا رعایتِ لفظی اور تشبیہ و استعارات کا ایک خاص انداز دیکھیں گے۔

مستِ نگاہِ ساقی کوثر ہوں میں نظرؔ

کیا طرفہ بے خودی ہے یہ جام و سبو بغیر

 

ان کی کہی ہوئی نعتیں اگرچہ عموماً طویل ہوتی ہیں لیکن ان کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاعر حبِّ رسولؐ سے سرشار ہے اور اس کے دل میں عقیدت و محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ وہ نعت کہتے وقت تاریخی حقائق و واقعات کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں اور حضور سرورِ کائناتؐ کی حیاتِ طیبہ، ان کے ارشادات اور قرآنِ حکیم کی تعلیم و اعجاز کا بھی بیان کرتے ہیں۔ ایک شعر دیکھئے

کرّو بیاں بہ عرش ہیں اہلِ زمیں بہ فرش

معمور انؐ کے ذکر سے دونوں جہاں رہے

یہ شعر دیکھئے جو “اول ما خلق اللہ نوری” کا ترجمان ہے

تخلیقِ کائنات کا جب فیصلہ ہوا

مخلوقِ کائنات میں اول وہی رہے

ایک شعر اور دیکھئے جس میں قرآن کریم کی دائمی صفت کا بیان کس خوبی سے کیا ہے۔

یہ بھی کتابِ حق کا ہے اک زندہ معجزہ

پڑھئے ہزار بار، نئی کی نئی رہے

 

اسی ردیف میں قافیے کی تبدیلی سے ایک نعت ہے اس کا یہ شعر دیکھئے، جس میں سرورِ کائنات حضورؐ کی صفتِ خاص، صداقت و امانت کا بیان کس سادگی اور روانی سے کیا ہے۔

بچپن سے لے کے تا نفسِ آخریں نظرؔ

وہ صادق الحدیث رہے وہ امیں رہے

 

نظرؔ لکھنوی نے کسی جگہ اپنے عروضی ہونے کا اظہار نہیں کیا اور نہ اس سلسلے میں کسی تعلّی سے کام لیا۔ پھر بھی ایک نعت انہوں نے رباعی کے وزن میں کہی ہے، ظاہر ہے کہ رباعی کے نازک اور پیچیدہ اوزان کو صاحبِ فن کے علاوہ ہر کس و ناکس نہیں سمجھ سکتا۔ اس نعت کے دو شعر دیکھئے۔

 

صورت ہے منور مہِ تاباں کی طرح

سیرت ہے سراسر تری قرآں کی طرح

کوچہ ہے ترا مرجعِ عالم شاہا

مجمع ہے جہاں حشر کے میداں کی طرح

نظرؔ لکھنوی نے نعتِ نبیؐ کہتے ہوئے نبی کریمؐ کے ساتھیوں خصوصاً خلفائے راشدین کو بھی محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کئے ہیں۔ چند اشعار دیکھئے۔

دیدنی ہے اوجۂ تقدیرِ صدیقؓ و عمرؓ

بعد مردن بھی نبیؐ سے قربتِ شیخینؓ ہے

یاروں میں چار یار جو بے حد قریں رہے

بعدِ نبیؐ، نبیؐ کے خوشا جانشیں رہے

نبیوں کو ملے کب ترے جیسے ساتھی

صدیقؓ و عمرؓ ، حیدرؓ و عثماںؓ کی طرح

غرض یہ کہ نظرؔ لکھنوی کی تمام شاعری نبی کریمؐ سے ان کی دلی وابستگی اور عقیدت و محبت کی آئنہ دار ہے۔ پڑھئے اور لطف حاصل کیجئے۔

مشک آن است کہ خود ببوید، نہ آنکہ عطار بگوید

 

مخلص

قمر رعینی

15 مئی 2005ء

 

 

 

نظرؔ لکھنوی۔ ۔ ۔ ایک گمنام قادر الکلام نعت گو

 

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب رسولﷺ کے ذکر کو بلندی بخشی تو عالمِ آب و گل میں جس ذی نفس نے بھی آپؐ کا محبت، خلوص اور ایمانی حرارت سے مملو تذکرہ کیا، اس کو بھی دوام بخش دیا۔

 

نعت گوئی کا مقدس عمل بھی ایسا ہی عمل ہے کہ جس کسی نے بھی مبداء فیاض سے طبع موزوں پائی اور اپن یفکر کو مطہر کر کے بارگاہِ نبوی علیٰ صاحبہا میں فنِ سخن کا نذرانہ پیش کرنے کی پر خلوص کوشش کی، شہرت و نام وری نے اس کے قدم چومے۔ چاہے وہ خود گمنام رہنے کی کتنی ہی تدابیر کیوں نہ اختیار کر لے۔

 

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی نے 3 جولائی 1927ء کو لکھنؤ، موضع چنہٹ میں آنکھ کھولی اور 3 جنوری 1994ء کو اسلام آباد میں راہی ملکِ بقا ہوئے۔ اپنے ترکے میں چند نعتیہ بیاضیں چھوڑیں جنہیں ان کے اکلوتے فرزند محمد احسن صدیقی نے حزرِ جاں بنا لیا۔

 

نظرؔ لکھنوی مرحوم کو قدرت نے جس فیاضی سے سخن گوئی کی استعداد عطا کی تھی، شہرت و نام وری کی طرف سے اسی قدر بے نیازی ان کی طبیعت کا خاصہ ٹھہری۔ چنانچہ مشاعرہ بازی اور طباعتِ کلام کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے انہوں نے عزلت گزینی کو ترجیح دی۔ نتیجتاً وہ اس دارِ فانی سے گمنام ہی رخصت ہوئے۔ وہ خود فرماتے ہیں۔

اشعار میں مرے مئے باطل کی بو نہیں

عشقِ بتانِ دہر کی بھی ہاؤ ہو نہیں

اسپِ سخن مرا ہے بقیدِ زمامِ دیں

دادِ سخن کی مجھ کو نظرؔ آرزو نہیں

محمد احسن صدیقی خلف الرشید نظرؔ لکھنوی کا بیان ہے کہ ان کے ابو ” روایت پسند تھے اور شاعری کی دبستانِ لکھنؤ کے لئے ایک خاص تعصب رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ حسنِ شعری کے وہ سارے ظاہری لوازم جو لکھنؤ دبستان کی پہچان ہیں، شاعری کی مقصدیت کے ساتھ برتے جا سکتے ہیں “۔ نظرؔ لکھنوی کی قائم کردہ شعری فضا پر بلا شبہ لکھنوی دبستانِ سخن کا پرتو ہے۔ انہوں نے محسن کاکوروی کی تتبع میں نشاطیہ شعری مزاج کو مقصدیت سے ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ محسن کاکوروی نے لکھنوی شاعری کی صنعت گری اور ٹھٹھول بازی کو نعتیہ مضامیں کی اعلیٰ مقصدیت سے ہم کنار کیا تھا اور سخن گوئی کی تمام تر صلاحیتیں مدحِ سید الکونینﷺ کے لئے وقف کر دی تھیں اور اس طرح وہ منفرد لہجے میں نعت کہنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ نظرؔ لکھنوی نے بھی مدحتِ مصطفیٰﷺ کی ہے اور قادر الکلامی، ردیف و قوافی کی ندرت، فن کی تازہ کاری، لفظیاتی مرصع سازی اور فکری طہارت کے جواہر سرکارِ رسالت مآبﷺ کی نذر کئے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ شعر بنت پر بھر پور توجہ صرف کرنے کے باوجود متنِ سخن (poetic text) کو کہیں بھی درجۂ استناد سے کم نہیں ہونے دیا ہے۔

نظرؔ لکھنوی کا شعری عمل (poetic work) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ قصیدہ نگاری کی طرف مائل ہوتے تو اس صنفِ سخن میں امتیازی حیثیت حاصل کر سکتے تھے، لیکن ان کے شعری ارزنگ میں قصیدے کا کوئی مرقع نہیں۔ یہاں تو نعتیہ غزلوں کے نقش و نگار اپنی چھب دکھلا رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے قلم کو سپردِ سیلِ طبعِ رواں کر دیا تھا۔ قصیدے کی فنی ضرورت کے لئے تشبیب کی مصنوعی فضا پیدا کرنا، شاعرانہ غرا ظاہر کرنا اور گریز کی گرانی کے مرحلوں سے گزرنا نظرؔ لکھنوی کے طبعی عجزِ ہنر کے منافی تھا۔ اس لئے انہوں نے قصیدے کا کبھی قصد نہیں کیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روایت پسند اور قادر الکلام ہونے کے باوجود قصیدے کو نظرؔ لکھنوی نے فرسودہ صنفِ سخن گردانا ہو، یہ الگ بات کہ قصیدہ نگاری کے ہیئتی نمونے ان کی شاعری میں نہ ہونے کے باوجود ان کی نعتیہ غزلوں میں شکوہِ لفظی اور نشاطیہ لہجے کی گونج ویسی ہی ہے جیسی قصیدے کا طرۂ امتیاز ہے۔ لکھنوی دبستانِ سخن کی پاسداری ان کے لفظ لفظ سے نمایاں ہے۔ وہ قوافی برتنے اور ردیفیں چمکانے کا ہنر جانتے ہیں۔ حبِّ رسولﷺ کے جذبۂ صادقہ نے ان کے لہجے کو ادب سے ہمکنار کیا ہے۔

؎

عشق بن یہ ادب نہیں آتا

(میرؔ)

اور فنی اخلاص نے ان کے کام کو سنوارا ہے۔

نظرؔ لکھنوی نے دسمبر 1947ء میں پاکستان ہجرت کی اور ملٹری اکاؤنٹس راولپنڈی میں تعینات ہوئے اور بیشتر وقت یہیں گزارا۔ علاوہ ازیں اپنی عمر کے آخری دس برس اسلام آباد میں بسر کئے۔ اس شہر کی فضا الحمد للہ نعتیہ شاعری کے لئے بڑی سازگار ہے، یونکہ یہاں “محفلِ نعت” کے نام سے ایک بزم باقاعدگی سے ہر ماہ نعتیہ مشاعرے منعقد کرواتی ہے اور الحمد للہ اس عمل کے استمرار کو بلا تعطل سولہ سال ہو گئے ہیں۔ لیکن اس بزم کے اربابِ بست و کشاد جناب عرشؔ ہاشمی اور جناب سبطین شاہجہانی بھی نظرؔ لکھنوی مرحوم کو دریافت نہ کر سکے۔ علاوہ ازیں حال ہی میں علامہ قمر رُعینی نے ّتذکرۂ نعت گویانِ راولپنڈی، اسلام آباد” مرتب فرمایا ہے، یہ تذکرہ بھی نظرؔ لکھنوی کے ذکر سے خالی ہے۔ راقم الحروف کو خود بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ مرحوم سے شرفِ نیاز حاصل نہیں کر سکا، حالانکہ میں 1985ء سے 1992ء تک اسلام آباد ہی میں تھا اور جناب محمد احسن صدیقی خلف الرشید نظرؔ لکھنوی سے ارادت مندی کا شرف بھی مجھے حاصل تھا۔ بہرحال نظرؔ لکھنوی مرحوم کی شہرت بیزاری نے انہیں متعارف نہیں ہونے دیا۔ اور اب بقولِ غالب

؎

شہرتِ شعرم بگیتی بعدِ من خواہد شدن

ان کے کلام کی شہرت ان شاء اللہ پوری دنیا میں ہو گی۔

الحمد للہ اب راقم الحروف کی تحریک پر جناب محمد احسن صدیقی اپنے والدِ گرامی کا نعتیہ کلام مرتب کر رہے ہیں اور ان شاء اللہ یہ مجموعہ بہت جلد منصۂ شہود پر آ جائے گا۔ نظرؔ لکھنوی کی نعتوں میں حضورِ اکرمﷺ کا حسنِ صوری بھی منعکس ہے اور حسنِ سیرت بھی، ختمِ نبوت کے مضامیں بھی ضو بار ہیں اور عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جھلکیوں سے بھی یہ نعتیں مملو ہیں۔ حضورﷺ کے پیغام کا تحرک (dynamism) اور دعوتِ عمل کا راست جذبہ بھی ان نعتوں میں لمعہ ریز ہے اور حاضری کی تمنا بھی اشعار کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے۔ اہم بات یہ کہ نعتوں میں شعری محاسن سمونے کے باوجود شاعرانہ تعلّی کے بجائے عجزِ ہنر کے مضامیں زیادہ ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ شاعر اپنی شعری دانش کے اظہار کو اپنے فن کے حوالے سے کوئی کارنامہ نہیں سمجھتا اور یقیناً یہی راہِ صواب ہے، اخلاص کا تقاضا بھی یہی ہے۔

 

عزیز احسن

 

 

 

میرے ابو

 

ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقر ر کیا ہوا ہے جس سے پہلے وہ کام انسان کی خواہش کے باوجود نہیں ہو پاتا۔ ظاہری اسباب کے دائرے میں کبھی انسان کی اپنی کم کوشی ہی اس کا سبب ہوتی ہے۔ میرے ابو کی نعتیہ شاعری کی اشاعت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ابو نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں احباب کے پیہم اصرار اور توجہ دلانے پر متفرق بیاضوں میں بکھری ہوئی نعتوں کو نظرِ ثانی کے بعد مرتب کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے خود ہی اس نعتیہ مجموعہ کا نام ‘لمعاتِ نظر’تجویز کیا تھا۔ ابھی یہ کام درمیان میں ہی تھا کہ 1994ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد وقتاً فوقتاً مرحوم کے قریبی احباب مجھے ان کے مجموعۂ کلام کی اشاعت کی طرف توجہ دلاتے رہے۔ میری اپنی بھی بڑی خواہش تھی کہ یہ مجموعۂ کلام اشاعت پذیر ہو لیکن بکھرے ہوئے کلام کو سمیٹنے اور مرتب کرنے کی اہلیت اور فرصت نہیں پاتا تھا۔

چند ماہ قبل برادرِ محترم جناب عزیز احسن صاحب سے برسبیلِ تذکرہ ابو کی نعتیہ شاعری کا ذکر ہوا۔ انھوں نے بہ اصرار مجھ سے والد صاحب کے کلام کی نقول حاصل کیں اور نہایت دیدہ ریزی سے پورے کلام کا ناقدانہ جائزہ لیا۔ انھوں نے نہ صرف کلام کو پسند فرمایا بلکہ اس کی اشاعت کا مشورہ دیا۔ انھیں کی وساطت سے محترمی علامہ قمر رُعینی صاحب تک رسائی ہوئی۔ آپ نے بھی کلام دیکھا اور پسند فرمایا۔ ان دونوں کرم فرماؤں کے عملی تعاون کے بغیراس مجموعہ کی اشاعت میرے لئے ممکن نہ ہوتی۔ جناب قمر رُعینی صاحب کی مشفقانہ اعانت اور براہِ راست نگرانی نے اشاعت کے مراحل کو آسان بنایا۔

اُن اربابِ ذوق کے لئے جو میرے والد سے براہ راست واقفیت نہیں رکھتے، اپنے والد کا ایک مختصر تعارف تحریر کر رہا ہوں۔ شاید یہ تعارف ان کی شاعری کی تفہیم میں بھی کچھ مدد گار ثابت ہو۔

نام محمد عبدالحمید صدیقی، تخلص نظرؔ لکھنوی 3 جولائی 1927ء کو لکھنؤ موضع ‘چنہٹ ‘میں پیدا ہوئے۔ ہائی سکول کی تعلیم موضع اُترولہ ضلع گونڈہ سے 1944ء میں مکمل کی اور 1945ء میں ملٹری اکاؤنٹس لکھنؤ میں ملازم ہو گئے۔ دسمبر 1947ء کو پاکستان ہجرت کی اور ملٹری اکاؤنٹس راولپنڈی میں تعینات ہوئے۔ اس طرح راولپنڈی دار الہجرت قرار پایا۔ پہلی اہلیہ کا 5جنوری 1958ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا۔ ان سے پانچ اولادیں ہوئیں جن میں سے تین بیٹے شیر خوارگی کی عمر میں ہی وفات پا گئے اور دو اولادیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی حیات رہے۔ عقد ثانی 1960ء میں کیا جن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ دوسری اہلیہ کا انتقال بھی3جنوری 1980ء میں راولپنڈی میں ہوا۔ ملازمت کے آخری دس سال فیلڈ پے آفس(FPO)، آرٹلری سنٹر اٹک شہر میں گزارے اور وہیں سے 1979ء میں چونتیس سالہ ملازمت کے بعد اپنی بیمار اہلیہ کی تیمار داری کے لئے بحیثیت اکاؤنٹنٹ ریٹائرمنٹ لے لی۔ اپنی عمر کے آخری دس سال اسلام آباد میں میرے ہمراہ گزارے۔ 3جنوری1994ء کو وفات پائی اور اسلام آباد میں سپرد خاک ہوئے۔ ایک بیٹا، ایک بیٹی، چھ پوتے پوتیاں اور تین نواسہ نواسیاں سوگوار چھوڑیں۔

ابّو کی شخصیت میں لکھنؤ کی تہذیبی روایت کی نفاست اور شائستگی پوری طرح موجود تھی لیکن تصنّع اور بناوٹ سے کوسوں دور تھے۔ تدین، خود داری، وضع داری، قناعت اور اخلاص ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ جس محفل میں شامل ہوتے ان کی موجودگی نمایاں ہو جاتی تھی۔ نہایت خوش مزاج تھے اور بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر عمر کے لوگوں میں گھل مل جاتے۔ لیکن تعلقات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے اور جب چاہے سنجیدگی اور متانت کی لکیر کھینچ لیتے۔ ان کی صداقت، دیانت اور معاملہ فہمی پر بھروسہ کیا جاتا تھا اور بکثرت احباب مشورہ کے لئے ان سے رجوع کرتے تھے۔

شاعری کا ملکہ فطری تھا اور مڈل سکول کے زمانے سے شاعری شروع کر دی تھی۔ ایک رشتہ کے ماموں جو عمر میں چند سال بڑے تھے شاعری کرتے تھے۔ انہی کی صحبت میں ذوق و شوق کی تربیت ہوئی اور ابتدائی اصلاح بھی انہی سے لی۔ کسی مشہور استادِ فن سے وابستہ نہ ہوئے۔ البتہ کلاسیکی ادب پڑھا اور ہم عصر اساتذۂ فن اور مشاعروں میں ان کی چشمک کے عینی شاہدین میں سے تھے۔ جب تک لکھنؤ میں رہے اور گھر بار کی ذمہ داریاں کم تھیں تو مشاعروں میں شرکت کا شوق رہا۔

روایت پسند تھے اور شاعری کے دبستانِ لکھنؤ کے لئے ایک خاص حمیت رکھتے تھے۔ دبستانِ لکھنؤ پر کی گئی تنقید پڑھتے ضرور تھے لیکن تسلیم نہیں کرتے تھے۔ عملی طور پر زندگی کے مشاغل میں مثبت مقصدیت کے سختی سے قائل تھے۔ ‘ادب برائے ادب’ اور ‘ادب برائے زندگی’کی بحث میں ان کی رائے بَین بَین تھی۔ ان کا خیال تھا کہ حسنِ شعری کے وہ سارے ظاہری لوازم جو لکھنؤ دبستان کی پہچان ہیں، شاعری کی مقصدیت کے ساتھ برتے جا سکتے ہیں۔ میری اس سلسلہ میں ان سے بارہا بحث رہتی تھی جو بالآخر ان کی ہلکی سی ڈانٹ یا جھنجھلاہٹ کے ساتھ ختم ہو جاتی تھی۔

غزل اور نظم دونوں اصناف سے مناسبت تھی۔ پاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات کے حوالے سے موضوعاتی نظمیں بھی کہیں۔ عام طور پر سال میں تین چار مرتبہ شاعری کی کیفیت طاری ہوتی تھی جس کی ظاہری علامت زیر لب گنگناہٹ اور رات کو بار بار اٹھ کر بجلی جلانا اور لکھنا ہوتا تھا۔ پان کا استعمال بڑھ جاتا۔ ان دنوں تواتر سے کئی غزلیں، نعتیں یا نظمیں ہو جاتی تھیں۔ بیاض میں درج ہو جانے کے بعد سب سے پہلے اور اکثر اوقات آخری سامعین میں، میری بہن اور والدہ ہوتے تھے۔ میرے ایک ماموں محمد قمر الہدیٰ صاحب ذوقِ شعری سے بہرہ یاب تھے اور داد دینے کا ایک والہانہ اور مشاعرانہ انداز رکھتے تھے۔ وہ بھی مستقل سامعین میں شامل تھے اور ان کی موجودگی میں گھر کے اندر ہی مشاعرہ کا سماں بندھ جاتا تھا۔ خاندانی تقریبات کے موقع پر یا احباب کے درمیان فرمائش پر کچھ سنا دیا کرتے تھے۔ میں جب انجینئرنگ کی تعلیم اور اس کے بعد ملازمت کے سلسلہ میں گھر سے دور رہا تو جب بھی گھر جانا ہوتا تھا تو میری غیر موجودگی میں کی ہوئی شاعری مجھے سناتے تھے اور تبصرہ ‘برداشت’کر لیا کرتے تھے۔ مشاعروں میں شرکت سے گریز کرتے تھے۔

ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں سے رجحان نعتیہ شاعری کی طرف زیادہ ہو گیا اور اس دہائی کے اختتام تک صرف نعتیہ شاعری ہی کرنے لگے۔ جس کا سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ فرمائشی شاعری از قسم سہرا، سالگرہ وغیرہ کے سلسلہ میں باوجود ناپسندیدگی کے بے بس تھے۔ کسی کو انکار نہیں کر سکتے تھے اور کچھ نہ کچھ لکھ کر دے دیتے تھے۔ جس کا کوئی ریکارڈ اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔

ان کی غزلیں اور نظمیں بھی نعتیہ اشعار سے مزین ہیں اور ان کی پوری شاعری پر دینی اور ملی فکر کی گہری چھاپ ہے۔ اپنی بیاضِ غزل کا آغاز درج ذیل قطعہ سے کیا ہے جو بخوبی ان کے نظریۂ فن کو ظاہر کرتا ہے :

اشعار میں مرے مئے باطل کی بو نہیں

عشقِ بتانِ دہر کی بھی ہاؤ ہو نہیں

اسپِ سخن مرا ہے بقیدِ زمامِ دیں

دادِ سخن کی مجھ کو نظرؔ آرزو نہیں

اس قطعہ کا آخری مصرع محض شاعرانہ پیرایۂ اظہار نہیں بلکہ ان کی زندگی بھر کا عمل تھا۔ مجھے ان کی زندگی اقبالؔ کے اس مردِ مؤمن کی طرح نظر آتی ہے جس کی تمنا قلیل تھی اور مقاصد جلیل تھے۔

میں اُن کی شاعری کی فنّی حیثیت اور قدر متعین کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ میرے ابو کی شاعری ہے اس لئے میرے لئے قابل قدر ہے اور میں اس حوالہ سے کسی معروضیت یا غیر جانبداری کی تہمت اپنے سر پر نہیں رکھنا چاہتا۔

اس مجموعۂ کلام کے حسنِ ترتیب اور حسنِ اشاعت کے لئے میں اپنے دونوں کرم فرماؤں جناب عزیز احسن صاحب اور جناب قمر رُعینی صاحب کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت میرے والد کی شاعری کے معروضی جائزہ اور قدر شناسی کے لئے وقف کیا اور اس کے منظر عام پر لانے کا باعث ہوئے۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ یہ سب کچھ جذبۂ حبِّ رسولؐ ہی کی عطا ہے۔

 

محمد احسن صدیقی

اسلام آباد

8 شوال المکرم، 1425ھ

مطابق 21 نومبر 2004ء

 

 

 

 

حمد

 

ضیائے کون و مکان لا الٰہ الا اللہ

بنائے نظمِ جہاں لا الٰہ الا اللہ

 

شفائے دردِ نہاں لا الٰہ الا اللہ

سکونِ قلبِ تپاں لا الٰہ الا اللہ

 

نفس نفس میں رواں لا الٰہ الا اللہ

رگِ حیات کی جاں لا الٰہ الا اللہ

 

بدستِ احمدِ مرسل ؐبفضلِ ربِّ کریم

ملی کلیدِ جناں لا الٰہ الا اللہ

 

دلوں میں جڑ جو پکڑ لے تو برگ و بار آئیں

ابھی ہے زیرِ زباں لا الٰہ الا اللہ

 

ہے تار تار اسی سے تو چادرِ ظلمت

چراغِ نور فشاں لا الٰہ الا اللہ

 

شجر حجر ہوں کہ جنّ و بشر کہ ماہی و مرغ

سبھی کے وردِ زباں لا الٰہ الا اللہ

 

سرور و کیف و حلاوت نظرؔ جو ہے درکار

صباح و شام بخواں لا الٰہ الا اللہ

٭٭٭

 

 

 

نعتیں

 

وہ سرورِ کونین وہ اللہ کے محبوب

اے صلِّ علیٰ خوب ہے واللہ بہت خوب

 

پھیرا رخِ انور طرفِ قبلۂ مرغوب

راضی ہے خدا بھی بہ رضائے دلِ محبوب

 

یوں صاف کروں روضۂ اقدس کو تو کیا خوب

ہو شوق کے ہاتھوں میں مرے پلکوں کی جاروب

 

غالب ہیں وہ دنیا میں وہ خورسند بہ عقبیٰ

سرکار کی الفت سے جو دل ہو گئے مغلوب

 

وہ ختمِ رسل ہیں جسے تسلیم نہیں یہ

وہ راندۂ درگاہِ خداوند وہ مغضوب

 

پردہ شبِ اسرا کا جو سرکاؤ تو دیکھو

یک جا ہیں سرِ عرشِ بریں طالب و مطلوب

 

یا رب ہو عطا شربتِ دیدارِ محمدؐ

دے یا کہ نہ دے چشمۂ تسنیم کا مشروب

 

دل شاد ہوئے سن کے سرِ بزم سبھی لوگ

تم نے یہ سنائی جو نظرؔ نعتِ خوش اسلوب

٭٭٭

 

 

 

 

جب ان کا ذکرِ محبت مری زباں سے چلا

سر شکِ اشک بھی پہنائیِ نہاں سے چلا

 

بندھا تھا تارِ نبوت جو اس پہ ختم ہوا

یہ سلسلہ نہ پھر آگے شہِ شہاںؐ سے چلا

 

خبر کسے تھی کہاں پر ہے اور کیسا ہے

پتہ خدا کا ہمیں شاہِ انس و جاں سے چلا

 

ہے اس کا زخمِ محبت قلوب میں گہرا

سراغ اس کا مجھے آہِ عاشقاں سے چلا

 

اسے تھی ایک ہی منزل حریمِ پاک خدا

وہ دم زدن میں رسا تھا جو خاکداں سے چلا

 

نقوشِ پا سے اجاگر ہے رہگذارِ حیات

دئیے جلا کے چلا وہ جہاں جہاں سے چلا

 

تھا غم زدہ شبِ ہجرت دلِ شہِ خوباں

کہ جب حرم سے اٹھا بزمِ دوستاں سے چلا

 

تھا پھول پھول فسردہ کلی کلی خاموش

وہ دارِ خلد کو جب میرے گلستاں سے چلا

 

دیارِ پاک چلے کارواں پئے دیدار

کوئی کہاں سے چلا ہے کوئی کہاں سے چلا

 

نہ دل ہوا کسی صورت نظرؔ شریکِ سفر

میں واپسی پہ اکیلا اس آستاں سے چلا

٭٭٭

 

 

 

ہے تمنا شہرِ طیبہ ہم بھی جا کر دیکھتے

ذرہ ذرہ ہے جہاں کا روح پرور دیکھتے

 

سیر کب ہوتا یہ دل جب شہرِ دلبر دیکھتے

ایک کیا ہم سیکڑوں چکر لگا کر دیکھتے

 

روضۂ انور پہ جب نیچے سے اوپر دیکھتے

نور کا سیلِ رواں تا چرخِ چنبر دیکھتے

 

دیکھتے ہی رہتے جب جالی کے اندر دیکھتے

روضۂ اقدس کا منظر سیر ہو کر دیکھتے

 

دیکھتے مسجد کے در محراب و منبر دیکھتے

شکر کے سجدے میں پھر دل دیکھتے سر دیکھتے

 

ماہ و اختر شب کو دن میں شاہِ خاور دیکھتے

گنبدِ خضراء پہ سب ہوتے نچھاور دیکھتے

 

قدِّ سرو و خندۂ گل، غنچۂ تر دیکھتے

کیا کہیں کیا کیا مناظر روح پرور دیکھتے

 

جان و دل، تارِ نفس اک اک معطر دیکھتے

بے خودی ہوتی، فضائے مشک و عنبر دیکھتے

 

فخر سے ہوتے ہوئے اونچا مقدر دیکھتے

سامنے اپنے نگوں بختِ سکندر دیکھتے

 

آنکھ میں اشکوں کے ہم رخشندہ گوہر دیکھتے

دل میں برپا اک تمناؤں کا محشر دیکھتے

 

نیند آتی شب کو جب میدانِ محشر دیکھتے

ساقی کوثر سے ملتے جامِ کوثر دیکھتے

 

سر پہ رکھتے، چومتے، آنکھوں میں رکھتے خاک وہ

جو بھی ہو سکتا عقیدت سے وہ سب کر دیکھتے

 

یہ بھی ہے اک آرزو اے کاش پوری ہو وہیں

خواب کے عالم میں ان کا روئے انور دیکھتے

 

حشر تک آسودہ رہتی یہ تمہاری مشتِ خاک

خاکِ طیبہ میں نظرؔ اے کاش مل کر دیکھتے

٭٭٭

 

 

 

 

فضلِ رب ہے جو کیا مجھ کو ثنا خواں تیرا

خادمِ ہیچ مداں اس پہ ہے نازاں تیرا

 

کوئی ہمسر نہیں اے خاصۂ خاصاں تیرا

مرتبہ ہے شبِ اسرا سے نمایاں تیرا

 

ماورا سرحدِ ادراک سے عظمت تیری

وصف کس سے ہو بیاں خواجۂ گیہاں تیرا

 

اپنے محبوب کی امت میں کیا ہے شامل

میرے رب مجھ پہ ہے دو گونہ یہ احساں تیرا

 

دامنِ دل میں سمیٹا ہے انہیں چن چن کر

مجھ کو ہر حرفِ سخن ہمسرِ مرجاں تیرا

 

یہ نہ ہوتا تو اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا

دین و دنیا کا اجالا ہے یہ قرآں تیرا

 

اس کے پینے سے تو دنیا ہی بدل جاتی ہے

مرحبا جرعۂ پیمانۂ عرفاں تیرا

 

افقِ وقت پہ روشن ہے مثالِ خورشید

قابلِ دید ہے وہ عہدِ درخشاں تیرا

 

بات ہی اور ہے صدیقؓ کی تیرے، یوں تو

مرتضیٰؓ تیرا، عمرؓ تیرا، ہے عثماںؓ تیرا

 

حشر میں ایک نیا حشر نہ برپا ہو جائے

عام دیدار ہو جب اے شہِ خوباں تیرا

 

مانعِ راہِ مدینہ ہے خدا جانے کیوں

کیا برا ہم نے کیا گردشِ دوراں تیرا

 

شرط بس یہ ہے تو آ جائے نظرؔ محشر میں

کام میرا ہے پکڑ لوں گا میں داماں تیرا

٭٭٭

 

 

 

کہتا ہوں صاف صاف تکلف کئے بغیر

فرحاں نہ ہو یہ دل تری مدحت لکھے بغیر

 

روشن نہ ہو ضمیر نہ ہو روح مطمئن

تیری کتاب اور حدیثیں پڑھے بغیر

 

قومِ ستم شعار نے توڑے ستم ہزار

چھوڑی نہ ایک بات بھی رب کی کہے بغیر

 

کافی یہی دلیلِ نبوت ہے عقل کو

موتی لٹائے علم کے لکھے پڑھے بغیر

 

تاریخِ انبیاء کی شہادت سے میں کہوں

پورا ہوا نہ کارِ رسالت ترے بغیر

 

داد و دہش کا آپ کی صد مرحبا یہ حال

لوٹا نہ در سے کوئی بھی جھولی بھرے بغیر

 

کوئی بشر بھی پا نہ سکے گا رہِ حیات

حلقہ بگوشِ سرورِ عالمؐ ہوئے بغیر

 

ہو مغفرت نہ داخلِ فردوس ہو سکے

خم خانۂ حجاز کی صہبا پئے بغیر

 

اجرِ صلوٰۃ و صوم تو مشروط ہے مگر

اجرِ درود رہ نہیں سکتا ملے بغیر

 

حبِّ نبیؐ ہو دل میں اگر موجزن تو پھر

ملتا نہیں ہے چین مدینہ گئے بغیر

 

منزل نہ مل سکے کسی رہرو کو اے نظرؔ

ختم الرسل کے نقشِ قدم پر چلے بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

لکھ رہا ہوں مدحتِ شاہنشہِ گردوں سریر

المدد اے خالقِ کون و مکاں نعم النصیر

 

ذکرِ خیرِ مصطفیٰؐ ہے موجبِ خیرِ کثیر

ہو خدا راضی قلوبِ بندگاں ہوں مستنیر

 

فیض یابِ نور تھا ہر ذرۂ کون و مکاں

جلوہ گر تھا عرش پر جس رات وہ بدرِ منیر

 

دیدنی ہے فقر اس کا جاہِ شاہانہ کے ساتھ

زندگی کر دی بسر بر لقمۂ نانِ شعیر

 

اس کے نورِ باطنی کا یہ تصرف مرحبا

ہم نشیں اس کے رہے جو، ہو گئے روشن ضمیر

 

راہِ حق سے تا نہ بھٹکیں رہروانِ زندگی

صفحۂ ہستی پہ اس نے کھینچ دی سیدھی لکیر

 

دین و دنیا دونوں بن جائیں اگر ہے آرزو

اس کے بتلائے ہوئے رستوں پہ چلنا ناگزیر

 

جس میں جتنا ظرف ہو حکمت کے موتی رول لے

از کتابِ اَلعزیز اتری جو اس پر بے نظیر

 

اس کی خوشنودی ملے تو رب کی خوشنودی ملے

یعنی خوشنودی ہے اس کی موجبِ فوزِ کبیر

 

حشر کی رسوائیوں سے ڈر رہا ہوں میں شہا

ہو کرم کی اک نظرؔ مجھ پہ بوقتِ دار و گیر

٭٭٭

 

 

 

 

توصیفِ نبیؐ کا مجھے مقدور نہیں ہے

چپ سادھ لوں یہ بھی مجھے منظور نہیں ہے

 

وہ دین و شریعت ہو کہ اخلاق و محاسن

کس پہلو سے آقا مرا مشہور نہیں ہے

 

ہے نامِ مبارک سے ہی ظاہر تری عظمت

اس نام میں اک حرف بھی مکسور نہیں ہے

 

عقبیٰ میں ہے وہ باعثِ خسران و ندامت

محفل میں اگر آپ کا مذکور نہیں ہے

 

صہبائے محبت تری اللہ فزوں دے

گو نشّہ ہے لیکن ابھی بھرپور نہیں ہے

 

ہر شخص سلامی کو تری جائے مدینہ

جو گردشِ حالات سے مجبور نہیں ہے

 

ہے بارشِ انوارِ خدا شہرِ نبیؐ میں

جلوہ فگنی مثلِ سرِ طور نہیں ہے

 

مانا کہ بہت دور ہوں مسکن سے نبیؐ کے

یاد اس کی مرے دل سے مگر دور نہیں ہے

 

دوبارہ درِ قدس پہ پہنچائے نظرؔ کو

اللہ کی رحمت سے یہ کچھ دور نہیں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

ہوں آج محوِ ثنائے رسولِ زریں تاج

رگوں میں فرطِ مسرت سے ہے لہو موّاج

 

کیا ثبوت فراہم زہے شبِ معراج

خدا کے سارے رسولوں کا مصطفیٰؐ سرتاج

 

صفِ رسل میں وہی ایک ہے شہِ لولاک

رسائے عرشِ معلّیٰ وہ صاحبِ معراج

 

کتاب اس کی ہے محکم خلل سے ہے محفوظ

جو صدیوں پہلے تھی ویسی ہی حرف حرف ہے آج

 

درِ حبیبِ خدا ہے یہاں کمی کیا ہے

ہر ایک وقت کھڑے ہیں ہزارہا محتاج

 

شرف ملا یہ انہیں آپ ہی کی نسبت سے

کہ مؤمنین کی مائیں ہیں آپ کی ازواج

 

مثالِ سایہ رہے ساتھ تیرے جو تا عمر

بفضلِ رب وہ ترے پاس ہی ہیں دونوں آج

 

نظامِ دینِ شہِ انس و جاں ہے مستحکم

نظامِ قیصر و کسریٰ نہیں کہ ہو تاراج

 

وہ عاصیوں کی شفاعت کریں گے روزِ حساب

وہ لاج والے ہیں رکھیں گے امتی کی لاج

 

مجھے تو چاہئے سرمایۂ سخن تیرا

مری نظرؔ میں ہے اک اک سخن ترا پکھراج

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بغیرِ رحمتِ یزداں نہ ممکن ہے نہ آساں ہے

ثنا خوانِ محمدؐ ہوں تو میرے رب کا احساں ہے

 

کوئی سب لکھ دے اس کی حمد کب اس کا امکاں ہے

کہ وہ ہے جس قدر ظاہر اسی نسبت سے پنہاں ہے

 

وہ ہے پیغمبرِ آخر مطاعِ نوعِ انساں ہے

وہ سرکارِ دو عالم ہے بر آں محبوبِ یزداں ہے

 

شہنشہ ہیں گدائے در وہ ایسا شاہِ شاہاں ہے

درِ اقدس پہ اس کے ازدحامِ میر و سلطاں ہے

 

وہ انسانوں کا ہادی ہے بذاتِ خود بھی انساں ہے

مقام اونچا ہے لیکن متصل ہی بعدِ یزداں ہے

 

نظر آنا نہ آنا اس کا مثلِ مہرِ تاباں ہے

جو اک مطلع سے غائب دوسرے مطلع پہ رخشاں ہے

 

ضیائے ماہ و انجم ہو نہ ہو کیا کام ہے مجھ کو

بہ یادِ شاہِ خوباں قلب میں میرے چراغاں ہے

 

شریعت نے کئے حل عقدہ ہائے زندگی سارے

ہمیں اب کچھ نہیں مشکل ہمیں ہر کام آساں ہے

 

شفاعت چاہئے ان کی، کرم کی اک نظرؔ شاہا

سرِ محشر وہی ہیں اور میرا کون پرساں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نعت شایانِ نبیؐ ہو نہیں اس کا امکاں

میں تو لکھتا ہوں کہ رہ جائے نہ دل میں ارماں

 

وہ ہے سرتاجِ رسولاں وہ ہے شاہِ خوباں

وہ ہے محبوبِ خداوند وہ شاہِ گیہاں

 

پاک دامان و خوش اندام ہے شاہِ خوباں

خوش دل و خوش نگہ و خوش سخن و خوش الحاں

 

زلفِ سنبل سے بھی خوش تر ہے وہ زلفِ پیچاں

صبحِ خنداں ہو نچھاور وہ ہے روئے تاباں

 

دل میں پیوست ہوں ایسے ہیں خدنگِ مژگاں

رشکِ یاقوت ہیں لب دُرِّ عدن ہیں دنداں

 

وہ ہے مستغنی ہر شان و شکوہِ شاہاں

ہے کوئی شیش محل اور نہ در پر درباں

 

وہ ہے ناراضگی رب سے ہمیشہ ترساں

وہ ہمہ وقت ہے خوشنودی رب کا خواہاں

 

اپنے اصحاب کی محفل میں ہو گوہر افشاں

رزم گاہِ حق و باطل میں وہ مردِ میداں

 

مشکلیں اتنی اٹھائی ہیں برائے امت

مرحبا ہو گئی ہر مشکلِ امت آساں

 

اپنی امت کے لئے اس کی پریشاں قلبی

اٹھ کے را توں کو دعا جو بہ حضورِ یزداں

 

جس کی گردن میں پڑا طوقِ غلامی اس کا

وہ ہے آزاد زِ آلامِ بلائے دوراں

 

کوئی محروم نہیں جود و کرم سے اس کے

رحمتِ کون و مکاں ہے وہ عمیم الاحساں

 

چشمِ انساں پہ سب اوصافِ نبیؐ کب روشن

دیکھ سکتا نہیں انساں بہ نگاہِ یزداں

 

روضۂ پاک کی ہم نے بھی زیارت کی ہے

بارِ دیگر بھی نظرؔ دل سے ہے عہد و پیماں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

تکمیلِ ثنا کر دے یہ انساں میں نہیں دم

ذات ایسی، صفات ایسی تری جانِ دو عالم

 

در زمرۂ خاصانِ خدا سب سے معظم

وہ رحمتِ دارین ہے وہ خیرِ مجسم

 

وہ منبعِ ہر علم وہ گنجینۂ حکمت

دنیا کا معلِّم ہے وہ ہے رب کا معلَّم

 

کیوں کیف نہ ہو کیوں نہ کرے صبح یہ چم چم

وہ عالمِ ظلمات میں آیا تھا سحر دم

 

ہر قولِ نبیؐ حق ہے کہ فرمودۂ حق ہے

ہر بات دل آویز ہے ہر فیصلہ محکم

 

انساں ہوں کہ جنات، فرشتے ہوں کہ غلماں

خواہاں ترے دیدار کے اے حسنِ مجسم

 

بخشی جو کتاب آپ نے قرآنِ مقدس

ہر دکھ کا مداوا ہے ہر اک زخم کا مرہم

 

آتا ہے وہ جب یاد دل آرائے مدینہ

کافور نہاں خانۂ دل سے ہو ہر اک غم

 

طائف کا سنا مت مجھے وہ قصۂ خونیں

اے واعظِ لَسَّان ذرا ہوش ذرا تھم

 

کس درجہ مقدس ہے نظرؔ والی طیبہ

از عرش سلام آتے ہیں اس ذات پہ پیہم

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کیفِ دل کب سخن وری سے ملے

ہاں مگر مدحتِ نبیؐ سے ملے

 

علم و دانش نہ آگہی سے ملے

راہِ حق اس کی پیروی سے ملے

 

روئے روشن ہو رشکِ ماہِ منیر

لب گلِ تر کی پنکھڑی سے ملے

 

اہلِ عالم کو رہنما کامل

ہر سبق سیرتِ نبیؐ سے ملے

 

دینِ قیم صحیفۂ قرآں

یہ خزانے اسی سخی سے ملے

 

لے کے لوٹے وہ دولتِ ایماں

ان سے جو نیک نیتی سے ملے

 

علم و عرفاں کے سب درِ نایاب

بس اسی ایک جوہری سے ملے

 

کیسی ہے رب کی شانِ یکتائی

یہ خبر بھی ہمیں اسی سے ملے

 

یہ شرافت اسی نے سکھلائی

دوست کی طرح اجنبی سے ملے

 

جو نہ ہو اس کے دین کا تابع

چین کیا ایسی زندگی سے ملے

 

کہیں ملتا نہیں وہ کیف و سرور

جو ترے در کی حاضری سے ملے

 

جامِ کوثر نظرؔ کو ہے امید

آپ کی بندہ پروری سے ملے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

الفاظ و معانی کے بل پر زنہار یہ سر انجام نہیں

یعنی کہ ثنائے ختمِ رسل انسان کے بس کا کام نہیں

 

کیا وحی جلی، کیا وحی خفی، ارشادِ خدا سب پہنچایا

تا حشر خدا کے بندوں کو اب کوئی نیا پیغام نہیں

 

اقوالِ نبیؐ سے کھلتے ہیں اسرار و رموزِ قرآنی

قرآں کے مطالب ہیں واضح اب ان میں کوئی ابہام نہیں

 

میخانے پہ ان کے جمع ہیں سب، ہر رند بلا تفریق پئے

تقسیم بقدرِ ذوق ہے یاں تقسیم بقدرِ جام نہیں

 

سب لوگ ہیں اس کی امت میں پیغمبرِ آخر وہ سب کا

سب رحمتِ عالم اس کو کہیں، کب اس کی محبت عام نہیں

 

اللہ رے ان کی شب خیزی، وہ ذوقِ عبادت دستِ دعا

اف بخششِ امت کی خاطر بے چین ہے دل آرام نہیں

 

اس طرح سے دعوت کس کو ملی، کب عرش پہ کوئی اور گیا

انعام ہوا جو خاص ان پر، خاصانِ خدا پر عام نہیں

 

بتلا دیئے سب احکامِ خدا، توضیح بھی کی، تشریح بھی کی

قربان شریعت پر ان کی، ہیں کون سے جو احکام نہیں

 

دنیا بھی سنواری عقبیٰ بھی، خالق سے ملایا بندوں کو

مرہونِ پیمبر ہیں بے شک، انسان جو کالانعام نہیں

 

تا وسعتِ ذوقِ قلب و نظرؔ پیتا ہوں اسی میخانہ سے

سرمستِ مئے توحید ہوں میں، بدمستِ مئے گلفام نہیں

 

اکسا رہا ہے دل کو مرے جذبۂ دروں

 

اکسا رہا ہے دل کو مرے جذبۂ دروں

لکھتا ہوں نعتِ پاکِ نبیؐ، جیسی لکھ سکوں

 

یونہی نہیں بہ حجتِ لولاک میں کہوں

منت پذیر اس کی ہے یہ بزمِ کاف ونوں

 

از چہرۂ صبیح گریبانِ صبح چاک

رنگِ شفق ہے ماند زِ رخسارِ لالہ گوں

 

فی الذّات و فی الصّفاتِ خدا وہ نہیں شریک

مخلوقِ کائنات میں سب سے بڑا ہے یوں

 

پڑھتے رہیں جو مصحفِ قرآنِ مصطفیٰؐ

پائیں گے حکمتوں کے گہر ہائے گونا گوں

 

مال و منال و لعل و گہر سے کہاں نصیب

ذکرِ حبیبِ پاکؐ سے ملتا ہے جو سکوں

 

اس پر گواہ ہو شبِ اسرا کی تیرگی

زیرِ قدم حضورؐ کے افلاک بے ستوں

 

داتا ہیں، نکتہ سنج ہیں، روشن ضمیر ہیں

پہنچے جو اس کے عشق میں تا منزلِ جنوں

 

دربارِ مصطفیٰؐ کی جلالت مآبیاں

شاہانِ ذی حشم بھی وہاں پر ہیں سرنگوں

 

ہادی ہے سارے اہلِ جہاں کا وہی نظرؔ

بے امتیازِ خاک و وطن، نسل و رنگ و خوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی

کامل نہ ہو ثنائے شہِ دوسرا کبھی

 

روشن ہوئی جو شمع بہ غارِ حرا کبھی

تھی با خدا وہ زینتِ عرشِ عُلا کبھی

 

بجلی چمک اٹھی جو دیئے مسکرا کبھی

موتی برس پڑے جو تکلم کیا کبھی

 

میرے نبیؐ کی طرح کوئی جامع الصفات

خلّاقِ دوجہاں نے نہ پیدا کیا کبھی

 

باتیں وہ ہیں کہ منطقی و فلسفی نثار

اُمی لقب نے گرچہ نہ لکھا پڑھا کبھی

 

یکتائے روزگار ہے وہ شانِ خلق میں

احساں کئے ہزار نہ احساں دھرا کبھی

 

امت کی فکر نے اسے بے چین ہی رکھا

سویا نہ میٹھی نیند وہ درد آشنا کبھی

 

اللہ رے نصیب، لگے اس کو چار چاند

اس چاند کے جو گرد ستارا رہا کبھی

 

اٹھتی جو ساتھیوں کی طرف چشمِ مکتحل

ہوتا تھا کیف اس کا نہ دل سے جدا کبھی

 

سنت سے اس کی ہٹ کے چلا جو بھی راہرو

منزل نہ مل سکے گی اسے برملا کبھی

 

پڑھئے درود ایک تو دس نیکیاں ملیں

وعدے سے اپنے پھر نہیں سکتا خدا کبھی

 

رب سے حصولِ خلد کی امید رکھ نظرؔ

ہاں ٹوٹنے نہ پائے یہ تارِ ثنا کبھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

تھا سکوں نا آشنا جو دل اسے اب چین ہے

جب سے مصروفِ ثنائے سرورِ کونینؐ ہے

 

آمنہ بی کا جگر گوشہ ہے نورِ عین ہے

جانِ عبد اللہ، جدِّ امجدِ حسنین ہے

 

عرش کا تارا وہ سب کا قرۃ عینین ہے

بندۂ محبوبِ یزداں ہے شہِ کونین ہے

 

وہ شہنشاہِ ہدیٰ ہے ہادی نجدین ہے

قبلۂ اہلِ جہاں ہے کعبۂ دارین ہے

 

اس کی آقائی مسلّم ہے ہمیشہ کے لئے

ہاں نہ مانے گا وہی جو دَر حجابِ رَین ہے

 

وہ مہِ تاباں کہ چمکا تھا سرِ فاراں کبھی

نور افشاں بارک اللہ تا سرِ قطبین ہے

 

چھوڑنا دامن نبیؐ کا ہے خدا کو چھوڑنا

ربطِ واحد خالق و مخلوق کے مابین ہے

 

فرش پر بستر ہے اس کا ہے غذا نانِ جویں

کرّ و فر سے مجتنب وہ سرورِ کونینؐ ہے

 

واہ وہ ساتھی کہ جس کا چولی دامن کا ہے ساتھ

غار کی خلوت میں بھی وہ واحد الاثنین ہے

 

دیدنی ہے اوجۂ تقدیرِ صدیقؓ و عمرؓ

بعد مردن بھی نبی سے قربتِ شیخین ہے

 

مل گئی سارے زمانے کی شہنشاہی اسے

اے نظرؔ جو بہرہ مندِ صدقۂ نعلین ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

نغمہ طرازِ نعت رہوں میں تھکے بغیر

عمرِ عزیز صرف ہو میری بہ کارِ خیر

 

میں بھی ترا ہی رند ہوں ساقی نہیں میں غیر

پیمانہ اک مجھے بھی، ترے میکدہ کی خیر

 

دامن چھٹے نہ ان کا اگر چاہتے ہو خیر

اپنی ہی ذات سے کہیں رکھتا ہے کوئی بیر

 

حور و قصور و جامِ طہور اور لحمِ طیر

مجھ کو نہیں قبول یہ سب آپ کے بغیر

 

تیری برابری جو کرے ایک بھی نہیں

نوحؑ و کلیمؑ و یونسؑ و ایوبؑ یا عزیرؑ

 

یہ تاجِ سرفرازی کامل کسے نصیب

کی جلوہ گاہِ عرش کی بس آپ ہی نے سیر

 

داد و دہش ہے شہرۂ آفاق آپ کی

آیا ہوں در پہ آپ کے مجھ کو عطا ہو خیر

 

واللہ تو نے کعبہ کو کعبہ بنا دیا

اک مدتِ دراز سے جو بن چکا تھا دیر

 

نقشِ قدم حضورؐ کا پیشِ نظرؔ رہے

پھر کیا مجال ہے کہ کہیں ڈگمگائیں پیر

 

کام آئیں گے حضور رسالت مآبؐ ہی

کام آئے جس گھڑی کوئی اپنا نہ کوئی غیر

 

مستِ نگاہِ ساقی کوثر ہوں میں نظرؔ

کیا طرفہ بے خودی ہے یہ جام و سبو بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

پھر دل میں آئی یادِ آں ذاتِ عالم آرا

لکھیں ثنا ہم اس کی دل آج ہے ہمارا

 

رخشِ قلم نے اپنا ہرچند زور مارا

میدانِ محمدت کا پایا نہ پر کنارا

 

وہ تاجدارِ بطحا عرشِ عُلا کا تارا

ہے نظمِ دوجہاں سے پہلے کا جلوہ آرا

 

لاکھوں میں ایک ہے وہ یعنی کہ وہ ہے نیارا

ہر دل کی ہے صدا وہ ہر آنکھ کا وہ تارا

 

جچتا ہے اس کے لب پر غنچہ کا استعارا

خوشبوئے زلفِ پیچاں خوشتر زِ مشک سارا

 

بحرِ علوم و حکمت جس کا نہیں کنارا

بے شک نبیؐ ہمارا ہاں ہاں نبیؐ ہمارا

 

مہکائے پھول زلفِ سنبل کو بھی سنوارا

آ کر اسی نے آخر رنگِ چمن نکھارا

 

تبلیغِ دینِ حق میں ہمت کبھی نہ ہارا

راہوں میں اس کی آئے ہر چند سنگِ خارا

 

میں سرگزشتِ خونیں کس دل سے سن سکوں گا

اے قصہ گوئے طائف خاموش بس خدارا

 

ختم اس پہ ہے نبوت ختم اس پہ ہے رسالت

اس تاج و تخت پر ہے اس کا ہی اب اجارا

 

یہ حسنِ خلق دیکھیں دشمن کو بھی دعا دے

دشمن کو بد دعائیں اس کو نہیں گوارا

 

کیا ہے وہ ذاتِ اقدس اتنا ہی کہہ سکیں ہم

پوشیدہ کچھ ہے سب سے کچھ سب پہ آشکارا

 

سائل اس آستاں کے گردوں وقار سب ہیں

زیرِ قدم ہیں ان کے تاج و سریرِ دارا

 

لاکھوں ہی دیکھ آئے اپنی نظرؔ سے طیبہ

انیس سو بیاسی کا سال ہے تمہارا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

جب ثنائے پاک میں ہوتا ہوں گرمِ جستجو

منصرف رکھتا ہوں دل کو از جہانِ چار سو

 

ایک بحرِ بیکراں وہ میں ذرا سی آبجو

لکھ نہیں سکتا ہوں مدحت میں بقدرِ آرزو

 

نرم خو، سنجیدہ فطرت، خوش جبیں، آئینہ رو

طرفہ سیرت، خوش ادا، شیریں کلام و خوش گلو

 

ربِ دو عالم نے خود توصیف فرما دی ہو جب

خلقِ پاکیزہ پہ اس کے کیا کریں ہم گفتگو

 

زلفِ سنبل سے کہیں خوش تر وہ زلفِ مشک بو

آبِ گوہر گم بروئے رشتۂ دندان اُو

 

جو چلے بر نقشِ پائے مصطفیٰ وہ سرخرو

مژدۂ رب ان کو فی جنّٰت عدنٍ اُدخلوا

 

نرم خوئی، پاک بینی، پارسائی، عبدیت

ان اداؤں پر نثار اس کے جہانِ رنگ و بو

 

جب وہ آیا آدمیت تھی دریدہ پیرہن

اس نے کی بخیہ گری اس نے کیا کارِ رفو

 

ہے طریقِ عشق میں مسلک یہی اے ہم نشیں

بھیجئے اس پر درودِ پاک ہو کر با وضو

 

وہ امام الانبیاء ہے وہ حبیبِ کبریا

ذکر اس کا چار سو ہے نام اس کا کو بکو

 

ساقیا اک جام اس عاجز نظرؔ کو حشر میں

جام تیرا، حوض تیرا، مالکِ کوثر ہے تو

٭٭٭

 

 

 

 

 

شعر و سخن کا ذوق ودیعت ہوا مجھے

نعتِ نبیؐ کے شوق نے اپنا لیا مجھے

 

شکرِ خدا ملا وہ رسولِ خدا مجھے

لگتا ہے دوجہاں میں جو سب سے بھلا مجھے

 

مشکِ ختن خطا کی نہ خوشبو سنگھا مجھے

لا دے صبا وہ نکہتِ زلفِ دوتا مجھے

 

سب مانگ لوں میں یاد ہے جتنی دعا مجھے

مل جائے قربِ روضۂ اطہر ذرا مجھے

 

پھر تاجِ قیصری سے سروکار کیا مجھے

مل جائے گر حضورؐ کی نعلینِ پا مجھے

 

اپنے کرم کی بھیک مرے ساقیا مجھے

کوثر کا ایک جام لبالب بھرا مجھے

 

برپا ہے روزِ حشر، بہت ڈر لگا مجھے

دامن میں اپنے آپ چھپا لیں شہا مجھے

 

پہنچا ہوں روضۂ نبوی میں ہزار بار

مرغِ خیال لے کے گیا مرحبا مجھے

 

اٹھوں نہ ان کے در سے اٹھانے کے باوجود

اس بات پر بھلے ہی کہیں سب برا مجھے

 

صد شکر جا رہا ہوں دیارِ حبیبؐ میں

اب واپسی کا دھیان لگے بے تکا مجھے

 

اعمالِ صالحہ پہ نہیں تکیۂ نجات

اس رحمتِ تمام کا ہے آسرا مجھے

 

امکاں غلط روی کا مری اے نظرؔ نہیں

ہے رہنمائے منزلِ حق نقشِ پا مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہے اگرچہ کارِ مشکل شہِ دوسرا کی مدحت

مرے قلب و جاں کو لیکن اسی مشغلے میں راحت

 

وہ نبی اُمیؐ ایسا کہ نہیں ہے کوئی اس سا

وہ نگینۂ نبوت وہ تتمۂ رسالت

 

وہ ہے حسن کا مرقع وہ ہے خلق کا نمونہ

زہے پُر جمال سیرت زہے تابدار سیرت

 

کہوں اس کو ماہِ کامل تو ہے ناقص استعارہ

نہیں کوئی شے بھی ایسی جسے دوں میں اس سے نسبت

 

اسی آفتاب سے ہے یہ ضیائے علم وعرفاں

ہوا مستنیر اسی سے یہ جہانِ جہل و ظلمت

 

تہِ قعرِ صد مذلت تھا ذلیل ابنِ آدم

وہی دستگیر پہنچا تو ملی ہے اس کو رفعت

 

بہی خواہِ بندگاں وہ کوئی دوست ہو کہ دشمن

وہ کریم اور بے حد وہ رحیم بے نہایت

 

جو کتاب اس پہ اتری وہ ہے لازوال و کامل

ہے چراغِ راہ و منزل بخدا ہر ایک آیت

 

ہے جو حرف حرف حکمت تو کلام ایسا معجز

اسے لاکھ بار پڑھئے تو نہ کم ہو شوق و رغبت

 

تری مغفرت کا امکاں ہے نظرؔ حساب کے دن

وہی تاجدارِ بطحا کو کریں تری شفاعت

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

خدا کا شکر بخشی جس نے توفیقِ ثنا خوانی

کہاں ناچیز ورنہ میں کہاں توصیفِ سلطانی

 

زہے صورت ہے نورانی خوشا سیرت ہے قرآنی

اسے دیکھیں تو سکتہ ہو اسے دیکھیں تو حیرانی

 

تری توصیف میں نازل ہوئیں آیاتِ ربانی

کہ ممکن ہی نہ تھی انساں سے تیری مرتبہ دانی

 

تھی اپنی سرزمینِ دل میں ویرانی ہی ویرانی

ترا ابرِ کرم برسا اُگی تب فصلِ ایمانی

 

مرے ظلمت کدے میں تو نے کی جب جلوہ سامانی

مسائل حل ہوئے سارے سیاسی اور عمرانی

 

تمہیں حاصل ہوئی واللہ جب معراجِ جسمانی

کھلی تب آنکھ انساں کی تمہارے قدر پھر جانی

 

کہوں گا بات سچی میں کروں گا بات ایمانی

ہزاروں آئے پیغمبر مگر تم سب میں لاثانی

 

اسی روئے زمیں تک تھی سلیماں کی سلیمانی

قیامت تک جو ممتد ہے وہ ہے تیری ہی سلطانی

 

دھنی ہیں وہ مقدر کے انہیں سجتی ہے سلطانی

جنہیں سونپی گئی دربارِ عالی کی مگس رانی

 

ترے ہاتھوں ملی سوغات کیا کیا اے شہِ والا

نمازِ پنجگانہ حجّ و روزہ اور قربانی

 

سکوں چہرے پہ بس اس کے نظرؔ آتا ہے محشر میں

جلالِ حق سے ورنہ سب کا پِتّہ ہو گیا پانی

٭٭٭

 

 

 

 

 

میری زباں پہ اس کی ثنائے جمیل ہے

بندوں کو آخری جو خدا کی دلیل ہے

 

سدرہ پہنچ کے شل قدمِ جبرئیل ہے

وہ جلوہ گاہِ عرش میں تنہا دخیل ہے

 

اس کے بیانِ حسن کو الفاظ ہی نہیں

نا ممکن البیاں ہے وہ اتنا جمیل ہے

 

ہو گی نہ منتہی نہ ہوئی اس کی داستاں

تیئیس سال کی ہے پہ اتنی طویل ہے

 

از اعتبارِ خُلقِ کریمانہ دیکھئے

رطب اللسان بمدح وہ ربِّ جلیل ہے

 

وہ صائم النہار ہے وہ دائم الصلوٰۃ

کھانا برائے نام ہے سونا قلیل ہے

 

وہ ہے حبیبِ ربِ دو عالم خوشا نصیب

ورنہ کوئی کلیم ہے کوئی خلیل ہے

 

کیا اس کی عظمتوں کا تصور کرے کوئی

دربان جس کے گھر کے لئے جبرئیل ہے

 

رحمت نشاں بحقِ گنہ گار روز حشر

در پیش گاہِ داورِ محشر وکیل ہے

 

یومِ جزا نصیب شفاعت ہو آپ کی

بس بخششِ نظرؔ کی یہی اک سبیل ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

جب تک مری زبانِ شگفتہ بیاں رہے

نغمہ طرازِ نعتِ شہِ دوجہاں رہے

 

رحمت خدائے پاک کی سایہ کناں رہے

کیا خوب جتنی دیر بھی ان کا بیاں رہے

 

ہر چند ہم بہ زمرۂ آوارگاں رہے

پھر بھی اسیرِ الفتِ شاہِ شہاں رہے

 

یادِ حبیبِ پاک جو جلوہ فشاں رہے

قندیلِ نور قلب مرا بے گماں رہے

ق

جب تک نظر فروز گل وگلستاں رہے

جب تک بساطِ عرض رہے آسماں رہے

 

جب تک فلک پہ روشنی کہکشاں رہے

ہر لب پہ داستانِ شہِ انس و جاں رہے

 

کرّو بیاں بہ عرش ہیں اہلِ زمیں بہ فرش

معمور ان کے ذکر سے دونوں جہاں رہے

 

سب انبیاء خدا کے مقرب ہیں ہاں مگر

محبوبِ کبریا وہی رحمت نشاں رہے

 

کوئی عمل مطابقِ سنت اگر نہ ہو

لاریب ایسی سعی عمل رائے گاں رہے

 

دینِ متیں پہ ان کی چلے جو تمام عمر

خرسند و کامیاب رہے کامراں رہے

 

دیکھا ہے جب سے گنبدِ خضرا خوشا نصیب

بزمِ تصورات میں وہ آستاں رہے

 

طیبہ کے قافلے میں ہو شامل پھر ایک بار

آگے رہے نظرؔ کہ پسِ کارواں رہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

سکوں پہ واجب رہے وہ دل میں خرد پہ لازم رہے وہ حاضر

میں لکھنے بیٹھا ہوں نعت اس کی جو ہے حبیبِ خدائے قادر

 

ہے اسمِ محمود اس کا احمد وہ ایک منذر وہ اک مبشر

صفِ رسل میں وہی ہے اول اگرچہ بعثت ہے اس کی آخر

 

نبی کامل، نبی رحمت، نبی عاقب، نبی حاشر

کمال و خوبی سب اس سے مشتق وہ شمعِ حق مصدرِ مصادر

 

اسی کا ہے منصبِ رسالت اسی پہ ہے منتہی نبوت

اسی کے تا حشر اب نواہی اسی کے تا حشر اب اوامر

 

ہے شہرِ مکہ نبیؐ کا مولد مدینۂ طیبہ ہے مسکن

خدا کا فرمان پا کے اس نے وطن کو چھوڑا بنا مہاجر

 

ملی ہدایت اسی کے ہاتھوں بہار آئی اسی کے قدموں

تمام رعنائیاں ہیں اس سے بہ لوحِ باطن بہ سطحِ ظاہر

 

جو ان کا حلقہ بگوش ہو وہ خدا کی نظروں میں مرد مومن

نہ مانے ان کو جو صدقِ دل سے نگاہِ یزداں میں وہ ہے کافر

 

حبیبِ خالق، منارِ عظمت، سراجِ ظلمت، حریصِ امت

بیاں ہو کیا شان اس نبیؐ کی ہے فکر نارَس زباں ہے قاصر

 

نماز میں رخ ہو سمتِ کعبہ نبیؐ کے دل کی تھی آرزو یہ

کیا خدا نے بہ پاسِ خاطر “فَوَلِّ وَجھَک” کا حکم صادر

 

تمام وحی خدا ہے بے شک مجالِ چون و چرا نہیں کچھ

سخن ہے اس کا تمام برحق کہا جو اس نے وہ حرفِ آخر

 

کہیں نہ جائیں تہی بداماں یہ طالبانِ علوم و حکمت

کتابِ عظمت نشاں میں ان کی ملیں گے حکمت کے کل جواہر

 

حساب کے دن وہ شاہِ شاہاں پناہ گاہِ گناہ گاراں

مقامِ محمود ہے اسی کا وہ رب کا منصور سب کا ناصر

 

کھنچی چلی آ رہی ہے دنیا کہ شہرِ طیبہ کو آ کے دیکھے

بہ فرطِ ارماں بصد عقیدت رواں دواں ہے ہر اک مسافر

 

وہ شاہِ لولاک ہے بلا شک نظرؔ ہیں منت پذیر اس کے

تمام قدرت کے یہ مظاہر تمام فطرت کے یہ عناصر

٭٭٭

 

 

 

 

 

میرا قلم بہ صفحۂ قرطاس ہے رواں

میں لکھ رہا ہوں مدحتِ سرکارِ دوجہاں

 

اس میں کچھ اختلاف نہیں سب ہیں یک زباں

توصیفِ مجتبیٰ نہ کبھی ہو سکے بیاں

 

اللہ رے شرف کہ ہے وہ قبلۂ جہاں

اللہ کا نبیؐ ہے وہ مخدومِ بندگاں

 

نام اس کا گونجتا ہے فضا میں اذاں اذاں

نقشِ قدم بہ عرشِ معلّیٰ ہے ضو فشاں

 

ان سے ہی جگمگائیں ستاروں کے قمقمے

ان کے ہی دم سے روشنی بزمِ کن فکاں

 

قرآنِ پاک جس کی ہے تنزیل آپ پر

حکمت کے موتیوں کا ہے اک بحرِ بیکراں

 

بیکل رہا وہ شدتِ احساسِ فرض سے

سویا نہ نیند بھر وہ کبھی سرورِ جہاں

 

امت کی مغفرت کے لئے دل میں اک تڑپ

اللہ کے نبیؐ کی وہ شب زندہ داریاں

 

آگے تو سب فسانۂ دجل و فریب ہے

میرے نبیؐ پہ ختم نبوت کی داستاں

 

اتنا ٹھہر کہ دیکھ لوں وہ بارگاہِ میں

لے چل پھر اس کے بعد مجھے مرگِ ناگہاں

 

ساقی سبو بدست کہے کاش حوض پر

کوثر کا جام آئے پئے ہے نظرؔ کہاں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

لکھوں ثنا نبیؐ کی تو اک بے خودی رہے

سرشار جامِ دل زِ مئے سرخوشی رہے

 

تخلیقِ کائنات کا جب فیصلہ ہوا

مخلوقِ کائنات میں اول وہی رہے

 

یوں تو امامِ وقت تھے سب انبیاء مگر

ان سب کے بھی امام مرے ہی نبیؐ رہے

 

سیرت پہ اس کی لاکھوں کتابیں رقم ہوئیں

پھر بھی رہے کچھ اور ابھی بن لکھی رہے

 

لازم ہے اس پہ پیروی اسوۂ حضورؐ

جو شخص چاہتا ہے کہ وہ آدمی رہے

 

شمعِ حرا کے جلووں سے جو بھی ہو مستفیض

کیوں وہ شکارِ فتنۂ تِیرہ شبی رہے

 

یہ بھی کتابِ حق کا ہے اک زندہ معجزہ

پڑھئے ہزار بار نئی کی نئی رہے

 

نانِ جویں خورش ہے تو بستر ہے ٹاٹ کا

محبوبِ کبریا وہ بہ ایں سادگی رہے

 

یادِ نبیؐ جو دل میں ہے ذکرِ نبیؐ بہ لب

یا رب ترا کرم ہو یہ جوڑی بنی رہے

 

اس جلوہ گاہِ قدس کو دیکھا ہے ایک بار

پھر دیکھنے کی اس کو ابھی لو لگی رہے

 

شاہد مرا خدا شبِ اسرا الگ گواہ

فائز بہ اوجِ عرش ہمارے نبیؐ رہے

 

یہ معجزہ تو بس مہِ بطحا کا ہے نظرؔ

منظر پہ ہو نہ چاند مگر روشنی رہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نگاہِ رحمتِ حق ملتفت ہوئی مجھ پر

ازل میں بخش دیا ذوقِ نعتِ پیغمبر

 

صفِ رسل میں ہے واللہ اک سے اک بڑھ کر

مرے نبیؐ کا مگر سب سے مرتبہ برتر

 

وہ رحمتِ دوجہاں عفوِ عام کا خوگر

گداز قلب، سلیم النظر، کرم گستر

 

وہ پاک نفس وہ ہادی، مطہر و اطہر

امیرِ لشکر و رہبر، وہ غازی وہ صفدر

 

علوم و معرفتِ حق کا ہر سخن دفتر

ہر ایک حرفِ سخن رشکِ دانۂ گوہر

 

وہ جس کا نام لیا جائے روز و شب گھر گھر

وہ جس کے خلق کی توصیف خود کرے داور

 

ہلال اس کے ادب میں رہے جھکائے سر

نگوں ہے اس کی سلامی کو گنبدِ بے در

 

اسی کی جلوہ گری سے جہانِ دل روشن

سجی اسی کے سبب محفلِ مہ و اختر

 

وہ راز دانِ حقائق وہ کاشفِ اسرار

وہ جس کے نطق کا صدقہ ہے رونقِ منبر

 

فقیہ و مصلح و سالار و شارحِ قرآں

حکیمِ بے بدل و نکتہ سنج و دیدہ ور

 

رسائے پردہ سرائے خدا کا کیا کہنا

وہ تاجدارِ جہاں ہے وہ صاحبِ کوثر

 

اسی پہ ختم نبوت اسی پہ دیں کامل

ہے تاج و تختِ نبوت اسی کا تا محشر

 

تری کتابِ مقدس کا صدقۂ جاری

مٹائے جہل مٹائے فسادِ قلب و نظر

 

تمہارا دامنِ رحمت خدا سے مانگ لیا

نظرؔ یہ آئی دعا سب دعاؤں میں بہتر

٭٭٭

 

 

 

 

 

انسان سے کیا کام بھلا ہو نہیں سکتا

بس حقِ ثناء ہے کہ ادا ہو نہیں سکتا

 

قامت ہے وہ شہ پارۂ فنِ یدِ قدرت

یعنی کہ حسیں اس سے سوا ہو نہیں سکتا

 

سیرت ہے وہ آئینۂ قرآنِ مقدس

کہنا مجھے کم اس سے روا ہو نہیں سکتا

 

وہ بندۂ محبوبِ خدا صاحبِ اسرا

عظمت میں کوئی اس سے بڑا ہو نہیں سکتا

 

مشکِ ختن و مشکِ خطا خوب ہے لیکن

بوئے تنِ سیمیں سے سوا ہو نہیں سکتا

 

ان کے دُرِ دندانِ مبارک سے یقیناً

دُرِ عدنی بیش بہا ہو نہیں سکتا

 

تاریخ کے اوراق سے ثابت ہے کہ ان سا

مرد افگن میدانِ وغا ہو نہیں سکتا

 

مستغنی ہر شے وہ شہِ فقر و غنا ہے

اس پر اثرِ حرص و ہوا ہو نہیں سکتا

 

انگلی کے اشارے سے ہے دو نیم قمر اُف

ابرو کا اشارہ ہو تو کیا ہو نہیں سکتا

 

اللہ نے اس ذات پہ کی ختم نبوت

اب آئے نبی کوئی نیا ہو نہیں سکتا

 

امت کے گنہ گاروں سے ناراض تو ہو گا

منہ پھیر لے اتنا بھی خفا ہو نہیں سکتا

 

پڑھئے جو درود اس پہ شب و روز بہر دم

حق اس کا ادا پھر بھی ذرا ہو نہیں سکتا

 

ہے بخششِ امت کا طلب گار خدا سے

کیسے میں کہوں اس کا کہا ہو نہیں سکتا

 

وہ کیا مری نظروں میں ہے کیا پوچھ رہے ہو

سب کچھ ہے نظرؔ ایک خدا ہو نہیں سکتا

٭٭٭

 

 

 

 

 

لکھنی پڑی جو آج اسے مدحتِ رسولؐ

لرزہ بہ جسم خامہ ہے از عظمتِ رسولؐ

 

پتھر ہے یا وہ اور کوئی شے ہے سخت تر

جس دل میں ہو نہ شائبۂ الفتِ رسولؐ

 

قائم ہے اور تا بہ قیامت یونہی رہے

قرآنِ پاک سب سے بڑی آیتِ رسولؐ

 

اعزاز یہ ملا بہ طفیلِ شہِ حجاز

فائق سب امتوں میں ہوئی امتِ رسولؐ

 

چٹّان پاش پاش بہ یک ضرب ہو گئی

اللہ رے یہ دبدبہ و قوتِ رسولؐ

 

راضی خدا ہے ان سے وہ راضی خدا سے ہیں

دو دن کو بھی رہے ہیں جو در صحبتِ رسولؐ

 

ان کا مقام خلدِ بریں ہے زہے نصیب

جاں سے گزر گئے ہیں جو بر حرمتِ رسولؐ

 

بخشیں خدا نے بندوں کو لاکھوں ہی نعمتیں

نعمت بڑی ہے سب سے مگر بعثتِ رسولؐ

 

ان کے لئے بمنزلۂ فرضِ عین ہے

جاں سے عزیز تر ہے جنہیں سنتِ رسولؐ

 

اونچے نصیب والے ہیں عظمت نشاں وہ ہیں

جو بندھ گئے بہ سلسلۂ نسبتِ رسولؐ

 

مہمانِ رب فی الاصل بہشتِ بریں کا ہے

جس نے قبول کر لی نظرؔ دعوتِ رسولؐ

٭٭٭

 

 

 

 

 

لکھتا ہوں محمدت کہ خدا دستگیر ہے

مولائے بندگاں ہے وہ نعم النصیر ہے

 

ختم الرسل ہے اہلِ جہاں کو نذیر ہے

اللہ کا نبیؐ ہے بشر ہے بشیر ہے

 

محبوبِ ذاتِ حق ہے وہ روشن ضمیر ہے

نورِ ہدیٰ ہے اور سراجِ منیر ہے

 

کمخواب ہے نہ تن پہ لباسِ حریر ہے

کملی میں مست وہ شہِ گردوں سریر ہے

 

وہ فرق تا قدم ہے مطافِ کمالِ حسن

خلقِ عظیم اس کا کتابِ منیر ہے

 

رکھتا نہیں وہ کچھ بھی بجز قُوتِ لا یموت

اس کی غذا کھجور ہے نانِ شعیر ہے

 

روشن نقوشِ پا سے ہے ہر منزلِ حیات

مامون گمرہی سے ہر اک راہ گیر ہے

 

وہ افصح العرب ہے کلام اس کا مرحبا

واضح، بلیغ اور عدیم النظیر ہے

 

پروانہ ہائے شمع رسالت ہیں خوش نصیب

ان میں ہر ایک فائزِ فوزِ کبیر ہے

 

ہے مرجعِ انام کہ محبوبِ رب ہے وہ

آقائے خاص و عام و غریب و امیر ہے

 

دیدارِ روضۂ نبوی کو رواں دواں

اطرافِ روزگار سے جمِ غفیر ہے

 

ہر فکرِ اخروی سے وہ آزاد ہے نظرؔ

جو زلفِ تابدار کا ان کی اسیر ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نعت بحرِ بیکراں یعنی کوئی ساحل نہیں

نعت سے عہدہ بر آ ہو کوئی اس قابل نہیں

 

عشقِ محبوبِ خدا جس کی متاعِ دل نہیں

گنجِ قاروں بھی ہو حاصل تو بھی کچھ حاصل نہیں

 

صورتِ اجمل پہ اس کی حسنِ دو عالم نثار

ہے وہ پاگل اس کے دیوانوں میں جو شامل نہیں

 

جگمگا رکھا ہے محفل کو فروغِ نور سے

شمعِ محفل گرچہ منظر پر سرِ محفل نہیں

 

حاتمِ دوراں ہے لا ینفک ہیں اس کی بخششیں

کون سی ساعت ہے در پر جب کوئی سائل نہیں

 

اس نے حل کر دی مری ہر مشکلِ راہِ حیات

ہے مجھے آساں یہ کہنا اب کوئی مشکل نہیں

 

کامل و اکمل ہمارا ہادی برحق ہے وہ

کوئی اس سا رہنمائے جادہ و منزل نہیں

 

جو اسی کے دین کے پیرو رہے تا زندگی

ان کو کچھ اندیشہ ہائے حال و مستقبل نہیں

 

شانِ محبوبِ خدائے قادرِ مطلق یہ دیکھ

کب درود اِس ذات پر اُس ذات کا نازل نہیں

 

طاقِ نسیاں میں نہ رکھیں آپ اس کی اَلکتاب

فائدہ کیا گر کھلا قرآں بہ رحلِ دل نہیں

 

رہتا ہے مستغرقِ دیدارِ طیبہ ہر گھڑی

دیکھتا ہوں جب بھی پہلو اس میں حاضر دل نہیں

 

دو عمل سے اے نظرؔ اس کی محبت کا ثبوت

صرف قولاً اس کے دم بھرنے کا میں قائل نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

جب تک بہ ذکرِ خیرِ شہِ مرسلیں رہے

میری زباں پہ چاشنی انگبیں رہے

 

در سایۂ ملائکۂ مُکرَمیں رہے

محفل وہ جس میں تذکرۂ شاہِ دیں رہے

 

میری دعاؤں میں یہ دعا اوّلیں رہے

کلمہ زباں پہ اس کا دمِ واپسیں رہے

 

معراجِ مصطفیٰ کا خیالِ حسیں رہے

کچھ ساعتوں کو دل یہ بہ عرشِ بریں رہے

 

پیشِ نگاہ جس کے بھی عرشِ متیں رہے

وا اس کے واسطے درِ خلدِ بریں رہے

 

یاروں میں چار یار جو بے حد قریں رہے

بعدِ نبیؐ، نبیؐ کے خوشا جانشیں رہے

 

جائے قرارِ شیفتگاں کیوں نہ ہو حرا

اس میں حبیبِ رب کبھی عزلت گزیں رہے

 

تسبیح و ذکرِ ربِ دو عالم ہے بے ثمر

حبِ نبیؐ نہ دل میں اگر تہ نشیں رہے

 

پہنے کفن وہاں تو ملے جنت البقیع

ہو گا نہ دل یہ کس کا کہ مر کر وہیں رہے

 

خوش خلقی نبیؐ مکرم صد آفریں

چیں بر جبیں ہوئے نہ کبھی خشمگیں رہے

 

بچپن سے لے کے تا نفسِ آخریں نظرؔ

وہ صادق الحدیث رہے وہ امیں رہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے

محبوبِ خدا مطلوبِ جہاں وہ ذاتِ مکرم کیا کہئے

 

وہ صورتِ انور صلِّ علیٰ وہ گیسوئے پر خم کیا کہئے

اک صبحِ درخشاں کا منظر اک شام کا عالم کیا کہئے

 

افلاک پہ غلماں حور و ملک اور فرش پہ آدم کیا کہئے

مصروفِ ثنا سب رہتے ہیں سُکّانِ دو عالم کیا کہئے

 

سرتاجِ نبوت، ختمِ رسل یا ہادی اعظم کیا کہئے

القاب سبھی تو پیارے ہیں حیراں ہوں مقدم کیا کہئے

 

شاہانِ عرب خاقانِ عجم دارا و کَے و جم کیا کہئے

ہوں روضۂ اقدس پر حاضر سر اپنا کئے خم کیا کہئے

 

بیداری شب در پیشی رب وہ سجدۂ پیہم کیا کہئے

امت کے لئے بخشش کی دعا با دیدۂ پُر نم کیا کہئے

 

بھرپور خزینہ حکمت کا اور نورِ ہدایت کا چشمہ

اترا ہے صحیفہ جو ان پر قرآنِ معظم کیا کہئے

 

اس شمع کے سارے پروانے توحید کے سارے دیوانے

سب شہرِ مدینہ میں آ کر مل بیٹھے ہیں باہم کیا کہئے

 

اتنی تو خبر ہے آپ گئے در جلوہ گہِ یزداں لیکن

کیا بندۂ و رب میں بات ہوئی یہ واللہ اعلم کیا کہئے

 

گنجینۂ حکمت، منبعِ حق سرچشمۂ علمِ بے پایاں

آگاہِ رموزِ سر بستہ وہ عرش کا محرم کیا کہئے

 

تم ختمِ نبوت صلِّ علیٰ ہم آخرِ امت ہیں واللہ

تا حشر تمہیں تم کیا کہنا تا حشر ہمیں ہم کیا کہئے

 

محشر میں نظرؔ پر چشمِ کرم اے شافعِ محشر فرمائیں

اعمال کی پرسش ہو جس دم کیا حال ہو اس دم کیا کہئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

سردارِ رسل خواجۂ گیہاں کی طرح

کوئی بھی نہیں احمدِؐ ذی شاں کی طرح

 

امت کو وہ محبوب دل و جاں کی طرح

امت سے محبت ہے اسے ماں کی طرح

 

وہ دل میں سمایا مرے ایماں کی طرح

یونہی مری صورت ہے مسلماں کی طرح

 

گیسو ہیں ترے سنبلِ پیچاں کی طرح

ہے تیری جبیں مہرِ درخشاں کی طرح

 

ابرو ہیں ترے خنجرِ بُرّاں کی طرح

مژگاں ترے واللہ ہیں پیکاں کی طرح

 

آنکھیں ہیں تری چشمِ غزالاں کی طرح

کیف ان میں ہے کیفِ مئے عرفاں کی طرح

 

رخسار ترے ہیں گلِ خنداں کی طرح

دنداں میں چمک گوہرِ رخشاں کی طرح

 

صورت ہے منور مہِ تاباں کی طرح

سیرت ہے سراسر تری قرآں کی طرح

 

ہر حرفِ سخن لولوء و مرجاں کی طرح

ہر بات تری آیتِ قرآں کی طرح

 

ہے ظلمتِ دوراں پرِ پرّاں کی طرح

عالم میں ہے تو شمعِ فروزاں کی طرح

 

ہے شرم و حیا غیرتِ نسواں کی طرح

سطوت ہے تری سطوتِ شاہاں کی طرح

 

ہر حکم ترا ہے بہ دل و جاں تسلیم

طاعت ہے تری طاعتِ یزداں کی طرح

 

کوچہ ہے ترا مرجعِ عالم شاہا

مجمع ہے جہاں حشر کے میداں کی طرح

 

حسن آپ کا ہے یوسفِ کنعاں سے سوا

کیسے میں کہوں یوسفِ کنعاں کی طرح

 

اعزاز و شرف آپ کا اللہ اللہ

بلوائے گئے عرش پہ مہماں کی طرح

 

سردارِ ملائک وہی جبریلِ امیں

دولت کدۂ پاک میں درباں کی طرح

 

نبیوں کو ملے کب ترے جیسے ساتھی

صدیقؓ و عمرؓ حیدرؓ و عثماںؓ کی طرح

 

گنبد پہ ترے گنبدِ مینا قرباں

بہتات تجلی کی ہے باراں کی طرح

 

روضہ کو وہ دن آئے کہ میں بھی دیکھوں

ارماں ہے مرے دل میں یہ ارماں کی طرح

 

ہے تیرا طلب گار زمانہ سارا

مطلوب ہے تو مرضی یزداں کی طرح

 

ہے آپ کی تعلیم کا ادنیٰ اعجاز

آدم نظرؔ آتا ہے جو انساں کی طرح

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ثنائے پاکِ نبیؐ کا لکھنا ہے ایک کار نگینہ کاری

نہیں ہے لکھنے کا مجھ کو یارا پہ لکھ رہا ہوں ز لطفِ باری

 

عجب نہیں ہے کہ روز محشر یہ کار خوبِ ثنا نگاری

ہماری فرد عمل سے دھو دے گناہ سارے خطائیں ساری

 

بلند سیرت ہے شکل پیاری کہ جو بھی دیکھے وہ جائے واری

دراز گیسو کے زیر سایہ سکوں بہ دل ہے خدائی ساری

 

شجر شجر پہ بہار آئی نکھار دی اس نے کیاری کیاری

کہ باغ اسلام کی شہ دیں نے کی ہے خوں سے بھی آبیاری

 

نبی ّ آخر زماں محمدؐ، نبی وہی اب ہے تا قیامت

ہے تاج و تختِ نبوت اس کا اسی کی قائم اجارہ داری

 

شغف ہے دین خدا سے اس کو بہ کارِ تبلیغ دیں ہے ہر دم

مشقتیں ہیں عبادتیں ہیں، نہ جسم پیارا نہ جاں پیاری

 

میانِ شب میں ز خواب راحت وہ جاگ اٹھے بفکرِ امت

حضورِ رب میں خلوصِ دل سے دعائیں لب پر بہ آہ و زاری

 

وہ زور آور، بڑا دلاور، وہ شیر افگن، شجیعِ دوراں

وہ تیغ زن ہے جہادِ حق میں ہے قابلِ دید شہ سواری

 

وہ جبرئیل امیں کا آنا وہ عرش اعظم پہ ان کا جانا

یہ خاص اکرام ہے انہی کا انہی کا حصہ یہ کامگاری

 

ہے قول انھیں کا کہ میری دختر سے ہو جو سرزد گناہِ سرقہ

ز روئے انصاف قطع ید کی ضرور اس پر بھی حد ہو جاری

 

اسی کا صدقہ یہ چار چیزیں جو چار یاروں کو اس نے بخشیں

کسی کو تقویٰ، حیا کسی کوکسی کو سطوت کسی کو یاری

 

نہ جانے قسمت میں کیا ہے لیکن نظؔر ہماری یہ آرزو ہے

نکل رہی ہو جو روح تن سے ہو پہلا کلمہ زباں پہ جاری

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

خبر ہے عالِم ایجادِ کُل اور مُبتدا تم ہو

پسِ حمدِ خدا واللہ سزاوارِ ثنا تم ہو

 

تمہیں انساں یہ سمجھا جس قدر اس سے سوا تم ہو

خدا ہی جانتا ہے کیا نہیں ہو اور کیا تم ہو

 

شہِ کونین ہو، ختم الرسل ہو، مجتبیٰ تم ہو

خدا مطلوب ہے تم کو خدا کا مدعا تم ہو

 

تمہاری ہر ادا ہے دل نشیں وہ خوش ادا تم ہو

حسینانِ دو عالم سے زیادہ دل رُبا تم ہو

 

دلوں کی آرزو تم ہو نوائے بے نوا تم ہو

ہماری روح کا قبلہ ہو جانِ اتّقا تم ہو

 

خلیل اللہ ہے کوئی، کلیم اللہ ہے کوئی

حبیب اللہ لیکن اے محمد مصطفیٰؐ تم ہو

 

ہماری عقل پر کھلتا نہیں رازِ شبِ اسرا

بس اتنا جانتے ہیں تا حریمِ حق رسا تم ہو

 

خدا مطلوب ہو جس کو وہ تھامے آپؐ کا دامن

کہ مرضیاتِ رب کے راستوں کے رہنما تم ہو

 

نہ رہ جائے تمنّا پھر کوئی باقی مرے دل میں

مرے آئینۂ دل میں کبھی چہرہ نما تم ہو

 

نظرؔ پر بھی نگاہِ لطف ہو جائے شہِ والا

شفاعت کا سرِ میدانِ محشر آسرا تم ہو

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا

ہوں مدح خواں نبیِؐ بشیر و نذیر کا

 

مالک ہے دو جہاں کے وہ تاج و سریر کا

محبوب ہے خدائے عزیز و قدیر کا

 

سر تاجِ انبیا ء ہے وہ سرکارِ دو جہاں

اعزاز دیکھنا یہ یتیم و یسیر کا

 

ڈالے کوئی نگاہِ مسلسل نہیں یہ تاب

اللہ رے جمال رُخِ دل پذیر کا

 

سات آسماں کے پار بھی پھیلی ہے روشنی

یہ اوجِ بخت ہے اُسی بدرِ منیر کا

 

سامان اس کے گھر میں ہے اس درجہ مختصر

ہوتا ہے جس قدر کہ کسی راہ گیر کا

 

ہم پایہ واقعہ نہ ملے گا کہیں کوئی

اسرا کی شب کے واقعۂ بے نظیر کا

 

ظلمت کدہ میں اپنے وہی نور پاش ہے

پایا خطاب اس نے سراجِ منیر کا

 

اس نے ہی علم دے کے وسیع النّظر کیا

تھا آدمی فقیر یہ ورنہ لکیر کا

 

آرام گاہِ قبلۂ عالم کہیں جسے

مرجع ہے عاشقوں کے وہ جمِّ غفیر کا

 

ہشیار کر دیا ہمیں غفلت کی نیند سے

نعرہ لگا کے اس نے ‘اِلیہِ المَصیر ‘ کا

 

اُف بے نیازی شہِ کونینؐ اے نظرؔ

طاعم ہے بس کہ لقمۂ نانِ شعیر کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بھٹک رہا تھا زمانہ درِ خدا نہ ملا

شہِ مدینہ کا جب تک نہ آستانہ ملا

 

خرد کو علم سے نکتہ یہ عارفانہ ملا

اُسے خدا نہ ملا جس کو مصطفیٰؐ نہ ملا

 

ہماری زمزمہ سنجی کو اک ترانہ ملا

ہماری روح کی تسکیں کو پنجگانہ ملا

 

فلاحِ زیست کو اک دین عادلانہ ملا

رسولِ پاکؐ کے صدقہ میں ہم کو کیا نہ ملا

 

مرے نبیؐ کے برابر نبی نہیں کوئی

مجھے وہ ختم رسل یکتا و یگانہ ملا

 

انھیں کے ہاتھوں ملا ہے صحیفۂ قرآں

نہ ختم ہو جو کبھی ہم کو وہ خزانہ ملا

 

ملا ہے خاک میں شاہوں کا سب غرورِ شہی

ترے گداؤں کو وہ تاجِ خسروانہ ملا

 

وہ ارجمند ہے وہ خوش نصیب ہے لاریب

نبیؐ کے شہر کا جس جس کو آب و دانہ ملا

 

بروزِ حشر ہم عاصی بھلا کہاں جاتے

انھیں کے دامنِ رحمت میں بس ٹھکانہ ملا

 

نگاہِ لطفِ خدا، کیفِ جاں، سُرورِ دل

نظرؔ کو اُن کی ثنا کا یہ محنتانہ ملا

٭٭٭

 

 

 

 

 

تصور منتہی ہو جائے جس پر رنگ و نکہت کا

وہ دلکش پھول ہے تو ہی گلستانِ نبوت کا

 

نمونہ حُسنِ سیرت کا، مُرقّع حُسنِ صورت کا

وجودِ پاک ہے شہکارِ نادر دستِ قدرت کا

 

وہ چشمہ نورِ عرفاں کا خزینہ علم و حکمت کا

کھلا مخزن پئے دنیا گہر ہائے حقیقت کا

 

دیا تاجِ شرف انساں کو بخشا تخت عزت کا

زمانہ سے مٹایا اس نے فتنہ بربریت کا

 

پڑھایا نوعِ انساں کو سبق عشق و محبت کا

ستارہ اس سے روشن ہے عروجِ آدمیت کا

 

مٹایا ظلم انسانوں پہ انساں کی حکومت کا

کیا واضح تصور اک خدا کی حاکمیت کا

 

وہ مسکینی کے عالم میں بھی عالم اس کی صولت کا

لرز اٹھا دلِ سطوت جھکا سر کبر و نخوت کا

 

ہوئی نازل کتاب اللہ اس کی ذاتِ اقدس پر

مکمل پیش کرتی ہے جو نقشہ دینِ فطرت کا

 

بھریں گے اپنا دامن حشر تک اہلِ طلب اس سے

لٹایا وہ گراں گنجینہ اس نے علم و حکمت کا

 

اسی سے مقتبس ہے محفلِ مہر و مہ و انجم

اسی کے نور ہی سے تو ہے سینہ چاک ظلمت کا

 

خطابِ رحمۃ اللعٰلمیں بخشا گیا اس کو

بنایا رب نے مظہر اس کو اپنی شانِ رحمت کا

 

بقدرِ ظرفِ مستی جو بھی جتنا پی سکے پی لے

برابر چل رہا ہے دور اس کے جامِ وحدت کا

 

ہزاروں امتیں گزریں ملا ایسا شرف کس کو

لقب امت کو اس کی ہی ملا ہے خیرِ امت کا

 

جلالِ حق سرِ محشر وہ ہیبت خیزی منظر

پھرے گا ڈھونڈتا ہر اک ترا دامن شفاعت کا

 

نظرؔ پر بھی عنایت کی نظر کیجے شہِ والا

اسے بھی شوق بے حد ہے مدینہ کی زیارت کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ثنا گوئے پیمبر ہوں ثنا لکھتا ہوں میں اکثر

نبیؐ کی نعت ہی میرے تصور کا ہے اب محور

 

گروہِ انبیاء میں ہے بلا شک افضل و برتر

اسی کے حق میں ہے رب کی عطائے خاص ” الکوثر ”

 

ہے اتنا خوبیوں والا نبی محتشم اپنا

کہ خود توصیف میں رطب اللّساں ہے خالقِ اکبر

 

وہ رحمت بن کے آئے اہلِ عالم کے لیے واللہ

وہی ذاتِ مقدّس روزِ محشر شافعِ محشر

 

فصاحت اس پہ ہو نازاں بلاغت اس کی گرویدہ

اتر جاتی ہے ہر اک بات اس کی قلب کے اندر

 

حقائق کا سمندر موجزن ہے چند لفظوں میں

جنہیں ذوقِ ادب ہے دیکھ سکتے ہیں وہ یہ منظر

 

شریعت اس کی کامل دیں مکمل گفتگو بر حق

دکھا دی صورتِ منزل بتا دی راہِ خیر و شر

 

نظیر اس کی نہیں ملتی ہے تاریخِ رسالت میں

وہ اک شب جس میں بلوائے گئے تھے عرشِ اعظم پر

 

سلامی کے لیے جاتی ہے دنیا ان کی بستی میں

ہجومِ عاشقاں رہتا ہے حاضر ان کی چوکھٹ پر

 

بڑی مدت سے دل میں آرزو تھی دیدِ طیبہ کی

خوشا قسمت کہ دیکھ آیا ہے روضہ ان کا یہ احقر

 

ہے ذکر اس کا نظرؔ روئے زمیں سے آسمانوں تک

فرشتے انس و جن سب روز و شب بھیجیں درود اس پر

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں

ذکرِ پیغمبر سے خود کو شادماں رکھتا ہوں میں

 

نامِ پاکِ مصطفیٰؐ وردِ زباں رکھتا ہوں میں

ہر نفس یوں مشکبو عنبر فشاں رکھتا ہوں میں

 

دل میں یادِ نازشِ پیغمبراں رکھتا ہوں میں

شمع روشن دل میں اک شایانِ شاں رکھتا ہوں میں

 

گرمئ محشر سے سامانِ اماں رکھتا ہوں میں

سایۂ دامانِ شاہِ دو جہاں رکھتا ہوں میں

 

دربدر کی ناصیہ فرسائی کیوں کیجے کہ جب

اس شہِ کون و مکاں کا آستاں رکھتا ہوں میں

 

گلشنِ اغیار سے میں کیوں کروں گل چینیاں

فوق تر اپنا الگ جب گلستاں رکھتا ہوں میں

 

کیا ضرورت ہے مجھے پڑھنے کی انجیل و زبور

جب کہ ان کا مصحفِ معجز بیاں رکھتا ہوں میں

 

شہرِ طیبہ ہے جہاں آرام گاہِ مصطفیٰؐ

اس کو دیکھوں آرزو دل میں نہاں رکھتا ہوں میں

 

تو نظرؔ آئے حسیں تر در گروہِ انبیاء

جب تری تصویر سب کے درمیاں رکھتا ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

شکر صد شکر کہ فیضانِ خدا ہوتا ہے

دل یہ جب غوطہ زنِ بحرِ ثنا ہوتا ہے

 

کوئی شاعر ہو کہ نَثّار ہر اک ہے عاجز

آپؐ کا حقِّ ثنا کس سے ادا ہوتا ہے

 

سایہ گستر ہو وہاں رحمتِ یزداں لاریب

جس جگہ ذکرِ شہِ ہر دوسرا ہوتا ہے

 

ذکر اس ذات کا کب روئے زمیں تک محدود

ذکرِ پاک آپؐ کا بر عرشِ عُلا ہوتا ہے

 

آپؐ ہیں فخرِ بنی آدم و سر تاجِ رُسُل

بس کہ رب آپؐ سے رُتبہ میں سوا ہوتا ہے

 

قابلِ دید ہے یہ اوجِ مقدّر اس کا

ایک شب عرش پہ وہ جلوہ نما ہوتا ہے

 

فکرِ اُمّت میں وہ بے چین ہمہ شب رہنا

شب کو اُٹھ اُٹھ کے وہ مصروفِ دعا ہوتا ہے

 

ان کی تعلیم سے ہی آئی یہ انساں کو تمیز

کیا بھلا کام ہے، کیا کام بُرا ہوتا ہے

 

داخلِ خلدِ بریں جو کوئی ہونا چاہے

رہنما آپؐ کا نقشِ کفِ پا ہوتا ہے

 

معصیت کاروں کی بخشش کے لیے روزِ جزا

ملتجی رب سے وہی شاہِ ہدیٰ ہوتا ہے

 

جب سے دیکھی ہے نظرؔ جلوہ گہِ شاہِ اُممؐ

بیشتر دل یہ مدینے میں پڑا ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ثنا اس کی سخن دانوں نے حسبِ استطاعت کی

مکمل کب ہوئی یعنی ثنا فخرِ رسالتؐ کی

 

صفات و ذات میں یکتا ہے مخلوقِ خدا میں وہ

کروں کیا بات اس کے حسنِ صورت حسنِ سیرت کی

 

زباں اس کی مرصّع، دل نشیں، شیریں، رواں، شستہ

سخن میں جھلکیاں ہیں تہ بہ تہ نورِ حقیقت کی

 

وہ منبع ہے شرافت، بردباری، انکساری کا

وہ پیکر ہے قناعت کا وہ تصویر استقامت کی

 

سحاب علم و حکمت تھا گہر افشاں رہا برسوں

بجھائی پیاس جس کو جس قدر تھی علم و حکمت کی

 

مصافِ حق و باطل میں سرِ لشکر ہمیشہ تھا

مثالیں اس نے قائم کی ہیں جرأت کی شجاعت کی

 

امام الانبیا ہے وہ زہے عزّ و شرف اس کا

شبِ معراج اقصیٰ میں رسولوں کی امامت کی

 

فرازِ طور کیا ہے وہ فرازِ عرش پر پہنچے

خبر ہم کو ملی ان سے مقامِ آدمیت کی

 

خدا کا دین قائم کر کے دکھلایا مدینے میں

خدا کی راہ میں مکہ سے اس نے یونہی ہجرت کی

 

کیا سب کام پورا آپؐ نے تیئیس برسوں میں

سدھاری قوم ساری اور تکمیلِ شریعت کی

 

ہم اس کے کیوں نہ گرویدہ ہوں ہے وہ محسنِ اعظم

بچایا نارِ دوزخ سے دکھائی راہ جنّت کی

 

نظرؔ بابِ مسائل کھول لیتے ہیں انھیں سے ہم

کلیدیں جو ملیں اس سے ہمیں قرآن و سنّت کی

٭٭٭

 

 

 

 

تیری ثنا میں جس قدر دنیا شکر زباں ہوئی

حق میں کسی نبی کے وہ رطب اللّساں کہاں ہوئی

 

تیرے قدومِ میمنت کی ہیں شہا یہ برکتیں

وادی ریگ زار وہ وادی گل فشاں ہوئی

 

تیری اذانِ پُر اثر وحدہٗ لا شریکَ لہٗ

پہنچی ہے چار دانگ میں مسموعِ کُل جہاں ہوئی

 

تجھ سے فروغ پا گیا دینِ خدائے ذوالجلال

مکر و فسادِ دشمناں کوششِ رائگاں ہوئی

 

ذکرِ جمیل بالیقیں موجبِ رحمتِ خدا

یادِ رسول باعثِ راحتِ قلب و جاں ہوئی

 

اسرا کی شب وہ گھڑی اپنی مثال آپ ہے

ذاتِ رسولِ پاکؐ جب رونقِ لا مکاں ہوئی

 

دنیا میں کامیاب وہ عقبیٰ میں خوش مآب وہ

سنّت و اَلکتاب کی جو قوم قدر داں ہوئی

 

نسبتِ آنحضورؐ نے کتنا بلند کر دیا

خاکِ مدینۃ النّبیؐ رو کشِ آسماں ہوئی

 

اسوۂ شاہِ انس و جاں سب کو نمونۂ عمل

اِک اِک اَدا کی پیروی مسلکِ عاشقاں ہوئی

 

سنّتِ شاہِ مرسلاں سے نہ ہو گر مطابقت

محنتِ ہر عمل نظرؔ محنتِ رائگاں ہوئی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

لکھنے کو لکھیں اہلِ سخن نعتِ پیمبر

شایانِ نبیؐ لکھ نہ سکے کوئی سخن ور

 

جو فخرِ رُسل ہے ہمیں بخشا وہ پیمبر

ہم شکر ادا کرتے ہیں بر حسنِ مقدّر

 

ہے صورتِ انور مہِ کامل سے حسیں تر

نازاں ہو فرشتے بھی وہ ہے سیرتِ اطہر

 

شاہی میں بھی مسکیں کی طرح اس نے بسرکی

وہ تارکِ لذّات و تکلف ہے سراسر

 

جس بزم میں ہو تذکرۂ آں شہِ خوباں

آ جائیں فرشتوں کے پرے اُڑ کے وہیں پر

 

اس شان سے کی مشعلِ توحید فروزاں

گل کرنے میں ناکام رہی موجۂ صرصر

 

سر آنکھوں پہ امّت کے ہو ہر بات نبیؐ کی

اللہ رے یہ عزّت و اکرامِ پیمبرؐ

 

حالات تقاضہ جو کریں نام پہ اس کے

کر دیتے ہیں عُشّاقِ نبیؐ جاں بھی نچھاور

 

دامن سے لپٹ جاؤں گا چھوڑوں گا نہ دامن

اے کاش نظرؔ آئیں وہ مجھ کو سرِ محشر

٭٭٭

 

 

 

 

 

دستِ طرفہ کارِ فطرت نے سمو دی طرفگی

از ہمہ پہلو ہے دلکش ذاتِ پاکِ آں نبیؐ

 

اب نہیں کوئی نبی بعد از رسولِ ہاشمیؐ

تا قیامت اب تو لازم ہے اسی کی پیروی

 

منبعِ نورِ بصیرت چشمۂ ہر آگہی

آپؐ پر نازل ہوئی ہے جو کتابِ آخری

 

تذکرہ اس کا نہیں محدود روئے ارض تک

آسمانوں پر فرشتوں میں بھی ہے ذکرِ نبیؐ

 

پیکرِ رعنا پہ اس کے حسنِ دو عالم نثار

اس کے اوصافِ حمیدہ پر ہے دنیا حیرتی

 

وحی ربّانی پہ مبنی اس کا ہر حرفِ سخن

دل کے اندر گھر کرے جو بات بھی اس نے کہی

 

زندگی کی راہ چلنا اب نہیں دشوار کچھ

ہر جگہ اس کی بدولت روشنی ہی روشنی

 

کیوں نہ بھیجیں روز و شب اپنے نبیؐ پر ہم درود

اپنی دنیا بھی وہی ہے اپنا عقبیٰ بھی وہی

 

آدمی کی عاقبت لاریب بن جائے نظرؔ

پیروی ختم الرسل کی کر کے دیکھے تو سہی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ہیچ ہے عقلِ بشر فکرِ بشر ہے نا رسا

حقِّ توصیفِ نبیؐ ایسے میں ہو کیسے ادا

 

پاک طینت، نرم خو، من موہنی ہر اک ادا

کم سخن، بالغ نظر، شیریں مقال و با حیا

 

صورتِ زیبا پہ اس کی حسنِ یوسف بھی نثار

سیرتِ اطہر کی خود تحسین فرمائے خدا

 

کوہِ فاراں پہ ہوا جو اوّلاً جلوہ فگن

چار سو پھیلی ہے اب اس ماہِ طیبہ کی ضیا

 

ہر طرف اقصائے عالم میں اسی کی ہے پکار

نامِ نامی کی فضا میں گونج ہے صبح و مسا

 

ہے انھیں کا ذکر ہِر پھِر کر یہ قرآنِ مبیں

یعنی قرآں ہے سراسرذکرِ خیرِ مصطفیٰؐ

 

وہ مرادِ عاشقاں ہے وہ پناہِ عاصیاں

ذاتِ آں ختم الرسل لاریب سب کا منتہیٰ

 

وحی رب ماخذ ہو جس کے ہرسخن کا اے نظرؔ

حرفِ آخر کیوں نہ ہو پھر اس کا فرمایا ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

جامعِ اوصاف ہے جو حسن کی تصویر ہے

وہ نبیؐ مجھ کو ملا ہے یہ مِری تقدیر ہے

 

کیا ہے زورِ حیدریؓ کیا قوت شبیرؓ ہے

زورِ بازوئے محمدؐ ہی کی اک تعبیر ہے

 

تزکیہ اخلاق کا، افکار کی تطہیر ہے

ہر طرح تذکیر ہے، تنذیر ہے، تبشیر ہے

 

کس طرح سنورے بشر غوطہ زنِ تدبیر ہے

وہ کہ ہے معمارِ انساں فکرِ ہر تعمیر ہے

 

وہ رفیعُ الذِّکر ہے از فضلِ ربِّ ذوالجلال

فرش سے تا عرش اس کے نام کی تکبیر ہے

 

صورتِ انور خوشا دیباچۂ اُمّ الکتاب

سیرتِ اطہر کتاب اللہ کی تفسیر ہے

 

ذی وجاہت، ذی حشم، ذی جاہ و عالی مرتبت

وہ امام الانبیا ہے، صاحبِ توقیر ہے

 

وہ ہے محبوبِ خدا بھی وہ شہِ لولاک بھی

کائنات اس کی ہے سب اس کے لیے تسخیر ہے

 

معتکف ہو کر بہ قرآں چنتے رہیے دُرِّ ناب

بخششِ شاہِ ہدیٰؐ ہے مفت کی جاگیر ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہو کون عہدہ بر آ مدحتِ پیمبر سے

کہ پار اتر نہ سکا کوئی اس سمندر سے

 

نہ آفتاب سے روشن نہ ماہ و اختر سے

ہے کُل زمانہ منوّر حضورِؐ انور سے

 

نکل رہا ہے پسینہ جو جسمِ اطہر سے

بڑھا ہوا ہے وہ خوشبو میں مشک و عنبر سے

 

نگاہ کر نہ سکیں عاشقانِ تیز نگاہ

جلال و رعب وہ ٹپکے رُخِ پیمبرؐ سے

 

دلِ سیاہ بھی نا ممکن العلاج نہیں

جو کسبِ نور کرے سیرتِ مطہّر سے

 

قدم جمے ہی رہے آنحضورؐ کے پھر بھی

اُحد میں موجۂ خوں بھی گزر گئی سر سے

 

سکوں نصیب ہے از یادِ شافعِ محشر

لرز رہا تھا ابھی دل حسابِ محشر سے

 

وہ یارِ غار کا انفاق فی سبیل اللہ

اٹھا کے لائے وہ سارا اثاثہ ہی گھر سے

 

بفکرِ اُمّتِ عاصی وہ شب میں ہے بیدار

حضورِ رب میں دعائیں وہ اُٹھ کے بستر سے

 

مقربین ملائک درود پڑھتے ہیں

ملا ہے حکم یہی ان کو ربِّ اکبر سے

 

غمِ فراقِ دیارِ حبیب یا اللہ

اُٹھیں جو غم کے یہ بادل نہ جائیں بن برسے

 

وہ بارگاہ نظرؔ ہم بھی دیکھ آئے ہیں

عجب نہیں ہے کہ پھر دیکھ لیں مقدّر سے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کر سکے توصیفِ آقا کس میں یہ تاب و تواں

ہے یہ سب کارِ ثنا خوانی پئے تسکینِ جاں

 

میں رہوں تا عمر تیرے ہی لیے رطبُ اللّساں

زمزمہ سنجی کروں جب تک کہ ہے منہ میں زباں

 

برگزیدہ، مجتبیٰ، اے تاجدارِ انس و جاں

لختِ قلبِ آمنہ اے حاصلِ کون و مکاں

 

مرکزِ پرکارِ ہستی باعثِ کون و مکاں

اے محمدؐ، اے شہِ لولاک، اے روحِ رواں

 

آپؐ کے قدموں کے نیچے ہے فرازِ آسماں

رُتبۂ خیر البشر ! انگشتِ حیرت در دہاں

 

تو نے بندوں کو ملایا از خدائے دو جہاں

کیا خبر کیا ہوتا گر، اک تو نہ ہوتا درمیاں

 

موجۂ بادِ صبا کی یہ تمام اٹکھیلیاں

طائرانِ خوش نوا کی جملہ نغمہ سنجیاں

 

نرگسِ شہلا کی چشمک بوئے گل کی مستیاں

ہیں تجھی سے باغِ عالم کی یہ سب رنگینیاں

 

ذکرِ پاکِ مصطفیٰؐ صلِّ علیٰ ہو جس جگہ

گوش بر آواز ہو کر گِرد ہوں کرّو بیاں

 

پیکرِ رحمت بنایا تجھ کو بندوں کے لیے

رب ہوا جب اپنے بندوں پر نہایت مہرباں

 

شاہدِ عرشِ معلّیٰ ہے شبِ معراج تو

اس سفر کی اک نشانی ہے یہ گردِ کہکشاں

 

سایۂ دامانِ رحمت کا سکوں مجھ کو ملے

گرمی روزِ جزا اُف اَلحفیظ و اَلاَماں

 

جامِ کوثر تو پلائے میں کہوں اک جام اور

ساقیا میں بھی تو ہوں من جملۂ تشنہ لباں

 

صدقۂ شانِ کرم روضہ پہ بلوایا مجھے

ورنہ حیثیت ہے کیا میری، کہاں میں وہ کہاں

 

قبلۂ اہلِ جہاں ہے ہاں وہی صحرا نشیں

ریگ زاروں کو بنایا جس نے رشکِ گلستاں

 

اے امیرِ کارواں ڈالیں نگاہِ التفات

بے جگہ ٹھہرا ہوا ہے کارواں کا کارواں

 

جام وحدت کا پیے بیٹھا ہے کب سے یہ نظرؔ

ڈال ساقی اک نگہ دو چند کر سرمستیاں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ذکرِ رسولِ پاکؐ میں عمرِ عزیز صرف کر

خونِ جگر نچوڑ کر نعتِ شہی میں رنگ بھر

 

چہرہ حسیں ہے اس قدر دیکھ سکے نہ آنکھ بھر

مصحفِ حق کا نور ہے سیرتِ پاک سر بسر

 

ماخذِ ہر سخن کہ ہے وحی خدائے با خبر

حرفِ سخن الف سےی تک ہے حسین و معتبر

 

ان کے کلامِ پاک کو ہم نے پڑھا ہے حرف حرف

بین السطور ہر جگہ جاذب دل ہیں نُہ گہر

 

دن میں نبرد آزما دینِ خدا کی راہ میں

را توں کو بندۂ شکور سر بہ سجود تا سحر

 

شہرِ علوم و آگہی، بحرِ حِکم میرا نبیؐ

سب ہی سخن ہیں دل نشیں شیریں دہن ہے اس قدر

 

طائفِ بد نہاد کے خیرہ سروں کی مستیاں

سرتابہ پا وہ سیم تن اپنے لہو میں تر بہ تر

 

دامنِ آنحضورؐ میں جائے اماں ملی انھیں

یومِ حساب سے کہ جو ترساں تھے حسبِ لا وَزَر

 

سرورِ دو جہاں کا خود اپنا شرف ہو کیا بیاں

اس کی گلی کے بے نوا جبکہ جہاں کے تاجور

٭٭٭

 

 

 

 

 

مہرباں بندوں پہ اپنے ربِّ ذوالاکرام ہے

بعثتِ شاہِ عرب اس کا بڑا انعام ہے

 

رحمتِ عالم ہے وہ اس کی عنایت عام ہے

جو بھی دامن تھام لے اس کا وہ خوش انجام ہے

 

عرشِ اعظم جو مقامِ خالقِ علّام ہے

ایک شب پہنچا وہاں بھی ہادی اسلام ہے

 

روز و شب دل ہے پریشاں کب اسے آرام ہے

فکرِ امّت ہے اسے فکرِ اولو الارحام ہے

 

مصطفیٰؐ صلّ علیٰ ہیں آخری پیغام بر

جو کتاب اتری خدا کا آخری پیغام ہے

 

مژدہ باد اے بادہ نوشانِ حقیقت مژدہ باد

بادۂ کوثر بھی مِلکِ ساقی گلفام ہے

 

ہے گروہِ عاصیاں، محشر ہے اور ربِّ انام

مغفرت کے واسطے اُٹھنا اسی کا کام ہے

 

دیں کی نسبت ہم تو بس یہ جانتے ہیں اے نظرؔ

جو کہا جو کر کے دکھلایا وہی اسلام ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نے برسرِ افلاک نہ بر روئے زمیں ہے

مثل شہِ لولاکؐ کسی جا بھی نہیں ہے

 

یوں تو رُخِ مہتاب بھی حد درجہ حسیں ہے

اس رخ سے تقابل ہو تو پھر کچھ بھی نہیں ہے

 

وہ تاجِ نبوّت کا درخشندہ نگیں ہے

وہ جان ہے ایمان کی وہ روحِ یقیں ہے

 

انساں کے تخیل سے پرے عرشِ بریں ہے

لیکن شبِ اسرا میں وہ بالذّات وہیں ہے

 

بستر ہے زمیں پر تو غذا نانِ جویں ہے

ہو کر شہِ کونین بھی وہ خاک نشیں ہے

 

جو تابعِ فرمانِ شہِ دینِ مبیں ہے

اللہ کی رحمت سے وہ حد درجہ قریں ہے

 

جو آپؐ کو سمجھے کہ نہیں ختمِ رُسُل آپ

ظالم ہے، وہ کافر ہے، وہ مردود و لعیں ہے

 

اس خُلق کی تعریف در امکانِ بشر کب

جس خُلق کی تحسین بہ قرآنِ مبیں ہے

 

معیارِ صداقت ہے وہ معیارِ امانت

دُشمن کی نگاہوں میں بھی صادق ہے امیں ہے

 

اللہ کے نزدیک وہی سب ہیں سر افراز

جس جس کی جھکی در پہ تِرے لوحِ جبیں ہے

 

اطرافِ زمانہ سے چلی دیکھنے دنیا

کس درجہ کشش رکھتی یہ طیبہ کی زمیں ہے

 

سب دین مٹے دہر سے تا حشر نظرؔ اب

تابندہ و محفوظ فقط آپؐ کا دیں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

مِری زباں پر ہے فضلِ رب سے ثنائے پاکِ حضورِ انورؐ

تمام دنیا کی رہبری کا سجا کے آئے جو تاج سر پر

 

نہ لکھ سکا کوئی تا بہ ایں دم نہ لکھ سکے گا کوئی سخن ور

محاسن اس کے بیاں ہوں کیونکر ہیں جبکہ حدِّ بیاں سے باہر

 

سریر و تاجِ نبوّت اس کا خوشا کہ ہے تا قیامِ محشر

اذاں اسی کی ہے چار سو اب اسی کی مسجد اسی کا منبر

 

وہ مستِ خوشبوئے زلف شبگوں کہ ہیچ بوئے گلاب و عنبر

وہ روئے تاباں جمال پرور کہ پانی پانی مہِ منوّر

 

ضمیر روشن ہے خُلق اطہر، نگاہ پاکیزہ، دل مطہّر

دھنی ہے قسمت کی خیرِ اُمّت ملا جو ایسا اسے پیمبر

 

یتیم ہے وہ یتیم پرور، غریب ہے وہ غریب پرور

تمام شاہ و گدا کا ملجا پڑے ہیں سارے اسی کے در پر

 

ہے فقر جس کا لباسِ شاہی ہے جس کے تن پر بس ایک چادر

ہیں اس کے قدموں میں تاجِ زرّیں ہے گنجِ قاروں پہ اس کی ٹھوکر

 

گزر بسر ہے کھجور و جو پر لباس سادہ مجسم اطہر

ہے اک چٹائی پہ خوابِ راحت بغیر تکیہ بغیر بستر

 

وہ جس کے گھر میں نہ تھا اثاثہ وہ جس کو رہتا تھا فاقہ اکثر

رواں زمانہ میں اس کا سکّہ اسی کا جاری ہے آج لنگر

 

دلاوروں میں بڑا دلاور سپہ گروں میں بڑا سپہ گر

قدم جمائے جہاد میں جب تو پیٹھ پھیرے عدو کا لشکر

 

اسی نے دی ہے خبر یہ ہم کو حقیقت اس نے یہ کی اجاگر

متاعِ دنیا قلیل و کہتر متاعِ عقبیٰ کثیر و بہتر

 

یہ بارگاہِ جلیل و سطوت جلیں جہاں جبرئیل کے پر

ہے مصطفیٰؐ کی وہاں رسائی ہے لا مکاں میں وہ جلوہ گستر

 

سب اس کے ساتھی وفا کے پیکر نشانِ سجدہ ہر اک جبیں پر

گروہِ عشّاق میں سبھی ہیں کوئی جواں ہے کوئی معمر

 

وہی ہے آقائے دو جہاں اب وہی ہے ہادی وہی ہے رہبر

وہی جو بے بس تھا بے اماں تھا وہ جس نے طائف میں کھائے پتھر

 

نظر جب اپنی یہ ڈھونڈھ لے گی حبیبِ داور کو روزِ محشر

پکڑ کے دامن یہی کہوں گا کرم ہو بندے پہ بندہ پرور

 

ہے علم و عرفاں کا ایک معدن ہے حکمتوں کا وہ اک سمندر

زمانہ بالغ نظر ہوا ہے تری کتابِ ہدیٰ کو پڑھ کر

 

ہے دل پریشاں بہ فکرِ امّت اُچاٹ نیندیں کہاں کی راحت

برائے بخشش حضورِ رب میں دعائیں لمبی بہ قلبِ مضطر

 

یہ اس کی معجز نمائیاں اُف یہ اس کی خاطر گواہیاں اُف

قمر ہوا شق بہ چرخِ چنبر تو اس کی مٹھی میں بولے کنکر

 

ہزار احساں ہیں جس خدا کے اسی سے عرضِ نظرؔ ہے ہمدم

کہ اب دکھائے دیارِ طیبہ کہ اب سنوارے مِرا مقدّر

٭٭٭

 

 

 

 

 

مِرے رب نے مجھے بخشا سلیقہ نعت گوئی کا

نہیں ہے ورنہ کچھ آساں ثنائے مصطفیٰؐ لکھنا

 

وہ جب خورشیدِ عالم تاب نکلا نور برساتا

لپیٹا بوریہ بستر ضلالت نے، بشر جاگا

 

نرالی شان ہے اس کی نہیں اس سا کوئی پیدا

وہ محبوبِ خدا شمعِ ہدیٰ وہ صاحبِ اسرا

 

ہے سیرت اس کی پاکیزہ نہایت ارفع و اعلیٰ

کہا ہے عینِ قرآں عائشہؓ نے جس کو سرتاپا

 

تصوّر اس نے بخشا ربِّ واحد کی عبادت کا

مٹائی بت پرستی، پرچمِ توحید لہرایا

 

اسی کی سعی پیہم سے نظامِ حق ہوا برپا

عوام آ کر ہوئے داخل بہ دینِ اللہِ اَفواجا

 

بنی آدم کو اس نے وسعتِ فکر و نظر بخشی

دلوں کو نغمۂ وحدت سے اس نے خوب گرمایا

 

قدومِ میمنت سے مزرعِ ایماں کی زرخیزی

چمن دیں کا عرق ریزی سے اس کی ہی پھلا پھولا

 

فسادِ قلب کا تریاق تعلیماتِ پاکیزہ

علاجِ دردِ انساں ہے ترا دینِ مبیں حقّا

 

تمام اطرافِ عالم میں اسی کا آج شہرہ ہے

تمام اطراف بجتا ہے اسی کے نام کا ڈنکا

 

قلوبِ زنگ خوردہ کو مجلّا کر دیا اس نے

زِ اَنوارِ حقیقت کر دیا ہے مثلِ آئینہ

 

جِلا ملتی ہے ایماں کو مِرے، اے قبلۂ ایماں

تری با توں پہ جب کہتا ہوں آمَنّا و صدَّقنا

 

وہ گھل مِل کر ہی بیٹھا جب بھی بیٹھا ہم نشینوں میں

اُٹھا دی اس نے محفل سے تمیزِ بندہ و آقا

 

شفیعِ عاصیاں تو ہے نظرؔ ہے بندۂ عاصی

شفاعت کی اسے تجھ سے بندھی امید ہے کیا کیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

دل بستگی نہ ہو تری مدحت لکھے بغیر

لکھوں تو پھر رہے نہ دل اپنا کھِلے بغیر

 

مومن نہ ہو تری مئے وحدت پیے بغیر

کامل نہ ہو کوئی تری چاہت کیے بغیر

 

ہلکا نہ دل ہو آپؐ سے دل کی کہے بغیر

بنتی نہیں ہے بات مدینہ گئے بغیر

 

حسن و جمالِ روئے مبارک جو دیکھ لیں

حور و ملک رہیں نہ تصدّق ہوئے بغیر

 

خلقِ عظیم آپ کا اس درجہ بے مثال

ماں عائشہؓ نہ کہہ سکیں قرآں کہے بغیر

 

وہ ہادی و معلّم و مستجمعِ علوم

دنیا کی درسگاہوں میں لکھّے پڑھے بغیر

 

یہ بھی عظیم پہلوئے خلقِ عظیم ہے

احساں کیے ہزار اک احساں دھرے بغیر

 

اللہ رے پاس عظمتِ آں ربِّ ذوالجلال

کُل زندگی گزار دی کھُل کرہنسے بغیر

 

جاتی وہیں سے ہو کے ہے خُلدِ بریں کی راہ

پہنچے نہ کوئی بھی درِ دولت ملے بغیر

 

طائف کے ظالموں کا پڑھوں جب بھی ظلم و جور

رہتے نہیں ہیں آنکھ سے آنسو گرے بغیر

 

مرغوب اسے یہ رنگ ہے چارہ نہیں کوئی

دینِ متیں کے رنگ میں خود کو رنگے بغیر

 

ذرّے جو پائے ناز سے ان کے لپٹ رہے

کب رہ سکے وہ نازشِ دوراں بنے بغیر

 

اس بارگاہِ قدس میں جاتے ہیں خوش نصیب

آتے نہیں ہیں لوٹ کے جھولی بھرے بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

 

اس چمن کی مصطفیٰؐ کے دم سے سب تزئین ہے

نسترن ہے، گُل ہے، نرگس ہے گُلِ نسرین ہے

 

صورتِ پُر تمکنت ہے سیرتِ مسکین ہے

کس قدر وہ شاہِ بطحا لائقِ تحسین ہے

 

اے دلِ عصیاں زدہ کیوں اس قدر غمگین ہے

شافعِ روزِ جزا وہ جب کہ یوم الدّین ہے

 

ذکرِ پاکِ مصطفیٰؐ سے روح میں بالیدگی

یاد سے سرکار کی دل کو بہت تسکین ہے

 

ذاتِ پاکیزہ کو بخشے رب نے پاکیزہ خطاب

دیکھیے قرآں کہیں طٰہٰ کہیں یٰسین ہے

 

شاہِ بطحا کے غلاموں کو نویدِ جاں فزا

نامۂ اعمال ان کا درجِ علیین ہے

 

ٹھوس بھی ہے، معتدل بھی، مصلحت آمیز بھی

عین فطرت کے مطابق آپؐ کا آئین ہے

 

سرورِ عالم ہے ہادی اہلِ عالم کے لیے

اس کی حدِّ مملکت میں چین ہے لا چین ہے

 

آخرت بہتر کرے اور زندگی آرام دہ

کام آئے دوجہاں میں جو وہ اس کا دین ہے

 

بسترِ راحت ہے اس کا اک چٹائی دیکھنا

مخملیں تو شک نہ کوئی فرش پر قالین ہے

 

نقشِ پائے مصطفیٰؐ کی پیروی کر اے نظرؔ

عیشِ دنیائے دنی لاریب حتّیٰ حین ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نہ ہے اِدّعائے سخن وری نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو

میں ثنائے ختم رسل لکھوں کہ ہے ذکر جس کا چہار سو

 

یہ خدا کی دین ہے جس کو دے وہ عطا ہوئی اسے شکل و خو

نہ مثال اس کی کہیں ملے نہ مثیل اس کا ہے ہو بہ ہو

 

میں یہ کہہ رہا ہوں بہ قبلہ رُو نہیں اس میں شائبۂ غُلو

ہے ہزار وجہِ سکونِ دل ترا ایک نغمۂ وحدہٗ

 

جو تری جناب سے پھر گیا وہ خود اپنے حق میں ہے فتنہ جُو

جو تری نگاہ میں چڑھ گیا وہ نگاہِ رب میں بھی سرخرو

 

وہ حبیبِ ربِّ کریم ہے وہ خدا کے بعد عظیم ہے

وہی نورِ دیدۂ آمنہ کہ ہے عبدہٗ و رسولہٗ

 

وہ نبیؐ ہے رحمتِ عالمیں وہ ہے شمعِ محفلِ مرسلیں

ہے پکار اس کی چہار سو ہے اسی کی روشنی کو بہ کو

 

وہ شہِ عرب وہ شہِ عجم جب اسی کے آئے یہاں قدم

تو بہار آئی چمن چمن تو فروغِ سبزہ و رنگ و بو

 

میں پڑھوں کتاب کی آیتیں میں پڑھوں تمہاری حکایتیں

ہے اسی سے روح میں تازگی ہے اسی سے گرم مرا لہو

 

نہ فریب خوردۂ مہوشاں نہ شکار کردۂ گل رُخاں

میں اسیرِ زُلفِ نگارِ آں میں ہوں محوِ دید خجستہ رُو

 

ہے یہی وطیرۂ عاشقاں ہے یہی وظیفۂ قدسیاں

اسی نامِ پاک کا ورد ہے اسی خوش جمال کی گفتگو

 

مجھے قلب و روح کا عارضہ میں مریضِ کہنۂ معصیت

ترے پاس چل کے میں آبسا تو ہے چارہ ساز میں چارہ جُو

 

ترے آستاں سے کہاں اٹھوں یہیں موت سے میں گلے ملوں

یہی میرے دل کا ہے فیصلہ یہی میرے دل کی ہے آرزو

 

تری نعتِ پاک ہو اور میں مرے ارد گرد ہو نکہتیں

نہ سخن فضول پسند اب نہ پسند محفلِ ہاؤ ہو

 

سرِ حشر جام نظرؔ کو بھی مرے ساقیا مرے ساقیا

کہ شراب و جامِ شراب کا ہے وہاں پہ مالکِ خاص تو

٭٭٭

 

 

 

 

 

غم ہائے زمانہ سے ملے جب بھی مجھے چین

مصروف کروں دل کو بہ نعتِ شہِ کونین

 

وہ ختمِ رسل نورِ مبیں ہادی نجدین

وہ راحتِ جاں، فرحتِ دل، قرَّۃ عینین

 

جو مطلعِ مکہ پہ نمودار ہوا تھا

اس چاند کی ضو پھیل گئی تا سرِ قطبین

 

اللہ سے اللہ کے بندوں کو ملایا

لاریب وہ ہم سب کے لیے رحمتِ دارین

 

فکر و غمِ امّت کہ ہے لاحق اسے دن رات

آرام گیا دن کا، اُڑا رات کا سکھ چین

 

یہ صبر کہ بس آنکھ ہے نم مرگِ پسر پر

نالے ہیں، نہ زاری ہے نہ شیون ہے نہ ہے بین

 

ہر فیصلۂ عدلِ نبیؐ مان لیں دل سے

مومن نہیں گر ہوں نہ رضامند فریقین

 

ہرگز نہ میں دوں در عوضِ دولتِ قاروں

ہے دولتِ کونین مجھے تسمۂ نعلین

 

صدیقؓ و عمرؓ مرقدِ انور کے بھی ساتھی

وہ غار کا ساتھی یہ مرادِ شہِ کونینؐ

 

کندھوں پہ شہِ دیں کو اُٹھائے شبِ ہجرت

وہ غار کا ساتھی کہ جو ہے ثانی اَثنین

 

مدّاحِ نبیؐ جان کے پوچھا نہیں کچھ بھی

آنے کو تو آئے مری تربت میں نکیرین

 

اک جام عطا کیجیے اے ساقئ کوثر

میں حق تو نہیں مانگتا ہاں صدقۂ حسنین

 

آؤ کہ نظرؔ تھام لیں دامانِ شہِ دیں

جھگڑے ہوں فرو ہیں جو مرے آپ کے مابین

٭٭٭

 

 

 

 

 

وہ ایک پھول کھلا تھا جو ریگ زاروں میں

اسی کے حسن سے سب رنگ ہیں بہاروں میں

 

وہ ایک شمع کہ روشن ہوئی تھی غاروں میں

وہ چاند بن کے ہوئی منعکس ستاروں میں

 

کہوں ببانگِ دُہل بے جھجھک ہزاروں میں

حبیبِ رب ہے محمدؐ خدا کے پیاروں میں

 

کلام آپ کا جامع، فصیح و پُر تاثیر

ادب شناس گنیں اس کو شاہ پاروں میں

 

اس آفتابِ ہدیٰ سے اگر نہ ہوں ضو گیر

نہ چاند میں ہو کوئی روشنی نہ تاروں میں

 

زہے نصیب کہ وہ سب ہیں زندۂ جاوید

شمار جن کا ہوا اس کے جاں نثاروں میں

 

جمال و حسن کے پہلو سے ہے وہ گل اندام

دمِ جہاد مگر وہ ہے شہ سواروں میں

 

مرے نصیب میں لکھا ہے ساغرِ کوثر

بفضلِ رب ہوں میں اس کے ثنا نگاروں میں

 

نظرؔ جو دل متلاطم ہے اس کی یادوں میں

سرشکِ اشک ہیں کچھ آنکھ کے کناروں میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

لاکھ آفتاب ڈوبے تو نکلا وہ ماہتاب

ضو پاشیوں سے جس کی ہے ہر ذرہ بہرہ یاب

 

خلّاقِ دو جہاں کا ہے وہ حسنِ انتخاب

آئے کہاں سے حسنِ محمدؐ کا پھر جواب

 

اس رخ پہ ہیں نثار جو صد ماہ و آفتاب

سیرت بعینہٖ ہے وہ تفسیرِ اَلکتاب

 

قرآں کہ آنحضورؐ سے ہو جس کا انتساب

‘لارَیبَ فیہ’ ہے صفتِ ‘ ذٰلکَ الکتاب ‘

 

جو ہے خُمِ حجاز میں توحید کی شراب

ساقی کا اذن ہے کہ پئیں رند بے حساب

 

بحرِ علومِ معرفتِ حق ہے ان کی ذات

تا حشر چنتے رہیے لٹائے وہ دُرِّ ناب

 

ہر چند بے نیاز ہے ذاتِ خدا مگر

ان کی زباں سے بندوں کو برسوں کیا خطاب

 

اسرا کی شب گواہ ہے میرا خدا گواہ

جلوہ فگن ہوئے ہیں سرِ عرش بھی جناب

 

در بارگاہِ ربِّ دو عالم ہوں ملتجی

اک دن کرے مجھے بھی ترے در پہ باریاب

 

جائے پنہ نظرؔ کی لِوائے محمدیؐ

اے روزِ حشر مجھ میں نہیں طاقتِ حساب

٭٭٭

 

 

 

 

 

اب نوکِ زباں نعتِ رسولِؐ مدنی ہے

قربان لبوں پر مرے شیریں سخنی ہے

 

دندان مبارک ہے کہ دُرِّ عَدَنی ہے

اس زلف کی خوشبو ہے کہ مشکِ ختنی ہے

 

نوکِ مژۂ چشم وہ برچھی کی انی ہے

ابروئے خمیدہ وہ کماں جیسے تنی ہے

 

ہے دوش پہ کملی کبھی چادر یمنی ہے

حُسن آفریں ہر حال تری گُلبدنی ہے

 

خالق سے سرِ عرش بریں ہم سخنی ہے

کیا اوجِ شرف آپ کا اللہُ غنی ہے

 

اے صلِّ علیٰ سیرتِ اطہر ہے کہ قرآں

صورت وہ خوشا نور کے سانچے میں بنی ہے

 

اقصیٰ میں رسولانِ گرامی کی امامت

سردارِ رُسل آپؐ کو کہتے ہی بنی ہے

 

ظلمت کدۂ دہر میں پھیلا ہے اُجالا

نقشِ کفِ پا کی ترے جلوہ فگَنی ہے

 

سیرت کا یہ پہلو بھی طرحدار ہے کتنا

دی اس کو معافی کہ جو گردن زدنی ہے

 

رنگینیِ دنیا سے نظرؔ دل نہیں مسحور

غالب اثرِ رنگِ بہارِ مدنی ہے

٭٭٭

کمپوزنگ: محمد تابش صدیقی، محمد عتیق قریشی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید